﻿

 اور سوات جلتا رہا!


فضل ربی راہی






انتساب

سوات کے ان معصوم اور بے گناہ لوگوں کے نام
جو سوات میں عسکریت پسندی اور فوجی آپریشنوں کے دوران
جرمِ بے گناہی میں شہید ہوئے۔ 




سوات، امن کی وادی

جہاں پر ہر طرف 
امن و اماں کا دور دورہ تھا
جہاں جھرنوں کے نغمے تھے 
جہاں کی ندیاں، دریا 
رات دن مل کر
خوشی کے گیت گاتے تھے 
جہاں پر پھول کھلتے تھے 
جہاں کے سب مناظر میں 
محبت کی انوکھی 
داستانوں کے مہکتے خواب بستے تھے 

جہاں سیاح آتے تھے 
جنھیں امن و سکوں اور عافیت
یاں پر میسر تھی
جہاں ہر سُو انھیں گزرے زمانوں کے نئے 
آثار ملتے تھے 

جو تہذیبوں کا مسکن تھا
جہاں تاریخ کے زندہ نشاں ہر سُو جھلکتے ہیں 
جہاں بدھا کے 
امن و آشتی کے دیپ روشن تھے 
سکندر، غزنوی جیسے کئی فاتح جہاں آئے 
جہاں کے رہنے والے اب کئی صدیوں سے 
بس اِک نغمۂ توحید گاتے ہیں 

مگر اِک دن 
اچانک تیرگی کو پوجنے والے، 
یہاں آئے 
وہ تہذیب و تمدن کے کھلے دشمن، 
جو مذہب کے مقدس نام پہ
انسانیّت کا خون کرتے تھے، 
ادھر آئے 
یہ وادی جو تھی امن و آشتی کا مرکز و محور
انھوں نے اس کو جنت سے جہنم میں بدل ڈالا
اسی کا قریہ قریہ، قصبہ قصبہ
اپنے دہشت ناک کرتوتوں 
سے سب تاراج کر ڈالا

مگر پھر
رحمتِ باری کو جوش آیا
یہاں کے رہنے والوں پہ
جنھوں نے ظلم ڈھائے تھے 
ہوئے دوچار 
ذلت سے، ہزیمت سے 
بالآخر سب برے انجام کو پہنچے 
سویرے لُوٹنے والے خود اپنی شام کو پہنچے 

ہمیں پژ مُردہ چہروں کو
گلوں کی تازگی دے کر
انھیں پھر سے کھِلانا ہے 
پھر اس گل پوش وادی کو ہمیں آباد کرنا ہے 
ہر اِک کو شاد کرنا ہے 
ہمیں اس کی فضاؤں کو
محبت کی نئی خوش بو سے بھرنا ہے 
 اُسے جنت کی وادی کا نمونہ پھر بنانا ہے 

یہ دُنیا کو دکھانا ہے 
کہ یہ وادی … 
محبت، امن کی وادی
یہاں کے رہنے والے الفت و اخلاص کے پیکر
ہزاروں سال سے 
تاریخ و تہذیبوں کا یہ محور
یہ وادی امن کا گھر ہے 
یہاں کے رہنے والے فطرتاً ہیں امن کے داعی
اِنھیں تو پیار کی بولی سے اُلفت ہے 
اِنھیں نفرت سے نفرت ہے 

٭ … ٭ … ٭




بے بسی اور درد کے یہ اظہارئے 

	"سوات بھر میں جن خودکش حملوں کے چرچے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا میں آتے رہے، مقامی لوگوں کے مطابق ان میں زیادہ تر ریموٹ کنٹرول بم دھماکے تھے  … بلکہ یہ ڈس انفارمیشن کا حصہ تھے تاکہ جنرل (ر) پرویز مشرف کی غیر آئینی، غیر قانونی اور غیر اخلاقی حکومت کو سہارا دیا جا سکے اور اس کے ذریعے امریکہ اور یورپی ممالک کی اندھی حمایت حاصل کی جا سکے۔"
	"اے این پی کی صوبائی حکومت بار بار اس عزم کا اظہار کرتی رہی کہ وہ پر امن ذرائع سے حالات کنٹرول کرے گی اور سوات میں دوبارہ فوجی آپریشن نہیں ہونے دے گی لیکن اس وقت یوں محسوس ہوتا ہے جیسے اے این پی کی حکومت بھی بے بس ہو چکی ہے اور وہ اس آپریشن کو رکوانے میں کوئی کردار ادا نہیں کر سکتی۔"
	"موجودہ آپریشن کی شروعات بھی عام آدمی کے لیے کسی طور خوش گوار نہیں۔ گزشتہ روز فوج کی طرف سے گولہ باری کے دوران دیولئی میں ایک گھر پر مارٹر گولہ گرنے سے چار بچوں اور ایک خاتون سمیت ایک ہی خاندان کے سات افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ جب کہ کانجو میں ایک بچہ سر پر گولی لگنے سے جاں بحق ہوا ہے۔ اسی روز چار باغ میں ایک خاتون بھی گولہ لگنے سے ہلاک ہوئی ہے  … اس طرح چند دن قبل کی گولہ باری سے بھی 9معصوم شہری جاں بحق ہو چکے ہیں۔ درجنوں مکانات تباہ اور 30سے زائد عام شہریوں کے زخمی ہونے کی بھی مصدقہ اطلاعات ہیں  … سوات میں اس وقت صورتِ حال کچھ یوں ہے جیسے کسی دشمن ملک نے حملہ کر دیا ہو۔"
	"لیکن جب سوات میں فوجی آپریشن کا دوسرا فیز شروع ہوا تو آپ سب صوبائی اور قومی اسمبلیوں کے اراکین نے سوات سے باہر رہنے کا فیصلہ کیا اور سوات کے مکینوں کو فوج، عسکریت پسندوں اور ناگفتہ بہ حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا … اس وقت سوات کے لوگ اپنے تمام قومی و صوبائی اسمبلیوں کے ممبران کو نفرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں  … سوات اور اہلیانِ سوات کے لیے آپ لوگوں کی کارکردگی صفر کے مترادف ہے۔"
	"فوجی آپریشنوں کے نام پر عسکریت پسندوں کے اصل ٹھکانوں کو تباہ کرنے کی بجائے بے قصور اور معصوم شہریوں کو نشانہ بنایا گیا، ان کے گھر تباہ کر دئیے گئے۔ گاؤں اور دیہات میں بنیادی مراکز صحت کو جلوایا گیا۔ پلوں اور سڑکوں کو تباہ کر دیا گیا۔ اور وہ سوات جو چند سال قبل امن و سکون کا گہوارہ تھا اور اُس کا دامن تھکے ہوئے لوگوں کے لیے وا رہتا تھا، اُسے اپنے ہی باشندوں کے لیے جہنم زار بنا دیا گیا۔" 
	اقتباسات کی ان چند جھلکیوں سے ہی پڑھنے والے کو باآسانی اندازہ ہو جاتا ہے کہ اُسے ایک خوبصورت علاقہ اور وہاں کے بے خبر معصوم لوگوں کو ان کی تاریخ کے انتہائی مشکل اور تکلیف دہ دور سے گزرتے دیکھنے کے لیے تیار ہو جانا چاہئے۔ الغرض شروع سے آخر تک۔ اس کتاب کا ہر صفحہ جرمِ بے گناہی کا شکار ہونے والوں کا نوحہ ہے۔ ایک حسین و سر سبز و شاداب تاریخی وادی کے گلے سے نکلنے والی دبی دبی چیخیں ہیں۔ جسے دبوچنے والا ہاتھ اس کی درد ناک کیفیّت کو حتیٰ الامکان طول دینے پر مُصر ہے۔ ظلم و زیادتی کی اس خوفناک کہانی کے ہونٹ وسیع تر ملکی مفاد کے طلائی تاروں سے سینے کا عمل جاری ہے۔ بزبان حال و قال جتایا جا رہا ہے کہ جبر و استبداد کا ہر تھپڑ، ہر ٹھوکر، ہر گالی دم سادھے سہتے رہو۔ شکوہ، شکایت، فریاد عین غداری ہے۔ جس کا انجام نیست و نابود کی بدنام زمانہ تاریکی در تاریکی والی تنگ و تار گھاٹیاں ہیں جہاں بھیجے جانے والوں کی فاتحہ بھی برسر عام پڑھنا مہلک ثابت ہو سکتا ہے۔ اسی لیے چپ سادھے رہو۔ آنکھوں کا استعمال صرف اتنا کرو کہ گھر بس ذرا سہولت کے ساتھ پہنچ سکو۔ راستے میں کسی گڑھے وغیرہ کی نذر نہ ہو جاؤ، کان بھی نیم وا حالت میں رہیں تو بہتر ہے۔ سسکیوں، چیخوں کو بالکل قریب نہ پھٹکنے دو۔ فی الوقت حُبّ الوطنی کا تقاضا یہی ہے۔ کہ سچائی پر جھوٹ کی دبیز چادر پڑی رہے۔ کئی قسم کے دشمن تاک میں ہیں، اُن کو غُچہّ دینے کے لیے یہ سب ضروری ہے۔ اگر یہ سب کچھ دیکھنے، سننے اور سہنے کی طاقت نہیں ہے تو کہیں اور چلے جاؤ۔ یہاں جنہیں دعویٰ تھا قیادت کا، سیادت کا، امامت کا، جا چکے ہیں۔ 
	کڑے حالا ت کی بھٹی اکثر و بیشتر کو تو راکھ کر دیتی ہے لیکن کچھ سخت جانوں کو کندن بنا دیتی ہے۔ میدانِ جنگ بہت سوں کا قصہ تمام کر دیتی ہے۔ کچھ کو معذوری کے عذاب میں مبتلا کر کے اُن کے لیے بقیہ زندگی ایک اذیت ناک تسلسل بناڈالتی ہے لیکن بعض خوش بختوں کو ان کی حوصلہ مندی سے خوش ہو کر غیر متوقع کامرانی کی شاہراہ کا راہی بنا دیتی ہے۔ فضل ربی راہی کا معاملہ بھی کچھ ایسا ہی لگتا ہے۔ 
	سوات کی یہ بھیانک کہانی جو ان کالموں میں لحظہ بہ لحظہ بیان ہوئی ہے۔ اس لحاظ سے کوئی انوکھا واقعہ نہیں کہ قرن ہا قرن سے ظلم و جبر کی رتھوں میں سوار تاجداروں کی جانب سے مستانہ وار معصوم انسانی زندگیوں کو روندنے کا عمل ایک قدیم تاریخی روایت رہی ہے۔ معمورۂ جہاں میں شاید وبا ید ہی کوئی ایسا خطہ ہو گا جو اس قسم کے خونی کھیل سے ہمیشہ مامون و محفوظ رہا ہو لیکن آج اُن کے ہاتھوں میں جو تیر و تفنگ ہیں، وہ ہزار ہا گنا زیادہ مہلک اور حیات کُش ہیں۔ اس لیے تباہی و بربادی کے میزانیہ کو اعداد کے دائرہ میں لانا جوئے شیر لانے سے کم نہیں۔ لیکن اس لحاظ سے یہ کہانی یقیناً بالکل نئی ہے کہ یہ ہنستا بستا دیار دشمنوں کی خونخواری کا شکار نہیں بنا بلکہ اپنوں کی چیرہ دستی نے اس کے پیراہن زرتار کو تار تار کر دیا ہے۔ یہ کہانی چل رہی ہے، نہ جانے کتنے ایکٹ ابھی باقی ہیں۔ 
	ملکی سطح پر اخباری قارئین کے لیے فضل ربی راہیؔ کا نام یقیناً نیا نہیں، وہ ایک عرصہ سے مؤقر اردو اخبارات و جرائد کے لیے لکھتے رہے ہیں۔ چوں کہ اُن کا تعلق سوات سے ہے۔ اس لیے اپنے اس خرمن کو یوں راکھ ہوتے دیکھ کر تحریر کر دہ کالموں پر مشتمل ان کی یہ کتاب انسانی ضمیر کو جھنجھوڑنے کی خاطر "المد د المد د" کی ایک مسلسل پکار ہے۔ 
	خون چکاں حکایات لکھنے کی ریت بہت پرانی ہے۔ یہ سلسلہ تمام تر قدغنوں کے با وصف جاری ہے اور جاری رہے گا۔ چوں کہ جدید میدانِ جنگ قدیم حدود قیود کے تصور سے نکل کر بہت آگے جا چکی ہے۔ اسی لئے میڈیا کے دیکھنے سننے اور اُسے دوسروں تک پہنچانے کے عمل کو محدود سے محدود کرنے کے لیے جبارانِ وقت نے امریکہ کی قیادت میں مختلف النوع قسم کے ہتھکنڈے ایجاد کر لئے ہیں۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ موقع و محل کی ضرورت کے تحت ان میں تغیر و تبدل کا عمل بھی جاری رہتا ہے۔ سچائی تک رسائی تمام تر ابلاغی قوت کے باوجود مشکل سے مشکل بنا دی گئی ہے۔ بزور، بزر اور بحیلہ قلمکاروں کو جھوٹ کو سچ بنا کر پیش کرنے کی ترغیب سکّہ رائج الوقت کی طرح ہر جگہ جاری ہے۔ ایمبیڈ ڈ جرنلسٹ کی نئی اصطلاح کے تحت صحافیوں کو محاذ کی قابل قبول تصویر کشی کی غرض سے ساتھ لے جایا جاتا ہے۔ پھر اُن کی آنکھیں وہی کچھ دیکھتی ہیں جو پہلے سے طے شدہ ہوتا ہے۔ کان وہی کچھ سنتے ہیں جس کی انہیں اجازت دی جاتی ہے۔ اسی لیے پوری ذمہ داری کے ساتھ مرضی کی رپورٹیں تیار کی جاتی ہیں۔ آج کے دور میں رائے عامہ اور عوامی ردِ عمل پر کنٹرول اتنا ہی اہم ہے جتنا کہ کسی خطہ کا واقعی کنٹرول اہم ہے۔ اسی لیے حرب جدید میں لڑاکا طیارے، میزائل، ٹینک اور توپوں کو قلم اور کیمرے کی مکمل رفاقت درکار ہے جس کا پوری طرح سے اہتمام کیا جاتا ہے۔ 
	ایسے مشکل اور دگرگوں حالات میں اگر کوئی سچ بیان کرنے پر اصرار کرتا ہے تو ایسے قلم کے آگے سجدۂ نیاز بجا ہے۔ اُس پر فخر کرنا جائز ہے۔ اس حرماں نصیب جیب و داماں دریدہ خطہ کے الم نصیب باشندے با الخصوص اور سب اہل وطن بالعموم یقیناً اس جواں سال قلمکار کو اپنا محسن سمجھیں گے۔ چوں کہ وہ سب کچھ براہِ راست دیکھ اور سن رہا ہے۔ اس لیے سچائی اپنے پورے ننگے وجود کے ساتھ اُس کی ان تحریروں میں موجود ہے۔ کیا اختیار و اقتدار کے بد مست گھوڑوں پر سوار اب اپنی گزشتہ کل کی تاریخ سے تھوڑا بہت سبق سیکھنے پر خود کو آمادہ کرنے کے لیے تیار ہو جائیں گے۔ کانٹے بو کر پھولوں کی فصل سے دامن بھرنے کی امید انہی کا کام ہے۔ جو عام روزمرّہ کام آنے والی انسانی سمجھ بوجھ سے بھی محروم ہوں۔ آتش و آہن کی زبان سے مطیع بنائی جانے والی بستیاں بظاہر پرسکون نظر آتی ہیں لیکن اندر ہی اندر نفرت و غصہ کی آگ میں تپ رہی ہوتی ہیں۔ خوش فہمی کی ریتیلی بنیادوں پر کھڑے کئے گئے محل لمحوں میں مٹی کا ڈھیر بن سکتے ہیں۔ ہماری تاریخ چیخ چیخ کر گواہی دے رہی ہے کہ جہاں بظاہر "محبت کا زمزم" بہتا نظر آتا ہے، وہاں اندر ہی اندر نفرت و افتراق کے کیسے کیسے جہنم بھڑک رہے ہوتے ہیں۔ معلوم انسانی تاریخ کے سب سے بڑے غنڈے کا ساتھ دیکر ہم نے ایک ایسی مہیب غلطی کا ارتکاب کیا ہے جس کی سزا پتہ نہیں کتنی نسلوں کو بھگتنی پڑے گی۔ مانا کہ یہ فیصلہ اضطراری تھا لیکن اپنوں کو نیست و نابود کرنے میں شراکت داری کے عمل پر علانیہ فخر کا سلسلہ (اتنے مار دئیے اتنے بیچ دئیے۔ اتنے حوالے کر دئیے، چہ معنی دارد) کیا کبھی تھمے گا کیا درِ توبہ پر دستک دینے کی نوبت کبھی آئے گی؟ قرآن تو واضح طور پر کہتا ہے کہ ایک بے گناہ کا قتل سارے انسانوں کے قتل کے برابر ہے۔ کیا کوئی جدید سے جدید کیلکولیٹر ہمارے جرم کا صحیح حساب کتاب کر سکے گا۔ نام نہاد دہشت گردی کی یہ جنگ جسے اپنی جنگ ثابت کرنے کے لیے منطق و حجت بازی کے مشّاق کاریگر رات دن سر دھڑ کی بازی لگا رہے ہیں، ان کی پیٹھوں پر ڈالروں کی تھپکیاں انہیں مسلسل حقیقت کو نظر انداز کرنے پر مجبور کر رہی ہیں، ورنہ اس عریاں سچ سے کب تک کوئی آنکھیں رکھنے والا نظریں چرا سکتا ہے کہ امریکہ کی پوری تاریخ عالمی و سائل کو اپنے قبضہ میں رکھنے کے لیے ہر طرح کی دھونس دھمکی، دجل و فریب اور ہر قسم کی ننگی جارحیت سے موسوم رہی ہے اور رہے گی۔ دوست پالنے کا عارضہ اُسے کبھی لاحق نہیں ہوا۔ اُسے اپنا کام نکالنے کے لیے کچھ غیر ملکی عُمّال اور نوکروں چاکروں کی ایک فوج رکھنے کی عادت رہی ہے۔ کام نکلتے ہی بالکل اجنبی بن جانا اُس کا سدا سے وطیرہ رہا ہے۔ اُس سے کسی نئے طرز عمل کی توقع صرف خود کو بہلانے کے کارِ فضول کے سوا کچھ نہیں۔ اُس کی دوستی کا عذاب تو یقیناً ہم پہلے بھی جھیلتے رہے ہیں بس یہ کہ اس بار حالات پہلے کے مقابلہ میں زیادہ گمبھیر ہیں خدا ہم پر حم کرے۔ لیکن اس میں حالات و واقعات سے زیادہ ہم خود قصور وار ہیں۔ فاقہ مستوں کا انجام تاریخ بتاتی ہے برا ہی ہوتا ہے۔ کشکول بدست افراد اور اقوام تاریخ کے کوڑا دان کی جانب برق رفتاری سے بڑھتے ہوئے نہ جانے کیوں خود کو عزت و وقار کی مسند کا حقدار سمجھنے کی غلط فہمی میں مبتلا ہو جاتی ہیں۔ دستِ سوال بالآخر اپنے مالک کو بدنامی و گمنامی کے گڑھے میں خود ہی دھکیل دیتا ہے۔ 
	میدانِ کار زار بنتے ہی سوات قومی اور بین الاقوامی میڈیا کی توجہ کا مرکز بن گیا۔ بعض خاص قسم کے حالات اور موسم بعض خاص قسم کے کاروبار و نباتات و حیوانات کی افزائش میں انتہائی ممد و معاون ثابت ہوتے ہیں اسی طرح سوات کی صحافت ایک ننھے سے پودے سے اچانک ساز گار ماحول ملتے ہی تن اور درخت بننے کا اعلان کرنے لگی ہے اور مناسب مواقع ملتے ہی یہاں کے چند با صلاحیت افراد نے بہت جلد اپنا لوہا منوا لیا ہے۔ راہی ان میں سے ایک نمایاں نام ہے۔ روزنامہ "آزادی" جو صرف ایک چھوٹا سا مقامی اخبار تھا۔ اُسے موجودہ مقام تک لانے میں یہاں کے حالات کے ساتھ ساتھ فضل ربی راہیؔ کا بھی انتہائی اہم کردار رہا ہے۔ بہت ہی قابل تحسین اَمر یہ بھی ہے کہ اس اخبار کے ذریعہ اُس نے کئی نئے لکھنے والوں کی ایک ٹیم تیار کی ہے جو مختلف زاویوں سے یہاں کے حالات کی تصویر کشی میں مصروف ہے۔ وہ سچ بیان کرنے کی راہ میں حائل رکاوٹوں اور مشکلات کے باوجود کسی نہ کسی طور اُس کی کچھ نہ کچھ جھلکیاں سامنے لا رہے ہیں۔ بہر صورت اس ضمن میں سب سے جرأتمندانہ اور وقیع کام خود ر اہی کا ہی ہے۔ ملکی پیمانہ پر ان کالموں کی پذیرائی اس طرح ہوئی ہے کہ مؤقر اردو روزناموں اور ماہناموں جیسے روزنامہ "ایکسپریس" اور ماہنامہ "ترجمان القرآن" نے ان کالموں کو بنیاد بناتے ہوئے کالم اور ادارئے لکھے۔ روزنامہ ایکسپریس کے گروپ ایڈیٹر جناب عباس اطہر، اس کے ایک نہایت سینئر کالم نگار جناب حمید اختر اور ماہنامہ ترجمان القرآن کے ایڈیٹر جناب سینیٹر پروفیسر خورشید احمد نے اپنی تحریروں میں ان سے استفادہ کرتے ہوئے اپنے قارئین کے ایک بہت بڑے حلقہ کو سوات میں وقوع پذیر ہونے والی ہولناک صورتحال سے آگاہ کیا ہے۔ 
	موجودہ حالات میں تعمیر و تخریب سے یکساں طور پر مستفیض ہونے والے تو یقیناً خود کو کامیاب و کامران ہی سمجھیں گے لیکن جس مٹی نے اور جن لوگوں نے اس کی بھاری قیمت ادا کی ہے، جو بھرے پرے گھرانے عدم آباد کی طرف دھکیل دیئے گئے اور جو ہنستے بستے مکین، زندگی کی روانی کا مظہر کاروبار، کھیت، کھلیان نیست و نابود ہوئے، کیا وہ صرف آثارِ قدیمہ کا ایک بے نام سا گوشہ بننے پر راضی ہو جائیں گے؟ کیا تباہی و بربادی کی مہیب حقیقتوں کو میڈیا کی مد د سے بپا کر دہ کھیل تماشوں کی گرد میں تا دیر چھپا یا جا سکے گا؟ چند اوباش صفت کرداروں کی طرف سے ملنے والی پذیرائی اور رفاقت کو پورے سماج کی کا یا پلٹ اور ایک عہدِ نو کا آغاز سمجھ کر جشن کا اہتمام کرنے والے لگتا ہے روایتی جلد بازی کا شکار ہو گئے ہیں۔ اس زمین کو جو گہرے گھاؤ لگے ہیں، وہ مندمل ہونے کے لیے مزید وقت کے متقاضی ہیں لیکن خدشہ یہی ہے کہ طاقت ہمیشہ کی طرح صائب مشوروں کو جوتے کی نوک پر رکھے گی اور تاریخ بچاری یوں ہی ایک دائرے میں سفر کرتے ہوئے خود پر تھوکتی رہے گی۔ 
	بے بسی اور درد کے یہ اظہارئے جو پہلے اخباری کالموں کی شکل میں سامنے آئے اور اب ایک کتاب کی صورت آپ کے ہاتھوں میں ہیں، اس بات کا تقاضا کرنے میں حق بجانب ہیں کہ ان کی مد د سے گزرے کل کی جھولی سے آج اور آنے والے کل کی مثبت انداز میں تعمیر کے گر سیکھے جائیں۔ وہ یہ کہ ان تازہ کھنڈرات پر فرداً فرداً یا اجتماعی طور پر رونے سے سوائے جگ ہنسائی کے کچھ حاصل نہیں ہو گا۔ بہتر عمل یہ ہے کہ فرداً فرداً اور اجتماعی طور پر ٹوٹی ہوئی دیواروں کو اٹھا نے کی ایک تحریک شروع کی جائے اور اس بات کا عہد کر لیا جائے کہ آئندہ لفظی جادوگروں کے فریب کا شکار نہ ہوں۔ اور اپنی اس جنت کو خوش نما بہکاؤں کی نذر نہ ہونے دیں۔ قیادت و سیادت کے دعوے داروں کو ان کے زر تار لبادوں اور بلند آواز نعروں کی جگہ گزشتہ کل کی ترازو میں تول کر دیکھیں۔ وہ جو کل خطرہ کی بو سونگھتے ہی بوتل کے جن کی طرح دھوئیں کے مرغولوں کی صورت غائب ہو گئے تھے۔ اُن کا کھوٹ سب پر عیاں ہو چکا۔ اپنے آنے والے کل کو ایسے قائدین و عمائدین کے دلفریب وعدوں کے حصار سے نکالنا ہو گا۔ اور یہ کہ صرف بندوق کو امن و امان کی ضمانت ماننے والی لیڈر شپ بہت ہی بودی دلیل کا سہارا لے رہی ہے۔ امن و امان تو افہام و تفہیم سے کام لیتے ہوئے ایک دوسرے کو برداشت کرنے اور مل جل کر اپنے اس گھر کو ہر قسم کے در اندازوں سے بچانے ہی سے مل سکتا ہے۔ 
							احمد فواد
							6 اگست 2011ء
٭٭٭


جابر "سلاطین" کے سامنے کلمۂ حق

	 2000ء میں جب باقی دنیا اکیسویں صدی میں داخل ہونے کی خوشیاں منا رہی تھی، وادیِ سوات میں سولہویں صدی کی طرف واپسی کے سفر کی تیاریاں مکمل تھیں۔ بیسویں صدی کے تمام آثار مٹانے کا عمل شروع ہوا۔ سکولوں کی عمارتیں اس تباہی کا خاص نشانہ تھیں۔ پل، تھانے، سڑکیں، گھر اور تعمیر کی ہر علامت خود کش حملے کی زد میں تھی۔ اس دوران چھٹی قبل مسیح کے بدھ آثار کو مٹانے کا عمل بھی شروع ہوا۔ کسی کو معلوم نہیں تھا کہ ماضی کی طرف واپسی کا یہ سفر کونسی صدی میں جا کر رُکے گا؟
	کتنی تباہی ہوئی؟ یہ داستان طویل بھی ہے، دردناک بھی اور عبرتناک بھی۔ کشت و خون کے مناظر عام تھے۔ گلیوں اور چوراہوں میں سر بریدہ لاشوں کا لٹکتا ہوا نظر آنا روز کا معمول تھا۔ روز کسی تھانے پر خودکش حملہ، کسی سکول کی عمارت کو بارود سے اُڑانے، کسی کے " لاپتہ" ہونے اور کچھ عرصہ بعد لاش برآمد ہونے، بھرے بازار میں نامی گرامی لوگوں پر گولیوں کی بوچھاڑ اور قاتلوں کا بحفاظت چلے جانے کے واقعات دو، دو، تین تین کالم کی عام سی خبروں کے طور پر چھپتی تھیں۔ پولیس نظام کی مکمل ناکامی کے بعد پاک فوج آئی لیکن امن نہیں آیا اور بدامنی میں اضافہ ہی ہوتا چلا گیا۔ 
	پھر نقل مکانی کا مرحلہ آیا۔ لاکھوں لوگوں کو ایک ہی دن میں اپنا گھربار اللہ کے حوالے کر کے وادی کی حدود سے نکل بھاگنے کا حکمِ عام آیا۔ لاکھوں لوگ جب سڑک پر آئے تو ٹرانسپورٹ کی شدید قلت پڑ گئی کیونکہ حکومت کے پاس اعلانِ ہجرت کے سوا کچھ بھی نہیں تھا۔ سڑکوں پر تِل دھرنے کو جگہ نہ تھی۔ ٹریفک جام اور منٹوں کا سفر گھنٹوں میں طے ہونے لگا۔ پانچ اور سات مئی 2008ء کے دو دن تقریباً15 لاکھ لوگوں کا وادی سے نکل بھاگنے کا عمل صرف سوات ہی نہیں، اس پورے خطے کی تاریخ کا ایک اہم واقعہ تھا۔ پھر متاثرینِ دہشت گردی کے قیام یعنی کیمپوں وغیرہ کا مرحلہ آیا۔ مئی سے جولائی 2008ء تک کے یہ چند دن لوگوں نے جس طرح لمحے گن گن کر گزارے، اللہ وہ وقت کسی کو نہ دکھائے۔ لاکھوں متاثرین میں ہر فرد کی اپنی ایک کہانی تھی۔ شدید گرمی، بے سر و سامانی، مردان، پشاور، صوابی، چارسدہ اور پورے پاکستان سے لوگوں کی محبتیں، بروقت عالمی امداد اور " راشن"۔ صرف نقل مکانی کے دوران لاکھوں کہانیوں نے جنم لیا۔ پھر واپسی کا مرحلہ آیا۔ واپسی کا سفر بھی ایک نہایت ہی دلچسپ کہانی، بلکہ کہانی در کہانی، در کہانی ہے۔ 
	میرے ایک دوست (فضل حیدر) نے بتایا کہ اس کے گھر شیشے کے ایک بڑے مرتبان میں رنگ رنگ کی مچھلیاں پالی گئی تھیں۔ مکان چھوڑتے وقت نہ اُسے مچھلیوں کا خیال آیا اور نہ ہی اتنا موقع تھا کہ وہ اپنی پالی ہوئی مچھلیوں کا کچھ انتظام کرے۔ ترک وطن کے تمام عرصے میں اسے یہی فکر دامن گیر تھی کہ معلوم نہیں مچھلیوں کی معصوم جان پر دہشت گردی کی اس جنگ نے کیا ظلم کیا ہو گا؟
	فضل حیدر کہتا ہے: واپسی پر جب میں اپنے گھر داخل ہوا تو سب سے پہلے اس کمرے میں دوڑتا ہوا گیا، جہاں مچھلیوں کا مرتبان تھا۔ جونہی مچھلیوں نے میری آہٹ محسوس کی، تمام کی تمام چشم زدن میں مرتبان کے اُس شیشے کے پاس جمع ہو گئیں جہاں میں کھڑا تھا۔ مچھلیوں کو خیریت سے زندہ سلامت دیکھ کر میری آدھی تھکن دور ہو گئی۔ 
	ایک دوسرے دوست (ضیاء الدین یوسف زے) نے بتایا کہ ان کے گھر دو چوزے رہ گئے تھے۔ معلوم نہیں اس ویرانی میں ان پر کیا گزری لیکن جب ہم واپس گھر پہنچے تو دونوں چوزوں کے ڈھانچے گویا ایک دوسرے کی بانہوں میں بانہیں ڈالے ایک میز کے اوپر مرے پڑے تھے۔ میں نے ایک بزرگ کو اپنے کتے کی یاد میں افسردہ دیکھا۔ کہتا تھا کہ کتا گھر کی چھت پر چھوڑ آیا ہوں، معلوم نہیں وہ اتنی اونچی چھت سے چھلانگ لگا سکتا ہے یانہیں۔ اگر اس نے چھلانگ لگائی ہے تو پتہ نہیں کچھ کھانے پینے کو  ملا ہو گا، یا چھت پر اس کی لاش ہی ملے گی؟
	یہ تو ذیلی کہانیاں (Side Stories) ہیں۔ اصل کہانیوں کے بارے میں بھی مجھے بہت دکھ ہوتا تھا کہ اس وادی کے لوگوں نے دہشت کے جو مناظر دیکھے ہیں، ان میں بہت سے مناظر تاریخ کی نظروں سے اوجھل رہ گئے ہیں۔ 
	برادر محترم فضل ربی راہی کی زیر نظر کتاب، " اور سوات جلتا رہا" بڑی حد تک اس دکھ کا مرہم ثابت ہوئی ہے۔ فسادِ سوات 2007ء پر اس سے زیادہ مفصل، مستند اور منزل بہ منزل کتاب ابھی تک میری نظروں سے دوسری کوئی نہیں گزری۔ اس کتاب میں سوات کا صدیوں پر محیط پس منظر بھی ہے اور فساد سوات کی لمحہ بہ لمحہ داستان بھی۔ 
	یہ کتاب دراصل فضل ربی راہی کے ان اخباری کالموں کا مجموعہ ہے، جو فساد کے دوران لکھے گئے اور مختلف اخبارات و رسائل میں شائع ہوتے رہے۔ یہی اس کتاب کی خوبی ہے کہ اس میں تاریخ کو ماضی کی کہانی نہیں بلکہ حال کے ایک رواں دواں واقعے کے انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ 
	یہ کوئی درباری سرکاری تاریخ بھی نہیں بلکہ ان گلی کوچوں میں لکھی گئی تحریریں ہیں، جہاں مصنف نے اپنی آنکھوں سے ظلم و جور کی انتہائیں دیکھیں۔ وہ ان تمام حالات کے ایک بیدار مغز، ذمہ دار اور جذبہ خیرخواہی سے سرشار گواہ ہیں۔ اس گواہی کے دوران اُن کی جان ہتھیلی پر تھی۔ انہوں نے جان کی پروا کئے بغیر، بڑی جرأت، دانشمندی اور کمال ہنر کے ساتھ یہ گواہی دی ہے۔ 
	اگر آپ سن 2006ء سے قبل کی فضل ربی راہی کی تحریریں مطالعہ کریں تو ان میں فلک بوس پہاڑوں، گنگناتے آبشاروں، شہد، پھلوں، پھولوں، دریائے سوات کے ٹھنڈے پانی اور خوبصورت قدرتی مناظر کا ذکر کثرت سے ملتا ہے۔ انہوں نے سوات کی تاریخ، بدھ مت اور گندھارا تہذیب پر بھی کئی کتابیں اور بے شمار مضامین لکھے ہیں لیکن سوات کا حسن آپ کا خاص موضوع تھا۔ 
	2006 ء سے شروع ہونے والے فساد نے فضل ربی راہی کے قلم سے سوات کے گنگناتے آبشاروں، شہد، پھلوں اور پھولوں کے تذکرے چھین لئے اور انہیں خودکش حملوں، بم دھماکوں اور ہجرت و تباہی کی کہانیاں تھمائی ہیں۔ فضل ربی راہی نے خوشگوار اور ناخوشگوار دونوں فرائض بخوبی نبھائے ہیں اور زیر نظر کتاب اس دعوے کے حق میں کافی شہادت ہے۔ 
	فضل ربی راہی بنیادی طور پر ایک صاحب طرز ادیب اور شاعر ہیں۔ جب سے انہوں نے ہوش اور قلم سنبھالا ہے سوات کے قدرتی حسن، سیاحتی اہمیت، تاریخی آثار اور اس طرح کے دوسرے موضوعات پر کثرت سے لکھتے رہے ہیں۔ آپ نہ صرف خود درجنوں کتب اور سینکڑوں بلکہ شاید ہزاروں مضامین کے لکھنے والے ہیں بلکہ سینکڑوں دوسرے شعراء، ادیبوں اور اصحاب قلم کی کتب کی اشاعت کا اعزاز بھی رکھتے ہیں۔ زیر نظر موضوع پر کتاب لکھنے کے لئے ان سے زیادہ موزوں شخصیت شاید ہی کوئی اور ہو۔ راہی صاحب تمام فساد کے دوران سوات میں موجود رہے۔ نقل مکانی کی اذیتوں سے خود گزرے ہیں۔ ایک صحافی کی حیثیت سے مذاکراتی  جرگوں اور امن کوششوں کے چشم دید گواہ ہیں۔ انہوں نے یہ کتاب لکھ کر سوات کی تاریخ پر اپنی ایک ایسی چھاپ نقش کر دی ہے کہ تاریخ کے طالب علم اور آنے والے دور کے مؤرخین ان کی اس کاوش سے روشنی حاصل کریں گے۔ 
	جن حالات میں راہی صاحب نے یہ کالم لکھے ہیں ان کا تصور کرنا بہت مشکل ہے۔ 2007ء سے 2009ء تک سوات کی فضاؤں پر خوف اور دہشت کی ایسی دبیز چادر تنی ہوئی تھی جس کے اندر سانس لینا دشوار تھا۔ ہر آدمی کو اپنا آپ خطرے میں لگتا تھا۔ لوگ نجی محفلوں میں بھی فوج اور طالبان کا ذکر کرنے سے کتراتے تھے۔ لیکن راہی صاحب نے فوج اور طالبان دونوں کے کردار پر سوالات اٹھائے، غم و غصے کا اظہار کیا، پند و نصیحت بھی کی اور لعنت ملامت بھی اور اپنی سوچ وفکر کے اس پورے عمل کو ڈھکا چھپا نہیں رکھا بلکہ باقاعدگی سے اشاعت کے لئے اخبارات کو دیتے رہے۔ میری طرف سے ان کی جان ہر وقت خطرے میں تھی لیکن زندگی اور موت کے فیصلے نہ بیرکوں میں ہوتے ہیں اور نہ ہی خفیہ ٹھکانوں میں، یہی وجہ ہے کہ آج زندگی اور موت کے فیصلوں کا اختیار رکھنے کے دعویدار اپنے انجام کو پہنچ چکے ہیں اور جابر سلطان نہیں بلکہ جابر سلاطین کے سامنے کلمۂ حق بلند کرنے والے فضل ربی راہی زندہ سلامت ہیں۔ 
	میری خواہش ہے کہ اس پیش لفظ میں راہی صاحب کی ان تحریروں کے اقتباسات پیش کروں جو انتہائی گھٹن کے دور میں ان کی جرأت کے نمونوں کے طور پر پیش کی جا سکتی ہیں، لیکن پوری کتاب اس طرح کے نمونوں پر مشتمل ہے لہٰذا الگ سے ان کا ذکر کرنے کی ضرورت نہیں۔ راہی صاحب نے تاریخ سوات کے اہم ابواب رقم کئے ہیں۔ تشنگی بہت حد تک پوری ہو گئی ہے لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ ترقی یافتہ اقوام اپنے چھوٹے چھوٹے سانحات پر بھی سینکڑوں کتابیں لاتے ہیں۔ فسادِ سوات پر راہی صاحب کی یہ کتاب بہت اچھا آغاز ہے۔ انہوں نے بنیادی پتھر رکھ دیا ہے۔ میری دعا ہے کہ یہ بنیاد صرف بنیاد نہ رہے بلکہ اس پرایک ایسی عمارت تعمیر ہو جو بدامنی سے امن، تشدد سے مہمان نوازی، بربادی سے آبادی اور پھر ایک خوبصورت اور پر امن زندگی کی طرف واپسی کا سفر سیکھنے کا مدرسہ بن جائے، آمین۔ 

							احسان حقانی
							 (اسلام آباد) 
							22جون 2011ء
 ٭٭٭


پیش لفظ

	گزشتہ چند سال اہل سوات کے لیے ایک بھیانک خواب کی مانند تھے۔ انسانیت نے وحشت کا لبادہ اوڑھ لیا تھا۔ لوگوں کو ذبح کیا جا تا تھا۔ ان کی لاشوں کو درختوں اور کھمبوں سے لٹکایا جا تا تھا۔ سر عام لوگوں کو کوڑے مارے جا تے تھے۔ مذہب کے مقدس نام پر خودکش حملے کئے جاتے تھے۔ بم دھماکے ہوتے تھے۔ معمولی معمولی باتوں پر لوگوں کو گولیوں سے بھون دیا جاتا تھا۔ بارات پر ریموٹ کنٹرول بم دھماکے کئے جاتے اور یہاں تک کہ جنازوں میں بھی خود کش حملے جائز سمجھے جاتے تھے۔ ٹارگٹ کلنگ عام تھی۔ "طالبان سٹیشن" قائم تھے اور ہر طرف "طالبان" کا مسلح گشت جاری رہتا۔ المیہ یہ ہے کہ یہ سب کچھ قانون کی ناک کے نیچے جاری تھا۔ باقاعدہ مقامی انتظامیہ موجود تھی، حکومت کا وجود تھا اور سکیورٹی ادارے فعال تھے لیکن سوات میں حکومت کی رِٹ ان سب کی موجودگی کے باوجود ختم کی جا چکی تھی۔ 
	جب قیام امن کے نام پر فوج آئی تو اس نے ابتداء میں حالات مزید خراب کر دئیے۔ "طالبان" کے خلاف فوجی کار روائیوں میں بے گناہ سواتی مرنے لگے۔ توپ کے دھانے کھولے گئے جن کا نشانہ "طالبان" کی بہ جائے بے گناہ اور معصوم عوام بنتے تھے۔ پوری پوری رات بھاری توپ خانہ گولے برساتا تھا لیکن صبح کسی "طالبان" کی لاش نظر نہ آتی البتہ خبر ملتی کہ الہ آباد میں گھر پر گولہ گرنے سے ایک ہی خاندان کے کئی بچوں اور خواتین سمیت سات افراد ہلاک ہوئے  …  کانجو میں ایک مکان پر گولہ لگنے سے بچوں سمیت کئی افراد جاں بہ حق ہوئے  …  بانڈئی میں توپ کا گولہ پھٹنے سے کئی شہری اپنی جانوں سے محروم ہو گئے  …  کبل میں ایک گھر کے اندر فرسٹ ائیر کا طالب علم فوج کی فائرنگ سے جاں بحق ہوا …  کرفیو میں نرمی کے دوران بھرے پرے بازار میں فوج کی کانوائے کی ہوائی فائرنگ سے دو افراد جاں بہ حق اور کئی زخمی ہوئے  …  یہ اور اس طرح کے بے شمار دل خراش واقعات دل کو چیرتے تھے، ذہن کو مفلوج کرتے تھے۔ 
	یہ وہ پر آشوب دور تھا جس کے دوران سوات کے منتخب قومی اور صوبائی اسمبلی کے نمائندے سوات سے بھاگ چکے تھے اور انھوں نے اپنے ووٹروں کو "طالبان"، فوج اور حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا تھا۔ سوات کی دیگر مقامی سیاسی اور سماجی لیڈر شپ بھی اپنی جانوں کو خطرے میں دیکھ کر پشاور اور اسلام آباد منتقل ہو چکی تھی۔ سوات میں موجود جو لوگ "طالبان" اور فوج کے ظلم کے خلاف منہ کھولتے تو انھیں بڑی بے دردی سے ٹارگٹ کلنگ کے ذریعے راستے سے ہٹا دیا جاتا۔ غرض سوات میں محاور تاً نہیں بلکہ عملاً ایک غدر مچا ہوا تھا۔ 
	مئی 2009ء میں سوات میں فیصلہ کن فوجی آپریشن کا فیصلہ کیا گیا۔ اس کے لیے اہل سوات کو فوری طور پر سوات سے نکل جانے کا حکم صادر ہوا۔ جس سرعت اور افراتفری میں اس حکم کی تعمیل کو لازمی قرار دیا گیا تھا، اس کے تحت سوات میں حقیقی معنوں میں ایک انسانی المیہ رونما ہوا۔ بچوں، بوڑھوں، خواتین اور جوانوں نے نہایت بے سر و سامانی کی حالت میں اپنے علاقے سے ہجرت شروع کی۔ بیشتر لوگ پیدل ایک نامعلوم منزل کی طرف عازم سفر ہوئے۔ پندرہ بیس کلومیٹر تک اہل سوات نے پیدل سفر کیا۔ راستے میں لوگوں کو جن مشکلات اور مصائب کا سامنا کرنا پڑا، وہ ایک طویل داستان ہے۔ قریباً پندرہ لاکھ لوگوں نے ملک کے مختلف علاقوں میں پناہ لی۔ مردان، صوابی، چارسدہ، پشاور، اسلام آباد، لاہور اور کراچی تک اہل سوات پھیل گئے۔ سخت گرمی میں خیموں اور سرکاری سکولوں میں لوگوں نے اذیت اور کرب کے تین مہینے گزارے۔ 
	پاک فوج نے بالآخر چند مہینوں میں سوات سے "طالبان" کا خاتمہ کر دیا اور اہل سوات کو اپنے علاقوں میں واپس جانے کی اجازت مل گئی۔ اس کے بعد اہل سوات کی آزمائش سرچ آپریشنوں، کرفیو اور چیک پوسٹوں پر شروع ہوئی جو کسی حد تک اب بھی جاری ہے۔ تاہم اہل سوات پاک فوج کے شکرگزار ہیں کہ انھوں نے نہ صرف سوات کو شرپسندوں سے پاک کر دیا بلکہ اہل سوات کو چند مہینوں کے اندر اندر واپس آنے کی اجازت دے دی۔ ورنہ خیبر پختون خوا کے دیگر علاقوں میں فوجی آپریشنوں کے نتیجے میں جو لوگ ہجرت پر مجبور ہوئے تھے، وہ ابھی تک در بہ در ہیں۔ 
	2007ء سے 2009ء تک سوات میں حالات ایسے تھے کہ اہل سوات بالکل یتیم اور یسیر بن چکے تھے۔ وہ چکی کے دو پاٹوں میں پس رہے تھے۔ ان کا کوئی پرسانِ حال نہیں تھا۔ اس وقت سوات میں صحافی ایک واحد برادری تھی جو نہ صرف فوج کے ساتھ رابطے میں تھی بلکہ وہ "طالبان" کے ساتھ بھی تعلق اُستوار رکھی ہوئی تھی۔ گویا صحافی فوج اور "طالبان" کے درمیان پل کا کردار ادا کرتے تھے۔ ان حالات میں صحافیوں پر دونوں طرف سے دباؤ تھا۔ "طالبان" کہتے کہ ہمارا موقف نمایاں طور پر شائع او رنشر ہونا چاہئے اور سوات میں آئی ایس پی آر کے نمائندے اپنی پریس ریلیز کو ہیڈ لائنز کی صورت میں دیکھنا چاہتے تھے۔ تاہم سوات کے بہادر صحافی ان نامساعد حالات کا مقابلہ بڑی پامردی سے کرتے رہے اور سوات کے حوالے سے تازہ ترین صورتِ حال سے اہل وطن اور دنیا کو آگاہ کرنے کی کوشش کرتے رہے۔ 
	میں بھی اس صحافی برادری کا ایک فرد تھا، تاہم میں نے اپنے لیے ایک الگ اور پُر خطر راستہ چن لیا تھا۔ میں نہ طالبان کی خواہش کی پروا کرتا اور نہ ہی آئی ایس پی آر کی پریس ریلیز کے مطابق اپنا قلم استعمال کرتا۔ مجھے سوات اور اہل سوات کے حق میں جو بہتر نظر آتا، اسے بغیر کسی جھجک کے سپرد قلم کرتا۔ میں نے طالبان کے ظلم کے خلاف بھی لکھا اور فوج کی ان کار روائیوں کی بھی مذمت کی جن میں سوات کے بے گناہ شہری جاں بہ حق ہوتے۔ میں نے اوّل روز سے محسوس کیا تھا کہ سکیورٹی ادارے اپنا فرض صحیح طور پر ادا نہیں کر رہے ہیں۔ وہ شرپسندوں کے خلاف فیصلہ کن کار روائی سے گریزاں ہیں جس کی وجہ سے سکیورٹی اداروں کی موجودگی کے باوجود سوات بھر میں حکومت کی رِٹ ختم ہو گئی تھی اور پڑوس میں واقع ضلع شانگلہ اور بونیر پر "طالبان" نے بغیر کسی بڑی مزاحمت کے قبضہ کر لیا تھا۔ 
	سوات میں شورش کے دوران میں روزنامہ "آزادی" سوات کا ادارتی صفحہ ایڈیٹ کرتا تھا۔ اس وقت میں نے اپنا ادارتی صفحہ سوات کے حالات کے لیے مختص کر دیا تھا۔ نہ صرف خود سوات کے حالات کے بارے میں آزادانہ طور پر لکھتا تھا بلکہ سوات کے سمجھ بوجھ رکھنے والے لوگوں کو بھی قائل کرتا کہ وہ اپنی تحریروں کے ذریعے عوام میں شعور بیدار کرنے کے لیے قلم اٹھائیں۔ اس کے علاوہ جہاں کہیں مجھے سوات کے حوالے سے کوئی تحریر نظر آتی اسے اپنے صفحے میں شامل کرتا تاکہ یہ نہ صرف تاریخ کا حصہ بنے بلکہ اہل سوات کو بھی اپنے حقوق و فرائض کا احساس دلائے۔ میرے صفحہ کی وجہ سے مجھے "طالبان" کی طرف سے بھی دھمکیاں ملتی تھیں اور قیام امن کے دعوے داروں کی جانب سے بھی خطرناک نتائج بھگتنے کے سندیسے موصول ہوتے۔ ان سے طویل ملاقاتیں بھی ہوتیں، دوستانہ انداز میں بھی مجھے باز رکھنے کی کوشش کی گئی اور دھمکی آمیز لہجے میں بھی ڈرایا گیا لیکن مجھے جو صحیح نظر آتا، میں وہی لکھتا۔ یہ حقیقت ہے کہ جو کچھ میں نے لکھا ہے، اس وقت اس طرح لکھنے کا کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا تھا۔ 
	موجودہ کتاب "اور سوات جلتا رہا" میرے ان کالموں کا مجموعہ ہے جو میں نے 2007ء سے لے کر اب تک سوات کے حالات کے بارے میں لکھے ہیں۔ ان میں بہت سے کالم اشاعت سے رہ گئے ہیں کہ اب میرے پاس ان کا ریکارڈ موجود نہیں۔ تاہم جو کالم محفوظ تھے، وہ اس کتاب میں شامل ہیں۔ ان میں چند کالم ایسے ہیں جو سوات سے متعلقہ نہیں ہیں لیکن وطن عزیز میں جاری دہشت گردی کے حوالے سے لکھے گئے تھے، اس لیے وہ بھی اس کتاب میں شامل ہیں۔ یہ کالم اسی ترتیب سے کتاب میں شامل ہیں، جس ترتیب سے یہ اخبار میں شائع ہوئے تھے۔ اس لیے ان میں حالات اور واقعات کا ایک تدریجی تاریخی تسلسل موجود ہے۔ یہ تمام کالم واقعاتی اور تجزیاتی ہیں اور ان میں حقائق، معلومات اور تجزیات اسی مخصوص وقت سے تعلق رکھتے ہیں لیکن میں چاہتا ہوں کہ جو کچھ اس وقت میں نے محسوس کیا تھا یا دیکھا تھا، اسے تاریخ کا حصہ بناؤں تاکہ مستقبل کے مؤرخ اگر سوات کے اُن ناگفتہ بہ حالات کے بارے میں کوئی تحقیق کرنا چاہیں تو انھیں کچھ مواد میری اس کتاب سے بھی مل سکے۔ 
	سوات چوں کہ اپنی تاریخ کے ایک نہایت بھیانک دور سے گزرا ہے، اس لیے اس دور کے بارے میں اصل حقائق منظر عام پر لانا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ اس موضوع پر مزید جامع انداز میں لکھنے کی ضرورت ہے تاکہ ہماری آنے والی نسل کو سوات کی شورش کے بارے میں اصل حقائق کے بارے میں معلومات حاصل ہو سکیں۔ بہ قول احسان الحق حقانی ترقی یافتہ اقوام اپنے چھوٹے چھوٹے سانحات پر بھی سیکڑوں کتابیں لاتے ہیں، لیکن سوات میں جو حالات پیش آئے ہیں وہ کوئی معمولی سانحہ نہیں تھا۔ اس لیے اس موضوع پر بہت کچھ لکھنے کی ضرورت ہے۔ بہرحال میں نے پہل کی، یقیناً اس موضوع پر مزید کتابیں بھی منظر عام پر آئیں گی جن سے سوات کے خراب حالات کی تصویر کشی بہتر انداز میں ہو سکے گی۔ 
	آخر میں مَیں اپنے مہربان اور مشفق دوستوں احمد فواد صاحب اور احسان حقانی صاحب کا شکرگزار ہوں کہ انھوں نے کالموں کے اس مجموعے پر اپنی جامع آراء کا اظہار کیا۔ پاکستان کے مایہ ناز صحافی وسعت اللہ خان کا خصوصی طور پر ممنون ہوں کہ انھوں نے فلیپ کی صورت میں اپنی گراں قدر آراء سے نوازا ہے۔ تصدیق اقبال بابو صاحب کا بھی شکریہ ادا کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ انھوں نے اس کتاب پر پروف ریڈنگ کی شکل میں نظر ثانی کی ہے۔ اپنے دوست اور بھائی فضل محمود رو خان صاحب کے مشوروں کے لیے بھی ممنون ہوں کہ جب بھی مجھے اپنے لکھے گئے خیالات کے بارے میں کوئی الجھن پیش آتی ہے تو ان کی رہنمائی میرا ساتھ دیتی ہے۔ 

							فضل ربی راہی
							25 اگست 2011ء
٭٭٭

تحریک نفاذِ شریعت سے فوجی آپریشن تک، 
ایک تدریجی تاریخی جائزہ


	سوات کی خوب صورت وادی اپنی تاریخ کے بد ترین دور سے گزر رہی ہے۔ یہ وہ تاریخی علاقہ ہے جو ہزاروں سال قبل بدھ مت کا اہم مرکز رہا ہے۔ چھٹی صدی  ق م سے لے کر، جب یہ علاقہ ایرانی شہنشاہوں کی عظیم سلطنت کا ایک حصہ تھا، موجودہ دور تک سوات نے اہم انقلابات دیکھے ہیں۔ 
	ڈھائی ہزار ق م میں آریائی نسل کے لوگ جب برصغیر میں داخل ہوئے تو وہ اسی وادی سے ہو کر گزرے تھے۔ 326 ق م میں سکندر اعظم ایران کو فتح کر کے کابل کے راستے ہندوستان پر حملہ آور ہوا تو وہ کونڑ افغانستان سے ہوتا ہوا وادئ سوات میں داخل ہوا۔ 
	100ء میں سوات میں بدھ مت عروج پر تھا۔ اس وقت سوات سلطنتِ گندھارا کا ایک اہم حصہ تھا اور اس پر راجہ کنشک کی حکم رانی تھی جس کا پایۂ تخت پشاور تھا۔ 403ء میں مشہور چینی سیاح اور بدھ مت کے مقدس مقامات کا زائر فاہیان سوات آیا۔ 519ء میں ایک اور مشہور چینی سیاح سنگ یون کافرستان سے ہوتا ہوا سوات میں داخل ہوا۔ 630ء میں چین کا ایک تیسرا معروف سیاح، بدھ مذہب کا عالم اور زائر ہیون سانگ کابل سے ہوتا ہوا سوات وارد ہوا۔ چینی سیاحوں میں آخری سیاح وکنگ تھا جو 752ء میں سوات آیا۔ ان چینی سیاحوں نے اپنے اپنے سفرناموں میں سوات کے اس وقت کے مذہبی، معاشی، تہذیبی اور ثقافتی حالات کے متعلق تفصیل سے لکھا ہے جن سے معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت یہاں بدھ مت کا دور دورہ تھا اور یہاں کے لوگ کافی ترقی یافتہ اور خوش حال تھے۔ 
	گیارھویں صدی عیسوی میں محمود غزنوی کی افواج باجوڑ کے راستے سوات میں داخل ہوئیں۔ غزنوی لشکر نے اس وقت کے راجہ گیرا نامی حکم ران کو شکست دے کر سرزمینِ سوات کو اسلام کی ابدی قندیل سے منور کیا۔ ایک طویل جنگ کے بعد 1515ء میں یوسف زئیوں نے سوات کے بادشاہ سلطان اویس کو تخت و تاج سے معزول کر کے سوات کے پرانے باشندوں کو مانسہرہ (ہزارہ) چلے جانے پر مجبور کر دیا۔ 
	1530ء میں یوسف زئیوں کے عظیم مقنن اور مصلح شیخ ملی نے " ویش" یعنی زمینوں کی  تقسیم کا طریقہ رائج کیا اور یوسف زئ قبیلہ میں زمین کی تقسیم کا باقاعدہ عمل شروع ہوا جس کے تحت ہر دس سال بعد یوسف زئیوں کو اپنی رہائش اور علاقہ تبدیل کرنا پڑتا تھا۔ یہ طریقہ جدید ریاستِ سوات کے بانی میاں گل عبدالودود بادشاہ صاحب کے دور تک جاری رہا جسے بعد میں انھوں نے مستقل ویش کی صورت میں ختم کیا۔ 
	1850ء تک سوات سیاسی طور پر کوئی منظم علاقہ نہیں تھا۔ اس دور کے خوانین اور رؤسا کی مش اور ت سے حضرت اخوند عبدالغفور (سیدو بابا) نے پیر بابا کی اولاد میں سے سید اکبر شاہ کو 1850ء میں سوات کی پہلی شرعی حکومت کا امیر منتخب کیا۔ 11 مئی 1857ء میں ان کی وفات کے بعد سوات پھر سیاسی افراتفری کا شکار ہوا۔ 1876ء میں اخوند صاحب (سیدو بابا) وفات پاگئے۔ 1887ء میں سیدو بابا کے بڑے بیٹے میاں گل عبدالحنان نے ریاست بنانے کی کوشش کی لیکن وہ کوئی خاطر خواہ کامیابی حاصل نہ کر سکے۔ 1895ء اور 1897ء میں انگریزوں نے ملاکنڈ کے راستے سوات پر دو الگ الگ حملے کئے مگر سوات کے بہادر عوام نے ان کو پسپا ہونے پر مجبور کر دیا۔ ان معرکوں میں دیر، باجوڑ، بونیر اور موجودہ ملاکنڈ ایجنسی کے لوگ بھی شامل تھے۔ 
	1914ء میں مختلف قبائل کے مشترکہ جرگہ میں سیدو بابا کے پوتے میاں گل عبدالودود کو مقامی حکومت بنانے کی دعوت دی گئی لیکن جب انھوں نے بوجوہ یہ دعوت قبول نہ کی تو جرگہ نے ریاستِ امب سے تعلق رکھنے والے سید عبدالجبار شاہ نامی شخص کو حکم ران بنایا۔ اسی جرگہ نے بعد ازاں 1917ء میں عبد الجبار شاہ کو معزول کر کے علاقہ بدر کر دیا اور میاں گل عبدالودود (بادشاہ صاحب) کو اپنی نوزائیدہ ریاست کے تخت پر بٹھایا۔ 1917ء سے 1926ء تک اندرونی طور پر ریاستِ سوات کی تشکیل و تعمیر اور اختیارات کے استحکام کے لیے موثر کوششیں شروع کی گئیں۔ سڑکیں، ٹیلی فون کانظام اور قلعہ جات وغیرہ بنائے گئے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ریاست کی حدود وسعت اختیار کرتی گئیں اور ریاستی کردار مجموعی طور پر نہایت موثر اور مفید ثابت ہوتا رہا۔ برطانوی حکومت کی طرف سے رسمی طور پر ریاست سوات کو 1924ء میں تسلیم کیا گیا اور میاں گل عبدالودود کی حکمرانِ سوات کی حیثیت سے تخت نشینی عمل میں لائی گئی۔ 
	12 دسمبر 1949ء کو میاں گل عبدالودود نے عنانِ حکومت اپنے فرزند شہزادہ محمد عبدالحق جہاں زیب (والیِ سوات) کو سونپ دیں۔ انھوں نے سوات کو ایک جدید اور ترقی یافتہ ریاست بنانے کی پوری کوشش کی۔ انھوں نے ہر علاقہ میں ہسپتال قائم کئے۔ پورے سوات میں سکولوں اور کالجوں کا جال پھیلا دیا۔ جگہ جگہ پل بنائے اور ہر مقام تک پختہ سڑکیں تعمیر کیں۔ غرض والیِ سوات نے ریاست کی تعمیر و ترقی میں ایک ناقابل فراموش ا ور زندۂ جاوید کردار ادا کیا۔ 
	28 جولائی 1969ء میں ریاست سوات کو پاکستان میں ایک ضلع کی حیثیت سے ضم کر دیا گیا اور یہاں باقاعدہ طور پر ڈپٹی کمشنر اور دیگر سرکاری انتظامی اہل کاروں کی تعیناتی عمل میں لائی گئی۔ 
	پاکستان میں ادغام کے بعد اہل سوات کو امید تھی کہ اب سوات میں نہ صرف شخصی آزادی ہو گی بلکہ حکومت پاکستان اسے مزید ترقی و خوش حالی سے ہم کنار کرے گی لیکن ہم دیکھ رہے ہیں کہ پاکستان کی ہر حکومت نے سوات کو نظر انداز کئے رکھا۔ سوات اپنی خوب صورتی، شادابی اور حسین قدرتی مناظر کی وجہ سے پوری دنیا میں مشہور ہے لیکن حکومت نے غیر معمولی طور پر اس اہم سیاحتی علاقے کو جدید سیاحتی سہولتوں سے آراستہ کرنے کی کو ئی سنجیدہ کوشش نہیں کی جس کی وجہ سے یہاں کے عوام میں مایوسی پھیلتی گئی۔ عدالتوں میں عوام کو انصاف سے محروم رکھا گیا اور یہاں پاٹا ریگولیشن کے نام سے انتظامی اُمور چلائے جانے لگے جس میں انتظامیہ اور پولیس کو بہت زیادہ اختیارات حاصل تھے۔ عوامی جدوجہد کے نتیجے میں جب 12 فروری 1992ء کو سپریم کورٹ آف پاکستان کے حکم سے پاٹا ریگولیشن کا خاتمہ کیا گیا تو سوات میں ایک قانونی خلا پیدا ہوا۔ 
	ملاکنڈ ڈویژن میں نفاذِ شریعت کے لیے مولانا صوفی محمد نے 18 جولائی 1989ء میں ضلع دیر میں تحریک نفاذِ شریعتِ محمدیؐ کے نام سے ایک تنظیم قائم کی۔ جو فعال انداز میں نفاذِ شریعت کے لیے متحرک رہی۔ اس تحریک کے زیادہ تر جلسے سوات میں ہوتے تھے۔ جب پاٹا ریگولیشن کے خاتمہ کے بعد ملاکنڈ ڈویژن میں قانونی خلا پیدا ہوا تو مولانا صوفی محمد نے نفاذِ شریعت کے ذریعے اس خلا کو پُر کرنے کے سلسلے میں اپنی تحریک میں مزید تیزی پیدا کی۔ اس سلسلے میں تحریک کے سرگرم کارکنوں نے 2 نومبر 1994ء میں ضلعی عدالتوں اور سیدو شریف ایئرپورٹ کو اپنے قبضہ میں لے کر پورے سوات میں حکومت کی عمل داری عملاً ختم کر دی لیکن اس وقت حکومت نے حکمت سے کام لیا اور ریاست کے خلاف یہ بغاوت شریعہ ریگولیشن 1994ء، فرنٹیئر کانسٹیبلری اور فرنٹیئر کور کی مد د سے ختم کر دی گئی۔ بہتر حکمت عملی کی وجہ سے اس میں کوئی بڑی خوں ریزی نہ ہوئی۔ 
	9/11 کے بعد جب امریکا نے افغانستان پر حملہ کیا تو مولانا صوفی محمد طالبان کی مد د کے لیے اپنے دس ہزار ساتھیوں کے ساتھ باجوڑ کے راستے امریکا کے خلاف جہاد کے لیے افغانستان چلے گئے لیکن عسکری تربیت اور کوئی باقاعدہ منصوبہ بندی نہ ہونے کی وجہ سے تحریک نفاذِ شریعت محمدی کے کارکن یا تو قتل کئے گئے، یا انھیں گرفتار کر لیا گیا اور جو وہاں سے زندہ بچ نکلنے میں کامیاب ہو گئے انھیں پاکستان واپس آتے ہوئے 16 نومبر 2001ء کو مولانا صوفی محمد سمیت پولیٹیکل حکام نے گرفتار کر لیا۔ جس کے بعد انھیں ڈیرہ اسماعیل خان جیل میں رکھا گیا۔ مولانا صوفی محمد کے داماد اور سوات میں تحریک طالبان کے سربراہ ملا فضل اللہ کو بھی افغانستان سے واپسی کے بعد ان کے ساتھ گرفتار کر لیا گیا تھا۔ 12 جنوری 2002ء میں حکومت نے "تحریک نفاذِ شریعت محمدیؐ" پر پابندی لگا دی۔ 16 نومبر 2007ء کو مولانا صوفی محمد کو اے این پی کی حکومت نے رہا کر دیا۔ 
	2003ء میں ملا فضل اللہ نے سوات کے ایک نواحی گاؤں مام ڈھیرئ میں ایف ایم ریڈیو کا آغاز کیا۔ 2004 ء میں اس ریڈیو کے تحت انھوں نے بچوں کی پولیو مہم اور لڑکیوں کی تعلیم کی مخالفت شروع کی۔ 2006ء میں ملا فضل اللہ نے اپنے معتقدین کو الیکٹرانک اور موسیقی کے آلات مثلاً ٹیلی وژن، وی سی آر اور سی ڈی پلیئر وغیرہ جلانے کی ترغیب دی۔ بڑی تعداد میں لوگ اپنے ان آلات کو اجتماعی طور پر جلانے لگے۔ مقامی انتظامیہ نے اسی سال ملا فضل اللہ کے ایف ایم ریڈیو کا نوٹس لیا اور اس کے خلاف کار روائی کی لیکن مقامی انتظامیہ کو اس سلسلے میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ بعض حلقوں کا خیال ہے کہ انتظامیہ کو ملا فضل اللہ کے خلاف فیصلہ کن اقدام نہ اٹھانے کا حکم اس وقت کی مرکزی حکومت کی طرف سے دیا گیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ تحریک پھیلتی گئی اور اس میں باقاعدہ اسلحہ کی نمائش شروع کی گئی۔ اس کے بعد ملا فضل اللہ باقاعدہ طور پر مقامی پولیس اور پاک فوج کو چیلنج کرنے لگے۔ لال مسجد اور جامعہ حفصہ میں فوجی آپریشن کے خلاف ملا فضل اللہ نے شدید ردِ عمل کا اظہار کیا اور آپریشن ابھی پایہ تکمیل تک بھی نہیں پہنچا تھا کہ 3 جولائی 2007ء کو مٹہ (سوات) کے پولیس سٹیشن پر پہلا راکٹ حملہ کیا گیا جس میں ایک پولیس اہل کار جاں بحق اور کئی زخمی ہو گئے۔ 
	جامعہ حفصہ کے آپریشن کے بعد سوات میں باقاعدہ خود کش حملوں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ جب پورے سوات میں حکومت کی عمل داری ختم ہو گئی تو حکومت نے باقاعدہ طور پر سوات میں فوجی آپریشن کا اعلان کیا۔  4نومبر 2007ء کو سوات میں میجر جنرل ناصر جنجوعہ کی سرکردگی میں ریگولر آرمی بھیجی گئی۔  24 نومبر 2007ء کو سوات آپریشن کا باقاعدہ چارج پاک فوج کے حوالے کر دیا گیا۔ سوات آپریشن کے انچارج میجرجنرل ناصر جنجوعہ نے اہلیانِ سوات سے وعدہ کیا کہ دسمبر 2007ء میں فوج آپریشن مکمل کر کے سوات میں امن قائم کرے گی اور اسی مہینے وادئ سوات کو سیاحوں کے لیے کھول دیا جائے گا۔ اس وقت سوات آپریشن کو دوسرا سال شروع ہو چکا ہے لیکن سوات میں بدامنی اور عسکریت پسندی ختم ہونے کی بجائے بڑھ رہی ہے۔ 
	اہل سوات پاک فوج کی آمد پر خوش تھے کہ سوات میں فوجی آپریشن کے ذریعے امن و امان قائم کیا جا سکے گا لیکن اس آپریشن کے دوران زیادہ نقصان عام بے گناہ شہریوں کا ہو رہا ہے اور بدامنی اور لاقانونیت روز بروز بڑھ رہی ہے۔ حکومت اگر مخلص ہوتی تو وہ یا تو مقامی طالبان کا جائز مطالبہ مان کر سوات اور ملاکنڈ ڈویژن میں اسلامی شریعت نافذ کرتی اور اگر حکومت کے لیے ایسا کرنا ممکن نہ ہوتا تو وہ سوات سے بدامنی کا مکمل خاتمہ کرتی لیکن دونوں میں سے ایک کام بھی حکومت اب تک نہیں کر سکی۔ حالاں کہ سوات کوئی سرحدی یا قبائلی علاقہ نہیں اور نہ ہی اس کی حدود لامحدود ہیں۔ حکومت یا متعلقہ سکیورٹی فورسز اگر چاہتیں تو سوات میں چند دنوں میں امن قائم کر سکتیں لیکن بوجوہ ایسا نہیں ہو سکا۔ 
	ایک ریاست کا اولین کام اپنے عوام کو جان و مال اور عزت و آبرو کا تحفظ فراہم کرنا ہوتا ہے لیکن بدقسمتی سے سوات میں ایسا نہیں ہو رہا ہے۔ سوات کے عوام عسکریت پسندوں اور سکیورٹی فورسز کے درمیان پھنس چکے ہیں۔ اہل سوات کے بنیادی انسانی حقوق سلب ہیں اور امن کے نام پر تعینات سکیورٹی فورسز کی غفلت اور دانستہ غلطیوں کی وجہ سے اب تک سیکڑوں بے گناہ شہری لقمۂ اجل بن چکے ہیں لیکن کسی ایک پاکستانی شہری کی ہلاکت پر اب تک کسی کے خلاف کوئی ایف آئی آر درج نہیں کرائی جا سکی۔ اہل سوات مقتدر قوتوں سے پوچھنا چاہتے ہیں کہ اگر آئینِ پاکستان میں انھیں بنیادی انسانی اور شہری حقوق دئیے گئے ہیں تو وہ ان سے محروم کیوں ہیں؟ 
	اہلِ سوات نے بہت کشت و خون دیکھ لیا۔ اب ان کی حالت پر رحم کیا جائے۔ اگر سوات میں نفاذِ شریعت سے امن قائم ہو سکتا ہے تو حکومت اس میں لیت و لعل سے کیوں کام لے رہی ہے۔ اگر حکومت طاقت کے ذریعے سوات میں امن قائم رکھنے میں دل چسپی رکھتی ہے تو ایک سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود اب تک سوات میں امن قائم کیوں نہیں کیا جا سکا؟ سوات میں فوج کی مسلسل موجودگی سوالیہ نشان بن چکی ہے۔ عوام اور پاک فوج کے درمیان خلیج روز بروز وسیع سے وسیع تر ہوتی جا رہی ہے اور تنگ آمد بجنگ آمد کے مصداق کسی بھی وقت اہل سوات کا پیمانۂ صبر لبریز ہو سکتا ہے۔ 
	اس وقت اہل سوات کا ایک ہی مطالبہ ہے کہ جنت نظیر وادئ سوات میں امن قائم کیا جائے اور اس کے لیے حکومت جو بھی طریقہ اختیار کرے، اس میں سوات کے لوگوں کے جان و مال اور عزت و آبرو کا تحفظ ملحوظ رکھا جائے۔ 

 (30 نومبر2008 بروز اتوار (ہالیڈے اِن) اسلام آباد ہوٹل میں 
منعقدہ سوات امن کانفرنس میں کی جانے والی تقریر) 
٭٭٭



سوات میں آگ اور خون کا کھیل نہ کھیلا جائے !

	وادیِ سوات، جو امن کا گہوارہ اور سیاحوں کی جنت کہلاتا ہے۔ جس میں مثالی امن و امان ہوا کرتا تھا۔ اب اس پُر امن وادی کی پُر سکون فضا میں بداَمنی نے اپنے گھنے بادل پھیلانا شروع کر دئیے ہیں۔ سوات کے لوگ بلاشبہ مذہب سے محبت کرنے والے پُر امن لوگ ہیں لیکن بعض لوگ ان کی اس مذہب پسندی کو استعمال کر رہے ہیں اور سوات کے امن و امان میں مستقل خلل پیدا کرنے کی دانستہ کوشش کر رہے ہیں۔ گزشتہ دنوں سوات میں دو اہم واقعات وقوع پذیر ہوئے۔ ایک مٹہ پولیس سٹیشن پر دو راکٹ لانچروں سے حملہ کیا گیا جس میں ایک کانسٹیبل اور 8 پولیس اہل کار زخمی ہو گئے اور دوسرا ڈی پی او سوات کی گاڑی پر گرینیڈ سے حملہ کے نتیجے میں 6افراد جاں بحق جب کہ ڈی پی او سمیت 9پولیس اہل کار زخمی ہو گئے ہیں۔ اس کے علاوہ چار باغ میں بھی پولیس چوکی کے قریب کھڑے ایک پولیس اہل کار پر چلتی گاڑی سے فائرنگ کی گئی جس کے نتیجے میں وہ موقع پر ہی جاں بحق ہو گیا۔ دوسری طرف علاقہ نیک پی خیل (سوات) میں مولانا فضل اللہ کے حامیوں نے پوزیشنیں سنبھال لی ہیں اور انھوں نے علاقے میں مسلح گشت بھی شروع کر دیا ہے۔ جب کہ اخباری اطلاعات کے مطابق خودکش حملہ آور بھی اپنی کار روائیوں کے لئے تیار ہیں۔ مولانا فضل اللہ نے انتظامیہ کے ساتھ کیا جانے والا حالیہ امن معاہدہ توڑتے ہوئے کہا ہے کہ جامعہ حفصہ کے خلاف حکومت کی کار روائی بلا جواز ہے۔ انھوں نے جامعہ حفصہ کا بدلہ لینے کا اعلان بھی کیا ہے۔ جس سے سوات کے حالات میں شدید تناؤ پیدا ہو رہا ہے۔ سوات کی موجودہ صورت حال کے پیش نظر نیم فوجی دستے بکتر بند گاڑیوں سمیت پہنچ گئے ہیں۔ مولانا فضل اللہ کے سیکڑوں حامیوں نے بھی اسلحہ بند ہو کر مام ڈھیرئی کے گرد حفاظتی حصار قائم کر لیا ہے۔ مولانا کے حامیوں کے پاس ہر قسم کا اسلحہ موجود ہے جس میں کلاشنکوف، پستول، مختلف قسم کی بندوقیں اور راکٹ لانچر تک شامل ہیں۔ ان حالات اور واقعات کے نتیجے میں سوات بھر میں خوف و ہراس اور غیر یقینی صورت حال کی ایک ایسی فضا پیدا ہو رہی ہے جس میں عام آدمی بہت بے چینی اور عدم تحفظ محسوس کر رہا ہے۔ 
	اسلامی نظام کے نفاذ کی خواہش ہر مسلمان کی ہے اور سوات کے عوام تو خصوصاً اسلام کے نفاذ کے سلسلے میں ہر قسم کی عملی قربانی دینے کے لئے پیش پیش رہتے ہیں لیکن موجودہ حالات میں مذہبی شدت پسندی کے نتیجے میں جو لوگ مر رہے ہیں، وہ کوئی غیر نہیں بلکہ اس سرزمینِ سوات کے باسی ہیں اور ان کی بھی اسلامی نظام کے نفاذ کی خواہش اتنی ہی شدید ہے جتنی کسی مولانا صاحب کی ہو سکتی ہے۔ سوات میں گزشتہ روز ڈی پی او کی گاڑی پر جو حملہ ہوا ہے، اس میں تین راہ گیر 70سالہ شخص زیارت گل، نو سالہ بچی نجمہ اور چار سالہ بچہ یاسین بھی ہلاک ہو گئے ہیں۔ نامعلوم حملہ آوروں نے یہ بھی نہیں سوچا کہ ان کے حملہ کی وجہ سے عام بے گناہ افراد بھی ہلاک ہو سکتے ہیں جنھیں جامعہ حفصہ کے قضیے کا کوئی علم، کوئی سمجھ نہیں۔ اس حملہ میں جو سرکاری اہل کار جاں بحق اور زخمی ہو چکے ہیں، وہ تو محض اوپر کے احکامات ماننے والے تھے۔ وہ خود نہ کوئی حکم دے سکتے ہیں اور نہ ہی کوئی پالیسی بنا سکتے ہیں۔ موجودہ حالات میں وہ بھی بے گناہ ہیں۔ ساری پالیسیاں تو جنرل مشرف اور ان کے حواری بناتے ہیں جس کے نتیجے میں ملک بھر میں افراتفری پھیلی ہوئی ہے اور ہر جگہ حکومتی رِٹ اور ملک کا اقتدارِ اعلیٰ سوالیہ نشان بنے ہوئے ہیں۔ 
	جہاں تک جامعہ حفصہ اور لال مسجد کا تعلق ہے، ان کی تمام تر سرگرمیوں سے حکومت پہلے ہی سے واقف تھی اور حکومت نے اپنے مخصوص اغراض کے لئے ان کی سرگرمیوں کو نظر انداز کئے رکھا۔ ایک سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ جامعہ حفصہ والوں کے پاس جدید ترین اسلحہ اور حفاظتی ماسک کہاں سے آ گئے؟ جب کہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد جو ریاستی اور انتظامی معاملات میں طاقت کا منبع ہے، اس میں ریاست کے خلاف ریاست قائم ہو رہی تھی لیکن حکومت محض خاموش تماشائی بنی ہوئی تھی۔ ایسا کیسے ممکن ہے؟ کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے۔ بعض با خبر حلقے کہہ رہے ہیں کہ یہ اسلحہ ایجنسیوں کی دَین ہے جس سے وہ بہ یک وقت کئی مقاصد حاصل کرنا چاہتی ہیں۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ ملک بھر میں مذہبی حلقوں کو شدت پسندی کی راہ پر ایک سوچے سمجھے منصوبے کے مطابق دانستہ طور پر ڈالا جا رہا ہے تا کہ عام لوگوں کو مذہب اور مذہبی شخصیات سے متنفر کر دیا جائے۔ بعض مذہبی شخصیات میں اتنی فہم نہیں کہ وہ حکومت کی اس چال کو سمجھ سکیں اور وہ یہ سمجھنے لگی ہیں جیسے انھوں نے کام یابی کے ساتھ ریاست کے اندر اپنی ریاست قائم کر دی ہے اور اب حکومت ان کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھ سکتی لیکن یہ تو معلوم اور واضح ہے کہ ریاست کے اندر ریاست قائم نہیں کی جا سکتی اور نہ ہی حکومتی رِٹ کو مستقل چیلنج کیا جا سکتا ہے۔ یہ بات حکومت کے اعلیٰ حکام بخوبی سمجھتے ہیں اس لئے وہ ڈھیل دیتے رہتے ہیں اور جب وہ مذہبی حلقے اپنے زعم میں طاقت ور بن جاتے ہیں اور کھلم کھلا اپنے احکامات کے نفاذ کی کوشش کرتے ہیں اور اس کے لئے معصوم عوام کو ڈھال بنا دیتے ہیں تو اس وقت حکومت حرکت میں آ جاتی ہے اور وہ بھر پور آپریشن کر کے اس مذہبی حلقے کا قلع قمع کر دیتی ہے۔ اس طرح عوام میں مذہبی شخصیات کی فہم و فراست کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا ہوتے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ مذہب کی آڑ میں جو کچھ کیا جا رہا ہے وہ غلط ہے۔ اس طرح حکومت اپنے مقاصد میں کامیاب ہو جاتی ہے۔ اس کی تازہ مثال جامعہ حفصہ کی ہے جس میں مولانا عبدالعزیز کو برقعہ پہن کر فرار ہوتے ہوئے گرفتار کیا گیا۔ جامعہ حفصہ میں زیر تعلیم طلبہ و طالبات کے اکثر والدین نے جامعہ کی انتظامیہ کی اس روش کی شدید مذمت کی ہے کہ اس نے اپنے مقاصد کے لئے معصوم بچوں اور بچیوں کو ڈھال بنانے کی کوشش کی۔ بہر حال ہمیں واضح یہ کرنا ہے کہ ہماری محترم مذہبی شخصیات کو حکومت کی اس چال میں نہیں آنا چاہئے جس کے نتیجے میں عام آدمی کو مذہب سے دور کرنا اور معاشرے سے مذہبی اثرات کو ختم کرنا مقصود ہے۔ 
	مساجد اور مدرسوں میں محض دینی اور ضروری دنیاوی تعلیم دینے کی ضرورت ہے۔ انھیں سیاسی مقاصد یا مذہبی جنونیت کے لئے استعمال نہیں کرنا چاہئے۔ جس کے نتیجے میں نہ صرف امن و امان کا مسئلہ پیدا ہوتا ہے بلکہ کئی قیمتی جانوں کا ضیاع بھی ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ معاشرے کے فہمیدہ افراد، جن کی تمام تر ہمدردیاں مذہبی شخصیات سے ہوتی ہیں، قانون کو ہاتھ میں لینے کے بعد ان کی ہم دردیاں ان کے ساتھ باقی نہیں رہتیں اور یوں عام آدمی کو مذہبی سرگرمیوں سے تنفر پیدا ہو جاتا ہے۔ ہم مولانا فضل اللہ کی خدمت میں مودبانہ گزارش کریں گے کہ وہ اپنے حامیوں کو کوئی ایسا حکم جاری نہ کریں جس سے علاقے میں کشیدگی پیدا ہو اور جس کے نتیجے میں حکومت کو فوجی آپریشن کرنا پڑے۔ اس صورت میں بہت خون خرابا ہو گا۔ سوات کی پر امن فضا بہت مخدوش ہو جائے گی اور عام آدمی کے معاملاتِ زندگی میں زہر کی سی تلخی عود کر آئے گی۔ اسلام تو امن کا مذہب ہے۔ یہ تو ایک بے گناہ انسان کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل سمجھتا ہے۔ رسولِ اکرمؐ نے اپنے جانی دشمنوں کے ساتھ بھی نرمی کا برتاؤ کیا تھا۔ آپ  ﷺ نے فتح مکہ کے موقع پر عام معافی کا اعلان فرمایا تھا۔ آپؐ نے دین میں زبردستی کو منع فرمایا ہے۔ موجودہ حالات میں اگر اسلحہ اٹھا کر حکومت کے خلاف مورچہ زن ہوا جائے تو اس سے بہت سے بے گناہ مسلمانوں کی جانوں کو خطرات لاحق ہوں گے اور اس سے ایجنسیوں کے مخصوص مقاصد کی تکمیل ہی ہو گی۔ ہمیں اسلامی تعلیمات کی روشنی میں تمام متنازعہ اُمور باہمی افہام و تفہیم سے حل کرنے ہوں گے۔ 
	سوات کے تمام فہمیدہ حلقوں کا فرض بنتا ہے کہ وہ حکومتی تشدد اور مذہبی انتہاپسندی کے خلاف متحد ہو کر ایک مشترکہ لائحہ عمل وضع کریں۔ حالات کو مزید بگاڑ سے بچانے کے لئے آگے بڑھیں اور سوات کے امن میں خلل ڈالنے والی قوتوں کے خلاف مشترکہ پلیٹ فارم قائم کریں۔ ہم اس علاقے کا امن چاہتے ہیں۔ یہاں کے باسیوں کی حفاظت کے متمنی ہیں۔ یہاں حکومتی تشدد بھی برداشت نہیں کی جانی چاہئے اور مذہبی جنونیت کو بھی ہوا نہیں دینی چاہئے۔ اسلام امن کا مذہب ہے۔ اس کا پیغام آشتی کا ہے۔ ہمیں اسلام کے ان احکامات سے روگردانی نہیں چاہئے۔ 

 (9جولائی 2007ء) 
٭٭٭



کیا سوات میں فوجی آپریشن ناگزیر ہو چکا ہے؟

	وطن عزیز آج پھر دو راہے پر کھڑا ہے۔ جامعہ حفصہ اور لال مسجد کے خلاف حکومت کا آپریشن بہت سے سوالات کو جنم دے گیا ہے۔ وفاقی دار الحکومت اسلام آباد کی جامعہ حفصہ میں بھاری ہتھیار کہاں سے آ گئے؟ وہاں طلبہ کو فوجی تربیت کس نے دی؟ اور اگر وہاں غیر ملکی دہشت گرد موجود تھے تو حکومت کی خفیہ ایجنسیوں کو ان کا بروقت علم کیوں نہ ہو سکا؟ اس کے علاوہ مولانا عبدالرشید غازی اور حکومت کے درمیان معاہدہ تقریباً طے پاچکا تھا اور اس کا اظہار علماء کے وفد نے اسی رات کئی نیوز چینلوں کے نمائندوں سے اپنی بات چیت میں بھی کیا تھا لیکن معاہدے کا متن جب ایوانِ صدر لے جایا گیا تو وہاں اس میں تبدیلیاں کی گئیں جس کے بعد معاہدہ ختم ہوا اور سکیورٹی فورسز نے خونی آپریشن کا آغاز کیا جس میں بہت سی قیمتی جانوں کا ضیاع ہوا۔ 
	عوام میں جامعہ حفصہ اور لال مسجد کے خلاف آپریشن کے بارے میں ملا جلا ردِ عمل سامنے آیا ہے۔ مذہبی حلقوں نے اس آپریشن کی شدید مذمت کی ہے جب کہ عام لوگوں کے خیال کے مطابق غازی برادران کا اسلام کے نفاذ کا طریقۂ کار غلط تھا اور انھیں قانون ہاتھ میں لے کر ریاست کے اندر ریاست کی سی صورتِ حال کو جنم نہیں دینا چاہئے تھا۔ اس سے عالمی سطح پر ملک کی مزید بدنامی ہوئی ہے اور اسلام کے بارے میں بین الاقوامی سطح پر ناخوش گوار تاثر مزید پختہ ہو گیا ہے۔ حکومت اگر چاہتی تو یہ مسئلہ آپریشن کے بغیر بھی حل ہو سکتا تھا۔ چند انتہاپسندوں کو ختم کرنے کے لیے سیکڑوں بے گناہ طلبہ و طالبات کو بے دردی سے ہلاک کیا گیا۔ غازی عبدالرشید کو اگر محفوظ راستہ دیا جاتا تو وہ کہاں جاتے؟ ملک سے باہر تو نہیں جا سکتے تھے۔ انھیں بعد میں بھی قانون کی گرفت میں لایا جا سکتا تھا اور آخر میں جس معاہدے پر اتفاق رائے ہو گیا تھا اس میں غازی عبدالرشید قانون کے مطابق مقدموں کا سامنا کرنے پر تیار ہو چکے تھے لیکن نہ جانے کیوں حکومت نے معصوم جانوں کی پرواہ نہ کرتے ہوئے خونی آپریشن کو ناگزیر سمجھا۔ حکومت نے حالات کو بروقت کیوں کنٹرول نہیں کیا اور اس قدر جدید اسلحہ جامعہ حفصہ میں کیسے پہنچا؟ یہ سوالات نہایت اہم ہیں اور اس کا جواب دینا موجودہ حکومت کے ذمے ہے۔ 
	جامعہ حفصہ اور لال مسجد آپریشن کے بعد ردِ عمل میں صوبہ سرحد میں مختلف جگہوں میں بم دھماکے ہو رہے ہیں اور خودکش حملوں کے ذریعے سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ گزشتہ روز منگورہ میں خود کش حملہ میں 3 پولیس اہل کاروں سمیت 6 افراد ہلاک اور متعدد افراد زخمی ہو گئے۔ اسی دن میران شاہ، الائی اور کوہاٹ میں بھی دھماکے ہوئے ہیں جب کہ وزیرستان کے علاقے میں دھماکے روز کا معمول بن چکے ہیں۔ 
	سوات میں اس وقت حالات بہت خراب ہیں۔ گزشتہ روز کے خود کش دھماکے سے پہلے بھی کئی بم دھماکے ہو چکے ہیں جن میں سوات کے ڈی پی او کے زخمی ہونے کے علاوہ متعدد پولیس اہل کار ہلاک و زخمی ہو چکے ہیں۔ اس کے علاوہ مٹہ میں پولیس سٹیشن پر راکٹ حملے بھی حالات کی سنگینی کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔ سوات میں سکیورٹی فورسز کے تازہ دم دستوں کی آمد جاری ہے اور فوجی جوانوں نے اہم مقامات پر مورچے سنبھال لیے ہیں۔ سوات میں متوقع آپریشن کے لیے بھاری اسلحہ بھی پہنچا دیا گیا ہے۔ سکیورٹی فورسز نے کانجو ٹاؤن شپ سوات میں سیکٹر ای کو مکمل طور پر آمد و رفت کے لیے بند کر دیا ہے اور وہاں قائم ٹی ٹی سی آفس کو اپنا کنٹرول روم بنا دیا ہے جس کے ارد گرد فوجی جوان مورچے کھود رہے ہیں۔ حالات کے تیور بتا رہے ہیں کہ حکومت نے سوات میں بھی آپریشن کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے کیوں گزشتہ ہفتہ عشرہ میں سکیورٹی فورسز پر حملوں میں اچانک تیزی آ گئی ہے اور اگر حکومت نے مزید خاموشی اختیار کئے رکھی تو ان حملوں میں شدت آ سکتی ہے۔ 
	سوات انتظامیہ نے سوات میں قائم تمام ایف ایم چینلز کو بند کرنے کے نوٹس جاری کر دئیے ہیں لیکن اخباری اطلاعات کے مطابق چلانے والوں نے انکار کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ ان کے ذریعے صرف قرآن و حدیث کی تعلیم دیتے ہیں اور قرآن و حدیث پر پابندی وہ کسی صورت تسلیم نہیں کریں گے۔ اب یوں لگ رہا ہے جیسے ان مذہبی حلقوں اور حکومت کے درمیان کسی بھی وقت جنگ چھڑ سکتی ہے جس سے سوات میں بہت خون خرابا ہو گا۔ سکیورٹی فورسز پر حملوں سے یوں معلوم ہوتا ہے جیسے سوات میں مخصوص قوتیں سرگرم عمل ہو چکی ہیں اور وہ ہر صورت میں سوات میں ایک خونی آپریشن کے لیے راہ ہم وار کر رہی ہیں۔ اہل سوات نہیں چاہتے کہ یہاں کوئی خونی آپریشن ہو جس میں معصوم اور بے گناہ انسانوں کی جانوں کا اتلاف ہو۔ حکومت کو اس معاملے میں فہم و بصیرت کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔ ایسا نہ ہو کہ آپریشن کی صورت میں حالات میں مزید بگاڑ آ جائے اور یہاں امن و امان کا مستقل مسئلہ پیدا ہو جائے۔ جہاں تک ایف ایم چینلوں کا تعلق ہے، حکومت کو ان کے قیام کا پتہ شروع ہی سے تھا اور خفیہ ایجنسیوں کو اوّل روز سے ہی ان کے مقاصد معلوم تھے۔ انھیں باقاعدہ علم تھا کہ ان چینلوں کے ذریعے کس قسم کے خیالات نشر کئے جاتے ہیں اور ان کا اثر عام آدمی پر کس طرح پڑ رہا ہے لیکن حکومت پھر بھی آنکھیں بند کئے غفلت کی نیند سوتی رہی۔ اگر ابتدا ء ہی سے ان چینلز کو چلانے والوں کے لیے ضابطۂ اخلاق مقرر کیا جاتا اور انھیں قانون کے دائرے میں رکھا جاتا تو حالات اب اتنی خطرناک صورت اختیار نہ کرتے۔ 
	موجودہ حالات کا تقاضا ہے کہ ایک پُر امن آپریشن کیا جائے اور باہمی مذاکرات کے ذریعے عام لوگوں سے غیر قانونی اسلحہ اکھٹا کیا جائے اور تمام ایف ایم چینلز پر سخت پابندی عائد کر دی جائے تاکہ ایسے عوامل کا خاتمہ ہو جس سے خیر کم اور انتشار زیادہ پھیل رہا ہے۔ جنرل مشرف کی عسکری حکومت کو بھی ہر معاملہ طاقت کے ذریعے حل کرنے کی روش ختم کر دینی چاہئے۔ ہر مسئلے کا ایک پُر امن حل موجود ہوتا ہے اور ایسے معاملوں میں پُر امن حل ہی پائیدار ہوتا ہے۔ جب تک جنرل مشرف اپنی داخلہ اور خارجہ پالیسیوں میں بڑی تبدیلی نہیں لائیں گے، اس وقت تک ردِ عمل کے طور پر خود کش حملے اور بم دھماکے ہوتے رہیں گے اور حکومت طاقت کے ذریعے لاکھ کوشش کرے، اس سے کوئی بھی معاملہ صحیح طور پر حل نہیں ہو سکے گا۔ امریکا جب تک دوسرے ممالک کے معاملات میں جارحانہ دخل دیتا رہے گا، عالمی سطح پر اس کے خلاف مزاحمت بڑھتی جائے گی اور دنیا بھر میں اس کے حواریوں کے لیے مشکلات پیدا ہوتی رہیں گی۔ جنرل مشرف کی پالیسیاں بھی امریکی اغراض و مقاصد کی نگہبانی کر رہی ہیں اور اس لیے اپنے ہی ملک کے عوام ان کی پالیسیوں سے نفرت کرتے ہیں اور اس کے عملی اظہار کے لیے سکیورٹی فورسز پر حملے کئے جاتے ہیں۔ 
	 امریکا کی دہشت گردی کی نام نہاد مہم میں ہماری فوج آخر کب تک اپنے ہی عوام پر آگ اور خون برساتی رہے گی؟ قوم کے ٹیکسوں پر پلنے والی افواج قوم کی خواہشات کے برعکس سرگرمیوں میں مصروف ہیں اور جہاں کہیں امریکی مفادات کے لیے خطرات پیدا ہونے کے امکانات اُبھرتے ہیں، پاک فوج اپنے لوگوں کے خلاف آگ اور خون کا کھیل شروع کر دیتی ہے۔ جس سے بہت سے بے گناہ ہم وطن ہلاک ہو جاتے ہیں لیکن ملک کی مقتدر قوتوں کو کوئی پرواہ  نہیں۔ امریکا اور افغانستان میں مقیم اتحادی افواج آئے روز ہمارے اقتدارِ اعلیٰ کو چیلنج کرتی رہتی ہیں، ہماری فوج نے تو ان کے خلاف کبھی کوئی کار روائی نہیں کی۔ کیا فوج کی ذمے داری ملک کی سرحدوں کی حفاظت نہیں؟ کیا ان کا فرض نہیں بنتا کہ وہ ملک کے اقتدارِ اعلیٰ کو قائم رکھے اور ملک کی سرحدوں کو پامال کرنے والوں کو منہ توڑ جواب دے؟

 (14 جولائی 2007ء) 
٭٭٭


فوجی طاقت کا بے محابا استعمال اور اس کے نتائج	

	جامعہ حفصہ اور لال مسجد میں آپریشن کے بعد ملک میں امن و امان کی مجموعی صورتِ حال ہر لمحہ مخدوش سے مخدوش تر ہوتی جا رہی ہے۔ صوبہ سرحد اور قبائلی علاقوں میں سکیورٹی فورسز پر حملوں میں شدت آ گئی ہے اور یوں لگ رہا ہے جیسے ملک میں دہشت اور خوف نے ہر طرف اپنے خونین پنجے گاڑھ رکھے ہوں۔ سوات میں سکیورٹی فورسز پر مسلسل حملے ہو رہے ہیں۔ اس کا آغاز 3 جولائی کو مٹہ (سوات) میں پولیس سٹیشن پر راکٹ حملوں سے ہوا تھا جس میں ایک پولیس اہل کار جاں بحق جب کہ کئی افراد زخمی ہو گئے تھے۔ 4 جولائی کو پولیس لائن منگورہ میں ریموٹ بم دھماکہ میں 6 افراد جاں بحق اور ڈی پی او سوات مظہر الحق سمیت 9 افراد شدید زخمی ہو گئے۔ 6 جولائی کو مٹہ پولیس اور ایف سی کے قافلے پر بم حملہ میں ڈی ایس پی اور ایس ایچ او سمیت 4 پولیس اہل کار زخمی ہو گئے۔ 6 جولائی کو چک درہ میں پاک فوج کے کانوائے پر حملہ میں 4 فوجی جوان جاں بحق ہوئے جن میں ایک میجر اور ایک لیفٹننٹ بھی شامل تھے۔ 12جولائی کو منگورہ کے تختہ بند بائی پاس روڈ پر ایک خودکش حملہ میں 3 پولیس اہل کاروں سمیت 6 افراد ہلاک ہو گئے۔ اسی دن کبل کے علاقہ ہزارہ میں بم دھماکے سے رابطہ پل کا ایک حصہ تباہ ہو گیا تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ 15 جولائی کو ضلع سوات کے علاقہ مٹہ میں سمبٹ کے مقام پر فوجی کانوائے پر خودکش حملہ اور ایک گاڑی کی بارودی سرنگ سے ٹکرانے کی وجہ سے 14 سکیورٹی اہل کاروں سمیت 20 افراد جاں بحق اور 40 سے زائد زخمی ہوئے۔ اسی واقعے میں 6 مکانات اور متعدد دکانیں بھی تباہ ہو گئیں۔ یہ تو سوات میں مسلسل ہونے والے خونی واقعات کی ایک جھلک تھی لیکن اس دوران صوبہ کے دوسرے مقامات پر بھی سکیورٹی اہل کاروں پر حملے کئے گئے جن میں درجنوں اہل کار جاں بحق ہو چکے ہیں۔ 14 جولائی کو میران شاہ میں سکیورٹی فورسز کے قافلے پر خود کش حملہ میں 24 اہل کار جاں بحق اور 29 زخمی ہو گئے۔ 15 جولائی کو صوبہ سرحد کے ایک اور مقام ڈیرہ اسماعیل خان میں پولیس لائن پر خود کش حملہ میں 20 سے زائد افراد جاں بحق جب کہ 50 سے زائد زخمی ہو گئے۔ اسی دن شمالی وزیرستان میں مقامی طالبان نے حکومت سے امن معاہدہ کے خاتمے کا اعلان بھی کیا۔ جس کے نتیجے میں وزیرستان میں سکیورٹی فورسز پر حملوں میں مزید شدت آنے کا امکان ہے۔ 
	ان تمام واقعات سے معلوم ہوتا ہے کہ پورے ملک خصوصاً صوبہ سرحد میں حالات نہایت کشیدہ ہیں اور اس کشیدگی میں روز افزوں اضافہ ہو رہا ہے۔ جامعہ حفصہ اور لال مسجد کا معاملہ طاقت کے ذریعے حل کرنے کی وجہ سے مذہبی حلقوں میں حکومت کے خلاف شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے اور موجودہ حالات اور واقعات اسلام آباد سانحہ کا ردِ عمل ہیں۔ ان خیالات کا اظہار وزیرِ داخلہ آفتاب احمد شیرپاؤ نے بھی کیا ہے کہ سوات اور ڈی آئی خان کے دھماکوں کا تعلق لال مسجد سے ہو سکتا ہے۔ عبدالرشید غازی نے بھی جامعہ حفصہ اور لال مسجد کے خلاف آپریشن کے دوران مختلف نیوز چینلز سے بات چیت کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر انھیں ہلاک کر دیا گیا تو اسلام آباد بغداد بن سکتا ہے لیکن موجودہ حالات میں اسلام آباد بغداد تو نہیں بن سکا لیکن یوں محسوس ہوتا ہے جیسے پورا صوبہ سرحد بغداد بننے والا ہے۔ 
	پاک فوج کا اصل کام ملکی سرحدوں کی حفاظت ہے اور اس پر قومی بجٹ کا بیشتر حصہ اس لیے خرچ کیا جاتا ہے کہ وہ نہ صرف ملکی سرحدوں کی حفاظت اور ریاستی اقتدارِ اعلیٰ کے تحفظ کو ممکن بنائے گی بلکہ وہ اندرون ملک بھی عوام کے جان و مال کی حفاظت کا فریضہ ادا کرتی رہے گی لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے فوجی جوان کبھی جامعہ حفصہ اور لال مسجد کے خلاف فوجی ایکشن کے ذریعے اپنے ہی عوام کو مارتے ہیں، کبھی باجوڑ ایجنسی میں مدرسہ پر حملہ کر کے وہاں معصوم بچوں کی زندگیاں چھین لیتے ہیں، کبھی بلوچستان میں فوجی کار روائیوں کے ذریعے اپنے ہی اہلِ وطن پر آگ و آہن کی بارش برسا کر ایک دوسرے کو مبارک باد دیتے ہیں اور کبھی وزیرستان کے علاقوں میں عوام کے جان و مال کی حرمت سے کھیلتے ہیں۔ معلوم نہیں فوجی جرنیلوں کو تنخواہ باہر سے آتی ہے یا ان کی تنخواہیں پاکستان کے قومی خزانہ سے ادا کی جاتی ہیں۔ اگر ان کی تنخواہیں اور مراعات اس ملک کے مجبور و مقہور عوام کے خون پسینے کی کمائی سے ادا کی جاتی ہیں تو پھر انھیں کیا حق پہنچتا ہے کہ وہ اپنے ہی عوام کو گولیوں کا نشانہ بنائیں۔ آئے روز افغانستان میں مقیم اتحادی افواج ہمارے اقتدارِ اعلیٰ کے لیے سوالیہ نشان بنتی رہتی ہیں لیکن ہماری فوج کے کان پر جوں تک بھی نہیں رینگتی لیکن اپنے لوگوں کے لیے ان کے گنوں کے دہانے ہمہ وقت کھلے رہتے ہیں۔ امریکا ہزاروں کلومیٹر دور سات سمندر پار واقع ہے لیکن اس کی جنگ ہم اپنی ہی سرزمین پر اپنے ہی لوگو ں کے خلاف لڑ رہے ہیں اور اس کے باوجود امریکا بہادر کبھی پاکستان کے اقدامات سے مطمئن نہیں ہوتا۔ یہ کیسی جنگ ہے جس میں سرزمین بھی ہماری استعمال ہو رہی ہے اور اس کا ایندھن بھی ہم خود ہی بن رہے ہیں۔ 
	جو کام سیاست دانوں کے کرنے کا ہے، وہ فوج نے سنبھال رکھا ہے۔ ہر مسئلے کا ایک پُر امن حل ہر وقت موجود رہتا ہے۔ جامعہ حفصہ اور لال مسجد کے خلاف فوجی ایکشن میں اپنے ہی عوام کے خلاف جو ظالمانہ انداز اپنایا گیا اور اس میں اپوزیشن رہنماؤں کے مطابق ایک ہزار سے زائد معصوم طالب علموں کو جس بے دردی اور بے رحمانہ طریقے سے ہلاک کیا گیا، اس کا ردِ عمل تو ہونا ہی تھا۔ اگر اس وقت کوئی حقیقی جمہوری حکومت برسرِ اقتدار ہوتی تو وہ اس مسئلے کا کوئی نہ کوئی پرامن حل نکالتی لیکن موجودہ جنرل مشرف کی فوجی حکومت تو محض اندھا دھند طاقت پر یقین رکھتی ہے اور وہ ہر مسئلے کا حل فوجی طاقت ہی کو سمجھتی ہے۔ جامعہ حفصہ اور لال مسجد کی بجلی، گیس اور پانی کو بند کر دیا جاتا اور انتظار کیا جاتا تو شاید انتہاپسند حکومت کے آگے ہتھیار ڈال دیتے لیکن چند انتہاپسندوں کی خاطر سیکڑوں بے گناہ انسانوں کو زندگیوں سے محروم کر دیا گیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وطن عزیز میں انسانی جان کی کوئی قدر و قیمت نہیں اور ریاستی طاقت کے ذریعے اپنے ہی عوام کو ختم کرتے ہوئے ذرا بھی نہیں سوچا جاتا۔ 
	اب ملک کے حالات جس نہج پر جا رہے ہیں، اس کا نتیجہ خطرناک خانہ جنگی کی صورت میں نکل سکتا ہے۔ عوام اور فوج ایک دوسرے کے آمنے سامنے آ سکتے ہیں اور یہ تو واضح ہے کہ ایک فوج دشمن سے تو لڑ سکتی ہے لیکن اپنے عوام کے خلاف نہیں لڑ سکتی۔ موجودہ حالات میں دانش مندی کا تقاضا یہ ہے کہ فوج کو مزید برسرِ اقتدار نہیں رہنا چاہئے۔ جو کام سیاست دانوں کے کرنے کے ہیں، وہ انھیں کرنے دیا جائے۔ پاک فوج پاکستان کے عوام کا واحد سہارا ہے۔ یہ ملک کے امن و سلامتی کا واحد ضامن ادارہ ہے لیکن اگر عوام کی نظروں میں فوج کی ساکھ ختم ہو گئی اور عوام کے ذہنوں میں پاک فوج کے بارے میں مزید شکوک و شبہات اور بے یقینی نے جنم لیا تو یقین جانئے یہ ملک (خدا ناخواستہ) قائم نہیں رہ سکے گا۔ یہ ٹوٹ پھوٹ جائے گا اور اس کی تمام تر ذمے داری موجودہ فوجی قیادت پر عائد ہو گی۔ کیا موجودہ فوجی قیادت اپنے اقتدار اور امریکا کی اغراض کی تکمیل کے لیے ملک کی قربانی دے گی یا وہ با عزت طور پر اقتدار سے علاحدہ ہو کر قومی حکومت تشکیل دے گی اور اپنی پوری توجہ ملک کی سرحدوں کی حفاظت پر دے گی۔ دانش مندی کا تقاضا یہ ہے کہ میاں نواز شریف اور بے نظیر بھٹو کو وطن واپسی کی اجازت دی جائے اور موجودہ حالات کے اصلاحِ احوال کے لیے سیاست دانوں کی اجتماعی فہم و بصیرت کو موقع دیا جائے ورنہ نوشتۂ دیوار صاف نظر آ رہا ہے۔ 

 (16 جولائی2007ء) 
٭٭٭




موجودہ گر داب سے نکلنے کا ممکنہ راستہ 

	وطنِ عزیزان دنوں جس کرب میں مبتلا ہے، اس کی مثال قومی تاریخ کے ساٹھ سالہ دور میں بھی نہیں ملتی۔ ایک طرف اگر خودکش حملوں کی شکل میں حکومت کو ایک ایسے پیہم چیلنج کا سامنا ہے جس نے اسے بے بس کر کے رکھ دیا ہے اور حکومتی بزر جمہر بار بار یہ کہہ کر اپنی ناکامی کو چھپانے کی ناکام کوشش کرتے ہیں کہ خودکش حملوں کا کوئی سد باب نہیں کیا جا سکتا لیکن یہ حقیقت نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ ان خودکش حملوں کا تعلق جنرل مشرف کی داخلہ اور خارجہ پالیسیوں سے ہے۔ جب کہ دوسری طرف جنرل مشرف اپنی ناکام پالیسیوں کی وجہ سے ایک ایسی بند گلی میں پہنچ چکے ہیں جس سے نکلنے کا کوئی راستہ انہیں سجھائی نہیں دے رہا ہے۔ اپنے اقتدار کو بچانے کے لئے انھیں ایک ایسی سیاسی شخصیت سے مذاکرات کرنا پڑ رہے ہیں جن کو وہ نہایت کرپٹ قرار دے چکے تھے اور ان کی وطن واپسی کو ناممکن بنانے کیلئے وہ ہر حربہ اختیار کرنے کا عندیہ دے چکے تھے لیکن آج وہ بے نظیر بھٹو، ان کو اپنے اقتدار کو طول دینے کے لئے مایوسی کی انتہاء میں تنکے کی مانند آخری سہارا محسوس ہو رہی ہیں۔ 
	راولپنڈی (چھاؤنی) کے علاقے میں حالیہ ہم دھماکے جن میں 31افراد جاں بحق اور 66سے زائد زخمی ہو گئے تھے اور جن میں زخمیوں اور مرنے والوں کی زیادہ تعداد حساس ادارے کے اہل کاروں کی ہے، یہ ثابت کرتے ہیں کہ جنرل مشرف نے امریکی مفادات کی تکمیل کے لئے جو آگ ملک کے طول و عرض میں لگائی ہے، اس کی تپش اب حساس اداروں تک بھی پہنچ چکی ہے۔ اس سے یہ بات بھی عیاں ہوتی ہے کہ جنرل مشرف اپنے اقتدار کو طول دینے کے لئے سب کچھ داؤ پر لگانے کے لئے تیار ہیں۔ تمام خفیہ ادارے جو ملک کی سلامتی اور ملک کے خلاف بننے والی سازشوں کو ناکام بنانے کے لئے معرض وجود میں لائے گئے ہیں، وہ موجودہ حالات میں جنرل مشرف کے اقتدار کو بچانے کے لئے بروئے کار لائے جا رہے ہیں جس کی وجہ سے وہ اپنے فرائض منصبی ادا کرنے سے ہٹ رہے ہیں اور اس کے نتیجے میں مسلسل سانحے جنم لے رہے ہیں۔ 
	راولپنڈی اور اسلام آباد ملک کے حساس اور اہم ترین علاقے تصور کئے جاتے ہیں۔ یہاں افواجِ پاکستان کا ہیڈ کوارٹر اور حکومتِ پاکستان کے مرکزی دفاتر واقع ہیں۔ ایوانِ صدر، وزیر اعظم ہاؤس، سپریم کورٹ اور پارلیمنٹ ہاؤس کی عمارتیں بھی یہیں پر ہیں۔ گویا یہ ملک کے دل و دماغ ہیں لیکن اگر یہاں بھی امن و امان کی صورت حال یہ ہو اور یہاں بھی حساس اداروں کے اہل کاروں کی جانیں محفوظ نہ ہوں تو پھر ملک کے طول و عرض میں عام آدمی کی کیا حالت ہو گی؟
	وزیرستان میں پاک فوج کے 300 جوانوں کا بہ یک وقت اغواء ایک ایسا سانحہ ہے جو دنیا کی نہایت منظم فوج کے لیے بد نما داغ کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس کے علاوہ روزانہ وزیرستان، بلوچستان، سوات اور ملک کے دوسرے حصوں میں سکیورٹی فورسز کے اہل کاروں پر خودکش حملے اور ان میں وطن کے محافظوں کا روزانہ قتلِ عام یہ واضح کرتا ہے کہ اب پاکستان عراق جیسی صورت حال کی طرف تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ سوات میں قریباً روزانہ کوئی نہ کوئی بم دھماکہ ہوتا ہے جس میں بعض اوقات متعدد پولیس اہل کاروں کو اپنی جانوں سے ہاتھ دھونا پڑتے ہیں۔ اس کے علاوہ سوات میں روزانہ مختلف سرکاری اور نجی اداروں کو دھمکی آمیز خطوط موصول ہوتے رہتے ہیں جن میں ان سے مختلف مطالبے کئے جاتے ہیں۔ سی ڈیز اور ہئیر کٹنگ کے کاروبار سے وابستہ لوگوں کو کاروبار بند کرنے کی دھمکیاں دی جاتی ہیں اور پھر ان پر عمل بھی کرایا جاتا ہے۔ اس کا ثبوت گزشتہ دنوں مٹہ (سوات) میں سی ڈیز کی مارکیٹ میں بم دھماکے سے ملتا ہے جس میں ایک درجن سے زائد دکانیں تباہ ہوئیں۔ ان دھمکی آمیز خطوط سے معصوم بچوں کے سکول بھی محفوظ نہیں۔ انھیں خطوط میں دھمکیاں دی جاتی ہیں کہ بچوں کا یونی فارم شرٹ اور پتلون کی بجائے اسلامی لباس ہونا چاہئے لیکن اسلامی لباس کون سا ہے، یہ واضح نہیں اور نہ ہی قرآن و احادیث میں اسلامی لباس کی کوئی وضاحت موجود ہے۔ سوات میں اب ممکنہ خودکش حملوں کے ڈر کی وجہ سے باقاعدہ طور پر ہئیر کٹنگ کی دکانوں پر یہ بورڈ لگے نظر آتے ہیں کہ "یہاں غیر شرعی کام کے لئے تشریف نہ لائیں، یہاں داڑھی نہیں منڈوائی جاتی۔" سوات میں حالات اتنے خراب ہو چکے ہیں کہ مینگورہ سے باہر کسی بھی علاقے میں حکومتی رِٹ نظر نہیں آتی اور نہ ہی وہاں قانون نافذ کرنے والے سرکاری اہل کار نظر آتے ہیں۔ دراصل اس وقت حکم رانوں کے نزدیک امن و امان کی بجائے سب سے بڑا مسئلہ صدر جنرل پرویز مشرف کو دوبارہ صدر منتخب کرانے کا بن چکا ہے۔ جس کے لیے تمام تر سرکاری مشینری حرکت میں آ چکی ہے۔ حزب مخالف کے سیاست دانوں کو خوف زدہ کرانے کی خاطر خفیہ ایجنسیوں کو متحرک کیا جا چکا ہے۔ حکومت ویسے تو اپنی رٹ قائم کرنے کے لیے معصوم اور بے گناہ شہریوں کا خون بہانے سے بھی دریغ نہیں کرتی لیکن ملک بھر میں امن و امان کے معاملے میں حکومت کی رِٹ کہیں بھی نظر نہیں آتی۔ جس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مذہبی انتہاپسند اپنی مرضی کا اسلام نافذ کرنے کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں۔ بم دھماکوں اور تخریبی کار روائیوں کے ذریعے معصوم شہریوں کا خون بہانے والے نہ تو اسلام کی کوئی خدمت کر رہے ہیں اور نہ ہی ملک کی، بلکہ ان اقدامات کے ذریعے جہاد کا عَلم بلند کرنے والے عوام کی ہمدردیاں بھی کھو رہے ہیں اور جن مقدس مقاصد کو پیش نظر رکھ کروہ افغانستان اور عراق میں جارح امریکا اور اس کے حواریوں کے خلاف نبرد آزما ہیں، ان سے ہٹنے کی صورت میں عوام میں ان کی ساکھ بری طرح متاثر ہو گی۔  حقیقت میں انھیں اپنی جد و جہد کا مرکز و محور ان غیر ملکی جارح افواج ہی کو بنانا چاہئے۔ اپنے ہی ملک کے مسلمان عوام کو خودکش حملوں کا ہدف بنانا کسی بھی لحاظ سے جائز نہیں۔ 
	موجودہ مخدوش صورت حال میں قانون اور امن نافذ کرنے والے اداروں اور خفیہ ایجنسیوں سے کوئی دوسرا کام نہ لیا جائے بلکہ انھیں امن و امان بحال کرنے اور اسے قائم رکھنے کے لیے ہمہ وقت متحرک کیا جائے۔ اگر ان ایجنسیوں کو اپنے سیاسی مقاصد اور ذاتی مفادات کے لیے استعمال کیا جائے گا تو اس کا نتیجہ وہی برآمد ہو گا جو آج شدید بد امنی اور اس میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع کی صورت میں برآمد ہو رہا ہے۔ 
	یہ ایک بدیہی حقیقت ہے کہ افغانستان پر امریکا کے فوجی قبضے کے اثرات اب پاکستان کے بیشتر علاقوں تک پھیل چکے ہیں۔ جامعہ حفصہ کے واقعہ میں حکومت کی بے تدبیری نے جلتی پر تیل کا کام انجام دیا  ہے۔ خود حکومتی ذرائع نے متعدد مواقع پر اعتراف کیا ہے کہ وطن عزیز میں وقوع پذیر ہونے والے انتہاپسندی کے حالیہ تمام واقعات کا تعلق کسی نہ کسی طور افغانستان کے خلاف امریکی جنگ سے ہے۔ قبائلی علاقوں میں بھی افواجِ پاکستان کی براہ راست کار روائیوں کی نوبت افغانستان میں امریکی اور نیٹو افواج کی موجودگی کی وجہ سے آئی ہے۔ 
	قبائلی علاقے کبھی بھی پاکستان کے لیے مسئلہ نہیں بنے ہیں۔ یہاں کے عوام نے ہمیشہ ملک کی سرحدوں کے محافظوں کا سا کردار ادا کیا ہے لیکن موجودہ حالات میں افغانستان میں امریکی افواج کی موجودگی اور وہاں سے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں مداخلت نے افواجِ پاکستان کو اپنے ہی عوام کے خلاف ایکشن لینے پر مجبور کر دیا ہے۔ اگر افغانستان سے جارح افواج نکل جائیں تو افغانستان اور پاکستان دونوں میں امن و امان کا مسئلہ حل ہو سکتا ہے۔ موجودہ ناگفتہ بہ اور پُر آشوب حالات کو دیکھ کر یہ بجا طور پر کہا جا سکتا ہے کہ جنرل مشرف کی تمام پالیسیاں ناکام ہو چکی ہیں اور اب ضرورت اس اَمر کی ہے کہ جنرل پرویز مشرف مزید اقتدار میں رہنے کو کوشش نہ کریں اس سے ملک کے حالات مزید خراب ہوں گے اور اس کے نتیجے میں فوج اور عوام کے درمیان براہِ راست تصادم کے خطرات مزید بڑھ سکتے ہیں۔ اس لیے بہتری اسی میں ہے کہ جنرل مشرف نہ صرف دوبارہ با وردی یا بغیر وردی کے صدر منتخب ہونے کی کوششیں ترک کر دیں بلکہ عبوری حکومت بنا کر آئندہ عام انتخابات کو شفاف اور غیر جانب دار بنانے کے لیے حالات سازگار بنانے میں اپنا کردار ادا کریں اور خود با عزت طور پر مستعفی ہو کر ملک کی باگ ڈور آئندہ منتخب ہونے والی حکومت کے حوالے کر دیں کہ موجودہ حالات سے ایک منتخب عوامی اور حقیقی جمہوری حکومت ہی بہتر طور پر نبٹ سکتی ہے۔ 
 (8ستمبر 2007ء) 
٭٭٭


پختون علاقوں میں فوجی کار روائیاں۔۔ نتائج کیا نکلیں گے؟

	ہماری "بہادر افواج"نے وزیرستان میں ایک بار پھر آپریشن شروع کر دیا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ آپریشن دہشت گردوں اور طالبان کے خلاف ہے لیکن اس میں طالبان اور دہشت گردوں سے زیادہ مقامی آبادی کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ پاک فوج کی "کامیاب کار روائیوں" کے نتیجے میں درجنوں بے گناہ مقامی لوگ مارے جا چکے ہیں جن میں زیادہ تعداد خواتین اور بچوں کی بتائی جاتی ہے۔ جب کہ زخمیوں کی تعداد بھی کچھ کم نہیں جن میں بیشتر افراد معذور ہو چکے ہیں۔ میر علی نامے قصبے میں کئی دنوں سے پاک فوج کے "جرّی جوانوں" کی کامیاب کار روائیوں کے نتیجے میں ایک ہی خاندان کے 9افراد بھی جاں بحق ہو چکے ہیں اور حالات روز بروز اس قدر خراب سے خراب تر ہو رہے ہیں کہ مقامی آبادی ہجرت پر مجبور ہو گئی ہے اور زیادہ تر لوگ محفوظ ٹھکانوں کی طرف کوچ کر رہے ہیں۔ 
	فوج کا مقابلہ جن لوگوں کے ساتھ ہے، پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل وحید ارشد کے مطابق وہ نہایت تربیت یافتہ ہیں اور ان کے پاس جدید ترین اسلحہ ہے جس کی وجہ سے فوج کو ان کے خلاف کار روائیوں میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ انھوں نے تجویز کیا ہے کہ فوجی کار روائیاں وقتی طور پر امن بحال کرنے میں ممد تو ثابت ہو سکتی ہیں لیکن مستقل طور پر قیام امن کے لئے مذاکرات کا راستہ اختیار کرنا چاہئے۔ اس آپریشن میں پاک فوج کے درجنوں جوانوں کو بھی "جام شہادت" نوش کرنا پڑا ہے۔ 
	آج پورے ملک میں کہیں بھی خودکش حملہ آور بازیافت نہیں ہوئے۔ یہ سارے خودکش حملہ آور صرف صوبہ سرحد ہی میں پائے جاتے ہیں۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ خودکش حملہ آور صرف پختونوں کے علاقوں میں کیوں پائے جاتے ہیں؟ اور امریکا کی جنگ صرف پختون سرزمین پر کیوں لڑی جا رہی ہے؟ یہ سوال وضاحت طلب ہے اور اس کا جواب دینا نہ صرف موجودہ فوجی حکومت کی ذمے داری ہے بلکہ پختون قوم پرست جماعتوں کو بھی اس سوال کا جواب تلاش کرنا ہو گا۔ عوامی نیشنل پارٹی کے ترجمان زاہد خان کے اس خالی خولی بیان سے اس سوال کا جواب ڈھونڈا نہیں جا سکتا جس میں انھوں نے کہا ہے کہ "وزیرستان میں بے گناہ پختونوں کو مارا جا رہا ہے اور معاملات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنا چاہئے۔" اس کے لئے تمام پختون رہنماؤں کو متفقہ اور ٹھوس لائحہ عمل بنانے کے لئے فوری طور پر متحد ہونا پڑے گا اور حکومت وقت سے سختی سے یہ جواب طلب کرنا پڑے گا کہ آج پورے ملک میں پختون علاقے کیوں بد اَمنی کے گڑھ بن چکے ہیں اور پختونوں کا خون کیوں اتنی بے دردی سے بہایا جا رہا ہے؟
	صوبہ سرحد کا کون سا علاقہ ہے جہاں بد امنی نے اپنے خونی پنجے نہیں گاڑھے ہیں۔ وزیرستان سے لے کر پشاور، کوہاٹ، بنوں، ڈیرہ اسماعیل خان، دیر، باجوڑ اور سوات وغیرہ میں ایک طویل عرصہ سے "ریاست کے اندر ریاست" کی سی صورت حال موجود ہے لیکن حکومت نے چپ سادھ لی ہے اور مسئلے کی جڑ تک پہنچنے کی کوئی کوشش نہیں کر رہی ہے۔ اپنے اقتدار کو دوام دینے کے لیے جنرل مشرف نے ان علاقوں میں دانستہ طور پر انتہاء پسندوں اور مذہبی شدت پسندوں کو پنپنے کا موقع دیا، انھوں نے شدت پسندوں کو کھلی چھوٹ دی اور جس وقت ان کا قلع قمع ہو سکتا تھا، اس وقت ان کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں سے اغماز برتا اور اب جب کہ ان کی جڑیں مضبوط ہو چکی ہیں تو ناکام فوجی کار روائیوں کے ذریعے امریکا کو یہ بتانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ پاک فوج امریکا کی دہشت گردی کے خلاف عالمی مہم میں بھر پور کردار ادا کر رہی ہے۔ امریکا بھی خوش ہے کہ ان ناکام فوجی کار روائیوں میں پاکستان کے بے گناہ عوام کا جانی و مالی نقصان ہو رہا ہے اور اس کے نتیجے میں اپنی فوج کے خلاف عوام کے اندر شدید ردِ عمل جنم لے رہا ہے۔ امریکا کسی کار روائی کے وقتی نتیجے پر نظر نہیں رکھتا بلکہ اس کی سوچ بہت دور کی ہوتی ہے۔ اسے مستقبل میں صاف نظر آ رہا ہے کہ "پاکستانی عوام نے ریاستی جبر سے تنگ آکر اسلحہ اٹھایا ہے اور وہ اپنی ہی فوج کے خلاف چھاپہ مار جنگ میں مصروف ہے اور عوام کی اپنی ہی ریاست کے خلاف شروع ہونے والی "جنگِ آزادی" میں ان کی مد د کے لئے امریکا اور بھارت فوج کشی کے لئے پر تول رہے ہیں۔" 
	جنرل مشرف صوبہ سرحد کو پاکستان کے لئے ایک اور بنگلہ دیش بنانے میں پورے دل و جان سے مصروف ہیں۔ ان تمام معاملات میں امریکا اور بھارت کے ملوث ہونے کی باز گشت میڈیا میں وقتاً فوقتاً سنائی دی جا رہی ہے لیکن ہماری فوجی حکومت کو اس کی پرواہ نہیں۔ اسے تو امریکا کے سامنے اپنے نمبر بنانے سے غرض ہے۔ اسے تو یہ فکر کھائے جا رہی ہے کہ جنرل مشرف دوبارہ پانچ سالوں کے لئے صدر بنیں اور امریکی خواہش کے مطابق اس ملک کی بنیادیں مسلسل کم زور کرتے رہیں۔ وزیرستان اور باجوڑ کے علاقے تو سرحدی علاقے ہیں۔ وہاں اگر حالات خراب ہیں تو اس کی کوئی تُک بنتی ہے لیکن پشاور اور سوات میں اگر لوگوں کو اپنے کاروبار سے محروم کرنے کی مہم جاری ہے تو اس کی وجہ سمجھ میں نہیں آتی۔ یہ علاقے تو افغان سرحد پر بھی واقع نہیں۔ یہاں تو تعلیم یافتہ اور سمجھ بوجھ والے لوگ رہتے ہیں۔ سوات میں تو کئی مہینوں سے ریاست کے اندر باقاعدہ ریاست بن چکی ہے اور "دوسری ریاست"کے اہل کار باقاعدہ طور پر امن قائم کرنے اور علاقے سے فحاشی دور کرنے کے لئے سرگرم عمل ہیں۔ سوات کے مختلف علاقوں میں ان کا گشت جاری ہے اور کئی جگہوں میں ان کی چیک پوسٹیں لگ چکی ہیں اور جہاں کہیں انھیں کوئی غیر شرعی کام نظر آتا ہے تو بزور طاقت اس کا قلع قمع کر دیتے ہیں۔ بد اَمنی اور فحاشی پھیلانے کے خلاف ہم بھی ہیں اور یہ کام ریاست کے بنیادی فرائض میں بھی شامل ہے لیکن ریاستِ پاکستان سوات میں ناکام ہو چکی ہے اور جو کام ریاستِ پاکستان کی مقامی انتظامیہ کو انجام دینا چاہئے وہ ریاست کے اندر قائم ہونے والی "دوسری ریاست" کام یابی سے کر رہی ہے اور حکومت پاکستان محض ایک تماشائی کا کردار ادا کر رہی ہے۔ جب ایک ریاست اپنے بنیادی فرائض ادا کرنے میں ناکام ہو جاتی ہے تو اس کے نتیجے میں یہ فرائض ادا کرنے کے لئے ریاست کے اندر ایک اور ریاست وجود میں آ جاتی ہے جو اپنی فہم کے مطابق برائی کے خلاف اقدامات اُٹھاتی ہے اور اپنی رِٹ قائم کر لیتی ہے۔ 
	آج ریاست پاکستان کا اقتدار اعلیٰ (Sovereignty) نہ صرف بیرونی حملہ آوروں نے اپنے پاؤں تلے کچل دیا ہے بلکہ اندرون ملک بھی ریاست کا اقتدار اعلیٰ سوالیہ نشان بن چکا ہے۔ سوات میں تعینات پولیس اور دیگر سکیورٹی اہل کار مینگورہ سے باہر قرب و جوار کے علاقوں میں وردی میں نہیں گھوم سکتے۔ اگر وہ ایسی کوئی غلطی کر بیٹھتے ہیں تو اس کے لئے انھیں اپنی جان کا نذرانہ دینا پڑتا ہے۔ فوجی حکومت کی پے در پے غلطیوں کی وجہ سے آج سوات میں حالات خطرناک حد تک بگڑ چکے ہیں اور اس کے رد عمل میں عوام میں فوج کے خلاف نفرت بڑھ رہی ہے۔ یہ بات محض سوات تک ہی محدود نہیں صوبہ سرحد کے تمام علاقوں میں پاک فوج کے لئے کوئی نرم گوشہ باقی نہیں رہا ہے۔ فوج جس کا کام عوام کے جان و مال اور عزت و آبرو کی حفاظت ہے، جس کی اولین ذمے داریوں میں سرحدوں کی حفاظت اور ریاست کا اقتدارِ اعلیٰ قائم کرنا شامل ہے، وہ اپنے ہی عوام کو گولیوں کا نشانہ بنا رہی ہے۔ اس کی کار روائیوں کے نتیجے میں امن کی بجائے بد امنی اور انتشار بڑھ رہا ہے۔ پاک فوج نے جب بھی قومی سیاست میں براہِ راست مداخلت کی ہے اور جمہوری قوتوں کو بند گلی میں دھکیلا ہے تو اس کے نتیجے میں وطن عزیز ضرور کسی نہ کسی سانحہ سے دوچار ہو چکا ہے۔ آج پختونوں کی سر زمین فوجی جوانوں کی پر تشدد  کار روائیوں سے سرخ ہو رہی ہے۔ بے گناہ پختونوں کو بے دردی سے مارا جا رہا ہے۔ ان کو معذور کیا جا رہا ہے۔ انھیں اپنے گھروں سے بے گھر کیا جا رہا ہے۔ ان کا معاشی اور اقتصادی قتل عام جاری ہے۔ ان کی جنت نظیر سرزمین کو بم دھماکوں، خود کش حملوں اور خونی فوجی کار روائیوں کے ذریعے آگ اور خون میں نہلایا جا رہا ہے لیکن امریکی ایما پر دہشت گردی کے خلاف اصولی جنگ جاری ہے اور یہ ایک "نیا بنگلہ دیش" بننے تک یوں ہی جاری رہے گی۔ 
 (18اکتوبر 2007ء) 
٭٭٭


سوات جل رہا ہے !


	سوات کی خوب صورت وادی جو ہر دور میں امن و امان کا گہوارہ رہی ہے، آج خوف و دہشت کی علامت بنی ہوئی ہے۔ سکیورٹی فورسز اور مقامی طالبان کے درمیان گزشتہ چند دنوں سے ہلکے اور بھاری ہتھیاروں سے فائرنگ کا شدید تبادلہ ہو رہا ہے۔ جس میں دونوں جانب سے جانی نقصان ہو رہا ہے۔ تاہم طالبان کی جانب سے سرکاری ملازمین، پولیس اور سکیورٹی فورسز کے اہل کاروں کو سرِ عام ذبح کرنے سے عوام میں شدید خوف و ہراس پھیلا ہوا ہے۔ مولانا فضل اللہ کے ترجمان سراج الدین نے اپنے ایک اخباری بیان میں کہا ہے کہ سرکاری اہل کاروں کا قتل حکومتی کار روائی کے بعد عوامی اشتعال کا نتیجہ ہے۔ جب کہ حکومتی ترجمان کہ رہے ہیں کہ حکومت نے سوات میں آپریشن شروع نہیں کیا ہے بلکہ جہاں سے ان پر فائرنگ ہوتی ہے، سکیورٹی فورسز وہاں جوابی کار روائی کرتی ہیں۔ 
	سوات کے لوگ نہایت پر امن ہیں اور وہ مذہب سے والہانہ وابستگی رکھتے ہیں لیکن وہ نہیں چاہتے کہ یہاں مذہب کے نام پر خوں ریزی ہو۔ اسلام امن و آشتی کا مذہب ہے اور وہ بے گناہ انسانوں کی ہلاکت کی اجازت نہیں دیتا۔ زمانۂ جنگ میں بھی اسلام نے انسانیت کی تکریم کا حکم دیا ہے۔ دوسری طرف جنرل مشرف محض اپنے اقتدار کو بچانے کے لیے پورے ملک خصوصاً پختونوں کے علاقوں میں بد اَمنی کا زہر پھیلا رہے ہیں۔ ان کی سوچی سمجھی کوشش ہے کہ ملک بھر میں ریاست کے اندر ریاستیں قائم ہوں تاکہ وہ امریکا کو یہ ب اور کرا سکیں کہ ملک کے گوشے گوشے میں طالبان مذہب کے نام پر دہشت گردی کر رہے ہیں اور ان کی سرکوبی کے لیے ان کا اقتدار میں رہنا ناگزیر ہے۔ لیکن جہاں تک سوات کا تعلق ہے یہاں پاٹا ریگولیشن کے خاتمے کے بعد ایک قانونی خلا پیدا ہو گیا تھا جس کو اسلامی نظام کے نفاذ کے ذریعے پُر کرنے کے لیے (کالعدم) تحریکِ نفاذِ شریعتِ محمدیؐ کے نام پر ملاکنڈ ڈویژن میں مولانا صوفی محمد کے زیرِ قیادت تحریک چلی تھی جس میں 2 نومبر 1994ء میں تحریک کے کارکنوں نے سوات ائیر پورٹ اور ضلعی کورٹس کو اپنے قبضہ میں لے لیا تھا اور پورے علاقے میں اپنی رِٹ قائم کر لی تھی۔ بعد ازاں حکومت نے مولانا صوفی محمد کے ذریعے یہ قبضہ ختم کرایا اور حکومت کی طرف سے وعدہ کیا گیا تھا کہ ملاکنڈ ڈویژن میں شریعت نافذ کر دی جائے گی لیکن بعد میں حکومت نے اپنا وعدہ پورا نہیں کیا۔ 
	سوات میں خود کش بم دھماکوں کا سلسلہ پہلی مرتبہ اس وقت شروع ہوا جب حکومت  نے لال مسجد اور جامعہ حفصہ کے خلاف طاقت استعمال کی۔ سوات میں ایف ایم ریڈیو چینل کے بانی مولانا فضل اللہ نے حکومت کو اس وقت خبردار کیا تھا کہ اگر لال مسجد اور جامعہ حفصہ کے خلاف طاقت اِستعمال کی گئی تو ہم اس کا جواب دیں گے۔ اس وقت حکومت نے سوات کے مخدوش حالات کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے سوات میں سکیورٹی فورسز بھجوانے کا سلسلہ شروع کیا۔ جس کے ردِ عمل میں مقامی طالبان کی طرف سے خطرناک خود کش حملوں کا سلسلہ شروع کیا گیا جس میں درجنوں سکیورٹی فورسز کے اہل کاروں کے ساتھ ساتھ عام لوگ بھی لقمۂ اجل بنے۔ اس دوران حکومت اور مولانا فضل اللہ کے درمیان قیامِ امن کے لیے جرگہ کے ذریعے معاہدہ طے پایا۔ کچھ عرصہ تک دونوں فریقین نے معاہدہ کی پاسداری کی لیکن جب مولانا فضل اللہ کے حامیوں کی طرف سے سوات کے بیشتر علاقوں میں مسلح گشت شروع ہوا اور انھوں نے مکمل طور پر اپنی رِٹ قائم کر کے رمضان کے مہینے میں اغوا کاروں کی مد د کرنے پر تین افراد کو کوڑوں کی "شرعی" سزا سنائی تو حکومت کو احساس ہوا کہ اب حالات اس کے کنٹرو ل سے باہر ہو چکے ہیں۔ حالاں کہ حکومت نے مولانا فضل اللہ کی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھی ہوئی تھی اور اسے معلوم تھا کہ ان کی مد د کے لیے باہر سے بھی "بعض جہادی" لوگ آ چکے ہیں لیکن حکومت نے نہ ہی عوام کی خواہشات کے مطابق شرعی قوانین کے نفاذ کے لیے کوئی عملی قدم اٹھایا تاکہ لوگ مطمئن ہو سکیں اور حالات میں خونی لہر شامل نہ ہو اور نہ ہی حکومت نے اپنی رِٹ قائم کرنے اور سوات کو بد امنی سے بچانے کے لیے مولانا فضل اللہ سے سنجیدہ مذاکرات کی کوئی کوشش کی بلکہ حکومت نے اس دوران سوات میں مزید سیکورٹی فورسز بھجوانے کا نیا سلسلہ شروع کیا اور مقامی انتظامیہ نے منگورہ میں مقامی طالبان کو دیکھتے ہی گولی مارنے کا حکم جاری کر دیا۔ جس کے نتیجے میں جمعرات 25 اکتوبر کو سکیورٹی فورسز کے ٹرک پر خود کش حملہ کیا گیا جس میں 30سکیورٹی اہل کاروں کے ساتھ عام لوگ بھی ہلاک ہو گئے۔ اگلے روز جمعہ کے دن حکومت نے مولانا فضل اللہ کے مرکز امام ڈھیرئ پر فائرنگ کا سلسلہ شروع کر دیا تاکہ وہاں مولانا کے حامی نمازِ جمعہ کے لیے جمع نہ ہو سکیں۔ کیوں کہ اس مرکز میں ہر جمعہ کی نماز میں ہزاروں لوگ آتے ہیں اور مولانا فضل اللہ کی امامت میں نماز ادا کرتے ہیں۔ اس کے بعد تش د کی جو لہر شروع ہوئی، اس میں ہر لمحہ تیزی آ رہی ہے۔ 
	اس تمام تر صورتِ حال کا اگر جائزہ لیا جائے تو اس میں حکومت کی دانستہ غفلت اور بے تدبیری کو بڑا عمل دخل ہے۔ جب مولانا فضل اللہ نے ایف ایم چینل کے ذریعے مذہب کی آڑ میں حکومت کے خلاف باقاعدہ مہم شروع کی اور علاقے میں بچیوں کی تعلیم اور پولیو کے قطروں کے خلاف لوگوں کو اُکسانا شروع کیا تو حکومت نے ان کی سرگرمیوں سے چشم پوشی اختیار کی۔ پھر وہاں باقاعدہ طور پر عام لوگوں کو جہاد کی طرف مائل کر کے علاقے میں مسلح کارکنوں کا گشت بھی شروع کروا دیا گیا۔ پھر بھی حکومت خاموش رہی۔ حالاں کہ اس وقت اگر حکومت چاہتی تو یہ مسئلہ بڑی آسانی سے حل کر سکتی تھی لیکن ہماری حکومتیں ہمیشہ اس وقت معاملات میں سنجیدگی کا مظاہرہ کرتی ہیں جب حالات کنٹرول سے باہر ہو جاتے ہیں اور ان میں عوام کے جان و مال کو شدید خطرات لاحق ہو جاتے ہیں۔ اب حکومت کو افہام و تفہیم کے ساتھ ساتھ ہر وہ قدم اٹھانا چاہئے جس کے ذریعے سوات میں فوری امن قائم ہو سکے اور عوام میں متوقع آپریشن کی وجہ سے جو خوف و ہراس پھیلا ہوا ہے، اس کو ختم کرایا جا سکے۔ حکومت کی نا اہلی اور کوتاہی کی وجہ سے حالات جس خطرناک نہج پر پہنچ چکے ہیں، اس کا تقاضا تو یہ ہے کہ علاقے کے معززین کے ساتھ رابطہ قائم کر کے حکومت ایک گرینڈ جرگہ تشکیل دے اور اس میں مولانا فضل اللہ کو شرکت کی دعوت دے تاکہ اس مسئلہ کو افہام و تفہیم سے حل کرنے کی کوئی سبیل نکالی جا سکے۔ سوات کے پرامن علاقے میں "باہر" سے جو جنگ جو آئے ہیں باہمی مذاکرات کے ذریعے ان کو فوراً سے بھی پیشتر واپس بھجوایا جائے ورنہ سوات میں سکیورٹی فورسز اور ان جہادی قوتوں کے درمیان ایک نہ ختم ہونے والا معرکہ شروع ہو جائے گا جس کے نتیجے میں سوات کے عوام کو مستقل طور پر شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ حکومت اس سلسلے میں جو بھی اقدام اٹھانا چاہے، اس میں اس اَمر کو ضرور مد نظر رکھے کہ اس میں عام لوگوں کے جان و مال کے لیے کوئی خطرات پیدا نہ ہوں اور علاقے میں مستقل طور پرامن بھی قائم ہو سکے۔ 
	سوات کے عوام امن چاہتے ہیں۔ وہ ہمیشہ پُر امن رہے ہیں اور صوبہ سرحد کے دوسرے بعض علاقوں کی طرح انھوں نے کبھی مرکز کی مرضی کے خلاف عید تک نہیں منائی ہے۔ ہمیشہ رمضان کے روزے مرکز کے اعلان پر شروع کئے ہیں اور اسلام آباد کی طرف سے جب عید کا اعلان ہوا ہے تو انھوں نے عید اس کے ساتھ منائی ہے۔ اب حکومت کے خلاف مذہب کے نام پر جو محاذ آرائی شروع ہوئی ہے، اس میں بھی باہر سے آنے والے "جہادی گروپ" ملوث ہیں۔ یہ جہادی گروپ کیسے آئے اور وہ اپنے ساتھ بھاری اسلحہ کس طرح لائے، ان سب باتوں کا باقاعدہ طور پر حکومتِ پاکستان کو علم تھا اور اگر حکومت چاہتی تو یہ جہادی نہ سوات میں داخل ہو سکتے تھے اور نہ ہی وہ اسلحہ اتنی آسانی کے ساتھ سوات لا سکتے تھے۔ 
	جنرل مشرف نے امریکا کی دہشت گردی کے خلاف عالمی مہم میں پاک فوج کو اس قدر ملوث کر دیا ہے جس کی وجہ سے امریکا کی جنگ اب ہماری ہی سرزمین پر لڑی جا رہی ہے۔ امریکا اس کے باوجود پاکستان کو مسلسل مطعون کر رہا ہے کہ وہ امریکی مقاصد پورے کرنے میں ناکام رہا ہے بلکہ پاکستان کو اس کا صلہ یوں دیا جا رہا ہے کہ عالمی شہرت کے حامل ہفتہ وار جریدے نیوز ویک نے اپنے تازہ شمارہ میں پاکستان کو دنیا کا سب سے خطرناک ترین ملک قرار دیا ہے۔ پاکستان کو یہ ساری سزا اس لیے بھگتنا پڑ رہی ہے کہ جنرل مشرف نے قومی مفادات کو نظر انداز کر کے امریکی مفادات کی تکمیل کے لیے پاک فوج کا مسلسل استعمال کیا جس کی وجہ سے عوام اور فوج کے درمیان ایک وسیع خلیج حائل ہو گئی ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ جنرل مشرف نے یہ سب کچھ اپنے غیر قانونی، غیر سیاسی اور غیر اخلاقی اقتدار کے لیے کیا۔ اس میں پاکستان کے مفادات کو یک سر نظر انداز کر دیا گیا ہے۔ پاکستان اور امریکی مفادات کبھی بھی ایک نہیں رہے ہیں۔ اس لیے جب تک جنرل مشرف امریکی مقاصد پورا کرتے رہیں گے اس وقت تک پاکستان کے قومی مفادات پسِ پشت ڈالے جاتے رہیں گے۔ اگر جنرل مشرف آج اقتدار چھوڑ دیں اور نئی حکومت ان کی پالیسیوں سے جان چھڑا لیں تو یقین جانئے کل سے ملک کے مجموعی حالات میں بہتری کے آثار ہویدا ہونا شروع ہو جائیں گے۔ 
	خدا کے لیے ملک کو مزید افغانستان اور عراق کی طرح خانہ جنگی کی بھٹی میں نہ دھکیلیں۔ اصلاحِ احوال کے لیے کوئی بڑا قدم اٹھا دیجئے ورنہ آج وزیرستان اور سوات آگ میں جل رہے ہیں، کل یہ آگ اسلام آباد، لاہور، کراچی اور ملک کے کونے کونے میں پھیل جائے گی۔ 
 (29 اکتوبر 2007ء)
 ٭٭٭



وادئ سوات میں لگی آگ پورے ملک میں پھیل سکتی ہے 

	وادئ سوات جو اپنی قدیم تاریخ، قدرتی حسن اور پُر کشش مناظر کے لیے پوری دنیا میں غیر معمولی شہرت کی حامل ہے، آج اس کی خوب صورتی اور حسین مناظر کو نظر لگ گئی ہے۔ کل جہاں گل و لالہ کی اس وادی میں قدرتی آبشاروں کا ترنم کانوں میں رس گھولتا تھا، آج اس کی فضا میں بم دھماکوں کی خوف ناک آوازیں گونج رہی ہیں۔ کل اس معطر خیز وادی کی پُر لطف ہوائیں اور حسین مناظر کی رعنائیاں دل و دماغ کو فرحت بخشتی تھیں، آج اس کی ہواؤں میں بارود کی بو رچی ہوئی ہے اور اس کے حسین مناظر گن شپ ہیلی کاپٹر کی شلنگ سے گہنا گئے ہیں۔ غیور یوسف زئ قبیلہ کی اس وادی میں کبھی صبر و تحمل، برداشت اور مذہبی رواداری کا دور دورہ تھا لیکن آج بعض مذہبی انتہاپسند غیر ملکی جنگ جوؤں کے سنگ اس حسین و جمیل وادی کی تباہی و بربادی کے درپے ہیں۔ سوات کے غیور باشندے حقیقی مذہبی جذبے سے سرشار نہایت ہی محب وطن ہیں لیکن 1969ء میں پاکستان میں ریاستِ سوات کے ادغام کے بعد ہر دورِ حکومت میں اس وادی کو تعمیر و ترقی کے عمل میں دانستہ طور پر نظرانداز کیا جاتا رہا ہے اور یہاں کے عوام کے مسائل سے چشم پوشی اختیار کی جاتی رہی ہے۔ جس کے باعث آج اس دل فریب وادی کے باشندوں میں مایوسی اور شدید ردِ عمل کا لاوا پھٹ رہا ہے۔ پاکستان میں رائج استحصالی نظام نے یہاں کے مکینوں کو اپنی ہی جنت نظیر سرزمین پر گوناگوں مسائل اور لامحدود مشکلات کے دوزخ میں دھکیل دیا ہے۔ جس کی وجہ سے یہاں کے عوام ریاستِ سوات کے پُر امن اور خوشحالی سے بھرپور دور کو یاد کرتے ہیں اور اب وہ اپنے مسائل کا حل اسلامی نظام کے نفاذ میں ڈھونڈ رہے ہیں۔ 
	سوات بنیادی طور پر ایک سیاحتی علاقہ ہے۔ یہاں ہر سال لاکھوں کی تعداد میں ملکی اور غیر ملکی سیاح آ کر اس کے حسین مناظر سے لطف اندوز ہوتے تھے جس کے نتیجے میں نہ صرف وطن عزیز کو قیمتی زر مبادلہ میسر آتا بلکہ اس طرح یہاں کے مقامی لوگوں کی معاشی حالت بہتر بنانے میں بھی مد د ملتی تھی لیکن گزشتہ کئی سالوں سے سوات میں نفاذِ شریعت کے نام پر سوات کے امن و امان کو جس طرح تہہ و بالا کیا گیا، اس نے عام و خاص دونوں طبقوں کو پریشانی اور اذیت میں مبتلا کر دیا ہے۔ سیاحوں نے سوات کا رُخ کرنا چھوڑ دیا ہے اور پوری وادی پر بدامنی کے سیاہ بادل چھائے ہوئے نظر آتے ہیں۔ سوات میں نفاذِ شریعت کے لیے پہلی بار منظم طور پر مولانا صوفی محمد نے 1988ء میں تحریکِ نفاذِ شریعتِ محمدی کے نام سے جدوجہد شروع کی تھی۔ جس میں بعد ازاں تشدد کی لہر شامل ہو گئی لیکن اس وقت حکومت نے آپریشن کے ذریعے تشدد کی لہر کا خاتمہ کر دیا اور عوام سے وعدہ کیا گیا کہ حکومت جلد ہی ملاکنڈ ڈویژن میں شریعت کا نفاذ ممکن بنائے گی لیکن حکومت نے عوام سے کیا ہوا اپنا کوئی وعدہ کب پورا کیا ہے جو یہ وعدہ پورا کیا جاتا۔ جب امریکا میں 9/11 کا واقعہ رونما ہوا اور امریکا نے اُسامہ بن لادن کو بغیر کسی ثبوت کے اس حادثے کا ذمے دار ٹھہراتے ہوئے افغانستان پر حملہ کر دیا تو مولانا صوفی محمد اپنے ہزاروں مسلح ساتھیوں کے ہمراہ افغانستان میں امریکا کے خلاف جہاد کے لیے چلے گئے۔ مولانا صوفی محمد تو افغانستان سے بخیر و خوبی واپس آ گئے جنھیں حکومت نے گرفتار کر لیا لیکن ان کے مسلح ساتھیوں میں سے بیشتر ابھی تک لاپتہ ہیں۔ تین سال قبل سوات میں مولانا فضل اللہ نے ایف ایم ریڈیو کے ذریعے اپنے سسر مولانا صوفی محمد کی تحریک کو جاری رکھنے کی کوشش کی۔ ان کے متشددانہ عزائم کو دیکھتے ہوئے کالعدم تحریکِ نفاذ شریعت محمدی کے ذمے داروں نے ان سے بریت کا اعلان کیا اور آج سوات میں مولانا فضل اللہ کے زیرِ قیادت مسلح مقامی طالبان حکومت کے ساتھ برسرِ پیکار ہیں۔ 
	آج سوات میں آگ اور خون کا جو کھیل کھیلا جا رہا ہے، اس میں بعض "بیرونی طاقتیں" ملوث بتائی جاتی ہیں اور نفاذِ شریعت کے نام پر سوات کے سادہ لوح لیکن مذہب سے سچی وابستگی رکھنے والے عوام کو جس طرح سکیورٹی فورسز کے ساتھ برسرِ پیکار کرایا گیا ہے، اس کے پیچھے "خفیہ عناصر" کے کچھ دوسرے عزائم بھی کارفرما بتائے جاتے ہیں۔ اس میں کچھ شک نہیں کہ مولانا فضل اللہ اور ان کے ساتھی شریعت کے نفاذ کے مطالبے میں سچے ہیں لیکن بعض بیرونی طاقتیں سوات کی اس بگڑتی ہوئی صورتِ حال میں اپنے اغراض و مقاصد کی تکمیل بھی چاہتی ہیں اس لیے مولانا فضل اللہ اور ان کے ساتھیوں کو بیرونی عناصر کے عزائم سے ہوشیار رہنا چاہئے۔ انھیں اپنے علاقے کے امن اور عوام کی سلامتی کو پیشِ نظر رکھنا چاہئے۔ حکومت نے بھی اس ساری صورتِ حال میں نہایت مکروہ کردار ادا کیا اور مرض کی بروقت تشخیص نہ کر کے معاملات کو اس حد تک بگاڑ دیا جس کے نتیجے میں اب حکومت طاقت استعمال کر رہی ہے۔ 
	ریاستی دور میں یہاں مثالی امن و امان قائم تھا۔ والیِ سوات نے ریاست کی تعمیر و ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔ پختہ سڑکیں بنائیں، ریاست بھر میں سکولوں، کالجوں، ہسپتالوں اور ڈسپنسریوں کا ایک جال بچھا دیا گیا تھا۔ تعلیم اور علاج معالجہ کی بہتر سہولتیں ریاست کی طرف سے مفت فراہم کی جاتی تھیں۔ امن اور فارغ البالی کا یہ حال تھا کہ سال بھر میں کوئی ایک آدھ قتل مشاہدے میں آتا جس کی سزا مجرم کو فوراً ہی مل جاتی تھی۔ سوات نہ صرف ایک جدید ریاست تھی بلکہ یہاں تمام تر مقدمات کے فیصلے شریعت اور فوری انصاف کے اصولوں کے مطابق کیے جاتے تھے۔ آج پاکستان میں ایک ضلع کی حیثیت سے سوات میں امن بھی مفقود ہے، عوام کو زندگی کی بنیادی سہولتیں بھی میسر نہیں، عوام انصاف کے لیے ترستے ہیں، سڑکوں کی حالت نہایت مخدوش ہے، چند کلومیٹر پر مشتمل ملاکنڈ کی شاہراہ پانچ سال گزرنے کے باوجود اب تک "زیرِ تعمیر" ہے۔ تعلیم اور علاج معالجہ کی بہتر سہولتوں سے عوام یک سر محروم ہیں۔ نوجوانوں میں بے روزگاری نے وبائی شکل اختیار کر لی ہے اور عوام کے مسائل حل کرنے میں عوامی نمائندے اور حکومت کوئی دل چسپی نہیں لیتی جس کی وجہ سے عوام میں مایوسی پائی جاتی ہے۔ آج مولانا فضل اللہ کے گرد جو لوگ جمع ہیں اور حکومت کے خلاف انھوں نے جو شدید ردِ عمل ظاہر کیا ہے، یہ اسی مایوسی کا نتیجہ ہے۔ حکومت اگر سوات کی تعمیر و ترقی میں دل چسپی لیتی، یہاں کے عوام میں پھیلی مایوسی دور کرنے میں مثبت کردار ادا کرتی اور عوام کی خواہش کے مطابق اسلامی نظام نافذ کرتی تو آج یہ لوگ اسلحہ نہ اٹھاتے لیکن جہاں عوام کا استحصال کیا جاتا ہے، ریاست اپنی کم سے کم ذمے داریاں پوری کرنے میں بھی ناکام ہو جاتی ہے، وہاں ریاست کے اندر دوسری ریاست پرورش پانے لگتی ہے اور عوام کے اندر پکنے والا لاوا اُبل پڑتا ہے۔ لیکن ہماری (برائے نام) جمہوری اور آمرانہ حکومتوں نے ہمیشہ اپنے ذاتی اقتدار کے استحکام میں دل چسپی لی اور قومی خزانہ قوم کی ترقی و خوش حالی پر خرچ کرنے کی بجائے حکم ران اس سے اپنے بیرونِ ملک بینک اکاؤنٹس بھرتے رہے۔ یا اسے اندھے کی ریوڑیوں کی طرح اپنے سیاسی حلیفوں اور رشتے داروں میں بانٹتے رہے۔ دوسری طرف اپوزیشن کے سیاست دان بھی اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھوتے رہے۔ اس کے علاوہ اپوزیشن اور حکم ران سیاست دانوں کے درمیان ہمیشہ اقتدار کے لیے رسہ کشی جاری رہی، جس کے باعث ملک اور عوام بری طرح نظر انداز ہوتے رہے۔ نہ حکم رانوں اور نہ ہی حزبِ اقتدار کے سیاست دانوں کو کبھی اس بات کی کوئی پرواہ رہی کہ عوام میں پھیلی مایوسی کیا شکل اختیار کر رہی ہے۔ ریاست کی اپنے عوام کے حقوق کی پامالی نے عوام میں کس قسم کے نفسیاتی عوارض کو جنم دیا ہے۔ بے روزگاری، مہنگائی اور زندگی کی دوسری بنیادی ضروریات کی عدم فراہمی کی وجہ سے عوام میں کس قسم کے جذبات پھل پھول رہے ہیں۔ کسی بھی حکومت نے اپنے ذاتی اغراض و مقاصد سے بالاتر ہو کر عوام کے حقیقی مسائل حل کرنے میں کبھی کسی دل چسپی کا مظاہرہ نہیں کیا۔ جس کے نتائج آج وزیرستان سے لے کر سوات اور کراچی تک ہم دیکھ رہے ہیں۔ حکومت اگر اپنے عوام کو زندگی کی بنیادی ضروریات فراہم کرتی، انھیں اچھی زندگی کی سہولتیں دیتی تو آج عوام ریاست کے خلاف اسلحہ نہ اُٹھاتے اور ملک شدید انتشار اور انارکی کا شکار نہ ہوتا۔ عوام میں انتہاپسندی اور خود کش حملوں کا رجحان پیدا نہ ہوتا۔ ملک کی مقتدر قوتیں اگر اس ملک کو بچانا چاہتی ہیں اور وطن عزیز کو موجودہ انتشارو افتراق اور انارکی کی صورتِ حال سے باہر نکالنا چاہتی ہیں تو انھیں اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کرنی ہو گی۔ انھیں عوام میں پھیلی مایوسی دور کرنی ہو گی۔ فوج کو ملکی سیاست میں مداخلت ہمیشہ کے لیے بند کرنی ہو گی۔ سیاست دانوں کو اپنے ذاتی مفادات کے خول سے باہر نکلنا ہو گا۔ ورنہ سوات اور وزیرستان میں لگی آگ ملک بھر میں پھیل سکتی ہے۔ مقتدر فوجی جرنیلوں اور ان کے حواری سیاسی قوتوں کو اب فیصلہ کرنا ہو گا کہ انھیں اپنا ذاتی اقتدار عزیز ہے یا ملک کی سلامتی۔ اگر (خدا ناخواستہ) یہ ملک ہی نہ رہا تو وہ آئندہ اقتدار کے مزے کیسے لوٹتے رہیں گے؟
	خدا کے لیے کچھ سوچئے، اپنی ذاتی خواہشات کے خول سے باہر نکل آئیں اور ملک کو بچانے کی فکر کریں۔ 

 (7 نومبر 2007ء) 
٭٭٭


سوات آپریشن …  چند حقائق

	اس وقت سوات میں غیر اعلانیہ فوجی آپریشن جاری ہے۔ روزانہ منگورہ سمیت پورے سوات کی فضاؤں میں گن شپ ہیلی کاپٹر چکر لگا رہے ہیں۔ منگورہ میں ایک روز کے وقفے کے بعد 17 نومبر کو رات دو بجے سے دوپہر دو بجے تک دو  بارہ کرفیو لگایا گیا جس کی وجہ سے سوات میں خوف و ہراس اور غیر یقینی کی صورتِ حال میں مزید اضافہ ہوا۔ باخبر ذرائع کے مطابق کرفیو کے ان دو دنوں کے دوران سوات میں مزید 15 ہزار سکیورٹی اہلکار پہنچائے گئے ہیں۔ ڈپٹی ڈائریکٹر پی آئی ڈی میجر امجد اقبال کے مطابق سوات آپریشن فوج کے حوالہ کرنے کے بعد اب تک 100 "طالبان" ہلاک کئے جا چکے ہیں لیکن مقامی ذرائع سے اتنی زیادہ ہلاکتوں کی کوئی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔ سوات میں آپریشن کے لیے جس طرح تیاری کی گئی ہے اور روزانہ کئی گن شپ ہیلی کاپٹر فضاؤں میں گھوم پھر رہے ہیں اور مختلف علاقوں میں شدید شیلنگ کرتے نظر آتے ہیں، اس سے اب تک کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہو سکا ہے۔ سوات کے 70 فی صد سے زائد علاقہ پر مقامی طالبان کا کنٹرول اب بھی قائم ہے جب کہ طالبان نے گزشتہ دنوں بہت آسانی سے ضلع شانگلہ پر بھی قبضہ کر لیا ہے۔ شانگلہ کے مقامی لوگوں کے مطابق بہت کم تعداد میں "طالبان" آئے، انھوں نے شانگلہ ٹاپ پر واقع چیک پوسٹ پر قبضہ کیا اور پھر الپورئ میں پولیس ہیڈ کوارٹر پر قبضہ کرتے ہوئے وہاں کے لوگوں کو بازار بند کرنے کا حکم دیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ شانگلہ میں طالبان کے آنے سے ایک دن قبل ہی اعلیٰ سرکاری حکام غائب ہو چکے تھے۔ اس کے علاوہ سوات میں حالات کئی مہینوں سے خراب ہیں اور حکومت کے حساس ادارے علاقے پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ لیکن سوات کا آپریشن سنبھالنے والے فوجی افسروں کو یہ اندازہ نہیں تھا کہ طالبان پڑوسی ضلع شانگلہ تک بھی پیش قدمی کر سکتے ہیں۔ جس کے لیے پیشگی طور پر پیش بندی کی جا سکتی تھی لیکن یوں لگتا ہے جیسے حکومت کے منشا کے مطابق طالبان کو ضلع شانگلہ میں بحفاظت داخل ہونے دیا گیا ہو۔ ورنہ فضا میں چکر لگانے والے گن شپ ہیلی کاپٹر ضرور کوئی کار روائی کرتے۔ اس طرح سوات کے بعض علاقے جس آسانی کے ساتھ مقامی طالبان کے حوالے کر دئیے گئے ہیں، اس نے بھی عوامی حلقوں میں شکوک و شبہات پھیلا دیئے ہیں۔ سوات کے عام لوگوں میں یہ تاثر شدت سے پھیل رہا ہے کہ حکومت دانستہ طور پر سوات آپریشن کو طول دے رہی ہے۔ گن شپ ہیلی کاپٹروں سے جو فائرنگ کی جاتی ہے، اس میں طالبان کے مورچوں کی بجائے خالی پہاڑوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ مقامی طالبان اور ان کے رہنما کھلے عام اپنے زیرِ تسلط علاقوں میں گھوم پھر رہے ہیں۔ 
	سوات کے عوامی حلقے شدت سے یہ بات محسوس کرتے ہیں کہ حکومت جس انداز میں سوات آپریشن کو ڈیل کر رہی ہے، اس کی آڑ میں کچھ اور مقاصد کارفرما نظر آتے ہیں۔ دہشت گردی کی عالمی مہم میں پاکستان امریکا کو یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہا ہے کہ صوبہ سرحد کے پرامن  شہروں میں بھی اب شدت پسند طالبان کنٹرول حاصل کر رہے ہیں جس کی وجہ سے ان علاقوں میں حکومت کی عمل داری کم زور پڑ رہی ہے اور اس لیے حکومت ان علاقوں میں فوج بھیج رہی ہے تاکہ ان شدت پسندوں کو کچلا جا سکے لیکن سوات میں زیادہ تر مقامی طالبان ہی نے اسلحہ اُٹھایا ہے اور وہ وزیرستان کے طالبان کی طرح تربیت یافتہ بھی نہیں ہیں۔ وہ محض شریعت کے نفاذ کے جذبے کے تحت حکومت سے لڑنا چاہتے ہیں۔ سوات کے تعلیم یافتہ اور با شعور طبقے کا خیال ہے کہ حکومت ایک تو امریکا کو یہ تاثر دینا چاہتی ہے کہ وہ اس کی دہشت گردی کے خلاف عالمی مہم میں فعال کردار ادا کر رہی ہے اور دوسرا اس آپریشن کی آڑ میں حکومت سوات میں ایک بڑی تعداد میں فوج کو مستقل طور پر رکھنا چاہتی ہے اور سیدو شریف ائیر پورٹ میں توسیع کر کے اسے فوجی ائیر بیس میں تبدیل کرنا چاہتی ہے۔ کچھ عرصہ قبل حکومت نے ائی رپورٹ کے قرب و جوار کے رہائشیوں کو نوٹس بھی دئیے تھے کہ وہ اپنی رہائش کا بندوبست کہیں اور کر لیں۔ اس علاقے کو ائیر پورٹ میں شامل کیا جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت سوات میں فوجی آپریشن جلد ختم کرنا نہیں چاہتی۔ 
	لیکن دوسری طرف مقامی طالبان کی سرگرمیوں اور پاک فوج کے نام نہاد آپریشن کی وجہ سے سوات کے عوام ایک مستقل عذاب میں مبتلا ہو چکے ہیں۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق اب تک متاثرہ علاقوں سے چار لاکھ تک لوگ نقل مکانی کر چکے ہیں اور مزید نقل مکانی جاری ہے۔ سوات کے مرکزی شہر منگورہ سمیت پورے ضلع میں کاروباری سرگرمیاں معطل ہو چکی ہیں۔ زرعی شعبہ زبوں حالی کا شکار ہے۔ کاشت کاروں کی تیار فصلیں خراب ہو رہی ہیں اور سیاحت کی صنعت جس پر سوات کی مجموعی معیشت کا انحصار ہے، مکمل طور پر ختم ہو چکی ہے۔ لوگ ڈپیریشن اور فریسٹریشن کا شکار ہیں اور پورا علاقہ تناؤ کی ایک غیر معمولی کیفیت سے دوچار ہو چکا ہے لیکن حکومت نامی چیز کو ان تمام معاملات کی کوئی پرواہ نہیں۔ آخر حکومت کرنا کیا چاہتی ہے؟ کیا حکومت اپنے ملک کے علاقوں میں خود حالات خراب کر کے اپنے ہی پاؤں پر کلہاڑی چلانے کی مشق نہیں کر رہی ہے؟ اگر فوج کا خیال یہ ہے کہ وہ مقامی طالبان کے ساتھ آنکھ مچولی کا یہ کھیل وقتی طور پر رچا کر آخر میں انھیں ختم کرے گی تو یہ اس کی خام خیالی ہے۔ حالات اگر ایک بار اس کے کنٹرول سے باہر نکل گئے تو پھر یہ بھڑکتی اور پھیلتی ہوئی آگ بہت دور تک پھیل جائے گی۔ 
	سوات کے لوگ نہایت ہی پرامن ہیں۔ وہ سوات میں جلد از جلد امن چاہتے ہیں۔ وہ حکومت اور مقامی طالبان کی اس آنکھ مچولی سے تنگ آ چکے ہیں۔ حکومت اگر یہ حالات پرامن ذرائع سے حل کرنا چاہے تو اس میں مزید دیر نہیں ہونی چاہئے۔ صوبہ سرحد کے نگران وزیر اعلیٰ شمس الملک بار بار1994ء کے شریعت آرڈیننس اور 1999ء کے عدل ریگولیشن کا تذکرہ کرتے رہتے ہیں اور ان کے نفاذ میں حائل رکاوٹوں کی نشان دہی کے لیے کمیٹیاں تشکیل دینے کا اعلان کرتے رہتے ہیں لیکن عملاً اس سلسلے میں کوئی پیش رفت نظر نہیں آ رہی ہے۔ اگر حکومت پرامن طور پر سوات میں حالات درست کرنا چاہتی تو شریعت آرڈیننس اور عدل ریگولیشن میں حائل رکاوٹوں کے لیے کمیٹیاں تشکیل دینے کی بجائے ان رکاوٹوں کو فی الفور دور کر دیتی اور ملاکنڈ ڈویژن میں شریعت نافذ کر کے سارا مسئلہ حل کرتی لیکن حالات کے تیور سے یوں لگتا ہے جیسے حکومت نہ پرامن طریقے سے یہ مسئلہ حل کرنا چاہتی ہے اور نہ ہی طاقت کے ذریعے۔ 
	سوات کا مسئلہ اتنا پیچیدہ نہیں ہے۔ حکومت نے اسے پیچیدہ تر بنا دیا ہے۔ حکومت اگر ایسے مسائل کی خود پرورش نہ کرتی اور ایسی قوتوں کو ابتداء میں ہی کچل دیتی جو حکومت کی غفلت یا تعاون سے پرورش پا کر حکومتی رٹ چیلنج کرنے کا باعث بنتی ہیں تو آج ملک خصوصاً صوبہ سرحد میں خانہ جنگی کی سی کیفیت نظر نہ آتی۔ اب بھی وقت ہے کہ حکومت ان تمام حالات کا از سرِ نو جائزہ لے اور اپنی غلطیوں کی تلافی کرتے ہوئے پرامن اور خوشحال پاکستان کے لیے سنجیدگی اور ذمے داری سے اقدامات اُٹھائے۔ معاملہ اب ذاتی سیاسی اور مالی مفادات سے بالاتر ہو چکا ہے۔ ذاتی منفعت کا کاروبار بہت ہو چکا۔ اب تو پاکستان بچانے کی کوشش کرنی چاہئے۔ 

 (18 نومبر 2007ء) 
٭٭٭

سوات کے موجودہ حالات اور عام انتخابات

	سوات میں گزشتہ چھ دنوں سے مقامی طالبان اور سکیورٹی فورسز کے درمیان فائر بندی پر عمل درآمد جاری تھا لیکن گزشتہ روز حکومت نے سوات آپریشن باقاعدہ طور پر فوج کے حوالے کر دیا جس کے بعد مٹہ اور اس کے قرب و جوار کے علاقوں میں گن شپ ہیلی کاپٹروں نے شدید شیلنگ شروع کر دی جس کے نتیجے میں سوات کے طول و عرض میں چھائے پُر اسرار سکوت کا خاتمہ ہوا۔ پوری رات اور اگلے روز دن کے وقت بھی زبردست دھماکوں کی آوازیں سنائی دیتی رہیں اور سوات کی فضاؤں میں جنگی ہیلی کاپٹروں کی پروازیں جاری رہیں جس کی وجہ سے اہلیانِ سوات میں شدید خوف و ہراس پھیلتا رہا۔ اطلاعات کے مطابق گزشتہ روز اور رات کی فائرنگ کے نتیجے میں چار طالبان جاں بحق جب کہ آٹھ زخمی ہوئے ہیں۔ تاہم مقامی طالبان اور حکومت دونوں اپنی ہلاکتوں اور زخمیوں کو چھپا رہے ہیں۔ 
	اس وقت سوات کا 70 فی صد علاقہ یعنی ڈھیرئ سے مٹہ، خوازہ خیلہ، مدین، بحرین، کالام اور چار باغ تک اور کبل کے کچھ علاقے طالبان کے قبضے میں ہیں۔ ان علاقوں میں تمام سرکاری دفاتر اور سکول و کالج بند ہیں، تمام سرکاری اور این جی اوز کی گاڑیاں طالبان کے قبضے میں ہیں جن کے ذریعے وہ علاقے میں گشت کرتے نظر آتے ہیں، سکول اور ہسپتال بھی بند ہیں۔ طالبان نے اپنے زیرِ قبضہ علاقوں میں زیادہ تر پولیس سٹیشنوں سے پاکستان کے قومی پرچم اُتار کر ان کی جگہ سفید جھنڈے لہرا دئیے ہیں۔ بعض پولیس سٹیشنوں کا سارا ریکارڈ نذرِ آتش کر دیا گیا ہے جب کہ کچھ پولیس سٹیشنوں پر "طالبان سٹیشن" کے بورڈ بھی لگا دئیے گئے ہیں۔ ایک طرف تو یہ صورتِ حال ہے لیکن دوسری جانب سوات کے اہم پہاڑوں کی بلندیوں پر پاک فوج کے جوان مورچہ زن ہو چکے ہیں۔ پہاڑوں کی چوٹیوں تک توپ خانے اور دیگر سامانِ حرب پہنچا دیا گیا ہے۔ ریگولر آرمی کی ایک بڑی تعداد سوات پہنچا دی گئی ہے اور روزانہ گن شپ ہیلی کاپٹر سوات کی فضاؤں میں گردش کرتے نظر آتے ہیں۔ حکومت نے سوات میں متوقع فیصلہ کن آپریشن کے لیے ایسی تیاری کر لی ہے جیسے دُشمن ملک کے خلاف جوابی کار روائی کے لیے غیر معمولی طور پر کی جاتی ہے۔ سوات خصوصاً اس کے مرکزی شہر منگورہ کے رہنے والے اس بات پر حیران اور قدرے پریشان نظر آتے ہیں کہ حکومت نے مقامی طالبان کو اتنی آسانی کے ساتھ سوات کا 70 فی صد علاقہ کیوں دیا؟ اور اب حکومت مقامی طالبان کے ساتھ کوئی سنجیدہ مذاکرات کرتی نظر آتی ہے اور نہ اتنی زیادہ تیاریوں کے باوجود فیصلہ کن فوجی آپریشن شروع کرنے کے آثار نظر آتے ہیں۔ عوام میں اس کنفیوژن اور غیر یقینی صورتِ حال کی وجہ سے سخت بے چینی پھیلی ہوئی ہے اور بعض عوامی حلقوں کا خیال ہے کہ حکومت دانستہ طور پر حالات مزید بگاڑنا چاہتی ہے اور مقامی طالبان کو کھلی چھوٹ دے کر دنیا کو یہ دکھانا چاہتی ہے کہ سوات بیرون سوات سے آنے والے خطرناک اور جنگ جو طالبان کے قبضے میں ہے اور موجودہ فوجی حکم ران امریکی صدر بش کی دہشت گردی کے خلاف عالمی مہم میں موثر کردار ادا کر رہے ہیں۔ سوات کے 70 فی صد علاقوں پر قابض طالبان اتنے خطرناک نہیں ہیں، جتنا ان کو ظاہر کیا جا رہا ہے۔ حکومت اگر طاقت کے ذریعے ان کا صفایا کرنا چاہے تو یہ چند دنوں کی بات ہے اور اگر حکومت پُر امن ذرائع سے یہ معاملہ حل کرنا چاہے تو شریعت کے عملی نفاذ کا اعلان کر کے چند گھنٹوں میں یہ قضیہ ختم کیا جا سکتا ہے۔ مقامی طالبان کے اہم رہنما بار بار اس بات کا اعادہ کرتے ہیں کہ اگر حکومت فوری طور پر نفاذِ شریعت کو عملاً ممکن بنائے تو وہ ہتھیار ڈالنے کے لیے تیار ہیں لیکن یوں معلوم ہوتا ہے جیسے موجودہ فوجی حکم ران اس معاملے میں کچھ "دیگر اغراض" کا حصول بھی چاہتے ہیں۔ 
	ایک طرف تو سوات میں امن و امان اور حکومت کی عمل داری کا یہ عالم ہے لیکن دوسری جانب صدر جنرل پرویز مشرف نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ قومی اسمبلی 15 اور صوبائی اسمبلیاں 20 نومبر کو تحلیل کر کے عام انتخابات اگلے سال 9 جنوری سے قبل کرائے جائیں گے۔ سوات کی موجودہ غیر یقینی اور ناگفتہ بِہ صورتِ حال کے پیشِ نظر یہاں عام انتخابات کے انعقاد کے سلسلے میں حکومت کی حکمتِ عملی کیا ہو گی؟ کیا اس وقت تک سوات کے حالات پرسکون کئے جا چکے ہوں گے یا موجودہ صورتِ حال کے جوں کے توں برقرار رہنے کی صورت میں مقامی طالبان انتخابی عمل میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کریں گے یا وہ کسی مخصوص سیاسی پارٹی کی حمایت کا اعلان کریں گے۔ اس سلسلے میں ہم نے مقامی طالبان اور علاقے کے سیاست دانوں کا موقف جاننے کے لیے ان سے رابطہ کیا اور اس معاملے میں ان کی آراء جاننے کی کوشش کی ہے۔ 
	سوات میں اے این پی کے بزرگ رہنما، علاقے کی مشہور سیاسی شخصیت اور سابق وفاقی وزیر محمد افضل خان لالہ سے جب اس سلسلے میں رابطہ کیا گیا تو انھوں نے کہ "سوات کے موجودہ حالات میں عام انتخابات کا انعقاد بہت مشکل نظر آتا ہے کیوں کہ سوات میں جب تک امن قائم نہ ہو گا، عوام کو جان و مال اور عزت و آبرو کا تحفظ نہیں دیا جائے گا، پولنگ سٹیشن محفوظ نہیں ہوں گے تو اہلیانِ سوات انتخابی عمل میں کس طرح حصہ لے سکتے ہیں؟ حکومت کی اولین ذمے داری سوات میں امن کا قیام ہونا چاہئے، خواہ اس کے لیے حکومت کوئی بھی طریقۂ کار اختیار کرے۔" انھوں نے کہا کہ "سوات میں انتخابات ضرور ہونے چاہئیں کیوں کہ یہ یہاں کے عوام کا بنیادی حق ہے اور عوام کو اپنے آزادانہ حقِ رائے دہی سے محروم نہیں رکھنا چاہئے۔ اس کے لیے حکومت کو سوات میں امن و امان کی صورتِ حال بہتر بنانے کے لیے فوری اور غیر معمولی اقدامات اُٹھانے چاہئیں۔"
	پی پی پی (شیرپاؤ گروپ) کے اہم رہنما اور تحصیل ناظم سوات فضل رحمان نونو نے کہا کہ "آپ صرف سوات کی بات کرتے ہیں۔ میرا تو خیال یہ ہے کہ پورے صوبہ سرحد خصوصاً ملاکنڈ ڈویژن، چارسدہ، بٹ گرام، مانسہرہ، مردان، نوشہرہ، ڈی آئی خان اور ہنگو میں بھی حالات نہایت خراب ہیں اور صرف سوات ہی نہیں ان علاقوں میں بھی انتخابات کا انعقاد مشکل نظر آتا ہے۔ جہاں تک سوات کا تعلق ہے تو یہاں امن لائے بغیر عام انتخابات کیسے کرائے جا سکتے ہیں۔ حکومت اگر یہاں طاقت کے ذریعے امن لانا چاہے تو اس میں بے گناہ لوگ مارے جائیں گے اور اس کے نتیجے میں عام لوگوں میں حکومت اور فوج سے نفرت پیدا ہو گی۔" انھوں نے کہا کہ "یہ بد اَمنی اور بے چینی قرب  وجوار کے دوسرے ضلعوں میں بھی پھیل سکتی ہے۔ اس لیے حکومت کو سوات کا معاملہ حل کرنے میں نہایت تدبر اور فراست سے کام لینا ہو گا۔"
	جمعیت علمائے اسلام سے تعلق رکھنے والے سابق ایم این اے قاری عبد الباعث نے کہا کہ "اس وقت سوات اور صوبہ سرحد میں حالات کی تمام تر خرابی کی ذمے داری وفاقی حکومت پر عائد ہوتی ہے۔ حکومت نے جان بوجھ کر ملک بھر میں حالات خراب کر دئیے ہیں تاکہ حکومت کو ملک میں ایمرجنسی نافذ کرنے کا جواز مل سکے اور اس کی آڑ میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس اور ان کے ساتھیوں کو برطرف کیا جا سکے۔ جنرل مشرف ایمرجنسی کے اندھیرے میں انتخابات کرا کر اپنے من پسند نتائج کے حصول کے متمنی ہیں۔ جہاں تک سوات میں عام انتخابات کے انعقاد کا تعلق ہے تو اگر سوات کی موجودہ ناگفتہ بِہ صورتِ حال برقرار رہی تو اس صورت میں یہاں عام انتخابات بالکل نہیں کرائے جا سکتے۔"
	جماعتِ اسلامی سے تعلق رکھنے والے سابق ایم پی اے محمد امین نے کہا کہ "پہلی بات تو یہ ہے کہ حالات ملک بھر میں خراب ہیں اور خود کش حملوں کا سلسلہ ملک کے دوسرے حصوں میں بھی مسلسل پھیل رہا ہے۔ اس وقت ملک میں ایمرجنسی نافذ ہے جس کے تحت بنیادی انسانی اور شہری حقوق معطل کیے جا چکے ہیں، بڑی سیاسی جماعتوں کے رہنما یا تو گرفتار کیے گئے ہیں یا انھیں نظر بندی کا سامنا ہے۔ ایسے حالات میں تو پورے ملک میں انتخابات کا انعقاد مشکوک نظر آ رہا ہے۔ جہاں تک سوات کا تعلق ہے تو یہاں امن و امان کی صورتِ حال نہایت ہی مخدوش ہے۔ لاکھوں لوگ نقل مکانی کر چکے ہیں اور باقی لوگ بھی اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہو رہے ہیں، ایسے حالات میں یہاں عام انتخابات بہت ہی مشکل نظر آتے ہیں۔"
	اے این پی کے مرکزی کمیٹی کے خارجہ اُمور کے سیکرٹری اور سابق ایم پی اے واجد علی خان نے کہا کہ "عام انتخابات کے لیے پرامن اور پرسکون ماحول کی ضرورت ہے جب کہ اس وقت سوات کے حالات مخدوش ہیں۔ ان حالات میں اگرچہ انتخابات کا عمل پایہ تکمیل تک پہنچایا جا سکتا ہے لیکن ایسے حالات میں سیاسی جماعتیں اپنی آزادانہ انتخابی مہم نہیں چلا سکیں گی اور ایک پر امن ماحول میں جس طرح انتخابات کی سرگرمیاں جاری رہ سکتی ہیں، موجودہ حالات میں وہ کام یابی سے جاری نہیں رہ سکیں گی۔"
	جماعتِ اسلامی سے تعلق رکھنے والے سابق صوبائی وزیر حسین احمد کانجو نے کہا کہ "اس وقت صورتِ حال یہ ہے کہ مٹہ اور اس کے قرب و جوار میں گن شپ ہیلی کاپٹروں کی شیلنگ جاری ہے جس میں خواتین اور بچوں کے زخمی ہونے کی اطلاعات بھی ہیں۔ سوات میں حکومت نے بہت زیادہ فوج بھیجی ہے اور ان کی جو سرگرمیاں نظر آ رہی ہیں اس کے مطابق ان کے ارادے یہاں مستقل ڈیرے ڈالنے کے ہیں۔ یوں لگتا ہے کہ عام انتخابات تک سوات کے حالات میں بہتری آنے کا کوئی امکان نہیں۔ کیوں کہ حکومت نے اگرچہ قانونی طور پر ملاکنڈ ڈویژن میں نفاذِ شریعت کا اعلان کیا ہے لیکن عملاً اس کی کوئی صورت نظر نہیں آتی جس کی وجہ سے ان حالات میں سوات میں عام انتخابات کا انعقاد قطعی طور پر ناممکن نظر آتا ہے۔" انھوں نے کہا کہ "سوات میں امن کی بحالی کے لیے طاقت کی بجائے افہام و تفہیم اور مقامی جرگوں سے کام لیا جائے کیوں کہ مولانا فضل اللہ بھی سوات میں امن چاہتے ہیں اور اس کے لیے ان کے مطالبات نہایت سادہ اور واضح ہیں۔ حکومت سوات میں عملاً شریعت نافذ کر کے سوات سے فوج واپس بلا لے تو سوات میں امن قائم ہو سکتا ہے۔" انھوں نے کہا کہ "حکومت اپنے اعلان کے مطابق اگر عام انتخابات منعقد کرانا چاہے تو اس میں بہت کم وقت ہے۔ انتخابی مہم چلانے کے لیے سیاسی جماعتوں کے پاس اتنا وقت نہیں، جس میں وہ انتخابات میں حصہ لینے کے لیے مناسب تیاری کر سکیں۔"
	پاکستان مسلم لیگ (ن) کے مقامی رہنما سید اکبر شاہ باچا نے کہا کہ "موجودہ حالات میں سوات میں عام انتخابات بہت مشکل ہیں۔ ان حالات میں عام لوگ آزادی سے گھوم پھر نہیں سکتے، وہ اپنا ووٹ ڈالنے کے لیے پولنگ سٹیشن کیسے جا سکیں گے۔ سوات کی ناگفتہ بِہ صورتِ حال کے پیشِ نظر متاثرہ علاقوں سے لوگ تیزی کے ساتھ نقل مکانی کر رہے ہیں اور اگر ان حالات میں حکومت نے سوات میں انتخابات کرانے کی کوشش کی تو اس سے علاقے میں مزید خون خرابے کا خطرہ ہے۔"
	سوات میں جاری طالبان تحریک کے سربراہ مولانا فضل اللہ کے ترجمان سراج الدین خان نے ٹیلی فون کے ذریعے کہا کہ "انتخابات تو حکومت کا اپنا قانونی معاملہ ہے۔ ہمارا عام انتخابات سے کوئی تعلق نہیں۔ ہمارا مطالبہ اور مقصد تو محض اس علاقے میں شرعی نظام کا نفاذ ہے۔ ہم اپنے لیے، علاقے کے لوگوں اور پورے علاقے کے لیے شرعی نظام چاہتے ہیں اور اپنے اس جائز مطالبہ کے لیے ہم اپنے خون کے آخری قطرے تک جدو جہد کریں گے۔" ان سے جب یہ سوال کیا گیا کہ اگر عام انتخابات میں کوئی اسلامی جماعت آپ سے اس وعدے پر ووٹ طلب کرے کہ اس کے منتخب نمائندے اسمبلیوں میں جا کر اسلامی نظام کے نفاذ کے لیے آواز بلند کریں گے تو کیا آپ اپنے حمایتیوں کو ووٹ ڈالنے کی اجازت دیں گے؟ انھوں نے کہا کہ "یہ تو ہم اس وقت دیکھیں گے لیکن اب تو حکومت نے سوات آپریشن فوج کے حوالے کر دیا ہے اور اس وقت بھی جہاں ہم موجود ہیں، گن شپ ہیلی کاپٹر شدید شیلنگ کر رہے ہیں۔" انھوں نے کہا کہ "ہم جمہوری عمل پر یقین نہیں رکھتے، جمہوریت اسلام کے خلاف ایک عمل ہے۔ اسلام اور مغربی جمہوریت دو متضاد نظام ہیں اس لیے نہ ہم خود اسمبلیوں میں جانا چاہتے ہیں اور نہ ہی کسی اور کے ذریعے شریکِ اقتدار ہونا چاہتے ہیں۔ ہمارا مطمع نظر صرف اور صرف اللہ کی زمین پر اللہ تعالیٰ کا نظام نافذ کرنا ہے اور اس سلسلے میں حکومت نے کئی دفعہ ہمارے ساتھ اسلامی شرعی نظام کے نفاذ کا وعدہ کیا ہے لیکن عملاً اس سلسلے میں کوئی پیش رفت نظر نہیں آ رہی ہے۔"
 (20 نومبر 2007ء) 
٭٭٭


سوات آپریشن کے بعد حکومت کی ذمے داری

	سوات میں مقامی طالبان کے خلاف آپریشن آخری مراحل میں داخل ہو چکا ہے۔ مذہب کے نام پر امن و امان تباہ کرنے والے شدت پسندوں کے قدم اُکھڑ چکے ہیں اور بڑے جانی نقصان کے بعد اب وہ اپنے مورچے چھوڑ کر فرار ہو رہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق پاک فوج کی طرف سے گرینڈ آپریشن شروع ہونے کے بعد اب تک درجنوں مقامی طالبان ہلاک کئے جا چکے ہیں۔ گزشتہ رات کی کار روائی میں مٹہ میں عسکریت پسندوں کے ایک اہم کمانڈر خان خطاب بھی ہلاک ہو چکے ہیں جو خود کو اپنے زیرِ قبضہ علاقے کا گورنر کہلوانا پسند کرتے تھے۔ فوج کی کامیاب کار روائیوں کو دیکھتے ہوئے پیر کی شب مقامی طالبان کے رہنما مولانا فضل اللہ نے ایف ایم ریڈیو پر اعلان کیا کہ علاقے کے لوگوں کے جانی نقصان کے پیشِ نظر ان کے حامی ڈھیرئ، کوزہ بانڈئ، برہ بانڈئ اور ننگولئی میں قائم مورچے فوری طور پر خالی کر دیں اور خود محفوظ مقامات کی طرف منتقل ہو جائیں لیکن تازہ ترین اطلاعات کے مطابق طالبان کے اہم مورچوں ناجیہ ٹاپ، عثمان سر پر فوج نے قبضہ کر لیا ہے اور چارباغ، گلی باغ، خوازہ خیلہ، مٹہ اور اس کے قرب و جوار کے دیگر علاقوں سے بھی مقامی طالبان اپنا اسلحہ چھوڑ کر راہِ فرار اختیار کر رہے ہیں۔ انھوں نے اپنے زیرِ قبضہ تمام علاقوں کا کنٹرول چھوڑ دیا ہے جس کے نتیجے میں سوات کے مرکزی شہر منگورہ اور اس کے دیگر علاقوں میں بھی فوج کی طرف سے فائرنگ کا سلسلہ رُک گیا ہے اور ان علاقوں میں اب سکون محسوس کیا جا رہا ہے۔ فوج کے ترجمان کے مطابق ہیلی کاپٹر پہاڑی راستوں کے ذریعے فرار ہونے والے عسکریت پسندوں کا پیچھا کر رہے ہیں۔ شانگلہ سے آمدہ اطلاعات کے مطابق وہاں بھی طالبان اپنے مورچوں سے بھاگ رہے ہیں اور وہاں سکیورٹی فورسز کے اہل کار ریاست کی عمل داری قائم کرنے میں کامیاب ہو چکے ہیں۔ 
	مولانا فضل اللہ اور ان کے حامیوں نے تین سال قبل نفاذِ شریعت کے نام پر غیر قانونی ایف ایم ریڈیو کے ذریعے جو سرگرمیاں شروع کی تھیں، وہ اپنے انجام کو پہنچ گئیں اور ان کی وجہ سے علاقے میں جو انتشار اور بد امنی پھیلی ہوئی تھی اس سے اب علاقے کے لوگوں کو نجات مل جائے گی۔ نفاذِ شریعت کے احسن مقصد کے لیے جو ناپسندیدہ راستہ اختیار کیا گیا تھا، اس کے نتیجے میں پورے سوات کو ناقابلِ تلافی نقصان سے دوچار ہونا پڑا۔ عسکریت پسندوں کی سرگرمیوں کی وجہ سے گزشتہ کئی مہینوں سے علاقے میں غیر یقینی کی صورتِ حال قائم رہی۔ حکومتی رِٹ ختم ہونے کی وجہ سے عام آدمی کو عدم تحفظ کا شدید احساس ہوتا رہا۔ تحصیل کبل، مٹہ، چارباغ اور خوازہ خیلہ میں لڑکیوں کے سکول پہلے ہی سے بند تھے لیکن جب آپریشن کا آغاز ہوا تو ان علاقوں میں لڑکوں کے سکول و کالج بھی بند ہو گئے۔ کل بارہ سو سکول بند ہونے کی وجہ سے تقریباً دو لاکھ سے زائد طلبہ و طالبات تعلیم کے حصول سے محروم ہیں۔ آپریشن کے دوران قریباً سات لاکھ سے زیادہ افراد نے متاثرہ علاقوں سے نقل مکانی کی۔ درجنوں بے گناہ لوگ بھی گولیوں کا نشانہ بنے۔ عسکریت پسندوں کی طرف سے سرکاری اہل کاروں کو ذبح کرنے کی وجہ سے پوری دنیا میں اسلام اور سوات کی بدنامی ہوئی۔ غرض سوات، جو اپنے خوب صورت مناظر کی وجہ سے سیاحوں کی جنت کہلاتا تھا اور ملک کے طول و عرض میں یہ گوشہ مثالی امن کے لیے اپنا ثانی نہیں رکھتا تھا، مقامی طالبان کی ناپسندیدہ سرگرمیوں کی وجہ سے معاشی اور اقتصادی طور پر کئی سال پیچھے چلا گیا اور اب اس کی اقتصادی اور معاشی سرگرمیاں بحال کرنے میں ایک طویل عرصہ لگے گا۔ مسلسل کرفیو کے نفاذ کی وجہ سے علاقے میں اشیائے خورد و نوش کی قلت بھی پیدا ہوئی جس سے شہریوں کو خاصی پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کے علاوہ جن غریب لوگوں کے گھر بار تباہ ہو چکے ہیں، ان کے لیے اپنے گھروں کی مرمت اور از سرِ نو تعمیر ایک بڑا مسئلہ ہو گا۔ 
	مقامی طالبان کی حمایت زیادہ تر تحصیل مٹہ، خوازہ خیلہ، چارباغ اور کبل کی تحصیلوں کے مکینوں نے کی جس کی وجہ سے آپریشن میں زیادہ تر نقصان بھی ان ہی علاقوں کے لوگوں کا ہوا ہے۔ مولانا صوفی محمد کی کالعدم "تحریکِ نفاذِ شریعتِ محمدیؐ" کے دوران 1994ء میں جب تحریک کے کارکنوں نے اچانک سوات میں مسلح بغاوت کر کے حکومت کی عمل داری ختم کی تھی تو اس وقت بھی انہی علاقوں کے لوگوں نے اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تھا اور اب مولانا صوفی محمد کے داماد مولانا فضل اللہ کی مسلح سرگرمیوں میں بھی ان ہی علاقوں کے لوگ سرگرمِ عمل تھے۔ 1994ء میں حالات کو مولانا صوفی محمد کے ذریعے پُر امن طریقے سے کنٹرول کیا گیا تھا لیکن اب کی بار حکومت کو امن و امان اور ریاست کی عمل داری قائم کرنے کے لیے مسلّح افواج کی مد د لینا پڑی اور باقاعدہ فوجی آپریشن کے ذریعے متاثرہ علاقوں کو عسکریت پسندوں سے خالی کرانا پڑا۔ ان علاقوں کے باشندوں کو مولانا فضل اللہ کی اندھی حمایت کے نتیجے میں خاصا جانی و مالی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا۔ اس لیے آئندہ اگر مقامی طالبان مذہبی شدت پسندی کی بنیاد پر علاقے کا امن سبوتاژ کرنے کی کوشش کریں گے تو یہاں کے لوگ ان کی راہ میں سخت مزاحم ہوں گے۔ کیوں کہ انھیں نام نہاد اسلام پسندوں کی حمایت کی بھاری قیمت ادا کرنا پڑی ہے۔ 
	آپریشن کی تکمیل کے بعد حکومت کی ذمے داری ہے کہ وہ مولانا فضل اللہ کی باقیات کے خلاف بھی قانونی کار روائیاں جاری رکھیں تاکہ وہ دوبارہ سر اُٹھا کر علاقے میں بد امنی کا سبب نہ بنیں۔ اس وقت مولانا فضل اللہ اور ان کے قریبی ساتھیوں کا کچھ پتہ نہیں کہ وہ کہاں ہیں۔ حکومت کو انھیں دوبارہ منظم ہونے کا موقع نہیں دینا چاہئے۔ اس کے علاوہ جن لوگوں کے گھر آپریشن کے دوران تباہ ہو چکے ہیں، ان کی دوبارہ تعمیر و مرمت میں حکومت ان کی مناسب مالی امداد کرے اور جو بے گناہ شہری اس دوران جاں بحق ہوئے ہیں، ان کے لواحقین کی دل جوئی کے لیے حکومت ان کے لیے بھی معاوضوں کی ادائیگی ممکن بنائے۔ 
	سوات ایک جنت نظیر علاقہ ہے۔ اس کا ہر گوشہ قدرتی خوب صورتی اور رعنائی کا مظہر ہے۔ اس کی معاشی بحالی کے لیے حکومت کو علاقے میں سیاحت کی صنعت کو فروغ دینے کے لیے بڑے ترقیاتی منصوبے شروع کرنے چاہئیں۔ علاوہ ازیں حکومت سوات کی ناگفتہ بِہ سڑکوں کی حالت بہتر بنانے، یہاں جدید طبی سہولتوں کی فراہمی، علاقے میں تعلیم کو فروغ دینے، بے روزگاری ختم کرنے اور علاقے کے طول و عرض میں امن بحال رکھنے کے لیے فوری عملی اقدامات اُٹھائے تاکہ سوات کے لوگوں میں احساسِ محرومی ختم ہو اور یہ علاقہ ترقی و خوشحالی کی جانب ایک نئے سفر کا آغاز کر سکے۔ 

 (28 نومبر 2007ء) 
٭٭٭


سوات میں شدت پسندوں کے خلاف
فوجی آپریشن کے پسِ پردہ حقائق 

	یوں تو سوات کے حالات گزشتہ تین سالوں سے بدامنی اور لاقانونیت کی طرف گامزن تھے لیکن گزشتہ سال کے وسط میں اس میں ڈرامائی خرابی در آئی جس کی وجہ سے سوات میں رہنے والا ہر شخص اس کی سنگینی محسوس کرنے لگا۔ مقامی انتظامیہ اور صوبہ سرحد کی ایم ایم اے کی سابق حکومت سوات میں بگاڑ کی طرف تیزی سے گامزن حالات بخوبی سمجھتی تھی لیکن ان کی طرف سے دانستہ طور پر اصلاحِ احوال کے لیے کوئی ٹھوس اقدامات نہیں اٹھائے گئے بلکہ مقامی عسکریت پسندوں کی حوصلہ افزائی کے لئے ایسے اقدامات اٹھائے جاتے رہے جس کا تصور کوئی بھی محب وطن حکومت نہیں کر سکتی۔ مبینہ طور پر مقامی عسکریت پسندوں کو حکومت کی طرف سے بڑی مقدار میں اسلحہ فراہم کیا گیا اور ایجنسیوں نے ان عسکریت پسندوں کی صفوں میں ایک بڑی تعداد میں اپنے لوگ داخل کرائے جن کی منصوبہ بندی کے نتیجے میں مقامی طور پر نفاذِ شریعت کے لئے شروع کی جانے والی ایک محدود تحریک کو عالمی سطح پر بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا۔ اس کے ڈانڈے افغانستان کی طالبان تحریک سے ملائے گئے اور سوات میں دانستہ طور پر ایسے حالات تخلیق کئے گئے جس میں سوات کا 70فی صد علاقے پر مقامی عسکریت پسندوں کو قابض کرایا گیا۔ حالاں کہ حقیقت یہ تھی کہ عسکریت پسندوں کی تعداد بہت کم تھی۔ اس تحریک میں زیادہ تر مقامی لوگ شامل تھے جنہوں نے عام بندوقیں اٹھائی تھیں یا اپنی حفاظت کے لئے گھروں میں رکھا گیا پستول، نہ ان کو ایک تربیت یافتہ فوج کے ساتھ جنگ لڑنے کی کوئی باضابطہ تربیت دی گئی تھی اور نہ ہی وہ کسی چھاپہ مار جنگ کے لئے ذہنی طور پر تیار تھے۔ یہی وجہ ہے جب 12نومبر 2007ء کو سوات آپریشن باقاعدہ طور پر فوج کے حوالے کیا گیا اور فوج نے وسیع پیمانے پر بھاری ہتھیاروں اور گن شپ ہیلی کاپٹروں کے ذریعے اپنی کار روائیاں شروع کیں تو چند ہی دنوں میں مقامی عسکریت پسند روپوش ہو گئے۔ مولانا فضل اللہ اور ان کے قریبی ساتھی سوات کے گٹ پیوچار نامی علاقے میں پناہ گزیں ہو گئے اور مقامی لوگوں پر مشتمل زیادہ تر عسکریت پسندوں نے اپنی داڑھیاں اور مخصوص لمبے بال منڈوا دیئے۔ یوں چند دنوں کی فوجی کار روائی میں مقامی عسکریت پسند منتشر ہو گئے۔ 
	سوات بھر میں جن خودکش حملوں کے چرچے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا میں آتے رہے، مقامی لوگوں کے مطابق ان میں زیادہ تر ریموٹ کنٹرول بم دھماکے تھے۔ ان میں اکثر بم دھماکوں کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ خودکش ہیں لیکن زیادہ تر دھماکے خودکش ہر گز نہیں تھے بلکہ یہ ڈس انفارمیشن کا حصہ تھے۔ اہلیانِ سوات کو یقین ہے کہ وادیِ سوات کی پر امن فضاؤں میں آگ اور خون کا کھیل پاکستان کی خفیہ ایجنسیوں کے ذریعے رچایا گیا تاکہ جنرل (ر) پرویز مشرف کے غیر آئینی، غیر قانونی اور غیر اخلاقی حکومت کو سہارا دیا جا سکے اور اس کے ذریعے امریکا اور یورپی ممالک کی اندھی حمایت حاصل کی جا سکے۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ امریکی حکومت نے سوات آپریشن کے لئے پاکستانی فوج کو ایک خطیر رقم دی ہے اور اس بڑی رقم کا تقاضا یہ ہے کہ سوات آپریشن کو غیر ضروری طوالت دی جائے اور عالمی رائے عامہ کی نظروں میں اسے ایک نہایت بڑا اور غیر معمولی معاملہ ثابت کیا جائے۔ سوات میں عام طور پر یہ بھی خیال کیا جاتا ہے کہ پاک فوج کی طرف سے آپریشن اپنے ہاتھ میں لینے کے بعد ابتدائی چند دنوں میں جو سرکاری اہل کار ذبح کئے گئے ان میں بھی تیسری قوت کا ہاتھ کار فرما تھا۔ جس کے ذریعے دنیا کو یہ پیغام دینا مقصود تھا کہ سوات میں جاری تحریک میں بیرونی ہاتھ ملوث ہے اور یہاں وحشی طالبان مذہب کے نام پر خلق خدا کو ذبح کر رہے ہیں۔ جب کہ حقیقتاً اس تحریک میں افغانستان کے طالبان کا کوئی کردار نہیں اور اب تک چند غیر ملکیوں کے علاوہ اس میں کوئی طاقت ور بیرونی ہاتھ ثابت نہیں کیا جا سکا۔ البتہ یہ بات زبانِ زد خاص و عام ضرور ہے کہ مولانا فضل اللہ کے مسلح حامیوں کے ساتھ ایجنسیوں کے لوگوں کی ایک بڑی تعداد عسکریت پسندوں کے روپ میں ضرور موجود تھی۔ 
	حکومت بڑے زور و شور سے سوات میں مقامی عسکریت پسندوں کی تحریک میں بھارت، امریکا اور افغانستان کو ملوث ہونے کا تاثر دینے کی کوشش کر رہی ہے لیکن اس بارے میں بھی حکومت کے متعلقہ اہل کار کوئی ٹھوس ثبوت دینے میں کامیاب نہیں ہو سکے ہیں۔ مقامی عسکریت پسندوں کو افغان حکومت کے ذریعے بھاری رقوم دی گئی ہیں اور اس کا ثبوت یہ پیش کیا جاتا ہے کہ مولانا فضل اللہ نے بعض مقامی لوگوں کو کرایہ پر بھی رکھا تھا اور ان کی طرف سے ان لوگوں کو باقاعدہ اسلحہ، کھانا اور روزانہ اُجرت دی جاتی تھی لیکن عوام میں یہ بات بھی گردش کرتی رہتی ہے کہ یہ رقم اور اسلحہ پاکستان کی خفیہ ایجنسیوں نے مولانا فضل اللہ کو اس لیے دیا تھا کہ وہ اس کے ذریعے اپنی تحریک میں جان پیدا کر سکیں تاکہ عالمی رائے عامہ کو ان عسکریت پسندوں کی بعض سرگرمیوں کے ذریعے گم راہ کیا جا سکے۔ اگر مولانا کو رقم اور اسلحہ فراہم نہیں کیا جاتا اور ان کی انتہاء پسندانہ سرگرمیوں کے لئے راہ ہم وار نہ کی جاتی تو حکومت دنیا کو کس طرح یہ بات ب اور کرانے میں کامیاب ہوتی کہ سوات میں مقامی طالبان کے رابطے افغانستان کے طالبان کے ساتھ ہیں اور امریکا اور نیٹو کی فوج کے خلاف بر سر پیکار طالبان اب اپنی جڑیں پاکستان کے بندوبستی علاقوں میں بھی مضبوط کر رہے ہیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ افغانستان کی حکومت اس لیے سوات میں عسکریت پسندوں کی پیٹھ ٹھونک رہی تھی کہ وہ پاکستانی فوج کو اپنے ہی ملک میں اُلجھانا چاہتی تھی اور عوام اور فوج کے درمیان نفرت کی خلیج کھڑی کر کے افغانستان میں پاکستانی فوج کی مداخلت کا بدلہ چکانا چاہتی تھی۔ 
	اہل سوات میں یہ افواہ بھی گردش کر رہی ہے کہ سوات میں عسکریت پسندوں کی حوصلہ افزائی کر کے حکومت یہاں ایک بڑے فوجی آپریشن کے لیے راہ ہم وار کرنا چاہتی تھی تاکہ سیدو شریف ائیر پورٹ کو ملٹری ائیر بیس میں تبدیل کیا جا سکے اور مستقبل میں یہ علاقہ امریکا اور چین کی ممکنہ جنگ میں امریکی مفادات کے لیے چین کے خلاف استعمال کیا جا سکے۔ وادیِ سوات کی تزویراتی حیثیت (Strategic Position) ایسی ہے کہ بشام کے مقام پر یہ وادی شاہراہِ ریشم کے ساتھ ملی ہوئی ہے جو چین اور پاکستان کو آپس میں ملانے والا آسان زمینی راستہ ہے۔ اس کے علاوہ کالام سے پیدل پہاڑی راستوں کے ذریعے اس کی سرحدیں چترال اور گلگت تک پھیلی ہوئی ہیں۔ جس کی وجہ سے عالمی طاقتوں کی نظریں سوات پر گڑی ہوئی ہیں اور وہ اسے مستقبل میں اپنے مفادات کے لئے فرنٹ لائن کے طور پر استعمال کرنا چاہتی ہیں۔ حکومت کی طرف سے حال ہی میں سوات میں فوجی چھاؤنی کا اعلان بھی کیا گیا ہے جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ان افواہوں میں حقیقت کے کچھ نہ کچھ رنگ ضرور موجود ہیں۔ 
	سوات آپریشن شروع ہونے کے بعد فوج کی طرف سے اعلان کیا گیا تھا کہ آپریشن دسمبر کے آخر تک مکمل کیا جائے گا اور دسمبر میں وادیِ سوات کو سیاحوں کے لیے کھول دیا جائے گا لیکن حکومت ملک کے مخصوص سیاسی حالات کے پیش نظر سوات آپریشن ابھی ختم کرنا نہیں چاہتی اور اسے مزید اپنے سیاسی اور مالی مقاصد کے لیے استعمال کرنا چاہتی ہے۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ جنرل مشرف نے 3نومبر 2007ء کو ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ کی ایک وجہ سوات میں عسکریت پسندوں کی طرف سے حکومت کی عمل داری مفلوج کرنا بھی بتائی تھی اور اس کے بعد بھی جنرل مشرف نے کئی دفعہ مولانا فضل اللہ کا نام لے کر مقامی طالبان کا ہوّا کھڑا کرنے کی شعوری کوشش کی اور اسے اپنے اقتدار کے دوام کے لیے استعمال کرتے رہے۔ وہ سوات کے مقامی عسکریت پسندوں پر مشتمل چھوٹے سے گروپ کو نہ صرف ریاست کی سلامتی کے لئے خطرناک قرار دیتے رہے ہیں بلکہ ان کی سرکوبی کو امریکا کی دہشت گردی کے خلاف عالمی مہم کا حصہ بھی ثابت کرنے میں لگے رہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ سوات کے مقامی عسکریت پسندوں کی سرگرمیاں ایک تو نہایت محدود تھیں اور دوسرے مقامی انتظامیہ نے انھیں حکومتی پلان کے مطابق ڈھیل دے رکھی تھی اور وہ بڑی آسانی کے ساتھ سوات میں تھانوں پر تھانے اپنے قبضہ میں لیتے رہے تھے بلکہ حکومت نے انہیں سوات کے پڑوس میں واقع ضلع شانگلہ بھی پلیٹ میں رکھ کر پیش کیا۔ اعلیٰ ضلعی افسروں کو طالبان کی آمد سے ایک دن قبل اپنے دفاتر خالی کرنے کو کہا گیا اور اگلے روز جب دو درجن پر مشتمل طالبان ضلع شانگلہ میں داخل ہو گئے تو وہاں تعینات سکیورٹی اہل کاروں کو حکم دیا گیا کہ وہ کوئی مزاحمت نہ کریں اور خاموشی کے ساتھ تھانے اور ضلعی دفاتر خالی کر دیں۔ عینی شاہدین کے مطابق جب شانگلہ میں فوج نے اپنی کار روائیوں کا آغاز کیا تو اس میں عسکریت پسندوں کا کم اور مقامی آبادی کا زیادہ نقصان ہوا۔ 
	اب سوات میں فوجی آپریشن کی صورتِ حال یہ ہے کہ حکومت نے پورے علاقے میں ریاستی رٹ قائم کر لی ہے اور حکومتی دعووں کے مطابق سیکڑوں عسکریت پسندوں کو ہلاک اور گرفتار کر لیا گیا ہے۔ حکومت ابھی تک میڈیا کے سامنے کسی غیر ملکی کو پیش کرنے میں ناکام رہی ہے۔ اب بھی روزانہ درجنوں کے حساب سے جو لوگ گرفتار کیے جاتے ہیں، ان میں عام شہریوں کے علاوہ بہت کم مقامی عسکریت پسند شامل ہوتے ہیں۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ سوات میں عسکریت پسندوں کی کمر توڑ دی گئی ہے اور سوات بھر میں حکومت کی عمل داری قائم کی جا چکی ہے لیکن حقیقتاً حکومت سوات کی رونقیں بحال کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی ہے۔ اب بھی سوات بھر میں مسلسل کرفیو نافذ رہتا ہے اور پوری پوری رات توپوں اور دیگر بھاری ہتھیاروں کی گھن گرج وادی میں گونجتی رہتی ہے۔ مولانا فضل اللہ اپنے کچھ ساتھیوں کے ہمراہ سوات کے ایک نواحی علاقہ گٹ پیوچار کے پہاڑوں میں موجود ہیں اور مقامی لوگوں کے مطابق وہ بعض اوقات پوری آزادی کے ساتھ مقامی آبادی میں بھی گھومتے پھرتے نظر آتے ہیں۔ وہ اب بھی باقاعدہ اپنے ایف ایم ریڈیو کے ذریعے اپنی مخصوص نشریات جاری رکھے ہوئے ہیں اور فوج کے خلاف تقاریر کرتے رہتے ہیں۔ ان کے خلاف پاک فوج کی "کار روائیاں"اب بھی جاری ہیں جس کے نتیجے میں روز عام شہریوں کا جانی و مالی نقصان ہوتا ہے۔ اب تک فوج کی طرف سے فائر کئے گئے گولوں کی بہت بڑی تعداد مقامی آبادی پر ہی گرتی رہی ہے جس کے نتیجے میں درجنوں بے گناہ شہری، جن میں خواتین اور بچوں کی تعداد زیادہ ہے، ہلاک ہو چکے ہیں۔ 5 جنوری کو تحصیل کبل کے علاقہ گالوچ میں سکیورٹی فورسز کی گولہ باری میں ایک ہی خاندان کے 7بے گناہ افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہو گئے۔ جاں بحق ہونے والوں میں ایک بچی، تین بچے، ایک خاتون اور ایک معمر شخص بھی شامل ہے۔ اسی دن فوجی کار روائیوں میں کئی دوسری جگہوں میں بھی مکانات تباہ ہو گئے جن میں عام شہری ہی شدید زخمی و ہلاک ہوئے۔ زخمیوں میں زیادہ تعداد بچوں کی بتائی جاتی ہے۔ سوات میں پاک فوج کی کار روائیوں کے دوران گزشتہ سال نومبر میں بھی الہ آباد نامی گاؤں میں مارٹر گولہ آبادی پر گرنے سے 12عام شہری جاں بحق ہو گئے تھے۔ جن میں ایک ہی خاندان کے 4افراد بھی شامل تھے جس کے ردِ عمل میں عوام کی طرف سے ایک بڑا احتجاجی جلوس بھی نکالا گیا تھا۔ 
	موجودہ فوجی آپریشن میں جانی نقصانات کے علاوہ عوام کو بھاری مالی نقصان سے بھی دوچار ہونا پڑا ہے۔ اب تک سوات سے تقریباً سات لاکھ افراد نے نقل مکانی کی ہے۔ معاشی اور اقتصادی طور پر سوات کا مجموعی طور پر اربوں روپے کا نقصان ہو چکا ہے۔ سیاحت کی صنعت جس پر سوات کی مجموعی معیشت کا دارو مدار ہے، مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہے اور موجودہ انتشار کی وجہ سے لوگوں کو اپنی تیار فصلیں چھوڑ کر جان بچانے کے لیے دوسرے علاقوں کی طرف ہجرت کرنا پڑی ہے۔ بدامنی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے موقع پرست لوگوں نے سوات کے جنگلات کی بے دریغ کٹائی کی اور علاقے کے پہاڑوں کو سبزے اور قیمتی جنگلات سے محروم کر دیا۔ اب بھی سوات کے بیشتر علاقوں میں سرکاری اور پرائیویٹ سکول بند ہیں جس کی وجہ سے دو لاکھ سے زیادہ طالب علم متاثر ہو چکے ہیں اور موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے بند سکولوں کو دوبارہ جلد کھولنے کی کوئی یقین دہانی نہیں کرائی جا سکتی۔ 
	کچھ عرصہ قبل اگر چہ اہل سوات مقامی عسکریت پسندوں کی متشددانہ سرگرمیوں سے تنگ آ چکے تھے لیکن اب فوجی آپریشن کی غیر ضروری طوالت کی وجہ سے لوگ اپنے گھروں میں محصور ہو چکے ہیں۔ سوات کے مرکزی شہر میں بھی کاروبار تباہی سے دوچار ہیں اور کئی مہینوں سے جاری مسلسل کرفیو نے شہری زندگی کو بری طرح متاثر کر رکھا ہے اور اہل سوات اپنے ہی علاقہ اور اپنے ہی گھروں میں عدم تحفظ کا شکار ہو چکے ہیں۔ شدید ضرورت اور ایمرجنسی کی صورت میں کرفیو کے دوران گھروں سے باہر نکلنے والے عام شہریوں کو بے دریغ گولی مار دی جاتی ہے۔ عسکریت پسندوں اور عام شہریوں میں واضح فرق کے باوجود فوجی جوان وارننگ دیئے بغیر عام شہریوں کو گولیوں کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ کرفیو میں نرمی کے دوران عوام ضروریات زندگی خریدنے کے لیے بڑی تعداد میں گھروں سے نکلتے ہیں اور جب بازار میں خوب رش ہوتا ہے تو اس وقت فوجی کانوائے پُر ہجوم بازار میں سے گزرنے لگتی ہے لیکن زیادہ رش کی وجہ سے انھیں نقل و حرکت میں دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس کے لیے ہمارے محافظ فوجیوں نے عجیب طریقہ وضع کیا ہے۔ وہ لوگوں اور سویلین گاڑیوں میں سے راستہ نکالنے کے لیے ہوائی فائرنگ شروع کر دیتے ہیں جس کے دوران کئی دفعہ بے گناہ شہری گولیوں کا نشانہ بنتے رہے ہیں اور ہلاکتوں کے علاوہ متعدد لوگ زخمی ہوتے رہے ہیں۔ اس وقت عوام کو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے کسی بیرونی فوج نے ان پر حملہ کیا ہو اور اب فوج ان کے علاقہ کو مفتوحہ اور عوام کو غلام سمجھتے ہوں۔ ان وجوہات کی بناء پر اب سوات کے عوام میں فوج کے خلاف نفرت پھیل رہی ہے اور وہ یہ خیال کرنے لگے ہیں کہ جو فوج انھیں عسکریت پسندوں کے جبر سے نجات دلانے آئی تھی، اب وہ خود ان پر ظلم و جبر کرنے لگی ہے۔ 
	ضرورت اس اَمر کی ہے کہ سوات میں جاری آپریشن فوری طور پر مکمل کیا جائے۔ وقتی سیاسی ضرورتوں اور مصلحتوں کے لیے اسے مزید طوالت نہ دی جائے۔ خود حکومت کے دعوے کے مطابق سوات میں آپریشن ختم ہو چکا ہے، ریاست کی عمل داری قائم کی جا چکی ہے، عسکریت پسندوں کی کمر توڑ دی گئی ہے اور عام زندگی معمول پر آ چکی ہے تو اب حکومت سوات میں مزید کیا کرنا چاہتی ہے۔ 

 (جنوری 2008ء) 
٭٭٭


خدا کے لیے ہمیں بلڈی سویلینز نہ سمجھیں !

	سوات میں جاری کشیدگی کسی ایک روز کی پیداوار نہیں بلکہ یہ سلسلہ گزشتہ تین سالوں سے جاری ہے لیکن اس دوران مرض کی تشخیص اور علاج کرنے میں حکومت نے سستی اور مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کیا جس کی وجہ سے حالات اتنے زیادہ خراب ہو گئے کہ اب سوات اور اہل سوات ایک مستقل مصیبت کا شکار ہیں اور سوات میں فوجی آپریشن سے قبل مقامی عسکریت پسندوں کی وجہ سے اہل سوات یرغمال بن چکے تھے تو اب سوات کے عوام فوجی آپریشن کی غیر ضروری طوالت کی وجہ سے نت نئی تکالیف کا سامنا کر رہے ہیں۔ گزشتہ سال 3نومبر کو جب سوات آپریشن باضابطہ طور پر فوج نے اپنے ہاتھ میں لے لیا تو عوام کو امید ہو چلی تھی کہ اب سوات میں امن و امان قائم ہو گا اور عوام دوبارہ معمول کی زندگی شروع کر سکیں گے لیکن فوج کی طرف سے دسمبر میں سوات آپریشن کے خاتمے اور وادیِ سوات کو دسمبر کے آخر میں سیاحوں کے لیے کھولنے کے اعلان کے باوجود سوات آپریشن ابھی تک ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ حالاں کہ حکومت نے بعد میں بھی بار بار یہ اعلان کیا کہ سوات آپریشن میں فوج نے اپنے 90 فی صد مقاصد حاصل کر لیے ہیں اور سوات بھر میں حکومت کی عمل داری دوبارہ قائم کی جا چکی ہے لیکن معلوم نہیں سوات میں معمولات زندگی دوبارہ لوٹ آنے میں مزید کتنا وقت لگے گا؟ سوات میں تو گزشتہ دو مہینوں سے کرفیو نافذ ہے اور معمولاتِ زندگی مسلسل در ہم برہم ہیں۔ اب بھی رات بھر بھاری توپ خانے اور مارٹر گولوں کی گھن گرج سنائی دیتی ہے۔ اہل سواتاب بھی اپنے علاقے اور گھروں میں عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ سوات کی رونقیں اب بھی بحال نہیں ہو سکی ہیں۔ عام لوگ کسی شدید ضرورت کے تحت جب کرفیو کے دوران گھروں سے باہر نکلتے ہیں تو سکیورٹی فورسز پیشگی وارننگ کے بغیر انھیں گولی کا نشانہ بناتی ہیں۔ اگر چہ مقامی عسکریت پسندوں اور عام پر امن شہریوں میں واضح فرق موجود ہے اور فوجی جوان آسانی سے سمجھ سکتے ہیں کہ عسکریت پسندوں کی شکل و صورت کیسی ہے اور عام لوگ کیسی وضع رکھتے ہیں لیکن اس کے باوجود معصوم شہریوں کے ساتھ دشمن ملک کے شہریوں کا سا سلوک روا رکھا جاتا ہے۔ حالاں کہ اس وقت اہل سوات مصیبتوں کے مارے ہوئے ہیں اور ان کے ساتھ حکومت کی طرف سے نرمی اور ہمدردی کا سلوک روا رکھنا چاہئے اور ان کی اشک شوئی کے لیے حکومت کو عملی مد د کا مظاہرہ کرنا چاہئے لیکن سوات آپریشن کے دوران مختلف علاقوں میں بہت سے بے گناہ شہری سکیورٹی فوسز کی گولیوں کا اس لیے نشانہ بنے کہ وہ کسی فوری ضرورت یا ایمرجنسی کے تحت کرفیو کے دوران گھروں سے باہر نکلے تھے اور انھیں دوبارہ زندہ سلامت اپنے گھروں میں جانا نصیب نہیں ہو سکا۔ 
	یہ تو سوات میں فوجی آپریشن کا ایک رُخ ہے جب کہ اس کا دوسرا پہلو یہ ہے سکیورٹی فورسز کی طرف سے آپریشن کے دوران رات بھر بھاری ہتھیاروں اور توپ خانے سے فائرنگ کا سلسلہ جاری رہتا ہے لیکن بعض موقعوں پر توپ کے گولے عام شہری آبادی پر بھی لگتے رہے ہیں جس کے نتیجے میں درجنوں پُر امن شہریوں کو اپنی زندگیوں سے ہاتھ دھونا پڑے ہیں۔ یہ واقعات زیادہ تر منگلور، چارباغ، الہ آباد، مٹہ اور تحصیل کبل کے علاقوں میں پیش آتے رہے ہیں۔ نومبر کے مہینے میں ایسا ہی ایک گولہ الہ آباد میں ایک گھر پر آ گرا جس میں 9 شہری ہلاک اور بہت سے زخمی ہو گئے۔ جاں بحق ہونے والوں میں ایک ہی خاندان کے 4 افراد بھی شامل تھے۔ اس واقعے کی وجہ سے عوام میں غم و غصہ پھیل گیا اور انھوں نے 9 لاشوں کو اٹھاتے ہوئے احتجاجی جلوس نکالا اور ا لہ آباد سے فضا گٹ چیک پوسٹ تک آئے۔ مختلف علاقوں سے گزرتے ہوئے ان علاقوں کے لوگ بھی اس احتجاجی جلوس میں شامل ہوتے گئے اور اس میں شامل شہریوں نے حکومت سے سخت الفاظ میں مطالبہ کیا کہ آپریشن کے دوران شہری آبادی کو نشانہ نہ بنایا جائے۔ 23 دسمبر کو مینگورہ میں فوجی کانوائے پر ایک خودکش حملہ ہوا جس کے بعد فوجی جوانوں نے بھاری ہتھیاروں سے تابڑ توڑ ہوائی فائرنگ شروع کی جس کے نتیجے میں 3 بے گناہ شہری جاں بحق اور متعدد زخمی ہو گئے۔ اسی طرح 5 جنوری 2007ء کو تحصیل کبل (سوات) کے علاقہ گالوچ میں سکیورٹی فورسز کی گولہ باری سے ایک ہی خاندان کے 7 افراد جاں بحق جب کہ 3 افراد شدید زخمی ہو گئے۔ جاں بحق ہونے والوں میں ایک بچی، تین بچے اور ایک خاتون شامل ہے۔ اسی گھر میں مارٹر گولہ لگنے سے ایک خاتون بھی شدید زخمی ہو کر ایک ہاتھ اور پاؤں سے محروم ہو گئی۔ 7 جنوری کو کبل میں ایک خودکش حملہ ہوا جس کے بعد سکیورٹی فورسز نے اندھا دھند ہوائی فائرنگ شروع کی جس کے نتیجے میں بارہویں جماعت کا طالب علم عمران اپنے گھر میں گولی لگنے سے جاں بحق ہو گیا۔ اس کے علاوہ کئی دفعہ ایسا بھی ہوا ہے جب کرفیو میں نرمی کے دوران مینگورہ بازاروں میں فوجی گاڑیاں گزرتیں تو بازاروں میں معمول سے زیادہ رش ہونے کی وجہ سے جب فوج کی گاڑیوں کے لیے رکاوٹیں پیدا ہو جاتیں تو ان میں سوار فوجی جوان بے تحاشا ہوائی فائرنگ کے ذریعے اپنے لیے راستہ صاف کرنے لگ جاتے جس کے دوران دو مواقع پر تین عام شہری جاں بحق جب کہ متعدد زخمی بھی ہوئے۔ سوات میں آپریشن شروع کرنے کے بعد پاک فوج کا رویہ عام شہریوں کے ساتھ ایسا رہا ہے جیسے وہ کسی دشمن ملک کے فوجی ہوں اور سوات ان کا مفتوحہ علاقہ اور یہاں کے رہنے والے ان کے غلام ہوں۔ اس طرح کے مزید کئی چھوٹے بڑے واقعات عوام کے سامنے وقوع پذیر ہوتے رہے ہیں جن میں فوج نے پہلے فائرنگ کی ہے اور قصور وار اور بے قصور کا تعین بعد میں کیا گیا ہے جس کے نتیجے میں اب عوام میں فوج کے خلاف نفرت کے جذبات بڑھ رہے ہیں۔ پہلے اہل سوات خوش تھے کہ فوج علاقے سے شرپسندوں کو نکال کر یہاں امن و امان قائم کرے گی لیکن اب سوات آپریشن کو جس طرح غیر ضروری انداز میں طوالت دی گئی ہے اور عسکریت پسندوں کی قیادت کو جس طرح بالواسطہ تحفظ فراہم کیا گیا ہے اس نے اہل سوات کے ذہنوں میں مختلف شکوک و شبہات پیدا کئے ہیں اور وہ یہ سوچنے پر مجبور ہو رہے ہیں کہ سوات آپریشن کی آڑ میں حکومت مسلسل اپنے بعض سیاسی مفادات حاصل کر رہی ہے اور اسے عوام کے تحفظ اور سلامتی کی کوئی فکر نہیں۔ اس کے ذریعے یورپ اور امریکا کو یہ پیغام بھی دیا جا رہا ہے کہ سوات میں مقامی عسکریت پسندوں کے ساتھ افغانستان کے طالبان بھی کار روائیوں میں مصروف ہیں جو خود کش حملوں کے ذریعے بے گناہ لوگوں کو ہلاک کر رہے ہیں اور اگر ان کا تدارک نہیں کیا گیا تو وہ عالمی امن کے لیے تباہ کن ثابت ہوں گے۔ حالاں کہ حقیقت یہ ہے کہ یہ سب مقامی لوگ تھے جو اپنے علاقے میں ایک جائز مطالبے یعنی شریعت کے نفاذ کے لیے پر امن کوششیں کر رہے تھے لیکن "تیسرے پوشیدہ ہاتھ" نے انھیں اسلحہ دیا اور انھیں مسلح جدوجہد کا راستہ دکھایا اور اب فوجی آپریشن کے ذریعے ان کا خاتمہ کر دیا گیا لیکن اس آپریشن کی آڑ میں حکومت نے وقتاً فوقتاً اپنے سیاسی مقاصد بھی حاصل کئے اور اب اسے غیر ضروری طوالت دے کر اسے اہل سوات کے لیے نت نئی مصیبتوں کا مستقل ذریعہ بنایا جا رہا ہے۔ 
	خدا کے لیے سوات اور اہل سوات پر رحم کیجئے۔ سیکڑوں بے گناہ اس آپریشن کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں۔ اس کی وجہ سے لاکھوں لوگ نقل مکانی کر چکے ہیں۔ ہزاروں گھر نیست و نابود ہو چکے ہیں۔ لوگ اپنے کاروبار سے محرومی کا عذاب سہہ رہے ہیں۔ معصوم طالب علموں کا مستقبل تاریک ہو چکا ہے اور دو لاکھ سے زائد طالب علم سکولوں اور کالجوں کی بندش کی وجہ سے حصول علم سے محروم ہو گئے ہیں۔ سوات، جس کی مجموعی معیشت کا دارومدار سیاحت پر ہے، وہ تباہی سے دوچار ہو چکی ہے۔ کاشت کاروں کو اپنی تیار فصلوں کو چھوڑ کر اپنی جان بچانے کے لیے دوسرے علاقوں کی طرف ہجرت کرنا پڑی ہے۔ سوات میں جورہے سہے جنگلات باقی بچے تھے، اس افراتفری اور ریاستی عمل داری کی عدم موجودگی کے دوران موقع پرست جنگل مافیا نے ان کا صفایا کر دیا ہے اور اب بھی سوات کے مرکزی شہر مینگورہ میں کاروبار زندگی معمول پر نہیں آ سکے ہیں اور بے روزگاری کی وجہ سے لوگوں کو جان کے لالے پڑ رہے ہیں لیکن حکومت اب بھی سوات میں آپریشن کا ڈھونگ رچا کر اہل سوات کے صبر و تحمل کا امتحان لے رہی ہے۔ عوام مقامی عسکریت پسندوں سے اس لیے تنگ تھے کہ انھوں نے ایک جائز مقصد کے لیے غلط راستہ اختیار کر لیا تھا لیکن لوگ اب یہ سوچنے پر مجبور ہو رہے ہیں کہ یہ کیسا آپریشن ہے جو ختم ہونے میں نہیں آ رہا ہے اور بھاری اسلحہ، جدید ٹینکوں، گن شپ ہیلی کاپٹروں اور سٹیلائٹ کی سہولتوں کے باوجود کئی مہینوں میں مٹھی بھر عسکریت پسندوں کو ختم نہیں کیا جا سکا۔ 
	ہمیں اپنی فوج کی بہادری پر ناز ضرور ہے، اسے ہم سرحدوں کی محافظ ضرور سمجھتے ہیں، اسے ہم اپنی پاسبان ضرور گردانتے ہیں، وہ ہمارا ملجا و ماوا ضرور ہے لیکن خدا کے لیے وہ ہمیں بلڈی سویلینز نہ سمجھیں۔ 

 (9جنوری 2008ء) 
٭٭٭


سوات کے لیے ایک بلین روپے کا ترقیاتی پیکیج 
 اور اہل سوات کے حقیقی مسائل 

	گزشتہ روز سوات کے عمائدین اور علاقہ کے مشران کا گرینڈ جرگہ منعقد ہوا جس میں سوات آپریشن کے انچارج میجر جنرل ناصر جنجوعہ نے چیف آف آرمی سٹاف جنرل اشفاق کیانی کی طرف سے سوات کے لیے ایک بلین روپے کے ترقیاتی پیکیج کا اعلان کیا۔ میجر جنرل ناصر جنجوعہ نے جرگہ سے خطاب کرتے ہوئے علاقے کی موجودہ سلامتی کی صورتِ حال کے بارے میں تازہ ترین معلومات فراہم کیں اور عسکریت پسندی کی لعنت ختم کرنے میں فوج کی مد د کرنے پر مقامی افراد کے کردار کو سراہا۔ انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ عام لوگوں کے تحفظ کو مزید بہتر بنانے کے لیے دیہاتوں میں مقامی دفاعی کمیٹیاں تشکیل دی جائیں۔ چیف آف آرمی سٹاف کی طرف سے ایک ارب روپے کی ترقیاتی امداد کا اعلان کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ یہ ترقیاتی اقدام آبادی کی ترجیحات کی بنیاد پر ہو گا اور ہر یونین کونسل سے مقامی افراد کی پانچ رکنی ڈویلپمنٹ کمیٹی کے ذریعے اس پر عمل درآمد کیا جائے گا۔ انھوں نے مقامی جرگہ کو یقین دلایا کہ فوج اس سارے عمل کی مکمل نگرانی کرے گی اور امدادی رقوم کی ایک ایک پائی عوامی خواہشات کے مطابق خرچ کی جائے گی۔ انھوں نے یہ یقین بھی دلایا کہ آپریشن سے متاثرہ افراد کو حکومت، فوج اور بیت المال کے ذریعے مناسب معاوضہ دیا جائے گا۔ انھوں نے مزید کہا کہ علاقے میں مستقل امن بر قرار رکھنے کے لیے فوج متعدد اقدامات اٹھا رہی ہے۔ 
	چیف آف آرمی سٹاف جنرل اشفاق کیانی کی طرف سے سوات کے لیے یہ ترقیاتی پیکیج  نہایت ہی خوش آئند ہے اور گزشتہ روز حکومت کی نگرانی میں منعقد ہونے والے جرگہ میں سوات آپریشن کے انچارج میجر جنرل ناصر جنجوعہ کی یہ یقین دہانی کہ اعلان کر دہ رقم کی پائی پائی سوات کی تعمیر و ترقی اور آپریشن سے متاثرہ افراد کی بحالی پر فوج کی نگرانی میں خرچ کی جائے گی، بھی مستحسن ہے۔ سوات میں فوجی آپریشن کے نتیجے میں جہاں مقامی عسکریت پسندوں کے چنگل سے سوات اور اہل سوات کو چھٹکارا دلایا گیا، وہیں اس آپریشن کے نتیجے میں لاکھوں لوگ شدید طور پر متاثر بھی ہوئے ہیں جن کی بحالی اور اشک شوئی کے لیے حکومت نے اب تک کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا۔ مذکورہ ترقیاتی پیکیج پر اگر دیانت داری سے عمل درآمد کرایا جائے تو اس سے یقیناً سوات کے لوگوں کے شکوے اور شکایات دور ہونے میں مد د ملے گی۔ سوات آپریشن سے اب تک لاکھوں لوگوں کا معاشی اور مالی نقصان ہو چکا ہے۔ سیکڑوں بے گناہ لوگ فوج کی اندھی گولیوں کا نشانہ بن چکے ہیں۔ جن کے لواحقین کی اب تک کوئی مالی امداد نہیں کی گئی۔ ہزاروں کاشت کاروں کو تیار فصلیں چھوڑ کر متاثرہ علاقوں سے ہجرت کرنا پڑی ہے جن کی عملی مد د کے لیے حکومت نے کوئی قدم نہیں اٹھایا ہے۔ اب بھی سوات بھر میں تجارتی سرگرمیاں ماند ہیں اور بعض علاقوں میں شیلنگ، بھاری توپ خانے اور مارٹر گولوں کی گھن گرج جاری ہے جس سے بے گناہ لوگوں کا نقصان ہو رہا ہے۔ گزشتہ روز گٹ پیوچار اور اس کے قرب و جوار کے علاقوں کے مکینوں نے سوات پریس کلب کے سامنے مظاہرہ کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ پاک فوج گٹ پیوچار کا کنٹرول سنبھال کر عوام کو تحفظ فراہم کرے۔ مظاہرین نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ سکیورٹی فورسز دور سے آرٹلری اور بھاری توپ خانوں سے گٹ پیوچار کو نشانہ بنا رہی ہیں جس سے بے گناہ لوگوں کا جانی و مالی نقصان ہو رہا ہے۔ اس موقع پر امن کمیٹی کے چیئرمین شیر خان نے کہا کہ گٹ پیوچار کے عوام نے حکومت کی حمایت اور سکیورٹی فورسز کے ساتھ ہر قسم کے تعاون کا اعلان کیا ہے اس لیے ضرورت اس اَمر کی ہے کہ حکومت شہری آبادی پر فائرنگ بند کر کے علاقے کا کنٹرول سنبھالے اور مقامی لوگوں کو تحفظ فراہم کرے۔ 
	فوج کے ترجمان نے متعدد دفعہ سوات آپریشن کے خاتمے اور پوری وادیِ سوات پر حکومت کی عمل داری قائم کر نے کا اعلان کیا ہے لیکن اس کے باوجود علاقے میں رات کا کرفیو نافذ کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ سوات کے دیگر علاقوں کی طرف جانے والے بیشتر راستوں پر جگہ جگہ چیک پوسٹیں قائم کئی گئی ہیں جن کی وجہ سے سوات کے مختلف علاقوں سے مینگورہ آنے والے لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا  کرنا پڑتا ہے۔ بعض اوقات چیک پوسٹوں پر گاڑیوں کی لمبی لمبی لائنیں نظر آتی ہیں اور چند کلو میڑ کا فاصلہ دو تین گھنٹوں میں طے کرنا پڑتا ہے۔ سوات میں فوجی آپریشن کے دوران بیشتر تعلیمی ادارے بند رہے ہیں جس کی وجہ سے تین لاکھ تک طلبہ و طالبات کا تعلیمی سلسلہ رک گیا تھا۔ اب اگرچہ بعض تعلیمی ادارے کھل چکے ہیں لیکن اب بھی زیادہ تر سرکاری سکولوں میں سکیورٹی فورسز کے اہل کار رہائش پذیر ہیں۔ حکومت خصوصاً سوات آپریشن کے انچارج میجر جنرل ناصر جنجوعہ کو ان سکیورٹی اہل کاروں کے قیام کے لیے متبادل ذرائع کا بندوبست کرنا چاہئے اور فوراً سے بھی پیشتر سرکاری سکولوں اور کالجوں کو خالی کرانا چاہئے تاکہ ان تعلیمی اداروں میں دوبارہ تعلیمی سرگرمیوں کا آٖغاز کیا جا سکے اور طلبہ و طالبات کا قیمتی وقت مزید ضائع نہ ہو۔ 
	فوج کی طرف سے عسکریت پسندوں کے شبے میں بہت سے بے قصور لوگوں کو بھی پکڑا جاتا ہے جنھیں عموماً مہینہ ڈیڑھ مہینہ کی تحقیق کے بعد بے گناہ سمجھ کر رہا کر دیا جاتا ہے۔ سوات میں فوجی آپریشن کے ذمے داروں کا یہ طریقہ کار نہایت نامناسب ہے۔ جو گناہ گار ہیں، بعض اوقات ان کو ضمانت پر رہا کر دیا جاتا ہے لیکن جو بے گناہ افراد گرفتار کیے جاتے ہیں ڈیڑھ دو مہینوں تک ان کی کوئی شنوائی نہیں کی جاتی۔ نہ ہی انھیں عدالت میں پیش کیا جاتا ہے اور نہ ہی بروقت تحقیق وت فتیش مکمل کر کے ان کے قصوروار اور بے قصور ہونے کا  فیصلہ کیا جاتا ہے۔ بے قصور افراد کو عموماً ڈیڑھ دو مہینوں کی پُر اذیت قید کے بعد رہائی نصیب ہو جاتی ہے۔ سوات آپریشن کی آڑ میں بے گناہ شہریوں کو نہ صرف تنگ کیا جا رہا ہے بلکہ وقتاً فوقتاً ان کی عزت نفس مجروح کی جا رہی ہے۔ انھیں گرفتار کرنے کے بعد جائز قانونی اور بنیادی انسانی حقوق سے محروم رکھا جاتا ہے۔ جس کے نتیجے میں عوام میں فوج کے خلاف بد گمانی بڑھ رہی ہے اور بعض حلقے تو باقاعدہ طور پر فوج اور ایجنسیوں پر یہ بھی الزام عائد کرتے ہیں کہ وہ خود حالات خراب کرتے ہیں اور پھر خود ہی ان کی اصلاح کے لیے اقدامات اٹھاتے ہیں۔ سکیورٹی کے اداروں کے متضاد اقدامات عوام کی سمجھ سے باہر ہیں۔ ضرورت اس اَمر کی ہے کہ سوات آپریشن اب جلد از جلد منطقی انجام تک پہنچا دیا جائے۔ بچے کھچے عسکریت پسند حکومت کی پہنچ سے باہر نہیں ہیں۔ اب اس معاملے کو مزید طول دینا نہ ملک کے مفاد میں ہے، نہ سوات اور نہ ہی اہل سوات کے فائدے میں۔ حکومت نے ایک بلین روپے کے جس امدادی اور ترقیاتی پیکیج کا اعلان کیا ہے، عوام نے اس کا خیر مقدم کیا ہے اور حکومت کو یہ رقم سوات کی تعمیر و ترقی اور آپریشن سے متاثرہ لوگوں کی بحالی پر خرچ کرنی چاہئے۔ اس کے لیے ایسا شفاف طریقہ کار اختیار کرنا چاہئے جس کے نتیجے میں اہل سوات واضح طور پر دیکھ اور محسوس کر سکیں کہ واقعی جس مقصد کیلئے یہ رقم مختص کی گئی تھی وہ مقصد بہتر طور پر حاصل کیا گیا۔ حکومت کو یہ رقم خرچ کرتے ہوئے سوات کے درجہ ذیل مسائل کو بھی ضرور نظر رکھنا چاہئے۔ 
٭ سوات کی سڑکیں شدید طور پر ٹوٹ پھوٹ چکی ہیں، ان کی از سر نو تعمیر و مرمت کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ 
٭ مینگورہ شہر پر ٹریفک کا دباؤ خاصا بڑھ گیا ہے۔ ہر وقت ٹریفک جام رہتا ہے، حکومت کو شہر کے اندر بائی پاس سڑکوں کی تعمیر اور ٹریفک نظام کی بہتری کیلئے ٹریفک لائٹس نصب کرنے چاہئیں۔ 
٭ مینگورہ شہر میں ہتھ ریڑھیوں، رکشوں اور نان کسٹم پیڈ گاریوں کی بھر مار ہے۔ جب کہ شہر کا دائرہ بہت محدود ہے جس کی وجہ سے پیدل چلنے والوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ سوات کی خوب صورت وادی کے اس دل کش اور مرکزی شہر کا حسن بے ہنگم ٹریفک اور اس کے شور اور گردو غبار کی وجہ سے گہنا چکا ہے۔ حکومت اگر عوام کو اس مصیبت سے نجات دلا دے تو اہل سوات دعائیں دیں گے۔ اس کے علاوہ مینگورہ میں کہیں بھی عوامی کار پارک نہیں۔ اس پیکیج میں ایک بڑے عوامی کار پارک کی تعمیر پر خصوصی توجہ دی جانی چاہئے۔ 
٭ سوات میں حالیہ شورش کی وجہ سے اس کی سیاحت کو شدید نقصان پہنچ چکا ہے جب کہ سوات کی بنیادی معیشت کا انحصار سیاحت پر ہے۔ سوات میں فوجی آپریشن کے بعد حالات سیاحت کے لیے خاصے ساز گار ہو چکے ہیں لیکن ملک کے دوسرے حصوں سے لوگ سوات آنے سے کتراتے ہیں۔ حکومت کو سیاحوں کا اعتماد بحال کرنے کے لیے قومی اخبارات میں اشتہاری مہم کا آغاز کرنا چاہئے۔ اس پیکیج سے کچھ رقم اس مد کیلئے بھی مختص کرنی چاہئے۔ 
٭ سوات میں سیاحتی سہولتوں کی فراہمی، سوات یونی ورسٹی کا قیام، سوات میں کیڈٹ کالج کی تعمیر اور سوات کے دور افتادہ علاقوں میں گرلز کالجوں کا قیام حکومت کی ترجیحات میں شامل ہونا چاہئے۔ 
 (4فروری 2008ء) 
٭٭٭



سوات آپریشن کے چند منفی پہلو 

	سوات میں فوجی آپریشن کے نتیجے میں اگر چہ ایک طرف سوات میں امن و امان کی فضا بحال ہونے میں مد د ملی ہے تو دوسری جانب اس آپریشن کی وجہ سے عوامی مشکلات میں بھی وقتاً فوقتاً بے تحاشہ اضافہ ہوتا رہا ہے۔ مسلسل کرفیو، شہر سے باہر اور مینگورہ سے سوات کے تمام اہم مقامات تک جانے والی سڑکوں پر چیک پوسٹوں کی وجہ سے شہری زندگی کے معمولات درہم برہم رہے۔ آپریشن کے دوران شہری آبادی پر بے شمار مارٹر گولوں کی وجہ سے معصوم اور بے گناہ لوگوں کا جانی و مالی نقصان ہوتا رہا۔ محض شبے کی بناء پر سیکڑوں لوگوں کو مہینوں تک جیل کی ہوا کھانی پڑی اور اب بھی سیکڑوں پابند سلاسل شہری فیصلوں کے منتظر ہیں کہ کب تفتیشی ادارے اپنی تسلی کریں گے اور انھیں جرم بے گناہی کی سزا سے نجات مل سکے گی۔ جن لوگوں نے سوات میں امن و امان کا مسئلہ پیدا کیا تھا، اگر انھیں اپنے جرم کی پاداش میں گرفتار کر لیا گیا ہے تو اس کی کوئی منطق سمجھ میں آتی ہے لیکن بعض بے گناہ لوگوں کو گرفتار کر کے انھیں اپنے بنیادی شہری، قانونی اور انسانی حقوق سے محروم رکھنا کہاں کا انصاف ہے۔ ان لوگوں پر یا تو باقاعدہ چارج لگا کر انھیں عدالتوں میں پیش کیا جائے اور یا ان کے بارے میں تفتیشی عمل جلد سے جلد مکمل کر کے انھیں اپنے گھروں کو جانے دیا جائے۔ بنیادی انسانی حقوق کی تنظیموں کو اس معاملے میں مداخلت کرنی چاہئے اور آزاد اور بے گناہ شہریوں کو آزادی سے محروم رکھنے کے اس عمل کے بارے میں صدائے احتجاج بلند کرنی چاہئے۔ 
	سوات میں فوجی آپریشن میں اگر چہ شعوری کوشش کی گئی ہے کہ بے گناہ عوام کا جانی و مالی نقصان نہ ہو لیکن سوات کے وسیع و عریض علاقے کو عسکریت پسندوں سے خالی کرانا کوئی معمول کار روائی نہیں اور اس میں نا دانستہ طور پر بے گناہ انسانوں کی ہلاکت سمجھ میں آنے والی بات ہے لیکن اہل سوات اس بات کو سمجھنے سے بالکل قاصر ہیں کہ جب فوج کی کانوائے دن کے وقت شہر کے پر رونق بازار سے گزرتی ہے تو سکیورٹی فورسز کے اہل کار بھرے پرے بازار میں ہوائی فائرنگ کیوں کرتے ہیں اور اس میں بے گناہ شہریوں کو کیوں زخمی کر دیا جاتا ہے؟ فوجی جوان اس ملک کے سپوت ہیں۔ وہ عوام سے کوئی الگ مخلوق نہیں۔ وہ نہ کوئی بیرونی ملک کے قابض فوجی ہیں اور نہ ہی اہل وطن کوئی مفتوحہ عوام۔ پھر وہ بازاروں میں سے گزرتے ہوئے عوام کو دہشت زدہ کرنے کے لئے فائرنگ کا سہارا کیوں لیتے ہیں اور عوام کے لئے جان و مال کے زیاں کا خطرہ کیوں پیدا کرتے ہیں؟ اگر وہ اپنے تحفظ کے لئے ایسا کرتے ہیں تو پھر اس کے لئے معصوم عوام کے تحفظ کو کیوں قربان کر دیا جاتا ہے؟ وہ اپنی موومنٹ کے لئے ایسے وقت کا انتخاب کیوں کرتے ہیں جب بازاروں میں عوام اپنے معمولات زندگی میں مصروف ہوتے ہیں اور شہری زندگی پورے عروج پر ہوتی ہے؟ وہ رات کے وقت یا صبح سویرے کیوں نقل و حمل نہیں کرتے؟ 
	20فروری کو سکیورٹی فورسز نے چارباغ اور اس سے ملحقہ علاقوں میں سرچ آپریشن کے لئے جب حرکت شروع کی تو ان کی اچانک ہوائی فائرنگ سے بازار میں بھگدڑ مچ گئی اور کئی لوگ گولیوں کا نشانہ بھی بنے۔ ایسا کیوں ہوا؟ شاید اس لئے کہ فوجی افسروں کو معلوم ہے کہ سوات کے عوام بے زبان ہیں۔ وہ اپنے بنیادی انسانی اور شہری حقوق سے نابلد ہیں۔ اگر ایسا عمل کسی مہذب ملک میں ہوتا، جہاں ملکی آئین اور قانون کی بالا دستی ہوتی ہے تو اب تک ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں کھڑا کر دیا جاتا لیکن افسوس اس ملک میں کوئی قانون نہیں اور عوام کے لئے تو اس ملک میں عملاً تحفظ و سلامتی کی کوئی آئینی اور قانونی ضمانت موجود نہیں۔ 
	شکر کا مقام ہے کہ سوات میں عام انتخابات نہایت پر امن رہے اور الیکشن کے دوران ضلع بھر میں کوئی ایسا غیر معمولی واقعہ رونما نہیں ہوا جس میں کسی بے گناہ کی جان ضائع ہوئی ہو۔ اس کا کریڈٹ سوات آپریشن اور مقامی انتظامیہ کے اعلیٰ افسروں کو جاتا ہے جنھوں نے انتخابات کے لئے ایک پر امن ماحول فراہم کیا لیکن انتخابات سے دو دن قبل سوات میڈیا سنٹر پر جو خودکش حملہ ہوا تھا، اس میں تین بے گناہ شہریوں کے علاوہ سکیورٹی فورسز کا بھی جانی نقصان ہوا تھا۔ اس میں دو درجن کے قریب سکیورٹی و سول سرکاری اہل کار زخمی بھی ہو گئے تھے جو ہر لحاظ سے ہمدردی کے مستحق ہیں۔ یہ دھماکہ اتنا شدید تھا کہ اس کی آواز سوات کے طول و عرض میں دور دور تک سنی گئی تھی اور ایک کلومیٹر کے فاصلے میں جتنی بھی آبادیاں تھیں، ان کو شدید نقصان پہنچا۔ خصوصاً سوات میڈیا سنٹر کے قرب و میں واقع پیسکو ہاؤس، واپڈا ہاؤس، سوات میوزیم، لائبریری کی نو تعمیر شدہ عمارت، ڈاکٹروں کے پرائیویٹ کلینک، ہسپتال اور قرب و جوار میں واقع گھروں کے شیشے تو مکمل طور پر ٹوٹ گئے تھے لیکن ان کی عمارتوں کو بھی شدید نقصان کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ سوات میڈیا سنٹر کے ساتھ ہی واقع جہاں زیب کالج کے طلبہ کے لئے قائم "مینگورہ ہاسٹل" کی عمارت کا ایک حصہ تو زمین بوس ہو چکا ہے۔ سوات میوزیم میں پڑی قیمتی اور تاریخی نوادرات کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ چکا ہے۔ اس کے علاوہ لائبریری کی نو تعمیر شدہ عمارت بھی بری طرح ٹوٹ پھوٹ چکی ہے اور ایک کلومیٹر کے ایریا میں واقع رہائشی گھروں کے دروازے بھی اکھڑ چکے ہیں جس کی وجہ سے سوات کے غریب اور بے بس عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوا۔ یہ دھماکہ اتنا بڑا اور شدید تھا اور اس میں اتنا زیادہ بارود استعمال کیا گیا تھا کہ دھماکے والی جگہ میں اٹھارہ فٹ گہرا کھڈا پڑ گیا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق اس بھاری بھرکم دھماکے سے قرب و جوار میں کروڑوں روپے کے نقصانات ہو چکے ہیں لیکن حکومت نے عوام کے نقصانات کو پورا کرنے کے لئے ابھی تک نہ کوئی اعلان کیا ہے اور نہ ہی انھیں سرے سے کوئی اہمیت دی ہے۔ عوامی حلقوں میں اس خودکش حملے کے بارے میں شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں اور صاحبِ فہم شہری متعلقہ سرکاری اہل کاروں سے پوچھنا چاہتے ہیں کہ اس قدر محفوظ سکیورٹی زون میں اتنا بڑا واقعہ کیوں پیش آیا؟ یہ علاقہ مینگورہ کے گراسی گراؤنڈ سے لے کر سیدو شریف تک انتہائی محفوظ تصور کیا جاتا ہے اور اس سے ملحقہ ضلعی کورٹ ہے جہاں سرکٹ ہاؤس میں اعلیٰ فوجی افسر مقیم ہیں اور ساتھ ہی آرمی کے ہیلی کاپٹروں کے لئے ہیلی پیڈ بھی اسی زون میں قائم کیا گیا ہے۔ اسی روڈ پر آگے فرنٹیئر ہاؤس واقع ہے جہاں اعلیٰ فوجی افسروں کے علاوہ خفیہ ایجنسیوں کے اہل کار بھی مقیم ہیں۔ اس لئے فطری بات ہے کہ اس زون میں سکیورٹی کے نہایت سخت انتظامات بھی کئے گئے ہوں گے لیکن اس کے باوجود اس علاقے میں اتنی آسانی سے خودکش حملے کا ہونا کئی غیر معمولی سوالات کو جنم دیتا ہے۔ 
	سوات میں فوجی آپریشن کے دوران جو شہری آبادی سب سے زیادہ متاثر ہوئی وہ بٹ کڑہ، فیض آباد، کالج کالونی اور اس کے قرب و جوار کے علاقوں میں مقیم ہے۔ خصوصاً بٹ کڑہ کے رہائشیوں کو دہری مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ایک تو بٹ کڑہ میں داخل ہونے والی سڑک اس تمام تر صورتِ حال میں بند رہی اور اگر کھلی بھی تھی تو اس سے گزرنے والے شہریوں کو غیر معمولی تلاشی کا سامنا کرنا پڑتا۔ دوسرا آرمی کے ہیلی کاپٹروں کے لئے ہیلی پیڈ بھی یہاں ہے جس کی وجہ سے ہیلی کاپٹروں کی آمد و رفت نے بٹ کڑہ کے رہائشیوں کو خاصا پریشان کئے رکھا۔ اکثر گولے بھی یہاں کے پہاڑوں سے فائر کئے جاتے رہے جس کی وجہ سے بھی یہاں کے رہائشی شدید اذیت میں مبتلا رہے۔ فوجی کار روائیوں کے لئے شہری آبادی کے بیچ دفاتر قائم کرنا خلاف قانون ہے کیوں کہ اس طرح عام آدمی کی زندگی خطرے میں پڑجاتی ہے۔ 
	ضرورت اس اَمر کی ہے کہ فوج سے متعلقہ تمام حساس دفاتر شہری آبادی سے دور منتقل کر دیئے جائیں تاکہ اس طرح شہری آبادی بھی محفوظ رہے اور آبادی سے دور ہونے کی وجہ سے سکیورٹی فورسز کی جانوں کو لاحق خطرات کا بھی خاتمہ ممکن ہو۔ اہل سوات پاک فوج کی طرف سے قیام امن کے لئے کئے گئے اقدامات کو بہ نظر تحسین دیکھتے ہیں لیکن عوام چاہتے ہیں کہ قیام امن کے لئے کی جانے والی سرگرمیوں میں عوام کے جان و مال کے تحفظ کو بھی ہر لمحہ مقدم رکھا جائے اور جہاں تک ممکن ہو شہری زندگی کے معمولات کے دوران فوج کے نقل و حمل میں خاصی احتیاط برتی جائے تاکہ معصوم شہریوں کو سکیورٹی فورسز کی ہوائی فائرنگ کی زد میں نہ آنا پڑے۔ 

 (23فروری 2008ء) 
٭٭٭


سوات میں بے گناہ انسانوں کا قتل عام کب بند ہو گا؟

	گزشتہ روز مینگورہ میں شہید ڈی ایس پی جاوید اقبال کے جنازے میں بم دھماکے میں جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 50 سے بڑھ گئی ہے۔ جب کہ زخمیوں کی تعداد بھی 100 کے لگ بھگ ہے۔ سوات کی تاریخ میں یہ اپنی نوعیت کا پہلا اور بد ترین سانحہ ہے جس میں اتنی بڑی تعداد میں معصوم اور بے گناہ شہری جاں بحق و زخمی ہوئے۔ اس سے قبل جو بھی خودکش حملے یا ریموٹ کنٹرول بم دھماکے ہوئے ہیں، ان میں زیادہ تر سکیورٹی فورسز کے اہل کار نشانہ بنتے رہے ہیں لیکن یہ پہلا موقع ہے کہ بم دھماکہ میں عام لوگ اتنی بڑی تعداد میں نشانہ بنے۔ 
	سوات کے حالات گزشتہ چھ مہینوں سے دگرگوں چلے آ رہے ہیں۔ مقامی عسکریت پسندوں نے سوات بھر میں اپنی سرگرمیوں کے ذریعے حکومت کی عمل داری کو مفلوج کر دیا تھا جس کی بحالی کے لیے حکومت کو آپریشن کے لیے پاک فوج کی خدمات حاصل کرنا پڑیں۔ سوات میں بظاہر حکومت کی رٹ قائم کر دی گئی ہے لیکن حالات مکمل طور پر ابھی تک کنٹرول نہیں کیے جا سکے ہیں۔ اس سے پہلے بھی ایک بارات پر ریموٹ کنٹرول بم سے حملہ کیا گیا تھا جس میں دلہن سمیت ایک درجن سے زائد افراد جاں بحق ہو گئے تھے جن میں زیادہ تعداد خواتین اور بچوں کی تھی۔ موجودہ سانحہ اس حوالے سے زیادہ سنگین ہے کہ یہ بم حملہ ایک جنازے پر کیا گیا ہے جس میں سیکڑوں لوگ شریک تھے اور اسی وجہ سے اس میں نقصان بھی زیادہ ہوا۔ 
	یہ دھماکہ اگر کسی مذہبی گروہ کی طرف سے کیا گیا ہے تو اسے یہ بات اچھی طرح معلوم ہو گی کہ اپنے بے گناہ مسلمان بھائیوں کی جان لینا اسلام ہی نہیں، کسی بھی مذہب میں جائز نہیں بلکہ اسلام تو امن و آشتی کا مذہب ہے اور اس میں ایک بے گناہ انسان کی جان لینے کو تمام انسانیت کا قتل قرار دیا گیا ہے اور ایک بے گناہ کی جان بچانے کو پوری انسانیت بچانے کے مترادف قرار دیا گیا ہے۔ جب اسلام نے ایک انسان کی جان کی حرمت کو اتنی زیادہ اہمیت دی ہے تو یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک مسلمان اپنے کسی بے گناہ مسلمان بھائی کا خون اس قدر وحشت اور بے دردی سے بہا دے۔ اگر اس دھماکے میں کوئی دوسرا غیر مذہبی گروہ ملوث ہے تو اسے سوچنا چاہئے کہ ایک انسان کی اتنی تذلیل کس حوالے سے جائز ہے اور بے گناہ انسانوں کا خون اتنا سستا کیوں بنایا جا رہا ہے؟ ایسا تو کسی غیر مہذب معاشرے میں بھی نہیں کیا جاتا بلکہ ایسی درندگی کی مثال تو حیوانوں میں بھی نہیں ملتی اور نہ ہی ایسا قرون وسطیٰ کے جاہلانہ معاشرے میں کیا گیا ہے۔ 
	ہمیں سوچنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات کے اعلیٰ وصف سے نوازا ہے اور اسے معاشرے میں اپنے اس وصف کے مطابق کردار ادا کرنا چاہئے۔ اس بم دھماکے میں محض 50 سے زائد بے گناہ انسان اپنی قیمتی جانوں سے محروم نہیں ہوئے بلکہ جاں بحق ہونے والوں نے اپنے پیچھے بھی یتیم بچے، بیوائیں، اشک بار بہنیں، غم زدہ بھائی، دل فگار والدین اور غم و رنج میں ڈوبے ہوئے دیگر رشتہ دارو اقارب چھوڑے ہوں گے۔ ان میں کئی ایسے ہوں گے جن کی رحلت کے بعد ان کے پس ماندگان بے سہارا رہ گئے ہوں گے اور جاں بحق ہونے والے ہی ان کے واحد سہارا تھے۔ اس دھماکے کے نتیجے میں ہزاروں لوگوں نے اپنے پیاروں کے غم میں آنسوؤں کی بجائے آنکھوں سے خون بہائے ہوں گے۔ ہمیں یہ بھی سوچنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے انسانی جان کی حرمت کو اتنی زیادہ اہمیت دی ہے کہ ایک انسان کی محض دل آزاری کو بھی کعبہ ڈھانے کے مترادف قرار دیا ہے۔ 
	اللہ تعالیٰ نے مذاہب اس لیے بھیجے ہیں کہ ہم ایک مہذب معاشرہ تشکیل دیں۔ انسانوں کے دُکھ درد کو بانٹیں۔ اللہ تعالیٰ کی قائم کر دہ حدود کے اندر اپنی زندگیاں گزاریں۔ دکھی انسانیت کی مسیحائی کریں۔ اپنے ہاتھ پاؤں اور زبان سے کسی دوسرے انسان کو ایذا نہ پہنچائیں لیکن آج کا انسان اپنے اصل مقصد سے ہٹ چکا ہے۔ انسان ایک دوسرے کے خون کے پیاسے بن چکے ہیں۔ وہ اپنے مخصوص ذاتی نظریات کے لیے دوسرے انسان کی جان لینے کو عین ثواب سمجھتے ہیں۔ اس کا نتیجہ کیا نکلے گا، یقیناً ہم اللہ تعالیٰ کے قہر و غضب کو آواز دے رہے ہیں۔ جن معاشروں میں ظلم حد سے بڑھ جائے، وحشت اور بربریت برے بھلے کی پہچان مٹا دے، انسان اپنے حقیر سے مفادات کے لیے انسانیت کا خون بہانے سے دریغ نہ کرے، اسے یہ معلوم نہ ہو کہ وہ انسانوں کے خون سے اپنے ہاتھ کیوں رنگ رہا ہے اور جو مر رہے ہیں، انھیں بھی پتہ نہ ہو کہ انھیں کس جرم کی سزا دی جا رہی ہے تو ایسے معاشروں پر اللہ کا قہر و غضب نازل ہو کر رہتا ہے۔ 
	ایک ریاست کی اولین ذمہ داری اپنے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ اور ملک کے اندر امن قائم کرنا ہے لیکن ہم دیکھ رہے ہیں کہ گزشتہ آٹھ سال کے دوران ہماری حکومت نہ ہمیں تحفظ فراہم کر سکی ہے اور نہ ہی وہ ملک میں امن قائم کرنے میں کامیاب رہی ہے بلکہ ملک کے ایک بڑے عہدے پر فائز رہنے والی شخصیت کی تمام تر توجہ اپنے غیر قانونی اور غیر آئینی اقتدار کو تحفظ فراہم کرنے پر لگی ہوئی ہے۔ اس کی ترجیحات میں امریکی مفادات سر فہرست ہیں لیکن قوم و ملک کی بھلائی اور مسائل اس کی ترجیحات میں شامل نہیں۔ گزشتہ آٹھ سال میں اس کی داخلہ اور خارجہ پالیسیوں کے نتیجے میں ہر طرف آگ اور خون کا کھیل جاری ہے۔ ملک کے اقتدارِ اعلیٰ کو غیر ملکی افواج کے پاؤں تلے روندا گیا ہے۔ جب ملک میں ایسی شخصیت موجود ہے جس کی غلط اور ملک دشمن پالیسیوں کی وجہ سے عوام مر رہے ہیں اور پورا ملک بدامنی اور غیر یقینی کے بادلوں کی لپیٹ میں ہے تو ایسے میں ملک میں امن و امان کی صورت حال کیسے بحال ہو گی؟ عوام کے جان و مال کے تحفظ کو کیسے یقینی بنایا جا سکے گا؟ ملک کے اہم عہدے پر فائز یہ ناپسندیدہ ترین شخصیت اب بھی اپنی پالیسیوں کو مبنی بر حق سمجھتا ہے اور اقتدار کی کرسی کے ساتھ مضبوطی سے چمٹا ہوا ہے۔ وہ اب بھی امریکی مفادات کو اپنی پالیسیوں کا ناگزیر جز قرار دے رہا ہے۔ کیا ملک میں کوئی ایسی مقتدر قوت نہیں جو ملک و قوم کی جان اس ناپسندیدہ ترین شخصیت سے چھڑا دے؟ کیا یہ ملک اس کی جاگیر اور عوام اس کے مزارع ہیں؟ بہت ہو چکا، اب عوام کو اس ناپسندیدہ ترین شخصیت سے جلد چھٹکارا دلایا جائے۔ اسے نہ تو ملک کی تباہی کی کوئی پرواہ ہے اور نہ ہی اسے بے گناہ انسانوں کے جان و مال کی فکر ہے۔ ملک کی باگ ڈور جلد از جلد نو منتخب جمہوری حکومت کے حوالے کر دی جائے تاکہ وہ آمرانہ پالیسیوں کا خاتمہ کر کے تمام تر مسائل کے لیے جمہوری اور پرامن ذرائع استعمال کر سکے۔ ہمیں امریکی ایجنڈے کو بھی خیرباد کہنا پڑے گا اور داخلہ اور خارجہ پالیسیوں کو از سرِ نو مرتب کر کے انھیں ملک و قوم کے بہترین مفادات کے تابع بنانا ہو گا۔ 
	مینگورہ میں بم دھماکے کا یہ پہلو قابل گرفت ہے کہ سوات کے مخصوص غیر یقینی اور بدامنی کی صورت حال کے پیشِ نظر شہید ڈی ایس پی جاوید اقبال کے جنازے میں انھیں عوام کے ہجوم کے اندر پولیس کی سلامی کیوں پیش کی گئی؟ جس نے بھی یہ فیصلہ کیا ہے، اس نے نہایت غیر دانش مندی کا ثبوت دیا ہے۔ ایسے حالات میں شہید کی نمازِ جنازہ نہایت سادگی سے ادا کرنی چاہئے تھی۔ جب حکومت کو خود بھی معلوم ہے کہ وہ عوام کے جان و مال کی کماحقہ حفاظت نہیں کر سکتی تو پھر وہ ایسے چونچلوں کے ذریعے مزید بے گناہ انسانوں کی جانوں سے کیوں کھیل رہی ہے؟

 (2 مارچ 2008ء) 
٭٭٭


نگران وزیر داخلہ کا بیان اور اصل زمینی حقائق 

	نگران وفاقی وزیر داخلہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) حامد نواز نے عرب ٹیلی ویژن کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ عوام میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ امریکہ، بھارت اور افغانستان ان تنظیموں کی پشت پناہی کر رہے ہیں جو پاکستان میں دہشت گردی اور بد امنی چاہتی ہیں۔ انھوں نے یہ بھی کہا ہے کہ افغانستان میں حالات روز بروز بہتر ہو رہے ہیں لیکن پاکستان میں خراب ہو رہے ہیں۔ انھوں نے کہا ہے کہ جنوبی وزیرستان اور سوات میں آپریشن جاری ہے لیکن حالات کی بڑھتی ہوئی ابتری سے معلوم ہوتا ہے کہ عسکریت پسندوں کو بیرونی طاقتوں کی طرف سے مالی امداد مل رہی ہے۔ سوات کے شہید ڈی ایس پی جاوید اقبال کے جنازے پر خودکش حملے کے بارے میں وزیر موصوف نے کہا کہ اس میں انتقام کا عنصر معلوم ہوتا ہے۔ 
	نگران وزیر داخلہ کا یہ بیان اوّل تو حقیقت پر مبنی معلوم نہیں ہوتا کیوں کہ پاکستان میں دہشت گردی کا سلسلہ ضیاء الحق کے دورِ حکومت میں شروع ہوا تھا۔ انھوں نے افغانستان میں امریکا کے فرنٹ لائن کی حیثیت سے پاکستان کو اس جنگ کی بھٹی میں دھکیل دیا تھا اور دنیا بھر کے مجاہدین کو تربیت دینے کے لیے پاکستان میں تربیتی مراکز قائم کئے تھے۔ جب سوویت یونین منہدم ہوا تو امریکا نے افغان جنگ کے سلسلے میں پاکستان کی امداد بند کر دی اور جب سوویت یونین کو جنیوا سمجھوتے کے تحت محفوظ واپسی کی راہ فراہم کر دی گئی تو امریکا نے جنگ زدہ افغانستان اور امریکی مقاصد کے لیے لڑنے والے مجاہدین کو پاکستان کے حوالے کر دیا اور خود اس معاملے سے لاتعلق ہو گیا۔ چوں کہ پاکستان نے افغانستان جنگ کے خاتمے کے بعد اس کے دور رَس منفی اثرات سے نمٹنے کے لیے کوئی منصوبہ بندی نہیں کی تھی اس لیے سوویت یونین کے خلاف جہاد اور امریکی مقاصد کی تکمیل کے لیے تیار کئے جانے والے مجاہدین پاکستان کے گلے پڑ گئے۔ 9/11 کے بعد جب امریکا نے افغانستان پر حملہ کیا اور پاکستان نے اپنی بنیادی خارجہ پالیسی میں یوٹرن لیا تو اس کے نتیجے میں افغان جنگ کے تربیت یافتہ مجاہدین نے پاکستان کا رخ کیا اور آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ ضیاء الحق بوئے ہوئے بیچ کی فصل تیار ہے جسے ہم جنرل (ر) مشرف کی پالیسیوں کے نتیجے میں کاٹ رہے ہیں۔ 
	یہ درست ہے کہ افغانستان جنگ جیتنے کے بعد یورپ اور امریکا نے پاکستان کو تنہا چھوڑ دیا تھا اور اس کی وجہ سے پاکستان کو بہت سے مسائل اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑا لیکن پاکستان کے جنگ جو جرنیلوں نے افغان جنگ کے دوران اس کے پھل سمیٹتے ہوئے مستقبل کے لیے کوئی حقیقت پسندانہ لائحہ عمل مرتب نہیں کیا تھا۔ جس کی وجہ سے افغانستان میں خانہ جنگی ہو، طالبان کی تخلیق ہو یا 9/11 کے بعد کی صورت حال ہو، اس سب میں منفی اثرات کا براہِ راست سامنا وطن عزیز اور اس کے بے بس عوام کو کرنا پڑا۔ جن قوتوں نے پاکستان کو فرنٹ لائن سٹیٹ بنایا تھا، انھوں نے اس کے فوائد دونوں ہاتھوں سے سمیٹے اور آج ان میں سے بعض کے بچے بھی ڈالروں میں کھیل رہے ہیں لیکن اس کی تمام تر تباہیاں ملک اور عوام کو سہنی پڑ رہی ہیں لیکن اس کے باوجود ان قوتوں نے ماضی سے کوئی سبق نہیں سیکھا بلکہ وہ اب بھی ایسی خارجہ پالیسیاں نافذ کرنے پر بضد ہیں جن کے نتیجے میں پاکستان میں عسکریت پسندی کو فروغ مل رہا ہے اور ملک میں خودکش حملے متعارف ہو چکے ہیں۔ جن سے نہ ریاست کے سکیورٹی ادارے محفوظ ہیں اور نہ ہی عام بے گناہ شہری، نوبت تویہاں تک پہنچ چکی ہے کہ یہ خودکش حملے بارات پر بھی کئے جا رہے ہیں۔ جنازے بھی اس سے محفوظ نہیں اور امن کے لیے منعقد ہونے والے جرگے بھی ان تباہ کن حملوں کا نشانہ بن رہے ہیں۔ 
	نگران وزیر داخلہ حامد نواز نے اب اس کی تمام تر ذمہ داری امریکا، بھارت اور افغانستان پر ڈالتے ہوئے خود کو بری الذمہ کرنے کی کوشش کی ہے لیکن حقیقت یہ نہیں ہے۔ اس تمام تر تباہی کے پیچھے پاکستان کی ناقص خارجہ اور داخلہ پالیسیاں کار فرما ہیں۔ ہماری مقتدر قوتیں نہ ملک سے مخلص ہیں، نہ عوام سے اور نہ ہی امریکا سے۔ اگر یہ ملک اور عوام سے مخلص ہوتیں تو ملک بد امنی کا شکار نہ ہوتا۔ وہ ایسی داخلہ اور خارجہ پالیسیاں تشکیل دیتیں جو ملک اور قوم کے وسیع تر مفاد میں ہوتیں اور ان کے نتیجے میں ملک کے حالات میں بہتری آتی نہ کہ دن بدن ملک میں امن و امان کی صورت حال مزید بگڑتی۔ اگر ہماری مقتدر قوتیں امریکا سے مخلص ہوتیں تو آج ملک میں مقامی طالبان کا کوئی وجود نہ ہوتا اور اگر کہیں ایسی قوتیں سر اٹھانے کی کوشش کرتیں تو سکیورٹی ادارے بروقت ان کا سر کچل دیتے لیکن ہم دیکھ رہے ہیں کہ ایسی قوتوں کو پنپنے کا دانستہ طور پر باقاعدہ موقع دیا جاتا ہے اور جب یہ ریاست کی عمل داری اور عوام کے جان و مال کے لیے خطرہ بن جاتی ہیں تو پھر ان کے خلاف طاقت کا بے محابا استعمال کیا جاتا ہے۔ جہاں تک امریکا کا سوال ہے ہو سکتا ہے کہ وہ پاکستان میں بدامنی پھیلانے والی قوتوں کی بالواسطہ حوصلہ افزائی کر رہا ہو لیکن یہ بھی ایک زمینی حقیقت ہے کہ امریکا اس وقت دہشت گردی کے خلاف عالمی مہم کے سلسلے میں پاکستانی فوج کے نقل و حمل کے لیے 8کروڑ ڈالر ماہانہ امداد دے رہا ہے۔ جب کہ اس کے علاوہ بھی پاکستان کو اس مد میں خطیر مالی امداد دی جا رہی ہے۔ ایک ایسا ملک جو پہلے ہی جنگی بجٹ کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے، وہ خود ہی دہشت گردی کی پشت پناہی کرے اور پھر خود ہی اس کے خاتمے کے لیے بھاری رقوم صرف کرے، سمجھ سے باہر ہے۔ لیکن پھر بھی اگر نگران وزیر داخلہ کی بات مانی جائے تو اسے حکومت ہی کی نا اہلی قرار دیا جائے گا۔ ہماری متعدد خفیہ ایجنسیاں کس مرض کی دوا ہیں اور فوج پر ملک و قوم کے جو غیر معمولی وسائل خرچ کئے جا رہے ہیں، کیا وہ اس لیے کہ بیرونی قوتیں ملک کے اندر امن و امان کے سنگین مسائل پیدا کرنے میں لگی رہیں اور ہماری خفیہ ایجنسیاں اور فوج اس معاملے میں بے بسی سے تماشا دیکھتی رہیں۔ 
	پاکستان کی مقتدر قوتیں اگر ملک میں امن و امان کی صورت حال بہتر بنانا چاہتی ہیں تو انھیں اپنی داخلہ اور خارجہ پالیسیوں پر نظر ثانی کرنی پڑے گی۔ انھیں دوغلی پالیسی چھوڑنی ہو گی۔ اگر وہ ملک و قوم کے مفاد میں دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ کا حصہ بننا چاہتی ہیں تو انھیں ملک کے اندر ایجنسیوں کی غیر ضروری مداخلت بند کرنی پڑے گی اور اگر وہ امریکا کے مفاد کے مطابق اس جنگ کا حصہ دار بننا چاہتی ہیں تو انھیں امریکا کے ساتھ اخلاص کا ثبوت دینا ہو گا۔ ہمارا المیہ ہی یہ ہے کہ جہاں پُر اَمن ذرائع کو استعمال کرنا چاہئے، حکومت وہاں طاقت کا استعمال کرتی ہے اور جہاں طاقت کے ذریعے امن بحال کرنے کی ضرورت ہے، وہاں حکومت غیر ضروری نرمی کا مظاہرہ کرتی ہے۔ گو مگو اور دوغلی پالیسیوں سے وطن عزیز کی بنیادیں کمزور ہو رہی ہیں۔ 
	ریاست کی اصل مقتدر قوتوں کو اس تمام تر صورت حال کا از سر نو جائزہ لینا چاہئے اور جہاں جہاں غفلت اور بے تدبیری سے کام لیا گیا ہے، وہاں اصلاح احوال کے لے تُند اور بروقت اقدامات اٹھانے میں تامل نہیں کرنا چاہئے۔ ملک و قوم کے وسیع تر مفاد میں پالیسیاں تشکیل دینی چاہئیں اور ان پر سختی سے عمل درآمد کو یقینی بنانا چاہئے تاکہ ملک کی سلامتی کے لیے بڑھتے ہوئے خطرات کا تدارک کیا جا سکے اور کئی عشروں سے غیر معمولی مسائل اور مشکلات میں مبتلا پاکستان کے بے بس عوام کی زندگی میں امن و سکون لایا جا سکے۔ 

 (5مارچ 2008ء) 
٭٭٭


خود کش حملہ آور کہاں سے آتے ہیں؟

	لاہور خود کش بم دھماکوں میں 31 افراد جاں بحق جب کہ 200 زخمی ہو گئے ہیں۔ اس سے قبل بھی لاہور میں خود کش بم دھماکے ہوتے رہے ہیں۔ راولپنڈی میں بھی ہوتے رہے ہیں۔ کوہاٹ، ڈیرہ اسماعیل خان، چارسدہ اور وزیرستان وغیرہ میں بھی خود کش حملے ریکارڈ پر ہیں اور سوات تو خود کش حملوں کا گڑھ بن چکا ہے بلکہ سوات سمیت صوبہ سرحد کے کئی علاقے خود کش حملہ آوروں کی نرسریوں کی حیثیت رکھتے ہیں۔ جہاں سے خود کش حملہ آور برآمد بھی کئے جاتے ہیں۔ دوسری طرف ہر خود کش حملہ کے بعد جنرل (ر) پرویز مشرف یہ بیان جاری کرنے میں دیر نہیں لگاتے کہ"خود کش حملوں کے ذریعے دہشت گردی کے خلاف جاری عالمی جنگ میں ہمارے ارادے متزلزل نہیں کئے جا سکتے" لیکن وہ یہ بتانے سے قاصر رہتے ہیں کہ یہ جنگ ہماری ہے یا امریکا کی۔ اگر یہ جنگ امریکا کی ہے تو یہ ہماری سرحدوں کے اندر کیوں لڑی جا رہی ہے؟ اس میں امریکی فوجیوں اور امریکہ کے عوام کی بجائے پاک فوج کے جوان اور ملک کے بے گناہ عوام کیوں اپنی جانوں سے ہاتھ دھو رہے ہیں؟ اس آگ کی تپش سے امریکا ہزاروں کلومیٹر دور ہے اور اس کے انتہائی قریبی اتحادی جنرل (ر) پرویز مشرف بھی اس کی تباہ کاریوں سے محفوظ ہیں لیکن اس کے نتیجے میں پورا ملک بدامنی کا شکار ہے اور وطن عزیز کے معصوم عوام روز درجنوں کے حساب سے مر رہے ہیں لیکن کسی مقتدر شخصیت کو کوئی پرواہ ہی نہیں کہ یہ انسان مر رہے ہیں یا کیڑے مکوڑے۔ 
	دنیا بھر میں کتنے ممالک ہیں جہاں خود کش حملے ہوتے رہتے ہیں۔ یہ کسی وقت فلسطینی مجاہدین اسرائیل کے ظالمانہ اور غاصبانہ اقدامات کے خلاف کرتے تھے یا سری لنکا میں کئے جاتے تھے لیکن اب وہاں بھی کوئی ایک آدھ ہی خود کش حملہ سامنے آ جاتا ہے۔ اس وقت زیادہ تر خود کش حملے عراق یا افغانستان میں ہو رہے ہیں لیکن ان ممالک میں یہ اس لیے ہو رہے ہیں کہ وہاں غیرملکی افواج موجود ہیں لیکن یہ پاکستان میں کیوں ہو رہے ہیں؟ اور یہاں ان کی تعداد روز بروز کیوں بڑھ رہی ہے؟ یہاں نہ تو غیر ملکی افواج قابض ہیں اور نہ ہی ہماری فوج کسی دوسرے ملک کے خلاف جنگ لڑ رہی ہے۔ یہاں تو جنرل (ر) پرویز مشرف کی وہ حکومت رہی ہے یا ہے جس کا دعویٰ ہی یہ ہے کہ سب سے پہلے پاکستان۔ پھر یہاں عراق جیسی صورتِ حال کیوں ہے؟
	اس کا واضح اور دو ٹوک جواب دینا اس لیے ممکن نہیں کہ قومی مفاد کا تقاضا یہ ہے کہ قومی مفاد کے خلاف برسر پیکار قوتوں کو آشکارا نہ کیا جائے لیکن عوام سے یہ حقیقت چھپی ہوئی نہیں ہے۔ وہ خوب سمجھتے ہیں کہ یہ خود کش حملے اور بم دھماکے کیوں ہوتے ہیں اور ان میں کون ملوث ہیں؟ خود کش حملہ آوروں کی نرسریوں کی پرورش کون کر رہا ہے اور کیوں کر رہا ہے؟ یہ کوئی ایسی خفیہ بات نہیں رہی ہے۔ جب بھی اور جہاں بھی ایسا کوئی واقعہ رونما ہوتا ہے تو عوامی حلقوں میں اصل حقائق کے بارے میں کھلے عام بحث و مباحثہ شروع ہو جاتا ہے اور یہ بھی حقیقت ہے کہ عوام کی اجتماعی رائے کو غلط ثابت نہیں کیا جا سکتا۔ 
	اگر نگران وزیر داخلہ کا دعویٰ حقیقت مان لیا جائے کہ"ان تمام معاملات میں امریکا، ہندوستان اور افغانستان ملوث ہیں" تو یہاں یہ سوال اٹھتا ہے کہ ہمارے ملک کی سرحدوں کی حفاظت کے لیے سات لاکھ سے زائد فوج کی موجود گی کے باوجود دوسرے ممالک ہماری سرحدوں کے اندر حالات کیوں اور کیسے خراب کر رہے ہیں؟ اس کے علاوہ ہمارا ملک خفیہ ایجنسیوں میں بھی خاصا خود کفیل ہے۔ اگر کوئی بیرونی طاقت خفیہ طریقے سے ہمارے ملک کے اندرونی معاملات میں دخل دے رہی ہے تو ان خفیہ ایجنسیوں کو کس مقصد کے لیے پالا پوسا جا رہا ہے؟ وہ ملک کو عدم تحفظ کا شکار بنانے والی قوتوں کے خلاف حرکت میں کیوں نہیں آتیں؟ وہ ملک میں امن و امان بگاڑنے والے عناصر سے آہنی ہاتھوں سے کیوں نہیں نمٹتیں؟ یہ ایسے سوالات ہیں جو ہر محب وطن شہری کے ذہن میں کلبلا رہے ہیں اور وہ سکیورٹی اداروں اور مقتدر قوتوں سے ان کا جواب مانگتے ہیں۔ 
	گزشتہ ساڑھے آٹھ سال سے جنرل (ر) پرویز مشرف اس ملک کے بلا شرکت غیرے حکمران چلے آ رہے ہیں۔ اگر یہ سب کچھ ان کی غلط داخلی اور خارجی پالیسیوں کا نتیجہ ہے تو وہ ملک کے وسیع تر مفاد میں اقتدار سے علیحدہ کیوں نہیں ہوتے؟ اگر وہ غیر آئینی، غیر قانونی اور غیر اخلاقی (غیر اخلاقی اس لیے کہ وہ جو وعدہ کرتے رہے ہیں، اس سے وقت آنے پر مکرتے رہے ہیں) طور پر اقتدار سے چمٹے ہوئے ہیں تو کیا یہ ملک ان کی جاگیر ہے؟ کیا یہ ملک انھوں نے فتح کیا ہے؟ کہ ہزار خرابیوں کے باوجود وہ ملک پر حکمران ہیں اور کوئی بھی محب وطن قوت انھیں اقتدار چھوڑنے پر مجبور نہیں کر سکتی۔ ان ہی کے دورِ حکومت میں ملک جتنا غیر مستحکم ہوا، ملک کا اقتدارِ اعلیٰ جس طرح پامال کیا گیا، ملک بدامنی، لاقانونیت، خود کش حملوں، بم دھماکوں، چینی، آٹے اور خوردنی تیل کے بحرانوں سے دوچار رہا، عوام کو جس طرح مہنگائی کی چکی میں پیسا گیا اور اعلیٰ سطح پر جس طرح انجنیئرڈ کرپشن کو فروغ دیا جاتا رہا، اس نے ملک کی بنیادیں تک ہلا دی ہیں اور عوام کے لیے جسم و جان کا رشتہ برقرار رکھنا مشکل تر ہو گیا ہے۔ جنرل (ر) پرویز مشرف کے لیے مزید اقتدار میں رہنا نہ صرف ملک کے لیے مزید خطرات کا باعث ہو گا بلکہ ان کی موجودگی نئی جمہوری حکومت کے لیے بھی نئے مضمرات کا باعث بنے گی۔ ویسے بھی اعلانِ مری میں ملک کی دو نوں بڑی سیاسی جماعتیں اس بات پر متفق ہو چکی ہیں کہ وہ عنانِ سلطنت سنبھالنے کے بعد نہ صرف معزول عدلیہ بحال کریں گی بلکہ وہ جنرل (ر) مشرف کا مواخذہ بھی کریں گی۔ اس کے علاوہ پاکستان مسلم لیگ (ن)، وکلاء اور سِول سوسائٹی کی طرف سے بار بار ان سے استعفیٰ بھی طلب کیا جاتا رہا ہے اور عوام نے ان کی پالیسیوں سے واضح اور دو ٹوک اختلاف حالیہ عام انتخابات میں ان کے حامی سیاست دانوں کو مسترد کر کے بھی کیا ہے۔ 
	جنرل (ر) پرویز مشرف کے ساڑھے آٹھ سالہ دورِ حکومت میں خود کش حملے پہلی دفعہ پاکستان میں متعارف ہوئے۔ ان ہی کے دورِ حکومت میں ان کی نرسریاں وجود میں لائی گئیں۔ ان ہی کے دورِ حکومت میں سرحدی علاقوں کے علاوہ بندوبستی علاقوں میں بھی حکومتی رٹ کو مفلوج کر دیا گیا۔ ان ہی کے دورِ حکومت میں ملک اپنی تاریخ کے تاریخ ساز بحرانوں سے دوچار ہوتا رہا۔ ان ہی کے دورِ حکومت میں دو دفعہ وزیر اعظم رہنے والی وفاق کی علامت بے نظیر بھٹو کو شہید کرایا گیا۔ ان ہی کے دورِ حکومت میں امریکا اور برطانیہ کو پاکستان کے اندرونی معاملات میں براہِ راست مداخلت کے مواقع دئیے گئے۔ ان ہی کے دورِ حکومت میں پہلی دفعہ امریکا اور نیٹو کی طرف سے میزائلوں کے ذریعے پاکستان کے سرحدی علاقوں کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں بے گناہ شہری جاں بحق ہوتے رہے۔ اس کے باوجود بھی اگر وہ اقتدار سے علیحدہ نہیں ہونا چاہتے تو یہ ملک اور قوم کے ساتھ مجرمانہ زیادتی کے ساتھ ساتھ ملک کی سلامتی سے کھیلنے کے مترادف ہو گا۔ 
	خود کش حملوں میں جو بھی ملوث ہیں، وہ یہ سلسلہ شاید اس لیے جاری رکھے ہوئے ہیں کہ جنرل (ر) پرویز مشرف امریکا کی جنگ اپنی سرزمین پر لڑنا بند کر دیں۔ وہ اقتدار چھوڑ دیں اور ملک وقوم کی داخلہ اور خارجہ پالیسیاں از سرِ نو تشکیل دی جائیں اور انھیں ملک و قوم کے حقیقی مفادات کے عین تابع بنایا جائے۔ شاید اس طرح ہمیں خود کش حملوں اور ملک میں روز افزوں فروغ پذیر بد امنی سے نجات مل سکے۔ 

 (15 مارچ 2008ء) 
٭٭٭


وادئ سوات:کیا امن و امان خواب و خیال ہی رہے گا؟ 

	 سوات کی بد قسمت وادی اور اس کے کم نصیب لوگ گزشتہ کئی سالوں سے آزمائش سے دوچار ہیں۔ ان کے دکھوں اور اذیتوں میں کمی کی بجائے روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ صبح گھر سے نکلتے ہوئے ہر شہری اس غیر یقینی کی کیفیت میں مبتلا ہوتا ہے کہ کیا اسے گھر صحیح سلامت واپسی نصیب ہو گی؟انسان کا خون اتنا سستا ہو چکا ہے کہ محسوس ہی نہیں ہوتا کہ یہ انسان کا خون بہہ رہا ہے یا کسی نے کوئی مرغی ذبح کی ہے۔ یہ مبالغہ نہیں، حقیقت ہے اور ایک ایسی تلخ حقیقت جوہر روز نئی نئی شکلوں میں نمودار ہوتی رہتی ہے۔ 
	سوات جیسی پر امن وادی کے حالات کیسے خراب ہوئے، کس نے خراب کئے اور اب اسے کون مسلسل خراب رکھنا چاہتا ہے؟ یہ ایسے سوالات ہیں جن پر ہر صاحب فہم سوچتا رہتا ہے اور اس کے ذہن میں اس کے واضح جوابات بھی اُبھر آتے ہیں لیکن اسے یہ بھی علم ہے کہ ان سوالات کو حل کرنے والا کوئی نہیں۔ ریاست جس کی اوّلین ذمہ داری اپنے شہریوں کو امن اور تحفظ دینا ہے، وہ عوام کی ارزانیِ خون پر بے حسی کی رِدا اوڑھے ہوئی ہے۔ حکم رانوں کو کوئی پراہ ہی نہیں کہ وطن عزیز میں خودکش حملوں اور بم دھماکوں میں انسان مر رہے ہیں یا کیڑے مکوڑے۔ تاہم وطن عزیز کا ہر حساس شہری ان ناگفتہ بہ حالات پر دل گرفتہ ضرور نظر آتا ہے لیکن وہ بے بس ہے۔ اجتماعی شعور کے فقدان کے باعث عوام نے ان حالات پر اگر چہ مکمل طور پر چپ سادھ نہیں رکھی لیکن وہ فیصلہ کن مجموعی کردار ادا کرنے کے لیے سڑکوں پر بھی نہیں نکل رہے ہیں۔ یوں لگتا ہے جیسے عوام اصل مقتدر قوتوں، حکم رانوں اور سیاست دانوں سے مکمل طور پر مایوس ہو چکے ہوں۔ 
	سوات میں حالات کو بہتر بنانے کے لئے جب پاک فوج نے آپریشن کا آغاز کیا تو اہل سوات یہ سمجھ رہے تھے کہ اب یہاں جلد ہی امن قائم ہو جائے گا اور بدامنی اور غیر یقینی کی جو صورت حال سوات کی خوب صورت فضاؤں کو گہنا رہی ہے، وہ امن و سکون کی روشنیوں سے تاب ناک ہو جائے گی لیکن صورت حال میں جزوی بہتری ضرور آئی ہے لیکن حالات مکمل طور پر امن و سکون سے بہت دور ہیں۔ اس کی وجوہات جو بھی ہیں، وہ اپنی جگہ لیکن ان سب حالات میں سوات کے لوگوں کو جن مسائل کا مسلسل سامنا ہے، ان کی طرف نہ مقامی انتظامیہ توجہ دے رہی ہے، نہ علاقے کے سیاست دان اور نہ ہی پاک فوج کے وہ افسر جن کے ذمے سوات میں قیام امن کا اعلیٰ مقصد سونپا گیا ہے۔ ہم کسی کی نیت پر شک و شبہ نہیں کر رہے بلکہ ان سطور کے ذریعے یہ بتانا مقصود ہے کہ سوات میں گوشت پوست کے انسان رہتے ہیں۔ وہ حساس دل و دماغ رکھتے ہیں۔ وہ گزشتہ کئی سالوں سے آگ اور خون کا کھیل دیکھ رہے ہیں۔ چار مہینوں سے وہ کرفیو کا عذاب سہہ رہے ہیں اور اس کے نتیجے میں وہ جن مشکلات اور مسائل سے دوچار ہیں، اس کا کرب سہہ رہے ہیں۔ 
	انسانی جان قیمتی ہے خواہ وہ کسی فوجی کی ہے، پولیس کی ہے، کسی معصوم شہری کی ہے یا کسی خودکش حملہ آور کی۔ یہ سب انسان ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں اشرف المخلوقات کے ارفع درجے پر فائز کیا ہے۔ ان کی جان ایسی بے قیمت نہیں ہونی چاہئے جو کسی اعلیٰ و ارفع مقصد کی بجائے غیر مسلم قوتوں کی ریشہ دوانیوں اور سازشوں کے نتیجے میں اپنے ہی مسلمان بھائیوں کے خلاف سرگرمیوں میں ضائع ہو۔ یہاں مجھے یہ عرض کرنا ہے کہ سوات میں گزشتہ چار مہینوں سے جو کرفیو نافذ ہے، اس کا مقصد اگر عام شہریوں کی جان و مال کو محفوظ بنانا ہے تو اس سے وہ مقصد حاصل نہیں ہو پا رہا ہے بلکہ کرفیو کی خلاف ورزی پر عام شہریوں کو جس طرح گولیوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، وہ کسی بھی طور جائز نہیں۔ جگہ جگہ چیک پوسٹوں کے ذریعے بے ضر ر شہریوں کے نقل و حمل میں غیر معمولی مشکلات پیدا ہو چکی ہیں۔ حالاں کہ یہ چیک پوسٹیں جن مقاصد کے لیے ہیں، ان کے ذریعے وہ مقاصد مکمل طور پر حاصل نہیں کئے جا سکے ہیں۔ اس کا ثبوت بارات پر ریموٹ کنٹرول بم حملہ، جنازے پر خودکش حملہ اور گزشتہ دنوں مینگورہ پولیس لائن پر خودکش حملہ ہے۔ اگر یہ چیک پوسٹیں موثر ثابت ہوتیں تو مذکورہ تین واقعات ظہور پذیر نہ ہوتے۔ 
	چند دن قبل کرفیو کی خلاف ورزی پر ایک حاملہ خاتون کی گاڑی پر فائرنگ کی گئی جس میں حاملہ خاتون کے ساتھ بیٹھی ہوئی ایک بے گناہ خاتون جاں بحق ہوئی۔ اس طرح گزشتہ روز چکیسر میں ایک گیس سلنڈر پھٹنے سے دو بچے شدید زخمی ہو گئے تھے جنھیں علاج کے لیے رات کے وقت سیدوشریف کے ہسپتال لایا جا رہا تھا کہ انھیں فضا گٹ کی چیک پوسٹ پر روک دیا گیا کہ کرفیو کی وجہ سے وہ مینگورہ میں داخل نہیں ہو سکتے۔ دونوں معصوم پھول جیسے بچے رات بھر تکلیف اور اذیت سے تڑپتے رہے یہاں تک کہ انھوں نے تڑپ تڑپ کر جان دے دی لیکن چیک پوسٹ پر تعینات سکیورٹی اہل کاروں کے پتھر دلوں پر کوئی اثر نہ ہو سکا۔ اس وقت انسان یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ عوام کے خون پسینے کی کمائی پر پلنے والے سکیورٹی اہل کار عوام کی جانوں کے محافظ ہیں یا انھیں اس لیے رکھا گیا ہے کہ وہ عوام کو تڑپ تڑپ کر مرتے ہوئے تماشا دیکھتے رہیں۔ دنیا میں مہذب ملکوں میں یہ طریقہ رائج ہے کہ ایسے حالات میں وہ مریضوں اور کسی حادثہ میں زخمی ہونے والے انسانوں کو فوری طور پر طبی امداد دینے کے لئے ہیلی کاپٹر تک کا بندوبست کرتے ہیں لیکن یہاں ایسا نہیں ہے۔ کیا سکیورٹی اہل کاروں کو مجرموں اور بے گناہ معصوم شہریوں کی پہچان نہیں۔ اگر سوات میں کرفیو اور چیک پوسٹیں عام شہریوں کی جان کی حفاظت کے پیش نظر قائم ہیں تو سکیورٹی اہل کاروں کو ایسا انتظام بھی ضرور کرنا چاہئے کہ ان کی وجہ سے کسی بیمار یا حادثہ کے شکار افراد کو بروقت طبی امداد پہنچانے میں کوئی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔ یہ کوئی ایسا مشکل کام نہیں ہے، بس اس کے لئے احساس اور دردِ دل رکھنے کی ضرورت ہے۔ 
	اہل سوات کے ساتھ وعدہ کیا گیا تھا کہ فوجی آپریشن کے ذریعے سوات میں جلد اور پائیدار امن قائم کیا جائے گا اور پچھلے سال کے دسمبر کے آخر تک وادی کو سیاحوں کے لئے کھول دیا جائے گا لیکن اس وقت یوں معلوم ہوتا ہے جیسے سوات میں امن اب بھی خواب و خیال ہی ہے۔ اتنے زیادہ فوجی انتظامات کے باوجود علاقے میں معمول کی زندگی بحال نہیں ہو سکی ہے۔ اب بھی وادی میں خوف و دہشت کے سائے گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔ ہم فوجی آپریشن کے ذریعے کئے جانے والے بیشتر اقدامات کو بہ نظر تحسین ضرور دیکھتے ہیں لیکن آپریشن کی طوالت نے سوات میں مزید مسائل جنم دیئے ہیں۔ سوات میں جاری کرفیو پاکستان کی تاریخ کا سب سے طویل ترین کرفیو ہے اور نہ معلوم یہ کرفیو کب تک عوام کی جان کو چمٹا رہے گا اور اس کے نتیجے میں نہ جانے مزید کتنے بے گناہ شہری اپنی قیمتی جانوں سے ہاتھ دھوتے رہیں گے۔ 
اِک اور دریا کا سامنا تھا منیر مجھ کو 
میں ایک دریا کے پار اُترا تو میں نے دیکھا

 (19مارچ 2008ء) 
٭٭٭


شورش زدہ سوات اور نئی حکومت کی ذمہ داری 

 	سوات ایک طویل عرصہ سے شورش کا شکار چلا آ رہا ہے۔ یہاں کے حالات گزشتہ حکومت میں خراب ہوئے تھے۔ اس وقت صوبہ سرحد میں ایم ایم اے کی حکومت تھی جو اس بات کی داعی تھی کہ وہ صوبہ میں اسلامی نظام نافذ کرے گی لیکن اس دوران نہ شرعی نظام نافذ ہوا اور نہ ہی صوبے کے عوام کی حالت میں کوئی معمولی سی خوش گوار تبدیلی واقع ہوئی۔ البتہ ایم ایم اے کی حکومت میں پورے صوبے میں بدامنی ضرور پھیلی۔ پہلی دفعہ خود کش حملے متعارف ہوئے اور عام و خاص دونوں طبقوں کی زندگی کو خطرات لاحق ہوئے۔ اُس وقت وفاقی سطح پر جنرل پرویز مشرف (اب ریٹائرڈ) کی پالیسیاں جاری تھیں جن کے تحت اپنے ملک اور اپنے ہی لوگوں کے خلاف طاقت کا استعمال پہلا اور آخری حربہ تسلیم کیا جاتا تھا۔ عوامی سطح پر یہ بات عام ہے کہ سوات میں حالات کی خرابی میں ایم ایم اے حکومت کا بھی ہاتھ تھا اور جنرل (ر) پرویز مشرف دہشت گردی کی نام نہاد عالمی مہم میں اپنی کار کر دگی دکھانے کے لیے بھی ایسے حالات پیدا کرنا چاہتے تھے جن کے ذریعے وہ امریکا اور یورپ کو یہ پیغام دے سکیں کہ اگر انھوں نے جنرل ریٹائرڈ کی حمایت ترک کر دی تو پاکستان میں افغانستان طرز کے طالبان بر سر اقتدار آ جائیں گے اور ان کے مفادات کے لیے لا محدود خطرات پیدا ہوں گے۔ یہی وجہ تھی کہ سوات میں نادیدہ ہاتھوں کے ذریعے ایسے حالات پیدا کئے گئے جس کے نتیجے میں پاک فوج کو سوات میں ریاستی رٹ بحال کرنے کے لیے آپریشن کرنا پڑا۔ کہا جاتا ہے کہ فوجی آپریشن کے تمام تر اخراجات بھی مع سود امریکا سے وصول کئے جاتے رہے ہیں۔ 
    اب جب کہ نئی جمہوری حکومت برسراقتدار آ چکی ہے اور سوات کے عوام نے بھی مذہبی جماعتوں کی پالیسیوں کو مسترد کرتے ہوئے صوبے میں لبرل خیالات کی علم بردار سیاسی جماعت عوامی نیشنل پارٹی کو اپنا مینڈیٹ دے دیا ہے اور صوبے میں عوامی نیشنل پارٹی کی حکومت قائم بھی ہو چکی ہے جس میں سوات سے منتخب ہونے والے واجد علی خان اور ایوب خان اشاڑے کو وزارتیں بھی دی گئی ہیں لیکن عوامی نیشنل پارٹی کی صوبائی حکومت نے سوات کے بارے میں ابھی تک عملاً کوئی واضح اور حتمی موقف ظاہر نہیں کیا ہے۔ اہلِ سوات نے جب سوات کی تمام چھ کی چھ صوبائی نشستوں اور ایک قومی نشست پر عوامی نیشنل پارٹی کے امیدواروں کو کامیابی دلائی تو توقع کی جا رہی تھی کہ اب سوات کا مسئلہ پرامن طور پر حل ہو سکے گا۔ یہاں مزید خون خرابا نہیں ہو گا لیکن ان کی حکومت کے دوران بھی سوات میں بدامنی اور لاقانونیت کی آگ بھڑکتی رہی۔ سوات میں اب بھی فوجی آپریشن کا خاتمہ نہیں کیا جا سکا ہے۔ اب بھی عسکریت پسندوں کی سرگرمیاں جاری ہیں۔ اب بھی عام شہری کو شدید عدم تحفظ کا احساس ستاتا ہے۔ اب بھی رات کے کرفیو کی صورت میں پرامن شہریوں کو محبوس رکھا جاتا ہے۔ اب بھی کاروبار شدید مندے کے شکار ہیں۔ گرمیاں شروع ہو چکی ہیں لیکن اب بھی سوات میں سیاح قدم رکھنے سے کتراتے ہیں۔ سوات آپریشن کے انچارج میجر جنرل ناصر جنجوعہ کی کوششوں سے چیف آف آرمی سٹاف نے سوات کے لیے ایک بلین روپے کے ترقیاتی پیکج کی منظوری دی تھی لیکن اس پیکج کے ذریعے اب بھی متاثرہ خاندانوں کی اشک شوئی نہیں کی گئی ہے۔ نہ صرف اس چھوٹے سے پیکج کے ثمرات سے اہل سوات ابھی تک محروم ہیں بلکہ موجودہ صوبائی حکومت کی طرف سے بھی اہل سوات کی غیر معمولی تباہی و بربادی کے اثرات زائل کرنے کے لیے کوئی امدادی پیکج سامنے نہیں آ سکا ہے اور نئی وجود میں آنے والی پیپلز پارٹی کی وفاقی حکومت نے بھی مصیبت زدہ سواتیوں کے لیے کوئی خصوصی امداد کا اعلان نہیں کیا ہے۔ نئی وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے سوات کے لوگوں نے بہت سی توقعات وابستہ کر رکھی تھیں لیکن سوات ابھی تک عدم توجہ اور محرومی کے عذاب سے گزر رہا ہے۔ 
	فوجی زعماء کی طرف سے بار بار اس بات کا اعادہ کیا جاتا ہے کہ سوات آپریشن جاری رہے گا اور جب تک عسکریت پسندی کا مکمل خاتمہ نہیں ہوتا، فوج سوات میں مقیم رہے گی۔ اب جب کہ جنرل (ر) پرویز مشرف کی ان پالیسیوں میں تبدیلی لائی جا رہی ہے جن کے تحت ملک بھر خصوصاً صوبہ سرحد میں ایسے حالات پیدا کئے جا رہے تھے جن سے دنیا کو یہ تاثر دیا جا سکے کہ پاکستان کے بندوبستی علاقوں میں بھی مذہبی انتہاء پسندی پھیل رہی ہے جس کی سرکوبی کے لیے جنرل ریٹائرڈ کی حکومت میں موجودگی ناگزیر ہے لیکن جب سے نئی جمہوری حکومت نے عنانِ اقتدار سنبھالی ہے اور اس نے تمام مسائل پر امن ذرائع سے حل کرنے کا عندیہ دیا ہے تو ملک بھر خصوصاً صوبہ سرحد میں خودکش حملوں میں خاصی کمی آ چکی ہے اور یوں لگ رہا ہے جیسے یہاں حالات جلد ہی پر سکون ہو جائیں گے لیکن موجودہ وفاقی اور صوبہ سرحد کی حکومت کو پر امن ذرائع سے حالات بہتر بنانے کے لیے اب فوری طور پر عملی قدم اٹھانا چاہئے۔ ضرورت اس اَمر کی بھی ہے کہ جہاں مذاکرات کی ضرورت ہے، وہاں مذاکرات کے ذریعے حالات بہتر بنائے جائیں اور جہاں عسکریت پسندی کی بچی کھچی باقیات موجود ہیں انھیں مزید ڈھیل نہیں دینی چاہئے اور اگر وہ پر امن طریقے سے سرنڈر کریں تو ان کے خلاف قانون کے مطابق مقدمات قائم کر کے انھیں سیکڑوں بے گناہ انسانوں کے خون بہانے کی پاداش میں سزا دینی چاہئے اور اگر وہ اب بھی گولی اور بم کی زبان میں بات کرنے پر تلے ہوئے ہوں تو ان سے کسی قسم کی رعایت نہیں برتنی چاہئے۔ 
	اہل سوات نے عوامی نیشنل پارٹی کو چوں کہ بھاری میڈیٹ اس امید پر دیا تھا کہ وہ صوبہ سرحد میں بر سر اقتدار آ کر سوات میں قیام امن کے لیے خصوصی اقدامات اٹھانے میں دیر نہیں کرے گی، اس لیے اب اہل سوات کی امید بھری نظریں عوامی نیشنل پارٹی کی صوبائی حکومت کی طرف لگی ہوئی ہیں۔ اس کے علاوہ صوبائی حکومت میں سوات کے دو منتخب نمائندے بھی صوبائی وزراء کی حیثیت سے حلف اٹھا چکے ہیں اس لیے قدرتی بات ہے سوات کے مصیبت زدہ عوام کی امید بھری نظریں اب اصلاحِ احوال کے لیے عملی اقدامات بھی دیکھنا چاہتی ہیں۔ چناں چہ اس وقت تباہ حال سوات کے بے بس عوام درج ذیل اقدامات کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومت کی توجہ مبذول کرانا چاہتے ہیں۔ 
 (۱) سوات میں عسکریت پسندی کے مرکزی کرداروں کو فوری طور پر گرفتار کیا جائے تاکہ عسکریت پسندی کی بنیاد کا خاتمہ ہو۔ 
 (۲) سوات میں فوجی آپریشن ختم کیا جائے اور جہاں جہاں چیک پوسٹ قائم ہیں، ان کا خاتمہ کیا جائے تاکہ اہل سوات آزادی سے اپنی معمول کی زندگی کا آغاز کر سکیں۔ 
 (۳) جو خفیہ ہاتھ مبینہ طور پر سوات میں عسکریت پسندی کو فروغ دینے اور عسکریت پسندوں کی پیٹھ ٹھونکنے میں مصروف ہیں، انھیں سختی سے ان ناپسندیدہ سرگرمیوں سے منع کیا جائے۔ 
 (۴) خودکش دھماکوں اور سوات آپریشن کے دوران پر امن شہریوں کا جو جانی و مالی نقصان ہوا ہے، اس کی تلافی کے لیے حکومت کو ایک بڑے امدادی پیکیج کا فوری اعلان کرنا چاہئے اور اس پیکیج کے ثمرات واقعتاً عوام تک پہنچنا چاہئیں۔ 
 (۵) سوات کی معیشت کی بنیاد سیاحت پر ہے۔ گزشتہ دو سال سے سوات کی سیاحت ختم ہو چکی ہے۔ سیکڑوں ہوٹل بند پڑے ہیں اور ہزاروں لوگ بے روزگار ہو چکے ہیں۔ پیپلز پارٹی کی وفاقی اور عوامی نیشنل پارٹی کی صوبائی حکومت کو سوات میں سیاحت کی بحالی کے لیے فوری طور پر خصوصی اقدامات اٹھانے چاہئیں۔ 
 (۶) ملاکنڈ ڈویژن کے عوام کا ایک دیرینہ مطالبہ یہاں شرعی نظام کا نفاذ ہے۔ اس سلسلے میں سابق حکومتوں کے 1994ء کے شریعت آرڈیننس اور 1999ء کے عدل ریگولیشن کو سرد خانے میں ڈال دیا گیا ہے جو ملاکنڈ ڈویژن میں شریعت کے نفاذ کے لئے تیار کئے گئے تھے۔ شریعت آرڈیننس اور عدل ریگولیشن میں نئے تقاضوں کے مطابق ترامیم کر کے انھیں حتمی شکل دینی چاہئے اور موجودہ حکومت کو ملاکنڈ ڈویژن میں شریعت کے نفاذ کے لیے فوری طور پر عملی اقدام اٹھانا چاہئے تاکہ یہاں کے عوام کا یہ دیرینہ مطالبہ پورا ہو سکے اور آئندہ شریعت کے نام پر علاقے کے عوام کو گم راہ کرنے کے لیے خصوصی مفاد پرست مذہبی حلقے عسکریت پسندی کو فروغ نہ دے سکیں۔ 
 (۷) سوات میں بے روزگاری بہت زیادہ ہے۔ یہاں تعلیم، صحت اور روزگار کی سہولتیں نہ ہونے کے برابر ہیں۔ سوات کی سڑکوں کی حالت نہایت ناگفتہ بہ ہے۔ اس لیے یہاں کے لوگوں میں احساس محرومی روز بروز بڑھ رہا ہے۔ عام لوگ مسائل کی زیادتی سے تنگ آ چکے ہیں۔ یہی وجہ ہے جب کوئی مفاد پرست مذہبی گروہ انہیں شرعی نظام کے نفاذ کے لیے اسلحہ اٹھانے کا کہتا ہے تو یہ لوگ اپنی محرومیوں کا حل شرعی نظام اور اسلحہ میں تلاش کرتے ہیں جس کی وجہ سے علاقے میں بد امنی جنم لیتی ہے۔ حکومت کو اہل سوات کے مسائل اور محرومیوں کے خاتمہ کے لیے بھی فوری اقدامات اٹھانا چاہئیں تاکہ علاقے کے مسائل اور یہاں کے مکینوں کی محرومیاں ختم ہوں اور وہ آئندہ بدامنی پھیلانے والی قوتوں کا ساتھ دینے کی بجائے خود ہی ان کے خلاف مضبوط مزاحمت کر سکیں۔

 	 (20اپریل 2008ء) 
٭٭٭



مینگورہ پولیس سٹیشن پر خودکش حملہ

	مینگورہ پولیس سٹیشن پر خود کش حملہ کے نتیجے میں تین ایف سی اور ایک پولیس اہل کار جاں بحق جب کہ پولیس سٹیشن کی عمارت مکمل طور پر تباہ ہو گئی۔ اس دھماکے میں 27 سکیورٹی اہل کار جب کہ روزنامہ "آزادی" کے پرنٹنگ کے شعبہ سے وابستہ دو ورکر بھی زخمی ہو گئے۔ دھماکہ اتنا شدید اور خوف ناک تھا کہ ایک کلومیٹر سکوئر کے فاصلے پر گھروں اور مارکیٹوں کو شدید نقصان پہنچا۔ قرب و جوار میں واقع تمام دکانوں کے شیشے اور قیمتی سامان ٹوٹ گئے جب کہ سیکڑوں دکانوں کے شٹر تباہی سے دوچار ہو گئے۔ دھماکے کی غیر معمولی شدت کی وجہ سے اس کی آواز کئی کلومیٹر دور دور تک سنی گئی۔ روزنامہ آزادی، خبر کار اور خیبر نیوز کے دفاتر مکمل طور پر تباہ ہو گئے۔ 
	مینگورہ پولیس سٹیشن پر اس سے قبل بھی ایک خود کش حملہ ہوا تھا جس میں تھانہ اگرچہ محفوظ رہا لیکن تھانہ سے متصل متعدد دکانیں مکمل طور پر تباہ ہو گئی تھیں۔ قرب و جوار کی بہت سی دکانوں کو بھی نقصان پہنچا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ مینگورہ پولیس سٹیشن کی حفاظت کے لیے مقامی انتظامیہ نے کئی اقدامات اٹھائے تھے اور خود کش حملہ کے خطرے کے پیش نظر تھانہ سے گزرنے والی سڑک اکثر ٹریفک کے لیے بند رکھی جاتی تھی جس کی وجہ سے مینگورہ میں ہر وقت ٹریفک جام رہتا تھا۔ پولیس سٹیشن کے داخلی دروازے پر حفاظتی اقدامات کی وجہ سے خود کش حملہ آور نے اس کے پچھواڑے سے وار کیا جو خاصا کارگر ثابت ہوا اور اس کے نتیجے میں نہ صرف پولیس سٹیشن کی عمارت منہدم ہو گئی بلکہ قرب و جوار کی عمارتوں اور سیکڑوں دکانوں کو بھی شدید نقصان پہنچا۔ 
	سوات میں جب سے فوجی آپریشن کا آغاز ہوا ہے، پولیس کے قریباً60 کے قریب اہل کاروں کو قتل کیا گیا ہے جب کہ ڈھائی سو پولیس اہل کاروں نے ڈیوٹی پر حاضری سے انکار کر دیا ہے۔ محکمہ پولیس میں نئی بھرتی کے لیے شرائط خاصی نرم کی گئی ہیں لیکن کوئی بھی اس شعبہ میں آنے کو تیار نہیں کیوں کہ مقامی پولیس اہل کار شدید عدم تحفظ کا شکار ہیں اور جاں بحق ہونے والے پولیس اہل کاروں کو حکومت کی طرف سے کوئی غیر معمولی امداد کا مظاہرہ بھی سامنے نہیں آ سکا ہے جس کی وجہ سے سوات میں مقامی پولیس قریباً ختم ہو چکی ہے۔ سوات میں مسلسل بدامنی کی وجہ سے پولیس کا کردار قریباً نہ ہونے کے برابر رہ گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تھانے میں کوئی رپورٹ درج کرانے کی تکلف بھی روا نہیں رکھتا۔ اس لیے اگر مینگورہ پولیس سٹیشن کو غیر معینہ مدت تک کے لیے بند رکھا جاتا اور اس کا عملہ کسی دوسرے محفوظ مقام پر منتقل کیا جاتا تو آج شاید مینگورہ پولیس سٹیشن خود کش حملے کا شکار نہ ہوتا۔ اس وقت بھی سوات میں متعدد پولیس سٹیشن سڑک کے کنارے واقع ہیں۔ موجودہ حالات میں ویسے بھی تھانوں کی اہمیت صفر ہو کر رہ گئی ہے اس لیے ضرورت اس اَمر کی ہے ان تھانوں کو عارضی طور پر دوسرے محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا جائے کیوں کہ ان میں بیشتر پولیس سٹیشن آبادیوں کے بیچ واقع ہیں اور خدا ناخواستہ اگر ان پولیس سٹیشنوں کو بھی خود کش حملوں کا نشانہ بنایا گیا تو اس کے نتیجے میں شہری آبادی کو شدید نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔ 
	موجودہ خود کش حملے کی ذمہ داری تحریک طالبان سوات کے ترجمان حاجی مسلم خان نے قبول کی ہے۔ انھوں نے یہ بھی کہا ہے کہ امریکی ایماء پر سوات میں جو فوجی آپریشن جاری ہے، یہ اس کا ردِ عمل ہے۔ انھوں نے اپنے بیان میں عوام کو متنبہ کیا ہے کہ وہ سکیورٹی فورسز سے دور رہیں۔ 
	سوات میں جاری فوجی آپریشن اور خود کش حملوں کا افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ اس میں زیادہ تر نقصان سول آبادی اور معصوم شہریوں کا ہو رہا ہے۔ نہ صرف ان کا جانی نقصان ہو رہا ہے بلکہ ان کی املاک بھی تباہ ہو رہی ہیں لیکن عوام کے نقصانات کے ازالہ کے لیے اب تک فوج، حکومت اور نہ ہی طالبان کی طرف سے کوئی اقدام سامنے آ سکا ہے۔ مینگورہ پولیس سٹیشن کے خود کش حملے میں مینگورہ کے تاجروں کو کروڑوں روپے کے نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ نہ صرف ان کی املاک تباہ ہو گئیں، ان کی تجارتی اشیاء کو نقصان پہنچا بلکہ ان کے کاروبار بھی مکمل طور پر تباہی سے دوچار ہیں۔ اس وقت پرامن اور بے گناہ شہری چکی کے دو پاٹوں میں پھنس چکے ہیں۔ ان پر نہ فوج کی طرف سے کوئی ترس کھایا جاتا ہے اور نہ ہی مقامی طالبان کی عوام سے کوئی ہمدردی نظر آتی ہے اور حالات ہیں کہ روز افزوں کنٹرول سے باہر ہوتے جا رہے ہیں۔ فوجی آپریشن کے باوجود بد امنی بڑھ رہی ہے۔ عام آدمی کو شدید خوف و ہراس میں مبتلا کر دیا گیا ہے۔ اسے عدم تحفظ کے ایک ایسے حصار میں جکڑ لیا گیا ہے جس سے نکلنے کی کوئی صورت بہ ظاہر نظر نہیں آتی۔ سوات اور اہل سوات اس وقت شدید بد امنی کے دور سے گزر رہے ہیں۔ عوام کو سمجھ نہیں آ رہی کہ سوات جیسا پر امن علاقہ کیوں بدامنی سے دوچار کیا گیا؟ ان قوتوں کے مقاصد کیا ہیں؟ سوات میں اس وقت مقامی طالبان کے علاوہ اور کون سی قوتیں ہیں جو علاقے میں بداَمنی پھیلا رہی ہیں۔ طالبان کا مطمح نظر تو بالکل واضح ہے کہ وہ یہ سب کچھ امریکی ایماء پر فوجی آپریشن کے ردِ عمل میں کر رہے ہیں اور ان کا دعویٰ ہے کہ وہ علاقے میں اسلامی نظام کے نفاذ کے لیے متحرک ہیں لیکن بعض اطلاعات کے مطابق سوات میں امریکا، اسرائیل، بھارت اور افغانستان کے ایجنٹ بھی سرگرم عمل ہیں۔ ہماری خفیہ ایجنسیاں کیوں ان سرگرمیوں کو لگام نہیں ڈالتیں؟ یہ تو ان کے فرائض منصبی میں شامل ہیں کہ وہ ملک کے اندر تخریبی سرگرمیوں میں ملوث غیرملکی عناصر کے خلاف کار روائی کریں اور ملک کی سلامتی اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔ 
	سوات اور اہل سوات امن کے متلاشی ہیں اور سوات کے پرامن عوام متعلقہ مقتدر قوتوں سے امید رکھتے ہیں کہ وہ سوات کی بدامنی دور کرنے کے لیے خصوصی منصوبہ بندی کریں گی اور سوات اور اس کے مکینوں کو بدامنی کے چنگل سے نجات دلائیں گی۔ کاش! ہمارے مقتدر طبقے بے گناہ اور معصوم شہریوں کو انسان سمجھیں، انھیں قاتلوں کے رحم و کرم پر نہ چھوڑیں اور قیامِ امن کے لیے تمام تر ریاستی وسائل بروئے کار لاتے ہوئے بھرپور اور فیصلہ کن اقدامات اٹھائیں۔ سوات کا مسئلہ اتنا پیچیدہ نہیں ہے۔ یہاں امن کا قیام کوئی خواب و خیال نہیں لیکن ضرورت اس اَمر کی ہے کہ ہمارے حکم ران عوام کے جان و مال کو قیمتی سمجھیں اور وہ ان کی حفاظت اپنا فرضِ اوّلین جانیں۔ 
	اللہ سوات میں امن قائم فرمائے اور اہل سوات کو قتل و غارت اور بدامنی سے مستقل نجات دلائے۔ آمین

 (10 مئی 2008ء) 
٭٭٭



 اور اب سوات میں اغواء برائے تاوان کی وارداتیں 

	اس بات میں تو کوئی شبہ نہیں کہ وادیِ سوات میں حالات خراب ہونے سے پہلے یہ ایک نہایت پر امن علاقہ تھا اور یہاں نہ صرف مقامی لوگوں کو ہر طرح کا تحفظ حاصل تھا بلکہ ملک بھر سے آئے ہوئے سیاحوں کے لیے بھی کسی طرح کا خطرہ موجود نہیں تھا اور وہ آزادانہ طور پر سوات کے طول و عرض میں خوب صورت قدرتی مناظر سے لطف اندوز ہونے کے لیے گھوم پھر لیتے تھے لیکن سوات کی موجودہ شورش اپنے ساتھ مزید نئی طرح کی مشکلات پیدا کر رہی ہے۔ 
	سوات میں نفاذِ شریعت کے لیے ماضی میں جو سرگرمیاں جاری رہی تھیں، ان میں شدت پسندی کا عنصر کسی حد تک موجود تھا لیکن ان میں تشدد کو بنیادی عنصر کی حیثیت حاصل نہیں تھی اور نہ ہی اس کے دوران بے گناہ اور پر امن شہریوں کے جان و مال کے لیے کوئی خطرات پیدا ہوئے تھے لیکن اس وقت سوات میں جاری شورش کے نتیجے میں سیکڑوں بے گناہ شہریوں کو اپنی جانوں سے ہاتھ دھونا پڑے ہیں۔ اس کے علاوہ اہلیان سوات کو ناقابل تلافی حد تک مالی نقصانات کا سامنا بھی کرنا پڑا ہے اور اب بھی پڑ رہا ہے۔ ذہنی اذیت، خوف و دہشت کے بڑھتے ہوئے سایے اور عدم تحفظ کے مستقل احساس نے سوات کے مکینوں سے جینے کا احساس تک چھین لیا ہے اور اب اغواء برائے تاوان کی بڑھتی ہوئی وارداتوں نے اہل سوات کی نیند بھی حرام کر دی ہے۔ روز اغواء برائے تاوان کا کوئی نہ کوئی واقعہ ظہور پذیر ہوتا ہے جس سے ہر شہری کو نیا خوف اور نئی پریشانی لاحق ہو رہی ہے۔ اس سے قبل سوات جیسے پر امن علاقے میں اغواء برائے تاوان کا کوئی تصور تک نہیں کیا جا سکتا تھا لیکن جب سے سوات میں عسکریت پسندی کو فروغ دیا گیا ہے اور یہاں امن کی بحالی اور ریاست کی رِٹ قائم کرنے کے لیے فوج نے اپنی کار روائیاں شروع کی ہیں، سوات میں اغواء برائے تاوان جیسی وارداتیں متعارف ہونا شروع ہو گئی ہیں۔ 
	پروفیسر الطاف حسین عرف باچا لالا اور ان کی طرح دوسرے پر امن شہریوں کو جس طرح دن دہاڑے بے خوفی کے ساتھ اغواء کیا گیا ہے، اس سے معلوم ہوتا ہے جیسے سوات میں حکومت یا انتظامیہ نامی کوئی چیز موجود نہیں۔ باچا لالا سے قبل بھی متعدد شہریوں کو اغواء کیا گیا تھا جنھیں تاوان ادا کرنے کے بعد رہائی ملی لیکن باچا لالا جیسی ہر دل عزیز شخصیت کے اغواء کے بعد بھی اغواء برائے تاوان کی کئی وارداتیں ظہور پذیر ہو چکی ہیں جن میں سابق صوبائی وزیر قاری محمود کے دو بیٹوں کا بہ یک وقت اغواء اور تحصیل کبل کے علاقہ برہ بانڈیٔ کی معروف شخصیت سلطان روم کا اغواء شامل ہیں۔ حکومت یا مقامی انتظامیہ کی طرف سے نامعلوم اغواء کاروں کے خلاف کوئی رد عمل یا عملی ایکشن سامنے نہیں آ سکا۔ پر امن شہری اغواء ہو جاتے ہیں اور ان کے رشتے دار اغواء کاروں سے خود ہی رابطہ کر کے تاوان ادا کرتے ہیں اور اپنے پیاروں کی جان بچاتے ہیں۔ جس طرح قاری محمود نے اپنے دو بیٹوں کو مبینہ طور پر تاوان ادا کرنے کے بعد رہا کرایا۔ 
	دراصل سوات میں حکومتی دعوے کے برعکس اب بھی ریاستی رِٹ موجود نہیں۔ مقامی انتظامیہ اب بھی موجود ناگفتہ بہ صورت حال کی وجہ سے عدم تحفظ کا شکار ہے اور وہ سوات بھر میں کماحقہ قانون نافذ کرنے سے قاصر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سیاحوں کی جنت سوات اب جرائم پیشہ لوگوں کے لیے محفوظ جنت بن رہی ہے۔ پاکستان کے دوسرے علاقوں سے بڑے بڑے جرائم پیشہ گروہ سوات کا رخ کر رہے ہیں اور یہاں اپنی بنیادیں مضبوط بنانے میں لگے ہوئے ہیں۔ اس سلسلہ میں ملاکنڈ ایجنسی میں واقع درگئی اور سخاکوٹ کے علاوہ ضلع مردان میں سرگرم اغواء کاروں کے منظم گروہ سوات میں سرگرم عمل ہو چکے ہیں۔ اغواء برائے تاوان ان منظم گروہوں کا باقاعدہ پیشہ ہے اور وہ رات کی تاریکی میں درگئی، سخاکوٹ، تخت بھائی اور چارسدہ کے علاقوں سے گزرنے والی گاڑیاں روکتے اور مسافروں کو تاوان کے لیے اغواء کرتے ہیں لیکن جب ان منظم گروہوں کو معلوم ہوا کہ سوات میں حکومتی رِٹ موجود نہیں اور وہاں سے دن کی روشنی میں بھی پر امن شہریوں کو تاوان کے لیے اغواء کیا جا سکتا ہے تو انھوں نے اب سوات کا رخ کر لیا ہے لیکن سوات میں مقیم فوج اور مقامی انتظامیہ ان اغواء کاروں کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔ جس کا جب جی چاہتا ہے، وہ فائرنگ کر کے پر امن شہریوں کو بھون دیتا ہے اور اغواء کار جب چاہتے ہیں پر امن شہریوں کو اٹھا لیتے ہیں۔ 
	اس وقت وطن عزیز اور خصوصاً سوات میں جو حالات ہیں، انھیں دیکھ کر دل خون کے آنسو رونے لگتا ہے۔ یہاں انسان کی جان کی کوئی حرمت نہیں۔ بے گناہ انسانوں کو بے دردی سے مارا جاتا ہے، ذبح کیا جاتا ہے، اغواء کیا جاتا ہے لیکن مقتدر قوتوں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔ دوسری طرف مہنگائی، بجلی کی لوڈشیڈنگ اور سیاسی عدم استحکام نے ملک کا دیوالیہ نکال دیا ہے لیکن مقتدر قوتیں اپنے اپنے مفادات میں لگی ہوئی ہیں۔ انھیں کوئی پرواہ ہی نہیں کہ غریب عوام کس کرب و اذیت سے گزر رہے ہیں۔ یوں لگتا ہے جیسے ریاست اپنے ہونے کا جواز کھو چکی ہو اور اگر کسی پڑوسی ملک سے وطن عزیز کے بے گناہ اور معصوم انسانوں پر میزائل سے حملہ کیا جاتا ہے تو مقتدر قوتیں ریاست کے اقتدار اعلیٰ کو پامال کرنے والی بیرونی قوتوں کے آگے بھیگی بلی بن جاتی ہیں اور وہ احتجاج تک کے قابل نہیں رہی ہیں۔ 
	پروفیسر الطاف حسین عرف باچا لالا نے اپنی زندگی کا قیمتی حصہ ملک و قوم کی خدمت کے لیے وقف کیا تھا۔ انھوں نے وطن عزیز کی نئی پود کی ذہنی اور اخلاقی تربیت کے لیے اپنے شب و روز بسر کئے ہیں اور اب ریٹائرمنٹ کے بعد انھیں اس کا صلہ اغواء ہونے کی صورت میں مل رہا ہے۔ ایک استاد اپنی زندگی میں کتنی دنیاوی دولت سمیٹ سکتا ہے؟ وہ اپنی محدود تنخواہ میں کون سی جائیداد بنا سکتا ہے؟ جس کے لیے اسے اغواء کیا جائے۔ وہ تو علم کی دولت لٹانے والا ہوتا ہے۔ وہ ہمارے بچوں کو علم کے زیور سے آراستہ کرنے والا ہوتا ہے۔ وہ ہماری نئی نسل کی ذہنی تربیت اور اخلاقی پرداخت کرنے والا ہوتا ہے۔ وہ تو علم کی روشنی سے جہل کی تاریکیاں مٹانے والا ہوتا ہے۔ وہ تو بچوں کا مستقبل بنانے اور اسے درخشاں کرنے والا ہوتا ہے۔ اسے تاوان کے لیے اغواء کر کے کس جرم کی سزا دی جا رہی ہے۔ پروفیسر الطاف حسین باچالالا کا اغواء اس معاشرے، سوات کی انتظامیہ اور سوات میں مقیم پاک فوج کے جوانوں کے لیے کلنک کا ٹیکہ ہے۔ ہم اگر اپنے اساتذہ کے جان و مال کی حفاظت نہیں کر سکتے تو ہمیں معاشرے میں آنکھ اوپر اٹھانے کا حق حاصل نہیں۔ 
	سوات انتظامیہ، پاک فوج کے بہادر جوان اور محب وطن فوجی افسروں کا فرض بنتا ہے کہ وہ سوات میں اغواء برائے تاوان کی وارداتوں کا فوری طور پر سخت نوٹس لیں۔ پروفیسر الطاف حسین اور سلطان روم کو جلد از جلد بازیاب کرایا جائے اور اغواء برائے تاوان میں ملوث منظم گروہوں کے خلاف آپریشن شروع کیا جائے۔ نہ صرف سوات کو اس لعنت سے پاک کیا جائے بلکہ سخاکوٹ، درگئی، تخت بھائی اور چارسدہ میں بھی اغواء کار منظم گروہوں کو ختم کیا جائے تاکہ مخلوقِ خدا سکون کا سانس لے سکیں۔ 

 (20مئی 2008ء) 
٭٭٭



افغان صدر حامد کرزئی کا بیان اور تلخ زمینی حقائق 

	ضیاء الحق کی طویل آمرانہ حکومت کے بوئے ہوئے بیج کی فصل جنرل (ر) پرویز مشرف کے آمرانہ دورِ حکومت میں تن آور ہو گئی اور آج اس کے منفی نتائج کا سامنا ملک اور قوم دونوں کر رہے ہیں۔ افغانستان میں سوویت یونین کے خلاف ہونے والی جنگ کے فرنٹ لائن اتحادی بن کر ہم نے خوب دوسروں کی جنگ لڑی۔ اس کے دوران طویل المیعاد قومی مفادات نظر انداز کر کے ہمارے جرنیلوں نے خوب دولت کمائی اور ملک کو ہیروئن، کلاشنکوف، بم دھماکوں، صوبائی و لسانی تعصب اور سیاسی عدم استحکام کے تحائف سے بھی خوب نوازا۔ افغانستان کے اندرونی معاملات میں مسلسل مداخلت کر کے ہم نے کوئی نیک نامی نہیں کمائی۔ افغان مہاجرین کا غیر معمولی بوجھ اس وقت کی حکومت نے اس لئے برداشت کیا کہ ان مہاجرین کے لیے اقوام متحدہ کے تحت بوریوں میں بھر بھر کے ڈالر آتے تھے۔ اس کے علاوہ افغان مجاہدین کے لیے بے تحاشا اسلحہ کے ساتھ ساتھ نقد رقوم کی لا محدود بوریاں بھی آتی تھیں اور افغان مہاجرین اور مجاہدین کے لیے جو امداد آتی تھی، اس سے مقتدر فوجی اور سیاست دان فراخ دلی سے فیض یاب ہوتے یہی وجہ ہے کہ امریکا کے لئے افغانستان میں لڑی جانے والی جنگ کے ضمنی اثرات پر زیادہ توجہ نہیں دی گئی اور نہ ہی اس بات پر کوئی سوچ بچار کیا گیا کہ افغانستان سے سوویت یونین کے پسپا ہونے کے بعد مجاہدین اور مہلک جدید ہتھیاروں کا کیا بنے گا؟ افغانستان میں اگر خانہ جنگی برپا ہو گئی تو اس کا تدارک کیسے کیا جائے گا اور مستقبل میں اس کے منفی اثرات اگر پاکستان پر پڑنے لگیں تو ہمارا لائحہ عمل کیا ہو گا؟
	امریکا کے لئے سر دھڑ کی بازی لگا نے والے افغان مجاہدین 9/11کے بعد معتوب و مغضوب ٹھہرائے گئے اور امریکا نے انھیں عالمی دہشت گردوں کا نام دیا۔ ہماری فوج نے بھی مستقبل کے نتائج و اثرات پر غور کئے بغیر اپنی خارجہ پالیسی میں یوٹرن لیا اور جنرل (ر) پرویز مشرف نے اپنے اقتدار کو جو از فراہم کرنے کے لئے امریکا کے دباؤ میں آ کر مسئلہ کشمیر کو مزید متنازعہ بنایا اور جو کشمیری اپنے وطن کی آزادی کے لیے لڑ رہے تھے، انھیں دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کر دیا۔ جنرل (ر) پرویز مشرف نے امریکا کی نام نہاد عالمی دہشت گردی کے خلاف جاری مہم کے لئے وہ سب کچھ کیا جس کا تصور امریکا خود بھی نہیں کر سکتا تھا۔ اس طرح امریکا کو خوش کرنے کے لئے پاک فوج کو اپنے ہی لوگوں کے خلاف استعمال کیا گیا۔ 
	امریکا کی خفیہ ایجنسیوں کے اہل کاروں کو ملک کے اندر ہر طرح کی کار روائی کرنے کی پوری آزادی دی گئی۔ اپنے ہی بے گناہ لوگوں کو ڈالروں کے عوض امریکا کے حوالے کر دیا گیا۔ بے گناہ اور معصوم بچوں اور بچیوں کو فاسفورس بموں کے ذریعے جلایا گیا۔ ملک کی سرحدوں اور اقتدار اعلیٰ کو امریکی اور نیٹو فورسز کے پاؤں تلے روند ڈال دیا گیا۔ اپنے غیر قانونی، غیر آئینی اور غیر اخلاقی اقتدار کو دوام دینے کے لیے ملک کے اندر خود ساختہ عسکریت پسندوں کی پرورش کی گئی۔ انھیں ٹریننگ، و سائل اور مواقع فراہم کئے گئے جن کے اثراتِ بد سے اب بھی ملک و قوم دوچار ہے۔ غرض ہمارے بعض فوجی جرنیلوں نے آمریت کی آڑ میں اپنے ہی ملک کی بنیادیں کمزور کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی۔ یہی وجہ ہے کہ آج افغانستان کے صدر حامد کرزیٔ پاکستان کے خلاف فوج کشی کے بیانات دے رہا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ ہم مولوی عمر، فضل اللہ اور بیت اللہ محسود کو ان کے گھروں میں مار ڈالیں گے۔ ایسی دھمکی تو اب تک بھارت نے بھی پاکستان کو دینے کی ہمت نہیں کی۔ افغان صدر حامد کرزیٔ نے ایسی جرأت کیسے کی؟ حالاں کہ اب بھی افغانستان میں ایک بڑے حصہ پر طالبان کا قبضہ ہے اور خود حامد کرزیٔ بھی آزادانہ طور پر اپنے محل سے باہر نہیں نکل سکتے۔ کابل میں بھی وہ غیر محفوظ ہیں، جہاں وہ اتحادی افواج کے مضبوط حفاظتی حصار میں ہیں۔ منہدم اور منتشر افغانستان پاکستان کے لیے کوئی خطرہ کیسے بن سکتا ہے؟ یہ تو در اصل امریکہ نے صدر کرزیٔ کے منہ میں اپنی زبان ڈال دی ہے۔ امریکا کو سوات اور وزیرستان میں طالبان کے ساتھ صوبہ سرحد کی حکومت کا امن معاہدہ ایک آنکھ نہیں بھا رہا ہے۔ اس لئے اس نے اپنے دیرینہ اتحادی (پاکستان) کو دھمکی حامد کرزیٔ کی زبانی دی اور حامد کرزیٔ نے بھی حق نمک ادا کرتے ہوئے پاکستان کو دھمکی دینے میں کسی ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہیں کیا کیوں کہ وہ امریکا کے اشارۂ ابرو کے بغیر اٹھ بیٹھ بھی نہیں سکتے۔ 
	جس روز حامد کرزیٔ نے پاکستان کے خلاف فوج کشی کی دھمکی دی، اس روز "نیویارک ٹائمز" نے ڈاکٹر عبدالقدیر کے ایٹمی نیٹ ورک کے بارے میں حساس دستاویزات کے حصول کا انکشاف کیا، اسی روز برطانوی اخبار "سنڈے ٹائمز" نے خبر شائع کی کہ امریکی صدر بش نے اسامہ بن لادن کی گرفتاری کے لئے حتمی اور فیصلہ کن کار روائی کے احکامات جاری کر دیئے اور الزام لگایا کہ اسامہ بن لادن باجوڑ ایجنسی میں ہو سکتے ہیں۔ اس سے اگلے روز یہ خبر بھی شائع ہو گئی کہ خیبر ایجنسی کے علاقہ لنڈی کوتل میں 2امریکی ہیلی کاپٹر 10منٹ تک پرواز کرتے رہے۔ افغانستان پر امریکی حملے کے بعد اتحادی افواج نے پہلی دفعہ یہ حرکت کی۔ اس کے علاوہ باجوڑ ایجنسی سے متصل افغانستان کی ولایت کونٹر میں امریکی ائیر بیس کی موجودگی بھی ان خطرات کی نشان دہی کر رہا ہے جس کے تحت امریکا افغان سرحد سے متعلقہ علاقوں میں کوئی بڑی فوجی کار روائی کرنا چاہتا ہے۔ 
	یقیناً ان حالات پر ہماری عسکری قیادت کی گہری نظر ہو گی اور وہ ایٹمی پاکستان کو امریکا اور اس کے اتحادیوں کے لیے تر نوالہ نہیں بنائیں گے لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے گھر کی بھی خبر لیں۔ 9 سال تک امریکا کی چاکری کرنے والے جنرل (ر) پرویز مشرف سے فوری طور پر جان چھڑا لی جائے کہ آج وطن عزیز اور اس میں بسنے والے اہل وطن کو جو مصیبتیں سہنی پڑ رہی ہیں اس کی تمام تر ذمہ داری جنرل (ر) موصوف پر عائد ہوتی ہے۔ موجودہ جمہوریت حکومت کو آمر صدر سے فوری نجات حاصل کرنی چاہئے کیونکہ ان کی مزید موجودگی، مزید خطرات اور مصیبتوں کا باعث بنے گی۔ تمام سیاست دانوں کو بلا امتیاز وطن عزیز کی سلامتی کے لیے متحد ہونا چاہئے اور ملک میں سیاسی عدم استحکام کا خاتمہ کر کے اس کی سلامتی، تحفظ اور عوام کی خوشحالی کے لئے کمر بستہ ہونا چاہئے۔ 
	کون سا عذاب ہے جو وطن اور اہل وطن پر قہر بن کر نہیں ٹوٹا ہے۔ عوام کے مسائل کے خاتمہ اور وطن عزیز کی ساکھ اور وقار بحال کرنے کے لیے متحدہ جدوجہد کی ضرورت ہے۔ 

 (19جون 2008ء) 
٭٭٭


 سوات، خرابی کا اصل ذمہ دار کون؟

	اس وقت پورا صوبہ سرحد بد امنی کی آگ میں جل رہا ہے۔ خصوصاً سوات اور وزیرستان میں جو صورتِ حال ہے، اسے الارمنگ سمجھ لینا چاہئے۔ ان علاقوں میں ہر روز تھوک کے حساب سے بے گناہ انسان مر رہے ہیں لیکن ہر روز حکومت اور پاکستان کے سکیورٹی اداروں کی بے بسی اور بے حسی دیدنی ہوتی ہے۔ گزشتہ دنوں ایک طرف پشاور میں صوبہ سرحد کی نئی حکومت اور سوات کے "طالبان" کے درمیان اختلافات ختم ہو رہے تھے اور دونوں کے مابین پہلے سے پا جانے والے معاہدے کی مکمل پاسداری پر اتفاق رائے کیا جا رہا تھا تو دوسری جانب اخبارات اور الیکٹرانک میڈیا میں یہ خبریں چل رہی تھیں کہ سوات پر پھر طالبان کا قبضہ ہو گیا۔ انھوں نے سوات کے مشہور سیاحتی مقام ملم جبہ میں پی ٹی ڈی سی ہوٹل اور موسمیات کا دفتر نذرِ آتش جب کہ سیاحوں کے لیے قائم کئے گئے چیئر لفٹس تباہ کر دئیے۔ سوات میں کئی پولیس سٹیشنوں کو بم حملوں کے ذریعے تباہ کر دیا گیا۔ اس کے علاوہ سوات بھر میں چند دنوں میں قریباً پندرہ سکولوں کو بھی آگ لگا دی گئی۔ گزشتہ روز مٹہ (سوات) کے علاقہ شَوَر میں نامعلوم افراد نے پیپلز پارٹی ضلع سوات کے سینئر نائب صدر محمد شیر خان کے بھائی اور پی پی پی کے رہنما عبدالکبیر خان کے گھر کا محاصرہ کر کے دستی بموں سے حملہ کیا اور عبدالکبیر کو بیوی اور دو بیٹوں سمیت قتل کر دیا گیا جب کہ ان کے بھائی کے گھر کو نذرِ آتش کر دیا گیا۔ خبروں میں بتایا گیا ہے کہ مرنے والی خاتون کو گھر میں آگ لگا کر زندہ جلا دیا گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ جب نامعلوم شرپسند ان کے گھر کا محاصرہ کر کے ان پر فائرنگ کر رہے تھے تو انھوں نے علاقے میں تعینات پاک فوج کے جوانوں سے مد د طلب کی تھی لیکن سکیورٹی اہل کاروں نے ہوائی فائرنگ کے علاوہ ان کی کوئی مد د نہیں کی۔ 
	سوات میں جب فوجی آپریشن شروع کیا گیا تو اس وقت کہا گیا تھا کہ دسمبر 2007ء تک علاقے میں مکمل امن و امان قائم کیا جائے گا اور دسمبر کے آخر تک وادئ سوات کو سیاحوں کے لیے کھول دیا جائے گا لیکن سوات میں ابھی تک نہ ہی امن قائم کیا گیا اور نہ ہی علاقے سے عسکریت پسندی کو ختم کیا جا سکا ہے۔ حالاں کہ فوجی آپریشن کے لیے تمام تر عسکری سہولتوں سے کام لیا گیا تھا اور سوات میں اس وقت سے لے کر اب تک رات کا کرفیو مسلسل نافذ ہے۔ جگہ جگہ چیک پوسٹیں بھی قائم کی گئی ہیں لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ اب تک پورے سوات میں حکومت کی رِٹ قائم نہیں کی جا سکی۔ آپریشن کے دوران جتنے بھی مبینہ عسکریت پسند پکڑ لئے گئے تھے، ان میں زیادہ تر بے گناہ ثابت ہونے پر رہا کئے جا چکے ہیں۔ آپریشن کے دوران عام بے گناہ شہریوں کا جو نقصان ہوا تھا، اس کے اثرات اب بھی متاثرہ خاندان شدت سے محسوس کرتے ہیں لیکن ان کی اشک شوئی کے لیے حکومت کی طرف سے اب تک کوئی سنجیدہ قدم نہیں اٹھایا گیا ہے۔ پورے علاقے میں اب بھی بے یقینی کے سائے اپنی پوری نحوست کے ساتھ منڈلا رہے ہیں۔ گزشتہ عشرہ کے دوران تحصیل کبل میں متعدد بے گناہ لوگوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا جن میں مشہور ماہرِ تعلیم ضمیر ہیڈ ماسٹر جیسی ہر دل عزیز شخصیت کو بھی بڑی بے دردی سے ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا گیا لیکن نہ ہی حکومت کی طرف سے کوئی کار روائی عمل میں لائی گئی اور نہ ہی علاقے کے مقامی سیاست دانوں نے اس ظلم پر کوئی مذمتی بیان جاری کیا۔ ہر روز لوگ اغوا ہوتے ہیں اور ان کے رشتہ دار بھاری تاوان ادا کر کے انھیں رہا کرا دیتے ہیں لیکن قانون نافذ کرنے والے ادارے بے حسی کی عملی تصویر بنے ہوئے ہیں اور انھیں اغوا برائے تاوان کے معاملات ڈیل کرنے والے لوگوں کا بخوبی علم ہے لیکن وہ ان کے ذریعے اصل مجرموں تک پہنچنے میں کوئی دل چسپی نہیں رکھتے۔ اہل سوات خود بھی ان تمام معاملات پر بے حسی کا مجرمانہ مظاہرہ کر رہے ہیں۔ ان کے دوستوں، رشتہ داروں اور علاقے کے پر امن شہریوں کو بے دردی سے قتل کیا جا رہا ہے۔ ان کے پرامن علاقہ کو میدانِ جنگ بنا دیا گیا ہے اور بے گناہ شہری کبھی جنازوں میں بم دھماکوں کا شکار ہوتے ہیں اور کبھی بارات پر دستی بموں سے حملے کر کے انھیں قتل کیا جاتا ہے لیکن نہ صرف عام شہری اس ظلم عظیم پر مہر بہ لب ہیں بلکہ وہ سیاسی جماعتیں جنھوں نے پورے عالم اسلام کا ٹھیکہ سر پر لے رکھا ہے اور جو فلسطین، کشمیر، عراق اور افغانستان میں مسلمانوں پر مظالم ڈھانے پر امریکی اور اسرائیلی حکومتوں کے خلاف مظاہرے کرتے رہتے ہیں، وہ بھی سوات میں بے گناہ انسانوں کی ہلاکت پر اُف تک کرتی نظر نہیں آتیں۔ کچھ عرصہ قبل سوات میں ایک جنازے میں جب خود کش حملہ میں 70 سے زائد بے گناہ شہری جاں بحق ہوئے تھے تو اس واقعہ پر بھی نہ کوئی جلوس نکلا تھا اور نہ ہی احتجاجی مظاہرہ ہوا تھا۔ ان زیادتیوں پر سیاسی جماعتوں کی مجرمانہ خاموشی قابل مذمت ہے اور ان سیاسی رہنماؤں کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ دنیا میں مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے کسی ظلم پر مذمتی بیانات جاری کریں یا ان کے لیے مظاہرے کریں۔ انھیں پہلے اپنے ہی ہم وطنوں کے لیے میدانِ عمل میں نکلنا چاہئے۔ سوات میں گزشتہ ایک سال کے دوران جو ظلم و بربریت کا بازار گرم رکھا گیا، اس کے خلاف کسی بھی سیاسی جماعت نے واضح موقف نہیں اپنایا اور نہ ہی ملک کے کسی گوشے میں اہل سوات کے لیے کوئی احتجاجی مظاہرہ منعقد کرایا گیا۔ میڈیا میں بھی سوات کے ناگفتہ بِہ حالات کی حقیقی منظر کشی ابھی تک نہیں کی گئی ہے جس کے باعث اہل سوات کی مظلومیت اور ان کے ساتھ روا رکھے جانے والی پیہم زیادتیوں کو اُجاگر نہیں کیا جا سکا۔ 
	مقامی طالبان سکیورٹی فورسز کے خلاف ہر قسم کی کار روائیاں تسلیم کرتے ہیں اور ان کا موقف ہے کہ وہ گزشتہ دنوں سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپ میں تین طالبان کمانڈروں کی ہلاکت اور اپنے زخمی ساتھیوں کا بدلہ چکا رہے ہیں لیکن وہ سوات میں سکولوں کو جلانے کے واقعات سے انکار کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے ملم جبہ میں کی گئی کار روائی میں بھی ان کا ہاتھ نہیں۔ تحریک طالبان سوات کے ترجمان حاجی مسلم خان اور کمانڈر علی بخت نے کہا ہے کہ طالبان امن پسند اور محب وطن لوگ ہیں اور وہ سکولوں کو نذرِ آتش کرنے کے واقعات میں ملوث نہیں ہیں۔ انھوں نے کہا ہے کہ جن سکولوں کو نذرِ آتش کیا گیا ان میں سکیورٹی فورسز قیام پذیر ہیں، پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ اندر فورسز ہوں اور طالبان باہر سے آگ لگا کر بھاگ جائیں؟ 
	اس وقت سوال یہ پیدا ہوتا ہے اگر سوات میں وقوع پذیر ہونے والے بعض حالیہ واقعات میں طالبان ملوث نہیں ہیں تو پھر یہ تخریبی واقعات کون کرا رہا ہے؟ جب بھی مقامی طالبان اور صوبہ سرحد کی حکومت کے درمیان امن مذاکرات ہوتے ہیں تو اس دن قتل و غارت اور بم دھماکے کون کراتا ہے؟ سوات میں خفیہ ایجنسیوں کے بہت سے اہل کار موجود ہیں، وہ اس خفیہ ہاتھ کو تلاش کیوں نہیں کرتے؟ اگر سوات میں فوج کی تعیناتی قیام امن کے لیے عمل میں لائی گئی ہے تو سوات میں امن قائم کیوں نہیں ہو رہا ہے؟ سوات کوئی ایسا وسیع و عریض علاقہ نہیں ہے جہاں پاک فوج کے جوان حکومت کی عمل داری قائم نہ کر سکیں۔ یہ کوئی سرحدی علاقہ بھی نہیں ہے جہاں بیرون ملک دشمن کا ہاتھ ان معاملات میں براہِ راست ملوث ہو۔ سوات تو ایک نہایت پرامن سیاحتی علاقہ رہا ہے اور یہاں کے مکین بھی نہایت پرامن، روادار اور قانون کی پاسداری کرنے والے ہیں۔ اگر سوات میں اس وقت بد امنی پیدا ہوئی ہے تو اس کی ذمہ داری بھی سابقہ حکومت پر عائد ہوتی ہے جس نے سب کچھ دیکھتے ہوئے آنکھیں بند رکھی تھیں جس کا خمیازہ اب سوات کے لوگ بری طرح بھگت رہے ہیں۔ 
	عام لوگوں میں یہ تاثر پھیل رہا ہے کہ سوات اور صوبہ سرحد کے بعض علاقوں میں حالات کو دانستہ طور پر خراب کیا جا رہا ہے تاکہ ان علاقوں کی بدامنی اور لاقانونیت کو آڑ بنا کر نیٹو فورسز کی مداخلت کے لیے راہ ہم وار کی جا سکے۔ افغان صدر حامد کرزئی کے حالیہ بیانات اور وزیرستان پر امریکی حملے اس تاثر کو تقویت بہم پہنچا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ بعض امریکی حکام کے ان بیانات کو بھی اگر مد نظر رکھا جائے جس میں وہ کہتے ہیں کہ اسامہ بن لادن پاکستانی علاقوں میں ہیں اور امریکا میں اگر کوئی بڑا واقعہ رونما ہوا تو اس کی منصوبہ بندی بھی یہیں سے کی گئی ہو گی، تو اس سے بات مزید واضح ہو جاتی ہے۔ اس وقت بعض اعلیٰ حکومتی اہل کار یہ خدشہ بھی ظاہر کر رہے ہیں کہ طالبان پشاور کے دروازے پر دستک دے رہے ہیں۔ 
	کیا ہماری اصل مقتدر قوتوں کو ان حقائق کا علم ہے؟ کیا انھیں سوات کی سلگتی ہوئی آگ مزید علاقوں میں پھیلتی ہوئی محسوس نہیں ہوتی؟ کیا انھیں ملکی سلامتی کو لاحق خطرات کا ادراک ہے؟ کیا انھوں نے ممکنہ پیش آمدہ خطرات سے نمٹنے کے لیے کوئی سنجیدہ لائحہ عمل مرتب کیا ہے؟ یا وہ بھی اس خطرناک صورتِ حال کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑنا چاہتی ہیں؟!!!

 (28 جون 2008ء) 
٭٭٭


خودکش حملے، عوام اور ریاستی رِٹ 

	پاکستان میں جو خودکش حملے ہو رہے ہیں، ان کے بارے میں عوام میں مختلف قیاس آرائیاں پائی جاتی ہیں۔ ایک طبقے کا خیال ہے کہ یہ خودکش حملے مقامی طالبان نفاذ شریعت کے لیے کر رہے ہیں۔ ایک طبقہ یہ خیال کرتا ہے کہ ان خودکش حملوں میں بیرونی ہاتھ ملوث ہے جب کہ عوام کے ایک طبقے میں یہ خیال گردش کرتا رہتا ہے کہ ان خودکش دھماکوں میں ایجنسیوں کا ہاتھ ہے۔ ہر طبقے کے ذہن میں اپنے خیال کے لیے باقاعدہ طور پر دلائل بھی موجود ہیں اور وہ اپنے اپنے خیال کو صحیح تصور کرتے ہیں لیکن وزیر اعظم پاکستان یوسف رضا گیلانی نے اس سلسلے میں ایک اور تھیوری پیش کی ہے۔ ان کا خیال ہے کہ پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی میں ڈرگ مافیا کا ہاتھ ہے اور افغانستان میں پوست کی کاشت سے کمایا ہوا پیسہ دہشت گردوں کو مہیا کیا جا رہا ہے۔ اگر یہ حقیقت ہے تو اس کا تدارک بھی حکومت پاکستان نے کرنا ہے۔ ملک کی مغربی سرحدوں کو مکمل طور پر سیل کرنا اس کا حل ہے۔ ایک خیال یہ بھی ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کا ماسٹر مائنڈ امریکن صدر بش ہے اور اس کی ایک ارب ڈالر سالانہ کی امداد بھی دہشت گردی کو ہوا دے رہی ہے جسے پاکستان کی حکومت حلال کمائی سمجھ کر ہضم کرتی ہے اور اس کے بدلے میں امریکا کو دہشت گردی کے خلاف جاری عالمی مہم میں مد د فراہم کی جا رہی ہے۔ جس کے نتیجے میں ریاست کی بنیادیں کھوکھلی ہو چکی ہیں اور ہر روز یہ خیال راسخ ہوتا جاتا ہے کہ دوسروں کی جنگ کے لیے اپنے ملک کی سلامتی کو داؤ پر لگایا جا رہا ہے۔ ہم دیکھ بھی رہے ہیں کہ روز کوئی نہ کوئی سانحہ ایسا رونما ہوتا ہے جس سے عوام میں مقتدر قوتوں کے خلاف بد ظنی نئی نئی شکلوں میں پیدا ہو رہی ہے کیوں کہ ریاست کی رِٹ بہت لاغر ہو چکی ہے اور مختلف ریاستی ادارے اگر مکمل نہیں تو جزوی طور پر ناکامی سے دوچار ہیں۔ 
	حکومت امن وا مان کے حوالے سے بھی اپنی ریاستی رٹ بحال کرنے میں مسلسل ناکام چلی آ رہی ہے اور ریاستی رِٹ مہنگائی کے سلسلے میں بھی ناکام ہے۔ متعلقہ ریاستی ادارے اپنے فرائض کما حقہ انجام نہیں دے رہے ہیں جس کی وجہ سے ذخیرہ اندوز مارکیٹ میں اشیائے خورد و نوش کا مصنوعی بحران پیدا کر کے مہنگائی پیدا کر رہے ہیں۔ اس طرح بجلی اور گیس کے بحران کو اگر دیکھا جائے تو اس میں بھی متعلقہ محکموں کی نا اہلی اور بد انتظامی کو زیادہ عمل دخل ہے۔ روز بم دھماکوں کے ذریعے سکیورٹی اداروں کی قوت مزاحمت ختم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے جس کے نتیجے میں سکیورٹی اداروں کا مورال اگر چہ مکمل طور پر گرایا نہیں جا سکا ہے لیکن ان میں اپنے ساتھیوں کی سفاکانہ ہلاکت پر بد دلی ضرورت پھیل رہی ہے۔ اس طرح صوبہ سرحد اور سندھ کے مختلف علاقوں میں اغواء برائے تاوان کا جو سلسلہ شروع ہو چکا ہے، اس سے بھی یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ مقامی انتظامیہ تباہی سے دوچار ہو چکی ہے۔ جنرل (ر) مشرف کے نئے لوکل گورنمنٹ کے نظام نے بہت بڑا انتظامی خلا پیدا کیا ہے۔ اگر سوات اور دیگر شورش زدہ علاقوں میں پرانی انتظامیہ موجود ہوتی تو آج ہمیں یہ حالات نہ دیکھنے پڑتے۔ ڈپٹی کمشنر ایسا ضلعی بادشاہ ہوتا تھا جسے ہر معاملے کی بھنک پہلے پڑتی تھی اور وہ اس کے تدارک کے لیے فوری طور پر حرکت میں آ جاتے لیکن جنرل ریٹائرڈ مشرف نے جہاں پورے ملک کے ہر شعبے اور ادارے کو تباہی کی جانب دھکیلا ہے، وہاں مقامی حکومت کا نظام نافذ کر کے اس ملک کی ریاستی مشنری کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔ 
	جہاں تک خودکش حملوں کا تعلق ہے، سوات میں اس کا آغاز تو جامعہ حفصہ کے آپریشن کے بعد ہوا تھا لیکن عوام کا خیال ہے کہ اس کی سر پرستی اور اس کے لیے حالات سازگار بنانے میں مقامی طالبان سے زیادہ تیسرا خفیہ ہاتھ زیادہ کار فرما ہے۔ اب یہ خفیہ ہاتھ کون سا ہے، عوام کو اس کا بھی علم ہے لیکن مقتدر طبقے اس کو کیوں نظر انداز کر رہے ہیں، اس کے ڈانڈے یقیناً کسی بین الاقوامی سازش سے ملتے ہوں گے۔ اس وقت سوات میں حالات پھر بگاڑ کی جانب گام زن ہیں اور ایف ایم ریڈیو کے ذریعے پھر وہی باتیں دہرائی جا رہی ہیں، جن کی وجہ سے آج پورا سوات تباہی سے دوچار ہو چکا ہے۔ اگر غیرقانونی ایف ایم ریڈیو پر پابندی عائد کر دی جائے اور قانون کے تحت جو ایف ایم ریڈیو اپنی نشریات علاقے میں پھیلا رہے ہیں، ان کے لئے حدود مقرر کی جائیں تو اس سے بھی بعض سادہ لوح عوام جنھیں اسلام کے نام پر دھوکا دیا جاتا ہے، کو بچایا جا سکتا ہے۔ مقتدر قوتوں کو اگر ملک بچانا مقصود ہے اور وہ واقعتاً ریاست کی عمل داری قائم کرنے میں دل چسپی رکھتی ہیں تو انھیں حالات بہتر بنانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر عملی اقدامات اٹھانا ہوں گے۔ ان کا مطمح نظر ملک بچانا ہو گا۔ پاک افغان سرحد پر واقع علاقوں میں بد امنی کے بہت سے محرکات ہو سکتے ہیں لیکن ملک کے بندوبستی علاقوں میں عسکریت پسندی کو لگام ڈالنا ہو گی کہ ان علاقوں میں اس کا کوئی حقیقی جواز نظر نہیں آتا۔ اگر کسی کا خیال یہ ہے کہ وہ عارضی طور پر حالات خراب کر کے بیرونی دنیا کو دھوکا دے سکے گا اور مالی مفادات سمیٹنے کے بعد حالات کو کنٹرول میں لانا آسان ہے تو اسے یہ خیالِ خام دماغ سے نکالنا چاہئے۔ اس وقت عالمی حالات ایسے ہیں جس میں ہمیں اپنے ملک کا وجود بچانا ہو گا۔ ورنہ بعض عالمی طاقتیں پاکستان کو دنیا کے نقشے سے مٹانے کے درپے ہیں اور دوسری طرف اگر ہم بلی چوہے کے کھیل کو طوالت دیں گے تو اس کے نتائج ملک کی یک جہتی اور سلامتی کے لیے سنگین ہوں گے۔ 
	عوام موجودہ حکومت کی طرف امید بھری نظروں سے دیکھ رہے ہیں۔ وہ توقع کر رہے ہیں کہ عوام کی موجودہ منتخب جمہوری حکومت تمام معاملات اپنے ہاتھوں میں لے گی اور جہاں کہیں خرابی ہے، اسے دور کیا جائے گا اور جہاں کہیں غیر متعلقہ قوتیں ریاستی امور میں بے جا مداخلت کر رہی ہیں، انھیں اپنی حرکات سے باز رکھا جائے گا اور ملک کے تمام شعبوں میں ریاستی رٹ قائم کر کے ریاست پر عوام کا اعتماد بحال کر دیا جائے گا۔ اس وقت ایک فیصلہ کن اقدام کی ضرورت ہے ورنہ دھیرے دھیرے اس ملک کی کشتی ڈوبتی نظر آ رہی ہے !!!
 (10جولائی 2008ء) 
٭٭٭


سوات آپریشن کا دوسرا مرحلہ، کیا حقیقی امن قائم ہو سکے گا؟

	صوبہ سرحد میں عوامی نیشنل پارٹی کی حکومت قائم ہونے کے بعد یہ امید پیدا ہو چلی تھی کہ اب صوبہ بھر میں مخدوش حالات کا بہ غور جائزہ لیا جائے گا اور اس وقت سرحد میں عسکریت پسندی اور طالبانائزیشن کا جو عمل جاری ہے، اس کے تدارک کے لیے ایک قابل عمل لائحہ عمل وضع کیا جائے گا۔ صوبہ سرحد کی حکومت نے فیصلہ کیا کہ طالبان کے ساتھ تمام معاملات پر امن مذاکرات کے ذریعے نمٹا دئیے جائیں گے اور اس سلسلہ میں تحریک نفاذ شریعتِ محمدی کے سربراہ مولانا صوفی محمد کی رہائی کے بعد سوات کے طالبان کے ساتھ مذاکرات کے عمل کا آغاز کیا گیا اور ان مذاکرات کے کئی دور کامیابی سے چلے لیکن ان مذاکرات کے باوجود معاملات پرامن ذرائع سے طے نہ ہو سکے اور بیچ میں کوئی خفیہ ہاتھ ایسا مسلسل مداخلت کرتا رہا جس کی وجہ سے سوات کے طالبان اور صوبہ سرحد کی حکومت کے درمیان غلط فہمیاں پیدا ہوتی رہیں۔ اس وقت صورتِ حال یہ ہے کہ پاک فوج نے سوات میں طالبان کے خلاف دو بارہ آپریشن شروع کر دیا ہے۔ مقامی طالبان نے بھی امن معاہدہ توڑتے ہوئے اپنی کار روائیوں کا آغاز کر دیا ہے۔ کبل، مٹہ اور اس کے قرب و جوار کے علاقوں میں طالبان اور سکیورٹی فورسز کے درمیان شدید جھڑپیں ہو چکی ہیں اور ان جھڑپوں کا سلسلہ تا حال جاری ہے۔ طالبان نے کار روائی کرتے ہوئے دیولئی میں پولیس چیک پوسٹ کو گھیرے میں لے کر 36 پولیس و ایف سی اہل کاروں کو یرغمال بنا لیا ہے اور انھیں نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا ہے۔ فورسز نے سرچ آپریشن کے ذریعے متعدد عسکریت پسندوں کو گرفتار کر لیا ہے۔ متاثرہ علاقوں میں عسکریت پسندوں اور سکیورٹی فورسز کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ جاری ہے۔ طالبان کے خلاف بعض علاقوں میں گن شپ ہیلی کاپٹروں نے بھی گولہ باری کی۔ اب تک کی اطلاعات کے مطابق سکیورٹی فورسز نے 45 طالبان کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے جب کہ طالبان نے 30 سکیورٹی اہل کاروں کے ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے لیکن غیر جانب دار حلقوں سے ان متضاد دعووں کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔ آپریشن راہِ حق کا دوسرا مرحلہ شروع ہوتے ہی سوات بھر میں رات کے علاوہ دن کا کرفیو بھی نافذ کر دیا گیا ہے جس کی وجہ سے عام لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ 
	آپریشن راہِ حق کے پہلے مرحلہ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ سوات سے عسکریت پسندی کا خاتمہ کر دیا گیا ہے اور آپریشن کے بیشتر مقاصد حاصل کر لیے گئے ہیں۔ حکومت نے بھی متعدد بار آپریشن کی کامیابی کے جھوٹے وعدے کیے تھے لیکن معلوم نہیں کیوں عسکریت پسندی کی بنیادوں کو دانستہ طور پر ختم نہیں کیا گیا تھا اور سوات کا امن تباہ کرنے والے عوامل کو نئی توانائی دینے کی دانستہ کوشش کی گئی۔ آپریشن کے دوران بارہ سو سے زائد مشتبہ عسکریت پسندوں کو گرفتار کر لیا گیا تھا لیکن ان میں زیادہ تر لوگوں کو کئی کئی مہینے قید میں رکھنے کے بعد بے گناہ قرار دے کر رہا کر دیا گیا تھا اور صرف 74 افراد کو عسکریت پسندی کے جرم میں قید رکھا گیا جن میں 16 افراد کو بعد میں صوبائی حکومت کے ساتھ امن معاہدہ کے بعد رہا کر دیا گیا۔ اے این پی کی صوبائی حکومت بار بار اس عزم کا اظہار کرتی رہی کہ وہ پرامن ذرائع سے حالات کنٹرول کرے گی اور سوات میں دو بارہ فوجی آپریشن نہیں کرنے دے گی لیکن اس وقت یوں محسوس ہوتا ہے جیسے اے این پی کی حکومت بھی بے بس ہو چکی ہے اور و ہ اس آپریشن کو رکوانے میں کوئی کردار ادا نہیں کر سکتی۔ سوات کے لوگ اپنے علاقے میں امن چاہتے ہیں اور اس کے لیے اگر حکومت سمجھتی ہے کہ امن معاہدوں سے مکمل امن قائم ہو سکتا ہے تو عوام اس کا خیر مقدم کریں گے لیکن اگر حکومت سمجھتی ہے کہ پرامن ذرائع سے پائیدار امن کا قیام ممکن نہیں تو اہل سوات فوجی آپریشن کے بھی حق میں ہیں لیکن اہل سوات دیکھ چکے ہیں کہ نا اہل مقتدر طبقے نہ امن معاہدوں کے ذریعے علاقے میں امن قائم کر سکے ہیں اور نہ ہی فوجی آپریشن کے ذریعے۔ راہِ حق آپریشن کا پہلا دور عوام دیکھ چکے ہیں۔ جس میں زیادہ تر معصوم اور بے گناہ شہریوں کو جانی و مالی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا تھا اور عسکریت پسندی ختم کرنے میں اس آپریشن نے وہ کردار ادا نہیں کیا تھا جو اسے ادا کرنا چاہئے تھا بلکہ آپریشن کی وجہ سے علاقے کے لوگوں کو رات کے مسلسل کرفیو اور جگہ جگہ چیک پوسٹوں کی شکل میں مستقل مصیبت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ 
	راہِ حق آپریشن کے پہلے مرحلے کے بعد اب تک رات کے کرفیو کی خلاف ورزی پر متعدد بے گناہ شہریوں کو گولیوں کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ جب کہ مٹہ، کبل اور دیگر کئی علاقوں میں اس دوران بے گناہ افراد کا قتل عام جاری رہا۔ فوجی حکام کا کہنا ہے کہ جگہ جگہ چیک پوسٹوں کا قیام عوام کی حفاظت کے لیے عمل میں لایا گیا ہے لیکن ان چیک پوسٹوں کی موجودگی کے باوجود عام شہری محفوظ نہیں۔ ان چیک پوسٹوں کی موجودگی کے باوجود بم دھماکے ہوتے رہے ہیں۔ ان ہی چیک پوسٹوں کی موجودگی میں ملم جبہ کا ہوٹل جلایا گیا اور چیئرلفٹس کو نقصان پہنچایا گیا۔ ان چیک پوسٹوں کی موجودگی کے باوجود سوات بھر میں اب تک 34 گرلز سکول جلائے گئے ہیں۔ ان چیک پوسٹوں کے باوجود عام شہریوں کا احساسِ عدم تحفظ اور خوف دور نہیں کیا جا سکا ہے بلکہ ان چیک پوسٹوں میں معصوم اور بے گناہ شہریوں کو بے جا تنگ کیا جاتا رہا اور ایسا بھی ہوا ہے کہ رات کے کرفیو کے دوران ان چیک پوسٹوں میں مریضوں کو ہسپتال لے جانے کی اجازت نہیں دی گئی جس کی وجہ سے کئی مریض چیک پوسٹوں پر ہی دَم توڑتے رہے ہیں۔ گزشتہ آپریشن کا اگر جائزہ لیا جائے تو اس میں عام بے گناہ شہریوں کا نقصان زیادہ جب کہ عسکریت پسندوں کا نقصان کم ہوا ہے۔ 
	موجودہ آپریشن کی شروعات بھی عام آدمی کے لیے کسی طور خوش گوار نہیں۔ گزشتہ روز فوج کی طرف سے گولہ باری کے دوران دیولئی میں ایک گھر پر مارٹر گولہ گرنے سے چار بچوں اور ایک خاتون سمیت ایک ہی خاندان کے سات افراد ہلاک ہو چکے ہیں جب کہ کانجو میں ایک بچہ سرپر گولہ لگنے سے جاں بحق ہوا ہے۔ اسی روز چارباغ میں ایک خاتون بھی گولہ لگنے سے ہلاک ہوئی ہے۔ اس طرح گزشتہ روز کی گولہ باری سے 9 مزید معصوم شہری جاں بحق ہو چکے ہیں۔ درجنوں مکانات تباہ اور 30 سے زائد عام شہریوں کے زخمی ہونے کی بھی مصدقہ اطلاعات ہیں۔ سمجھ میں یہ بات نہیں آ رہی کہ فوجی آپریشن طالبان کے خلاف کیا جا رہا ہے یا اس کے ذریعے معصوم اور پرامن شہریوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ جمعہ کے دن کرفیو میں نرمی کے دوران سیکڑوں گھرانوں نے متاثرہ علاقوں سے ہجرت کی اور مزید لوگ بھی محفوظ علاقوں کی طرف نقل مکانی کر ر ہے ہیں۔ اس وقت مٹہ ہسپتال بند ہے حالاں کہ عام شہری بڑی تعداد میں زخمی ہو چکے ہیں اور انھیں فوری طبی امداد کی ضرورت ہے۔ سکول اور سرکاری دفاتر بند ہیں جب کہ کرفیو کی وجہ سے متاثرہ علاقوں میں جسم و جاں کا رشتہ برقرار رکھنے والی روزمرہ اشیاء کی شدید قلت ہے۔ کئی علاقوں میں بجلی بند ہے اور ٹیلی  فون لائنیں بھی ڈیڈ ہیں۔ بجلی کی بندش کی وجہ سے متاثرہ علاقوں کے مکینوں کو پانی کی قلت کا سامنا ہے۔ مختلف گاؤں کو مٹہ سے ملانے والے تین رابطہ پلوں کو دھماکوں سے اڑایا گیا ہے جس کی وجہ سے عوام کو محفوظ مقامات تک نقل مکانی میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ سوات میں اس وقت صورتِ حال کچھ یوں ہے جیسے کسی دشمن ملک کی فوج نے حملہ کیا ہو اور وہ اندھی گولہ باری سے شہری علاقوں کو بھی نشانہ بنانے سے دریغ نہیں کر رہی ہو۔ 
	"کافروں" کے مہذب ملکوں میں اگر کوئی ایک بے گناہ شہری بھی ہلاک ہو جائے تو پورے ملک میں اس کی گونج محسوس ہوتی ہے۔ پوری حکومتی مشینری حرکت میں آ جاتی ہے لیکن یہاں تو اندھیر مچی ہوئی ہے۔ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کو بے دردی سے ہلاک کر رہا ہے اور جن کو محافظ ہونے کا زعم ہے وہ گناہ گار اور بے گناہ کا کوئی امتیاز نہیں رکھ رہا ہے۔ فوج کی طرف سے کی گئی گولہ باری میں ایک ہی گھر کے سات افراد جاں بحق ہوئے لیکن نہ کسی سیاست دان نے متاثرہ خاندان سے کوئی لفظی ہمدردی کی اور نہ ہی فوج کی کسی مقتدر شخصیت کی طرف سے کوئی بیان سامنے آیا۔ جب کہ عوامی نیشنل پارٹی کی صوبائی حکومت کے زعماء بھیگی بلی بنے ہوئے ہیں۔ یوں معلوم ہوتا ہے جیسے یہ سات انسان نہ ہوں بلکہ کیڑے مکوڑے ہوں جنھیں مار دیا گیا ہو۔ 
	فوج اس ملک کا واحد محافظ ادارہ ہے اور عوام ان سے یہ توقع رکھتے ہیں کہ وہ ہر حال میں عوام کے جان و مال کے تحفظ کا مقدس فریضہ انجام دے گا۔ اگر یہ آپریشن امن دشمن قوتوں کے خلاف ہے اور فوجی آپریشن کا مقصد عوام کو امن و تحفظ دینا ہے تو پھر ان میں عوام کو کیوں نشانہ بنایا جا رہا ہے؟ یقیناً ایسا دانستہ طور پر نہیں کیا جا رہا ہو گا لیکن فوج کو شہری آبادی اور طالبان کے ٹھکانوں میں فرق تو روا رکھنا چاہئے اور شدید طور پر متاثرہ علاقوں کے مکینوں کو فوج کی نگرانی میں نقل مکانی کی سہولت دی جانی چاہئے۔ 
	اہل سوات مسلسل اذیت میں ہیں اور ان کے ساتھ ایسا سلوک روا رکھا جا رہا ہے جیسے یہ اس ملک کے پرامن شہری نہ ہوں یا علاقے میں پھیلی عسکریت پسندی میں ان کا کوئی براہِ راست ہاتھ ہو۔ یہ سب کو معلوم ہے کہ سوات میں طالبائزیشن گزشتہ حکومت کی ناک تلے پروان چڑھی ہے اور اسے پھلنے پھولنے کا دانستہ طور پر خوب موقع فراہم کیا جاتا رہا ہے اور اب اس کے خاتمہ کے نام پر کرفیو، چیک پوسٹوں اور بھاری گولہ باری کے ذریعے عام شہریوں کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔ ایک سال کے طویل عرصہ کے دوران بھی مٹھی بھر لوگوں پر قابو نہیں پایا جا سکا اور حکومت کبھی امن معاہدوں کو نسخۂ کیمیا قرار دیتی ہے اور کبھی عسکریت پسندی کے خاتمے تک آپریشن جاری رکھنے کا عندیہ دیتی ہے۔ ہمارے سیاست دان مکمل طور پر ناکام ہو چکے ہیں۔ ان میں حکومت کرنے کی کوئی اہلیت موجود نہیں۔ نئی حکومت نے اب تک عوام کی مشکلات ختم کرنے میں کوئی کردار ادا نہیں کیا بلکہ اس حکومت نے ملک اور عوام کے لیے مزید مشکلات اور مسائل پیدا کئے ہیں۔ وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے دورۂ امریکا سے قبل حکمران اتحاد کے اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ قبائلی علاقوں میں قیام امن کے لیے فوجی آپریشن کی بجائے مذاکرات کا راستہ اختیار کیا جائے گا۔ اس اجلاس میں آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی اور دیگر حساس اداروں کے ارکان بھی موجود تھے۔ اس لیے توقع کی جا رہی تھی کہ جن علاقوں میں پہلے سے آپریشن جاری ہے و ہاں بھی اصلاحِ احوال کے لیے نہ صرف آپریشن روک دیا جائے گا بلکہ تیز رفتار اور با اعتماد مذاکرات کے ذریعے بدامنی اور بے چینی پر قابو پایا جائے گا لیکن اس کے برعکس سوات میں دو بارہ آپریشن کا آغاز کر دیا گیا حالاں کہ امن معاہدہ کے بعد سوات میں حالات قدرے پرسکون ہو چکے تھے اور عوام میں یہ امید پیدا ہو چلی تھی کہ صوبہ سرحد کی حکومت مذاکرات کے ذریعے سوات میں پائیدار امن قائم کرنے میں کامیاب ہو سکے گی لیکن معلوم نہیں حکومت ایک دن ایک فیصلہ کرتی ہے اور دوسرے دن اپنے فیصلے کے خلاف کوئی دوسرا متضاد عملی قدم اٹھاتی ہے۔ ملک کے مفاد اور عوام کی سلامتی کی کسی کو فکر نہیں اور مقتدر قوتوں کے جی میں جو آتا ہے کر گزرتی ہیں۔ ان سطور کے ذریعے ہم اصل مقتدر قوتوں سے سوات اور اہل سوات کے امن و سلامتی کی بھیک مانگتے ہیں اور ان سے استدعا کرتے ہیں کہ خدا کے لیے سواتیوں پر رحم کریں۔ انھیں اپنے علاقے میں امن سے رہنے دیں۔ سوات میں مستقل اور پائیدار قیام امن کا جو طریقہ آپ بہتر سمجھیں اس کے مطابق حقیقی اقدامات اٹھائیں۔ اگر پرامن ذرائع سے حالات بہتر بنانے ہیں تو امن مذاکرات کو منطقی انجام تک پہنچانے سے پہلے انھیں سبوتاژ نہ ہونے دیں اور اگر فوجی آپریشن ہی اس کا حل ہے تو اس کے ذریعے بدامنی پیدا کرنے والے اصل کرداروں کو ختم کرنے میں کوئی اَمر مانع نہیں ہونا چاہئے۔ عوام سوات میں قیامِ امن کے لیے فیصلہ کن اقدامات چاہتے ہیں۔ گومگو کی کیفیت ختم کر دیجئے۔ مخلوقِ خدا کو مزید اذیت نہ دیں !!!

 (2 اگست 2008ء) 
٭٭٭


سوات … مزید کتنے سکول نذرِ آتش ہوں گے؟

	سوات میں لڑکیوں کا ایک اور سکول جلایا گیا۔ سوات میں روزانہ کوئی نہ کوئی گرلز سکول جلایا جاتا ہے اور مقامی انتظامیہ اور آپریشن میں مصروف پاک فوج کے اعلیٰ حکام تماشا دیکھنے میں محو ہیں۔ سوات، جہاں گزشتہ ایک سال سے حالات نہایت مخدوش ہیں اور مسلسل کرفیو نے جہاں زندگی کے دوسرے شعبوں کو شدید طور پر متاثر کیا ہے، وہاں طالبان کی سرگرمیوں، فوجی آپریشن اور کرفیو کی وجہ سے تعلیم کا شعبہ بھی شدید طور پر متاثر ہو رہا ہے۔ آپریشن کی وجہ سے کئی کئی مہینوں تک سرکاری اور نجی تعلیمی ادارے بند ہوتے رہے ہیں اور بعض سرکاری سکولوں میں پاک فوج کے جوان ٹھہرائے جانے کی وجہ سے وہاں تعلیم و تدریس کا سلسلہ رُکا ہوا ہے جس کی وجہ سے لاکھوں بچوں کا تعلیمی مستقبل داؤ پر لگا ہوا ہے لیکن نئی نسل کے اس نقصان پر نہ حکومت کو کوئی پرواہ ہے، نہ پاک فوج کے اعلیٰ حکام کو اور نہ ہی طالبان اپنے ہی علاقے کے بچوں کے تعلیمی نقصان پر کوئی ندامت محسوس کرتے دکھائے دیتے ہیں۔ 
	اس وقت پورے سوات میں تین ہزار کے قریب سکول موجود ہیں جن میں چھ سو سکول لڑکیوں کے ہیں۔ ان میں اَسی ہزار لڑکیاں تعلیم حاصل کرتی ہیں لیکن جب سے سوات میں طالبان نے اپنی سرگرمیاں شروع کی ہیں، اس وقت سے وقفے وقفے کے ساتھ بچیوں کے سکول جلائے جار ہیں۔ پہلے پہل طالبان کا کہنا تھا کہ سکول جلانے کے واقعات سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے لیکن ابھی حال ہی میں ان کا موقف سامنے آیا ہے کہ یہ سوات میں ان کے خلاف فوجی آپریشن کا ردِ عمل ہے۔ اب تک سوات میں ساٹھ سے زائد سکول جلائے جا چکے ہیں اور جو باقی بچے ہیں، اپنی باری کا انتظار کر رہے ہیں۔ 
	طالبان کہتے ہیں کہ وہ ملاکنڈ ڈویژن میں شرعی نظام کے نفاذ کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں لیکن وہ اس حدیث رسولؐ کو نظر انداز کر رہے ہیں جس کے تحت "علم کا حصول مرد اور عورت دونوں پر یکساں فرض ہے۔" سوات کے طالبان کے امیر مولانا فضل اللہ اپنے ریڈیائی خطاب میں کہتے رہتے ہیں کہ سکول جلانا تو بہت معمولی بات ہے، یہ تو دو بارہ بن جائیں گے لیکن یہ فوجی ایکشن کے خلاف ہمارا ردِ عمل ہے۔ کوئی ان سے پوچھے کہ سوات کے بچے اور بچیاں تو ان کے اپنے ہیں۔ اگر وہ سکول جلانے کے واقعات کی حوصلہ افزائی کرتے رہیں گے تو اس کا نقصان نہ فوج کو ہو گا اور نہ ہی حکومت کو بلکہ اس کا بنیادی نقصان سوات اور اہل سوات کو ہی ہو گا۔ کیا وہ دانستہ طور پر سوات کو نقصان پہچانے کا سوچ سکتے ہیں؟ کیا وہ سوات کے بچوں اور بچیوں کو علم کی دولت سے دور رکھنا پسند کریں گے؟ کیا وہ حدیثِ رسولؐ کے خلاف کسی عمل کو جائز تسلیم کر سکتے ہیں؟ ہر گز نہیں۔ وہ اگر اعلائے کلمۃ الحق کے داعی ہیں۔ وہ اگر اسلامی نظام اور شریعت کے نفاذ کے علم بردار ہیں تو پھر ان کے پیروکار کیوں سکولوں کو جلانا درست سمجھتے ہیں؟ اگر سوات کے بچے اور بچیاں علم کے زیور سے آراستہ ہوں گے اور وہ کل کے اچھے مسلمان اور مہذب انسان بنیں گے تو اس کا فائدہ ہمیں ہی کو ہو گا لیکن خدا نا خواستہ اگر وہ علم کی دولت سے محروم ہوں گے اور وہ جہل کے اندھیروں میں ڈوبے ہوں تو اس کا نقصان بھی سوات اور اہل سوات کا ہو گا۔ 
	رسولِ اکرمؐ تو علم کو اتنی اہمیت اور فضیلت دیتے تھے کہ اگر کسی جنگ میں غیر مسلم قیدیوں کو ان کے سامنے لایا جاتا اور وہ اپنی رہائی کی رقم ادا کرنے سے قاصر ہوتے تو رسول مہربانؐ ان سے دریافت کرتے اگر تم میں سے کوئی پڑھا سکتا ہے تو وہ اپنی رہائی کے عوض ایک مقررہ وقت تک مسلمانوں کو پڑھا کر اپنا جزیہ پورا کر سکتا ہے۔ علم کی اہمیت کے حوالے سے رسولِ مقبولؐ کی یہ حدیث بھی ہماری آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہے جس میں انھوں نے فرمایا کہ "علم حاصل کرو، خواہ اس کے لیے تمھیں چین کیوں نہ جانا پڑے۔" اس وقت چین میں کون سے مسلمان بستے تھے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ علم کہیں سے بھی حاصل کیا جا سکتا ہے۔ اس میں مسلم اور غیر مسلم کا کوئی فرق روا نہیں رکھا گیا ہے۔ 
	سوات میں سکول جلائے جانے کے واقعات جس تسلسل سے ہو رہے ہیں، اس سے یوں معلوم ہوتا ہے جیسے سوات کو ایک سازش کے تحت تعلیمی میدان میں پیچھے کی طرف دھکیلنے کی شعوری کوشش کی جا رہی ہو۔ یہ واقعات زیادہ تر بالائی سوات کے علاقوں میں ہو رہے ہیں لیکن اب سوات کے مرکزی شہر مینگورہ تک بھی یہ مکروہ عمل آ پہنچا ہے۔ گزشتہ دنوں ایک نجی تعلیمی ادارے کے گرلز سیکشن کو جلا دیا گیا اور اس کے چند دن بعد مینگورہ کے سب سے گنجان آباد علاقے طاہر آباد میں لڑکیوں کا ایک سکول جلایا گیا۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ اس علاقہ کے گرد مختلف مقامات پر فوج کی چیک پوسٹیں واقع ہیں لیکن ان کی موجودگی کے باوجود یہ سکول رات کو اس وقت نذرِ آتش کیا گیا جس کے دوران سخت کرفیو نافذ ہوتا ہے اور کوئی پر امن شہری اس وقت گھر سے نکلنے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کرفیو کے باوجود اگر سماج دشمن اور علم دشمن عناصر دندنانے پھرتے ہیں تو پھر اس کرفیو کا فائدہ کیا ہے؟ دوسرے افسوس کی بات یہ ہے کہ جن علاقوں میں سکول جلائے جاتے ہیں، وہاں کے لوگ بھی اس ناپسندیدہ عمل کے خلاف کوئی احتجاج نہیں کرتے۔ جس سے سکول جلانے والوں کے حوصلے بلند ہو رہے ہیں۔ 
	سوات میں جاری شورش کی اصل ذمہ داری سابق صوبہ سرحد ایم ایم اے کی حکومت پر عائد ہوتی ہے جن کے دورِ حکومت میں حالات خراب ہو گئے تھے اور اس حکومت نے حالات کنٹرول کرنے کے سلسلے میں مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کیا تھا۔ اس کے بعد جب اے این پی کی حکومت بر سرِ اقتدار آ گئی تو اس نے سوات اور صوبے کے دیگر شورش زدہ علاقوں میں حالات بہتر بنانے کے سلسلے میں پر امن مذاکرات کا راستہ اختیار کیا لیکن یہ حکومت اتنی بھی با اختیار ثابت نہ ہو سکی کہ وہ اپنے اس عزم کو عملی جامہ پہنانے کے سلسلے میں سوات میں دو بارہ فوجی آپریشن رُکوانے میں کوئی کردار ادا کرتی۔ ان کی امن کی خواہش کو نظر انداز کرتے ہوئے اصل مقتدر قوتوں نے سوات میں دوبارہ فوجی آپریشن کا فیصلہ کیا اور آج اے این پی کے رہنما خاموشی سے اہل سوات کی تباہی کا تماشا دیکھ رہے ہیں۔ ان سے اتنا بھی نہیں ہو سکتا کہ وہ سوات میں سکولوں کے جلائے جانے کا عمل رکوانے میں کوئی موثر کردار ادا کر سکیں۔ اب تک سوات میں فوجی آپریشن کے دوسرے فیز میں دو درجن سے زائد بے گناہ شہری لقمہ اجل بن چکے ہیں لیکن نہ اے این پی کے مرکزی رہنماؤں کی طرف سے متاثرہ خاندانوں کے ساتھ ہمدردی کا کوئی اظہار کیا گیا اور نہ ہی سوات کے عوام کے ووٹوں سے منتخب ہونے والے ایم پی ایز اور ایم این ایز کے طرف سے کوئی مذمتی بیان سامنے آ سکا۔ کیا اہل سوات نے اپنے عوامی نمائندے اسمبلیوں میں اس لیے بھیجے ہیں کہ وہ وزارتوں کے مزے لیں اور سوات کے عوام کے مینڈیٹ کے بل پر سرکاری مراعات سے لطف اندوز ہوں۔ یہ وقت ان کے امتحان اور کارکردگی جانچنے کا ہے۔ اگر اس وقت وہ اہل سوات کے زخموں پر مرہم نہیں رکھ سکیں گے تو پھر وہ کس وقت عوام کے دکھ و غم دور کرنے میں کوئی کردار ادا کریں گے۔ 
	اس وقت سوات کی سول سوسائٹی بھی بے حسی کا غیر معمولی مظاہرہ کر رہی ہے۔ جو سکول جلائے جاتے ہیں ان میں ہمارے ہی بچے تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ باہر سے کوئی اپنے بچوں کو ان تعلیمی اداروں میں تو نہیں بھیج رہا ہے۔ سوات میں حالات کی خرابی سے جو نقصانات ہو رہے ہیں اس کا براہِ راست اثر بھی ہم ہی پر پڑ رہا ہے۔ اس لیے اگر اس موقع پر ہم خاموش رہیں اور بے حسی کا مظاہرہ کریں تو سوات ہر روز نت نئی تباہی اور بربادی سے دو چار ہوتا رہے گا۔ کم سے کم سول سوسائٹی ان نقصانات پر اپنا ردِ عمل تو ظاہر کر سکتی ہے، وہ پرامن احتجاج کے ذریعے اپنے احساسات حکومت، فوج اور طالبان تک پہنچا تو سکتی ہے لیکن اس وقت تو سوات میں نہ ہی تاجر برادری کا کوئی نمائندہ سوات کی معیشت کی تباہی پر کوئی احتجاج کر رہا ہے اور نہ ہی مقامی سیاست دان ان حالات میں اپنا کوئی کردار ادا کرتے نظر آتے ہیں۔ کیا ہمارا معاشرہ مُردہ ہو چکا ہے؟ کیا ہم زندوں کے قبرستان کے مکین بن چکے ہیں؟ اس تباہی و بربادی پر کوئی مقامی سیاسی رہنما کوئی سماجی کارکن یا تاجر برادری کا کوئی نمائندہ آواز کیوں بلند نہیں کر سکتا؟ کیا ہم اپنی اجتماعی تباہی و بربادی کا تماشا دیکھتے رہیں گے؟ اور اس بات پر اطمینان محسوس کرتے رہیں گے کہ آگ ہمارے گھروں تک ابھی نہیں پہنچی ہے۔ ابھی اس آگ میں دوسرے جل رہے ہیں لیکن یاد رکھئے یہ آگ بڑی تیزی سے ہمارے گھروں کی جانب چلی آ رہی ہے اور ہم تماشا دیکھنے والے بھی اس آگ کا ایندھن بننے والے ہیں۔ ہمیں اپنے او پر ظلم سہنے کی بجائے اس کے خلاف آواز بلند کرنا ہو گی ور نہ تباہی ہمارے گھروں پر بھی دستک دے رہی ہے۔ ہے کوئی جاننے والا، سمجھنے والا؟؟؟

 (7اگست 2008ء) 
٭٭٭


امریکا کی نئی حکمت عملی اور قومی سلامتی کے تقاضے 

	رمضان المبارک کے مہینے میں اب تک نیٹو افواج نے پاکستان کے قبائلی علاقوں پر چار حملے کئے ہیں جن میں بہت سے بے گناہ افراد جاں بحق ہوئے جن میں متعدد بچے اور خواتین بھی شامل ہیں۔ ان تازہ حملوں کے خلاف عوامی اور حکومتی سطح پر سخت ردِ عمل سامنے آیا۔ سینیٹ، قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں ان حملوں کے خلاف مذمتی قرار دادیں منظور کی گئیں اور وزارتِ خارجہ کی طرف سے باقاعدہ طور پر امریکی سفیر کو احتجاجی مراسلہ حوالہ کیا گیا۔ گزشتہ دنوں امریکی صدر بش نے کہا کہ پاکستان عراق اور افغانستان کی طرح دہشت گردی کے خلاف اہم ترین میدانِ جنگ ہے۔ اسلام آباد انتہاء پسندی کے خلاف جنگ میں اپنی ذمہ داریاں پوری کرے۔ نیشنل ڈیفنس یونی ورسٹی سے صدر بش نے اپنے خطاب کے دوران مزید کہا کہ پاکستانی حکمران انتہاء پسندی کے خلاف جنگ میں اپنی ذمہ داریاں پوری کریں۔ صدر بش کا کہنا ہے کہ پاکستان، افغانستان اور عراق امریکا کے لیے یکساں طور پر اہم چیلنجز کی حیثیت رکھتے ہیں۔ تینو ممالک میں انتہاء پسندوں کی پر تشدد کار روائیاں بڑھی ہیں اور دہشت گرد اپنے نظریات عوام پر مسلط کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ صدر بش نے کہا کہ دہشت گرد کراچی اور اسلام آباد میں لوگوں کو قتل کر رہے ہیں اور پاکستان میں دہشت گردی کرنے والے امریکا اور یورپ پر حملوں کی تیاری کر رہے ہیں۔ امریکی صدر نے کہا کہ افغانستان میں تشدد میں اضافہ ہو رہا ہے اس لیے نومبر میں تازہ دم میرین بٹالین کو عراق کی بجائے اب افغانستان میں بھیجا جائے گا۔ جہاں وہ عسکریت پسندوں کے خلاف کار روائی میں حصہ لے گی۔ امریکی صدر نے کہا کہ جنوری میں مزید ایک بریگیڈ فوج افغانستان بھیجی جائے گی۔ 
	اس سے اگلے روز امریکی فوج کے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف ایڈمرل مائیک مولن نے کانگریس کمیٹی کے سامنے بیان دیتے ہوئے کہا کہ وہ افغانستان میں اپنی جنگی حکمت عملی تبدیل کر رہے ہیں جس میں حملوں کا دائرہ پاکستان تک بڑھا دیا جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ ہم افغانستان میں جنگ ہار رہے ہیں لیکن یہ جیتی بھی جا سکتی ہے۔ ایڈمرل مائیک مولن کے اس بیان کے دو گھنٹوں کے بعد چیف آف آرمی سٹاف جنرل پرویز کیانی نے اس پر ردِ عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ کسی بیرونی قوت کو ملک کے اندر کار روائی کی اجازت نہیں دی جائے گی اور ملک کی سرحدوں کا ہر قیمت پر دفاع کیا جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ اتحادی فوج سے پاکستان کی حدود میں کار روائی کا کوئی معاہدہ نہیں۔ اتحادی افواج کے ساتھ تعاون کے لیے قواعد و ضوابط طے شدہ ہیں۔ چیف آف آرمی سٹاف جنرل پرویز کیانی نے انگور اَڈہ پر امریکی حملہ کی بھی مذمت کی۔ انھوں نے 27اگست کو یو ایس ایس ابراہم لنکن پر ملاقات کا بھی حوالہ دیا جس میں انھوں نے امریکا کے اعلیٰ فوجی حکام کو حالات کی پیچیدگی اور سنگینی سے آگاہ کر دیا تھا اور کہا تھا کہ کہ یہ معاہدہ گہری سوجھ بوجھ اور جامع حل کے لیے زیادہ تحمل کا متقاضی ہے۔ ملاقات میں اس بات پر زور دیا گیا تھا کہ موجودہ صورت حال میں صرف فوجی ایکشن سے مسئلہ حل نہیں ہو سکتا۔ فوجی پہلو کے ساتھ سیاسی مفاہمت کی کوششوں کی ضرورت ہے تاکہ عوام کے دل اور دماغ جیتے جا سکیں۔ 
	پاکستانی فوج کے سربراہ نے پہلی مرتبہ امریکی کار روائیوں پر لب کشائی کی ہے۔ جس کی بڑی اہمیت ہے۔ اس سے قبل وزیر دفاع نے کئی بار ایسے بیانات دیئے جس سے کم زوری کا اظہار ہوتا رہا۔ پاکستان کے وزیر اعظم نے بھی کہا ہے کہ امریکا وزیرستان میں بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنانے سے باز رہے۔ اس طرح وزیر اعظم کے مشیر رحمان ملک نے بھی متعدد بار کہا کہ پاکستانی علاقوں پر غیر ملکی حملے برداشت نہیں کیے جائیں گے لیکن ان بیانات کے باوجود نیٹو افواج کے حملوں کا سلسلہ جاری رہا۔ 
	دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں پاکستان فرنٹ لائن اسٹیٹ کا کردار ادا کر رہا ہے لیکن پاکستان کے قبائلی علاقے اس کے باوجود نیٹو اور امریکی افواج کے حملوں کا نشانہ بنتے چلے آ رہے ہیں۔ 18جون 2004ء سے لے کر 3ستمبر 2008ء تک امریکی اور اس کے اتحادیوں نے جنرل (ر) پرویز مشرف کے دور میں 36مرتبہ جب کہ موجودہ حکومت کے دوران 22مرتبہ پاکستانی حدود کی خلاف ورزیاں کیں۔ اس دوران 25سے زائد حملے کئے گئے جن میں مجموعی طور پر 279افراد جاں بحق ہوئے جن میں 13فوجی اہل کار بھی شامل ہیں۔ 3 ستمبر کو پہلی مرتبہ جنوبی وزیرستان کے علاقے انگور اڈہ میں کئے گئے حملے میں اتحادی افواج پاکستانی علاقے میں اتریں اور گھروں میں گھس کر 20کے قریب افراد کو مار ڈالا جب کہ متعدد افراد کو اپنے ساتھ لے جانے میں کامیاب ہوئیں جو پاکستان کے اقتدارِ اعلیٰ پر براہِ راست حملہ ہے۔ 
	پاکستان نے امریکی جنگ میں اپنی استعداد سے بڑھ کر مد د کی ہے لیکن اسے اس کا صلہ اس کی سرحدی حدود کی خلاف ورزیوں، میزائل حملوں اور بے گناہ افراد کی ہلاکت کی صورت میں دیا جا رہا ہے۔ ہماری فوجی قیادت نے اب تک امریکی اور نیٹو فورسز کے حملوں پر خاموشی اختیار کر رکھی تھی جسے چیف آف آرمی سٹاف نے پہلی مرتبہ توڑا۔ انھوں نے امریکا کو بڑا واضح پیغام دیا ہے اور اب بھی اگر امریکا اپنی جارحیت سے باز نہیں آیا تو یقیناً اس کے نتائج کسی بھی صورت میں امریکا کی عالمی دہشت گردی کی نام نہاد جنگ کے حق میں بہتر نہیں نکلیں گے۔ امریکی حملوں پر عوام میں بھی شدید ردِ عمل پایا جاتا ہے اور اگر موجودہ جمہوری حکومت نے اس بارے میں اپنی واضح پالیسی کا اعلان نہیں کیا اور حکومت کی طرف سے امریکا کو واضح طور پر متنبہ نہیں کیا گیا تو اس سے عوام میں موجودہ حکومت کے خلاف منفی خیالات جنم لیں گے۔ سول حکومت پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ سفارتی سطح پر ایسے معاملات میں اہم کردار ادا کرے اور جارح قوتوں کو ب اور کرائے کہ سرحد کی خلاف ورزیاں اور بے گناہ شہریوں کو میزائل حملوں کا نشانہ بنا کر وہ مسلمہ بین الاقوامی قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزیاں کر رہی ہیں۔ ان قوتوں کو پاکستان کی سرحدی سلامتی اور اس کے اقتدارِ اعلیٰ کو پامال کرنے سے سختی سے منع کیا جائے ورنہ ایسی کار روائیوں سے عسکریت پسندی کو فروغ ملے گا اور پاکستانی عوام میں امریکہ کے خلاف نفرت میں اضافہ ہو گا۔ 
	موجودہ جمہوری حکومت اور اعلیٰ فوجی قیادت کے دوران ہم آہنگی اور کوارڈی نیشن وقت کی اہم ضرورت ہے۔ جس طرح امریکا نے اپنی جنگی حکمت عملی میں تبدیلی کی ہے، اس طرح پاکستان کو بھی اپنی پالیسیوں میں نئے حالات کے مطابق بنیادی تبدیلیاں لانی چاہئیں اور امریکا اور اس کے اتحادیوں کی طرف سے سرحدی خلاف ورزیوں پر جوابی کار روائی پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہئے۔ اگر ابتداء میں امریکی اور نیٹو فورسز کی سرحدی خلاف ورزیوں پر سخت ردِ عمل کا اظہار کیا جاتا تو آج ہمیں یہ دن نہ دیکھنا پڑتا۔ حکومت کو آئندہ اپنی سرحدوں کی پامالی پر سخت اور شدید ردِ عمل کا مظاہرہ کرنا چاہئے ورنہ امریکی حملے رکیں گے نہیں، ان میں اضافہ ہوتا جائے گا اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان میں شدت آتی جائے گی کیوں کہ امریکا عراق میں جنگ ہار چکا ہے اور وہ افغانستان میں بھی جنگ ہار رہا ہے۔ 4 نومبر کو امریکا میں عام انتخابات منعقد ہو رہے ہیں اور صدر بش چاہتے ہیں کہ افغانستان میں ہاری ہوئی جنگ کی تمام تر ذمہ داری پاکستان پر ڈال دیں اور اس کے لیے وہ پاکستان کے خلاف کوئی بڑی کار روائی بھی کر سکتا ہے کیوں کہ بش کی ناکام پالیسیوں کی وجہ سے امریکی عوام میں ان کے خلاف ردِ عمل پایا جاتا ہے اور آئندہ عام انتخابات میں حکمران ری پبلکن پارٹی کی حیثیت بہت کمزور نظر آ رہی ہے جب کہ مخالف پارٹی ڈیمو کریٹک کی جیت کے واضح آثار نظر آ رہے ہیں۔ اس لیے صدر بش اپنی گرتی ہوئی سیاسی ساکھ کو بہتر بنانے کے لیے پاکستان میں بڑی کار روائی کرنا چاہیں گے جس میں وہ القاعدہ کے چوٹی کے رہنماؤں یعنی اسامہ بن لادن اور ایمن الظواہری کی گرفتاری یا ہلاکت کے لیے فیصلہ کن اقدامات کریں گے۔ 
	عسکری اور موجودہ جمہوری قیادت کو نئی امریکی حکمت عملی کے بعد قومی سلامتی کے تقاضوں کے مطابق ایسی حکمت عملی وضع کرنی ہو گی جس میں وہ نہ صرف پاکستان کو قربانی کا بکرا بننے سے بچا سکیں بلکہ امریکی اور نیٹو افواج کی کار روائیوں سے اپنی سرزمین کو بھی محفوظ بنا سکیں۔ 

 (13ستمبر 2008ء) 
٭٭٭


امریکی حملے:کیا ہمارے حکمرانوں میں غیرت و حمیت ہے؟

	ہم ایک ایسے ملک کے باشندے ہیں جس کے حکم ران ملک کی سرحدوں کی خلاف ورزی، امریکا کے میزائل حملوں اور وطن عزیز کے بے گناہ شہریوں کی سفاکانہ ہلاکت پر محض بے جان احتجاج پر اکتفا کر کے اپنا فرض پورا کرتے ہیں۔ انھیں نہ ملک کے اقتدار اعلیٰ کی پامالی کی پرواہ ہے اور نہ ہی ملک کی آزادی و خودمختاری ختم ہونے کی فکر۔ ہمارے موجودہ حکم ران خود تو بزدلی کا مظاہرہ کر رہے ہیں لیکن وہ اپنے قول و فعل کے ذریعے قوم کو بھی بزدل بنانا چاہتے ہیں۔ عوام کے منتخب وزیر اعظم نے واشگاف الفاظ میں کہا ہے کہ ہم امریکا سے جنگ نہیں کر سکتے۔ یہ اس ملک کے وزیر اعظم کا حال ہے جو دنیا کی ساتویں اور عالم اسلام کی واحد ایٹمی طاقت ہے۔ ہماری فوج سات لاکھ افراد پر مشتمل ہے اور یہ دنیا کی منظم اور اعلیٰ پیشہ ورانہ مہارت کی حامل فوج میں سے ایک سمجھی جاتی ہے۔ ہماری خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی عالمی سطح پر غیر معمولی شہرت رکھتی ہے جس کے فرائض میں ملک کی سلامتی کے لیے پیش آنے والے خطرات کو دور کرنا شامل ہے۔ 
	دنیا کا چھوٹے سے چھوٹا اور کم زور ملک بھی اپنی خودمختاری اور اپنی فضائی و زمینی سرحدوں کی حفاظت کے بارے میں حساس ہوتا ہے۔ لاطینی امریکا کا ایک چھوٹا اور غریب ملک بولیو یا اعلان کرتا ہے کہ ہمارے دور افتادہ دو صوبوں میں انتشار کی ذمہ داری مبینہ طور پر بولیویا میں تعینات امریکی سفیر پر عائد ہوتی ہے، اس لیے امریکی سفیر کو ناپسندیدہ شخصیت قرار دے کر ملک سے نکال دینے کے احکامات صادر کئے جاتے ہیں۔ اس طرح وینزویلا کے صدر ہیوگو شاویز ایک عوامی جلسے سے خطاب کے دوران اپنی حکومت کے تختہ الٹنے کی سازش میں امریکی سفیر کی شرکت پر اسے ناپسندیدہ شخصیت قرار دے کر اپنا ملک چھوڑنے کا حکم صادر کرتے ہیں اور واشنگٹن میں تعینات اپنا سفیر واپس بلانے کا اعلان کرتے ہیں۔ ایران کے صدر احمدی نژاد امریکا کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اسے چیلنج کرتے ہیں اور امریکا کے لے پالک اسرائیل کو صفحۂ ہستی سے مٹانے کی خواہش کا اظہار کرتے ہیں لیکن امریکا اس کا بال تک بیکا نہیں کر سکتا۔ 
	تاریخ شاہد ہے کہ امریکا نے ہمیشہ کم زور ملکوں کے خلاف جارحیت کا ارتکاب کیا ہے لیکن جس ملک نے اسے للکارا ہے، امریکا اس کے خلاف کچھ نہیں کر سکا ہے۔ لبنان میں امریکی شہ پر جب اسرائیل نے حملہ کیا تو حزب اللہ کے چند ہزار سرفروشوں نے اسے بدترین شکست سے دوچار کر دیا اور مشرقی وسطیٰ کا نقشہ تبدیل کرنے کی امریکی خواہش تشنۂ تعبیر رہی۔ 
	دوسری طرف جب ہم اپنی موجودہ جمہوری حکومت کے صدر اور وزیر اعظم کا رویہ دیکھتے ہیں تو امریکی حملوں پر ان کا دو ٹوک موقف تک سامنے نہیں آتا۔ ہمارے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کا یہ بیان کہ ہم امریکا سے نہیں لڑ سکتے، نہایت افسوس ناک، بزدلانہ اور لڑے بغیر دشمن کے آگے سرنڈر ہونے کے مترادف ہے۔ اگر ہم دفاعی جنگ بھی نہیں لڑ سکتے اور اپنی سرحدوں کی کم سے کم حفاظت بھی نہیں کر سکتے تو اتنی بڑی فوج رکھنے اور ایٹمی صلاحیت حاصل کرنے کا کیا فائدہ؟ عوام ایسی فوج کے لیے اپنے خون پسینے کی کمائی کیوں مختص کریں جو ملک و قوم کے تحفظ کی کم سے کم ذمے داری بھی پوری نہیں کر سکتی۔ امریکی جہاز ہماری سرحدوں کے اندر گھس کر بے گناہ شہریوں کو میزائلوں کا نشانہ بنا کر بہ حفاظت واپس چلے جاتے ہیں اور پیچھے بچوں، عورتوں اور بے گناہ افراد کی سوختہ لاشیں چھوڑ جاتے ہیں لیکن ہم اس کھلی جارحیت پر ٹس سے مس نہیں ہوتے۔ 
	پاک فوج کے سربراہ جنرل کیانی نے تو اپنی پالیسی دو ٹوک انداز میں واضح کر دی ہے لیکن جمہوری حکومت نے اب تک امریکی جارحیت کے خلاف کوئی عملی لائحہ عمل مرتب کرنے کا اعلان نہیں کیا ہے۔ نو منتخب صدر آصف علی زرداری اپنا پہلا سرکاری دورہ چین کا کرنا چاہتے تھے لیکن جب برطانیہ کی طرف سے حکم آیا تو وہ برطانیہ سدھار گئے اور اس کے بعد وہ امریکی یاترا کریں گے۔ حالاں کہ اس وقت ضرورت اس اَمر کی تھی کہ وہ احتجاجاً برطانیہ اور امریکا کا دورہ کرنے سے انکار کرتے کہ امریکا اور برطانیہ نے باقاعدہ طور پر پاکستان کے سرحدی علاقوں کے اندر فوجی کار روائیوں کا مشترکہ اعلان کیا ہے اور قومی غیرت و حمیت کا تقاضا یہ تھا کہ صدر صاحب دورۂ برطانیہ کی دعوت مسترد کرتے اور ملک کے اندر رہتے ہوئے سرحدوں پر منڈلاتے خطرات کا مقابلہ کرنے کی تیاری کرتے۔ 
	ہمارے وزیر اعظم میں اگر اتنی بھی جرأت نہیں کہ وہ امریکا سے موثر احتجاج کرتے اور بزدلانہ بیان جاری کرنے کی بجائے امریکی حملوں کے خلاف پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلانے کا اعلان کرتے اور مزید حملوں کی صورت میں امریکا سے سفارتی تعلقات منقطع کرنے کی دھمکی دیتے لیکن اس وقت امریکی اور نیٹو افواج کو اسلحہ، تیل، اشیائے خورد  و نوش اور دیگر ضروری سامان پاکستان کے کوئٹہ اور خیبر ایجنسی کے راستوں سے فراہم کیا جا رہا ہے، اگر ہم اس کے عوض حاصل ہونے والی امریکی خیرات کو لات مارتے ہوئے یہ ترسیل بند کر دیتے تو امریکا کے ہوش ٹھکانے آ جاتے لیکن افسوس ہمارے حکم ران قومی غیرت و حمیت، عزت نفس و جرأت جیسے اوصاف سے یک سر عاری ہیں اور انھیں ملک کی آزادی و خودمختاری، ریاست کے اقتدارِ اعلیٰ اور ملکی سلامتی کی کوئی پرواہ نہیں۔	
 (16ستمبر 2008ء) 
٭٭٭


سوات کا نوحہ

	سوات میں فوجی آپریشن دوسرے سال میں داخل ہو چکا ہے۔ آپریشن کے پہلے فیز میں اہل سوات سے وعدہ کیا گیا تھا کہ دسمبر 2007ء تک سوات میں مکمل امن قائم کیا جائے گا اور وادیِ سوات سیاحوں کے لیے کھول دی جائے گی لیکن وہ وعدہ ہی کیا جو وفا ہو لیکن یہ وعدہ تو ایک ذمہ دار فوجی آفیسر کی طرف سے تھا جس کی تکمیل پر عوام کو پختہ یقین تھا لیکن اس وقت سوات میں فوجی آپریشن کا دوسرا فیز جاری ہے اور حالات ہیں کہ بگڑتے ہی چلے جا رہے ہیں۔ اس بار فوجی آپریشن میں غیر معمولی تیزی لائی گئی ہے اور توپوں کے دہانے ایسے وا کئے گئے ہیں کہ توپ کا گولہ کبھی کسی گھر میں گرتا ہے جس سے بے گناہ اور معصوم شہری، جس میں بچے اور خواتین کی تعداد زیادہ ہوتی ہے، اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں اور کبھی توپ کے گولے پہاڑوں کو نشانہ بناتے ہیں لیکن مجال ہے کہ توپ کا کوئی گولہ کسی عسکریت پسند کا رُخ کرے۔ رات کے طویل ترین کرفیو میں جب کوئی بے گناہ اور معصوم شہری غلطی سے یا کسی ایمرجنسی کی صورت میں گھر سے باہر قدم رکھتا ہے تو سکیورٹی فورسز کے اہل کار ہمیشہ ان کے سر کا نشانہ لیتے ہیں تاکہ معصوم شہریوں کو مرنے میں آسانی رہے۔ رات کے کرفیو کے بہت سے فائدے ہیں جن میں زیادہ تر فوائد سے شرپسند عناصر ہی مستفید ہوتے ہیں۔ وہ رات کے کرفیو میں آزادانہ نقل و حمل کرتے ہیں اور وہ کم از کم دو درجن کی تعداد میں سڑکوں پر گشت کرتے نظر آتے ہیں۔ جب ان کا جی چاہتا ہے وہ گرڈ سٹیشن کو بارود سے اڑا دیتے ہیں اور جب ان کے جی میں آتا ہے تو گیس پلانٹ پر ہلہ بول دیتے ہیں اور پھر بڑے اطمینان سے اپنی کمین گاہوں میں بخیر و عافیت پہنچ جاتے ہیں۔ صبح جب اہلیانِ شہر کو ان واردات کا علم ہوتا ہے تو وہ پریشان ہو جاتے ہیں کہ یا خدا یہ کیا ماجرا ہے۔ رات کے کرفیو میں تو پرامن شہری ایمرجنسی کی صورت میں ہسپتال تک نہیں جا سکتے لیکن شرپسند عناصر اس کے دوران دندناتے پھرتے ہیں اور شہریوں کو بجلی اور گیس سے محروم کر دیتے ہیں۔ بعض شرپسند عناصر ڈاکہ ڈالنے کی بھی کامیاب مشق کرتے ہیں۔ وہ کسی بھی امن پسند شہری کے گھر کا انتخاب کرتے ہیں۔ گھر کے تمام افراد کو پستول کی نوک پر رکھتے ہیں اور گھر سے ان کا جو جی چاہتا ہے، لوٹ لیتے ہیں لیکن مقامی پولیس اور فوج کے جری جوان ان شرپسند عناصر کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتے۔ 
	ہماری جری افواج نے شدید گولہ باری، جیٹ جہازوں سے بم باری، گن شپ ہیلی کاپٹروں سے شدید شیلنگ اور میزائل برسا کر کوزہ بانڈئی چودہ پندرہ دنوں میں "فتح" کیا تھا اور وہاں جو 25 عسکریت پسند موجود تھے، انھیں مبینہ طور پر محفوظ راستہ دے کر بحفاظت نکلنے دیا گیا۔ مقامی باشندوں کے مطابق بعض مقامات پر عسکریت پسند اب بھی کھلے عام پھرتے ہیں۔ اوپر سے گن شپ ہیلی کاپٹر پروازیں کرتے رہتے ہیں لیکن وہ شیلنگ پہاڑوں کی چوٹیوں پر کرتے ہیں۔ جس سے عام لوگوں میں یہ تاثر روز بروز پختہ ہو رہا ہے کہ فوج سوات میں جس مقصد کے لیے بھیجی گئی تھی، وہ اپنا کام کماحقہ انجام دے رہی ہے یعنی عسکریت پسندوں کو تحفظ دینا اور امریکہ کو یہ ب اور کرانا کہ فوج آپ کے احکامات کے عین مطابق عسکریت پسندوں کے خلاف کار روائیوں میں مصروف ہے اور ہر روز درجنوں عسکریت پسندوں کو تہہ تیغ کیا جا رہا ہے تاکہ امریکہ یہ نہ کہہ سکے اس کے دیئے گئے ڈالر اپنا اثر نہیں دکھا رہے ہیں۔ 
	حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کی فوج کی ایک عالمی ساکھ تھی۔ عوام اس کو بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھتے تھے لیکن جب سے فوج نے بلوچستان، وزیرستان، باجوڑ اور سوات وغیرہ میں اپنے ہی عوام کو فتح کرنا شروع کر دیا ہے، عوام میں اس کے بارے میں شدید تحفظات پیدا ہو رہے ہیں۔ عوام اور فوج کے درمیان خلیج گہری ہوتی جا رہی ہے۔ ہمارے اعلیٰ فوجی حکام کو اس بات پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہئے کہ پاکستان کی بہادر افواج اپنی جنگ لڑ رہی ہے یا امریکہ کی۔ اسے اپنے ملک کی سلامتی کا خیال رکھنا چاہئے یا امریکہ کی خوش نودی کا۔ اب بھی اگر ہماری داخلہ اور خارجہ پالیسیوں میں تبدیلی نہیں لائی گئی تو فوج کا مورال بہت گر جائے گا اور یہ اَمر فوج، ملک اور عوام تینوں کے لیے تباہی و بربادی کا باعث ہو گا۔ 

 (25ستمبر 2008ء) 
٭٭٭


سوات کے منتخب عوامی نمائندوں کے نام

	آپ یقیناً سوات کے نازک اور گھمبیر حالات سے بخوبی واقف ہوں گے۔ اس وقت سوات بد امنی کی آگ میں بری طرح جھلس رہا ہے۔ عوام ایک طرف اگر عسکریت پسندوں کے ہاتھوں غیر معمولی مشکلات سے دوچار ہیں تو دوسری جانب سوات میں امن و امان کی بحالی کے نام پر پاک فوج کے جوان بے گناہ اور پُر امن شہریوں پر بارود و آہن کی آگ برسانے میں مصروف ہیں۔ 
	سوات میں جب عسکریت پسندی کے منحوس سائے پھیلنا شروع ہو گئے تو اس وقت ملک کے سیاہ و سپید کے مالک جنرل (ر) پرویز مشرف تھے جب کہ صوبہ سرحد میں ایم ایم اے کی حکومت تھی۔ پرویز مشرف اور ایم ایم اے کا ایجنڈا ایک تھا۔ اس لیے مرکز اور صوبے کے باہمی اشتراک سے سوات میں دانستہ طور پر ایسے حالات پیدا کئے گئے جس کے نتیجے میں سوات میں قیام امن کے لیے پاک فوج بھجوانا پڑی۔ فوجی آپریشن کے پہلے فیز کے آغاز و انجام اور اس کے اثرات سے آپ لوگ بخوبی واقف ہیں۔ اس لیے اس کی تفصیل میں جانا مناسب نہیں۔ 
	جب گزشتہ عام انتخابات منعقد ہوئے تو اس میں سوات سے منتخب ہونے والے عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی اور قومی اسمبلی کے اراکین کو ووٹ محض اس بنیاد پر پڑے کہ آپ لوگوں نے عوام سے وعدہ کیا تھا کہ منتخب ہونے کے بعد آپ سوات میں پائیدار امن قائم کریں گے اور فوجی آپریشن اور بد امنی کے نتیجے میں عوامی نقصانات کا ازالہ کریں گے۔ آپ کی پارٹی برسر اقتدار آئی تو اس نے قیام امن کے لیے مذاکرات کا آغاز کیا لیکن ابھی مذاکرات منطقی انجام تک پہنچے بھی نہ تھے کہ اس میں رخنے ڈالے جانے لگے۔ سوچے سمجھے منصوبے کے مطابق خفیہ ہاتھ نے مذاکرات ناکام بنا دئیے کیوں کہ امن خفیہ ہاتھ کو سوٹ نہیں کرتا۔ آپ لوگوں نے بھی اس خفیہ ہاتھ کے آگے ہتھیار ڈال دئیے۔ اگرچہ یہ خفیہ ہاتھ اب اتنا خفیہ نہیں رہا ہے لیکن اگر آپ لوگ مزاحمت کرتے اور اپنے موقف پر سختی سے ڈٹ جاتے کہ سوات، باجوڑ اور پختونوں کے دوسرے علاقوں میں مزید بداَمنی پھیلانے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور اس سلسلے میں آپ لوگ عوام سے رجوع کرتے تو یقیناً خفیہ ہاتھ بے بس ہو جاتا اور اگر وہ کوئی تخریبی کار روائی کرتا تو آپ لوگ اسے عوام کے سامنے برملا ظاہر کرتے لیکن جب سوات میں فوجی آپریشن کا دوسرا فیز شروع ہوا تو آپ سب صوبائی اور قومی اسمبلیوں کے اراکین نے سوات سے باہر رہنے کا فیصلہ کیا اور سوات اور اس کے مکینوں کو فوج، عسکریت پسندوں اور ناگفتہ بہ حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا۔ آپ سب نے اسمبلیوں کے فلور پر مضبوطی کے ساتھ اپنے علاقے اور عوام کا مقدمہ پیش نہیں کیا۔ اس وقت سوات کے منتخب ہونے والے صوبائی اسمبلی کے اراکین میں سے دو کے پاس صوبے کی اہم وزارتیں ہیں۔ ان میں ایک ایم پی اے عوامی نیشنل پارٹی کی پارلیمانی کمیٹی کے ممبر بھی ہیں اور پارٹی کے اندر غیر معمولی اثر و رسوخ رکھتے ہیں۔ موجودہ وزیر اعلیٰ کے ساتھ ان کے خصوصی تعلقات ہیں۔ اس کے باوجود انھوں نے سوات کے مسئلہ اور اس کے عوام کی مشکلات ختم کرنے کے لیے کوئی ٹھوس اور سنجیدہ لائحہ عمل طے نہیں کیا۔ آپ لوگوں نے نہ ہی عسکریت پسندوں کی کار روائیوں کی مذمت کی اور نہ ہی فوج کی طرف سے عوام پر گولیاں چلانے، انھیں میزائلوں کا نشانہ بنانے، ان پر جیٹ طیاروں سے بم برسانے، ان پر مارٹر گولوں کی بارش کرانے اور ان کے گھروں کو ملیامیٹ کرنے پر کوئی احتجاج کیا۔ سوات میں فوج اس لیے بھجوائی گئی تھی کہ وہ علاقے میں پائیدار امن قائم کرے گی، عسکریت پسندوں کی سرکوبی کرے گی لیکن جب سے سوات میں فوج آئی ہے، سوات کے حالات مزید خراب ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ بھاری ہتھیاروں کی خوف ناک آوازیں دن کے وقت کم اور رات کو زیادہ گرجتی ہیں جس کی وجہ سے عام شہریوں کا امن و سکون تباہ ہو چکا ہے اور ہر شخص ذہنی مریض بن چکا ہے۔ بچے رات کو خوف و دہشت سے چیختے چلاتے اور روتے ہیں۔ مہینے میں چند دن ہی سکول کھلے رہتے ہیں۔ بچوں کا قیمتی وقت برباد ہو رہا ہے۔ بچیاں تعلیم سے محروم ہو چکی ہیں کہ ان کے سو سے زائد سکول تباہ کر دئیے گئے ہیں۔ تاریخ کا طویل ترین کرفیو نافذ ہے اور اس کی خلاف ورزی پر پُر امن اور بے گناہ شہریوں کو گولیوں کا نشانہ بنا دیا جاتا ہے۔ 
	آپ لوگوں نے ان خاندانوں سے بھی ہمدردی کا اظہار نہیں کیا جن کے سارے افراد مارٹر گولوں کا نشانہ بن چکے ہیں۔ ایک ہی خاندان کے درجن بھر افراد بھی توپ کے گولوں کا نشانہ بن چکے ہیں۔ توپ کے گولوں سے معصوم اور کم سِن بچوں کے سر کچل دئیے گئے ہیں لیکن بے بس اور بے گناہ عوام پر کوئی ترس نہیں کھایا جاتا۔ رات کے کرفیو کے دوران گرڈسٹیشن اور سوئی گیس پلانٹ اڑا دیا جاتا ہے لیکن امن کے دعوے داروں کو اپنی بے حسی اور نا اہلی پر ذرا بھی شرم محسوس نہیں ہوتی۔ ان کے خیال میں تو عوام "بلڈی سویلینز" کا درجہ رکھتے ہیں۔ گویا عوام ہی بدامنی اور لاقانونیت کا باعث ہیں۔ 
	اس وقت سوات میں بجلی نہیں ہے۔ مینگورہ میں سوئی گیس کی سپلائی بھی بند ہے اور عوام پانی کی بوند بوند کے لیے ترس رہے ہیں۔ رمضان المبارک کا مہینہ سوات کے عوام کے لیے لامحدود مشکلات اور مصائب لے کر آیا ہے۔ فوجی زعماء نے اس مقدس مہینے کے احترام کو بھی ملحوظ نہیں رکھا ہے بلکہ رمضان کے دوران عام دنوں سے زیادہ عوام کو تنگ کیاگیا ہے۔ 
	آپ میں سے اگر کچھ اراکین اسمبلی آج وزارت کی کرسی پر جلوہ افروز ہیں تو اس میں آپ کی ذاتی لیاقت اور خوبیوں سے زیادہ عوام کا ہاتھ ہے۔ آج آپ صوبائی اسمبلی کے سات اور قومی اسمبلی کے دو اراکین نے عوام سے منہ موڑا ہے اور ان کے مسائل و مشکلات میں ان کی کوئی مد د نہیں کی ہے تو کل آپ لوگ دوبارہ ان عوام کی چوکھٹ پر کھڑے ہوں گے۔ آپ کو یقیناً اندازہ ہو گا کہ آج عوام دس سال پرانے والے عوام نہیں ہیں۔ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا نے عوام کو بہت زیادہ سوجھ بوجھ اور سیاسی شعور دیا ہے۔ وہ اچھے برے میں آپ سے زیادہ تمیز کر سکتے ہیں۔ وہ اگر آپ کو عزت دے سکتے ہیں تو اسے چھیننے کا حق بھی رکھتے ہیں۔ اس وقت سوات کے لوگ اپنے تمام قومی و صوبائی اسمبلیوں کے ممبران کو نفرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ عوامی نیشنل پارٹی ان کے نزدیک ایک ناپسندیدہ پارٹی بن چکی ہے۔ کیوں کہ عوام سمجھتے ہیں کہ اچھے اور مخلص رہنماؤں کا پتہ مصیبت کے وقت لگتا ہے لیکن مصیبت کی گھڑی میں سوات کے ایم پی ایز اور ایم این ایز نے عوام کو اکیلا چھوڑ دیا ہے۔ آپ لوگ اس بودی دلیل سے نہ اپنا ضمیر مطمئن کر سکتے ہیں اور نہ ہی عوام کو تسلی دے سکتے ہیں کہ آپ سوات کے مسائل حل کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ عوام کو آپ اور آپ کی پارٹیوں کی طرف سے کوئی مثبت اقدام عملاً نظر نہیں آ رہا ہے۔ 
	آپ لوگوں سے تو اتنا بھی نہیں ہو سکا کہ گرڈ سٹیشن تباہ ہونے کے بعد آپ سوات کو بجلی کی فراہمی کے لیے ہنگامی بنیادوں پر عارضی بندوبست کرتے۔ آپ سے تو اتنا بھی نہیں ہو سکا کہ صوبائی حکومت کے خصوصی فنڈ سے مینگورہ اور سوات کے دیگر علاقوں کے لیے بڑے جنریٹر کا بندوبست کرتے جن کے ذریعے کم سے کم پانی کے ٹیوب ویل چلائے جا سکتے۔ قومی خزانہ پر پہلا حق عوام کا ہے اگر مصیبت کے وقت ان کا پیسہ ان کے کام نہ آئے تو اس کا کیا فائدہ؟ آپ لوگ اپنے لیے تو بڑی بڑی مراعات حاصل کرنے میں کوئی ندامت محسوس نہیں کرتے لیکن جب عوام کسی ناگہانی مصیبت میں گرفتار ہو جاتے ہیں تو ان کے لیے چند لاکھ روپے کی رقم بھی ہنگامی بنیادوں پر مخصوص نہیں کی جاتی۔ ہمارے منتخب عوامی نمائندے ہمیشہ آزمائش کے وقت دغا دے جاتے ہیں۔ ہمارا کوئی والی وارث نہیں۔ عسکریت پسندوں کے ستم بھی ہم سہتے ہیں اور فوج کا ظلم اور جبر بھی ہماری تقدیر کا حصہ بن چکا ہے۔ 
	اس وقت پورا سوات آگ میں جل رہا ہے۔ آپ لوگوں کے ووٹر چاروں طرف سے مصیبتوں میں گھرے ہوئے ہیں لیکن آپ سب موت کے خوف سے پشاور اور اسلام آباد میں مقیم ہیں۔ اگر آپ عوام کے حقیقی نمائندے ہوتے، ان کے رہبر و رہنما ہوتے تو آپ سوات اور اہل سوات کو اکیلا نہ چھوڑتے۔ اگر آپ اپنے علاقے اور عوام سے مخلص ہوتے تو اس خوف کے عالم میں بھی آپ پشاور اور اسلام آباد میں رہ کر اپنے علاقے اور لوگوں کے لیے بہت کچھ کر سکتے تھے لیکن افسوس عوام بھول چکے ہیں کہ ان کا کوئی ایم این اے بھی ہے ان کے ایم پی ایز بھی کوئی وجود رکھتے ہیں۔ اس وقت سوات کی 99 فیصد نمائندگی عوامی نیشنل پارٹی کے پاس ہے یعنی سوات کی صوبائی اسمبلی کی سات اور قومی اسمبلی کی ایک سیٹ عوامی نیشنل پارٹی کے پاس ہے لیکن سوات اور اہل سوات کے لیے آپ لوگوں کی کارکردگی منفی صفر کے مترادف ہے۔ آپ میں سے پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر کامیاب ہونے والے ایک ایم این اے بھی سوات سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس وقت مرکزی حکومت ان کی پارٹی کے پاس ہے لیکن پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے ایم این اے نے بھی سوات میں قیامِ امن کے لیے کوئی کردار ادا نہیں کیا، اہل سوات کی نظر میں ان کی کارکردگی بھی قابل مذمت ہے۔ ان کی پارٹی کے برسراقتدار ہوتے ہوئے وہ بھی سوات کے حالات بہتر بنانے میں ناکام رہے ہیں۔ 
	ہم اہل سوات نے آپ لوگوں کو ووٹ دیا ہے۔ آپ لوگوں نے ہماری نمائندگی کا حق ادا کرنے کا حلف اٹھایا ہے۔ ہمیں حق ہے کہ ہم آپ سے باز پرس کریں۔ آپ کو اپنے مسائل اور مشکلات سے آگاہ کریں۔ اگر آپ ہمارا یہ حق تسلیم نہیں کرتے تو آپ لوگ فی الفور اسمبلیوں سے استعفیٰ دے دیں تاکہ ہم اہل نمائندے اسمبلی میں بھیجیں۔ آپ اور آپ کی پارٹیوں کا فرض ہے کہ اہل سوات کو مٹھی بھر عسکریت پسندوں سے نجات دلائیں۔ فوج ہمارا مسئلہ حل نہیں کر سکتی۔ وہ کسی مخصوص عالمی ایجنڈے پر عمل پیرا ہے اور وہ ہمارے لیے مزید مسائل پیدا کر رہی ہے۔ اگر کسی ریاست میں اتنی بھی طاقت نہیں کہ وہ ایک سال میں ایک چھوٹے سے علاقے میں مٹھی بھر شرپسندوں کی سرکوبی نہ کر سکے تو وہ اپنے ہونے کا جواز کھو بیٹھتی ہے۔ 
	آپ سب ایم پی ایز اور ایم این ایز کا فرض بنتا ہے کہ آپ سوات میں پائیدار بنیادوں پر قیام امن کے لیے دن رات کوشش کریں اور اپنی سرگرمیوں سے اہل سوات کو وقتا ً فوقتاً  آگاہ کرتے رہیں۔ آپ لوگوں نے تو اخباری بیانات کے ذریعے بھی اپنی موجودگی کا احساس ہمیں نہیں دلایا ہے۔ آپ لوگوں نے تو اہل سوات کے دکھوں میں ان کے ساتھ اخباری بیان کے ذریعے بھی شرکت نہیں کی ہے۔ آپ اسمبلی میں کس منہ سے یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ آپ سوات کے عوام کی نمائندگی کرتے ہیں۔ 
	اس وقت سوات کا نازک مسئلہ فوری جنگ بندی اور قیامِ امن کا ہے۔ سوات کے مسئلے کا حل فوجی آپریشن کی بجائے پرامن ذرائع سے تلاش کرنے کا ہے۔ آپ لوگ اگر اس مسئلہ کے حل کے لیے فوری طور پر اکٹھے ہو کر متحرک ہو سکیں اور سوات کا مسئلہ صوبائی اور قومی اسمبلی کے فلور پر بار بار اٹھانا شروع کر دیں تو ہم سمجھیں گے کہ آپ لوگ واقعی سوات سے ہیں اور اہل سوات کی نمائندگی کا کم سے کم حق ادا کر سکتے ہیں۔ ورنہ اہل سوات تو ویسے بھی یہ سمجھتے ہیں کہ ان کا کوئی والی وارث نہیں اور جس کا جس طرح بھی جی چاہتا ہے سوات اور اہل سوات پر بے دردی سے ستم ڈھاتا ہے۔ 

 ( 26 ستمبر 2008ء) 
٭٭٭


ہم کیسے مسلمان ہیں؟

	میں سوچ رہا ہوں کہ رمضان المبارک جیسے رحمتوں اور سعادتوں کے مہینے میں ہم امن و سکون اور اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے کیوں محروم رہے؟ اسی مہینے میں ہم پر آفات اور مصیبتیں مسلسل کیوں نازل رہیں؟ میں جتنا سوچتا گیا، میرا ذہن ماؤف ہوتا چلا گیا اور میں اس نتیجے پر پہنچ گیا کہ ہم دعویٰ تو مسلمان ہونے کا کرتے ہیں لیکن ہمارے اعمال "کفار" سے بدتر ہیں۔ نہ ہم صحیح انسان ہیں اور نہ ہی حقیقی معنوں میں پیغمبرِ امن حضرت محمد ﷺ کے سچے پیروکار ہیں۔ ہم معمولی معمولی باتوں پر ایک دوسرے سے لڑتے جھگڑتے ہیں اور غصے میں آ کر ایک دوسرے کے گلے کاٹنے سے بھی دریغ نہیں کرتے۔ نماز، روزے کا خصوصی اہتمام کرتے ہیں لیکن معاملات اور حقوق العباد میں ہم غفلت و کوتاہی کے مرتکب ہوتے ہیں۔ ہمارا مذہب اسلام جو ہمیں رواداری اور امن کا درس دیتا ہے۔ جس کی تعلیمات میں عفو و درگزر کو خصوصی اہمیت حاصل ہے۔ جس نے ایک بے گناہ انسان کے قتل کو پوری انسانیت کے قتل کے مترادف قرار دیا ہے۔ جس نے انسان تو انسان جانوروں کے ساتھ بھی صلۂ رحمی کا درس دیا ہے۔ جس نے علم کی فضیلت پر غیر معمولی زور دیا ہے اور حصولِ علم کو مَرد و زن دونوں پر یکساں فرض کر دیا ہے لیکن بطور مسلمان ہم کیا کر رہے ہیں اور مذہب کے نام پر کس قسم کی حرکتیں کر رہے ہیں، یہ ہم سب بخوبی جانتے ہیں۔ 
	رمضان المبارک کا مہینہ ابھی شروع بھی نہیں ہوتا کہ ہم "مسلمان" اپنے "مسلمان بھائیوں" کو کند چھری سے ذبح کرنے کی تیاریاں شروع کر دیتے ہیں۔ مارکیٹ میں اشیائے خوردو نوش کی مصنوعی قلت پیدا کی جاتی ہے اور ہر چیز کے دام بڑھانے میں لگ جاتے ہیں۔ چاول، گھی، دال، مصالحہ جات، چائے، چینی، آٹا، شربت، آلو، پیاز، ٹماٹر اور دیگر سبزیوں سمیت ہر چیز کے نرخ خود ساختہ طور پر بڑھ جاتے ہیں۔ قصاب گوشت کے نرخ بڑھا دیتے ہیں اور قیمہ میں ہر چیز ملانا شروع کر دیتے ہیں تاکہ اس مقدس اور بابرکت مہینے میں زیادہ سے زیادہ رقم کما سکیں، اپنے مسلمان بھائیوں کو زیادہ سے زیادہ لوٹ سکیں۔ 
	ایک طرف تو رمضان کے مقدس مہینے میں ہم ناجائز منافع کمانے میں دل و جان سے مصروف رہتے ہیں اور دوسری جانب نماز اور روزے کا خصوصی اہتمام بھی کرتے ہیں۔ معلوم نہیں یہ ہم اپنے آپ کو دھوکا دیتے ہیں یا اللہ تعالیٰ کو دھوکا دینے کی ناکام کوشش کرتے ہیں۔ اس دوغلے پن اور بدترین منافقت کے باوجود ہم پیغمبر انسانیت رسول اکرمؐ کے اُمتی ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں جو تجارت میں دیانت اور ایمان داری کی روشن مثال تھے۔ اپنے رہبر و رہنما کے اسوۂ حسنہ سے انحراف کر کے پھر بھی ہم سمجھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہم پر رحمتیں نازل فرمائیں گے اور رمضان المبارک کی برکتوں سے ہمیں مستفید فرمائیں گے۔ 
	رمضان کے آخری عشرہ میں کسی "مسلمان" ہی نے سوات میں بجلی کے گرڈ سٹیشن کو بارود سے اڑا کر اپنے ہی "مسلمان بھائیوں" کو روشنیوں سے محروم کر دیا۔ درزیوں کا معاشی قتل عام کیا۔ بجلی سے وابستہ کاروبار کرنے والے دوسرے مسلمانوں کو رمضان کے مقدس مہینے میں معاشی طور پر بدحال کیا۔ روزہ داروں کو رات کی عبادت اور قرآنِ عظیم کی تلاوت کی شیرینیوں اور حلاوتوں سے محروم کر دیا۔ لوگوں کو پینے کے صاف پانی کی ایک ایک بوند کے لیے ترسا دیا۔ اپنے مسلمان بھائیوں کو چشموں اور کنوؤں کے آلودہ پانی پینے پر مجبور کر دیا جس کے نتیجے میں سوات میں کم سے کم ایک ہزار مسلمان گیسٹرو کے مرض میں مبتلا ہو کر ہسپتالوں میں داخل کرائے گئے۔ اس سے چند دن بعد کسی "مسلمان" ہی نے سوات میں سوئی گیس پلانٹ تباہ کر کے روزہ دار مسلمانوں کے چولہے ٹھنڈے کر دئیے اور عام لوگوں کو مصیبتوں اور تکالیف کے شیطانی چکر میں پھنسا دیا۔ 
	گرڈ سٹیشن کی تباہی کے بعد لوگوں نے جنریٹر خریدنا شروع کر دئیے لیکن جب مسلمان تاجروں نے دیکھا کہ جنریٹروں کی مانگ میں غیر معمولی اضافہ ہو گیا ہے تو انھوں نے جنریٹر کے نرخوں میں یک دم پندرہ سو سے تین چار ہزار روپے تک کا اضافہ کر دیا۔ جنریٹر مرمت کرنے والے مکینک عام حالت اگر مرمت کے سو روپے وصول کرتے تھے تو ان حالات میں انھوں نے سو کے تین سو روپے وصول کرنا شروع کر دئیے۔ جنریٹر خریدنے والے بھی روزہ دار مسلمان تھے اور بیچنے والے بھی نماز روزہ کے پابند تھے۔ 
	سوات میں سوئی گیس پلانٹ کی تباہی کے بعد لوگ سلنڈر ہاتھوں میں لیے ایل پی جی گیس پر ٹوٹ پڑے لیکن یہاں بھی انھیں "مسلمانوں" سے واسطہ پڑ گیا۔ جو گیس 80 اور 85 روپے فی کلو کے حساب سے بک رہی تھی، اس کا نرخ یک دم 100 اور 150 روپے تک بڑھ گیا۔ روزہ دار مسلمان تاجروں کو ناجائز منافع کا ایک اور نادر موقع مل گیا اور انھوں نے مصیبتوں اور تکالیف کے مارے اپنے ہی مسلمان روزہ دار بھائیوں کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنا شروع کر دیا۔ 
	عید کے موقع پر فروٹ اور سویٹس کا کاروبار کرنے والے مسلمان تاجروں نے بھی ناجائز منافع خوری میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی۔ سویٹس اور بیکری کے کاروبار سے وابستہ مسلمان تاجروں نے غیر معیاری اشیاء کے ذریعے زیادہ سے زیادہ منافع کمایا اور رمضان کے مہینے میں جو سیب 30 اور 40 روپے کلو بک رہا تھا، اس کی قیمت یک دم 80 روپے فی کلو تک پہنچ گئی۔ جو انگور پہلے 80 اور 100 روپے میں فروخت ہو رہے تھے، عید کے دن ان کی قیمت 140 روپے فی کلو تک پہنچ گئی۔ یہی حال سبزیوں کا بھی تھا۔ 
	میں سوچ رہا ہوں کہ ہم پر اس وقت بداَمنی، لاقانونیت، فوجی آپریشنوں اور بم دھماکوں کا جو عذاب نازل ہوا ہے، یہ سب ہمارے برے اعمال کا نتیجہ ہے۔ ہم اسلام کے دائرے میں داخل ہو چکے ہیں لیکن اس کی تعلیمات سے صریحاً انحراف کر رہے ہیں۔ ہم زبانی طور پر تو اخوت و محبت کا درس دیتے ہیں لیکن آپس میں بغض و عداوت رکھتے ہیں۔ زبانی طور پر تو یہ کہتے ہیں کہ سب مسلمان بھائی بھائی ہیں اور اگر کوئی ایک مسلمان تکلیف میں ہو تو سب اس کی تکلیف محسوس کرتے ہیں لیکن وقت آنے پر اپنے ہی مسلمان بھائیوں کی مجبوریوں سے ناجائز فائدہ اٹھانے میں دیر نہیں کرتے۔ ہم صرف نام کے مسلمان ہیں۔ عملاً ہم انسانیت کے پست درجے میں ہیں۔ "کافروں" کے ملکوں میں جب ان کے مقدس مذہبی تہوار آتے ہیں تو وہ ہر چیز کی قیمتیں کم کرتے ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ اور کم آمدنی والے لوگ بھی خوشیوں میں شامل ہو سکیں لیکن ہم مسلمان ہو کر ایسے ایسے کام کرتے ہیں جس پر انسانیت کو بھی شرم محسوس ہوتی ہے۔ 
	ہم اللہ تعالیٰ کی عبادت محض زبانی طور پر کرتے ہیں یا یہ ہماری رسم و رواج کا حصہ بن چکی ہے۔ روزے کا جو مقصد ہے، ہم اسے حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ ہماری عبادات کا رنگ ہماری عملی اور سماجی زندگی میں اس لیے نہیں جھلکتا کہ ہم اس کی روح اور اصل غرض و غایت سمجھنے سے عاری ہیں۔ جھوٹ، فریب، دغا بازی، ایک دوسرے کی مجبوریوں سے ناجائز فائدہ اٹھانا، ایک دوسرے کو تکلیف اور ایذا دینا، بے ایمانی، لوٹ کھسوٹ اور ایک دوسرے کا حق مارنا ہماری زندگی کا حصہ بن چکے ہیں۔ ہماری نمائشی عبادات ہمیں برائیوں سے نہیں روک سکتیں۔ اجتماعی مصیبت آنے کے باوجود ہم میں ایک دوسرے کے لیے ہمدردی اور ایثار کے جذبات پیدا نہیں ہوتے بلکہ خدا کا خوف بھی ہمیں ایک دوسرے کی مجبوریوں سے ناجائز فائدہ اٹھانے سے روک نہیں پاتا۔ اس کے باوجود ہم اللہ تعالیٰ سے دعا مانگتے ہیں کہ وہ ہمیں مصیبتوں اور تکالیف سے نجات دے۔ کیا اللہ تعالیٰ ہماری دعاؤں کو شرفِ قبولیت عطا فرمائیں گے؟
	ہمیں سوچنا چاہئے اور اپنے اعمال پر ناقدانہ نظر ڈالنی چاہئے۔ جب تک ہم صحیح انسان نہیں بنیں گے، اس وقت تک ہم سچے مسلمان نہیں بن سکتے اور جب تک ہم سچے مسلمان نہیں بنیں گے، بد اَمنی، لاقانونیت، قتل و غارت، خود کش دھماکے، معاشی و اقتصادی بد حالی، عدم تحفظ اور نامعلوم خوف و ہراس ہماری زندگی کا حصہ بنتے رہیں گے اور ہم اللہ تعالیٰ کی رحمتوں اور فضل و کرم سے رمضان کے مقدس اور برکتوں والے مہینے میں بھی محروم رہیں گے۔ 

 (6 اکتوبر 2008ء) 
٭٭٭


قیادت کا بحران 

	وزیرستان میں امریکا کے میزائل حملے حسب معمول جاری ہیں اور ہمارے وزیر اعظم اور دیگر حکومتی عمائدین معمول کے مطابق یہ کہ رہے ہیں کہ پاکستان پر امریکی حملے برداشت نہیں کئے جائیں گے۔ صدرِ مملکت آصف علی زرداری کہ رہے ہیں کہ ہم امریکا کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔ امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے خبر شائع کی ہے کہ ستمبر میں امریکا اور پاکستان کے درمیان خفیہ معاہدہ ہوا ہے جس کے تحت امریکا پاکستان میں میزائل حملے جاری رکھے گا اور پاکستان اس کے جواب میں احتجاج کرے گا لیکن امریکا خاموش رہے گا۔ وزارت خارجہ کے ترجمان نے واشنگٹن پوسٹ کی خبر غلط قرار دی ہے اور کہا ہے پاکستان اپنی سرزمین کے اندر کسی کو کار روائی کی اجازت نہیں دے گا۔ 
	اس وقت وطن عزیز ہر طرف سے مسائل اور بحرانوں میں ڈوبا ہوا ہے۔ سیاسی بحران، عدلیہ کا بحران، معاشی بحران، اقتصادی بحران، بجلی کا بحران، گیس کا بحران، آٹے کا بحران، بدامنی کا بحران اور قیادت کا بحران۔ گزشتہ عام انتخابات میں عوام نے جن پالیسیوں کے تحت جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے حواریوں کو مسترد کیا تھا اور جس تبدیلی کی اُمید پر پیپلز پارٹی کو ووٹ دیا تھا، نہ وہ پالیسیاں تبدیل کی گئیں اور نہ ہی عوام کی ان امیدوں کا کوئی خیال رکھا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ عوام موجودہ حکومت کی کارکردگی سے بے زار ہو رہے ہیں اور ان میں مایوسی پھیل رہی ہے کہ موجودہ حکومت نہ صرف نا اہل ہے بلکہ اس کی موجودگی میں ملک میں بدامنی اور انارکی مزید پھیل رہی ہے۔ نہ صرف معاشی اور اقتصادی بحران شدید سے شدید تر ہو رہا ہے بلکہ ملک کی سرحدیں مزید غیر محفوظ ہو رہی ہیں۔ جنرل (ر) مشرف کے دور میں کبھی کبھار ہی امریکی میزائل حملے ہوتے تھے لیکن اب تو امریکی میزائل حملے معمول بن چکے ہیں اور موجودہ حکومت کے بر سر اقتدار آنے کے بعد پہلی دفعہ زمینی حملہ بھی کیا گیا۔ اس کے باوجود ہمارے وزیر اعظم صاحب بار بار یہ کہ رہے ہیں کہ پاکستان پر مزید امریکی حملے برداشت نہیں کئے جائیں گے۔ ابھی ان کا بیان نیوز چینلز پر چل رہا ہوتا ہے کہ امریکی فوجیوں کی طرف سے نیا حملہ کیا جاتا ہے۔ امریکہ کے ان حملوں کے خلاف قومی اسمبلی اور سینیٹ میں قرار دادِ مذمت بھی منظور کی گئی ہے لیکن امریکا کو اس کی کوئی پرواہ ہی نہیں اور پرواہ ہو بھی کیوں کہ ہم ایک ایسی قوم ہیں جو خود ہی اپنے ملک کی بنیادوں کو کمزور کرنے میں لگی ہوئی ہے۔ ہمارے سیاست دان، با اثر صنعت کار، بیورو کریسی اور مقتدر طبقے خود ہی قومی خزانہ مختلف طریقوں سے لوٹتے رہتے ہیں اور قومی خزانہ کو قومی امانت کی بجائے شیرِ مادر سمجھ کر ہڑپ کرنے میں لگے رہتے ہیں۔ 
	ایک ایسا ملک جس کی اقتصادیات اور دفاع کا انحصار امریکا پر ہو، جو آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے علاوہ کئی دوسرے ممالک سے بھیک مانگنے کا خوگر ہو چکا ہو، بھلا اپنے اقتدارِ اعلیٰ کی حفاظت کیسے کر سکتا ہے؟ وہ ملک جس کے حکمران، سیاست دان، صنعت کار اور بیورو کریٹ لوٹ کا پیسہ بیرون ملک واقع اپنے اکاؤنٹوں میں جمع کراتے ہوں اور جنھیں خود اس ملک کے مزید قائم رہنے کی امید نہ ہو، اس ملک میں سیاسی اور معاشی استحکام کیسے آ سکتا ہے؟ وہ ملک جس کی فوج دنیا کی مضبوط اور منظم فوج میں سے ایک ہو، جس کے پاس ہر قسم کی پیشہ ورانہ مہارت، ایٹم بم، جدید میزائل ٹیکنالوجی موجود ہو۔ جس کے پاس حب الوطنی کے جذبے سے سرشار اور جذبۂ جہاد سے معمور فوج ہو، لیکن وہ ملک کی سرحدوں کی حفاظت کی بجائے اپنے ہی ملک اور اپنے ہی عوام کے خلاف بر سرِ پیکار ہو، اس ملک کی سرحدیں کیسے محفوظ رہ سکتی ہیں؟ جس ملک کی عدلیہ انصاف کے حصول کے لیے دربدر ہو رہی ہو، اس ملک کے عوام کو انصاف کیسے مل سکتا ہے اور اس ملک کا معاشرہ عدل کے بغیر کیسے پرامن رہ سکتا ہے؟ وہ ملک جس کے نام نہاد قائدین اور مقتدر طبقہ مسائل اور بحران حل کرنے کی بجائے بیرونی دوروں اور معمول کی مصروفیات میں مگن ہو، وہ ملک اپنا وجود کیسے قائم رکھ سکتا ہے؟ جو ملک ایٹمی قوت ہونے کا دعویٰ کرتا ہو لیکن اس کے پاس ضرورت کی بجلی اور گیس نہ ہو، ایسا ملک مضبوط اقتصادیات کا حامل کیسے ہو سکتا ہے؟ جس ملک کے حکم رانوں نے دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں اربوں ڈالر کمائے ہوں، جس کے حکم رانوں نے ڈالروں کی خاطر اپنے لوگوں کو امریکا کے ہاتھوں بیچ دیا ہوں، جنھوں نے با اثر لوگوں کو اربوں روپے کے قرضے معاف کرائے ہوں، جنھوں نے نج کاری کے نام پر قومی اثاثے اونے پونے بیچنے کا عمل شروع کیا ہو، جنھوں نے اسٹاک ایکس چینج سکینڈل اور گوادر میں قیمتی پلاٹ اونے پونے بیچنے کے جرم کا ارتکاب کیا ہو اور آنے والی حکومت نے ذمہ داروں کو ذاتی مفاد کی خاطر قانون کے کٹہرے میں لانے کی بجائے ان کے سرغنہ کو با عزت طور پر مستعفی ہونے کا موقع دیا ہو اور استعفیٰ کے بعد اسے سابق صدر کا پروٹوکول دیا جا رہا ہو، ایسا ملک نہ صرف اپنے عوام کے سامنے اپنا اعتبار کھو بیٹھتا ہے بلکہ دنیا بھی اس پر ہنستی ہے، ایسے ملک کا مستقبل اگر مخدوش نہیں ہو گا تو اور کیا ہو گا؟ اس کے عوام مایوس نہیں ہوں گے تو اور کیا ہوں گے؟ ایسا ملک جہاں آٹے کے لیے عوام مارے مارے پھر رہے ہوں، جہاں جب آٹا ملتا ہے تو وہ اتنا ناقص ہوتا ہے کہ اس کی روٹی کھانے کے قابل نہیں ہوتی اور جو لوگ اس کی روٹی کھاتے ہیں انھیں پیٹ کی بیماری لگ جاتی ہے، ایسے ملک کے ساتھ عوام کی جذباتی وابستگی کیسے بر قرار رہ سکتی ہے؟ ایسا ملک جہاں خودکش حملے معمول بن جائیں، جہاں قبائلی اور سرحدی علاقوں کے ساتھ بعض بندوبستی علاقوں میں بھی ریاستی رٹ موجود نہ ہو، ایسے ملک میں عدم تحفظ اور شدید بے یقینی اور بے چینی نہ ہو گی تو اور کیا ہو گی؟ 	
	ہمارے حکم ران خود عوام کو مایوسی میں مبتلا کرتے رہتے ہیں۔ مسائل حل کرنے کی بجائے اپنی بے بسی اور کم زوری کا ڈھنڈورا پیٹتے رہتے ہیں۔ جس ملک کے لیڈر نا اہل اور مایوس ہوں، وہ عوام کو مایوسی کی گہرائیوں سے کیسے نکال سکیں گے؟ وہ عوام کے ذہنوں میں امید اور بہتر مستقبل کے دیئے کیسے روشن کر سکتے ہیں؟ اس وقت حقیقت میں وطن عزیز کسی بھی بحران کا شکار نہیں لیکن اگر شکار ہے تو لیڈر شپ کے بحران کا شکار ہے۔ اگر اس وقت ملک میں اہل، با صلاحیت، مخلص اور پر عزم قیادت ہوتی اور حقیقی معنوں میں کوئی لیڈر وطن عزیز میں موجود ہوتا تو وہ سارے بحرانوں کے باوجود ملک کی ڈوبتی کشتی پار لگاتا۔ وہ ہر بحران سے حکمت اور تدبر سے نبرد آزما ہوتا۔ وہ عوام کو اعتماد میں لیتا اور دن رات ایک کر کے ہر بحران ختم کرانے کے لیے لائحہ عمل وضع کرتا۔ وہ اپنے وسائل کو کام میں لاتا۔ عوام کی مد د سے ہر مشکل اور ہر مسئلے کا حل نکالتا لیکن یہاں تو ایسے لوگ اقتدار کے ایوانوں میں موجود ہیں جن میں قیادت کی اہلیت بالکل موجود نہیں۔ جو محض حکومت کرنے کے لیے بر سر اقتدار آئے ہیں۔ جنھیں ملک کے مسائل اور عوام کی مشکلات سے کوئی سروکار نہیں۔ جن کا ویژن محض اپنے اقتدار کو مضبوط بنانے تک محدود ہے۔ 
	صدرِ مملکت آصف علی زرداری کے بارے میں عام لوگوں میں یہ خیال راسخ ہو چکا تھا کہ وہ صدر مملکت کی حیثیت سے حلف اٹھائیں گے تو ملک کو بحرانوں سے نجات دلائیں گے اور وہ اپنی باتوں اور عمل سے بھی عوام کو یہ تاثر دے رہے تھے کہ وہ ملک کو مسائل کے گرداب سے نکال سکتے ہیں لیکن افسوس، انھوں نے عوام کو شدید طور پر مایوس کر دیا ہے۔ وہ تو ملک میں ٹکتے ہی نظر نہیں آتے۔ وہ مسلسل بیرون ملک دوروں پر دورے کر رہے ہیں۔ حالاں کہ اس وقت ضرورت اس اَمر کی ہے کہ قیادت ملک کے اندر رہے۔ ملک کو اپنی تاریخ کے خطرناک چیلنج درپیش ہیں۔ حکم رانوں کو ہر وقت ملک کے کسی نہ کسی بحران سے نپٹنے میں مگن نظر آنا چاہئے تھا۔ 
	اگر داخلہ اور خارجہ پالیسیاں بدلنے سے ملک میں امن و امان قائم ہو سکتا ہے تو موجودہ حکومت کو فوری طور پر عوام کی خواہشات اور ملک کے وسیع تر مفاد میں پالیسیاں تبدیل کرنی چاہئے۔ اگر سابق حکومت کی داخلہ اور خارجہ پالیسیاں ٹھیک ہوتیں تو آج ملک کا یہ حال نہ ہوتا۔ عوام اس کے خلاف عام انتخابات میں فیصلہ صادر نہ کرتے۔ اگر معزول چیف جسٹس کی بحالی سے ملک میں عدالتی انصاف قائم ہو سکتا ہے تو ان کی بحالی میں مزید دیر نہیں کرنی چاہئے۔ اگر طالبان یا عسکریت پسندوں سے مذاکرات کے ذریعے ملک میں امن و امان قائم ہو سکتا ہے تو امریکا کی پرواہ کئے بغیر ان سے پر امن مذاکرات کا فوری آغاز کرنا چاہئے۔ اگر سیاست دانوں، حکم رانوں، صنعت کاروں، جاگیر داروں اور بیورو کریٹ کے بیرون ملک بینکوں میں جمع کی ہوئی رقوم سے ملک اقتصادی بحران سے نکل سکتا ہو تو اس قومی دولت کو ملک کے اندر لانے میں کوئی اَمر مانع نہیں ہونا چاہئے اور ہمیں آئی ایم ایف کی غلامی سے نکل جانا چاہئے۔ دنیا میں وہ کونسا مسئلہ ہے جو لاینحل ہے۔ اگر یورپ اور امریکا کے عوام ایک پر امن زندگی گزار رہے ہیں اور وہاں کے عوام کو پر امن اور پر تعیش زندگی کی تمام سہولتیں حاصل ہیں تو وہ اس ملک اور اس کے غریب عوام کو کیوں حاصل نہیں ہو سکتیں؟ وہ بھی انسان ہیں اور ہم بھی انسان ہیں۔ وہ اگر ایک مہذب اور پرامن معاشرہ تشکیل دے سکتے ہیں تو ہم اس کی تشکیل میں کیوں ناکام ہیں؟ وہ اگر اپنے عوام کو امن، تحفظ، روزگار، اعلیٰ تعلیم، بہتر طبی سہولتیں اور زندگی کی دیگر بنیادی ضروریات فراہم کر سکتے ہیں تو ہم کیوں نہیں کر سکتے؟ وہ اگر اپنے عوام کو عدل، انصاف، سماجی تحفظ اور عزت اور وقار دے سکتے ہیں تو ہم اپنے عوام کو یہ سب کچھ دینے سے کیوں معذور ہیں؟ ان کے مقابلے میں ہمارے پاس وسائل زیادہ ہیں۔ ہمارے پاس افرادی قوت کی کوئی کمی نہیں۔ ہمارے پاس صلاحیت بھی بہت ہے لیکن اگر کمی ہے تو اہل اور ایمان دار قیادت کی ہے۔ ہم قیادت کے بحران کے شکار ہیں۔ جب تک اس ملک کو اہل قیادت نہیں ملتی، جب تک یہاں ایمان دار، محب وطن اور عوام دوست لوگوں کے ہاتھوں میں اقتدار کی باگ ڈور نہیں آتی، اس ملک کی حالت بدل نہیں سکتی۔ اگر ہمیں اہل اور ایمان دار قیادت مل گئی تو ملیشیاء کی طرح ہم بھی چند سالوں میں ان نام نہاد بحرانوں سے نکل سکتے ہیں۔ ہمارے ملک میں بھی امن و امان اور خوشحالی آ سکتی ہے۔ ملک میں معاشی استحکام آ سکتا ہے اور عوام کے مسائل ختم ہو سکتے ہیں۔ ہماری سرحدوں کی پامالی رُک سکتی ہے۔ ہمارا اقتدار اعلیٰ قائم ہو سکتا ہے۔ ریاستی رِٹ بحال ہو سکتی ہے۔ ملک ترقی کی جانب قدم بڑھا سکتا ہے اور ہم بھی دنیا کے مہذب اور متمدن ملکوں کی صف میں شامل ہو سکتے ہیں۔ 
	لیکن اس کے لیے اہل اور ایمان دار قیادت کی ضرورت ہے۔ !!!

 (18نومبر 2008ء) 
٭٭٭



غلامی کا طوق …  کب تک؟

	پاکستان کے قبائلی علاقوں کے اندر امریکی میزائلوں کے حملے تو جنرل (ر) مشرف کے دور سے چلے آ رہے ہیں لیکن پیپلز پارٹی کی موجودہ حکومت میں ان میں غیر معمولی تیزی آ گئی ہے اور اب یہ حملے صوبہ سرحد کے بندوبستی علاقوں میں بھی ہونے لگے ہیں۔ گزشتہ دنوں بنوں کے ایک نواحی علاقے اندی خیل میں ڈرون طیارے سے میزائل داغے گئے جس میں مبینہ طور پر القاعدہ کے رہنما سمیت 6افراد ہلاک ہوئے۔ ان امریکی حملوں کے خلاف وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے کئی مرتبہ برملا کہا ہے کہ پاکستان کی سرحدوں کی پامالی ہر گز برداشت نہیں کی جائے، ہم امریکا کے غلام نہیں اور امریکی میزائل حملوں سے دہشت گردی کے خلاف جنگ کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ امریکی حملوں کے خلاف قومی اسمبلی اور سینیٹ میں مشترکہ قرار داد مذمت بھی منظور کی گئی اور امریکی سفیر کو بھی کئی مرتبہ وزارتِ خارجہ طلب کر کے احتجاج کیا گیا لیکن امریکا کے حملے رکے نہیں بلکہ ان میں تیزی لائی گئی ہے۔ 
	بنوں کے امریکی حملے پر وزیر اعظم نے قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکی حملے نا قابل برداشت ہیں اور ہم ان کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ امریکی حملوں سے مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے اور ان سے دہشت گردی کم ہونے میں کوئی مد د نہیں مل رہی ہے۔ انھوں نے امید ظاہر کی کہ جب امریکا کے نئے صدر باراک اوبامہ باقاعدہ صدارت کا منصب سنبھالیں گے تو ان حملوں پر قابو پایا جا سکے گا۔ بنوں پر میزائل حملہ کے ردِ عمل میں امریکی سفیر کو ایک بار پھر وزارتِ خارجہ میں طلب کیا گیا اور انھیں میزائل حملوں پر حکومت کے شدید ردِ عمل سے آگاہ کیا گیا۔ 
	دوسری جانب چیف آف آرمی سٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے برسلز میں نیٹو کی ملٹری کمیٹی سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان کے مسئلے کا فوجی حل ممکن نہیں۔ اس کے لیے جامع حکمتِ عملی طے کرنی چاہئے۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان کی حدود میں جاسوسی طیاروں کی آمد روکی جائے۔ اس سے قبل بھی جنرل پرویز کیانی نے امریکی حملوں پر شدید ردِ عمل ظاہر کیا تھا لیکن امریکا نے اس کی بھی کوئی پرواہ نہیں کی تھی اور ڈرون طیاروں کے ذریعے نہ صرف میزائل حملے جاری رکھے بلکہ کچھ عرصہ قبل وزیرستان میں پہلا زمینی حملہ بھی کیا گیا تھا۔ 
	وزیر اعظم بار بار پاکستان کی علاقائی خود مختاری اور سرحدوں کے تحفظ کی بات کرتے ہیں۔ وہ نہ صرف امریکی حملوں کی پیہم مذمت کرتے ہیں بلکہ امریکی سفیر کو بھی وزارتِ خارجہ طلب کیا جاتا ہے۔ پاکستان کی قومی اسمبلی اور سینیٹ امریکی حملوں کے خلاف باقاعدہ طور پر قراردادِ مذمت بھی منظور کرتی ہے لیکن امریکا ان سب اقدامات اور بیانات کو کوئی اہمیت دینے پر تیار نہیں۔ ہمارے صدرِ مملکت کہتے ہیں امریکا اگر ان حملوں کو نہیں روکتا تو ہمیں حملوں کی پیشگی اطلاع ہی دیا کریں۔ جب کہ لاہور میں امریکی قونصل جنرل انکشاف کرتے ہیں کہ امریکی حملے پاکستانی معلومات کے تحت ہو رہے ہیں۔ اس طرح واشنگٹن پوسٹ نے 5 نومبر کو یہ خبر شائع کی کہ امریکا سے خفیہ انڈر سٹینڈنگ کے تحت میزائل حملے ہوتے رہیں گے اور پاکستان احتجاج کرتا رہے گا لیکن امریکا حملے جاری رکھے گا۔ افغانستان میں ایساف کمانڈر جنرل ڈیوڈ مک گیرنن نے کہا ہے کہ بندوبستی علاقوں پر حملے بھی پاکستان سے مل کر کام کرنے کی حکمت عملی کا حصہ ہیں اور سردیوں میں اس میں تیزی آئے گی لیکن دوسری طرف وزیر اعظم پاکستان یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ پاکستان پر حملوں کا امریکا سے کوئی معاہدہ نہیں ہوا ہے۔ اگر وزیر اعظم کی بات درست ہے تو حکومت پاکستان ان حملوں کے خلاف اقوامِ متحدہ سے کیوں رجوع نہیں کرتی اور اگر امریکا کا موقف درست ہے تو قوم پوچھنا چاہتی ہے کہ ملک کی خودمختاری اور ریاست کا اقتدار اعلیٰ کن شرائط پر امریکا کے حوالہ کر دیا گیا ہے۔ 
	جنوری 2008ء سے لے کر اب تک 19نومبر تک امریکا نے پاکستان کے قبائلی علاقوں کے علاوہ بندوبستی علاقوں سمیت 25حملے کئے ہیں۔ ان حملوں میں 350سے زائد بے گناہ لوگ شہید ہو چکے ہیں لیکن حکومت نے محض مذمتی بیانات اور مذمتی قراردادوں کے علاوہ کوئی فیصلہ کن قدم نہیں اٹھایا ہے اور نہ ہی امریکا سے دو ٹوک بات کی جسارت کی گئی ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے حکومت عوام سے اصل حقائق چھپانے کی مسلسل کوشش کر رہی ہو۔ ورنہ حکومت اب تک ان امریکی حملوں کے خلاف کم سے کم فیصلہ کن عملی اقدامات اٹھاتی۔ ہم اگر امریکا سے جنگ نہیں کر سکتے تو احتجاج کے طور پر اس سے عارضی سفارتی تعلقات منقطع تو کر سکتے ہیں۔ اگر یہ ممکن نہیں تو پاکستان کے راستے افغانستان میں مقیم نیٹو کی فوج کے لیے سپلائی کے راستے تو بند کر سکتے ہیں۔ امریکا کی نام نہاد دہشت گردی کی عالمی جنگ سے کنارہ کشی تو اختیار کر سکتے ہیں۔ پاکستان امریکی جنگ میں اب تک 21کھرب روپے کا نقصان کر چکا ہے۔ ہمارے قبائلی علاقوں میں 1562 سے زیادہ فوجی شہید اور 3500سے زیادہ زخمی ہو چکے ہیں۔ قبائلی علاقوں میں ہمارے ایک لاکھ 20ہزار جوان لڑ رہے ہیں اور اب تک ہم سیکڑوں افراد القاعدہ سے تعلق کے شبے میں امریکا کے حوالے کر چکے ہیں لیکن امریکا پھر بھی ہمیں ایک دوست اور حلیف کی حیثیت سے کوئی عزت اور احترام دینے پر تیار نہیں لیکن ہم پھر بھی امریکا کی کاسہ لیسی کر رہے ہیں۔ اس سے تعلق رکھنے کو باعث فخر سمجھ رہے ہیں۔ کسی آزاد اور خود مختار ملک کی علاقائی سا  لمیت اور اس کی سرحدوں کا تقدس پامال کرنے کے ضمن میں عالمی قوانین موجود ہیں اور ان کے تحت حکومتِ پاکستان اقوام متحدہ سے رجوع کر سکتی ہے۔ شام جیسے کمزور ملک پر جب امریکا نے حال ہی میں حملہ کیا تو اس نے امریکا کے خلاف شدید ردِ عمل ظاہر کیا تھا۔ شام کا دو ٹوک ردِ عمل دیکھ کر اس کے دوست ملکوں نے بھی اس حملہ کی مذمت میں اس کا ساتھ دیا تھا۔ حملے میں شام کے جو شہری ہلاک ہوئے تھے، اسے امریکا کے جنگی جرائم سے تعبیر کیا گیا تھا اور شام کی حکومت نے امریکا کو دھمکی دی تھی کہ اس نے دوبارہ جارحیت کی تو اس کا بھر پور جواب دیا جائے گا۔ شام نے اس سلسلہ میں اقوام متحدہ سے بھی رجوع کیا تھا اور یہی وجہ ہے کہ امریکا نے دوبارہ شام کی سرحدوں کی پامالی کی کوشش نہیں کی لیکن جنرل (ر) مشرف کے دور میں جب بھی قبائلی علاقوں میں کوئی امریکی حملہ ہوتا تو وہ اسے پاک فوج کا "کارنامہ" قرار دیتے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکا کا حوصلہ بڑھتا گیا اور اب اس نے پاکستان کے بندوبستی علاقوں تک حملوں کا سلسلہ دراز کر دیا۔ ہماری حکومت کے نحیف و نزار ردِ عمل کے نتیجے میں مستقبل میں حملوں کا دائرہ پشاور اور اسلام آباد تک بھی وسیع ہو سکتا ہے اور ہمارے وزیر اعظم ان حملوں پر قابو پانے کے لیے نئے امریکی صدر باراک اوباما کی وائٹ ہاؤس منتقلی کا انتظار کرتے رہیں گے۔ 
	آزاد، با اختیار اور با وقار ملکوں کے حکم رانوں کا یہ طریقہ نہیں ہوتا۔ ملک کی سرحدوں کی پامالی پر بکری کی طرح ممیایانہیں جاتا اور نہ ہی جارح قوتوں سے یہ درخواست کی جاتی ہے کہ کم از کم ہمیں حملوں کی پیشگی اطلاع ہی دیا کریں۔ جس ملک کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی اور صدر آصف علی زرداری جیسے لوگ ہوں گے، اس ملک کی سرحدوں کا کوئی تقدس نہیں ہوتا۔ وہ یوں ہی دشمنوں کے پاؤں تلے روندتی رہیں گی۔ عالمی سطح پر پاکستان اور پاکستانی یوں ہی بے تو قیر ہوتے رہیں گے۔ دنیا ہم پر ہنستی رہے گی کہ ہمارے حکم رانوں، سیاست دانوں، صنعت کاروں، جاگیرداروں اور بیورو کریٹس کے سیکڑوں ارب ڈالر بیرون ملک بینکوں میں موجود ہوں گے لیکن ہم محض نو دس ارب ڈالر کے قرض کے حصول کے لیے ملک اور عوام کو آئی ایم ایف کی غلامی میں دیتے رہیں گے۔ امریکا کے لیے اپنا ہی ملک میدانِ جنگ بناتے رہیں گے اور بے گناہ ہم وطنوں کو گولیوں کا نشانہ بناتے رہیں گے۔ 
	آخر ہم کب تک اپنے ہی وجود کے خلاف نبر د آزما ہوتے رہیں گے؟ اپنے ہی ملک کی بنیادوں کو اُدھیڑتے رہیں گے۔ کب تک ہم اپنے پاؤں پر کلہاڑی کے وار کرتے رہیں گے؟ ہمیں کب ہوش آئے گا؟ دنیا کی مہذب اقوام کہاں سے کہاں تک پہنچ گئیں اور ہم اب تک ایک ہی دائرے کے گرد محو سفر ہیں۔ ہمارے ملک کا وہ کون سا شعبہ ہے جسے ہم مثالی قرار دے سکتے ہیں؟ ہم اپنے ملک اور قوم کے فیصلے غیروں کے اشاروں اور ان ہی کے مفادات کے تحت کب تک کرتے رہیں گے؟ کبھی ہم یہ بھی سوچیں گے کہ ان فیصلوں سے ملک کی سا لمیت اور قوم کے مفادات کو کتنے خطرات لاحق ہو رہے ہیں؟ قانون کی عمل داری اور آئین کی پاسداری کا عزم بالجزم ہم کب کریں گے؟ کب ہم اس ملک کو حقیقی معنوں میں اپنا سمجھیں گے؟ کب ہم ملک کے نقصان کو اپنا ذاتی نقصان تصور کریں گے؟ خدا ناخواستہ اگر یہ ملک نہ رہا تو کیا ہماری مقتدر قوتوں کی شان و شوکت بر قرار رہے گی؟
	ہمیں اگر دنیا میں با عزت، خودمختار اور غیرت مند قوم کی طرح مہذب ملکوں کی صف میں شامل ہونا ہے تو ہماری مقتدر قوتوں کو اپنے موجودہ اطوار بدلنے ہوں گے۔ ہمیں ذاتی نفع و نقصان کے خول سے باہر نکلنا ہو گا۔ جو سرمایہ اور اثاثے (خواہ وہ جائز طور پر کمائے گئے ہوں یا ناجائز طور پر) ہم نے پاکستان میں عدم تحفظ کی وجہ سے بیرون ممالک کے بینکوں میں جمع کرا دیئے ہیں، ہمیں انھیں واپس ملک کے اندر لانا ہوں گے تاکہ ہماری معاشی اور اقتصادی محتاجی کا خاتمہ ہو اور ہم نہ صرف ملک کی سرحدوں کا وقار بحال کر سکیں بلکہ معاشی خود انحصاری کی منزل پر پہنچ کر آئی ایم ایف اور امریکا کی غلامی سے بھی ہمیشہ کے لیے نجات حاصل کر سکیں۔ آخر ہم کب تک غلامی کا طوق اپنے گلے میں ڈالتے رہیں گے؟

 (22نومبر 2008 ء) 
٭٭٭


کیا اجتماعی تباہی ہمارا مقدر بن چکی ہے؟

	ممبئی حملوں کے بعد پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی بڑھتی جا رہی ہے۔ بھارتی فضائیہ کے طیاروں نے دو گھنٹوں کے وقفے سے پاکستانی حدود کی خلاف ورزی کی۔ اس سے قبل بھارتی حکومت نے اپنی فضائیہ کو ہائی الرٹ کر دیا تھا۔ صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ بھارت کی طرف سے فضائی خلاف ورزی ٹیکنیکل غلطی تھی لیکن پاک بھارت کے موجودہ کشیدہ تعلقات کو پیش نظر رکھتے ہوئے بھارتی فضائیہ سے ایسی "ٹیکنیکل غلطی" کی کوئی توقع نہیں رکھی جا سکتی۔ خبروں میں بتایا گیا ہے کہ یہ طیارے میزائل اور گولہ بارود سے مکمل طور پر لیس تھے لیکن معلوم نہیں ہمارے حکم ران اسے ٹیکنیکل غلطی بتا کر قوم کو کیا سمجھانا چاہتے ہیں۔ دوسری طرف ہمارے وزیر اعظم کا رویہ بھی خاصا مدافعانہ اور معذرت آمیز ہے۔ کوئی ذی شعور انسان جنگ کے حق میں نہیں لیکن اگر حکم ران کسی ایسے معاملے میں معذرت خواہانہ رویہ اختیار کریں جس کا تعلق ملکی سلامتی اور قومی غیرت و حمیت سے ہو تو اس سے قوم میں بھی کم ہمتی اور مایوسی پیدا ہوتی ہے۔ وزیر اعظم نے گزشتہ روز قومی اسمبلی میں اپنی تقریر میں کہا کہ پاک بھارت کشیدگی دور کرنے کے لیے انھوں نے ترکی سمیت کئی دوست ممالک سے رابطہ کیا تھا۔ امن کی خواہش اور امن کے لیے دوستوں کی خدمات حاصل کرنا کوئی بری بات نہیں لیکن قومی غیرت اور وقار کی قیمت پر امن کی خیرات مانگنا کسی طور با وقار اور با عزت قوم کا شیوہ نہیں۔ حکومت کے طرز عمل سے یوں معلوم ہوتا ہے جیسے ہم دشمن ملک سے جنگ کرنے کے بالکل اہل نہ ہوں یا ہماری عسکری تیاریاں نامکمل ہوں اور اگر ہم پر اچانک جنگ مسلط کی گئی تو مادر وطن کا دفاع نہیں کر سکیں گے۔ اس لیے ہم دشمن کی دھمکیوں کا جواب اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر پوری جرأت اور اعتماد سے نہیں دے سکتے۔ 
	اگر پاکستان ممبئی حملوں میں ملوث نہیں اور یقیناً ملوث نہیں تو اسے اپنا مقدمہ عالمی سطح پر پوری جرأت اور اعتماد سے پیش کرنا چاہئے تھا۔ بھارت کی خواہش پر اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کی کمیٹی نے چند لمحوں کی کار روائی کے بعد قرار داد نمبر 1820کے تحت پاکستان کی تین فلاحی تنظیموں جماعت الدعوۃ، الرشید ٹرسٹ اور الاختر ٹرسٹ کو دہشت گرد قرار دے دیا لیکن پاکستان نے اپنے دفاع اور صفائی میں کچھ نہیں کہا۔ حالاں کہ مذکورہ تینوں تنظیمیں خالصتاً فلاحی اور رفاہی کام کر رہی ہیں اور ان کے تحت تعلیم سے لے کر علاج معالجہ تک زندگی کے ہر شعبہ میں ہزاروں عوامی فلاحی کام انجام دیئے جا رہے ہیں۔ حکومت کو سلامتی کونسل کو ان کے بارے میں مکمل تفصیلات فراہم کرنی چاہئے تھیں اور سلامتی کونسل کی ایک مقررہ ٹیم کو دعوت دے کر پاکستان بلانا چاہئے تھا تاکہ وہ خود تفتیش و تحقیق کر کے ان کے بارے میں اصل حقائق معلوم کرتی۔ اگر اسے جماعت الدعوۃ اور دوسری تنظیموں کے دہشت گردوں سے تعلق اور روابط کے شواہد مل جاتے تو پاکستان ان پر پابندی عائد کرتا لیکن سلامتی کونسل کی قرار داد منظور ہوتے ہی حکومت نے ان فلاحی اداروں کے خلاف مکمل کریک ڈاؤن شروع کیا اور اس سلسلہ میں وزیر دفاع احمد مختار نے جو بیان دیا وہ بھی کسی آزاد اور خود مختار قوم کے شایانِ شان نہیں۔ انھوں نے کہا کہ اگر ہم پابندی نہ لگاتے تو پاکستان کو دہشت گرد ریاست قرار دیا جاتا لیکن امریکا نے فوراً ہی واضح کر دیا کہ ایسی کوئی بات نہیں، پاکستان کو دہشت گرد قرار دینے کی کوئی تجویز سرے سے ہے ہی نہیں۔ سلامتی کونسل کے فیصلے کے بعد ہمارے پاس دوسرا کوئی آپشن نہیں تھا لیکن جو بیان وزیر دفاع نے دیا ہے وہ ہمارے حکم رانوں کی نا اہلی اور کم زوری پر دلالت کرتا ہے۔ یہ بیان کسی با وقار انداز میں بھی دیا جا سکتا تھا۔ اگر چہ سلامتی کونسل نے صرف پابندی لگا نے کو کہا تھا لیکن ہماری "جرأت مند" حکومت نے ہزاروں افراد ایسے پکڑ لیے جیسے وہ سب ممبئی حملوں میں شریک رہے ہوں۔ پھر ان اداروں کے ہزاروں سکول، مدرسے، یونیورسٹیاں، ڈسپنسریاں، ایمبولینس سروس اور عوامی فلاح و بہبود کے دیگر بہت سے ادارے بھی بند کئے گئے۔ 
	ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ہمارے حکم ران محض حکم رانی کے لیے اقتدار سنبھالتے ہیں۔ وہ ملک کے بڑھتے ہوئے مسائل اور مشکلات کے آگے مضبوط بند باندھنے کے لیے کوئی غیر معمولی کارکردگی دکھانے کے اہل ہی نہیں ہیں۔ اس وقت ملک کتنے عذابوں سے دوچار ہے۔ کتنے مسائل ہیں جن کی وجہ سے عوام پریشان، ملک بد حال اور اہل وطن ملک کے مستقبل سے مایوس ہو رہے ہیں لیکن موجودہ حکومت نے کسی ایک مسئلے کو حل کرنے میں بھی نمایاں اہلیت کا مظاہرہ نہیں کیا۔ پہلے سے موجود مسائل میں اضافہ ہو رہا ہے، مشکلات مزید بڑھ رہی ہیں لیکن حکومت کی طرف سے کسی بھی مسئلہ کے حل اور مشکلات کے خاتمہ کے لیے غیر معمولی فہم و فراست اور عملی دل چسپی سامنے نہیں آ رہی ہے۔ 
	یقیناً یہ مسائل موجودہ حکومت کے پیدا کر دہ نہیں ہیں لیکن ان میں کچھ نہ کچھ کمی لانا کیا موجودہ حکومت کی کم سے کم ذمہ داری نہیں؟ موجودہ حکومت کو بر سر اقتدار آئے ہوئے ڈیڑھ سال سے زیادہ کا عرصہ بیت چکا ہے لیکن نہ بجلی کی لوڈشیڈنگ میں کمی آئی، نہ گیس کی قلت کو دور کیا جا سکا، نہ امن و امان کا مسئلہ حل ہوا، نہ عدلیہ کا بحران ختم ہوا، نہ معاشی بحران پر قابو پایا جا سکا (آئی ایم ایف سے قرض کا حصول اس کا حل نہیں) ۔ نہ عوام کو روزگار اور تعلیم کے نئے مواقع فراہم کئے جا سکے، نہ ہسپتالوں میں مناسب طبی سہولتوں کا فقدان ختم کیا جا سکا، نہ اہل وطن کے لیے صاف پانی کی فراہمی کا کوئی بڑا منصوبہ بنایا جا سکا، نہ غربت کے خاتمہ کے لیے کوئی انقلابی قدم اٹھایا گیا اور نہ ہی عام آدمی کو زندگی کی دوسری بنیادی ضرورتوں کی فراہمی میں کوئی عملی دل چسپی لی گئی۔ موجودہ حکومت آخر اپنی کون سی غیر معمولی کارک دگی عوام کو دکھا سکی؟
	ہمارے حکم ران مسلسل غلطیوں پر غلطی کرتے جا رہے ہیں، ہمارے بعض حساس اداروں نے ماضی میں قومی سلامتی کے حوالے سے غلطیاں کیں جس کی وجہ سے آج ہم پوری دنیا میں تنہا ہوتے جا رہے ہیں۔ دنیا میں کہیں بھی دہشت گردی ہو، الزام ہم پر عائد کیا جاتا ہے۔ ہماری قومی سلامتی کے ذمہ دار ادارے منافقت پر مبنی پالیسیاں تشکیل دیتے رہے ہیں جس کی سزا آج پوری قوم بھگت رہی ہے اور اس کے منفی اثرات قبائلی علاقوں سے نکل کر سوات اور پشاور وغیرہ جیسے بندوبستی علاقوں تک بھی پھیل چکے ہیں۔ ضرورت اس اَمر کی ہے کہ ہم اپنی غلطیوں، کوتاہیوں اور نا اہلیوں کا پوری سنجیدگی سے جائزہ لیں اور وقتی مفاد اور غیر ضروری مصلحتوں سے جان چھڑائیں۔ دوسروں کے معاملات میں ٹانگ اڑانے کی بجائے اپنے مسائل اور مشکلات ختم کرنے کے لیے قابل عمل پالیسیاں تشکیل دیں۔ ہمارا مرکز و محور ہماری اپنی داخلی کمزوریاں اور خامیاں ہونی چاہئیں۔ ہمیں اپنے مسائل اور مشکلات کے خاتمہ کے لیے ہنگامی بنیادوں پر عملی کام کا آغاز کرنا ہو گا۔ جب تک ہم اپنے مسائل کا حل خود نہ ڈھونڈیں گے اور اپنی غلطیاں تسلیم کر کے ان کا ازالہ نہیں کریں گے، ہم مسائل اور مشکلات کے گرداب سے نہ نکل سکیں گے۔ حکم رانوں کو ملک و قوم کی اصل مشکلات اور مسائل حل کرنے پر خلوصِ دل سے توجہ مرکوز کرنی ہو گی اور خود احتسابی کے ذریعے اپنی اصلاح کا آغاز کرنا ہو گا ورنہ اجتماعی تباہی سے ہمیں کوئی نہیں بچا سکے گا۔ 

 (17دسمبر 2008ء) 
٭٭٭



سوات …  اصل معاملہ کیا ہے؟

	سوات میں ڈیڑھ سال سے جاری شورش کے دوران یوں تو سوات کا بے پناہ نقصان ہر شعبۂ زندگی میں ہوا ہے لیکن تعلیمی لحاظ سے سوات کو ایک نا قابل تلافی نقصان سے دانستہ طور پر دوچار کر دیا گیا ہے۔ سوات کی تباہ حال معیشت، سیاحت اور عام کاروبار تو قیام امن کے بعد کسی نہ کسی طرح بحال ہو سکیں گے لیکن تعلیم کے میدان میں سوات کو جو نقصان پہنچایا گیا ہے، اس کی تلافی عشروں کے بعد بھی نہ ہو سکے گی۔ اب تک سوات کے 183سے زیادہ گرلز اور بوائز سکولوں کو دھماکہ خیز مواد کے ذریعے اڑایا گیا ہے اور یہ سلسلہ تا حال جاری ہے۔ اس وقت ضلع سوات میں تباہ ہونے والے گرلز سکولوں کی تعداد 122جب کہ تباہ ہونے والے بوائز سکولوں کی کل تعداد 61ہے۔ ان میں زیادہ تر وہ سکول تباہ کر دیئے گئے ہیں جو ریاستی دور میں بنائے گئے تھے اور اب یہ کہا جا سکتا ہے کہ حکومت پاکستان ان تباہ شدہ 183سکولوں کو 83سال میں بھی تعمیر نہیں کر سکے گی۔ مقامی طالبان کی دھمکی کے بعد ضلع بھر میں 16جنوری سے تمام گرلز سکول بند ہیں جس کے باعث 80ہزار سے زائد طالبات اور 8ہزار خواتین اساتذہ کا مستقبل خطرے میں پڑ گیا ہے۔ 
	گزشتہ دنوں مینگورہ میں قائم 5مزید سکولوں کو بڑی بے دردی اور سفاکی سے دھماکہ خیز مواد کے ذریعے زمین بوس کیا گیا۔ ان میں سوات کا اوّلین اور نہایت معتبر ہائی سکول نمبر 1بنڑ بھی شامل ہے جو 1954ء میں والئی سوات نے تعمیر کرایا تھا اور اس سکول سے سوات کی بڑی اور نامور شخصیات فارغ التحصیل تھیں۔ اس سکول کی تاریخی قدامت اور اہمیت تاریخِ سوات میں زریں الفاظ سے رقم کرنے کے قابل تھی۔ اس سے متصل پرائمری سیکشن بھی سفاکی کا نشانہ بنا اور اس کا وجود ختم کیا گیا۔ اس طرح طاہر آباد میں قائم گرلز ہائی سکول کی خوب صورت عمارت بھی ملبے کا ڈھیر بن گئی۔ اینگرو ڈھیرئی میں قائم بوائز ہائی سکول اور پرائمری سکول بھی زمین بوس کئے گئے۔ یوں لمحہ بھر میں ہزاروں بچوں اور بچیوں کو اپنی اپنی مادرِ علمی کی شفیق آغوش سے محروم کر دیا گیا۔ 
	اہل سوات کے لیے اس سے زیادہ المیہ اور کیا ہو گا کہ ان کے بچوں اور بچیوں کو حصول علم سے دانستہ طور پر محروم کیا جا رہا ہے اور یہ کام جو بھی کر رہا ہے، وہ نہ سوات اور اہل سوات کا دوست اور غم گسار ہو سکتا ہے اور نہ ہی وہ اس بات کا دعویٰ کر سکتا ہے کہ وہ سرزمینِ سوات کا فرزند ہے۔ بھلا وہ کون احمق ہو گا جو اپنے بچوں اور بچیوں سے حصولِ علم کا حق چھین لے۔ ایسا سنگ دل ہر گز سوات کا رہنے والا نہیں ہو سکتا۔ اگر یہ کام مقامی طالبان کا ہے تو وہ شریعت کے نام پر ایک بہت بڑا غیر شرعی کام کر رہے ہیں۔ اگر وہ خود کو سچے مسلمان سمجھتے ہیں اور اپنی تحریک کو نفاذِ شریعت سے وابستہ گردانتے ہیں تو پھر وہ کس طرح اس حدیث رسولؐ کی خلاف ورزی کر سکتے ہیں کہ "حصول علم ہر مرد و عورت پر فرض ہے" دوسری جگہ ارشاد رسولؐ ہے کہ "علم حاصل کرو خواہ تمھیں چین کیوں نہ جانا پڑے" اور تاریخ اسلام کا اگر مطالعہ کیا جائے تو جنگ بدر میں جب کفار قیدیوں کو رسولِ مہربانؐ کے سامنے لایا گیا تو انھوں نے جزیہ کے بدلے قیدیوں کی رہائی کا حکم دے دیا اور فرمایا کہ جو قیدی جزیہ ادا نہیں کر سکتے اور وہ پڑھے لکھے ہوں تو وہ جزیہ کے طور پر مسلمانوں کو پڑھنا لکھنا سکھا کر قید سے رہائی حاصل کر سکتے ہیں۔ رسول صادقؐ نے تو کفار سے بھی سیکھنے اور علم حاصل کرنے کا عملی نمونہ پیش کیا ہے لیکن دوسری طرف ہم اپنے ہی مسلمان بچوں اور بچیوں کو علم کے حصول سے محروم کر رہے ہیں۔ حالاں کہ بچیوں کے تعلیمی ادارے بچوں کے تعلیمی اداروں سے بالکل الگ ہیں اور بچیوں کو نہایت پردہ میں خواتین پڑھاتی ہیں اس طرح بچوں کے تعلیمی اداروں میں قرآن و حدیث کی باقاعدہ تعلیم دی جاتی ہے اور ان کے سیلبس میں خلافِ شرع کوئی مواد موجود نہیں۔ 
	صوبائی وزیر اطلاعات میاں افتخار حسین نے گزشتہ دنوں بیان دیا تھا کہ ہم عسکریت پسندوں کی دھمکی مسترد کرتے ہیں اور سکول مقررہ وقت پر کھلیں گے اور صوبائی حکومت ان کو مکمل تحفظ فراہم کرے گی۔" جس کے جواب میں سوات کے مرکزی شہر مینگورہ میں بہ یک وقت 5اہم سکولوں کو تباہ کر دیا گیا۔ وزیرِ اطلاعات صاحب اپنے بیان کے مطابق کن سکولوں کو تحفظ فراہم کریں گے؟ سوات میں سکول باقی بچیں گے تو انھیں تحفظ فراہم کیا جا سکے گا اور انھیں مقررہ وقت پر کھولا جا سکے گا۔ یہ اے این پی کی حکومت کے لیے ڈوب مرنے کا مقام ہے۔ میاں افتخار حسین میں اگر ہمت ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ صوبے میں ان کی حکومت نامی کوئی چیز موجود ہے تو وہ ذرا چند گھنٹوں کے لیے سوات آنے کی جرأت تو کر دکھائیں چہ جائیکہ وہ سوات میں سکولوں کے تحفظ کی بڑھکیں مارتے پھر رہے ہیں۔ 
	وفاقی وزیر اطلاعات شیری رحمان نے بھی کہا ہے کہ "وزیر اعظم نے طالبان کی طرف سے لڑکیوں کے سکول بند کرنے کی دھمکی کا سخت نوٹس لیا ہے اور ملاکنڈ سمیت تمام قبائلی علاقوں میں کسی کو حکومتی عمل داری چیلنج کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔" شیری صاحبہ بھی یہ بیان اس لیے دے سکتی ہیں کہ وہ اسلام آباد میں سخت سکیورٹی کے حصار میں رہتی ہیں اور انھیں سوات کے حالات کا پتہ ہر گز نہیں۔ اس وقت وفاق میں ان کی حکومت ہے اور ان کی مرضی کے مطابق سوات میں فوجی آپریشن جاری ہے اور آئین پاکستان کے مطابق فوج سول حکومت کے ما تحت ہوتی ہے۔ اس وقت سوات میں 30ہزار سے زائد فوج موجود ہے اور فوجی ترجمان ہر وقت یہ دعویٰ کرتے نظر آتے ہیں کہ سوات میں فوجی کار روائی میں اتنے عسکریت پسند مارے گئے اور فلاں علاقے میں حکومتی رِٹ بحال کر دی گئی۔ شیری رحمن کی منتخب جمہوری حکومت ذرا فوجی حکام سے یہ دریافت کرنے کی جرأت تو کر دکھائیں کہ ڈیڑھ سال سے اتنی بڑی تعداد میں فوج کی موجودگی میں 180 سے زائد سکول کیوں تباہ کر دیئے گئے؟ درجنوں رابطہ پلوں کو کیوں اڑایا گیا؟ متعدد شفا خانے کیوں زمین بوس کئے گئے؟ پر امن شہریوں کے ہزاروں مکانات اور دکانیں کیوں توپ کے گولوں کا نشانہ بنائے گئے؟ آپریشن کے دوران پندرہ سو بے گناہ شہریوں کو کیوں بھون دیا گیا؟ ایک محدود علاقے میں ڈیڑھ سالہ آپریشن کے باوجود امن کیوں قائم نہیں کیا جا سکا؟ چیک پوسٹوں کے نام پر عام شہریوں کی زندگی کیوں اجیرن بنا دی گئی؟ سوات کی معیشت اور سیاحت کی صنعت کا نام و نشاں کیوں مٹا دیا گیا؟ سوات جیسے بندوبستی علاقے میں خوف و دہشت کیوں پھیلایا گیا؟ جیتے جاگتے انسانوں کو مسلسل کیوں ذبح کیا جا رہا ہے؟ اور پھر ان کی سر کٹی لاشیں مینگورہ جیسے مہذب، شائستہ اور اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگوں کے شہر میں چوکوں میں کیوں اُلٹا لٹکا دینے دیا جاتا ہے اور مقامی انتظامیہ اور فوج کی بھاری نفری کی موجودگی کے باوجود طالبان کے حکم کے مطابق انھیں دن کے گیارہ بجے تک ہاتھ تک نہ لگانے کے احکامات کی بجا آوری کیوں کی جاتی ہے؟ کیا اس لیے کہ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا سات آٹھ گھنٹوں میں ان سر کٹی اُلٹی لٹکتی لاشوں کی تصاویر اور مووی بنا سکیں اور مہذب دنیا کو پاکستان کے غیر مہذب ہونے کا پیغام دیا جا سکے۔ خدا کے لیے اب بس بھی کریں۔ اتنا ظلم تو چنگیزی دور میں بھی نہیں کیا گیا ہے۔ ایسی وحشت اور بربریت کا سراغ تو غیر مہذب اور غیر متمدن انسانی دور میں بھی نہیں ملتا۔ وہ کونسا ظلم ہے جو اہل سوات پر نہیں ڈھایا گیا۔ قانون نافذ کرنے اور امن لانے کے دعوے داروں نے بھی اہل سوات کو مارنے اور وادیِ سوات کو اُجاڑ نے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے اور سوات کا امن و سکون سبوتاژ کرنے والوں نے بھی سوات اور اہل سوات کو تباہ و برباد کرنے میں کوئی کوتاہی نہیں برتی ہے۔ وادیِ سوات کا مسئلہ کوئی اتنا بڑا مسئلہ نہیں ہے۔ حکومت اگر پر امن ذرائع سے یہ مسئلہ حل کرنا چاہے تو اس میں کوئی اَمر مانع نہیں۔ آج ہی حکومت صدقِ دل سے ملاکنڈ ڈویژن میں اسلامی نظام نافذ کرے تو عسکریت پسندوں کے لیے مزید کار روائیاں کرنے کا جواز ختم ہو جائے گا اور سوات میں امن بحال ہو سکے گا لیکن اگر حکومت طاقت کے ذریعے ریاستی رٹ بحال اور امن قائم کرنا چاہے تو پاکستان کی منظم اور تربیت یافتہ فوج کے لیے یہ دنوں نہیں بلکہ گھنٹوں کی کار روائی ہو گی۔ لیکن حکومت اگر دونوں میں سے ایک ذریعہ بھی خلوص دل سے اپنانے سے مسلسل گریز کرتی رہے تو عوام تو یہ ضرور کہیں گے کہ دونوں نام نہاد فریقین کا کمانڈر ایک ہے اور ان کا مطمح نظر وطن عزیز کے خوب صورت اور ماضی کے پر امن علاقے میں اپنے مخصوص عالمی مقاصد کے حصول کے لیے قیام امن نہیں بلکہ مزید بدامنی اور خون ریزی پھیلانا ہے اور اس مقصد کے لیے اہل سوات کو قربانی کے بکرے اور سوات کو مذبح خانہ بنایا جا رہا ہے۔ 
 (13فروری 2009ء) 
٭٭٭


سوات میں شرعی عدالتوں کا قیام  اور قانونی پیچیدگیاں 

	سوات میں دو سال سے جاری شورش اور بد امنی کا خاتمہ ہو چکا اور زندگی قدرے معمول پر آ چکی ہے۔ علاقے میں پھیلا ہوا غیر معمولی خوف و ہراس بتدریج کم ہو رہا ہے۔ امن معاہدے کے تحت حکومت طالبان قیدیوں کو رہا کر رہی ہے اور زیادہ تر مقامات پر طالبان نے بھی مسلح گشت ختم کر دیئے ہیں۔ اگر چہ بعض علاقوں میں طالبان اب بھی فعال ہیں لیکن مولانا صوفی محمد کی تحریک پر وہ حکومت کے لیے مسائل پیدا کرنے سے گریز کر رہے ہیں۔ حکومت نے معاہدے پر عمل درآمد کرتے ہوئے قاضی عدالتیں قائم کر کے شرعی نظام عدل کو عملی جامہ پہنانے کا آغاز کر دیا ہے۔ مولانا صوفی محمد کی زیر نگرانی سوات کی چھ تحصیلوں میں سات قاضیوں نے چارج سنبھال لیا ہے اور عوام نے مختلف قاضی عدالتوں میں اپنے مقدمات نمٹانے کے لئے 400سے زائد درخواستیں جمع کرا دی ہیں، جن میں 20سے زائد مقدمات پر فوری طور پر فیصلے بھی سنا دیئے گئے ہیں۔ عوام مطمئن ہیں کہ سوات امن معاہدہ کے نتیجے میں اگر ایک طرف علاقے میں جاری خوں ریزی ختم ہوئی تو دوسری جانب انھیں فوری اور سستے انصاف کی سہولت بھی فراہم کر دی گئی۔ شرعی عدالتوں میں فوجداری مقدمات چار مہینوں میں نمٹائے جائیں گے جب کہ دیوانی مقدمات کے لیے زیادہ سے زیادہ میعاد چھ ماہ مقرر کی گئی ہے۔ ان عدالتوں میں مثبت قدم یہ اٹھایا گیا ہے کہ عام لوگوں کو اب اپنے مقدمات اور تنازعات کے لیے وکیلوں کا دست نگر نہیں بننا پڑے گا بلکہ نئے نظام کے تحت ہر شخص وکیل کے بغیر بھی اپنا مقدمہ لڑ سکتا ہے۔ اگر کوئی شخص اپنے مقدمے کے لیے خود ہی دلائل پیش کر سکتا ہے تو وہ خود ہی اپنے مقدمہ کی پیروی کر سکے گا۔ لیکن اگر وہ خود اپنا مقدمہ بہتر انداز میں عدالت میں پیش نہیں کر سکتا تو اس کے لیے وہ کسی بھی شخص کو اپنا وکیل مقرر کر سکتا ہے اور اس کے لیے ضروری نہیں کہ مقرہ شخص نے ایل ایل بی کی ڈگری حاصل کی ہو۔ مقدمہ دائر کرنے کے لیے سادہ کاغذ پر قاضی کے نام درخواست لکھنی پڑتی ہے جس کے بعد قاضی پولیس اہل کاروں کو ضروری کار روائی کے لیے احکامات جاری کرتا ہے۔ دوسرے فریق کی عدالت میں حاضری پر پہلے قاضی دونوں فریقین کو باہمی طور پر تصفیہ کا موقع دے گا، لیکن فریقین میں تصفیہ نہ ہو سکے تو پھر باقاعدہ طور پر مقدمہ کی سماعت شروع کی جاتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ قاضی عدالتوں کے فیصلوں کے خ لاف "دارالقضاء" میں درخواست دائر کی جا سکے گی جو ملاکنڈ ڈویژن کی سطح پر قائم کی جائے گی اور اس کی حیثیت سپریم کورٹ کی سی ہو گی جس کے حتمی فیصلے کو کہیں بھی چیلنج نہیں کیا جا سکے گا جب کہ سوات بار ایسوسی ایشن کے وکلاءا ور قانونی ماہرین کہتے ہیں کہ سوات میں شرعی نظام پہلے سے ہی قائم تھا، اب اس کا صرف نام تبدیل کر کے اسے نئی شکل میں فعال کر دیا گیا ہے۔ ان ماہرین کے مطابق پہلے بھی سوات میں کوئی فیصلہ شریعت کو نظر انداز کر کے نہیں کیا جاتا تھا، تا ہم اب اس میں فوجداری اور دیوانی مقدمات کے لئے وقت مخصوص کر دیا گیا ہے۔ ان ماہرین کے مطابق سوات میں قائم شرعی عدالتوں کو کوئی آئینی تحفظ حاصل نہیں اور اس مسودہ قانون پر تو ابھی صدر مملکت نے بھی دستخط نہیں کئے ہیں اور اگر صدر اس پر دستخط بھی کریں تو اسے محض صدارتی آرڈیننس کی حیثیت حاصل ہو گی جس کی میعاد ختم ہونے کے بعد اس کی کوئی قانونی حیثیت باقی نہیں رہے گی۔ ان قانونی ماہرین کے مطابق جب تک اسے قومی اسمبلی میں باقاعدہ طور پر آئین پاکستان کا حصہ نہیں بنایا جاتا، اس وقت تک ان شرعی عدالتوں کی حیثیت مشکوک رہے گی۔ 
	سوات میں شرعی عدالتوں کے فعال ہونے کے بعد ضلع بھر میں 20عمومی عدالتوں نے کام کرنا بند کر دیا ہے جب کہ حکومت کی طرف سے واضح احکامات نہ ملنے کی وجہ سے ججوں نے بھی ریگولر عدالتوں میں اپنی ڈیوٹی پر حاضر ہونا چھوڑ دیا ہے۔ مولانا صوفی محمد نے بھی واضح طور پر کہا ہے کہ شرعی عدالتوں کے قیام کے بعد ریگولر ججوں کو سوات سے چلے جانا چاہئے کیوں کہ ان کے بقول اس سے امن معاہدے کی خلاف ورزی ہو رہی ہے۔ اس اعلان کے بعد سول اور سیشن کورٹس کے جج تذبذب کا شکار ہو گئے ہیں۔ اس وقت سوات میں کل 20ریگولر عدالتیں قائم ہیں جن میں 7سیشن عدالتیں جب کہ 13سول کورٹس شامل ہیں۔ 
	سوات میں شرعی عدالتوں کے قیام کے بعد ایک اور مسئلہ یہ بھی در پیش ہے کہ ریگولر عدالتوں میں اس وقت 15سے 20ہزار تک مقدمات زیر سماعت ہیں جن میں کئی مقدمات کے فیصلے ہو چکے ہیں لیکن سوات میں حالات خراب ہونے کی وجہ سے ان پر ابھی احکامات جاری نہیں کئے گئے ہیں اور جن مقدمات پر احکامات جاری کر دیئے گئے ہیں، سوات میں جاری شورش اور مقامی انتظامیہ کے بے اثر ہونے کی وجہ سے ان پر عمل درآمد نہیں کرایا جا سکا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ ان مقدمات کا کیا بنے گا؟ اس بارے میں تحریک نفاذ شریعت محمدیؐ کے ترجمان امیر عزت خان کا کہنا ہے کہ "شرعی ریگولیشن 2009ء کے نفاذ کے بعد ملاکنڈ ڈویژن میں قائم تمام ریگولر عدالتوں کی جگہ شرعی عدالتیں کام شروع کریں گی۔" انھوں نے کہا کہ "1994ء اور 1999ء کے مسودوں میں لوگوں کو اختیار دیا گیا تھا کہ وہ اپنے مقدمے شرعی یا پاکستان کی مروجہ عدالتوں میں لڑ سکتے ہیں لیکن نئے مسودے میں یہ گنجائش نہیں رکھی گئی ہے بلکہ اس کے تحت تمام مقدمات شرعی عدالتوں میں لڑے جائیں گے۔" تاہم عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر سینیٹر افراسیاب خٹک نے کہا ہے کہ "مولانا صوفی محمد نے سوات سے ریگولر ججوں کو نکالنے کی بات غلط فہمی کے نتیجے میں کہی ہے، ریگولر جج ملاکنڈ ہی میں رہیں گے اور عدالتیں اپنا کام جاری رکھیں گی۔" 
	موجودہ شرعی عدالتوں کا ایک مثبت پہلو یہ بھی سامنے آیا ہے کہ ان عدالتوں میں تمام تر کار روائی پشتو زبان میں ہو گی۔ اس سے قبل ریگولر عدالتوں میں مقدمات کی کار روائی اردو اور انگریزی زبانوں میں کی جاتی تھی جس کی وجہ سے موکل کو اپنے وکیل کی دلائل سمجھ میں نہیں آتے تھے اور نہ ہی وہ یہ سمجھ پاتا تھا کہ اس کا وکیل اس کی وکالت صحیح طور پر کر رہا ہے یا وہ محض اپنی فیس کھری کرنے کے چکر میں ہے۔ اب وکیل (اگر کوئی ہائر کرنا چاہے تو) پشتو زبان میں اپنے موکل کا کیس پیش کرے گا، جج بھی پشتو زبان ہی میں استفسارات کرے گا اور کیس کی تمام تر روداد بھی پشتو زبان میں رقم ہو گی جس سے ناخواندہ یا کم تعلیم یافتہ موکل کو اپنے کیس کو سمجھنے، اسے مطالعہ کرنے اور وکیل کو اپنی بات سمجھانے میں آسانی رہے گی۔ 
	سوات کے عوام خوش ہیں کہ شرعی عدالتوں کے قیام سے اب انھیں پاکستان کی ریگولر عدالتوں کی طویل پیشیوں، وکیلوں کی زیادتیوں، جھوٹے گواہوں اور نا انصافیوں سے نجات مل سکے گی اور انھیں فوری اور سستا انصاف قولاً نہیں بلکہ عملاً ان کی دہلیز پر مل سکے گا، لیکن دوسری طرف سوات میں حالات اب بھی سو فیصد معمول پر نہیں آ سکے ہیں۔ اب بھی سوات کے بہت سے علاقوں میں مبینہ طور پر طالبان نے اپنی متوازی عدالتیں قائم کر رکھی ہیں۔ خوف و دہشت اور خوں ریزی کا سلسلہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوا ہے۔ بعض نادیدہ قوتیں سوات امن معاہدہ سے خوش نہیں اور وہ کسی بھی وقت سوات میں آگ اور خون کا کھیل دوبارہ شروع کر سکتی ہیں۔ ہماری دُعا ہے کہ اللہ تعالیٰ سوات میں پائیدار امن قائم کرے اور شرعی عدالتوں کو ظالموں کو سزا دینے اور مظلوم کو انصاف فراہم کرنے کا حقیقی وسیلہ ثابت فرمائے۔ 

 (23مارچ 2009ء) 
٭٭٭


سوات میں فوجی آپریشن کو غیر ضروری طوالت نہ دی جائے !

	وادئ سوات، جیسا کہ سب کو علم ہے کہ گزشتہ دو ڈھائی سال سے انگار وادی بن چکی ہے۔ جنرل (ر) پرویز مشرف نے اپنے ذاتی سیاسی مفادات کے لیے اسے عسکریت پسندی کا مرکز بنایا تھا، بعد میں آنے والی مقتدر قوتوں نے بھی یہاں شدت پسندی کو مہمیز دی تاکہ وہ اس کے ذریعے امریکا اور عالمی برادری سے زیادہ سے زیادہ ڈالر کما سکیں۔ اس تمام تر صورت حال میں سوات اور اہل سوات کو تباہی و بربادی اور مشکلات و مسائل کا جو سامنا کرنا پڑا، اس سے مقتدر قوتوں نے دانستہ طور پر اغماض برتا اور پسِ پردہ پھر بھی عسکریت پسندوں کو پھلنے پھولنے کے مواقع فراہم کئے جاتے رہے۔ فوجی آپریشنوں کے نام پر عسکریت پسندوں کے اصل ٹھکانوں کو تباہ کرنے کی بجائے بے قصور اور معصوم شہریوں کو نشانہ بنایا گیا۔ ان کے گھر تباہ کر دئیے گئے، گاؤں اور دیہات میں بنیادی صحت مراکز کو جلوایا گیا۔ پلوں اور سڑکوں کو تباہ کر دیا گیا اور وہ سوات جو چند سال قبل امن و سکون کا گہوارہ تھا جس کا دامن تھکے ہوئے لوگوں کے لیے وا رہتا تھا، اسے اپنے ہی باشندوں کے لیے جہنم زار بنا دیا گیا۔ 
	نئی صورت حال کے مطابق اس وقت سوات میں ایک اور بڑے آپریشن کا آغاز کر دیا گیا ہے جس کے نتیجے میں ایک بار پھر قریباً دس لاکھ لوگ بے سرو سامانی کی حالت میں ہجرت پر مجبور ہو گئے ہیں۔ جو لوگ سوات اور اس کے مرکزی شہر منگورہ میں رہ گئے ہیں، انھیں طویل ترین کرفیو کا سامنا ہے۔ دو ہفتے سے بجلی منقطع ہے۔ پانی کی بوند بوند کے لیے لوگ ترس رہے ہیں۔ خوراک اور ادویات کا سٹاک تیزی سے ختم ہو رہا ہے۔ اوپر گن شپ ہیلی کاپٹروں سے مسلسل شیلنگ ہو رہی ہے۔ مارٹر گولے فائر کئے جا رہے ہیں اور توپ کے دھانے مسلسل آگ بر سا رہے ہیں۔ اس بار وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے عزم ظاہر کیا ہے کہ عسکریت پسندوں کا مکمل قلع قمع کیا جائے گا۔ ان کا یہ عزم خوش آئند ہے لیکن آپریشن کو غیر ضروری طوالت دی جا رہی ہے جس کی وجہ سے عوام کے جان و مال کے لیے شدید خطرات پیدا ہو رہے ہیں اور بے گھر ہونے والے افراد کے مصائب میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اس وقت پاک فوج کا زیادہ تر انحصار گن شپ ہیلی کاپٹروں، جیٹ طیاروں، مارٹر گولوں اور توپ خانے پر ہے جب کہ "طالبان" منگورہ بھر میں پھیلے ہوئے ہیں، اس لیے جب تک پاک فوج کے جوان زمینی کار روائی نہیں کریں گے، اس وقت تک ان کا خاتمہ ممکن نہیں۔ فضائی کار روائی اگرچہ آسان ضرور ہے لیکن اس میں نہ صرف بے گناہ اور معصوم شہریوں کے ہلاک ہو جانے کے امکانات زیادہ ہیں بلکہ اس طریقہ سے آپریشن طویل سے طویل تر ہو جاتا جائے گا۔ 
	ایک محتاط اندازے کے مطابق سوات کے "طالبان" کی کل تعداد پانچ ہزار سے زیادہ نہیں۔ ان میں زیادہ تر وہ لوگ شامل ہیں جو غیر تربیت یافتہ اور نا تجربہ کار ہیں۔ تربیت یافتہ "طالبان" کی کل تعداد ایک ہزار سے بھی کم ہے۔ ان کے پاس کوئی جدید اسلحہ نہیں۔ زیادہ تر "طالبان" کے پاس "نادیدہ قوتوں" کی عطا کر دہ جی تھری رائفلیں ہیں۔ مبینہ طور پر ان کے پاس محدود مقدار میں بارود کا ذخیرہ موجود ہے۔ انھوں نے سڑکوں میں جگہ جگہ مائنز نصب کئے ہیں۔ جس کا علم ہر خاص و عام کو ہے۔ بچوں تک کو یہ جگہیں معلوم ہیں اور انھیں یہ بھی علم ہے کہ یہ مائنز کتنی مدت تک کار آمد ہوتی ہیں۔ اگر "نادیدہ قوتیں" طالبان کو اسلحہ، بارود، خوراک اور دیگر سہولتیں فراہم کرنا بند کر دیں تو طالبان چند دنوں میں سرنڈر ہو سکتے ہیں۔ اس وقت سوات میں فوج کی بڑی تعداد بھجوائی گئی ہے۔ تمام اہم چوٹیوں پر سکیورٹی فورسز کا قبضہ ہے۔ سوات کے داخلی اور خارجی راستوں کی ناکہ بندی کی گئی ہے۔ فضاؤں میں ہر وقت جیٹ طیارے اور گن شپ ہیلی کاپٹر پروازیں کرتے رہتے ہیں۔ وادی کے چاروں طرف سکیورٹی فورسز کے مضبوط مورچے قائم ہیں جہاں سے مسلسل گولے برسائے جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ بھی پاک فوج کو جدید جنگی ساز و سامان اور حساس آلات کی سہولتیں حاصل ہیں، اس سب کے باوجود اگر سوات میں فوجی آپریشن کو غیر ضروری طوالت دی جاتی ہے تو اس کا مطلب یہ لیا جائے گا کہ آپریشن کو عالمی برادری کے سامنے بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے تاکہ اسے زیادہ سے زیادہ کیش کرا لیا جائے۔ لیکن دوسری طرف اس کے نتیجے میں سوات سے دس لاکھ لوگوں کا انخلاء عمل میں آ چکا ہے اور ان میں زیادہ تر لوگ بے سر و سامانی اور ناگفتہ بہ حالت میں عارضی کیمپوں میں تکلیف اور پریشانی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں اور جو لوگ سوات کے اندر رہ گئے ہیں، ان کی حالت اور بھی خراب ہے۔ وہ  پانی اور خوراک کی قلت کا شکار ہیں اور خوف ناک دھماکوں نے ان کے اعصاب شل کر دئیے ہیں۔ بلاشبہ سوات میں ایک بڑا انسانی المیہ رونما ہو چکا ہے لیکن ہمارے حکم رانوں اور اصل مقتدر قوتوں نے اپنی آنکھیں بند اور کانوں میں روئی ٹھونس رکھی ہے۔ ضرورت اس اَمر کی ہے کہ سوات کے مظلوم، بے بس اور مجبور عوام کی تکالیف اور کس مپرسی کا فوری احساس کیا جائے۔ آپریشن کو طوالت نہ دی جائے اور زمینی کار روائی کے ذریعے جلد از جلد اہداف حاصل کئے جائیں۔ "طالبان" کی قیادت کو اگر نشانہ بنایا جائے تو ان کا پورا نیٹ ورک اور دَم خم ختم ہو سکتا ہے۔ 
	منگورہ، سوات کا مرکزی شہر ہے۔ یہاں کے لوگ تعلیم یافتہ، مہذب اور امن پسند ہیں۔ وہ کسی بھی قسم کی عسکریت پسندی سے تعلق نہیں رکھتے۔ اس لیے منگورہ میں فوری بجلی بحال کی جائے اور یہاں جلد از جلد حکومت کی عمل داری قائم کی جائے تاکہ بے گھر ہونے والے افراد اپنے گھروں کو واپس جا سکیں۔ آپریشن کے دوران پرامن شہریوں کی جان و مال کا خصوصی خیال رکھا جائے کہ فوج عوام کے تحفظ کے لیے ہوتی ہے نہ کہ انھیں بے گھر کرنے اور انھیں مشکلات سے دوچار کرنے کے لیے۔ 
 (13 مئی 2009ء) 
٭٭٭


اپنا اثاثہ کون ضائع کرتا ہے؟

	اس وقت سوات آپریشن پورے زور و شور سے جاری ہے۔ آل پارٹیز کانفرنس میں بیشتر سیاسی جماعتوں نے اسے منطقی انجام تک پہنچانے پر زور دیا۔ پارلیمنٹ بھی اس معاملہ پر یک سو ہے اور میڈیا بھی آپریشن کے حق میں دلائل دینے میں مصروف ہے۔ اس تمام تر صورتِ حال میں پاک فوج کے کردار کو غیر معمولی طور پر سراہا جا رہا ہے اور ایسے موقع پر فوج کا مورال بلند کرنے کے لیے ایسا ہونا بھی چاہئے لیکن دوسری طرف چند چبھتے ہوئے سوال ایسے اُبھرتے ہیں جن کا جواب دینا حکومت اور سکیورٹی اداروں کی ذمہ داری ہے۔ 
 (۱) جب سوات میں مولانا فضل اللہ اپنے غیر قانونی ایف ایم ریڈیو کے ذریعے اپنے نظریات پھیلا رہے تھے تو مقامی انتظامیہ کو کس نے خاموش رہنے کا حکم دیا تھا؟
 (۲) جب مولانا فضل اللہ کو مالی وسائل، اسلحہ اور بارود فراہم کیا جا رہا تھا اور ان کے ساتھیوں کو "ضروری ٹریننگ" دی جا رہی تھی تو اس وقت حساس اداروں نے کیوں آنکھیں بند کر رکھی تھیں؟
 (۳) جب مولانا فضل اللہ کی سرگرمیاں روکنے میں مقامی پولیس بھی کامیاب ہو سکتی تھی تو اس وقت ان کے خلاف کار روائی کیوں نہیں کی گئی؟ ایک مقامی ایس ایچ او کے مطابق "اگر اس وقت مجھے فری ہینڈ دیا جاتا تو چند گھنٹوں کے اندر ہی مولانا فضل اللہ اپنے تمام ساتھیوں سمیت حوالات میں بند ہوتے۔" لیکن بقول ان کے انھیں سختی سے ہدایات دی گئی تھیں کہ وہ اس معاملہ میں ٹانگ نہ اڑائیں۔ 
 (۴) مبینہ طور پر جب مشرف دور میں سوات کے داخلی راستے لنڈاکی چیک پوسٹ پر اسلحہ سے بھرا ہوا ایک ٹرک پکڑ لیا گیا تھا تو کس نے اوپر سے احکامات جاری کر دئیے تھے کہ اسے بحفاظت مام ڈھیرئ تک پہنچنے دیا جائے؟
 (۵) سوات کے "طالبان" اپنے غیر قانونی ایف ایم ریڈیو کے ذریعے بار بار کہ چکے ہیں کہ فوج اور ایجنسیوں میں ان کے "ہمدرد لوگ" موجود ہیں اور وہ باقاعدہ طور پر ان کی مد د کرتے ہیں، ان بیانات کی تردید حکومتی یا عسکری سطح پر کبھی کیوں نہیں کی گئی؟
 (۶) سوات میں اس سے قبل بھی تین بار فوجی آپریشن کے فیز چلتے رہے ہیں۔ عینی شاہدین کے مطابق اَپر سوات اور تحصیل خوازہ خیلہ کی بعض چیک پوسٹوں پر "طالبان" کو باقاعدہ آمد و رفت کی اجازت تھی جب کہ ان ہی آرمی چیک پوسٹوں پر عام شہریوں کو خوب تنگ کیا جاتا تھا۔ اس کے علاوہ ننگولئی چیک پوسٹ کے قریب طالبان نے متعدد دفعہ لوگوں کو "شرعی سزائیں" دیں لیکن چیک پوسٹ پر تعینات سکیورٹی فورسز تماشا دیکھتیں اور "کاروبارِ طالبان" میں کوئی مداخلت کی جرأت نہ کرتیں۔ حالاں کہ اس وقت فضا میں گن شپ ہیلی کاپٹر بھی محوِ پرواز ہوتے لیکن ان کی فائرنگ کا نشانہ پہاڑ ہوتے۔ 
 (۷) سابقہ آپریشنز جو قریباً ڈیڑھ سال تک جاری رہے، ان میں شہری آبادی کا غیر معمولی جانی و مالی نقصان ہوتا رہا۔ قریباً دو ہزار تک عام شہری مارٹر گولو ں اور سکیورٹی فورسز کی گولیوں کا نشانہ بنے، ہزاروں گھر اور دکانیں تباہ ہوئیں، لاکھوں لوگوں نے متاثرہ علاقوں سے نقل مکانی کی۔ ایک سال تک سوات بھر میں کرفیو نافذ رہا لیکن اس کے باوجود عسکریت پسندوں کو ختم نہیں کیا جا سکا۔ سوات کے دو سو سکولوں کو تباہ ہونے سے نہیں بچایا جا سکا۔ دو درجن کے قریب رابطہ پلوں اور متعدد بیسک ہیلتھ یونٹوں کا تحفظ نہیں کیا جا سکا اور یہ ساری تباہی کرفیو کے دوران عمل میں آئی۔ حکومت، فوج اور حساس ادارو ں کے ذمے دار ان حقائق کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟
 (۸) سابق آپریشنوں میں پچاس "طالبان" بھی نہیں مارے گئے ہیں اور اس کی تصدیق نہ صرف غیرجانب دار میڈیا کرے گا بلکہ سوات میں رہنے والے کسی سے بھی پوچھا جا سکتا ہے کہ مختلف علاقوں میں کتنے طالبان کی نمازِ جنازہ پڑھائی گئی ہیں؟
	درج بالا حقائق کی روشنی میں سوات کے لوگ اب بھی موجودہ آپریشن کو "ڈرامہ" سمجھتے ہیں اور ان کا خیال ہے کہ جس فوجی کار روائی کے لیے پندرہ لاکھ سے زائد لوگوں کو اپنے ہی ملک میں بے گھر کر کے در بدر کیا گیا، یہ کار روائی کمانڈو ایکشن کے ذریعے چند دنوں میں باآسانی مکمل کی جا سکتی تھی۔ ایک حاضر سروس میجر نے نام نہ بتانے کی شرط پر بتایا کہ پاک فوج کے پاس اتنی صلاحیت موجود ہے کہ اگر وہ چاہے تو محض چھ گھنٹوں میں پورے سوات کو عسکریت پسندوں سے خالی کرا سکتی ہے۔ 
	میڈیا پاک فوج کے کردار کو ضرور سراہے اور اس تمام تر تباہی کی ذمہ داری "سوات طالبان" پر ضرور ڈالے لیکن میڈیا کو مذکورہ سوالات کے جوابات تلاش کرنے میں بھی دل چسپی کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔ جن قوتوں نے عسکریت پسندوں کو بنایا اور انھیں یہ سب کچھ کرنے کے مواقع دئیے ان کو بھی طشت از بام کیجئے۔ اب اس کی ساری سزا سوات کے معصوم لوگوں کو دی جا رہی ہے، آخر ان کا کیا قصور ہے؟ سوات کوئی سرحدی یا قبائلی علاقہ نہیں۔ یہ ایک بندوبستی علاقہ ہے۔ یہاں کے لوگ اعلیٰ تعلیم یافتہ، مہذب اور شریف ہیں۔ وہ کسی کو ذبح کرنے کا تصور تک نہیں کر سکتے۔ وہ تو ہمیشہ صوبہ سرحد کے دوسرے علاقوں کی نسبت رمضان کے روزے بھی مرکز کے اعلان پر رکھتے ہیں اور اپنی عید بھی حکومتی اعلان پر مناتے رہے ہیں۔ وہ ریاست کے خلاف بغاوت اور اسلحہ اٹھانے کی ہمت کیسے کر سکتے ہیں؟ سوات میں عام خیال یہ ہے کہ یہ سب کچھ "نادیدہ طاقتوں" کے ذریعے کرایا گیا ہے۔ دنیا میں ایسی ریاست اور ایسے حکم ران کہیں نہیں ملیں گے جو اپنے لوگوں کے خون پر ڈالر کمائیں، جدید اسلحہ اور دفاعی آلات حاصل کریں اور اپنے ہی شہریوں کو لاکھوں کی تعداد میں بے گھر ہونے کے عذاب میں مبتلا کریں۔ نہ صرف انھیں بے گھر کر دیں بلکہ آپریشن کے نام پر ان کے گھر تباہ بھی کریں اور اپنی ہی مہاجر رعایا کے نام پر دنیا سے خیرات بھی مانگتے پھریں۔ 
	میڈیا اور تمام سیاسی جماعتیں سوات میں فوجی آپریشن کی حمایت ضرور کریں۔ فوج کا مورال بلند کرنے میں اپنا کردار ضرور ادا کریں لیکن خدا کے لیے اصل حقائق پر پردہ نہ ڈالیں۔ اس آپریشن کی آڑ میں پُر امن شہریوں کا جو جانی و مالی اور عزت و آبرو کا نقصان ہو رہا ہے۔ جن لوگوں کو جبری طور پر اپنے گھروں سے بے گھر کر دیا گیا ہے اور انھیں جس غیر مہذب اور غیر انسانی طریقے سے ایمرجنسی میں گھر بار چھوڑنے پر مجبور کر دیا گیا ہے، اس کی مذمت بھی کیجئے اور اب سوات آپریشن کو غیر ضروری طوالت محض اس لیے دی جا رہی ہے کہ عالمی برادری کو ب اور کرایا جا سکے کہ سوات میں "خطرناک ترین طالبان" موجود ہیں اور ان کا صفایا کرنے میں مہینے لگ سکتے ہیں، اس لیے پاکستان کو مزید خیرات دی جائے۔ لیکن دوسری طرف بے گھر ہونے والے لوگ سخت گرمی میں کیمپوں میں اذیت ناک زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ ان کے نام پر جگہ جگہ مختلف فلاحی اداروں اور لوگوں نے امدادی کیمپ لگائے ہیں جن میں اہل وطن دل کھول کر چندہ دے رہے ہیں لیکن یہ امداد ان ستم رسیدہ لوگوں تک نہیں پہنچ رہی ہے۔ عالمی ادارے اور ممالک جو امداد مہاجرین کے نام پر دے رہے ہیں، اس کا عشرِ عشیر بھی ان مصیبت زدہ لوگوں تک نہیں پہنچ رہا ہے۔ 
	سوات میں نیا فوجی آپریشن گزشتہ دو ہفتوں سے جاری ہے لیکن اب تک طالبان قیادت زندہ و سلامت ہے اور فوجی آپریشن میں کوئی قابل ذکر کمانڈر بھی ہلاک نہیں کیا جا سکا ہے۔ سوات کے لوگوں کا اب بھی یہی خیال ہے کہ طالبان کے نام پر سوات میں نوجوانوں کا برین واش کر کے جو گروپ تیار کرایا گیا ہے، اسے ختم کر دیا جائے گا جب کہ طالبان قیادت کو کوئی گزند نہیں پہنچائی جائے گی کہ یہ تو اسلامی جمہوریۂ پاکستان کا اثاثہ ہے اور اپنا اثاثہ اتنی آسانی سے کون ضائع کرتا ہے۔ 

 (22 مئی 2009ء) 
٭٭٭



سوات آپریشن … حقائق نہ چھپائے جائیں !

	عسکری ذرائع کے مطابق متاثرین منگورہ کی واپسی 17جون سے شروع ہو جائے گی جب کہ شدت پسندوں کو مکمل شکست دینے میں 2 ماہ لگ سکتے ہیں۔ سوات میں چوتھے فوجی آپریشن کو شروع ہوئے ایک مہینہ گزر چکا ہے اور فوجی ترجمان کے مطابق عسکریت پسندوں کی کمر مکمل طور پر توڑی جا چکی ہے۔ اس لیے قومی ذرائع ابلاغ میں پاک فوج کے اس کارنامے پر اس کو زبردست خراج تحسین پیش کیا جا رہا ہے اور سوات کے "طالبان" کی گوریلا جنگ کو ہفتۂ عشرہ میں فرد کرنے کے کارنامے کو غیر معمولی طور پر سراہا جا رہا ہے اور واضح کیا جا رہا ہے کہ سری لنکن فوج نے تامل ٹائیگرز کو 25سال کی طویل جنگ کے بعد شکست دی لیکن پاک فوج کے جوانوں نے دس بارہ دنوں میں سوات کے عسکریت پسندوں کی گوریلا کار روائیوں کا خاتمہ کر دیا۔ 
	یہ ساری باتیں اپنی جگہ لیکن سوات کے "طالبان" اور سری لنکا کے علیحدگی پسندوں کو ایک جیسا سمجھنا درست نہیں۔ تامل علیحدگی پسندوں کو کسی خفیہ طاقت نے نہیں بنایا تھا، وہ اپنی محرومیوں کے خلاف جدوجہد کے لیے خود اٹھ کھڑے ہوئے تھے لیکن سوات میں طالبان کو باقاعدہ خفیہ ہاتھ نے تخلیق کیا تھا۔ انھیں ٹریننگ دی تھی، اسلحہ اور مواقع دیئے تھے تاکہ وہ اس خفیہ ہاتھ کے مخصوص ایجنڈے کو آگے بڑھا سکیں اور قومی اور بین الاقوامی سطح پر ان کے ذریعے سیاسی، مالی، عسکری اور تزویراتی مقاصد حاصل کئے جا سکیں۔ خفیہ ہاتھ اپنے مقاصد میں کامیاب رہا ہے لیکن اس مہم جوئی کے نتیجہ میں سوات کا پورا انفراسٹرکچر تباہ ہو چکا ہے۔ اس کی سیاحت اور عمومی اقتصادیات دم توڑ چکی ہیں اور اس میں سوات کے رہنے والوں کو نہ صرف جانی و مالی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا ہے بلکہ وہ اپنے ہی ملک میں بے گھر ہونے کا عذاب بھی سہہ رہے ہیں۔ 
	قومی میڈیا سوات آپریشن کے حوالے سے "وسیع تر قومی مفاد" میں دانستہ طور پر اصل حقائق پر پردہ ڈال رہا ہے اور وہ سوات آپریشن کا محض ایک پہلو اُجاگر کرنے میں لگا ہوا ہے لیکن اسے اتنی غیر جانب داری، حب الوطنی اور اپنے فرائض منصبی سے انصاف و وابستگی کا مظاہرہ ضرور کرنا چاہئے کہ:
٭ سوات میں گزشتہ تین فوجی آپریشن کیوں ناکام رہے، ان کی وجوہات پر لازماً روشنی ڈالنی چاہئے۔ 
٭ گزشتہ فوجی آپریشنوں میں "طالبان" کی بجائے سوات کے دو ہزار سے زائد پر امن اور معصوم شہری کیوں لقمۂ اجل بنے اور عام شہری آبادی کو ناقابل تلافی نقصان سے کیوں دوچار کیا گیا؟
٭ گزشتہ آپریشنوں میں بڑی تعداد میں بچے اور خواتین مارٹر گولوں اور گن شپ ہیلی کاپٹروں کا نشانہ بنے، فوجی قافلوں کی موومنٹ کے دوران فوج کی ہوائی فائرنگ سے بازاروں اور گھروں میں درجنوں افراد گولیوں کا نشانہ بنے، اس کی ذمہ داری کا تعین ہونا چاہئے۔ 
٭ "طالبان" کی قیادت کو باآسانی گرفتار بھی کیا جا سکتا تھا اور اسے مارا بھی جا سکتا تھا لیکن ایسا دانستہ طور پر نہیں کیا گیا۔ اس مجرمانہ غفلت کی ذمہ داری کس پر ڈالی جائے گی؟ 
٭ پاک فوج کے ترجمان کہتے ہیں کہ ہم کوئی بیرونی حملہ آور نہیں، اس لیے عام شہریوں کی حفاظت کا پورا خیال رکھا جاتا ہے لیکن گزشتہ آپریشنوں میں دانستہ طور پر عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا اور کرفیو کے دوران آرمی چیک پوسٹوں پر زخمی شہریوں کو روکا جاتا رہا، انھیں کرفیو کی پابندیوں کی وجہ سے ہسپتال جانے کی اجازت نہیں دی جاتی تھی اور اکثر مریض اور زخمی چیک پوسٹوں پر ہی بے بسی سے دَم توڑتے رہے ہیں۔ کیا پاک فوج کی ذمہ داری نہیں تھی کہ وہ بیمار یا زخمی اہل وطن کو کرفیو کے دوران ہسپتال پہنچانے میں تعاون کرتی؟ موجودہ آپریشن میں بھی بے شمار عام شہری ہلاک ہو چکے ہیں اور درجنوں زخمی اس وجہ سے اپنی جانوں سے ہاتھ دھو چکے ہیں کہ انھیں کرفیو کی وجہ سے سوات سے باہر ہسپتال تک لے جانے کی اجازت نہیں تھی۔ 
٭ سوات میں چوتھا فوجی آپریشن جاری ہے۔ سوات کی قریباً 80 فی صد لوگ نقل مکانی کر چکے ہیں اور ایک مہینہ کے سخت آپریشن کے باوجود طالبان قیادت کا بال تک بیکا نہیں ہوا ہے۔ یہ وہی فوج ہے جس نے وزیرستان میں نیک محمد کو موبائل فون کے ذریعے ٹریس کر کے ہلاک کیا تھا اور یہ وہی فوج ہے جس نے جنرل پرویز مشرف کے دور میں نواب اکبر بگٹی کو غار کے اندر نشانہ بنایا تھا لیکن سوات "طالبان" کے ترجمان حاجی مسلم خان اور ان کے مرکزی امیر مولانا فضل اللہ بی بی سی اور قومی میڈیا سے موبائل پر باقاعدہ رابطہ کرتے رہے ہیں لیکن انھیں نشانہ نہیں بنایا جا سکتا۔ کیا عسکری قیادت کو علم ہے کہ اس بارے میں سوات کے لوگ کیا کہتے ہیں؟
٭ قومی ذرائع ابلاغ نے "وسیع تر قومی مفاد" کے نام پر بعض تلخ حقائق چھپانے کی دانستہ کوشش کی ہے۔ افسوس ناک اَمر یہ ہے کہ ملک میں کوئی ایک صحافی بھی ایسا نہیں جو سوات کے معاملے کی اوّل تا آخر تحقیق کر کے اصل حقائق سامنے لاتا اور سوات میں عسکریت پسندوں یا "طالبان" کو تخلیق کرنے کے اصل ماسٹر مائنڈ کو بے نقاب کرتا اور وسیع تر قومی مفاد کا بھانڈا پھوڑ دیتا۔ 
	اپنے ہی ملک میں در بدر اور خانماں برباد ہونا کتنی اذیت اور ذلت کی بات ہے۔ سوات کے پندرہ لاکھ سے زائد لوگ صوبہ سرحد کے مختلف علاقوں میں نہایت کس مپرسی اور اذیت کی زندگی گزار رہے ہیں۔ 20سے 30 فی صد لوگ کیمپوں میں سخت گرمی اور دیگر مشکلات سے نبرد آزما ہیں۔ ان کے نام پر پوری دنیا سے امدادی سامان آ رہا ہے لیکن اس کا معمولی سا حصہ ہی متاثرین تک پہنچ رہا ہے جب کہ نقد ڈالرز تو مقتدر قوتوں کی جیبوں میں جا رہے ہیں اور زیادہ تر امدادی اشیاء سے حکومتی مشینری کے کل پرزے مستفید ہو رہے ہیں۔ ایسے میں اگر متاثرین کے دل و دماغ میں غصہ اور نفرت کے جذبات پیدا نہیں ہوں گے تو اور کیا پیدا ہو گا؟
	اہل سوات یہ بھی چاہتے ہیں کہ سوات آپریشن کا چوتھا فیز "راہِ راست" جلد منطقی انجام تک پہنچا دیا جائے اور فوجی ترجمان کے مطابق سوات طالبان کی دوسری اور تیسری درجہ کی قیادت ختم کی جا چکی ہے، اس لیے اہل سوات کا مطالبہ ہے کہ "سوات طالبان" کی اوّل اور اعلیٰ درجہ کی قیادت کو بھی جلد از جلد انجام تک پہنچا دیا جائے تاکہ سوات اور اہل سوات عسکریت پسندوں اور مذہبی انتہاء پسندوں سے مکمل نجات حاصل کر سکیں اور آئندہ کے لیے یہ ناسور دوبارہ سر نہ اٹھا سکے۔ 

 (10 جون 2009ء) 
٭٭٭



میڈیا بھی شریک جرم ہے 

	دیر بالا  کی اِک مسجد میں خودکش دھماکے میں بارہ بچوں سمیت 49 افراد کی شہادت اور چالیس افراد کے زخمی ہونے جیسے واقعات پختون سرزمین پر معمول بن چکے ہیں لیکن ہماری مقتدر قوتوں کو اس تباہی و بربادی کا کوئی احساس نہیں۔ اپنے ہی ہم وطنوں کے اجتماعی قتل و غارت پر ان کے پتھر جیسے دل نہیں پگھلتے۔ جو مذہبی انتہا پسند اور عسکریت پسند آلہ کار بنے ہوئے ہیں، انھیں بھی احساس نہیں کہ وہ اپنی سرزمین اور اپنے ہی لوگوں کی تباہی و بربادی میں لگے ہوئے ہیں۔ مسجد میں نماز ادا کرنے والے معصوم لوگوں کو سفاکی اور درندگی سے آگ اور خون میں نہلانے والے انسان نہیں وحشی درندے ہیں۔ فوجی آپریشنوں میں بھی معصوم لوگ مر رہے ہیں، بے گھر ہو رہے ہیں اور خودکش حملوں میں بھی معصوم و بے گناہ انسان نشانہ بن رہے ہیں۔ جو گروہ بم دھماکوں اور خودکش حملوں کی ذمہ داری علی الاعلان قبول کر رہے ہیں، فوج ان کے خلاف کوئی موثر اور حتمی کار روائی سے گریز کر رہی ہے۔ ان کے خلاف اگر کوئی فوجی آپریشن ہوتا بھی ہے تو دوسرے اور تیسرے درجے کی قیادت کو تو ختم کیا جاتا ہے لیکن اوّل اور اعلیٰ درجے کی قیادت کو فرار کے محفوظ راستے فراہم کیے جاتے ہیں۔ 
	سوات میں جاری فوجی آپریشن "راہِ راست" سوات میں ہونے والا چوتھا آپریشن ہے۔ اگر ہماری اسٹیبلشمنٹ سوات سے دہشت گردوں کو ختم کرنے اور وہاں امن و امان کی صورت حال پائیدار بنیادوں پر قائم کرنے میں مخلص ہوتی تو پہلے آپریشن میں دہشت گردوں کا صفایا کیا جاتا لیکن سوات کے لوگوں کو اچھی طرح معلوم ہے کہ سوات کے عسکریت پسندوں کو آپریشن کے نام پر ماضی میں کس طرح تحفظ دیا جاتا رہا ہے اور ان کے خاتمہ کی آڑ میں معصوم و بے گناہ عوام کو کس طرح مارا جاتا رہا ہے۔ عینی شاہدین کے مطابق سنگوٹہ اور دیگر چیک پوسٹوں پر عوام کو جس طرح تنگ اور بے عزت کیا جاتا رہا ہے، اس سے نسلی اور لسانی تعصب کی بو بھی آتی تھی۔ چیک پوسٹوں پر تعینات پنجابی فوجی باقاعدہ سوات کے لوگوں کو ماں بہن کی گالیاں دیتے تھے اور کہتے تھے کہ تم سب سواتی دہشت گرد ہو۔ بعض مواقع پر چیک پوسٹوں پر کرفیو میں نرمی کے باوجود عام شہریوں کو جانے نہیں دیا جاتا تھا اور قرب و جوار کے مکین اپنی شدید ضرورتوں اور مجبوریوں کے باعث دشوار گزار پہاڑی راستوں کے ذریعے سوات کے مرکزی شہر منگورہ پہنچ جاتے۔ بیمار بوڑھوں، خواتین اور بچوں کو ان ہی دشوار گزار راستوں کے ذریعے سیدو شریف کی ہسپتالوں تک پہنچا دیا جاتا جن میں اکثر بیمار اور فوج کی گولیوں سے شدید زخمی افراد راستے میں ہی دَم توڑ دیتے۔ 
	پاکستان کا الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا پاک فوج کے بہادر اور جری جوانوں کو مسلسل خراجِ تحسین تو پیش کر رہا ہے لیکن گزشتہ آپریشنوں میں عوام کے ساتھ جو کچھ ہوتا رہا ہے، اس کا ذکر کبھی نہیں کیا گیا۔ سوات کی سو فی صد آبادی نے نقل مکانی نہیں کی ہے۔ اب بھی 20سے 30فی صد لوگ علاقے میں موجود ہیں۔ بہت سے عام شہریوں کو اس لیے گولیوں کا نشانہ بنایا گیا ہے کہ وہ اپنے بھوکے بچوں کے لیے خوراک کی تلاش میں گھروں سے باہر نکلے تھے اور عینی شاہدین کے مطابق بہت سے ایسے لوگ منگورہ کی سڑکوں اور چوکوں میں مردہ حالت میں پڑے تھے جن کے ہاتھوں میں خوراک اور دیگر بنیادی ضروریات کے بیگ تھے۔ دور اُفتادہ اور پہاڑی علاقوں کے بہت سے مکین اپنے گھروں میں بھوک کی وجہ سے مردہ حالت میں پائے گئے ہیں۔ جب سے سوات آپریشن شروع ہوا ہے کسی بھی مُردے کو جنازہ کر کے دفن نہیں کیا جا سکا ہے۔ لڑائی میں مرنے والے عام شہریوں اور "طالبان" کی لاشوں کی جنگلی جانور بے حرمتی کرتے رہے ہیں۔ یہی حال لڑائی میں مارے جانے والے "طالبان" کا بھی ہے جن کی لاشوں سے تعفن اٹھ رہا ہے اور پہاڑی علاقوں میں ہڈیاں اور خون آلود کپڑے دیکھے جا سکتے ہیں۔ اپنے ہی ملک میں اگر اپنے ہی فوجیوں کی کار روائی سے ایسی صورتِ حال ظہور پذیر ہوتی ہے تو اسے اگر المیہ بھی قرار دیا جائے تو کم ہے۔ 
	معلوم نہیں ہمارے حکم رانوں اور فوجی جرنیلوں کو اپنے عوام پر ترس کیوں نہیں آتا۔ جو مظالم سوات کے لوگوں پر ڈھائے گئے ہیں، میڈیا ان پر پردہ ڈال کر حب الوطنی نہیں بلکہ دشمنی کا ثبوت دے رہا ہے۔ میڈیا عوام کے ذہنوں میں جنم لینے والی نفرت با آسانی ختم یا کم کر سکتا ہے۔ اگر ان ستم رسیدہ سواتیوں کے ساتھ روا رکھا جانے والا ظلم منظر عام پر لایا جائے تو اس سے ان پر ظلم کرنے والے ہاتھ روکے جا سکیں گے لیکن اگر سوات آپریشن کے اصل حقائق پر مسلسل پردہ ڈالا جائے گا تو مستقبل میں مشرقی پاکستان جیسے دوسرے سانحہ میں فوجی حکم رانوں کے ساتھ ساتھ پاکستانی میڈیا بھی شریک جرم ہو گا۔ 

 (25 جون 2009ء) 
٭٭٭


اہلِ سوات فوری واپس جانا چاہتے ہیں 

	گزشتہ دنوں مردان میں شیخ شہزاد کیمپ میں سپیشل سپورٹ پروگرام کے چیئر مین لیفٹیننٹ جنرل ندیم احمد نے سوات کے صحافیوں کو سوات کی تازہ ترین صورت حال پر بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت سوات کے حالات فوج کے کنٹرول میں ہیں۔ طالبان کی نچلی قیادت کو ہلاک کر دیا گیا ہے جب کہ ان کی اعلیٰ قیادت کے خلاف گھیرا تنگ کیا جا رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہم نے طالبان کے کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم کو مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے اور اب بچے کھچے طالبان سر نہیں اُٹھا سکتے۔ منگورہ میں بجلی، گیس، پانی اور ٹیلی فون کی سہولتیں بحال کی جا چکی ہیں۔ ہسپتال کا عملہ بھی اپنا کام کر رہا ہے اور اب ہم پٹرول پمپس کو تحفظ فراہم کر رہے ہیں تا کہ لوکل ٹرانسپورٹ بھی سوات میں فعال ہو سکے۔ اس سلسلہ میں فوج کے انجینئروں نے سٹرکوں کی ضروری مرمت بھی کر دی ہے کیونکہ لنڈا کی سے منگورہ تک جگہ جگہ سڑکوں میں مائینز چھپائے گئے تھے جن کو بلاسٹ کرنے سے بعض جگہوں پر سڑکیں ناقابل استعمال ہو گئی تھیں۔ انھوں نے کہا کہ اگلے مرحلے میں ہم مقامی تاجر تنظیموں سے رابطہ کریں گے تاکہ وہ سوات میں بنیادی ضرورت کی اشیاء کی فراہمی ممکن بنائیں جس کے بعد متاثرین کی مرحلہ وار واپسی کا آغاز کیا جا سکے گا۔ انھوں نے واضح کیا کہ پہلے مرحلہ میں کیمپوں میں مقیم متاثرین کی واپسی عمل میں لائی جائے گی، اس کے بعد سکولوں میں رہائش پذیر متاثرین کو واپس جانے دیا جائے گا اور پھر دوستوں، رشتہ داروں اور کرایہ کے گھروں میں مقیم متاثرین کو واپسی کے لئے کہا جائے گا جب کہ سب سے آخر میں دوسرے صوبوں میں مقیم متاثرین کی واپسی شروع ہو گی۔ متاثرین کی واپسی کے لیے حکومت ٹرانسپورٹ کا بندوبست کرے گی۔ 
	لیفٹیننٹ جنرل ندیم احمد نے کہا کہ ہم نے متاثرین سوات کی بحفاظت واپسی کے لئے مربوط لائحہ عمل طے کیا ہے۔ واپسی کے بعد عوام کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے پورے سوات کو انتظامی طور پر سات تحصیلوں میں تقسیم کیا جا رہا ہے۔ پولیس سٹیشنوں کی تعداد بھی 14کی جا رہی ہے تاکہ عوام کی حفاظت کے لئے زیادہ پولیس تعینات کی جا سکے۔ سوات کو سات تحصیلوں میں تقسیم کرنے سے انتظامیہ کو زیادہ بہتر طور پر فعال کیا جا سکے گا اور عوام کو تحفظ کی فراہمی میں بھی آسانی ہو گی۔ انھوں نے کہا کہ فوج اس وقت تک سوات میں موجود رہے گی جب تک انتظامیہ مکمل طور پر حالات کو سمجھ نہ پائے اور وہ خود کہے کہ اب فوج کی موجودگی کی ضرورت نہیں۔ انھوں نے کہا کہ پولیس کی تعداد بڑھانے کے ساتھ مقامی لوگوں پر مشتمل کمیونٹی پولیس بھی بھرتی کی جائے گی اور اس میں ان مقامی نوجوانوں کو لیا جائے گا جو بے روزگار ہیں اور جن کے بار ے میں خدشہ ہے کہ سماج دشمن عناصر انھیں ورغلا کر اپنے مذموم مقاصد کے لئے استعمال کر سکتے ہیں۔ فوج، مقامی پولیس اور کمیونٹی پولیس کی موجودگی میں عوام کے تعاون سے شدت پسندوں کا راستہ روکا جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ کمیونٹی پولیس میں بھرتی کئے جانے والے نوجوانوں کی کم از کم تنخواہ 10ہزاروپے ہو گی۔ 
	اس موقع پر سوات کے صحافیوں نے چند چبھتے ہوئے سوالات بھی کیے۔ ان سے پوچھا گیا کہ حکومت نے متاثرین کی واپسی کیلئے پہلے 17جون کی تاریخ مقرر کی تھی، پھر 20جون اور اب25جون کی تاریخ مقرر کی ہے۔ لیکن متاثرین کی واپسی کے لیے ابھی تک کوئی واضح لائحہ عمل سامنے نہیں لا یا جا سکا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ لنڈاکی سے کالام تک علاقہ کلیئر ہے۔ اس پر فوج نے کنٹرول حاصل کیا ہے۔ منگورہ اور سیدو شریف میں تمام بنیادی سہولتوں کی فراہمی ممکن بنائی گئی ہے۔ اس لئے متاثرین کو فوری طور پر اپنے گھروں کو واپس جانے دیا جائے کیوں کہ لوگ مزید تنگ آ چکے ہیں اور وہ فوری طور پر اپنے علاقہ میں واپس جانا چاہتے ہیں۔ ایک سوال یہ بھی کیا گیا کہ مینگورہ میں بعض گھروں کو لوٹ لیا گیا ہے۔ مزید گھروں کو لٹنے سے بچانے کے لیے فوج کیا حکمت عملی اپنا رہی ہے؟ ان سے ایک سوال یہ بھی کیا گیا کہ بعض کیمپوں میں انتظامیہ کے لوگ امداد کے نام پر ہر وقت خیموں میں جھانکتے رہتے ہیں جس کی وجہ سے خواتین کی بے پردگی ہو رہی ہے۔ اس سلسلہ میں متعلقہ اہل کاروں سے باز پرس کی جائے ورنہ اس کے نتیجہ میں کسی بھی وقت کوئی ناخوش گوار صورت حال ظہور پذیر ہو سکتی ہے۔ لیفٹیننٹ جنرل ندیم احمد سے ایک سوال یہ بھی کیا گیا کہ جب سوات آپریشن "راہِ راست" شروع کیا گیا تو لوگوں کو چند گھنٹوں کے نوٹس پر علاقہ خالی کرانے کا کہا گیا جس کے نتیجہ میں ایک انسانی المیہ رونما ہوا۔ بچے، بوڑھے، خواتین اور مریضوں کو پندرہ بیس کلو میٹر تک پیدل راستہ طے کرنا پڑا۔ اس سے پختون خواتین کی بے پردگی ہوئی۔ لوگوں کو نہایت غیر مذہب اور غیر انسانی طریقے سے علاقہ بدر کیا گیا جب کہ طالبان کی موجودگی میں عام لوگوں اور خواتین کی ایسی بے عزتی کبھی نہیں کی گئی۔ آخر حکومت اور فوج نے لوگوں کے با عزت اور مہذب انداز میں علاقہ خالی کرانے کے لیے مربوط لائحہ عمل کیوں نہیں بنایا؟ اس سوال کے جواب میں لیفٹیننٹ کرنل ندیم نے محض یہ کہا کہ یہ آپ لوگوں کا اپنا ذاتی خیال ہو سکتا ہے۔ 

 (28 جون 2009ء) 
٭٭٭



متاثرین سوات کی واپسی  اور مقتدر قوتوں کی ذمہ داری

	پاک فوج نے بالآخر سوات اور بونیر میں فوجی آپریشن کے خاتمے کا باقاعدہ اعلان کر دیا اور 13 جولائی سے سوات کے متاثرین کی واپسی کا عمل شروع ہو چکا ہے۔ واپسی کے پہلے دن زیادہ لوگ نظر نہیں آئے۔ دوسرے دن تعداد میں کچھ اضافہ دیکھنے میں آیا۔ تاہم لوگوں کی واپسی میں اب روز بروز اضافہ ہو گا کیوں کہ سوات کے دربدر خانماں برباد لوگ کیمپوں اور سکولوں میں زندگی گزارتے ہوئے تنگ آ چکے ہیں۔ جو لوگ دوست احباب یا کرایہ کے مکانات میں مقیم ہیں، وہ جلد واپس جانا نہیں چاہتے۔ ان کا خیال ہے کہ سوات میں ابھی حالات واپسی کے لیے مکمل طور پر سازگار نہیں۔ وہ واپس جانے والے لوگوں کے موقف اور ردِ عمل کا انتظار کر رہے ہیں اور وہ یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ جو لوگ سوات واپس پہنچیں گے اور ہفتہ عشرہ گزرنے کے باوجود اگر وہاں کرفیو، چیک پوسٹوں پر سخت چیکنگ میں نرمی نہیں لائی جاتی، حکومت اور فوج معمول کی زندگی بحال کرنے میں مثبت اور غیر معمولی کردار ادا نہیں کرتی، تو اس وقت تک یہ لوگ واپس جانے میں تذبذب کا شکار ہوں گے۔ 
	فی الوقت پاک فوج کی طرف سے واپسی کے لیے جو طریقۂ کار وضع کیا گیا ہے، وہ اگر بہترین نہیں تو برا بھی نہیں ہے۔ لوگوں کو سرکار کی طرف سے بسیں اور ٹرک فراہم کئے گئے ہیں جن کے ذریعے واپس جانے والے آئی ڈی پیز کو بلا معاوضہ سوات پہنچانے کا انتظام کیا گیا ہے۔ اکثر لوگ حکومت اور پاک فوج کے اس انتظام سے خوش ہیں اور وہ اپنے علاقہ جانے پر سجدۂ شکر بجا لا رہے ہیں۔ تاہم انھیں یہ غم بھی کھائے جا رہا ہے کہ وہ جب اپنے گھروں کو پہنچیں گے تو ان کے مکانات محفوظ بھی ہوں گے یا نہیں۔ ان کے کاروباری مراکز کس حال میں ہوں گے؟ اور اگر ان کے گھر اور کاروباری مراکز بم باری سے بچ گئے ہیں تو ان کے گھر اور دکانیں کسی نے لوٹی تو نہیں ہوں گی۔ یہ خدشات تمام متاثرین سوات کے دلوں میں ہل چل مچا رہے ہیں۔ 
	حکومت نے ہر آئی ڈی پی کے لیے پانچ ہزار روپے اور فی خاندان کے حساب سے پچیس ہزار روپے کی نقد امداد کا بھی اعلان کیا ہے لیکن ان میں بیشتر متاثرین کو یہ امدادی رقوم نہیں مل سکی ہیں۔ کیوں کہ زیادہ تر لوگوں کی رجسٹریشن ہی نہیں ہو سکی ہے جب کہ بعض لوگوں نے اگرچہ رجسٹریشن کی ہے لیکن انھیں Verified نہیں کیا گیا ہے جس کی وجہ سے وہ بھی نقد رقوم کی امداد سے محروم ہیں۔ ضرورت اِس اَمر کی ہے کہ حکومت واضح اعلان کرے کہ جن لوگوں کو امدادی رقوم نہیں مل سکی ہیں، انھیں یہ رقوم سوات میں دی جائیں گی۔ اس کے علاوہ جن آئی ڈی پیز کی سرے سے رجسٹریشن نہیں ہوئی ہے، حکومت کو ان کی بھی مالی اور راشن کی امداد ممکن بنانی چاہئے۔ 
	آئی ڈی پیز کی واپسی کے بعد سب سے بڑا اور اہم مرحلہ سوات میں ہونے والی تباہ کاریوں کا ہے جس کے نتیجے میں ہزاروں لوگ اپنے گھروں اور کاروبار سے محروم ہو چکے ہیں۔ فوج نے بعض گھر اور بلڈنگز محض اس شک کی بناء پر تباہ کئے ہیں کہ ان کے مالکوں کا تعلق طالبان سے رہا ہے۔ ان میں اکثر لوگ بے گناہ ہیں اور فوج نے غلط معلومات کی فراہمی کی بنیاد پر انھیں گھروں اور دیگر املاک سے محروم کر دیا ہے۔ تاہم فوج کا یہ اقدام قابل تعریف ہے کہ اس نے طالبان کی املاک کو تباہ کر دیا ہے اور جو عام لوگ طالبان سے ہمدردی رکھتے تھے، یا ان کی اعانت کرتے تھے، انھیں عبرت کا نشان بنا دیا ہے لیکن جن بے گناہ لوگوں کی املاک کو محض شک کی بنیاد پر تباہ کر دیا گیا ہے، فوج کو اس کا ازالہ کرنا چاہئے۔ سوات کے ان لوگوں کو بھی اب ہوش آنا چاہئے جو سوات میں بدامنی پھیلانے اور تخریبی سرگرمیوں میں ملوث عناصر کی خفیہ اور ا علانیہ مد د کرتے تھے۔ کیوں کہ اگر یہ عناصر اپنی سرگرمیاں محدود اور پرامن رکھتے تو آج سوات تباہ نہ ہوتا اور نہ ہی سوات کے لوگ یوں دربدر ہوتے۔ 
	اس وقت سوات کا پورا انفراسٹرکچر تباہ ہو چکا ہے۔ وہاں تجارتی، معاشی اور اقتصادی سرگرمیاں دَم توڑ چکی ہیں۔ سیاحت کی صنعت، جس پر سوات کی مجموعی معیشت کا انحصار تھا، مکمل طور پر ختم ہو چکی ہے۔ ایک طویل عرصہ تک سوات میں معمول کی زندگی بحال نہیں ہو سکے گی۔ فوج نے اگرچہ سوات آپریشن کی کامیابی کا باضابطہ اعلان کیا ہے لیکن اب بھی طالبان کی لیڈر شپ محفوظ ہے اور وہ کسی بھی وقت سوات میں حالات خراب کر سکتی ہے۔ اس لیے فوج کو سوات میں امن و امان کی صورت حال پائیدار بنیادوں پر برقرار رکھنے پر خصوصی توجہ دینی ہو گی ورنہ اس بار اگر عوام کے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی گئی تو ان کا اعتماد آئندہ حکومت اور فوج پر کبھی بحال نہیں ہو سکے گا۔ اس وقت بھی سوات کے عوام حکومت اور فوج سے بہت سے گلے شکوے رکھتے ہیں اور ان کے دلوں میں خصوصاً فوجی حکام کے حوالے سے بہت سی بد گمانیاں پائی جاتی ہیں۔ اس لیے اعلیٰ فوجی حکام کو اس بارے میں خصوصی خیال رکھنا ہو گا اور انھیں عوامی خدشات اور بد گمانیوں کو دور کرنے کے لیے سوات کی تعمیر نو اور عوام کی بحالی میں خصوصی دل چسپی لینی ہو گی۔ اس میں تو کوئی شبہ نہیں کہ سوات کے عوام کے ساتھ "طالبان" اور فوج دونوں طرف سے زیادتیاں ہوئی ہیں۔ عوام طالبان سے کوئی گلہ شکوہ نہیں رکھتے کہ انھیں طالبان سے یہی امید تھی لیکن وہ فوج سے اس لیے شکوہ کناں ہیں کہ وہ سوات میں قیام امن کے نام پر آئی تھی لیکن فوجی آپریشنوں میں پرامن شہریوں کا جو جانی و مالی نقصان ہوا ہے، عوام اس کو کبھی نہیں بھولیں گے۔ اس لیے عقل و دانش کا تقاضا یہ ہے کہ سوات میں اب دوبارہ بداَمنی اور شورش کا راستہ ہر قیمت پر روکا جائے اور عام لوگوں کے نقصانات کا ازالہ کرنے کے لیے طویل المیعاد منصوبہ بندی کی جائے۔ سوات میں غیر معمولی ترقیاتی منصوبے شروع کئے جائیں اور عام لوگوں کے معیارِ زندگی کو بلند کرنے کے لیے خصوصی اقدامات کئے جائیں۔ اس کے علاوہ سوات میں دو سو سے زائد جو سکول تباہ کئے گئے ہیں، ان کی تعمیر نو کی طرف فوری اور خصوصی توجہ دی جائے اور فی الوقت متاثرہ طلبہ و طالبات کے لیے کرایہ کی بلڈنگز میں تعلیم کا سلسلہ شروع کیا جائے تاکہ ان کا مزید قیمتی وقت ضائع نہ ہو۔ 
	سوات میں فوجی چھاؤنی کا باضابطہ طور پر اعلان کیا گیا ہے، یہ فوجی چھاؤنی آبادی سے دور ہونی چاہئے اور اس کے قیام سے عوام کی معمول کی زندگی متاثر نہیں ہونی چاہئے۔ چھاؤنی ایسے مقام پر بنائی جائے جس سے سوات میں سیاحت کی صنعت کو بھی نقصان نہ ہو اور سیاحوں کو سیاحتی مقامات تک آنے جانے میں کوئی رکاوٹ نہ ہو۔ بہتر یہ ہو گا کہ سوات میں کیڈٹ کالج کے قیام کے لیے فوری طور پر عملی کام کا آغاز کیا جائے۔ پنجاب کے وزیر اعلیٰ میاں شہباز شریف کا یہ اعلان کہ وہ سوات کے لیے اہل پنجاب کی طرف سے ماڈل ہسپتال کا تحفہ دینا چاہتے ہیں، نہایت مستحسن ہے۔ وفاقی حکومت کو بھی سوات کے لیے کسی بڑے پیکج کا اعلان کرنا چاہئے۔ محض اعلان ہی نہیں کرنا چاہئے بلکہ اسے عملی شکل بھی دی جانی چاہئے۔ سوات کے لیے ماضی میں بھی بہت سے حکومتی اعلانات ہوتے رہے ہیں لیکن ان میں زیادہ تر سرد خانے کی نذر ہوئے ہیں۔ اب کے بار ایسا نہیں ہونا چاہئے۔ 

 (17 جولائی 2009ء) 
٭٭٭


سوات …  فوج اور عوام میں دوریاں ختم کریں !

	سوات میں جشن آزادی کی تقریبات میں عوام نے جس جوش و جذبے سے شرکت کی، اس سے اہلِ سوات کی حب الوطنی اور ملک سے بے لوث وابستگی کا بہ خوبی اظہار ہوتا ہے۔ یومِ آزادی اور اس سے ایک دن قبل کرفیو میں رات گیارہ بجے تک خصوصی نرمی دی گئی تھی جس کی وجہ سے یومِ آزادی سے ایک دن قبل کی شب منگورہ کے بازاروں میں جشن کا سا سماں تھا۔ عام لوگوں کو دُہری خوشی کا احساس ہو رہا تھا۔ ایک تو جشن آزادی اور دوسرا رات دیر تک کرفیو میں نرمی کی وجہ سے سوات کے لوگوں کو مکمل آزادی کا احساس ہو رہا تھا۔ اس رات منگورہ کے باشندوں نے پاک فوج زندہ آباد کے نعرے دل کی گہرائیوں سے لگائے اور پاک فوج کے ساتھ اپنی والہانہ محبت کا پر جوش اظہار کیا۔ حالاں کہ سوات کے معصوم اور پُر اَمن عوام کو جتنی تکالیف عسکریت پسندوں سے ملی ہیں، اس سے زیادہ انھیں فوجی آپریشنوں میں جانی و مالی اور عزت و آبرو کے نقصانات کا سامنا کرنا پڑا ہے لیکن آفرین ہو سوات کے لوگوں پر جو اَب بھی اس ملک سے دِلی وابستگی اور پاک فوج سے گہری محبت رکھتے ہیں۔ ورنہ مارٹر گولوں سے جن بے گناہ لوگوں کے پیارے ان سے ہمیشہ کے لیے جدا ہوئے ہیں اور ان کی املاک کو ناقابل تلافی نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے، ان کے وہ زخم ابھی تک نہیں بھرے ہیں اور اب بھی ان کی آنکھیں نم آلو دہیں لیکن وہ پھر بھی اپنے ملک اور پاک فوج سے شدید محبت کرتے ہیں ا ور اس سے مقتدر قوتوں کو سوات کے عام لوگوں کی معصومیت، بے گناہی اور خلوص کا اندازہ ہونا چاہئے۔ 
	اس سال مئی میں جب آپریشن راہِ راست شروع کیا گیا تو اس کا فیصلہ مقتدر قوتوں نے کوئی اچانک نہیں کیا تھا لیکن منگورہ اور سوات کے دیگر علاقوں کے لوگوں کو اچانک ہی حکم صادر کیا گیا کہ وہ اپنے گھر خالی کر دیں اور چند گھنٹوں میں علاقے سے نکل جائیں۔ سوات سے لاکھوں لوگوں کے انخلاء کے دوران جو رقت انگیز مناظر دیکھنے کو ملے، اس سے یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے ہم انسانوں کی بستی کے نہیں بلکہ کسی جنگل کے باسی ہیں اور جیسے ہم پر انسانی قوانین کی بجائے جنگل کے قوانین نافذ ہوں۔ تین مہینوں کی ہجرت میں سوات کے لوگوں نے جو تکالیف اور مشکلات برداشت کیں، وہ بھولنے والی نہیں ہیں۔ اب بھی جب ان کا تذکرہ کیا جاتا ہے تو شدید تکلیف اور اذیت کا احساس ہوتا ہے۔ اپنے گھروں کو واپسی کے بعد جب لوگوں نے سوات دیکھا تو انھیں یقین نہیں آ رہا تھا کہ یہ وہ سوات ہے جو سیاحوں کی جنت کہلاتا تھا اور جہاں اندرون ملک اور بیرون ملک سیاحوں کو امن و سکون ملتا تھا۔ منگورہ، کانجو، کبل، بانڈئ، مٹہ، چارباغ اور کئی دوسرے علاقوں میں سیکڑوں مکانات اور دکانیں زمین بوس ہو چکی تھیں اور سوات کی تمام سڑکوں میں بے شمار رکاوٹیں کھڑی کی گئی تھیں۔ منگورہ جو سوات کا مرکزی شہر ہے اور سوات بھر کے علاقوں کی تمام تر ضروریات کا انحصار اس چھوٹے سے لیکن با رونق شہر پر ہے۔ سوات کا پیرس، یہ خوب صورت شہر اس وقت آسیب زدہ محسوس ہوتا ہے۔ جگہ جگہ بڑی عمارتیں منہدم نظر آتی ہیں اور ان کے ملبے کی وجہ سے متعدد راستے بند ہو چکے ہیں۔ تمام چوکوں اور سڑکوں میں رکاوٹیں بنائی گئی ہیں جس کی وجہ سے ٹریفک کے ساتھ پیدل چلنے والوں کو بھی پل صراط سے گزرنا پڑتا ہے۔ شہر کی صفائی کا کوئی انتظام نہیں۔ بیشتر جگہوں میں بدبو کے بھبھوکے اڑتے ہیں۔ یہ بدبو مرے ہوئے جانوروں کی بھی ہو سکتی ہے اور انسانی لاشوں کی بھی لیکن مقامی انتظامیہ کو شاید ابھی فرصت نہیں کہ وہ شہر کی صفائی کی طرف توجہ دے اور مختلف جگہوں سے اٹھنے والی بدبو کا سُراغ لگائے۔ نئے وقت کے مطابق کرفیو میں نرمی سات بجے ختم ہو جاتی ہے لیکن اگر کوئی پانچ دس منٹ بھی لیٹ ہو جائے تو اس کے ساتھ نہایت سخت اور تضحیک آمیز رویہ روا رکھا جاتا ہے۔ اس کی عزت نفس مجروح کر کے اسے یہ احساس دلایا جاتا ہے جیسے وہ اس ملک کا قابل احترام شہری نہ ہو۔ صحافیوں اور بعض سرکاری ملازموں کو کرفیو پاس جاری کئے گئے ہیں لیکن بعض جگہوں میں چیک پوسٹوں پر تعینات فوجی حکام ان کرفیو پاسوں کا تمسخر اڑاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ سب بکواس ہے۔ خصوصاً منگورہ کے شاہدرہ چوک کے قریب واقع چیک پوسٹ پر تعینات فوجی حکام عام شہریوں سے بدتمیزی کی حد تک سختی سے پیش آتے ہیں اور کہتے ہیں کہ آپ لوگوں کی وجہ سے ہم مصیبت میں گرفتار ہو چکے ہیں لیکن اعلیٰ فوجی حکام کو بہ خوبی علم ہے کہ یہ مصیبت کس کی لائی ہوئی ہے؟ اس میں عام شہریوں کا کتنا عمل دخل ہے؟ سوات کے لوگوں کی سادگی سے کس نے فوائد حاصل کئے؟ اور اصل مجرم کون اور حقیقت کیا ہے؟
	سوات کے در بدر لوگ جب اپنے گھروں میں واپس آ گئے تو زیادہ تر لوگوں کے گھروں سے قیمتی اشیاء غائب تھیں۔ گھروں کے شیشے اور کمروں کے دروازے ٹوٹے ہوئے تھے۔ ان سے ہر قسم کا اسلحہ اٹھایا جا چکا تھا لیکن اس کے ساتھ ساتھ اکثر گھروں سے نقدی، زیورات اور دیگر قیمتی اشیاء بھی غائب تھیں۔ منگورہ کی بہت سی دکانیں تباہ کی گئی تھیں۔ بعض مارکیٹوں میں تمام دکانوں میں بڑے بڑے قدِ آدم سوراخ کئے گئے تھے۔ دکانیں باہر سے بالکل ٹھیک نظر آ رہی تھیں لیکن اندر ایک دکان سے دوسری اور دوسری سے تیسری دکان تک سوراخ موجود تھے اور یہ سلسلہ آخری دکان تک چلا گیا تھا جس کی وجہ سے مقامی تاجروں کا غیر معمولی نقصان ہو چکا ہے۔ بعض دکانوں سے اگرچہ سامان نہیں لئے گئے ہیں لیکن موبائل اور اس طرح کی دیگر قیمتی اشیاء پر مشتمل دکانوں کو باقاعدہ لوٹا گیا ہے۔ اب سوچنے سمجھنے کی بات یہ ہے کہ اس کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے۔ اس وقت منگورہ میں عسکریت پسندوں اور فوج کے سوا اور کوئی نہیں تھا۔ اگر عسکریت پسندوں نے یہ سب کچھ کیا ہے تو کیا سکیورٹی ادارے تماش بین بن گئے تھے اور اگر …  کوئی بتلاؤ کہ ہم بتلائیں کیا؟ سوات کے عام شہریوں کا خیال ہے کہ پاک فوج انھیں امن دینے آئی ہے اور اس نے بڑی حد تک سوات میں امن و امان قائم بھی کیا ہے لیکن اہل سوات اس بات کا شکوہ ضرور کرتے ہیں کہ امن کے ان داعیوں اور عوام کی جان و مال کے ان محافظوں کی موجودگی میں منگورہ کی دکانیں کیوں لوٹی گئیں؟ پرامن شہریوں کے گھروں کو کیوں لوٹا گیا؟ اور اب چیک پوسٹوں پر ان کے ساتھ غیر مہذب رویہ کیوں روا رکھا جاتا ہے؟ اگر سوات کے لوگ اس ملک کے معزز شہری ہیں اور انھیں آئینِ پاکستان کے تحت تمام تر شہری اور انسانی حقوق حاصل ہیں تو قدم قدم پر ان کو ذلیل و خوار کیوں کیا جاتا ہے؟ ان کی عزت نفس کیوں مجروح کی جاتی ہے؟ سوات کے لوگوں نے تو مسائل اور مشکلات کی ہر قسم اور ہر شکل دیکھی اور سہی ہے۔ انھیں جرمِ بے گناہی کی اتنی بڑی سزا دی گئی ہے جس کی تاریخ میں مثال ملنی مشکل ہے۔ جن لوگوں کو "طالبان" نے زبردستی اپنا حمایتی بنایا تھا یا طالبان کے خوف سے کسی نے انھیں کھانا پیش کیا تھا، انھیں ان کی املاک سمیت م اور ائے عدالت برے انجام سے کیوں دوچار کیا جا رہا ہے؟ یہ اور اس طرح کے بہت سے دیگر سوالات ہیں جو بے چینی اور تشویش کا باعث بن رہے ہیں۔ 
	پاک فوج نے بلاشبہ آپریشن "راہِ راست" کے ذریعے سوات میں حکومت کی رِٹ بحال کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ عوام کے ذہنوں سے شرپسندوں کا خوف بڑی حد تک ختم کر دیا ہے جس کے نتیجے میں عام شہری پاک فوج کو نجات دہندہ کے طور پر دیکھ رہے ہیں لیکن پاک فوج کے جوانوں کو سوات کے پُر امن شہریوں کے ساتھ نرم رویہ اپنانا چاہئے کہ سوات کے مصیبت زدہ لوگ ہمدردی کے مستحق ہیں۔ وہ اپنے ملک سے سچی محبت رکھتے ہیں اور وہ پاک فوج کو نہایت قدر و منزلت کی نگاہوں سے دیکھتے ہیں۔ پچھلے آپریشنوں کی وجہ سے فوج اور عوام میں ایک خلیج حائل ہو گئی تھی لیکن موجودہ کامیاب اور قابل ستائش آپریشن کی وجہ سے عوام میں فوج کی ساکھ بحال ہو چکی ہے اور وہ پاک فوج کو اپنا نجات دہندہ تصور کرتے ہیں۔ اس لیے فوج کے اعلیٰ حکام کو اپنے جوانوں کو واضح ہدایات جاری کرنی چاہئیں کہ وہ پرامن شہریوں کے ساتھ نرمی اور شفقت سے بات کریں اور انھیں یہ احساس دیں کہ پاک فوج ان کی حفاظت کے لیے آئی ہے اور وہ ان کی حفاظت کی خاطر چیک پوسٹوں میں موجود ہے۔ سوات کے لوگ تو اپنا سب کچھ لٹا کر بھی پاک فوج زندہ آباد کا نعرہ لگاتے ہیں اور وہ اب بھی جیوے جیوے پاکستان کے نغمے گاتے ہیں۔ اس لیے خدارا ان کے جذبات مجروح نہ کیجئے۔ ان کے لیے معمول کی زندگی میں روز بروز آسانیاں پیدا کریں اور ان کے دلوں میں وطن عزیز اور پاک فوج سے محبت کے مزید جذبے اُبھاریں۔ 
 (18 اگست 2009ء) 
٭٭٭


پاکستان میں امریکا کا بڑھتا ہوا اثر و نفوذ  اور دفاعِ وطن کے تقاضے 

	وطن عزیز میں امریکا کے ناجائز اثر و رسوخ اور مداخلت کی تاریخ بہت پرانی ہے لیکن 9/11 کے بعد امریکا نے باقاعدہ طور پر پاکستان کو اپنی کالونی سمجھنا شروع کر دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکی مفادات کے تحت اس کی دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ ہم اپنے ملک کے اندر لے آئے ہیں اور اس کی وجہ سے آج پورا ملک بدامنی اور انتشار کی آگ میں جل رہا ہے۔ کچھ امریکی دباؤ اور کچھ ہماری اپنی غلط پالیسیوں کی وجہ سے آج ہمارے بندوبستی علاقے بھی اس جنگ کی ایندھن بنے ہوئے ہیں۔ ہماری سیاسی اور عسکری قیادت امریکی دباؤ پر ڈو مور پر عمل پیرا ہے اور امریکا کے دباؤ اور ڈالروں نے ان کی فہم و ادراک کی آنکھیں بند کر دی ہیں۔ سوات میں وہ سب کچھ کیا گیا جس کی امریکا کو خواہش تھی اور اب نوبت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ امریکا اپنے سفارت خانے کی توسیع کے لیے اسلام آباد میں اٹھارہ ایکڑ زمین پر ایک عظیم الشان کمپلیکس تعمیر کر رہا ہے جس میں 330 لوگوں کی رہائش کی گنجائش موجود ہو گی اور 197 ملین ڈالر سے ڈھائی سو گھر تعمیر کئے جائیں گے جن میں اس کمپلیکس میں کام کرنے والے افراد رہائش پذیر ہوں گے۔ اس طرح امریکن ایمبیسی میں مزید ایک ہزار افراد تعینات کئے جائیں گے اور یہ ان 750 افراد کے علاوہ ہوں گے جو اس وقت امریکی سفارت خانہ میں کام کر رہے ہیں۔ حالاں کہ سفارتی سطح پر ان کی منظور شدہ تعداد 350 ہے۔ اس کمپلیکس میں دو سے ڈھائی ہزار فوجی کمانڈوز کے قیام اور جدید ترین اسلحہ سٹور کرنے کی گنجائش بھی ہو گی۔ اسلام آباد میں بنایا جانے والا یہ کمپلیکس امریکا کا بیرونی دنیا میں تعمیر کیا جانے والا دوسرا بڑا کمپلیکس ہو گا۔ ایسا ہی ایک کمپلیکس امریکی ایمبیسی کے نام سے عراق میں بھی تعمیر کیا گیا ہے جسے امریکا فوجی چھاؤنی کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔ پاکستان میں امریکہ کے آزادانہ عمل دخل کا اندازہ اس اَمر سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ کراچی میں امریکی قونصلیٹ جنرل کے ہیلی کاپٹر بغیر کسی اجازت اور پیشگی اطلاع کے بحر ہند میں قائم امریکی فوجی اڈے "ڈیگوگارشیا" کی طرف پرواز کرتے ہیں۔ کراچی کے پورٹ قاسم پر امریکا کا جو سامان آتا ہے، وہ بغیر کسی چیکنگ کے کلیئر کر دیا جاتا ہے۔ اسی طرح ڈرون طیارے تربیلا ڈیم کے قریب امریکیوں کی خریدی ہوئی زمین پر قائم حساس سٹیشن سے کنٹرول کئے جاتے ہیں۔ گویا امریکی ڈرون طیارے پاکستانی سرزمین سے پاکستان ہی کی سرزمین اور عوام پر میزائل داغتے ہیں۔ اس تمام تر صورتِ حال کو دیکھتے ہوئے یہ رائے قائم کی جا سکتی ہے کہ پاکستان اس وقت امریکا کی کالونی بن چکا ہے اور امریکی سفیر کو وائسرائے کی حیثیت حاصل ہے۔ 
	امریکا یہ تمام تر غیر معمولی تیاریاں کس لیے کر رہا ہے اور اس کے اصل مقاصد کیا ہیں؟ ان کا اگر تجزیہ کیا جائے تو بہ ظاہر اس کے کئی مقاصد نظر آتے ہیں۔ امریکا پاکستان کی ایٹمی طاقت پر نظریں جمائے ہوئے ہے اور اگر پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں سے امریکا یا اس کے حلیف ممالک کے لیے کوئی خطرہ پیدا ہوتا ہے تو وہ امریکی سفارت خانے کی توسیع شدہ عمارت میں مقیم میرین کے ذریعے انھیں اپنے کنٹرول میں لے سکے اور یا امریکا پاکستان کے لیے ایسی مشکلات اور رکاوٹیں پیدا کرے جس کے نتیجے میں ہماری فوج ایٹمی ہتھیار استعمال کرنے کے قابل نہ رہے۔ بعض ذرائع کے مطابق امریکا نے پاکستان سے سوات میں ائیربیس بنانے کی خواہش ظاہر کی تھی تاکہ اس کے ذریعے پاکستان کو زمینی راستے کے ذریعے چین سے ملانے والی شاہراہِ ریشم پر نظر رکھی جا سکے اور بہ وقت ضرورت سوات میں قائم ائیربیس سے امریکا کے جنگی طیارے چین کے خلاف استعمال کئے جا سکیں۔ ذرائع کے مطابق تربیلا کے قریب جو بڑا قطۂ اراضی خریدا گیا ہے، وہاں امریکا نے اس وقت بیس بڑے کنٹینر بھی پہنچا دئیے ہیں۔ ان کنٹینروں کو سمندری جہاز سے تربیلا تک صرف امریکی ہی لے کر پہنچاتے رہے ہیں اور پاکستانی حکام کو ان کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھنے کی بھی اجازت نہیں تھی۔ جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکا چین کے خلاف گھیرا تنگ کرنا چاہتا ہے اور جنوبی ایشیاء میں اپنے مقاصد کے حصول کے لیے پاکستان میں اپنے پنجے مزید مضبوط کرنے کا خواہش مند ہے۔ امریکا شاید چین کے خلاف پاکستانی سرزمین اس طرح استعمال کرنا چاہتا ہے جس طرح اس نے افغانستان میں موجود سوویت افواج کے خلاف استعمال کی تھی۔ بعض ذرائع یہ بھی بتاتے ہیں کہ سوات میں امریکا کو اس کی خواہش کے مطابق ائیربیس نہ دینے کے لیے وہاں طالبان پیدا کئے گئے اور وہاں ایسے حالات ظہور پذیر کرائے گئے جس کے تحت امریکا کو پیغام دیا گیا کہ سوات میں اس کی موجودگی خطرناک ہو گی اور یہ علاقہ طالبان کی پہنچ میں ہے۔ اس لیے امریکا کو ایسی کسی خواہش کی تکمیل سے پہلے سنجیدگی سے سوچنا چاہئے۔ پاکستان اور افغانستان کے لیے امریکا کے خصوصی نمائندے رچرڈ ہالبروک نے کئی دفعہ سوات کا دورہ بھی کیا ہے اور اپنے حالیہ دورۂ پاکستان میں تو انھوں نے سوات کے کامیاب فوجی آپریشن پر اطمینان کا اظہار بھی کیا ہے۔ سوات آپریشن میں امریکا کی غیر معمولی دل چسپی کسی علت سے خالی نظر نہیں آتی۔ 
	گزشتہ سال رمضان المبارک میں میریٹ ہوٹل میں دھماکے کی ایک وجہ بعض ذرائع نے یہ بتائی تھی کہ دھماکے کے وقت امریکی میرین ہوٹل میں موجود تھے اور انھوں نے کئی بڑے صندوق سکیورٹی چیکنگ کرائے بغیر ہوٹل کی بالائی منزل پر منتقل کرائے تھے۔ اس طرح پشاور کے پرل کانینٹل پر خود کش حملوں کا سبب بھی یہی بتایا جاتا ہے کہ وہاں امریکا کی سکیورٹی ایجنسی بلیک واٹر کے اہل کار موجود تھے اور وہاں پر ان کے مستقل دفتر کے قیام کے لیے بھی کام جاری تھا۔ ان حملوں کے ذریعے امریکی حکومت کو یہ پیغام دیا جانا مقصود تھا کہ پاکستان میں مکروہ امریکی عزائم کامیاب نہیں ہو سکتے اور امریکا جہاں بھی قدم جمانے کی کوشش کرے گا، اسے نقصانات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ 
	پاکستان اس وقت معاشی طور پر بہت کم زور ہے اور اس کی فوجی اور دفاعی صلاحیت کا بڑا انحصار امریکا پر ہے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ امریکا کبھی بھی ہمارا مخلص دوست نہیں رہا ہے اور اس نے ہر آزمائش کے موقع پر پاکستان کو تنہا چھوڑا ہے۔ نہ صرف تنہا چھوڑا ہے بلکہ پاکستان کے دشمنوں کے ہاتھ بھی مضبوط کئے ہیں۔ اس لیے ہمیں امریکی سازشوں سے ہوشیار رہنے کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔ ہماری خارجہ پالیسی میں ہمیشہ چین کو اولیت دی جاتی رہی ہے اور اس وقت بھی ہمیں چین کے ساتھ اپنی دوستی کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ جس طرح پاک سرزمین کو ماضی میں امریکی مفادات کے لیے سوویت یونین کے خلاف استعمال کیا گیا اور اس کے نتیجے میں فوائد اور ثمرات امریکا کی جھولی میں گرے جب کہ تمام تر تباہی و بربادی پاکستان اور اس کے عوام کو اب بھی بھگتنا پڑ رہی ہے۔ اس لیے پاکستان کی سرزمین کو چین کے خلاف استعمال کرنے کے بارے میں تصور بھی نہ کیا جائے۔ چین ہمارا مخلص دوست اور پڑوسی ہے اور ہر آڑے وقت میں اس نے ہماری مد د کی ہے۔ اس لیے امریکی عزائم اور سازشوں کے خلاف نہایت فراست اور تدبر سے کام لیا جائے اور وطن عزیز میں امریکا کے بڑھتے ہوئے اثرو نفوذ کو شعوری طور پر کم کرنے پر توجہ دی جائے تاکہ مستقبل میں ہمیں کسی بڑے سانحہ سے دوچار نہ ہونا پڑے۔ 

 (25 اگست 2009ء) 
٭٭٭


دہشت گردی کی تازہ لہر، مقاصد کیا ہیں؟

	گزشتہ چند دنوں میں قومی سطح پر مسلسل کئی سانحات ایسے رونما ہوئے ہیں، جن پر جتنا بھی دکھ اور غم کا اظہار کیا جائے کم ہے۔ اسلام آباد میں اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے ورلڈ فوڈ پروگرام کے آفس پر خود کش حملہ، پھر پشاور کے خیبر بازار کے دھماکہ میں 52 افراد کی شہادت اور درجنوں بے گناہ لوگوں کا زخمی ہونا اور اب راولپنڈی میں جی ایچ کیو پر دہشت گردوں کا حملہ، یہ سب ایسے واقعات ہیں جن سے امن و امان کی سنگین اور ناگفتہ بہ صورت حال کا اندازہ بخوبی ہوتا ہے۔ جی ایچ کیو پر حملہ میں بریگیڈئر اور کرنل سمیت کئی فوجی جوان شہید ہوئے جس سے نہ صرف اس واقعہ کی سنگینی میں مزید اضافہ ہوتا ہے بلکہ یہ ہمارے لیے ایک لمحہ فکریہ بھی ہے کہ ملک کا اس قدر حساس ادارہ بھی دہشت گردوں کی پہنچ سے باہر نہیں۔ اس سے عالمی سطح پر بھی ہمارے ملک کی بدنامی ہو رہی ہے کہ جس ادارے کو ملک کی حفاظت کا فریضہ انجام دینا ہے، وہ اپنے آپ کو بھی دہشت گرد حملوں سے نہیں بچا سکتا۔ 
	ان تمام واقعات میں بیرون ملک دشمنوں کا ہاتھ ہو سکتا ہے۔ یہ کام اگرچہ ملک کے اندر بعض دہشت گرد گروپوں نے کیا ہے لیکن انھیں مد د ان دشمن ممالک نے فراہم کی ہو گی۔ ان کا مقصد یہ ہو سکتا ہے کہ پاک فوج وزیرستان میں فوری طور پر فوجی آپریشن شروع کرے اور اس وقت وفاقی حکومت اور فوجی حکام وزیرستان آپریشن کے حوالے سے جس تذبذب کا شکار ہیں، وہ ختم ہو اور ان واقعات کو جواز بنا کر وزیرستان میں فوری طور پر فوجی آپریشن کا آغاز کیا جائے۔ ان واقعات کے تناظر میں اسلام آباد اور پشاور میں بلیک واٹر کی سرگرمیاں اور ان کی آزادانہ نقل وحمل کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ وہ حکومت اور فوج پر دباؤ ڈالنے کے لیے ایسے گھناؤنے واقعات کے تانے بانے بُن سکتے ہیں۔ 
	اس وقت ہمارے ملک میں کئی طرح کے دہشت گروپ سرگرم عمل ہیں۔ ان میں کالعدم مذہبی انتہاپسند گروپ جن کا تعلق پنجاب سے ہے، سرفہرست ہیں۔ پھر مقامی طالبان کے گروپ جن کا تعلق سوات، باجوڑ، دیر اور خیبر ایجنسی سے ہے، وہ اپنے نظریات کے مطابق یا جن قوتوں نے ان کی تخلیق اور پرورش میں کردار ادا کیا ہے، ان کی سیاسی، مقامی اور عالمی ضروریات کے مطابق کار روائیاں کرتے ہیں۔ اس کے بعد شمالی اور جنوبی وزیرستان کے طالبان ہیں۔ جو نہ صرف ملک کے اندر بعض ایجنسیوں سے پیسہ وصول کرتے ہیں بلکہ بیرون ممالک سے بھی مالی مفادات حاصل کرنے میں پیش پیش ہیں۔ ان میں بعض گروپوں کا تعلق افغانستان کے طالبان سے ہے جب کہ بعض گروپ صرف پاکستان کے اندر کار روائیاں کرتے ہیں۔ مذہبی انتہاپسندوں اور طالبان کے مختلف گروپوں کے مقاصد اور ترجیحات بدلتے رہتے ہیں۔ کبھی وہ بیرون ملک آقاؤں کے اشاروں پر ملک کے خلاف کار روائیاں کرتے ہیں اور کبھی اندرون ملک موجود سرپرستوں کی خواہش پر ملک کے مفاد میں بھی دہشت گردی کرتے ہیں۔ گویا ان دہشت گرد اور انتہاپسند گروپوں کا تعلق مذہب سے برائے نام ہے، ان کا اصل مطمح نظر مالی فوائد سمیٹنا ہے۔ وہ دراصل کرایہ کے فوجیوں کا سا کردار ادا کرتے ہیں اور اس طرح وہ اپنی مسلح اور تربیت یافتہ افرادی قوت کے ذریعے متعلقہ علاقوں میں اپنی بالا دستی بھی قائم رکھتے ہیں۔ اس لیے یہ انتہاپسند گروپ ملک و قوم کے لیے نہایت خطرناک ہیں۔ ان کے مکمل خاتمہ میں دشمن قوتیں بھی سنجیدہ نہیں اور اندرون ملک بعض قوتیں بھی ان کا قلع قمع نہیں چاہتیں کہ وہ بہ یک وقت سب کے لیے اثاثہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ 
	ان دہشت گرد گروپوں میں امریکا، بھارت، اسرائیل اور افغانستان کی خفیہ ایجنسیوں کے عمل دخل اور روابط سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا لیکن یہی ممالک بعض دہشت گروپوں کی سرپرستی بھی کرتے ہیں اور وہ بعض مذہبی شدت پسند تنظیموں کا خاتمہ بھی چاہتے ہیں۔ یہ ممالک پاکستان کو ان دہشت گرد گروپوں کے ذریعے کم زور بھی رکھنا چاہتے ہیں۔ وہ پاک فوج کو ان دہشت گردوں کے خلاف مصروف بھی رکھنا چاہتے ہیں تاکہ وہ ہر وقت حالت جنگ میں رہے اور ان کی پوری توجہ ملک کی سلامتی اور سرحدوں کے تحفظ پر مرکوز نہ رہے۔ اس وقت سوات اور باجوڑ میں موجود طالبان کا خاتمہ کیا جا چکا ہے اور کامیاب فوجی آپریشن کے ذریعے ان علاقوں میں امن قائم کر کے حکومت کی عمل داری بحال کی جا چکی ہے لیکن اس بات سے ہمارے سکیورٹی ادارے اچھی طرح آگاہ ہیں کہ سوات میں زیادہ تر طالبان مقامی تھے۔ ان میں بیرون ملک سے تعلق رکھنے والے دہشت گرد موجود نہیں تھے، اس لیے جب ان کے خاتمے کا فیصلہ کیا گیا تو انھیں بڑی آسانی سے ختم کیا گیا لیکن جہاں تک وزیرستان میں فوجی آپریشن کا تعلق ہے تو وہ اتنا آسان نہیں ہو گا۔ وہاں کے لوگ نہ سوات کی طرح سادہ، شریف اور امن پسند ہیں اور نہ ہی وہ جنگ و جدل سے نابلد۔ وہاں کا بچہ بچہ اور خواتین تک اسلحہ چلانا جانتے ہیں اور وہ صدیوں سے ایک جنگ جویانہ ماحول اور قبائلی معاشرہ میں رہ رہے ہیں۔ اس کے علاوہ وہاں غیر ملکیوں کی بھی ایک بڑی تعداد موجود ہے اور افغانستان کے ساتھ ان کی مشترک سرحد کی وجہ سے ان تک افغانستان کے راستے دشمن ملکوں کی امداد کا پہنچنا بہت آسان بھی ہے۔ اس لیے وزیرستان میں آپریشن شروع کرنے سے قبل بہت سوچ بچار کی ضرورت ہے۔ ماضی بعید میں برطانیہ بھی ان علاقوں پر فتح حاصل نہیں کر سکا ہے اور اسے بھی ڈپلومیسی اور حکمت سے کام لینا پڑا تھا۔ اس لیے حکومت اور فوج کو بہت سوچ سمجھ کر وزیرستان میں فوجی آپریشن کا آغاز کرنا ہو گا۔ ایسا نہ ہو کہ پاک فوج ان علاقوں میں فوجی آپریشن کا آغاز کرے اور دوسری طرف امریکا، بھارت اور دوسرے دشمن ممالک افغانستان کے ذریعے ان دہشت گرد گروپوں کو امداد دینا شروع کر دیں جس کا مقصد پاک فوج کو کم زور کرنا اور اس کے مورال کو گرانا ہو تاکہ اس کے بعد امریکا ہر سطح پر حکومت پاکستان سے اپنی مرضی اور احکام منوا سکے۔ وزیرستان میں پاک فوج کے ممکنہ آپریشن کی ناکامی کی صورت میں امریکا اس کو اپنی اور نیٹو افواج کے ذریعے بھی انجام دینے کا اعلان کر سکتا ہے۔ اس لیے ہر قدم پر محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ 
	حکومتی بزرجمہر اور میڈیا کے بعض دانش ور بار بار یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ وزیرستان میں فوجی آپریشن بلا تاخیر شروع کیا جائے اور دہشت گردوں کا فوری خاتمہ کیا جائے۔ اس سلسلے میں وہ سوات آپریشن کی کامیابی کا جواز پیش کرتے ہیں لیکن سوات کے طالبان کی اصل حقیقت فوج اور خفیہ اداروں کو بخوبی معلوم ہے اور انھیں یہ بھی اندازہ ہو گا کہ سوات کے مقابلے میں وزیرستان میں فوجی آپریشن کتنا مشکل ہو گا۔ اس لیے ہمیں امریکی خواہشات، ان حکومتی بزرجمہروں اور میڈیا کے بعض دانش وروں کی خواہشات سے قطع نظر وزیرستان میں فوجی آپریشن کے ہر پہلو پر نظر رکھنی ہو گی۔ اس آپریشن کی آڑ میں بیرونی دشمنوں کی سازشوں اور کارستانیوں کو بھی مد نظر رکھنا ہو گا۔ ایسا نہ ہو کہ ایک ناکام فوجی آپریشن پورے ملک و قوم کے لیے عالمی سطح پر طعنہ بن جائے اور اس سے پاک فوج کی شہرت اور صلاحیت کو (خدا ناخواستہ) نقصان پہنچے۔ اس وقت منظم اور طاقت ور فوج ہی کی وجہ سے ہم دشمنوں کے حملوں سے محفوظ ہیں اور دشمن خواہش کے باوجود وطن عزیز پر حملہ کرنے کی جرأت نہیں کر سکتا۔ 

 (13 اکتوبر 2009ء) 
٭٭٭



سوات آپریشن، طاقت کے ساتھ حکمت عملی سے بھی کام لیا جائے 

	مینگورہ پولیس سٹیشن پر خود کش حملہ کے بعد محکمہ پولیس سوات کا پہلا بیان یہ تھا کہ یہ خود کش حملہ نہیں ہے بلکہ پولیس سٹیشن ہی کے اندر سے کوئی بم دھماکہ ہوا ہے، تاہم بعد میں اسے خود کش حملہ قرار دیا گیا۔ سوات میں اس طرح کے مبینہ خود کش حملے پہلے بھی ہوتے رہے ہیں جن کے بارے میں اس شک و شبے کا اظہار کیا جاتا رہا ہے کہ یہ خود کش حملے نہیں ہیں بلکہ پہلے سے موجود دھماکہ خیز مواد کو اڑا دیا گیا ہے۔ مینگورہ پولیس سٹیشن پر ہونے والا موجودہ دھماکہ خود کش ہو یا پہلے سے موجود دھماکہ خیز مواد کے ذریعے کیا گیا ہو، اس میں سوات کے مزید 18 پختون نوجوان جرمِ بے گناہی میں شہادت کے مرتبے پر فائز ہو گئے جب کہ8 افراد زخمی ہوئے۔ رمضان المبارک میں ایک بار پھر درجنوں خاندان دُکھ وا َلم سے دوچار اور نہ جانے کتنی خواتین بیوہ ہوئیں، کتنے بچے باپ کی شفقت، کتنی مائیں اور باپ اپنے جگر گوشوں سے محروم ہوئے اور کتنی بہنیں اور بھائی اپنے پیاروں کا غم سینوں میں لیے زندگی کا بوجھ اٹھاتے پھریں گے۔ دھماکہ کرنے اور کرانے والے نے ایک لمحے کے لیے بھی نہیں سوچا کہ وہ کتنے گھروں کو اُجاڑنے جا رہا ہے اور جن لوگوں کو خون میں نہلایا جا رہا ہے، وہ اس کے اپنے علاقے کے رہنے والے اور اس کے اپنے ہی پختون بھائی ہیں۔ 
	سوات میں گزشتہ تین سالوں سے خون کی جو ہولی کھیلی جا رہی ہے، اس میں مارنے والے بھی اپنے ہیں، مرنے والے بھی اپنے اور آپریشن کے نام پر گولیاں برسانے والے بھی اپنے ہی محافظ ہیں۔ اسلام کے پاک نام پر سوات کے عوام کو جس طرح تباہی و بربادی سے دوچار کیا گیا اور یہاں کے معصوم نوجوانوں کو جس طرح شدت پسندی اور عسکریت پسندی کی طرف ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت مائل کیا گیا، اس کی مثال ملنا مشکل ہے۔ اب بھی یہ سلسلہ رکا نہیں ہے بلکہ کسی نہ کسی شکل میں جاری ہے اور ستم بالائے ستم یہ ہے کہ سوات کے امن پسند عوام کو سکیورٹی کے نام پر آزاد فضاؤں میں قید کر دیا گیا ہے۔ قدم قدم پر آرمی چیک پوسٹ، مینگورہ سے سوات کے بالائی علاقوں کی طرف جاتے ہوئے جس طرح عوام کو تلاشی کے نام پر ذلیل و خوار کیا جاتا ہے، اس سے عوام کے ذہنوں میں ملک اور فوج کے بارے میں کوئی اچھی رائے قائم نہیں ہو رہی ہے۔ عوام خود کو مفتوح سمجھ رہے ہیں اور پاک فوج کو فاتح۔ گزشتہ دنوں نیو روڈ پر ایک کار، جس میں چند خواتین موجود تھیں اور جسے ایک نوجوان چلا رہا تھا، فوجی گاڑیاں آنے پر وہ بوجوہ فوراً سائیڈ پر نہیں ہو سکی جس کی پاداش میں برسرِ عام گاڑی چلانے والے نوجوان کی جارحانہ انداز میں پٹائی کی گئی۔ اس طرح اگر کسی فوجی اہل کار سے کچھ پوچھنے کی کوشش کی جائے تو وہ فوراً کہے گا کہ جاؤ، یہاں سے جلدی نکل چلو، زیادہ بکواس نہ کرو۔ میرے ایک صحافی دوست نے کچھ دن پہلے ایک فوجی بھائی سے کچھ پوچھنے کی کوشش کی تو اس نے حقارت سے اسے دیکھتے ہوئے کہا کہ (گالی دیتے ہوئے) جلدی یہاں سے نکل جاؤ۔ اگر پاک فوج کے جوان ہمیں امن اور تحفظ دینے آئے ہیں تو پھر ان کا رویہ عام شہریوں سے اس قدر حقارت پر مبنی کیوں ہے؟ بعض چیک پوسٹوں پر نہایت خوش اخلاق فوجی اہل کار بھی تعینات ہیں جو سوات کے لوگوں سے بہت نرمی اور شفقت سے پیش آتے ہیں۔ سوات کے لوگ پاک فوج کو نجات دہندہ کے طور پر دیکھ رہے ہیں، اس لیے فوجی جوانوں کا رویہ عوام کے ساتھ نرم اور مہذب ہونا چاہئے۔ وہ اگر اپنی سختی اور درشتی امن کے دشمنوں کے لیے سنبھال کر رکھیں تو زیادہ بہتر ہو گا۔ 
	موجودہ فوجی آپریشن "راہِ راست" بڑی حد تک کامیاب ہے لیکن اسے مکمل کامیاب بھی قرار نہیں دیا جا سکتا۔ سوات پاکستان کا ایک ضلع ہے اور یہاں کے لوگ پاکستان کے شہری ہیں۔ اس لیے پاک فوج کے اعلیٰ حکام کو یہ بات مد نظر رکھنی چاہئے کہ اپنے کسی علاقے میں جب کوئی شورش سر اٹھائے تو ایک خاص حد تک طاقت کا استعمال درست ہوتا ہے لیکن حکومت کی عمل داری قائم ہوتے ہی طاقت کے اندھا دھند استعمال میں کمی لائی جانی چاہئے اور کچھ کام سیاست دانوں اور پُر امن ذرائع کے ذریعے بھی کرانا چاہئے۔ سوات میں طالبان کے نام سے جو انتہاپسند گروپ تخلیق کیا گیا تھا اور اس میں سوات کے جو لوگ شامل ہوئے تھے، وہ سب کے سب ملک دشمن اور عوام دشمن نہیں تھے۔ ان میں کچھ ایسے لوگ بھی شامل ہوئے تھے جنھیں ورغلایا گیا تھا اور ان کو باآسانی راہِ راست پر لایا جا سکتا تھا۔ اگر سوات میں تشدد اور قتل و غارت کے غیر معمولی واقعات رونما ہوئے ہیں تو اس میں قصور حکومت اور سکیورٹی اداروں کا بھی ہے۔ وہ اگر ابتداء ہی میں انتہاپسندی اور عسکریت پسندی کا تدارک کرتے اور انھیں پھلنے پھولنے سے پہلے ہی بھرپور طاقت کے ذریعے کچل دیا جاتا تو نوبت یہاں تک نہ پہنچتی لیکن بعض نادیدہ ہاتھوں نے ان لوگوں کی حوصلہ افزائی کی اور انھیں وہ سب کچھ کرنے کے مواقع فراہم کئے جس کی توقع ایک پرامن معاشرے میں نہیں کی جا سکتی۔ اب اگر کوئی انتہاپسند ہتھیار ڈال کر خود کو حکومت کے حوالے کرنا چاہے تو اس کے ساتھ قانون کے مطابق نمٹنا چاہئے اور اسے م اور ائے عدالت سزا نہیں دینی چاہئے۔ اگر سکیورٹی فورسز بغیر کسی معقول تحقیق و تفتیش کے لوگوں کے گھر مسمار کرتی رہیں اور طالبان سے ہمدردی یا انھیں کھانا کھلانے کے جرم میں لوگوں کو م اور ائے عدالت مارنے کا سلسلہ جاری رکھیں تو ظاہر ہے اس کا ردِ عمل بھی شدید تر ہو گا۔ اگر کوئی راہِ راست پر آنا چاہے بھی تو اس صورت میں وہ راہِ راست پر نہیں آئے گا کہ اسے علم ہو گا کہ نہ صرف اسے جان سے مار دیا جائے گا بلکہ اس کا گھر اور کاروبار بھی تباہ کر دیا جائے گا۔ یعنی جب اسے مکمل کارنر کیا جائے گا تو مایوس ہو کر وہ خود کش بمبار بننے پر ہی مجبور ہو گا۔ اس لیے ضرورت اس اَمر کی ہے کہ جو لوگ ہتھیار ڈالنا چاہیں اور خود کو حکومت کے حوالے کرنے پر تیار ہیں، انھیں عدالت میں پیش کیا جائے اور اگر ان پر کوئی جرم ثابت ہو جائے تو انھیں قانون کے مطابق سزا دی جائے اور جن لوگوں نے عسکریت پسندوں کے ساتھ رہتے ہوئے کوئی دوسرا سنگین جرم نہیں کیا ہے تو انھیں عام معافی دی جائے۔ حکومت اور فوج کا مقصد تو یہ ہے کہ علاقے میں پائیدار امن قائم ہو اور سوات سے عسکریت پسندی کا خاتمہ کیا جائے۔ اگر یہ مقصد باآسانی حاصل ہو سکتا ہو تو اس میں مزید سختی سے تشدد جنم لے گا۔ اگر مقامی انتظامیہ اور گزشتہ حکومت نرمی اور غفلت کا دانستہ مظاہرہ نہ کرتی تو آج سوات میں اتنی تباہی نہ پھیلتی اور اگر بروقت اس ناسور کا علاج کیا جاتا تو مزید لوگوں کو قانون ہاتھ میں لینے کی بھی جرأت نہ ہوتی اس لیے اب طاقت کا استعمال کم اور حکمت کا استعمال زیادہ ہونا چاہئے اور سوات میں دیرپا قیام امن کے سلسلے میں سیاست دانوں اور علاقے کے عمائدین کی بھی مد د حاصل کرنی چاہئے۔ پھر بھی اگر فوج طاقت ہی کو اس مسئلہ کا اصل حل سمجھتی ہے تو اسے ان "مہروں" کو بھی سزا دینی چاہئے جن کی آلہ کاری کی وجہ سے سوات اور اہل سوات پر گزشتہ تین سالوں سے قیامت گزر رہی ہے اور وہ مسلسل بدامنی، کرفیو اور رکاوٹوں کا عذاب سہہ رہے ہیں۔ اس لیے سوات کے لوگوں پر رحم کیا جائے اور معمول کی زندگی بحال کرتے ہوئے انھیں اپنے علاقے میں پُر امن زندگی گزارنے دیا جائے۔ 

 (4 ستمبر 2009ء) 
٭٭٭


وادئ سوات میں تعلیمی اداروں کی تباہی، والدین کی پریشانی اور اُمید کی کرنیں 

	ایک معاشرہ تعلیم کے زیور سے آراستہ ہو کر ہی مہذب اور متمدن بن سکتا ہے لیکن اگر کسی معاشرے میں تعلیم کی اہمیت کی طرف توجہ نہ دی جائے اور تعلیم کے ذرائع وسیع کرنے کی بجائے محدود کر دیئے جائیں تو اس سے معاشرے کی مجموعی اقدار کی شکستگی کا آغاز ہوتا ہے۔ وطن عزیز میں بھی کچھ ایسا ہی سلسلہ چل رہا ہے۔ وادئ سوات جس کی معاشرتی زندگی ریاستی دور میں ہر قسم کی خوبیوں سے مرصع تھی، آج مذہبی انتہاپسندی، عسکریت پسندی اور دہشت گردی کی وجہ سے اپنی ان روایتی خوبیوں سے محروم ہوتی جا رہی ہے۔ سوات میں حالیہ کشیدگی اور شورش کے دوران 401  سکول یا تو جلا دئیے گئے ہیں اور یا انھیں بارود سے اڑا دیا گیا ہے جس کے نتیجے میں سوات کے بچے اور بچیاں اپنے قیمتی تعلیمی اداروں سے محروم ہو گئے۔ یہ وہ تعلیمی ادارے تھے جن میں زیادہ تر کی بنیادیں ریاستِ سوات کے دور میں رکھی گئی تھیں۔ روشن خیال والیِ سوات میاں گل عبدالحق جہان زیب اپنی رعایا کی فلاح و بہبود پر غیر معمولی توجہ دیتے تھے۔ انھوں نے سوات کے کونے کونے میں سڑکوں کا جال بچھایا تھا، جگہ جگہ پل بنائے تھے، ہسپتال اور ڈسپنسریاں قائم کی تھیں لیکن انھوں نے جس شعبہ کی طرف سب سے زیادہ توجہ دی تھی، وہ تعلیم کا شعبہ تھا۔ پوری ریاست میں پرائمری، مڈل اور ہائی سکول سیکڑوں کی تعداد میں قائم کئے گئے تھے۔ بڑے علاقوں میں کالج بنائے گئے تھے اور جتنے تعلیمی ادارے لڑکوں کے لیے بنائے جاتے تھے، اسی کے حساب سے لڑکیوں کے لیے بھی سکولوں کی تعمیر پر خصوصی توجہ دی جاتی تھی۔ والیِ سوات قوم کے بچوں اور بچیوں کو اپنی اولاد کی طرح سمجھتے تھے۔ اس لیے جب کوئی طالب علم اعلیٰ تعلیم کے لیے ریاست سے باہر کسی بڑے تعلیمی ادارے میں داخلہ لیتا تو والیِ سوات اس کے لیے باقاعدہ ماہانہ وظیفہ مقرر کرتے اور جب وہ طالب علم چھٹیوں میں ریاست سوات آتا تو اسے ملاقات کے لیے بلاتے۔ نہ صرف ذاتی طور پر اس کے مسائل معلوم کرتے بلکہ اس کی حوصلہ افزائی بھی فرماتے اور جب وہ فارغ التحصیل ہوتا تو اسے اس کی تعلیمی قابلیت کے مطابق ملازمت بھی دیتے لیکن جب 28 جولائی 1969ء میں ریاستِ سوات کو پاکستان میں ایک ضلع کی حیثیت سے ضم کیا گیا تو اس وقت سے ہی سوات کے مسائل اور مشکلات کا آغاز ہوا اور آج صورتِ حال یہ ہے کہ سوات میں ہمارے بچوں اور بچیوں کے 400 سے زیادہ تعلیمی ادارے تباہ کئے جاتے ہیں لیکن حکومت وقت جس کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ ملک میں تعلیم کو مزید عام کرنے اور اسے معیاری بنانے میں اپنا کردار ادا کرے، وہ سوات کے تعلیمی اداروں کو دہشت گردوں سے بچانے میں ناکام رہتی ہے۔ 
	جب سوات میں طالبانائزیشن کا بیج بویا گیا اور اسے خوب سینچا گیا تو اس کے نتیجے میں  شعبۂ تعلیم کو دانستہ اور خصوصی طور پر نشانہ بنایا گیا۔ گزشتہ تین سالوں کے دوران جس طرح سوات کے بچوں اور بچیوں کو تعلیم کے زیور سے محروم رکھا گیا، اس کی مثال جدید دور کے مہذب معاشرے میں اور کہیں نہیں ملتی۔ یہ بدقسمتی ہمارے ملک ہی میں آئی کہ اسلام کے نفاذ اور شرعی عدالتوں کے قیام کی آڑ میں "طالبان" نے اپنے ہی علاقے کے بچوں اور بچیوں کو علم کی روشنی سے دور رکھا اور ان کے تعلیمی اداروں کو تباہ و برباد کر کے ان کے مستقبل کو تاریک بنانے کی کوشش کی۔ طالبان جس اسلام کے داعی تھے، اس میں تو علم کا حصول ہر مَرد و زن پر فرض قرار دیا گیا ہے۔ اسلام میں تو یہاں تک کہا گیا ہے کہ علم حاصل کرو خواہ اس کے لیے تمھیں چین کیوں نہ جانا پڑے۔ اس حدیث مبارکہ سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ علم کے حصول کے لیے ملک تک چھوڑا جا سکتا ہے اور معلم کے لیے ضروری نہیں کہ وہ مسلمان ہو۔ اس کا ثبوت تاریخ اسلام کے اس واقعہ سے بہ خوبی ملتا ہے کہ جب جنگ احد میں رسول مہربان ﷺ کے سامنے کافر جنگی قیدی لائے گئے تو انھوں نے فرمایا کہ جو قیدی جزیہ دے اسے رہا کر دیا جائے اور جو قیدی جزیہ دینے سے قاصر ہوں اور وہ پڑھنا لکھنا جانتا ہو تو وہ دس مسلمانوں کو ایک خاص مدت تک تعلیم دینے کی صورت میں اپنا جزیہ ادا کر سکتا ہے۔ 
	ایک باپ کی حیثیت سے جب میں سوات میں شورش کے دوران اپنے بچوں کی تعلیم کا جائزہ لیتا ہوں تو مجھے بے حد دُکھ اور افسوس ہوتا ہے کہ نہ صرف میرے بچوں کے تین قیمتی تعلیمی سال ضائع ہوئے ہیں بلکہ سوات کے تمام بچوں اور بچیوں کا قیمتی وقت دہشت گردوں کی کار روائیوں، فوجی آپریشنوں اور مسلسل کرفیو کی وجہ سے ضائع ہوا ہے۔ سوات کے بالائی علاقوں میں طالبان نے باقاعدہ اعلان کیا تھا کہ بچیاں سکول نہیں جائیں گی اور جو بچی سکول جائے گی، اسے اگر نقصان پہنچایا گیا تو اس کی ذمہ داری اس کے والدین پر عائد ہو گی۔ یہی وجہ تھی کہ تحصیل مٹہ، کبل، خوازہ خیلہ اور تحصیل چارباغ میں والدین لڑکیوں کو سکول جانے سے منع کرتے تھے کہ مبادا انھیں یا والدین کو طالبان کے ستم کا نشانہ بننا پڑے۔ اس کے علاوہ سوات میں ایک سال سے زائد عرصہ تک مسلسل رات کا کرفیو نافذ رہا اور اکثر و بیشتر یہ کرفیو دن کے وقت بھی نافذ رہتا جس کی وجہ سے طلبہ و طالبات سکولوں میں حاضر نہ ہو سکتے اور اگر کرفیو نہ بھی ہوتا تو بم دھماکوں، خود کش حملوں اور فوجی کار روائیوں کی وجہ سے والدین بچوں کو سکول جانے نہ دیتے تھے کہ نہ جانے کس وقت کوئی بچہ بم دھماکے یا مارٹر گولے کا نشانہ بنے۔ بہت سے تعلیمی اداروں پر سکیورٹی فورسز نے بھی قبضہ کر لیا تھا جس کی وجہ سے نہ صرف بچے وہاں نہیں جا سکتے تھے بلکہ وہ تعلیمی ادارے طالبان کی ہٹ لسٹ پر بھی آ گئے تھے۔ 
	اس سال جنوری میں جب طالبان نے اپنی سرگرمیوں کو مزید تیز تر کر دیا تو بیشتر تعلیمی ادارے بند کر دئے گئے۔ حالات روز بروز خراب ہو رہے تھے لیکن اس دوران مارچ میں تحریک نفاذِ شریعت محمدیؐ کے مرکزی امیر مولانا صوفی محمد کی کوششوں سے صوبہ سرحد اور سوات کے طالبان کے درمیان امن معاہدہ وجود میں آیا لیکن بعد ازاں یہ معاہدہ کارگر ثابت نہ ہو سکا اور فوج کو سوات میں "راہِ راست" کے نام سے آپریشن کا آغاز کرنا پڑا۔ جس کے دوران سوات کے 15 لاکھ لوگ آئی ڈی پیز کی حیثیت سے صوبہ سرحد کے مختلف علاقوں میں چلے گئے اور قریباً تین ماہ تک اہل سوات اپنے گھر بار اور علاقے سے دور رہے۔ اس دوران نہ صرف بچوں کا بچا کھچا تعلیمی سلسلہ جو گھروں یا ٹیوشن سنٹروں میں جاری تھا، وہ بھی ختم ہو کر رہ گیا بلکہ بچوں اور بچیوں کے ذہنوں پر پہلے ہی سے بم دھماکوں، خود کش حملوں، فوجی آپریشن کے دوران استعمال ہونے والے بھاری اسلحہ کی خوف ناک آوازوں اور گن شپ ہیلی کاپٹروں کی وجہ سے مختلف قسم کے ذہنی اور نفسیاتی عوارض نے بھی ڈیرے ڈالے تھے۔ اس تمام تر صورت حال میں بچوں کے رجحانات اور ذہنی رویوں میں منفی اثرات نوٹ کر لیے گئے تھے۔ چوں کہ تعلیمی ادارے بند تھے، بچے فارغ تھے، اس لیے ان کے ہاتھوں میں چائنا سے درآمد کئے جانے والے مختلف قسم کے اسلحہ پر مشتمل کھلونے نظر آتے تھے۔ وہ بھی نقلی گن اور پستول اور مارٹر ہاتھ میں لے کر طالبان اور فوج کی طرح مقابلہ کرتے۔ وہ جلوسوں کی شکل میں سڑکوں پر مارچ کرتے اور لکڑیوں سے بنائے گئے مارٹر گولوں، تلواروں، چھریوں اور مشین گنوں کی نمائش کرتے۔ اس وقت چوں کہ حکومت کی رِٹ بالکل ختم ہو گئی تھی اس لیے ان بچوں کو کوئی ان مضر کھیلوں سے باز نہیں رکھ سکتا تھا کیوں کہ ان میں بڑی عمر کے بچوں کو "طالبان" کی سرپرستی بھی حاصل تھی۔ یوں سوات کے بچوں سے قلم چھین کر ان کے ہاتھوں میں نقلی اسلحہ تھمایا گیا تھا جس کے باعث بچوں کی نفسیات اور ذہنوں پر نہایت منفی اثرات پڑ رہے تھے اور ان کے عمومی رویوں میں تشدد کا عنصر غالب آ رہا تھا۔ والدین پریشان تھے کہ اگر سوات میں فوری طور پر امن قائم نہیں کیا گیا تو ان بچوں کا مستقبل کیا ہو گا؟ کیا یہ بھی طالبان بنیں گے؟
	شکر کا مقام ہے کہ موجودہ فوجی آپریشن "راہِ راست" کے ذریعے سوات میں امن قائم ہو چکا ہے۔ سوات میں عسکریت پسندوں کا قریباً خاتمہ کیا جا چکا ہے۔ بچوں اور بچیوں کے تعلیمی ادارے کھل چکے ہیں۔ عوامی زندگی بتدریج تیزی سے بحال ہو رہی ہے۔ لوگوں کا امن کے استحکام پر اعتماد بڑھ رہا ہے۔ فوج اور عوام کے درمیان جو فاصلے پیدا ہوئے تھے وہ بھی مسلسل کم ہو رہے ہیں۔ عوام قیام امن کے لیے فوج کے کردار کو بہ نظرِ تحسین دیکھ رہے ہیں۔ جگہ جگہ فوجی چیک پوسٹوں کی وجہ سے عام لوگوں اور خصوصاً طالب علموں کے لیے مشکلات پیدا ہو گئی تھیں لیکن اب ان چیک پوسٹوں میں خاصی کمی لائی جا چکی ہے اور عوام کے لیے نقل و حمل کے سلسلے میں مزید آسانیاں پیدا کی جا رہی ہیں۔ تمام تعلیمی اداروں کو احساس ہے کہ گزشتہ تین سالوں کے دوران طلبہ و طالبات کا بہت قیمتی وقت ضائع ہو چکا ہے، اس لیے وہ درس و تدریس پر خصوصی توجہ دے رہے ہیں۔ طالب علموں کو بھی اپنے ضائع شدہ قیمتی وقت کا احساس ہے اور وہ اپنی تعلیمی کمزوریوں کو ختم کرنے کے لیے پوری دل چسپی سے پڑھائی میں مصروف رہتے ہیں۔ 
	قیام امن کے بعد نہ صرف سوات کی عمومی زندگی میں ایک نیا جوش اور ولولہ محسوس ہو رہا ہے بلکہ تعلیمی اداروں میں بھی ایک نئے جوش اور جذبے سے پڑھائی کا سلسلہ جاری ہے اور اُمید کی جا سکتی ہے کہ حکومت سوات کے تباہ شدہ تعلیمی ادارے جلد از جلد تعمیر کرائے گی تاکہ جن تباہ شدہ سکولوں اور کالجوں میں ٹینٹوں اور خیموں کے ذریعے تعلیم کا سلسلہ جاری ہو چکا ہے، مستقبل قریب میں وہاں نئی اور پُر شکوہ عمارتیں تعمیر ہوں اور ان کے ذریعے امن دشمن اور علم دشمن قوتوں کو یہ پیغام دیا جائے کہ دہشت گردی کے واقعات سے اہل وطن اور خصوصاً اہلیانِ سوات کے حوصلے پست نہیں کیے جا سکتے۔ وہ ایک پرامن پاکستان اور تعلیم یافتہ سوات کے خواب کو عملی شکل میں ڈھالنے کے لیے پر عزم ہیں۔ قوم کا مستقبل، نئی نسل ایک نئے جذبے اور اور تازہ ولولے سے اپنی پڑھائی کی طرف متوجہ ہے اور وہ علم کے زیور سے آراستہ ہو کر ایک تعلیم یافتہ، ترقی یافتہ اور روشن خیال پاکستان بنانے میں اپنا کردار ادا کرے گی۔ 

 (4 اکتوبر 2009ء) 
٭٭٭


دہشت گردی کے خاتمہ کے لیے 
نئی اور مؤثر حکمت عملی کی ضرورت

	پختونوں کا پیرس پشاور وہ بدقسمت شہر ہے جو افغانستان پر سوویت یونین کے حملے کے بعد بم دھماکوں اور تخریب کاری کا مرکز بن گیا تھا اور اب تک یہ سلسلہ (بیچ میں قدرے توقف کے بعد) چلا آ رہا ہے۔ اس وقت کے فوجی آمر جنرل ضیاء الحق نے اسلحہ اور ڈالروں کے عوض پاکستان کو امریکی مقاصد کے حصول کے لیے اس جنگ میں فرنٹ لائن اسٹیٹ بنا دیا تھا جس کے نتیجے میں سوویت یونین تو کئی ملکوں میں تقسیم ہوا لیکن ہمیں بدامنی، لاقانونیت، دہشت گردی اور تخریب کاری کے تحفے ملے اور اس جنگ کی تباہ کاریوں میں اس وقت مزید اضافہ ہوا جب جنرل پرویز مشرف نے امریکا کی جنگ کو اپنی جنگ قرار دیا اور طالبان کے خلاف امریکا کے ساتھ ہر طرح کا عملی تعاون کیا۔ اس جنگ کی ہولناکیوں کا دائرہ اس وقت اور بھی وسیع ہوتا چلا گیا جب جنرل پرویز مشرف نے اپنے مذموم مقاصد کے لیے بندوبستی علاقوں میں طالبانائزیشن کو فروغ دیا۔ جب اس طریقے سے اس ڈکٹیٹر کے مقاصد بر آئے اور اسے اس کا صلہ ڈالروں اور دیگر انعامات کی شکل میں ملنا شروع ہوا تو اس نے اپنے ہی پیدا کر دہ طالبان کے خلاف فوجی آپریشنوں کا ڈول ڈالا جس کے لیے اسے الگ سے اربوں ڈالر ملنا شروع ہوئے لیکن اس کے نتیجے میں ملک بھر خصوصاً صوبہ سرحد کے چپے چپے میں خودکش حملوں، بم دھماکوں اور ٹارگٹ کلنگ کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو گیا۔ جنرل مشرف کے دور میں جن خفیہ قوتوں نے اس جن کو بوتل سے باہر کیا تھا، ان کا خیال تھا کہ وقت آنے پر وہ اسے دوبارہ بوتل میں باآسانی بند کر سکیں گی لیکن انھیں معلوم نہیں تھا کہ امریکا میں بے وقوف نہیں بستے۔ امریکا ان خفیہ قوتوں کی چال کو بہ خوبی سمجھ رہا تھا اور اسے معلوم تھا کہ اس کے ساتھ کیا کھیل کھیلا جا رہا ہے۔ اس نے بھی ان عسکریت پسندوں اور طالبان کے ساتھ راہ و رسم بڑھالی تھی اور ایک طرف وہ ان کے خاتمہ کے لیے پاکستان کی مد د کر رہا تھا تو دوسری جانب ان قوتوں کو بھی مضبوط بنا رہا تھا جن کے خلاف وہ ڈالر اور اسلحہ دے رہا تھا۔ یوں ہمارے حکم رانوں اور بعض فوجی جرنیلوں کی عاقبت نا اندیشی اور ڈالروں کے لالچ نے وطن عزیز کو لہو لہان کر دیا۔ ملک کے گوشے گوشے میں بدامنی، لاقانونیت، عسکریت پسندی اور طالبانائزیشن کی فصل کو تن آور ہونے دیا گیا اور اب کبھی پشاور بم دھماکوں سے لرز اٹھتا ہے، کبھی راولپنڈی میں خود کش حملے ہوتے ہیں، کبھی اسلام آباد زخمی ہوتا ہے، کبھی بلوچستان میں وزیر تک ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنتے ہیں، کبھی کراچی میں بے نظیر بھٹو پر حملہ ہوتا ہے تو کبھی لاہور میں اہل وطن دہشت گردی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ 
	پش اور میں حالیہ کار بم دھماکہ، جس میں خواتین اور بچوں سمیت سو افراد سے زائد شہید جب کہ دو سو سے زیادہ اہل وطن زخمی ہوئے، نے ہر حساس شخص کو رُلا دیا ہے۔ پشاور کا بدقسمت شہر اس سال پندرہ بڑے بم دھماکوں کا ہدف بنا جن میں تین سو کے قریب شہری شہید اور سیکڑوں زخمی ہوئے۔ پیپل منڈی کے قرب میں واقع مینا بازار میں ہونے والا حالیہ دھماکہ پشاور کی تاریخ کا سب سے بڑا دھماکہ تھا جس میں سو سے زائد افراد کی شہادت کا بتایا جاتا ہے لیکن بعض حلقے شہید ہونے والوں کی تعداد دو سو سے بھی زیادہ بتاتے ہیں۔ اس سے اس دھماکہ کی سنگینی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ تحریک طالبان نے اس دھماکے سے لاتعلقی کا اعلان کیا ہے اور اس کے ترجمان اعظم طارق نے کہا ہے کہ وہ عبادت گاہوں اور معصوم شہریوں کی ہلاکتوں کے خلاف ہیں لیکن ان شرپسندوں سے کوئی پوچھے کہ اگر تم لوگ اپنے قول میں سچے ہو تو تمھاری ہی دہشت گردیوں اور عسکریت پسندی کی وجہ سے دشمن قوتوں کو معصوم عوام کی جانوں سے کھل کھیلنے کا موقع ملا ہے۔ اگر تم لوگ اسلحہ نہ اٹھاتے اور ڈالروں کے لیے اللہ کی زمین میں فساد برپا نہ کرتے تو آج وطن عزیز اور خصوصاً صوبہ سرحد آگ اور خون میں کیوں نہاتا؟ تمھارے ہی ہم نسل پختونوں کی نسل کشی کیوں ہوتی؟ ان کی معیشت برباد کیوں ہوتی؟ ان کے بچے تعلیمی اداروں سے کیوں محروم ہوتے؟ اگر تم لوگ اندرون ملک خفیہ ہاتھوں میں نہ کھیلتے اور بیرون ملک دشمنوں کے اشاروں پر نہ ناچتے تو آج پختونوں کی سرزمین خاص طور پر کیوں دہشت گردی کا نشانہ بنتی؟ تم لوگوں کو اور کتنا پیسہ اور دنیاوی عیش چاہئے؟ تمھیں ان معصوموں پر کیوں رحم نہیں آتا جو صبح حصولِ رزقِ حلال کے لیے نکلتے ہیں اور واپسی پر ان کی مسخ شدہ اور ٹکڑوں میں تقسیم لاشیں گھر لے جائی جاتی ہیں۔ تمھیں یتیم بچوں، بے بس بیواؤں، دکھی بہنوں اور سینہ شق ہوتے والدین پر بھی رحم نہیں آتا۔ اے بے رحم دشمنوں کے لے پالکو تم انسانی خون کے بدلے حاصل ہونے والے ڈالر کیسے ہضم کرتے ہو؟ ان ڈالروں کو ہاتھوں میں لیتے ہوئے کیا تمھیں ان سے انسانی خون کی باس نہیں آتی ہو گی؟ کیا تمھارا ضمیر اس ظلم و سفاکی پر تمھیں نہیں ٹوکتا؟ کیا اس درندگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے تمھیں خالقِ کائنات کی سزا کا خوف لاحق نہیں ہوتا؟ انسان خواہ کتنا ہی درندہ کیوں نہ بن جائے لیکن اس کی سرشت اور فطرت میں ہر عمل کے ردِ عمل کا احساس تو پھر بھی موجود ہوتا ہے لیکن افسوس وطن عزیز میں معصوم اور بے گناہ انسانوں کے خون سے ہاتھ رنگنے والی اصل قوتوں کو بھی یہ احساس نہیں اور جو لوگ ان کے ایجنٹ اور ٹٹو ہیں، وہ بھی ہر قسم کے انسانی احساس سے عاری نظر آتے ہیں۔ 
	اس وقت جنوبی وزیرستان میں فوجی آپریشن جاری ہے اور پاک فوج کے جوان پوری جواں مردی سے فسادیوں کو ختم کرنے میں لگے ہوئے ہیں لیکن یہ جنگ جو ہماری نہیں تھی لیکن اسے ہمارے بے بصیرت پالیسی سازوں نے مکمل طور پر ہماری بنالیا ہے، اس سے پیچھے ہٹنا اب ہمارے لیے ممکن نہیں رہا۔ ہماری مقتدر قوتوں کو بلا امتیاز اچھے اور برے طالبان کا مکمل خاتمہ کرنا ہو گا۔ اسے وزیرستان میں موجود امریکی لے پالکوں کا قلع قمع کرنا ہو گا۔ ہماری مقتدر قوتوں کو اس بات کو سمجھنے میں مزید تاخیر نہیں کرنی چاہئے کہ امریکا جو ہمیں دوستی کی آڑ میں ہر وقت نقصان پہنچاتا رہتا ہے، اس سے وطن عزیز کی سا  لمیت اور اہل وطن کی جان و مال کی حفاظت کے سلسلے میں دو ٹوک بات کرنا ہو گی۔ ہمیں امریکی ڈالروں کے عوض اپنے ملک کی جڑوں کو مزید کم زور کرنے سے گریز کی مستقل پالیسی اپنانی ہو گی۔ ہمارے ملک میں کسی چیز کی کمی نہیں۔ ہمارے حکم رانوں اور فوجی جرنیلوں کو قومی وسائل ذاتی اغراض کی بجائے ملک و قوم کی ترقی اور خوشحالی کے لیے صرف کرنے ہوں گے۔ ہمیں اپنی داخلی اور خارجی پالیسیوں میں غیر معمولی تبدیلی لانی ہو گی۔ جب تک ہماری مقتدر قوتیں منافقت پر مبنی پالیسیاں ختم نہیں کریں گی، وطن عزیز میں دہشت گردی کا سلسلہ ختم نہیں ہو گا۔ ساری دنیا اپنے قومی مفادات پر کوئی سودے بازی نہیں کرتی لیکن صرف ہم ہی دنیا میں واحد لوگ رہ گئے ہیں جو دوسروں کے مفادات کے لیے بھڑکتے ہوئے الاؤ میں چھلانگ لگانے کے لیے ہر وقت تیار رہتے ہیں۔ 
	اس وقت پورا ملک جہنم زار بنا ہوا ہے اور ہمارے حکم ران اور سیاست دان خالی خولی نعروں سے عوام کو بہلانے میں لگے ہوئے ہیں۔ عقل کے اندھو! ان غیر معمولی حالات سے نمٹنے کے لیے غیر معمولی جدوجہد اور موثر اقدامات کی ضرورت ہے۔ ملک کو دہشت گردی اور دوسرے بحرانوں سے نکالنے کے لیے نئی غیر معمولی حکمت عملی وضع کرو اور دوسری تمام سیاسی مصروفیات اور غیرملکی دورے ترک کر کے ایک ہی ایجنڈا بناؤ کہ کم سے کم وقت میں ملک کو دہشت گردی اور دیگر بحرانوں سے ہر حال میں نکالنا ہے اور جب تک یہ مقصد حاصل نہیں ہوتا اس وقت تک اپنے اوپر ہر طرح کا عیش و آرام حرام کر دو۔ 

 (5 نومبر 2009ء) 
٭٭٭


دہشت گردی کا خاتمہ کیسے ممکن ہے؟

	دہشت گردی کی تازہ لہر کی وجہ سے وطن عزیز میں خوف و ہراس مسلسل بڑھ رہا ہے اور قومی افق پر غیر یقینی کے بادل چھا رہے ہیں۔ پشاور، راولپنڈی، اسلام آباد اور لاہور میں پے درپے دہشت گردی کے واقعات سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ دہشت گرد اب فوجی مراکز کے علاوہ بازاروں اور تعلیمی اداروں میں بھی اپنی ناپاک سرگرمیاں شروع کر چکے ہیں۔ اس جنگ کا دائرہ اب روز بروز وسیع سے وسیع تر ہوتا جا رہا ہے اور دہشت گردی کا ایک واقعہ ابھی لوگوں کے ذہنوں سے نہیں نکل پاتا کہ اچانک دوسرا سانحہ رونما ہو جاتا ہے۔ جنرل مشرف کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے 2003ء میں شروع ہونے والی یہ جنگ اب تک 22 ہزار  سے زائد افراد کی جان لے چکی ہے اور نہ معلوم مزید کتنے بے گناہ اس نہ ختم ہونے والی جنگ کی بھینٹ چڑھتے رہیں گے۔ 
	اس وقت دہشت گرد گروپوں کو غیر ملکی مد د حاصل ہے جس کا مقصد ملک میں افراتفری اور خوف وہراس پھیلانا ہے تاکہ وطن عزیز کی اقتصادی اور معاشی ابتری میں مزید اضافہ ہو۔ کیوں کہ امن و امان کی بدترین صورت حال میں نہ اندرون ملک سرمایہ کار نئے پراجیکٹ شروع کرنے کے لیے تیار ہوتے ہیں اور نہ ہی ایسے حالات میں غیرملکی سرمایہ کار یہاں کا رُخ کرتے ہیں جس کی وجہ سے ملک کی مجموعی اقتصادی صورتِ حال ناگفتہ بہ ہو چکی ہے۔ دہشت گرد گروپوں کے سرپرست اس افراتفری اور انارکی کے ذریعے دنیا کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ پاکستان خانہ جنگی کا شکار ہے اور یہ ملک تیزی سے ایک ناکام ریاست کی منزل کی طرف بڑھ رہا ہے۔ دہشت گردوں کے یہ سرپرست ایران کے صوبہ سیستان میں حالیہ دہشت گردی کے واقعات کے ذریعے پاکستان اور ایران میں غلط فہمی بھی پیدا کرنا چاہتے ہیں اور جنداللہ کی مالی سرپرستی کر کے وہ نہ صرف ایران میں بدامنی پھیلانے کے متمنی ہیں بلکہ پاکستان کو اپنے دیرینہ دوست سے دور کر کے اسے دنیا میں علاحدہ کرنا بھی ان کے منصوبے کا حصہ ہے تاکہ پاکستان سیاسی اور اقتصادی طور پر گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہو سکے۔ اس وقت یہ ناپاک خواہش امریکا، بھارت اور اسرائیل ہی کر سکتے ہیں۔ اس لیے دہشت گردی کے تازہ واقعات میں بلیک واٹر کے ملوث ہونے کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اس خطرناک جنگ کا یہ پہلو بھی خاصا قابل غور ہے کہ دہشت گردوں کو اسلحہ اور پیسہ کہاں سے مل رہا ہے۔ کیوں کہ یہ کوئی چھوٹا معاملہ نہیں ہے۔ اس کے لیے ایک طویل المیعاد منصوبہ بندی کی گئی ہے اور اس کے اخراجات اٹھانا کسی بڑے ملک کی سرپرستی کے بغیر ممکن نہیں۔ ظاہر ہے اس وقت یہ سرمایہ کاری صرف امریکا ہی کر سکتا ہے جس کے ساتھ اسرائیل اور بھارت بھی شامل ہے۔ 
	جنوبی وزیرستان میں آپریشن شروع ہونے کے بعد ایک طرف ملک میں دہشت گردی کے واقعات بڑھ رہے ہیں تو دوسری جانب بلوچستان میں ملک دشمن عناصر علاحدگی پسندوں کی حوصلہ افزائی کے لیے غیر معمولی طور پر سرگرم عمل ہو کر اس کو پاکستان سے علاحدہ کرنے کے لیے راہ ہموار کر رہے ہیں۔ ابھی حال ہی میں کوئٹہ کے ہوائی اڈے پر ایک سو بلیک واٹر اتر چکے ہیں جن کا ایجنڈا واضح ہے لیکن ہمارے حکم ران اور اصل مقتدر قوتیں خاموش تماشائی بنی ہوئی ہیں۔ وہ اس بات میں دل چسپی لے رہی ہیں کہ اس جنگ میں انھیں زیادہ سے زیادہ ڈالر کیسے مل سکتے ہیں اور اس کے ذریعے وہ ملک و قوم کی بجائے اپنا بھلا کس طرح کر سکتی ہیں۔ اس کی مثال کیری لوگر بل کی ہے جس میں شرم ناک حد تک ہماری قومی خود مختاری (اگر کوئی ہے تو) کے خلاف شرائط عائد کی گئی ہیں لیکن ہمارے حکم ران کیری لوگر بل کے تحت ملنے والی ڈیڑھ ارب ڈالر کی سالانہ امدادی رقم ہر حال میں حاصل کرنا چاہتے ہیں اور اس کے لیے وہ مختلف قسم کی تاویلات پیش کر رہے ہیں۔ 
	دہشت گردی کے مکمل خاتمہ کے لیے ضروری ہے کہ ہماری مقتدر قوتیں امریکا کے مفادات کے تحفظ اور ڈالروں کے حصول کی بجائے ملک کی بقاء اور عوام کی حفاظت کو مقدم رکھیں۔ وہ امریکا، اس کے میرین اور بدنام زمانہ تنظیم بلیک واٹر کے اہل کاروں کو کھل کھیلنے کا موقع نہ دیں۔ امریکا کو سفارتی اخلاقیات اور قوانین پر عمل درآمد کرانے پر مجبور کریں اور بلیک واٹر کو ملک میں دہشت گردی پھیلانے اور بلوچستان میں علاحدگی پسندوں کی مد د کرنے سے سختی سے روکیں۔ اگر کسی دوسرے آزاد اور ساؤرین ملک میں بلیک واٹر کی موجودگی کو برداشت نہیں کیا جا سکتا تو ہمارے حکم ران ایسا کیوں کر رہے ہیں؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ انھوں نے ملک و قوم کو امریکا کے ہاتھوں بیچ دیا ہے؟ پارلیمنٹ کو ربر سٹیمپ بنا دیا گیا ہے۔ وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے اعلان کیا تھا کہ کیری لوگر بل کے بارے میں پارلیمنٹ جو فیصلہ کرے گی، وہی حرف آخر ہو گا لیکن اس پر سخت ردِ عمل آنے کے بعد یہ مسئلہ پارلیمنٹ میں بحث کے لیے پیش نہیں کیا گیا۔ این آر او کو بھی مطلوبہ حمایت حاصل نہ ہونے کی وجہ سے پارلیمنٹ میں پیش نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس طرح قومی مفاد کے حامل بہت سے معاملات پر پارلیمنٹ کو بائی پاس کر کے فیصلے صادر کئے گئے ہیں۔ 
	وزیرستان میں جاری جنگ کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے امریکا کی دوغلی پالیسی کو نظر انداز نہ کیا جائے۔ آپریشن شروع ہوتے ہی نیٹو نے پاک افغان سرحد پر واقع اپنی چوکیاں خالی کر دی تھیں جس کے ذریعے امریکا کے لے پالک گروپوں کو مشکل وقت میں محفوظ راستے فراہم کرنا ہیں اور اگر ضرورت پڑے تو ان کھلے راستوں سے پاکستان دشمن گروپوں کو باآسانی افرادی قوت اور اسلحہ بھی فراہم کیا جا سکے۔ امریکا کی کوشش ہے کہ پاک فوج کی ساکھ کو نقصان پہنچایا جائے تاکہ اس کے مقاصد کے راستے میں حائل ہر مزاحمت کو ختم کیا جا سکے۔ 
	وزیرستان میں عسکریت پسندی کی جڑوں کو ختم کرنے کے لیے ضرورت اس اَمر کی ہے کہ وہاں کامیاب فوجی آپریشن کے بعد انتظامی اصلاحات کی جائیں، وہاں کے لوگوں کو بنیادی انسانی حقوق سے مزید محروم نہ کیا جائے اور آئین پاکستان کے تحت جو شہری حقوق ملک کے دوسرے علاقوں کو حاصل ہیں، وہ ان قبائل کو بھی دئیے جائیں۔ وہاں کے لوگوں کی محرومیوں کا خاتمہ کیا جائے۔ انھیں تعلیم یافتہ بنانے کے لیے زیادہ سے زیادہ تعلیمی سہولتیں فراہم کی جائیں۔ ان کے علاج معالجہ کے لیے جدید ہستپال بنائے جائیں۔ ان کی سڑکوں کی حالت بہتر بنائی جائے اور سب سے بڑھ کر وہاں بے روزگاری ختم کرنے کی طرف خصوصی توجہ دی جائے کیوں کہ عسکریت پسندی اور خود کش حملوں کی طرف صرف وہی لوگ مائل ہو سکتے ہیں جو غریب اور بے روزگار ہوں۔ امریکا جو رقم دہشت گردی کے خاتمہ کے لیے خرچ کر رہا ہے، اگر اس کا دسواں حصہ بھی وہ دہشت گردی سے وابستہ متعلقہ علاقوں میں عوام کی فلاح و بہبود کے منصوبوں پر خرچ کرے تو ان علاقوں میں نہ صرف پائیدار امن قائم ہو سکتا ہے بلکہ لوگوں میں جب خوشحالی آئے گی تو انھیں زندگی سے محبت اور رغبت بھی پیدا ہو گی اور وہ دہشت گردی اور خود کش حملوں سے ہمیشہ کے لیے دور ہو سکیں گے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ وزیرستان میں ایک بڑا صنعتی زون قائم کیا جائے اور اس میں صرف اسی علاقے کے لوگوں کو با عزت روزگار دیا جائے۔ اس کے کارخانوں میں تیار کر دہ مال کو یورپ اور امریکا کی منڈیوں تک پہنچانے کے لیے سہولتیں اور رعایتیں دی جائیں یقیناً اس کے نتائج فوجی آپریشنوں سے زیادہ بہتر اور حیرت انگیز نکلیں گے۔ 

 (7 نومبر 2009ء) 
٭٭٭



کیا اعلیٰ فوجی حکام توجہ دیں گے؟

	اس اَمر میں کوئی شک نہیں کہ پاک فوج نے جب چاہا تو سوات میں امن قائم کر دیا، نہ صرف امن قائم کیا بلکہ اس نے امن برباد کرنے والی قوتوں کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹا اور ان کو عبرت ناک انجام سے دوچار کر دیا۔ اب اگر سوات میں شرپسند دوبارہ عوام کو ورغلانے کی کوشش کریں گے تو نہ صرف سِول سوسائٹی کی طرف سے شدید مزاحمت سامنے آئے گی بلکہ اگر کوئی جنونی ان لوگوں کا ساتھ دینا چاہے گا تو وہ دس بار نہیں سو بار سوچے گا لیکن اگر پھر بھی کوئی سرپھرا شرپسندوں کے جھانسے میں آئے گا تو اس کے رشتے دار سب سے پہلے اس کے خلاف اٹھیں گے اور اسے شرپسندوں کا ساتھ دینے سے بزورِ طاقت منع کریں گے۔ 
	گزشتہ تین سالوں کے دوران سوات اور اہل سوات کو ناقابل تلافی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا۔ حالاں کہ سوات کی اٹھارہ لاکھ کی آبادی میں دو تین ہزار لوگوں نے ہی شرپسندوں کا ساتھ دیا تھا لیکن اس کی سزا سوات کے تمام لوگوں کو مل گئی۔ اب سوات میں 90 فی صد تک امن قائم ہو چکا ہے اور عسکریت پسندوں کے بچے کھچے حامی بھاگتے پھر رہے ہیں اور جو سکیورٹی فورسز کے ہاتھ لگتے ہیں، انھیں فوراً سزا مل جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس وقت سوات وطن عزیز کے دوسرے علاقوں سے زیادہ محفوظ ہے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ سوات اب پرانا سوات نہیں رہا ہے۔ اس میں بڑی تبدیلی آ چکی ہے۔ سوات کی سڑکیں، رابطہ پل، تعلیمی ادارے، ہیلتھ سنٹرز اور سیاحت کی صنعت تباہ ہو چکی ہے۔ فوجی آپریشن کے دوران جن بے گناہ اور پرامن لوگوں کے مکانات اور کاروبار تباہ ہو چکے ہیں، ان کی بحالی اور تعمیر نو کے سلسلے میں عملی کام کا آغاز ہنوز نہیں ہو سکا ہے۔ جگہ جگہ چیک پوسٹوں کی وجہ سے ایک گھنٹے کی مسافت دو گھنٹے میں طے کرنی پڑتی ہے۔ منگورہ میں ٹریفک کا نظام مزید خراب ہو چکا ہے۔ شہر کے اندر چیک پوسٹوں نے معمولاتِ زندگی میں تیزی ختم کر دی ہے۔ حکومت نے بلند بانگ دعوے کئے تھے کہ سوات میں بحالی اور تعمیر نو کے کام جلد شروع ہوں گے لیکن سوات کے لوگوں کے نام پر آنے والی امداد نہ جانے کہاں غائب ہو رہی ہے۔ عوام کے مسائل اور مشکلات روز افزوں بڑھ رہی ہیں۔ اہل سوات کے ساتھ وعدہ کیا گیا تھا کہ انھیں یوٹیلٹی کے بلوں میں ریلیف دی جائے گی لیکن حکومت کو اپنے وعدوں کا کوئی پاس و لحاظ نہیں۔ یہ سارے معاملے تو وقت گزرنے کے ساتھ شاید حل ہوں لیکن آج مَیں سوات میں مقیم فوجی حکام کی توجہ ایک اہم مسئلہ کی جانب مبذول کرانا چاہتا ہوں جس کی وجہ سے نہ صرف منگورہ، سیدو شریف اور اس کے قرب و جوار کے علاقوں کے مکینوں کے معمولاتِ زندگی شدید طور پر متاثر ہو رہے ہیں بلکہ اس کے نتیجہ میں عوام کے دل و دماغ میں فوج کے خلاف اندر ہی اندر ایک لاوا بھی پک رہا ہے اور اس سلسلے میں شدید عوامی ردِ عمل کسی بھی وقت ظہور پذیر ہو سکتا ہے۔ 
	گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ جہان زیب کالج کے ودودیہ ہال میں وقتاً فوقتاً پاک فوج کی طرف سے سوات آنے والے مہمانوں کے اعزاز میں تقاریب منعقد کی جاتی ہیں۔ جس کے لیے عموماً صبح سے سیدو شریف روڈ پر غیر اعلانیہ کرفیو نافذ کیا جاتا ہے۔ اس کی وجہ سے نہ صرف ضلعی عدالتیں اور اس روڈ پر واقع تمام سرکاری دفاتر بند کئے جاتے ہیں، سکول و کالج میں تعلیم و تدریس کا سلسلہ رک جاتا ہے بلکہ سیدو شریف میں واقع دونوں ہسپتالوں تک آمد و رفت بھی معطل ہو جاتی ہے۔ فوجی حکام یہ سب کچھ کس قانون اور ضابطے کے تحت کرتے ہیں، یہ سوال پوچھنے کا حق کسی کو حاصل نہیں۔ باہر سے آنے والے  مہمانوں کو سکیورٹی ضرور دیں، ان کے تحفظ کے لیے غیر معمولی اقدامات ضرور اٹھائیں لیکن ذرا یہ بھی سوچیں کہ 18 لاکھ کی آبادی کی بیشتر ضرورتوں کا انحصار اسی روڈ پر ہی ہے۔ اسی روڈ پر ضلعی کچہری واقع ہے، اسی روڈ پر تمام محکموں کے دفاتر واقع ہیں، اسی روڈ پر کئی سکول و کالج ہیں، اسی روڈ پر بڑے میڈیکل سٹور اور میڈیکل سنٹرز ہیں، اسی روڈ پر پرائیویٹ ہسپتال واقع ہیں، اسی روڈ پر میل اور فی میل ڈاکٹروں کے کلینک ہیں اور اسی روڈ پر سوات کے دو بڑے مرکزی ہسپتال واقع ہیں جن پر پورے سوات کی طبی ضرورتوں کا انحصار ہے۔ جب آپ یہ روڈ اپنے معزز مہمانوں کے لیے بند کرتے ہیں تو اس کے نتیجے میں سوات کے لاکھوں لوگوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کسی کو اگر ایمرجنسی ہے، خواہ وہ بیماری کی ہو یا کسی اور ضروری کام کی، وہ روڈ کی اچانک بندش کی وجہ سے غیر معمولی مشکل میں پڑ جاتا ہے۔ پاک فوج کے اعلیٰ حکام کا دعویٰ ہے کہ سوات سے شرپسندوں کا خاتمہ کیا جا چکا ہے اور سکیورٹی فورسز بچے کھچے شرپسندوں کا تعاقب کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ منگورہ اور سیدو شریف کی طرف آنے والی تمام سڑکوں پر جگہ جگہ چیک پوسٹ موجود ہیں اور منگورہ میں جو گاڑی یا شخص داخل ہوتا ہے، اس کی متعدد مقامات پر مکمل تلاشی لی جاتی ہے، پھر سکیورٹی کے نام پر منگورہ، سیدو شریف اور قرب و جوار کے مقامات کے لوگوں کو غیر اعلانیہ کرفیو کے نفاذ سے اذیت میں کیوں مبتلا کیا جاتا ہے۔ سوات آنے والے معزز مہمان ہمیشہ ہیلی کاپٹر کے ذریعے سوات پہنچتے ہیں اور جب وہ ودودیہ ہال میں داخل ہوتے ہیں تو اس کے چاروں طرف مستعد فوجی جوان چوکس کھڑے ہوتے ہیں۔ پھر ان کے لیے پورے روڈ کو بند کرنا کیوں ضروری سمجھا جاتا ہے۔ کیا پاک فوج کواپنی سکیورٹی اور سوات میں قیام امن کے لیے کی جانے والی کوششوں پر اعتماد نہیں؟ معزز مہمانوں کے لیے اتنی غیر معمولی اور غیر ضروری سکیورٹی سے عوام کے ذہنوں میں کیا تاثر اُبھرتا ہے، اس پر کبھی سوات میں مقیم اعلیٰ فوجی حکام نے سوچا ہے؟ محض ایک گھنٹے یا آدھ گھنٹے کے پروگرام کے لیے سات آٹھ گھنٹوں تک لوگوں کو محبوس کرنا کہاں کا انصاف ہے؟ یہ بھی نہیں دیکھا جاتا کہ جہان زیب کالج میں طلبہ کا امتحان شروع ہے، یہ سوچنے کی زحمت بھی گوارا نہیں کی جاتی کہ کسی کو ہسپتال میں ایمرجنسی ہو گی، یہ احساس بھی نہیں کیا جاتا کہ کسی کو ذاتی ضروری کام کی غرض سے فوری طور پر آنا جانا ہو گا، خواتین اس غیر اعلان شدہ کرفیو کی وجہ سے پھنسی ہوئی ہیں اور اس سے عام شہریوں کو پریشانی کا سامنا ہے لیکن غیر ضروری سکیورٹی کے لیے روڈ بغیر سوچے سمجھے بند کیا جاتا ہے اور مخلوقِ خدا کو کرب و اذیت سے دوچار کیا جاتا ہے۔ 
	اعلیٰ فوجی حکام کو سیدو روڈ استعمال کرنے والے عوام کی مشکلات کا احساس کرنا چاہئے۔ وہ روڈ بند کئے بغیر بھی اپنے معزز مہمانوں کو سکیورٹی فراہم کر سکتے ہیں اور اگر سوات آنے والے معزز مہمانوں کے اعزاز میں پروگرام بہت ضروری ہوں اور ان کی حفاظت کے لیے غیر ضروری سکیورٹی فراہم کرنا بھی ناگزیر ہو تو براہِ کرم یہ پروگرام کسی ایسی جگہ میں منعقد کرائے جائیں جہاں غیر اعلانیہ کرفیو کی وجہ سے عوام کے لیے مشکلات پیدا نہ ہوں۔ سوات آنے والی معزز مہمان شخصیات سوات کے لوگوں کی مشکلات اور ان کے صبر کا تذکرہ ضرور کرتی ہیں اور انھیں خراج تحسین بھی پیش کرتی ہیں اور مقتدر قوتیں کئی بار کہ چکی ہیں کہ سوات میں پاکستان کی بقاء کی جنگ لڑی گئی ہے اور اس سلسلے میں سوات کے لوگوں کی تحسین بھی کی جاتی ہے لیکن قیام امن کے بعد اب عام لوگوں کو مزید پریشان کرنے والا عمل عوام کی سمجھ سے بالاتر ہے۔ عوام سیدو روڈ پر نافذ کرنے والے غیر اعلانیہ کرفیو کو اچھی نظر سے نہیں دیکھتے۔ اسے وہ اپنے بنیادی انسانی حقوق اور شہری آزادی کا منافی عمل سمجھتے ہیں۔ اس لیے سوات میں مقیم اعلیٰ فوجی حکام کو اس مسئلہ پر ہمدردی سے غور و خوض کرنا چاہئے اور عوام کو پریشانی میں مبتلا کرنے والے اس عمل کو ختم کرنا چاہئے۔ 

 (24 نومبر 2009ء) 
٭٭٭


پختون کہاں کھڑے ہیں؟

	اس وقت پختون قوم ایک بے سمت قوم بن چکی ہے۔ ان کے وہ لیڈر جو خود کو پختونوں کے حقوق کے علم بردار کہلواتے تھے، وہ اسٹیبلشمنٹ اور امریکا کے آلہ کار بن چکے ہیں۔ صوبہ بھر میں ہر طرف بم دھماکے اور خود کش حملے ہو رہے ہیں لیکن وہ نہ صرف ان بم دھماکوں اور خود کش حملوں کے پیچھے حقیقی مقاصد کی طرف کوئی توجہ دے رہے ہیں اور نہ ہی وہ اپنے لوگو ں کو اس خوں ریزی سے بچانے کے لیے کوئی ٹھوس اور مربوط لائحہ عمل مرتب کرنے میں دل چسپی رکھتے ہیں۔ صوبہ سرحد کا وہ کون سا علاقہ ہے جہاں دہشت گردی کے واقعات تسلسل کے ساتھ نہیں ہو رہے ہیں۔ وزیرستان سے لے کر بنوں، ڈیرہ اسماعیل خان، پشاور، مردان، دیر، باجوڑ اور سوات تک ہر علاقہ اس خوں ریزی کا شکار رہا۔ پشاور جو پختونوں کا پیرس ہے، جہاں ہر علاقے کے پختون کاروبار، علاج معالجہ اور سیر و تفریح کی غرض سے آتے ہیں۔ جسے ہر پختون اپنا گھر سمجھتا ہے، اس وقت بم دھماکوں اور خود کش حملوں سے لہولہان ہے۔ اہالیانِ پشاور ہر صبح خوف کے سائے میں اپنے گھروں سے باہر نکلتے ہیں۔ انھیں ہر قدم پر ایک انجانے خوف کی فکر دامن گیر رہتی ہے۔ بازاروں میں رونق ماند پڑ چکی ہے۔ کاروبارِ زندگی میں تیزی و طراری غائب ہے۔ کاروباری سرگرمیوں کو گہن لگ چکا ہے اور تاجر ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں۔ صوبے کے دوسرے علاقوں سے لوگوں کی آمد و رفت بہت کم ہو چکی ہے۔ جس کی وجہ سے صوبے کی مجموعی معیشت رو بہ زوال ہے۔ جب کوئی نیا خونی واقعہ رونما ہوتا ہے تو صوبہ سرحد کے وزیر اطلاعات محض اس اعلان پر عوام کو ورغلانے کی کوشش کرتے ہیں کہ وہ موت سے نہیں ڈرتے اور دہشت گردوں کو کیفر کردار تک پہنچا کر ہی دَم لیں گے لیکن ان کے بیان کی سیاہی ابھی خشک نہیں ہوتی کہ ایک اور بڑا المیہ رونما ہو جاتا ہے۔ 
	قوموں پر ہر قسم کے نامساعد حالات آتے ہیں لیکن اگر لیڈر شپ فعال، منظم، مخلص اور با صلاحیت ہو تو وہ ان نامساعد حالات میں قوم کی اشک شوئی اور رہنمائی کا فریضہ احسن طریقے سے انجام دیتی ہے۔ اس وقت پختونوں کے حقوق کے علم بردار محض بیان بازی پر اکتفا کر رہے ہیں۔ ان کے رہبر اور وزیر اعلیٰ ان مقامات کا دورہ کرنے سے احتراز کرتے ہیں، جہاں کوئی خود کش حملہ ہوتا ہے۔ صوبائی وزیر اطلاعات کی رونمائی محض پریس کانفرنس تک محدود ہوتی ہے۔ اگر پختونوں کے نام نہاد علم برداروں میں کوئی قائدانہ صلاحیتیں ہوتیں تو وہ نہ صرف عوام کی تسلی اور دل جوئی کے لیے حادثے کے مقام پر موجود ہوتے بلکہ وہ مرکزی حکومت اور فوج کی طرف دیکھے بغیر بھی دہشت گردی کے ان واقعات کے خلاف کوئی واضح اور موثر حکمت عملی وضع کرتے لیکن پختونوں کی موجودہ قیادت مالی مفادات کی اسیر بن چکی ہے اور وہ بیرون ممالک جائداد بنانے میں لگی ہوئی ہے۔ 
	وادئ سوات ڈھائی سال تک خون میں ڈوبا رہا۔ وہاں کے لوگ قتل ہوتے رہے۔ ان کی املاک تباہ ہوتی رہیں لیکن سوات سے صوبائی اور قومی اسمبلیوں کے لیے منتخب ہونے والے نام نہاد پختونوں کے علم بردار اپنے علاقہ سے باہر مقیم رہے۔ انھوں نے سوات کے معصوم لوگوں کو دہشت گردوں کے رحم و کرم پر چھوڑے رکھا۔ انھوں نے اسمبلیوں کے فلور پر بھی سوات کا مقدمہ جرأت اور دلائل سے پیش نہیں کیا۔ جب پاک فوج نے امن قائم کیا اور سوات میں معمولاتِ زندگی بحال ہوئے تو اب بھی سوات کے عوام کے ووٹوں سے منتخب ہونے والے نمائندے واپس نہیں لوٹے ہیں۔ وہ اب بھی پشاور اور اسلام آباد میں مقیم ہیں۔ حالاں کہ اب تو سوات میں حکومت کی عمل داری قائم ہو چکی ہے اور بقول سوات آپریشن کے انچارج میجر جنرل اشفاق ندیم، سوات سے دہشت گردوں کا مکمل صفایا کر دیا گیا ہے لیکن اس کے باوجود سوات کے منتخب صوبائی اور قومی اسمبلی کے ممبران اپنے گھروں کو واپس آنے کے لیے تیار نہیں۔ فوج نے اپنی ذمہ داری پوری کر دی ہے اور اب تعمیر نو اور بحالی کے کاموں کے لیے عوام کے منتخب نمائندوں کو کردار ادا کرنا ہے۔ 
	ہمیں سوچنا ہو گا کہ تاریخ کے اس نازک موڑ پر پختون کہاں کھڑے ہیں اور ان کی موجودہ لیڈر شپ کی ترجیحات کیا ہیں؟ وہ پختونوں کو تباہی و بربادی سے بچانے کے لیے فعال کردار ادا کرنے میں پس و پیش کیوں کر رہی ہے؟ اقتدار کی کرسی پر براجمان ہونے کے باوجود ان کے سامنے ہی پختونوں کو عالمی سطح پر دہشت گردوں کے طور پر بدنام کرنے کا مذموم سلسلہ کیوں جاری ہے؟ پختون بچوں کے ہاتھوں میں قلم کی بجائے اسلحہ تھمانے کی کوششیں کیوں ہو رہی ہیں؟ ان کے تعلیمی ادارے کیوں تباہ کئے جا رہے ہیں؟ انھیں معاشی طور پر مفلوج کیوں بنایا جا رہا ہے؟ جن علاقوں میں فوجی آپریشن کئے جاتے ہیں، وہاں کے پختونوں کو علاقہ بدر کیوں کیا جا رہا ہے؟ انھیں کیمپوں میں ذلیل و خوار کیوں کیا جا رہا ہے؟ انھیں مفت راشن اور حقیر رقم کے لیے گداگر بنانے کی مذموم سعی کیوں کی جا رہی ہے؟ اور اب پختونوں کے حقوق کے علم بردار یہ بھی کہتے ہیں کہ آئی ڈی پیز کو پشاور سے دور رکھا جائے گا۔ ایسے میں اگر پختون خود کو بے سہارا اور بے بس نہ سمجھیں تو کیا سمجھیں۔ اس جدید دور میں پختون قائدانہ صلاحیتوں کی حامل لیڈر شپ سے محروم ہو چکے ہیں اور ان کی مثال اس ریوڑ کی سی ہے جس کا نگہبان انھیں حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ چکا ہو اور ان پر کبھی کہیں سے حملہ ہوتا ہو اور کبھی کہیں سے درندے انھیں چیر پھاڑنے کے لیے نمودار ہوتے ہوں۔ 
	پختون قوم کی سادگی اور مذہب سے وابستگی کو جس طرح امریکا اور اسٹیبلشمنٹ اپنی اغراض کے لیے استعمال کر رہے ہیں اور اس کی آڑ میں وہ دہشت گردی کی نام نہاد عالمی جنگ کا بازار گرم کئے ہوئے ہیں، وہ قابل مذمت ہے۔ دونوں فریق پختونوں کے کندھوں پر بندوق رکھ کر اپنے ہمہ جہت مفادات کے حصول میں لگے ہوئے ہیں لیکن اس کے نتیجے میں نسل کشی پختونوں کی ہو رہی ہے۔ عالمی سطح پر پختون بدنام ہو رہے ہیں اور پختونوں کے حقوق کے علم بردار اپنے ہی ہم نسلوں کی تباہی و بربادی کا تماشا دیکھنے میں مگن ہیں۔ ضرورت اس اَمر کی ہے کہ پختونوں میں ایک نئی لیڈر شپ سامنے آئے اور وہ اپنی ذاتی اغراض کی بجائے پختونوں کے اجتماعی مفادات کے لیے خلوصِ دل سے کام کرے۔ وہ پختونوں کو موجودہ زبوں حالی اور خوں ریزی سے باہر نکالنے کے لیے انقلابی اقدامات اٹھائے۔ پختون علاقوں سے دہشت گردی اور بربریت کا خاتمہ کرے۔ انھیں مزید نسل کشی سے بچائے۔ انھیں امن دے اور ان کے امیج کو عالمی سطح پر ایک پرامن قوم کے طور پر اُجاگر کرے۔ اگر نئی لیڈر شپ نہ ابھری تو پختونوں کو حتمی تباہی اور مزید معاشی بدحالی سے نہیں بچایا جا سکے گا کہ ان کی موجودہ قیادت نا اہل ہے اور وہ اپنے ذاتی مفادات کی وجہ سے پختونوں کی تباہی پر خاموش تماشائی بن چکی ہے۔ 

 (27 نومبر 2009ء) 
٭٭٭


سوات میں چیک پوسٹیں اور عوام کی پریشانی

	کامیاب فوجی آپریشن کے بعد سوات میں امن بحال ہو چکا ہے اور فوجی حکام نے عوام کی مشکلات کو پیش نظر رکھتے ہوئے علاقے سے کرفیو کا بھی خاتمہ کر دیا ہے لیکن چند دن قبل جب سوات میں عوامی نیشنل پارٹی کے ایم پی اے ڈاکٹر شمشیر علی خان پر خود کش حملہ ہوا اور وہ اس میں شہید ہوئے تو علاقے میں ایک بار پھر خوف و ہراس پھیل گیا اور عام لوگوں میں اس خدشہ نے پھر سر اٹھانا شروع کیا کہ اب بھی سوات میں بچے کھچے عناصر ایسے موجود ہیں جو کسی بھی وقت امن کو تہہ و بالا کر سکتے ہیں۔ عام آدمی سوچ رہا ہے کہ جگہ جگہ چیک پوسٹوں اور سرچ آپریشنوں کے باوجود اگر ان عناصر کا خاتمہ نہیں کیا جا سکا ہے تو یہ سکیورٹی فورسز کے لیے ایک چیلنج ہے اور اس سے عہدہ برآ ہونے کے لیے نئی حکمت عملی وضع کرنے کی ضرورت ہے۔ 
	حالیہ خود کش حملہ نے اگر ایک طرف سوات کے لوگوں میں ماضی قریب کی تلخ یادیں تازہ کر دی ہیں تو دوسری جانب سکیورٹی فورسز نے غیر معمولی چیکنگ اور سخت تلاشی کی صورت میں عام لوگوں کو ایک نئے عذاب میں مبتلا کر دیا ہے۔ اب سوات کے مرکزی شہر منگورہ کی طرف آتے ہوئے ہر شخص کی متعدد بار تلاشی لی جاتی ہے اور اسے بار بار شناختی کارڈ پیش کرنا پڑتا ہے جس کی وجہ سے نہ صرف مختصر راستے طویل ہوتے جا رہے ہیں بلکہ عوام کو ذہنی اذیت اور کرب کے پل صراط سے بھی گزرنا پڑتا ہے۔ اعلیٰ فوجی حکام اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہیں کہ شرپسند عناصر پہلے سے موجود چیکنگ کے باعث ان عام راستوں سے ہرگز اپنی آمد و رفت جاری نہیں رکھ سکتے بلکہ وہ اگر چاہیں تو متبادل راستے بھی اختیار کر سکتے ہیں۔ ان راستوں کے ذریعے تو عام شہریوں کو آنا جانا پڑتا ہے لیکن حالیہ خود کش حملہ کے بعد اب غیر ضروری چیکنگ کا ایک ایسا عمل شروع کر دیا گیا ہے جس نے معمولات زندگی کو درہم برہم کر دیا ہے اور عام شہری کو ایک بڑی مشکل سے دوچار کر دیا ہے۔ ہمارا مقصد یہ ہرگز نہیں کہ تلاشی کا عمل ختم کر دیا جائے لیکن یہ ضرور کہنا چاہیں گے کہ اس کے لیے کوئی ایسا طریقہ وضع کیا جائے جس کی وجہ سے پرامن لوگوں کو تکلیف اور مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ دو چیک پوسٹوں کے درمیان مختصر سا فاصلہ ہے لیکن جب ایک چیک پوسٹ سے نجات ملتی ہے تو قریب ہی واقع دوسری چیک پوسٹ میں بھی غیر معمولی تلاشی کا وہی عمل دہرایا جاتا ہے جو کسی بھی طور مناسب نہیں۔ تاہم اتنی احتیاط اور سخت تلاشی کے باوجود اگر خود کش حملہ ظہور پذیر ہوتا ہے تو اس کی ذمہ داری کس پر ڈالی جائے گی؟ کیا اسے غفلت اور کوتاہی کا نام دیا جا سکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔ پاک فوج کے جوان ہر لمحہ مستعد اور چوکس کھڑے ہوتے ہیں اور وہ چیک پوسٹوں سے گزرنے والے ہر شخص اور ہر گاڑی پر نظریں جمائے ہوئے ہوتے ہیں۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ شرپسند عناصر اپنی کار روائیوں کے لیے ان راستوں کا استعمال نہیں کرتے بلکہ ان کے لیے کئی چور راستے موجود ہوتے ہیں۔ اس لیے ضرورت اس اَمر کی ہے کہ عام لوگوں کو غیر ضروری تلاشی کے عمل سے نہ گزارا جائے اور ان کی آمد و رفت میں مزید مشکلات پیدا نہ کی جائیں۔ 
	پاک فوج نے جانی قربانیاں دے کر سوات میں امن قائم کیا ہے اور حکومت اور فوج نے بدامنی پھیلانے والے عناصر کی سرکوبی اس لیے کی ہے کہ عوام کو ان کے شر سے نجات ملے۔ علاقے میں امن قائم ہو اور پرامن عوام کی زندگی میں سکون آئے لیکن چیک پوسٹوں پر عوام کے ساتھ غیر ضروری سختی کر کے نہ صرف ان کی عزت نفس مجروح کی جا رہی ہے بلکہ انھیں یہ احساس بھی دلایا جا رہا ہے جیسے خدا ناخواستہ ہر شہری ان ناپسندیدہ عناصر کی پشت پناہی کر رہا ہو۔ سوات کے عوام امن پسند ہیں اور انھوں نے گزشتہ ڈھائی سال کے دوران جو کچھ دیکھا، سہا اور برداشت کیا، اس نے ان کے ہوش و حواس چھین لیے ہیں۔ اس لیے سوات کے عوام تو ہمدردی کے مستحق ہیں۔ ان کے ساتھ چیک پوسٹوں پر نامناسب رویہ اپنا کر پاک فوج ان کے ذہنوں میں تلخی گھول رہی ہے۔ وہ زبانی طور پر چیک پوسٹوں پر تعینات عملہ سے تو کچھ کہہ نہیں سکتے لیکن ان کے دلوں میں اس گھٹن اور جبر کی وجہ سے ناپسندیدگی کا لاوا جمع ہو رہا ہے۔ وہ نجی محفلوں میں سکیورٹی فورسز کی طرف سے اپنے ساتھ روا رکھنے والے نا مناسب اور سخت رویہ پر شکوہ کرتے ہیں اور سوچتے ہیں کہ جو لوگ ہمیں امن و تحفظ دینے آئے ہیں، وہ ہماری عزت نفس کا خیال کیوں نہیں رکھتے اور اب وہ ہمیں تکلیف اور ایذا دینے کا باعث کیوں بن رہے ہیں؟ 
	خود کش حملوں اور بم دھماکوں سے بچنے کے لیے چیک پوسٹوں کی ضرورت سے انکار نہیں کیا جا سکتا لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ امن قائم رکھنے کے لیے اگر عوام کو ذہنی اذیت کا شکار بنایا جائے تو اس سے قیام امن کا حقیقی مقصد پورا نہیں ہو سکتا۔ یہ تو کوئی طریقہ نہیں ہوا کہ ادھر کوئی بم دھماکہ ہوا اور اُدھر اس کا سارا نزلہ بے بس اور پرامن عوام پر نکالا جائے۔ سکیورٹی فورسز کو یہ طرز عمل ترک کر دینا چاہئے اور بچے کھچے شرپسند عناصر کو قانون کی گرفت میں لانے کے لیے خفیہ اداروں کے اہل کاروں اور عوام میں موجود فورسز کے مخبروں کو متحرک کر دینا چاہئے۔ سوات کے لوگ یہ بھی چاہتے ہیں کہ شرپسند عناصر کے "اصل مہروں" کو بھی ختم کیا جائے تاکہ سوات کے خوب صورت چہرے کو بدنما کرنے والے ناسور کا مکمل خاتمہ کیا جا سکے۔ اگر خفیہ اداروں کو یہ معلوم ہو جاتا ہے کہ خود کش حملہ آور منگورہ یا کسی علاقے میں داخل ہوا ہے تو انھیں اسے تلاش کرنے کے لیے بھی اپنی صلاحیتیں صرف کرنی چاہئیں۔ کامیابی تو یہ ہے کہ پرامن عوام کو تنگ کئے بغیر امن بحال رکھا جائے نہ کہ پائیدار امن کے لیے عوامی زندگی کو ہی بے چینی اور خوف ہراس میں مبتلا کیا جائے۔ 

 (7 دسمبر 2009ء) 
٭٭٭


مینگورہ میں کرفیو کا نیا سلسلہ اور عوام کی مشکلات

	چند دن قبل سوات پولیس کے اہل کاروں پر فائرنگ کے دو مسلسل واقعات میں ایک پولیس اہل کار ہلاک جب کہ ایک زخمی ہو گیا۔ اس کے بعد سوات میں مقیم اعلیٰ فوجی حکام نے مینگورہ شہر پر مسلسل دو روز تک کرفیو نافذ کیا جس کی وجہ سے شہر بھر میں تمام معمولاتِ زندگی معطل رہے اور شہریوں کو شدید دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا۔ پولیس اہل کاروں پر فائرنگ کے واقعات کو طالبان کے بچے کھچے گروپ سے منسوب کیا گیا لیکن مبینہ طور پر یہ واقعات کسی بھی طور طالبان سے تعلق نہیں رکھتے۔ عوامی حلقوں کے مطابق ایک واقعہ میں پولیس کے منشیات فروشوں سے کسی "خفیہ معاملے" پر تلخ کلامی ہوئی جس کے نتیجے میں اس پر فائر کھول دیا گیا۔ دوسرے واقعے کے بارے میں یہ بتایا جاتا ہے کہ ہلاک ہونے والے پولیس اہل کار کی ڈیوٹی شاہدرہ مینگورہ میں لگائی گئی تھی لیکن وہ سادہ کپڑوں میں اپنی ڈیوٹی کی بجائے حاجی بابا چوک کی طرف گیا جہاں اس کے ساتھ جان لیوا واقعہ پیش آیا۔ تاہم سوات میں مقیم پاک فوج کے اعلیٰ حکام نے ان دو واقعات کی آڑ میں دو روز کرفیو لگایا اور کرفیو کے دوران ہزاروں لوگوں کو گرفتار کیا جنھیں بعد ازاں رہا کیا گیا۔ 
	سوات میں پاک فوج کے حالیہ آپریشن کے بعد امن قائم ہو گیا ہے اور عسکریت پسندوں کا صفایا کر دیا گیا ہے۔ جو بچے کھچے عسکریت پسند رہ گئے ہیں، وہ سرچ اور کلیئرنس آپریشن میں مارے جاتے ہیں۔ اس لیے یہ کہنا کہ اس وقت سوات میں بچے کھچے عسکریت پسندوں کا کوئی گروپ موجود ہے، قرین حقیقت نہیں۔ کوئی سرپھرا بھی اس وقت پاک فوج کا سامنا نہیں کر سکتا چہ جائیکہ اس قدر سخت سکیورٹی کے باوجود کوئی عسکریت پسند پولیس یا فوج کے جوانوں پر فائرنگ کرے، یہ ناممکن ہے۔ پائیدار امن کے نتیجے میں سوات میں معمول کی زندگی روز بروز پُر رونق ہوتی جا رہی ہے اور لوگوں میں امن و امان کے حوالے سے اعتماد بڑھ رہا ہے۔ سوات میں مقیم پاک فوج کے اعلیٰ حکام بھی اس حقیقت سے اچھی طرح آگاہ ہیں۔ 
	مینگورہ ایک گنجان آباد شہر ہے اور اس کی وسعت روز افزوں ہے۔ ایسے میں ظاہر ہے کہ معمول کے جرائم بھی ہوں گے اور بعض پولیس اہل کاروں کے غلط رویہ کی وجہ سے لوگوں میں انھیں ناپسندیدگی کی نظر سے بھی دیکھا جاتا ہو گا اور کچھ معاملوں میں بعض پولیس اہل کار رشوت اور بھتہ بھی لیتے ہوں گے۔ جس میں جب وہ حدود سے تجاوز کریں گے تو ظاہر ہے وہ مخالف پارٹی کے اشتعال اور انتقام کا نشانہ بھی بنیں گے۔ ان دو واقعات میں بھی مبینہ طور پر یہی عوامل کارفرما ہو سکتے ہیں۔ سوات میں امن کے بعد پولیس اہل کاروں کا عمومی رویہ کچھ زیادہ ہی جارحانہ ہے۔ وہ شہریوں سے بہت بدتمیزی سے پیش آتے ہیں۔ عوام کو اگر کوئی مسئلہ یا قضیہ پیش آئے اور وہ پولیس سٹیشن کا رُخ کریں تو انھیں تھانے کے اندر گھسنے نہیں دیا جاتا اور اگر خوش قسمتی سے کسی کو پولیس سٹیشن کے اندر جانے کی سعادت حاصل ہو جائے تو اسے کئی مراحل میں تلاشی سے اس طرح گزرنا پڑتا ہے جیسے کسی مطلوب ملزم کو تلاشی دینی پڑتی ہے۔ معلوم نہیں پولیس سٹیشن مظلوموں کو انصاف دلانے کے لیے ہوتا ہے یا ان پر مزید ظلم ڈھانے کے لیے۔ مظلوم کو بروقت انصاف مہیا نہ کرنا اور اسے ایف آئی آر درج کرانے میں مشکلات سے گزارنا، انصاف کا خون کرنے کے مترادف ہے۔ اس وقت سوات اور خصوصاً مینگورہ میں پولیس اہل کاروں کا جو رویہ ہے، اسے نامناسب ہی نہیں بلکہ ظالمانہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ ڈی آئی جی ملاکنڈ اور ڈی پی او سوات کو اس کا سخت نوٹس لینا چاہئے ورنہ عوام میں ان کے خلاف جو لاوا پک رہا ہے، وہ کسی بھی وقت کسی ناخوش گوار واقعے کا سبب بن سکتا ہے۔ پولیس تو عوام کے محافظ اور انھیں مجرموں سے بچانے کا وسیلہ ہوتی ہے۔ ان کا رویہ عوام کے ساتھ شائستہ اور مہذب ہونا چاہئے۔ 
	گزشتہ کرفیو کے دوران جس طرح پرامن عوام کو اپنے گھروں سے نکال کر انہیں ذلت آمیز تلاشی کے مراحل سے گزارا گیا، وہ بھی کسی طور شائستہ طریقہ نہیں تھا۔ ایک تو کرفیو کے نفاذ کا فیصلہ ہی محل نظر تھا، دوسرا اس میں پرامن عوام کو گھروں سے نکال کر انھیں ہانکتے ہوئے کسی تفتیشی مرکز میں لے جانا نہ صرف عوام کی توہین ہے بلکہ ان کے بنیادی انسانی اور شہری حقوق کی پامالی بھی ہے۔ یہ درست ہے کہ پاک فوج نے جرأت اور بہادری سے سوات میں قیام امن کو ممکن بنایا اور علاقے کو عسکریت پسندی سے خالی کرایا لیکن اس کا مطلب یہ تو نہیں کہ اب معمولی معمولی واقعات پر سوات میں کرفیو نافذ کیا جائے اور اس کی آڑ میں عام پرامن شہریوں کی عزت نفس کو مجروح کیا جائے۔ پاک فوج ایک با وقار ادارہ ہے عوام اور اس کے درمیان اچھے اور خوش گوار تعلقات ہونے چاہئیں لیکن حالیہ کرفیو کے نفاذ اور فوجی جوانوں کے نامناسب طرزِ عمل سے نہ صرف عوام اور فوج کے درمیان فاصلے بڑھ رہے ہیں بلکہ فوج نے سوات میں قیام امن کے حوالے سے جو عظیم کارنامہ انجام دیا ہے اور اس سے عوام کے ذہنوں میں فوج کے متعلق جو خوش گوار تاثر قائم ہوا ہے، وہ اس طرح کے ناپسندیدہ اقدامات سے زائل ہو رہا ہے۔ اس پر مستزاد چیک پوسٹوں پر فوج کا جارحانہ رویہ عوام کو مزید ذہنی اشتعال کی طرف دھکیل رہا ہے۔ ان مذکورہ واقعات کے ردِ عمل میں پاک فوج نے مینگورہ شہر میں جو چیک پوسٹیں ختم کی تھیں، انھیں دوبارہ قائم کیا گیا ہیں جس سے عوامی زندگی میں مزید تلخیاں اور مشکلات عود کر آئیں گی۔ عوام کو تو یہ توقع تھی کہ باقی چیک پوسٹوں کو بھی دھیرے دھیرے ختم کیا جائے گا لیکن نئی چیک پوسٹ دیکھ کر عوام کے ذہنوں میں سکیورٹی اور امن کے حوالے سے پھر سوالات اُبھر رہے ہیں۔ مینگورہ کی سبزی منڈی کے قریب ایک بڑی چیک پوسٹ دوبارہ قائم کی گئی ہے حالاں کہ اس سے چند میٹر کے فاصلے پر شاہدرہ چوک میں ایک چیک پوسٹ پہلے سے ہی موجود ہے جو عوام کے لیے مسلسل پریشانی اور مشکلات کا باعث بن رہی ہے لیکن معلوم نہیں سوات میں مقیم اعلیٰ فوجی حکام کو کیوں تسلی نہیں ہو رہی ہے اور وہ قدم قدم پر چیک پوسٹ قائم کر کے عوام کے لیے نت نئے مسائل اور مشکلات پیدا کر رہے ہیں۔ اس طرح سیدو شریف روڈ پر بھی دوبارہ رکاوٹیں کھڑی کی گئیں۔ اس سے یقیناً سوات میں قیام امن کے عمل اور لوگوں کے اعتماد کو دھچکا لگے گا۔ اعلیٰ فوجی حکام کو یہ حقیقت ضرور پیش نظر رکھنی چاہئے کہ کرفیو کے نفاذ سے عوام کے معمولاتِ زندگی غیر معمولی طور پر متاثر ہوتے ہیں، ان کے اعتماد کو زبردست ٹھیس پہنچتی ہے اور اس سے عوام کے ذہنوں میں قائم سکیورٹی فورسز کی ساکھ غیر معمولی طور پر متاثر ہوتی ہے۔ 
	سوات اور اہل سوات نے بہت مصائب دیکھے اور سہے ہیں۔ وہ تباہی و بربادی کی ہر شکل سے آشنا ہو چکے ہیں جس کی وجہ سے نہ صرف انھیں جانی و مالی نقصانات سے دوچار ہونا پڑا ہے بلکہ اس سے سوات کی مجموعی معاشی اور اقتصادی صورتِ حال بھی بے حد خراب ہو چکی ہے اور اب مزید کرفیو کے نفاذ سے اس کا مزید معاشی اور اقتصادی نقصان ہو رہا ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ معمولی معمولی واقعات پر کرفیو کے نفاذ، عوام کی عزت نفس مجروح کرتے ہوئے ان کی نامناسب انداز میں تلاشی اور چیک پوسٹوں پر غیر ضروری سختی سے اجتناب برتا جائے۔ نئی قائم ہونے والی چیک پوسٹوں کو ختم کیا جائے اور جو چیک پوسٹ پہلے سے موجود ہیں، ان میں فوری کمی لائی جائے۔ ہر مسئلے کا حل کرفیو کے نفاذ، چیک پوسٹوں میں اضافے اور عام معمولاتِ زندگی کو درہم برہم کرنے میں نہ ڈھونڈا جائے۔ سوات کے لوگ بھی انسان ہیں، ان کی مجبوریوں اور مشکلات کو پیش نظر رکھا جائے، تاہم اس قدر سخت آپریشن، ٹائٹ سکیورٹی اور لوگوں کے گھروں سے ہر قسم کا اسلحہ اٹھانے کے بعد بھی اگر کوئی واردات ہوتی ہے تو اس سے سکیورٹی کے حوالے سے شکوک و شبہات جنم لیتے ہیں۔ 

 (22 فروری 2010ء) 
٭٭٭


اہل سوات کے ساتھ کب تک ایسا ہوتا رہے گا؟

	تھامس ہابس ایک برطانوی فلسفی تھے۔ انھوں نے 1651ء میں ایک مشہور کتاب لکھی جس میں انھوں نے ایک تھیوری پیش کی جسے "سوشل کنٹریکٹ" یعنی سماجی معاہدہ کا نام دیا گیا۔ اس کا مرکزی خیال یہ تھا کہ "ہر انسان کے کچھ پیدائشی اور فطری حقوق ہیں۔ ان میں آزادی اور جان و مال کا تحفظ شامل ہیں لیکن ایک منظم معاشرہ بنانے کے لیے لوگوں کو اپنے حقوق کے کچھ حصے ریاست کو منتقل کرنے ہوتے ہیں۔ اس منتقلی کے عوض ریاست یا حکومت لوگوں کو قوانین کے ذریعے تحفظ فراہم کرتی ہے جو معاشرے کے ہر فرد پر لاگو ہوتے ہیں اور ان قوانین کی تشکیل بھی اس معاشرے کے افراد کی رضامندی سے ہوتی ہے۔" تھامس ہابس کے قریباً ایک صدی بعد فرانس کا ایک فلسفی روسو آیا۔ اس نے 1762ء میں "دی سوشل کنٹریکٹ" کے نام سے ایک کتاب شائع کی جس نے ماڈرن سیاسی ڈھانچے کی بنیاد ڈالی۔ روسو نے ہابس کے خیالات کو آگے بڑھایا۔ اس نے یہ دلیل پیش کی کہ قوانین ایک فرد کی فطری آزادی کو کم نہیں کرتے بلکہ اس آزادی کی عکاسی اور ترجمانی کرتے ہیں یہ جنگل کے قانون اور ایک مہذب معاشرے کے درمیان بنیادی فرق کو ظاہر کرتے ہیں۔ 
	اب ہم سوات کی طرف آتے ہیں۔ سوات میں تین سال سے حالات خراب چلے آ رہے ہیں۔ مئی 2009ء میں پاک فوج نے آپریشن "راہِ راست" کر کے سوات میں امن قائم کیا لیکن امن کے اس عمل کو اس وقت زک پہنچی جب یکم دسمبر 2009ء میں اے این پی سے تعلق رکھنے والے سوات کے صوبائی اسمبلی کے ممبر ڈاکٹر شمشیر علی خان پر خود کش حملہ ہوا جس میں وہ شہید ہو گئے۔ دوسرا واقعہ مقامی پولیس اہل کاروں کے ساتھ پیش آیا۔ 17 فروری کو ایک پولیس اہل کار منشیات فروشوں کے ساتھ ایک جھڑپ میں زخمی ہو گیا جب کہ اس سے اگلے روز مینگورہ کے پُر رونق حاجی بابا چوک میں ایک پولیس اہل کار کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا گیا۔ ان دو پولیس اہل کاروں کے ساتھ جو جان لیوا واقعات پیش آئے، ان کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ ان واقعات کا تعلق سوات میں بچے کھچے عسکریت پسندوں سے نہیں ہے بلکہ یہ کسی ذاتی معاملے کا نتیجہ ہیں۔ تاہم ان واقعات کے ردِ عمل میں مینگورہ میں دو دفعہ کرفیو نافذ کیا گیا جس کے دوران سیکڑوں بے گناہ افراد کو ضروری تفتیش کے لیے گرفتار کرنے کے بعد رہا کر دیا گیا۔ ان میں علاقے کے معززین بھی شامل تھے جنھیں باقاعدہ گھروں سے نکال کر تفتیشی مراکز کی طرف لے جایا گیا۔ سوات میں قیام امن کے بعد سب سے زیادہ تکلیف دہ اور خونی واقعہ 22 فروری کو مینگورہ شہر کے بیچ واقع نشاط چوک کے قریب ایک مبینہ خود کش دھماکہ کی شکل میں ظہور پذیر ہوا جس میں 13 سے زائد افراد شہید اور 40 سے زیادہ زخمی ہو گئے۔ اس واقعہ کے بعد اہل سوات کا امن و امان کی صورت حال پر قائم ہونے والا اعتبار ختم ہو گیا۔ لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا کہ شاید اب انھیں دوبارہ جان لیوا حالات سے گزرنا پڑے گا۔ عوام اس بات پر نہ صرف حیران ہیں بلکہ وہ شدید خوف و ہراس اس لیے محسوس کر رہے ہیں کہ سکیورٹی فورسز اور حکومت کے بار بار کے اعلانات کے مطابق سوات میں فوجی آپریشن صد فی صد کامیاب رہا ہے اور علاقے کو عسکریت پسندوں سے مکمل طور پر خالی کرا لیا گیا ہے لیکن حالیہ واقعات نے لوگوں میں پریشانیاں پیدا کی ہیں۔ اگرچہ عوام حکومت اور فوج کے اس دعوے کا ثبوت روز دیکھتے رہتے تھے کہ علاقے میں کہیں بھی کوئی عسکریت پسند نظر نہیں آ رہا تھا اور روزانہ گرفتار ہونے والے بچے کھچے عسکریت پسندوں کی لاشیں بھی اگلے روز گرائی جاتی تھیں جس کی وجہ سے سوات میں عسکریت پسندی کا مکمل خاتمہ یقینی نظر آ رہا تھا۔ پاک فوج کے کامیاب سرچ اینڈ کلیئرنس آپریشن اب بھی جاری ہیں اور ان کے سامنے کوئی بچا کھچا عسکریت پسند سر اٹھانے کی جرأت نہیں کر سکتا لیکن معلوم نہیں اس قدر سخت آپریشن اور سکیورٹی کے باوجود ایسے نا خوش گوار واقعات کیوں رونما ہو رہے ہیں؟ سوات بھر میں پھیلی ہوئی چیک پوسٹوں اور جدید آلات اور سنسرز کے ذریعے آنے جانے والوں کی تلاشی کے بعد بھی اگر خود کش حملے ہو رہے ہیں تو یہ ایک نہایت نازک اور چیلنجنگ صورتِ حال کی غمازی کر رہے ہیں۔ لیکن سوات خصوصاً مینگورہ کے باشندوں کو اس وقت تکلیف اور اذیت کا سامنا کرنا پڑتا ہے جب کرفیو لگایا جاتا ہے اور اس کے دوران پرامن شہریوں کو گھروں سے باہر نکال کر انھیں تلاشی و تفتیش کے نام پر تفتیشی سنٹروں کی طرف ہانکا جاتا ہے۔ ابھی گزشتہ روز کے کرفیو کے دوران ایک ہزار کے قریب لوگوں کو گھروں سے نکال کر انھیں تلاشی کے مراحل سے گزارا گیا جن میں سابق ایم پی اے محمد امین بھی شامل تھے۔ 
	ہمیں پاک فوج کی تفتیش اور تلاشی پر کوئی اعتراض نہیں، ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ کرفیو لگانے کے جائز مقاصد ہوں گے لیکن پاک فوج عوام کو ہتک آمیز انداز میں گھروں سے نکالتی ہے اور یہ تمیز کئے بغیر کہ ابھی کسی پر کوئی جرم ثابت نہیں ہوا ہے اور یہ وطن عزیز کے معزز شہری ہیں، انھیں نہایت جارحانہ انداز میں بھیڑ بکریوں کی طرح ہانک کر لے جایا جاتا ہے۔ اگر پاک فوج کو سوات کے تمام لوگ مشکوک اور مجرم محسوس ہوتے ہیں تو پھر تو ان کا موجودہ طریقۂ کار ٹھیک ہے۔ مشکوک اور مجرم لوگوں کے ساتھ ایسا ہی رویہ رکھنا چاہئے لیکن اگر سوات کے لوگ محب وطن ہیں اور وہ قانون کا احترام کرنا جانتے ہیں تو ان کے ساتھ ایسا سلوک روا رکھنا کسی بھی طور مناسب نہیں۔ فوج کے اعلیٰ حکام کو اس کے لیے محلے کی سطح پر کمیٹیاں قائم کرنی چاہئیں اور ہر محلے کی کمیٹی اس بات کا فیصلہ کرے کہ کون سا شخص مشکوک ہے اور کس کو تفتیش کے لیے گرفتار کرنا چاہئے۔ یہ درست ہے کہ سوات کے "مخصوص حالات" کے پیش نظر شہریوں کو بہت سے آئینی اور قانونی حقوق سے محروم رکھا جا سکتا ہے لیکن امن کے نام پر روز سوات کے لوگوں کو کرفیو کے عذاب سے دوچار کرنا، انھیں چیک پوسٹوں پر توہین آمیز انداز میں تلاشی کے مراحل سے گزارنا، لوگوں کو بلا امتیاز گھروں سے نکالنا اور سرچ آپریشن کے دوران بلا اجازت گھروں میں اچانک داخل ہونا، کس قسم کے معاشرے کی تصویر کشی کر رہا ہے۔ ہم ایک مہذب دور میں سانس لے رہے ہیں۔ دنیا کہاں سے کہاں پہنچ گئی اور ہمیں ابھی احترام انسانیت کا حقیقی شعور حاصل نہیں۔ 
	ایک ریاست کی ذمہ داری یہ نہیں ہوتی کہ لوگوں کو امن کے نام پر بدامنی اور اذیت سے دوچار کیا جائے۔ روز ان کے بنیادی انسانی اور شہری حقوق غصب کئے جائیں۔ قانون کے نام پر قانون کا مذاق اڑایا جائے۔ ریاست کی بنیادی اور اولین ذمہ داری اپنے شہریوں کو جان و مال اور عزت و آبرو کا تحفظ دینا ہوتا ہے۔ انھیں ایک پرامن معاشرے میں آزادئ اظہار اور آزادانہ نقل و حمل کی سہولتیں بہم پہنچانا ہوتی ہیں۔ اگر کوئی ریاست اس کے خلاف عمل کرے تو اسے کامیاب ریاست کہلانے کا حق حاصل نہیں ہوتا۔ سوات میں پہلے اگر عسکریت پسند عوام کے جان و مال اور عزت و آبرو کے لیے مشکلات پیدا کرتے تھے اور انھیں جگہ جگہ اہانت آمیز تلاشی سے گزارتے تھے تو ان سے قانون و اخلاق کی توقع نہیں کی جاتی تھی لیکن جب ریاست اپنے شہریوں کے تحفظ کے لیے ایسا کرتی ہے تو وہ ملکی آئین اور قوانین کے تحت ایسا کرنے کی پابند ہوتی ہے۔ سٹیٹ اور نان سٹیٹ ایکٹرز میں ایک واضح فرق ہونا چاہئے۔ سوات کے لوگ عسکریت پسندوں کی سرگرمیوں کو پسندیدہ نظروں سے نہیں دیکھتے تھے لیکن پاک فوج ان کے لیے نہایت قابل احترام ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ پاک فوج اہل سوات کو امن و تحفظ دینے کے لیے آئی ہے اور وہ ان سے یہ توقع رکھتے ہیں کہ جب فوجی جوان انھیں تلاشی اور تفتیش کے مراحل سے گزاریں گے تو ان کی عزت نفس کا خیال رکھیں گے۔ ان کے ساتھ مناسب رویہ اور مشفقانہ طرزِ عمل رکھیں گے لیکن افسوس سوات کے لوگوں کو مسلسل اپنے بنیادی انسانی اور شہری حقوق سے محروم رکھا جا رہا ہے۔ ان کی مشکلات کو قطعاً کوئی اہمیت نہیں دی جا رہی ہے۔ قیام امن کے لیے اہل سوات نے اپنے گھر بار چھوڑے اور ہر طرح کی جانی و مالی قربانیاں دیں لیکن انھیں ابھی تک امن و سکون میسر نہیں۔ نہ جانے کب تک سوات میں یہ سلسلہ یوں ہی جاری رہے گا اور مخلوقِ خدا امن و سکون اور خوشحالی کے لیے ترستی رہے گی؟

 (26 فروری 2010ء) 
٭٭٭


اہل سوات پر حالیہ شورش کے نفسیاتی اثرات

	سوات میں طویل خوں ریزی اور دہشت گردی نے ہمارے اعصاب، عمومی رویوں اور ذہنی و نفسیاتی کیفیات پر کیا اثرات ڈالے ہیں، اس کا جائزہ نہ سرکاری طور پر لیا گیا ہے اور نہ ہی اس کا تجزیہ کسی متعلقہ غیر سرکاری ادارے نے کیا ہے۔ محض پانچ چھ سال قبل تک سواتی معاشرہ امن و سکون کا گہوارہ تھا۔ اس میں غیر معمولی تشدد اور مذہبی جنونیت موجود نہیں تھی۔ اگرچہ مولانا صوفی محمد نے تحریک نفاذ شریعت محمدی کے ذریعے مذہب پرست لوگوں کی حمایت حاصل کر لی تھی لیکن اس تحریک میں قتل و غارت گری نے ابھی جڑ نہیں پکڑی تھی۔ فضل اللہ کے ایف ایم ریڈیو کے بعد ہی شرعی قوانین کے نفاذ کے نام پر مذہب میں تشدد در آیا جس کے اثرات سوات کے علاوہ پورے ملاکنڈ ڈویژن میں محسوس کئے گئے۔ 
	اس وقت سوات کے لوگ آگ اور خون کے دریا سے گزر کر آئے ہیں جس نے ان کے ذہنوں اور نفسیات پر گہرے منفی اثرات ثبت کئے ہیں۔ ان منفی اثرات کو مزید تقویت اس وقت ملتی ہے جب ہم سوات میں قیام امن کے بعد پاک فوج اور پولیس کا غیر معتدل رویہ دیکھتے ہیں۔ یقیناً پاک فوج نے سوات میں قیام امن کے حوالے سے بڑا کارنامہ انجام دیا ہے اور اس کی جتنی بھی تحسین کی جائے کم ہے لیکن سوات کے عام لوگوں کے ساتھ فوجی جوانوں کا جو رویہ ہے، اسے غلط قرار دینے میں بھی کوئی اَمر مانع نہیں۔ اس طرح مقامی پولیس کے رویے کو بھی مہذب قرار نہیں دیا جا سکتا۔ جس کے ردِ عمل میں سوات کے رہنے والوں کے عمومی رویوں میں تشدد، غصے اور انتہاپسندی کے عناصر جنم لے رہے ہیں اور جوں جوں پاک فوج کے سرچ آپریشنوں، غیر اعلانیہ کرفیو اور چیک پوسٹوں پر ان کے جارحانہ رویے کا سلسلہ بڑھتا جاتا ہے، توں توں سوات کے لوگوں کے سماجی طرزِ عمل میں بھی سختی پیدا ہوتی چلی جا رہی ہے۔ خود کش حملوں، ٹارگٹ کلنگ اور انسانوں کو ذبح کرنے کے مناظر دیکھ دیکھ کر لوگوں کے دل سخت ہو چکے ہیں۔ پہلے اگر کہیں قتل کا کوئی ایک آدھ واقعہ ظہور پذیر ہوتا تو پورے علاقے میں خوف و ہراس پھیل جاتا۔ لوگ توبہ و استغفار کرنے لگتے لیکن اب تو قریباً روز ہی کوئی نہ کوئی ایسا ناخوش گوار واقعہ رونما ہوتا ہے جس کے نتیجے میں درجنوں قیمتی انسانی جانیں ضائع ہو جاتی ہیں اور ابھی یہ واقعہ ذہنوں میں تازہ ہوتا ہے کہ کوئی نیا المیہ جنم لیتا ہے۔ اس بات سے قطع نظر کہ دہشت گردی کو پنپنے اور مضبوط کرنے کا موقع کس نے دیا؟ دہشت گردوں کو ٹریننگ، وسائل اور محفوظ راستے کس نے فراہم کئے؟ اس میں بیرونی قوتیں ملوث ہیں یا اس میں ہمارے سکیورٹی اداروں کی مصلحت آمیز غفلت کار فرما ہے؟ یہ ہمارا موضوع نہیں، اس وقت ہم محض یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ ان ناگفتہ بہ حالات اور خونی واقعات کے نفسیاتی اثرات انسانی ذہن، سوچ اور معاشرتی رویوں پر کیا پڑے ہیں، مزید کیا پڑیں گے اور اس حوالے سے کوئی تحقیق ہو رہی ہے یا نہیں اور ان تمام عوامل کا جائزہ لیا جا رہا ہے یا نہیں؟ اب جب کہ خودکش حملے اور بم دھماکے روز کا معمول بن چکے ہیں تو عام لوگوں میں ان کا خوف و ہراس بھی ختم ہو چکا ہے اور وہ نیوز چینلوں پر ان کے مناظر دیکھ دیکھ کر بے حس ہو چکے ہیں اور ان سے لطف اٹھانے لگے ہیں۔ لوگوں کا یہ رویہ انتہائی خوف ناک اور بھیانک نتائج کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔ 
	سوات کی حد تک عام لوگوں کے مزاج اور ان کے معاشرتی رویوں میں نہایت منفی اثرات نوٹ کر لیے گئے ہیں۔ وہ معمولی معمولی باتوں پر آپس میں اُلجھ پڑتے ہیں۔ بچے بڑوں کے ساتھ بد تمیزی کے ساتھ پیش آتے ہیں۔ گھروں میں معمولی باتوں پر جھگڑے معمول بن چکے ہیں۔ پبلک ٹرانسپورٹ میں ڈرائیور اور کلینر کا رویہ سواریوں کے ساتھ نامناسب ہے۔ دکان دار گاہک کے ساتھ نرم اور مہذب لہجے میں بات نہیں کرتا۔ ان عمومی رویوں میں سختی اور جارحانہ انداز اس وقت مزید شدت اختیار کر جاتا ہے جب پاک فوج کی چیک پوسٹوں پر لمبی لمبی قطاروں کے بعد دکان دار دکانوں، اساتذہ سکولوں اور سرکاری ملازمین اپنے دفاتر میں حاضری دیتے ہیں۔ صبح ہی صبح ایک ناخوش گوار صورتِ حال سے دوچار ہونے کے بعد اس کے منفی اثرات انسانی ذہن پر سارا دن طاری رہتے ہیں۔ 
	سوات کے عوام کو بے وقار اور De Grade کرنے کے لیے راشن اور بے نظیر سمارٹ کارڈ کے حصول کا جو طریقہ رائج کیا گیا ہے، اس نے بھی علاقے کے لوگوں میں غیرت، خودی اور Self Respect کی کمی پیدا کی ہے۔ جس نے ایک طرف اگر یہاں کے عوام کو خود اعتمادی کی دولت سے محروم کر دیا ہے تو دوسری جانب ان میں بھکاریوں کی ناپسندیدہ عادات پیدا کرنے کے امکانات کو بھی بڑھا دیا ہے جس کی وجہ سے لوگوں کو لمبی لمبی قطاروں میں کھڑے ہونے اور ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کے نتیجے میں گالم گلوچ کرنے میں بھی کوئی شرم محسوس نہیں ہوتی۔ کسی قوم کو نفسیاتی اور عملی طور پر بے کار کرنے اور اسے انسانی اوصاف سے محروم کرنے کا اس سے زیادہ کوئی دوسرا موثر طریقہ نہیں ہو سکتا۔ جب راشن اور بے نظیر کارڈ کی سکیم ختم ہو گی تو اس وقت سوات کے لوگ کس نفسیاتی محرومی اور خلا سے گزریں گے، اس پر وقت کے حکم رانوں اور دیگر ذمہ داروں نے سوچنے کی زحمت گوارا نہیں کی ہے۔ 
	سوات میں پاک فوج نے اپنا کام حب الوطنی کے جذبے سے سرشار ہو کر نہایت پیشہ ورانہ انداز میں سر انجام دیا ہے۔ قیام امن کے بعد اب فوج کو چیک پوسٹوں اور عوامی مقامات سے ہٹانا چاہئے اور مقامی انتظامیہ کو مضبوط و فعال بنا کر سارے معاملات اس کے حوالے کر دینے چاہئیں۔ پاک فوج کے جوانوں کے رویے میں اپنے لوگوں اور وطن عزیز کے قابل احترام شہریوں کے لیے نرمی اور شفقت پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ شناخت پریڈ اور معصوم شہریوں کو کرفیو کے ذریعے محبوس کرنے کا سلسلہ مکمل طور پر ختم ہونا چاہئے۔ حقیقت یہ ہے کہ سوات میں عسکریت پسندی کا کلی خاتمہ ہو چکا ہے اور عام لوگوں کو یقین ہے کہ پاک فوج نے اس ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا ہے۔ وہ اس بات پر یقین رکھنے کو تیار نہیں کہ اب بھی کوئی بچے کھچے عناصر موجود ہو سکتے ہیں۔ جو موجود تھے، ان کا حشر عوام بہ خوبی دیکھ چکے ہیں۔ ان کے گھر بار اور کاروبار تباہ کر دئیے گئے ہیں۔ یہاں تک کہ ان کے رشتے داروں کو بھی نہیں بخشا گیا ہے۔ ایسی حالت میں کوئی جنونی اور سرپھرا پاک فوج کے مقابل آنے کی جرأت کیسے کر سکتا ہے۔ اس لیے اگر سوات میں چیک پوسٹوں اور سرچ آپریشنوں کا سلسلہ ختم نہیں کیا گیا تو سوات کے عام لوگ ذہنی اور نفسیاتی طور پر ہر روز ٹارچر ہوتے رہیں گے جس کی وجہ سے ان کے عمومی ا ور معاشرتی رویوں میں تشدد اور غیر ضروری طور پر شدید ردِ عمل کا عنصر بڑھتا جائے گا۔ نتیجتاً معاشرتی زندگی کا توازن بگڑتا رہے گا اور ہم ایک پُر امن، معتدل، انسان دوست اور دردِ دل رکھنے والا معاشرہ کبھی نہیں بن سکیں گے۔ ہمارے ماہرین نفسیات اور علم بشریات سے تعلق رکھنے والے اساتذہ کو اس بات پر ضرور غور و خوض کرنا چاہئے۔ حکم رانوں اور فوج کے اعلیٰ حکام کو بھی دہشت گردی اور سکیورٹی اداروں کے جارحانہ روئے کے ردِ عمل میں عام لوگوں میں پیدا ہونے والے منفی اثرات کو نظر انداز نہیں کرنا چاہئے اور ایک پُر امن، معتدل اور انسانی اوصاف سے متصف خوشحال معاشرے کے قیام کے لیے حالات سازگار بنانے پر توجہ دینی چاہئے۔ 

 (11 مارچ 2010ء) 
٭٭٭



ہم کس کی جنگ لڑ رہے ہیں؟

	انسان حیرت میں ڈوب جاتا ہے کہ وطن عزیز میں اقتدار کا اصل سرچشمہ کس کے پاس ہے، اصل مقتدر قوتیں کون ہیں اور ایک جمہوری سیٹ اَپ کے باوجود ملکی نظام میں عوام کے احساسات اور جذبات کو کیوں اہمیت نہیں دی جاتی؟۔ اسمبلیوں میں بیٹھے ہوئے بہ ظاہر عوامی نمائندے عوام کی مشکلات اور ملک کے مسائل سے لاتعلق کیوں ہیں؟ ملک و قوم کے مستقبل کے فیصلے کون کر رہا ہے اور ان فیصلوں میں عوام کے مفاد اور ملک کی سلامتی کے حوالے سے خدشات کیوں نظر انداز کیے جاتے ہیں؟
	اس وقت قریباً تمام ریاستی ادارے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں۔ ہر ادارے میں کرپٹ اور نا اہل لوگ بیٹھے ہیں جس کی وجہ سے یوں معلوم ہوتا ہے جیسے ریاست دھیرے دھیرے ناکامی کی طرف محو سفر ہو۔ امن و امان کی صورت حال کی طرف نظر دوڑائی جائے تو سکیورٹی ادارے اگر مکمل نہیں تو جزوی طور پر ناکام نظر آ رہے ہیں۔ عدلیہ میں اگرچہ موجودہ چیف جسٹس کی وجہ سے کچھ جان محسوس ہو رہی ہے لیکن عدل و انصاف کی مجموعی حالت کو دیکھا جائے تو عوام کو انصاف کے حصول میں ناقابل عبور رکاوٹیں نظر آ رہی ہیں۔ صحت کا شعبہ عوام کو معیاری سہولتیں دینے میں مکمل طور پر ناکام چلا آ رہا ہے۔ ہمارا تعلیمی نظام تضادات سے بھرپور ہے اور یہ اس قدر طبقاتی نظام پر استوار ہے جس کی وجہ سے متضاد ذہنوں کے حامل تعلیم یافتہ طبقات وجود میں آ رہے ہیں جو نہ صرف قومی یک جہتی کے لیے مضر ثابت ہو رہے ہیں بلکہ قومی سطح پر انتشار و افتراق کا سبب بھی بن رہے ہیں۔ بجلی اور گیس کی لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے ملکی معیشت تباہی سے دوچار ہے اور عوام کی انفرادی اور اجتماعی زندگی اس سے شدید طور پر متاثر ہے۔ غرض ریاست کا وہ کون سا شعبہ یا ادارہ ہے جسے ہم قابل رشک قرار دے سکتے ہیں۔ 
	ملک میں جب بھی جمہوری یا عسکری حکومت برسر اقتدار آتی ہے، وہ  نہ صرف نا اہل ہوتی ہے بلکہ انتہائی خود غرض بھی۔ ہر حکومت کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ اپنا دورِ اقتدار طویل سے طویل تر کرے اور ملک کے تمام مسائل کا ذمہ دار گزشتہ حکومتوں کو قرار دے۔ کسی بھی حکومت نے اب تک کوئی قومی مسئلہ حل نہیں کیا بلکہ جاتے ہوئے وہ مزید کئی مسائل ملک و قوم کو دے جاتی ہے۔ اپنے غیر ترقیاتی اخراجات کے لیے آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک سے قرض پر قرض لیتی ہے اور بجلی، گیس، پٹرول وغیرہ کی قیمتوں میں ناروا اضافہ کر کے عوام کی زندگیوں میں مزید تلخیاں گھول دیتی ہے۔ 
	 اب تو ہماری مقتدر قوتوں نے امریکا کی عالمی دہشت گردی کے خلاف جنگ کو صنعت کا درجہ دے دیا ہے اور پرائی جنگ اپنے ملک کے اندر اپنے ہی عوام کے خلاف لڑنی شروع کی ہے۔ دنیا میں کہیں بھی کوئی بم دھماکہ ہوتا ہے یا کسی مشکوک شخص کو پکڑا جاتا ہے، اس کا تعلق پاکستان سے نکل آتا ہے۔ سوویت یونین کے خلاف افغانستان میں ہم نے جو "جہاد" کیا تھا، اس میں اتنے جہادی گروپ بنائے گئے تھے جو مسلسل فوجی آپریشنوں کے باوجود ختم ہونے میں نہیں آ رہے ہیں۔ اس کا زہر جنوبی ایشیائ، وسطی ایشیائ، مشرق وسطیٰ اور یورپ و امریکا تک پھیل چکا ہے۔ بھارت میں اجمل قصاب ہو یا امریکا میں فیصل شہزاد، 9/11 کے واقعات ہوں یا 7/7کے دھماکے، سب کے ڈانڈے پاکستان سے ملتے ہیں۔ یوں لگتا ہے جیسے ہم نے وطن عزیز میں دہشت گردی کی نرسریاں لگا رکھی ہوں۔ پوری دنیا کی نظریں ہم پر لگی ہوئی ہیں اور ہمیں دہشت گردی کے ہر واقعے کا ذمہ دار ٹھہرایا جا تا ہے۔ دنیا میں پھیلے ہوئے پاکستانی شہری اپنی شناخت چھپانے کی کوشش کرتے ہیں اور یورپ اور امریکا میں ہر ائیر پورٹ پر پاکستانیوں کو شک و شبے کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ 
	آخر ایسا کیوں ہے؟ پوری دنیا میں صرف ہمیں ہی کیوں ہر ناخوش گوار واقعے کا ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے؟ اگر واقعی ہمارا کوئی قصور ہے تو ہم اپنی اصلاح کیوں نہیں کرتے اور اگر ہم اتنے بھی قصور وار نہیں ہیں تو پھر ہم اپنے خلاف ہونے والی سازشوں کو ناکام کیوں نہیں بناتے؟ اگر ماضی میں ہم نے سوویت یونین کے خلاف امریکا کی جنگ لڑتے ہوئے کچھ غلطیاں کی ہیں تو ہمارے پالیسی ساز ان غلطیوں کے تدارک کے لیے نئی پالیسی بنانے میں ناکام کیوں چلے آ رہے ہیں؟ ہمیں کئی مواقع ایسے ملے ہیں جن کی آڑ میں ہم اپنی ماضی کی غلطیوں سے پیچھا چھڑا سکتے تھے لیکن ہم سے مزید دانستہ یا نا دانستہ غلطیاں سرزد ہو رہی ہیں۔ دوسری جانب ہم امریکا کے اشارۂ ابرو پر ہر جائز و ناجائز کام کرنے کے لیے تیار رہتے ہیں لیکن پھر بھی امریکا ہم پر اعتبار نہیں کرتا ہر عالمی فورم پر ہمیں ہی معتوب ٹھہرایا جا رہا ہے۔ بھارت کے مقابلہ میں ہمیں اچھوت کی سی حیثیت دی جا رہی ہے۔ طالبان کی تخلیق اور اب پس پردہ ان کی حمایت کا الزام روز ہم پر لگ رہا ہے۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ ہماری پالیسیوں کی بنیاد منافقت پر استوار ہے جس کے نتیجے میں ہم تباہیوں سے دوچار ہیں۔ 
	وطن عزیز میں کوئی طبقہ ایسا ضرور ہے جو انتہا پسندی کو فروغ دے رہا ہے۔ جو امریکا کے خلاف اپنے انداز میں جنگ لڑ رہا ہے اور اس کے جواب میں امریکا اور اس کے حلیف ہمارے خلاف خود کش حملہ آور تیار کرا رہے ہیں، ہمارے ہی لوگوں کو ہمارے خلاف اُکسا رہے ہیں اور یوں معصوم شہریوں کو زندگیوں سے محروم کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ گویا اچھے اور برے طالبان کا نظریہ کچھ نہ کچھ حقیقت ضرور رکھتا ہے۔ آخر یہ جنگ کب تک جاری رہے گی اور اس کا کوئی خاتمہ بھی ہے یا نہیں۔ اس جنگ میں کون ہار رہا ہے اور کون جیت رہا ہے؟ اس سوال سے قطع نظر ایک بات بالکل واضح ہے کہ امریکا ہزاروں کلومیٹر دور اپنی جنگ لڑ رہا ہے لیکن ہم اس کی جنگ اپنی سرحدوں کے اندر اپنے ہی لوگوں کے خلاف لڑ رہے ہیں۔ اس جنگ میں اگر ہم ہارتے ہیں تو بھی نقصان ہمارا ہے اور یہ جنگ ہم جیتتے ہیں تو بھی تباہی و بربادی ہمارے حصے میں آ رہی ہے۔ کیا ہمارے حکم رانوں اور اصل مقتدر قوتوں میں اتنی فہم و فراست نہیں کہ وہ اس شیطانی چکر سے ملک و قوم کو باہر نکالیں۔ ہمیں دو ٹوک فیصلہ کرنا ہو گا۔ اگر امریکا کی جنگ میں ملک و قوم کا مفاد پوشیدہ ہے تو ہمیں اس جنگ کو لڑنے میں خلوص کا مظاہرہ کرنا ہو گا اور اگر یہ جنگ ہمارے قومی مفادات کے منافی ہے تو ہمیں اس امریکی جنگ سے علاحدگی اختیار کرنی ہو گی۔ دوغلی پالیسی ہماری مزید تباہی کا سبب بنے گی۔ 

 (8 مئی 2010ء) 
٭٭٭



عسکری حکام کی خدمت میں چند معروضات


	سوات میں عسکریت پسندی کے خاتمہ پر پاک فوج کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے، لیکن قیام امن کے بعد اہل سوات کو درپیش بعض مسائل ایسے ہیں جن کی طرف اعلیٰ فوجی حکام کو سنجیدگی سے توجہ دینی چاہئے۔ 
٭ سوات میں ٹارگٹ کلنگ کا جو سلسلہ شروع ہو چکا ہے، اس کا فوری خاتمہ نہایت ضروری ہے کیوں کہ اس سے عوام میں خوف و ہراس بھی پھیل رہا ہے اور اس کی وجہ سے سکیورٹی اداروں کی کارکردگی اور ان کے اخلاص پر بھی شک و شبہ کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ 
٭ عسکریت پسندی میں ملوث وہ لوگ جنھوں نے بندوق اٹھائی ہے یا جنھوں نے سکیورٹی فورسز، نجی اور قومی املاک کو نقصان پہنچایا ہے، ان کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے اور ان کے جرائم کی سزا انھیں ضرور ملنی چاہئے لیکن وہ لوگ جن کے ٹین ایجر بچے عسکریت پسندوں کے ورغلانے میں آئے ہیں یا وہ لوگ جنھوں نے طالبان کے خوف سے انھیں چائے یا کھانا کھلایا ہے یا ان سے اُس وقت ہمدردی کا اظہار کیا ہے، ان کی منصفانہ تحقیقات کرائی جائیں اور اگر وہ صدق دل سے عسکریت پسندوں کے ساتھی نہیں تھے تو انھیں ضمانت پر رہا کیا جائے۔ ان کے گھروں اور املاک کو نقصان نہ پہنچایا جائے کہ ریاست کی ذمہ داری اپنے عوام کو چھت فراہم کرنا تو ہے لیکن انھیں یا ان کے بے گناہ اہل خانہ کو چھت سے محروم کرنے کا حق کسی کو بھی حاصل نہیں۔ 

٭ جب سوات میں عسکریت پسندی کو فروغ مل رہا تھا تو اس وقت مقامی انتظامیہ، خفیہ محکمے اور اینٹلی جنس ادارے کیا کر رہے تھے؟ کیا ان کی ذمہ داری نہیں تھی کہ وہ اس ناسور کو بروقت پھیلنے سے روکتے۔ اگر آج محض شک کی بنیاد پر بعض عام شہریوں کو مارا اور ان کے گھروں کو تباہ کیا جا رہا ہے، تو اس وقت کی انتظامیہ اور دیگر متعلقہ اداروں کے ذمہ داروں کو ان کی غفلت کی سزا کیوں نہیں دی جار ہی؟

٭ عسکریت پسندوں کو ملنے والی مہلت کے سلسلے میں 20 مئی کی ڈیڈ لائن مقرر کی گئی تھی، عسکری ذرائع نے اس سلسلے میں 150 افراد کی فہرست بھی جاری کر دی ہے۔ ان روپوش عسکریت پسندوں نے اگر خود کو حکام کے حوالے نہیں کیا تو نہ صرف ان کے گھر تباہ کر دئیے جائیں گے بلکہ ان کے خاندانوں کو علاقہ بدر بھی کیا جائے گا۔ مصدقہ عسکریت پسندوں کے ساتھ ایسا سلوک روا رکھنا بجا ہے لیکن کیا پاک فوج نے غیر جانب دارانہ تحقیق کی ہے کہ یہ سارے لوگ ہی سزا کے مستحق ہیں؟ ہمیں عسکریت پسندوں سے ذرہ بھر بھی ہمدردی نہیں لیکن جن لوگوں کو محض شک کی بناء پر مجرم تصور کیا گیا ہے یا ان لوگوں کو قابل سزا قرار دیا گیا ہے جنھوں نے صرف طالبان کے خوف کی وجہ سے وقتی طور پر ان کی حمایت کی تھی، ان کے کیسوں پر ہمدردانہ نظر ثانی کی جائے تاکہ وہ جرم بے گناہی کی سزا سے بچ سکیں۔ 

٭ پاک فوج اور حکومتی زعماء بارہا یہ اعلان کر چکے ہیں کہ سوات سے عسکریت پسندی کا مکمل خاتمہ کیا جا چکا ہے لیکن اس کے باوجود اگر خود کش حملے ہوتے ہیں یا ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ جاری رہتا ہے، تو اس سے عوام کا اعتماد ریاست پر سے اٹھتا جا رہا ہے اور ان کے ذہنوں میں بدگمانیاں جنم لے رہی ہیں۔ اس لیے پائیدار امن کے لیے نیا لائحہ عمل مرتب کیا جانا چاہئے اور چیک پوسٹوں کا خاتمہ کر کے عوام کی معمول کی آمد و رفت کو سہل بنانا چاہئے تاکہ عوام کو حقیقی طور پر احساس ہو سکے کہ وہ اب شرپسندوں سے نجات حاصل کر چکے ہیں اور پاک فوج ہماری محافظ اور نگہبان ہے۔ 

٭ مینگورہ سے باہر تحصیل مٹہ، کبل، خوازہ خیلہ اور چارباغ وغیرہ میں سکیورٹی نقطۂ نظر سے درخت کاٹے جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ سڑک سے دو سو فٹ کے فاصلے پر واقع باغات اور کھیت بھی اُجاڑے جا رہے ہیں اور اب تو ان علاقوں میں سارے درخت ہی کاٹنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ معلوم نہیں کیا سوچ کر یہ احکامات جاری کر دئیے گئے ہیں جس کے تحت سکیورٹی کے لیے درختوں اور باغات کا صفایا کیا جا رہا ہے۔ درخت تو زمین کا زیور ہیں اور ان سے سوات کا حسن قائم ہے۔ پوری دنیا میں تو درخت لگانے کی اہمیت اُجاگر کی جا رہی ہے لیکن ہم درخت کاٹنے کے درپے ہیں۔ درخت کاٹنے سے امن آ جائے گا یا اس سے دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کی جا سکے گی، یہ ایک بچگانہ سوچ ہے۔ سکیورٹی کو قائم و دائم رکھنے کے لیے کوئی دوسرا طریقہ نکالنا چاہئے۔ سوات تو پہلے سے ہی اپنے قیمتی جنگلات سے محروم ہو چکا ہے اور جو رہے سہے درخت ماحول کو بہتر بنانے اور لوگوں کو سایہ فراہم کرنے کا سبب بن رہے ہیں، ان کو اگر کاٹا جائے تو یہ صریح ظلم کے مترادف ہو گا۔ ہمیں نہ صرف اپنے سوات کو پائیدار امن دینا ہے بلکہ اسے مزید خوب صورت اور سرسبز و شاداب بھی بنانا ہے۔ اعلیٰ عسکری حکام اس فیصلہ پر نظر ثانی فرمائیں اور سوات کو مزید بد صورت بننے سے بچائیں۔ 

٭ سوات کی مجموعی معیشت کا انحصار سیاحت کی صنعت پر ہے لیکن گزشتہ تین چار سالوں سے سوات کی سیاحت تباہی سے دوچار ہے۔ سیاح سوات کا رخ نہیں کر رہے ہیں۔ پاک فوج اور موجودہ صوبائی حکومت نے کئی دفعہ اعلان کیا تھا کہ امسال سوات میں سیاحت بحال ہو گی اور سوات آنے والے سیاحوں کو ہر طرح کی سہولتیں اور تحفظ فراہم کیا جائے گا لیکن حالیہ چند ناخوش گوار واقعات اور جگہ جگہ چیک پوسٹوں کی وجہ سے یہ ممکن نہیں ہو سکا۔ عسکری حکام اور صوبائی حکومت کو سوات میں سیاحت کی بحالی کے لیے ترجیحی بنیاد پر عملی اقدامات اٹھانے چاہئیں۔ 
	مجھے یقین ہے کہ پاک فوج کے اعلیٰ حکام ان معروضات پر توجہ دیں گے اور مطلوب یا مشکوک عسکریت پسندوں کے بارے میں فیصلہ کرتے وقت انسانی ہمدردی، اعلیٰ انسانی اقدار، صلۂ رحمی اور قانونی تقاضوں کا ضرور خیال رکھیں گے۔ کسی بے گناہ کی آہ سے ڈرنا چاہئے کہ یہ آہ براہِ راست عرش تک پہنچتی ہے۔ 

 (20 مئی 2010ء) 
٭٭٭


مینگورہ کا تازہ خود کش حملہ اور چبھتے ہوئے سوالات

	آج کے روزنامہ آزادی میں کئی متضاد خبریں شائع ہوئی ہیں۔ پانچ کالمی سرخی ہے کہ "سوات میں عسکریت پسندوں کو دوبارہ سر اٹھانے نہیں دیں گے"، وزیر اعظم۔ ایک اور پانچ کالمی سرخی ہے "سوات میں ظلم کی سیاہ رات ختم ہو گئی"، وزیر اعلیٰ ہوتی۔ ایک اور سرخی کچھ یوں ہے "مینگورہ میں سکیورٹی فورسز کا سرچ آپریشن، دو سو سے زائد گرفتار"۔ ایک سرخی یوں جمائی گئی ہے "دہشت گرد سوات سے افغانستان فرار ہو گئے"، ترجمان پاک فوج۔ ایک اور سرخی ہے "کبل میں ہزاروں افرد کی امن ریلی، پاکستان زندہ باد کے نعرے" اسی سلسلے کی ایک اور سرخی اسی صفحے پر کچھ یوں ہے "عسکریت پسندوں کے پاس سرنڈر کے سوا کوئی آپشن نہیں"، آپریشن انچارج کبل۔ یہ سرخی بھی پڑھنے کے قابل ہے: "تیمرگرہ حملوں کا ماسٹرمائنڈ ہلاک، خود کش کا منصوبہ ناکام"، کرنل ندیم۔ ان سرخیوں کے ساتھ ایک اور سرخی جو اگرچہ دو کالمی ہے لیکن اس سے امن اور اُمید کی روشنی پھوٹ رہی ہے۔ "سوات میں سیاحتی میلے، رنگارنگ تقاریب، سیاحوں کی ریکارڈ آمد" ضمنی سرخی میں بتایا گیا ہے کہ مٹہ، مدین، بحرین میں ویلکم گیٹ بنائے گئے، رات میں بھی دن کا سماں  …  لیکن اگلے روز ایک اور بھیانک سرخی ہمارا منہ چڑا رہی ہے کہ "سوات کے مرکزی شہر مینگورہ میں خودکش دھماکہ، 6 شہید 58 زخمی۔" یہی ایک سرخی مذکورہ تمام سرخیوں پر پانی پھیرنے کے لیے کافی ہے۔ 
	سوات میں امن کا وقفہ جب طویل ہونے لگتا ہے تو اہل سوات کو بے چینی سی ہونے لگتی ہے کہ اب اس طویل خاموشی کو توڑنے کے لیے کتنے بے گناہ انسانوں کا خون بہایا جائے گا، کتنے گھرانوں کے واحد سہارے چھن جائیں گے اور کتنے لوگ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے معذوری کے عذاب میں مبتلا ہوں گے۔ سوات میں قیام امن کے بعد یہی ہوتا آیا ہے اور 15 جولائی کو مینگورہ کی جنرل بس سٹینڈ میں ہونے والا مبینہ خود کش حملہ اسی تسلسل کی ایک کڑی نظر آتا ہے۔ سوات میں قیام امن کے دعووں کے بعد سب سے پہلا خود کش حملہ یکم دسمبر 2009ء کو اے این پی کے صوبائی اسمبلی کے ممبر ڈاکٹر شمشیر پر ہوا جس میں وہ شہید ہو گئے۔ دوسرا دھماکہ 22 فروری 2010ء کو مینگورہ کے نشاط چوک میں ہوا جس میں 13 افراد شہید اور 40 سے زیادہ زخمی ہو گئے۔ 13 مارچ 2010ء کو ضلعی کچہری کے قریب خود کش دھماکہ ہوا جس میں 17 سے زائد افراد شہید اور 64 زخمی ہو گئے۔ یکم مئی 2010ء کو مینگورہ میں سہراب خان چوک کے قریب ایک خود کش حملہ آور نے خود کو اڑا دیا تھا جس میں وہ خود، اس کا ساتھی اور تین شہری ہلاک ہو گئے تھے اور اب تازہ خود کش حملے میں 6 افراد شہید اور 58 زخمی ہو گئے اور نہ معلوم یہ سلسلہ کب تک چلتا رہے گا اور اس میں مزید کتنے بے گناہ انسان اپنی قیمتی جانوں سے ہاتھ دھوتے رہیں گے۔ 
	ہر خود کش حملہ سے قبل افواہیں گردش کرتی ہیں کہ خود کش حملہ آور اپنی پناہ گاہ سے نکلا ہے اور وہ کسی بھی وقت خود کو اڑا کر انسانیت کی دھجیاں بکھیر سکتا ہے۔ افسوس اور المیہ تو یہ ہے کہ ہماری خفیہ ایجنسیوں کو تو یہ پتہ فوری طور پر چل جاتا ہے کہ خود کش حملہ آور اپنے ہدف کے لیے نکلا یا نکلے ہیں لیکن ان کے پاس یہ صلاحیت نہیں ہوتی کہ وہ خود کش حملہ آور کو اس کی پناہ گاہ ہی سے پکڑ کر کیفر کردار تک پہنچائیں۔ تازہ خود کش حملہ کے بعد ذرائع بتاتے ہیں کہ دراصل یہ دو خود کش حملہ آور تھے اور ایک خود کش حملہ آور ابھی "جنت کی تلاش" میں سرگرداں پھر رہا ہے۔ 
	قیامِ امن کے بعد سوات میں ہونے والے ہر خود کش حملے کے بعد یہ سوال ہر با شعور اور حساس شہری کے ذہن میں انتشار کا باعث بنتا ہے کہ اتنی سخت سکیورٹی، حساس سکینرز اور دیگر جدید آلات کے ذریعے تلاشی لینے کے باوجود خود کش حملہ آور درجنوں کلو گرام پر مشتمل بارود اپنے جسم کے ساتھ باندھے کیسے سکیورٹی فورسز کی عقابی نظروں سے اوجھل رہتا ہے جب کہ دوسری طرف فوج کے اعلیٰ حکام اور حکومتی عمائدین بار بار یہ اعلانات کرتے رہتے ہیں کہ سوات سے عسکریت پسندی کا مکمل خاتمہ ہو چکا ہے، دہشت گرد سوات سے افغانستان فرار ہو گئے ہیں اور عسکریت پسندوں کے پاس سرنڈر کے سوا کوئی آپشن نہیں۔ لیکن یہ بھی ایک افسوس ناک اَمر ہے کہ سوات میں بدامنی اور شورش برپا کرنے والے عسکریت پسندوں کے لیڈر ابھی تک زندہ و سلامت ہیں جب کہ سرچ آپریشنوں کے دوران پکڑے جانے والے مشکوک عسکریت پسندوں کے ساتھ کوئی نرمی نہیں برتی جاتی۔ 
	سوات میں وقفے وقفے سے ہونے والے مبینہ خود کش حملوں سے واضح ہوتا ہے کہ سوات اور اہل سوات کے مصائب ابھی ختم نہیں ہوئے ہیں۔ انھیں وقتاً فوقتاً مزید آزمائشوں اور مشکلات سے دوچار ہونا پڑے گا۔ اس وقت سوات میں امن میلوں کی وجہ سے سیاحوں کی غیر معمولی آمد شروع ہو چکی تھی اور اہل سوات کے ساتھ ساتھ دیگر اہل وطن کو بھی یقین آ چکا تھا کہ پاک فوج کی قربانیوں اور ان کی کوششوں سے نہ صرف اہل سوات کو امن کی گھڑیاں نصیب ہوئیں بلکہ جنت نظیر وادئ سوات کی رونقیں بھی بحال ہوئیں۔ افسوس ! امن کی یہ گھڑیاں دیرپا اور مستقل نظر نہیں آ رہی ہیں۔ دہشت گردوں کو ہنستا مسکراتا سوات چبھتا ہے۔ انسانیت کے دشمنوں کو پرامن سوات میں خوش و خرم انسان زہر لگتے ہیں۔ انھیں سوات کے گن گناتے آبشار، ٹھنڈے میٹھے پانی کے قدرتی چشمے، ٹھاٹھیں مارتا ہوا دریائے سوات، شفاف ندیاں، حسین قدرتی مناظر اور ان کے سحر میں مسحور سیاح اچھے نہیں لگتے۔ انھیں اسی میں مزہ آتا ہے کہ اللہ کی خوب صورت مخلوق انسان کو آگ اور خون میں نہلایا جائے۔ انھیں یہ پرواہ نہیں کہ بم دھماکوں اور خود کش حملوں میں ایک فرد کے مرنے سے پورا خاندان کیسے تباہ و برباد ہو جاتا ہے۔ 
	اب اس بات میں کوئی شک نہیں رہا کہ ان خود کش حملوں اور بم دھماکوں کا شریعت سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ کوئی اور چکر ہے جس کے گرداب میں اہل سوات خصوصی اور اہل وطن عمومی طور پر پھنس چکے ہیں۔ ان میں اندرونی قوتیں ملوث ہیں یا بیرونی، اس کا کھوج لگانا متعلقہ خفیہ اداروں کا کام ہے، تاہم سوات میں جس طرح فول پروف سکیورٹی حصار قائم ہے، اس کے تحت یہ معاملہ ہماری سکیورٹی ایجنسیوں کے لیے ایک چیلنج کی حیثیت رکھتا ہے کہ خود کش حملہ آور سوات میں اب بھی کیوں موجود ہیں، ان کی پناہ گاہیں کیوں قائم ہیں، خود کش حملہ کے لیے بارود کہاں سے آتا ہے، اس قدر مشکل اور تکنیکی کام کے لیے ماہرین کہاں سے دست یاب ہو جاتے ہیں، خود کش حملہ آور سکیورٹی چیک پوسٹوں سے کیسے با آسانی نکل جاتے ہیں؟ یہ اور اس طرح کے بہت سے چبھتے ہوئے سوالات ہیں جو عوام کے ذہنوں میں کلبلا رہے ہیں۔ 

 (17 جولائی 2010ء) 
٭٭٭


سوات میں سیلاب کی تباہ کاریاں 

	یوں لگتا ہے جیسے سوات اور پورے ملاکنڈ ڈویژن کو واقعتا کسی کی نظر لگ گئی ہو۔ گزشتہ کئی سالوں سے اس سرزمین میں شورش اور تباہی کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ جاری ہے۔ پہلے یہ شورش مقتدر قوتوں کی دانستہ غفلت کی وجہ سے نام نہاد طالبان کی شکل میں تھی اور اب حالیہ سیلاب کی تباہ کاریوں کی شکل میں قدرت کی طرف سے عوام پر یہ مصیبت نازل ہو ئی ہے۔ قدرتی آفات کا مقابلہ اگرچہ مشکل ضرور ہے لیکن بہتر حکمت عملی سے ان کی تباہی میں کچھ نہ کچھ کمی ضرور لائی جا سکتی ہے۔ تاہم جو مصیبت بھٹکے ہوئے انسانوں کی طرف سے معصوم انسانوں پر آتی ہے، اس کا بروقت تدارک ممکن ہے لیکن افسوس حکومت اور مقامی انتظامیہ کی مجرمانہ غفلت کی وجہ سے یہاں کے عوام نہ صرف ارضی فساد کی سزا ابھی تک بھگت رہے ہیں بلکہ اب سماوی آفات نے بھی ان کے رہے سہے حوصلوں کو توڑ پھوڑ کر کے رکھ دیا ہے۔ 
	اس وقت سوات اور شانگلہ میں سیلاب کی تباہ کاریوں کے نتیجے میں جاں بحق ہونے والے افراد کی تعداد 311 سے تجاوز کر گئی ہے۔ مدین، بحرین، کالام، مرغزار، جامبیل اور مینگورہ میں بپھری ہوئی سیلابی موجوں نے تاریخی تباہی مچائی ہے۔ ذرائع کے مطابق ایسا سیلاب صرف 1929ء میں آیا تھا لیکن حالیہ سیلاب اس سے زیادہ شدید نوعیت کا ہے۔ کالام سے چک درہ تک کوئی پل موجود نہیں رہا ہے۔ درجنوں سکول اور ہزاروں گھر سیلابی ریلے کی نذر ہو چکے ہیں۔ دریائے سوات جن آبادیوں سے گزرا ہے، وہاں ناقابل تلافی نقصان ہوا ہے۔ اسی طرح مینگورہ کی جامبیل اور مرغزار کی ندیاں جن گاؤں اور دیہات سے گزری ہیں، وہاں کی آبادیوں کو صفحۂ ہستی سے مٹا کر رکھ دیا ہے۔ یقیناً سماوی آفات کا مکمل مقابلہ کرنا انسان کے بس کی بات نہیں لیکن بہتر حکمت عملی اور بروقت منصوبہ بندی سے ان آفات کی تباہ کاریوں میں معقول حد تک کمی لائی جا سکتی ہے۔ محکمہ موسمیات نے پہلے سے ہی پیشین گوئی کی تھی کہ حالیہ بارشوں کے نتیجے میں سیلاب آنے کے امکانات موجود ہیں لیکن سوات کی مقامی انتظامیہ نے نہ پہلے سے محکمہ موسمیات کی اس پیشین گوئی پر کوئی توجہ دی تھی اور نہ ہی بارشوں اور سیلاب کے دوران عوام کو محفوظ مقامات تک پہنچانے کے سلسلے میں کوئی معمولی سی کاوش نظر آئی۔ بہت سے لوگ جو سیلابی پانی میں پھنس چکے تھے اور جن کو بروقت کار روائی کے ذریعے بچایا جا سکتا تھا لیکن مقامی انتظامیہ کی طرف سے کوئی کار روائی عمل میں نہ آ سکی اور یوں بہت سی قیمتی جانیں مقامی انتظامیہ اور حکومت کی مجرمانہ غفلت کی وجہ سے ضائع ہو گئیں۔ پاک فوج نے اگرچہ کسی حد تک عوام کو محفوظ مقامات تک پہنچانے کی جزوی کوشش ضرور کی ہے لیکن ان کی طرف سے بھی بھرپور کوششیں دیکھنے میں نہ آ سکیں۔ ہم نے تو یہ دیکھا ہے کہ جب بھی پنجاب کے کسی علاقے میں سیلاب آیا ہے تو پاک فوج کے جوانوں نے متاثرہ لوگوں کو محفوظ مقامات تک پہنچانے میں نہ صرف سر دھڑ کی بازی لگائی ہے بلکہ متاثرہ عوام کو ریلیف دینے میں بھی غیر معمولی فراخ دلی کا مظاہرہ کیا ہے لیکن جب پختون خوا میں پختونوں پر کوئی آسمانی آفت نازل ہوتی ہے تو ہمیں کہیں سے بھی کوئی غیر معمولی سرگرمی دیکھنے کو نہیں ملتی۔ وزیر اعظم صاحب اور ہماری صوبائی حکومت کے کرتا دھرتا صرف ہیلی کاپٹر کے ذریعے فضا سے عوام کی تباہی دیکھنے پر اکتفا کرتے ہیں اور پھر ان کی ریلیف کی تان عالمی برادری سے امداد مانگنے پر ہی ٹوٹتی ہے۔ دنیا بھر سے امداد بھی آتی ہے لیکن وہی امداد مصیبت زدہ لوگوں کی بجائے اشرافیہ کی جیبوں میں چلی جاتی ہے۔ گویا ہماری مقتدر قوتیں نہ صرف عام حالات میں قومی خزانہ سے مراعات لیتی ہیں بلکہ جب اہل وطن پر مصیبت کی کوئی گھڑی آتی ہے تو عالمی برادری سے آنے والی امداد بھی ان کرپٹ لوگوں کی تجوریوں میں چلی جاتی ہے۔ اس کی مثالیں یوں تو بہت پیش کی جا سکتی ہیں لیکن حالیہ مثال سوات کی شورش اور چند سال قبل آزاد کشمیر اور ملک کے دیگر حصوں میں آنے والے زلزلہ کے نام پر آنے والی امداد اور خیرات کی ہے جس سے متاثرہ لوگوں کو کوئی حقیقی ریلیف تو نہ مل سکا لیکن اس سے مقتدر قوتوں کا بھلا ضرور ہوا۔ 
	اس وقت سوات اور شانگلہ کے عوام ایک بڑی تکلیف اور مصیبت سے گزر رہے ہیں۔ جن لوگوں کے گھر بار تباہ ہوئے ہیں، وہ لامتناہی مسائل اور مشکلات سے دوچار ہیں۔ ان کے پاس سر چھپانے کا کوئی ٹھکانہ ہے اور نہ ہی کھانے پینے کی اشیاء۔ حکومت کی طرف سے بلند بانگ دعوؤں کے باوجود ابھی تک انھیں کوئی ریلیف نہ مل سکا ہے۔ سیلاب تھم جانے کے بعد پاک فوج نے کسی حد تک امدادی کاموں کا آغاز کر دیا ہے لیکن جس طرح امدادی کاموں اور عوام کو ریلیف دینے کی ضرورت ہے، وہ عمل کہیں نظر نہیں آ رہا ہے۔ اس موقع پر صوبائی اور وفاقی حکومت کی طرف سے متاثرین کی امداد اور دل جوئی کے لیے حکومت کے ذمہ دار حکام نظر آنے چاہئے تھے لیکن المیہ تو یہ ہے کہ ہمارے صوبائی اور قومی اسمبلی کے منتخب ممبران بھی مصیبت کی اس گھڑی میں عوام کے ساتھ موجود نہیں۔ حالیہ شورش میں جس طرح عوامی نمائندوں نے غفلت اور نا اہلی کا مظاہرہ کیا تھا، حالیہ سیلاب کے دوران بھی انھوں نے عوام کے لیے کچھ نہیں کیا۔ ان منتخب عوامی نمائندوں کے لیے اب اہل سوات کی بحالی ایک چیلنج کی حیثیت رکھتی ہے۔ تمام قابل ذکر پل سیلابی ریلے میں بہ چکے ہیں، اب دیکھنا یہ ہے کہ ان پلوں کی تعمیر کے لیے بے حس عوامی نمائندگان کیا کرتے ہیں؟ اس وقت سوات میں بجلی اور گیس مفقود ہے، پینے کے صاف پانی کے لیے لوگ دربدر ہو رہے ہیں لیکن زندگی کی ان بنیادی سہولیات کی بحالی بہت سست روی سے جاری ہے۔ حالاں کہ ان کی بحالی کے لیے ایمرجنسی اور جنگی بنیادوں پر کام کرنا چاہئے۔ جتنی تباہی سوات میں حالیہ طالبان شورش کے دوران ہوئی تھی، موجودہ سیلاب کی تباہ کاریاں اس سے کسی طور کم نہیں۔ اس لیے نہ صرف مقامی انتظامیہ، حکومت اور سوات کے منتخب عوامی نمائندوں کو اپنا غیر معمولی کردار فوری ادا کرنا چاہئے بلکہ مصیبت کی اس گھڑی میں پاک فوج کو بھی اپنا روایتی کردار ادا کرنے میں بخل سے کام نہیں لینا چاہئے۔ اب عوام کی نظریں پاک فوج پر لگی ہوئی ہیں، کیوں کہ حکومتی عمائدین تو محض فضائی نظاروں پر اکتفا کرتے ہیں اور ایسے لمحات میں عالمی برادری سے امداد و خیرات مانگنے میں دل چسپی لیتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ عالمی برادری سے آنے والی امداد کے ذریعے بے گھر ہونے والے لوگوں کی رہائش کا ہی بندوبست کیا جائے۔ 
	حالیہ سیلاب کی تباہ کاریاں اس لیے بھی زیادہ تھیں کہ حکومت کی طرف سے کوئی پابندی یا قانون نہ ہونے کی وجہ سے عام لوگوں نے دریائے سوات کے سنگ ہی تعمیرات کی تھیں۔ اس طرح مرغزار اور جامبیل سے مینگورہ آنے والی ندیوں کے قرب اور بعض جگہوں پران کے اوپر بھی عام لوگوں نے اپنے گھر بار تعمیر کرائے تھے۔ حالاں کہ دریا اور ندی کبھی اپنا راستہ تبدیل نہیں کرتے۔ وہ عارضی طور پر اپنا رُخ ضرور موڑتے رہتے ہیں لیکن جب پانی زیادہ ہو جاتا ہے تو وہ اپنی پرانی جگہوں تک واپس پہنچنا شروع کر دیتے ہیں۔ اس لیے مقامی انتظامیہ کو پوری سنجیدگی سے اس اَمر کا جائزہ لینا چاہئے کہ جو آبادیاں دریا اور ندی کے ساتھ ہیں، انھیں یا تو منہدم کر دے یا ان کے قرب میں دریا پر مضبوط پشتے تعمیر کرائے اور مزید ایسی آبادیوں پر سختی سے پابندی عائد کرے۔ اس کے لیے حد تو پہلے سے ہی مقرر ہو گی لیکن اس حد پر عمل درآمد کو یقینی بنانا چاہئے۔ مصیبت اور اُفتاد کے ایسے مواقع پر عوام بھی عموماً غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ وہ ہر طرف تباہیوں کا تماشا کرنے لگتے ہیں اور جو سامان ندی اور دریا میں بہتا ہوا آتا ہے، انھیں پکڑنے کے لیے کمر کس لیتے ہیں حالاں کہ ایسے مواقع پر اعلیٰ انسانی اوصاف کا مظاہرہ کرتے ہوئے مصیبت زدہ لوگوں کی مد د کرنی چاہئے اور جو سامان دریا اور ندیوں میں بہتا ہوا آتا ہے، انھیں مالِ غنیمت سمجھ کر نہیں پکڑنا چاہئے بلکہ انھیں امانت سمجھ کر پکڑنے کے بعد مقامی انتظامیہ کی طرف سے پہلے سے قائم مرکز میں جمع کرانا چاہئے اور بعد میں اس سامان کو ان کے اصل وارثوں کو لوٹانا چاہئے۔ ایسے موقع پر اگر ہم خود بھی اپنی جیبوں سے متاثرہ لوگوں کی مد د کریں تو اس سے یقیناً اللہ تعالیٰ ہمارے ایثار کے جذبہ سے خوش ہوں گے اور وہ ہمیں اس ایثار و قربانی کی وجہ سے مزید مصیبتوں سے نجات دلائیں گے۔ 

 (2 اگست 2010ء) 
٭٭٭


 سوات سے ایک ڈویژن فوج کی واپسی کا اعلان اور وکی لیکس کے انکشافات

	روزنامہ "آزادی" کی 23 نومبر 2010ء کی خبر کے مطابق سوات سے ایک ڈویژن فوج واپس بلانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ عسکری ذرائع کے حوالہ سے شائع ہونے والی خبر کے مطابق پاک فوج کے اعلیٰ حکام نے فیصلہ کیا ہے کہ سوات سے 37 ڈویژن فوج کو واپس اپنے ہیڈ کوارٹر بلایا جائے گا اور سوات بالا میں موجود 19 ڈویژن کو زیریں سوات بھی حوالہ کیا جائے گا جس کی باقاعدہ منظوری دی جا چکی ہے۔ 19 ڈویژن کے کمانڈر میجر جنرل جاوید اقبال رمدے پورے ضلع سوات کے کمانڈر ہوں گے۔ اس خبر کے اگلے روز "آپریشن راہِ راست" کے جنرل آفیسر کمانڈنگ میجر جنرل اشفاق ندیم نے سوات پریس کلب کے دورہ کے دوران کہا کہ دہشت گردوں کے دوبارہ سوات میں داخلے کا کوئی امکان نہیں۔ انھوں نے کہا کہ سوات میں مکمل امن قائم ہو چکا ہے اور جن گرفتار لوگوں نے بندوق نہیں اٹھائی اور صرف دہشت گردوں کو چائے پانی دیا ہے، ایسے افراد کو رہا کیا جا رہا ہے۔ 
	سوات سے ایک ڈویژن فوج واپس بلانے کا فیصلہ صائب اور بروقت ہے اور میجر جنرل اشفاق ندیم کا طالبان سے تعاون کرنے والے گرفتار لوگوں کی رہائی کا اعلان بھی خوش آئند ہے کیوں کہ اس وقت مبینہ طور پر پاک فوج نے طالبان کے شبے میں سیکڑوں لوگوں کو گرفتار کیا ہوا ہے لیکن نہ ان کو رہا کیا جا رہا ہے اور نہ ہی ان کو عدالتوں میں پیش کرنے کا بہ ظاہر کوئی ارادہ ہے جس کی وجہ سے عوام میں شکوک و شبہات پھیل رہے ہیں۔ اس طرح سوات کے مقامی طالبان کے جن رہنماؤں کو گرفتار کر لیا گیا ہے، ان کے بارے میں بھی کوئی واضح فیصلہ صادر نہیں کیا جا رہا ہے جب کہ بعض حلقوں کی طرف سے یہ الزام بھی عائد کیا جاتا ہے کہ محض شک کی بنیاد پر گرفتار لوگوں کو م اور ائے عدالت قتل کیا جا رہا ہے۔ اس شبے کو تقویت اس بات سے ملتی ہے کہ اب بھی وقتاً فوقتاً سوات میں فوج اور عسکریت پسندوں کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے اور ان جھڑپوں میں مبینہ عسکریت پسند ہلاک کئے جاتے ہیں اور ابھی حال ہی میں وکی لیکس نے انکشاف کیا ہے کہ امریکہ نے سوات میں م اور ائے عدالت قتل چھپائے۔ وکی لیکس کے مطابق امریکی حکام نے اعتراف کیا ہے کہ سوات میں سیکڑوں لوگ م اور ائے عدالت مارے گئے لیکن پاک فوج کے آپریشن کی کام یابی کے لیے خاموشی اختیار کی گئی۔ ایک سال بعد امریکی حکام نے قتل عام کے الزام میں پاک فوج کے کئی یونٹس پر پابندی عائد کی اور جنرل کیانی نے بھی تحقیقات کا آغاز کیا تھا۔ امریکی سفیر کے مطابق کمانڈرز کو خدشہ تھا کہ دہشت گردی کے قیدیوں پر عدالتوں میں الزامات ثابت بھی ہو گئے تو انھیں رہا کیا جا سکتا ہے۔ وکی لیکس میں پاکستان میں سابق امریکی سفیر این ڈبلیو پیٹرسن کے حوالے سے یہ الزام بھی عائد کیا گیا ہے کہ سفیر نے حکام کو اس حوالے سے آگاہ کیا کہ پاک فوج شدت پسندوں کی پشت پناہی کر رہی ہے۔ 
	ہو سکتا ہے کہ وکی لیکس کے انکشافات کسی مخصوص مقصد کے تحت جاری کئے گئے ہوں اور ان میں حقیقت سے زیادہ مبالغہ کو دخل ہو لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ پاک فوج نے سوات میں کام یاب فوجی آپریشن کے ذریعے عسکریت پسندی کا خاتمہ کر کے ایک بڑا کارنامہ ضرور انجام دیا ہے لیکن بعد میں سرچ آپریشنوں، کرفیو اور چیک پوسٹوں میں عوام کے ساتھ غیر ضروری سختی اور عسکریت پسندوں کے خاتمے کے باوجود جھڑپوں کے سلسلے کا جاری رہنا شکوک و شبہات کو جنم دیتا ہے۔ اس کے علاوہ حالات کے معمول پر آنے کے باوجود عسکری حکام کا سول اداروں میں عمل دخل کو بھی بہ نظر تحسین نہیں دیکھا جا رہا۔ پاک فوج نے کام یابی سے اپنے اہداف حاصل کر لیے ہیں، اس لیے اب ضرورت اس اَمر کی ہے کہ وہ امن و امان کی صورت حال اور مابعد تمام معاملات مقامی انتظامیہ اور صوبائی حکومت کے حوالہ کر دے اور خود عوامی مقامات کی بہ جائے اپنی مخصوص عمارتوں میں رہتے ہوئے سول ایڈمنسٹریشن کو مضبوط بنائے۔ فوج کا کام چیک پوسٹوں پر عوام کی تلاشی نہیں ہونی چاہئے بلکہ یہ کام فوج کے تعاون سے ایف سی اور مقامی پولیس بھی بہتر طور پر انجام دے سکتی ہے۔ عوام میں فوج کا بڑا احترام ہے اور بعض اوقات چیک پوسٹوں اور سرچ آپریشنوں میں فوجی جوانوں کا سخت اور نامناسب رویہ عوام اور فوج کے درمیان دوری پیدا کرنے کا سبب بنتا ہے جس سے پاک فوج کی ساکھ کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ 
	گزشتہ دنوں "سوات قومی جرگہ" نے "سوات میں پائیدار امن اور تعمیر نو …  تحفظات اور ترجیحات" کے عنوان سے ایک سیمینار کا انعقاد کیا جس میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ فضل اللہ کو گرفتار جب کہ صوفی محمد اور مسلم خان کو پھانسی دی جائے اور گرفتار عسکریت پسندوں کو عدالت میں پیش کیا جائے۔ گویا اس سیمینار کے تحت عوامی جذبات اور احساسات کو اعلیٰ عسکری اور سول حکام تک پہنچانے کی کوشش کی گئی۔ اس لیے عسکریت پسندی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے ضروری ہے کہ عوامی مطالبات پر فوری عمل درآمد کیا جائے اور جس قدر جلد ممکن ہو سوات میں چیک پوسٹوں میں کمی لاتے ہوئے ان پر ایف سی اور مقامی پولیس کے اہل کار تعینات کیے جائیں تاکہ عوام اور فوج کے درمیان مکمل اعتماد اور خیر سگالی کا رشتہ قائم رہے۔ 

 (28 دسمبر 2010ء) 
٭٭٭


دہشت گردی کی جنگ کا انجام کیا ہو گا؟

	اس وقت وطن عزیز عجیب دو راہے سے گزر رہا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نتیجے میں پورا ملک لہولہان ہو چکا ہے۔ روز کوئی نہ کوئی ایسا سانحہ رونما ہوتا ہے جس میں درجنوں بے گناہ اہل وطن رزقِ خاک بن جاتے ہیں۔ ہمیں یہ بھی معلوم نہیں کہ یہ جنگ ہماری اپنی ہے یا امریکا کی۔ ہمیں یہ بھی پتا نہیں کہ طالبان امریکا کے خلاف صف آراء ہیں یا وطن اور اہل وطن کے خلاف۔ ہمیں اس بات کا بھی ادراک نہیں کہ جن لوگوں کو ہم نے جہاد کے نام پر امریکی مقاصد کے حصول اور افغانستان میں سوویت یونین کے خلاف متحرک کیا تھا، ان کی ہم دردیاں اب کس کے ساتھ ہیں۔ وہ امریکا کے کہنے پر پاکستان کے اندر بم دھماکے اور خود کش حملے کر رہے ہیں یا وہ ہم سے اس بات کا انتقام لے رہے ہیں کہ ہم ان کے خلاف امریکا کی مد د کر رہے ہیں۔ ہمیں یہ بھی علم نہیں کہ اس مسلسل پھیلتی ہوئی جنگ کا کوئی خاتمہ (End) ہے بھی یا نہیں۔ 
	تاہم ایک بات یقینی ہے کہ اس جنگ کے نتیجے میں پاکستان اور اس کے عوام بدترین دہشت گردی کا سامنا کر رہے ہیں۔ اس کے نتیجے میں ریاست کی سلامتی کے لیے شدید خطرات پیدا ہو چکے ہیں۔ ملک کے چاروں صوبوں میں اس جنگ کے نتیجے میں آگ بھڑکی ہوئی ہے اور ہمارے پالیسی ساز دوغلی پالیسی اپنا کر اسے مزید بھڑکانے میں لگے ہوئے ہیں۔ جنرل ضیاء الحق کے دور میں مذہب کے نام پر جنگی جنون کی جو تخم ریزی کی گئی تھی، اسے جنرل مشرف نے پانی دیا اور اب اس کی زہریلی لہلہاتی فصل قوم و ملک کے جسم میں زہر پھیلا رہی ہے۔ جنرل مشرف نے اپنے غیر قانونی اور غیر آئینی اقتدار کو دوام دینے اور زیادہ سے زیادہ ڈالر کمانے کے لیے پورے خیبر پختون خوا میں عسکریت پسندی کا ناسور پھیلا دیا تھا اور تو اور اس نے قبائلی اور سرحدی علاقوں کے بعد بندوبستی علاقوں میں بھی طالبان کے نام پر عسکریت پسندی کو فروغ دیا جس کی زندہ مثال سوات میں فضل اللہ کی سربراہی میں مسلح بغاوت تھی۔ یہ بات یقینی طور پر کہی جا سکتی ہے کہ سوات میں عسکریت پسندی کو فروغ دینے میں بعض ریاستی عناصر نے اہم کردار ادا کیا تھا ورنہ فضل اللہ ایک عام شخص تھا اور ایک منظم اور طاقت ور فوج اور بیدار انتظامیہ کی موجودگی کے باوجود وہ سب کے سامنے کھلم کھلا طاقت کیسے پکڑتا گیا۔ اسے جدید اسلحہ ملا، اس کے پیروکاروں کو تربیت دی گئی اور اسے نہ صرف فری ہینڈ دیا گیا بلکہ اسے محفوظ راستے (Safe Passages) بھی فراہم کئے گئے۔ شاید اَن دیکھی قوت نے اسے یہ ب اور کرایا تھا کہ یہ پاکستان کی بقاء کی جنگ ہے، اس سے اسلام کے دشمن نیست و نابود ہوں گے، اس لیے اسے ہر ممکن تعاون کرنا ہو گا۔ عسکریت پسندی کی یہ وباء پشاور کے مضافات میں بھی پھیلائی گئی، ڈیرہ اسماعیل خان، بنوں، کوہاٹ، پشاور اور مردان میں بھی طالبان کے نام سے خود کش حملوں کا سلسلہ جاری رکھا گیا جب کہ وزیرستان کے تمام علاقوں میں تو پہلے سے ہی یہ سلسلہ جاری تھا۔ 
	اس وقت بھی سب سے زیادہ بم دھماکے اور خود کش حملے خیبر پختون خوا میں ہو رہے ہیں اور پختونوں کو بحیثیت قوم پوری دنیا میں مذہبی انتہا پسندوں اور دہشت گردوں کے روپ میں پیش کیا جا رہا ہے اور یہ واحد صوبہ ہے جہاں اب بھی فوجی آپریشنوں کا سلسلہ جاری ہے۔ اگرچہ پاک فوج نے بہ ظاہر اپنے اہداف کام یابی سے حاصل کر لیے ہیں لیکن ان فوجی آپریشنوں کے نتیجے میں بہت سے بے گناہ پختون ہلاک بھی ہوئے ہیں۔ ایک طرف عسکریت پسندوں کے ہاتھوں پختون ہلاک ہو رہے ہیں تو دوسری جانب فوجی آپریشنوں اور ڈرون حملوں کے نتیجے میں بھی گناہ گار کم اور بے گناہ زیادہ اپنی جانوں سے ہاتھ دھو رہے ہیں۔ ایسے میں پختونوں کے ذہنوں میں فوج اور امریکا کے خلاف نفرت کا پیدا ہونا ایک فطری اَمر ہے۔ اسی طرح کی صورت حال 1971ء میں مشرقی پاکستان میں بھی پیدا ہوئی تھی۔ اس وقت بھی جب فوجی آپریشن کا فیصلہ کیا گیا تو حب الوطنی کے نام پر اس کی حمایت کی گئی جب کہ بعض قوتوں نے اسے ریاست کی سلامتی کے لیے خطرناک قرار دیا تھا لیکن ان ہی لوگوں کو "ملک دشمن عناصر" خیال کیا گیا لیکن جب ہماری 90 ہزار فوج نے کوئی خاص مزاحمت کئے بغیر ہتھیار ڈال دئیے تو "محب وطن عناصر" کی آنکھیں کھل گئیں۔ 
	اس وقت بھی امریکا پاک فوج پر دباؤ ڈال رہا ہے کہ وہ شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن کا آغاز کرے لیکن ابھی ہماری فوج میں کچھ ایسے محب وطن جرنیل موجود ہیں جنھیں اس طرح کے فوجی آپریشنوں کے نتائج کا اندازہ ہے۔ خیبر پختون خوا میں مسلسل طالبانائزیشن اور فوجی آپریشنوں کے حوالے سے بعض حلقے بار بار یہ حقیقت سامنے لا رہے ہیں کہ اس سے مستقبل میں پختون بیلٹ کی علاحدگی کے لیے شعوری اور لا شعوری طور پر راستہ ہم وار کیا جا رہا ہے۔ اس سلسلہ میں ابھی حال ہی میں امریکی انٹیلی جنس اداروں نے اپنی حکومت کو یہ رپورٹ بھیجی ہے کہ آنے والے چند برسوں میں پاکستان پختون بیلٹ سے محروم ہو سکتا ہے اور یہ بھی کہ پاکستان بکھر رہا ہے۔ مشرقی پاکستان میں تو بعض قوتیں باقاعدہ طور پر علاحدگی کے لیے کام کر رہی تھیں لیکن صوبہ خیبر پختون خوا میں ایسا کچھ نہیں ہو رہا ہے۔ عوامی نیشنل پارٹی اس وقت اقتدار میں ہے اور مرکز میں بھی شریک اقتدار ہے، اس لیے ان کے بارے میں تو علاحدگی کے حوالے سے کوئی بات نہیں کی جا سکتی لیکن اس کے باوجود سوات، خیبر پختون خوا سے لے کر شمالی بلوچستان تک جو منظر نامہ ابھر رہا ہے، اسے خطرے کا آخری الارم سمجھنا چاہئے۔ خود بلوچستان میں جو حالات ہیں، وہ سب کے سامنے ہیں۔ وہاں تو باقاعدہ طور پر علاحدگی کی تحریک بھی چل رہی ہے لیکن ہمارے حکم ران اور اصل مقتدر قوتوں کی توجہ کسی اور مقصد پر مرکوز ہے۔ امریکا چاہتا ہے کہ وہ پاکستان کو (اللہ نہ کرے) کئی حصوں میں تقسیم کرے۔ وہ افغانستان کو بھی کئی حصوں میں بانٹنا چاہتا ہے۔ اس کی خواہش ہے کہ پاکستان کا پختون بیلٹ اور افغانستان کے پختون علاقوں کو ایک علاحدہ ملک کی جغرافیائی حیثیت دے۔ اس طرح بلوچستان اور ایرانی صوبہ سیستان کو ملا کر گریٹر بلوچستان کے نام سے ایک نیا ملک وجود میں لائے۔ سندھ میں بھی اس کے مکروہ عزائم مخفی نہیں، اس لیے دہشت گردی کی اس نہ ختم ہونے والے جنگ میں ہمیں نہ صرف اپنی آنکھیں اور کان کھلے رکھنے چاہئے بلکہ ہمیں فہم و فراست اور بصیرت سے بھی کام لینا چاہئے۔ سوات میں فوجی آپریشن کے بعد بارہا وہاں عسکریت پسندی کے خاتمے کا اعلان کیا گیا لیکن اب بھی روزانہ فوج اور شدت پسندوں کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ ہفتے میں کئی بار شدت پسندوں کی لاشیں ملتی ہیں اور سپریم کورٹ بار کی صدر عاصمہ جہانگیر کے بیان کے مطابق اس وقت سوات میں 2800 افراد غیر قانونی تحویل میں ہیں۔ انھوں نے یہ بھی کہا ہے کہ فورسز کے ہاتھوں لاپتہ ہونے والے افراد کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ وکی لیکس نے بھی انکشاف کیا ہے کہ سوات میں م اور ائے عدالت قتلوں پر پردہ ڈالا جا رہا ہے۔ یو ٹیوب پر بھی سوات میں فوج کی طرف سے تحویل میں لئے گئے افراد پر غیر معمولی تشدد کے کئی مناظر موجود ہیں۔ دوسری جانب ملک بھر میں لاپتہ ہونے والے افراد کے حوالے سے حساس اداروں پر الزامات لگائے جا رہے ہیں۔ گزشتہ روز ہی حساس اداروں نے سپریم کورٹ میں اعتراف کر لیا ہے کہ اڈیالہ جیل سے لاپتہ ہونے والے گیارہ قیدی ان کی تحویل میں ہیں۔ ان سارے معاملات سے جو منظر ابھر کر سامنے آتا ہے، وہ کوئی زیادہ خوش آئند نہیں۔ ہمارے سکیورٹی ادارے وطن عزیز کی سلامتی اور عوام کے تحفظ کے لیے ہیں، ہمیں امریکی خواہشات پورا کرتے وقت اپنے عوام کے جان و مال اور عزت نفس کو مقدم رکھنا چاہئے۔ 
	اگر امریکا کی دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں ریاستِ پاکستان اور اس کے سکیورٹی ادارے اپنی سرحدوں اور عوام کے جان و  مال کے تحفظ کا خیال نہیں رکھیں گے تو مستقبل میں کوئی معمولی سا ناخوش گوار واقعہ بھی وطن عزیز کی سلامتی کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ 

 (30 دسمبر 2010ء) 
٭٭٭



اُس وقت آپ لوگ کہاں تھے؟

	کبل میں امن کمیٹی اور نیک پی خیل امن جرگے نے فوج کی مکمل حمایت کرتے ہوئے اس پر م اور ائے عدالت قتل کے الزامات کو مسترد کیا ہے اور کہا ہے کہ فوج نے اہل سوات کو دہشت گردوں سے نجات دلائی ہے۔ جرگہ کے عمائدین نے کہا ہے کہ سوات میں لاشوں کو لٹکانے والے کسی رعایت کے مستحق نہیں۔ انھوں نے سپریم کورٹ بار کی صدر عاصمہ جہانگیر کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ عاصمہ جہانگیر اس وقت کہاں تھیں جب سوات میں گلے کاٹے جا رہے تھے۔ تحصیل مٹہ کے سابق ناظم نے اگلے روز اپنے اخباری بیان میں یہ بھی کہا کہ "جب خون کی ندیاں بہائی جا رہی تھیں تو انسانی حقوق والے خاموش تھے، فوج نے امن قائم کیا تو تنقید شروع کر دی"۔ امن کمیٹی اور نیک پی خیل امن جرگہ کے عمائدین کے مذکورہ خیالات کی مخالفت نہیں کی جا سکتی لیکن یہاں کچھ مزید سوالات بھی جنم لیتے ہیں۔ 
	جب سوات میں فضل اللہ نے غیر قانونی ایف ایم ریڈیو کا آغاز کیا اور مام ڈھیرئ میں انھوں نے مدرسہ بنانا شروع کیا اور اس میں مشکوک سرگرمیاں شروع کی گئیں تو اس وقت مقامی انتظامیہ، صوبائی حکومت، وفاقی حکومت، سکیورٹی اور اینٹلی جنس ادارے کیا کر رہے تھے۔ کیا ان کی ذمہ داری نہیں بنتی تھی کہ وہ ابتداء ہی میں ان غیر قانونی اور ملک دشمن سرگرمیوں کا نوٹس لیتے۔ فضل اللہ اور ان کے ساتھیوں کے پاس مالی وسائل، اسلحہ، بارود اور خود کش جیکٹس کے علاوہ ان چیزوں کے استعمال کی مہارت کہاں سے آئی؟ کیا ریاست کے ذمہ دار ادارے سو رہے تھے یا وہ اس بات کا انتظار کر رہے تھے کہ کب فضل اللہ اور اس کے ساتھی ریاست کی رِٹ ختم کر کے نہ صرف لوگوں کے گلے کاٹنا شروع کریں بلکہ اس عمل کو کئی ماہ تک جاری بھی رکھتے رہیں۔ اس وقت کے کمشنر سید محمد جاوید فضل اللہ کے پاس وقتاً فوقتاً کس لیے جاتے تھے اور ان کے پیچھے نماز کیوں پڑھتے تھے؟ مقامی انتظامیہ کے ہاتھ پاؤں کس نے باندھ رکھے تھے کہ اس کے اعلیٰ حکام مام ڈھیرئ میں جاری مشکوک اور خطرناک سرگرمیوں سے صرف نظر کرتے تھے؟ یہ اور اس طرح کے بہت سے دوسرے  چبھتے ہوئے سوالات ہیں جو جواب طلب ہیں۔ 
	ایک ریاست اس لیے وجود میں لائی جاتی ہے کہ وہ اپنے عوام کو قانون کے دائرے میں رکھے اور سماج دشمن عناصر کو کھل کھیلنے کا موقع نہ دے۔ ریاست کی مثال ماں باپ کی سی ہوتی ہے اور وہ اپنے عوام کو اولاد کی طرح عزیز رکھتی ہے۔ اگر اولاد کسی سنگین غلطی کرنے کا ارادہ کرتی ہے تو غلطی سرزد ہونے سے پہلے ماں باپ انھیں روکتے ہیں اور انھیں جرم کا ارتکاب کرنے سے پہلے نرمی اور سختی سے سمجھاتے ہیں لیکن سوات کے معاملے میں ایسا نہیں ہوا ہے۔ پوری ریاستی مشینری دیکھ رہی تھی کہ مام ڈھیرئ میں ہونے والی غیر قانونی اور خطرناک سرگرمیاں طول پکڑ رہی ہیں اور بہت جلد یہ ناپسندیدہ سرگرمیاں وادی کے طول و عرض کے علاوہ پڑوسی اضلاع میں بھی پھیلنے والی ہیں لیکن ان کو سنجیدگی سے روکنے والا کوئی نہیں تھا۔ اُس وقت بھی ہم نے اپنے کالموں میں مقامی انتظامیہ کو مستقبل کے خطرات سے آگاہ کیا تھا لیکن نامعلوم وجوہات کی بناء پر فضل اللہ پر ہاتھ نہیں ڈالا جا رہا تھا۔ 
	جب معاملات خطرناک حد تک بگڑ گئے تو پاک فوج نے "راہِ حق" کے نام سے آپریشن شروع کیا۔ آپریشن کے شروع ہوتے ہی عسکریت پسند ایک ایک کر کے بھاگنے لگے کہ ریاستی قوت کے آگے ایسے سر پھروں کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی۔ اس لیے اُس وقت جو لوگ فضل اللہ کے بہکاوے میں آ گئے تھے اور انھوں نے بڑے بڑے بال اور داڑھیاں رکھی تھیں، انھوں نے فوج کے ڈر سے نہ صرف اپنے بال چھوٹے کئے بلکہ داڑھیاں تک منڈوائیں اور سوات چھوڑ کر دوسرے علاقوں میں بھاگ گئے لیکن جب انھیں معلوم ہوا کہ ابھی ان کی رسی دراز ہے تو وہ واپس آنے لگے۔ اُس وقت قریباً گیارہ بارہ سو عسکریت پسندوں کو گرفتار کر لیا گیا تھا لیکن بعد میں انھیں چھوڑ دیا گیا اور ان میں سے صرف سو ایک سو بیس لوگوں کو قید میں رکھا گیا اور بعد ازاں ان میں سے بھی بیشتر کو رہا کر دیا گیا۔ قصۂ مختصر سوات میں حالات کو اس نہج پر پہنچا دیا گیا کہ عام و خاص دونوں کو شدید جانی و مالی نقصانات سے دوچار کر دیا گیا اور سوات کے بیشتر لوگوں کو آئی ڈی پیز بننے پر مجبور کر دیا گیا تب فیصلہ کن آپریشن "راہِ راست" کا آغاز کر دیا گیا۔ 
	"راہِ راست" کی کام یابی کے بعد اہل سوات کو مکمل امن کی نوید دی گئی اور انھیں واپس اپنے علاقوں میں جانے کی اجازت دے دی گئی۔ عوام خوش تھے کہ پاک فوج نے انھیں عسکریت پسندوں سے نجات دلائی اور ان کا علاقہ شرپسندوں سے پاک کیا۔ اس کے بعد سرچ آپریشنوں اور کرفیو کا دراز ہوتا سلسلہ شروع ہوا اور گناہ گاروں اور بہت سے بے گناہ لوگوں کی گرفتاریاں شروع ہوئیں۔ ان میں ایسے لوگوں کو بھی گرفتار کر لیا گیا جنھوں نے عسکریت پسندوں کے ڈر سے انھیں کھانا کھلایا تھا یا چائے پلائی تھی۔ جن لوگوں نے فضل اللہ کے بہکاوے میں آ کر جرائم کئے، انھیں کیفر کردار تک پہنچایا گیا اور اس پر اہل سوات خوش بھی ہیں کہ ان لوگوں کے کئے کی یہی سزا ہو سکتی تھی جنھوں نے اپنے علاقے اور اپنے ہی لوگوں کو ناقابل تلافی نقصان سے دوچار کر دیا ہے لیکن اہل سوات اس بات پر ناخوش بھی ہیں کہ سوات میں بدامنی پیدا کرنے والے "اصل" یا"بڑے لوگ" ابھی تک "محفوظ" ہیں اور انھیں ان کے دانستہ جرائم کی سزا دانستہ طور پر نہیں دی جا رہی ہے۔ تاہم بعض وہ لوگ جنھوں نے عملاً جرائم نہیں کئے اور وہ عسکریت پسندوں کا محض ساتھ دیتے رہے تھے، ان کے ساتھ وہی سلوک کرنا چاہئے تھا جو والدین اپنے بگڑے ہوئے یا راہِ راست سے بھٹکے ہوئے بچوں کے ساتھ کرتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے پاک فوج نے دو اہم ادارے "سباؤن" اور "راستون" (جسے بعد میں "مشال" کا نام دیا گیا) قائم کئے ہیں۔ پہلے ادارے "سباؤن" میں 18 سال تک کے بگڑے ہوئے نوجوانوں کی برین واشنگ کی جاتی ہے جب کہ "مشال" میں پہلے 25 سال اور بعد ازاں 33 سال تک کے افراد کو "راہِ راست" پر لانے کے لیے ماہرین کی خدمات حاصل کر لی گئی ہیں۔ ہم شرپسندوں اور عسکریت پسندوں سے کسی قسم کی ہمدردی نہیں رکھتے لیکن یہ کہنا بھی ضروری سمجھتے ہیں کہ پاک فوج اس ملک کا سب سے منظم اور محب وطن ادارہ ہے۔ یہ ملک کی اندرونی اور بیرونی سلامتی کا بارِ گراں اٹھائے ہوئے اپنے فرائض بہ حسن و خوبی ادا کر رہا ہے۔ اس لیے اگر پاک فوج پر م اور ائے عدالت قتلوں کا الزام لگتا ہے تو اس سے اس پاک ادارے کی ساکھ متاثر ہو سکتی ہے۔ ہم نہیں سمجھتے کہ پاک فوج پر جو الزام لگ رہا ہے، اس میں کوئی صداقت ہو گی لیکن اگر ایسا کوئی الزام لگ رہا ہے اور وہ بھی "وکی لیکس" اور سپریم کورٹ بار کی صدر عاصمہ جہانگیر جیسی اہم شخصیت کے منہ سے تو اس کی تحقیقات ہونی چاہئیں۔ 
	ہم پاک فوج کے ذمہ داروں کو ان سطور کے ذریعے یہ تجویز دینا چاہیں گے کہ جو لوگ "طالبان" کے نام سے ان کی قید میں ہیں اور انھوں نے عملاً کوئی سنگین جرم نہیں کیا ہے، انھیں ان کی عمر کی مطابق مذکورہ اداروں میں ماہرین نفسیات و بشریات کے زیر نگرانی راہِ راست پر لانا چاہئے کیوں کہ یہ لوگ اس پاک مٹی سے تعلق رکھتے ہیں، یہ کوئی بیرون ملک سے آئے ہوئے دہشت گرد نہیں ہیں۔ جن لوگوں کی اصلاح ہو سکتی ہے، انھیں تربیت کی بھٹی سے گزارنا چاہئے اور پھر انھیں ان کے بڑوں اور ذمہ دار رشتہ داروں کی ضمانت پر رہا کرنا چاہئے تاکہ وہ اس معاشرے کے کارآمد اور پُر امن شہری بن سکیں۔ کیوں کہ جو لوگ مارے جاتے ہیں ان کے بیوی بچے دربدر ہو جاتے ہیں۔ ان کی زندگی جیتے جی جہنم میں گزرنے لگتی ہے کہ ہمارے ملک میں تو کوئی ایسا نظام یا ادارہ موجود نہیں جو جرائم پیشہ لوگوں کے بے گناہ اور پُر امن بیوی بچوں کی کفالت کے لیے کچھ کر سکے یہی وجہ ہے کہ ان مجرم لوگوں کی بیویاں اور بچے مزید معاشرتی مسائل پیدا کرنے کا سبب بن جاتے ہیں اور بعض تو انتقاماً دہشت گردوں اور جرائم پیشہ لوگوں کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں۔ اس لیے ہم پاک فوج کے اعلیٰ افسروں کی خدمت میں یہ گزارش پیش کریں گے کہ راہِ راست سے ہٹنے والے وہ لوگ جن کی اصلاح ہو سکتی ہے، انھیں زندگی کی طرف لوٹ جانے کا موقع دیا جائے کہ یہ ہمارے اپنے لوگ ہیں، وہ اس مٹی کے فرزند ہیں، بس بعض ریاستی اداروں کی غفلت کی وجہ سے وہ انسانیت دشمن لوگوں کے ہتھے چڑھ گئے تھے۔ 
	 امن کمیٹی اور جرگوں کے جو عمائدین یہ کہتے ہیں کہ عاصمہ جہانگیر اس وقت کہاں تھیں جب سوات میں گلے کاٹے جا رہے تھے اور جب سوات میں خون کی ندیاں بہائی جا رہی تھیں تو انسانی حقوق والے کیوں خاموش تھے  … ؟ تو ان کی خدمت میں عرض ہے کہ جب یہ سب کچھ ہو رہا تھا تو آپ جیسے ذمہ دار اور معاشرے کے با عزت اور با اثر لوگ کہاں تھے؟ بلکہ بعض وہ حضرات جو آج فوج کے گن گاتے ہیں اور فضل اللہ اور ان کے ساتھیوں کے خلاف بیان بازی میں پیش پیش ہیں، ان میں اکثر فضل اللہ کے اوّلین حامیوں میں سے تھے اور کمشنر سید محمد جاوید کی طرح ان کے پیروکار اور مالی معاون بنے ہوئے تھے یہی وجہ تھی کہ فضل اللہ کو بہت کم وقت میں اتنی پذیرائی مل گئی تھی۔ اس وقت آپ میں سے بہت سے اقتدار میں ہیں اور ہمیشہ عوام کی رہنمائی کا دعویٰ کرتے رہے ہیں، وہ سوات سے کیوں بھاگ گئے تھے؟ کیا اس وقت آپ لوگوں کی ذمہ داری نہیں بنتی تھی کہ عوام کو ساتھ ملا کر شرپسندوں کے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جاتے؟ عوام کے مردہ تنوں میں نئی روح پھونک کر انھیں شرپسندوں کے خلاف صف آراء کرتے۔ اُس وقت قیام امن عاصمہ جہانگیر کی ذمہ داری نہیں تھی بلکہ اصل ذمہ داری مقامی سیاسی و سماجی لیڈر شپ کی بنتی تھی۔ آپ جیسے با عزت اور معتمد لوگوں کی بنتی تھی اور ریاستی اداروں کی بنتی تھی لیکن افسوس سب سے پہلے تو یہی لوگ سوات سے بھاگ گئے تھے۔ 

 (25 اپریل 2011ء) 
٭٭٭

مصنف کی اجازت اور تشکر کے ساتھ
ان پیج سے تبدیلی، تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید
