﻿



انوَار سَاطعَہ
در  بیان مولود  و  فاتحہ

حافظ محمد عبد السمیع سہارن پوری
 [۱۳۱۸ھ؍۱۹۰۰ء]
تسہیل و تجدید، تخریج و تحقیق
 محمد افروز قادری چریاکوٹی
دلاص یونیورسٹی،کیپ ٹاؤن،ساؤتھ افریقہ

اس کتاب کی محض چوتھائی حصے کی مکمل پروف ریڈنگ اور تصحیح کی جا سکی ہے۔ اس کے متن پر مکمل اعتماد نہ کیا جائے








آغازِ سخن

یہ ایک حقیقت ہے کہ عقائد و معمولاتِ اہل سنت و جماعت خصوصاً میلاد و فاتحہ وغیرہ کے موضوع پر تحریر کی گئی اپنی نوعیت کی بے مثال کتاب’’ انوارِ ساطعہ در بیان مولود و فاتحہ ‘‘ مدتوں سے موقوف الاشاعت رہی، اور ارباب علم و دانش کے علاوہ عام لوگوں کی نگاہوں سے عرصہ سے اوجھل رہی۔ جائے افسوس ہے کہ اس کے جواب میں لکھی گئی رسوائے زمانہ کتاب ’’براہین قاطعہ‘‘ تو ہزاروں ہزار کی تعداد میں متعدد اڈیشنوں کے چولے پہن کر منظر عام پر آئے، اور دلائل و تحقیقات کے اُجالے بکھیر بکھیر دینے والی کتاب’’ انوارِ ساطعہ‘‘ گوشہ گمنامی میں پڑی رہے !، اِسے اپنوں کی بے اعتنائی کے علاوہ اور کیا نام دیا جائے۔لیکن   الحمدللہ  اب غفلت کے دھندلکے چھٹنے لگے ہیں اور انوارِ ساطعہ کی اشاعت کا مبارک سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ حال ہی میں دو خوبصورت نسخے حلیہ طبع سے آراستہ ہو کر منظر عام پر آ چکے ہیں، ان میں ایک توالجامعۃُ الاشرفیہ مبارک پور کے نباضِ وقت با ذوق طلبہ کی کوششوں کا ثمرہ ہے، اور دوسراجماعت کے ممتاز تصنیفی  و تربیتی ادارہ ’المجمع الاسلامی‘‘کا۔اللہ اُنھیں اُن کی خدمتوں کا بہتر صلہ عطا فرمائے۔
’’انوارِ ساطعہ در بیان مولود و فاتحہ ‘‘فاضل مصنف کے زمانے کی علمی،ادبی،تحقیقی اور ثقافتی بوقلمونیت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔یہ کتاب جہاں تفریق بین المسلمین کی تاریخ اور اس کے اسباب و عوامل پر بھرپور روشنی ڈالتی ہے وہیں علم غیب،مسئلہ حاضر و ناظر اور دوسرے اہم علمی و فقہی مسائل و مباحث کی گرہیں بھی کھولتی ہے۔ 
ان موضوعات پر اب تک خدا معلوم کتنی کتابیں معرض اشاعت میں آ چکی ہیں مگر ان میں حضرت رام پوری  رحمۃ اللہ علیہ  کا طرزِاستدلال،رنگ تحقیق،اندازِ نگارش اور وطیرۂ بحث دل چھوتا اور خاصا اچھوتا ہے۔علمائے حق اور ارباب فقہ و بصیرت کی تحریروں کاجو طرۂ امتیاز ہوتا ہے وہ اس کتاب کی سطرسطر سے چھلکا پڑتا ہے،ان تحریروں میں صلح و مصالحت کا رنگ چڑھانے اور برادرانِ طریقت کے درمیان مفاہمت و مواخات کی سنہری فضا قائم کرنے میں مصنف نے پوری فیاضی اور دریا دلی کا ثبوت پیش کیا ہے۔ فاضل مصنف نے منکرین کے بے سروپا اعتراضات کے  شائستہ انداز میں نہایت معقول جوابات دیے ہیں۔الزامی جواب کے التزام کے ساتھ ان گوشوں پر فقہی تحقیق و تدقیق کی نہریں بھی بہا دی ہیں۔
سچی بات بتاتا ہوں کہ اس کتاب سے میری دلچسپی صرف اسی حد تک تھی کہ میرے وطن مالوف کے ایک نامور ادیب، عالم و محقق مولانا محمد فاروق عباسی چریاکوٹی نے اس پر اپنی تقریظ  بے بہا ثبت کی ہے اور بس، غلطی سے بھی اس کتاب کو پڑھنے کی غلطی میں نے کبھی نہیں کی، مگر ہوا کچھ یوں کہ مصنف انوارِ ساطعہ سے متعلق اعلیٰ حضرت امام احمد رضا محدث بریلوی  قدس سرہ   کے بھاری بھرکم تعریفی الفاظ اور توصیفی کلمات نے میرے سمندشوق کو مہمیز لگا دیا اور اس طرح چیدہ چیدہ مقام سے ایک دفعہ پوری کتاب دیکھنے کا خیال پیدا ہوا، لیکن مشکل یہ درپیش ہوئی کہ قریباً تین سو صفحات پر بکھری ہوئی یہ کتاب کوئی ایک ہی پیراگراف پر اختتام پذیر ہو گئی ہے تو پیراگراف ختم ہونے کے انتظار میں مجھے پوری کتاب مجبورانہ پڑھ ڈالنا پڑا لیکن اس کا تاثر یہ ہوا کہ اب میرے افق ذہن پراس کتاب کی عظمت کا سورج پورا پورا خط نصف النہار پر آ چکا تھا، اور اس پر کچھ کر گزرنے کا جذبہ بیدار ہو چکا تھا۔ 
اس کتاب کے عوام و خواص ہر ایک کی خاطر یکساں مفید ہونے کے لیے ضروری تھا کہ یہ کتاب اپنا پیراہن کہن بدلے، اور اپنی افادیت میں اضافہ کرنے کے لیے تحقیق و تخریج کی قبا زیب تن کرے۔ مرشد گرامی قدر حضور سیدی علامہ محمد  عبد المبین نعمانی قادری  دام ظلہ النورانی  بھی اس کی تسہیل و تخریج سے متعلق کئی بار اپنی نیک خواہشوں کا اظہار فرما چکے تھے۔ مگر یہ کارِ زہرہ گداز کرے کون؟۔۔۔۔۔۔
اسی دوران اللہ رب العزت نے محض اپنے فضل فراواں سے مجھ ناکارۂ جہاں کے لیے دلاص یونیورسٹی، جنوب افریقہ  میں تدریسی خدمات سرانجام دینے کا ایک خوبصورت بہانہ کر دیا۔ تعطیل کلاں میں کچھ اس کتاب پر کام کرنے کی لگن پیدا ہوئی مگر اوّل تو انوارِ ساطعہ ہی اپنے پاس نہ تھی اور پھر اس پر مستزادیہ کہ تحقیق و تخریج کے لیے ناگزیر کتابوں کی عدم فراہمی۔ انجام کار موسم کی یخ بستگی کے ساتھ میرے جذبات بھی ٹھنڈے پڑ گئے۔ 
پھر یکایک اسباب بہم ہونے شروع ہوئے،انٹرنیٹ کی وساطت سے انوارِ ساطعہ بھی مل گئی اور تحقیق و تخریج کے لیے انٹرنیٹ کی مدد سے ہزاروں سے زائد امہات الکتب کا انبوہِ کثیر بھی ہاتھ آ گیا۔  پھر کیا تھا ’’چل مرے خامہ بسم اللہ‘‘ کا  وِرد کر کے ۴ا ؍ صفر مظفر  ۱۴۲۸ھ  مطابق ۴ ؍ مارچ  ۲۰۰۷ء  کو میں نے تسہیل و تجدید اور تخریج و تحقیق کا عمل شروع کر دیا۔ اس دوران بعض مقامات پر سخت مایوسی کا سامنابھی ہوا مگر پھر اُن کی تحلیل کی صورتیں بھی پیدا ہوتی گئیں۔ اس طرح کم و بیش ساڑھے تین ماہ کی جی توڑ کوششوں اور موٹی گاڑھی محنتوں کے بعد ۲۹ ؍ جمادی الآخرہ  ۱۴۲۸ھ مطابق ۱۷؍جون  ۲۰۰۷ء  میں تسہیل و تحقیق کا یہ آہوئے پر شوق حرم رسیدہ ہو گیا۔ فلِلّٰہ الحَمْدُ و المِنَّۃ۔
تحقیق و تخریج کے حوالے سے ایک ضروری عرض یہ ہے کہ حوالہ جات مطبوعہ کتابوں سے نسبتاًکم اور انٹرنیٹ کی وساطت سے زیادہ درج کیے گئے ہیں ، اس لیے حوالوں میں مطابع کتب کا کوئی اہتمام نہیں ہوا ہے، تاہم کتب حدیث کے ساتھ حدیثوں کے نمبر اور کتب فقہ وغیرہ میں اَبواب کی تعیین کا اِلتزام کر کے اس ضرورت کی کسی حد تک تکمیل کرنے کی کوشش کر دی گئی ہے۔ 
میں کہ اپنے جیب و داماں زیورِ علم سے خالی پا کر تخریج و تحقیق کے اس اہم کام کے لیے کبھی ہمت نہیں جٹا سکا تھا مگر پروردگار عالم میرے ارباب فیض و کرم پر اپنی عطا و  نوال کے مینہ برسائے جنھوں نے ہر آڑے وقت پر اپنا علمی و فکری تعاون فرما کر میرے حوصلوں کو توانا رکھا۔دینی علم وفکرسے اپاہج شہر میں بیٹھ کراس طرح کے علمی کام سرانجام دینا اور بھی مشکل ہو جاتا ہے،وہ صرف توفیق اِلٰہی ہی کا کمال ہے جس کی وجہ سے ایسا کچھ کر دینا میرے لیے ممکن ہوسکا۔ 
اس موقع پر میں جماعت کا سچادرد رکھنے والی اور اصلاح اُمت کے حوالے سے ہمہ وقت فکر مند رہنے والی حضور نعمانی صاحب قبلہ کی عبقری شخصیت کاکیسے شکر ادا کروں جنھوں نے کثرتِ کار اور ہجوم افکار کے با وصف پوری کتاب حرفاً حرفاً  ملاحظہ فرمائی، اور اپنی گراں قدر اصلاحات و ہدایات سے مجھے نوازا۔میرے دیرینہ دوست ڈاکٹر مختار گل ہاشمی بھی میرے سپاس کے بھرپور سزاوارہیں جنھوں نے ہر موقع پر اپنا دست تعاون دراز کرنے میں کبھی بخل سے کام نہ لیا،ساتھ ہی اپنے جملہ اساتذہ و معاونین کے لیے بھی تشکر و امتنان کے جو جذبات درونِ دل چھپے ہیں شاید اُن کی تعبیر سے حرف  وصوت آشنا نہ ہوسکیں،شکرو سپاس کے رسمی الفاظ کسی طور اُن حضرات کی خدمتوں کا صلہ نہیں ہوسکتے، ان کی بہترین خدمات کابس اللہ ہی انھیں بہتر اَجر دے۔ آمین۔
اس میں کوئی شبہ نہیں کہ انوارِ ساطعہ اپنی سلاست و سادگی،عبارت کی دل نشینی و پختگی اور تحقیق کی ندرت و عمدگی کے اعتبارسے آج بھی ایک مفید اور زندہ و تابندہ کتاب ہے۔ہاں !اس کے بعض الفاظ و فقرے ضرور تشریح طلب تھے،نیز فاضل مصنف کے زمانے کا طریق اِملا کچھ اور تھا، خصوصاً علامات اوقاف کے استعمال کا تو پہلے کوئی دستور ہی نہ تھا، پھر بعد میں طریق اِملا  تدریجاً اصلاح پاتا رہا، لہٰذا ضروری تھا کہ قدیم طریق اِملا چھوڑ کر جدیدرسم املا اختیار کیا جاتا اور جا بجا اوقاف لگا دیے جاتے تاکہ عبارت عام فہم بن جائے اور کتاب کی افادی حیثیت بڑھ جائے۔ ہم نے  بحمد اللہ   اس کتاب کے اندر تحقیق و تخریج کی بابت جہاں عالم عرب کا اسلوب جدید اپنایا ہے وہیں تسہیل و تجدید کے سلسلے میں فاضل مصنف کے عہد کا طریق اِملا چھوڑ کر مروجہ طریق اِملا بھی اختیار کیا ہے۔مثلاً :
٭	فاضل مصنف کے زمانے میں بعض الفاظ ملا کر لکھنے کا دستورتھاجیسے: ’’جانکر‘‘، ’’تمکو‘‘ وغیرہ، پیش نظر کتاب میں ہر لفظ جدا جدا لکھا گیا ہے۔’’جان کر‘‘،’’تم کو‘‘۔
٭	فاضل مصنف کے دور میں ’’ہو‘‘ اور ’’جائے‘‘ کو ’’ہووے‘‘ اور ’’جاوے‘‘ لکھا جاتا تھا۔پیش نظر کتاب میں موجودہ طریقہ اختیار کیا گیا ہے۔
٭	پوری کتاب میں جا بجا اوقاف لگا دیے گئے ہیں تاکہ فقرے اور جملے ممتاز رہیں، اس سلسلے میں بعض مقامات سے ’’ اور ‘‘یا اس قسم کے دوسرے الفاظ حذف کر دیے گئے ہیں جو دراصل الٹے واؤ(کاما) اور وقفے (ڈیش) کا بدل تھے۔
	ہمارے نزدیک ان میں سے کسی بھی چیز کو متن میں تبدیلی قرار نہیں دیا جا سکتا، اسے صرف طریق املا کا فرق کہنا چاہیے۔
٭	جن الفاظ یا فقرات کا مفہوم توضیح طلب تھا ان کی توضیح حاشیے میں کر دی گئی ہے یا متن میں قوسین کے اندر ایک لفظ یا چند الفاظ بڑھا دیے گئے ہیں۔
٭	جو احادیث متن میں جزوی طور پر نقل تھیں انھیں حاشیے میں مکمل کر دیا گیا ہے،نیز حدیث کا اصل متن بھی لکھ دیا گیا ہے۔
٭	فاضل مصنف نے بعض آیات کے ترجمے میں صرف مطالب قرآنی اور اپنا مقصد پیش نظر رکھا ہے اور بعض چھوڑ دی ہیں،ہم نے ہر جگہ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا محدث بریلوی علیہ الرحمہ  کا ترجمہ قرآن کنز الایمان درج کر دیا ہے۔
تسہیل و تجدید،تہذیب و تذہیب اور تخریج و تحقیق کی یہ حقیر کاوش آپ کے سامنے ہے۔ بساط بھر کوشش کی گئی ہے کہ کتاب کا مطالعہ زیادہ سے زیادہ سہل وآسان اور قلب و نظر کی جاذبیت کا سامان ہو جائے۔اب اپنے مقصد میں ہم کتنے کامیاب ہوئے ہیں اس کا فیصلہ تو با ذوق اہل علم ہی کریں گے۔ ہاں !  اس سلسلے میں ملنے والی کامیابی کو ہم اللہ  سبحانہ و تعالیٰ  کے فضل بے کراں کا کرشمہ تصور کرتے ہیں، اور کہیں فروگزاشت ہوئی ہو تو اسے اپنے فکرو  نظر کی لغزش سمجھتے ہوئے قارئین کرام سے معذرت خواہ ہیں۔
ہماری اس کوشش کا مقصد اس کے سواکچھ نہیں کہ فاضل مصنف  رحمہ اللہ کے اس اہم علمی اور تحقیقی کارنامے سے استفادے کا دائرہ وسیع سے وسیع ت رہو جائے، اور امت مسلمہ پامردی کے ساتھ اپنے اسلاف کے نقش قدم پر جادہ پیما ہو جائے کیوں کہ ہماری ہر کامیابی انھیں کے قدموں کی برکتوں کا استعارہ ہے۔
دعا ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ‘ معلم کائنات صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے نعلین پاک کے صدقے ہمیں کتاب و سنت کی صحیح سمجھ عطا فرمائے، کدورت و نفرت کے اندھیروں کو اُلفت  و محبت کے اُجالوں سے بدل دے اور دارین کی سعادتوں والے کام سر انجام دینے کی توفیق ہمارے رفیق حال کر دے۔
آمین بجاہِ حبیبک سیّد المُرسَلین::علیہ أفضَل الصَّلٰوۃ وَأکرم التَّسْلیم
ناکارۂ جہاں  :محمد  افروز قادری چریاکوٹی
پروفیسر: دلاص یونیورسٹی۔کیپ ٹاؤن،جنوبی افریقہ، ایڈیٹر: ماہنامہ چراغِ اُردو، کیپ ٹاؤن، جنوبی افریقہ

تقریب
نحمدہ و نصلی و نسلم علی رسولہ الکریم و علیٰ آلہ و صحبہ و حزبہ اجمعین

’’انوارِ ساطعہ در بیان مولود و فاتحہ‘‘ علامہ مولانا حافظ محمد  عبدالسمیع بے دؔل رام پوری (سہارن پوری) علمائے ہند میں بڑے با عظمت عالم دین گزرے ہیں۔ حق آگاہ حضرت شاہ حاجی امداد اللہ مہاجر مکی علیہ الرحمہ  کے خلفا و مریدین میں بھی بلند مقام کے حامل تھے، لیکن چوں کہ اہل حق ہمیشہ مظلوم رہے ہیں آپ بھی اسی مظلومیت کا شکار ہو گئے کہ ’’انوارِ ساطعہ‘‘ جیسی جلیل القدر عظیم الشان اور علمی و تحقیقی کتاب کے مصنف ہونے کے باوجود آپ کا قرار واقعی تعارف نہ ہوسکا، نہ ہی آپ کی یہ کتاب مستطاب خاطر خواہ اشاعت پذیر ہوسکی، جب کہ کتاب کا موضوع ایسا ہے کہ اس کو بار بار اور خوب چھپنا چاہیے تھا، شاید اس کی وجہ یہ بھی ہو کہ کتاب خالص علمی مباحث پر مشتمل ہے اور کہیں کہیں ایسی فنی بحثیں بھی ہیں جن کا سمجھنا عام لوگوں کے بس کی بات نہیں۔ ہاں ! کتاب واقعاتِ میلاد پر ہوتی تو خوب چلتی اور بار بار چھپتی ، جیسا کہ اسی عہد کی لکھی ہوئی ایک کتاب ’’میلادِ اکبر‘‘ مصنفہ مولوی اکبر علی وارثی میرٹھی کا حال ہے کہ تا حال اس کے کتنے ایڈیشن نکلے اس کو جاننا بھی ایک امر دشوار ہے۔
 میرے علم میں تقریباً ساٹھ سال سے یہ کتاب مارکیٹ سے غائب ہے۔تقسیم ہند سے قبل حضرت صدر الافاضل مولانا شاہ نعیم الدین مرادآبادی علیہ الرحمہ صاحب تفسیرخزائن العرفان نے اپنے مطبع نعیمی مرادآباد سے اسے شائع کیا تھا جو نسخہ میرے پیش نظر ہے اس کا نہ ٹائٹل ہے نہ ہی اس پر کوئی تاریخ اشاعت۔کتاب پورے تین سو صفحات پر مشتمل ہے اور سائز متوسط سے کچھ بڑا ہے جو اس وقت کا مقبول عام سائز ہے۔
کتاب کیا ہے! زروجواہرسے پُر ہے، ایسے ایسے علمی نکات اس میں آفتاب کی طرح روشن اور انگوٹھی کے نگینے کی طرح جڑے ہوئے ہیں کہ پڑھتے ہی ذہن و دماغ کی گرہیں کھل جائیں۔ اور دل بینا کی روشنی بڑھ جائے۔ وقت کے ایسے ایسے اکابرواساطین کی تصدیقات وتقریظات اس پر ثبت ہیں کہ جن میں ہر ایک عظمت کا مینار کہے جانے کے لائق ہے۔ ذرا ایک نظر ان کے ناموں پر توڈال لیں  :
ابوالحسنات مولاناعبد الحئی لکھنوی فرنگی محلّی   			(۱۳۰۴ھ)
مولانافیض الحسن سہارن پوری   			(۱۳۰۴ھ؍۱۸۸۷ء)
پایۂ حرمین حضرت مولانا رحمت اللہ کیرانوی مہاجر مکی   		(۱۳۰۸ھ)
مولانا مفتی محمد  ارشاد حسین مجددی رام پوری   		   	 ( ۱۳۱۱ھ)
مولانا غلام دستگیرقصوری   					(۱۳۱۵ھ)
حضرت شاہ حاجی امداد اللہ مہاجر مکی   				(۱۳۱۷ھ)
تاج الفحول مولانا عبد القادر بدایونی   				(۱۳۱۹ھ)
مولانا وکیل احمد حنفی سکندرپوری   			 (۱۳۲۲ھ؍۱۹۰۴ء)
مولانا محمد فاروق عباسی چریاکوٹی   				(۱۳۲۷ھ)
مفتی محمد لطف اللہ علی گڑھی   				 (۱۳۳۴ھ؍۱۹۱۶ء)
 مولانا ابو محمد  عبد الحق حقانی دہلوی صاحب تفسیر حقانی   		(۱۳۳۵ھ)
مولانا محمد عبد المجید فرنگی محلّی لکھنوی   				 (۱۳۴۰ھ)	
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا محدث بریلوی  		   (۱۳۴۰ھ؍۱۹۲۱ء)
یہ سب چودہویں صدی کے وہ اساطین و اکابر ہیں جن پر اعتماد کرنا ہمارے لیے باعث سعادت ہے، اور جن سے انحراف یقیناً گمراہی کا پیش خیمہ۔
ضرورت ہے کہ اس کتاب کو گھر گھر پہنچایا جائے، اس پر عمل کیا جائے، اور اس کے دلائل کو ذہنوں میں بٹھایا جائے تاکہ کوئی ہمیں راہِ مستقیم سے ہٹا نہ سکے۔
زیر نظر کتاب ’’انوارِ ساطعہ‘‘ کے دو ایڈیشن حال ہی میں طلبہ الجامعۃ الاشرفیہ مبارک پور اور الجمع الاسلامی کی طرف سے شائع ہوئے اور ہاتھوں ہاتھ نکل گئے۔ اب یہ تیسرا ایڈیشن فاضل جوان عزیز گرامی قدر مولانا محمد  افروز قادری چریاکوٹی  زید مجدہ  کی تخریج  و تحقیق اور تسہیل و تجدید کے ساتھ منظر عام پر لایا گیا ہے جو سابقہ تمام نسخوں سے زیادہ اہمیت و افادیت کا حامل ہے۔ تخریج میں مولانا نے جو محنت کی ہے وہ ہر مطالعہ کرنے والے پر عیاں ہے۔ احادیث اور فقہی عبارات کی تخریج توبآسانی عمل میں آ گئی ہے البتہ بعض دیگر کتب و رسائل دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے تخریج کی گرفت سے رہ گئے ہیں۔ شاید آئندہ اُن کتابوں کی دستیابی کے بعد یہ کام بھی پایہ تکمیل تک پہنچے گا  انشاء اللہ تعالیٰ  مولا تعالیٰ موصوف کی مساعی جمیلہ کو مشکور فرمائے اور انھیں مزید اس قسم کے علمی و دینی کاموں کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ حبیبہ الکریم علیہ وعلیٰ آلہ اکرم الصلوٰۃ والتسلیم۔

۴؍صفر المظفر ۱۴۲۹ھ			محمد عبد المبین نعمانی قادری
۱۳؍ مارچ  ۲۰۰۸ء		       دار العلوم قادریہ چریاکوٹ، مؤ (یوپی)


تقدیم نفیس صاحب انوارِ ساطعہ
حضرت علامہ شیخ محمد  عبد السمیع انصاری رام پوری  علیہ الرحمۃ والرضوان 

 نام: محمد  عبد السمیع،تخلص:بے دلؔ ہے۔ آپ اپنے وطن رام پور منیہاران،ضلع سہارن پور میں پیدا ہوئے جو سہارن پور، شاملی،دہلی برانچ لائن پر سہارن پور شہر سے تقریباً اڑتیس کلو میٹر کی دور ی پر واقع ہے۔(۱) آپ کا نسبی رشتہ شیخ الاسلام خواجہ عبد اللہ انصاری کے واسطے سے مشہور صحابیِ رسول حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ملتا ہے۔ (۲)
ابتدائی تعلیم پایۂ حرمین حضرت مولانا رحمت اللہ کیرانوی مہاجر مکی (بانی مدرسہ صولتیہ، مکہ مکرمہ،متوفی ۱۳۰۸ھ ) سے حاصل کی(۳)۔مولانا رحمت اللہ کیرانوی نے ۱۲۷۰ھ سے قبل قصبہ کیرانہ میں ایک دینی مدرسہ قائم کیا تھا،اس مدرسہ سے سیکڑوں تشنگانِ علوم نے پیاس بجھائی، اسی مدرسے میں مولانا رام پوری نے مولانا کیرانوی سے تعلیم حاصل کی، ان کے علاوہ مولانا احمد علی محدث سہارن پوری، مولانا سعادت علی سہارن پوری، مولانا شیخ محمد  تھانوی اور مولوی محمد  قاسم نانوتوی سے بھی تعلیم پائی۔(۴) 
پھر ۱۲۷۰ھ مطابق ۱۸۵۴ء میں آپ نے مزید تعلیم حاصل کرنے کے لیے مرکز علم و ادب دہلی کا رخ کیا، اور علمائے دہلی خصوصاً صدر الصدور حضرت مولانا مفتی صدر الدین آزردہؔ دہلوی سے عربی علوم و فنون کی کتابیں پڑھیں۔ انہیں ایام میں شعر گوئی کا شوق ہوا تو اردو کے مشہور شاعر مرزا اسد اللہ خاں غالبؔ دہلوی کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان کی شاگردی اختیار کی۔ ’’بے دل ‘‘ تخلص تھا۔ ابتدا میں طبیعت غزل کی طرف زیادہ مائل رہی۔بعد میں اس رسمی شاعری کو چھوڑ کر اپنی تمام تر توجہ مذہبی علوم ومسائل پر محدود کر دی۔(۵)
حمد باری، نور ایمان، اور سلسبیل جیسے منظوم رسالے آپ کی شاعرانہ مہارت کا منھ بولتا ثبوت ہیں۔ ان کے علاوہ ایک نعتیہ دیوان بھی ہے۔(۶)
مولانا رام پوری سلسلۂ چشتیہ صابریہ میں اپنے وقت کے مشہور مرشدِ طریقت شیخ المشائخ حضرت مولانا الحاج امداد اللہ فاروقی چشتی تھانوی مہاجر مکی علیہ الرحمہ (م ۱۳۱۷ھ) سے بیعت تھے۔ آپ کو حضرت حاجی صاحب موصوف سے اجازت و خلافت بھی حاصل تھی،آپ نہایت محتاط، تقویٰ شعار،پرہیز گار اور کامل الاحوال بزرگ تھے۔
مشہور مخیر رئیس حافظ عبد الکریم، رئیس لال کرتی میرٹھ نے اپنے لڑکوں کی تعلیم و تربیت کے لیے آپ کو بارہ روپئے اور روٹی پر مدرس رکھ لیا۔ مدرس ہونے کے بعد دونوں وقت انواع و اقسام کے کھانے پہنچنے لگے، مگر آپ کا معمول یہ رہا کہ ان میں سے کچھ بھی تناول نہ فرماتے، صرف روٹی کھا کر پانی پی لیتے۔ حافظ عبد الکریم صاحب کو خبر ہوئی۔ بلا کر تحقیقِ حال کرنی چاہی اور پوچھا کہ کیا کھانا پسند نہیں آتا،کہ آپ ایسا کرتے ہیں ؟آپ نے بڑی سادگی سے دو ٹوک جواب دیا: کھانے میں کوئی کمی نہیں، بات در اصل یہ ہے کہ معاملہ طے کرنے کے وقت صرف ’’روٹی‘‘ طے ہوئی تھی، اس لیے باقی چیزوں کے کھانے کا مجھے حق نہ تھا۔(۷ )
آپ حاجی امداد اللہ صاحب مہاجر مکی کے ان خلفا میں تھے جنھیں حاجی صاحب نے از خود خلافت دی تھی۔ آپ نے پوری طرح مذہب اہلِ سنت کے عقائد و افکار اور مشربِ صوفیہ کے وظائف و معمولات میں اپنے شیخ و مرشد کی پے روی کی۔ اور مشائخ کے روحانی فیوض و برکات سے بہرہ ور ہوئے۔
	امدادُ المشتاق میں خود حاجی امداد اللہ مہاجر مکی نے اپنے خلفا کے بارے میں فرمایا  :
میرے خلفا دو قسم کے ہیں : ایک وہ جنھیں میں نے از خود خلافت دی ہے۔دوسرے وہ جن کو تبلیغِ دین کے لیے ان کی درخواست پر اجازت دی ہے۔
جن خلفا کو از خود خلافت دی ہے انھوں نے پوری طرح حاجی صاحب کی اتباع کی۔ مثلاً مولانا لطف اللہ علی گڑھی (متوفی ۱۳۳۴ھ)، مولانا احمد حسن کان پوری(متوفی ۱۳۲۲ھ)، مولانا محمد  حسین الٰہ آبادی(متوفی ۱۳۲۲ھ) اور مولانا محمد عبد السمیع رام پوری (متوفی ۱۳۱۸ھ)۔
 اور جن خلفا نے حاجی صاحب سے اختلاف کیا ان میں مولوی محمد قاسم نانوتوی (م۱۲۹۷ھ)، مولوی رشید احمد گنگوہی(م۱۳۲۲ھ) اور مولوی اشرف علی تھانوی(م۱۳۶۲ھ) کے نام سرِ فہرست ہیں۔(۱)
اردو کے مشہور ادیب اور قلم کار مالک رام نے تلامذۂ غالب میں لکھا کہ مولانا رام پوری کی فارسی اور عربی کی استعداد بہت اچھی تھی۔(۲)
خود آپ کی کتاب انوارِ ساطعہ کا انصاف و دیانت کے ساتھ مطالعہ کرنے والا اس نتیجے پر پہنچے بغیر نہیں رہ سکتا کہ مذہبی علوم و فنون اور علومِ عقلیہ میں آپ کا پایہ بہت بلند اور آپ کا مطالعہ بہت وسیع تھا، جیسا کہ ان کے بزرگوں اور معاصر علمائے کرام نے انوارِ ساطعہ پر اپنی تقریظات میں کھلے دل سے ان کے علمی تبحر و کمال کا اعتراف کیا ہے۔ انوارِ ساطعہ میں مولانا نے اس عالمانہ اسلوب میں بحث کی ہے کہ طبیعت پھڑک اٹھتی ہے، اور دل کی ا تھاہ گہرائیوں سے ان کے لیے دعا نکلتی ہے۔
مولانا رام پوری علیہ الرحمہ نے اسّی، نوّے کے درمیان عمر پائی اور میرٹھ میں ۱۳۱۸ھ مطابق ۱۹۰۰ء میں انتقال ہوا اور وہیں قبرستان حضرت شاہ ولایت قدس سرہ میں مدفون ہوئے۔ مولانا حکیم محمد  میاں آپ کے فرزند تھے۱۹۴۰ء میں ان کی رحلت ہو گئی۔ حکیم صاحب کی اولاد میں صرف دو لڑکیاں تھیں، اولادِ نرینہ کوئی نہ تھی۔
مولانا عبد السمیع رام پوری علیہ الرحمہ نے درج ذیل کتابیں یاد گار چھوڑی ہیں :
(۱:  نور ایمان (منظوم)  (۲:  سلسبیل (منظوم)  (۳:  راحت قلوب  (۴:  بہارِ جنت
 (۵:  مظہر حق  (۶:   حمد باری  (۷:  انوار ساطعہ در بیان مولود و فاتحہ  (۸:  دافع 
الاوہام فی محفل خیرالانام  (۹:  قول النبی فی تحقیق السلام علیک ایہا النبی۔  (۱)
(۱) 	صابری سلسلہ، از وحید احمد مسعود، بدایوں، ۱۹۷۱ء۔
(۲)	مفتی صدر الدین آزردہؔ، از عبد الرحمان پرواز،ص۱۲۹۔
(۳) 	تذکرہ علمائے اہلِ سنت،ص۱۶۸۔
۔۔۔۔۔۔۔
(۱)	البراہین النافعہ، سید قمر الدین اشرف، علی گڑھ، ص: ۲۷، تقسیم کار ڈی، بی، بلڈنگ، نوتنواں بازار، ضلع مہراج گنج یو۔ پی۔ ۲۰۰۳ء۔
(۲)	تذکرۂ علمائے اہل سنت، مولانا محمود احمد قادری،ص: ۱۶۷، مطبوعہ سنی دارالاشاعت، فیصل آباد،پاکستان، ۱۹۹۲ء۔
(۳) 	مولانا عبد السمیع صاحب نے خود انوار ساطعہ ص:۔۔ (مطبوعہ۔۔۔۔) میں اپنے آپ کو مولانا رحمت اللہ کیرانوی کا شاگرد لکھا ہے اور انہیں بڑے گراں قدر علمی القاب سے نوازا ہے جس سے استاذ کے ساتھ گہرے رشتے اور گہری عقیدت کا اظہار ہوتا ہے۔ اور خود مولانا رحمت اللہ صاحب نے انوار ساطعہ اور تقدیس الوکیل عن توہین الرشید والخلیل (مؤلفہ مولانا غلام دستگیر قصوری ) پر اپنی تقریظات میں مولانا عبد السمیع رام پوری کو اپنا شاگرد کہا ہے۔ (تفصیل کے لیے دیکھئے انوار ساطعہ ص۔۔ مطبوعہ۔۔  وتقدیس الوکیل ص ۴۱۵،نوری بک ڈپو، دربار داتا صاحب، لاہور،پاکستان ) اور مولانا محمد  سلیم مکی، مہتمم مدرسہ صولیۃ، مکہ مکرمہ نے انہیں مولانا رحمت اللہ کیرانوی کے تلامذہ میں سرِ فہرست ذکر کیا ہے (دیکھئے ’’ایک مجاہد معمار ‘‘ ص ۱۸، مطبوعہ مدرسہ صولیۃ، مکہ مکرمہ، بحوالہ مقدمہ ’’بائبل سے قرآن تک ‘‘ ص ۱۸۳، مطبوعہ حافظی بک ڈپو، دیو بند ) 
(۴)	براہینِ قاطعہ،ص: ۹، کتب خانہ امدادیہ دیوبند۔
(۵)	مفتی صدر الدین آزردہؔ، از عبد الرحمن پرواز اصلاحی، ص ۱۲۹، مکتبہ جامعہ نئی دہلی طبع اول، جولائی ۱۹۷۷ء۔
 (۶الف) مصدر سابق (ب) تذکرہ علمائے اہل سنت از مولانا محمود احمد قادری، ص ۱۶۸، (ج) ’’ایک مجاہد معمار ‘‘ بحوالہ بائبل سے قرآن تک ‘‘ص ۱۶۷۔
 (۷)	 تذکرہ علمائے اہلِ سنت، ص۱۶۷


انوارِ ساطعہ کا تاریخی پس منظر

میلاد النبی اور فاتحۂ مروجہ کی اصل حدیثِ نبوی سے ثابت ہے، اسی لیے یہ ہمیشہ سے علما و مشائخ ملت اور اکابر امت کا معمول رہا ہے۔ محفل میلاد النبی کی اصل یہ ہے کہ سرورِ کائنات، فخر موجودات، سید الانبیا کی ولادتِ طیبہ اور سیرتِ طیبہ کو بیان کیا جائے۔ جامع ترمذی جو صحاح ستہ میں سے مشہور اور معتمد کتاب ہے، اس میں ایک باب ہے:  باب ما جاء فی میلاد النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم(ان احادیث کا بیان جو نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی ولادتِ طیبہ کے بارے میں آئی ہیں۔)  اس باب میں ایک حدیث صحابیِ رسول حضرت قیس بن مخرمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے  :
قَالَ : وُلِدَتُّ أنا و رسولُ اللّٰہِ عَامَ الفِیلِ۔ قال: وسأل عثمانُ بنُ عفّان قباثَ بنَ أَشْیمَ أخَا بني یَعْمر بن لیث :أنت أکبرُ أم رسولُ اللّٰہِ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ؟ فقال: رسولُ اللّٰہِ صلی اللّٰہ علیہ وسلم أکبَرُ مِنِّی،  وأنا أقدم منہ فی المیلاد۔(۱)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)	جامع ترمذی، ج: ۲؍ ص: ۲۰۲، مطبوعہ مجلس برکات، جامعہ اشرفیہ، مبارک پور، ۱۴۲۳ھ/ ۔۔۔۔۲۰۰۲ء۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
انھوں نے کہا:میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس سال پیدا ہوئے جس میں اصحابِ فیل کا واقعہ پیش آیا اور حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے قباث بن اشیم صحابی رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ تم بڑے ہو یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم؟ تو انھوں نے کہا : کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے بڑے ہیں، اور میں پیدائش میں ان سے پہلے ہوں۔
اس حدیث کی روشنی میں جہاں یہ ثابت ہوا کہ سرکار اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت طیبہ کا بیان نہ صرف جائز بلکہ صحابہ کا طریقہ ہے، وہیں یہ بھی معلوم ہوا کہ سرکار علیہ الصلوٰۃ و السلام کا ذکر نہایت تعظیم و ادب سے کرنا چاہیے، جس میں توہین و تنقیص کا ادنیٰ شائبہ بھی نہ ہو، کیوں کہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے سوال کا مقصد یہی تھا کہ اے قباث بن اشیم ! عمر میں آپ بڑے ہیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بڑے ہیں ؟ جس کا سیدھا سا جواب یہ تھا کہ ’’میں بڑا ہوں ‘‘۔ مگر اس میں بہ ظاہر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑے ہونے کی بات تھی تو صحابیِ رسول کو یہ بھی گوارا نہ ہوا اس لیے تعبیر بدل کر ایسا جواب دیا کہ ظاہر کے اعتبار سے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑے ہونے کا شائبہ نہ ہو اور فرمایا کہ ولادت میں میں ان سے مقدم اور پہلے ہوں۔ اسی طرح قرآن کریم کی آیت ’ قَدْ جَاءَ کُمْ مِنَ اللّٰہِ نُوْرٌ‘ ( یقیناً تمہارے پاس اللہ کی جانب سے ایک نور آ گیا)  اور آیت کریمہ  وَ مَا اَرْسَلْنٰکَ اِلَّا رَحْمَۃً لِّلْعٰلَمِین میں سرکار کی آمد کا ذکر ہے۔
اسی بنا پر سلفِ صالحین، علمائے دین، مشائخ طریقت اور اساطین امت محفل میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم منعقد کرتے رہے اور اس میں برابر شرکت کرتے رہے،حد یہ ہے کہ امام ابو شامہ استاذ امام نووی، امام ابن جزری، حافظ عماد الدین بن کثیر، حافظ زین الدین عراقی، امام ابن حجر عسقلانی، حافظ جلال الدین سیوطی،علامہ شہاب الدین قسطلانی، علامی عبد الباقی زرقانی مالکی،علامہ ملا علی قاری حنفی،شیخ عبد الحق محدث دہلوی، شاہ ولی اللہ محدث دہلوی وغیرہ بے شمار اساطینِ امت بلا نکیر محفل میں شریک ہوتے رہے، بلکہ بہت سے علمائے کرام نے محفل میلاد کے لیے مستقل کتابیں لکھیں۔صاحبِ انوار ساطعہ نے نورِ سوم کے لمعہ تاسعہ میں ان علما و محدثین اور مشائخ طریقت کی ایک لمبی فہرست پیش کی ہے۔ اسی طرح فاتحہ اور ایصالِ ثواب بھی پوری امت مسلمہ میں رائج تھا۔
یہی حالات تھے کہ مغلیہ حکومت کے زوال کے تقریباً بیس سال بعد سہارن پور اور اس کے اطراف کے چند اسلاف بیزار مولویوں نے اس عملِ خیر اور مجلسِ خیر کے خلاف آواز اٹھائی اور دہلی کے غیر مقلد وہابی علما سے یہ سوال کیا:
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ میں کہ مولود خوانی و مدحت حضور سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم ایسی ہیئت سے کہ جس مجلس میں امردانِ خوش الحان گانے والے ہوں، اور زیب و زینت و شیرینی و روشنی ہائے کثیرہ ہو اور رسولِ مقبول صلی اللہ علیہ وسلم مخاطب و حاضر ہوں، جائز ہے یا نہیں ؟ اور قیام وقتِ ذکرِ ولادت جائز ہے یا نہیں ؟ اور حاضر ہونا مفتیان کا ایسی مجلس میں جائز ہے یا نہیں ؟ اور نیز بروز عیدین پنج شنبہ وغیرہ کے آب و طعام سامنے رکھ کر اس پر فاتحہ وغیرہ ہاتھ اٹھا کر پڑھنا اور اس کا ثواب اموات کو پہنچانا جائز ہے یا نہیں ؟ اور نیز بروز سوم میت کے لوگوں کو جمع کر کے قرآن خوانی اور بھونے ہوئے چنوں پر کلمۂ طیبہ مع پنج آیت پڑھنا اور شیرینی وغیرہ تقسیم کرنا بحدیث نبوی جائز ہے یا نہیں ؟ بَیِّنُوا تُوجَروا۔
اس سوال نامہ کا جواب ان کی طرف سے یہ دیا گیا  :
انعقادِ محفل میلاد اور قیام وقت ذکر پیدائش آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قرونِ ثلاثہ سے ثابت نہیں ہوا۔پس یہ بدعت ہے۔ اور علی ہذا القیاس بروز عیدین و غیر عیدین و پنج شنبہ وغیرہ میں فاتحۂ مرسومہ ہاتھ اٹھا کر پایا نہیں گیا البتہ نیابۃً عن ا  لمیت بغیر تخصیص ان امور مرقومۂ سوال کے للہ مساکین و فقرا کو دے کر ثواب پہنچانا اور دعا اور استغفار کرنے میں امید منفعت ہے۔ اور ایسا ہی حال سوئم، دہم، چہلم وغیرہ، اور پنج آیت اور چنوں اور شیرینی وغیرہ کا عدم ثبوت حدیث اور کتب دینیہ سے۔ خلاصہ یہ ہے کہ بدعاتِ مخترعات ناپسند شرعیہ ہیں ‘‘۔ اس فتویٰ پر دہلی کے تین غیر مقلد علما کے دستخط تھے۔ (۱) مولوی حفیظ اللہ (۲) مولوی شریف حسین (۳) الٰہی بخش۔ اور اُن کے علاوہ درج ذیل علمائے دیو بند و گنگوہ وسہارن پور کے تائیدی دستخط بھی تھے۔ (۱) مولوی محمد  یعقوب،صدر مدرس مدرسہ دیو بند (۲) مولوی محمد  محمود حسن، مدرس مدرسہ دیو بند (۳) مولوی محمد  عبد الخالق دیو بند ی (۴) مولوی رشید احمد گنگوہی۔
 گنگوہی صاحب کے الفاظ یہ ہیں  : 
ایسی مجلس ناجائز ہے اور اس میں شریک ہونا گناہ ہے، اور خطاب جناب فخر عالم علیہ السلام کو کرنا اگر حاضر ناظر جان کر کرے کفر ہے، ایسی مجلس میں جانا اور شریک ہونا ناجائز ہے، اور فاتحہ بھی خلاف سنت ہے اور سوم بھی، کہ یہ سنتِ ہنود کی رسوم ہے ۔۔ التزام مجلس میلاد بلا قیام و روشنی وتقاسیم شیرینی و قیوداتِ لایعنی کے، ضلالت سے خالی نہیں ہے۔ علی ہذا القیاس سوم و فاتحہ بر طعام کہ قرونِ ثلاثہ میں نہیں پائی گئی۔
اس زمانے میں یہ محفل میلاد و فاتحہ وعرس کے خلاف پہلا فتویٰ تھا جو چار ورقی تھا اور ۱۳۰۲ھ میں مطبع ہاشمی میرٹھ سے شائع ہوا، اس کی سرخی تھی  : فتویٰ مولود  و عرس  وغیرہ۔پھر دوسرا فتویٰ مطبع ہاشمی میرٹھ ہی سے چھپا جس کا عنوان تھا  : فتویٰ میلاد شریف یعنی مولود مع دیگر فتاویٰ۔ یہ چوبیس صفحے کا تھا اس میں محفلِ میلاد شریف کی بڑی مذمت کی گئی تھی اور پہلا چار ورقی فتویٰ بھی اس میں شامل کر دیا گیا تھا۔ ان فتووں نے مسلمانوں میں اختلاف و انتشار کا بیج بویا اور عوامِ اہلِ سنت کو طرح طرح کے شکوک و شبہات میں مبتلا کیا۔ اس علاقے کے لوگ زیادہ تر شیخ المشائخ حاجی امدادُ اللہ صاحب فاروقی چشتی تھانوی سے بیعت و ارادت کا تعلق رکھتے تھے، جو کچھ عرصہ پہلے ہندوستان کے حالات کی ناساز گاری کی وجہ سے ۱۲۷۶ھ / ۱۸۵۹ء میں مکہ مکرمہ ہجرت کر گئے تھے، اور حاجی صاحب کے مرید با صفا اور خلیفۂ صادق عالمِ ربانی حضرت مولانا محمد  عبد السمیع بے دؔل رام پوری سہارن پوری (متوفی ۱۳۱۸ھ ) اہلِ سنت و جماعت کے مرجع و مقتدا تھے اور صبر و قناعت اور زہد و ورع میں اپنے پیرو مرشد کے آئینہ دار تھے، اس لیے حاجی صاحب کے مریدین اور دیگر اہل سنت نے آپ سے بصد اصرار فرمائش کی کہ آپ ان کا جواب لکھیں اور قرآن و حدیث کی روشنی میں میلاد و فاتحہ وعرس کا صحیح شرعی حکم واضح فرمائیں۔ اس لیے مولانا رام پوری نے قلم اٹھایا اور چند دنوں میں انوار ساطعہ در بیان مولود و فاتحہ کے نام سے ایک شاندار وقیع اور افراط و تفریط سے پاک کتاب تیار کر دی اور اس میں قرآن و حدیث اور اصول شریعت کی روشنی میں میلاد و فاتحہ کا جواز ثابت کیا اور تائید میں سلفِ صالحین، فقہا و محدثین اور مشائخِ طریقت کے اقوال و معمولات کو بھی پیش کیا۔(۱)
جب یہ کتاب چھپ کر منظر عام پر آئی تو اہل سنت و جماعت میں مسرت و شادمانی کی ایک لہر دوڑ گئی، اور اسے اس قدر قبول عام حاصل ہوا کہ دیکھتے ہی دیکھتے چند دنوں میں اس کے سارے نسخے ہاتھوں ہاتھ نکل گئے۔ جب یہ کتاب دیو بند، گنگوہ اور سہارن پور کے وہابی علما تک پہنچی تو انہیں اپنے پیروں تلے سے زمین کھسکتی نظر آئی۔ آخر کار ’’کھسیانی بلی کھمبا نوچے ‘‘ کے مطابق وہابی دیو بندی علما کے سر گروہ مولوی رشید احمد گنگوہی (متوفی ۱۳۲۲ھ ) نے اس کے جواب میں ایک کتاب لکھ کر اپنے مرید خاص مولوی خلیل احمد انبیٹھوی سہارن پوری (متوفی ۱۳۴۶ھ ) کے نام سے شائع کرائی، جس کا لمبا چوڑا چار سطری نام اپنے خاص ذوق کے مطابق یہ رکھا :  البراہین القاطعۃ علی ظلام الأنوار الساطعۃ،  الملقّب بالدلائل الواضحہ علی کراھۃ المروَّج من المولود و الفاتحۃ  اور نیچے یہ عبارت لکھوائی : ’’بہ امر حضرت بقیۃ السلف، حجۃ الخلف، رأس الفقہاء والمحدثین، تاج العلماء  الکاملین جناب مولانا رشید احمد صاحب گنگوہی ‘‘۔(۲)
۔۔۔۔۔۔
(۱) 	انوار ساطعہ، ص: 
(۲)	براہین قاطعہ گنگوہی صاحب ہی کی تصنیف ہے۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ حکیم عبد الحئی رائے بریلوی نے اسے گنگوہی صاحب کی تصانیف میں شمار کرایا ہے اور خلیل احمد انبیٹھوی کی تصانیف میں اسے ذکر نہیں کیا۔ عبارت یہ ہے :  لہ مصنفات مختصرۃ قلیلۃ منھا ۔۔۔۔ البراہین القاطعۃ في الردّ علی الأنوار الساطعۃ للمولوي عبد السمیع الرامفوری۔ طُبِعَ باسم الشیخ خلیل أحمد السہارنفوری۔( نزھۃ الخواطر،ج: ۸، ص: ۱۶۶، مطبوعہ ندوۃ العلما لکھنؤ۔)
۔۔۔۔۔۔۔
اس کتاب میں گنگوہی صاحب اس قدر آپے سے باہر ہو گئے کہ نہ صرف میلاد و فاتحہ وعرس کو بدعت و ناجائز لکھا، اور اسے کنھیا کے جنم، ہندوؤں کے سوانگ سے تشبیہ دی اور میلاد کرنے والے مسلمانوں کو  کفار و ہنود سے بھی بدتر قرار دیا۔ (براہین قاطعہ،ص: ۔۔ ) بلکہ بد حواسی میں یہ بھی لکھ مارا کہ : (۱)  اللہ تعالیٰ جھوٹ بول سکتا ہے۔ (دیکھئے براہین قاطعہ، ص: ۱۰) (۲) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عام انسانوں کی طرح ایک بشر ہیں۔( ایضاً،ص: ۱۲) (۳) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا علم شیطان اور ملک الموت سے کہیں کم ہے، شیطان اور ملک الموت کے علم کا وسیع ہونا نصوصِ قطعیہ اور دلائلِ یقینیہ سے ثابت ہے جب کہ فخر عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی وسعتِ علم کا ثبوت کسی نص قطعی اور دلیلِ یقینی سے نہیں۔ اس لیے آپ کے لیے وسیع علم ماننا شرک ہے۔ (ایضاً،ص: ۱۲۲) (۴) سرکار کو اپنے خاتمہ کا حال معلوم نہیں۔ اور انہیں دیوار کے پیچھے کا بھی علم نہیں۔ (ایضاً،ص: ۱۲۱) (۵)  فخر عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے اردو علمائے مدرسہ دیو بند سے سیکھی۔ (ایضاً،ص: ۶۳) 
اس کے علاوہ اپنے پیر بھائی مولانا محمد عبد السمیع رام پوری کے خلاف اپنی افتادِ طبع کے مطابق فحش مغلظات بکنے سے بھی گریز نہیں کیا، اور لکھا کہ وہ کم فہم، جاہل، بے شرم، بے غیرت، بے سمجھ، کم عقل، دین سے بے بہرہ، ہوش وحواس سے قاصر، پھکڑ باز، قوتِ شہوانیہ سے محروم، کوڑ مغز اور تیلی کے بیل وغیرہ وغیرہ ہیں۔ گنگوہی صاحب نے خود کو لسانی محاسبہ اور ضابطۂ اخلاق سے بالاتر سمجھتے ہوئے جس جاگیر دارانہ ذہنیت کا اظہار کیا ہے ان تمام ملفوظات شریفہ کو باضابطہ یک جا کر دیا جائے تو ایک رسالہ تیار ہو جائے، جو مغلظات نویسی اور سبّ و شتم میں گنگوہی صاحب کے پیشہ ورانہ کمال اور فنّی مہارت کا منھ بولتا ثبوت ہو گا۔(۱) مگر گنگوہی صاحب جیسے لوگوں سے اس کا کیا شکوہ ؟ کیوں کہ جب اللہ ورسول کی شان بھی ان کے سمندقلم کی منھ زوری سے محفوظ نہیں تو کسی اور کی کیا حیثیت ہے ؟۔
ادھر مولانا رام پوری علیہ الرحمہ کی کتاب انوار ساطعہ جب ان کے پیرو مرشد حاجی امداد اللہ مہاجر مکی کی خدمت میں مکہ مکرمہ پہنچی تو انھوں نے اسے ملاحظہ کرنے کے بعد مورخہ ۲۲؍ شوال ۱۳۰۴ھ مطابق ۱۸۸۶ء کو مولانا رام پوری کو ایک خط لکھ کر کچھ اس طرح اظہارِ خیال فرمایا  : 
درحقیقت کتاب کا اصل مضمون اس فقیر اور بزرگان فقیر کے مذہب و مشرب کے مطابق ہے، آپ نے خوب لکھا۔  جَزَاکَ اللّٰہ خیرًا۔(اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر دے)۔(۲)
۔۔۔۔۔
(۱)     محترم سید قمر الدین اشرف (علی گڑھی) نے براہین قاطعہ کا مطالعہ کرنے کے بعد مولانا گنگوہی کے مولانا رام پوری پر تمسخر اور استہزا کے ریمارکس اور مغلظات کی تفصیل اپنی کتاب البراہین النافعہ کے باب سوم میں ص: ۱۳۶ سے ص: ۱۶۸، تک صفحہ اور سطر کی نشاندہی کے ساتھ ذکر کی ہے جو میرے دعوے کے ثبوت کے لیے کافی ہے۔ (دیکھئے البراہین النافعہ، ڈی۔بی بلڈنگ، نوتنواں بازار،ضلع مہراج گنج،یو۔ پی۔) 
(۲)	پورا خط انوار ساطعہ ص: ۷،۸ پر فارسی زبان میں مطبوع ہو چکا ہے۔
۔۔۔۔۔۔
 اور اسی کے ساتھ تیز قلمی اور غیظ نفسانی والی عبارتوں کو آئندہ ایڈیشن میں کتاب سے خارج کرنے کا حکم دیا۔ اس کے بعد مولوی خلیل الرحمن کے ذریعہ یہ بھی کہلوایا کہ جب دوبارہ کتاب انوار ساطعہ چھپے تو پانچ چھ نسخے میرے پاس ضرور بھیج دیے جائیں۔(۱)
ان کے علاوہ اس زمانہ کے ایک نامور عالمِ دین مصنف انوار ساطعہ کے استاذ پایۂ حرمین شریفین حضرت مولانا رحمت اللہ بن خلیل الرحمن کیرانوی مہاجر مکی بانی مدرسہ صولتیہ مکہ مکرمہ نے مولانا رام پوری کو بذریعہ خط لکھا کہ ’’آپ کی اور مولوی رشید احمد صاحب کی مخالفت حد درجہ کو پہنچ گئی ہے۔ لہذا یہ مقدمہ جتنا دب سکے دبائیو اور ہرگز نہ بڑھائیو ‘‘۔(۲)
اس کے بعد مولانابے دلؔ رام پوری صاحب نے انوار ساطعہ کے اس نسخہ پر ۱۳۰۶ھ میں نظر ثانی کی اور اپنے پیرو مرشد اور استاد کے حکم کے مطابق جو کچھ سخت الفاظ اور طنزیہ کلمات کتاب میں آ گئے تھے انہیں یک سر کتاب سے خارج کر دیا اور لکھا  :  
مجھ کو رضا جوئی حضرت مرشدی و مولائی کی بجان و دل منظور ہے، تعمیلِ ارشادِ مرشد میں قصور (کوتاہی) کرنا سراسر قصور ہے۔(۳)
یہ خیال رہے کہ صاحبِ انوار ساطعہ مولانا عبد السمیع رام پوری اور صاحبِ براہینِ قاطعہ مولوی رشید احمد گنگوہی دونوں حاجی امداد اللہ صاحب مہاجر مکی کے خلیفہ ہیں،حاجی صاحب نے دونوں کو خوب خوب سمجھایا اور ان کے درمیان صلح و مصالحت کی بہت کوشش فرمائی۔صاحبِ انوار ساطعہ نے تو اپنے پیرو مرشد کے حکم کے آگے سرِ تسلیم خم کر دیا۔ مگر گنگوہی صاحب اپنی ضد پر اڑے رہے، اور اپنے پیرو مرشد کی ایک نہ مانی۔ جس کا واضح ثبوت یہ ہے کہ براہینِ قاطعہ  آج تک اسی انداز سے چھپ رہی ہے جیسی ابتدا میں لکھی گئی تھی۔یہاں حضرت حاجی امداد اللہ صاحب مہاجر مکی کے تعلق سے چند حقائق حاضر خدمت ہیں، امداد المشتاق میں حاجی امداد اللہ صاحب نے اپنے خلفا کے بارے میں فرمایا  : 
۔۔۔۔
(۱)	دیکھئے انوارساطعہ،ص: ۸۔		 
(۲)	حوالۂ سابق ص: ۱۰۔  
(۳)	نفس مصدر،ص: ۸۔ 
۔۔۔۔۔۔۔
میرے خلفا دو قسم کے ہیں۔ ایک وہ جنہیں میں نے از خود خلافت دی ہے۔ دوسرے وہ جن کو تبلیغ دین کے لیے ان کی درخواست پر اجازت دی ہے۔ جن خلفا کو از خود خلافت دی ہے انھوں نے پوری طرح حاجی صاحب کی اتباع کی۔مثلاً مولانا لطف اللہ علی گڑھی (متوفی ۱۳۳۴ھ )،مولانا احمد حسن کان پوری (متوفی ۱۳۲۲ھ )،مولانا محمد  حسین الہ آبادی (متوفی ۱۳۲۲ھ ) اور مولانا محمد عبد السمیع رام پوری (متوفی ۱۳۱۸ھ )، اور جن خلفا نے حاجی صاحب سے اختلاف کیا ان میں مولوی محمد  قاسم نانوتوی (متوفی ۱۲۹۷ھ )، مولوی رشید احمد گنگوہی (متوفی ۱۳۲۲ھ ) اور مولوی اشرف علی تھانوی (متوفی ۱۳۶۲ھ ) کے نام سرِ فہرست ہیں۔(۱) 
۔۔۔۔
(۱)	صابری سلسلہ ا ز وحید احمد مسعود، ص: ۴۶، بدایوں ۱۹۷۱ء۔ بحوالہ انگریز نوازی کی حقیقت ص: ۳۸، از مولانا یٰسین اختر مصباحی، دارالقلم دہلی۔ طبع اول ۱۴۲۸ھ / ۲۰۰۷ء۔
۔۔۔۔۔۔
اپنے خلفا کے درمیان مسلکی اختلاف کی اطلاع پا کر ان کے تصفیہ کے لیے حاجی صاحب نے فیصلۂ ہفت مسئلہ کے نام سے ایک مختصر سی کتاب لکھی جو (۱) مولود شریف (۲)فاتحہ (۳) عرس وسماع (۴) ندائے غیر اللہ(۵) جماعتِ ثانیہ (۶) امکانِ نظیر (۷) امکانِ کذب کے مسائل میں اثباتِ مسلک اہل سنت پر مشتمل ہے۔اس فیصلۂ  ہفت مسئلہ کے ساتھ یہ سلوک ہوا کہ اسے نذر آتش کر دیا گیا۔ اس وقت تک مولانا اشرف علی تھانوی، حاجی صاحب کے مسلک سے کچھ قریب تھے، مگر بعد میں انھوں نے بھی انحراف کیا اور مولانا رشید احمد گنگوہی شروع ہی سے اپنے پیرو مرشد کے مسلک  و معمول کے بر عکس خیالات رکھتے تھے۔ اب نذر آتش کرنے کا حادثہ خواجہ حسن ثانی نظامی (درگاہ حضرت نظام الدین اولیا دہلی) کی زبانی سنیے  :
نذر آتش کرنے کی یہ خدمت والدی حضرت خواجہ حسن نظامی کے سپرد ہوئی جو اس وقت گنگوہ میں حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی کے یہاں زیر تعلیم تھے۔ لیکن خواجہ صاحب نے جلانے سے پہلے اس کو پڑھا اور جب ان کو وہ کتاب اچھی معلوم ہوئی تو انھوں نے استاد کے حکم کی تعمیل میں آدھی کتابیں توجلادیں اور آدھی بچا کر رکھ لیں۔
اس کے کچھ عرصہ بعد مولانا اشرف علی تھانوی، مولانا گنگوہی سے ملنے آئے اور ان سے پوچھا کہ میں نے کچھ کتابیں تقسیم کرنے کے لیے آپ کے پاس بھیجی تھیں، ان کا کیا ہوا ؟ مولانا گنگوہی نے اس کا جواب ’’خاموشی ‘‘ سے دیا۔ لیکن کسی حاضر الوقت نے کہا کہ علی حسن (خواجہ حسن نظامی ) کو حکم ہوا تھا کہ انھیں جلا دو۔ مولانا تھانوی نے میاں علی حسن سے پوچھا کہ کیا واقعی تم نے کتابیں جلا دیں ؟ انھوں نے جواب دیا کہ استاد کا حکم ماننا ضروری تھا اس لیے میں نے آ دھی کتابیں تو جلا دیں اور آدھی میرے پاس موجود ہیں۔ حضرت خواجہ صاحب بیان کرتے تھے کہ مولانا تھانوی اس سے اتنے خوش ہوئے کہ آم کھا رہے تھے، فوراً دو آم اٹھا کر مجھے انعام میں دیے۔(۱)
حضرت حاجی صاحب نے اپنے خلیفہ حضرت مولانا صوفی محمد  حسین الہ آبادی کے نام ۱۳۱۲ھ / ۱۸۹۴ء میں مکہ مکرمہ سے ایک خط لکھ کر معلوم کیا کہ ہماری تحریر سے اختلاف کا کچھ تصفیہ ہوا یا نہیں ؟ تو آپ نے تحقیقِ حال کر کے حاجی صاحب کو لکھا کہ علمائے دیو بند نے آپ کی تحریر کو نگاہِ غلط انداز سے بھی نہ دیکھا، بلکہ فیصلۂ ہفت مسئلہ کو نذر آتش کر دیا۔ (۲)
ساتھ ہی جرأت وجسارت اور اپنے شیخ کے مقابلے میں سینہ زوری ایسی تھی کہ بقول مولانا رشید احمد گنگوہی  :
جس فن کے امام حاجی صاحب ہیں اس میں ہم ان کے مقلد ہیں،باقی فرعیات کے امام ہم ہیں۔حاجی صاحب کو چاہیے کہ ہم سے پوچھ کر عمل کریں۔
 اور مولونا قاسم نانوتوی نے کہا :’’ہماری معلومات زائد اور حاجی صاحب کا علم زائد ہے‘‘۔
 اور مولوی اشرف علی تھانوی نے تو اس اختلاف کو جائز قرار دینے کے لیے اپنی ساری قابلیت صرف کر دی۔ مگر ساتھ ہی از راہِ انصاف یہ بھی تحریر کیا کہ بقول شخصے  :  تانباشد چیز کے مردم نگویند چیزہا‘‘۔(۳)
۔۔۔۔
(۱)	ماہ نامہ منادی دہلی، جلد ۳۹، شمارہ ۱۲؍ ص: ۲۲، بحوالہ تقدیس الوکیل (حاشیہ ) ص: ۷، نوری بک ڈپو لاہور۔
(۲) 	صابری سلسلہ،ص: ۴۷۔
(۳)	حوا لہ سابق، ص: ۴۹۔
۔۔۔۔۔۔
بہر حال اس کتاب کے تاریخی پس منظر اور پیش منظر پر نگاہ ڈالنے کے بعد یہ تاریخی حقیقت ابھر کر سامنے آ گئی کہ اس وقت سنیت اور دیو بندیت کا اختلاف در اصل حاجی امداد اللہ صاحب مہاجر مکی کے خلفا کے مابین پیدا ہوا اور ان ہی کے درمیان پلا، بڑھا اور پروان چڑھا، اور اس میں دیگر علما و مشائخ کی شرکت بہت بعد میں ہوئی۔ لہذا یہ کہنا کہ سنیت اور دیو بندیت کے درمیان اختلاف کا آغاز مولانا احمد رضا بریلوی نے کیا، تاریخ سے ناواقفیت اور جہالت پر مبنی ہے۔
براہینِ قاطعہ کا ایک تاریخی پہلو یہ بھی ہے کہ جب یہ کتاب چھپ کر منظر عام پر آئی تو مولانا غلام دستگیر قصوری اور مولوی خلیل احمد انبیٹھوی جن کے درمیان پہلے دوستانہ تعلقات تھے ایک دوسرے کے سخت مخالف ہو گئے۔ واقعہ یہ ہے کہ مولوی خلیل احمد انبیٹھوی اس زمانے میں مدرسہ عربیہ، ریاست بھاول پور (پاکستان ) میں مدرس اول کے عہدہ پر فائز تھے، اور علمائے اہل سنت کی ان تمام تحریروں پر ان کی تائیدات و تصدیقات ہوتی تھیں جو اعتقادی و فکری مسائل پر سامنے آتیں۔’’ ابحاث فرید کوٹ ‘‘ میں مولوی خلیل احمد صاحب ان تمام اعتقادی مسائل کو تصدیقی مہروں سے مزین فرما چکے تھے جو علمائے اہل سنت کے اعتقادی نظریات پر مبنی تھے۔ براہینِ قاطعہ چوں کہ انبیٹھوی صاحب کے نام سے چھپی تھی اس لیے اس کو دیکھنے کے بعد مولانا غلام دستگیر قصوری صاحب کو بڑا صدمہ ہوا۔ اور وہ بہ نفسِ نفیس بھاول پور پہنچے، اور اپنے دیرینہ دوست سے براہِ راست گفتگو کر کے صورتِ حال معلوم فرمائی اور انہیں سمجھانے کی بہت کوشش فرمائی، مگر انبیٹھوی صاحب کو اپنی ضد پر قائم پا کر حیرت زدہ رہ گئے۔ جب انھوں نے افہام وتفہیم کی تمام تدبیروں کو ناکام ہوتے ہوئے دیکھا تو انبیٹھوی صاحب کو مناظرہ کا چیلنج دیا۔ انبیٹھوی صاحب اپنے ساتھ چھ دیو بندی علما لے کر حاضر ہوئے اور مولانا غلام دستگیر قصوری رحمۃ اللہ علیہ بھی اپنے ساتھ چھ علمائے اہل سنت کے ہمراہ تشریف لائے۔شوال ۱۳۰۶ھ میں بمقام بھاول پور، نوابِ بھاول پور کی نگرانی میں ان مسائل پر مناظرہ ہوا جو انوارِ ساطعہ اور براہینِ قاطعہ میں زیر بحث آ چکے تھے۔ اس مناظرہ کے حکم اور فیصل والی ریاست بھاول پور کے پیرو مرشد شیخ المشائخ خواجہ غلام فرید، چاچڑاں شریف تھے۔ مناظرہ میں مولوی خلیل احمد انبیٹھوی کو شکستِ فاش ہوئی اور حَکم مناظرہ نے یہ فیصلہ سنایا کہ ’’انبیٹھوی صاحب مع اپنے معاونین کے وہابی،اہل سنت سے خارج ہیں ‘‘۔ اس فیصلہ کے بعد مولوی خلیل احمد صاحب کو بھاول پور سے نکل جانے کا حکم دے دیا گیا۔
اس مناظرہ کی تفصیلی روداد مولانا قصوری علیہ الرحمہ نے’تقدیس الوکیل عن توہین الرشید والخلیل‘کے نام سے لکھی، پھر اس کے مباحث کا عربی ترجمہ کر کے علمائے حرمین طیبین سے اپنے موقف کے حق ہونے اور انبیٹھوی صاحب کے موقف کے باطل ہونے پر تصدیقات وتقریظات لکھوائیں اور انہیں بھی کتاب میں شامل کر کے شائع کیا۔(۱)
۔۔۔۔۔۔
(۱)	تقدیس الوکیل ص: ۱ تا ۱۳، نوری بک ڈپو، لاہور پاکستان۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 ان تصدیقات و تقریظات میں شیخ الدلائل مولانا محمد  عبد الحق الہ آبادی (متوفی ۱۳۳۳ھ)، شیخ المشائخ حاجی امداد اللہ مہاجر مکی اور اساتذۂ مدرسہ صولتیہ، مکہ مکرمہ کے علاوہ پایۂ حرمین شریفین حضرت مولانا رحمت اللہ کیرانوی مہاجر مکی کی سات صفحات پر مشتمل طویل تقریظ و تصدیق ہے جس کے بنیادی عناصر درج ذیل ہیں  :
 (الف:   میں جناب مولوی رشید کو رشید سمجھتا تھا، مگر میرے گمان کے خلاف کچھ اور ہی نکلے۔(یعنی نارشید) جس طرف آئے اس طرف ایسا تعصب برتا کہ اس میں ان کی تقریر اور تحریر دیکھنے سے رومٹا کھڑا ہوتا ہے۔
(ب:   پھر مولوی رشید احمد، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نواسے (امام حسین) کی طرف متوجہ ہوئے، اور ان کی شہادت کے بیان کو بڑی شدت سے محرم کے دنوں میں، گو کیسا ہی روایتِ صحیح سے ہو، منع فرمایا۔حالاں کہ حضرت شاہ ولی اللہ صاحب سے جناب مولانا اسحاق مرحوم تک عادت تھی کہ عاشورے کے دن بادشاہِ دہلی کے پاس جا کر روایاتِ صحیح سے بیان حالِ شہادت کرتے تھے۔
(ج:    پھر حضرت رشید نے جو نواسے کی طرف توجہ کی تھی اس پر بھی اکتفا نہ کر کے خود ذاتِ نبوی صلی اللہ علیہ  و آلہ و اصحابہ وسلم کی طرف توجہ کی۔ پہلے مولود کو کنھیا کے جنم اشٹمی ٹھہرایا اور اس کے بیان کو حرام بتلایا، اور کھڑے ہونے کو، گو کوئی کیسے ذوق و شوق میں ہو بڑا منکر فرمایا۔ 
(د:      پھر ذات نبوی میں اس پر بھی اکتفا نہ کر کے اور امکانِ ذاتی سے تجاوز کر کے چھ خاتم النبیین بالفعل ثابت کر بیٹھے۔
(ہ:      اور امکانِ ذاتی کے باعتبار تو کچھ حد ہی نہ رہی، اور ان کا مرتبہ کچھ بڑے بھائی سے بڑا نہ رہا۔
(و:     اور بڑی کوشش اس میں کی کہ حضرت کا علم شیطانِ لعین کے علم سے کہیں کم تر ہے۔ اور اس عقیدے کے خلاف کو شرک ٹھہرایا۔
(ز:	   پھر اس توجہ پر جو ذاتِ اقدس نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف تھی اکتفا نہ کیا، ذاتِ اقدسِ الٰہی کی طرف بھی متوجہ ہوئے، اور جناب باری تعالیٰ کے حق میں دعویٰ کیا کہ اللہ کا جھوٹ بولنا ممتنع بالذات نہیں، بلکہ امکان جھوٹ بولنے کو اللہ کی بڑی صفت کمال کی فرمائی۔نعوذ باللہ من ھذا الخرافات۔
(ح:    میں تو ان امور کو ظاہر و باطن میں بہت برا سمجھتا ہوں، اور اپنے محبین کو منع کرتا ہوں کہ حضرت مولوی رشید کے اور ان کے چیلے چانٹوں کے ایسے ارشادات نہ سنیں۔(۱) 
اب اس کے بعد ان اکابر علمائے ہند کے اجمالی احوال قارئینِ کرام کے سامنے رکھنے کی سعادت حاصل کر رہا ہوں جنھوں نے انوار ساطعہ کی تائید و تصدیق کی اور اس پر گراں قدر تقریظات لکھیں۔ ان علما و مشائخ کی تعداد چوبیس ہے۔
۔۔۔۔
(۱)     تقدیس الوکیل : ص: ۴۱۵تا ۴۲۲،نوری بک ڈپو، لاہور پاکستان۔ 
٭٭٭


انوارِ ساطعہ کی تصدیق و تائید کرنے والے معاصر علمائے ہند 

(۱)		 حضرت مولانا مفتی محمد  لطف اللہ علی گڑھی (متوفی ۱۳۳۴ھ ؍ ۱۹۱۶ء ) 

پلکھنہ ضلع علی گڑھ (یو۔ پی۔) میں ۱۲۴۴ھ میں آپ کی ولادت ہوئی، والد کا نام اسد اللہ بن فیض اللہ ہے، مقامی معلّموں سے ابتدائی درسیات پڑھنے کے بعد مدرسہ فیضِ عام، کان پور میں مفتی عنایت احمد کاکوروی (متوفی ۱۲۷۹ھ ) سے مروجہ علوم و فنون کی تکمیل کی۔ فراغت کے بعد مدرسہ فیض عام کان پور اور مدرسہ جامعہ مسجد، علی گڑھ میں تدریس کے فرائض انجام دینے کے بعد والیِ ریاست حیدرآباد کی دعوت پر حیدرآباد گئے اور وہاں دارالعلوم کے صدر المدرسین اور پھر مفتیِ عدالت کے عہدے پر تقرر ہوا، مولانا شاہ احمد حسن کان پوری، نواب حبیب الرحمن خاں شروانی وغیرہ آپ کے تلامذہ میں ہیں۔مروجہ علوم و فنون میں مہارت ہی کی بنا پر کثیر علما نے آپ سے استفادہ کیا اور ’’استاذ العلما‘‘ کے لقب سے مشہور ہوئے۔ کان پور میں قیام کے دوران غیر مقلد عالم اسماعیل علی گڑھی سے تحریری مناظرہ کیا۔(۱)

 (۲) 	حضرت مولانا فیض الحسن سہارن پوری (متوفی ۱۳۰۴ھ ؍ ۱۸۸۷ء)

سہارن پور کے ایک زمین دار گھرانے میں مولانا حافظ علی بخش بن خدا بخش قریشی کے یہاں ۱۸۱۶ئ/ ۱۲۳۲ھ آپ کی ولادت ہوئی۔ ابتدائی تعلیم اور مروجہ عربی وفارسی کی کتابیں گھر ہی پر اپنے والد سے پڑھیں، پھر مفتی صدر الدین آزردہ، شاہ احمد سعید مجددی، علامہ فضل حق خیر آبادی وغیرہ سے معقولات و منقولات کی کتابیں پڑھیں، مولانا امام بخش صہبائی، حکیم مومن خان مومن، مرزا اسد اللہ خاں غالب اور خاقانیِ ہند ابراہیم ذوق دہلوی کی شعری اور ادبی محفلوں میں شریک رہے۔ معقولات و ادبیات میں خصوصی استفادہ علامہ خیرآبادی سے کیا اور شاعری میں امام بخش صہبائی کے شاگرد ہوئے، فراغت کے بعد انقلاب ۱۸۵۷ء تک دلی میں درس وتدریس کا کام کیا۔ اوائل ۱۸۷۰ء میں اورینٹل کالج لاہور میں استاذ کی حیثیت سے تقرر ہوا۔پوری زندگی درس وتدریس اور تصنیف و تالیف میں گزاری۔ عربی زبان و ادب میں امامت کے درجہ پر فائز تھے۔ تصنیفات میں حاشیہ تفسیر بیضاوی، حاشیۂ تفسیرجلالین، حاشیہ مشکوٰۃ المصابیح، شرح دیوان حماسہ، شرح سبع معلقات وغیرہ ہیں۔ حاجی امداد اللہ مہاجر مکی سے بیعت تھے۔(۲)
۔۔۔۔
(۱) 	تذکرۂ علمائے اہلِ سنت،ص: ۲۲۰، مطبوعہ سنی دارالاشاعت علویہ رضویہ، فیصل آباد،پاکستان ۱۹۹۲ء۔ نزھۃ الخواطر،    ج: ۸، ص: ۴۰۳، مطبوعہ لکھنؤ۔
(۲)	(الف) نزھۃ الخواطر،ج: ۸، ص: ۳۸۹،   (ب) مفتی صدر الدین آزردہ، از عبد الرحمن پروازؔ اصلاحی ص: ۱۰۷ تا ۱۱۰۔
۔۔۔۔۔۔۔

(۳)	 حضرت مولانا غلام دستگیر قصوری (متوفی ۱۳۱۵ھ ) 

محلہ چلہ بیبیاں، اندرون موچی گیٹ، لاہور میں آپ کی پیدائش ہوئی۔ والد کا نام مولانا حسن بخش ہاشمی صدیقی تھا۔ آپ کی والدہ ماجدہ حضرت مولانا غلام محی الدین قصوری خلیفہ شاہ غلام علی مجددی دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کی ہم شیر تھیں۔ مولانا قصوری نے تمام تعلیم و تربیت اپنے ماموں ہی سے پائی، اس طرح آپ کو مولانا غلام محی الدین قصوری علیہ الرحمہ کا شاگرد، خواہر زادہ، داماد، مرید با صفا اور خلیفہ ہونے کا شرف حاصل تھا۔ آپ کو تفسیر، حدیث، فقہ اور تصوف سے خاص شغف تھا اور ان تمام علوم میں کامل مہارت اور بصیرت رکھتے تھے۔ آپ پنجاب کے ان اکابر اور ممتاز علما ومشائخ میں تھے جنھوں نے دیو بندیت، وہابیت، شیعیت، رافضیت، چکڑالویت،قادیانیت اور عیسائیت کا زبردست مقابلہ کیا۔ مولوی خلیل احمد انبیٹھوی سے براہینِ قاطعہ کے غیر اسلامی مندرجات پر ریاست بھاول پور میں مناظرہ کیا، شمس المشائخ حضرت مولانا خواجہ غلام فرید علیہ الرحمہ اس مناظرے کے حکم تھے، انبیٹھوی صاحب کو اس مناظرہ میں شکستِ فاش ہوئی۔ اور خواجہ صاحب نے یہ فیصلہ صادر فرمایا کہ براہینِ قاطعہ کے مؤلّف مع اپنے معاونین کے وہابی، اہل سنت سے خارج ہیں، اور پھر ریاست بھاول پور سے مولوی خلیل احمد انبیٹھوی کے اخراج کا حکم بھی صادر ہوا۔مولانا قصوری نے اس مناظرہ کی روداد تقدیس الوکیل کے نام سے مرتب کی، اور پھر اس کا عربی میں ترجمہ کر کے مولانا رحمت اللہ کیرانوی، حاجی امداد اللہ مہاجر مکی اور علمائے حرمین شریفین سے اس کی تائید وتصدیق حاصل کر کے شائع کی۔ تصانیف درج ذیل ہیں :(۱) عمدۃ البیان في اعلان مناقب النعمان (میاں نذیر حسین دہلوی کی کتاب معیار الحق کا جواب ) (۲) تحفۂ دستگیریہ بجواب اثنا عشریہ (۳) مخرج عقائد نوری بجواب نغمہ طنبوری (ردِّ عیسائیت میں ) (۴) ہدیۃ الشیعتین (شیعہ اور خوارج کے نظریات کا مدلل جواب ) (۵) توضیح دلائل وتصریح ابحاث فرید کوٹ (۶)عروۃ المقلدین (۷) ظفر المقلدین (۸) نصرۃ الابرار فی جواب الاشتہار (یہ چاروں کتابیں ردِّ غیر مقلدین میں ہیں (۹) رجم الشیاطین علی اغلوطات البراہین (۱۰) تحقیقات دستگیریہ در ردِّ ہفواتِ براہینیہ (۱۱) فتح رحمانی بہ دفع کید قادیانی (یہ تینوں کتابیں قادیانی کے رد میں ہیں ) (۱۲) جواہر مضیّہ ردِ نیچریہ (۱۳) تقدیس الوکیل عن توہین الرشید والخلیل۔ وغیرہ۔(۱) 
۔۔۔۔۔۔
(۱)    تفصیل کے لیے دیکھئے :(الف) تقدیس الوکیل، از مولاناغلام دستگیر قصوری۔(ب) لاہور میں اولیائے نقشبند کی سرگرمیاں۔  (ج) تذکرہ علمائے اہلِ سنت، از مولانا محمود احمد قادری۔
۔۔۔۔۔۔

(０) حضرت مولانا مفتی محمد  ارشاد حسین فاروقی مجددی رام پوری (متوفی ۱۳۱۱ھ)

 آپ ۱۴؍ صفر ۱۲۴۸ھ کو رام پور میں پیدا ہوئے۔ والد کا نام احمد حسین بن غلام محی الدین ہے، حضرت خواجہ محمد  یحییٰ خلف اصغر حضرت امام ربانی مجدد الف ثانی سے نسبی تعلق تھا،علما رام پور و لکھنؤ سے درسی کتابیں پڑھنے کے بعد حضرت مولانا محمد  نواب خاں مجددی سے تکمیل کی۔ دہلی جا کر حضرت مولانا شاہ احمدسعید مجددی سے مرید ہوئے، محبوبیت و مرادیت کا بلند مقام پایا، اجازت و خلافت سے سرفراز ہوئے۔ آپ کا شمار حضرت شاہ احمد سعید مجددی علیہ الرحمہ کے بلند پایہ خلفا میں ہوتا تھا۔آپ حافظِ قرآن، محدث، مفسر، فقیہ، مفتی، درویش، مدبّر تھے غرض کہ کمالات ظاہری و باطنی کے مخزن تھے۔ آپ اپنے زمانے کے بزرگ ترین عالمِ دین، مرشدِ طریقت اور مصلحِ قوم و ملت تھے۔ نواب کلب علی خاں خلد آشیاں، والیِ رام پور سے زمانۂ طالب علمی سے ہی محبت و مودت تھی، نواب صاحب والی تخت و تاج ہونے کے بعد آپ کا بے حد اعزاز و اکرام کرتے تھے۔ امورِ سلطنت میں بھی آپ سے مشورہ لیتے تھے، اور ادو وظائف، حلقۂ ذکر اور درس وتدریس سے آپ کے اوقات معمور تھے۔ ہر جمعہ کو بعد نماز اپنی مسجد میں وعظ فرماتے جو بڑا پر اثر ہوتا، ذوق و شوق اور گریہ و بکا سے مجلسِ وعظ، حشر کا نمونہ ہوتی۔ مسلمانانِ اہلِ سنت پر حد درجہ شفقت فرماتے اور باطل پرستوں اور بد مذہبوں سے سخت نفرت رکھتے تھے۔ میاں نذیر حسین دہلوی غیر مقلد کی کتاب معیار حق کے جواب میں انتصار الحق لکھی، مولانا سید دیدار علی الوری، مولانا سلامت اللہ رام پوری، مولانا ظہور الحسین رام پوری، مولانا عبد الغفار خاں رام پوری وغیرہ آپ کے مشہور شاگرد ہیں۔ مولانا شبلی نعمانی نے بھی رام پور میں آپ سے فقہ کا درس لیا۔ تصنیفات میں انتصار الحق،  ارشاد الصرف اور ترجمہ کتاب الحیل فتاویٰ عالم گیری ہیں۔(۱) 
۔۔۔۔۔۔
(۱) 	(الف) تذکرۂ کا ملان رام پور،ص: ۳۰تا ۳۳، مطبوعہ خدا بخش اور ینٹل لائبریری، پٹنہ ۱۹۸۶ء۔ (ب) تذکرۂ علمائے اہل سنت،ص: ۲۴   ۲۵، مطبوعہ سنی دار الاشاعت علویہ رضویہ، فیصل آباد، پاکستان،،۱۹۹۲ء۔(ج) نزھۃ الخواطر، ج: ۸، ص: ۵۷ ۵۸۔
۔۔۔۔۔
 
(۵)	اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قادری بریلوی (متوفی ۱۳۴۰ھ / ۱۹۲۱ء )

آپ ۱۰؍ شوال ۱۲۷۲ھ /جون ۱۸۵۶ء کو صوبہ اتر پردیش کے مشہور شہر بریلی میں پیدا ہوئے۔ بچپن ہی سے ذہانت وفطانت اور ولایت کے آثار آپ کی پیشانی سے ہویدا تھے۔ درسیات کی تکمیل اپنے والد ماجد حضرت مولانا مفتی نقی علی خاں قادری بریلوی (متوفی ۱۲۵۷ھ ) سے بریلی ہی میں کی۔ ۱۲۸۶ھ میں تیرہ برس کی مختصر سی عمر میں ہی درسیات کی تعلیم سے فارغ ہو گئے۔ خاتم الاکابر حضرت مولانا شاہ آلِ رسول مارہروی سے بیعت ہوئے۔ اسی وقت اجازت و خلافت سے نوازے گئے۔ ۱۲۹۵ھ میں پہلی بار والد ماجد کے ہمراہ حج و زیارت کے لیے حرمین شریفین کا سفر کیا۔ شیخ عبد الرحمن سراج مفتی احناف مکہ مکرمہ نے فقہ کی اور شیخ الاسلام علامہ احمد زینی دحلان نے حدیث کی اجازت وسند دی۔ مولانا حسین صالح شافعی امام مسجد حرام بغیر کسی سابقہ تعارف کے مقام ابراہیم میں آپ کا ہاتھ پکڑ کر اپنے گھر لے گئے اور دیر تک آپ کی پیشانی کو تھامے ہوئے : إنّی لَأَجِدُ نورَ اللّٰہِ فِی ھٰذَا الجبین ِفرماتے رہے، اور ضیافت کے بعد صحاح ستہ اور سلسلۂ قادریہ کی اجازت وسند دے کر رخصت کیا۔۱۳۲۳ھ میں دوسری بار حج وزیارت کے موقع پر علمائے حرمین شریفین نے آپ کا حد درجہ اعزازو اکرام کیا، بڑے بڑے علما ومشائخ نے آپ سے علمی استفادہ کیا، اجازت وخلافت حاصل کی، اور آپ کے علمی تبحر اور فقیہانہ بصیرت وژرف نگاہی کا کھلے دل سے اعتراف کیا۔ عظیم حنفی عالم علامہ صالح کمال مکی کے علم غیب نبوی سے متعلق پانچ علمی سوالات کے جواب میں بغیر مراجعتِ کتب تین دن کی مختلف نشستوں میں ساڑھے آٹھ گھنٹے میں ’’الدولۃ المکیہ‘‘ نامی کتاب عربی زبان میں تصنیف کی۔ اور دوسرے بعض علمائے مکہ ہی کے سوال کے جواب میں ’کفل الفقیہ الفاھم في أحکام قرطاس الدراھم‘لکھی جس میں کرنسی نوٹ کے متعلق احکام ومسائل کو فصیح عربی میں بڑی وضاحت سے بیان کیا۔ پوری زندگی تحریر وتقریر اور تصنیف وافتا کے ذریعہ مذہبِ اہل سنت کی خدمت اور تائید وحمایت کرتے رہے، اور ہر باطل فرقہ اور غیر اسلامی تحریک سے قلمی جہاد فرمایا۔ آپ کی خدمات جلیلہ کے اعتراف میں اکابر علمائے اہلِ سنت نے آپ کے مجدد ہونے کا اعلان واعتراف کیا۔عربی، اردو اور فارسی زبانوں میں سیکڑوں کتابیں آپ کی یادگار ہیں۔۲۵؍ صفر ۱۳۴۰ھ؍۱۹۲۱ء کو بریلی میں آپ کا وصال ہوا۔ (۱)
۔۔۔۔۔
(۱) 	(الف)  تذکرہ علمائے اہلِ سنت،ص: ۴۲ ۴۶  (ب) اور تفصیل کے لیے دیکھیے حیات اعلیٰ حضرت،از ملک العلماء مولانا ظفر الدین رضوی بہاری۔
۔۔۔۔۔۔

 (۶)	تاج الفحول علامہ عبد القادر بدایونی (متوفی ۱۳۱۹ھ)

آپ علامہ شاہ فضل رسول بدایونی قدس سرہ کے فرزند اصغر ہیں، ۱۷؍ رجب ۱۲۵۳ھ میں بدایوں میں پیدا ہوئے۔ آپ کے دادا جان مولانا شاہ عین الحق عبد المجید قدس سرہ العزیز نے تاریخی نام ’’مظہر حق ‘‘تجویز فرمایا، ’’عبد القادر ‘‘ اصل قرار پایا۔ استاذ العلما مولانا نور احمد بدایونی (متوفی ۱۳۰۱ھ ) سے تحصیل علم شروع کی۔ اَلور اور دہلی میں رہ کر حضرت علامہ فضل حق خیرآبادی سے علوم و فنون کی تحصیل کی۔ 
	علامہ خیر آبادی آپ کے بڑے مداح تھے، آپ پر ناز فرماتے تھے۔ اکثر فرماتے کہ ’’صاحب قوتِ قدسیہ ہر زمانے میں ظاہر نہیں ہوتے،وقتاً بعد وقت اور عصراً بعد عصرٍ پیدا ہوتے ہیں۔ اگر اس زمانے میں کسی کا وجود مانا جائے تو آپ کی طرف اشارہ کر کے فرماتے کہ یہ ہیں ‘‘۔
	علامہ فضل حق خیرآبادی (متوفی ۱۲۷۸ھ ) کے شاگردوں میں استاذ العلما مولانا ہدایت اللہ خاں رام پوری (متوفی ۱۳۲۶ھ )، مولانا فیض الحسن سہارن پوری (متوفی ۱۳۰۴ھ )،مولانا عبد الحق خیرآبادی (متوفی ۱۳۱۶ھ ) اور حضرت تاج الفحول عناصر اربعہ سمجھے جاتے تھے۔
	 مولانا عبد الحق خیر آبادی آپ کے بارے میں فرماتے تھے کہ: ’’یہ تینوں علما کسی خاص فن میں یکتاے روزگار ہیں مگر مولانا عبد القادر بدایونی کا تبحر اور جامعیت تمام علوم وفنون میں ہے ‘‘۔ تعلیم سے فارغ ہونے بعد اپنے والد ماجد سے حدیث کی سند حاصل کی اور ان ہی کے ہاتھ پر بیعت ہوئے۔ 
	۱۲۷۹ھ میں پہلے سفر حج وزیارت کے موقع پر شیخ جمال عمر مکی سے سندِ حدیث حاصل کی۔ ۱۲۹۰ھ میں بغداد شریف کا سفر کیا اور حضرت نقیب الاشراف نے آپ کا بڑا اعزاز واکرام کیا۔ شروع میں آپ کو درس وتدریس سے خصوصی شغف تھا، بڑی توجہ اور انہماک سے تعلیم دیتے تھے۔ آخر میں مصروفیات کی کثرت کے باعث تدریس کا مشغلہ ترک کر دیا تھا۔
	اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قادری بریلوی (متوفی ۱۳۴۰ھ ) آپ کا بڑا احترام فرماتے تھے۔ مولانا محب احمدبدایونی، مولانا فضل احمد بدایونی، مولانا فضل مجید بدایونی اور حافظ بخاری مولانا سید عبد الصمد چشتی جیسے نام ور علما آپ کے شاگرد ہیں۔
پوری زندگی احقاقِ حق اور ابطالِ باطل کا فریضہ انجام دیتے رہے۔ اور اپنی تقریر وتحریر سے مذہب اہل سنت کی نصرت وحمایت فرماتے رہے۔ اپنے زمانے کے چند نام ور اکابر علمائے اہلِ سنت میں آپ کا شمار ہوتا تھا۔ فارسی،عربی اور اردو میں متعدد تصانیف اور شعری دیوان آپ کی یادگار ہیں۔( ۱)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)     (الف) اکمل التاریخ حصہ دوم، ص: ۔۔  (ب)  تذکرۂ علمائے اہلِ سنت،ص: ۱۲۵ ۱۲۷۔
۔۔۔۔۔۔۔۔

(۷)	حضرت مولانا شاہ محمد عبید اللہ مکی بدایونی (متوفی ۱۳۱۵ھ) 

آپ حضرت مولانا شیخ عبد الکریم مکی کے فرزند ارجمند ہیں۔ مولانا حبیب الرحمن ردولوی، مولانا آل احمد پھلواروی، شیخ جمال الدین مکی مفتی احناف مکہ مکرمہ اور کبار علمائے حرمین شریفین سے علم حاصل کیا۔ پھر ہندوستان آئے اور علامہ شاہ فضل رسول عثمانی بدایونی قدس سرہ (متوفی ۱۲۸۹ھ) سے تصوف کی تعلیم حاصل کی۔ اپنے زمانے کے جلیل القدر عالم اور استاذ الاساتذہ تھے۔ تعلیم سے فراغت کے بعد مدرسہ محمد یہ، جامع مسجد بمبئی کے مدرس مقرر ہوئے۔ تیس سال تک مختلف علوم فنون کی کتابیں پڑھائیں۔ ایک خلقت نے آپ سے علم حاصل کیا۔ علامہ فضل رسول بدایونی سے بیعت تھے، شیخ ومرشد کی محبت میں اس قدر شیدا تھے کہ اپنے کو ’’بدایونی‘‘ لکھتے تھے۔ بڑے متقی،پرہیز گار اور عابد شب زندہ دار تھے۔ ہر سال حج کے لیے تشریف لے جاتے،مولانا محمد  عمر الدین قادری ہزاروی آپ کے شاگرد رشید اور مولانا سید شاہ غلام حسین جونا گڑھی آپ کے نامور خلیفہ تھے۔ بمبئی میں انتقال ہوا، اور وہیں مدفون ہوئے۔(۱)
(۸)	حضرت مولانا صوفی سید عماد الدین رفاعی سورتی گجراتی (متوفی ۱۳۱۰ھ) : 
مولانا سید عماد الدین رفاعی بن شاہ جہاں بن زین العابدین رفاعی، ۱۲۴۶ھ کو گجرات کے مشہور شہر سورت میں پیدا ہوئے۔ اور وہیں پلے،بڑھے اور پروان چڑھے، اپنے زمانے کے جلیل القدر علما سے علم حاصل کیا۔ فقہ، عقائد، نحو و صرف اور علومِ عربیہ میں مہارتِ تامہ حاصل تھی، اور اُس زمانے کے نام ور علما میں شمار کیے جاتے تھے، سورت سے نقل مکانی کر کے بھنڈی بازار بمبئی میں سکونت اختیار کی، اور وہیں ۴؍ صفر ۱۳۱۰ھ کو وصال فرمایا۔ (۲)
۔۔۔۔۔
(۱)	(الف)  اکمل التاریخ، ج ۲،ص۔   (ب)  تذکرۂ علمائے اہلِ سنت، ص۱۸۱۔
(۲)	نزہۃ الخواطر، ج۸/ص۳۲۱ ۳۲۲۔
 ۔۔۔۔۔

(۹)	حضرت مولانا وکیل احمد حنفی سکندر پوری (م۱۳۲۲ھ/۱۹۰۴ء)
مولانا وکیل احمد بن قلندر حسین بن محمد  وسیم، حضرت شاہ محمد  عبد العلیم آسی رشیدی علیہ الرحمہ (م۱۳۳۵ھ) کے چچا زاد بھائی تھے۔ ۹؍ ذی الحجہ۱۲۵۸ھ میں اپنے گاؤں سکندر پور، ضلع بلیا (یو۔پی) میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم اپنے وطن میں پائی۔ حضرت مولانا عبد الحلیم فرنگی محلّی کا شہرہ سن کر جون پور پہنچے۔مولانا فرنگی محلّی نے نور الانوار کا حاشیہ قمر الاقمار آپ ہی کے لیے لکھا تھا۔۱۲۷۶ھ میں درس نظامی کی کتابوں سے فراغت ہوئی۔ لکھنؤ میں حکیم نور کریم دریا آبادی لکھنوی سے طب پڑھی، کچھ عرصہ مطب بھی کیا۔ ۱۲۸۳ھ میں حیدر آباد دکن گئے، اور سرکارِ آصفیہ کے صوبۂ شرقی کے نائب مقرر ہوئے۔ بڑے ذہین، طبّاع اور با صلاحیت تھے، قوتِ حافظہ بڑے غضب کی تھی۔ مولانا عبد الحئی فرنگی محلّی (م۱۳۰۴ھ) اور غیر مقلد عالم نواب صدیق حسن خاں قنوجی بھوپالی (م۱۳۰۷ھ) کے درمیان جب مشہور تحریری مناظرہ ہوا تو آپ مولانا فرنگی محلّی کے دوش بدوش تھے اور نواب کے رسالۂ منظوم کا جواب نظم میں بعنوان دیوانِ حنفی دیا اور نثر کا جواب نثر میں دیا۔ اپنے زمانے کے مشہور اکابرعلمائے اہلِ سنت سے تھے۔ اعلیٰ حضرت امامِ اہلِ سنت علامہ شاہ احمد رضا بریلوی سے بڑے اچھے تعلقات تھے۔ سلسلۂ عالیہ میں حضرت مولانا شاہ میر اشرف علی بن مولانا میر سلطان علی قدس سرھما سے بیعت تھے۔ ۱۳۲۲ھ/۱۹۰۴ء کو حیدر آباد میں انتقال ہوا۔ آپ نے مختلف علوم و فنون میں بہت سی کتابیں یاد گار چھوڑیں جن کی تعداد نوے تک پہنچتی ہے۔(۱)
۔۔۔۔۔۔
(۱)	(الف)  تذکرۂ علمائے اہلِ سنت،ص۲۵۶۔	(ب)  نزہۃ الخواطر،ج۸/ص۵۴۳ ۵۴۵۔
 
(۱۰)	حضرت مولانا نذیر احمد خاں رام پوری (م۱۳۲۳ھ)

والد کا نام مولوی محمد  خاں تھا، رام پور میں ولادت ہوئی، علمائے رام پور، پھر علمائے دہلی سے علومِ دینیہ و عقلیہ کی تعلیم حاصل کی فنِ طب بھی حاصل کیا، عربی زبان و ادب میں بڑا کمال حاصل تھا، تحریکِ ندوہ کے سخت مخالف تھے۔ مولوی رشید احمد گنگوہی کی کفری عبارت پر سب سے پہلے ۱۳۰۹ھ میں فتویٰ تکفیر صادر فرمایا، جو خیر المطابع میرٹھ سے طبع ہوا تھا۔ آپ بڑے متقی، پرہیز گار اور صاحبِ عرفان بزرگ تھے۔ مدرسہ طیبہ احمد آباد، گجرات میں مدرس تھے، اس علاقے میں آپ کے علم و فضل کا بڑا شہرہ تھا۔ تمام علوم و فنون میں کامل دست گاہ تھی، طب میں بھی بڑی مہارت تھی۔ ۱۳۲۳ھ میں احمد آباد ہی میں انتقال ہوا۔ درج ذیل کتابیں آپ کی تصانیف ہیں : (۱)رسالہ النذیر الاحمد(تحریکِ ندوہ کا رد) (۲)اِمطار الحق(غیر مقلدین کے رد میں )(۳) السیف المسلول علی منکر علم غیب الرسول(۴) البوارق اللامعہ علی من أراد إطفاء الأنوار الساطعہ۔(۱)
۔۔۔۔
 (۱)	(الف)  تذکرۂ علمائے ہند(فارسی)، از رحمان علی،ص۲۰۷ ۲۱۰۔  (ب)نزہۃ الخواطر،ج۸؍ص۴۷۶،۴۷۷۔

(۱۱)	حضرت مولانا محمد  فاروق چریا کوٹی (م۱۳۲۷ھ)

آپ قاضی علی اکبر بن قاضی عطائے رسول عباسی چریا کوٹی کے فرزند اصغر تھے۔ چریا کوٹ ضلع اعظم گڑھ (حال ضلع مؤ)میں آپ کی پیدائش ہوئی۔ اپنے بڑے بھائی قاضی عنایت رسول عباسی چریا کوٹی(م۱۳۲۰ھ) سے علوم عقلیہ و نقلیہ کی کتابیں پڑھیں، علمِ ہیئت مولانا رحمت اللہ فرنگی محلّی (م۱۳۰۵ھ) سے غازی پور میں اور علمِ فقہ و اصولِ فقہ مفتی محمد  یوسف فرنگی محلّی(م۱۲۸۲ھ) سے مدرسہ امامیہ حنفیہ،جون پور میں حاصل کیا اور حاشیہ زاہدیہ بر شرح ملا جلال مولانا ابو الحسن منطقی سے پڑھا۔ مختلف مقامات پر تعلیم و تدریس کا کام کیا۔ فارسی و عربی زبان و ادب میں بڑی مہارت تھی،۱۰؍شوال ۱۳۲۷ھ کو انتقال ہوا۔(۱)

(۱۲)	حضرت مولانا محمد  عبد المجید فرنگی محلّی (م۱۳۴۰ھ)

یہ مولانا عبد الحلیم بن عبد الحکیم بن عبد الرب بن بحر العلوم علامہ عبد العلی لکھنوی فرنگی محلّی کے صاحب زادے ہیں۔ لکھنؤ ہی میں ولادت اور نشوونما ہوئی۔ کچھ دن اپنے چچا مولانا محمد  نعیم فرنگی محلّی (م۱۳۱۸ھ) سے تعلیم پائی۔ پھر ابو الحسنات مولانا عبد الحئی فرنگی محلّی (م۱۳۰۴ھ) سے اکثر درسی کتابیں پڑھیں۔ ان کے انتقال کے بعد مولانا عین القضاۃ حیدر آبادی (م ۱۳۴۳ھ) سے تعلیم مکمل کی، پھر حج و زیارت کے لیے حرمین طیبین کا سفر کیا۔ واپسی کے بعد کیننگ کالج، لکھنؤ میں بحیثیت استاذ تقرر ہو گیا۔ فقہ، اصولِ فقہ اور علومِ عقلیہ میں ماہر تھے، متواضع اور خوش اخلاق تھے، اسی لیے لوگوں کے محبوبِ نظر اور فقہ و افتا کے مرجع تھے، اور عید گاہ کے خطیب بھی۔ ۱۳۴۰ھ میں لکھنؤ میں انتقال ہوا۔(۲)
۔۔۔۔
(۱)  (الف)تذکرۂ علمائے ہند(فارسی)، از رحمان علی،ص۲۰۷ ۲۱۰  (ب)  نزہۃ الخواطر،ج۸/ص۴۷۶،۴۷۷۔
(۲)	نزہۃ الخواطر ج۸/ص۳۲۹

(۱۳)	حضرت مولانا عبد الحئی لکھنوی فرنگی محلّی (م۱۳۰۴ھ)

کنیت ابو الحسنات اور والد کا نام مولانا عبد الحلیم بن امین اللہ بن محمد  اکبر انصاری لکھنوی فرنگی محلّی ہے۔ آپ کا نسب سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے ملتا ہے۔ ۱۲۶۴ھ میں بمقام باندہ (یو۔پی۔) آپ کی ولادت ہوئی۔ گیارہ برس کی عمر میں قرآن پاک حفظ کر لیا اور سترہ برس کی عمر  میں علومِ نقلیہ و عقلیہ کی تحصیل سے فارغ ہو گئے۔ درسِ نظامی کی ساری کتابیں اپنے والدِ گرامی حضرت مولانا عبد الحلیم فرنگی محلّی قدس سرہ(م۱۲۸۵ھ) سے پڑھیں، اور علمِ ہیئت کی بعض کتابیں اپنے والد کے ماموں مفتی نعمت اللہ بن نور اللہ فرنگی محلّی سے پڑھیں۔ فراغت کے بعد ایک عرصہ تک حیدر آباد(دکن) میں درس و تدریس کا فریضہ انجام دیتے رہے، پھر اپنے وطن فرنگی محل لکھنؤ چلے آئے، اور یہیں مدرسہ نظامیہ میں تشنگانِ علوم کو سیراب کرتے رہے۔ آپ پوری زندگی درس و افادہ اور خدمت دین میں مصروف رہے۔ دو بار حج و زیارت کی سعادت پائی۔ پہلی بار ۱۲۷۹ھ میں اپنے والد گرامی کے ساتھ، اور دوسری بار ۱۲۹۶ھ میں جب کہ والد صاحب کا انتقال ہو چکا تھا۔ آپ کو علمائے مکہ میں سے علامہ سید احمد بن زینی دحلان مکی اور مفتی محمد  بن عبد اللہ حنبلی سے اور علمائے مدینہ منورہ میں سے شیخ محمد  بن محمد  غربی شافعی اور شاہ عبد الغنی بن ابو سعید حنفی دہلوی سے حدیث کی سند حاصل تھی۔مختلف موضوعات پر درجنوں کتابیں تحریر کیں۔ مشہور غیر مقلد عالم نواب صدیق حسن خاں قنوجی بھوپالی کی تردید میں رسالے لکھے۔ ۳۸؍ برس کی مختصر عمر میں بے شمار دینی و علمی کارنامے انجام دیے۔۲۹؍ ربیع الاول ۱۳۰۴ھ بروز دو شنبہ آپ کا وصال ہوا۔ آپ کی قبر،باغ مولوی انوار لکھنؤ میں ہے جہاں آپ کے خاندان کے بہت سے لوگ محو استراحت ہیں۔ حضرت مولانا شاہ محمد  حسین الٰہ آبادی اور مولانا سید عین القضاۃ حیدر آبادی لکھنوی جیسے نام ور علمائے اہلِ سنت آپ کے شاگرد ہیں۔(۱)
۔۔۔۔
(۱)	(الف) علمائے اہلِ سنت، ص۱۴۴  (ب)   نزہۃ الخواطر،ج۸/ص۲۵۰ ۲۵۶  (ج)   تذکرہ مولانا عبد الحئی فرنگی محلّی (از راقمِ سطور نفیس احمد مصباحی) مشمولہ مقدمہ ہدایہ ج۱،مطبوعہ مجلسِ برکات، جامعہ اشرفیہ، مبارک پور، اعظم گڑھ۔
۔۔۔۔۔

(۱۴)	حضرت مولانا شاہ محمد  عادل کان پوری (م۱۳۲۵ھ)
آپ کی ولادت قصبہ نارہ، ضلع الہ آباد میں ۱۱؍ ربیع الآخر ۱۲۴۱ھ میں ہوئی۔ تاریخی نام ’’غلام نعیم‘‘ تھا، چھ سال کی عمر میں اپنے والد شیخ محی الدین بخش بن کریم بخش کے پاس فتح پور آئے جہاں وہ منصف تھے۔ اور یہاں کے علما سے کافیہ تک کتابیں پڑھیں، بیس سال کی عمر میں حضرت مولانا شاہ سلامت اللہ کشفی بدایونی (متوفی ۱۲۸۱ھ ) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور تعلیم مکمل کی۔حضرت کشفی نے ۱۰؍ ربیع الآخر ۱۲۷۶ھ کو تعلیم سے فراغت کے بعد سندِ فضیلت سے نوازا۔۱۲۸۲ھ میں علامہ سید احمد دحلان مکی نے سندِ حدیث بھیجی جس میں آپ کو’’قدوۃ العلماء الأعلام‘‘ کے لقب سے یاد کیا جس کے آپ صحیح مصداق تھے۔۲۳؍جمادی الاولیٰ ۱۲۹۲ھ میں قطب عالم حضرت مولانا شاہ عبد العزیز اخوند دہلوی (متوفی ۱۲۹۶ھ ) سے دہلی میں بیعت ہوئے اور اسی مجلس میں اجازت و خلافت سے نوازے گئے۔ ۲۱؍ محرم الحرام ۱۲۹۷ھ میں حضرت شاہ ابو الحسن احمد نوری مارہروی قدس سرہ (متوفی ۱۳۲۴ھ ) نے بھی اجازت و خلافت سرفراز فرمایا۔ کان پور میں اپنے استاذ شاہ سلامت اللہ کشفی کی مسند پر بیٹھ کر پوری زندگی تدریس،افتا اور خدمت دین میں گزاری۔۹؍ ذوالحجہ ۱۳۲۵ھ کو اس دار فانی سے کوچ کیا۔حضرت کشفی علیہ الرحمہ کی مزار کے پاس مدفون ہوئے۔مشہور قاری حضرت مولانا ضیاء الدین ناروی علیہ الرحمہ (متوفی ۱۹۵۸ء ) آپ کے نواسے تھے۔ آپ کی تصانیف میں تنزیہ الفؤاد عن سوء الاعتقاد بہت مشہور ہے۔یہ کتاب وہابیوں کے رد میں ہے۔(۱) 

(۱۵)	حضرت مولانا عبد الحق حنفی دہلوی،صاحب تفسیر حقانی (م۱۳۳۵ھ)

والد کا نام محمد  میر تھا، آپ کی پیدائش گمتھلہ،ضلع انبالہ (پنجاب) میں ۲۷؍ رجب ۱۲۶۷ھ میں ہوئی۔ ابتدائی تعلیم اپنے وطن میں پائی،پھر کانپور آئے اور کچھ کتابیں مولانا عبد الحق بن غلام رسول حسینی کانپوری (متوفی ۱۳۱۲ھ ) سے اور بیش تر استاذ العلما مولانا لطف اللہ علی گڑھی (متوفی ۱۳۳۴ھ ) سے پڑھیں، پھر مرادآباد میں مولانا عالم علی نگینوی سے صحاح ستہ کا درس لیا اور دہلی میں میاں نذیر حسین دہلوی (غیر مقلد) سے بھی حدیث پڑھی۔ پھر فتح پور مسجد دہلی کے مدرسہ میں مدرس ہو گئے اور ایک زمانہ تک درس و تدریس کا کام کرتے رہے۔ وہیں شادی کر کے مستقل رہائش اختیار کر لی۔پھر تدریس کا مشغلہ ترک کر کے تصنیف و تالیف میں مصروف ہو گئے۔ریاست حیدرآباد (دکن) سے وظیفہ جاری ہو گیا، آخر عمر میں مدرسہ عالیہ کلکتہ میں پانچ سو روپے ماہانہ پر تقرر ہو گیا، انگریزی حکومت سے ’’شمس العلما ‘‘ کا خطاب ملا۔۱۲؍ جمادی الاولیٰ ۱۳۳۵ھ کو انتقال ہوا۔ تصنیفات میں التعلیق النامی علی الحسامی (عربی )، عقائد الاسلام (اردو)، البرھان فی علوم القرآن (اردو)  اور فتح المنان فی تفسیر القرآن معروف بہ تفسیر حقانی (اردو ) مشہور ہیں۔(۲)
۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)	(الف)     تذکرۂ علمائے اہل سنت ص: ۱۱۲  ۱۱۳۔   (ب)    تذکرۂ علمائے ہند ( فارسی ) ص: ۲۷۵۔   (ج)  نزھۃ الخواطر،ج: ۸، ص: ۴۶۲  ۴۶۳۔
(۲)     نزھۃ الخواطر،ج: ۸، ص: ۲۴۱  ۲۴۲۔ 
۔۔۔۔۔۔۔

 (۱۶)	حضرت مولانا محمد  یعقوب بن مولانا محمد  کریم اللہ دہلوی (م۱۳۰۴ھ)
ولادت اور نشو نما دہلی میں ہوئی۔ اپنے والد مولانا کریم اللہ دہلوی (متوفی ۱۲۹۱ھ ) سے تعلیم حاصل کی، اور ایک زمانے تک ان کی صحبت میں رہ کر اکتساب فیض کیا۔ آپ کے والد گرامی شاہ عبد العزیز محدث دہلوی (متوفی ۱۲۳۹ھ ) مولانا رشید الدین خاں دہلوی (متوفی ۱۲۴۹ھ ) اور مولانا محمد  کاظم دہلوی کے شاگرد اور حضرت مولانا سید آل احمد اچھے میاں مارہروی (متوفی ۱۳۶۲ھ ) کے مرید و خلیفہ تھے والد گرامی کے انتقال کے بعد درس وتدریس اور تذکیر وارشاد میں ان کے جانشین ہوئے، اپنے زمانے میں تدریس و افتا میں بہت مشہور تھے، اہلِ شہر کے محبوبِ نظر اور مرکزِ نگاہ تھے، اللہ تعالیٰ نے آپ کی مقبولیت لوگوں کے دلوں میں ڈال دی تھی۔ ۹؍ ربیع الاول ۱۳۲۴ھ کو دہلی میں انتقال ہوا، اور خواجہ عبد الباقی نقش بندی کے مقبرہ میں اپنے والد کے پاس مدفون ہوئے۔(۱)
۔۔۔۔
(۱) 	(الف) تذکرۂ علمائے ہند (فارسی) ص: ۱۷۲۔   (ب)   نزھۃ الخواطر،ج: ۸، ص:۵۴۹۔
۔۔۔۔

(۱۷)	پایۂ حرمین شریفین حضرت مولانا رحمت اللہ کیرانوی مہاجر مکی (م۱۳۰۸ھ)

آپ کا نسبی تعلق قصبہ کیرانہ ضلع مظفر نگر (یو۔ پی۔ ) کے معروف عثمانی خانوادے سے ہے، والد کا نام خلیل الرحمن بن نجیب اللہ تھا۔ کیرانہ ہی میں جمادی الاولیٰ ۱۲۳۳ھ میں آپ کی پیدائش ہوئی۔ ابتدائی تعلیم گھر پر اپنے بزرگوں سے حاصل کی۔ پھر دہلی گئے جہاں ان کے والد مہاراجہ ہندو راؤ بہادر کے میر منشی تھے۔ وہیں مولانا محمد  حیات پنجابی اور مولانا عبد الرحمن چشی سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی، مولانا امام بخش صہبائی سے فارسی پڑھی، فراغت کے بعد اپنے وطن قصبہ کیرانہ میں ایک دینی مدرسہ قائم کیا جس سے سیکڑوں تشنگان علم نے اپنی علمی پیاس بجھائی، انوار ساطعہ کے مصنف مولانا عبد السمیع بے دلؔ رام پوری نے اسی مدرسہ میں آپ سے تعلیم پائی۔ یہ وہ زمانہ تھا جب عیسائی مشنریوں نے ہندوستان میں اپنی اسلام دشمن سرگرمیاں تیز کر رکھی تھیں، پادری فانڈر عیسائیوں کا سر گروہ تھا مولانا کیرانوی نے اکبر آباد آگرہ میں ۱۱؍ رجب ۱۲۷۰ھ/۱۰؍ اپریل ۱۸۵۴ء کو اس سے مناظرہ کیا، دو دن تک مناظرہ چلتا رہا، بالآخر تیسرے دن پادری فانڈر مناظرہ کے لیے نہیں آیا۔ پھر اس کے بعد اسی سبب سے انگریز آپ کے مخالف ہو گئے، یہاں تک کہ آپ ہندوستان سے
ہجرت کے لیے مجبور ہو گئے۔ آپ نے مکہ مکرمہ کا رخ کیا اور شیخ العلما علامہ سید احمد زینی دحلان مکی علیہ الرحمہ سے گہرے روابط پیدا کیے جس کے نتیجے میں آپ کو مسجدِ حرام میں درس دینے کی باقاعدہ اجازت مل گئی۔ آپ مولانا سید احمد زینی دحلان سے بہت متاثر تھے، اپنی کتاب اظہار الحق کے مقدمہ میں ان کا ذکر بڑی عقیدت و محبت سے بلند پایہ آداب و القاب کے ساتھ کیا ہے اور لکھا ہے کہ اس کتاب کو عربی زبان میں لکھنے کا اصل سبب علامہ سید احمد زینی دحلان مکی کا حکم ہی ہے۔ پھر ۱۲۹۰ھ میں آپ نے مکہ مکرمہ ہی میں ایک دینی مدرسہ قائم کیا جس کا نام ’’مدرسہ صولتیہ ‘‘ رکھا، جو کلکتہ کی ایک مخیر اور فیاض خاتون محترمہ صولت النساء کے نام سے منسوب ہے، جنھوں نے اپنی جیبِ خاص سے مکہ مکرمہ کے محلہ خندریسہ میں مدرسے کے لیے ایک جگہ خرید کر اپنی نگرانی میں اس کی تعمیر کرائی تھی۔ اس مدرسہ میں دینی علوم و فنون کے علاوہ مولانا نے ایک صنعتی اسکول بھی قائم کیا تھا جس میں مہاجرین اور عرب طلبہ کو صنعت اور دست کاری بھی سکھائی جاتی تھی۔
آپ نے تین بار قسطنطنیہ کا سفر فرمایا، پہلا سفر سلطان عبد العزیز خان مرحوم کی دعوت پر ۱۲۸۰ھ/۱۸۶۴ء میں ہوا، جب کہ دوسرا سفر سلطان عبد المجید خاں مرحوم کی دعوت پر ۱۳۰۱ھ میں ہوا۔ اور اسی موقع پر سلطان کی طرف سے آپ کو ’’پایۂ حرمین شریفین‘‘ کا لقب ملا۔ اور تیسرا سفر ۱۳۰۳ھ میں موتیا بند کے علاج کے لیے سلطان کی دعوت پر کیا۔ مولانا کیرانوی کا شمار اپنے دور کے اکابر علمائے اہلِ سنت میں ہوتا ہے۔ وہ تمام عقائد و معمولات میں مذہبِ اہلِ سنت کے ناصر و حامی اور اس پر سختی کے ساتھ کاربند رہے، جس کا ثبوت زیرِ نظر کتاب انوارِ ساطعہ اور تقدیس الوکیل مؤلفہ مولانا غلام دستگیر قصوری پر آپ کی شان دار تقریظات و تائیدات ہیں۔ ہم ثبوت کے لیے اسی مقدمہ میں تقدیس الوکیل پر آپ کی تقریظ کو نقل کریں گے۔
اسلام اور مسلمانوں کی گو ناگوں علمی و عملی خدمات کے بعد آپ نے پچہتر سال کی عمر میں جمعہ کے دن ۲۲؍ رمضان ۱۳۰۸ھ مطابق ۱۸۹۰ء میں مکہ مکرمہ میں وفات پائی اور جنت المعلّیٰ ام المومنین حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا کے جوار میں صدیقین و شہدا کے قریب مدفون ہوئے۔ اس چھوٹے سے احاطہ میں پانچ مزارات ہیں جن میں مولانا کیرانوی کے علاوہ حاجی امداد اللہ مہاجر مکی اور مولانا عبد الحق الٰہ آبادی شیخ الدلائل(مصنف اکلیل شرح مدارک التنزیل) خاص طور سے قابلِ ذکر ہیں۔
آپ نے درج ذیل کتابیں تصنیف فرمائیں :(۱)ازالۃ الاوہام(فارسی)، (۲) ازالۃ الشکوک(اردو)، (۳)اعجازِ عیسوی(اردو)،(۴) اوضح الاحادیث،(۵)بروق لامعہ، (۶) معدل اعوجاج المیزان۔، (۷) تقلیب المطاعن، (۸) معیار الحق،(۹) اظہار الحق (عربی)۔ یہ ساری کتابیں عیسائیوں کے رد میں ہیں۔ آخر الذکر کتاب مولانا کیرانوی کی ردِ عیسائیت پر آخری اور سب سے گراں قدر اور مدلل کتاب ہے، امام احمد رضا لائبریری، جامعہ اشرفیہ، مبارک پورمیں موجود ہے، راقم نے اس کا جستہ جستہ مطالعہ کیا ہے۔(۱)
۔۔۔۔۔
(۱)     (الف) مقدمہ بائبل سے قرآن تک ج۱/ص۱۷۹ ۲۱۸، مطبوعہ حافظی بک ڈپو، دیوبند۔ (ب)  نزہۃ الخواطر، ج۸/ص۱۶۰ ۱۶۲۔  (ج)انوارِ ساطعہ،ص  (د)   تقدیس الوکیل، از مولانا غلام دستگیر قصوری، ص۴۱۵، مطبوعہ نوری بک ڈپو، لاہور۔  (ہ)   انگریز نوازی کی حقیقت، از مولانا یٰسین اختر مصباحی،ص۳۸، مطبوعہ دار القلم، دہلی، ۱۴۲۸ھ/۲۰۰۷ء۔
۔۔۔۔۔۔

(۱۸)شیخ المشائخ حضرت مولانا حاجی امداد اللہ چشتی تھانوی مہاجر مکی (م۱۳۱۷ھ)

شیخ المشائخ مولانا الحاج امداد اللہ فاروقی چشتی،دوشنبہ کے دن ۲۲؍ صفر ۱۲۳۳ھ میں نانوتہ ضلع سہارن پور (یو۔پی۔) میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم اپنے وطن ہی میں پائی، حصن حصین اور مثنوی مولانا جلال الدین رومی، مولانا قلندر بخش جلال آبادی، شاگرد مفتی الٰہی بخش کاندھلوی سے پڑھیں، پھر دہلی گئے اور مولانا نصیر الدین شافعی کے درس میں پابندی کے ساتھ حاضر رہ کر طریقت و تصوف کی تعلیم پائی۔ ان کے انتقال کے بعد قصبہ تھانہ بھون، ضلع مظفر نگر آ کر سکونت اختیار کر لی۔ پھر لوہاری آئے اور میاں جی شیخ نور محمد  جھنجھانوی چشتی سے طریقت و تصوف کی تعلیم و تربیت حاصل کی اور ان ہی سے بیعت ہو گئے، اور اجازت و خلافت سے سرفراز ہوئے۔ اور سلسلۂ چشتیہ صابریہ کے ایک زبردست شیخ و مرشد کی حیثیت سے مشہور ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے دل آپ کی جانب موڑ دیے اور آپ کو قبولِ عام حاصل ہوا، عوام و خواص جوق در جوق آپ کے ہاتھ پر بیعت ہوئے۔ اور آپ کی ذات سے بر صغیر میں سلسلۂ چشتیہ صابریہ کو بڑا فروغ حاصل ہوا۔ پھر جب آپ نے ہندوستان کے حالات اپنے حق میں ناموافق پائے تو حجازِ مقدس ہجرت کر گئے اور ۱۲۷۶ھ میں مکہ مکرمہ میں مستقل سکونت اختیار کر لی۔ اور ابتدائی ایام سخت تنگی اور فقر و فاقہ کی حالت میں بسر کیے، پھر اللہ تعالیٰ نے دنیا آپ کے قدموں پر ڈال دی اور تنگ دستی خوش حالی میں بدل گئی۔ اور وہیں ۱۲؍ جمادی الآخرہ ۱۳۱۷ھ میں چہار شنبہ کے دن اپنے مالکِ حقیقی سے جا ملے، اور مکہ مکرمہ کے قبرستان جنت المعلیٰ میں مولانا رحمت اللہ کیرانوی کے پاس مدفون ہوئے۔
آپ کی تصنیفات درج ذیل ہیں :(۱)ضیاء القلوب(۲)فیصلۂ ہفت مسئلہ(۳)ارشادِ مرشد (۴) مثنوی تحفۃ العشاق(۵)بیان وحدۃ الوجود(۶) غذاے روح (۷) گل زارِ معرفت (۸)دردِ غمناک (۹) جہادِ اکبر (۱۰) نالۂ امدادِ غریب۔ آپ پورے طور پر اہلِ سنت کے عقائد و افکار اور مشائخِ طریقت کے معمولات و مراسم پر کاربند اور عمل پیرا تھے، جس پر آپ کی تصانیف گواہ ہیں، خصوصاً ضیاء القلوب، فیصلۂ ہفت مسئلہ،بیان وحدۃ الوجود،کیوں کہ اول الذکر کتاب میں مشائخ چشتیہ، قادریہ، نقش بندیہ و سہر وردیہ کے اور اد و وظائف اور اشغال و اذکار و مراقبات کو بیان کیا ہے، اور آخر الذکر کتاب میں نظریۂ وحدۃ الوجود کا بیان ہے اور فیصلۂ ہفت مسئلہ میں میلاد شریف، فاتحہ، عرس و سِماع، نداے غیر اللہ، جماعتِ ثانیہ، امکانِ نظیر اور امکانِ کذب جیسے سات مسائل کا فیصلہ فرمایا ہے۔ اس میں خاص طور سے میلاد شریف کے بارے میں لکھتے ہیں  :
 اور مشرب فقیر کا یہ ہے کہ محفلِ مولود میں شریک ہوتا ہوں، بلکہ ذریعۂ برکات سمجھ کر منعقد کرتا ہوں، اور قیام میں لطف و لذت پاتا ہوں۔ (۱)
ان کے علاوہ زیرِ نظر کتاب انوار ساطعہ در بیان مولود فاتحہ از مولانا عبد السمیع رام پوری تقدیس الوکیل عن توہین الرشید و الخلیل، از مولانا غلام دستگیر قصوری(م۱۳۱۵ھ)، اور الدّر المنظّم فی بیان حکم مولد النبی الاعظم، از شیخ الدلائل مولانا محمد  عبد الحق الٰہ آبادی مہاجر مکی(م۱۳۳۳ھ) وغیرہ کتبِ اہلِ سنت پر آپ کی تقریظات اور تصدیقات و تائیدات بھی اس بات کی روشن دلیل ہیں کہ آپ کے افکار و نظریات اور عقائد و معمولات وہی تھے جو علما و مشائخِ اہل سنت کے افکار و عقائد اور نظریات و معمولات ہیں۔(۲)
آپ کے مریدین و خلفا میں درج ذیل حضرات مشہور ہیں :(۱)استاذ العلما مولانا محمد  لطف اللہ علی گڑھی(م۱۳۳۴ھ)،(۲)استاذِ زمن مولانا احمد حسن کانپوری(م۱۳۲۲ھ)،(۳)حضرت مولانا شاہ محمد  حسین الٰہ آبادی (م۱۳۲۲ھ)، (۴)مولانا عبد السمیع رام پوری، سہارن پوری، مصنفِ انوارِ ساطعہ(م۱۳۱۸ھ)، (۵)مولانا محمد  انوار اللہ فاروقی حیدر آبادی (م۱۳۳۶ھ) مصنف انوار احمدی(در بیان میلاد النبی)،(۶)مولوی محمد  قاسم نانوتوی(م۱۲۹۷ھ)،(۷) مولوی رشید احمد گنگوہی (م۱۳۲۲ھ)،(۸)مولوی اشرف علی تھانوی (م۱۳۶۲ھ)،(۹)مولوی محمد  یعقوب نانوتوی(م۱۳۰۲ھ)۔(۳)
۔۔۔۔۔۔
(۱)	فیصلہ ہفت مسئلہ، مشمولہ کلیات امدادیہ،ص۱۰۵، مکتبہ تھانوی، دیوبند۔
(۲)	تفصیل کے لیے دیکھٔے (الف) انوار ساطعہ، ص۔۔۔۔۔ (ب)   تقدیس الوکیل،ص۴۴۴۔  (ج)الدر المنظم، ص۱۴۶، ناشر صاحب زادہ محمد  ابو بکر نقشبندی، شرق پور شریف، شیخو پورہ، پاکستان۔
(۳)   (الف)نزہۃ الخواطر،ج۸/ص   (ب)   انگریز نوازی کی حقیقت: ص۳۷، دار القلم، دہلی۔
۔۔۔۔۔۔۔
یہ کل اٹھارہ علمائے کرام و مشائخ عظام ہیں جن کے حالات میں نے یہاں درج کیے جب کہ درج ذیل سات علمائے کرام نے بھی انوارِ ساطعہ کی تائید و تصدیق کی ہے  :
 (۱:  مولانا محمد  اعجاز حسین رام پوری۔ (۲:  مولانا محمد  ابوالبرکات غازی پوری۔ (۳:  مولانا سعید الدین رام پور، ضلع سہارن پور۔ (۴:  مولانا محمد  عبد الغفور، بلندہ ضلع فتح پور ہنسوہ۔ (۵:  مولانا محمد  عبد الحق سہارن پوری (رُڑکی)۔ (۶:  مولانا ابو محمد  صادق علی مداح، میرٹھ۔ (۷:  مولانا محمد  عبد اللہ، صدر المدرسین مدرسہ اکبرآباد، آگرہ۔
لیکن تلاشِ بسیار کے باوجود مجھے ان کے حالات دستیاب نہ ہوسکے۔ لعل اللّٰہ یحدث بعد ذٰلک امرا۔
انوار ساطعہ کی زبان اپنے دور کے لحاظ سے بہت عمدہ، سلیس اور فصیح و بلیغ ہے ،مگر ماہرین لسانیات کے نزدیک یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ ہر بیس پچیس سال کے بعد لا شعوری طور پر زبان میں کچھ نہ کچھ تبدیلیاں ضرور رونما ہوتی ہیں، کچھ قدیم الفاظ کو دیس نکالا ملتا ہے اور ان کی جگہ جدید الفاظ کو شہریت ملتی ہے۔یہ تبدیلی مفردات میں بھی ہوتی ہے اور مرکبات میں بھی۔انوار ساطعہ کا زیر نظر نسخہ  ۱۳۰۷ھ کی تصنیف ہے،اس لحاظ سے اس کی زبان و بیان ممکنہ لسانی تبدیلیوں کے کئی ادوار سے گزر چکی ہے۔ اب بہت سے وہ اَلفاظ و مفردات جو اُس زمانے میں فصیح و بلیغ سمجھے جاتے تھے اِس دور کے لحاظ سے فصاحت و بلاغت کا جامہ اُتار چکے ہیں، الفاظ کی نشست وبرخاست، استعمال میں تقدم و تأ خر اور الفاظ کے زیرو بم میں بھی گوناگوں تبدیلیاں آ چکی ہیں۔یہ الگ بات ہے کہ ا س سے اِ س زبان کے لسانی پایہ اور اَدبی قیمت میں کمی نہیں آئی، کیوں کہ ہر تحریر کی ادبی قدر و قیمت اس کے دور کے ادبی ولسانی معیار کے مطابق ہوتی ہے، مگر زمانہ کی تبدیلی سے بعد کے ادوار کے قارئین تک معنی و مفہوم کی ترسیل کی قوت اور تاثیر ضرور متاثر ہوتی ہے، کیوں کہ ان کا ذوق اپنے دور کے ادبی محاسن سے آشنا اور انھیں کا خوگر ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انھیں اپنے دور کی ادبی کسوٹی پر پوری اترنے والی تحریروں کے پڑھنے میں جو مزہ آتا ہے وہ مزہ اس وصف سے خالی تحریروں کے پڑھنے میں نہیں آتا، اور استدلال کی جو قوت اور معنی کی جو تاثیر وہ اپنے زمانے کی عمدہ اور معیاری تحریروں میں محسوس کرتے ہیں دوسرے ادوار کی تحریروں میں انھیں اس کا احساس نہیں ہوتا۔اسی طرح زمانے کی تبدیلی کے ساتھ املا اور رسم الخط کے اصول و ضوابط بھی کچھ نہ کچھ بدلتے ہیں۔ اس لیے اب ضرورت تھی کہ انوار ساطعہ کی زبان بھی ممکنہ حد تک عصر حاضر کے معیار کے مطابق کی جائے اور اس کی کتابت اور کمپوزنگ میں بھی موجودہ دور کے اصول املا اور قواعد رسم الخط کا لحاظ کیا جائے۔
خدا بھلا کرے فاضل نوجوان حضرت مولانا محمد  افروز قادری چریاکوٹی زیدمجدہ  کا کہ انھوں نے جامعہ اشرفیہ میں اپنے قیام کے دوران اس ضرورت کو محسوس کیا اور کسی حد تک کام کا آغاز بھی کر دیا تھا، پھر جب خدمت دین متین کے لیے ساؤتھ افریقہ گئے تو وہاں پوری محنت، جاں فشانی اور جتن و لگن کے ساتھ اس کام کو پایۂ تکمیل تک پہنچادیا، اور بجاطورپر یہ انھیں کا حق تھا۔
مولانا موصوف ماشاء اللہ  بہت سی خوبیوں کے مالک ہیں۔ انھیں اللہ تعالیٰ نے حسن صوری کے ساتھ جمالِ معنوی سے بھی بہرہ ورکیا ہے۔ بہترین عالم دین، شان دار قاری، باذوق قلم کار، نکتہ رس ادیب اور اچھے شاعرتو ہیں ہی ، اس پر مستزاد یہ کہ ان کا مزاج تعمیری، فکر صالح اور روش عالمانہ اور دین دارانہ ہے۔عمرکے لحاظ سے توابھی جواں سال ہیں لیکن تحریر ایک تجربہ کار،منجھے منجھائے پختہ عمر قلم کار کی طرح پختہ،بے جھول، شستہ اور رواں دواں ہوتی ہے۔ مولانا کا وطن مالوف مشرقی اترپردیش کا مردم خیز قصبہ چریاکوٹ، ضلع مؤ ہے جو عہد ماضی میں اہل علم و اَدب کا مرکز رہ چکاہے۔ مولانا موصوف سردست سیاسیات کے حوالے سے کیپ ٹاؤن،ساؤتھ افریقہ کی مشہور یونیورسٹی ’’دلاص‘‘ میں مذہب مالکی اور زبانِ اُردوکی تعلیم و تدریس کا فریضہ سرانجام دے رہے ہیں، ساتھ ہی ساؤتھ افریقہ کی تاریخ میں ’’چراغِ اُردو ‘‘ کے نام سے پہلا مستقل ماہانہ اُردو اخبار نکال کر اپنی تحریری سرگرمیاں بھی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ مقام حیرت ومسرت ہے کہ افریقہ کی سرزمین صدیوں سے ارباب علم وفضل کی آماجگاہ رہی ہے مگر کبھی بھی وہاں کوئی اُردو اخبار اشاعت پذیر نہ ہوا، شاید یہ سعادت بھی انہی کے حصے میں آنا تھی۔ مولاناکی یہ کوشش انقلاب آفریں اور تاریخ سازکہی جائے گی، اس کے لیے وہ نہ صرف مجھ سے بلکہ پوری اُردو داں برادری سے بدھائیوں کے مستحق ہیں۔ اب تک اُن کے اشہبِ قلم سے درج ذیل کتابیں منصہ شہود پر آ چکی ہیں، اور درجنوں زیرترتیب ہیں  :
سیرت عائشہ، بزم گاہِ آرزو،اے میرے عزیز!، برکات الترتیل، مرنے کے بعد کیا بیتی؟، بولوں سے حکمت پھوٹے، وقت ہزار نعمت، موت کیا ہے؟،چالیس حدیثیں، اپنے لخت جگر کے لیے۔
انوار ساطعہ کے زیرنظر نسخہ میں مولاناموصوف نے عبارت کی تسہیل و تجدید اور تذہب وتہذیب کے ساتھ آیات کریمہ، اَحادیث طیبہ، اور عربی و فارسی عبارتوں کی تخریج وتحقیق کا کام بھی کیا ہے، ساتھ ہی جن عربی وفارسی عبارتوں کو مصنف نے بلا ترجمہ ذکر کیا تھا ان کا اردو ترجمہ بھی کیا ہے، اور ہر طرح سے کتاب کو سہل، عام فہم اور مفید عام وخاص بنانے کی کوشش کی ہے۔مولانا اپنی کوششوں میں کس حد تک کامیاب ہیں اسے باذوق قارئین دورانِ مطالعہ خود محسوس کریں گے۔ 
اخیر میں دعاہے کہ مولاتبارک وتعالیٰ اپنے حبیب پاک  صلی اللہ علیہ وسلم  کے صدقے میں اسے شرفِ قبول سے نوازے، اور مولاناموصوف کو دونوں جہان کی سعادتوں سے بہرہ ور کرے، ان کی خدمات کو قبول فرمائے، اور انھیں بیش از بیش خدمات جلیلہ ومقبولہ کی توفیق بخشے۔ آمین بجاہ حبیبہ سید المرسلین۔ وصلی اللّٰہ علی خیرخلقہ محمَّد وآلہ وصحبہ أجمعین۔
نفیس احمد مصباحی بارہ بنکوی
استاذ: الجامعۃ الاشرفیہ، مبارک پور، اعظم گڑھ، یوپی، الہند
مورخہ:۶؍ جمادی الاولیٰ: ۱۴۲۸ھ  /  ۲۳؍مئی  ۲۰۰۷ء  بروز چہارشنبہ



انوار ساعطہ

اے حقیقی انعام فرمانے والے ! تیرا ہزارہا ہزار شکر کہ تو نے ایک ایسا مقبولِ جہاں محبوب      صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم  مبعوث فرمایا کہ جس کا وجود باوجود اہل ایماں کے لیے نورساماں اور باعث آرامِ جاں ہے۔
لَقَدْ جَاءَ کُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ أنْفُسِکُمْ عَزِیْزٌ عَلَیْہِ مَا عَنِتُّمْ حَرِیْصٌ عَلَیْکُمْ بِالْمُؤمِنِیْنَ رَوُوْفٌ رَّحِیْمٌ ۔ (۱)
(بے شک تمہارے پاس تشریف لائے تم میں سے وہ رسول جن پر تمہارا مشقت میں پڑنا گراں ہے تمہاری بھلائی کے نہایت چاہنے والے مسلمانوں پر کمال مہربان مہربان۔) 
پھر لاکھوں کروروں درود وسلام اس امام رُسل اور ہادیِ سُبل کی روح پر فتوح پر کہ جس کی تعلیم و ہدایت کے فیضان سے آج ہر زندہ دل اپنے مرحومین کی روحوں کے لیے فاتحہ و درود کے ذریعہ راحت رسانی کا سامان کر رہا ہے۔
رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَ لإخْوَانِنَا الَّذِیْنَ سَبَقُوْنَا بِالإیْمَانِ وَ لاَ تَجْعَلْ فِي قُلُوبِنَا غِلاَّ لِّلَّذِیْنَ آمَنُوْا رَبَّنَا إنَّکَ رَوُوْفٌ رَّحِیْمٌ۔ (۲)
اے ہمارے رب! ہمیں بخش دے اور ہمارے بھائیوں کو جو ہم سے پہلے ایمان لائے اور ہمارے دل میں ایمان والوں کی طرف سے کینہ نہ رکھ، اے ہمارے رب! بے شک توہی نہایت مہربان رحم والا ہے۔
۔۔۔۔۔
(۱)	سورۂ توبہ،۹؍۱۲۸۔
(۲)	سورۂ حشر،۵۹؍ ۱۰۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اما بعد!  امیدوارِ فضل کردگار احقر العباد عبد السمیع انصاری عرض گزار ہے کہ اہل اسلام کو اپنی اس نازک صورت حال پر رونا چاہیے کہ اختلافِ بے جاکی زہر آفرینیوں سے مذہب اسلام کسی گل پژمردہ کی طرح کملایا جاتا ہے، اور کسی طوفانی ہوائے شدید کی طرح عنادوفسادچہارسو سے اُٹھا چلا آتا ہے، نہ تو زبانیں سچی رہیں اور نہ ہی سینے صاف۔سیکڑوں فتنے اور ہزاروں اختلاف۔ کوئی جناب باری تعالیٰ کی ذات والا صفات پر امکانِ کذب کا دھبّہ لگا رہا ہے،حالاں کہ اس کی شان تو یہ ہے  :
وَ مَنْ أصْدَقُ مِنَ اللّٰہِ حَدِیْثاً۔ (۱)
 اور اللہ سے زیادہ کس کی بات سچی!۔
 اور وہ حضورسرورِکائنات فخر موجودات  صلی اللہ علیہ وسلم  جنھوں نے خود اپنی زبان مبارک سے فرمایا  : 
أیُّکُمْ مِثْلِي۔ (۲)
یعنی تم میں میری طرح کون ہے؟
مزید فرمایا  :
إنِّي لَسْتُ کَأحَدِکُمْ۔ (۳)
میں تم سا نہیں یعنی تم میں کا کوئی ایک بھی میری طرح نہیں۔
پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم  کا کیا کہنا!آپ کی ازواجِ مطہرات نے وہ شان والا پائی ہے کہ جن کی بابت خود اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے  :
یٰنِسَآئَ النَّبِیِّ لَسْتُنَّ کَأَحَدٍ مِّنَ النِّسَآئِ۔ (۴)
اے نبی کی بیبیو! تم اور عورتوں کی طرح نہیں ہو۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 (۱)	سورۂ  نساء،۴ ؍۸۷۔
(۲)	صحیح بخاری: ۷؍۷۱ حدیث: ۱۸۲۹ ۲۱؍۳۵حدیث: ۶۳۴۵ ۲۲؍ ۲۰۱حدیث: ۶۷۰۱۔۔صحیح مسلم: ۵؍ ۴۰۰ حدیث: ۱۸۴۶۔۔سنن بیہقی: ۴؍ ۲۸۲۔۔سنن نسائی: ۲؍ ۲۴۲۔۔ معجم کبیر طبرانی: ۱۹؍ ۱۵۶حدیث: ۳۸۵۔۔ معجم اوسط طبرانی:۳؍ ۲۸۸حدیث: ۱۳۲۷۔۔ مستخرج ابی عوانہ: ۶؍ ۱۱۰حدیث: ۲۲۴۱۔۔ مسند شامیین: ۸؍ ۲۸۳حدیث: ۲۸۴۷۔۔مسند جامع: ۴۱؍ ۳۳۴حدیث: ۱۳۴۴۹۔
(۳)	سنن ترمذی: ۳؍ ۲۵۵حدیث: ۷۰۹۔۔سنن نسائی: ۶؍ ۴۷۳حدیث: ۱۷۳۲۔۔ مسنداحمد: ۱۰؍۵۸حدیث: ۴۵۲۲۔۔ مشکوٰۃ المصابیح: ۱؍ ۴۴۸حدیث: ۱۹۸۶۔۔ مصنف ابن ابی شیبہ: ۱۴؍ ۴۷۲حدیث: ۶۹۳۱۔۔ سنن نسائی: ۲؍۲۴۲۔۔معجم طبرانی: ۱۸؍ ۳۱۴حدیث: ۲۰۸۳۷۔۔ سنن دارمی: ۵؍ ۲۰۱حدیث: ۱۷۵۷۔۔ مسند ابی یعلی موصلی: ۳؍ ۴۲۱حدیث: ۱۳۷۷۔۔ مسند حمیدی: ۷؍ ۱۴ حدیث: ۲۹۰۱۔۔ صحیح ابن حبان: ۱۵؍ ۱۴۷حدیث: ۳۶۴۳۔۔ صحیح ابن خزیمہ: ۷؍ ۴۰۴حدیث: ۳۰۱۷۔۔ مسند اسحق بن راہویہ: ۵؍ ۱۹۲حدیث:۲۳۲۰ ۔۔التوحید ابن مندہ: ۱؍ ۱۵۱ حدیث: ۱۱۷۔۔ منتقیٰ ابن جارود: ۱؍ ۴۴۷حدیث: ۳۸۱۔۔ کنز العمال: ۸؍ ۵۱۴ حدیث: ۲۳۹۰۰۔۔ مجمع الزوائد: ۲؍ ۲۲۲۔۔المسندالجامع: ۱۴؍ ۵۸حدیث: ۴۳۷۳۔ 
(۴)	سورۂ احزاب،۳۳؍۳۲۔
پھر اس دور میں ایک ادنیٰ درجہ کا آدمی ہے یہ بک رہا ہے کہ ’’رسول اللہ میرے بھائی ہیں ‘‘۔
واضح ہونا چاہیے کہ بھائی جتنے بھی ہوں سب اپنے باپ کے کل ترکہ میں برابر کے شریک ہوتے ہیں۔ اس جملہ سے  معاذ اللہ  حضور فخر الانبیاء  صلی اللہ علیہ وسلم  کے ساتھ دعویٰ برابری کا وہم ہوتا ہے۔
کس کس اختلاف کو بیان کیا جائے، کوئی کہتا ہے کہ نمازِ وتر ایک رکعت پڑھنی چاہیے،تین رکعت کوئی ضروری نہیں۔ اور تراویح کی بیس (۲۰) رکعتیں بدعت اور آٹھ(۸) سنت ہیں۔ ہمارے ملک میں عہد قدیم ہی سے تین رکعت وتر اور بیس رکعت تراویح پر اجماع و اتفاق تھا مگر اب اس میں پھوٹ ڈالی جا رہی ہے، اور ایک یہی نہیں بہت ساری باتوں میں طرح طرح کی شاخیں نکالی جا رہی ہیں۔
وہ محفل میلاد‘جس کے بارے میں عالم عامل، محدث کامل اور فقیہ فاضل حافظ ابوالخیر سخاوی  رحمۃ اللہ علیہ  نے لکھا ہے کہ اہل اسلام دنیا کے ہر خطہ میں میلاد النبی  صلی اللہ علیہ وسلم  پڑھتے اور اس کے ذریعہ عظیم و جلیل برکتیں حاصل کرتے ہیں۔ مگر اس دور میں کوئی اسے کفر و شرک تو کوئی بدعت سے تعبیر کر رہا ہے (نعوذ باللہ منہا) 
یوں ہی وہ اُداس و حزیں مردے جو ایک تنگ و تاریک غار میں پڑے آس لگائے بیٹھے ہیں کہ کاش!میری اولاد مجھے کچھ دے (یعنی کچھ صدقہ و خیرات کرے)،یا بھائی بہن فاتحہ و درود بھیجیں۔تو اب کچھ لوگ دھڑلّے سے فتوے چھوڑ رہے ہیں کہ یہ سب کے سب بدعت کے کام اور حرام ہیں۔ عوام جو کہ تاریخیں متعین ہونے کی وجہ سے کچھ کر گزرتے تھے اب بالکل شتر بے مہار (بے لگام اونٹ سے)ہو گئے۔ بدعت کا نام کیا سنا کہ نیکیوں کے کام سے یکسردست بردار ہو گئے، مردوں کے لیے خیرات و امداد بند ہو گئی۔
تیرہویں صدی کے لوگوں کے احوال ہی کیا کم غضب تھے اور اب تو چودہویں صدی شروع ہو گئی ہے دیکھیے کیا کیا قیامتیں ٹوٹتی ہیں، اور دین و دنیا میں کیا کچھ خرابیاں در آتی ہیں۔
دہلی کے تین غیر مقلد علما اور دیوبند و گنگوہ وسہارنپور کے عالموں کی حسن توجہ نیز مطبع ہاشمی میرٹھ کی کوشش سے چار ورق پر مشتمل ایک فتویٰ  ۱۳۰۲ھ (1884ء)میں شائع کر کے اکثر علاقوں میں پھیلایا گیا،جس کی پیشانی پر لکھا ہوا تھا۔ (فتویٰ مولود وعرس وغیرہ)۔اس کتاب میں جہاں اس فتوے کا ذکر آئے گا،وہاں  فتویٰ اوّل انکاری  لکھا جائے گا۔
اس فتوے کے مضمون کا خلاصہ یہ ہے کہ محفل میلاد شریف  علی صاحبہا الصلوٰۃ والسلام  بدعت و ضلالت ہے،یوں ہی ہندوستان میں مردوں کے لیے جو فاتحہ و درود کا رواج ہے وہ بھی حرام اور کارِ گناہ ہے۔
ابھی کچھ دن بھی نہ گزرنے پائے تھے کہ چوبیس صفحے کا ایک دوسرافتویٰ اسی مطبع ہاشمی سے چھپ کر شائع ہوا جس کی پیشانی پر یہ لکھا گیا  فتویٰ میلاد شریف یعنی مولود معہ دیگر فتاویٰ اس فتویٰ کا اس کتاب میں جہاں ذکر آئے گا،وہاں  فتویٰ ثانی انکاری  لکھا جائے گا۔ اس فتوے میں زیادہ تر میلاد شریف کی مذمت کی گئی ہے، ساتھ ہی وہ پہلاچار ورقی فتویٰ بھی اس میں شائع ہوا ہے۔
مجھ سے بعض پیر بھائیوں نے تاکید تمام کے ساتھ یہ فرمایش کی کہ ان فتووں کی وجہ سے کچے دل لوگ شک و شبہ میں پڑے جاتے ہیں اور دشمنانِ دین جگہ جگہ ان فتاوے کونہ صرف دکھاتے ہیں بلکہ پڑھ پڑھ کر مسلمان بھائیوں کو بے دردی سے چڑھاتے ہیں، اور نفس کی پیروی میں فتنہ وفساد کی آگ ہر طرف بھڑکاتے ہیں۔ایسے نازک موقع پر آپ کو چاہیے کہ آپ ان کی خبر لیں اور افراط و تفریط سے ہٹ کر اس سلسلہ میں خالص سچی بات رقم فرما دیں ورنہ کچے دل عوام گمرہی کے بھنور میں پھنس جائیں گے اور پھر کبھی انھیں ساحل ہدایت نصیب نہ ہو گا۔
پھر کیا تھا حق و صواب کی توفیق دینے والے پروردگار نے (کہ جس کے قبضہ قدرت میں بنی آدم کا دل ہے) میرے دل میں بھی وہی بات ڈال دی کہ اس سلسلہ میں ضرور بالضرور کوئی حکم فیصل لکھ دینا چاہیے تاکہ عوام کے شکوک و شبہات دور ہوں اور وہ جنگ و دنگے سے بچ جائیں۔ تب میں نے  انوارِ ساطعہ در بیان مولود و فاتحہ  نامی یہ رسالہ لکھا۔اس کے اندر چار انوار ہیں۔
نور اول میں پانچ لمعے ہیں : 
 لمعہ اولیٰ میں مفتیانِ فتاویٰ انکاری کی کچھ عبارتیں نقل ہیں۔ 
لمعہ ثانیہ میں انوار ساطعہ پر نظر ثانی کی وجہ بیان ہوئی ہے۔
لمعہ ثالثہ میں براہین قاطعہ کا حال مذکور ہے۔
لمعہ رابعہ میں علما و مشائخ اور مسلم الثبوت مفتیانِ فتاویٰ انکاری کا ذکر ہے۔
لمعہ خامسہ میں بدعت حسنہ کی تحقیق ۔۔ حدیث خیر القرون کی تشریح اور اس سلسلے میں علمائے کرام کے اقوال ۔۔کچھ ان چیزوں کا بیان کہ جن میں باہم انکار و اختلاف پایا جاتا ہے مثلاً اذانِ جمعہ اور اعرابِ قرآن وغیرہ ۔۔ عقلی و نقلی دلیلوں کی روشنی میں بدعت حسنہ کا ثبوت۔۔ حدیث  من أحدث في أمرنا،  اور کچھ دیگر احادیث بدعت کی تشریح ۔۔ اثر عبد اللہ بن مسعودکی تشریح اور صحابہ کرام کی ایجاد کردہ کچھ نئی چیزوں کی وضاحت۔۔کچھ ان چیزوں کا بیان جو کہ زمانۂ رسالت میں نہ تھیں مثلاً عیدگاہ کا منبر،جمعہ کی پہلی اذان، رجع القہقریٰ،طواف رخصت۔مقام حیرت و تعجب ہے کہ جو شخص مشائخ کا مقلد اور ان کے معمولات پر عمل پیرا ہے آخر فاتحہ و میلاد شریف کو وہ غلط کیسے کہتا ہے ۔۔ من سن في الإسلام سنۃ حسنۃ کی تحقیق۔۔ اور بدعت حسنہ کے اثبات میں فقہا و محدثین کے اقوال۔ 
نور دوم میں چھ لمعے ہیں : 
لمعہ اولیٰ میں جوازِ فاتحہ اور انکاریوں کے دلائل کا جواب مذکور ہے۔
لمعہ ثانیہ میں جمعرات کی فاتحہ کا بیان ہے۔
لمعہ ثالثہ میں عیدین، شب براءت اور عشرۂ محرم میں فاتحہ کا جواز ہے۔
لمعہ رابعہ میں تیجے کی فاتحہ کا ثبوت ہے۔
لمعہ خامسہ میں چالیسویں، بیسویں اور دسویں کی فاتحہ،نیز مسجدوں میں نمازیوں کی امداد کی نیت سے گھڑوں کے بھیجنے کا ذکر ہے۔
لمعہ سادسہ میں اموات کے سلسلہ میں کچھ نصیحتیں مذکور ہیں۔
نور سوم میں نو لمعے ہیں : 
لمعہ اولیٰ میں مذہب جمہور کے مطابق محفل میلاد مبارک کا ثبوت پیش کیا گیا ہے۔
لمعہ ثانیہ میں خاندانِ عزیزیہ کے مشائخ کرام کا ذکر ہے جو کہ محفل میلاد شریف میں شامل ہوا کرتے تھے۔ اور میرے مرشد و مولا حضرت حاجی شاہ امداد اللہ صاحب  عم فیوضہ  بھی محفل میلاد شریف میں شریک ہوا کرتے ہیں۔
لمعہ ثالثہ میں یہ اعتراض اور پھراس کا جواب نقل ہے کہ محفل میلاد شریف کو کنہیا کے جنم اور نصاریٰ کے بڑے دن سے مشابہت ہے۔
لمعہ رابعہ میں یہ اعتراض و جواب مذکور ہے کہ محفل میلاد بدعت سیئہ ہے۔نیز مولوی اسماعیل کے مقرر کردہ اصول کے مطابق محفل میلاد کے سنت ہونے کا ثبوت فراہم کیا گیا ہے،کیوں کہ اس کی اصل بھی ثابت ہے اور نظیر و مثل بھی۔
لمعہ خامسہ میں یہ اعتراض و جواب منقول ہے کہ محفل میلاد خاص بارہویں ربیع الاول کو کیوں منعقد کرتے ہیں اور ہر سال کیوں مناتے ہیں۔نیز چند دلیلوں سے دن متعین کرنے اور دائمی عمل کا ثبوت پیش کیا گیا ہے۔
لمعہ سادسہ میں یہ اعتراض و جواب تحریر ہے کہ قیام ‘شرک ہے اور روح کا وہاں حاضر جاننا بھی شرک۔ پھر روحوں کے چلنے پھرنے کا قوی دلیلوں سے اثبات۔نیز یہ کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم محفل میلاد شریف سے باخبر ہوتے ہیں۔ساتھ ہی اس کی تحقیق بھی کہ قیام کی تعیین اس لیے نہیں کہ روح مبارک تشریف لاتی ہے بلکہ قیام کی نظیریں چند وجوہ سے شریعت میں پائی گئی ہیں۔
لمعہ سابعہ میں یہ اعتراض بیان ہوا ہے کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم غائب ہیں۔ اور حاضر کے الفاظ ان کے لیے بولنا کفر ہے۔پھرٹھوس دلیلوں سے اس کا جواب،ساتھ ہی عہد صحابہ سے لے کر اب تک ’’ندائے یا رسول اللہ ‘‘کا ثبوت۔
لمعہ ثامنہ میں متفرق اعتراضات نقل کرنے کے بعد اس کے جواب دیے گئے ہیں۔
لمعہ تاسعہ میں ان عالی مرتبت فقہا و محدثین کے اسماے گرامی نقل کیے گئے ہیں جنھوں نے محفل میلاد مبارک کے جواز کا قول فرمایا ہے۔
نور چہار م میں معاصرین علمائے کرام اور فضلائے عظام کی روشن روشن تقریظوں اور کچھ شفقت ناموں کا تذکرہ ہے۔ (یہ حصہ نور چہارم  کی بجائے کتاب کے ابتدائی صفحات سے جوڑ دیا گیا ہے۔ ا ع)
 مولف کتاب ‘اہل اسلام کی خدمت میں بصد التجا عرض پرداز ہے کہ میں ایک مریض و ناتواں اور عدیم الفرصت آدمی ہوں، دم مارنے کی مہلت نہیں،جنگ و جدال اور ضیاعِ وقت سے بچتا ہوں کیوں کہ میں کوئی وارستہ مزاج لا اُبالی نہیں۔محض اصلاحِ دین کے لیے اپنے کاروبار کو چھوڑ کر یہ رسالہ ترتیب دے رہا ہوں۔لہٰذا اہل اسلام سے گزارش ہے کہ وہ اللہ واسطے اسے انصاف کی نظر سے دیکھیں، نفسانیت کو ہرگز دخل نہ دیں، اگر حق سمجھ میں آ جائے تو فوراً قبول کر لیں اور اپنے پرانے قول سے رجوع کو بالکل کسرشان نہ سمجھیں، اور اگر ایسا کرنے پر دل رضامند نہ ہو تو اتنا ضرور کریں کہ دوسرے گروہ کو برا بھلا کہنے سے اپنی زبان روک رکھیں۔  ع :
مر ابخیر تو امید نیست بدمرساں 
جو لوگ سلف صالحین کی اتباع میں ان امورِحسنہ کے قائل ہیں ان کے پاس اپنی تقویت کے حوالے سے بہت دلائل ہیں اور ان کے جملہ شرعی مسائل دلیلوں سے ثابت ہیں۔


نور اول
نور اول میں پانچ لمعے ہیں 

 لمعہ اولیٰ   مفتیانِ فتاویٰ انکاری کی کچھ عبارتیں 

قال : (وہ کہتے ہیں کہ) محفل میلاد کا انعقاد اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم  کے ذکر ولادت کے وقت کھڑے ہونا قرون ثلاثہ (تیسری صدی) سے ثابت نہیں لہٰذا یہ بدعت ہے۔یوں ہی عیدین اور عیدین کے علاوہ جمعرات وغیرہ کو جو ہاتھ اٹھا کر فاتحہ کرنے کا رواج ہے، اس کا بھی ثبوت نہیں ملتا۔ہاں میت کے لیے دعائے مغفرت اور دن خاص کیے بغیر میت کو ثواب پہنچانے کے کی غرض سے فقراومساکین (کو کچھ صدقہ وغیرہ دے کر) اگر یہ امور محض اللہ کے لیے انجام دیے جائیں تو نفع کی امید ہے۔ اور یہی حال تیجہ،دسواں،چہلم وغیرہ،پانچ آیت اور چنوں اور شیرینی وغیرہ کا بھی ہے کہ حدیث اور دینی کتابوں میں اس کا کوئی ثبوت نہیں ملتا۔خلاصہ یہ کہ یہ نو پید اور خود ایجاد کردہ بدعتیں ہیں جسے شریعت پسند نہیں کرتی۔
(مولوی حفیظ اللہ صاحب )۔۔(مولوی شریف حسین صاحب)۔۔(مولوی الٰہی بخش صاحب)۔۔(مولوی محمد  یعقوب صاحب،مدرس اول مدرسہ دیوبند)۔۔ ( مولوی محمد  محمود صاحب، مدرس مدرسہ دیوبند)۔
یہ عبارت فتوۂ انکاری کے صفحہ ۳  اور فتوۂ ثانی انکاری کے صفحہ ۱۶  پر رقم ہے۔
قال : سبھی جوابات صحیح ہیں۔قال رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کل بدعۃ ضلالۃ وکل ضلالۃ في النار۔
(کتبہ: فقیر محمد  عبد الخالق دیوبندی عفی عنہ )

(فتوی اوّل انکاری صفحہ ۳  فتویٰ ثانی انکاری صفحہ ۱۷)

قال :  ایسی مجلس ناجائز ہے اور اس میں شریک ہونا گناہ ہے، اور فخر عالم علیہ السلام  کو حاضر و ناظر جان کر خطاب کرنا کفر ہے، ایسی محفل میں جانا اور شریک ہونا ناجائز ہے اور فاتحہ و تیجہ بھی خلاف سنت ہے کہ یہ ہنود کا طریقہ ہے،البتہ بلا کسی قید کے مردوں کو ایصال ثواب کرنا درست ہے اور کوئی حرج بھی نہیں۔ فقط  واللہ تعالیٰ اعلم 
(رشید احمد  عفی عنہ )
( فتویٰ اول انکاری صفحہ ۴  فتوی ثانی انکاری صفحہ ۱۷)
قال :  چراغاں،قیام،تقسیم شیرینی اور لایعنی قیدوں کے بغیرمجلس میلاد کا التزام بھی گمرہی سے خالی نہیں ہے اور یہی حال تیجہ اور کھانے پر فاتحہ کا بھی ہے کہ یہ قرون ثلاثہ میں نہیں پائے گئے۔ ( فتویٰ اول انکاری صفحہ ۴ فتویٰ ثانی انکاری صفحہ ۱۷)
قال :  مجلس مولودجیسا کہ اس زمانہ میں اپنے مخصوص و مشہور طریقہ پر رائج ہے یعنی ایک جگہ جمع ہونا، چھوٹوں،بڑوں بلکہ عورتوں اور امرد لڑکوں کا خلط ملط ہونا،راگ کے ساتھ اشعار پڑھنا، بالکل موضوع اور بے اصل روایتیں پڑھنا۔ بے دین اور دنیا کے طلبگار لوگوں نے روپیہ کمانے اور عوام الناس کی تسخیرکے لیے ان کو گڑھ کر اپنی باتوں کو چکنی چپڑی کرنا چاہا اور ہرکس وناکس کواس میں دعوت دینا خواہ ان کے لباس اور پہناوے خلاف شرع ہوں اور ان کی داڑھیاں منڈی ہوئی ہوں۔( فتویٰ ثانی انکاری صفحہ ۸)
قال:  یا یہ کہ یہ قیام روح پاک  صلی اللہ علیہ وسلم  کی تعظیم کے لیے ہے جو کہ عالم ارواح سے عالم شہادت میں تشریف لائی تو بھی محض حماقت ہے، کیوں کہ اس بنیاد پر قیام کرنا صرف ولادت شریف ہونے کے وقت ہونا چاہیے،اب ہر روز کون سی ولادت مکرر ہو رہی ہے، لہٰذا یہ ہر روز ولادت کا اعادہ تو بالکل ہندوؤں کی طرح ہوا جو کہ ہرسال سانگ کنہیا کا یوم ولادت مناتے ہیں یا رافضیوں کی مانند ہوا جو ہر سال اہل بیت کی شہادت کی نقل اُتارتے ہیں۔ معاذ اللہ  سانگ آپ کی ولادت کا ٹھہرا اور یہ خود قابل مذمت و ملامت حرکت ہے جو کہ فسق و حرام ہے بلکہ یہ لوگ تو اس قوم سے بھی بڑھ کر ہوئے کہ وہ تو تاریخ متعینہ پر کرتے ہیں مگر ان کے یہاں کوئی قید نہیں جب چاہیں یہ فرضی خرافات بناتے رہتے ہیں۔ ( فتویٰ ثانی انکاری صفحہ ۱۴)
قال :  میں اس مجلس مولود کی کتاب وسنت میں کچھ اصل نہیں جانتا اور نہ ہی پیشوائے دین علمائے امت میں کسی سے منقول ہے، جو کہ اسلاف کے آثارپر چلنے والے ہیں، بلکہ یہ بدعت ہے، جسے بیہودہ لوگو ں نے ایجاد کیا اور خواہش نفسانی ہے جسے ٹکڑ گدوں،پیٹ کے کتوں اور بہت کھانے والوں نے (رائج کیا)  نجانا اللّٰہ منہم وأعاذنا اللّٰہ من شرورہم۔اللہ ہمیں ان سے بچائے اور ان کے شر سے ہمیں اپنی پناہ میں رکھے۔ آمین۔(فتویٰ ثانی انکاری صفحہ ۱۸ )
مولوی محمد  حسین صاحب( لکھتے ہیں کہ)فقیر اگرچہ اس فتویٰ میں شریک نہیں مگر میلاد شریف کی بہت کچھ مذمت کرتا ہے، وہ  اس فتویٰ سے بہت پہلے شائع شدہ اپنے ’’حربۂ فقیر‘‘ میں لکھتے ہیں   ؎
ہزاروں فاسق و فاجر ہیں جمع محفل میں 
عجیب نفس کی لذت ہے محفل میلاد
جو چشم دل بھی ہے بینا تو دیکھ شیطاں کو
کہ اس کے زیر حکومت ہے محفل میلاد
حرام فعل ہو یاہو حلال ان کے لیے
قضائے جملہ حاجت ہے محفل میلاد
چڑھی ہے داڑھی تو مونچھے بڑھی ہیں اکثر کی
بھری انھیں سے بکثرت ہے محفل میلاد
بہت ندائے رسولِ خدا میں شاغل ہیں 
یہ مشرکوں کی علامت ہے محفل میلاد

اگرچہ یہ عبارتیں اس لائق نہ تھیں کہ اس کتاب میں درج کی جاتیں لیکن اس معذرت کے لیے لکھی گئی ہیں تاکہ آپ کو اندازہ ہوسکے کہ میں نے ان مقالات پریشاں سے تنگ آ کر قلم اٹھایا ہے۔ارباب عدل  و انصاف مجھے معذور رکھیں۔


لمعہ ثانیہ   انوار ساطعہ پر نظر ثانی کی وجہ 

واضح رہے کہ جب مانعین حضرات کی دراز نفسی بڑھی، میلاد شریف منانے والوں کو ٹکڑ گدے اور پیٹ کے کتے لکھا، ہندوؤں سے بھی بدتر ٹھہرایا اور میلاد شریف کو خرافات اور سانگ بتایا یہ سارے کلمات لمعہ اولیٰ میں فتاویٰ مطبوعہ ہاشمی صفحہ نمبر کی تعیین کے ساتھ نقل ہو چکے ہیں    ان کے علاوہ بعض منکرین کے ناشائستہ الفاظ سے بھرے رسالے بھی دیکھنے میں آئے، تواسی وجہ سے میں نے  ۱۳۰۲ھ (1884ئ)میں مطبوعہ’’انوارساطعہ‘‘کے اندر کہیں کنایۃً بطورِ ظرافت اور کہیں صراحۃً بطورِ ملامت کچھ کلمات لکھ دیے ہیں مگر ان کی برابری نہیں کی ان سے کم ہی لکھا ہے اور وہ بھی اس لیے ‘چوں کہ شرعی طور پر ہم اس انتقام کے مجاز ہیں۔ سورۂ شوریٰ میں ہے  :
وَ جَزَاءُ سَیِّئَۃٍ سَیِّئَۃٌ مُّثْلُہَا۔ (۱)
 اور برائی کا بدلہ اسی کی برابر برائی ہے۔
۔۔۔۔(۱)	سورۂ شوریٰ ،۴۲؍ ۴۰۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بخلاف ان لوگوں کے کہ جنھوں نے پہلے تو اپناسلیقہ زبان درازی ظاہر فرمایا اور اس پیش دستی کی ان کے پاس ہرگز کوئی شرعی دلیل نہیں، اس کے جواب میں میں نے جو کچھ لکھا وہ کچھ بھی نہیں تھا اور وہ بھی میرے طرز کے خلاف تھا کیوں کہ طعن و تشنیع میری عادت نہیں اور ہر کسی سے مہروسلامتی کا رویہ رکھتا ہوں۔یہی وجہ ہے کہ ۱۳۰۲ھ (1984ء) میں مطبوعہ ’’انوارِساطعہ‘‘پر میں نے اپنا نام نہیں لکھا لیکن بالآخر لوگوں میں اور شہر بہ شہر خود بخود اس کا  چرچا ہو گیا یہاں تک کہ ملک عرب میں بھی میرا ہی نام ظاہر ہوا۔(چنانچہ) مکہ مکرمہ زادہا اللہ شرفا وتعظیما  سے جناب مرشدی ومستندی،سیدی وملتحدی، ملاذیومی وغدی،نعیم روحی وجسدی، مرشد العلما والفضلا،شیخ العرفاوالکملا، شریعت آگاہ،طریقت پناہ،معرفت دست گاہ،حقیقت اکتنا ہ المولیٰ الحافظ المہاجرفی سبیل اللہ شیخنا المدعو بحاجی شاہ امداد اللہ  مدظلہ العالی مدی الایام واللیالی  کا  ۱۳۰۴ھ (1986ء)میں یہ ارشاد موصول ہوا کہ ’’انوارِ ساطعہ‘‘ کے مسائل و دلائل مجھے پسند آئے لیکن خلاف مرضی بات یہ ہے کہ آپ نے معاصر و ہم قافلہ علما کے بارے میں کچھ نامناسب الفاظ لکھ دیے ہیں اور یہ ارباب تحقیق( کی شان )سے بعید ہے۔میں نے یہ عذر پیش کیا کہ آغاز اُدھر ہی سے ہوا تھا لیکن قبول نہ ہوا اور ہوتا بھی کیوں کر کہ آپ تو اپنے مقام و مرتبہ کے لحاظ ہی سے نصیحت فرمائیں گے یعنی خودی کو مٹائے ہوئے،اپنے نفس پر جابرو قاہر،لوگوں کی ایذاؤں پر صابر و شاکر۔ آیت وَ الْکَاظِمِیْنَ الْغَیْظَ وَ الْعَافِیْنَ عَنِ النَّاسِ(۱) آپ کادستورو شیوہ، اور زبان پر یہ آیت کریمہ جاری۔  وَ لَمَنْ صَبَرَ وَ غَفَرَ إنَّ ذٰلِکَ لَمِنْ عَزْ مِ الاُمُورِ (۲)
۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)	آل عمران،۳؍۱۳۴۔
(۲)	شوری،۴۲؍ ۴۳۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
الحاصل ! میں نے حضرت کا فرمان مان لیا اور مولوی خلیل الرحمن کو ایک خط لکھا جو ان دنوں وہیں قیام پذیر ہو کر حضرت سے مثنوی شریف پڑھا کرتے تھے،جس کا مضمون یہ تھا کہ حضرت سے عرض کر دیں کہ جو تیز و تند الفاظ کسی کی نسبت لکھ دیے گئے ہیں انھیں میں نکال دوں گا، اور فریق ثانی جو کچھ زبان درازی کر چکے ہیں اور کر رہے ہیں اس پر صبر کر کے انتقام نہ لوں گا۔اس کے جواب میں حضرت مرشدی کا جو کرامت نامہ وتقدس شمامہ  صادر ہوا،اسے نقل کرتا ہوں  :
عزیزی ومحبی مولوی عبد السمیع صاحب  دام محبتکم  
 السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ 
بعد دعائے ازدیاد علم و اخلاص مکشوف باد کہ باطلاع مضمون خط شما کہ بہ خلیل الرحمن نوشتہ بودید نہایت محظوظ شدم چوں کہ آخرکار معاملہ بخدائے علیم بذات الصدور افتاد نیست لازم آں کہ از کتاب انوار ساطعہ خود کلامے کہ دراں تیز قلمی و غیظ نفسانی شدہ باشد کہ ایں از طرز تحریر اصحاب تحقیق و ارباب تہذیب بعید است و اسماے برادران طریقت خود و عبارت و اسمائے دیگر کہ از فور نفسانی صادر شدہ باشد اخراج نمایند و مضمونے کہ فیما بینکم و بین اللہ تعالیٰ باخلاص  و برائے اظہار امر حق باشد باقی دارند  انشاء اللہ تعالیٰ مقبول خواہد شدواگر کسے بتردید آں چیزے نویسد شما درپے تحریر جواب الجواب نشوید  چراکہ قصد شما اظہارِ حق بود و ظاہر شد وبس و فی الحقیقت نفس مطلب کتاب موافق مذہب  و مشرب فقیر و بزرگان فقیر است خوب نوشتید  جزاکم اللہ خیر الجزاء   اللہ تعالیٰ ما و شما و جمیع مومناں را در ذوق و محبت خود داشتہ حسن خاتمہ نصیب کند آمین 
علم و اخلاص کی بے پایاں برکتوں سے حصہ وافر عطا ہونے کے بعد آپ پریہ بات آشکار ہونی چاہیے کہ خلیل الرحمن کے نام مرسلہ آپ کے مکتوب کے مضمون کو پڑھ کر میں کافی محظوظ ہوا۔ چوں کہ آخر کار معاملہ اللہ رب العزت کے حضور پیش ہونا ہے، اس لیے انوار ساطعہ کے اندر جو کچھ تیز کلامی اور غیظ نفسانی کے پہلو در آئے ہیں جو اصحاب تحقیق اور ارباب تہذیب کے شایان شان نہیں،نیز اس کے اندر ہوائے نفسانی کی وجہ سے جو کچھ اپنے برادران طریقت کے اسما،عبارتیں اور بعض دیگر نام بھی مندرج ہو گئے ہیں انھیں اس سے خارج کر دینا چاہیے۔ اور صرف وہی مضامین باقی رکھنے چاہئیں جو اخلاص وللہیت کے ساتھ اظہار حق کی خاطر قلم بند ہوئے ہیں۔ انشاء اللہ۔اس کی برکت سے قبولیت عامہ نصیب ہو گی، اور اگر کوئی اس کی تردید میں کچھ پیش کر دے تو آپ اس کے جواب الجواب کے پیچھے نہ پڑیں کیوں کہ آپ کا مقصد اظہار حق تھا اور وہ حاصل ہو گیا اور بس۔سچی بات یہ ہے کہ کتاب کا نفس مفہوم و مطلب آپ نے فقیر اور بزرگان دین کے مذہب و مشرب کے موافق خوب قلم بند کیا ہے۔اللہ آپ کو اس کی بہتر جزا عطا فرمائے، اور ہمیں آپ کو اور جملہ مومنین کو اپنی سچی محبت اور ذوق و شوق میں مگن رکھ کر حسن خاتمہ نصیب فرمائے۔
الراقم الآثم  :
 فقیرامداد اللہ  عفی عنہ  
محررہ ،۲۲؍شوال  ۱۳۰۴ھ     از : مکہ معظمہ محلہ حارۃ الباب
ایک خط اور مولوی خلیل الرحمن صاحب کا مکہ معظمہ سے آیا جس میں یہ لکھا تھا کہ حضرت مرشدی ارشاد فرماتے ہیں کہ ’’انوارِ ساطعہ‘‘کی جب دوبارہ طباعت ہو تو پانچ یا چھ کاپی ہمارے پاس ضرور روانہ کر دیں۔
الحاصل حضرت مرشدی و مستندی کا صحیفہ مبارکہ آ جانے کے بعد مجھے نظر ثانی کی فرصت نہ ملی۔ اسی وجہ سے یہ بات ملتوی رہی۔لیکن جب چاروں طرف سے ’’انوارِساطعہ‘‘ کے مطالبے کے خطوط آنے لگے تو مجبور ہو کر یہ ٹھہرا کہ اب دوبارہ اس کی طباعت ہو جانی چاہیے۔چنانچہ ۱۳۰۶ھ (1988ء) میں نظر ثانی شروع کر دی۔
مکہ معظمہ سے بعض آنے والوں کی زبانی ‘حضرت مرشدی و مولائی کا ارشاد( محض)چار پانچ مقام (کی تصحیح) کے لیے تھا مگر میں نے یہ کیا کہ ہر مقام سے جس لفظ کو ملال کا باعث یا بارِ سماعت سمجھا اس کو نکال دیا یہاں تک کہ مانعین کی طعن سے بھری ہوئیں عبارتیں جوابوں کے ساتھ خارج کر دی گئیں یعنی نہ تو بعینہٖ ان کے الفاظ ’’انوارِ ساطعہ‘‘ میں نقل کیے جائیں گے اور نہ ہی ان کے ترکی بہ ترکی دے گئے جواب کی عبارتیں ہی۔ہاں !  صرف اس پر اختصار ہوا ہے کہ فریق ثانی کی بعض عبارتوں کو بغیر جواب کے لمعہ اولیٰ میں نمونہ کے طور پر نقل کر دیا گیا ہے، کیوں کہ حضرت مرشدی و مولائی کی رضا جوئی مجھے بہ دل و جاں منظور ہے، اور مرشد کے حکم کی تعمیل میں کوتاہی کرنا سراسرقصورہے۔ 
مجھے حیرت ہے ان لوگوں پر جنھوں نے شہر میرٹھ کے مطبع حدیقۃ العلوم سے ایک اشتہار شائع کیا کہ فلاں فلاں عالم نے جناب حاجی صاحب (حضرت مرشدی و مستندی )سے صرف سلسلہ تصوف میں بیعت کی ہے شریعت میں نہیں۔الیٰ آخرہ۔
اگر وہ لوگ یہ گفتگو اپنی ذات ہی تک محدود رکھتے تومیں بھی خاموشی اختیار کر لیتا لیکن جب یہ بات چھپ کر مشہور ہو گئی اور کسی صاحب نے اس کی تلافی بھی نہیں کی تو(مجھے اپنی صفائی کے لیے)اس کا دفعیہ کرنا ضروری ہوا۔
واضح ہونا چاہیے کہ تصوف کی چار منزلیں ہیں :  شریعت، طریقت، معرفت، حقیقت۔
جب تصوف میں بیعت مان لی تو گویا چاروں میں بیعت مان لی،پھر ایک منزل سے خارج ہونا عجیب فسانہ ہے۔  إنَّ ہٰذَا لَشَیْیئٌ عُجَابٌ۔ (۱) 
بے شک یہ عجیب بات ہے۔
۔۔۔۔
(۱)	سورۂ ص،۳۸؍۵۔
 ۔۔۔۔۔۔
(میں نہیں سمجھ سکاکہ یہ لوگ) حضرت کی بیعت شریعت سے کیوں انکار کرتے ہیں،جب کہ حضرت تو اتباعِ شریعت کا بڑا اہتمام کرتے اور اہل سنت کے اصولی و فروعی مسائل میں پوری تحقیق فرماتے تھے، اور پھر وہ عارف بھی ہیں اور عالم بھی۔ اور عالم شریعت ہونے کے لیے علم فلسفہ وغیرہ کی ضرورت تو نہیں ہوتی۔لہٰذا اگر حضرت کو منطق و معقولات میں مشق و مزاولت نہیں تو کیا ہوا؟ منطق ایک آلہ ہی توہے جس سے انسان خطا فی الفکرسے محفوظ رہتا ہے۔
میر سید شریف  رحمۃ اللہ علیہ  نے خود صراحت فرمائی ہے کہ وہ نفوس قدسیہ جنھیں تائید الٰہی حاصل ہوتی ہے اور حقیقتوں کے علم میں فکر و نظر کے محتاج نہیں ہوتے۔یعنی انھیں منطق سے کوئی کام نہیں ہوتا،اللہ  سبحانہ و تعالیٰ  ان کے ذہن میں حدس (دانائی)پیدا فرما دیتا ہے کہ وہ بلا فکر و نظر یکلخت آغازسے انجام کو پہنچ جاتے ہیں۔ جس کو اس کی آزمائش درکار ہواُسے حضرت کے مثنوی شریف کے درس میں شرکت کرنی چاہیے،اس پر یہ آشکار ہو جائے گا کہ جن مطالب میں بڑے بڑے اہل عقل و خرد حیران وسرگرداں ہیں اسے آپ ایک اشارہ میں حل فرما دیتے ہیں۔ سچی بات یہ کہ حق تعالیٰ نے آپ کی ذات کو علم شریعت و طریقت کا جامع بنایا ہے۔ اور یہ ناتواں ‘ شریعت و طریقت بہرطور حضرت سے (سچی )عقیدت رکھتا ہے،اسی لیے حضور کے حکم کی تعمیل و بجا آوری ضروری سمجھی، اور نظر ثانی کر کے اس کتاب سے طعن و تشنیع والی عبارتیں نکال دیں۔لیکن جب برائے ترمیم اس وجہِ خاص کے لیے قلم اٹھایا تو پھر ایسابھی ہوا کہ کچھ وہ چیزیں جو ہمارے اصلی مطلب سے ہٹ کر تھیں   مثلاً مسجددیوبند کی تعمیر اور سماع و حلقہ وغیرہ کے مسائل  گھٹا دی گئیں اور کچھ ایسے فوائد جن سے اپنے مطلوب و مقصود کی تائید ہو رہی تھی بڑھا دیے گئے  اور بعض مضامین جن کی عبارت مانعین کی سمجھ میں نہ آتی تھی وہ دوسرے طریقے سے انھیں سمجھائی گئیں   و اللّٰہ ولي التوفیق و بیدہ أزمۃ التحقیق 


لمعہ ثالثہ   براہین قاطعہ کے احوال 

واضح رہے کہ جب  ۱۳۰۲؁ھ (مطابق:1984ئ)میں ’’ انوارِ ساطعہ‘‘طبع ہو کر چاروں طرف پھیلی، تودوردورسے طالبانِ حق نے کچھ قیمۃً اور کچھ ہدیۃً منگا کر اس کا مطالعہ کیا، اور دور دراز شہروں سے شکریے کے بہت سے مضامین یوں لکھے آئے کہ الحمد للہ! ہمیں اس کتاب کے ذریعہ بہت سے شکوک و شبہات،اوہام اور مغالطوں سے نجات و امان ملی۔
پھر دوسال بعد یعنی  ۱۳۰۴؁ھ ( 1986ء)میں ’’ براہین قاطعہ بجواب انوار ساطعہ‘‘نامی ایک کتاب مطبع ہاشمی میرٹھ سے اس وضاحت کے ساتھ شائع ہوئی کہ یہ مولوی رشید احمد صاحب گنگوہی کے حکم سے چھپی ہے۔ دیباچہ میں جہاں کہ مولف کانام لکھا جاتا ہے  ان کے مرید مولوی خلیل احمد صاحب انبیٹھوی کانام لکھا تھا اور کتاب کے اختتام پر تصدیق جواب اور تائیدوتحسین کتاب کے طورپر مولوی رشید احمد صاحب موصوف کی تقریظ زیب قرطاس ہے۔ 
میرے کچھ احباب نیز دہلی و پنجاب وغیرہ کے بعض علما نے خطوط لکھے کہ تم ’’براہین قاطعہ‘‘ کا جواب کیوں نہیں لکھتے۔یعنی اس کتاب میں تحقیق حق تو اپنی جگہ صرف دلی بخار نکالا کیا گیا ہے، نہ تو کوئی دلیل ہی معقول ہے اور نہ کوئی جواب ہی موزوں ودرست ہے، صرف غیرشائستہ اور بے ڈھنگے کلمات سے پوری کتاب بھر دی گئی ہے۔غلیظ ترین الفاظ میں شاید کوئی ایسا لفظ ہو جس کا استعمال اس کتاب میں نہ ہوا ہو،اگر ساری کتاب کا (دیانت داری سے)انتخاب کیا جائے تو غالباً آدھی کتاب گالی گلوج اور غیظ و غضب سے بھری ملے گی۔(اس لیے) اس کا جواب لکھنا بہت ضروری ہے۔ میں نے کہا چند وجوہ کے باعث میرے لیے خاموش رہنا ہی بہتر ہے۔
 پہلی وجہ تو یہ ہے کہ خواہ اس کتاب یا کسی اور بے ڈھنگے رسالے کا جواب الجواب لکھنے سے باقتضائے رفع نزاع (میرے لیے )حضرت مرشدی جناب حاجی صاحب  ادام اللہ ارشادہ (کی ذات) مانع ہے۔اس سلسلہ میں حضرت کا رقعہ مبارکہ لمعہ ثانیہ میں منقول ہو چکا ہے۔ مزید برآں یہ کہ علامہ ذی جاہ المشتہر بالالسنۃ والافواہ استاذنا الحاج المہاجر مولانا رحمت اللہ الہندی الکیرانوی ثم المکی  خصہ اللّٰہ بإنعامہ الجلي والخفي  نے بھی ایک رحمت نامہ کچھ اسی مضمون کا روانہ فرمایا جسے بعینہٖ نقل کیا جاتا ہے  :
مولوی صاحب شفیق عالم مولوی عبد السمیع صاحب سلامت  ۔۔۔   سلام مسنون کے بعد 
آپ سے دیرینہ محبت اور بے تکلفی کی بنیاد پر  اپنا مقصد(نگارش)ظاہر کر  رہا ہوں کہ آپ کی اور مولوی رشید احمد صاحب کی مخالفت حد کو پہنچ گئی اور تحریر بھی اب بڑی سخت ہو گئی ہے، اس لیے مدرسہ فقیر کے مدرس دوم حافظ عبد اللہ صاحب کو سرکارچھتاری کے ذریعہ مقرر کردہ وظیفہ  جودوسال سے وصول نہیں ہوا لینے کے لیے  دہلی سے چھتاری بھیجنا ضرور تھا، اور ان کو تاکید کی گئی ہے کہ جاتے یا آتے آپ سے میرٹھ میں ملاقات کریں،تو وہ آپ سے مل کر زبانی بھی کہیں گے کہ اس مقدمہ کو جتناہوسکے دبایا جائے ہرگز بڑھاوا نہ دیا جائے۔فقط والسلام
راقم آثم  :
محمد  رحمت اللہ     از:مکہ معظمہ
تو جب پیر اور استاد ‘دونوں کا ایک ہی ارشاد ‘قابل ادب واحترام ملک عرب سے آئے توبھلابندہ اس باب میں اب کیسے قلم اُٹھائے!۔ 
دوسری وجہ یہ ہے کہ شروع میں جب مانعین نے میلاد شریف کرنے والوں کو احمق،گمراہ اور کنہیا کا جنم دن منانے والوں سے بھی بڑھ کر لکھا اور اس کی چوٹ دور دور یعنی روم و شام، مصر و یمن،حرمین شریفیں اور بیت المقدس وغیرہ کے علما و مشائخ اگلے پچھلے احیاء و اموات غرضیکہ تمام ذوات قدسیہ تک پہنچتی تھی،تو ان سب کی براءت اور مذہب حق کی نصرت کے لیے میں نے یہ رسالہ’’انوارِساطعہ‘‘لکھا تھا، اور اسی اخلاصِ نیت اور امدادِ حق کے باعث یہ طالبانِ حق میں کافی مشہور و مقبول ہوا، اور دور دور تک اس کی شہرت ہو گئی۔
اب(اس کے جواب میں ) یہ جو ’’براہین قاطعہ‘‘ چھپی ہے،وہ پوری کی پوری لعن طعن سے بھری پڑی ہے۔ نہ تو مضمون ہی سنجیدہ نہ ہی تقریر موزوں۔تا حد نگاہ خاص میری ذات ہی کی توہین و تحقیر۔لیکن میں اپنی ذات کا انتقام لینے نہیں اُٹھا نہ ہی ان کے بھونڈے الفاظ کا جواب دینے چلا ہوں۔ حضور خیر الانام  صلی اللہ علیہ وسلم  کی حدیث پاک سے ہمیں یہ معلوم ہو چکا ہے کہ جب تک بندہ اپنی برائیوں کو سن کر چپ رہتا ہے،فرشتے اس کی طرف سے جواب دیتے ہیں اور جب یہ خود جواب دینے لگتا ہے تو وہ انتقام والا فرشتہ خاموش ہو کر اپنی راہ لے لیتا ہے۔ اس لیے مجھے منظور نہیں کہ میں بذات خود اپنے نفس کا انتقام لوں اور اب بہتر یہی ہے کہ ان کے جواب سے اپنے قلم کو تھام لوں۔
تیسری وجہ یہ ہے کہ جب’’ براہین قاطعہ‘‘ چھپ کر ادھر ادھر شائع ہوئی اور اس کے مقلدین نے ’’انوارساطعہ‘‘کوبرابھلاکہناشروع کیا تو میں نے اپنارسالہ’’انوارِساطعہ‘‘ علمائے عصر کی خدمت میں بھیج دیا تاکہ وہ اسے شروع سے اخیر تک حرفاً حرفاً ملاحظہ فرمائیں،اگر مضمون درست اور دلیل ٹھوس پائیں تو اپنی تصدیق و تقریظ سے اسے مزین فرمائیں۔ چناں چہ بڑے بڑے شہروں کے نامور اکابر فضلا اور دور دور کے مشاہیر علما نے اس کتاب کو بالاتفاق پسند کیا اور اپنی (گراں قدر) تقریظ رقم فرما کر اس نحیف کو سربلند کیا۔ان کی تقریظوں سے ہویدا ہوا کہ ’’انوارِساطعہ‘‘ کا  دعویٰ و دلیل سب درست و بجا ہے۔وہ تقریظیں  انشاء اللہ  ہم نورِ چہارم میں درج کریں گے اور اہل نظر ان کے فصیح و بلیغ مضامین پر مطلع ہوں گے۔تواب ہمیں ’’براہین قاطعہ‘‘ کا جواب دینے کی ضرورت ہی کیا ہے ؟ ہمارے مضامین پر سلف و خلف اور معاصر علمائے ذی شرف کا کثرت سے اجماع و اتفاق کافی حجت ہے۔ 
چوتھی وجہ یہ ہے کہ مولف براہین قاطعہ نے بہت سے مضامین ایسے لکھ دیے ہیں جس سے اکثر اہل اسلام کو وحشت و نفرت سی ہو گئی ہے۔
 مثلابراہین قاطعہ کے صفحہ ۳پر ہے  :
 جو کوئی یوں کہے کہ خدا تعالیٰ کا جھوٹ بولنا ممکن ہے،اس پر طعن کرنا جہالت ہے۔ 
صفحہ۴ پر ہے  :
 رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  جملہ بنی آدم کے بھائی ہیں  الیٰ آخرہ۔ قید ایمان کی بھی شرط نہ رکھی، جو کہ بعض لوگ آیت کریمہ إنَّمَا الْمُوْمِنُونَ إخْوَۃٌ  سے ثابت کرتے ہیں۔
اسی پر ہے  :  
وتر کی ایک رکعت کو قوت ہے۔
صفحہ ۵ پر ہے  :  
جو کوئی تراویح کی بیس رکعت کی بجائے آٹھ رکعت کو سنت جانے وہ قابل اعتراض نہیں۔
صفحہ ۲۶پر ہے  :  
دیوبند کے عالموں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کو ہندی کلام کرنا آ گیا۔
صفحہ ۱۸پر ہے  :  
حرمین شریفین کے علما کو رشوت دے کر جو چاہو فتویٰ لکھوا لو الیٰ آخرہ 
تو گویا وہ آیت کریمہ :  وَ مَنْ لَّمْ یَحْکُمْ بِمَا أنْزَلَ اللّٰہُ فَأوْلٰئِکَ ہُمُ الْکَافِرُوْنَ(۱) کے مصداق ہیں۔
۔۔۔۔
(۱)	 اور جو اللہ کے اتارے پر حکم نہ کرے وہی لوگ کافر ہیں۔(سورۂ مائدہ،۵؍۴۴)
۔۔۔۔۔
صفحہ ۹۹ پر ہے  :  
عوام کا مذہب معین نہیں ہوتا  الیٰ آخرہ 
یعنی سب لامذہب ہوتے ہیں اور ظاہر ہے کہ دنیا میں زیادہ تر عوام ہیں اور جو خواص ہیں وہ کہتے ہیں کہ ہم کو خود بصیرت حاصل ہے جیسا کہ فرقہ غیر مقلدین کی زبان پر جاری ہے، تو خواص اپنی علمیت اور عوام اپنی ناواقفیت کے باعث تقلید سے نکل گئے تو تقلید ائمہ، جس پر مدت سے اجماع چلا آ رہا ہے ،کدھر گئی۔ ایسا مسئلہ ایسے فتنہ وفسادکے وقت میں لکھنا مخلوق میں آگ لگانا ہے۔
صفحہ۱۳۲پر ہے  : 
 مسئلہ اختلافی بلا ضرورت بھی جائز ہے۔ 
یعنی ایک امام کی تقلید واجب نہیں جس کا جی چاہا بلا ضرورت کسی امام کامسئلہ لے لیا۔
صفحہ۲۷۰پر ہے  :  
جس کو ایک نماز فوت ہونے کا اندیشہ ہو اس کے ذمہ سے حج ساقط ہو جاتا ہے۔ 
مکار اور حیلہ جو آدمیوں کے لیے اچھی دستاویزلکھ دی، وہ کہ دیا کریں گے کہ ہم سے جہاز اور اونٹوں کے سفر میں بے شک نماز ادانہ ہو گی،تو اس بنیاد پر ہم کو حج کے لیے جانا ضروری نہیں۔ اس میں کیا حکمت ہے کہ ایک فرض ادا کرنے کو جائیں اور دوسراقضاہو جائے۔
صفحہ ۱۲۷پر ہے  :  
ہندوستان کے لوگ مردوں (کی طرف سے )صدقہ رسما ً  ادا کرتے ہیں۔ 
 دوسری جگہ صفحہ ۱۳۴پر لکھا  : 
 الریاء شرک  الخ 
تو ان کے صدقہ کورسمی اور ریائی بتا کر ان کو مشرک ٹھہرایا۔
صفحہ ۱۰۹پر ہے  :  
 اور ہندوستان کے لو گ تاریخ کے تعین میں ہندوؤں سے مشابہت کرتے ہیں۔ 
تشبہ کو دوسری جگہ صفحہ ۱۱۳پر لکھا کہ  :
(ایسا کرنا) کفر ہے۔
گویا  تیجہ وچالیسواں کرنے والے کافر ٹھہرے۔ یہ کیسی بے انصافی اور زور زبانی ہے کہ سب کے متعلق رسم و ریا اور تشبہ بالہنود  کا حکم دے دیا۔ 
صفحہ ۱۴۱پر ہے  : 
 محفل مولد شریف کرنے والے کنہیا کا جنم کرنے والوں سے بھی بڑھ کر ہیں،وہ تو سال بھرمیں ایک بار کرتے ہیں اور یہ جب چاہتے ہیں فرضی خرافات اور ولادت کا سانگ کر لیتے ہیں۔
الحاصل !  بہت سے مقامات پرایسی ایسی دل آزار تقریریں رقم کیں کہ جس سے اہل اسلام، علما اور غیر عالم سبھی کبیدہ خاطر ہو گئے۔ کوئی قلم سے کوئی زبان سے ہر شخص اپنی استعداد کے مطابق ان کے مسائل کی تردید کر رہا ہے۔جب اس کتاب کی یہ حالت ہے تو مجھے جواب لکھنے کی کیا حاجت ہے۔ ہاں !  براہین قاطعہ کے جس کسی شبہ کا ازالہ ضروری سمجھاجائے گا تو چوں کہ انوارِساطعہ پر نظر ثانی ہوہی رہی ہے،اس کا حل بھی پیش کر دیا جائے گا۔ 
پانچویں وجہ یہ ہے کہ مولف براہین قاطعہ کو اگرچہ بظاہر میرے مسائل و دلائل پر شدت سے انکار ہے مگر اسی انکار میں خاص اقرار(کے پہلو بھی نظر آرہے ہیں ) چنانچہ صفحہ ۲۳ کی سولہویں سطر میں انوارِساطعہ کی مندرجہ روایات کی بابت آپ لکھتے ہیں  :
آپ کی سب روایات منقولہ مسلّم ہیں۔
 صفحہ ۱۸کی اٹھارہویں سطر( پر لکھا )
جمع بین العبادتین کا کوئی منکر نہیں  الیٰ آخرہ 
ہم کہتے ہیں کہ فاتحہ اور کھانا کھلانے میں جمع بین العبادتین ہی تو ہے۔
صفحہ ۸۶ کی پانچویں سطر( پر لکھا)
 ہر روز ثواب پہنچانادرست ہے (حتی کہ )عیدین اور شب براءت کو بھی الیٰ آخرہ 
پھر ان ایام میں کھانا و فاتحہ ، ایصال ثواب کے لیے ہی تو ہوتا ہے۔ 
 صفحہ ۱۱۹ کی پہلی سطر( میں لکھا )
جو فقرا کے واسطے بطور صدقہ ہوتوفقراکونفس طعام مباح ہے، اگرچہ دن متعین کرنا بدعت ہے الخ 
صفحہ ۱۲۹ کی چودہویں سطر (پر لکھا ) 
اگرچہ طعام صدقہ ہے اور اس کا ثواب پہنچے گا مگر یہ کام تعیین کی وجہ سے مکروہ ہو گا  الیٰ آخرہ 
صفحہ ۷۰ کی بارہویں سطر پر لکھا  :
 مانعین اس عمل کے بدعت ہونے کے قائل ہیں نہ اس کے کہ ثواب نہیں پہنچے گا۔ 
دیکھیے ہندوستان میں رائج تعیین (ایام)میں بھی ایصالِ ثواب ہو جاناتسلیم کیا اور تعیین کو بدعت کہا،جس کو ہم بدعت حسنہ کہتے ہیں۔اس پر دلائل اس کتاب میں مذکور ہیں۔ 
صفحہ ۱۳۳ کی تیرہویں سطر (پر لکھا )
 طرز اشغال گو متقدمین سے لے کر آج تک بدلتے چلے آتے ہیں اور نسبت کا رنگ بھی بدلتا رہتا ہے مگر اصل مطلق واحد ہے الیٰ آخرہ 
فاتحہ اموات اور محفل میلاد شریف میں ہمارایہی جواب ہے کہ اصل مطلق واحد ہے گو رنگ اور طریقہ بدل گیا ہے۔
صفحہ ۱۷۳ کی چودہویں سطر(پر لکھا )
مانعین نہ فرحت میلاد کو برا کہیں اور نہ ذکر ولادت کو منع کریں بلکہ ایسے امر مستحسن ہیں  الیٰ آخرہ 
صفحہ ۱۷۸ کی نویں سطر(پر لکھا )
سچ ہے کہ فرحت ،ولادتِ فخر عالم میں جس قدر کی جائے بوجہ مشروع وہ تھوڑا ہے   الیٰ آخرہ 
صفحہ ۱۹۶ کی ساتویں سطر(پر لکھا )
بدعت حسنہ سنت ہی ہوتی ہے اس کو باعتبار ظہور اور شیوع کے کہا جاتا ہے الیٰ آخرہ 
توہم کہتے ہیں کہ کھانے پر فاتحہ اور میلاد شریف دونوں سنت ہیں کیوں کہ ان کی اصلیں قرونِ ثلاثہ سے ثابت ہیں گو کہ ان امور کا اس انداز میں ظہور و رواج بعد میں ہوا۔تو بس اس ظہورِ خارجی اور شیوع کے سبب ان کو بدعت حسنہ کہنا چاہیے نہ کہ بدعت و ضلالت۔
صفحہ ۱ ۹کی پندرہویں سطر(پر لکھا )
کھانے اور شیرینی کی بحث تو چند دفعہ ہو چکی کہ اصل اس کی مباح اور تخصیص و تاکد مروج سے کراہت پیدا ہوئی۔
یہ ذکر ہے کھانے اور محفل میلاد شریف کی شیرینی کا۔
صفحہ ۲۰۰ کی دوسری سطر(پر لکھا )
قیام مباح تو تھا مطلقاً اور تعظیم شان ذکر فخر عالم  علیہ السلام  کے واسطے مستحب بھی تھا مگر جہلا کی تقیید و تخصیص اور عوام کے سنت اور وجوب سے بدعت ہوا تھا۔
صفحہ ۲۰۰کی چوتھی سطر(پر لکھا)
 اور مولد کبیر وغیرہ میں جو مستحسن کہا ہے۔(یعنی قیام مولد شریف کو) تو اصل مطلق کے فرد کی وجہ سے کہا ہے بظن غالب وہاں عروض اس قید اور تاکد کا نہ ہوا تھا بخلاف ہمارے زمانے کے الخ 
صفحہ۲۴۲کی پانچویں سطر(پر لکھا ) 
تاویل حلبی کی یہ ہے کہ وہ ذکر مطلق کے فرد کی وجہ سے قیام کرتے تھے اور تقیید مطلق کا درجہ اس قیام میں نہیں تھا اور نہ عوام کا اندیشہ تھا لہٰذا جائز جانتے تھے اور وہ امر نہیں رہا مگر وہ ہو گیا۔
دیکھیے قیام کو بھی مان لیا باقی یہ بات کہ اب مکروہ ہو گیا تو ان حضرات کے اجتہاد سے مکروہ ہوا،جس کو ہم تسلیم نہیں کرتے۔
دوسرے وہ جو بعض اشعار و قصائد میں ’’ ندائے یارسول اللہ‘‘ ہوتی ہے، اس کی بابت براہین قاطعہ کے صفحہ ۲۲ کی سولہویں سطر میں لکھا  :
 اگر ذات فخر عالم کو حاضرو ناظر بالذات کوئی عقیدہ کرے تو مشرک ہوتا ہے اور اگر یہ عقیدہ نہیں بلکہ محض محبت میں کہتا ہے یا بوجہ اس کے کہ اگر ضمن صلاۃ وسلام میں ہے تو ملائک آپ تک پہنچا دیں گے اور جو بدون اس کے ہے وقت عرض اعمال کے پیش ہو جائے گا  الخ 
دیکھیے کہ انھوں نے انوارِ ساطعہ کے سارے مطالب تسلیم کر لیے ہیں اور وہ جو ہر ایک بات میں تسلیم کے باوجود کچھ کچھ انکار کی شاخ بھی درج کی ہے تو اس کی حقیقت طالبانِ حق انوارِ ساطعہ میں ملاحظہ کریں۔ہر حجت کی کیفیت اپنے اپنے مقام پر کھول کر رکھ دی گئی ہے۔
علاوہ ازیں اہل عقل و دانش بخوبی سمجھتے ہیں کہ یہ شاخ اس لیے نکالی گئی ہے کہ جب انوارِ ساطعہ کی تردید کا نام لیا جا رہا ہے تو کچھ تو شاخ نکالیں گے ہی وہ، ورنہ لوگ کہیں گے کہ یہ کیسا رد لکھا ہے کہ ہر بات کو مان لیا ہے۔
براہین قاطعہ سے ایک بڑا فائدہ یہ حاصل ہوا کہ اکثر ناواقف لوگ مجھ سے الجھا کرتے تھے کہ میلادسرورِکائنات  علیہ افضل التسلیمات  نیز مردوں کی فاتحہ، بدعت ہے۔بدعت حسنہ کوئی چیز نہیں جو بدعت ہے وہ ضلالت ہے اور جو ضلالت ہے، جہنم جانے کا ذریعہ ہے۔ ہرچند ہم ثبوت دیتے کہ بدعت دوقسم کی ہوتی ہے ایک بدعت سیئہ مذمومہ اور دوسری حسنہ محمودہ،لیکن وہ کسی قیمت پر ماننے کو تیار نہ تھے۔ جب میں نے انوارِ ساطعہ میں بدعت کی تقسیم کا قاعدہ شرعی دلیلوں کی روشنی میں رقم کیا تو مولف براہین قاطعہ نے اسے تسلیم کر لیا۔ صفحہ ۳۰ کی تیرہویں سطر پر ان کی عبارت یوں ہے  :
جو امر بعد فخر عالم  علیہ السلام  کے حادث ہوا مطلقاً خواہ محمود ہو خواہ مذموم یعنی اس کے جواز کی دلیل ،شرع میں موجود ہو یا نہ ہو،اس کی دو قسم کرتے ہیں قسم اول محمود کہ جس کی دلیلِ جواز ،شرع میں ہے اور دوسری مذموم کہ دلیل اس کے جواز کی نہیں،پس قسم اول کا بدعت حسنہ نام رکھتے ہیں اور ملحق بالسنہ جانتے ہیں اور دوسری قسم بدعت ضلالت ہے الخ  
واضح ہو کہ اگرچہ مولف براہین قاطعہ یعنی مولوی خلیل احمد انبیٹھوی کا اس قاعدہ کوفی نفسہٖ تسلیم کرنا ان کی ذات و صفات کو دیکھتے ہوئے (مخالفین یا موافقین میں )کسی بشر کے نزدیک قابل اعتماد واستناد نہ تھا لیکن چوں کہ ان کا یہ سارا مسودہ ،درحقیقت ان کے پیر و مرشد مولوی رشید احمد صاحب گنگوہی کے افادات و افاضات کاعکس و آئینہ ہے، اور پھر آخر کتاب میں جملہ مسائل و دلائل کی تصدیق کرتی ہوئی ان کی تقریظ بھی جلوہ گر ہے،لہٰذا اُس کتاب کے ہر مضمون کو مشہور قاعدہ ’’نور القمر مستفاد من نور الشمس‘‘کی روشنی میں مولوی رشید احمد صاحب ہی کا مضمون سمجھنا چاہیے کہ (ان کی ذات) ہمارے اضلاع و نواح میں جملہ مانعین کے نزدیک مستند و معتبر ہے۔ الحمد للہ!  مانعین کو اپنے ایک ایسے مسلم الثبوت کی زبانی ہمارے قاعدہ کی کامل تصدیق ہو گئی، اور ہمیں ان کی لایعنی سمع خراشی سے نجات بھی مل گئی۔ 
براہین قاطعہ سے دوسرا فائدہ یہ ہوا کہ بعض اصحاب علم و نظر اگرتقسیم بدعت کے قائل بھی ہوتے تھے تو یوں کہتے تھے کہ بدعت حسنہ اگر ہے تو بس قرونِ ثلاثہ تک کی ایجاد ،درست اور لا کلام ہے ورنہ ان صدیوں کے بعد کی ایجاد بالکل ہی ضلالت و حرام ہے۔میں نے انوارساطعہ میں اس کا نہ صرف ردِ کامل کیا بلکہ شرعی دلیلیں بھی بطور ثبوت پیش کی ہیں کہ بھلائی وسعادت کے کام ایجادکرناجائز ہے گرچہ قرونِ اولیٰ کے بہت بعد ہی کیوں نہ ہو۔ چنانچہ براہین قاطعہ کے مولف نے اسے بھی تسلیم کر لیا ہے۔
 صفحہ ۲۹کی پہلی سطرمیں یہ عبارت ہے  :
 جس کے جواز کی دلیل قرونِ ثلاثہ میں ہوخواہ وہ جزئیہ کسی وجودخارجی کی وجہ سے اس صدی میں ہوا یا نہ ہوا اور خواہ اس کے جنس کا وجود خارج میں ہوا ہو یا نہ ہوا ہو ، وہ سب سنت ہے الیٰ آخرہ 
پھر اسی صفحہ کی گیارہویں سطرکے بعد لکھتے ہیں  :
 دیکھو کہ تقلید شخصی کی دلیل قرونِ ثلاثہ میں موجود ہے گواس کا وجودِ خارجی کبھی ہو، اس سے ہم کو بحث نہیں  الی آخرہ 
پھرچارسطر کے بعد لکھا  :
لہٰذا بالتعیین تقلید شخصی کے وجوب لغیرہ کا وجود،قرونِ ثلاثہ کے بعد ہوا،اگرچہ اس کا وجود شرعی قرونِ ثلاثہ میں ثابت تھا الیٰ آخرہ 
دیکھیے مولف براہین قاطعہ نے اس مقام پر اقرار کر لیا کہ یہ کوئی ضروری نہیں کہ جس امر کا وجود خارجی قرون ثلاثہ میں نہ ہوا ہو وہ منع ہو بلکہ دلیل جواز کے لیے قرونِ ثلاثہ میں صرف اس کا وجود پایا جانا کافی ہے۔ جس امر کی دلیل کا وجود اُن قرون میں پایا گیا پھر وہ کسی وجود خارجی کی وجہ سے ،خواہ کسی زمانہ قریب یا بعید میں موجود ہو تو وہ سب کا سب سنت ہے۔
 صفحہ ۱۹۶میں لکھا  :
 بدعت حسنہ ،سنت ہی ہوتی ہے، اس کو بدعت اس کے ظہور و شیوع کے اعتبار سے کہا جاتا ہے۔ 
چنانچہ اوپر بھی یہ عبارت نقل ہو چکی ہے۔تو وہ جو بعض ناواقف منکرین جھگڑا کرتے تھے کہ محفل میلاد شریف نہ تورسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے منعقد فرمائی نہ کسی صحابی و تابعی نے اور نہ تابعین کے اَتباع نے، اس بنیاد پر یہ محفل بدعت سیئہ ہے تو ان کے اس دعویٰ و دلیل اور سب قیل و قال کی براہین قاطعہ کی اس تقریر سے بالکل تردید ہو گئی، اس لیے کہ اس محفل کا وجودِ خارجی کے ساتھ ان صدیوں میں موجود ہونا کچھ ضروری نہیں،صرف دلیل جواز کاپا لیا  جانا کافی ہے۔باقی رہی یہ بات کہ کوئی تھوڑی سمجھ کا آدمی دلیل کا معنی یہ نہ سمجھے کہ اگر اس فعل خاص کا نام صراحۃً اور اس کی کل کیفیات کا بیان بعینہٖ تشریحا ًقرون ثلاثہ میں ہو گا تب وہ فعل ان صدیوں کے بعد جائز ہو گا ورنہ ناجائز۔تو خوب یاد رکھنا چاہیے کہ ایساہرگزمراد نہیں، اور اس کا تصفیہ بھی مولف براہین قاطعہ نے کر دیا ہے۔کیوں کہ انوارِ ساطعہ میں یہ مضمون لکھا گیا ہے کہ تعمیرمدرسہ کو بھی تم بدعت حسنہ یعنی ملحق بالسنہ اور سنت حکمیہ مانتے ہو توپھرایسے ہی محفل میلاد شریف اور فاتحہ اموات بھی ہے۔اگر یہ امور اُن صدیوں میں اس ہیئت کے ساتھ ثابت نہیں توتعمیرمدرسہ بھی مروجہ ہیئت و کیفیت کے ساتھ قرون ثلاثہ سے ثابت نہیں۔
 تو اس کا جواب براہین قاطعہ کے صفحہ ۱۸۵ کی تیسری سطر میں یہ دیا  :
 تعمیرمدرسہ کی مثال محض کم فہمی ہے،صفہ کہ جس پر اصحاب صفہ طالب علم دین اور فقرائے مہاجرین رہتے تھے مدرسہ ہی تو تھا،نام کا فرق ہے لہٰذا اصل سنت وہی ہے ہاں مکان کی ہیئت تبدیل ہو گئی الیٰ آخرہ 
اب ہم صاحب براہین قاطعہ کی دلیل کا پول کھولتے ہیں۔ واضح ہو کہ صفہ،مسجدنبوی میں ایک سایہ دار مکان تھا اور اس کی اصل یہ تھی کہ تحویل قبلہ سے پہلے مسجدشریف کی شمالی جانب قبلہ تھا، تحویل قبلہ کا حکم ہو جانے کے بعد قبلہ اولیٰ کی دیوار قائم رکھی گئی تاکہ بے گھرفقیرومسکین یہاں رہا کریں۔’’جذب القلوب‘‘ میں ذہبی کے حوالے سے یوں ہی مذکور ہے۔
’’منتخب اللغات ‘‘میں ہی  :
جمعے از غریبان اہل اسلام کہ خانہ نہ داشتند در موضعے از مسجد کہ بالایش پوشیدہ بودند می گزرانند۔
یعنی بے خانماں غربائے اہل اسلام کا ایک گروہ مسجدکے اندر ایک چھت دار جگہ پر زندگی گزارتا تھا۔
صحیح بخاری میں ہے کہ جب کہیں سے صدقات آتے تو حضور  صلی اللہ علیہ وسلم  اصحاب صفہ کو بھیج دیتے۔
مشکوٰۃ کے  باب فضل الفقراء  میں حضرت ابوہریرہ  رضی اللہ عنہ  سے روایت ہے کہ میں نے ستراصحاب صفہ (اس حال میں )دیکھے کہ کسی کے پاس اوپر اوڑھنے کے لیے چادر بھی نہ تھی، بس ایک ایک کپڑا تھا، کسی کے پاس نیچے باندھنے کو فقط ایک تہبند تھا،کسی کے پاس اوپر اوڑھنے کو ایک کملی، جسے وہ گلے میں باندھ لیتے تھے،کملی یا تہبند کسی کی آدھی پنڈلی تک پہنچتا تھا اور کسی کے ٹخنوں تک۔وہ لوگ اپنے کپڑوں کو سجدہ وغیرہ کی حالت میں سمیٹ لیا کرتے تھے کہ کہیں سترعورت کھل کر دوسروں کو نہ نظر آ جائے   انتہیٰ 
قرآن میں ان کا کام یہ بیان ہوا ہے  :
یَدْعُوْنَ رَبَّہُمْ بِالْغَدَاۃِ وَالْعَشِیِّ یُرِیْدُوْنَ وَجْہ۔(۱)
 رضائے رب کی خاطر،وہ اپنے رب کو صبح و شام پکارتے ہیں۔ 
۔۔۔۔۔۔
(۱)	سورۂانعام،۶؍ ۵۲ سورۂ کہف،۱۸؍۲۸۔
۔۔۔۔۔۔
مفسرقتادہ نے کہا کہ یہ آیت اصحاب صفہ کے حق میں نازل ہوئی ہے، وہ ایک نماز پڑھ کر بیٹھے رہتے کہ اب دوسری نماز پڑھیں گے۔ اس صورت میں  یدعون ربہم کے معنی یہ ہوئے کہ نماز پڑھتے ہیں، اور حضرت ابن عباس اور مجاہد سے بھی یہی معنی مروی ہیں۔ جب کہ بعض مفسرین کہتے ہیں کہ  یدعون ربہم سے مراد یہ ہے کہ وہ خدا سے دعا کرتے ہیں۔ اور امام نخعی  رحمۃ اللہ علیہ نے اس کے معنی یہ بتائے ہیں کہ اس کو یاد کرتے ہیں۔تفسیرکبیر اور معالم التنزیل میں بھی ایساہی ہے۔ اور شاہ ولی اللہ صاحب نے بھی سورۂ انعام میں مذکورہ بالاآیت کے لیے یہی معنی اختیار کیے ہیں،فرماتے ہیں  :
مناجات می کنند پروردگار خویش را بامدادو مسامی طلبند روے اور ا   انتہیٰ 
یعنی وہ اپنے رب سے صبح و شام مناجات کرتے ہیں خاص اس کی رضا کی خاطر۔   
شاہ عبد القادر لکھتے ہیں  :
پکارتے ہیں اپنے رب کو صبح و شام چاہتے ہیں اس کا منہ انتہیٰ 
صبح و شام سے مراد ،دوام ہے اور مطلب یہ ہے کہ وہ لوگ ہمیشہ مناجات الٰہی میں لگے رہتے اور اللہ کو پکارتے ہیں۔
اب مدرسہ کا مسئلہ معلوم کرنا چاہیے کہ فی زمانہ سبھی علما مدرسے کی تعمیر کو جائز فرماتے ہیں،کسی نے اپنی اصطلاح کے موافق سنت حکمیہ اور ملحق بالسنہ کہا اور کسی نے بدعت حسنہ قرار دیا اور رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کے اصحاب صفہ کو اس کی نظیر اور دلیل ٹھہراتے ہیں، اب اصحاب عدل و انصاف خیال فرمائیں کہ اصحاب صفہ کی حقیقت اور ان کے کام، اور طلبہ مدرسہ کی کیفیت اور ان کے کاموں میں کتنا کچھ فرق ہے۔ اور اسی طرح مقام صفہ اور تعمیر مدرسہ میں حقیقۃً صفۃً اور وضعاً کس قدر خلاف ہے،کسی چیز میں اشتراک نہیں، نہ نام، نہ تعمیر مکان اور نہ ان کے کاموں ہی میں،بجز اس کے کہ صفہ بھی ایک مکان تھا جس میں مسلمان طالب دین رہتے تھے اور مدرسہ بھی ایک مکان ہے جس میں مسلمان طالب دین رہتے ہیں اور دونوں میں یہی ایک مشترکہ علت دیکھ کر موافق و مخالف تمام علما،مدرسہ کو جائز رکھتے ہیں۔ چنانچہ اسی علت و بنیاد پر مولف براہین قاطعہ اور ان کے مرشد و تقریظ نگار نے تعمیرمدرسہ کا جواز مسلم رکھا۔تو ثابت ہو گیا کہ کسی نئے اور نیک کام کی ایجاد کے جوازواستحسان کے لیے اتنی ہی دلیل کافی ہے۔جیسے آج کل کے مدارس کی ہیئت و کیفیت کے جواز کے لیے صفہ کا وجود دلیل کافی سمجھا گیاگو ہیئت کی تبدیلی بدرجہ کمال ہے۔ جب یہ قاعدہ صاحب براہین قاطعہ نے اس تشریح و توضیح سے خود تسلیم کر لیا تو اب ہم کو ان کی کتاب کے رد و جواب کی کیا حاجت رہی۔ 
ہماری ’’انوارِ ساطعہ‘‘ کا مقصود اصلی اور مطلوب حقیقی دو چیزیں ہیں : محفل سید کائنات علیہ افضل الصلوٰۃ ، اور فاتحہ اموات۔ اور یہ دونوں مسئلے مولف براہین قاطعہ کی تقریر سے ثابت ہو گئے۔
ہم کہتے ہیں کہ فاتحہ اموات ،دسویں اور چالیسویں وغیرہ کے طور پر،ایصالِ ثواب ہی تو ہے۔ اور محفل میلاد شریف ،روایت معجزات ہی توہے گو ہیئت تبدیل ہو گئی اور نام بدل گیا۔جس طرح مدرسہ، مولف براہین قاطعہ کے اقرار کے مطابق،صفہ ہی تو ہے گو ہیئت بدل گئی، اور نام بدل گیا۔
 نادان لوگ ہیئت کذائیہ ہی میں بلاوجہ سمع خراشی کیا کرتے تھے، مولف براہین نے صفہ کے نام و ہیئت کی تبدیلی، مدرسہ کے باب میں تسلیم کر کے ہم کواس قسم کے جھگڑالوؤں سے نجات بخش دی کہ پرانی ہیئت کی تبدیلی اور ہیئت کذائیہ کا الحاق کسی نزاع کا باعث نہیں۔ اس بنیاد پر ہم کہتے ہیں کہ اگر بغور دیکھا جائے تو براہین قاطعہ درحقیقت ہمارے مخالف نہیں بلکہ ہمارے مدعا کے عین موافق ہے، اور ہم نے جن اصول و دلائل اور نظیروں کو انوارِساطعہ کے دعووں کے اثبات کے لیے جابجا قائم کیا ہے،اہل نظر بلا تامل ملاحظہ فرمائیں گے کہ ہماری ہر دلیل، دلیل صفہ کی دلیل سازی سے کہیں بلند و اعلیٰ ہے۔
معلوم رہے کہ اس کتاب میں جہاں ’’براہین قاطعہ‘‘ کا نام آئے گاتو فصل اور تمیز کے لیے اسے ،مولوی رشید احمد گنگوہی کے چھپوانے اور شائع کرنے کی وجہ سے ’’براہین قاطعہ گنگوہی‘‘ لکھا جائے گا۔ اس لیے کہ براہین قاطعہ کے نام سے ایک اور رسالہ بھی ہے جس کا جواب ’’دلائل ساطعہ قاطعہ براہین قاطعہ‘‘ ہے۔ 


لمعہ رابعہ   مفتیانِ فتاویٰ انکاری کے مسلم الثبوت علما و مشائخ کا تذکرہ 

واضح رہے کہ ان فتاویٰ کے( لکھنے والے)مفتیان کرام ہیں وہ ان دو عالموں   مولوی اسماعیل صاحب دہلوی اور مولوی اسحق صاحب دہلوی  کے معتقد ہیں، بعضوں کو ان صاحبوں کے خاندان میں واسطہ درواسطہ رابطہ شاگردی حاصل ہے،بعضوں کو مریدی و طالبی، اور بعضوں کو محض تقلید اور پیروی۔تو مولوی اسماعیل صاحب کا خاندانِ طریقت یہ ہے کہ وہ سید احمد صاحب کے مرید ہیں اور وہ شاہ عبد العزیز صاحب کے اور وہ شاہ ولی اللہ صاحب کے۔ اور شاہ ولی اللہ صاحب کاسلسلہ اوپر کی طرف خاندانِ مجددیہ میں یوں چلتا ہے کہ وہ اپنے باپ شاہ عبد الرحیم صاحب کے مرید ہیں اور وہ سید عبد اللہ سے اور وہ سید آدم بنوری سے اور وہ امام ربانی مجدد الف ثانی سے  الخ 
اپنے دوسرے سلسلہ کے بارے میں شاہ ولی اللہ صاحب نے ’’انتباہ‘‘میں یہ لکھا ہے  :
 اس فقیر نے شیخ ابوطاہرسے علم حدیث لیا، خرقہ تصوف پہنا اور خلافت پائی اور انھوں نے شیخ احمد قشاشی سے اور انھوں نے شیخ احمد شتاوی سے اور انھوں نے اپنے باپ علی ابن عبد القدوس سے اور انھوں نے شیخ عبد الوہاب شعراوی سے اور انھوں نے شیخ جلال الدین سیوطی سے اور انھوں نے شیخ کمال الدین امام کاملیہ سے اور انھوں نے شیخ الاسلام ابو الخیر ابن الجزری شیخ القرا والمحدثین سے الیٰ آخرہ 
الحاصل!  یہ اوپرسلاسل مذکورہ میں درج ہوئے ،بزرگواران ،مفتیانِ فتاویٰ انکاری کے مقتدا اور پیشواہیں، اور ہم نے ان اسماکوان کے مسلم الثبوت مشائخ کی کتابوں مثلاً ’’انتباہ‘‘ اور ’’ قول جمیل ‘‘وغیرہ سے نقل کیا، اور یہ اس لیے کہ ہم جو قول یا دلیل پیدا کریں گے تو یا تو خود ان بزرگواروں کی تصانیف میں ہو گی یا ان بزرگواروں کی مسلم الثبوت کتابوں میں۔


لمعہ خامسہ  بدعت حسنہ کا اثبات 

واضح ہو کہ یہ مسئلہ اصول دین متین سے ایک اصل عظیم ہے،اگریہ ثابت ہو گیا تو سمجھ لیں کہ اکثر اختلافی مسائل طے ہو گئے۔اس بنیاد پر پہلے ہم  اللہ کی قوت ومددسے اسی سے متعلق گفتگو کرتے ہیں۔ اے حق کے طلب گارو! بیدار دل ہو کرسنو کہ بدعت حسنہ کے متعلق چند اقوال ہیں  :

پہلا قول یہ ہے کہ جو امر قرونِ ثلاثہ یعنی صحابہ یا تابعین یا تبع تابعین کے زمانہ میں ایجاد ہوا وہ سنت ہے اور جو ان کے بعد ہوا وہ بدعت، اور ہر بدعت ،گمراہی ہے۔
یہ مولوی اسماعیل صاحب کے مقلدوں کا قول ہے جو بارہا اپنے اعتراضوں میں پیش کرتے رہتے ہیں۔ اور رسالہ’’تذکیر الاخوان‘‘ میں مولوی اسماعیل صاحب نے جو  نظیر کی قید لکھی ہے تو اس کے بارے میں یہ کہتے ہیں کہ اسی رسالہ کے ایک دوسرے مقام پر لکھا ہے کہ نظیر کا سمجھنا مجتہد کا کام ہے۔ تو  اگر کوئی کام از روئے نظیر و مثل ان مجتہدین مطلق کے وقت میں ایجاد ہو گا تو جائز ہو گا ورنہ نہیں۔چنانچہ اسی بنیاد پر مفتیانِ فتاویٰ انکاری میلاد و فاتحہ کو بدعت ٹھہرا چکے ہیں اور ان کی عبارتیں لمعہ اولیٰ میں نقل ہو چکی ہیں کہ محفل میلاد کا انعقاد اور قیام چوں کہ قرونِ ثلاثہ سے ثابت نہیں ہوا،لہٰذا یہ بدعت ہے۔ (فتویٰ انکاری ثانی:۱۷)
مولوی اسحق صاحب کے ’’مائۃ مسائل‘‘ کے پندرہویں سوال میں ہے  :
معہٰذا در مولود ہم اختلاف است زیراکہ درقرون ثلاثہ کہ مشہود لہم بالخیر است ایں امرمعمول نہ بود بعد قرون ثلاثہ ایں امر حادث شدہ بنابریں علما در جواز آں مختلف شدہ اند انتہیٰ 
یعنی اس کے ساتھ یہ بھی کہ مولود کے سلسلہ میں اختلاف ہواہے کیوں کہ قرون ثلاثہ  جس کی بہتری کی شہادت ودلیل موجودہے  میں یہ امر رائج العمل نہیں تھا،قرون ثلاثہ کے بعد اس کی ایجاد ہوئی ہے،اسی بنیادپراس کے جواز کے بارے میں علما،اختلاف رائے رکھتے ہیں۔  
اس عبارت سے بھی ظاہر ہے کہ جو علمامیلادشریف سے منع کرتے ہیں وہ اس کام کے ان صدیوں میں نہ ہونے کے باعث منع کرتے ہیں نہ کہ نظیر نہ پائی جانے کی وجہ سے۔
’’تحقیق الحق‘‘ کے صفحہ ۳۷ میں ’’تفہیم المسائل،قرۃ العیون‘‘ سے نقل کیا ہے  :
 جو چیز ان تینوں صدی کے بعد ایجاد ہوئی وہ بدعت سیئہ،سراسر ظلمت اور موجب ضلالت ہے۔ 
’’نصاب الفقہ‘‘ میں ہے  :
ہر آنچہ بدعت حسنہ مجتہدان قراردادہ اند ہماں صحیح است اگر دریں زمان چیزے رابدعت حسنہ قرار دہند خلاف ست زیراکہ در مصفی گوید کل بدعت ضلالۃ انتہیٰ 
یعنی ہر وہ بدعت حسنہ جو مجتہدین کی متعین کردہ ہے وہ تو صحیح ہے۔لیکن اس دور میں جس چیز کو بدعت حسنہ قرار دیا جائے تو وہ اس مقررہ قاعدے کے خلاف ہے کیوں مصفی میں کہا گیا ہے کہ ہر بدعت گمراہی ہے۔ 
یہ مضمون مانعین کے چند رسائل میں موجود ہے۔الحاصل! یہ لوگ ’’تذکیرالاخوان‘‘ کا مطلب اسی طرف پھیرتے ہیں کہ مجتہدین اربعہ تک جو ہو گیا،ہو گیا،آگے سب بدعت ضلالت ہے اور راقم الحروف کے نزدیک ’’تذکیرالاخوان‘‘ کی عبارت کے معنی وہ ہیں جو لمعہ رابعہ میں میلاد شریف کے مباحث میں لکھے جائیں گے، لیکن یہاں گفتگواس سلسلے میں کی جاتی ہے جو ان کے مقلدین کا فی زماننا قرارداد ہے۔ اور بعض لوگ اس گروہ کی یہ بات بھی زبان پر لاتے ہیں کہ بدعت حسنہ کوئی چیز نہیں جو چیزبدعت ہوئی اس میں حسن کہاں ؟یہ بات ’’رسالہ قنوجیہ‘‘ وغیرہ میں درج ہے۔
دوسراقول یہ ہے کہ جو چیزصحابہ اور تابعین کے بعد نکالی جائے وہ بدعت اور نامشروع ہے۔یہ ’’مائۃ مسائل‘‘ کے ۸۴ویں سوال میں لکھاہے  :  
امر یکہ منقول نہ باشد از آں حضرت و صحابہ و تابعین غیر مشروع است  الیٰ آخرہ  
یعنی ہر وہ کام جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم ،صحابہ کرام اور تابعین سے منقول نہ ہو وہ خلاف شریعت ہے۔
تمامی مسئلہ ہذا میں لکھا ہے  :  
عدم نقل از حضرت و صحابہ و تابعین دلالت بر بدعت و کراہت فعل دارد  الیٰ آخرہ  
یعنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم ،صحابہ کرام اور تابعین عظام سے اس کا نقل نہ ہونا اس کی بدعت اور کراہت کی دلیل ہے۔
پہلے قول میں تبع تابعین تک کی بات سنت معلوم ہوتی تھی اور اس قول میں صرف تابعین تک، کا قول مستندہے۔
تیسرا قول یہ ہے کہ صحابہ کا فعل تو سنت میں داخل ہے لیکن صحابہ کے بعد جو قول وفعل حادث ہو وہ بدعت اور ضلالت ہے۔چنانچہ’’ مکتوبات مجددیہ‘‘ کی جلد اول کے مکتوب نمبر۱۸۶ میں ہے  :
ہر چہ در دین محدث و مبتدع گشتہ کہ در زمان خیر البشر و خلفائے راشدین او نہ بودہ  علیہ و علیہم الصلوٰۃ والتسلیمات  اگرچہ آں چیز در روشنی مثل فلق صبح بود ایں ضعیف را باجمعے کہ با اوہستند گرفتار عمل آں محدث بگر داند۔
یعنی ہر وہ چیزجس کی دین میں نئی ایجاد وساخت ہوئی مگر وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفاے راشدین کے زمانے میں رائج نہ تھی گرچہ وہ چیز سپیدۂ سحر کی طرح روشن ہی کیوں نہ ہو توایک بڑے گروہ کے اس پر عمل پیراہونے کے باوجود وہ عمل، محدث ہی شمار کیا جائے گا۔
 اسی مکتوب کے آخر میں لکھاہے  :
فعلیکم بالاقتصار علی متابعۃ سنۃ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  والاکتفاء علی اقتداء أصحابہ الکرام۔
یعنی تمھیں رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کی سنت کی اتباع اور صحابہ کرام کی اقتداپر اکتفا کرنا چاہیے۔
اب دیکھیے! اگراس کلام سے استدلال کیا جائے تو تابعی کا قول و فعل بھی نامستند اور واجب الاجتناب رہے گا۔ 
چوتھا قول یہ ہے کہ تابعین تو تابعین ہیں خود صحابہ کا بھی کچھ اعتبار نہیں ہے۔ ان کی باتوں کو بھی بدعت کہتے ہیں۔ ان علما کے نزدیک بدعت کے معنی یہ ہیں  :
البدعۃ ما لم یکن في عہد رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم (۱)
یعنی بدعت وہ ہے جو کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کے زمانہ میں نہ رہی ہو۔
پھر حضور  صلی اللہ علیہ وسلم  کے بعد اگر صحابہ بھی ایجاد کریں تو ان علما کے نزدیک وہ بدعت ضلالت ہے، اور غیر مقلدوں کا اسی پر عمل ہے کہ وہ خلفائے راشدین کے فعل کو بھی بدعت اور ناجائز کہتے ہیں اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم  سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا  :
 تم میری اور خلفائے راشدین کی سنت کو لازم پکڑو۔ (۲)
۔۔۔۔۔۔
(۱)	الاتصاف فیما قیل فی المولد من الغلووالاجحاف:۱؍ ۱۸۔
(۲)	 علیکم بسنتي و سنۃ  الخلفاء الراشدین۔ (نصب الرایۃ لاحادیث الہدایہ: ا؍۲۴۸ فصل فی البئر ۔۔ کشف الخفائ: ۲؍ ۲۰۶۔۔تلخیص حبیر: ۵؍ ۴۹۸۔۔تخریج احادیث الاحیاء: ۹؍ ۱۶حدیث: ۴۰۱۶۔۔مشکل الآثار طحاوي: ۳؍ ۱۸۳حدیث: ۹۹۸۔۔ الاوسط لابن منذر: ۱؍ ۱۶۵حدیث: ۱۲۸۔۔ السنۃ محمد  بن نصر مروزی: ۱؍ ۵۸حدیث: ۵۷۔۔ الشریعۃ آجری: ۳؍ ۲۹۲۔۔ جامع بیان العلم و فضلہ ابن عبدالبر: ۳؍۱۴۶حدیث: ۱۰۸۰۔۔ غریب الحدیث ابراہیم حربی: ۴؍ ۳۵۲حدیث: ۱۳۶۵۔ 
۔۔۔۔۔۔
 تو اس کا جواب یہ دیتے ہیں کہ ’’مسک الختام شرح بلوغ المرام‘‘ میں ہے کہ سنت خلفائے راشدین سے ایساطریقہ مراد ہے جو حضور  صلی اللہ علیہ وسلم  کے طریقہ کے موافق ہو اور قواعد شریعت سے (یہ بات)معلوم ہے کہ کسی خلیفہ راشد کو(حق )نہیں پہنچتا کہ وہ اس کے سواکوئی طریقہ ایجاد کرے جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  تھے انتہیٰ ملخصاً 
’’مفاتیح اسرار التراویح‘‘ میں ہے  :
سنۃالخلفاء سے ان کی وہی سنت مراد ہے جس میں وہ سنت نبوی کے متبع اور موافق ہیں نہ کہ وہ جس کے وہ خود موجد ہیں  الیٰ آخرہ 
پس ان بزرگواروں کے نزدیک بعض امور زائد کرنے کی وجہ سے ،تو صحابہ کرام بھی بدعتی ٹھہرتے ہیں  نعوذ باللہ منہا 
چنانچہ مولوی محمد  قاسم صاحب ’’مصابیح التراویح‘‘ میں لکھتے ہیں  :
 منکرین گیارہ رکعت کو سنت جانتے ہیں اور بیس کو بدعت۔ 
اب طالبانِ حق غور سے سنیں کہ یہ چاروں بیان کیے گئے اقوال بعض علما کے نزدیک شاذ اور مختلف فیہ ہیں۔چوتھے قول کو تیسرارد کرتا ہے،تیسرے کو دوسرا اور دوسرے کو پہلا۔ اور پہلا قول جو ہمارے معاصرین پیش کیا کرتے ہیں اور زیادہ تر اسی کو مستند ٹھہراتے ہیں تو اس میں جو خلل ہے اب اس عاجز سے اس کا بیان سنیے۔
واضح ہو کہ متقدمین و متاخرین میں کسی نے سنت کی تعریف یہ نہیں لکھی کہ سنت وہ شے ہے جو قرونِ ثلاثہ میں پائی جائے یایہ کہ جو قرونِ ثلاثہ میں حادث ہو وہ سب سنت ہے۔ اور نہ کسی نے حدیث یا قول صحابہ یا تابعین و تبع تابعین سے یہ بات صراحۃً ثابت کی ہے۔ ہم نے بارہا اس مذہب والوں کو مہلت دی کہ مہینہ دو مہینہ برس دو برس میں کسی کتاب سے خود یا اپنے مددگاروں سے تلاش کرا کر کوئی ایسی معتبر حدیث ہم کو دکھا دو جس میں خاص یہ الفاظ ہوں کہ قرونِ ثلاثہ کے بعد جو بات نکلے گی وہ بدعت ہو گی اور جو عین قرون ثلاثہ میں ایجاد ہو گی وہ سنت ہو گی، اور اگر حدیث نہ ملی تو خاص یہی الفاظ جماعت صحابہ یا تابعین یا تبع تابعین کی زبانی معتبراسناد اور معتمد کتاب سے ارشاد فرمائے ہوئے ہم کو  دکھاؤ، اس لیے کہ تمہارے نزدیک اعتمادواستناد، قرون ثلاثہ پرہی منحصر ہو گیا ہے،چنانچہ براہین قاطعہ گنگوہی کے صفحہ ۴۱کی دوسری سطرمیں اس کی تصریحی عبارت یوں ہے  :
یہ ضرور اور واجب ہے کہ تمہید قواعد جواز و عدم جواز کی محدود بزمان ہے بعد قرون ثلاثہ کے جو کوئی قاعدہ تجویز ہو وہ ہر حال میں مردود ہو گا انتہیٰ 
اسی لیے تو ہم قاعدہ کا بھی خاص قرون ثلاثہ ہی سے ثبوت مانگتے ہیں کہ طبقات مذکورہ میں سے کس طبقہ میں یہ قاعدہ جاری کیا گیا، اور اگر بعد میں یہ قاعدہ ایجاد ہوا یا اسی دور میں ہوا اور اس پر نکیر بھی واقع ہوئی تو یہ قاعدہ تمہاری قرار داد کے مطابق بدعت سیئہ ہوا جاتا ہے، اور تم :  مَنْ أحْدَثَ فِی أمْرِنَا لَیْسَ مِنْہُ فَہُوَ رَدٌّ کے مصداق ہوئے جاتے ہو۔
 الغرض !بارہا دلیل کا مطالبہ کیا گیا لیکن کوئی نہ لا سکایہاں تک کہ مولف براہین قاطعہ بھی اس مقام پر ظاہری جوش وخروش دکھا کرحرف مدعامیں خاموش ہو گئے اور اپنی نئی پرانی کسی کتاب سے حسب شرائط مطلوبہ کوئی سند نہ لا سکے، اور لائیں بھی تو کہاں سے کہ سب کے سب فقط ایک حدیث پڑھ دیتے ہیں  :
خَیْرُ الْقُرُوْنِ قَرْنِيْ ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلُوْنَہُمْ ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلُوْنَہُمْ۔(۱)
یعنی سب سے بہتر میرا زمانہ ہے پھراس سے لگا ہوا پھر اس سے لگا ہوا۔
۔۔۔
(۱)	التلخیص الحبیر فی تخریج احادیث الرافعی الکبیر: ۶؍ ۴۲حدیث: ۲۶۶۴۔
	اس مفہوم کی دوسری حدیثیں یوں ہیں  :
	خیرکم قرني ثم الذین یلونہم ثم الذین یلونہم۔(بخاری: ۹؍۱۳۲حدیث: ۲۴۵۷۔۔مسنداحمد: ۸؍ ۴۹۴حدیث: ۳۹۵۹۔۔سنن کبریٰ بیہقی: ۱۰؍۷۴۔۔سنن کبریٰ نسائی: ۳؍۱۳۵حدیث:۴۷۵۱۔۔معجم کبیرطبرانی: ۱۳؍ ۱۴۸حدیث: ۱۴۹۸۵۔۔دلائل النبوۃبیہقی: ۸؍۳۵حدیث: ۲۹۳۹۔۔مستخرج ابوعوانہ: ۱۲؍ ۴۸۹حدیث: ۵۱۸۰۔۔ مشکل الآثار: ۵؍ ۴۴۳حدیث: ۲۰۵۲۔۔ مسندابن راہویہ: ۱؍ ۲۵۔۔مسندشاشی: ۲؍ ۳۲۳حدیث: ۷۲۶۔۔مسند ابن الجعد:۳؍ ۱۹۱حدیث: ۱۰۵۳۔۔ المقاصد الحسنۃ: ۱؍۱۱۳۔۔کنز العمال: ۱۱؍۵۲۷ حدیث: ۳۲۴۵۷۔۔ مسندجامع: ۳۳؍ ۲۶۹حدیث: ۱۰۹۰۵۔۔تحفۃ الاشراف: ۱۰؍ ۳۰حدیث: ۱۰۸۲۷)
	  خیر الناس قرني ثم الذین یلونہم ثم الذین یلونہم۔(بخاری: ۹؍۱۳۲حدیث: ۲۴۵۸۔۔صحیح مسلم:۱۲؍ ۳۵۸حدیث:۴۶۰۱۔۔سنن ترمذی: ۸؍ ۱۶۰حدیث: ۲۱۴۷۔۔مشکوٰۃ المصابیح:۲؍ ۳۵۷حدیث: ۳۷۶۷۔۔ مسنداحمد: ۷؍ ۴۴۸حدیث: ۳۴۱۳۔۔ سنن کبریٰ بیہقی: ۱۰؍۱۲۲۔۔بغیۃ الحارث: ۱؍۳۱۰حدیث: ۱۰۴۰۔۔سنن کبریٰ نسائی: ۳؍۴۹۴ حدیث:۶۰۳۰ ۔۔ مستدرک: ۱۱؍ ۱۹۸حدیث: ۴۸۵۹۔۔معجم کبیر طبرانی: ۲؍ ۴۱۳حدیث: ۲۱۴۳۔۔صحیح ابن حبان: ۲۷؍ ۴۹۵ حدیث: ۶۸۵۱۔۔ مسندعبد بن حمید: ۱؍ ۴۳۷حدیث: ۳۸۶۔۔معرفۃ الصحابہ: ۵؍۱۵۷حدیث: ۱۵۶۸۔۔مشکل الآثار: ۵؍ ۴۴۵حدیث: ۲۰۵۴۔۔موارد الظمآن: ۱؍ ۵۶۹۔۔مسندبزار: ۵؍ ۱۸۵حدیث: ۱۵۷۷۔۔اخلاق وآداب السامع: ۴؍ ۸۰حدیث:۱۳۷۳۔۔الکفایۃ فی علم الروایۃ خطیب بغدادی: ۱؍۱۱۴حدیث: ۹۹۔۔ مسندشاشی: ۲؍ ۳۲۴حدیث: ۷۲۷۔۔المطالب العالیہ:۱۲؍۴۲حدیث: ۴۲۶۰۔۔تثبیت الامامۃ و ترتیب الخلافۃ ابونعیم اصبہانی:۱؍۶ حدیث: ۴۔۔ مسند الحارث: ۴؍ ۱۳۸حدیث: ۱۰۲۳۔۔ معجم ابن الاعرابی: ۱؍ ۱۳۵حدیث:۱۳۴۔۔معجم الصحابہ: ۱؍ ۴۱۸حدیث: ۲۴۹۔۔ معرفۃ علوم الحدیث: ۱؍ ۸۱حدیث: ۶۷۔۔  مجمع الزوائدو منبع الزوائد: ۴؍ ۳۲۳۔۔المقاصد الحسنۃ: ۱؍۱۱۳۔۔نظم المتناثر: ۱؍۱۹۹حدیث: ۲۴۰۔۔کنز العمال: ۱۱؍ ۵۲۶حدیث: ۳۲۴۴۹۔۔مسندجامع: ۱۰؍ ۱۴۰حدیث: ۳۱۹۰۔۔تحفۃ الاشراف: ۹؍ ۷۸حدیث: ۹۴۰۳)
	  خیر الناس قرني الذی أنا فیہ ثم الذین یلونہم ثم الذین یلونہم۔(مسنداحمد: ۳۷؍۳۸۲ حدیث: ۱۷۷۰۱۔۔  مجمع الزوائدو منبع الزوائد: ۴؍ ۳۲۳۔۔کنز العمال: ۱۱؍ ۵۲۶حدیث: ۳۲۴۵۲)
	خیر أمتي القرن الذی أنا فیہ ثم الذین یلونہم۔(تثبیت الامامۃ و ترتیب الخلافۃ ابونعیم اصبہانی:۱؍۳ حدیث: ۱)
	خیر أمتي قرني ثم الذین یلونہم ثم الذین یلونہم۔(بخاری: ۱۱؍۴۸۱حدیث: ۳۳۷۷۔۔ مسند ابویعلی موصلی: ۱۵؍۲۲۷حدیث: ۷۲۵۴۔۔مسندطیالسی: ۱؍۳۰۸حدیث: ۲۹۳۔۔ اخباراصبہان: ۵؍۳۸حدیث:    ۱۲۷۹ ۔۔الامثال رامہرمزی: ۱؍ ۷۶حدیث: ۷۳۔۔الکفایۃ فی علم الروایۃ خطیب بغدادی: ۱؍ ۱۱۲حدیث: ۹۷۔۔ مسند ابن الجعد:۳؍ ۱۹۳حدیث: ۱۰۵۵۔۔ مجمع الزوائدو منبع الزوائد: ۴؍ ۳۲۳۔۔کنز العمال: ۱۱؍۵۳۵حدیث: ۳۲۴۹۹۔۔مشکوٰۃ المصابیح:۳؍۳۰۸حدیث: ۶۰۰۱)
	خیر أمتي القرن الذین یلوني ثم الذین یلونہم ثم الذین یلونہم۔(صحیح مسلم: ۱۲؍۳۵۶ حدیث:۴۵۹۹۔۔ مسند ابویعلی موصلی: ۱۰؍ ۳۶۱حدیث: ۴۹۷۵۔۔صحیح ابن حبان: ۲۹؍ ۴۷۶حدیث: ۷۳۴۶۔۔ معجم ابن الاعرابی: ۵؍ ۴۳حدیث:۲۰۳۵۔۔مسندجامع: ۲۸؍ ۳۲۷حدیث:۹۳۹۰)
	خیر أمتي القرن الذی بعثت فیہم ثم الذین یلونہم ثم الذین یلونہم۔(صحیح مسلم: ۱۲؍ ۳۵۹ حدیث: ۴۶۰۲۔۔ سنن ابوداؤد: ۱۲؍ ۲۶۲حدیث: ۴۰۳۸۔۔ سنن ترمذی: ۸؍ ۱۶۱حدیث: ۲۱۴۸۔۔مسنداحمد: ۱۴؍۳۶۷ حدیث: ۶۸۲۶۔۔ مصنف عبد الرزاق:۱۱؍ ۸۷حدیث: ۱۹۹۹۶۔۔معجم کبیرطبرانی: ۱۳؍ ۱۱۷حدیث: ۱۴۹۳۱۔۔ معرفۃ الصحابہ: ۱؍۴۲حدیث: ۳۱۔۔مسندطیالسی: ۲؍۴۳۳حدیث: ۸۸۲۔۔ مشکل الآثار: ۵؍ ۴۴۴حدیث: ۲۰۵۳۔۔امالی بن بشران: ۱؍ ۳۵۶حدیث :۳۳۷۔۔مسندبزار: ۸؍۴۴۸حدیث: ۳۰۴۵۔۔تثبیت الامامۃ و ترتیب الخلافۃ ابونعیم اصبہانی:۱؍۴ حدیث: ۲۔۔مسندابن ابی شیبہ: ۱؍ ۲۲۴حدیث: ۲۱۴۔۔معرفۃ علوم الحدیث: ۱؍۸۷حدیث:۷۲۔۔ مجمع الزوائدو منبع الزوائد: ۴؍ ۳۲۳۔۔نظم المتناثر: ۱؍۱۹۹حدیث: ۲۴۰۔۔کنز العمال: ۱۱؍۵۳۴حدیث: ۳۲۴۹۴۔۔مسندجامع: ۶؍ ۵۰۰ حدیث: ۱۹۱۳۔۔تحفۃ الاشراف: ۱۰؍ ۲۹حدیث: ۱۰۸۲۴)
	إن خیرکم قرني  ثم الذین یلونہم ثم الذین یلونہم ثم الذین یلونہم۔(صحیح مسلم: ۱۲؍۳۶۰ حدیث:۴۶۰۳)
	خیر ہذہ الأمۃ القرن الذی بعثت فیہم ثم الذین یلونہم ثم الذین یلونہم ثم الذین یلونہم۔ (مسنداحمد:۳۷؍۳۰۷حدیث:۱۷۶۲۶۔۔ معجم کبیر: ۱۳؍۱۱۸حدیث: ۱۴۹۳۲۔۔مسندرویانی: ۱؍ ۶۳حدیث: ۵۵ )
	خیر ہذہ الأمۃ قرني  ثم الذین یلونہم ثم الذین یلونہم۔(معجم کبیر طبرانی: ۹؍۷حدیث: ۱۰۱۸۳۔۔مشکل الآثار: ۵؍۴۴۸حدیث: ۲۰۵۷۔۔مسندشاشی: ۲؍ ۳۲۶حدیث:۷۲۹)
۔۔۔۔۔
اس استدلال کا حال یہ ہے  :
اولاً: اس حدیث کے راوی حضرت عمران بن حصین صحابی  رضی اللہ عنہ   شک بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے اپنے قرن کے بعد دو قرن بیان فرمائے ہیں یا تین۔ صحیح مسلم میں ہے  :
قَالَ عِمْرَانُ فَلاَ أدْرِي أ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ  صلی اللہ علیہ وسلم  بَعْدَ قَرْنِہٖ قَرْنَیْنِ أوْ ثَلاَثاً۔(۱)
یعنی حضرت عمران کہتے ہیں کہ مجھے نہیں معلوم کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی صدی کے بعد دو یا تین صدیوں کا ذکر فرمایا۔
۔۔۔۔۔
(۱)	صحیح بخاری:۹؍ ۱۳۲حدیث: ۲۴۵۷ ۱۱؍۴۸۱حدیث: ۳۳۷۷۔۔صحیح مسلم: ۱۲؍ ۳۶۰حدیث: ۴۶۰۳۔۔ سنن بیہقی: ۱۰؍ ۱۲۳۔۔ سنن نسائی: ۳؍ ۱۳۵حدیث: ۴۷۵۱۔۔ مستخرج ابی عوانہ: ۱۲؍ ۴۸۹حدیث: ۵۱۸۰۔۔ مسندشاشی: ۲؍ ۳۲۷ حدیث: ۷۳۰۔۔مسند ابن جعد: ۳؍ ۱۹۱حدیث: ۱۰۵۳۔۔مسندجامع: ۳۳؍ ۲۶۹حدیث: ۱۰۹۰۵۔
۔۔۔۔۔
بخاری شریف میں بھی یوں ہی ہے۔
مسلم میں عبد اللہ بن مسعود سے بھی اس حدیث کی روایت آئی ہے اور اس میں بھی شک ہے  :
قَالَ ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلُوْنَہُمْ ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلُوْنَہُمْ فَلاَ أدْرِيْ فِي الثَّالِثَۃِ أوْ فِي الرَّابِعَۃِ قَالَ ثُمَّ یَتَخَلَّفُ مِنْ بَعْدِہِمْ۔۔۔(۱)
یعنی وہ جو’’ پھراس کے بعد والے ‘‘کا ذکر آیا ہے تو مجھے نہیں معلوم کہ تیسری صدی تک کہا یا چوتھی صدی تک۔ پھر فرمایا کہ کچھ ایسے لوگ ہوں گے۔۔۔۔
اس سلسلہ کی حضرت ابوہریرہ  رضی اللہ عنہ کی روایت میں بھی شک ہے  :
قَالَ أبُوہُرَیْرَۃُ فَلاَ أدْرِيْ مَرَّتَیْنِ أوْ ثَلاَثاً۔
یعنی مجھے نہیں معلوم کہ حضور نے ایسادومرتبہ فرمایا یا تین مرتبہ۔
بخاری ومسلم کے علاوہ دیگر محدثین بھی شک بیان کر رہے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم  نے اپنے قرن کے بعد دو قرون بیان فرمائے یا تین۔جب اپنے بعد تین قرن بیان فرمانے کا شک ہے تو چار قرن کا احتمال بھی صحیح روایتوں سے پیدا ہو  گیا(تو چاہیے تو یہ تھا کہ )چار قرن تک کی بات اس فریق کے نزدیک سنت ہو پھر قرون اربعہ کے بعد جو پیدا ہو وہ بدعت ضلالت وسیئہ ہو۔لہٰذا  قرونِ ثلاثہ کا قاعدہ صحیح روایتوں کی روشنی میں مشکوک ٹھہرا۔
ثانیاً:  یہ کہ اس حدیث میں لفظ قرن واقع ہوا ہے اور یہ کئی معنوں میں مشترک ہے۔ قرن،سید القوم کو بھی کہتے ہیں  کذافی القاموس 
 بعضوں نے کہا کہ قرن مطلق زمانہ کو کہتے ہیں۔
بعض نے کہا مقید زمانہ کو کہتے ہیں۔پھر اس میں بھی اختلاف ہے دس برس یاچالیس برس یاستربرس یا سو برس یا ایک سو بیس برس۔
 شرح مسلم میں ہے  :
قَالَ الْحَسَنُ وَغَیْرہ : القَرْنُ عَشْر سِنِیْنَ، وَ قَتَادَۃُ سَبْعُونَ، وَ النَّخَعِيُّ أرْبَعُونَ، وَ زُرَارَۃُ بْنُ أبِي أوْفیٰ مِائۃ وَ عِشْرُونَ، وَ عَبْدُ الْمَلِکِ بِنُ عُمَیْرمِائَۃ، وَ قَالَ ابْنُ الأعْرَابِيُّ : ھُوَ الْوَقْتُ  انتہیٰ (۲)
۔۔۔۔۔
(۱)	مسلم شریف : ۱۲؍ ۳۵۸حدیث: ۴۶۰۱۔
(۲)	شرح نووی علی مسلم: ۸؍ ۳۱۴۔
۔۔۔۔۔۔
یعنی حسن وغیرہ فرماتے ہیں کہ صدی بیس سال کی ہوتی ہے۔ قتادہ کہتے ہیں کہ ستر سال کی۔ نخعی نے چالیس سال فرمایا ہے۔ زرارہ بن ابی اوفی نے ایک صدی کے ایک سو بیس سال شمار کیے ہیں۔عبد الملک بن عمیر نے سو سال۔ اور ابن الاعرابی نے وقت ہی کو صدی قرار دیا ہے۔
بعض نے کہا کہ اس سے اہل زمانہ مراد ہیں۔قرن ایک طبقہ کے آدمیوں کو کہتے ہیں  :
أنَّ الْقَرْنَ کُلّ أمَّۃٍ ھَلَکَتْ فَلَمْ یَبْقَ مِنْہَا أحَدٌ۔(۱)
یعنی مکمل ایک طبقہ کے لوگ قرن کہلاتے ہیں۔
۔۔۔۔
(۱)	شرح نووی علی مسلم: ۸؍ ۳۱۴۔
۔۔۔۔۔۔
اس تقریر پر بعضوں نے کہا کہ حدیث میں ’’قرني‘‘سے اصحاب،’’الذین یلونہم‘‘سے ان کی اولاد، اور دوسرے’’الذین یلونہم‘‘ سے اولاد کی اولاد مراد ہیں۔
 بعض نے کہا کہ اول وہ جنھوں نے آپ کا جمال باکمال دیکھا پھر جس نے ان کو دیکھا پھر جس نے ان کو دیکھا۔
 بعض نے کہا کہ اس لفظ سے اول صحابہ مراد ہیں،دوسرے تابعی اور تیسرے تبع تابعی۔یہ سب اقوال شرح مسلم میں موجود ہیں،تو لفظ قرن معانی کثیرہ میں مشترک ٹھہرا، اور لفظ مشترک قطعیت اور یقین کا فائدہ نہیں دیتا۔ اور اس کا حکم توقف ہے جیسا کہ علم اصول میں یہ قاعدہ مقرر ہے۔ 
ثالثا:  یہ کہ لفظ مشترک میں غور و خوض کر کے متعدد معنوں میں سے کسی ایک معنی کو جب دلائل و قرائن کے ذریعہ ترجیح دے کر عمل کے لیے لے لیا کرتے ہیں تواس کا حال بھی مختلف ہوتا ہے کوئی کسی کو ترجیح دیتا ہے کوئی کسی کو۔مولوی عبد الجبار اور امداد علی صاحب اپنے رسائل میں عینی شرح بخاری سے نقل کرتے ہیں  :
ہذا إنما کان في زمن النبي  صلی اللہ علیہ وسلم  و الخلفاء الراشدین إلی انقضاء القرون الثلاثۃ وھي تسعون سنۃ و أما بعد فقد تغیرت الأحوال و کثرت البدع  إلی آخرہ 
قرون ثلاثہ یعنی نوے ہجری ختم ہونے تک، نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائے راشدین کے زمانے میں ایسا ہی تھا،پھراس کے بعد حالات بدل گئے اور بدعتوں کی بہتات ہو گئی۔ 
اس سے معلوم ہوا کہ سن نوے ہجری پر قرون ثلاثہ کی نوبت تمام ہو چکی۔

حضرت شاہ ولی اللہ صاحب’’ازالۃ الخفاء‘‘  مطبوعہ بریلی  کے صفحہ ۷۵ میں لکھتے ہیں  :
و أما ما یستدل بہ علی خلافتہم من حدیث القرون الثلاثۃ فقد أخرج أحمد عن إبراہیم عن عبیدۃ عن عبد اللہ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  خیر الناس قرني ثم الذین یلونہم ثم الذین یلونہم ثم یأتي بعد ذالک قوم تستبق شہادتہم ایمانہم وایمانہم شہادتہم۔ و بنائے ایں استدلال برتوجیہ صحیح ست کہ اکثر احادیث شاہد آن ست قرن اول از زمان ہجرت آنحضرت است صلی اللہ علیہ وسلم  تا زمان وفات وے صلی اللہ علیہ وسلم و قرن ثانی از ابتدائے خلافت حضرت صدیق تاوفات حضرت فاروق  رضی اللہ عنہما وقرن ثالث قرن حضرت عثمان رضی اللہ عنہ   و ہر قرنے قریب بہ دوازدہ سال بودہ است  انتہیٰ۱۲ 
یعنی خلافت راشدہ کے سلسلے میں حدیث خیر القرون سے جواستدلال کیا گیا ہے تو اس کا معاملہ یہ ہے کہ امام احمد نے ابراہیم، عبیدہ اور عبد اللہ کے حوالے سے تخریج کی ہے کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا: سب سے بہتر زمانہ تو میرا زمانہ ہے،پھر اس سے ملا ہوا پھر اس سے ملا ہوا، اور اس کے بعد پھر ایسے لوگ پیدا ہوں گے کہ ان کی شہادتیں ان کی قسموں پر اور ان کی قسمیں ان کی شہادتوں پر بازیاں لے جائیں گی۔اس استدلال کی بنیاد صحیح توجیہ پر ہے کہ  اکثر حدیثیں اس پر روشنی ڈالتی ہیں کہ ہجرت رسول  صلی اللہ علیہ وسلم سے لے کر وصالِ حبیب  صلی اللہ علیہ وسلم تک کا زمانہ قرن اول،خلافت حضرت صدیق اکبر  رضی اللہ عنہ  کے آغاز سے لے کر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ   کی وفات تک کا زمانہ قرن ثانی، اور حضرت عثمان  رضی اللہ عنہ  کا زمانہ قرن ثالث کہلاتا ہے اور ہر زمانہ قریباً بارہ سال کی مدت پر محیط رہا ہے۔
مجمع البحار کی جلدسوم صفحہ ۵۴۶ میں حضرت عثمان  رضی اللہ عنہ  کی وفات سے متعلق لکھا ہے  :
وَ قُتِلَ لِثَانِيعَشَرَ مِنْ ذِی الْحِجَّۃ لِسَنَۃِ خَمْسٍ وَّ ثَلاَثِیْنَ۔
یعنی حضرت عثمان غنی  رضی اللہ عنہ  ۱۲ذی الحجہ  ۳۵ھ (654ء) میں شہیدکیے گئے۔
لہٰذا حضرت شاہ ولی اللہ صاحب کی تقریر کے مطابق ۳۵ ہجری میں قرون ثلاثہ کا خاتمہ ہو گیا۔
جناب مولانا احمد علی صاحب محدث مرحوم سہارن پوری فرماتے تھے کہ خیر القرون کے یہ معنی نہایت موزوں اور چسپاں ہیں۔اسلام کی شوکت جبھی تک خوب رہی،پھر خانہ جنگی شروع ہو گئی، اور قرون ثلاثہ کی خیریت کم ہو گئی۔
تکملہ مجمع البحار کے صفحہ ۱۴۴میں ہے  :
و قد ظہر أن مدۃ  ما بین البعثۃ  إلی  آخر من مات من الصحابۃ مائۃ و عشرون سنۃ بالتقریب و إن اعتبرت وفاتہ کان مائۃ و اما قرن التابعین فإن اعتبر من سنۃ مائۃ کان نحو سبعین و اما من بعدہم فان اعتبر من سنۃ مائۃ کان نحو خمسین فظہر أن عدۃ القرن یختلف باعتبار أعمار أہل کل زمان و اتفق أن آخر أتباع التابعین من عاش إلی عشرین و مائتین  الیٰ آخرہ 
یعنی یہ بدیہی بات ہے کہ بعثت رسول سے لے کر آخری صحابہ کی وفات تک کا زمانہ قریباً۱۲۰سال پر محیط ہے۔ اور اگر وفات کا اعتبار کر لیا جائے توسوسال مزید۔ اور تابعین کے دور کا اگر سن ۱۰۰سے اعتبار کیا جائے توقریباسترسال پر محیط ہو گا پھر ان کے بعداگرسن ۱۰۰ سے مانا جائے توقریباپچاس سال ہو گا لہٰذا یہ بات واضح ہو گئی کہ صدیوں کا شمار  ہر دور کے لوگوں کی عمروں کے اعتبار سے بدلتا رہتا ہے۔ اور یہ متفقہ بات ہے کہ تبع تابعین کا سلسلہ ۲۲۰میں ختم ہوا۔
اس روایت سے معلوم ہو ا کہ قرون ثلاثۃ کی مدت ۲۲۰ ہجری کے بعد تمام ہوئی۔ 
اب دیکھیے کہ قول اول کے مطابق تو یہ چاہیے تھا کہ جن چیزوں کو مجتہدین بدعت حسنہ قرار دے کربقیاس و اجتہاد جائز فرما چکے ہیں وہ بھی سب بدعت ضلالت اور سیئہ ٹھہریں کیوں کہ مجتہدین اربعہ کا افتا و اجتہاد نوے سال کے بعد شائع ہوا ہے اس سے پہلے نہیں۔ اور قول ثانی کے موافق خود صحابہ کرام کی باتیں حضرت عثمان  رضی اللہ عنہ  کے عہد کے بعد بدعت ٹھہرتی ہیں۔ اور قول ثالث کے موافق اکثر مذاہب مبتدعین مثلاً روافض و خوارج،مرجیہ و قدریہ اور معتزلہ سب سنت میں داخل ہوئے جاتے ہیں کیوں کہ یہ سب مذاہب دوسوبیس(۲۲۰) سال سے پہلے ایجاد ہو چکے تھے اور ان لوگوں کے نزدیک جو چیز خیر القرون میں ایجاد ہو، سنت ہے تو ان سب مبتدعین کی بدعتیں سنت ہوئیں۔
اعتراض:  بعض لوگ ان اعتراضات سے بچنے کے لیے جو یہ قید لگاتے ہیں کہ جو چیز قرون ثلاثہ میں بلا نکیر رائج ہوئی وہ سنت ہے اور جس پر انکار ہوا وہ بدعت۔ 
جواب:  اس کا جواب یہ ہے کہ اس فقرہ کی سند بھی ہم قرون ثلاثہ سے طلب کرتے ہیں۔ حدیث صحیح یاج ماعت صحابہ یا تابعین یا تبع تابعین سے دلیل لاؤ کہ کس نے یہ فقرہ روایت کیا ہے؟۔
اولاً:  تمہارا یہ فقرہ ہی بالکل غیر مستند اور غیرمسلم ہے۔
ثانیاً: اگر تم اس کو مان لو گے تو تمہاری بہت ساری چیزیں جن کو تمہارے پیشوا،مقتدا، واعظین، مدرسین اور محدثین استعمال کرتے چلے آرہے ہیں ،بدعت ضلالت اور سیئہ مظلمہ ہو جائیں گی۔
اب لیجیے دوچار باتیں سنتے چلیے۔
 شرح بخاری میں ہے کہ جدید اور محدَث چیزوں میں سے کتابی شکل میں احادیث کا جمع کرنا، قرآن کی تفسیر کرنا،مسائل فقہ کو جمع کرنا، اور اعمال قلوب سے متعلق چیزوں کو جمع کرنا بھی ہے، تو پہلی بات پر عمر،ابو موسیٰ اور ایک جماعت رضی اللہ عنہم  نے انکار کیا مگر اکثر نے اس کی اجازت دی۔ دوسری بات پر تابعین شعبی وغیرہ کی ایک جماعت نے انکار کیا۔ اور تیسری بات پر امام احمد اور ایک جماعت نے انکار کیا الیٰ آخرہ 
اب قرآن کریم کی کتابت میں اختلاف دیکھیے۔احیاء العلوم وغیرہ میں ہے کہ حضرت حسن بصری اور ابن سیرین انکار کرتے تھے کہ قرآن شریف میں تخمیس و تعشیر لکھے جائیں۔ اور شعبی و ابراہیم زبر زیر لکھنے کو مکروہ جانتے تھے، اور ہدایہ وغیرہ میں ہے کہ زبر زیر لکھنے کو ہمارے جملہ ائمہ متقدمین مکروہ جانتے تھے۔
 شرح بخاری میں سندصحیح کے ساتھ ثابت کیا ہے کہ حضرت عبد اللہ ابن مسعود انکار فرماتے تھے کہ قل أعوذ برب الفلق اور قل أعوذ برب الناس قرآن میں لکھی جائیں، اور یہ بھی روایت ہے کہ وہ جہاں لکھی دیکھتے تھے، ان دونوں سورتوں کو چھیل دیتے تھے۔
 فقہ حنفی کی کتابوں میں ہے کہ حضرت امام اعظم، ابویوسف اور محمد   رحمۃ اللہ علیہم اجمعین  قرآن،حدیث اور فقہ کی پڑھائی کو درست نہیں جانتے تھے،یوں ہی اجرت پر وعظ اور اذان و امامت بھی۔
جس وقت مدرسہ (باقاعدہ)معین ہواتواس پر علما نے انکار کیا۔’’کشف الظنون ‘‘میں ہے کہ جب علمائے ماوراء النہر کو خبر پہنچی کہ بغداد میں مدرسے قائم ہو گئے ہیں تو وہ بہت غمگین ہوئے کہ اب تک ابرار طالب آخرت(متقی و پرہیزگار لوگ)خالصاً للہ پڑھتے پڑھاتے تھے،نتیجتاً ان میں کچھ کاملین نکل آتے تھے، اب جب کہ اُجرت متعین ہو گئی تو علما دنیا کے طلب گار ہو بیٹھے۔ 
مواہب وغیرہ میں ہے کہ ابن ابی شیبہ نے ابن عمر رضی اللہ عنہما  سے روایت کی کہ انھوں نے فرمایا  : 
الأذان الأول یوم الجمعۃ بدعۃ۔
یعنی بروز جمعہ پہلی اذان بدعت ہے۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم  کے زمانہ میں صرف وہی ایک اذان تھی جو خطبہ سے پہلے کہی جاتی تھی اب جو اس کے پہلے ایک اور اذان کا اضافہ ہو گیا تو ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اس کو بدعت فرمایا۔
تفسیرعزیزی پارۂ الم میں ہے کہ ابراہیم نخعی،اعمش،ابوموسیٰ اشعری، حسن بصری، سعید بن مسیب، عبد اللہ بن عمر، امیر المومنین عمر فاروق، اور عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہم  قرآن شریف کی بیع کو برا جانتے تھے اور اس پر نکیر فرماتے تھے۔
الحاصل! صحابہ  و تابعین کے اختلاف اور نکیر کو کہاں تک شمار کیا جائے۔اگر یاروں کا گڑھا ہوا یہ قاعدہ صحیح مان لیا جائے تو تمام روئے زمین پر کوئی آدمی سنی نہ نکلے گا کسی نہ کسی بدعت میں ضرور گرفتار ہو گا کیوں کہ ایسی باتیں بہت کم ہیں جن پرکسی کا انکار نہ ہوا ہو، اور چند باتیں جو ہم نے اوپر لکھی ہیں وہ محض ایک جھلک ہیں۔ لباس و طعام،نکاح  و معاملات اور مسجدوفرش کی تعمیر سے متعلق بہت ساری چیزیں ہیں جن پر انکار ہوا ہے مگر منکرین اب انھیں بلا انکار استعمال کیے جا رہے ہیں۔
یہ قاعدہ یاد رکھیں کہ منکرین اس بات کو مان چکے ہیں کہ ایک آدمی کا انکار بھی معتبر ہے اور اجماع کو توڑ دیتا ہے۔ پھر منکرین میلاد اپنی عبادات و معاملات میں سواے متفق علیہ فرائض کے دکھا دیں کہ ان کی کون کون سی بات ایسی اجماعی ہے کہ جس میں کسی ایک کا بھی قرون ثلاثہ میں اختلاف و انکار نہ ہوا ہو۔لہٰذا واضح ہونا چاہیے کہ اس فقرہ اور اس قاعدہ کے ماننے میں تمام اہل اسلام کے عقائد و اعمال درہم برہم ہوئے جاتے ہیں۔
رابعاً:  اگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین  نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حدیث سے یہ قاعدہ سمجھ جاتے تو تین صدیوں تک کسی چیز کی ایجاد پر  ہرگز انکار نہ فرماتے۔ حالاں کہ صحابہ نے اپنے زمانہ میں بہت ساری ایجادات پر انکار فرمایا ہے۔ اس حدیث خیرالقرون کے راوی عبد اللہ بن مسعود بھی ہیں  جیساکہ صحیحین میں ہے تو اب دیکھیے کہ انھوں نے جہر کے ساتھ ذکر اللہ کرنے والی ایک جماعت کو دھمکایا اور ان کے فعل کو بدعت قرار دیا ہے۔کتب فقہ و حدیث میں یہ روایت موجود ہے حالاں کہ وہ لوگ ان کے ہم عصر تھے یا صحابہ تھے یا تابعین،اس حدیث کے موافق ان کا یہ فعل اگر سنت ہوتا تو اس حدیث کے راوی عبد اللہ صحابی ان کو کیوں منع فرماتے۔
خامسا:  صحابہ اور تابعین اس حدیث کے یہ معنی کس طرح سمجھتے،وہ تو کلام کا مغزسمجھنے والے تھے،استدلال کا کوئی قاعدہ اس حدیث شریف سے نہیں بن پڑتا اس لیے کہ مراد شارع سمجھنے کے لیے قواعد یہ ٹھہرے ہیں کہ مدعایاعبارۃ النص یا اشارۃالنص یادلالۃ النص یا اقتضاء النص سے ثابت ہو گا اور عبارۃ النص کے اندر یہ بات ضروری ہوتی ہے کہ مدعا کے الفاظ ظاہر ہوں اور کلام اسی مدعا کے لیے واقع ہوا ہو۔ 
منار میں ہے  :
و أما الاستدلال بعبارۃ النص فہو العمل بظاہر ما سیق الکلام لہ۔(۱)
یعنی عبارت النص سے استدلال کے لیے کلام و مدعا،ظاہر ہونے چاہئیں۔
یہاں ظاہر ہے کہ دونوں باتیں نہیں ہیں۔
مسلم شریف کی حدیث ہے  :
سُئِلَ رَسُول اللّٰہِ  صلی اللہ علیہ وسلم  أيُّ النَّاسِ خَیْرٌ قَالَ قَرْنِيْ۔(۲)
یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ آدمیوں میں کون سے آدمی اچھے ہیں ؟ آپ نے فرمایا: میری صدی کے۔
۔۔۔۔۔
(۱)	منار: ۱۵۰۔۔کشف الاسرار: ۱؍۱۸۱ الاستدلال بعبارۃ النص 
(۲)	صحیح بخاری : ۲۰؍ ۳۴۵حدیث: ۶۱۶۶۔۔صحیح مسلم: ۱۲؍ ۳۵۷حدیث: ۴۶۰۰۔۔سنن بیہقی: ۱۰؍ ۴۵۔۔معجم طبرانی: ۹؍ ۸ حدیث: ۱۰۱۸۴۔۔مسندابویعلی موصلی: ۱۰؍ ۴۰۱حدیث: ۵۰۱۵ ۔۔صحیح ابن حبان: ۱۸؍ ۱۵۷حدیث: ۴۴۰۵ ۔۔ معرفۃ الصحابہ اصبہانی: ۱؍ ۴۱ حدیث: ۳۰۔ 
۔۔۔۔
یہاں لوگوں نے یہ نہیں پوچھا تھا کہ کس کی ایجاد بدعت ہو گی اور کس کی سنت۔ اور نہ ہی حضور صلی اللہ علیہ وسلم  نے اپنی طرف سے اس قاعدہ کو یہاں بیان فرمایا۔کم سے کم پڑھا آدمی بھی جان سکتا ہے کہ احکام و معانی ،الفاظ سے پیدا ہوا کرتے ہیں۔پھر اس حدیث میں بدعت،سنت اور احداث کے الفاظ کہاں ہیں۔ لہٰذا یہ استدلال، عبارۃ النص سے نہ ہوا۔ اور اقتضاء النص سے بھی نہیں کیوں کہ اقتضا کی تعریف تلویح کے صفحہ ۱۳۵پریہ ہے  :
دلالۃ اللفظ علی معنی خارج یتوقف علیہ صدقُہ أوصحتُہ إلی آخرہ (۱)
یعنی لفظ کی دلالت ایک ایسے معنی خارجی پر ہو رہی ہو جس پراس کا صدق اور اس کی صحت موقوف ہو۔
تو قرون ثلاثہ کی ’خیریت، کے صدق و صحت کے لیے یہ بات کب لازم ہے کہ اگر ان کی ایجاد سنت ہو جائے تو ان کی ’خیریت ،بھی ثابت ہو جائے، اور نہیں تو نہیں۔لہٰذا یہ اقتضاء النص بھی نہ ہوا۔
اب رہی بات دلالۃ النص اور اشارۃ النص کی، تو اگر’ خیرالقرون‘کے لفظ ’خیر، سے یہ بات ثابت کرنا چاہیں تو یہ قاعدۂ شرعی پیش کریں کہ اچھا(اگر کوئی)آدمی اصول شرع کے مطابق یا غیر موافق جو کچھ ایجاد و احداث کر دیا کرے تو کیا وہ سب کچھ خیر ہوتا ہے؟حالاں کہ یہ بالاتفاق غیر مسلم ہے۔عنقریب قرون ثلاثہ کے چندایسے واقعے قول پنجم  بدعت  میں ہم بیان کریں گے کہ وہ کسی کے نزدیک معمول بہ نہیں ہیں۔  
لہٰذا واضح ہو گیا کہ مراد شارع جاننے کے وہ چاروں طریقے یہاں نہیں چل پائیں گے اور جہاں پران چار طریقوں سے سوا استدلال کیا جائے تو اس کی بابت ’’نور الانوار‘‘ میں لکھا ہے  :
فھو من الاستدلالات الفاسدۃ۔
یعنی ایسے سارے استدلال فاسد اور باطل قرار پائیں گے۔
اس سے قطع نظر ہم کہتے ہیں کہ اگر لفظ خیر سے ان کا استدلال ہے کہ جب وہ لوگ خیر ہیں تو ان کی ایجاد بھی خیر ہی ہو گی۔تواب ہم کہتے ہیں کہ لفظ’خیر‘ تو بہت سی حدیثوں میں آیا ہے۔ مثلاً  عشرۂ مبشرہ میں سے ایک جلیل القدر صحابی حضرت ابوعبیدہ بن الجراح سے روایت ہے کہ انھوں نے رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا  :
یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ أحَدٌ خَیْرٌ مِّنَّا أسْلَمْنَا وَ جَاہَدْنَا مَعَکَ قَالَ نَعَمْ قَوْمٌ یَکُونُونَ مِنْ بَعْدِکُمْ یُومِنُونَ بِي وَ لَمْ یَرَوْنِيْ۔ (۲)
۔۔۔۔۔۔
(۱)	تلویح علی التوضیح: ۲؍۳۵ التقسیم الرابع فی کیفیۃ دلالۃ۔۔۔۔ 
(۲)	مشکوٰۃ المصابیح : ۳؍ ۳۷۲حدیث: ۶۲۹۱۔۔ مسنداحمد: ۳۴؍ ۳۳۷حدیث: ۱۶۳۶۳۔۔مصنف ابن ابی شیبہ: ۳۴؍ ۳۳۶حدیث: ۱۶۳۶۲۔۔ مستدرک حاکم: ۱۶؍ ۳۱۳ حدیث: ۷۰۹۳۔۔ معجم طبرانی: ۴؍ ۱۲حدیث: ۳۴۵۷۔۔ سنن دارمی: ۸؍ ۴۲۱حدیث: ۲۸۰۰۔۔ مسند ابی یعلی موصلی: ۴؍ ۱۰۵حدیث: ۱۵۲۶۔۔مسندحمیدی: ۴؍ ۱۰۵حدیث: ۱۵۲۶۔۔مشکل الاثارطحاوی: ۵؍ ۴۴۰۔۔معجم الصحابہ : ۲؍ ۳۸ حدیث: ۳۲۰۔۔معرفۃ الصحابہ: ۱۹؍ ۴۹۷حدیث: ۶۱۲۸۔۔کنزالعمال: ۱۴؍ ۴۶حدیث: ۳۷۸۹۵۔۔ المسند الجامع: ۱۱؍ ۷۷ حدیث: ۳۲۴۸۔۔ روضۃ المحدثین: ۳؍ ۴۶۳حدیث: ۱۲۳۸۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
یعنی یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! بھلا کوئی ہم سے بھی اچھاہوسکتا ہے کہ ہم آپ پر ایمان لائے اور آپ کے ساتھ ہو کر جہاد کیے۔آپ نے جواب دیا:ہاں ! تمہارے بعد تم سے اچھے وہ لوگ ہوں گے جوبن دیکھے مجھ پر ایمان لے آئیں گے۔
مشکوٰۃ کے اندر موجود اس حدیث کو احمد اور دارمی نے روایت کیا ہے۔
اب دیکھیے کہ اس میں خیرالقرون کی طرح لفظ ’خیر،موجود ہے تو چاہیے کہ بعد کے آدمیوں کا نکالا ہوا فعل بھی سنت ہو اور بدعت میں داخل نہ ہو۔
 ابوامامہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا  : 
طُوبیٰ لِمَنْ رَأٓنِي وَ طُوبٰی سَبْعَ مَرَّاتٍ لِّمَنْ لَمْ یَرَنِيْ وَ آمَنَ بِيْ۔ (۱)
یعنی خوش حالی ہو اسے جسے میری زیارت نصیب ہوئی اور ان لوگوں کوسات بار خوشحالی نصیب ہو جنھوں نے مجھے دیکھا تو نہیں مگر مجھ پر ایمان لائے۔
یہ حدیث بھی مشکوٰۃ کے اندر موجود ہے۔
حدیث میں آیا ہے  :
مَثَلُ أمَّتِي مَثَلُ الْمَطَرِ لاَ یُدْرَیٰ أوَّلُہٗ خَیْرٌ أمْ آخِرُہٗ۔ (۲)
یعنی میری امت کی مثال مینہ کی سی ہے،نہیں معلوم کہ اس کا اول بہتر ہے یا اس کا آخر۔
۔۔۔۔۔
(۱)	مشکوٰۃالمصابیح :۳؍۳۷۲حدیث:۶۲۸۱۔۔مسنداحمد: ۴۵؍ ۱۸۲حدیث: ۲۱۱۸۷۔۔ مصنف ابن ابی شیبہ: ۴۵؍ ۱۸۲ حدیث: ۲۱۱۸۷۔۔ معجم طبرانی: ۷؍ ۲۹۸حدیث: ۷۹۳۴۔۔ مسند ابی یعلی موصلی: ۷؍ ۴۱۱حدیث: ۳۲۹۷۔۔ مسندحمیدی: ۷؍ ۴۱۱حدیث: ۳۲۹۷۔۔مسند عبد بن حمید: ۲؍ ۳۸۸حدیث: ۷۷۱۔۔ مسندطیالسی: ۳؍ ۳۱۵حدیث: ۱۲۱۵۔۔ الاحادیث المرفوعہ من التاریخ الکبیربخاری: ۱؍ ۳۶۲حدیث: ۳۶۲۔۔ کنزالعمال: ۱؍ ۶۷حدیث: ۲۴۷۔
(۲)	سنن ترمذی: ۱۰؍ ۹۶حدیث: ۲۷۹۵۔۔سنن نسائی: ۱۰؍۹۶حدیث: ۲۷۹۵۔۔مسنداحمد: ۲۴؍ ۴۲۴حدیث: ۱۱۸۷۸۔۔ مصنف ابن ابی شیبہ: ۲۴؍ ۴۲۴حدیث: ۱۱۸۷۸۔۔معجم طبرانی: ۹؍ ۲۵۹حدیث: ۴۲۰۶۔۔مسندابویعلی موصلی: ۸؍۲۴۳ حدیث: ۳۶۱۷۔۔مسندحمیدی: ۸؍۲۴۳ حدیث: ۳۶۱۷۔۔صحیح ابن حبان: ۲۹؍ ۴۸۲حدیث: ۷۳۴۹۔۔مسندشہاب قضاعی:۵؍ ۳۷حدیث:۱۲۴۵۔۔مسندطیالسی: ۲؍ ۲۱۶حدیث: ۶۷۵۔۔ مشکوٰۃ المصابیح : ۳؍ ۳۷۱حدیث: ۶۲۷۷۔۔ مجمع الزوائد: ۴؍ ۳۵۶۔۔ المقاصد الحسنہ: ۱؍ ۱۹۹۔۔ الدررالمنتثرہ من الاحادیث المشتہرہ: ۱؍ ۱۷۔۔کشف الخفا: ۲؍ ۱۹۷ حدیث: ۲۲۶۶۔۔ کنزالعمال: ۱۲؍ ۱۶۲حدیث: ۳۴۴۸۵۔۔ المسند الجامع: ۵؍ ۷۰حدیث: ۱۵۴۱۔۔ تحفۃ الاشراف: ۳؍ ۱۰۴حدیث: ۳۹۱۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
محدثین لکھتے ہیں کہ اس حدیث سے مراد یہ ہے کہ میری پوری کی پوری امت خیرہے جیسے مینہ اول سے آخر تک اچھا ہوتا ہے۔ لہٰذا ان احادیث کے سبب چاہیے کہ آخر امت کی ایجاد بھی سنت ہو جس طرح خیر القرون کی ایجاد کوسنت کہتے ہو۔ اور اگر افضلیت سے خیریت جزئی نہیں بلکہ خیریت کلی مراد لو گے تو صحابہ کی خیریت کلی صرف تابعین اور تبع تابعین ہی پر ہونی چاہیے کہ بعد کی دو مفضول صدی کی ایجاد بھی جائز نہ ہو۔ اور اگر عام مراد لیتے ہو کہ خیریت خواہ کلی ہو خواہ جزئی تو خیریت جزئی میں وہ سب افراد شامل ہیں جن کی نسبت احادیث میں لفظ خیر وار دہوا ہے تو چاہیے کہ ان کی ایجاد بھی درست ہو۔ 
واضح ہو کہ یہاں تک کلام، ان کے جملہ اولیٰ کہ  جو امر قرون ثلاثہ میں ہو گا وہ سنت ہے   پرتھا۔اب ہم ان کے دوسرے جملہ پر کلام شروع کرتے ہیں کہ جو چیز قرون ثلاثہ کے بعد پیدا ہو گی وہ سب بدعت اور ضلالت ہو گی۔ہم کہتے ہیں کہ یہ بات بالکل ہی بے اصل ہے۔
اوّلاً:  اس لیے کہ یہ حدیث ،امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ  ابواب شہادت میں عمران بن حصین سے روایت کرتے ہیں  :
خَیْرُکُمْ قَرْنِي ثُمُّ الَّذِیْنَ یَلُوْنَہُمْ ثُمُّ الَّذِیْنَ یَلُوْنَہُمْ۔۔۔۔۔۔إنَّ بَعْدَکُمْ قَوْماً یَخُونُونَ وَ لاَ یُوْتَمَنُونَ وَ یَشْہَدُونَ وَ لاَ یُسْتَشْہَدُوْنَ وَ یُنْذِرُوْنَ وَ لَا یَفُونَ وَ یَظْہَرُ فِیْہِم السِّمَنُ۔(۱)
دوسری روایت عبد اللہ بن مسعود سے ہے جس میں  ثم الذین یلونہم  کے بعد یہ ہے  :
ثُمَّ یَجِيْئُ أقْوَامٌ تَسْبِقُ شَہَادَۃُ أحَدِہِمْ یَمِیْنَہٗ وَ یَمِیْنُہٗ شَہَادَتَہٗ۔(۲)
یہ دونوں روایتیں بخاری کے  باب فضائل اصحاب میں بھی ہیں۔
صحیح مسلم میں ثم الذین یلونہم کے بعد ہے  :
ثُمَّ یَجِيْئُ أقْوَامٌ تَسْبِقُ شَہَادَۃُ أحَدِہِمْ یَمِیْنَہٗ وَ یَمِیْنُہٗ شَہَادَتَہٗ۔(۳)
اس کی دوسری روایت یہ ہے  :
ثُمَّ یَتَخَلَّفُ مِنْ بَعْدِہِمْ خَلْفٌ  تَسْبِقُ شَہَادَۃُ أحَدِہِمْ یَمِیْنَہٗ وَ یَمِیْنُہٗ شَہَادَتَہٗ۔(۴)
۔۔۔۔۔۔
(۱)	صحیح بخاری: ۹؍ ۱۳۲حدیث: ۲۴۵۷۔۔صحیح مسلم: ۱۲؍ ۳۶۰حدیث:۴۶۰۳۔
(۲)	صحیح بخاری: ۹؍ ۱۳۳حدیث: ۲۴۵۸۔۔صحیح مسلم: ۱۲؍ ۳۵۷حدیث:۰ ۴۶۰۔
(۳)	صحیح مسلم: ۱۲؍ ۳۵۷حدیث:۰ ۴۶۰۔
(۴)	صحیح مسلم: ۱۲؍ ۳۵۸حدیث:۱ ۴۶۰۔
۔۔۔۔۔۔۔
اس کی تیسری روایت میں ہے  :
ثُمَّ یَخْلِفُ قَومٌ یُحِبُّونَ السَّمَانَۃَ یَشْہَدُونَ قَبْلَ أنْ یّسْتَشْہَدُوا۔
چوتھی روایت میں ہے  :
ثُمَّ یَکُونُ بَعْدَہُمْ قَوْمٌ یَشْہَدُونَ وَ لاَ یُسْتَشْہَدُوْنَ وَ یُنْذِرُوْنَ وَ لَا یَفُونَ وَ یَظْہَرُ فِیْہِم السِّمَنُ۔(۱)
نسائی کے  باب الوفاء بالنذر میں بھی اسی طرح ہے۔ اور ابوداؤد کے  باب فضائل  میں ہے  :
ثُمَّ یَظْہَرُ قَومٌ۔۔۔۔۔الی آخرہ۔۔۔۔۔ وَ یَفْشُو فِیْہِمْ السِّمَن۔ (۲)
 ترمذی کے  باب فضائل  میں یہ الفاظ ہیں  :
ثُمَّ یَأتِي قَومٌ مِنْ بَعْدِ ذٰلِکَ تَسْبِقُ أیْمَانُہُم شَہَادَاتِہِمْ أوْ شَہَادَاتُہُمْ أیْمَانَہُمْ(۳ )
 ابن ماجہ کے  ابواب شہادت میں ہے  :
ثُمَّ یَجِيْئُ قَومٌ تَبْدُرُ شَہَادَۃُ أحَدِہِمْ یَمِیْنَہٗ وَ یَمِیْنُہٗ شَہَادَتَہٗ۔(۴)
 اس کی دوسری روایت یہ ہے  :
ثُمَّ یَفْشُو الْکَذِبُ حَتیّٰ یَشْہَدَ الرَّجُلُ وَ مَا یُسْتَشْہَدُ وَ یَحْلِفُ وَ مَا یُسْتَحْلَفُ۔(۵)
یہ حدیث کی چھ مشہور و معروف کتابوں  صحاح ستہ کی روایتیں ہیں۔جن کے مضمون کا خلاصہ یہ ہے کہ ان قرون خیر کے بعد ایسے لوگ پیدا ہو جائیں گے کہ گواہی دینے پر بڑے حریص ہوں گے، اور انھیں کوئی پروا نہ ہو گی کبھی قسم سے پہلے گواہی اور کبھی گواہی سے پہلے قسم کھائیں گے، اپنا بدن موٹا کرناپسند کریں گے،خیانت کریں گے،کوئی انھیں امانت دار نہ جانے گا،وعدے کر کے پورے نہیں کریں گے اور ان کا جھوٹ ظاہر و باہر ہو گا،بلا گواہی طلب کیے وہ گواہی دیں گے اور قسم کھانے کا مطالبہ کیے بغیرقسمیں کھائیں گے۔
۔۔۔۔۔۔۔
(۱)	صحیح مسلم: ۱۲؍۳۶۰حدیث:۳ ۴۶۰۔
(۲)	سنن نسائی: ۱۲؍۱۳۲حدیث: ۳۷۴۹۔
(۳)	سنن ترمذی: ۱۲؍ ۳۵۷حدیث: ۳۷۹۴۔
(۴)	سنن ابن ماجہ: ۷؍ ۱۷۵حدیث: ۲۳۵۳۔ 
(۵)	سنن ترمذی: ۸؍ ۲۷۰حدیث :۲۲۲۵۔
۔۔۔۔۔۔۔
دیکھیے! ان روایتوں میں کہیں بدعت اور احداث کا ذکر نہیں۔ یہ بات آخرکس طرح سمجھ میں آئی؟ان لوگوں کا قاعدہ ایسا جامع و مانع کلیہ ہے کہ جس کے سبب اہل اسلام میں پھوٹ،خانہ جنگی، تفسیق و تضلیل،سب و شتم،غیبت و کینہ اور فسادباہم ڈال رکھا ہے،پھر اس حدیث میں کسی راوی نے لفظ بدعت و احداث روایت نہیں کیا ہے اور نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم  جو کہ دانائے لغت اور حکم شریعت (کھول کر)بیان کرنے والے تھے،جو بدعتوں سے بچنے کے لیے جا بجالفظ کل بدعۃ، وکل محدثۃ، ومن أحدث فی أمرنا اور من ابتدع بدعۃ ضلالۃ وغیرہ الفاظ ظاہرہ منصوصہ فرماتے تھے،اس حدیث میں انھوں نے لفظ صریح منصوص نہ فرمایا۔اگر یہ قاعدہ ایسا زبردست امتیاز دینے والا،سنت و بدعت کے درمیان خط فاصل کھینچنے والا اور حقیقت سنت و بدعت کی تعریف و تشریح کرنے والا ہوتا تو ضرور بالضرور آپ  صلی اللہ علیہ وسلم یا راویانِ حدیث  صحابہ میں سے کوئی تو اِحداث  و بدعت کا نام صراحۃً بیان فرما دیتا،تعجب ہے کہ یہاں تو اس کا نام بھی نہیں اور ان حضرات نے دھوم مچا کے رکھ دی۔
ثانیاً:  اگر لفظ کذب سے استدلال کریں جو گرچہ صرف ایک روایت میں وارد ہوا ہے۔ صحیحین وغیرہ کی بہت ساری ایسی روایتیں ہیں جن میں لفظ کذب نہیں آیا جیسا کہ اوپر روایتیں گزریں   تو اس کا جواب یہ ہے کہ ہر محاورہ داں جانتا ہے کہ کذب کے معنی جھوٹ ہیں اور بدعت کے معنی نئی بات۔پھر کہاں جھوٹ بولنا اور کہاں نئی بات!۔
تعجب کی بات ہے مولوی عبد الجبار صاحب فرماتے ہیں  :
 بدعتی ،بدعت کو ثواب کا باعث جانتے ہیں تو یہ کذب ہوا   الخ 
دیکھیے یہ کیسی بڑی جرات ہے کہ صحابۂ کرام  رضوان اللہ علیہم اجمعین  سے لے کر شاہ عبد العزیز صاحب اور مولوی اسحق صاحب تک فقہا و محدثین تو بدعت حسنہ کومسلم رکھتے آئے جسے عنقریب بیان کیا جائے گا  پھر یہ سب لوگ معاذ اللہ  اس قول کے موافق جھوٹ کے مرتکب ہو کران کے نزدیک کذّاب ٹھہرے کہ انھوں نے بدعت کوحسن اور مستحسن قرار دیا،کسی نے فرمایا  :
  نِعْمَتِ الْبِدْعَۃُ ہٰذِہٖ۔ (۱)
یعنی کیسی عمدہ ترین بدعت ہے یہ۔
۔۔۔۔
(۱)	موطا امام مالک: ۱؍ ۳۴۰حدیث: ۲۳۱۔۔صحیح بخاری: ۷؍ ۱۳۵حدیث: ۱۸۷۱۔۔معجم طبرانی: ۱۱؍ ۵۴حدیث: ۱۳۳۸۷۔۔ شعب الایمان: ۷؍ ۲۷۱حدیث: ۳۱۲۲۔۔الصیام فریابی: ۱؍ ۱۵۷حدیث: ۱۴۸۔۔ المدخل : ۱؍ ۱۹۱ 
حدیث: ۱۹۰۔۔ فضائل الاوقات بیہقی: ۱؍۲۷۴حدیث: ۲۲۴۔۔ فوائد محمد بن مخلد: ۱؍۶حدیث: ۵۔۔قیام رمضان مروزی: ۱؍۲۰حدیث: ۱۶ ۔۔نصب الرایہ: ۳؍ ۲۲۸۔۔تلخیص حبیر: ۲؍ ۱۲۲حدیث: ۵۵۱۔۔ تحفۃ الاشراف: ۹؍ ۴۵۴حدیث: ۱۰۵۹۴۔۔ روضۃ المحدثین: ۱؍ ۵۰۰حدیث:۵۰۰۔
	نعم البدعۃ ہذہ  کے الفاظ بھی درج ذیل کتابوں میں ملتے ہیں۔ ( سنن بیہقی: ۲؍۴۹۳۔مصنف عبد الرزاق: ۴؍ ۲۵۹ حدیث: ۷۷۲۴۔۔ صحیح ابن خزیمہ: ۴؍ ۲۴۷حدیث: ۱۰۳۶۔۔ معرفۃ السنن والآثار: ۴؍ ۲۰۶حدیث: ۱۴۴۲۔۔ کنزالعمال: ۸؍ ۴۰۸حدیث: ۲۳۴۶۶)
۔۔۔۔۔۔
کسی نے فرمایا  : 
بدعۃ حسنۃ۔ (۱)
۔۔۔۔۔
(۱)	فیض القدیر: ۳؍ ۷۷۰ حدیث: ۴۳۶۴۔۔جامع العلوم والحکم: ۲۸؍ ۲۸۔۔ حاشیہ رد محتار: ۱؍۴۲۰۔۔درمختار: ۵؍ ۳۰۵۔۔دررالحکام شرح غرر الاحکام: ۱؍ ۲۸۳۔۔ البحر الرائق: ۳؍ ۹۳۔۔ رد المحتار:۳؍۲۰۲ ۔۔ مواہب الجلیل شرح مختصر خلیل: ۳؍ ۳۱۰۔۔ الفواکہ الدوانی علی رسالۃ ابن ابی زید قیروانی:۲؍ ۲۳۰۔۔ حاشیۃ الدسوقی: ۲؍۲۲۰۔۔ حاشیۃ الصاوی علی الشرح الصغیر: ۱؍ ۴۲۳۔۔ اعانۃ الطالبین: ۲؍ ۸۶۔۔ حواشی الشروانی: ۴؍ ۱۰۸۔۔ حاشیتا قلیوبی و عمیرہ: ۴؍ ۷۹۔۔ تحفۃ المحتاج: ۱۵؍ ۲۱۹۔۔ نہایۃ المحتاج :۷؍ ۱۱۴۔۔ حاشیۃ الجمل:۵؍ ۴۷۵۔۔ حاشیۃ البحیرمی علی الخطیب: ۱؍ ۳۶۳۔۔ حاشیۃ البحیرمی علی المنہج: ۴؍ ۱۰۷۔۔ کشف الخفائ: ۱؍ ۹۴حدیث: ۲۵۳۔۔سیرت حلبیہ:۱؍۱۲۲۔
۔۔۔۔۔۔
کسی نے فرمایا  :
من البدعۃ ما یکون واجبا و منہا ما یکون مستحبا و مستحسنا۔
یعنی بدعتوں میں کچھ بدعتیں ایسی ہیں جو کبھی واجب اور کبھی مستحب ومستحسن ہوتی ہیں۔
اس مقام پر براہین قاطعہ گنگوہی کے صفحہ ۳۸کی عبارت یوں ہے  :
بدعت بھی جھوٹ میں داخل ہے،کذب عام ہے اور بدعت خاص ایک فرد کذب کی ہے۔
میں کہتا ہوں کہ اس قول پربھی وہ اعتراض سابق بحال رہا کہ صحابہ سے لے کر آج تک بدعت حسنہ کو جائز کرنے والے علما،کذب میں داخل رہے، اور ایک دوسرا تیشہ بھی بے خبری سے اپنے پاؤں میں مار لیا یعنی آپ نے عام خاص کا لفظ جما کر یہ چاہا کہ حدیث میں : یفشوا الکذب اور یظہر الکذب کے معنی یہ ہو جائیں کہ یظہر البدعۃ   حالاں کہ اس میں تو بالکل اپنے ہاتھ قلم کر چکے،کیوں کہ جب کذب کو عام مان لیا تو عام کا وجود خاص کومستلزم نہیں ہوتا یہ قاعدہ کلیہ ہر عاقل کے نزدیک مسلم الثبوت ہے تو جھوٹ ظاہر ہونے کے لیے یہ لازم نہیں کہ خاص بدعت ہی میں ظاہر ہو،ایسابھی ہوسکتا ہے کہ افراد خیانت اور دروغ حلفی وغیرہ میں ظاہر ہو جائے۔ اور مولف براہین اس قاعدہ کو جانتا ہے،چنانچہ صفحہ ۵۵ کی بارہویں سطر میں اس کی عبارت یوں ہے  : 
عام کا وجود خاص کے وجود کے بغیر ہوسکتا ہے مثلاً حیوان بغیر انسان کے۔اس کو ہر عاقل جانتا ہے الیٰ آخرہ 
اب آپ دیکھیں کہ حضرت جی کی زبانی خود ثابت ہو گیایعنی آپ صفحہ۳۸پر فرماتے ہیں کہ کذب عام ہے اور بدعت خاص۔ اور یہاں یعنی صفحہ۵۵پر فرماتے ہیں کہ عام کا وجود خاص کے وجود کے بغیرہوسکتا ہے، لہٰذا یہ نتیجہ نکل آیا کہ کذب کا وجود ،بدعت کے وجود کے بغیرہوسکتا ہے یعنی یہ ممکن ہے کہ قرونِ ثلاثہ کے بعد کذب شائع ہو مگر بدعت نہ ہو۔تو انہی کی زبانی ان کا مدعا غلط ثابت ہو گیا۔
یہ لوگ اس وقت اپنے مطلب میں کامیاب ہوسکتے تھے جب کہ کذب اور بدعت میں مساوات و ترادف کی نسبت ثابت کرتے تو کذب کا ثبوت، بدعت کو مستلزم ہو جاتا    و إذ لیس فلیس  ( اور جب ایسا نہیں تو حکم بھی ایسا نہ ہو گا) 
ثالثاً:یہ کہ محدثین کے درمیان یہ بات متفقہ ہے کہ بعض حدیثیں بعض کی شرح ہوتی ہیں۔ جس روایت میں لفظ کذب واقع ہوا ہے کہ پھر جھوٹ ظاہر ہو گا تو اس کی وہی شرح ہے جو صحیحین وغیرہ کی حدیث میں گزری کہ وہ لو گ خیانت و بدعہدی کریں گے، بلاقسم کھلائے قسم کھانے کو تیار ہوں گے اور بلا گواہی طلب کیے گواہی دینے کو تیار ہوں گے۔ اس میں یہ نہیں آیا کہ وہ دین میں نئی باتیں نکالا کریں گے ،تو لازم ہوا کہ جھوٹ سے یہی باتیں مراد لی جائیں نہ کہ بدعت۔
رابعا:یہ کہ یہ لوگ اپنے اس دعوی پر کہ  جو چیز بعد قرون ثلاثہ پیدا ہو گی وہ بدعت ضلالت ہو گی اِس حدیث کو بطورِسند پیش کرتے ہیں ،تواس صورت میں مانعین کے دعویٰ کے مطابق حدیث کے اندر لفظ  یظہر کے معنی ظہورِ وجودی کے ہوں گے یعنی پھر تین صدی کے بعد جھوٹ پیدا ہو گاتواس کا منشا یہ ہے کہ اس سے پہلے نہ ہو گا حالاں کہ بدعتوں کا وجود عین انھیں قرون میں ہوا ہے۔یعنی معتزلہ اور قدریہ و مرجیہ  بدعتی فرقے  قرون ثلاثہ گزرنے کے پہلے ہی پیدا ہو گئے تھے۔پھر اگر کذبسے بدعت مراد لیں اور  یظہر اور یفشوسے یوجد، پھرتو بڑا اعتراض یہ پڑے گا کہ حدیث واقع کے مطابق نہیں قرار دی جا سکتی۔
خامساً:یہ کہ بعض علما نے لکھا ہے کہ قرون ثلاثہ کے بعد اہل اسلام میں جو یونانیوں کا علم فلسفہ رائج ہوا تو اس کو پڑھنے اور اس میں غور و خوض کرنے سے مسلمانوں کے عقائد عقلی طور پر بدل گئے۔ سلف کے عقیدوں کے برخلاف لوگوں میں فلسفیانہ عقائد جڑ پکڑ گئے، معتزلی وغیرہ بدعتیوں کو علم فلسفی سے طاقت پیدا ہوئی، اور مبتدعین اور اہل سنت کے درمیان اعتقادی مباحثے پھیل گئے۔ بھلا اگر کوئی لفظ حدیث  ثم یظہرالکذب سے یہ مراد لے تو بھی صحیح ہوسکتا ہے کیوں کہ فلسفیانہ مسائل جھوٹے ہوتے ہیں ،مگر کہاں فلسفیانہ دلائل اور یونانیوں کے مجادلے اور کہاں محفل میلاد شریف اور مردوں کا درود و فاتحہ۔بھلافلسفیوں کے مسائل کو ان اعمال سے کیا علاقہ؟ اور بدعتوں کے وجود کا حصر گرچہ فلسفیانہ عقائد میں نہیں لیکن صدق حدیث کے لیے ان افراد میں وجودکذب پایاجانا بس(کفایت) کرتا ہے۔یہ کہاں سے لازم آیا کہ حدیث شریف کی تصدیق اسی وقت پوری ہو جب کہ قرون ثلاثہ کے بعد حادث ہونے والاہرہرفرد بدعت اور ضلالت ہو جائے!۔
سادساً: یہ لوگ جو مطلب ثابت کرتے ہیں یہ اس وقت ثابت ہوتا جب کہ حدیث کے الفاظ یہ ہوتے:  ثم لا یظہر إلا الکذب۔یعنی قرون ثلاثہ کے بعد جھوٹ کے سوا اور کچھ ظاہر نہ ہو گا۔یا یہ ہوتے کہ :ثم کل شییء یظہر فیکون کذبا  یعنی جوکچھ بھی ظاہر ہو گاسب کاسب جھوٹ ہی جھوٹ ہو گا۔لیکن حدیث میں ایسے الفاظ تو نہیں،نہ توکوئی کلمہ مفیدحصرہے اور نہ ہی مفید کلیت۔تو حدیث کے معنی یہ ہو گئے: ثم یظہر الکذب یعنی پھر جھوٹ کاظہو رہو گا۔تو جھوٹ کے ظہور کوسچ ہونے کے لیے بعض افراد محدثات میں کذب کاپایاجانا کافی ہو گا،یہ کیاضروری ہے کہ پھر جو چیز ظاہر ہو وہ سب جھوٹی ہی ہو۔
لہٰذا حدیث کا اصل مطلب یہ ہوا کہ لوگوں میں سب سے اچھے میری صدی کے لوگ ہیں پھر ان کے بعد والے،پھر ان کے بعد والے۔ اور پھر ان کے بعد کھلاہوا جھوٹ ظاہر ہو گا یعنی جس طرح قرون ثلاثہ میں اچھائی غالب تھی اسی طرح بعد میں چل کر جھوٹ غالب ہو گا۔ لیکن غلبہ خیر کے معنی کوئی یہ نہ سمجھے کہ قرون اولیٰ میں جو کچھ ہو گا سب خیرہی ہو گا اس لیے کہ قدریہ ومرجیہ اور خارجی و رافضی وغیرہ فرقوں کی تمام بدعتیں قرون ثلاثہ ہی میں ظاہر ہوئیں ، اور خیر القرون میں ہونے کے باوجود کوئی اہل سنت و جماعت ان کو خیر نہیں کہتا۔پھر اسی طرح اس کے مقابلہ میں قرون ثلاثہ کے بعد جھوٹ کا حال بھی سمجھناچاہیے یعنی بعد میں جھوٹ ظاہر ہونے کے معنی یہ نہیں کہ جو کچھ ظاہر ہو گا سب کا سب جھوٹ ہی ہو گا جس طرح ایسا نہ ہوا کہ جو چیز خیر القرون میں ایجاد ہو وہ سب خیر ہو۔
 اس تقریرسے یہ بھی صاف ظاہر ہو گیا کہ بعض چیزیں جن کو خدا کے نیک بندے قرون ثلاثہ کے بعد ایجاد کریں درست اور صحیح ہوں گی، اور بعض باتیں جو خلاف شرع ایجاد ہوں گی وہ بری اور گمراہی کا سبب ہوں گی،جس طرح عین قرون ثلاثہ کی نکلی ہوئی بعض بدعتیں خراب اور ضلالت ہیں۔ مذہب منصور اور قول جمہور یہی ہے۔ 
شیوع و ظہور کذب میں یہ بھی ضرور نہیں کہ اس کا تحقق، بدعت کے شائع ہونے ہی سے ہو بلکہ یوں بھی ہوسکتا ہے کہ خیانت کار پہلے اگر ایک تھا تواب لاکھوں ہیں،جھوٹی قسمیں اٹھانے والے قرون اولیٰ میں اگر دو چار ہوں گے تو اس وقت کروڑوں ہیں۔اسی طرح اور گناہوں کو بھی قیاس کیا جا سکتا ہے کہ ہر  ہر گناہ اب زوروں پر ہے، اور قرونِ ثلاثہ میں پیدا ہونے والے بدعتی لوگ اب بہت زیادہ بلکہ اضعافاًمضاعفۃً(کئی گنا) ہو کر پھیل گئے ہیں،تومذکورہ بالاصحیح حدیثوں کے سچ ہونے کے لیے اتنا افشاوظہورکافی ہے۔یہ کیاضرورہے کہ جب بعدکے صالحین کے تمام نیک کاموں کو کذب میں داخل کرو تب ہی حدیث کا مضمون صحیح ہو حاشا وکلا انصاف شرط ہے۔  و اللّٰہ یہدی من یشاء إلی صراط مستقیم۔
براہین قاطعہ گنگوہی کے صفحہ ۳۲ اور  ۳۳میں جو یہ بات لکھی ہے  :
 بدعت کے سلسلہ میں یہ چاروں اقوال گزشتہ اور قول پنجم  جوآیاچاہتا ہے پانچوں قول ایک ہیں  الیٰ آخرہ 
یہ ایک عجیب افسانہ ہے۔ذرامردِداناخیال کرکے دیکھے کہ تیسرے قول کو جولوگوں نے حضرت مجدد کے قول سے استدلال کیا ہے کہ  جو چیزخلفاے راشدین کے وقت میں نہ تھی خداہم کو اس بدعت میں گرفتارنہ کرے  یہ دوسرے اقوال کے ساتھ کس طرح جمع ہوسکتا ہے۔حالاں کہ خود حضرت مجدد کے مکتوبات   مطبوعہ دہلی جلدثانی کے صفحہ ۳۸ مکتوب نمبر ۲۳میں یہ عبارت، اقوال باقیہ کے خلاف ہے  :
گزشتگان در بدعت حسنیٰ دیدہ باشندکہ بعض افراد آں را مستحسن داشتہ اند اما ایں فقیر درایں مسئلہ با ایشاں موافقت ندارد وہیچ فردبدعت راحسنہ نمی داند۔
یعنی پہلے دور کے لوگوں نے جب بدعت حسنہ کودیکھاتوبعض افراد نے اس کومستحسن قرار دیا۔ لیکن فقیرکاموقف اس سلسلے میں اس کے موافق نہیں اور بدعت کے کسی فرد کو حسنہ نہیں سمجھتا۔
دیکھیے کہ وہ خود اپنے منہ سے فرمارہے ہیں کہ جو علما بدعت حسنہ کومستحسن کہتے ہیں میں ان کے ساتھ موافقت نہیں کرتاپھرپانچوں قول آخر کس طرح باہم موافق ہوں گے؟۔
پھر مکتوب مذکور میں آٹھ سطرکے بعد لکھتے ہیں  :
ایں جا فتویٰ متقدمین و متاخرین متمشی نباید ساخت چہ ہروقت را احکام علاحدہ است  الیٰ آخرہ 
یعنی اس سلسلہ میں متقدمین ومتاخرین کے فتاوے قابل قبول نہ سمجھے جائیں کیوں کہ ہر دور میں احکام کے تقاضے مختلف اور جداگانہ ہوتے ہیں۔
دیکھیے کہ یہاں خود اپنی زبان سے بدعت حسنہ کے جوازپرتمام متقدمین ومتاخرین کا فتویٰ تسلیم فرما کر فرماتے ہیں کہ اب وہ فتویٰ نہیں چل سکتاکیوں کہ ہر زمانے کا حکم جداہوتا ہے۔بھلا اگر تمام متقدمین ومتاخرین مفتیانِ دین کاقول حضرت مجدد کے موافق ہوتا تواختلاف زمانہ کا یہ عذر کیوں پیش فرماتے۔نہیں نہیں !نا انصافی کاکوئی علاج نہیں۔حق یہی ہے کہ پانچوں قول جداہیں ہر ایک عالم نے اپنے نزدیک زمانے کی کچھ مصلحت سمجھ کر ایک قول اختیارکیا لیکن فتویٰ، جمہور علمائے اہل سنت کے قول کے سوا عمومی طورپر نہ دیاجائے گا   اس کابیان عنقریب آرہاہے  
بعض لوگوں کا یہ فرمانا کہ بدعت حسنہ کوئی چیز نہیں۔تو یہ عقلی ونقلی دلیلوں کے بالکل خلاف ہے۔ خلاف عقل اس لیے کہ دو مفہوم کلی یا تودونوں متساوی ہوں گے جیسے انسان اور ناطق یعنی جسے ناطق کہیں گے وہی انسان ہو گا اور جس کو انسان کہیں گے وہی ناطق ہو گا۔یاوہ دونوں متباین ہوں گے جیسے انسان اور پتھر کہ جوچیز پتھرہو گی اس کو انسان نہ کہاجائے گا اور جو انسان ہو گا اسے پتھر نہ کہیں گے تودونوں بالکل جداجداہیں یہ کچھ اور ہے اور وہ کچھ اور ۔یا وہ دونوں مفہوم عام خاص مطلق ہوں گے جیسے حیوان وانسان کہ حیوان تو ہرجاندار کو کہ سکیں گے خواہ وہ انسان ہو یا گھوڑا،ہاتھی یا اونٹ وغیرہ مگر انسان ،آدمی کے سواے کسی کو نہیں کہ سکتے تو انسان خاص مطلق ہوا اور حیوان عام مطلق۔یا وہ دونوں مفہوم عام خاص من وجہٍ ہوں گے جیسے کبوتر اور سفید رنگ،اس میں تین مادے ہوتے ہیں دوافتراق کے اور ایک اجتماع کا،افتراق کا اس طورپر کہ جیسے قلعی میں سفید رنگ موجودہے لیکن کبوتر سفید نہیں، اور سرمئی کبوتر میں کبوترتو موجودہے لیکن سفیدرنگ نہیں، اور سفید رنگ کے کبوتر میں دونوں موجود،کبوتر بھی اور سفید رنگ بھی۔جب یہ معلوم ہو گیاتو اب حدیث رسول کریم  صلی اللہ علیہ وسلم پڑھنی چاہیے۔آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا  :
مَنِ ابْتَدَعَ بِدْعَۃَ ضَلاَ لَۃٍ لاَ یَرْضَاہَا اللّٰہُ وَ رَسُولُہُ کَانَ عَلَیْہِ مِنَ الإثْمِ مِثْلُ آثَامِ مَنْ عَمِلَ بِہَا لاَ یَنْقُصُ ذٰلِکَ مِنْ أوْزَارِہِمْ شَیئاً۔(۱)
۔۔۔
(۱)	سنن ترمذی:۹؍۲۸۸حدیث: ۲۶۰۱۔۔مشکوٰۃ المصابیح: ۱؍ ۳۶حدیث: ۱۶۸۔۔کنز العمال: ۱؍ ۱۸۰حدیث: ۹۰۸۔۔ مسند جامع: ۳۳؍ ۱۱۵حدیث: ۱۰۸۱۳۔  مگر سنن ترمذی اور مسند جامع کے الفاظ ذراسا مختلف ہیں  :
۔۔۔۔۔۔۔
	من ابتدع بدعۃَ ضلالۃٍ  لا تُرضِي اللہَ و رسولَہ کان علیہ مثل آثام من عمل بہا لا ینقص ذلک من أوزار الناس شیئا۔
یعنی جس نے اللہ ورسول کی مرضی کے خلاف کوئی بری چیز ایجاد کی تواس کے اوپراس کے اپنے گناہ کے علاوہ ان لوگوں کے گناہ کا بوجھ بھی ہو گاجو اس کی ایجاد کردہ چیز پر عمل پیرا ہیں اور ان کے گناہ سے کچھ کم بھی نہ کیا جائے گا۔
واضح ہو کہ لفظ حدیث: بدعۃَ ضلالۃٍ کی روایت، صیغہ اضافت کے ساتھ ہم کو اپنے اساتذہ سے پہنچی ہے۔
 اسی طرح مولانا احمد علی صاحب محدث مرحوم سہارنپوری نے اپنے مطبع کی کتابوں یعنی مشکوٰۃ شریف مطبوعہ  ۱۲۷۱ھ(1854ئ)  اور ترمذی شریف مطبوعہ  ۱۲۸۲ھ(1865ئ)  میں ضبط کیا ہے۔
صاحب مجمع البحار نے بھی تکملہ کے صفحہ ۱۶ میں لکھا ہے  :
یُروی بالإضافۃ و یجوز نصبہا علی النعت۔
یعنی ’بدعۃ ضلالۃ‘ کی اضافت کے ساتھ بھی ایک روایت کی گئی ہے، اور اس کو منصوب پڑھنا بھی درست ہے موصوف ہونے کی بنیاد پر۔
 دیکھیے کہ اگرچہ موصوف کو بھی جائز رکھا لیکن اصحاب حدیث کی روایت کواضافت کے ساتھ ہی لکھا،جب بدعت اور ضلالت میں اضافت ثابت ہو گئی تواب اضافت کا قاعدہ سمجھناچاہیے۔ بدعت ضلالت میں اگر یہ اضافت بیانی ہے  جیساکہ فریق ثانی اکثر بیان کرتے ہیں  تب تو ہمارا عین مدعا ثابت ہے اس لیے کہ اضافت بیانی میں عموم خصوص من وجہٍ ہوتا ہے۔
قال المولی الجامي في بیان الإضافۃ : و إما بمعنی من البیانیۃ في جنس المضاف الصادق علیہ و علی غیرہ بشرط أن یکون المضاف أیضا صادقا علی غیر المضاف إلیہ فیکون بینہما عموم و خصوص من وجہ۔
بیان اضافت کے سلسلہ میں مولانا جامی فرماتے ہیں :یعنی اضافت یا تو من بیانیہ کے معنی میں ہو گی جب کہ مضاف الیہ اس جنس مضاف سے ہو جو خود مضاف اور اس کے سوا دوسری چیزوں پرصادق ہو، اس شرط کے ساتھ کہ خود مضاف بھی مضاف الیہ کے علاوہ پرصادق ہو تو اس طرح مضاف اور مضاف الیہ کے درمیان عموم و خصوص من وجہ کی نسبت ہو گی۔ 
اوپر بیان ہو چکا کہ عموم خصوص من وجہٍ میں دو مادّے افتراق کے اور ایک مادہ اجتماع کا ہوتا ہے۔ تو مطلب یہ ہوا کہ کوئی شے ایسی ہو گی جو بدعت بھی ہو اور ضلالت بھی جیسے مذہب قدریہ و جبریہ وغیرہ، اور کوئی شے ایسی ہو گی جو ضلالت تو ہو مگر بدعت نہ ہو جیسے کفر و ارتداد   معاذ اللہ اور کوئی شے ایسی ہو گی جو بدعت تو ہو مگر ضلالت نہ ہو جیسے مدرسہ،محفل میلاد شریف وغیرہ اور جلائے قلب و صفائے باطن کے لیے مشائخ کرام کے ایجاد کردہ اذکار۔ ایسی ہی چیزوں کا نام بدعت حسنہ ہے۔
دوسری تقریر یہ کہ بدعت اور ضلالت دو مفہوم کلی ہیں اور ظاہر ہے کہ یہ دونوں باہم متباین نہیں کیوں کہ ضلالت ،بدعت پر محمول ہوتی ہے۔ اور متساوی بھی نہیں کیوں کہ شرک و کفر پر بھی ضلال کا اطلاق جا بجا قرآن میں موجود ہے  :
وَ مَنْ یُّشْرِکْ بِاللّٰہِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلاَلاً بَعِیْداً (۱) 
۔۔۔۔۔۔۔  وَ مَنْ یَّکْفُرْ بِاللّٰہِ وَ مَلاَئِکَتِہٖ وَ کُتُبِہٖ وَ رُسُلِہٖ وَ الْیَوْمِ الآخِرِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلاَلاً بَعِیْداً۔ (۲)
 اور جو اللہ کا شریک ٹھہرائے وہ دور کی گمراہی میں پڑا۔۔۔۔ اور جو نہ مانے اللہ اور اس کے فرشتوں اور کتابوں اور رسولوں اور قیامت کو،تو وہ ضرور دور کی گمراہی میں پڑا۔
۔۔۔۔
(۱)	سورہ نساء، ۴؍۱۱۶۔  (۲)    سورۂ نساء،۴؍۱۳۶۔
۔۔۔۔۔
یہاں شرک و کفر پر لفظ ضلال کا اطلاق ہوا ہے، حالاں کہ یہاں کوئی بدعت نہیں کیوں کہ بدعت کی حقیقت اور ہے اور کفر کی کچھ اور ۔بدعت، سنت کا مقابل ہے جب کہ کفر، ایمان کا مقابل۔ اور بدعت عام مطلق بھی نہیں ورنہ کل بدعۃ ضلالۃ  کا کلیہ صحیح نہ ہو گا۔جس طرح کل حیوان إنسان صحیح نہیں، اور خاص مطلق بھی نہیں اس لیے کہ خاص مطلق کی عام مطلق کی طرف اضافت ممتنع ہے۔کتب نحو ،شرح جامی اور مسالک بہیّہ وغیرہ میں یہ مسئلہ موجود ہے یعنی ایسا کہنا جائز نہیں کہ:  سبت الیوم اور فقہ العلم،بلکہ یوں کہا جائے گا: یوم السبت اور علم الفقہ  تو من ابتدع بدعۃ ضلالۃ کی اضافت صحیح نہیں ٹھہرتی۔
اب باقی رہی نسبت عام خاص من وجہٍ،تو اس میں وہی دو مادے افتراق کے ہوں گے اور ایک اجتماع کا جیساکہ پہلی تقریر میں ہم ثابت کرچکے ہیں   توایک بدعت ایسی نکلے گی جو ضلالت نہیں لہٰذا ایسی بدعت اگر ضابطہ اباحت میں داخل ہوتو مباح ہو گی، اور کلیہ استحباب میں شامل ہو تو مستحب ہو گی، اور اگر قاعدۂ ایجاب کے تحت مندرج ہو تو واجب ہو گی،انھیں تین قسم کی بدعتوں کو بدعت حسنہ کہتے ہیں کیوں کہ واجب،مستحب اور مباح وہی چیزیں ہوسکتی ہیں جن میں رنگ حَسَن موجود ہو اور اسی حسن کے سبب ایسی بدعتوں کو صفت حسنہ نصیب ہوئی ہے۔
وہ جو صاحب مجمع البحار نے لکھا ہے کہ یجوز نصبہاعلی النعت  تو اس صورت میں حدیث کے معنی یہ ہوں گے کہ جس نے ایسی بدعت ضلالت نکالی  الی آخرہ 
ہم کہتے ہیں کہ اس میں بھی بدعت حسنہ کا ثبوت ہے اس لیے کہ نکرہ کو نکرہ کے ساتھ صفت کرنے کے سلسلہ میں اصل قاعدہ یہ ہے کہ وہ تخصیص کا فائدہ دیتا ہے،تو صفت ضلالت نے اپنے موصوف، بدعت کو  جو عام یعنی ضلالت و ہدایت دونوں کو شامل تھا خاص کر دیا اور بعض افراد  یعنی بدعت ضلالت کو بعض افراد  یعنی بدعت ہدایت وحسنہ سے  تمیز دے دی۔ جیسے رجل عالم میں صفت عالم نے رجل کو غیر عالم سے تمیز دے دی۔
نعت و صفت کی صورت میں دو وجہ سے یہ معنی کرنے ضروری ہوئے۔ایک تو یہ کہ اصل توصیف نکرہ میں افادۂ تخصیص ہونا نحو کا قاعدہ مطرد ہے۔ دوسرے یہ کہ صفت کے ساتھ پڑھنا روایت اضافت کے مطابق ہو جائے جو اصحاب حدیث میں شائع ہے،تو جس طرح روایت اضافت میں لفظ بدعت عام من وجہ رہا تھا اسی طرح صفت و نعت میں بھی عام من وجہ رہے۔ اثبات بدعت حسنہ کے سلسلہ میں یہ تقریر عاجز کو اپنے بعض اساتذہ سے پہنچی ہے   تغمدہم اللّٰہ بغفرانہ  
اب ہم دوسری تقریر شروع کریں یعنی بدعت حسنہ کو لاشیٔ محض قرار دینا اور اس کے وجود کا انکار کرنا نقل کے مخالف ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ حضرت امیر المومنین عمر  رضی اللہ عنہ   کے عہد کرامت مہد میں سابق کی بہ نسبت کیفیت نماز تراویح میں جب کچھ زیادہ لحوق ہوا تو آپ نے اسے پسند کیا اور فرمایا  :
نِعْمَتِ الْبِدْعَۃُ۔ (۱)
یعنی کیاہی اچھی بدعت ہے !۔
 زبان عرب میں لفظ  نعمت  افعال مدح سے مانا گیا ہے،اس سے وہ کسی چیز کی تعریف کیا کرتے تھے تو آپ نے قدرسابق پراس کیفیت زائدہ کی تعریف فرمائی کہ یہ نئی بات اچھی ہے۔
دیکھو! حضرت امیر المومنین عمر رضی اللہ عنہ   جن کی اقتدا کا حکم ہمیں از روئے حدیث ہے  انھوں نے بدعت کو اچھا فرمایا تو معلوم ہو گیا کہ بدعت محمود بھی ہوتی ہے۔
۔۔۔۔
(۱)	موطا اِمام مالک: ۱؍ ۳۴۰حدیث: ۲۳۱۔۔صحیح بخاری: ۷؍ ۱۳۵حدیث: ۱۸۷۱۔۔معجم طبرانی: ۱۱؍ ۵۴حدیث: ۱۳۳۸۷۔۔ شعب الایمان: ۷؍ ۲۷۱حدیث: ۳۱۲۲۔۔الصیام فریابی: ۱؍ ۱۵۷حدیث: ۱۴۸۔۔ المدخل : ۱؍ ۱۹۱ حدیث: ۱۹۰۔۔ فضائل الاوقات بیہقی: ۱؍۲۷۴حدیث: ۲۲۴۔۔ فوائد محمد بن مخلد: ۱؍۶حدیث: ۵۔۔قیام رمضان مروزی: ۱؍۲۰حدیث: ۱۶ ۔۔نصب الرایہ: ۳؍ ۲۲۸۔۔تلخیص حبیر: ۲؍ ۱۲۲حدیث: ۵۵۱۔۔ تحفۃ الاشراف: ۹؍ ۴۵۴حدیث: ۱۰۵۹۴۔۔ روضۃ المحدثین: ۱؍ ۵۰۰حدیث:۵۰۰۔
۔۔۔۔۔
ایسے ہی ابن عمر رضی اللہ عنہما  سے روایت ہے کہ انھوں نے لوگوں کوجس طرح صلوٰۃ ضحی پڑھتے دیکھا اور لوگوں نے اس کامسئلہ پوچھا تو آپ نے فرمایا  :
إنَّہَا مُحْدَثَۃٌ وَ إنَّہَا لَمِنْ أحْسَنِ مَا أحْدَثُوا۔ (۱)
یعنی بلا شبہ یہ ایک نئی چیز ہے لیکن کیا ہی عمدہ اور بہترین چیز ہے۔
۔۔۔۔۔
(۱)	فتح الباری ابن حجر:۴؍ ۱۷۳ صلاۃ الضحیٰ فی السفر 
۔۔۔۔۔۔۔
تو امر محدَث اور بدعت کو حسنہ کہنا قول صحابی کے نص سے ثابت ہے۔ اُس وقت سے لے کر اب تک صحابہ کرام کی اقتدا میں تمام مجتہدین اعلام اور ائمہ اسلام جملہ محدثات حسنہ کو جائز رکھتے اور بدعت حسنہ فرماتے چلے آئے ہیں  اس سلسلہ میں اقوال فقہا و محدثین کی نقلیں عنقریب آنے والی ہیں   لہٰذا عقلاً اور نقلا ً ہر طرح ثابت ہو گیا کہ بدعت حسنہ کا وجود ثابت ہے اور بدعت حسنہ کا اطلاق درست اور صحیح ہے۔
پانچواں قول مذہب جمہور :  واضح ہو کہ جملہ علمائے اہل تحقیق کے نزدیک سیئہ اور حسنہ ہونے کی بنیاد زمانہ پر نہیں یعنی ایسا نہیں کہ قرون ثلاثہ کے اندرجو کچھ خیر و شر ہو  گیا وہ سب سنت اور مقبول ہے اور جو کچھ بھلا یا برا قرون ثلاثہ کے بعد ہوا وہ سب برا اور مردود ہے جیساکہ ہم پہلے لکھ آئے  صرف ایک ایک مثال پر اکتفا کرتا ہوں  :
پہلا قصہ:  حضر امیر المومنین عمر اور حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہما  نہانے کی حاجت والے (جنبی)کو تیمم سے منع فرماتے تھے۔یہ حدیث صحیح مسلم کے صفحہ ۱۶۱میں موجود ہے۔ اب دیکھیے کہ یہ صحابی کا حکم ہے اور صحابی بھی کیسے! خلفائے راشدین سے۔لیکن ائمہ مذاہب سے کسی نے اس قول پر عمل نہ کیا۔
دوسرا قصہ:  حضرت معاویہ  رضی اللہ عنہ  صحابی تھے جن کا بیٹا یزید طبقہ وسطی تابعین سے  تھا یعنی جس طبقہ میں حسن بصری اور ابن سیرین ہیں یہ اسی طبقہ میں تھا  کذافی التقریب  خیرالقرون کے اس تابعی نے دیکھیے کہ کیساسعادت مندی کا کام کیا!  خدا کسی کو نصیب نہ کرے  کہ امام حسین رضی اللہ عنہ   پر مظالم(ڈھانے کا بوجھ) اس کی گردن پر ہے۔ 
تیسرا قصہ :  حضرت حسن بصری  رحمۃ اللہ علیہ   تابعی تھے اور ان کا شاگرد ،واصل بن عطا تبع تابعین سے تھا جو مذہب معتزلی کا موجد اور امام ہوا،اس نے یہ مذہب نکالا کہ جو مسلمان گناہ کبیرہ کرے اسے نہ تو مومن کہنا چاہیے اور نہ کافر،بلکہ یہ ان دونوں کے درمیان ایک درجہ ہے۔ یہ عقیدہ اس  نے اہل سنت و جماعت کے بالکل خلاف ایجادکیا۔اللہ تعالیٰ نے تو اپنے بندوں کی صرف دو قسم فرمائی ہے  :
فَمِنْکُمْ کَافِرٌ وَ مِنْکُمْ مُوْمِن۔ (۱)
تو تم میں کوئی کافر اور تم میں کوئی مسلمان۔
کوئی تیسری قسم نہیں فرمائی۔تو جب واصل بن عطا نے اپنا وہ عقیدہ بیان کیا توان کے استاد حضرت امام حسن بصری نے ارشاد فرمایا  :
قد اعتزل عنا (۲)۔
یعنی اب یہ ہم سے الگ ہو گیا۔
تواُسی دن سے اس فرقہ کا نام معتزلہ پڑا گیا۔وہ سخت قسم کے بدعتی ہیں مگر اپنا نام ’’اصحاب العدل والتوحید‘‘ رکھتے ہیں  شرح عقائد وغیرہ میں یوں ہی مذکور ہے 
یہ تین قصے قرون ثلاثہ کے بیان کیے گئے ہیں اور ایسے بہت سے قصے ہیں۔غرض کہ ان مثالوں سے یہ بات معلوم ہو گئی کہ خواہ کوئی فعل ہو یا قول یا اعتقاد،اس کا حسنہ اور سیئہ ہونا زمانہ پر موقوف نہیں،بلکہ اس کا مدار شریعت کی مخالفت اور عدم مخالفت پر ہے،اپنے اس دعویٰ پربھی دو صحیح حدیث لکھے دیتا ہوں۔
 حدیث اول  : 
قال نبینا الآمر الناہي  علیہ و علیٰ آلہ الصلوٰۃ و السلام  مَنْ أحْدَثَ فِيْ أمْرِنَا ہٰذَا مَا لَیْسَ مِنْہُ فَہُوَ رَدٌّ۔(۳)
یعنی حضور اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا کہ جس نے ہمارے اس دین میں کوئی ایسی بات نکالی جو دین سے نہیں یعنی کتاب وسنت کے مخالف ہے،تواس کی وہ بات رد ہے۔
یہ صحیحین کی حدیث ہے۔
۔۔۔۔۔
(۱)	سورۂ تغابن،۶۲؍۲۔
(۲)	شرح عقائد نسفیہ: ۶
(۳)	صحیح بخاری: ۹؍ ۲۰۱حدیث: ۲۴۹۹۔۔ صحیح مسلم: ۹؍ ۱۱۸حدیث: ۳۲۴۲۔۔ سنن ابوداؤد: ۱۲؍ ۲۱۰حدیث: ۳۹۹۰۔۔ سنن ابن ماجہ: ۱؍ ۱۷حدیث: ۱۴۔۔ مشکوٰۃ المصابیح:۱؍۳۱حدیث:۱۴۰  مسند احمد: ۵۲؍ ۴۹۷ حدیث: ۲۴۸۴۰ ۔۔ مصنف ابن ابی شیبہ: ۵۳؍ ۲۸۲ حدیث: ۲۵۱۲۴ ۔۔ سنن بیہقی: ۱۰؍ ۱۱۹۔۔ مستخرج ابوعوانہ: ۱۲؍ ۴۸۳حدیث: ۵۱۷۵۔۔ سنن دارقطنی: ۱۰؍ ۳۳۴حدیث: ۴۵۹۰۔۔ صحیح ابن حبان: ۱؍ ۵۰ حدیث: ۲۶۔۔ معرفۃالسنن و الآثار: ۱۰؍ ۸۷حدیث: ۳۷۵۷۔۔ مسندشہاب قضاعی: ۲؍ ۹۷حدیث: ۳۴۵۔۔ الاعتقادبیہقی: ۱؍ ۲۳۳حدیث: ۲۰۸۔۔ سنن صغیربیہقی: ۸؍ ۴۴۷حدیث: ۳۲۸۰ ۔۔ الفوائد الشہیر بالغیلانیات: ۳؍ ۱۰حدیث: ۹۵۶۔۔ منتقی ابن جارود: ۳؍ ۸۳ حدیث: ۹۷۴۔۔ کنزالعمال: ۱؍ ۲۱۹ حدیث: ۱۱۰۱۔۔ المسند الجامع: ۵۱؍ ۲۱۰حدیث: ۱۷۱۰۴۔۔ تحفۃ الاشراف: ۱۴؍۴۷حدیث: ۱۷۴۵۵۔۔ تخریح احادیث الاحیاء: ۱؍ ۱۸۵حدیث: ۱۸۵۔  
۔۔۔۔۔۔۔
شارحین حدیث نے لفظ مالیس منہ کی شرح میں لکھا ہے  :
فیہ إشارۃ إلی أن إحداث ما لا ینازع الکتاب و السنۃ لیس بمذموم۔
یعنی اس میں اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ جو چیز کتاب وسنت سے نہ ٹکرائے تواس کی ایجاد مذموم نہیں ہے۔
محدث دہلوی  نے لفظ  ما لیس منہ کی شرح میں لکھا  :
مراد چیزے ست کہ مخالف ومغیر دین باشد۔
یعنی اس سے ایسی چیز مراد ہے جو خلاف دین اور اس کو بدل دینے والی ہو۔
نواب قطب الدین خاں صاحب نے ترجمہ مشکوٰۃ شریف میں لکھاہے  :
 لفط  ما لیس منہ میں اس طرف اشارہ ہے کہ جوچیز کتاب اور سنت کے مخالف نہ ہو اس کانکالنا برانہیں۔
عربی وفارسی اور اردو کی ان شرحوں کی ایک ایک نظیر بس کرتی ہے۔ان شارحین حدیث کو اس طرح کا معنی بیان کرنے کی وجہ یہ پڑی کہ ابوداؤد میں ہے  :
مَنْ صَنَعَ أمْراً عَلیٰ غَیْرِ أمْرِنَا فَہُوَ رَدٌّ۔(۱)
یعنی جس نے کوئی کام ہمارے طریقہ کار کے علاوہ کیاتو وہ رد ہے۔
حضور  صلی اللہ علیہ وسلم کا کام تو کتاب و سنت ہے۔ اور کتاب وسنت کے غیر وہی طریقہ ہو گا جو بالکل اس کے مخالف اور اس کو بدل دینے والا ہو گا۔الحاصل! اس حدیث سے دو باتیں ثابت ہوئیں  :
ایک تو یہ کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے لفظ مَنارشاد فرمایا،یہ لفظ عربی میں عام ہے اس میں کسی قرن کی قید نہیں یعنی آپ نے یوں نہیں فرمایا کہ جو کوئی پہلی صدی،دوسری صدی،تیسری صدی یا بالکل آخری زمانہ میں کوئی نئی بات نکالے بلکہ عام فرمایا کہ جب کبھی کوئی نکالے وہ رد ہے۔
۔۔۔۔۔۔
(۱)	سنن ابوداؤد: ۱۲؍ ۲۱۰حدیث: ۳۹۹۰۔۔ مسند احمد: ۴۹؍ ۴۶۷حدیث: ۲۳۳۱۱۔۔ مصنف ابن ابی شیبہ: ۴۹؍ ۴۶۷ حدیث: ۲۳۳۱۱۔کنزالعمال: ۱؍ ۲۲۰حدیث: ۱۱۰۹۔ 
۔۔۔۔۔
دوسری بات یہ کہ اس نکالی ہوئی نئی بات کا مردود ہونا اس بات پر موقوف ہے کہ وہ بس کتاب وسنت کے مخالف ہو، اور یہی ہم نے دعویٰ کیا تھا کہ امورِ محدثہ کاحسنہ اور سیئہ ہونا کتاب وسنت کی مخالفت اور عدم مخالفت پر موقوف ہے نہ کہ زمانے پر۔ اور یہ مسئلہ اصول میں طے شدہ ہے کہ جب کسی امر مقید پر کوئی حکم ہوتا ہے تو وہ حکم قید کی طرف راجع ہوتا ہے، اس حدیث میں فہو رد حکم ہے لہٰذا یہ اصل احداث کی طرف نہیں بلکہ اس کی قید  ما لیس منہ کی طرف لوٹے گا یعنی جو نئی بات دین کے مخالف اور اس کو بدل دینے والی ہو وہ رد ہے، نہ یہ کہ جو کوئی عمدہ،نیک اور اصول دین کے موافق بات نکالی جائے وہ بھی رد ہے۔
دیکھو! اب قاعدۂ اصول کے مطابق معنی کر نے سے اسی حدیث سے ثابت ہو گیا کہ بدعت حسنہ یعنی اچھی بات کی ایجاد کرنا برا نہیں ورنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  احداث کو لفظ  ما لیس منہ کے ساتھ مقید نہ فرماتے بلکہ یوں فرماتے:  من أحدث في أمرنا فہو رد  لفظ  ما لیس منہ  بڑھانے کی کیا حاجت تھی۔
شرح جواہر التوحید میں ہے  :
و من الجہلۃ من یجعل کل أمر لم یکن في زمن الصحابۃ بدعۃ مذمومۃ و إن لم یقم دلیل علی قبحہ تمسکا بقولہ  صلی اللہ علیہ وسلم  إیاکم و محدثات الأمور و لا یعلمون المراد بذلک أن یجعل في الدین ما ہو لیس منہ  انتہیٰ 
اس تقریر سے ان لوگوں کا جواب حاصل ہو گیا جو بلاسمجھے بوجھے حدیثیں پڑھا کرتے ہیں کہ شر الأمور محدثاتہا اور پڑھا کرتے ہیں :و إیاکم و محدثات الأمور و کل محدثۃ بدعۃ و کل بدعۃ ضلالۃ  حصول جواب کی وجہ یہ ہے کہ حدیثیں سب ارشاد رسول مقبول  صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہیں وہ باہم مخالف نہیں ہوسکتیں، جب مقام مذمت میں احداث کو آپ  مالیس منہ کے ساتھ مقید فرماچکے  یعنی وہ محدث بات مردود ہے جو کہ طریقہ اسلامی کے علاوہ ہو اور مخالف ہو  تو جس قدرمنع اور بدعت کی  حدیثیں ہوں گی وہ احداث و بدعت، مخالف اسلام کی طرف لوٹیں گی نہ کہ احداث خیر اور بدعت حسنہ کی طرف۔ اور اس تقریر سے اس حدیث کے معنی بھی بلا تکلف صحیح ہو گئے  :
مَا أحْدَثَ قَوْمٌ بِدْعَۃً إلاَّ رُفِعَ مِثْلُہَا مِنَ السُّنَّۃِ۔ (۱)
اس لیے کہ جو بدعت مخالف سنت ایجاد ہو گی ظاہر ہے کہ وہ سنت کو مٹا دے گی۔ چنانچہ مولوی قطب الدین خاں صاحب نے بھی ’’مظاہرالحق‘‘ میں اس حدیث کے ترجمہ میں لکھا ہے  :
نہیں نکالی کسی قوم نے بدعت یعنی جو بدعت کہ مزاحم سنت کے ہو۔۔۔۔۔۔۔۔
دیکھیے اس حدیث میں بھی ان لوگوں کے مستند علماسے خاص اسی بدعت کی برائی ثابت ہوئی جو مخالف سنت ہو۔باقی رہی حدیث  :
تَفْتَرِقُ أمَّتِي عَلیٰ ثَلاثٍ وَّ سَبْعِیْنَ مِلَّۃً کُلُّہُم فِي النَّارِ إلاَّ وَاحِدَۃٍ قَالُوا وَ مَنْ ہِي یَا رَسُولَ اللّٰہِ! قَالَ مَا أنَا عَلَیْہِ وَ أصْحَابِي۔(۲)
یعنی میری امت تہتر فرقوں میں بٹ جائے گی، اور ایک کے سواسب جہنمی ہوں گے۔پوچھا گیا یارسول اللہ! وہ نجات یافتہ لوگ کون ہوں گے؟ فرمایا: جس ملت پر میں ہوں اور میرے صحابہ۔
۔۔۔
(۱)	مسند احمد: ۳۴؍ ۳۲۵حدیث: ۱۶۳۵۶۔۔ مصنف ابن ابی شیبہ: ۳۴؍ ۳۲۵حدیث: ۱۶۳۵۶۔۔الابانۃ الکبریٰ ابن بطہ: ۱؍ ۲۳۸ حدیث: ۲۳۲ ۔۔ مجمع الزوائد: ۱؍ ۱۱۴۔۔ کنزالعمال: ۱؍ ۲۱۹حدیث: ۱۰۹۸۔۔ المسند الجامع: ۳۴؍ ۴۱ حدیث: ۱۱۱۰۳۔  اور سنن دارمی وغیرہ میں یوں بھی آیا ہے  :  مَا ابْتَدَعَ قَومٌ بِدْعَۃً فِي دِیْنِہِم إلاَّ نَزَعَ اللّٰہُ مِن سُنَّتِہِم مِثْلَہا، ثُمَّ لا یُعِیدُہا إلَیْہِم إلیٰ یَوم القِیامَۃ۔
(۲)	سنن ترمذی: ۹؍ ۲۳۵ حدیث: ۲۵۶۵۔۔سنن نسائی: ۹؍ ۲۳۵ حدیث: ۲۵۶۵۔۔ ابانۃ الکبریٰ: ۱؍ ۲۸۱حدیث: ۲۷۴۔۔ مستدرک: ۱؍ ۴۳۰حدیث: ۴۰۸۔ 
۔۔۔۔۔
	یہ حدیث الفاظ کے ذرا ذرا سے فرق کے ساتھ کئی طریقوں سے مروی ہے۔مشتے از خروارے ملاحظہ فرمائیں  :
	تفترق ہذہ الأمۃ علی ثلاث و سبعین فرقۃ، کلہم في النار إلا واحدۃ قالوا و ما تلک الفرقۃ؟ قال ما أنا علیہ الیوم و أصحابي۔(معجم اوسط:۱۱؍۱۱۳حدیث:۵۰۴۳)
	إن بني إسرائیل افترقوا علی إحدی و سبعین فرقۃ، و النصاریٰ علی ثنتین و سبعین فرقۃ کلہم علی الضلالۃ إلا السواد الأعظم، قالوا یارسول اللہ! و من السواد الأعظم؟ قال من کان علی ما أنا علیہ و أصحابي۔(معجم کبیر: ۷؍۱۶۴حدیث: ۷۵۵۳۔۔الابانۃ الکبریٰ:۲؍ ۴۱حدیث:۵۳۱)
	افترقت بنو إسرائیل علی إحدی و سبعین ملۃ، و لن تذہب اللیالي و لا الأیام حتی تفترق أمتي علی مثلہا أو قال عن مثل ذلک و کل فرقۃ منہا في النار إلا واحدۃ و ہي الجماعۃ۔(مسند عبد بن حمید: ۱؍ ۱۵۹حدیث:۱۵۰۔۔الابانۃ الکبریٰ:۱؍۲۸۲حدیث: ۲۷۵۔۔مسند سعدبن ابی وقاص:۱؍۸۲ حدیث:  ۷۲ ۔۔ مسند الجامع:۱۳؍۲۷۷حدیث:۴۱۶۵)
	إن بني إسرائیل افترقت علی إحدی و سبعین فرقۃ و إن أمتي ستفترق علی ثنتین و سبعین فرقۃ کلہا في النار إلا واحدۃ و ہي الجماعۃ۔(سنن ابن ماجہ:۱۱؍۴۹۴حدیث:۳۹۸۳)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
	إن أہل الکتاب افترقوا في دینہم علی ثنتین و سبعین ملۃ و إن ہذہ الأمۃ ستفترق علی ثلاث وسبعین ملۃ یعنی الأہواء کلہا في النار إلا واحدۃ وہي الجماعۃ۔ (مسنداحمد:۳۴ ؍۲۹۲ حدیث:۱۶۳۲۹۔۔مصنف ابن ابی شیبہ:۳۴؍۲۹۲حدیث:۱۶۳۲۹۔۔معجم طبرانی:۱۴ ؍۳۰۲ حدیث:۱۶۲۵۰۔۔ دلائل النبوۃ بیہقی:۸؍۱۲حدیث: ۲۹۲۳۔۔ مسند الشامیین:۳؍ ۳۶۷ حدیث:۹۷۹۔۔السنۃ لابن ابی عاصم: ۱؍۴ حدیث:۲۔۔مسندالجامع:۳۶؍ ۲۱ حدیث: ۱۱۶۷۷)
	سئل النبي  صلی اللہ علیہ وسلم  کم تفرقت بنو إسرئیل؟ فقال: علی واحدۃ أو اثنین  و سبعین فرقۃ قال و أمتي أیضا ستفترق مثلہم أو یزیدون واحدۃ، کلہا في النار إلا واحدۃ۔(مصنف عبد الرزاق: ۱۰؍۱۵۶حدیث:۱۸۶۷۵)
	سیأتي علی أمتي ما أتی علی بني إسرائیل مثلاً بمثل حذو النعل بالنعل، و إنہم تفرقوا علی اثنین و سبعین ملۃ، و سیفترق أمتي علی ثلاث و سبعین ملۃ تزید علیہم واحدۃ کلہا في النار إلا واحدۃ ،  قیل یارسول اللہ و ما تلک الواحدۃ؟ قال ہو ما نحن علیہ الیوم أنا و أصحابي۔ (الإبانۃ الکبریٰ:۱؍۳حدیث:۱)
	إن بني إسرائیل افترقوا علی بضع و سبعین ملۃ، ثم إن أمتي ستفترق علی  أو عن  مثلہا کلہا في النار إلا واحدۃ و ہي الجماعۃ۔(الابانۃ الکبریٰ:۱؍۲۷۹حدیث:۲۷۲)
	ستفترق أمتي علی ثلاث و سبعین ملۃ، کلہا في النار إلا واحدۃ ما أنا علیہا الیوم و أصحابي۔ (الابانۃ الکبریٰ:۱؍۲۸۰حدیث:۲۷۳)
	إن أہل الکتاب تفرقوا في دینہم علی اثنین و سبعین ملۃ، و تفترق ہذہ الأمۃ علی ثلاث و سبعین کلہا في النار إلا واحدۃ و ہي الجماعۃ۔(مستدرک :۱؍۴۲۸حدیث:۴۰۷)
	ان بني إسرائیل افترقت علی موسیٰ سبعین فرقۃ کلہا ضالۃ إلا فرقۃ واحدۃ الإسلام و جماعتہم، ثم إنہا افترقت علی عیسیٰ بن مریم علی إحدیٰ و سبعین فرقۃ کلہا ضالۃ إلا واحدۃ الإسلام و جماعتہم، ثم إنکم تکونون علی اثنین و سبعین فرقۃ کلہا في النار إلا واحدۃ الإسلام و جماعتہم۔ (معجم طبرانی:۱۱؍۴۰۰حدیث:۱۳۴۸۱۔۔مجمع الزوائد:۳؍۳۰۲۔۔نظم المتناثر: ۱؍۴۶ )
	افترقت بنو إسرائیل علی إحدی و سبعین فرقۃ، و إن أمتي ستفترق علی اثنین و سبعین فرقۃ کلہم في النار إلا واحدۃ، قالوا یارسول اللہ و من ہذہ الواحدۃ؟ قال الجماعۃ۔(تفسیر ابن ابی حاتم:۱۴ ؍۱۴۹حدیث:۳۹۶۳۔۔شرف اصحاب الحدیث:۱؍۴۴حدیث:۳۵۔۔مسند الجامع:۴؍ ۱۵۳حدیث:۱۲۲۱) 

	إن ہذہ الأمۃ ستفترق علی إحدی و سبعین فرقۃ، کلہا في النار إلا واحدۃ و ہي الجماعۃ۔ (السنۃ لابن ابی عاصم:۱؍۷۶حدیث:۵۵)
	تفترق إمتي علی ثلاث و سبعین فرقۃ، کلہا في النار إلا واحدۃ، فقیل من ہي الناجیۃ؟ فقال ما أنا علیہ و أصحابي۔ (الغرباء للآجری:۱؍۱۰حدیث:۸)
	إن أہل الکتابین افترقوا في دینہم علی ثنتین و سبعین ملۃ و إن ہذہ الأمۃ ستفترق علی ٹلاث و سبعین ملۃ في الأھواء، کلہا في النار إلا واحدۃ و إنہا الجماعۃ۔ (المذکر و التذکیر: ۱؍۱۶ حدیث:۱۴) 
تواب اس حدیث کی مراد یہ نہیں کہ اگر کوئی جزئی عمل خصوصی طور پر آپ نے یا آپ کے اصحاب نے نہ کیا تو اس کا کرنے والا جہنمی ہو گا اس لیے کہ یہ بالاتفاق ثابت ہے کہ مدرسہ نہ تو آپ نے بنایا اور نہ آپ کے اصحاب نے،تو چاہیے یہ کہ اس ہیئت کذائی کے ساتھ مدرسہ کی تعمیر کرنے والامستحق نار ہو معاذ اللہ  بلکہ مراد یہ ہے کہ آپ کے اور آپ کے اصحاب کے اصول کے خلاف جو ہو گا وہ فی النار ہو گا، اور بدعت حسنہ کی ایجاد مخالف اصول نہیں بلکہ جناب رسالت مآب  صلی اللہ علیہ وسلم  نے :  من سن في الإسلام سنۃ حسنۃ  فرما کر اعمال حسنہ کی ایجاد کی ترغیب دی ہے جیساکہ آگے آئے گا انشاء اللہ تعالیٰ 
یوں ہی بہت سے ایسے امور خیر جو کہ زمانہ نبوت میں نہ تھے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے ایجاد فرمائے، اور ان پر احداث حسن اور نعمت البدعۃ وغیرہ کا اطلاق کیا۔تو جو لوگ میلاد شریف یا فاتحہ مروجہ طریقہ کے مطابق کرتے ہیں وہ اس احداث حسن میں خاصی طرح  ما أنا علیہ و أصحابي کے مصداق ہیں کہ آپ اور آپ کے اصحاب نے احداث حسن کی اجازت دی ہے۔ اور ہم بھی انہیں کے نقش قدم پر چل کر احداثات حسن کو جائز رکھتے ہیں۔  فیا أخي خذ ما آتیتک و کن من الشاکرین۔ (تو اے برادرِ عزیز! جو نعمت گراں بہامیں تجھے دے رہا ہوں ، ہاتھ بڑھا کر لے لے اور شکرگزاروں میں سے ہو جا۔)
بعض مانعین کہتے ہیں کہ مخالف ،احداث کرنے سے مراد یہ ہے کہ جس کام کو حضور  صلی اللہ علیہ وسلم  نے نہیں کیا وہی کام مخالف سنت، بدعت اور مکروہ ہے، اور اس کو ایجاد نہ کرنا چاہیے۔ اور صحابہ نے جن امور پر انکار کیا ہے وہ سب امورِ خیر تھے ان میں اس کے سواکوئی اور بات نہ تھی کہ ان کی ہیئت حضور صلی اللہ علیہ وسلم  سے نہ پائی گئی۔ مثلاً عبد اللہ بن مسعود نے ذکر کرنے والی ایک جماعت کومسجد سے نکال دیا،یہ ہیئت خاصہ جدیدہ پر انکار تھا ورنہ اصل ذکر اللہ تو خود مامور بہ ہے۔

	إن بني إسرائیل افترقت علی إحدی و سبعین فرقۃ  کلہم في النار إلا واحدۃ فقیل یا رسول اللہ و ما ہذہ الواحدۃ ؟ فقبض یدہ و قال : الجماعۃ، فاعتصموا بحبل اللہ جمیعا و لا تفرقوا۔ (شرح اصول اعتقاد اہل السنۃ و الجماعۃ للالکائی: ۱؍۱۵۲حدیث:۱۲۸)
	تفترق إمتي علی ثلاث و سبعین فرقۃ کلہن في النار إلا واحدۃ قالوا و ما تلک الفرقۃ قال: ما أنا علیہ الیوم و أصحابي۔ (مجمع الزوائد و منبع الزوائد:۱؍۱۱۴)
	عن أنس عن النبي  صلی اللہ علیہ وسلم  تفترق إمتي علی بضع و سبعین فرقۃ کلہا في الجنۃ إلا واحدۃ و ہي الزنادقۃ۔(کشف الخفاء:۱؍ ۱۵۰)
 اور حضرت علی نے قبل نماز عید نفل پڑھنے سے منع فرمایا حالاں کہ خود نماز پڑھنا منع نہیں ہے۔ حضرت عبد اللہ بن عمر نے نماز چاشت کو  جو ان کی شرطوں کے موافق نہ تھی  بدعت فرمایا۔ اور اسی طرح قنوت جو ان کے زمانہ میں پڑھتے تھے اس کو بھی بدعت فرمایا۔ ان کی باتیں ختم ہوئیں  
میں کہتا ہوں : یہ تقریر اگرچہ قائلین قولِ چہارم کے مشرب کے مطابق ہے۔لیکن بعض لوگ مزید بے خبری کے عالم میں یہ بات کہنے لگتے ہیں۔اس کا جواب یہ ہے کہ جو کام حضور  صلی اللہ علیہ وسلم  نے نہیں کیا اس کو مخالف سنت،مکروہ اور بدعت کہنا صحیح نہیں۔ کیوں کہ جس سے نص شارع خاموش ہو اس کو مخالف شرع نہیں کہتے۔دارقطنی نے ابوثعلبہ سے روایت کیا کہ نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے بعض چیزیں فرض فرمائی ہیں تو ان کو ضائع مت کرو، بعض چیزیں حرام فرمائیں تو ان کی حرمت نہ توڑو۔ اور کچھ حدیں مقرر فرمائی ہیں تو ان حدوں سے آگے نہ بڑھو۔ اور بعض چیزوں سے دانستہ سکوت فرمایا ہے توان میں بحث نہ کرو۔یہ حدیث مشکوٰۃ کے  باب الاعتصام  میں ہے۔ 
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما  نے ارشا دفرمایا کہ جو اللہ تعالیٰ نے حلال کر دیا وہ حلال ہے اور جو حرام کر دیا وہ حرام، اور جس میں سکوت فرمایا اور کچھ نہ بیان کیا وہ معافی میں ہے یعنی اس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے مواخذہ نہ ہو گا۔یہ مشکوٰۃ کے  باب ما یحل اکلہ  میں ہے۔
ان احادیث سے علما نے ایک اصل عظیم پیدا کی ہے کہ اشیا میں اصل اباحت ہے۔ تو معلوم ہوا کہ جس چیزمیں اللہ و رسول کی طرف سے سکوت ہو، اس کو مباح جاننا چاہیے نہ کہ بدعت،مکروہ اور حرام۔ 
شاہ ولی اللہ صاحب کتاب ’’مصفی شرح موطا‘‘ مطبوعہ کے صفحہ۱۷۸پر تطوع قبل عید کے تحت لکھتے ہیں  :
ماخذ دیگراں استصحاب مشروعیت اصل صلوٰۃ است ونیا فتن دلیلے کہ دلالت کند برمنع زیراکہ نکردن آں حضرت  صلی اللہ علیہ وسلم  دریں حال دلالت بر کراہت نمی نماید ترک فعل خیر نزدیک حضور دواعی آں دلیل کراہت نمی تواندشد انتہیٰ 
یعنی دوسروں کا ماخذ اصل صلوٰۃ کی مشروعیت کا استدلال ہے، اور ایسی دلیل کا نہ پانا جو اس کے عدم جواز پر دلالت کرے،کیوں کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کاکسی چیز کا نہ کرنا اس کی کراہت پر دلالت نہیں کرتا۔کسی اچھے کام کے اسباب کے موجود ہونے کے باوجود چھوڑ دینا اس کی کراہت پر دلیل نہیں۔ 
اس میں شاہ ولی اللہ صاحب نے کھول کر فرما دیا کہ دواعی موجود ہونے کے باوجود اگر کسی فعل خیر کو رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نہ کریں تو یہ کراہت کی دلیل نہیں ہوسکتی۔
 اور وہ جو علمائے حنفیہ ،طلوع فجر کے بعد نوافل پڑھنے میں کراہت ثابت کرتے ہیں تواس میں یہ علت ہے کہ آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم  نماز پر بہت حریص تھے۔(آپ فرماتے ہیں )  :
جُعِلَتْ قُرَّۃُ عَینِي فِي الصَّلوٰۃِ۔(۱)
یعنی میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں رکھ دی گئی ہے۔
دیگر اوقات میں یہ بات دیکھی کہ نماز بعض وقتوں میں جائز اور بعض میں نہیں،تو اس بنیاد پر علمانے اس حرص کے باوجود نوافل کا اس وقت میں پھر کبھی نہ پڑھنا ،اس وقت کو وجہ کراہت ٹھہرایا۔ الحاصل! یہ بات علی العموم صحیح نہیں کہ جو فعل خیر آپ نے نہ کیا وہ بدعت اور مخالف سنت ہوتا ہے۔ سچی بات یہ ہے کہ بدعت اور مخالف سنت وہی کام ہو گا جو شارع علیہ السلام کے امر و نہی کے خلاف ہو گا اور اس طرح کا کام جو کوئی ایجاد کرے وہ اس ارشاد پاک میں داخل ہو گا  :
مَنْ أحْدَثَ فِي أمْرِنَا مَا لَیْسَ مِنْہُ فَہُوَ رَدٌّ۔ (تخریج گزر چکی)
 اور وہ فعل، مکروہ اور بدعت و ضلالت کہلائے گا۔
حجۃ الاسلام امام غزالی  علیہ الرحمہ  احیاء العلوم جلد دوم صفحہ ۱۷۲ پر آداب سماع  کے تحت فرماتے ہیں  :
و قول القائل : إن ذلک بدعۃ لم یکن في الصحابۃ ؟ فلیس کل ما یحکم بإباحتہ منقولا عن الصحابۃ   رضي اللہ عنہم  و إنما المحذور ارتکاب بدعۃ تراغم سنۃ مأثورۃ و لم ینقل النہي عن شیء من ہذا۔(۲)
۔۔۔۔۔
()	مشکوٰۃالمصابیح:۳؍۱۴۰حدیث:۵۲۶۱۔۔مسنداحمد:۲۸؍۷۴حدیث:۱۳۵۲۶۔۔مصنف ابن ابی شیبہ:۲۸؍۷۴ حدیث: ۱۳۵۲۶۔۔مصنف عبدالرزاق: ۴؍۳۲۱ حدیث: ۷۹۳۹۔۔ معجم کبیرطبرانی:۱۵؍۳۵۴حدیث: ۱۷۳۸۸ ۔۔تفسیرابن ابی حاتم:۱۲؍۱۳حدیث:۳۲۹۶۔۔ الآثارلابویوسف: ۱؍۲۸۷حدیث:۲۷۹۔۔دلائل النبوۃ اصبہانی: ۲؍۱۸۲۔۔کنزالعمال: ۷؍ ۲۸۷حدیث:۱۸۹۱۲۔۔روضۃ المحدثین:۶؍۳۶۷حدیث:۲۶۴۲۔۔تخریج احادیث الاحیاء:۶؍۳۴۸حدیث: ۲۶۹۹۔۔ سنن بیہقی: ۷؍ ۷۸۔۔سنن نسائی: ۵؍۲۸۰ حدیث: ۸۸۸۸۔۔ المقاصد الحسنہ: ۱؍۹۹۔۔ مسند الجامع: ۱؍ ۴۵۳حدیث:۳۰۰۔۔ تحفۃ الاشراف: ۳؍۸۷حدیث: ۲۷۹۔
(۲)	احیاء علوم الدین: ۲؍۱۴۱ باب ما یحمد من آثار الوجد و ما یذم 
۔۔۔۔
واضح ہو کہ حجۃ الاسلام نے اس مقام پر یہ بیان فرمایا ہے کہ جب صوفی وجد صادق کی حالت میں کھڑا ہو جائے تو ضروری ہے کہ جماعت بھی اس کی موافقت میں کھڑی ہو جائے اور اگر اسی طرح یہ عادت جاری ہو جائے کہ صاحب وجد کا عمامہ اتر جائے تو سب لوگ اپنا عمامہ الگ کر دیں،اس کا کپڑا بدن سے الگ ہو جائے تو لوگ بھی اس کی موافقت میں اپنے کپڑے بدن سے ڈال دیں تو یہ باتیں البتہ حقوقِ صحبت اور حسن معاشرت میں داخل ہیں، اور اگر کوئی یہ کہے کہ یہ تو بدعت ہے اور صحابہ سے منقول بھی نہیں۔تو ہم کہیں گے کہ بہتیری مباح باتیں صحابہ سے منقول نہیں۔ممنوع و محذور وہی بدعت ہے جو کسی سنت مامور بہا کو مٹا دے، اور ان اشیائے مذکورہ کے لیے کوئی ممانعت نقل نہیں ہوئی ہے۔ 
ایک دوسرے مقام پراسی احیاء العلوم کے صفحہ۹۲میں ہے،ملاحظہ فرمائیں  :
و أما مجرد السواد فلیس بمکروہ، لکنہ لیس بمحبوب إذ أحب الثیاب إلی اللہ تعالیٰ البیض۔ و من قال إنہ مکروہ و بدعۃ أراد بہ أنہ لم یکن معہودا في العصر الأول، و لکن إذا لم یرد فیہ نہي فلا ینبغي أن یسمی بدعۃ و مکروہا و لکنہ ترک للأحب۔ (۱)
۔۔۔۔۔۔
(۱)	احیاء علوم الدین: ۲؍۱۷۱   فمن ذالک منکرات المساجد 
۔۔۔۔۔۔
حجۃ الاسلام امام غزالی فرماتے ہیں کہ محض سیاہ لباس پہننا مکروہ نہیں لیکن محبوب بھی نہیں اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک محبوب سفید لباس ہے۔ اور جس نے یہ کہا کہ مکروہ اور بدعت ہے تو اس کی مراد یہ ہے کہ عصر اول میں اس کا کوئی دستورنہ تھا لیکن جب کہ اس میں شارع علیہ السلام  سے کوئی نہی وارد نہیں تو اس کو بدعت و مکروہ نہ کہنا چاہیے۔ہاں اسے چھوڑ دینا بہت بہتر ہے یعنی اس واسطے کہ اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ پسند سفیدلباس ہے۔
   حضرت حجۃ الاسلام کی دونوں مقام کی تقریریں صاف بیان کر رہی ہیں کہ صدر اول میں دستور نہ ہونا یا منقول نہ ہونا بدعت و کراہت کا سبب نہیں ہوسکتا جب تک کہ شارع علیہ السلام  سے صریح نص موجود نہ ہو۔تو جملہ اہل اسلام کو معلوم ہونا چاہیے کہ حدیث :  من أحدث في أمرنا کے ذیل میں جو شارحین حدیث لکھ رہے ہیں کہ ایسی چیز کی ایجاد جو کتاب وسنت کے خلاف نہ ہو،بری نہیں، اس کا صاف معنی یہی ہے کہ جس چیز کی نہی کتاب اللہ اور حدیث رسول اللہ میں موجود نہیں اس کا  نکالنا برا نہیں اور جس کی نہی موجود ہے وہ ایجاد و احداث مردود ہے۔
اور وہ صحابہ کی نظیریں جنھیں معارضین پیش کرتے ہیں توان میں یہی بات تھی کہ صحابہ نے اپنے نزدیک ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نہی کے مقابل سمجھا تھا۔مثلاً عبد اللہ بن مسعود کا انکار فرمانا تو اس میں دو طرح کی روایتیں ہیں ایک اس طرح  :
أخرج الطبراني بسندہ عن قیس بن أبي حازم قال : ذُکِرَ لابنِ مَسْعُودٍ قَاصٌّ یَجْلِسُ بِاللَّیْلِ وَ یَقُولُ لِلنَّاسِ قُولُوا کَذَا  الحدیث (۱)
اس روایت میں لفظ قاص ہے۔یعنی ایک قصہ گو آدمی رات کے وقت قصہ کہنے بیٹھتا تھا اور قصہ گوئی کے دوران لوگوں سے کہتا جاتا تھا کہ ایسا کہو ایساکہو۔ یہ خبر عبد اللہ بن مسعود  رضی اللہ عنہ  کو پہنچی تو آپ وہاں تشریف لے گئے اور اس کو دھمکایا کہ تم نے یہ کیا بدعت نکال رکھی ہے!۔
واضح ہو کہ یہ انکار کرنا ہیئت جدیدہ کے عارض ہونے کے سبب نہ تھا بلکہ قصہ گوئی کے لیے اس کا وہ مجمع کرنا جو خلاف شرع تھا،گو ذکر اللہ بھی کبھی کبھی درمیان میں ہوتا ہو۔اصحاب رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم ایسے قصہ گویوں کو جو بے اصل قصے بیان کرتے ،مسجد سے نکال دیا کرتے تھے۔ چنانچہ شاہ ولی اللہ  رحمۃ اللہ علیہ  آداب تذکیر قول جمیل میں فرماتے ہیں  :
و لا یذکر القصص المجازفۃ فإن الصحابۃ أنکروا علی ذلک أشد الإنکار و أخرجوا أولئک من المساجد و ضربوہم۔
یعنی بے بنیاد قصے نہ بیان کیے جائیں کیوں کہ صحابہ کرام نے سختی سے اس کا انکار فرمایا ہے بلکہ ایسوں کو مارا بھی اور مسجدسے نکال بھی دیا ہے۔
’’ نصاب الاحتساب‘‘ میں ہے  :
و القصص عندہم بدعۃ و کانوا یخرجون القصاص من الجامع۔
یعنی ان کے نزدیک  قصے بدعت ہیں اور وہ قصہ گویوں کو جامع مسجدسے نکال بھگاتے تھے۔
حضرت پیرانِ پیر ’’غنیۃ الطالبین‘‘ میں فرماتے ہیں  :    
و کان ابن عمر وغیرہ من الصحابۃ  رضی اللہ عنہم  یخرجون القصاص من الجامع 
ان قرینوں سے صحیح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ وہ قاص ایساہی قصہ گوتھا اور اگر وہ مرد واعظ حقانی ہوتا اور وعظ کرتے کرتے درمیان میں لوگوں سے ذکر اللہ بھی کراتا جاتا توایساہرگز منع نہ تھا۔
۔۔۔۔۔
(۱)	معجم کبیرطبرانی: ۸؍۳۰حدیث: ۵۵۱۔ 
۔۔۔۔۔۔
قاضی خان میں ہے  : 
العالم إذا قال في المجلس صلوا علی النبي  علیہ الصلوٰۃ و السلام  فإنہ  یثاب علی ذلک، و کذا الغازي إذا قال کبروا یثاب علیہ۔
یعنی جب کوئی عالم کسی مجلس میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑھنے کا حکم کرتا ہے تو وہ اس کی وجہ سے ثواب کا مستحق ہوتا ہے۔یوں ہی غازی بھی کہ جب تکبیر پڑھنے کے واسطے کہے تو وہ اس کی وجہ سے ثواب پائے گا۔
دوسری روایت اس طرح ہے کہ وہ لوگ جہراً ذکر اللہ کرتے تھے اس لیے ان کو نکال دیا تو اس کی وجہ بھی وہی ہے کہ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ   ذکر جہر کو مخالف شریعت سمجھتے تھے جیساکہ کتب فقہ میں روایت ملتی ہے  اور مانعین جہر، قرآن کی اس آیت کو بطور سند پیش کرتے ہیں  :
اُدْعُوا رَبَّکُمْ تَضَرُّعاً وَّ خُفْیَۃً۔ (۱)
اپنے رب سے دعا کرو گڑگڑاتے اور آہستہ۔
ساتھ ہی بخاری کے  کتاب الجہاد  میں ابوموسیٰ اشعری سے روایت کردہ حدیث کو پیش کرتے ہیں کہ وہاں صحابہ بلند آواز سے لا الہ الا اللہ ،اللہ اکبر کہتے تھے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا  :
یَا أیُّہَا النَّاسُ! ارْبَعُوا عَلٰی أنْفُسِکُمْ فَإنَّکُم لاَ تَدْعُونَ أصَمَّ وَ لاَ غَائِباً إنَّہُ مَعَکُمْ إنَّہُ سَمِیْعٌ قَرِیْبٌ۔(۲)
یعنی اے لوگو! اپنی جانوں پر نرمی کرو،تم کسی بہرے یا غائب سے نہیں دعا کر رہے ہو، وہ تو ہمہ وقت تمہارے ساتھ ہے اور تمہیں سنتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔
(۱)	سورۂ اعراف،۷؍ ۵۵۔
(۲)	صحیح بخاری: ۱۰؍۱۶۹حدیث: ۲۷۷۰۔۔ صحیح مسلم: ۱۳؍۲۲۰حدیث: ۴۸۷۳۔۔ مسند احمد: ۴۰؍۹۷حدیث: ۱۸۷۸۰۔۔ مصنف ابن ابی شیبہ: ۴۰؍۹۷حدیث: ۱۸۷۸۰۔۔ سنن بیہقی: ۲؍ ۱۸۴۔۔ مصنف عبد الرزاق: ۵؍ ۱۶۰ حدیث:۹۲۴۶ ۔۔سنن نسائی: ۴؍۳۹۸حدیث: ۷۶۷۹۔۔ مسند ابو یعلی موصلی: ۱۵؍۶۲حدیث: ۷۰۹۳۔۔ مسند حمیدی: ۱۵؍۶۲حدیث: ۷۰۹۳۔۔مسندطیالسی: ۲؍۹حدیث: ۴۸۹۔۔ مشکل الآثارطحاوی: ۱۲؍ ۴۹۲حدیث: ۵۰۶۰ ۔۔الاسماوالصفات بیہقی: ۱؍۷۳حدیث: ۶۳۔۔مسند بزار: ۷؍ ۴۷۷حدیث: ۲۵۸۹۔۔ التوحید لابن خزیمہ: ۱؍۶۷ حدیث: ۵۷۔۔التوحید لابن مندہ: ۱؍ ۴۲۱حدیث: ۳۱۱۔۔ الدعوات الکبیربیہقی: ۱؍ ۱۴۶حدیث: ۱۲۵۔۔ الناسخ والمنسوخ نحاس:۱؍ ۴۶۵حدیث: ۳۷۲ ۔۔ عمل الیوم واللیلۃ ابن سنی: ۲؍ ۴۹۸حدیث: ۵۲۰۔۔ مسند رویانی: ۲؍ ۱۲۲حدیث: ۵۲۹ ۔۔ کنزالعمال: ۲؍۹۱حدیث: ۳۲۸۷۔۔مسند الجامع: ۲۷؍ ۱۸۶حدیث: ۸۸۸۲۔
	 یہ حدیث ان الفاظ میں بھی ملتی ہے  :
	یاأیہا الناس غضوا من أصواتکم فإنکم لا تدعون أصم و لا غائبا إن الذي تدعون دون رکابکم۔ (سنن ابوداؤد:۴؍۳۲۲حدیث: ۱۳۰۵۔۔شعب الایمان:۲؍۲۲۳حدیث: ۶۸۱۔۔کنزالعمال: ۲؍ ۸۳حدیث: ۳۲۴۴)
	یاأیہا الناس إنکم لا تدعون أصم و لا غائبا إن الذي تدعون بینکم و بین أعناق أکتافکم۔ (مشکل الآثار طحاوی: ۱۲؍ ۴۹۳)
۔۔۔۔۔۔
اس سے بعض صحابہ یہ سمجھ گئے کہ ذکر جہر منع ہے۔اسی بنیاد پر حضرت عبد اللہ بن مسعود نے ان لوگوں کو منع فرما دیا۔چنانچہ حموی میں ہے  :
في فتاویٰ القاضي الجہر بالذکر حرام، و قد صح عن ابن مسعود انہ سمع قوما اجتمعوا في مسجد یہللون و یصلون علیہ الصلوٰۃ و السلام جہرا فراح إلیہم و قال ما عہدوا ذلک علی عہدہ علیہ الصلوٰۃ و السلام و ما أراکم إلا مبتدعین فما زال یذکر ذلک حتی أخرجہم من المسجد۔
یعنی فتاویٰ قاضی میں مذکور ہے کہ جہراً ذکر کرنا حرام ہے۔ اور حضرت ابن مسعود سے صحیح طور پر ثابت ہے کہ آپ نے لوگوں کو مسجد میں اکٹھا ہو کر زور زور سے تہلیل کرتے اور درودوسلام پڑھتے دیکھا تو ان کی طرف گئے اور کہا کہ نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں تو ایسا نہیں ہوا کرتا تھا،اس سلسلے میں میں تمھیں بدعتی پا رہا ہوں۔تو یہ لوگ ایسا ہی ذکر کرتے رہے یہاں تک کہ آپ نے ان کو مسجد سے نکال دیا۔
اس سے معلوم ہوا کہ حضرت عبد اللہ بن مسعودنے ان لوگوں کو صرف احداث ہیئت جدیدہ کے لیے نہیں بلکہ یہ سمجھ کر نکالا تھا کہ ان کا یہ ذکر جہر کرنا نہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مخالف ہے اور ہم بھی یہی کہتے ہیں کہ جو احداث شارع صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے خلاف ہو وہ منع ہے، اور جو مخالف نہیں وہ منع نہیں۔چنانچہ یہی ذکر جہر جن لوگوں کے نزدیک مخالف نہیں وہ سب جائز کہتے ہیں۔
عمدۃ الفقہاوا لمحدثین جناب مولانا شیخ محمد  صاحب تھانوی  جن سے مولوی رشید احمد صاحب گنگوہی نے بھی حدیث پڑھی ہے  اپنے رسالہ ’’دلائل الاذکار ‘‘  مطبوعہ دہلی  کے صفحہ ۷۹ میں فرماتے ہیں  :
ان النبي  صلی اللہ علیہ وسلم  کان یجہر مع الصحابۃ  رضوان اللہ علیہم أجمعین  بالأذکار و التہلیل و التسبیح بعد الصلوٰۃ  انتہی 
یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے بعد صحابہ کرام کے ساتھ جہراً تسبیح وتہلیل اور اذکار فرمایا کرتے تھے۔
در مختار کے حاشیہ، شامی میں ہے  :
أجمع العلماء سلفا و خلفا علی استحباب ذکر الجماعۃ في المساجد و غیرہا إلا أن یُشوِّش جہرُہم علی نائم أو مصلٍّ أو قاریء  انتہیٰ (۱)
یعنی اسلاف و اخلاف سبھی علما کا اس پر اجماع ہے کہ مسجد اور غیرمسجدکے اندر جماعت کے ساتھ ذکرمستحب ہے،جب کہ ان کا جہراً ذکر کرنا کسی قاری، نمازی اور سونے والے کے لیے باعث خلل نہ ہو۔
۔۔۔۔
(۱)	رد المحتار: ۵؍ ۹۳ فروع افضل المساجد 
۔۔۔۔۔
اس سے معلوم ہوا کہ جماعت کے ساتھ بلند آوازسے ذکر کے استحباب پر علما کا اجماع ہے۔ اور یہ علما، حدیث بخاری کی نہی کے بارے میں فرماتے ہیں کہ چوں کہ وہ موقع جہاد تھا،وہاں کفار سے اپنا حال چھپانا منظور تھا اس لیے جہر کو آپ نے منع فرمایا نہ اس لیے کہ جہر منع ہے۔ اور اسی طرح آیت میں بھی ایک نکتہ بیان فرماتے ہیں۔ 
دوسرا انکار حضرت علی  کرم اللہ وجہ کا ہے کہ آپ نے ایک شخص کو نمازعیدسے پہلے نماز پڑھنے سے منع فرمایا۔واضح ہو کہ یہ منع فرمانا صرف اسی وجہ سے نہ تھا کہ اس وقت نماز آپ سے منقول نہیں اور جب منقول نہیں تو بدعت ٹھہرے جیساکہ فریق ثانی اس مغالطہ میں پڑا ہوا  ہے۔ بلکہ حضرت علی کرم اللہ وجہ  کا منع فرمانا ایک دلیل ہے جس پر علمائے حنفیہ کا عمل ہے یعنی رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کی صریح نہی موجود ہے۔
شرح مجمع میں ہے  :
روي أنہ  علیہ السلام  قَالَ لاَ صَلٰوٰۃَ فِي الْعِیْدَیْنِ قَبْلَ الإمَامِ۔
یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی کہ آپ نے فرمایا: عیدین کی نماز میں ، جماعت سے پہلے کوئی نماز نہیں۔
بس یہی ہمارا دعویٰ ہے کہ احداث اس شے کا منع ہے جو شارع علیہ السلام کے امرو نہی کے مخالف ہو۔تو جن لوگوں تک شارع صلی اللہ علیہ وسلم کی نہی پہنچ گئی انھوں نے عید سے پہلے نفلی نماز پڑھنے کو منع کر دیا لیکن جن تک نہیں پہنچی تو انھوں نے صرف حضور صلی اللہ علیہ وسلم  کے نہ کرنے کے سبب منع کا حکم نہیں دیا، اور یہ کہاکہ  :
ترک فعل خیر نزدیک حضورِ دواعی آں دلیل کراہت نمی تواند شد۔
یعنی دواعی موجود ہونے کے باوجود کسی فعل خیر کو ترک کرنا اس کی کراہت کی دلیل نہیں ہوسکتا۔
 جیسا کہ مصفی شرح موطا سے اوپر نقل ہوا 
تیسرا انکار نماز چاشت پر حضرت عبد اللہ بن عمر کا ہے تو یہ انکار مانعین کے لیے فائدہ مند نہیں اس لیے کہ وہ اس کو بدعت حسنہ فرماتے تھے۔
مواہب لدنیہ اور خاتم المحدثین زرقانی کی شرح مواہب کے صفحہ۱۳ پرشعبی سے روایت ہے  :
سمعت ابن عمر یقول ما ابتدع المسلمون أفضل من صلوٰۃ الضحیٰ و روي ابن أبي شیبۃ بإسناد صحیح عن الحکم بن عبد اللہ بن اسحٰق بن الأعرج قال سألت ابن عمر عن صلوٰۃ الضحیٰ فقال بدعۃ و نعمت البدعۃ و روي عبد الرزاق بإسناد صحیح عن سالم عن أبیہ قال لقد قتل عثمان و ما أحد یسبحہا و ما أحدث الناس شیئا أحب إلی منہا و روي سعید بن منصور عن مجاہد عن ابن عمر انہا محدثۃ و انہا لمن أحسن ما أحدثوا۔ (۲)
یعنی میں نے ابن عمر کو کہتے سنا کہ مسلمانوں نے نمازِ چاشت کی شکل میں کیسی عمدہ ترین بدعت ایجاد کی ہے۔ابن ابی شیبہ سندصحیح کے ساتھ حکم بن عبد اللہ بن اسحق بن اعرج سے روایت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ میں نے نمازِ چاشت کی بابت ابن عمرسے دریافت کیا تو آپ نے فرمایا:یہ بدعت ہے مگر بہترین بدعت۔عبد الرزاق صحیح سندوں کے ساتھ سالم اور ان کے والدسے روایت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ حضرت عثمان کو شہید کر دیا گیا اس وقت تک لوگ چاشت کی نماز نہیں پڑھتے تھے۔ اور میرے نزدیک اس سے بہتر اور کوئی چیز لوگوں نے نہیں ایجاد کی۔سعیدبن منصور نے مجاہد سے اور انھوں نے ابن عمرسے روایت کیا کہ نمازِ چاشت بلاشبہ ایجاد کردہ چیزوں میں ہے لیکن وہ بہترین ہے ان چیزوں میں جو لوگوں نے ایجاد کی۔
سعید بن منصور کی یہ آخری روایت شرح بخاری ،فتح الباری وغیرہ میں بھی موجود ہے۔(۱)
 لہٰذا بدعت حسنہ ثابت کرنے والوں کا مدعا ثابت اور رد کرنے والوں کا باطل ہو گیا۔ اور بعض علما نے یہ خیال کیا ہے کہ ان کا انکار اصل نماز پر نہ تھا کیوں کہ وہ تو ان کے نزدیک بدعت حسنہ
۔۔۔۔
(۱)	روضۃ المحدثین: ۱؍ ۵۰۰حدیث: ۵۰۰۔۔فتح الباری ابن حجر:۴؍ ۱۷۳ صلاۃ الضحیٰ فی السفر 
(۲)	مواہب لدنیہ: ۴؍۲۱۵۔مطبوعہ :مرکز اہل سنت برکاتِ رضا۔
۔۔۔۔۔
 اور افضل واحسن کام تھا،اس پر وہ انکار کس طرح فرماتے، بلکہ اگر انھوں نے انکار کیا ہے تو اس بات پر کہ چونکہ لوگ اس کو نماز فرائض کی طرح مسجدوں میں جمع ہو کر اہتمام کے ساتھ پڑھتے تھے اور یہ بات خلاف اصل تھی کیوں کہ صحیح حدیث میں حضور  صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے  :
فَعَلَیْکُم بِالصَّلوٰۃِ فِي بُیُوتِکُم فَإنَّ خَیْرَ صَلوٰۃِ الْمَرْئِ فِي بَیْتِہٖ إلاَّ الْمَکْتُوبَۃَ۔ (۱)
یعنی تمھیں اپنے گھروں میں بھی نماز پڑھنی چاہیے کیوں کہ فرض نماز کے علاوہ ایک انسان کی سب سے بہتر نماز وہ ہے جو اس کے گھر میں ادا کی جائے۔
یہ بھی صحیح حدیث ہے  :
۔۔۔۔۔۔۔
(۱)	صحیح بخاری: ۱۹؍ ۷۰حدیث: ۵۶۴۸۔۔ صحیح مسلم : ۴؍ ۱۸۳حدیث: ۱۳۰۱۔۔ سنن ابوداؤد: ۴؍ ۲۳۷حدیث: ۱۲۳۵۔۔ مسند احمد: ۴۴؍۱۱۲حدیث:۲۰۶۴۵۔۔ مصنف ابن ابی شیبہ: ۴۴؍۱۱۲حدیث:۲۰۶۴۵۔۔معجم کبیر طبرانی: ۵؍ ۶۱حدیث: ۴۷۶۳۔۔ سنن دارمی:۴؍ ۱۸۲حدیث: ۱۴۱۷۔۔مستخرج ابو عوانہ: ۵؍ ۵۴حدیث: ۱۷۶۹۔۔ مشکل الآثارطحاوی: ۲؍ ۹۰ حدیث: ۵۰۳۔
۔۔۔۔۔۔
	یوں بھی یہ حدیث آئی ہے  :
	أفضل الصلوٰۃ صلوٰتکم في بیوتکم إلا صلوٰۃ المکتوبۃ۔(موطا امام مالک: ۱؍۳۸۷حدیث: ۲۶۷۔۔ سنن نسائی: ۱؍ ۴۰۹حدیث: ۱۲۳۹۔۔ مشکل الآثار طحاوی: ۲؍ ۹۱حدیث: ۵۰۴)
	أفضل صلاتکم في بیوتکم إلا المکتوبۃ۔ (سنن ترمذی: ۲؍۲۴۹حدیث: ۴۱۲۔۔سنن نسائی: ۲؍۲۴۹ حدیث: ۴۱۲۔۔صحیح ابن حبان: ۱۱؍۳۷حدیث: ۲۵۷۹۔۔صحیح ابن خزیمہ: ۴؍ ۴۲۳حدیث: ۱۱۳۹ )
	اجعلوا من صلوٰتکم  في بیوتکم۔ (موطا امام مالک: ۱؍۳۸۷حدیث: ۲۶۷۔۔صحیح بخاری: ۲؍ ۲۱۰ حدیث: ۴۱۴۔۔ صحیح مسلم : ۴؍ ۱۷۸حدیث: ۱۲۹۶۔۔ سنن ابوداؤد: ۳؍ ۲۳۲حدیث: ۸۷۹۔۔ مسند احمد: ۹؍ ۴۶۰حدیث: ۴۴۲۴۔۔مصنف ابن ابی شیبہ۹؍ ۴۶۰حدیث: ۴۴۲۴۔۔ سنن بیہقی: ۲؍۱۸۹۔۔ مسند ابویعلی موصلی: ۱۰؍ ۱۲۷حدیث: ۴۷۴۲۔۔ مسند حمیدی: ۱۰؍ ۱۲۷حدیث: ۴۷۴۲۔۔صحیح ابن خزیمہ: ۴؍ ۴۲۷حدیث: ۱۱۴۱ )
	فصلوا أیہا الناس في بیوتکم فإن أفضل الصلوٰۃ صلوٰۃ المرء في بیتہ إلا المکتوبۃ۔ (صحیح بخاری: ۳؍ ۱۶۵ حدیث: ۶۸۹۔۔مسند احمد: ۴۴؍۶۷حدیث:۲۰۶۰۰۔۔مصنف ابن ابی شیبہ:۴۴؍۶۷ حدیث: ۲۰۶۰۰ ۔۔ سنن بیہقی: ۲؍۱۹۴۔۔ معجم کبیرطبرانی: ۵؍ ۶۰حدیث: ۴۷۶۱۔۔ شعب الایمان: ۷؍ ۲۸۱حدیث: ۳۱۳۲ ۔۔ مستخرج ابو عوانہ: ۵؍ ۵۳حدیث: ۱۷۶۸۔۔ صحیح ابن حبان: ۱۰؍۴۵۹حدیث: ۲۵۳۸۔۔ صحیح ابن خزیمہ: ۴؍ ۴۲۴ حدیث: ۱۱۴۰۔۔مشکل الآثار: ۲؍ ۸۹حدیث: ۵۰۲ )
صَلُّوا فِي بُیُوتِکُمْ۔ (۱)
یعنی اے لوگو! اپنے گھروں میں بھی نمازیں پڑھا کرو۔
اس سے معلوم ہوا کہ فرض نماز کے سوا اور نوافل آدمی کو گھر میں پڑھنا چاہیے۔ اور امام ترمذی نے فرمایا کہ نفل نماز گھر میں پڑھنے کی روایتیں حضرت عمر،جابر،ابوسعید، ابوہریرہ، ابن عمر، عائشہ، عبداللہ بن سعید اور زید بن خالد سے روایت کی گئی ہیں۔تو ممکن ہے کہ حضرت ابن عمر کے اجتہاد کا یہ تقاضا ہو کہ نفل نمازوں کے لیے حکم یہ ہوا ہے کہ : صلّوا في بیوتکم  (اپنے گھروں میں پڑھو)  اور یہاں لوگوں نے یہ کیا کہ دائمی طور پر مسجدہی میں پڑھنے لگے اور یہ فرمان نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  کے خلاف ٹھہرا۔ 
بعض لوگوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ ابتدائے اسلام میں جملہ فرائض و نوافل چوں کہ ایک دوسرے سے بخوبی جدا اور ممیز نہیں ہوئے تھے،اس لیے مسجدوں میں اکٹھا ہو کر نماز چاشت پڑھنے سے لوگوں کو یہ شبہ ہوتا کہ کہیں وہ اس کو بھی فرض و واجب نہ سمجھ بیٹھیں۔چنانچہ حضرت غوث الثقلین  قدس سرہ ’’غنیۃ الطالبین‘‘میں فرماتے ہیں  :
و إنما أرادوا بذلک لئلا تشبہ بصلاۃ الفرض فیعتقد الناس وجوبہا  الیٰ آخرہ 
یعنی ایسا اس لیے ہوا تاکہ اس پر فرض نماز کا شبہ نہ ہو اور لوگ اسے فرض و واجب نہ گمان کر بیٹھیں۔
ان عبارتوں سے صاف ظاہر ہو گیا کہ اگر نماز چاشت پر انکار ہوا ہے تو ایسا ارشادِ نبی  صلی اللہ علیہ وسلم کی دائمی مخالفت اور اشتباہِ  فرض و نفل کے اندیشے کے سبب تھا۔لہٰذا معارضین کا یہ سمجھنا کہ یہ انکار فقط عدم ثبوت کے سبب تھا بالکل مخدوش اور ساقط الاعتبار ہو گیا۔
۔۔۔
(۱)	صحیح بخاری: ۳؍۴۲۲حدیث: ۸۵۰۔۔ صحیح مسلم: ۳؍ ۴۸۴حدیث: ۱۱۲۸۔۔ سنن ابوداؤد: ۳؍ ۲۶۳حدیث: ۹۰۰۔۔سنن ترمذی: ۲؍ ۲۵۰حدیث: ۴۱۳۔۔سنن نسائی: ۲؍ ۲۵۰حدیث: ۴۱۳۔۔مسند احمد: ۹؍ ۳۱۸حدیث: ۴۲۸۲۔۔مصنف ابن ابی شیبہ: ۹؍ ۳۱۸حدیث: ۴۲۸۲۔۔ سنن بیہقی: ۳؍۱۸۵ ۔۔مصنف عبد الرزاق:۱؍ ۳۹۳۔۔سنن نسائی: ۱؍۴۰۸حدیث: ۱۲۹۰۔۔  مستدرک: ۳؍۵۹حدیث: ۱۰۰۰۔۔ معجم کبیر طبرانی: ۵؍ ۲۱۲حدیث: ۵۱۴۱۔۔مستخرج ابوعوانہ: ۳؍ ۱۸۵حدیث: ۱۰۲۳۔۔ مسند ابویعلی موصلی: ۱۴؍۲حدیث: ۶۶۱۵۔۔مسند حمیدی: ۱۴؍۲حدیث: ۶۶۱۵۔۔ صحیح ابن خزیمہ: ۷؍ ۷۵حدیث: ۱۷۵۹۔ 
۔۔۔۔۔
چوتھا انکار حضرت عبد اللہ ابن عمر کا قنوت پر جو اُن کے زمانے میں لوگ پڑھتے تھے،آپ نے اس کو بدعت فرمایا۔اس کا جواب یہ ہے کہ حضور  صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی نمازمیں ایک مہینہ قنوت پڑھا تھا پھر چھوڑ  دیا۔
عن أنس أنَّ النَّبِيَّ  صلی اللہ علیہ وسلم  قَنَتَ شَہْراً ثُمَّ تَرَکَہٗ۔ (۱)
یعنی حضرت انس  رضی اللہ عنہ  فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے ایک ماہ قنوت فرما کر اسے ترک کر دیا۔
اب ائمہ دین میں اختلاف پڑا گیا بعض نے کہا کہ قنوت کا چھوڑ دینا بیان جواز کے لیے تھا نسخ ہونا اس سے ثابت نہیں ہوتا، اور جس کام کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا اسے بدعت نہیں کہا جا سکتا۔ 
بعض نے کہا کہ جب آپ نے چھوڑ دیا تو منسوخ ہو گیا  :
و العمل بالمنسوخ لا یجوز اتفاقا۔
یعنی حکم منسوخ پر عمل کرنا متفقہ طور پر درست نہیں۔
دارِ قطنی نے سعید بن جبیر سے روایت کیا وہ فرماتے ہیں کہ میں شہادت دیتا ہوں کہ میں نے حضرت ابن عباس  رضی اللہ عنہما کو یہ فرماتے سنا  :
إن القنوت في صلاۃ الفجر بدعۃ۔  ذکرہ الزرقاني 
یعنی نماز فجر میں قنوت پڑھنا بدعت ہے۔
علامہ عینی شرح ہدایہ کے صفحہ ۵۳۱پر لکھتے ہیں  :
و کان أحد من روي أیضا عن الرسول  صلی اللہ علیہ وسلم عبد اللہ ابن عمر  رضي اللہ عنہما  ثم أخبرہم ان اللہ  عزوجل  نسخ ذلک حتی أنزل علی رسولہ  علیہ السلام  لیس لک من الأمر  شیء   الآیۃ  فصار ذلک عند ابن عمر منسوخا فلم یکن ہو یقنت بعد رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  و کان ینکر علی من یقنت  انتہیٰ 
یعنی سرکاردو عالم  صلی اللہ علیہ وسلم سے اس قسم کی روایت کرنے والوں میں حضرت عبد اللہ بن عمر بھی آتے ہیں۔پھر انھوں نے بتایا کہ اللہ  عزوجل  نے اسے منسوخ فرما کر اپنے پیارے رسول  صلی اللہ علیہ وسلم پریہ آیت نازل فرما دی ہے:  لیس لک من  الأمر  شییء۔ تو گویا اس کا حکم حضرت عبد اللہ بن عمر کے نزدیک منسوخ ہو گیا یہی وجہ ہے کہ وہ رسول اللہ   صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد قنوت نہیں پڑھتے تھے بلکہ جو پڑھتا اسے منع بھی فرماتے تھے۔
۔۔۔۔
(۱)	صحیح مسلم:۳؍۴۴۳حدیث: ۱۰۹۲۔۔ سنن ابوداؤد: ۴؍ ۲۳۴حدیث:۱۲۳۳۔۔ مسنداحمد: ۲۶؍۶۸حدیث: ۱۲۵۲۱۔۔ مصنف ابن ابی شیبہ: ۲۶؍۶۸حدیث: ۱۲۵۲۱۔۔ سنن بیہقی: ۲؍ ۲۰۱۔۔ سنن نسائی: ۱؍ ۲۲۷حدیث: ۶۶۶۔۔تہذیب الآثار طبری:۶؍ ۱۷۴حدیث: ۲۶۸۲۔۔ سنن دارقطنی: ۴؍۳۹۹حدیث: ۱۷۱۲۔۔ معرفۃ السنن والآثار: ۳؍۲۰۰حدیث: ۱۰۱۷۔۔ نصب الرایہ: ۳؍ ۱۸۴۔۔ مسند الجامع: ۲؍ ۱۹۵حدیث: ۴۹۳۔
۔۔۔۔
گزشتہ تحقیقات سے ثابت ہو گیا کہ حضرت عبداللہ کے ہم عصر جو صحابہ یا تابعین قنوت پڑھا کرتے تھے،وہ بھی اپنے طور پر استدلال قائم کرتے تھے اور اسے منسوخ نہیں سمجھتے تھے، اور حضرت عبد اللہ بن عمر نے جو اس قنوت کو منع کیا تو انھوں نے منسوخ سمجھا اور منسوخ پر عمل بالاتفاق خلاف شرع اور ناجائز ہے کیوں کہ وہ عمل پہلے مامور بہ تھا اب منسوخ ہونے کی وجہ سے منہی عنہ ہو گیا۔ اسی بنیاد پر حضرت ابن عمر کے نزدیک اسے مقابل نہی سمجھ کر اس کا پڑھنا بدعت ٹھہرا۔ اور ہمارا دعویٰ بھی یہی ہے کہ جو امر،شارع  صلی اللہ علیہ وسلم کے امر و نہی کے خلاف ایجاد ہو گا وہی بدعت و ضلالت ہو گا ور نہ نہیں۔ اور اگر یہ لوگ اسی بات پر جم جائیں کہ جو کام حضور صلی اللہ علیہ وسلم  نے جس ہیئت سے نہیں کیا وہی مخالف سنت اور بدعت و ضلالت ہے تو بہت سے کام ان کو چھوڑ نے پڑ جائیں گے۔انہیں میں سے یہ کہ عید گاہ میں منبر بنانا حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں۔ 
امام قسطلانی ’’مواہب لدنیہ‘‘ میں ابن خزیمہ سے روایت کرتے ہیں  :
خطب  علیہ الصلوٰۃ و السلام  یوم عید علی رجلیہ ہذا یشعر بأنہ لم یکن في المصلیٰ في زمانہ  علیہ السلام  منبر و وقع في المدونۃ للإمام مالک ان أول من خطب الناس في المصلی علی منبر عثمان بن عفان۔
یعنی نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم نے روز عید اپنے قدموں پر کھڑے ہو کر خطبہ دیا، اس سے اشارہ ملتا ہے کہ آپ کے زمانے میں عیدگاہ کے اندر کسی مخصوص شکل کا کوئی منبر نہ ہوتا تھا۔ اور مدونہ میں حضرت امام مالک سے وارد ہوا ہے کہ عیدگاہ میں منبرپرسب سے پہلے خطبہ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ   نے دیا۔
۔۔۔۔
(۱)	مواہب لدنیہ: ۴؍۲۴۰،۲۴۱۔مطبوعہ :مرکز اہل سنت برکاتِ رضا
۔۔۔۔
تو جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے عیدگاہ میں منبر پر خطبہ نہ پڑھا اور نہ ہی خلیفہ اول و دوم نے پڑھا بلکہ حضرت عثمان کے دور میں ابن صلت نے اینٹ اور مٹی سے منبر تیارکیاجس پر آپ نے خطبہ پڑھا تو چاہیے کہ منکرین ،عیدگاہ کے منبر کو بھی اُڑا دیں، اور چاہیے تھا کہ صحابہ بھی انکار فرماتے کہ اس ہیئت کا منبر عیدگاہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں تو نہ تھا۔
یوں ہی چاہیے کہ مانعین ،جمعہ کی اذانِ اول کو بھی بالکل موقوف کر دیں کیوں کہ صحیح بخاری کی روایت سے ثابت ہے کہ پہلے صرف ایک اذان ہوا کرتی تھی یعنی جس وقت امام منبر پر بیٹھتا تھا۔ یہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کادستورتھا اور یہی خلیفہ اول و دوم کے عہد میں بھی باقی رہا۔مگر اس کے بعد جب لوگ زیادہ ہو گئے تو حضرت عثمان  رضی اللہ عنہ  نے ایک اذان زیادہ فرما دی اور حکم دیا کہ مقام زورا  جو خارج مسجد کے باہر بازار میں ایک اونچا مقام تھا پر ایک اذان دی جایا کرے۔ 
شرح مواہب لدنیہ زرقانی کے صفحہ ۴۵۲پر ہے کہ ہشام ابن عبد الملک نے حضرت عثمان  رضی اللہ عنہ  کے اسی سال بعد حکم دیا کہ عثمان  رضی اللہ عنہ کی ایجاد کردہ یہ پہلی اذان مسجد کے اندر کہی جائے۔چنانچہ اب تک یہی مروج ہے کہ اذانِ اول بھی مسجد میں کہی جاتی ہے۔ اور اذان ثانی جو کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں تھی وہ خطیب کے سامنے کہی جاتی ہے اور خطبہ مکمل ہونے کے بعد تکبیر کہی جاتی ہے۔
پھر اگر یہی قاعدہ صحیح ہے کہ جو کام حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا ہے وہی سنت ہے اور اس کے سواسب بدعت و ضلالت ہے تو چاہیے کہ یہ اذان بھی  معاذ اللہ  ضلالت ہو،حالاں کہ یہ شرقاً غرباًٍ اہل اسلام میں رائج ہے۔ 
اسی طرح طواف رخصت میں الٹے پاؤں پھرنے کامسئلہ فتاویٰ اور کتب حنفیہ کے متون و شروح میں مندرج ہے کہ جب حاجی طوافِ رخصت کریں تو دعا کریں اور روتے ہوئے الٹے پاؤں پیچھے پھریں،حالاں کہ یہ الٹے پاؤں پھرنارسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں ہے۔ فقیہ شامی نے اسے  باب الحج میں ذکر کیا ہے، اور علامہ زیلعی نے اس الٹے پاؤں ہٹنے کی دلیل یہ بیان کی ہے  :
و العادۃ جاریۃ في تعظیم الأکابر و المنکر لذلک مکابر۔ (۱)
 یعنی جب علامہ زیلعی حنفی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس فعل کی دلیل نہ ملی تو آپ نے یہ کہا کہ تعظیم میں یوں ہی عادت جاری ہے کہ بزرگوں کے سامنے سے پیٹھ پھیر کر نہیں پھرا جاتا، تو بس بیت اللہ سے رخصت ہونے میں بھی پشت دے کر نہ پھرنا چاہیے، اور جو اس کا انکار کرے وہ جھگڑالوانسان ہے۔
۔۔۔۔
(۱)	رد المحتار: ۸؍ ۳۳۱ مطلب فی طواف الزیارۃ ۔۔ تبیین الحقائق : ۴؍ ۳۹۹ باب الاحرام ۔۔دررالحکام شرح غرر الاحکام: ۳؍۹۹  تقدیم الاحرام علی المواقیت  
۔۔۔۔۔۔
علامہ طرابلسی نے کہا  :
و قد فعلہ الأصحاب   یعني أصحاب مذہبنا (۱)
یعنی ہمارے اصحاب مذہب نے ایساہی کیا ہے۔
تو فقہائے حنفیہ اپنے اصحاب مذہب کے فعل کی اتباع کا حکم دیتے ہیں، اور رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم تک اس کی اسنادنہیں پہنچتی۔
۔۔۔
(۱)	رد المحتار: ۸؍ ۳۱۱ مطلب فی طواف الزیارۃ 
۔۔۔۔۔
تعجب ہے کہ جو لوگ مشائخ صوفیہ کے اشغال و اعمال عمل میں لائیں،تقلید شخصی کو واجب اور حق کو چار امام میں منحصر جانیں، اور اجماع امت کو درست کہیں اور پھر یہ بات زبان پر لائیں کہ قرون ثلاثہ کے بعد جو کچھ حادث ہو گا وہ بدعت و ضلالت اور فی النار ہو گا! معاذ اللہ  
یہ نہیں جانتے کہ یہ جو کچھ حضرات صوفیہ کرام نے ایجاد فرمایا ہے مثلاً حبس نفس،اذکار کی مخصوص کیفیتیں،دو ضربی، سہ ضربی،چہار ضربی،قیام و قعود وغیرہ کے مخصوص طریقے،رگ کیماس کا دبانا اور تصور شیخ کرنا۔یوں اور بھی بہت سارے امور جن کی تصریح کتابوں میں ملتی ہے۔ یہ سب قرون ثلاثہ کے بعد ایجاد ہوئے ہیں۔
حضرت شاہ ولی اللہ صاحب ’’انتباہ‘‘ میں لکھتے ہیں  :
اگرچہ اوائل امت را باواخرامت در بعض امور اختلاف بودہ است پس صوفیہ صافیہ ارتباط ایشاں در زمن اول بصحبت و تعلیم وتادب بآداب و تہذیب نفس بودہ است نہ بخرقہ و بیعت و درزمن سید الطائفہ جنید بغدادی رسم خرقہ ظاہرشدوبعد ازاں رسم بیعت پیدا گشتہ الیٰ آخرہ 
یعنی اگرچہ امت کے پچھلوں کا پہلوں سے بعض امور کی بابت کچھ اختلاف واقع ہوا ہے۔تو پاکیزہ نفس صوفیہ کا اول زمانے میں ربط و تعلق، صحبت و تعلیم،صالح ادب اور تہذیب نفس سے رہا ہے، بیعت و خرقہ سے ان کا کوئی تعلق نہ تھا۔ سیدالطائفہ حضرت جنید بغدادی کے زمانے میں رسم خرقہ جاری ہوئی اور پھر اس کے بعد بیعت کی رسم پیدا ہوئی۔
مولوی اسماعیل صاحب ’’صراط مستقیم ‘‘میں لکھتے ہیں  :
محققان ہر وقت از اکابر ہرطریق را تجدید اشغال کو شش ہا کردہ اند الیٰ آخرہ 
یعنی ہر دور کے محقق اکابرین نے اشغال و وظائف کی تجدید میں کوششیں کی ہیں۔
حضرت مرشدی ومستندی  ادام اللہ ارشادہ  ’’ضیاء القلوب‘‘ میں فرماتے ہیں  :
و ذکراسم ذات در لطائف ستہ از تجویز قطب ربانی حضرت مجدد الف ثانی  قدس سرہ  است انتہیٰ 
یعنی لطائف ستہ میں اسم ذات کا ذکر ،قطب ربانی حضرت مجدد الف ثانی  قدس سرہ  کا تجویز کردہ ہے۔ 
پس گیارہویں صدی تک کی ایجاد تو مذکورہ عبارتوں سے ثابت ہوئی تو تیرہویں صدی تک کی سند بھی آگے دی جائے گی۔
اسی طرح تقلید کا مسئلہ کہ تقلید شخصی واجب ہے، اور حق ،مذاہب اربعہ میں منحصر ہے،یہ بھی قرون ثلاثہ کے بعد ایجاد ہوا۔
شاہ ولی اللہ صاحب ’’حجۃ اللہ البالغہ‘‘ میں تحریر فرماتے ہیں  :
أہل المائۃ الرابعۃ لم یکونوا مجتمعین علی التقلید الخالص  علی مذہب واحد۔(۱)
یعنی چوتھی صدی ہجری کے لوگ تقلید خالص کے سلسلے میں کسی ایک مذہب پر جمع نہیں ہوئے تھے۔
 اور تین سطر کے بعد لکھا  :
إذا وقعت لہم واقعۃ استفتوا فیہا أي مفتی وجدوا من غیر تعیین مذہب۔
معلوم ہوا کہ چوتھی صدی تک لوگ تقلید خالص کے سلسلے میں مذہب واحد پر اکٹھا نہ ہوئے تھے،جب کوئی مسئلہ پیش آتا بلا تعیین مذہب کسی مفتی سے پوچھ لیتے۔مولوی قطب الدین خاں صاحب ’’تفسیر الحق‘‘ میں تفسیر مظہری کے حوالے سے نقل کرتے ہیں  :
أہل السنۃ و الجماعۃ قد افترق بعد القرون الثلاثۃ أو الأربعۃ علی أربعۃ مذاہب۔
یعنی اہل سنت و جماعت تیسری یا چوتھی صدی بعد چار مذاہب میں تقسیم ہو گئے۔
۔۔۔۔۔
(۱)	حجۃ اللہ البالغہ: ۷۷۔
۔۔۔۔۔
خلاصہ یہ ہے کہ مذاہب اربعہ کی تقسیم قرون ثلاثہ کے بہت بعد ہوئی اور چوتھی صدی تک بھی تقلید شخصی کے وجوب پر اجماع نہ ہوا تھا،جس مذہب والے سے چاہتے تھے مسئلہ پوچھ کر عمل کر لیتے تھے۔ اور ظاہر ہے کہ چار اماموں میں حضرت امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ  بھی ہیں،ان کی وفات  ۲۴۱ھ (855ء)میں ہوئی اور وہ تبع تابعین میں نہیں،صاحب تقریب نے انھیں طبقہ عاشرہ(دسویں طبقہ ) میں لکھا ہے۔تو ظاہر ہے کہ ان کے اجتہاد پر فتویٰ دینے والے اور حق کو چار میں منحصر کرنے والے ان سے بھی بعد میں ہوئے۔
اسی طرح اجماع کا مسئلہ کہ کسی اصولی نے تصریح نہ فرمائی کہ قرون ثلاثہ کے بعد کا اجماع، کذب و بدعت ہو گا۔ حضرت امام ابو شکور سالمی رحمۃ اللہ علیہ  ’’تمہید‘‘ میں لکھتے ہیں  :
إجماع الأمۃ معتبرۃ بالإجمال لا بالتفصیل بدلیل قولہ تعالیٰ وَ کَذلِکَ جَعَلْنَاکُمْ أمَّۃً وَّسَطاً لِّتَکُونُوا شُہَدَائَ عَلَی النَّاسِ وَ یَکُونَ الرَّسُولُ عَلَیکُم شَہِیْداً، و لم یفصل بین الصحابۃ  رضي اللہ عنہم  وغیرہم و الأمۃ اسم عام یتناول الکل من الأول إلی الآخر۔ 
یعنی اجمال کے ساتھ اجماع امت معتبر ہے نہ کہ تفصیل کے ساتھ۔اس پر دلیل اللہ رب العزت کا یہ قول ہے:  وَ کَذلِکَ جَعَلْنَاکُمْ أمَّۃً وَّسَطاً لِّتَکُونُوا شُہَدَائَ عَلَی النَّاسِ وَ یَکُونَ الرَّسُولُ عَلَیکُم شَہِیْداً، (یعنی : اور بات یوں ہی ہے کہ ہم نے تمھیں کیا تمام امتوں میں افضل کہ تم لوگوں پر گواہ ہو، اور یہ رسول تمہارے نگہبان و گواہ)  اور اس میں صحابہ یا غیر صحابہ کا کچھ امتیاز و فصل نہیں۔کیوں کہ لفظ ’امت‘اسم عام ہے جو اول تا آخر ہر ایک کو شامل ہے۔
اس سے ظاہر ہوا کہ صحابہ سے لے کر آخر امت تک جس طبقہ کے اہل اسلام کسی بات پر اجماع کر لیں گے وہ معتبر ہو جائے گا اور اس کو بدعت و ضلالت نہ کہا جائے گا۔لہٰذا جو لوگ قائل ہیں کہ جو کچھ قرون ثلاثہ کے بعد ہو گا وہ کذب اور ضلالت ہی ہو گا ان کے اوپر یہ مسائل اور ان کے سوا اور نظیریں سخت مشکل پڑیں گی۔یہ کیا کہ جن مسائل کے خود قائل ہو رہے ہو  حالاں کہ وہ بھی قرون ثلاثہ کے بعد ایجاد ہوئے ہیں   ان کو مستثنیٰ کر کے ان میں کسی کو واجب اور کسی کومستحب کہ رہے ہو۔ اور فاتحہ اموات اور میلاد شریف کو معاذ اللہ  ضلالت محض کہ رہے ہو۔یہ تو بڑی نا انصافی ہے۔
ہم پر کوئی اعتراض نہیں ہے اس لیے کہ ہم ان سب امور کو بلا فرق تسلیم کر رہے ہیں کیوں کہ یہ امور شارع علیہ السلام  کے کسی امر و نہی کے مخالف نہیں ہیں۔ہمارے اصول کے مطابق بعض بدعتیں واجب بھی ہوتی ہیں  جیساکہ اوپر گزرا، اور مزید آ رہا ہے ۔
الحاصل! جتنی نظیریں اور مثالیں یہاں مذکور ہوئیں ان سب کا یہ خلاصہ ہے اور جس کی بصیرت قلبی پر تعصب و عناد کا پردہ نہیں پڑا اس دیدہ ور پرسپیدۂ صبح کی طرح واضح ہو گیا کہ حدیث شریف:  من أحدث في أمرنا سے ایسی ایجادات مراد ہیں جو شارع  علیہ السلام  کے امر ونہی کے مخالف ہوں۔ اور اس سے زمانے کی کوئی قید ہرگز مراد نہیں۔
اب دوسری حدیث شریف ،حق طلب ناظرین کے لیے پیش ہے  :
مَنْ سَنَّ فِي الإسْلاَمِ سُنَّۃً حَسَنَۃً فَعُمِلَ بِہَا بَعْدَہٗ کُتِبَ لَہ مِثْلُ أجْرِ مَنْ عَمِلَ بِہَا وَ لاَ یُنْقَصُ مِنْ أجُورِہِمْ شَییئٌ۔ (۱)
۔۔۔۔
(۱)	صحیح مسلم: ۱۳؍۱۶۳حدیث: ۴۸۳۰۔۔سنن ابن ماجہ : ۱؍ ۲۴۰ حدیث: ۲۰۳۔۔مسند احمد: ۳۹؍ ۱۸۶حدیث: ۱۸۳۸۷ ۔۔ مصنف ابن ابی شیبہ: ۳۹؍ ۱۸۶حدیث: ۱۸۳۸۷۔۔ مصنف عبد الرزاق:۱۱؍۴۶۶حدیث: ۲۱۰۲۵۔۔معجم کبیرطبرانی:۳؍ ۷ ۔۔حدیث: ۲۳۸۴۔۔سنن دارمی: ۲؍ ۶۶حدیث: ۵۲۱۔۔ مشکل الآثارطحاوی: ۱؍ ۲۵۱حدیث: ۲۰۸۔۔ مسند الجامع: ۱۰؍ ۸۸ حدیث: ۳۱۴۸۔۔تحفۃ الاشراف: ۱۱؍ ۸۰حدیث: ۱۱۸۰۰۔
۔۔۔۔۔۔
	یوں بھی یہ حدیث ملتی ہے  :
	من سن في الإسلام سنۃ حسنۃ فلہ أجرہا و أجر من عمل بہا بعدہ من غیر أن ینقص من أجورہم شییء۔ (صحیح مسلم : ۵؍ ۱۹۸حدیث: ۱۶۹۱۔۔مسنداحمد: ۳۹؍۱۶۶حدیث: ۱۸۳۶۷۔۔مصنف ابن ابی شیبہ: ۳۹؍۱۶۶ حدیث: ۱۸۳۶۷۔۔سنن بیہقی: ۴؍۱۷۵۔۔سنن نسائی: ۲؍ ۴۰حدیث: ۲۳۳۵۔۔شعب الایمان: ۷؍ ۳۲۱ حدیث: ۳۱۶۹۔۔ صحیح ابن حبان: ۱۴؍ ۱۱۹حدیث: ۳۳۷۷۔۔ صحیح ابن خزیمہ: ۹؍ ۹۷حدیث: ۲۲۷۸۔۔ مسندطیالسی: ۲؍ ۲۴۱ حدیث: ۶۹۸۔۔مشکل الآثارطحاوی: ۱؍ ۲۵۰حدیث: ۲۰۷۔۔کنزالعمال: ۱۵؍ ۷۸۰حدیث: ۴۲۰۷۸۔۔ المسند الجامع: ۱۰؍ ۸۴ حدیث: ۳۱۴۷۔۔مشکوٰۃ المصابیح: ۱؍۴۵حدیث: ۲۱۰)
	من سن سنۃ خیرٍ فاتُّبِع علیہا فلہ أجرہ و مثلُ أجور من اتبعہ غیر منقوصٍ من أجورہم شیئا۔(سنن ترمذی: ۹؍ ۲۸۵حدیث: ۲۵۹۹۔۔سنن نسائی: ۹؍ ۲۸۵حدیث: ۲۵۹۹۔۔مسند الجامع: ۱۰؍ ۸۷۔۔ تحفۃ الاشراف: ۴؍ ۱۷۳ حدیث: ۳۲۴۳)
	من سن سنۃ حسنۃ فعُمل بہا کان لہ أجرہا و مثل أجر من عمل بہا لا ینقص من أجورہم شیئا۔ (سنن ابن ماجہ: ۱؍ ۲۳۶حدیث: ۱۹۹)
	من سن سنۃ ہدی فاتُّبِع علیہا کان لہ  مثلُ أجورہم من غیر أن ینقص من أجورہم شییء۔(مسند احمد: ۲۱؍۱۹۶حدیث: ۱۰۱۵۲۔۔مصنف ابن ابی شیبہ: ۲۱؍۱۹۶حدیث: ۱۰۱۵۲۔۔مسند الجامع: ۴۴؍ ۲۴۰ حدیث: ۱۴۵۴۷)
	من سن خیرا فاستُنَّ  بہ کان لہ أجرہ کاملا۔(مسنداحمد: ۲۱؍ ۳۷۵حدیث: ۱۰۳۳۱۔۔مصنف ابن ابی شیبہ: ۲۱؍ ۳۷۵ حدیث: ۱۰۳۳۱۔۔مشکل الآثارطحاوی: ۴؍ ۷۸حدیث: ۱۳۳۲۔۔مجمع الزوائدو منبع الفوائد: ۱؍ ۱۰۰۔۔ کنز العمال: ۱۵؍ ۷۸۹ حدیث: ۴۳۱۲۳ ۔۔المسند الجامع: ۱۱؍۱۵۲ حدیث: ۳۳۰۵)
	من سن سنۃ صالحۃ في الإسلام فعُمل بہا بعدہ کان لہ مثل أجورہم من غیر أن ینقص من أجورہم شییء۔ (مسند احمد: ۳۹؍ ۱۸۶حدیث: ۱۸۳۸۷۔۔مصنف ابن ابی شیبہ: ۳۹؍ ۱۸۶حدیث: ۱۸۳۸۷ ۔۔مصنف عبد الرزاق:۱۱؍۴۶۶حدیث: ۲۱۰۲۵۔۔المسند الجامع: ۱۰؍ ۹۰ حدیث: ۳۱۴۹)	
	من سن في الإسلام سنۃ حسنۃ فلہ أجرہا و أجر من عمل بہا في حیاتہ و بعد مماتہ حتی یترک۔(مسند الشامیین: ۷؍ ۳۴۳حدیث: ۲۵۰۰۔۔ کنز العمال: ۱۵؍ ۷۹۰ حدیث: ۴۳۱۲۶ ) 
۔۔۔۔
یہ صحیح مسلم کی حدیث ہے۔ اس کے معنی اپنی طرف سے نہیں لکھتا ہوں،بلکہ مجمع البحار اور امام نووی کی شرح مسلم  جو کہ ان لوگوں کے پیشواؤں کے نزدیک بھی نہایت معتبرومستند ہیں   سے لکھ رہا ہوں۔اس حدیث کے معنی ان میں یہ لکھے ہیں  :
 جس نے اسلام میں کوئی نیک طریقہ جاری کیا،پھر اس کے بعد اس طریقہ حسنہ پر عمل کیا تو اس شخص کے واسطے اس قدر اجر و ثواب لکھا جائے گا کہ جس قدر اس پر عمل کرنے والوں کو اس کے بعد ہو گا، اور ان لوگوں کے ثواب میں سے کچھ کاٹ کر اس کو نہ دیا جائے گا بلکہ اللہ تعالیٰ دونوں کو اپنے لامتناہی خزانہ سے ثواب عطا فرمائے گا۔ اور وہ طریقہ جو اس نے جاری کیا ہے خواہ ایسا ہو کہ اس سے پہلے ایجاد کیا گیا تھا لیکن کسی سبب سے بند ہو گیا تھا اس نے پھر اس کو جاری کر دیا یا یہ کہ اس سے پہلے وہ طریقہ ایجاد ہی نہیں ہوا تھا اس نے خود ہی اپنی طرف سے اس کو ایجاد اور جاری کیا، اور وہ طریقہ خواہ کسی علم کی تعلیم ہو یا عبادت ہو یا کوئی ادب کا طریقہ۔ (۱)
مجمع البحار کی جلد دوم صفحہ ۱۴۷۔ اور شرح مسلم کی جلد دوم صفحہ ۳۴۱ میں یہ مضمون تحریر ہے، جس کا جی چاہے وہاں دیکھ لے۔اس حدیث کو پیش کرنے سے ہمارے دو مطلب ثابت ہوئے۔
ایک تو یہ کہ بدعت حسنہ کا برا ہونا تو کیا بلکہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے اس پر وعدۂ ثواب دیا ہے، اور ثواب بھی کیسا کہ جب وہ آدمی مر جائے گا اور اس کے بعد اللہ کی دوسری مخلوق اس پر عمل کرے گی تواس کے مرنے کے بعد بھی ان سب کے برابر اس کو ثواب پہنچتا رہے گا۔یہی وجہ ہے کہ علمائے شریعت نے طرح طرح کے اصول و قواعد علم ظاہردین کی تہذیب کے لیے ایجاد فرمائے، اور اولیائے طریقت نے قسم قسم کے مجاہدات و اشغال ،دل کی صفائی اور تزئین کے واسطے قرون ثلاثہ کے بعد پیدا کیے رحمۃ اللہ علیہم وعلینا اجمعین  اسی لیے امام شامی نے جلد اول کے شروع ہی میں لکھا کہ یہ حدیث قواعد اسلام سے ہے۔ اور اس حدیث کے معنی ان الفاظ میں لکھے ہیں  :
و کل من ابتدع شیئا من الخیر کان لہ مثلُ أجر کلِّ من یعمل بہ إلی یوم القیامۃ۔ (۲)
یعنی جو بھی کوئی بہتر چیز ایجاد کرے اسے قیامت تک اس پر عمل کرنے والوں کے برابر اس کا ثواب ملتا رہے گا۔
۔۔۔
(۱)	شرح النووی : ۹؍۳۳حدیث: ۴۸۳۰۔
(۲)	رد المحتار: ۱؍ ۱۴۲ مقدمہ 
۔۔۔۔
اس حدیث سے دوسرا مطلب یہ نکلا کہ اس بدعت حسنہ کی ایجاد میں بھی وہی لفظ ’من، ارشاد فرمایا جو عربی زبان میں ایک عام لفظ ہے  یہ نہ فرمایا کہ قرون ثلاثہ میں جو کوئی طریقہ حسنہ جاری کرے گا اس کو ثواب ملے گا اور جو بعد میں کرے گا اسے عذاب دیا جائے گا اور بدعتی و جہنمی ہو گا  نعوذ باللہ منہا بلکہ یوں ارشاد فرمایا کہ جو کوئی جب کبھی کوئی نیک طریقہ جاری کرے گا اس کا ثواب ملے گا۔چنانچہ علامہ شامی نے بھی  من سنّ سنۃ حسنۃ کے معنی وہی کلی عام کیے ہیں۔یعنی انھوں نے لکھا ہے:  من ابتدع شیئا۔۔۔ إلی آخرہ 
مولوی اسحاق نے بھی ’’مائۃ مسائل‘‘ میں یہی لکھا ہے  :
سوال :بدعت حسنہ محدود است بوقت من الاوقات یا غیر محدود ست الی یوم القیامۃ۔
جواب :غیر محدوداست عند القائل بہ تقسیم ہا  لحدیث من سن فی الاسلام سنۃ حسنۃ  الیٰ آخرہ  
دیکھو! سائل نے سوال کیا تھا کہ بدعت حسنہ کے لیے وقت یا زمانہ کی کوئی قید ہے کہ فلاں زمانہ تک تو بدعت حسنہ کی ایجاد جائز ہے اور فلاں زمانہ میں جائز نہیں۔ یا ایساکہ اس کی کچھ قید نہیں بلکہ اس کی ایجاد قیامت تک کے لیے جائز ہے،کوئی ایجاد کرے اور کسی زمانے میں ایجاد ہو۔
تو مولوی اسحق صاحب نے جواب دیا کہ غیر محدود ہے یعنی اس میں زمانے کی کچھ قید نہیں قیامت تک بدعت حسنہ جائز ہے۔باقی رہی یہ بات کہ عند القائل بہ تقسیم ہا کی قید کیوں لگائی، تو یہ بات تین وجہوں سے کسی وحشت کا باعث نہیں  :
ایک تو یہ کہ جو بدعت کی تقسیم نہیں کرتے وہ بدعت حسنہ کو سنت میں داخل کرتے ہیں تو بدعت حسنہ کا لفظ وہی کہے گا جو تقسیم بدعت کا قائل ہو گا اور جو قائل نہ ہو گا وہ بدعت حسنہ کو سنت کہے گا۔ 
دوسری وجہ یہ کہ جب ان کی سندمیں صحیح حدیث لکھ دی تو وہ قائلین کے پایۂ اعتبار میں ٹھہر گئی اور ان کے قول کی صحت مسلم ہو گئی۔
تیسری وجہ یہ کہ جب مولوی صاحب نے یہ فرما دیا کہ جو تقسیم بدعت کے قائل ہیں ان کے نزدیک قیامت تک بدعت حسنہ جائز ہے،اب ہم تمھیں بتلائے دیتے ہیں کہ بدعت حسنہ کو کس کس نے جائز کیا ہے۔تو معلوم ہونا چاہیے کہ ان سب مفتیانِ دین کے نزدیک تا قیامت بدعت حسنہ جائز ہے، اور یہ کچھ قرون ثلاثہ پر منحصر نہیں ہے۔
اس سلسلہ میں فقہا و محدثین کے اقوال کہ سیئہ و ضلالت وہی بدعت ہے جو قرآن و حدیث اور اجماع کے مخالف ہے۔ اور جو بدعت ایسی نہیں وہ درست ہے۔
 سیرت حلبی وغیرہ کتب مشہورہ و معتبرہ میں ہے کہ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ  نے فرمایا  :
ما أحدث و خالف کتابا أو سنۃ أو إجماعا أو أثرا فہو البدعۃ الضالۃ، و ما أحدث من الخیر و لم یخالف شیئا من ذلک فہو البدعۃ المحمودۃ۔ (۱)
اس روایت کو بیہقی نے بھی اپنی اسناد کے ساتھ امام شافعی سے روایت کیا ہے کہ بدعت دو طرح کی ہوتی ہے مذمومہ اور غیر مذمومہ۔
مولوی اسماعیل صاحب نے ’’تقویۃ الایمان‘‘ کے دوسرے حصہ مسمّٰی بہ ’’تذکیر الاخوان‘‘ میں فرمایا ہے   :
 جو مجتہدوں نے اپنے اجتہاد سے نکالا وہ سنت میں داخل ہے انتہیٰ 
تو امام شافعی کا قول ضرور مسلم ہونا چاہیے کیوں کہ یہ مجتہد ہیں اور بقول مولوی اسماعیل صاحب، مجتہد کا نکالا ہوا حکم سنت میں داخل ہوتا ہے۔
دوسرے یہ کہ یہ خیر القرون میں ہیں۔تیسرے یہ کہ خاص عربی ہیں،لغت عرب، صحابہ و تابعین کے محاورات اور حدیث کی اصطلاحات(اچھی طرح) جاننے والے ہیں۔اس بنیادپر بدعت کی مذمت میں جتنی حدیثیں آتی ہیں انھیں امام شافعی کی اس تفسیر کے مطابق ان بدعتوں پر محمول کرنا چاہیے جو کتاب وسنت کے خلاف ہیں۔ اور محققین علمائے محدثین اور فقہائے دین نے اسی پر عمل کیا اور فتویٰ دیا ہے۔انھیں میں سے ایک یہ بھی ہے جسے حجۃ الاسلام امام غزالی نے ’’احیاء العلوم‘‘ میں فرمایا  :
و إنما المحذور بدعۃ تراغم سنۃ مأثورۃ۔ (۲)
یعنی وہی بدعت منع ہے جو کسی ایسی سنت کو مٹاتی ہو جس کے قائم رکھنے کا حکم دیا گیا ہو۔
’’احیاء العلوم‘‘ کی جلد اول میں ہے  :
و لا یمنع ذلک من کونہ  محدثا فکم من محدث حسن۔ (۳)
یعنی نئی بات ہونے کی وجہ سے اسے منع نہ کیا جائے گا کیوں کہ بہت سی نئی باتیں عمدہ اور نیک ہیں۔
۔۔۔۔
(۱)	اعانۃ الطالبین: ۱؍ ۳۱۳۔۔سیرت حلبیہ:۱؍۱۲۲۔
(۲)	احیاء علوم الدین: ۲؍ ۱۴۱ و ما یحمد من آثار الوجد و ما یذم 
(۳)	احیاء علوم الدین: ۱؍۲۸۶ وھی عشرۃ 
۔۔۔۔۔۔
علامہ امام صدر الدین شافعی نے فرمایا  :
ہٰذہ بدعۃ لا بأس بہا و لا تکرہ البدع إلا إذا راغمت السنۃ، و أما إذا لم تراغمہا فلا یکرہ۔ (۱)
یعنی ایسی بدعت میں کوئی حرج نہیں کیوں کہ بدعت اسی وقت مکروہ ہوتی ہے جب کسی سنت سے متصادم ہو،ورنہ نہیں۔
۔۔۔۔
(۱)	سبل الہدیٰ والرشاد: ۱؍ ۳۶۵۔
۔۔۔۔
شمنی وغیرہ محققین نے بدعت سیئہ مذمومہ کی تعریف اس طرح فرمائی ہے  :
ما أحدث علی خلاف الحق المتلقی عن رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم   من علم أو عمل أو حال بنوع شبہۃ و استحسان و جعل دینا قویما و صراطا مستقیما۔ 
دیکھیے کہ اس میں مخالفت کی قید ہے اور کسی زمانہ، قرون اور غیر قرون کو نہیں لیا بلکہ یہ قرار دیا کہ ہم کو جو شرعی دلائل کتاب وسنت اور اجماع وقیاس وغیرہ امور حقہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  سے پہنچے ہیں ان کے خلاف اور ان کو مٹانے والی جو چیز ایجاد ہو گی وہ بدعت سیئہ ہے، بشرطیکہ وہ مخالف بات شبہ کے باعث ایجاد ہو۔یہ اس لیے کہ فقیہ شامی نے لکھا ہے  : 
اگر کوئی براہِ عناد اَدلہ قطعیہ کے خلاف کچھ ایجاد کرے تو وہ قطعاً کافر ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ جو چیز مخالف ایجاد ہو گی وہی بدعت سیئہ ہے  مخالفت کی تحقیق ہم اوپر کر چکے  اور جونئی چیز مخالف نہیں وہ حسنہ ہے،خواہ کبھی ایجاد ہو۔
علامہ ابن اثیر نے ’’جامع الاصول‘‘ میں لکھا ہے  :
الابتداع إن کان في خلاف ما أمر اللہ بہ و رسولہ فہو في حیز الذم و الإنکار و إن کان واقعا تحت عموم ما ندب إلیہ و حض علیہ رسولہ فہو في حیز المدح و إن لم یکن مثالہ موجودا کنوع من الجود و السخاء و فعل المعروف فہذا فعل من الأفعال المحمودۃ لم یکن الفاعل قد سبق إلیہ و لا یجوز أن یکون ذلک في خلاف ما ورد الشرع بہ لأن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم   قد جعل لہ في ذلک ثوابا فقال من سن سنۃ حسنۃ کان لہ أجرہا و أجر من عمل بہا و قال في ضدہ من سن سنۃ سیئۃ کان علیہ وزرہا ووزر من عمل بہا و ذلک إذا کان في خلاف ما أمر اللہ بہ و رسولہ  إلی آخرہ ۔
یعنی کسی شے کی ایجاد اگر اللہ ورسول کے حکم کے خلاف ہو تو وہ مذموم اور بری ہے ورنہ اگر اس امر عام کے تحت داخل ہو جس کو رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے پسند فرمایا اور اس پر (لوگوں کو) آمادہ کیا ہے تو وہ قابل ستائش ہے ،اگرچہ اس کی مثال موجود نہ ہو، جیسے جودوسخاوت اور کارِ خیر کی کوئی صورت، کیوں کہ یہ ان افعالِ محمودہ سے ہے جنھیں پہلے کسی نے انجام نہیں دیا۔ اور یہ نہیں ہوسکتا کہ یہ شریعت میں وارد ہونے والے حکم کے خلاف ہو کیوں کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے اس میں اجر و ثواب رکھتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے: جس نے کوئی اچھی راہ نکالی تواسے اس کی ایجاد ساتھ ہی اس پر عمل کرنے والے کا بھی ثواب ملے گا۔ اور اس کی ضد میں فرمایا کہ جس نے کوئی بری راہ نکالی تو اسے اپنے گناہ کے علاوہ اس پر عمل پیرا ہونے والوں کا گناہ بھی دیا جائے گا۔ اور یہ اسی وقت ہو گا جب کہ اس کی ایجاد اللہ ورسول کے حکم کے خلاف ہو۔
اس سے بھی یہ ثابت ہوا کہ جو چیز مخالف شرع ،ایجاد ہو وہ بدعت سیئہ اور جو مخالف نہ ہو وہ بدعت محمودہ اور حسنہ ہے۔
فتاویٰ عالم گیری کی جلد خامس میں ہے  :
و کم من شییء کان إحداثا و ہو بدعۃ حسنۃ۔(۱)
یعنی بہت ساری چیزیں نئی ایجاد ہوئیں اور وہ بدعت حسنہ ہیں۔
۔۔۔۔
(۱)	الفتاویٰ الہندیہ: ۴۳؍ ۷۲ آداب المسجد 
۔۔۔۔۔
شیخ عز الدین بن عبدالسلام نے ’’کتاب القواعد‘‘ کے اخیر میں فرمایا  :
البدعۃ اما واجبۃ کتدوین أصول الفقہ و الکلام في الجرح و التعدیل و اما محرمۃ کمذہب الجبریۃ و القدریۃ و اما مندوبۃ کإحداث المدارس و کل إحسان لم یکن في عہد الأول و اما مکروہۃ کزخرفۃ المساجد یعنی عند الشافعي و أما عند الحنفیۃ فمباح و أما مباحۃ کالتوسع في لذیذ المآکل و المشارب۔
یعنی بدعت کی بہت سی قسمیں ہوتی ہیں کبھی واجب ہوتی ہے جیسے تدوین اصول فقہ اور علم جرح و تعدیل۔کبھی حرام ہوتی ہے جیسے جبریہ و قدریہ مذاہب باطلہ کا وجود۔کبھی مستحب ہوتی ہے جیسے مدرسوں اور ہراس اچھے کام کی ایجاد جو پہلی صدی میں نہ تھے۔ کبھی مکروہ ہوتی ہے جیسے
شوافع کے نزدیک مسجدوں کی تزئین و آرایش جب کہ احناف کے نزدیک یہ مباح ہے۔ اور کبھی بدعت مباح ہوتی ہے جیسے لذیذ کھانے پینے میں فراخی سے کام لینا۔
بدعت کی یہ تقسیم کہ بعض بدعتیں واجب ہیں،بعض حرام، بعض مستحب  یعنی مستحق ثواب  بعض مکروہ، اور بعض مباح ہیں  یعنی ان کے کرنے میں نہ ثواب ہے اور نہ عذاب تو گویا بدعت کی یہ تقسیم علامہ برکلی نے ’’طریقہ محمد یہ‘‘، مناوی نے ’’شرح جامع صغیر‘‘،ملاعلی قاری حنفی نے ’’مرقات‘‘، شیخ عبد الحق محدث دہلوی نے ’’اشعۃ اللّمعات‘‘،سید جمال الدین محدث نے ’’حواشی مشکوٰۃ‘‘، علامہ ابن حجر نے۔۔، اور علامہ ابن عابدین نے ’’شرح در مختار‘‘ میں بحث امامت میں  ، پانچ قسم پر مسلم اور قائم رکھی۔
جب یہ قاعدہ مسلم ہو چکا تو اب ایک دو مسئلہ جو اس قاعدہ پر متفرع ہوتے ہیں لکھتا ہوں۔  
مسئلہ اولیٰ:  علامہ شرنبلالی نے فقہ حنفی کے حاشیہ دررغرر میں لکھا ہے کہ نماز کی نیت اصل دل میں ہوتی ہے،منہ سے ادا کرنا مستحب ہے۔ان کی عبارت یوں ہے  :
(و التلفظ بہا مستحب) یعنی طریق حسن أحبہ المشائخ لا أنہ من السنۃ ، لأنہ لم یثبت عن رسول اللہ   صلی اللہ علیہ وسلم  من طریق صحیح و لا ضعیف و لا عن أحد من الصحابۃ و التابعین و لا عن أحد من الأئمۃ الأربعۃ بل المنقول انہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کان إذا قام إلی الصلوٰۃ کبر فہٰذہ بدعۃ حسنۃ۔ (۱)
یعنی نماز کی نیت زبان سے کر لینا مستحب یعنی اچھا طریقہ ہے،مشائخ نے جو اسے پسند فرمایا ہے،تواس لیے نہیں کہ یہ سنت ہے کیوں کہ صحیح و ضعیف کسی طور پر بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ ثابت نہیں، نہ کسی صحابی و تابعی سے، اور نہ ہی ائمہ اربعہ میں کسی سے ثابت ہے۔ بلکہ منقول یہ ہے کہ نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو اللہ اکبر فرماتے تھے۔تو یہ بدعت حسنہ ہے۔
۔۔۔۔
(۱)	دررالحکام شرح غرر الاحکام: ۱؍ ۲۸۳ باب شروط الصلوٰۃ 
۔۔۔۔۔
 اب علامہ شرنبلالی کی یہ تقریر غور سے دیکھنی چاہیے کہ یہ بات مان کر کہ زبان سے نیت کرنا حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے،صحابہ و تابعین اور مجتہدین سے ثابت نہیں اس کے باوجود حکم دیا کہ یہ بدعت حسنہ اور مستحب ہے۔
واضح ہو کہ ائمہ مجتہدین میں امام احمد بھی ہیں جنھوں نے تابعی نہ تبع تابعی بلکہ تبع تابعین سے علم سیکھا کما فی التقریب جب تلفظ بالنیّۃ ان سے بھی منقول نہیں تو ظاہر ہوا کہ قرون ثلاثہ کے بعد اس کا ظہور ہوا۔اس کے قرون ثلاثہ کے بعد ظاہر ہونے پر دوسری دلیل یہ ہے کہ شرنبلالی نے تلفظ بالنیّۃ کی بابت لکھا کہ أحبّہ المشائخ۔ اور مشائخ سے وہ متاخرین علما مراد ہیں جو امام اعظم کے شاگردوں کا دور ختم ہونے کے بعد ہوئے ہیں۔
در مختار میں زبان سے نیت کرنے کے بارے میں لکھا ہے کہ یہ ہمارے علما کی سنت ہے۔ 
 شامی نے لکھا ہے کہ یہ طریقہ حسنہ ہمارے علما کاہے۔
اس سے بھی پتا چلا کہ ظہورِ تلفظ ،قرون ثلاثہ کے بعد ظاہر ہوا ہے۔
 فقیہ حلبی نے شرح کبیرمنیہ میں اس طرح لکھا ہے کہ یہ ائمہ مجتہدین سے ثابت نہیں۔ اور پھر اس کے بعد لکھا  :
و ہذہ بدعۃ و لکن عدم النقل و کونہ بدعۃ لا ینافي کونہا حسنا۔
 یعنی اس پر نقل نہ ہونے اور اس کے بدعت ہونے سے یہ لازم نہیں آتا کہ یہ نیک نہ ہو۔
 اب دیکھیے کہ علمائے دین اس کو بدعت مان کر بھی اس کے حسن و نیک ہونے کا حکم صادر فرما رہے ہیں اور یہ علما دونوں فریقوں کے نزدیک مسلم الثبوت ہیں۔
فتاویٰ قاضی خان میں ہے  :
فإن قصد و ذکر بلسانہ کان أفضل۔
یعنی دل میں نیت کرنے کے ساتھ ساتھ اگر وہ زبان سے بھی کہ لے تو یہ بڑی اچھی     بات ہے۔ 
ملتقی الابحر میں ہے  :
و ضم التلفظ إلی القصد أفضل۔ (۱)
یعنی زبانی طور پر بھی نیت کر لینا افضل ہے۔
ہدایہ میں ہے  :
و یحسن ذلک لاجتماع العزیمۃ۔ (۲)
یعنی زبان سے بھی نیت کر لینا بہتر ہے تاکہ مکمل قصد و ارادہ پورے طور پر پا لیا جائے۔
ایساہی کافی میں بھی ہے۔
۔۔۔۔
(۱)	مجمع الانہرشرح ملتقی الابحر: ۱؍ ۲۳۲ باب شروط الصلوٰۃ 
(۲)	تبیین الحقائق : ۱؍ ۴۷۷ باب شروط الصلوٰۃ 
۔۔۔۔۔
درر شرح غرر میں ہے  :
و التلفظ بہا مستحب۔ (۱)
یعنی زبان سے کہہ لینا مستحب ہے۔
 یہ وہ کتابیں ہیں جو مذہب حنفی کے علما کے نزدیک نہایت درجہ معتبر ہیں۔ 
اب شافعی مذہب (کے دلائل اس سلسلے میں ) سنناچاہیے۔
علامہ قسطلانی شافعی ’’مواہب لدنیہ‘‘ میں بیان کرتے ہیں  :
و الذي استقر علیہ أصحابنا استحباب النطق بہا۔
یعنی ہمارے اصحاب اس پر متفق ہیں کہ زبان سے نیت کہ لینامستحب ہے۔
غنیۃ الطالبین، حضرت غوث اعظم حنبلی کی تالیف ہے،بیانِ وضو میں وہ لکھتے ہیں  :
ینوي بطہارتہ رفع الحدث و محلہا القلب فإن ذکر ذلک بلسانہ مع اعتقادہ بقلبہ کان قد أتی بالأفضل۔
الحاصل! زبان سے نیت کرنا ایساعمل ہے جو تمام ہندوستان، فارس اور عرب وغیرہ میں جاری ہے۔
علامہ شامی نے لکھا ہے  :
قد استفاض ظہور العمل بہ في کثیر من الأعصار في عامۃ الأمصار۔(۲)
یعنی زبان سے نیت کرنے کا عمل ہر چہار جانب عام ہے۔
براہین قاطعہ گنگوہی کے صفحہ ۴۱پربھی تلفظ بالنیۃ کو مستحسن مان لیا ہے۔عبارت یہ ہے  :
 اور نیت کا لفظ جو بدعت نہ ہوا تو اس کی دلیل جواز کی موجود تھی کہ حج میں تلفظ نسائی کی حدیث میں وارد ہوا ہے  الی آخرہ 
۔۔۔۔۔
(۱)	دررالحکام شرح غرر الاحکام: ۱؍ ۲۸۳ باب شروط الصلوٰۃ ۔۔حاشیہ رد المحتار: ۱؍۸۶۔درمختار: ۱؍ ۲۰۰ کتاب الطہارۃ 
(۲)	رد المحتار: ۳؍ ۲۹۱ مطلب فی ستر العورۃ 
۔۔۔۔۔
اس استدلال کا حال تمام لوگوں کو محفوظ رکھنا کارآمد ہو گا اس لیے کہ حج میں جو تلفظ مامور بہ اور عند الفقہا معمول بہ ہے وہ یہ ہے  :
اللہم إني أرید الحج فیسرہ لي و تقبلہ مني۔ (۱)
یعنی اے اللہ !میں حج کا ارادہ کرتا ہوں تواسے میرے لیے آسان کر دے، اور میری طرف سے اسے قبول فرما۔ 
چنانچہ ہدایہ و وقایہ اور در مختار وغیرہ میں موجود ہے۔ 
پھر بعض علمانے نماز میں بھی تجویز کیا کہ یہ کہا جائے  :
اللّٰہم إني أرید أن أصلي صلوٰۃ کذا  فیسرہا لي و تقبلہا مني۔ (۲)
یعنی اے اللہ !میں فلاں وقت کی نمازپڑھنے کا ارادہ کرتاہوں تواسے میرے لیے آسان کر، اور میری طرف سے اسے قبول فرما۔ 
لیکن جمہور علمانے اس کا رد فرمایا ہے کیوں کہ حج میں موانع اور صعوبتیں پیش آتی ہیں اس لیے اس میں ایسا مستحب ہے۔لیکن نماز میں کیا صعوبت ہے کہ دعا کی جائے : یا اللہ میں نماز کا ارادہ کرتا ہوں اسے میرے لیے سہل کر دے۔ اس بنیاد پر نیت نماز کے لیے ایساکہنا مخدوش رہاجیسا کہ فقیہ شامی نے لکھا ہے بلکہ یہ ٹھہرا کہ کہا جائے  :
نویت فجر الیوم و ظہر الیوم وغیرہ۔
 یعنی میں نے آج کی نماز فجر یا نماز ظہر کی نیت کی۔
اہل اسلام میں جو کثرت سے مشہورومستفیض اور زبان زد خاص و عام ہے وہ یہ ہے جسے علامہ محمد  بن احمد زاہد ملقب بالزین نے ’’ترغیب الصلوٰۃ‘‘ میں لکھا ہے  :
نویت أن أصلي فرض فجر الوقت رکعتین للہ تعالیٰ و توجہت إلی الکعبۃ و اقتدیت بہذا الإمام۔
۔۔۔۔۔
(۱)	الاختیار لتعلیل المختار: ۱؍۱۱۔۔حاشیۃ رد المحتار: ۱؍۴۴۸۔۔درمختار: ۲؍ ۵۳۰۔۔تحفۃ الفقہا:۱؍۱۲۵۔۔المبسوط: ۴؍ ۴۱۹  کتاب المناسک ۔۔بدائع الصنائع: ۲؍ ۲۷۲ فصل فی سنن حکم التکبیر ۔۔تبیین الحقائق:۴؍ ۲۶۱ باب الاحرام  ۔۔العنایہ شرح الہدایہ: ۳؍۴۱۲ باب الاحرام ۔۔الجوہرۃ النیرہ: ۲؍ ۸۲ کتاب الحج ۔۔فتح القدیر: ۵؍ ۶۵ باب الاحرام ۔۔درر شرح غرر: ۳؍ ۴۶ تقدیم الاحرام علی المواقیت ۔۔البحرالرائق: ۶؍ ۳۹۴  استعمال الطیب فی بدنہ  ۔۔مجمع الانہر :۲؍ ۴۰۹  فصل بیان الاحرام ۔۔رد المحتار: ۳؍ ۲۹۲ مطلب فی ستر العورۃ 
(۲)	البحرالرائق: ۳؍۹۴ باب شروط الصلوٰۃ  ۔۔بدائع الصنائع: ۲؍۲۷۲ فصل فی سنن حکم التکبیر ۔۔تحفۃ الفقہا: ۱؍ ۱۲۵۔۔ درمختار: ۲؍۵۳۰۔
۔۔۔۔۔۔
سنتوں کی نیت یوں کرے  :
نویت أن أصلي سنۃ الفجر رکعتین للہ تعالیٰ متابعۃ للرسول و توجہت إلی الکعبۃ۔
چنانچہ ہمارے اضلاع میں بھی اسی کے قریب عمل جاری ہے۔فرض کی نیت میں کہتے ہیں  :
نیت کی میں نے دو رکعت نماز فجر فرض کی،اللہ تعالیٰ کے واسطے،منہ میرا کعبہ شریف کی طرف۔ اور سنتوں میں فرض کی بجائے سنت رسول اللہ کہتے ہیں، اور باقی بدستور۔
 اب دیکھیے کہ قرون ثلاثہ سے نماز میں نہ تو یہ الفاظ اور نہ ان کے سوا اور کچھ الفاظ ثابت ہیں مگر محققین اہل سنت نے اس کو تسلیم کیا۔ اور مولف براہین نے اس طرح تسلیم کیا کہ ان الفاظ کی دلیل شرع میں موجود ہے۔ یعنی حج میں تلفظ پایا گیا۔اب یہاں سے مانعین یہ یاد رکھیں کہ بدعت حسنہ کے جواز کے لیے ایسی دلیل بس ہوا کرتی ہے کہ اگر خاص نماز میں منقول نہیں تو حج میں سہی گو وہ عبادت اور ہے اور یہ اور ۔ اور پھر تلفظ میں بھی مطابقت شرط نہیں کہ حج میں اور ہے اور نماز میں اور ۔پھر کیا وجہ ہے کہ اپنی مانی ہوئی باتوں کے لیے ایسی ایسی دلیلیں تسلیم کریں اور ہم جو اثبات فاتحہ و میلاد شریف میں اس سے بہت اعلیٰ دلائل پیش کریں وہ غیر منظور ہوں۔بجز اس کے کچھ علاج نہیں کہ حق سبحانہ اپنی قدرت کاملہ سے شانِ ہدایت کا جلوہ دکھائے۔
مسئلہ ثانیہ:  آخر چھٹی صدی ہجری میں جو محفل میلاد شریف منعقد ہوئی، اس کو جلیل القدر علما اور اکابرفضلا نے مستحسن سمجھا اور شریک بھی ہوئے۔ اور امام نووی کے استاد حضرت ابو شامہ  رحمۃ اللہ علیہ  نے اس محفل کو نہ صرف پسند کیابلکہ اسے بدعت حسنہ بھی قرار دیا اور مزید یہ فرمایا  :
و من أحسن ما ابتدع فی زماننا ہذا۔۔۔۔ ما یفعل کل عام في الیوم الموافق لیوم مولد النبي  صلی اللہ علیہ وسلم  من الصدقات و المعروف و إظہار الزینۃ و السرور   الی آخرہ (۱)
یعنی ہمارے زمانے کی نو ایجاد چیزوں میں یہ چیز کتنی خوبصورت ہے کہ لوگ ہر سال میلاد النبی  صلی اللہ علیہ وسلم  کے موقع پر صدقات و خیرات اور زینت ومسرت کا مظاہرہ کرتے ہیں۔  
۔۔۔۔
(۱)	سبل الہدیٰ والرشاد: ۱؍ ۳۶۵۔۔سیرت حلبیہ:۱؍۱۲۲۔
۔۔۔۔۔
علامہ ابن حجر ہیتمی رحمۃ اللہ علیہ  نے فرمایا  :
و عمل المولد و اجتماع الناس لہ کذلک أی بدعۃ حسنۃ  کذا فی السیرۃ الحلبیۃ (۱)
یعنی میلاد النبی منانا اور اس کے لیے لوگوں کا ایک جگہ اکٹھا ہونا سب کا سب بدعت حسنہ ہے۔ سیرت حلبیہ میں یوں ہی رقم ہے۔ 
مسئلہ ثالثہ:  آٹھویں صدی کے آخر میں اذان کے بعد جو سلام کا رواج پڑا تو اس کی بابت در مختار میں ہے  :
التسلیم بعد الأذان حدث في ربیع الآخر سنۃ سبع مائۃ و إحدی و ثمانین۔۔۔۔۔۔ و ہو بدعۃ حسنۃ۔ (۲)
یعنی اذان کے بعد سرکار دو عالم  صلی اللہ علیہ وسلم  پر سلام پڑھنے کی بدعت(ربیع الآخر)   ۷۸۱ھ (1379ء) میں ایجاد ہوئی، اور یہ بدعت حسنہ ہے۔
درمختار کے شارح امام شامی  رحمۃ اللہ علیہ  نے بھی اسے تسلیم کیا اور مزید کنز الدقائق کی شرح، نہر الفائق اور قول بدیع سے نقل فرمایا ہے  : 
و الصواب(من الأقوال) أنہا بدعۃ حسنۃ۔ (۳)
یعنی سچی بات یہی ہے کہ اذان کے بعد سلام بدعت حسنہ ہے۔ 
آپ دیکھیں کہ آٹھویں صدی تو قرونِ ثلاثہ کے بہت بعد ہے، اس صدی میں پیدا شدہ نئی چیزوں کو بھی فقہا نے بدعت حسنہ قرار دیا ہے۔ اب فقہا کے ا ن اقوال کو امام شافعی کے قول کی روشنی میں دیکھنا چاہیے،ان سب علما نے بدعت کو حسنہ اور سیئہ کے دو خانوں میں تقسیم کیا ہے، اور بدعت حسنہ کو خواہ وہ قرونِ ثلاثہ یا ان کے بعد ایجاد ہوئی ہومستحب اور حسن مانا ہے، تو گویا مولوی اسحق صاحب کے فرمانے کے مطابق ان سب فقہا کے نزدیک بدعت حسنہ کی ایجاد تا قیام قیامت ثابت ہوئی کیوں کہ وہ کہتے ہیں  :
غیرمحدود است عند القائل بہ تقسیم ہا۔
یعنی قائل کے نزدیک اس کی تقسیم کسی زمانے تک محدود نہیں۔
۔۔۔۔۔۔
(۱)	سیرت حلبیہ:۱؍۱۲۲۔
(۲)	در مختار: ۱؍۴۲۰۔
(۳)	رد محتار:۳؍۲۰۳۔
۔۔۔۔۔۔
 اور (دور کیوں جائیے )خود مولوی اسحق اور مولوی اسماعیل صاحبان کے بزرگ بھی بدعت کی تقسیم کے قائل ہیں۔(یہ دیکھیں ) شاہ عبد العزیز دہلوی رحمۃ اللہ علیہ سوالات عشرۂ محرم کے سوال اول کے جواب میں لکھتے ہیں  : 
ساختن ضرائح و صورت قبور و علَم وغیرہ ایں ہمہ بدعت ست وظاہر است کہ ایں بدعت حسنہ کہ دراں ماخوذ نباشد نیست بلکہ بدعت سیئہ است وحالِ بدعت سیئہ ایں است کہ درحدیث شریف واردست:  شرالأمور محدثاتہا و کل بدعۃ ضلالۃ۔
یعنی تعزیہ اور پرچم و قبور کے نقشے وغیرہ بنانا بدعت ہے، اور ظاہر بات ہے کہ یہ بدعت حسنہ نہیں کہ جس میں مواخذہ نہ ہو بلکہ یہ بدعت سیئہ ہے اور بدعت سیئہ کے سلسلے میں حدیث شریف میں آیا ہے:  شر الأمور محدثاتہا و کل بدعۃ ضلالۃ  یعنی دین میں نئی چیزوں کی ایجاد برا کام ہے،کیوں کہ ہر نئی چیز گمراہی ہے۔ 
شاہ صاحب موصوف نے ’’تحفہ اثناعشریہ ‘‘میں بھی بدعت حسنہ کا ثبوت پیش کیا ہے  جسے مطبوعہ مطبع حسینی دہلی کے صفحہ ۵۹۷پر دیکھا جا سکتا ہے  اور تفسیر عزیزی پارۂ الم  مطبوعہ مطبع ولی محمد  لکھنوی  کے صفحہ ۲۱۲ میں قرآن شریف کی بیع کو بدعت حسنہ قرار دیا ہے۔ اب تیرہویں صدی میں مولوی اسماعیل صاحب کہ جنھوں نے ’’تذکیر الاخوان‘‘ میں یہ کلام کیا تھا کہ  :
جو کوئی دین کے عقیدے اور عبادت اور رسم میں وقت یا جگہ یا وضع یا ہیئت، گنتی، قید اپنی طرف سے مقرر کرے سو وہ بدعت اور باطل اور مردود ہے۔
اللہ کا شکر کہ یہ قاعدہ ایجاد کر کے آخر کار خود اس سے مخالفت کی راہ اختیار کر لی،اس کا ثبوت ’’صراطِ مستقیم‘‘ میں لکھی ان کی یہ عبارت ہے  :
 اشغال مناسبہ ہر وقت و ریاضت ملائمہ ہر قرن جداجدا می باشد لہٰذامحققان ہر وقت از اکابر ہر طریق در تجدید اشغال کوشش ہا کردہ اندبنائً علیہ مصلحت دید وقت چناں اقتضا کرد کہ یک باب ازیں کتاب برائے بیان اشغال جدیدہ کہ مناسب ایں وقت ست تعین کردہ شود۔
یعنی ہر وقت اور ہر دور کے اشغال و ریاضت الگ الگ ہوتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ ہر دور کے محقق اکابرین نے اشغال و وظائف کی تجدید میں کوششیں کی ہیں۔اس بنیاد پر وقت و مصلحت کا تقاضا یہ ہوا کہ اس کتاب کے ایک باب کو وقت کی مناسبت کے مطابق خاص اشغال جدیدہ کے لیے متعین کر دیا جائے۔
اس عبارت میں قرونِ ثلاثہ کی کوئی قید نہیں لگائی بلکہ ہر صدی میں اشغال کی ایجاد اور مشائخ کے تعینات کو مسلم رکھا اپنی تیرہویں صدی کے واسطے ایک باب میں بذات خود کچھ نئے اشغال لکھے۔ اس باب میں دیکھیں کہ ذکر اللہ اور عبادت الٰہی میں کیا کچھ وقت،ہیئت و کیفیت اور عدد کی قیدیں ہیں۔ اور ’’صراط مستقیم‘‘ کے آخر ورق میں بھی لکھا ہے  :
 تجدید اشغالے کہ ایں کتاب محتوی براں است فرمودند۔
یعنی مرشد صاحب نے نئے نئے اشغال نکالے اور ظاہرہے کہ تجدید میں احداث ہے،لہٰذا معلوم ہوا کہ انجام کار ان کو بھی یہی بات حق ودرست لگی کہ ’’ایجاد بدعت حسنہ الی یوم القیامہ جائزاست‘‘۔خیر!  اللہ تعالیٰ ان کی تقلیدکرنے والوں کو بھی ہدایت نصیب فرمائے۔
 اب اہل سنت وجماعت خوب غوروفکر سے ملاحظہ فرمائیں کہ یہ جو فتویٰ انکاری کے مفتیوں نے میلاد شریف اور مردوں کی فاتحہ کو جمعرات اور عیدین وغیرہ میں ممنوع لکھا تھا، اس کی بنیاد اسی ایک دلیل پر تھی کہ جو کام قرونِ ثلاثہ کے بعد ہوتا ہے وہ بدعت سیئہ ہوتا ہے اور ہم اس دلیل کا ضعف اور ہلکاپن آپ کو بتاچکے، اور جب ارباب تحقیق واصحاب تدقیق کے اقوال کی روشنی میں ان کی دلیل گھٹنے ٹیک گئی تو یقینا اب ان کے فتویٰ کی شکست فاش ہو گئی، اور وہ جملہ امور آج بھی یوں ہی مستحسن ومباح رہے جس طرح پہلے تھے۔لہٰذا مذہب صحیح اور مشرب اہل تنقیح یہی ہے جسے علامہ حلبی نے ’’انسان العیون ‘‘کی جلد اول میں لکھا ہے  :
و قد قال ابن الحجر الہیثمی ان البدعۃ الحسنۃ متفق علی ندبہا۔ (۱)
یعنی حافظ ابن حجر ہیثمی نے فرمایا کہ بدعت حسنہ کے مندوب ومستحب ہونے پر اتفاق کیا گیا ہے۔
۔۔۔۔۔
(۱)	انسان العیون فی سیرۃ الامین المامون:۱؍۱۲۲۔
۔۔۔۔۔
یعنی محققینِ فقہا و محدثین ،بدعت حسنہ کو بالاتفاق اور بالاجماع جائزودرست قرار دیتے، اور اسی کی طرف رغبت دلاتے ہیں۔ لہٰذا فتوی انکاری کے اندر مندرجہ جملہ امور یعنی میلاد شریف،عیدین،جمعرات اور مردوں وغیرہ کی فاتحہ ،فرقۂ ناجیہ اہل سنت و جماعت کے محققین کے اجماع و اتفاق سے مستحسن ودرست ٹھہرے نہ کہ برے۔ اور مخالفین و مانعین جو اپنی سخن پروری کی وجہ سے انکار کیے جاتے ہیں تو ان کے انکار سے کوئی حرج و فرق نہیں پڑنے والا۔
حضرت ابو شکور رحمۃ اللہ علیہ ’’ تمہید ‘‘میں فرماتے ہیں  :
و اما خلاف الذین خالفوا لغرضہم لا یعد خلافا۔
یعنی جو لوگ اپنے مقصد کی برآری کے لیے کوئی اختلاف کرتے ہیں تو ان کے اختلاف کا کوئی اعتبار نہیں ہوتا۔
لہٰذا جو اپنی کسی غرض کے تحت (ان کے جواز کا)قول نہیں کرتے،تو ان کے اختلاف کر دینے کی وجہ سے ہمارے مستحسن و جائز امور میں کوئی قباحت کیوں آنے لگے : رَبَّنَا افْتَحْ بَیْنَنَا وَ بَیْنَ قَوْمِنَا بِالْحَقِّ وَ أنْتَ خَیْرُ الْفَاتِحِیْنَ۔ (۱)
اے ہمارے رب ! ہم میں اور ہماری قوم میں حق فیصلہ کر، اور تیرا فیصلہ سب سے بہتر ہے۔
۔۔۔۔
(۱)	سورۃ الاعراف،۷؍۸۹۔
۔۔۔۔۔۔



نور دوم

نور دوم میں چھ لمعے ہیں
لمعہ اولیٰ کھانے اور شیرینی پر فاتحہ کا جواز 

جو عبادت ، انسان کی زبان یا جوارح و ارکان سے صادر ہو اس کو عبادتِ بدنی کہتے ہیں۔ جیسے قرآن یا تسبیح و تہلیل وغیرہ پڑھنا۔
جس عبادت میں مالیت صرف ہو اس کو عبادتِ مالی کہتے ہیں جیسے روٹی گوشت، اور روپیہ پیسہ وغیرہ راہِ خدا میں خرچ کرنا۔
اہل سنت و جماعت کا مذہب ہے کہ ان دونوں قسم کی عبادتوں کا ثواب اگر کسی کو بخشا جائے تو وہ اس تک پہنچتا ہے۔ علم فقہ کی حد درجہ معتبر اور مشہور کتاب ’’ہدایہ‘‘ میں ہے  :
إن الإنسان لہ أن یجعل ثواب عملہ لغیرہ صلوٰۃ أو صوما أو صدقۃ أو غیرہا عند أہل السنۃ و الجماعۃ۔ (۱)
یعنی اہل سنت و جماعت کے نزدیک کارِ خیر مثلاً نماز و روزہ اور صدقہ وغیرہ کا ایصال ثواب جائز ہے۔
۔۔۔۔۔
(۱)  عنایہ شرح ہدایہ: ۴؍۲۶۸۔۔حاشیۃ رد المحتار:۲؍۲۶۳۔۔تبیین الحقائق:۵؍۱۳۱۔۔فتح القدیر:۶؍۱۳۱۔۔البحر الرائق: ۷؍۳۷۹۔۔رد المحتار:۶؍۴۰۴۔
۔۔۔۔۔۔۔
عقائد کی مشہورومستند درسی کتاب شرح عقائد نسفی میں ہے  :
و في دعاء الأحیاء للأموات و صدقتہم عنہم نفع لہم خلافا للمعتزلۃ۔(۱)
یعنی زندوں کا مردوں کے لیے دعا اور ان کی طرف سے صدقہ کرنا ان کے لیے نفع بخش  ہے۔ مگر معتزلی ایسا نہیں مانتے۔
۔۔۔۔
(۱)	شرح عقائدنسفیہ: ۱۶۵۔
۔۔۔۔۔۔
یہ مسئلہ حدیثوں سے بھی ثابت ہے۔’’ تذکرۃ الموتیٰ‘‘ میں قاضی ثناء اللہ  رحمہ اللہ  ان حدیثوں کو نقل کر کے فرماتے ہیں  :
لہٰذا جمہور فقہا حکم کردہ اند کہ ثواب ہر عبادت بہ میت می رسد۔
یعنی ان حدیثوں کی روشنی میں فقہائے کرام نے یہ حکم دیا ہے کہ ہر عبادت کا ثواب مردوں کو پہنچتا ہے۔ حضرت ملا علی قاری ’’شرح فقہ اکبر‘‘ میں عبادتِ بدنیہ کے سلسلہ میں لکھتے ہیں  :
فذہب أبو حنیفۃ و أحمد و جمہور السلف إلی وصولہا  إلی آخرہ 
یعنی امام اعظم ابوحنیفہ،امام احمد بن حنبل اور جماہیر امت نے ایصال ثواب کو جائز قرار دیا ہے۔
لہٰذا اسی بنیاد پر اہل اسلام کی یہ عادت ہے کہ جب کسی میت کے نام سے کچھ کھانا یا شیرینی دینا چاہتے ہیں تو الحمد شریف اور درود پاک پڑھ کر اس میت کے لیے دعا کرتے ہیں اور اللہ سے درخواست کرتے ہیں کہ جو کچھ ہم نے پڑھا اور جو کچھ خیرات دی گئی ہے اس کا ثواب فلاں میت کو پہنچے، عوام میں اسی کا نام فاتحہ ہے۔وہ(روزمرہ) یوں کہا کرتے ہیں کہ آج فلاں میت یا فلاں بزرگ کی فاتحہ ہے۔ 
دراصل فاتحہ، الحمد شریف کا نام ہے اور چوں کہ الحمد شریف کی اس وقت تلاوت ہوتی ہے اس لیے اس پورے عمل کا نام ’’فاتحہ ‘‘قرار پایا۔(اسی کو کہتے ہیں )   تسمیۃ الکل باسم الجزء۔ یعنی کسی خاص جز کی مناسبت سے پورے کا وہی نام دے دیا جائے۔ اور منکرین نے اس کا نام فاتحہ مرسومہ رکھا ہے۔
اب آپ دیکھیں کہ اس فاتحہ کے اندر جو کچھ دعا و درود اور الحمد شریف پڑھی گئی وہ عبادت بدنیہ ہے جو کہ ثابت الاصل ہے،یوں ہی جو کچھ کھانا یا شیرینی اس وقت دی گئی یا دی جائے گی وہ عبادت مالیہ ہے اور یہ بھی حدیث و فقہ اور عقائد سے ثابت ہے، اور انھیں دونوں عبادتوں کا ثواب میت کو پہنچایا جاتا ہے۔ پھر منکرین کے اس انکار کا کیا معنی کہ اس کی کچھ اصل نہیں۔
اگر یہ کہا جائے کہ عبادت بدنیہ اور عبادت مالیہ جدا جدا کر دیا جائے کیوں کہ دونوں کا جمع کرنا ثابت نہیں تو یہ وہی مثال ٹھہرے گی کہ جب کوئی مفتی شریعت حکم دے کہ بریانی کھانا جائز ہے اس لیے کہ اس میں گوشت ہے اور گوشت حلال چیز ہے، برنج ہے وہ بھی حلال، اور زعفرانی رنگ ہے وہ بھی حلال ہے تو ان مباحات کا مجموعہ مباح ہے۔
 اب اس کے جواب میں کوئی بے ہودہ سرپھوڑنے کو تیار ہو جائے کہ صاحب !یہ سب جدا جدا تو بے شک ثابت ہیں لیکن ہم تو جب مانیں کہ اس مجموعہ کا ذکر،قرآن یا حدیث میں دکھاؤ،یہ حرف کہاں لکھا ہوا ہے کہ بریانی کھانادرست ہے۔تو جس طرح اس بے ہودہ کو اہل خرد،عقل کا یتیم اور ہنسے جانے کے قابل سمجھیں گے بالکل یہی معاملہ ان صاحبوں کی اس بات کا بھی ہے۔
علاوہ بریں جس طرح یہ لوگ صریح روایت کے وجود پر اثبات جمع کو موقوف رکھتے ہیں یوں ہی منع کو بھی وجودِ روایت پر موقوف رکھنا چاہیے،یعنی اگر عبادت مالیہ اور عبادت بدنیہ جمع کرنے کی ممانعت میں کوئی حدیث یا آیت وارد ہوئی ہو تو منع کریں ورنہ ان کو خاموش رہنا چاہیے۔ حالاں کہ ہم دعوے سے یہ کہ سکتے ہیں کہ جمع بین العبادتین (دو عبادتوں کو اکٹھا کرنے )کی ممانعت کے سلسلہ میں کوئی حدیث یا آیت نہیں آئی ہے اور اگر ہے تو انھیں پیش کرنا چاہیے۔  ہاتوا برہانکم إن کنتم صادقین۔
ہم جمع بین العبادتین کے لیے عقلی اور نقلی قاعدے از روئے شرع دکھا دیں گے۔ ایک تو یہی کہ جب ممانعت ثابت نہیں تو(اشیا میں )اصل اباحت ہے۔ دوسرے یہ کہ ایک بندے کی سعادت یہ ہے کہ وہ اپنے معبود کی عبادت میں لگا رہے۔
 وَ مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَ الانْسَ اِلَّا لِیَعْبُدوْنِ۔ (۱)
 اور میں نے جن اور آدمی اتنے ہی لیے بنائے کہ میری عبادت کریں۔
۔۔۔۔
(۱)	سورۂ الذاریات،۵۱؍ ۵۶۔
۔۔۔۔۔۔
 بعض عبادتیں زبان سے ہوتی ہیں،بعض بدن کے دوسرے حصوں سے اور بعض مال سے۔ (ظاہر ہے) جو کوئی ہرقسم کی عبادت کرے گا وہ صرف ایک عبادت کرنے والے کے مقابلے میں ضرور افضل ہو گا۔
معراج کی شب رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے جناب باری میں ان الفاظ سے تحفہ گزارا:
التحیات للّٰہ و الصلوات و الطیبات۔

مفسرین اور محدثین نے اس کے معنی یہ لکھے ہیں :تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جو زبان سے ادا ہوں اور بدنی و مالی عبادتیں بھی۔ تو جب تینوں قسم کی عبادتیں اللہ کے لیے خاص ہوئیں تو اس شخص کے نصیبہ کا کیا کہنا جو اِن تینوں کو ادا کرے۔ اور فاتحہ مرسومہ میں یہ باتیں حاصل ہیں۔ الحمد للّٰہ ربِّ العٰلمین، الرحمٰن الرحیم، مٰلک یوم الدین کہنے سے حمد و ثنا اور شکر الٰہی زبانی طور پر ادا ہوتی ہے۔ اور  اہدنا الصراط المستقیم سے لے کر اخیر تک یہ دعا ہوئی۔ نیز درود پڑھنا،عاجز و ذلیل بن کر اپنے رب تعالیٰ کے سامنے ہاتھ اُٹھانا اور مردوں کے لیے دعائے مغفرت کرنا یہ بھی عبادت بدنی اور لسانی ہوئی، اور شیرینی یا کھانا اللہ کے نام پر دینا عبادت مالی ہوئی۔ تو نمازی جو پانچوں وقت اپنی نماز میں :  التحیات للّٰہ و الصلوات و الطیبات کہتا ہے ،اس کا مجموعہ فاتحہ میں موجود ہے۔ تو زہے قسمت اس میت کی جس کو یہ ’عطر مجموعہ‘  پہنچے۔
تیسرے یہ کہ ’’نصاب الاحتساب ‘‘ کے پندرہویں باب میں ’’ التجنیس والمزید‘‘ مولفہ امام برہان الدین مرغینانی صاحب ہدایہ سے نقل کیا ہے  :
روي أن علیا  رضي اللہ عنہ  تصدق بخاتم و ہو في الرکوع فمدحہ اللّٰہ تعالیٰ بقولہ یؤتون الزکوٰۃ و ہم راکعون۔
یہ روایت تفسیر معالم التنزیل،مدارک، بیضاوی اور رازی وغیرہ میں بھی وارد ہے۔لکھتے ہیں کہ ظہر کے وقت مسجدنبوی کے اندر ایک آدمی نے سوال کیا،جب اس کو کچھ نہ ملاتواس نے آسمان کی طرف ہاتھ اُٹھا کر کہا :اے اللہ! تو گواہ رہنا کہ میں نے مسجدالنبی صلی اللہ علیہ وسلم  میں سوال کیا اور کسی نے کچھ بھی نہ دیا۔حضرت علی  کرم اللہ وجہ  حالت رکوع میں تھے،آپ نے اپنے داہنے ہاتھ کی خنصر انگلی جس میں انگوٹھی تھی سائل کی طرف کر دی،اس نے جناب نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم  کے سامنے ،آگے بڑھ کر علی  کرم اللہ وجہ  کی انگشت سے انگوٹھی نکال لی  انتہیٰ 
اب دیکھیے،صدقہ ایک مالی عبادت ہے اور نماز بدنی عبادت۔ اور صاحب ہدایہ کی عبارت تجنیس کے حوالے سے گزر چکی کہ اللہ تعالیٰ نے اس جمع بین العبادتین کرنے پرسورۂ مائدہ میں تعریف فرمائی ہے۔ اور کنزالدقائق کے مصنف، امام ابو البرکات نسفی رحمہ اللہ جو پایے کے حنفی عالموں میں سے ہیں اپنی تفسیر مدارک میں اس مقام پر فرماتے ہیں کہ یہاں فعل توا یک کاہے مگر صیغہ جمع کیوں فرمایا گیا؟ تو جواب دیا کہ اس میں تمام لوگوں کو رغبت دلائی گئی ہے کہ یہ ثواب کچھ ایک کے لیے خاص نہیں جو کوئی بھی اس قسم کا کام کرے گا اسے ایساہی ثواب ملے گا۔عبارت یہ ہے  :
و ورد  بلفظ الجمع و إن کان السبب واحدا ترغیبا للناس في مثل فعلہ لینالوا مثل ثوابہ۔ (۱)
 یہی مضمون علامہ قاضی بیضاوی شافعی نے بھی لکھا ہے۔ اور مدارک میں یوں ہے  :
و الآیۃ تدل علی جواز الصدقۃ في الصلوٰۃ۔ (۲)
یعنی اس آیت سے معلوم ہوا کہ حالت نماز میں صدقہ دینا جائز ہے۔
اس بنیاد پر عبادت مالی اور بدنی کا جمع کرنا نص قرآنی سے جائز بلکہ قابل مدح و ثنا ہے۔ حالاں کہ نماز ایک ایسی بدنی عبادت ہے کہ اس میں حرکت اجنبی سے جو متعلق نماز نہ ہو،بچنا چاہیے تو جب نماز میں حرکت کے باوجود، جمع بین العبادتین جائز ہوا تو خارج نماز جو حرمت صلوٰۃ بھی مرد مکلف کے ذمہ نہیں  بدرجہ اولیٰ جائز ہو گا۔ باقی رہا یہ اختلاف کہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ آیت حضرت علی  کرم اللہ وجہ  کی شان میں ہے،بعض کہتے ہیں کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ   کے لیے اور بعضوں کے اس سلسلہ میں اور بھی اقوال ہیں یہ ہم کو مضر نہیں جب نص قرآنی میں : و یُؤتُونَ الزَّکوٰۃَ وَ ہُمْ رَاکِعُوْنَآ گیا۔
قال أبوالبرکات النسفي  رحمہ اللہ  الواو للحال ای یؤتونہا في حال رکوعہم۔ (۳) 
۔۔۔۔۔
(۱)	تفسیر نسفی: ۱؍ ۲۹۴۔
(۲)	تفسیر نسفی: ۱؍ ۲۹۴۔
(۳)	تفسیرنسفی: ۱؍ ۲۹۴۔
۔۔۔۔۔۔
یعنی حضرت ابوالبرکات نسفی  علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ یہاں پر واو حالیہ ہے اور مطلب یہ ہو گا کہ وہ حالت رکوع میں دیا کرتے ہیں۔
تو آیت کا مورد  جو بھی ہو جمع بین العبادتین آیت سے ثابت ہے لیکن یہ جمع اس طرح ہے کہ اصل عبادت بدنی کرنا تھا اس میں مالی عبادت بھی عمل میں لایا ہم اس کی سند دیں کہ عبادت مالی کرنے میں بدنی عبادت بھی کی گئی ہے۔ 
محدث دارمی نے ’’کتاب الاضاحی‘‘ میں حضرت جابر بن عبد اللہ سے روایت کی ہے کہ نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم  نے دو مینڈھے قربانی کیے جب ان کو ذبح کے لیے قبلہ رو لٹایا آپ نے یوں پڑھا  :
إنِّیْ وَجَّہْتُ وَجْہِيَ لِلَّذِيْ فَطَرَ السَّمٰوَاتِ وَ الأرْضَ حَنِیْفاً وَّ مَا أنَا مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ إنَّ صَلاَتِيْ وَ نُسُکِيْ وَ مَحْیَايَ وَ مَمَاتِيْ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ لاَ شَرِیْکَ لَہٗ وَ بِذٰلِکَ أمِرْتُ وَ أنَا أوَّلُ الْمُسْلِمِیْنَ اللّٰہُمَّ إنَّ ہٰذَا مِنْکَ وَ لَکَ عَنْ مُحَمَّدٍ وَّ أمَّتِہٖ ثُمَّ سَمَّی اللّٰہَ  وَ کَبَّرَ وَ ذَبَحَ۔ (۱)
یعنی پہلے حضور  صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ آیتیں پڑھیں پھر فرمایا: اے اللہ! یہ قربانی تیرے فضل و کرم سے اور تیری ہی رضامندی کے لیے محمد  اور اس کی امت کی طرف سے ہے۔پھر آپ نے بسم اللہ اللہ اکبر پڑھ کر اس کو ذبح فرمایا۔ 
مسلم شریف کی حدیث میں ایک دوسری قربانی کے موقع پر آپ سے یوں دعا مانگنا بھی آیا ہے  :  
اللّٰہُمَّ تَقَبَّلْ مِنْ مُحَمَّدٍ وَّ اٰلِ مُحَمَّدٍ وَّ مِنْ أمَّۃِ مُحْمَّدٍ۔ (۲)
یعنی اے اللہ محمد ،آل محمد  اور امت محمد یہ کی جانب سے اسے قبول فرما۔
۔۔۔۔۔
(۱)	سنن ابوداؤد: ۷؍ ۴۵۸حدیث: ۲۴۱۳۔۔ سنن ابن ماجہ: ۹؍ ۲۷۳حدیث: ۳۱۱۲۔۔مشکوٰۃ المصابیح: ۱؍ ۳۲۸حدیث: ۱۴۶۱۔۔ مسند احمد۳۰؍ ۴۰حدیث: ۱۴۴۹۱۔۔ سنن کبریٰ بیہقی: ۹؍ ۲۸۵۔۔ مستدرک حاکم: ۴؍ ۲۶۱۔۔ شعب الایمان : ۱۵؍ ۳۸۸حدیث: ۷۰۸۹۔۔ سنن دارمی : ۶؍ ۷۴ حدیث: ۱۹۹۸۔۔ صحیح ابن خزیمہ: ۱۰؍ ۳۲۹حدیث: ۲۶۸۰۔۔ معرفۃ السنن و الآثار: ۱۵؍ ۱۷۰حدیث: ۵۸۷۵۔۔ الدعاء طبرانی: ۳؍ ۳۰حدیث: ۸۷۵۔۔ الدعوات الکبیر بیہقی: ۲؍ ۳۸حدیث: ۴۵۱۔۔ سنن صغیر بیہقی: ۴؍ ۱۹۹حدیث: ۱۴۲۵۔۔ نصب الرایہ فی تخریج احادیث الہدایہ: ۵؍ ۴۳۲ باب الحج عن الغیر ۔۔مسند جامع: ۹؍ ۶۲حدیث: ۲۷۳۵۔
(۲)	صحیح مسلم :۱۰؍۱۴۹حدیث: ۳۶۳۷۔۔سنن ابوداؤد: ۷؍۴۵۵حدیث: ۲۴۱۰۔۔مسنداحمد بن حنبل: ۵۰؍۷حدیث: ۲۳۳۵۱۔۔مصنف ابن ابی شیبہ: ۵۰؍۷حدیث: ۲۳۳۵۱۔۔سنن بیہقی: ۹؍۲۶۷۔۔مستخرج ابوعوانہ، ۱۵؍۲۳۶ حدیث: ۶۲۹۳۔۔صحیح ابن حبان: ۲۴؍۳۶۹حدیث: ۶۰۱۴۔۔معرفۃ السنن والآثار بیہقی: ۱۵؍ ۱۳۸حدیث: ۵۸۴۹۔۔ سنن صغیربیہقی: ۴؍ ۱۹۷۔
۔۔۔۔۔
لفظ  أول المسلمین کی جگہ من المسلمین کی بھی روایت ہے۔ نیز لفظ حنیفا سے پہلے علی ملۃ إبراہیم بھی مروی ہے۔ اور جس طرح احادیث میں آیا ہے یوں ہی آیتوں کا پڑھنا فقہائے کرام نے باب اضحیہ میں لکھا ہے۔ اور محمد  بن احمد زاہد نے مزید یہ بھی لکھا ہے  :
اللّٰہُمَّ تَقَبَّلْ مِنِّي ہٰذِہِ الأضْحِیَّۃَ فَاجْعَلْہَا قُرْبَاناً لِوَجْہِکَ الکَرِیْمِ خَالِصاً وَ عَظِّمْ أجْرِيْ عَلَیْہَا۔
یعنی اے اللہ! خالص اپنی رضا  کے لیے اس قربانی کو میری طرف سے قبول فرما اور میرے اجر و ثواب کو بڑھا۔ 
 کیا نہیں دیکھتے کہ اہل اسلام میں عقیقہ کے وقت یہ دعا پڑھنا شائع و ذائع ہے  :
اللّٰہُمَّ ہٰذِہٖ عَقِیْقَۃُ ابْنِيْ فَلاَن دَمُہَا بِدَمِہٖ وَ لَحْمُہَا بِلَحْمِہٖ وَ عَظْمُہَا بِعَظْمِہٖ وَ جِلْدُہَا بِجِلْدِہٖ وَ شَعْرُہَا بِشَعْرِہٖ اللّٰہُمَّ اجْعَلْہَا فِدَائً لِابْنِيْ مِنَ النَّارِ۔
اس کے بعد وہی آیت مذکورہ  إني وجہت وجہي تا  من المسلمین  پڑھ کر کہتے ہیں  :
اللّٰہُمَّ مِنْکَ وَ لَکَ بِسْمِ اللّٰہِ اللّٰہُ أکْبَرُ۔
اسے غور سے دیکھیں، یہ کیا ہے؟ آخر اسی عبادت بدنیہ اور مالیہ کا اجتماع ہی توہے۔ اور جمع بین العبادتین منع کیوں کر ہو!۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے  :
فَاسْتَبِقُوا الْخَیْرَاتِ۔ (۱)
تو نیکیوں میں سبقت کرو۔
تفسیر روح البیان میں ہے  :
و المراد جمیع أنواع الخیرات۔ (۲)
یعنی ’’خیرات ‘‘سے ہرقسم کی نیکیاں مراد ہیں۔
۔۔۔۔
(۱)	البقرہ،۲:۱۴۸ المائدہ، ۵: ۴۸۔
(۲)	تفسیر روح البیان: ۱؍ ۲۵۴لبنان۔
۔۔۔۔۔
کچھ ایسا ہی تفسیر عزیزی میں بھی ہے۔ تو معلوم ہوا کہ ہرقسم کی بدنی و مالی خیرات و عبادات جس سے جتنی بن پڑیں کرے کہ شرع نے اس کا حکم دیا ہے۔ اور شاہ عبد القادر صاحب نے اس آیت کے فائدہ کے تحت لکھا ہے  :
بہتری اُسی کو ہے جو نیکیوں میں زیادہ ہو۔
 اور ظاہر بات ہے کہ دوقسم کی عبادت کرنے والے ایک قسم کی عبادت کرنے والے سے (یقیناً) افضل ہوں گے۔تو جمع بین العبادتین کرنے کے نتائج و دلائل یہ ہیں۔اب اگر کسی نے ان سب کو ترک کر دیا اور بدعت کہہ کر چھوڑ دیا جیسے کہ یہ منکرین چھوڑے بیٹھے ہیں تو ان پر عوام الناس کی وہی مشہور مثل صادق آئے گی۔ ’’مر گئے مردود فاتحہ نہ درود‘‘۔
صاحب’’ سیف السنہ ‘‘کا صفحہ۶کے اندر، ردِ فاتحہ کی دلیل میں یہ بات پیش کرنا کہ حضور  صلی اللہ علیہ وسلم  سے کھانے میں سوائے بسم اللہ پڑھنے کے اور کوئی چیز ثابت نہیں ،بالکل ہی بے محل ہے، اس لیے کہ یہ بسم اللہ تو کھانا شروع کرنے سے پہلے اہل فاتحہ بھی پڑھتے ہیں۔ کلام اس میں ہے کہ کھاناسامنے رکھا ہوا موجود ہو اور پھر انسان کچھ پڑھے،یہ ثابت ہے یا نہیں۔ تو ہمارا دعویٰ ہے کہ یہ ثابت ہے،( اور اس سلسلہ کی)چندح دیثیں مشکوٰۃ شریف کے باب المعجزات میں موجود ہیں۔
ان میں سے مسلم و بخاری سے مروی ام سلیم کی وہ حدیث بھی موجود ہے کہ حضور  صلی اللہ علیہ وسلم  کے فاقہ کا حال معلوم کر کے انھوں نے جو کی چندروٹیاں پکا کر دوپٹہ کے پلہ میں باندھ دیں   لمبا قصہ ہے یہ آخر کار یہ کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم  نے ان روٹیوں کو ملیدہ کی طرح توڑوایا اور برتن میں جو کچھ گھی لگا ہوا تھا اس میں ٹپکا دیا۔پھر حضور  صلی اللہ علیہ وسلم  نے اس پر دعا کے کچھ الفاظ پڑھے، اور دس دس آدمیوں کو بلا کر کھلانا شروع کیا،اَسّی آدمیوں کو پیٹ بھر بھر کر کھلا دیا، پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم  اور ام سلیم کے جملہ اہل خانہ نے کھایا اور پھر بھی بچ رہا۔تو دیکھیے اس میں کھاناسامنے ہے اور اس پر دعا یا  جو کچھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم   نے چاہا اس کا پڑھنا بھی ہے۔
انھیں میں سے بخاری ومسلم کے حوالے سے حضرت انس کی وہ حدیث،جس میں آپ فرماتے ہیں کہ میری والدہ نے ایک بادیہ(کٹورے) میں کھجور،گھی اور اقط کی ترکیب سے بنا ہوا کھانا بھیجا۔
’اقط‘ ایک ترش شے سی ہوتی ہے یا ٹپکائی ہوئی چھاچھ کو خشک کر لیتے ہیں،عربی میں یہی اقط کہلاتی ہے۔ جیسے دودھ کو پنیر مایہ سے جما کر پنیر بناتے ہیں اور عربی میں اسے جُبن کہتے ہیں۔
الحاصل جب اس طرح کی دہی،کھجور اور گھی کا (بنا ہوا)کھانا آپ کے سامنے آیا تو آپ نے اس پر کچھ پڑھا جو کچھ اللہ کو منظور تھا،پھر آپ دس دس آدمی کو بلاتے گئے اور کھلاتے گئے، قریباً تین سو آدمیوں کو فارغ کر دیا اور مجھ سے فرمایا اے انس! اٹھا لے،تو جب میں نے اپنا بادیہ اٹھایا تو حیرت میں رہ گیا کہ جب میں لایا تھا اس وقت اس میں زیادہ کھانا تھا یا اب پہلے سے زیادہ ہے۔ 
انھیں میں سے غزوۂ تبوک کی وہ حدیث بروایت مسلم، مشکوٰۃ شریف میں موجود ہے کہ جب لوگوں کو بھوک لگی،تو حضرت عمر نے رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  سے دعا کرانی چاہی۔آپ نے دسترخوان بچھوایا اور فرمایا کہ جو کچھ جس کے پاس کھانا بچا ہوا ہے ،لے آؤ،تو کسی نے مٹھی جوار، کسی نے مٹھی کھجور، اور کسی نے روٹی کا ٹکڑا یعنی جو جس کے پاس تھالا کر ڈال دیا، اور نہایت معمولی سا ذخیرہ جمع ہوا،پھر آپ نے اس پر دعا فرمائی اور (اعلانِ عام)فرمایا کہ تم سب اپنے برتنوں کو بھر لو، سب نے اپنے پاس موجود تمام برتن بھر لیے اور خوب(سیرہو کر) کھایا، اور پھر بھی کھانا بچ رہا۔
شارحین لکھتے ہیں کہ اس وقت لشکر میں لاکھ آدمی موجود تھے،تو اس حدیث صحیح سے معلوم ہوا کہ لاکھ آدمی اس بات پر شاہد تھے کہ کھانا سامنے رکھے ہوئے پر حضور  صلی اللہ علیہ وسلم   نے دعا مانگی۔باقی رہی یہ بات کہ حضور  صلی اللہ علیہ وسلم  نے وہ دعا مانگی جو آپ کو ضرورت تھی، اور صاحب فاتحہ وہ دعا کرتا ہے جس کی اسے حاجت ہوتی ہے مگر دعا ہونے میں تو دونوں برابر ہیں یعنی دعا کے معنی شریعت میں یہ ہیں  :
 السوال من اللّٰہ الکریم۔
 اور یہ دونوں جگہ ایک ہیں۔ان مقامات میں یہ بات کسی راوی نے روایت نہیں کی کہ حضور  صلی اللہ علیہ وسلم   نے دعا کرنے میں ہاتھ نہیں اٹھائے بلکہ سرکار  صلی اللہ علیہ وسلم  کی عادت کریمہ یہ تھی کہ جب بھی دعا کرتے ہاتھ اٹھا کر کرتے تھے۔جیساکہ امام جلال الدین سیوطی رحمہ اللہ نے ’’جامع صغیر‘‘ میں نقل کیا ہے  :
کَانَ إذَا دَعَا جَعَلَ بَطنَ کَفَّیْہِ إلٰی وَجْہٖ۔ (۱)
یعنی آپ جب دعا کرتے تھے تو ہاتھ اٹھانے میں ہتھیلی منہ کی طرف کرتے تھے۔
۔۔۔
(۱)	مسنداحمد: ۳۳؍ ۳۳۲حدیث: ۱۵۹۶۸۔۔ معجم اوسط : ۱۱؍ ۴۶۲حدیث: ۵۳۸۴۔۔کنزالعمال: ۷؍ ۷۲حدیث: ۱۸۰۱۵۔
۔۔۔۔۔۔
 حضور کا ارشاد بھی یہی ہے کہ جب تم سوال کرو تو ہاتھ اٹھا کر ہتھیلی پھیلا کر سوال کرو۔لہٰذا احادیث فعلیہ و قولیہ ہر طرح سے کھانے کی موجودگی میں دعا کے وقت ہاتھوں کو اٹھا کر دعا مانگنا ثابت ہوا۔اب اہل انصاف کو چاہیے کہ سخن پروری کو چھوڑ کر ان دلائل میں خوب غور و خوض اور حق کی پیروی کریں ورنہ (کم از کم)اتنا تو کریں کہ فاتحہ پڑھنے والوں کو صلوات نہ سنائیں     ع : 
مرابخیر تو امیدنیست بدمرساں۔
	یوں بھی آیا ہے  :  
	کان إذا دعا جعل ظاہر کفیہ مما یلِيَ وجہ و باطنہا مما یلي الأرض۔ (مسنداحمد: ۲۴؍ ۳۳۸حدیث: ۱۱۷۹۲۔۔مسندابویعلی موصلی: ۸؍ ۵۴حدیث: ۳۴۴۰۔۔مسندجامع: ۲؍ ۲۵۶حدیث: ۵۴۲)
	 اور یوں بھی آیا ہے  :  
	أنہ کان إذا دعا جعل راحتیہ إلی وجہ۔ (معرفۃ الصحابہ اصبہانی: ۹؍ ۴۵۲حدیث: ۳۰۶۳۔۔ الآحاد و المثانی ابن ابی عاصم: ۷؍ ۲۵۱حدیث: ۲۲۸۳۔۔فوائد تمام: ۳؍۳۷۴حدیث: ۱۳۷۲)
تنبیہ :  ہاں ! اگر کوئی کم سمجھ ،عوام میں ایسا ہو کہ وہ عبادت مالی کے ثواب کو یوں سمجھے کہ بغیر فاتحہ پڑھے نہیں پہنچے گا تو اس عقیدہ کو غلط کہنا چاہیے اور اس کو ڈانٹ ڈپٹ کرنا چاہیے کیوں کہ اس نے حضور  صلی اللہ علیہ وسلم   کے مطلق فرمان کو اعتقاداً مقید کر دیا لیکن لوگوں کا برتاؤ اور طور طریقہ دیکھ کر یوں معلوم ہوتا ہے کہ یہ ان کا اپنا عقیدہ نہیں۔اس لیے کہ جب میت کی طرف سے کچھ کپڑے یا روپئے مسجد یا مدرسہ میں دیتے ہیں تو اس پر فاتحہ پڑھ کر نہیں دیتے۔ ہاں !ہندوؤں کی رسم یہ ہے کہ وہ کھانا یا کپڑا یا جو کچھ میت کے لیے کرتے ہیں ان سب پر سنکلپ کرتے ہیں۔چنانچہ ’’تحفہ الہند‘‘ مطبوعہ فاروقی کے صفحہ ۸۵ پر ہے  : 
جب اہل اسلام نے ایسا نہ کیا تو اس سے معلوم ہوا کہ ان کا عقیدہ یہ ہے کہ عبادت مالی کا ثواب بغیر کچھ پڑھے پہنچ جاتا ہے، اسی طرح جب ختم قرآن شریف یا قل ہو اللہ وغیرہ پڑھ کر میت کو بخشتے ہیں یاقبرستان میں جا کر اس پر فاتحہ پڑھتے ہیں تو اس صورت میں یہ لازم نہیں سمجھتے کہ اس وقت کچھ صدقہ بھی ضرور چاہیے۔
 اس سے معلوم ہوا کہ ان کے نزدیک عبادت بدنی کا ثواب بغیر عبادت مالی کے پہنچ جاتا ہے۔ جب عقیدہ یہ ٹھہرا تو بعض صورتوں میں  مثلاً کھانا کھلانے اور تقسیم شیرینی وغیرہ  ان کے حق میں فاتحہ پڑھنا کچھ نقصان دہ نہیں۔ اسی لیے بزرگانِ دین کا اس طریقہ پر عمل رہا ہے  ہم عنقریب اسے نقل کریں گے  باقی رہی یہ بات کہ بعض لوگ جو زیادہ احتیاط برتتے ہیں کہ صاف و پاکیزہ مکان میں قبلہ رو بیٹھتے ہیں تو یہ بات کچھ فرض نہیں بلکہ اس کے آداب سے ہے۔
شاہ عبد العزیز صاحب رحمۃ اللہ علیہ   تعزیہ کے پاس درود و فاتحہ پڑھنے کے سلسلے میں ہوئے سوالاتِ عشرۂ محرم میں فرماتے ہیں  :
فاتحہ و درود فی نفسہٖ درست ست لیکن دریں قسم جائے نوعے بے ادبی می شود زیراکہ نجاست معنوی دارد و فاتحہ و درود جائے باید خواند کہ محل پاک باشد از نجاست ظاہری و باطنی۔ 
یعنی فاتحہ و درود پڑھنا فی نفسہٖ درست ہے،ہاں !نجاست معنوی کی شکل میں یہاں بے ادبی کا ایک پہلو پایا جا سکتا ہے، اور فاتحہ و درود ایسی جگہ پڑھے جائیں جو ہرقسم کی ظاہری اور باطنی نجاستوں سے پاک ہو۔ 
اس عبارت سے ثابت ہو گیا کہ فاتحہ پاکیزہ جگہ میں پڑھنی چاہیے۔ اور مولوی اسمٰعیل صاحب ’’صراطِ مستقیم‘‘ میں اپنے مرشد سیداحمد صاحب کی تعلیم کے مطابق لکھتے ہیں  :
اول طالب را باید کہ با وضو دوزانو بطورنماز بنشیند و فاتحہ بنام اکابرایں طریقہ یعنی حضرت خواجہ معین الدین سنجری و حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی وغیرہماخواندہ التجا بہ جناب حضرت ایزد پاک بتوسط ایں بزرگان نماید الی آخرہ 
یعنی پہلے طالب ارادت کو چاہیے کہ با وضو اور نماز کی طرح دو زانو ہو کر بیٹھ جائے اور اس سلسلہ کے بزرگان دین یعنی خواجہ معین الدین سجزی اور حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی وغیرہ کے نام فاتحہ پڑھ کر پھر ان بزرگان دین کے توسط سے پروردگار عالم کی بارگاہ میں التجا کرے۔
تو پاک مکان میں قبلہ کی طرف منہ کر کے آداب کے ساتھ فاتحہ پڑھنا ان بزرگواروں کے کلام سے ثابت ہو گیا۔
اب اگر کوئی یہ کہے کہ فاتحہ یعنی الحمد شریف کو ایصال ثواب کے لیے کیوں اختیار کیا گیا ہے۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ الحمد شریف کو تمام سورتوں پر بڑی فضیلت حاصل ہے۔ سیرت حلبی اور تفسیر عزیزی میں ہے  :
اگر سورۂ فاتحہ کو ترازو کے ایک پلہ میں اور پورا قرآن دوسرے پلہ میں رکھا جائے تو فاتحہ یعنی الحمد شریف غالب آ جائے گی۔ (سات حصہ)
تفسیر روح البیان میں ہے  :
جس نے الحمد شریف پڑھی اس کو اللہ تعالیٰ کل قرآن پڑھنے کا ثواب دے گا اور گویا اس نے جملہ مومنین و مومنات پر صدقہ کیا  انتہی  
 اس لیے اہل اسلام میں یہ رسم پڑھ گئی کہ جب کوئی اپنی میت کے لیے کچھ کھانا یا شیرینی دیتا ہے تو الحمد پڑھ دیتا ہے اس کے پڑھنے کا ثواب یہ ہوتا ہے گویا کہ تمام مومنین و مومنات پر صدقہ کیا گیا۔ خدا کی قدرت دیکھیے کہ اصحاب فاتحہ(فاتحہ پڑھ کر) کن کن درجات کو پہنچ رہے ہیں اور منکرین اس فعل سے منع کر کے کیا کیا خیرات جاریہ بند کرا رہے ہیں۔ 
اب رہا مسئلہ ہاتھ اُٹھانے کا تواس کا جواب یہ ہے کہ فاتحہ میں چوں کہ دعا بھی کی جاتی ہے، اور نماز کے باہر جو دعا کی جاتی ہے اس میں ہاتھ اُٹھانا مستحب ہے۔
حصن حصین میں ہے  :
آداب الدعاء بسط الیدین  ت مس  و رفعہما  ع 
یعنی دونوں ہاتھوں کو پھیلانا دعا کے آداب سے ہے،یہ روایت ترمذی اور حاکم کی ہے۔ اور صحاحِ ستہ میں ہے کہ دونوں ہاتھوں کوا ُٹھانا بھی آداب دعا ہی میں شامل ہے۔ 
مشکوٰۃ شریف میں حضور اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم  کا یہ فرمان نقل ہوا ہے  :
إذَا سَألْتُمُ اللّٰہَ فَاسْئَلُوْا بِبُطُونِ أکُفِّکُمْ۔ (۱)
یعنی جب تمہیں اللہ سے سوال کرنا ہو تو ہاتھوں کی ہتھیلیاں اُٹھا کر سوال کیا کرو۔
نیز اسی میں یہ حدیث رسول بھی ہے  :
إنَّ رَبَّکُمْ حَیِيٌ کَرِیْمٌ یَسْتَحْیِيْ مِنْ عَبْدِہٖ إذَا رَفَعَ یَدَیْہِ إلَیْہِ أنْ یَّرُدَّہُمَا صِفْراً۔(۲)
یعنی بے شک اللہ شرم و کرم والا ہے،بندہ جب اس کی جناب میں ہاتھ اُٹھا کر دعا کرتا ہے تو اسے خالی پھیر دینا اس کی شانِ کریمی کو گوارا نہیں ہوتا۔
۔۔۔۔
(۱)	سنن ابوداؤد: ۴؍۲۸۵حدیث:۱۲۷۱۔۔اخبار اصبہان:۹؍۱۸۷حدیث:۱۷۹۰۔۔المطالب العالیہ : ۹؍۴۴۰ حدیث: ۳۴۳۰۔۔صلاۃ الوترمروزی:۱؍۱۱۲حدیث: ۷۵۔۔معجم الصحابہ ابن قانع:۶؍۹۳حدیث: ۱۵۷۸۔۔ کنزالعمال: ۲؍ ۸۴،۸۵حدیث: ۵۵،۳۲۵۴۔۔مسند جامع: ۳۵؍ ۷۴حدیث: ۱۱۳۳۳۔۔ تحفۃ الاشراف: ۱۰؍ ۱۶۳حدیث: ۱۱۲۰۹۔۔الآحادوالمثانی لابن ابی عاصم: ۷؍ ۶۹حدیث: ۲۱۷۷۔۔مستدرک : ۵؍۱۹حدیث: ۱۹۲۴۔۔معجم طبرانی: ۹؍۱۹۷ حدیث: ۱۰۶۲۸۔۔ مسند عبدابن حمید: ۲؍۳۳۳حدیث: ۷۱۷۔۔ معرفۃ الصحابہ ابونعیم اصبہانی :۱۷؍۲۵۲حدیث: ۵۴۴۱ ۔۔مسند الشامیین طبرانی: ۵؍۲۶۱حدیث: ۱۶۱۲۔ 
	یوں بھی یہ حدیث آئی ہے  :  
	سلوا اللّٰہ ببطون أکفکم ولا تسالوہ بظہو رہا فاذا فرغتم فامسحوا بہا وجوہکم۔(سنن ابوداؤد: ۴؍ ۲۸۴ حدیث:۱۲۷۰۔۔الدعوات الکبیر بیہقی: ۱؍۲۰۰حدیث: ۱۷۲۔۔مجمع الزوائد: ۴؍۴۲۳۔۔ کنزالعمال: ۲؍۸۰ حدیث: ۳۲۲۹   ۱۶؍ ۴۰حدیث:۴۳۸۴۴۔۔ مجمع الزوائد:۱۰؍۱۶۹۔۔نصب الرایہ فی تخریج احادیث الہدایہ: ۵؍۱۴۲۔۔تلخیص حبیر فی تخریج احادیث الرافعی: ۱؍ ۴۹۱۔۔المسند الجامع: ۲۱؍ ۱۸۸۔۔ تحفۃ الاشراف: ۷؍ ۱۹۳حدیث: ۶۴۴۸ ۔۔ سنن بیہقی: ۲؍ ۲۱۲)
	دوسرے الفاظ میں بھی یہ حدیث ملتی ہے مثلاً  :  
	اذا دعوت اللہ فادع اللہ ببطون کفیک و لاتدعہ بظہو رہما،فإذا فرغت فامسح بہما وجہک۔(الاوسط لابن منذر:۸؍۲۵۰،۲۵۱حدیث: ۲۶۷۷۔۔صلاۃ الوترمروزی:۱؍۱۱۱۔۔حدیث: ۷۴۔۔ تلخیص حبیر فی تخریج احادیث الرافعی: ۱؍ ۴۹۱حدیث: ۳۷۳۔۔سنن ابن ماجہ: ۱۱؍ ۳۲۹حدیث: ۳۸۵۶) 
(۲)	سنن ابوداؤد: ۴؍۲۸۷حدیث: ۱۲۷۳۔۔سنن ترمذی: ۱۱؍ ۴۶۸حدیث:۳۴۷۹۔۔سنن ابن ماجہ: ۱۱؍۳۲۸ حدیث ۳۸۵۵۔۔سنن کبریٰ بیہقی: ۲؍ ۲۱۱۔۔ مصنف عبد الرزاق: ۲؍ ۲۵۱حدیث:۳۲۵۰۔۔معجم کبیرطبرانی: ۶؍ ۶۹حدیث: ۶۰۲۵۔۔مسندابویعلی موصلی: ۴؍ ۴۳۴حدیث: ۱۸۲۶۔۔صحیح ابن حبان: ۴؍ ۲۴۲ حدیث: ۸۷۷۔۔ مسندشہاب قضاعی: ۴؍ ۱۹۱حدیث: ۱۰۳۱۔
۔۔۔۔۔۔۔
تو چوں کہ فاتحہ ،میت کی امداد ہے اس لیے ہاتھ اُٹھا کر دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ حدیث شریف کے مضمون کے مطابق ان ہاتھوں کو مرادوں سے بھر دے اور انھیں خالی نہ پھیرے۔
مولوی اسحق صاحب نے’’مسائل اربعین‘‘ کے۲۳ویں مسئلے کہ میت کی تعزیت میں ہاتھ اٹھا کر فاتحہ پڑھنا جائز ہے یا نہیں ؟کے جواب میں تحریر فرمایا ہے  :
اما دست برداشتن برائے دعا وقت تعزیت ظاہراً جواز است زیراکہ در حدیث شریف رفع یدین در دعا مطلقاً ثابت شدہ پس دریں وقت ہم مضائقہ ندارد و لیکن تخصیص آں برائے دعا وقت تعزیت ماثور نیست  انتہی 
یعنی وقت تعزیت دعا کے لیے ہاتھ اٹھانا جائز ہے کیوں کہ حدیث شریف سے دعا میں دونوں ہاتھ اٹھانے کا حکم مطلقاً ثابت ہے،تو اس میں کوئی حرج نہیں ہونا چاہیے۔مگر خاص بوقت تعزیت دعا کے لیے ہاتھ اٹھانے کا ثبوت نہیں ملتا۔
 دیکھیے !یہ بات تسلیم کر کے کہ اس ہیئت خاص سے منقول نہیں یہی حکم دیا کہ ہاتھ اٹھانے میں کچھ مضائقہ نہیں کیوں کہ مطلق دعا میں ہاتھ اٹھانا ثابت ہے۔ اسی بنیاد پر ہم کہتے ہیں کہ میت کی فاتحہ کے لیے گرچہ کسی خاص وقت کی کوئی روایت نہیں ملتی لیکن جب حدیثوں میں مطلق دعا کے لیے ہاتھ اٹھانے کا حکم آیا ہے تو اس فاتحہ میں بھی ثابت ہو گیا کیوں کہ یہ بھی تو ایک دعا ہے۔
 اب دیکھیے کہ مفتیانِ فتاویٰ انکاری میں سے کوئی اس فاتحۂ مذکورہ کو ’شریعت کی نگاہ میں ناپسند ایجاد‘ کہتا ہے تو کوئی اِسے ہندوؤں کی رسم لکھتا ہے۔ افسوس صدافسوس !جس چیز کے اصول صحیح حدیثوں سے نکلتے ہوں اُسے حرام یا رسم ہنود یا گمرہی کہنا کچھ انہی جیسے با انصاف آدمیوں کا کام ہوسکتا ہے، پہلے کے علما و صلحا تو اِسے مسلم رکھتے( اور سمجھتے) آئے ہیں۔ 
شیخ عبد الحق محدث دہلوی  رحمہ اللہ   کے معاصر ایک بڑے عالم ، صالح و متقی حضرت مولانا عبد اللہ گجراتی وصیت نامہ میں لکھتے ہیں  : 
تخصیصات دراوضاع و تراکیب ماکولات و تعینات در مقروّات بفاتحہ و نیازہاے بزرگاں از رسوم صالحہ است انتہی 
یعنی کھانے پینے کے اطوار و ترکیب کی تخصیص اور بزرگان دین کی فاتحہ و نیاز کے لیے کچھ پڑھنے کو متعین کر دینا اچھی رسموں میں سے ہے۔
’’جامع الاوراد‘‘ میں ہے  :
اگر بر طعام فاتحہ کردہ بہ فقرادہد البتہ ثواب می رسد۔
یعنی اگر فاتحہ کیا ہوا کھانا فقیروں کودے تو اس کا ثواب اسے پہنچے گا۔
 اسی ’’جامع الاوراد‘‘ میں ہے  :
چوں کہ قرآن ختم کند اول پنچ آیت خواندہ دست برائے فاتحہ بردارد و ثواب ختم بہ ارواح ہر کہ خواہد بہ طفیل آں حضرت  صلی اللہ علیہ وسلم  بخشند۔
یعنی پہلے ختم قرآن کرے،پھر پانچ آیتوں کو پڑھ کر فاتحہ کے لیے ہاتھ اٹھائے اور اس کا ثواب حضور  صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقے میں کسی بھی مردے کی روح کو بخش دے۔
یہ وصیت نامہ اور جامع ال اور اد کی عبارتیں ’’صمصام قادری‘‘ میں ہیں۔
 ۱۲۶۷ھ (1850ء) میں مطبع محمدی کی چھپی ’’زبدۃ النصائح‘‘ میں مولانا برہان الدین مرحوم کی یہ عبارت صفحہ ۵۶پر موجود ہے  : 
ہمیں است مضمون فاتحہ مرسومہ پس ثواب درود و الحمد و قل و ہم ثواب بذلِ طعام منذور  بروح آں جناب خواہد رسید۔
یعنی فاتحہ مرسومہ کا مضمون یہی ہوتا ہے۔تو درود،سورہ فاتحہ،قل شریف اور نذر کیے ہوئے کھانے کا ثواب نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم کی جناب میں پہنچ جائے گا۔ 
اب اس فرقے کے بزرگوں کے احوال سنیے۔مجموعہ زبدۃ النصائح کے صفحہ ۱۳۲ پر شاہ ولی اللہ صاحب کا استفتا تحریر ہے۔ سائل نے یہ سوال کیا تھا کہ کسی کے نام کا مرغا یا بکرا ذبح کیا ہوادرست ہے یا نہیں اور ملیدہ یا شیربرنج وغیرہ نیازِ اولیا درست ہے یا نہیں۔ شاہ ولی اللہ صاحب نے اس کے جواب میں ذبیحہ کو توحرام فرمایا اور ملیدہ  و شیر برنج کی نسبت یہ الفاظ لکھے  :
اگر ملیدہ و شیربرنج بنا برفاتحہ بزرگے بقصد ایصال ثواب بروح ایشاں پزندوبخورانند مضائقہ نیست و طعام نذر اللہ اغنیارا خوردن حلال نیست و اگر فاتحہ بنام بزرگے دادہ شدپس اغنیا راہم خوردن جائز است انتہی کلامہ 
یعنی اگر ملیدہ  و شیر برنج بزرگان دین کے ارواح کے ایصال ثواب کے لیے تیار کرے اور کسی کو کھلا دے تواس میں کوئی حرج نہیں۔ اور منت و نذر کا کھانا امیروں کے لیے حلال نہیں۔ ہاں !بزرگوں کے نام کا فاتحہ ہو تواس کا کھانا اہل ثروت کے لیے بھی درست ہے۔ 
دیکھیے کھانے پر فاتحہ دینے کا ثبوت خاص شاہ ولی اللہ صاحب کے فتویٰ سے ہو رہاہے۔ نیز آپ اپنی کتاب ’’الانتباہ فی سلاسل اولیاء اللہ‘‘ میں فرماتے ہیں  :
پس دہ مرتبہ درود خواندہ ختم تمام کنند و برقدرے شیرینی فاتحہ بنام خواجگان چشت عموما بخوانندوحاجت از خداے تعالیٰ سوال نمایند۔الی آخرہ۔
یعنی دس بار درود شریف پڑھے،پورا ختم کر کے جو کچھ بھی شیرینی ہواس پر خواجگانِ چشت کے نام عمومی طور پر فاتحہ پڑھے، اور اپنی ضرورت کا سوال اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پیش کرے۔
جائز اور مباح ہونا تو اور بات ہے یہاں تو امر و حکم فرمایا جا رہا ہے کہ اس طرح پڑھیں۔ 
غرضیکہ مولانا عبد اللہ گجراتی اور شاہ ولی اللہ دہلوی کے کلام سے معلوم ہو گیا کہ کھانے اور شیرینی پر فاتحہ اچھی رسموں میں سے ہے جو صالحین کا مقرر کردہ اور علما کا معمول بہا ہے۔ چنانچہ شاہ عبد العزیز صاحب بھی ’’تفسیرعزیزی‘‘ پارۂ الم میں ،اس کی تصدیق فرماتے نظر آرہے ہیں  :
وسرش آنست کہ نزد عوام طریق ذبح جانور بہرگونہ کہ مقرراست متعین است برائے رسانیدن جان جانور برائے ہر کہ منظور باشد چنانچہ فاتحہ وقل و درودخواندن طریق متعین است برائے رسانیدن ماکولات و مشروبات بأرواح۔
یعنی اس کا فلسفہ بھی یہی ہے کہ عوام کے نزدیک جانور ذبح کرنے کا جو طریقہ معمول بہا ہے اسی طریقے پر اپنے منظور نظر کو جانور کی قربانی کا ثواب پہنچانے کا قصد کرے جیساکہ ماکولات و مشروبات کے صدقے پر فاتحہ و قل اور درود شریف پڑھ کر مردے کی روح کو ایصال ثواب کیا جاتا ہے۔
 دیکھیے یہاں سے معلوم ہو گیا کہ شاہ صاحب کے وقت تک بھی ایصال ثواب کے موقع پر فاتحہ و قل متعین تھا کیوں کہ آپ مثال دے رہے ہیں کہ جس طرح اہل اسلام میں قل اور فاتحہ پڑھ کر ماکولات و مشروبات کا ثواب پہنچا دینا معین ہے اسی طرح عوام جانتے ہیں کہ جب اللہ کا نام لے کر جانور ذبح کیا تو اس کی جان ،ہمارے چاہے کے مطابق میراں اور سدو وغیرہ کو پہنچ جاتی ہے، حالاں کہ یہ غلط ہے، جان کسی کو نہیں پہنچ سکتی بلکہ ماکولات و مشروبات کا ثواب پہنچ سکتا ہے۔ اس مضمون کو بیس سطر پہلے ایک دوسری عبارت سے یوں واضح کیا ہے  :
کنہ ایں مسئلہ آنست کہ جان را برائے غیر جان آفریں نیاز کردن درست نیست و ماکولات و مشروبات و دیگر اموال را نیز اگرچہ از راہِ تقرب بغیر اللہ دادن حرام و شرک ست،اما ثواب آں چیز ہارا کہ عائد بدہندہ می شد از آں غیر ساختن جائزاست زیراکہ انسان را می رسد کہ ثواب عمل خود را بغیر نہ بخشد چنانچہ می رسد کہ مال خود را بغیر خود بدہد وجان جانور مملوک آدمی نیست تا اور ا بکسے تواند بخشید۔
یعنی اس مسئلہ کی حقیقت یہ ہے کہ جان کو اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کے نام قربان کرنا درست نہیں ہے۔ اور کھانے پینے نیز دیگر اشیا کا بھی غیر اللہ کے تقرب کے لیے خیرات کرنا حرام و شرک ہے۔ اور ان چیزوں کا ثواب جو کہ دینے والے پر عائد ہوتا ہے اس کا کسی اور کے نام کر دینا جائز ہے کیوں کہ انسان کو حق پہنچتا ہے کہ اپنے عمل کا ثواب کسی اور کو نہ بخشے  نیز اسے یہ بھی حق پہنچتا ہے کہ اپنے مال کو کسی اور کے نام کر دے۔لیکن جانور کی جان جب آدمی کی ملکیت ہے ہی نہیں تو وہ غیرکوکیسے بخش سکتا ہے۔ 
الحاصل!  ماکولات و مشروبات وغیرہ میں اس نیک رسم کا شاہ صاحب کے وقت تک بھی متعین و معمول ہونا ثابت ہے۔ اور اگر تفسیر کی اس عبارت میں کوئی شخص اپنی فہم کے مطابق ہیر پھیر کرنے لگے،تو لیجیے شاہ عبد العزیز صاحب کے فتاوے اور مکتوب کی دوسری عبارتیں سنیے جو واضح طور پر جواز کی دلیل فراہم کر رہی ہیں۔سوالاتِ عشرۂ محرم کے نوے سوال کہ جو نذرو نیاز، تعزیہ کے سامنے رکھ کر فاتحہ پڑھتے ہیں ان کاکھاناکیسا ہے؟کے جواب میں لکھتے ہیں  :
طعامے کہ ثواب آں نیاز حضرت امامین نمایند و براں فاتحہ وقل ودرود خوانند تبرک می شود خوردن آں بسیار خوب ست لیکن بہ سبب بردن طعام پیش تعزیہ ہاونہا دن آں طعام پیش تعزیہ ہا تمام شب تشبہ بہ کفار و بت پرستان می شود پس ازیں جہت کراہیت پیدا می کند واللہ اعلم 
یعنی جس کھانے کا ثواب حسنین کریمین کو نیاز کرنا مقصود ہو تو اس پر فاتحہ و قل اور درود شریف پڑھنے سے اب وہ متبرک ہو جاتا ہے، اور اس کا کھا لینا بہت اچھا ہے ،لیکن تعزیہ کے سامنے وہ کھانا لے جانے اور پوری شب اس کے سامنے رکھنے کی وجہ سے کفار اور بت پرستوں سے تشبّہ لازم آتا ہے تو اب اس سبب سے اس کھانے میں کراہت پیدا ہو جاتی ہے۔ 
دیکھیے کھانے کے اوپر فاتحہ کا پڑھنا شاہ صاحب کے کلام میں صاف لکھا ہوا ہے۔ اور رئیس مرادآباد ،علی محمد  خان صاحب کو لکھے ہوئے مکتوب میں آپ کی یہ عبارت خود موجود ہے  :
پس برماحضراز طعام یا شیرینی فاتحہ خواندہ تقسیم آں بحاضرین مجلس می شود۔
یعنی جو کھانا یا شیرینی موجود ہو اس پر فاتحہ پڑھ کر شرکائے مجلس میں اسے تقسیم کر دیا جائے۔
اس خط کی عبارت بقدر حاجت یہاں نقل کی گئی ہے، اور زیادہ تر میلاد شریف کے مباحث میں بیان ہو گی انشاء اللہ تعالیٰ  
الحاصل!  حضرت شاہ صاحب اور ان کے والد بزرگوار شاہ ولی اللہ صاحب اور دیگر علمائے ربانی کی عبارت سے شیرینی اور کھانے پر فاتحہ پڑھنا بخوبی ثابت ہو گیا۔ اور سب سے زیادہ فاتحہ وغیرہ منع کرنے میں مولوی اسمٰعیل صاحب مشہور ہیں جن کا حال یہ ہے کہ وہ تاریخ اور دن کی پابندی کو منع کرتے ہیں مگر کسی آیت یا حدیث سے ممانعت ثابت نہیں کر پاتے،صرف کچھ مصلحتیں بیان کرتے ہیں۔بیسویں اور چالیسویں وغیرہ کی تاریخ کے تعین کی جگہوں میں ہم ان کی عبارتیں لکھیں گے۔ لیکن کھانے پر فاتحہ پڑھنے کو وہ بھی منع نہیں کرتے۔’’صراطِ مستقیم‘‘ میں لکھتے ہیں  :
 نہ پندار ند کہ نفع رسانیدن باموات باطعام و فاتحہ خوانی خوب نیست چہ ایں معنی بہتر و افضل ست الی اخرہٖ 
یعنی یہ گمان نہ کیا جائے کہ کھانا کھلانے اور فاتحہ خوانی کا ثواب مردوں کو پہنچانا کوئی اچھی چیز نہیں ،اس لیے کہ یہ افضل و بہتر عمل ہے۔
(گزشتہ سطروں میں )نقل کردہ بزرگوں کی عبارتوں سے اہل عقل و انصاف کے نزدیک فاتحہ مرسومہ کا اثبات بالکل بے غبار ہو گیا۔اب اگر بعض منکرین فاتحہ کرنے والوں پرزبردستی الزام دھریں کہ ان لوگوں کا تو عقیدہ ہی کچھ یہی ہے کہ بن فاتحہ ، کھانے کا ثواب نہیں پہنچتا اور فاتحہ وپنچ آیت وغیرہ پڑھنے کو یہ صرف امر خیر اور کارِ ثواب نہیں بلکہ فرض و واجب جانتے ہیں۔تو اس کا جواب یہ ہے کہ ( یہ کوئی نئی بات نہیں ) منکرین ایسے ایسے زبردستی کے افترا باندھتے رہتے ہیں۔ 
شاہ عبد العزیز  رحمۃ اللہ علیہ  جوہرسال اپنے باپ کا عرس کیا کرتے تھے ان پر مولوی عبد الحکیم صاحب پنجابی نے یہ اعتراض کیا کہ کیا تم نے عرس کو فرض سمجھ رکھا ہے کہ سال بہ سال کرتے رہتے ہو؟ تو شاہ صاحب نے اس کا جواب لکھا جو ’’زبدۃ النصائح‘‘ مطبوعہ  ۱۲۶۷ھ (1850ء) کے صفحہ ۴۲ پر یوں ہے  :
ایں طعن مبنی است برجہل احوال مطعون علیہ زیراکہ غیراز فرائض شرعیہ مقررہ راہیچ کس فرض نہ می داند آری زیارت و تبرک بہ قبورِ صالحین وامداد ایشاں بامداد ثواب وتلاوت قرآن و دعاے خیروتقسیم طعام و شیرینی امر مستحسن وخوب ست باجماع علماوتعین روزعرس برائے آنست کہ آں روز مذکرانتقالِ ایشاں می باشد از دارالعمل بدارالثواب۔
یعنی آپ کا یہ طنز مطعون علیہ کے احوال سے بے خبری پر دلالت کرتا ہے کیوں کہ مروجہ و مقررہ فرائض شرعیہ کے علاوہ کوئی کسی اور عمل کو فرض نہیں جانتا،البتہ قبور صالحین کی زیارت اور ان سے تبرک حاصل کرنا، اور قرآن کی تلاوت،دعائے خیر اور کھانا و شیرینی کی تقسیم کا انھیں ایصال ثواب کر کے ان کی امداد کرنا باجماع علمامستحب اور مستحسن کام ہے۔ اور عرس کا دن متعین کرنے سے مقصود یہ ہے کہ چونکہ اس دن ان کے دنیا سے آخرت کی طرف رخت سفر باندھنے کی یاد تازہ ہوتی ہے۔
اس عبارت کے بعد شاہ صاحب نے عرس کی اصلیت در منثور اور تفسیرکبیر وغیرہ کا حوالہ دیتے ہوئے احادیث سے ثابت فرمائی ہے  :
عَنْ رَسُولِ اللّٰہِ أنَّہُ کَانَ یَأتِي قُبُورَ الشُّہَدَائِ عَلٰی رَأسِ کُلِّ حَوْلٍ فَیَقُولُ سَلاَمٌ عَلَیْکُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَی الدَّارِ وَ الْخُلَفَائُ الأرْبَعَۃُ ہٰکَذَا یَفْعَلُوْنَ        انتہی (۱)
یعنی نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم  ہرسال کے آغاز پر شہیدوں کی قبروں کی زیارت کے لیے جایا کرتے اور فرماتے:تمھیں تمہارے صبرپرسلامتی ہو،آخرت کا گھرکیسابھلاگھرہوتا ہے۔ اور خلفائے راشدین بھی ایساہی کیا کرتے تھے۔
۔۔۔۔۔
(۱) 	تفسیر در منثور: ۶؍ ۴۔۔تفسیرابن کثیر :۴؍۴۵۳۔۔تفسیرطبری:۱۶؍۴۲۶۔۔تفسیر قرطبی: ۹؍ ۳۱۲۔۔تفسیر رازی: ۹؍ ۱۷۵ ۔۔ تفسیر نیساپوری: ۴؍ ۴۲۶۔۔تفسیر کشاف: ۳؍۲۴۶۔۔ تفسیر ابوالسعود:۳؍ ۴۹۸۔
۔۔۔۔
اس تقریر سے چند باتیں ثابت ہوئیں۔
ایک تو یہ کہ شاہ عبدالعزیز صاحب نے عرس کے تعین کی اصلیت حدیث سے ثابت فرمائی یعنی در منثور اور تفسیرکبیر کے حوالے سے ابن منذر، ابن مردویہ اور ابن جریر کی روایتیں نقل فرمائی ہیں ان میں یہ بات ہے کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم شہدا کی قبروں پرہربرس کے سرے پر تشریف لے جاتے تھے اور آپ کے بعد خلفائے راشدین بھی یوں ہی کرتے رہے۔
 الغرض !  عرس کی اصلیت ثابت ہو گئی۔صحاح ستہ میں نہ ہونے کی وجہ سے اس حدیث کو رد کر دینا صحیح نہیں کیوں کہ صحیح حدیثیں صرف صحاح ستہ ہی میں منحصر نہیں۔ اور ابن جریر وغیرہ پر جرح کر کے اس روایت کو رد کرنا بھی بے جا ہے۔ خود شاہ عبد العزیز صاحب نے ان کی روایات لی ہیں جو ان کے حالات سے واقف تھے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ ان روایات کی تقویت، شاہ صاحب کو پہنچی ہے۔ اور اس حدیث کو مجمل ٹھہرانا بھی درست نہیں اس لیے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  کے زمانہ میں سال کی ابتدا نہ محرم الحرام سے ہوتی تھی اور نہ ربیع الاول سے، بلکہ (یہ تو)حضرت عمر فاروق کے زمانہ میں صحابہ کرام کے باہم مشورہ سے محرم الحرام سے شروع سال ٹھہرایا گیا۔ اس بنیاد پر یأتي قبور الشہداء علی رأس کل حول سے مراد یہ دونوں حول نہیں ہوسکتے بلکہ لغت عرب کے اعتبارسے حول کا اطلاق شروع واقعہ سے پورا سال گزر جانے پر ہوتا ہے ، لہٰذا یہ مجمل نہیں بلکہ از روئے لغت یہ ثابت ہو گیا کہ شہدا کی موت کے دن سے برسویں دن ہر سال حضور  صلی اللہ علیہ وسلم  تشریف لے جاتے تھے اور یہی معنی عرس کا ہے۔ عرس میں کچھ پڑھنا، ایصال ثواب کرنا اور مباح کام کرنا جائز ہے ہاں !محرمات سے بچنا ضروری ہے، اور منہیات شریعت و طریقت سے خالی سماع بھی مباح ہے۔
حضرت قطب العالم شیخ عبدالقدوس گنگوہی  رحمۃ اللہ علیہ  ’’ مکتوبات قدوسی ‘‘کے صد و  ہشتاد و دوم( ایک سو بیاسیویں )مکتوب میں جناب مولانا جلال الدین  رحمۃ اللہ علیہ   کو لکھتے ہیں :
اعراسِ پیراں بر سنت پیراں بہ سماع و صفائی جاری دارند۔
یعنی پیروں کے عرس بزرگوں کے طریقے کے مطابق صفائی اور قوالی کے ساتھ جاری رکھیں۔
صفائی کا لفظ بتا رہا ہے کہ اُسے منکرات سے خالی ہونا چاہیے، اور خاندانِ عزیزیہ میں بھی ہرسال منکرات سے خالی ،عرس جاری رہا ہے۔ اب جو کوئی شاہ صاحب کے خاندان میں ہو کر اپنے بزرگوں کا کلام رد کرے،اسے اختیار ہے۔ 
دوسری بات یہ کہ صالحین کی قبروں کی زیارت برکت کا ذریعہ ہوتی ہے۔
تیسری بات یہ کہ پرانے زمانے سے حاسدین زبردستی طعنے کستے اور افترا باندھتے چلے آئے ہیں کہ ان لوگوں نے اس کام کو فرض واجب جان رکھا ہے، چنانچہ شاہ عبد العزیز بھی شاکی ہیں اور فرماتے ہیں  :
ایں طعن مبنی است بر جہالت  الی آخرہ 
یعنی اس قسم کا طعنہ جہالت کی پیداوار ہوتا ہے۔
بس اسی طرح جو لوگ فاتحہ، محفل میلاد شریف اور قیام کرنے والوں پر اعتراض کرتے ہیں کہ یہ لوگ ان چیزوں کو فرض و واجب جانتے ہیں تو ان کا بھی یہی جواب ہے جو شاہ صاحب نے فرمایا۔ 
چوتھی بات یہ کہ فتوی انکاری میں مولوی امیرباز خاں سہارنپوری امرمستحب کے التزام کو شیطان کا حصہ ثابت کرتے ہیں تو شاہ عبدالعزیز صاحب کے کلام اور ان کے دائمی معمول سے معلوم ہو گیا کہ مستحب کو دائمی طور پر کرتے رہنا(بجائے خود)مستحب ہے۔
پانچویں بات یہ کہ ایک وقت میں جمع بین العبادتین یعنی قرآن و دعا اور شیرینی و طعام تقسیم کرنا برا نہیں بلکہ مستحسن و خوب ہے اور خوب بھی کیسا کہ جس پر علما کا اجماع ہے۔ اب بھلا ان حضرات کی تحقیقات کے مقابلہ میں مفتیانِ فتاویٰ انکاری کی نکیر کب قابل قبول ہوسکتی ہے؟۔
تتمہ ضروری :
گنگوہی کی ’’براہین قاطعہ‘‘ میں بھی درحقیقت فاتحہ کو تسلیم کر لیا گیا، گو بظاہر انکار ہے۔صفحہ ۶۱ کی آخری سطر میں لکھا ہے  :
جمع بین العبادتین کا کوئی منکر نہیں بلکہ اُس جمع میں انکار ہے کہ ُاس سے ہیئت منکرہ پیدا ہو جائے۔
آپ دیکھیں کہ جب جمع بین العبادتین مان لیا تو کھانے پر فاتحہ کومان لیا۔’ہیئت منکرہ‘ کی شاخ پر اب چار دلیلیں پیش کرتے ہیں۔ اول یہ کہ صفحہ ۶۳ میں لکھتے ہیں  :
فاتحہ میں افسادِ طعام ہے کہ ٹھنڈا ہوتا ہے اور کھانے اور پڑھنے والے دونوں کی شہوت کھانے سے متعلق ہوتی ہے تو گویا خلوص اور کھانے والوں کی نیت کا بھی فسادہے۔ 
معلوم نہیں یہ کیسے بے صبروں کی رعایت کر کے فاتحہ کو رد کیا جا رہا ہے کہ جن کی کھانے کی خواہش اس درجہ بڑھی ہوئی ہے کہ گرم بھبکتا ہوا کھانا جو دیگ سے اتر کر آیا ہے اس کے ٹھنڈے ہونے تک بھی نہیں ٹھہر سکتے،حالاں کہ گرم کھانا منع ہے۔ فتاویٰ عالم گیری میں ہے  :
و لا یؤکل طعام حار۔ (۱)
یعنی گرم کھانا نہ کھایا جائے۔ 
۔۔۔۔
(۱)	فتاویٰ عالم گیری: ۴۳؍۲۴۸۔
۔۔۔۔۔
احیاء العلوم میں ہے کہ کھانے والا صبر کرے اور جب ٹھنڈا ہو کر کھانے کے قابل ہو جائے تب کھائے۔
 عبارت یہ ہے  :
بل یصبر إلی أن یسہل أکلہ۔ (۱)
یعنی وہ کھانا کھانے کے قابل ہو جانے تک صبر کرے۔
۔۔۔
(۱)	إحیاء علوم الدین: ۱؍۳۶۳۔
۔۔۔۔
واضح ہو کہ فاتحہ کے تین طریقے ہیں۔کہیں کسی طرح ہوتا ہے اور کہیں کسی طرح۔ 
اول یہ کہ شیرینی اور کھانے پر فاتحہ وغیرہ کہ خود مالک طعام نے پڑھ کر کھانے والوں کو دے دیا۔ اور اگر خود قادر نہیں ہے تو دوسرے سے پڑھوا کر دے دیایاتقسیم کر دیا۔
دوسرا یہ کہ جماعت کو کھانا کھلا دیا پھر جماعت میں جو پڑھے لکھے لوگ ہیں انھوں نے کچھ سورتیں اور کچھ رکوع پڑھے اور کھانے اور قرآن و درود وغیرہ کا ثواب میت کو پہنچا دیا اور اس کی مغفرت کے لیے دعا کر دی۔ یہ دو طریقے بہت رائج ہیں۔ 
تیسرا یہ کہ کھانا حاضرین کے سامنے رکھ کر میت کے وارث نے کہ دیا کہ کچھ کلمہ کلام پڑھ کر میت کی روح کو بخش دو،تب وہ الحمد و قل پڑھ کر ہاتھ اٹھاتے ہیں اور میت کے لیے دعا کرتے ہیں اور کھانا کھا لیتے ہیں۔
چوتھا طریقہ نہ ہم نے سنا اور نہ دیکھا۔
تو مولف ’’براہین قاطعہ‘‘ کی یہ دلیل پہلے اور دوسرے طریقہ کے فاتحہ کو منع کرنے میں تو چل ہی نہیں سکتی،کیوں کہ پہلی صورت میں تو کھانا آکلین(کھانے والوں ) کے سامنے آیا بھی نہیں کہ(دیکھتے ہی)کھانے کے لیے بیتاب ہو جائیں۔ اور دوسری صورت میں جو آیا تھا وہ تو چین سے کھا چکے۔البتہ تیسری صورت پر براہین قاطعہ کی تحریر کا کچھ دھوکہ گزرتا ہے مگرسچی بات یہ ہے کہ اس پر بھی یہ دلیل نہیں چل سکتی اس لیے کہ درحقیقت کھانے کا مالک وہ ہے کہ جس نے کھانا تیار کیا ہے جب وہ کسی کی تملیک کر دے تب وہ مالک ہو گا اور جب وہ کھانے کی اباحت کا حکم کر دے تب وہ مباح ہو گا۔ مالک کی خود مرضی یہ ہے کہ پہلے کچھ پڑھ کر بخش دو،اس بنیاد پر اس فعل سے پہلے مالک کی طرح سے وہ لوگ ابھی کھانے کے مجاز نہیں۔پھر ناحق ان کی شہوت بے ہنگام ان کو کیوں بے چین کیے دے رہی ہے۔
 اور وہ جو ’’افسادِطعام‘‘لکھا ہے توہم نہیں جانتے کہ الحمد و قل پڑھنے تک کھانے میں کیافساد لازم آئے گا۔ ہم نے طعام ولیمہ شادی اور ختنہ وغیرہ کی مجلسیں دیکھی ہیں جس میں نہ تو الحمد و قل پڑھا جاتا ہے نہ ہی ایصال ثواب کیا جاتا ہے، اور یہ مانعین فاتحہ والے مولوی صاحبان بھی ان میں  موجود ہوتے ہیں لیکن نہ کسی پر وہاں احتساب کرتے دیکھا اور نہ یہی کہ یہ حضرات خود ایسا کرتے ہوں کہ جب آدمی روٹی آگے رکھ گیا تو اسے روکھی کھا گئے،جب سالن لایا تو اسے اوپرسے پی گئے اور دال لایا تو اسے بغیر روٹی چاٹ گئے بلکہ ہوتا یہ ہے کہ جب تمام مجلس میں اس سرے سے اُس سرے تک کھانا پہنچ جاتا ہے اور پھر مالک اذن دیتا ہے کہ شروع کیجیے تب لوگ کھاتے ہیں،اس میں بعض کھانے ٹھنڈے بھی ہو جاتے ہیں مگر کسی عالم نے اس کی تحریم و کراہت میں نہ فتویٰ لکھا اور نہ کوئی رسالہ چھاپا،(لے دے کے بس) ایک الحمد و قل کے پیچھے پڑ گئے۔ 
خیر جو ہوا سو ہوا۔ اب بندہ  اَصْلِحُوا بَینَ أخَوَیکُمْ کے تحت مناسب یہ جانتا ہے کہ جس مقام پر ایسے کھانے والے شہوت طعام سے بے چین ہوں اس موقع پر اول کھلا دیا کریں تاکہ ان کا خلوص نیت نہ بگڑنے پائے اور فاتحہ وغیرہ بعد کو پڑھ دی جائے۔لیکن معلوم رہے کہ اول تو تین طریقہ فاتحہ سے صرف ایک طریقہ میں یہ بات پیش آتی ہے اور اس میں بھی جب اسی قسم کی شہوت طعام والے چن چن کر جمع کیے جائیں وہ بھی موسم قحط سالی میں تو ظاہر ہے کہ یہ صورت نہایت نادر اور قلیل الوقوع ہے،بلکہ شاید صورت فرضی امکانی ہو اور عالم وقوع میں بھی نہ آئے۔ایسی صورت کو پیش نظر کر کے علی العموم فاتحہ کو منع کرنا تفقّہ فی الدین کی شان سے بعید ہے۔
’’براہین قاطعہ‘‘ کے صفحہ ۶۹پر دوسری دلیل یہ ہے  :
فاتحہ یا کچھ قرآن پڑھ کر ثواب میت کو پہنچائے تو دل سے نیت ایصال ثواب کی کرے۔ 
صفحہ ۶۵میں لکھا  :
فاتحہ کی دعا لغو اور لغو کا ترک مناسب ہے۔  و الذین ہم عن اللغو معرضون الخ 
ان کی تقریر کا خلاصہ یہ ہے کہ دل کی نیت سے ثواب پہنچ جاتا ہے، منہ سے دعا مانگنا لغو ہے۔ 
الجواب:  نماز صحیح ہونے کے لیے دل کی نیت کافی ہوتی ہے،(با ایں ہمہ )مگر زبان سے بھی نیت کر لینے کو فقہائے کرام نے مستحب لکھا ہے حالاں کہ قرون ثلاثہ میں اس کا کوئی ثبوت نہیں ملتا۔تو اسی طرح گو کہ مردہ کو ثواب فقط نیت ہی سے پہنچ جاتا ہے لیکن دل و زبان کی موافقت کے لیے زبانی دعا کر لینا بھی جائز ہونا چاہیے۔
ثانیاً: یہ کہ فقہا صراحۃً ایصال ثواب کی دعا کا حکم کرتے ہیں۔فقیہ شامی نے شرح لباب سے نقل کیا ہے کہ انسان کو مردہ (کے ایصال ثواب)کے لیے فاتحہ،  الم تا  مفلحون،آیۃ الکرسی اور آمن الرسول  وغیرہ پڑھنا چاہیے اور پھر یہ کہے  :
اللہم أوصل ثواب ما قرأنا إلی فلان۔ (۱)
یعنی اے اللہ میرے پڑھنے کا ثواب فلاں کو پہنچا دے۔
دیکھیے کہ جب میت کی نیت سے قرآن پڑھا تھا تو ایصال ثواب کے لیے بس تھا مگر پھر دعا مانگنے کی ہدایت کی، اور کیوں نہ کرتے کہ دعا کی لذت کو اہل دعا خوب جانتے ہیں :بڑی مشہور(حدیث )ہے  :
الدُّعَاءُ مُخُّ الْعِبَادَۃِ۔ (۲)
یعنی دعا عبادت کا مغز ہے۔
 فقیہ شامی نے متاخرین شافعیہ سے بھی دعا کرنا نقل کیا ہے  :
وصول القراء ۃ للمیت إذا کانت بحضرتہ أو دعا لہ عقبہا و لو غائبا لأن محل القراء ۃ تنزل الرحمۃ و البرکۃ و الدعاء عقبہا أرجی للقبول۔ (۳)
قراءت کا میت کو پہنچنا ثابت ہے جب کہ میت کے سامنے قراءت کی جا رہی ہو یا اگر سامنے نہ ہو بلکہ میت غائب ہو تو پڑھ کراس کے لیے دعا کر دی جائے۔ کیوں کہ قراءت کے وقت رحمت و برکت کا نزول ہوتا ہے۔ اور قراءت کے بعد دعا کرنے میں قبولیت کی بہت زیادہ امید ہوتی ہے۔
۔۔۔۔
(۱)	رد المحتار:۶؍۴۰۴۔
(۲)	 سنن ترمذی:جز۱۱؍۲۲۰حدیث:۳۲۹۳۔۔المعجم الاوسط: ۷؍۲۹۴حدیث:۳۳۲۴۔۔کشف الخفاء:۱؍۴۰۳ حدیث: ۱۲۹۴۔۔ کنزالعمّال: ۲؍۶۲ حدیث:۳۱۱۴ ۔۔المسند الجامع: ۳؍۴۸۴حدیث:۱۰۸۸۔۔تحفۃ الاشراف: ۳؍۶۶ حدیث:۱۶۵ ۔۔ تخریج احادیث الاحیاء:۲؍۴۷۵حدیث: ۹۷۵ ایضا  ۳؍۱۵۱ حدیث:۱۵۱  ۔۔ الدعاء للطبرانی:۱؍۷حدیث:۵۔
(۳)	رد المحتار:۶؍۴۰۴۔ 
۔۔۔۔۔
اس مقام پر بات میں بات یہ نکل آئی کہ فاتحہ کو جائز کرنے والوں نے اسی قبولیت کے پیش نظر میت کے واسطے الحمد اور پنج آیت وغیرہ کا پڑھنا مقرر کیا ہو گا۔ 
ثالثاً:  اوپر نقل ہو چکا کہ نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم  نے اُمت کو قربانی یعنی عبادت مالی کے ایصال ثواب میں شریک فرمایا حالاں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم  کی نیت بس تھی مگر پھر بھی آپ نے زبان سے تصریح فرمائی  :
اللّٰہُمَّ إنَّ ہٰذَا مِنْکَ وَ لَکَ عَنْ مُحَمَّدٍ وَّ أمَّتِہٖ۔
مسلم شریف کی روایت میں ہے  :
اللّٰہُمَّ تَقَبَّلْ مِنْ مُحَمَّدٍ وَّ اٰلِ مُحَمَّدٍ وَّ مِنْ أمَّۃِ مُحَمَّدٍ۔ (۱)
عقیقہ میں سبھی مسلمان پڑھتے ہیں  :
اللّٰہُمَّ تَقَبَّلْہَا مِنِّي وَ اجْعَلْہَا فِدَائً لابْنِي مِنَ النَّارِ۔
یہ صریح نصیں ہیں کہ صدقہ کی چیز سامنے رکھی ہوئی ہے اور اس کی قبولیت کی دعا کی جا رہی ہے اور جس کو اس کے ثواب میں شریک کرنا ہے زبان سے اس کا نام بھی لیا جا رہا ہے۔ اور قربانی کے لیے آ چکا ہے  :
إنَّ الدَّمَ لَیَقَعُ مِنَ اللّٰہِ تَعَالیٰ بِمَکَانٍ قَبْلَ أنْ یَّقَعَ بِالأرْضِ۔ (۲)
یعنی قربانی کا خون زمین پر گرنے سے پہلے ہی اللہ کے نزدیک مقام قبول میں پہنچ جاتا ہے۔
مگر اس پربھی رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے دعائے قبولیت فرمائی کہ  :
اللّٰہُمَّ تَقَبَّلْ مِنْ مُحَمَّدٍ وَّ آلِ مُحَمَّدٍ۔
۔۔۔۔
(۱)	صحیح مسلم:۱۰؍۱۴۹ حدیث:۳۶۳۷۔
(۲)	سنن ترمذی: ۵؍۴۴۴حدیث:۱۴۱۳۔۔ابن ماجہ: ۹؍۲۸حدیث:۳۱۱۷ ۔۔ سنن بیہقی:۹؍۲۶۱۔۔مستدرک : ۱۷؍۳۸۲ حدیث ۷۶۳۱۔۔ شعب الایمان یہقی: ۱۵؍۳۸۱حدیث ۷۰۸۲۔
۔۔۔۔
اب اگر فاتحہ کے کھانے کی طرف اشارہ کر کے کہا جائے کہ اے اللہ ! اس کھانے کو قبول فرما اور اس کا ثواب فلاں فلاں کو پہنچا تو یہ کس طرح بدعت ٹھہرے گا۔  اور نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم کی مانگی ہوئی اور فقہا کی جائز رکھی ہوئی دعا کو ہمارا منہ نہیں جو کہہ دیں کہ لغو ہے اور اس کو: وَالَّذِینَ ہُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُونَ میں داخل کر دیں۔ہاں ! مولف براہین قاطعہ کو اختیار ہے جو چاہے کرے۔ اور جس دلیل سے مولف براہین قاطعہ نے نیت نماز کے تلفظ کو جائز رکھا ہے اسے حج پر قیاس کرتے ہوئے جیساکہ بدعت کی تحقیق میں گزرا دیکھیں کہ ہمارا یہ ثبوت کس قدر اعلیٰ ہے،مگراس سے انصاف شرط ہے۔ 
 تیسری دلیل براہین قاطعہ کے صفحہ ۶۹ پر ہے  :
دعاء الخفیۃ أن یفعلہ في نفسہ قال شارح المنیۃ لیس فیہا رفع لأن فی الرفع إعلانا۔
 اور یہاں ایصالِ ثواب میں دعا خفیہ ہے کہ دل میں غرض ایصالِ ثواب کی ہے الیٰ آخرہ 
یہ دلیل آپ نے اس پر گزاری کہ جو فاتحہ میں ہاتھ اٹھا کر دعا مانگتے ہیں ،کراہت کا باعث ہے، اس لیے کہ یہ دعا خفیہ ہے اور خفیہ دعا میں ہاتھ اٹھانے کا حکم نہیں آیا۔تواس کا جواب یہ ہے کہ جب کوئی کسی کی طرف سے کھلاتا ہے،یا فاتحہ کی شیرینی بانٹتا ہے تو اس کی شہرت سب میں ہوتی ہے کہ یہ فاتحہ فلاں ولی اللہ کی ہے یا یہ کھانا فلاں میت کا ہے،یہ کوئی ڈھکا چھپا کام نہیں ہوتا کہ دل ہی دل میں رہ جائے،اعلان نہ ہو اور کوئی نہ جانے۔دعائے خفیہ کا موقع وہ ہوتا ہے جو خود مولف براہین قاطعہ کی عبارت منقولہ میں موجود ہے،جس کا ترجمہ کر کے دیکھنا چاہیے یعنی دعائے خفیہ وہ ہوتی ہے جس کو آدمی زبان سے نہیں بلکہ دل ہی دل میں کرتا ہے تو ایسی دعا میں ہاتھ نہیں اُٹھانا اس لیے کہ جی ہی جی میں دعا مانگنا اخفا اور پوشیدگی کو مقتضی ہے اور ہاتھ کے اٹھانے میں اعلان ہو گا یعنی سب جان لیں گے کہ یہ شخص دعا مانگ رہا ہے۔ اب ارباب انصاف خیال فرمائیں کہ فاتحے کے کھانوں میں تو صاحب طعام و شیرینی کو اس قدر اخفا منظور نہیں ہوتا کہ کوئی معلوم نہ کرے کہ اس نے کس کی روح کو ثواب پہنچایا ہے۔ جب یہ بات نہیں تو دعا خفیہ نہ رہی بلکہ دعا رغبت ہوئی کیوں کہ وہ دعا کرتا ہے کہ یا اللہ ہم سے یہ قراءت اور کھانا قبول کر اور اس کا ثواب میت کی روح کو پہنچا دے۔ اور دعائے رغبت میں ہاتھ اٹھاناسنت ہے۔
عینی(نے)شرح ہدایہ میں محمد  ابن الحنفیہ سے روایت کی ہے  :
في دعاء الرغبۃ یجعل بطون کفیہ نحو السماء۔ (۱)
یعنی دعائے رغبت میں دونوں ہتھیلیاں آسمان کی طرف اٹھائی جائیں۔
اس سے گیارہ سطر پہلے ایک سوال کیا کہ  :
ما وجہ رفع الیدین عند کل دعاء ؟
یعنی ہر دعا کے وقت دونوں ہاتھ اٹھانے کی کیا وجہ ہے۔؟
تو اس کا جواب علامہ سید سمرقندی کی روایت سے دیا کہ
یرفع یدیہ حتی یری بیاض إبطیہ۔ (۲)
۔۔۔
(۱)	بحرالرائق:۴؍۲۱۵ ۲۲؍۲۰۶۔۔تحفۃ الفقہا: ۱؍۴۰۲۔۔بدائع الصنائع:۴؍۴۷۱۔
(۲)	درمختار:۴؍۸۰۔
۔۔۔۔۔
قال النبي  علیہ السلام  إنَّ رَبَّکُمْ حَیِيٌ کَرِیْمٌ فَیَسْتَحْیِيْ مِنْ عَبْدِہٖ إذَا رَفَعَ یَدَیہُ أنْ یَّرُدَّہُمَا صِفْراً۔ إلی آخرہ۔
اوپریہ حدیث مشکوٰۃ کے حوالے سے گزر چکی ہے۔نیز یہ حدیث بھی کہ  :
إذَا سَألْتُمُ اللّٰہَ فَاسْئَلُوہُ بِبُطُونِ أکُفِّکُمْ ۔
دعا میں دونوں ہاتھ اٹھانے کا مضمون کتب فقہ غنیۃ المستملی وغیرہ میں بھی تصریحاً موجود ہے، تو بخوبی ثابت ہو گیا کہ دعائے فاتحہ دعائے رغبت ہے اور دعائے رغبت میں ہاتھ اٹھانا سنت ہے نہ کہ بدعت۔ اور طواف کے وقت جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم  نے ہاتھ نہ اٹھایا،اول تو وہ موقع چلنے پھرنے اور دوڑنے وغیرہ کا ہوتا ہے اور فاتحہ ،سکون و قرار کی جگہ ہے،ایک دوسرے پرقیاس نہیں ہوسکتا۔دوسرے یہ کہ موقع طواف میں خاصۃً ہاتھ اٹھانا یہود کا فعل ہے  :
نقل عن جابر أنہ فعل الیہود۔ (۱)
حضرت جابر سے منقول ہے کہ (طواف کے دوران ہاتھ اٹھانا)یہود کا کام ہے۔ 
۔۔۔
(۱)	اخبارمکہ للأزرقی: ۲؍۱۳۱حدیث: ۵۲۹۔
۔۔۔۔
دعائے فاتحہ میں ہاتھ اٹھانے کونہ تو کسی نے فعل یہود کہا اور نہ ہندوؤں کی سنکلپ میں رفع یدین کا دستور،کیوں کہ وہ لوگ ہاتھ کے چلو میں پانی لیے ہوتے ہیں   اس کی تفصیل عنقریب آ رہی ہے  اس لیے ایسے دلائل واہیہ سے دعائے فاتحہ میں رفع یدین کو غیر مشروع قرار دینا فہم و درایت کے خلاف ہے۔
چوتھی دلیل: براہین قاطعہ کے صفحہ۶۹ (پر رقم ہے)
 اور تشبّہ ہنود کا بھی اس میں مقرر ہے کیوں کہ تمام ہنود میں رسم ہے اور ان کایہ شعار ہے کہ طعام پر بید پڑھواتے ہیں جس کا دل چاہے ہنود سے تحقیق کر لے۔
مولوی عبید اللہ اپنے ’’تحفۃالہنود‘‘ میں لکھتے ہیں  :
ہر سال جس تاریخ میں کوئی مرا اس ہی تاریخ میں ثواب کرتے ہیں اور اس کو ضرور جانتے ہیں۔ اور پنڈت اس کھانے پر بید پڑھتا ہے۔ انتہیٰ۔
جواب:  اکثر مانعین ، فاتحہ کو تشبّہ بالہنود کا دھبہ لگاتے ہیں جب کہ درحقیقت اہل اسلام اس سے پاک ہیں۔اوپر بھی اس کا کچھ ذکر گزر چکا ہے،اب یہاں تفصیل سے بیان کیا جاتا ہے۔ 
واضح ہو کہ ہنود کا مذہب ’’وید‘‘ ہے جسے وہ کتابِ آسمانی اور کلامِ الٰہی سمجھتے ہیں۔ وید کے اندر یہ بات ہرگز نہیں کہ میت کسی کی عبادت بدنی یا مالی سے کامیاب ہوتی ہے۔بلکہ انسان اسی عمل کا نفع پاتا ہے جو بذات خود کر جاتا ہے۔ 
یعنی یجروید ادّھیائے ۴۰۔منتر ۱۵میں ہے کہ جسم کا پھونک دینا آخری کام ہے۔ 
شارحین نے اس کا مطلب یہ بتایا ہے کہ جو کام انسان کے ساتھ کرنے تھے وہ سب ہو چکے بس آخری یہی کام ہے کہ جلا دیا جائے، اگر جلا دینے کے بعد کوئی اور کام بھی باقی ہوتا تو وہ بیان ہوتا اور جلانے کو آخری کام نہ قرار دیا جاتا۔ 
 اور اس کی زیادہ تر تشریح ،منو سمرتی ادھیائے ۴۔اشلوک ۲۳۹میں ہے جس کی عبارت یوں ہے:
جس کے معنی یہ ہیں کہ پرلوک میں یعنی اس عالم میں جو مرنے کے بعد پیش آتا ہے ،نہ باپ مدد کرسکتا ہے نہ ماں، نہ بیٹا، نہ جورو، نہ قومی بھائی،البتہ تنہا دھرم مددگار ہوتا ہے۔ انتہیٰ۔ منوسمرتی۔ 
اس سے صاف روشن ہے کہ محض آدمی کا دھرم کام آتا ہے اور مرنے کے بعد کسی کی مدد سے کام نہیں چلتا۔ لہٰذا معلوم ہوا کہ یہ لوگ جو کچھ ایصال ثواب میت کے لیے کرتے ہیں تو یہ ان کا اصل مذہب نہیں۔ پھر اس کو شعارِ ہنود قرار دینا بہت بڑی غفلت ہے۔
اپنے گرد و نواح پر نظر کرتے ہیں توہم ہندوؤں کے تین مَتھ پاتے ہیں : ایک آریہ سماج۔ دوسرا  سراؤگی۔ اور تیسرا  برہمنوں کا برتاؤ۔ 
اب آریہ سماج جو یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم اصل وید پر چلتے ہیں تو وہ اعمال بدنی و مالی کچھ بھی میت تک پہنچنے کو نہیں مانتے، اور اسی طرح سراؤگی قوم بھی۔ باقی رہے وہ جو برہمنوں کے مَتھ پر چلتے ہیں تو ان کے حالات ’’تحفۃ الہند‘‘ کے حوالے سے لکھتا ہوں جسے مولف براہین قاطعہ نے بھی بطورِ سند پیش کیا ہے۔ 
تحفۃ الہند مطبوعہ فاروقی کے صفحہ ۸۵ کی پہلی سطر میں ہے کہ ہندوؤں کے دین میں ثواب پہنچانے کا یہ طریقہ ہے کہ مثلاً کھانا یا کپڑا وغیرہ جس چیز کا ثواب پہنچانا ہو تو اس کاسنکلپ یعنی نیت یوں کریں کہ ثواب پہنچانے والا داہنے ہاتھ میں پانی لے کر شاستری زبان میں یہ کہے کہ اب جو فلانا مہینا،فلانی تاریخ،فلانا دن ہے تو میں فلانا شخص، فلانی میری قوم،فلانی چیز،فلانے شخص کے لیے صدقہ کرتا ہوں،پھر اس پانی کو زمین پر ڈال دے۔ 
واضح رہے کہ اس عاجز راقم الحروف نے ہندوؤں سے تحقیق کیا اور سنکلپ کی کتاب اس عاجز کے پاس بھی موجود ہے،ان سب تحقیقات سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ مذکورہ بالا مضمون شاستری زبان میں پڑھتے ہیں اس کے علاوہ دیوتا وغیرہ کا نام بھی لیتے ہیں جن کابیان طویل ہے،لیکن وید جس کے کلام الٰہی ہونے کا وہ لوگ اعتقاد رکھتے ہیں ،نہیں پڑھتے۔ہاں ! کسی بڑی سنکلپ شادی وغیرہ میں کوئی ایک منتر پڑھ دیتے ہیں جس کا مضمون یہ ہوتا ہے کہ آؤ میرے مکرم، اور وہ سنسکرت کے یہ الفاظ پڑھ کر ارواح کو اپنے نزدیک بلاتے ہیں۔
اب بھلا اہلِ اسلام کی فاتحہ کو اس سے کیا مناسبت !
راقم نے ایک پنڈت سے پوچھا،کیوں جی! تمہارے وید میں تو میت کے ایصال کے لیے کچھ بھی حکم نہیں ہے تو تم نے یہ کہاں سے نکالا؟ جواب ملا کہ اگرچہ وید میں نہیں لیکن اس سے نفع ہوتا ہے، بالفرض اگر میت کو نہ پہنچا تو اس کے خیرات کرنے والے وارث کو ثواب پہنچے گا، جس بہانے سے خیرات نکلے بہتر ہے۔ اس وقت مجھ کو یقین کامل ہو گیا کہ یہ باتیں ان کی بنائی ہوئی ہیں اور مولوی عبید اللہ صاحب کے تحفۃ الہندکے صفحہ ۸۶پر لکھنے کی تصدیق بھی ہو گئی کہ ’’یہ برہمنوں کے بڑوں نے اپنی اولاد کی گزربسر کے لیے خوب تدبیر کی ہے کہ سنکلپ کیا ہوا مال برہمنوں کے علاوہ کوئی اور نہ لے‘‘۔
جب یہ بات معلوم ہو گئی کہ یہ سب احکام ان کے مذہبی نہیں تو معلوم ہو گیا کہ یہ اور مذاہب سے انھوں نے لیے۔ گمانِ غالب یہ ہے کہ جب ہندوؤں نے مسلمانوں کو میت کے لیے ایصالِ ثواب مالی و بدنی کرتے دیکھا اور یہ بھی دیکھا کہ وہ کہتے ہیں  : 
اللّٰہم أوصل ثواب ما قرأت و ما انفقت إلی فلان۔
یعنی اے اللہ! تو میرے پڑھے اور خرچ کیے کا ثواب فلاں کو پہنچا دے۔
مسلمانوں کو اس ملک پھیلے ہوئے ہزاربرس سے زیادہ ہو گئے تو غالباً ہندوؤں نے اہل اسلام کی یہ باتیں سیکھ کر کچھ کچھ اس کے قریب اپنے مذہب میں سنکلپ وغیرہ جاری کر دیا،کچھ اِدھر سے لیا اور کچھ خود اپنا ایجاد کردہ،سب مل ملا کران میں یہ شکل پیدا ہو گئی، اور ان کے پیٹو پیشواؤں نے شاستر میں بھی اس کو درج کر دیا۔
ہمیں مانعین بے تحقیق کے حال پرافسوس ہوتا ہے جو ہندوؤں کو ایصالِ ثواب کے قاعدے میں اصل الاصول قرار دے کر مسلمانوں کو ان کا پیرو اور تشبہ کرنے والا بتاتے ہیں۔ نہیں نہیں !ہم کو ان سے کچھ مناسبت نہیں، وہ لوگ سنکلپ کے وقت چلو میں پانی لیے ہوتے ہیں اور سنکلپ کیا ہوا مال برہمن کے علاوہ کسی اور کو نہیں دیتے،گرچہ وہ برہمن مالدار و دولت مند اور دوسرا آدمی نہایت درجہ محتاج اور تنگ دست ہو۔ اور میت کا گھوڑا،پوشاک، برتن، زیور وغیرہ ،مہابرہمن کو دیتے ہیں۔ مہابرہمن وہ ہوتا ہے جو میت کا صدقہ لیتا ہے۔یہ مضامین تحفۃ الہند کے صفحہ ۸۵ اور ۸۶ پر موجود ہیں۔ اور یہ کتاب مولف براہین قاطعہ کے نزدیک نہایت معتمد ہے۔اب براہین قاطعہ سے یہ بات نقل کرتا ہوں کہ تشبہ کون سامنع ہے۔
(براہین قاطعہ کے) صفحہ ۱۷۴ کی تیرہویں سطر میں ہے  :
جس شے شعار میں تشبہ ہے اس میں من کل الوجوہ تشبہ ہو تو منع ہے۔ مثلاً تمام وردی نصاریٰ میں سے ایک کلاہ پہنی تو کلاہ من کل الوجوہ مشابہ ہو اگر اس کلاہ میں بعض وجہِ تشابہ کی ہو گی تو حرام نہ ہو گی انتہیٰ 
الحمد للہ! کہ ہم کو جواب دینے کی ضرورت نہیں،خود ان کی زبانی قصہ طے ہوا۔ آپ حضرات اہل اسلام کامرسومہ طریقہ اور ہندوؤں کا مروجہ طریقہ ملا کر دیکھیں کہ من کل الوجوہ تشبہ کہاں ہے؟۔اول تو ان کے وید میں میت کے لیے ایصال ثواب آیا ہی نہیں اور قوم ہنود کے بہت سے لوگ اسے جائز ہی نہیں سمجھتے۔ خیر اگر بعض ہنود نے اوروں کی دیکھا دیکھی یا قومی مصلحت کوشی وغیرہ کے سبب یہ کام کیا تواب مشکل یہ ہے کہ ان کے یہاں صدقہ لینے والا اور پڑھنے والا خاص قوم (سے ہوتا ہے) اور سنکلپ یعنی ایصال ثواب میں خواہ کسی چیز کا ایصال ہو ،رفع یدین نہیں بلکہ چلوپانی ہاتھ میں لیے رہتے ہیں اور یہاں اہل اسلام میں کوئی بھی کام مذکورہ امور سے نہیں لہٰذا تشبہ کا دعویٰ بالکل باطل ٹھہرا بلکہ یہ سمجھناچاہیے کہ اہل اسلام فاتحہ میں جو کچھ کرتے ہیں اپنے اصول دین کے موافق کرتے ہیں۔ 
خلاصہ یہ ہے کہ مالی و بد نی ہرقسم کا ایصالِ ثواب شرعاً ثابت ہے اور یوں ہی جمع بین العبادتین بھی۔ اس سلسلے میں شرعی دلائل نقل ہو چکے۔ اور دعا میں دونوں ہاتھ اٹھانے کے متعلق احادیث قولی و فعلی نقل کی جا چکیں۔ اور قربانی جو ایک مالی چیز ہے اور سامنے موجود ہے اس پر یہ زبانی دعا کہ یا اللہ اس کو محمد  اور اس کی آل و امت کی طرف سے قبول فرما یعنی جن جن کو ثواب میں شریک کرنا تھا ان کا نام زبانِ مبارک سے لیا اس سلسلے میں بھی احادیث گزر چکیں، نیز دعا و عقیقہ کے احوال بھی بیان کیے جا چکے۔ تو اہل اسلام یہ امور قواعد شرعیہ کی روشنی میں کرتے ہیں اور اگر کبھی کسی شخص کو بادی النظر میں کوئی چیز مشترک و متشابہ معلوم ہونے لگے تو چاہیے وہ اسے یکلخت تشبہ نہ قرار دے بلکہ اسے توافق مِلّتین کے قبیل سے سمجھے۔ جیسا کہ اہل اسلام اللہ تعالیٰ کو مانتے ہیں، اور ہنود بھی وجودی باری تعالیٰ کا اقرار کرتے ہیں مگر اصطلاح شرع میں اس کا نام تشبہ تو نہیں اس کوتو افق ملتین کہتے ہیں اور یہ ممنوع نہیں۔ 
الحاصل!  براہین قاطعہ میں جو فاتحہ مروجہ میں جمع بین العبادتین مان کر چار خارجی وجہوں سے کراہت عارضی قائم کی تھی وہ حرارتِ عارضی کی طرح شرعی دلیلوں سے ٹھنڈک پا کر برابر ہو گئیں۔ والحمدللہ علیٰ ذلک۔ 
لطیفہ:  مولف براہین قاطعہ نے صفحہ ۱۱۳ کی ساتویں سطر میں لکھا ہے  :
تشبہ کے لفظ میں اخذ بہ تکلف ہے سو قصد اور فعل مکلف کا اس میں ہونا چاہیے،پس اس کی یہ صورت ہے،اگرکسی نے کوئی کام نادانستہ کیا اور پھر اس کو خبر ہوئی تو ازالہ کرے ورنہ اب بعد علم کے متشبہ ہو گا پہلے متشبہ نہ تھا اور اپنے فعل میں عاصی بھی نہیں تھا انتہیٰ 
اس عبارت سے معلوم ہوا کہ جن امور میں کفار کے ساتھ تشبہ لازم آتا ہے اگر آدمی نہ جانتا ہو کہ ان میں تشبہ ہے اور اس حالت نادانستگی میں یہ فعل کرتا رہے تو جب تک اس کو علم تشبہ حاصل نہ ہو اس وقت تک وہ معافی میں ہے نہ وہ متشبہ ہے کہ جو حکم من تشبہ بقوم میں داخل ہو، اور نہ عاصی ہے۔ تو اس تقریر کے موافق تمام فاتحہ و میلاد شریف کے کرنے والے بری ہو گئے وہ ہرگز ان امور کو تشبہ بالہنود نہیں جانتے،جب ان کو ثبوت تشبہ نہیں ہوا تو بہ اقرارِ مولف براہین قاطعہ متشبہ اور عاصی بھی نہ ہوئے۔



لمعہ ثانیہ   جمعرات کی فاتحہ 

شیخ عبد الحق  رحمۃ اللہ علیہ  نے’’ اشعۃ اللمعات‘‘ میں لکھا ہے  :
و در بعض روایات آمدہ است کہ روح میت می آید خانہ خود راشب جمعہ پس نظر می کند کہ تصدق می کنند از وے یا نہ۔(۱)
۔۔۔
(۱)	اشعۃ اللمعات: ۱؍ ۷۶۳ مطبوعہ مکتبہ حبیبیہ پاکستان۔
۔۔۔
یعنی بعض روایتوں میں آیا ہے کہ میت کی روح جمعہ کی رات کو اپنے گھر آتی ہے اور دیکھتی ہے کہ اہل خانہ نے اس کے لیے کچھ صدقہ کیا ہے یا نہیں۔
’’خزانۃ الروایات ‘‘میں ہے  :
عن بعض العلماء المحققین أن الأرواح تتخلص لیلۃ الجمعۃ و تنتشر فجاء وا إلی مقابرہم ثم جاء وا في بیوتہم ۔
یعنی بعض محققین علما فرماتے ہیں کہ روحیں شب جمعہ آزاد ہو کر پھیل جاتی ہیں اور پھر اپنی قبروں اور اپنے گھروں کا رخ کرتی ہیں۔
صدر بن رشید تبریزی نے ’’دستور القضاۃ‘‘ میں لکھا ہے  :
من الفتاویٰ النسفیۃ أن أرواح المومنین یأتون في کل لیلۃ الجمعۃ و یوم الجمعۃ فیقومون بفناء بیوتہم ثم ینادي کل واحد منہم بصوت حزین یا أہلي و یا أولادي و یا أقربائي اعطفوا علینا بالصدقۃ و اذکرونا و لا تنسونا و ارحمونا فی غربتنا قد کان ہذا المال الذي في أیدیکم في أیدینا فیرجعون منہم باکیا حزینا ثم ینادي کل واحد منہم بصوت حزین اللہم قنطہم من الرحمۃ کما قنطونا من الدعاء و الصدقۃ۔
یعنی فتاویٰ نسفیہ میں ہے کہ مومنوں کی روحیں ہر جمعہ کی رات اور دن میں آتی ہیں اور گھر کے صحن میں کھڑی ہو کر درد انگیز آوازیں لگاتے ہوئے کہتی ہیں اے اہل و عیال اور اے میرے احباب و اقارب !کچھ صدقہ کر کے ہم پر مہربانی کرو،ہمیں یاد رکھو، بھول نہ جاؤ،اس بے کسی کے عالم میں ہم پر رحم کرو، یہ مال جس پر تم آج قبضہ جمائے بیٹھے ہو کل ہمارے ہاتھوں میں تھا۔ اور پھر روتے بلکتے غمزدہ لوٹ جاتی ہیں، اور ان میں ہر کوئی پُر درد لہجہ میں دعا کرتا ہے اے اللہ! آج جس طرح انھوں نے ہمیں صدقہ و دعا سے محروم رکھا تو تو بھی انھیں اپنی رحمت سے دور رکھ۔
علی بن احمد غوری نے بھی ’’کنزالعباد‘‘ میں اسے نقل فرمایا ہے۔ 
ان منکرین حضرات کا یہ قاعدہ ہے کہ جس کتاب میں ان کے خلاف عقائد بیان ہوتے ہیں اس کو غیر معتبر کہ دیا کرتے ہیں کہ اس کی روایتیں ضعیف ہیں۔ اسی لیے میں انھیں خبردار کرتا ہوں کہ شیخ عبد الحق  رحمۃ اللہ علیہ   سے مولوی اسحق صاحب نے بھی ’’مائۃ مسائل ‘‘میں چند مقام پر سندپکڑی ہے،نیز ’’خزانۃ الروایات‘‘ سے بھی۔مائۃ مسائل کے مسئلہ ہشتادسویم (۸۳)میں اور مسائل اربعین کے مسئلہ سی و پنجم(۳۵) اور بست سویم(۲۳) میں ’’خزانۃ الروایات‘‘ سے سند پکڑی ہے۔ساتھ ہی مائۃ مسائل کے مسئلہ سیزدہم(۱۳) میں ’’دستورالقضاۃ ‘‘ سے بھی سندپکڑی ہے۔ تو یہ کتابیں ان کے بزرگواروں کے نزدیک مسلم الثبوت اور قابل سند ہیں۔ غرض کہ ان معتبر کتابوں کے مطابق معلوم ہوا کہ جو لوگ کچھ خیر خیرات اور دعا درود وغیرہ نہیں کرتے،ان کے گھر سے مردوں کی روحیں غمگین و نا امید ہو کر ان کو کوستی اور بد دعائیں دیتی نکلتی ہیں۔ اس بنیادپرسلف میں دستورتھا کہ جمعرات کو صدقے دیا کرتے تھے،لیکن آخری صدی کے بعض علما نے اسے چھڑوا دیا۔
مولوی اسماعیل صاحب کے تابعین کہتے ہیں کہ اگر وہ میت بہشتی ہے تو اس کی روح بہشت کو چھوڑ کر کیوں آتی ہو گی اور اگر دوزخی ہے تو دوزخ سے نہیں چھوٹتی ہو گی۔
ہم کہتے ہیں کہ یہ سب کے سب خیالی اعتراضات بے اصل ہیں۔یہ لوگ اپنے پیشوا مولوی اسماعیل صاحب کے دادا پیر جناب شاہ عبدالعزیز صاحب  رحمۃ اللہ علیہ  کی تفسیرکیوں نہیں دیکھتے کہ انھوں نے سورۂ جن میں آیت کریمہ :  مِنَّا الْقَاسِطُوْنَکے تحت جنات کی جو چارقسمیں لکھی ہیں تواس میں فرقہ چہارم کے بارے میں لکھا کہ وہ جن، بعض ارواحِ خبیثہ کو اپنے ساتھ لے کر اپنا ہم رنگ کر لیتے ہیں پھر وہ روحیں بھی لوگوں کوستاتی پھرتی ہیں۔صفحہ ۱۸۵پر اصل عبارت یہ ہے  :
چہارم فرقہ دیگر اند کہ بطریق دزدان بعضے ارواح آدمیان راکہ باخبیثان در اخلاق بدمثل نخوت وتکبروکینہ داری و تلطخ بہ نجاسات مناسبتے بہم می رسانند کشیدہ می برند و برنگ خود رنگین می کنند و آں ارواح راطریق در آمدن در مسام ابدان و برہم کردن مزاج ہاوتغیر کردن صورت ہاتعلیم می نمایند تابایں وسیلہ اذی ورنجے بآدمیان رسانند و فرقۂ آدمیان رافاسد نمایند۔
یعنی جناتوں کا چوتھا فرقہ وہ ہے جو چوروں کی طرح بعض خبیث خصلت،کینہ پرور، مغرورو متکبر اور نجاست آلودہ آدمیوں کی روحوں تک رسائی حاصل کرتا ہے،ان سے اپنا تعلق بڑھاتا ہے اور انھیں اپنے رنگ میں رنگ لیتا ہے۔پھر ان روحوں کو انسانی جسم میں سرایت کرنے،ان کے مزاج بگاڑ نے اور صورتیں تبدیل کرنے کے ہنر سکھاتا ہے،تاکہ ان طریقوں سے وہ آدمیوں کو رنج و الم پہنچا سکے اور ان میں فتنہ وفساد بپا کرسکے۔
سورۂ عبس میں آیت کریمہ: ثُمَّ أمَاتَہُ فَأقْبَرَہُ کے تحت صفحہ ۵۸پر لکھتے ہیں  :
خلقت آدمی از خاک است وبحکم کل شيء یرجع إلی أصلہ اور ا باصل خودش راجع باید ساخت بخلاف آتش کہ مادۂ خلقت شیاطین وجنیان است پس چوں بدن آدمی را بعد از موت بآں سوزند ارواح لطیفۂاوبادود آتش آمیزش نمودہ مشابہت تام باشیاطین وجنیان پیدا کنند و ازیں است کہ اکثر ارواح وکسانیکہ سوختہ می شوند بعداز موت حکم شیاطین می گیرند و بآدمیان می چسپند و ایذا می دہند پس دردفن کردن ارجاع شے بہ حقیقت خود است و درسوختن قلب حقیقت انتہیٰ 
یعنی انسان کی تخلیق مٹی سے ہوئی ہے اور کل شيء یرجع إلی أصلہ (یعنی ہر چیز اپنی اصل کی طرف لوٹتی ہے) کے اصول کے مطابق وہ اپنی اصل کی طرف لوٹ جاتا ہے۔برخلاف آگ کے کہ اس سے شیاطین اور جناتوں کی خلقت وجود میں آئی ہے تو انسان کی موت کے بعد جب اس کا بدن آگ سے جلایا جاتا ہے تو لطیف روحیں آگ کے دھوئیں کے ساتھ مل کر شیاطین و جنات کے ساتھ مکمل مشابہت اختیار کر لیتی ہیں، اور یہی وجہ ہے کہ اکثر روحیں اور جلائے ہوئے آدمی مرنے کے بعد شیاطین کے زمرے میں شامل ہو جاتے ہیں اور آدمیوں کے ساتھ چپک کران کی ایذا رسانی کا سبب بن جاتے ہیں جب کہ دفن کر دینے کی صورت میں وہ اپنی اصلیت کی طرف لوٹ جاتے ہیں اور جلا دینے سے ان کی حقیقت بدل جاتی ہے۔ 
دیکھیے !  یہ لوگ روحوں کی حرکت کو محال سمجھتے تھے، ان کی مسلم الثبوت کتاب ،شاہ صاحب کے کلام سے بری روحوں کی سیروحرکت سبھی ثابت ہو گئی۔ ان کے اعتراض کو توڑنے کے لیے تو یہی حجت بس ہے۔ بقیہ اور جماعت اسلام اور طالبانِ دلیل حق کے لیے یہ لکھا جاتا ہے کہ روحوں کی حرکت حدیث معراج سے بھی ثابت ہے کہ جمیع انبیا علیہم السلام کی روحیں بیت المقدس میں جمع ہوئیں، اور اوپر شرح مشکوٰۃ،خزانۃ الروایات اور دستورالقضاۃ وغیرہ کے حوالے سے ہم یہ روایتیں نقل کر چکے کہ روحیں جمعرات کو اپنے گھروں پر آتی ہیں۔ اور اسی طرح لمعہ ثالثہ میں   تَنَزَّلُ الْمَلاَئِکَۃُ وَالرُّوْحُ کے بیان کے ساتھ یہ روایت آئے گی کہ شب براءت اور عید کو بھی روحیں آتی ہیں،نیز مولد شریف کے مباحث میں بھی روحوں کی سیرکابیان آئے گا انشاء اللہ  اور اب (لگے ہاتھوں ) دو ایک روایتیں اور بھی نقل کی جاتی ہیں۔ 
شیخ الشیوخ حضرت شہاب الدین سہروردی رحمۃ اللہ علیہ  نے ’’عوارف المعارف‘‘ کے چھپنویں باب میں یہ حدیث نقل فرمائی ہے  :
روي سعید بن المسیب عن سلمان قال أرواح المؤمنین تذہب في برزخ من الأرض حیث شاءت بین السماء و الأرض حتی یردہا إلی جسدہا۔ 
یعنی حضرت سعیدبن مسیب رضی اللہ عنہ  نے حضرت سلمان رضی اللہ عنہ  سے روایت کی کہ مومنوں کی روحیں عالم برزخ میں زمین وآسمان کے اندر جہاں چاہتی ہیں جاتی ہیں پھر وہ اپنے جسموں میں پلٹا دی جاتی ہیں۔
قاضی ثناء اللہ نے ’’تذکرۃ الموتیٰ والقبور‘‘ میں لکھا ہے  :
ابن ابی الدنیا ازمالک روایت کرد کہ ارواحِ مومنین ہرجاکہ خواہند می روند       الیٰ آخرہ 
یعنی ابن ابی الدنیا نے مالک سے روایت کی ہے کہ مومنوں کی روحیں جہاں چاہتی ہیں جاتی رہتی ہیں۔
 اس سے پہلے اسی فصل میں شہدا کے بارے میں لکھا ہے  :
حق تعالیٰ درحق شہدا می فرماید بَلْ أحْیَائٌ عِنْدَ رَبِّہِمْ ۔  اقول شایدباید مراد آں کہ حق تعالیٰ ارواح شاں را قوت اجسادمی دہد و ہر جا کہ خواہند سیر کنند و ایں حکم مخصوص شہدا نیست انبیاو صدیقان از شہدا افضل اند واولیاہم در حکم شہدا اند کہ جہاد نفس کردہ اند کہ جہاد اکبر است یعنی  رجعنا من الجہاد الأصغر إلی الجہاد الأکبر ازاں کنایت است و لہٰذا اولیاء اللہ گفتہ اند أرواحنا أجسادنا أجسادنا أرواحنا یعنی ارواح ما کاراجساد می کنند وگاہے اجساد از غایت لطافت برنگ ارواح می بر آید می گویند کہ رسولِ خدا را سایہ نہ بود  صلی اللہ علیہ وسلم  ارواح ایشاں درزمین وآسمان و بہشت ہرجاکہ خواہند می روند و دوستان ومعتقدان را دردنیا و آخرت مددگاری می فرمایند و دشمناں را ہلاک می نمایند۔انتہیٰ۔
یعنی اللہ تعالیٰ نے شہیدوں کے بارے میں فرمایا ہے کہ وہ اپنے رب کے ہاں زندہ ہیں۔ میں کہتا ہوں : اس کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ حق تعالیٰ نے ان روحوں کوجسموں کی سی طاقت دے دی ہے اور جہاں چاہتی ہیں سیرکرتی رہتی ہیں، اور یہ حکم کوئی صرف شہیدوں کے ساتھ ہی خاص نہیں، انبیا اور صدیقین، شہداسے بھی افضل ہوتے ہیں اور اولیائے کرام جہادِ نفس کرنے کی وجہ سے شہیدوں کے ہم درجہ ہوتے ہیں کہ اسے جہادِ اکبر کہا گیا ہے۔(وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان کہ)ہم اب چھوٹے جہاد سے بڑے جہاد کی طرف پلٹ رہے ہیں، سے یہی جہادِ اکبر مراد ہے۔ اولیاء اللہ کہا کرتے ہیں کہ :  أرواحنا أجسادنا أجسادنا أرواحنا  یعنی ہماری روحیں جسموں کے سے کام کیا کرتی ہیں اور کبھی ہمارے جسم ایسے لطیف ہو جاتے ہیں کہ روحوں کا روپ دھار لیتے ہیں۔ کہا گیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کا سایہ نہ تھا۔ اِن کی روحیں زمین وآسمان اور بہشت میں جہاں چاہتی ہیں گشت کرتی رہتی ہیں اور دنیا و آخرت میں اپنے چہیتوں اور عقیدت مندوں کی امداد و اعانت اور دشمنوں کو ہلاکت کے گھاٹ اتارتی رہتی ہیں۔
 ان روایتوں سے ارواح کی دنیا میں بھی سیرثابت ہوتی ہے، اور یہی اہل سنت و جماعت کا بھی مذہب ہے۔ 
امام عبد اللہ یافعی یمنی قدس سرہ  ’’روض الریاحین‘‘ کی ایک سواڑسٹھویں حکایت کے اخیر میں لکھتے ہیں  :
مذہب أہل السنۃ أن أرواح الموتیٰ ترجع في بعض الأوقات من علیین أو سجین إلی أجسادہم في قبورہم عند ما یرینا اللّٰہ تعالیٰ و خصوصاً في لیلۃ الجمعۃ و یومہا ویجلسون و یتحدثون  إلی آخرہ 
یعنی اہل سنت کا مذہب یہ ہے کہ جب اللہ دکھانا چاہتا ہے تو مردوں کی روحیں بسا اوقات علیین یا سجین سے قبروں میں ان کے جسموں کی طرف پلٹ کر آ جاتی ہیں، خاص کر شب جمعہ اور روز جمعہ میں آ کر بیٹھتی اور باتیں بھی کرتی ہیں۔
’’الاشباہ والنظائر ‘‘ کے احکام الجمعہ میں ہے  :
و فیہ تجتمع الأرواح و تزار القبور ، کذا فی الدر المختار و شرحہٖ۔ (۱)
یعنی جمعہ کے دن روحیں اکٹھا ہوتی ہیں اور پھر قبروں کی زیارت کی جاتی ہے۔ 
۔۔۔۔
(۱) 	الاشباہ والنظائر:۲؍۲۷۱۔۔  درمختار:۲؍۱۷۹۔
۔۔۔۔۔
الغرض!  شب جمعہ اور روز جمعہ میں روحوں کا قبروں تک آنا ان معتبر کتابوں سے ثابت ہو گیا۔ باقی قبروں سے اپنے گھروں میں آنا اوپر ’’خزانۃ الروایات ‘‘ کے حوالے سے بیان کیا جا چکا کہ  :  
جاء وا أولا إلی مقابرہم ثم جاء وا في بیوتہم۔
یعنی پہلے تو وہ قبروں کو آتی ہیں اور پھر اپنے گھروں کا رخ کرتی ہیں۔
اس روایت کے مطابق پہلی صدی کے خاتمہ اور دوسری صدی کے آغاز پر ایک عجیب قصہ رونما ہوا،جسے استیناس کے طور پر لکھا جاتا ہے۔
امام ابومحمد  عبد اللہ یافعی یمنی  طیب اللہ ثراہ ’’روض الریاحین‘‘ میں لکھتے ہیں  :
عن بعض الصالحین قال کان لي ابن استشہد فلم أرہ في المنام إلا لیلۃ توفي في عمر بن عبد العزیز  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  یرایٰ لي تلک اللیلۃ فقلت یا بني أ لم تک میتا فقال لا و لکني استشہدت و أنا حي عند اللہ اُرزق فقلت لہ ما جاء بک فقال نودي في أہل السماء ألا لا یبقی نبي و لا صدیق ولا شہید إلا و یحضر الصلوٰۃ علی عمر بن عبد العزیز فجئت لأشہد الصلوٰۃ ثم جئتکم لأسلم علیکم۔
یعنی بعض صالحین سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میرا ایک بیٹا شہید ہو گیا تھا، میں نے کبھی اسے خواب میں نہ دیکھا،حضرت عمر بن عبدالعزیز  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کی وفات کے دن وہ دکھائی دیا،میں نے کہا بیٹے کیا تم مرے نہیں ؟ کہا نہیں میں تو شہید ہوا تھا اور اللہ کے یہاں زندہ ہوں اور رزق بھی پاتا ہوں، میں نے پھر اس کے آنے کا سبب پوچھا تو کہنے لگا کہ آسمان میں آواز لگائی گئی تھی کہ خبردار! کوئی نبی و صدیق اور شہید باقی نہ رہے ،سب عمر بن عبد العزیز کے جنازہ پر نماز پڑھیں تو دراصل میں ان کی نماز پڑھنے آیا تھا پھر تمھیں سلام کرنے کو بھی حاضر ہو گیا۔
  الحمدللہ! کہ ہم میت کے ایصال ثواب اور خیرات کی رغبت کی غرض سے جو یہ دعویٰ کرتے تھے کہ اہل اسلام کی روحیں آتی ہیں خواہ وہ بالکل نیک و پرہیزگار ہوں خواہ بے چارے عاصی و گنہ گار،تو ان کا آنا کتب اسلامیہ کی روایتوں سے بخوبی ثابت ہو گیا۔مذہبا ً،روایۃً، کشفاً اور درایۃً۔ 
ان صاحبوں کی نا انصافی دیکھیے کہ اپنے پیر و مرشد قبلہ کے منہ سے جو بات نکلی وہ تو پتھر کی لکیر ہو جاتی ہے اور دوسرا شخص کیسے ہی ٹھوس دلائل سے ثابت کرے،اس پ رایمان لانے کے روادار نہیں ہوتے۔ 
اب دیکھیے ! مولوی اسماعیل صاحب نے جو ’’صراطِ مستقیم‘‘ کے آخر ورق میں اپنے پیر و مرشد کی تعریف میں لکھا ہے  :
غوث الثقلین اور خواجہ بہاء الدین نقشبندی کی روحیں ان کی طرف متوجہ ہو گئیں اور ایک مہینہ تک ان میں چھینا جھپٹی اور لڑائی ہوتی رہی،یعنی ایک کہتی تھی کہ ہم سیداحمد صاحب کو اپنی طرف لیں تودوسری کہتی تھی کہ ہم اپنی طرف لیں،آخر کار دونوں پاک روحوں نے آپس میں صلح کر کے یہ بات ٹھہرائی کہ اچھا سید احمد صاحب میں ہمارا تمہارا دونوں کاساجھا رہے گا۔ تب ایک دن دونوں روحیں ان پر ظاہر ہوئیں اور ایک پہر تک قوی توجہ دی،اتنی دیر میں حضرت کو دونوں طریقوں کی نسبت نصیب ہو گئی انتہیٰ 
اب دیکھیے کہاں حضرت غوث اعظم کا مزار پاک بغداد شریف میں، اور کہاں خواجہ عالی شاہ نقش بند کا مزار بخارا میں !پھر پتا نہیں ان کی روحیں علیین کے کس طبقہ اور جنت کے کس درجہ میں ہوں گی اور یہ بھی کہ ان دونوں مقدس حضرات کے مریدوں میں سیکڑوں کامل اولیاء اللہ کیا بلکہ ہزاروں لاکھوں مقبولین ہوں گے اس پربھی ان کی ہوس نہ بجھی اور سید احمد صاحب کی ان کو خواہش پیدا ہوئی کہ ان کو اپنی نسبت مریدی میں لیجیے اور اسی آرزو میں علیین یا بہشت سے ہندوستان میں وہ روحیں توجہ دینے اُتر آئیں، ہم اس کو رد نہیں کرتے، لیکن ان دانش مند مصنفوں کے حال پر افسوس کرتے ہیں کہ یہ مولوی اسماعیل صاحب کی تحریر کو مسلم رکھتے ہیں حالاں کہ عقلی طور پر اس میں چند باتیں خلاف عادی معلوم ہوتی ہیں، اور ہم روحوں کا اپنے گھروں پر آنا کچھ تو مقتضائے عقل ہونے کی وجہ سے (مانتے ہیں )کہ چونکہ اپناگھرہرکسی کو عزیز ہوتا ہے، جب روحوں نے دنیا کی سیر کی تو اپنے گھر کی سیر کیوں نہ کریں، اور روح کے لیے مکان کی دوری رکاوٹ نہیں بن سکتی کیوں کہ وہ مجردات سے ہے۔اگر(ایسا) ثابت کرتے ہیں،اس پر حدیثیں پیش کرتے ہیں اور فقہا رحمہم اللہ کی روایتوں کی سندگزارتے ہیں تو اس پر انکار کرتے ہیں اور اس عقیدے کی بنیاد پر ہم کو اور ساتھ ہی ان مفتیانِ دین کو جو یہ روایتیں اپنے فتاویٰ میں درج کر گئے ہیں ،بدعتی کہنے لگتے ہیں۔یہ وہی مثل ہے کہ جس طرح فرقہ معتزلہ خود کو’ اصحاب العدل والتوحید،کہلاتے ہیں اور اہل سنت و جماعت کو بدعتی اور خواہشوں کے پیرو کہتے ہیں۔ اور اہل انکار کاسید احمد صاحب کے قصہ میں یہ کہنا بھی ہے کہ یہ ان کو مکاشفہ ہو گیا تھا   اس کی تحقیق لمعہ سادسہ میں میلاد شریف کے تحت روحوں کی سیر میں آئے گی 
مولف’’ براہین قاطعہ گنگوہی ‘‘کا صفحہ ۸۰ میں روح میت کی بددعا دینے پریہ اعتراض کرنا چند وجوہ سے مخدوش ہے  :
اگر زندہ نے مردہ کو ثواب نہ پہنچایا تو کوئی ظلم اس نے میت پر شرعاً نہیں کیا ہاں احسان بھی نہیں کیاپس احسان نہ کرنے پر بددعا ظلم ہے میت باوجودیکہ ظلمت نفس و شیطان سے چھوٹا حقیقۃ الامرخیر و شر اس کو برزخ میں واضح ہو گئی وہ اب بھی بزعم مولف بعد اتیان کشف و یقین آخرت کی شرنفس میں مبتلا ہے یہ روایت قطعا متہم و متروک ہے  انتہیٰ ملخصاً 
پہلی وجہ تو یہ ہے کہ حدیث کی قوت و ضعف اور صحت وسقم پہچاننے کے لیے میزان شرعی، اسناد ہے، اگر مولف براہین کو اسناد معلوم نہ تھی تو مفتیان شرع متین کی نقل پر اعتماد کیا ہوتا جو چند فتاویٰ حنفیہ میں رقم ہیں۔جمعرات کو روحوں کے آنے اور صدقہ نہ کرنے کی صورت میں بددعا دینے کی روایت’’ فتاویٰ نسفیہ‘‘ میں موجود ہے جو علامہ سمرقندی ،امام نجم الدین عمر بن محمد  نسفی کی تالیف ہے۔ اس میں وہ سب مسائل جمع کر دیے ہیں جوان کی حیات میں ان سے استفتے کیے گئے تھے  ۵۳۷ھ (1142ء)میں ان کی وفات ہوئی، معتمدین علمائے سلف سے تھے اسی لیے خلف نے ان کی روایت پراعتماد کیا اور اپنے اپنے فتاویٰ میں درج کیا، اور کیوں نہ کرتے صاحب در مختار لکھتے ہیں کہ ہمارے ذمہ یہ بات واجب ہے کہ متقدمین جو فتویٰ دے گئے ہیں ہم اس کا اتباع کریں۔ اصل عبارت یہ ہے  :
فعلینا اتباع ما رجحوہ و ما صححوہ۔ (۱)
یعنی ان کے راجح ترین اور صحیح ترین مسائل کی پیروی ہم پر لازم ہے۔ 
 درمختار کے محشی، امام شامی اس مقام پر لکھتے ہیں  :
فإنہ لا یسعنا مخالفتہم۔ (۲)
یعنی اب ہمیں ہرگز گنجائش نہیں کہ ان کی قرارداد کی مخالفت کریں۔
۔۔۔۔
(۱)	درمختار:۱؍۸۳۔
(۲)	رد المحتار:۱؍۱۹۴۔
۔۔۔۔
دوسری وجہ یہ ہے کہ مولف براہین نے اس روایت کو رد کیا تو کس طرح کہ بالکل اوہام و خیالات سے رجماً بالغیب۔ اور ایسادرست نہیں، جن لوگوں نے دین کی روایتوں کی خیالی باتوں سے تردید کی ہے،فقہا و محدثین اہل سنت نے انھیں اچھے الفاظ سے یاد نہیں کیا ہے۔ مثلاً صحیحین میں جو یہ حدیث ہے کہ  :
جب ملک الموت نے موسیٰ علیہ السلام  سے کہا کہ میں روح قبض کرنے آیا ہوں،حکم الٰہی قبول کیجیے،تو حضرت موسیٰ نے (انھیں ) ایساتھپڑ مارا کہ ملک الموت کی آنکھ پھوٹ گئی،جناب باری میں جا کر عرض کی کہ خداوندا! تو نے مجھے ایسے شخص کے پاس بھیجا جو مرنا نہیں چاہتا  الیٰ آخرہ  (۱)
اس حدیث پربعض عقلی خیالات والوں نے طعن کیا کہ بھلاموسیٰ  علیہ السلام  بے قصور تھپڑ کیوں مارتے اور وہ بھی ایسا کہ آنکھ پھوٹ گئی۔ اس بنیاد پر یہ حدیث صحیح نہیں ہے۔ لیکن محدثین نے اس حدیث کوتسلیم کیا اور اعتراض کرنے والوں کو ملحد رکھا،عبارت یہ ہے  :
أنکر بعض الملاحدۃ ہذا الحدیث و قالوا کیف یجوز علیٰ موسیٰ فقء عین ملک الموت۔ (۲)
یعنی بعض ملحداس حدیث کا انکار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ حضرت موسیٰ کے لیے یہ کیسے درست ہوا کہ وہ ملک الموت کی آنکھ نکال دیں۔
 اور یہ قرار دیا کہ حدیث کو عقلی باتوں سے رد نہیں کرناچاہیے بلکہ(جہاں تک ممکن ہو)اس میں تاویل کرنی چاہیے۔ اس حدیث میں تاویل ہوسکتی ہے کہ حضرت موسیٰ کے پاس ملک الموت بشکل انسان آئے اور انھوں نے جاناکہ یہ کوئی دشمن، قتل کوآیا ہے تواس کو دفع کرنے کے لیے تھپڑ مارا، اتفاق سے آنکھ نکل پڑی الیٰ آخرہ 
اس نظیرسے ہم کو ثابت یہ کرنا ہے کہ دینی روایتوں کو ایسے خیالی شاخسانوں سے رد نہ کیاجائے کہ محدثین ایسے کو ملحد کہتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔
(۱)	صحیح مسلم: ۱۲؍۷۵ حدیث:۴۳۷۵۔۔ مشکوٰۃ المصابیح : ۳؍۲۴۱ حدیث:۵۷۱۳۔۔مسند احمد: ۱۶؍ ۳۶۷حدیث: ۷۸۲۵۔۔ مستخرج ابوعوانہ : ۱؍ ۳۸۹ حدیث: ۳۴۷۔۔ صحیح ابن حبان: ۲۵؍ ۴۸۹حدیث: ۶۳۳۰۔۔ صحیفۃ ہمام: ۱؍ ۶۱حدیث: ۶۰۔۔ کنزالعمال: ۱۱؍۵۱۰ حدیث: ۳۲۳۸۴۔۔ المسند الجامع: ۴۴؍ ۴۳۰حدیث: ۱۴۷۱۰۔
	مکمل متن حدیث یوں ہے :
  جاء ملک الموتِ إلی موسی  علیہ السلام  فقال لہ أجب ربک، قال فلطم موسیٰ   علیہ السلام  عین ملک الموت ففقأہا، قال فرجع الملک إلی اللہ تعالیٰ فقال إنک أرسلتني إلی عبدٍ لک لا یرید الموت و قد فقأ عیني، قال فرد اللہ إلیہ عینہ و قال ارجع إلی عبدي فقل الحیاۃ ترید فإن کنت ترید الحیاۃ فضع یدک علی مَتْنِ ثورٍ فما تَوَارَتْ یدُک من شعرَۃٍ فإنک تعیش بہا سنۃً قال ثم مَہْ قال ثم تموتُ، قال فالآن من قریبٍ ربِّ أمِتني من الأرض المقدسۃ رَمیۃً بحجرٍ، قال رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  واللہ لو أني عندہ لأریتکم قبرہ إلی جانب الطریق عند الکثیب الأحمر۔  
(۲)	الدیباج علی مسلم: ۵؍ ۳۵۶۔
۔۔۔۔۔
تیسری وجہ یہ ہے کہ اتہام حدیث اور اسے متروک کہنے کے لیے عقلی تُکّا چلایا بھی تو کیا کہ روحیں بد دعا کیوں دیتیں، اور یہ نہ سمجھے کہ روح کو بدن انسانی کے آب و گل سے کچھ تو تعلق ہے، (ذرا غور فرمائیں کہ) فرشتے جو تکدّر آب و گل سے بالکل مجرد ہیں وہ بھی بخیل ودیوس کو بددعا دیتے ہیں تو روح کا بددعا دینا کیا بعید ہے!۔
صحیحین میں حضرت ابوہریرہ  رضی اللہ عنہ  کی یہ روایت ہے کہ ہر صبح کو دو فرشتے آسمان سے اُترتے ہیں اور دعا کرتے ہیں کہ یا اللہ! خرچ کرنے والے آدمی کو بدلہ عطا فرما اور (اس کا مال)بڑھا اور جو خرچ نہ کرے اس کا جمع کیا ہوا مال تلف کر اور ہلاک فرما انتہیٰ  (۱)
۔۔۔
(۱)	متن حدیث  :  مَا مِنْ یَوم یُصْبِحُ العبَادُ فیہ إلاَّ مَلکانِ ینزلانِ فیقولُ أحدُہما اللہم اعطِ منفقا خلفاً و یقول الآخر اللہم اعط ممسکا تَلَفاً۔
	صحیح بخاری: ۵؍۲۷۰حدیث: ۱۳۵۱۔۔ صحیح مسلم: ۵؍ ۱۸۲حدیث: ۱۶۷۸۔۔ مسنداحمد۴۴؍۱۹۷حدیث: ۲۰۷۲۸ ۔۔سنن کبریٰ بیہقی: ۴؍ ۱۸۷۔۔ مصنف عبد الرزاق : ۱۰؍ ۴۴۴حدیث: ۱۹۶۵۱۔۔ سنن کبریٰ نسائی: ۵؍ ۳۷۵ حدیث: ۹۱۷۸۔۔ مستدرک : ۲۰؍۹۰حدیث: ۸۸۲۹۔۔ معجم کبیرطبرانی: ۲۰؍ ۳۳حدیث: ۱۲۸۲۔۔ تہذیب الاثار طبری: ۵؍ ۴۸۲حدیث: ۲۴۹۸۔۔ شعب الایمان: ۷؍ ۴۱۵حدیث: ۳۲۵۹۔۔ صحیح ابن حبان: ۱۴؍ ۱۶۰ حدیث: ۳۳۹۸۔۔ مسند عبد بن حمید:۱؍ ۲۲۳حدیث: ۲۰۹۔۔ موارد الظمآن: ۱؍ ۲۰۸۔۔ امالی ابن بشران: ۱؍ ۸۲حدیث: ۷۶۔۔ الزہدلاحمدبن حنبل: ۱؍۱۰۵حدیث: ۱۰۴۔۔الزہد لہناد بن سری: ۲؍ ۱۸۱حدیث: ۶۲۰۔۔ الزہد لوکیع: ۱؍ ۴۲۹ حدیث: ۳۷۲۔۔ الزہدوالرقائق لابن مبارک: ۳؍ ۱۰۶حدیث: ۱۰۵۸۔۔ العظمۃ اصبہانی: ۲؍ ۲۵حدیث: ۵۰۵ ۔۔ المطالب العالیہ:۳؍ ۲۶۴ حدیث: ۱۰۰۸۔۔ جامع معمربن راشد: ۱؍ ۳۱۳ حدیث: ۲۵۰۔۔ حدیث ابو محمد  فاکہی: ۱؍ ۶۸ حدیث: ۶۷۔۔ مسند ابن ابی شیبہ: ۱؍۴۰حدیث: ۳۶۔۔ مکارم الاخلاق خرائطی: ۲؍ ۱۳۴ حدیث: ۵۹۵۔۔ مجمع الزوائد: ۲؍ ۱۹۔۔ کنز العمال: ۶؍ ۳۵۱ حدیث: ۱۶۰۱۳۔۔ مسند الجامع: ۳۳؍۴۰۱ حدیث: ۱۱۰۰۰۔۔ تحفۃ الاشراف: ۱۲؍ ۱۱ حدیث: ۱۳۶۱۳۔ 
۔۔۔۔۔
ظاہر ہے کہ جب دنیا میں روح جسم کے ساتھ تھی تو اس وقت اس کے متعلق احکام الٰہی اور تھے اور جب بدن سے جدا ہو کر اس عالم میں داخل ہوئی تواب اس پر احکام وآثاراُس عالم کے نافذ ہوئے۔پھر کیا عجب کہ جس طرح فرشتے خرچ نہ کرنے والے آدمی کو باذنِ الٰہی بددعا دیتے ہیں اسی طرح روحیں بھی اس عالم میں جا کر ایسے آدمی کو  جو مال دبا کر بیٹھ رہا اور اپنے مورث کو صدقہ و فاتحہ سے یاد نہیں کرتا باذنِ الٰہی بددعا دیتی ہوں تو یہ کون سامحال امر ہے کہ جس کے بارے میں مفتیانِ دین کی روایت کو قطعاً متروک و متہّم کہہ دیا جائے۔
چوتھی وجہ یہ ہے کہ اس دعا کو ظلم ٹھہرانا بالکل بے اصل ہے،اس کا مخدوش و مردود ہوناکچھ توتیسری وجہ سے بھی سمجھ لیا گیا علاوہ ازیں ظاہر ہے کہ اگر وارثین دعا اور تصدق کرتے تو شرعی مسئلہ کی روشنی میں انھیں بھی ثواب ملتا اور میت کو بھی۔ جب کچھ نہ کیا تو دونوں محروم رہے۔پھر اگر ایک امر واقعی روحوں کی زبان سے صادر ہوا کہ الٰہی جیسے ہم نا امید پھرے انھیں بھی اپنی رحمت سے محروم رکھنا،تو یہ کس طرح ظلم ٹھہرتا ہے ! 
اگر کوئی یہ کہے کہ امر واقعی کی دعا کیا کی جائے یہ تو تحصیل حاصل ہے تواس کا جواب یہ ہے کہ فقیہ شامی رحمۃ اللہ علیہ  نے اس مسئلہ کو خوب محقق کر دیا ہے کہ تحصیل حاصل کی دعا جائز ہے۔ ملتقطاً ان کی عبارت یہ ہے  :
و لو کان الدعاء بتحصیل الحاصل منہیا لما ساغ الدعاء۔۔۔۔۔۔۔۔ لہ  صلی اللہ علیہ وسلم  لا بوسیلۃ و لا بلعن الشیاطین۔ (۱)
یعنی اگر تحصیل حاصل کی دعا منع ہوتی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  کے واسطہ ووسیلہ کی دعا اذان کے بعد نہ کی جاتی کہ یا اللہ! محمد  صلی اللہ علیہ وسلم کاوسیلہ عطا اور مقام محمود عطا فرما کیوں کہ یہ وعدہ خداوند تعالیٰ خود فرما چکا ہے، اور اسی طرح شیطان پر لعنت کرنی بھی جائز نہ ہوتی کیوں کہ وہ بلا دعا کیے ہی لعنت میں گھرا ہوا ہے۔
۔۔۔۔
(۱)	رد المحتار:۴؍۱۲۱۔   
۔۔۔۔
اگر دعائے ارواح کے یہ معنی ہوں کہ اے وارثو! جس طرح تم نے ہمارے ساتھ ترک احسان کیا اور ہم محروم پھرے خدا کرے کہ جب تم مرو تو تمہارے ساتھ تمہارے ورثہ(بھی یوں ہی) ترک احسان کریں اور (ہماری طرح) تم بھی رحمت و ثواب سے نا امید پھرو۔ تو اب اس مضمون میں اتلاف حق فرض و واجب کی کوئی دعا نہیں جسے ظلم قرار دیا جائے بلکہ ترک احسان پر ترک احسان کی دعا ہے۔ اور جہاں میت کی وصیت پر وارثوں نے حرص و لالچ کی وجہ سے عمل نہ کیا ہو گا تو ان مواقع میں تو روحوں کی بددعاکسی طرح مخل نہ ہو گی۔
پھر(کم از کم)معترضین نے یہی خیال کیا ہوتا کہ روح آنے سے متعلق تمام حدیثوں میں تو بددعا کا کوئی ذکر نہیں کسی ایک میں بھی تو یہ وہی خاص موقع ہو گا جس میں اتلاف وصیت صدقات ہے، باقی اور مواقع میں فقط یہ بات کہ روحیں امیدوار آئیں اور ناکام چلی گئیں غرضیکہ ان لوگوں پر لازم تھا کہ اس روایت میں یہ تاویل یا اس کے مثل اور بھی جو کچھ صحیح محمل نکلتے پیدا کرتے لیکن (خدارا) پہلے کے مفتیانِ دین متین کی روایتوں کو رد نہ کرتے۔
پانچویں وجہ یہ ہے کہ جب ان لوگوں کو کوئی اور توجیہ نہ سوجھی اور (ہرچند) ان کو یہی معلوم ہوا کہ یہ بد دعا قبیح ہے تو یہ کیا دلیل قائم کی کہ عالم برزخ میں جب خیر و شر واضح ہو گیا تو پھر کشف و یقین کے بعد روحوں سے برا فعل یعنی بددعا کرناکس طرح صادر ہو تا۔
ہم کہتے ہیں اگرچہ برزخ میں خیر و شرکا انکشاف ہے لیکن سب سے زیادہ انکشافِ حقائق قیامت کے دن ہو گا،پھر اس روز خدائے عالم الغیب والشہادۃ کے سامنے لوگ اپنے جرائم سے مُکر جائیں گے، اور جھوٹ کا سہارا لیں گے،تب ان کو نامۂ اعمال دکھائے جائیں گے (اس پربھی  یہ)کہیں گے کہ فرشتوں نے زبردستی ہمارے نام لکھ دیے،تو ان کے ہمسائے بلائے جائیں گے،وہ گواہی دیں گے تو وہ ان کو بھی جھٹلائیں گے،تب اللہ رب العزت ان کے منہ پر مہرلگا کر پوچھے گا،توسارے اعضا بول اُٹھیں گے کہ بیشک اس نے یہ گناہ کیے  کذافی التفاسیر  
 امام رازی نے آیت کریمہ:  أنْ یَّشْہَدَ عَلَیْکُمْ سَمْعُکُمْ وَ لاَ أَبْصَارُکُمْ وَ لاَ جُلُودُکُمْ (سورۂ فصلت،۴۱؍۲۲)  کے تحت ابن عباس  رضی اللہ عنہما  سے روایت کیا کہ زنا کاروں کی پیشاب گاہ اس روز گواہی دے گی۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے کہ آپ نے فرمایا: آدمی کے اعضا میں اول ران اور ہتھیلی گواہی دے گی۔(۱)یعنی اس لیے کہ چھونے کا عمل ہاتھ سے شروع ہوتا ہے پھر وقت مباشرت ،نوبت ران تک پہنچ جاتی ہے۔(۲)
خلاصہ یہ ہے کہ جب مجرموں کی گواہی دیں گے تو وہ مجرم بعد میں اپنے اعضا کو دھمکائیں گے کہ تم نے گواہی کیوں دی؟ اور اپنے اعضا کو بد دعا دیں گے  :
بُعْداً لَکُنَّ وَ سُحْقًا۔ (۳)
 یعنی خدا تمھیں اپنی رحمت سے دور اور ہلاک کرے۔ 
۔۔۔
(۱)	تفسیر رازی:۱۳؍۳۸۶۔
(۲)	أول ما یتکلم من الآدمي فخذہ و کفہ۔(مسنداحمد:۴۰؍۴۹۵حدیث: ۱۹۱۷۳۔۔ الاوائل لابن ابی عاصم: ۱؍۴۹حدیث:۴۸۔۔ مستدرک حاکم:۸؍ ۳۱۴حدیث ۳۶۰۳۔۔ اور معجم الکبیرطبرانی میں یوں ہے:  إن أول ما یتکلم من الإنسان حین یختم علی الأفواہ فخذہ من الرجل الیسار۔(۱۲؍۳۰۲)۔ اور اوائل طبرانی کی بیسویں حدیث کے الفاظ کچھ یوں ہیں : أول ما یتکلم من الإنسان یوم القیامۃ و یشہد علیہ بعملہ فخذہ و کفہ۔ (۱؍۴۱)
(۳)	مسلم شریف: ۱۴؍۲۲۰حدیث:۵۲۷۱۔
۔۔۔۔۔
بددعا کا یہ مضمون صحیح مسلم کی حدیث میں ہے۔
’’ روح البیان‘‘ میں ہے کہ جو مسلمان گنہ گار ہوں گے ان کے اعضا بھی گناہ پر شہادت دیں گے لیکن جن اعضا سے انھوں نے نیک کام کیا ہے جب وہ اچھی شہادت دینے لگیں گے تووہ بخش دیے جائیں گے۔
الحاصل!  مذکورہ روایتوں سے یہ ثابت ہو گیا کہ قیامت کے روز جو کہ نہایت درجہ انکشاف حقائق خیر و شر کا دن ہو گا اس دن بھی آدمی ایسے ایسے برے کام کریں گے کہ خاص اللہ تعالیٰ کے سامنے مُکر جائیں گے،جھوٹ بولیں گے،فرشتوں،آسمان و زمین کے ٹکڑوں اور ہمسایوں سب کو جھٹلائیں گے، اور پھر جب اعضا گواہی دیں گے حالاں کہ انھوں نے باذن الٰہی گواہی دی ہے اور سچی گواہی دی ہے تو بندہ اس پربھی ان کو کوسے گا اور بددعا دے گا کما رواہ مسلم 
جب مذکورہ بالا ایسے ایسے کام ایسے مقام کشف و عیاں میں ہوں گے تو بھلا عالم برزخ میں روحوں کابددعادیناکس طرح محال ومستبعد ٹھہراجس سے فتاویٰ کی روایتوں کو جھٹلادیا!۔
چھٹی وجہ یہ ہے کہ حدیث صحیح ہے  :
یُبْعَثُ کُلُّ عَبْدٍ عَلیٰ مَا مَاتَ عَلَیْہِ۔ (۱)
یعنی آدمی اسی خصلت پر اٹھایا جائے گاجس پر مرا ہے۔
دوسری حدیث میں ہے  :
یُبْعَثُ النَّاسُ عَلیٰ نِیَّاتِہِمْ ۔ (۲)
یعنی آدمی اپنی نیتوں پر اٹھائے جائیں گے۔
۔۔۔۔
(۱)	صحیح مسلم: ۱۴؍۴۴حدیث:۵۱۲۶۔۔مسند احمد: ۲۹؍۶۵حدیث:۱۴۰۱۶ ۲۹؍۴۶۲حدیث:۱۴۴۱۳۔۔مسندابن ابی شیبہ :۲۹؍۶۵حدیث:۱۴۰۱۶ ۲۹؍۴۶۲ حدیث:۱۴۴۱۳۔۔مصنف عبد الرزاق: ۳؍۵۸۶حدیث:۶۷۴۶ ۔۔مستدرک حاکم:۸؍۳۶۱حدیث:۳۶۴۶ ۹؍۶حدیث:۳۷۷۲۔۔معجم الاوسط طبرانی: ۱۹؍۴۰۷حدیث:۱۱۱۳۰ ۔۔شعب الایمان : ۱؍۴۰۳حدیث: ۳۷۲۔۔مسندابی یعلی موصلی: ۴؍۴۶۵حدیث:۱۸۵۷۔۔مسندحمیدی: ۴؍۴۶۵ حدیث: ۱۸۵۷۔۔صحیح ابن حبان: ۳۰؍۱۵۷حدیث ۷۴۳۷ ۳۰؍۱۶۸حدیث: ۷۴۴۳۔۔مسندعبد بن حمید:۳؍۱۳۴حدیث: ۱۰۱۵۔۔مشکل الآثارطحاوی: ۱؍۲۶۱حدیث ۲۱۷۔۔اخبار اصبہان: ۶؍ ۷۸حدیث: ۴۰۲۰۹ ۔۔ الفقیہ والمتفقہ خطیب البغدادی: ۱؍۱۲۵ حدیث ۱۱۲۔۔القضاوالقدربیہقی: ۱؍۹۷حدیث ۸۴ ۔۔المطالب العالیہ عسقلانی: ۹؍۳۱۶حدیث ۳۳۳۱۔۔ مسندالحارث : ۱؍۳۱۵حدیث: ۲۰۴۔ 
(۲)	مسندابی یعلی موصلی:۱۳؍۱۰حدیث ۶۱۱۷۔۔مسندحمیدی: ۱۳؍۱۰حدیث :۶۱۱۷۔۔مسندشہاب القضاعی: ۲؍۴۰۹ حدیث: ۵۴۷۔۔سنن ابن ماجہ: ۱۲؍ ۲۷۶حدیث ۴۲۱۹۔۔ اور صحیحین وغیرہ میں :  یبعثون علی نیاتہم  کے الفاظ آئے ہیں۔
۔۔۔۔
اس سے معلوم ہوا کہ جو صفات محمودہ یا مذمومہ انسان کے جو ہر روح میں راسخ ہو جاتی ہیں وہ بعد موت بھی قائم رہتی ہیں حتی کہ انہی صفات کے ساتھ اس کا حشر ہو گا۔جب یہ معلوم ہو گیا تو اب جاننا چاہیے کہ آدمی دوقسم کے ہوتے ہیں یعنی بالکل خاک ،جن کے اندر غصہ نام کو بھی نہیں ہوتا اور عفو و درگزر ان کا جبلی کام ہوتا ہے۔ اور بعض وہ جو اپنے منافی طبیعت پر آزردہ ہو کر خفگی ظاہر کر دیتے ہیں بس یہ دونوں آدمی بعد موت بھی اپنی اسی جبلت پر ہوں گے اور ظاہر ہے کہ پہلی قسم کے آدمی بہت کم ہیں اور دوسری قسم کے بہت زیادہ۔ اور یہ قاعدہ کلیہ مسلم ہے کہ للأکثر حکم الکلیعنی اکثر پر کل کا اطلاق کر دیا جاتا ہے۔ تو جس طرح وہ لوگ دنیا میں دیکھتے تھے کہ ان کے ایک نمک پروردہ یا دوست نے جس پران کو بھروسا تھا سخت ضرورت کے وقت، صاف جواب دے دیا اور احسان و مروت کے حقوق بالکل فراموش کر دیے تو بے اختیار بددعا نکل جاتی تھی کہ جیسا تو نے میرے ساتھ کیا تیری مشکل کی گھڑی میں بھی خدا ایساہی کرے۔اب جب وہ مرا گیا اور عالم برزخ میں گیا تو وہی جبلت ان کے ساتھ گئی،اس لیے ان کا وہی مادۂ فطری وہاں ظاہر ہو گیا کہ جب ان کے اقربائے احسان اس کا مال مار کر بیٹھ رہیں گے اور دعا و صدقہ میں ذرہ بھر ان کو یاد نہ کریں گے تو وہ بے ساختہ ان کو بددعا دیں گے، جس طرح کفاروفساق جو کچھ صفات تکذیب وغیرہ دنیا سے ساتھ لے گئے تھے وہی محشر میں علی الاعلان ظاہر کریں گے  جیساکہ روایات سابقہ میں گزر چکا 
ساتویں وجہِ الزامی یہ ہے کہ اس روایت کو فقط روحوں کی بد دعا کی وجہ سے رد کرتے ہیں اور مولوی اسماعیل صاحب کی ’’صراطِ مستقیم‘‘ کے آخری ورق پر لکھی ہوئی تحریر رد نہیں کرتے جو لکھتے ہیں  :
روح مقدس جناب حضرت غوث الثقلین و جناب حضرت خواجہ بہاء الدین نقشبند متوجہ حال حضرت ایشاں گردیدہ و تاقریب یک ماہ فی الجملہ تنازعے درمابین روحین در حق حضرت ایشاں ماندہ زیراکہ ہر واحد ازیں ہر دوامام تقاضائے جذب حضرت ایشاں بہ تمامہ بسوئے خود می فرمود۔
یعنی حضرت غوث الثقلین اور جناب حضرت خواجہ بہاء الدین نقشبند کی روحیں ان کے حال کی طرف متوجہ ہوئیں اور قریباً ایک مہینہ تک حضرت کے بارے میں ان دونوں روحوں کے درمیان تنازع چلتا رہا کیوں کہ دونوں میں سے ہر ایک ان کی روح کو پورے طور پر اپنے طرف متوجہ کرنا چاہتے تھے۔
دیکھیے یہاں اپنے پیر و مرشد کی بابت دو اماموں کی روحِ مقدس میں لڑائی ثابت کرتے ہیں اور لفظ ’تنازع، لکھتے ہیں۔’’منتخب اللغات‘‘ میں ہے  :
تنازع دشمنی وخصومت کردن۔
یعنی جھگڑا اور دشمنی ،تنازع کہلاتا ہے۔
 ’’صراح‘‘ میں لکھا ہے  :
الخصام پیکار کردن باہم والاسم الخصومۃ۔
یعنی آپس میں برسرپیکار ہونا۔ اور خصام کا اسم خصومت ہے۔
مولف براہین کو لازم تھا کہ پہلے ’’صراط مستقیم‘‘ کی اس تحریر کو رد کرتے پھر فتاویٰ نسفیہ کی روایت کی تردید میں قدم رکھتے، لیکن اس کو صفحہ۸۳ میں ایک طویل عبارت سے قوت دیتے ہیں جس کا خلاصہ یہ ہے   :
 انبیا علیہم السلام  کو بھی کثرت امت کی خواہش ہوئی ہے۔فخر عالم  صلی اللہ علیہ وسلم  نے ولود عورتوں سے نکاح کی تاکید فرمائی ہے،اسی واسطے اُن دونوں اماموں نے جب سیداحمد صاحب کا درجہ دیکھا اور جانا کہ ان کے بہت مرید ہوں گے تو دونوں نے انھیں اپنی اپنی طرف کھینچنا چاہا انتہیٰ ملخصاً 
یہ جواب نہایت رکیک ہے سیدصاحب کو کثیر المرید ہونے کے باعث جو ولود عورت یعنی کثیر الاولاد عورت کے نکاح سے تشبیہ دی، تو یہ خیال نہ کیا کہ ایسے شخص کے مرید کرنے کی تمنا درست ہے لیکن تنازع حرام،جس طرح ولود عورت کی طرف رغبت صحیح ہے لیکن اس میں لڑائی و مخاصمت حرام، یہ تو نص قطعی کا معارضہ ہے،حق سبحانہ و تعالیٰ فرماتا ہے  :
وَ لاَ تَنَازَعُوْا۔ (۱)
شاہ ولی اللہ اس کا ترجمہ کرتے ہیں  : 
بایک دیگرنزاع مکنید۔
۔۔۔۔
(۱)	انفال،۸؍۴۶۔
۔۔۔۔
شاہ عبد القادر لکھتے ہیں  :
آپس میں مت جھگڑو۔
تو جب اس مکاشفہ تحریری کو حرمت تنازع کے باعث رد نہ کیا تو چاہیے کہ مفتیانِ دین کی روایتوں کو بھی رد نہ کریں۔ اس کے باوجود مولف براہین نے اس قسم کی دعا کی حرمت پر کوئی نص 
شرعی روایت نہیں کی جس طرح کہ ہم نص قطعی آیت لاتنازعوا  پیش کرتے ہیں لہٰذا ان کا دعویٰ بلا دلیل شرعی نامسموع، اور ان کا یہ خیال ان سات مذکورہ بالا وجہوں کی وجہ سے مدفوع ہے۔ 
دوسرا اعتراض روحوں کے آنے پر براہین کے صفحہ ۸۰ پریہ ہے کہ  :
یہ روایتیں مخالف صحاح کے ہیں کیوں کہ مشکوٰۃ میں نسائی اور احمد سے منقول ہے کہ جب میت کی روح برزخ میں جاتی ہے تو ارواح جمع ہو کر اپنے اقارب کا حال پوچھتی ہیں تو وہ جو پہلے مرلیا تھا اس کو کہتا ہے کہ وہ تو مجھ سے پہلے مرلیا تھا اگر ہر ہفتہ ارواح اپنے گھر جاتی ہیں تو ان کو کیا حاجت استفسار کی ہے۔
جواب : استفسار کی حاجت کیوں نہیں مثلاً ایک شخص ہر ہفتہ اپنے گھر آتا ہے اور شب باش ہو کر چلا جاتا ہے تو اس شخص کے چھ روز چلے آنے کے بعد اگر کوئی اس کے گھر سے آئے گا تو وہ اپنے اقربا کا حال پوچھے گا یا نہ پوچھے گا؟سبھی عقلمند جانتے ہیں کہ وہ ضرور پوچھے گا تو اسی طرح روح ،شب جمعہ اپنے گھر گئی تھی تو جو آدمی چار شنبہ یا روز پنجشنبہ کو مرے گا اور اس کی روح عالم برزخ میں جائے گی تو وہ روح پانچ چھ روز کی غیبوبت کا حال اس روحِ تازہ سے ضرور پوچھے گی کہ فلاں آدمی کس طرح ہے اور فلاں کس طرح ؟ اور اسی طرح اگر اس کا کوئی قریبی روز شنبہ یا شام جمعہ کو مرا گیا ہو گا اور اپنے شومیِ اعمال سے وہ دوزخ میں گیا،ارواح مومنین میں نہ پہنچا،پھر کوئی دوسرا عزیز مومن مخلص چار شنبہ کو مر کر ارواح مومنین میں پہنچا تو وہ ضرور یہ بیان کرے گا کہ وہ قریبی آدمی جو مجھ سے چار پانچ روز پہلے مرا کیا وہ تمہارے پاس نہیں آیا؟تب وہ روحیں کہیں گی کہ بس وہ دوزخ میں گیا۔ 
یہ بھی ہوسکتا ہے کہ روح ہر ہفتہ گھر پر آتی،اپنے ایک عزیز کو ہمیشہ غیر  موجود پاتی چوں کہ اس وقت آدمیوں سے اس کو پوچھنا ممکن نہ تھا ہمیشہ یہ خیال کر کے چپ چلی جاتی کہ شاید وہ کہیں پردیس میں گیا ہے لیکن جب اس گھر میں کوئی مخلص مومن مرا اور اس کی روح ارواحِ مومنین میں پہنچی تب اس عزیز کا حال دریافت کیا تو جواب دیا کہ وہ تو مجھ سے پہلے مر چکا ہے،کیا تمہارے پاس نہیں آیا؟ تب وہ روح جان لیتی ہے کہ اس عزیز کو ہر ہفتہ مکان پر موجود نہ دیکھ کر جو یہ سمجھتی کہ وہ کہیں پردیس میں ہو گا تو پردیس میں نہیں بلکہ وہ دوزخ میں پہنچ گیا ہے۔
یہ بھی ہوسکتا ہے کہ روح کا اپنے گھر آنا منقول ہو،ہمارا دعویٰ یہ تو نہیں کہ وہ اپنے سب اقربا عزیزوں اور دوست آشناؤں کے گھر بھر جاتی ہے تو جائز ہے کہ وہ روحیں اپنے ان دوست آشنا اور عزیزوں کا حال پوچھتی ہوں گی جو اس کے خاص گھر میں نہیں رہتے تھے۔لفظ حدیث میں نہ تو اپنے خاص گھر میں رہنے والوں کی قید ہے اور نہ یہ کہ خاص اپنے ذوی القربیٰ کا حال پوچھے گا بلکہ جائز ہے کہ اپنے بعض دوست داروں اور غم گساروں کا حال دریافت کریں۔حدیث کے الفاظ یہ ہیں  :
فَیَسْألُوْنَہُ مَاذَا فَعَلَ فُلاَنٌ مَاذَا فَعَلَ فُلانٌ۔۔۔۔۔۔فَیَقُولُ قَدْ مَاتَ أمَا أتَاکُمْ فَیَقُولُونَ قَدْ ذَہَبَ بِہٖ إلٰی أمِّہِ الْہَاوِیَۃِ۔ (۱)
یعنی اس نئے مردے سے پہلے مردے پوچھتے ہیں فلانے کا حال کیا ہے فلانے کا حال کیا ہے ؟تو وہ جواب دیتا ہے کہ وہ تو مر چکا کیا تمہارے پاس نہیں آیا ؟تب وہ کہتی ہے کہ اس کا مطلب یہ کہ وہ دوزخ میں پہنچ گیا  انتہیٰ 
اب سخت دلوں کو نرم کرنے کے لیے ایک قصہ ،نوسوبرس پہلے لکھی گئی (۲)  ایک نہایت معتبر کتاب سے (پیش کیا جاتا ہے) جس کے مصنف چار واسطے سے امام ابو یوسف کے شاگرد ہیں لاکھوں حدیثیں انھیں یاد تھیں۔نصر بن محمد  جن کا نام،’امام الہدیٰ ،جن کا خطاب اور جو فقیہ ابواللیث سمرقندی کی کنیت اور لقب سے مشہور ہیں۔وہ اپنی کتاب ’’تنبیہ الغافلین‘‘ میں   باب فضل جمعہ  میں فرماتے ہیں  :
۔۔۔۔
(۱)	سنن کبریٰ نسائی: ۱؍۶۰۳حدیث:۱۹۵۹۔۔مستدرک: ۳؍۳۲۹حدیث:۱۲۵۰ ۹؍۱۹۷حدیث: ۳۹۲۷۔۔ معجم کبیرطبرانی : ۴؍۱۷۶ حدیث ۳۷۹۱۔۔ صحیح ابن حبان: ۱۳؍۲۳حدیث: ۳۰۷۸۔۔السنۃ لعبد اللہ بن احمد: ۳؍۳۸۴ حدیث: ۱۳۳۸۔معجم اوسط،موارد الظمآن اور مسندشامیین وغیرہ میں بھی الفاظ کے ذراسے فرق کے ساتھ یہ حدیث مروی ہے۔ 
(۲)	انھوں نے علم سیکھا ابو جعفر ہندوانی سے،انھوں نے ابوقاسم صفار سے، انھوں نے نصر بن یحییٰ سے، انھوں نے محمد  بن سماعہ سے اور انھوں نے امام ابو یوسف سے، اور وہ شاگرد تھے امام اعظم  رحمۃ اللہ علیہ کے۔۱۲منہ رحمہ اللہ 
۔۔۔
 میں نے اپنے والد سے سنا وہ فرماتے تھے کہ مجھ تک صالح مزی کا یہ قصہ پہنچا کہ وہ جمعہ کی رات کو جامع مسجد میں نماز فجر پڑھنے آئے،راستہ میں ایک مقبرہ ملا،دل میں آیا کہ صبح صادق کے وقت مسجدچلے جائیں گے (یہ سوچ کر )مقبرے میں ٹھہر گئے،دو رکعت نماز پڑھی اور ایک قبر سے کچھ سہارا  لگا لیا اور آنکھوں میں نیند بھر آئی،کیا دیکھتے ہیں کہ سب اصحاب قبور قبروں سے نکل کر حلقہ بنا کر بیٹھ گئے اور باتیں کرنے لگے۔
(میں نے اس وقت )ایک نوجوان کو دیکھا کہ میلے کپڑے میں اُداس و مغموم بیٹھا ہے، اتنے میں خوان پوشوں سے ڈھکے بہت سے خوان آئے،ہر آدمی اپنا اپنا خوان لے کر چلتا بنا آخر وہی جوان بے چارہ رہ گیا اس کے پاس کچھ بھی نہ آیا،وہ غم کا مارا اُداسی کے عالم میں اٹھ کر کھڑا ہو گیا،جب قبر میں داخل ہونے لگا تو صالح مزی کہتے ہیں کہ میں نے اس سے کہا:اے اللہ کے بندے! تواُداس کیوں ہے؟ تو اس نے کہا تم نے دیکھا نہیں کہ کس قدر خوان آئے ہوئے تھے ؟میں نے کہا ہاں !اس نے کہا یہ تحفہ تحائف تھے جو ان کے واسطے ان کے خیرخواہوں نے بھیجے تھے۔ وہ جو بھی صدقہ و دعا وغیرہ کرتے ہیں ان کو جمعہ کی رات پہنچتا ہے۔میں ملک ہند کا رہنے والا ہوں،اپنی ماں کولے کر حج کے واسطے آیا ہوا تھا،بصرہ پہنچا تو میرا انتقال ہو گیا میری ماں نے میرے بعد نکاح کر لیا اور دنیا میں مشغول ہو کر مجھے بھول گئی،نہ منہ سے کبھی نام لیتی ہے اور نہ زبان سے کبھی دعا کرتی ہے،اب میں غمگین نہ ہوں تو کیا کروں، میرا کوئی نہیں جو مجھے یاد کرے۔
 تب صالح مزی کہتے ہیں کہ میں نے اس سے پوچھا تیری ماں کہاں ہے؟ اس نے پتا بتا دیا۔ میں نے صبح کی نماز پڑھی اور اس کاگھر  ڈھونڈتا ہوا اس تک پہنچا، اس نے اندر سے آواز دی،تو کون ہے؟ میں نے کہا صالح مزی۔ اس نے مجھے بلایا اور میں چلا گیا،میں نے کہا بہتر یہ ہے کہ میری اور تیری بات کوئی دوسرانہ سنے،تب میں اس کے نزدیک گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں نے کہا اللہ تعالیٰ تجھ پر رحم کرے۔تیرا کوئی بیٹا ہے؟ بولی نہیں، میں نے کہا کبھی ہوا تھا،تب وہ سانس بھرنے لگی اور بولی،ایک جوان بیٹا تھا مگر مرا گیا تب میں نے وہ مقبرہ والا قصہ اس سے بیان کر دیا،اس کے آنسوبہنے لگے اور کہنے لگی،اے صالح مزی!میرا وہ بیٹا میرا کلیجا تھا۔پھر اس نے مجھے ہزار درہم دیے اور کہا کہ میرے نورِ چشم کی طرف سے خیرات کر دیجیے گا اور اب جب تک دم میں دم ہے ،میں اس کو دعا و خیرات میں نہ بھولوں گی۔ صالح مزی فرماتے ہیں کہ پھر میں نے وہ ہزار درہم خیرات کر دیے، اور اگلے جمعہ کی رات پھر اس مقبرے میں گیا،دو رکعت پڑھی اور ایک قبر کے سہارے سرجھکا کر بیٹھ گیا۔پھر میں نے ان لوگوں کو قبروں سے نکلتے دیکھا اور اس جوان کو دیکھا کہ وہ سفید کپڑے پہنے ہوئے نہایت ہشاش بشاش میرے پاس  آ کر کہنے لگا اے صالح مزی! اللہ تیرا بھلا کرے، مجھ کو ہدیہ اور تحفہ پہنچ گیا،میں نے کہا تم جمعہ کو پہچانتے ہو؟کہا جانور تک پہچانتے ہیں اور یہ کہا کرتے ہیں :
سلام لیوم صالح یعنی یوم الجمعۃ   انتہیٰ 
مبارک دن یعنی روز جمعہ کو سلام۔
 اے بھائیو!  اگر ایسے امام الہدیٰ کا نقل کیا ہوا یہ درد آمیز قصہ تمہارے دل کو خوف الٰہی سے نہ ہلا دے تو کمالِ حسرت کی بات ہے۔ پتھر بھی اللہ کے خوف سے نرم ہو جاتے ہیں  :
إنَّ مِنَ الْحِجَارَۃِ لَمَا یَتَفَجَّرُ مِنْہُ الأنْہَار۔ (۱)
 اور پتھروں میں تو کچھ وہ ہیں جن سے ندیاں بہ نکلتی ہیں۔
پرانے زمانے ہی سے یہ دستور چلا آ رہا ہے کہ پہلے کے لوگ اپنے اپنے مردوں کے لیے جمعہ کی رات کو کھانے پر فاتحہ دے کر حفاظ، ملا، قرائے مقابر اور فقرا وغیرہ کو بھیج دیا کرتے تھے۔
۔۔۔۔۔
(۱)	سورہ بقرہ،۲؍ ۷۴۔
۔۔۔۔۔
حضرت سعدی  رحمۃ اللہ علیہ   کو چھ سوبرس سے زیادہ گزر گئے،ان کے کلام سے بھی اس کا پتا ملتا ہے۔اپنے کلیات کے قصیدہ  درباب تنبیہ حال موت  میں فرماتے ہیں کہ جب آدمی مرتا ہے تو لوگ چند روز اس کو روتے ہیں اور جمعرات کو حلوہ بھی بھیجتے ہیں،لیکن جب کئی برس ہو جاتے ہیں پھر سب بھول جاتے ہیں اور وہ آدمی بے نام و نشان ہو جاتا ہے۔ ان کے اشعار بطورِ التقاط لکھے جاتے ہیں   ؎
یک ہفتہ یا دو ہفتہ کم و بیش صبح و شام
  باگریہ دوست ہمدم وہمداستاں شود
حلوا سہ چار صحن شب جمعہ چند بار
بہر ریا بخانہ ہر گور خواں شود
وانگہ کہ چند سال براں حال بگذرد
آں نام نیز بگذرد و بے نشاں شود
اگلے لوگ جمعرات کا اس قدر خیال رکھتے تھے کہ دو آنے کا مزدور ،جس کے پاس کچھ بھی دینے کونہ ہوتا تھا وہ بھی جَو سیر بھر آٹا بال بچوں کے واسطے لاتا،شام کو پکواتا اور اس میں نیت کرتا تھا کہ یارب العالمین! یہ جو بال بچوں کا نفقہ میرے ذمہ تیرے حکم سے واجب ہے اور واجبات الٰہیہ کی ادائیگی سے آدمی ثواب کا مستحق ہوتا ہے،آج جو یہ سیربھر کی روٹیاں اپنے بال بچوں کو دیتا ہوں، اس نفقہ واجبہ میں میری نیت یہ ہے کہ اس میں مجھ کو جو ثواب ہوتا ہے وہ میرے فلانے عزیز میت کو پہنچے۔غرض کہ نادار اور تنگ دست آدمی اسی روز مرہ کے نفقہ واجبہ عیال میں سے ایصال ثواب کی نیت کرتے تھے اور فاتحہ درود پڑھنے کے بعد وہ کھانا اپنے  بال بچوں  کو کھلا دیا کرتے تھے، مردوں کو محروم نہ رکھتے تھے، اور مالدار لوگ تو بہت کچھ دیا کرتے تھے۔ اب جیسے لوگوں کی ہمتیں پست ہو گئیں اور اس بخیلی کے ساتھ یہ بہانہ بھی ہاتھ آ گیا کہ اس کو تو مولوی لوگ بدعت کہتے ہیں تو لوگ بالکل ہی اسے چھوڑ بیٹھے،’’اونگھتے کو ٹھیلنے کا بہانہ ‘‘مثل مشہور ہے۔ہم نے معتبر کتابوں کی روایتیں تمھیں سنادیں،چاہیے کہ اب سے سستی نہ کرو اور صدقات و خیرات اور فاتحہ ودرودسے اپنے عزیزوں کو یاد کرو۔(۱)
ایک مسئلہ سناتاہوں کہ جس قدر تم اموات کے نام دو گے یا پڑھ کر بخشو گے سب مردوں کو پہنچے گا اور اسی قدر تم کو بھی ملے گا،تمہارے ثواب میں کچھ کمی نہ ہو گی،تم اور مردے دونوں ثواب سے بہرہ مندہ و گے،خزانۂ الٰہی میں کچھ کمی نہیں وہ دونوں کو دیتا ہے  :
إنَّ رَبَّکَ وَاسِعُ الْمَغْفِرَۃِ۔ (۲)
بے شک تمہارے رب کی مغفرت وسیع ہے۔
 گھاٹا صرف تمہاری نیت کا ہے۔ 
۔۔۔۔۔
(۱)	فائدہ:فتاویٰ عالمگیری میں مسائل قربانی کے حوالے سے مرقوم ہے کہ اگر کوئی غریب،صاحب اہل وعیال آدمی قربانی کرے اور اسے زیادہ وسعت نہ ہو تو اس کے لیے افضل ہے کہ قربانی کا گوشت تقسیم نہ کرے بلکہ سب اپنے پاس رہنے دے، اپنے اہل وعیال کو فراغت سے کھلائے۔ یوں ہی غریب آدمی فاتحہ کا کھانا اپنے بال بچوں کو کھلادیتے تھے۔ بعض ناواقف اس پر اعتراض کرتے ہیں کہ جب بال بچوں کو کھلادیا تو یہ کیا ثواب ہوا؟ تو اس کا جواب وہی ہے جو رسالہ ہذا میں مذکور ہے۔ نیز صحیحین کی حدیث ہے:  إذا أنفق المسلم نفقۃ علی أہلہ و ہو تحسبہا کانت لہ صدقۃ۔یعنی مسلمان جو کچھ اپنے بال بچوں پر بہ نظرقربت وثواب خرچ کرتا ہے وہ عند اللہ صدقہ ہے۔۱۲منہ رحمہ اللہ
(۲)	سورہ نجم،۵۳؍۳۲۔
۔۔۔۔۔
٭٭٭



لمعہ ثالثہ  عیدین،شب براءت اور عشرۂ محرم میں فاتحہ 

في خزانۃ الروایات عن ابن عباس  رضی اللہ عنہما  یقول إذا کان یوم عید أو یوم جمعۃ أو یوم عاشوراء أو لیلۃ من نصف شعبان تأتي أرواح الأموات و یقومون علی أبواب بیوتہم فیقولون ہل من أحد یذکرنا ہل من أحد یترحم علینا ہل من أحد یذکر غربتنا یا من سکنتم بیوتنا و یا من سعدتم بما شقینا و یا من أقمتم في أوسع قصورنا و نحن في ضیق قبورنا و یا من استذللتم أیتامنا و یا من نکحتم نسائنا ہل من أحد یتفکر في غربتنا و فقرنا کتبنا مطویۃ و کتبکم منشورۃ۔
واضح ہو کہ یہ’’خزانۃ الروایات‘‘ پرانی کتاب ہے جس نسخہ سے یہ عاجز نقل کر رہا ہے وہ قریباچارسوبرس پہلے کا لکھاہوا ہے، اب دیکھیے تصنیف کب ہوئی ہو گی۔اس کے مصنف کے بارے میں صاحب کشف الظنون نے لکھا ہے  :
یہ قاضی جگن ہندوستان کے حنفی المذہب اور گجرات کے رہنے والے تھے،تمام عمر فتویٰ دینے اور لکھنے میں گزاری  انتہیٰ   (۱)
تو اب اس کا معتبر ہونا ظاہر ہو گیا  نیز ہم فاتحہ جمعرات کے بیان میں یہ ذکر کر چکے ہیں کہ مولوی اسحق صاحب نے ’’مائۃ مسائل ‘‘ اور ’’مسائل اربعین‘‘ میں اس کتاب ’’خزانۃ الروایات‘‘ کی سند پکڑی ہے، تو اب اس کتاب کا قدیم اور معتمد ہونا واضح ہو گیا۔ 
۔۔۔۔
(۱)	کشف الظنون : ۱؍ ۷۰۲  باب الخاء المعجمہ 
۔۔۔۔
اس کے علاوہ علی بن احمد غوری نے بھی اس روایت کو ’’کنزالعباد ‘‘میں ’’ کتاب الروضۃ‘‘ کے باب خامس و اربعین سے نقل کی ہے۔  اب دیکھیں کہ اس روایت کا ترجمہ کیا ہے  :
’’خزانۃ الروایات‘‘ میں حضرت عبد اللہ بن عباس  رضی اللہ عنہما کے حوالے سے مذکور ہے کہ عید،جمعہ یا عاشورا کے دن یا نصف شعبان کی رات مردوں کی روحیں آتی ہیں اور اپنے گھروں کے دروازوں پر کھڑی ہو کر فریاد کرتی ہیں،ہے کوئی ہمیں یاد کرنے والا؟ ہے کوئی ہم پر رحم کرنے والا؟ہے کوئی ہماری بے کسی کا ذکر کرنے والا؟ اے کہ تم ہمارے گھروں میں سکونت پذیر ہو،ہمارے مال سے عیش کے دن گزار رہے ہو،ہمارے کھلے کشادہ محلوں میں اقامت گزیں ہو اور ہم اپنی تنگ قبروں میں پڑے ہوئے ہیں۔اے کہ تم نے ہمارے یتیموں پر ذلت کے دروازے کھول دیے اور ہماری عورتوں کو اپنی بیویاں بنا لیے،تو کیا کوئی ہماری غربت و بے کسی کی فکر کرنے والا ہے؟ہمارے صحیفے تو لپیٹے جا چکے، مگر تمہارے تو ابھی تک کھلے پڑے ہیں۔ 
واضح ہو کہ جس طرح یہ روایت ’’خزانۃ الروایات‘‘ اور ’’کنزالعباد‘‘ میں ہے اس طرح ’’دقائق الاخبار‘‘ میں بھی ہے، اور دقائق الاخبار امام غزالی کی طرف منسوب ہے۔
آیت کریمہ  تنزل الملائکۃ والروح میں مفسرین کے چند اقوال ہیں۔بعضوں نے کہا کہ روح ایک فرشتہ ہے۔بعضوں نے کہا کہ وہ حضرت جبرئیل مراد ہیں،بعضوں نے کہ وہ روح ،حضرت عیسیٰ ہیں جو فرشتوں کے ساتھ اُترتے ہیں اور بعضوں نے کہا کہ روح سے محمد  صلی اللہ علیہ وسلم  مراد ہیں۔ اور دقائق الاخبار کے مطابق بعضوں نے کہا کہ اس سے بنی آدم کی روحیں مراد ہیں۔ اس کی عبارت یوں ہے  :
و یقال روح الأقرباء من أموات المومنین یقولون ربنا ائذن لنا بالنزول إلی منازلنا حتی نریٰ أولادنا و عیالنا فینزلون في لیلۃ القدر۔
یعنی کہا گیا ہے کہ اس سے مسلمان مردوں کے رشتہ داروں کی روحیں مراد ہیں جو بارگاہِ خداوندی میں عرض کرتی ہیں کہ مولیٰ !ہمیں اپنے گھروں میں اترنے کا اذن عطا فرماتاکہ ہم اپنے اہل  و عیال کو دیکھ سکیں تو شب قدر میں وہ اترتی ہیں۔ (۱)
تفسیر عزیزی میں مذکورہ بالا آیت کی تشریح کے تحت لکھا ہوا ہے  :
فرود می آید ملائکہ از آسمان ہا وارواح از مقام علیین دراں شب۔
یعنی اس شب، آسمان سے فرشتے اور مقام علیین سے روحیں اترتی ہیں۔ 
پھرتینتیس سطر کے بعد ہے  :
ہمراہ جبرئیل  علیہ السلام جمیع ملائکہ و ارواح نزول می کنند۔ 
یعنی وہ تمام فرشتے اور روحیں حضرت جبرئیل کی معیت میں اترتی ہیں۔ 
اب ہوش کے کانوں سے سنناچاہیے کہ باپ کو اولادِ صالح کی دعا سے نفع پہنچتا ہے۔ مسلم شریف کی حدیث ہے  :
وَلَدٌ صَالِحٌ یَدْعُو لَہُ۔ (۲)
یعنی وہ نیک بیٹا جو اپنے باپ کے لیے دعا کرتا رہے۔
اس حدیث میں تم (جیسے )لوگوں کو اشارہ ہوا کہ تم جن کی اولاد ہو اُن کے حق میں دعا کرو اور فاتحہ و درود پڑھو۔
۔۔۔۔۔
(۱)	میں کہتا ہوں کہ شب قدر میں مردوں کی روحوں کا اترنا محض اقربا کے دیدار کے لیے ہوتا ہو گا اور جودوسری راتوں کا ذکر گزرا تو وہ صدقہ و خیرات کے انتظار کے لیے ہو گا۔۱۲ منہ 
(۲)	صحیح مسلم: ۸؍۴۰۵حدیث:۳۰۸۴۔۔سنن ابوداؤد:۸؍ ۷۶حدیث: ۲۴۹۴۔۔سنن ابن ماجہ: ۱؍۲۸۰حدیث :۲۳۷ ۔۔مسنداحمد: ۱۸؍۳۱حدیث:۸۴۸۹۔۔ سنن کبریٰ بیہقی : ۶؍ ۲۷۸۔۔سنن کبریٰ نسائی:۴؍ ۱۰۹حدیث:۶۴۷۸ ۔۔ مصنف ابن ابی شیبہ: ۱۸؍۳۱حدیث:۸۴۸۹۔۔ معجم اوسط طبرانی: ۸؍ ۹۶حدیث ۳۶۰۶۔۔معجم صغیرطبرانی: ۱؍ ۴۳۱حدیث: ۳۹۶۔۔ شعب الایمان بیہقی: ۷؍ ۴۵۰حدیث: ۳۲۹۳۔۔ سنن دارمی: ۲؍۱۱۴ حدیث: ۵۷۰۔۔ مستخرج ابوعوانہ: ۱۱؍ ۴۴۷حدیث: ۴۷۰۷۔۔مسندابویعلی موصلی: ۱۳؍ ۲۲۱حدیث : ۶۳۲۶۔۔صحیح ابن حبان: ۱؍ ۱۸۱ حدیث: ۹۳۔۔صحیح ابن خزیمہ: ۹؍ ۱۳۲ حدیث: ۲۲۹۷۔۔ مشکل الآثار طحاوی: ۵؍ ۲۸۹حدیث: ۱۹۱۹ ۔۔موارد الظمآن: ۱؍ ۲۲۰۔۔ امالی ابن بشران: ۲؍ ۳۰۴حدیث: ۷۵۷۔۔الادب المفرد بخاری: ۱؍ ۵۹حدیث :۳۹۔۔ منتقیٰ لابن جارود: ۱؍ ۴۲۱حدیث ۳۵۷۔۔ فوائد العراقیین : ۱؍ ۱۰۸حدیث ۸۱۔
۔۔۔۔
دوسری بیہقی شریف کی حدیث ہے  :
مَا الْمَیِّتُ فِي الْقَبْرِ إلاَّ کَالْغَرِیْقِ الْمُتَغَوَّثِ یَنْتَظِرُ دَعْوۃ تلحقہ من أبٍ أو أخٍ أو صَدیقٍ فإذَا لَحِقَتْہُ کَانَ أحَبَّ إلَیْہِ مِنَ الدُّنْیَا وَ مَا فِیْہَا۔ (۱)
یعنی قبر کے اندر مردے کی مثال کسی ڈوبتے فریادی کی سی ہوتی ہے۔یوں ہی مردے بھی اپنے متعلقین مثلاً باپ بھائی اور دوست کے صدقوں کے منتظر ہوتے ہیں،جب کچھ صدقہ و خیرات انھیں پہنچتا ہے تو یہ ان کے لیے دنیا اور مافیہا سے بہتر ہوتا ہے۔
۔۔۔۔
(۱)	مشکوٰۃ المصابیح : ۲؍ ۳۰حدیث: ۲۳۵۵۔۔شعب الایمان بیہقی: ۱۶؍ ۴۲۳حدیث ۷۶۶۶  ۱۹؍ ۲۸۸حدیث : ۸۹۸۷۔۔کنز العمال: ۱۵؍۷۴۹حدیث:۴۲۹۷۱ ۔۔تخریج احادیث احیاء علوم الدین: ۹؍ ۴۰۷حدیث: ۴۴۰۷۔
۔۔۔۔
اس حدیث میں یہ اشارہ ہوا کہ ماں باپ بھی اپنی اولاد کو  دعائے خیر میں یاد رکھیں،یوں ہی بھائی، بھائی کو اور دوست، دوست کو۔کیوں کہ اس حدیث سے اشارہ مل گیا کہ مردہ ان سب کی طرف امید لگائے رہتا ہے۔غرض دونوں حدیثوں کے مضمون سے یہ بات ثابت ہو گیا کہ احباب و اقربا کو چاہیے کہ اپنے (مرحومین) دوست و رشتہ دار کو یاد رکھیں۔
لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ دنیا کے جنجال میں پھنس کر اپنے مردہ عزیزوں کو بالکل بھول جاتے ہیں،روزانہ بھلا کیا یاد کریں گے اگر تیوہاروں یعنی عید بقر عید شب براءت اور محرم کو یاد کر لیں تو وہی غنیمت ہے،کیوں کہ تیوہاروں میں کھانے کی کثرت ہوتی ہے،طرح طرح کی چیزیں پکتی ہیں اور دوست آشناؤں میں تحفہ ہدیہ بھیجا جاتا ہے۔
کتنے افسوس کی بات ہے کہ زندہ آدمیوں کو تو تحفہ تحائف بھیجیں جب کہ وہ خود بھی پکوا کر کھا سکتے ہیں اور میت کو جو کہ بالکل بے بس و بے کس ایک تنگ و تاریک غار میں پڑی ہوئی ہے، اس کے اعمال بھی منقطع ہو چکے،کچھ کر بھی نہیں سکتے  ذرا بھی یاد نہ کرناکس قدر غفلت کی بات ہے، اور جو کوئی ملا عالم ہو کر اس (نیک) کام سے لوگوں کو روکے وہ مردوں پر ظلم و زیادتی کا کتنا(بھاری بوجھ)اپنی گردن پر لادتا ہے۔یا اللہ! ایک پہلے دور کے عالم و فاضل تھے کہ خیرات وحسنات کی رغبت دلایا کرتے تھے،( اور ایک یہ ہیں۔)
’’خزانۃ الروایات‘‘ کے مصنف لکھتے ہیں  :
میں آغاز جوانی سے کتب فقہ اور فتویٰ ومسائل میں کوشش کرتا رہا اور جب استفتے پیش ہوتے تھے تو جب تک ان کتابوں سے اس کے جواب نہ نکال لیتا چین نہیں آتا تھا، اور میں مطالعہ کتب اور مباحثوں میں برابر لگا رہتا تھا، مشکلیں حل کرتا تھا اور یوں پوری عمر فتویٰ دینے میں گزار دی اور جس قدر فتوے دیتا وہ سب اس کتاب میں لکھ دیا کرتا تھا انتہیٰ 
آپ دیکھیں کہ یہ شخص سیکڑوں برس پہلے کا عالم و فقیہ،ہندوستان کا قاضی اور فتویٰ جاری کرنے والا اپنا فتویٰ اس کتاب میں لکھتا ہے اور روایت کرتا ہے کہ تیوہاروں میں روحیں آتی ہیں  جیسا کہ اس کی روایت گزری  تو معلوم ہوا کہ عیدین وغیرہ تیوہاروں میں فاتحہ کادستور قدیم زمانے سے چلا آ رہا ہے اور یہ بزرگوں کا حکم کیا ہوا،جائز رکھا ہوا اور حدیث سے نکالا ہوا ہے،کوئی جاہلوں کا ایجاد کردہ نہیں،جاہل کسی دینی اور شرعی قاعدہ کا موجد نہیں ہوسکتا اور نہ کوئی کسی جاہل کا اتباع کرے گا۔ اہل اسلام کی یہ سب نیک رسمیں علما و صالحین کی تلقین فرمائی ہوئی ہیں، یہی وجہ ہے کہ ہم اکثر دیکھتے ہیں کہ عیدین وغیرہ میں جو فاتحہ دیتے ہیں تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم   کے نام کا جدا نکالتے ہیں۔ اور یہ مسئلہ بھی امام ربانی مجدد الف ثانی کے کلام میں موجود ہے، جن سے مانعین بھی عقیدت رکھتے ہیں، وہ اپنے مکتوبات کی تیسری جلد میں لکھتے ہیں  :
باید کہ ہر گاہ صدقہ بہ میت نیت کند اول باید کہ بہ نیت آں سرور  علیہ و علیٰ آلہ الصلوٰۃ والسلام ہدیہ جداسازد و بعد ازاں تصدق کند کہ حقوق آں سرور علیہ و علیٰ آلہ الصلوٰۃ والسلام فوق حقوق دیگران ست و نیز بریں تقدیر احتمال قبول صدقہ است بطفیل آں سرور  علیہ و علیٰ آلہ الصلوٰۃ والسلام انتہیٰ 
یعنی جب بھی میت کے ایصال ثواب کے لیے صدقہ کی نیت کی جاتی ہے تو چاہیے یہ کہ پہلے نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم کے نام کا الگ سے ہدیہ دیا کرے پھر اس کے بعد کسی اور کے نام صدقہ کرے کیوں کہ سرور دو عالم  صلی اللہ علیہ وسلم کے حقوق دوسرے لوگوں کے حقوق سے کہیں زیادہ بڑھ کر ہیں،ساتھ ہی حضور  صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل ، صدقہ کی قبولیت کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔
سبحان اللہ! ایک( دور میں ) ایسے ایسے دین دار علما تھے جو ہدایت کے کیا کیا طریقے تعلیم فرماتے تھے اور ایک اب پیدا ہوئے ہیں کہ عہد قدیم اور سلف صالحین سے چلے آتے معمولات و خیرات کو بند کرتے جاتے ہیں۔
مولوی اسحق صاحب نے ’’مائۃ مسائل‘‘ میں  یہ جو  تحریر فرمایا ہے  :
آمدن ارواح دریں شبہا از احادیث صحیحہ مرفوعہ متصل الاسناد ثابت نگشتہ۔
یعنی اس رات روحوں کا آنا صحیح و مرفوع اور متصل الاسناداحادیث سے ثابت نہیں ہے۔
’’مسائل اربعین‘‘ میں ان حدیثوں کی بابت لکھا  :
بعض علمائے محدثین ایں روایات را تضعیف ہم فرمودہ اند و بیان غرابت آن آوردہ انتہیٰ 
یعنی بعض علمائے محدثین نے ا ن روایتوں کا ضعف بیان کیا ہے اور ان کی غرابت دکھائی ہے۔ 
 تومیں کہتا ہوں کہ اس کلام سے بس اسی قدر ثابت ہوا کہ یہ حدیثیں صحیح متصل الاسناد نہیں اور بعض محدثوں نے ان کو ضعیف بھی کہا ہے تو اصول حدیث میں یہ بات ثابت شدہ ہے کہ حدیث صحیح نہ ہونے سے یہ لازم نہیں آتا کہ وہ حدیث موضوع ہو۔ چنانچہ ملا علی قاری اور صاحب مجمع البحار اپنے رسائل موضوعات حدیث میں لکھتے ہیں  :
قال الزرکشي بین قولنا لم یصح و قولنا موضوع بون بعید کثیر فإن الوضع إثبات الکذب و الاختلاف و قولنا لم یصح لا یلزم منہ إثبات العدم۔  إلیٰ آخرہ (۱)
یعنی اِمام زرکشی فرماتے ہیں کہ ہم جوکسی حدیث کو کہتے ہیں کہ صحیح ہے اور کسی کو کہتے ہیں کہ موضوع ہے تواس میں کھلاہوا فرق ہے۔اس لیے موضوع کہنے کے معنی یہ ہیں کہ یہ روایت جھوٹ پر مبنی ہے لیکن جب ہم کہتے ہیں کہ’’ صحیح نہیں ‘‘تو اس کے یہ معنی نہیں ہوتے کہ یہ حدیث جھوٹی بنائی ہوئی ہے۔
ہاں ! البتہ صحیح نہ ہونے سے یہ ضرور ثابت ہو جاتا ہے کہ ضعیف ہے تولو،اب حدیث ضعیف کا حکم سنو۔تفسیرروح البیان ،جلد دوم  مطبوعہ مصر کے صفحہ ۶۳۲ میں ہے  :
و إن کانت ضعیفۃ الأسانید فقد اتفق المحدثون علی أن الحدیث الضعیف یجوز العمل بہ في الترغیب والترہیب۔
یعنی اگر حدیثیں ضعیف ہیں تو محدثین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ نیک کام کی رغبت دلانے اور برے کام سے ڈرانے کے لیے ضعیف حدیثوں پر عمل کرنا جائز ہے۔ (۲)
۔۔۔
(۱)	تذکرۃ الموضوعات: ۱؍۷۔
(۲)	تفسیر روح البیان: ۵؍ ۲۴۱۔
۔۔۔۔
اس کلام کو صاحب روح البیان نے امام نووی،حلبی اور ابن فخر الدین رومی وغیرہم کے حوالے سے نقل فرمایا ہے۔ یوں ہی علامہ ابن حجرکی تالیف ’’فتح المبین‘‘ میں منقول ہے  :
و قد اتفق العلماء علی جواز العمل بالحدیث الضعیف في فضائل الأعمال۔ (۱)
یعنی علمائے کرام کا اتفاق ہے کہ فضائل اعمال کے سلسلے میں ضعیف حدیثوں پر عمل     درست ہے۔
میرسید شریف رحمہ اللہ  ’’اصولِ حدیث‘‘ میں لکھتے ہیں  :
و یجوز عند العلماء التساہل في أسانید الضعیف في فضائل الأعمال۔(۲)
یعنی فضائل کے سلسلے میں وارد ہوئی حدیثوں کی اسناد کی بابت علما کرام نے تساہل کو روا رکھا ہے۔ (۳)
اعضائے وضو کے دھونے کے بارے میں جو دعائیں وارد ہوئی ہیں وہ سب کی سب ضعیف ہیں تواس سے متعلق صاحب در مختار نے لکھا  : 
فیعمل بہ في فضائل الأعمال۔ (۴)
یعنی فضائل اعمال کے سلسلے میں اس پر عمل کیا جائے گا۔ 
۔۔۔
(۱)	الاربعین النوویہ : ۱؍۱۔۔تفسیر روح البیان: ۵؍ ۲۴۱۔
(۲)	المختصر فی اصول الحدیث: ۱؍۲۔۔تذکرۃ الموضوعات: ۱؍۵۔
(۳)	 اس کی تائید اس سے بھی ہوتی ہے کہ امام طبرانی نے ایک حدیث نقل کی ہے جس کا ایک راوی رشدین بن سعد ضعیف تھا مگر اس حدیث کا حکم یہ بیان کیا ہے  :  و قد قبل منہ ما حدث في فضائل الأعمال۔ (مجمع الزوائد و منبع الفوائد:۴؍۳۹۴)  یعنی تحقیق کہ اس نے جو روایت کیا فضائل اعمال میں اس کو قبول کر لیا گیا ہے۔
(۴)	درمختار:۱؍۱۳۸ ۔۔  شرح مسند ابی حنیفہ: ۱؍۲۶۔
۔۔۔۔۔
نسائی کایہ طریقہ تھا کہ جس راوی کو علمائے حدیث نے بالاتفاق چھوڑ دیا ہو اس کی حدیث کو وہ نہ لیتے تھے باقی ہرقسم کی ضعیف حدیثیں لے لیتے تھے۔ اور ابوداؤد کا مذہب یہ تھا کہ وہ حدیث ضعیف کو امام مجتہد کی رائے سے افضل جانتے تھے اور یہ نسائی و ابوداؤد کے مصنّفین صحاح ستہ کے دو امام ہیں۔
 شرح سفر السعادۃ میں ابن حزم سے نقل کیا ہے کہ امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ  کے سب اصحاب اس بات پر متفق ہیں کہ حدیث ضعیف ،قیاس اور اجتہاد پر مقدم ہے۔ تو حدیث ضعیف کی یہ شان نہیں کہ ہر طرح اس کو رد کیا کریں اور کسی موقع پراسے قبول نہ کریں۔

شاہ ولی اللہ صاحب ’’انتباہ‘‘ میں لکھتے ہیں  :
و ورد في فضائل رجب الأحادیث بأسانید ضعیفۃ لا بأس بالعمل بہا فإن وجد في نفسہٖ قوۃ فلیعمل بہا۔
یعنی ماہِ رجب کے فضائل کے سلسلے میں ضعیف سندوں سے کچھ حدیثیں وارد ہوئی ہیں مگر ان پر عمل میں کوئی حرج نہیں اور اگر اس میں کچھ قوت پالی جائے تب تو اس پر ضرور عمل پیرا ہونا چاہیے۔
مولوی قطب الدین خان صاحب نے ’’مظاہرالحق‘‘ میں چھ رکعت صلوٰۃ الاوّابین کے بارے میں لکھا ہے  :
اگرچہ ترمذی وغیرہ نے اس حدیث کو ضعیف کہا ہے مگر فضائل اعمال میں حدیث ضعیف پر عمل کرنا جائز ہے  انتہیٰ 
میں کہتا ہوں کہ صلوٰۃ الاوابین کی حدیث ایسی ضعیف ہے کہ جس کی بابت مشکوٰۃ میں (امام ترمذی کا قول ) ہے  :
لا نعرفہ إلا من حدیث عمر بن أبی خثعم و سمعت محمد  بن إسماعیل یقول ہو منکر الحدیث و ضعفہ جدا۔(۱)
یعنی اس کا پتا ہمیں صرف عمر بن ابی خثعم کی حدیث سے ملتا ہے اور میں نے محمد  بن اسماعیل کو کہتے سنا کہ عمر بن ابی خثعم منکر الحدیث ہے اور انھوں نے اس کو بہت ضعیف کہا۔
۔۔۔۔
()	مشکوٰۃ المصابیح: ۱؍۲۶۰حدیث: ۱۱۷۳۔
۔۔۔۔۔۔
تو مولوی قطب الدین خان صاحب نے شرح ملا علی قاری سے اس درجہ کی حدیث پر عمل کرنا بھی ثابت کیا ہے، اور اعمال میں حدیث ضعیف کے مقبول ہونے کی بہت سی مثالیں مسائل فقہیّہ میں ثابت ہیں۔ طوالت کے باعث صرف انھیں عبارات منقولہ پر اکتفا کر کے اب حدیث ضعیف کے سلسلے میں اصول حدیث اور اصول فقہ میں جو قاعدہ کلیہ بیان ہوا ہے اسے نقل کرتا ہوں کہ حدیث ضعیف کو صفات باری تعالیٰ،حرام و حلال اور اعتقادیات کے سلسلے میں نہیں لیا جاتا البتہ وہ معجزات،احوال قیامت، پند و نصیحت اور فضائل اعمال میں مقبول ہے۔ اور فضائل اعمال کے معنی شارح درمختار ،علامہ شامی نے یہ لکھے ہیں   :
کسی عمل کی فضیلت حاصل کرنے کے لیے حدیث ضعیف کولے لینا جائز ہے۔ انتہیٰ۔(۱)
ضعیف پر عمل کرنے کی شرط یہ ہے کہ وہ عمل ایسا ہو کہ ایک عام قاعدۂ شرعیہ میں داخل ہو اور شرط لگانے میں حکمت یہ ہے کہ حدیث ضعیف کے یہ معنی تو نہیں ہیں کہ وہ جھوٹی بے اصل ہے بلکہ اس کے صادق ہونے کا بھی امکان ہے۔ تو اگر وہ حدیث ضعیف، نفس الامر میں عند اللہ صحیح تھی تواس پر عمل ہونا بہت اچھا ہوا، اور اگر نفس الامر میں ثابت نہ تھی تو اس پرعمل کرنے سے کوئی نقصان لازم نہیں آیا کیوں کہ وہ عام شرعی قاعدہ کلیہ میں داخل ہے۔مثلاً یہی وضو کے اعضا دھونے والی دعائیں جو ضعیف حدیثوں سے ثابت ہوئی ہیں اگریہ نفس الامر میں عند اللہ صحیح ہیں تو ان احادیث کا حق ادا ہو گیا اور ثواب موعود مل گیا۔ اور یہ حدیثیں عند اللہ صحیح نہیں تو ہر عضو پر جدا جدا دعا پڑھنے سے گنہ گار بھی نہیں ہوا کیوں کہ اس نے دعا ہی تو پڑھی ہے کوئی گناہ تو نہیں کیا اور مطلق دعا کا مانگنا شرع سے ثابت ہے۔ اور ایک ضعیف حدیث میں بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا گیا ہے کہ آپ نے فرمایا  :
 جس شخص کو میری طرف سے کوئی حدیث پہنچی اور اس نے اس پر عمل کیا تو اس کو ثواب ملے گا اگرچہ فی الواقع وہ حدیث میری نہ ہو۔
 چنانچہ یہ مضمون فقیہ شامی نے علامہ ابن حجر سے نقل کیا ہے۔
(فیعمل بہ في فضائل الأعمال) لأنہ إن کان صحیحا في نفس الأمر فقد أعطِی حقُہ من العمل و إلا لم یترتب علی العمل بہ مفسدۃُ  تحلیلٍ و لا تحریمٍ و لا ضیاعِ حق للغیر، و في حدیث ضعیف [مَنْ بَلَغَہُ عَنِّي ثَوَابُ عَمَلٍ فَعَمِلَہُ حَصَلَ لَہُ أجَرُہُ وَ إنْ لَمْ أکُنْ قُلْتُہُ]  أو کما قال (۲)
۔۔۔
(۱)	رد المحتار:۱؍ ۳۴۷۔ 
(۲)	رد المحتار:  ۱؍۳۴۷۔
۔۔۔۔۔
اسی طرح شاہ ولی اللہ صاحب نے جو ماہِ رجب میں ہزاری روزہ اور اس کی رات کو جاگنے کا حکم دیا ہے تو وہ بھی اسی قاعدہ پر مبنی ہے۔ یعنی اگرچہ دن اور رات کی یہ تخصیص ضعیف حدیث سے ثابت ہوئی لیکن مطلق روزہ رکھنا اور شب میں عبادت کرنا تو دین میں ثابت ہے۔
اسی طرح مولوی قطب الدین خان صاحب نے جو چھ رکعت اوابین کے بارے میں لکھا ہے تواس میں بھی یہی قاعدہ ہے یعنی اگرچہ یہ حدیث بہت ضعیف اور منکَر ہے لیکن کوئی اگر اس تعین زمان اور تخصیص رکعات پر اس ضعیف حدیث کے موافق عمل کرے گا تو کچھ برائی نہ ہو گی کیوں کہ مطلق نفل کا پڑھنا تو ہر وقت جائز ہے۔ 
یہاں ایک اور مسئلہ سمجھناچاہیے کہ فقہا رحمہم اللہ  حدیث ضعیف سے ثابت ہونے والے عمل کو مستحب لکھا کرتے ہیں،چنانچہ اسی صلوٰۃ الاوابین کو حدیث منکر ہونے کے باوجود فقہامستحب اور مندوبات میں لکھتے ہیں۔ اسی طرح وضو میں گردن کا مسح حدیث ضعیف سے ثابت ہوا ہے مگر اس کو بھی مستحب لکھتے ہیں۔ اور ماہِ رجب کے روزے کو ’’فتاویٰ عالم گیری ‘‘میں مرغوبات و مندوبات کے ذیل میں لکھا ہے۔
جب یہ قواعد و فوائد ذہن نشیں ہو گئے تو اب ہم فقہا و محدثین کے اس قاعدۂ مقررہ کواس متنازع فیہ مسئلہ  یعنی روحوں کے آنے  میں جاری کر کے دکھاتے ہیں۔ اور اس سلسلے میں ہماری پہلی گفتگو یہ ہے کہ وہ جو فاضل مذکور نے لکھا ہے کہ بعض محدثین نے روحوں کے آنے والی حدیث کو ضعیف کہا ہے۔تو ہم کہتے ہیں کہ بعض محدثین کے ضعیف کہنے سے لازم نہیں آتا کہ کل کے نزدیک ضعیف ہو۔ملا علی قاری وغیرہ لکھتے ہیں  : 
لاحتمال أن یکون الحدیث موضوعا من طریق صحیحا من آخر۔ (۱)
کیوں کہ ایسا ممکن ہے کہ حدیث ایک جہت سے تو موضوع ہو مگر دوسری جہت سے صحیح ہو۔
۔۔۔۔
(۱)	یعنی جس محدث نے کسی حدیث کو موضوع کہا ہے اس کو خراب اسناد سے پہنچی ہے ، اس لیے وہ موضوع کہتا ہے، اور دوسرا محدث جو اس کو پسند کرے تو اس کے نزدیک اچھی اسناد سے ثبوت ہوا ہے۔۱۲ منہ رحمہ اللہ
۔۔۔۔
تو اس بنیاد پر ہم کہتے ہیں کہ چوں کہ صاحب ’’خزانۃ الروایات‘‘ نے روحوں کے آنے کی یہ حدیثیں اپنے فتاویٰ میں درج فرمائیں جن کی سند اسی فاضل نے اپنی تصنیفات میں لی ہے  اور اس کے فضائل کئی وجہوں سے ہم اوپر بیان کر آئے ہیں   تو ضرور یہ بات ان کی صحت و قوت اور مفتی بہ ہونے پر دلیل ہے۔مفتیانِ دین کا ایک حدیث کو لے لینا قوت کی دلیل ہوتی ہے۔ اور اگر بالفرض ہم اس فاضل کے کہنے کے مطابق ان احادیث کا ضعیف ہونا تسلیم کر لیں تو فروعِ مسائل اور فضائل اعمال میں حدیث ضعیف پر عمل کرنا فقہا و محدثین سے بالاتفاق اور بالاجماع ثابت ہے، لہٰذا جو آدمی ان حدیثوں پر عمل کرے کہ کچھ صدقہ اور فاتحہ و درود تیوہاروں میں کرے تو بلا شبہ یہ کام جائز بلکہ مستحب ہو گا، اس لیے کہ اگر واقعی وہ روحیں آئی تھیں تو سبحان اللہ اصل مدعا ثابت ہوا کہ وہ خوش و خرم گئیں، اور اگر وہ بددعا کرتیں تو یہ آدمی ان کی بددعاسے بچ گیا اور اس کو ثواب پہنچ گیا۔ اور اگر بالفرض روحیں آتی نہیں تو بھی یہ صدقہ اور  فاتحہ و درود تو ان کو پہنچ ہی جائے گا، ان کا پہنچ جانا تو اہل سنت و جماعت کے نزدیک اصل قاعدہ شرعی سے ثابت ہے،لہٰذا اس بنیاد پر تیوہاروں میں صدقہ اور فاتحہ و درود کرنے کو نہ صرف جائز بلکہ مستحب کہنا چاہیے، اس کی چند نظیریں فقہا کے کلام سیےصلوٰۃ الاوابین، گردن کامسح اور رجب کے روزے کے حوالے سے ہم پیش کر چکے ہیں،اس کے علاوہ بھی کتب فقہ میں اس کی بہت سی نظیریں موجود ہیں جس کی نظر متون و شروح اور فتاویٰ پر ہے اس سے یہ مخفی نہیں۔ اللہ تعالیٰ دلوں میں انصاف دے۔ آمین یارب العالمین۔



لمعہ رابعہ تیجہ کا طریقہ

اس عمل میں پانچ چیزیں ہیں : کلمہ طیبہ پڑھنا،شمار کے لیے دانہ ہائے نخود  کا معین کرنا، ختم قرآن کرنا، برادری اور دوست آشناؤں کا قرآن اور کلمہ پڑھنے کے لیے جمع ہونا اور اس کام کے لیے تیسرا دن ٹھہرانا۔
پہلی چیز :کلمہ طیبہ کا اختیار کرنا اس لیے ہوتا ہے کہ حدیث میں وارد ہوا ہے  :
لاَ إلٰہَ إلاَّ اللّٰہُ مِفْتَاحُ الْجَنَّۃِ۔ (۱)
یعنی لا الہ الا اللہ دروازۂ بہشت کی کنجی ہے۔
۔۔۔۔
(۱)	صحیح بخاری:۴؍۴۵۶ملتقطاً۔۔الاسماء والصفات بیہقی :۱؍۲۲۱حدیث :۲۰۷ملتقطاً۔
۔۔۔۔۔
امام ابواللیث سمرقندی نے حضرت انس سے روایت کی ہے  :
عن النبي  صلی اللہ علیہ وسلم  أنہ قیل لہ یا رسول اللہ! ہل للجنۃ ثمن قال نعم لا إلٰہ إلا اللہ۔
یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیایارسو اللہ! کیا جنت کی کچھ قیمت بھی ہے ؟فرمایا ہاں !کلمہ لا الہ الا اللہ۔
	مسندبزار کے الفاظ یوں ہیں  : 
	 مفتاح الجنۃ شہادۃ أن لا إلہ إلاَّ اللّٰہ۔ (بحرزخارمسندبزار:۷؍۱۳۵حدیث: ۲۳۱۰)
جب یہ معلوم ہوا کہ کلمہ طیبہ جنت کی کنجی اور اس کی قیمت ہے تو ثواب پہنچانے کے لیے ایسی چیز نہایت درجہ بہتر و افضل ہے۔اس کے علاوہ ایک حدیث میں یہ بھی آیا ہے  :
 جو کوئی میت کی نیت سے ایک لاکھ بار لا الہ الا اللہ پڑھے اور اس کا ثواب میت کو بخش دے تو اگر وہ عذاب دیے جانے کے قابل بھی ہو گا تو اسے عذاب نہ دیا جائے گا اور اگر قابل عذاب نہ ہو گا تو اس کے درجات بلند کر دیے جائیں گے۔
 اور ایک روایت میں سترہزاربارلا الہ الا اللہ کا پڑھنا آیا ہے۔(۱)
چنانچہ بزرگانِ دین اس پر عمل پیرا بھی رہے ہیں۔
۔۔۔۔
(۱)	من قال لا !لہ !لا اللہ سبعین ألفا غفر اللہ تعالیٰ لہ و من قیل لہ غفر لہ أیضا۔ (مرقاۃ المفاتیح :۲؍۳۹۹)
۔۔۔۔
حضرت امام ربانی مجدد الف ثانی اپنے مکتوبات کی جلد ثانی میں حکم فرماتے ہیں  :
بہ یاران ودوستاں فرمایند کہ ہفتاد ہزاربار کلمہ طیبہ لا الہ الا اللہ بروحانیت مرحومی خواجہ محمد  صادق و بروحانیت مرحومہ ہمشیرۂ او ام کلثوم بخوانند وثواب ہفتاد ہزار بار رابروحانیت یکے بخشند و ہفتاد ہزاربار دیگر را بروحانیت دیگرے ازدوستان دعاوفاتحہ مسؤل است۔انتہیٰ۔
یعنی مجدد الف ثانی نے اپنے ارادت مندوں سے فرمایا کہ مرحوم خواجہ محمد  صادق اور ان کی مرحومہ بہن ام کلثوم کے ایصال ثواب کے لیے سترہزار بار کلمہ طیبہ لا الہ الا اللہ پڑھیں۔ اور ایک بار سترہزار ایک کے ایصال ثواب کے لیے اور دوسری بار سترہزار دوسرے کے ایصال ثواب کے لیے بخشیں ،کیوں کہ دوستوں ہی سے دعا و فاتحہ کی امید کی جاتی ہے۔
حضرت سید الطائفہ جنید بغدادی  رحمۃ اللہ علیہ  سے بھی اس باب میں ایک قصہ منقول ہے جس کو مولوی محمد  قاسم صاحب نانوتوی نے اپنی کتاب ’’تحذیر الناس‘‘ مطبوعہ بریلی کے صفحہ۴۰پر لکھا ہے  :
حضرت جنید کے کسی مری دکا رنگ یکایک متغیر ہو گیا آپ نے سبب پوچھا تو بروئے مکاشفہ اس نے یہ کہا کہ اپنی ماں کو دوزخ میں دیکھتا ہوں۔حضرت جنید نے ایک لاکھ یا پچہتر ہزار بار کبھی کلمہ پڑھا تھا یوں سمجھ کر کہ بعض روایتوں میں اس قدر کلمہ کے ثواب پر وعدۂ مغفرت ہے ،اپنے جی ہی جی میں اس مرید کی ماں کو بخش دیا اور اس کو اطلاع نہ کی۔ بخشتے ہی کیا دیکھتے ہیں کہ وہ جوان ہشاش بشاش ہے۔آپ نے پھر سبب پوچھاتواس نے کہا کہ اب اپنی والدہ کو جنت میں دیکھتا ہوں تو آپ نے اس پر یہ فرمایا کہ اس جوان کے
مکاشفہ کی صحت تو مجھے حدیث سے معلوم ہوئی اور اس حدیث کی تصحیح اس کے مکاشفہ سے ہو گئی۔انتہیٰ۔
دیکھیے ان روایات احادیث اور سلف صالحین کے دستور العمل سے کلمہ طیبہ کی تخصیص عمدہ طور پر ظاہر ہو گئی لہٰذا اسے بدعت و ضلالت کہنے کی تردید ہو گئی۔   
دوسری چیز: دانہ نخود کی تخصیص کی وجہ یہ ہے کہ دانہ نخود اگر چھوٹا بڑا نہ ہو ،متوسط ہو،پہلے کے وزن سے کہ وہ اسی روپے سے زیادہ تھا تو ساڑھے بارہ سیر نخود ،از روئے شمار ایک لاکھ دانہ ہو جاتا ہے۔اس عاجز نے بھی اس کو آزمایا ہے اور مولف براہین قاطعہ نے بھی صفحہ ۸۹ کی سولہویں سطرمیں اس کی تصدیق کی ہے اور یہ لکھا ہے  :
فی الواقع اول میں دانہ نخود کے اختیار کی یہی وجہ تھی الیٰ آخرہ 
 اور حدیث کے دو شمار، سترہزار اور ایک لاکھ کے مطابق احتیاطاً سوہزار یعنی ایک لاکھ پر عمل مقرر کیا گیا اور ہر کسی کی اتنی قدرت نہ تھی کہ اس قدرتسبیحیں جمع کرتا یا جنگل اور بازار وغیرہ سے جامن یا کھجور وغیرہ کی گٹھلیاں چنتا اور جا بجا سے سمیٹتاپھرتا،نخود میں یہ فائدہ ہوا کہ سہل الحصول ہیں جہاں سے چاہا جس نے چاہا بے تکلف مول لے لی،اس میں شمار کی شمار بھی قائم رہی اور فراغت اور کام ختم ہو جانے کے بعد ان کو تقسیم بھی کر دیا یہ دوسری منفعت حاصل ہو گئی کہ اس کا ثواب بھی میت کو پہنچ گیا، اور اس قسم کے تعینات سے ممانعت اور کراہت ثابت نہیں ہوسکتی۔اس کی دلیل یہ ہے کہ ابوداؤد، ترمذی، نسائی،ابن حبان اور حاکم سے اس حدیث کی روایت بطو لہ ثابت ہے جس کا خلاصہ یہ ہے  :
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم   نے ایک عورت کو دیکھا کہ گٹھلیاں یا کنکریاں لیے ہوئے ذکر اللہ شمار کر رہی تھی (مگر آپ نے اس کو منع نہ فرمایا)۔۔۔ (۱)
۔۔۔
(۱)	متن حدیث  :  عن عائشۃ بنت سعد عن أبیہا أنہ دخل مع رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  علی امرأۃ و بین یدیہا نوی أو حصی تُسبح بہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
	سنن داؤد: ۴؍ ۲۹۷ حدیث: ۱۲۸۲۔۔ سنن ترمذی: ۱۱؍ ۴۸۳ حدیث: ۳۴۹۱۔۔ مشکوٰۃ المصابیح: ۲؍ ۲۱ حدیث: ۲۳۱۱ ۔۔مستدرک: ۵؍ ۶۵حدیث: ۱۹۶۷ ۔۔ شعب الایمان: ۲؍ ۱۶۶ حدیث: ۶۲۴۔۔ مسند ابویعلی موصلی: ۲؍ ۱۹۰ حدیث: ۶۸۳۔۔ مسند بزار: ۳؍ ۴۸۱ حدیث: ۱۰۷۱ ۔۔ الدعاطبرانی: ۴؍ ۳۹۶ حدیث: ۱۶۳۲۔۔ الدعوات الکبیر بیہقی: ۱؍ ۲۸۹ حدیث: ۲۵۷ ۔۔ مسند سعد بن ابی وقاص: ۱؍ ۸۴ حدیث: ۷۴ ۔۔ کنز العمال: ۱؍ ۴۷۰ حدیث: ۲۰۴۳ ۔۔ مسند الجامع: ۱۳؍ ۱۸۹ حدیث: ۴۰۹۵ ۔۔ تحفۃ الاشراف: ۵؍ ۲۶۴ حدیث: ۳۹۵۴۔
۔۔۔۔
اس قدر ثبوت سے فقہا رحمہم اللہ  نے یہ مسئلہ نکال لیا کہ  :
لا بأس باتخاذ السبحۃ۔ (۱)
یعنی تسبیح ہاتھ میں لیے رہنے میں کوئی حرج نہیں۔
۔۔۔۔
(۱)	بحرالرائق: ۴؍۱۵۴۔
۔۔۔۔۔
حالاں کہ کنکریوں اور گٹھلیوں کی گنتی اور تسبیح میں بڑا فرق ہے،یعنی دانوں کا گول کرنا، پھر دانے بھی عقیق یمن کے عقیق البحر کے صندل زیتون سنگ مقصود استخوان شتر شیشہ و خاک شفا وغیرہ کے ہوتے ہیں،ان میں سوراخ کرنا پھر ان کے شمار سودانے پر رکھنا پھر ان میں تاگا پرونا، ان میں ایک دانے کوسب دانوں کا امام مقرر کرنا، یہ سب امور مسلم الثبوت اور اہل اسلام کے عمل میں ہیں،حالاں کہ ثبوت صرف کنکریوں پر شمار کرنے کا ہوا ہے مگر ان فروعات زائدہ کے جواز پر صاحب بحرالرائق،حلیہ اور علامہ شامی اس طرح اشارہ کرتے ہیں  :
لا تزید السبحۃ علی مضمون ہٰذا الحدیث إلا بضم النوی فی خیط و مثل ذلک لا یظہر تاثیرہ في المنع۔
یعنی تسبیح میں اس حدیث کے مضمون سے کوئی بات زیادہ نہیں ، سوا اس کے کہ گٹھلیاں ایک تاگے میں پروئی ہوئی ہیں اور ممنوع ہونے میں ایسی باتیں کوئی تاثیر نہیں رکھتیں۔
اب دیکھیے  ضم النوی في الخیط کا لفظ لکھ کرتسبیح کی جملہ تخصیصات و تعیینات  جو اوپر بیان ہوئیں  کی طرف فقہا اِشارہ کر گئے۔ بقولہم مثل ذالک  الی آخرہ  یعنی ایسی ایسی باتوں کو منع میں کچھ دخل نہیں کیونکہ تسبیح سے مقصود ذکر کا شمار ہے اور شمارِ ذکر کا جواز حدیث سے پا لیا گیا۔ تو اب دانہ ہائے نخود پر شمار کرنا بھی فقہا کے نکالے ہوئے قاعدۂ شرعیہ کی روشنی میں جائز ہوا،بلکہ تسبیح کے مقابلہ میں دانہ ہائے نخود کے شمار کو حدیث میں مذکور قصہ سے زیادہ مشارکت ہے، کیوں کہ(اس کے مقابلے میں ) تسبیح کے اندر بہت سی زائد قیدیں ہیں  جیساکہ ہم ذکر کر آئے 
تیسری چیز: قرآن کا پڑھنا ہے۔ جو لوگ قرآن خوانی کو منع کرتے ہیں وہ دو ایک علما کی عبارتیں پیش کرتے ہیں اور اسے نہایت مستحکم جان کر اپنی کتابوں میں درج کرتے ہیں۔
پہلی سند: یہ ہے کہ ’’سیف السنہ‘‘ کے صفحہ ۱۴پر ’’سفر السعادہ‘‘ کی عبارت اس طرح نقل کی ہے :
عادت نبوی نہ بود کہ برائے میت جمع شوند و قرآن خوانند و ختمات خوانند نہ برسرگورونہ غیر آں دریں مجموع بدعت است۔ انتہیٰ۔
یعنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم  کی عادت یہ نہ تھی کہ مردوں کے لیے جمع ہو کر قرآن خوانی اور ختم قرآن کریں نہ تو قبرکے پاس اور نہ کہیں اور ہی، تو اس طرح کی چیزیں بدعت ہیں۔
میں کہتا ہوں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم  صحابہ کے جنازوں کی نماز بذات خود پڑھتے تھے اور یہ نماز ان کی نجات کے لیے کافی ہوتی تھی۔ فتح القدیر میں ابن حبان اور حاکم سے روایت کی گئی کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو کوئی تم میں مر جایا کرے مجھ کو ضرور خبر کیا کرو  فإن صلوٰتی علیہ رحمۃ۔ بے شک میرا نماز پڑھنا اس پر رحمت ہے، اور یہ قرآن شریف سے بھی ثابت ہے،اللہ تعالیٰ نے فرمایا  : 
وَ صَلِّ عَلَیْہِمْ إنَّ صَلوٰتَکَ سَکَنٌ لَّہُمْ۔ (۱)
 اور ان کے حق میں دعائے خیر کرو،بے شک تمہاری دعا ان کے دلوں کا چین ہے۔
اس کی تفسیر ابن عباس نے یہ کی ہے کہ ان لوگوں پر دعا کیجیے بے شک آپ کی دعا ان کے لیے رحمت ہے۔
امام رازی نے ’’تفسیر کبیر‘‘ میں لکھا ہے  :  
 روح محمد  صلی اللہ علیہ وسلم بہت قوی نورانی اور روشن تھی جب آپ ان کے لیے دعائے خیر کرتے تھے تو آپ کی قوت روحانی سے ان کی روحوں پر فیضان ہوتا تھا، اس پرتوِ  نورانی سے ان کی روحیں چمک جاتی تھیں اور ظلمت مٹ کر نورانیت آ جاتی تھی  انتہیٰ (۲)
ظاہر ہے کہ نماز جنازہ میں میت کے واسطے دعا ہوتی ہے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کا حال قرآن،قول صحابی اور تفسیر امام نیز حدیث سے معلوم ہو چکا کہ اس میں کیا کچھ مقبولیت اور فیضانِ الٰہی ہے۔ہم اپنے موتیٰ پر جس قدر چاہیں ختم قرآن کریں،کلمہ اور فاتحہ و درود پڑھیں لیکن اس ایک دعا کی برابری  جو لب ہائے سراپارحمت  صلی اللہ علیہ وسلم سے کمال مقبولیت و محبوبیت کے ساتھ نکلتی تھی  نہیں ہوسکتی۔ اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے علاوہ اور طرح بھی مشکل کشائی فرماتے تھے۔ 
۔۔۔۔۔
(۱)	سورۂ توبہ،۹؍۱۰۳۔
(۲)	تفسیر رازی، ۸؍۱۴۱۔
۔۔۔۔۔
حضرت جابر فرماتے ہیں  :
جب سعد ابن معاذ دفنائے گئے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے سبحان اللہ سبحان اللہ پڑھا،ہم بھی آپ کے ساتھ دیر تک وہی پڑھتے رہے،پھر آپ نے اللہ اکبر پڑھا ہم بھی پڑھتے رہے،پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کاسبب پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: اس کو قبر نے دبا لیا تھا،اس تسبیح و تکبیر کی برکت سے اس پر قبر ہر طرف سے فراخ ہو گئی۔
یہ امام احمد کی روایت ہے اور مشکوٰۃ میں بھی ایساہی ہے۔ (۱)
۔۔۔۔
(۱)	دلائل النبوۃ بیہقی : ۴؍۸۱حدیث:۱۳۷۷۔۔مشکل الآثار طحاوی:۹؍۱۷۶حدیث:۳۵۲۸۔۔البدایۃو النہایۃ: ۴؍۱۶۴۔ الفاظ حدیث یہ ہیں  :
	فجلس رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  علی قبرہ و ہو یدفن، فبینما ہو جالس إذ قال : ’’سبحان اللہ‘‘ مرتین، فسبح القوم ثم قال ’’اللہ أکبر اللہ أکبر‘‘  فکبر القوم ثم قال رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم عجبت لہذا العبد الصالح شدد علیہ في قبرہ حتی کان ہذا حین فرج لہ۔
	مسنداحمد بن حنبل: ۲۹؍ ۳۹۳حدیث: ۱۴۳۴۴۔۔مصنف ابن ابی شیبہ :۲۹؍ ۳۹۳حدیث: ۱۴۳۴۴۔۔مشکوٰۃ المصابیح: ۱؍ ۲۹حدیث: ۱۳۵۔۔ مسندجامع:۹؍ ۳۸۳حدیث: ۲۹۹۰۔ان کتابوں کے الفاظ حدیث ذرا مختلف ہیں  :
	عن جابر بن عبد اللّٰہ الأنصاري، قَالَ :خَرَجْنَا مَعَ رَسولِ اللّٰہِ  صلی اللہ علیہ وسلم  یَوْماً إلیٰ سَعْدِ بن مُعاذٍ حَیْنَ تُوُفِّيَ قال : فلَمَّا صَلّٰی عَلَیْہِ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  و وُضِعَ في قَبرِہ و سُوِّيَ عَلیہ، سبَّحَ رسولُ اللّٰہِ  صلی اللہ علیہ وسلم  فسَبَّحْنَا طَویلا، ثم کبَّر فکبَّرْنا، فقیل : یا رسول اللہ، لِمَ سَبَّحْتَ، ثم کبَّرتَ ؟ قال : لَقَد تَضَایَقَ عَلی ہذا العبد الصالح قبرُہُ، حتی فرَّجَہُ اللّٰہُ  عزوجل  عَنہُ۔
۔۔۔۔۔
بھلا جہاں اس طور پر مشکل کشائی اور دستگیری ہوتی ہو،اگر وہاں ختم قرآن نہ کیا تو کیا حرج ہے؟( اور پھر اگر)حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مل کر قرآن نہ پڑھا تو کیا،قبر پر میت کے لیے مل کر ذکر اللہ تو کیا!۔  فقہا کے نزدیک جواز کے لیے بس ایک اشارہ کافی ہوتا ہے۔ 
اگر بالفرض عہد نبوی میں نہ پائے جانے کے سبب ختم قرآن کو’’سفرالسعادہ‘‘کے قول کی طرح، بدعت کہیں،تواس میں کوئی مضائقہ نہیں لیکن وہ بدعت حسنہ ہے،اسے ناجائز و مکروہ کہنا ہرگز صحیح نہیں۔کیوں کہ بہتیرے نیک کام حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کیے گئے اور بالاتفاق جائز رکھے گئے، اسی کا نام علمائے دین نے بدعت حسنہ رکھا ہے۔ہم پہلے بھی اس کی تحقیق کر چکے ہیں مگراس مسئلہ کے کچھ خاص جزئیے یہاں بھی پیش کرتے ہیں  :
فتاویٰ قنیہ میں ہے  :
وضع الید علی القبر بدعۃ و القراء ۃ علیہ بدعۃ حسنۃ۔
یعنی قبر پر ہاتھ رکھنا تو بدعت ہے مگر صاحب قبر کے لیے کچھ پڑھنا بدعت حسنہ ہے۔
 حجۃ الاسلام امام غزالی نے ’’احیاء العلوم‘‘ میں فرمایا ہے  :
لا بأس بقراء ۃ القراٰن علی القبور۔
قبروں پر قرآن کریم کی تلاوت میں کوئی حرج نہیں۔ 
اس جگہ امام مالک نے ایک عجیب قصہ لکھا ہے۔علی بن موسیٰ کہتے ہیں کہ میں ایک جنازہ پر امام احمد بن حنبل کے ساتھ تھا،دفن کے بعد ایک اندھا قرآن پڑھنے لگا،امام احمد نے فرمایا : اُو آدمی!یہ کام بدعت ہے۔ جب ہم مقبرہ سے نکلے تو محمد  بن قدامہ نے امام احمد سے پوچھا کہ آپ بشر بن اسماعیل کوکیساجانتے ہیں،فرمایا وہ ثقہ یعنی معتبر ہیں۔ انھوں نے پوچھا آپ نے ان سے کچھ علم سیکھا ہے ؟امام نے فرمایا ہاں !جب ان کے اقرار سے معلوم ہوا کہ وہ امام احمد کے استادہیں تب محمد بن قدامہ بولے کہ مجھ کو خبر دی بشر بن اسماعیل نے اور ان کو عبدالرحمن سے یہ خبر پہنچی کہ جب ان کے باپ علا بن الحاج کا انتقال ہوا تو انھوں نے وصیت فرمائی کہ جب میں دفن کیا جاؤں تو میری قبر کے سرہانے پنج آیت اور آمن الرسول پڑھو۔ اور یہ کہا کہ میں نے ابن عمرکوسنا ہے کہ وہ بھی اس بات کی وصیت کیا کرتے تھے۔اس وقت امام احمد نے فرمایا کہ مقبرہ میں جاؤ اور اس اندھے کو کہ دو کہ قرآن پڑھتا رہے۔
فتاویٰ عالم گیری میں ہے  :
قراء ۃ  القرآن  عند  القبور  عند  محمد   رحمہ اللہ تعالیٰ  لا تُکرہ و مشائخنا  رحمہم اللہ تعالیٰ  أخذوا بقولہ و ہل ینتفع و المختار أنہ ینتفع، ہکذا في المضمرات۔ (۱)
یعنی قبروں کے پاس قرآن پڑھنے کے بارے میں امام محمد  نے فرمایا کہ مکروہ نہیں اور ہمارے مشائخ نے انھیں کے قول کو لیا ہے۔ اور پھر یہ کہ اس پڑھنے کا کچھ فائدہ ہے؟ تو مذہب مختار یہی ہے کہ اسے فائدہ پہنچے گا۔مضمرات میں ایساہی ہے۔
۔۔۔۔
(۱)	فتاویٰ ہندیہ: ۴؍۴۸۲ الباب السادس فی القبر والدفن 
۔۔۔۔۔
فتح القدیر میں ہے  :
و اختلف في  إجلاس القارئین لیقرء وا  عند  القبر  و المختار عدمُ الکراہۃ۔ (۱)
یعنی قبر کے پاس قاریوں کو بٹھا کر پڑھانے کے سلسلہ میں اختلاف ہے مگر مختار یہی ہے کہ ایسا کرنا مکروہ نہیں۔
۔۔۔
(۱)	فتح القدیر: ۳؍۴۳۱ فصل فی الدفن 
۔۔۔۔
مولوی اسحق صاحب نے ’’مائۃ مسائل‘‘ کے سوال ہشتاد وسوم(۸۳) میں لکھا ہے  :
حافظاں را برائے قراءت قرآن نشاندن نزد قبردریں مسئلہ علمارا اختلاف است مختار ہمیں است کہ جائز است الیٰ آخرہ 
یعنی قبر کے پاس حافظوں کو متعین کر کے قرآن پڑھانے کے سلسلہ میں علما کا اختلاف ہے مگر مختار یہی ہے کہ ایسادرست ہے۔
 تو اگرچہ صاحب سفر السعادہ نے قرآن خوانی کو بدعت لکھا مگر امام محمد،امام احمد بن حنبل اور کتب فتاویٰ نیز مولوی اسحق صاحب کے کلام سے خوب ثابت ہو گیا کہ قبر پر قرآن پڑھنا مکروہ نہیں نہ جمع ہو کر نہ الگ الگ۔ اور میت کو اس سے نفع ہوتا ہے۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم  کے ختم قرآن نہ کرنے سے منع اور کراہت لازم نہیں آتی،اس لیے کہ آپ زیادہ تر افکارِ جہاد،امت کی اصلاح اور نوآموز مسلمانوں کی تعلیم و ترتیب  وغیرہ میں مصروف رہتے تھے،اس قدر فرصت کہاں پاتے تھے۔ اور پھر یہ بھی کہ آپ کی ایک دعا اور صرف نمازِ جنازہ پڑھ دینا ہی ہمارے ختمات قرآن اور اجتماعات اذکار سے کہیں زیادہ افضل و اکمل ہوتا تھا۔ اور آپ کے بعد انصار نے اموات پر قرآن پڑھنا شروع کر دیا اور ان کے پیچھے تمام امت میں رائج ہو گیا اس کا بیان بس آیا ہی چاہتا ہے  تو قبر پر قرآن پڑھنے کی یہ روایتیں تو ہم نے بیان کر دیں،اب قبر کے علاوہ اور جگہ جمع ہو کر اگر پڑھیں تو اس کا کیا حکم ہے ؟اس کو ہم مانعین کی دوسری سند میں بیان کریں گے۔
دوسری سند:  مانعین اپنے رسائل میں ’’نصاب الاحتساب‘‘ کی عبارت نقل کرتے ہیں  :
إن ختم القرآن جہرا بالجماعۃ و یسمی بالفارسیۃ سیپارہ خواندن مکروہ  انتہیٰ 
یعنی جماعت کے ساتھ زورزورسے ختم قرآن کرنا جسے فارسی سیپارہ میں پڑھنا کہتے ہیں   مکروہ ہے۔
اس کا جواب یہ ہے کہ نماز کے اندر امام کی قرات سننا اور اس وقت چپ رہنا تو بالاتفاق فرض ہے۔ لیکن اگر خارج نماز کسی جگہ قرآن پڑھا جاتا ہوتواس کے سننے اور سامعین کے خاموش رہنے میں اختلاف ہے، بعض اس میں بھی چپ رہنے کو فرض کہتے ہیں جب کہ بعض مستحب۔ جوعلمامستحب کہتے ہیں ان کے نزدیک اکٹھا ہو کر بلند آواز سے قرآن پڑھنے میں کوئی مضائقہ نہیں اور جو فرض کہتے ہیں ان کے نزدیک جائز نہیں۔
فتاویٰ قنیہ میں ہے  :
یکرہ للقوم أن یقرأ القرآن جملۃ لتضمنہا ترک الاستماع و الإنصات المامور بہا کذا في فتاویٰ أبي الفضل الکرماني و قیل لا بأس بہ کذا روي عن عین الأئمۃ الکرباسي و عن نجم الأئمۃ الحکیمي۔
یعنی لوگوں کے لیے ایک ساتھ مل کر قرآن پڑھنا مکروہ ہے، کیوں کہ اس میں قرآن کاسننانہیں پایا جاتا اور اس موقع پر خاموش رہنے کا حکم ہے۔ فتاویٰ ابوالفضل کرمانی میں یوں ہی ہے۔ اور عین الائمہ کرباسی اور نجم الائمہ حکیمی کی روایت کے مطابق اس میں کوئی حرج نہیں۔
جواز اور عدم جواز کی یہ دونوں روایتیں شرح منیہ میں حلبی اور دوسرے فقہا نے بھی روایت کی ہیں۔ ان روایتوں سے دو فائدے حاصل ہوئے۔
پہلا فائدہ تو یہ ہے کہ علمائے سلف میں جو لوگ منع کرتے ہیں انھوں نے (اس کی ممانعت پر) وہ دلیل قائم نہیں فرمائی جو اس زمانہ کے مانعین قائم کرتے ہیں کہ حضور  صلی اللہ علیہ وسلم  کے وقت قرآن جمع ہو کر نہیں پڑھا گیا اس لیے منع ہے۔بلکہ یہ دلیل بیان کی ہے کہ جب سب پکار کر پڑھیں گے تو قرآن شریف کا سنناجوفرض ہے ،وہ ترک ہو جائے گا۔ 
دوسرافائدہ یہ ہے کہ جن عالموں نے منع کیا تو انھوں نے جہر سے پڑھنے کو منع کیا ہے،چنانچہ ’’نصاب الاحتساب‘‘ کی عبارت میں بھی جس کو مانعین بطورِ سندلاتے ہیں   لفظ جہر صراحۃً موجود ہے،پھر یہ صاحب علی العموم ختم قرآن کو کیوں منع کرتے ہیں ؟یہ بھی فرمائیں کہ پکار پکار کر نہ پڑھیں تاکہ بالاتفاق جائز ہو اور اگر پکار کر پڑھیں گے تو بعضوں کے نزدیک جائز ہو گا بعضوں کے یہاں نہیں۔ چنانچہ صاحب خزانۃ الروایات نے ’’مفید المستفیْد‘‘سے یہ فیصلہ نقل کیا ہے  :
بدیں عبارت درسپارہ خواندن اختلاف است اگر خوانندچناں خوانند کہ یک دیگر نشنوند۔
یعنی اس عبارت میں سپارہ پڑھنے کے سلسلہ میں اختلاف ہوا ہے،وہ اگر پڑھیں تواس طرح پڑھیں کہ کوئی دوسرا نہ سنے۔
 مولوی اسحق صاحب ،خاص ’’مائۃ مسائل‘‘میں تراسیویں سوال کے جواب میں لکھتے ہیں  :
حافظاں را برائے قراءت قرآں نشاندن نزد قبردریں مسئلہ علمارا اختلاف است مختار ہمیں است کہ جائز است بشرطیکہ بہ آواز بلند جمع شدہ قراءت نہ کنند انتہیٰ 
یعنی قبر کے پاس حافظوں کو متعین کر کے قرآن پڑھانے کے سلسلہ میں علما کا اختلاف ہے مگر مختار یہی ہے کہ ایسادرست ہے۔ہاں ایسے موقع پر بلند آواز سے نہیں پڑھنا چاہیے۔
خلاصہ یہ کہ جمع ہو کر اگر آہستہ قرآن پڑھیں خواہ قبر پر یا غیر قبرپر تو یہ کسی کے نزدیک منع نہیں۔ دیکھیے !قرآن کا ایک جگہ جمع ہو کر پڑھنا حدیث صحیح میں وارد ہوا ہے۔امام مسلم نے روایت کی ہے کہ  :
جس گھر میں لوگ اس لیے جمع ہوتے ہیں کہ آپس میں کلام اللہ کی تلاوت کریں تو ان کے دلوں میں طمانیت و قرار اُترتا ہے،رحمت انھیں ہر طرف سے گھیر لیتی ہے اور ان کے گرداگرد فرشتے پھرتے رہتے ہیں۔ (۱)
تو یہ کیسی عظیم و جلیل فضیلت وسعادت ہے۔
۔۔۔
(۱)	متن حدیث  :   و ما اجتمع قوم في بیت من بیوت اللہ یتلون کتاب اللہ ویتدارسونہ بینہم إلا نَزَلت علیہم السکینۃ و غشیتہم الرحمۃ و حَفَّتْہم الملائکۃ۔
	صحیح مسلم: ۱۳؍ ۲۱۲ حدیث: ۴۸۶۷۔۔ سنن ابوداؤد: ۴؍ ۲۴۸ حدیث: ۱۲۴۳۔۔ سنن ابن ماجہ: ۱؍ ۲۶۱ حدیث: ۲۲۱ ۔۔ مشکوٰۃ المصابیح: ۱؍ ۴۴ حدیث: ۲۰۴۔۔مسند احمد: ۱۵؍ ۱۵۹ حدیث: ۷۱۱۸ ۔۔ شعب الایمان: ۴؍ ۲۰۹ حدیث: ۱۶۴۶۔۔ سنن دارمی: ۱؍ ۳۹۵ حدیث: ۳۶۴۔۔ اخلاق حملۃ القرآن آجری: ۱؍ ۲۵ حدیث: ۲۰۔۔ امالی ابن بشران: ۲؍ ۲۱۶ حدیث: ۶۷۴ ۔۔ کنز العمال: ۱؍ ۵۱۸ حدیث: ۲۳۱۶۔۔ مسند الجامع: ۴۳ ؍ ۱۵۷ حدیث: ۱۴۰۹۵ ۔۔ تحفۃ الاشراف: ۱۱؍ ۲۹۳ حدیث: ۱۲۵۱۰۔
۔۔۔۔
علاوہ ازیں قاضی ثناء اللہ  رحمہ اللہ  ’’تذکرۃ الموتیٰ والقبور‘‘ میں لکھتے ہیں  :
حافظ شمس الدین ابن عبد الواحد گفتہ ازقدیم در ہرشہر مسلمانان جمع می شوند د برائے اموات قرآن می خوانند پس اجماع شدہ انتہیٰ 
یعنی حافظ شمس الدین ابن عبد الواحد کہتے ہیں کہ زمانہ قدیم ہی سے ہر شہر میں مسلمان اکٹھا ہو کر مردوں کے لیے قرآن کریم کی تلاوت کرتے ہیں  تو گویا کہ اس پر اجماع ہو گیا ہے۔
کتب عربیہ میں اس کی عبارت یوں ہے  :
یجتمعون و یقرؤن القرآن لموتاہم من غیر نکیر فکان ذلک اجماعا۔ 
یعنی بلا اختلاف لوگ اکٹھا ہو  کر اپنے مردوں کے لیے قرآن پڑھتے ہیں۔ تواس پر اجماع ہو چکا ہے۔
’’غیرنکیر‘‘ کالفظ صاف بتا رہا ہے کہ پہلے اس میں کوئی اختلاف نہ کرتا تھا۔
ملا علی قاری، امام سیوطی اور قاضی ثناء اللہ پانی پتی سبھی لکھتے ہیں  :
عن سفیان قال کان الأنصار إذا مات لہم المیت اختلفوا إلی قبرہ و یقروؤن القرآن۔
یعنی حضرت سفیان فرماتے ہیں کہ جب انصارسے کسی کا انتقال ہوتا تو وہ اس کی قبر پر قرآن پڑھنے کے لیے جاتے تھے۔
 علامہ عینی شرح ہدایہ کے باب الحج عن الغیر میں لکھتے ہیں  :
إن المسلمین یجتمعون في کل عصر و زمان و یقروؤن القرآن و یہدون ثوابہ لموتاہم و علی ہذا أہل الصلاح و الدیانۃ من کل مذہب من المالکیۃ و الشافعیۃ وغیرہم و لا ینکر ذلک منکر فکان إجماعا  انتہیٰ 
یعنی ہر دور اور زمانے میں مسلمان قرآن پڑھنے کے لیے جمع ہوتے رہے ہیں جس کا ثواب وہ اپنے مردوں کو ہدیہ کر دیتے۔ اسی لیے مذہب مالکی و شافعی وغیرہ میں سے کوئی بھی اہل دیانت وفراست اس کا منکر نہیں،گویا اس پر اجماع ہو چکا ہے۔
ان روایات سے یہ معلوم ہو گیا کہ مذاہب اربعہ اہل سنت و جماعت کے تمام علمائے دین دار محقق اور صلحا ہر شہر میں عہد قدیم ہی سے جمع ہو کر مردوں کے لیے قرآن پڑھتے رہے ہیں اور ان پر کوئی انکار بھی نہیں کرتا تھا۔ مطلب یہ کہ کوئی بڑا محقق اور مستندعالم کہ جس کا انکار انکار شمار کیا جائے ایساکوئی نہیں جو اسے منع کرتا ہو۔ اور اگر کم درجہ کے علما میں سے کسی نے انکار کیا تو اس کی تردید ہوئی اور اس کے قول پر عمل نہیں ہوتا تھا۔امت محمد یہ علی صاحبہا الصلوٰۃ والسلام  کا باجماع و اتفاق اسی پر عمل رہا ہے کہ قرآن جمع ہو کر پڑھنا جائز ہے،چاہے قبر پر پڑھا جائے یاکسی اور جگہ۔
چوتھی چیز:  عزیزوں اور دوست آشناؤں کا کلمہ و قرآن پڑھنے کے لیے اکٹھا ہونا تو اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک لاکھ کلمہ وارثِ میت پڑھ نہیں سکتا، اور اگر کوئی ہمت بھی کرے گا تو مدتوں میں تمام ہو گا اور یہاں میت کا کام ابھی تمام ہوا جاتا ہے اس کے حق میں جلدی چاہیے،لہٰذا ضروری ہوا کہ ایسی حالت میں دوست آشنا ورثائے میت کی مدد کریں کہ ان کے ساتھ مل کر جلد ہی کام تمام کر دیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے  :
تَعَاوَنُوْا عَلَی الْبِرِّ وَ التَّقْویٰ۔ (۱)
نیکی اور پرہیزگاری پر ایک دوسرے کی مدد کرو۔
۔۔۔۔۔
(۱)	سورہ مائدہ،۵؍۲۔
(۲)	سنن ترمذی: ۱۱؍ ۴۱۴حدیث:۳۴۳۱۔۔مشکوۃالمصابیح:۱؍۱۶۰حدیث ۷۲۹۔۔سنن نسائی: ۱۱؍۴۱۴حدیث ۳۴۳۱۔۔ مسند احمد:۲۵؍ ۱۱۱حدیث:۱۲۰۶۵۔۔ مسند ابن ابی شیبہ:۲۵؍ ۱۱۱حدیث:۱۲۰۶۵ ۔۔شعب الایمان بیہقی: ۲؍۹۹ حدیث:۵۵۷۔۔مسندابی یعلی موصلی: ۷؍۴۵۲حدیث: ۳۳۳۸۔۔ مسندحمیدی:۷؍۴۵۲حدیث: ۳۳۳۸۔
۔۔۔۔
نیز یہ بھی ہے کہ جب وارثانِ میت نے یہ جلسہ ذکر منعقد کیا تو جس قدر مومنین نیکیوں کے طلب گار ہیں سب کا اس میں شریک ہونا حدیث نبوی  صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق خیروسعادت کا باعث ہو گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا  : 
إذَا مَرَرْتُمْ بِرِیَاضِ الْجَنَّۃِ فَارْتَعُوْا۔ (۲)
یعنی جب تم جنت کی کیاریوں سے گزرو تو اس سے کچھ چر لیا کرو۔
چرنے سے مراد ہے کہ پیٹ بھر کر ثواب حاصل کر لو۔لوگوں نے پوچھا کہ بہشت کے باغات اور سبزہ زار کیا ہیں ؟ تو آپ نے فرمایا  :
حِلَق الذکر۔
یعنی جہاں ذکر کرنے والوں کی جماعتیں حلقہ مارے بیٹھی ہیں۔
 اسے ترمذی نے روایت کیا ہے اور مشکوٰۃ میں بھی ایساہی ہے۔ 
اب ہم پوچھتے ہیں کہ اس جلسہ میں جو قرآن اور کلمہ پڑھا جاتا ہے،یہ ذکر اللہ ہے یا نہیں ؟ اگر کہتے ہو نہیں، تو کیا گل بکاؤلی اور فسانۂ عجائب ذکر اللہ ہو گا ! اور اگر کہو کہ ہاں یہ مجلس ،مجلس ذکر ہے تو ہم کہیں گے کہ مخبر صادق  صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے مطابق یہ مجلس باغ اور سبزہ زار جنت ہے،پھر اس میں چرنے سے منع کیوں کرتے ہو؟۔
اوپر گزرا کہ اہل اسلام کابلاکسی انکار کے اس بات پر اجماع ہو چکا ہے کہ مسلمان جمع ہو کر میت کے لیے پڑھیں تو یہ اجماع ثابت الاصل ہے اور اس کو حدیث جریر بن عبد اللہ کے مطابق ’’ممنوع اجتماع إلی أہل المیۃ ‘‘میں داخل کرنا عقل و فہم سے بہت دور ہے۔
افسوس! ایک وہ لوگ تھے کہ کسی چیز کو مکروہ سمجھتے ہوئے اگراس میں کچھ خیر و بہتری نظر آتی تو اس خیر کے باعث اس کی کراہت سے چشم پوشی کر لیتے تھے۔(آپ دیکھیں کہ ) عیدگاہ میں عید کی نماز کے بعد نفل پڑھنا ممنوع ہے۔ اور حضرت سیدنا علی  کرم اللہ وجہ  نے ایک شخص کو عیدگاہ میں نفل پڑھتے دیکھامگراسے منع نہ فرمایا۔لوگوں نے عرض کی یا امیرالمومنین! آپ اس آدمی کو منع نہیں فرماتے،آپ نے جواب دیا کہ مجھ کو خوف آتا ہے کہ کہیں میں ان لوگوں میں سے نہ ہو جاؤں جن کو اللہ تعالیٰ نے جھڑکا ہے  :
أ رَأیْتَ الَّذِيْ یَنْہیٰ عَبْداً إذَا صَلّٰی۔ (۱)
بھلا دیکھو تو جو منع کرتا ہے بندے کو جب وہ نماز پڑھے۔
حضرت علی کا یہ قصہ در مختار اور فقہ کی دوسری کتابوں میں بھی موجود ہے، اور در مختار میں اس مقام پریہ مسئلہ بھی لکھا ہے کہ عیدگاہ کے رستہ میں تکبیر نہ کہے اور نہ نماز کے بعد نفل پڑھے،پھر یہ لکھا  :
أما العوام فلا یُمنعون من تکبیر  و  لا  تنفل  أصلا لقلۃ رغبتہم في الخیرات۔ (۲)
یعنی مگر عوام نیکیوں میں کم دلچسپی لینے کی وجہ سے تکبیر اور نماز عید کے بعد نفل سے نہیں روکے جائیں گے۔ 
فقیہ شامی نے اس کی شرح یوں لکھی ہے  :
لا سرا و لا جہرا في التکبیر و لا قبل الصلوٰۃ بمسجد أو بیت أو بعدہا بمسجد في التنفل۔ (۳)
ان دونوں عبارتوں کا خلاصہ یہ ہے کہ عام آدمیوں کو عید کے دن تکبیرسے منع نہ کیا جائے خواہ زورسے کہیں یا آہستہ، اور نفلوں سے بھی منع نہ کریں خواہ قبل نماز عید پڑھیں یا بعد،مسجدمیں پڑھیں یا اپنے گھر میں،اس لیے کہ عام آدمی تویوں ہی حسنات و خیرات کی طرف رغبت نہیں رکھتے تو وہ جس طرح بھی خدا کا نام لے لیں غنیمت ہے۔ 
۔۔۔۔
(۱)	سورۂ علق،۹۶؍۹،۱۰۔
(۲)	درمختار:۲؍۱۸۵۔
(۳)	رد المحتار:۶؍۱۵۵۔
۔۔۔۔۔
اب دیکھیے کہ صحابہ کا بھی وہ ایک دور تھا کہ حضرت علی نے یہ خیال فرمایا کہ اگرچہ کراہت کی صورت اس نماز میں پائی جا رہی ہے کہ عید کی نماز کے بعد عین عیدگاہ ہی میں نماز پڑھنا طریقہ سنت کے خلاف ہے لیکن پھر بھی یہ فعل خیر ہی توہے، اللہ تعالیٰ کی یاد کر رہا ہے اور اس کی حضوری میں ہے ،منع نہ فرمایا،منع کرنے میں خوف الٰہی محسوس کیا اور کیوں نہ کرتے کہ اللہ سے وہی لوگ ڈرتے ہیں جن کے دلوں میں خوف الٰہی ہوتا ہے۔ اور ایک یہ بھی دور ہے کہ کسی معین دن میں برادرانِ اسلام کے اجتماع کو(کچھ لوگ )اپنے خیال میں مکروہ جان کر کلمہ و قرآن سے منع کرنے میں بھی خداسے ذرا نہیں ڈرتے۔ 
پانچویں چیز:  تیسرا دن معین کرنا۔تو واضح ہو کہ کسی خاص مصلحت کی وجہ سے کسی دن کا متعین کر لین اشریعت میں وارد ہوا ہے۔ شقیق بلخی  رحمۃ اللہ علیہ   جو کبار تابعین مقبولین سے ہیں وہ عبد اللہ بن مسعود صحابی کے ایک شاگرد کی روایت بیان کرتے ہیں  :
عبد اللہ بن مسعود ہر جمعرات کے دن وعظ فرماتے تھے،جب لوگوں نے کہا کہ روز وعظ فرمایا کیجیے تو آپ نے فرمایا مجھ کو روز روز وعظ کہہ کر تمھیں تنگ کر دیناپسند نہیں آتا، جس طرح میں وعظ کہتا ہوں اسی طرح رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  بھی ہم کو وعظ فرماتے تھے۔(۱)
یہ حدیث صحیحین کی روایت سے مشکوٰۃ میں موجود ہے۔
اس روایت سے معلوم ہوا کہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ  نے وعظ کے لیے جمعرات کا ایک دن مقرر کر لیا تھا اور ان کے بیان سے یہ بھی معلوم ہوا کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم   نے بھی دن مقرر کر رکھا تھا حالاں کہ وعظ کے لیے کسی دن کی قید کلام اللہ سے معلوم نہیں ہوئی، کیوں کہ قرآن شریف میں وارد ہے:
وَ ذَکِّرْ فَإنَّ الذِّکْریٰ تَنْفَعُ الْمُؤمِنِیْنَ۔ (۲)
اور سمجھاؤ کہ سمجھانامسلمانوں کو فائدہ دیتا ہے۔
۔۔۔۔
(۱)	متن حدیث:   کان عبد اللہ یذکِّر الناسَ في کل خمیس فقال لہ رجل یا أبا عبد الرحمن لوَدِدت أنک ذکَّرتنا کل یوم قال أما أنہ یمنعني من ذلک أني أکرہ أن أملِّکُم و إني أتخوَّلُکم بالموعظۃ کما کان النبي  صلی اللہ علیہ وسلم  یتخولنا بہا مخافۃ السآمۃ علینا۔
	صحیح بخاری: ۱؍ ۱۲۴ حدیث: ۶۸۔۔ مشکوٰۃ المصابیح: ۱؍ ۴۵ حدیث: ۲۰۷۔ 
(۲)	سورہ ذاریات، ۵۱؍ ۵۵۔
۔۔۔۔
اس میں دن کی قید نہیں ہے،تو ظاہر ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم  اور صحابہ نے جو دن متعین کیا تو کچھ مصلحت ہی کے تحت جمعرات کا دن مقرر کیا تھا،ہمارے دور میں اکثر علما نے (وعظ کے لیے)جمعہ کا دن معین کر رکھا ہے کیوں کہ اس کی حکمت و مصلحت یہ ہے کہ جمعہ کی نماز کے لیے اطراف و جوانب سے خواندہ و ناخواندہ ہرقسم کے آدمی جمع ہوتے ہیں ایسے مجمع میں وعظ کہنے سے فائدۂ عام ہوتا ہے جب کہ جمعرات کے دن اس فائدہ کا تصور نہیں کیا جا سکتا۔
تنقیح:  یہ حدیث ارباب تفقہ فی الدین کے لیے بہت بڑی اصل ہے کہ اگر کوئی دن کسی امر خیر کے لیے کچھ مصلحت کی بنیاد پر معین کر لیا جائے تو جائز ہے۔ امام بخاری نے اس حدیث سے دن خاص کرنے پرسندپکڑی ہے اور ترجمہ یہ قرار دیا  :
باب من جعل لأہل العلم أیاما معلومۃ۔
اب ہم اس مقام پر مولوی اسماعیل صاحب کا قول یاد دلاتے ہیں جو ’’تذکیر الاخوان‘‘ حصہ دوم تقویت الایمان میں ہے  :
جو امر قرون ثلاثہ میں بلا نکیر جاری نہ ہوا اور نہ اس کی مثل و نظیر پائی گئی وہ بدعت ہے انتہیٰ 
اس سے ثابت ہوا کہ اگر کوئی چیز اس زمانہ میں بعینہٖ نہیں ہوئی لیکن اس کی نظیر اس وقت پائی گئی تو وہ بدعت نہیں ہو گی۔
براہین قاطعہ گنگوہی کے صفحہ ۲۹پر ہے  :
جس کے جواز کی دلیل قرون ثلاثہ میں ہو خواہ وہ جزئیہ کسی وجود خارجی کی وجہ سے ان قرون میں ہوا یا نہ ہوا اور خواہ اس کے جنس کا وجود خارج میں ہوا ہو یا نہ ہوا ہو وہ سب سنت ہے انتہیٰ 
دوسراقول براہین قاطعہ کے صفحہ ۵۶(میں ہے کہ )
قرآن و حدیث و قول صحابی سے اگرچہ جزئیہ ہی ہو فقہا کلیہ نکال لیتے ہیں اور پھر اس کلیہ سے جملہ ابواب فقہ کے صدہا مسائل جزئیہ ثابت کرتے ہیں   انتہیٰ 
اب ہم منکرین کے ان مسلمہ اقوال کومسئلہ متنازع فیہا میں جاری کرتے ہیں۔واضح ہو کہ جس طرح وعظ، امر بالمعروف اور علم حاصل کرنا ایک نیک کام ہے اور کسی موقع پر فرض، اور کبھی سنت ومستحب ہے اسی طرح محتاجوں کو کچھ دینا یا کھلانا بھی نیک کام ہے اور اس کے مراتب بھی جداگانہ ہیں بعض مقام پرسنت ومستحب اور بعض موقع پر فرض ہے جیساکہ عالم گیری میں ہے  :
و یفترض علی الناس إطعام المحتاج في الوقت الذي یعجز عن الخروج و الطلب۔ (۱)
یعنی کسی محتاج کوایسے وقت میں کھلانا آدمیوں کے ذمہ فرض ہو جاتا ہے جب کہ وہ نکل کر کمائی کرنے سے عاجز ہو۔
۔۔۔۔
(۱)	فتاویٰ عالمگیری، جز:۴۳؍۲۶۶۔
۔۔۔۔
تو تیجہ و دسواں اور چالیسواں میں بعض محتاج ایسے بھی ہوتے ہیں کہ جن کی خبرگیری فرض ہوتی ہے اور بعضوں کی سنت یا مستحب۔ تو اطعام کے سلسلے میں وارث میت بعض افراد میں تو فرض پر عمل پیرا ہو گا اور بعض میں سنت ومستحب پر،جس طرح واعظ کہ جہاں امر بالمعروف مستحب تھا وہاں مستحب کا کرنے والا ہوا، اور جہاں فرض تھا وہاں فرض کا۔ تو حضرت ابن مسعود کا علم کی تعلیم اور امر بالمعروف کے لیے دن معین کرنا صدقات و فاتحہ کے دن متعین کرنے کی نظیر ہے،یعنی اللہ کی راہ میں خرچ کرنا اور قرآن کریم کی تلاوت کرنا ہمیشہ سے جائز اور ثابت الاصل ہے جس طرح وعظ کرنا ہمیشہ سے ثابت ہے۔لیکن تیسرا دن اور اسی طرح بیسواں اور چالیسواں وغیرہ مصلحت کے پیش نظر مخصوص کیے گئے ہیں جس طرح ابن مسعود  رضی اللہ عنہ   نے وعظ کے لیے جمعرات کو مخصوص کیا تھا۔ تو جب کہ اس یوم فاتحہ کے تعین کی نظیر اس زمانہ میں پائی گئی تو یہ تعین بدعت نہ ہوا، اور وہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ   کا تعین گرچہ ایک قضیہ جزئیہ ہے لیکن ازروئے فقہ اس سے ایک کلیہ پیدا ہوا جو اوپر مذکور ہو چکا کہ بعض مصلحتوں کی بنیاد پر کسی امر خیر کے لیے کسی دن کو معین کر لینا جائز ہے، یہ ایک مفہوم کلی ہے جس کے نیچے بہت سے متغائر بالتشخص اور متحد بالحقیقت افراد داخل ہیں۔ اور یہ اپنے مقام پر ثابت ہو چکا ہے کہ نوع کا طبعی مقتضی نہیں بدلتا پس جب کہ ایک فرد تعین کا حکم حدیث صحیح سے شروع میں معلوم ہو چکا تو باقی افراد کی تعیین میں بھی وہی حکم جواز جاری ہو گا۔ اور یہ بھی جاننا چاہیے کہ جب یہ ثابت ہو چکا کہ تعیین یوم کے نوع کا ایک فرد اس وقت موجود تھا تو فی الحقیقت یہ سب افراد تعیین معنوی و شرعی وجود کے اعتبارسے اس وقت موجودتھے گو ان کا وجود خارجی اور ظہور تا قیام قیامت آئندہ کسی وقت میں ہو جائے۔
زبان سے نماز کی نیت کامسئلہ یاد رکھنا چاہیے کہ تلفظ صرف حج میں ثابت ہوا تھا پھر وضو اور نماز و روزہ ،خواہ فرض ہوں یا واجب وسنت ،سب میں جاری ہو گیا۔ فقہ میں اس کی تصریح موجود ہے۔وجہ اس کی یہی ہے کہ جب ایک فردِ عبادت میں حکم ثابت ہو گیا تو سب میں ثابت ہو گیا۔ اور عبد اللہ بن مسعود  رضی اللہ عنہ کا یہ قول  :
لاَ یَجْعَلُ أحَدُکُمْ لِلشَّیْطَانِ شَیْئاً مِّنْ صَلوٰتِہٖ یَرَی أنَّ حَقّاً عَلَیْہِ أنْ لَّا یَنْصَرِفَ إلاَّ عَنْ یَمِیْنِہٖ۔ (۱)
یعنی تم میں سے کوئی اپنی نماز میں شیطان کا حصہ نہ بنائے کہ وہ یہ سمجھے کہ سلام کے بعد صرف داہنی سمت مڑنا ضروری ہے۔
۔۔۔۔
(۱)	صحیح بخاری: ۳؍ ۳۵۸حدیث: ۸۰۵۔۔مشکوٰۃ المصابیح:۱؍۲۰۷حدیث:۹۴۶۔۔ سنن دارمی:۴؍۱۵۵ حدیث: ۱۴۰۱ ۔۔ صحیح ابن حبان:۸؍۴۸۲حدیث: ۲۰۳۱۔۔ مسنداحمد: ۷؍ ۴۸۶حدیث: ۳۴۵۱۔۔سنن کبریٰ : ۲؍ ۲۹۵۔۔ معجم کبیر طبرانی: ۸؍ ۴۵۴حدیث: ۱۰۰۱۱۔۔اخباراصبہان: ۱۰؍ ۱۳۹حدیث: ۲۰۳۵۔۔مسندشاشی: ۱؍۴۷۷حدیث: ۴۰۱ ۔۔ مسندجامع: ۲۷؍ ۲۹۸حدیث: ۹۰۴۴۔
۔۔۔۔
نماز کے بعد دہنی طرف سے واجب جان کر پھرنے کی نہی کو شامل تھانہ کہ اس کے سواکچھ اور ۔ لیکن طیبی رحمۃ اللہ علیہ  نے اس میں ایک کلیہ پیدا کر لیا کہ  :
من أصر علی مندوب۔ إلی آخرہ۔
یعنی جو کوئی کسی امرمستحب پر وجوباًٍ عمل کرے گا اس میں شیطان کا حصہ ہو گا۔
  افسوس ان صاحبوں پر آتا ہے کہ اپنے مطلب میں یہ شدومد سے تحریر کرنا کہ قولِ صحابی سے اگرچہ جزئیہ ہو فقہا کلیہ نکال لیتے ہیں اور پھر اس کلیہ سے جملہ ابواب فقہ کے صدہامسائل جزئیہ ثابت کرتے ہیں  جیساکہ قریب گزرا پھر کیا وجہ ہے کہ دن معین کرنے کے سلسلے میں فعل رسول  صلی اللہ علیہ وسلم  کے ساتھ عبد اللہ بن مسعود کا عمل بھی موجود ہے اور متفق علیہ حدیث صحیح سے اس کا ثبوت بھی ہے، اس سے کلیہ پیدا کر کے تعیین یوم کے بہت سے مسائل کیوں نہیں طے کر لیتے!۔ 
اب ہم اس بیان کو شروع کریں کہ کس مصلحت کے پیش نظر تیجہ کا دن متعین کیا گیا ہے،تو دراصل یہ تعیین ،وارثان میت سمیت جملہ کلمہ و قرآن پڑھنے والوں کے لیے فائدہ بخش ہے۔ وارثوں کے لیے اس طرح مفید ہے کہ تعین و تقرر کی قید کی وجہ سے دل پر خوب خیال چڑھا رہتا ہے کہ یہ کام کرنا ضروری ہے تو ان سے یہ کام فوت بھی نہیں ہوتا۔ اور جو لوگ دن معین نہیں کرتے ان کا کام کبھی کا کبھی ہوتا ہے بلکہ بہت سے لوگوں سے چھوٹ بھی جاتا ہے۔جو لوگ جمعرات کی تعیین میں فاتحہ اموات کی نیت سے روٹیاں کھلا دیتے ہیں وہ تو کھلا دیتے ہیں، اور تخصیص کو بدعت کہنے والے ہفتہ کے ہفتہ بلکہ مہینہ گزر جاتے ہیں روٹی گھر سے نہیں نکال پاتے۔ اور اس تاریخ کے تعین کادوسرے لوگوں کو فائدہ اس معنی کر ہے کہ اگر دن غیر مقرر رہتا تو کوئی کسی دن پڑھنے آتا اور کوئی کسی دن، ( اور اس طرح خوش اسلوبی کے ساتھ یہ)کام جلد نہ ہوتا۔ اور دن مقرر ہونے سے ٹھیک ایک وقت پر سب جمع ہو جاتے ہیں اور خوش انجامی کے ساتھ کام تمام ہو جاتا ہے۔
اعتراض:  اگر کوئی یہ اعتراض کرے کہ اگر تم کو ایصالِ ثواب اور امدادِ میت جلدی منظور ہے تو دفن کے ایک دن بعد کیوں نہیں ختم کرا لیتے۔
جواب: اس کا جواب یہ ہے کہ اگر ہم دوسرا دن مقرر کرتے،اس پر بھی تمھیں اعتراض ہوتا کہ دوسرا دن کیوں مقرر کیا،تعیین تو بدعت ہے۔ اس کے علاوہ اس میں مصلحت یہ دیکھی گئی کہ روز دفن برادری کے آدمی اور دوست آشنا دیرتک تجہیز و تکفین میں رہتے ہیں،دیکھنے میں آتا ہے کہ کسی میت کی قبر کھودنے اور غسل و تکفین وغیرہ میں کم و بیش ایک ایک پہر اور بعض جگہ دو دو پہر لگ جاتے ہیں،تو اگر دوسرے دن بھی چھ گھڑی یا پہر بھر کی محنت ختم قرآن اور کلمہ طیبہ کے لیے دی جاتی تو لوگوں کا پے درپے آنا کسی قدر دشوار ہوتا اس لیے بیچ میں ایک دن آسائش کے لیے دے کر تیسرا دن معین کیا گیا۔
دوسری مصلحت یہ ہے کہ وارثان میت کی تعزیت کے واسطے شریعت میں تین روز مقرر کیے گئے ہیں۔فتاویٰ عالمگیری میں ہے  :
و لا بأس لأہل المصیبۃ أن یجلسوا في البیت أو في مسجد ثلٰثۃ أیام و الناس یأتونہم و یعزونہم۔ (۱)
یعنی مصیبت زدوں کو گھریامسجد میں تین دن تک بیٹھنے میں کوئی حرج نہیں ہے کہ لوگ اس میں ان کے پاس آئیں اور ان کی تعزیت کریں یعنی اہل ماتم کو تسلی و تشفی دیں۔
۔۔۔۔
(۱)	فتاویٰ عالمگیری: ۴؍۴۹۰۔
۔۔۔۔
توتیسرے دن کے معین کرنے میں یہ بھی مصلحت سمجھی گئی کہ ان ایام میں اہل تعزیت کی آمدو رفت رہتی ہی ہے،لوگوں کو بلانے اور جمع کرنے میں چنداں مشقت نہ ہو گی،مومنوں کا اجتماع آسانی سے ممکن ہو گا۔ اور یہ بھی ہے کہ جو قرب  و جوار کے موضعوں اور قصبوں میں ان کے دوست و اقربا رہنے والے ہیں وفات کی خبر ملنے پر وہ بھی اکثر فاتحہ اور ختم قرآن و کلمہ کی امداد میں شریک ہو جائیں گے تو تیسرے دن کی تعیین اسی مصلحت پر مبنی ہے، اور جو کچھ کلمہ و قرآن اس میں پڑھا جاتا ہے اس کی تفصیلی وضاحت اوپر ہو چکی۔ اور یہ تعیین کچھ ہماری مقرر کی ہوئی نہیں بلکہ زمانۂ قدیم ہی سے علمائے دین اور مفتیان شرع متین کی مقرر کی ہوئی ہے۔اس پر ایک مختصر دلیل یہ ہے کہ ملا علی قاری،سیوطی اور علامہ عینی وغیرہم کے کلام سے ہم ثابت کر چکے ہیں کہ جملہ مذاہب کے علما و صلحا ہر شہر اور ہر دور میں جمع ہو کر ختم قرآن کرتے رہے ہیں اور اس پر امت کا اجماع ہے۔
تو اس بنیاد پر ہم کہتے ہیں کہ کل شہروں اور ملکوں میں ہندستان تو بڑا ملک ہے،جس میں بہت سے شہر ہیں تو یہاں کے علماوصلحا نے بھی جمع ہو کرپڑھنے کا طریقہ اپنے ملک ہندوستان میں ضرور جاری کیاہو گا۔تلاش وجستجو کے بعدیہی معلوم ہوتا ہے کہ ہندوستان کے دوردور شہروں میں یہی طریقہ قدیم زمانے سے چلاآرہا ہے۔ اور ہم اپنے آباؤاجداد سے اور وہ اپنے آباؤاجدادسے یوں ہی سنتے اور دیکھتے آئے ہیں،سیکڑوں برس کی کتابوں میں ان کا ذکرہے۔تویہ لابدی قرار داد پہلے کے علماوصلحاکی ہے البتہ جب عوام اس تیجہ کی تقریب میں بعض باتیں خلاف شرع کرنے لگے توایک خاص وجہ کے سبب علما اس کو منع کرنے لگے۔چنانچہ ’’شرح سفر السعادۃ‘‘میں شیخ عبد الحق رحمۃ اللہ علیہ  کاکلام صاف اس امر کی طرف اشارہ کر رہا ہے  :
اما ایں اجتماع مخصوص روزسویم و ارتکاب تکلفات دیگروصرف اموال بے وصیت از حق یتامیٰ بدعت است وحرام انتہیٰ 
یعنی خصوصی طور پرتیجہ کے دن اکٹھاہونا اور دوسرے تکلفات کے ساتھ ساتھ یتیموں کا مال بلا وصیت خرچ کرنا بدعت وحرام ہے۔
اہل انصاف دیکھیں کہ شیخ کے اس کلام سے جوصاحب سیف السنہ وغیرہ تیجہ کے دن قرآن وکلمہ پڑھنے کا انکارثابت کرتے ہیں ، کیسی نا انصافی ہے،اس سے اکٹھاہو کرپڑھنے کی قباحت نہیں ثابت ہوتی بلکہ خاص زمانۂ شیخ میں بعض منہیات کے ساتھ جو اجتما ع مخصوص ہوتا تھا،(اس کی قباحت ثابت ہوتی ہے)جس کی طرف لفظ’’ایں اجتماع مخصوص‘‘ سے اشارہوتا ہے۔نیزشیخ محدث دہلوی اپنے ترجمہ مشکوٰۃ فارسی کے ’’باب البکاء علی ا  لمیت‘‘ میں لکھتے ہیں  : 
باک نیست بہ نشستن تا سہ روز در خانہ یا در مسجد وانچہ مردم دریں زمان از تکلّفات کنندہ ہمہ بدعت وشنیع ونامشروع است۔
یعنی گھریامسجد میں تین دن تک بیٹھ رہنے میں کوئی حرج نہیں اور جو ان دنوں میں کچھ ایسے تکلّفات لوگ کرتے ہیں وہ بدعت، برے اور غیر شرعی ہیں۔
غرض کہ ان کے کلام سے اس اجتماع مخصوص کی برائی،یتیموں کے حق ضائع کرنے اور تکلفات کرنے کی ممانعت پائی گئی، اور اس سے پہلے سفر السعادہ کی جو عبارت ختم قرآن کے بدعت ہونے کے بارے میں تھی تو ہم اس کا جواب تیسرے امرمیں دے چکے۔ ہاں موتیٰ کے سلسلہ میں تکلّفات کرنے ممنوع ہیں۔ چنانچہ بعض آدمیوں نے بعض شہروں میں کچھ نئے نئے تکلّفات ایجاد کیے تھے جن کا ذکر’’نصاب الاحتساب‘‘ میں ہے  :
یقطعون أوراق الأشجار و یتخذون منہ شیئا علی صورۃ الأشجار و یزیدون بہا حول القبر و یلبسون القبر ثیاب الحریر إذا کان المیت من أہلہ أی کأن یلبس ذلک و یحضرون المجامر المصورۃ بتماثیل ذوات الأرواح کالبازي و نحوہ و انہ مکروہ و یبسطون الفرش و یقوم الشاعر فیمدح المیت بما لم یفعلہ و انہ کذب و یحضرون المصاحف في المقابر و یضعونہا في المجلس و لا یقروؤن و ینتظرون حضور الصدر فإن فتح المصحف و أخذ الناس في القراء ۃ ثم حضر الصدر یغضب علیہم و ہل ہو الأمر النفس الأمارۃ بالسوء  انتہیٰ کلامہ  
و في حاشیتہ خزانۃ الروایات : الناس یہیؤن الریحان و الورد في الأطباق و ماء الورد في القماقم۔
یعنی درختوں کے پتوں کو اس طرح تراشتے ہیں کہ اس میں عین درختوں ہی کی صورت پیداہو جاتی ہے،قبرکے اگل بگل ان پتوں کو سجاتے ہیں، اگروہ مردہ اپنی زندگی میں ریشم پہنتا تھا تو قبرپربھی ریشمی غلاف چڑھاتے ہیں،ایسی انگیٹھیاں لاتے ہیں جس میں بازوغیرہ جانوروں کی تصویریں بنی ہوتی ہیں،جو کہ مکروہ ہیں،پھر فرش بچھاتے ہیں اور ڈوم بھاٹ کھڑاہو کر اس مردہ کی جھوٹی تعریفیں کرتا ہے، قبروں پر مصحف لے جاتے ہیں اور اسے پڑھتے نہیں ،رئیس کے آنے کا انتظارکرتے ہیں اور اگر اس سے پہلے قرآن پڑھنے لگیں تو وہ رئیس خفاہو جاتا ہے،یہ سب نفس امارہ کی شامت ہے۔
 اور خزانۃ الروایات کے حاشیہ میں یوں ہے کہ لوگ گلدستوں میں پھول پھلواری تیار کرتے ہیں اور قمقموں میں عرق گلاب بھرتے ہیں۔
اب سوچنے کامقام ہے کہ ورثہ میت تو مصیبت زدہ ہوتے ہیں انھیں مصیبت کے دنوں میں خوشی کا سامان کرنا اور مکروہ وحرام سے کچھ زینت دینے کو کون عاقل انسان گوارا کرے گا چنانچہ مفتیان دین نے اس کو منع کیا اور تمام عالم نے اسے مان لیا۔اب دیکھیے یہ باتیں کوئی نہیں کرتا البتہ ایک معین دن میں جمع ہو کر کلمہ کلام پڑھ دیتے ہیں،اب جو بعض علما تشدد کرتے ہیں اور محض دن معین ہونے کی وجہ سے کلمہ وقرآن کوبھی مکروہ کہ دیتے ہیں تو یہ صحیح نہیں۔ان کی دو دلیلیں ہیں  :
ایک تویہ کہ نماز میں سورت کا معین کر لینامکروہ ہے توایصال ثواب کے لیے تیسرادن معین کر لینابھی مکروہ ہے۔
اس کا جواب یہ ہے کہ اگر ہم کسی امر کوقیاس کرتے ہیں تو کہا کرتے ہو کہ قیاس کرنا مجتہد کا کام ہے اور اپنے مقصد کے لیے خود قیاس کرتے ہو تو جائزہے۔ یہ نا انصافی نہیں تو اور کیا ہے؟ اس سے قطع نظریوم فاتحہ وغیرہ کے تعین کونمازپرقیاس کرناخود صحیح نہیں۔ اس لیے امام شافعی کے نزدیک تو تعین سورت مکروہ ہی نہیں اور حنفیوں کے نزدیک جو مکروہ ہے تو امام طحاوی اور اسبیجانی وغیرہ کے کلام سے اس کی کراہت دو سبب سے ہے  :
ایک تویہ کہ اس کوپڑھنے والا یہ اعتقاد کرے کہ اسی ایک سورت کاپڑھنا واجب ہے دوسری سورت پڑھوں گا تو اس میں نماز نہ ہو گی یا ہو گی تو مکروہ ہو گی۔
 دوسراسبب یہ ہے کہ جاہل لوگ جب اسی ایک سورت کو پڑھتے دیکھیں گے تو(ڈرہے کہ) کہیں وہ یہ اعتقاد نہ کر لیں کہ نماز میں یہی ایک سورت واجب ہے دوسری نہیں،یہ مضامین فتح القدیر، شامی اور برہان وغیرہ میں موجودہیں۔ اور غالبا کراہت کی وجہ وہی بیان کردہ پہلا سبب ہے یعنی تعین سورت کا واجب جاننا۔چنانچہ حدیث صحیح سے اس کی تصدیق ہو جاتی ہے۔
صحیحین میں ہے کہ ایک آدمی امام تھا وہ ہر رکعت میں قل ہو اللہ ضرور پڑھا کرتا۔بخاری کی روایت میں ہے کہ جب مقتدی لوگ اس سے الجھے تواس نے جواب دیا کہ میں تو اس سورت کو چھوڑنے والانہیں،اگرتمہاراجی نہ چاہے تو میرے پیچھے نماز نہ پڑھو۔ بالآخر یہ مرافعہ آنحضرت  صلی اللہ علیہ وسلم  تک کیا گیاآپ نے اس سے پوچھا کہ تو ان کی بات کیوں نہیں مانتا اور ہررکعت میں اس کا التزام کیوں کر رہا ہے؟ اس نے کہا کہ مجھ کو یہ سورت پیاری لگتی ہے۔آپ نے فرما یا  : 
أخْبِرُوہُ اٗنَّ اللّٰہَ یُحِبُّہٗ۔ (۱)
یعنی اسے یہ خوش خبری سنادو کہ اللہ تعالیٰ اس کو محبوب رکھتا ہے۔
ایک دوسری روایت میں یوں آیا ہے کہ آپ نے فرمایا  :
حُبُّکَ إیَّاھَا أدْخَلَکَ الجَنَّۃَ۔ (۲)
یعنی اس سورت کی محبت نے تجھے جنت میں داخل کر دیا۔
اس واقعہ سے معلوم ہوا کہ تعین سورت کوواجب جاننے کا اعتقاد ہی کراہت کا باعث تھا جب اس شخص نے اپناوہ اعتقاد ہونا بیان نہ کیا بلکہ یہ کہا کہ مجھ کو اس سورت سے محبت ہے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس تعین اور التزام ودوام کو منع نہ فرمایا اور یہ بھی نہ فرمایا کہ عقیدۂ عوام کے اشتباہ سے بچنے کے لیے اس تعیین کو کبھی کبھی چھوڑ بھی دیا کرو کیوں کہ جب وہ بالمشافہ کہ چکاکہ میں محبت کے سبب پڑھتاہوں یعنی واجب نہیں جانتا تو جس طرح کبھی چھوڑ دینے سے شبہ دورہونے کا تصور ہوسکتا تھا وہ زبانی تصریح سے ہو گیا،یہ بات یاد رکھنے کے قابل ہے۔
اب ہم کہتے ہیں کہ تعین سوم میں بھی وہ علت کراہت نہیں پائی جاتی۔سب جانتے ہیں کہ اموات کے لیے ایصال ثواب ایک امر مستحب ہے کوئی فرض وواجب کا اعتقادنہیں کرتا،جب اصل ایصال واجب وفرض نہ ہوا تو تیسرے دن کی تعیین کو کون نادان فرض وواجب کہ دے گا! علاوہ ازیں یہ جو تیسرے دن کی تخصیص جاری ہے وہ اوپربیان ہو چکا کہ بعض مصلحتوں کی وجہ سے ہے کہ ہرکام بآسانی انجام پذیرہو جاتا ہے۔ اور خود فقہ میں بھی تعیین سورت کے باب میں امام طحاوی نے تصریح فرمائی ہے  :
أما إذا لازمہا لسہولتہا علیہ فلا یکرہ بل یکون حسنا کذا فی البرہان۔
یعنی اگر سہولت کے پیش نظر ایسا کرتا ہے توکوئی حرج نہیں بلکہ ایسا کرنا بہترہے۔برہان میں بھی یوں ہی مذکورہے۔

(۱)	صحیح بخاری: ۲۲؍ ۳۶۶حدیث: ۶۸۲۷۔۔ صحیح مسلم: ۴؍ ۲۴۴حدیث:۱۳۴۷۔۔سنن ترمذی:۱۰؍۱۳۹حدیث: ۲۸۲۶ ۔۔سنن کبریٰ نسائی: ۱؍ ۳۴۱ حدیث:۱۰۶۵۔۔شعب الایمان بیہقی: ۶؍ ۶۰حدیث: ۲۴۳۶۔۔مستخرج ابی عوانہ: ۸؍ ۲۲۵حدیث: ۳۲۰۶۔۔صحیح ابن حبان: ۴؍ ۷۹حدیث: ۷۹۴۔
(۲)	صحیح بخاری: ۳؍۲۳۳ ۔۔سنن ترمذی: ۱۰؍۱۳۹حدیث: ۲۸۲۶۔۔سنن نسائی:۱۰؍۱۳۹حدیث: ۲۸۲۶۔۔ مسنداحمد: ۲۵؍ ۲۸ حدیث: ۱۱۹۸۲۔۔مسند ابن ابی شیبہ:۲۵؍ ۲۸ حدیث: ۱۱۹۸۲۔۔سنن دارمی: ۱۰؍ ۳۳۷حدیث: ۳۴۹۸۔۔مستخرج ابی عوانہ: ۸؍ ۲۲۶حدیث : ۳۲۰۷۔۔صحیح ابن حبان: ۴؍ ۷۷حدیث: ۷۹۳۔ 
 قہستانی میں ہے  :
فلو قرأ للسنۃ أو الیسر فلا بأس بہ۔
یعنی اگر ادائیگی سنت یاآسانی کی وجہ سے ایسا کرے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔
تواس تعلیل فقہی کے مطابق تعین سوم مکروہ نہ ٹھہرا۔رہی یہ بات کہ کہیں جاہل لو گ اسے دیکھ کر یہ اعتقاد نہ کر لیں کہ ایصال ثواب تیسرے دن ہی ہوتا ہے،پہلے اور بعد میں نہیں ہوسکتا۔ تویہ علت بھی یہاں نہیں پائی جاتی کیوں کہ جو لوگ فرض وواجب اور سنت ومباح کی کنہ و حقیقت کونہیں سمجھتے ان کاتوکچھ علاج ہی نہیں وہ تونماز روزہ میں بھی امورمستحبہ کو فرض،فرض کوافضل واولیٰ، مکروہ کومفسد وحرام اور مباح کوواجب جوچاہتے ہیں کہ دیتے ہیں انھیں اس سلسلہ میں کوئی تمیزنہیں،اگر ان کی خاطر امورشرعیہ میں تبدیلی کی جائے تو عجب نہیں کہ کل شریعت کچھ اور ہی ہو جائے۔ تو ایسے کٹرجاہل عوام سے قطع نظر کر کے یہ دیکھناچاہیے کہ جو لوگ اس درجہ کے عوام ہیں کہ ان کو فرضیت واباحت میں فرق معلوم ہے توحضرت سلامت یہ مسئلہ خاص اس درجہ کا ہے کہ اس درجہ کے عوام سب جانتے ہیں کہ یہ کوئی حج وزکوٰۃ کی طرح فرض تو نہیں ہے بلکہ واجب بھی نہیں،ایصال ثواب فی نفسہٖ مستحب ہے۔ اور یہ تعین ایک مصلحت کے غرض سے ہے، بزرگانِ دین کامقررکیاہوا ایک کام بطوروراثت چلاآرہا ہے۔
 یہ شبہ تو کسی کم سے کم عقل والے کو بھی نہیں پڑسکتا کہ وہ یوں گمان کرے کہ ثواب صرف آج پہنچے گا پھر (بعدمیں یاپہلے)نہ پہنچے گا۔ اس لیے کہ جب وہ دیکھتے ہیں کہ وارثانِ میت تیسرے دن کے علاوہ اور دنوں میں بھی فاتحہ ودرود کرتے ہیں تو وہ کس طرح اعتقاد کریں گے کہ ثواب صرف روز سوم ہی کو پہنچا کرتا ہے۔ اور وہ تعین سورت کے سلسلے میں جو شبہ صاحب ہدایہ نے لکھا ہے وہ بھی جاتارہا۔توکراہت کی تمام علتیں ختم ہو گئیں اور تعین سوم کومکروہ کہنے کی کوئی وجہ باقی نہ رہی۔
خلاصہ یہ کہ تعین سویم میں کوئی یہ تعین نہیں کہ قراءت قرآن وغیرہ کا ثواب آج ہی پہنچتا ہے اس لیے کہ لوگ اور دنوں میں بھی پڑھ کربخشے ہیں اور نہ یہ تعین ہے کہ میت کی طرف سے کھاناکھلانایانقدی اور کھانے پینے کی چیزوں کی تقسیم آج ہی ہوتی ہے اس لیے کہ یہ امور بھی اور دنوں میں کرتے رہتے ہیں۔
میت کی طرف سے محتاج کودینے کا سلسلہ روز میت سے جوشروع ہوتا ہے تو چالیس روز تک اور کہیں اس سے کم وبیش جاری رہتا ہے جہاں روز سوم کی کوئی تخصیص نہیں ہوتی۔ تو معلوم ہوا کہ یہ تعین سوم نہ ایصال ثواب مالی کے لیے ہے اور نہ بدنی کے لیے بلکہ یہ تعین مسلمانوں کواکٹھا کرنے کی مصلحت کے پیش نظرہے کہ تعین کے مطابق سب حاضر ہو جائیں اور بے تعین ایسا اجتماع ممکن نہیں ہوسکتا۔ جب کہ سورت نمازکے تعین میں یہ حکمت ومصلحت مفقود ہے۔ لہٰذا یہ قیاس مع الفارق ناقابل سماعت ہے۔
مانعین کی دوسری دلیل یہ ہے کہ سویم میں کفاروہنود کی مشابہت ہے، اور حدیث میں ہے  :
مَنْ تَشَبَّہَ بِقَوْمٍ فَہُوَ مِنْہُمْ۔ (۱)
یعنی جس نے کسی قوم سے مشابہت اختیار کی تو وہ بھی انھیں میں سے ہے۔
تواس کا جواب یہ ہے کہ تشبہ مصدرہے جس کاماخذ شِبہ بالکسرہے شبہ کے معنی مانند ، توتشبہ کے معنی کسی کے مانندہو جاناہوا،جب تشبہ کامعنی معلوم ہو گیا تو اب ان مصنفوں کی زباں زوری سمجھنی چاہیے کہ سویم کرنے والے کس بات میں ہندوؤں کی مانند ہو جاتے ہیں ؟ہم قرآن پڑھتے ہیں وہ قرآن نہیں پڑھتے،ہم کلمہ طیبہ پڑھتے ہیں جوکفرشکن ہے اور وہ نہیں پڑھتے  سبحان اللہ کیاعقل سلیم پائی ہے کہ کفرکوکاٹنے والا کلمہ پڑھنے کواہل کفرکی رسم سے مشابہ قرار دیتے ہیں۔
ہمارے احباب اور برادری جمع ہو کر کلمہ وکلام پڑھتے ہیں اور ان کی برادری جمع ہو کرکچھ نہیں پڑھتی،صرف وارث میت سے اس کی دکان کھلوادیتی ہے اور قلم سیاہی کتاب وغیرہ کو ہاتھ لگوا کر سوگ دفع کرادیتی ہے، ان کے یہاں اگر کچھ پڑھتا ہے تو صرف ایک طرف کوئی برہمن پنڈت پڑھتا ہے،وارثانِ میت،بھائی برادری اور دوست آشنا کچھ نہیں پڑھتے، ان کا اجتماع کسی اور قسم کا ہے اور ہمارا اجتماع وہ ہے جوامت محمد یہ  علی صاحبہا الصلوٰۃ والسلام  کے اہل صلاح ودیانت کے اجماع سے جائزہے جیساکہ شارح ہدایہ علامہ عینی کی عبارت گزرچکی  اور ہندوؤں کا اصل مذہب یہ ہے جو کتاب سَنُسکار وِدِہی مطبوعہ بنارس کے صفحہ ۱۵۰ میں ہے جس کامضمون اردوزبان میں یہ ہے  :

(۱)	سنن ابوداؤد: ۱۱؍ ۴۸حدیث ۳۵۱۲۔۔ مسنداحمد: ۱۰؍۴۰۴حدیث: ۴۸۶۸۔۔مصنف ابن ابی شیبہ: ۱۰؍۴۰۴ حدیث: ۴۸۶۸۔۔مصنف عبد الرزاق: ۱۱؍ ۴۵۴ حدیث: ۲۰۹۸۶۔۔معجم اوسط طبرانی: ۱۸؍ ۱۴۰حدیث: ۸۵۶۲۔۔شعب الایمان بیہقی: ۳؍ ۲۵۱حدیث: ۱۲۰۲۔۔مسندعبدبن حمید: ۲؍ ۴۶۷حدیث: ۸۵۰۔۔ مسندشامیین طبرانی: ۱؍ ۲۷۷ حدیث: ۲۱۱ ۔۔مسندشہاب قضاعی: ۲؍ ۱۴۱حدیث: ۳۷۲۔۔مشکل الآثار طحاوی: ۱؍ ۲۳۸حدیث: ۱۹۸۔۔
مردے کوجلا کرسب چلے آئیں اور نہادھوکر بدن کو صاف اور پاک باہر سے کر لیں جس کے گھر میں موت ہوئی ہے اس کے کنبہ کے لوگوں کو تسلی دے کر اپنے اپنے گھرچلے جائیں،چوتھے دن مردہ کی راکھ اور ہڈیاں زمین میں گاڑ دیں یاباغ یاکھیت میں ڈلوادیں اور جب تک رنج دور نہ ہو تب تک اچھے عالموں فاضلوں کی صحبت سے رنج کو دورکریں ان کوخوردونوش سے خوش کریں مراد یہ کہ اہل مصیبت اگر کھانارنج کے باعث نہ کھاتے ہوں تو علماوغیرہ ان کو کھلاپلا کر خوش کریں،یہی پنڈدان اور شرادجاننا اور مرنے والاآدمی جو کچھ دھن دھرم کے لیے چھوڑ گیاہو اس کو علم اور ملک کی ترقی میں لگادیں  الیٰ آخرہ 
غرض کہ مرنے والے کے لیے ان کے دین میں اس کے بعد کچھ اور نہیں لکھا اور اب جس طرح بعض فرقہ ہنود عمل میں لاتے ہیں وہ یہ ہے  جو ہم اوپرلکھ آئے ہیں  نیز تیسرے دن میت کی ہڈیاں جلی ہوئی چن کر لاتے ہیں پھرگنگا وغیرہ میں بہاتے ہیں۔ اور اہل اسلام کوئی عمل ان میں سے نہیں کرتے پھر کس بات میں ہنودکے مانندہو گئے اور کیاتشبہ پیداہو گیا۔انصاف شرط ہے۔
 اور اگرکوئی اس کا نام مشابہت رکھے کہ ان کے تیسرے دن رسوم کفر ہوتے ہیں اور تمہارے یہاں رسم اسلام یعنی کلمہ وقرآن ہوتا ہے تو انصاف کرناچاہیے کہ یہ مشابہت کیاہوئی یہ تومخالفت ہوئی یعنی ہم وہ کام کرتے ہیں جو کفار کے مخالف ہیں، اور کافر وہ کام کرتے ہیں جو اسلام کے مخالف ہیں وہ اپنے کام کرتے ہیں اور ہم اپنے۔
مثال کے طور پرمغرب،عشا اور صبح صادق کے وقت ہم لوگوں نے اذان کہی اور نمازپڑھی، انھوں نے ان تین وقتوں میں ناقوس یعنی سنکھ بجایا اور پوجاکیا۔ اب کوئی بیہودہ اس کومشابہت قرار دینے لگے کہ ان وقتوں میں تم نے اپنے طور کی عبادت کی انھوں نے اپنے طور کی پس اتحاد اوقات میں تشبہ پیداہو گیا توہرعقلمند اس کی ہرزہ سرائی اور اس کی کم عقلی پرقہقہ مارے گا۔اسی طرح جب حاجی لوگ بیت اللہ زادہا اللہ شرفا سے واپس ہوتے وقت آب زم زم لائیں توکوئی یاوہ گو کہنے لگے کہ یہ ہندوؤں کے ساتھ تشبہ ہو گیا کہ وہ بھی اپنی اپنی عبادت گاہ سے واپس ہوتے ہوئے گنگا کاپانی لاتے ہیں اور تم آب زم زم لے آئے،توسمجھناچاہیے کہ یہ خرافات بیہودہ تشبیہیں نکالنا سخت بے عقلی کی دلیل ہے۔
مولف براہین قاطعہ نے جو صفحہ ۱۱۰ کی پہلی سطر میں زم زم کاپانی لانے کواس غرض سے امر طبعی وعادی لکھاکہ جو چیز امور دینیہ سے نہیں بلکہ امورطبعیہ سے ہے اس میں تشبہ منع نہیں تو یہ ناظرین کے لیے قابل دید اور سامعین کے لیے قابل شنید ہے۔ اس لیے کہ کسی شے کو مقتضاے طبع قرار دینا اس وقت صحیح ہے کہ انسان کی طبیعت اپنی حیات جسمانی میں اس کی محتاج ہو،توپانی کاپیناپیاس وغیرہ کے لیے مقتضاے طبع ضرور ہے لیکن تعظیماً حصول برکات کے لیے پینا تومقتضاے طبع وعادت نہیں بلکہ مقتضاے دین ہے اور یہ سب جانتے ہیں کہ اس امردینی کے اشتراک کو یعنی تبرکاپانی لانے کو تمام علمائے ہند نے سلفاوخلفا بلانکیرجائز رکھا ہے لہٰذا واضح ہوناچاہیے کہ ظاہراً کسی وجہ سے کسی امرمیں بوئے تشبہ پیداہو جانا شرعاہرگزممنوع نہیں، اور تماشہ یہ ہے کہ صرف تیسرے دن کی مشارکت میں بھی قوم ہنود کی مشابہت نہیں۔
اس کی تفصیل یہ ہے کہ ہندوؤں میں بعض قومیں مثلاً سرواگی بالکل سیوم یعنی تیجے کے قائل نہیں تو ان کے ساتھ توکچھ بھی مشابہت نہیں،ان کے یہاں تیجہ صرف اس امر سے عبارت ہے کہ تیسرے دن کاروبارکرنے لگیں اور میت کاسوگ ختم کریں تو تعزیت کے واسطے اور سوگ ختم کرنے کے لیے شرع میں بھی تین دن معین ہیں۔ہنودکی بعض قومیں مثلاً بشنی اگروال جو سیوم کومانتے ہیں اور اموات کے لیے ثواب رسانی کے کام کرتے ہیں،اگر اہل اسلام کو مشابہت لازم آتی تو ان کے ساتھ لازم آتی،توغور سے دیکھیے کہ ان کے ساتھ بھی مشابہت نہیں کیوں کہ ان لوگوں کے قوانین گردش کواکب سے متعلق ہیں،تیسرے دن وہ تیجہ اس وقت کرتے ہیں کہ گرہ سامنے نہ ہو اور اگرپنچک کی گرہ جو پانچ نچھتر ہیں سامنے آ جاتے ہیں تو جس وقت تک وہ گرہ ٹل نہیں جاتی تیجانہیں ہوتا پھرکبھی چار دن اور کبھی پانچ دن میں کیاجاتا ہے، اور مسلمان تیسرے دن سے آگے نہیں ٹلاتے،ان کوکواکب سے کچھ بحث نہیں، انھوں نے شرع سے یہ اصل پیدا کر کے کہ کسی امرخیر کے لیے بربناے مصلحت دن معین کر لیناجائزہے ، دن معین کیا ہے۔تعین اہل اسلام دوسری چیزہے اور تعین ہنود دوسری چیز۔ توتشبہ کامعاملہ دن کی مشارکت کے باعث بھی ٹوٹ گیا۔
یہ شرعی مسئلہ ہے کہ جب ہمارے اور کفار کے درمیان کسی امر میں تفاوت اور امتیاز پیدا ہو جاتا ہے تو حکم تشبہ باطل ہو جاتا ہے۔حدیث وفقہ پڑھنے والوں کو یہ بات یاد ہو گی کہ یہود عاشورا کا روزہ رکھتے تھے حضور صلی اللہ علیہ وسلم  نے مسلمانوں کوبھی حکم دیا کہ تم بھی رکھو، اور یہود کے ساتھ لازم آنے والی مشابہت کی مخالفت کے لیے آپ کا اتنافرماناکافی ہو گیا کہ تم ایک دن پہلے یابعد میں بھی ایک روزہ رکھو  :
صُوْمُوْا  یَومَ  عَاشُوْرَائَ  وَ  خَالِفُوا  فِیْہِ  الْیَہُودَ وَ صُومُوا قَبْلَہٗ یَوماً أوْ بَعْدَہٗ یَوماً۔ (۱)
یعنی یوم عاشورا کا روزہ رکھو اور اس سے ایک دن پہلے یا بعدمیں ایک روزہ اور رکھ کر یہودیوں کی مخالفت کرو۔
اس کو امام احمد نے مسند میں،بیہقی نے سنن میں اور امام سیوطی نے جامع صغیر میں روایت کیا ہے اور بیہقی نے یہ بھی روایت کیا ہے کہ اگر میں اگلے برس زندہ رہا توایک روزہ پہلے اور ایک روزہ پیچھے کاحکم دوں گا، اور ائمہ کبار حنفیہ سے امام ابوجعفر طحاوی  رحمۃ اللہ علیہ  شرح معانی الآثار میں ابن عباس  رضی اللہ عنہما سے بالاسناد روایت کرتے ہیں کہ وہ فرماتے تھے  :
خَالِفُوا الْیَہُودَ وَ صُومُوا یَومَ التَّاسِعِ وَ الْعَاشِرِ۔
یعنی یہود کی مخالفت کرتے ہوئے نویں اور دسویں محرم کو روزہ رکھو۔
نیز یہ بھی روایت کرتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما  نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  سے یہ کلام نقل فرماتے تھے  :
صُومُوہُ وَ صُومُوا قَبْلَہٗ یَوماً أوْ بَعْدَہٗ یَوماً وَ لاَ تَتَشَبَّہُوا بِالْیَہُوْدِ۔
یعنی تنہا عاشورہ کا روزہ رکھنے میں یہود کی مشابہت نہ کرو بلکہ اول یاآخرروزہ رکھ کریہود کی مخالفت کرو۔
فقیہ شامی شرح درمختارمیں لکھتے ہیں کہ عاشورہ کا روزہ نویں یا گیارہویں کا روزہ ملائے بغیررکھنامکروہ ہے۔ اور محیط سے اس کی دلیل یہ لکھی  :
لأنہ تشبہ بالیہود۔ (۲)
یعنی اکیلادسویں محرم کاروزہ رکھنا فعل یہود کے ساتھ تشبہ ہونے کی وجہ سے مکروہ ہے۔ اور اول وآخر روزہ ملانے سے وہ کراہت تشبہ جاتی رہتی ہے۔ اور اسی طرح روزشنبہ اکیلاروزہ مکروہ لکھاکہ یہ فعل یہودہے لیکن جب یکشنبہ یاجمعہ کاروزہ اس میں ملالیاتواب مکروہ نہیں کیوں کہ تشبہ بالیہود باقی نہ رہا۔ 

(۱)	مسنداحمد: ۵؍ ۷۹حدیث: ۲۰۴۷۔۔سنن کبری بیہقی: ۴؍ ۲۸۷۔۔جامع صغیرسیوطی: حدیث:۵۰۶۸۔۔مصنف ابن ابی شیبہ:۵؍ ۷۹حدیث: ۲۰۴۷۔ 
(۲) 	رد المحتار: ۷؍ ۳۲۸ سبب صوم رمضان 
کنزالعباد میں ہے کہ اگراہل مصیبت گھریامسجد کے اندر بیٹھ جائیں کہ لوگ اس کی تعزیت کوآئیں تو اس میں کچھ مضائقہ نہیں لیکن دروازہ پرنہ بیٹھے :  فإن ذلک عمل أہل الجاہلیۃ (کیوں کہ یہ جاہلیت کاعمل ہے)
دیکھیے کہ ذراسی تبدیلی میں حکم بدل گیا۔الحاصل !ان نظیروں سے ثابت ہو گیا کہ جب مشبہ اور مشبہ بہ میں تمیزآ جائے توحکم تشبہ باقی نہیں رہتا۔اس مقام پر مولف براہین قاطعہ صفحہ۱۱۰کی آخری سطر میں ایک عجیب سی بات لکھتے ہیں کہ  :
تنہا عاشورا کاروزہ کسی کے نزدیک مکروہ نہیں۔ 
میں کہتاہوں کہ یہ مولف کی دینی کتابوں سے سخت بے خبری کی دلیل ہے۔ اس کامکروہ اور منہی عنہ ہونا ہم حدیث وفقہ سے ثابت کر چکے ہیں نیزیہ بھی کہ تشبہ مٹانے کے لیے اول وآخر روزہ ملانا لیناکافی ہے۔ اب دیکھیے کہ وہ اصل روزۂ عاشورا جس کو یہود رکھا کرتے تھے اس میں مسلمان شریک رہے لیکن ایک روز اول وآخر ملادینے سے مغائرت پیداہوئی تو تشبہ کاحکم بھی باطل ہو گیا۔ اسی طرح ہم کہتے ہیں کہ جب اہل اسلام کا تیجہ ہمیشہ سے تیسرے دن برقراررہا اور ہنود کاتیجہ ادل بدل ہوتارہایعنی کبھی تیسرے دن کبھی چوتھے دن اور کبھی پانچویں دن۔ پھراس میں بھی ہمارے افعال کچھ اور ،ان کے افعال کچھ اور ہیں کہ ہمارے مندرجہ بالاپانچوں امور قواعد شرعیہ کی روشنی میں نکالے گئے ہیں توپھرتشبہ کس بات میں ہوا!۔
فائدہ :  مولف براہین قاطعہ نے اس مقام پر ہمارا مدعا بالکل نہ سمجھا اس لیے صفحہ ۱۰۸ میں یہ لکھا  :
مولف انوارساطعہ نے حدیث من تشبہ بقوم فہو منہممیں تشبہ بجمیع اجزائہ من کل الوجوہ سمجھا ہے کہ سب اجزاوہیئت مشابہ ہو جائے تو اس وقت تشبہ محظور ہے ورنہ درست ہے،اسی وجہ سے لکھتا ہے کہ کس بات میں تشبہ ہنود کی ہو گئی  انتہیٰ بلفظہٖ 
اس کے بعد مولف براہین نے فضول اور بکواس باتوں سے تین ورق سیاہ کیے ہیں اس لیے کہ ہماری یہ مرادہے ہی نہیں بلکہ ہمارا دعویٰ تو یہ ہے کہ فاتحہ سویم میں پانچ چیزیں ہیں،اہل اسلام (کے نزدیک) ان پانچوں میں سے کسی چیز کے اندر اہل ہنود سے مشابہت نہیں۔ 
نہیں معلوم ان صاحبوں کی فہم وذکا اور تفقّہ کیسا ہے کہ احکام کی تعلیل میں ژرف نگاہی اور موشگافی ہرگزنہیں فرماتے۔مفتی قاطع السنہ یعنی صاحب سیف السنہ اور ان کے آباے اولین اور برادرانِ معاصرین سب کے سب بے سمجھے بوجھے اس مسئلہ میں حکم تشبہ لگارہے ہیں، اور حدیث نبوی :  من تشبہ بقوم فہو منہم کو نہایت درجہ بے محل پڑھ رہے ہیں۔  فَمَالِ ہٰؤلاَئِ الْقَوْمِ لاَ یَکَادُوْنَ یَفْقَہُوْنَ حَدِیْثاً۔(۱)
انھیں تشبہ کانہ تو لغوی معنی معلوم ہے نہ ہی اصطلاحی۔ اس لیے کہ تشبہ کالغوی معنی مانند کے ہوتا ہے اور آ پ دیکھ اور سن چکے کہ ہنود کا تیجہ کن امورپرمشتمل ہے اور اہل اسلام کاکن امورکوشامل ہے؟پھر دونوں فریق کا ایک دوسرے کی رسموں میں مانند ہوناکہاں ہوا!۔
اب اس کے شرعی معنی سنیے۔ صاحب بحر الرائق ،شرح جامع صغیرقاضی خان سے نقل کرتے ہیں  :
أن التشبہ بأہل الکتاب لا یکرہ في کل شییء و إنا نأکل و نشرب کما یفعلون۔ (۲)
یعنی کفار کے ساتھ تشبہ ہربات میں مکروہ نہیں کیوں کہ ہم بھی اسی طرح کھاتے پیتے ہیں جیسے وہ کھاتے پیتے ہیں۔
’’درمختار‘‘میں ان کے ساتھ مشابہت کا ارادہ کرنے کی قید لگائی ہے۔ اور جس چیز میں مشابہت کی جاتی ہے وہ شرعاً مذموم بھی ہو،تواس وقت تشبہ مکروہ ہے۔ اس کی عبارت یہ ہے  :
أي إن قصدہ فإن التشبہ بہم لا یکرہ في کل شیيء، بل في المذموم و فیما یقصد بہ التشبہ۔ (۳)
یعنی ہرچیز میں تشبہ مکروہ نہیں ہوتا بلکہ صرف مذموم اور ان چیزوں میں برا ہوتا ہے جن میں تشبہ کا قصد وارادہ کیاجاتا ہے۔
شامی نے اس حکم کومسلم رکھا ہے۔(۴)
 رسالہ ’’اثبات رفع یدین‘‘میں مولوی اسماعیل صاحب کی تحریر سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ انھوں نے مشابہت کے مکروہ ہونے میں قصدکومعتبر رکھا ہے،یعنی جب ان پریہ اعتراض کیا گیا کہ ان ملکوں 

(۱)	سورۂ نساء،۴؍۷۸۔
(۲)	البحر الرائق شرح کنز الدقائق: ۴؍ ۷۴ القراء ۃ من مصحف فی الصلوٰۃ 
(۳)	درمختار: ۱؍۶۷۲۔
(۴)	ردالمحتار: ۴؍۴۵۱۔
میں رفع یدین کرنے میں روافض کے ساتھ تشبہ لازم آتا ہے تو اس کے جواب میں لکھتے ہیں  :
لا نتحری تشبہ الفرق الضلالۃ بل اتفقت الموافقۃ۔
یعنی رفع یدین کرنے میں ہم گمراہ فرقوں کا تشبہ نہیں کرتے بلکہ اتفاقا موافقت لازم آ جاتی ہے۔انتہیٰ۔
اب دیکھیے کہ سوم میں مسلمانوں کی غرض نہ توقصدمشابہت اور نہ ہنود کے ساتھ موافقت کا ارداہ ہوتا ہے کیوں کہ اگر ایساہوتا تو انہی کی طرح یہ بھی تیجہ کو کبھی روز سوم کبھی چہارم اور کبھی پنجم میں کرتے جیساکہ اوپرگزرا  اور نہ تیسرے دن کلمہ وقرآن کاپڑھنا قرآن وحدیث سے مذموم وممنوع، پھرمنع کاحکم دینا کیسا؟۔علی قاری رحمہ اللہ  شرح فقہ اکبر میں لکھتے ہیں  :
انا ممنوعون من التشبہ بالکفرۃ و أہل البدعۃ المنکرۃ في شعارہم لا منھیون عن کل بدعۃ و لو کانت مباحۃ سواء کانت من أفعال أہل السنۃ أو من أفعال الکفرۃ و أہل البدعۃ۔
یعنی کافروں اور بدعتیوں سے مشابہت ہم کواسی بات میں منع ہے جو ان کے دین کا خاص تمغہ اور ان کے فریق کی پختہ علامت ہے۔ اور مباح بدعتوں میں منع نہیں اگرچہ وہ بدعتیں اہل سنت وجماعت کے افعال سے ہوں یاکافروں اور بدعتیوں کے۔
اب غور کرنے کا مقام ہے کہ جوتشبہ حدیث میں منع ہے اس کے شرعا ًیہ مذکورہ معنی ہیں پھرہم کو قوم ہنود سے کسی بات میں مشابہت نہیں نہ قرآن پڑھنے میں اور نہ چنوں پرکلمہ پڑھنے میں یہاں تک کہ تیسرے دن کے تعین میں بھی شرکت نہیں کیوں کہ ان کے تعین توگرہ مذکورہ پیش آنے کی وجہ سے بدلتے رہتے ہیں،لہٰذا ہمیں لغوی وشرعی کسی طرح کابھی ان کے ساتھ تشبّہ نہیں  والحمدللہ علی ذلک 



 لمعہ خامسہ  چالیسواں، بیسواں،دسواں، اور مسجد میں مٹی کاگھڑا  رکھنا

پہلے دستور تھا کہ مٹی کاگھڑا  جس کو فارسی میں سبو اور عربی میں جرّہ کہتے ہیں  میت کی طرف سے مساجد میں بھیجا کرتے تھے،نہ صرف ایک بلکہ چندگھڑے،علاوہ ازیں وہ گھڑے بھی بھیج دیتے تھے جن سے غسل میت ہوتا تھا۔ وجہ اس کی یہ تھی کہ جب سعد بن عبادہ کی والدہ انتقال کرگئیں توانھوں نے پوچھایارسول اللہ! کون سا صدقہ بہترہے؟ آپ نے فرمایا:پانی۔توانھوں نے ایک کنواں تیارکرایا اور کہا  :
ہٰذِہٖ لأمِّ سَعْدٍ۔ (۱)
یعنی اس چاہ کاثواب سعد کی ماں کوپہنچے۔
مشکوٰۃ کے اندریہ حدیث موجودہے۔
پھر ہرکوئی کنواں یعنی چاہ کھدوانے اور بنوانے کی قدرت تونہیں رکھتا اس لیے مسلمانوں میں یہ قاعدہ جاری ہو گیا تھا کہ کورے گھڑے مسجد میں بھیجا کرتے تھے کہ حضور  صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی کو اچھا صدقہ فر مایا ہے۔اگرکنواں نہ بنایا (توکیا) ہمارا گھڑا بھراہوا مسجد میں رہے گا کوئی پیاسا اس سے پانی پئے گا،کوئی غسل ووضو کے کام میں لائے گا تو(میت کواس کا)ثواب ہو گا۔ گھڑابھیجنے کی اصل یہی ہے، اور مسجد میں گھڑا بھیجنا اہل اسلام کی اعانت پرمبنی ہے۔ اور جس شخص کے مدنظر یہ (مقصد) نہ ہو بلکہ وہ اس میں جاہلیت کی رسمیں ادا کرے،پٹہ باندھے اور نقاشی کرے توایسا درست نہیں۔
 اور وہ جوچالیس روز تک مسجدکے ملاؤں اور مساکین کوکھانابھیجتے ہیں تواس کی وجہ یہ ہے کہ فقہا نے لکھا ہے  :
یستحب أن یتصدق عن المیت إلی ثلاثۃ أیام۔
یعنی میت کی طرف سے تین روز تک صدقہ دینا مستحب ہے۔
بعضوں نے لکھا ہے:
إلی سبعۃ أیام۔
یعنی سات دن تک۔ 
  بعضوں نے لکھا ہے:
إلی أربعین۔
یعنی چالیس دن تک۔
یہ روایتیں خزانۃ الروایات اور شرح برزخ وغیرہ میں ہیں۔
ینبغي أن یواظب علی الصدقۃ للمیت إلی سبعۃ أیام و قیل إلی أربعین فإن المیت یشوق إلی بیتہ۔

(۱)	مشکوٰۃ المصابیح: ۱؍۴۳۱حدیث:۱۹۱۲۔۔سنن ابوداؤد: ۴؍۴۹۷حدیث: ۱۴۳۱۔
یعنی بہترتویہی ہے کہ میت کی طرف سے سات دن اور بعضوں کے مطابق چالیس دن تک برابرصدقہ دیاجاتارہے کیوں کہ میت اپنے گھرکی مشتاق اور آرزومند ہوتی ہے۔
شاہ عبدالعزیزصاحب نے ’’تفسیرعزیزی‘‘میں لکھا ہے  :
موت کے بعد اپنے ابناے جنس کی طرف لگاؤ باقی رہتا ہے، اور زندوں کی مدد مردوں کوخوب پہنچتی ہے،وہ اپنے اقرباوغیرہ کے صدقات کے امیدوار ہوتے ہیں۔
غرض کہ اس قسم کی روایات کے سبب لوگ چالیس دن تک برابر میت کی طرف سے محتاج کو روٹی وغیرہ دیتے ہیں۔رہی بات چہلم وغیرہ کی تواس کی صورت یہ ہے کہ جوصاحب اس کو منع کرتے ہیں ان کی چند دلیلیں ہیں پہلے ان کاحال معلوم کر لیں پھر جائزہونے کی وجہ سنیں۔
پہلی دلیل : سیف السنہ کے صفحہ ۴،۱۴پر شرح منہاج نووی شافعی کی یہ عبارت ہے  :
 الاجتماع علی المقبرۃ في الیوم الثالث و تقسیم الورد و العود و إطعام الطعام في الأیام المخصوص کالثالث و الخامس و التاسع و العاشر و العشرین و الأربعین و الشہر السادس و السنۃ بدعۃ ممنوعۃ۔
یعنی تیسرے دن قبرپرجمگھٹالگانا، عودوگلاب بانٹنا، اور مخصوص دنوں مثلاً تیسرے،پانچویں، نویں،دسویں، بیسویں، چالیسویں،چھٹویں مہینے اور برسی پرکھانا کھلانا بدعت ممنوعہ ہے۔
اس کا جواب یہ ہے کہ شرح منہاج میں دوچیزوں کا ذکر ہے،ایک تیسرے دن مردے کی قبر پر جمع ہونا اور پھر وہاں گلاب کے پھول اور اگرکی بتیاں وغیرہ حاضرین مجلس پرتقسیم کرنا تو اس کاذکر تو ’’نصاب الاحتساب ‘‘کے حوالے سے تیجہ کے بیان میں گزرچکاکہ لوگوں نے نہایت تکلّفات بے جا ایجاد کر لیے تھے نیز وہ میت کی قبرپرتکلّفات بھی کرتے تھے تو اس کاممنوع ہونا توصحیح ہے۔چنانچہ اس کی ممانعت کی تصریح ہم خود کرآئے ہیں، اور جن بعض آدمیوں نے ایسی رسمیں ایجاد کی تھیں انھوں نے علماکے منع کرنے سے چھوڑ دیں،اب اس رسم کاوجود نہیں۔
شرح منہاج سے دوسری بات یہ نکلی کہ تیسرے،پانچویں،نویں، دسویں،بیسویں، چالیسویں دن،چھٹے مہینے اور برسویں دن بدعت ممنوعہ ہے۔تواس سے ظاہر یہی ہوتا ہے کہ ان ایام میں وہ مردے کی قبرپرلے جا کرکھاناکھلاتے تھے۔فتاویٰ بزاریہ میں قبرپرکھانالے جانے کی تصریح ہے  :
و یکرہ نقل الطعام إلی القبر في المواسم۔
لفظ مواسم ،موسم کی جمع ہے، اور لغت میں ، کسی ایک چیز کے وقت کو، اور جمع ہونے کی جگہ کو موسم کہتے ہیں   کذافی المنتخب وغیرہ 
تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ ان ایام مقررہ میں مردے کی قبرپرکھانالے جانامکروہ ہے۔ اس سے صاف معلوم ہوا کہ تیسرے،نویں، دسویں دن، چھماہی وبرسی اور ایام عیدوشب براءت وغیرہ میں  جوکہ یہ ایام، فاتحہ اموات کے واسطے معین ہیں   اہل اسلام سے بعض آدمیوں نے بعض شہروں میں قبروں پر کھانالے جانا اور اسی جگہ جا کرکھلانا رسم بنالیا تھا تواس کو اہل فتویٰ نے منع کیا، اور نصاب الاحتساب سے بھی اس کی تصدیق ہو جاتی ہے جس میں لکھا ہے  : 
و یشربون الشربۃ عند القبور و في الحدیث الأکل في المقابر یقسي القلب۔
یعنی قبروں کے پاس شربت پیتے ہیں جب کہ حدیث پاک میں آیا ہے کہ قبروں کے پاس کھاناپینادل کوسخت کر دیتا ہے۔ 
تو علمائے دین نے ممنوع ومکروہ ہونے کی وجہ حدیث شریف کی مخالفت ،بیان کی ہے کہ احادیث سے قبروں پرکھاناپینا منع ہے۔ یہ نہیں لکھا کہ یہ کھانا دن خاص کر لینے کی وجہ سے مکروہ ہے۔ اور ظاہر ہے کہ ان ملکوں میں دسویں بیسویں اور چالیسویں وغیرہ کی جوفاتحہ کرتے ہیں وہ مقابرپرنہیں کرتے (بلکہ اپنے گھروں پر کرتے ہیں )  لہٰذاوہ جائزہوئی۔
دوسری دلیل: فتاویٰ بزازیہ کی عبارت ہے جو کہ مستملی شرح منیۃ المصلّی میں منقول ہے :
و یکرہ اتخاذ الطعام في الیوم الأول و الثالث و بعد الأسبوع و نقل الطعام إلی المقابر في المواسم و اتخاذ الدعوۃ لقراء ۃ القرآن و جمع الصلحاء والقراء للختم أو قراء ۃ سورۃ الأنعام أو الإخلاص۔
یعنی پہلے اور تیسرے دن اور ہفتہ کے بعدیعنی آٹھویں دن کھاناتیارکرنامکروہ ہے۔ اور موسموں میں قبروں کوکھانالے جانابھی مکروہ ہے۔ یوں ہی قرآن مکمل ختم کرنے،یاسورۂ انعام یا اخلاص پڑھنے کے لیے قاریوں اور صلحاکوجمع ہونے کی دعوت دینابھی مکروہ ہے۔
اس عبارت سے تین مسئلے پیداہوئے۔ 
پہلامسئلہ: یہ کہ میت کاکھاناپہلے اور تیسرے دن اور ہفتہ کے بعدیعنی آٹھویں دن تیارکرنامکروہ ہے۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ اس میں دسویں بیسویں اور چالیسوں کانام بھی نہیں، پھر یہ عبارت چہلم وغیرہ کی ممانعت پرکس طرح دلیل ہوسکتی ہے۔ اور اجتہاد کر کے قیاس قائم کرو کہ جس طرح بزازیہ میں ان ایام کو منع کیا،ہم ان ایام کو منع کرتے ہیں۔ تواس کی بھی ہم دووجہوں سے تردید کرتے ہیں۔
ایک تو یہ کہ خود شارح منیۃ المصلی نے عبارت بزازیہ نقل کر کے اس کورد کیا ہے اور اس کھانے کا مکروہ ہونامسلم نہیں رکھا اور یہ لکھا ہے  : 
و لا یخلو عن نظر لأنہ لا دلیل علی الکراہۃ۔
یعنی اس کھانے کومکروہ کہنابحث سے خالی نہیں کیوں کہ کراہت پرکوئی دلیل ہے ہی نہیں۔
پس جب کہ خود شارح منیۃ المصلّی نے کراہت کو مسلم نہ رکھا توہم بھی مسلم نہیں رکھتے۔معلوم نہیں جن حضرات نے بزاریہ کی یہ عبارت شرح منیہ سے نقل فرمائی تو ایک سطرکے بعد شرح منیہ پراعتراض لکھا تھاکیوں نقل نہ فرمایا۔
مانعین کے استدلال کی تردید کی دوسری وجہ یہ ہے کہ اگر مخصوص ایام کے کھانے کی کراہت بزازیہ کے مطابق مسلم بھی رکھیں تو وہ کراہت خاص اس کھانے کے لیے ہوسکتی ہے جس کو وارثان میت بعض ملکوں میں فخریہ طور پرکرتے ہیں اور جس طرح شادی عروسی وغیرہ میں فخروشان کے ساتھ کھاناکھلانے کادستورہے اسی طرح میت کاکھانابھی تکلف وزینت کے ساتھ امیروں، مالداروں اور عزیزکنبے والوں کوکھلاتے ہیں  عنقریب اِسے محدث دہلوی اور فقیہ شامی کے کلام سے تیسری دلیل میں نقل کیاجائے گا  لیکن اس کی ممانعت بھی ایسی ہے کہ اس عبارت سے سمجھ لو جو سمجھ سکو۔فتاویٰ عالم گیری کی پانچویں جلد باب الہدایا والضیافات  میں ہے  :
لا یباح اتخاذ الضیافۃ ثلاثۃ أیام في أیام المصیبۃ و إذا اتخذ لا بأس بالأکل منہ۔ (۱)
یعنی مصیبت کے دنوں میں تین دن تک مہمانی کرنامباح نہیں اور اگر ضیافت کی جائے توکھانے میں کوئی حرج نہیں۔
اس سلسلہ میں بعض علمازیادہ تشددکرتے ہیں بعض کچھ کم۔ اور فتاویٰ قاضی خاں جلداول  فصل فی المسجد میں یہ مسئلہ لکھا ہے مگر کراہت کومقیدکیا ہے کہ مکروہ اس وقت ہے جب کہ ترکہ سے کھاناپکایاجائے اور وارث ابھی نابالغ اور کچی عمر کاہویابڑاہومگر غائب ہو۔عبارت یہ ہے  :
و یکرہ اتخاذ الضیافۃ في المصیبۃ من الترکۃ إن کان الوارث صغیرا أو کبیرا غائبا۔

(۱)	فتاویٰ عالم گیری:جز ۴۳؍۳۴۰۔
صاحب بزازیہ نے جو منع کیا ہے تو اس قسم کے کھانے کو منع کیا ہے جوشادی کی طرح ہو،اس کی دلیل خود صاحب بزازیہ کاکلام ہے جو شرح منیۃ المصلی میں اسی مقام پرلکھاہوا ہے  :
و إن اتخذ طعاما للفقراء  کان حسنا۔ (۱)
یعنی غریب اور فقیرلوگوں کے لیے کھاناتیارکریں تو اچھی بات ہے۔
اگر صاحب بزازیہ کے نزدیک مذکورہ کھانے کی کرا ہت ،تعین ایام کے باعث ہوتی تو یوں لکھتے :  و إن اتخذوا الطعام في غیر الأیام المخصوصۃ  کان حسنا  تو معلوم ہو گیا کہ صاحب بزازیہ کے نزدیک کراہت تخصیص ایام کی وجہ سے نہیں بلکہ اس لیے ہے کہ وہ لوگ غریبوں کونہیں کھلاتے تھے،اپنے دوست آشنا اور مالداروں کورسماکھلاتے تھے،اس واسطے صاحب بزازیہ نے کہاکہ اگرغریبوں کے واسطے کھاناتیار کریں تواچھی بات ہے۔
مولوی رشیداحمدصاحب گنگوہی کے استاد، جناب مولانا شیخ محمد  محدث تھانوی مرحوم نے اپنی کتاب’’انوارِ محمد ی‘‘  مطبوعہ مطبع ضیائی میرٹھ  میں مولوی اسماعیل صاحب دہلوی کے لکھے ہوئے چندخاص فتاوے جمع کیے ہیں،ان میں صفحہ ۴۶ پر ایک یہ فتویٰ بھی ہے  : 
سوال:  ہشتم آنکہ خوردن طعام روزسیوم ودہم وچہلم وغیرہ از اہل میت۔
جواب:  محتاج را منع نیست۔انتہیٰ۔
دیکھیے مولوی اسماعیل صاحب نے فتاویٰ بزازیہ کی تصدیق کر دی،یعنی جو کھانافقرا کے لیے ہو وہ صحیح ہے۔
 مولف براہین قاطعہ کی صفحہ ۱۲۱پریہ بات اہل علم کے لیے قابل دید ہے،آپ فرماتے ہیں  :
پہلی روایت بزازیہ کی کتاب الجنائز کی ہے، اور دوسری کتاب الاحسان کی،پھرکس طرح استثنا درست ہو انتہیٰ 
کیوں صاحب!  اگر ایک ہی مسئلہ دوباب میں ہو تو ایک کا دوسرے سے استثنادرست کیوں نہ ہو گا؟حدیث وفقہ کی کتابیں اس کی مثالوں سے بھری ہوئی ہیں لیکن ہم آپ کی خوش نودی کے لیے ایک ہی جگہ دونوں مطلب دکھائے دیتے ہیں،لیجیے فتاویٰ قاضی خان کی  کتاب الخطر والاباحۃ  ملاحظہ کیجیے  :

(۱)	مرقات المفاتیح: ۵؍ ۴۲۵۔
و یکرہ اتخاذ الضیافۃ في أیام المصیبۃ لأنہا أیام تأسف فلا یلیق بہا ما یکون للسرور و إن اتخذ طعاما للفقراء کان حسنا۔ (۱)
دیکھیے یہاں دونوں مسئلہ( ایک ہی جگہ )موجودہے۔یعنی ایام مصیبت میں ضیافت برادرانہ تکلفی شادی کی طرح نہ کرے کیوں کہ وہ سرورمیں ہوتی ہے لہٰذا مصیبت میں ایسانہ چاہیے،پھراستثناکیایعنی دوسرا مسئلہ بیان کیا کہ اگر فقرا کے لیے کھانا پکائے گا تو اچھا ہے۔ اب مردِمنصف کوچاہیے کہ خدا سے ڈرکران دلائل پرنظرکرے اور زبان زوری اور سخن پروری سے تائب ہو و ماعلینا الا البلاغ  
دوسرا مسئلہ: منجملہ تین مسئلوں کے بزازیہ کی عبارت سے یہ معلوم ہو گیا کہ میت کی قبرپرکھانالے جانا مکروہ ہے۔یہ بات ہم پرحجت نہیں،کیوں کہ ان ملکوں میں یہ رسم ہی نہیں۔
تیسرا مسئلہ: یہ نکلا کہ قاریوں اور حافظوں کوختم قرآن کے واسطے جمع کرنا مکروہ ہے۔ تواس کی تحقیق یہ ہے کہ اگر اہل اسلام جمع ہو کر اللہ کے لیے قرآن پڑھیں اور میت کو بخش دیں۔تو اس کاحکم ،ائمہ مجتہدین،علمائے محققین،اجماع اہل صلاح ودیانت اور مولوی اسحاق صاحب کے کلام سے ہم ثابت کر چکے ہیں کہ وہ ہرگز مکروہ نہیں،لہٰذا صاحب بزازکی یہ مراد ضرور بالضرور یہ ہے کہ بعض ملکوں کی رسم کے موافق اگر حافظوں کومزدوری دے کر قرآن پڑھوائیں تویہ البتہ مکروہ ہے۔ اس کی تصدیق کتب فقہ میں موجودہے۔
شامی نے  باب الاجارہ  میں لکھا ہے  :
قال تاج الشریعۃ في شرح الہدایۃ : إن قراء ۃ القرآن بالأجرۃ لا یستحق الثواب لا للمیت و لا للقاریء ۔۔و عن شیخ الإسلام إن القاري إذا قرء القرآن لأجل المال فلا ثواب لہ فأي شیيٗ یہدیہ إلی المیت  انتہیٰ کلام الشامي ملخصا (۲)
یعنی تاج الشریعہ نے شرح ہدایہ میں فرمایاکہ اجرت کے ساتھ قرآن پڑھنے سے ثواب نہیں ملتانہ توپڑھنے والے کونہ ہی مردے کو۔ اور شیخ الاسلام نے فرمایاکہ قاری نے جب مال کی نیت سے قرآن پڑھاتواسے کوئی ثواب ہی نہ ملا توآخر وہ میت کوکیاچیزہدیہ کر رہا ہے!۔

(۱)	مرقاۃ المفاتیح: ۵؍۴۲۵۔
(۲)	رد المحتار: ۲۴؍۲۹۴،۲۹۷ مطلب فی الاستئجار علی الطاعات 
یہ جولشکروں،چھاؤنیوں اور بعض شہروں میں قرآن اس طرح پڑھواتے ہیں کہ روپیہ کے تین قرآن یا چارقرآن کے حساب سے یا کچھ سپارہ کا روز مرہ ٹھہرا کر اس کا ٹھیکہ کر دیتے ہیں،تواس طرح قرآن شریف میت کے واسطے پڑھوانامنع ہے۔ اور سیف السنہ کے صفحہ ۱۲پر جو عبارتیں طریقہ محمد یہ اور قرطبی کی نقل کی ہیں ان میں بھی وہی مزدوری کے طور پرقرآن پڑھنامرادہے۔اس لیے کہ اس وقت بعض ملکوں میں وہی دستورتھا اور خود طریقہ محمد یہ کی عبارت سیف السنہ میں ہے:
و الماخوذ منہا حرام للآخذ و ہو عاص بالتلاوۃ و الذکر لأجل الدنیا۔
یعنی قرآن کریم پڑھنے پراجرت لیناحرام ہے۔ اور پڑھنے والا ذکروتلاوت دنیا کے واسطے کرنے کی وجہ سے گنہ گارہو گا۔
 بعض علمانے قبرپرقرآن پڑھنے کی اجرت جو جائزرکھی ہے توانھوں نے قبرپرآنے اور جانے کی محنت اور اس قدر پابند ہو کربیٹھنے کی اُجرت سمجھ کرجائزکیا ہے، کوئی قرآن کی اجرت نہیں وہ توگویاقاریوں (کے لیے ورثہ ) کی طرف سے ہدیہ ہے۔لہٰذا فتاویٰ بزازیہ کی عبارت سے ان باتوں کی کراہت ثابت ہوئی ہے،مزدوری دے کرقرآن ختم کرانا،مردے کی قبرپرپہلے، تیسرے اور آٹھویں دن کھانالے جانا اور احباب واغنیا کی ضیافت کے لیے بطورِ فرحت وسرور کھاناپکانا مکروہ ہے۔ اور جس طرح ہمارے ملکوں میں رائج ہے یعنی دسویں،بیسویں اور چالیسویں کا کھانا  جو خالصاللہ پکا کر مصلّیوں اور ملاؤں کواپنے گھربلا کرکھلادیاجاتا ہے،توعبارت بزازیہ سے اس کی حرمت وکراہت ہرگزہرگز ثابت نہیں ہوتی بلکہ استحسان اور عمدگی ظاہرہو گئی ہے۔کیوں کہ اس نے اور قاضی خاں نے یہ لکھ دیا ہے  : 
و إن اتخذوا طعاما للفقراء  کان حسنا۔
یعنی اگرغریبوں اور فقیروں کے لیے کھاناتیارکیاجائے تویہ بہت اچھی بات ہے۔
صاحب سیف السنہ اور ان کے والد بزرگوار نے یہ فقرہ مخالف مطلوب ہونے کی وجہ سے نقل نہ کیا۔ گویا لا تقربوا الصلوٰۃ پڑھ کر و أنتم سکاریٰ  پرزبان بندکر لی۔
تحقیق انیق
عاصم بن کلیب نے اپنے باپ سے روایت کی اور انھوں نے ایک انصاری صحابی  رضی اللہ عنہ سے  :
قال خرجنا مع رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  في جنازۃ فرأیت رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  و ہو علی القبر یوصي الحافر یقول أوسع من قبل رجلیہ أوسع من قبل رأسہ فلما رجع استقبلہ داعي امرأتہ فأجاب   و نحن معہ فجيء بالطعام فوضع یدہ ثم وضع القوم فأکلوا فنظرنا إلی رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  یلوک لقمۃ في فیہ ثم قال أجد لحم شأۃ أخذت بغیر إذن أہلہا فأرسلت المرأۃ تقول یارسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  إني أرسلت إلی النقیع و ہو موضع یباع فیہ الغنم لیشتري لي شأۃ فلم توجد فأرسلت إلی جار لي قد اشتری شأۃ أن یرسل بہا إلي بثمنہا فلم یوجد فأرسلت إلی امرأتہ فأرسلت إلی بہا فقال رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  أطعمي ہذا الطعام الأسری  رواہ أبوداوود و البیہقي في دلائل النبوۃ کذا في المشکوٰۃ في باب المعجزات (۱)
یعنی ایک انصاری صحابی نے کہاکہ ہم رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک جنازہ پر نکلے۔ میں نے دیکھاکہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم قبر پرگورکن سے فرمارہے ہیں کہ پاؤں کی طرف سے قبر کو فراخ کرو اور سرکی طرف سے کشادہ کرو۔ دفن کے بعد جب آپ واپس ہوئے تو اس میت کی بیوی نے آدمی بھیجا کہ کھاناتیارہے نوش جاں فرمائیے۔ آپ نے قبول فرمایا اور ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ کھاناسامنے آیا،آپ نے دست مبارک کھانے کی طرف بڑھایا پھرپوری قوم نے بھی بڑھادیا اور سبھوں نے کھایا۔ پھر ہم نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دہن مبارک میں لقمہ چبارہے ہیں مگرنگلتے نہیں۔ پھرآپ نے فرمایا: مجھے محسوس ہو رہا ہے کہ یہ گوشت ایک ایسی بکری کا ہے جو مالک کی اجازت کے بغیر لی گئی ہے،تو عورت نے مالک کے ہاتھ یہ کہ کر بھیجاکہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  میں نے نقیع میں آدمی بھیجا  جہاں بکریاں بکتی ہیں   تاکہ بکری مول آ جائے مگرنہ ملی تب میں نے اپنے ہم سایہ کے پاس آدمی بھیجا کہ جو اس نے بکری خریدی ہے وہ مجھے بقیمت بھیج دے،

(۱)	سنن ابوداؤد: ۹؍۱۶۲حدیث: ۲۸۹۴۔۔دلائل النبوۃ بیہقی: ۷؍ ۷۹حدیث: ۲۵۶۹۔۔مشکوٰۃ المصابیح: ۳؍ ۲۹۲حدیث: ۵۹۴۲۔۔ مسنداحمد: ۴۶؍۶حدیث: ۲۱۴۷۱۔۔مصنف ابن ابی شیبہ:۴۶؍۶حدیث: ۲۱۴۷۱۔۔سنن بیہقی: ۵؍ ۳۳۵۔۔ سنن دار قطنی: ۱۱؍ ۶۲حدیث: ۴۸۲۶۔
اتفاق سے وہ ہم سایہ بھی گھر نہ تھا پھرمیں نے اس کی بیوی کے پاس بھیجا تو اس نے شوہر کی اجازت کے بغیر بکری میرے پاس بھیج دی۔ تب رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ یہ کھاناقیدیوں کو کھلادے۔
شیخ عبد الحق محدث دہلوی وغیرہ لکھتے ہیں کہ وہ قید ی کفارتھے جوکہ دائرۂ تکلف شرعی سے خارج تھے۔ اور اس کا شوہرنہ ملاکہ اس سے اذن لیاجاتاتاکہ مسلمان اسے کھالیتے۔ 
اس حدیث کوبیہقی نے ’’دلائل النبوۃ‘‘میں اور ابواداؤد نے  روایت کیا ہے۔ اور مشکوٰۃ کے  باب المعجزات  میں بھی ہے۔
’’شرح کبیرمنیہ‘‘میں علامہ ابراہیم حلبی نے کہاکہ اس حدیث کوصحیح سند کے ساتھ امام احمد نے بھی روایت کیا ہے۔     
الحاصل! اس حدیث صحیح سے ثابت ہوا کہ اہل میت کی دعوت قبول کرناجائز ہے، اور چوں کہ نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم  بھی جماعت کے ساتھ کھاناکھانے کے لیے بیٹھے تھے تویہ ثابت ہوا کہ اگرکوئی غنی بھی  جوصدقہ کا مصرف نہیں  ایسی دعوت میں شریک ہو جائے (تواس کے لیے بھی) درست ہے۔تو جواز کی بنیاد اس بات پررہی کہ اگر اہل میت ریاوسُمعہ کے لیے نہیں بلکہ خالص قربت وثواب کی نیت سے کھاناتیارکرے تووہ جائزہے۔ 
مولانا شاہ عبد الغنی محدث  رحمۃ اللہ علیہ جن سے مولوی رشید احمد صاحب گنگوہی نے حدیث پڑھی تھی ’’انجاح الحاجۃشرح ابن ماجہ‘‘میں لکھتے ہیں  :
و أما صنعۃ الطعام من أہل المیت إذا کان للفقراء فلا بأس بہ لأن النبي  صلی اللہ علیہ وسلم   قبل دعوۃ المرأۃ التي مات زوجہا  کما في سنن أبی داوود 
یعنی اہل میت کاثواب کی نیت سے فقیروں کے لیے کھاناتیارکرنا کسی حرج کاباعث نہیں۔ کیوں کہ نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بیوہ عورت کی دعوت قبول فرمائی تھی۔ سنن ابی داؤد میں بھی ایساہی ہے۔(یعنی وہ حضرت عاصم بن کلیب والی مذکورہ حدیث)
 ملاعلی قاری نے ’’شرح مشکوٰۃ ‘‘ میں لکھا  :
ہٰذا الحدیث بظاہرہ یرد علی ما قررہ أصحاب مذہبنا من أنہ یکرہ اتخاذ الطعام في الیوم الأول و الثالث و بعد الأسبوع۔ 
یعنی عاصم بن کلیب والی یہ حدیث کھلے طور پرہمارے مذہب والوں کے اس قرار داد کی تردید کر رہی ہے کہ پہلے تیسرے اور ہفتہ کے بعد کھاناتیارکرنامکروہ ہے۔
اس کے بعد علی قاری نے اپنے مذہب والوں کی وجہ بیان کی کہ بھلاوہ حدیث کے خلاف حکم کیوں دیتے! اُن کاحکم ایسے مقامات پرمحمول ہے کہ جس کے وارثوں میں کوئی چھوٹا لڑکا نابالغ ہو یا یہ کہ بالغ ہولیکن غائب ہو وہاں موجودنہ ہویاموجود توہولیکن اس کی رضامندی معلوم نہیں ہوتی اور یہ کھاناخاص ترکہ کے مال سے تیار کیاجائے اور کسی ایک معین وارث نے اپنے مال سے نہ کیاہو۔ مرقات میں علی قاری کی عبارت یوں ہے  :
یحمل علی کون بعض الورثۃ صغیرا أو غائبا أو لم یعرف رضا ہ أو لم یکن الطعام من عند أحد معین من مال نفسہ۔
آخرعبارت میں لکھا  :
و نحو ذلک۔ (۱)
یعنی جیسے یہ عذرہم نے بیان کیے ایسے ہی اور عذر مثلاً ریاوسُمعہ وغیرہ جب پیش آئیں گے تو ان کے سبب میت کاکھانامنع کیاجائے گا۔ اور ہمارے اصحاب مذہب کی غرض یہی ہے،نہ یہ کہ اگر  محض ثواب کے لیے اور موانع مذکورہ سے خالی ہو کر، اہل میت ،دعوت کریں تب بھی مکروہ ہو گا۔حَاشَا و کلاَّنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام  رضوان اللہ علیہم اجمعین نے جس فعل کوکیاہو وہ ہرگزمکروہ نہیں ہوسکتا۔   
الحاصل! محدثین کے اجماع سے عاصم بن کلیب کی یہ حدیث میت کے لیے کھاناجائزہونے کے سلسلہ میں ایک اصل عظیم ہے۔ اور دسواں وبیسواں وغیرہ کی تعیین کے سلسلہ کی ایک اصل عظیم پہلے گزرچکی کہ جس طرح وعظ کے لیے بعض مصالح کی بنیاد پر دن متعین کیا گیا اسی طرح صدقہ اموات کے لیے بھی کچھ مصلحتوں کے باعث دن کا تعین ہوا۔لہٰذا ہندوستان میں یہ جوفاتحے مروج ہیں ،اہل سنت وجماعت کے نزدیک شرعی دلیلوں کے موافق بالکل صحیح ہیں۔ اور جو لوگ جریربن عبد اللہ  رضی اللہ عنہ  کی حدیث کی وجہ سے ان کا رد کرتے ہیں جسے امام احمد اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے  :

(۱)	مرقات المفاتیح: ۵؍ ۴۲۵۔
کنا نعد الاجتماع إلی أہل المیت و صنعہم  الطعام من النیاحۃ۔ (۱)
یعنی اہل میت کے یہاں جمع ہو کرکھانا بنانے کوہم سوگ میں شمارکرتے تھے۔
تویہ دلیل کئی اعتبار سے مخدوش ہے۔
اولا: یہ کہ مقدمہ شرح مسلم میں ہے کہ جب کوئی صحابی یوں کہے کہ ہم ایسا کیا کرتے تھے یا ایساکہا کرتے تھے تو اس کی دو صورت ہے :اگر وہ یہ کہے کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ہم ایسا کرتے تھے تو وہ حدیث مرفوع ہے ورنہ موقوف۔ اس قول کو جمہور محدثین اور اصحاب فقہ واصول کاقول لکھا ہے۔پھرلکھاکہ ہٰذا ہو المذہب الصحیح الظاہر۔لہٰذا جریربن عبد اللہ کاقول موقوف ہواکیوں کہ زمانہ رسول کی طرف اس کی نسبت نہیں ہوئی۔ اور حدیث موقوف حجت نہیں ہوسکتی، جیساکہ میر سید شریف ’’اصول حدیث‘‘میں فرماتے ہیں  :
الموقوف و ہو مطلقا ما روي عن الصحابي من قول أو فعل متصلا کان أو منقطعا و ہو لیس بحجۃ علی الأصح۔
یعنی حدیث موقوف اس حدیث کو کہتے ہیں جس کی روایت مطلقاًکسی صحابی سے قولایا فعلا، متصلا یامنقطعا ہو۔ اور اصح مذہب کے مطابق حدیث موقوف حجت نہیں ہوتی۔
ملا محمد طاہرنے ’’مجمع البحار‘‘ جلد ثالث کے خاتمہ میں لکھا  :
و الموقوف ما روي عن الصحابي من قول أو فعل متصلا أو منقطعا و ہو لیس بحجۃ۔
یعنی حدیث موقوف اس حدیث کو کہتے ہیں جس کی روایت کسی صحابی سے قولایا فعلا،متصلا یامنقطعا ہو۔ اور اس کا حکم یہ ہے کہ وہ حجت نہیں ہوتی۔
لہٰذا جریربن عبد اللہ کی یہ حدیث موقوف حجت نہیں، اور پھر یہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کی حدیث صحیح مرفوع کے معارض بھی ہے۔
ثانیا: حدیث جریر کے معنی یہ ہوئے کہ ہم اس بات کو نیاحت میں شمار کرتے تھے کہ لوگ اہل میت کے پاس جمع ہوں اور وہ ان کے لیے کھاناتیار کریں۔’’انجاح الحاجہ شرح ابن ماجہ‘‘ میں اس کی تفسیریوں لکھی ہے  :

(۱)	سنن ابن ماجہ: ۵؍ ۹۹حدیث: ۱۶۰۱۔۔مسنداحمد: ۱۴؍۱۴۹حدیث: ۶۶۱۱۔۔مصنف ابن ابی شیبہ: ۱۴؍۱۴۹ حدیث: ۶۶۱۱۔۔معجم طبرانی: ۲؍ ۴۴۶حدیث: ۲۲۳۰۔۔مرقاۃ المفاتیح: ۵؍ ۴۲۵۔
نعد وزرہ کوزر النوح۔
یعنی اس کاگناہ ایسا شمار کیا کرتے تھے کہ جیسا نوحہ میں گناہ ہوتا ہے۔ 
نوحہ کا مسئلہ یہ ہے کہ شرح کبیر منیہ میں ہے  :
و یحرم النوح۔
یعنی نوحہ کرناحرام ہے۔
 ابوداؤد میں ہے  :
لَعَنَ رَسُولُ اللّٰہِ  صلی اللہ علیہ وسلم  النَّائِحَۃَ  وَ المُسْتَمِعَۃَ۔ (۱)
یعنی رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے نوحہ کرنے والے اور اسے رغبت سے سننے والے پرلعنت فرمائی ہے۔
تو معلوم ہوا کہ اس اجتماع اور کھانے میں آدمی حرام کامرتکب اور لعنت کا مستحق ہوتا ہے۔ بھلا اگر یہ بات صحیح ہوتی تو ارباب فتاویٰ بزازیہ اور قاضی خان وغیرہ کس طرح فتوے دیتے کہ اگر غریبوں کے واسطے اہل میت کھاناتیارکریں تو اچھی بات ہے۔ اور پھر رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  اپنے اصحاب کے ساتھ اس بیوہ کی دعوت پرکیسے تشریف لے جاتے۔کیوں کہ ان دونوں صورتوں میں اہل میت کے پاس اجتماع اور کھانے کا تیارکرنا  جن کو منکرین حرام اور مستحق لعنت لکھتے ہیں   دونوں باتیں موجودہیں۔ اور اس مقام پرمولف براہین قاطعہ نے بڑی شوخی سے کام لیا کہ صفحہ ۹۰ کی ساتویں سطرپرجریربن عبد اللہ کی حدیث کے تحت لکھا  :
اس حدیث میں اجتماع کو مطلق فرمایا،کوئی قید نہیں کہ کس واسطے جمع ہونا تھا خواہ محض تعزیت مکر رہ کے واسطے خواہ قرآن پڑھنے، اور مطلق کوبالرائے مقید کرناحرام ہے، اور طعام بھی مطلق ہے۔

(۱)	سنن ابوداؤد: ؍ ۳۹۷حدیث: ۲۷۲۱۔۔مسنداحمد: ۲۳؍ ۲۴۱حدیث: ۱۱۱۹۶۔۔معجم کبیر طبرانی: ۹؍ ۳۵۰حدیث: ۱۱۱۴۶۔۔ شعب الایمان:۲۱؍ ۱۲۰حدیث: ۹۸۰۰۔۔ معرفۃ السنن والآثار: ۶؍ ۳۰۹حدیث: ۲۳۴۶۔۔مجمع الزوائد ومنبع الفوائد: ۱؍ ۴۴۲۔۔المسند الجامع: ۱۳؍ ۴۶۸حدیث: ۴۳۰۵۔۔تحفۃ الاشراف: ۵؍ ۳۳۶حدیث: ۴۱۹۴۔
	 یوں بھی آیا ہے  :
ئ	لعن اللہ النائحۃ والمستمعۃ۔(کنزالعمال:۱۵؍۶۱۲حدیث: ۴۲۴۳۵ ۱۶؍۴۰۲حدیث: ۴۵۱۰۹۔۔ التلخیص الحبیر فی تخریج احادیث الرافعی الکبیر:۲؍ ۴۰۶حدیث:۸۰۴)
بھلا جب اجتماع مطلق رہاتوجمیع اجتماعات کو شامل اور طعام بھی مطلق رہاتوسب افراد کو شامل،توذرامولف براہین کی کج فہمی دیکھیے،مذکورہ بالاصورتیں کہاں کہاں پہنچے گی ملاحظہ کرنے کے لائق ہے۔ 
ثالثا:   فقہا رحمہم اللہ  نے اس اجتماع اور طعام کو موت کے وقت مکروہ رکھا ہے۔جیساکہ علامہ حلبی نے ’’شرح کبیر‘‘ میں حدیث جریرکے بارے میں لکھا:
و إنما یدل علی کراہۃ ذلک عند الموت فقط۔
یعنی یہ صرف موت کے وقت اس کی کراہت پر دلالت کر رہا ہے۔
حدیث عاصم بن کلیب میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم  کا دعوت قبول کرنا میت دفن کرنے کے بعد تھا، تو اس صورت میں تعارض اَدلہ کا شبہ بھی دفع ہو گیا۔ اور ہمارے ارباب مذہب نے جو بعد دفن بھی چندروز تک کھاناکھلانے کو منع کیا ہے توفتاویٰ قاضی خان اور مرقاتِ علی قاری کے حوالے سے اس کابیان گزرچکاکہ اس منع کی شکلیں اور ہیں ،محض قربت وثواب کی نیت سے منع نہیں بلکہ فتاویٰ میں ہے کہ موت کے د ن سے سات یاچالیس روز تک میت کی طرف سے برابر صدقہ کیا جائے جیساکہ اوپر بیان ہو چکا۔ اور فقیروں کے لیے کھانے کاحسن ہونا بھی گزرچکا۔ 
رابعا:   علی قاری نے اس اجتماع اور کھانابنانے کی تشریح ’’مرقات‘‘میں یوں کی ہے  :
فینبغي أن نقید کلامہم بنوع خاص من اجتماع یوجب استحیاء أہل بیت المیت فیطعمونہم کرہا۔ (۱)
یعنی ہمیں چاہیے کہ اس اجتماع کے منع کومطلق نہ رکھیں بلکہ حدیث جریرکو ارباب فتاویٰ ایک خاص قسم کے اجتماع کے ساتھ مقید کر دیں کہ آدمی خواہی نخواہی جمع ہو جائیں اور وارثانِ میت ان کوجبراً اور اکراہاً شرماشرمی میں کھلائیں تو یہ اجتماع یقینا مستحق لعنت اور درجہ حرمت میں ہو گا،جس کاگناہ نوحہ کے برابرگنا گیا ہے۔اس صورت میں حدیث جریرکے اندر  الاجتماع  کا الف لام عہد کے لیے ہو گا۔ 
مولف براہین نے سیوم کے اجتماع اور نخودکی تقسیم یوں ہی دسویں،بیسویں اور چالیسویں وغیرہ کے اجتماعات اور کھانوں کو جوحدیث جریربن عبد اللہ میں داخل کیا ہے، اور ( صرف یہی نہیں ) 

(۱)	مرقات المفاتیح: ۵؍ ۴۲۵۔
ان کے اگلے پچھلے تمام ہم مشرب داخل کرتے ہیں اور اس کو بڑی قوی دلیل جیسے لوہے کی لاٹ سمجھ رہے ہیں،تومذکورہ بالاتحقیقات سے معلوم ہو چکا کہ یہ بالکل بے اصل ہے کیوں کہ سیوم میں قرآن پڑھنے کے لیے اجتماع ہوتا ہے جوبالاجماع جائزہے  جیساکہ عینی وغیرہ کے حوالے سے گزرچکا  اور تیجہ میں شیرینی ونخود کی تقسیم اور دیگر فاتحے میں کھاناکھلانا کوئی استحیائً اور شرماشرمی سے نہیں ہوتا، جسے ملاعلی قاری نے جریربن عبداللہ کی حدیث سے ثابت کیا کہ لوگ خواہی نخواہی وارثان میت کے گرد جمع ہو گئے اور حلقہ مارکر بیٹھ رہے بلکہ خود ورثہ میت نے مولویوں اور مصلیوں کو دعوت کر کے قربت وثواب کی نیت سے بلایا ہے۔ جولوگ اس جلسہ میں غرباہیں ان کے دینے میں صدقہ کاثواب اور جو کوئی غنی ہے ان میں فعل معروف کا ثواب موجودہے۔جس طرح نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم جماعت صحابہ کے ساتھ اس بیوہ عورت کے گھرموجود تھے۔
خامسا:  حدیث جریر میں اجتماع اور کھاناتیارکرنادونوں فعل ہیں اور فعل ہمیشہ کسی زمانہ میں ہو گا تو وہ زمانہ اس اثرمیں محدود نہیں بلکہ میت کی وفات کے وقت سے لے کر جب تک وارثانِ میت زندہ ہیں اس وقت تک کو شامل ہے،تواس صورت میں جرح عظیم لازم آئے گا اس لیے کہ مولف براہین نے اجتماع مطلق لیا کہ لوگ خواہ کسی واسطے جمع ہوں اور تقیید بالرائے حرام ہے۔ اب ہم کہتے ہیں کہ زمانہ بھی مطلق ہے خواہ کبھی آدمی جمع ہو جائیں، تو اس صورت میں دو قباحتیں لازم آئیں گی  :
پہلی قباحت تویہ کہ موت میت کے بعد سے ہمیشہ کے لیے اہل میت کے گھر اجتماع اور کھانا کھلانا خواہ کسی وجہ سے ہوممنوع اور حرام ہو گیا، اور یہ بڑے حرج کی بات ہے،اسی وجہ سے علامہ حلبی نے اس کو وقت موت کے ساتھ مخصوص کر دیا کہ وہ وقت افسوس اور غسل وتکفین وغیرہ میں مشغولی کاہوتا ہے اور بعددفن کا حکم اس سے خارج رہا۔شرح حدیث جریرکے سلسلہ میں ان کی عبارت یہ ہے  :
و إنما یدل علی کراہۃ ذلک عند الموت فقط۔
یعنی یہ حدیث جریر صرف موت کے وقت ہی کھانابنانے اور اجتماع کی کراہت تحریمہ پردلالت کر رہی ہے۔
 دوسری قباحت یہ ہے کہ جب زمانہ مطلق رہا تو جمیع افراد یعنی ایام معینہ اور غیرمعینہ سب کو شامل ہو گا۔کیوں کہ المطلق یجري علی إطلاقہ مسلم الثبوت قاعدہ کلیہ ہے،تو جس طرح ایام معینہ کے فاتحے میں اجتماع اور کھانابناناہو گا اسی طرح ایام غیر معینہ کے اطعام مساکین میں بھی یہی دونوں باتیں موجودہوں گی الاجتماع إلی أہل المیت و صنعہم الطعام تو جس دلیل سے ایام معینہ کے کھانے کومنع کرتے ہو اسی دلیل سے ایام غیرمعینہ میں اطعام مساکین بھی مکروہ وحرام اور مانندنوحہ ٹھہرے گا۔مانعین اچھے اعتراض کاجھونکالائے کہ اپنی مشت خاک بھی اُڑ ا لے گئے۔
الحاصل! صاحب شرح کبیر منیہ کی نظربہت صحیح ہے، اور اس نظرپرجوفقیہ شامی نے نظرفرمائی ہے اس کابعض مضمون علمائے متقدمین مثلاعلی قاری وغیرہ کی قرار داد کے مخالف ہے مثلایہ عبارت  :
 فإنہ واقعۃ حال لا عموم لہا مع احتمال سبب خاص بخلاف ما في حدیث جریر علی أنہ بحث في المنقول في مذہبنا و مذہب غیرنا کالشافعیۃ
یہ کیاضرور ہے کہ فعل رسول  صلی اللہ علیہ وسلم صحیح اسناد سے پہنچا ہوکہ  جس کی بابت ارشاد ہے: مَا أتَاکُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوہُ  بلا معارض مرفوع صحیح واقعہ حال ٹھہرا کر ترک کر دیاجائے اور اس کے مقابل میں ایک صحابی کا اثرجوانہی پرموقوف ہے قانون کلی تجویز کر دیاجائے۔
طرفہ ماجرا یہ ہے کہ دونوں میں کوئی تعارض بھی نہیں جو حدیث عاصم بن کلیب میں ثابت ہوا وہ بہ نظر قربت وثواب ہے اس کو ہمارے اصحاب جائز رکھتے ہیں اور جو حکم اثرجریربن عبد اللہ میں ہے وہ استحیاوسمعہ اور ریاموانع مذکورہ بالاکے سبب ہے، اس کوہمارے ارباب فتاویٰ منع کرتے ہیں ،لہٰذا منقول فی المذہب میں بحث نہ ہوئی اور شافعیہ وغیرہ کامذہب ہم پر حجت نہیں اسی وجہ سے عاجزراقم نے سابق انوارساطعہ میں صرف کبیری کی نظر کو ذکرکیا اور شامی کی نظر کوبیان نہ کیا تھا کہ وہ منظورفیہ تھی اور اس مضمون کے بعد جو فقیہ شامی نے وجہ کراہت کے سلسلہ میں نکیریں بیان فرمائی ہیں وہ ہمارے اور علامہ حلبی وغیرہ کے خلاف نہیں بلکہ عین موافق ہیں۔یعنی ورثہ کا صغیریا غائب ہونا اور سامان فرحت وسرور جیسے طبلہ بجانا اور تغنّی وغیرہ کے برے کام کرنا جواموات سے متعلق ضیافت میں ہوتا ہے مکروہ تحریمی کے سبب ہیں۔اس کایہ مطلب ہرگز نہیں کہ ثواب کی نیت سے کھاناپکانا اور اکٹھاہونا صرف یہی دو امرمندرجہ حدیث جریرمیں کراہت وتحریم کا سبب ہوں۔شامی کی یہ اخیر والی تعلیلیں فقہاے احناف کے بالکل موافق ومطابق ہیں۔ اور ’’شفاء السائل‘‘میں شاہ عبد الغنی دہلوی موصوف کا بیان بھی یہی ہے  :
و طعام پختن مثل شادی و جمع شدن در خانہ میت مثل اجتماع شادی مکروہ است۔
یعنی شادی کی طرح کھاناپکانا اور اہل میت کے گھر اکٹھے ہو کرشادی کی طرح خوشی منانا مکروہ ہے۔  
 اپنی دوسری کتاب’’انجاح الحاجہ شرح ابن ماجہ‘‘میں بھی اسی مطلب کی ترجمانی کی ہے  :
و أما إذا کان للأغنیاء و الأضیاف ممنوع مکروہ لحدیث أحمد و ابن ماجۃ کنا نری الاجتماع و صنعۃ الطعام  إلی آخرہ 
یعنی جب وہ کھانا مخصوص اغنیا ہی کے لیے ہوا اور ان لوگوں کے لیے جو خواہی نہ خواہی آ کر جمع ہو گئے ہیں تو وہ ممنوع ومکروہ ہے۔ 
تو شاہ صاحب موصوف نے صاف بیان فرمادیا کہ ممنوع ومکروہ وہ شکل ہے جس میں شادی کے کھانے کی طرح مالداروں اور مہمانوں کاجمگھٹاہو، ان کے نزدیک حدیث جریرکایہی محمل ہے۔ اور جو ثواب کی نیت سے ہووہ جائز ہے،یہ ان کے نزدیک عاصم بن کلیب کی حدیث کامحمل ہے۔  جیساکہ انجاح الحاجہ کے حوالے سے اوپرنقل کیا گیا۔ اور یہی مذہب ہے۔
تیسری دلیل چالیسویں وغیرہ کے سلسلے میں مانعین کی یہ عبارت ہے کہ ’’سیف السنہ‘‘ کے صفحہ ۱۵پرتحریرہے کہ شاہ ولی اللہ صاحب نے ’’مقالۃ الوصیۃ‘‘ یعنی وصیت نامہ میں فرمایا ہے  :
دیگر ازعادت شنیعہ ما مردم اسراف است درماتم وچہلم و ششماہی و فاتحہ سالینہ  الیٰ آخرہ 
یعنی ہماری دوسری بری عادتوں میں سے ماتم،چالیسویں،چھماہی اور برسی کے فاتحہ کے مواقع پراسراف سے کام لینابھی ہے۔ 
میں کہتاہوں اگر یہ لوگ عاقل ہوتے تو شاہ ولی اللہ کے کلام کوکبھی پیش نہ کرتے اس لیے کہ اس میں چہلم وغیرہ کے کھانے کو نہیں منع کیا اس میں تو اسراف کرنے کوبری عادت سے تعبیر کیا ہے۔ اسراف ،بے اندازہ خرچ کرنے کو کہتے ہیں، اور قرآن شریف میں ہے  :
وَ لاَ  تُسْرِفُوا إنَّہٗ  لاَ یُحِبُّ الْمُسْرِفِیْنَ۔ (۱)
 اور بے جاخرچ نہ کرو،بے شک بیجا خرچ کرنے والے اسے پسند نہیں۔
شاہ ولی اللہ صاحب کامنشا اس بندکرنے سے اسراف بندکرنا ہے،چنانچہ اس کی برائی انھوں نے بیان کی ہے اور ہم بھی اس کو براکہتے ہیں۔لوگوں کے اندرمختلف مقامات پرطرح طرح کی فضول

(۱)	سورہ انعام،۶؍۱۴۱۔۔سورہ اعراف، ۷؍ ۳۱۔
 خرچیوں کی عادت پڑگئی تھی ،چنانچہ علامہ شامی نے ضیافت اموات کی قباحت کی بابت لکھا ہے  :
ما یحصل عند ذلک غالبا من المنکرات الکثیرۃ کإیقاد الشموع و القنادیل التي  توجد في الأفراح و کدق الطبول و الغناء بالأصوات الحسان و اجتماع النساء و المُردان و أخذ الأجرۃ علی الذکر و قراء ۃ القرآن  إلی آخرہ (۱)
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مردوں کے کھانوں کے موقع پرمحفل شادی سے کہیں زیادہ اونچے پیمانہ پر قندیلیں اور شمعیں روشن کی جاتی ہیں،طبلے بجتے ہیں،خوش آوازی سے گانے گائے جاتے ہیں،عورتیں اور بلاداڑھی کے لڑکے اکٹھاہوتے ہیں،قرآن کریم پڑھنے پر مزدوری لیتے ہیں۔
یہ عبارت شامی نے  باب الجنائز  میں لکھی ہے۔
اس سے معلوم ہوا کہ بعض جگہوں پر ایسے اسرافات بھی جاری ہو گئے تھے اور اسی طرح وہ حصے جوبطور تورہ بندی خاص اپنے احباب اور برادران اغنیامیں تقسیم کرتے ہیں اور غریبوں کو نہیں کھلاتے وہ بھی فی الجملہ اسراف اور خود نمائی میں داخل ہیں۔
چنانچہ شیخ عبد الحق  رحمۃ اللہ علیہ   کی یہ عبارت جسے مولوی اسحق صاحب نے ’’مسائل اربعین‘‘ کے سوال نمبر۳۶میں ’’جامع البرکات‘‘ سے نقل کی ہے  :
و آنکہ بعد از سالی وششماہی یاچہل روز درایں دیار پزند و درمیان برادران بخشش کنند آں را بھاجی گویند چیزے داخل اعتبار نیست بہتر آن است کہ نخورند انتہیٰ 
یعنی وہ چیز جو سالانہ ششماہی اور چالیسویں کے بعد ان کے گھروں میں بھاجی کے نام سے کھانے تیارکر کے برادری میں تقسیم کی جاتی ہے،اس کا شرعاًکوئی اعتبار نہیں، اور اس کا نہ کھاناہی بہتر ہے۔
واضح ہو کہ شرح منہاج میں جوگزراکہ شش ماہی اور سالانہ وغیرہ کاکھانامکروہ ہے تو اس میں ایک سبب یہ بھی ہے کہ جو اس کھانے کے مستحق ہیں ان کو نہیں کھلاتے، اور کھانا ایساپرتکلف پکاتے اور اس میں ایسی زینتیں کرتے ہیں جیساکہ عموماشادیوں کے موقع پرہوا کرتا ہے، اور اس میں احباب کی ضیافت خوشی خوشی کرتے ہیں تو ایسے کھانے کو فقہا منع کرتے ہیں۔
فتح القدیر شرح ہدایہ میں ہے  :

(۱)	رد المحتار: ۶؍ ۳۹۵۔
و یکرہ إتخاذ الضیافۃ من أہل المیت لأنہ شرع في السرور لا في الشرور  یعنی الحزن  و ہي بدعۃ مستقبحۃ  إلی آخرہ (۱)
حاشیہ خزانۃ الروایات میں ہے  :
و لا ضیافۃ في بیوت الموتیٰ و ہم في اللحود۔
یعنی اہل میت سے پرتکلف مہمانی کرانامکروہ ہے کیوں کہ یہ بات خوشی میں توجائز ہے لیکن موت میں خوشی کہاں وہ توغم ہوتا ہے، اور پھرمردہ کے گھرمیں ضیافت کیسی!وہ تواپنی قبروں میں پڑے ہیں۔
واضح ہو کہ جس فقیہ کے کلام میں ممانعت ہے تو وہ اسی قسم کے کھانے کے بارے میں ممانعت ہے،اس کی دلیل یہ ہے کہ بزازیہ وغیرہ میں صراحۃً آیا ہے  :
و إن اتخذوا طعاما للفقراء کان حسنا۔
جو لوگ تعینات کے ساتھ ساتھ ان فاتحے کوجائز رکھتے ہیں وہ سب یہ شرط لگاتے ہیں   کہ صدقات کے ثواب میں صرف اغنیاکوکھلادینے کاکوئی اعتبارنہیں۔چنانچہ ’’تحفۃ النصائح‘‘ میں ہے    ؎   
سازی طعام مردہ چوں روز سیوم ہفتم چہل
باید  دہی  درویش را  ورنہ  نہ باشد معتبر
یعنی تیجہ، ساتواں اور چالیسویں کے موقع پر مردے کے ایصال ثواب کے لیے جو کھانا تیار کیاجاتا ہے چاہیے کہ وہ صرف فقراہی میں تقسیم کیاجائے ورنہ ان پرکوئی ثواب مرتب نہ ہو گا۔
باقی رہی یہ بات کہ جب کھانا مردے کے ثواب کی نیت سے تیارکیا گیا اور فقرا ہی کو کھانا کھلایا لیکن ساتھ ہی کچھ غنی شخص بھی اس میں شریک کئے گئے تو اس کابھی ثواب میت کوپہنچتا ہے یانہیں ؟تو یہ مسئلہ ایک بار مولانا احمد علی محدث سہارنپوری مرحوم کے سامنے پیش کیا گیا کہ مولانا اسحق مرحوم کے ’’مائۃ مسائل‘‘ کے سوال پنجاہ ویکم (۵۱)میں ہے  :
طعامے کہ بہ نیت تصدق برفقرا از اموات پزند تاثواب آں بایشاں رسد جزفقیرروا نبود چہ تصدق برفقرا می باشد و ہدیہ مراغنیا را۔
یعنی جو کھانامردوں کے ایصال ثواب کے لیے فقیروں میں تقسیم کرنے کی نیت سے تیار کیا 

(۱)	فتح القدیر: ۳؍۴۳۲ فصل فی الدفن ۔۔مرقات المفاتیح: ۵؍ ۴۲۵۔
جائے تواسے فقیروں کے علاوہ کسی اور میں نہ بانٹاجائے اس کی حیثیت فقیروں کے لیے صدقہ اور اغنیاکے لیے ہدیہ کی سی ہے۔
 اس وقت مولانا(احمدعلی محدث سہارن پوری) کیمپ میرٹھ کوٹھی شیخ الٰہی بخش خاں بہادر مرحوم میں گیارہویں کاکھاناتناول فرمارہے تھے،موقع وقت بھی یہی تھا کہ جناب مولانا  بفضلہ تعالیٰ  بہت ہی خوش حال،متمول اور صاحب تجارت تھے اور وہ کھانا حضرت غوث الثقلین  قدس سرہ  کی روح پرفتوح کے ایصال ثواب کے لیے تھا،ارشاد فرمایاکہ اس کے معنی یہ ہیں کہ اغنیا کے کھانے سے اس درجہ کاثواب نہیں پہنچتاجس درجہ فقراکے کھانے سے پہنچتا ہے،ورنہ اس کایہ مطلب نہیں کہ اغنیا کے کھانے کاثواب بالکل پہنچتاہی نہیں،کیوں کہ کھاناکھلانا اگرچہ اغنیا ہی کو ہو کوئی منکرات سے نہیں بلکہ معروفات شرعیہ سے ہے، اور حدیث شریف میں آیا ہے کہ  :
کُلُّ مَعْرُوْفٍ صَدَقَۃٌ۔ (۱)
یعنی ہرنیک کام کرنے میں شرعا صدقہ کا ثواب ملتا ہے۔
مولانا محدث کاکلام یہاں تمام ہوا۔

(۱)	صحیح بخاری: ۱۸؍ ۴۴۲حدیث: ۵۵۶۲۔۔ صحیح مسلم: ۵؍ ۱۷۶حدیث: ۱۶۷۳۔۔ سنن ابوداؤد: ۱۳؍ ۱۱۱حدیث: ۴۲۹۶ ۔۔ سنن ترمذی: ۷؍ ۲۳۶حدیث: ۱۸۹۳۔۔سنن نسائی: ۷؍ ۲۳۶حدیث: ۱۸۹۳۔۔مسند احمد: ۲۹؍ ۲۳۱حدیث: ۱۴۱۸۲ ۔۔ مصنف ابن ابی شیبہ:۴۷؍ ۳۵۹حدیث: ۲۲۲۹۰۔۔ سنن بیہقی: ۴؍ ۱۸۸۔۔الابانۃ الکبریٰ لابن بطۃ: ۵؍ ۴۷۶ حدیث: ۳۴۔۔الآحاد والمثانی: ۶؍ ۷۷حدیث: ۱۸۶۴۔۔ مستدرک حاکم: ۵؍ ۴۱۷حدیث: ۲۲۷۲۔۔ معجم کبیر طبرانی: ۱؍ ۴۸۳ حدیث: ۱۱۱۵۔۔ معجم اوسط طبرانی: ۱۹؍ ۳۴۶حدیث: ۱۱۰۶۹۔۔ معجم صغیرطبرانی: ۱؍ ۶۷حدیث: ۶۴۔۔شعب الایمان : ۷؍ ۳۳۲حدیث: ۳۱۸۰۔۔ مسند ابویعلی موصلی: ۵؍ ۹۷حدیث: ۱۹۸۹۔۔ مسندحمیدی: ۵؍۱۳۹حدیث: ۲۰۳۱۔۔ سنن دار قطنی: ۷؍ ۱۸۱حدیث: ۲۹۳۴۔۔صحیح ابن حبان: ۱۴؍ ۲۵۷حدیث: ۳۴۴۷۔۔ صحیح ابن خزیمہ: ۸؍ ۳۹۱ حدیث: ۲۱۶۳ ۔۔ مسند عبد بن حمید: ۳؍ ۲۰۴حدیث: ۱۰۸۵۔۔ معرفۃ الصحابہ: ۱۳؍ ۱۴حدیث: ۴۰۶۰۔۔ مسند شہاب قضاعی: ۱؍ ۱۴۴حدیث: ۸۶۔۔ مسند طیالسی: ۱؍ ۴۳۰حدیث: ۴۱۴۔۔ مشکل الآثار طحاوی: ۱۲؍ ۱۴۸حدیث: ۴۷۷۴ا ۔۔ امثال الحدیث اصبہانی: ۱؍ ۴۴حدیث: ۳۲۔۔ الآداب بیہقی: ۱؍ ۱۱۴حدیث: ۹۵۔۔ الادب المفرد بخاری: ۱؍ ۳۴۳حدیث: ۵۰۰۰۔۔ اربعون صغری بیہقی: ۱؍ ۱۱۷حدیث: ۸۳۔۔ مسندبزار: ۴؍ ۴۷۹حدیث: ۱۴۰۸۔۔ الجامع لاخلاق الراوی خطیب بغدادی: ۱؍ ۳۶۰ حدیث: ۳۲۱۔۔ مسندشاشی: ۱؍ ۳۸۸حدیث: ۳۱۶۔۔ المطالب العالیہ عسقلانی: ۳؍۲۷۷حدیث: ۱۰۱۹۔۔ غریب الحدیث: ۱؍ ۲۷۰حدیث: ۲۳۱۔۔ معجم ابن المقری: ۱؍ ۲۵۱حدیث: ۲۵۰۔۔ معجم الصحابہ: ۳ ؍ ۴۷۸حدیث: ۸۹۳۔۔ مکارم الاخلاق خرائطی: ۱؍ ۷۸حدیث: ۷۳۔۔ مکارم الاخلاق طبرانی: ۱؍ ۱۳۷حدیث: ۱۱۱۔۔ مجمع الزوائد: ۳؍ ۱۳۷۔۔ نصب الرایہ: ۷؍ ۳۹۳۔۔المسند الجامع: ۹؍ ۱۱۵حدیث: ۲۷۷۹۔۔ تخریج احادیث الاحیائ: ۷؍ ۳۶۷حدیث: ۳۲۹۲۔ 
اب اس کے بعد مجھے تلاش ہوئی کہ یہ توازروئے حدیث جواب ہوا،فقہاے کرام کاجزئیہ بھی دیکھناچاہیے تو چند کتابوں میں مجھے اس مسئلہ کی تصریح بھی نظرآ گئی،جسے تحریرکرتاہوں۔ 
اسی’’مائۃ مسائل‘‘ کے سوال پنجاہم(پچاسویں ) میں بحر الرائق سے نقل کیا ہے  : 
و قید بالزکوٰۃ لأن النفل یجوز للغني کما للہاشمي۔ (۱)
یعنی زکوٰۃ کی قید اس لیے لگائی کہ نفلی صدقہ جس طرح مردِہاشمی نسب کو جائزہے ویسے ہی غنی کے لیے بھی جائزہے۔
 قہستانی کی فصل مصرف الزکوٰۃ میں ہے  :
سوق الکلام مشیرا إلی جواز صرف صدقۃ التطوع إلی الغني۔
یعنی طرز کلام بتارہا ہے کہ نفلی صدقہ مالدار کو دینا جائزہے۔
اس عبارت کا خلاصہ بھی وہی ہے۔
 ہدایہ کے  فصل صدقہ  میں ہے  :
لأنہ قد یَقصِد بالصدقۃ علی الغني الثوابَ۔ (۲)
یعنی اغنیاکوکھلانا جس طرح ان کی رضاجوئی اور اپنادنیوی کام نکالنے کی غرض وغیرہ کے لیے ہوتا ہے اسی طرح کبھی حصول ثواب کے ارادہ سے بھی ہوتا ہے۔ 
 مجمع البحار جلددوم میں ہے  :
الصدقۃ ما تصدقت بہ علی الفقراء أی غالب أنواعہا کذلک فإنہا علی الغني جائزۃ عندنا یثاب بہ بلا خلاف۔
یعنی صدقہ وہ ہے جوفقراکودیاجائے اور اس سے مرادیہ ہے کہ اکثر صدقے ایسے ہی ہوتے ہیں ورنہ صدقہ توبے شک غنی کوبھی دیناجائزہے اور اس پرثواب بھی ملتا ہے۔ اور اس میں کسی کا اختلاف بھی نہیں۔
اگر کوئی یہ کہے کہ اغنیا کادینا ہبہ اور ہدیہ ہوتا ہے۔تو اس کا جواب یہ ہے کہ مسلمانوں کوہدیہ اور ہبہ کرنابھی معروفات شرعیہ اور موجبات ثواب میں سے ہے۔ لہٰذا اس پرضرور ثواب ملے گا گو کہ فقیر کی بہ نسبت کم ہو۔

(۱)	بحرالرائق: ۶؍ ۷۶۔ 
(۲)	عنایہ شرح ہدایہ: ۱۲؍ ۳۲۵۔
چوتھی دلیل :منع چہلم وغیرہ کے سلسلے میں قاضی ثناء اللہ پانی پتی  رحمۃ اللہ علیہ  وصیت نامہ میں فرماتے ہیں  :
و بعد مردن من رسوم دنیوی مثل دہم وبستم وچہلم و ششماہی وبرسینی ہیچ نکنند کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  زیادہ ازسہ روز ماتم کردن جائز نداشتہ اند الیٰ اخرہ 
یعنی میرے مرنے کے بعد دسویں،بیسویں،چالیسویں،ششماہی اور برسی جیسے دنیوی جیسے نہ کیے جائیں کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے تین روزسے زیادہ سوگ منانے کو جائز نہیں فرمایا ہے۔
واضح ہوکہ اللہ کی رضاکے لیے کھاناکھلانا امورِ دین سے ہے، اور قاضی صاحب نے رسوم دنیوی کو منع فرمایا ہے، اور وہ یہ کہ عورتیں ان ایام میں جمع ہو کررویاپیٹا کرتی ہیں۔ اور یہ کوئی ہم اپنی طرف سے نہیں کہتے خود قاضی صاحب کی دلیل اپنے منہ بول رہی ہے یعنی منع چہلم وغیرہ کی دلیل یہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے تین دن سے زیادہ ماتم کرناجائز نہیں فرمایا(۱)  تو اس سے یہ ثابت ہوا کہ چھماہی،برسی اور چہلم وغیرہ میں ماتم نہ کریں۔ 
مولوی اسماعیل صاحب نے بھی ’’تذکیرالاخوان‘‘ میں لکھا ہے  :
 جوعورت ماتم پرسی کوآتی ہے وہ بھی ان کے پیٹنے چلانے میں شریک ہوتی ہے پھرکسی کے یہاں تین دن، کسی کے سات دن، کسی کے دس دن،کسی کے چالیس دن، کسی کے چھ مہینہ،کسی کے برس دن تک اور کسی کے دوبرس تک یہی بات جاری رہتی ہے،جتنے دنوں جس قدر یہ نوحہ زیادہ ہو اسی قدر آپس میں ان لوگوں کی تعریف ہو اور اگر نہ ہو توطعن کرتے ہیں کہ فلاں کے ہاں میت کی کچھ قدر نہ ہوئی۔ اور مردجوجاتے ہیں توصرف دستورورواج کے موافق ان لوگوں کے دکھلاوے کوکچھ فاتحہ وغیرہ پڑھتے ہیں،اس فاتحہ سے مردے کے لیے ثواب، منظور نہیں ہوتا یہ تلخیص کے ساتھ تذکیر الاخوان کی عبارت ہے  

(۱)	متن حدیث:  لا یحل لامرأۃ تؤمن باللہ و الیوم الآخر أن تحد علی میت فوق ثلاث لیال إلا علی زوج أربعۃ أشہر و عشرا۔
	صحیح بخاری: ۵؍۲۶ حدیث: ۱۲۰۱۔۔ صحیح مسلم: ۷؍ ۴۷۲ حدیث: ۲۷۳۱۔۔ سنن ابوداؤد: ۶؍ ۲۲۳ حدیث: ۱۹۵۵ ۔۔ سنن ترمذی: ۴؍۴۴۸ حدیث: ۱۱۱۷۔۔ سنن ابن ماجہ: ۶؍ ۲۷۸۔۔ موطا امام مالک: ۴؍ ۲۴۸ حدیث: ۱۰۹۹ ۔۔ مسنداحمد: ۴۹ حدیث: ۱۱۹ حدیث: ۲۲۹۶۳۔۔ مصنف عبدالرزاق: ۷؍ ۴۸ ۔۔ سنن کبریٰ نسائی: ۳؍ ۳۸۴ حدیث: ۵۶۹۴ ۔۔ صحیح ابن حبان: ۱۸؍ ۱۰۱ حدیث: ۴۳۷۸۔۔ مسند طیالسی: ۴؍ ۴۸۵ حدیث: ۱۶۸۱۔۔ مشکوٰۃ المصابیح: ۲؍ ۲۵۶ حدیث: ۳۳۳۰۔
توقاضی صاحب کادراصل اشارہ ان امور کی طرف ہے ورنہ وہ خود اسی وصیت نامہ میں فرماتے ہیں  :
و از کلمہ ودرود و ختم قرآن واستغفار از مالِ حلال صدقہ بہ فقرا باخفا امداد فرمایند انتہیٰ 
یعنی کلمہ طیبہ،درودشریف،ختم قرآن، استغفار اور مال حلال سے صدقہ کر کے فقیروں کی خفیہ انداز میں امداد رسی کی جائے۔
اس سے ظاہر ہو گیا کہ کلمہ اور ختم قرآن وغیرہ سب قاضی صاحب کے نزدیک درست ہے اور صدقہ کو پوشیدہ اس لیے فرمایاکہ اپنے ورثہ میں نمودونمایش وغیرہ کاکچھ طریقہ دیکھاہو گا  جیسا کہ ہم اوپرلکھ چکے ہیں  اس واسطے اخفا کاحکم دی اور نہ صدقہ ظاہر کر کے دیناشرع میں درست ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے  :
إنْ تُبْدُوا الصَّدَقَاتِ فَنِعِمَّا ہِيَ۔ (۱)
اگر خیرات اعلانیہ دو تووہ کیاہی اچھی بات ہے۔
شاہ عبد القادر صاحب نے اس آیت کاترجمہ اس طرح کیا ہے  :
اگرکھلی دوخیرات تو کیا اچھی بات ہے۔
 شاہ ولی اللہ صاحب نے اس کافارسی ترجمہ یوں کیا ہے  :
 اگرآشکاراکنید خیرات راپس نیکو چیزاست۔
ظاہرکر کے دینے میں ایک نفع اور بھی ہے کہ دوسرے لوگوں کوہدایت ہوکہ وہ بھی صدقہ کیا کریں۔
پانچویں دلیل: منع چہلم وغیرہ کے لیے یہ لکھتے ہیں  :
 حضور صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا ہے:  طعام المیت یمیت القلب و طعام المریض یمرض القلب ودرنوادرہشام آمدہ کہ مکروہ ہست اجابت کردن طعامے کہ بجہت روح مردہ کردہ باشند۔
یعنی میت کاکھانا دل کومردہ کر دیتا ہے اور مریض کاکھانا دل کوبیمار کر دیتا ہے۔نوادر ہشام میں آیا ہے کہ میت کی روح کے واسطے کیا گیاکھاناقبول کرنامکروہ ہے۔

(۱)	سورہ بقرہ،۲؍ ۲۷۱۔
ہم کہتے ہیں کہ اگر اس حدیث کوصحیح رکھوگے تو دوسری حدیثیں جو میت کی طرف سے ترغیب خیرات میں آئی ہیں اور باجماع امت مقبول بھی ہیں ان کاکیاجواب دوگے۔ اور اِس حدیث کی اسنادبھی نہیں معلوم اور صحابی کانام بھی نہیں کہ کس صحابی نے اسے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے،نہ ہی صحابی کے بعد اور راویوں کے احوال معلوم کہ پھر صحابی سے کن کن راویوں نے اس کو روایت کیا، نہ ہی حدیث کی کتاب کانام لکھاکہ صحاح ستہ یا حدیث کی کسی اور کتاب میں یہ حدیث موجود ہے۔ان امور سے قطع نظر اِس حدیث کو معین ومخصوص تیجہ،دسویں، بیسویں اور چالیسویں کے فاتحے کی ممانعت کے لیے پیش کرنابھی صحیح نہیں کیوں کہ اس میں مطلق طعام میت کی نہی موجود ہے تو بلاتعین کاصدقہ بھی نہیں پایا گیاجس کو تم جائزکہتے ہو اور جب مطلقاً فقیرو امیرکی قید کے بغیراس دعوت کوقبول کرنامکروہ ہوا تومیت کی طرف سے صدقہ کاجو حکم حدیث وفقہ میں ہے اس دعوت کوجنات قبول کریں گے یاجنگل کے وحوش وطیور !۔ منکرین،کتاب اربعین سے ایسی سند لائے جس سے خود اپنے پاؤں میں تیشہ مارگئے۔
 چھٹی دلیل: منع کی یہ ہے کہ مسائل اربعین میں لکھا ہے  :
در نوادر الفتاویٰ آوردہ اند کہ اجابت کردن طعامے کہ از بہر مردہ ساختہ باشند مکروہ ست سہ روزہ ہفتہ و ماہیانہ و سالیانہ و آں طعام علماوفضلا را مکروہ است انتہیٰ 
یعنی نوادر الفتاویٰ میں مذکورہے کہ تیجہ،ساتواں، تیسواں اور برسی کے نام پرجوکھانے مردے کے ایصال ثواب کے لیے تیار کیے گئے ہوں اس کاقبول کرنامکروہ ہے، اور اس کا علماوفضلا کے لیے کھانامکروہ ہے۔ 
اس عبارت سے یہ معلوم ہوا کہ برسی،تیجہ اور چالیسویں وغیرہ کاکھاناعلما وفضلا کے لیے تو مکروہ ہے اور وں کے لیے مکروہ نہیں اگر سب کومکروہ ہوتا تو عالموں کانام لینایہاں کیاضرور تھا۔ خیر! اگریہ لوگ اسی قدر لکھ دیں توکچھ مضائقہ نہیں کیوں کہ علما فضلا تو خود اس کھانے میں کم جاتے ہیں اکثر اَور آدمی کھاتے ہیں،اگر اور وں کوجائز ہوا تو یہ بھی غنیمت ہے، اور صحیح یہی ہے۔ اس مسئلہ میں مولوی اسماعیل صاحب کی بڑی شہرت ہے کہ وہ منکروں کے سردار ہیں اور ان تعینات کو مکروہ وحرام کہتے ہیں۔اس کی صورت یہ ہے کہ ان کے نزدیک ممانعت کاباعث محض یہ ہے کہ ان کو اپنے ہمعصروں میں یہ معلوم ہوا تھا کہ یہ لوگ خالصاً للہ نہیں کرتے بلکہ لوگوں کے دکھاوے کے لیے جبراًکرتے ہیں۔چنانچہ ’’صراطِ مستقیم‘‘ مطبوعہ میرٹھ کے صفحہ ۷۲پرلکھتے ہیں  :
و درتقسیم طعام سیوم وچہلم بسبب خوف مطعون شدن وسعت وکشادگی می کنند انتہیٰ 
یعنی عوام کی ملامت کے خوف سے تیجہ اور چہلم کے موقع پر کھانا تقسیم کرنے میں نہایت فراخ دلی سے کام لیاجاتا ہے۔ 
صفحہ ۷۳میں ہے  :
ورنہ پندارند کہ نفع رسانیدن باموات باطعام وفاتحہ خوانی خوب نیست چہ ایں معنی بہتر وافضل غرض آں ست کہ مقید برسم نہ باشد بے تعین تاریخ و روز وجنس و قسم طعام ہر وقت و ہرقدر کہ موجب اجر جزیل بود بعمل آردہرگاہ ایصال نفعے بہ میت منظور دارد موقوف بر اطعام نگذارد اگر میسر باشد بہتراست والا صرف ثواب فاتحہ و اخلاص بہترین ثواب ہا است در تعین تاریخ وروز وقسم ووضع طعام ضیق پیش می آید انسان را خواہ نخواہ آنچہ کردن دشوار می بود سرانجام آں ضرر می افتد  الیٰ آخرہ 
یعنی معلوم ہوناچاہییکہ مردے کو کھانے اور فاتحہ خوانی کے ذریعہ نفع پہنچنا کوئی اچھی بات نہیں،چہ جائے کہ افضل وبہتر ہو۔مقصدیہ ہے کہ اس میں رسم کی قید،تاریخ ودن اور جنس وقسم طعام کا تعین نہ ہو۔جتنا اور جس وقت بھی ایصال ثواب کا خیال ہو اس پرعمل درآمدکر دیں۔ اور جب بھی میت کو ایصال ثواب کرناہوتواسے محض کھانے تک محدود نہ رکھیں اگر اور کچھ میسر ہوتو بہترہے ورنہ صرف فاتحہ واخلاص پڑھ کر ایصال ثواب کر دینا بہترین عمل ہے۔ تاریخ ودن، اور کھانے کی قسم وہیئت متعین کر دینے میں مضائقہ پیش آتا ہے،جسے خواہی نہ خواہی کرنا پڑتا ہے اور انجام کارخود کو مشقت میں ڈالنا ہے۔
 اس عبارت سے صاف ظاہرہو گیا کہ سویم اور چہلم وغیرہ کا کھانا تعین ایام کے سبب منع نہیں جیساکہ بعض علما فی زمانناخیال کرتے ہیں بلکہ مولوی اسماعیل اور سید احمد صاحب کے نزدیک اس میں قباحت یہ ہے کہ انسان کے پاس کچھ ہو یانہ ہو،دن وتاریخ کی پابندی کی وجہ سے خواہ مخواہ اسے کرناپڑتا ہے جس میں تنگی ومصیبت پیش آتی ہے۔پھر اگر یہی بات کسی کو پیش آئے تواس کے حق میں ہم بھی منع کریں گے کہ اے بھائی! تو اپنے مقدور کے موافق کر،نام آوری کے لیے ،حوصلہ سے زیادہ ،جس کا سنبھالناتجھے مشکل ہے اس طرح مت کر۔خالصاً للہ جس قدر تیرے پاس موجودہے اسی قدر کر دے اور اگر کچھ بھی نہیں تو خالی فاتحہ ہی پڑھ دے۔
سوال :  تعین ایام کی ضرورت کیا ہے؟
جواب:صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین  کے دلوں میں خیرات وحسنات حاصل کرنے کا خود شوق تھا وہ اپنے عشق دلی کے ولولے سے سرشار ہو کر نیک کام کیا کرتے تھے ان کو نہ کسی کی تاکید کی حاجت تھی نہ تعین کی اور نہ یاددلانے کی،لیکن جب وہ دور چلا گیا اور لوگوں کے دلوں میں نیک کاموں کی طرف سے بے رغبتی پیداہو گئی تو اس کے لیے علمائے دین نے اصلاح دین کے پیش نظر فتوے اور احکام صادر فرمائے مثلاً قرآن کریم کی تعلیم پر اجرت لینا اصل حدیث سے منع تھاکیوں کہ اس وقت لوگوں کے دل (دین کی طرف)راغب تھے،خالص اللہ کے واسطے تعلیم کیا کرتے تھے لیکن جب قرون صالحہ کادور ختم ہو گیا، لوگوں کے دل ویسے نہ رہے اور قرآن کاپڑھنا پڑھانا بندہونے لگا تب علمائے دین  رحمہم اللہ نے جواز کاحکم دیایعنی قرآن پراجرت لینا اور دینا دونوں جائزہے۔چنانچہ فقہالکھتے ہیں  :
لو لم یفتح لہم باب التعلیم بالأجر لذہب القرآن۔ (۱)
یعنی اگراجرت کا دروازہ نہ کھولاجائے توڈرہے کہ کہیں دنیا سے قرآن نہ اٹھ جائے۔
ہدایہ میں ہے  :
لأنہ ظہر التواني في الأمور الدینیۃ ففي الامتناع تضییع حفظ القرآن و علیہ الفتویٰ۔ (۲)
 قر آن پڑھانے کی اجرت لینا اس لیے جائزہے کہ اب امورِدینیہ میں سستی ظاہرہونے لگی ہے توایسے وقت میں اجرت کی ممانعت کرنا دراصل حفظ قرآن کو ضائع کرنے کے مرادف ہو گا، اور فتویٰ بھی اسی پرہے یعنی کہ قرآن پر اجرت لینا جائزہے۔
 یوں ہی اذان کے بعد تثویب کہنے کویعنی الصلوٰۃ الصلوٰۃ وغیرہ پکارکرکچھ کہنا تاکہ نمازی آ کر جلد جماعت میں شریک ہوں،متاخرین علمانے مستحسن قرار دیا ہے۔چنانچہ ہدایہ میں ہے  :
۔
(۱)	رد المحتار: ۲۴؍۲۹۵ مطلب فی الاستئجار علی الطاعات ۔۔ حاشیۃ رد المحتار: ۶؍ ۳۴۰۔۔تبیین الحقائق شرح کنزالدقائق: ۱۴؍ ۴۳۸ باب الاجارۃ الفاسدۃ  ۔۔ البحر الرائق شرح کنز الدقائق: ۱۴؍ ۴۲۳ جعل الواقف غلۃ الوقف لنفسہ۔۔۔ ۔۔ مجمع الانہر فی شرح ملتقی الابحر: ۷؍ ۱۸۹  باب الاجارۃ الفاسدۃ 
(۲)	عنایہ شرح ہدایہ: ۱۲؍ ۳۹۳۔
و المتأخرون استحسنوہ في الصلوات کلہا لظہور التواني في الأمور الدینیۃ۔ (۱)
یعنی علمائے متاخرین نے امور دینیہ میں سستی برتنے کی وجہ سے ہرنماز کے بعدتثویب کہنے کو مستحسن قرار دیا ہے۔
تثویب کا یہ مسئلہ فتاویٰ عالم گیری میں بھی ہے، اور اس قسم کی بہت سی نظیریں فقہی کتابوں میں موجودہیں،جوڈھونڈے گا پائے گا۔
مجمع البحار،شامی اور فتاویٰ عالم گیری وغیرہ چند معتبر ومقبول کتابوں میں مندرج اس بات کے بھی یہی معنی ہیں  :
کم من أحکام یختلف باختلاف الزمان۔ (۲)
یعنی بہتیرے احکام، زمانہ بدلنے کی وجہ سے بدل جاتے ہیں۔
ایک وقت وہ تھا کہ قرآن کے اندر زیروزبر،وقف جائز،مطلق اور لازم وغیرہ لکھنا علما جائز نہیں سمجھتے تھے اسے مکروہ کہتے تھے،جو متقدمین کی کتابوں میں درج ہے۔ اور آج ایک وقت وہ آیاکہ لوگوں کا ڈھنگ بگڑ گیا،جہالت طاری ہو گئی،تب علما نے حکم دیاکہ قرآن شریف میں زیروزبر وغیرہ لکھناواجب ہے۔چنانچہ کشف الظنون وغیرہ میں تصریح ہے کہ کہاں مکروہ اور کہاں واجب۔
 ع :   ببیں تفاوت رہ ازکجا ست تا بہ کجا۔
ذرا دیکھیے کہ راستے کا تفاوت کہاں سے کہاں تک ہے۔

(۱)	عنایہ شرح ہدایہ: ۱؍۳۹۹۔
(۲)	تلاش بسیار کے باوصف یہ عبارت مجھے نہ ملی۔ہاں اسی مفہوم سے ملتی جلتی الفاظ کے ذرا سے فرق کے ساتھ کئی فقہی عبارتیں ملتی ہیں  : 
ئ	ہٰذا أمر یختلف باختلاف الزمان و المواضع۔ (بحر الرائق: ۲۰؍ ۲۲۳۔۔فتاویٰ ہندیہ:۳۷؍ ۳۳۵  ۴۳؍۷۲)
	 یوں بھی ہے  :   
ئ	و کم من شیء یختلف باختلاف الزمان والمکان۔ (بحر الرائق:۲۲؍ ۱۸۹۔۔مجمع الانہر: ۸؍ ۲۱۴۔۔رد المحتار: ۲۶؍ ۴۵۶۔۔ درر الحکام شرح غرر الاحکام: ۴؍۴)
	 اور یوں بھی ہے  : 
	و الحکم قد یختلف باختلاف الزمان۔ (۱؍۳۹۶ ۷؍۱۸۹۔۔تبیین الحقائق: ۱۶؍ ۴۲۸۔۔درر الحکام شرح غرر الاحکام: ۲؍۲۶۸)
 اسی طرح مسجدوں کوبلندکرنا اور اس کی زینت کرنامکروہ بتایا گیا ہے مگراب علما، مصلحت کے باعث اسے مستحب فرماتے ہیں۔چنانچہ صاحب مجمع البحارنے لفظ زخرف کی تحقیق میں لکھا ہے کہ جب لوگ اپنے گھر بہت عمدہ عمدہ بنانے لگے تو اب اگر مسجدکوکچی اینٹوں سے اونچے اونچے مکانات کے پاس بنادیں گے اور وہیں کافروں کے بھی بہتیرے گھر بلند ہوتے ہیں تواب مسجد نظروں میں حقیر ٹھہرے گی۔
ان مثالوں اور روایتوں سے مجموعی طور پریہی معلوم ہوا کہ اگر زمان ومکان میں یا کسی ہیئت اور وضع میں کسی مصلحت کے باعث کسی قسم کے تعینات واقع ہوں تو وہ جائز ہیں۔شاہ ولی اللہ صاحب  رحمۃاللہ علیہ  ’’ انتباہ‘‘ کے شروع میں فرماتے ہیں  :
اگرچہ اوائل امت را باواخر امت در بعض امور اختلاف بودہ باشد اختلاف صورضرر نمی کند ارتباط سلسلہ بہمہ ایں امور صحیح ست و اختلاف صور را اثرے نیست انتہیٰ کلامہ تلخیصاً 
یعنی اگرچہ امت کے پچھلوں کاپہلوں سے بعض امور کی بابت کچھ اختلاف واقع ہوا ہے۔ مگرصوری اختلاف مضر نہیں۔ ان امور کے ساتھ اس سلسلہ کا ارتباط وتعلق درست ہے اور صوری اختلاف کوئی معنی نہیں رکھتا۔  
ان عبارتوں سے  نہایت اہتمام کے ساتھ محفوظ رکھنے کے قابل یہ فائدہ پیداہوا کہ اگر علمائے متاخرین میں کسی قسم کا تعین علمائے متقدمین کی وضع کے مخالف پیداہو تویہ ضرورنہیں کہ اس کو رد کر دیا جائے اس لیے کہ زمانہ متقدمین کی مصلحت وہ تھی جس کا انھوں نے حکم دیا اور متاخرین کے وقت میں امت کے اطوار اور طبیعتیں بدل جانے کی وجہ سے دوسری طرح پر امتحان ظاہرہوا اور درحقیقت یہ اختلاف نہیں کیوں کہ متقدمین ومتاخرین کایہ دونوں گروہ اصلاح دین پر متفق ہے۔ان کے وقت میں اصلاح اُس میں تھی اور ان کے وقت میں اصلاح دوسری طرح۔ چنانچہ یہی وجہ مولوی اسماعیل صاحب کے مرشد برحق سید احمد صاحب کو بھی پیش آئی کہ انھوں نے ’’صراط مستقیم‘‘ میں تجدید اشغال کے واسطے ایک جداباب مقررکیا۔صفحہ ۸میں لکھتے ہیں  :
مصلحت وقت چناں اقتضا کرد کہ یک باب ازیں کتاب برائے بیان اشغال جدیدہ کہ مناسب ایں وقت ست تعین کردہ شود انتہیٰ 
یعنی مصلحت وقت کا تقاضا ہے کہ اس کتاب کے اندر اشغال جدیدہ پرمشتمل ایک باب کا اضافہ کر دیناچاہیے۔
 اسی کتاب کے آخر ورق میں مولوی اسماعیل صاحب اپنے پیرکاحال لکھتے ہیں  :
 بعدازاں درتلقین وتعلیم طریقہ چشتیہ بازوئے ہمت کشادند وتجدیداشغالے کہ ایں کتاب مستطاب براں محتوی گردیدہ فرمودند انتہیٰ 
یعنی طریقہ چشتیہ کی تعلیم وتلقین کے سلسلہ میں انھوں نے اپنے بازوئے ہمت کشادہ کر دیے اور جن اشغال جدیدہ پر یہ کتاب مشتمل ہے اس کا انھوں نے اشاریہ دیا۔ 
انوارِ ساطعہ کایہ مولف عاجز کوئی بات اپنی طبیعت سے نہیں کہتاکہ پھربعدمیں چل کراسے الزام دیاجائے بلکہ جو کچھ خلاصہ کلام ہے وہ انھیں مانعین حضرات کی مسلم الثبوت کتابوں کا چھانٹا ہوا عطرہے۔
جب یہ مسئلہ متحقق ہو گیا تو اب سمجھنا چاہیے کہ صحابہ چوں کہ نیکیوں میں سبقت کرنے والے تھے اس لیے ایصال ثواب وغیرہ کے لیے تعیین زمان کی انھیں کوئی حاجت نہیں تھی بلکہ وہ خود رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  سے پوچھ پوچھ کر اپنے اقرباکی طرف سے خیرات کیا کرتے تھے   اس سلسلہ میں حضرت سعد کا قصہ(۱)  ابھی گزرا 
اب اگر کسی کو ثواب کا رستہ بتاتے ہیں تو وہ منہ دوسری طرف پھیر لیتا ہے۔غرض کہ جب لوگوں میں سستی واقع ہوئی تو خیرات میں فرق پڑنے لگا اور مردوں کاحال دیکھا تو وہ ہے جو حدیث میں وارد ہوا کہ جس طرح کوئی ڈوبتاہوا آدمی سہاراتکتا رہتا ہے کہ کوئی میراہاتھ پکڑلے یا کوئی رسی کوئی لکڑی یاکوئی چیزمیرے ہاتھ آ جائے کہ اس کوپکڑکر بچ جاؤں، اسی طرح میت بھی اپنے زندہ اقرباسے آس وآسرالگائے رہتی ہے، اور اقرباکایہ حال ہو گیا کہ ان کے حق فراموش کرنے لگے، تب بزرگان دین تعیین ایام پرکھڑے ہوئے اور جداجدا وقتوں مثلاً دسواں اور بیسواں وغیرہ معین کر دیاتاکہ بتدریج انتظام میں وارثین کو بھی آسانی ہو، اور مردے کو یہ فائدہ ہو کہ سلسلہ امداد منقطع نہ ہونے پائے،کچھ آج فائدہ پہنچا،کچھ اس کے بعد،پھرکچھ اس کے بعد۔ 
اس کا بڑافائدہ یہ ہے کہ تعیین کے سبب لوگوں کو یادرہتا ہے اور خیال ودل پرچڑھا رہتا ہے۔ چنانچہ جولوگ مصلحت تعین کے پابند ہیں ان کے گھرسے کچھ نہ کچھ خیر خیرات ہو جاتی ہے۔ اور رہے

(۱)	ان کی والدہ مرگئی تھیں تو حضور ا سے پوچھا تھا کہ کون سا صدقہ افضل ہے تو آپ نے فرمایاکہ پانی۔ تب انھوں نے اپنی والدہ کی طرف سے کنواں کھدوادیا تھا۔۱۲منہ رحمہ اللہ۔
 وہ لوگ جوبسا اوقات ان لوگوں کی بہ نسبت کہتے ہیں کہ اس تعین کے ساتھ کام کرنے سے نہ کرنا اچھا کہ اس میں نمودونمایش ہوتی ہے تو ان کا یہ کہنابالکل ہی صحیح نہیں ، اس لیے کہ ہرکوئی نمود ہی کے واسطے نہیں کرتا اور اگر کوئی نمود کے لیے کرتابھی ہو توہم اس کو منع نہیں کریں گے،کیوں کہ یہ نمود تو اس کے حق میں ہے،ساتھ ہی ایک وقت کسی غریب کاپیٹ تو بھرے گا،یہ تو بہت اچھا کام ہے۔ اس سے ہماری غرض یہ نہیں کہ لوگ نمود اور ریاکاری کے واسطے کیا کریں  حاشاوکلا  عمل وہی بہتر ہوتا ہے جواخلاص سے ہو لیکن یہ صرف اس لیے کہا کہ اگر کسی ایک نے نمودکے طور پر عمل کیا تو  منکرین اس سے سندپکڑکے سب کو منع کرنے لگیں،لہٰذا ان کے جواب میں ’ولوسلمنا،کے طور پر کہاجاتا ہے کہ یہ بھی کچھ نہ کچھ خیر سے خالی نہیں۔ 
حضرت فقیہ ابواللیث سمرقندی رحمۃ اللہ علیہ  ’’تنبیہ الغافلین‘‘ میں فرماتے ہیں  :
و لا یترک العمل لأجل الریاء یقال في المثل إن الدنیا خربت منذ مات المراؤن لأنہم کانوا یعملون أعمال البر مثل الرباطات و القناطیر و المساجد فکان للناس فیہ منفعۃ و إن کانت للریاء فربما ینفعہ دعاء أحد من المسلمین۔
یعنی عمل خیر کوریاکے سبب نہ چھوڑناچاہیے۔مثل مشہو رہے کہ جب سے ریاکاری کے کام کرنے والے مرگئے دنیاویران ہو گئی ہے، اس لیے کہ وہ پہلے نیک کام کیا کرتے تھے،سرائے،پل اور مسجدیں بنواتے تھے جس میں لوگوں کابھلا ہوتا تھا اگرچہ ریاکاکام خود اس کرنے والے کو کوئی نفع نہیں دیتالیکن کبھی کوئی اس ریاکے کام سے نفع پا کردعا کر دیتا ہے تو اسے اسی دعاکی برکت سے نفع ہو جاتا ہے۔
الغرض! اچھے کام کانتیجہ اچھاہی ہوتا ہے۔
اب اصل بیان کی طرف آئیں کہ جب لوگوں کی سستی اور بے رغبتی کے باعث تعیین کی حاجت ہوئی تو ایک کھانا اور فاتحہ، برسی میں ٹھہرایا،ایک اس کے نصف یعنی ششماہی،پھر اس کے نصف یعنی سہ ماہی،پھر اس کے نصف یعنی پینتالیس دن میں۔لیکن اکثر امور میں چلہ کا عدد اختیار کیا گیا ہے اس لیے پینتالیس میں سے پانچ گھٹاکے چالیسواں دن کر دیا گیا۔
اب شریعت میں عدد چالیس کے جوشمار واردہوئے ہیں،ان میں سے چندمقامات ذکرکیے جاتے ہیں : اول جب حضرت آدم علیہ السلام  کاخمیرہواتوچالیس برس تک وہ خمیر اسی حالت میں پڑارہا پھر وہ سڑناشروع ہوا (یہاں تک کہ) چالیس برس تک وہ سڑتارہا  جس طرح تعمیرمکان کے لیے گارہ کو سڑایاجاتا ہے  پھر خشک ہونا شروع ہوا توچالیس برس میں خشک ہوا، اور جس طرح مٹی کا ٹھیکرا بجانے سے ٹن ٹن بجتا ہے بجنے لگا۔
 اسی طرح آدمی کی پیدایش میں بھی کہ چالیس دن وہ نطفہ رہتا ہے،پھرچالیس دن خون بستہ، پھرچالیس دن میں گوشت کے ٹکڑے بوٹیاں بن جاتے ہیں۔ غرض اس سے معلوم ہوا کہ چالیس دن میں حال بدل جاتا ہے۔
 اسی غرض سے صوفیہ کرام نے اپنی ریاضتوں میں عدد چلہ مقررکیاکہ اتنے دنوں میں ریاضت میں نفس کی حالت بدل جائے گی۔ اور حدیث میں آیا  :
 جوچالیس دن اللہ تعالیٰ کے ساتھ اخلاص رکھے گا اس کے دل سے رحمت کے چشمے پھوٹ کرزبان سے جاری ہوں گے۔(۱)
یہ حدیث تفسیر عزیزی میں ہے۔
امام غزالی نے ’’احیاء العلوم ‘‘میں نقل کیا  :
جو کوئی چالیس دن امام کے ساتھ تکبیراولیٰ پالے گا،اللہ تعالیٰ اس کو دوباتوں سے بری کر دے گا ایک نفاق سے دوسرے عذاب نار سے۔(۲)
اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ  علیہ السلام  سے بھی وعدہ فرمایا تھا کہ چالیس رات اعتکاف کریں،پھرہم تم کو شریعت یعنی توریت عنایت کر دیں گے یعنی اتنے دنوں میں نفس و قلب وغیرہ کے حالات بدل جائیں گے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے  :
وَ إذْ وَاعَدْنَا مُوسیٰ أرْبَعِیْنَ لَیْلَۃً۔ (۳)
 اور جب ہم نے موسیٰ سے چالیس رات کا وعدہ فرمایا۔

(۱)	متن حدیث:  ما من عبدٍ یخلص للہ العمل أربعین !لا ظہرت ینابیع الحکمۃ من قبلہ علی لسانہ۔ (احیاء علوم الدین: ۳؍ ۴۶۴ فضیلۃ الاخلاص ۔۔  تخریج احادیث الاحیاء :۹؍۲۳۸حدیث: ۴۲۳۸)
(۲)	احیا کی عبارت یوں ہے:  من صلی أربعین یوما الصلوات في جماعۃ لا تفوتہ فیہا تکبیرۃ الإحرام کتب اللہ لہ براء تین: براء ۃ من النفاق و براء ۃ من النار۔ (احیاء علوم الدین: ۱؍ ۱۵۷) 
(۳)	سورہ بقرہ،۲؍۵۱۔
 بیہقی نے انس  رضی اللہ عنہ   سے انبیا علیہم السلام  کی ارواح کی بابت یہ روایت کی ہے:
إن الأنبیاء لا یترکون في قبورہم بعد أربعین لیلۃ و لکنہم یصلون بین یدي اللہ حتی ینفخ في الصور۔
 اس کے معنی زرقانی نے یہ لکھے ہیں   :
 چالیس روز تک قبرمیں مدفون اس جسم کے ساتھ روح پیوستہ رہتی ہے،اس کے بعد وہ روح قرب الٰہی میں عبادت کرتی رہتی ہے، اور جسم کا قالب دھارکرجہاں چاہتی ہے جاتی ہے  انتہیٰ 
یہ جو عوام میں مشہو رہے کہ چالیس دن تک ہر کسی کی روح کو گھر سے علاقہ رہتا ہے تو شاید یہ حدیث بھی کہیں آئی ہو گی۔ انبیاکی روحوں سے متعلق تو بیہقی کی یہ حدیث دیکھی مگر عام روحوں کی نسبت ،نظر سے نہیں گزری،لیکن ہم لوگ علمائے سابقین کی بہ نسبت کم مایہ ہیں،علمی کتابوں کاذخیرہ بھی بہت تھوڑا ہی ہے،اس لیے ہماری نظر سے نہ گزرنا اس بات کی دلیل نہیں کہ یہ حدیث در حقیقت آئی ہی نہیں۔ 
ہاں ! ہم نے امام غزالی کی طرف منسوب ’’دقائق الاخبار‘‘میں یہ حدیث دیکھی ہے جو ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا  :
إذا مات المومن یدور روحہ حول دارہ شہرا و ینظر إلی ما خلفہ من مالہ کیف یقسم مالہ و کیف یودي دینہ فإذا تم شہرا ینظر إلی جسدہ و یدور حول قبرہ سنۃ فینظر من یدعو لہ و من یحزن علیہ فإذا تمت سنۃ رفعت روحہ إلی حیث یجتمع فیہ الأرواح إلی یوم ینفخ في الصور۔
یعنی جب مومن مرتا ہے تو اس کی روح ایک مہینہ تک اپنے گھرکے گرد گھومتی رہتی ہے، اور اپنے چھوڑے ہوئے مال کودیکھتی ہے کہ وہ کس طرح تقسیم ہوتا ہے اور اس کاقرض کیسے ادا ہوتا ہے۔ پھرجب ایک ماہ پوراہو جاتا ہے تووہ اپنے بدن پر نظرکرتی ہے اور اپنی قبر کے گرد ایک سال تک گھومتی رہتی ہے اور دیکھتی ہے کہ کون اس کے لیے دعا کرتا ہے، اور کسے اس کا دردوغم ہے۔ پھر جب ایک سال پورا ہو جاتا ہے تو اس کی روح اٹھا کر وہاں رکھ دی جاتی ہے جہاں دوسری روحیں قیامت تک کے لیے رکھی گئی ہیں۔
لیکن یہ یاد رہے کہ انبیا اور مومنین کی روحیں کسی جگہ رہیں لیکن قبر سے انھیں ایسا علاقہ رہتا ہے گویا وہ اسی قبر کے پاس موجودہیں۔اہل سنت و جماعت کا اس پر اتفاق ہے۔ گفتگوکا تسلسل کہاں سے کہاں پہنچ گیا کلام اس میں تھا کہ چالیس کا عدد اکثر مقامات میں آیا ہے اور اس عدد میں یہ دلالت ہر مقام پرپائی گئی کہ (اس کی وجہ سے )پچھلا حال بدل جاتا ہے۔چنانچہ خمیر آدم،خمیر نطفہ انسانی اور چلہ صوفیہ وغیرہ مذکورہ مثالوں سے یہ بات واضح ہو گئی ہے۔توچالیس دن میں میت کی ترکیب جسمی اور تعلق روحی میں بھی  جودنیا کے ساتھ ہے  ضرورکچھ فرق اور تغیرہواہو گا  جیسا کہ ارواح انبیامیں صریح واردہوا ہے   لہٰذا اس تغیر کے وقت بھی امدادِ شائستہ کا دستورٹھہرا گیا تاکہ اس کی ایک درجہ سے دوسرے درجہ کی ترقی وعروج عمدہ زادِ راہ کے ساتھ ہو تویہ فاتحہ چہلم کو مقرر کیا گیا۔ پھر تنصیف کاقاعدہ جوبرسی سے ششماہی اور ششماہی سے سہ ماہی میں جاری کیا تھا ،چہلم میں بھی کیا گیا یعنی چہلم کا نصف بیسواں اور بیسواں کا نصف دسواں۔غرض کہ اس دستور کے مطابق، فاتحے کاقاعدہ مقرر ہو گیا۔ 
حاشیہ خزانۃ الروایات اور بعض رسائل میں مجموع الروایات کی یہ روایت ،اس عاجز کی نظر سے گزری ہے کہ آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم  نے حضرت امیر حمزہ کے لیے تیسرے،دسویں، چالیسویں روز،چھٹے مہینے اور برسویں دن صدقہ دیا۔ اگر یہ حدیث کسی قدر قابل اعتماد ہے تو یہ سب رسمیں گویا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کی سنت ہو گئیں۔یہ ’’مجموع الروایات‘‘ ایک پرانی کتاب ہے،’’خزانۃ الروایات‘‘ میں بھی اس سے کچھ مسائل اخذ کیے گئے ہیں ، لہٰذا یہ جو قدیم زمانے سے بزرگانِ دین میں متفرق دنوں میں تعین فاتحات ایک امرمتوارث چلاآرہا ہے تو بلا شبہ یا تو اس حدیث کا کسی اور حدیث سے انھوں نے استخراج کیاہو گایاپھرمصلحت کی بناپر یہ طریقہ خود مقرر کیاہو گا۔بہرکیف! اگر انھوں نے خود بھی مقررکیا تو وہ بھی صحیح ہے۔حدیث شریف میں آیا ہے  :
مَنْ سَنَّ فِي الإسْلاَمِ سُنَّۃً حَسَنَۃً فَلَہُ أجْرُہَا۔ (۱)
یعنی جس نے اسلام میں کوئی اچھی راہ نکالی تو اسے اس کا اجر ملے گا۔

(۱)	صحیح مسلم: ۵؍ ۱۹۸حدیث: ۱۶۹۱۔۔مسنداحمد: ۳۹؍ ۱۸۰حدیث: ۱۸۳۸۱۔۔مصنف ابن ابی شیبہ: ۳۹؍ ۱۸۰حدیث: ۱۸۳۸۱۔۔سنن بیہقی: ۴؍ ۱۷۵۔۔ سنن نسائی: ۲؍ ۴۰حدیث: ۲۳۳۵۔۔ معجم طبرانی: ۲؍ ۴۸۲حدیث: ۲۳۲۴۔۔ شعب الایمان : ۱۵؍ ۴۴حدیث: ۶۷۴۹۔۔ سنن دارمی: ۲؍ ۶۴حدیث: ۵۲۳۔۔ صحیح ابن خزیمہ: ۹؍ ۹۷حدیث: ۲۲۷۸۔۔ مسند الشامیین: ۷؍ ۳۴۳حدیث: ۲۵۰۰۔۔ مشکل الآثار: ۴؍ ۸۳حدیث: ۱۳۳۷۔۔الفقیہ و المتفقہ خطیب بغدادی: ۱؍ ۲۸۲ ۔۔کنزالعمال: ۱۵؍ ۷۸۰حدیث: ۴۲۰۷۸۔۔ مجمع الزوائد: ۱؍ ۱۶۸۔۔مسند الجامع: ۱۰؍ ۸۴حدیث: ۳۱۴۷۔
 علامہ شامی نے اس حدیث کے معنی لکھے ہیں کہ جو کوئی دین میں کوئی نیانیک طریقہ نکالے تو اس کو اجر اور ثواب ملے گا۔واضح ہو کہ امر دین میں جو نیک طریقہ قرآن وحدیث کے موافق ایجاد ہو وہ درست ہے۔زبان سے نمازکی نیت کرنے کو جو علما کی ایجاد ہے  در مختار اور اس کے شارح نے سنۃ العلما قرار دے کر اسے جائزرکھا ہے اس کی بحث گزرچکی 
معلوم رہے کہ یہ ہم کولازم ہے کہ ہم سلف صالحین کے قواعد اور اعمال پراعتراض نہ کریں بلکہ اس کا اتباع کریں۔یہ حکم قیامت تک جاری ہے کہ ہرزمانے والا اپنے پہلے زمانے والے کی اطاعت کرے۔چنانچہ قطب ربانی امام شعرانی اپنی کتاب’’میزان الشریعہ الکبریٰ‘‘ میں لکھتے ہیں  :
فکما أن الشارع بین لنا بسنتہ ما أجمل في القرآن فکذلک الأئمۃ المجتہدون بینوا لنا ما أجمل في أحادیث الشریعۃ و لو لا بیانہم  لنا ذلک لبقیت الشریعۃ علی إجمالہا و ہکذا القول في أہل کل دور بالنسبۃ للدور الذي قبلہم إلی یوم القیامۃ فإن الإجمال لم یزل ساریا في کلام علماء الأمۃ إلی یوم القیامۃ و لو لا ذلک ما شرحت الکتب و لا عمل علی الشروح و الحواشي  انتہیٰ 
یعنی جس طرح شارع نے قرآن کے اجمال کوہم سے بیان کیا تو اسی طرح ائمہ مجتہدین نے بھی شرعی احکام سے متعلق احادیث کے اجمال کو واضح فرمایا، اور اگر ان کی یہ کرم فرمائیاں نہ ہوتیں تو شاید شریعت آج اپنے اجمال ہی پرباقی رہتی۔ اور یہی حال تاقیام قیامت ،ہر زمانے والے کا ہے بہ نسبت اس زمانے کے جواس سے پہلے گزرچکا،کیوں کہ اہل علم کے کلام میں اجمال توہمیشہ سے چلا آرہا ہے، اور اگر ایسا نہ ہوتوپھر کتابوں کی شرحیں نہ کی جاتیں، اور نہ شروح وحواشی پر عمل ہی کیا جاتا۔
 حضرت شاہ ولی اللہ  رحمۃ اللہ علیہ   ’’عقد الجید‘‘ مطبوعہ فاروقی کے صفحہ ۳۶ پر فرماتے ہیں  :
 إن الأمۃ اجتمعت علی أن یعتمدوا علی السلف في معرفۃ الشریعۃ فالتابعون اعتمدوا في ذلک علی الصحابۃ و تبع التابعین اعتمدوا علی التابعین و ہکذا في کل طبقۃ اعتمد العلماء علی من قبلہم و العقل یدل علی حسن ذلک   إلی آخرہ  
یعنی امت کا اس بات پراجماع ہے کہ شریعت کی معرفت کے سلسلہ میں لوگوں کوسلف صالحین پراعتمادکرناچاہیے،کیوں کہ تابعین نے صحابہ کرام پراعتماد کیا تھا، اور تبع تابعین نے تابعین پر۔یوں ہی ہر دورمیں اہل علم گزشتہ دورکے علما پراعتماد کرتے آئے ہیں۔ اور عقل اس کی خوبی کوقبول بھی کرتی ہے۔
شاہ عبد العزیز صاحب کی گفتگو بھی اس کے قریب قریب ہے۔پارۂ سیقول کے شروع میں فرماتے ہیں  :
پیغمبر بر کمالِ شما گواہی دہد و شمابر کمال تابعین ہلم جراً الی یومنا ہذا پس صدر اول ایں امت مرتبہ متوسط دارند درمیان نبوت و امت محض کہ من وجہ کارِپیغمبری می کنند و من وجہ کارِ امتان و ہکذا الی یوم القیامۃ فی کل طبقۃ متقدمۃ بالنسبۃ الی الطبقۃ المتأخرۃ۔انتہیٰ۔
یعنی پیغمبرآپ کے کمالات پرگواہی دیں گے، اور آپ اپنے اخلاف پرگواہ ہوں گے۔ اور یہی سلسلہ آج تک چلاآرہا ہے۔تو اس امت کاصدرِ اول نبوت اور امت محض کے درمیان متوسط کادرجہ رکھتا ہے کہ ایک اعتبار سے تو پیغمبرانہ کار سرانجام دے رہے ہیں اور دوسرے اعتبار سے امتیوں کے کام۔ اور یہ سلسلہ ہراگلے طبقہ کاپچھلے طبقہ میں تاقیامت  یوں ہی جاری وساری رہے گا۔ 
اب ہم مولاناعبدالعزیز صاحب کا ایک جامع کلام جو بظاہرتومختصرمگر فی الواقع اس میں  اہل اسلام کے اندر مروجہ یہ ساری تفصیلات داخل ہیں، اور یہ بزرگ اس فرقہ کے مسلم الثبوت علمامیں سے ہیں۔ پارۂ عم  والقمر اذَا اتسق  کی تفسیرمیں لکھتے ہیں۔ملخصاً ان کے الفاظ بعینہٖ نقل کرتا ہوں  :
اول حالتے کہ بمجردجداشدن روح از بدن خواہد شد فی الجملہ اثر حیات سابقہ و الفت تعلق بدن و دیگر معروفان از ابنائے جنس خود باقی است و آں وقت گویا برزخ است کہ چیزے ازاں طرف وچیزے ازیں طرف مدد زندگان بمردگان دریں حالت زود ترمی رسدو مردگان منتظرلحوق مدد ازیں طرف می باشندصدقات و ادعیہ وفاتحہ دریں وقت بسیار بکار اومی آید و ازیں است کہ طوائف بنی آدم تایک سال و علی الخصوص تا یک چلہ بعد موت در ایں نوع امدادوکوشش تمامی نمایند انتہیٰ  
یعنی پہلی حالت جس کا تعلق محض روح کابدن سے جداہونا ہے توپہلی زندگی کا اثر اور بدن سے الفت کاتعلق اور اس طرح دوسرے صفات اس سے مربوط ہو جاتے ہیں۔ اور درحقیقت یہی عالم بزرخ کا دور ہے کہ ان ایام میں مردے کاخیال کچھ اس طرف اور کچھ اس طرف ہوتا ہے اور زندہ لوگوں کی امداد مردوں کو جلدپہنچ جاتی ہے۔ اور اس طرف سے مردے ان کی امداد کے منتظر ہوتے ہیں۔اس وقت کیے گئے صدقات،دعائیں اور فاتحے زیادہ کارگر ثابت ہوتے ہیں۔ اور یہی وجہ ہے لوگ ایک سال خصوصا چالیسویں تک خوب جوش وخروش کے ساتھ امدا د کا سلسلہ جاری رکھتے ہیں۔
جس کا جی چاہے تفسیر عزیزی فارسی نکال کر دیکھ لے یہ مضمون کچھ مزید مضامین کے ساتھ اس میں پائے گا۔ اب ارباب انصاف جنبہ داری کو برطرف کر کے خیال فرمائیں کہ حضرت شاہ عبد العزیزصاحب رحمۃ اللہ علیہ   نے ان ایام مروجہ کی امداد طعام وغیرہ کے لیے کیا صحیح علت شرعی پیدا کی ہے کہ مردے کا دل ان ایام میں کچھ اِدھر ہوتا ہے کچھ اُدھر، اور زندوں کی مدد ان دنوں میں جلد پہنچتی ہے۔پھر اس علت صحیحہ پر یہ حکم مرتب کیا کہ اسی سبب سے ایسا ہے کہ لوگ اپنے مردوں کی ایک برس تک اور خاص کر ایک چلہ تک مدد کیا کرتے ہیں۔اب دیکھیے کہ برس تک کی امداد میں اہل اسلام کی یہ تمام مروجہ رسمیں یعنی سویم،دہم،بستم، چہلم اور ششماہی وسالینہ سبھی داخل ہیں پھر شاہ صاحب نے اس اسلامی رواج کورد نہیں کیا بلکہ اس کی تصدیق فرمائی۔ یعنی اس امر مروجہ کو اپنے مدعا پر دلیل لائے تو شاہ صاحب کا اس رواج پذیرامر معین ومقررکو بطورِ دلیل پیش کرنا اور کسی وجہ سے اس کی تردید نہ کرنا اس پرصریح دلیل ہے کہ یہ فعل جوبنی آدم کے درمیان عام طور پررائج ہے حق اور صحیح ہے۔ اور طوائف بنی آدم (خصوصا) ہندوستان میں پرانے زمانے سے جو مروج چلاآتا ہے وہ یہ ہی دہم،بستم اور چہلم وغیرہ ہے جیساکہ اس کامشاہدہ کیاجا سکتا ہے اس کا انکارکرنا دراصل بدیہیات کا انکارکرنا ہے۔



لمعہ سادسہ اموات کے سلسلہ میں نصیحتیں 

نصیحت:  جب کسی کا کوئی قریبی عزیزمرجائے تو چاہیے کہ اس کی موت پرصبر کرے تاکہ اجروثواب کا مستحق ہو۔طبرانی اور ابن مَندہ نے ایک طویل حدیث روایت کی ہے جس میں یہ بھی بیان ہے کہ  :
ملک الموت نے آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم   سے بیان کیا کہ میں آدمی کی روح قبض کرتاہوں جب اس کے لواحقین رونے لگتے ہیں،میں دروازہ پروہ روح لیے کھڑاہو جاتاہوں اور کہتاہوں کہ اے رونے والو! قسم اللہ تعالیٰ کی ہم نے اس آدمی پر ظلم نہیں کیا،وقت سے پہلے جلدی نہیں کی اور روح قبض کرنے میں کچھ ہماری خطانہیں۔ اگرتم اللہ تعالیٰ کے حکم پر راضی رہوتوثواب پاؤگے، اور برامانوگے تو گنہ گارہو گے، اور ہم کو تمہاری طرف پھر آنا ہے،توہوشیاررہو الیٰ آخرہ (۱)
نصیحت:  تدفین کے بعد کسی قدر میت کی قبرپرٹھہرناچاہیے،کچھ پڑھیں اور میت کے لیے دعا کریں۔’’فتاویٰ عالم گیری‘‘ میں ’’جوہرہ نیرہ‘‘ کے حوالے سے نقل ہے  :  
و یستحب إذا دفن المیت أن یجلسوا ساعۃ عند القبر بعد الانفراغ بقدر ما ینحر جزور و یقسم لحمہا یتلون القرآن و یدعون للمیت۔ (۲)
 درمختار میں ہے  :
و یستحب جلوس ساعۃ بعد دفنہ لدعاء و قراء ۃ بقدر ما ینحر الجزور و یفرق لحمہ۔ (۳)

(۱)	۔۔۔۔۔۔۔۔ إني لأقبض روح ابن آدم فإذا صرخ صرخ من أہلہ قمت في الدار و معي روحہ فقلت : من ہذا الصارخ ؟ و اللہ ما ظلمناہ و لا سبقنا أجلہ و لا استعجلنا قدرہ و ما لنا في قبضہ من ذنب، و إن ترضوا بما صنع اللہ تؤجروا، و إن تحزنوا و تسخطوا تأثموا و تؤزروا، ما لکم عندنا من عتبي و لکن لنا عندکم بعد عودۃ و عودۃ، فالحذر فالحذر ۔۔۔۔۔۔۔۔
	الآحاد و المثانی ابن ابی عاصم: ۶؍۲۷۷ حدیث: ۱۹۸۹۔۔معرفۃ الصحابۃ: ۷؍ ۲۶۲ حدیث: ۲۲۸۶۔۔وصایا العلما عند حضور الموت: ۱؍۱۶۷حدیث: ۱۰۰۔۔ کنزالعمال: ۱۵؍ ۷۰۵۔
(۲)	فتاویٰ عالم گیری :۴؍۴۸۱۔۔جوہرہ نیرہ:۱؍ ۲۰۲۔
(۳)	درمختار: ۲؍۲۵۷۔
دونوں عبارتوں کے معنی یہ ہیں کہ میت کو دفن کے بعد اتنی دیرٹھہرنامستحب ہے جتنے میں اونٹ ذبح ہو کراس کاگوشت تقسیم ہو جائے،قرآن پڑھناچاہیے اور میت کے لیے دعابھی کرنی چاہیے۔ 
شامی نے’’رد المحتار‘‘ میں اس حکم کو مسلم رکھا، اور اس پر مزید دوحدیثیں بھی نقل کی ہیں  :
 ایک سنن ابوداؤد سے  :
کان النبي  صلی اللہ علیہ وسلم  إذَا فَرَغَ مِنْ دَفْنِ الْمَیِّتِ وَقَفَ عَلٰی قَبْرِہٖ وَ قَالَ اسْتَغْفِرُوْا لأخِیْکُمْ وَ اسْئَلُوا اللّٰہَ لَہُ التَثْبِیْتَ فَإنَّہُ الآنَ یُسْألُ۔ (۱)
یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب میت کی تدفین سے فارغ ہوتے، ا س کی قبرپر ٹھہرتے، اور فرماتے کہ اپنے بھائی کے لیے مغفرت اور ثبات قدمی کی دعا کروکیوں کہ اب اس سے سوال ہو گا۔
دوسری حدیث بروایت مسلم مشکوٰۃ میں موجودہے  :
و عن عمرو بن العاص قال لابْنِہٖ وَ ہُوَ فِي سِیَاقِ الْمَوْتِ إذَا أنَا مِتُّ فَلاَ تَصْحَبْنِيْ نَائِحَۃٌ وَ لاَ نَارٌ فَإذَا دَفَنْتُمُوْنِي فَشَنُّوا عَلَیَّ التُّرَابَ شَنًّا ثُمَّ أقِیْمُوْا حَوْلَ قَبْرِيْ قَدْرَ مَا یُنْحَرُ جَزُورٌ وَ یُقْسَمُ لَحْمُہَا حَتَّی أسْتَاْنِسَ بِکُمْ وَ أعْلَمَ مَاذَا أُرَاجِعُ بِرُسُلِ رَبِّي  رواہ مسلم ۔ (۲)
یعنی حضرت عمرو بن العاص  رضی اللہ عنہ  سے روایت ہے کہ انھوں نے اپنی حالت نزع میں اپنے بیٹے سے فرمایا کہ جب میں مرجاؤں تومیرے ساتھ نہ کوئی نوحہ کرنے والی عورت ہونی چاہیے اور نہ ہی آگ۔پھر جب مجھے دفن کرو، اور مجھ پرآہستہ سے مٹی ڈال لوتو میری قبر کے ارد گرد اتنی دیرکھڑے رہو کہ جتنی دیر میں اونٹ ذبح کر کے اس کا گوشت تقسیم کر دیا جائے، تاکہ میں تمہارے ساتھ مانوس ہولوں نیزیہ بھی جان لوں کہ اپنے رب کے فرشتوں کو کیا جواب دوں۔اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔

(۱)	ردالمحتار:۶؍۳۷۶۔۔سنن ابو داؤد: ۹؍ ۲۴ حدیث: ۲۸۰۴۔۔ مستدرک: ۳؍ ۳۹۹حدیث: ۱۳۲۰۔۔ معرفۃ السنن والآثار: ۶؍ ۲۹۱حدیث: ۲۳۳۲۔۔ سنن بیہقی: ۴؍ ۵۶۔
(۲)	ردالمحتار:۶؍۳۷۶۔۔مشکوٰۃ المصابیح: ۱؍ ۳۸۶حدیث: ۱۷۱۶۔۔صحیح مسلم:۱؍ ۳۰۴حدیث: ۱۷۳ ۔۔سنن بیہقی: ۴؍ ۵۶۔۔معرفۃ السنن و الآثار: ۶؍ ۲۹۲حدیث: ۲۳۳۳۔۔الایمان لابن مندہ: ۱؍ ۳۲۹حدیث: ۲۷۳۔۔ وصایا العلماء عند حضور الموت: ۱؍ ۸۱ حدیث: ۵۴۔۔مسندالجامع: ۳۲؍ ۴۹۹۔
 دیکھیے یہ فعل رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام اور مفتیان دین سے نہایت صحیح اور معتمد طور پر ثابت ہے۔معلوم نہیں کیوں لوگوں نے اسے ترک کر دیا۔چاہیے کہ اہل اسلام اس کی تعمیل کریں،اگر کاروباریاکسی اور ضرورت کی وجہ سے تمام آدمی نہ ٹھہرسکیں تومیت کے دوست آشنا اور اقربامیں سے چندہی آدمی ٹھہریں، قرآن پڑھیں اور میت کے لیے دعاواستغفاروغیرہ کریں۔  والسلام علی من اتبع الہدیٰ 
نصیحت:  آدمی کو چاہیے کہ اپنی موت کو ہمیشہ یاد رکھے۔ایک حدیث میں آیا ہے  :
 لوگوں نے پوچھا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !شہیدوں کے درجے میں کوئی اور بھی ہو گا؟فرمایا ہاں جوکوئی ہرروز بیس مرتبہ اپنی موت کو یادکیا کرے گا۔(۱)
نصیحت: آدمی کو چاہیے کہ موت کے لیے تیار رہے اور اپنا وصیت نامہ لکھ کر ساتھ رکھے جس کسی کا قرض ذمہ پر ہو، اور جو کچھ نماز،روزہ،حج، زکوٰۃاس کے ذمہ ہو یا قسم توڑنے کا کفارہ ذمہ پر ہو وہ سب اس کاغذمیں لکھ دے اس لیے کہ کیاخبرکس وقت اس کی موت آ جائے اور مرتے وقت زبان سے وصیت نکلے نہ نکلے،اس کاغذ کو دیکھ کر وارثانِ میت تعمیل کر دیں گے۔
نصیحت:  جب کوئی آدمی مرجائے اور اس کا کوئی قریبی عزیزاپنے خاص مال سے اس کے لیے فاتحہ کرے تو اس میں کسی فقیہ ومحدث کو کلام نہیں۔لیکن خاص میت کا مال اگر اس کام میں صرف کرنے لگیں تو اس میں یہ شرط ہے کہ اس کے وارثوں میں کوئی نابالغ لڑکی یا لڑکا نہ ہو اس لیے کہ ترکہ مورث کے مرنے کے بعدوارثوں کی ملک ہو جاتا ہے تواگر وارث بالغ ہیں اور سب موجودہیں تو وہ مال خاص ان کاہو گیا، اور اگران میں سے کوئی غائب تھا مگراجازت دے دی تھی تو اس صورت میں ان کو اختیارہے جس قدر چاہیں میت کے لیے صرف کریں۔ اور اگر سب نابالغ ہیں توپوراترکہ میت ان کی ملک ہو گیا،اب میت کے ایصال ثواب کے لیے اس کا صرف کرناجائز نہیں، نہ کپڑا،نہ کھانا، نہ روپیہ،نہ پیسہ،صرف تجہیزوتکفین میں جو اٹھے وہی درست ہے اور بس۔ اور اگر بعض وارث نابالغ ہیں تب بھی چوں کہ نابالغوں کا حصہ کل اشیاے ترکہ میں مشترک ہے اس لیے ایصال ثواب کی غرض سے اس کا صرف بھی جائز نہیں۔
فتاویٰ عالم گیری کی  جلد خامس  میں ہے  :

(۱)	متن حدیث:  قالت عائشۃ ہل یحشر مع الشہداء أحد؟ قال نعم من ذکر الموت الیوم و اللیلۃ عشرین مرۃ۔ (احیاء علوم الدین: ۳؍۳۸۳۔۔  تخریج احادیث الاحیاء :۹؍۳۱۱حدیث: ۴۳۱۱)
و إن اتخذ طعاما للفقراء کان حسنا إذا کانت الورثۃ بالغین فإن کان في الورثۃ صغیر لم یتخذوا ذلک من الترکۃ۔ کذا في التتارخانیۃ  (۱)
یعنی اگربالغ ورثہ کے مال سے فقراومساکین کے لیے کھاناتیارکیا گیا تو بہت اچھا،لیکن اگر وارثین نابالغ ہوں توان کا ترکہ استعمال میں نہیں لایاجا سکتا تاتارخانیہ میں ایساہی ہے 
 یہ حکم،کچھ فاتحہ کے کھانے کے ساتھ ہی خاص نہیں بلکہ اس قسم کے ترکہ کی چیز لباس یاکھانا یا نقد،نہ تو مسجد میں دی جائے، نہ کسی مدرسہ میں، نہ کسی فقیر کو اور نہ کسی عالم کو۔ہاں ! اگر شرعی طور پر ترکہ کی تقسیم ہو جائے، اور صغیروارث کو اس کا حصہ دے کر بالغ وارثین اپنے حصہ سے خرچ کر دیں یا عورت اپنے مہر کے دعویٰ میں وارث ہو کراپنے حصہ مملوکہ سے صرف کر دے تویہ جائزہے، خواہ مدارس ومساجد میں دیں خواہ فاتحہ کریں اور مساکین کو کھلائیں۔یہ مسئلہ نہایت اہم ہے اسے ضرور یاد رکھنا چاہیے۔ 
نصیحت:  جب کوئی وارث اپنے مورث کی طرف سے کھاناکھلائے تونمود اور بڑائی ظاہر کرنے کے لیے نہ کرے۔حدیث شریف میں آیا ہے  :
مَنْ سَمَّعَ سَمَّعَ اللّٰہُ بِہٖ۔ (۲)
یعنی جو کوئی لوگوں کو اپنی سخاوت اور دادودہش کی  تعریفسنوائے یعنی اپنی شہرت اور فخرچاہے تواللہ تعالیٰ اس آدمی کوسب کے سامنے ذلیل کرے گا۔
تو اس صورت میں مردہ کو ثواب پہنچناتوکیا ممکن، وہ عتاب الٰہی میں گرفتارہو گا۔ تو وہی مثل ہو جائے گی کہ’’ محنت برباد گناہ لازم‘‘۔ اور کھانے والوں کو بھی چاہیے کہ معلوم کریں کہ یہ کسی کے مقابلہ میں فخریہ کھاناتونہیں بنوارہا ہے کہ فلاں شخص نے کیاکھانابنوایا! میں اس سے بڑھ کربنواتا ہوں تو ایسی دعوت ہی نہ قبول کریں خواہ وہ کھانا غمی وماتم کا ہویا شادی و خوشی کا۔
امام احمد رحمۃ اللہ علیہ  روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا  :

(۱)	فتاویٰ عالم گیری: ۴؍ ۳۴۱۔
(۲)	صحیح بخاری: ۲۰؍ ۱۵۳حدیث: ۶۰۱۸ ۲۲؍ ۶۵حدیث: ۶۶۱۹۔۔صحیح مسلم: ۱۴؍ ۲۵۵حدیث: ۵۳۰۱۔۔ مسند احمد: ۴۱؍ ۴۱۶حدیث: ۱۹۵۵۷۔۔  مصنف ابن ابی شیبہ:۴۱؍ ۴۱۶حدیث: ۱۹۵۵۷۔۔ سنن نسائی: ۶؍ ۵۲۲حدیث: ۱۱۷۰۰۔۔ معجم طبرانی: ۲؍ ۲۳۴حدیث: ۱۶۷۸۔۔شعب الایمان: ۱۲؍ ۲۴۱ حدیث: ۵۵۱۳۔۔ مسندابویعلی موصلی: ۴؍ ۵۶ حدیث: ۱۴۹۱۔۔مجمع الزوائد: ۳؍ ۴۱۱۔۔کنزالعمال: ۳؍۴۷۲حدیث: ۷۴۸۱۔۔مسند الجامع: ۱۱؍ ۱۹ حدیث: ۳۲۰۸۔۔ تخریج احادیث الاحیائ: ۷؍ ۴۵۹حدیث: ۳۳۸۴۔ 
 جب دوآدمی ایسے ہوں کہ ایک کی ضد میں دوسرا بڑائی حاصل کرنے کے لیے کھانازیادہ بنوائے تو ایسے شخص کی دعوت قبول نہ کی جائے اور نہ اس کو کھاناہی کھلایا جائے۔
 مشکوٰۃ میں ایساہی ہے 
نصیحت:  یہ بھی خیال رکھناچاہیے کہ قرض دار آدمی کا صدقات کرنا خواہ اپنے لیے کرے یا میت کے لیے  شرع میں مستحسن نہیں۔
صاحب مجمع البحار لفظ ظہر کی تحقیق میں فرماتے ہیں  :
خَیْرُ الصَّدَقَۃِ مَا کَانَ عَنْ ظَہْرِ غِنيً۔ (۱)
یعنی اچھا صدقہ وہ ہے جو فراغت کی حالت میں دیاجائے۔
پھر دوسطر کے بعد لکھتے ہیں  :
و لا صدقۃ کاملۃ عن ظہر غني و ہو رد علیہ أی الشیء المتصدق بہ غیر مقبول لأن قضاء الدین واجب۔
یعنی صدقہ کاملہ وہی صدقہ ہوتا ہے جو فراغت کی حالت میں دیاجائے اور جو ایسا نہ کرے تووہ صدقہ رد ہے،یعنی وہ صدقہ قبول نہ کیا جائے گاکیوں کہ قرض کا ادا کرنا اس پر واجب تھا، اس نے واجب کو چھوڑ کرصدقہ نافلہ کیوں کیا۔
لہٰذا معلوم ہوا کہ یہ طریقہ اچھا نہیں بالخصوص جب کہ سودی قرض دے کربہم پہنچائے یہ تو نہایت ہی براکام ہے،ایساآدمی محض ’الحمدشریف اور سورتیں پڑھ کر بخش دیا کرے۔
نصیحت: اگر وارثانِ میت ،مذکورہ شرطوں کے ساتھ کھاناکھلائیں توبہتر یہ ہے کہ غریب رشتہ داروں،ہم سایوں اور اہل محلہ کو مقدم رکھیں۔فقہا باب الزکوٰۃ میں لکھتے ہیں  :
لا تقبل صدقۃ الرجل و قرابتہ محاویج حتی یبدأ بہم فیسد حاجتہم۔(۲)

(۱)	اسی مفہوم کی ایک حدیث بھی ملتی ہے: لاَ صَدَقَۃَ إلاَّ عَنْ ظَہْرِ غِنیً۔ (تحفۃ الفقہائ: ۱؍ ۳۳۴ ۔۔مبسوط: ۳؍ ۱۹۵ ۔۔بدائع الصنائع فی ترتیب الشرائع: ۳؍ ۳۹۰۔۔ تبیین الحقائق: ۴؍ ۷۔۔العنایہ شرح الہدایہ: ۳؍ ۲۲۶ ۔۔ الجوہرۃ النیرۃ: ۳؍۲۔۔ فتح القدیر: ۳؍ ۴۷۶ )
(۲)	در مختار: ۲؍ ۳۸۷۔۔درر الحکام شرح غررالاحکام: ۲؍ ۴۱۵۔۔ البحر الرائق: ۶؍ ۷۱،۱۲۴۔۔مجمع الانہر فی شرح ملتقی الابحر: ۲؍ ۲۷۰۔۔ رد المحتار: ۷؍ ۲۵۷۔
یعنی ایسے شخص کا صدقہ قبول نہیں کیاجاتاکہ جس کے اہل رشتہ محتاج ہوں ( اور یہ دوسروں کو دیتاپھرے) یہاں تک کہ ان سے شروع کرے اور پہلے ان کی ضرورتیں پوری کرے۔ 
ایسا لگتا ہے کہ یہ مشہور مثل ’’اول خویش بعدہٗ درویش‘‘ اسی حدیث کا ترجمہ ہے۔ اور یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ قصبات کے شرفامیں جو رواج ہے کہ میت کا کھانافاتحہ، چہلم اور بستم وغیرہ برادری کے آدمی بھی کھاتے ہیں تووہ بھی شاید اسی روایت پر مبنی ہو گاکہ رشتہ دار،ہمسایہ اور اہل محلہ دوسرے لوگوں پرمقدم ہیں اور ظاہر ہے کہ قصبات کے شرفا میں فراغت اور وسعت کم ہے،اکثر لوگ غریب ہوتے ہیں،ایسے آدمی کہ جن پرزکوٰۃ واجب ہو یا اپنے مکان اور اہل وعیال کے نفقہ سے فارغ ہو کر بھی ان کے پاس کچھ مالیت زائدہ فاضل رہے ایسے آدمی کم ہیں،بہت تو ایسے ہیں کہ ان کے گھر کھانے کابھی ٹوٹا ہے اور شریعت میں ایسے لوگ فقرامیں داخل ہیں۔ اسی بنیادپر بزرگوں نے ان کو کھلانا اَورسائلوں اور کوچہ گروں کی بہ نسبت مقدم سمجھا کہ حق ہم سائیگی ومحلہ داری اور قرابت بھی ادا ہو جائے اور چیزاپنی جگہ پربھی صرف ہو جائے۔ 
پھراگر برادری کے سو غریب آدمیوں میں کوئی آسودہ صاحب زکوٰۃ بھی شامل کر لیا تو اس میں چوں کہ یہ حکمت ہے کہ ان لوگوں کے دلوں میں یہ نہ پیدا ہو کہ ہم کوحقیروکنگال سمجھا،توایک یا دو باآبروآدمی کے شامل ہونے سے ان کی دلی ندامت بھی دفع ہو جاتی ہے،علاوہ ازیں اغنیاکاکھانا بھی ثواب سے خالی نہیں،گرچہ اس میں فقراکے کھانے سے کم ثواب ہے،لہٰذا اگر یہی نیت اس زمانہ میں بھی ہے تو کچھ مضائقہ نہیں۔
 اور اگر اہل محلہ اور رشتہ داروں کو اس نیت سے کھلائیں کہ آج میں ان کوکھلادوں اور کل یہ مجھ کوکھلادیں گے تواس صورت میں کوئی ثواب نہ ملے گا اس لیے کہ ارادہ معاوضہ لینے کا ہے پھرثواب کہاں ؟۔  فلیکن آخر ما أردنا إیرادہ في ہذا الباب و اللہ ہو الہادي للصدق و الصواب۔ 
٭٭٭



نور سوم

نور سوم میں نو لمعے ہیں :

لمعہ اولیٰ  محفل میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اثبات میں 

اللہ  سبحانہ وتعالیٰ نے فرمایا  : 
وَ اذْکُرُوا نِعْمَۃَ اللّٰہِ عَلَیْکُمْ۔ (۱)
 اور یاد کرواللہ کا احسان جو تم پرہے۔
اس آیت کریمہ میں انعام حقیقی فرمانے والا اپنی نعمتوں کے ذکر اور یادکرنے کاحکم دیتا ہے کہ اپنے اوپرہوئی اللہ کی نعمتوں کاذکرکرو اور انھیں یاد کرو۔
اس میں شک نہیں کہ صاحب لولاک  صلی اللہ علیہ وسلم کاپیداہونا اور تشریف لانا اللہ کی نعمتوں میں ایک بڑی نعمت ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے  :
لَقَدْ مَنَّ اللّٰہُ عَلَی الْمُوْمِنِیْنَ إذْ بَعَثَ فِیْہِمْ رَسُولاً مِّنْ أنْفُسِہِمْ یَتْلُوا عَلَیْہِمْ آیَاتِہٖ وَ یُزَکِّیْہِمْ وَ یُعَلِّمُہُمُ الْکِتَابَ وَ الْحِکْمَۃَ۔ (۲)
بے شک اللہ کا بڑا احسان ہوا مسلمانوں پر کہ ان میں انہیں میں سے ایک رسول بھیجا جوان پر اس کی آیتیں پڑھتا ہے اور انھیں پاک کرتا ہے اور انھیں کتاب وحکمت سکھاتا ہے اور وہ ضرور اس سے پہلے کھلی گمراہی میں تھے۔
شاہ ولی اللہ صاحب اس کا ترجمہ لکھتے ہیں  :
ہر آئینہ نعمت فراواں داد خدابرمومناں آنگاہ کہ فرستاد درمیان ایشاں پیغامبرے از قوم ایشاں می خوانند بر ایشاں آیات خداوپاک میساز د ایشاں را و می آموز د ایشاں را کتاب وعلم  انتہیٰ 
شاہ عبد القادر لکھتے ہیں  :
اللہ نے احسان کیا ایمان والوں پر جو بھیجا ان میں رسول انہی میں کا۔الیٰ آخرہ۔
تو ثابت ہوا کہ نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود ،نعمت ہے کہ جس کا احسان حق سبحانہ نے ظاہر فرمایا ہے، اور آپ کے اسماے مبارکہ میں  جو ایک ہزار تک محدثین نے شمار کیے ہیں   آپ کا ایک نام نامی ’’نعمۃ اللّٰہ‘‘ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ہے جیساکہ قسطلانی وغیرہ نے ذکر کیا ہے 

()	سورۂ بقرہ ،۲؍۲۳۱۔۔سورۂ آل عمران،۳؍۱۰۳۔۔سورۂ مائدہ،۵؍۷۔
(۲)	سورۂ آل عمران،۳؍۱۶۴۔
 سیدنامحمد سلیمان جزولی نے بھی ’’دلائل الخیرات‘‘میں آپ کا یہ نام مبارک لکھا ہے۔(۱)
حضرت سہل بن عبد اللہ تستری نے آیت کریمہ : وَ إنْ تَعُدُّوْا نِعْمَۃَ اللّٰہِ لاَ تُحْصُوہَا۔ کی تفسیر میں فرمایاکہ وہ’ نعمۃ، محمد  صلی اللہ علیہ وسلم ہیں کیوں کہ وہ تونعمت عظمیٰ ہیں۔یعنی اس لیے کہ آپ رحمۃ للعالمین ہیں اور آپ کے سبب جو منافع وفوائد حاصل ہوئے شمار سے باہر ہیں۔ زمین وآسمان اور جوکچھ ان کے درمیان ہے سب کچھ آپ ہی کے وجودباجود کا طفیل ہے،پھر کہاں تک اس کا شمار کیاجائے!۔
زجاج اور سدی آیت کریمہ:  یَعْرِفُونَ نِعْمَۃَ اللّٰہِ ثُمَّ یُنْکِرُونَہَا کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ نعمت اللہ ،  محمد  رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  ہیں۔یعنی ظاہروباہر معجزات دیکھ کرکفار آپ کو نبی جانتے تھے مگرپھرعناداًانکارکرتے تھے۔ 
سید المفسرین ابن عباس رضی اللہ عنہما  سے بخاری وغیرہ نے آیت کریمہ: الَّذِیْنَ بَدَّلُوا نِعْمَۃَ اللّٰہِ کُفْراً کی تفسیریوں روایت کی ہے  :
قال ہم و اللہ کفار قریش۔۔۔۔۔۔و محمد  نعمۃ اللہ تعالیٰ۔ (۲)
یعنی وہ اللہ کی قسم نعمت کوناشکری سے بدلنے والے لوگ کفارِ قریش ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ کی نعمت، محمد  صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔
شرح مواہب زرقانی کے صفحہ ۲۲۱ میں یہ تینوں تفسیریں مرقوم ہیں۔جب نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم کانعمت الٰہی ہونا مفسرین ومحدثین کے کلام سے ثابت ہو گیا تو آپ کی یادمنانا اور تذکرہ کرناآیت کریمہ :  وَ اذْکُرُوا نِعْمَۃَ اللّٰہِ عَلَیْکُمْ کے منطوق میں عمومیت الفاظ کے ساتھ اچھی طرح داخل ہو گیا۔
 اسی طرح اللہ  سبحانہ و تعالیٰ  نے فرمایا  :
وَ اشْکُرُوْا نِعْمَۃَ اللّٰہِ إنْ کُنْتُمْ إیَّاہُ تَعْبُدُوْنَ۔ (۳)
 اور اللہ کی نعمت کا شکرکرو اگر تم اسے پوجتے ہو۔
اس آیت کریمہ میں حق سبحانہ اپنے بندوں کونعمتوں کی شکرگزاری کا حکم دیتا ہے۔ اور اوپر

(۱)	دلائل الخیرات وشوارق الانوار: ۲۱ دارالفقیہ،دبئی 
(۲)	صحیح بخاری:۱۲؍۳۷۳حدیث:۳۶۸۰۔
(۳)	سورۂ نحل،۱۶؍۱۱۴۔
ثابت ہو چکا کہ نعمتوں میں بڑی نعمت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کاوجود باجودہے۔لہٰذا اس نعمت کا شکریہ بجالانا،خوشی منانا اور اس کا ذکر جمیل کرنا حکم خداوندی کے پیش نظر اہل ایمان کے لیے ضروری ٹھہرا۔
نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا  : 
التَّحَدُّثُ بِنِعْمَۃِ اللّٰہِ شُکْرٌ وَ تَرْکُہٗ کُفْرٌ۔ (۱)
یعنی اللہ کی نعمت کا چرچا کرنا شکرہے اور نہ کرناکفرانِ نعمت ہے۔
یہ حدیث شیخ محی السنہ نے معالم میں آیت کریمہ:  وَ أمَّا بِنِعْمَۃِ رَبِّکَ فَحَدِّثْ کے تحت اسناد کے ساتھ روایت کی ہے۔لہٰذا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود باجود کی نعمت کا بیان کرنا، اللہ رب العزت کے انعام کی شکرگزاری، اور اس کاچھوڑ دینا کفرانِ نعمت ٹھہرا۔
 حق سبحانہ نے فرمایا  : 
وَ ذَکِّرْہُمْ بِأیَّامِ اللّٰہِ۔ (۲)
 اور انھیں اللہ کے دن یاد دِلا۔
امام رازی نے لکھاکہ دنوں سے مراد واقعات عظیمہ ہیں جو ان دنوں میں واقع ہوئے،پھر اہل ایمان کو دیکھناچاہیے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہور سے بڑھ کر اور کون ساواقعہ ہے، جس میں ایوانِ کسریٰ کاشق ہونا،بتوں کا سر کے بل گرجانا،آتش کدۂ فارس کابجھ جانا، رودخانہ سماوہ کا جاری ہونا، آسمان سے تاروں کا نیچے جھک آنا اور کعبۃ اللہ کا جھک کر شکر الٰہی بجالانا ایسے ایسے بہت سے واقعات کوشامل ہے۔لہٰذا یوم میلاد کی یاددلانا اہل ایمان کے نزدیک تمام ایام کے یاد دلانے سے بڑھ کرہے۔
تفسیر روح البیان میں بعض مفسرین سے یہ تفسیربھی نقل کی گئی ہے  :

(۱)	مسنداحمد: ۳۷؍ ۴۰۲حدیث: ۱۷۷۲۱۔۔ مصنف ابن ابی شیبہ:۳۷؍ ۴۰۲حدیث: ۱۷۷۲۱۔۔ شعب الایمان: ۱۹؍ ۱۲۰ حدیث: ۸۸۲۳۔۔مجمع الزوائد: ۲؍ ۳۶۳۔۔ المقاصد الحسنہ: ۱؍ ۹۶۔۔کنزالعمال:۳؍۲۵۵حدیث:۶۴۱۸ ۔۔مسند الجامع: ۳۶؍ ۳۰۵حدیث: ۱۱۸۹۱۔۔مسندبزار: ۸؍ ۱۸۰حدیث: ۲۷۹۱۔۔ فضیلۃ الشکر للہ علی نعمتہ: ۱؍۸ ۔۔ شکراللہ علی نعمہ خرائطی: ۱؍ ۸۷ حدیث: ۸۲۔
(۲)	سورۂ ابراہیم،۱۴؍ ۵۔
ذکرہم بأیام اللہ أی ذکرہم نعمائي لیومنوا بي۔ (۱)
یعنی انھیں میری نعمت یاد دلا تاکہ وہ مجھ پر ایمان لے آئیں۔
یہ بات ظاہرہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نعمت ہیں اور آپ کاتذکرہ، ایمان کی رونق بڑھانے کا ذریعہ ہے۔ 
اللہ تعالیٰ نے فرمایا  :
وَ رَفَعْنَا لَکَ ذِکْرَکَ۔ (۲)
 اور ہم نے تمہارے لیے تمہاراذکر بلندکر دیا۔
یعنی تم کو نبی بنایا،زمین وآسمان میں مشہور کیا، دنیا کے کونے کونے میں تمہاراذکر پھیلادیا اور تمہارے ذکرکو دلوں میں محبوب و مطلوب کر دیا۔
امام رازی یہ سب مطلب بیان کرنے کے بعد لکھتے ہیں  :
کأنہ  تعالیٰ یقول : أملاء العالم من أتباعک کلہم یثنون علیک و یصلون علیک۔ (۳)
یعنی یہ جو اللہ تعالیٰ نے بلندیِ ذکر کی بات کی تواس کا معنی یہ ہے کہ گویا اللہ تعالیٰ یوں فرماتا ہے کہ ہم دنیاکوتمہارے چاہنے والوں سے بھردیں گے وہ سب تمہاری تعریفیں کریں گے اور تم پردرود وسلام کے گجرے نچھ اور کریں گے انتہیٰ 
غورکرناچاہیے کہ یہ معنی محفل میلاد شریف پربخوبی صادق آتے ہیں۔بے شک یہ نورانی محفل آیت کریمہ وَ رَفَعْنَا لَکَ ذِکْرَکَ میں داخل ہے اس لیے کہ اس محفل میں درود شریف کی ایسی کثرت ہوتی ہے کہ کسی اور مجالس وعظ وتدریس میں ایسی نہیں ہوتی۔ اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم  کے نوروظہور اور معجزات وکرامات کابیان ہوتا ہے جوقبل ولادت ورضاع اور قبل وبعدنبوت ظاہر ہوئے، اور آپ کے حلیہ شریف کا بھی بیان ہوتا ہے۔یہ سب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ثنا اور صفت ہی توہے۔ لہٰذا تفسیرمذکور  یثنون علیک ویصلون علیک کامفہوم اس پر خوب صادق آیا۔ 
۔
(۱)	روح البیان: ۴؍ ۳۹۸لبنان۔
(۲)	سورۂ انشراح،۹۴؍ ۴۔
(۳)	تفسیررازی: ۱۷؍ ۹۱۔
 اور منبریاچوکی جیسی کسی پاکیزہ اور بلند مقام پربیٹھ کر بآواز بلند  پڑھنے سے  وَ رَفَعْنَا لَکَ ذِکْرَکَ کی ایک اور ہی شانِ رفعت ظاہرہوتی ہے۔ اور جوکچھ حضورسیدکائنات صلی اللہ علیہ وسلم  کے فضائل ومعجزات بیان کیے جاتے ہیں وہ روایتیں ہوتی ہیں کہ جنھیں صحابہ نے تابعین کی مجالس میں اور تابعین نے تبع تابعین کی مجلسوں میں بیان فرمایا ہے اسی طرح طبقہ بہ طبقہ یہ ذکر جمیل ہوتاہواہم تک پہنچا ہے،اگر یہ قصہ اور ذکرممنوع ہوتا تواول طبقہ ہی میں صحابہ اس سے اپنی زبان بند کر لیتے نہ ہم تک وہ فضائل پہنچتے اور نہ ہم مجالس ومحافل میں ان مدائح و مناقب کوآیت کریمہ وَ رَفَعْنَا لَکَ ذِکْرَکَکے مطابق آفاق میں پھیلاتے اور تشہیرکرتے۔
خلاصہ یہ ہے کہ یہ ذکر ثابت الاصل ہے،عہد صحابہ میں تقاضا کر کے وصف خیرالانام  صلی اللہ علیہ وسلم دل سے سناجاتا تھا۔ترمذی نے شمائل میں روایت کی ہے کہ حضرت امام حسن  رضی اللہ عنہ  فرماتے ہیں کہ میں نے ہند بن ابوہالہ تمیمی سے سوال کیا  :
وَ کَانَ وَصَّافاً عَنْ حِلْیَۃِ رَسُولِ اللّٰہِ  صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم  وَ أنَا أشْتَہِيْ أنْ یَصِفَ لِي مِنْہَا شَیْئاً أتَعَلَّقُ بِہٖ۔ (۱)
یعنی وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے حلیہ شریف نہایت عمدگی سے بیان کیا کرتے تھے۔ تو میں چاہتا تھا کہ وہ میرے سامنے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ اوصاف سنادیں کہ میری دلچسپی کاکچھ سامان ہو جائے۔
اب دیکھیے یہ حضرت امام حسن  رضی اللہ عنہ  نواسہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو وصال اقدس  صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت سات برس کے تھے،اتنی عمروالا اپنے اقرباکی صورت بھولا نہیں کرتاحالاں کہ یہ صاحب زادہ  رضی اللہ عنہ  تو کمال ذہین ومتین اور قوی الحفظ تھے۔رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  سے حدیث حفظ کر کے روایت فرمایا کرتے تھے۔چنانچہ صحاح ستہ کے چند ائمہ حدیث نے قنوت وترکی حدیث ان سے روایت فرمائی ہے۔ اور اسماء الرجال میں ان کو صحابہ میں شمار کیا ہے۔توظاہر ہے کہ ایسا صاحب حفظ ایسے پیارے نانا جان کی صورت  جوہردم گود میں 

(۱)	شمائل محمد یہ ترمذی: ۱؍۹حدیث: ۷ /۱؍۳۷۴حدیث: ۳۲۸۔۔ معجم کبیر طبرانی: ۱۶؍ ۲۶حدیث: ۱۷۸۶۸۔۔ دلائل النبوۃبیہقی: ۱؍ ۲۶۸حدیث: ۲۳۶۔۔ معرفۃ الصحابۃ اصبہانی: ۱۹؍ ۱۵۶ حدیث: ۵۹۵۶۔۔ الاحادیث الطوال طبرانی: ۱؍ ۵۱حدیث: ۳۰۔۔ الشریعہ آجری: ۳؍ ۱۲۶حدیث: ۱۰۰۸۔۔ دلائل النبوۃ اصبہانی : ۲؍ ۱۹۴حدیث: ۵۴۷۔۔ مجمع الزوائدومنبع الفوائد: ۴؍ ۲۲۔۔ مسندجامع: ۳۱؍۲۶۶حدیث: ۱۰۳۱۱۔
رکھتے تھے،کندھے پرچڑھالیتے تھے نہیں بھولے تھے بلکہ کیف حاصل کرنے کے لیے کہ حضور  صلی اللہ علیہ وسلم کاتذکرہ ،سرور قلب کاسبب ہو اور سن کردل میں خوب اچھی طرح منضبط کریں۔ اس لیے ہند بن ہالہ سے سوال کیا کہ مجھ کو شکل مبارک کے کچھ وصف سناؤ۔تو ہند ابن ہالہ نے وہ طویل حدیث بیان کیاجو شمائل میں مذکورہے۔
 اور ہندبن ہالہ کی نسبت یہ لفظ آیا: کان وصافا عن حلیۃ رسول اللّٰہ  صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ۔لفظ وصّاف مبالغہ کا صیغہ ہے، اور مبالغہ کثرت سے ہوتا ہے۔لہٰذا معلوم ہوا کہ وہ حلیہ شریف کثرت سے بیان فرماتے رہتے تھے۔
اسی طرح دارمی وغیرہ محدثین ابوعبیدہ سے جوکہ تابعی اور مقبول بین المحدثین ہیں   روایت کرتے ہیں کہ ابوعبیدہ نے مسمّاۃ رُبَیِّع صحابیہ سے عرض کیاکہ مجھ کورسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کاوصف سناتوبولیں  :
لَو رَأیْتَہٗ لَقُلْتَ : اَلشَّمْسُ طَالِعَۃٌ۔ (۱)
یعنی انھیں دیکھوتو ایسا لگتاکہ بس اب سورج نکلا چاہتا ہے۔
 اسی طرح بیہقی نے روایت کی کہ جلیل القدر تابعی ابو اسحق نے ایک صحابیہ سے عرض کیا کہ مجھ سے بیان کر کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کیسے تھے تووہ بولیں  :
کَالْقَمَرِ لَیْلَۃَ الْبَدْرِ لَمْ أرَ قَبْلَہُ وَ لاَ بَعْدَہُ مِثْلہُ  صلی اللہ علیہ وسلم (۲)
یعنی رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کیاتھے!جیسے کوئی چودھویں کا چاند کہ ان سا کوئی نہ تو میں نے پہلے دیکھا اور نہ ان کے بعد۔
غرض کہ اس قسم کی بہت سی روایتیں موجودہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ اور تابعین میں اکثر آپ کے اوصاف کے تذکرے رہا کرتے تھے۔عہد صحابہ اور اس زمانے میں صرف اسی قدر 

(۱)	ان سے دو طرح کی روایتیں ملتی ہیں۔ایک تو یہی مذکورہ جسے امام بیہقی نے دلائل النبوۃ میں جلد اول صفحہ ۱۳۴ حدیث : ۱۱۶ کے تحت درج فرمایا ہے۔مگر ساتھ ہی دوسرے راوی سے مندرجہ ذیل حدیث بھی ذکرکیا ہے۔
	 دوسری روایت یوں ہے:  لَو رَأیتُہٗ لَرَأیْتُہٗ الشَّمْسَ طَالِعَۃً۔(معجم کبیر طبرانی: ۱۸؍ ۱۲حدیث: ۲۰۱۵۹۔۔ معجم اوسط طبرانی: ۱۰؍ ۱۶۷حدیث: ۴۶۱۳۔۔ شعب الایمان: ۳؍۵۷حدیث: ۱۴۰۳۔۔سنن دارمی: ۱؍ ۷۱حدیث:۶۱ ۔۔ معرفۃ الصحابۃ:۲۳؍ ۱۵۱حدیث: ۶۹۹۹۔۔فتح الباری: ۱۰؍ ۳۶۰ باب صفۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم )
(۲)	دلائل النبوۃ بیہقی:۱؍ ۱۳۳حدیث: ۱۱۵۔۔اخبار مکہ فاکہی: ۱؍ ۴۸۳حدیث: ۴۴۱۔
فرق ہے کہ اُس وقت روایتیں مختصر طور پربیان ہوتی تھیں اور اب تفصیل وتطویل سے ہوتی ہیں۔ جس طرح کہ علم حدیث کاحال ہے۔
حضرت شاہ ولی اللہ ’’انتباہ‘‘ میں لکھتے ہیں کہ صدر اول میں حدیث لکھنے کا کوئی دستور نہ تھا یعنی صحابہ میں حدیث کا تذکرہ اور یادگاری زبانی ہوتی تھی لیکن ان کے بعد حدیثیں لکھی جانے لگیں اور ایک صدی کے بعد کتابت کابہت ہی اہتمام ہوا،پھردوسری صدی کے بعد پورے طور پر کامل تصنیفیں ہونے لگیں۔
غرض کہ اب یہ جو احادیث کی کتابوں میں ہے کہ ایک قسم کی حدیثوں کا باب الگ،نماز کی جس قدر حدیثیں ہیں وہ محدثوں نے ایک جگہ کر دیں اور زکوٰۃ کی ایک جگہ، پہلے یہ بات نہ تھی۔ 
بس اسی طرح حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے حلیہ شریف کی بابت جو روایتیں اور میلاد ورضاع وغیرہ کے متعلق جوواقعات صحابہ میں منتشر ومتفرق تھے ایک وقت وہ آیاکہ محدثین کے دل میں خیال پیداہوا کہ ان کویکجا جمع کر دیاجائے تب انھوں نے جمع کیے تو وہ رسالے بن گئے اس طرح سیکڑوں رسائل میلاد شریف پرتصنیف ہو گئے۔انھیں میں حافظ شمس الدین محدث دمشقی کا مولد شریف ’’مورد الصاوي في مولد الہادي‘‘ ۔۔محمد  بن عثمان لولوی دمشقی کا ’’الدرالمنظّم في مولد النبي الأعظم‘‘ ۔۔امام القراوالمحدثین ابن جوزی کا ’’عرف التعریف في مولد الشریف‘‘۔۔مجد الدین  صاحب قاموس  کا ’’نفحات العنبریۃ في مولد خیر البریۃ‘‘بھی اس میں شامل ہے۔(اس سلسلہ خیر کی )جملہ کتابوں کا نام لکھنا طول کا باعث ہے۔
غرض کہ علامہ سخاوی اور ابن حجروغیرہ محدثین نے اس قسم کی روایات کوپاکیزہ الفاظ اور نفیس ترکیب میں نظماً اور نثراً جمع کرنا اور اس خیرمیں شریک ہونا اپنے لیے مایۂ سعادت سمجھا اور ان کے وہ رسائل (ذوق وشوق سے)محفلوں میں پڑھے جانے لگے۔ پھر فارسی دانوں نے فارسی زبان میں (اس کاترجمہ کیا)،بلادرومیہ میں ترکی زبان میں اور ہندوستان میں ہندی زبان میں ترجمہ ہو کروہ پڑھے جانے لگے۔
یہ ذکر پاک چوں کہ خوشی ومسرت کا باعث تھا اس لیے اس میں کچھ سامانِ سرور مثلاً مجلس کی تزئین،بخور وعطریات کا استعمال،کھاناکھلانا،شیرینی بانٹنا اور دوست بھائیوں کا اس میں اکٹھا ہونا بھی داخل ہو گیا، ان امور کے شامل ہونے کوعلما نے جائز رکھا ہے۔چنانچہ جلال الدین سیوطی نے ’’حسن المقصد‘‘ اور ملاعلی قاری نے ’’مورد الروی‘‘ میں علامہ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ  سے نقل کیا ہے  :
و أما ما یتبعہ من السماع و اللہو و غیرہما فینبغي أن یقال ما کان من ذلک مباحا بحیث یعین السرور بذلک الیوم فلا بأس بإلحاقہ و ما کان حراما أو مکروہا فیمنع۔
یعنی محفل میلاد کے اندرلہووسماع وغیرہ جو مباح کام ہوتے ہیں تو ا س میں کوئی حرج نہیں کہ ان کی وجہ سے خوشیاں دوبالاہو جایا کرتی ہیں۔ہاں ! اگر اس میں کوئی حرام و مکروہ کام ہو تو اسے بہرحال منع کیاجائے گا۔
 اس عمل کو ماہِ ربیع الاول کے ساتھ خاص کیا گیا۔ہرچند وہ تو نہایت ہی قدیم یعنی وقت صحابہ سے چلاآرہا تھا لیکن یہ سامان فرحت وسرور کرنا اور اس کو بھی ربیع الاول کے مہینہ کے ساتھ مخصوص کرنا اور اس میں بھی میلاد شریف کے لیے خاص وہی بارہواں دن معین کرنا بعد میں ہوا یعنی چھٹی صدی کے آخر میں۔ 
 سب سے پہلے تخصیص وتعیین کے ساتھ ربیع الاول کا یہ عمل ،عراق کے ایک شہر’’موصل‘‘ میں ہوا،جسے صلحاے روزگار میں سے ایک متقی ودین دارشیخ عمرنے شروع کیا۔یہ جولوگوں میں مشہور ہے کہ مولود شریف سات سو برس سے نکلا ہے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ بعض خصوصیات کی وجہ سے اتنے دنوں سے ہے ورنہ میلادشریف کا اصل تذکرہ تو رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت سے چلا آرہا ہے۔ بادشاہوں میں سب سے پہلے ابوسعید مظفر بادشاہ نے ربیع الاول میں تخصیص وتعیین کے ساتھ میلاد شریف کیا۔غرض کہ اس بادشاہ نے اس کام میں شیخ عمر کی پیروی کی۔وہ ہر سال ربیع الاول میں تین لاکھ اشرفی لگا کر بڑی محفل کیا کرتا تھا۔ اس کے زمانے میں ’ابوالخطاب بن دحیہ، نامی ایک عالم گزرے ہیں  جوحضرت دحیہ کلبی صحابی کی نسل اور اولاد سے تھے جن کی بابت شرح علامہ زرقانی اور تاریخ کی دیگرعربی کتابوں میں لکھا ہے کہ وہ علم حدیث کے بڑے ماہر اور پختہ کار تھے، علم نحو،لغت اور تاریخ عرب میں کامل تھے، کئی ملکوں میں جا کر انھوں نے علم حاصل کیا تھا۔ملک اندلس، مراکش،افریقہ، مصر،شام، عراق،دیارشرقیہ وغربیہ اور ماژندان وخراسان وغیرہ کے اکثر شہروں میں علم حدیث حاصل کرتے اور دوسروں کو فائدہ پہنچاتے انجام کار   ۶۰۴ھ (1207ئ) میں شہر اربل آئے۔جہاں سلطان ابوسعیدمظفر کے لیے میلادشریف (کے موضوع پر)  ’’ التنویر في مولد البشیر النذیر‘‘ نامی ایک کتاب لکھی، خاص سلطان کے سامنے اسے پڑھا، اور ایک ہزار اشرفی انعام پائی۔
منکرین حضرات مولدشریف لکھنے اور پڑھنے کی وجہ سے اس عالم ومحدث کواپنا دشمن جانتے ہیں، اور ان کی برائی کرتے ہیں ،حالاں کہ کتب معتبر ہ میں ان کی تعریف مندرج ہے۔ اور اسی طرح وہ سلطان مظفر کو بھی برا کہتے ہیں۔اس کے پلٹنوں میں طبل غازی بجتا تھا جس سے منکرین نے اس پرمزامیر سننے کاعیب لگایا، حالاں کہ وہ تیاریِ جہاد کے آلات میں داخل تھا،اس قسم کے طبل وغیرہ دوسری چیزہیں اور کھیل کود کے مزامیر دوسری چیز۔ سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کی مدحتیں سن کر شدت سرور میں اسے وجد آ جاتا تھا ، جس کو ان بھلے مانسوں نے محفل میں ناچنے سے تعبیر کیا اور لکھاکہ اس کی محفل میں خیال گائے جاتے تھے،یہ اس کا خاکہ اڑایاکہ یہ اشعارنعت پڑھے جاتے تھے اور اشعار کی تعریف خود کتابوں میں تصریحالکھی ہے کہ اشعارمقدمات خیالی کو کہتے ہیں۔توکہا ں یہ خیال اور کہاں وہ پٹا اور خیال جس کی تعریف میں تواریخ عرب میں طومار کے طوماربھرے ہوئے ہیں۔چوں کہ یہ طول کا موقع نہیں اس لیے شارح مواہب ،علامہ زُرقانی کی ایک مختصر عبارت لکھتاہوں جسے انھوں نے تاریخ ابن کثیر سے نقل فرمایا ہے  :
کان شہما شجاعا بطلا عاقلا عادلا محمود السیرۃ۔ (۱)
جو تندرست،بہادر،دلیر،دانش مند،انصاف ور اور اچھی سیرت وخصلت کا مالک تھا۔
 الحاصل! اس بادشاہ کے دور میں محفل میلاد دھوم سے ہونے لگی اور بڑے بڑے علما ومشائخ اور صوفیہ اس میں شامل ہونے لگے۔ سبط ابن الجوزی نے(مرآۃ الزمان میں ) لکھا ہے  :
و کان یحضر عندہ في المولد أعیان العلماء و الصوفیۃ۔ (۲)
یعنی میلاد شریف کی محفل میں وقت کے اجلہ علما اور صوفیہ شرکت فرماتے تھے۔
جلال الدین سیوطی نے’’فتاویٰ حسن المقصد‘‘ میں لکھا ہے  :
أحدثہ ملک عادل عالم و قصد بہ التقرب إلی اللہ  عزوجل  و حضر عندہ فیہ العلماء و الصلحاء  من غیر نکیر منہم۔ (۳)

(۱)	سبل الہدیٰ والرشاد: ۱؍۳۶۲۔
(۲)	حوالہ سابقہ: ۱؍ ۳۶۲۔
(۳)	نفس مصدر: ۱؍ ۳۷۰۔
 یعنی میلاد شریف کے عمل کو ایک عالم منصف بادشاہ نے تقرب الٰہی حاصل کرنے کے لیے ایجاد کیا جس میں بلا اختلاف علما اور صالحین حاضر ہوا کرتے تھے۔
 اس سے معلوم ہوا کہ اس عمل پربلا انکار جملہ علماوصلحاکا اجماع ہو گیا۔لیکن اس اجماع کے پچاس برس بعد تاج الدین فاکہانی مغربی پیداہوا۔اس کی ولادت  ۶۵۴ھ (1257ئ) میں ہوئی، اور ابوسعید مظفرنے محفل میلاد کاآغاز   ۶۰۴ھ (1207ئ) میں کیا اور   ۶۳۶ھ (1239ئ) میں اس بادشاہ کا انتقال ہوا۔غرض کہ اس اجماع اور شاہ مظفرکی وفات کے بعد اس عالم یعنی فاکہانی نے جمہورمخالف ہو کر میلاد شریف کے عدم جوازپرفتویٰ لکھ دیاجس کافقہاومحدثین نے رد کیا۔ میلاد شریف قدیم دستور کے مطابق قائم ودائم رہا اور شرق وغرب ،شمال وجنوب تمام اسلامی شہروں میں رائج ہو گیا۔چنانچہ ملا علی قاری اور علامہ حلبی وقسطلانی وغیرہ نقل کرتے ہیں  :
ثم لا زال أہل الإسلام في سائر الأقطار و المدن الکبار یحتفلون في شہر مولدہ  صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔۔۔۔۔۔و یعتنون بقراء ۃ مولدہ الکریم و یظہر علیہم من برکاتہ کل فضل عمیم۔ (۱)
یعنی پھر تمام اطراف اور بڑے بڑے شہروں میں اہل اسلام ماہ میلاد النبی  صلی اللہ علیہ وسلم  میں برابر محفلیں جماتے رہے، اور سرکارکے میلاد مبارک پڑھنے کا اہتمام کرتے رہے جس کی برکت سے ان پر افضال وبرکات کی بارشیں ہوتی رہیں۔
 ملا علی قاری نے تمام ملکوں میں میلاد شریف کاہونا ثابت کیا ہے جس کاجی چاہے ان کا رسالہ ’’مورد الروی‘‘اٹھا کر دیکھ لے وہ لکھتے ہیں کہ مولود شریف کی محفلیں ، حرمین شریفین زادہما اللہ شرفاو تعظیماً ملک مصر،ملک اندلس، ممالک مغربی، ملک روم،ممالک عجم اور ملک ہندوستان وغیرہ میں کمال اہتمام واحتشام سے ہوتی ہیں۔مزید یہ بھی لکھا  :
و من تعظیم مشائخہم و علمائہم ہذا المولد المعظم و المجلس المکرم انہ لا یأباہ أحد في حضورہ رجاء إدراک نورہ۔
یہاں لفظ ہم کی ضمیر غائب مذکورہ تمام دیاروامصار کی طرف لوٹ رہی ہے جس کے معنی یہ ہوئے :
اس محفل و مجلس مبارک کی تعظیم ان جملہ ملکوں کے مشائخ طریقت اور علمائے شریعت اس قدر کرتے ہیں کہ ان میں سے کوئی بھی اس محفل کے انواروفیوض سے متمتع ہونے کے لیے اس میں حاضر ہونے سے انکار نہیں کرتا۔

(۱)	سبل الہدیٰ والرشاد: ۱؍ ۳۶۲۔۔سیرت حلبیہ:۱؍۱۲۲
تو اس عمل پاک کی کثرت اور اس کی شہرت ومقبولیت ملاعلی قاری وغیرہ کے کلام سے روشن ہو گئی، ساتھ ہی یہ بھی معلوم ہوا کہ علماومشائخ میں سے کوئی بھی اس کا انکار نہیں کرتا تھا جس سے ظاہر ہوا کہ وہ جو کوئی ایک یا دوآدمی ادھر اُدھر انکارکرتے رہے تووہ ہزاروں لاکھوں بلکہ سواد اعظم کا مخالف سمجھ کر ہردور اور ہر عہد میں غیرمقبول اور متروک العمل رہے۔ 
امام سخاوی  رحمۃ اللہ علیہ  کا یہ کلام جو سیرت حلبی میں منقول ہے  :
ثم لا زال أہل الإسلام في سائر الأقطار والمدن الکبار یعملون المولد۔(۱)
یعنی اہل اسلام تمام بڑے شہروں اور اطراف وجوانب میں میلاد النبی  صلی اللہ علیہ وسلم کا ہمیشہ سے اہتمام فرماتے چلے آرہے ہیں۔
یوں ہی ’’مواہب اللدنیہ‘‘  مولفہ شیخ شہاب الدین قسطلانی   میں ابن الجزری کا یہ کلام منقول ہے  :
و لا زال أہل الإسلام یتحفلون بشہر مولدہ  علیہ الصلوٰۃ و السلام 
یعنی مسلمان، ماہِ ولادت مصطفیٰ  صلی اللہ علیہ وسلم کی محفلیں ہمیشہ سے سجاتے چلے آرہے ہیں۔ 
ان عبارتوں میں لازال أہل الإسلام جمہور اہل اسلام کے اجماع اور مخلوق میں اس عمل مقبول کے دوام کافائدہ دے رہا ہے۔چنانچہ حرمین شریفین  زادہما اللہ شرفاوتعظیماً  میں زمانۂ قدیم سے آج تک اور ملک روم وشام،اندلس اور مغربی ممالک وغیرہ جملہ بلاد اسلامیہ میں ہمیشہ سے اس وقت تک میلاد شریف کے اسی اسحباب واستحسان پرعمل ہے، بجز خطہ پاک ہندوستان کے کہ اس میں طرح طرح کے انکار پیداہو گئے۔ مگرزمانۂ قدیم میں ہندوستان کے اندر بھی علمائے ہند کی مقبول ومعتمدشخصیات مثلاً شیخ عبد الحق محدث دہلوی اور ملامحمد طاہر  صاحب مجمع البحار میلاد شریف کے استحباب کے قائل تھے۔نیزبادشاہانِ دہلی ہمایوں وغیرہ کے بعض قصص وحکایات اور حافظ ابوالخیرسخاوی کے کلام سے ہندوستان میں اس عمل پاک کارائج ہونا بھی یقینی طور پرمعلوم ہے۔ انتہا یہ کہ اس وقت جو انگریزحکام وفرماں رواہیں کہ جنھیں تعظیم وآداب نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ علاقہ نہیں انھوں نے بھی اپنے محکمہ و کچہری میں اہل اسلام کے لیے جابجاچھٹیاں مقرر کر رکھی ہیں۔ مثلاعید،بقرعید،شب براءت اور ربیع الاول کی بارہویں تاریخ کو میلادحضرت خیرالعباد  صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشی منانے کے لیے ایک ایک دن کی تعطیل۔


(۱)	سبل الہدیٰ والرشاد: ۱؍ ۳۶۲۔۔سیرت حلبیہ:۱؍۱۲۲۔
افسوس صدافسوس کہ انگریزحکام تو اپنے کاروبار میں حرج منظورکر لیں،اپنے حقوق خدمت اور کارگزاری ، اس روز حضورکی سروروتعظیم کی بجاآوری کے لیے موقوف کر دیں اور اس کے مقابل میں یہ لوگ زبان سے فرمائیں کہ یہ فعل بدعت وضلالت ہے! معاذ اللہ  اس دین داری اور خوش عقیدتی پرافسوس ہے۔ خیر! انکار کرنے والے انکارکریں کہ ان کویہی توفیق ملی ہے کہ وہ ذکر رسول  صلی اللہ علیہ وسلم کی محفل پاک سے کنارہ کرتے رہیں مگر ہم اس وقت تک کا کامل ثبوت فراہم کر چکے کہ مشرق سے مغرب تک تمام ممالک اسلامیہ میں اس عمل پاک کواہل اسلام محمود اور مستحسن جانتے ہیں تواب ہم کو ابن مسعود رضی اللہ عنہ  کی یہ حدیث کافی ہے کہ آپ فرماتے ہیں  :
مَا رَآہُ الْمُسْلِمُونَ حَسَنًا فَہُوَ عِنْدَ اللّٰہِ حَسَنٌ۔ (۱)
یعنی جس چیز کو اہل اسلام اچھاجانیں وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک بھی اچھی ہے۔ 
امام احمدنے اپنی مسند میں اور طبرانی نے معجم کبیرمیں مرفوعاروایت کی ہے  :
سَأَلْتُ اللّٰہَ  عزوجل  أنْ لاَّ یَجْمَعَ أمَّتِي عَلَی ضَلاَلَۃٍ فَأعْطَانِیْہَا۔ (۲)
یعنی میں نے اپنے پروردگار سے سوال کیاکہ میری امت کبھی کسی گمراہی پرجمع نہ ہو تواللہ تعالیٰ نے میراسوال پورافرمادیا۔
ابن عمرسے مرفوعاً روایت ہے  :

(۱)	مسنداحمد: ۷؍ ۴۵۳حدیث: ۳۴۱۸۔۔مصنف ابن ابی شیبہ: ۷؍ ۴۵۳حدیث: ۳۴۱۸۔۔مستدرک: ۱۰؍ ۲۵۷حدیث: ۴۴۳۹۔۔ معجم کبیر طبرانی: ۸؍ ۱۲حدیث: ۸۵۰۴۔۔ معجم اوسط طبرانی: ۸؍ ۲۶۳حدیث: ۳۷۴۰۔۔ معرفۃ السنن والآثار: ۱؍ ۷۳ ۔۔معرفۃ الصحابہ: ۱؍۵۷حدیث: ۴۱۔۔ مسندطیالسی: ۱؍ ۲۵۵حدیث: ۲۴۰۔۔ مجمع الزوائدومنبع الفوائد: ۱؍ ۱۰۷ ۔۔ کنزالعمال: ۱۲؍۴۸۵حدیث: ۳۵۵۹۰۔۔ نصب الرایہ: ۱۰؍۴۳۴۔۔ امالی ابن مردویہ:۱؍ ۱۹حدیث: ۱۸۔۔ الاعتقاد بیہقی: ۱؍ ۳۳۰حدیث: ۲۹۷۔۔ بحرالزخارمسندبزار:۵؍ ۲۱۹حدیث: ۱۶۰۶۔۔ الشریعہ آجری: ۳؍۲۶۳حدیث: ۱۱۲۸ ۔۔ الفقیہ والمتفقہ خطیب بغدادی: ۱؍ ۴۹۲حدیث: ۴۳۹۔۔ المدخل الی السنن الکبریٰ بیہقی: ۱؍ ۲۸حدیث: ۲۷۔۔ تثبیت الامامۃ و ترتیب الخلافۃ اصبہانی: ۱؍ ۲۱۷حدیث: ۲۰۲۔۔ جامع بیان العلم وفضلہ ابن عبد البر: ۳؍ ۸۴حدیث: ۱۰۲۴۔۔ فضائل الصحابہ احمدبن حنبل: ۲؍ ۲۶حدیث: ۵۱۷۔۔ معجم ابن الاعرابی: ۲؍ ۳۴۴حدیث: ۸۴۳۔ 
(۲)	مسنداحمد: ۵۵؍۲۱۱حدیث: ۲۵۹۶۶۔۔مصنف ابن ابی شیبہ: ۵۵؍۲۱۱حدیث: ۲۵۹۶۶۔۔معجم کبیر طبرانی: ۲؍ ۶۰۵ حدیث: ۲۱۲۹۔۔ مجمع الزوائد: ۱؍ ۱۰۷۔۔ کنزالعمال:۱۱؍۱۷۴حدیث:۳۱۱۰۰۔۔  المسند الجامع:۴؍۳۸۶حدیث: ۳۴۸۶۔
إنَّ اللّٰہ لَا یَجْتَمِعُ ہٰذِہ الأمَّۃ عَلٰی ضَلاَلَۃٍ أبَدًا۔ (۱)
یعنی اللہ تعالیٰ اس امت کو کبھی بھی گمراہی پر جمع نہ فرمائے گا۔
امام سیوطی کے کلام سے معلوم ہو چکا ہے کہ   ۶۰۴ھ (1207ئ)سے اس عمل کے استحسان پرعلما اور صلحاے امت کا بلانکیر اجماع ہے توعلمائے امت کایہ اجماع حدیث کی روسے اس بات پردلیل شافی ہے کہ یہ عمل ضلالت نہیں ہے۔ اور فاکہانی مغربی نے جو مدت دراز کے بعد پیداہو کر مخالفت کی تویہ خود اس کی خطا ہے۔آیت کریمہ:  وَ مَنْ یَّتَّبِعِْ غَیْرَ سَبِیْلِ الْمُوْمِنِیْنَ(نسائ: ۱۱۵) سے اندیشہ کرنا ضروری تھاتوفاکہانی کی مخالفت علمائے سلف کے اتفاق کے خلاف ٹھہری۔ اور یہ قاعدہ مسلم ہے کہ والعمل علی الخلاف خرق الإجماع  یعنی اتفاق امت کے خلاف عمل کرنا اجماع کو توڑ دیتا ہے، اور یہ بڑی خطا ہے۔
فاکہانی کے بعد ،انکار میں بعض لوگ جو اس کے تابع ہوئے تو وہ دراصل خلاف کی پیروی ہے اور شرعا ناجائزہے۔اس کو اختلاف نہیں کہ سکتے اور اگر کوئی اس کو اختلاف ہی قرار دے اور کسی گروہ کے پانچ دس مولوی ایک جگہ باندھ کر اور اس عمل پاک کا انکارکر کے اختلاف کی صورت ظاہر کریں تب بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام سے اس کا صاف صفایاہو جاتا ہے۔
ابن ماجہ اور دارقطنی وغیرہ محدثین حضرت انس سے مرفوعاروایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا  :
فَإذَا رَأیتُمُ اخْتِلَافاً فَعَلَیْکُمْ بِالسِّوَادِ الأعْظَمِ۔ (۲)
یعنی جب علمائے امت میں اختلاف دیکھوتو جس پرسواد اعظم ہوں اس کی پیروی کرو۔
جولوگ سوادِ اعظم کے معنی میں ہیر پھیر کر کے طرح طرح کی باتیں پیش کرتے ہیں وہ قابل توجہ نہیں۔جمہورمحدثین کے نزدیک اس کے معنی وہ ہیں جومولانا احمد علی محدث سہارن پوری مرحوم نے اپنی مطبوعہ مشکوٰۃ میں شرح ملاعلی قاری سے نقل کیے ہیں  :

(۱)	الابانۃ الکبریٰ: ۱؍ ۱۶۲حدیث: ۱۵۶۔۔ مستدرک: ۱؍ ۳۸۱حدیث: ۳۶۱۔۔ کنزالعمال:۱؍۲۰۶حدیث: ۱۰۲۹۔ 
(۲)	سنن ابن ماجہ: ۱۱؍ ۴۴۲حدیث: ۳۹۴۰۔۔الابانۃ الکبریٰ: ۱؍ ۱۲۸حدیث: ۱۲۳۔۔ مسندعبد بن حمید: ۳؍ ۳۴۴ حدیث: ۱۲۲۴۔۔ مسندالشامیین: ۶؍ ۲۱۵حدیث: ۲۰۳۸۔۔ کنزالعمال:۱؍۱۸۰حدیث: ۹۰۹۔۔ المسند الجامع: ۴؍ ۱۵۲ حدیث: ۱۲۲۰۔۔تحفۃ الاشراف: ۳؍۳۴۷حدیث: ۱۷۱۵۔
یعبر بہ عن الجماعۃ الکثیرۃ و المراد ما علیہ أکثر المسلمین۔ (۱)
یعنی سوادِ اعظم سے کثیرجماعت مراد ہوتی ہے یعنی تم اس کی پیروی کروجس پراکثرمسلمان ہوں۔
اسی طرح مولوی اسحق صاحب کے خلیفہ وشاگرد رشید نواب قطب الدین خان صاحب نے ترجمہ مشکوٰۃ ’’مظاہرالحق‘‘میں اس حدیث کی شرح یوں لکھی ہے  :
جو اعتقاد اور قول وفعل اکثر علما کے ہوں ان کی پیروی کرو۔ 
باقی رہی یہ بات کہ اکثر علماسے کس فریق کے علما مرادہیں تواس کو علم اصول کی کتاب ’’توضیح‘‘ میں واضح کیا گیا ہے کہ وہ اہل سنت وجماعت سے ہونے چاہئیں عبارت یوں ہے  :
و السواد الأعظم عامۃ المسلمین ممن ہو أمۃ مطلقۃ، و المراد بالأمۃ المطلقۃ أہلُ السنۃ و الجماعۃ۔ (۲)
یعنی سوادِاعظم سے امت مسلمہ کی اکثریت مراد ہوتی ہے، اور جب مطلق امت بولی جائے تو اس سے اہل سنت وجماعت مراد ہوتے ہیں۔
علم اصول کی روشنی میں یہ بھی معلوم ہو چکا ہے کہ جس عمل پر مدت دراز سے علمائے محققین کا اتفاق چلا آرہاہو وہ شرع میں حجت اور دلیل حقیقت ہے۔’’مسلم الثبوت‘‘ کے آخرتتمہ میں ہے  :
إن اتفاق العلماء المحققین علی ممر الأعصار حجۃ کالإجماع۔
یعنی عرصہ دراز سے کسی بات پر علمائے محققین کا اتفاق ،اجماع کی طرح حجت مانا جاتا ہے۔
اس مقام پر علامہ بحرالعلوم نے’المحققین،کے تحت لکھا ہے  : 
و إن کانوا غیر مجتہدین۔
یعنی یہ محققین گرچہ غیرمجتہد ہی کیوں نہ ہوں۔
مطلب یہ ہوا کہ کسی امرپرمدت درازسے جو علمائے اہل تحقیق کا اتفاق چلاآتاہوتواگر وہ مجتہدنہ بھی ہوں تب بھی ان کایہ عمل، اجماع کی طرح حجت ہے۔
اب دیکھیں کہ میلاد شریف کو جائزرکھنے والے علماجیسے ابوشامہ،ابن حجر،ابن جزری، سیوطی اور ملاعلی قاری وغیرہ  جن کے نام نامی لمعہ تاسعہ میں درج ہوں گے  سب اہل سنت وجماعت ہیں، کسی نے بھی  معاذ اللہ ان کو اہل بدعت میں شمار نہیں کیا ہے، اور یہ لوگ محققین بھی ہیں۔ لہٰذاعمل مولدشریف پر ان سب کا اتفاق ،اجماع کی طرح حجت ٹھہرا فالحمد للہ علی ذلک 

(۱)	مرقاۃ شرح مشکوٰۃ :۱؍۱۷۴۔
(۲)	تلویح علی التوضیح: ۳؍۳۸ الامرالثانی اہلیۃ من ینعقد بہ۔۔۔  



لمعہ ثانیہ مشائخ خاندانِ عزیزیہ اور شرکت محفل میلادشریف

جناب مرشدی و مولائی حضرت حاجی امدا د اللہ صاحب  عم فیوضہم  بھی شریک محفل ہوا کرتے ہیں۔مولانا شاہ عبد العزیز دہلوی  رحمۃ اللہ علیہ  کا اس سلسلہ میں بیان یہ ہے کہ آپ نے رئیس مرادآباد،علی محمد  خان صاحب کوایک خط رقم فرمایاجس کی عبارت ملخصاًیوں ہے  :
در تمام سال دو مجلس درخانہ فقیر منعقد می شود اول کہ مردم روز عاشورایایک دو روز پیش ازیں قریب چہارصد یاپانصد کس بلکہ قریب ہزارکس وزیادہ ازاں فراہم می آیند ودرود می خوانند بعد ازاں کہ فقیر می آید می نشیندوذکرفضائل حسنین کہ درحدیث شریف وارد شدہ در بیان می آید وآنچہ در احادیث اخبار شہادت ایں بزرگان وارد شدہ نیز بیان کردہ می شود و بعدازاں ختم قرآن و پنج آیت خواندہ بر ما حضرفاتحہ نمودہ می آید پس اگر ایں چیزہا نزد فقیر جائز نمی بود اقدام براں اصلاًنمی کرد باقی ماند مجلس مولود شریف پس حالش اینست کہ بتاریخ دوازدہم شہر ربیع الاول ہمیں کہ مردم موافق معمول سابق فراہم شدند و درخواندن درود شریف مشغول گشتند و فقیر می آیداولا بعضے از احادیث و فضائل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مذکور می شود بعد ازاں ذکر ولادت باسعادت ونبذے از حال رضاع وحلیہ شریف و بعضے از آثار کہ دریں آوان بظہور آمد بمعرض بیان می آید پس برماحضراز طعام یا شیرینی فاتحہ خواندہ تقسیم آں بحاضرین مجلس می شود۔
یعنی سال میں دومجلسیں فقیر کے گھر منعقد ہوا کرتی ہیں۔پہلی کہ عاشورا کے دن یا اس سے ایک دوروز قبل چارپانچ سو کی تعداد میں بلکہ ہزار سے بھی زیادہ لوگ جمع ہوتے ہیں اور درود پڑھتے ہیں۔پھر فقیر کے آنے کے بعد حدیث میں واردہ شدہ فضائل حسنین کاتذکرہ ہوتا ہے اور حدیث کی روشنی میں بیان شہادت بھی ہوتا ہے جوکہ بزرگوں کا طریقہ ہے۔اس کے بعد فاتحہ کے لیے جوچیزموجود ہوتی ہے اس پر ختم قرآن اور پنج سورتیں پڑھی جاتی ہیں، اب اگر یہ چیز یں فقیر کے نزدیک جائز نہ ہوتیں توانھیں عمل میں کبھی نہ لایاجاتا۔ رہی بات مجلس میلاد شریف کی تو اس کا حال یہ ہے کہ بارہ ربیع الاول میں لوگ مذکورہ بالاتعداد میں حاضر ہوتے ہیں اور درود شریف کے ورد میں مشغول ہو جاتے ہیں،پھر فقیرکی آمد ہوتی ہے پہلے تواحادیث کی روشنی میں کچھ سرکار  علیہ السلام  کے فضائل بیان کیے جاتے ہیں، اس کے بعدآپ کی ولادت باسعادت کا تذکرہ ہوتا ہے، آپ کی رضاعت کے احوال اور کچھ حلیہ شریف کا بیان ہوتا ہے اور کچھ وہ واقعات سنائے جاتے ہیں جوآپ کی تشریف آوری پرظہور پذیرہوئے،پھر کھانایا شیرینی جوکچھ حاضر ہوتا ہے اس پرفاتحہ دی جاتی ہے اور حاضرین مجلس میں اس کوتقسیم کر دیا جاتا ہے۔
یہ شاہ عبد العزیز صاحب وہ ہیں کہ جن کاشہرہ زبان زد خاص وعام ہے، اور منکرین بھی ان تک سندحدیث کاسلسلہ پہنچ جانے کو اپنے لیے کمالِ درجہ مایۂ افتخار سمجھتے ہیں۔تو جس طرح ہم ان کی تحریروں سے وجود بدعت حسنہ کا ثبوت ثابت کر چکے ہیں اور اموات کے سلسلہ میں مروّجہ صدقات کی سندیں بھی ان کو دے چکے ہیں، تواب انھیں کے کلام سے بدعت حسنہ کے اس فردِ خاص ذی اختصاص مروج بین اہل اخلاص یعنی میلاد النبی  صلی اللہ علیہ وسلم کی سندبھی گزار دی، اور اس کے اندر تبعاً کھانے پرفاتحہ کی تائید بھی ہو گئی ہے۔ 
اب حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کا بیان سنیے۔یہ شاہ عبدالعزیز دہلوی موصوف کے باپ،استاد اور پیرتھے۔آپ نے اپناحال’’فیوض الحرمین‘‘میں یوں لکھا ہے  :
کنت قبل ذلک بمکۃ المعظمۃ في مولد النبي  صلی اللہ علیہ وسلم  في یوم ولادتہ و الناس یصلون علی النبي  صلی اللہ علیہ وسلم  ویذکرون إرہاصاتہ التي ظہرت في ولادتہ و مشاہدۃ قبل بعثتہ فرأیت أنوارا سطعت دفعۃ واحدۃ لا أقول إني أدرکتہا ببصر الجسد و لا أقول أدرکتہا ببصر الروح فقط   واللہ أعلم  کیف کان الأمر بین ہذا و ذلک فتأملت تلک الأنوار فوجدتہا من قبل الملائکۃ الموکلین بأمثال ہذہ المشاہدۃ بأمثال ہذہ المجالس و رأیت یخالط أنوار الملائکۃ أنوار الرحمۃ۔
یعنی شاہ ولی اللہ صاحب فرماتے ہیں کہ میں اس سے پہلے ماہِ ولادت یعنی ربیع الاول شریف میں میلاد النبی  صلی اللہ علیہ وسلم کے موقع پرمکہ معظمہ میں تھا،لوگ نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم پردرود نچھ اور کر رہے تھے،ساتھ ہی سرکار کی ولادت کے وقت جوواقعات ظہور پذیر ہوئے نیز آپ کی بعثت سے پہلے کے احوال بیان ہو رہے تھے،میں نے دیکھا کہ یکایک انوارِ غیبی بلند ہو گئے، میں نہیں کہ سکتاکہ یہ واقعہ میں نے اپنی ظاہری آنکھ سے دیکھا یاباطنی آنکھ سے، اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ ظاہروباطن کے درمیان وہ کیاعالم تھا،پھرمیں نے تجسس اور غورسے ان انوار کو دیکھا تو وہ ان فرشتوں کے انوار تھے جن کو حق تعالیٰ نے اس بات پر معین کررکھا ہے کہ وہ ایسے ایسے مقامات میں اور ایسی ایسی مجلسوں میں حاضر ہوا کریں،نیزمیں نے یہ بھی دیکھا کہ انوارِ رحمت اور انوارملائکہ باہم خلط ملط ہو رہے تھے۔
یعنی ایک تو ملائکہ خود اجسام نوری ہوتے ہیں،دوسرے حاضرین مجلس کے لیے انوارِ رحمت نازل ہوئے،تواب یہ دونوں نور مل کر مجلس میں نورٌعلی نور کاسماں باندھ رہے تھے جس کو اس عبارت سے تعبیر کیا ہے  :
فرأیت أنواراً سطعت دفعۃ۔
دیکھیے حضرت شاہ ولی اللہ صاحب ذکرولادت شریف کی ایسی مجالس میں فرشتوں کی آمد اور رحمت کا نزول اپنے مشاہدہ سے ثابت کر رہے ہیں۔
اب ان کے والد بزرگوارحضرت شاہ عبد الرحیم رحمۃ اللہ علیہ  کا حال سنیے جوشریعت وطریقت میں بھی ان کے رہ نماتھے۔حضرت شاہ ولی اللہ  رحمۃ اللہ علیہ  نے عالم رویاکی چالیس حدیثوں پر مشتمل اپنی کتاب’’الدرالثمین فی مبشرات النبی الامین‘‘ کی بائیسویں حدیث میں نقل کیا ہے  :
أخبرني سیدي الوالد قال کنت أصنع في أیام المولد طعاماً صلۃ بالنبي  صلی اللہ علیہ وسلم  فلم یفتح لي سنۃ من السنین شییء أصنع بہ طعاما فلم أجد إلا حمصا مقلیا فقسمتہ بین الناس فرأیتہ  صلی اللہ علیہ وسلم و بین یدیہ ہذہ الحمص مبتہجا بشاشا۔
یعنی حضرت شاہ ولی اللہ فرماتے ہیں کہ مجھ کو میرے والد بزرگوار نے بتایاکہ میں نسبت رسالت کی بنیاد پر میلاد شریف کے موقع پر کھانے کا اہتمام کیا کرتا تھا تو ایک سال ایسا ہو اکہ میرے پاس کھانابنوانے کی وسعت نہیں تھی صرف کچھ بھنے ہوئے چنے تھے جسے میں نے لوگوں کے درمیان بانٹ دیے،پھر( کیا تھامیری قسمت بیدارہواٹھی )میں نے دیکھا کہ وہ چنے رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رکھے ہوئے ہیں اور آپ ایسے خوش ہیں کہ چہرے سے بشاشت پھوٹی پڑرہی ہے۔
اب شاہ ولی اللہ صاحب کے پیرانِ پیرمولاناجلال الدین سیوطی  رحمۃ اللہ علیہ  کاحال سنیے جوچھ طبقہ اوپر مشائخ طریقت اور ان کے مشائخ حدیث میں آتے ہیں،شروع کتاب ،لمعہ رابعہ میں ’انتباہ، کے حوالے سے آپ نے ان کا سلسلہ حدیث دیکھاہو گا۔
مولاناجلال الدین سیوطی ’’حسن المقصد فی عمل المولد‘‘ میں فرماتے ہیں  :
یستحب لنا أیضا إظہار الشکر بمولدہ  علیہ السلام  بالاجتماع و إطعام الطعام و نحو ذلک من وجوہ القربات و المسرات۔ (۱)
یعنی میلاد النبی  صلی اللہ علیہ وسلم کے موقع پر اہل اسلام کا اکٹھے ہو کر،کھاناکھلا کر اور یوں ہی دوسرے اچھے امور،خوشحالیوں کے ساتھ انجام دے کر اظہارِ تشکربجالانا مستحب ہے۔
علامہ سیوطی  رحمۃ اللہ علیہ کی یہ عبارت تفسیر روح البیان اور سیرت شامی وغیرہ کتب معتبرہ ومتداولہ میں بھی سنداًنقل ہے۔
اب شیخ القرا والمحدثین حضرت شیخ الاسلام شمس الدین ابو الخیرابن الجزری رحمۃ اللہ علیہ   کا حال سنیے جو حضرت شاہ ولی اللہ کے نویں طبقہ اوپرمشائخ حدیث وطریقت میں آتے ہیں   ’’عرف التعریف بالمولد الشریف‘‘میں فرماتے ہیں  :
فما حال المسلم الموحد من أمتہ  علیہ السلام  یسرُّ بمولدہ ویبذل ما تصل إلیہ قدرتہ في محبتہ  صلی اللہ علیہ وسلم  لعمري إنما یکون جزاء ہ من اللہ الکریم أن یدخلہ بفضلہ العمیم جنات النعیم۔(۲)
 یعنی سرکاردوعالم  صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے اس موحدکاکیاحال ہو گا جو آپ کے میلاد شریف پرخوشیاں مناتا ہے، اور آپ کی محبت میں اپنی بساط کے مطابق خرچ کرتا ہے،مجھے اپنی عمر کی قسم ! اللہ کی طرف سے اس کی جزایہی ہے کہ وہ اپنے فضل فراواں سے اسے جنت النعیم میں داخل فرمائے۔
ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب’’مورد الروي في مولد النبي‘‘میں حضرت ابوالخیرشمس الدین بن الجزری کی ایک تحریر نقل کی ہے جس کا خلاصہ یہ ہے  :
قال ابن الجزري  رحمۃ اللہ علیہ  و لقد حضرت في سنۃ خمس و ثمانین و سبع مائۃ لیلۃ المولد عند الملک الطاہر یرقوق رحمہ اللہ  بقلعۃ فرأیت ما سرني  فحرزت ما أنفق في تلک اللیلۃ علی القراء و الحاضرین من الوعّاظ و المنشدین و غیرہم بنحو عشرۃ آلاف مثقال من 

(۱)	سبل الہدیٰ والرشاد: ۱؍ ۳۶۷۔
(۲)	نفس مصدر: ۱؍ ۳۶۷۔
الذہب ما بین خلع و مطعوم و مشروب و مشموم و شموع و غیرہا و عددت ذلک خمسا و عشرین حلقۃ من القراء الصبیین۔
یعنی حضرت ابن جزری رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ ایک بار ۷۸۵ھ  (1383ئ) میں میلاد شریف کے موقع پرسلاطین مصر کے تخت گاہ ،قلعہ میں ملک طاہر یرقوق کے پاس میرا جاناہوا،میں نے وہاں مسرت بخش چیزیں دیکھیں اور میرا اندازہ ہے کہ محفل میں موجود قاریوں، مقرروں اور نعت خوانوں وغیرہ کوخلعت دینے،کھلانے پلانے اور خوشبووروشنی پراس نے دس ہزار مثقال سوناخرچ کیاہو گا اور میں نے شمار کیا تو مجلس میں پچیس حلقے نوآموزقاری بچوں کے تھے۔
ابن جزری رحمۃ اللہ علیہ کایہ حال ،نور الدین ابوسعید بورانی  رحمۃ اللہ علیہ نے بھی اپنے فارسی میلادنامہ میں بعینہٖ نقل کیا ہے۔
تبصرہ :  اس وقت عمل میلاد شریف کے سلسلہ میں دوگروہ ہیں  :
پہلا وہ جو کراہت وحرمت ثابت کرتا ہے جس کا سب سے پہلا پیشوا تاج الدین فاکہانی مغربی ہے۔اس کا یہ قول ’’المورد فی عمل المولد‘‘میں یوں ہے  :
ہو بدعۃ أحدثہا البطالون، و شہوۃ نفس اعتنی بہا الأکّالون۔
 چند سطر کے بعد لکھا  :
و ہذا لم یأذن فیہ الشرع و لا فعلہ الصحابۃ و لا التابعون۔
پھر دوتین سطر کے بعد لکھتا ہے  :
و حینئذ یکون الکلام فیہ في فصلین۔۔۔۔أحدہما: أن یعملہ رجل من عین مالہ لأہلہ و أصحابہ و عیالہ لا یجاوزون ذلک الاجتماع علی أکل الطعام و لا یقترفون شیئا من الآثام  فہذا الذي وصفناہ بأنہ بدعۃ مکروہۃ و شناعۃ۔۔ و الثاني: أن تدخلہ الجنایۃ۔۔۔۔۔و ہذا الذي لا یختلف في تحریمہ اثنان۔(۱)
یعنی یہ عمل مولد بدعت ہے جس کی ایجادباطل اور نفس پرست لوگوں نے کھانے پینے کی غرض سے کی ہے۔ 
نہ تو شریعت ہی نے اس کی اجازت دی، اور نہ صحابہ وتابعین ہی سے اس کی کوئی سند ملتی ہے۔ 

(۱)	المورد فی عمل المولد: ۲،۳۔۔سبل الہدیٰ والرشاد: ۱؍ ۶۸،۳۶۹۔
اب اس میں دوطریقے سے کلام ہو گا۔ایک یہ کہ آدمی خاص اپنے مال سے کرے، اپنے بال بچوں، دوستوں اور کنبہ والوں کو کھلائے،اس کے سوا اور کچھ نہ کرے کہ لوگوں کو جمع کر کے کھاناکھلادے مگروہ لوگ کوئی گناہ کی بات نہ کریں،اسی کوہم نے بدعت مکروہ وشنیعہ سے تعبیر کیا ہے۔ اور دوسرا طریقہ مولد کا یہ ہے کہ اس میں گناہ کی باتیں داخل ہوں تویہ ایسا حرام ہے کہ جس میں کسی دوآدمی کو بھی اختلاف نہ ہو گاکہ ان میں کاکوئی ایک اسے درست کہ دے۔
دوسرا وہ جویہ کہتا ہے کہ صحابہ وتابعین سے کسی فعل کا منقول نہ ہونا حرمت وشناعت کا باعث نہیں ہوتا،اگر مولد، مباح ومستحسن امورپرمشتمل ہو گا تو جدیدطریقہ عارض ہونے اور مباح الاصل چیزوں کے یکجاہو جانے کی وجہ سے حرمت وکراہت ہرگزلاحق نہیں ہوسکتی۔لہٰذا یہ عمل مباح اور اچھا ہے، سلفاًوخلفاًیہی سوادِ اعظم اور امت محمد یہ کے جماہیرمحققین وصالحین کامذہب ہے، یہاں تک کہ وہ مشائخ کرام جن کو ہمارے وقت کے منکرین بھی محقق،پارسا اور اپنا پیشواسمجھتے ہیں وہ بھی اسی طرف ہیں  جن کے افعال واقوال شاہ عبد العزیز رحمۃ اللہ علیہ  سے لے کر حضرت امام القرا و المحدثین ابن جزری قدس سرہ تک ابھی اوپرنقل کیے گئے 
اے ہمارے دیس کے رہنے والے مسلمان بھائیو! غفلت میں بغیرسمجھے بوجھے تم کدھر چلے گئے،جمہور اہل سنت وجماعت سے منہ موڑا،خاندان عزیزیہ کے پیشواؤں کوچھوڑا اور اتباع کیا تو کس کا! تاج الدین فاکہانی مغربی کا۔ العجب العجب!۔
امام المحدثین ابن جزری ،میلاد شریف کے اہتمام واحتشام کوپسند فرمائیں۔نویں صدی کے مجدد،علامہ سیوطی اس کے استحباب کاحکم لگائیں۔ شاہ عبد الرحیم سال بہ سال بلا ناغہ میلاد شریف کے موقع پر کھاناتیارکر کے رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کوہشاش بشاش پائیں، اور ہمارے دور کے منکرین فاکہانی کے قول کواپنا دستور العمل بنا کر ان سب مشائخ کبارکے افعال واقوال کو شہوت نفس،بدعت کراہت وشناعت، اور شاہ عبد الرحیم کے ہر سال کھانا تیارکرنے کو  أحدثہا البطالون و الأکالون میں شامل ٹھہرائیں  معاذ اللہ 
 اے بھائیو! آؤاب بھی خواب غفلت سے بیدار ہو جاؤ اور ہمارے ساتھ ہو کر جمہور علما، برگزیدانِ امت اور اپنی خاندان عزیزیہ کے مقبولین ذی کرامت کو اس مغربی کی قباحت وشناعت سے بچاؤ۔
اگر کوئی یہ وسوسہ ڈالے کہ مولاناشاہ عبد العزیز  رحمۃ اللہ علیہ  کے بعد بعض علمائے خلف نے حضرت مولانا کا خلاف کیا ہے۔تومعلوم ہوناچاہیے کہ ایساکہنا بالکل غلط ہے کیوں کہ ان کے خاص نواسہ اور مشہورزمانہ شاگرد وجانشین جناب مولانامحمد اسحق صاحب مرحوم ’’مائۃ مسائل‘‘ کے اندر پندرہویں سوال کے جواب میں لکھتے ہیں  : 
و قیاس عرس برمولد شریف غیر صحیح است زیراکہ درمولد ذکرولادت خیر البشر است و آں موجب فرحت وسرور ست و در شرع اجتماع برائے فرحت وسرور کہ خالی از منکرات وبدعات باشد آمدہ  برائے اجتماع حزن وشرور ثابت نہ شدہ، و فی الواقع فرحت ولادت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم دردیگر امرنیست پس دیگر امر بریں قیاس صحیح نخواہدشد ومعہذادر مولود ہم اختلاف است زیراکہ درقرون ثلاثہ کہ مشہودلہم بالخیراست ایں امر معمول نہ بود بعد قرون ثلاثہ ایں امر حادث شدہ بنا بریں علمادرجواز وعدم جواز آں مختلف شدہ اند چنانچہ بہ تفصیل و بسط درکتاب سیرت شامی مذکور ست من شاء فلینظرفیہ۔
یعنی میلاد شریف پرعرس کا قیاس کرنادرست نہیں کیوں کہ میلاد شریف میں تو رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت مبارکہ کاذکرخیرہوتا ہے جو فرحت وسرور کاباعث ہے، اور شریعت میں منکرات وبدعات سے خالی ،فرحت وسرور کے لیے اکٹھاہونے کا جواز ملتا ہے جب کہ غم وملال کے لیے اجتماع ثابت نہیں۔تو درحقیقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولاوت کی خوشی منانا یہ ایک دوسرامعاملہ ہے لہٰذا دوسری چیزوں کا اس پرقیاس کرنا صحیح نہیں ہو گا۔اس کے ساتھ یہ بھی کہ میلادشریف کے سلسلہ میں باہم اختلاف ہوا ہے کیوں کہ قرون ثلاثہ میں  جس کی بہتری کی گواہی دی گئی ہے  اس کا کوئی معمول نہ تھا اس کے بعد اس کی ایجاد ہوئی ہے،اس بنیاد پر اس کے جواز اور عدم جواز کی بابت علماکے درمیان اختلاف ہوا ہے،جس کی تفصیل سیرت شامی میں مذکورہے، جسے ضرورت ہو اس کا مطالعہ کرے۔  
اس عبارت میں چندچیزیں مخالفین کے مطلب کے خلاف موجودہیں  :
اول یہ کہ ہمارے دور کے منکرین دعویٰ کرتے ہیں کہ عمل میلاد شریف بالاتفاق ضلالت ہے، تو’’مائۃ مسائل‘‘ کی اس تقریرسے ان کارد ہو گیاکہ علمانے اس کے جواز اور عدم جواز کے سلسلہ میں اختلاف کیا ہے۔اس سے ظاہرہوا کہ اگر کسی نے منع کیا ہے تو دوسرے علماجواز کی طرف بھی گئے ہیں۔ لہٰذا مولانا اسحق صاحب  جوتیرہویں صدی میں تھے  کی تحریر تک بھی منع پراتفاق نہ ہوا تھا۔ اس بنیادپر ممانعت پراتفاق کادعویٰ باطل رہا۔
ثانی یہ کہ سیرت شامی کاحوالہ دے کرظاہرکر دیا کہ علما کے اس اختلاف میں مذہب صحیح یہ ہے کہ عمل مولد شریف مستحب ہے،کیوں کہ شامی نے مولدشریف کو جائزرکھنے والے علماکے اقوال  کثرت سے نقل کر کے اس کاجوازواستحباب ثابت کیا ہے، اور منکرین کے اقوال کو مرجوح،مغلوب اور غیرمعتمد رکھا ہے۔ اور آپ نے شیخ سیوطی  رحمۃ اللہ علیہ  کا وہی قول نقل کیاجو ہم اوپر نقل کر چکے ہیں :  فیستحب لنا إظہار الشکر لمولدہ  الخ  
نیزمولدکوبہترسمجھنے کے سلسلے میں شامی نے امام القرا ابن جزری رحمۃ اللہ علیہ کاقول بھی نقل کیا ہے، اور یہ دونوں محدث بواسطہ شاہ ولی اللہ صاحب مولانا اسحق صاحب کے مشائخ حدیث میں ہیں،لہٰذا مولانا اسحق صاحب کا شامی کی عبارت کا حوالہ دیناگویایہ تصریحا بیان فرمانا ہے کہ ہمارے مشائخ اور اساتذہ کے نزدیک یہ محفل مبارک اور مستحسن ہے۔
ثالث یہ کہ جوعمل قرون ثلاثہ میں نہ پایا گیا ہو لیکن اس کی اصل شرع میں موجودہو تو وہ عمل باتفاق فریقین صحیح ودرست ہوتا ہے۔ لہٰذا مولانا اسحق صاحب نے اس عمل کی اصل بیان فرمادی  :   
 درمولد ذکرولادت خیر البشر است و آں موجب فرحت وسرور ست و در شرع اجتماع برائے فرحت وسرور کہ خالی از منکرات وبدعات باشد آمدہ۔
یعنی میلاد النبی  صلی اللہ علیہ وسلم کے اندر ولادت خیر البشر کی بات ہوتی ہے اور یہ  مسرت وخوشی کا باعث ہے، اور منکرات وبدعات سے خالی فرحت و نشاط میں جمع ہونا ازروے شرع درست ہے۔
اس عبارت سے صاف واضح ہو گیا کہ میلاد شریف میں اسباب سرور کے ساتھ یہ اجتماع  ازروئے شرع جائزہے بشرطیکہ منہیات شرعیہ سے خالی ہو، اور یہی ہمارا دعویٰ ہے۔
مولانا اسحق صاحب محفل میلاد شریف میں برابرشریک ہوتے تھے۔چنانچہ مولوی نورالحسن صاحب کے ’’مجموعہ رسائل عشرہ‘‘ مطبوعہ مطبع انصاری دہلی کے صفحہ۴۰ کی پندرہویں سطر میں یہ مضمون موجودہے اور راقم نے بذات خود مولانا اسحق صاحب مرحوم کے شاگردرشیدجناب مولانافضل الرحمن صاحب صوفی صافی فقیہ ومحدث کافی  ساکن گنج مرادآباد ملک اودھ سے بذریعہ خط دریافت کیا تو آپ نے ڈاک ہی سے یہ جواب تحریرفرمایا  :  
ماہمراہ حضرت مولانامحمد اسحق رفتہ ایم درمیلاد آنحضرت۔
یعنی حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی محفل میلاد شریف کے لیے حضرت مولانامحمد اسحق صاحب کے ساتھ ہم جایا کرتے۔
اس کے علاوہ مشہورزمن ماہر فن جناب مولانا فیض الحسن صاحب مرحوم سہارن پوری ’’شفاء الصدور‘‘  مطبوعہ لاہور مورخہ ۱۵؍دسمبر ۱۸۸۵ء (۱۳۰۳ھ)کے صفحہ ۱۰میں تحریر فرماتے ہیں  :
من جاء مجلس المیلاد فلہ أن یقوم إن قاموا و إلا فلا و ہکذا یقول المولوي أحمد علي المحدث المرحوم تبعاً لأستاذہ مولانا محمد  اسحٰق المغفور۔
یعنی جو کوئی محفل میلاد شریف میں آئے تو اس کوچاہیے کہ جب سب کھڑے ہوں تو یہ بھی کھڑا ہو جائے، اور اگر اہل مجلس نہ کھڑے ہوں تویہ بھی نہ کھڑاہو۔ مولوی احمد علی محدث مرحوم سہارن پوری اپنے استاد مولانامحمد  اسحق صاحب مرحوم ومغفورکی اتباع میں یوں ہی فریا کرتے تھے۔ 

یہاں مولانامحمد اسحق صاحب مرحوم کے دومحدث شاگرد،مولانا فضل الرحمن صاحب اور مولانا احمد علی صاحب کامحفل میلاد میں شامل ہونا اور اس کو مستحسن سمجھناثابت ہو گیا۔لہٰذا یہ لوگ اپنے نانا اور استاد شاہ عبدالعزیز صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے مخالف نہ ٹھہرے۔
 اب ہم شاہ عبد العزیزصاحب کے ایک دوسرے شاگردرشید،حقائق ومعارف دستگاہ جناب مولانا شاہ سلامت اللہ صاحب مرحوم کاحال بیان کریں۔آپ ہمیشہ میلاد شریف منایا کرتے تھے اور میلادشریف کے ثبوت میں نظماً اور نثراًٹھوس دلائل قائم فرماتے تھے۔اس مقدس محفل کی ترغیب دلایا کرتے اور اس سلسلے میں دل کش اشعار بھی ارشادفرماتے۔ اُن کے رسالہ ’’خداکی رحمت‘‘سے دوشعر یہاں نقل کرتاہوں   ؎ 
	پیداہوا جس دن سے محمد  سانبی ہے
	یہ شادیِ میلادِ رسولِ عربی ہے
					تعظیم کھڑے ہوکے بجالاؤادب سے
					اس کام کا انکار بڑی بے ادبی ہے
اب حضرت شاہ عبد العزیزصا حب رحمۃ اللہ علیہ  کے خلیفہ طریقت جناب سید احمد صاحب کابیان سنیے جومولوی اسماعیل صاحب دہلوی کے مرشدورہنماتھے۔سیداحمد صاحب کے ایک مرید خاص مولوی سید محمد  علی صاحب نے آپ کے حالات پرمشتمل فارسی زبان میں ایک کتاب بنام’’مخزن احمدی‘‘ لکھی جس کو نواب محمد  علی خاں صاحب والی ٹونک نے مطبع مفید عام آگرہ سے  ۱۲۹۹ھ (1881ئ) میں طبع کرائی۔اس کے صفحہ ۸۰ میں سید احمد صاحب کے سفرعرب کے سلسلہ میں یوں لکھا ہے  :
مقدارمدت ہمچوں فصل بہار درگلزارکلکتہ ابواب ہدایت مفتوح داشتہ بعزم سفر یازدہ جہاز بطریق کرایہ مقررفرمودہ دوازدہ ہزار روپیہ نول آں مقررکردہ و مراکب را براہل قافلہ تقسیم فرمودہ و بر ہرمرکب شخصے را امیرساختہ و برائے زادِراہ ایں سفر وسیلۃ الظفر بہ قیمت دوازدہ ہزار روپیہ غلجات از قسم گندم وبرنج وغیرہ خرید فرمودہ برہر جہاز تقسیم نمودہ فرستادند جہاز موسوم بدربقے کہ ناخدایش سید عبد الرحمن حضرموتی بود ومعلم آں داؤد ساکن بندرسورت برائے مسکن خود مقررساختند و با اناث و ذکور ذوالقربیٰ خویش کہ باطفال و جواری قریب بہ چہل کس میرسند برجہاز مذکورجاگرفتند وباقی اہل قافلہ بر مراکب خودہا نیز بنشستند و بمدت دہ شبانہ روز مراکب رادرگنگاساگر جریاں نمودہ روز سیوم مقداریکپاس روزبرآمدہ دربحرزخار در معبرے کہ مشہور بگیلا کاچھی است داخل گردیدند۔
یعنی موسم بہار کی مدت کے اندازے پرمحیط اس کے ابواب ہدایت کلکتہ میں کھلے رہے۔ اور سفر کے ارادے سے گیارہ جہازوں کوبارہ ہزارروپے میں طے کر لیے۔ اور کشتیوں کو اہل قافلہ پر تقسیم کر دیا اور ہر کشتی میں ایک امیر کی تقرری فرمائی، اور اس سفرمبارک کے زادِراہ کے لیے بارہ ہزارروپئے کے غلہ جات یعنی گیہوں اور چاول وغیرہ خریدکرہر جہاز میں تقسیم کر دیے۔ جس جہاز کو حضرت نے اپنے لیے منتخب کیا وہ بدربقے کے نام سے موسوم تھا جس کاناخداعبد الرحمن حضرموتی اور جس کا معلم داؤد نامی شخص بندرسورت کارہنے والا تھا۔ اور زن ومرد اطفال وجواری سمیت خویش واقارب کی تعداد چالیس افراد پرمشتمل تھی۔جہازِ مذکورہ میں جا کر سوار ہو گئے۔ اور باقی دیگر اہل قافلہ نے اپنی اپنی کشتیوں میں جگہ لے لی، اور قریباً دس دن تک یہ کشتیاں گنگاساگر میں چلتی رہیں۔ اور تیسویں روز دن کے آغازکے ساتھ بحرزخارکی بندرگاہ مشہوربگیلاکاچھی میں داخل ہو گئے۔
اس کے بعدجہاز کاکالی کٹ اور ملیبارجانا،اس کے بعد سنگل دیپ،پھروہاں سے لنکا  جس کوعرب قلعۃ العفاریت کہتے ہیں  پہنچنالکھا، وہ چوں کہ ایک ہولناک مقام تھا توصفحہ ۸۵ پراس کو ان الفاظ میں لکھا ہے  :
و برہرکس از شما امروز وقت شب یادِ الٰہی و تسبیح وتہلیل نامتناہی و استغفار از جمیع جرائم ومناہی واجب ومتحتم است چوں شب در آمد آں حضرت بعد ازعشائین حزب البحر مذکور امشب سہ بار خوانندو می فرمودند کہ عفاریت وشیاطین اگرزہرۂ تقابل بایں گروہ قلیل میدارند اینک گوے و اینک میدان و دراں شب تاریک آنحضرت اکثر بیدار می بودند و مانند پاسبانان دوروسیرگاہ بالاوگاہ زیرمرۃ بعد اخریٰ و کرۃبعد اولیٰ در تمام جہاز می فرمودند تاآن کہ شب بپایاں رسید وصبح صادق بدمید وجہاز ازمکان خوف وہولناک بحیرت تمام بدرآمدوہرگاہے کہ روز روشن شد ناخدائے چند طبق حلوائے ازحجرۂ خویش بیروں آوردہ مجلس مولد شریف منعقد کردہ بعد از اختتام قصائد مولودیہ شیرینی تقسیم نمود  انتہیٰ بلفظہٖ 
یعنی آپ میں سے ہر ایک پررات کے وقت یاد الٰہی،تسبیح لامتناہی اور جملہ گناہ ومناہی سے استغفارواجب و ضروری ہے۔ جب رات کا اندھیراچھا گیا تو حضرت عشائین کے بعد اس شب سے متعلق حزب البحرکوتین بار پڑھ کر فرمانے لگے کہ اگر اس چھوٹے گروہ کاواسطہ شیاطین وجنات سے پڑجائے تواس مجرب وظیفہ کو پڑھ لیں۔ اور شب تاریک میں حضرت اکثر بیدار رہا کرتے تھے اور پاسبان کی طرح اوپرنیچے تمام جہاز کا چکر لگاتے تھے۔یہاں تک کہ رات کا اندھیراچھٹ گیا اور صبح نمودارہو گئی، اور اس طرح جہاز اس خوف و خطر والے مقام سے حیرت تمام کے ساتھ نکل آیا۔ اور جب دن کی روشنی پھیل گئی تو ناخدا نے اپنے کمرے سے حلوہ کے چندطبق نکالے،مجلس مولود شریف منعقد کی اور قصائد مولود ختم کرنے کے بعد شیرینی تقسیم کر دی۔  
دیکھیے ! اس بیان سے صاف واضح ہو گیا کہ مولد شریف بڑی برکت کی چیزہے جو ایسے خطرناک موقع پر پڑھا گیاکہ خود سید احمدصاحب بھی رات بھرتردد میں رہے تھے، اور پھر خاص اس جہاز میں جس میں سیداحمدصاحب اور ان کے کنبہ ومتعلقین تھے،غیرکا اس میں کوئی دخل بھی نہ تھا یہ بافیض محفل مبارک منعقد ہوئی تھی۔ اور یہ جو اوپرمذکور ہوا کہ سید صاحب کے چالیس آدمی ایک جہازمیں سوار تھے تواس کی وجہ یہ تھی کہ وہ جہاز موجودہ دور کے اسٹیمروں کی طرح بڑے نہ تھے بلکہ وہ چھوٹی بادبانی کشتی تھی۔الحاصل! خاص سید صاحب کے جہاز میں مولد شریف اور قصائد کا پڑھاجانا اور ساتھ ہی شیرینی کا تقسیم ہونابھی ثابت ہو گیا۔ وکفی بہ حجۃ  ( اور حجت قائم کرنے کے لیے  اتنا کافی ہے)
اب باقی رہے سید صاحب کے مرید خاص مولوی اسماعیل صاحب دہلوی ! تو ان کے محفل میلاد شریف میں شامل ہونے کی کوئی روایت ہم تک نہیں پہنچی۔ہاں ! ان کی ایک ایسی تقریرہم تک پہنچی ہے کہ جس سے ضمناًمیلاد شریف کا اثبات ان کے منہ سے صاف ثابت ہے۔وہ یہ ہے۔
جناب مولانارشید الدین خاں صاحب مرحوم دہلوی نے مولوی اسماعیل صاحب سے چودہ سوال کیے تھے،جن میں تیرہویں سوال کاجوجواب رقم فرمایا ہے وہ بعینہٖ ان کی عبارت اور پوری شانِ امانت کے ساتھ لکھاجارہا ہے  :
 سیزدہم آنکہ اعراب قرآن بدعت است یانہ واگر ہست حسنہ است یا سیئہ وایں جمع قرآن بحکم قرآن بود و یا بکدام حدیث رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم یابحکم ہردونبود پس بدعت ست یا نہ وہم چنیں ہر حکمے کہ ازنص قرآن شریف یاظاہراحادیث متین نبود بدعت ست یا نہ۔
جواب: ازسیزدہم آنکہ اعراب قرآن بدعت حسنہ است کہ صحت قراءت عجمیان بل عربیان حال براں موقوف ست لیکن جمع قرآن ظاہرانہ بحکم کدام آیت قرآنی است ونہ بحکم کدام حدیث نبوت پس بدعت باشد لیکن بدعت حسنہ چراکہ مقصود ازاں ضبط و حفظ قرآن ست از ضیاع وغلط ودرحسن بودن بعضے بدعات شبہ نیست واثبات آں از اکثر احادیث می تواں نمود مثل من سن سنۃ حسنۃ فلہ أجرہا و أجر من عمل بہا و تقیید بدعت مردود بہ بدعت ضلالت چنانکہ در حدیث ست :من ابتدع بدعۃ ضلالۃ لا یرضاہا اللہ و رسولہ  الحدیث  و حدیث:من أحدث في أمرنا ہذا مالیس منہ فہو رد چہ ازاں مردود بودن بدعتے ثابت می شودکہ تعلقے بدیں نداشتہ باشد بس بدعتے کہ اصل آن از شرع ثابت باشد مثل اخذ تسبیح و تراویح حسنہ باشد پس حکمی از نص صریح قرآن وحدیث ثابت نہ باشد ہردوقسم است یکے بدلیل شرعی،دیگر مثل اجماع وقیاس ثابت شود یا اصلے شرعی داشتہ باشد آں خود ہرگزبدعت سیئہ نیست بلکہ چوں بدلیل شرعی و بحکم آیۂ کریمہ:  الیوم أکملت لکم دینکم قواعداستنباط وغیرہ آں در دین داخل ست درسنت یا بدعت حسنہ کہ در معنی سنت است داخل باشد بلکہ بعمل آوردن بعضے بدعات حسنہ فرض کفایہ چنانکہ در کتب بسیارمصرح ست منجملہ آں فتح المبین شرح اربعین امام نووی ست ازشیخ ابن الحجر ہیثمی کہ دروے درشرح حدیث خامس گفتہ قال الشافعی رضی اللہ تعالیٰ عنہ   ما أحدث و خالف کتابا أو سنۃ أو إجماعا أو أثرا فہو البدعۃ الضلالۃ و ما أحدث من الخیر و لم یخالف شیئا من ذلک فہو البدعۃ المحمودۃ الحاصل ان البدعۃ الحسنۃ متفق علی ندبہا و ہي ما وافق شیئا مما مر و لم یلزم من فعلہ محذور شرعي و منہا ما ہو فرض کفایۃ کتصنیف العلوم و نحوہا مما مر قال الإمام أبو شامہ شیخ المصنف رحمۃ اللہ علیہ  و من أحسن ما ابتدع في زماننا ما یفعل کل عام في الیوم الموافق لیوم مولدہ  صلی اللہ علیہ وسلم  من الصدقات و المعروف و إظہار النعمۃ و السرور فإن ذلک مع ما فیہ من الإحسان إلی الفقراء مشعر بمحبتہ  صلی اللہ علیہ وسلم  و تعظیمہ و جلالہ في قلب فاعل ذلک و شکر اللہ تعالیٰ علی ما من بہ من إیجاد رسولہ الذي أرسلہ للعالمین رحمۃ صلی اللہ علیہ وسلم  انتہیٰ بحروفہ۔
یعنی تیرہواں سوال یہ ہے کہ قرآن پراعراب لگانابدعت ہے یانہیں۔اگرہے توبدعت حسنہ ہے یا بدعت سیئہ؟ اور جمع قرآن کاعمل حکم قرآنی سے ہوایاحدیث رسول سے یا ان میں کسی سے نہیں ،توپھر یہ جمع بدعت ہوئی یانہیں۔ اور یوں ہی ہر وہ حکم جو نص قرآن یا کسی حدیث رسول سے ثابت نہ ہو تو وہ بدعت ہوتا ہے یانہیں۔
جواب:  تیرہویں سوال کا جواب یہ ہے کہ قرآن پر اعراب لگانابدعت حسنہ ہے کیوں کہ نہ صرف اہل عجم بلکہ اہل عرب کی صحت قراءت بھی اسی پرموقوف ہے۔ لیکن جمع قرآن ظاہراًکا ثبوت نہ تو کسی آیت قرآنی سے ہے اور نہ کسی حدیث نبوی سے، لہٰذا بدعت ہوامگربدعت حسنہ۔ کیوں کہ اس کا مقصد یہ ہے کہ قرآن کوضیاع وخطا سے بچا کر اسے محفوظ کر دیاجائے۔ اور بعض بدعتوں کے حسنہ ہونے میں کوئی شبہ نہیں کیاجا سکتاکیوں کہ وہ اکثر احادیث سے ثابت شدہ ہیں مثلاً یہ حدیث کہ جس نے دین میں کوئی نیا طریقہ نکالا تو اسے اس کا اجر ملے گا نیزاس کا اجر بھی جو اس پر عمل پیرا ہو گا۔ اور بدعت سیئہ کوبدعت ضلالت سے تعبیر کیا گیا ہے۔ جیساکہ حدیث پاک میں ہے کہ جس نے اللہ ورسول کی رضا کے خلاف کوئی بری چیز ایجاد کی۔۔۔ نیز یہ حدیث کہ جس نے ہمارے دین میں کوئی ایسی چیزایجادکی جودین سے نہیں تو وہ مردود ہے۔لہٰذا ان سے کچھ بدعتوں کا مردود ہوناثابت ہوتا ہے۔مگر جن بدعتوں کی اصل شرع میں ملتی ہے تو وہ حسنہ ہوں گی جیسے اخذتسبیح وتراویح۔اب اگر کوئی حکم نص قرآنی یا حدیث نبوی سے ثابت نہ ہو تو اس کی دو قسمیں کی گئی ہیں : ایک یہ کہ دلیل شرعی سے ثابت ہو۔ دوسری یہ کہ اجماع امت یا قیاس سے یا اس کی کوئی اصل شرع میں موجودہوتو وہ کبھی بھی بدعت سیئہ نہیں ہوتابلکہ دلیل شرعی اور آیت کریمہ الیوم اکملت لکم دینکم کے حکم سے جوقواعد اخذ کیے جاتے ہیں وہ دین میں سنت یا بدعت حسنہ کے طور پرداخل ہیں کہ بدعت حسنہ سنت کے معنی میں ہوتی ہے۔چنانچہ بہت ساری کتابوں میں اس کی تصریح ملتی ہے انھیں میں سے اربعین نووی کی شرح فتح المعین ازشیخ ابن حجرہیثمی بھی ہے،جس میں پانچویں حدیث کی تشریح کے تحت امام شافعی  رضی اللہ عنہ کایہ قول بھی نقل کیا گیا ہے۔ امام شافعی فرماتے ہیں کہ اگر کوئی ایسی چیز ایجاد کی جائے جوکتاب وسنت یا اجماع واثرکے خلاف ہو تووہ بدعت سیئہ ہے۔ اور اگر کوئی ایسی نیک چیز ایجاد کی جائے جوان کے مخالف نہ ہوتو وہ بدعت حسنہ ہے۔ الغرض بدعت حسنہ کا مستحب ہونا متفقہ ہے، اور یہ انھیں خوبیوں کی حامل ہونی چاہیے جیسا کہ اوپرمذکور ہوا اور اس سے کسی امرشرعی پر ضرب بھی نہ پڑتی ہو۔ اور بدعتوں میں بعض فرضِ کفایہ ہوتی ہیں جیسے علوم دینیہ کی تدوین وتصنیف وغیرہ۔ امام نووی کے شیخ امام ابوشامہ فرماتے ہیں کہ ہمارے زمانے کی نوایجاد چیزوں میں یہ چیز کیسی عمدہ ہے کہ لوگ ہر سال میلاد النبی  صلی اللہ علیہ وسلم  کے موقع پرصدقات وخیرات اور زینت ومسرت کامظاہرہ کرتے ہیں۔ کیوں کہ اس میں ایک طرف تو فقراکافائدہ ہوتا ہے اور دوسری طرف محفل میلاد کرنے والے کے دل میں محبت و عظمت رسول کی جڑیں گہری ہوتی چلی جاتی ہیں۔ اور اس میں شکروامتنان کاپہلو بھی ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کورحمۃ للعالمین بنا کر مبعوث فرمایا اور آپ کی تشریف آوری کومسلمانوں پر احسان عظیم قراردیا۔ 
دیکھیے! مولوی اسماعیل صاحب اس مقام پر بدعت حسنہ کے ذکر میں محدث ابوشامہ کی وہ عبارت لائے کہ جس میں محفل میلاد شریف کے استحسان کی صاف تصریح ہے۔ اور ان کے سوا دہلی کے اَور اکابرعلمامثلاً مولانامحمد  کریم اللہ صاحب مرحوم ۔۔جامع علوم عقلیہ ونقلیہ،استاذناومولانا و مولی العالمین مفتی محمد  صدر الدین خاں صاحب  صدر العلماوالفضلا، اور عارف و محدث و فقیہ جناب مولانا احمد سعید صاحب دہلوی محفل میلاد شریف کے استحباب کے قائل تھے۔ ان کے مہری فتاوے راقم کے پاس موجودہیں۔ اور زبدۂ متورعانِ روزگار،عمدۂ محدثین کبارجناب مولانا شاہ عبد الغنی صاحب دہلوی  جن سے مولوی رشید احمد صاحب گنگوہی نے بھی کچھ پڑھا ہے  بزم میلاد شریف کے معتقد تھے، اور قیام بھی کرتے تھے۔ان کے ہندوستان میں اقامت پذیری کے دوران تصنیف کردہ رسالہ’’شفاء السائل‘‘ میں ایک مختصر عبارت یوں ہے  :
حق آنست کہ نفس ذکر ولادت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم وسرور وفاتحہ نمودن یعنی ایصال ثواب بروح پرفتوح سید الثقلین از کمالِ سعادت انسان است چنانچہ شیخ ابن حجر مکی وشیخ عبد الحق دہلوی وغیرہما تصریح نمودہ اند آرے چیزہاے دیگر اگر مقترن شدندکہ خلاف شرع ہستندپس البتہ ممنوع خواہد بود مثل مراثی وسرود خوانی۔الیٰ آخرہ۔
یعنی سچی بات یہ ہے کہ ولادت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کانفس ذکر،خوشی منانا اور دونوں عالم کے سردار صلی اللہ علیہ وسلم کی روح پاک کے لیے فاتحہ کا ایصال ثواب کرنا ایک انسان کے لیے کمالِ سعادت کی بات ہے۔چنانچہ شیخ ابن حجر مکی اور شیخ عبد الحق دہلوی وغیرہ نے تصریح فرمائی ہے  ہاں ! اگراس کے ساتھ کچھ خلاف شرع چیزیں ملادی جائیں تووہ البتہ ممنوع ہوں گی جیسے مرثیہ پڑھنا اور گانے گانا۔
دیکھیے کہ اس مختصر سی عبارت میں آپ سب فرماگئے۔یعنی جب کوئی شخص ممنوع اور خلاف شرع باتیں مثلاً مرثیہ وسرودخوانی کرنے لگے گاتواس کو البتہ منع کیا جائے گا اور اگر ایسا نہیں تو آپ کافاتحہ یعنی ایصال ثواب کے لیے کھانایاشیرینی مسلمانوں کو دینا اور کھلانا اور آپ کی ولادت باسعادت کی خوشیاں منانا انسان کی کمالِ سعادت ہے۔جب خوشی مناناکمالِ سعادت ہوا تو سرور کے جملہ سامان مثلاً دوست احباب کا جمع ہونا، خوشبوکا استعمال کرنا، شیرینی بانٹنا،کھانے کھلانا، ذکر ولادت کے وقت ولادت نبوی کی خوشی کامظاہرہ کرنے کے لیے غلبہ محبت اور جوش مسرت میں کھڑے ہو جانا اور درود وسلام پڑھنا یہ سب کا سب سرورکرنے میں داخل اور سعادت انسانی کا باعث ٹھہرا۔
شاہ صاحب موصوف نے اس سلسلہ میں دوعلمائے ربانی کا حوالہ دیا ہے ان میں ایک شیخ عبد الحق محدث دہلوی جوخود صراحۃً میلادکے عمل کو سامان سرور اور تعیین یوم کے ساتھ ’’ما ثبت من السنۃ‘‘ وغیرہ اپنی تصنیفات میں درست مان رہے ہیں۔دوسرے ابن حجر مکی وہ بھی امورمذکورہ اور قیام مروجہ کو اپنی تصنیف مولدکبیر وغیرہ میں صراحۃً لکھ رہے ہیں۔تو شاہ صاحب نے عبارت بالامیں ان دونوں بزرگواروں کانام لکھ کر ہرمرد عاقل کے لیے کامل اشارہ فرمادیاکہ جس طرح علمائے مجوزین کا فریق اس عمل کو مستحسن مان رہا ہے میں بھی مانتاہوں۔ اور آپ صراحۃً زبانی بھی یوں ہی ارشاد فرمایا کرتے تھے، اور یہی آپ کا دستور العمل تھا،جس کو شک ہو ،آپ کے مقبول تلمیذ اور شاگرد عزیز جناب مولانا عبد الحق صاحب سے دریافت کر لے،جوبالفعل حرمین شریفین زادہما اللہ شرفا و تعظیماً اور دیگر بلادِ اسلامیہ میں بھی دوردورتک مشہورومعروف ہیں۔
افسوس ہے کہ وہ کاملین حضرات تواب موجودنہیں،انتقال فرماگئے لیکن ہم ان کے انتقال ووفات پرصبرکر کے پھر بھی اس منعم حقیقی کا شکر بجالاتے ہیں کہ اب بھی حرمین شریفین زادہما اللہ شرفاو تعظیماً  میں ہمارے ہندوستان کے دورکن رکین حامی دین،مویدشرع متین اور قبلہ ارباب یقین موجودہیں۔ یعنی استاذی وملجائی وملاذی شیخ العلما حضرت مولانارحمت اللہ صاحب عمت فیوضہم   اور مرشدی و مولائی وثقتی و رجائی الحافظ المہاجر مولانا امداد اللہ  نفعنا اللہ بانوارہ واسرارہ  
یہ دونوں حضرات بابرکات بھی محفل اقدس کو خیروبرکت کا سبب فرماتے ہیں، اور جوکوئی صاحب محفل آپ کو بلائے برغبت اس کے گھر تشریف لے جاتے ہیں۔غرض کہ آپ کا مشرب صدق وسداد ہے،قیام کے سلسلہ میں یہ ارشادہے کہ نہ اس میں وہ افراط وغلوچاہیے کہ اس کوفرض وواجب کہاجائے اور نہ اس قدر تفریط کہ حرام وبدعت ٹھہرادیاجائے، صراطِ مستقیم اور درمیانی راستہ یہ ہے کہ علمائے حرمین شریفین زادہما اللہ شرفاو تعظیماً کے فتوے کے موافق اور علمائے روم وشام ویمن کی تحقیق کے مطابق اس کو مستحب ومستحسن تسلیم کیاجائے۔ اور یہی اس راقم السطورکامشرب ہے۔  رَبَّنَا افْتَحْ بَیْنَنَا وَ بَیْنَ قَومِنَا بِالْحَقِّ وَ أنْتَ خَیْرُ الْفَاتِحِیْنَ۔ (۱)
واضح ہوکہ راقم نے اگرچہ سلف سے لے کر خلف تک محفل میلاد شریف کا ثبوت کامل طور پر فراہم کر دیا لیکن چوں کہ مانعین کے بعض شبہات ادھر ادھراہل ایمان کے دلوں میں وسوسہ اندازی کر رہے ہیں ،اس لیے اب ان وساوس واعتراضات کے جواب قلم بندکیے جارہے ہیں  واللہ ولی التوفیق 




لمعہ ثالثہ

اعتراض کرتے ہیں کہ یہ لوگ ہر سال محفل کرتے ہیں اور یہ کنہیاکے جنم کی مشابہت ہے،نیز اس میں نصاریٰ کے بڑے دن کاتشبّہ بھی ہے  نعوذ باللہ من ہذا القول والاعتقاد  
اس کا جواب یہ ہے کہ اگر فقط ہندوستان میں یہ فعل ہوتا تو یہ بات کہ سکتے تھے کہ مسلمانوں نے ہندوؤں سے یہ بات سیکھ لی اور ان کی مشابہت کا قصدکرتے ہیں۔ توتم اصل حال سن چکے کہ

(۱)	سورۂ اعراف،۷؍۸۹۔
اول یہ عمل عراق کے شہرموصل میں ایجاد ہوا وہ لوگ توخود کنیہاکو نہیں جانتے کہ کنہیاکس چیز کا نام ہے،اس کے جنم کی مشابہت کاقصدتودرکنار۔بھلا اگر ہندوستان کے مسلمان کنہیاکے جنم کی مشابہت کرتے ہیں تو بیان کرو کہ روم وشام کے مسلمان اور علمائے حرمین شریفین جویہ عمل کرتے ہیں وہ کس کے جنم کی مشابہت کرتے ہیں  نعوذباللہ منہا توسمجھ لو کہ اس عمل میں ہم سلاطین روم، فرماں روایانِ شام،ممالک مغربیہ، اندلس اور مفتیانِ عرب کے دستورالعمل کے تابع ہیں   سلمہم اللہ الی یوم الدین 
اب سمجھناچاہیے کہ جس طرح اس میں کنہیاکے جنم کی مشابہت نہیں اسی طرح کئی وجوہ سے نصاریٰ کی بھی کوئی مشابہت نہیں ہے۔
ایک تویہ کہ اگر خدانخواستہ مسلمان، نصاریٰ کے بڑے دن کوان ہی کی طرح کے افعال کرنے لگتے تو جو اس قوم کا شعارہے اس میں شرکت لازم آتی اور ان کے مانند ہو جاتے،پھر ان پریہ صادق آتا  مَنْ تَشَبَّہَ بِقَوْمٍ فَہُوَ مِنْہُمْ کیوں کہ تشبہ کے معنی مانند ہونے کے ہیں اور یہاں یہ بات ہرگز نہیں،پھر اعتراض کیا رہا؟۔
دوسری وجہ یہ کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کاذکرمبارک،اہل اسلام کا اجتماع اور عطریات وحلوے وغیرہ کا استعمال شرع میں ہرگز مذموم اور بری بات نہیں ،کیوں کہ یہ چیزیں اہل کفر کے شعار سے نہیں بلکہ اصولِ شرعیہ سے ان کا ثبوت ہے۔
نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت مبارکہ، رحمت ہے کیوں کہ آپ رحمۃ للعالمین ہیں اور رحمت الٰہی پرمسرت وخوشی منانے کے ہم من جانب اللہ مامورہیں  :
قُلْ بِفَضْلِ اللّٰہِ وَ بِرَحْمَتِہٖ  فَبِذٰلِکَ فَلْیَفْرَحُوا۔ (۱)
تم فرماؤاللہ ہی کے فضل اور اسی کی رحمت اور اسی پرچاہیے کہ خوشی کریں۔
مسلم شریف کی حدیث میں ہے کہ آپ سے پیرکے دن روزہ رکھنے کا سبب استحباب پوچھا گیا توارشادفرمایا  :

(۱)	سورۂ یونس،۱۰؍۵۸۔

میں اسی دن پیداہوا اور اسی دن وحی اتری۔(۱)
تو ولادت شریف کی خوشی اور اس کا شکرادا کرنا اہل اسلام نے اصول شرعیہ سے ثابت کیا ہے اس کو کفارکے شعارسے نہیں بتایا ہے، اور تشبہ اس امر میں مکروہ ہوتا ہے جوشعار کفار اور شرعاًمذموم ہو۔چنانچہ درمختار اور بحر الرائق وغیرہ کی عبارتیں ذکرفاتحہ سویم کے سلسلے میں ہم نقل کر چکے ہیں۔ اور یہی جواب ابن جزری رحمۃ اللہ علیہ   کی طر ف بھی ہوسکتا ہے جوتشبہ بالنصاریٰ کا اعتراض ان پرکیا ہے۔
ان کی طرف سے دوہرا جواب یہ بھی ہے کہ پہلے اہل اسلام تیراندازی کیا کرتے تھے،پھرجب کفار سے ان کے مقابلے ہوئے توان کے پاس توپ اور بندوقیں تھیں،پھرلشکر اہل اسلام کے مجاہدین کے لیے بھی یہی آلات تجویز کیے گئے۔چنانچہ تیراندازی کے بارے میں فقہالکھتے ہیں  :
ہو في زماننا اسغنی عنہ بالمدافع۔ (۲)
یعنی اب ہمارے زمانے میں توپوں کی موجودگی میں اس کی کوئی حاجت نہ رہی۔  
جس طرح پلٹن اور رسالہ وغیرہ کے قواعد حرب ان کے ہاں تھے،اس طرف بھی اسی طرح کر کے مقابلہ کیا گیا،تو اس کو تشبہ نہیں کہتے۔یہ تو اس آیت کریمہ کی تعمیل ہے  :
فَمَنِ اعْتَدیٰ عَلَیْکُمْ فَاعْتَدُوْا عَلَیْہِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدیٰ عَلَیْکُمْ۔ (۳)
جوتم پر زیادتی کرے اس پر زیادتی کرو اتنی ہی جتنی اس نے کی۔
اس آیت کریمہ کے ذیل میں صاحب روح البیان لکھتے ہیں  :

(۱)	الفاظ حدیث یہ ہیں  :
	عن أبي قتادۃ الأنصاري قال سئل رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  عن صوم یوم الاثنین فقال : فِیْہِ وَلِدْتُ وَ فِیْہِ أنْزِلَ عَلَيَّ۔ ( صحیح مسلم:۶؍۵۷ حدیث: ۱۹۷۸۔۔ سنن ابوداؤد: ۶؍۴۰۰حدیث: ۲۰۷۱۔۔ مشکوٰۃ المصابیح:۱؍۴۶۳حدیث:۲۰۴۵۔۔ سنن کبریٰ بیہقی: ۴؍ ۲۹۳۔۔ مسند احمد : ۴۶؍۴۹حدیث: ۲۱۵۰۸۔۔دلائل النبوۃبیہقی: ۲؍۳حدیث:۴۴۱ ۔۔شعب الایمان بیہقی: ۳؍ ۴۲۶حدیث: ۱۳۷۵۔۔ مستخرج ابوعوانہ:۶؍ ۲۴۰حدیث: ۲۳۵۱۔۔ صحیح ابن خزیمہ : ۷؍ ۴۸۶حدیث: ۱۹۳۹۔۔فضائل الاوقات بیہقی: ۱؍ ۳۲۳ حدیث: ۲۸۴۔۔ مسندجامع: ۳۸؍۳۸۳۔۔ تحفۃ الاشراف: ۱۱؍ ۱۹۹حدیث: ۱۲۱۱۸۔  
(۲)	اس سلسلے میں رد المحتار کی عبارت یوں ہے:  و قد ترکت الیوم للاستغناء عنہا بالمدافع الحادثۃ۔ (۱۵؍ ۴۳۶) 
(۳)	سورۂ بقرہ،۲؍ ۱۹۴۔
أی بعقوبۃ مما ثلۃ لجنایۃ اعتدائہ  الخ (۱)
یعنی تم اس کو ویسی ہی سزا دو جیسی انھوں نے زیادتی کی۔
توجب فریق ثانی توپ اور بندوق سے مسلمانوں کو بھوننے لگے،تویہ بھی جواب میں اسی طرح پیش آنے لگے۔الحاصل ! مغربی ممالک وغیرہ میں کہ جہاں حدوداقوام نصاریٰ سے ملحق ہیں جب وہ لوگ اپنے پیمبر مسیح کی یوم ولادت میں شوکت واحتشام ظاہرکر کے فخردکھلاتے ہیں اور کمزور مسلمان ان کی ظاہری شوکت دیکھ کر افسردہ خاطر اور خستہ دل ہوتے تھے تب مصرواندلس اور مغرب کے مسلم بادشاہوں نے قوم نصاریٰ سے کہیں زیادہ رونق وجلال کے ساتھ اعلاے کلمۃ الحق اور شانِ اسلامی کے اظہارکے لیے اپنے نبی مختار صلی اللہ علیہ وسلم کے روزمیلاد  ماہِ ربیع الاول  میں خوب تزک واحتشام ظاہرکیا تاکہ ان کے مقابلے میں شوکت اسلامی کا پورامظاہرہ ہو۔ اور اس کے اندر طرح طرح کے معجزات کا پڑھناشروع کیا تاکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم  کے جاہ وجلال اور فضل وکمال کاشہرہ سارے جہاں میں آشکارہو جائے،یہ کوئی تشبّہ نہیں بلکہ درحقیقت مخالفین کوپست کرنا اور شعائردین کوفروغ دینا ہے۔ چنانچہ کلام حافظ ابوالخیرسخاوی میں اس کی تصریح ملتی ہے جسے ملا علی قاری نے اپنے رسالہ مورد الروی میں نقل کیا ہے  :
و أما ملوک الأندلس و المغرب فلہم فیہ یعنی في ربیع الأول لیلۃ تسیر بہا الرکبان و یجتمع فیہا أئمۃ العلماء الأعیان من کل مکان و یعلو بین أہل الکفر کلمۃ الإیمان۔
یعنی بادشاہانِ اندلس ومغرب نے ربیع الاول میں ایک رات خاص کررکھی ہے جس میں دور دور سے لوگ سوار ہو کرآتے،نیز وقت کے اجلہ علما ے کرام بھی ہرجگہ سے تشریف لاتے اور اہل کفر کے بیچ کلمہ ایمان کاغلغلہ بلند ہوتا۔  
اسی طرح نورالدین ابوسعید بورانی نے لکھا ہے  :
علما ازاطراف عالم جمع آیند و در تعظیم آں شب یعنی شب میلاد شریف ارغام اہل کفرو ضلال نمایند۔
یعنی دنیاجہاں کے اطراف سے اس میں علماشرکت فرماتے اور شب میلاد شریف کی تعظیم وتکریم سے اہل کفروضلال کے سر ذلت وخواری سے نیچے ہوتے دکھائی پڑتے۔

(۱)	تفسیر روح البیان: ۱؍۳۰۷لبنان۔
خود کلام ابن جزری میں اس کی تصریح ہے  :
لو لم یکن في ذلک إلا إرغام الشیطان و إدعام أہل الإیمان۔ (۱)
 یعنی یہ محفل میلاد شریف اہل ایمان کے لیے باعث تقویت، اور شیطان کے لیے ذلت وخواری کاسامان ہے۔ 
تماشہ یہ ہے کہ کسی دور میں کفار اس محفل سے جلا کرتے تھے اور اس آخری دور میں بعض مسلمان اس سے جلتے نظر آرہے ہیں۔
ابن جزری کی طرف سے ایک تیسرا جواب بھی ہوسکتا ہے کہ یہ دستور ہے کہ جو لوگوں کو کسی نیک کام کی طرف ترغیب دیتے ہیں توادنی کا ذکرکر کے اعلیٰ کاشوق دلانا مقصود ہوتا ہے مثلاً گاؤ کشی وغیرہ مقدمات دینیہ میں جب اہل اسلام کو بے رغبت دیکھیں تو ان کو یہ کہاجائے کہ قوم ہنود باوجودے کہ ان کا مذہب باطل ہے وہ توباطل پرجاں فشانی کریں اور تم حق پرہو کربھی کچھ نہ کرو،تم کو ان سے کہیں زیادہ عرق ریزی اور جاں نثاری کرنی چاہیے۔اس کوکوئی عاقل تشبہ بالکفار نہ کہے گا، اسی قاعدہ کے مطابق قرآن میں نازل ہوا  :
إنْ تَکُونُوا تَألَمُونَ فَإنَّہُمْ یَألَمُونَ کَمَا تَألَمُونَ وَ تَرْجُونَ مِنَ اللّٰہِ مَا لاَ یَرْجُونَ۔ (۲)
اگرتمھیں دکھ پہنچتا ہے توانھیں بھی دکھ پہنچتا ہے جیساتمھیں پہنچتا ہے اور تم اللہ سے وہ امید رکھتے ہو جو وہ نہیں رکھتے۔  
اس آیت کی تفسیر دیکھنی چاہیے۔ اور محمد  بن مسعودکارزونی کاقول اسی درجہ میں ہے،وہ لکھتے ہیں کہ جب بادشاہ یا کوئی مقتدراَمیراپنے گھر میں لڑکاپیداہونے کی خوشی میں طرح طرح کے تکلّفات وضیافت وغیرہ کرے  حالاں کہ وہ ابناے دنیا سے ہے تو پھر میلاد رسول  صلی اللہ علیہ وسلم  کی خوشی میں ایساکیوں نہ کیا جائے کہ یہ سبب نجات ہے۔تو ترغیب محفل میلادکے سلسلے میں ابن جزری کا قول بھی اسی قبیل سے واقع ہوا ہے کہ جب نصاریٰ اپنے پیغمبر کی میلاد کی ایسی خوشی کریں تو ہم تو ان سے زیادہ اس کے مستحق ہیں کہ اپنے نبی  صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کی خوشی منائیں۔ 
۔
(۱)	سبل الہدیٰ والرشاد: ۱؍ ۳۶۳۔
(۲)	سورۂ نسائ،۴؍۱۰۴۔
حضور رسول مقبول  صلی اللہ علیہ وسلم کایہ قول بھی اسی درجہ میں واقع ہوا ہے کہ جب یہودیوں نے کہا ہم روزۂ عاشورا،موسیٰ  علیہ السلام  کو نجات ملنے کے شکرانے میں رکھا کرتے ہیں  تو آپ نے فرمایا  :
أنَا أحَقُّ بِمُوسیٰ مِنْکُمْ۔ (۱)
یعنی جب تم یہود، ان کا شکریہ ادا کرو تو میں اس شکریہ کاتم سے زیادہ مستحق ہوں کیوں کہ مجھ کو موسیٰ  علیٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام سے زیادہ مناسبت ہے۔
یہاں ایک خوبی اور ہے کہ اگر ابن جزری یہ مقولہ فرما کر محفل میلاد شریف کی بنا ڈالتے تو یہ بھی گمان ہوتاکہ اسی دلیل پر یہ عمل مبنی ہوا ہے، اور انھوں نے یہ عمل نصاریٰ سے سیکھا ہے ، حالاں کہ یہ عمل اس کلام سے دو سو برس پہلے یوم میلاد کی تخصیص و تعیین کے ساتھ ایجادہو چکا تھا، اور علمائے دین اس کی اصل ونظیرشریعت سے نکال کر فتوے دے چکے تھے۔تو اس شیخ معظم مرحوم پرتشبہِ نصاریٰ کا الزام بے سمجھے بوجھے نہیں لگادیناچاہیے۔خیر! شیخ پرہوئے اعتراض کے ردکایہ ذکر (درمیان میں )اتفاقی آ گیا تھا،اب ہم اصل کلام کی طرف رجوع کریں اور تشبہ کے ابطال کی وجہ بیان کریں۔
تیسری وجہ یہ ہے کہ نصاریٰ کا بڑا دن اور ہندوؤں کا جنم کنہیا معین ہے،اسی ایک دن میں جوکچھ کرنا ہے وہ لوگ کرتے ہیں۔ اور اہل اسلام کے یہاں یہ بات نہیں کہ خاص ربیع الاول کی بارہویں تاریخ کے سواکسی اور دن میلاد شریف کی محفل مسرت منعقد نہ کریں۔ربیع الاول کی ساری تاریخوں میں میلاد شریف ہوتا ہے،کسی نے کسی دن کیا اور کسی نے کسی دن،بلکہ ربیع الاول کے علاوہ اور مہینوں میں بھی اہل اسلام میلاد شریف کیا کرتے ہیں۔ اور ہنودونصاریٰ خاص اسی ایک دن کیا کرتے ہیں۔ اور یہ مثال اوپرہم دے چکے ہیں کہ صوم عاشورا میں ہم اور اہل کتاب شریک 

(۱)	صحیح بخاری: ۷؍۱۲۷حدیث: ۱۸۶۵۔۔مسند احمد: ۶؍ ۴۴حدیث: ۲۵۱۲۔۔مصنف ابن ابی شیبہ: ۶؍ ۴۴حدیث: ۲۵۱۲۔۔ مسند ابویعلی موصلی: ۶؍ ۱۲۲حدیث: ۲۵۱۳۔۔ مسندحمیدی: ۶؍ ۱۲۲حدیث: ۲۵۱۳۔۔ کنزالعمال: ۸؍ ۵۷۴حدیث: ۲۴۲۴۶۔۔ مجمع الزوائد: ۳؍۱۸۴۔۔ مسندجامع: ۴۱؍ ۴۰۰حدیث: ۱۳۴۹۵۔
	زیادہ ترکتابوں میں یہ حدیث صیغہ جمع کے ساتھ یوں ملتی ہے  :
	فنحن أحق بموسیٰ منکم۔ (سنن ابن ماجہ: ۵؍۲۶۹حدیث: ۱۷۲۴۔۔سنن نسائی: ۲؍ ۱۵۷حدیث: ۲۸۳۵۔۔ معجم کبیرطبرانی: ۱۰؍۱۷۰حدیث: ۱۲۱۹۳۔۔تہذیب الآثارطبری: ۲؍ ۱۲۵حدیث: ۱۰۹۱۔۔ شعب الایمان بیہقی: ۸؍ ۲۹۲ حدیث: ۳۶۱۷۔۔ مستخرج ابی عوانہ: ۶؍ ۲۷۶حدیث: ۲۳۸۲۔۔ فضائل الاوقات بیہقی: ۱؍ ۲۶۴حدیث: ۲۳۳۔ 
ہیں لیکن ایک روز پہلے بھی جو ہم رکھ لیتے ہیں اتنے ہی سے تشبہِ اہل کتاب جاتارہتا ہے، اور ہمارا فعل ان سے جدا گناجاتا ہے۔فقہ وحدیث کی کتابوں میں (اس کی تفصیل )معلوم کریں۔
توجب اس قدر مخالفت کرنے سے تشبہ باطل ہو گیا حالاں کہ ہم ان کے اصل فعل یعنی صوم یوم عاشورا میں ان کے شریک ہیں  پھرنصاریٰ کے بڑے دن اور کنہیا کے جنم میں کہ ہم ان کے ان دونوں دنوں میں ان کے افعال میں (کسی بھی طرح )شریک نہیں تمہاراکیا خیال ہے ؟۔ اور ہم جو محفل میلاد شریف کرتے ہیں اس کی ترتیب وآئین جدا اور ان کے رسوم وقواعد جدا،نہ دن میں کوئی شرکت اور نہ کاروبار میں کوئی مشابہت! استغفراللہ اسے ابن جزری کی طرف سے چوتھا جواب سمجھو۔
خلاصہ یہ کہ امام المحدثین علامہ ابن جزری اور جملہ اہل سنت وجماعت کا مشرب نہایت صاف اور تشبہات کفریہ سے بالکل پاک ہے۔ہاں ! یہ حضرات محفل میلاد شریف کوجنم کنہیاوغیرہ سے تشبیہ دے کر کچھ اپنی عاقبت بخیرہونے کاسامان کر رہے ہیں۔اگرچہ مجھ کو اکثر مبتدعین کی تکفیر میں سکوت ہے کیوں کہ اگر وہ کافر ہو گئے تو ان کے عذاب کے لیے اللہ بس ہے،میں اپنا منہ کیوں آلودہ کروں۔ہاں !بعض اہل علم تحریر فرماتے ہیں کہ ایسی تشبیہ دینے اور حضورسیدالابرار صلی اللہ علیہ وسلم  کے ذکرپاک کی محفل کو اس قسم کی تحقیر واہانت کرنے سے آدمی کافر ہو جاتا ہے تواہل اسلام کوچاہیے کہ ایسے خطرناک الفاظ سے پرہیزکریں  و ما علینا إلا البلاغ 
 فائدہ : چوں کہ تشبہ بالہنود و النصاریٰ کا لفظ ابن جزری وغیرہ علمائے کبار تک پہنچا ہے اس لیے ہم شرع سے اس کی ایک نظیر پیش کرتے ہیں تاکہ وہ پاکبازانِ امت اس دھبے سے پاک نظر آئیں۔
اگر کسی کام میں بظاہر تشبہ معلوم ہوتاہو لیکن مسلمانوں کی اس سے غرض تشبہ کی نہ ہو بلکہ کسی مصلحت اور اعلاے شانِ اسلام مقصود ہو تو وہ فعل، مکروہ نہیں رہتا۔دیکھیے مساجد کی تزئین وآرایش کے سلسلہ میں حدیث آئی ہے  :
قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ  صلی اللہ علیہ وسلم  مَا أمِرْتُ بِتَشْیِیْدِ الْمَسَاجِدِ، قَالَ ابْنُ عَباسٍ لَتُزَخْرِفُنَّہَا کَمَا زَخْرَفَتِ الْیَہُودُ وَ النَّصَاریٰ۔ (۱)

(۱)	مشکوٰۃ المصابیح: ۱؍ ۱۵۸حدیث: ۷۱۸۔۔سنن ابوداؤد:۲؍۳۴حدیث: ۳۷۸۔۔سنن بیہقی: ۲؍ ۴۳۹۔۔مصنف عبد الرزاق: ۳؍ ۱۵۲حدیث: ۵۱۲۷۔۔صحیح ابن حبان: ۷؍۲۳۲حدیث: ۱۶۴۲۔۔کنزالعمال: ۷؍ ۶۶۸حدیث: ۲۰۸۲۷ ۔۔ المسند الجامع: ۱۹؍ ۵حدیث: ۵۹۷۸۔۔تحفۃ الاشراف: ۷؍ ۲۲۰حدیث: ۶۵۵۴۔۔روضۃ المحدثین: ۹؍ ۱۰۲۔
	حدیث کے الفاظ یوں بھی ملتے ہیں  :
	إني لم أومر بتشیید المساجد، قال ابن عباس۔۔۔۔۔۔۔۔(معجم کبیرطبرانی: ۱۰؍ ۳۸۴حدیث: ۱۲۸۲۶۔۔مسند ابویعلی موصلی: ۶؍ ۸حدیث: ۲۳۹۹۔۔ مسندحمیدی: ۶؍ ۸حدیث: ۲۳۹۹۔
یعنی مشکوٰۃ میں بروایت ابوداؤد حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما  سے روایت ہے کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے پکی اور بلند مسجدیں بنانے کاحکم نہیں ہوا ہے۔ حضرت ابن عباس اس حدیث کی مراد یہ بتاتے ہیں کہ تم مسجدوں کو یوں ہی سجاؤگے جس طرح یہودو نصاریٰ اپنی عبادت گاہوں کی تزئین اور نقش نگاری کیا کرتے ہیں۔
ابن ماجہ میں ہے  :
قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ  صلی اللہ علیہ وسلم  أرَاکُمْ سَتُشَرِّفُونَ مَسَاجِدَکُمْ بَعْدِي کَمَا شَرَّفَتِ الْیَہُودُ کَنَائِسَہَا وَ کَمَا شَرَّفَتِ النَّصَاریٰ بِیَعَہَا۔ (۱)
یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ میں دیکھ رہاہوں کہ تم میرے بعد مسجدوں کی عمارتیں بلند کروگے جیسے کہ یہودنے اپنے کنیسوں اور نصرانیوں نے اپنے گرجاگھروں کو عالیشان بنایا ہے۔
دیکھیے! یہاں خود رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام میں لفظ تشبہ وارد ہوا ہے جس سے یہ ثابت ہے کہ اگر مسلمان اپنی مسجدوں کو بلندبنائیں یانقش ونگارسے سجائیں تو یہودو نصاریٰ کے فعل کے ساتھ تشبہ ہے لیکن اس کے باوجود محققین اہل سنت اور ارباب اجتہادوفتاویٰ نے اس کو جائز رکھا۔
ہدایہ میں ہے  :
لا بأس بأن ینْقش المسجدُ بالجص و الساج و ماء الذہب۔ (۲)
یعنی مسجدوں کو چونے،سال کی لکڑی اور آب زریں سے زینت بخشنے میں کوئی حرج نہیں۔
یوں ہی درمختار اور فتح القدیر میں ہے کہ مسجد کی زینت کرنے میں تین قول ہیں،ہمارا مذہب یہ ہے کہ اس میں کچھ مضائقہ نہیں۔ان کی عبارت یہ ہے  :
و الأقوال ثلاثۃ و عندنا لا بأس بہ۔ (۳)
یعنی اس سلسلے میں تین اقوال ہیں مگر ہمارے نزدیک ایسا کرنے میں کوئی حرج نہیں۔

(۱)	سنن ابن ماجہ: ۲؍ ۴۴۶حدیث: ۷۳۲۔۔ کنزالعمال: ۷؍ ۶۶۷حدیث: ۲۰۸۲۳۔۔ مسند الجامع: ۱۹؍۴حدیث: ۵۹۷۷ ۔۔تحفۃ الاشراف: ۷؍ ۱۳۹حدیث: ۶۲۰۸۔
(۲)	العنایہ شرح الہدایہ: ۲؍ ۱۷۸ فصل استقبال القبلۃ ۔۔فتح القدیر: ۲؍ ۳۳۹ فصل ویکرہ استقبال القبلۃ ۔۔ المبسوط: ۳۴؍ ۱۶۵ کتاب الکسب ۔۔دررشرح غرر: ۱؍ ۴۹۴ مکروہات الصلوٰۃ 
(۳)	فتح القدیر: ۲؍ ۳۴۰ فصل ویکرہ استقبال القبلۃ 
 طحطاوی نے بحرالرائق کے حوالے سے نقل کیا ہے  :
و أصحابنا قالوا بالجواز من غیر کراہۃ۔ (۱)
یعنی ہمارے اصحاب مذہب نے بلا کراہت تزئین مسجد کے جواز کا حکم دیا ہے۔
ان تین اقوال میں دوسرا قول یہ ہے کہ مسجد کو زینت دینا مستحب ہے۔ یہ قول بھی ہدایہ اور شامی وغیرہ میں موجودہے۔شامی کی عبارت یوں ہے  :
و قیل یستحب لما فیہ من تعظیم المسجد۔ (۲)
یعنی تزئین میں تعظیم مسجدہونے کی وجہ سے اس کے استحباب کابھی حکم دیا گیا ہے۔ 
 تیسرا قول یہ ہے کہ مساجد کی تزئین وآرایش مکروہ ہے،مگریہ قول ضعیف ومرجوح ہے۔
 علامہ عینی نے شرح ہدایہ میں فرمایا  :
 مانعین کی حجت ضعیف ہے اس لیے کہ جملہ مسلمانوں کے اجماع سے کعبۃ اللہ کو زینت دی گئی، اور یوں کہ اندر سے سنہراکام کیا گیا اور باہر سے غلاف دیبا اس پر چڑھایا گیا، اور خود حضرت عمر رضی اللہ عنہ  نے غلاف چڑھایا۔اسی طرح مسجد کی زینت میں لوگوں کومسجدآنے کی رغبت ہوتی ہے،تویہ تکثیرجماعت کاسامان ہے، اور اس میں خانۂ خدا کی تعظیم ہے انتہیٰ  
 مجمع البحارکی تقریر ذکرچہلم وغیرہ کے سلسلے میں ہم اوپرلکھ چکے کہ لوگ اپنے مکانات عمدہ عمدہ بنانے لگے،اب اگر مساجد کی زینت نہ کی جائے تو خانہ خداکی تحقیر لازم آتی ہے انتہی 
شیخ عبدالحق محدث دہلوی یہی مضمون ’’اشعۃ اللمعات‘‘میں یوں رقم فرماتے ہیں  :
مردم خانہاے مشیّدو مزخرف و مطلا می سازند اگر ما مسجدہا بخشت و گل سادہ بناکنیم شاید کہ در نظر عوام خوار نماید و حقیر در آید  انتہیٰ 
یعنی لوگ تو اپنے مکانات پختہ، منقش اور پر زینت بنائیں اب اگر مسجدیں صرف اینٹ اور مٹی کی بالکل سادہ بنائی جائیں تو شاید عوام کی نظر میں اس کی اہمیت ووقعت گھٹ جائے۔
خلاصہ یہ ہے کہ مکروہ سمجھنے پرمحققین کاعمل نہیں بلکہ عالم بھرمیں پھر کر دیکھو جمیع اہل اسلام چونہ اور گچ وغیرہ سے تعمیر مساجد میں خوبصورتی پیدا کرتے ہیں اور جنھیں قدرت ہوتی ہے وہ فرشوں،

(۱)	بحر الرائق: ۴؍ ۱۸۶ باب نقش المسجد 
(۲)	رد المحتار: ۵؍ ۸۲ فروع اشتمال الصلوٰۃ علی الصمائ 
قندیلوں اور گوناگوں نقوش وغیرہ سے زینت دیتے ہیں حتی کہ مولف براہین قاطعہ گنگوہی نے بھی اس مقام پرصفحہ ۱۳۳کی پانچویں سطرمیں اسی طرح لکھا ہے  :
زینت مساجد کی بوجہ ازالہ شین اسلام کی ہے اور رفع شین اسلام کا فرض ہے الیٰ آخرہ 
بھلا جب وہ تشبہ  جو حدیث نبی صلی اللہ علیہ وسلم میں منصوص ہے  کسی دینی غرض کی وجہ سے کراہت سے نکل کر  مولف براہین قاطعہ کے مذہب کے مطابق فرضیت کے عالی منصب پرپہنچ گیا اور علمائے سلف کے اقوال کے موافق مستحب اور مباح ہو گیا۔ توکیا غفلت کاپردہ پڑا گیامانعین کی فہم پر !
مولد شریف میں کیوں نہیں سمجھتے کہ اگربالفرض تم کواس میں تشبہ نظرآتا ہے تو کیفیت زمانہ تبدیل ہو جانے کی وجہ سے اب اس کومستحب سمجھوجیساکہ ہم اوپرعلی قاری  رحمۃ اللہ علیہ  کی کتاب سے امام سخاوی کا یہ قول نقل کر چکے  :
یجتمع أئمۃ العلماء الأعیان من کل مکان و یعلو بین أہل الکفر کلمۃ الإیمان۔
یعنی اس محفل میلاد شریف میں اجلہ ائمہ وعلماہرجگہ سے تشریف لاتے تھے اور اہل کفر کے درمیان کلمہ ایمان بلند کرتے تھے۔
یہ فائدہ ہم نے بطورِ تنزل لکھا ہے یعنی درحقیقت اس میں تشبہ نہیں اور اگر تشبہ بھی ہوتاتب بھی یہ عمل ایک دوسری خوبی کی بنیادپر مستحب اور مستحسن ہوتا کہ اس میں کلمۃ الحق بلندہوتا ہے۔ جیساکہ مساجد کی زینت میں کہ  گویہودونصاریٰ کاتشبہ موجودہے لیکن دوسری خوبی کے باعث کہ خانہ خدا کی تعظیم نکلتی ہے  اس کی یہ زینت مستحب اور مستحسن ہے۔




لمعہ رابعہ

یہ اعتراض کرتے ہیں کہ اگرچہ اس میں کفارکاتشبہ نہیں پھربھی یہ محفل بدعت سیئہ ضرور ہے کیوں کہ قرون ثلاثہ میں نہیں پائی گئی۔
جواب مولوی اسماعیل صاحب اپنی تصنیفات ’تذکیرالاخوان،وغیرہ میں لکھتے ہیں  :
جو عمل ایسا ہو کہ زمانہ نبوت  علی صاحبہا الصلوٰۃ والسلام اور اس کے بعد تین زمانے  یعنی صحابہ وتابعین اور تبع تابعین  میں وہ عمل نہ پایاجائے، اور نہ ان چاروں زمانوں میں اس کی نظیرومثل پائی جائے تو وہ عمل بدعت ہے۔ اور جوکچھ مجتہدین نے اپنے اجتہاد سے نکالا وہ سنت میں داخل ہے۔انتہیٰ۔
اسی بنیادپرہم کہتے ہیں کہ عمل مولد شریف بدعت نہیں کیوں کہ اس کی اصل بھی پائی گئی اور اس کی مثل ونظیر بھی۔
اصل وجود تو یہ ہے کہ میلاد شریف کی شروعاتی بحث میں ہم نصوص قرآنی لکھ چکے ہیں ان کو دیکھناچاہیے۔علاوہ ازیں اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے فرمایا  :
لَقَدْ جَائَ کُمْ رَسُولٌ مِّنْ أنْفُسِکُمْ عَزِیْزٌ عَلَیْہِ مَا عَنِتُّمْ حَرِیْصٌ عَلَیْکُمْ بِالْمُؤمِنِیْنَ رَئُ وْفٌ رَحِیْمٌ۔ (۱)
بے شک تمہارے پاس تشریف لائے تم میں سے وہ رسول جن پر تمہارا مشقت میں پڑنا گراں ہے تمہاری بھلائی کے نہایت چاہنے والے مسلمانوں پر کمال مہربان،مہربان۔
 دیکھیے اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آنے کا ذکر فرمایا اس کے بعد آپ کی صفتیں بیان فرمائیں۔ اور میلاد شریف میں بھی یہی ہوتا ہے۔آپ کے آنے کاذکر کرتے  ہیں کہ آپ پیداہوئے یعنی عالم غیب وبطون سے عالم شہادت وظہورمیں تشریف لائے۔ اور پھر آپ کی صفات کا نثراً اور نظماًبیان ہوتا ہے۔
اس سے بھی واضح ترسنو۔نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا  :
إنِّي عِنْدَ اللّٰہِ مَکْتُوبٌ  خَاتَم النَّبِیِّیْنَ وَ إنَّ آدَمَ لَمُنْجَدِلٌ فِي طِیْنَتِہٖ وَ سَأخْبِرُکُمْ بِأوَّلِ أمْرِيْ دَعْوَۃُ إبْرَاہِیْمَ وَ بِشَارَۃُ عِیْسیٰ وَ رُؤیَا أمِّي الَّتِيْ رَأتْ 

(۱)	سورۂ توبہ،۹؍۱۲۸۔
حِیْنَ وَضَعَتْنِيْ وَ قَدَ خَرَجَ لَہَا نُورٌ أضَائَ لَہَا مِنْہُ قُصُورُ الشَّامِ۔ (۱)
یعنی میں اللہ تعالیٰ کے نزدیک اسی وقت سے ’خاتم النبیین، لکھاہواہوں جب کہ آدم ابھی اپنی

(۱)	مشکوٰۃ المصابیح: ۳؍ ۲۵۱حدیث: ۵۷۵۹۔۔صحیح ابن حبان: ۲۶؍ ۳۳۹حدیث: ۶۵۱۰۔۔موارد الظمآن: ۱؍ ۵۱۲۔
	یہ حدیث الفاظ کے ذراذرا سے فرق کے ساتھ متعدد طریقے پر ملتی ہے:
ئ	سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  یقول : إني عبد اللہ في أم الکتاب لخاتمُ النبیین و إن آدم لمنجدل في طینتہ و سأنبئکم بتأویل ذلک دعوۃِ أبي إبراہیم و بشارۃ عیسیٰ قومہ و رؤیا أمي رأت أنہ خرج منہا نور أضاءت لہ قصور الشام۔(مسنداحمد: ۳۵؍ ۲۵حدیث: ۱۶۵۳۷۔۔ مستدرک حاکم: ۹؍ ۴۵۱حدیث: ۴۱۴۰۔۔ معجم کبیر طبرانی: ۱۳؍۱۷۲حدیث: ۱۵۰۳۴۔۔دلائل النبوۃ بیہقی: ۱؍۲۲ حدیث: ۱۵۔۔امالی ابن بشران: ۱؍ ۴۴حدیث: ۴۰)
ئ	قال : دعوۃ  أبي  إبراہیم  و  بشریٰ عیسیٰ و رأت أمي أنہ یخرج منہا نور أضاءت منہا قصور الشام۔ (مسنداحمد: ۴۵؍ ۲۲۶حدیث:۲۱۲۳۱۔۔بغیۃ الحارث: ۱؍ ۲۸۱حدیث: ۹۳۱۔۔معجم کبیر طبرانی: ۷؍ ۱۹۲ حدیث: ۷۶۳۱ ۔۔ دلائل النبوۃ بیہقی: ۱؍۲۴حدیث: ۱۷۔۔مسندالشامیین: ۵؍ ۱۸۲حدیث: ۱۵۵۲۔۔مسندطیالسی: ۳؍ ۳۲۳حدیث: ۱۲۲۳۔۔مجمع الزوائد: ۳؍ ۴۹۱۔۔کنزالعمال: ۱۱؍ ۳۸۳حدیث: ۳۱۸۲۹۔۔مسند الجامع: ۱۷؍ ۱۸۶حدیث: ۵۳۳۹۔۔ حدیث ابوالفضل زہری: ۲؍ ۶۶حدیث: ۵۶۵۔۔سبعۃ مجالس من امالی ابی الطاہر: ۱؍۶حدیث: ۵۔۔ مسند ابن جعد: ۷؍ ۱۹۷حدیث: ۲۸۹۲۔۔مسند الحارث :۳؍ ۴۸۴حدیث: ۹۱۶۔۔مسندالرویانی: ۳؍۴۴۴حدیث: ۱۲۵۴ )
ئ	إني عبد اللہ، و خاتمُ النبیین و إن آدم  علیہ السلام  لمنجدل في طینتہ و سأحدثکم عن ذلک دعوۃُ أبي إبراہیم و بشارۃ عیسیٰ  و رؤیا أمي رأت و کذالک أمہات النبیین یرین و إن أم رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  رأت حین وضعت  نور أضاءت منہ قصور الشام۔(معجم کبیر طبرانی: ۱۳؍ ۱۷۱حدیث: ۱۵۰۳۳۔۔دلائل النبوۃ بیہقی: ۱؍۲۰حدیث: ۱۳۔۔شعب الایمان: ۳؍ ۴۲۵ حدیث: ۱۳۷۴۔۔ روضۃ المحدثین: ۳؍ ۴۵۲حدیث: ۱۲۲۷)
ئ	إني عند اللہ لخاتمُ النبیین و إن آدم لمنجدل في طینتہ و سأنبئکم بأول ذلک دعوۃ إبراہیم و بشری عیسیٰ و رؤیا أمي رأت۔۔۔۔۔۔۔۔۔حین وضعتہ نور أضاءت منہ قصور الشام۔(مجمع الزوائد و منبع الفوائد: ۳؍ ۴۹۲۔۔کنزالعمال: ۱۱؍ ۴۱۸حدیث: ۳۱۹۶۰)
ئ	أخذ اللہ  عزوجل  مني المیثاق کما أخذ من النبیین میثاقہم، و بشر بي المسیح عیسی ابن مریم و رأت أمي في منامہا أنہ خرج من بین رجلیہا سراج أضاءت لہ قصور الشام۔ (کنزالعمال: ۱۱؍ ۴۱۴ حدیث: ۳۱۹۴۱)
مٹی میں گندھے ہوئے تھے۔ اب میری ابتداکامعاملہ سنو! میں ابراہیم کی دعا(۱)، نویدعیسیٰ (۲)، اور اپنی ماں کا وہ خواب ہوں جوانھوں نے میری ولادت کے وقت دیکھا تھا اور اس وقت ان کے لیے ایک ایسی روشنی ظاہرہوئی جس سے ان کو شام کے محلات تک نظر آنے لگے تھے۔  
یہ روایت مشکوٰۃ کے  باب فضائل سیدالمرسلین  میں موجودہے۔ 
امام قسطلانی رحمۃ اللہ علیہ نے مواہب لدنیہ میں کہا کہ اس حدیث کو امام احمد، بیہقی اور حاکم نے روایت کیا اور حاکم نے کہاکہ یہ حدیث صحیح الاسنادہے۔ اور زرقانی نے شرح مواہب میں کہا کہ اس کو ابن حبان نے بھی اپنی صحیح میں روایت کیا ہے۔دیکھیے حدیث صحیح سند سے ثابت ہے کہ آپ نے اپنی اولیت و سابقیت کاذکر اور ولادت باسعادت کا بیان بھی خود فرمایا ہے اور وہاں موجود صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین  کی جماعت نے سناجن کو حضور نے مخاطب کر کے فرمایا تھا: سأخبرکم بأول أمري۔
اب ہم دوسری روایت وہ بیان کریں جس میں یہ بات ہے کہ ایک جلیل القدرصحابی نے صحابہ  رضی اللہ عنہم اجمعین کے مجمع عام میں ایسے اشعارپڑھے جن میں ولادت شریف کا ذکر ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جسے بہ رضا ورغبت سنا۔
مواہب لدنیہ نیزدیگر کتابوں میں حاکم وطبرانی اور دیگر محدثین کے حوالے سے روایت ہے کہ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم غزوۂ تبوک سے واپس آئے توپہلے آپ مسجد میں تشریف لائے جہاں آپ نے مجلس عام میں اجلاس فرمایا،جیساکہ کعب بن مالک نے صحیح میں روایت کیا ہے: 

(۱)	 سورۂ بقرہ کے بارہویں رکوع میں یہ دعامذکورہے  :
	رَبَّنَا وَ ابْعَثْ فِیْہِمْ رَسُولاً مِّنْہُمْ یَتْلُوا عَلَیْہِمْ آیَاتِکَ وَ یُعَلِّمُہُمُ الْکِتَابَ وَ الْحِکْمَۃَ وَ یُزَکِّیْہِمْ إنَّکَ أنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ (بقرہ،۲؍۱۲۹)۔
	اے ہمارے رب! اور بھیج ان میں ایک رسول انھیں میں سے کہ ان پر تیری آیتیں تلاوت فرمائے اور انھیں تیری کتاب اور پختہ علم سکھائے اور انھیں خوب ستھرافرمادے،بے شک توہی ہے غالب حکمت والا۔
	روایت ہے کہ جب ابراہیم علیہ السلام  نے یہ دعاکی توغیب سے آواز آئی کہ ابراہیم تیری دعا قبول ہو گئی وہ رسول آخر زمانہ میں آئے گا۔
(۲)	سورہ صف میں ہے کہ عیسیٰ  علیہ السلام نے کہا  :
	وَ مُبَشِّرًا بِرَسُولٍ یَّأتِيْ مِنْ بَعْدِي اسْمُہٗ أحْمَدُ (صف،۶۱؍۶)۔
	 اور ان رسول کی بشارت سناتاہواجومیرے بعد تشریف لائیں گے،ان کا نام احمدہے۔۱۲منہ
پھر عباس بن عبد المطلب نے اجازت چاہی آپ نے دعاے خیر دے کر ان کواجازت عطافرمائی اور انھوں نے یہ اشعارپڑھے (۱)      ؎
مِنْ قَبْلِہَا طِبْتَ فِي الظِّلاَلِ وَ فِي
ء
مُسْتَودَعٍ حَیْثُ یُخْصَفُ الْوَرَقُ
ثُمَّ ہَبَطتَّ الْبِلاَدَ لا بَشَرٌ
ء
أنْتَ وَ لاَ مُضْغَۃٌ  وَ لاَ عَلَقُ
بَلْ نُطْفَۃٌ تَرْکَبُ السََّفِیْنَ وَ قَدْ
ء
ألْجَمَ نَسْرًا وَ أہْلَہُ الْغَرَقُ
تُنْقَلُ مِنْ صَالِبٍ إلٰی رَحِمٍ
ء
إذَا مَضٰی عَالمٌ بَدَا طَبَقُ
وَرَدْتَ نَارَ الْخَلِیْلِ مُکْتَفی
ء
فِي صُلْبِہٖ أنْتَ کَیْفَ یَحْتَرِقُ
حَتّٰی احْتَوَی بَیْتُکَ الْمُہَیْمِنُ مِنْ
ء
خَنْدَفَ عَلْیَائَ تَحْتَہَا النُّطْقُ
وَ أنْتَ لَمَّا وُلِدْتَ أشْرَقَتِ الأ
۔۔۔۔۔۔۔
رْضُ وَ ضَائَ تْ بِنُورِکَ الأفُقُ
فَنَحْنُ فِي ذٰلِکَ الضِّیَائِ وَ في النُّ
۔۔۔۔۔۔۔
ورِ وَ سُبْلِ الرَّشَادِ نَخْتَرِقُ

یعنی آپ ولادت شریف سے قبل صلب آدم میں نہایت عمدہ ترین حالت میں تھے جہاں جنت کے پتوں کے پیوند لگائے جاتے تھے۔
پھر آپ آدم کے ساتھ زمین پریعنی صلب آدم میں اترے اس وقت نہ آپ بشر تھے، نہ پارہ گوشت اور نہ بستہ خون۔
بلکہ صلب سام بن نوح میں کشتی کے اند رسوارآپ ایک ایسانطفہ تھے جس نے بت نسر کو ڈبودیا اور اس کے پوجنے والوں کو طوفان نے غرق کر دیا۔
آپ ایک پشت سے ایک رحم میں منتقل ہوتے رہے تو جب ایک عالم گزرتادوسرا ہویداہو جاتا۔
صلب براہیمی میں چھپے ،آتش نمرود میں آپ ہی نے نزول اجلال فرمایا تھا تو بھلا وہ کیوں جلنے لگتے!۔
(آپ پاک صلبوں میں منتقل ہوتے رہے)یہاں تک کہ شامل ہوا آپ کا نسب عالی ،اولاد خندف کے نسب سے بلند تر ہو گیاکہ اس کے بیج اور طبقات تھے۔
 
(۱)	مستدرک: ۱۲؍ ۳۴۷حدیث: ۵۴۲۶۔۔ معجم کبیرطبرانی: ۴؍ ۲۸۶حدیث: ۴۰۵۷۔۔دلائل النبوۃ بیہقی: ۵؍ ۳۵۴ حدیث: ۲۰۲۲۔۔معرفۃ الصحابۃ اصبہانی: ۷؍ ۲۱۸حدیث: ۲۲۶۱۔۔الفوائد الشہیرابوبکر شافعی: ۱؍ ۲۶۹حدیث: ۲۶۳۔۔ مجمع الزوائد و منبع الفوائد: ۳؍ ۴۸۸۔۔ کنزالعمال: ۱۲؍ ۴۲۸حدیث: ۳۵۴۸۹۔۔تخریج احادیث الاحیائ: ۵؍ ۱۷۲ حدیث: ۲۱۷۲۔
 اور جب آپ عالم دنیا میں جلوہ گر ہوئے تومیلاد النبی  صلی اللہ علیہ وسلم کے انواروبرکات سے زمین وآسمان جگ مگ جگ مگ کراٹھے۔ 
تو اب ہم اسی جادۂ نوروضیا اور رشدو ہدایت پر چل رہے ہیں۔
اب دیکھیے! اس میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اولیت،آپ کے ایک صلب سے دوسرے صلب میں منتقل ہونے اور حضرت نوح وبراہیم علیہما السلام کاآپ کی برکت سے نجات پانے کے احوال بیان ہوئے ہیں کہ آپ کا نور ان کے ساتھ تھا پھرپاک صلبوں اور رحموں سے منتقل ہوتے ہوتے انجام کار عالم وجود میں آیا،وقت ولادت ایک نور پھوٹاجس سے تمام عالم روشن ہو گیاتوجو کچھ میلاد شریف کی محفل میں بہ تفصیل بیان ہوتا ہے اس جلسہ میں وہ سب بالاجمال مذکور ہوا ہے۔ لہٰذا ان لوگوں کا قول باطل ہو گیا جویہ کہتے ہیں کہ استقلال کے ساتھ یہ ذکر نہ کرے،اگر وعظ کے اندر اور ذکر کے دوران یہ بھی ذکر کر دے تو درست ہے۔ اور بعض یہ کہتے ہیں کہ تنہاپڑھ لیا جائے تو جائزہے مجمع میں نہ پڑھیں۔
 اب لوگوں کو آنکھ کھول کر دیکھنا چاہیے کہ اس مجلس میں حضرت عباس کا پورا قصیدہ بالاستقلال اسی ایک ذکر میں ہے جس کے اول وآخر کوئی پندوموعظت نہیں۔ اور پھر عین مجمع میں پڑھ رہے ہیں۔ اسی طرح روایت سابقہ میں نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی ایک ذکر مجمع عام میں بالاستقلال بیان فرمایا تھاتومجلس ذکرمبارک کی اصل اصیل ثابت ہو گئی۔
اب ہم دوسری بات ثابت کریں کہ اس کی نظیر اور مثل بھی ثابت ہے۔تو اس کی تفصیل یہ ہے کہ مجلس میلاد شریف ،نعمت خداوندی کا شکریہ ہے کہ اس نے ایک ایساہادیِ کامل ہماری ہدایت کے لیے بھیج دیا۔جیساکہ امام نووی کے کلام کی اسنادمیں اس مضمون کی تصریح موجودہے  :
لَقَدْ مَنَّ اللّٰہُ عَلَی الْمُوْمِنِیْنَ إذْ بَعَثَ فِیْہِمْ رَسُولاً   الآیۃ  
تو اس کی نظیر اور مثل یہی ہے کہ جلسہ شکریہ صحابہ میں بھی ایساہی ہوتا تھاچنانچہ صحیح مسلم میں ہے ایک روز رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم حلقہ صحابہ میں تشریف لائے اور پوچھا تم کیوں بیٹھے ہو ؟ کہا ہم یہاں بیٹھے اللہ یادکی کرتے ہیں اور اس کا شکرواحسان ادا کرتے ہیں جو اس نے ہمیں دولت اسلام سے مالامال فرمایا اور ہمیں راہِ راست پر لگادیا۔(اُن کے کلمات یہ ہیں :)
علیٰ مَا ہَدَانَا اللّٰہُ لِلإسْلاَمِ وَ مَنَّ بِہٖ عَلَیْنَا۔
 اس پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :اللہ کی قسم ! کیامحض تم شکریے کے لیے بیٹھے ہو انھوں نے عرض کی: قسم اللہ کی ہم صرف اسی غرض سے بیٹھے ہیں۔آپ نے فرمایا: میں نے تم کو قسم اس لیے نہیں دی کہ تم پرجھوٹ بولنے کاگمان تھابلکہ میرے پاس جبرئیل آئے اور انھوں نے یہ خبر دی  :
انَّ اللّٰہَ  عزوجل  یُبَاہِيْ بِکُمُ الْمَلاَئِکَۃَ۔ (۱)
یعنی اللہ تعالیٰ فرشتوں کے درمیان تم پرفخرفرمارہا ہے کہ دیکھو یہ میری نعمت کاشکرادا کر رہے ہیں۔
دیکھیے! صحابہ نے نعمت اسلام کا شکریہ ادا کر کے وہ درجہ پایا۔ اور مجلس میلاد میں اُس نعمت عالی کا شکرہے جودین اسلام کی اصل جڑہے ،تو امید ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل وکرم سے ملائکہ میں بانیانِ محفل میلاد اقدس پر بھی فخر ظاہر فرمائے کیوں کہ علت وہی نعمت کا شکریہ ہے۔
جب یہ معلوم ہو گیا کہ مجلس ذکرمیلادشریف کی اصل اور نظیرومثل سب ثابت ہیں توپھر اس کابدعت سیئہ کہناباطل ہو گیا۔
اب اگر کوئی مجلس میں امورِمروجہ بالائی کے سلسلہ میں بحث کرے تو اس کا جواب یہ ہے کہ محفلوں کے امورِ مروجہ جیسے فرش،چوکی،منبریا عطریات کا استعمال، شیرینی کی تقسیم یا کھاناوغیرہ تویہ سب امور مباحات شرعیہ میں سے ہیں  جیساکہ عنقریب واضح ہو گا اور بعض مباحات کا بعض مباحات کے ساتھ گھل مل جاناکسی اصولی کے نزدیک کراہت وحرمت کاباعث نہیں۔
اعتراض :  یہ کہنا کہ ایک آدمی، ابن عمر رضی اللہ عنہما  کے برابر میں چھینکا اور یہ کہا  : الحمد للہ والسلام علی رسول اللہ۔ابن عمر نے فرمایا:میں بھی کہتاہوں : الحمد للہ والسلام علی رسول اللہ۔لیکن ایسے موقع میں ہم کو ایسا تعلیم نہ فرمایا بلکہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے یہ تعلیم فرمایا ہے کہ کہا کریں :  الحمدللہ علی کل حال۔اس حدیث سے یہ سندہوئی کہ جو شرع میں ثابت ہو اس پرزیادہ کرنا منع ہے۔
جواب : مختصر طور پر(اس کاجواب) یہ ہے کہ ’’درمختار‘‘ کے  کتاب الذبائح  میں ہے  :

(۱)	صحیح مسلم: ۱۳؍۲۱۴حدیث: ۴۸۶۹۔۔ سنن ترمذی: ۱۱؍ ۲۳۳حدیث: ۳۳۰۱۔۔مشکوٰۃ المصابیح: ۲؍۱۳حدیث: ۲۲۷۸۔۔ مسنداحمد: ۳۴؍ ۱۹۵حدیث: ۱۶۲۳۲۔۔ سنن کبریٰ نسائی: ۳؍ ۵۰۰۔۔ الآحاد والمثانی ابن ابی عاصم: ۲؍ ۶۰حدیث: ۴۹۳۔۔ معجم کبیر طبرانی: ۱۴؍ ۲۲۴حدیث: ۱۶۰۵۷۔۔ مسندابویعلی موصلی: ۱۵؍ ۱۹۴حدیث: ۷۲۲۳۔۔ صحیح ابن حبان: ۴؍ ۱۱۸حدیث: ۸۲۴۔۔الدعا طبرانی: ۵؍ ۶۰ حدیث: ۱۷۸۰۔۔الزہدوالرقائق ابن مبارک: ۳؍ ۱۵۷حدیث: ۱۱۰۹۔۔ الشریعہ آجری: ۵؍ ۱۵۸حدیث: ۱۸۸۰۔۔ کنزالعمال: ۱؍ ۴۳۷حدیث: ۱۸۸۲۔۔ مسند الجامع: ۳۵؍ ۴۹۶حدیث: ۱۱۶۵۴۔۔الترغیب والترہیب: ۲؍ ۹۸حدیث: ۱۵۰۳۔
(قال  علیہ السلام )  مَوطِنَانِ لاَ أذْکُرُ فِیْہِمَا عِنْدَ العُطَاسِ وَ عِنْدَ الذِّبْحِ۔ (۱)
یعنی دوجگہ میراذکر نہ کرناچاہیے،چھینک اور ذبح کے وقت۔
تواس کا السلام علی رسول اللہ کہنا نہی کے مقابل واقع ہوا تھا پھر بھلا وہ ایک منہی عنہ امر کے الحاق کو کیوں نہ منع فرماتے۔امورمنہیہ کو توہم بھی منع کرتے ہیں۔
براہین قاطعہ میں ہے  :
 ایک شخص نے چھینک کر کہا السلام علیکم،حضرت ابن عمر نے اس پر بھی انکار کیا۔انتہیٰ۔
ہم کہتے ہیں : وہ انکار اس لیے تھا کہ شریعت کا الحمدللہ کہنے کاجومعینہ وظیفہ تھا اس نے اسے چھوڑ کراس کی جگہ تحیت ملاقات کا وظیفہ قائم کیا تھا اور یہ دین میں تبدیلی کرنا اور نئی شریعت گڑھنا ہے۔ مولد شریف کو اس سے کیا علاقہ! امورِ خیرکا اضافہ وایجاد تو من سن فی الاسلام سنۃ حسنۃ کی تعمیل ہے، یہ نہ تو تبدیل دین اور نہ تشریع جدید۔
اب ہم یہ تقریرپیش کرتے ہیں کہ کسی ایسے امر مستحسن یا مباح کازیادہ کر دینا  جو پہلے نہ تھا  جائز ہے۔اس کی دونظیریں لکھتاہوں۔باقی جس شخص کی نظرفتاویٰ پر ہو گی وہ اور نظیریں نکال لے گا۔
نظیر اول : یہ سبھی جانتے ہیں کہ صحاح ستہ میں جلسہ التحیات کے لیے حضور  صلی اللہ علیہ وسلم کا تعلیم فرمایاہوا درود یہ ہے  :
اللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ  إلیٰ آخرہ (۲)

(۱)	درمختار:۵؍ ۶۱۱۔
	کنزالعمال میں یوں آیا ہے  :  لا تذکروني في ثلاث مواطن عند العطاس و عند الذبیحۃ و عند التعجب ۔ (۱؍۵۱۰حدیث: ۲۲۵۶) 
(۲)	صحیح بخاری: ۱۱؍ ۱۵۵حدیث: ۳۱۱۸۔۔صحیح مسلم: ۲؍ ۳۷۳حدیث: ۶۱۳۔۔سنن ابوداؤد: ۳؍۱۶۱حدیث: ۸۳۰۔۔ سنن ترمذی: ۲؍ ۳۰۳حدیث: ۴۴۵۔۔ سنن نسائی: ۱۱؍ ۹حدیث: ۳۱۴۴۔۔ سنن ابن ماجہ: ۳؍ ۱۵۰حدیث: ۸۹۳۔۔ مسند احمد: ۳؍ ۳۳۱حدیث: ۱۳۲۳۔۔مصنف ابن ابی شیبہ: ۳۴؍ ۴۳۶حدیث: ۱۶۴۵۰۔۔ سنن کبریٰ بیہقی: ۲؍ ۱۴۷۔۔ مصنف عبد الرزاق: ۲؍ ۲۱۲حدیث: ۳۱۰۷۔۔ سنن کبریٰ نسائی: ۱؍ ۳۸۱حدیث: ۱۲۰۸۔۔ مستدرک: ۲؍ ۴۹۸حدیث: ۹۴۲۔۔ معجم کبیرطبرانی: ۱۲؍ ۲۰۹حدیث: ۱۴۱۱۷۔۔ شعب الایمان: ۴؍ ۳۴حدیث: ۱۴۷۶۔۔سنن دارمی: ۴؍ ۱۴۲حدیث: ۱۳۹۲ ۔۔مسند ابویعلی موصلی: ۲؍۱۳۱حدیث: ۶۲۶۔۔ سنن دارقطنی: ۳؍ ۴۸۶حدیث: ۱۳۵۵۔۔ صحیح ابن حبان: ۴؍ ۳۱۴ حدیث: ۹۱۴۔۔ صحیح ابن خزیمہ: ۳؍ ۱۵۹حدیث: ۶۸۸۔۔ مسند شافعی: ۱؍ ۱۶۶حدیث: ۱۶۳۔۔ مسند طیالسی: ۳؍ ۲۲۸ حدیث: ۱۱۴۴۔۔ مشکل الآثار طحاوی: ۵؍ ۲۱۷حدیث: ۱۸۵۵۔
لیکن اگر کوئی آدمی اس میں تعظیم وادب کے لیے لفظ ’سیدنا،زیادہ کر کے یوں کہے:  اللہم صل علی سیدنا محمد   الخ  توصاحب درمختارنے اس کو افضل ومستحب لکھا ہے  :
و ندب السیادۃ، لأن زیادۃ الاخبار الواقع عین سلوک الأدب فہو أفضل من ترکہ۔ (۱)
یعنی لفظ’ سیدنا،کہنا مستحب ہے کیوں کہ خبر واقعی کا زیادہ کرنا عین ادب کا راستہ چلنا ہے تو اس کا پڑھنا اس کے چھوڑنے سے افضل ہے۔
نظیر دوم:  زیارت مدینہ منورہ  زادہا اللہ شرفاو تعظیماً کے سلسلے میں فقہایوں لکھتے ہیں  :
و کل ما کان أدخل في الأدب و الإجلال کان حسنا۔
یعنی افعال واعمال سے جو چیز زیادہ ادب وجلال میں داخل ہو وہ بہترہے۔
 اس عبارت سے بھی معلوم ہوا کہ سلف سے منقول بات کی رعایت کرناکہ وہی ہو اس سے کچھ زیادہ نہ ہو ایسا کچھ ضروری نہیں ،بلکہ اپنی طرف سے جوکچھ بھی مودبانہ حرکات وسکنات کرے گا سب بہترہیں،ان تعظیمات میں زائر کواختیارہے۔
خلاصہ یہ کہ حدیث عطاس میں اس شخص کا لفظ السلام علی رسول اللہ، زائدکرنا رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کی نہی کے مقابل تھا اسی لیے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اس کو منع کیا، اور مولد شریف میں جو بعض امور ملحقہ ہیں ان کی نہی شرع میں وارد نہیں،لہٰذا امور غیر منہیہ کا امورِمنہیہ پر قیاس کرنا صحیح نہیں۔
آج کل کے مروجہ مدارس کی کیفیت کاذراخیال کیجیے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بھی تعلیم دین ہوتی تھی اور آج مدارس اسلامیہ میں بھی ہوتی ہے لیکن (دونوں میں )کس قدر فرق ہے کہ پہلے تو یہ بات شائع تھی کہ اُستاد پڑھتے اور شاگرد سنتے تھے۔چنانچہ بخاری ومسلم اور ابو داؤد وغیرہ سبھی محدثین لکھتے ہیں کہ ہمارے استادوں نے یہ حدیثیں ہمارے سامنے پڑھیں اور ہم کو تعلیم کیں،لفظ حدثناجابجا اس پر شاہدہے۔ اور امام احمد،ابن مبارک اور یحییٰ  رحمۃ اللہ علیہم اجمعین  کے نزدیک لفظ أخبرنا بھی حدثنا کی طرح سماع عن الاستاذ کے معنی میں ہے۔مکہ معظمہ  زادہا اللہ شرفاو تعظیماً  میں تیرہ سو برس ہو چکے اور ابھی تک وہی دستور جاری ہے کہ استاد پڑھتا ہے اور شاگردسنتے ہیں جو شبہ ہوتا ہے استاد سے دریافت کر لیتے ہیں۔ 

(۱)	درمختار: ۱؍ ۵۵۳۔
ہندوستان کے مدارس کا یہ طریقہ ہے کہ شاگردپڑھتا اور استاد سنتا ہے جوسلف میں تو بکثرت تھا مگر اب یہاں بالکل متروک ہو چکا ہے۔
مدرسہ کی تعمیر نہ توحضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت، اور نہ بوبکرو عمر اور نہ عثمان وعلی  رضوان اللہ علیہم اجمعین  سے۔ اور پہلے صحابہ وتابعین حتی کہ امام اعظم،امام محمد  اور امام ابویوسف تک بھی علم دین کی تعلیم کی اجرت نہ لیتے تھے،اب علم دین کے پڑھانے پر باقاعدہ تنخواہیں معین ہیں اور آئین تعلیم میں صرف ونحو وغیرہ کے حدود مقررہیں کہ فلاں فلاں کتاب تک ہو جب کہ پہلے ایسا نہ تھا۔اس کے علاوہ منطق اور علم ہیئت وہندسہ وغیرہ جن کا سلسلہ یونانیوں تک پہنچتا ہے  اب تحصیل میں داخل ہیں جب کہ صحابہ کی جوتیوں تک کو ان علوم کی گرد نہ لگی تھی۔
پہلے جو کوئی روپیہ دیتا تھا توخفیہ طور پردینے کو ریاسے خالی سمجھتا تھا اور اب چندہ دینے والوں کی نمایش ہوتی ہے،ان کے نام سال بہ سال کتابوں میں چھپتے ہیں۔چندہ والا اگر دینے میں کچھ تأمل کرے توتقاضا کرنے والا ایک پیادہ اس پر معین کیاجاتا ہے،خلاصہ کلام یہ کہ اس زمانہ کے مطابق تعلیم مدارس کو کہاں تک بیان کروں کم سے کم علم آدمی بھی سوچے تو اسے معلوم ہو جائے گا کہ بے شک اس ہیئت کذائی ومجموعی کے ساتھ تعلیم دین کا مدرسہ قرون ثلاثہ میں ہرگز نہ پایا گیالیکن صرف اس بنیادپراس کو جائز رکھتے ہیں کہ گوکہ یہ عوارض ولوازم سلف سے ثابت نہیں لیکن اصل تعلیم دین تو ثابت ہے، ان عوارض سے اس کی اصلیت باطل نہیں ہو جاتی۔اب کوئی یہ نہیں کہتا کہ اس ہیئت کذائی کے ساتھ تعلیم،بدعت اور ضلالت ہے۔
علیٰ ہذا القیاس اس ہیئت کذائی کے عارض ہونے سے محفل میلاد شریف بھی سنت ہونے سے خارج نہیں ہوسکتی، اور اس کو بدعت ضلالت کہناخود ضلالت ہے۔
فائدہ:  اس مقام پرمولف براہین قاطعہ نے زمانہ حال میں مروجہ مدرسہ کو تمام وجوہ کے ساتھ سنت ثابت کیا ہے۔ صفحہ ۱۸۵پرتعمیرمدرسہ کے سلسلہ میں لکھا  :
صفہ کو جس پراصحاب صفہ طالب علم دین اور فقراو مہاجرین رہتے تھے مدرسہ ہی تو تھا نام کا فرق ہے لہٰذا اصل سنت وہی ہے اور عمال کو یعنی جو زکوٰۃ وصول کرتے تھے ان کو عمالہ یعنی اجر ملتا تھاسووہ بھی تنخواہ مدرسین کی ہے یہ بھی امر دین پرلینا ہے۔
صفحہ ۱۸۶  :
 اور چندہ خود رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوۂ تبوک میں لیا ہے۔
صفحہ ۱۸۷  :
بے شک تھوڑے علم والابھی جانتا ہے کہ مدارس کے سب امور سنت ہیں قرون ثلاثہ میں موجودتھے انتہیٰ کلامہ تلخیصاً   
ہم کہتے ہیں کہ امورمندرجہ محفل میلاد کا ثبوت اس سے بہت اعلیٰ طور پرہے۔ذکرولادت یہ خود ثابت الاصل ہے  جیسا کہ اوپر گزرچکا 
فرش،کھانا،شیرینی اور عطروغیرہ کا استعمال  :
فرش،استعمال عطر اور کھاناوشیرینی دینا یہ دراصل مہمانوں کی ضیافت اور خاطرداری ہے۔ صحیحین کی حدیث ہے  :
مَنْ کَانَ یُومِنُ بِاللّٰہِ وَ الْیَومِ الآخِرِ فَلْیُکْرِمْ ضَیْفَہُ۔ (۱)
یعنی جس کواللہ اور روزقیامت پرایمان ہے اس کوچاہیے کہ اپنے گھرآئے ہوئے کی تواضع اور خاطرداری کرے۔

()	صحیح بخاری: ۱۹؍۱۰۳حدیث: ۵۶۷۱۔۔صحیح مسلم: ۱؍۱۶۵حدیث: ۶۹۔۔سنن ابوداؤد: ۱۰؍۱۸۹حدیث: ۳۲۵۶ ۔۔ سنن ترمذی: ۷؍۲۳۱حدیث: ۱۸۹۰۔۔ سنن نسائی: ۹؍ ۴۰حدیث: ۲۴۲۴۔۔ سنن ابن ماجہ: ۱۱؍ ۶۶ حدیث: ۳۶۶۲۔۔مشکوٰۃ المصابیح: ۲؍ ۴۶۳حدیث:۴۲۴۳۔۔ مسند احمد: ۱۳؍۳۷۰حدیث: ۶۳۳۲۔۔مصنف ابن ابی شیبہ: ۱۵؍۳۴۸حدیث: ۷۳۰۷۔۔ سنن کبریٰ بیہقی: ۵؍ ۶۸۔۔ مصنف عبد الرزاق: ۱۱؍۷حدیث: ۱۹۷۴۶۔۔ مستدرک: ۱۷؍ ۱۴۴حدیث: ۷۴۰۵۔۔ معجم کبیرطبرانی: ۴؍ ۱۶۹حدیث: ۳۷۷۸۔۔ شعب الایمان: ۱۰؍۴۲۲ حدیث: ۴۷۱۶۔۔سنن دارمی: ۶؍ ۲۱۴حدیث: ۲۰۸۸۔۔مستخرج ابوعوانہ:۱۳؍ ۵۸ حدیث: ۵۲۳۵۔۔ مسند ابویعلی موصلی: ۱۳؍۳۳۷حدیث:۶۴۵۵۔۔ صحیح ابن حبان:۳؍۵ حدیث: ۵۰۷۔۔ معرفۃ الصحابہ اصبہانی: ۲؍۲۰۲حدیث: ۶۲۸۔۔مسندشہاب قضاعی: ۲؍ ۲۶۳حدیث:۴۴۷۔۔ مسند طیالسی: ۶؍۴۲۶ حدیث: ۲۴۵۸۔۔ مشکل الآثار طحاوی: ۶؍۲۶۸حدیث: ۲۳۲۹۔۔اخبار اصفہان: ۷؍۱۷۹حدیث: ۴۰۵۵۵۔۔الآداب بیہقی: ۱؍ ۷۸حدیث: ۶۵۔۔الادب المفرد:۱؍۱۵۸حدیث: ۱۰۲۔۔مسندبزار:۹؍ ۱۲۱حدیث:۳۱۹۵۔۔ الزہد والرقائق :۱؍ ۳۹۲ حدیث: ۳۷۱۔۔ مسند شاشی: ۲؍۴۸۹حدیث: ۸۳۹۔۔ المطالب العالیہ: ۱؍ ۲۴۳حدیث: ۱۹۵۔۔مسند عمر بن عبد العزیز: ۱؍ ۱۱۰حدیث: ۷۶۔۔ معجم ابن المقری: ۲؍ ۴۲۱حدیث: ۸۸۹۔۔ مکارم الاخلاق خرائطی: ۱؍ ۳۰۲حدیث: ۳۰۷۔۔ مجمع الزوائد ومنبع الفوائد: ۳؍۴۶۲۔۔کنزالعمال: ۹؍ ۲۴۶حدیث: ۲۵۸۶۰۔۔ مسند الجامع: ۱۴؍۲۴۶ حدیث: ۴۵۲۶۔۔ تحفۃ الاشراف: ۱۱؍ ۲۸۲حدیث: ۱۲۴۴۷۔۔ روضۃ المحدثین: ۱۱؍ ۴۴۴حدیث: ۵۴۴۴۔
توفرش زیباپر ان کوبٹھانا اور عطرلگانا یہ مہمانوں کی تعظیم واکرام ہی توہے۔ اور مجلس کرنے والوں سے پوچھ لیجیے کہ ان کی نیت بے شک یہ ہوتی ہے کہ جوکچھ کھجوریاشیرینی وغیرہ ہم نے تیار کی ہے وہ اپنے گھرآنے والے لوگوں کوکھلائیں گے۔ اور شریعت سے یہ بات معلوم کیجیے کہ ضیافت ، شرع میں کس چیزکانام ہے۔کھانے کی چیزخواہ تھوڑی ہو یابہت جب اس کے لیے آدمیوں کو بلائے گا تو وہی شرع میں ضیافت کہلائے گی۔ صحابہ روٹی کاٹکڑا یاکھجور جوکچھ ہوتاپیش کر دیتے اور حدیث میں ہے  :
لَو دُعِیْتُ إلیٰ کُرَاعٍ لأجَبْتُ۔ (۱)
یعنی ایک پاچہ بکری کے لیے بھی اگرکوئی دعوت کرے تو میں اسے ضرور قبول کروں گا۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اخلاق عالی اہل ضیافت کو خوش کر دینا تھا اپنا پیٹ بھرنامنظور نہ ہوتا، اور یہی امت کو بھی ارشادفرمایا،جیساکہ بخاری میں ہے  :

(۱)	 صحیح بخاری: ۹؍۱۲حدیث: ۲۳۸۰۔۔ مشکوٰۃ المصابیح: ۱؍۴۱۱حدیث: ۱۸۲۷۔۔مسنداحمد: ۲۰؍ ۳۹۷حدیث: ۹۸۵۳ ۔۔ سنن کبریٰ نسائی: ۴؍ ۱۴۰حدیث: ۶۶۰۹۔۔ معجم کبیرطبرانی: ۹؍ ۳۲۸حدیث: ۱۱۰۷۳۔۔شعب الایمان: ۱۸؍ ۴۸۶ حدیث: ۸۶۹۴۔۔ صحیح ابن حبان: ۲۲؍ ۱۲۰حدیث: ۵۳۸۲۔۔اخبار اصفہان: ۶؍ ۳۷۶حدیث: ۴۰۳۹۴۔۔ معجم ابن المقری: ۲؍ ۲۳۱حدیث: ۷۲۵۔۔مجمع الزوائد و منبع الفوائد: ۲؍ ۶۰۔۔کنزالعمال: ۹؍ ۲۵۷ حدیث:۲۵۹۳۰۔۔نصب الرایہ: ۱۰؍ ۳۵۵۔۔ تحفۃ الاشراف: ۱۱؍ ۴۵۸حدیث: ۱۳۴۰۵۔۔ تخریج احادیث الاحیائ: ۳؍ ۳۴۵حدیث: ۱۳۴۵۔ 
	 یوں بھی آیا ہے  :
ئ	لو أہدي إلي کراعٌ لقبلت و لو دعیت علیہ لأجبت۔ (سنن ترمذی: ۵؍ ۱۷۸حدیث: ۱۲۵۸۔۔ مسند احمد: ۲۰؍ ۳۹۷حدیث: ۹۸۵۳۔۔ سنن کبری بیہقی: ۶؍ ۱۶۹۔۔شمائل محمد یہ: ۱؍ ۳۷۸حدیث: ۳۳۲۔۔معجم کبیر طبرانی: ۱۸؍ ۳۳۸حدیث: ۲۰۹۰۰۔۔شعب الایمان: ۱۸؍ ۴۸۷حدیث: ۸۶۹۵۔۔صحیح ابن حبان: ۲۲؍ ۱۱۸حدیث: ۵۳۸۱۔۔ مسند ابن راہویہ: ۱؍ ۲۴۴۔۔  المطالب العالیہ: ۵؍ ۱۸۴حدیث: ۱۷۰۵۔۔مسنداسحق بن راہویہ: ۱؍ ۱۸۱حدیث: ۱۷۲۔۔ معجم ابن المقری: ۲؍ ۱۹۳حدیث: ۶۹۰۔۔ مجمع الزوائد و منبع الفوائد: ۲؍ ۱۱۶۔۔ کنزالعمال: ۹؍ ۲۵۷حدیث:۲۵۹۲۹۔۔مسند جامع: ۳؍ ۱۹۰حدیث: ۸۶۳۔۔ روضۃ المحدثین:۵؍۳۶حدیث: ۱۸۱۱۔
	 اور یوں بھی آیا ہے  :
ئ	لو أہدیت لي کراع لقبتلہا و لو دعیت علیہا لأجبت۔ (مصنف عبدالرزاق:۱۰؍۴۴۹حدیث: ۱۹۶۶۸ ۔۔ جامع معمربن راشد: ۱؍ ۳۳۷حدیث: ۲۶۷)
إذَا دُعِیْتُمْ إلیٰ کُرَاعٍ فَأَجِیْبُوْا۔ (۱)
یعنی کوئی اگر تم کو پاچہ بکری پربھی دعوت کرے تو قبول کر لو۔
فقہانے بھی یہی حکم دیا ہے۔ فتاویٰ برہنہ میں ہے  :
از جہت بعد وفقر امتناع نیارد وقصد نکند حاجت شکم را بلکہ نیت کند اقتداے سنت و ادخال سرور دردل مسلم۔
یعنی دور اور فقیر ہونے کے سبب نہ رُکے، اور پیٹ بھرنے کی نیت سے نہ جائے بلکہ اس کی نیت سنت کی پیروی اور دلِ مسلم کو خوش کر دینے کی ہونی چاہیے۔
تواگرکوئی باحیثیت دولت مندمحفل میلاد میں شکم سیرکھاناکھلادے۔ یاکسی کم حیثیت والے نے محض شیرینی اور کھجورماحضر کے لیے اہل اسلام کو زحمت دی تویہی شریعت میں ضیافت کہلاتی ہے۔ ہدایہ میں ہے  :
مَنْ لَّمْ یُجِبِ الدَّعْوَۃَ فَقَدْ عَصیٰ أبَا الْقَاسِمِ۔ (۲)
یعنی اگرکوئی کسی مسلمان کی دعوت رد کر دے توگویاوہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم   کا نافرمان ہے۔ 

(۱)	صحیح مسلم: ۷؍۲۸۵حدیث: ۲۵۸۲۔۔سنن کبریٰ بیہقی: ۷؍ ۲۶۲۔۔ مستخرج ابوعوانہ: ۸؍ ۴۷۶حدیث: ۳۴۱۹۔۔ صحیح ابن حبان: ۲۲؍ ۱۱۶حدیث: ۵۳۸۰۔۔ مواردالظمآن: ۱؍ ۲۶۱۔۔کنزالعمال: ۹؍ ۲۵۵حدیث:۲۵۹۱۸۔۔تحفۃ الاشراف: ۸؍ ۳۷ حدیث: ۸۲۳۹۔
	کنزالعمال میں یہ حدیث یوں بھی آئی ہے  :  من دعاکم إلی کراع فأجیبوہ۔ (۹؍ ۲۵۷حدیث: ۲۵۹۲۸)
(۲)	عنایہ شرح ہدایہ: ۱۴؍۲۱۶ فصل فی الاکل والشرب ۔۔نصب الرایہ: ۳؍۲۳۴۔۔مبسوط:۱۹؍ ۳۳ کتاب ادب القاضی  ۔۔تبیین الحقائق: ۱۶؍ ۳۳۶ کتاب الکراہیۃ ۔۔فتح القدیر: ۲؍ ۴۶۹  باب ادراک الفریضہ ۔۔ دررغرر:۳؍۴۶۶  من دعی الیٰ ولیمۃ ۔۔بحرالرائق: ۲۲؍ ۱۱۵ من دعی الی ولیمۃ ۔۔ مسند ابویعلی موصلی: ۱۲؍ ۱۴۶حدیث: ۵۷۵۸۔
	کتب احادیث میں یہ حدیث یوں ملتی ہے  :
	مَنْ لَّمْ یُجِبِ الدَّعْوَۃَ فَقَدْ عَصَی اللّٰہَ وَ رَسُولَہُ۔(صحیح مسلم: ۷؍ ۲۸۹حدیث: ۲۵۸۶۔۔مسند احمد: ۱۱؍ ۴۸ حدیث: ۵۰۱۲۔۔ سنن کبریٰ بیہقی: ۷؍ ۲۶۲ ۔۔ مستخرج ابوعوانہ: ۸؍ ۴۶۹حدیث: ۳۴۱۳۔۔ صحیح ابن حبان: ۲۲؍ ۱۴۴ حدیث: ۵۳۹۴۔۔ مسندطیالسی: ۶؍ ۳۷۴حدیث: ۲۴۱۲۔۔ مشکل الآثارطحاوی: ۷؍ ۳۵حدیث: ۲۵۵۶۔الجوہرالنقی ترکمانی: ۷؍ ۲۵۹ ۔۔کنزالعمال: ۱۶؍ ۳۰۷ حدیث: ۴۴۶۲۶۔۔ مسندالجامع: ۲۳؍ ۳۶۶حدیث: ۷۶۹۴۔۔ الترغیب والترہیب: ۲؍۲۴۸حدیث: ۲۱۵۲)
افسوس وہ لوگ توتعمیل سنت کے لیے آئیں قلیل وکثیرپرنظرنہ کریں۔ اور یہ منکرین ان عاملانِ سنت پرطعن کریں اور اس بات کا بھی خیال نہ کریں کہ سنت کی استہزا میں ایمان چلے جانے کا اندیشہ ہوتا ہے۔
مٹھائی بانٹنے کا ثبوت 
یہ جوطعنہ دیاجاتا ہے کہ مٹھائی کے لالچ سے آتے ہیں اور بعض یہ کہتے ہیں کہ مٹھائی بانٹنے کی کیا اصل ہے تو یہ اعتراض بھی صحیح نہیں۔شاہ عبد العزیز صاحب رسالہ’’ما اہل لغیراللہ‘‘ مطبوعہ مطبع محمدی کے صفحہ ۴۲پرلکھتے ہیں  :
و تقسیم طعام وشیرینی امر مستحسن وخوب است باجماع علما۔انتہیٰ بلفظہٖ۔
یعنی علمائے کرام کا اس پراجماع ہے کہ کھانا اور شیرینی بانٹنا مستحسن وعمدہ کام ہے۔
فتاویٰ ’’خزانۃ الروایات ‘‘کی  فصل ضیافت اور ’’روح البیان‘‘کی جلد دوم میں لکھا ہوا ہے  :
إن في بطن المؤمن زاویۃ لا یملأہا إلا الحلو۔ (۱)
یعنی مومن کے پیٹ میں ایک ایساگوشہ ہوتا ہے جسے مٹھائی کے بغیر کوئی چیز بھرنہیں سکتی۔
اب سوچیں کہ ایک مومن کاگوشہ شکم  جوکہیں سے نہیں بھرتا تو مٹھائی سے اس کا بھردینا کیاکچھ اجرکی بات نہ ہو گی!۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا  :
لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتیّٰ تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ۔ (۲)
تم ہرگزبھلائی کو نہ پہنچوگے جب تک راہِ خدامیں اپنی پیاری چیز نہ خرچ کرو۔
 اور حدیث سے معلوم ہوا ہے کہ جن چیزوں کو مومن دوست رکھتا ہے ان میں مٹھائی بھی ہے، چنانچہ ’’خزانۃ الروایات‘‘ نیز’’ تفسیرروح البیان‘‘میں آیا ہے  :

(۱)	تفسیر روح البیان: ۳؍۳۲۴۔
(۲)	سورۂ آل عمران،۳؍۹۲۔
قال  علیہ السلام  إنَّ الْمُومِنَ حُلْوٌّ وَ یُحِبُّ الْحَلاَوَۃَ۔ (۱)
یعنی رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مومن خود بھی شیریں ہوتا ہے اور میٹھی چیز کو پسند بھی کرتا ہے۔
توجو چیزخود بانٹنے والے مومن اور لینے والے مومنین کو محبوب ہو،تو امید ہے کہ اس کی تقسیم میں وہ نیکوکاری کی حدکوپہنچیں۔ اور اس میں کوئی شبہ نہیں کہ انہی وجوہات کی بنیادپر شاہ عبد العزیز صاحب نے اس کو باجماع علما،مستحسن و خوب لکھا ہے۔
منبر یا چوکی نیز اشعارپڑھنے کا ثبوت 
منبریاچوکی اور اشعار کاثبوت یہ ہے کہ حضرت حسان ،مسجدنبوی  صلی اللہ علیہ وسلم  میں منبر پرکھڑے ہو کرخود حضور  صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اشعارپڑھتے تھے۔یہ حدیث صحیح بخاری میں موجودہے۔(۲)

(۱)	تفسیر روح البیان: ۳؍۳۲۴۔
	المقاصد الحسنہ: ۱؍ ۱۶۴۔۔کشف الخفائ:۲؍۹۹حدیث: ۱۸۸۳،۲۶۷۸۔۔تذکرۃ الموضوعات:۱؍ ۱۴۹۔۔ کنز العمال: ۱؍ ۳۶۷ حدیث: ۱۶۱۲۔کے الفاظ حدیث یوں ہیں  :  المؤمن حلو، یحب الحلاوۃ۔
	نیز یہ حدیث یوں بھی ملتی ہے  :   قلب المومن حلو، یحب الحلاوۃ ۔ (المقاصد الحسنہ: ۱؍ ۱۶۴۔۔الدرر المنتثرہ فی الاحادیث المشتہرہ: ۱؍۱۵۔۔ الموضوعات:۳؍۱۹۔۔ کشف الخفائ:۲؍۹۹حدیث: ۱۸۸۳۔۔تذکرۃ الموضوعات:۱؍ ۱۴۹۔۔ کنزالعمال:۱؍ ۱۴۶ حدیث: ۷۱۴)
(۲)	متن حدیث یوں ہے  :
	کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم   یَضَعُ لِحَسَّانَ مِنْبَرًا فِي الْمَسْجِدِ یَقُوْمُ عَلَیْہِ قَائِماً یُفَاخِرُ عَنْ رَسُولِ اللّٰہِ  صلی اللہ علیہ وسلم  ۔ (سنن ابوداؤد: ۱۰؍ ۶۶حدیث: ۲۷۷۳۔۔مشکوٰۃ المصابیح:۳؍۴۱حدیث: ۴۸۰۵۔۔شمائل ترمذی: ۱؍ ۲۸۲حدیث: ۲۴۷۔۔مستدرک : ۱۴؍ ۱۰۸حدیث: ۶۰۹۹۔۔ تہذیب الآثارطبری: ۲؍ ۴۱۶حدیث: ۵۳۳۔۔ مسند ابویعلی موصلی: ۱۰؍ ۸حدیث: ۴۶۲۳۔۔ معرفۃ الصحابہ: ۶؍ ۳۳۴ حدیث: ۲۰۲۲۔۔مسند الجامع: ۵۱؍ ۳۳۱حدیث: ۱۷۲۰۱۔۔ تحفۃ الاشراف :۱۳؍ ۴۷۸حدیث: ۱۷۰۲۰۔۔ تخریج احادیث الاحیائ: ۵؍ ۱۷۱حدیث: ۲۱۷۱)
	 اور معجم کبیرطبرانی میں یوں ہے  :
	ان رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کان یضع لحسان بن ثابت منبرا في المسجد ینشد علیہ الأشعار۔ (۴؍۳۴حدیث: ۳۵۰۱)
تداعی یعنی آدمیوں کو بلانا۔اس کی دو شکلیں ہیں :یاتویہ بلاناتناول ماحضرکے لیے ہے جوخود  سنت دعوت ہے۔یایہ بلانا اس لیے ہے کہ وہ آ کرنبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت وصفات سنیں اور یہ بھی سنت ہے، اس لیے کہ نبی کریم علیہ الصلوٰۃ والتسلیم  بھی صحابہ کو خبربھیج کربلواتے اور جمع کر کے ان سے کچھ فرماتے تھے۔آپ کا زبان سے کچھ فرماناحدیث ہے لہٰذا حدیث سننے کے لیے لوگوں کوبلاناسنت ہوا۔
اصطلاح دین میں حدیث ،رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کے قول وفعل وتقریر، صفات وشمائل اور فضائل وحلیہ وغیرہ کوشامل ہے۔علم حدیث کاموضوع، ذات رسول  صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔ اور اس کی غایت ،دارین کی سعادت کا حصول ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ محفل میلاد شریف میں افراد علم حدیث بیان ہوتے ہیں تواعلام کر کے بلانا گویا حدیث رسول  صلی اللہ علیہ وسلم  کے لیے بلانا ہے تو اس تداعی کو مکروہ وحرام کہنا عجیب بات ہے۔ اگر یہ لوگ آیت کریمہ :  ادع إلی سبیل ربک  سے بھی اپنی تسلی کر لیں تویہ بھی ممکن ہے۔ 
تعجب ہے کہ مدرسہ کے لیے کس قدر دوردراز فکرکودوڑایاکہ کہاں عمالہ عاملین! اور کہاں تنخواہ مدرسین،کہاں صفہ! اور کہاں مدرسہ،کہاں جہاد کا چندہ! اور کہاں مدرسہ کا چندہ۔ اور میلاد شریف کے سلسلے میں ہمارے دلائل جواپنے دعووں کے مدلولات پرصراحۃً دلالت کر رہے ہیں ، ان کی طرف ایک ذراخیال نہیں فرماتے،اس کو بدعت ٹھہراتے ہیں۔اللہ اللہ !کمالِ بوالعجبی کا مقام ہے۔
اعتراض: اگر کوئی یہ کہے کہ یہ چیزیں الگ الگ توبیشک جائزہیں لیکن ہم ان کاجمع ہونا جائز نہیں جانتے۔
جواب:  یہ ہے کہ مدرسہ کی ہیئت مجموعی بھی قرون ثلاثہ سے ثابت نہیں،اس کے اثبات کے لیے بھی انفرادی اجزاکاثبوت دیا گیا ہے تویہاں بھی وہی قبول کرناچاہیے۔
دوسرے یہ کہ امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ  ’’احیاء العلوم‘‘میں فرماتے ہیں  :
فإن أفراد المباحات إذا اجتمعت کان ذلک المجموع مباحا۔ و مہما انضم مباح إلی مباح لم یحرم إلا إذا تضمن المجموع محظورا لا تتضمنہ الآحاد۔ (۱)

(۱)	احیاء علوم الدین: ۲؍ ۱۱۱ بیان الدلیل علی اباحۃ السماع 
یعنی جداجدا مباح جب جمع کر لیے جائیں گے تووہ مجموعہ مباح ہو جاتا ہے، اور جب ایک مباح دوسرے مباح سے مل جاتا ہے تو وہ اس وقت تک حرام نہیں ہوتا جب تک کہ اس مجموعہ میں کوئی ایساممنوع شرعی نہ ہو جائے جوجداجدامیں نہ تھا۔
تومباح اور مستحسن چیزوں کے جمع ہو جانے سے یہ محفل ممنوع نہ ہو جائے گی۔
براہین قاطعہ کے صفحہ ۶۰ میں سلف کے اس قاعدۂ مسلمہ پرجواعتراض کیا ہے اور یہ لکھا ہے  :
تمر اور پانی دونوں کانبیذبنایاجائے بعدکف دینے کے جوہیئت حاصل ہوئی حرام ہو گیا۔
اس کا جواب یہ ہے کہ جب تک محض کھجور اور پانی تھا اس وقت تک مباح تھا اب طول مدت اور تاثیر زماں سے ایک تیسری چیز پیداہو گئی جونشہ آوری کا سبب ہے،تو حرمت کا باعث یہ تیسری چیز ممنوع شرعی ہے نہ کہ وہ مباح چیزیں۔ورنہ مولف براہین کی تعلیل کے موافق تومباح چیزوں کے جمع ہونے سے قطع نظر ایک منفرد چیزبھی حرام ہو جائے گی ،اس لیے کہ انگورکارس ،سکر کے بعد خود شراب بن جاتا ہے توچاہیے کہ منفردچیزکوبھی حرام کہاجائے، اور یہ صحیح نہیں۔شرعی احکام میں غور وخوض درکارہے۔لہٰذا صحیح وہی ہے کہ اگر مباح چیزوں کے اجتماع میں کوئی ممنوع شرعی لازم نہ آتاہو تو وہ درست اور مباح ہے۔اس سے مخالفین کے وہ دوسرے دو اعتراض بھی رد ہو گئے جو کہتے تھے کہ قرآن دیکھ کر پڑھناسنت تھا اور نماز سنت تھی،مجموعہ مل کر اہل کتاب کے مشابہ ہو گیا۔ اور رکوع مشروع اور قرآن مشروع دونوں کاجمع مکروہ ہوا۔
اس کا جواب یہ ہے کہ پہلی صورت میں محظورِ شرعی یہ لازم آیا کہ اہل کتاب سے تشبّہ ہوا۔ اور دوسری صورت میں یہ کہ حدیث شریف کے مخالف یہ فعل ٹھہراکہ (آپ نے )فرمایا  :
ألاَ إنِّي نُہِیْتُ أَنْ أقْرَأ الْقُرْآنَ رَاکِعًا أوْ سَاجِدًا۔ (۱)
یعنی مجھے اس سے منع کیا گیا کہ میں رکوع اور سجدے کی حالت میں قرآن کی تلاوت کروں۔

(۱)	صحیح مسلم: ۳؍۲۲حدیث: ۷۳۸۔۔مشکوٰۃ المصابیح: ۱؍۱۹۰حدیث:۸۷۳۔۔ معرفۃ السنن و الآثار: ۳؍۶۲حدیث: ۸۹۲۔۔کنزالعمال:۱۵؍۳۶۸حدیث: ۴۱۴۰۹ ۔۔نصب الرایہ فی تحریخ احادیث الہدایہ: ۲؍ ۴۱۴ باب صفۃ الصلوٰۃ  ۔۔ تلخیص الحبیر فی تخریج احادیث الرافعی الکبیر: ۱؍ ۴۷۸حدیث: ۳۶۷۔۔ مسندالجامع: ۱۹؍ ۵۹حدیث: ۶۰۲۵۔۔تخریج احادیث الاحیائ: ۲؍ ۴۸۳حدیث: ۹۸۳۔ 
ذکرمیلادشریف میں مذکورہ بالا امور شریک ہوئے ہیں لیکن اہل کتاب سے کوئی تشبہ نہیں ہے  جیساکہ لمعہ ثالثہ میں بخوبی اس کا ابطال ہو چکا ہے اور نہ تومباح چیزوں کے ملانے کے سلسلہ میں کوئی شرعی نہی وارد ہوئی ہے،لہٰذا یہ مروجہ مجلس، مباح ومستحسن امور کے اجتماع کے ساتھ درست اور مستحسن ہے۔ 
امورِمذکورہ کے جوازپردوسری تقریریہ ہے کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ  نے فرمایا  :
قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِیْنَۃَ اللّٰہِ الَّتِي أخْرَجَ لِعِبَادِہٖ وَ الطَّیِّبَاتِ مِنَ الرِّزْقِ۔ (۱)
تم فرماؤ کس نے حرام کی اللہ کی وہ زینت جو اس نے اپنے بندوں کے لیے نکالی، اور پاک رزق۔
پہلے تو یہ بات سمجھنی چاہیے کہ آیات کا نزول خواہ کسی موقع پر ہوا ہو لیکن ان کا حکم شان نزول کے ساتھ خاص نہیں ہوتا بلکہ جہاں تک الفاظ کی دلالت جاری ہوتی ہے وہاں تک حکم جاری کیا جاتا ہے۔علمائے اصول کے نزدیک یہ متفقہ ہے۔ چنانچہ توضیح وغیرہ میں مندرج ہے  :
إن العبرۃ لعموم الألفاظ لا لخصوص السبب۔ (۲)
 یعنی اعتبارلفظ کی عمومیت کا ہوتا ہے نہ کہ کسی سبب خاص کا۔
ہماری یہ بات استدلال کی جملہ آیتوں میں یادرکھناچاہیے۔ تویہ آیت کریمہ گو کسی خاص موقع کے لیے نازل ہوئی لیکن تمام مفسرین واصولیین اور فقہا اس آیت کو عام لیتے ہیں ،جس کی نظر درمختار، تفسیربیضاوی اور تفسیر رازی وغیرہ پرہو گی اس سے یہ بات مخفی نہیں کہ فرش بچھانا،محفل سجانا، 

(۱)	سورۂ اعراف ،۷؍۳۲۔
(۲)	شرح التلویح علی التوضیح: ۱؍ ۲۲۵ فصل فی الفاظ العام ۔۔ المحصول: ۳؍۱۲۵۔۔انوار البروق فی انواع الفروق:۱؍ ۴۲۲ حمل العموم ۔۔کشف الاسرار:۶؍ ۱۸۵ باب حکم الاجماع ومحلہ ۔۔البحر المحیط:۴؍۲۴ المسئلۃ الثانیۃصحۃ دعویٰ ۔۔التقریر والتحبیر:۱؍۱۸۹ استمدادعلی اصول ۔۔شرح الکواکب المنیر:۲؍۲۶۲ مفہوم الموافقۃ نوعان  ۔۔ غمز عیون البصائرشرح الاشباہ والنظائر:۲؍۳۹۶ الخراج بالضمان ۔۔حاشیۃ العطار علی شرح الجلال المحلّی علی جمع الجوامع: ۴؍ ۱۰  مسئلۃ جواب السائل غیر المستقل  
	اصول سرخسی میں یوں ہے  :
	فإن العبرۃ لعموم الخطاب لا لخصوص السبب۔ (۱؍۱۶۴)
	الاشباہ والنظائرکی شرح غمزعیون البصائرمیں یوں بھی آیا ہے  :
	ان العبرۃ لخصوص الغرض لا لعموم اللفظ۔ (۱؍۳۲۷ اختلاف اللسان والقلب فی النیۃ )  
عطریات سے لباس بسانا،چوکی ومنبر اور مسند لگانا یہ سب ’زینۃ اللہ ،میں داخل ہے۔ اور حاضرین کوپان، الائچی، چائے،کھجور،شیرینی یاکھاناجوکچھ کھلایا جائے گا اس کولفظ’طیبات من الرزق، شامل ہے۔ 
علامہ بیضاوی نے آیت مذکورہ کی تفسیر میں لکھا ہے  :
فیہ دلیل علیٰ أن الأصل في المطاعم و الملابس و أنواع التجملات الإباحۃ ۔ (۱)
یعنی اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ کھانوں،کپڑوں اور طرح طرح کی آرایشوں میں اصل حکم یہ ہے کہ مباح ہے۔
لہٰذایہ سب چیزیں علم اصول کے قواعدکی رو سے اور مفسرین کرام کی تصریح کے مطابق جائز اور مباح ہوئیں۔ اور ان کومنع کرنے والا بڑے خطرے میں ہے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے  :
یَا أیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لاَ تُحَرِّمُوا طَیِّبٰتِ مَا أحَلَّ اللّٰہُ لَکُمْ وَ لاَ تَعْتَدُوْا إنَّ اللّٰہَ لاَ یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَ۔ (۲)
اے ایمان والو! حرام نہ ٹھہراوؤہ ستھری چیزیں کہ اللہ نے تمہارے لیے حلال کیں، اور حد سے نہ بڑھو،بے شک حد سے بڑھنے والے اللہ کو ناپسند ہیں۔
لہٰذا مانعین کواس سے اندیشہ کرناچاہیے کہ وہ کہیں ’معتدین، میں شامل نہ ہو جائیں جنھیں اللہ پسند نہیں فرماتا۔
تیسری تقریر جملہ امورمجلس میلاد کے لیے یہ ہے کہ اس آیت کریمہ سے دلیل پکڑنی چاہیے جوسورۂ یونس کے چھٹے رکوع میں ہے  :
قُلْ بِفَضْلِ اللّٰہِ وَ بِرَحْمَتِہٖ  فَبِذٰلِکَ فَلْیَفْرَحُوا ہُوَ خَیْرٌ  مِّمَّا یَجْمَعُوْنَ۔ (۳)
تم فرماؤاللہ ہی کے فضل اور اسی کی رحمت اور اسی پرچاہیے کہ خوشی کریں، وہ ان کے لیے سب دھن دولت سے بہترہے۔

(۱)	تفسیربیضاوی: ۲؍ ۲۵۴۔
(۲)	سورۂ مائدہ،۵؍۸۷۔
(۳)	سورۂ یونس،۱۰؍۵۸۔
بارہ برس قبل یہ نحیف اس آیت کو اپنی کتاب’’بہارِ جنت‘‘ میں درج کر چکا ہے،لیکن عام آدمیوں کو جب تک تشریحاً نہ سمجھایاجائے اصل مدعاکونہیں پہنچتے،تو اب اس کی تفسیر کر رہاہوں۔
واضح ہو کہ اللہ  سبحانہ تعالیٰ  اس آیہ ہدایت پیرایہ میں اہل ایمان کو حکم دیتا ہے کہ وہ اللہ ہی کے فضل اور اللہ ہی کی رحمت سے فرحت وسرور کریں۔امام رازی اور امام بیضاوی  رحمۃ اللہ علیہما  فرماتے ہیں کہ یہاں ایک فعل فلیفرحوا  محذوف ہے،اب آیہ مذکورہ یوں ہو گی کہ اہل ایمان کو چاہیے کہ اللہ کے فضل ورحمت پرخوشی کریں۔پھردوبارہ فرمایاکہ چاہیے اسی پرخوشی کریں،تویہ امر کی تکرار،تاکیدکے لیے ہے اور لفظ فبذٰلک مفید حصرہے۔یعنی ایک انسان پرواجب ہے کہ فرحت وخوشی خاص اللہ ہی کے فضل ورحمت پرکرے کیوں کہ جوجسمانی ونفسانی لذتیں اور دنیاوی نعمتیں ہیں سب فانی ہیں،یہ فرحت وسرور کے قابل نہیں۔ اور فضل ورحمت خداوندی کے بارے میں فرمایا:  ہو خیر مما یجمعون یعنی وہ تمام فانی لذتوں اور نعمتوں سے بہترہے جو وہ دنیا میں جمع کرتے اور سمیٹتے ہیں۔
اس آیت کریمہ سے اللہ کے فضل ورحمت کے ساتھ فرحت وسرور کرناثابت ہوا، اور اس میں کوئی شک نہیں رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  خدا کی رحمت اور اس کے فضل ہیں۔
علامہ م اور دی نے آیت کریمہ  :
 لَو لاَ فَضْلُ اللّٰہِ عَلَیْکُمْ وَ رَحْمَتُہٗ لَاتَّبَعْتُمُ الشَّیْطَانَ إلاَّ قَلِیْلاً(۴؍۸۳)  (۱)
کی تفسیرمیں نقل کیا ہے کہ ’’فضل اللہ‘‘ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، اور ر حمت بھی وہی ہیں۔ اس کو شارح مواہب ،زرقانی نے ذِکرکیا ہے۔
تفسیر روح البیان میں سورۂ نساء کی اس آیت مذکورہ کے تحت لکھا ہے  :
و في الحقیقۃ کان النبي  علیہ السلام  فضل اللہ و رحمتہ یدل علیہ قولہ تعالیٰ : ہُوَ الَّذِيْ بَعَثَ فِي الأمِّیِّیْنَ رَسُولاً مِّنْہُمْ یَتْلُوا  إلی قولہ  ذٰلِکَ فَضْلُ اللّٰہِ یُوتِیْہِ مَنْ یَّشَائُ  و قولہ تعالیٰ   وَ مَا أرْسَلْنَاکَ إِلاَّ رَحْمَۃً لِّلْعَالَمِیْنَ۔
یعنی حقیقت یہ ہے کہ نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم ہی اللہ کافضل اور اس کی رحمت ہیں۔ جس پراللہ کی یہ آیتیں شہادت دے رہی ہیں :  ہُوَ الَّذِيْ بَعَثَ فِي الأمِّیِّیْنَ رَسُولاً مِّنْہُمْ 

(۱)	تفسیر النکت و العیون :۱؍ ۳۱۶۔ترجمہ آیت: اور اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی توضرور تم شیطان
	 کے پیچھے لگ جاتے،مگرتھوڑے۔
یَتْلُوا   ذٰلِکَ فَضْلُ اللّٰہِ یُوتِیْہِ مَنْ یَّشَائُ   وَ مَا أرْسَلْنَاکَ إِلاَّ رَحْمَۃً لِّلْعَالَمِیْنَ۔ (۱)
یہی وجہ ہے کہ حدیث وسیرت کی کتابوں میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے منجملہ اسماے مبارکہ میں ’فضل اللہ‘‘’رحمۃ للعالمین‘‘’رحمۃ مہداۃ‘‘’ رحمۃ الامۃ، اور ’سول الرحمہ، بھی شمار کیے ہیں۔ جیساکہ زرقانی اور قسطلانی وغیرہ محدثین نے لکھا ہے۔لہٰذا آپ کے وجودباجودپرفرحت وسرور کرنا ثابت ہو گیا،تواب خوشی کے جتنے بھی مباح اسباب ہیں ،سب ثابت ہو گئے کیوں کہ یہ ایک مسلمہ قاعدہ ہے  :
إذا ثبت الشییء ثبت بلوازمہ۔
یعنی جب کوئی چیزثابت ہوتی ہے تو اپنے جملہ لوازمات کے ساتھ ثابت ہوتی ہے۔
تو برادرانِ اسلام کا اجتماع،مکان کی آرایش،شیرینی کے خوان اور زمانے کی جملہ مروجہ چیزیں حتی کہ ذکرولادت شریف کے وقت جوش فرحت وسرور میں کھڑے ہو جانا اور اس فضل و رحمت مہداۃ کی بابت شکرالٰہی بجالاناسب فلیفرحوا کے منطوق سے ثابت ہو گیا۔
 اور آیت کریمہ:  وَ اشْکُرُوا نِعْمَۃَ اللّٰہِ إنْ کُنْتُمْ إیَّاہُ تَعْبُدُونَ  سے بھی یہ امور ثابت ہوسکتے ہیں ،اس لیے کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم بڑی نعمت ہیں اور شکر طرح طرح کے افعال واعمال سے اداہوتاہیجیسے آیتوں کی تلاوت کرنا، معجزات ودرود وسلام سے متعلق احادیث پڑھنا اور کھاناکھلاناوغیرہ لمعہ خامسہ میں بھی امورملحقہ کی تقریرآئے گی 
اگر مانعین اس طرح کی نظیرومثل طلب کرتے ہیں کہ ایسا جلسہ مسنونہ بتاؤجس میں جلسہ مولد شریف کی طرح چند سنتیں اکٹھاہوں تو اس کی نظیر بھی شرع میں موجودہے مثلاشادی عروسی کہ اس میں مومنوں کا اجتماع بھی ہے اور اللہ کاذکربھی ، اس لیے کہ خطبہ نکاح  جوسنت ہے جلسہ نکاح میں پڑھاجاتا ہے پھر اس کے بعد خرماوغیرہ تقسیم کر دیاجاتا ہے یا حاضرین کے ہاتھوں لٹادیاجاتا ہے۔
فتاویٰ عالم گیری میں ہے  :
لا بأس بنثر السکر و الدراہم في الضیافۃ و عقد النکاح۔ (۲)
یعنی ضیافت اور شادی بیاہ کے موقع پرمیٹھی چیزیں اور روپیہ پیسہ لٹانے میں کوئی حرج نہیں۔

(۱)	تفسیر روح البیان: ۳؍۳۴۔
(۲)	فتاویٰ عالم گیری: ۳۹؍ ۳۵۹ باب فی النہبۃ 
مولوی اسحق صاحب نے ’’مسائل اربعین‘‘میں لکھا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فاطمہ رضی اللہ عنہا کے نکاح میں لوگوں کوجمع کر کے خطبہ پڑھا،ایجاب وقبول کیا اور چھوارے لٹائے۔ نیزجس وقت حضور  صلی اللہ علیہ وسلم کانکاح حضرت ام حبیبہ کے ساتھ نجاشی بادشاہِ حبشہ نے اپنے ملک حبش میں کیا تو حضرت جعفر اور تمام مہاجرین کوجمع کر کے خطبہ پڑھا،ایجاب وقبول کیا اور اس کے بعد سب کوکہاکہ ابھی بیٹھے رہو ،یہ پیغمبروں کی سنت ہے کہ نکاح کے بعد کچھ کھاناکھائیں پھرکھانامنگا کر سب کو کھلایا۔یہ بھی مسائل اربعین میں ہے۔
اب دیکھیے کہ اگر نکاح میں عقد نکاح کا سرورہے تویہاں یعنی مجلس میلاد شریف میں اس سے کہیں زیادہ بڑی نعمت  یعنی باعث ایجادِعالم کے وجود کا سرور ہے۔وہاں خطبہ میں توحید اور اقرارِ رسالت ہے،تویہاں بھی وہ مضمون، شرح وتفصیل کے ساتھ موجودہے۔وہاں شیرینی وخرما اور کھانے کی تقسیم ہے تویہاں بھی۔علیٰ ہذا القیاس یہ باتیں موجودہیں۔
 اگر سال بہ سال دائمی ہونے کی مِثلیت مطلوب ہو تو محدثین ،صومِ عاشورا کی نظیر دے چکے ہیں کہ موسیٰ علیہ السلام  کی نجات کا شکریہ سال بہ سال کب سے چلاآتا ہے۔غرض کہ میلاد شریف کی اصل بھی شرع میں موجودہے، اور نظیرومثل بھی۔لہٰذا مولوی اسماعیل صاحب کے قول کے موافق یہ محفل بدعت نہیں۔
اب ایک اور تقریر سے ثابت کرتے ہیں کہ یہ محفل سنت ہے۔
مولوی اسماعیل صاحب ’’تذکیر الاخوان‘‘ میں مجتہدوں کی نکالی چیزکوسنت میں داخل کرتے ہیں، اور مجلس میلاد اس ہیئت مجموعی کے ساتھ گرچہ کسی مجتہدمطلق نے خود ایجاد نہیں فرمائی لیکن مجتہدانِ مطلق نے ایسے ایسے عمدہ قاعدہ ہاے کلیہ ایجاد کیے کہ یہ مجلس ان قاعدوں میں داخل ہو گئی۔ مثلاً حضرت امام مالک ،حدیث کی تعظیم اس طرح کرتے تھے کہ اول غسل کرتے، پھر فرش ہوتا، چوکی ومسندبچھتی،عودولوبان بخوروغیرہ خوشبوسلگتی،پھر منبرپربیٹھ کرکمالِ ادب سے بیان فرماتے تھے۔ لوگوں نے پوچھا کہ یہ اہتمام کیوں کرتے ہیں ؟فرمایا: رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کی تعظیم کرتاہوں۔پھرکسی نے اعتراض نہ کیا اور چپ ہو گئے۔ 
امام مالک، مجتہد اور خیر القرون تبع تابعین میں تھے اور ان کے فعل سے یہ آداب ثابت ہوئے۔پھر جس نے ان پراعتراض کیا وہ ان کی معقول دلیل سن کر چھپ ہو گیا کہ واقعی یہ حدیث رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم ہے،تواعتراض کے بعد دوسروں کا سکوت کرنایہ بھی امام مالک کے قول کامؤیدہو گیا۔ علاوہ ازیں اس وقت سے لے کر آج تک حنفیہ ومالکیہ وشافعیہ کی تمام کتابوں میں یہ دستورالعمل تحریرہو گیا کہ حدیث رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بلندمکان پربیٹھنا،خوشبولگانا اور تعظیم مدنظر رکھنا مستحب ہے۔
مدارج النبوۃ، مواہب اللدنیہ اور شرح مواہب وغیرہ سے یہ بات ظاہر اور سب کو معلوم ہے کہ محفل میلاد شریف میں رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث ومعجزات کاذکرہوتا ہے تو اس میں اس قسم کے آداب کیے جاتے ہیں۔ لہٰذا یہاں تک تو محفل میلاد شریف ،خیرالقرون کے بعد میں داخل اور سنت میں شامل ہے۔ باقی رہایہ کہ کھڑے ہو کرتعظیماً درودوسلام اور مدح ونعت پڑھنا تو اس کی اصل بھی مجتہدوں سے ثابت ہے۔
امام احمد بن حنبل کے استاد یحییٰ بن سعید،مینارۂ مسجدسے پشت لگا کر بیان کرناشروع کرتے تھے اور بڑے بڑے عالم،مجتہد،محدث  جیسے علی ابن مدینی،ابن خالد اور امام احمد وغیرہ  کھڑے رہتے اور حدیثوں کی تحقیق کرتے تھے، اور ان کے ہیبت وجلال سے کوئی بیٹھ نہیں سکتا تھا۔فتاویٰ برہنہ میں یہ احوال موجودہیں۔توان محدثوں اور مجتہدوں کے فعل سے یہ ثابت ہو گیا کہ اگر کوئی شخص کھڑے ہو کرذکر رسول کرے (تویہ بھی)صحیح ہے۔ اور حضرت حسان منبرپرکھڑے ہو کر اشعار پڑھا کرتے اور رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کافخربیان کرتے تھے ،لیکن قاری اور سامعین اول سے آخر تک کھڑے رہنے میں مشقت سمجھ کرکہ ہرکسی کاکھڑارہنادشوار ہے :  لاَ یُکَلِّفُ اللّٰہُ نَفْساً إلَّا وُسْعَہَا توبس اتنی ہی دیر کھڑے ہو جاتے ہیں جس میں اصل ولادت شریف کا ذکر ہوتا ہے کہ یہ جلسہ اسی کی فرحت وسرور کا ہے۔
الحاصل! مجلس میلاد سے متعلق مندرجہ امور کاثبوت مجتہدین مطلق کے قواعد واعمال سے ہو گیا۔ اور جس وقت ملک ابوسعید مظفر نے محفل میلاد کا سامان کیا اور  ۶۰۴ھ (1207) میں مفتیانِ دین میں اس مسئلہ کا اعلان کیا تو اس وقت اگرچہ کوئی مجتہدمطلق موجود نہ تھا لیکن مجتہدین کے چندطبقے میں سے ایک مجتہدین فی المسائل بھی ہوتے ہیں کہ ان کی قوت نظریہ قوی ہوتی ہے اور اپنے امام کی اصل پرنظرکر کے غیر منصوص مسائل میں بہ نظر اجتہادی حکم دیتے ہیں، اس قسم کے مجتہد شافعی ومالکی وغیرہ موجودتھے۔تواریخ سے ثابت ہے کہ اس وقت محفل میلادشریف کو تمام علمانے امورمروجہ،اطعام طعام اور تعیین یوم میلاد وغیرہ کے ساتھ جائزرکھا۔ تو ان خصوصیات کی اسناد بھی مجتہدین تک پہنچے گی۔ اور مولوی اسماعیل صاحب نے مجتہد مطلق اور مجتہد فی الشرع کی قید تو لگائی نہیں کیوں کہ ان کی غرض یہ ہے کہ کوئی فعل ایسا نہ ہو کہ عوام یا علما ے کم مایہ اس کو پسند کر لیں بلکہ وہ ایسے مجتہدہوں کہ ان کی قوت نظریہ اصل ونظیرپہچاننے کے لائق ہو۔ اور مولوی اسماعیل صاحب نے ’’تذکیر الاخوان‘‘ کے  باب تقلید میں یہ بھی بیان کیا ہے کہ  :
اگر اکثر دین دار متقی عالم اس مسئلہ کو قبول کر لیں توالبتہ وہ بھی معتبرہے۔انتہیٰ۔
دیکھیے کہ یہاں اجتہاد کی بھی قید نہیں ہے۔اب ہم کہتے ہیں کہ اس محفل کو اکثردین دار علما اور متقیوں نے معتبررکھا ہے اور استحباب کا فتویٰ بھی دیا ہے۔ اور ابوسعیدمظفر کے عہد میں بڑے عالی درجہ صحیح النظر اور جامع اصول وفروع علماتھے، اپنی عقل وادراک میں غیر منصوص سے مسائل اخذکرنے کی قوت رکھتے تھے علاوہ بریں اہل اسلام میں مروجہ یہ محفل اپنے جملہ خصوصیات وتعینات کے ساتھ امام شافعی جوکہ مجتہد فی الشرع تھے   کے قاعدہ میں داخل ہے۔
قاعدہ یہ ہے کہ امام شافعی سے بیہقی نے یہ روایت کی ہے کہ اگرکوئی ایسی نئی بات ایجاد ہو کہ قرآن وحدیث اور اجماع کے احکام کو مٹاتی اور ردنہ کرتی ہوتووہ بدعت حسنہ اور محمودہ ہے اس کو برانہیں کہناچاہیے۔(۱)
 لہٰذا محفل میلاداس مجتہد کے قول میں داخل ہو گئی کیوں کہ یہ قرآن وحدیث اور اجماع کے کسی حکم کو رد نہیں کرتی۔ اور رد کرتی ہو تو بیان کرو من ادعیٰ فعلیہ البیان 
الحاصل!  ہر نہج سے سب کی اسناد مجتہدین تک پہنچتی ہے خواہ تصریحاً خواہ استنباطاً ،لہٰذایہ محفل مولوی اسماعیل صاحب کے مقررہ قاعدہ کے موافق بدعت نہیں بلکہ سنت میں داخل ہے۔
سوال: تم ہندوستان کے رہنے والے حنفی المذہب ہو،امام مالک اور شافعی سے استدلال کیوں کرتے ہو۔
جواب:  جو مسئلہ ہمارے امام سے تصریحاً بیان نہ ہو، اور دوسرے اماموں نے اس کی تصریح کی ہو، اور وہ ہمارے قاعدے کے مخالف نہ ہو تو وہ تسلیم کر لیاجاتا ہے۔ہمارے مذہب حنفیہ میں کتب فقہ پرنظر رکھنے والے کوبالفعل اس کی نظیریں مل جائیں گی۔ ایک مثال لکھتاہوں۔

(۱)	و جاء عن الشافعي أیضا ما أخرجہ البیہقي في مناقبہ قال : المحدثات ضربان ما أحدث یخالف کتابا أو سنۃ أو أثرا أو إجماعا فہذہ بدعۃ الضلال، و ما أحدث من الخیر لا یخالف شیئا من ذلک فہذہ محدثۃ غیر مذمومۃ۔
	فتح الباری لابن حجر: ۲۰؍ ۳۳۰حدیث: ۶۷۳۵۔
درمختارمیں ہے  :
و أما تقبیل الخبز فحرر  الشافعیۃ أنہ بدعۃ مباحۃ و قیل حسنۃ۔ (۱)
یعنی صاحب در مختار نے کہا کہ شافعیوں نے روٹی چومنے یعنی بوسہ دینے کوبدعت مباح یا مستحب تحریر کیا ہے۔
شافعیوں کا یہ مذہب لکھنے کے بعد صاحب درمختارنے  جومذہبا حنفی ہیں  لکھتے ہیں  :
و قواعدنا لا تأباہ۔ (۲)
یعنی ہم حنفیوں کے قاعدے اس سے کچھ مخالفت نہیں رکھتے۔
توثابت ہوا کہ غیر اماموں کے مذہب میں جو بات ایسی ہو کہ ہمارے مذہب میں اس کا ذکر نہ ہو اور ہماری مخالفت بھی نہ ہوتو اس کا لے لینا درست ہے۔ چنانچہ ہماری کتب فقہ،شامی وغیرہ میں بدعت حسنہ اور سیئہ کی تقسیم، امام شافعی کے مذہب کے مطابق درج ہے۔ اور اسی طرح قراءت حدیث کے وقت لوبان وغیرہ سلگانا،خوشبولگانا اور اونچی جگہ بیٹھنا باقتداے امام مالک کتب حنفیہ میں موجودہے۔




لمعہ خامسہ

اعتراض:اعتراض کرتے ہیں کہ اگر یہ محفل کبھی کبھی کرنی جائز بھی ہو تو خیر!لیکن اس کا خاص ربیع الاول کی بارہویں تاریخ میں کرنا اور وہ بھی ہرسال دائما کرنا اس کی تو کوئی دلیل نہیں ہے۔
جواب:  محفل میلاد شریف کی تخصیص اس طور پر کہ خاص ربیع الاول کی بارہویں تاریخ! اور پھر جائز نہ ہو،یہ کسی عالم اہلسنّت نے تصریح نہیں فرمائی بلکہ اہل ایمان جب کرسکیں کریں، فتاویٰ متقدمین کی صریح عبارتیں موجودہیں۔ملاعلی قاری  رحمۃ اللہ علیہ  کی ’’مورد الروی‘‘میں ہے  :
بل یحسن في أیام الشہر کلہا و لیالیہ۔
یعنی بہترتویہ ہے کہ مہینہ کے تمام دنوں اور راتوں میں کیاجائے۔
اس کے بعد ابن جماعہ رحمۃ اللہ علیہ  کا قول نقل کیا ہے  :

(۱)	درمختار: ۵؍ ۷۰۲۔
(۲)	نفس مصدر: ۵؍ ۷۰۲۔
کان یقول لو تمکنت عملت بطول الشہر کل یوم مولدا۔
یعنی حضرت ابن جماعہ فرمایا کرتے کہ اگر مجھے قدرت ہوتی تو میں پورے مہینہ میلاد النبی  صلی اللہ علیہ وسلم منایا کرتا۔
سیرت شامی میں علامہ ظہیر الدین ابن جعفرکافتویٰ یہی ہے  :
بدعۃ حسنۃ إذا قصد فاعلہا جمع الصالحین و الصلوٰۃ علی النبي الأمین  صلی اللہ علیہ وسلم  و إطعام الطعام للفقراء و المساکین و ہذا لقد یثاب علیہ بہذا الشرط کل وقت۔
یعنی جب میلاد النبی  صلی اللہ علیہ وسلم اس نیت سے کیاجائے کہ اس میں نیک لوگ جمع ہوں اور نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم پردرودوسلام پڑھاجائے، غرباومساکین کو کھانے کھلائے جائیں تویہ بدعت حسنہ ہے اور ان شرطوں کے ساتھ جب بھی کرے گا اس پر اسے ثواب بھی ملے گا۔ 
اس میں اصل تحقیق یہ ہے کہ نصوص قرآنی مطلق ہیں  :
 وَ اذْکُرُوْا نِعْمَۃَ  اللّٰہِ عَلَیْکُمْ۔ (۱)
 اسی طرح  :
قُلْ بِفَضْلِ اللّٰہِ وَ بِرَحْمَتِہٖ فَبِذٰلِکَ فَلْیَفْرَحُوْا۔ (۲)
اسی طرح  : 
وَ اشْکُرُوْا نِعْمَۃَ اللّٰہِ إنْ کُنْتُمْ إیَّاہُ تَعْبُدُونَ۔ (۳)
پس حضور رحمۃ للعالمین  صلی اللہ علیہ وسلم  کے وجودباجود کی نعمت کا شکریہ ہم پر فرض ہوا، اور اسی طرح فرحت کا بھی حکم ہوا کہ رحمت خداوندی پر فرحت وسرور کیا کرو، اور ظاہرہے کہ حق  سبحانہ وتعالیٰ  نے اس فرحت وسرور اور شکریہ کوکسی وقت کے ساتھ موقت نہیں فرمایا ہے لہٰذا حضور  صلی اللہ علیہ وسلم  کی ولادت کی فرحت وخوشی ،دائمی ہوئی، اسی لیے مشرق ومغرب کے تمام اسلامی شہروں میں جملہ اہل اسلام بارہ مہینہ میں جب کسی سے بن پڑتا ہے میلاد شریف کر دیا کرتا ہے۔ اور 

(۱)	سورۂ بقرہ،۲؍۲۳۱۔۔آل عمران،۳؍۱۰۳۔۔۔سورۂ مائدہ،۵؍۷۔
(۲)	سورۂ یونس،۱۰؍۵۸۔
(۳)	سورۂ نحل،۱۶؍۱۱۴
اسی طرح ولادتِ نبی کریم  علیہ الصلوٰۃ والتسلیم  کا شکر ،عبادت کے جملہ افراد میں عام رہا، اور یہ بات علمائے اصول سے مخفی نہیں ہے کہ فرضیت امرالٰہی کسی فرد میں پالیے جانے سے ادا ہو جاتی ہے، خواہ وہ کتناہی قلیل ہو لیکن تکمیل فرض کے لیے  جہاں تک بوجہ مشروع (یعنی شرعاً جائز)ہوسکے   ازروئے شرع فرض کی مقدار سے زیادہ کرناشرعاًمستحب اور مطلوب ہے۔
جب یہ بات معلوم ہو گئی توثابت ہو گیاکہ نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم کے وجودکاسرورو شکریہ دائمی ہے جب ہوسکے اور جس فرد میں ہوسکے عمل میں لائے خواہ اہل ایمان میں کھانا کھلانا ہویاشیرینی کی تقسیم،خواہ تلاوتِ قرآن،قراءت معجزات اور تعظیم وادب کے طور پر مدائح ومحامدو مناقب کاگنگناناہو، خواہ ان سب باتوں کو جمع کر دے پھر ماہِ ربیع الاول کی بارہویں تاریخ کویہ افعال واعمال بجالائے یا کسی اَور تاریخ و مہینہ میں ،سب جائز ہے۔
 اس تقریر سے مطلق کا ہر فرد جائزرہا،اگرکوئی ’’اللہ کی نعمت‘‘ کایہ ذکربلاقیدکرے وہ بھی جائزہے اور جو آداب ومستحسنات کی قیدکے ساتھ کرے جن کا ذکر لمعہ رابعہ میں گزرچکا وہ بھی جائزہے۔
 یہ بدیہی طور پر معلوم ہے کہ محفل میں مستحسنات ومستحبات شرعیہ جتنے زیادہ ہوں گے خیرو برکت اتنی زیادہ ہو گی،اسی وجہ سے اکثر آدمی اس ذکراقدس کو مقدوربھر تعظیم واحترام اور زیب واحتشام کے ساتھ کرتے ہیں تاکہ افرادِمستحسنات کے اجتماع سے حسن معنوی دوآتشہ ہو جائے اور ظاہری زیب وزینت سے شانِ اسلام کاتجمل ظاہرہو۔ایسا نہیں جومانعین سمجھتے ہیں کہ ان لوگوں کے نزدیک امورِ مروجہ کے بغیرمحفل ذکراقدس منع ہے حاشاوکلا جب جی چاہے ،قیودسے خالی بھی مدح وقصایدمیلاد وغیرہ پڑھتے ہیں،لہٰذا ان پر کوئی غبارنہیں۔ ہاں ! مانعین ایک عظیم اندیشہ میں ہیں کہ زیب وتجمل،تقسیم شیرینی اور مومنین کے اجتماع کو منع کرتے ہیں گویا انھوں نے مطلق کو مقید کر دیا ہے کہ اس ہیئت تجمل کے ساتھ نہ ہو،اس کا نام شرع میں نسخ ہے معاذ اللہ 
اعتراض:  یہ اعتراض کہ صحابہ نے اس تجمل کے ساتھ کیوں نہ کیا؟۔
جواب:  اس کا جواب یہ ہے کہ ان کے وقتوں میں چندایسے مصارف پیش تھے کہ روپیہ کا ان میں صرف ہوناقرین مصلحت تھا،وہ اپنی زینت اور طعام ولباس کے تکلف میں بھی نہ لگاتے تھے جو کچھ پاتے اُنھیں مواقع میں اٹھاتے لیکن پھر بھی اصل فرحت وسرورِذکرنبی میں ہمارے شریک تھے۔ تجمل سے گوجلسہ نہ کیا لیکن اصل عمل فرحت وسرور اور شکریۂ مفروضہتوان میں پایا گیا، ایک فرد بھی اداہوسکتا ہے جیسا افرادِکثیرہ میں اداہوتا ہے۔ اور رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کایہ فرمان صحیح طور پرہم تک پہنچ چکا ہے کہ اپنی امت کو ارشاد فرمایا  :
قسم اس ذات پاک کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے میرے صحابہ کی وہ شان ہے کہ اگر تم اُحد پہا ڑکے برابر سونا خداکی راہ میں لٹادوگے تب بھی ان کے تین پاؤجو کے ثواب نہ ملے گا۔
 اور ڈیڑھ پاؤ (۱)کے برابر۔یہ حدیث صحیحین میں ہے۔
 اس صورت میں اہل اسلام بنظر تحقیق دیکھیں کہ حضرت عباس کا حضورسیدکائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے ذکرمیلاد کے سلسلہ میں وہ قصیدہ خوشی خوشی پڑھ دینا، اور حضرت حسان کا رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کے مواجہ میں اکثرفخریہ اشعارپڑھنا اس تمام ہیئت مجموعی کے افرادِ کثیرہ کی خیروبرکت سے کہیں زیادہ ہو گا،جب ان کا ڈیڑھ پاؤخرچ کیاہواجوہمارے پہاڑ کے برابر سونے سے زیادہ نہ ہوا تو یہ اعتراض لغو ہو گیا جوکہتے ہیں کہ تم صحابہ سے بھی بڑھ گئے کہ انھوں نے تو یہ تجمل نہ کیاتم کیوں کرتے ہو؟۔

(۱)	جوکالفظ قاضی ثناء اللہ پانی پتی نے اس حدیث میں لکھا ہے۔۱۲منہ
	متن حدیث یوں ہے  :
	فوالذي نفسي بیدہ لو أن أحدَکم أنفق مثلَ أحدٍ ذہبا ما أدرک  مُدَّ أحدہم و لا نصِیفہ۔ (صحیح مسلم: ۱۲؍۳۶۹حدیث: ۴۶۱۰۔۔ سنن ابوداؤد: ۱۲؍۲۴۶حدیث: ۴۰۳۹۔۔سنن ترمذی: ۱۲؍ ۳۶۱حدیث: ۳۷۹۶۔۔ سنن ابن ماجہ: ۱؍ ۱۸۹حدیث: ۱۵۷۔۔ مسنداحمد: ۲۳؍۱۳۷حدیث:۱۱۰۹۲ ۔۔سنن کبریٰ بیہقی: ۱۰؍ ۲۰۹۔۔معجم کبیرطبرانی: ۱۹؍ ۱۳۰حدیث ۳۰۳۔۔ معجم اوسط طبرانی: ۲؍ ۱۹۷حدیث: ۶۹۸۔۔ صحیح ابن حبان: ۳۰؍ ۳۷حدیث: ۷۳۷۶۔۔ حدیث خیثمہ: ۱؍ ۲۰۲۔۔السنہ لابن ابی عاصم:۳؍ ۸ حدیث: ۸۲۴۔۔ الشریعۃ آجری: ۴؍ ۱۲۶حدیث: ۱۴۳۲۔۔ الکفایۃ فی علم الروایۃ خطیب بغدادی: ۱؍ ۱۱۵حدیث:۱۰۰۔۔شرح اصول اعتقاد اہل السنۃ و الجماعۃ الکائی:۵؍ ۴۴۰حدیث: ۱۹۰۵۔۔ فضائل الصحابہ احمد بن حنبل: ۱؍۵حدیث:۴۔۔ فوائد تمام: ۱؍۲۳۸حدیث: ۲۳۷۔۔ مسندابن جعد:۲؍۲۱۷حدیث: ۶۱۹۔۔من حدیث خیثمہ بن سلیمان:۱؍۱۹۳حدیث:۱۸۳۔۔نسخۃ وکیع بن اعمش: ۱؍۲۴حدیث:۲۳۔۔ نظم المتناثر:۱؍۱۹۹حدیث: ۲۳۹۔۔ کنزالعمال:۱۱؍۵۲۸حدیث: ۳۲۴۶۲۔۔ مسند جامع: ۴۵؍ ۲۶حدیث: ۱۴۷۹۵۔۔ تحفۃ الاشراف:۵؍۲۷۹حدیث: ۴۰۰۱۔)
	یوں بھی آیا ہے  :  لا تسبوا أصحابي لو أن أحدَکم أنفق مثلَ أحدٍ ذہبا ما بلغ  مُدَّ أحدہم و لا نصِیفہ۔(صحیح بخاری: ۱۲؍۵حدیث: ۳۳۹۷۔۔ صحیح مسلم:۱۲؍۳۷۰حدیث: ۴۶۱۱۔۔مشکوٰۃ المصابیح:۳؍۳۰۷حدیث: ۵۹۹۸۔۔مسنداحمد: ۲۲؍ ۲۰۲حدیث: ۱۰۶۵۷ ۔۔سنن کبریٰ نسائی: ۵؍ ۸۴حدیث: ۸۳۰۸۔۔شعب الایمان بیہقی: ۴؍ ۳۸حدیث: ۱۴۸۰۔۔مسندابویعلی موصلی: ۳؍۹۳حدیث: ۱۰۴۹۔۔صحیح ابن حبان: ۲۹؍ ۲۹حدیث: ۷۱۲۰۔۔ مسند ابن راہویہ: ۱؍ ۲۶۔۔امالی ابن بشران: ۲؍۱۱۴حدیث: ۵۷۹۔۔ مشیخۃ ابن طہمان: ۱؍۱۴۴حدیث: ۱۴۳)
لغوہونے کی وجہ یہ ہے کہ ان کا فرحت اور سرورِقلبی سے ایک ذکرکرنا ازروئے حدیث ہمارے بہت سے سامانِ فرحت وسرور سے افضل ہے،پھرہم ان سے کہاں بڑھ گئے!۔ہاں !صحابہ اصل اس تذکرہ اور نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود باجود کی فرحت وسرور میں ہمارے شریک ہیں،لہٰذا ہمارا سلسلہ ان سے ملاہوا ہے۔جیساکہ حضرت شاہ ولی اللہ  رحمۃ اللہ علیہ ’’انتباہ‘‘ کے دیباچہ میں فرماتے ہیں  :
باید دانست کہ یکے از نعم خداتعالیٰ بر اُمت مصطفویہ علیٰ صاحبہا الصلوٰات والتسلیمات  آنست کہ تا امروز سلسلہ ہاے ایشاں تاحضرت پیغامبر صلی اللہ علیہ وسلم صحیح وثابت است و اگرچہ اوائل امت را باواخر امت در بعض اموراختلاف بودہ است پس صوفیہ صافیہ ارتباط ایشاں در زمن اول بصحبت و تعلیم و تأدب بأدب وتہذیب نفس بودہ است نہ بخرقہ وبیعت و در زمن سید الطائفہ جنید بغدادی رسم خرقہ ظاہرشدوبعد ازاں رسم بیعت پیداگشت وارتباط سلسلہ بہمہ ایں متحقق است واختلاف صور ارتباط ضررنمی کند  الی ان قال  و علمائے کرام ارتباط ایشاں وزمن اول باستماع احادیث وحفظ آں در وعاے قلب بودبعدازاں تصنیف کتب و قراءت و مناولہ واجازت آں پیداشدوارتباط سلسلہ بہمہ نوع ایں امورصحیح است واختلاف صوررا اثرے نیست۔
یعنی معلوم ہوناچاہیے کہ انعامات الٰہیہ میں سے امت محمد یہ پرایک انعام یہ ہے کہ ان کے یہ سلسلے حضور پیغمبر اسلام  صلی اللہ علیہ وسلم سے لے کر آج تک صحیح اور ثابت ہیں، گرچہ امت کے پچھلوں کاپہلوں سے بعض امور کی بابت کچھ اختلاف واقع ہوا ہے۔دراصل صوفیہ صافیہ کا اول زمانے میں ربط وتعلق، صحبت و تعلیم،صالح ادب اور تہذیب نفس سے رہا ہے، بیعت وخرقہ سے ان کاکوئی تعلق نہ تھا۔ سیدالطائفہ حضرت جنید بغدادی کے زمانے میں رسم خرقہ جاری ہوئی اور پھر اس کے بیعت کی رسم پیداہوئی۔تواس کے ساتھ اس سلسلہ کا رابطہ، ثابت و متحقق ہے، اور تعلق وربط کی صورت کا اختلاف کسی ضررکاباعث نہیں  یہاں تک کہ فرمایا اور علمائے کرام کا ان سے اور زمانہ اول سے ارتباط حدیث سننے اور اس کودل سے حفظ کرنے کے ساتھ تھا،پھر اس کے بعد کتابوں کی تصنیف،قراءت ومناولت اور اجازت کا سلسلہ شروع ہوا۔ اور ان امور کے ساتھ اس سلسلہ کا ارتباط وتعلق درست ہے اور صوری اختلاف کوئی معنی نہیں رکھتا۔  
لہٰذا اگر فرحت وسرور اور مدح خوانی میں ہمارے اور صحابہ  رضوان اللہ علیہم  کے مابین  ہیئت کا کچھ اختلاف ہو تویہ ہرگزمضر نہیں کیوں کہ اصل امر،ہم میں اور ان میں مشترک ہے۔
باقی رہی تعیین تاریخ کی تحقیق تو ان لوگوں کی مرادیہ نہیں کہ بارہویں ربیع الاول کے علاوہ اور دنوں میں جائز نہیں بلکہ اس میں ایک قسم کی مناسبت سمجھ کر زیادہ تریہ محفل پاک اس میں کرتے ہیں اور اس پر بھی دلیل شرعی موجودہے۔
شرع شریف میں یہ مضمون پایا گیا ہے کہ جس روزکسی نعمت عظمیٰ کاظہو رہوہرسال اسی روز خوشی کیا کریں۔قرآن شریف کے اندر اس تعیین یوم کی مثال یہ ہے کہ جب حواریوں نے عیسیٰ  علیہ السلام سے درخواست کی کہ ہمارے لیے آسمان سے کھانے کا(کوئی)خوان اُترے، تب عیسیٰ  علیٰ نبینا وعلیہ السلا م نے یہ فرمایا  :
اَللّٰہُمَّ رَبَّنَا أنْزِلْ عَلَیْنَا مَائِدَۃً مِّنَ السَّمَائِ تَکُوْنُ لَنَا عِیْداً لأوَّلِنَا وَ آخِرِنَا۔ (۱)
امام رازی نے تفسیر کبیرمیں فرمایا  : 
اس کے معنی یہ ہیں کہ یا اللہ !آسمان سے کھانے کا ایک خوان اتار کہ وہ ہمارے پہلوں اور پچھلوں کے لیے عید ہو جائے یعنی جس دن وہ مائدہ اترے اس کو ہم عید بنالیں اور ہمارے بعد جو پیدا ہوں وہ بھی اس کو عید بنائیں اور اس دن کی تعظیم جاری رہے تووہ مائدہ اتواریعنی یک شنبہ کواترا اور نصاریٰ نے اس کو خوشی کادن بنالیاکہ اس میں خوشی کرتے ہیں  انتہیٰ (۲)
یعنی وہ لوگ اپنی عبادت گاہ میں یکشنبہ کو جمع ہوتے ہیں جیسے اہل اسلام (روزِ جمعہ وعیدین) جمع ہوتے ہیں۔اس روز اپنے محکموں میں تعطیل کرتے ہیں اور راحت پاتے ہیں۔
دیکھیے کہ قرآن کریم سے اصل ثابت ہوئی کہ نعمت حاصل ہونے والے دن کو ہمیشہ کے لیے عید بنالیاجائے۔
حدیث سے اس کی سند یہ ہے جسے محدث ابن حجرنے مسلم اور بخاری کی حدیث سے نکالی ہے یعنی جس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں تشریف لائے تویہود کو دیکھا کہ وہ عاشوراے محرم کوروزہ رکھتے ہیں۔آپ نے پوچھا :یہ روزہ کیوں رکھتے ہو؟ وہ بولے کہ یہ وہ دن ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے فرعون کو ڈبایا اور موسیٰ  علیہ السلام کو بچالیا۔شکرانے میں موسیٰ نے روزہ رکھا فنحن نصومہ شکرا للّٰہ تعالیٰیعنی توہم بھی شکرالٰہی ادا کرنے کے لیے اس دن روزہ رکھتے ہیں۔ حضور  صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر فرمایا:  تمہاری بہ نسبت موسیٰ سے ہم کوزیادہ 

(۱)	سورۂ مائدہ،۵؍۱۱۴۔
(۲)	تفسیر رازی: ۶؍۱۹۸۔
مناسبت ہے تب آپ نے عاشوراکاروزہ رکھا اور صحابہ کو بھی حکم دیا۔ یہ حدیث صحیح ہے،بخاری ومسلم میں موجودہے۔ (۱)
اب دیکھیے کہ کب فرعون ڈوبا، کب موسیٰ  علیہ السلام  نے نجات پائی اور جب سے اب تک اس نعمت کا شکریہ جاری ہے کہ جب وہ عاشوراے محرم کا روزہ آتا ہے ہرسال اہل اسلام اس کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ اور رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کا پیداہونا تو ایسی بڑی نعمت ہے کہ حضرت عیسیٰ کے خوان اترنے اور حضرت موسیٰ علیہما السلام کے نجات پانے سے کہیں زیادہ افضل و اکمل ہے توجب یہ دن ہرسال آئے تو اس میں فرحت وسرورظاہرکیوں نہ کیا جائے اور شکرالٰہی کیوں نہ ادا کیاجائے۔جب ایک معین دن کاہرسال ،اعادۂ شکروسرورکاباعث ہوناقرآن وحدیث سے ثابت ہو گیا تو یوم میلاد النبی  صلی اللہ علیہ وسلم تواس سے کہیں درجہ اس قابل ہے کہ اس کو یوم سرور کیاجائے۔
ان دلائل کے علاوہ علمائے محققین مثلاً مفتی سعد اللہ صاحب وغیرہ نے ظہورنعمت کے باعث یوم سرورکے تعین وقرار کے سلسلہ میں اور بھی حدیث صحیح بیان فرمائی ہے۔ اور یہ بات تو اس قسم کی ہے کہ ابو عبد اللہ بن الحاج  جن کو یہ صاحب اپناطرف دار شمار کرتے ہیں یعنی ان کو میلاد النبی کے عمل کومنع کرنے والا جانتے ہیں  انھوں نے ماہِ ربیع الاول کی افضلیت کی اس تخصیص کومسلم رکھا ہے۔’’مدخل‘‘میں ان کی عبارت یوں ہے  :
 ہذا الشہر الکریم الذي من اللہ تعالیٰ علینا فیہ بسید الأولین و الآخرین فکان یجب أن یزاد فیہ من العبادات و الخیر شکرا للمولیٰ  سبحانہ و تعالیٰ  علیٰ ما أولانا  من ہذہ النعم العظیمۃ۔۔۔۔۔۔ و قد أشار  علیہ الصلوٰۃ و السلام  إلی فضیلۃ ہذا الشہر العظیم بقولہ  علیہ الصلوٰۃ و السلام 

(۱)	متن حدیث یوں ہے  :
	 لما قدم النبي  صلی اللہ علیہ وسلم  المدینۃَ وجد الیہودَ یصومون عاشورائَ فسُئلوا عن ذلک فقالوا ہذا الیوم الذي أظفر اللہ فیہ موسیٰ و بني إسرائیل علی فرعون و نحن نصومہ تعظیما لہ فقال رسولُ اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نحن أولیٰ بموسیٰ منکم ثم أمر بصومہ۔ (صحیح بخاری ۱۲؍۳۳۳حدیث: ۳۶۴۹۔۔صحیح مسلم:۵؍۴۷۲حدیث:۱۹۱۰۔۔سنن ابوداؤد: ۶؍۴۲۸حدیث: ۲۰۸۸ ۔۔مسندابویعلی موصلی: ۶؍ ۱۲۲حدیث: ۲۵۱۳۔۔صحیح ابن خزیمہ: ۷؍ ۴۳۳حدیث: ۳۰۳۱۔۔تحفۃ الاشراف: ۶؍ ۲۱۵ حدیث:۵۴۵۰ ) 
للسائل الذي سألہ عن صوم یوم الإثنین فقال لہ  علیہ الصلوٰۃ و السلام  ذلک یوم ولدتُ فیہ، فتشریف ہذا الیوم متضمن لتشریف ہذا الشہر الذي ولد فیہ۔ (۱)
یعنی ربیع الاوّل کا یہ مہینہ بڑابزرگ ہے کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے اس میں ہم پر احسان کیاکہ اس نے ایک سید الاوّلین والآخرین پیدافرمایا۔لہٰذاجب یہ مہینہ آیا کرے توہم کو چاہیے کہ شکرانے کے طور پر اس میں زیادہ سے زیادہ نیکیاں کیا کریں۔ اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس کی بزرگی کی طرف اشارہ کر دیا،کیوں کہ آپ پیر کے دن کا روزہ رکھا کرتے تھے۔ جب کسی نے اس کی وجہ پوچھی تو آپ نے فرمایا:چوں کہ میں اسی دن پیداہواہوں۔تو اس سے ثابت ہوا کہ جب پیرکادن آپ کی پیدایش کی وجہ سے اور دنوں کی بہ نسبت ،مشرف ومکرم ہو گیا تویقینا وہ مہینہ بھی تمام مہینوں میں مکرم ومعظم ٹھہراجس میں آپ بزم دنیا میں تشریف لائے۔
 ایک دوسرا اعتراض جو وارد ہوتا تھا کہ یہ مہینہ اگر افضل تھا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم  نے اس میں اظہارِ شکریہ وغیرہ بذات خود کیوں نہ کیا۔تو اس کا جواب بھی حضرت ابن حاج نے ’’مدخل‘‘میں دے دیا ہے  :
و إن کان النبي  صلی اللہ علیہ وسلم  لم یزد فیہ علی غیرہ من الشہور شیئا من العبادات و ما ذاک إلا لرحمتہ  صلی اللہ علیہ وسلم  بأمتہ و رفقہ بہم ، لأنہ  علیہ الصلوٰۃ و السلام  کان یترک العمل خشیۃ أن یفرض علی أمتہ۔ (۲)
یہ عبارت پہلی عبارت سے ملی ہوئی ہے یعنی ہم پرربیع الاول میں نیکیوں کی کثرت واجب ہے۔
 حضور  صلی اللہ علیہ وسلم  نے خود کوئی بات اس مہینہ میں زیادہ نہیں فرمائی، اور ایسا اس لیے تھا کہ آپ بعض کام چھوڑ دیا کرتے تھے کہ میری سبب سے کہیں یہ کام امت پرفرض نہ ہو جائے۔ 
 تو تخصیص ربیع الاول کے اعتراض کودفع کرنے کے لیے ان کے محقق ومسلم الثبوت کایہ کلام کافی ووافی ہے والحمدللہ علیٰ ذلک 

(۱)	مدخل: ۱؍ ۴۸۱ فصل فی مولد النبی والبدع 
(۲)	مدخل: ۱؍۴۸۰ فصل فی مولد النبی والبدع 
دوسری دلیل :  اس عمل کی علی الدوام یعنی ہرسال کرنے کی دوسری دلیل یہ ہے کہ حدیث صحیح میں آیا ہے  :
أحَبُّ الأعْمَالِ إلَی اللّٰہِ أدْوَمُہَا وَ إنْ قَلَّ۔ (۱)
یعنی اللہ کے نزدیک سب سے پیاراعمل وہ ہوتا ہے جوبرابر ہوتارہے گرچہ تھوڑا ہو۔
تو جو شخص سال بھر میں ایک دو مرتبہ محفل کرے گا تو ظاہرہے کہ تین سو ساٹھ دن میں ایک دن یا دو دن اس عمل پاک کے حصہ میں آئے تویہ قلیل ہے،جب قلیل ہوا تو اب اس کو دائمی بھی نہ کریں تو کیا اللہ تعالیٰ کو پیاراہو گا!۔لہٰذا طالب حسنات کولازم ہو اکہ یہ عمل ہر سال کیا کرے۔
تیسری دلیل:  اس کے دوام کی تیسری دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سورۂ حدید میں ارشاد فرمایا ہے  :
وَ رَہْبَانِیَّۃً نِابْتَدَعُوہَا مَا کَتَبْنَاہَا عَلَیْہِمْ إلاَّ ابْتِغَائَ رِضْوَانِ اللّٰہِ فَمَا رَعَوْہَا حَقَّ رِعَایَتِہَا۔ (۲)

(۱)	صحیح بخاری: ۲۰؍ ۱۰۰حدیث: ۵۹۸۳۔۔ صحیح مسلم: ۴؍ ۱۸۸حدیث: ۱۳۰۵۔۔ مسند احمد: ۵۱؍ ۳۱۰ حدیث: ۲۴۱۵۳۔۔ سنن کبریٰ بیہقی: ۲؍ ۴۸۵۔۔ مسند عبد بن حمید:۴؍ ۱۴۲حدیث: ۱۵۲۰۔۔ معرفۃ السنن والآثار: ۴؍۱۵۰حدیث:۱۳۹۷۔۔ مسندشہاب قضاعی:۳؍۱۷۴حدیث: ۷۰۸۔۔ مشکل الآثار:۳؍ ۲۴۴حدیث: ۱۰۵۳ ۔۔ مسند ابن راہویہ: ۲؍۱۴۰۔۔ اخبار اصبہان: ۲؍ ۲۴۷حدیث: ۵۲۲۔۔ آداب الصحبۃ ابوعبدا لرحمن سلمی:۱؍ ۵۳ حدیث: ۳۶۔۔ الزہد والرقائق: ۳؍۳۵۹ حدیث: ۱۳۱۱۔۔ الفوائد الشہیربالغیلانیات ابوبکر شافعی:۳؍ ۲۵حدیث: ۹۶۶۔۔ مسنداسحاق بن راہویہ: ۲؍ ۶۷حدیث: ۵۴۶۔۔کنزالعمال: ۳؍۴۴حدیث: ۵۴۰۱۔۔ مسندالجامع: ۵۱؍۴۶۸حدیث: ۱۷۳۱۲۔۔تحفۃ الاشراف: ۱۴؍ ۱۲۱ حدیث: ۱۷۷۱۸۔۔تخریج احادیث الاحیائ: ۲؍ ۱۳۸حدیث: ۶۳۸۔
	یوں بھی آیا ہے  :
	أحب الأعمالِ إلی رسول اللّٰہ  صلی اللہ علیہ وسلم  أدومہا و إن قل۔(مسند احمد: ۵۱؍ ۳۱۰ حدیث: ۲۴۱۵۳۔۔صحیح ابن حبان:۷؍ ۱۵۷حدیث: ۱۶۰۳۔۔حدیث اسماعیل بن جعفر:۱؍۱۹۹حدیث:۱۹۵)
	صحیح ابن خزیمہ میں یوں ہے  :
	إن أفضل الأعمالِ  أدومہا۔ ( ۵؍ ۵۱حدیث:۱۲۱۳)
	 اور مسندعبد اللہ بن مبارک میں یوں ہے  :
	إن أحب الأعمالِ عند اللہ  أدومہا و إن قل۔(۱؍۸۰حدیث: ۷۹)
(۲)	 سورۂ حدید،۵۷؍۲۷۔
 اور راہب بننا،تویہ بات انھوں نے دین میں اپنی طرف سے نکالی ہم نے ان پرمقرر نہ کی تھی ہاں یہ بدعت انھوں نے اللہ کی رضاچاہنے کوپیداکی پھر اسے نہ نبھایاجیساکہ اسے نباہنے کا حق تھا۔
یہ آیت جس طرح بدعت حسنہ کے جواز کی دلیل ہے اسی طرح اس پر بھی دلیل ہے کہ اگر کوئی نیک کام اپنی طرف سے ایجادکرے تو اس کا نباہ اور حق ادا کرنا بھی مناسب ہے۔اس کی تفصیل یہ ہے کہ جب بنی اسرائیل نے خاص اللہ تعالیٰ کی رضا مندی اور اپنی نفس کشی کے واسطے اپنی طرف سے یہ ایجاد کیا کہ پہاڑوں اور جنگلوں میں اکیلے جا بیٹھتے،موٹے کپڑے پہنتے،نکاح نہ کرتے لیکن انجام کار پوری حق گزاری ادا نہ ہوئی تب اللہ تعالیٰ نے ان کو فرمایا کہ انھوں نے بدعتیں تو ہماری رضامندی کے لیے ایجاد کیں اور ہم نے ان کا حکم نہیں دیا تھا،پھر ان کو نہ نباہاجس طرح نباہناچاہیے تھا۔
دیکھیے اس میں ایک دلیل تویہ پیداہوئی کہ بعض بدعتیں اللہ تعالیٰ کی رضامندی کے لیے بھی ہوتی ہیں۔دوسرے یہ کہ اگر ایسی بدعت نکالی تو اس کا پوری طرح نباہ کرے کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو اس بات پر ملامت نہ فرمائی کہ انھوں نے یہ بدعتیں کیوں ایجادکیں بلکہ ملامت اس بات پر فرمائی کہ انھوں نے اس کو نباہنے کی طرح نباہانہیں۔
جب یہ مضمون قرآن سے ثابت ہو گیا تو معلوم کرناچاہیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے نمازِ تراویح تین رات پڑھ کر چھوڑ دی تھی، نہ اس میں یہ بیان ہوا تھا کہ اول شب میں ان کو پڑھناچاہیے یاآخرشب میں۔ اور رمضان کی تمام راتوں میں پڑھناچاہیے یا کسی رات میں پڑھ لینا کافی ہے، اور نہ قراءت کی مقدار ہی بیان ہوئی تھی کہ ختم قرآن ہویا نہ ہو، اور نہ ہی یہ بیان ہوا تھا کہ اپنے گھر میں پڑھیں یا مسجد میں۔ اور نہ اس کے لیے جماعت ہی کا کچھ اہتمام وانتظام ارشاد ہوا تھا۔ اور اسی طرح حضرت ابوبکر  رضی اللہ عنہ  کے دور میں بھی رہا۔پھر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس میں زیادہ اہتمام کیا، تمیم داری کوحکم دیا کہ عورتوں کو تراویح پڑھائیں اور ابی بن کعب کو حکم دیاکہ مردوں کو نمازِ تراویح پڑھائیں۔مردوں کو مسجدمیں تراویح کاحکم دیاجب کہ پہلے صحابہ اپنے اپنے گھروں میں بلاجماعت پڑھتے تھے۔ اور حضرت عمرنے مسجد میں قندیل روشن کیے۔ ’’حجۃ اللہ البالغہ‘‘میں ہے کہ یہ بھی حکم دیا کہ عشاکے بعد ،شروع رات میں پڑھا کرو،یعنی بطورتہجد پچھلی رات کو مت پڑھو۔ غرض کہ جب حضرت عمرنے اس نمازکو جسے حضور صلی اللہ علیہ وسلم  نے کچھ پڑھ کرچھوڑ دی تھی   جاری فرمائی، اور بعض خصوصیات وتعینات اس میں زیادہ فرمائیں،تواب اس میں ہیئت کذائی جدیدعارض ہو جانے کی وجہ سے آپ نے بزبان خود اس کوبدعت فرمایالیکن تعریف کے ساتھ فرمایا  :
نِعْمَتِ الْبِدْعَۃُ ہٰذِہٖ۔ (۱)
یعنی کیاہی خوب بدعت ہے یہ!۔
اس وقت صحابہ میں ٹھہراکہ دیکھواس نماز کو تم نے اہتمام،جماعت اور قیود کے ساتھ خود کیا ہے لہٰذا اب اس کو ترک نہ کرناچاہیے اور خوب مداومت کے ساتھ پڑھناچاہیے،ایسا نہ ہو جیسا بنی اسرائیل کچھ باتیں ایجاد کر کے پھر اس پرپورے عامل نہ ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے ان کوعتاب کیا:  مارعوہاحق رعایتہاکہ انھوں نے اس کو ویسانہ نباہاجیساکہ نباہنے کا حق تھا۔یہ قصہ ’’کشف الغمہ‘‘ اور تفسیر روح البیان کی سورۂ حدیدمیں مذکورہے  :
و کان أبو أمامۃ الباہلي  رضي اللہ عنہ  یقول أحدثتم قیام رمضان و لم یکتب علیکم فدوموا علی ما فعلتم و لا تترکوہ فإن اللہ عاتب بني إسرائیل في قولہ : وَ رَہْبَانِیَّۃً نِابْتَدَعُوہَا مَا کَتَبْنَاہَا عَلَیْہِمْ إلاَّ ابْتِغَائَ رِضْوَانِ اللّٰہِ فَمَا رَعَوْہَا حَقَّ رِعَایَتِہَا  انتہیٰ (۲)
جب آیت کریمہ کے معنی اور اس سے احداث بدعت حسنہ کے جائزہونے کے سلسلہ میں صحابہ کا استدلال اور اس کی تاکیدمداومت سن چکے تواب مسئلہ میلاد شریف کا حال سنوکہ حضور  صلی اللہ علیہ وسلم نے ماہِ ربیع الاول میں کوئی عمل مقررنہیں فرمایا تھا۔ابن حاج رحمۃ اللہ علیہ   نے اس کا عذر بیان کر دیا ہے کہ حضور  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کواندیشہ تھا کہ کہیں میرے کرنے سے امت پر فرض نہ ہو جائے،لیکن اس کی فضیلت کا اشاریہ دے دیاکہ میں پیر کے دن ا س لیے روزہ رکھتاہوں کہ اس میں پیداہواہوں یعنی اس سے امت کو اشارہ مل گیا کہ جب ہفتہ کے سات دنوں میں یہ ایک دن ولادت مبارکہ ہونے کے باعث محل عبادت شکریہ ہو گیا تو برس دن کے بارہ مہینوں میں ایک دومہینہ بھی بلاشبہ محل عبادت شکریہ ہو گاجس میں میلاد شریف ہو ا۔

(۱)	موطا امام مالک: ۱؍ ۳۴۰حدیث: ۲۳۱۔۔صحیح بخاری: ۷؍ ۱۳۵حدیث: ۱۸۷۱۔۔معجم طبرانی: ۱۱؍ ۵۴حدیث: ۱۳۳۸۷۔۔ شعب الایمان: ۷؍ ۲۷۱حدیث: ۳۱۲۲۔۔الصیام فریابی: ۱؍ ۱۵۷حدیث: ۱۴۸۔۔ المدخل : ۱؍ ۱۹۱حدیث: ۱۹۰۔۔ فضائل الاوقات بیہقی: ۱؍۲۷۴حدیث: ۲۲۴۔۔ فوائد محمد بن مخلد: ۱؍۶حدیث: ۵۔۔قیام رمضان مروزی: ۱؍۲۰حدیث: ۱۶ ۔۔نصب الرایہ: ۳؍ ۲۲۸۔۔تلخیص حبیر: ۲؍ ۱۲۲حدیث: ۵۵۱۔۔ تحفۃ الاشراف: ۹؍ ۴۵۴حدیث: ۱۰۵۹۴۔۔ روضۃ المحدثین: ۱؍ ۵۰۰حدیث:۵۰۰۔
	نعم البدعۃ ہذہ  کے الفاظ بھی درج ذیل کتابوں میں ملتے ہیں۔ ( سنن بیہقی: ۲؍۴۹۳۔مصنف عبد الرزاق: ۴؍ ۲۵۹ حدیث: ۷۷۲۴۔۔ صحیح ابن خزیمہ: ۴؍ ۲۴۷حدیث: ۱۰۳۶۔۔ معرفۃ السنن والآثار: ۴؍ ۲۰۶حدیث: ۱۴۴۲۔۔ کنزالعمال: ۸؍ ۴۰۸حدیث: ۲۳۴۶۶)
(۲)	تفسیر قرطبی: ۱۷؍ ۲۶۴۔
اس اصل وبنیادپراہل اسلام نے اس مہینہ میں مجلس شکریہ  جوچند عبادات بدنیہ ومالیہ پرمشتمل ہوتی ہے  ایجاد کی اور اکابرعلما،محدثین اور فقہا جن کانام ہم خاتمہ میں شمارکریں گے  اس کے بانی،جائز کرنے والے اور ثناخواں ہوئے۔ اور اہل کشف اولیاء اللہ نے مکاشفات(۱) ومنامات میں رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سے راضی پایا۔غرض کہ علمائے طریقت وشریعت کے اتفاق سے یہ عمل مستحسن ٹھہرا، لہٰذا اس پر بھی آیت کریمہ والاوہی مضمون صادق آیا : ابتدعوہا ما کتبناہا علیہم إلاَّ ابتغاء رضوان اللّٰہ  اور تراویح کے سلسلے والاقصہ صحابہ اس کے مطابق ہوا۔تو اگر ہم اس عمل پاک پرمداومت نہ کریں اور ہر سال بطورِ اور اد معینہ ادانہ کریں تو ہم کو بھی وہی اندیشہ ہو گا جو ابوامامہ باہلی کو ہوا جس کے سبب انھوں نے فرمایا  :
دُوْمُوْا عَلٰی مَا فَعَلْتُمْ وَ لاَ تَتْرُکُوہُ۔
یعنی اب اسے برابرکرتے رہوکبھی چھوڑنانہیں۔
رہا طیبی کا یہ قول  :
من أصر علی مندوب و جعل عرفا و لم یعمل بالرخصۃ فقد أصاب منہ الشیطان۔ (۲)
یعنی جو آدمی کسی امر مستحب کو واجب جان کرکرتارہے کبھی ترک نہ کرے تویقینا اس میں شیطان کادخل ہے۔
 توعلامہ طیبی نے یہ بات عبد اللہ بن مسعود  رضی اللہ تعالی عنہ  سے پیداکی ہے کہ انھوں نے فرمایا  :

(۱)	حاشیہ : اس عاجزنے کچھ اولیاکے قصے اس قسم کے دیکھے ہیں کہ ان واقعات ومنامات میں رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کو عمل مولد شریف سے خوش پایا ہے۔یہ کتابوں میں دیکھے ہیں اور اس وقت بھی چندصلحاے وقت کو اس محفل شریف کی بشارت ہوئی ہے۔۱۲منہ
(۲)	فیض القدیر:۲؍۳۷۲۔مگراس میں  وجعل عرفا کا لفظ نہیں آیا۔
تم میں سے کوئی اپنی نماز میں شیطان کاحصہ نہ کرے یعنی یہ عقیدہ جمالے کہ سلام پھیرنے کے بعد داہنی طرف پھرناواجب ہے کیوں کہ میں نے رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت دفعہ سلام پھیرکربائیں طرف مڑتے بھی دیکھا ہے  انتہیٰ (۱)
اب ہم سے اس کی تحقیق سنو۔نماز کے بعد دہنی طرف پھرجانے سے جو عبد اللہ بن مسعود  رضی اللہ عنہ  نے منع فرمایا تو اس میں دوباتیں خلاف شرع تھیں۔ایک تو یہ کہ داہنی طرف سے پھرنا سنت ہے،پھر اگر کوئی اس کو واجب اعتقادکرے گا تو ظاہرہے کہ وہ حکم شرع کو بدل دے گا۔ 

یہ دیکھو تمہارے مسلم الثبوت عالم مولوی قطب الدین خان صاحب اس حدیث کی تحقیق میں لکھتے ہیں  :
سنت میں واجب ہونے کا اعتقاد نہ کرے انتہیٰ  (۲)
دوسرے یہ کہ عبد اللہ بن مسعود نے فرمایاکہ میں نے بہت دفعہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کو بائیں طرف سے پھرتے دیکھا ہے اس سے معلوم ہواکہ بائیں طرف سے پھرجانا بھی سنت ہے حالاں کہ جو شخص داہنی طرف سے پھرجانا واجب اعتقاد کرے گا اس کے نزدیک بائیں طرف سے پھرناقانون شرع کے مطابق مکروہ تحریمی ٹھہرے گا کیوں کہ واجب کا عمداًترک مکروہ تحریمی ہوتا ہے تو اس کے اعتقاد کے مطابق رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کا فعل یعنی بائیں طرف سے پھرنا جوکہ سنت تھا وہ مکروہ تحریمی ٹھہرتا تھا،ان دونوں قباحتوں کی وجہ سے صحابی موصوف نے منع فرمایاکہ تم ایسے اعتقاد کرکے شیطان کا حصہ یعنی گمراہی اپنے دین میں پیدانہ کرو۔اس حدیث کے موافق طیبی نے فرمایا  :
 من أصر علی مندوب   الیٰ آخرہ 
تو جومعنی اثر صحابی کے ہیں کہ سنت کو واجب اعتقاد نہ کرے وہی معنی کلام طیبی کے بھی ہوئے۔ 

(۱)	کنزالعمال:۸؍ ۲۶۸حدیث: ۲۲۸۵۹۔۔صحیح مسلم:۴؍ ۱۶حدیث: ۱۱۵۶۔۔ سنن ابوداؤد: ۳؍۲۳۰حدیث: ۸۷۸ ۔۔ مصنف عبد الرزاق: ۲؍ ۲۴۰حدیث: ۳۲۰۸۔۔ صحیح ابن خزیمہ:۶؍ ۳۰۵حدیث: ۱۶۲۰۔
	حدیث کے الفاظ کچھ یوں ہیں  :
	لا یجعلن أحدکم للشیطان من نفسہ جزء لا یری إلا أن علیہ حقا أن ینصرف عن یمینہ، قد رأیت رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  أکثر ما ینصرف عن شمالہ۔
(۲)	مظاہر حق حصہ اول: ۳۲۹ باب الدعا فی التشہد مطبع آسی لکھنؤ۔
 اور اگر کوئی شخص مستحب کو مستحب جان کر مداومت کرے تو کلام طیبی سے اس کی برائی ثابت نہیں ہوتی۔ اور ہوبھی کیسے! جب خودحدیث شریف میں عمل کادوام محبوب ثابت ہوچکاہے۔ 
مولوی قطب الدین خان صاحب اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں  :
 اس حدیث کے سبب اہل تصوف ترک اور اد کوایساہی براجانتے ہیں جیسے ترک فرائض کو انتہیٰ (۱)
ہم کہتے ہیں تو اسی طرح اہل مولد بھی میلاد کے وظیفہ معمولہ کو ترک کرنا اچھانہیں جانتے۔
 براہین قاطعہ گنگوہی کے اعتراضات مع جوابات
[۱]	یکشنبہ کاعید ہونا نیز صوم عاشورا بحکم الٰہی تھا۔
جواب : 	اگربحکم الٰہی نہ ہو تاتوہم اس پر قیاس بھی نہ کرتے، اور جب وہ بحکم الٰہی ہو ا تو یہ استنباط بالکل صحیح ہو گیاکہ حصول نعمت کا شکریہ اور دائمی طورپرہرسال خوشی منانابحکم الٰہی ہے،لہٰذا ان افرادِ سابقہ کو نظیر قرار دے کر وہی حکم نعمت ،نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم کے وجودمیں بھی جاری کیا۔ 
[۲]	یکشنبہ کا عیدہونامنسوخ ہوچکا اور شریعت عیسیٰ  علیہ السلام  منسوخ ہوچکی۔
جواب: 	اس میں کچھ حرج نہیں۔اگر ان کے لیے مائدہ نازل ہونے والادن عیدٹھہرا تو ہمارے لیے جس رات کو مادۂ وجود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم شکم جناب آمنہ میں نزول فرماہوا اس کی صبح یعنی جمعہ کادن عید ٹھہرایا گیا۔ اور صحیح تریہ ہے کہ حضرت آمنہ کے صدفِ رحم میں درۂ محمد یہ کا استقرار شب جمعہ ہوا تھا جیساکہ مدارج النبوۃمیں ہے۔ اس سے قطع نظر اگر پہلی ملتیں نسخ ہو گئیں تو جملہ ملتوں کا ہر حکم تونسخ نہیں ہو جاتا۔ہم کہتے ہیں کہ نعمت ملنے کے دن کاشکریہ اداہوناکبھی نسخ نہیں ہوا، اور یہ خود آپ  صلی اللہ علیہ وسلم کے فعل سے ثابت ہے کہ آپ نے نجات موسیٰ کے شکرانے میں روزۂ عاشورا رکھا۔
[۳]	یہود نے حضرت سے کہا تھا:نحن نصومہ فقط اب اس پر شکراً للّٰہ تعالیٰ مولف انوارِ ساطعہ نے افترا علی الحدیث کیا ہے۔براہین قاطعہ صفحہ ۱۹۴۔ 
جواب:  یہود کا نحن نصومہ شکرا للّٰہ تعالیٰکہنا خود ابن حجر عسقلانی  رحمۃ اللہ علیہ  

(۱)	مظاہر حق حصہ اول:۱؍۴۲۷ باب القصد فی العمل  مطبع آسی لکھنؤ۔
نے نقل کیا ہے۔پھران سے جلال الدین سیوطی  طاب اللہ ثراہ نے ’’حسن المقصد‘‘میں نقل کیا ہے،نیز علی قاری  نوراللہ مرقدہ نے ’’مورد الروی‘‘میں بھی نقل کیا ہے۔ ذراکتابوں پر نظر بھی چاہیے یوں ہی زبان اٹھا کر مفتری کہ دینا اچھانہیں،قیامت کو ہر لفظ کا محاسبہ ہو گا۔(۱)
واضح ہو کہ لفظ شکراً للہ  کی جگہ تعظیماً  کا لفظ بھی روایت میں آیا ہے۔  نحن نصومہ تعظیما لہ کی عبارت بخاری ومسلم نے اپنی صحیح میں،حضرت غوث الثقلین نے ’’غنیۃ‘‘ میں اور ابواللیث سمرقندی نے ’’تنبیہ الغافلین‘‘ میں روایت کی ہے۔ اور شکراً للّٰہ کی طرح یہ روایت بھی وہی معنی دیتی ہے۔(۲)
[۴]	رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے صوم عاشورا،شکرا و سرورانہیں رکھا اور أحق بموسیٰ منکم کے معنی یہ ہیں : اتباعا، لا سروراً وشکراً۔صفحہ۱۶۵۔
جواب : 	آپ انکار فرماتے ہیں اور مذہب حنفی کے ایک بڑے امام ابوجعفرطحاوی  رحمۃ اللہ علیہ ’’شرح معانی الآثار‘‘ مطبوعہ مصطفائی کے صفحہ ۳۳۷پر ہمارے معنی کی تصریح فرماتے ہیں  :
      ففي ہذا الحدیث أن رسُولَ اللّٰہ  صلی اللہ علیہ وسلم  إنما صامہ شکرا للہ  عزوجل  في إظہار موسیٰ علی فرعون۔ (۳)

(۱)	علاوہ ازیں شکراً للہ کی تفصیل ذیل کی کتابوں میں بھی موجودہے  :
	صحیح بخاری: ۱۱؍ ۱۹۵حدیث: ۳۱۴۵۔۔ مسنداحمد: ۱۷؍ ۴۰۲حدیث: ۸۳۶۰۔۔ سنن کبریٰ نسائی: ۲؍ ۱۵۷حدیث: ۲۸۳۵۔۔ تہذیب الآثار طبری: ۲؍۹۵حدیث: ۱۰۶۳۔۔ صحیح ابن حبان: ۱۵؍ ۲۴۹حدیث: ۳۶۹۵۔۔ کنزالعمال: ۸؍ ۵۷۶حدیث: ۲۴۲۵۶۔۔ مجمع الزوائد: ۳؍ ۱۸۴۔۔مسندالجامع: ۴۱؍ ۴۰۰حدیث: ۱۳۴۹۵۔۔فتح الباری ابن حجر: ۶؍ ۲۸۴حدیث: ۱۸۶۵۔۔ شرح ابن بطال: ۷؍ ۳۔۔فیض القدیر: ۳؍ ۴۵۔۔شرح معانی الآثار: ۳؍۲۷  باب صوم یوم عاشورا ۔۔تفسیر بغوی:۳؍۲۷۳۔۔تفسیر آلوسی: ۶؍۳۳۱۔۔ تفسیر البحر المحیط:۵؍۴۳۵۔۔نظم الدرر بقاعی: ۳؍ ۲۶۴۔۔ تفسیر نسفی:۱؍۳۸۸۔۔ تفسیر نیساپوری:۱؍۲۱۹۔۔تفسیر کشاف: ۲؍۲۸۱۔۔تفسیر ابو السعود: ۳؍۳۶ ۔۔تفسیردرمنثور:۱۰؍۲۵۲۔۔تفسیرخازن: ۱؍۴۱۔۔ تفسیر اضواء البیان: ۹؍۹۔۔تفسیر مقاتل: ۲؍ ۴۸۳۔۔ تفسیر الاعقم  زیدی:۱؍۲۲۱۔۔تفسیر ہمیان الزاد اباضی: ۱؍۳۰۵۔۔تفسیر معالم التنزیل: ۳؍۱۷۹۔۔ الانصاف فیما قیل فی المولد من الغلوو الاجحاف: ۱؍۵۶۔۔ اقتضاء الصراط المستقیم لمخالفۃ اصحاب الجحیم: ۱؍۳۶۱۔۔ حواشی الشروانی: ۷؍ ۴۲۳۔۔ تحفۃ المحتاج فی شرح المنہاج:۳۱؍۳۷۷۔۔ قصص الانبیائ:۱؍۱۱۳۔۔ سبل الہدیٰ و الرشاد: ۱؍۳۶۶۔۔ زاد المعاد: ۲؍ ۶۳۔۔ ثقات ابن حبان: ۱؍ ۱۴۵۔۔ البدایۃ والنہایۃ: ۱؍۱۳۲۔۔نہایۃ الارب فی فنون الادب: ۱؍۳۷۔
(۲)	صحیح بخاری: ۱۲؍ ۳۳۳حدیث: ۳۶۴۹۔۔ صحیح مسلم: ۵؍ ۴۷۲حدیث: ۱۹۱۰۔۔ سنن ابوداؤد: ۶؍۴۲۸ حدیث: ۲۰۸۸۔۔ سنن کبریٰ نسائی: ۲؍۱۵۶حدیث: ۲۸۳۴۔۔ صحیح ابن خزیمہ: ۷؍ ۳۳۴حدیث: ۳۰۳۱۔
(۳)	شرح معانی الآثار: ۳؍۲۷ باب صوم یوم عاشورا 
یعنی رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرعون پرحضرت موسیٰ کوغلبہ عطاکیے جانے کی خوشی میں بطورشکرالٰہی روزہ رکھا تھا۔
پھر اکیس سطرکے بعد لکھا  :
و قد أخبر ابن عباس في حدیثہ بالعلۃ التي من أجلہا کانت الیہود تصومہ إنہا علی الشکر منہم للہ تعالیٰ في إظہارہ موسیٰ علی فرعون،و أن رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم أیضا صامہ، کذلک، و الصوم للشکر اختیارٌ لا فرض۔ (۱)
یعنی حضرت ابن عباس نے اپنی حدیث میں اس سبب کوبھی بیان فرمایادیا جس کی وجہ سے یہودروزہ رکھا کرتے تھے،کہ وہ دراصل شکرانے کاروزہ تھا جواللہ نے فرعون پر موسیٰ کوغلبہ بخشا تھا۔ اور رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی یوں ہی شکریہ کے طورپرروزہ رکھا۔ اور شکر کا روزہ کوئی فرض نہیں بلکہ اختیاری ہوتا ہے۔
توجس طرح ابن حجر اور سیوطی کے کلام سے سمجھا گیا تھا اسی طرح مذہب حنفی کے امام کبیر سے بھی ثابت ہو گیاکہ یہود اس روزہ کو بطورِ شکریہ رکھتے تھے،پھرحضرت نے بھی شکریہ کے طورپررکھا۔ اور خودمولف براہین نے صفحہ ۱۶۵کی سولہویں سطرپر بیان کیاکہ  :
رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا: ہم موسیٰ کے متبع ہیں۔انتہیٰ۔
یہ بات معلوم ہے کہ موسیٰ  علیہ السلام  نے شکراً روزہ رکھا تھا کہ ان کو نجات ملی تھی۔ براہین کے صفحہ ۱۶۴پرہے  :
فصامہ  موسیٰ شکرا۔
یعنی موسیٰ نے شکریہ کے طورپرروزہ رکھا تھا۔
توعلتِ اتباع اور اس تقریر سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کاروزہ بھی شکراً ہو گیاکیوں کہ تابع ومتبوع کا حکم ایک ہوتا ہے۔
واضح ہوکہ وہ روزہ ہم بھی رکھتے ہیں توہزارہاسال گزرجانے کے باوجود وہ شکریہ اب تک باقی ہے۔پھرنبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم کے وجودباجودکی نعمت کا شکریہ اگرہمیشہ جاری رہے توکیا بڑی بات ہے!، اور اس کاشرع سے کیامنافات(ٹکراؤ)۔ 

(۱)	شرح معانی الآثار: ۳؍۲۹ باب صوم یوم عاشورا 


لمعہ سادسہ 

اعتراض کرتے ہیں کہ قیام بدعت سیئہ اور شرک ہے،چنددلیلوں میں سے ایک یہ ہے کہ محفل میں ہاتھ باندھ کرکھڑے ہوناشرک ہے، اس لیے کہ یہ عبادت ہے اور خاص نماز کی صورت ہے اور غیراللہ کے لیے عبادت، شرک فی العبادۃ ہے۔
دوسری قباحت نجم الدین قنوجی نے یہ لکھا کہ قیام کرنے والے یوں سمجھتے ہیں گویا اسی وقت پیغمبرخدا  صلی اللہ علیہ وسلم  شکم مادر سے باہرتشریف لاتے ہیں اور یہاں حاضرہیں اور یہ کفر وشرک ہے۔
 تیسری قباحت یہ کہ یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  کی روح محفل میں آیا کرتی ہے اور یہاں حاضر ہے اور یہ اعتقاد شرک ہے۔
جواب:  ان امورکاجواب یہ ہے کہ ذکر اللہ اور ذکر رسول اللہ اگرکوئی کرے وہ تین حالتوں سے خالی نہیں یاکھڑا ہو کرکرے یابیٹھ کر یالیٹے ہوئے۔ان تینوں حالتوں کی نسبت ،اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ ارشادہواہے  :
فَاذْکُرُوا اللّٰہَ قِیَاماً وَّ قُعُوداً وَّ عَلٰی جُنُوبِکُمْ۔ (۱)
تو اللہ کی یادکروکھڑے اور بیٹھے اور کروٹوں پرلیٹے۔
لیکن لیٹ کر پڑھنے کے اذکارتووہ ہیں جو خاص سونے کے وقت احادیث میں آئے ہیں، یا کوئی تھکا ہوا سستی چڑھاہوا یا مریض ہو، اس لیے کہ جب آدمی تندرست اور چاق ہوتا ہے تو ذکر اللہ اور ذکر رسول اللہ لیٹ کرکرنا ادب نہیں سمجھتاچنانچہ نماز میں بھی قیام وقعود توتجویزہوا،لیٹنا نہ ہوامگر مریض کے واسطے۔ توعبادت کے لیے ادب کی دوحالت مقرر ہوئیں،قیام اور قعود۔ اب اس کی تین شکلیں ہیں :یاتوپوراذکرقیام کی حالت میں کرے،یاپوراقعود میں، یاکچھ قیام میں اور کچھ قعود میں۔ یہ تینوں شکلیں کلام اللہ کے مضمون میں داخل ہیں۔ان میں کی ایک شکل ،جلسہ میلاد شریف پر بالکل منطبق ہے کیوں کہ اس میں کچھ روایات ومعجزات بیٹھ کر پڑھے جاتے ہیں اور کچھ درود وسلام یامدح کھڑے ہو کر۔مندرجہ آیت کریمہ کے تین مضامین میں سے یہ ایک مضمون ہوا، اور کتاب الٰہی 

(۱)	سورۂ نسائ،۴؍۱۰۳۔
سے ثابت شدہ افرادِ ثلاثہ میں سے ایک فرد ہوا،لہٰذا لفظ بدعت کا اطلاق اس پر صحیح نہیں۔بدعت وہ ہے جس کی کتاب و سنت سے لفظاًواشارۃًکوئی سندنہ ہو۔جیساکہ مولوی اسحق صاحب نے ’’مائۃ مسائل‘‘ میں لکھا ہے۔
ہاں ! ایک وجہِ خاص کے سبب کہ چوں کہ وہ قیام خاص اسی وقت کیاجاتا ہے جب میلاد شریف کا ذکر آتا ہے نہ اس سے پہلے اور نہ اس کے بعد،نیز مداومت کرنے کے باعث کہ دائمی قیام کیاجاتا ہے،تواگراس مناسبت سے لفظ بدعت کا اس پراطلاق کریں تو صحیح ہے۔ لیکن جمہوراسلام کے مفتیٰ بہ اور مذہب صحیح کے مطابق بدعت دو طرح کی ہوتی ہے :سیئہ اور حسنہ۔ بدعت سیئہ وہ ہے جو قرآن،حدیث یا اجماع کے خلاف ہو،لیکن یہ بات تو اس قیام میں نہیں۔ اس لیے کہ اگرکوئی قرآن کی آیت یاکوئی حدیث اس سلسلہ میں آئی ہوتی کہ ایسے موقع میں کھڑے ہو کر مدح وسلام پڑھنامنع ہے یا اس بات پرعلمائے امت کا اجماع ہو گیاہوتاتب تواس کی مخالفت کی وجہ سے قیام کا یہ حکم استحباب ،بدعت سیئہ ہوتالیکن اس خاص موقع کے لیے کوئی نہی ہرگزوارد نہیں۔کیاعجمیوں کے قیام مروجہ کے علاوہ، قیام تعظیمی کے لیے شرع میں نہی وارد نہیں ہوئی؟چنانچہ شاہ ولی اللہ صاحب نے ’’حجۃ اللہ البالغہ‘‘میں لکھا ہے۔ پس جب کہ نہی ثابت نہیں ہوئی تو جمہورحنفیہ وشافعیہ کے علمائے فقہ کے قواعدمقررہ اور اصول مسلمہ کے مطابق کہ’’ اشیامیں اصل اباحت ہے‘‘یہ قیام مباح امرٹھہرا اور بدعت سیئہ نہ ہوا، بلکہ شان نبی  صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم کی نیت شامل ہونے کی وجہ سے مستحب اور مستحسن ہو گیا۔ 
اس کی تفصیل یہ ہے کہ نصوص قرآنی: وَ تُعَزِّرُوْہُ وَ تَوَقِّرُوْہُ اور  مَنْ یُّعَظِّمْ شَعَائِرَاللّٰہِ  ناطق ہیں کہ شرعاً آپ  صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم مطلوب ہے، اسی لیے مجمع البحار کی جلد دوم  تحقق لفظ صدق میں لکھا  :
فتعظیمہ  صلی اللہ علیہ وسلم  أفضل القرب۔
یعنی آپ  صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم افضل عبادات وقربات میں سے ہے۔
شاہ ولی اللہ صاحب’’حجۃ اللہ البالغہ‘‘میں لکھتے ہیں  :
و ذکر النبي  صلی اللہ علیہ وسلم  بالتعظیم و طلب الخیر من اللہ تعالیٰ في حقہ آلۃ صالحۃ للتوجہ إلیہ۔ (۱)

(۱)	حجۃ اللہ البالغہ: ۱۳۹۔
یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کاتعظیم وادب کے ساتھ ذکر اور آپ کے حق میں اللہ تعالیٰ سے طلب خیر کرنا آپ کی توجہ کے لیے عمدہ آلہ ہے۔
قاضی عیاض نے ’’شفا‘‘میں لکھا  :
واجب علی کل مومن عند ذکر النبي  صلی اللہ علیہ وسلم  أن یتوقر و یأخذ في ہیبتہ و إجلالہ۔ (۱)
یعنی ہرمسلمان پرواجب ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذِکر کی توقیر کرے، اور دل میں ان کی ہیبت وبزرگی بٹھائے۔
جب یہ معلوم ہو گیا کہ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم وتوقیرمطلوب ہے تویہ قیام بھی تعظیم شانِ رسول کافائدہ دینے کی وجہ سے مطلوب ہوا۔تواب اگر اس قیام کو اس سبب سے کہ خاص اس موقع میں صدرِ اول سے منقول نہیں ،بدعت کہیں گے،تو تعظیم کے قاعدۂ شرعیہ کے تحت داخل ہونے کی وجہ سے اسے احسن ومستحسن بھی کہیں گے۔بیان بدعت کے سلسلہ میں ’’مجمع البحار‘‘ اور ’’ شرح مسلم نووی‘‘ کی عبارتیں گزرچکیں کہ بدعت حسنہ کی ایجادمیں ثواب ملتا ہے خواہ وہ تعلیم علم کا طریقہ ہو،یاعبادت یا ادب کا، سواء کان ذلک تعلم علم أو عبادۃ أو أدب  تویہ قیام جوایجاد کیا گیا یہ ادب کا طریقہ ہے لہٰذا یہ مستحسن ہوا۔ 
چنانچہ مولد کبیر ابن حجر،سیرت حلبی،تفسیر روح البیان، اور عقد الجوہر وغیرہ میں اس کے استحسان پر تصریح موجودہے، اور اسی پر حرمین شریفین اور جملہ اسلامی ملکوں کاعمل ہے  ان ملکوں کا ذکر اس رسالہ میں ملاعلی قاری وغیرہ کے کلام سے نقل کیا گیا ہے بھلا جو عمل سوادِ اعظم کے اتفاق سے مستحب اور مستحسن ہو اس کو بدعت سیئہ اور بدعت ضلالت کہنا انصاف ودیانت کے کس قدر خلاف ہے۔ اور اس کاشرک وکفرکہنا توفضولِ محض ہے، اس لیے کہ شرح عقائد نسفی میں شرک کے معنی یہ لکھے ہیں  :
کسی کو خدائی میں شریک کرے یعنی جیسے اللہ تعالیٰ واجب الوجود ہے ایساہی کسی دوسرے کو بھی مستقل بالذات واجب الوجود سمجھے،یاجس طرح خداکو مستحق عبادت جانتے ہیں یوں ہی کسی دوسرے کو بھی مستحق عبادت جانے  انتہیٰ 

(۱)	شفاقاضی عیاض: ۲؍ ۴۰۔
 اور ذکرولادت شریف کے وقت کھڑے ہو کر مدح وسلام پڑھنے میں یہ دونوں باتیں نہیں پھرشرک کیسا!۔ اور اگرمتقدمین یعنی عقائد حنفی کا کلام نہیں سنتے تواپنے متاخرین ہی کا کلام سنو۔
مولوی اسماعیل صاحب ’’تقویۃ الایمان‘‘کی  فصل شرک فی العبادۃ میں کہتے ہیں  :
اللہ کی سی تعظیم کسی اور کی نہ چاہیے اور جو کام اس کی تعظیم کے ہیں وہ اور وں کے واسطے نہ کیجیے انتہیٰ 
قیام کی ایک اچھوتی تحقیق
اب قیام کودیکھناچاہیے کہ خاص اللہ تعالیٰ ہی کے واسطے ہے یاکسی اور کے لیے بھی۔ اور دست بستہ قیام عبادت بھی ہے یا نہیں۔مولوی اسماعیل صاحب کے داداپیر شاہ عبد العزیز ’’تفسیر عزیزی‘‘کے پارۂ الم میں لکھتے ہیں  :
در حقیقت چیزے کہ نماز ازغیر نماز تمیز پیداکند ہمیں دو فعل اندرکوع وسجودوقیام اختصاص بہ نماز بلکہ بعبادت ہم ندارد انتہیٰ 
علامہ حلبی نے ’’شرح کبیر منیہ‘‘میں لکھا ہے  :
و القیام لم یشرع عبادۃ وحدہ و ذلک لأن السجود غایۃ الخضوع حتی لو سجد لغیر اللہ یکفر بخلاف القیام۔
شاہ صاحب اور علامہ حلبی کی عبارتوں سے ظاہرہو گیا کہ قیام فی نفسہٖ عبادت نہیں اور نہ نماز اور عبادت کے ساتھ اس کو کچھ خصوصیت ہے۔توقیام کواللہ کی خاص تعظیموں میں شمارکرناخود اپنے بزرگوں کے کلام کو رد کرناہے۔
خلاصہ یہ کہ نما زمیں قیام جوعبادت گناجاتا ہے تووہ چندقیودپرمشتمل ہونے کی وجہ سے عبادت گنا گیا ہے۔طہارت کاملہ اور استقبال قبلہ کاشرط ہونا، قراء ت کاواقع ہونا اور ،رکوع وسجود کی تکرارکے لیے وسیلہ ہونا۔اگرنماز میں ان باتوں کاخیال نہ ہوتاتونماز میں قیام مشروع نہ ہوتا بخلاف سجدہ ورکوع کے کہ یہ خوداصل عبادت مقصودہ ہیں جوخاص اللہ تعالیٰ کا حق ہے ،اس لیے قرآن وحدیث اس پرناطق ہیں کہ غیر اللہ کو سجدہ جائز نہیں۔اب سجدہ کا حال کتب معتبرہ سے سنیے۔
مولوی اسحق صاحب’’مائۃ مسائل‘‘ کے تینتیسویں (۳۳)مسئلہ میں لکھتے ہیں  :
سجدہ کردن غیر خداراقبرباشد یاغیرقبرحرام وکبیرہ است واگر بہ جہت عبادت غیر خدا را سجدہ کند موجب کفروشرک است  انتہیٰ 
یعنی غیر خداکو سجدہ کرناحرام اور گناہِ کبیرہ ہے خواہ وہ قبرہویاقبر کے علاوہ کچھ اور ۔ اور عبادت کی نیت سے غیرخداکاسجدہ کفروشرک کاباعث ہے۔
یہی مضمون تفسیرعزیزی پارۂ الم میں بھی ہے۔
اب دیکھیے کہ ان کے بزرگوار تو عین سجدہ میں بھی تفریق کرتے ہیں کہ عبادت کے لیے دوسرے کو سجدہ کرنا شرک ہے اور عبادت کی نیت نہ ہو توحرام ہے مگر شرک نہیں۔
حضرت مجدد الف ثانی مکتوبات کی جلد ثانی کے مکتوب نودودوم(۹۲) میں لکھتے ہیں  :
بعضے از فقہا ہر چند سجدہ تحیت بہ سلاطین تجویز نمودہ اند اما لایق حال سلاطین عظام آن است کہ دریں امر بحضرت حق سبحانہ و تعالیٰ تواضع نمایند  انتہیٰ  (۱)
یعنی ہرچندکہ بعض فقہانے سلاطین کے لیے سجدۂ تعظیمی کوجائزکررکھا ہے لیکن سلاطین عظام کے یہ شایان شان نہیں کہ وہ لوگوں سے کراتے پھریں کیوں کہ سجدہ توصرف حق سبحانہ وتعالیٰ ہی کے لیے ہوناچاہیے۔
اس عبارت سے معلوم ہواکہ بعض فقہانے بادشاہوں کوسجدہ کرنا بھی جائزلکھا ہے لیکن حضرت مجدد فرماتے ہیں کہ بادشاہوں کو تواضع اور عاجزی چاہیے کہ لوگوں سے سجدے نہ کروائیں۔ جب عبادت مخصوصہ یعنی سجدہ جو خاص اللہ کا حق تھا بغیرنیت عبادت کے شرک نہ ہوا بلکہ بقول حضرت مجددبعض فقہا نے جائز بھی لکھا ،تو صرف قیام  جواصل عبادت بھی نہیں  بھلاشرک اور کفر کس طرح ہوسکتا ہے!۔افسوس ان زبان درازوں کی تعدی اور عدم مبالات پر۔
سجدہ پہلے حرام نہ تھا اب حرام ہے
واضح ہو کہ پہلی امتوں میں دوسروں کے واسطے سجدۂ تعظیمی بھی جائز تھا۔مصرمیں یوسف  علیہ السلام  کے پاس ان کے باپ یعقوب  علیہ السلام ،ان کے خالہ اور سب بھائی آئے، جب یوسف  علیہ السلام سے ملاقات ہوئی تواس وقت کا حال قرآن میں یوں ہے  : 
وَ خَرُّوْا لَہُ سُجَّداً۔ (۲)

(۱)	مکتوبات امام ربانی،دفتر دوم: ۲۳۵۔ترکی۔
(۲)	سورۂ یوسف،۱۲؍۱۰۰۔
یعنی حضرت یوسف کے والد،خالہ اور بھائی سب کے سب آپ کے آگے تعظیماً سجدے میں گر پڑے۔
اسی طرح جب حضرت آدم علیہ السلام کے لیے فرشتوں کو سجدہ کاحکم ہوا  :
وَ إذْ قُلْنَا لِلْمَلٰئِکَۃِ اسْجُدُوْا لآِدَمَ۔ (۱)
 اور (یادکرو)جب ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کو سجدہ کرو۔ 
تو اس وقت شیطان ملعون کے سواتمام فرشتوں نے آدم کاسجدہ کیا۔چنانچہ قرآن شریف میں ہے  :
فَسَجَدُوْا إلاَّ إبْلِیْسَ۔ (۲)
توسب نے سجدہ کیا سواے ابلیس کے۔
یہ ذات شریف اس وقت غرورمیں رہی،سجدہ نہ کیا،لعنت کاطوق گلے میں پڑا اور جہنمی بن گئے۔امام فخر الدین رازی نے پارۂ تلک الرسل میں لکھا ہے  :
إن الملائکۃ أمروا بالسجود لآدم لأجل أن نور محمد   علیہ السلام  فی جبہۃ آدم۔ (۳)
یعنی فرشتوں کو آدم کے سجدے کاحکم اس لیے ہوا تھا کہ پیشانی آدم میں نورمحمدی جلوہ گرتھا۔
شاہ عبد العزیزصاحب نے لکھا ہے کہ  :
فرشتوں نے جو آدم  علیہ السلام کو، اور برادرانِ یوسف نے جویوسف  علیہ السلام کوسجدہ کیاوہ عبادت کے لیے نہ تھا،ایسا سجدہ کبھی جائزنہیں ہوا کیوں کہ یہ محرمات عقلیہ سے ہے اور محرمات عقلیہ کبھی نہیں بدلتی،بلکہ وہ سجدۂ تعظیمی تھا اور اس امت میں اب وہ بھی حرام ہے انتہیٰ 
اس تحقیق سے معلوم ہوا کہ سجدۂ تعظیمی اس امت میں حرام تو ہے لیکن شرک اور کفر نہیں۔ جب باری تعالیٰ کے ساتھ مخصوص اس عبادتِ خاص کایہ حال ہو پھر قیام کس طرح شرک ہوسکتا ہے۔ اگرہاتھ باندھ کر کھڑا ہونا شرک ہوتا توعلمائے دین اس کوکبھی بھی قبررسول اللہ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کی زیارت کے لیے جائز نہ رکھتے۔صاحب جذب القلوب لکھتے ہیں  :

(۱)	سورہ بقرہ،۲؍۳۴۔
(۲)	سورہ بقرہ،۲؍۳۴۔
(۳)	تفسیر رازی: ۳؍۴۳۲۔
 ودر وقت سلام آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وقوف دراں جناب باعظمت دست راست را بردست چپ بنہدچنانچہ درحالت نماز، کرمانی کہ ازعلمائے حنفیہ است تصریح بایں معنی کردہ انتہیٰ 
یعنی رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کوسلام پیش کرتے وقت بارگاہِ رسالت کی عظمت مدنظررکھتے ہوئے دایاں ہاتھ بائیں پررکھ کریوں کھڑاہو جیسے نمازکی حالت میں کھڑا ہوتا ہے۔یہ علمائے حنفیہ سے ایک عالم ،امام کرمانی کی تصریح ہے۔
ملا علی قاری نے بھی ’’در المضیئہ‘‘میں ،مثل نمازہاتھ باندھنے کی یہ بات کرمانی کے حوالے سے نقل کی ہے۔ اور مدینہ جانے والے خوب جانتے ہیں کہ وہاں اسی پرعمل ہے اور اس کے خلاف یہ کہ ہاتھ باندھ کر کھڑے ہونے کو منع کریں ،ایساہرگزعمل نہیں۔
علامہ محمد بن سلیمان مکی شافعی نے ’’حاشیہ مناسک خطیب شربینی‘‘میں لکھا ہے  :
فالأولیٰ لہ وضع یمینہ علی یسارہ کالصلوٰۃ کما اقتصر علیہ في الحاشیۃ و أقرہ ابن علان  و آخر کلامہ فی الجوہر یشیر إلی المیل إلیہ  انتہیٰ 
یعنی زیارت کرنے والے کے لیے بہترتویہی ہے کہ نماز کی طرح اپناداہناہاتھ بائیں ہاتھ پررکھے۔حاشیہ میں یہی ایک بات لکھی ہے جس کو ابن علان نے مان لیا ہے۔ اور جوہر میں اس کا آخری کلام اس کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ میلان اس کا اسی بات پرہے یعنی ہاتھ باندھ کر کھڑے ہوناچاہیے۔
فتاویٰ عالم گیری میں قبرشریف کی زیارت کے سلسلے میں لکھا ہے  :
و یقف کما یقف في الصلوٰۃ۔ (۱)
یعنی ایک زائرجناب رسالت میں یوں ہی کھڑاہو جیسے نماز کی حالت میں کھڑاہوتا ہے۔
اب دیکھیے کہ شافعی وحنفی تمام علما نمازکے ساتھ تشبیہ دے کر کہتے ہیں کہ جس طرح نماز میں ہاتھ باندھ کرکھڑے ہوتے ہیں اسی طرح حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے روضہ مبارک کے سامنے بھی با ادب کھڑاہو۔
اب اس میں دواحتمال ہے یاتو یہ علماسمجھتے ہیں کہ ہاتھ باندھ کربا ادب کھڑاہونانہ تو عبادت ہے اور نہ کچھ خدا کے ساتھ مخصوص  جیساکہ شاہ عبد العزیزوغیرہ کا کلام ہم نقل کرچکے لہٰذا جب 

(۱)	فتاویٰ عالم گیری:۶؍۴۰۹ خاتمۃ فی زیارۃ قبر النبی صلی اللہ علیہ وسلم 
خداکے ساتھ مخصوص نہیں تو رسول خداکے واسطے اس طرح کھڑے ہونے میں کیامضائقہ ہے۔ دوسرا احتمال یہ ہے کہ اگرہاتھ باندھ کر کھڑاہونا اللہ تعالیٰ کے ساتھ خاص ہے تو شاید یہ سمجھا ہو کہ رسول اللہ کی تعظیم میں کھڑے ہونا غیر اللہ کی تعظیم نہیں بلکہ یہ گویا خود اللہ کی تعظیم ہے۔چنانچہ بعض آیات سے یہ مضمون سمجھ میں آتا ہے۔قرآن شریف میں ہے  :
مَنْ یُّطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أطَاعَ اللّٰہَ۔ (۱)
جس نے رسول کاحکم مانابے شک اس نے اللہ کا حکم مانا۔
دوسری جگہ فرمایا  :
إنَّ الَّذِیْنَ یُبَایِعُونَکَ إنَّمَا یُبَایِعُونَ اللّٰہَ۔ (۲)
وہ جوتمہاری بیعت کرتے ہیں وہ تو اللہ ہی سے بیعت کرتے ہیں۔
شاہ عبد القادرصاحب نے اس آیت کا ترجمہ یوں کیا ہے  :
جولوگ ہاتھ ملاتے ہیں تجھ سے وہ ہاتھ ملاتے ہیں اللہ سے انتہیٰ 
تفسیر روح البیان میں ہے  :
کان المقصود بالمبایعۃ منہ  علیہ السلام  المبایعۃ مع اللہ و إنہ  علیہ السلام  انما ہو سفیر و معبر عنہ تعالیٰ و بہذا الاعتبار صاروا کأنہم یبایعون اللہ و بالفارسیۃ آنانکہ بیعت می کنند باتو جزیں نیست کی بیعت می کنند باخداے چہ مقصود بیعت اوست و برائے طلب رضاے اوست  انتہیٰ (۳)
 اور وقت بیعت جورسول اللہ کا ہاتھ لوگوں کے ہاتھ پرتھا،اس کو قرآن شریف میں فرمایا  :
یَدُ اللّٰہِ فَوْقَ أیْدِیْہِمْ۔ (۴)
ان کے ہاتھوں پر اللہ کا ہاتھ ہے۔
شاہ عبدالقادرنے اس کے معنی یہ لکھے ہیں  :
اللہ تعالیٰ کا ہاتھ ہے اوپران کے ہاتھ کے۔

(۱)	سورۂ نسائ،۴؍۸۰۔
(۲)	سورۂ فتح،۴۸؍۱۰۔
(۳)	تفسیر روح البیان: ۱۳؍۴۸۷۔
(۴)	سورۂ فتح،۴۸؍۱۰۔
تفسیر مدارک میں ہے  :
یرید أن ید رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  التي تعلو أیدي المبایعین ہي ید اللہ و اللہ منزہ عن الجوارح و عن صفات الأجسام، و إنما المعنی تقریر أن عقد المیثاق مع الرسول کعقدہ مع اللہ من غیر تفاوت بینہما۔ (۱)
یعنی مرادیہ ہے کہ بیعت کرنے والوں کے اوپرجورسول اللہ کاہاتھ ہے وہ درحقیقت دست قدرت ہے،حالاں کہ اللہ اعضا اور جسمانی صفات سے پاک ہے تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کے ساتھ میثاق باندھنابالکل ایسے ہی ہے جیسے اللہ کے ساتھ میثاق، اور ان دونوں میں کوئی فرق وتفاوت نہیں۔
یعنی رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت گویا اللہ کی بیعت ہے دونوں میں کچھ فرق نہیں۔  خلاصہ کلام یہ کہ اگر یہ دست بستہ قیام عبادت نہیں   چنانچہ مذہب علما اور قولِ فقہایہی ہے  تومحفل میلاد شریف میں کھڑاہوناکفروشرک ہرگزنہ ہوا۔ اور اگرزبان زوری سے خواہ مخواہ علمائے دین کے خلاف کرکے اس کو عبادت قرار دیتے ہیں توہم یہی جواب دیں گے کہ اگر یہ عبادت ہے تو بھی اللہ ہی کے واسطے ہے یعنی رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت ہمارے لیے بڑی نعمت اور اللہ کی رحمت ہے توجس وقت اس ظہورِنعمت کا بیان ہوتا ہے ہم تعظیماً کھڑے ہو جاتے ہیں بایں معنی کہ اے اللہ تعالیٰ! ہم نے تیری اس بھیجی ہوئی نعمت کو عظیم جانا۔
 اس سے دوباتیں حاصل ہوئیں :ایک تویہ کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم نکلی کیوں کہ آپ کی دنیامیں تشریف آوری کاذکر سن کر بہ ہیئت تعظیم کھڑے ہو گئے۔دوسرے یہ کہ یہی تعظیم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بعینہٖ اللہ تعالیٰ کی تعظیم ہو گئی کیوں کہ نعمت کی تعریف خود منعم کی تعریف ہے اور نعمت کی تعظیم سراسرمنعم کی تعظیم ہے،لہٰذاعطاے نعمت کے شکریہ میں یہ دست بستہ کھڑا ہونا درحقیقت منعم حقیقی کے سامنے ہے۔ اب خیال فرمائیں کہ اس معنی کوشرک اور کفر سے کیاعلاقہ۔ فماذا بعد الحق إلا الضلال۔

(۱)	مدارک التنزیل نسفی: ۳؍۳۳۲۔
اب(۱) دوسری قباحت کا جواب سنیے کہ تمام میلاد پڑھنے والے اپنی زبان سے خوب تصریح وتوضیح سے تعین یوم ولادت کی شرح کرتے ہیں۔شاہ سلامت اللہ صاحب کے میلاد شریف میں ہے  :
بارہویں تاریخ،ربیع الاول کی صبح صادق کے وقت،پیرکے دن، حضور صلی اللہ علیہ وسلم  پیدا ہوئے۔
غلام امام شہید کے مولد شریف میں ہے  :
بارہویں تاریخ، ربیع الاول، دو شنبہ کے دن، وقت صبح صادق،زمانہ آدم کے چھ ہزار سات سو پچاس برس کے بعد (آپ پیداہوئے)
اسی قسم کی عبارتیں ’’راحۃ القلوب‘‘وغیرہ اردوزبان کے رسائل میلادیہ میں ہیں۔ اور عربی زبان کے ’’مولدبرزنجی ‘‘میں ہے  :
و لما تم من حملہ تسعۃ أشہر قمریۃ ولدتہ  صلی اللّٰہ علیہ و سلم  یتلألأ سناہ۔
یعنی قمری سال کے اعتبارسے جب حمل مکمل نومہینے کاہو گیاتب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  کی ولادت باسعاد ت ہوئی، اور آپ کے وجودباجودسے  درخشانی ہویداتھی۔ 
علامہ غرب مدنی کے مولدمیں ہے    ؎
بثان عشر من  ربیع الأول   ٭    في یوم الأثنین المفخم ذی المجدا
یعنی بارہ ربیع الاول بروزپیر وہ مجد وبزرگی والے حضور اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم  جلوہ افروز ہوئے۔
توان رسائل میں ولادت ووصال کے دن اور مہینے کا لکھاہونا صاف اقرار ہے کہ آپ اس زمانے میں پیداہوئے،نہ یہ کہ اب محفل میں پیدا ہوئے نعوذ باللہ منہا 
اب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی روح پرفتوح تشریف لانے کی نسبت ،تیسری قباحت کا جواب سنناچاہیے۔یہ کہتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت یہ اعتقاد رکھناکہ جہاں مولود پڑھاجاتا ہے وہاں تشریف لاتے ہیں ،شرک ہے۔ہرجگہ موجودصرف خداے تعالیٰ ہے۔اللہ تعالیٰ 

(۱)	حاشیہ یعنی مانعین کاجو یہ اعتراض تھا کہ دست بستہ کھڑاہونا شرک ہے۔اس کاجواب تو ہوچکا اب دوسری قباحت کا جواب شروع ہوتا ہے۔یعنی یہ افتراکہ بانیانِ محفل یوں جانتے ہیں گویا اب آپ اس محفل میں پیداہوئے ہیں  نعوذ باللہ منہا الف الف مرۃ۔
نے اپنی صفت دوسرے کو عنایت نہیں فرمائی۔
جواب :  اللہ تعالیٰ کے حاضر ہونے کی حقیقت یہ ہے کہ تم ذراعرش عظیم کی عظمت و وسعت اور کرسی کی فراخی خیال کرو کہ ان کے آگے سات آسمانوں کی کیا حقیقت ہے!۔پھر کرۂ ناری،ہوائی اور مائی کو خیال کروکہ آسمان کے آگے ان کی کیا وسعت ہے!۔پھر ان کے کرات کے آگے زمین کو دیکھو کہ اس کی وسعت کو کرات سے کیا نسبت ہے!۔پھرزمین کے چوتھائی حصہ کو دیکھو جو پانی سے باہر نکلا ہواہے،پھر اس باہر نکلے ہوئے میں کس قدرجنگل،پہاڑ اور نیستان ہیں، اور وہ آدمیوں سے کس قدرآباد ہیں، اور اس میں کتنے کفارہیں اور کتنے مسلمان!۔ اور پھر مسلمانوں میں مولد شریف کرنے والے کتنے ہیں اور نہ کرنے والے کتنے !۔تو ان سب مراتب میں فکرو خیال کرنے سے ایک مردِ منصف کوفرق معلوم ہو جائے گاکہ اللہ تعالیٰ کا حاضر ہونا تو اس درجہ میں ہے کہ عرش، کرسی، آسمان، لوح وقلم، ساتوں زمین، تمام پہاڑوسمندر اور ویرانہ وآبادی وغیرہ ہرمکان، ہرزمان اور ہر آن کی نسبت وہ حاضر اعتقاد کیا گیا ہے، اور رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کو جس نے یہ اعتقاد کیا کہ وہ مواقع مولود خوانی میں تشریف لے آتے ہیں تو ان تمام زمانوں اور مقامات مذکورہ کی بہ نسبت یہ زمانہ اور وہ مواقع کس حصہ میں داخل ہیں ؟ کہ بس ان مواقع میں تشریف لانے سے اللہ تعالیٰ کے ساتھ برابری لازم آ گئی، اور شرک ہو گیا! نعوذ باللہ منہ 
اہل سنت وجماعت کا عقیدہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی صفت جس طرح اس کے ساتھ خاص ہے بالکل اسی طرح، اور اسی حقیقت کے ساتھ دوسرے میں نہیں ہوسکتی۔ اور خصوصیت کے یہ معنی ہیں  :
یوجد فیہ و لا یوجد في غیرہ۔
یعنی جو اس کے اندرتو پائی جائے مگراس کے علاوہ کسی اور میں نہ پائی جائے۔
 اور روئے زمین پرہرجگہ موجود ہو جانا کچھ اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہی خاص نہیں۔تفسیرمعالم التنزیل،جلال الدین سیوطی کے رسالہ برزخ اور علامہ زرقانی کی شرح مواہب میں ہے کہ ملک الموت ،جنات وانسان اور جملہ مخلوقات کی روحوں پرقابض ہیں اور اللہ تعالیٰ نے دنیا کو ان کے آگے ایک چھوٹے خوان  اور ایک روایت کے مطابق طشت کی مانندکر دیا ہے (۱)  :
فیقبض من ہنا و ہنا۔
یعنی کبھی ادھر سے لے لیتے ہیں اور کبھی اُدھر سے۔ 

(۱)	جعلت لہ الأرض مثل طست یتناول منہا حیث یشاء۔ 
	(تفسیر بغوی: ۶؍۳۰۲۔۔تفسیر طبری: ۱۱؍۴۱۲)
اب خیال کروکہ ایک ایک آن میں مشرق سے مغرب تک کس قدرچیونٹی،مچھر،کیڑے مکوڑے،چرندپرنددرند اور آدمی مرتے ہیں اور ملک الموت ہر جگہ موجودہوتے ہیں۔
مشکوٰۃ میں ہے کہ ملک الموت ،مومن اور کافردونوں کی موت کے وقت سرہانے ہوتے ہیں، یہ ایک طویل حدیث ہے جسے قاضی ثناء اللہ نے ’’تذکرۃ الموتیٰ‘‘میں نقل کیا ہے۔(۱)
اس سلسلہ میں طبرانی اور ابن مندہ سے ایک حدیث یہ بھی ہے کہ ملک الموت نے رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  سے بیان کیا کہ نیک یابدآدمیوں کا ایساکوئی گھر نہیں جس کی طرف مجھ کو توجہ نہ ہو، رات دن دیکھتا رہتاہوں اور ہر چھوٹے بڑے کو ایسا پہچانتاہوں کہ وہ خودبھی اپنے کو اتنانہیں پہچانتے۔(۲)
امام جعفرصادق رضی اللہ عنہ  نے یہ بھی روایت کی ہے کہ ملک الموت نمازوں کے وقت آدمیوں کودیکھتے ہیں کہ وہ ہمیشہ نماز پڑھتا رہاتواس سے شیاطین کو دفع کرتے ہیں اور کلمہ طیبہ تلقین کرتے ہیں۔(۳)
ان احادیث سے معلوم ہواکہ ملک الموت علیہ السلام (ہرجگہ موجودہوتے ہیں ) اور ملک الموت تو ایک مقر ب فرشتہ ہیں،یہ دیکھو شیطان ہر جگہ موجود ہے۔

(۱)	إن لملک الموت حربۃ تبلغ ما بین المشرق و المغرب، و ہو یتصفح وجوہ الناس، فما من أہل بیت إلا وملک الموت یتصفحہم في کل یوم مرتین، فإذا رأی إنسانا قد انقضی أجلہ ضرب رأسہ بتلک الحربۃ۔
	تفسیر بغوی: ۶؍۳۰۲۔
(۲)	متن حدیث:  و ما من أہل بیت   یامحمد   شعر و لا مدر بر و لا بحر سہل و لا جبل إلا أنا أتصفحہم في کل یوم و لیلۃ حتی لأنا أعرف بصغیرہم و کبیرہم منہم بأنفسہم۔  
	کنزالعمال: ۱۵؍۷۰۵حدیث: ۴۲۸۱۰۔۔معجم کبیر طبرانی: ۴؍ ۲۹۵ حدیث: ۴۰۷۵۔۔ معرفۃ الصحابۃ اصبہانی: ۷؍ ۲۶۲ حدیث: ۲۲۸۶۔۔ وصایا العلماء عند حضور الموت ربعی: ۱؍ ۱۶۷حدیث: ۱۰۰۔۔ مجمع الزوائد و منبع الفوائد: ۱؍ ۴۳۰۔
(۳)	قال جعفر : بلغني أنہ إنما یتصفحہم عند مواقیت الصلوٰۃ فإذا نظر عند الموت ممن کان یحافظ علی الصلوات دنا منہ ملک الموت و دفع عنہ الشیطان و تلقنہ الملائکۃ لا إلہ إلا اللہ محمد  رسول اللہ في ذلک الحال العظیم۔ 
	کنزالعمال: ۱۵؍۷۰۵حدیث: ۴۲۸۱۰۔۔معجم کبیر طبرانی: ۴؍ ۲۹۵ حدیث: ۴۰۷۵۔۔ معرفۃ الصحابۃ اصبہانی: ۷؍ ۲۶۲ حدیث: ۲۲۸۶۔۔وصایا العلماء عند حضور الموت ربعی: ۱؍ ۱۶۷حدیث: ۱۰۰۔۔ مجمع الزوائد و منبع الفوائد: ۱؍ ۴۳۰۔ 
درمختارکے مسائل نمازمیں لکھا ہے کہ شیطان،اولادِ آدم کے ساتھ دن کورہتا ہے اور اس کا بیٹاآدمیوں کے ساتھ رات کو رہتا ہے۔علامہ شامی نے اس کی شرح میں لکھا ہے کہ شیطان تمام بنی آدم کے ساتھ رہتا ہے مگریہ کہ جن کو اللہ نے بچالیا۔پھر اس کے بعد لکھا  :
و أقدَرہ علی ذلک کما أقدر ملکَ الموت علی نظیر ذلک ۔ (۱)
یعنی اللہ تعالیٰ نے شیطان کو بھی اس بات کی قدرت دے دی ہے جس طرح اس نے ملک الموت کوہرجگہ موجودہونے پرقادر کر دیا ہے۔ 
اب محسوس عالم اجسام میں اس کی مثال سمجھئے کہ اگرکوئی آدمی دنیا کی مشرق سے مغرب تک کی آبادی کی سیرکرے،تووہ جہاں جائے گا چاند اور سورج کوموجودپائے گا،پھر اگر وہ کہے کہ ایک ہی چاند وسورج ہر جگہ موجودہیں توتمہارے قاعدے سے چاہیے کہ وہ کافرہو جائے کیوں کہ اس نے چاند کو ہر جگہ موجودکہاحالاں کہ تحقیق یہ ہے کہ نہ وہ مشرک ہے اور نہ کافر،خاصامسلمان ہے۔تواسی طرح سمجھوکہ جب سورج ہرجگہ یعنی ہفت اقلیم میں موجودہو کہ وہ چوتھے آسمان پرہے، اور روحِ نبی  صلی اللہ علیہ وسلم جو ساتویں آسمان پر علیین میں موجودہے اگر وہاں سے آپ کی نظرمبارک تمام روئے زمین کی چند جگہوں اور مقاموں پرپڑجائے اور فیضانِ احمدی کے انوار کی کرنیں پوری مجلس کوسورج کی شعاع کی طرح ہرطرف سے گھیرلیں تو کیا بعید ومحال ہے۔
علامہ زرقانی نے ابوالطیب کا شعرشرح مواہب لدنیہ کی  فصل زیارت قبرشریف میں نقل کیا ہے  :
کالشمس في وسط السماء و نورہا
ز
یہدي إلی عینک نورا ثاقبا
یغشي البلاد مشارقا و مغاربا
ز
کالبدر من حیث التفت رأیتہ
یعنی جس طرح سورج ،آسمان کے بیچ میں ہے مگر اس کی روشنی مشرق سے لے کرمغرب تک پھیلی ہوئی ہے۔ اور جس طرح چاندکہ توجہاں سے اسے دیکھے وہیں سے وہ تیری آنکھوں میں نور بخشے گا۔
فرق یہ ہے کہ سورج اور چاند کو دیکھنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے آنکھ کھول رکھی ہے،جس کے ذریعہ سے ایک بیناآدمی دیکھ کریہ کہ دیتا ہے کہ چاند ہر جگہ موجودہے،لیکن ایک اندھامادرزاد تویہی کہے گا کہ چاندکہیں نہیں،بس اسی طرح روحِ نبوی کا دیکھنا بھی اللہ تعالیٰ کی عنایت پر موقوف ہے،اگر

(۱)	رد محتار: ۴؍ ۱۴۲ فروع قرأ بالفارسیۃ او التوراۃ 
وہ باطنی آنکھ کھول دے اور پردے اٹھادے توانسان ہرجگہ جلوۂ احمدی دیکھ سکتا ہے۔ علامہ زرقانی شرح مواہب جلدثالث میں ’’ تذکرۂ قرطبی ‘‘سے نقل کرتے ہیں  :
إن موت الأنبیاء إنما ہو راجع إلی أن غیبوا عنا بحیث لا ندرکہم و إن کانوا موجودین أحیاء و لا یراہم أحد من نوعنا إلا من خصہ اللہ تعالیٰ بکرامۃ من أولیائہ۔
یعنی موتِ انبیاکی حقیقت بس اتنی ہے کہ وہ ہم سے چھپادیے گئے کہ ہم کو نظر نہیں آتے اگرچہ وہ زندہ موجودہیں مگرہم میں سے کوئی آنکھ انھیں دیکھ نہیں سکتی،ہاں یہ کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل وکرم سے کسی ولی کودکھلادے۔
امام شعرانی نے’’میزان الشریعہ‘‘میں لکھا ہے  :
قد بلغنا عن أبي الحسن الشاذلي و تلمیذہ أبي العباس المرسي وغیرہما إنہم کانوا یقولون لو احتجبت رؤیۃ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  طرفۃ عین ما اعددنا أنفسنا من جملۃ المسلمین۔
یعنی ابوالحسن شاذلی اور ان کے تلمیذ رشید ابوالعباس مرسی وغیرہ کے متعلق ہمیں پتاچلاہے کہ وہ کہا کرتے تھے : اگر رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کادیدار ایک لمحہ کے لیے بھی ہم سے اوجھل کر دیا جائے توہم اپنے تئیں خود کومسلمان نہ سمجھیں۔
دیکھیے ابوالحسن شاذلی وغیرہ اولیاے کرام فرماتے ہیں کہ اگرپلک جھپکنے کے برابربھی رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے چھپ جائیں تو ہم اپنے تئیں مسلمان نہ جانیں۔
ہم نے جو انبیا علیہم السلام کی روحوں کاساتویں آسمان پرعلیین میں ہونابیان کیا تو یہ تفسیرعزیزی کے  بیان علیین  میں دیکھو۔لیکن علیین میں ہونے کے باوجود آپ کی روح کو قبر شریف سے بھی گہراربط ہے۔آپ ہرزائرکو جانتے ہیں کہ کون زیارت کوآیا۔ اور سب کے سلام کا جواب دیتے ہیں۔قبر میں جسم مبارک زندہ ہے۔ 
إن نبینا بالرفیق الأعلی و بدنہ في قبرہ یرد السلام علی من یسلم علیہ۔ 
یعنی بلاشبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو رفیق اعلیٰ کے ساتھ ہیں لیکن آپ کا بدن مبارک قبراقدس میں موجودہے، اور آپ ہرسلام کرنے والے کے سلام کاجواب بھی دیتے ہیں۔
اب ذراغورفرمائیں کہ جب چاند سورج ہر جگہ موجود، شیطان ،زمین پرہر جگہ موجودہے، اور ملک الموت ہرجگہ موجودہیں تویہ خاص اللہ کی صفت کہاں ہوئی کہ جس میں رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کوشریک کرنے سے مشرک اور کافرہو جائیں ! معاذ اللہ  
تماشایہ ہے کہ اہل محفل میلاد تورسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کے زمین کی تمام پاک و ناپاک جگہ اور مجالس مذہبی وغیر مذہبی میں حاضرہونے کا دعویٰ نہیں کرتے،جب کہ ملک الموت اور ابلیس کا اس سے بھی زیادہ تر، پاک وناپاک اور کفروغیرکفرکے مقامات میں حاضر ہونا پایاجاتا ہے۔
سیرارواح کی تحقیق
اب سیرارواح کی تحقیق لکھی جاتی ہے۔واضح ہوکہ ارواحِ انبیاکاچلنا پھرنافقہ وحدیث سے ثابت ہے۔معراج کی حدیثوں میں ہے،آپ ارشادفرماتے ہیں :میں نے اپنے تئیں انبیاکی جماعت دیکھاکہ یہ موسیٰ  علیہ السلام کھڑے نمازپڑھ رہے ہیں،یہ عیسیٰ علیہ السلام پڑھ رہے ہیں اور یہ ابراہیم علیہ السلام پڑھ رہے ہیں  :
فَحَانَتِ الصَّلوٰۃُ فَأمَمْتُہُمْ۔ (۱)
یعنی اتنے میں نمازکاوقت آ گیاتومیں نے ان کی امامت کی۔
اس کو مسلم نے روایت کیا ہے اور قرطبی نے ابن عباس سے یہ روایت کی ہے کہ بیت المقدس میں اللہ تعالیٰ نے آدم سے لے کرتمام انبیاکوجمع کر دیا اور سات جماعتیں حضور کے پیچھے تھیں۔
فتاویٰ سراجیہ کے  باب مسائل متفرقہ میں ہے  :
إمامۃ النبي  علیہ السلام  لیلۃ المعراج لأرواح الأنبیاء  علیہم السلام  کانت في النافلۃ۔
یعنی معراج کی شب نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم نے نفلی نمازمیں ارواح انبیاکی امامت فرمائی۔ 

(۱)	صحیح مسلم:۱؍ ۴۰۳حدیث: ۲۵۱۔۔مشکوٰۃ المصابیح: ۳؍۲۷۶حدیث: ۵۸۶۶۔۔دلائل النبوۃ بیہقی:۲؍۲۴۳ حدیث: ۶۵۱۔۔ مشکل الآثارطحاوی:۱۱؍۱۷۰حدیث: ۴۳۷۸۔۔م اور د فی حیاۃ الانبیاء بعد وفاتہم:۱؍۲۔۔ الایمان ابن مندہ:۲؍۳۴۹حدیث: ۷۵۳۔۔ التوحید ابن مندہ:۱؍۳۳حدیث:۲۳۔۔ جزء ابن عرفہ: ۱؍۷۰حدیث: ۶۹۔۔ حیاۃ الانبیاء فی قبورہم بیہقی: ۱؍۱۰حدیث: ۹۔۔ کنزالعمال: ۱۱؍۳۹۶حدیث: ۳۱۸۴۹۔۔ مسندجامع: ۴۴؍ ۴۶۸ حدیث: ۱۴۷۴۴۔
فقہ وحدیث کی ان روایات سے ثابت ہو گیاکہ جملہ پیغمبروں کی روحیں اپنے اپنے مقامات سے سمٹ کر بیت المقدس میں حاضرہو گئیں اور یہیں آ کر نمازپڑھی۔
مشکوٰۃ میں مسلم سے روایت ہے کہ  :
 ابن عباس  رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کے ساتھ مکہ ومدینہ کے بیچ میں چلے جارہے تھے،جب ایک جنگل سے گزرے تو حضور نے پوچھایہ کون ساجنگل ہے ؟ صحابہ نے کہا یہ وادی الازرق ہے۔حضورنے فرمایا: گویامیں موسیٰ  علیہ السلام  کو دیکھ رہاہوں پھرحضور نے ان کا رنگ اور ان کے بالوں کا حال بیان فرمایاکہ موسیٰ دونوں کانوں میں اذان کی طرح انگلیاں رکھے ہوئے لبیک کی آواز بلند کیے ہوئے اسی جنگل سے گزرے چلے جاتے ہیں۔ابن عباس کہتے ہیں کہ ہم آگے چلے تو ایک پہاڑ کی گھاٹی پرپہنچے۔حضورنے پوچھایہ کون سی گھاٹی اور پہاڑہے؟صحابہ نے کہا: یہ پہاڑ یاتو ہرشاہے یا لفت ہے۔ آپ نے فرمایا:گویا میں یونس  علیہ السلام کو سرخ اونٹنی پر سوار پشمینہ کاجبہ پہنے دیکھ رہا ہوں،ان کی اونٹنی کی مہارپوست خرماکی ہے، اسی جنگل میں حج کے لیے لبیک کہتے ہوئے چلے جاتے ہیں۔ (۱)

شیخ عبد الحق  رحمۃ اللہ علیہ   نے کہا  :
چوں اتفاق است برحیات انبیا علیہم السلام بحیات حقیقی دنیاوی لیکن محجوب اند، از نظر عوام پس بحقیقت نمو د ایشاں را بہ حبیب خود صلی اللہ علیہ وسلم بے منام وبے مثال وبے اشتباہ و بے اشکال۔

(۱)	متن حدیث:  عن ابن عباس قال سرنا مع رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  بین مکۃ و المدینۃ فمررنا بوادٍ فقال أيُّ وادٍ ہذا فقالوا وادي الأزرقِ فقال کأني أنظر إلی موسیٰ  صلی اللہ علیہ وسلم  فذکر من لونہ و شعرہ شیئا لم یحفظہ داوُد واضعا إصبعیہ في أذنیہ لہ جؤار إلی اللہ بالتلبیۃ مارّا بہذا الوادي قال ثم سرنا حتی أتینا علی ثنیّۃٍ فقال أيُّ ثنیۃٍ ہذہ قالوا ہرشی أو لِفتٌ فقال کأني أنظر إلی یونس علی ناقۃٍ حمرائَ علیہ جبۃُ صوفٍ خطامُ ناقتہ لیفٌ خلبۃٌ مارّا بہذا الوادي ملبّیا۔
	صحیح مسلم: ۱؍ ۳۹۳ حدیث: ۲۴۲۔۔ سنن ابن ماجہ: ۸؍ ۴۳۷ حدیث: ۲۸۸۲۔۔ مشکوٰۃ المصابیح: ۳؍۲۴۲ حدیث: ۵۷۱۷۔۔مستخرج ابی عوانہ: ۷؍ ۴۹۱ حدیث: ۳۰۰۷۔۔ صحیح ابن خزیمہ: ۹؍ ۳۷۲ حدیث: ۲۴۲۹۔۔ تحفۃ الاشراف: ۶؍ ۲۰۸حدیث: ۵۴۲۴۔
یعنی یہ بات متفقہ ہے کہ انبیاے کرام کی اپنی دنیوی زندگی کی طرح زندہ ہیں۔ لیکن عوام کی نظروں سے پوشیدہ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کی حقیقت اپنے حبیب لبیب  صلی اللہ علیہ وسلم  پر بے منام وبے مثال اور بے اشتباہ و بے اشکال ظاہرفرمادی۔
قسطلانی نے بھی’’مواہب‘‘میں اسی معنی کی طرف اشارہ کیا ہے  :
و قیل ہو علی الحقیقۃ لأن الأنبیاء أحیاء عند ربہم یرزقون فلا مانع أن یحجوا في ہذہ الحالۃ کما في صحیح مسلم عن أنس أنہ  صلی اللہ علیہ وسلم  رأی موسیٰ قائما في قبرہ یصلي، قال القرطبي حبب إلیہم العبادۃ فہم یتعبدون بما یجدونہ۔
یعنی صاحب مواہب نے دوتین معنی بیان کیے ہیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے : کہا گیا ہے کہ وہ دیکھناحقیقت میں تھاکیوں کہ انبیاے کرام زندہ ہیں اور اپنے رب کے تئیں رزق پاتے ہیں، پھراگر وہ اس حالت میں حج کریں تو کیا مشکل!۔ جیساکہ مسلم شریف میں حضرت انس سے روایت ہے کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کواپنی قبرمیں کھڑے ہو کر نمازپڑھتے دیکھا۔ علامہ قرطبی نے کہاکہ انبیاکی روحوں کوعبادتیں بہت پیاری ہیں توجو عبادت انھیں میسرآتی ہے کرتے رہتے ہیں۔
ان احادیث اور محدثین کی عبارتوں سے معلوم ہواکہ ارواح انبیا،حج اور نماز وغیرہ من چاہی عبادتیں کرتی رہتی ہیں۔ 
مشکوٰۃ کے  باب المعراج میں بخاری ومسلم کی حدیث سب کو یادہو گی جس میں بیان کیا گیا ہے کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم پہلے آسمان پر حضرت آدم،دوسرے پر حضرات یحییٰ وعیسیٰ،تیسرے پر حضرت یوسف،چوتھے پر حضرت ادریس،پانچویں پر حضرت ہارون،چھٹے پرحضرت موسیٰ اور ساتویں پرحضرت ابراہیم  علیہم الصلوٰۃ والسلام سے ملے۔(۱)
اب دیکھیں کہ آسمان پر جانے سے پہلے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کوجملہ انبیاکی روحیں بیت المقدس میں ملیں، اور آپ کے پیچھے نمازپڑھا،اب یہ ارواح انبیا آسمانوں پرملیں۔ اور روایت ہے کہ معراج کے لیے تشریف لے جاتے وقت آپ نے موسیٰ  علیہ السلام کوقبرمیں نمازپڑھتے 

(۱)	 صحیح بخاری:۳؍۲۳۳حدیث: ۷۳۲۔۔صحیح مسلم:۱؍۳۸۵حدیث:۲۳۴۔۔ مشکوٰۃ المصابیح: ۳؍۲۷۵حدیث: ۵۸۶۳۔
دیکھا،پھرانھوں نے بیت المقدس میں آپ کے پیچھے نمازپڑھی،پھر چھٹے آسمان پرملے۔یہ تینوں روایتیں صحیح مسلم میں موجودہیں۔
زرقانی نے  حیات فی القبر کے مقام پر اس تعارض کو یوں دفع کیا کہ انبیا  علیہم السلام  کے کھانے پینے کے لیے فراغت کے مقامات ہیں جہاں چاہیں جائیں پھرلوٹ آئیں  :
و للأنبیاء مراتع و مسارح یتصرفون فیما شاوؤا ثم یرجعون۔
سوچنے کا مقام ہے کہ یہ کس قدر حرکت ہوئی،ہرآسمان اتناموٹاہے جتناپانچ سو برس کا رستہ، اور زمین سے آسمان تک، اور ہر آسمان سے دوسرے آسمان تک پانچ سو برس کاراستہ ہے، تو اس تحقیق کے مطابق ایک ذرا عرصہ میں آدم  علیہ السلام  کی روح ایک ہزار برس کا راستہ،یحییٰ وعیسیٰ  علیہما السلام  کی روحیں دوہزار برس کا راستہ  علیٰ ہذا القیاس موسیٰ  علیہ السلام کی روح چھ ہزار برس کا راستہ اور ابراہیم علیہ السلام کی روح سات ہزار برس کا راستہ طے کرگئی،اس سرعت سیر کویاد رکھیں،عنقریب اس پر ہم کچھ فائدے مرتب کریں گے۔
خاتم المحدثین علامہ زرقانی نے شرح مواہب لدنیہ میں لکھا  :
لا یمنع رؤیۃ ذاتہ  علیہ السلام  بجسدہ و بروحہ و ذلک لأنہ سائر الأنبیاء  صلی اللہ علیہم وسلم  ردت إلیہم أرواحہم بعد ما قبضوا و أذن لہم في الخروج من قبورہم للتصرف في الملکوت العلوي و السفلی۔
یعنی سرکارِدوعالم  صلی اللہ علیہ وسلم کی روح وجسم کے ساتھ زیارت ہو جاناکوئی محال نہیں کیوں کہ جملہ انبیاے کرام  علیہم الصلوٰۃوالسلام کی روحیں قبض ہونے کے بعد پھر ان کو لوٹادی جاتی ہیں اس طرح وہ اپنی قبروں سے نکل کرعالم بالا اور عالم زیریں میں تصرف کرنے کے مجاز ہوتے ہیں۔ 
یہ مضمون ’’تنویر الحلک‘‘سے جلد اول کے شروع میں نقل کیا ہے۔
فائدہ :  مولف براہین قاطعہ کا صفحہ ۲۰۷پریہ اعتراض ودھبّہ لگاناکہ مولف انوار نے کلام زرقانی میں لفظ ’’والتصرف‘‘کی جگہ’’للتصرف‘‘بنادیا اور تصرف کے عرفی معنی بنالیے، یہ دونوں دعوے بالکل غلط ہیں۔ 
یہ دیکھیں مطبع منیریۃ مصر ۱۲۷۸ھ (1861ئ)کی چھپی ہوئی شرح مواہب زرقانی جلد اول صفحہ ۱۱کی سطراول،کہ اس میں ’للتصرف، لکھاہواہے۔یا اللہ!جھوٹی تہمتوں سے بچا۔
دوسرے اعتراض کایہ حال ہے کہ میں نے حاشیہ پراس عبارت کاجوترجمہ لکھا ہے،انوارِ ساطعہ طبع اول ودوم دونوں میں بعینہٖ لفظ ’تصرف، نقل کیا ہے جس کا جی چاہے دیکھ لے۔ وجہ یہ تھی کہ تصرف جس وقت باب تفعیل کا مطاوع واقع ہوتا ہے اس وقت اس کے معنی پھرنے کے ہوتے ہیں :  صرّفتہ  فتصرف یعنی میں نے اس کو پھرایاتو وہ پھرا گیا۔یہ قاموس میں ہے۔ اور جب مطاوعت کا موقع نہیں ہوتاتواس کے معنی ہوتے ہیں :تصرف دست درکاری کردن۔جیسا کہ صراح اور منتخب میں ہے۔
اب معلوم ہوناچاہیے کہ ارواحِ کاملہ کی نسبت دونوں معنی ثابت ہیں،اس بنیادپرمیں نیتصرف کے معنی میں کوئی تصرف نہیں کیا تھاوہی لفظ تصرف قائم رکھا تھاجس کاجی جس معنی کوچاہے سمجھ لے،تویہ اعتراض بھی غلط ہے،کیوں کہ میں نے تصرف کے اردومعنی نہیں لکھے۔
 معلوم نہیں معترض کو ارواحِ کاملہ کے تصرف میں کیوں بحث ہے ،کیوں کہ اس بات کو علمائے معقول تک مان چکے ہیں کہ نفس ناطقہ قدسیہ  جوکامل درجہ کی حکمت عملیہ وعلمیہ کوجامع ہوتا ہے   جب وہ بدن سے نکل جاتا ہے تو عقولِ مدبرہ میں داخل ہو جاتا ہے اور اس عالم میں اپنا اثر پہنچاتا ہے۔ شیخ الرئیس اور ارسطاطالیس وغیرہ کے کلام میں اس کی تصریح موجودہے، اور ہمارے حکماے دین بھی اس کو تسلیم کرتے ہیں۔
علامہ بیضاوی’فالمدبرات أمرا،کی تفسیر میں لکھتے ہیں :
أو صفات النفوس الفاضلۃ حال المفارقۃ فإنہا تنزع عن الأبدان غرقا أي نزعا شدیدا من إغراق النازع في القوس، و تنشط إلی عالم الملکوت و تسبح فیہ فتسبق إلی حظائر القدس فتصیر بشرفہا و قوتہا من المدبرات۔(۱)
یعنی یا تویہ بات ہے کہ اس سے نفوسِ فاضلہ کی صفتیں مراد ہیں کہ قسم ہے نفوسِ ناطقہ فاضلہ کی جب وہ بدن سے نکلتی ہیں،خوش ہو کرعالم ملکوت میں جاتی ہیں،وہاں تیرتی پھرتی ہیں اور اپنے شرف وقوت کے باعث مدبرات میں داخل ہو جاتی ہیں یعنی ان میں جوتدبیر عالم کرتے ہیں۔ 
روح البیان میں ہے :
ثم ان النفوس الشریفۃ لا یبعد أن یظہر منہا آثار في ہذا العالم سواء کانت مفارقۃ عن الأبدان أو لا۔ (۲)

(۱)	تفسیربیضاوی: ۵؍ ۳۶۶۔
(۲)	تفسیر روح البیان:۱۶؍۴۴۸۔
پھر دس سطر کے بعد لکھا :
بل ہو بعد مفارقتہ البدن أشد تاثیرا و تدبیرا لأن الجسد حجاب في الجملۃ۔ (۱)
یعنی کچھ بعید نہیں کہ نفوس شریفہ سے اس عالم میں اثر ظاہرہو،خواہ وہ اپنے بدن میں موجود ہوں یا نکل گئے ہوں ۔۔بلکہ بدن سے جداہو جانے کے بعدان کی تاثیر وتدبیرزیادہ بڑھ جاتی ہے کیوں کہ بدن عنصری ایک قسم کا حجاب تھا اور وہ اُٹھ گیا۔
لمعہ ثانیہ کے نورِ دوم جمعرات کی فاتحہ  میں تذکرۃ الموتیٰ والقبورکے حوالے سے ہم بیان کرچکے ہیں کہ اولیا،شہداکے حکم میں ہیں اور انبیاوصدیقین، شہداسے بھی افضل ہیں،ان کی روحیں زمین وآسمان اور بہشت میں جہاں چاہتی ہیں جاتی ہیں،اپنے دوست اور عقیدت مندوں کی مدد کرتی ہیں اور دشمنوں کوہلاک کرتی ہیں  انتہیٰ 
علامہ سیوطی رحمۃ اللہ علیہ کی ’’انتباہ الاذکیائ‘‘میں ہے :
النظر في أعمال أمتہ و الاستغفار لہم من السیئات و الدعاء بکشف البلاء عنہم و التردد في أقطار الأرض بحلول البرکۃ فیہا و حضور جنازۃ من مات من صالحي أمتہ فإن ہذہ الأمور من أشغالہ کما وردت بذلک الأحادیث و الآثار۔
اس سے صاف ظاہرہے کہ یہ بات احادیث وآثار سے ثابت ہے کہ آپ اعمال امت پرنظر فرماتے ہیں،ان کے گناہوں کی بخشش مانگتے ہیں،بلادورہونے کی دعافرماتے ہیں،روے زمین پربرکت بانٹتے پھرتے ہیں اور امت کا کوئی نیک آدمی مرے تو اس کے جنازے میں تشریف لاتے ہیں۔ عالم برزخ میں یہ آپ کے اشغال ہیں۔
’’روح البیان‘‘ میں سورۂ ملک کے آخرمیں ہے :
قال الإمام الغزالي  رحمہ اللہ تعالیٰ  و الرسول  علیہ السلام  لہ الخیار في طواف العوالم مع أرواح الصحابۃ  رضی اللہ عنہم  لقد رآہ کثیر من الأولیاء۔ (۲)

(۱)	تفسیر روح البیان:۱۶؍۴۴۸۔
(۲)	نفس مصدر:۱۵؍۴۷۶۔
اس سے معلوم ہوا کہ اس زمین ہی کی کچھ خصوصیت نہیں بلکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم  اپنے صحابہ کی روحوں کے ساتھ تمام عالم میں پھرتے ہیں۔ اور بہت سے اولیانے اس کامشاہدہ بھی کیا ہے۔
 شاہ ولی اللہ صاحب ’’درثمین‘‘کی سترہویں حدیث میں لکھتے ہیں :
أخبرني سیدي الوالد قال أخبرني شیخ السید عبد اللہ القاریٔ قال حفظت القراٰن علی قاریٔ زاہد کان یسکن في البریۃ فبینا نحن نتدارس القراٰن إذ جاء قوم من العرب یقدمہم سیدہم فاستمع قراء ۃ القاریٔ و قال بارک اللہ أدیت حق القراٰن ثم رجع و جاء رجل آخر بذلک الزي فأخبر أن النبي  صلی اللہ علیہ وسلم  أخبرہم البارحۃ أنہ سیذہب إلی البریۃ الفلانیۃ لاستماع قراء ۃ  قاریٔ ہناک فعلمنا أن السید الذي کان یقدمہم ہو النبي  صلی اللہ علیہ وسلم  قال و قد رأیتہ بعیني ہاتین۔
یعنی مجھ کومیرے والدبزرگوارنے خبردی اور انھیں شیخ سید عبد اللہ قاری سے خبرپہنچی،سید عبد اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے قاری زاہد سے حفظ قرآن کیاجوجنگل میں رہتے تھے۔ایک بار ہم قرآن پڑھ ہی رہے تھے کہ اتنے میں عرب کے کچھ لوگ آئے جن کا سردار آگے تھا،اس نے قاری کی قراء ت سن کر کہاکہ اللہ تعالیٰ برکتیں نازل فرمائے تم نے قرآن پڑھنے کا حق خوب ادا کیا، پھر وہ چلے گئے، پھر ایک دوسراآدمی انھیں عرب والوں کے لباس میں آیا اور کہنے لگا کہ کل رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی تھی ہم فلاں جنگل میں وہاں کے قاری کی قراء ت سننے تشریف لے جائیں گے۔جب اس آدمی نے یہ بات سنائی توہم نے جان لیا کہ وہ آنے والے سردار ،سرکارِدوعالم  صلی اللہ علیہ وسلم تھے اور میں نے اپنی ان آنکھوں سے ان کو دیکھا۔
نیزشاہ ولی اللہ صاحب’’فیوض الحرمین‘‘میں لکھتے ہیں :
و رأیتہ  صلی اللہ علیہ وسلم  في أکثر الأمور بیدي أي صورتہ الکریمۃ التي کان علیہا مرۃ بعد مرۃ فتفطنت أن لہ خاصیۃ من تقویم روحہ بصورۃ جسدہ  علیہ السلام  و أنہ الذي أشار إلیہ بقولہ : إن الأنبیاء لا یموتون و أنہم یصلون في قبورہم و یحجون و أنہم أحیاء۔
یعنی میں نے اکثر کاموں میں رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک صورت بارہا اپنے سامنے دیکھی تومیں نے سمجھ لیا کہ ان کی روح کے ساتھ ان کے جسم کارشتہ قائم ومربوط ہے، اور ایسابھلاکیوں نہ ہو،انھوں نے ہی تو فرمایا ہے کہ انبیاے کرام مرتے نہیں وہ توزندہ ہیں،اپنی قبروں میں نمازیں پڑھتے اور حج کیا کرتے ہیں۔
حضرت مجدد الف ثانی مکتوبات کی جلد اول کے مکتوب دُویست وہشتادودویم (۲۸۲) میں لکھتے ہیں :
امروز در حلقہ بامداد می بینم کی حضرت الیاس وحضرت خضر علی نبیناوعلیہما الصلوٰۃ والتسلیمات بصورت روحانیان حاضر شدند و بہ تلقی روحانی حضرت خضرفرمودندکہ ما از عالم ارواحیم حضرت حق سبحانہ وتعالیٰ ارواح ما را قدرت کاملہ عطافرمودہ است کہ بصورت اجسام متمثل شدہ کارہاے کہ ازاجسام بوقوع می آید ازاں ارواح ما صدور می یابد۔(۱)
یعنی آج صبح کے حلقہ میں دیکھتاہوں کہ حضرت الیاس وحضرت خضر علیہما السلام  اپنی روحانی صورت میں تشریف فرماہیں۔ اور روحانی  طور پرحضرت خضر فرمارہے ہیں کہ ہم عالم ارواح سے آئے ہیں،اللہ تعالیٰ نے ہماری ارواح کوقدرت کاملہ عطافرمائی ہے کہ صورت جسمیہ میں متثمل ہو کرحاضرہوں۔ اور ہماری روحیں وہ کام سرانجام دیتی ہیں جو جسموں سے وقوع پذیر ہوتے ہیں۔ 
اسی مکتوب دو صدوبستم (۲۲۰)میں ہے :
دریں اثنا عنایت خداوندی  جل شانہ در رسید وحقیقت معاملہ را کماینبغی وانمود وروحانیت حضرت رسالت خاتمیت  صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلہ الصلوٰۃ و السلام  کہ رحمت عالمیان ست دریں وقت حضور ارزانی فرمود وتسلی خاطر حزیں نمود۔(۲)
یعنی اسی لمحے اللہ تعالیٰ کا خاص کرم ہو گیا اور حقیقت معاملہ کماحقہ منکشف کر دیا نبی اکرم رحمت عالم   صلی اللہ علیہ وسلم  کی روحانیت  جلوہ گرفرمادی اور کبیدہ خاطروں کی تسلی فرمادی۔
وامام غزالی گفتہ کہ ارباب قلوب مشاہدہ می کنند در یقظہ ملائکہ و ارواح انبیارا کذا فی اشعۃ اللمعات فی کتاب الرویا۔

(۱)	مکتوبات :۱؍ ۵۳۲۔
(۲)	نفس مصدر :۱؍ ۳۵۸۔
 امام غزالی فرماتے ہیں کہ  اہل معرفت ملائکہ اور ارواح انبیا کوبیداری کے عالم میں مشاہد ہ کرتے ہیں۔ اشعۃ اللمعات کے کتاب الرویا میں یوں ہی مذکورہے۔ 
اسی جگہ شیخ عبد الحق نے لکھا ہے  :
از شیخ ابوالسعود کہ مصافحہ می کرد آنحضرت را بعد از ہرنماز۔
شیخ ابوالسعود سے حکایت ہے کہ وہ ہرنماز کے بعد نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم سے مصافحہ کرنے کی سعادت حاصل کرتے تھے۔ 
شیخ نے اسی جگہ غوث پاک کایہ قصہ لکھا ہے  :
روزے غوث الثقلین شیخ محی الدین عبد القادر  رضی اللہ عنہ   بر کرسی نشستہ بودووعظ می فرمودہ قریب بدہ ہزارکس در پایہ وعظ وی حاضر و شیخ علی بن ہیتی در زیر پائے کرسی شیخ نشستہ،ناگاہ شیخ علی ہیتی را خوابی بردپس شیخ عبد القادر قوم را فرمودہ:اسکتوا پس ہمہ ساکت شدند تاآنکہ جزانفاس از ایشاں شنیدہ نمی شد پس فرمود آمدشیخ از کرسی و بایستادبا ادب پیش علی مذکور می نگریست وروے پس بیدار شیخ علی و گفت شیخ عبد القادر بادے کہ دیدی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم رادرخواب گفت نعم فرمود ازیں جہت ادب ورزیدم باتو وایستادم در پیش تو فرمودہ بچہ وصیت کرد ترا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم گفت بملازمت من مجلس تو پس شیخ علی گفت آنچہ من درخواب دیدم،شیخ عبد القادر دربیداری دید و روایت کردہ اند کہ ہفت کس ازمردان راہ دراں روز از عالم رفتند رحمۃاللہ علیہم اجمعین 
یعنی ایک روز حضرت غوث الثقلین محی الدین عبد القادر  رضی اللہ عنہ کرسی پر جلوہ افروز تھے اور بتایاجاتا ہے کہ قریبا کوئی دس ہزار افراد ان کی محفل میں حاضر تھے،نیز شیخ علی بن ہیتی بھی ان کی کرسی تلے بیٹھے ہوئے تھے کہ اچانک ان کی آنکھ لگ گئی۔توشیخ عبد القادرنے قوم سے مخاطب ہو کر فرمایا:خاموش ہو جاؤتو سب خاموش ہو گئے اور سانس کے علاوہ کوئی آواز سنائی نہیں دے رہی تھی۔اتنے میں فرمایا کہ آ گئے۔توشیخ کرسی سے اٹھے اور بڑے ادب کے ساتھ علی کے چہرے کی طرف دیکھنے لگے۔ علی بیدار ہو گئے اور شیخ عبد القادرنے فرمایا کہ تونے آنحضرت  صلی اللہ علیہ وسلم  کوخواب میں دیکھا؟انھوں نے کہاہاں۔جب میں سراپا ادب بن کر آپ کے سامنے کھڑاہو گیاتوانھوں نے فرمایا:سرکارنے آپ کو کیانصیحت کی ؟انھوں نے جواب دیاکہ آپ کی مجلس میں شرکت لازم پکڑلوں۔ توشیخ علی نے کہا جوچیز میں نے خواب میں دیکھا،شیخ عبد القادرنے اسے عالم بیداری میں دیکھا۔ اور روایتوں میں آتا ہے کہ اس روز کی محفل میں کوئی سات آدمی دنیا ے فانی سے رخصت ہو گئے۔
اس سے تین باتیں ثابت ہوئیں۔ایک تو روح پاک مصطفوی کا مجلس خیر میں آنا، دوسرے روحِ نبی  صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم کے لیے حضرت غوثِ اعظم جیسے پیردستگیرکاکھڑے ہو جانا، ارباب فضل واکرام کی تشریف آوری کے وقت یہ استحباب قیام کے واسطے سند ہوئی،تیسرے حضرت غوث پاک کی علوشان اور قوت ادراک کہ جس کو دوسرے آدمی خواب میں دیکھیں ،آپ نے حالت بیداری میں دیکھا۔قصہ مختصر یہ کہ روحِ نبی  صلی اللہ علیہ وسلم زمین پر آتی جاتی رہتی ہے۔
اگر کوئی یہ سمجھے کہ وہ توخداتعالیٰ کی حضوری میں مستغرق ہے اس کو دنیا کی طرف توجہ کب ہوتی ہو گی تواس کاجواب یہ ہے کہ شاہ عبد العزیزصاحب’و القمرإذا اتسق،کی تفسیرمیں فرماتے ہیں :
و بعضے از خواص اولیا ء اللہ را کہ آلہ جارحہ تکمیل و ارشاد بنی نوع خود گردانیدہ دریں حالت ہم تصرف در دنیا دادہ واستغراق آنہا بجہت کمال وسعت تدارک آنہا مانع توجہ بایں سمت نمی گردد۔
یعنی اللہ تعالیٰ کے کچھ ایسے مخصوص بندے ہیں جو بنی نوع کے لیے رشدوہدایت کاوسیلہ بنے ہوئے ہیں۔ ان کواس حالت میں بھی اس دنیا میں تصرف کرنے کا اختیاردیا گیا ہے۔ ان کا دوسرے اعمال میں استغراق اپنے کمال اور وسعت تدارک کے باعث اس جانب ان کی توجہ میں مانع نہیں ہوتا۔ 
جب اولیاء اللہ کایہ حال ہے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کاحال تو اس سے بدرجہا بلندوبرتر ہو گا۔چنانچہ خاتم المحدثین زرقانی صفحہ ۳۶۵ مقصدعاشر میں لکھتے ہیں :
و لا ریب أن حالہ  صلی اللہ علیہ وسلم  في البرزخ أفضل و أکمل من حال الملائکۃ ہذا سیدنا عزرائیل  علیہ السلام  یقبض ألف مائۃ روح أو أزید في وقت واحد و لا یشغلہ قبض عن قبض و ہو مع ذلک مشغول بعبادۃ اللہ تعالیٰ مقبل علی التسبیح و التقدیس فنبینا  صلی اللہ علیہ وسلم  حي في قبرہ یصلي و یعبد ربہ و یشاہدہ و لا یزال في حضرۃ اقترابہ أي دنوہ متلذذا بسماع خطابہ و کذا کان شأنہ و عادتہ في الدنیا یفیض علی أمتہ من سبحات الوحي الإلٰہي مما أفاضہ اللہ علیہ و لا یشغلہ ہذا الشان و ہو شان إفاضۃ الأنوار القدسیۃ علیٰ أمتہ عن شغلہ بالحضرۃ الإلٰہیۃ۔
یعنی شک وشبہ سے بالاترہو کر یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ عالم برزخ میں نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم کاحال فرشتوں کے حال سے کہیں بڑھ کر ہے۔یہ دیکھیں کہ حضرت عزرائیل  علیہ السلام  لاکھوں سے زائدلوگوں کی روحیں بیک وقت قبض کرتے ہیں، اور ایک روح دوسری روح کے قبض کرنے میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالتی،اس مشغولیت کے باوجود وہ عبادت الٰہی اور اس کی تسبیح وتقدیس میں لگے ہوئے ہیں توہمارے رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم اپنی قبر میں زندہ ہیں،نمازیں پڑھتے،رب تعالیٰ کی عبادت کرتے اور اس کا مشاہدہ فرماتے رہتے ہیں۔ برابر اس کے قرب میں رہتے ہیں، اور خطاب الٰہی سے لطف اندوز ہوتے ہیں، اور یہی دنیا میں بھی آپ کا حال تھا کہ وہ وحی الٰہی کے انوارامت پربکھیرتے رہتے جیسے اللہ ان پرنوازش فرماتا اور امت کی فیض بخشی وخبرگیری ان کو اللہ تعالیٰ کے ساتھ مشغولی سے نہیں روکتی تھی۔     
یعنی آپ کا قبر میں بھی وہی حال ہے جیسادنیا میں تھاکہ امت پر آپ کا فیضان جاری رہتا تھا، خداسے ملے رہتے ہیں اور اِدھر کی مشغولیت سے اُدھر کی مشغولیت میں کوئی فرق نہ آتا تھا     ؎
 اُدھراللہ سے واصل اِدھرمخلوق میں شامل
خواص اس برزخ کبریٰ میں تھا حرفِ مشددکا
تو اِدھرنبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم کاعلم وادراک اور قوت استعدادظاہر اور اُدھر روحِ انبیا  علیہم السلام  کی سرعت سیرمعلوم کہ حضرت ابراہیم ،معراجِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی رات بیت المقدس سے ساتویں آسمان پر سات ہزاربرس کا راستہ طے کرکے ادنیٰ فرصت میں پہنچ گئے  اور اس کی روایت ہم بیان کرچکے ہیں   پھرمنکرین کوکیا اشکال وخلجان ہو رہاہے کہ میلاد کی صرف چند محفلوں میں   جوچندشہر میں منعقد ہوتی ہیں  بسرعت سیرحاضر ہو جانے کی قدرت روحِ پیغمبر میں نہیں مانتے۔
حضورسید المرسلین  صلی اللہ علیہ وسلم بالاتفاق ،ابراہیم خلیل اللہ سے اعلیٰ و افضل ہیں،پھر مفضول تو سات ہزار برس کی راہ ایک دم میں طے کرے اور فاضل وافضل چندمقامات کی سیربھی نہ کرسکے، بڑی ناقدردانی کی بات ہے۔ اور پھر اس پر طرہ یہ کہ جو ایسا اعتقاد رکھے،ان کو مشرک قرار دیں، سبحان اللہ  مشرک کے معنی بھی یہ حضرات خوب سمجھے۔
  واضح ہو کہ نفس ناطقہ قدسیہ کا ایک آن میں بہت سے مکانوں میں ظاہرہو جاناہمارے عرفاے کاملین،حکماے اشراقیین اور محققین شرع متین کے نزدیک صحیح ہے۔اسماعیل آفندی،علامہ قسطلانی، زرقانی، حلبی،محدث دہلوی اور مجدد الف ثانی وغیرہم  رحمہم اللہ تعالیٰ اجمعین  سبھی اس کے قائل ہیں۔
سیرت حلبی جلد اول میں ہے :
فالأرواح تتجسد و تظہر في صور مختلفۃ من عالم المثال۔ (۱)
یعنی روحیں جسموں کاقالب ڈھال کرمختلف صورتوں میں رونماہوتی رہتی ہیں۔
علامہ جلال الدین سیوطی نے فرمایا :
تعدد الصور بالتخیل و التشکل ممکن کما یقع للجان۔
یعنی تخیل وتشکل کی متعدد صورتوں کاپایاجانا ممکن ہے جیسے جناتوں میں ہوتا ہے۔
ان دوعبارتوں کا مضمون حضرت مجدد الف ثانی کے مکتوبات کی جلد ثانی میں ہے :
ہر گاہ جنیان را بتقدیر اللہ سبحانہ ایں قدرت بود کہ متشکل اشکال گشتہ اعمال غریبہ بوقوع آرند ارواح کمل را اگر ایں قدرت عطافرمائید چہ محل تعجب است،و چہ احتیاج ببدن دیگر ازیں قبیلہ است انچہ از بعضے اولیاء اللہ نقل می کنند کہ دریک آن در امکنہ متعددہ حاضر می گردندو افعال مبائنہ بوقوع می آرند ایں جا نیز لطایف ایشاں متجسد باجساد مختلفہ و متشکل باشکال متبائنہ می شوند۔
یعنی جب اللہ تبارک وتعالیٰ کی قدرت سے جناتوں کویہ اختیار حاصل ہے کہ وہ مختلف روپ دھارکر مختلف اعمال سرانجام دے سکتے ہیں تواگر روحوں کے لیے یہ قدرت مانی جائے تویہ کون سے تعجب کی بات ہے اور کسی دوسرے بدن کی ان کوکیاضرورت ہے۔چنانچہ بعض اولیاے کرام سے منقول ہے کہ بیک وقت متعددجگہوں پران کی حاضری دیکھی گئی ہے اور ان کے ہاتھوں افعال مباینہ وقوع پذیر ہوئے ہیں۔ اسی طرح ان کی لطیف روحیں بھی مختلف اجسام واشکال کے روپ دھار لیتی ہیں۔  
مدارج النبوۃ میں ہے :
دیدن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بعد از موت بمثال است چنانکہ در نوم مریٔ می شود در یقظہ نیز می نماید و آن شخص شریف کہ در مدینہ درقبر آسودہ وحی است ہمان متمثل می گردد دریک آن متصور بصور متعددہ عوام رادرمنام نماید وخواص را در یقظہ۔
یعنی رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال ظاہری کے بعد ان کا دیدار مثال کے ساتھ 

(۱)	سیرت حلبیہ: ۱؍ ۳۷۳۔
ہوتا ہے۔ چنانچہ جس طرح وہ خواب میں نظرآتے ہیں یوں ہی بیداری میں بھی۔ اور وہ ہستی جومدینہ منورہ کے اندراپنی قبرمیں آسودہ وحی ہے وہی متمثل ہو کرجلوہ گر ہوتی ہے۔ اور ایک ہی لمحہ میں متعددجگہوں پرعوام کے سامنے خواب میں اور خواص کے سامنے بیداری میں ظہورپذیر ہوتی ہے۔
مدارج النبوۃ کی اس عبارت سے بھی آنِ واحد میں حضور  صلی اللہ علیہ وسلم  کے جوہر پاک کامتعدد شکلوں میں متشکل ومصورہو کرظاہرہوناواشگاف ہو گیا۔
تعجب ہے کہ مولف براہین قاطعہ نے صفحہ ۲۱۰میں ’صورمتعددہ، کالفظ مدارج سے عبارت نقل کرنے میں حذف کر دیا کہ کہیں حضور  صلی اللہ علیہ وسلم کے تصرف روحانی کی قوت نہ ثابت ہو جائے۔پھر طرفہ یہ کہ اس عبارت مذکورہ سے آپ نے سند پکڑی کہ وہ تو مثال ظاہرہونے کو لکھتے ہیں اور حضور  صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری کا اس میں کہیں نام ونشان بھی نہیں۔
افسوس! عبارت کا مضمون بھی آپ نے نہ سمجھایعنی محدث دہلوی فرماتے ہیں کہ وہ بدن جو قبر مبارک میں ہے وہی متمثل ہو کر عوام کو خواب میں اور خواص کو بیداری میں نظر آتا ہے،یہ نہیں کہ یہ جسم اقدس سے جدا الگ کوئی اور چیزنظر آتی ہے۔اس موقع پرصحاح کی حدیث بھی یاد نہ آئی :
مَنْ رَاٰنِيْ فِي الْمَنَامِ فَقَدْ رَآنِيْ إنَّہُ لاَ یَنْبَغِي لِلشَّیْطَانِ أنْ یَّتَمَثَّلَ بِيْ۔ (۱)

(۱)	سنن ابن ماجہ: ۱۱؍۳۷۷ حدیث:۲ ۳۸۹۔۔کنزالعمال: ۱۵؍ ۳۸۱حدیث:۴۱۴۷۱۔۔ مسند عبد بن حمید: ۳؍ ۱۶۷حدیث: ۱۰۴۸۔۔جزء ابی الجہم: ۱؍۴حدیث: ۳ ۔۔ مسندجامع: ۹؍۲۰۷حدیث: ۲۸۶۲۔
	یوں بھی یہ حدیث ملتی ہے  :
ئ	من رآني في المنام فقد رآني فإن الشیطان لا ینبغي لہ أن یتمثل بمثلي (مسنداحمد: ۷؍۴۳۱ حدیث: ۳۳۷۸ ۔۔سنن دارمی: ۶؍ ۳۸۲حدیث: ۲۱۹۴۔۔ مسندجامع: ۲۸؍ ۱۵۵حدیث: ۹۲۵۱)
ئ	من رآني في المنام فقد رآني لا ینبغي للشیطان أن یتمثل في صورتي۔(سنن کبریٰ نسائی: ۴؍ ۳۸۴ حدیث: ۷۶۲۹)
ئ	من رآني في المنام فقد رآني فإن الشیطان لا یتخیل بي۔(صحیح بخاری: ۲۱؍ ۳۵۰حدیث: ۶۴۷۹۔۔ شمائل ترمذی: ۱؍۴۶۱حدیث:۴۰۶۔۔ دلائل النبوۃ بیہقی: ۸؍ ۸۹حدیث: ۲۹۷۲۔۔مسندجامع: ۴؍ ۸۴حدیث: ۱۱۶۹۔۔ تحفۃ الاشراف: ۳؍ ۱۱۶حدیث: ۴۵۵۔۔تخریج احادیث الاحیائ: ۹؍ ۴۴۷حدیث: ۴۴۴۷)
ئ	من رآني في المنام فقد رآني فإن الشیطان لا یتمثل بي۔(صحیح مسلم : ۱۱؍ ۳۶۰حدیث: ۴۲۰۶۔۔ سنن ابوداؤد: ۱۳؍ ۲۱۱حدیث: ۴۳۶۹۔۔سنن ترمذی: ۸؍ ۲۳۶حدیث: ۲۲۰۲۔۔سنن ابن ماجہ: ۱۱؍۳۷۶ حدیث:۳۸۹۱۔۔ مسنداحمد:۱۴؍۴۱۲حدیث:۶۸۷۱۔۔شمائل ترمذی: ۱؍ ۴۵۴حدیث: ۳۹۹۔۔مستدرک: ۱۹؍ ۶۷ حدیث: ۶۳۰۱۔۔ معجم کبیرطبرانی: ۱۰؍۱۸۴حدیث: ۱۲۲۳۳۔۔ مسندابویعلی موصلی: ۷؍ ۳۱۱حدیث: ۳۱۹۷ ۔۔ مسند شاشی: ۲؍ ۲۶۱حدیث: ۶۷۷۔۔مسنداسحق بن راہویہ: ۱؍ ۲۲۹حدیث: ۲۱۹۔۔مجمع الزوائدو منبع الفوائد: ۳؍ ۲۵۶۔۔کنز العمال: ۱۵؍ ۳۸۱حدیث:۴۱۴۷۴۔۔ مسندجامع: ۴؍ ۸۴حدیث: ۱۱۶۹۔۔ تحفۃ الاشراف: ۵؍۳۴۳ حدیث: ۴۲۴۳)
یعنی جس نے مجھے خواب میں دیکھا اس نے مجھی کو دیکھاکیوں کہ شیطان کے لیے میری شکل وصورت میں آنا ممکن نہیں۔  
جب خواب کے دیکھنے کی تصدیق حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں حالاں کہ خواب ایک غفلت کا عالم ہے پھربیداری کا دیکھاہوابدرجہ اولیٰ آپ ہی کا جوہر مقدس ہو گانہ کہ کسی اور کا۔ لہٰذا اس بدن مثالی کے آنے کو اگر آپ کا تشریف لاناکہاجائے توحدیث کے موافق ہو گانہ کہ مخالف۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت مجدد بھی الیاس وخضرکے تمثال کی بابت فرماتے ہیں :
بصورت روحانیان حاضرشدند۔
یعنی روحوں کی شکل میں حاضرہوتے ہیں۔
دوسری جگہ لکھتے ہیں :
روحانیت حضرت خاتمیت حضورارزانی فرمود۔

بقیہ۔۔۔۔۔
ئ	من رآني في المنام فقد رآني فإن الشیطان لا یتمثل علی صورتي۔(سنن ابن ماجہ: ۱۱؍۳۷۵ حدیث: ۰ ۳۸۹ ۔۔کنزالعمال: ۱۵؍۳۸۲حدیث:۴۱۴۷۸۔۔مشکوٰۃ المصابیح: ۲؍ ۵۴۳حدیث: ۴۶۰۹)
ئ	من رآني فقد رآني فإني أری في کل صورۃ۔ (روضۃ المحدثین: ۷؍ ۱۷۶حدیث: ۲۹۵۱)
ئ	من رآني في المنام فقد رآني فإن الشیطان لا یتکون في صورتي۔ (مسندبزار: ۶؍ ۴حدیث: ۱۸۳۲)
ئ	من رآني في المنام فقد رآني في الیقظۃ فإن الشیطان لا یتشبہ بي۔(معجم کبیرطبرانی: ۱۵؍۴۹۲حدیث: ۱۷۷۵۷)
ئ	من رآني فقد رأی الحق إن الشیطان لا یتشبہ بي۔ (مسنداحمد:۱۵؍۲۷۹حدیث:۷۲۳۸)
ئ	من رآني فقد رأنی الحق إن الشیطان لا یستطیع أن یتشبہ بي۔ (مسنداحمد: ۱۹؍۱۶۷حدیث: ۹۱۲۴ ۔۔ صحیح ابن حبان: ۲۵؍۱۵۳حدیث: ۶۱۵۹)
ئ	من رآني في المنام فقد رآني إن الشیطان لا یتصور بي۔ (مسنداحمد: ۱۸؍ ۴۹۱حدیث: ۸۹۴۸۔۔مسند رویانی: ۲؍ ۶ حدیث: ۴۲۶۔۔ کنزالعمال: ۱۵؍ ۳۸۲حدیث:۴۱۴۸۰)
ئ	من رآني في المنام فقد رأی الحق۔ (صحیح ابن حبان: ۲۵؍ ۱۵۱حدیث: ۶۱۵۸۔۔سنن دارمی: ۶؍ ۳۸۳ حدیث: ۲۱۹۵۔۔ مسندجامع: ۳۸؍۴۰۷حدیث:۱۲۵۵۷)
ئ	من رآني في المنام فہو الحق۔ (مصنف عبد الرزاق:۱۱؍ ۲۱۵حدیث:۲۰۳۶۳۔۔جامع معمر بن راشد: ۳؍ ۱۵۲ حدیث: ۹۷۸)
ئ	من رآني في المنام فقد رآني۔ (معجم کبیرطبرانی: ۷؍ ۳۶۹حدیث: ۸۱۰۴۔۔شمائل ترمذی: ۱؍۴۵۶ حدیث: ۴۰۱۔۔ معجم کبیرطبرانی:۱۹؍۴۸۴حدیث: ۱۱۵۲۔۔مجمع الزوائدو منبع الفوائد: ۳؍ ۲۵۶۔۔مسندجامع: ۱۷؍۳۰۷ حدیث: ۵۴۳۴۔۔ تحفۃ الاشراف: ۴؍۱ ۶حدیث: ۲۷۱۲)
یعنی حضورختمی مرتبت  صلی اللہ علیہ وسلم کی روح مبارک جلوہ آراہوئی۔ 
یہی قصہ سید اَحمدصاحب کاہے جو لفظ روح سے تعبیرفرمایا ہے  :
روح حضرت غوث الثقلین و حضرت نقشبند متوجہ حضر ت ایشاں گردید۔
واضح ہوکہ وہ مثال کوئی وہمی چیز اور خیال محض نہیں  جیساکہ مولف براہین قاطعہ نے خیال کیا بلکہ واقعۃً ایک شیٔ متصرف ہوتی ہے جیساکہ علامہ زرقانی وغیرہم رقم فرماتے ہیں ،لیکن اس مقام پر ہم حضرت مجدد الف ثانی کی عبارت نقل کرتے ہیں جس سے فریق ثانی کو انکارکی گنجائش نہیں۔مکتوبات کی جلد ثانی میں فرماتے ہیں :
ایں تشکل گاہ در عالم شہادت بودوگاہ در عالم مثال وچنانچہ دریک شب ہزارکس آن سروررا علیہ الصلوٰۃوالسلام بصورمختلفہ درخواب می بینندواستفادہا می نمایند ایں ہمہ بشکل صفات ولطائف اوست  علیہ وعلیٰ آلہ الصلوٰۃوالسلام بصورت ہاے مثال و ہم چنیں مریداں از صورمثالی پیران استفادہامی نمایندوحل مشکلات می فرمایند۔
یعنی اس شکل وصورت میں تشریف لانا کبھی عالم شہادت میں ہوتا ہے اور کبھی عالم مثال میں۔چنانچہ ایک ہی رات میں ہزاروں انسان عالم خواب میں رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کی زیارت سے مشرف ہو کر اس کے فوائدوثمرات حاصل کرتے ہیں۔ یہ سب کچھ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صفات ولطائف سے بھرپوراپنی مثالی صورت میں جلوہ افروز ہوتے ہیں۔ اسی طرح اہل ارادت بھی اپنے پیروں کی صورت ہاے مثالیہ سے استفادہ کرتے رہتے ہیں۔ اور وہ ان کی مشکلات کورفع کرتی رہتی ہیں۔ 
بھلا انبیا علیہم السلام کادرجہ تو بہت عالی ہے حضرت مجدد تو پیروں کی صورِ مثالی سے بھی حل مشکلات ثابت کر رہے ہیں اور یہ کوئی وہمی وخیالی امر نہیں۔
اسی طرح لوگوں کی ضرورت کی بہ نسبت اولیاء اللہ کی مشکل کشائی مفسرروح البیان نے سورۂ ملک میں لکھی ہے :
مثال أقامۃ اللہ تعالیٰ علیٰ صورتہ لتنفیذ ما شاء اللہ تعالیٰ من حوائج الناس وغیرہا۔ (۱)
یعنی لوگوں کی ضرورتیں وغیرہ پوری کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے چاہے سے اس ولی کی مثال اس کی صورت میں قائم فرمادی ہے۔

(۱)	تفسیر روح البیان:۱۴؍۱۲۳۔
ظاہرسی بات ہے کہ جب ایک شخص کی صورت مثالی، دائرۂ خیال میں آئی اور مجلس میں اس شخص کی مثال کاآناثابت ہوا۔پھر متعدداشخاص کا یہ واقعہ دیکھنادلیل ہے کہ اس توجہ روحانی میں مرغوبیت ومحبوبیت محفل کو دخل ہے، اور وہ مثال خود صاحب مثال کاجلوہ ہے علیہ افضل الصلوٰۃ و التسلیمات کیوں کہ آپ فرماتے ہیں  :
مَنْ رَآنِي فَقَدْ رَآنِيْ۔ (۱)
یعنی جس نے مجھے دیکھا اس نے مجھے ہی دیکھا۔
مزید فرماتے ہیں  :
مَنْ رَآنِيْ فَقَدْ رَأی الْحَقَّ۔ (۲)
یعنی جس نے مجھ کو دیکھا اس نے درحقیقت مجھے ہی دیکھا۔
یہ تقریرہم اس صورت میں کرتے ہیں جب کہاجائے کہ وہ مثال نظرآتی ہے اور جب ’’انتباہ الاذکیائ‘‘ میں سیوطی رحمۃ اللہ علیہ  احادیث سے ثابت کرچکے کہ آپ اطراف زمین میں پھرتے ہیں تومثال کہنے کی کچھ ضرورت ہی نہیں۔ چنانچہ امام سیوطی  رحمۃ اللہ علیہ  ’’مہمات المعارف‘‘ میں لکھتے ہیں :
فنبینا  صلی اللہ علیہ وسلم  یتصرف و یسیر بجسدہ و روحہ حیث شاء في أقطار الأرض و في الملکوت و أنہ مغیب عن الأبصار کما غیب الملائکۃ فإذا رفع اللہ الحجاب عمن أراد إکرامہ برؤیتہ رآہ علی ہیئتہ التي ہو علیہا لا مانع من ذلک و لا داعي إلی التخصیص برؤیۃ المثال  انتہیٰ تلخیصا کذا في نور العین ۔
یعنی ہمارے نبی اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم تصرف فرماتے ہیں اور اپنے جسم وروح کے ساتھ زمین وآسمان میں جہاں چاہتے ہیں سیرفرماتے ہیں مگرہمیں نظر نہیں آتے جیسے کہ فرشتے نہیں 

(۱)	روضۃ المحدثین: ۷؍ ۱۷۶حدیث: ۲۹۵۱۔
(۲)	صحیح بخاری: ۲۱؍ ۳۵۲حدیث: ۶۴۸۱۔۔صحیح مسلم: ۱۱؍ ۳۶۲حدیث: ۴۲۰۸۔۔مشکوٰۃ المصابیح:۲؍۵۴۴۔۔ دلائل النبوۃ:۸؍ ۸۸حدیث: ۲۹۷۱۔۔ شرح اصول اعتقاد اہل السنۃ والجماعۃ الکائی:۲؍ ۹۶حدیث: ۴۶۵۔۔معجم ابن المقریٔ: ۳؍ ۱۹حدیث: ۹۶۵۔۔ مجمع الزوائد و منبع الفوائد: ۳؍ ۲۵۶۔۔ کنزالعمال: ۱۵؍ ۳۸۲حدیث: ۴۱۴۷۵۔۔ مسندجامع: ۱۴؍ ۲۹۵حدیث: ۴۵۶۹۔۔تحفۃ الاشراف: ۵؍ ۳۰۲حدیث: ۴۰۹۷۔
دکھائی دیتے،مگرجس کو اللہ تعالیٰ چاہتا ہے اسے پردہ اٹھا کرسچ مچ وہی صورت مبارکہ دکھا دیتا ہے اس کے لیے کچھ محال نہیں، اب اس تخصیص کی کوئی ضرورت نہیں رہ جاتی کہ کہا جائے کہ آپ کی مثال نظر آتی ہے۔ 
میں کہتاہوں کہ امام سیوطی کا یہ قول تروح اجساد اور تجسد ارواح کے مسئلہ کے مطابق ہے جس کو اہل حقیقت مانتے ہیں یعنی یہ بھی ممکن ہے کہ خودجسد پاک جولطافت میں روح کی مانند ہے قبرسے معجزانہ طورپرنکل کرچلتاپھرتاہو جیساکہ شب معراج(بیت المقدس میں ) انبیاے کرام کی حاضری بعض علماکے نزدیک ان کے جسموں کے ساتھ ہوئی تھی، اور بعضوں کے نزدیک محض روح کے ساتھ۔ اور بعض اولیاے کرام غلبہ روحانیت کے سبب بندمکان سے دروازہ کھولے بغیرباہرنکل آتے ہیں۔الحاصل! جس طرح بھی ہوخواہ جسم وروح کے ساتھ یامثال کے  ساتھ ،خستہ حال امت کی طرف آپ کی رونق افروزی ثابت الاصل ہے۔
مولف براہین کاصفحہ ۲۰۸پریہ لکھناکہ :
مشاہدہ کے واسطے ارواح کامشاہدکے گھر میں آنا ضرور نہیں قلب منوربعید سے دیکھتا ہے۔
اس موقع پر صحیح نہیں ، اس لیے کہ جب کسی نے کسی مقام خاص کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی رونق افروزی سے مشرف دیکھا تو وہاں جلوۂ محمدی پایا ہے۔
واقعہ تالاب شمسی کا۔
اب دہلی میں ہوئے تالاب شمسی کا ایک قصہ لکھتاہوں جسے’’فوائد السالکین ‘‘میں حضرت قطب الاقطاب قطب الدین بختیارکاکی  قدس سرہ کے خلیفہ جناب شیخ الاسلام فرید الدین گنج شکر اجودھنی رحمۃ اللہ علیہ نے انھیں کے حوالے سے نقل ورقم فرمایا ہے :
شمس ازوالی دہلی خواست کہ حوض بناکندیک روز سوار شد باجمیع ارکان دولت زمین برائے راست کنانیدن حوض می دید چنانچہ رسید انجاکہ حوض است بایستاد کہ ایں زمین بہتراست چوں دید بازگشت در قصر آمد چوں آں مردے کہ ازواصلان حق بود ہم دریں نیت دراں شب ہمبران مصلی قدری درخواب شد چنانچہ دید نزدیک چبوترہ کہ دراں حوض است مردے بادوگیسوکشادہ وخوبصورت کہ صفت اونتواں کرد براسپ و چند نفریاربرابراو ایستادہ ہمیں نظرمبارک ایشاں برمن افتاد و پیش خود طلبید و فرمود کہ بیاچہ نیت داری گفتم نیت ایں دارم کہ ایں جاحوض بنا کنم ہم دریں گفتگوے کسے کہ نزدیک آں مرداستادہ بود مراگفت اے شمس ایں رسول خداست  عزوجل انچہ درخواست داری بازنماے تاآں مراد بدامن تو رساند چوں مرا اندیشہ ایں حوض بود ہمیں التماس کردم ودرپائے مبارک رسول  علیہ السلام افتادم بعدہ برخاستم دست بستہ استادہ شدم ہماں جاکہ چبوترہ است اسپ رسول  علیہ السلام  دست بزدآب بیرون آمد،رسول علیہ السلام  فرمودکہ اے شمس! ہمیں جا حوض راست بکنانی ایں چنیں آب بیرون خواہد آمدکہ در ہیچ شہرومقامی لذت آں آب نباشد ہم دریں گفتگوے بیدارشدم ہماں روزپگاہ سوارشدم چوں آں جا بیامدم کہ اسپ رسول علیہ السلام سم زدہ بودچہ بینم کہ آب بیروں آمدہ است و آں جا قرار گرفتہ ہر کس کہ برابرشمس آمدہ بود قدرے ازاں آب خوردندسوکندبر زباں را ندندکہ صد ہزارشیریں از ہرچہ جمع کنند وبخورند ایں چنیں شیریں نیابندکہ لذت آں آب دارد آں گاہ خواجہ قطب الاسلام فرمودکہ شیرینی آں آب بہ برکت قدم مبارک رسول  علیہ السلام بود۔
یعنی شمس نے والی دہلی سے ایک تالاب بنانے کی درخواست کی۔ توایک روزوہ اپنے جملہ سرکاری عملوں کے ساتھ سوار ہو کر تالاب کے لیے کسی موزوں زمین کے انتخاب کے لیے نکلا۔ چنانچہ تالاب والی جگہ پر رک کر کہاکہ تالاب کے لیے یہ سب سے موزوں زمین ہے۔معاینہ کرنے کے بعد وہ اپنے محل میں لوٹ آیا۔وہ شخص کہ واصلانِ حق سے تھا، اسی ارادے سے رات مصلّے پر تھوڑی دیر کے لیے سوا گیا۔ذرا دیر کے لیے آنکھ لگ گئی اور خواب میں کیادیکھتا ہے کہ تالاب والے چبوترہ کے نزدیک ایک نہایت ہی حسین وجمیل خوبصورت زلفوں والی ایک شخصیت کہ جس ساپہلے نہ دیکھنے میں آیا اپنے چند ہمراہیوں کے ساتھ گھوڑے پرسوار تھا۔اسی حالت میں اس کی نگاہِ مبارک مجھ پرپڑی اور اپنے پاس بلا کر پوچھاکہ بتاؤکیا ارادہ ہے ؟میں نے کہا یہاں پر ایک تالاب بنانے کی خواہش رکھتاہوں۔ دورانِ گفتگو ان کے پاس کھڑے ہوئے ایک شخص نے مجھے بتایاکہ اے شمس یہ رسولِ خداہیں۔ جوبھی خواہش ہواس کا اظہار کر دو تاوہ تمھیں بامراد کر دیں۔ چوں کہ مجھے صرف اس تالاب کی فکر تھی اس لیے میں نے اس سلسلے میں التماس کر دی اور قدم مبارک پرگرپڑاپھرکھڑے ہو کردست بستہ درخواست کی۔جس جگہ پرچبوترہ ہے رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کے گھوڑے نے اپنے اگلے پاؤں کاسم لگایاتوپانی نکل آیا۔تورسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے شمس ! یہاں پر تالاب بنالو۔ امیدہے کہ اس سے ایساپانی نکلے گا جس کی لذت وچاشنی کسی اور شہرومقام کے پانی میں نہیں پائی جا سکتی۔ گفتگو ہوہی رہی تھی کہ میں جاگ اٹھا۔اسی صبح سوارہو کرنکلا اور وہاں پہنچا جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھوڑے نے سم لگایا تھا تو کیا دیکھتاہوں کہ پانی نکل آیا ہے۔ شمس کچھ دیر وہیں کھڑاہو کر یہ نظارہ دیکھتارہا کہ جوشخص بھی اس پانی کاذائقہ چکھ لیتایہ کہے بغیر نہ رہتا تھاکہ اپنی زندگی میں ایساشیریں ترین پانی پینے کاہمیں کبھی اتفاق نہیں ہوا۔خواجہ قطب الاسلام فرماتے ہیں کہ اس پانی کی اس مٹھاس کاراز نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم  کے قدم مبارک کی برکت سے تھا۔
اس حکایت میں اس کاصاف ثبوت ہے کہ جس مقام پر آپ کے گھوڑے کا سم دیکھتا تھاوہاں صبح کوپانی خوش گوارپایا،اگرقلب منور ہے فقط دور سے دیکھتا تھا اور مکان رویت سے اس کو علاقہ نہ تھا تو اس زمین میں پانی نکل آنے کی کیا وجہ ہوئی؟ اور یہ حکایت ،اولیاے ابرارکی لکھی ہوئی ہے۔ اس سے قطع نظراہل دہلی یوں ہی متوارث سنتے چلے آئے کہ تالاب شمسی کے بناکی یہی وجہ تھی۔لہٰذا ہم کہتے ہیں کہ جب اولیاے ابرار اور اصحاب کشف وشہود نے روح یا روح کی مثال کو مجلس میں دیکھا تو اس مجمع اور مکان کا نورِمحمدی کے فیضان سے مشرف ہوناتسلیم کرناچاہیے جیساکہ مکہ معظمہ میں مذہب حنبلی کے مفتی ،محمد  بن یحییٰ ،علمائے اعلام اور مقتدایانِ اسلام سے نقل کرتے ہیں :
عند ذکر ولادتہ  صلی اللہ علیہ وسلم  یحضر روحانیتہ  صلی اللہ علیہ وسلم ۔
یعنی میلادالنبی  صلی اللہ علیہ وسلم کے ذکرجمیل کے وقت محفل میں آپ کی روحانیت مبارکہ جلوہ بار ہوتی ہے۔ 
برزنجی کے رسالہ منظومہ،نیز’’ روح البیان‘‘ کی چوتھی اور چھٹی جلد میں روح مبارک کے حاضر ہونے کی تصریح ہے۔ اور اس مسئلہ کا رنگ وبوخودشاہ ولی اللہ صاحب کے کلام میں موجود ہے۔’’فیوض الحرمین‘‘کے اندر مدینہ طیبہ میں حاصل ہوئی اپنی دولت مشاہدہ کے بارے میں بیان فرماتے ہیں  :
و رأیتہ علی حالۃ واحدۃ متوجہا إلی الخلق لابسا لباس العظمۃ فإذا توجہ إلیہ إنسان بجہد ہمتہ و لا أرید الإنسان العالي الہمۃ فقط بل کل ذي کبد یشتاق إلی شیء و یتوجہ إلیہ بقصدہ و شوقہ فإنہ یتدلی إلیہ و رأیتہ  صلی اللہ علیہ وسلم ینشرح انشراحا عظیما لمن صلی علیہ و سلم و مدحہ۔
یعنی میں نے رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کوایک حالت پرٹھہراہواپایاکہ لباس عظمت پہنے آپ مخلوق کی طرف پورے طورپرمتوجہ ہیں۔جب کبھی بھی کوئی انسان بلندہمتی سے آپ کی طرف لولگاتا ہے  گرچہ وہ عالی ہمت بڑے درجہ کا نہ ہو بلکہ کوئی کیسابھی صاحب جگر ہو  لیکن جب وہ پورے ذوق ولگن سے مشتاق ہوتا ہے تو حضور اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم  خوداس کی طرف چل کر آتے ہیں۔نیز میں نے یہ بھی دیکھاکہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم درودوسلام اور مدح ونعت پڑھنے والوں پر بے پناہ خوش ہوتے ہیں۔
اس عبارت میں صاف بیان ہے کہ مدحِ رسول پڑھنے اور درودوسلام بھیجنے والوں کی طرف حضور صلی اللہ علیہ وسلم  کادل خوب کھنچتا ہے اور جب کوئی مشتاق عشق ،دل سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف مائل اور متوجہ ہوتا ہے تو آپ اس کے پاس اُترآتے ہیں۔شاہ ولی اللہ صاحب کے مضمون کا یہ خلاصہ بعینہٖ ان کے الفاظ میں ہے۔جسے زیادہ تحقیق درکارہوتواصل کتاب’’فیوض الحرمین‘‘کی طرف رجوع کرے،اس میں اس مطلب کی زیادہ تشریح وتوضیح ملے گی۔
اولیاکے کشف والہام
کشف والہامات اولیاکی نسبت ،مولف براہین قاطعہ کاصفحہ ۴۰۸میں یہ لکھناعجب بات ہے :
الہام وکشف اولیاکامفید حکم اور حجت علی الغیرنہیں ہوتا۔
 کیوں صاحب!شاہ عبد الرحیم اور شاہ ولی اللہ  رحمۃ اللہ علیہم  وغیرہ عارفین سے بالکل ایسے غیربن گئے کہ آپ پر ان کاکشف حجت نہیں ہوسکتا اللہ اللہ    ؎
گہے  بر  طارم  اعلیٰ  نشینم 	      گہے برپشت پائے خودنہ بینم   
 اب ہم کشف اور رویاے صادقہ کی حقیقت بیان کرتے ہیں۔
کشف نام ہے اس کا کہ جب ایک مردِمرتاض کے ظاہری حواس و قویٰ مجاہدات کی شدت و کثرت کی وجہ سے مضمحل ہو جاتے ہیں تو جوہرعقل ،قوی ہو کر موردِ نورِ الٰہی ہو جاتا ہے،پھر اس نورکی تائید سے اشیاکی حقیقتیں بالکل ویسی ہی معلوم ہونے لگتی ہیں جیسی واقع اور نفس الامرمیں ہوتی ہیں۔ حدیث میں ایسے شخص کی نسبت وار دہواہے :
یَنْظُرُ بِنُوْرِ اللّٰہِ۔ (۱)

(۱)	یہ عبارت اطراف حدیث معلوم ہوتی ہے اس سلسلہ کی حدیثیں یوں ہیں  :
ئ	اتقوا فراسۃ المومن فإنہ ینظر بنور اللہ۔(سنن ترمذی: ۱۰؍ ۳۹۹حدیث: ۳۰۵۲۔۔معجم کبیر طبرانی: ۷؍ ۱۰۹ حدیث: ۷۳۶۹۔۔ معجم اوسط طبرانی: ۷؍ ۳۵۲حدیث: ۳۳۸۲۔۔مسندشامیین: ۶؍ ۱۷۳حدیث: ۲۰۱۱۔۔ مسندشہاب قضاعی: ۳؍ ۴۰حدیث: ۶۲۲۔۔ الاربعون علی مذہب المتحققین من الصوفیہ اصبہانی: ۱؍ ۹۳حدیث: ۵۴۔۔ الزہدالکبیر بیہقی: ۱؍ ۳۷۴حدیث: ۳۷۰۔۔ الضعفاء الکبیر عقیلی: ۸؍ ۹۵حدیث: ۱۸۵۶۔۔ جامع بیان العلم وفضلہ ابن عبد البر: ۲؍ ۳۳۵ حدیث: ۷۸۵۔۔ معجم الشیوخ ابن جمیع صیداوی: ۱؍ ۳۸۷۔۔مجمع الزوائدومنبع الزوائد: ۴؍ ۴۸۶۔۔کنزالعمال:۱۱؍ ۸۸حدیث: ۳۰۷۳۰ ۔۔مسندجامع: ۱۳؍ ۲۹۴حدیث: ۴۱۸۰۔۔ تخریج احادیث الاحیائ: ۶؍ ۲۴۹حدیث: ۲۶۰۰) 
یعنی وہ نورِ الٰہی سے دیکھتا ہے۔
 اور سچاخواب وہ ہے جواحادیث میں آیا ہے کہ رویاصالحہ ،نبوت کاچھیالیسواں جزوہے۔نیز حدیث میں ہے کہ نبوت توہوچکی اب مبشرات یعنی رویاصالحہ باقی ہیں توکشف ومنام صالحہ کو اس طرح تحقیرسے بالکل ہی رد کر دینا صحیح نہیں۔(۱)

بقیہ۔۔۔۔
ئ	إیاکم و فراسۃ المومن فإنہ ینظر بنور اللہ۔(مصنف عبد الرزاق: ۱۰؍ ۴۵۱حدیث: ۱۹۶۷۴۔۔جامع معمر بن راشد: ۱؍ ۳۴۴حدیث: ۲۷۳)
ئ	احذروا دعوۃ المومن  و فراستہ  فإنہ ینظر بنور اللہ عزوجل و بتوفیق اللہ عزوجل۔(امثال الحدیث اصبہانی: ۱؍ ۱۶۳حدیث: ۱۱۴)
ئ	احذروا دعوۃ المومن  و  فراستہ  فإنہ ینظر بنور اللہ  و ینطق بتوفیق اللہ۔( الاربعون علی مذہب المتحققین من الصوفیہ اصبہانی: ۱؍ ۹۴حدیث: ۵۵۔۔ کنزالعمال:۱۱؍ ۸۸حدیث: ۳۰۷۳۱۔۔ المقاصد الحسنۃ: ۱؍۱۰)
ئ	المومن ینظر بنور اللہ الذي خلق منہ۔ (کنزالعمال:۱؍ ۱۶۵حدیث: ۸۲۳ ۔۔المقاصد الحسنۃ: ۱؍ ۲۲۹) 
(۱)	متن حدیث یوں ہے  :
ئ	لن یبقیٰ بعدي من النبوۃِ إلا المبشراتُ فقالوا و ما المبشراتُ یا رسول اللہ قال الرؤیا الصالحۃُ یراہا الرجل الصالح أو تُری لہ جزئٌ من ستۃ و أربعین جزء اً من النبوۃ۔ (موطا امام مالک: ۶؍ ۲۸ حدیث: ۱۵۰۶۔۔کنزالعمال: ۱۵؍۳۶۸حدیث: ۴۱۴۰۸)
ئ	لن یبقیٰ بعدي من النبوۃِ إلا المبشراتُ فقالوا و ما المبشراتُ یا رسول اللہ قال الرؤیا الصالحۃُ یراہا الرجل الصالح أو تُری لہ۔ (صحیح بخاری:۲۱؍ ۳۴۱حدیث: ۶۴۷۵۔۔ معجم کبیر طبرانی: ۳؍۲۹۷حدیث: ۲۹۷۹۔۔ شعب الایمان بیہقی: ۱۰؍ ۲۶۷حدیث: ۴۵۶۳۔۔ شرف اصحاب الحدیث خطیب بغدادی: ۱؍ ۲۷۳ حدیث: ۲۲۱۔۔ مجمع الزوائد و منبع الفوائد: ۳؍۲۵۱۔۔ کشف الخفاء : ۱؍ ۴۱۸حدیث: ۱۳۴۱۔۔مسندجامع: ۵۱؍ ۱۷۵ حدیث: ۱۷۰۷۹۔۔تحفۃ الاشراف: ۱۱؍ ۴۱۰حدیث: ۱۳۱۶۰۔۔ مشکوٰۃ المصابیح : ۲؍ ۵۴۳حدیث: ۴۶۰۶)
	یہ حدیث یوں بھی آئی ہے  :
ئ	إن الرسالۃَ و النبوۃ قد انقطعت فلا رسول بعدي ولا نبي قال فشق ذلک علی الناس فقال لکن المبشرات قالوا یا رسول اللہ و ما المبشرات قال رُؤیا المسلم و ہي جزئٌ من أجزاء النبوۃ۔ (سنن ترمذی: ۸؍ ۲۳۰حدیث: ۲۱۹۸۔۔ مسند احمد:۲۷؍ ۳۶۹حدیث: ۱۳۳۲۲۔۔مستدرک حاکم: ۱۹؍ ۵۸ حدیث: ۸۲۹۲۔۔ تفسیر من سنن سعید بن منصور: ۳؍ ۴۳۰حدیث: ۱۰۱۵۔۔ کنز العمال: ۱۵؍ ۳۶۷حدیث: ۴۱۴۰۷۔۔ مسند الجامع: ۴؍ ۸۵حدیث: ۱۱۷۰)
	یوں بھی آیا ہے  :
ئ	ذہبت النبوۃ و بقیت المبشرات۔(سنن ابن ماجہ:۱۱؍۳۷۰حدیث: ۳۸۸۶۔۔مسنداحمد:۵۵؍۱۱۷ حدیث: ۲۵۸۹۰۔۔سنن دارمی: ۶؍ ۳۸۰حدیث: ۲۱۹۳۔۔ صحیح ابن حبان: ۲۵؍ ۱۴۳حدیث: ۶۱۵۴۔۔ مشکل الآثار طحاوی: ۵؍ ۱۶۳حدیث: ۱۸۱۲۔۔کنزالعمال: ۱۵؍۳۷۶حدیث: ۴۱۴۵۳۔۔مسندجامع: ۵۳؍ ۱۳ حدیث: ۱۷۷۴۲۔۔  تحفۃ الاشراف: ۱۱؍ ۴۱۰حدیث: ۱۸۳۴۸۔۔  روضۃ المحدثین: ۷؍ ۱۷۱حدیث: ۲۹۴۶) 
اب ہم بعض وہ مقامات بیان کریں جہاں کشف پرعمل ہواہے۔حضرت خضر کو بعضوں نے نبی کہاہے مگر’’ معالم التنزیل‘‘ میں ہے کہ اکثر اہل علم کے نزدیک وہ نبی نہیں تھے،پھر دیکھیے کہ الہام وکشف پرعمل کرکے انھوں نے مساکین کی کشتی توڑ ڈالی اور ایک نوجوان لڑکامار ڈالا۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام کی والدہ بالاتفاق نبی نہیں تھیں انھوں نے اپنے بیٹے کو تابوت میں بند کرکے دریامیں ڈال دیا یہ فعل بھی ہلاک کر دینے کے قریب ہے لیکن بالہام الٰہی کیا۔یہ سب واقعے قرآن کریم میں موجودہیں اگرکوئی ان کو شریعت سلف ہونے کا خیال کرے تولیجیے اب اصحاب رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کاحال سنیے۔
مشکوٰۃ کے  باب الکرامات میں حدیث عائشہ رضی اللہ عنہا میں مروی ہے،وہ فرماتی ہیں کہ جب رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کے غسل وفات کی نوبت پہنچی توصحابہ کہنے لگے ہم نہیں جانتے کہ جسم مبارک سے کپڑے اتارکرغسل دیں یاکپڑوں کے ساتھ ہی،کسی کی یہ رائے ہوئی اور کسی کی وہ۔تب اللہ تعالیٰ نے سب پر نیندبھیج دی وہ سب سوگئے خواب میں کیادیکھتے ہیں کہ گھر کے گوشہ میں ایک بولنے والابولتا ہے کہ تم نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم کوکپڑوں سمیت غسل دو،پھر وہ نیند سے اٹھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کوکرتاپہنے ہوئے غسل دیا۔(۱)

(۱)	متن حدیث یوں ہے  :   لما أرادوا غسلَ النبي ﷺ  قالوا : لا ندري أ نُجرِّدُ رسولَ اللہ ﷺ من ثیابہ کما تُجَرد موتانا أم نغسلہ و علیہ ثیابُہ ؟ فلما اختلفوا ألقی اللہ علیہم النومَ حتیٰ ما منہم رجلٌ إلا و ذَقنُہ في صدرہ ثم کلمہم مکلِّم ٌمن ناحیۃ البیت لا یدرون من ہو؟ اغسلوا النبي ﷺ و علیہ ثیابہ فقاموا فغسلوہ و علیہ قمیصہ یَصُبُّون الماء فوق القمیص و یُدلِّکُونَہ بالقمیص۔ (مشکوٰۃ المصابیح: ۳؍۲۹۳حدیث: ۵۹۴۸)
	مندرجہ ذیل کی کتابوں میں اس حدیث کا اتمام یوں ملتا ہے  :
	و کانت (عائشۃ  رضي اللہ عنہا )  تقول لو استقبلت من الأمر ما استدبرت ما غسل رسولَ اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  إلا نساء ہ۔ (سنن داؤد: ۸؍ ۴۲۱ حدیث: ۲۷۳۳۔۔ مسند احمد: ۵۳؍ ۲۶۰ حدیث: ۲۵۱۰۲۔۔ دلائل النبوۃ بیہقی: ۸؍ ۳۶۹حدیث: ۳۱۹۶۔۔منتقی ابن جارود: ۲؍ ۷۱حدیث:۵۰۲)
	یہ حدیث یوں بھی ملتی ہے اور مرادِ مصنف کے زیادہ قریب ہے  :
	لما أرادوا غسلَ رسول اللہ  ﷺ  اختلفوا  فیہ۔ فقالوا : واللہ ما ندري کیف نصنع، أ نُجرِّدُ رسولَ اللہ ﷺ کما نُجَرد موتانا أم نغسلہ و علیہ ثیابُہ ؟ قالت: فلما اختلفوا ارسل اللہ علیہم السَّنَۃَ، حتی واللہ ما من القوم من رجلٍ إلا ذَقنُہ في صدرہ نائما۔ قالت : ثم کلمہم  من ناحیۃ البیت لا یدرون من ہو؟ فقال : اغسلوا النبي  صلی اللہ علیہ وسلم  و علیہ ثیابہ۔ قالت : فثاروا إلیہ، فغسلوا رسول اللہ ﷺ  و ہو في قمیصہ، یفاض علیہ الماء و السِّدرُ و یَدلِکُہُ الرجال بالقمیص۔ و کانت تقول : لو استقبلت من الأمر ما استدبرت ما غسلَ رسولَ اللہ ﷺ إلا نساء ہ۔ (مسندجامع: ۴۹؍۳۷۱حدیث:۱۶۴۳۴۔۔مسنداحمدبن حنبل: ۵۳؍ ۲۶۰حدیث: ۲۵۱۰۲ )
 اس حدیث میں لفظ قامواکاترجمہ زرقانی نے شرح مواہب میں یہ کیا ہے :
انتبہوا من النوم۔ 
یعنی نیند سے بیدارہوئے۔
اب دیکھیے کہ صحابہ نے بھی یہ عمل الہام منامی پر کیا ہے اور پھر صحابہ کرام کے بعد  فقہاومحدثین نے بھی بہت سے الہامات پرعمل کیا ہے۔حضرت مجدد الف ثانی ’’مکتوبات‘‘میں اس کی بابت ایک سوال وجواب میں لکھتے ہیں :
سوال: چوں دیں بہ کتاب وسنت کامل گشت بعد ازکمال بہ الہام چہ احتیاج بود وچہ نقصان ماندہ کہ بالہام کامل گرد۔
جواب: الہام مظہرکمالات خفیہ دین است نہ مثبت کمالات زائدہ در دین چنانچہ اجتہاد مظہراحکام است الہام مظہردقائق واسراراست کہ فہم اکثر مردم ازاں کوتاہ است ہرچنددراجتہادوالہام فرق واضح است کہ آں مستند بخالق راست  جل سلطانہ پس در الہام یک قسم اصالت پیداشدکہ دراجتہاد نیست الہام شبیہ اعلام نبی است کہ ماخذ سنت است چنانچہ بالاگذشت اگرچہ الہام ظنی ست وآں اعلام قطعی۔انتہیٰ۔
سوال:  اگرکتاب وسنت کے ذریعہ دین کی تکمیل ہوچکی ہے تو اب اس کمال کے بعد الہام کی کیاحاجت رہ جاتی ہے اور اس کے اندرایسا کون سانقص رہ گیا ہے جس کو الہام کے ذریعہ پوراکیاجائے؟
جواب: الہام دین کے خفیہ کمالات کا مظہر ہوتا ہے نہ کہ دین کے کمالات زائدہ کا۔جس طرح اجتہاد مظہراحکام ہے اسی طرح الہام ان دقائق واسرار کومنکشف کرتا ہے جن تک اکثر لوگوں کی رسائی نہیں ہوپاتی۔ ہرچند کہ اجتہادوالہام میں بین فرق ہے کہ وہ تو خالق مطلق کی طرف سے ہوتا ہے توالہام کے اندر اصالت کی ایک ایسی صورت پیداہو گئی جو اجتہاد میں نہیں۔الہام اعلام نبی کے مشابہ ہوتا ہے جس کاماخذسنت ہے  جیساکہ اوپرگزرچکاہے  گرچہ الہام ظنی ہے اور وہ اعلام قطعی۔
شیخ عبد الحق  رحمۃ اللہ علیہ  ’’مدارج النبوۃ‘‘میں لکھتے ہیں کہ اگر خواب میں حضور  صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی بات ازقسم احکام سنے تو اس پر عمل نہ کرے لیکن اس کی وجہ یہ نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رویت میں شک ہے بلکہ یہ اس سبب ہے کہ خواب دیکھنے والے کاضبط مفقود ہے۔پھر اس کے بعد لکھتے ہیں کہ احکام شرعیہ سے ہماری مراد وہ احکام ہیں جودین کی قرار داد کے خلاف ہوں اور اگر وہ ایسے نہیں تو ان کے قبول کرنے میں کسی کا بھی اختلاف نہیں۔
  اصل عبارت یوں ہے :
و مراد احکام شرعیہ کہ مخالف قرارداد دین ست و الا بعضے علوم کہ نہ ازیں قبیل باشد در قبول آں وعمل بداں خلافے نخواہد بودہ بسیارے از محدثین تصحیح احادیث کہ مروی است از حضرت وی نمودہ عرض کردہ کہ یارسول اللہ فلاں ایں حدیث از حضرت تو روایت کردہ است پس فرمودآں حضرت نعم او لاو در رویت کہ در یقظہ است بعضے مشائخ نیز ہم چنیں استفادہ علوم نمودہ اند۔
یعنی احکام شرعیہ سے ہماری مراد یہ ہے کہ جو دین کے قرار داد کے مخالف نہ ہو۔ورنہ بعض علوم کہ جو اس قبیل سے نہیں ہیں ان کوبھی قبول کرکے انھیں جامہ عمل پہنادیا گیا ہے۔ اور بہت سے محدثین نے نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم  سے مروی صحیح احادیث کے سلسلہ میں عرض کیا کہ یارسول اللہ!کیا فلاں حدیث آپ سے مروی ہے؟تونبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم   نے فرمایا ہاں یا نہیں۔ اور عالم بیداری میں جو رویت ہوتی ہے اس سے بھی بعض مشائخ نے استفادہ کیا ہے۔
اسی طرح مفسر روح البیان نے بھی لکھا ہے کہ عالم رویامیں بہت سے علمانے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث حاصل کی ہیں۔
جب کشف ومنامات اولیاکی یہ حقیقت ظاہرہو گئی تو اب معلوم ہوناچاہیے کہ جب اہل مکاشفہ نے عمل میلاد سے رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کوخوش پایا، مجلس میں انوارِ الٰہی دیکھے،بعض عین مجلس میں زیارت سے مشرف بھی ہوئے اور بعضوں کو خواب میں فرمایاکہ ہم بھی وہاں آتے ہیں۔ اب جب ہم اس کشف ومنام کو شریعت (کی کسوٹی) پرپیش کرتے ہیں تواس کو دین متین کی قرار داد کے مخالف نہیں پاتے ،اس لیے کہ مکانِ مجلس یقینازمین کاکوئی ٹکڑاہو گاتو اقطارالارض میں داخل ہو گا اور اقطارِ ارض میں آپ  صلی اللہ علیہ وسلم کے چلنے پھرنے کوامام سیوطی رحمۃ اللہ علیہ   نے احادیث وآثار سے ثابت کیا ہے، لہٰذا اس مکاشفہ کا مضمون ،مضمون حدیث کے افرادوحصص میں سے ایک فرد اور حصہ ہوا،دین کے مقررہ احکام سے کسی حکم کامخالف تو نہ ہوا،اس لیے مقبولین امت محمد یہ  علی صاحبہا الصلوٰۃ والتحیہ نے اس کو بسروچشم قبول کیا۔ اور شاہ ولی اللہ صاحب نے بھی لکھ دیاکہ جب کوئی صاحب دل ،ذوق وشوق سے ہمت لگاتا ہے توحضور صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس کی طرف نزول (۱)   فرماتے ہیں۔
مسئلہ علم غیب مصطفیٰ
اعتراض:اگر کوئی یہ کہے کہ روح مبارک کوخبرہو جانی ،علم غیب ہے اور علم غیب اللہ تعالیٰ کے سواکسی کو نہیں ہوتاکہ اللہ تعالیٰ نے سورۂ نمل میں فرمایا :
قُلْ لاَ یَعْلَمُ مَنْ فِي السَّمٰوَاتِ وَ الأرْضِ الْغَیْبَ إلاَّ اللّٰہُ۔ (۲)
تم فرماؤ غیب نہیں جانتے جوکوئی آسمانوں اور زمین میں ہیں مگراللہ۔
نیزاللہ تعالیٰ نے رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کوسورۂ اعراف میں حکم کیاکہ اے محمد !  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں سے کہ دو  :
لَو کُنْتُ أعْلَمُ الْغَیْبَ لَاسْتَکْثَرْتُ مِنَ الْخَیْرِ وَ مَا مسَّنِيَ السُّوئُ۔ (۳)
 اور اگر میں غیب جان لیا کرتاتویوں ہوتاکہ میں نے بہت بھلائی جمع کر لی اور مجھے کوئی برائی نہیں پہنچی۔
جواب:  اس کا یہ ہے کہ اگرآپ صاحبوں کوان آیتوں پر ایمان ہے تو مبارک ہو،بہت اچھی بات ہے لیکن چاہیے کہ دوسری آیتوں کوبھی سچی جانو۔سورۂ آل عمران میں ہے  :
وَمَا کَانَ اللّٰہُ لِیُطْلِعَکُمْ عَلَی الْغَیْبِ وَلٰکِنَّ اللّٰہَ یَجْتَبِيْ مِنْ رُّسُلِہٖ مَنْ یَّشَائُ۔(۴)
 اور اللہ کی شان یہ نہیں کہ اے عام لوگو! تمھیں غیب کا علم دیدے،ہاں !اللہ چن لیتا ہے اپنے رسولوں سے جسے چاہے۔
سورۂ جن میں ہے  :

(۱)	حاشیہ:مولف براہین کا یہ کہناکہ یہ قصہ ملائکہ کا ہے سخت غلطی ہے، اس لیے کہ یہاں ’’متوجہ الی الخلق‘‘ اور ’’ کل ذی کبد‘‘کے الفاظ ہیں نیزذات مقدس رحمۃ للعالمین ہے، اور قبرمبارک کے زائر کے حالات اور نیت قلبی وغیرہ پر مطلع ہوناتوعلی العموم ہے،پھراس جہدہمت اور ذی کبدمشتاق کی قیدکاکیافائدہ!۔ لہٰذا مکاشفہ عام ہے۔ہاں ! اگریہ کہیں کہ یہ قصہ شاہ صاحب پرمدینہ میں منکشف ہواتو بعیدنہیں۔ ۱۲منہ
(۲)	سورۂ نمل،۲۷؍ ۶۵۔
(۳)	سورۂ اعراف،۷؍ ۱۸۸۔
(۴)	سورۂ آل عمران،۳؍ ۱۷۹۔
عَالِمُ الْغَیْبِ فَلاَ  یُظْہِرُ عَلٰی غَیْبِہٖٓ أحَداً إلاَّ مَنِ ارْتَضٰی مِنْ رَّسُوْلٍ۔ (۱)
غیب کاجاننے والا تو اپنے غیب پرکسی کو مسلط نہیں کرتاسوائے اپنے پسندیدہ رسولوں کے۔
ان چاروں آیتوں کو ملانے سے اہل سنت وجماعت کامسئلہ اعتقادی کھل جاتا ہے یعنی اصل عالم الغیب اور علام الغیوب تو اللہ تعالیٰ ہے،زمین وآسمان میں کوئی ایسانہیں جو یقینی طور پر کسی بات کوبلا تعلیم والہام الٰہی ،جان لے،ہاں ! اللہ تعالیٰ اپنے پیارے برگزیدہ رسولوں میں سے جس کو چاہے غیب کی خبریں بتادیتا ہے توجوشخص یوں کہے کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کچھ بھی غیب کی بات نہ جانتے تھے وہ اللہ کے کلام کا منکر ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا  :
غیب کی خبروں کے لیے جس کوچاہے چھانٹ لیتا ہے۔ 
نیزحدیث رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کابھی منکر ہوا کہ مشکوٰۃ کے  باب المعجزات  میں عمروبن اخطب انصاری سے روایت ہے کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم کو فجرکی نمازجماعت سے پڑھائی، اور منبرپرچڑھے،ہم کو نصیحت فرمائی یہاں تک کہ ظہرکاوقت آ گیا،آپ منبر سے اُترے،نمازپڑھی پھرمنبرپرچڑھ کرہم کو نصیحت فرماتے رہے کہ عصر کا وقت آ گیا،آپ اُترے، نمازپڑھی پھرمنبرپرچڑھے یہاں تک کہ سورج غروب ہو گیا۔اس دن رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قیامت تک جوکچھ ہونے والاہے ہم کوسب بتادیا،اب ہم میں زیادہ عالم وہ ہے جس کو اس دن کی زیادہ باتیں یاد ہیں۔یہ حدیث مسلم نے روایت کی ہے۔(۲)

(۱)	سورۂ جن،۷۲؍ ۲۶۔
(۲)	(مشکوٰۃ المصابیح:۳؍۲۹۰حدیث: ۵۹۳۶۔۔صحیح مسلم:۱۴؍۷۴حدیث: ۵۱۴۹۔۔ مسنداحمد: ۴۶؍ ۳۶۶حدیث: ۲۱۸۱۷۔۔الآحاد و المثانی ابن ابی عاصم: ۶؍ ۱۷۸حدیث: ۱۹۲۴۔۔ معجم کبیر طبرانی: ۱۱؍ ۴۱۶حدیث: ۱۳۵۲۳۔۔ دلائل النبوۃبیہقی: ۷؍ ۸۶حدیث: ۲۵۷۴۔۔ مسند ابویعلی موصلی: ۱۴؍ ۱۰۴ حدیث: ۶۶۹۶۔۔ صحیح ابن حبان: ۲۷؍ ۳۲۱حدیث: ۶۷۶۴۔۔ الایمان ابن مندہ: ۳؍ ۱۲۱حدیث: ۱۰۲۲۔۔ الفقیہ و المتفقہ خطیب بغدادی: ۳؍۴۹ حدیث: ۹۳۵۔۔ مسند جامع: ۳۲؍ ۴۳۲حدیث: ۱۰۷۰۰۔۔ تحفۃ الاشراف: ۹؍ ۴۹۲ حدیث: ۱۰۶۹۶ ۔۔ فتح الباری شرح بخاری ابن حجر:۹؍ ۴۷۳حدیث: ۲۹۵۳۔۔ الدیباج علی مسلم: ۶؍ ۲۱۹حدیث: ۲۸۹۲۔۔ ریاض الصالحین: ۱؍ ۱۹۹ باب المنثورات والملح ۔۔ سبل الہدیٰ و الرشاد: ۱۰؍ ۱۳۹۔۔ الاصابۃ فی معرفۃ الصحابۃ: ۳؍ ۳۳۰۔۔تہذیب الکمال: ۲۰؍ ۲۹۴۔۔البدایۃ والنہایۃ: ۱؍۸۔۔ النہایۃ فی الفتن والملاحم :۱؍ ۶ اشارات نبویۃ الی الاحداث ۔۔ تاریخ الاسلام ذہبی: ۱؍ ۱۰۸  فوقعت کما اخبر )
	متن حدیث یوں ہے  :
	و عن عمرو بن أخطب الأنصاري قال صلی بنا رسولُ اللہ ﷺ یوما الفجرَ و صعد المنبرَ فخطَبَنا حتی حضرت الظہرُ فنزل فصلی ثم صعد المنبرَ فخطبنا حتی حضرت العصرُ ثم نزل فصلی ثم صعد المنبر فخطبنا حتی غربت الشمسُ فأخبرنا بما کانَ و بما ہو کائنٌ فأعلمُنا أحفظُنا۔
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت سی غیب کی خبریں دی ہیں۔
 حذیفہ رضی اللہ عنہ  فرماتے ہیں کہ آپ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قیامت تک ہونے والی کوئی چیزنہ چھوڑی جو ہم کو نہ بتائی ہو۔(۱)
ابوذر رضی اللہ عنہ  فرماتے ہیں کہ آپ اس عالم سے اس حال میں تشریف لے گئے کہ  ہم کو ہرچیزبتاگئے،اگرکوئی جانور بھی آسمان میں بازوہلاتا ہے تووہ بھی آپ ہم سے ذکرکرچکے ہیں۔ یہ امام احمد اور طبرانی نے روایت کی ہے۔(۲)

(۱)	متن حدیث یوں ہے  :   عن حذیفۃ بن الیمان قال : خطبنا رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  فأخبرنا بما ہو کائن إلی یوم قیام الساعۃ۔ (الایمان لابن مندہ: ۳؍۱۱۹حدیث: ۱۰۲۰۔۔ مسندبزار: ۷؍۲۷۶حدیث: ۲۴۳۷۔۔ السنن الواردۃ فی الفتن دانی: ۱؍۳حدیث:۱۔۔ کنزالعمال: ۱۲؍ ۴۲۶حدیث: ۳۵۴۸۳۔۔ مسند الجامع: ۱۴؍ ۳۲۷ حدیث: ۴۵۹۹)
ئ	عن المغیرۃ بن شعبۃ أنہ قال قام فینا رسول  اللہ   صلی اللہ علیہ وسلم  مقاما فأخبرنا بما یکون في أمتہ إلی یوم القیامۃ وعاہ من وعاہ و نسیہ من نسیہ۔ (مسنداحمد: ۳۷؍۱۷۰حدیث: ۱۷۵۱۴۔۔ مجمع الزوائد ومنبع الفوائد: ۴؍ ۱۴۔۔معجم کبیر طبرانی: ۱۵؍ ۳۷۷حدیث: ۱۷۴۵۰۔۔الضعفاء الکبیر عقیلی: ۵؍ ۴۴۵حدیث: ۱۲۷۵۔۔ مسندالجامع: ۳۶؍ ۱۴۵حدیث: ۱۱۷۷۲)
ئ	عن أبي سعید قال : قام فینا رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  مقاما فحدثنا بما ہو کائن إلی یوم القیامۃ۔ (سبل الہدیٰ و الرشاد: ۱۰؍ ۱۴۰)
(۲)	اس حدیث کامتن الفاظ کے ذراسے فرق کے ساتھ مختلف کتابوں میں درج ہے  :
ئ	عن أبي ذر قال : لقد ترکنا رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  و ما یقلب طائر جناحین في السماء إلا ذکر لنا منہ علما۔ (سبل الہدیٰ و الرشاد: ۱۰؍ ۱۴۰۔۔روضۃ المحدثین: ۱۲؍ ۲۹۹حدیث: ۵۷۹۹ )
ئ	لقد ترکَنا محمد ٌ  صلی اللہ علیہ وسلم  و ما یحرک طائر جناحیہ في السماء إلا أذکرَنا منہ علما۔ (مسنداحمد:۴۳؍ ۳۶۵حدیث: ۲۰۳۹۹۔۔مجمع الزوائد ومنبع الفوائد: ۴؍ ۱۴۔۔ مسندجامع: ۳۸؍ ۳۶ حدیث:۱۲۳۴۱)
ئ	لقد ترکنا رسولُ اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  و ما یتقلب في السماء طائر إلا ذکِّرنا منہ علما۔ (مسنداحمد:۴۳؍۴۳۳حدیث: ۲۰۴۶۷۔۔مسند طیالسی: ۱؍ ۴۹۲حدیث: ۴۷۵۔۔ الزہد لوکیع: ۲؍ ۹۰ حدیث: ۵۱۴ ) 
ئ	ترکْنا رسولَ اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  و ما طائر یقلِّب جناحیہ في الہواء إلا و ہو یذکِّرنا منہ علما۔ (معجم کبیر طبرانی:۲؍۲۱۱حدیث: ۱۶۲۴۔۔معجم الشیوخ صیداوی: ۱؍ ۱۹۱حدیث: ۹۳۔۔ کنز العمال : ۱۲؍ ۴۲۳حدیث: ۳۵۴۷۸)
ئ	قال أبو الدرداء لقد ترکنا رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  و ما في السماء طیر یطیر بجناحیہ إلا ذکرنا منہ علما۔ (مسندابویعلی موصلی: ۱۰؍ ۳۶۷حدیث: ۴۹۸۱۔۔ المطالب العالیہ عسقلانی: ۱۱؍۱۲۳حدیث: ۳۹۴۵۔۔مجمع الزوائد ومنبع الفوائد: ۴؍ ۱۴)
مزید آپ نے فرمایاکہ میں اپنے اگلے پچھلے سب امتیوں کوجانتاہوں جیسے تم اپنے ایک دوست کوپہچانتے ہواس سے کہیں زیادہ میں ہرآدمی کوپہچانتاہوں  رواہ الطبراني 
قطع نظر اس سے کہ اعمال امت آپ کے سامنے پیش کیے جاتے ہیں۔
روی البزار بسند جید عن ابن مسعود  رضی اللہ تعالیٰ عنہ   عن النبي  صلی اللہ علیہ وسلم  قَالَ حَیٰوتِي خَیْرٌ لَکُمْ وَ مَمَاتِي خَیْرٌ لَّکُمْ۔۔۔۔۔تُعْرَضُ عَلَيَّ أعْمَالکُمْ فَمَا کَانَ مِنْ حَسَنٍ حَمِدْتُ اللّٰہَ عَلَیْہِ وَ مَا کَانَ مِنْ سَیِّیء اسْتَغْفَرْتُ اللّٰہَ لَکُمْ۔ (۱)
یعنی بزارعمدہ سندکے ساتھ ابن مسعود  رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:میری زندگی بھی تمہارے لیے خیر اور میری وفات بھی تمہارے لیے خیر ہے،مجھ پرتمہارے اعمال پیش کیے جاتے ہیں تواچھے کاموں پرمیں اللہ کاشکر ادا کرتاہوں اور برے کاموں پرتمہارے لیے استغفار کرتاہوں۔

(۱)	بغیۃ الحارث : ۱؍ ۲۸۸حدیث: ۱۴۔۔المطالب العالیۃ عسقلانی: ۱۱؍ ۹۳حدیث: ۳۹۲۵۔۔مسندحارث: ۴؍ ۲۳ حدیث: ۹۴۳۔۔ مجمع الزوائدومنبع الفوائد: ۴؍ ۶۸۔
	یہ حدیث یوں بھی ملتی ہے  :
ئ	حیاتي خیر لکم تحدثون و نحدث لکم، و وفاتي خیر لکم تعرض علي أعمالکم، فما رأیت من خیر حمدت اللہ علیہ، و رأیت من شر استغفرت اللہ لکم۔ (البحر الزخار مسندبزار:۵؍ ۳۳۱ حدیث: ۱۷۰۲۔۔کنزالعمال: ۱۱؍ ۴۰۷حدیث: ۳۱۹۰۳)
ئ	حیاتي خیر لکم تحدثون و یحدث لکم و وفاتي خیر لکم تعرض علي أعمالکم فما کان من حسن حمدت اللہ علیہ و ما کان من سییء استغفرت اللہ لکم۔ (بغیۃ الحارث : ۱؍ ۲۸۸حدیث: ۱۴ ۔۔المطالب العالیۃ عسقلانی: ۱۱؍ ۹۳حدیث: ۳۹۲۵۔۔مسندحارث: ۴؍ ۲۳حدیث: ۹۴۳۔۔ مجمع الزوائدومنبع الفوائد: ۴؍ ۶۸ )  
ئ	حیاتي خیر لکم تحدثون و یحدث لکم، فإذا أنا مت کانت وفاتي خیر لکم،  تعرض علي أعمالکم، فإن رأیت خیرا حمدت اللہ، و إن رأیت غیر ذلک  استغفرت اللہ لکم۔(فضل الصلوٰۃ علی النبی اسماعیل بن اسحق:۱؍۲۵حدیث: ۲۴)
ئ	حیاتي خیر لکم و موتي خیر لکم، أما حیاتي فأسن لکم السنن و أشرع لکم الشرائع، و أما موتي فإن أعمالکم تعرض علي فما رأیت منہا حسنا حمدت اللہ علیہ، و ما رأیت منہا سیئا استغفرت اللہ تعالی لکم۔ (تخریج احادیث الاحیائ: ۸؍ ۲۸۷)
شاہ عبد العزیز رحمۃ اللہ علیہ  تفسیر عزیزی سورۂ بقرہ میں    و  یکون الرسول علیکم شہیدا  کے تحت لکھتے ہیں  :
رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم مطلع است بہ نور نبوت بررتبہ ہر متدین بدین خود کہ در کدام درجہ از دین من رسیدہ  الی ان قال در روایات آمدہ ہر نبی رابر اعمال امتیاں خود مطلع می سازند کہ فلانی چناں می کند و فلانی چناں تاروز قیامت اداے شہادت تواں کرد انتہی  
یعنی حضور  صلی اللہ علیہ وسلم  نورِ نبوت سے ہر دین دار کے اس رتبہ پر مطلع ہیں کہ جس تک وہ پہنچاہواہے  یہاں تک فرمایاکہ  ہرنبی اپنی امتوں کے اعمال سے واقف ہوتا ہے کہ فلاں کیا کرتا ہے اور فلاں کیا؟تاکہ بروزِ محشر اس کی شہادت دے سکیں۔
نیزعلامہ اسماعیل آفندی،قسطلانی اور زرقانی  رحمۃ اللہ علیہم روایت کرتے ہیں  :
عن سعید بن المسیب قال لیس من یوم إلا و تعرض علی النبي  صلی اللہ علیہ وسلم  أعمال أمتہ غدوۃ و عشیۃ فیعرفہم بسیماہم و أعمالہم فلذلک یشہد علیہم یوم القیامۃ۔
یعنی حضرت سعیدبن مسیب  رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ کوئی ایسا دن نہیں گزرتا کہ جس میں صبح وشام ،رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آپ کی امت کے اعمال نہ پیش کیے جاتے ہوں آپ اپنے امتیوں کو ان کی علامت ونشانی اور ان کے اعمال سے پہچان لیتے ہیں تبھی تو قیامت کے روز آپ امتیوں کی گواہی دیں گے۔
جب احادیث میں آ چکاکہ ہرروز صبح وشام دوبار امت کے اعمال آپ کے سامنے پیش کیے جاتے ہیں پھر نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم کومیلاد کی جملہ محفلوں کی بابت معلوم ہو جاناکیا بڑی بات ہے !۔
مولف براہین گنگوہی کا یہ لکھنا ایک عجیب قانون ہے  :
تمام امت کا اعتقاد یہ ہے کہ جناب فخرعالم علیہ السلام کو اور سب مخلوقات کو جس قدر علم حق تعالیٰ نے عنایت کر دیا اور بتلادیا اس سے ایک ذرہ بھی زیادہ علم ثابت کرنا شرک ہے۔انتہیٰ۔
اس تقریر پر توایک زمانہ مشرک ہو جائے گا۔مثلاً کسی نے اپنے استاد کو اپنے ذہن میں بڑا عالم،یا اپنے مرشد کو بڑاصاحب کشف سمجھ لیاحالاں کہ حق تعالیٰ نے ان کو اس قدر علم اور کشف نہ دیا تھا تومولف براہین کے نزدیک ذرہ بھرزیادہ سمجھنے سے وہ مشرک ٹھہرے گا  معاذ اللہ  
پھراس سے قطع نظر ہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت تو ہم اسی قدر ثابت کرتے ہیں جس قدر شرع میں ثابت ہے  اس سلسلہ کی نصوص اوپرگزرچکیں  اور روحانی حرکت بھی اسی قدر ثابت کرتے ہیں جونصوص سے ثابت ہیں۔
 مولف براہین صفحہ۴۵پر درمختاروغیرہ کے حوالے سے ایک مسئلہ لکھتے ہیں  :
اگر کوئی نکاح کرے حق تعالیٰ اور فخر عالم علیہ السلام کی شہادت کے ساتھ۔تو فخر عالم کی نسبت علم غیب کاعقیدہ رکھنے کی وجہ سے وہ کافر ہو جاتا ہے۔ انتہیٰ۔
یہ مسئلہ بھی آپ نے صحیح نہیں لکھا۔اس کی اصل تحقیق یہ ہے کہ اگر کوئی شخص نکاح کرے اور گواہ نہ ہوں،صرف اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کوگواہ کرکے نکاح کر لے تو وہ نکاح بالاتفاق ناجائزہے ،اس لیے کہ یہاں گواہ دو ہونے چاہئیں کہ اگر نکاح میں جھگڑا ہوتوعدالت میں گواہی دے سکیں۔نیزیہ بھی کہ اللہ تعالیٰ تو ہرنکاح میں شاہد ہوتا ہے پھر شریعت میں اس ذات پاک کے علاوہ اور دوگواہ مطلوب ہیں اور وہ یہاں نہیں ،لہٰذا وہ نکاح ہرگز نہ ہوا۔اس پر اتفاق ہے لیکن بعض علمانے اس کو کافربھی کہ دیا جس کا ذکر مولف براہین نے کیا ہے  مگریہ صحیح نہیں کیوں کہ درمختار میں اس کی تضعیف کی طرف اشارہ کیا ہے  :
قیل یکفر۔
یعنی کہا گیا ہے کہ اس کی تکفیر کی جائے۔
قیل کا لفظ تضعیف کے لیے آتا ہے، اور فتاویٰ قاضی خان کی  کتاب النکاح میں لکھا ہے  :
و بعضہم جعلوا ذلک کفرا۔
یعنی بعض علمانے اس کے کافرہونے کا قول کیا ہے۔
لیکن ابھی بھی واضح نہیں ہواکہ خود قاضی خان کی رائے اس کے موافق ہے یا نہیں تویہ بات انھوں نے کلمات کفر میں کھول دی،وہاں انھوں نے یوں لکھا ہے  :
قالوا یکون کفرا۔
یعنی علمانے فرمایاکہ اس کی تکفیرکی جائے گی۔
شرح منیہ وغیرہ میں یہ اصطلاح صراحۃً لکھی ہے کہ لفظ  قالوا  ایسے موقع میں لکھاجاتا ہے جہاں اپنی رائے میں وہ امر مستحسن نہیں ہوتا۔
شرح منیہ کے  ذکر قنوت میں لکھا ہے کہ قاضی خاں کا لفظ قالوا لکھناغیرمختارہونے کی دلیل ہے۔ان کی عبارت یوں ہے  :
و کلام قاضي خان یشیر إلی عدم اختیارہ لہ ففي قولہ قالوا إشارۃ إلی عدم استحسانہ لہ۔
لہٰذا اُن فتاویٰ سے معلوم ہو گیاکہ کافرکہنا ضعیف ہے۔ اب ہم عدم کفر پرواضح تردلیل لاتے ہیں۔فقیہ شامی نے درمختار کے قول مذکورپر جس کی سندبراہین میں پکڑی ہے  تحریرکیا ہے  :
قال في التتار خانیۃ و في الحجۃ ذکر في الملتقط أنہ لا یکفر لأن الأشیاء تعرض علی روح النبي  صلی اللہ علیہ وسلم ۔
تتارخانیہ اور حجت میں کہاکہ ملتقط میں مذکورہے کہ اس کی تکفیر نہیں کی جائے گی کیوں کہ چیزیں نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم کی روح مبارک پر پیش کی جاتی ہیں۔
اب اس سے قوی تر دلیل سنو۔’’خزانۃ الروایات‘‘میں مضمرات سے نقل کیا ہے  :
و الصحیح أنہ لا یکفر لأن الأنبیاء  علیہم السلام  یعلمون الغیب و یعرض علیہم الأشیاء فلا یکون کفرا۔
یعنی صحیح بات یہ ہے کہ اس کی تکفیر نہ کی جائے گی کیوں کہ انبیاے کرام  علیہم السلام  غیب کاعلم رکھتے ہیں اور ان پر اشیاپیش کی جاتی ہیں توکفر کیسا!۔
ہم نے اس آخری روایت کو قوی اس لیے لکھاکہ اس میں لفظ ’تصحیح، موجودہے،جوالفاظِ فتویٰ سے ہے۔ یعنی اس اختلاف علمامیں صحیح بات یہی ہے کہ وہ کافرنہیں ہوتا۔تو درمختار، تضعیف قاضی خان، شامی، تاتارخانیہ،فتاویٰ حجر،تصریح ملتقط،خزانۃ الروایات اور تصحیح مضمرات سے صاف ثابت ہو گیا کہ وہ کافر نہیں ہوتا۔ اور اس کی دلیل یہ ہے کہ دنیاجہاں کی چیزیں نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم کی روح مبارک کے سامنے پیش کی جاتی ہیں۔ اور فتح القدیروغیرہ میں ہے کہ جب روایت فقہ وحدیث متفق ہوتواس کو ہرگزنہ چھوڑا جائے۔لہٰذا فتاویٰ کا یہ حکم دائمی ،حکیم ترمذی،بزار،عبد اللہ بن مبارک، اور محدثین  رحمہم اللہ تعالیٰ سے منقولہ، اعمال پیش کی جانے والی حدیث کے مطابق، صحیح رہا۔
زرقانی نے شرح مواہب میں لکھا ہے   :
  تمام انبیا اور ان کے والدین کوہرجمعہ ،امت اور اولادکے اعمال اجمالاً پیش کیے جاتے ہیں اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کوان سب پریہ شرف دیا گیاکہ آپ کو ہر روز دوبارتفصیلاً اور بروزِجمعہ اجمالاً مطلع کیاجاتا ہے  انتہیٰ 
اب دیکھیے یہ عرض اعمال ،علم کا بہترین وسیلہ ہے اور شرعی مسئلہ بھی ہے جس کومفتیان دین لے چکے ہیں۔اس بنیادپریہ جانناکہ روحِ نبی  صلی اللہ علیہ وسلم کومحفل کی خبر ہو جاتی ہے ہرگز شرک نہیں ، توجوکوئی محفل کرتا ہے،زیادہ تریہ ہوتا ہے کہ ایک دودن پہلے سے اس کی اطلاع ہو جاتی ہے اور اس کے سامان شروع ہو جاتے ہیں ورنہ اتناتوضرورہوتا ہے کہ اگر شام کو محفل ہو تو صبح سے شیرینی یاکھانے وغیرہ کا کچھ انتظام ہونے لگتا ہے، اور اگرصبح کومحفل ہونی ہے تو شام سے شروع ہو جاتا ہے اور لوگوں کواطلاع شروع ہو جاتی ہے۔
اب سمجھناچاہیے کہ جب ہر روز حضور  صلی اللہ علیہ وسلم کوصبح وشام دو مرتبہ اعمالِ امت کی خبر دی جاتی ہے توجس کے گھر میں شام کومحفل ہو گی اور اس نے جوکچھ صبح کوسامان کیاہو گا یا کسی کو خبر دی ہو گی وہ عمل ،صبح کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچ چکاہو گا کہ شام کو ہمارے فلاں امتی کے گھرمحفل ہو گی، اور اگر اس کے گھرصبح کو محفل ہونے والی ہے اور شام کو اس شخص نے اسباب فراہم کیاہو گا یا کسی کے سامنے منھ سے نکالاہو گاکہ میں صبح کو محفل کروں گاتو اس کی اِتنی ہی خبرمحفل منعقد ہونے سے پہلے پہنچ چکی ہو گی۔
علاوہ ازیں محفل میلاد شریف میں کثرت سے درود وسلام پڑھاجاتا ہے اور حدیث شریف کے مطابق فرشتے مجلس کا درودنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچاتے ہیں۔یہ بھی ایک ذریعہ ہے کہ حضور  صلی اللہ علیہ وسلم کو مجلس میں درودپڑھنے والوں کی نام بنام اطلاع ہے۔حدیث میں آیا ہے کہ فرشتے درود پڑھنے والے کا نام لے کرحضور  صلی اللہ علیہ وسلم  کو درود پہنچاتے ہیں۔ اور اہل محبت، قصائدعشقیہ بھی پورے ذوق وشوق سے پڑھتے ہیں ، اور شاہ ولی اللہ صاحب کا مکاشفہ اوپرگزرچکاہے کہ جو کوئی ذوق وشوق سے متوجہ ہوتا ہے،مدح اور درودوسلام پڑھتا ہے توحضور  صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طرف نزول فرماتے ہیں۔اس مکاشفہ کی تائید حدیث سے بھی پائی جاتی ہے۔’’دلائل الخیرات‘‘کے دیباچہ میں ایک حدیث ہے کہ حضور  صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ جو لوگ آپ سے دور اور نگاہوں سے اوجھل ہیں اور آپ کے مبارک زمانے کے بعد پیدا ہوں گے ،ان کے درود کا کیاحال ہے ؟آپ نے ارشاد فرمایا  :
اسمع صلاۃ أہل محبتي و أعرفہم و تعرض علي صلاۃ غیرہم عرضا۔
یعنی اپنے شیدائیوں کادرودو سلام میں خودسنتاہوں اور انھیں پہچانتابھی ہوں۔جب کہ اور وں کا درودمجھ پر پیش کیاجاتا ہے۔ 
   علامہ مہدی فاسی نے شرح دلائل الخیرات میں اس کے معنی یوں لکھے ہیں  : 
أسمع بلا واسطۃ صلاۃ أہل محبتي الذین یصلون علی محبۃ لي و شوقا و تعظیما و ظاہرہ سواء صلی علیہ المحب لہ عند قبرہ أو نائیا عنہ و أعرفہم لتألف أرواحہم بروحہ و تعارفہا معہا بالمحبۃ الرابطۃ و الأرواح جنود مجندۃ فما تعارف منہا ائتلف و ما تناکر منہا اختلف و لتکرر صلاتہم علیہ و إکثارہم لہا من أجل المحبۃ المقتضیۃ لذلک و تعرض علي صلاۃ غیرہم عرضا فہو إنما یسمعہا بواسطۃ  انتہیٰ ملخصا 
یعنی میں اپنے محبت کرنے والوں کا درود  جوکہ میری تعظیم وعقیدت اور شوق ومحبت میں پڑھتے ہیں  بغیرکسی واسطہ کے سن لیتاہوں۔ اور حدیث کا ظاہر مطلق ہے خواہ وہ قریب سے درود بھیجیں یا دور سے۔ اور میں انھیں پہچانتابھی ہوں کیوں کہ روحوں میں محبت کے حوالے  سے الفت باہم اور جان پہچان ہوتی ہے، اور روحیں لشکرکی مانند ہوتی ہیں جن میں جان پہچان ہو جاتی ہے ان میں الفت بھی ہو جاتی ہے اور جن میں جان پہچان نہیں ہوتی ان میں الفت بھی نہیں ہوتی مزید اختلاف پیداہو جاتا ہے۔ اور میں ان اہل محبت کو درود کی کثرت کی وجہ سے پہنچانتا ہوں جو وہ مجھ پرمحبت وعقیدت کے باعث پڑھتے ہیں۔ اور دوسروں کا سلام چوں کہ فرشتے پہنچاتے ہیں تو اس کوبواسطہ سنتاہوں۔
’’مزرع الحسنات شرح دلائل الخیرات‘‘میں ہے  :
و أعرفہم می شناسم اہل محبت را بسبب اتصال روحی و قرب معنوی ایشاں باروح مقدس  ع:  قرب جانی چوبود بعدمکانی سہل است۔  و تعرض صلاۃ  غیرہم عرضا یعنی فرشتگان درود غیرآں ہارا بر من عرض می کنند بواسطہ آں ہا می شنوم و شنیدن بلاواسطہ مخصوص بمحبان و عاشقانے است کہ مذکور شدند۔
یعنی میں اہل محبت کو روحانی لگاؤ اور معنوی قرب کی وجہ سے پہنچان لیا کرتاہوں۔جان سے جب آدمی قریب ہوتا ہے تو بعد مکانی آسان ہو جاتا ہے۔ اور اہل محبت کے علاوہ اور وں کادرود فرشتے مجھ پرپیش کیا کرتے ہیں اور ان کے ذریعہ سے میں ان کادرود سنتاہوں جب کہ عاشقوں اور اپنے شیدائیوں کادرود خود اپنے کان سے سنتاہوں جیساکہ مذکور ہوا۔ 
دلائل الخیرات کی حدیث کو دونوں شارحین نے مسلم رکھا تو معلوم ہواکہ محبت بھی روحانی قرب کا سبب ہے۔حضور  صلی اللہ علیہ وسلم اپنے چاہنے والوں کادرود( دورسے) خود سن لیا کرتے ہیں جس طرح مزارشریف کے قریب کادرود سنتے ہیں،یہ ظاہری دوری کوئی رکاوٹ نہیں بنتی۔ اور شاہ ولی اللہ صاحب کا مکاشفہ ظاہرکرتا ہے کہ درودخوانی کے علاوہ دوسری حالتوں میں بھی حضور  صلی اللہ علیہ وسلم اپنے خاص محبین کی امداد فرماتے ہیں۔چنانچہ’’درثمین‘‘کی بارہویں حدیث میں انھوں نے اپناحال یوں لکھا ہے  :
لم أتعیش لیلۃ من اللیالي فألہم بعض أصحابنا أن یہدی إلی إناء من لبن فشربتہ ثم نمت علی الوضوء فرأیت روح النبي  صلی اللہ علیہ وسلم  قادمت إلی إني أنا الذي أرسلت اللبن و ألقیت الخاطر في قلب الرجل۔
یعنی ایک دن شب کو میں نے کھانانہیں کھایا توہمارے ایک دوست کو الہام ہوا،وہ دودھ کا ایک پیالہ لایاجسے پی کر میں باوضوسوا گیا،قسمت بیدارہوئی اور میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  کی روح مبارک کو دیکھا،اس نے مجھ سے کہاکہ وہ دودھ میں نے ہی بھیجا تھا اور اس آدمی کے دل میں دودھ لے جانے کی بات میں نے ہی ڈالی تھی۔  
 اور قاریِ قرآن والی وہ حکایت گزرچکی کہ حضور  صلی اللہ علیہ وسلم اس کا قرآن سننے تشریف لائے تھے۔تومعلوم ہوا کہ آپ کوعرضِ اعمال کے ذریعہ بھی خبر ہوتی ہے اور اہل محبت کی خبر روحانی قرب کی وجہ سے بھی ہو جاتی ہے۔
اس کے علاوہ نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم کے خبردار ہو جانے کا ایک تیسرا اور چوتھا طریقہ بھی ہے لیکن یہ دونوں دقیق ہیں عام فہم نہیں کہ علی العموم ذکر کیے جائیں۔بہرکیف! نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم کے اطلاع پانے کے چندطریقے ہیں اور وہ سب اللہ تعالیٰ کے دیے ہوئے ہیں توآپ کاعلم غیب مستقل اور بالذات نہ ہوا کہ جس سے شرک لازم آئے بلکہ آپ جس طریقے سے امت کے حالات اور دنیا کی چیزوں پر مطلع ہوں گے ، اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی قدرت سے ہوں گے۔ اس کا نام شرک ہرگزنہیں ہے۔عقائد اور علم کلام کی کتابیں دیکھو۔
جب حدیث عرض اعمال وغیرہ، متعدد واسطوں سے آپ  صلی اللہ علیہ وسلم کو(احوالِ امت کا)علم ہو جانا ثابت ہوچکا،ساتھ ہی زمین میں روحوں کاچلناپھرنا اور ان کی سرعت رفتار بھی احادیث سے معلوم ہوچکی۔پھر مخلوق کی طرف آپ کی توجہ بھی سب کومعلوم ہے،ساتھ ہی آیت مبارکہ:  بِالْمُوْمِنِیْنَ رَوؤْفٌ رَحِیْمٌ میں امت کے لیے رحمت وشفقت کی دلیل موجود۔ اور جب امتی آپ کے لیے مال خرچ کریں، درود وسلام اور تعظیم وادب کے ساتھ آپ کی مدح خوانی کریں ،تواس کے جواب میں آپ کے توجہ واحسان فرمانے پر آیت کریمہ:  ہَلْ جَزَائُ الإحْسِانِ إلاَّ الإحْسَانُ موجود۔پھر معلوم نہیں فریق ثانی ،اہل اسلام میں بے جاشقاق ونفاق ڈال کر اچھے خاصے مسلمانوں کو مشرک کیوں بنارہے ہیں ؟۔ 
ہاں ! اگر کوئی جاہل، عقیدۂ شرکیہ رکھے۔مثلاً نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ذاتی اور مستقل علم غیب مانے یوں نہ جانے کہ اللہ تعالیٰ کادیاہوا ہے  معاذ اللہ  تواس کے کفر میں کس کو کلام ہے،وہ شخص تو بالاتفاق مردود ہے۔
مولف براہین گنگوہی لکھتے ہیں  :
مجلس میلاد شریف میں اکثر ایسے ہی آدمی ہوتے ہیں۔
معلوم نہیں ان کوگھربیٹھے کس طرح مجلس والوں کی غیبی خبرہو گئی اور وہ بھی ان کے دلوں کی، ہم نے اپنی عمر بھر میں اب تک اس عقیدہ کا آدمی نہیں دیکھا، اور یہ عقیدہ تو  معاذ اللہ   بہت ہی برا شرک ہے۔
محفل میلاد شریف منہیاتِ شرعیہ سے پاک ہونی چاہیے
ہم تو جملہ منہیات شرعیہ کو براکہتے ہیں چاہیے کہ بانی محفل ،مخلص،خوش عقیدت اور محبت والا ہو،مال میں احتیاط کرے،اپنی محنت کی تنخواہ یاتجارت کا کمایاہوا یاہبہ ومیراث وغیرہ کاصحیح شرعی طریقہ سے پہنچاہوا مال کھاناوشیرینی اور عطر وغیرہ میں صرف کرے، آرایش کے سامان ،فرش وبرتن وغیرہ میں خلاف شریعت کوئی کام نہ ہو۔ایسی معتبر روایتیں ہوں جن کو ثقات محدثین نے  باب المعجزات  میں قبول کیاہو۔اشعار وہ ہوں جن کے پڑھنے پرمفتیانِ دین نے فتویٰ دیاہو ،پھر ان امور کے بعد شانِ رسالت  علیہ السلام کی تسلیم وآداب مدنظر ہو، سامعین حاضرین مجلس کی زبان پر دم بدم درودوسلام کی کثرت ہو،فضائل ومعجزات اور قصائد، ذوق وشوق ومحبت سے پڑھیں پڑھوائیں اور سنیں سنوائیں۔
الحاصل! جس قدر مجلس کی صفائی میں اور امورِ منہیہ سے بچنے میں جدوجہدکریں گے اتنی ہی حق تعالیٰ کی رضا مندی اور روحِ محمد ی صلی اللہ علیہ وسلم کی توجہ اپنی طرف پائیں گے اگر محفل مقبول ہو گئی، اور قبولیت کا ادنیٰ درجہ یہ ہے کہ وہ شخص اپنے مقصد ومراد کوپہنچے۔ اور اعلیٰ درجہ یہ ہے کہ ایک ایک قسم کے خاص جلوۂ روحِ محمدی  صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی مشرف ہو۔ اور یہ کچھ اسی محفل کے ساتھ خاص نہیں بلکہ ہر عمل کا پھل اسی وقت ملے گا جب اس کی شرطیں بجالائے گا۔
دیکھیں کہ نمازکے سلسلے میں حدیث واردہے  :
     إن العبد إذا قام إلی الصلوٰۃ رفع اللہ تعالی الحجاب بینہ و بینہ و واجہ بوجہ الکریم۔ (۱)
یعنی جب ایک بندہ نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہے تواللہ تعالیٰ اپنے اور اس کے درمیان سے پردے اٹھادیتا ہے اور اپنا روے کریم اس کے سامنے کر دیتا ہے۔
دوسری حدیث میں ہے کہ جب مسلمان وضوکرتا ہے توشیطان اس سے دورہو جاتا ہے اور زمین کے کناروں تک بھاگ جاتا ہے اس ڈر سے کہ یہ بندہ اپنے بادشاہ کے پاس جانے کا ارادہ کرتا ہے جب وضوکرکے اللہ اکبرکہتا ہے توابلیس چھپ جاتا ہے اور اللہ  جل شانہ  اس بندے کے سامنے ہو جاتا ہے۔
ایک اور حدیث میں آیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت یوں کروگویا تم اس کو دیکھ رہے ہو۔(۲)

(۱)	یوں بھی یہ حدیث ملتی ہے  :   إن العبد إذا قام إلی الصلوٰۃ فتحت لہ أبواب الجنان، و کشفت لہ الحجب بینہ و بین ربہ و استقبلتہ الحور العین ما لم یَمْتَخِط أو یتنخع۔ (معجم کبیر طبرانی: ۷؍ ۲۸۸حدیث: ۷۹۰۷۔۔کنز العمال: ۷؍ ۲۹۸حدیث: ۱۸۹۶۷۔۔مجمع الزوائد و منبع الفوائد: ۱؍ ۲۴۴)
(۲)	متن حدیث یوں ہے  :
	أن تعبد اللہ کأنک تراہ۔ (صحیح بخاری:۱؍ ۸۷حدیث: ۴۸۔۔ صحیح مسلم: ۱؍ ۸۷حدیث: ۹۔۔ سنن ابوداؤد: ۱۲؍ ۳۰۶حدیث: ۴۰۷۵۔۔ سنن ترمذی: ۹؍ ۱۹۲حدیث: ۲۵۳۵۔۔ سنن کبریٰ نسائی:۶؍۵۲۸۔۔سنن ابن ماجہ: ۱؍۲۷ حدیث: ۶۲۔۔ مشکوٰۃ المصابیح:۱؍۱حدیث:۲ مسند احمد: ۱؍ ۳۵۰ حدیث: ۳۴۶۔۔ سنن کبریٰ بیہقی: ۱۰؍ ۲۰۳۔۔ بغیۃ الحارث: ۱؍ ۲۱۔۔ معجم کبیر طبرانی: ۱۱؍ ۶۱۔۔ تفسیر ابن ابی حاتم: ۵۴؍ ۱۱۷حدیث: ۱۶۴۶۶۔۔ دلائل النبوۃ بیہقی: ۸؍ ۱۲۳حدیث: ۳۰۰۰ ۔۔ صحیح ابن حبان: ۱؍ ۳۱۱حدیث: ۱۵۹۔۔ صحیح ابن خزیمہ: ۸؍ ۲۰۴حدیث: ۲۰۵۵۔۔ مسند ابن راہویہ: ۱؍ ۲۱۰ ۔۔ موارد الظمآن: ۱؍ ۳۵۔۔ الآداب بیہقی: ۳؍۱۲۷حدیث: ۸۲۵۔۔ الاربعون آجری: ۱؍ ۶حدیث:۵۔۔ الاربعون فسوی: ۱؍۳حدیث:۱۔۔ الایمان ابن مندہ: ۱؍۳حدیث: ۱۔۔ مسندبزار: ۹؍ ۳۸۸حدیث: ۳۴۰۷۔۔ السنۃ عبد اللہ بن احمد: ۲؍ ۳۴۴حدیث: ۸۰۹۔۔ القضاء والقدر بیہقی: ۱؍ ۱۴۹حدیث: ۱۳۴۔۔ تعظیم قدر الصلوٰۃ مروزی: ۱؍ ۴۱۴ حدیث: ۳۲۱۔۔ شرح اصول اعتقاد اہل السنۃ و الجماعۃ الکائی: ۳؍۱۰۵حدیث: ۸۳۱۔۔ طبقات المحدثین:۴؍ ۴۷۳ حدیث: ۱۳۳۳۔۔ مسند حارث: ۱؍ ۱۶حدیث:۹۔۔ مجمع الزوائد: ۱؍۱۶۔۔ کنزالعمال: ۳؍۲۲حدیث: ۵۲۵۴۔۔ نصب الرایہ: ۴؍ ۱۱۱ کتاب الزکوٰۃ ۔۔ مسند الجامع: ۳۹؍۳۳حدیث:۱۲۶۲۹۔۔ تخریج احادیث الاحیائ: ۹؍ ۲۶۷حدیث: ۴۲۶۷)
خلاصہ یہ کہ یہی نماز ہم غافل لوگ بھی پڑھتے ہیں اور ایک اولیاء اللہ کی نماز ہوتی ہے کہ ان کو نماز میں مشاہدۂ ربانی حاصل ہو جاتا ہے اور ان کی نمازوں میں مقامات طے ہوتے ہیں ، تواسی طرح محافل میلاد کی مقبولیت کے بھی درجات ہیں   ؎ 
نہ  انجیر شد  نام  ہر میوہ	   نہ مثل زبیدہ ست ہر بیوہ
الحاصل! مقبول تر آدمی وہ ہے جو زیادہ اخلاص ومحبت سے محفل کرے۔
سوال: یہ قیام مروجِ تعظیم ،رونق افروزیِ روحِ محمد ی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہے یا کسی اور وجہ سے ہے؟
جواب:  اگر چہ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم کامحفل پر مطلع ہو جانا منجملہ اعمالِ امت سے ثابت ہے اور مشتاق نگاہوں کواپنے خاص جلوۂ روحانی سے مشرف فرمانابھی ممکن۔لیکن علی العموم ہر ایک محفل میں قیام اس غرض اور علت پر مبنی نہیں بلکہ اس کی اصل وجہ، تعظیم شانِ نبی  صلی اللہ علیہ وسلم کی فرحت وخوشی کا اظہارہے۔(۱)
دیکھیے عالم الامہ مقتدی الائمہ امام تقی الدین سبکی  رحمۃ اللہ علیہ   اور ان کی مجلس کے اکابر علما  مدح کا ایک شعر سن کرکھڑے ہو گئے۔چنانچہ سیرت حلبی میں مذکورہے اور اس میں روح کے آنے کاکچھ تذکرہ بھی نہیں، اس کی عبارت یوں ہے  :
قام الإمام السبکي  و جمیع من بالمجلس فحصل انس کبیر بذلک المجلس۔ (۲)
اسی طرح اسماعیل افندی نے بھی تفسیر روح البیان میں نقل کیا ہے اور سیرت شامی میں ہے  :
جرت عادۃ کثیر من  المحبین إذا سمعوا بذکر وضعہ  صلی اللہ علیہ وسلم  أن یقوموا تعظیما لہ۔ (۳)

(۱)	حاشیہ:  اس صورت میں جو لوگ مشرف بزیارت ہوئے ان کے قیام کی دو وجہیں ہیں : ایک زیارت۔ دوسرے اظہار فرحت وسروروتعظیم۔ اور باقی علی العموم سب کے حق میں قیام فقط وہی وجہِ فرحت وسرور وتعظیم۔ اور براہین قاطعہ کے صفحہ:۲۰۸پر بھی روح کی زیارت ہونے کی صورت میں قیام کو صحیح مان لیا ہے۔ اور صفحہ : ۲۰۹ پر لکھا ہے کہ تشریف آوری کے دوام پر انکار ہے،نہ امکانِ وقوع احیانا پر انتہی کلامہ ملخصا لہٰذا وہ لوگ کہتے ہیں کہ ہم اسی وقوع احیاناً کی امید پر کھڑے ہوتے ہیں ،جیسے ایک شب قدر پانے کے لیے ساری عمر جاگتے ہیں۔ ۱۲۔منہ
(۲)	تفسیر روح البیان:۱۴؍۴۱۔
(۳)	سبل الہدیٰ و الرشاد:۱؍ ۳۴۴۔
یعنی بہت سے محبین (۱) رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کی یہ عادت ہوتی ہے کہ جب وہ ذکرولادت اور توصیف رسالت سنتے ہیں ،توتعظیم نبوی میں کھڑے ہو جاتے ہیں۔
یہاں یہ نہیں لکھاکہ روحِ مبارک کودیکھ کر کھڑے ہوتے ہیں۔
امام برزنجی نے ’’عقد الجوہر فی مولد النبی الازہر‘‘میں لکھا ہے  :
قد استحسن القیام عند ذکر ولادتہ الشریفۃ أئمۃ ذوو روایۃ و درایۃ۔
یعنی ائمہ روایت ودرایت نے ولادت مبارکہ کے ذکر کے وقت قیام کو مستحسن کہاہے۔
 یہ نہیں فرمایا  :
استحسن القیام عند رویۃ روحہ أو عند قدوم روحہ  صلی اللہ علیہ وسلم 
یعنی حضوراکرم  صلی اللہ علیہ وسلم کی روح مبارک دیکھنے یا اس کے آنے کے وقت قیام مستحسن ہے۔
عرب وعجم اور مشرق ومغرب میں تمام بلادِ اسلامیہ کا اسی پر عمل ہے کہ روح پرفتوح کو دیکھے بغیر صرف ولادت شریف کا ذکر سن کر جملہ اہل محفل کھڑے ہو جاتے ہیں۔
اعتراض:اگر کوئی یہ کہے کہ اگر یہ تشریف آوری روح کے سبب نہیں توپھر تعظیم کس بات کی ہے ؟۔
جواب:  اس کا یہ ہے کہ قیام فقط تشریف آوری کی تعظیم ہی پر منحصر نہیں بلکہ شریعت میں چند مقام پر قیام پایا گیا ہے  : (۲)

(۱)	حاشیہ: تعظیما لہ :اس جگہ شامی کی عبارت میں یہ لفظ بھی ہے:  ہذا القیام بدعۃ لا اصل لہا۔ تو اس اجمال کی تفصیل اور مانعین کے اعتراضات کا جواب پورے شرح وبسط کے ساتھ عنقریب آنے والاہے۔ ۱۲۔ منہ
(۲)	 ان لوگوں پر یہ اعتراض ہے کہ تم کو روح نظر نہیں آتی توکیوں اُٹھتے ہو؟ جواب ان کی طرف سے یہ ہے کہ ہم اس موقع میں تقلیداًکھڑے ہوتے ہیں جہاں اہل مکاشفہ کھڑے ہوتے ہیں۔ اگر کوئی کہے کہ ہر محفل میں کیوں کھڑے ہوتے ہو؟ تو جواب دیتے ہیں کہ شب قدر یقینی طورپر معلوم نہیں ہوتی پھر بھی جاگتے ہیں اور کئی راتوں کوجاگتے ہیں اگرچہ شب قدر تو درحقیقت سال میں ایک ہی رات ہو گی،جب بھی ہو۔ تو اسی طرح یہ لوگ ہر محفل میں اس امید کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں کہ آخر قیام کبھی توقدومِ روحِ مبارک کے مطابق ہو جائے گا۔ اگر عمر بھر میں ایک دن بھی موافق آپڑا، غنیمت ہے۔   ؎  بس بود جاہ واحترام مرا    ٭	یک علیک از صد سلام مرا      ۱۲۔منہ
ایک: آنے والے کی تعظیم میں جیسے حضرت فاطمہ  رضی اللہ عنہا حضور رسولِ مقبول  صلی اللہ علیہ وسلم کے تشریف لانے کے وقت قیام فرماتی تھیں  کذافی المشکوٰۃ (۱)
دوسرا:  وضوکابچاہواپانی پینے کے لیے کھڑے ہونا۔
ترمذی نے روایت کیا کہ جب حضرت علی  رضی اللہ عنہ   وضو کرچکے توبچاہواپانی کھڑے ہو کرپیا ساتھ ہی یہ بھی کہاکہ مجھ کوپسند آیا کہ میں تم کودکھاؤں کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح وضو کرتے تھے انتہیٰ (۲)
اس سے معلوم ہواکہ(وضوکابچاہواپانی) آپ  صلی اللہ علیہ وسلم بھی کھڑے ہو کر پیتے ہوں گے۔
تیسرا:  زم زم کا پانی کھڑے ہو کرپینا۔
بخاری اور مسلم میں روایت ہے کہ ابن عباس  رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں  :
میں نے رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کو زم زم کا پانی پلایاتوآپ نے کھڑے ہو کر پیا۔ (۳)
الحاصل! فقہا رحمہم اللہ  ان دونوں پانیوں کو قبلہ روکھڑے ہو کر پینے کو مستحب اور مندوب لکھتے ہیں۔اس لفظ سے صاف تعظیم معلوم ہوتی ہے اور بعضوں نے یہ مسئلہ ان لفظوں میں لکھا ہے  :
کھڑے ہو کر پانی پینا مکروہ تنزیہی ہے۔ سوا ان دوپانیوں کے کہ یہ مکروہ نہیں۔

(۱)	متن حدیث: ۔۔۔۔و کان اذا دخل علیہا قامت إلیہ۔۔۔۔۔۔(مشکوٰۃ المصابیح: ۳؍۱۴ حدیث: ۴۶۸۹۔۔ سنن ابوداؤد:۱۳؍ ۴۴۳ حدیث: ۴۵۴۰۔۔مستدرک حاکم: ۱۱؍۶۱ حدیث: ۴۷۳۶۔۔ شعب الایمان بیہقی: ۱۸؍ ۴۳۵ حدیث: ۸۶۴۶۔۔ صحیح ابن حبان: ۲۸؍ ۴۴۷ حدیث: ۷۰۷۹)
(۲)	متن حدیث: ۔۔۔۔ثم قام فأخذ فضْلَ طَہو رہ فشربہ و ہو قائم ثم قال أحببت أن أرِیَکم کیف کان طُہورُ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم 
	(سنن ترمذی: ۱؍ ۸۳ حدیث: ۴۵۔۔مسنداحمد: ۳؍۱ حدیث: ۹۹۵۔۔ سنن کبریٰ بیہقی: ۱؍ ۷۵ ۔۔ سنن کبریٰ نسائی: ۱؍ ۸۵ حدیث: ۱۰۱۔۔ مسندابویعلی موصلی: ۱؍ ۴۸۱ حدیث: ۴۷۷)
(۳)	صحیح بخاری کی حدیث یوں ہے:  عن ابن عباس قال: شَرِبَ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم  قَائِمًا مِنْ زَمْزَمَ۔ (۱۷؍۳۳۳حدیث: ۵۱۸۶)
	 اور صحیح مسلم کی یوں ہے:  عن ابن عباس سَقَیْتُ رَسُولَ اللّٰہِ  صلی اللّٰہ علیہ وسلم  مِنْ زَمْزَمَ فَشَرِبَ وَ ہُو قَائِمٌ۔ (۱۰؍۳۰۹حدیث:۳۷۷۶ )
اس سے بھی قیام تعظیمی ثا بت ہو گیا۔ یعنی کھڑے ہو کرپینے کی جوکراہت شرع میں تھی وہ ان دونوں پانیوں کی عظمت کے باعث ساقط ہو گئی، اس لیے کہ زم زم کاپانی حصول شفا کا سبب ہے اور اسی طرح وضو کا بچا ہواپانی بھی شفاکاباعث ہے۔
شامی نے لکھا ہے کہ میرے بزرگ عبد الغنی نابلسی جب مریض ہوتے تھے،تورسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق ،وضو کا بقیہ پانی حصول شفا کی نیت سے پیتے تھے اور انھیں آرام ہو جاتا تھا۔(۱)
یہاں ایک بات اور بھی معلوم ہوئی یعنی شرع میں کھڑے ہو کر پانی پینا مکروہ ہے لیکن جب آب زم زم اور وضو کابقیہ پانی بخیال عظمت کھڑے ہو کرپیے تو قصد تعظیم کی وجہ سے کراہت جاتی رہتی ہے۔ توبفرض محال اگر قیام مکروہ بھی ہوتا تب بھی جو لوگ شانِ مصطفی کی تعظیم کی نیت سے کھڑے ہوتے ہیں چاہیے کہ ان کے لیے درست ہو جائے۔ مکروہ،شرک یاحرام ہونے کے کیا معنی!۔
چوتھا:  عمامہ باندھتے وقت کھڑے ہونے کو بعض فقہا مستحسن کہتے ہیں۔
پانچواں :  اذان سن کر کھڑا ہونا۔ 
درمختار میں ہے  :
و یندب القیام عند سماع الأذان۔ (۲)
فتاویٰ برہنہ میں آیا ہے  :
چوں آواز اذان بر آید باید کہ ماشی بایستد و نشستہ زانوزند ہر چہ بہ تعظیم نزدیک تر آن کند۔
یعنی اذان کی آواز سن کر راہ گزر رُک جائے، اور ٹیک لگایاہوادوزانوبیٹھ جائے۔غرضیکہ کہ ہروہ چیزجس سے تعظیم کاپہلونکلے بجالاناچاہیے۔
چھٹا:  مطلق ذکر کی تعظیم کے واسطے کھڑے ہونا۔
تفسیرکشاف میں ابن عمر،عروہ بن زبیر اور ایک جماعت سے روایت ہے کہ وہ لوگ نکل کرعید گاہ گئے اور وہاں ذکر اللہ کرنے لگے، ان میں سے بعض نے کہا کہ کیا اللہ نے یہ نہیں فرمایا  :
یَذْکُرُوْنَ اللّٰہَ قِیَاماً وَّ قُعُودًا۔ (۳)

(۱)	رد محتار:۱؍ ۳۵۱۔
(۲)	درمختار:۱؍ ۴۲۸۔۔رد محتار:۳؍ ۲۲۶ فائدۃ التسلیم بعد الاذان 
(۳)	سورۂ آل عمران،۳؍ ۹۱۔
تو وہ سب کھڑے ہو کر ذکر اللہ کرنے لگے۔ (۱)
ساتواں :رسول اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم کی مناقب ومدائح پڑھنے کے لیے کھڑے ہونا۔
صحیح بخاری میں ہے کہ حضرت حسان منبرپرکھڑے ہو کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کے اشعار فخریہ پڑھا کرتے تھے۔(۲)
آٹھواں : رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کے وقت روضہ اطہر علی صاحبہا الصلوٰۃ و السلام الی یوم القیام  کے سامنے دست بستہ کھڑے ہونا جیسا کہ ہم اوپر بیان کر چکے ہیں  
نواں : جب کوئی مجلس سے اٹھے تو اس کی معیت میں تعظیماً کھڑے ہو جانا۔
چنانچہ مشکوٰۃ میں ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  مسجد میں ہم کو حدیث سناتے تھے،جب آپ اٹھتے تو ہم سب کھڑے ہو جاتے تھے اور جب تک گھر میں داخل نہ ہوتے ہم کھڑے رہتے تھے۔ (۳)

(۱)	تفسیرکشاف: ۱؍ ۳۶۱۔
(۲)	متن حدیث یوں ہے  :
	کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم   یَضَعُ لِحَسَّان مِنْبَرًا فِي الْمَسْجِدِ یَقُوْمُ عَلَیْہِ قَائِماً یُفَاخِرُ عَنْ رَسُولِ اللّٰہِ  صلی اللہ علیہ وسلم  ۔ (سنن ابوداؤد: ۱۰؍ ۶۶حدیث: ۲۷۷۳۔۔مشکوٰۃ المصابیح:۳؍۴۱حدیث: ۴۸۰۵۔۔شمائل ترمذی: ۱؍ ۲۸۲حدیث: ۲۴۷۔۔مستدرک : ۱۴؍ ۱۰۸حدیث: ۶۰۹۹۔۔ تہذیب الآثارطبری: ۲؍ ۴۱۶حدیث: ۵۳۳۔۔ مسند ابویعلی موصلی: ۱۰؍ ۸حدیث: ۴۶۲۳۔۔ معرفۃ الصحابہ: ۶؍ ۳۳۴ حدیث: ۲۰۲۲۔۔مسند الجامع: ۵۱؍ ۳۳۱حدیث: ۱۷۲۰۱۔۔ تحفۃ الاشراف :۱۳؍ ۴۷۸حدیث: ۱۷۰۲۰۔۔ تخریج احادیث الاحیائ: ۵؍ ۱۷۱حدیث: ۲۱۷۱)
	 اور معجم کبیرطبرانی میں یوں ہے  :
	ان رسول اللّٰہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کان یضع لحسان بن ثابت منبرا في المسجد ینشد علیہ الأشعار۔ (۴؍۳۴حدیث: ۳۵۰۱)
(۳)	متن حدیث یوں ہے  :
	کان رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  یجلس معنا في المسجد یحدِّثنا فإذا قام قمنا قیاما حتی نراہ قد دخل بعضَ بیوتِ أزواجہ۔ (مشکوٰۃ المصابیح: ۳؍۱۸حدیث: ۴۷۰۵۔۔ سنن ابوداؤد: ۱۲؍ ۳۹۳ حدیث: ۴۱۴۵۔۔ شعب الایمان بیہقی:۱۸؍ ۴۳۸ حدیث: ۸۶۴۹۔۔ المدخل الی السنن الکبریٰ بیہقی: ۲؍ ۱۰۳ حدیث: ۵۸۷۔۔ مسند الجامع: ۴۲؍ ۲۰۹حدیث: ۱۳۷۳۳۔۔ تحفۃ الاشراف: ۱۲؍ ۲۰۹حدیث: ۱۴۹۰۱۔۔مسند ابن ابی شیبہ: ۱؍ ۴۹۰حدیث: ۴۷۷۔۔ کنزالعمال: ۷؍ ۲۲۱حدیث: ۱۸۷۱۰)
ان نومقامات کے علاوہ اور جگہوں میں بھی قیام کاحکم آیا ہے، جس کی نظرفتاویٰ اور احادیث پر ہو گی وہ دیکھ لے گا۔
الحاصل! ان نظیروں سے یہ ثابت ہو گیا کہ قیام صرف آنے والے کی تعظیم کے لیے مخصوص نہیں بلکہ اور مقامات میں بھی قیام پایا گیا۔ اور سب میں قدر مشترک یہی مضمون ہے کہ جس امر میں قیام کیا جاتا ہے تواس امر کی تعظیم کا فائدہ دیتا ہے۔ اسی طرح بزرگان دین سے طرح طرح کے مواقع تعظیم میں تعظیم پائی گئی ہے۔
انھیں میں سے یہ ہے کہ احمد بن حنبل اور علی بن مدینی وغیرہ جلسہ تعلیم حدیث میں کھڑے رہتے تھے  چنانچہ ہم یہ روایت سابقالکھ چکے ہیں   
انھیں میں سے یہ بھی ہے کہ بہاء الدین ملک طاہر کاوزیر قصیدہ بردہ کو برہنہ پا اور برہنہ سر کھڑا ہو کر سنا کرتا تھا اور اس سے اس کے گھر میں دین ودنیا کی بہت سی خیرات وبرکات حاصل ہوئیں۔
کشف الظنون میں درباب قصیدہ بردہ لکھا ہے  :
و لما بلغت الصاحب بہاء الدین وزیر الملک الظاہر استحسنہا و نذر أن لا یسمعہا إلا حافیا واقفا مکشوف الرأس وکان یتبرک بہا ہو و أہل بیتہ و رأوا من برکاتہا أموراً عظیمۃ في دینہم و دنیاہم۔ (۱)
 اور جب یہ وزیر الملک بہاء الدین ظاہر کے پاس یہ قصیدہ پہنچاتو اس نے کافی پسند کیا اور یہ نذر مان لی کہ وہ اسے ننگے پاؤں اور ننگے سر کھڑا ہو کرسنا کرے گا۔ اس کی برکت سے وہ اور اس کے اہل خانہ خوب خوب نفع اندوز ہوئے اور دین ودنیا میں اس کی بے شمار برکتیں انھوں نے دیکھیں۔
انھیں میں سے ہمارے شیخ الطریقہ امام الشریعہ خواجہ خواجگان معین الدین چشتی   رحمۃ اللہ علیہ  کا اپنے مرشد کے روضہ کی تعظیم کے لیے کھڑے ہونابھی ہے۔ شیخ الاسلام خواجہ فرید الدین گنج شکر اپنے پیرقطب صاحب کے ملفوظات معروف بہ’’ فوائد السالکین‘‘میں لکھتے ہیں  :
ایک بار خواجہ معین الدین چشتی قدس سرہ  سلوک کے سلسلہ میں وعظ فرمارہے تھے، جب داہنی طرف نظرپڑتی کھڑے ہو جاتے تھے،سو بار یوں ہی کھڑے ہوئے لوگ حیرت میں تھے۔ جلسہ ختم ہونے کے بعد ایک بے تکلف آدمی نے عرض کیا کہ(دورانِ وعظ) 

(۱)	کشف الظنون: ۲؍ ۱۳۳۱ باب قصیدۃ البردۃ الموسومۃ 
آپ بار بار کھڑے کیوں ہو جاتے تھے۔فرمایاجب میری نظر مرشد خواجہ عثمان ہارونی  رحمۃ اللہ علیہ  کے روضہ پر پڑتی ،کھڑاہو جاتا تھا، اس لیے کہ پیر کی تعظیم زندگی وموت ہر حالت میں برابر واجب ہے بلکہ مرنے کے بعد اور زیادہ۔
انھیں میں سے یہ بھی ہے کہ جب کسی صاحب معرفت پر عشق الٰہی میں وجد صادق ظاہرہو تو جملہ حاضرین کو کھڑے ہو جاناچاہیے۔ یہ مسئلہ حجۃ الاسلام امام غزا لی نے ’’احیاء العلوم‘‘ میں ذکر فرمایا ہے۔
ان جملہ احادیث وآثارِ صحابہ اور مشائخ حدیث وطریقت کے فعل کی روشنی میں ایک انصاف پسند اور حق طلب آدمی پر خوب خوب واضح ہو جائے گاکہ بلاشبہ قیام تعظیمی صرف کسی کے آنے کی تعظیم کے ساتھ ہی مخصوص نہیں بلکہ اور امور کی تعظیم میں بھی قیام پایا گیا ہے۔ پھر کیا ضرور ہے کہ مروجہ محفل میں ،روح مبارک کے آنے کے عقیدہ کے ساتھ ہی قیام کیا جائے بلکہ اس میں شان رسالت  صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم پرنظر رکھی جائے۔ اور اس کی حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سورۂ حج میں فرمایا  :
وَ مَنْ یُّعَظِّمْ شَعَائِرَ اللّٰہِ فَإنَّہَا مِنْ تَقْوَی الْقُلُوبِ۔ (۱)
 اور جو اللہ کی نشانیوں کی تعظیم کرے تویہ دلوں کی پرہیزگاری سے ہے۔
مولوی اسماعیل صاحب نے اولیاء اللہ کی محبت کو اس آیت کی تعمیل اور شعائر اللہ کی تعظیم میں شامل کیا ہے۔’’صراط مستقیم‘‘مطبوعہ میرٹھ کے صفحہ ۴۳ میں ان کی عبارت یوں ہے  :
اگرنیک تامل کنی دریابی کہ محبت امثال ایں کرام خود شعار ایمانِ محب وعلامت تقوی اوست  ذٰلِکَ وَ مَنْ یُّعَظِّمْ شَعَائِرَ اللّٰہِ فَإنَّہَا مِنْ تَقْوَی الْقُلُوبِ انتہی 
یعنی اگرآپ اپنی فکرکومہمیزدیں اور سوچیں تو آپ پر آشکار ہو جائے گا کہ ایسی برگزیدہ شخصیات کی محبت خود ایک شیدائی کے ایمان کی نشانی اور اس کے تقویٰ کی علامت ہے۔ اور جو اللہ کی نشانیوں کی تعظیم بجالائے توسمجھیں کہ یہی دلوں کا تقویٰ ہے۔
جب اولیاء اللہ، شعائر اللہ ہوئے تو رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم تو عظیم ترین شعائر سے ہوئے۔چنانچہ ’’حجۃ اللہ البالغہ ‘‘مطبوعہ بریلی کے صفحہ ۷۱میں شاہ ولی اللہ نے بھی آپ کو معظم شعائر اللہ میں شمار کیا ہے، اور جب آپ معظم شعائرہوئے تو گویاآپ کی ولادت ،اعظم شعائر اللہ کا ظہور 

(۱)	سورۂ حج،۲۲؍۳۲۔
ہے،لہٰذا ہم کو چاہیے کہ اعظم شعائر اللہ کی عظمت دل میں پیدا کریں اور اس نعمت عظمیٰ کو سب سے عظیم جانیں جس کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا  :   
وَ مَا أرْسَلْنٰکَ إلاَّ رَحْمَۃً لِّلْعٰلَمِیْن۔ (۱)
 اور ہم نے تمھیں نہ بھیجا مگر رحمت سارے جہان کے لیے۔
اللہ تبارک وتعالیٰ نے یوں فرما کران کے وجود باجود کا ہمارے گردنوں پراحسان رکھا  :
لَقَدْ مَنَّ اللّٰہُ عَلَی الْمُومِنِیْنَ إذْ بَعَثَ فِیْہِمْ رَسُولاً۔ (۲)
بے شک اللہ کا بڑا احسان ہوا مسلمانوں پر کہ ان میں انھیں میں سے ایک رسول بھیجا۔
توجس وقت آپ کے ان انواروآثارکاتذکرہ ،تعظیم وآداب اور جاہ وجلال کے ساتھ بیان کیاجاتا ہے جوآپ کی ولادت باسعادت کے وقت عالم دنیا میں ظاہرہوئے تو دل کے رگ وریشہ میں اس وقت کا جلوہ سماجاتا ہے،آنکھوں کے سامنے آپ کی ولادت کے وقت فرشتوں اور حورعین کی آمدکانقشہ کھنچ جاتا ہے،دل عظمت شان رسالت سے بھرجاتا ہے اور دل میں غایت درجہ تعظیم پیداہو جاتی ہے۔تواس عالم میں بصد آداب وتعظیم سب لوگ کھڑے ہو جاتے ہیں اور اپنی ہیئت جلوس کو قیام سے بدل دیتے ہیں۔چنانچہ شرع شریف میں ظاہرکو باطن کا عنوان قرار دیا گیا ہے یعنی اگر دل میں توحیدورسالت کی تصدیق ہے تو اقرار باللسان اس کی تطبیق ہے۔ اسی طرح اگر دل میں اللہ تعالیٰ سے کسی چیزکی خواہش وحاجت ہے تو دعامیں دونوں ہاتھ بھیک مانگنے والوں کی طرح پھیلادینا سنت ہے تاکہ ظاہروباطن کا نقشہ یکساں ہو جائے۔ باریک بینوں کوشریعت سے اس کی بہت سی مثالیں مل جائیں گی۔
انھیں میں سے، زینت محفل کی بابت چندمثالیں ’’دافع الاوہام‘‘ میں مذکورہیں جس کا خلاصہ یہ ہے کہ دل میں جوعظمت رسالت  صلی اللہ علیہ وسلم  بھری ہوتی ہے اس کے اظہار کے لیے قیام کیاجاتا ہے تاکہ ظاہر وباطن دونوں ایک سے ہو جائیں اور جس طرح دل کے اند رحضور صلی اللہ علیہ وسلم  کی عظمت ہے اسی طرح تعظیم وآداب کے ساتھ قیام کرنا اس عظمت کا ایک نقشہ وصورت ہے،گرچہ اس وقت آنکھوں کے سامنے حضوراقدس  صلی اللہ علیہ وسلم   بذات خود ،مجلس میں حاضر نہ ہوں لیکن آپ کاذکرِظہور توموجودوظاہرہے اور ذکرظہور کی تعظیم بعینہٖ آپ کی تعظیم ہے۔

(۱)	سورۂ انبیا،۲۱؍۱۰۷۔
(۲)	سورۂ آل عمران،۳؍۱۶۴۔
مولوی اسماعیل صاحب ’’صراط مستقیم‘‘ مطبوعہ میرٹھ کے صفحہ ۱۶ پرلکھتے ہیں  :
ازفروع حب منعم است تعظیم شعائر او مثل تعظیم نام اووکلام او ولباس او انتہیٰ 
یعنی منعم کے شعائر کی تعظیم مثلاً اس کے نام وکلام اور اس کے لباس کی تعظیم کرنادراصل اس کی محبت ہی کی ایک شاخ ہے۔  
جب آپ کی تعظیم دل میں ہوئی توآپ کے نام وبیان اور فکر کی تعظیم بھی ہو گئی تویہ ذکر کی تعظیم بعینہٖ آپ کی تعظیم ہے اور آپ کی تعظیم خداکی تعظیم۔جیسا کہ شاہ ولی اللہ صاحب نے حجۃ اللہ البالغہ کے صفحہ۷۰ پرلکھا ہے  :
حتیٰ صار تعظیمہا عندہم تعظیما للہ۔ (۱)
یعنی ان شعائر کی تعظیم ان کے نزدیک اللہ ہی کی تعظیم ہے۔
اس مضمون کی موافقت میں آیتیں بھی لکھ چکے ہیں  :
مَنْ یُّطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أطَاعَ اللّٰہَ۔ (۲)
جس نے رسول کاحکم مانابے شک اس نے اللہ کا حکم مانا۔
إنَّ الَّذِیْنَ یُبَایِعُونَکَ إنَّمَا یُبَایِعُونَ اللّٰہَ۔ (۳)
وہ جو تمہاری بیعت کرتے ہیں وہ تواللہ ہی سے بیعت کرتے ہیں۔
الحاصل! یہ قیام نہ شرک ہے اور نہ بدعت ضلالت بلکہ جمہور علمائے امت کے اتفاق سے یہ مستحب و مستحسن ہے،جس پرشرعادلیلیں بھی قائم ہیں۔   
فائدہ: اب ہم مولف براہین گنگوہی کے نزدیک بھی مسلم ایک قاعدہ سے اس قیام کا ثبوت پیش کر رہے ہیں کہ ہم نے مجلس میلادکے امور مروجہ کے لیے لکھا ہے کہ کسی امرمستحسن ومباح کا  جوپہلے نہ تھا زیادہ کرناجائزہے۔اس کی نظیریہ لکھی کہ اگر کوئی تعظیم وآداب کی نیت سے التحیات میں اللہم صل علی سیدنا محمد  پڑھے  تو ’’درمختار‘‘ میں اس کوافضل لکھا گیا ہے ،حالاں کہ اس درودمیں لفظ سیدنامنقول نہیں۔
اس کا جواب مولف براہین صفحہ ۱۵۴ پر لکھتے ہیں  :

(۱)	حجۃ اللہ البالغہ: ۳۱۔
(۲)	سورۂ نسائ، ۴؍۸۰۔
(۳)	سورۂ فتح،۴۸؍ ۱۰۔
صیغہ درود شریف میں لفظ سیدناکی زیادتی کویہ نہ سمجھا کہ جہاں کہیں زیادتی یا تبدیل کی اجازت صراحۃً یا دلالۃً موجودہے وہاں انہی کہاں ہوسکتی ہے وہ تو خود م اور دبہ الشرع میں داخل ہے تولفظ سیادت کے اضافے کی اجازت خود  یا أیہا الذین آمنوا صلوا علیہ میں موجودہے۔ کیوں کہ صلوٰۃ کے معنی تعظیم کے ہیں۔ اور صلواکے معنی  عظموا لکھتے ہیں، اور اگر دعاکے معنی میں ہو تب بھی اس کی تعظیم لازم ہے کیوں کہ جس کے واسطے دعاکی جائے گی اس کی توقیر وتعظیم لازم آئے گی۔تھوڑی سی عقل کی ضرورت ہے سو ہرجگہ کہ حق تعالیٰ اپنے بندوں سے فخرعالم کی تعظیم فرماتے ہیں تو جو لفظ وصیغہ کہ تعظیم کے معنی دے گا وہ خود مطلوب ہو گا جب کہ اس کی کوئی نہی وارد نہ ہو۔
میں کہتاہوں کہ قیام زیادہ کرنے کی اجازت بھی شرع میں موجودہے۔ تعظیم وتوقیرنبی  صلی اللہ علیہ وسلم  کے واجب ہونے کے سلسلہ میں دلائل ،قیام کی ابتدائی بحث میں ہم لکھ چکے ہیں، شرعاًآپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کی تعظیم وتوقیرمطلوب ہے تویہ قیام بھی فردِتعظیمی ہو کر مطلوبہ افرادِ تعظیم میں شامل اور م اور د بہ الشرع میں داخل ہے۔ نیز یہ کہ ذکر ولادت شریف کے وقت، درود وسلام بھی کھڑے ہو کرپڑھتے ہیں توجیسا لفظ صلوا بمعنی عظموا سے صیغہ تعظیم ایجادکیا جو پہلے نہ تھا یوں ہی اس وقت درود وسلام پڑھنے کے لیے یہ ہیئت تعظیمی یعنی قیام ایجاد کیا جو پہلے نہ تھا لہٰذا لفظ سیدنا کی طرح ،قیام بھی افضل ہو گا۔ اور اسی پر درمختارکاقول بھی قیاس کر لیں  جسے مولف براہین گنگوہی نے بھی بطورِسندرکھا ہے   تویہ قیام ،فریق ثانی کے بتائے ہوئے دلائل سے بھی صحیح اور ثابت الاصل ہے۔ اسی وجہ سے سید برزنجی وغیرہ مفتیانِ دین اس قیام کے استحسان پربرابر فتاوے دے رہے ہیں۔ 
 قیام کے سلسلے میں منکرین کے متفرق شبہات
پہلا اعتراض:  حضور صلی اللہ علیہ وسلم  کی ظاہری زندگی میں صحابہ کرام، رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کاقیام نہیں کرتے تھے جیساکہ ترمذی میں ہے،پھر اب قیام کس طرح جائز ہو؟
جواب :  واقعی قیام نہیں کرتے تھے لیکن اس طرح کاقیام جیساسلاطین عجم میں تھا کہ جب رعایا اپنے بادشاہ کوآتے دیکھتی کھڑی ہو جاتی اور جب تک وہ تخت پربیٹھا رہتا اس وقت تک جملہ رعایا اس کے آگے پورے تواضع کے ساتھ کھڑی رہتی،ایسا قیام حقیقۃً ممنوع شرعی ہے جب کہ وہ بادشاہ یا امیرحکم کرے اور اس قیام کو پسند کرے۔
لیکن محفل میلاد شریف میں یہ بات تونہیں کہ اس محفل کے منبر یا چوکی یاتخت پر کوئی بادشاہ بیٹھاہواہے اور سب لوگ اس کے آگے کھڑے ہیں یا یہ کہ وہ بادشاہ حکم کر رہاہے کہ تم میرے آگے قیام کرو۔یہاں تو یہ بات ہے کہ میلادخواں منبرپرکھڑاہو کر درود وسلام اور نعت ومدح کے اشعار پڑھ رہاہے جو خود فعل صحابہ سے ثابت ہے۔
صحیح بخاری میں ہے  :
کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم   یَضَعُ لِحَسَّان مِنْبَرًا فِي الْمَسْجِدِ یَقُوْمُ عَلَیْہِ قَائِماً یُفَاخِرُ عَنْ رَسُولِ اللّٰہِ  صلی اللہ علیہ وسلم  ۔ (۱)
یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  حسان بن ثابت کے لیے مسجدمیں منبررکھتے تھے جس پرکھڑے ہو کرحسان بن ثابت فخررسول  صلی اللہ علیہ وسلم  بیان کرتے تھے۔
محفل میلاد شریف میں بھی میلادخواں ، منبرپرکھڑاہو کر فخررسول  صلی اللہ علیہ وسلم  بیان کرتا ہے، اور جس وقت میلادخواں کھڑاہو جاتا ہے حاضرین بھی کھڑے ہو جاتے ہیں جس میں ایک دوسری حدیث کی تعمیل بھی ہو جاتی ہے جومشکوٰۃ کے  باب القیام  کی تیسری فصل میں حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے  :
کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ  صلی اللہ علیہ وسلم   یَجْلِسُ مَعَنَا فِي الْمَجْلِسِ یُحَدِّثُّنَا فَإذَا قَامَ قُمْنَا قِیَاماً۔ (۲)

(۱)	سنن ابوداؤد: ۱۰؍ ۶۶حدیث: ۲۷۷۳۔۔مشکوٰۃ المصابیح:۳؍۴۱حدیث: ۴۸۰۵۔۔شمائل ترمذی: ۱؍ ۲۸۲حدیث: ۲۴۷۔۔مستدرک : ۱۴؍ ۱۰۸حدیث: ۶۰۹۹۔۔ تہذیب الآثارطبری: ۲؍ ۴۱۶حدیث: ۵۳۳۔۔ مسند ابویعلی موصلی: ۱۰؍ ۸حدیث: ۴۶۲۳۔۔ معرفۃ الصحابہ: ۶؍ ۳۳۴ حدیث: ۲۰۲۲۔۔مسند الجامع: ۵۱؍ ۳۳۱حدیث: ۱۷۲۰۱۔۔تحفۃ الاشراف :۱۳؍ ۴۷۸حدیث: ۱۷۰۲۰۔۔ تخریج احادیث الاحیائ: ۵؍ ۱۷۱حدیث: ۲۱۷۱۔
	 اور معجم کبیرطبرانی میں یوں ہے  :
	ان رسول اللّٰہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کان یضع لحسان بن ثابت منبرا في المسجد ینشد علیہ الأشعار۔ (۴؍۳۴حدیث: ۳۵۰۱)
(۲)	مشکوٰۃ المصابیح: ۳؍ ۱۸حدیث: ۴۷۰۵۔۔سنن ابوداؤد: ۱۲؍ ۳۹۳حدیث: ۴۱۴۵۔۔ شعب الایمان: ۱۸؍ ۱حدیث: ۸۲۳۶۔۔المدخل الی السنن الکبریٰ: ۲؍ ۱۰۳حدیث: ۵۸۷۔۔ مسند ابن ابی شیبہ: ۱؍ ۴۹۰حدیث: ۴۷۷۔۔ کنزالعمال: ۷؍ ۲۲۱حدیث: ۱۸۷۱۰۔۔ مسند الجامع: ۴۲؍ ۲۰۹حدیث: ۱۳۷۳۳۔۔ تحفۃ الاشراف: ۱۲؍ ۲۰۹ حدیث: ۱۴۸۰۱۔
یعنی رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  ہمارے جلسہ میں ہمارے ساتھ بیٹھے حدیثیں بیان فرمارہے ہوتے،پھرجب آپ کھڑے ہوتے توہم بھی آپ کے ساتھ کھڑے ہو جاتے۔
 اس سے ثابت ہواکہ حاضرین مجلس کو قیام میں موافقت کرنی چاہیے۔(۱)
تو اس قیام میں اور ترمذی کی منع قیام کی روایت جسے مانعین بطورِ سندلاتے ہیں  میں بہت فرق ہے۔ اور اگر کوئی یہ کہے کہ صحابہ کسی طرح کا قیام نہیں کرتے تھے تو یہ بالکل غلط ہے۔ ابھی گزرا کہ حضرت حسان ،فخردوعالم  صلی اللہ علیہ وسلم کی مدح وثنا کھڑے ہو کرکیا کرتے تھے۔ اور یہ بھی گزرا کہ جب آپ  صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوتے توصحابہ بھی کھڑے ہو جاتے تھے۔ اور جب حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا  تشریف لاتیں تو حضور نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو جاتے تھے، اور اسی طرح حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری پربی بی فاطمہ  رضی اللہ تعالیٰ عنہا  کھڑی ہو جاتی تھیں۔(۲)  نیزصحابہ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کھڑے ہو جایا کرتے تھے۔یہ اُسامہ بن شریک سے ،بروایت صحیح، قسطلانی نے روایت کی ہے۔
نیززرقانی شرح مواہب میں ہے کہ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم ایام حنین میں حلیمہ سعدیہ کے آنے کی وجہ سے کھڑے ہوئے۔ اور سیرت حلبی میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  اپنے رضاعی باپ کے آنے کے وقت کھڑے ہوئے۔نیز شاہ ولی اللہ نے مانعین قیام کا رد کیا ہے۔(تفصیل کے لیے)’’حجۃ اللہ البالغہ‘‘ دیکھیں۔ 
اعتراض:  حضرت کا نام سن کر توکھڑے ہو جائیں مگر اللہ تعالیٰ کے نام پر نہیں کھڑے ہوتے،گویاحضور صلی اللہ علیہ وسلم کواللہ تعالیٰ سے بھی فوقیت دے دی۔

(۱)	 اور اگر حضرت حسان ایسا کرتے کہ پہلے بیٹھ کر پڑھتے پھر کھڑے ہو کر توحاضرین مجلس بھی بالضرور ان کی موافقت کے ساتھ کھڑے ہو جایا کرتے لیکن وہاں یہ ہوتاکہ بیٹھے ہوئے لوگوں کے درمیان حضرت حسان کھڑے ہو کر اول سے شروع کرتے تھے تو وہ حالت خطیب کی حالت سے مشابہ ہوتی تھی ایسی صورت میں حاضرین نہیں اٹھا کرتے، بخلاف اس صورت کے کہ بیٹھنے میں شروع ہی سے شریک ہیں اور پھراٹھے تو حاضرین اس کے ساتھ موافقت کرتے تھے۔ یہ احیاء العلوم کے قیام مجلس سماع کی شکل ہے۔ ۱۲منہ 
(۲)	متن حدیث: ۔۔۔۔کانت إذا دخلت علیہ قام إلیہا۔۔۔۔ و کان اذا دخل علیہا قامت إلیہ۔۔۔۔(مشکوٰۃ المصابیح: ۳؍۱۴ حدیث: ۴۶۸۹۔۔ سنن ابوداؤد:۱۳؍ ۴۴۳ حدیث: ۴۵۴۰۔۔مستدرک حاکم: ۱۱؍۶۱ حدیث: ۴۷۳۶۔۔ شعب الایمان بیہقی: ۱۸؍ ۴۳۵ حدیث: ۸۶۴۶۔۔ صحیح ابن حبان: ۲۸؍ ۴۴۷ حدیث: ۷۰۷۹)
جواب: یہ اعلیٰ درجہ کی کم فہمی ہے۔دیکھیں ہم نمازوں میں بکمال ادب،رو بہ قبلہ، اللہ تعالیٰ کے واسطے قیام کرتے ہیں اور اس پر مزیدیہ کہ اللہ تعالیٰ کے لیے بحالت سجدہ خاک پرگرجاتے ہیں۔ ہر روز نمازفرض ونوافل میں ساٹھ سترسے زیادہ سجدے کرتے ہیں یہ کیسی بڑی تعظیم ہوئی کہ ما تھا زمین پر رگڑتے ہیں اور رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے صرف اس قدر کہ ولادت شریف کے ذکر پرآپ کے ظہورِعظیم کی وجہ سے تعظیما کھڑے ہو جاتے ہیں۔اب خیال کریں کہ رسول کی تعظیم ،خداسے زیادہ کہاں ہوئی؟۔
اعتراض:  حضور  صلی اللہ علیہ وسلم کا نام اذان وخطبہ میں بہت جگہ آتا ہے کہیں نہیں کھڑے ہوتے سوائے میلاد شریف کے، اور اس میں بھی جب خاص ذکرولادت شریف آتا ہے۔
جواب:  ولادت شریف میں یہ مناسبت ہے کہ ولادت کے معنی یہ ہوئے کہ آپ عالم بطون سے عالم ظہور میں آئے، اور آنے والے کی تعظیم کے لیے جمہورفقہاومحدثین کے مذہب کے مطابق ،شرع میں قیام مستحسن ہے۔ اور یہ خوب معلوم ہے کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کی شان والابہت عظیم ہے۔
مبرد نے  وَ تُعَزِّرُوہُ وَ تَوَقِّرُوہُ  کی تفسیر میں لکھا ہے  :
أی تبالغوا في تعظیمہ  صلی اللہ علیہ وسلم ۔ (۱)
یعنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم میں خوب مبالغہ سے کام لو۔
اسی بنیادپر محبیّن اُمت نے بطورِمبالغہ یہ تعظیم کیاکہ جو قیام بادشاہ و امیر کی عین تشریف آوری کے موقع پر تعظیماً کیا جاتا ہے وہ آپ کے ذکرقدوم میمنت لزوم میں کیا گیا۔اس پرکوئی اعتراض شرعی نہیں پڑسکتاسوا اس کے کہ ایجاد ہے توطریقہ آداب کی ایجاد، مستحب ومستحسن ہے۔اس کاذکر چند بار گزرچکا اور بدعت حسنہ کا وجودبھی شرع سے ثابت کیا جاچکاہے۔
اعتراض:  قیام کرنے والوں کو اس بات کی تعظیم منظور ہوتی ہے کہ حضرت کے قدوم کی تعظیم کی جائے تووقت ولادت کی کیاخصوصیت تھی چاہیے تھا کہ جب ذکرسنتے کہ فلاں وقت آنحضرت  صلی اللہ علیہ وسلم مسجد یا مجلس میں تشریف لائے تھے یا حج یاجہادسے پھرآئے تھے ہرقدوم کا ذکر سن کر کھڑے ہو جایا کرتے۔

(۱)	دوسری تفاسیرمیں اسی مفہوم کی ایک دوسری عبارت ملتی ہے  :
	أن تبالغوا في تعظیمي۔(بحرالمدید: ۶؍ ۳۱۲۔۔تفسیرروح البیان: ۲۰؍ ۴۸۱)
جواب:  ان قدومات میں اور قدوم وجودی یعنی ولادت شریف میں بڑا فرق ہے۔ یہ سب قدوم جزئی ہیں مثلاً گھر سے جب مسجد یا مجلس تشریف لائے تو وہ دولت مخصوص اُسی جماعت کے واسطے ہوئی دوسرے لوگوں کا اس میں کیاحصہ ہے کہ جن میں آپ رونق افروز نہ ہوئے برخلاف قدوم وجودی کے کہ وہ قدوم کلی ہے یعنی آپ کا عالم وجود میں آنا تمام جہان پر رحمت ہے،جو کوئی اس وقت دنیا میں موجود ہے یانہیں اور جوکوئی قیامت تک پیداہوتاچلاجائے گا اور جوچیزثریاسے عرش تک ہے آپ کی ولادت سب کے لیے رحمت ہے  :
وَ مَا أرْسَلْنٰکَ إلاَّ رَحْمَۃً لِّلْعٰلَمِیْن۔ (۱)
 اور ہم نے تمھیں نہ بھیجا مگر رحمت سارے جہان کے لیے۔
تو اس قدوم اور قدومات مذکورہ میں بڑا فرق ہے۔ اس لیے اس اعلیٰ درجہ کے قدوم میں قیام کرنا امت محمد یہ  علی صاحبہا الصلوٰۃ والسلام میں رائج ہوا،جب اس قدوم کلی کا ذکر آتا ہے اسی وقت قیام کرتے ہیں بخلاف اور قدومات کے کہ وہ جزئی ہیں۔
اعتراض:  اگر یہ قیام ذکرولادت شریف کے واسطے خاص ہوا کہ اس میں معنی قدوم وجودی کے ہیں تو بہت وقتوں میں یہ ذکر احادیث وغیرہ میں ہوتا ہے۔مثلاً قرآن شریف میں ہے:  لقد جاء کم رسول  اور حدیث میں ہے:  ولد النبي  صلی اللہ علیہ وسلم  مختونا اس وقت کیوں نہیں کھڑے ہوتے۔علاوہ بریں بہت مرتبہ آپ کی ولادت کامضمون کسی شعر یا فقرۂ نثر میں چلتے پھرتے زبان پرآ جاتا ہے،وہاں بھی کوئی نہیں کھڑاہوتا۔
جواب:  بنی آدم پر غفلت طاری ہے اللہ تعالیٰ کے نام پرکسی خاص موقع میں جب دل اللہ کی طرف راغب ہوتا ہے تووہاں ذوق و شوق سے جل جلالہ،جل شانہ، عم نوالہ۔باقی اکثر اوقات میں دل غافل اور بے خبرہوتا ہے،سیکڑوں باتوں میں اللہ تعالیٰ کانام آ جاتا ہے تو جل جلالہ وغیرہ الفاظ تعظیم کچھ بھی زبان پر نہیں لاتے، بس یہی حال قیام کا بھی ہے بعض حالات میں نامِ رسول آتا ہے دل کو اس تعظیم خاص یعنی قیام سے غفلت ولاپرواہی ہوتی ہے برخلاف مجلس کے کہ یہاں ہر قسم کے آداب وتعظیم کے سامان موجودہیں خواہی نہ خواہی ہرعامی کی آنکھیں بھی کھل جاتی ہیں اور تعظیم بجالاتے ہیں۔

(۱)	سورۂ انبیا،۲۱؍۱۰۷۔
دوسرا جواب یہ ہے کہ اگر ہم قیام کو فرض یاواجب کہتے تب یہ اعتراض پڑتا کہ کسی موقع میں بھی ترک جائزنہ ہو، جب فرض نہیں بلکہ مستحب اور مستحسن ہے تو موقع محفل میں کہ  وہاں امورِ استحسان وآداب موجود ومہیاہیں   قیام بھی کرتے ہیں تاکہ اکرام اپنے جملہ لوازم کے ساتھ بتمام وکمال ہو، اور جہاں تمام لوازم مروجہ منفی ہیں وہاں یہ بھی نہ ہواتو کیا حرج ہے!صرف درود شریف پڑھ دیا یہ بھی تعظیم کا فائدہ دے جاتا ہے۔ اور اوپریہ لکھاجاچکاہے کہ تعظیم مفروضہ کسی فرد میں بھی ادا ہو جاتی ہے، اور عیدمیلاد کی تعظیم کوکثیرسامان اور متعدد افراد کے ساتھ ادا کرنا استحباب کے درجہ میں ہے۔باقی رہی یہ بات کہ تلاوت قرآن شریف اور حدیث پڑھتے وقت جویہ ذکر آئے وہاں کیوں نہیں کھڑتے ہو جاتے۔تو اس کا جواب یہ ہے کہ ہر عمل کے کچھ خصائص ہوتے ہیں جو ہرجگہ نہیں کیے جاتے۔اس کی بہت سی مثالیں ہیں ،یہاں اس کی صرف ایک مثال لکھی جاتی ہے۔
شاہ ولی اللہ صاحب’’قول جمیل‘‘میں لکھتے ہیں  :
 جب کوئی کسی زبردست سے ڈرتاہوتو اس کے سامنے جاتے وقت پڑھے:کہیٰعص کُفیتُ، اور ہر حرف پرداہنے ہاتھ کی انگلی بند کرتا جائے۔ پھر پڑھے: حمعسق حُمیتُ، اور ہر حرف پر بائیں ہاتھ کی انگلی بند کرتاجائے،پھر حاکم کے سامنے  دونوں مٹھی کھول دے انتہیٰ 
اب سمجھناچاہیے کہ یہ مٹھی کا بند کرنا اور کھولنا اس عمل کا خاصہ ہے،تواب اگر کوئی کہنے لگے کہ یہ تو قرآن شریف کے حروف ہیں جب کوئی تلاوت کے دوران کہیعص اور حمعسق پڑھے تو وہاں بھی انگلیاں کھول اور بند کر لیا کرے۔تو ہر عقل مند یہی کہے گا کہ اے بھائی! وہ تو اس عمل کا خاصہ ہے جسے اسی عمل کے ساتھ خاص رکھناچاہیے، اور جب قرآن پڑھیں تواس وقت قرآن کے آداب تلاوت ملحوظ رکھنے چاہئیں۔بس اسی طرح جب حدیث سیکھنے اور سکھانے یاوعظ وبیان وغیرہ کی غرض سے پڑھی جائے تووہاں وہ آداب چاہئیں، اور جب اذان وغیرہ میں آپ کا نام آئے تووہاں جو ماثور ہو وہ ادا کریں اور جب یہ ذکر مسرت وشادمانی کے اس جلسہ شکروسپاس میں آئے تووہاں تعظیم وسرورکا یہ عمل قیام کے ساتھ کیا جاتا ہے، اور میلاد شریف اُخروی ثواب کوشامل ہونے کی وجہ سے خیروبرکت کا ایک بہترین عمل بھی ہے۔چنانچہ ابو سعید بورانی،ابن جزری، سخاوی اور علی قاری وغیرہ نے اس عمل سے دین ودنیاکے منافع میں بے پایاں برکتوں کا حاصل ہونالکھا ہے۔نیز یہ عمل بہت سے اسلامی شہروں میں اہل اسلام کیا کرتے ہیں۔
یہ بھی ظاہر اور کسی سے مخفی نہیں کہ مشائخ عظام اور علمائے کرام نے اس عمل میں ذکرولادت کے وقت بطورخاص قیام کیا ہے،لہٰذا بطورِ خاص سے یہ عمل ،خاص اسی موقع کے لیے قیام کا خاصہ ٹھہرا،تو یہ قیام، تمام خارجی مواقع مثلاً تلاوت قرآن، احادیث اور اذان وغیرہ میں جاری نہ کیا جائے گاجس طرح کہیعصمیں بطورِ عمل انگلیاں کھولی اور بندکی جائیں گی مگرقرآن شریف پڑھتے وقت ایسا نہ کیا جائے گا، اور اعمال کی خصوصیات کو فقہا کی تخصیصَات وتعیناتِ مکروہ سے کوئی علاقہ نہیں۔
مولوی اسماعیل صاحب کی ’’صراط مستقیم‘‘دیکھوکہ یک ضربی،دوضربی،سہ ضربی اور حبس نفس وخیالات وغیرہ کے کیا کچھ تعینات اذکار اس میں درج ہیں۔اس سے ہٹ کر ہم کہتے ہیں کہ علمائے دین کاکسی چیزکو مستحسن قرار دینا بھی دلائل شرعیہ میں سے ایک دلیل وحجت ہے، اور علمائے عرب وعجم نے صدہاسال سے اس موقع خاص میں قیام کو مستحسن فرمایا ہے۔ لہٰذا دوسرے موقع میں قیام کایہ معمول عام نہ کیا جائے گا جب تک ان مواقع پر بھی علمائے امت استحسان کا فتویٰ نہ صادر فرمائیں۔ کسی امراستحسانی کو خاص موقع استحسان میں معمول کرناثابت ہے نہ کہ علی العموم۔
دیکھو ! بیت اللہ سے رخصت ہوتے وقت(حجاج) اُلٹے پاؤں پھرتے ہیں جس کی دلیل علامہ زیلعی نے یہ لکھی کہ مقتضاے ادب یہی ہے کہ دربارِ شاہی سے یوں ہی الٹے پاؤں پشت پھیرے بغیرواپس ہوا جاتا ہے بدعت حسنہ کے مباحث میں یہ مسئلہ، فقہی روشنی میں ہم تشریح کے ساتھ لکھ چکے ہیں  
الحاصل! حاجی لوگ جب اپنے دیس آنے کا اِرادہ کرتے ہیں تو اس وقت وہاں سے الٹے پاؤں پھرتے ہیں اور جب پنج وقتہ نمازپڑھ کربیت اللہ سے نکلتے ہیں تواس وقت اُلٹے پاؤں نہیں پھرتے حالاں کہ ’’دربارِ شاہی سے یوں ہی پھراجاتا ہے ‘‘والی علت پانچوں وقت میں موجودہے ، تو اس کی وجہ یہ ہے کہ علمانے خاص اسی وقت الٹے پاؤں پھرنے کو مستحسن کہاہے تمام اوقات کی بابت نہیں۔ تو اب یوں ہی اس قیام کوبھی سمجھوکہ علما کا استحسان خاص اسی موقع میں ہواہے۔
اعتراض:  ولادت شریف ہونے کے وقت قیام ہوناچاہیے،اب یہ ہرروز کون سی ولادت مکر رہوتی ہے، اور اس امرکی شرع میں کہیں نظیر نہیں کہ کوئی امرفرضی ٹھہرا کرحقیقت کا معاملہ اس کے ساتھ کیا جائے بلکہ شریعت میں یہ حرام ہے،لہٰذا یہ قیام حرام ہوا۔
جواب:  ذِکرولادت شریف تو کوئی فرضی امرنہیں،یہ تذکرہ توامرحسی اور موجودفی الخارج ہے،زبانوں پر اس کے الفاظ جاری،کانوں میں اس کی صورت طاری اور دلوں میں اس کا ذوق ساری ہے توایسی حالت میں محبت اور ذوق وشوق کے ساتھ تعظیماًکھڑے ہو جائیں توایسا شرعا محبوب ہے کیوں کہ یہ توآیت کریمہ: وَ مَنْ یُّعَظِّمْ شَعَائِرَ اللّٰہِ کی تعمیل میں داخل ہے۔
 اور یہ بات کہ واقعہ گزرجانے کے بعد،اصل واقعہ کی طرح اس کامعاملہ کرنا شرع میں نہیں آیا تو یہ غلط ہے۔ صوم عاشورا کو دیکھوکہ کہاں فرعون کا ڈوبنا، موسیٰ  علیہ السلام کانجات پانا اور پھر اس کے شکرانے میں موسیٰ علیہ السلام  کا روزہ رکھنا۔ اور کہاں یہ ہمارازمانہ کہ اب تک وہ نوروز چلاجاتا ہے حالاں کہ فرعون کے غرق ہونے اور موسیٰ کی نجات پانے کاواقعہ تواسی دور میں ہوا تھا، اب وہ اصل حقیقت موجودنہیں لیکن روزہ کا معاملہ وہی کرتے ہیں جواصل واقعہ کے وقت کیا تھا۔
اس کی دوسری نظیر یہ بھی ہے کہ جب رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ سے مکہ تشریف لائے، مدینہ میں بخار کی بیماری تھی،مشرکوں نے کہا کہ ان لوگوں کو مدینہ کے بخارنے سست اور لاغر ونزار کر دیا ہے،ان سے توطواف بھی نہ ہوسکے گا،یہ کہا اور مقام حجر کی طرف سے مشرکین ان کا تماشا دیکھنے لگے،تب حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے فرمایا کہ ان مشرکوں کے سامنے طواف کے وقت رمل کرو،انھوں نے رمل کیا یعنی جس طرح پہلوان لوگ لڑائی کے وقت کودتے ہوئے اور مونڈھوں کو ہلاتے ہوئے بہادرانہ چال چلتے ہیں اسی طرح صحابہ ان مشرکوں کے سامنے چلتے تھے (یہ دیکھ کر)کفاریوں بول اٹھے: یہ توہرن کی طرح چوکڑیاں بھرتے ہیں۔یہ روایتیں صحاح ستہ میں موجودہیں۔(۱)
اس کا خلاصہ یہ ہے کہ اس وقت رمل تو کفارکودکھانے کے واسطے کیا گیا تھالیکن پھرزمانے کے بعد جب حجۃ الوداع درپیش ہواتو اس وقت بھی رمل کے طور پر وہی قوت رفتاردیکھنے میں آئی حالاں کہ اس وقت وہاں قطعاًکوئی مشرک نہ تھالیکن اس وقت بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس رفتارِتبختر کو برقرار رکھا،پھرآپ کے بعد خلفاے راشدین اور تابعین نے بھی قائم رکھایہاں تک کہ اب تک کیا جاتا ہے۔

(۱)	صحیح مسلم: ۶؍ ۳۴۸ حدیث: ۲۲۲۰۔۔ سنن ابوداؤد: ۵؍ ۲۳۴ حدیث: ۱۶۱۰۔۔مسند احمد: ۶؍ ۳۹ حدیث: ۲۵۰۷ ۔۔ سنن کبریٰ بیہقی: ۵؍۸۲۔۔ سنن کبریٰ نسائی: ۲؍ ۴۰۵ حدیث: ۳۹۴۲۔۔ شعب الایمان: ۹؍ ۹۲ حدیث: ۳۹۰۲۔۔ صحیح ابن خزیمہ: ۱۰؍ ۲۷ حدیث: ۲۵۱۴۔
اب دیکھیے کہ اصل حقیقت ختم ہو جانے کے بعد بھی یہ معاملہ آج تک بالکل حقیقت کا ساکیا جاتا ہے اور قیامت تک یوں ہی جاری رہے گا،حالاں کہ اب اصل علت موجود نہیں یعنی اب تو حرم شریف میں ایک بھی کافر نہیں جس کواپنی طاقت،جواں مردی اور بہادری کی چال دکھائی جائے۔ چنانچہ صاحب ہدایہ اس معنی کی طرف اشارہ فرماتے ہیں  :
ثم بقی الحکم بعد زوال السبب في زمن النبي  علیہ السلام  و بعدہ۔(۱)
یعنی سبب ختم ہو جانے کے باوجودنبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک اور آپ کے بعدبھی یہ حکم بدستور باقی رہا۔
شیخ دہلوی نے شرح سفر السعادۃ میں لکھا ہے  :
معلوم شد کہ بعد از زوال علت نیز ایں حکم باقی ست۔
یعنی علت زائل ہو جانے کے باوجود یہ حکم ابھی تک باقی ہے۔ 
توحضرت سلامت! حقیقت ختم ہو جانے کے بعد بھی حقیقت کا سامعاملہ کرنے کی نظیریں شرع میں موجودہیں، اور جس چیز کی نظیر پائی جائے وہ مولوی اسماعیل صاحب کے قاعدے کے مطابق بدعت نہیں ہوتی۔
الحاصل! جب آپ قائل ہوچکے کہ اصل حقیقت یعنی وقوعِ ولادت شریف میں قیام ہونا چاہیے اور ہم کہتے ہیں کہ واقعی آپ اس امر میں حق پر ہیں۔چنانچہ میلادکی بعض روایتوں میں آیا ہے کہ اس وقت ملائکہ اور حوریں کھڑی ہوئی تھیں،آدمی کاتووہاں کوئی گزرہی نہ تھاجس کا گزرتھا وہ حالت قیام میں تھا،تو اب بھی جب ذکر آئے تو وہی قیام امت تعظیماًجاری ہے تواصل شرعی کے مخالف ہرگزنہیں ہوسکتا۔ 
دواصلیں اس تحقیق میں ابھی منقول ہوئیں اور تماشایہ ہے کہ جناب معترض صاحب صوفی بھی ہیں اور آپ کے یہاں تصورشیخ کاقاعدہ بھی چلاآتا ہے۔آپ کے بزرگوار فرماتے ہیں  :
و الرکن الأعظم ربط القلب بالشیخ علی وصف المحبۃ و التعظیم و ملاحظۃ صورتہ   انتہیٰ  
یعنی رکن اعظم دل کوشیخ کی محبت وتعظیم سے مربوط رکھنے اور اس کی صورت کوملاحظہ کرنے کابہترین ذریعہ ہے۔

(۱)	عنایہ شرح ہدایہ: ۳؍ ۴۳۹ باب الاحرام 
اسی رسالہ میں دوسری جگہ فرماتے ہیں  :
فاحضر في خیالک صورۃ  شیخک فإنہ یرجی ببرکتہ تبدل التفرقۃ بالجمعیۃ۔
یعنی اپنے شیخ کی صورت اپنے خیال کے سامنے رکھ،کیوں کہ امید ہے کہ اس کی برکت سے تفرقہ ،جمعیت سے بدل جائے۔
شاہ ولی اللہ صاحب کے خلیفہ محمد  عاشق پھلتی ،جن سے شاہ عبد العزیزصاحب نے  اپنے والد کی وفات کے بعد  سلوک کی تکمیل کی ہے ،اپنی سبیل الرشاد میں مرشد  یعنی شاہ ولی اللہ  کاتعلیم کیاہوا طریقہ لکھتے ہیں  :
اگروقت دوری شیخ کسے استفاضہ خواہدطریقش آنست کہ فارغ دل وضو ساختہ نمازگزارد وہماں جانشستہ صورت شیخے کہ ازوے فیض می جوید بجمع ہمت ودفع خطرات ملاحظہ نماید  الیٰ آخرہ 
یعنی اگر کوئی اپنے شیخ سے دوررہ کر مستفیض ہوناچاہے تو اس کا طریقہ یہ ہے کہ فارغ دل ہو کروضوبنائے،نمازپڑھے اور اسی جگہ بیٹھ کردل جمعی کے ساتھ اپنے شیخ کی صورت ذہن نشین کرکے دفع خطرات کے لیے ان کی مدد طلب کرے۔
امام ربانی مکتوبات کی جلدثانی کے مکتوب سی ام(۳۰) میں کثرت تصورشیخ کے لیے لکھتے ہیں  : 
ایں قسم دولت سعادت مند اں را میسراست تادرجمیع احوال صاحب رابطہ را متوسط خود داند ودرجمیع اوقات متوجہ او باشند۔(۱)
یعنی یہ دولت بے بہا صرف سعادتمندوں ہی کو حاصل ہے یہاں تک کہ تمام حالات میں ضرورت مند اپنا ایک واسطہ سمجھ کر ہرحالت میں اس کی جانب متوجہ ہو۔  
مولانا مرحوم شیخ محمد  محدث تھانوی  جن سے مولوی رشیداحمد صاحب نے بھی کچھ حدیث پڑھی ہے  ’’انوارِ محمد ی‘‘ میں لکھتے ہیں  :
باید کہ مرشد وے را (یعنی مریدرا)بوقت پراگندگی خاطر وعدم جمعیت برائے ملاحظہ صورت خود بدیں معنی امر فرمایدکہ صورت مراو اوضاع مراو اطوار مراو اخلاق مرامثل ریش وخال و خدولباس وغیرہ آں چناں بصورت خیالیہ خود منقوش خاطر کن کہ دراں محوگردی۔الخ۔

(۱)	مکتوبات دوم: ۷۰۔
یعنی پریشانی اور پراگندگی خاطر کے وقت ایک مریدکواپنے مرشدکی صورت مدنظر رکھنا چاہیے۔اسی معنی میں انھوں نے یہ حکم دیا کہ میری ظاہری صورت وسیرت اور اخلاق اطوار جیسے داڑھی،خد وخال اور لباس وغیرہ کاتصوراپنے خیال میں جما کر اپنی ذات کو محوکر دے۔   
خلاصہ یہ کہ جیسے مریدطالب اپنے پیر کے سامنے با ادب بیٹھتے ہیں ویسے ہی حالت دوری میں یہ تصورشیخ کرکے مودب بیٹھتے ہیں اور تعظیم مدنظر رکھتے ہیں۔
اس سے دو فائدے پیداہوئے۔
 ایک یہ کہ جب تصور شیخ سے مرید کو فلاح وخیرہوئی تورسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم جو ہادیِ سبل اور مرشد کل ہیں ،غلبہ محبت کے ساتھ ان کا تصورکیوں کر نہ نفع بخش ہو گا۔
دوسرافائدہ یہ ہے کہ جب تعظیم مرشد حالت تصور میں بھی ہے توگویا حقیقت کا یہ معاملہ حقیقت کی عدم موجودگی میں کیاجاتا ہے،لہٰذا معترض صاحب پرازروئے طریقت ہماری یہ حجت قائم ہو گئی، اور صوم عاشورا اور حالت طواف میں رمل کے ساتھ چلنے کی دوحجتیں از روئے شریعت قائم ہوئیں۔فالسلام علی من اتبع الہدیٰ۔
اعتراض: کہتے ہیں (۱) کہ شامی جومجوزین عمل مولد شریف میں شمار کیے جاتے ہیں وہ خود قیام کو بدعت اور لا اصل لہا لکھتے ہیں تو یہ قیام بدعت سیئہ ضلالت ہوا۔سیرت شامی میں ان کی عبارت یوں ہے  :
جرت عادۃ کثیر من المحبین إذا سمعوا بذکر وضعہ  صلی اللہ علیہ وسلم  أن یقوموا تعظیما لہ  صلی اللہ علیہ وسلم  و ہذا القیام بدعۃ لا أصل لہا۔ (۲)
یعنی بہت سے اہل محبت کی یہ عادت ہوتی ہے کہ جب وہ ذکرولادت اور توصیف رسالت سنتے ہیں ،توتعظیم نبوی میں کھڑے ہو جاتے ہیں۔ جب کہ یہ قیام بدعت ہے، شریعت میں جس کی کوئی اصل نہیں۔ 

(۱)	حاشیہ : یہ اعتراض مولوی عبد الواحد وغیرہ منکرین نے کیا ہے۔۱۲۔منہ
(۲)	سبل الہدیٰ و الرشاد:۱؍ ۳۴۴۔
جواب : یہ ہے کہ اس عبارت سے جولوگ قیام کا ضلالت اور برا ہونا نکالتے ہیں ،کمال بوالعجبی ہے اس لیے کہ اس کا بدعت ہوناتومسلم ہے کیوں کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں اس کا رواج نہ تھا لیکن اس وقت رائج ہونے سے یہ لازم نہیں آتاکہ یہ ضلالت ہو،کیوں کہ مجتہدین اور محدثین کے قول سے بدعت کا حسنہ اور سیئہ ہوناثابت ہوچکاہے  جسے نورِ اول کے لمعہ خامسہ میں ہم نقل کرچکے ہیں  
سیرت حلبی میں ہے  :
و قد قال ابن حجر الہیثمي : و الحاصل أن البدعۃ الحسنۃ متفق علی ندبہا، و عمل المولد و اجتماع الناس لہ کذلک أی بدعۃ حسنۃ۔انتہیٰ۔(۱)
یعنی علامہ ابن حجر ہیثمی فرماتے ہیں :خلاصہ کلام یہ ہے کہ بدعت حسنہ کا مستحب ہونامتفقہ ہے، اور میلاد النبی  صلی اللہ علیہ وسلم کرنا اور اس میں لوگوں کا اکھٹاہونا بدعت کی اسی قسم حسنہ میں شامل ہے۔ 
 اور یہ ابن حجر اس رائج قیام کے جواز کے قائل ہیں ،چنانچہ جوازِقیام کے سلسلے میں ان کے’’مولدکبیر‘‘کی عبارت عثمان حسن دمیاطی شافعی نے نقل فرمائی ہے۔لہٰذا ہیئت مروجہ کے ساتھ یہ عمل مولد بالاتفاق بدعت حسنہ ٹھہرا اس لیے کہ لفظ’ کذالک ،کا اشار ہ جس طرح بدعت حسنہ کی طرف ہے یوں ہی  ’متفق علی ندبہا،کی طرف بھی ہے کما لا یخفیٰ تو قیام کے بدعت سیئہ ہونے کے سلسلے میں مانعین کا استدلال جو وہ سیرت شامی سے کرتے تھے  اس تقریر کی روشنی میں ساقط ہو گیا۔ اور اگر لفظ ’لا اصل لہا،سے مانعین کو کچھ دھوکا ہے کہ انھوں نے جو لا أصل لہا  لکھا ہے اس سے سیئہ ہونا ثابت ہے۔تواس کا جواب یہ ہے کہ یہ بات ضروری نہیں کہ جہاں لفظ لا أصل لہاآیا کرے وہاں بدعت سیئہ مکروہ یا محرمہ مراد ہوا کرے۔اس پردودلیلیں پیش کرتا ہوں۔
مجمع البحار مطبوعہ نول کشور  جلد ثالث کے خاتمہ پرصفحہ ۵۱۲میں ہے کہ صاحب مجمع نے اپنے شیخ سے مسئلہ پوچھا تھا کہ پھول یا خوشبوسونگھنے کے وقت درودپڑھناکیساہے؟ تو اس کا جواب یہ لکھا ہے  :
أما الصلوٰۃ علی النبي  صلی اللہ علیہ وسلم  عند ذلک و نحوہ فلا أصل لہا و مع ذلک فلا کراہۃ في ذلک عندنا الخ۔

(۱)	السیرۃ الحلبیۃ: ۱؍ ۱۲۲۔
یعنی ایسے موقعوں پر درودشریف پڑھنے کی کوئی اصل تونہیں ملتی،تاہم ایسا کرنے میں ہمارے نزدیک کوئی حرج نہیں ہوناچاہیے۔
اس عبارت سے واضح ہو گیا کہ لا أصل لہاسے یہ لازم نہیں آتاکہ وہ ناجائزہو جایا کرے۔ اور مولوی محمد  اسحق صاحب’’مسائل اربعین‘‘ کے چودہویں مسئلہ  یعنی نوشہ کوسلامی کے طور پر کچھ دینار اور دولہن کو منہ دکھائی کے طورپر کچھ دیناردیناکیساہے؟ کے جواب میں فرماتے ہیں  :
درشریعت محمدی اصل ایں چیز ہایافتہ نمی شود مگر ظاہر حال ایں چیزہاکہ دادن سلامی ورونمائی است مباح باشد۔الیٰ آخرہ۔
یعنی گرچہ ان چیزوں کی شریعت محمدی میں کوئی اصل تونہیں ملتی، تاہم سلامی ورونمائی کے طورپر کچھ دینا مباح ہے۔
ان عبارتوں سے معلوم ہوا کہ کسی چیزکے بدعت ہونے اور عہدرسالت میں اس کے نہ پائے جانے کی وجہ سے اس کی حرمت وکراہت نہیں لازم آتی۔تو سیرت شامی میں بدعت کو  لا اصل لہاکہنے سے قیام کا ضلالت اور سیئہ ہوناثابت نہیں ہوا۔ اور جب مانعین کی دلیل ٹوٹ گئی تو اب ہم سیرت شامی کے وہ قرائن ودلائل پیش کر رہے ہیں جو قیام کے بدعت حسنہ ہونے پر دلالت کرتے ہیں۔انھوں نے لکھا ہے  :
جرت عادۃ کثیر من المحبین۔
اول تو لفظ ’اجراے عادت ،کسی چیزکے مستند ہونے پردلیل ہے جیساکہ صاحب ہدایہ نے  باب الاحرام میں لکھا ہے  :
 و بذلک جرت العادۃ الفاشیَّۃ وہي من إحدی الحجج۔ (۱)
یعنی اس کے ساتھ یوں ہی عادت ظاہرہ جاری ہوئی، اور یہ عادت ظاہرہ دلائل شرعیہ میں سے ایک دلیل ہے۔
توعادت فاشیہ یعنی ظاہرہ اگرعہد صحابہ سے ہو تو کمال درجہ کی قوی حجت ہے اور اگر ما بعد کی عادت ہو توبھی ایک طرح کی سندہے۔عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ  سے روایت ہے  :

(۱)	العنایہ شرح الہدایہ: ۴؍ ۱۹۶ فصل فی جزاء الصید 
مَا رَآہُ الْمُسْلِمُوْنَ حَسَناً فَہُوََ عِنْدَ اللّٰہِ حَسَنٌ۔ (۱)
یعنی جس چیز کو اہل اسلام بہترسمجھیں وہ اللہ کے نزدیک بھی بہترہوتی ہے۔
یہاں ’ مسلمون، سے صحابہ کی ذات مراد لینادرست نہیں ، اس لیے کہ نصوص میں لفظ کا اطلاق لیا جاتا ہے: العبرۃ لعموم الألفاظ۔(یعنی اعتبار عمومِ لفظ ہی کا ہوتا ہے)  توحدیث میں لفظ ’ مسلمون،  آیا ہے، اور مطلق لفظ میں فرد کامل مرادہوتا ہے تو(مطلب یہ ہواکہ)جس دور کے کامل مسلما ن یعنی علمائے کرام کسی بات کو اچھا جانیں وہ خدا کے نزدیک بھی اچھی ہو گی۔

(۱)	معجم اوسط طبرانی: ۸؍ ۲۶۳حدیث: ۳۷۴۰۔۔ مستدرک حاکم: ۱۰؍ ۲۵۷حدیث: ۴۴۳۹۔۔ مسنداحمد: ۷؍ ۴۵۳ حدیث: ۳۴۱۸۔۔ امالی ابن مردویہ: ۱؍ ۱۹حدیث: ۱۸۔۔ فضائل الصحابہ احمد بن حنبل: ۲؍ ۲۶حدیث: ۵۱۷۔۔ معجم ابن الاعرابی: ۲؍ ۳۴۴حدیث: ۸۴۳۔۔ مجمع الزوائد ومنبع الفوائد: ۱؍ ۱۰۷۔۔ المقاصد الحسنہ: ۱؍ ۱۹۶۔۔ الدررالمنتثرہ: ۱؍ ۱۹۔۔ کشف الخفائ: ۲؍ ۱۸۸حدیث: ۲۲۱۴۔۔ تذکرۃ الموضوعات: ۱؍ ۹۱۔۔نصب الرایہ: ۱۰؍ ۴۳۴ اخذاجرۃ الحمام والحجام  ۔۔تفسیر آلوسی: ۲۱؍۳۹۳۔۔ تفسیر رازی: ۱؍ ۱۸۰۔۔ درمنثور: ۴؍ ۱۲۹۔۔ الاحکام فی اصول القرآن: ۱؍ ۸۴ باب فی الاجماع ۔۔ الحبائک فی اخبار الملائک: ۱؍ ۶۶۔۔ محبۃ الرسول بین الاتباع و الابتداع: ۱؍۱۲۱۔۔ شرح الطحاویہ فی العقیدۃ السلفیۃ: ۳؍ ۱۳۴۔۔ شرح العقیدۃ الطحاویۃ: ۱؍ ۵۳۰۔۔ علل دار قطنی : ۵؍ ۶۶حدیث: ۷۱۱۔۔حاشیۃ رد المحتار: ۱؍ ۴۲۰۔۔تحفۃ الفقہائ: ۱؍ ۲۳۹۔۔ المبسوط: ۱۴؍ ۲۷۹ کتاب الوقف  ۔۔  تبیین الحقائق ۱۰؍ ۱۶۶ کتاب الشرکۃ ۔۔ فتح القدیر:۱۵؍ ۳۱۰ باب الربا ۔۔ درغرر: ۳؍ ۴۷۳ فصل لبس الرجل للحریر ۔۔ الفتاویٰ الہندیہ:۵۰؍۲۲۸ فی الاشربۃ ۔۔الاحکام آمدی: ۱؍ ۲۱۹۔۔الاشباہ والنظائر: ۱؍ ۸  فی شرح القواعد ۔۔تبصرۃ الحکام فی اصول الاقضیۃ و مناہج الاحکام: ۴؍ ۱۶۔۔ درر الحکام فی شرح مجلۃ الاحکام: ۱؍ ۶۵۔۔سبل الہدیٰ و الرشاد: ۱۰؍ ۲۷۷۔۔ زاد المعاد: ۵؍ ۷۰۴ ۔۔ الریاض النضرۃ فی مناقب العشرۃ: ۱؍ ۱۰۳۔۔ تاریخ الخلفائ: ۱؍ ۲۵۔۔ البدایۃ و النہایۃ: ۱۰؍ ۳۶۱۔۔ معجم الادبائ: ۱؍ ۲۹۲۔۔ فص الخواتم فیما قیل فی الولائم: ۱؍ ۱۰ ۔۔ الفقہ و الشریعہ: ۱؍ ۴۵۔۔ بہجۃ قلوب الابرار و قرۃ عیون الاخیار فی شرح جوامع الاخبار: ۱؍ ۵۹۔
	ذیل کی کتابوں میں ’’المسلمون حسنا‘‘کی بجائے’’ المومنون حسنا‘‘ کا لفظ ملتا ہے  :
	کنز العمال:  ۔۔معجم کبیرطبرانی ۸؍ ۱۲ حدیث: ۸۵۰۴۔۔ معرفۃ السنن والآثار: ۱؍ ۷۳ ۔۔ معرفۃ الصحابہ: ۱؍ ۵۷حدیث: ۴۱ ۔۔ مسندطیالسی : ۱؍ ۲۵۵حدیث: ۲۴۰۔۔ کشف الخفائ: ۲؍ ۱۸۸حدیث: ۲۲۱۴۔۔کنز العمال: ۱۲؍ ۴۸۵حدیث: ۳۵۵۹۰ ۔۔ تفسیر آلوسی: ۱؍۴۔۔شرح ابن بطال: ۱۵؍ ۴۳۰۔۔ فیض القدیر: ۵؍ ۵۷۷۔۔ بحر الفوائد المسمّٰی بمعانی الاخبار کلاباذی: ۱؍ ۱۹۶حدیث: ۱۲۹۔۔ بدائع الصنائع: ۶؍ ۲۳۵ فصل فی شرائط رکن الیمین باللہ  ۔۔ العنایۃ شرح الہدایۃ: ۱؍۴۰۱ باب الاذان ۔۔البحر الرائق: ۱۴؍ ۴۲۵ جعل الواقف غلۃ الوقف لنفسہ ۔۔ مجمع الانہر:۷؍ ۱۸۶ باب الاجارۃ الفاسدۃ ۔۔ فتاویٰ السبکی: ۲؍ ۳۳ تنزل السکینۃ علی قنادیل المدینۃ ۔۔ فتاویٰ الرملی: ۴؍ ۱۱ شروط قبول الوصیۃ ۔۔قوت القلوب: ۱؍ ۱۰۹ کتاب محاسبۃ النفس و مراعاۃ الوقت ۔۔ بریقہ محمودیہ فی شرح طریقہ محمد یہ و شریعت نبویہ: ۵؍ ۹۷۔۔ اعلام الموقعین عن رب العالمین: ۱؍ ۸۳۔۔شرح الکواکب المنیر: ۳؍ ۴۰۔۔ الطرق الحکمیۃ: ۱؍ ۱۲۸۔۔ تاریخ دمشق: ۳۰؍ ۲۹۴۔
اس کی چندنظیریں ملاحظہ کریں  :
مجمع البحار جلدسوم کے صفحہ ۱۰۷پرہے  :
إن محبۃ قلوب العباد علامۃ محبۃ اللہ و ما رآہ المسلمون حسنا فہو عند اللہ حسن۔
یعنی بندگانِ خداکاکسی چیزکومحبوب و مقبول رکھنا اس بات کی علامت ہے کہ وہ اللہ کو بھی محبوب ہے، کیوں کہ جس چیزکو اہل اسلام بہترسمجھیں وہ اللہ کے نزدیک بھی بہترہوتی ہے۔
فقیہ شامی نے لکھا ہے کہ اذان وتکبیر کے درمیان تیاریِ نماز کے لیے کسی عمل متعارف کے ساتھ لوگوں کو مطلع کرنا مستحسن ہے،اس کی دلیل یہ ہے  :
ما رآہ المسلمون حسنا فہو عند  اللّٰہ حسن۔
یعنی جس چیز کو اہل اسلام بہترسمجھیں وہ اللہ کے نزدیک بھی بہترہوتی ہے۔
 اور چندموذن جمع ہو کر اذان کہنے کے سلسلے میں بھی اسی کوپیش کیا کہ :  ما رآہ المسلمون حسنا  الخ 
درمختا رمیں ہے  :
لأن التعامل یترک بہ القیاس لحدیث : ما رآہ المسلمون حسنا فہو عند اللہ حسن۔ (۱)
کیوں کہ تعامل کی بنیادپر قیاس متروک ہو جاتا ہے،دلیل وہی حدیث ہے کہ جسے اہل اسلام بہترسمجھیں وہ اللہ کے نزدیک بھی بہترہوتی ہے۔
اس کے ذیل میں فقیہ شامی نے لکھا ہے  :
و ظاہر ما مر في مسئلۃ البقرۃ اعتبار العرف الحادث، فلا یلزَم کونہ من عہد الصحابۃ۔ (۲)
یعنی مسئلہ بقرہ میں یہ بات گزرچکی ہے کہ تعامل میں کچھ صحابہ ہی کی کوئی قید نہیں،عرف حادث بھی نص کا سا کام دیتا ہے جس کی دلیل مارآہ المسلمون حسنا  الخ  ہے۔

(۱)	درمختار: ۴؍ ۵۶۱۔
(۲)	رد المحتار: ۱۷؍ ۲۵۰ مطلب فی وقف المنقول قصدا 
لہٰذا  ما رآہ المسلمون حسنا کا حکم صحابہ پر منحصر رکھنا فتاویٰ،شروح ومتون اور اکابر مفتیانِ دین کی تصانیف کے خلاف ہے۔جس کی ان علما نے صحابہ کے بعد امور مروّجہ کے استحسان پر سندپکڑی ہے، نیزمفتیان دین جابجا فتوے کے الفاظ میں یوں لکھتے ہیں  :
علیہ العمل، و علیہ المسلمون، و بہ جری التعامل، و ہو المتوارث۔ 
یعنی اسی پر عمل ہے ،  مسلمان اسی پر عمل پیراہیں ،  یوں ہی لوگوں کا برتاؤ جاری ہے ،  اور ایسا ہی ہوتاچلاآرہاہے۔
امام غزالی  رحمۃ اللہ علیہ   احیاء العلوم کی جلددوم میں  قیام کی تحقیق میں  لکھتے ہیں  :
و لکن إذا لم یثبت فیہ نہي عام فلا نری بہ بأسا في البلاد التي جرت العادۃ فیہا بإکرام الداخل بالقیام۔ (۱)
لیکن چوں کہ قیام کے سلسلے میں کوئی نہی عام ثابت نہیں ہوئی اس لیے ہم اس میں ان شہروں کی بابت کچھ حرج نہیں سمجھتے جہاں قیام کی عادت جاری ہو گئی ہے۔کیوں کہ اس میں توآنے والے کی تعظیم ہے۔
دوسرا قرینہ: یہ کہ شامی نے عادۃ لکھا توکثیر کی عادۃ لکھا، اور اہل اسلام کی ایک بڑی جماعت کا کسی ایک عمل پر قائم ہو جانابھی ایک سند ہے۔شامی شارح درمختارنے لکھا ہے  :
و الاعتماد علی ما علیہ الجم الکثیر۔ (۲)
یعنی اعتمادوبھروسا اس پرہوتا ہے جس پر ایک بڑی جماعت ہوتی ہے۔
 حدیث شریف میں ہے  :
اِتَّبِعُوا السِّوَادَ الأعْظَمَ۔ (۳)
یعنی سوادِ اعظم کی اتباع کرو۔
لہٰذا سوادِ اعظم کا عمل بھی استحباب کی ایک دلیل ہے۔
تیسراقرینہ:یہ کہ یہ عمل کثیرکس کاہے؟ محبین کا۔ اور یہ بات احادیث صحیحہ سے ظاہر ہے کہ اہل ایمان میں بڑے کامل وہی ہیں جن کورسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت ہے  :

(۱)	احیاء علوم الدین: ۲؍ ۱۴۲ 
(۲)	رد المحتار: ۷؍ ۳۰۴ باب صدقۃ الفطر 
(۳)	کنزالعمال: ۱؍ ۲۰۶حدیث: ۱۰۳۰۔۔ کشف الخفائ: ۲؍ ۳۹۱حدیث: ۳۲۲۳۔۔المقاصد الحسنۃ: ۱؍ ۹۶ ۔۔ 
لاَ  یُوْمِنُ  أحَدُکُمْ  حَتّٰی  أکُوْنَ  أحَبَّ  إلَیْہِ  مِنْ  وَّالِدِہٖ وَ وَلَدِہٖ وَ النَّاسِ أجْمَعِیْنَ۔ (۱)
یعنی تم میں کا کوئی اس وقت تک کامل مومن نہیں ہوسکتاجب کہ میں اس کے نزدیک اس کے والدواولاد بلکہ تمام لوگوں سے زیادہ محبوب وعزیز نہ ہو جاؤں۔
تو جب اہل محبت کا ایمان ہی کامل ہوا، اور اہل محبت ہی کا عمل اس پرہوا تو بڑی نادانی کی بات ہے اگرایسے مومنین کاملین کی ایک بڑی جماعت کایہ فعل ضلالت یا برا قرار دیں۔
چوتھاقرینہ:یہ کہ شامی نے ان کے قیام کی وجہ بھی بتادی کہ ان کا قیام کسی نفسانی غرض یا ہواے شیطانی کے لیے نہیں ہوتا بلکہ یہ توخاص تعظیم رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہے۔ اور یہ بات جملہ اہل اسلام جانتے ہیں کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم کاشرع نے ہم سے مطالبہ کیا ہے یانہیں، اور یہ کہ ادب کی نیت سے کھڑے ہونامفیدتعظیم ہے یانہیں،پھرجب اُن کا قیام تعظیم پر مبنی ہوا توضرور بالضرور وہ مستحب اور مستحسن ٹھہرا۔(۲)

(۱)	صحیح بخاری: ۱؍ ۲۴حدیث: ۱۴۔۔ صحیح مسلم: ۱؍ ۱۵۶حدیث: ۶۳۔۔ سنن ابن ماجہ: ۱؍ ۷۶حدیث: ۶۶۔۔مشکوٰۃ المصابیح: ۱؍۲حدیث:۷۔۔ مسنداحمد: ۲۵؍ ۳۹۵ حدیث: ۱۲۳۴۹۔۔سنن کبریٰ نسائی: ۶؍ ۵۳۴حدیث: ۱۱۷۴۴۔۔ مستدرک : ۸؍ ۴۹۴حدیث:۳۷۶۴۔۔ معجم اوسط طبرانی:۱۹؍ ۱۸۸حدیث: ۹۱۰۵۔۔ شعب الایمان: ۳؍ ۴۱۴ حدیث: ۱۳۶۴۔۔سنن دارمی: ۸؍ ۴۱۶ حدیث: ۲۷۹۷۔۔ مستخرج ابوعوانہ:۱؍ ۸۰حدیث: ۷۳۔۔ مسندابویعلی موصلی: ۷؍۸۳حدیث: ۲۹۷۰۔۔ صحیح ابن حبان: ۱؍ ۳۵۱حدیث: ۱۷۹ ۔۔مسندعبد بن حمید: ۳؍ ۲۹۸حدیث: ۱۱۷۸ ۔۔ مسندالشامیین: ۷؍ ۳۷۳ حدیث: ۲۵۲۶۔۔ الاربعون الصغریٰ بیہقی: ۱؍ ۵۳ حدیث: ۳۹۔۔ الایمان لابن مندہ: ۱؍ ۳۵۱حدیث: ۲۹۰۔۔السنۃ لابی بکرخلال: ۳؍ ۳۱۱حدیث: ۱۲۴۸۔۔جامع معمربن راشد: ۳؍ ۱۰۲حدیث: ۹۳۵۔۔شرح اصول اعتقاد اہل السنۃ والجماعۃ لالکائی: ۴؍ ۲۰۲حدیث: ۱۳۱۴۔۔معجم ابن الاعرابی: ۳؍ ۱۵حدیث: ۱۰۱۴۔۔کنزالعمال: ۱؍ ۳۷حدیث: ۷۰۔۔ مجمع الزوائد: ۱؍ ۸۸۔۔ المسندالجامع: ۱؍ ۳۴۲حدیث: ۲۰۶۔۔ تحفۃ الاشراف: ۳؍ ۳۵۴حدیث: ۱۲۴۹۔۔اصول الایمان فی ضوء الکتاب والسنۃ: ۱؍ ۲۳۳حدیث: ۳۔۔ محبۃ الرسول بین الاتباع والابتداع: ۱؍ ۵۴۔۔ فتح الباری لابن رجب: ۱؍ ۲۲حدیث: ۱۵۔۔ شرح الاربعین النوویۃ فی الاحادیث الصحیحۃ النبویۃ: ۱؍ ۳۶۔۔ مطالب اولی النہی فی شرح غایۃ المنتہی: ۱۴؍ ۴۱۳ فی خصائص النبی ۔۔الفتاویٰ الکبریٰ: ۷؍ ۲۴۴۔۔ سبل الہدیٰ و الرشاد: ۱۱؍ ۴۳۰۔۔ جذوۃ المقتبس من ذکر ولاۃ الاندلس: ۱؍ ۱۲۲۔۔ معجم اصحاب القاضی ابی علی الصدفی: ۱؍ ۱۲۲۔۔ نزہۃ المجالس و منتخب النفائس: ۱؍ ۴۶۔
(۲)	حاشیہ:سیرت شامی میں قیام کی جو یہ وجہ بیان کر دی کہ ’’تعظیما کھڑے ہوتے ہیں ‘‘ تو اس سے ایک اصل شرعی پیدا ہو گئی۔ یعنی یہ بات شرع میں خود ثابت ہے کہ جو کوئی شعائر کی تعظیم کرے تویہ تقویٔ دل پر دلیل ہے۔ اور حضور  صلی اللہ علیہ وسلم  اعظم شعائر اللہ سے ہیں اور یہ بھی شرعاً ثابت ہے کہ قیام مفید تعظیم ہے۔ چنانچہ اس رسالہ ہی میں چند مواقع پر قیام تعظیمی کو شرعاًثابت کیا گیا ہے۔ لہٰذا ایک اصل شرعی پیدا ہو گئی کہ اس قیام میں تعظیم رسول ہے اور تعظیم رسول امر محمود ہے۔ لیکن چوں کہ عہد صحابہ میں یہ خاص فردِ تعظیم اس ہیئت کے ساتھ نہ پائی گئی تو اسی کے پیش نظر شامی نے ’’لا اصل لہا‘‘ لکھ دیا۔ ورنہ حضرت شامی  رحمہ اللہ  کی یہ مراد ہرگز نہیں کہ اس قیام کے جواز واباحت یا استحسان پر کوئی دلیل اور کوئی اصل نہیں ہے۔ اس لیے کہ ان کا ’’ان یقوموا تعظیما لہ ‘‘ لکھ دینا خودتصریح ہے قیام کی دلیل اور اصل بیان کرنے پر۔۱۲۔منہ
پانچواں قرینہ:یہ کہ اگر محدث شامی کوقیام کا منع کرنامنظور ہوتا تو وہ اس قسم کے الفاظ لکھتے جو منکرین قیام نے لکھے ہیں جیساکہ جون پوری صاحب فرماتے ہیں  :
ما یفعلہ العوام عند ذکر وضع خیر الأنام  علیہ التحیۃ و السلام  لیس بشیء بل مکروہ۔
یعنی سیرت خیر الانام  صلی اللہ علیہ وسلم بیان کرتے وقت ،عوام جوعمل کرتی ہے وہ بالکل بلا وجہ اور مکروہ ہے۔ 
دوسرے گجراتی صاحب لکھتے ہیں  :
قد أحدث بعض جہال المشائخ أمورا کثیرۃ لا نجد لہا أصلا و لا اسما في کتاب و لا سنۃ منہا القیام عند ذکر ولادتہ  صلی اللہ علیہ وسلم ۔
 یعنی بعض ناآشناے شریعت شیخوں نے کچھ ایسے کام ایجاد کررکھے ہیں جن کی اصل نہ تو کتاب میں ملتی ہے اور نہ ہی سنت میں۔جیسے ذکرولادت نبوی  صلی اللہ علیہ وسلم  کے وقت قیام کرنا۔
تو اس فعل پرانکارکرنے والے یہ مانعین توقیام کرنے والوں کو محبین رسول نہیں کہتے بلکہ شدت غیظ وغضب سے ان کو عوام اور جہال وغیرہ کے الفاظ سے یاد کرتے ہیں۔ 
الحاصل!  عبارت شامی کے ماقبل ومابعد کے قرائن اور سیاق وسباق سے قطع نظراس ایک فقرہ کے یہ خاص خاص قرینے صریح دلالت کرتے ہیں کہ محدث شامی کی مراد یہ ہے کہ قیام کی اصل صدر اول سے تو نہیں پائی گئی لیکن اہل اسلام سے محبین کی ایک بڑی جماعت تعظیماً قیام کرتی ہے تویہ الفاظ تودرحقیقت اہل ایمان کو ترغیب دیتے ہیں کہ جس کے دل میں محبت ہو اور تعظیم رسول مدنظر ہو وہ قیام کرے۔ اس عبارت کا صحیح مطلب سمجھنے کے لیے ایک تو مادۂ علمی درکار ہے اور دوسرے ہدایت الٰہی جوکہ قلب مومن میں القاہوتی ہے۔لیکن جہاں دونوں مفقود ہوں وہاں کیا کیجیے!  :
وَ مَنْ لَّمْ یَجْعَلِ اللّٰہُ لَہُ نُورًا فَمَا لَہُ مِنْ نُورٍ۔ (۱)
 اور جسے اللہ نور نہ دے اس کے لیے کہیں نور نہیں۔
اب دیکھیے اسی عبارت شامی کے لفظ  لا أصل لہا کی بیداردل محدثین کس طرح شرح کرتے ہیں۔ علامہ نورالدین حلبی نے شامی کی یہ عبارت لکھ کر اس کے آگے یہ لکھا ہے  :

(۱)	سورۂ نور،۲۴؍۴۰۔
أی لکن ہي بدعۃ حسنۃ لأنہ لیس کل بدعۃ مذمومۃ۔ (۱)
یعنی مگر یہ بدعت حسنہ ہے کیوں کہ ہربدعت مذموم ہی نہیں ہوتی۔
یہ عبارت سیرت حلبی مطبوعہ مصر کے صفحہ۱۱۴میں موجودہے۔ اور علامہ حلبی نے اپنی اصطلاح دیباچہ میں لکھی ہے کہ جس جگہ سیرت الشمس کی عبارت لیتاہوں شروع میں لفظ أی لاتاہوں،تو اس جگہ لفظ أی کاآنا اس کی دلیل ہے کہ صاحب سیرت الشمس بھی اس قیام کو بدعت حسنہ فرماتے ہیں لہٰذا دونوں محدثوں یعنی حلبی اور صاحب سیرت الشمس کا اس پر اتفاق ثابت ہو گیا کہ سیرت شامی کے کلام سے جوقیام بدعت معلوم ہوتا تھا وہ سیئہ نہیں بلکہ بدعت حسنہ ہے۔
پھرحلبی نے لکھا کہ بدعت بالاتفاق جائز ہے۔ توتقریر حلبی وغیرہ سے معلوم ہوا کہ یہ قیام جائزہے۔ چنانچہ مولف براہین قاطعہ نے بھی صفحہ ۲۴۲میں اس کو مان لیا ہے مگریہ مغالطہ دیاکہ  :
 وہ ذکر مطلق کے فرد کی وجہ سے قیام کرتے تھے اور اس قیام میں تقلیدمطلق کا درجہ نہیں تھا اور نہ عوام کا اندیشہ تھالہٰذا جائزجانتے تھے اب وہ امر نہیں رہا مکر وہ ہو گیا انتہیٰ 
میں کہتاہوں : مولف کایہ لکھناکہ اس قیام میں تقلید مطلق کادرجہ نہ تھا ’غلط ہے۔اس لیے کہ خود سیرت حلبی میں یہ لفظ موجودہے  :
إذا سمعوا بذکر وضعہ  صلی اللہ علیہ وسلم ۔ (۲)
یعنی جب ولادت شریف کا ذکرسنتے ہیں اس وقت کھڑے ہو جاتے ہیں۔
تواُن کا قیام اِس قیام کے ساتھ مقید تھا۔دوسری بات یہ کہ عوام کاکوئی اندیشہ نہ تھا،یہ بھی صحیح نہیں ، اس لیے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہدسے لے کر آج تک کسی وقت میں عوام لوگ صفحہ روزگار سے غائب نہیں ہوئے، اور عوام کی طرف سے کبھی مطمئن اور بے اندیشہ نہیں ہوئے،  احادیث وآثار اور فتاوی پرنظررکھنے والوں سے یہ بات مخفی نہیں،اس بنیادپریہ بات بہت لچرہے کہ حلبی کے وقت ،اندیشہ عوام نہ تھا۔کیوں صاحب !کیوں اندیشہ نہ تھا ؟خود تمہارے جون پوری کی عبارت اس قیام کی بابت قریب ہی گزری  :
ما یفعلہ العوام   الخ 
دوسرے حضرت گجراتی کی عبارت بھی اوپرگزرچکی  :

(۱)	السیرۃ الحلبیۃ: ۱؍۱۲۱۔
(۲)	نفس مصدر: ۱؍۱۲۱۔
قد أحدث بعض جہال المشائخ   الخ 
دیکھیے آپ کے پیشواؤں نے عوام اور مشائخ جہال کو قیام کرتے دیکھا لیکن یہ اُن سے غلطی ہوئی کہ انھوں نے یہ سمجھاکہ عوام اور جہال ہی نے یہ قیام ایجاد کیا ہے،اُن کو یہ خبر نہ ہوئی کہ بڑے بڑے علما محبین رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ عمل کیا ہے۔جیساکہ علامہ شیخ عبد اللہ سراج  رحمۃ اللہ علیہ  مفتی عرب نے لکھا ہے  :
أما القیام إذا جاء ذکر ولادتہ عند قراء ۃ المولد الشریف توارثہ الأئمۃ الأعلام و أقرہ الحکام۔
یعنی میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم پڑھتے وقت جب ذکرولادت آتا ہے اس وقت قیام کرنے کوبڑے بڑے علما کرام اس کو جائز قرار دیتے چلے آئے ہیں اور بادشاہان حکام نے بھی اس کو باقی رکھا۔(۱)
شیخ عبد الرحمن سراج مفتی مکہ معظمہ زادہا اللہ شرفاوتعظیماً  قیام کے ساتھ محفل میلاد النبی  صلی اللہ علیہ وسلم منانے کے سلسلے میں فرماتے ہیں  :
و علماء العرب و المصر و الشام و الروم و الأندلس کلہم رأوہ حسنا من زمان السلف إلی الآن  الخ 
یعنی اس عمل میلاد مع القیام کو عرب،مصر،شام،روم اور اندلس وغیرہ کے علمائے کرام سلف صالحین کے عہد ہی سے جائز سمجھتے آرہے ہیں۔  
الحاصل! مولف براہین کا اس قیام کے بارے میں یہ لکھناکہ علما اس کو جائز جانتے تھے نہایت صحیح ہے۔پھر یہ شاخ نکالی کہ اُس وقت اندیشہ عوام نہ تھایایہ کہ وہ قیام مقیدنہ تھا بالکل غلط ہے۔
اعتراض :  یہ لوگ اگر قیام کو مباح ومستحسن جانتے تو واجب کی طرح دائمی کیوں کرتے ہیں حالاں کہ امر مستحب بھی اصرارکرنے سے مکروہ ہو جاتا ہے۔

(۱)	حاشیہ: تو اس مفتی بلیغ نے کیا عمدہ عبارت لکھی ہے اس لیے کہ أولی الأمرمنکم کی تفسیر بعض نے سلاطین کے ساتھ کی ہے اور بعض نے علمائے دین کے ساتھ ،تو جب اس مفتی نے یہ ثابت کر دیا کہ بڑے بڑے علمائے دین اور ائمہ وقت طبقۃً بعد طبقۃٍ اس کو جائزرکھتے آئے ہیں اور بادشاہان اسلام نے اس قیام کو مقرروقائم رکھا ہے تو حکم قیام دونوں فریق سے ثابت ہو گیا۔ اور ان دونوں فریق کی اطاعت قرآن کی روسے ہم پر ضروری ہے لہٰذا اس قیام کا ہرگزانکار نہ کرنا چاہیے۔۱۲منہ
جواب:  امور مستحبّہ کادوام ،علی العموم مکروہ نہیں بلکہ بعض مخصوص صورتوں میں بعض فقہا تحریر فرماتے ہیں جسے ہمارے فحواے کلام سے سمجھ لو۔
اس مسئلہ قیام کی تحقیق یہ ہے کہ ہم اس کو مستحسنات سے سمجھتے ہیں، جمہور کامذہب یہی ہے اور تمام اسلامی شہروں میں اسی پر عمل ہے۔منکرین میں ایک فرقہ ایسا ہے جو اس قیام کو حرام کہتا ہے، بعض بدعت مطلقہ اور بعض شرک قرار دیتا ہے۔تواس صورت میں اگر مجوزین قیام بھی ترک کرنے لگیں تو سب کے دلوں میں یہ بات سماجائے کہ یہ قیام بلا شبہ ممنوع ہے کہ انھوں نے ترک کر دیاتو اس صورت میں حکم شرعی بدل جائے گا۔ اور ہم دلائل شرعیہ سے اس قیام کے اباحت واستحسان کو اس کتاب میں ثابت کرچکے ہیں تو جب ایک امر مباح ومستحسن کو لوگ، شرک وکفر اور حرام سمجھنے لگیں تو حدودِ الٰہیہ میں اس سے زیادہ تعدی اور کیاہو گی،جس طرح ایک مستحب کو واجب سمجھنے میں شریعت کا تغیر ہے اسی طرح مباح کو حرام اور شرک قرار دینے میں بھی احکام الٰہیہ میں تغیروتبدل ہے۔تواسی مصلحت کی بنیادپر یہ مناسب سمجھا گیا کہ اس قیام کوترک نہ کیا کریں ،ہاں ! اگر یہ قیام ایسا ہوتا کہ اس کے استحباب میں کسی کوکلام نہ ہوتا تواس صورت میں اس کا دوام واہتمام  بقول ان بعض فقہا کے  نہ کیاجاتاکیوں کہ ایک ایسا امر جو سب کے نزدیک بالاتفاق محمود ہو اور کوئی اس میں انکار نہ کرتاہو بلکہ سب اس کو کمالِ اہتمام سے بجالاتے ہوں تو اس کی مداومت سے عوام کے دلوں میں وجوب وفرضیت کاشبہ البتہ پڑسکتا ہے اور وہ یہ خیال کرسکتے ہیں کہ اس امر کا کوئی منکر نہیں اور سبھی کمال تاکید اور التزام واہتمام کے ساتھ بالاتفاق کر رہے ہیں شایدیہ کام فرض یا واجب ہو گا تو صاحب مجمع البحار کا کلام جس کو بعض فضلاسند میں لاتے ہیں درحقیقت وہ ایسے ہی متفقہ مندوب و مستحب کے حق میں ہے  :
المندوب ینقلب مکروہا إذا خیف أن یرفع عن رتبتہ۔
مندوب اس وقت مکروہ سے بدل جاتا ہے جب اس کا خوف ہو کہ وہ اپنے مقام سے بلند ہو جائے۔ 
برخلاف اس قیام کے کہ اس میں لوگوں کوکیاکیا گفتگوئیں ہیں بھلا جس چیز کے جواز وعدم جواز میں مباحثہ ہو رہاہو اور مجوزین قیام ،قیام کے سلسلہ میں استحسان کے اقرارکے فتاوے جابجا چھاپ چھاپ کرمشتہر کرچکے ہوں کب عقل سلیم اس بات کو ب اور کرے گی کہ قیام کی فرضیت یا وجوب شرعی کاشائبہ بھی کسی دل میں پیداہو گا حاشا وکلا 
قلب الدلیل:  ہم کہتے ہیں کہ جس طرح مندوب کا مکروہ ہو جانا صاحب مجمع البحار سے نقل فرمایا ہے تو مجمع البحار میں یہ بھی لکھاہوا ہے کہ بعض احکام تبدیلی زمانہ کی وجہ سے بدل جاتے ہیں۔ اور مسجد کی زینت کو صاحب مجمع البحار نے ممنوع لکھا تھا لیکن جب لوگ اپنے مکانات عمدہ عمدہ بنانے لگے تو اب اگر مسجد کو زینت نہ دی جائے تو مسجد کی تحقیر لازم آئے گی۔
مجمع البحارکی جلد دوم ’شرف، کے معنی کی تحقیق کے تحت ،قبر پرتعمیرکے بارے میں لکھا کہ منع ہے پھر لکھا کہ علمائے سلف نے بعض مصلحت کی بنیادپر اس کو جائز رکھا  :
و قد أباح السلف أن یبنی علی قبور المشائخ و العلماء المشاہیر لیزورہم الناس و یستریحون بالجلوس فیہ۔ (۱)
یعنی مشائخ کرام اور مشہورومعروف علمی شخصیتوں کے مزارکی تعمیرکوسلف صالحین نے مباح قرار دیا ہے،تاکہ لوگ ان کی  زیارت سے برکات حاصل کریں اور وہاں بیٹھ کر آرام کریں۔
صاحب روح البیان نے شیخ عبد الغنی نابلسی کے رسالہ ’’کشف النورعن اصحاب القبور‘‘ سے نقل کیا ہے  :
إن البدعۃ الحسنۃ الموافقۃ لمقصود الشرع تسمی سنۃ فبناء القباب علی قبور العلماء و الأولیاء و الصلحاء۔۔۔۔۔۔أمر جائز إذا کان القصد بذلک التعظیم في أعین العامۃ حتی لا یحتقروا صاحب ہذا القبر۔ (۲)
یعنی مقصودِ شرع کے مطابق ،بدعت حسنہ سنت کہلاتی ہے ،توعلما واولیا اور صالحین کی قبروں پرقبوں کی تعمیرجائزہے، جب کہ اس کامقصود یہ ہو کہ لوگوں کی نگاہ میں اس کی قدروتعظیم بڑھے اور لوگ اس صاحب قبر کوحقیر نہ سمجھیں۔
اسی طرح شیخ عبد الحق  رحمۃ اللہ علیہ  نے’’ شرح سفر السعادہ‘‘ میں لکھا ہے۔ اور روح البیان جلد ثانی میں احیاء العلوم کے حوالے سے نقل کیا ہے  :
أکثر معروفات ہذہ الأعصار منکرات في عصر الصحابۃ، إذ من عد المعروف في زماننا من فرش المساجد بالبسط الرقیۃ و قد کان یعد فرش البواري في المسجد بدعۃ کانوا لا یرون أن یکون بینہم وبین الأرض حائل۔(۳)

(۱)	مجمع بحار الانوار: ۳؍۲۱۰ مطبع دار الایمان مدینہ منورہ ۱۴۱۵ھ  مصدقہ حبیب الرحمن اعظمی مؤی۔
(۲)	تفسیر روح البیان:۵؍۶۔
(۳)	نفس مصدر:۵؍۵۔
یعنی اکثر باتیں جو اس وقت عمدہ گنی جاتی ہیں وہ صحابہ کے وقت میں بری گنی جاتی تھیں۔اب مساجد میں عمدہ فرش بچھانا اچھا جاناجاتا ہے جب کہ پہلے دور کے لوگ مسجد میں بوریوں کابچھانا بھی پسند نہ کرتے تھے، اور یوں کہتے تھے کہ ہمارے اور زمین کے بیچ میں کوئی چیزحائل نہ ہو۔یہاں تک کہ فقہانے لکھا ہے کہ زمین پر بلا حائل نمازپڑھنا افضل ہے۔
’’خزانۃ الروایات ‘‘میں ہے کہ رمضان میں ختم قرآن کے وقت جمع ہو کردعامانگنا بدعت اور مکروہ ہے۔ لیکن ابوالقاسم صفار رحمۃ اللہ علیہ   فرماتے ہیں :اگر شہر کے آدمی یوں نہ کہنے لگتے کہ یہ عام دعاکومنع کرتا ہے تو میں ان کو منع کر دیتا۔
 ہٰذا شییء لا یفتی بہ لأنہ لا ینبغي أن یقال للعامۃ شیئا لم یفہموا۔
یعنی یہ بات ایسی ہے کہ جس پر فتویٰ نہیں دینا چاہیے کیوں کہ عوام میں وہ بات نہ کہنا چاہیے جس کو وہ نہ سمجھ سکیں۔
اسی طرح ’’فتاویٰ سراجیہ‘‘ میں بھی ہے۔
اب مختصر طورپرسنیں کہ اول تو اموات کی فاتحہ کے لیے تعیین ایام، اور اسی طرح قیام کے ساتھ امورِ مروجہ محفل میلاد علیہ السلام کوہم دلیل سے ثابت کرچکے۔ اب بطورِ تنزل الزاماً کہتے ہیں کہ اگر بالفرض یہ امور تمہارے بقول ،مکروہ بھی ہوتے کہ قرون ثلاثہ میں نہیں پائے گئے،تب بھی مجمع البحار اور دیگرتصریحات مذکورہ کی منشاکے مطابق اب زمانہ بدل جانے کی وجہ سے یہ جائز ہونے چاہئیں ،کیوں کہ اس پرآشوب زمانہ میں غیرمذاہب کے لوگ جابجا اپنی اپنی کفریات کے اعلان کر رہے ہیں تواب مسلمانوں کو چاہیے کہ ایسی مجالس منعقد کرکے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے فضائل ومعجزات ،عالم میں پھیلائیں،پڑھیں،پڑھائیں اور سنیں سنوائیں۔ اور اب چوں کہ لوگوں کے اندر،ہر ہر بات میں تکلف وزینت (کی روایت )چل گئی ہے تودین کے مواقع کو بے آراستہ رکھنا تحقیر کا باعث ہے۔ اور تعظیم نبی صلی اللہ علیہ وسلم بجالانے سے اہل ایمان کے دلوں میں عظمت وتوقیرپیداہوتی ہے، اور کفار کی نظر میں شوکت اسلام ظاہرہوتی ہے۔ 
 اور فاتحہ اموات میں یہ بات ہے کہ تعیین ایام کی پابندی کے باوجودبھی میت کو ثواب پہنچ جاتا ہے،مساکین کا پیٹ بھرجاتا ہے اور ان کو کھانابھی تعیین کے باوجود جائزہے۔چنانچہ براہین قاطعہ میں ان باتوں کو مان لیا ہے۔
اب باقی رہی ہماری تمہارے نزدیک اس کھلانے والے کے اوپر کراہت تعیین تو یہ سمجھ کر اس سے قطع نظر کر لوکہ پابندیِ ایام کی یاد دہانی میں توخیرات ہوبھی جاتی ہے ،جب یہ تقاضا اُٹھ گیا تو پھر کون صدقہ کرتا ہے،خیرات بند ہو جائے گی،اس دورِ عسرت میں مساکین کثرت سے مارے مارے پھرتے ہیں،کہیں سہارانہیں پاتے،ان کی حاجت برآری پرنظرچاہیے، اور ان باتوں کو منع کرنے سے جابجا یہ کہنے میں آتا ہے کہ یہ لوگ اموات کی خیرات کو اور تعظیم وذکر رسول  صلی اللہ علیہ وسلم سے منع کرتے ہیں۔اس بنیادپر امام ابو القاسم صفارکے بقول جوکہ علمائے حنفیہ کے ائمہ کبار میں گزرے ہیں  ہرگز فتویٰ نہ دینا چاہیے،جس طرح کہ انھوں نے نہ دیا۔یہ الزامی گفتگو ہوئی اور تحقیقی ثبوت وہ ہیں جوجابجا اس کتاب میں تحریر کیے گئے ہیں۔
اعتراض:  بانیانِ محفل میلاد شریف منکرین قیام پراس طرح ملامت کرتے ہیں جیسے ترک و واجب پر۔
جواب:  اس کا سبب یہ ہے کہ جو لوگ قیام نہیں کرتے ان میں اکثر ایسے ہوتے ہیں کہ جن کے عقائد وہابیہ نجدیہ کے سے ہوتے ہیں اور وہ قیام کو کفر اور شرک اعتقادکرتے ہیں۔تو اس میں ایک تو یہ بات ہوئی کہ اس شخص کے نزدیک قیام کرنے والے مشرک اور کافر ٹھہرتے ہیں ، تو اگر کسی کو اس بات پرغصہ آ جائے اور ہاتھ یا زبان سے کچھ سرزدہو جائے توکچھ بعید نہیں۔ دوسرے یہ کہ اس کی ایک حرکت سے اس کے دوسرے گھناؤنے عقائد کا بھی خیال آ جاتا ہے۔تیسرے یہ کہ وہ اس فریق کو دیکھتے ہیں کہ خوراک وپوشاک اور معاملات کی سیکڑوں باتوں میں یہ صحابہ کی مخالفت اور قرون ثلاثہ کے خلاف کرتے ہیں اور صرف قیام کرنے اور میلادشریف کی محفل میں یہ گفتگو کرتے ہیں کہ قرون ثلاثہ میں یہ نہیں ہوئی، اور اس پرباہم عنادوفسادپیدا کرتے ہیں ،اس وجہ سے رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کے شیدائیوں کوان مفسدوں پرغیظ آ جاتا ہے۔البتہ اگر معلوم ہو جائے کہ اس شخص کے جملہ عقائدعمدہ ہیں اور قیام کرنے والوں کو بھی یہ برانہیں جانتاتواس شخص کو ہرگزکوئی زجروتوبیخ نہیں کرے گا۔ ہاں ! یہ توکہیں گے کہ آداب محفل کاتقاضایہ تھا کہ سب کے ساتھ آپ بھی قیام کرتے توبہترتھا۔
امام غزالی نے ’’باب السّماع‘‘میں لکھا ہے کہ یہ بات آداب حقوق صحبت کے آداب کے خلاف ہے کہ کھڑے ہونے میں موافقت نہ کرے۔
تواس تقریرسے معلوم ہو گیا کہ قیام نہ کرنے والے پرغصہ آ جانا اور سبب سے ہوتا ہے،اس وجہ سے نہیں کہ وہ اسے فرض وواجب جانتے ہیں۔مفتیانِ دین اپنے فتاویٰ میں یہ توبالاتفاق تصریح فرماچکے ہیں کہ قیام فرض وواجب نہیں بلکہ مستحسن اور ادب کی بات ہے۔ 
غور سے دیکھیے تو بعض اوقات ،یہ تارکِ قیام، نص قرآنی کا مخالف بن جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے  :
یَا أیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا إذَا قِیْلَ لَکُمْ تَفَسَّحُوْا فِي الْمَجَالِسِ فَافْسَحُوْا یَفْسَحِ اللّٰہُ  لَکُمْ وَ إذَا قِیْلَ انْشُزُوْا فَانْشُزُوْا۔ (۱)
اے ایمان والو! جب تم سے کہا جائے مجلسوں میں جگہ دو توجگہ دو،اللہ تمھیں جگہ دے گا، اور جب کہاجائے اٹھ کھڑے ہوتواُٹھ کھڑے ہو۔
اب معلوم کرناچاہیے کہ جب میلاد خواں نے پڑھا   ع: 
اُٹھوذکر میلادِ حضرت ہے اب
یا اس طرح پڑھے   ع  :
چاہیے آداب سے کرناقیام
یا یہ کہ ان کھڑے ہونے والوں نے اس آدمی کو اشارہ کیا کہ اُٹھ کھڑے ہو اور اس نے یہ کیا کہ کھڑاتو نہ ہوا اُٹھ کر باہرچلا گیا تو دیکھیے کہ اس وقت وہ حکم خداوندی کا مخالف ہو بیٹھا کیوں کہ اس آیت کے نزول کا منشایہی تھا کہ لوگوں کووہ بات تعلیم کیجیے کہ آپس میں محبت پیداہو، اور بغض وعناد رخصت ہو۔چنانچہ امام رازی رحمۃ اللہ علیہ نے تفسیر کبیر میں اسی آیت مذکورہ کے شروع میں لکھا ہے  :
اعلم أنہ تعالیٰ لما نہی عبادہ المومنین عما یکون سببا للتباغض و التنافر، أمرہم الآن بما یصیر سببا لزیادۃ المحبۃ  و المودۃ۔ (۲)
یعنی معلوم ہوناچاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے مومن بندوں کو ایسی چیز سے منع فرمایا جو نفرت وکدورت کا سبب ہو جائے۔بلکہ ایسی چیز کاحکم دیاجوالفت ومحبت میں اضافے کاباعث بن جائے۔ 
اب ارباب انصاف خیال فرمائیں کہ اگر وہ کھڑاہو جاتا توباہمی اتحادووِداد کا سبب بن جاتا مگرکھڑانہ ہو کر بغض ونفرت کا سبب بن گیا تواس کا یہ فعل، منشاے خداوندی سے کس قدر دور جاٹھہرا۔ فاعتبروا یا أولی الأبصار۔

(۱)	سورۂ مجادلہ،۵۸؍۱۱۔
(۲)	تفسیررازی : ۱۵؍۲۷۴۔


لمعہ سابعہ

اعتراض :یہ اعتراض کہ محفل میلاد شریف میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت، مخاطب حاضر کے اشعارپڑھے جاتے ہیں حالاں کہ آپ نظرسے غائب ہیں اور یہ شرع میں جائز نہیں بلکہ کفر ہے۔ 
جواب:  یہ بات تومعلوم ہے کہ عالم الغیب بالذات تووہی ایک  جل جلالہ کی ذات ہے۔زمین وآسمان میں کوئی نہیں جو اللہ کے الہام وکشف کر دینے کے بغیرخودبخود یقینی طورپر امورِغیبیہ کو جان لے،نیز یہ بھی کہ کوئی ایسانہیں جو عرش سے لے کر تحت الثّریٰ تک ہرمکان،ہرزمان اور ہرآن میں اللہ تعالیٰ کی طرح حاضر وناظر ہو۔لیکن یہ معلوم نہیں کہ ان لوگوں پرکون سی کتاب نازل ہوئی ہے جس میں یہ الفاظ لکھے ہیں کہ غائب کی نسبت حاضر کے الفاظ بولنے کفرہیں۔ہم اس سلسلہ میں خاص جزئیہ پیش کرتے ہیں۔
قسطلانی وزرقانی وغیرہ محدثین لکھتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے خصائص میں ہے  :
و منہا أن المصلي یخاطبہ بقولہ : السلام علیک أیہا النبي، و الصلوٰۃ صحیحۃ و لا یخاطب غیرہ۔
اس عبارت سے ثابت ہو اکہ نمازی عین نماز میں رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کو خطاب کرتا ہے اور تشہد کی حالت میں حاضر کا لفظ بولتا ہے :  السلام علیک أیہا النبی و رحمۃ اللّٰہ و برکاتہ یعنی اے نبی محترم! آپ پرسلام ہو اور اللہ کی رحمت وبرکت۔ اور ایسا خطاب کرنا  نماز میں صحیح ہے جب کہ دوسرے کو نماز میں خطاب نہیں کیاجا سکتا اور اگرکرے تو نماز فاسدہو جاتی ہے انتہیٰ 
بعض آدمی یہ کہتے ہیں کہ یہ توقصہ معراج کی نقل نکالتے ہیں حالاں کہ اس میں حضرت کا خطاب مراد نہیں تو ان کا قول اس عبارت سے رد ہو گیا کیوں کہ اس میں یخاطبہ  لفظ صریح موجود ہے۔علاوہ ازیں شامی نے بھی رد کیا ہے  :
لا یقصد الإخبار و الحکایۃ عما وقع في المعراج۔
یعنی وہ اپنی نمازمیں معراج کے اندرہوئے واقعہ کی حکایت کرنے اور خبردینے کاقصدو ارادہ نہ کرے۔(۱)
درمختار میں بھی رد کیا ہے  :
و یقصد بألفاظ التشہد الإنشاء کأنہ یسلم علی نبیہ۔
یعنی الفاظ تشہد میں یہ ارادہ کرے کہ اب میں اپنے نبی  صلی اللہ علیہ وسلم پر سلام بھیج رہاہوں۔(۲)
فقیہ ابواللیث سمرقندی نے’’تنبیہ‘‘میں ’السلام علیک ایہا النبی، کی شرح اس طرح کی ہے  :
یا محمد  !  علیک السلام۔
صاحب احیاء العلوم  تفصیل ماینبغی ان یحضر فی القلب کے بیانمیں لکھتے ہیں  :
و احضر في قلبک النبي  صلی اللہ علیہ وسلم  و شخصہ الکریم و قل السلام علیک أیہا النبي و رحمۃ اللہ و برکاتہ۔
یعنی نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم کے وجودمسعود کواپنے دل میں حاضر جان کریوں عرض کر: السلام علیک ایہا النبی ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔
 امام شعرانی کی ’’میزان الشریعۃ الکبریٰ‘‘میں ہے کہ التحیات میں نمازی کودرودوسلام کا حکم شارع نے اس وجہ سے کیاتاکہ غفلت برتنے والوں کوآگاہ کر دے کہ جس پروردگار کے سامنے تم بیٹھے ہو اس دربار میں تمہارے نبی بھی موجودہیں  :
فإنہ لا یفارق حضرۃ اللہ تعالیٰ أبدا فیخاطبونہ بالسلام مشافہۃ۔
یعنی رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم درگاہِ الٰہی سے کبھی جدانہیں ہوتے،اس لیے نمازی آپ کوروبرو سمجھ کرسلام سے خطاب کرتے ہیں۔

(۱)	حاشیہ:یعنی نمازی اپنی نماز میں یہ ارادہ نہ کرے کہ میں خبردیتاہوں یاحکایت کرتاہوں کہ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کوشب معراج میں اس طرح فرمایا تھا:السلام علیک ایہا النبی ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔اس کی دلیل یہ ہے کہ اگر اس کی طرف سے نقل کا ارادہ کرے گا تو وہ سلام نمازی کا نہ ہو گا بلکہ اللہ تعالیٰ کا سلام ہو گا یہ محض نقال ہو گیا۔ اور فقط ایک سلام ہی میں کیا ہے،التحیات ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ہو جائے گی، اور اشہد ان لا الہ الا اللہ فرشتوں کی طرف سے ہو جائے گا تویہ توصرف نقل ہو جائے گی اور نمازی نقال محض ٹھہرے گا۔۱۲منہ
(۲)	حاشیہ : مولف کہتا ہے کہ یہ بالکل ہی حق ہے، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے تو شب معراج میں فرمایا تھا۔ اور اب تو نمازی اپنی زبان سے کہتا ہے :السلام علیک۔ لہٰذا اب تو یہ سلام اسی کا ہے۔ ۱۲منہ
مسئلہ :  قاضی عیاض رحمۃ اللہ علیہ  نے شفاشریف میں لکھا ہے کہ عمرو بن دینار نے  جوکبارِتابعین اور فقہاے مکہ سے ہیں  کہاکہ جب تم گھروں میں داخل ہو اور وہاں کوئی نہ ہو تو’’السلام علیک أیہا النبي و رحمۃ اللہ و برکاتہ ‘‘ کہا کرو۔(۱)
ملاحسن حمزاوی اس کی شرح میں لکھتے ہیں  :
لأن روحہ حاضر في بیوت أہل الإسلام۔
کیوں کہ رحمت عالم  صلی اللہ علیہ وسلم کی روح مبارک اہل اسلام کے گھروں میں موجود ہوتی ہے۔
مولوی عبد الحق صاحب نے بھی علی قاری کی شرح شفا سے روح مبارک کے گھروں میں موجود ہونے کا یہ مضمون اسی طرح نقل کیا ہے۔اصل حقیقت کو اللہ  سبحانہ وتعالیٰ  جانتا ہے جو کچھ مولف کی ناقص عقل میں آتا ہے لکھتاہوں :چوں کہ آپ کی روح مبارک ’اب الارواح، ہے۔ اور حدیث میں ہے  :
المؤمنون من فیض نوري۔ (۲)
یعنی اہل ایمان کی تخلیق میرے نورانی فیضان سے ہوئی ہے۔
یہ روح البیان اور مجدد الف ثانی  رحمۃ اللہ علیہم اجمعین  وغیرہ کے کلام میں موجودہے۔ نیز محدث دہلوی وغیرہ کے کلام میں یہ بھی ہے کہ آپ کی روح اُس عالم میں مربی ارواح تھی۔
قرآن شریف کی سورۂ احزاب میں ہے  :
النَّبِيُّ أوْلٰی بِالْمُوْمِنِیْنَ مِنْ أنْفُسِہِمْ۔ (۳)
یہ نبی، مسلمانوں کا ان کی جان سے زیادہ مالک ہے۔
یعنی ایمان والوں کو نبی سے اپنی جان سے زیادہ لگاؤہے۔ اور اس آیت میں لفظ أنفسہم کے بعد یہ قراء ت بھی آتی ہے  :
و ہو أب لہم۔
یعنی رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  ،مومنین کے باپ ہیں۔ 

(۱)	الشفاء بتعریف حقوق المصطفیٰ: ۲؍ ۶۷۔
(۲)	روح البیان: ۳؍۱۴۷ ،  ۸؍۳۵۰۔
(۳)	سورۂ احزاب،۳۳؍۶۔
علامہ بیضاوی اور صاحب روح البیان اس مقام پر لکھتے ہیں کہ جب آپ مومنین کے مربی اور باپ ٹھہرے تو اسی واسطے یہ ٹھہرا گیا  :
 المومنون إخوۃ۔ (۱)
یعنی ایمان والے آپس میں بھائی ہیں۔
نیزیہ بھی کہ امت کے اعمال آپ پر پیش کیے جاتے ہیں، اور امت کے درودبھی آپ کو نام بنام پہنچتے ہیں یہ سب اس پروجوہِ دلیل ہیں کہ آپ کو اہل اسلام کے گھروں سے تعلق اور گہراربط ہے نیز یہ بھی کہ اہل اسلام کے گھروں میں نمازبھی جاری ہے،بچے،عورتیں اور کبھی مردبھی  جو مسجدنہ گئے تو گھر ہی میں پڑھ لیتے ہیں ،غرض کہ تمام مردوعورت التحیات میں  السلام علیک أیہا النبي و رحمۃ اللّٰہ و برکاتہ پڑھتے ہیں تو اہل اسلام کے گھروں سے برابر آپ کو سلام پہنچتا ہے۔ اس بنیادپر آپ کی روح کو اہل اسلام کے گھروں سے تعلق ہے،توروحوں کی تخلیق اول سے لے کر اس وقت تک برابر آپ کاتعلق ثابت ہے، اور روحِ مبارک گرچہ ملأ اعلیٰ میں ہے لیکن اس کا اشراق ادھربھی ہے اور اس کا تعلق عالم خاک سے بھی ہے مثلاً قبرشریف میں بدن کے ساتھ ایسا تعلق ہے کہ اس تعلق وربط سے بدن مبارک زندہ اور حساس ودرّاک ہے،نیز آپ کواطرافِ زمین میں پھرنے اور امت کے اعمال پرنظرکرنے کی اجازت دی گئی جیساکہ سیوطی  رحمۃ اللہ علیہ  نے لکھا ہے۔
یوں ہی حسن حمزاوی اور علی قاری رحمہما اللہ کی تحریر بھی سمجھنی چاہیے کہ آپ کی روح کو اہل اسلام کے گھروں سے ربط وتعلق ہے۔اس مقام پر یہ مسئلہ’السلام علیک أیہا النبي، کے ذکر کی وجہ سے لکھ دیا گیا ہے۔
 الحاصل!  تشہد کے سلام میں نقل وحکایت مراد رکھنا اور اپنی طرف سے سلام نہ بھیجنا نہایت غیردرست ہے۔ تحقیق یہ ہے کہ ایک نمازی اس سلام میں یہ ارادہ کرے کہ میں خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم  پرسلام بھیجتاہوں کہ اے اللہ کے نبی !آپ پرسلام ہو۔ورنہ کم نصیب اُس حکم الٰہی کی تعمیل

(۱)	تفسیر بیضاوی:۵؍۵۔۔تفسیر روح البیان:۱۰؍۴۹۷
سے محروم رہے گاجوقرآن میں لفظ’سَلَّمُوا،(۱)آیا ہے،کیوں کہ سلام اس سے خودمطلوب تھامگر اس نے خود نہ کیابلکہ معراج کی حکایت سمجھ لی۔
امرعجیب:  بعض دشمنانِ خطاب یہاں تک غلوکرگئے کہ کہتے ہیں : نمازمیں  السلام علیک أیہا النبينہ پڑھناچاہیے کہ صحابہ نے چھوڑدیا تھا۔اس عاجز نے ایک مستقل رسالہ بنام  ’’قول النبی فی تحقیق السلام علیک ایہا النبی‘‘لکھا ہے،جس میں اس قول کی دھجی اُڑا کر رکھ دی گئی ہے  یہاں طول کی گنجائش نہیں  
مختصر یہ ہے کہ تشہدیعنی التحیات کی روایت عبد اللہ بن عباس،عمر بن الخطاب، ابن عمر،جابر بن عبد اللہ،ابوموسیٰ اشعری اور عبد اللہ بن مسعود رضوان اللہ علیہم اجمعین سے منقول ہے، اور سب میں لفظ خطاب موجودہے۔ توعبد اللہ بن مسعودکی یہ بات کہ وفات کے بعد السلام علیک کا خطاب ترک ہو گیا کسی نے روایت نہیں کی سواے ابن سنجرہ کے۔ اور تشہدکی یہ روایت ان سے چند راویوں یعنی شفیق،علقمہ، اسود، ابوالاحوص، ابوعبیدہ اور عبد اللہ بن سنجرہ نے کی ہے۔ اور ابن سنجرہ سے آگے دوراوی ہیں : ایک اعمش، دوسرے سیف بن سلیمان،تواعمش کی روایت میں وہ فقرہ نہیں ،سیف بن سلیمان کی روایت میں ہے، اور وہ اگرچہ ثقہ تھالیکن اس پر بدعت قدر(یعنی قدریہ فرقے سے ہونے)کی تہمت ہے توجب کہ جملہ صحابہ سے طبقۃً بعد طبقۃٍ اس وقت تک وہی تعلیم خطاب ہوتی چلی آئی حتیٰ کہ ابن مسعود سے بھی،سوا اس روایت کے جو بخاری میں سیف بن سلیمان سے مروی ہے۔تو اس روایت پرعمل نہ کیاجائے گا اور کیوں کر عمل کیا جائے حالاں کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ  سے ہم کو صحیح طورسے بھی تعلیم خطاب پہنچی ہے۔
ہم مذہب حنفی رکھتے ہیں اور ہمارے امام اعظم ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کواسی طرح بصیغۂ خطاب تعلیم ہوئی،پھرہم کو اسی طرح اُن سے پہنچی،ہمارے امام اعظم کے استاد!یہی فرماتے ہیں کہ میراہاتھ پکڑاحمادنے اور مجھ کو تشہدسکھایا۔حمادنے کہاکہ میراہاتھ پکڑا ابراہیم نے اور مجھ کو تشہد سکھایا

(۱)	حاشیہ  مسلم وبخاری کی احادیث کی شرح میں امام نووی اور صاحب مجمع البحارنے لکھا ہے کہ بعض صحابہ نے رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  سے پوچھاکہ اللہ تعالیٰ نے ہم کوحکم دیا : صلوا علیہ و سلموا۔تب آپ نے درود تعلیم فرمایا اور سلام کو یہ فرمایاکہ سلام کا طریقہ تم پہلے جان چکے ہو یعنی تم التحیات میں پڑھا کرتے ہو:  السلام علیک أیہا النبی و رحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ اور بعض صحابہ نے درود اس طرح پوچھایارسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم درود پڑھنا بتائیے، کس طرح پڑھیں ؟۔۱۲منہ
ابراہیم نے کہاکہ میراہاتھ پکڑا علقمہ نے اور مجھ کو تشہد سکھایا۔ علقمہ نے کہا کہ میراہاتھ پکڑا عبد اللہ بن مسعود نے اور مجھ کو تشہد سکھایا اور عبد اللہ بن مسعودنے کہا کہ میراہاتھ پکڑا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور مجھ کو تشہدسکھایاجس طرح کی قرآن کی سورت سکھائی تھی۔پھرآپ کاوہ سکھایاہواتشہد کتب حنفیہ، فتاویٰ وشروح ومتون میں موجودہے،جس میں لفظ خطاب کی تعلیم ہے۔اس کے علاوہ دیگرمذاہب یعنی حنبلی،مالکی اور شافعی کی کتابیں بھی دیکھی گئیں توان میں بھی یہی خطاب کی تعلیم موجودہے۔
اللہ رے عناد!  دیکھیں کہ تمام صحابہ کی روایتیں اور خود عبد اللہ بن مسعود کی روایتیں  بجزایک روایت  ،چاروں ائمہ مجتہدین کے فتاویٰ اور نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات مطلقہ یعنی حیات ووفات اور زمانی ومکانی قرب وبعدکی کسی قید کے بغیرعلی العموم یہ فرمانا  :
فإذَا صَلّٰی أحَدُکُمْ فَلْیَقُلْ التَّحِیَّاتُ  إلی آخرہ (۱)
نیز  :
فإذَا قَعَدَ أحَدُکُمْ فَلْیَقُلْ التَّحِیَّاتُ  إلی آخرہ (۲)
فَإذَا جَلَسَ أحَدُکُمْ فَلْیَقُلْ التَّحِیَّاتُ۔ (۳)
ان سب روایتوں میں خطاب موجودہے حتی کہ مولوی اسحق صاحب کی ’’مائۃ مسائل‘‘ کے چوبیسویں سوال میں بھی اقرار موجودہے  :

(۱)	صحیح بخاری :۳؍۳۳۰حدیث: ۷۸۸۔۔سنن کبریٰ بیہقی: ۲؍ ۱۳۸۔۔ معرفۃ السنن والآثار: ۳؍ ۹۹حدیث:۹۲۳۔۔ معرفۃ الصحابہ: ۱۲؍ ۴۱۰حدیث: ۴۰۰۴ ۔۔ الاوسط ابن منذر: ۴؍ ۴۹۶حدیث: ۱۴۶۹۔۔ سنن صغیربیہقی: ۱؍ ۳۸۰حدیث: ۳۳۹ ۔۔  مسند شاشی:۲؍ ۴۰حدیث: ۴۶۲ ۔۔ جزء الالف دینار للقطیعی:۱؍ ۱۹۸حدیث:۱۹۷۔
(۲)	صحیح بخاری :۱۹؍۳۹۹حدیث: ۵۸۵۳۔۔ صحیح مسلم: ۲؍ ۳۶۸حدیث: ۶۰۹۔۔مسند احمد: ۸؍۲۵۹حدیث: ۳۷۲۴ ۔۔ سنن کبریٰ نسائی: ۱؍۳۷۸حدیث:۱۲۰۲۔۔ مستخرج ابوعوانہ: ۴؍ ۳۵۹حدیث: ۱۶۰۶۔۔مسندابویعلی موصلی: ۱۰؍ ۳۹۶ حدیث: ۵۰۱۰۔۔کنزالعمال: ۷؍ ۴۷۸حدیث: ۱۹۸۶۵۔۔ المسند الجامع: ۲۷؍۳۸۲حدیث:۹۰۳۳۔۔  نصب الرایہ: ۲؍ ۳۹۳ باب صفۃ الصلوٰۃ ۔۔فتح القدیر:۲؍ ۱۰۷ باب صفۃ الصلوٰۃ 
(۳)	صحیح بخاری :۱۹؍۲۴۱حدیث: ۵۷۶۲۔۔ سنن ابوداؤد: ۳؍ ۱۵۵حدیث: ۸۲۵۔۔ مشکوٰۃ المصابیح :۱؍۱۹۸ حدیث:۹۰۹ ۔۔ مسند احمد: ۷؍ ۴۷۴حدیث: ۳۴۳۹۔۔ سنن کبریٰ بیہقی: ۲؍۱۵۳۔۔ سنن کبریٰ نسائی: ۱؍ ۳۸۵ حدیث:۱۲۲۱۔۔ معجم کبیرطبرانی: ۸؍ ۳۵۶حدیث: ۹۷۵۷۔۔ مستخرج ابوعوانہ: ۴؍ ۳۵۶حدیث: ۱۶۰۳ ۔۔صحیح ابن خزیمہ: ۳؍ ۱۴۸حدیث: ۶۸۱۔۔ مسند شاشی: ۱؍ ۴۹۰حدیث: ۴۱۴ ۔۔مسندابن ابی شیبہ: ۱؍ ۲۵۰حدیث: ۲۴۰۔
در التحیات خطاب برائے رسانیدن سلام وارد شدہ۔
یعنی التحیات کے اندر سلام پہنچانے کے لیے خطاب آیاہواہے۔
 پھر ان سب احادیث وآثار وفتاویٰ اور شرقاًوغرباً،جنوباًوشمالاً اجماع امت محمد یہ نیز اپنے مقتداوپیشوامولوی اسحق صاحب کاقول چھوڑ کر ایک غیرمعمول بہاروایت پیش کرنا کیسی بے انصافی ہے۔اللہ تعالیٰ ہدایت نصیب کرے۔
الحاصل!  امت محمد یہ علی صاحبہا الصلوٰۃ والتحیہ کا اجماع اس بات پر ہے کہ چھوٹے بڑے، عورت مرد سبھی: السلام علیک ایہا النبی پڑھتے ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نظر سے غائب ہیں پھربھی نمازمیں خطاب آپ کو حاضر سے ہو رہاہے۔
اعتراض:  بعض کہتے ہیں یہ امرتعبدی ہے،اسی طرح منقول ہواہے۔
جواب:  یہ ہے کہ امر تعبدی ہونے سے کام نہیں چلتا اس لیے کہ خطاب جائز رکھنے کی روایت تو موجودہے۔ اب بتاؤ کہ غائب کوخطاب کالفظ بولنے کی حرمت اور کراہت پر کون سی آیت یا حدیث ہے ؟ پیش کرو۔ 
عقلی گڑھی ہوئی باتوں کوالگ کرو اور یہ سمجھو کہ جب عبادت میں (کسی کو)شریک کرنے کاحکم نہیں پھر خاص اسی نماز میں آپ  صلی اللہ علیہ وسلم کاخطاب شریک کیا گیا توباہر منع ہونے کی کیادلیل!۔ اب ہم سے جوازکی سندیں سنو۔
شاہ ولی اللہ صاحب اور ادِ فتحیہ پڑھنے کے واسطے ’انتباہ، میں لکھتے ہیں  :
فریضہ نماز بامداد گذارد وچوں سلام دہد ب اور ادفتحیہ خواندن مشغول شود کہ از برکات انفاس ہزاروچہارصد ولی کامل شدہ است الخ 
یعنی صبح نمازفجرکاسلام پھیرنے کے بعد اور ادِ فتحیہ پڑھنے میں لگ جائے جو چودہ سو اولیاے کاملین کے فیوض وبرکات کا گنجینہ ہے۔ 
حالاں کہ اس اور ادفتحیہ میں   جس کادل چاہے شمار کر لے  سترہ بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوان الفاط میں نداہے  :
الصلوٰۃ و السلام علیک یا رسول اللہ، یا حبیب اللہ، یا خلیل اللہ  إلیٰ آخرہ 
اس کے علاوہ خود مولوی اسحق صاحب’’مائۃ مسائل‘‘ میں لکھتے ہیں  :
اگر کسے یارسول اللہ بگوید برائے رسانیدن درود یا سلام جائز است انتہیٰ 
یعنی درودوسلام پہنچانے کے لیے’’ یارسول اللہ‘‘ کہناجائز اور درست ہے۔
دیکھیے !  یہ علمانمازکے باہر بھی رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کوخطاب کرناجائز لکھتے ہیں۔ اور شاہ ولی اللہ صاحب تو خود امرکرتے ہیں لیکن ابھی تک مانعین کو گنجایش ہے وہ یہ کہ سکتے ہیں کہ یہ خطاب تو درود وسلام کے ساتھ ہے اس کو فرشتے پہنچادیتے ہیں۔
اس لیے اب ہم ایسی نظیریں پیش کرتے ہیں جس میں درودوسلام کے پہنچنے کی نیت سے خطاب نہیں بلکہ کشف حاجت کے لیے رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ وسیلہ پکڑنا ہے۔
ابن ماجہ قزوینی  باب صلوٰۃالحاجۃ  میں عثمان بن حنیف انصاری صحابی سے روایت کرتے ہیں کہ ایک اندھاآدمی رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا کہ میری آنکھوں کے لیے دعا کر دیجیے۔آپ نے فرمایا:اگرتوچاہے اسی طرح رہنے دے یہ تجھ کو اچھاہے اور اگردعا کرانا چاہے تودعا کر دوں۔اس نے کہا دعافرمادیجیے۔آپ نے حکم دیا اچھی طرح وضوکرو، دورکعت نماز پڑھو اور یہ دعاپڑھو  :
اللّٰہُمَّ إنِّي أسْألُکَ وَ أتَوَجَّہُ إلَیْکَ بِنَبِیِّکَ مُحَمّدٍ نَبِيِّ الرَّحْمَۃِ یَا مُحَمَّدُ إنِّي قَدْ تَوَجَّہْتُ بِکَ إلیٰ رَبِّي فِي حَاجَتِيْ ہٰذِہٖ لِتُقْضَی اللّٰہُمَّ فَشَفِّعْہُ فِيَّ۔ (۱)
اس مقام پرشارح مواہب زرقانی نے لکھا ہے کہ اس دعا میں پہلا سوال، اللہ تعالیٰ سے ہے کہ وہ اپنے نبی  صلی اللہ علیہ وسلم کوشفاعت کا اِذن بخشے توحاجت مند نے کہا: یا اللہ میں تجھ سے اپنی حاجت مانگتاہوں اور نبی رحمت حضورمحمد  صلی اللہ علیہ وسلم کاوسیلہ پکڑکے تیری طرف متوجہ ہوتاہوں۔جب اللہ سے شفاعت مانگ چکا تواپنی حاجت کے سلسلہ میں آپ کا وسیلہ پکڑ کر اپنے پروردگار کی طرف متوجہ ہوا، اور رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم سے مخاطب ہوا اور یوں شفاعت طلب کی یامحمد ! میں متوجہ ہوں تاکہ میری یہ حاجت رواکی جائے۔ یعنی تاکہ اللہ تعالیٰ آپ کی 

(۱)	سنن ترمذی: ۱۱؍ ۴۹۷حدیث: ۳۵۰۲۔۔سنن ابن ماجہ: ۴؍ ۲۹۶حدیث: ۱۳۷۵۔۔مشکوٰۃ المصابیح:۲؍۶۱حدیث: ۲۴۹۵ ۔۔ مسنداحمد: ۳۵؍ ۱۰۹حدیث: ۱۶۶۰۴ ۔۔ سنن کبریٰ نسائی: ۶؍ ۱۶۹حدیث: ۱۰۴۹۵۔۔مستدرک حاکم: ۳؍۲۰۲حدیث: ۱۱۲۸۔۔دلائل النبوۃ بیہقی: ۶؍ ۳۵۲ حدیث: ۲۴۱۵۔۔ صحیح ابن خزیمہ: ۴؍ ۴۴۶حدیث: ۱۱۵۲۔۔ مسندعبد بن حمید: ۱؍ ۴۳۱حدیث: ۳۸۲۔۔ معرفۃ الصحابہ: ۱۴؍ ۸۰حدیث:۴۳۹۴۔۔ منتقیٰ من عمل الیوم واللیلۃ: ۱؍۲۱۔۔ الدعوات الکبیر بیہقی: ۱؍ ۲۲۱حدیث: ۱۹۳ ۔۔ معجم الصحابہ ابن قانع: ۵؍ ۱حدیث: ۱۲۰۹۔۔ کنزالعمال:۲؍ ۱۸۱حدیث: ۳۶۴۰۔۔مسند الجامع: ۲۹؍ ۱۲۶حدیث: ۹۶۲۸۔۔ روضۃ المحدثین: ۱۰؍ ۲۹۷حدیث: ۴۷۲۲۔ 
شفاعت اور آپ کے وسیلہ سے اس حاجت کو روا کر دے۔جب حاجت مند حضور  صلی اللہ علیہ وسلم سے شفاعت کی درخواست کرچکا تواب پھر دوبارہ اللہ کی طرف پلٹ کر درخواست کرتا ہے کہ اے اللہ! حضورکی شفاعت میری حاجت کے سلسلے میں قبول فرمایا۔
الحاصل!  حضور  صلی اللہ علیہ وسلم نے حل مشکل میں اپنی شفاعت طلبی اور یامحمد کاخطاب تعلیم فرمایا ہے۔
اس مقام پر ایک تماشاہواہے یعنی اس خطاب اور نداکومٹانے کے لیے ایک بڑے مشہور عالم نے اس حدیث کے اسناد میں اعتراض کیا اور لکھ دیاکہ اس کے اسناد میں عثمان بن خالد بن عمر ایک راوی آتا ہے جس کو ’’تقریب‘‘میں متروک الحدیث لکھا ہے۔ اس عاجز نے ابن ماجہ اور ترمذی میں یہ حدیث نکال کر اس کے اسناد نکالے توان دونوں محدثوں کے اسناد میں عثمان بن عمرنکلا اور ’’تقریب‘‘میں اس کومتروک الحدیث نہیں بلکہ عثمان بن خالد بن عمرکو بیشک متروک الحدیث لکھا ہے اور یہ کوئی اور آدمی ہے والحمدللہ علیٰ ذالک 
یہ حدیث تو محدثوں کی پرتالی ہوئی ہے یہ کس طرح ضعیف اور غیرمعتبر ہوسکتی ہے۔ ترمذی نے اس حدیث کو حسن صحیح لکھا ہے،نیزبیہقی نے اس کو صحیح کہاہے کذافی شرح المواہب  اور حاکم نے کہا کہ یہ روایت ،شیخین کی شرط کے موافق صحیح ہے(۱)۔ یہ بھی شرح مواہب زرقانی میں ہے، اور تین ابن ماجہ نے لکھا۔  قال ابواسحق ہٰذا حدیث صحیح۔(۲) 
توگویا اس حدیث کو آٹھ ائمہ حدیث نے روایت کیا ہے ،ترمذی، نسائی، ابن ماجہ  اور حاکم نے جیساکہ حصن حصین اور زرقانی میں ہے ،بیہقی،طبرانی، ابونعیم اور بخاری نے اپنی تاریخ میں  جیساکہ شرح مواہب زرقانی میں ہے ۔ 
 بھلا ایسی حدیث میں زبان زوری کرکے اگر کوئی مغالطہ دینے لگے تو کب ہوسکتا ہے!۔ خلاصہ یہ کہ جب اس اندھے نے نمازپڑھ کردعامانگی تو بخاری،ابونعیم اور بیہقی کی روایت میں ہے : 
و قد أبصر ببرکتہ  صلی اللہ علیہ وسلم ۔
یعنی وہ اندھا اُٹھ کھڑا ہوا اور حضور  صلی اللہ علیہ وسلم کی برکت سے اس کی آنکھیں روشن ہو گئیں۔

(۱)	مستدرک حاکم: ۳؍۲۰۲حدیث: ۱۱۲۸۔
(۲)	سنن ابن ماجہ: ۴؍ ۲۹۶حدیث: ۱۳۷۵۔
طبرانی نے روایت کی  :
کَأنْ لَّمْ یَکُنْ بِہٖ ضَرٌّ۔ (۱)
یعنی اس کی آنکھیں ایسی روشن ہو گئیں کہ گویا اس میں کبھی کچھ خلل ہی نہ ہوا تھا۔
واضح ہو کہ یہ دعا اور یہ نماز اور یہ خطاب یعنی یامحمد کہنا آپ کے مبارک زمانہ میں خاص آپ کی تعلیم سے ہوا۔ اور شرح ابن ماجہ نیز ’’جذب القلوب‘‘ میں ہے کہ یہ عمل عہد صحابہ میں بعد وفات رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم بھی کیا گیا ہے۔ 
طبرانی نے معجم کبیر میں روایت کی ہے کہ ایک آدمی کوحضرت عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے ایک حاجت تھی،بارہاجاتالیکن حضرت عثمان اس کی طرف التفات نہ فرماتے تھے۔اس آدمی نے عثمان بن حنیف انصاری صحابی سے شکایت کی توعثمان بن حنیف نے کہا وضوکرکے آ،دورکعتیں پڑھ پھر یہ دعامانگ  :
اللّٰہُمَّ إنِّي أسْألُکَ وَ أتَوَجَّہُ إلَیْکَ بِنَبِیِّنَا مُحَمّدٍ  صلی اللہ علیہ وسلم  نَبِيِّ الرَّحْمَۃِ یَا مُحَمَّدُ إنِّي أتَوَجَّہُ بِکَ إلیٰ رَبِّي فَتَقْضِي حَاجَتِيْ۔ (۲)
یا اللہ! میں نبی رحمت محمد  صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل تجھ سے طالب امداد ہوں۔ یامحمد ! میں نے اپنی اس حاجت کے پوری ہو جانے کے سلسلے میں آپ کے وسیلے سے رب کی بارگاہ میں استغاثہ کیا ہے تو اے اللہ! ان کی شفاعت میرے حق میں قبول فرما۔
پھریہ دعاپڑھ کراپنی حاجت عرض کر دے،غرض کہ وہ آدمی عثمان بن حنیف کی تعلیم کے موافق گیا،وضو،نماز اور دعا جس طرح انھوں نے بتائی تھی  پڑھی۔اب اذان کے بعدوہ حضرت عثمان بن عفان  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کے درِ دولت پر حاضر ہوا اس وقت دربان نے اس شخص کاہاتھ پکڑا اور اندر لے گیا،حضرت عثمان نے اس کواپنی مسند خاص پراپنے پاس بٹھایا اور پوچھاکیاحاجت ہے؟ اس نے بیان کیا اور آپ نے اس کی حاجت پوری کر دی اور یہ فرمایاکہ اب سے جو کچھ مشکل یاحاجت پیش آیا کرے مجھ سے آ کربیان کیا کرو۔

(۱)	دلائل النبوۃ:۶؍۳۵۴۔۔ اور معجم کبیرطبرانی: ۷؍۴۱۲حدیث: ۸۲۳۲ کے الفاظ یوں ہیں :
	کَأنَّہُ لَمْ یَکُنْ بِہٖ ضَرٌّ قَطُّ۔
(۲)	حصن حصین، امام جزری: ۱۵۱۔۔ سنن ابن ماجہ : ۴؍ ۲۹۶حدیث: ۱۳۷۵۔۔ معجم صغیر طبرانی: ۲؍ ۱۰۶۔۔دلائل النبوۃ بیہقی: ۶؍ ۳۵۴حدیث: ۲۴۱۷۔۔معرفۃ الصحابہ: ۱۴؍ ۸۱حدیث: ۴۳۹۵ ۔۔مجمع الزوائد: ۲؍ ۲۷۹۔۔الترغیب والترہیب: ۱؍ ۱۰۵حدیث:۴۱۵ کتاب النوافل 
وہ آدمی بہت خوش حال ہو کرحضرت عثمان کے پاس سے نکلا اور عثمان بن حنیف کے پاس شکریہ ادا کرنے گیا اور کہا جزاک اللہ خیرا حضرت عثمان میری طرف نظر بھی نہ فرماتے تھے، لیکن شاید تم نے ان سے میری کچھ سفارش کی ہے۔ عثمان بن حنیف صحابی نے جواب دیا قسم اللہ تعالیٰ کی! میں نے حضرت عثمان سے کچھ نہیں کہا لیکن اصل بات یہ ہے کہ میں ایک باررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر تھا،ایک اندھاآیا،اس نے فریاد کی یارسول اللہ! میری آنکھ جاتی رہی،آپ نے فرمایا صبر کر، وہ بولاکوئی میرا ہاتھ پکڑ کر لے جانے والانہیں، مجھ پر بڑی مصیبت ہے۔تب حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کویہ نماز اور یہ دعا تعلیم کی تھی،پھروہی ابن ماجہ والاقصہ جوہم اوپربیان کرچکے ،عثمان بن حنیف نے بیان کیا۔
الحاصل !  حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد بھی عہدصحابہ میں اس خطاب یعنی یامحمد  کہنے پر عمل ہوا، اور اس وقت سے اب تک یہ نماز تعلیم ہوتی چلی آتی ہے۔ابن جزری  رحمۃ اللہ علیہ ’’حصن حصین‘‘ میں فرماتے ہیں  :
من کانت لہ ضرورۃ  إلی آخرہ (۱)
یعنی جس کسی کو کوئی ضرورت،حاجت یامشکل آپڑے،یہ نمازِحاجت اور یہ دعاپڑے۔
فقہ حنفی کی کتابوں میں بھی اس کی تعلیم ملتی ہے۔ ابراہیم حلبی رحمۃ اللہ علیہ  نے شرح کبیرمنیہ میں جونوافل تعلیم کی ہیں ان میں دوصلوٰۃ الحاجۃ لکھے ہیں ایک کو بیان کرکے لکھاکہ یہ ضعیف ہے اور دوسری یہ نماز لکھی جو عثمان بن حنیف کی روایت سے ہم ذکرکرچکے ہیں۔ حلبی نے اس کولکھ کربیان کیا کہ یہ حسن اور صحیح ہے۔
الحاصل!  حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم، صحابہ کی تلقین، محدثین کی تعلیم اور فقہا کے افتاو تصحیح سے اب تک یامحمد  کا یہ خطاب جاری ہے۔
اس کے علاوہ اشعار وغیرہ میں خطاب کے اور بھی صیغے ہم نقل کرتے ہیں۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم  کی پھوپھی صفیہ نے آپ کی وفات کے بعد غم کے بہت سے اشعارپڑھے ان میں سے کچھ 

(۱)	حصن حصین، امام جزری: ۱۵۱۔ مطبع مجتبائی،دہلی۔ 
یہ ہیں   ؎ (۱)
ألا یا رسول اللہ کنت رجاء نا
ز
و کنت بنا برا و لم تک جافیا
فلو أن رب الناس أبقی نبینا
ز
سعدنا و لکن أمرہ کان ماضیا
یارسول اللہ !آپ ہی ہماری امیدوں کی آماجگاہ تھے، آپ ہم پرمہربان تھے اور آپ ہمارے ساتھ سختی کرنے والے نہ تھے۔اگر اللہ تبارک وتعالیٰ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو باقی رکھتاتوہم خوش ہوتے مگر حکم الٰہی تو ہوچکا تھا۔
حضرت حسان صحابی نے آپ کی وفات کے غم میں یہ پڑھا  :
کنت السواد لناظري
ز
فعمي علیک الناظر
من شاء بعدک فلیمت
ز
فعلیک کنت أحاذر
یعنی آپ میری آنکھ کی پتلی تھے اب اندھے ہو گئے آپ کے پیچھے دیکھنے والے۔اب آپ کے بعد جومرناچاہے مرجائے مجھ کو تو صرف آپ کا ڈر تھا۔
اسی طرح آپ کی وفات کے بعد اور بھی صحابہ کے اشعارپائے گئے جس میں رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خطاب ہے۔ اور قاضی عیاض نے ’’شفا‘‘کے  باب لزوم محبت  میں روایت کی ہے کہ ایک بار حضرت عبد اللہ بن عمرکاپاؤں سوا گیایعنی سنسنانے لگا اور بے حس وحرکت ہو گیا۔کسی نے کہاکسی آدمی کو یادکروجوتم کوبہت پیارا ہو۔ تب وہ چلا کر پکاراٹھے  :
یا مُحمَّداہ !۔
تو اسی وقت ان کاپاؤں درست ہو گیا اور اس میں قوت آ گئی انتہیٰ (۲)
یہ عبد اللہ بن عمرایک جلیل القدر صحابی اور اتباع سنت میں نہایت سخت تھے۔ دیکھیے کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کی غیبوبت میں حاضر کے لفظ کے ساتھ یا محمد اہ   خطاب کر رہے ہیں۔
فتوح الشام کے صفحہ ۲۹۸ میں ہے کہ حضرت ابو عبیدہ ابن جراح نے ایک ہزارسوار دے کر کعب بن ضمرہ کو قنسرین سے حلب کے ارادہ سے روانہ کیا، اور کعب بن ضمرہ کی لڑائی یوقنا سے پڑی جس کے پانچ ہزار سپاہ تھے۔ یہ لڑائی ہوہی رہی تھی کہ یوقناکے پانچ ہزارسپاہ اور بھی دوسری طرف 

(۱)	الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب: ۱؍ ۱۷۔۔الاصابہ فی معرفۃ الصحابہ: ۳؍ ۴۳۳۔۔طبقات ابن سعد: ۲؍ ۳۲۵ ذکر من رثی النبی صلی اللہ علیہ وسلم 
(۲)	الشفاء بتعریف حقوق المصطفیٰ: ۲؍ ۲۳۔۔عمل الیوم واللیلۃ ابن السنی :۱؍۳۱۹۔
سے مسلمانوں پرآپڑے،غرض کہ دس ہزار کا مقابلہ ٹھہرا گیا، اس وقت مسلمان جاں بازیاں دکھارہے تھے اور کعب بن ضمرہ نہایت بے آرام اور بے چین ان کے گرد آواز دیتے تھے اور پکارتے تھے  :
یا محمد  یا محمد  یا نصر اللہ إنزل۔
مسلمانوں کی طرف متوجہ ہو کر کہتے تھے  :
معاشر المسلمین اثبتوا إنما ہي ساعۃ و یأتي النصر و أنتم الأعلون۔ (۱)
حالت غَیبت میں خطاب کی یہ ایک اور بھی نظیر ہے۔ اور یہ کعب بن ضمرہ بھی صحابہ میں ہیں، رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہو کر بھی انھوں نے جہاد کیے تھے۔غرض کہ صحابہ کے وقت سے غیبت کے باوجودیہ خطاب اور ندا ے رسول اللہ جاری رہاہے۔ 
علامہ شرف الدین بوصیری رحمۃ اللہ علیہ متوفی  ۶۹۴ھ  جومقبولین روزگار سے تھے ان کا قصیدہ بردہ ،مشائخ کے اور اد میں داخل،نہایت بابرکت اور مقبول ہے۔ بہاء الدین وزیر کا حال ہم نقل کرچکے ہیں کہ وہ کمالِ تعظیم سے برہنہ سر برہنہ پاکھڑاہو کر اس قصیدہ مقبولہ کو سنا کرتا تھا۔حلبی وزرقانی اور قسطلانی سبھی قصیدۂ بردہ کے مداح ہیں۔ اور حضرت شاہ ولی اللہ صاحب نے بھی اس قصیدہ کو پڑھا اور اس کی اسناد حاصل کی۔’’انتباہ‘‘میں لکھتے ہیں  :
و أما قصیدۃ البردۃ  فأخبرنا بہا أبو طاہر عن الشیخ أحمد النحلي عن محمد  بن العلاء الباہلي  إلی أن قال  عن ناظمہا شرف الدین محمد  ابن سعید بن حماد البوصیري  رحمۃ اللہ علیہ   انتہیٰ 
یعنی قصیدہ بردہ شریف کی اجازت ہم کو ابوطاہرسے ملی انھیں شیح احمدنحلی سے اور انھیں محمد بن علا باہلی سے یہاں تک کہ اخیر میں فرمایا کہ اور انھیں ناظم قصیدہ شرف الدین محمد  بن سعید بن حماد بوصیری رحمۃ اللہ علیہ سے عطاہوئی۔
الحاصل!  اس مقبول قصیدہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوحاضر کے ساتھ جابجاخطاب ہے۔ان میں دومقام تو ایسے ہیں جہاں خاص ندابطورِ فریاد اور داد خواہی کے موجودہے   ؎
یا أکرم الخلق ما لي من ألوذ بہ
سواک عند حلول الحادث العمم
رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کو ندا کرتے ہیں کہ اے برگزیدۂ خلائق! بلاے عام اترنے کے وقت میرا اپنا ایسا کوئی نہیں جس کی میں پناہ پکڑوں۔

(۱)	فتوح الشام : ۱؍ ۱۹۸ باب فتح مدینۃ حلب وقلاعہا 
دوسرا شعر یہ ہے   ؎
و لن یضیق رسول اللّٰہ جاہک بي
إذا الکریم  تجلیٰ  باسم  منتقم
اس میں عربی قاعدہ کے مطابق ’رسول اللہ ،منادیٰ اور لفظ ندامحذوف ہے۔
یعنی یارسول اللہ! آپ کی شان کچھ کم نہ ہو گی ہماری شفاعت کرنے سے جس وقت اللہ تعالیٰ صفت انتقام کے ساتھ ظہورفرمائے گا۔
 اسی معنی کے قریب شیخ شرف الدین مصلح الدین معروف بہ سعدی شیرازی متوفی  ۶۹۱ھ  جوواصلین طریقت اور کاملین شریعت سے تھے۔حضرت خضر سے ملاقات کی،ساتوں ولایت پھرے،بارہاپیدل حج کیا۔ اور یہ عالم فاضل ولی کامل حاضر کے ساتھ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کی شان میں شعرلکھتے ہیں    ؎
چہ کم گردد اے صدر فرخندہ پے
ز
ز قدر رفیعت بدرگاہ حے
کہ باشند مشتے گدایان خیل
ز
بمہمان دار السلامت طفیل
چہ وصفت کند سعدیِ ناتمام
ز
علیک الصلوٰۃ اے نبی والسلام
یعنی خداوندقدوس کی بارگاہِ بلند میں آپ کی جو قدرومنزلت ہے اس میں سے اے میرے سردارکیاکچھ کم ہو جائے گی(کچھ نہ ہو گی) اگر تھوڑے سے آپ کے بھکاری آپ کے طفیل میں آپ کے مہمان خانہ جنت میں داخل ہو جائیں۔آپ کی تعریف وتوصیف یہ سعدی بے ہنرکیا کرسکتا ہے، بس آپ پربے شماردرود وسلام نازل ہوں اے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم 
مولانا احمد تھانیسری  جوکہ امیر تیمور کے عہد میں بڑے مشہورفاضل وکامل تھے صاحب ہدایہ کے نبیرہ شیخ الاسلام سے ایک موقع پر ان کی گفتگوہوئی۔امیرتیمورنے جب دیکھا کہ یہ توشیخ الاسلام کودبادیں گے تو ان کی اظہارِعظمت کے لیے یہ کہا کہ یہ صاحب ہدایہ کے نبیرہ ہیں۔مولانا نہ ڈرے اور اس پر یہ کہاکہ ان کے دادانے’’ ہدایہ‘‘ میں چندمحل پرخطاکھائی ہے تواگر انھوں نے اس وقت ایک خطاکھائی توکیا ڈرہے۔
 غرض کہ یہ بڑے عالم وفاضل اور عارفِ کامل تھے۔قلعہ کالپی میں ان کا مزارہے بہت لوگ زیارت کو آتے ہیں۔انھوں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان میں ایک قصیدہ لکھا ہے جس سے دوتین شعر لکھتاہوں   ؎
یا حیاتي و یا روحي و یا جسدي
ز
و یا فؤادي و یا ظہري و یا عضدي
آتي إلیک بقطع البید من قبل
ز
و لیس لي باصطبار عنک من مدد
اے میرے حاصل زیست، سامانِ تسکین روح، آرام جان،باعث قلب حزیں، پشت پناہ!
میں آپ کی بارگاہ میں صحرا نوردی کرتے ہوے حاضر ہوں۔ آپ کی نصرت وامداد کے بغیر مجھے یاراے صبر نہیں۔
دیکھیے کہ اس میں بھی حضورفخر عالم  صلی اللہ علیہ وسلم کوہندوستان سے خطاب ہو رہاہے۔ 
 مولانانظامی  متوفی۱۲۰۳ھ  علوم معقول ومنقول میں فاضل کامل،تارک الدنیا عارف صاحب دل،سلاطین روزگار ان سے برکت چاہتے، وہ کسی کے درپرنہ جاتے تھے۔ غرض کہ یہ جامع شریعت وطریقت بھی اشعارمیں رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نسبت حاضر سے خطاب کر رہے ہیں   ؎ 
من از کم تریں استان خاک تو
ز
بدیں الاغرے صید فتراک تو
نظامی کہ در گنجہ شد پاے بند
ز
مباد از سلام تو نا بہرمند
’گنجہ ،ایران کا ایک شہر ہے۔وہاں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ خطاب ہو رہاہے۔ 
مولانا عبد الرحمن ابن احمد جامی متوفی  ۸۹۸ھ  جن کا فضل وکمال کسی سے مخفی نہیں۔ شرح ملا، شرح فصوص الحکم، شرح نقایہ، اور شرح لمعات وغیرہ ان کی مشہور تصنیفات ہیں۔وہ اپنے اشعار میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کویوں خطاب کرتے ہیں   ؎
ز مہجوری بر آمد جان عالم
ز
ترحم یا نبی اللہ ترحم
تو آخر رحمۃ للعالمینی
ز
ز مہجوراں چرا غافل نشینی
یعنی جدائی سے دنیا کی جان نکل گئی اے اللہ کے نبی رحم فرمائیے،اے اللہ کے نبی رحم فرمائیے۔ آپ تو رحمت کل جہاں ہیں محروموں اور عذاب ہجرکاٹنے والوں سے آپ غافل ہو کر کیوں بیٹھیں گے۔ 
ملک خراسان میں جام ایک شہرکانام ہے،جو جامی  رحمۃ اللہ علیہ کا وطن ہے۔ وہاں سے رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خطاب، غیبوبت میں ہو رہاہے۔ اور یہ بھی نہیں کہ اہل کشف کی طرح ،حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کاروے مبار ک مناجات کے وقت ان کے سامنے تھا ، اس لیے کہ ان کا یہ شعربھی انھیں اشعار کے ساتھ ہے   ؎
شبِ اندوہ مارا روز گرداں 
ز
ز رویت روز ما فیروز گرداں 
تو ابر رحمتے آں بہ کہ گاہے
ز
کنی بر حال لب خشکاں نگاہے
یعنی مصیبت کی رات کو دن کے اجالے میں بدل دیں اور مجھے کامرانی سے ہم کنار فرمائیں۔بلاشبہ آپ رحمت الٰہی کا بادل ہیں تویہی بہترہے کہ کبھی کبھی خشک لبوں کے حال زارپر بھی ایک نگاہِ کرم فرمادیا کریں۔
مولانا عبد الحق محدث دہلوی صوفی صافی مشرب، محدث فقیہ، حنفی مشرب ،جن کی فارسی وعربی میں ایک سوتیس کتابیں ہیں۔ان کی تاریخ ولادت ’شیخ اولیا،(۹۵۸ھ) اور تاریخ وفات’فخر العالم،(۱۰۵۳ھ)ہے۔ اخبار الاخیارکے اخیرمیں مطبوع اپنے قصیدہ میں لکھتے ہیں   ؎
بہر صورت کہ باشد یا رسول اللہ کرم فرما
ز
بلطف خود سروساماں جمع بے سروپاکن
محب آل و اصحاب تو ام کار من حیراں 
ز
بلطف خویش ہم امروز ہم در روز فردا کن
یعنی یارسول اللہ !جس صورت سے بھی ہو کرم فرمائیے، اور اپنی مہربانی سے اس گروہ بے ساماں کے اسباب فراہم فرمائیے۔میں آپ کا اور آپ کے اصحاب کرام کا شیدائی ہوں اور پھر بھی میرے کام پورے نہ ہوں،تو ہم پرآج اور کل بھی مسلسل اپنی عنایت کے شامیانے تانے رکھیں۔
حضرت شاہ ابوالمعالی صاحب فرماتے ہیں   ؎
گر نبودی یا رسول اللہ ذات پاک تو
ز
ہیچ پیغمبر نبودی دولت پیغمبری
یعنی یارسول اللہ !اگرآپ کی ذات گرامی نہ ہوتی توشایدکوئی پیغمبرشرف پیغمبری سے سرفراز نہ ہوتا۔ 
حضرت شاہ ولی اللہ صاحب ’’قصیدہ اطیب النغم‘‘میں فرماتے ہیں   ؎
و صلی علیک اللہ یا خیر خلقہ
ز
و یا خیر مأمول و یا خیر واہب
و یا من یرجی لکشف زریۃ
ز
و من جودہ قد فاق جو سحائب
آپ نے اس قصیدہ کے اول میں لکھا ہے کہ جب مجھ پرصعوبت ومصیبت ہجوم کرتی ہیں اور کسی مددگار کی جستجوہوتی ہے تو محمد  رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کے سواکسی کو اپنا مددگار نہیں پاتا۔پھر اس کے بعدحضور صلی اللہ علیہ وسلم  کے مناقب بیان کیے۔ اور ان دوشعروں میں یہ خطاب کیاکہ اللہ آپ پررحمتوں کے پھول برسائے۔اے مخلوق میں سب سے اچھے!اے عمدہ امیدگاہ!! اے بہترین بخشش کرنے والے!!! اے وہ جس سے مصائب دورکرنے کی التجا کی جاتی ہے اور جس کی بخشش ،بادل کی بخشش سے فوقیت لے گئی۔
اس دورِ اخیر میں بھی اہل سنت وجماعت کے جوعلماوصلحاہیں وہ سب خطاب حاضر’’یارسول اللہ‘‘کہناجائزرکھتے ہیں۔چنانچہ قدوۃ السالکین،اسوۃ العارفین، محی السنۃ،ماحی البدعۃ حضرت مرشدی و مولائی المشتہربالالسنۃوالافواہ باسمہ المقدس شاہ امداداللہ الحافظ الحاج المہاجر  نفعنا اللہ بفیضہ الوافرالمتکاثر فرماتے ہیں   ؎
ذرا چہرے سے پردے کو اٹھاؤ یارسول اللہ
ز
مجھے دیدار تم اپنا دکھاؤ یارسول اللہ
کرو روے منور سے مری آنکھوں کو نورانی
ز
مجھے فرقت کی ظلمت سے بچاؤ یارسول اللہ
اگرچہ نیک ہوں یا بد تمہارا ہوچکاہوں میں 
ز
بس اب چاہو ہنساؤ یا رلاؤ یارسول اللہ
پھنساہوں بے طرح گردابِ غم میں ناخداہو کر
ز
مری کشتی کنارے پرلگاؤ یارسول اللہ
اگرچہ ہوں نہ قابل واں کے پر امید ہے تم سے
ز
کہ پھر مجھ کو مدینہ میں بلاؤ یار سول اللہ
جہاز امت کا حق نے کر دیا ہے آپ کے ہاتھوں 
ز
بس اب چاہو ڈباؤ یا تراؤ یا رسول اللہ
پھنسا کر اپنے دام عشق میں امدادؔ عاجز کو
ز
بس اب قید دوعالم سے چھڑاؤیارسول اللہ
 جس وقت حضور ،حج کرکے ہندوستان تشریف لائے تھے تب اشتیاق میں یہ قصیدہ فرمایا تھا۔ چنانچہ ایک مصرع کا یہ مضمون بالکل صاف ہے   ع :
کہ پھر مجھ کو مدینہ میں بلاؤ یارسول اللہ
غرض کہ اس قصیدہ میں جویہ نداے یارسول اللہ، اور رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مدد مانگناہے ،یہ سب ملک ہندوستان سے خطاب واستمدادکیا گیا ہے، اور مقبول بھی ہوا۔چنانچہ پھر حضرت ممدوح ہندوستان سے ملک عرب میں بلوائے گئے اور زیارتِ مدینہ سے مشرف ہوئے      ان کی تعریف محتاج بیان نہیں  
مختصریہ کہ مولوی محمد  قاسم صاحب نانوتوی جن کو ہمارے وقت کے سب منکرین بھی بالاتفاق معتمد علیہ اور مسلم الثبوت مانتے ہیں  وہ حضرت کی توصیف میں لکھتے ہیں   ؎ 
بحق مقتداے عشق بازاں 
ز
رئیس و پیشواے جاں گدازاں 
امام راست بازاں شیخ عالم
ز
ولی خاص صدیق معظم
شہ والا گہر امداد اللہ
ز
کہ بہر عالم ست امداد اللہ
یہ اشعار شجرۂ منظومہ صابریہ میں ہیں ، جو قصائد قاسمی کے آخر اور اق  مطبع عین الاخبار مرادآباد  میں مطبوع ہوئے ہیں۔
معلوم ہوناچاہیے کہ ’صدیق، کے معنی شاہ عبد العزیز  رحمۃ اللہ علیہ نے تفسیرعزیزی میں یہ لکھے ہیں  :
صدیق آنست کہ قوت نظریہ او مثل قوت نظریہ انبیا علیہم السلام  کامل باشد۔الخ۔
یعنی صدیق وہ ہوتا ہے جس کی قوت نظریہ انبیا علیہم السلام کی قوت نظریہ کی مانند کامل ہوتی ہے۔
تومولوی محمد  قاسم صاحب کا حضرت کو صدیق معظم فرمانا ان بعض نا انصافوں کی تردیدکے لیے حجت کافی ہے جنھوں نے حضرت کی نسبت یہ کہ دیا کہ  معاذ اللہ  آپ علم شریعت سے ناواقف ہیں۔ اور ہم ان کے مرید ہیں لیکن پیرسے افضل ہیں۔ یہ نہ سمجھے کہ جس کی قوت نظریہ ایسی بڑھی ہوئی ہو گی وہ تو احکام شریعت کے حقائق سے ایسے واقف ہوں گے کہ تم ان کے عشرعشیر کوبھی نہ پہنچوگے۔
خیر ! آمدم برسرمطلب۔ جناب مرشدی ومولائی نے ’’یارسول اللہ‘‘کاخطاب جائز رکھا، خود اس پرعمل کیا،نیز مولوی محمد  قاسم صاحب کے کلام میں ہم ثابت کرتے ہیں کہ انھوں نے خطاب ونداے یارسول اللہ کو جائزرکھا ہے۔چنانچہ قصائد قاسمی  مطبوعہ مرادآباد  کے صفحہ ۷پر ان کے اشعار یوں ہیں   ؎
ترے بھروسہ پہ رکھتا ہے غرۂ طاعت
ز
گناہِ قاسم برگشتہ بخت بد اطوار
 اور صفحہ ۸میں ہے   ؎
اگر جواب دیا بے کسوں کو تونے بھی
ز
تو کوئی اتنا نہیں جو کرے کچھ استفسار
کڑوڑوں جرم کے آگے یہ نام کا اسلام
ز
کرے گا یا نبی اللہ کیا یہ میری پکار
بہت دنوں سے تمنا ہے کیجیے عرض حال
ز
اگر ہو اپنا کسی طرح تیرے در تک بار
مدد کر اے کرم احمدی کہ تیرے سوا
ز
نہیں ہے قاسمؔ بے کس کا کوئی حامی کار
یہ دیکھیے کہ خطاب و ندا کرنا اور مدد مانگنا سب کچھ ان اشعار میں موجودہے۔اللہ ہدایت کرے منکرین کوکہ بے جا شوروشغب سے بازآئیں۔
مولف براہین کایہ لکھناکہ  :
 ان صاحبوں کاخطاب وندا کرناغلبہ شوق ومحبت سے تھا،وہ جائز ہے، اور دوسرے آدمی جو خطاب کرتے ہیں وہ اس طرح نہیں بلکہ وہ حضرت کا علم مستقل ذاتی سمجھ کر کہتے ہیں،یہ شرک ہے۔
نہایت درجہ بے اصل اور دعویٔ بے دلیل ہے۔ہم بارہاکہ چکے ہیں کہ کسی کا یہ عقیدہ نہیں جو نبی کریم  علیہ الصلوٰۃ والتسلیم  کے علم کو ذاتی اور مستقل سمجھے بلکہ سب یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ آپ کو جوکچھ علم وقدرت ہے سبب اللہ کے دیے سے ہے اور جوکچھ ہوتا ہے اسی کے ارادہ اور اذن سے ہوتا ہے۔اب ہم خطاب ونداکی توجیہات بیان کریں۔
واضح ہو کہ بعض محبین درجہ عشق کو پہنچے ہوے ہوتے ہیں جیسے حضرت ابوالحسن شاذلی وغیرہ  رحمۃ اللہ علیہم اجمعین  کہ ان سے رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کامشاہدہ ایک لمحہ بھی فوت نہ ہوتا،اب اگرایسے لوگ خطاب کریں تو ان کے نزدیک تو وہ خود حاضر وناظرہیں، حاضرکے معنی موجود اور ناظر کے معنی دیکھنے والا۔جب موجود ہوئے تو دیکھنے والے بھی ہوئے۔تو ایسی شخصیتوں کے حق میں تو رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کوخطاب ،کچھ محل کلام ہی نہیں۔باقی رہے دوسری طرح کے آدمی کہ جن کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حضوری حاصل نہیں توان کے حق میں بھی یہ خطاب کرنا درست ہے۔
قطب ربانی امام شعرانی’’میزان الشریعہ‘‘ میں لکھتے ہیں کہ محمد  بن زین ایک مداح رسول تھے، اکثرحالت بیداری میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کرتے تھے۔ ایک بارایک آدمی نے اپنے واسطے ان سے ایک حاکم کی سفارش چاہی، یہ گئے اور حاکم نے ان کو اپنی مسند پربٹھایا،اس دن سے دیکھنا منقطع ہو گیا۔ا س مقام خاص پرمیزان کی عبارت یوں ہے  :
فلم یزل یطلب من رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  الرویۃ حتی قرء لہ شعراً  فتراء ی لہ من بعید فقال  تطلب  رویتي مع جلوسک علی بساط الظلمۃ فلم یبلغنا أنہ رآہ ذلک حتی مات۔
یعنی پھر وہ مداح رسول ہمیشہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کرتارہا کہ اپنا دیدارِ مبارک کرادیجیے یہاں تک کہ ایک دفعہ اس نے شعر پڑھاتب رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  اس کو کچھ دور سے دکھائی دیے اور فرمایا:تو دیدار کا سوال کرتا ہے اور بیٹھتا ہے ظالموں کے فرش پر۔ پھرہم کو اس کے مرنے تک ایسی کوئی خبر نہیں ملی کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم پھر اس کو کبھی نظر آئے۔ انتہیٰ۔
 اب دیکھیے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم محمد  بن زین مداح کی نظر سے غائب تھے اور نظر نہ آتے تھے،اس کے باوجود ،وہ اسی غیبوبت کی حالت میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کرتا تھا کہ صورت مبارک دکھادیجیے۔
تو اس سے صاف معلوم ہوا کہ ایسے لوگ جنھیں رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نظرنہیں آتے اگروہ بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے دیدار کی درخواست کریں اور غلبہ شوق میں خطابیہ وندائیہ قسم کے اشعار پڑھیں توصحیح اور جائزہے۔جیسے حضرت مرشدی ومولائی نے جدائی اور دردِاشتیاق کے عالم میں ہندوستان میں پڑھے تھے   ؎
ذرا چہرے سے پردے کو اٹھاؤیارسول اللہ
مجھے  دیدار  تم  اپنا  کراؤ  یارسول  اللہ
اگرکوئی  نیم ملا خطرۂ ایمان اس کو شرک بتادے اور یہ کہے کہ تم رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کو عالم الغیب جانتے ہو توکہ دو کہ اصل عالم الغیب بالذات اللہ تعالیٰ ہے،لیکن اللہ تعالیٰ اپنے رسول کوغیب کی خبر دیتا ہے تو ان کوبھی خبر ہو جاتی ہے۔ 
سورۂ بقرہ کی تفسیر میں حضرت شاہ عبدالعزیزکاکلام یادرکھو کہ حضرت مطلع ہیں اپنے ہر امتی کے حال سے کیوں کہ ان کو سب امتیوں کی خبردی جاتی ہے۔ اور سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ امت کے احوال صبح وشام آپ کے سامنے پیش کیے جاتے ہیں۔(۱)
تبصرہ:  حدیث میں ہے کہ حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بادشاہ روم، ہرقل کو جو نامہ مبارک لکھا تھابروایت بخاری اس کے الفاظ یہ تھے  :
أمَّا بَعْدُ فإنِّيْ أدْعُوکَ بِدِعَایَۃِ الإسْلاَمِ أسْلِمْ تَسْلَمْ۔ (۲)
یعنی میں تجھے دعوت اسلام دیتاہوں اسے قبول کرکے تودنیاوآخر ت میں سرفرازہو جائے گا۔
اس میں بادشاہ روم کوحاضر کا خطاب ہے حالاں کہ آپ ملک عرب تھے اور وہ روم میں۔ اور وہ اصحاب کشف سے نہ تھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کاخطاب وہاں سے معلوم کر لیتالیکن چوں کہ 

(۱)	لیس من یوم إلا تعرض علی النبي  صلی اللہ علیہ وسلم  أمتہ غدوۃ و عشیۃ فیعرفہم بسیماہم و أعمالہم فلذلک یشہد علیہم۔ (تفسیرقرطبی: ۵؍ ۱۹۸۔۔ تفسیر حقی: ۲؍ ۴۷۳ ۔۔ )
(۲)	صحیح بخاری: ۱؍ ۸حدیث: ۶۔۔ صحیح مسلم: ۹؍ ۲۳۵حدیث: ۳۳۲۲۔۔مشکوٰۃ المصابیح:۲؍۳۹۲حدیث: ۳۹۲۶۔۔ مسند احمد: ۵؍ ۲۸۴حدیث: ۲۲۵۲۔۔ سنن کبریٰ بیہقی: ۹؍ ۱۷۸۔۔مصنف عبد الرزاق: ۵؍ ۳۴۶۔۔سنن کبریٰ نسائی: ۶؍ ۳۱۱۔۔ معجم کبیر طبرانی: ۷؍۱۔۔دلائل النبوۃ: ۴؍ ۴۹۷حدیث: ۱۷۲۱۔۔ مستخرج ابوعوانہ: ۱۳؍ ۲۵۴ حدیث: ۵۴۰۹۔۔ صحیح ابن حبان: ۲۷؍ ۱۴۲حدیث: ۶۶۶۴۔۔ مسند شامیین: ۹؍۱۹حدیث: ۳۰۶۰۔۔ مشکل الآثار: ۵؍ ۶ حدیث۱۶۸۶۔کنزالعمال: ۴؍ ۳۸۴حدیث: ۱۱۰۳۵۔۔ نصب الرایہ: ۱۳؍ ۴۶۵۔۔مسند الجامع: ۱۷؍ ۴۶ حدیث: ۵۲۱۲۔
بات یہ تھی کہ قاصد اس خط کو لے جا کر اس کے ہاتھ میں دے دے گا،جب یہ خط اس کی نظر کے سامنے سے گزرے گا توخطاب صحیح ہو جائے گا۔
اسی طرح اب تک رسم جاری ہے کہ ہم خطوط میں مکتوب الیہ کو الفاظ خطاب لکھ دیتے ہیں کہ فلاں چیزبھیج دو، اور تاکیدجانو فقط اسی اعتماد پر کہ جب قاصد یہ خط ان کو دے دے گاتو ہمارا خطاب حاضرلکھنا صحیح ہو جائے گا۔جب قاصدوں کی چھٹی رسانی کے اعتمادپرحالت غیبوبت میں یہ خطاب جائز ہوا تو مضمون حدیث کے اعتمادپرکہ ہمارے اعمال واقوال ہر روز دوبارصبح وشام آپ  صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیے جاتے ہیں کیوں کرخطاب جائز نہ ہو گا۔
جب ہمارے اقوال مخفی نہ رہے بلکہ آپ تک پہنچائے گئے تو اگرچہ آپ کو ہم سے بعدمکانی ہو لیکن آپ حاضر کی طرح ہیں لہٰذا حاضر کاخطاب کرناجائز ہے۔(۱)
اگرکوئی ضعیف الایمان آدمی اس تقریرپربھی راضی نہ ہوتو ایک تیسری توجیہ اور بھی ہے یعنی جس کو کسی کا عشق ہوتا ہے اس کا نقشہ آنکھوں میں پھرا کرتا ہے ،تو اس اعتبار سے حاضر کا خطاب کر دیتے ہیں۔عرب کے اشعارمیں یہ بات کثرت سے ہے۔انہی میں سے دوشعر’’جذب القلوب‘‘سے نقل کرتاہوں   ؎
علی ساکن البطن العقیق سلام
ز
و إن أسہروني بالفراق و ناموا
حظرتم علی النوم و ہو محلل
ز
و حللتم التعذیب و ہو حرام
یعنی بطن عقیق پر بسنے والوں کو سلام ہو جومجھے ہجرکے عذاب میں مبتلا کرکے خودچین سے سورہے ہیں۔تم نے مجھ پر سونا حرام کر دیاحالاں کہ سوناتوحقیقۃً ایک حلال چیزہے۔ اور تم نے میرے لیے عذاب کوروا کر دیاحالاں کہ یہ تو حرام ہے۔

(۱)	حاشیہ :مولف براہین قاطعہ نے صفحہ ۲۳میں تینوں طرح کا خطاب مان لیا ہے خواہ دل کے ساتھ ہو یا اعتمادپرکہ اعمال امت آپ پر پیش ہوتے ہیں تویہ ہمارا خطاب بھی پیش ہو جائے گا اگرچہ بغیر درود کے ہو۔تیسرے یہ کہ غلبہ عشق ومحبت میں پکارتا ہے اور یہ ندابھی جائزہے۔ الحاصل ! جس طرح انوارِ ساطعہ میں ’’یارسول اللہ‘‘کاثبوت دیا گیا ہے وہ سب مان لیا۔ پھر مولف کا یہ لکھناکہ ہم منع اس لیے کرتے ہیں کہ عوام عالم آپ کو مستقل اور بالذات عالم الغیب جانتے ہیں تو خطاب کرنے میں اس عقیدہ کی تاکید ہوتی ہے۔یہ بالکل ہی غلط ہے اس لیے کہ سب آدمی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا علم ،خدا کادیاہواجانتے ہیں نہ کہ مستقل وبالذات۔ اور جب شرع شریف میں اجزاے خطاب التحیات میں ایہام پرنظرنہ فرمائی گئی تو شعر اور قصیدہ میں ایہام کا وہم کیوں ڈالتے ہیں۔۱۲منہ
حضرت یوسف  علیہ السلام کی بیوی زلیخاکاحال جومولوی جامی صاحب نے لکھا ہے وہ سب کو یادہو گاکہ شروع عشق میں جب تک نکاح نہ ہوا تھا کس کس طرح تصورات میں باتیں کیا کرتی تھیں۔ان میں سے دوشعر اس جگہ لکھتاہوں   ؎
خیال یار پیش دیدہ بنشاند
ز
ہم از دیدہ ہم از لب گوہرافشاند
کہ از پاکیزہ گوہر از چکائی
ز
کہ از تو دارم ایں گوہر فشانی
دلم بروے ونام خود نہ گفتی
ز
نشانی از مقام خود نہ گفتی
یعنی خیال یار کو نگاہوں میں بسالینے سے آنکھیں اور ہونٹ ہیرہ وجواہرٹپکاتے ہیں۔ کہ آپ کی طرف سے یہ موتیاں لٹانی مجھے نصیب ہوئی ہیں۔
میں نے اپنا دل توان پر واردیالیکن اس نے ابھی تک نہ تو اپنانام بتایا اور نہ اپنے مقام کی کوئی نشانی دکھائی۔
زلیخا عالم غیبوبت میں حضرت یوسف علیہ السلام  سے خطاب کر رہی ہیں جونہ شرک ہے نہ کفر۔
 اور خود حضرت یوسف  علیہ السلام  راستہ میں اپنے باپ کو پکارکرفریادکرتے تھے جب بھائیوں کی خشونت، درشت خوئی اور آزارودست درازی دیکھتے تھے،جب وہ ان کو کنویں یعنی چاہ میں ڈالنے کوچلے تھے۔حضرت جامی  قدس سرہ فرماتے ہیں   ؎ 
گہے در خوں گہ در خاک می خفت
ز
ز اندوہِ دل صد چاک می گفت
کجائی اے پدر آخر کجائی
ز
ز حال من چنیں غافل چرائی
بیا بنگر مراتا در چہ عالم
ز
بدست ایں حسوداں پائمالم
یعنی کبھی میں خاک اور کبھی خون میں نہایاہواہوتاہوں۔ اور میرے دل صد چاک کے غم واندوہ پکارپکارکرکہتے ہیں کہ اے میرے پدربزرگوار!آخر آپ کہاں ہیں ؟میرے حال سے اتنی غفلت کیوں برت رہے ہیں ؟آئیں ذرادیکھیں کہ میری کیا حالت بنی ہوئی ہے؟ اور ان حاسدوں کے ہاتھوں کیابراحال ہواہے۔ 
پھر اسی طرح سمجھ لو کہ جو اشعار شوقیہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کی جناب میں بطورِ خطاب حاضر کیے ہیں وہ اس لیے ہیں کہ چوں کہ آپ کاتصور، دل میں بندھاہواہے،غلبہ اشتیاق میں حاضرانہ خطاب ،حضورفی الذہن کے باعث کرتے ہیں لیکن جن لوگوں کوایسا تصور اور ایسا خیال میسر نہیں ان کی سمجھ میں یہ آنے والابھی نہیں کہ  : 
کَذَّبُوا بِمَا لَمْ یُحِیْطُوْا بِعِلْمِہٖ ۔ (۱)
 اسے جھٹلایا جس کے علم پرقابونہ پایا۔
یقینا کلام الٰہی سچاہے۔
چوتھی توجیہ:خطاب کی ایک چوتھی توجیہ بھی ہم بتادیں۔
قرآن شریف میں آیا ہے  :
یٰحَسْرَۃً عَلَی الْعِبَادِ۔ (۲)
ہاے افسوس ان بندوں پر!۔
یہاں لفظ یَا  حرف نداہے جس سے مخاطب حاضر کوپکاراجاتا ہے، یہ لفظ یا ،حسرت پر داخل ہو رہاہے، اور حسرت ایک ایسی بے ادراک شعور چیزہے کہ اس کو قیامت تک کبھی خبر نہ ہو گی کہ مجھ کوکوئی پکارتا ہے۔ اس جگہ امام رازی کا کلام یہ ہے  :
المقصود ان ذلک وقت الحسرۃ۔۔ فإن النداء مجاز و المراد الإخبار۔(۳)
 غرض کہ تمام مفسرین اس مقام میں لکھتے ہیں کہ یہ نداکلام عرب میں شائع ہے اور اس کی مراد یہ ہوتی ہے کہ یہ حسرت کا وقت ہے یعنی یہ نہیں کہ حسرت کو پکارتے اور بلاتے ہیں، تویہاں پرندا مجازاً ہے۔ جب یہ بات ثابت ہوئی کہ کہیں ندا مجازاً ہوتی ہے اور اس سے خبردینا مقصودہوتا ہے۔پھر اسی طرح اس جگہ بھی سمجھ لو جب کوئی کہتا ہے   ؎
تمہارے نام پہ قربان یارسول اللہ
فدا ہے تم پہ مری جان یارسول اللہ
اس کامطلب یہ ہے کہ میری جان حضرت پرقربان ہے، اس کی مراد جملہ خبریہ ہے گواس نے لفظ ندائیہ بولاہے، کیاضرور کہ یوں کہوکہ یہ شخص تو خدا کی طرح حاضرناظر جان کر پکارتا ہے۔البتہ  تم خود شرک اور کفرکے معنی یہ کہ کر لوگوں کے ذہن میں جماتے ہوکہ لفظ یاحاضر کے لیے ہوتا ہے 

(۱)	سورۂ یونس،۱۰؍ ۳۹۔
(۲)	سورۂ یس،۳۶؍۳۰۔
(۳)	تفسیر الرازی: ۱۳؍۳۲۔
 اور اس سے صرف حاضر کو خطاب کیاجاتا ہے حالاں کہ یہ قاعدہ غلط ہے۔(۱)
غائب کو خطاب اور ندا کرنے کی مثال صحابہ کے کلام میں موجودہے۔روایت ہے کہ حضرت عثمان کی خلافت کے وقت میں ایک رات حضرت علی جب مسجد کی طرف آئے تو دیکھاکہ مسجد میں چراغ کثرت سے روشن ہیں ،تو حضرت عمر کو دعادی۔دعاکے الفاظ سیرت حلبی جلددوم صفحہ ۲۳۵ میں یوں ہیں  :
نَوَّرْتَ مَسَاجِدَنَا نَوَّرَ اللّٰہُ قَبْرُکَ یَا ابْنَ الْخَطَّابِ۔ (۲)
یعنی اے عمرابن خطاب! جس طرح آپ نے ہماری مسجدوں کومنور کیایوں ہی اللہ آپ کی قبرمبارک روشن فرمائے۔
دیکھیے یہاں حضرت عمر کو ان کی وفات کے بعد ،حضرت علی خطاب فرمارہے ہیں، اور یہاں حضرت عمرکوپکارکراپنی طرف متوجہ کرنایابلانا جوکہ نداکافائدہ ہوتا ہے مقصود نہیں،مقصود ان کو دعا دیناہے کہ اللہ عمر کی قبرروشن کرے۔چنانچہ روایت بالمعنی کرنے والے بعض راویوں نے معنی مقصود کو دعاکے قالب میں ڈھال کر روایت کر دیا ہے  :
نور اللہ قبر عمر کما نور مساجدنا۔
اللہ عمرکی قبرکو منور فرمائے جیسے کہ انھوں نے ہماری مسجدوں کو منورکیا ہے۔
اب فقہ کا ایک مسئلہ لکھتاہوں۔
درمختار اور قہستانی وغیرہ کتب فقہ میں ہے کہ جس وقت اذان میں موذن کہے  :
الصلوٰۃ خیر من النوم۔
یعنی نماز،سونے سے بہترہے۔
توسننے والوں کوچاہیے کہ اس کا جواب یوں دیں  :
صدقتَ و بررتَ۔

ْْ(۱)  حاشیہ : اور یہ لوگ کس طرح اپنی نماز کو بھولے ہوتے ہیں کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  آنکھوں سے غائب ہیں پھر آپ کی بہ نسبت پڑھتے ہیں :السلام علیک ایہا النبی۔تو اگر نظرسے غائب کو خطاب جائزنہ ہوتاتو نمازمیں یہ خطاب کیوں درج ہوتا اور یہ بات نحوی رسالوں میں ثابت کی گئی ہے کہ السلام علیک ایہا النبی پڑھتے وقت خاص خطاب ہی مراد ہوتا ہے۔۱۲منہ
(۲)	سیرت حلبیہ: ۲؍ ۲۰۵۔
یعنی تونے سچ اور بھلا کہا۔(۱)
فقیہ شامی لکھتے ہیں کہ یہ جواب حدیث میں آیا ہے۔اب واضح ہو کہ یہ جواب دینا کتب فقہ میں اس بات کے ساتھ ہرگزمقید نہیں کہ موذن کے پاس آ کر جواب دیں بلکہ دور ہی سے پڑھ لیا کریں۔تو اسی واسطے یہ دستور ہے کہ جس وقت صبح صادق کو موذن ،اذان کہتا ہے،اس وقت اکثر آدمی اپنے اپنے مکانات ومنزل میں ہوتے ہیں،نہ ان کو موذن وہاں سے نظر آتا ہے کہ وہ تونظر سے غائب ہے، اور نہ خودموذن ان کے جواب اور ان کے خطاب کو سن سکتا ہے،لیکن اس حالت غیبوبت میں بھی جہاں موذن نے: الصلوٰۃ خیر من النوم کہاسب مسئلہ داں آدمی جواب دیتے ہیں : صدقت و بررت یعنی تونے سچ اور حق کہا۔یہ غائب کو حاضر کا خطاب ہوتا ہے۔ تو چاہیے کہ ان فقہاے آخرالزماں کے نزدیک یہ سب جواب دینے والے کافرہوں حالاں کہ وہ مستحق ثواب ہوتے ہیں۔اگرچہ انھوں نے خطاب کیا لیکن ان کی مرادیہ ہے کہ موذن نے سچ بات کہی ہے۔تو اسی طرح جو شخص کہتا ہے    ؎
ما سواے تو یارسول اللہ 	شد براے تو یارسول اللہ
تواگرچہ یہاں خطاب کیا ہے لیکن مراد یہی ہے کہ ہر مخلوق کو اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کے واسطے یعنی ان کے سبب پیداکیا ہے۔
 اور جو کوئی فقط یہ لفظ کہے: ’’یارسول اللہ‘‘تواس کی بہ نسبت ہم یہ کہتے ہیں کہ ’’شرح ملا‘‘ اور ’’غایۃ التحقیق‘‘ وغیرہ میں ہے کہ لفظ یا بمعنی أدعو ہے اور أدعوکے معنی ہیں :میں پکارتاہوں۔تو جس نے یا رسول اللہ کہا،تواس کے معنی عربی قاعدہ سے یہ ہوئے کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کو پکارتاہوں یعنی ان کو یاد کرتاہوں اور ان کا نام لیتاہوں۔ اب کہواس میں کیا شرک وکفر ہو گیا!۔
یہ لفظ یا کی نسبت کلام عرب میں یہ ضابطہ بھی متفقہ ہے  :
ینادی بہا القریب و البعید۔
یعنی لفظ یا سے نزدیک اور دورہرطرح پکاراجاتا ہے۔
الحاصل!  ہم خطاب کو چندتوجیہات سے ثابت کرچکے۔نیز عہد رسالت سے لے کر اس وقت تک ،الفاظ خطاب اور صیغہ حاضر کے ساتھ نماز و غیر نماز،دعا و غیردعا، اور نظم ونثرمیں 

(۱)	درمختار: ۱؍ ۴۲۸۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کویادکرنے کا ثبوت کامل ،صحابہ  رضوان اللہ علیہم اجمعین اور مقبولین اولیا، علما اور صلحاسے دے چکے ہیں۔ اب دیکھنا چاہیے کہ حالت غیبوبت کے باوجود، خطاب کرنے والے یہ سب مقبولین معاذ اللہ  ان منکرین کے نزدیک کافرہیں یاخود ان کی تکفیر انہی کی طرف پلٹ جاتی ہے۔ہمارے سچے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا  :
وَ مَنْ دَعیَ رَجُلاً بِالْکُفْرِ، أوْ قَالَ عَدُوَّ اللّٰہِ وَ لَیْسَ کَذٰلِکَ إلاَّ حَارَ عَلَیْہِ۔  متفق علیہ (۱)
یعنی صحیح بخاری ومسلم میں ہے کہ جو شخص کسی کو کافر یا اللہ کا دشمن کہے اور وہ ایسا نہ ہو تو وہ کفرولعنت کاکلمہ خود اسی کہنے والے پراُلٹ آئے گا۔
 اب چاہیے کہ مانعین اپنے ایمان کی خیر منائیں اور کبھی گستاخانہ الفاظ بے باکانہ زبان پر نہ لائیں۔ اور ابھی تازہ ان ایام میں حرمین شریفین زادہما اللہ شرفا  سے ’’یارسول اللہ‘‘ کے جواز کافتویٰ آیا ہے۔ بطورِ تلخیص اس کا مضمون نقل ہوتا ہے  :

(۱)	صحیح مسلم:۱؍۱۹۷حدیث:۹۳۔۔مشکوٰۃ المصابیح:۳؍۴۴حدیث:۴۸۱۷۔۔ مسنداحمد:۴۳؍۴۵۸حدیث: ۲۰۴۹۲ ۔۔ الابانۃ الکبریٰ ابن بطہ:۳؍۵۹حدیث۱۰۳۵ ۔۔الترغیب والترہیب:۲؍۲۰۹حدیث:۱۹۸۵۔۔ کنزالعمال: ۶؍۱۹۱ حدیث: ۱۵۳۰۳۔۔المسند الجامع: ۳۷؍۳۰۵ حدیث: ۱۲۲۴۵۔۔ الایمان لابن مندہ: ۲؍ ۱۹۴حدیث: ۶۰۱۔ 
	اسی مفہوم کی دوسری حدیث کے الفاظ یوں ہیں  :
	لا یرمي رجل رجلا بالفسوق و لا یرمیہ بالکفر إلا ارتدت علیہ إن لم یکن صاحبہ کذلک ۔ (صحیح بخاری:۱۸؍ ۴۷۶حدیث: ۵۵۸۵۔۔ مسنداحمد:۴۴؍ ۵۶حدیث: ۲۰۵۹۰۔۔ شعب الایمان: ۱۴؍ ۱۷۸ حدیث: ۶۳۸۸۔۔ مستخرج ابوعوانہ: ۱؍ ۴۷حدیث: ۴۲۔۔مشکل الآثار: ۲؍ ۳۵۰ حدیث: ۷۲۳۔۔ الآداب بیہقی: ۱؍ ۱۵۱ حدیث: ۱۲۳۔۔الادب المفرد بخاری: ۲؍ ۱۵۰حدیث: ۴۴۶۔۔ الایمان لابن مندہ: ۲؍ ۱۹۴حدیث: ۶۰۱ ۔۔ مسندبزار: ۹؍ ۲۹۴ حدیث: ۳۳۳۵۔۔السنۃ ابوبکر بن خلال: ۴؍ ۱۳۶حدیث: ۱۵۷۳۔۔ مساویٔ الاخلاق خرائطی: ۱؍ ۱۵حدیث: ۱۲۔۔ مجمع الزوائد: ۳؍ ۳۹۹۔۔ المسند الجامع: ۳۷؍۳۰۵حدیث: ۱۲۲۴۵۔۔تخریج احادیث الاحیائ: ۶؍ ۴۵۲حدیث: ۲۸۷۷)

تحریر مفتی مدینہ  :
ما قولکم یا علماء الملۃ السمحۃ البیضاء و مفاتي الشریعۃ الغراء في النداء بقول یا رسول اللہ ہل ہو یجوز أم لا و ہل یکفر قائلہ أم لا ؟
الجواب : 
الحمد للہ تعالیٰ أسأل اللہ المولی الکریم ذا الطول والتوفیق و الإعانۃ في الفعل و القول نعم یجوز النداء برسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  و التوسل و الإستغاثۃ في مہام الأمور فنعم الوسیلۃ ہو إلی ربنا في مدۃ حیاتہ في الدنیا و بعد موتہ في مدۃ البرزخ و بعد البعث في عرصات القیامۃ و لا نعتقد تأثیرا و لا خلقا و لا نفعا و لا ضرا و لا إیجادا و لا عدما إلا للہ وحدہ لا شریک و لا یقول بکفر المتوسل بہ إلی ربہ علی ہذا الوجہ إلا من انطوت علی فساد العقیدۃ طویۃ و لا فرق بین أن یعبر بلفظ الإستغاثۃ أو التوسل و التشفع و التوجہ و إن کلا منہا واقع في کل حال قبل خلقہ و في مدۃ حیاتہ في الدنیا و بعد موتہ في البرزخ و في القیامۃ قال في المواہب: أما التوسل بہ  صلی اللہ علیہ وسلم  بعد موتہ في البرزخ فہو أکثر من أن یحصیٰ الخ۔ و بالجملۃ فالمسئلۃ واضحۃ جلیۃ قد أفردت بالتالیف فلا حاجۃ إلی الإطالۃ فإن من نور اللہ بصیرتہ یکتفي بأقل من ہذا و من طمس اللہ بصیرتہ فلا یغني عنہ الآیات و النذر و لم یزل السلف و الخلف یتوسلون بسید الوجود و یستغیثون بہ و قد شذت طائفۃ عن السواد الأعظم منہم من یجعلہ محرما و منہم من یجعلہ کفرا و إشراکا و کل ذلک باطل و للّٰہ در الشیخ محمد  بن سلیمان الکردي  رحمہ اللہ  حیث قال في رسالتہ یخاطب محمد  بن عبد الوہاب حین قام بالدعوۃ : یا ابن عبد الوہاب ! سلام علی من اتبع الہدیٰ فإني أنصحک للہ تعالیٰ أن تکف لسانک عن المسلمین فإن سمعت من شخص أنہ یعتقد تاثیر ذلک المستغاث بہ من دون اللہ فاعرفہ الصواب واذکر لہ الأدلۃ علی أنہ لا تأثیر لغیر اللہ تعالیٰ فإن أبی فکفرہ حیئنذ بخصوصہ و لا سبیل لک إلی تکفیر السواد الأعظم من المسلمین و أنت شاذ عن السواد الأعظم فنسبۃ الکفر إلی من شذ عن السواد الأعظم أقرب لأنہ اتبع غیر سبیل المومنین و قال تعالیٰ : و من یشاقق الرسول من بعد ما تبین لہ الہدیٰ و یتبع غیر سبیل المومنین نولہ ما تولیٰ و نصلہ جہنم و ساء ت مصیرا، و إنما یأکل الذئب القاصیۃ و اللہ سبحانہ و تعالیٰ ولي الہدایۃ و بہ العصمۃ و الحمایۃ ۔
نمقہ الفقیر إلی عفو ربہ القدیر
عثمان بن عبد السلام داغستاني
  المدینۃ المنورۃ الحنفي 

 اے علمائے ملت اور مفتیانِ شریعت !اس شخص کے بارے میں آپ کاکیاکہناہے جو ’’یارسول اللہ‘‘ پکارے۔کیا ایسا کہنا جائزہے یانہیں، اور ا ایساکہنے والے کی تکفیر ہو گی یا نہیں ؟۔
الجواب : ساری تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں اور اپنے قول وفعل میں اسی سے مدد چاہتا ہوں۔ ہاں ! ’’یارسول اللہ‘‘پکارناجائزہے۔ اور مشکل گھڑی میں توسل اور فریادرسی بھی جائز ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم  اپنی ظاہری حیات میں ہمارے لیے اللہ تک پہنچنے کے کیسے بہترین وسیلہ تھے، اور عالم بزرخ (میں بھی وہ ہمارے وسیلہ ہیں ) اور عرصہ محشر میں بھی (وہ ہمارے وسیلہ ہوں گے)۔ ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ خلق و تاثیر، نفع وضرر اور وجود وعدم سب کچھ اللہ  وحدہ لاشریک  ہی کی ذات سے ہوتا ہے ،تو اس عقیدہ کی بنیادپررب تک پہنچنے کے لیے وسیلہ پکڑنے والوں کوکافروہی شخص کہ سکتا ہے جس کے دل میں فاسد عقیدہ رچاہواہے۔ اور حضور  صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت، لفظ استغاثہ یا توسل یا شفاعت طلبی یا توجہ کے الفاظ بولنے میں کچھ فرق نہیں کیوں کہ یہ سب حضور  صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت سے پہلے،آپ کی مدت حیات،عالم برزخ اور میدان محشر میں واقع ہیں۔مواہب لدنیہ میں لکھا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دنیاسے پردہ فرماجانے کے بعدآپ سے وسیلہ پکڑنا اس قدر واقع ہواہے کہ شمار نہیں کیا جا سکتا۔خلاصہ یہ کہ یہ مسئلہ بالکل صاف اور بے غبارہے۔اس موضوع پر میں نے مستقل کتاب لکھی ہے لہٰذا طول دینے کی کوئی ضرورت نہیں۔جس کی آنکھیں نورِ الٰہی سے روشن ہوں گی اس کے لیے اس سے کم بھی کفایت کرے گا اور جس کی آنکھ اللہ نے بے نور کر دی اس کوآیات اور واضح دلیلیں بھی ناکافی ہیں۔سلف وخلف ہمیشہ سے سردارِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کاوسیلہ پکڑتے اور آپ سے فریادرسی کرتے رہے ہیں۔ لیکن سوادِ اعظم سے اب کچھ گروہ بچھڑ گئے ہیں، ان میں کوئی اس کو حرام کرتا ہے  اور کوئی کفروشرک کہتا ہے جب کہ یہ سب جھوٹ ہے۔اللہ بھلا کرے شیخ محمد  بن سلیمان کر دی کا انھوں نے اپنے رسالہ میں محمد  بن عبد الوہاب کوخطاب کرکے کیاخوب فرمایا ہے کہ اے ابن عبد الوہاب!سلام علی من اتبع الہدیٰ۔ میں تجھ کو خداواسطے نصیحت کرتا ہوں کہ اپنی زبان مسلمانوں سے بند کر لے،اگر تو کسی کویہ کہتے سنے کہ وہ تاثیر کے سلسلے میں اللہ کے سوا اعتقاد رکھتا ہے تودلائل کی روشنی میں تواس کو صحیح راہ کی تعلیم کرکہ غیر اللہ میں تاثیر نہیں، جب وہ نہ مانے تواس وقت، خاص اس کی تکفیر کر،یہ نہیں کہ مسلمانوں کے سوادِ اعظم کو توکافرکہنے لگے۔ اور تو خود سوادِ اعظم سے بچھڑا ہواہے۔ توسوادِ اعظم سے بچھڑے ہوے کی طرف کفرکی نسبت کرناصحیح ہے، اس لیے کہ اس نے وہ راہ لی جواہل ایمان کی نہیں۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا:’’ اور جو رسول کاخلاف کرے بعداس کے کہ حق راستہ اس پر کھل چکا اور مسلمانوں کی راہ سے جدا راہ چلے،ہم اسے اس کے حال پرچھوڑ دیں گے اور اسے دوزخ میں داخل کریں گے اور کیا ہی بری جگہ پلٹنے کی‘‘۔ اور بھیڑیا اسی بکری کو کھاتا ہے جوگلہ سے دور جا کرکھڑی ہوتی ہے۔اللہ پاک ہی ہدایت کا مالک ہے اور اسی سے عصمت وحمایت ہے۔

نمقہ الفقیر إلی عفو ربہ القدیر
عثمان بن عبد السلام داغستانی
  المدینۃ المنورۃ الحنفي 

عبارت مفتیانِ مکہ معظمہ  :
[۱]	قول القائل یا رسول اللہ بطریق الإستغاثۃ جائز کما في المواہب اللدنیۃ وغیرہما  و اللہ سبحانہ أعلم 
قائل کا امدادطلبی کے طور پر ’’یارسول اللہ‘‘کہنا جائزہے۔مواہب لدنیہ وغیرہ میں اس کی تصریح موجود ہے۔
أمر برقمہ :
خادم الشریعۃ و المنہاج عبد الرحمن بن عبد اللہ سراج 
مفتي مکۃ المکرمۃ  کان اللہ لہما 
 عبدالرحمن سراج
یہ مکہ معظمہ میں حنفی مفتی ہیں 


[۲]	حامدا ومصلیا و مسلما أصاب من أجاب۔
 محمد  رحمت اللہ
یہ حضرت استاذنا ومولانا شیخ العلماء محمد  رحمت اللہ  دامت فیوضہم  وہ ہیں جن کاشہرہ تمام ہندوستان،ملک حجاز اور روم وغیرہ میں ہے۔ اور حضرت سلطان روم اب تک دوبار ان کو باعزازِ تمام بلاچکے ہیں۔ اور آپ کا اصل وطن ملک ہندوستان ہے۔
[۳]	حامدا ومصلیا و مسلما للہ در من أجاب۔  و اللہ سبحانہ و تعالیٰ أعلم بالصواب 
 محمد  عبد الحق
 یہ عالم محدث اور بابرکت صوفی ہیں۔


[۴]	ما حررہ مفتي الأحناف ہو عین الصواب و الموافق للحق بلا شک و ارتیاب  و اللہ سبحانہ و تعالیٰ أعلم 
مفتیانِ احناف نے جوفتویٰ تحریر فرمایا ہے وہ بالکل ہی درست اور بلاشک وشبہ حق کے موافق ہے۔
خادم الشریعۃ ببلدۃ اللہ المحمیہ
 ابوبکرحجی سیوفی
یہ مالکی مفتی ہیں۔


[۵]	قول الشخص یا رسول اللہ متضمن لندائہ و التوسل بہ  صلی اللہ علیہ وسلم  أما النداء فلا شک في جوازہ إذا کان علی وجہ التعظیم یا نبي اللہ و أما التوسل بہ فہو أیضا جائز بل مطلوب روي الطبراني و البیہقي أن رجلا کان یختلف إلی عثمان بن عفان  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  في زمن خلافتہ في حاجتہ فکان لا یلتف إلیہ و لا ینظر إلیہ في حاجتہ فشکی ذلک لعثمان بن حنیف  رضي اللہ عنہ  فقال ائت المیضاۃ فتوضأ ثم ائت المسجد فصل ثم قل اللہم إني أسئلک و أتوجہ إلیک بنبینا محمد  نبي الرحمۃ یا محمد  إني أتوجہ بک إلی ربک  الحدیث  فہذا توسل و نداء بعد وفاتہ  صلی اللہ علیہ وسلم  و في ہذا القدر کفایۃ لمن ہداہ اللہ تعالیٰ   واللہ سبحانہ و تعالیٰ أعلم   

()	حاشیہ :  یہ وہی روایت ہے جسے ہم طبرانی کی معجم کبیر کے حوالے سے مفصلا بیان کرآئے ہیں کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  سے یہ خطاب ونداآپ کی وفات حسرت آیات کے بعدحضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ  کے زمانے میں عمل میں آیا ہے۔ مفتی شافعی بھی اس روایت کے مطابق ’’یارسول اللہ‘‘ کے جواز کا حکم دے رہے ہیں۔ ۱۲۔ منہ 
’’یارسول اللہ‘‘کہنا آپ سے توسل اور نداکوشامل ہے۔ نداکے جواز میں تو کوئی شبہ ہی نہیں اگر تعظیم کے طورپریانبی اللہ کہے۔ اور آپ سے توسل بھی جائزبلکہ مطلوب ہے۔طبرانی وبیہقی کی روایت میں ہے کہ ایک شخص حضرت عثمان بن عفان کے پاس ان کے ایام خلاف میں بار باراپنی حاجت لے کر جایا کرتامگر آپ اس کی طرف کوئی توجہ نہ فرماتے اور نہ اس کی حاجت ہی روا کرتے۔بالآخر اس نے حضرت عثمان بن حنیف سے اس کی شکایت کی توآپ نے فرمایا: وضو کرو اور مسجد جا کرنمازپڑھو،پھر کہو:اے اللہ میں اپنے رحمت والے نبی کے ذریعہ تجھ سے سوال کرتاہوں اور تیری طرف متوجہ ہوتاہوں۔اے محمد   صلی اللہ علیہ وسلم  میں آپ کے توسل سے آپ کے رب کی طرف متوجہ ہوں۔تو یہ ،نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم  کی وفات کے بعد آپ سے توسل اور نداکی مثال ہے۔ اور ہدایت یافتہ لوگوں کے لیے اتناہی بہت ہے۔ 
وکیل مفتي الشافعیۃ بمکۃ المحمیۃ
محمد  سعید بن محمد  بایصل  عفي عنہ 
 محمد سعید بابصیل


[۶]	أما قول یارسول اللہ فہو من باب التوسل بہ  صلی اللہ علیہ وسلم  إلی اللہ و ہو أنفع الوسائل عند اللہ تعالیٰ    واللہ سبحانہ و تعالیٰ أعلم 
یعنی ’’یارسول اللہ ‘‘کہنا نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم  سے توسل کرنے ہی کی ایک قسم ہے، اور اللہ کے تئیں یہ سب سے نفع بخش وسیلہ ہے۔ 
أمر برقمہ :
الحقیر خلف بن إبراہیم
خادم افتاء الحنابلۃ بمکۃ المشرفۃ
 راجی عفو الرحیم
خلف بن ابراہیم

[۷]	ما أجاب بہ مفاتي الإسلام فوجدتہا في غایۃ الصواب الموافق لمذہب ہداۃ  الأنام  لا  یخالفہا   إلا   من   طمس اللہ   بصرہ  و  بصیرتہ   فیجب  علی المسلمین اتباع ما قالوہ۔
مفتیانِ کرام کے صادرکیے ہوئے یہ فتاوے میں نے نہایت ہی درست اور مذہب حق کے موافق پائے،اس کی مخالفت کی امید صرف اسی سے کی جا سکتی ہے جس کی بصارت وبصیرت دونوں اللہ نے زائل کر دی ہو۔لہٰذا اہل اسلام پران مفتیانِ کرام کی اتباع ضروری ہے۔
کتبہ راجي رضاء الخبیر
عبد القادر بن محمد  علي خوکبیر
المدرس و الإمام بالمسجد الحرام



لمعہ ثامنہ   اعتراضات متفرقہ

اعتراض اول :
میلاد شریف پڑھتے ہیں،بڑی زیب وزنیت کرتے ہیں،پرتکلف فرش بچھاتے ہیں،چوکی اور مسند لگاتے ہیں۔
جواب :  بانی محفل کے اپنے گھر میں چاندنی اور جوکچھ اس کو بہم پہنچے قالین وغیرہ بچھا کر زیب وزینت کرنامفتیانِ دین کے فتاویٰ کی روشنی میں جائزہے۔فتاویٰ عالم گیری کی جلد خامس  الباب العشرون فی الزینہ  میں لکھا ہے  : 
یجوز للإنسان أن یبسط في بیتہ ما شاء من الثیاب المتخذۃ من الصوف و القطن و الکتان المصبوغۃ وغیرہا و المنقشۃ وغیرہا۔ 
یعنی ایک انسان کے لیے جائزہے کہ وہ اپنے گھر میں جس طرح کے چاہے کپڑے بچھائے، اون،روئی اور چھال کے۔ رنگین ہوں یا سادہ،نقش ونگاروالے ہوں یابے نقش ونگار۔ 
در مختار کے  مسائل شتی آخرکتاب میں ہے  :
و أباح اللہ الزینۃ بقولہ تعالیٰ : قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِیْنَۃَ اللّٰہِ الَّتِيْ أخْرَجَ لِعِبَادِہٖ  الآیۃ 
یعنی اللہ تعالیٰ نے زیب وزینت کو اپنے اس قول سے مباح فرمادیا ہے: تم فرماؤ کس نے حرام کی اللہ کی وہ زینت جو اس نے اپنے بندوں کے لیے نکالی۔
چوکی،خوشبو اور لوبان وغیرہ کا جواب یہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم  کے حلیہ وجمال اور معجزات وغیرہ کا بیان کرنا اصطلاحِ محدثین میں حدیث رسول اللہ ہے۔ جیسا کہ اوپرتحقیق ہوچکی۔ اور حدیث کے لیے امورِ مذکورہ کے استعمال کو محدثین بالاتفاق مستحب لکھتے ہیں  :
و یستحب الغسل و التطیب لقراء ۃ حدیثہ و روایتہ و استماعہ و أن یقرء علی مکان مرتفع عال۔
یعنی حدیث شریف پڑھنے اور سننے کے لیے غسل کرنا اور خوشبوکا استعمال مستحب ہے نیز یہ کہ حدیث مبارک کسی بلند وبالامقام پرپڑھی جائے۔
امام مالک غسل کرکے،نفیس کپڑے پہن کر چوکی پربیٹھتے اور جب تک حدیث رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم پڑھتے برابر خوشبوکی دھونی سلگتی رہتی تھی۔ 
علامہ زرقانی لکھتے ہیں  :
و لا یزال یخبر بالعود حتی یفرغ من حدیث رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  إجلالا لہ فإنہ کان یحب الرائحۃ الطیبۃ فیجعل مجلس حدیثہ کمجلسہ حیا  صلی اللہ علیہ وسلم ۔
یعنی جب تک حدیث رسول اللہ کادرس ہوتابرابر عود سلگتی رہتی، اور ایسا اس لیے ہوتا تھا تاکہ عظمت وجلال ظاہر ہو کیوں کہ خود رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم عمدہ خوشبو پسند فرماتے تھے اسی وجہ سے آپ کی مجلس حدیث بھی ویسی ہی خوشبودار کرتے تھے جیسی ظاہری زندگی میں آپ کی مجلس خوشبو دار اور پاکیزہ ہوتی تھی۔ 
زرقانی نے لکھاکہ امام مالک جو کچھ حدیث رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ تعظیم کرتے تھے تووہ کہتے ہیں کہ یہ سب سعید بن مسیب تابعی کے عمل کے موافق کرتے تھے۔بھلا جن امور کی اسناد تابعین اور تبع تابعین سے ملتی ہو،اس پر طعن کرناکیسی کج فہمی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہدایت نصیب کرے۔ اور ان امورکا ثبوت ایک دوسری حدیث سے اوپربھی گزرچکاہے۔
اعتراض ثانی:  قصائد و اشعار بہت خوش الحانی سے بنا کر پڑھتے ہیں۔
جواب:  یہ ہے کہ آواز کو مزین کرناشرع میں مطلوب ہے  :
زَیِّنُوا الْقُرْاٰنَ بِأصْوَاتِکُمْ۔ (۱)

(۱)	سنن ابوداؤد: ۴؍ ۲۶۷حدیث: ۱۲۵۶۔۔سنن ابن ماجہ: ۴؍ ۲۴۰۔۔مشکوٰۃ المصابیح:۱؍ ۴۹۷حدیث:۲۱۹۹۔۔ مسنداحمد: ۳۷؍۴۵۰حدیث:۱۷۷۶۳۔۔سنن کبریٰ بیہقی:۲؍ ۵۳۔۔ مصنف عبد الرزاق: ۲؍ ۴۸۴حدیث: ۴۱۷۵ ۔۔سنن کبریٰ نسائی: ۱؍ ۳۴۸حدیث: ۱۰۸۹۔۔ مستدرک: ۵؍ ۱۶۴حدیث: ۲۰۵۴۔۔ معجم اوسط طبرانی:۱۵؍ ۴۸۸ حدیث: ۷۴۲۱۔۔شعب الایمان: ۵؍ ۱۵۶حدیث: ۲۰۷۳۔۔ سنن دارمی: ۱۰؍ ۴۱۲حدیث: ۳۵۶۴۔۔مستخرج ابوعوانہ: ۸؍ ۱۷۲حدیث: ۳۱۵۹۔۔مسندابویعلی موصلی: ۴؍ ۲۵۶ حدیث: ۱۶۵۰۔۔صحیح ابن حبان : ۳؍۴۹۲حدیث: ۷۵۰۔۔صحیح ابن خزیمہ:۶؍ ۱۸حدیث: ۱۴۶۵۔۔ معرفۃ السنن و الآثار: ۱۶؍ ۲۹حدیث: ۶۱۶۳۔۔ مسندالشامیین: ۳؍۶۲حدیث: ۷۴۹۔۔ مسندطیالسی: ۲؍ ۳۱۳حدیث: ۷۶۷۔۔موارد الظمآن:۱؍ ۱۷۲۔۔ اخلاق حملۃ القرآن آجری:۱؍ ۸۸حدیث: ۷۷۔۔ مسندبزار: ۳؍۲۵۷حدیث: ۹۲۶۔۔ سنن صغیربیہقی: ۲؍ ۴۳۳حدیث: ۷۹۲۔۔ الضعفاء الکبیر عقیلی:۷؍ ۴۸۷حدیث: ۱۷۹۴۔۔ خلق افعال العباد: ۱؍ ۹۷حدیث: ۹۲۔۔طبقات المحدثین: ۴؍ ۱۱۰ حدیث: ۱۰۹۶۔۔فضائل القرآن قاسم بن سلام: ۱؍ ۲۰۵حدیث: ۱۸۴۔۔فوائد العراقیین : ۱؍۴۷ حدیث: ۳۲۔۔ فوائدتمام: ۲؍ ۴۸۹حدیث: ۹۸۹۔۔مختصرقیام اللیل محمد  بن نصر مروزی: ۱؍ ۱۹۳حدیث: ۱۵۰۔۔مسند ابن الجعد: ۴؍ ۳۷۶حدیث: ۱۶۷۸۔۔ مسندالرویانی: ۱؍ ۴۰۹حدیث: ۳۵۰۔۔ معجم ابویعلی موصلی: ۱؍ ۱۶۸حدیث: ۱۵۸۔۔ 
یعنی اپنی خوش آوازی سے قرآن کو زینت دو۔
اس حدیث کو امام احمد،ابوداؤد، ابن ماجہ اور دارمی نے روایت کیا ہے،نیز دارمی میں ہے  :
فَإنَّ الصَّوتَ الْحَسَنَ یَزِیْدُ الْقُرْاٰنَ حُسْناً۔ (۱)
یعنی خوش آوازی کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ اس سے قرآن کا حسن وجمال بڑھ جاتا ہے۔

بقیہ:	معجم ابن الاعرابی: ۲؍ ۲۷۹حدیث: ۷۷۸۔۔ معجم ابن المقریٔ: ۲؍ ۲۱۳حدیث: ۷۰۹۔۔ مجمع الزوائد: ۳؍ ۲۴۹۔۔ المقاصد الحسنۃ:۱؍ ۱۲۷۔۔ الجوہرالنقی ابن ترکمانی: ۱۰؍ ۲۲۹۔۔ کنزالعمال: ۱؍ ۶۰۵حدیث: ۲۷۶۶۔۔التلخیص الحبیر فی تخریج احادیث الرافعی الکبیر: ۶؍ ۳۴حدیث: ۲۶۵۰۔۔المسند الجامع: ۶؍ ۳۰۸حدیث: ۱۷۷۶۔۔ تحفۃ الاشراف: ۳؍ ۳۷۲حدیث: ۱۷۷۵۔۔تخریج احادیث الاحیائ: ۲؍ ۳۸۱حدیث: ۸۸۱۔۔الترغیب والترہیب: ۲؍ ۸۴حدیث: ۱۴۴۹۔۔ صفۃ الصلوٰۃ: ۱؍ ۱۲۵۔۔علل الدار قطنی: ۱۰؍ ۱۴۸حدیث:۱۹۳۹۔۔فتح الباری: ۲۱؍۱۰۶۔۔ شرح ابن بطال: ۲۰؍ ۲۲۴۔۔شرح النووی: ۳؍ ۱۴۴حدیث: ۱۳۱۸۔۔ سرح سنن نسائی: ۲؍ ۲۲۳حدیث: ۱۰۰۵ ۔۔ حاشیۃ السندی علی ابن ماجہ: ۳؍ ۱۳۵حدیث: ۱۳۲۳۔۔الدیباج علی مسلم: ۲؍ ۳۹۲۔۔  تفسیرقرطبی: ۱؍ ۱۱۔۔ تفسیررازی: ۱؍ ۵۵۔۔اضواء البیان: ۸؍ ۴۷۶۔۔الاتقان فی علوم القرآن: ۱؍ ۱۲۸۔۔فضائل القرآن وتلاوتہ: ۱؍۸ ۔۔فضائل القرآن: ۱؍۹۔۔التغنی بالقرآن: ۱؍۲۶۔۔تاریخ القرآن الکریم: ۱؍ ۲۰۳۔۔التبیان: ۱؍ ۱۰۷۔۔احکام القرآن جصاص: ۷؍ ۳۶۹۔۔جامع الرسائل: ۱؍ ۱۶۳۔۔ شرح الطحاویہ: ۱؍ ۳۶۴۔۔ فیض القدیر: ۳؍۵۱۲۔۔بحر الفوائد مسمیّٰ بمعانی الاخیار کلاباذی: ۱؍۷۱حدیث:۴۶۔۔ مجمع الانہر: ۸؍ ۲۰۵  فصل فی المتفرقات ۔۔شرح مختصر خلیل خرشی: ۳؍۱۰۸ فصل فی الاذان ۔۔حاشیۃ الدسوقی علی الشرح الکبیر: ۳؍ ۱۶۰ فصل فی سجود التلاوۃ ۔۔ حاشیۃ الصاوی علی الشرح الصغیر: ۲؍ ۲۰۹ مکروہات سجود التلاوۃ ۔۔منح الجلیل شرح مختصر خلیل: ۲؍ ۲۲۷  فصل فی سجدۃ التلاوۃ ۔۔ المجموع: ۲۰؍ ۲۴۲۔۔اسنی المطالب: ۱؍ ۳۴۲ فصل مایحرم بالحدث ۔۔الشرح الکبیر ابن قدامہ: ۱؍ ۵۲۶۔۔ کشف القناع عن متن الاقناع: ۳؍ ۲۸۸ فصل حفظ القرآن ۔۔مطالب اولی النہی فی شرح غایۃ المنتہی:۳؍ ۲۵۶۔۔ المغنی: ۲؍ ۳۴۶۔۔الفتاویٰ الکبریٰ:۳؍ ۱۶۷۔۔احیاء علوم الدین: ۲؍ ۱۳۳ الوجد ۔۔ حلیۃ الاولیائ: ۲؍ ۲۷۲۔۔قوت القلوب: ۱؍ ۸۳۔۔ المدخل: ۱؍ ۷۱۔۔زادالمعاد: ۱؍ ۴۶۳۔۔لسان المیزان: ۱؍ ۷۳۔۔ سیر اعلام النبلائ: ۱۳؍ ۱۰۱۔۔میزان الاعتدال: ۲؍ ۱۵۸۔۔ تاریخ دمشق: ۳۷؍ ۳۳۴۔۔الکامل لابن عدی: ۴؍ ۲۰۹ ۔۔ تاریخ ابن معین۔الدوری:۲؍ ۱۶۶۔۔المعرفۃ و التاریخ: ۱؍ ۲۰۳۔۔تاریخ بغداد: ۲؍ ۲۹۳۔۔تاریخ یحییٰ بن معین: ۱؍ ۱۱۰۔۔ البدایہ والنہایہ: ۱۰؍ ۳۶۱۔۔ الاغانی: ۵؍ ۴۳۔۔ تنبیہ الغافلین وارشاد الجاہلین: ۱؍۴۸۔۔ الفائق فی غریب الحدیث و الاثر:۱؍ ۸۔۔المصباح المنیر فی غریب الشرح الکبیر: ۷؍ ۹۰۔۔لسان العرب: ۱۳؍ ۲۰۱۔۔تاج العروس: ۱؍ ۸۵۲۸۔۔ النہایہ فی غریب الاثر: ۲؍ ۸۱۹۔۔جمہرۃ انساب العرب: ۳؍ ۷۳۹۔
(۱)	مشکوٰۃ المصابیح:۱؍۴۹۹حدیث:۲۲۰۸۔۔مستدرک: ۵؍ ۲۱۷حدیث: ۲۰۸۳۔۔شعب الایمان:۵؍۱۵۷حدیث: ۲۰۷۴۔۔سنن دارمی:۱۰؍۴۱۰حدیث:۳۵۶۵ ۔۔کنزالعمال: ۱؍ ۶۰۵حدیث: ۲۷۶۶۔۔التلخیص الحبیر فی تخریج احادیث الرافعی الکبیر: ۶؍ ۳۴حدیث: ۲۶۵۰۔۔حاشیۃ السندی علی ابن ماجہ: ۳؍ ۱۳۵حدیث: ۱۳۲۳۔۔فیض القدیر: ۳؍۵۱۲۔۔المغنی: ۳؍ ۴۰۵ فصل القراء ۃ بالالحان ۔۔فوائدتمام: ۲؍ ۴۸۹حدیث: ۹۸۹۔۔مختصرقیام اللیل محمد  بن نصر مروزی: ۱؍ ۱۹۳حدیث: ۱۵۰۔۔طبقات المحدثین: ۴؍ ۱۱۰حدیث: ۱۰۹۶۔۔ معجم ابن الاعرابی: ۴؍ ۵۰ حدیث: ۱۵۴۳۔۔ المقاصد الحسنہ: ۱؍ ۱۲۷۔۔المسند الجامع: ۶؍ ۳۱۰حدیث: ۱۷۷۷۔ 

 خود اس فریق کے مسلم الثبوت عالم ربانی مجددالف ثانی مکتوبات کی جلد ثالث میں فرماتے ہیں :
دیگر در باب مولود خوانی اندراج یافتہ بود در نفس قرآن خواندن بصوت حسن و در قصائد نعت ومنقبت خواندن چہ مضائقہ است ممنوع تحریف وتغییرحروف قرآن است و التزام رعایت مقامات نغمہ وتردید صوت بآں بطریق الحان باتصفیق مناسب آں کہ در شعر نیز غیر مباح است۔انتہیٰ۔
یعنی دوسرامیلاد خوانی کے سلسلہ میں مندرج تھا کہ نفس قرآن اور نعت ومنقبت کو خوش الحانی کے ساتھ پڑھنے میں کوئی مضائقہ نہیں،ہاں ! قرآن کی تحریف اور اس کے حروف کی تبدیلی حرام ہے۔ نغمہ اور آوازکے اتارچڑھاؤکی رعایت کا خوش آوازی اور تالی کے ساتھ التزام شعر میں بھی غیرمباح ہے۔
اس سے معلوم ہوا کہ خوش آوازی سے میلاد پڑھناجائزہے۔ہاں ! تالی بجانا اور راگنی کے قواعد کی رعایت نہیں ہونی چاہیے۔یہ ان کا قول ہے۔
علامہ قسطلانی ’’مواہب لدنیہ‘‘ میں لکھتے ہیں  :
و الحق ان السماع إذا وقع بصوت حسن بشعر متضمن للصفات العلیۃ أو النعوت النبویۃ المحمد یۃ عریا عن الآلات المحرمۃ۔۔۔۔۔ و أثار کامن المحبۃ الشریفۃ العلیۃ۔۔۔۔۔کان من الحسن في غایۃ و لتمام تزکیۃ النفس نہایۃ  إلی آخرہ (۱)
یعنی سچی بات یہ ہے کہ حرام آلات سے پاک ،سماع جب خوبصورت لب ولہجہ،صفات محمودہ ونعت ہاے محمد یہ اور عظمت مصطفیٰ کو اجاگرکرنے والے اور پاکیزہ محبت کو ابھارنے والے اشعارپرمشتمل ہوتواس کاپڑھنا صحیح ہے اور اس سے نفس کی پاکیزگی کا پوراپوراسامان بھی ہو گا۔ اور ایسا کرنا نہایت خوب اور بے پناہ تزکیہ نفس کا باعث ہے۔
نیز مولوی اسماعیل صاحب ’’صراطِ مستقیم‘‘کے اندر حب عشقی کے بیان میں   لکھتے ہیں  :
از جملہ مویدات آں استماع الحان خوش و اصوات دلکش و قصص شوق آمیز و اشعار عشق انگیز ست۔انتہیٰ۔
یعنی خوش الحانی، دلکش آوازی،شوق آمیز قصے اور عشق انگیز اشعاراُس استماع کے جملہ مویدات میں سے ہیں۔ 

(۱)	مواہب اللدنیہ:۴؍ ۵۰۳۔مرکزاہلسنّت برکات رضا،گجرات۔
اب مولوی اسماعیل صاحب کے داداپیرشاہ عبد العزیز صاحب  رحمۃ اللہ علیہ   کاکلام ملاحظہ فرمائیں کہ وہ سماع کو درست فرماتے ہیں۔وسیلۃ النجاۃیعنی شاہ بخارا سے مسؤلہ دس سوالات کے جواب میں فرماتے ہیں  :
جواب سوال ثامن آں کہ قال السرخسي في البدیع : و السماع في أوقات السرور تاکیداً للسرور مباح إن کان ذلک السرور مباحا کالغناء في أیام العید و في العرس و في وقت مجيء الغائب و وقت الولیمۃ و العقیقۃ و عند الولادۃ و الختانۃ و ختم القرآن۔
یعنی آٹھویں سوال کا جواب یہ ہے کہ امام سرخسی نے بدیع میں فرمایا: خوشی کے وقت میں خوشیاں دوبالا کرنے کے لیے گانا سننادرست ہے بشرطیکہ کہ وہ خوشی بھی درست ہو۔جیسے کہ عید و شادی کے دنوں میں، پردیس سے آئے ہوئے کی خوشی میں،ولیمہ وعقیقہ کے وقت اور ولادت وختنہ اور ختم قرآن کے وقت۔ 
یادرکھیں کہ خود رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم خوش آوازی کو پسند فرماتے تھے۔ روایت ہے کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوموسیٰ اشعری کی قراء ت سنی تو فرمایا  :
لَقَدْ أوْتِيَ ہٰذَا مِزْمَاراً مِنْ مَزَامِیْرِ آلِ دَاؤُدَ۔ (۱)
بلاشبہ اِسے آل داؤد کی بانسریوں میں سے کوئی بانسری عطاہوئی ہے۔یعنی حضرت داؤد جوکہ کمالِ خوش آواز تھے ان کی آوازوں میں سے ابوموسیٰ کو آواز ملی ہے۔

(۱)	سنن ابن ماجہ :۴؍۲۳۹حدیث: ۱۳۳۱۔۔ سنن کبریٰ بیہقی: ۳؍۱۲ ۔۔مصنف عبد الرزاق: ۲؍ ۴۸۵حدیث: ۴۱۷۸ ۔۔ سنن کبریٰ نسائی: ۱؍ ۳۴۹حدیث: ۱۰۹۴۔۔ اخبارمکہ فاکہی: ۴؍۴۰۴حدیث: ۱۶۷۰ ۔۔مستدرک: ۱۸؍۱۲۱ حدیث: ۷۸۶۵۔۔ معجم کبیرطبرانی:۶؍۱۳۹حدیث: ۶۱۹۴۔۔ شعب الایمان: ۵؍ ۱۶۴حدیث: ۲۰۸۱۔۔ سنن دارمی: ۴؍۳۷۸ حدیث: ۱۵۴۱۔۔ مستخرج ابوعوانہ: ۸؍۱۶۹ حدیث: ۳۱۵۶۔۔ صحیح ابن حبان: ۲۹؍۴۲۰ حدیث: ۷۳۱۸ ۔۔ مسندعبدبن حمید:۴؍۱۰۲حدیث:۱۴۸۰۔۔ مشکل الآثار: ۳؍۱۶۳حدیث: ۹۸۱۔
	صحیحین وغیرہ میں یوں آیا ہے، اور بعض کتابوں میں اوتیت کی جگہ اعطیت بھی مذکورہے  :
	لقد أوتیت مزمارا من مزامیر آل داود۔(صحیح بخاری: ۱۵؍ ۴۷۰۔۔صحیح مسلم : ۴؍۲۰۸حدیث: ۱۳۲۲۔۔ سنن ترمذی:۱۲؍۳۵۲حدیث: ۳۷۹۰۔۔ مشکوٰۃ:۳؍۳۵۲حدیث: ۶۱۹۴۔۔مسنداحمد:۴۹؍۱۲۴حدیث: ۲۲۹۶۸)
	ایک روایت میں یوں بھی آیا ہے  :
	إنہ یقرأ علی مزمار من مزامیر آل داود۔ (مسندابویعلی موصلی:۹؍ ۱۲۴حدیث: ۳۹۸۶)
جب یہ خبر ابوموسیٰ  رضی اللہ عنہ  کوپہنچی توانھوں نے عرض کی  :
 یَا رَسُولَ اللّٰہِ ! لَوْ عَلِمْتُ أنَّکَ تَسْمَعُ لَحَبَّرْتُہُ لَکَ تَحْبِیْراً۔ (۱)
یعنی اے اللہ کے رسول! اگر مجھے معلوم ہوتاکہ آپ میری قراء ت سماعت فرما رہے ہیں تو میں خوب ہی بنا کرپڑھتا۔
غرض کہ اچھی آواز اور خوش الحان ہرسلیم الطبع کو پسند ہے مگر جو لوگ بلید الطبع اور ٹھنڈمزاج ہیں وہ اس کی قدر کیا جانیں !۔
علامہ قسطلانی نے مواہب میں لکھا ہے  :
و ہذا الجمل مع بلادۃ یتأثر بالحداء تأثیرا یمد عنقہ و یصغی سمعہ إلی الحادي فمن لم یحرکہ فہو فاسد المزاج بعید العلاج۔
 یعنی یہ اونٹ بے شعور اور کندطبیعت ہونے کے باوجودحدی خوانوں کے گانوں سے متاثر ہو کراپنی گردنیں بڑھاتے ہیں اور گانے والوں کی طرف اپناکان لگادیتے ہیں،توپھراگرکوئی ایسا ہو کہ گانے سے اس کا دل ذرابھی نہ بہلے توسمجھ لو کہ اس کامزاج بگڑاہواہے اور اس کا علاج بہت مشکل ہے۔ 
اسی معنی میں سعدی شیرازی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں   ؎
اشتربشعر عرب درحالت است وطرب
گرذوق نیست  تراکج طبع جانور ی
جب منکرین سے کسی طرح خوش آوازی رد نہیں ہوسکتی تو کہتے ہیں کہ بے ریش لڑکوں سے قصائدو مدح پڑھواتے ہیں۔ اور براہین قاطعہ صفحہ۹میں لکھا ہے  :
دیکھو درمختار میں امردصبیح کی امامت کو مکروہ لکھا ہے تو مجلس میں مدح خوانی کب درست ہو گی ؟۔انتہیٰ۔
جواب:  ہزاروں محافل میلاد ایسی ہوتی ہیں کہ جنھیں جوان علماوصلحا اور قراء وحفاظ پڑھتے ہیں اور لڑکوں کے پڑھنے کی نوبت بھی نہیں آتی۔منکرین ان سب کو چھوڑ کر ایسی محفل کو زبان پر 

(۱)	سنن کبریٰ بیہقی: ۳؍۱۲ ۔۔شعب الایمان: ۶؍ ۱۲۸حدیث: ۲۴۹۸۔۔ معرفۃ السنن والآثار:۱۶؍۳۰ حدیث:۶۱۶۴ ۔۔ تفسیرقرطبی: ۱؍ ۱۱۔۔مجمع الزوائد: ۳؍ ۲۴۹۔۔ المطالب العالیہ: ۱۰؍ ۱۵۰حدیث: ۳۵۷۷۔۔روضۃ المحدثین: ۱۲؍ ۲۶۵ حدیث: ۵۷۶۵۔
لائے کہ جس میں بعض لڑکوں کی مدح خوانی بھی ہوئی،تو پہلے تو یہ بات خود قابل استدلال نہیں یعنی کسی مجلس میں لڑکوں کے پڑھنے سے علی العموم جملہ مجالس میلادپرطعن نہیں کیاجا سکتا، اس سے قطع نظر ہم کہتے ہیں کہ مانعین کے پاس کوئی سند ایسی نہیں جس میں صراحۃًیہ مذکور ہو کہ بالغ یا نابالغ لڑکوں کانعت پڑھناناجائزہے،ناچار قیاس کی ضرورت محسوس ہوئی تو امردکی امامت کامسئلہ پیش کر دیاتو اب اس کی حقیقت سنیں۔
ابوالمکارم شرح نقایہ نیزدیگر کتب فقہ میں ہے کہ لڑکاجب تک پورابالغ نہ ہو جائے، اس کے پیچھے نماز پڑھنے کاحکم یہ ہے  :
في النفل صح عند محمد   رحمہ اللہ   و لم یصح عند أبي یوسف  رحمہ اللہ  
یعنی امام محمد  کے نزدیک نابالغ کے پیچھے نوافل ہو جاتی ہیں اور امام ابویوسف کے نزدیک نہیں ہوتیں۔
کافی میں ہے  :
قال مشائخ بلخ جاز الإقتداء بالصبي في التراویح و السنن المطلقۃ و النوافل۔
یعنی بلخ کے بڑے بڑے علمانے فرمایاکہ نابالغ لڑکے کے پیچھے نماز تراویح، اور مطلق سنتوں اور نفلوں کاپڑھناجائز ہے۔
خلاصہ میں ہے  :
جوزہا في التراویح مشائخ خراسان و بہ نأخذ و عن الشافعي  رحمہ اللہ  انہا یجوز في الفرائض أیضا۔
یعنی خراسان کے مشائخ کرام نے نابالغ کے پیچھے نمازتراویح کوجائز رکھا ہے اور اسی پر ہمارا بھی عمل ہے۔جب کہ امام شافعی  رحمۃ اللہ علیہ  فرماتے ہیں کہ ان کے پیچھے فرض تک جائز ہے۔
جو علماناجائز کہتے ہیں  اور یہی صحیح ہے توان کی دلیل یہ نہیں کہ نابالغوں کو جہر کے ساتھ پڑھنا اور اس کاسننامفسدصلوٰۃ ہے بلکہ بالاتفاق یہ دلیل قائم کرتے ہیں کہ نابالغ پر نماز فرض نہیں اور اس کے پیچھے پڑھنے والے بالغوں پرفرض ہے، لہٰذا فرض اپنی قوت اور شان کے سبب غیر فرض ضعیف پر بنانہیں ہوسکتا۔جب منع کی دلیل یہ ہے تو نابالغوں کی نعت خوانی اس پر قیاس نہیں کی جا سکتی کیوں کہ یہ ایک دوسری چیزہے،تو چاہیے کہ وہ بالاتفاق جائز ہو،یہ حال تو نابالغ کا تھا۔ اور جب لڑکابالغ ہو گیا پھرتو اس میں کسی کاکچھ اختلاف نہیں بلکہ اس کے پیچھے فرض ونفل بالاتفاق جائزہیں ،اس لیے کہ بالغ پر احکام فرض ہو جاتے ہیں تواب فرض پرفرض کی بناصحیح ہے۔
قہستانی شرح نقایہ میں ہے  :
و یقتدی ببالغ غیر ملتح۔
یعنی بالغ بے ریش کی اقتدا کی جا سکتی ہے۔
درمختار میں جوکراہت ثابت کی ہے توشارح درمختار شامی نے کھول دیا ہے  :
الظاہر أنہا تنزیہیۃ۔ (۱)
یعنی یہ کراہت تنزیہی ہے۔
مکروہ تنزیہی کے بارے میں صدر الشریعہ رحمہ اللہ  نے لکھا ہے  :
و أما المکروہ کراہۃ تنزیہ فإلی الحل أقرب اتفاقا۔ (۲)
یعنی جو چیزمکروہ تنزیہی ہوتی ہے وہ متفقہ طور پر حلال ہونے سے قریب تر ہوتی ہے۔
فاضل چلپی نے لکھا  :
و أما عند محمد  فہو ما کان ترکہ أولیٰ مع عدم المنع عن الفعل۔
یعنی امام محمد   رحمۃ اللہ علیہ  کے نزدیک مکروہ تنزیہی وہ ہے جس کا چھوڑ دینابہترہو مگرہاں ! اس کا کرنامنع نہیں ہوتا۔
فتح القدیر وغیرہ میں بھی مکروہ تنزیہی کو خلاف اولیٰ قرار دیا ہے۔بھلاجب یہ بات مانعین کے نزدیک اس درجہ کی کراہیت میں تھی کہ اگر کی جائے تو گناہ بھی نہیں بلکہ حلت کی طرف اقرب ہے  جیساکہ صدر الشریعہ اور چلپی سے معلوم ہوا  تو ایسی صورت میں انھوں نے باہمی جنگ وجدال اور مخاصمت ونزاع کیوں پیداکیاجوکہ بالاتفاق حرام ہے۔ اور یہ اختلاف بھی باقی ہے کہ وہ امرد کی امامت کی کراہت تنزیہی کس وجہ سے ہے۔

(۱)	رد المحتار: ۴؍ ۲۴۵ باب الامامۃ 
(۲)	درمختار: ۵؍ ۶۵۲۔
بعض علمانے لکھاکہ وہ اس وجہ سے مکروہ ہے کہ ایسی عمروالے اکثرمسائل سے ناواقف ہوتے ہیں اور لوگ ان کی امامت سے نفرت کیا کرتے ہیں۔ بعض نے اس کی کراہت کی وجہ یہ بیان کی کہ امردکے آگے کھڑے ہونے سے اندیشہ ہے کہ شاید لوگوں کو شہوت پیداہو جائے۔یہ دونوں تعلیل فقیہ شامی نے بحث امامت میں لکھی ہے۔
 شق اول کے موافق ،نعت خوانی کے منع کاقیاس بالکل جاتارہا اور ظاہر ہے کہ اگر امرد کی آواز کراہت کا باعث ہوتی توجہری نمازیں مکروہ ہوتیں اور سری قراء ت کی نمازیں مکروہ نہ ہوتیں مگر ایساہے نہیں بلکہ علی العموم ،جہری وسری ہر نماز مکروہ ہے،تو یہ کراہت آواز کے باعث نہ ہوئی۔ لہٰذا اس تقریرسے ان کی آواز، ضابطہ منع میں داخل نہیں ہے، پھران کی مدح خوانی کیوں منع ہو۔
اب باقی رہی دوسری شق کہ یہ کراہت مقتدیوں کوشہوت کا احتمال پیداہو جانے کی وجہ سے ہے تواس صورت میں قیاس علی الامامت کی ہم ممانعت کرتے ہیں ،اس لیے کہ مجلس کا امام ہم اس کو قرار دیتے ہیں جومیلاد خواں ہوتا ہے اور منبریاچوکی پربیٹھ کر پڑھتا ہے،تو جس طرح ایک امام اپنی قوم پر مقدم ہے، اسی طرح وہ میلاد خواں مجلس پر مقدم اور عالی مقام پر بیٹھاہے۔ اور حلقہ مجلس میں بیٹھے ہوئے لوگ مقتدیوں سے مشابہت رکھتے ہیں ،تو حلقہ مجلس میں اگر کسی بالغ یا نابالغ لڑکے نے نعت پڑھی تو اس کی نظیر یہ ہے کہ جب مسجد میں مردو عورت، لڑکے اور مخنث سب نماز کے لیے جمع ہو جائیں تو شرع میں ان کاحکم یہ ہے  :
و یصف الرجال ثم الصبیان ثم الخناثیٰ ثم النساء۔ (۱)
یعنی امام پہلے مردوں،ان کے پیچھے بچوں،ان کے پیچھے مخنثوں اور پھران کے پیچھے عورتوں کوصف باندھنے کاحکم دے۔
دیکھیے مخنث، عورت اور لڑکوں کو شرع میں مسجد سے نکال دینے کا حکم نہیں دیا گیا،ہاں !اگر کوئی ان کوامام بناتاتومنع کاحکم دیا جاتا۔ جب بات یہ ٹھہری کہ امام تو وہی ہے جو قابل امامت ہے۔ باقی مسجد کے اندر صف اقتدا میں جولوگ اپنے طورپر تسبیح وتحمید اور تشہد وغیرہ پڑھ رہے ہیں وہ سب حکم جواز میں داخل ہیں خواہ عورتیں ہوں خواہ بالغ ونابالغ لڑکے۔اسی طرح محفل میلاد کے حلقے میں جس طرح تمام آدمیوں کی زبان پر درود شریف وغیرہ کے کلمات جاری ہیں تو ان میں سے کسی امرد بالغ(یانابالغ) نے نعت شریف بھی پڑھ دی تو جائزہے،اس کو امامت پرقیاس کرنا ہم تسلیم نہیں کرتے۔ ہاں ! مقتدیوں کی حالت اقتداپرقیاس کرنا جیساکہ ابھی بیان کیا  ہم مانتے ہیں اور یہ بالاتفاق جائزہے۔

(۱)	درمختار: ۱؍ ۶۱۵۔۔رد المحتار:۴؍ ۲۶۸ باب الامامۃ 
دیکھنے کے مسائل  :
اب ہم مسئلہ نظر بھی لکھتے ہیں  :
واضح ہو کہ امرد کاشہوت سے دیکھنامکروہ اور بلاشہوت دیکھنادرست ہے۔یہ بھی درمختار میں مذکورہے جس سے مولف براہین نے سند پکڑی ہے۔عبارت یوں ہے  :
فإنہ یحرم النظر إلی وجہ الأمرد و إذا شک في الشہوۃ أما بدونہا فمباح و لو جمیلا۔
یعنی شہوت کا شبہ ہو توکسی امردبے ریش لڑکے کودیکھناحرام ہے، اور اگر شہوت کا خطرہ نہ ہوتودرست ہے گرچہ وہ خوبصورت ہی کیوں نہ ہو۔
اُسی درمختارکے مسائل نظرمیں لکھا ہے  :
(و ینظر الرجل من الرجل) و من غلام بلغ حد الشہوۃ و لو أمرد صبیح الوجہ۔ (۱)
یعنی ایک مرددوسرے مردکابدن اور شہوت کی حدتک پہنچے ہوئے لڑکے کو دیکھ سکتا ہے،گرچہ وہ بے ریش اور بلاکاحسین ہو۔ 
شارح درمختارفقیہ شامی  رحمۃ اللہ علیہ   نے سترعورت کے بیان میں لکھا ہے  :
و أجمعوا علی جوازہ بغیر قصد اللذۃ و الناظر مع ذلک آمن الفتنۃ۔ (۲)
یعنی علمائے کرام کا اس پر اجماع ہے کہ بلاقصدشہوت، امرد کودیکھنا جائزہے مگرہاں !دیکھنے والا فتنہ سے محفوظ بھی ہو۔
اس سے معلوم ہو اکہ بلاشہوت دیکھنا بالاجماع جائز ہے۔نیزشامی نے مسائل نظر میں لکھا  :
و  أما  الخلوۃ  و  النظر  إلیہ  لا  عن  شہوۃ فلا  بأس  بہ  و لہذا لم  یؤمر بالنقاب۔ (۳)

(۱)	درمختار: ۵؍ ۶۸۱۔
(۲)	رد المحتار: ۳؍ ۲۶۰ مطلب فی ستر العورۃ 
(۳)	رد المحتار: ۳؍ ۲۶۰ مطلب فی ستر العورۃ 
 یعنی امرد کو خالی مکان میں لے کر بیٹھنا اور بلاشہوت اس کی صورت دیکھتے رہنے میں کوئی حرج نہیں اور یہی وجہ ہے کہ امردکوپردے کا حکم نہیں ہے۔
بھلا جب امرد کے ساتھ خلوت جائز ہوئی تومجمع عام میں بیٹھناکیوں جائز نہ ہو گا!۔ اپنے شیخ الشیوخ یعنی حضرت شاہ ولی اللہ صاحب کے پیرانِ پیرشمس الدین ابوالخیربن جزری رحمۃ اللہ علیہ  کوبھول گئے،وہ فرماتے ہیں  :
میں  ۷۸۵ھ (1383ئ)میں بادشاہِ مصرکی محفل میلاد شریف میں شریک ہوا۔ مجھے خوشی ہوئی،اس میں پچیس حلقے توصرف نوآموز قاری لڑکوں کے موجودتھے۔
ابن جزری کایہ قصہ ملاعلی قاری نے’’ مورد الروی‘‘، اور ابوسعید بورانی نے ’’میلاد فارسی‘‘ میں لکھا ہے  جیساکہ اوپراس کی تفصیل گزرچکی 
ہاں ! یہ بات ثابت ہے کہ متقی اور محتاط لوگوں نے امردوں پرنظرکرنے سے احتیاط فرمائی ہے۔ چنانچہ فقیہ شامی کی تحریر کے مطابق ہمارے پیشوا جناب امام اعظم  عطر اللہ تربتہ  امام محمد  رحمۃ اللہ علیہ کو کسی ستون کے پیچھے یا اپنے پس پشت بٹھا کردرس دیا کرتے تھے، کیوں کہ آپ نہایت خوبرو اور حسین تھے۔
اس سے ثابت ہواکہ امرد خوب رو کے ساتھ ہم کلامی کرنا اور اس کی آواز کا سنناتومنع نہیں مگر صورت دیکھنے میں احتیاط اولیٰ ہے۔ تومحفل میلاد شریف کے کسی گوشہ میں اگر کوئی امرد بھی حاضر ہو اور کچھ پڑھے تو منع نہیں،ہاں ! محتاط آدمی اپنی نظر کوبچائے رکھیں تو اچھی بات ہے۔
طرفہ ماجرایہ ہے کہ حضرات مانعین  جوامردوں کی بابت امربالمعروف فرمارہے ہیں   اپنے مکتبوں اور مدرسوں میں خوب رو اور حسین امردلڑکوں کو بھی سبق دیتے ہیں ،تووہاں کسی کو امام اعظم  رحمۃ اللہ علیہ کا تقویٰ نہیں یاد آتا کہ شاگرد کو آنکھوں سے جدا کرکے کسی ستون کی آڑ میں یاپس پشت بٹھا کر سبق پڑھائیں۔
کیوں صاحب! آپ تو تعلیم شریعت کے منصب پربیٹھ کر اس حالت میں بھی اس تقویٰ کو یاد نہ فرمائیں اور محفل میلاد میں اگر کسی لڑکے نے نعت شریف پڑھ دی تو اس کی ناک میں دم کر دیں، کیا انصاف اسی کانام ہے  اللہ اللہ 
أ تَأمُرُونَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَ تَنْسَوْنَ أنْفُسَکُمْ۔ (۱)

(۱)	سورۂ بقرہ،۲؍۴۴۔
کیالوگوں کوبھلائی کا حکم دیتے ہو اور اپنی جانوں کو بھولتے ہو۔
خوب یاد رکھناچاہیے کہ مانعین جو اندیشہ شہوت صرف لڑکوں کی نسبت ثابت کرتے ہیں ، وہ ڈاڑھی والوں اور بدشکل کالے کلوٹوں میں بھی موجودہے۔ فقیہ شامی  فرض سترعورت کے بیان میں لکھتے ہیں  :
و ہذا شامل لمن نبت عذارُہ بل بعض الفسقۃ یفضِّلہ علی الأمرد خالی العذار۔ (۱)
یعنی یہ حکم کہ شہوت کے ساتھ عورت اور لڑکوں کی طرف دیکھنا منع ہے تویہ اس کو بھی شامل ہے جس کے گال پر سبزہ خط نکل آیاہو بلکہ بعض فاسق تو ڈاڑھی والوں کوایسے لڑکوں سے بہترسمجھتے ہیں جن کے گال بالکل صاف ہو ں۔تواس تقریر سے ڈاڑھی والوں کادیکھنابھی منع ٹھہرا۔
پھردوسطر کے بعد لکھا  :
و المراد من کونہ صبیحا أن یکون جمیلا بحسب طبع الناظر و لو کان أسودَ لأن الحسن یختلف باختلاف الطبائع۔ (۲)
یعنی اس کے خوب روہونے سے ہماری مراد یہ ہے کہ وہ دیکھنے والے کے جی کو بھلا لگتاہو چاہے حقیقت میں وہ کالا بدصورت ہی کیوں نہ ہو کیوں کہ حسن کاپسند آناطبیعتوں پرموقوف ہوتا ہے کسی کو کچھ پسند آیا کسی کوکچھ۔تو اس تقریر سے کالے بدشکل کادیکھنابھی حرام رہا۔
جب بعض مغلوب الشہوۃ ایسے بھی ہوئے کہ ان کو مستی کے دھن میں نہ ڈاڑھی کا خیال نہ رنگ وبے رنگ کا امتیاز تو معلوم نہیں ایسے بہائم سیرت لوگوں کے اندیشہ سے میلاد ووعظ ونکاح کی مجلس،مدارس اور دستاربندی کے جلسے وغیرہ کے مجمع کو  جوامردوغیرامرد کے اختلاط سے غالباً خالی نہیں ہوتے  کہاں کہاں تک مکروہات ومحرمات میں شمار کیا جائے گا الامان الامان 
فقہاومفتیانِ دین نے یہ نہیں لکھاکہ امردمساجد میں نہ آئیں،مجالس نکاح میں نہ جائیں، اور فرائض وسنن ونوافل مثلاً تراویح واستسقاوکسوف وغیرہ میں شریک نہ ہوں کہ شہوت پرستوں کی ان پرنظر پڑے گی،بلکہ صرف یہ لکھاکہ ان کا امام ہونا مکروہ ہے۔لہٰذا ہم بھی ان کی امامت کومکروہ قرار دے کر لکھتے ہیں کہ ان کا میلاد شریف کی مجلسوں میں شریک ہونا منع نہیں  اس سلسلے میں فقہی روایات نقل ہوچکی ہیں اور حضرت جزری رحمۃ اللہ علیہ کا ایسی مجلس میں شریک ہونابیان ہوچکاہے 

(۱)	رد المحتار: ۳؍ ۲۶۰ مطلب فی ستر العورۃ 
(۲)	نفس مصدر: ۳؍ ۲۶۰ مطلب فی ستر العورۃ 
خود نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم  جب مدینہ منورہ تشریف لے گئے توجوان مردوعورت اور تمام لڑکے خوش ہوہو کر جابجاپکارتے پھرتے تھے  :
جاء محمد  رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  اللہ أکبر جاء محمد  رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  رواہ الحاکم في الإکلیل عن البراء۔
یعنی  اللہ اکبر محمد رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم جلوہ فرماہو گئے۔محمد  رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم جلوہ آراہو گئے۔حاکم نے اس کی روایت اکلیل میں براء سے کی ہے۔
 اور اسی حالت میں بنونجار سے چند لڑکیاں نکل کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آئیں اور دف بجابجا کریہ شعر پڑھتی تھیں   ؎
نَحْنُ جَوَارٍ مِنْ بَنِي النَّجَّارٖ	 ٭     یَا حَبَّذَا مُحمّدٌ مِنْ جَارٖ (۱)
یعنی ہم بنونجارکی لڑکیاں ہیں۔محمد عربی  صلی اللہ علیہ وسلم کیاخوب پڑوسی ہیں۔
یہ روایت محدث بیہقی اور ان کے استادحاکم نے انس  رضی اللہ عنہ   سے نقل کی ہے۔ 
تورسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کا گلیوں اور راہوں میں امردوغیر امرد کامجمع دیکھنا،لڑکیوں کا یہ شعرپڑھنا سننا اور پھرآپ کامنع نہ فرمانا صریح، دلیل جوازہے۔وہاں قدوم مبارک کی خوشی میں یہ باتیں وقوع میں آئیں اور یہاں یعنی مجلس میلاد میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے وجودمسعود کی ولادت کی خوشی میں ہو رہی ہیں۔
اعتراض ثالث:سلامی وجوابی مثل مجالس شیعہ کے معین کرتے ہیں۔
جواب :  راقم کو مجالس شیعہ میں جانے کا اتفاق نہیں ہوا کہ وہاں کے حال تفصیلا معلوم ہوں تاہم محافل میلاد شریف کے شامل ہونے میں بعض مواقع پر ایسا دیکھا گیاکہ میلاد خواں نے جب کوئی روایت ختم کی توبعض حاضرین نے نظماً یا نثراً درودوسلام پڑھا،پھرمیلادخواں نے دوسری روایت پڑھی پھران لوگوں نے درودوسلام یا منقبت پڑھی،اگر سلامی جوابی اسی کا نام ہے تو یہ بات عرب میں اور خاص حرمین شریفین زادہما اللہ شرفاو تعظیماً میں کثرت سے رائج ہے، اور اہل حرمین جس قدر شیعہ سے نفرت کرتے ہیں وہ محتاج بیان نہیں ،تویہ ہرگزسمجھ میں نہیں آتاکہ جن سے 

(۱)	سنن ابن ماجہ: ۶؍ ۱۲حدیث:۱۸۸۹۔۔ دلائل النبوۃ بیہقی: ۲؍۳۶۷حدیث:۷۵۵۔۔مسندابویعلی موصلی:۷؍۴۲۹ حدیث: ۳۳۱۵ ۔۔مجمع الزوائد و منبع الفوائد: ۴؍ ۳۳۸۔۔مسندجامع: ۵؍ ۴۸حدیث: ۱۵۲۱۔۔تحفۃ الاشراف: ۳؍ ۱۲۷ حدیث: ۵۱۱۔ 
عداوت اور مذہبی بے زاری ہو، اُن سے کوئی امر لے کر اپنی عبادات میں داخل کر لیں بلکہ یوں معلوم ہوتا ہے کہ اہل عرب نے یہ بات حضور تاجدارعرب و عجم صلی اللہ علیہ وسلم کے فعل سے استنباط کی ہے۔
صحیحین میں انس سے روایت ہے کہ مہاجرین وانصار صحابہ ،خندق کھودتے، مٹی نکالتے اور زبان سے یہ پڑھتے جاتے تھے   ؎
نَحْنُ الَّذِیْنَ بَایَعُوا مُحَمَّداً    ٭     عَلَی الْجِہَادِ مَا بَقِیْنَا أبَداً (۱)
یعنی ہم ہی وہ لوگ ہیں جنھوں نے محمد  صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں پراس اقرار کے ساتھ بیعت کر لی کہ تاحیات جہاد کرتے رہیں گے۔
 اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  ان کے جواب میں پڑھتے تھے   ؎
اللّٰہُمَّ لاَ عَیْشَ إلاَّ عَیْشُ الآخِرَہْ     ٭      فاغْفِرِ الأنْصَارَ وَ الْمُہَاجِرَہ (۲)
یعنی اے اللہ ! عیش وآرام کی زندگی تو وہ آخرت ہی کی زندگی ہے توان انصار ومہاجرین کی مغفرت فرمادے۔

(۱)	صحیح بخاری: ۱۰؍۱۱۹حدیث: ۲۷۴۱۔۔صحیح مسلم: ۹؍۳۰۱حدیث: ۳۳۷۰۔۔مشکوٰۃ المصابیح: ۳؍۳۹حدیث: ۴۷۹۳۔۔ مسنداحمد: ۲۵؍۳۱۷حدیث: ۱۲۲۷۱۔۔ سنن کبریٰ بیہقی: ۷؍ ۴۳۔۔ مستدرک:۱۶؍ ۴۴۸حدیث: ۷۲۲۳۔۔دلائل النبوۃبیہقی: ۳؍ ۴۸۵حدیث: ۱۲۹۴۔۔ مستخرج ابوعوانہ:۱۳؍ ۴۴۷حدیث: ۵۵۸۵۔۔ مسندجامع: ۴؍ ۲۳۶حدیث: ۱۲۸۰۔۔  مسند ابویعلی موصلی: ۸؍ ۴۳۶حدیث: ۳۸۰۸۔۔ صحیح ابن حبان: ۲۴؍ ۱۰۹ حدیث: ۵۸۸۳۔۔ مشکل الآثار طحاوی: ۷؍ ۳۴۴حدیث: ۲۸۰۹۔۔کنزالعمال: ۱۰؍ ۴۵۶حدیث: ۳۰۱۰۴۔
	بعض حدیثوں میں  علی الإسلام مابقینا أبدا،بعض میں  علی الجہاد ما حیینا أبدا، اور بعض میں علی القتال مابقینا أبداکے الفاظ بھی آئے ہیں۔ 
(۲)	صحیح بخاری: ۱۲؍ ۱۵۳حدیث: ۳۵۱۱۔۔ صحیح مسلم: ۹؍ ۲۹۸حدیث: ۳۳۶۷۔۔سنن ترمذی: ۱۲؍ ۳۵۳حدیث: ۳۷۹۱۔۔ مشکوٰۃ المصابیح: ۳؍۳۹حدیث:۴۷۹۳۔۔مسنداحمد: ۲۶؍ ۳۲۸حدیث: ۱۲۷۸۱۔۔ سنن کبریٰ بیہقی: ۹؍ ۳۹۔۔مصنف عبد الرزاق: ۱۱؍ ۶۲حدیث: ۱۹۹۱۲۔۔ سنن کبریٰ نسائی: ۵؍۸۵حدیث: ۸۳۱۶۔۔ الاحاد والمثانی ابن ابی عاصم: ۵؍ ۲۱۷حدیث: ۱۵۹۷۔۔ معجم کبیر طبرانی: ۵؍ ۴۵۰ حدیث: ۵۷۴۲۔۔ دلائل النبوۃ بیہقی: ۳؍ ۴۸۹حدیث: ۱۲۹۸۔۔ شعب الایمان: ۲۱؍ ۳۹۵حدیث: ۱۰۰۷۴۔۔ کنزالعمال: ۱۰؍ ۴۵۶حدیث: ۳۰۱۰۴۔۔ مستخرج ابوعوانہ: ۱۳؍ ۴۳۷حدیث: ۵۵۷۵۔۔ مسند ابویعلی موصلی: ۷؍ ۲۴۰حدیث: ۳۱۲۷۔۔ صحیح ابن حبان: ۲۴؍ ۱۰۹ حدیث: ۵۸۸۳۔۔ مسندجامع: ۴؍ ۲۳۶حدیث: ۱۲۸۰۔
	بعض حدیثوں میں  فارحم الانصاروالمہاجرہ،بعض میں  فاصلح الانصار والمہاجرہ، اور بعض میں فاکرم الانصار والمہاجرہ کے الفاظ بھی آئے ہیں۔ 
 کذا في المشکوٰۃ في باب البیان و الشعر ۔
لہٰذا یہ بات قابل طعن نہیں ہاں ! اگر موسیقی کے قوانین کی پابندی اور اہل فسق کے طریقہ پر نغمہ خوانی کریں تو یہ دوسری بات ہے۔اہل اسلام اپنی مجالس میں فاسقوں کے طریقے کیوں پیدا کریں، اور اسی طرح اگر کوئی محض اپنی آواز کا حسن ظاہرکرنے کے لیے پڑھے اور دل میں اخلاص ہرگز نہ ہو تویہ بھی ممنوع ہے۔جیسے بعض خوش الحان قاری محض دکھاوے کے لیے مجمع میں قرآن پڑھنے لگتے ہیں بس اس نیت سے پڑھنامنع ہے،امورِ خیر میں اخلاص ضروری ہے۔
وَ مَا أمِرُوْا إلاَّ لِیَعْبُدُوا اللّٰہَ مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنَ۔ (۱)
 اور لوگوں کوتویہی حکم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی بندگی کریں نرے اسی پرعقیدہ لاتے۔
لہٰذا اہل ایمان کو چاہیے کہ اخلاص مدنظر رکھیں نیزاپنی خوش الحانی کو فاسقوں کے قواعد موسیقی کاپابند نہ کریں،کیافقہا رحمہم اللہ  نے ان کے لیے جو جائز فرمادیاوہ تھوڑا ہے،مجمع البحار میں ہے:
بتحسین صوتہ و تحزینہ۔
یعنی خوش آوازی کے ساتھ سنوارکر اور پردرد لہجہ میں پڑھے۔
فسر الشافعي بتحسین القراء ۃ و ترقیقہا۔
یعنی امام شافعی  رحمۃ اللہ علیہ  نے اس کی تفسیر یوں کی کہ نرم آوازبنا کراچھی طرح پڑھے۔
امام غزالی  رحمۃ اللہ علیہ  لکھتے ہیں  :
و إنما اختلاف تلک الطریق بمد المقصور و قصر الممدود و الوقف في أثناء الکلمات و  القطع و الوصل في بعضہا، و ہذا التصرف جائز في الشعر و لا یجوز في القراٰن۔ (۲)
یعنی خوش الحانی سے پڑھنے میں مختلف طریقے پیداہوتے ہیں کہ جہاں حروف مدہ نہ تھے وہاں کھینچ کربڑھادیا اور جہاں تھے وہاں گھٹادیا،کلمات کے بیچ میں دم توڑ دیا، ایک کلمہ دوسرے کلمہ سے کہیں کاٹ دیا اور کہیں ملادیا تو ایسا تصرف شعر میں جائز ہے مگر قرآن میں جائز نہیں۔
یہ احیاء العلوم کے  باب السماع  میں ہے۔

(۱)	سورۂ بینہ،۹۸؍۵۔
(۲)	احیاء علوم الدین: ۲؍ ۱۳۶ باب الوجد 
الحاصل ! انصاف یہ چاہیے کہ جو کوئی بات علمائے حقانی کے کلام سے جہاں تک ثابت ہو اس میں مانعین اعتراض نہ لائیں اور فاعلین قدم آگے نہ بڑھائیں۔
یَا أہْلَ الْکِتَابِ لاَ تَغْلُوْا فِي دِیْنِکُمْ وَ لاَ تَقُوْلُوْا عَلَی اللّٰہِ إلاَّ الْحَقَّ۔ (۱)
اے کتاب والو!اپنے دین میں زیادتی نہ کرو اور اللہ پرنہ کہو مگر سچ۔
اعتراض رابع:  محفل میں روشنی کرتے ہیں جوبدعت سیئہ اور حرام ہے۔
جواب :  مجمع البحارکے خاتمہ میں روشنی کی کراہت کے سلسلہ میں یہ نقل کیا ہے  کہ  :
سب سے پہلے روشنی قوم برامکہ سے نکلی ہے جو آتش پرست تھے لیکن جب وہ مسلمان ہو گئے توانھوں نے مسجدوں میں روشنی کرکے مسلمانوں کے ساتھ چراغوں کی طرف سجدے کیے اور ان کا مقصد آگ کوپوچنا تھا۔ انتہیٰ۔
میں کہتاہوں :جن علما نے روشنی پربدعت سیئہ ہونے کا حکم دیا ہے غالباً اسی روایت پرمبنی ہو گا حالاں کہ یہ روایت دووجہ سے مخدوش ہے۔
اول یہ کہ علمائے کرام نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت ہی سے روشنی کاہونا ثابت کرتے چلے آرہے ہیں اور پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ  کے عہدسے لے کر اس وقت اہل اسلام میں قندیلیں لٹکانے کارواج موجود ومشہو رہے۔ تو بھلا جس کا وجود عہد نبوت سے اب تک موجود ہو اس کے بارے میں یہ کیسے کہاجا سکتا ہے کہ اس کی ایجاد ’قوم برامکہ ،کے زمانے سے ہوئی۔ یہ ماناکہ انھوں نے بھی روشنی کی ہو گی لیکن انھیں موجداول نہیں قرار دیاجا سکتا۔
دوسری وجہ یہ ہے کہ ہمارے فقہاے کرام تصریحاًلکھ رہے ہیں  :
الصحیح أنہ لا یکرہ أن یصلي و بین یدیہ شمَع أو سراجٌ لأنہ لم یَعبُدہما أحدٌ و المجوس یعبدون الجمر لا النار الموقدۃ۔ (۲)
یعنی صحیح بات یہ ہے کہ اگرنمازی کے آگے شمع یاچراغ ہوتونماز مکروہ نہیں ہوتی کیوں کہ ان کی کوئی پوجانہیں کی جارہی ہے، مجوس بھی انگاروں کی پوجاکیا کرتے ہیں جلتی آگ کی نہیں۔
جب مسئلہ یہ ٹھہراکہ اصل چراغ،شمع اور قندیل کی کوئی آتش پرست بھی عبادت نہیں کرتا تو یہ کس طرح تسلیم کر لیاجائے کہ قوم برامکہ نے چراغوں کو اپنامعبودومسجودبنارکھا تھا،لہٰذا جوعلما اس دلیل کی روشنی میں ’روشنی ،کو مکروہ وبدعت کہ رہے تھے تو ان کی یہ دلیل بھی ناتمام رہی۔

(۱)	سورۂ نسائ،۴؍ ۱۷۱۔
(۲)	رد المحتار: ۵؍۶۰  لا باس باتخاذ المسبحۃ  
اب جواز کے دلائل بیان کیے جارہے ہیں۔یہ بات غور کرنے کی ہے کہ چراغوں میں زینت ہے یانہیں۔آیت کریمہ:  زَیَّنَّا السَّمَائَ الدُّنْیَا بِمَصَابِیْحَ سے معلوم ہوتا ہے کہ چراغوں کا روشن کرنا موجب زینت ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اس زینت کی حرمت میں بندوں کے لیے کوئی نص شرعی وارد ہے یانہیں۔ظاہریہ ہے کہ روشنی کی زینت پر کوئی نہی وارد نہیں ورنہ صحابہ کرام بھلاکیوں کرتے؟ اور یہ بات اصول تفسیرمیں متفقہ ہے کہ جس زینت کی نہی ثابت نہیں وہ مباح ہے اور اس آیت میں داخل ہے  :
قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِیْنَۃَ اللّٰہِ الَّتِيْ أخْرَجَ لِعِبَادِہٖ۔ (۱)
اتنا اشارہ تو قرآن سے ملا۔اب حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سنیے۔
سیرت حلبی جلدثانی میں ہے کہ پہلے ایسا ہوا کرتا تھاکہ جب عشاکاوقت آتا توکھجور کی لکڑیاں جلا کر اُجالا کر لیاجاتا تھا،جب تمیم داری مدینہ میں آئے،قنادیل،رسیاں اور روغن زیتون ساتھ لائے اور مسجدنبوی کے ستونوں سے قنادیل لٹکائے تو رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو دعا دی کہ تونے ہماری مسجدکوروشن کیا اللہ تعالیٰ تجھ کو روشنی بخشے۔
 بعض کتابوں سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ تمیم داری یہ قنادیل ملک شام سے لائے تھے اور اپنے غلام کو حکم دیا تواس نے جمعرات کویہاں سے وہاں تک ستونوں میں رسی تان کر اس میں قندیلیں لٹکادیں، حضور  صلی اللہ علیہ وسلم  نے جب یہ دیکھاتو پوچھاکہ یہ روشنی کس نے کی ہے ؟ حاضرین بولے :تمیم داری نے۔ آپ نے ان سے فرمایا  :
نورت الإسلام۔
یعنی تونے اسلام کوروشن ومنور کر دیا۔
حضرت غوث الثقلین نے ’’غنیۃ الطالبین ‘‘میں ایک روایت لکھی ہے جس میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم روشنی کی طرف رغبت دلارہے ہیں  :
روي عن النبي  صلی اللہ علیہ وسلم  أنہ قال من علق في بیت من بیوت اللہ قندیلا لم تزل الملائکۃ یستغفر لہ و یصلي علیہ و ہم سبعون ألف ملک حتی یطفي ذلک القندیل۔ (۲)

(۱)	سورۂ اعراف،۷؍۳۲۔
(۲)	مسندشامیین طبرانی: ۴؍ ۳۰۶حدیث: ۱۲۹۵۔۔ کنز العمال: ۷؍ ۶۵۶حدیث: ۲۰۷۶۸۔
یعنی نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی،آپ نے فرمایاکہ جس نے اللہ کے گھروں میں سے کسی گھر میں قندیل جلائی،تو اس کے بجھنے تک سترہزار کی تعداد میں فرشتے اس کے لیے رحمت ومغفرت کی دعا ئیں کرتے رہیں گے۔
اب آثار صحابہ سے ثبوت لیجیے۔
سیرت حلبی جلد ثانی میں ہے کہ مسجدوں میں قندیلوں کالٹکانامستحب ہے، یہ کام سب سے پہلے حضرت عمر   رضی اللہ عنہ  نے کیاکہ لوگوں کو نمازِ تراویح کے لیے جمع کیا اور بہت سی قندیلیں لٹکادیں،حضرت علی  رضی اللہ عنہ جب وہاں سے گزرے تو دیکھا کہ مسجد روشنی سے جگمگارہی ہے تو آپ نے دعافرمائی کہ اے عمربن خطاب! تونے ہماری مسجدوں کو روشن کیا اللہ تعالیٰ تیری قبرروشن فرمائے۔
فقیہ ابواللیث سمرقندی نے ’’تنبیہ الغافلین‘‘ اور حضرت غوث الثقلین نے ’’غنیۃ الطالبین‘‘ میں لکھا ہے کہ جس طرح حضرت علی نے دعا دی تھی،اسی طرح حضرت عثمان  رضی اللہ عنہما نے بھی دعا دی۔اب دیکھیے کہ خلفاے راشدین کا یہ فعل اور پھر اس پرخوش ہو کردعادیناکس قدر اس فعل کی پسندیدگی ظاہرکر رہاہے۔
روایت سابقہ سے معلوم ہوتا ہے کہ پہلے تمیم داری نے قنادیل روشن کیے، اور دوسری روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ کام پہلے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کیا ،توان دونوں میں علامہ حلبی نے تطبیق یوں دی ہے کہ اولیت حقیقی تو عہدرسالت میں کیے ،تمیم داری رضی اللہ عنہ کے اس فعل ہی کوحاصل ہے۔ پھراس کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے فعل کوجو اول قرار دیا گیا تو وہ دراصل اوّلیت اضافی ہے یعنی کثرت سے قندیلیں روشن کرناپہلے آپ سے واقع ہو اکیوں کہ تمیم داری  رضی اللہ عنہ کی قندیلیں گومتعددتھیں مگرزیادہ نہ تھیں۔
اب عہدخلفاے عباسیہ کی سند لیجیے۔علامہ حلبی نے ایک عالم کے حوالے سے نقل فرمایا ہے، وہ عالم کہتے ہیں کہ مجھے مامون بادشاہ نے حکم دیا کہ آئین مملکت میں یہ حکم لکھ دوکہ مسجدوں میں کثرت سے روشنی کیا کریں لیکن مجھے کچھ سمجھ میں نہ آیاکہ اسے کیسے لکھوں۔تومجھے خواب میں بشارت ہوئی کہ یوں لکھوکہ مسجدمیں کثرت سے روشنی کی جائے، اس لیے کہ تہجدگزاروں کا اس میں دل لگتا ہے اور مسجدیں چوں کہ خانہ خدا ہیں توخانہ خداسے اندھیرے کی دہشت ووحشت دور ہو گی۔ جب میں نے یہ بشارت دیکھی تو ہوشیارہو گیا اور میں نے یہ حکم لکھ دیا۔ 
یہ توخلفاے عباسیہ کادستور العمل بیان ہوا۔اب بعض اولیاء اللہ کاحال سنیے  :
مولف ’’تذکر ۃ الاولیاء ‘‘حضرت خواجہ فرید الدین (۱) عطار رحمۃ اللہ علیہ  احمد خضرویہ  قدس سرہ  کے احوال میں لکھتے ہیں  :
وقتے درویشی مہمان احمد رحمۃ اللہ علیہ آمداحمد(۲) ہفتاد شمع برافروخت درویش گفت مرا ایں ہیچ خوش نمی آیدکہ تکلف باتصوف نسبت ندارداحمدگفت برووہرچہ نہ از بہر خدابر افروختہ ام بکش آن شب آں درویش تا بامداد آب وخاک براں شمع ہا میزدیک شمع باز نتوانست نشاند۔
ایک بار احمدخضررویہ کے پاس ایک درویش مہمان بن کر تشریف لائے،توآپ نے سترشمعیں جلائیں،درویش نے کہاکہ یہ مجھے پسند نہیں کہ تکلف کاتصوف کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔ احمد نے فرمایا اچھا جوشمع میں نے رضاے الٰہی کے لیے نہیں جلایا ہے اسے بجھا کردکھادو۔تووہ درویش پوری رات شمع پرپانی اور مٹی ڈالتا مگر ایک شمع بھی گل نہ کرسکا۔
جب دوسرا دن ہوا،ستر(۷۰)نصاریٰ ان کے ہاتھ پر مسلمان ہوئے،اس کا حال اس طرح لکھا ہے  :
آں شب احمد بخواب دید کہ حق تعالیٰ گفت اے احمداز برائے ماہفتادشمع درگرفتی ما از برائے تو ہفتاد دل بنور ایمان بر افروختیم۔
اس شب احمدخضرویہ نے خواب دیکھاکہ حق تعالیٰ ان سے فرمارہاہے اے احمد تو نے میری خاطر سترچراغ جلائے تو میں نے تمہارے لیے ستردلوں کو نورِ ایماں سے منورکر دیا۔
غرض کہ چند مقامات پر اولیاے مقبولین مثلاشبلی  رحمۃ اللہ علیہ  اور دیگر کاملین سے   خالصاًللہ تعالیٰ روشنی کرنے کاثبوت امام غزالی اور علامہ عبدا لرحمن صفوری وغیرہ کی روایت سے نقل ہواہے۔طوالت کے خوف سے ان کی نقلیں نہیں پیش کی جارہی ہیں۔
 
(۱)	 حاشیہ :حضرت خواجہ فریدالدین کی وہ عالی مرتبہ ذات ہے کہ مولاناجلال الدین رومی جن کی صحبت سے مستفیض ہوئے ہیں اور ان کی تصانیف کو دیکھ کراسرارتصوف حاصل کیے ہیں۔مولاناروم ان کی تصنیف اپنے پاس رکھتے اور ہمیشہ انہی کے تصوفانہ اسلوب وطرز پرکلام فرماتے۔مولاناجامی نے یہ بات نفحات الانس میں لکھی ہے۔۱۲۔منہ
(۲)	حاشیہ :احمد خضرویہ بڑے مقبولین خدامیں تھے۔ ان کے ایک ہزا مریدایسے تھے جو ہوامیں اُڑتے تھے اور پانی پر اس طرح بے تکلف چلتے تھے جس طرح کوئی زمین پر چلتاہو۔۱۲۔منہ 
اب مومنین کا روز انہ کامعمول سنیے کہ وہ مسجدوں میں ہمیشہ سے روشنی کرتے چلے آرہے ہیں۔فتاویٰ قاضی خان  جلد اول میں ہے  :
رجل بنی مسجدا و جعلہ للہ تعالیٰ فہو حق الناس بمرمتہ و عمارتہ و بسط البواری الحصیر و القنادیل۔
یعنی جس کسی نے خالصاًلوجہ اللہ الکریم مسجد بنائی،تودوسروں کی بہ نسبت اسے زیادہ حق پہنچتا ہے کہ اس کی مرمت،اس کو بسانے،بوریاوچٹائی وغیرہ فرش بچھانے اور قندیلیں روشن کرنے کا اہتمام کرے۔
پھر جلدثالث میں لکھا  :
و یجوز الإنفاق علی قنادیل المسجد من وقف المسجد، ذکرہ الناطقي۔
یعنی مسجدمیں روشنی کرنے کے لیے مسجدکے فنڈسے پیسے لگاناجائزہے۔ناطقی نے یہ مسئلہ بیان کیا ہے۔
حضرت غوث الثقلین’’غنیۃ الطالبین‘‘میں دعاے ختم قرآن کی بابت ماہِ رمضان کی فضیلت میں لکھتے ہیں  :
شہر  فیہ المساجد تعمر و المصابیح تزہر۔
یعنی رمضان شریف وہ مہینہ ہے جس میں مسجدیں خوب آباد ہوتی ہیں اور چراغ روشنیاں بکھیر رہے ہوتے ہیں۔
یوں ہی غنیہ الطالبین کے چند مقامات پرمصابیح اور قنادیل کا لفظ آیا ہے جس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ شمع وچراغ کا رواج ومعمول ،اہل اسلام میں زمانہ قدیم سے چلاآرہاہے، اب ہم کہتے ہیں کہ جس طرح زیادہ روشنی کرنامسجدسے تاریکی کی وحشت دورکرتا ہے  جیساکہ کلام حلبی کی نقل گزرچکی اسی طرح اللہ ورسول کے ذکرجمیل کے موقع پر بھی روشنی سے تیرگی کی وحشت دورہوتی ہے۔ اور جس طرح زیادہ روشنی سے نمازیوں کادل لگتا ہے اسی طرح اس مجلس پاک میں بھی دل لگتا ہے کیوں کہ اس میں رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کی صفات کا بیان ہوتا ہے۔ تو صحیح یہی ہے کہ چراغاں کرناممنوع نہیں ہے۔ اور جن علما نے منع کیا ہے تو شاید ان تک وہ حدیث وآثار نہیں پہنچے جو صراحۃًجواز پر دلالت کر رہے ہیں ناچار انھوں نے سمجھ لیاکہ یہ آتش پرست قوم’برامکہ، کا فعل ہے اور اس پر بدعت وکراہت کا حکم لگادیا۔یایوں کہیے کہ درحقیقت تمام علماکاقول ایک ہی ہے جو منع کرنے والے ہیں وہ حد سے زیادہ کو منع کرتے ہیں اور جو جائز کہنے والے ہیں وہ ضرورتِ زینت کی حدتک جائز کہتے ہیں۔
اس کی تفصیل یہ ہے کہ روشنی کے تین درجے ہیں  : 
ایک بقدر حاجت لازم وضروری، جوصرف اتنے سے حاصل ہے کہ جیسے صحابہ  رضی اللہ تعالیٰ عنہم  ابتداے امر میں کھجور کی لکڑیاں جلادیا کرتے تھے جس سے مسجدکافرش،مقام سجدہ اور نمازی ایک دوسرے کونظر آ جاتے تھے۔
دوسرا:زینت کے لیے ، جیسے کہ امیر المومنین حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے کثرت سے قندیلیں روشن کرنے کی وجہ سے پوری مسجدجگ مگا اٹھی۔
’’غنیہ الطالبین ‘‘میں ہے  :
إن علیا  رضي اللہ عنہ  اجتاز بالمساجد  و ہي تزہر بالقنادیل۔
یعنی حضرت علی  رضی اللہ عنہ  نے مسجدکامشاہدہ فرمایاتو وہ روشنیوں سے جگمگارہی تھی۔
فقیہ ابو اللیث  رحمۃ اللہ علیہ  کی ’’تنبیہ الغافلین‘‘میں ہے  :
رأی القنادیل تزہر في المساجد۔
یعنی ایسے چراغ نظرآئے جس سے مسجدپررونق تھی۔
اسی طرح حلبی وغیرہ میں ہے۔غرض کہ کل روایتوں میں لفظ تزہر صیغہ مضارع استعمال ہوا ہے جو ،زہور سے مشتق ہے۔ اور زہور کے معنی صراح میں یہ لکھے ہیں  :
زہور روشن شدن آتش و بالاگرفتن آں۔
اس بنیاد پر ہم کہتے ہیں کہ امیر المومنین حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا یہ فعل بلاشبہ حاجت وضرورت سے زیادہ تھالیکن ساتھ یہ بھی کہ ضرورتِ زینت کی مقدارسے زیادہ نہ تھا۔
تیسرایہ کہ مکان کی زینت وآرایش تو متعدد قندیلوں سے ہوچکی تھی لیکن کسی بوالہوس نے فضول خرچی کرکے محض فخرونمود وغیرہ کی نیت سے حدسے زیادہ روشنی کر دی تو اگر مانعین کی اس سے یہی آخری صورت مراد ہے توپھر کچھ اختلاف باقی نہ رہا۔
فتاویٰ قنیۃ وغیرہ اگلی کتابوں میں منع کے الفاظ اسی صورت کے لیے لکھے گئے ہیں۔کسی نے لکھا  :
کثرۃ الوقید زیادۃ علی الحاجۃ۔
کسی نے لکھا  :
إسراج السرج الکثیرۃ۔
 تواس زیادتی کو کہ ضرورت زینت سے بھی زائد ہو اگر منع کیاجائے تویہ کوئی برا ماننے کی بات نہیں ہے۔ ہاں ! ہمارے معاصرین جو ایک چراغ سے زیادہ دوسراچراغ روشن کرنے کو بدعت وضلالت اور اسراف وحرام کہتے ہیں تویہ بڑی شوخی کی بات ہے۔ان کو چاہیے کہ حضرت تمیم دارمی اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما  وغیرہ کا ادب ملحوظ رکھیں کہ پہلے پہل یہ کام انھوں ہی نے کیا، اور زینت کے لیے حاجت ضروریہ کی مقدار سے زیادہ روشنی کی۔
مجھے تعجب ہوتا ہے کہ جب یہ لوگ مدینہ منورہ جاتے ہوں گے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم  کے نورانی روضہ کے اردگردجھاڑ فانوس اور قندیل اتنے وافر مقدار میں  کہ یہاں کسی کو میسر بھی نہیں   روشن دیکھتے ہوں گے تومعلوم نہیں یہ لوگ اپنی آنکھیں روشنی سے موند لیتے ہوں گے اور اس سے جل بھن کر زیارت ہی ترک کر دیتے ہوں گے،اگرترک کر دیتے ہیں تو ہم کو کچھ شکایت نہیں،وہاں محروم رہے یہاں بھی محروم رہے۔ لیکن اگر وہاں اسی روشنی میں جا کر زیارت کی توجس طرح روضہ اقدس کی زیارت مستحب ہے اسی طرح حضور  صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات اور مدائح ومناقب کاسننا بھی مستحب ہے تویہاں بھی روشنی میں آ کرسنیں،ظاہری روشنی سے ظاہرکی آنکھ اور ذکرنورانی سے باطن کی آنکھ روشن کریں۔ وہ روضہ پرانوار جس ذات اقدس کا مدفن ہے یہ محفل نورانی بھی انھیں کی شرح صفات کا موطن ہے۔
اخیر میں یہ گزارش ہے کہ اگر ان حضرات کا دل روشنی کے سبب مکدر ہوتا ہے توروشنی والی محفلوں میں نہ آئیں بہت سی محفلیں ایسی ہوتی ہیں جن میں ایک دوچراغ پر اکتفا ہوتا ہے انہی میں آئیں،اگر ایک دوچراغ بھی ناگوارہو تو کتنی ہی محفلیں دن میں سجتی ہیں جہاں ایک چراغ بھی نہیں ہوتاوہاں تشریف لائیں بھلاکہیں تو اپنا قول سچا کردکھائیں۔
اعتراض خامس:  بانیانِ محفل میلاد نے مطلق کو مقیدکر دیا اور یہ بدعت ہے۔
جواب:  ہم دعویٰ کرتے ہیں کہ محفل میلاد شریف میں کسی کو مقیدنہیں کیا یعنی میلاد و معجزات کی روایتوں کا پڑھناجس طرح ماہِ ربیع الاول میں ہوتا ہے اسی طرح دوسرے مہینوں میں بھی پڑھ لیتے ہیں پھرمطلق ،مقید کہاں ہوا؟
جس طرح ذکر ولادت شریف کے وقت قیام کرتے ہیں اسی طرح اور بھی چند مقامات میں قیام کرتے ہیں   چنانچہ وہ مقامات، تحقیق قیام کے سلسلہ میں کچھ بیان ہوئے ہیں  توقیام بھی مقید نہ ہوا کہ قیام خاص میلاد شریف ہی میں ہو اور اس کے علاوہ اور کسی زمان ومکان میں نہ ہو۔ اسی طرح شیرینی تقسیم کرنا یاکھاناکھلانا دین ودنیاکی اور بھی بہت ساری تقریبات میں ہوتا ہے جیسے ختم قرآن، تراویح،مجلس بسم اللہ اور عقدنکاح وغیرہ میں۔میزیاچوکی اور فرشوں کابچھاناوعظ میں بھی ہوتا ہے اور مجلس نکاح وغیرہ میں بھی۔ اور قصیدہ ومنقبت جس طرح محفل میلاد میں پڑھے جاتے ہیں یوں ہی بعض دوسری مجلسوں میں بھی پڑھے جاتے ہیں اور بعض لوگ تنہابھی شوقیہ پڑھتے رہتے ہیں۔اب یہ صاحب فرمائیں کہ ہم نے کون سے مطلق شرعی کو اس طرح مقید کر دیاکہ اب اس مطلق کوکسی وقت بلاقید ناجائزسمجھتے ہوں۔
 باقی رہی یہ بات کہ مجلس میلاد شریف میں اجتماع امورِ مذکورہ اس نقطہ نظر سے کرنا کہ جس قدر تعظیم ومحبت کا اظہار اور مستحسنات شرعیہ کی کثرت ہو گی اسی قدر خیروبرکت میں اضافہ ہو گا تو یہ اور بات ہے، تقییدمطلق اس کا نام نہیں، یہ بات ہر سلیم الطبع انسان بدل وجاں قبول کرے گا۔یہ لوگ خوب اُلٹ پلٹ کر رہے ہیں کہ مغالطہ دے کر کس طرح اس محفل کابدعت سیئہ ہونا ثابت کر دیں مگر ایسا ہوا نہیں۔
سچی بات یہ ہے کہ جملہ محققین علمائے دین کے نزدیک یہ محفل مستحسن ہے کیوں کہ جو علمابدعت کی تقسیم مانتے ہیں وہ کہتے ہیں  :
البدعۃ ما لم یکن في عہد رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم ۔ (۱)
یعنی بدعت وہ چیز ہوتی ہے جورسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں نہ رہی ہو۔
پھر اس کی دو قسم کرتے ہیں : ایک حسنہ دوسری سیئہ۔تو ان کے نزدیک محفل میلاد شریف بدعت حسنہ میں داخل ہے اور مستحب ہے۔ اور جوعلماتقسیم بدعت کے قائل نہیں وہ بدعت کی تعریف یہ کرتے ہیں  :
ما أحدث علی خلاف الحق المتلقی عن رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم ۔
یعنی بدعت وہ چیزہوتی ہے جو رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کی بتائی ہوئی شریعت کے خلاف ایجاد کی جائے۔

(۱)	الاتصاف فیما قیل فی المولد من الغلووالانصاف:۱؍ ۱۸۔
محفل میلاد شریف بالاتفاق درست ہے
ان علماکے نزدیک محفل میلاد شریف خود سنت میں داخل ہے کیوں کہ یہ گرچہ محدَث ہے لیکن محدث علی خلاف الحق نہیں ہے کہ قرآن،حدیث یا اجماع کے کسی حکم میں تغیروتبدیلی کر دیتاہو،تو اصل حال یہ ہے کہ محفل میلاد شریف ہردوگروہ کے محققین کے نزدیک مستحسن ہے۔ باقی بعض علما جوانکار کر رہے ہیں تو وہ دراصل اس باریک نکتے تک پہنچ ہی نہ سکے اور اسی غلطاں پیچی میں یہ منکرین آ گئے۔حق سبحانہ وتعالیٰ ہدایت فرمائے۔  اللہم أرنا الحق حقا و ارزقنا اتباعہ۔  
اعتراض سادس:  جب مولد شریف پڑھتے ہیں منبر یا چوکی پربیٹھ کر پڑھتے ہیں اور قرآن شریف ہمیشہ نیچے بیٹھے پڑھتے ہیں۔میلاد نامے کادرجہ قرآن سے بھی زیادہ کر دیا۔
جواب:  یہ بات ہرگز نہیں بلکہ منبریا چوکی پر بیٹھ کر پڑھنا اس سبب سے ہے تاکہ میلاد خواں ، اہل مجمع کو اور اہل مجمع ،میلاد خواں کو نظرآئیں،نیز اوپر بیٹھنے سے آواز بلند ہو کرہرطرف پھیلتی ہے اور نیچے بیٹھے سے آواز کسی قدر دب جاتی ہے۔ اور واعظوں کابھی کچھ یہی حال ہے کہ وہ شعرو قصہ اور حکایات وغیرہ کوسب سے اوپرکسی بلندجگہ پربیٹھ کرکہتے ہیں اور خالص قرآن شریف کو نیچے پڑھتے ہیں پس منبرپربیٹھ کر پڑھنا در اصل مجمع عا م کا تقاضاہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ جب کوئی میلادنامہ تنہائی میں شوقیہ پڑھتا ہے توکسی منبروچوکی کا اہتمام نہیں کرتا۔
اعتراض سابع: قرآن پڑھتے وقت نہ فرش بچھائیں اور نہ کچھ اور سامان کریں اور مولد شریف میں کیاکیاسامان کیاجاتا ہے۔
جواب :  عیدین کی نماز کے لیے  جوفرض نہیں  نہانا،عمدہ کپڑے پہننا،خوشبو لگانا اور طرح طرح کے تکلّفات ہوتے ہیں، اور پنج وقتہ نماز  جوفرض قطعی ہے اس کے لیے استنجا ووضو کے علاوہ اور کچھ بھی نہیں کیاجاتا۔وجہ اس کی یہی ہے کہ وہ سال بھر میں دوبار اور یہ ایک دن میں پانچ بار۔ تو پنج گانہ نماز میں عیدکی طرح سامان کرنے میں حرج ہے اور حرج کو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں سے اٹھادیا ہے  :
وَ مَا جَعَلَ عَلَیْکُمْ فِي الدِّیْنِ مِنْ حَرَجٍ۔ (۱)
 اور تم پر دین میں کچھ تنگی نہ رکھی۔

(۱)	سورۂ حج،۲۲؍۷۸۔
تویہی سمجھ لو کہ قرآن شریف کاپڑھنا روز مرہ ہے اور میلاد شریف کاپڑھنا سال میں ایک دو باریعنی کبھی کبھی ہوا کرتا ہے، اور جوبات کبھی کبھی کرنے میں ہوسکا کرتی ہے وہ روزمرہ میں نہیں ہوسکتی۔دوسری بات یہ کہ عید کی نماز میں نمازکی نیت سے وہ سامان نہیں کیے جاتے بلکہ خوشی کے دن میں خوشی کا مظاہرہ کرنے کے لیے ہوتے ہیں۔اسی طرح یہاں میلاد نامہ پڑھنے کے لیے یہ سامان نہیں ہوتا بلکہ (یہ سب)حضورخیرالانام صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت مبارکہ کی خوشی میں کیاجاتا ہے۔اگر صرف میلادنامہ پڑھنے کے لیے وہ سامان ہوتا پھر یہ اعتراض ہوتاکہ قرآن پڑھنے کے لیے وہ سامان کیوں نہیں کیا۔
اعتراض ثامن:  میلاد شریف میں بے اصل وموضوع روایتیں اور ناجائزاشعار پڑھے جاتے ہیں۔
جواب:  حضور صلی اللہ علیہ وسلم کاپیداہونا، دائی حلیمہ کا دودھ پلانا، چالیسویں سال نبوت کا اعلان کرنا، معجزات کا رونماہونا اور آپ  صلی اللہ علیہ وسلم کاسید المرسلین ہونایہی کچھ میلاد شریف میں پڑھاجاتا ہے اور یہ سب صحیح ہے۔اگرشایدبایدفضائل میں کوئی مطعون فیہ یا موضوع حدیث بھی بیان ہو گئی یاکسی کم سمجھ نے کوئی شعرخلاف شرع پڑھ دیا تو انصاف کی بات یہ ہے کہ خاص ان لوگوں کو منع کرناچاہیے کہ ایسی روایات نہ پڑھیں نہ یہ کہ علی العموم میلاد شریف کی ساری محفلوں ہی کو حرام کہنے لگیں۔ہم نے بہت سنا ہے کہ آج کل اکثرواعظین ،موضوع روایتیں بیان کر جاتے ہیں اور ان کو تمیز بھی نہیں ہوتی ،تو کیا بعض واعظوں کی حالت سے جملہ مجالس وعظ عمومی طور پر حرام ٹھہرجائیں گی؟۔
اعتراض تاسع:  خلاف شریعت ریشمی اور زریں لباس پہن کر محفل میلاد شریف میں آتے ہیں اور بعض ڈاڑھی منڈے بھی آتے ہیں اور بعض موقع میں عورت اور مرد جمع(۱) ہوتے ہیں۔

(۱)	حاشیہ :یعنی ہم نے جو اکثر مقامات پرمیلاد شریف دیکھا ہے توجس طرف عورتیں ہوتی ہیں اس طرف قنات یا پردہ وغیرہ ضرور ہوتا ہے،تواس میں ہرگزشرعاکوئی عیب نہیں۔ مرد ایک جگہ جمع ہوتے اور عورتیں ایک جگہ پردہ میں ہوتی ہیں لیکن چوں کہ منکرین ایک جگہ جمع ہونالکھتے ہیں توشاید کہیں ہواہو،اس کو ہم بھی منع کریں گے یعنی یہ کہیں گے کہ اس ہیئت خاص کے ساتھ اجتماع منع ہے۔۱۲۔منہ
جواب:  مجالس نکاح وغیرہ،نیز عیدین کی نمازپڑھنے عیدگاہ میں اسی طرز سے لباس فاخرہ کے ساتھ اور ڈاڑھی منڈے بھی جاتے ہیں تو چاہیے کہ ان کے شریک ہو جانے سے مجالس نکاح اور عیدگاہ وغیرہ کے مجمعے بھی محرمات شرعیہ ہو جائیں، اور کوئی دیندار وہاں نہ جایا کرے۔حالاں کہ بات ایسی توہے نہیں بلکہ جہاں خاص کوئی شرعی قباحت نظرآئے تو اس کو منع کرناچاہیے نہ یہ کہ اس کی وجہ سے اصل جزہی کومنع کر دیں۔ 
جلال الدین سیوطی  رحمۃ اللہ علیہ نے ’’حسن المقصد‘‘میں تاج الدین فاکہانی کے اعتراض کایہی جواب دیا ہے جو اس نے اپنے رسالہ ’’مورد‘‘میں لکھا تھاکہ مولد شریف میں امرد، اور ناچنے گانے والی عورتیں ہوتی ہیں نیز مرد اور عورت باہم جمع ہوتے ہیں۔
اس کے جواب میں سیوطی رحمۃ اللہ علیہ کی عبارت یوں ہے  :
إن التحریم فیہ إنما جاء من قبل ہذہ الأشیاء المحرمۃ التي ضمت إلیہ لا من حیث الاجتماع لإظہار شعار المولد بل لو وقع مثل ہذہ الأمور في الاجتماع لصلوٰۃ الجمعۃ مثلاً لکانت قبیحۃ شنیعۃ و لا یلزم من ذلک ذم أصل الاجتماع لصلوٰۃ الجمعۃ کما ہو واضح، و قد رأینا بعض ہذہ الأمور یقع في لیال من رمضان عند اجتماع الناس لصلوٰۃ التراویح فہل یتصور ذم الاجتماع لصلوٰۃ التراویح لأجل ہذہ الأمور التي قرنت بہا ؟ کلا بل نقول أصل الاجتماع لصلوٰۃ التراویح سنۃ و قربۃ و ما ضم إلیہا من ہذہ الأمور قبیح و شنیع و کذلک نقول أصل الاجتماع لإظہار شعار المولد مندوب و قربۃ و ما ضم إلیہ من ہذہ الأمور مذموم ممنوع۔ (۱)
یعنی یہاں حرمت ان حرام چیزوں کے شامل ہونے کی وجہ سے ہوئی ہے،یہ نہیں کہ میلاد شریف کے شعار کے اظہارکے لیے جمع ہوناحرام ہے۔مثلاً اگرایسی چیزیں جمعہ کی نماز کے اجتماع میں پیش آ جائیں تووہاں بھی منع ہوں گی،لیکن اس سے یہ لازم نہیں آتاکہ اصل جمعہ کا مجمع ہی براہو جائے۔ہم نے رمضان کی تراویح میں اس قسم کی چیزیں خوددیکھی ہیں لیکن ان کے سبب سے تراویح کو منع نہیں کیاجائے گا بلکہ یوں کہیں گے کہ یہ اصل اجتماع تو اچھا ہے،ہاں !اس میں ان چیزوں کا ہونا براہے۔لہٰذا اسی طرح یہاں بھی کہناچاہیے کہ میلاد شریف تو اصلاعمدہ اور مستحب کام ہے لیکن اس میں محرمات کا شامل ہونابراہے۔

(۱)	الحاوی للفتاویٰ:۱؍ ۱۹۳۔مکتبہ نوریہ رضویہ،فیصل آباد،پاکستان۔
اعتراض عاشر:  جب کسی کے گھر محفل میلاد شریف رات کو ہوتی ہے، اور سامعین جو زیادہ رات گئے فارغ ہو کرسوتے ہیں توصبح کوشایداگر کسی کی نمازمیں دیرہو گئی یاسو آدمیوں میں ایک کی نماز قضاہو گئی تو اس بات کو میلاد شریف کی مذمت کے لیے دلیل عام ٹھہراتے ہیں۔ حالاں کہ اگر برائی کی یہی دلیل ہے تومحفل عقد نکاح کے اہتمام میں اگر آدمیوں کی نمازکچھ آگے پیچھے ہو جائے اور اکثر ہو جاتی ہے نیزرمضان میں سحری کھانے کواٹھتے ہیں اور بعضوں کی نمازِصبح قضا ہو جاتی ہے تواس دلیل سے چاہیے کہ سحری بھی علی العموم حرام ہو جائے۔
ہرچند یہ واہیات قسم کے اعتراضات ہماری نگہ التفات کے لائق نہ تھے لیکن چوں کہ ہم نے دیکھا کہ بعض صاحب علم بھی یہ باتیں اپنی زبان پر لاتے ہیں، اور کچھ نادان ان کو کمال درجہ کے حجج ساطعہ اور براہین قاطعہ سمجھتے ہیں،اس لیے ان کے جواب میں یہ چند الفاظ لکھ دیے گئے۔نیزعطرو لوبان،پھولوں وغیرہ کاذکر،زیب وزینت محفل کا بیان اور چوکی یامنبرپربیٹھ کرپڑھنے کی اصلیت، ان تمام باتوں کی تحقیق ایک مختصر اور منظوم رسالہ بنام’’دافع الاوہام فی محفل خیر الانام‘‘میں بھی کی گئی ہے لیکن اس کا طرز اور ہے۔   ع:
ہرگلے را رنگ وبوے دیگر است
طالبانِ حق کوچاہیے کہ وہ رسالہ بھی اپنے پاس رکھیں۔اس کتاب ’’انوارِ ساطعہ‘‘میں طولِ کلام نہ صرف فتویٰ انکاری کے سبب واقع ہوا بلکہ منکرین کے چند رسالوں کے مغالطوں اور شبہوں کی تردیدبھی مدنظر تھی۔
جو شخص اس کتاب اور ’’ دافع الاوہام ‘‘کو جملہ قیود اور شقوں کے ساتھ بغور ملاحظہ کرکے ذہن میں خوب جمالے، توخداوندکریم سے امیدہے کہ وہ (پھر کبھی )دھوکا اور مغالطہ نہ کھائے گا۔ اور منکرین کے تمام فسادی رسالوں کی ان میں صراحۃً یا اشارۃً تردیدپائے گا۔اس بنیادپر ضروری سمجھا گیا کہ سمندخامہ کی لگام کو طول تقریرکی وادی میں دوڑانے سے اختصارکی جانب موڑدیاجائے، اور جن علمائے ربانی اور عرفاے حقانی نے میلاد شریف کوجائز رکھا ہے ان کا ذکرکر دیاجائے۔



لمعہ تاسعہ: مجوزین میلاد ،فقہاومحدثین کے اسمائے گرامی

اس کے اندر اُن محدثین وفقہاکا نام ذکرکیاجارہاہے جنھوں نے میلاد شریف کے عمل کومستحب اور مستحسن قراردیا ہے۔
  ۱		شیخ عمر بن محمد  الملا الموصلی  من الصالحین المشہورین 
۲  		علامہ ابوالخطاب ابن دحیہ اندلسی۔
		یہ دحیہ کلبی صحابی کی اولاد میں سے تھے ذکرہ الزرقانی  
		نیز سلطان ابوسعیدمظفرکی محفل میں بہت سے علماوصلحاآیا کرتے تھے ان کے اسماے گرامی کہاں تک شمار کیے جائیں۔جلال الدین سیوطی نے لکھا ہے  :  
	  و حضرعندہ فیہ العلماء و الصلحاء من غیرنکیر منہم۔
۳		علامہ ابوالطیب السبتی نزیل قوص، من اجلۃ العلماء المالکیۃ ذکرہ الزرقانی 
۴		امام ابومحمد عبد الرحمن بن اسماعیل،استادِ امام نووی معروف بہ ’ابوشامہ،
۵		علامہ ابوالفرح بن جوزی محدث وفقیہ حنبلی 
۶		امام علامہ سیف الدین حمیری دمشقی حنفی محدث معروف بہ’ابن طغربک ،
۷		امام القراوالمحدثین حافظ شمس الدین ابن جزری
۸		حافظ عمام الدین ابن کثیر
۹		علامہ ابوالحسن احمد بن عبد اللہ البکری
۱۰		علامہ ابوالقاسم محمد  بن عثمان لولوی الدمشقی
۱۱		شمس الدین محمد  بن ناصرالدین الدمشقی
۱۲		علامہ سلیمان برسوی امام جامع سلطان 
		کشف الظنون میں لکھا ہے کہ مجالس ومحافل اور ملک روم کے مجامع میں انہی کا تالیف کردہ مولدشریف پڑھاجاتا ہے۔ 
۱۳		ابن الشیخ آقا شمس الدین  ذکرہ صاحب کشف الظنون 
۱۴		المولیٰ حسن البحری
۱۵		الشیخ محمد  بن حمرۃ العربی الواعظ
۱۶		الشیخ شمس الدین احمد بن محمد  السیواسی
۱۷		علامہ حافظ ابو الخیرسخاوی
۱۸		سید عفیف الدین الشیرازی
۱۹		ابوبکر الدنقلی
۲۰		برہان محمد ناصحی
۲۱		برہان ابوالصفا۔ان کے مولد شریف کانام ہے: ’ فتح اللّٰہ حسبی و کفی في مولد المصطفیٰ،۔
۲۲		الشمس الدمیاطی معروف ب’ابن السباطی،
۲۳		برہان بن یوسف الفاتوش۔ان کا مولد شریف چارسواشعار سے زیادہ پر مشتمل ہے۔
۲۴		حافظ زین الدین عراقی
۲۵		مجدالدین محمد بن یعقوب فیروزآبادی شیرازی  صاحب قاموس ان کے مولد شریف کا نام ہے:’ النفحات العنبریۃ في مولدخیرالبریۃ ،
۲۶		امام محقق ولی الدین ابوزرعہ العراقی
۲۷		ابوعبد اللہ محمد  بن النعمان
۲۸		جمال الدین العجمی الہمدانی
۲۹		یوسف الحجاز
۳۰		یوسف بن علی بن زراق الشامی الاصل المصری المولد
۳۱		ابوبکر الحجاز
۳۲		منصور بشار
۳۳		ابوموسیٰ ترہونی  وقیل زرہونی
۳۴		الشیخ عبد الرحمن بن عبدالملک معروف ب’المخلص،
۳۵		ناصرالدین المبارک مشہورب’ابن الطباخ، (۱)

()	حاشیہ :  ابن طباخ نے اپنے فتاوے میں لکھا ہے کہ جب کوئی اس رات میں خرچ کرے، اور آدمیوں کو جمع کرکے کچھ کھلائے اور ان کو سنوائے توان کا سنناجائز ہے۔ اور سنانے والے یعنی میلاد خواں کومیلادِرسول  صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشی میں لباس عطا کرے،تویہ سب درست ہے،اگر کرنے والے کی نیت نیک ہو۔سیرت شامی۔ ۱۲۔منہ 
۳۶		امام علامہ ظہیر الدین ابن جعفر السینی
۳۷		فاضل عبد اللہ بن شمس الدین الانصاری
۳۸		الشیخ الامام صدر الدین موہوب الجزری الشافعی
۳۹		علامہ ابن حجر عسقلانی
۴۰		شیخ جلال الدین سیوطی  مجدد مائۃ تاسعۃ 
۴۱		محمد بن علی الدمشقی  مصنف سیرت شامی 
۴۲		شیخ شہاب الدین قسطلانی  صاحب مواہب لدنیہ،وشارح صحیح بخاری 
۴۳		نور الدین علی حلبی شافعی  مصنف سیرت حلبیہ 
۴۴		علامہ محمد  بن عبد الباقی زرقانی مالکی  شارح مواہب،ودیگرکتب احادیث   
۴۵		علی بن سلطان محمد  ہروی معروف ب’ملاعلی قاری،
		انھوں نے اپنے مولدشریف’’المورد الروی ‘‘میں میلاد شریف کا یہ عمل، مصر،شام، روم، اندلس، مغرب،بلادہندوستان اور مکہ ومدینہ  زادہما اللہ شرفا جملہ اسلامی ممالک سے ثابت کیا ہے۔ تودرحقیقت یہ ایک کتاب گویا اقالیم سبعہ کاثبوت ہے۔نیز علی قاری نے اس میں لکھاکہ اس محفل کی عظمت یہ ہے کہ علماومشائخ میں سے کوئی اس میں شامل ہونے سے انکار نہیں کرتا۔ 
۴۶		عبد الرحمن صفوری شافعی  صاحب نزہۃ المجالس 
۴۷		نور الدین ابوسعید بورانی
		انھوں نے بھی تمام ملکوں سے میلاد شریف کا ثبوت فراہم کیا ہے۔ اور بادشاہِ مصر کے احوال میں لکھا ہے  :
سائبانے ساختہ بود کہ دوازدہ ہزارکس درسایہ آدمی نشستند درغایت آراستگی از جہت آں کہ دریں شب وروز آں را بر افرازند در غیر آں پیچیدہ باشد۔
یعنی اس نے ایک بے حدخوبصورت سائبان بنارکھا تھاکہ جس کے سائے تلے بارہ ہزار لوگ بیٹھا کرتے تھے۔ اور اس شب وروز میں لوگ خوب خوب نوازے جاتے تھے۔ 
۴۸		سید امام جعفر برزنجی 
		ان کا مولد شریف منثورمقفیّٰ اور فصیح وبلیغ عبارت کے لیے مشہور ہے،دیارِ عرب میں کثرت سے پڑھاجاتا ہے۔
 ۴۹		سیدزین العابدین برزنجی  
		ان کامولد شریف منظوم،دیارِعرب شریف میں رائج ہے۔
۵۰		شیخ احمد بن علامہ ابو القاسم بخاری 
		ان کا نسب محمد  بن اسماعیل بخاری تک پہنچتا ہے۔
۵۱		شیخ اسماعیل حقی افندی  مفسروواعظ اور مصنف تفسیرروح البیان 
۵۲		احمد بن قشاشی مدنی
۵۳		محمد  بن غرب مدنی
۵۴		شیخ عبدالملک کر دی
۵۵		فاضل ابراہیم باجوری
۵۶		امیر محمد  استاد ابراہیم باجوری
۵۷		شیخ سقاط استاد الاستاد باجوری
۵۸		شیخ عبدالباقی پدرواستاد علامہ زرقانی
۵۹		شیخ محمد  رملی
۶۰		علامہ احمد بن حجر  مولف ’تحفۃ الأخیار بمولد المختار،
۶۱		حافظ ابن رجب حنبلی
۶۲		ابوزکریا یحییٰ ابن عائذ حافظ کبیر اندلسی
۶۳		سعید بن مسعود گازرونی 
		انھوں نے بھی بہت سے ملکوں کے علما اور صوفیہ سے مولد شریف ہوناثابت کیا ہے۔
۶۴		مولانازین العابدین محمود نقشبندی
۶۵		علامہ شہاب الدین احمد الخفاجی شارحِ شفا وغیرہ
		عمل مولد کے جواز میں ان کابھی ایک رسالہ ہے۔
۶۶		حضرت مولاناجمال الدین میرک
۶۷		علامہ محمد  رفاعی مدنی  الساکن فی زقاق البدور 
۶۸		قاضی ابن خلکان شافعی	(۱۲۸۲ھ)
۶۹		مولانامعین الدین الواعظ الہروی معروف ب’ملامسکین،
		انھوں نے ’’معارج النبوۃ‘‘اسی لیے تصنیف فرمائی کہ میلاد شریف کی محفلوں میں پڑھا کریں۔اسے کتاب کے دیباچہ میں بیان کیا ہے۔
۷۰		علامہ ابواسحق ابن جماعہ رحمۃ اللہ علیہ 
		ملاعلی قاری نے ان کا حال یوں لکھا ہے کہ وہ مولد شریف میں کھاناکھلاتے تھے اور یہ فرماتے تھے کہ اگر میرے قدرت واختیار میں ہوتاتو میں ربیع الاول میں مہینہ بھر مولد شریف کیا کرتا۔
۷۱		شیخ محمد  بن طاہر محدث مصنف مجمع البحار 
۷۲		شیخ عبد الحق محدث دہلوی
۷۳		حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی
		انھوں نے ’’فیوض الحرمین ‘‘کے اندر محفل میلاد شریف میں اپنا شریک ہونا اور اس میں انوارکادیکھنا بیان کیا ہے۔ان کے کلام سے یہ ظاہرہے کہ جس جگہ ایسی مجلسیں ہوتی ہیں وہاں فرشتے انوارِ رحمت لایا کرتے ہیں جیساکہ انھوں نے فرمایا  :
 فتأملت تلک الأنوار فوجدتہا من قبل الملائکۃ الموکلین بأمثال ہذہ المشاہد وبأمثال ہذہ المجالس و رأیت یخالط أنوارالملائکۃ أنوارالرحمۃ۔
یعنی پھرمیں نے تجسس اور غورسے ان انوار کو دیکھا تو وہ ان فرشتوں کے انوار تھے جن کو حق تعالیٰ نے اس بات پر معین کررکھا ہے کہ وہ ایسے ایسے مقامات میں اور ایسی ایسی مجلسوں میں حاضر ہوا کریں،نیزمیں نے یہ بھی دیکھا کہ انوارِ رحمت اور انوارملائکہ باہم خلط ملط ہو رہے تھے۔
		واضح ہوکہ ہم شروع رسالہ میں لکھ آئے ہیں کہ حضرت شاہ ولی اللہ جملہ مفتیانِ فتاویٰ انکاری کے مستندو مقتدا اور من ینتہي إلیہ إسنادہم و اعتمادہم  ہیں۔توفاتحہ طعام بھی ہم نے ان سے ثابت کر دی اور اب مبحث میلاد شریف کا اثبات بھی ہم نے انھیں کے نام پر ختم کر دیا اور خاص ان کی زبان سے اس مجلس میلاد کامحل نزولِ ملائکہ اور موردِ رحمت ہونا بھی ثابت کر دیا   وکفیٰ بہ حجۃ  
علمائے عرب کے نقل مواہیر  :
حضرت مولانا احمدسعید فقیہ محدث دہلوی نقش بندی  رحمۃ اللہ علیہ  مولوی محبوب علی جعفری کے جواب میں لکھے اپنے رسالہ کے اندر ’قیام، کے سلسلے میں علمائے عرب کے مفتیانِ مذاہب اربعہ کا فتویٰ نقل فرماتے ہیں،اس کے علاوہ ’’غایۃ المرام ‘‘ مطبوعہ کلاں کوٹھی میں بھی علمائے عرب کاوہ فتویٰ منقول ہے ،جسے طوالت سے بچتے ہوئے بطورِ تلخیص لکھتاہوں  :
 [۱]		قد اجتمعت الأمۃ المحمد یۃ من أہل السنۃ و الجماعۃ علی استحسان القیام و ہي بدعۃ مستحبۃ لما فیہ من إظہار الفرح و السرور و التعظیم۔
قالہ بفمہ و أمر برقمہ :
عثمان حسن الدمیاطي الشافعي
المقیم بالمسجد الحرام


[۲]		نعم استحسن کثیرون۔
کتبہ :
عبد اللہ بن محمد  المیرغني الحنفي
مفتي المکۃ المکرمۃ


[۳]		القیام عند ذکر ولادۃ  سید  الأولین   و الآخرین    صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم  استحسنہ کثیر من العلماء۔
کتبہ :
حسین بن إبراہیم 
مفتي المالکیۃ بمکۃ المحمیۃ


[۴]	نعم القیام عند ذکر ولادتہ  صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم  استحسنہ العلماء و ہو حسن۔
الفقیر لربہ :
محمد  بن أبي بکر الرئیس 
مفتي الشافعیۃ بمکۃ المکرمۃ


[۵]		نعم یجب القیام عند ذکر ولادتہ  صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم  لما استحسنہ العلماء الأعلام و قداۃ الدین و الإسلام۔
کتبہ الفقیر إلی اللہ تعالیٰ :
محمد  بن یحییٰ
مفتي الحنابلۃ في مکۃ المشرفۃ


[۶]		أما القیام إذا جاء ذکر ولادتہ عند قراء ۃ المولد الشریف توارثہ الأئمۃ الأعلام و أقرہ الأئمۃ الحکام من غیر نکیر منکر و رد راد  و اللہ ولي التوفیق والہادي إلی سواء الطریق 
حررہ خادم الشریعۃ و المنہاج :
عبد اللہ بن المرحوم عبد الرحمن سراج 
المفسر و المحدث بمسجد الحرام

واضح ہو کہ یہ عبد اللہ سراج بڑے اکمل رجال میں تھے۔اس عاجز نے مولانا احمد علی محدث سہارن پوری مرحوم سے بہت کچھ ان کی تعریف سنی ہے۔ اور حضرت مولانا احمد سعید نقش بندی  رحمۃ اللہ علیہ  اپنے رسالہ میں لکھتے ہیں  :
 مولانا عبد اللہ سراج حنفی مفسرومحدث حرم شریف یکتاے عہد خویش بود و راس رئیس فرقہ محدثہ بزانوے ادب در درس او شان می نشست و اعتراف بجامعیت مولاناموصوف می نمود۔
مولانا عبد اللہ سراج حنفی مفسرومحدث حرم شریف اپنے وقت کی بے نظیرشخصیت تھے۔ نوپید فرقے کے رئیس نے بھی نہ صرف ان کے درس میں زانوے تلمذ طے کیابلکہ ان کی جامعیت کا اعتراف بھی کیا ہے۔
الحاصل! ایسے نادرِروزگار علامہ کاقیام جائزرکھناکہ  جس کی جامعیت وکاملیت کا ہرموافق ومخالف کواقرار ہو  واقعی سند کامل ہے۔پھر دوسری خوبی یہ ہے کہ وہ اس قیام کا اپنے سے پہلے بڑے بڑے علما اور ائمہ اعلام سے متوارث وجاری ہونا،تحریرفرماتے ہیں  جیساکہ ابھی ان کی عبارت منقول ہوئی  
عرب کے سیدامام برزنجی رحمۃ اللہ علیہ   ’عقد الجوہرفی مولدالنبی الازہر،میں فرماتے ہیں  :
و قد استحسن القیام عند ذکر مولدہ الشریف أئمۃ ذوو روایۃ و درایۃ۔
یعنی ائمہ روایت ودرایت نے ولادت مبارکہ کے ذکر کے وقت قیام کو مستحسن کہاہے۔
افسوس ہے کہ اس وقت سے لے کر اب تک کتنی صدیاں گزرچکیں۔ اور مخبرصادق  صلی اللہ علیہ وسلم کاوعدہ سچاہے کہ ہرصدی میں بدعت کو اکھاڑنے اور سنت کوقائم کرنے کے لیے ایک مجدد پیداہوا کرے گا۔کیاسبب کہ بلادِمتبرکہ ہندوستان میں تو جب سے بہتیرے مجدد ہو گئے اور وہاں یعنی مکہ میں ایک بھی مجدد نہ ہوا جو اس بدعت اور ضلالت کا وہاں سے استیصال کرتا!۔ لہٰذا معلوم ہوا کہ یہ قیام ہرگزضلالت نہیں بلکہ بلاشک وشبہ جائز اور مستحسن ہے۔خیرالبلادمیں سیکڑوں برس سے علما اس کو مستحسن کہتے رہے، اور عبد اللہ سراج مفتی مکہ معظمہ نے لکھاکہ کسی نے اس پر رد اور انکاربھی  نہیں کیا ہے۔
مولوی قطب الدین صاحب کے کلام سے معلوم ہوتا ہے کہ جس مسئلہ پر مکہ اور مدینہ کے علما متفق ہوں وہ اس کے حق ہونے کی دلیل ہے۔ ’’مظاہر الحق‘‘ مطبوعہ میرٹھ  کے صفحہ ۸۷پر بدعتیوں کے بیان میں لکھتے ہیں  :
سنیوں کامذہب سچاہے،مکہ مدینہ کہ دین وہیں سے پیداہواوہاں کے لوگ بھی سنی ہیں اگر ان کامذہب یعنی بدعتیوں اور شیعوں کا اچھاہوتاتو وہ یعنی مکہ مدینہ والے پہلے اس مذہب میں ہوتے۔انتہیٰ۔
اس سے معلوم ہوا کہ اگرقیامِ میلاد شریف کا انکاراچھاہوتا تو اول علمائے عرب انکار کرتے کیوں کہ پختہ اہل سنت وجماعت وہی ہیں۔ 
اب ہم بطورِاختصارعلمائے عرب کا دوسرا فتویٰ نقل کرتے ہیں،جس کو  ۱۲۸۸ھ (1871ئ) میں مولوی عبد الرحیم صاحب دہلوی کرا کر لائے تھے اور ’’روضۃ النعیم‘‘کے آخر میں چھاپا تھا۔
سوال کی عبارت یوں ہے  :
سوال: ما قولکم  رحمکم اللہ  في أن ذکر مولد النبي  صلی اللہ علیہ وسلم  و القیام عند ذکر الولادۃ خاصۃ مع تعیین الیوم و تزیین المکان و استعمال الطیب و قراء ۃ سورۃ من القرآن و إطعام الطعام للمسلمین ہل یجوز و یثاب فاعلہ أم لا۔ بینوا توجروا۔ 
سوال:   کیافرماتے ہیں (مفتیان کرام) اس سلسلے میں کہ میلاد النبی  صلی اللہ علیہ وسلم  کا تذکرہ کرنا،ذکرولادت کے وقت بطورِ خاص قیام کرنا،دن کو معین کرنا،مکان کی آرایش کرنا، خوشبوؤں کا استعمال کرنا،قرآن کی کوئی سورہ پڑھنا اور مسلمانوں کو کھاناکھلانا کیایہ سب چیزیں جائز ہیں اور کیا اس کا کرنے والا ثواب بھی پائے گا یانہیں۔ 
بطورِتلخیص علمائے مکہ معظمہ کے جواب
اعلم ان عمل المولد کما جاء في حدیث ابن مسعود قال : ما رآہ المسلمون حسنا فہو عند اللہ حسن و المراد من المسلمین الذین کملوا الإسلام کالعلماء العاملین و علماء العرب و المصر و الشام و الروم و الأندلس کلہم رأوہ حسنا من زمان السلف إلی الآن فصار الإجماع و الأمر الذي ثبت بالإجماع فہو حق لیس بضلال قال رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم : لا یجتمع أمتي علی ضلالۃ، فعلیٰ حاکم الشرع تعزیر منکرہ  واللہ أعلم۔
جواب:  یعنی عمل میلاد کے سلسلے میں یہ سمجھناچاہیے کہ حضرت ابن مسعود کی حدیث میں آیا ہے کہ جسے مسلمان بہترسمجھیں وہ اللہ کے نزدیک بھی بہترہے۔ اور مسلمانوں سے کامل الاسلام مسلمان مرادہیں جیسے باعمل علمائے کرام۔ اور عرب ومصر،شام وروم اور اندلس کے علما، سلف صالحین کے زمانے سے لے کرآج تک میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کوبہترسمجھتے آئے ہیں توگویا کہ اس عمل مبارک پر اجماع ہو گیا اور جو چیزاجماع سے ثابت ہو جائے وہ حق ہوتی ہے،ضلالت نہیں ہوتی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ میری امت کبھی بھی کسی گمراہی پر اکٹھانہیں ہوسکتی۔لہٰذاحاکم شرع کو چاہیے کہ میلاد النبی  صلی اللہ علیہ وسلم  کے انکاریوں کو  سزا  دے۔واللہ اعلم۔

عبد الرحمن سراج (۱)
احمد
دحلان
حسن
عبد الرحمن جمال
حسن
طیب
محمد 
شرقی
مفتی حنفی
مفتی شافعی
 مفتی حنبلی
حنفی 
حنفی
مفتی مالکی
سلیمان
عینی
عبد القادر
خوکیر
ابراہیم
الفتن
محمد 
جار اللہ
احمد
الداغستانی
عبد القادر
شمس
عبد الرحمن
افندی
احمد 
ابوالخیر
عبد القادر
سخینی
محمد  سعید
عبد المطلب
احمد
کمال
محمد  سعید
الادیب
علی
جودہ
سید عبداللہ
کوشک
حسین 
عرب
ابراہیم 
نوموسی
احمد
امین
شیخ
فردوس
عبد الرحمن 
عجمی
عبد اللہ
مشاط
عبد اللہ
قماشی
محمد 
بابصیل
محمد 
سیوتی
علی 
رمیتی
محمد  صالح
زواری
محمد  حبیب اللہ
احمد 
النحراوی
عبد اللہ
زواری
سلیمان 
عقبہ
عمر
سید شطی
عبدالحمید
الداغستانی
مصطفیٰ
عفیفی
منصور
منشاوی
محمد  راضی
بطورِتلخیص علمائے مدینہ منورہ کے جواب
اعلم ان ما یصنع من الولائم في المولد الشریف و قراء تہ بحضرۃ المسلمین و إنفاق المیراث و القیام عند ذکر ولادۃ الرسول الأمین و رش ماء الورد و إیقاد البخور و تزیین المکان و قراء ۃ شییء من القرآن و الصلوٰۃ علی النبي  صلی اللہ علیہ وسلم  و إظہار الفرح و السرور فلا شبہۃ في أنہ بدعۃ حسنۃ مستحبۃ و فضیلۃ شریفۃ مستحسنۃ فلا ینکرہا إلا مبتدع لا استماع لقولہ بل علی حاکم الإسلام أن یعزرہ   واللہ أعلم و صلی اللہ علی سیدنا محمد  و آلہ و صحبہ و سلم  ۔

(۱)	عبد الرحمن سراج ،مفتی عبد اللہ سراج کے بیٹے ہیں جن کی علمیت کا بڑاشہرہ تھا۔۱۲منہ
جواب :  یعنی سوالِ مذکورہ کے جواب میں علمائے مدینہ منورہ فرماتے ہیں : معلوم ہوناچاہیے کہ میلاد النبی  صلی اللہ علیہ وسلم منانا،اہل اسلام کے مجمع میں اسے پڑھنا، پاک چیزوں کاخرچ کرنا،ذکرولادت نبوی کے وقت قیام کرنا،گلاب جل چھڑکنا،لوبان وغیرہ جلانا،مکان کی آرایش کرنا، قرآن کے کسی حصہ کی تلاوت کرنا،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر درودبھیجنا اور مسرت وخوشی کا مظاہرہ کرنابلا شبہ بدعت حسنہ ومستحبہ ہے اور فضل وشرف کا کام ہے۔ ان کا انکار کوئی بدعتی ہی کرسکتا ہے جس کی بات نہ تو سنی جائے بلکہ حاکم اسلام کایہ فرض بنتا ہے کہ اس پر سزامسلط کرے۔ واللہ اعلم۔

محمد 
امین
جعفر حسینی
البرزنجی
عبد الجبار
جمال الدین
سید
ابراہیم بن
خیار
یوسف
سید
السید
محمد  علی
السید عبد اللہ
بن سید احمد
محمد  بن احمد
رفاعی 
عمر ابن علی
علی 
حریری
مصطفیٰ
سید
احمد 
سراج
حسن 
ادیب
ابو البرکات
عبد القادرمشاط
سیدسالم
احمد
الحبشی
محمد نور
سلیمانی
عبد الرحیم
البرعی
محمد  عثمان
کر دی
قاسم
عبد العزیز
ہاشمی
یوسف 
رومی
محسن
مبارک
ابن سعید
حامد
محمد  ہاشم
ابن حسن
عبد اللہ
ابن علی
عبد الرحمن
صفوی

بطورِتلخیص علمائے جدہ کے جواب
اعلم ان ذکر مولد النبي  صلی اللہ علیہ وسلم  بہذہ الصورۃ المجموعیۃ المذکورۃ بدعۃ حسنۃ مستحبۃ شرعا لا ینکرہا إلا من في قلبہ شعبۃ من شعب النفاق و کیف یسوغ لہ ذلک مع قولہ تعالیٰ : وَ مَنْ یُّعَظِّمْ شَعَائِرَ اللّٰہِ فَإنَّہَا مِنْ تَقْوَی الْقُلُوبِ  واللّٰہ أعلم 
یعنی سوال میں جوصورتیں بیان کی گئی ہیں ان مجموعی صورتوں کے مطابق ذکرمیلاد النبی  صلی اللہ علیہ وسلم کرناشرعاًبدعت حسنہ مستحبہ ہے۔اس کا انکار وہی کرسکتا ہے کہ جس کے دل میں نفاق کاکوئی حصہ ہو گا، اور پھر ایسا ممکن کیسے ہوسکتا ہے جب کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : اور جو اللہ کی نشانیوں کی تعظیم کرے تویہ دلوں کی پرہیزگاری سے ہے۔

علی بن احمد 
باصبرین
عباس ابن
جعفربن صدیق
احمد
فتاح
محمد 
سلیمان
احمد
حبلس
محمد صالح

احمد
عثمان
احمد
بن عجلان
محمد 
صدقہ
عبد الرحیم
بن محمد زبیدی


علمائے حدیدہ کے جواب 
قراء ۃ المولد الشریف مع الأشیاء المذکورۃ جائز بل مستحبۃ یثاب فاعلہا فقد ألف في ذلک العلماء و حثوا علی فعلہ و قالوا لا ینکرہا إلا مبتدع فعلی حاکم الشریعۃ أن یعزرہ۔
یعنی سوال میں مذکورہ چیزوں کے ساتھ میلاد شریف پڑھنانہ صرف جائز بلکہ مستحب بھی ہے جس کا کرنے والاثواب پائے گا۔علمائے کرام نے اس سلسلہ میں کتابیں تصنیف فرمائی ہیں اور اس عمل خیر پرابھاراہے۔نیز یہ بھی فرمایا ہے کہ اس کا انکاری کوئی بدعتی ہی ہوسکتا ہے تو ایک حاکم اسلام کافرض ہے کہ اس کی ٹھیک سے خبر لے۔

الفقیرالی اللہ
یحییٰ ابن مکرم
علی 
شامی
علی بن
عبد اللہ
محمد  بن
سالم عایش
محمد بن ابراہیم
حشیری
علی 
طحان
محمد بن عبد اللہ
محمد بن داؤد
بن عبد الرحمن
علی بن
ابراہیم الزبیدی
علی بن محمد 
حباب
احمد ابن محمد 
ابن الخلیل
عبد الرحمن بن
علی حضرمی

 اِن تازہ دنوں میں علمائے عرب کی تحریریں ،راقم السطور کے پاس آئی ہیں۔مفتیانِ مذاہب اربعہ کی عبارتیں بطورِ تلخیص نقل کرتاہوں۔
سوال: ما قولکم  دام فضلکم، رحمکم اللہ تعالیٰ   في عمل المولد النبوي و القیام فیہ ہل ہما جائزان أم لا،  بینوا توجروا 
سوال:  میلاد النبی  صلی اللہ علیہ وسلم اور اس میں قیام جائزہے یانہیں ؟۔
جواب: الحمد لمن ہو بہ حقیق و منہ استمد العون و التوفیق، نعم ہما جائزان و علیہ عمل المسلمین في عامۃ بلاد الإسلام و الاستدلال علی الجواز مبسوط في کتب الأئمۃ الأعلام و لا عبرۃ بمنع المانعین من الجہلۃ اللیام،  و اللہ أعلم 
أمر برقمہ :
خادم الشریعۃ راجي اللطف الخفي
محمد  صالح بن المرحوم صدیق الکمال الحنفي
مفتي المکۃ المکرمۃ حالا  کان اللّٰہ لہما 
  محمد  صالح
جواب:  یعنی مسلمانوں کا تمام اسلامی شہروں میں اس پر عمل ہے، اور اس سلسلے کے دلائل تفصیلی طورپراجلہ علماکی کتابوں میں بکھرے ہوئے ہیں۔ جو جاہل بدبخت اسے منع کریں ان کا کوئی اعتبارنہیں۔ (مفتی حنفی مکہ)


[۲]	عمل المولد استحسنہ جمہور السلف و الخلف و قال العلامۃ الشہاب الخفاجي محشي البیضاوي في رسالتہ في عمل المولد : أنہ بدعۃ حسنۃ۔
أمر برقمہ :
خادم الشریعۃ و المنہاج
عبد الرحمٰن بن عبد اللہ سراج الحنفي
  عبد الرحمن سراج
جواب:  یعنی جماہیر سلف وخلف نے اس عمل کو اچھاسمجھاہے اور تفسیر بیضاوی کے حاشیہ نگار علامہ شہاب الدین خفاجی نے اپنے میلادنامہ میں اسے بدعت حسنہ قراردیا ہے۔ (مفتی حنفی)


[۳]          ما حررہ مفتي الأحناف ہو عین الصواب  واللہ سبحانہ أعلم 
خادم الشریعۃ ببلدۃ اللہ المحمیۃ
أبو بکر حجي بسیوني
مفتي المالکیۃ
  ابوبکر حجی بسیونی
جواب:  یعنی حنفی مفتیوں نے اس سلسلہ میں جوکچھ تحریری حکم فرمایا ہے وہ بالکل ہی درست ہے۔ (مفتی مالکی)


[۴]	ما أجاب بہ مولانا ہو المذہب الذي لا ینکرہ أحد۔
کتبہ راجي العفو من واہب العطیۃ
محمد  بن المرحوم الشیخ حسین
مفتي المالکیۃ ببلدۃ اللہ المحمیۃ
  محمد  بن الشیخ حسین
جواب: یعنی مولانانے جوجواب تحریرفرمایا ہے وہی عین مذہب ہے اور اس سلسلہ میں کسی کوکوئی انکار نہیں ہے۔ (مفتی مالکی)


[۵]	اللہم ہدایۃ للصواب في کتاب قصۃ المولد للعلامۃ الشہاب ابن الحجر ان عمل المولد بدعۃ لکنہا حسنۃ لما اشتملت علیہ من الإحسان و  قراء ۃ القرآن و إکثار الذکر و إظہار السرور و الفرح بہ  صلی اللہ علیہ وسلم  و المحبۃ لہ و إغاظتہ أہل الزیغ و العناد من الزنادقۃ و الملحدین و الکفرۃ  و المشرکین  و  لم یزل أہل الأقطار في سائر المدن و الأمصار یحتفلون بعمل المولد في شہرہ  الخ  و أما القیام في المولد فقیل أنہ مندوب شرعا و قیل أنہ بدعۃ حسنۃ۔
أمر برقمہ المرتجی من ربہ کمال النیل
محمد  سعید بن محمد  بابصیل 
مفتي الشافعیۃ بمکۃ المحمیۃ
  محمد  سعید بابصیل
جواب: یعنی یہ ایک اچھاعمل ہے کیوں کہ یہ احسان اور قراء ت قرآن پرمشتمل ہے نیزاس میں ذکرپرابھارنا، خوشیان منانا اور نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم  سے فرحت ومحبت کا اظہار کرنا ساتھ ہی کفار وملحدین کو جلانابھی پایاجاتا ہے اور وہ دیکھ کر رشک کرتے ہیں۔اہل اسلام نے ہر دور اور ہرشہر میں میلاد النبی  صلی اللہ علیہ وسلم کی محفلیں سجائی ہیں۔ رہی بات قیام کی تو بعض نے اسے شرعا مستحب اور بعض نے بدعت حسنہ قراردیا ہے۔  (مفتی شافعی)


[۶]	نعم عمل المولد جائز لإجماع المسلمین علیہ و القیام عند ذکر مولدہ  صلی اللہ علیہ وسلم  فہو أدب حسن و لا یخالف مشروعا و یوخذ من فعل الإمام أحمد الجواز و ذلک أنہ ذکر عندہ إبراہیم بن طہمان و کان متکئا فاستوی جالساً و قال لا ینبغي أن یذکر الصالحون فنتکي قال ابن عقیل فأخذت من ہذا حسن الأدب فیما یفعلہ الناس عند ذکر إمام العصر من النہوض لسماع توفیعاتہ قال في الفروع و معلوم ان مسئلتنا أولیٰ فمن ترکہ مع قیام الناس علی اختلاف طبقاتہم فقد سلک مسلک الجفا و ربما یحصل علیہ من الذم و التوبیخ ما لا خیر فیہ  استخفاف بالجناب الأعظم  صلی اللہ علیہ وسلم  و ذکر ابن الجوزي أن ترک القیام کان في الأول ثم صار ترک القیام کالہوان بالشخص فاستحب لمن یصلح لہ القیام   واللہ سبحانہ أعلم 
أمر برقمہ الحقیر :
خلف بن إبراہیم 
خادم افتاء الحنابلۃ بمکۃ المشرفۃ حالا
  راجی عفو الرحیم
  خلف بن ابراہیم
جواب:  یعنی محفل میلاد النبی  صلی اللہ علیہ وسلم اور اس میں قیام کرنامسلمانوں کے اجماع سے جائز ہے۔ادب کی بات بھی یہی ہے اور یہ کوئی شرع کے مخالف بھی نہیں۔ اور امام احمد بن حنبل  علیہ الرحمہ کے اس فعل سے بھی اس کے جوازکاپتاچلتا ہے کہ آپ تکیہ پرٹیک لگا کر بیٹھے ہوئے تھے،کسی نے آپ کے سامنے ابراہیم بن طہمان کا تذکرہ چھیڑدیاتوآپ سیدھے ہو کر بیٹھ گئے اور فرمایاکہ ٹیک لگا کرصالحین کا ذکرسننا ادب کے خلاف ہے۔ابن عقیل کہتے ہیں کہ جو لوگ اس زمانے میں امام عصر کے تذکرے کے وقت ان کے فرمان کو سننے کے لیے (تعظیماً)کھڑے ہوتے ہیں تواس سلسلہ میں مذکورہ واقعہ سے مجھے حسن ادب کی تعلیم مل گئی۔ انھوں نے ’فروع ،میں کہا کہ یہ بھی ایک یقینی بات ہے کہ یہ مسئلہ دائرہ اس کا اس سے کہیں زیادہ حق دار ہے۔ پس مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے قیام کرنے کے باوجود جو قیام نہ کرے توسمجھ لووہ پوراگوار اور اُجڈہے۔ اور بسا اوقات اس سے اس حرکت پر وہ مذمت و توبیخ نصیب ہو گی جس میں کچھ بھی بھلائی نہیں ،کیوں کہ اس میں بارگاہِ رسالت  علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام کی توہین ہے۔ ابن جوزی نے کہا کہ پہلے زمانے میں قیام کا کوئی رواج نہ تھا۔ پھر ترک قیام آدمی کی تذلیل وتحقیر کے درجے میں ہو گیا۔تو اب مستحق قیام کے لیے قیام مستحب ہے۔ 
 
[۷]	قد أجمع علیہ العلماء الأعلام من المذاہب الأربعۃ فلا یجوز خرق الإجماع و من انفرد بردہ فکلامہ باطل مردود علیہ  و اللہ سبحانہ تعالیٰ أعلم 
أمر برقمہ الراجي من اللہ التوفیق
عبدہ عباس بن  جعفر بن صدیق
المدرس والخطیب للحرم المکي الشریف
عباس بن 
جعفر
جواب:  چوں کہ اس عمل پرمذاہب اربعہ کے اجلہ ائمہ کا اجماع منعقد ہوچکاہے لہٰذا اب یہ اجماع توڑناجائز نہیں۔ اور جوکوئی اس سے انکار کرکے اپنی انفرادیت قائم کرناچاہے تو اس کاکلام باطل ہو گا اور اس کے منہ پر مار دیا جائے گا۔

[۸]	نظرت في ہذہ الأسئلۃ و ما أجاب بہ مفاتي الإسلام و علماء الأنام  فوجدتہا في غایۃ الصواب لا یخالفہا إلا من طمس اللہ بصرہ و بصیرتہ۔
کتبہ راجي رضاء الخبیر :
عبد القادر بن محمد  خوکبیر
المدرس و الإمام بالمسجد الحرام
عبدالقادر 
بن محمد  علی
جواب:  میں نے ان سوالات اور اس سلسلے میں تحریرشدہ مفتیانِ دین متین کے جوابات ملاحظہ کیے اور انھیں عین درست پایاجس سے انکارکی صرف وہی سوچ سکتا ہے جس کی بصیرت وبصارت دونوں جواب دے گئی ہوں۔ 


[۹]	ما أجاب بہ مفاتي الإسلام ببلد الحرام ہو الحق الذي یعول علیہ و یجب المرجع و المصیر إلیہ۔
کتبہ العبد الراجي رحمۃ ربہ المنان :
محمد  رحمت اللہ بن خلیل الرحمٰن  عفا اللہ عنہما 
  محمد  رحمۃ اللہ 
یہ حضرت استاذنا ومولانا محمد  رحمت اللہ مہاجر مکی ہیں جن کا ذکرجوازِ ’’یارسول اللہ‘‘ کے فتویٰ میں اوپرگزرچکاہے۔
جواب: یعنی اللہ کے مقدس حرم کے مفتیانِ اسلام نے اس سلسلہ میں جوفتوے صادر فرمائے ہیں یقیناوہ حق ودرست ہیں۔ 

 
[۱۰]	ما کتب في ہذا القرطاس صحیح لا ریب فیہ   و اللہ سبحانہ أعلم 
حررہ :
محمد  عبد الحق  عفي عنہ 
  محمد  عبد الحق
یہ صاحب ،ہندوستان سے ہجرت کرکے اب عرب میں مقیم ہیں۔عالم،عادل،صوفی اور قلب سلیم کے مالک ہیں۔اللہ تعالیٰ ان کے علم میں برکت دے۔
جواب: یعنی اس کاغذپر(مفتیانِ کرام کے جوفتاوے ) تحریرہیں وہ بلاشبہ حق ودرست ہیں۔
واضح ہو کہ حرمین شریفین زادہما اللہ شرفا کے قدیم وجدیدیہ فتاوے ہم نے اس لیے نقل کیے ہیں کہ بعض علمائے سنت نے اجماع حرمین کوحجت ماناہے حتیٰ کہ امام بخاری نے یہ قرار دیا ہے کہ جس پرحرمین طیبین مکہ ومدینہ کا اجماع ہو جائے وہ حجت ہے  : 
ما اجمع علیہ الحرمان مکۃ و المدینۃ۔ (۱)
شارح بخاری لکھتے ہیں  :
و عبارۃ البخاري مشعرۃ بأن اتفاق أہل الحرمین کلیہما إجماع۔ (۲)
یعنی امام بخاری کی یہ عبارت بتارہی ہے کہ اہل حرمین کا اتفاق اجماع ہے۔
جن لوگوں نے وہاں کے اجماع کودلیل قطعی کے درجہ میں نہیں رکھا ہے تواتناضرور کیا ہے کہ ترجیح مذہب مخالف کے لیے اس کو معتمدعلیہ اور مفتیٰ بہ ٹھہرایا ہے۔ مثلاً سورۂ فاتحہ میں  مالک یوم الدین اور مَلِک یوم الدین دو قراء تیں ہیں اور ہرچنددونوں کے صحیح ہونے کے باوجود علامہ بیضاوی نے  مَلِک یوم الدین کی قراء ت کو ترجیح دی ہے اور یہ لکھا ہے  :
و ہو المختار لأنہ قراء ۃ أہل الحرمین۔ (۳)
  ہدایہ میں ہے  :
و المستحب في الجلوس بین الترویحتین مقدارُ الترویحۃ، و کذا بین الخامسۃ وبین  الوتر لعادۃ أہل الحرمین۔ (۴)
یعنی ترویحتین کے درمیان ترویحہ کی مقدار بیٹھنامستحب ہے،یوں ہی خامسہ اور وتر کے درمیان بھی۔ اہل حرمین کی عادت چوں کہ ایسی ہی ہے۔ 
فتاویٰ قاضی خان کی  کتاب الحظرو الاباحۃ  میں ہے  :

(۱)	صحیح بخاری: ۲۲؍۳۰۱ باب ذکر النبی صلی اللہ علیہ وسلم 
(۲)	فتح الباری لابن حجر: ۲۰؍ ۳۸۰ ماذکر النبی صلی اللہ علیہ وسلم 
(۳)	تفسیر البیضاوی: ۱؍ ۶۔
(۴)	العنایۃ شرح الہدایۃ:۲؍ ۲۳۷ فصل فی قیام شہر رمضان 
لا بأس بأن ینقش المسجد بماء الذہب و الفضۃ من مالہ فإن الکعبۃ مزخرفۃ بماء الذہب و الفضۃ مستورۃ بألوان الدیباج و الحریر۔
یعنی اپنے مال سے مسجد کے درودیوار کی آرایش وزیبایش آب ہاے سیم وزر سے کرنے میں کوئی حرج نہیں کیوں کہ کعبہ بھی چاندی وسونے کے پانی سے آراستہ اور ریشم ودیبا کے رنگوں سے ڈھانپا گیا ہے۔
 اور جمعہ کے روز پہلے پہرقبروں کی زیارت کوجوبعض لوگ منع کرتے ہیں تو فقہافعل حرمین کی وجہ سے اس کا رد کرتے ہیں۔چنانچہ عبد الحق محدث دہلوی بھی اس کی طرف اشارہ فرماتے ہیں  :
و روز جمعہ فاضل ترست از روز دیگر خصوصا در اول روز جمعہ وہمیں ست درحرمین شریفین و آں چہ مشہورشدہ است از منع زیارت روز جمعہ اصلی صحیح ندارد۔انتہیٰ۔
یعنی جمعہ کے دن خصوصا اس کے پہلے پہرکی دوسرے دنوں کی بہ نسبت زیادہ فضیلت ہے۔ اور حرمین شریفین میں یوں ہی رائج ہے۔ اور وہ جومشہو رہے کہ جمعہ کے دن زیارت قبور جائز نہیں تو اس کی کوئی اصل نہیں۔  
یہ چندنظیریں بطورِتلخیص لکھ دی گئی ہیں اس کے علاوہ اور بھی نظائرموجودہیں جن سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ مفتیان دین نے علمائے حرمین کے رواج دیے ہوئے اعمال پر اعتمادکیا ہے لیکن واے برحال مخالفین کہ وہ اس طرح بے توقیری سے حرمین کا نام لیتے ہیں کہ اہل ایمان کے دل کانپ جاتے ہیں۔
لطیفہ  :
 ایک مقام پر دوعالموں میں گفتگو ہوئی، ایک میلادشریف کے قائل تھے اور دوسرے منکر۔
 انکاری نے کہا کہ قصبۂدیوبنداستفتابھیجو پھردیکھووہ مولود کو کیالکھتے ہیں۔
اقراری نے کہا کہ دیوبند کوئی دار الاسلام تو ہے نہیں،یوں کہیے کہ آئیں حرمین شریفین  زادہما اللہ شرفاوتعظیماً کواستفتا بھیجیں۔
یعنی اس لیے کہ وہ دین وایمان کا گھرہے۔حدیث پاک میں ہے  :
 دین مکہ مدینہ میں ایسے سمٹ آئے گاجیسے سانپ اپنے بل میں سمٹ آتا ہے۔(۱)
یعنی جیسے سانپ اپنے بل سے نکل کرہرطرف گھوم پھر کرپھر اپنی بل ہی میں قرار پاتا ہے اور سانپ بل میں گھس کرایسی قوت سے چمٹ جاتا ہے کہ اس کا نکالنا مشکل ہو جاتا ہے،اسی طرح پہلے پہل دین ،مکہ مدینہ سے نکلا پھر آخرزمانہ میں بھی اگر دین کہیں نہ ہوتویہاں ضرور ہو گا اور یہاں سے دین کو نکالابھی نہ جا سکے گا۔
مشکوٰۃ کے  باب ذکرالیمن و الشام  میں ہے  :
الإیْمَانُ فِي أہْلِ الْحِجَازِ  رواہ مسلم (۲)
یعنی ایمان حجازوالوں میں ہے۔
ملک حجاز ،مکہ ومدینہ کوشامل ہے۔
غرض کہ فتویٰ اگر لکھواؤتو اس ملک کے علما سے لکھواؤ جس کی شہادت اور تعریف احادیث میں آئی ہے،دیوبند کی شہادت کون سی حدیث میں آئی ہے!۔
انکاری صاحب بولے مکہ میں تو چور آدمی ہیں رستہ لوٹتے ہیں۔
اقراری نے جواب دیا: رہزنی اور مال لوٹنایہ سب اطراف کے رہنے والے بدولوگ  کرتے ہیں خاص مکہ کے آدمی نہیں کرتے اور یہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہی کے وقت سے ہے۔

(۱)	 صحیح بخاری: ۶؍۴۳۱حدیث: ۱۷۴۳۔۔ صحیح مسلم: ۱؍۳۵۲حدیث: ۲۱۰۔۔ سنن ترمذی: ۹؍ ۲۱۹حدیث: ۲۵۵۴۔۔ سنن ابن ماجہ: ۹؍ ۲۵۷حدیث: ۳۱۰۲۔۔ مشکوٰۃ المصابیح :۱؍۳۵ حدیث:۱۶۰۔۔مسنداحمد: ۱۶؍۵۱حدیث: ۷۵۱۰ ۔۔ دلائل النبوۃ بیہقی: ۲؍ ۳۸۹حدیث: ۷۷۵۔۔مستخرج ابوعوانہ : ۱؍۲۴۶حدیث: ۲۲۰۔۔ صحیح ابن حبان: ۱۵؍۴۵۵حدیث: ۳۷۹۷۔۔ معرفۃ الصحابۃ: ۱۴؍۲۳۷حدیث: ۴۵۰۳۔۔ موارد الظمآن: ۱؍۲۵۵۔۔ امثال الحدیث: ۱؍۴۰۹حدیث: ۲۵۶۔۔ الایمان ابن مندہ:۲؍۶حدیث:۴۲۴۔۔ فضائل المدینۃ جندی: ۱؍۱۸ حدیث: ۲۰۔۔مسند سعدبن ابی وقاص: ۱؍۸۸حدیث: ۷۸۔۔ معجم الصحابۃ ابن قانع: ۴؍۲۹۱حدیث:۱۰۷۹۔۔ مجمع الزوائدو منبع الفوائد:۲؍۲۳۔۔ کنز العمال: ۱؍۲۳۸ حدیث: ۱۱۹۰۔۔ مسند الجامع: ۴۵؍۱۱۸ حدیث: ۱۴۸۸۰۔۔ تحفۃالاشراف:۱۰؍۱۸ حدیث: ۱۰۷۷۸۔
	متن حدیث یوں ہے:  إن الإیمان لیأرزُ إلی المدینۃِ کمَا تأرزُ الحیَّۃُ إلی جُحْرِہَا۔
	 بہتیری کتب میں یہ حدیث یوں بھی ملتی ہے: إن الدین لیأرزُ إلی الحجاز کمَا تأرزُ الحیَّۃُ إلی جُحْرِہَا۔
(۲)	صحیح مسلم:۱؍۱۷۸حدیث: ۸۰۔۔مشکوٰۃ المصابیح: ۳؍۳۶۷حدیث: ۶۲۶۱۔۔مسند احمد: ۲۹؍۱۱۷حدیث: ۱۴۰۶۸ ۔۔ مستخرج ابوعوانہ: ۱؍ ۱۴۷حدیث: ۱۳۳۔۔ مسندابویعلی موصلی:۴؍ ۴۵۷حدیث: ۱۸۴۹۔۔الایمان لابن مندہ: ۲؍ ۳۳ حدیث: ۴۵۰۔۔ فضائل الصحابہ احمد بن حنبل: ۴؍۹۲حدیث: ۱۵۵۹۔۔ تحفۃ الاشراف: ۴؍ ۸۳حدیث: ۲۸۳۹۔  
قرآن شریف میں ہے  :
أوَ لَمْ یَرَوْا أنَّا جَعَلْنَا حَرَماً آمِناً وَّ یُتَخَطَّفُ النَّاسُ مِنْ حَوْلِہِمْ۔ (۱)
 اور کیا انھوں نے یہ نہ دیکھا کہ ہم نے حرمت والی زمین پناہ بنائی اور ان کے آس پاس والے لوگ اُچک لیے جاتے ہیں۔
تویہ مار پیٹ اور اُچک لینے کی باتیں زمانہ قدیم ہی سے وہاں بدوخارجی کر رہے ہیں اور اب بھی کرتے ہیں لیکن کفر وشرک سے پاک ہیں۔وہاں کے بدوے گنوار آدمی بھی گناہِ صغیرہ یاکبیرہ کریں توکریں ورنہ کفر اور شرک تو اس ارض مقدس کے آس پاس کہیں نہیں ہوتا، اور دیوبند میں تو کفروشرک بھراہواہے۔ جا بجاسیتلاپوجی جاتی ہے،مندر اور شوالے بنے ہوئے ہیں سنکھ بج رہے ہیں،پھر دیوبند اچھا ہوا یاحرمین شریفین۔
انکاری صاحب کی طرف سے جواب ہوا کہ ہم دیوبندکے عامی جاہل مسلمان اور قوم ہندو کے مشرکوں سے سندنہیں پکڑتے،ہم تو وہاں کے علمائے اہل اسلام کی سندپکڑتے ہیں۔
اقراری نے کہا بس ! ہمارا بھی یہی جواب ہے کہ ہم حرمین شریفین کے علمائے دین اور مفتیان شرع متین کی سندپکڑتے ہیں اور وہ سب بالاتفاق محفل میلاد شریف کو درست فرماتے ہیں پھر تم ناحق بدوؤں اور جنگلی لٹیروں کاکیوں ذکرکرتے ہو؟ پہلے بھی حرمین کے خواص علماکاحکم اور فتویٰ لیا جاتا تھا اور علی ہذا القیاس اب بھی۔ لہٰذاعلمائے خیر البلادکی سند منگاؤلیکن انکاری کو خوب معلوم تھا کہ اگر وہاں استفتابھیجاتووہاں کے سبھی علما محفل میلاد کے استحباب کا حکم لکھ دیں گے،اس لیے اس نے انکارکر دیا کہ ہم حرمین کونہیں مانتے معاذ اللہ ہم تودیوبند کومانتے ہیں۔
اقراری نے جواب دیا:آپ کودیوبندمبارک ہو اس پر ایمان رکھیے۔ہم کو حرمین شریفین مبارک ہوں اور ہمارا ایمان ان لوگوں کے ساتھ ہے۔گفتگو اسی پرختم ہو گئی۔ 
اب دیکھیں کہ ان لوگوں کی یہ حالت ہو گئی کہ دیوبندکے آگے حرمین شریفین کو حقیرجاننے لگے، اہل حرم کی حقارت ،تحقیرحرم کی نوبت کوپہنچاتی ہے۔قضیہ مشہو رہے:  شرف المکان بالمکین۔(یعنی مکان کی زینت رہنے والے سے ہوتی ہے)
ہاے وہ حرم پاک کہ ہم پانچوں وقت نمازوں میں اپنا منہ اس کی طرف کریں  :

(۱)	سورۂ عنکبوت،۲۹؍۶۷۔
فَوَلِّ وَجْہَکَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ۔ (۱)
ابھی اپنامنہ پھیردو مسجدحرام کی طرف۔
سوتے وقت بھی قبلہ کی طرف منہ کرکے سوناہے۔ اور مرنے کے بعدقبرمیں دفناتے وقت بھی یہی حکم دیا ہے  :
یوجہ إلی القبلۃ۔
یعنی اس کا رخ قبلہ کی طرف کیاجائے۔
 اور وہاں کے باشندے تو وہ ہیں جن کی بابت صحیفہ آدم علیہ السلام میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ میں مکہ کا خداوند ہوں،وہاں کے رہنے والے میرے ہم سایہ ہیں۔
حدیث شریف میں آیا ہے  :
جو کوئی اللہ اور قیامت پرایمان رکھتا ہے وہ بیت اللہ کے ہمسایہ کی تعظیم کرے۔ 
نیزیہ بھی روایت ہے کہ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے عتاب بن اسیدکو مکہ پرامیر کیا تو یہ فرمایا:توجانتا ہے تجھ کو کس پرمقرر کیا ہے ؟ تو اہل اللہ پرمقرر کیا گیا ہے۔وہ اہل اللہ کون ہیں ؟ یہی مکہ معظمہ کے رہنے والے۔توان کے ساتھ نیکی کابرتاؤکرنا۔
کلام اللہ میں والیان کعبہ کی نسبت ارشادہے  :
إنْ أوْلِیَائُ ہُ إلاَّ الْمُتَّقُونَ۔ (۲)
اس کے اولیاتوپرہیزگارہی ہیں۔
تو کعبہ کے مسلمان اولیاکواللہ تعالیٰ ،پرہیزگاروں سے تعبیرفرماتا ہے۔
افسوس !یہ لوگ اس حرم پاک اور اس کے رہنے والوں کو جواہل اللہ،ہمسایہ خدا اور پرہیزگار ہیں   کن کن حقیرلفظوں سے یاد کرتے ہیں  العظمۃ للہ  حق سبحانہ تعالیٰ ہدایت فرمائے۔
یہ لوگ اپنے بزرگوں کاکلام بھی بھول گئے۔’’تحفۃ العرب والعجم‘‘میں مولوی قطب الدین خاں صاحب لکھتے ہیں  :
عرب کے علماپرجوبعضے احمق لوگ طعن کرتے ہیں،بڑی خطاپرہیں اس لیے کہ وہ ’خیرالبقاع، کے رہنے والے ہیں  انتہیٰ 

(۱)	سورۂ بقرہ،۲؍۱۴۴۔
(۲)	سورۂ انفال،۸؍۳۴۔
شاہ ولی اللہ صاحب’’فیوض الحرمین‘‘میں لکھتے ہیں  :
خبردارخبردار! اہل مدینہ سے دل میں ہرگز کدورت نہ رکھنا ورنہ فیضان انوارِ محمدی  صلی اللہ علیہ وسلم  سے محروم رہو گے ہذاکلامہٗ ملخصاً 
آمدم برسرمطلب ،ہاں ! اے محمد  یو! دیندارانِ حرمین کا اقتدار اور مفتیانِ حرم کا شرف واعتبار دل میں جما کر ذرا دیکھوتوسہی کہ وہ کن دل رُبا الفاظ ومعانی سے مدعا ثابت فرمارہے ہیں، اور یہ نہیں لکھتے کہ صرف اہل حرم ہی اس عمل محترم کوجائزسمجھتے ہیں بلکہ اپنے ساتھ ساتھ یہ ثبوت بھی فراہم کر رہے ہیں کہ عرب وعجم،مصروشام اور اندلس کے علمابھی اس کو مستحسن فرماتے ہیں۔میلاد کو جائز سمجھنے والوں کے اسماے گرامی شمار کرتے وقت ہم بتاچکے ہیں کہ سعیدبن مسعود گازرونی، ملاعلی قاری اور الدین ابوسعید بورانی نے تمام ملکوں کے علمائے کرام سے محفل میلاد کے مستحسن ہونے کا ثبوت بہم پہنچایا ہے،لہٰذایہ سمجھناچاہیے کہ ہم نے یہ دعویٰ نہیں کیاکہ صرف اہل حرمین ہی اس عمل کاحکم کرنے والے اور اس کے جواز کا قول کرنے والے ہیں بلکہ حرمین کے فتاوے تو ادباً اور تعظیماً سب سے پہلے نقل کر دیے ہیں۔اب لیجیے حرمین کے علاوہ اور چندمقامات کے فتاوے بھی ملاحظہ کیجیے۔
فتاواے بغداد شریف
بغدادشریف دووجہوں سے نہایت بابرکت ہے ایک تویہ کہ وہاں حضرت امام اعظم کا مزار مبارک ہے۔ دوسرے یہ کہ اس میں حضرت غوث اعظم کا روضہ اقدس ہے۔علاوہ ازیں وہاں مقبولین خداکی تعداد حدوشمارسے باہرہے۔یہی وجہ ہے کہ وہ شہر علماوصالحین کی آماجگاہ ہے اور وہاں کے فضلاومحدثین اپنا ایک مقام رکھتے ہیں۔دیکھیے کہ وہاں کے مفتیان عالی جاہ اور محققین ژرف نگاہ کیافرماتے ہیں چوں کہ لفظ بہ لفظ عبارت نقل کرناطوالت کاباعث ہے اس لیے ان کے خاص خاص چیدہ جملے مختصراًنقل کرتاہوں۔
[۱]		مولانا سیدمحمد  سعید آفندی دوری  ادام اللہ برکاتہ 
یہ حضرت غوث الثقلین کے دربار معلی میں خطیب ہیں،بروزِجمعہ وہاں خطبہ دیا کرتے ہیں ، انھوں نے اثبات مولدوقیام میں چارورق کا رسالہ لکھا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے  :
حمدا لمن من علینا بإظہار أنوار سیدنا محمد   صلی اللہ علیہ وسلم ۔ أما بعد ! فقراء ۃ المولد الشریف لہ أصل أخرجہ حجۃ الإسلام الشیخ أبو الفضل ابن حجر العسقلاني   إلی آخرہ  و قد ذکر ابن تیمیۃ في کتاب ’’اقتضاء الصراط المستقیم‘‘ ان ثواب قراء ۃ المولد المبارک غیر یسیر لما في ذلک من حجۃ الرسول  صلی اللہ علیہ وسلم  و قد بسط الکلام فیہ و في سائر البدع المقبولۃ و غیرہا، و قال السیوطي : ظہر لي تخریجہ علي أصل آخر  إلی آخرہ  و رأیت الإمام ابن الجزري قال في عرف التعریف فما حال المسلم الموحد من أمۃ النبي  صلی اللہ علیہ وسلم  یبذل ما تصل إلیہ قدرۃ في محبتہ  صلی نور اللہ علیہ وسلم  لعمري إنما یکون جزاء ہ من اللہ الکریم أن یدخلہ بفضلہ جنات النعیم، و قال الحافظ ناصر الدین الدمشقي مثلہ في کتابہ ’’ في مولد الہادي ‘‘ و قال الکمال الأدفوي الطالع حکی لنا صاحبنا العدل ناصر الدین محمد  بن العماد ان أبا الطیب محمد  بن إبراہیم السبتي المالکي نزیل قوص أحد العلماء العاملین کان یجوز بالمکتب في الیوم الذي ولد فیہ النبي  صلی اللہ علیہ وسلم  فیقول یا فقیہ ہٰذا یوم السرور اصرف الصبیان فیصرفنا فہذا منہ دلیل علی تقریرہ و عدم إنکارہ و ہذا الرجل کان فقیہا مالکیا متقنا في العلوم متورعا أخذ عنہ أبو حیان وغیرہ و مات سنۃ خمس و تسعین و ست مائۃ و القیام حین تذکر ولادتہ  صلی اللہ علیہ وسلم  بقصد التعظیم و الفرح و السرور بقدوم سید الأولین و الآخرین وجدتہ من العلماء الأعلام و قد أفتی جماعۃ باستحبابہ عند ذکر ولادتہ  صلی اللہ علیہ وسلم  و في مولد المدابغي   رحمۃ اللہ علیہ  جرت العادۃ بقیام الناس إذا انتہی المداح إلی ذکر مولدہ  صلی اللہ علیہ وسلم  و ہي بدعۃ مستحسنۃ مستحبۃ انتہیٰ  و تعظیمہ واجب علی کل مسلم و لا شک أن ہذا القیام من باب التعظیم، قال المولف و الذي أرسلہ رحمۃ للعالمین  لو استطعت القیام علی رأسي لفعلت أبتغي بذلک الزلفیٰ عند اللہ  عزوجل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ:  حمدوشکراس کی جس نے انوارِمحمدی ظاہرکرکے ہم پراحسان فرمایا۔میلاد شریف کاپڑھنا درست ہے، اور اس کی اصل حجۃ الاسلام علامہ ابن حجرعسقلانی نے بیان فرمائی ہے  الیٰ آخرہ 
ابن تیمیہ نے ’’اقتضاء الصراط المستقیم ‘‘میں لکھا ہے کہ میلاد شریف پڑھنے کے اجرکو کچھ کم نہ سمجھناچاہیے، اس لیے کہ اس میں رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  سے عقیدت ومحبت کا برملا اظہار ہے۔اس سلسلے میں انھوں نے تفصیل سے بحث کی ہے نیز بدعت حسنہ وغیرہ پر بھی روشنی ڈالی ہے۔
امام سیوطی فرماتے ہیں کہ مجھ پرمیلاد شریف کی ایک اور اصل آشکار ہوئی ہے  الیٰ آخرہ 
علامہ ابن جزری فرماتے ہیں کہ سرکاردوعالم  صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے اس موحد کا کیاحال ہو گا جو آپ کے میلاد شریف پرخوشیاں مناتا ہے، اور آپ کی محبت میں اپنی بساط کے مطابق خرچ کرتا ہے،مجھے اپنی عمر کی قسم ! اللہ کی طرف سے اس کی جزایہی ہے کہ وہ اپنے فضل فراواں سے اسے جنت النعیم میں داخل فرمائے۔
حافظ ناصر الدین دمشقی نے بھی اپنی کتاب’’مولد الہادی‘‘میں یوں ہی تحریرفرمایا ہے۔
کمال ادفوی فرماتے ہیں کہ مجھ سے میرے ایک منصف دوست نے کہاکہ ابو الطیب سبتی مالکی ربیع الاول کی بارہویں تاریخ کو مکتب جاتے اور فرماتے کہ اے فقیہ ! آج خوشی کا دن ہے بچوں کوچھٹی کر دو۔یہ ابوالطیب پرہیزگار اور بڑے پختہ عالم تھے،ابوحیان وغیرہ کاملین ان کے شاگرد ہوئے ہیں۔   ۶۹۵ھ  میں ان کی وفات ہوئی۔
رہا سرکاردوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت موقع پر کھڑے ہونے کا مسئلہ توبڑے بڑے علمائے کرام نے اس کے استحباب کافتویٰ دیا ہے۔ اور مولد مدابغی میں ہے کہ میلاد خواں جب اپنے اختتام کوپہنچتا ہے تواس وقت لوگوں کاقیام کرن اور اثۃً چلاآرہاہے اور یہ بدعت مستحبہ مستحسنہ ہے اور تعظیم رسول توہرمسلمان پر واجب ہے۔
 یعنی مولف کتاب فرماتے ہیں کہ اگر مجھ کوقدرت وطاقت ہوتی تو قربت الٰہی پانے کے لیے، ذکرولادت کے وقت ،میں پاؤں نہیں بلکہ سرکے بل کھڑا ہوتا۔ 


[۲]		اس تحریر مذکور کی تصریح جناب مولانا عبد السلام فرماتے ہیں جو حضرت غوث الثقلین  قدس سرہ  کے مدرسہ کے مدرسِ اول اور حضرت نقیب صاحب سجادہ کے استادہیں،بغداد میں شیخ العلماء کے لقب سے جانے جاتے ہیں ان کی عبارت یوں ہے  :
اطلعت علی ہذہ العجالۃ فرأیتہا صحیحۃ غیر أن من شک فیہا فہو مخذول۔
حرّرہ مدرس الحضرۃ القادریۃ
 عبد السلام
عبدالسلام
یعنی یہ رسالہ عجالہ میری نظرسے گزرا مجھے یہ پورے طور پرصحیح ودرست نظر آیا۔اب اس میں شک کرناکسی ذلیل وخوار ہی کا کام ہوسکتا ہے۔


[۳]	 اور اس فتوے تصدیق جناب مولانابہاء الحق صاحب رقم فرماتے ہیں جو سلطان روم کی طرف سے حضرت امام اعظم کے مدرسہ میں مدرس اول ہیں۔
تأملت في ہذہ الرسالۃ فوجدتہا مبنیۃ علی الإیمان و الحب بخاتم الرسالۃ فطوبیٰ لمن أعطی ہذہ النعمۃ الفائقۃ۔
حررہ مدرس مدرسۃ الإمام الأعظم  قدس سرہ  عبدہ 
بہاء الحق القرشي
  و یُحِقُّ اللّٰہُ الحَقَّ بکلِمَاتِہٖ
یعنی میں نے اس رسالہ کوبڑی ژرف نگاہی سے دیکھا اور اس نتیجہ پرپہنچاکہ اس رسالہ کی بنیاد ایمان اور جانِ ایمان  صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت وعقیدت پر اٹھائی گئی ہے۔تو بڑا خوش بخت ہے وہ جس کے حصہ میں یہ سعادت آئی۔


[۴]		بغداد کے مفتی سابق مرحوم  جن کی تفسیر روح المعانی آٹھ جلدوں میں مصرسے چھپی ہے   ان کے خلف رشیدسید محمد شکری جواپنے باپ مرحوم کی طرح عالم بے نظیرہیں  تحریرفرماتے ہیں  :
لقد تشرفت بمطالعۃ ہذہ الرسالۃ فرأیتہا مشتملۃ علی نصوص العلماء الأجل مشاہدۃ لمولفہا بأنہ حاذ الفضل کلہ 
الفقیر إلی اللہ تعالیٰ
الوسي راحہ السید محمود شکري
  السیدمحمود شکری
۹۳    ۰    ۱۲
یعنی اس رسالے کے مطالعہ کامجھے شرف حاصل ہوا، میں نے اسے اجلہ علماکے استشہادات  سے مزین پایا، اس کا مولف اقبال مند ہے،اس کے ذریعہ اس نے فضل وکمال کے میدان مارلیے۔ 


[۵]		بغدادکے مفتی وقت سخت بیمار تھے تو ان کے فرزند مولاناجمیل صدقی نے فتویٰ ہذا کی یوں تصدیق فرمائی  :
قد نظرت إلی ہذہ الرسالۃ الجلیلۃ فرأیتہا بإحقاق الحق کفیلۃ۔
وکیل المدرس في المدرسۃ السلیمانیۃ رہادی راحہ
جمیل صدقي
جمیل صدقی
یعنی یہ جلیل القدر رسالہ مجھے دیکھنے کا اتفاق ہوا،تومیں نے اسے احقاق حق کاکفیل پایا۔


[۶]		مفتی بغداد کی نگرانی میں کام کرنے والے جو تمام شرعی احکام میں فتویٰ دیتے ہیں تحریر فرماتے ہیں  :
إن ہذہ الرسالۃ لحریۃ بقبول لا یشک فیہا إلا مطرود و مخذول۔
حسبنی الوہاب
یعنی یہ رسالہ شرف قبولیت پانے کی اپنے اندر صلاحیت رکھتا ہے،ایسے رسالہ کے اندر شک وشبہ کوئی راندہ وخوار ہی کرسکتا ہے۔


[۷]		مدرسہ حضرت غوث الثقلین کے دوسرے مدرس جن سے فی الحال کل شہزادے درس لیتے ہیں :
قد قلت إذا لقیت ہذہ النقول صحیحۃ حریۃ بالقبول یا مہملا أہملت حق الرسول تعامیا أو مرضا في العقول۔
المدرس الثاني في حضرۃ القطب الکیلاني راوی راحہ
عبد اللطیف
عبد اللطیف
یعنی اس رسالے کے مضامین پڑھ کر جب اسے قبولیت کاسزاوار پایا تو میں نے کہا: اے غفلت کیش! کیا تواندھے پن یاکسی شقاوت قلبی کی وجہ سے رسول اللہ کے حق سے سست پڑا گیا ہے ؟  


[۸]	 جامع حسن پاشا کے مدرس علی افندی ترک رقم فرماتے ہیں  :
وجدتہا مشتملۃ علی نقول صحیحۃ لا یرتاب فیہا إلا معاند أو مکابر مخذول۔
حررہ مدرس جامع حسن پاشا علی
علی
یعنی میں نے اس رسالے کو صحیح ودرست عبارتوں پر مشتمل پایا۔اب اس میں شک کے کیڑے نکالناکسی جھگڑالو،نفس دشمن اور خوارورسواشخص ہی کاکام ہوسکتا ہے۔
ماہِ جمادی الاولی  ۱۳۰۴ھ (1886ئ) کابغدادشریف کا محررہ یہ فتویٰ یہاں تبرکانقل کیا گیا جسے زیادہ تحقیق درکار ہو، استحسانِ عمل مولد شریف کے مستحسن ہونے پرشرقا ًغرباً اجماعِ جمہورِ امت محمدی  صلی اللہ علیہ وسلم معلوم کرے۔وہ فتویٰ مطبوعہ بہم پہنچائے جس میں تمام علمائے مصروشام وغیرہ کی مہریں ہیں۔ 


علمائے ہندوستان کی مہریں 
اب ہندوستان کے ان علمائے کرام کی مہریں نقل کی جارہی ہیں جو اپنے وقت کے فرد کامل تھے ان میں علمائے فرنگی محل کے فتاوے بھی ہیں جو       ؁ میں محمد مصطفیٰ خاں صاحب کے مطبع مصطفائی میں چھپے تھے، جس کوان کے مضامین بالتفصیل دیکھنے ہوں کتاب مذکوربہم پہنچا کر دیکھیے۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ خاص ماہ ربیع الاول کے ساتھ میلادشریف کا تعین کوئی فرض و واجب تونہیں ہاں البتہ بہت سے علماومحدثین نے اس کو مستحب اور مستحسن قرار دیا ہے۔ اور یہ کہنا کہ جو چیزقرونِ ثلاثہ میں نہ ہوئی وہ بدعت سیئہ ہے، صحیح نہیں۔ اور پھر جب آیت کریمہ:  وَ تُعَزِّرُوْہُ وَ تُوَقِّرُوْہُ  سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم ثابت ہو گئی تومحفل میلاد میں ذکرولادت کے وقت کھڑے ہونا  جوکہ تعظیم رسالت ہی کا ایک فردہے وہ بھی بخوبی ثابت ہو گیا۔یہ بدعت سیئہ ہرگزنہیں ہے۔
 (۱)		حررہ ابوالبرکات رکن الدین محمد المدعوبتراب علی  عفی عنہ 
(۲)		محمد  سعد اللہ  عفی عنہ 
(۳)	محمد لطف اللہ عفا اللہ عنہ وحماہ 
(۴)		ابو الاحیاء محمد المدعوبالنعیم 
(۵)		ابو الحسن محمد صالح
(۶)		محمد  عبدالوحید
(۷)	 ابوالبقامحمد  عبد الحکیم ۱۲۳۰؁ھ
(۸)		حفیظ اللہ ۱۲۳۲؁ھ
(۹)		نعیم اللہ ۱۲۳۷؁ھ
(۱۰)	علی محمد  ۱۲۶۲؁ھ
(۱۱)		محمد  عبد الحلیم۱۲۶۲؁ھ
انھیں میں دہلی وبریلی اور رام پور افغانان کے علماکے فتاوے بھی ہیں۔واضح ہو کہ محفل میلاد شریف اور قیام کے جواز میں ’’غایۃ المرام‘‘نامی ایک کتاب فلاں کوٹھی میں واقع مطبع علوی سے یک ہزار ودوصدوہفتادویک  ۱۲۷۱ھ  میں چھپی تھی جس میں دہلی وبریلی اور رام پوروغیرہ چندمقامات کے مستندعلماوفضلاکے فتوے جمع کرکے شائع کیے تھے۔
چوں کہ سراج الدین ابوظفربہادر شاہ دہلی بھی محفل میلاد شریف کے استحباب کا عقیدہ رکھتے تھے اور ایک رئیس مسلمان،اسلام کی شوکت واحتشام کا سبب ہوتا ہے تورئیس المسلمین اور رزین المسلمین سمجھ کران کی مہربھی علمائے دہلی کی مہروں کے ساتھ کرائی گئی تھی۔
شاہ ولی اللہ صاحب کے پوتے مولوی مخصوص اللہ صاحب مرحوم بھی اس وقت زندہ تھے  تواستحسان محفل میلادشریف پران کی مہربھی لی گئی۔جسے ہرعالم وفاضل کی تحریربالتفصیل حرفاً حرفاًدیکھنی منظورہو اسے اصل کتاب منگوا کر ملاحظہ کرناچاہیے۔ایک سوبائیس (۱۲۲)صفحات کی اس کتاب میں محفل میلاد شریف کو اس کے جملہ مروجہ تعینات مثلاقیام اور تقسیم فاتحہ وغیرہ کے ساتھ جائزبلکہ مستحب لکھا ہے۔اس کے متفرق صفحات سے کل (۶۷)اہل علم وفضل کی مہریں اور دستخط یکجا کرکے نقل کرتاہوں اور ہر عالم کانام ایک چوکورشکل میں مندرج کر رہاہوں۔ 




حکیم احسن اللہ خاں صاحب وزیر، مفتی صاحب صدر الصدور دہلی،مدرس اول مدرسہ دہلی جوعالم فاضل تھے، اور حکیم کے لفظ سے دہلی میں مشہور ومعروف تھے۔




     قاضی احمد الدین خاں صاحب   ٭  قاضی محمد  علی صاحب  ٭   حضرت شاہ احمد سعید  
  مجددی    ٭    حضرت احمدسعید صاحب    ٭     خلف حضرت احمد سعیدصاحب




فاضل جامع علوم مولوی    	                      مولانافرید الدین صاحب
کریم اللہ صاحب		 	       واعظ جامع مسجد دہلی۔یہ عالم بڑے منطقی تھے







              (۱)


محمد  عزیز الدین
سید تفضل حسین
رضوی (۲)
سیدیعقوب علی
محمد  رضا 
علی خاں 
محمد  اللہ کے(۳) 
مخصوص ہیں 
احمد حسین
میرمحمودعلی
غلام حسین

محمد  عبد الواحد
محمد  لطیف 
علی خاں 
در شہرعلم محمد  علی
جلال الدین
محمد  کمال
طالب المولیٰ
مذکر
عمدۃ العلما شرع
متین مفتی مولوی
محمد  شرف الدین(۴)
محمد یعقوب علی
عفا اللہ عنہ
یاحافظ
کرم نبی
واللہ یوید
و ینصرمن یشاء
عبد الکریم
عبیداللہ ولد
محمد  رفیع اللہ
فخر العلمامحمد 
عبد الجامع خاں 
ان اللہ جمیل 
ویحب الجمال
محمد 
عبد العلی
علی حسین
محمد  لطف اللہ 
نور النبی
محمد  عبد اللہ
علی الدین
آلِ نبی
مقصود علی
حسین
حافظ شریف
شدازظہور حسن
علم وعدل راشہرت
سبط محمد 
گل باغِ جاوید
نظام الدین احمد
محمد  علی 
خادم العلماء
وزیر علی 
مولانامحبوب علی
شاہ علی خلف سید
آمدہ تاج محمد 
سرعالم علی
محمد  سلامت اللہ
فضل رسول
فاضل بدایونی
سید بشیر علی 
امروہوی
مولوی 
داداربخش
حسن الزماں 
محمد  فضل حق
رفیع اللہ
وحید الدین
محمد  فضل اللہ
فضل حسن
محمد  عبد الحق
محمد  حیات 
محمد  خلیل الرحمن
ولدمولوی سید
احمد محمد  حیات



(۱)	حاشیہ :  عبارت ان کی یہ ہے :واعظین نحلۂ وہابیہ بالیقین قدم از دائرۂ سنت بیرون نہاوند وداد اعتزال وخروج ورفض دادندونعم ماقیل   ؎  واعظ شہر کہ مردم تلاش می خواہی  وقول را نیز آئین ست کہ او آدم نیست  وبحمد اللہ کہ ہنوز در مذہب حق چنیں علماہستندکہ باحقاق حق مے پروازند۔
(۲)	یہ اور مولانا محمد  رضاعلی خاں صاحب مقبولین بریلی میں سے ہیں۔
(۳)	مولوی مخصوص اللہ صاحب ،مولوی رفیع اللہ صاحب کے بیٹے ہیں اور یہ شاہ ولی اللہ صاحب مرحوم دہلوی کے۔
(۴)	مفتی شرف الدین صاحب نواب والیِ رام پور کی عدالت کے عظیم الشان مفتی اور ایک مشہورومعروف فاضل تھے۔
اہل سنت وجماعت خیال فرمائیں کہ اخیرکے ان دونوں فتوؤں میں ہندوستان کے کیسے کیسے جلیل القدر علمامحفل میلاد شریف کے استحسان پرمہرفرمارہے ہیں۔مثلامفتی سعد اللہ صاحب  مولانا تراب علی  مولاناسید محمد مدرس اعلیٰ مولانافضل حق مولانامحمد حیات مولاناحیدرعلی مصنف ’منتہی الکلام،  مولاناسلامت اللہ صاحب مفتی صدر الدین خاں صاحب مفتی شرعِ متین مفتی شرف الدین صاحب (وغیرہ)۔
ہم نے اِس وقت کے علمائے ہندوستان سے مہریں نہیں کرائیں صرف علمائے سلف کی نقل مواہیر پرہی اکتفا کیا ہے۔اب ذرا غورفرمائیں کہ اس لمعہ تاسعہ میں ہم نے جن علمائے عاملین اور فضلاے کاملین کے نام ذکر کیے ہیں وہ مشرق ومغرب اور شمال وجنوب کے جملہ ملکوں کے تمامی علماوفقہاکے نام نہیں،اگر ان سب کوجمع کر دیاجائے تو  اللہ اکبر ایک دفترتیار ہو جائے جیساکہ شاعر نے کہا    ؎
اگر آں جملہ را سعدی املا کند         مگر  دفترے   دیگرانشاکند 
یہ تو صرف چند مقامات کے چندعلما کاتذکرہ کیا گیا ہے لیکن یہ بھی کیاکچھ کم ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں کاجم غفیر اور ایک بڑی جماعت ہے۔تو اب رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کے فرمان کے مطابق اہل سنت کی اتباع لازم ہے۔آپ فرماتے ہیں  :
اتَّبِعُوا السِّوَادَ الأعْظَمَ فإنَّہ مَنْ شَذَّ شُذَّ فِي النَّارِ۔ (۱)
اس کی تحقیق ،محدثین کے حوالے سے پہلے گزرچکی ہے۔اس کے معنی یہ ہیں کہ بڑی جماعت کی پیروی کرو کیوں کہ اس سے بچھڑنے والاآگ میں ڈال دیاجائے گا۔ یعنی جب علمامیں اختلاف رونماہوتوجس طرف اکثر مسلمین ہوں ان پرعمل کرناچاہیے۔
یہ تو حدیث ہے اب فقہ کا مسئلہ سنیں۔علامہ شامی نے’شرح درمختار‘‘جلددوم باب صدقۃ الفطرمیں تصریح کی ہے  :
فإن المانعین جمع یسیر و المجوزین جم غفیر و الاعتماد علی ما علیہ الجم الکثیر۔ (۲)

(۱)	مشکوٰۃ المصابیح:۱؍ ۳۸حدیث:۱۷۴۔۔مستدرک: ۱؍ ۳۷۸حدیث: ۳۵۸۔۔السنن الواردۃ فی الفتن للدانی: ۱؍ ۴۳۰حدیث: ۳۷۰۔۔ الفقیہ والمتفقہ خطیب بغدادی: ۱؍ ۴۶۶حدیث: ۴۱۳۔۔ المقاصد الحسنۃ: ۱؍ ۹۶۔۔ کشف الخفائ: ۱؍ ۳۳۳۔۔کنزالعمال: ۱؍ ۲۰۶حدیث:۱۰۳۰۔
(۲)	رد المحتار: ۷؍۳۰۴ باب صدقۃ الفطر 
یعنی منع کرنے والی جماعت کی تعداد بہت تھوڑی ہے اور جائز کہنے والاگروہ خاصا بڑاہے اور اعتماداسی پرکیاجاتا ہے جس پربڑا گروہ ہوا کرتا ہے۔
نیز’’رسم المفتی‘‘کی  جلد اول  میں لکھا ہے  :
فإن اختلفوا یؤخذ بقول الأکثرین۔
یعنی اگرعلمامیں اختلاف پڑجائے تو اکثریت کاقول لیاجائے گا۔
مولوی قاسم صاحب نانوتوی بھی اس دلیل کو حق جانتے ہیں ،چنانچہ ’’مصباح التراویح‘‘  مطبوعہ مطبع ضیائی کے صفحہ ۵میں لکھتے ہیں  :
اتفاق اکابروتسلیم اوشان یا جم غفیرازوشاں نیز دلیلے است  الی آخرہ 
یعنی کسی چیزپراکابرکا اتفاق ہو جانا اور اس کو تسلیم کر لینایا ایک بڑی جماعت کا اس کومان لینا بھی ایک دلیل ہے۔
مولوی اسماعیل صاحب بھی’’تذکیرالاخوان‘‘کی  فصل سادس میں کتاب وسنت اور اجماع وقیاس کا ذکرکرنے کے بعد فرماتے ہیں  :
پھر اور کوئی مولوی مشائخ جو اپنی عقل کو دخل دے کرکوئی بات نکالے تو اس کا کیاٹھکانہ مگر ہاں اگراکثر دین دار مفتی پرہیزگار اسی مسئلہ کو قبول کریں تو البتہ وہ بھی معتبر ہے۔انتہیٰ
اب دیکھیے!اس عبارت سے صاف ظاہرہے کہ کسی مولوی مشائخ کی نکالی ہوئی بات کو اگرچہ ساراجہاں متفق ہو کرنہ مانے مگر اکثردین دار ومتقی اس کو مان لیں تو وہ بھی حق اور معتبر ہے۔ لہٰذا اس مسئلہ میں مولوی اسماعیل صاحب،نیزمولوی قاسم صاحب فقہاومحدثین کے تابع ہیں کہ کسی مختلف فیہ مسئلہ میں اکثر علمائے دین کامتفق ہونا ایک جانب میں دلیل حقیقت ہے، یہ مسئلہ خاص ان کی زبان سے ہم نے سنوادیا۔اب اگر استحسانِ میلاد شریف کے اس موقع پر ان کے پیروکاراس دلیل سے باہرہونے لگیں توہم ان لوگوں پر جابرہو کرموکل نہیں ہوئے کہ ان کے دل وزبان کو امر حق کی طرف جبراً پھیردیں ،خود سرکارخیرالانام صلی اللہ علیہ وسلم کی بہ نسبت یہ ارشاد ہے  :

لَسْتَ عَلَیْہِمْ بِمُصَیْطِرْ۔ (۱)
تم کچھ ان پرکڑوڑا(ضامن )نہیں۔یعنی اگر وہ حق پر نہیں تو اے محمد  صلی اللہ علیہ وسلم  تم پر کچھ ذمہ نہیں۔
 دوسری جگہ فرمایا  :
إنَّکَ لاَ تَہْدِيْ مَنْ أحْبَبْتَ۔ (۲)
بے شک یہ نہیں کہ تم جسے اپنی طرف سے چاہوہدایت کر دو۔
ہمارا ذمہ آئینہ حق دکھادینا تھا اور وہ ہم نے پورا کر دیا اور یہ جومتقی اور دین دار کی قیدمولوی اسماعیل صاحب نے لگائی ہے توان پرہیزگاروں مثلاً امام ابوشامہ،ابوالخیرسخاوی،ابن جزری اور امام سیوطی وقسطلانی وغیرہ کے حوالے سے محفل میلاد شریف کاجواز ہم نے ثابت کر دیا،ان بزرگوں کی تفصیل لمعہ تاسعہ میں ہم لکھ آئے ہیں۔ اور جو شخص شاہ ولی اللہ صاحب کے سلاسل طریقت اور اسانید علم حدیث سے واقف ہو گا اس سے یہ بات مخفی نہ ہو گی کہ ان مجوزین میلاد میں وہ علمابھی بہت ہیں جو شاہ ولی اللہ صاحب کے مشائخ حدیث اور شیوخ طریقت کے پیشوا ہیں۔تو یہ بات ہم نے تحقیق کی انتہاکوپہنچادی کہ میلاد شریف کرنا ایک جم غفیرسے ثابت ہے، اور فقہ وحدیث اور ان کے مستندعلماسے یہ مضمون بھی ہم ثابت کرچکے کہ جوچیزجم غفیرسے ثابت ہووہ معتبر،ماخوذبہ، معتمد علیہ اور لازم الاتباع ہے، اور یہ دونوں مقدمے صحت کے پایۂ ثبوت کوپہنچ چکے ،لہٰذا اب یہ بخوبی ثابت ہو گیا کہ میلاد شریف کرنا معتبر،ماخوذبہ،معتمدعلیہ اور لازم الاتباع ہے۔
فالسلام علی من اتبع الہدی




(۱)	سورۂ غاشیہ،۸۸؍۲۲۔
(۲)	سورۂ قصص،۲۸؍ ۵۶۔

مناجات بدرگاہِ مجیب الدعوات
یا اللہ! میں تیرابندہ ہوں، اور تو سمیع وعلیم ہے،تمام باتوں کو سنتا اور دلوں کے بھید جانتا ہے۔ میں نے یہ کتاب صرف اسی لیے لکھی کہ طرفین سے افراط وتفریط دور ہو اور ہرفریق اپنے غلووتعصب سے نفورہو۔اگر اہل ایمان کی تکفیروتفسیق کی وجہ سے حضرات مانعین پرکچھ تنبیہات ہیں توطرفِ ثانی کوبھی اصلاحِ نیت اور تصحیح اعمال کے لیے واضح ہدایات ہیں۔میں نے اپنے جملہ مسائل ودلائل کی بنیاد، دنیا میں مہِ کامل کی مانند مشہورعلمائے مقبولین کے دلائل واقوال پررکھی ہے،ان کی کتابیں ان ملکوں میں جابجاموجودہیں، اور ہرایک مسئلہ میں ،میں سلف صالحین کی تصانیف سے حوالہ پیش کر چکاہوں تومیرا قول درحقیقت انھیں مقبولین کاقول ہے۔
اے اللہ! ان مقبولین کے توسل سے یہ کتاب مقبول فرما اور اس کو فریقین کے لیے ’فصل الخطاب ،(فیصلہ کن)بنا۔
اے اللہ ! اس کتاب کی ہر دلیل ،مظہرحق اور شک میں گھرے ہوؤں کے لیے ’’دافع اوہام‘‘ ہو، اور یہ کتاب اپنے براہین حقانی سے برگشتہ دلوں کوتسکین بخشے۔
یا اللہ! میرے جملہ رسائل میری مغفرت کے وسائل بن جائیں اور یہ ’’انوارِ ساطعہ‘‘ میری اندھیری قبرکاچراغ اور میری قبر’’بہارِ جنت‘‘ کا باغ ہو جائے۔قارئین انوارِساطعہ میری اس دعاپر آمین کہنانہ بھولیں۔
آمین یارب العالمین، و صلی اللہ تعالیٰ علی خیر خلقہ محمد  و آلہ و أصحابہ أجمعین برحمتک یا أرحم الراحمین






نورِچہارم میں وقت کے نامی گرامی محقق فضلا اور بعض مشفق احباب کی تقریظیں ہیں 
تقاریظ علما و فضلا
(۱)		از:  علی گڑھ
صورۃ  ما قرظہ و رصعہ الإمام الصلہام المقدام رئیس الفضلاء عریف العلماء الذي ذاع صیت فضلہ في بلاد الإسلام عجما و عربا و شاع شرقا و غربا المشتہر بالألسنۃ و الأفواہ مولانا محمد  لطف اللہ  مد اللہ ظلالہ و أبقاہ 
الحمد للہ الذي تخضع لہ النواصي و یطمع رحمتہ کل مطیع و عاصي و الصلوٰۃ و السلام علی من بعث داعیا إلی الداني و القاصي و علی آلہ و صحبہ الذین زجروا الناس عن سلوک طریق الضلال و ارتکاب المعاصي و بعد فیقول المبتہل إلی اللہ محمد  لطف اللہ  حشرہ اللہ تحت لواء نبیہ النبیہ یوم یفر المرء من أخیہ و أمہ و أبیہ قد تشرفت بمطالعۃ ہذہ الرسالۃ الشریفۃ و الصحیفۃ اللطیفۃ فوجدتہا بحرا یخرج منہ اللولو و المرجان و جنتہ فیہا فاکہۃ و نخل و رمان و شمسا أنوارہا ساطعۃ و مرجا فیہ تحقیق الأنیق رائعۃ کیف لا و مولفہا من ہو فرید عصرہ و وحید دہرہ الذي علمہ وسیع و شأنہ رفیع أعني مولانا محمد  عبد السمیع  حرس ذاتہ و أسعد أوقاتہ  و مضمونہا ذکر ولادۃ سید الأولین و الآخرین أفضل الأنبیاء و المرسلین حبیب رب العالمین  علیہ من التسلیمات أفضلہا و من التحیات أکملہا  و ہذا ذکر لا یخفی علو شأنہ و رفعۃ مکانہ تحیط رحمۃ ربنا الأعلیٰ بمکان یتشرف الناس فیہ بہذا الذکر الشریف و تحف الملائکۃ مجلسا یتمجدون فیہ بہذا البیان المنیف و أما طریق الفاتحۃ التي ہي من الرسالۃ لائحۃ فلیس في استحسانہا ارتیاب إذ ہي لإیصال الثواب إلی الأموات الذین یتوقعونہ من الأقرباء و الأحباب و أما ما أحدثہ السفہاء فیہا من الأمور المنہیۃ فلا یحکم بجوازہ أحد من العلماء المتبعین الشریعۃ السنیۃ للہ در مؤلف الرسالۃ فإنہ قد اختار ما ہو مختار و آثرہا ما ہو الماثور عن الجہابذۃ الأحبار ہذا و الحمد لمن منہ الإبتداء و إلیہ الإنتہاء و السلام الأتمّان علی من أول المخلوقات ذرہ و رحمۃ للعالمین ظہو رہ۔
تقریظ جناب مولانامحمد لطف اللہ صاحب  دام فیضہ 
ترجمہ: تمام تعریفیں اللہ کوزیباہیں جس کے سامنے سجودنیاز لٹائے جاتے ہیں اور اس کی رحمتوں کی آس لگی ہوتی ہے۔درود وسلام ہو ان پر جو ہر اعلیٰ وادنی کو جادۂ ہدایت پر گامزن کرنے تشریف لائے اور ان کے آل واصحاب پر جنھوں نے لوگوں کو قعرضلالت میں گرنے سے نجات عطاکی۔ 
حمدونعت کے بعد بندۂ عاجز محمد  لطف اللہ عرض پردازہے  اللہ محشرکے کڑے دن میں لواے حبیب لبیب تلے کھڑاہونانصیب فرمائے مجھے یہ رسالہ دیکھنے کاشرف حاصل ہوا۔ یہ رسالہ مجھے ایسا محسوس ہواجیسے ایک سمند ر ہے جس سے موتی ومونگے چھلکے پڑتے ہیں۔ ایک باغ ہے جس میں میوے اور چھہارے اور انارلدے ہوئے ہیں۔ایک سورج ہے جس کی کرنیں پھوٹی پڑتی ہیں۔ایک چراگاہ ہے جس میں تحقیق نفیس کے بچھڑے دندناتے پھر رہے ہیں۔ اور پھر ایسا کیوں نہ ہوتا کہ اس رسالہ کامولف نادرروزگار اور یگانہ زمانہ ہے جس کی وسعت علمی مسلم اور جس کا منارۂ فضل وکمال کافی بلند ہے یعنی مولانامحمد عبد السمیع  اللہ ان کانگہبان ہو اور ان کے وقت میں برکتیں اتارے اس رسالہ کا مضمون سرکاردوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت مبارکہ کے اثبات پرمشتمل ہے۔ اور پھررفعت شان رسالت کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں بلکہ اس میلاد کی برکت کا عالم یہ ہے کہ جس جگہ اس ذکرمبارک کے لیے لوگ اکٹھاہوتے ہیں وہاں اللہ کی رحمتوں کے برکھے برستے ہیں اور فرشتے پوری محفل اپنے نورانی پروں سے ڈھانپ لیتے ہیں۔ اور فاتحہ کا جوطریقہ کتاب کے اندر بیان کیا گیا ہے تواس کے مستحسن ہونے میں کسی شک کی کوئی گنجائش نہیں ہے کیوں کہ یہ مردوں کے ایصال ثواب کے لیے ہوتا ہے جو ہمہ وقت اپنے دوست آشناؤں سے اس کی آس لگائے بیٹھے ہوتے ہیں۔ ہاں ! کچھ ناسمجھ لوگوں نے اس میں جو کچھ خلاف شرع بات پیدا کر دی ہے تو یقینا کسی بھی عالم شریعت نے ان کے جواز کی بات نہیں کی ہے۔اللہ تعالیٰ صاحب رسالہ کابھلا کرے کہ انھوں نے مختارومتفق مسائل چن کران کو مستند علمائے کرام کے قوی دلائل سے مزین کیا۔ہرقسم کی تعریفیں پروردگارکوزیباہیں اور درود وسلام کے تحفے رحمت سراپا  صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں نذرہیں۔


(۲)		از :سہارن پور
صورۃ  ما  نمقہ  و ہذبہ مولانا المخدوم المطاع إمام الفضلاء بلا نزاع الغشمشم الأعظم و الغطمطم الأفخم المالک لأزمۃ حقائق المعاني و البدیع و البیان سباق الغایات في مضمار کشف المعضلات یوم الرہان مقدام الجہابذۃ استاذ الأساتذۃ الذي زال وجودہ الزمن الحاج المولوی فیض الحسن  خصہ اللہ تعالیٰ بجزائل منحاتہ و جلائل المنن 
لقد وردت علي رسالۃ کریمۃ مشتملۃ علی أنوار و لمعات فامعنت فیہا إمعانا بلیغا فوجدتہا کافیۃ وافیۃ دالۃ علی حسن الإجابۃ و جودۃ الإصابۃ وسعۃ النظر في الکتب حیث تمسک فیہا أقوال العلماء الأعلام و تحریرات عمائد الإسلام و ألزم المنکرین بما قال بہ مرشدوہم و آمن بہ معتقدوہم و اللہ إنہا قرۃ لعیون المخلصین و سخنۃ لأعیان المنکرین و الحق في ہذہ المسئلۃ أنہ لا بأس بہ و إن تمسک بما قیل ما رآہ المسلمون حسنا فہو عند اللہ حسن و ینسب ہذا القول إلی عبد اللہ ابن مسعود  رضي اللہ عنہ  فہو مندوب مستحب و من جاء مجلسہ فلہ أن یقوم إن قاموا و إلا فلا و ہکذا یقول المولوي أحمد علي المحدث المرحوم تبعا لأستاذہ مولانا محمد  إسحاق المغفور و ما قیل أنہ بدعۃ فہو بدعۃ حسنۃ و قد ذکرت في إثبات البدعۃ الحسنۃ و تخصیص کل بدعۃ ضلالۃ بحثا طویلا في شرحي للمشکوٰۃ۔ 
کتبہ الفیض السہارن فوري۔




تقریظ الحاج مولوی فیض الحسن صاحب سہارن پوری
ترجمہ:  انوارولمعات پر مشتمل ایک رسالہ میری نظر سے گزراجسے میں نے دلائل وبراہین کی روشنی میں اپنے موضوع پر بھرپورپایا۔مولف نے جواب کا جو انداز اپنایا ہے، اور جن سچائیوں کوبے نقاب کیا ہے اس سے ان کی وسعت نظر کا اندازہ ہوتا ہے۔انھوں نے اپنے استشہادات میں صرف مستند اور معتبر علمائے کرام اور عمائدین اسلام ہی کی تحریروں کوپیش کیا ہے۔خداکی قسم! یہ رسالہ اہل اخلاص کی آنکھوں کی ٹھنڈک اور چشمانِ منکرین کے لیے روڑاہے۔ اور اس مسئلہ کے حوالے سے حق بات یہ ہے کہ اس میں کوئی حرج نہیں۔ اور اگر حضرت عبد اللہ بن مسعود کی طرف منسوب اس قول: مارآہ المسلمون حسنافہو عند اللہ حسن  کو دیکھاجائے توپھر یہ مستحب اور مستحسن ہے۔ اور جو کسی کی محفل میں تشریف لائے تو حق یہ بنتا ہے کہ اس کی تعظیم کے لیے قیام کیاجائے اور اگر ایسانہیں کرتا توکوئی بات بھی نہیں۔مولوی احمد علی محدث مرحوم اپنے استادمولانا اسحق کی پیروی میں یوں ہی بیان کیا کرتے تھے۔ اور اسے جو بدعت کہا جاتا ہے تو اس سے بدعت حسنہ مرادہے۔اثبات بدعت حسنہ وغیرہ کے سلسلے میں میں نے اپنی شرح مشکوٰۃ میں کافی لمبی بحثیں کی ہیں۔(طالب تحقیق وہاں رجوع کرے)
                                             کتبہ فیض سہارن پوری










(۳)	از: قصور ضلع لاہور
صورۃ ما رسمہ الصوفي  المثبت  النافي  الأصولي  المناظر المستدل بقواطع الآیات و سواطع السنن المحقق المدقق المجادل بالتي ہي أحسن الفاضل الکبیر مولانا أبو محمد  عبد الرحمن غلام دستگیر  سلمہ القوي القدیر ۔
تقریظ حضرت مولاناغلام دستگیرقصوری 
مسمیا حامدا مصلیافقیر کے ایک دینی کرم فرمادوست سے ’’انوارِ ساطعہ فی بیان المولود و الفاتحہ‘‘پرتقریظ لکھنے کی تحریک ہوئی، اور فقیر، امرتسرمیں مقیم ایک آریاپنڈت کے رسالہ’’ تکذیب براہین احمدیہ‘‘ کے بہتانات وہذیانات کا جواب لکھ رہاہے۔ طبیعت کاپورالگاؤجھکاؤابھی اسی طرف ہے، اس لیے سردست اتناہی لکھ سکتاہوں کہ فقیرنے عربی اخبار ’’شفاء الصدور‘‘ مطبوعہ ۵؍دسمبر۱۸۸۵ئ  میں اس رسالہ کی تعریف وتوصیف کے حوالے سے جناب مولانافیض الحسن صاحب مرحوم ومغفور سہارن پوری کی عبارت دیکھی ہے، اور میرے گمان میں مولاناموصوف مرحوم اکابرعلمائے ہندوستان سے تھے اور بڑے بڑے بزرگوار صوفیہ کبار کے فیض سے فیضیاب بھی۔تو ان کی تعریف سے اس رسالہ کا موصوف ہو جاناکافی ہے،پھراس فقیر بے بضاعت کی توصیف کی کوئی ضرورت نہیں رہ جاتی۔ساتھ ہی یہ بھی کہ فقیر خود محفل مولد شریف کرتا ہے، اور ارواحِ اموات کے ایصال ثواب کو لغزشوں کے مٹانے کاذریعہ سمجھتا ہے۔اللہ تعالیٰ ابناے زمان سے اختلاف کو رفع فرمائے۔
آمین یارب العالمین،وصلی اللہ تعالیٰ علی خیرخلقہ و عترتہ اجمعین 
فقیر غلام دستگیرقصوری کان اللہ لہ 
واضح ہوناچاہیے کہ یہ مولوی غلام دستگیرقصوری صاحب وہ ہیں جن کی تعریف میں خود مولف براہین قاطعہ نے ریاست بہاول پورمیں اپنے قیام کے دوران یہ عبارت لکھی تھی  :
حامی دین متین قامع اساس المبتدعۃ و الضالین مولانا مولوی محمد  ابوعبد الرحمن غلام دستگیر قصوری ادام اللہ فیوضہ إلی یوم الدین 
چنانچہ یہ عبارت ضمیمۂرسالہ ’’تصریح ابحاث فریدکوٹ‘‘کے صفحہ ۱۵پرموجودہے۔ 
کمال نا انصافی یہ ہے کہ مولف براہین قاطعہ نے مضامین انوارِ ساطعہ سے منھ پھیرا اور اس کے تسلیم کیے ہوئے عالم ربانی نے جن کو وہ خود حامی دین لکھتا ہے ’’انوارِ ساطعہ‘‘کوحرفا حرفا ایسا قبول کیاکہ اس کے مسائل کا طرفدار ہو کر مولف براہین قاطعہ مذکورکو اس کے حمایتیان علمائے دیوبند وغیرہ کے ساتھ  ۱۳۰۶ھ (1988ئ)ریاست بہاول پورمیں شکست فاش دی جوتمام اخبارات میں چھپ کر شائع ہوچکے ہیں۔


















(۴)		از:ریاست رام پورمعروف ازاں افغاناں 
صورۃ ما رقمہ البحر القمقام و النحر الہمہام تاج المحدثین سراج المتفقہین الأدیب المصقع المتکلم النبیہ العارف المحدث المفتي الفقیہ جامع الشریعۃ و الطریقۃ مجمع البحرین مولانا محمد  إرشاد حسین  صانہ اللہ عن کل شین 
الحمد للّٰہ سبحانہ و تعالیٰ حق حمدہ، و الصلوٰۃ و السلام الأتمان علی رسلہ و عبدہ، و علی الآل  و الأصحاب الہداۃ  إلی مناہج رشدہ، و بعد فإني قد طالعت ہذہ العجالۃ النافعۃ و العلالۃ الرائعۃ، التي یفوح منہا روائح مسک إخلاص النبوۃ، و یطوح بہا دابتہ الطغام الغاصبین من الرتبۃ المحمد یۃ، فالفیتہا مملوء ۃ من الفوائد الخریدۃ الشریدۃ،  و العوائد الفریدۃ العریدۃ، موسسۃ براہینہا علی الحق الصراح، مؤیدۃ مضامینہا بالصدق القراح، لم یأل مؤلفہ العلام جہدا في إصابۃ الحق المبین، و إبانۃ غوائل غوایۃ المنکرین، بہا کشفتہم الکواشف، و کسفت وجوہم الکواسف، و ضاقت علیہم الحیل، وعیّت بہم العلل، و لعمري لا وجہ لإصرارہم علی النکیر إلا لداء العضال الذي عمہم فأعمی أبصارہم، فأضاعوا في طمس أشعۃ الرحمۃ و إشاعۃ مآثر معدن الرسالۃ أعمارہم، ولم یأتوا بشییء یتعلق بہ الفہم السلیم، و یتلی بہ المقلاق الفہیم، و لا یأتون بہ و لو جاؤا بہ من حسبہم و بستہم و یکون بعضہم لبعضہم ظہیرا، و لا یجدون لأنفسہم و لو ألقوا شراشرہم في تشدید النکیر من اللہ سبحانہ معوانا و نصیرا، ألم یعلموا أن النکیر لہٰذا الأمر البین رشدہ یؤل إلی إساء ۃ الأدب، و الخوض فیہ یہلک و یخرب، فللہ در مؤلفہا النقاد، حیث أطاب و أجاد، و أتیٰ بالحق الصریح، و میز الباطل من الصحیح  جزاہ اللہ سبحانہ عن طالبي الحق المبین و اللہ سبحانہ الموفق و المعین ۔
و أنا العبد الراقم المحتاج إلی رب النشاتین
محمد  إرشاد حسین  عفي عنہ و عن أسلافہ في الدارین 

تقریظ مولانا محمد  ارشاد حسین رام پوری دام ارشادہ 
ترجمہ:  جملہ حمدو ثنا اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے لیے ہیں جوصحیح معنوں میں سزاوارِ حمدہے۔درود وسلام کے کامل ترین تحفے اس کے مقرب بندے ختم المرسلین  صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں پیش ہیں، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کی آل واصحاب پربھی جو رہنماے رشدوہدایت ہیں۔ حمدوصلاۃ کے بعد۔میں نے اس کتاب نافع اور تعجب خیزرسالہ کوعجلت میں دیکھاجس میں مشک اخلاص نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  کی خوشبوئیں مہکتی ہیں، اور اس سے ان کمینوں کی نسل ہلاکت کے گھاٹ اتری ہیجواپنی آنکھیں رتبہ محمد یہ  علی صاحبہا الصلوٰۃ والسلام سے بند کیے لیتے ہیں۔میں نے اس بہار کو ایسے فوائد سے بھرپورپایاجولوگوں کی فہم سے چھپے ہوئے اور ذہن سے نکلے ہوئے ہیں اور ایسے منافع سے مالامال پایاجو خوبی میں یکتا و محکم ہیں۔ اس کی دلیلوں کی بنیادصریح حق پرہے اور اس کے مضامین بالکل سچے ہیں۔ مولف علام نے امر حق کی پہنچانے میں اور گمراہی منکرین کے فساد کھول دینے میں کچھ کسرباقی نہ چھوڑی،اس کتاب سے ان کے عیب کھل گئے، وہ رسوا ہو گئے،ان کے احوال بگڑگئے، ان کے سب حیلے حوالے بے سود ہو کر رہ گئے اور ان کودلی بیماریوں نے تھکا کررکھ دیا۔مجھے قسم ہے کہ ان کی شدت انکار کی سوا اس کے کوئی وجہ نہیں کہ ایک سخت بیماری نے ان کو دبالیاپھرآنکھوں کواندھا کر دیا اور اسی سبب سے انھوں نے اپنی عمریں کھپادیں کہ کسی طرح وہ رحمت کی شعاؤں کومٹادیں اور جابجا ذکرحبیب  صلی اللہ علیہ وسلم کوبند کر دیں۔(مگراس سلسلہ میں کبھی وہ کوئی ایسی) دلیل نہ لا سکے جس سے سمجھ کوکچھ علاقہ ہو اور کسی سمجھ دار و حجت طلب آدمی کی تسلی ہو جا سکے۔ اور (یقین ہے کہ) آئندہ بھی نہیں لا سکیں گے، اگرچہ ایک دوسرے کا مددگار ہی کیوں نہ ہو جائے اور اس میں اپنی جان کوکتنا ہی کیوں نہ کھپادے لیکن اللہ پاک کی طرف سے کوئی اپنی جانوں کامددگارنہ پائیں گے۔ کیانہیں جانا انھوں نے کہ اس کھلے راست ودرست امر میں انکار کرنابے ادبی ہے اور اس سلسلہ میں باتیں بنانا ہلاکت وخرابی کو دعوت دیناہے۔واہ !مولف کتنا نفیس پارکھی ہے کہ جس نے ایسا اچھا اور عمدہ رسالہ لکھا اور حق صریح کی جھلک دکھا کرسچ کو جھوٹ سے جداوممتاز کر دیا۔اللہ تعالیٰ ان کو طالبین حق کی طرف سے جزائے خیر دے اور وہی توفیق دینے والا اور مدد کرنے والاہے۔

(۵)		از : رام پور 
صورۃ ما ہذبہ  و شذ بہ الفاضل الخبیر الفاصل البصیر الجلیل الشہیر الجمیل الجہیر کشاف دقائق المعقول حلال حقائق المنقول مولانا محمد  إعجاز حسین  رفع اللّٰہ درجاتہ في الدارین ۔
أحمدک یا من جلت قدرتہ و عظمت ہیبتہ و ظہرت صنعتہ الباہرۃ و علت جلالتہ القاہرۃ أرسل رسولہ بالحق بشیرا و نذیرا داعیا إلی الحسنات قمرا منیرا و جعل انعقاد مجلس میلادہ منطوقا لنص و رفعنا لک ذکرک و رغم أنف من ترک القیام عند ذکر میلادہ  صلی اللہ علیہ وسلم  المثبت بنص لتعزروہ و تؤقروہ و الصلوٰہ و السلام علی خیر الأنام إلی یوم القیام و علی صحبہ البررۃ الکرام و أہل بیتہ العظام و بعد، 
واضح راے عقیدت انتماے ذوی الافہام عاشقین سید الانام کے ہو کہ عالم باعمل فاضل اجل قامع بدعت جامع سنت حبر محقق بحر مدقق حقائق آگاہ دقائق پناہ، قدوۃ السالکین، عمدۃ الکاملین، زبدۃ علمائے وکیع مولوی محمد  عبد السمیع صاحب  سلمہ اللہ تعالیٰ سبحانہ نے ایک تقریر اور تحریر دل پذیر یعنی کتاب لاجواب اور صحیفہ لطیفہ انتخاب یادگار خلف و سلف مضمون فائقہ مسمی بہ انوار ساطعہ فی المولود و الفاتحہ تصنیف کرکے ہر خاص وعام کو اس کے فیض سے شادکام کیا چنانچہ ایک نسخہ اس کا پاس راقم الحروف کے پہنچانحیف نے وہ کتاب من اولہ إلی آخرہ بالتفصیل دیکھی،واہ واہ سبحان اللہ کیا عمدہ طرزجواب اور طریقہ آداب جاری رکھا ہے اور کلمات اکابرمقتدایان گروہ مخالفین سے جن کی مخالفت ان پر حرام ہے جواب میں تمسک کیا ہے مصنف نے حق جواب دنداں شکن کا ادا کرکے دریائے نور الانوار الساطعہ بہا کر نہر لمعات کی کھولدی اس پربھی اگر پیاس تشنگان میدان مخالفت کی باقی رہی تو خدا حافظ   ؎
تہی دستانِ قسمت  را چہ سود  ازرہبرکامل
کہ خضراز آب حیوان تشنہ می دارد سکندررا
و للہ در المجیب فذاک جواب عجیب و آخر دعوانا أن الحمد للہ رب العالمین و صلی اللہ تعالیٰ علیٰ خاتم النبین و آلہ و أصحابہ أجمعین فقط 
و أنا العبد أبو النعمان محي الدین
محمد  إعجاز حسین مجددي  عفي عنہ و عن والدیہ و المسلمین بحق خاتم النبین 

(۶)		از:  بریلی
صورۃ ما رصعہ الطمطام الغزیر و الصلہام الکبیر مفحم المناظرین مسکت المجادلین مروج عقائد الحق و الدین قالع أصول المبتدعین فرید العصر و حید الزمان مولانا محمد  أحمد رضا خان  سلمہ اللہ العزیز الرحمن و صان عن نوائب الزمان و خص بلطفہ ما تعاقب الملوان 
أنوار ساطعۃ سطعت من سنا بدر الإیمان، و أقمار لامعۃ لمعت من سیناء صدر الإیقان، فدارت و سارت، و نارت و أنارت، و إلی البر تدلت، و علی البحر تجلت، فہیجت عبابا، فہیأت سحابا، فھنأ بقاعا، جنأت دفاعا، و أرسلت عرفا، و عصفت عصفا فحملت وقرا، فأجرت یسرا، فقسمت أمرا، فأقطرت قطرا، فأمطرت مطرا، إن الحمد للہ رب العالمین، و الصلاۃ و السلام علی سید المرسلین محمد  و آلہ و صحبہ أجمعین  رب صلاۃ و سلاما   یعقدان دواما مجالس الأنس في حظائر القدس، لتبجیل مکانہ، و یقومان قیاما، لوعۃ و غراما، في مجامع الأملاک، و محافل الأفلاک، بتعظیم شأنہ، و سقی اللہ ذو الجلال بزلال الأفضال، تربۃ من قال :
قلیل بمدح المصطفیٰ الخط بالذہب
ء
علی فضۃ من خط أحسن من کتب
و أن ینہض الأشراف عند سماعہ
ء
قیاما صفوفا أو جثیا علی الرکب
و قلت مضمنا :
سواد عیون العین عین و سنا ذہب
ء
و لوح نحور الحور لاح کما یحب
فان یمل جبریل لقال أولو الأدب
ء
قلیل بمدح المصطفیٰ الخط بالذہب
علی فضۃ من خط أحسن من کتب
یقوم بحق المدح قوم فلاتہ
ء
تولہ و قم بالوجد قومۃ والہ
فحق خضوع الوجہ رغما لکارہ
ء
و أن ینہض الأشراف عند سماعہ
قیاما صفوفا أو جثیا علی الرکب
و بعدہ فاستمع یا سعد! إن الذي لا قبل لہ و لا بعد، قد قضی قبل خلق السماء و صوت الرعد، إن الواجب علی کل من عبد، بعد ذکر الصمد، العمد و الصمد، إلی المدح و الحمد، لأعظم کرم، و أکرم نعم، و أجل رحمۃ، و أجلی منۃ، سید الرسل، و ہادي السبل، و إمام الکل، و مکثر القل، رافع الغِل، دافع الضل، امجد مولود، أحمد محمود، أسعد مسعود، وجود الجود، و أصل الوجود، نعمۃ الجلیل، و دعوۃ الخلیل، و بشر المسیح، و بشر الذبیح و بغیۃ الکلیم، بوادي التکلیم، و أکرم کریم، علی ربہ العظیم سیدنا و مولانا محمد  النبي الأمي الأمین، الأمان الأمان، الضمان الضمین   صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم و علیٰ آلہ و صحبہ و بارک و عظم  و قد قال عز من قائل : ألم تر إلی الذین بدلوا نعمۃ اللہ کفرا، نعمۃ اللہ محمد    صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم ، قال ابن عباس  رضي اللہ تعالیٰ عنہما  أخرجہ البخاري في الصحیح العلم، و قال تعالیٰ : و أما بنعمۃ ربک فحدث، فوجب التحدیث بما من اللہ بہ علی المومنین، من وجود ہذا الحبیب المکین  علیہ الصلوٰۃ و علی آلہ الطیبین ۔ و قال تعالیٰ : و ذکرہم بأیام اللہ، و أي أیام اللہ أعظم من یوم ولادۃ المصطفیٰ   علیہ أفضل الصلوٰۃ و أکمل الثنائ  و قال تعالیٰ : قل بفضل اللہ و برحمتہ فبذلک فلیفرحوا، و من عقائد الإیمان أن محمد ا   صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم  رحمۃ المنان، شہد بذلک الحدیث و القرآن، و کذلک فضل اللہ محمد    صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم تسلیما جلیلا  حکاہ الم اور دي في قولہ تعالیٰ : و لو لا فضل اللہ علیکم و رحمتہ لاتبعتم الشیطان إلا قلیلا۔ فقد أوجب المولیٰ   سبحانہ و تعالیٰ  علی أمتہ، الفرحۃ بولادتہ، فحق لنا أن نتخذ مولدہ عیدا، و إن رغم أنف من کان بعیدا، و علی ہذا مضی جہابذۃ الأئمۃ، و سادۃ الأمۃ، و کاشفوا الغمۃ  علیہم من ربہم رضوان و رحمۃ  حتی جاء قوم یقروؤن القرآن لا یجاوز تراقیہم، و یتحدثون بالحدیث فلا یکون راقیہم، أصلوا أصولا، ضللت المسلمین قادۃ و تبعا، و فصلوا فصولا ففرقوا دینہم و کانوا شیعا، و کان مخرجہم نجد، کما جاء بہ الوعد، من صاحب المجد  صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم  فہاجوا و ماجوا، و ثاروا و باروا، و جاروا و حاروا، و علی الحرمین المحترمین أغاروا، فالدماء سفکوا، و الأموال ملکوا، و المؤمنین فتکوا، و الحرمات ہتکوا، فظنوا ان أہلکوا و ما ہم أہلکوا و لکن ہلکوا، و عما قیل یرون ما سلکوا، و کان قصاریٰ مرامہم و قصویٰ مرماہم، و في الشقاق و النفاق ہم ما ہم، ان یخمدوا ذکر من رفع اللہ ذکرہ، و یضعوا قدر من عظم اللہ قدرہ، و یطفؤا نورا من أتم اللہ نورہ یؤذوا المومنین أحیاء و أمواتا، و خالفوا الدین نقضا و اثباتا، فحاربوا جبارا، ملکا قہارا، سرا و جہارا، و لیلا و نہارا، و أصروا إصرارا، و استکبروا استکبارا، و مکروا بالإسلام مکرا کبارا، فالأنبیاء ثلبوا، و الأولیاء سلبوا، و الإسلام خلبوا، و الإلحاد جلبوا، و بالجملۃ کلبوا، فالدین قلبوا، فماذا یراد، بمجلس المیلاد، أو إیصال الأجور إلی أوصال القبور، حتی یعد إنکارہ في مفاسدہم ، و یذکر بجنب مکائدہم، قاتلہم اللہ أنی یؤفکون، و سیعلم الذین ظلموا أي منقلب ینقلبون، فلما أبادہم اللہ تعالیٰ إبادۃ، و أمطر علیہم مطرا الہلاک و زیادۃ، حتی تداعت ربوع نجد للدثور، و تنادت بواکیہا بالویل و الثبور، لجأت بواقیہا إلی دیار شاغرۃ، عطاش الفتن بأفواہ فاغرۃ، و لم تدر ان للہ في کل حین عباد صالحین، یذبون عن الدین ، و یوکدون الیقین، و یؤیدون الإیمان، و یشیدون الإیقان، و للہ المنۃ و منہ الإحسان، فلم یرعہا إلا جنود مجندۃ، بسیوف مہندۃ، من اللہ مؤیدۃ، فردوا المکائد في نحور الکائدۃ، و واعوا المفاسد إلی نار موقدۃ، تطلع منہا علی الأکباد و الأفئدۃ، حتی التجأت کبراہا في الجدل إلی البہت و الإفتراء ، و احتراق الکتب و اختلاف العلماء، و خلع ربقۃ الحیاء، عن ربقۃ الریاء، فیتحیر الناظر، في زیہم الظاہر، و طیہم البائر، و عیتہم الحاسر، و غیہم الخاسر، و کیدہم العظیم، و صیدہم العدیم، فنشید الحکیم   ؎
و لا أدري و سوف أخال أدري
ء
أقوم آل نجد أم نساء
فمن في کفہ منہم خضاب
ء
کمن في کفہ منہم لواء
تظن بداہتہ فیہم رشیدا
ء
و ان تمعن فرشدہم ہباء
فما فیہم رشید الصدق إلا
ء
رضیع أو تبیع أو غداء
فما معنی تج اور ہم و لکن
ء
عسی الحنان یہدي من یشاء
 ہذا و ان من أولئک الجنود، مہلکي العنود، في الزمان الموجود، أخانا في اللہ ذا الفضل و الجاہ، و القدر الرفیع، و الفجر الوسیع، و الحکم الوکیع، و الجد المنیع، و المجد السنیع مولانا المولوي محمد  عبد السمیع  صین عن کل شنیع، و فزع فظیع، کل مساء و سطیع  فإني وقفت علی بعض مالہ من اطائب الکلام، فوجدت جلہ دافع الأوہام و راحت القلوب بنہج محبوب و أنوار ساطعۃ و حجج قاطعۃ فاللہ یجزیہ الجزاء الحسن بمنح المنح بمنع  المحن، و الحمد للہ في السر و العلن، و الصلوٰۃ و السلام علی السید الأمن، و آلہ و صحبہ محاۃ الفتن، و حماۃ السنن، و ہداۃ السنن، ما طلع سہیل من الیمن۔
قالہ بفمہ و رقمہ بقلمہ عبدہ الفقیر الذلیل الحقیر
عبد المصطفیٰ أحمد رضا 
المحمّدي السني، الحنفي، القادري، البرکاتي، البریلوي
  غفر اللہ لہ و حقق أملہ، و أصلح عملہ، و لم شتہ و في الصلحاء بعثہ  آمین۔

تقریظ جناب مولوی احمد رضاخاں صاحب
ترجمہ: ایمان کے چاند کی چمک سے روشنیاں اٹھیں، اور سیناے سنیّۂ یقین کے پہاڑ سے چمکتے ہوئے چاند روشن ہوئے، پھر دورہ کیا انھوں نے اور سیرکی اور خود روشن ہوئیں اور دوسروں کو بھی روشن کیا، جنگل کی طرف جھکیں، اور دریاپر جلوہ کیا،پھر بہت پانی کا جوش ابھارا، اور ابر تیارکیا اور خوش خبری دی قطعاتِ زمین میں، باغوں اور میدانوں کو لالہ زار کر دیا، پے درپے ہوائیں چلائیں اور زور سے جھونکے دیے،پھر اس نے بوجھ اُٹھوایا اور اس کو نرمی سے چلایا،پھر کاموں کی تقسیم کی،تو بوندیں ٹپکائیں پھر مینہ برسائے، بلاشبہ حمد وستائش کی سزاوار وہی ذات ہے جو دنیا جہاں کی پالن ہار ہے اور درودوسلام کے تحفے آقاے کریم صلی اللہ علیہ وسلم پرنچھ اور ہیں۔ اے پروردگار! (اپنے احمدحبیب مختار)پروہ درودوسلام نازل فرماجن سے پاکیزہ مقامات میں عظمت محمدی کی سربلندی کے واسطے اُنس کی محفلیں منعقد ہوتی رہیں اور عشق ومحبت اور قلبی جھکاؤ کے ساتھ بصدتکریم نوریوں کی انجمن اور آسمان کی محفلوں میں قیام ہوتارہاہے۔ اللہ تعالیٰ اس شعرکے کہنے والے کی تربت آب ہاے زلال افضال سے سیراب کر دے۔
اگرکوئی ماہرخطاط ورق سیمیں پر آب زریں سے نعت مصطفی  صلی اللہ علیہ وسلم رقم کرے توبھی کم ہے اور حق نعت ادا ہونے سے رہا۔ اور اہل شرف ومجد مدحِ حبیب کی تعظیم میں صف بستہ اور گھٹنے کے بل کھڑے ہوئے تب بھی سماعِ نعت کا حق کماحقہ ادا نہ ہوا۔
 اور میں نے اس پرتضمین کہی ہے  :
حورِعین کی آنکھوں کی سیاہی اگرآب زریں بن جائے اور ان کے سینے خوبصورت تختیاں بن جائیں اور جبرئیل امین اس پرحرفِ نعت اجالیں (تب بھی نعت گوئی کا حق نہیں ادا ہوسکتا)  اور شاعر وافر تمیز کہ اٹھے گا:  قلیل لمدح المصطفیٰ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ذرادیکھو! سرکار کی مدحت ونعت تعظیم تمام کے ساتھ وجد میں آ کر اور والہ وشیفتہ ہو کر لوگ کس طرح کر رہے ہیں تو تمہارے لیے اس سے غفلت زیبانہیں ہے۔سچ یہ ہے کہ مدح یوں ہی ٹوٹ کرکرنی چاہیے،خواہ جلنے والے غیظ میں جلتے مرتے رہیں کہ و أن ینہض الأشراف۔۔۔۔۔۔۔۔۔
   حمد و صلاۃ کے بعد، اے بلند بخت سن!  اللہ تعالیٰ آسمان کے پیداہونے سے پہلے یہ حکم دے چکاکہ تمام عبادت کرنے والوں پر واجب ہے کہ خداے پاک کے ذکر کے بعد سرور عالم  صلی اللہ علیہ وسلم کی مدح ونعت کیا کریں۔ رسول کریم  صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی بڑی بخشش وجود، نعمت فراواں،رحمت بیکراں اور واضح خوبیوں کی حامل ہے۔ انبی اور سل کے سردار،نیک راہ بتانے والے، سب کے امام وپیشوا، قلت کو کثرت سے بدلنے والے،قید کابند اٹھادینے والے، گمراہی دور کرنے والے احمد ومحمودامجد مولود اسعد مسعود بخشش کے سرچشمہ،وجود کے منبع،خداکی نعمت، دعاے خلیل، بشارت عیسیٰ، نوید ذبیح،تمناے کلیم،اپنے رب کے تئیں بڑی عظمت وکرامت والے سیدناومولانامحمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم  ہیں۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: أ لَمْ تَرَ إلَی الَّذِینَ بَدَّلُوا نِعْمَۃَ اللّٰہِ کُفْرًا۔کیا تم نے انھیں نہ دیکھا جنھوں نے اللہ کی نعمت ناشکری سے بدل دی۔
صحیح بخاری میں ہے کہ اس آیت کی تفسیر میں ابن عباس  رضی اللہ عنہما  نے فرمایاکہ نعمۃ اللہ محمد   صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔
 اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا:  وَ أمَّا بِنِعْمَۃِ رَبِّکَ فَحَدِّثْ۔ اور اپنے رب کی نعمت کا خوب چرچا کرو۔تورحمت عالم  صلی اللہ علیہ وسلم  کے وجود مبارک کی شکل میں اللہ تعالیٰ نے مومنین پر جو احسان عظیم فرمایا ہے اس کا چرچا ہم پر ضروری ہے۔ 
 اور اللہ نے فرمایا:  وَ ذَکِّرْہُمْ بِأیَّامِ اللّٰہِ۔ اور انھیں اللہ کے دنوں کی یاد دلاتے رہو۔ توسرکاردوعالم نورمجسم  صلی اللہ علیہ وسلم کے یوم ولادت سے بڑھ کر اور کون سا دن بڑاہو گا۔
 اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: قُلْ بِفَضْلِ اللّٰہِ وَ بِرَحْمَتِہٖ فَبِذٰلِکَ فَلْیَفْرَحُواتم فرماؤاللہ ہی کے فضل اور اسی کی رحمت اور اسی پر چاہیے کہ خوشی کریں۔
اہل ایمان کا ہمیشہ سے یہ عقیدہ رہاہے کہ نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم رحمت ربانی اور فضل الٰہی کاسرچشمہ ہیں اور قرآن وحدیث اس پرگواہ ہیں جیساکہ م اور دی نے رب تعالیٰ کے اس قول:  وَ لَو لاَ فَضْلُ اللّٰہِ وَ رَحْمَتُہُ لاَتَّبَعْتُمُ الشَّیطَانَ إلاَّ قَلِیلاًکی تفسیر میں نقل کیا ہے کہ فضل اللہ ،محمد   صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ تو گویا اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب اعظم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت پر اظہار مسرت امت پر واجب فرمادیاتو ہمیں چاہیے کہ ہم سرکار کے مولود مبارک کو عیدبنالیں، اور امت کے بڑے بڑے ائمہ کایہی موقف رہاہے اللہ انھیں رحمت ورضوان سے نوازے پھر کچھ ایسے لوگ پیدا ہو گئے جو قرآن پڑھتے ہیں مگر ان کے گلے سے اوپرنہیں چڑھتا،حدیث پڑھتے ہیں مگر اس سے نفع اندوز نہیں ہوپاتے، ان لوگوں نے ایسے قاعدے گڑھ لیے ہیں جن سے ان کے سب خادم ومخدوم گمراہ ہو گئے اور ایسے دستور وضع کر لیے جس سے ان کے دین میں بگاڑ پیداہو گیا حالاں کہ وہ بظاہر پیروانِ دین سے گنے جاتے ہیں۔ ان کی اصل نکاسی نجد سے ہوئی جیسا کہ غیب داں نبی  صلی اللہ علیہ وسلم نے پیش آگاہی فرمادی تھی کہ یہاں سے زلزلے اور فتنے رونماہوں گے تو وہ لوگ نجدسے موج درموج نکلے،ظلم وتعدی کا بازار گرم کیا، لوٹ مار عام کر دی، اور حرمین شریفین پر چڑھائی کر دی،خونِ ناحق کی ندیاں بہائیں،مالوں پر قبضے جمائے، اور مسلمانوں کو ہلاکت کے گھاٹ اتارا،قابل عظمت چیزوں کے تاروپودبکھیرکر رکھ دیے، اپنے زعم میں وہ مسلمانوں کونابود کرچکے مگرہلاکت ان کے قریب بھی نہ آئی، در اصل یہ لوگ خود ہی لقمہ ہلاکت بن گئے، اور قیامت کو اپناکیا پائیں گے۔ ان کا اصل مقصدیہ تھا کہ وہ اس ذکر کوگل کر دیں جسے اللہ بلندفرماناچاہتا ہے،فرمایاحق تعالیٰ نے :  وَرَفَعْنَا لَکَ ذِکْرَکَ۔ اور ناقدری کریں ان کی جن کی قدرومنزلت اللہ نے بڑھائی ہے: وَ تُعَزِّرُوہُ وَ تُوَقِّرُوہُ۔ اور بجھادیں ان کا نور جن کو فرمایا:وَ اللّٰہُ مُتِمُّ نُورِہٖ وَ لَو کَرِہَ الکَافِرُونَ۔  اور زندہ مردہ مسلمانوں کو ایذا پہنچائیں تو ان لوگوں نے یہ لڑائی در اصل اللہ  عزوجل  سے باندھی، انبیا کی بے ادبی، اولیا کی ناقدری، اسلام کی تراش خراش اور دامن الحاد میں بودو باش! گویادین ہی اور ہو گیا،پھر مجلس میلاد کا انکار، اور ایصال ثواب سے بیزاری چہ معنی دارد؟ اللہ ان کی تہمتوں کا انھیں خمیازہ چکھائے۔عنقریب یہ عقل کے دشمن جان لیں گے کہ وہ کس کروٹ گرتے ہیں۔ 
خلاصہ کلام یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے ان کو ہلاکت کی وادی میں اتاردیا اور نجد میں کہرام مچ گیا،تب بقیہ ماندہ دور درازشہروں میں پھیل گئے، ان کی کھوپڑی میں یہ بات نہ آئی کہ ہر وقت میں اللہ تعالیٰ کے کچھ نیک بندے اور برگزیدہ بندے رہے ہیں جو ایمان ویقین کی کشت کوشاداب رکھتے اور دین متین کی حفاظت میں سرگرداں رہتے ہیں تو اللہ کا شکر واحسان کہ ان کے واسطے بھی اللہ نے جھٹ ایسی فوجیں تیارکر دیں جنھوں نے اللہ کی طرف سے تائید یافتہ شمشیربراں کے ذریعہ مفاسدومکائد کے پرخچے اڑادیے اور ان کی فتنہ سامانیوں کو آتش سوزاں کی نذر کر دیا،تب ان کے بچے بچائے اس بات پر آئے کہ جنگ وجدل اور بہتان وافترامیں حد سے گزرگئے،کتابیں گڑھ ڈالیں، نئے نئے ملا پیداکیے اور شرم وحیاکا قلادہ اُتارپھینکا، ایک ظاہربیں ان کاظاہری پوشاک اور پرمطلب اخلاق و کردار دیکھ کر حیرت میں پڑجاتا ہے۔سچ یہ ہے کہ وہ دلیلوں سے بالکل بے چارے اور ہارے ہوئے مگر بیوقوفوں کے بہکانے اور پھسلانے پرتیار اور بڑے مغالطہ باز اور مکاروعیار ہیں۔کسی داناے راز نے درست فرمایا ہے :
مجھے نہیں معلوم کہ یہ نجدی مرد ہیں یا عورتیں۔ جن کے ہاتھ حناآشناہیں اور جن ہاتھوں میں نیزے حمائل ہیں کیاوہ برابرہوسکتے ہیں ؟
اگرتم ان میں کسی کو بہ نظر ظاہر رشیدخیال کرو تو ادنیٰ تامل کے بعدمعلوم ہو جائے گا کہ رشد نے انھیں چھواتک نہیں۔
غرض کہ ان میں کوئی رشدسچانہیں سب کے سب دغاباز،غارت گر اور مکارہیں۔
پھراگر ان لوگوں نے جوروجفا اور ظلم وستم کیا تویہی ان کے لائق تھا۔اللہ انھیں ہدایت سے نوازے۔
الحاصل! دوفوجیں جنھوں نے منکرین کو ٹھکانے لگادیا،ان میں سے اس زمانہ میں ایک ہمارے دینی بھائی صاحب عظمت وکرامت اور بہت ساری خوبیوں کے مالک مولانامولوی محمد  عبد السمیع صاحب ہیں  اللہ انھیں تمام آفات وخرافات سے بچائے مجھے ان کے کچھ پاکیزہ کلام مثلا:’’ دافع الاوہام‘‘،’’ راحت القلوب‘‘ اور ’’ انوار ساطعہ‘‘ دیکھنے کا اتفاق ہوا جنھیں میں نے اسم بامسمّٰی پایا۔ اللہ تعالیٰ مصنف کو بہترین جزاعطافرمائے۔ اور ظاہر وباطن ہرحال میں اللہ کا شکرکرتاہوں۔اے اللہ !اپنے حبیب اعظم ا اور ان کی اولادواصحاب پر لگاتاردرودوں کے پھول اور سلاموں کے گجرے نچھ اور فرما جب تک ستارۂ سہیل وادیِ یمن میں چمکتادمکتارہے۔
اسے اپنے منہ سے کہا اور خود سے لکھا اللہ کے بندۂ فقیر ذلیل وحقیر
 عبد المصطفیٰ احمدرضامحمدی سنی حنفی قادری برکاتی بریلوی نے
اللہ اسے بخشے،مرادرسافرمائے اور بروزمحشرصلحاے امت میں اٹھائے۔آمین۔

(۷)	از : بدایوں 
صورۃ ما  زینہ  نبراس  المؤمنین منور الإسلام  و الدین کاشف الظلام کالبدر التمام داعي الأنام إلی سبیل السلام الزاہد المتورع العابد المتبرع جامع العلوم العقلیۃ و النقلیۃ کاشف المکنونات الخفیۃ الحاج المولوی عبد القادر لا زال بالمعالي و المفاخر۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم رسائل راحت القلوب ودافع الاوہام و انوار ساطعہ وغیرہا مولفات حضرت بابرکت عاشق اذکار جناب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم و حامی دین قویم وصراط مستقیم حاج الحرمین الشریفین فاضل نامی ومتورع گرامی مولانا محمد عبد السمیع صاحب زادبرکاتہم کہ ہم درفضائل و کمالات جناب حضرت خاتم الانبیاء والمرسلین  صلی اللہ علیہ وسلم تالیف فرمودہ اند وہم دردفع اوہام منکرین مجالس اذکارشریفہ و دیگر اُمور مثوبات لطیفہ تصنیف نمودہ مطابق و موافق تحقیقات جمہورمحققین از فقہاو محدثین اند منکران کہ براہِ خدیعت وخیانت کہ شعار طوائف اہل ضلالت ست طعن وتشنیع جاہلانہ می نمایند عوام اہل اسلام براں گوش نہ نہند و سعادت اتباع جمہور ائمہ دین را از دست ندہند حق سبحانہ مولف ممدوح را برکات دارین عطافرماید وخاتمہ فقیروجملہ اہل اسلام بخیرنمایدآمین۔
حررہ الفقیراحقر الطلبہ  :  عبد القادر عفی عنہ 
تقریظ حضرت مولاناعبد القادربدایونی
ترجمہ:  حضرت بابرکت عاشق اذکار جناب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم و حامی دین قویم وصراط مستقیم حاج الحرمین الشریفین فاضل نامی ومتورع گرامی مولانا محمد عبد السمیع صاحب  زادبرکاتہم کی تالیفات ’’راحت القلوب‘‘ و’’دافع الاوہام‘‘ اور ’’ انوار ساطعہ‘‘ وغیرہ جوجناب حضرت خاتم الانبیاء والمرسلین  صلی اللہ علیہ وسلم کے فضائل وکمالات سے متعلق ہیں اور اوہام منکرین مجالس اذکارِ شریفہ کودفع کرنے اور دیگرافعال خیر کے سلسلہ میں تالیف کی گئی ہیں فقہاء ومحدثین میں سے جمہورمحققین کی تحقیقات کے مطابق وموافق ہیں۔گم راہوں کی طرح خیانت ودھوکہ دہی اور جاہلانہ طعن وتشنیع کرنے والے منکرین کی باتوں پرعوام اہل اسلام کو بالکل کان دھرنے کی ضرورت نہیں۔ اور اتباعِ جمہورِ ائمہ دین کی سعادت کوہاتھ نہ جانے دیں۔اللہ تعالیٰ مولف ممدوح کودارین کی برکتوں سے سرفراز فرمائے اور فقیروجملہ اہل اسلام کاخاتمہ بالخیر فرمائے۔ 

(۸)		از : ممبئی
صورۃ ما أفادہ القلہُد الکبیر و الغطمطم الغزیر محقق العلوم العقلیۃ مدقق الفنون النقلیۃ الشیخ الأجل الأفل البحر الأوحد الأکمل الصوفي المقتفی بآثار رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  مولانا الحاج مولوی عبید اللّٰہ الحنفي القادري البدایوني المدرس الأعلی للمدرسۃ المحمد یۃ الواقعۃ في بلدۃ بمبئي  خصہ اللہ دائما بفیضہ الجلي و الخفي ۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم 
الحمد لمنیر أنار الحق لأہلہ فغدت أنوارہ علی منار الہدی ساطعۃ، و منور نور الصدق بتنویر أبصار أولي الأبصار  فأصبحت مصابیحہ من مشکوٰۃ صدورہم لامعۃ، و الصلوٰۃ و السلام علی سیدنا محمد  مفتاح خزائن العلوم الذي إشاراتہ لکنوز الحقائق فاتحۃ، و مصباح دفائن الفہوم الذي تری الأفہام بلمعاتہ دقائق المعاني علی صفحات البیان لائحۃ، و علی آلہ و أصحابہ الذین بذلوا مہجہم الکریمۃ  لبہیج الدین فتباہجت روضۃ منمنۃ یانعۃ، دریت بمساعیہم الجمیلۃ شقائق الحقائق فزاہا تزہو علی رُبا الإسلام رائقۃ رائعۃ، أما بعد فإني قد تشرفت بمطالعۃ ہذہ الصحیفۃ الشریفۃ، و سرحت نظري في مضامینہا العجیبۃ اللطیفۃ، فوجدتہا باللہ کاسمہا أنوارا ساطعۃ، و رأیت نجوم الہدی من بین أسطارہا طالعۃ، تہدي إلی الحق لکل ضالۃ غویۃ، و تہدي الصواب إلی کل ذي فطرۃ سویۃ، ما من مسئلۃ إلا و ترکتہا واضحۃ جلیلۃ، و لا من معنی إلا و کستہ ببیانہ الحلی حللا سند سیۃ، جمعت من المطالب رعي اللہ منشئہا کواکب دریۃ، و نظمت من المآرب  حمی اللہ موشیہا جواہر مضیئۃ، تہدلت أفنانہا بفنون الفوائد وترنحت أغصانہا بعیون العوائد، تقر ببہجتہا النواظر، و تسر بنزہتہا الخواطر کیف لا و ہي روضۃ رضیۃ مزہرۃ بأزہار التحقیق، و حدیقۃ ندیۃ منورۃ بأنوار التدقیق، طوبی لواردہا موردا ہنیا و بشری لناظرہا منظرا سنیّا، فما لہولاء القوم عنہا راغبون، و یمرون علیہا و ہم عنہا معرضون، و قد حق لہا أن تترنم علی قصباتہا بالقبول عنادل فہوم الفحول، و بلابل العقول، جزی اللہ ممھدہا جزاء موفورا و جعل سعي منضدہا سعیا مشکورا۔
حررہ و أملاہ العبد الأوّاہ الراجي رحمۃ مولاہ عبید اللّٰہ 
 عفا عنہ ماجناہ و حماہ بحماہ عما لا یرضاہ و سلکہ فیما یحبہ و یرضاہ 
تقریظ جناب مولوی عبید اللہ صاحب قادری بدایونی
ترجمہ:سب تعریف اس کو ہے جس نے حق والوں کے لیے حق روشن کیا توہدایت کے مینار پراس کی روشنیاں بلند ہو گئیں۔ اور اہل بصیرت کی آنکھوں کو روشن کرکے صدق کوروشن کیاتو راستے کے چراغ ان کے سینوں میں چمکنے لگے۔ اور درودو سلام ہمارے سردار محمد  اپر جو علوم کی کنجی ہیں ایسی کنجی جس سے اشاروں میں حقیقتوں کے خزانے کھلتے ہیں اور ایسے چراغ ہیں جس کی روشنی میں معانی کے دقائق صاف نظر آتے ہیں۔ اور آپ کی آل اصحاب پر جنھوں نے دین کو رونق بخشنے کے لیے اپنی جانیں کھپا دی تھیں تو خوب رونق پر آیا اس کا نگارین باغ پھلا ہوا، اور ان کی سعی سے حقائق کاگل لالہ پھولا۔ تو اب اسلام کے بلند مکانوں پر خوش نما پھول کھلے ہوئے دیکھو۔حمدوصلاۃ کے بعد عرض ہے کہ میں اس صحیفہ شریف کے مطالعہ سے مشرف ہوا اور میں نے اپنی نظر اس کے مضامین لطیفہ کی سیر میں چھوڑ دیا۔ اللہ کی قسم میں نے انوار ساطعہ کو اسم با مسمی پایا۔ میں نے اس کی سطروں میں ہدایت کے تارے چمکتے دیکھے ہیں،ہر بھٹکتے کو اس سے راہ ملتی ہے،ہر اچھی سمجھ والا اس سے راہِ صواب پاتا ہے،ہر مسئلہ کا اس میں شافی بیان ہے اور اور ہر معنی کو شیریں بیانی سے خلعت زیبا پہنایا ہے۔ اس کتاب میں کیا چمکتے ستارے جمع ہیں  اللہ اس کے مصنف کا نگہبان رہے  اور کیا جواہرمضیئہ اس پر جڑ دیے ہیں اللہ اس کے سجانے والے کی حمایت کرے۔اس کی گراں باری کثرت فوائدسے ٹہنیاں نیچے جھک گئیں۔ اور شاخین اس کی عمدہ منافع کے بوجھ سے لچکنے لگیں، اس کے رونق جمال سے آنکھیں روشن ہوتی ہیں اور اس کی خوبی سے دل خوش ہوتے ہیں، اور کیوں نہ ہوں کہ وہ ایک باغ ہے جس میں تحقیق کی کلیاں لگی ہیں، اور تدقیق کے پھول کھلے ہیں۔ خوش خبری ہے اس کو جو اس باغ میں آئے اور نظارہ کا مزہ پائے۔نہیں معلوم کیا ہوا اس قوم کو جو اس سے بے رغبت ہیں اور اس پر چلتے ہوئے کتراتے ہیں اور یہ اس قابل ہے کہ عقل کی بلبلیں اس کی ٹہنیوں پر چہچہا کریں۔اللہ اس کے آراستہ اور مرتب کرنے والے کو جزاے خیر دے اور سعی کو مشکور فرماوے۔
لکھا اس تقریر کو امیدوار رحمت اور بندہ اواہ عبید اللہ نے اللہ اس کی خطا معاف فرمائے اور نامرضیات سے بچائے اور اپنی اپنی پیاری مرضیات کے راستہ پر چلائے۔

(۹)		از: ممبئی
صورۃ ما قرظہ العابد الزاہد المرتاض العارف المرشد الفیاض ہادي السالکین مرشدا لناسکین المولوي الصوفي السید عماد الدین الرفاعي النزیل بمحلۃ بھندي بازار  أجر اللہ فیوضہ الباقیۃ الصالحۃ إلی یوم القرار 
الحمد للہ الذي بعث رسولا في الأمیین و فضلہ علی الأنبیاء و المرسلین و جعل میلادہ رحمۃ للعالمین، و أنزل الفاتحۃ شافیۃ للمؤمنین، و الصلوٰۃ و السلام الأتمان الأکملان علی سیدنا محمد  شفیع المذنبین، و آلہ الطیبین، و أصحابہ المہتدین أجمعین۔ أما بعد فرأیت الرسالۃ النافعۃ ’’الأنوار الساطعۃ في بیان المیلاد و الفاتحۃ ‘‘ التي ألفہا الفاضل الأجل المنیع، المولوي محمد  عبد السمیع  سلمہ اللہ تعالیٰ و جزاہ خیر الجزائ  فوجدتہا مشتملۃ علی الأدلۃ القویۃ و الروایات الصحیحۃ الفقہیۃ  جعل اللہ سعیہ مشکورا و نفع بہ المسلمین موفورا  و من أنکر الفاتحۃ و مجلس المیلاد فہو من المتوہبین المضلین، تاب علیہم خیر التوابین، و آخر دعوانا أن الحمد للہ رب العالمین۔
کتبہ العبد المسکین  السید عماد الدین الرفاعي
 کان اللہ لہ کما کان لأسلافہ، و عفا عنہ و عن والدیہ و أخلافہ 
تقریظ جناب مولوی سید عماد الدین صاحب رفاعی
ترجمہ:  اللہ کا شکر جس نے ان پڑھوں میں رسول بھیجا اور اس کو سب پیغمبروں پر بزرگی بخشی اور ان کے میلاد کو تمام عالم کے لیے رحمت کیا اور اس نے جملہ مومنین کو شفا دینے والی فاتحہ نازل فرمائی۔ اور پورا پورا درودو سلام ہمارے سردار محمد  شفیع المذنبین پر اور سب آل پاک اور اور اصحاب ہدایت پر۔ اس کے بعد کہتا ہوں کہ میں نے رسالہ نافعہ ’’انوار ساطعہ‘‘ دیکھا جس کو بڑے فاضل مولوی عبد السمیع نے تالیف کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کو سلامت رکھے اور اچھی جزا عنایت کرے۔میں نے اس رسالہ کو قوی دلیلوں پرشامل پایا۔ اللہ تعالیٰ ان کی سعی کو مشکور فرمائے، اور جو کوئی فاتحہ اور مجلس میلاد شریف کا انکار کرے،وہ فرقہ وہابی اور گمراہوں میں ہے اللہ اس کو تو بہ نصیب کرے۔ اب ہم آخیر میں پڑھتے ہیں الحمد للہ رب العالمین۔
لکھا اس کو بندۂ مسکین سید عماد الدین رفاعی نے  اللہ اس کے لیے ایسا ہو جائے جیساکہ اس کے بزرگواروں کا ہوا تھا اور اس کے ساتھ اس کے والدین اور پیچھے آنے والوں کی تقصیرمعاف فرمائے۔

(۱۰)	از:حیدرآباد دکن۔
صورۃ ما رقمہ المنطیق الکیّس الخبیر النحریر الجہیذۃ البصیر الناظم الناثر المنشیء الأدیب الفلسفي الحکیم الطبیب کثیر التألیف جید التصنیف مولانا وکیل أحمد نائب صوبہ شرقي دکن   صانہ اللہ ذو المنن عن نوائب الزمن و حوادث الفتن 	
بسم اللہ الرحمن الرحیم
ستایش مرشارعے راکہ شارع عام شریعت را از خاشاکِ بدعت و ہوا پاک رفتہ، تا در فضاے ایں گلستان ہمیشہ بہارہزاراں گل ہدایت در شگفتہ، و نیایش مرمفتی راکہ قانونِ اسلام را در کشورستان قلوب اہل ایمان رائج فرمودہ، وازمیامن فیوض ایں معنی ابواب تحقیق کمالات برخواطر آل واصحاب برکشودہ۔ اما بعد بندہ درگاہ احدوکیل احمد سکندرپوری مولدا و الحنفی مذہبا و النقشبندی مشربا می گوید کہ برضمیر منیر اشراقات تنویر ارباب فضل وہنر محتجب نخواہد بود کہ ارتکام ظلام بدعت وہویٰ آفتاب ہدایت راآں قدر تاریک نہ ساختہ کہ طیرانی ذرات حقائق را ببال افشانی از پادرنیارد و خاشاک افشانی صرصرایں وادی چنداں برطرق اسلام خس خاشاک نیفشاندہ کہ سالک مسالک شریعت را پابسنگ درنیاید، روزافزونی قدر ارج ایں سنگریزہاکسادبازاری، متاع جوہرتحقیق، ووسوسہ انگریزی خیالات ایں موسوساں برہمزنی خانماں تصدیق، چہ روزگار عبرت انگیزاست کہ حکمت دراں در ضلالت افتادہ اند، و چہ زمانہ حسرت خیز است کہ جہالت پروراں در ابحاث متین حکمت آمادہ،حرفی نخواندہ اند و بدعوی تحقیق رسیدہ اند،معنی نذریافتہ اندوبدم کہنہ تلاشی مضمون آشناگردیدہ، معانی کہ بضابطہ شریعت نبوی وفاق دارند، بہ ابتداع آں قائل اند، وامورے کہ درتحت  من سن سنۃ حسنۃ داخل اند بتحریم آں مائل اند، کوہمتے کہ در مسالک ایں وادی سلوکت درزود کجا زہرہ کہ از پائے مخائل و اوہام غابات ایں فیانی را در نوردوبحمد اللہ و بمنہ مصنف ایں انوار ساطعہ چہ سحر بردہ، و چہ اعجازدمی بہ پایۂ بیان در آوردہ، کہ از سطوع انوارش بردیدہ بے بصران حکم خفاش درست آمد، و از لموع لمعاتش آب درچشمہ آفتاب می لرزد،الحق نور را باظلمت تضادے تمام متحقق بودکہ چوں تنویرات شعشانی آفتاب از مشرق نہاریت پرتوانگیزاں گردد، زلف لیلاے لیل راچہ یارا کہ باختراق بازی جمراتش بال کشاید، مرغان اسولہ معترضان درچنگال اجوبہ ایں رسالہ صید بازی شہباز وفرجگان نمودہ، و قامت اعتراض مانند خاروسرنکشیدہ کہ جلاداں توقیع از شمشیر اشارت فرقش را نہ بریدند،ازگل چینیش خاروخاشاک بدعات بریدہ شد واز نضارت فرمایش گلشن کدۂ ہدایت شگفتہ، نخل فقاہت از ریشہ دوانی معانیش درعسل جوشی اجتہاد،وگلبن شریعت ازبہار افروزی نسیم کلامش درعطر ریزی ریاض اعتقاد، ازافتتاح فاتحہ کلامش معنی فتوحات حاصل، واز نورباریِ یواقیت اسرارش دیدہ کو رسوادان عاطل، عیسیٰ دمے مسائل باریکش مستعد احیاے علوم، و گنج کاوی سینہ الہام رایش قفل کشاے مخازن فہوم، اشعہ لمعاتش سرمہ بیزسواد دیدۂ انوار، معارف فیوضاتش منورقلوب اسرار، توضیح عبارتش تنقیح فرمائے تلویح معانی، ومنارات معانی مطالبش نور الانوار مواطن روحانی درمختارمعاقدبے بہاست، محیط معانی ومدعا ست، کشاف طینتی بیتانش،در مختصر بیانی الفاظ مطول فروش و کان مضمون،فتوح غیب عساکر معانیش در ملک گیرطبل نویدگوے افواج معانی موزوں،چوں تمدیح نثاری ایں رسالہ سترگ درپاس مقام اطناب سرفروددارد اولیٰ آنکہ بدیں مدعا اختتام توصیف کنیم    ع:   قبولِ خاطر اہل ہدیٰ باد فقط

تقریظ مولوی وکیل احمدصاحب سکندر پوری
ترجمہ:  جملہ مدح وستائش اس شارع کوسزاوارہیں جس نے جادۂ شریعت کو خاشاک بدعت وہویٰ سے پاک وصاف کر دیا تاکہ اس فضائے گلستان میں دائمی بہارکے ہزاروں گلدستہ ہدایت مہکتے رہیں۔ اور وہ مفتی بھی پورے طورپرمستحق ستائش ہے جس نے دلوں کی سلطنت پر قانون اسلام کا سکہ رائج کیا۔ اور اس کے فیوض وکمالات کے حصول کے دروازے آل و اصحاب پر وا کر دیے۔ اما بعد!  
بندۂ درگاہِ احد وکیل احمد مولداًسکندرپوری مذہباحنفی اور مشربانقش بندی عرض گزارہے کہ نوری شعاؤں سے منور ارباب فضل وہنر کے ضمیر روشن پر حجت نہ ہو گی کہ بدعت وہویٰ کی ظلمات نے آفتاب ہدایت کواتنا تاریک نہیں بنایا کہ حقیقت کے ذرات کی پرواز کواپنے بال کھولنے سے روک سکے۔ اور اس وادی کے ہواکی خاشاک افشانی کسی طریقہ سے شاہ راہِ اسلام پر خس وخاشاک  نہیں ڈال سکتی کہ راہِ شریعت پر گامزن شخص کے پاؤں کو کہیں کوئی ٹھوکر نہ لگ جائے۔ اس سنگریزے کی بڑھتی ہوئی قدر اَرج،کوٹہ بازاری، جوہرتحقیق کا سامان اور ان ارباب وساوس کے انگریزی خیالات اور گھریلو جھگڑوں کی تصدیق کس قدر عبرت انگیز ہے کہ جس کی وجہ سے اہل حکمت کے پاؤں بھی جادۂ ضلالت پرپڑے۔ اور کس قدر حسرت ناک زمانہ ہے کہ جہالت کی پشت پناہی کرنے والے حکمت کی متین بحثوں میں پڑگئے،حال یہ ہے کہ حروف ابجد سے بھی بے خبر ہیں مگردعویٰ یہ ہے کہ انھیں تحقیق میں کمال حاصل ہے۔ معنی کوخیرآباد کہ چکے ہیں اور مضمون کی بوسیدہ ترجمانی سے آشناہو گئے۔وہ معانی کہ جوشریعت نبوی کے ضابطے پر برابر اترتے ہیں اس کو بدعت کالیبل چسپاں کر دیا، اور وہ امور جو من سن سنۃ حسنۃ کے تحت داخل ہے ان کو حرمت کے چوکھٹے میں فٹ کر دیا۔کس کی ہمت تھی کہ اس وادیِ سلوک اور مشکلات سے بھرے ہوئے ان جنگلات کو اس قدر تیزرفتاری کے ساتھ عبور کرسکے۔ذرادیکھیں کہ اللہ کے فضل واحسان سے مصنف انوارِ ساطعہ نے کیسے ساحرانہ اور اعجازانہ اندا ز میں اس بیابان کو اپنے زورِ بیان سے طے کیا ہے کہ اس کے انوارکی تابندگی سے آنکھیں موند لینے والوں پر ایک طرف توحکم خفاش راست آیا اور دوسری طرف اس کی شعاؤں کی خیرگی سے چشمہ آفتاب کی تابانی بھی لرزاٹھی۔ سچی بات یہ ہے کہ نور و ظلمت میں بہراعتبارتضاد ہے آپ خود دیکھیں کہ شعلہ آفتاب کی چمک جب مشرق سے پرتو انگیز ہوتی ہے تو لیلہ شب کی زلفوں کی کیامجال کہ اس کے مقابلے میں جلنے پر اترآئے اور اپنے بالوں کو کھول دے۔معترضین کے مرغان اسولہ نے اس رسالہ کے بارے میں سوال وجواب کا ایک سلسلہ شروع کرکے شہباز اور ممولے کامقابلہ شروع کر دیا۔لیکن ان کے خار کے مانند اعتراضات کو کبھی سراٹھانے کی ہمت نہ ہوئی کیوں کہ کہیں ایسا نہ ہوکہ جلاد، شمشیر کے اشارے سے ان کے پرخچے اڑادے۔اس کی گل چینی سے بدعت کے خس وخاشاک کاٹ دیے گئے اور فرمایشوں کی تازگی سے گلشن کدۂ ہدایت بہارآشناہو گیا۔ نخل فقاہت اس کی جڑ سے، اس کے معانی کابرتن جوش اجتہاد سے، شریعت کا گلستان بہار کی آمد سے، اس کے کلام کی بادِ نسیم عقیدے کے باغیچہ عطر بیز سے اور اس کے کلام کے آغاز سے فتوحات معانی حاصل ہو گئیں۔باری تعالیٰ کے نور کی برکت سے اس کے یاقوت جواہر اندھوں کی آنکھوں کے لیے دم مسیحا ہیں۔اس کے دقیق مسائل اور اس کے سینہ الہام کی گنج کاوی احیاے علوم کے لیے آمادہ ہے۔ اس کی رائے عقل ودانش کے خزانوں کے لیے قفل کشاہے، اس کے’اشعہ لمعات، دیدۂ انوار کے لیے سرمہ بیز ہیں۔ اس کے فیوض وبرکات کے معارف قلوب اسرار کونوربخشنے والے ہیں۔ اس کی عبارت کی وضاحت تلویح معانی کی تنقیح کرنے والی ہے۔ اس کے مطالب کے معانی کے منار ،نور الانوار ہیں۔ درمختار کے روحانی معرکے بیش قیمت موتیوں کے ہار ہیں۔ معانی ومدعا کا محیط سرشت بیتان کے لیے کشاف ہے۔ اس کی مختصرالفاظ بیانی مطول فروش ہے۔اس کے عساکر معانی کا فتوح الغیب معدن مضمون ہے۔فتوحات میں خوشی کا نقارہ ہے، معانی موزوں کی فوجوں کاگیند ہے، ایسے عظیم وجلیل رسالے کی تعریف وتوصیف مقام اطناب میں اظہار انکسار ہے۔ بہتریہ ہے کہ میں اپنے مدعاے توصیف کا اختتام اس مصرع پر کر دوں  :  قبولِ خاطر اہل ہدیٰ باد     فقط۔
 
(۱۱)		از: احمدآباد،گجرات۔
صورۃ ما سطرہ النحر الفہامۃ و البحر العلامۃ واقف أسرار المعقول و المنقول کاشف أستار الفروع و الأصول دامغ جیش الأباطیل مشتت شمل المخاذیل المدعو بمولوي نذیر أحمد خاں الرامپوري المدرس في بلدۃ أحمد آباد  أبقاہ اللّٰہ بالصدق و السداد و الہدایۃ و الرشاد ۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الحمد للخالق الذي خلق نور نبیہ أول جمیع المخلوقات فجعل منہ الأنبیاء و الصدیقین و الشہداء و سائر المکنونات و أرسلہ آخر کل النبیین رحمۃ للعالمین و سخر لہ الملک و الملکوت و الأرضین و السموات و أفضل الصلوٰات و التحیات علی خیر الأنام الذي من علینا ببعتہ العزیز العلام بقولہ في کتاب المنزل المکرم الذي ہو أقوم البینات و أدوم المعجزات و أمر فیہ بتحدیث النعمۃ و أیۃ نعمۃ تساوي ولادتہ فذکرہا انفراداً و إجماعا بہیئۃ الإحترام و الإکرام کیف لا یکون من الحسنات و العبادات و آلہ و أصحابہ الذین عزروہ و وقروہ بأفئدتہم و جوارحہم فبلغوا في الدرجات إلی أقصی الغایات و من بعدہم من محققي الفضلاء البطول و الکملۃ الفحول اتفقوا علی ممر الأعصار في الأمصار علی احتفال ذکر ولادتہ و استحسنوا القیام عندہ علی الإقدام فنالوا البرکات المتوالیات أما بعد فإني طالعت ہذا الکتاب أعني ’’ الأنوار الساطعۃ في بیان المولود و الفاتحۃ ‘‘ للعالم الأفضل و الفاضل الأبجل النحریر الرفیع و البحر المنیع المولوي عبد السمیع  أطال اللہ بقاء ہ و رزقنا و إیاہ لقاء ہ و رضائہ و جزاہ اللہ عني و عن جمیع المؤمنین الصالحین خیرا و کفاہ اللہ أعداء ہ و حسادہ ضیرا  فوجدتہ منورا لقلوب المحبین سید المرسلین و دلیلا قاطعا لإثبات الفاتحۃ و میلاد خاتم النبیین و برہانا ساطعا لإثباتہما علی المنکرین المتبعین غیر سبیل المؤمنین فلا یختفي ضیاء ہ إلا علی العنید الغوي، الذي مقلتہ عمیا و الأعمی الغبي الذي لا یری شعاع الذکاء في وسط السماء قال المتنبي في الذي ہو کذلک عاذرا لہ لما ہنالک   شعر  ؎
و لو خفیت علی الغبي فعاذر	            أن  لا  تراني مقلۃ عمیاء
فجدیر للمؤلف اللوذعي في مقابلۃ مثل ہذا أہل العمي و الغي البغي أن یسلک مسلک الشاعر الماہر المتني و أرجو من اللہ  جل برہانہ و عظم شأنہ  أن لا ینکر مضامین ہذا الکتاب أحد من العاقلین المنصفین المتأدبین و إن کان من قبلہ لقلۃ التدبر و النظر علی الکتب من المنکرین لأن المؤلف القمقام النحریر الفہام أوضحہا أیضا حالا یأتیہ الإنکار و أظہرہا إظہار الشمس بلاد الشرق و الغرب في نصف النہار و أقام البینۃ علیہا فصارت عند الإزدحام کالجبال الراسیۃ، و تصدّی لدفع الاعتراضات التي تقولہا أہل البدعات السیئات فأجاب عنہا بأجوبۃ مرضیۃ شافیۃ فلا یسع لمن لہ قلب سلیم إلا التسلیم بالتکریم و أما الذین أشرب في قلوبہم حب المکابرۃ و المعاندۃ و کان دابہم العداوۃ  و  المضادۃ  دیدنہم عن الحق الاستکبار و عن الہدایۃ الاستنکار فلا عجب أن ینتصروا عن مثل ہذا التحریر الأزہر و یستدبروا عن ہذا التقریر الأظہر و الأطہر ألا تری أن لا یشم فاقد الشامۃ المسک الاذفر و لم یؤمن بإعجاز انشقاق القمر المعاند الأکبر فمن ضاھاہ و تشابہ قلبہ کیف یتخلف عنہ وضوح ہذا الأثر و إن کان أحدہما الأصغر من الآخر، اللہم احفظنا بلطفک القدیم و فضلک العمیم عن مثل ہذہ الضیعۃ الشنیعۃ و اغفر لنا کل الخطایا و الذنوب بذریعۃ جیبک خیر البریۃ  صلی اللہ علیہ وسلم  و ارزقنا خلۃ خلیلک الکاملۃ و أمتنا علی الخاتمۃ الحسنۃ و آخر دعوانا أن الحمد للہ رب العالمین و صلی اللہ علی خیر خلقہ محمد  و آلہ و أصحابہ أجمعین۔
قررہ باللسان و حررہ بالبنان المفتقر إلی ربہ القدیر
محمد  نذیر المعروف ب’نذیر أحمد خان 
 عفي اللہ تعالیٰ عنہ و عن والدیہ جم الخطاء و العصیان 
تقریظ جناب مولوی نذیراحمد خاں صاحب 
ترجمہ:  سب تعریف اس کو جس نے اپنے نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  کا نورسب سے پہلے پیدا کیا۔پھر اسی سے انبیا وصدیقین اور شہدا اور جملہ مکنونات بنائے، اور حضور کو پیغمبروں کے پیچھے سب عالم کے لیے رحمت بنا کربھیجا، اور جملہ اجسام وارواح اور زمین و آسمان  ان کے تابع کر دیے، اور سب سے افضل درو دوسلام اور تحیت حضرت خیر الانام اپرنازل ہو جن کی بابت اللہ تعالیٰ نے ہم پر احسان ظاہر کیا کہ ایسا رسول بھیج دیا اور ہم کو نعمت بیان کرنے کاحکم دیا اور پھر بھلا کون سی نعمت حضور کی ولادت شریف کے برابر ہے، تو اس کا تنہا یا جماعت میں با ادب ذکر کرنا کیوں کر حسنات وعبادات میں سے نہ ہو گا، اور درودو تحیت ہو آپ کے آل واصحاب پر بھی جنھوں نے آپ کی تعظیم وتوقیر اپنے جسم وجاں سے ادا کی تووہ اس کے صدقے میں بڑے درجوں کو پہنچے۔پھر ان کے بعد بڑے بڑے فضلا ے کاملین تمام شہروں میں استحسان محفل مولد وقیام پرصدا اتفاق کرتے رہے تو وہ پے درپے برکات کوپہنچے۔ اس کے بعد عرض مدعایہ ہے کہ میں نے کتاب انوار ساطعہ دیکھی جس کو ایک بڑے عالم و فاضل یعنی مولوی محمد عبد السمیع نے تصنیف کیا ہے اللہ ان کا سایہ کرم دراز کرے، ہم کو اور ان کو اپنا دیدار اور اپنی رضا نصیب فرماے اور میری اور جمیع مومنین صالحین کی طرف سے ان کو جزاے خیر عنایت فرماے اور سب دشمنوں اور بدخواہوں کے ضرر سے بچائے  میں نے اس کتاب کوعاشقین رسول کے دلوں میں نور کی شعائیں بکھیرنے والی اور فاتحہ ومیلاد کے ثبوت پر دلیل قاطع اور برہان ساطع پایا۔اس کی روشنی کسی سے مخفی نہیں۔ ہاں !وہ دشمن کی روح کی آنکھ ہی اندھی ہے جسے آسمان میں سورج بھی نظر نہیں آتا۔متنبی شاعرنے کہا کہ  :
اگر میں کسی کند ذہن کے ادراک میں نہ آیا تو اس کو معذور سمجھنا چاہیے ، کیوں کہ مجھ کو اندھی آنکھ دیکھ نہیں سکتی۔ 
لہٰذا  مولف انوار ساطعہ کو بھی یہی چاہیے کہ اپنے وقت کے اندھوں کو جو قدر نہیں پہچانتے معذور سمجھے اور امید یہ ہے کوئی عاقل با انصاف اگرچہ وہ پہلے قلتِ اطلاع دلائل کے سبب منکر ہی ہولیکن اب انکار نہ کرے گاکیوں کہ مولف انوارنے دلائل کو نہ صرف سورج کی طرح روشن کر دیا ہے بلکہمنکرین کے اعتراضات کا جواباتِ شافعیہ سے ردبلیغ بھی کیا ہے۔اب کسی صاحب قلب سلیم کے لیے گنجائش نہیں کہ انکار کر سکے۔ ہاں ! جن کے دلوں میں جھگڑے، عناد اور قبول حق سے انکاروغرور نے جڑپکڑ لیا ہوتوکچھ عجب نہیں کہ اس روشن اور پاکیزہ تقریر سے  نفرت کرنے لگیں۔ کیا ہم نہیں دیکھتے کہ جس کی قوت شامہ نہیں ہوتی وہ مشک وعنبر کی خوشبو بھی نہیں پاتا، اور اس بڑے منکر نے شق القمر کا معجزہ بھی نہ مانا۔اللہ ہم کومحض اپنے فضل سے منکرین کی ایسی حرکت بد سے بچائے اور ہمارے جرم و خطارسول اللہ کے صدقے معاف فرمائے، اور ہمیں ان کی سچی محبت نصیب کرے اور خاتمہ بالخیرسے مشرف فرمائے۔ اور ہماری آخری بات یہ ہے : الحمد للہ رب العالمین وصلی اللہ علی خیر خلقہ محمد  وآلہ واصحابہ اجمعین۔
اپنی زبان سے یہ تقریر کی اور انگلیوں سے لکھی محمد  نذیر معروف بہ نذیر احمد خاں نے اللہ سب خطا اور گناہ معاف کرے اس کے اور اس کے ماں باپ کے  آمین۔

(۱۲)	از: غازی پور
صورۃ ما حررہ شامخ المکان باذخ الشان العالم الجلیل و الفاضل النبیل الشریف النجیب ذکي المنابت طاہر الأغراس اللطیف النظیف جمیل الشمائل طیب الأنفاس کنز المکارم معدن الحسنات مولانا محمد  أبو البرکات  لا زال بالخیر و الفیض و الإفادات 
المنۃ للہ الفتاح المنان، الذي زین بالفاتحۃ القرآن، و ہو نور الأنوار الساطعۃ و رب الأقمار الطالعۃ، السمیع العلیم، الخبیر المنعم القدیم، و الصلوٰۃ علی من ہو أکرم أولاد آدم، و أفصح مصاقح العالم، أنہ خاتم المرسلین، و مولدہ رحمۃ للعالمین، و علی آلہ الأصفیاء الواصلین، و علی أصحابہ الأتقیاء الکاملین۔
أما بعد ! فیقول العبد الفقیر الراجي رحمۃ رب البریات، محمد ن  المدعو بأبي البرکات  غفر اللہ لہ ذنوبہ و السیئات  ابن فخر العلماء، صدر الفضلاء، بدر الفقہاء، قمر الکملاء، سند الواعظین المحدثین، ناصر المسلمین، مولانا الأعظم، مقتدانا الأکرم، بحر المعاني، الملقب بالجنید الثاني، لقبہ في أسانیدہ للأحادیث و التصوف الإمام الہمام حضرت مولانا عبد الحق محدث کانفوري  عم فیضہ ذو المجد ذوا العز و الجاہ  مولانا الحاج محمد  أمانت اللہ الحنفي الفصیحي، لا زال بابہ ملاذ الحنفاء الأشراف و جنابہ مرجعا للشرفاء الأحناف، ان أفضل السعادات الأبدیۃ و أکمل البرکات الصمدیۃ و أقدم الفیوضات الرحمانیۃ و أکرم الکرامات السبحانیۃ ذکر أفضل الأنبیاء صاحب الشریعۃ الغراء، مالک الطریقۃ الزہراء، من فضائلہ الجلیلۃ و محاسنہ النبیلۃ و ظہور البرکات و الکرامات عند ولادتہ الشریفۃ و معجزاتہ و آیاتہ النظیفۃ فطوبی لمن صنف فیہ و أجاد و ہدی الناس طریق الحق و سبیل الرشاد و إن ہو إلا المولی الکامل فخر الأماثل في الفروع و الأصول و صدر الأفاضل فی المعقول و المنقول علیم بأسرار الأحادیث النبویۃ خبیر بدقائق المواعظ المصطفیۃ مضابط الأحکام الشرعیۃ جامع النکات الأصلیۃ و الفرعیۃ، فاتح المغلقات النقلیۃ، کاشف المشکلات العقلیۃ، مشکوٰۃ مصابیح البلاغۃ، ضیاء مشارق الفصاحۃ و البراعۃ، سند الأعالي مستند أرباب المعالي، ذو المقام الرفیع المنیع المولوي محمد  عبد السمیع فإنہ قد أورد کلہا في رسالتہ اللامعۃ المسماۃ بالأنوار الساطعۃ للہ درہ حیث سعی في إسعاف مرام المتصوفین المقلدین و اہتم في رد شبہات المنکرین الضالین و أتی ما یناسبہ المقام بأقوال العلماء الکرام و قدماء الأعلام بحیث لم یسمعہا الآذان و لم یرہا عیون الدہور و الأزمان فو اللہ لقد انبسطت القلوب بمطالعتہا و نورت العیون بمعانیتہا، ألفاظہا بدور بازغۃ، جملہا شموس طالعۃ، سطورہا أنہار التحقیق، جداولہا بحار التدقیق، فیا معشر الناظرین الطالبین الصادقین إن استطعتم أن تنتفعوا بہا فشمروا عن ساق الجد و اشتروہا فإنہا خیر لکم إن کنتم تعلمون۔

تقریظ جناب مولوی محمد  ابوالبرکات صاحب غازی پوری
ترجمہ : شکرو احسان خداے فتاح ومنان کا جس نے قرآن کو سورۂ فاتحہ سے مزین فرمایا،وہی انوارِ ساطعہ کا نورہے،اجلیاں بکھیرنے والے چاندوں کا پروردگارجوسننے، جاننے، خبررکھنے، انعام کرنے اور ہمیشہ رہنے والاہے۔درودکے گلدستے اس کی بارگاہ میں نذرہیں جو بنی آدم میں سب سے معززومحترم،فصیحانِ جہاں سے کہیں زیادہ فصیح وبلیغ،نبیوں کے خاتم اور جن کی ولادت کائنات کے لیے رحمت سراپاہے۔ ساتھ ہی ان کے بزرگ وخدارسیدہ آل اطہار اور کامل وپرہیزگاریارانِ جاں نثارپربھی۔
حمدو صلاۃ کے بعدطالب رحمت پروردگاربندۂ فقیرمحمد ابوالبرکات غفرلہ عرض گزار ہے۔ابن فخرعلما، صدرفضلا، بدرفقہا، قمرکملا، سند واعظین و محدثین، ناصرمسلمین، مولانا الاعظم، مقتدانا الاکرم، بحرمعانی،جنھیں جنیدثانی کے لقب سے یاد کیا گیا ہے، اور یہ لقب ان کی حدیث وتصوف کی سندوں میں ملتا ہے،امام ہمام حضرت مولانا عبد الحق محدث کانپوری کے ذریعہ عطا ہوا ہے یعنی  مولانا الحاج محمد  امانت اللہ حنفی فصیحی غازی پوری۔جن کا درجوداشراف کرام کے لیے ہمیشہ وارہا،ان کی جناب ارباب شرف ومجدکی آماجگاہ رہی۔بے شک نبیوں پرفضل وکمال رکھنے والے،ستھری شریعت اور روشن طریقت رکھنے والے  صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکرجمیل ا بدی سعادتوں میں سب سے افضل،سرمدی برکتوں میں سب سے مکمل،فیضان الٰہیہ میں سب سے مقدم اور ربانی کرامتوں میں سب سے مکرم ومحترم ہے۔وقت ولادت مبارکہ برکتوں کانزول، کرامات ومعجزات کاظہور اور پاکیزہ ستھری نشانیاں آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کے جلیل القدر اور عظیم الشان فضائل ومحاسن میں سے ہے۔ یقیناوہ اپنے مقدر کادھنی کہاجائے گاجس اقبال مندکو اس سلسلہ خیر میں کچھ خامہ فرسائی کی سعادت نصیب ہو ئی ہو، اس نے لوگوں کو حق وشریعت پرجادہ پیماکیاہو اور راہ راست سجھائی ہو۔ اور یہ ذات کسی اور کی نہیں مولی کامل،فروع واصول میں فخر اماثل،معقول ومنقول میں صدر افاضل، آشنائے رموزاحادیث نبویہ، خبیر دقائق مواعظ مصطفویہ،مضابط احکام شرعیہ،جامع نکات اصلیۃ و فرعیۃ، فاتح مغلقات نقلیۃ، کاشف مشکلات عقلیۃ، مشکوٰۃ مصابیح بلاغت، ضیائے مشارق فصاحت وبراعت،اعلیٰ لوگوں کے سند، بزرگوں کے مستند،ارباب معانی، صاحبمقام رفیع منیع مولوي محمد  عبد السمیع کی ذات گرامی قدرہے۔اس لیے کہ انھوں نے یہ سب مضامین اپنے ’انوارِ ساطعہ ،نامی روشن ومنوررسالے میں پیش کیے ہیں  ساری خوبیاں اللہ ہی کو زیب ہیں  انھوں نے مقلدین صوفیہ کے مطالب ومفاہیم پورے کرنے میں کوئی کسرروانہ رکھی، ساتھ ہی منکرین وضالین کے شبہات کوبیخ وبن سے اُکھاڑنے کا بھی پورا پورا اہتمام کیا ہے۔ اور موقع کی مناسبت سے علمائے کرام اور قدماے اعلام کے ایسے ایسے اقوال بطورِ استشہاد پیش کیے ہیں کہ اس سے پہلے نہ کانوں نے سنا اور نہ زمانے کی آنکھوں نے دیکھا۔قسم خداکی !  اس کے مطالعہ سے دل، غنچوں کی مانند کھل اٹھا،اس کے معنی ومفہوم نے آنکھوں کی روشنی بڑھادی، الفاظ کیاہیں جیسے دودھیاچاندنی بکھیرتے چاند، جملے ایسے کہ جیسے نکلے ہوئے آفتاب،سطریں تحقیق کی رواں دواں نہریں معلوم ہوتی ہیں اور اس کے جدول اسرارودقائق کے ٹھاٹھیں مارتے سمندردکھائی پڑتے ہیں۔تو اے طالبین صدق وصفا! مقدوربھراس سے مستفیض ومستفیدہونے کی کوشش کریں، فوزوفلاح کی ساری آیتیں اس میں مضمرپائیں گے۔ 







(۱۳)	از:  چریاکوٹ
صورۃ ما رصعہ الأدیب اللوذعي و الأریب الألمعي غواص بحار التحقیق سباق غایات التدقیق عالم صنائع الکلام عامل بدائع النظام التقي النقي الزکي الضابطۃ المثبت الصدوق مولانا محمد  فاروق  مد ظلہ العالي مدی الأیام و اللیالي 
الحمد للہ رب الأنوار الساطعۃ، و نور الأقمار اللامعۃ، و الصلوٰۃ و السلام علی من أوتي الآیات الصاوعۃ، و الحجج القاطعۃ، و بعد فإن أحسن ما یقصد و یراد، و أطیب ما یرومہ العباد، و یظمأ في ہواجر طلبہ الأکباد، و لیأوفي منازلہ الرواحل أشد أساد، و یؤطأ في مراحل سعیہ القتاد، و یستوطن في ہواہ غوارب الرسم و ظہور الجیاد، و یحتاب لأجلہ البلاد، الشاسعۃ النائیۃ البعاد، ذکر سید العباد و العُبَّاد، من ذکر نسبہ خیر الانساب، و آیاتہ الحقۃ المدہشۃ للألباب، و إرہاصاتہ التي جاء ت عند مولدہ الشریف المستطاب، فإنہ أجل ما یدخر لیوم الحساب، و أکرم ما یقتنی بحسن الثواب، فطوبیٰ لرجل ملأ و طابہ، و کمّل نصابہ، و إن ہو إلا المولی الکریم، النبیہ الفخیم، مولی البلاغۃ و البراعۃ، مالک أزمۃ الطرس و الیراعۃ، عالي الکعب کعبۃ المعالي، والي المجد الشامخ و العز المصمد و المحل العالي، صاحب المقام الرفیع  و الجاہ المنیع المولوی عبد السمیع فإنہ قد أتی برسالۃ في مجلس ذکر المیلاد، و سعی وجد فیہا فأجاد و ہدی الناس إلی سبل الرشاد و ہاد فقاق أہل الآفاق و ساد، و سد موارد الغي و الفساد۔ اللہم بارک في رزقہ و حسناتہ و انشر للناس برہ و عوارفہ و برکاتہ۔


تقریظ جناب مولانا محمد  فاروق صاحب چریاکوٹی
تمام تعریفیں اللہ تعالیٰ کو زیباہیں جو انوارساطعہ اور جگمگ کرتے چاندوں کاپروردگارہے، اور درودوسلام اس پر ہو جسے کھول دینے والی نشانیاں اور کاٹ ڈالنے والی دلیلیں عطاکی گئیں۔ 
حمد وصلاۃ کے بعد۔ بلاشبہ سب سے خوب ترو خوش ترچیزسرکاردوعالم  صلی اللہ علیہ وسلم  کا ذکرمبارک ہے۔جس کا قصدوارادہ کیاجائے، سب سے نفیس چیزجس کا بندہ قصد کرے، جس کی طلب میں دوپہروں کو کلیجے بھنے جاتے ہیں، جس کی منزلوں کی طرف سواریاں پوری رفتار سے دوڑائی جاتی ہیں،جس کے لیے دوڑنے کی راہوں میں کانٹے دار درخت مسلے جاتے ہیں، جس کی فرط محبت میں اونٹوں کے کوہان اور عمدہ گھوڑوں کی کمریں وطن بنالی جاتی ہیں اور جس کے لیے بڑی مسافت والے دور دراز شہرطے کیے جاتے ہیں۔بے شک حساب کے دن کے لیے وہ ایک بڑاعظیم ذخیرہ ہے، اور حسن ثواب کے لیے جوچیزیں جمع کی جاتی ہیں ان میں یہ بزرگ ترہے۔توآفریں ہے ایسے شخص کے لیے جس نے اس کی مشکیں بھردیں، اور اس کا حق پورے طورپرادا کر دیا۔ اور یہ کوئی اور نہیں، المولی الکریم، النبیہ الفخیم، مولی البلاغۃ و البراعۃ، مالک ازمۃ الطرس و الیراعۃ، عالي الکعب کعبۃ المعالي، والي المجد الشامخ و العز المصمد و المحل العالی، صاحب المقام الرفیع و الجاہ المنیع المولوی عبد السمیعکی ذات گرامی ہے۔کیوں کہ انھوں نے میلاد النبی  صلی اللہ علیہ وسلم کے سلسلہ میں ایک رسالہ تحریر فرمایا ہے،جس میں جی توڑکوشش کی ہے اور خوب لکھا، اور لوگوں کو بھی منزل ہدایت تک پہنچادیا، اور اللہ کی طرف رجوع کیا تو آفاق میں سب پر فائق ہو گئے اور ان کی سیادت کی، اور فتنہ وفساد کے مراکزکاہمیشہ کے لیے سد باب کر دیا۔دعاہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے رزق وحسنات میں برکتیں عطافرمائے۔ اور ان کی نیکیوں اور برکتوں سے لوگوں کو مستفیض ہونانصیب کرے۔





(۱۴)	از: لکھنؤ
صورۃ ما جرہ زین العلماء سراج الأدباء الذي ہو في عصرہ وحید و في دہرہ فرید مولانا أبو الغناء محمد  عبد المجید  أبقاہ الولي الحمید  و ہو النجل السعید الکریم لمولانا الحافظ شاہ أبي الحیاء محمد  عبد الحلیم ابن مولانا أبي البقاء محمد  عبد الحکیم ابن مولانا أبي العیش  محمد  عبد الرب ابن ملک العلماء أبي العیاش مولانا عبد العلی بحر العلوم اللکھنوي الفرنجي المحلي  غفر اللہ لہم أجمعین و أعلیٰ درجاتہم في أعلی علیین ۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم، اللہ أکبر اللہ أکبر أنا أذل و إلیہ أفقر ہو خالق العز و الغناء و أنا في غایۃ الذل و العناء تعالیٰ اللہ شأنہ علوا کبیرا لا یستطیعون ثناء علیہ و لو کان لبعضہم بعض ظہیرا یتوالی مراحمہ علینا بلا وقت في اللیل و الیوم یدبر الأمور کلہا و لا تأخذہ سنۃ و لا نوم دہشت اللباب عن عد نعمائہ و طاشت الحلوم و برد العقل عن حد آلائہ و تبلدت الفہوم،نحن و ہمتنا قاصرون حد القصر و مکارمہ فائقۃ من الحد و الحصر فکیف أحمدہ علی شأنہ و أطرح الأدب و کیف لا أحمد حال تواتر نعمہ فیا عجبا بعد العجب و إن تعدوا نعمۃ اللہ لا تحصوہا منہا أنوار ساطعۃ و عجالۃ نافعۃ أعني ہذہ الرسالۃ العجیبۃ و الرقیمۃ الغریبۃ فحاویہا لائقۃ و معانیہا فائقۃ مضامینہا من الصدق و السداد مملوء ۃ و ألفاظہا سلسۃ نفیسۃ حلوۃ، تہدید لمن غشی قلوبہم الکید و الریب و ہدی للمتقین الذین یؤمنون بالغیب۔

طریق الاستدلال فیہا أحسن الأسلوب إثبات دعاویہا قوت القلوب تمیل إلیہا النفوس کما ترغب إلی المآکل و الملابیس بل تجلبہا جلب مقناطیس فللہ در من صنفہا و لہ حسن من صرف فیہا الأوقات و ألفہا لما جاء ت للمطالعۃ و رأیت منہا أوراقا معدودۃ وجدتہا مرغوبۃ الطبع و محمودۃ فنظرت نظرۃ بالإجمال و الاستعجال و منعتني من الإمعان العلل اللاحقۃ و الہزال فجعزت في المطالعۃ عن الاستیعاب و اکتفیت علی عدۃ أوراق من الکتاب و علیہ حمدت اللہ قاضي الحاجات و لیس حمدي إلا حرکۃ الشفۃ و اللہاۃ و اعتذر إلی جنابہ من التقصیر اعتذار البائس العاجز علی باب الأمیر و أرجو منہ أن یعید علینا سوابق النعم و یزید في لواحق الکرم و أصلي و أسلم علی رسولنا و شفیعنا محمد  الہادي إلی سبیل السلام و علی آلہ رعاۃ الأنام و أصحابہ حماۃ الإسلام۔
و أنا الراجي رحمۃ ربہ الوحید أبو الغناء محمد  عبد المجید 
ابن مولانا المولوي الحافظ شاہ أبو الحیاء محمد  عبد الحلیم  علیہ رحمۃ اللہ الرحیم 
  محمد  عبد المجید أبو الغناء

تقریظ نبیرۂ بحرالعلوم حضرت مولوی عبد المجید لکھنوی
ترجمہ:  اللہ بہت بڑا ہے،میں ذلیل اور اس کا محتاج ہوں۔وہ عزت وتونگری کا پیدا کرنے والاہے۔ اور میں رنج وخواری میں ڈوباہواہوں۔ اس کی شان نہایت عظیم ہے کوئی اس کی حمدوثناکاحق ادانہیں کرسکتاخواہ لوگ آپس میں مل مل کر مدد اور ہمت لگادیں،رات دن اس کی رحمتیں پے در پے ہوتی ہیں۔وہ بہترین تدبیر فرماتا ہے،اسے نیند اور اونگھ نہیں آتی،اس کی نعمتوں کا شمارکرنے سے عقلیں تھک گئیں،ہماری ہمتیں انتہادرجے کی کوتاہ واقع ہوئی ہیں،اس کی بخشش بے حدوبے شمارہے۔ پھر بھلا اس کے شایانِ شان میں کیسے اس کی حمد وستائش کروں،یہ ترک ادب ہے، اور اس کی بے کراں نعمتوں پربھلا کیوں نہ شکر ادا کروں، یہ توتعجب بالائے تعجب ہے۔ اور اگر تم اللہ کی نعمتوں کوشمارکرناچاہو تو شمار نہ کرسکوگے۔اس کی نعمتوں میں سے ایک نعمت یہ گراں مایہ رسالہ مبارکہ ’’انوارِ ساطعہ ‘‘بھی ہے۔ اس کے مشمولات ومعانی لائق وفائق،اس کے مضامین سچائیوں کے آئینہ دار،الفاظ سلیس، شیریں اور نفیس ہیں۔اس میں ان لوگوں کے لیے تنبیہ ہے جن کے دل شک آلود اور فریب خوردہ ہیں۔ اور غیب پرایمان رکھنے والے پرہیزگاروں کے لیے اس میں ہدایت کاسامان ہے،طریقہ استدلال خاصا اچھوتا اور اپنے دعووں کو ثابت کرنے کا انداز دل چھوتا ہے۔دیدہ ودل اس کی طرف ایسے ہی جھکے پڑتے ہیں جیسے لذیذ کھانوں اور عمدہ پوشاک پر ٹوٹتے ہیں بلکہ اس کی کشش مقناطیس کی سی ہے،سبحان اللہ ایسے مصنف کی کیابات ہے جس نے ایسی کتاب لکھنے میں اپنا وقت لگایاجب یہ کتاب میرے سامنے آئی تو اس کے چند اور اق میں نے الٹ پلٹ کر دیکھے تو میں نے اسے مرغوب خاطر اور قابل تعریف پایا،پھرعجلت کے باعث میں نے اس پرایک سرسری نگاہ دوڑائی،تفصیل سے  حرفاً حرفاً سب کو نہ دیکھ سکنے کی وجہ یہ ہے کہ مجھ کو بیماری اور ضعف وناتوانی لاحق تھی پس چند اور اق کی نظر تفصیل پر اکتفا کیا اور اللہ کا شکر ادا کیا۔ اپنی تقصیر کا عذر اس کی جناب میں پیش کرتا ہوں اور اس کے انعامات کی امید رکھتا ہوں۔درودو سلام بھیجتا ہوں اپنے رسول وشفیع حضرت محمد  اور ان کی آل اصحاب پر جو خلقت کے نگہبان اور اسلام کے حامی ہیں۔
 اور میں امید وار رحمت خداوندی مولوی حافظ شاہ ابو الحیا محمد  عبد الحلیم کابیٹا ابو الغنا محمد  عبد المجید ہوں۔ اللہ ان پراپنی خاص رحمت فرمائے۔


















(۱۵)	از:  رام پورضلع سہارن پور
جناب مولانا عبد الحئی صاحب لکھنوی فرنگی محلّی کا اس کتاب کی تصدیق 
فرماناجیساکہ ان کے شاگر مولوی سعید الدین صاحب لکھتے ہیں :
صورۃ  ما رقمہ التقي الزکي الفطین العالم العامل المتین الرزین المولوي سعید الدین أحمد من نجباء بلدۃ رامفور ضلع سہارنفور و ہو من أرشد تلامذۃ مولانا عبد الحي اللکنوي المغفور۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم 
الحمد للّٰہ الذي أنعم علی الناس بما بعث محمد ا خیر العباد و جعل مقدمہ قرۃ للعیون و مسرۃ للفؤاد و الصلوٰۃ و السلام علیہ و آلہ و أصحابہ صلاۃ و سلاما لا یحصیہا أمد و لا عداد صلوٰۃ تنفعنا یوم لا تجزي الآباء عن الأولاد و لا یحمل الأبناء بأعباء آبائہم و الأجداد، أما بعد فیقول أحقر العباد محمد  المدعو بسعید الدین  غفر لہ ربہ یوم التناد ان من أطیب ما یستلذہ الفؤاد و یلتاع إلیہ الأکباد ذکر سید العباد و ما لہ من محاسن أخلاقہ و معجزاتہ و إرہاصاتہ عند المیلاد ففاز من جری علیہ و والاہ و خاب من جحدہ و عاداہ فمن الذین أحبوہ و أکرموہ و استحسنوہ و أبرموہ المولی الفاضل البارع الکامل ذو الکعب العالي و البارع الرحیب المصقع الأدیب الأریب صاحب الشرف الرفیع المولوي محمد  عبد السمیع  قد أتی برسالۃ نافعۃ موسومۃ بالأنوار الساطعۃ فأکب العلماء علی مدحہا و تحسینہا و أثبتوا علی ما فیہا من الثناء من کل سینہا و شینہا منہم أستاذنا المشہور المولوي محمد  عبد  الحي اللکنوي المغفور فإني قد عرضت تلک الرسالۃ علیہ فاستحسنہا و استجاد و أعلہا محل الإرشاد و قال إن ہذا الکتاب جامع جمیع الأقوال في ہذا الباب و سلک فیہ مؤلفہ مسلک الصدق و السداد و اجتنب عن سوء القول و العناد، صلی اللہ علی النبي و آلہ الأمجاد۔

جناب مولوی عبد الحئی صاحب فرنگی محلّی مغفور
کا اِس کتاب کی تصدیق فرماناجیسا کہ مولوی سعید الدین سہارن پوری کی تقریظ سے ظاہرہے۔
ترجمہ:  سب تعریف اس اللہ کو ہے جس نے حضرت محمد  خیر العباد ا کو بھیج کرہم پر انعام کیا  اور ان کی تشریف آوری کو آنکھوں کی ٹھنڈک اور دل کا سروربنایا۔ درودوسلام ہواُن پر اور ان کی آل واصحاب پر اس قدر کہ نہ اس کی کچھ انتہا ہو اور نہ شمار۔یہ درود ہمارے لیے اس دن نفع رساں ہو جس دن باپ نہ اولادکے کام آئیں گی اور نہ اولاد اپنے باپ دادوں کابوجھ اٹھائے گی۔حمدوصلاۃکے بعدعرض پرداز ہے احقرالعباد محمد  سعید الدین  اللہ اس کو روز قیامت میں بخشے کہ وہ بہت اچھی چیزہے جس سے دل کو مزہ آئے  اور جگر جلتے ہوں جس کے ذوق و شوق میں وہ حضرت سید العباد ا کا ذکر جمیل اور میلاد پاک کے وقت آپ کے حسن اخلاق اور معجزات و کرامات کا بیان ہے۔پس مراد کو پہنچا جو اس پر چلا اور اس کو پے در پے کرتا رہا اور محروم رہا جس نے انکار کیا اور اس کادشمن بن گیا۔ پس جن لوگوں نے اس عمل کو دوست رکھا،اس کا احترام واہتمام کیا اور اس کا خوب دلچسپی سے استحکام کیا ان میں سے ایک سردار فاضل بڑے درجہ والے کامل یعنی مولوی محمد  عبد السمیع بھی ہیں جنھوں نے ایک رسالہ بنام انوار ساطعہ لکھا جس کی مدح وتحسین کرنے میں سبھی مشغول ہو گئے، اور اس کے حرف حرف کی تعریف میں رطب اللسان نظر آنے لگے۔ایسی ہی علما میں میرے استاد عالی درجہ مشہور مولوی عبد الحئی صاحب لکھنوی مغفور بھی ہیں۔جب میں نے یہ رسالہ ان کے سامنے پیش کیاتوآپ نے پسند فرمایا، اسے جیّد کہا اور اس کو محلِّ ہدایت وارشاد ٹھہراتے ہوئے فرمایا  :
إن ہذا الکتاب جامع جمیع الأقوال فی ہذہ الباب و سلک فیہ مؤلفہ مسلک الصدق والسداد و اجتنبت عن سوء القول و العناد صلی اللّٰہ علی النبی و آلہ الأمجاد۔
یعنییہ کتاب اس سلسلے کے جملے دلائل و اقوال کی جامع ہے اور اس کے مؤلف نے خوب راہ راست جادہ پیمائی کی ہے اور بدکلامی وعناد وغیرہ سے ہر طرح اپنا دامن پاک رکھا ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نبی کریم اور آپ کی آل مقدس پر بارانِ رحمت برسائے۔  


(۱۶)	از:بلندہ ضلع فتح پورہنسوہ
صورۃ  ما  طرزہ  رافع اعلام الدین أمام العابدین مؤید أہل السنۃ و الجماعۃ مبدّد أہل البدعۃ و الشناعۃ مولانا القاضي  محمد  عبد الغفور  أدام اللہ فیوضہ مر الدہور ۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الحمد للہ الذي أید أہل الحق و أنصارہ و بزم أہل البطلان و أشرارہ و الصلوٰۃ و السلام علی حبیبہ الذي قلع اطلال الفساد و بنیانہ و علی آلہ و أصحابہ الذین شیدوا قصر الرشاد و أرکانہ، أما بعد فإني طالعت الکتاب المسمّٰی بالأنوار الساطعۃ في بیان المیلاد و الفاتحۃ الذي صنفہ العالم الجلیل و الفاضل النبیل عدیم العدیل فقید المثیل مولانا القاریٔ الحافظ المولوي محمد  عبد السمیع  صانہ اللہ تعالیٰ عن شر کل غبي نزیع و غوي وجیع  فوجدتہ ظہیرا لأہل السنۃ و الجماعۃ و نصیرا لأصحابہ الدرایۃ و الہدایۃ ہادما لدار الضلالۃ و ہاتما لأسنان أہل الغوایۃ فجزاہ اللہ سبحانہ حسن الجزاء و وقاہ جمیع البلاء حیث أفہم الباغین أتم الإفہام و أفحم الطاغین أکمل الإفحام بلین الکلام و حسن النظام فمن اتصف و أقبل جل و من اعتسف فأدبر ذل فقط۔
حررہ الفقیر
المشہور بمحمد  عبد الغفور
المتوطن بقصبۃ بلندہ ضلع فتح پور



تقریظ مولاناقاضی محمد عبد الغفور صاحب فتح پوری
ترجمہ :  سب تعریف اللہ کو ہے جس نے حق کی مدد کرنے والوں کو قوت بخشی اور باطلوں اور شریروں کوشکست دی۔ اور درودو سلام ہو اس کے حبیب اپر جس نے فساد کے نشان و بنیاد کو اکھاڑ پھینکا۔ اور ان کے آل واصحاب پر کہ جنھوں نے قصرہدایت اور اس کے ارکان کو بلندومضبوط کر دیا۔اس کے بعدعرض ہے کہ میں نے کتاب انوار ساطعہ دیکھی جس کو بڑے عالم مولوی محمد عبد السمیع نے تصنیف کیا ہے اللہ تعالیٰ انھیں کج فہم وکج رد اور موذی کی ایذاسے بچائے میں نے اس کتاب کواہل سنت وجماعت کی پشت پناہی کرنے والی،اصحاب عقل وہدایت کی مدد کرنے والی،گمراہی کاگھر گرادینے والی اور سرکشوں کے دانت توڑدینے والی  پایا۔اللہ اس کے مصنف کو جزاے خیر دے، اور سب بلاؤں سے بچائے۔ اس لیے کہ انھوں نے باغیوں کو اچھی طرح سمجھا دیا، اور سرکشوں کو اپنے نرم کلام اور دلائل کے حسن ترکیب سے پورے طورپر لاجواب کر دیا۔اب جس نے انصاف کیا اور اچھی طرح پیش آیا اس نے بزرگی پائی، اور جس نے کجروی اختیارکی اور پشت پھیری وہ ذلیل ہوا۔
 لکھا اس کو فقیر محمد  عبد الغفور متوطن قصبہ بلندہ ضلع فتح پور نے۔












(۱۷)	از:کان پور
صورۃ ما قرظہ و نظمہ مجمع الفواضل العالم العامل العارف الکامل الذاکر الشاغل المرتاض الفاضل مولانا شاہ محمد  عادل  عم اللہ فیضہ الشامل إلی یوم الرجف و الزلازل  کان أخذ العلوم حین التعلم من عالم الحقائق و الأکناہ مولانا شاہ سلامت اللہ و ہو من شمس العلماء مولانا شاہ عبد العزیز الدہلوي  رحمہما اللہ العزیز القوي 
بسم اللہ الرحمن الرحیم
حمدا لمن وفق مجيء حبیبہ الکریم الذي ولد في خیر البلاد و ہو شفیع الخلائق في المیعاد لعقد مجالس المیلاد و جعل لجحیم مأوی مبغضہ اللئیم الذي ہو معدن الشر و الفساد واعد لأعدائہ سوء الأکباد شر مآب جہنم یصلونہا فبئس المہاد انہ تعالیٰ عزیز ملک بر روؤف جواد الذي إنعامہ علی العباد غیر معلول بعلل طاعات العباد و صلوٰۃ و سلاما علی من ہو باعث الإیجاد و مبعوث لہدایۃ الثقلین إلی سبیل السداد و إرائہما طریق الرشاد سیدنا محمد  أفصح من نطق بالضاد الذي ہو للأنام ہاد و أمرہ ثابت باتباعنا أعظم السواد و علیٰ آلہ الأحجاد و أصحابہ أفضلی الزہاد إلی یوم التناد أولئک الذین رحماء بینہم و علی الکفار شداد و ہم بذلوا جہدہم في إشاعۃ دین الحق و صرفوا أموالہم و أنفسہم في الجہاد مع الکفرۃ الفجرۃ ذي النفاق و العناد و بعد فیقول العبد الخاطي الخامل محمد  عادل  عاملہ اللہ سبحانہ بفضلہ الشامل و جعلہ من الآمنین یوم الرجف و الزلازل و أصلح حالہ بلطفہ الکامل في العاجل و الآجل  إني قد رأیت مواضع شتی من ہذا الکتاب المترجم بالأنوار الساطعۃ فوجدتہ أوفق لمعتقدات أہل الحق ما ذکر فیہ فہو بالمتابعۃ أحری و ألیق لأن الحق بالاتباع أحق قررت مطالبہ بتقریر ألطف و أدق بینت مسائلہ ببیان شاف إلی الذہن أسبق کیف لا و قد رصفہ من ہو جامع بین المنقول و المعقول حاو للفروع و الأصول أسوۃ أصحاب النبي صاحب الدرجات العلي الذي قد خص بالعلم الوسیع و ہو ذو الشان المنیع و المکان الرفیع أعني مولانا عبد السمیع  سمع اللہ لمسؤلہ و استجاب بنعمتہ لمدعوہ و متع أرباب الإسلام بطول بقائہ و یسر متمننا بتیسیر لقائہ جزاہ اللہ الوہاب عني و عن جمیع المستفیدین من ہذا الکتاب جزائً أوفی  فجعل الجنۃ لہ المثویٰ و خیر مآب ثوابا من عند اللہ و اللہ عندہ حسن الثواب ہذا و الحمد للہ أولا و آخرا و الصلوٰۃ علی النبي و آلہ باطنا و ظاہرا۔
تقریظ حضرت مولانا شاہ محمد  عادل کان پوری
ترجمہ:  تعریف ہے اس کو جس نے مجلس میلاد کرنے کی توفیق بخشی اپنے حبیب کریم کے دوستوں کو۔ ایساحبیب کریم جو تمام شہروں سے اچھے شہر میں پیدا ہوا، اور وہ بروز محشرساری مخلوق کا شفاعت کرنے والا ہو گا۔ اور اس کے بغض رکھنے والے بدبخت شریر فسادی کا ٹھکانہ دوزخ بنایا اور اس کے دشمن سیاہ کلیجے والوں کے لیے بری جگہ جہنم بنائی۔جس میں انھیں جاناہے تووہ کیا ہی برابچھونا ہے۔بے شک وہ خدا برتر عزت والا بادشاہ احسان کرنے والا مہربان بخشش والا ہے،اس کا انعام بندوں کی عبادت پرموقوف نہیں، اور درود و سلام ہو اس پر جو باعث ایجاد ہرعالم ہے اور جسے لوگوں کو صراط مستقیم پر لانے کے لیے مبعوث کیا گیا ہے وہ ہمارے سردار محمد  اہیں جس نے خوب فصاحت سے ’’ضاد‘‘ ادا کیا اور سب خلق کا رہنما ہوا اور ہم کو یہ حکم دیا کہ اختلاف امت کے وقت اس کا اتباع کرو جس پرزیادہ علما ہوں۔ اور تاقیام قیامت ان کی آل واصحاب پر بھی درودو سلام ہو، جو بڑے زاہد، آپس میں نہایت رحم دل   اور کافروں پر بہت کڑے تھے۔جنھوں نے دین پھیلانے میں بھرپور کوشش کی اور کفارناہنجار کے ساتھ لڑنے میں جان ومال صرف کیا۔
اس کے بعد کہتا ہے بندہ محمد  عادل اللہ اس پر فضل کرے اور قیامت کو امان دے اور حال اس کا اچھا کرے اب اور آئندہ میں نے اس کتاب انوار ساطعہ کے چند مقام دیکھے اعتقادات اہل حق کے بہت موافق پایا۔ اس میں جو کچھ لکھا ہے اس کا اتباع چاہیے، اس کے مطالب و مسائل بہت عمدہ تقریر اور بیان شافی سے بیان کیے گئے ہیں۔ اور ذہن کی طرف چلتے ہیں اور کیوں نہ ہو اس کا جامع وہ ہے جو جامع معقول وحا وی فروع واُصول ہے یعنی مولانامحمد  عبدالسمیع اللہ اس کے ماں باپ کی مرادسنے اور اپنی نعمت سے اس کی دعاقبول کی،اس کو مدتوں زندہ رکھ کر ارباب اسلام کو فائدہ پہنچائے، اور اس کی ملاقات ہم کو میسر کرے،اللہ تعالیٰ میری طرف سے اور جو لوگ اس کتاب سے فائدہ اٹھائیں،ان سب کی طرف سے اس کے مصنف کو پوری جزاے کامل دے  اور شکر ہے اس جناب میں اول وآخر اور درود نبی اور آل نبی پر باطن و ظاہر۔

(۱۸)	از:اکبرآباد
صورۃ  ما کتبہ  ذو المجد الظاہر و الفضل الباہر غائص بحار التحقیق فارس مضمار التدقیق المشتہر المدعو بالألسنۃ و الأفواہ بمولانا محمد  عبد اللہ أول مدرسین في مدرسۃ أکبر آباد  صانہ رب العباد عن شرور أہل الغنی و العناد۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم، الحمد للہ العلي الأعلی الذي خلق الأرض و السماوات العلیٰ و الصلوٰہ و السلام الأتمان الأکملان علی من دنی فتدلی فکان قاب قوسین أو أدنیٰ و علی آلہ الأبرار و أصحابہ الأخیار إلی ما دار الدوار و سار السیار، أما بعد فلقد رأیت کتاب الأنوار الساطعۃ مشتملۃ علی تحقیقات غامضۃ و تدقیقات فائضۃ شموس براہینہ علی أفق التحقیق طالعۃ و أقمار حججہ علی فلک التدقیق لامعۃ و أنوار دلائلہ و أثارہ علی الأکناف و الأطراف ساطعۃ و مؤلفہ البحر الطمطام و الحبر القمقام أجاد بما أراد و سلک مسلک السداد و أزحق الباطل و الزیغ و الإلحاد و ہدی الناس إلی سبیل الرشاد إذ ہو ہاد لأنہ لکل قوم ہاد و اللہ أعلم بالصواب  و إلیہ المرجع و المآب إذ عندہ أم الکتاب۔
نمقہ و قرظہ العبد الأواہ
محمد  عبد اللہ  عفا اللہ عنہ ما جناہ من الجناح في المساء ۃ و الصباح  
المدرس الأول للمدرسۃ الإسلامیۃ الواقعۃ ببلدۃ أکبر آباد  صانہا اللہ عن الشر و الفساد  فقط۔



تقریظ حضرت مولانا محمد  عبداللہ اکبر آبادی
ترجمہ:سب تعریف اس اللہ کو ہے جو بلند و برتر ہے۔اس نے زمین اور اونچے آسمان بنائے  اور کامل و اکمل درودو سلام ان پرجن کی شان یہ ہے’’ دنی فتدلی فکان قاب قوسین وأدنی‘‘ اور اُن کے آل واَصحاب پاک پرجب تک پھرے پھرنے والا اور چلے چلنے والا۔
بعدہٗ عرض یہ کہ میں نے تحقیق وتدقیق پر مشتمل کتاب اَنوار ساطعہ دیکھی، جس کے دلائل کے آفتاب افق تحقیق سے طلوع ہوتے محسوس ہوتے ہیں، اور اس کی حجتوں کے چاند فلک تدقیق پر چمکتے نظر آرہے ہیں۔دلائل کے انوار ہر طرف بلند ہیں۔ اس کا مولف بڑا دانش مند اور بڑا بردبار ہے۔ اچھی طرح ادا کیا جو ارادہ کیا اور خوب درست راہ پر چلا، الحادوباطل کے پرخچے اُڑادیے، اور لوگوں کو نیک راستہ بتا دیا،اس لیے کہ وہ راہ بتانے والا ہے اور ہر قوم کا ایک رہ نما ہوتا ہے۔ اور اللہ خوب جانتا ہے۔ اور اسی کی طرف پھر جانا ہے اسی کے پاس ام الکتاب ہے۔
 لکھا اس کو بندہ نرم دل محمد  عبد اللہ نے اللہ تعالیٰ صبح وشام ہوئی اس کی تقصیر کوبخشے  
مدرس اول: مدرسہ اسلامیہ اکبر آباد  خدائے پاک اس مدرسہ کو نظر بد سے بچائے 












(۱۹)	از : دہلی
صورۃ ما رقمہ الثقیف الجلال و الجُلال و الحصیف الجال مروج عقائد الإسلام مفسر کلام الملک العلام مقدام فنون المناظرۃ و الکلام و المعاني المولوي أبو محمد  عبد الحق مولف عقائد الإسلام و التفسیر الحقاني  لا زال فائزا بالمآرب و الأماني ۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ و نصلي
میں نے رسالہ انوار ساطعہ کو دیکھا ہے اور اس کے چند ابحاث کو پڑھاہے حقیقت میں مصنف ممدوح نے کمال متانت اور بڑی لیاقت سے بحث کی ہے اگر مبالغہ نہ سمجھاجائے تو میں کہ سکتاہوں کہ اس مسئلہ میں یہ رسالہ بے نظیرہے اور اس کی تحریر میں حق بجانب مصنف ہے،محفل میلاد خصوصا اس پرآشوب زمانہ میں نہایت نیک کام اور باعث ترویج اسلام بین العوام ہے، اب جو لوگ اس محفل متبرک میں بعض بدعات کا ارتکاب کرتے ہیں یہ ان کا قصورہے اس الزام سے یہ کام برانہیں ہوسکتا،بناے مساجدومدارس جو بالاتفاق امرمستحسن ہے اگر اس میں کوئی بدعات کا ارتکاب کرے تو کیا اس سے کوئی اس نفس فعل کو برا کہ سکتا ہے نہیں ہرگزنہیں۔میرے نزدیک جس فریق نے بدعت سیئہ کے معنی یہ لیے ہیں (کہ قرونِ ثلاثہ کے بعد جو بات پیداہوئی ہے وہ بدعت سیئہ ہے) اس نے بڑی غلطی کی ہے پھر جس نے اس بناے فاسد پر تفریعات کی ہیں اور اس کے پیروؤں نے ان کو کالوحي من السماء  سمجھ لیا ہے وہ اور بھی غلطی میں پڑگئے ہیں۔ و اللّٰہ الہادي و بیدہ أزمۃ المقاصد و المبادي۔

ابو محمد عبد الحق






(۲۰)	از: دہلی
	صورۃ ما وشاہ و نمقہ الفاضل الخبیر و الناقد البصیر قدوۃ أرباب التدریس و التذکیر أسوۃ أصحاب التحریر و التقریر الکریم ابن الکریم الحافظ لحدود اللہ و المتبع لسنۃ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  مولانا محمد  یعقوب ابن خازن العلوم مولانا محمد  کریم اللہ الدہلوي التلمیذ الرشید لمولانا شاہ عبد العزیز الدہلوي  خصہم اللہ بالفیض البہي و الأجر السني   ہو العزیز الکریم۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الحمد علی ما أنعم علینا ببعثۃ سید الأنبیاء محمد  المصطفیٰ و الصلوٰۃ و السلام علی رسولہ المجتبیٰ و آلہ المرتضیٰ و أصحابہ المہتدی و علیٰ الأئمۃ الکرام المتقدی و بعد فیقول العبد الراجي رحمۃ اللہ علام الغیوب محمد  یعقوب  حفظ اللہ عن الکروب  فقد اطلعت علی الرسالۃ الرشیقۃ و العجالۃ الکریمۃ المسماۃ بالأنوار الساطعۃ في بیان المولود و الفاتحۃ التي ألفہا العلامۃ ذو المحامد و المناقب و الرأي الثاقب صاحب المقام المنیع مولانا محمد  عبد السمیع  صانہ اللہ عن کل خصم شنیع  فوجدتہا صحیحۃ و موافقۃ لمذہب أہل السنۃ و الجماعۃ و مملوۃ بالروایات المقبولۃ المرضیۃ فمن وافقہا فہو منا و من خالفہا و ردہا فلیس أمرہ برشید و ما قولہ بسدید و کیف فانہا مشحونۃ بالدلائل الساطعۃ و البراہین القاطعۃ و المطالب النفیسۃ و المآرب المنیفۃ المرویۃ عن الفضلاء و الکبراء نسئل اللہ تعالیٰ أن یرزقنا اتباعہم و آخر کلامنا و ختم مرامنا ان الحمد للہ رب العالمین و صلی اللہ تعالیٰ علی خیر خلقہ سیدنا محمد  خاتم النبیین و آلہ الطاہرین و أصحابہ الظاہرین۔


تقریظ حضرت مولانا محمد یعقوب دہلوی 
ترجمہ:سب تعریف اللہ کو ہے کہ اس نے سید الانبیا محمد  صلی اللہ علیہ وسلم کومبعوث فرما کرہم پر انعام فرمایا۔ اور درودو سلام ہواس کے رسولِ مجتبیٰ اور آل مرتضیٰ اور اصحاب مہتدی اور اماموں کے پیشوا پر۔ اس کے بعدیوں کہتا ہے بندہ، رحمت خدا کا امیدوار محمد  یعقوب   خدا اس کو سختیوں سے بچائیو  میں نے عمدہ رسالہ انوار ساطعہ دیکھا جو علامہ فہامہ مولوی محمد  عبد السمیع کا تصنیف کردہ ہے۔ا للہ ان کو ہر دشمن بد سے بچائے  میں نے اس رسالہ کو صحیح، موافق اہل سنت وجماعت اور مقبول روایتوں سے مملو پایا۔پھر جوشخص اس کی موافقت کرے وہ ہم میں سے ہے، اور جو اس کے مخالف ہو اور اس کی تردید کرے تواس کا حال کچھ ٹھیک نہیں اور اس کاقول درست نہیں اور ایسا کیوں نہ ہوکہ وہ رسالہ ایسے شواہدوبراہین،دلائل قاطعہ، مطالب نفیس اور مقاصد بلند سے بھراہواہے جوفضلاے روزگار اور علمائے باوقار سے روایت کیے گئے ہیں۔ہم اللہ تعالیٰ سے سوال کرتے ہیں کہ ہم کو ان بزرگوں کا اتباع نصیب کرے اور انتہاے کلام پر ہم پڑھتے ہیں۔الحمد للّٰہ رب العالمین وصلی اللّٰہ علی خیر خلقہ سیّدنا محمد  خاتم النبیین وآلہ الطاہرین۔













(۲۱)		از: رُڑکی
صورۃ ما زبرہ الحبر السامي و البحر الطامي الفاضل الوقاد و الکامل النقاد الثقیف الشریف الحصیف اللطیف مولانا محمد  عبد الحق سہارنفوري المقیم في رُڑکي للتدریس و نشر العلوم  سلمہ اللہ القادر القیوم 
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الحمد للہ علی نوالہ و الصلوٰۃ و السلام علی رسولہ محمد  و آلہ۔ 
اما بعد احقر الخلائق عبد الحق  عفی عنہ  ملتمس خدمت اہل اسلام  ابقاہم اللہ إلی یوم القیام  ہے کہ کتاب لاجواب سراپاتحقیق و صواب مسمی بہ انوار ساطعہ مولفہ فاضل اجل عالم باعمل مولوی محمد  عبد السمیع صاحب رام پوری  دام فیضہ نظر احقرسے گزری۔الحق مولف موصوف نے  جزاہ اللہ خیرا حسبتہ للہ  بطورسعی فی الدین یہ کتاب ایسی تحریر فرمائی ہے کہ جس کے مطالعہ سے ایمان والوں کی آنکھوں میں نور اور دلوں میں ترقی ایمان کاسرور ہے ہاں جو معاندین حق اور پیروان باطل سے ہے وہ بلاشک اس سے متوحش اور نفورہے سو ایسے شپرہ چشموں کی خواہش سے آفتاب کا سیاہ ہونا ممکن نہیں اگرچہ سطوعِ انوار ساطعہ سے ان کی آنکھوں میں خیرگی ہو اور خاصہ طبعی سے دلوں میں تیرگی آئے   ؎
نورِگیتی  فروز  چشمہ  ہور
زشت باشد بچشم موشک کور 
پس اگر چندفضول گوہفوات وخرافات بکیں اور فضول باتوں سے اور اق سیاہ کرنے کو تحریر جواب نام رکھیں تو ان کی ناکامی اور عالم میں بدنامی خود ظاہرباہرہے اہل نظر اور ارباب بصیرت کو ایسے بے بصروں کی شکایت نہیں کہ وہ نور کو ظلمت اور سنت کو بدعت اپنی کجی باطن اور جہالت سے قرار دیتے ہیں اور نورِ اسلام کو باطل اور حق کوعاطل کرناچاہتے ہیں۔
واللہ متم نورہ و لو کرہ الکافرون و صلی اللہ تعالیٰ علیٰ خیرخلقہ 
محمد و آلہ و اصحابہ اجمعین


(۲۲)	از:  میرٹھ
صورۃ ما قرظہ الشیخ الحسیب الشاعر اللبیب الأدیب المتمسک بعقائد أہل الفوز و الفلاح المتشبث بأعمال أہل الخیر و الصلاح المشہور بالمولوي أبو محمد  صادق علی مداح   سلمہ خالق الأشباح و الأرواح 
اے بہارآرائے چمنستان کون ومکان تیراہزارہزار شکر اور لاکھ لاکھ احسان،انوار ساطعہ کی تجلی ریزی کی گل ہاے تروتازہ سے مشام آرزوئے مشتاقان دوبارہ معطر ہوا اور اس تجلی زار کے جلوات خورشید اثرسے ایوان مراد عاشقان کا درودیوار منور ہو ا۔اللہ اللہ کیا کتاب ہے جس کی ہر ادا لاجواب ہے،ہر لفظ کی پہن جلوہ ریز نور، ہر معنی کی تجلی تماشائی طور، ہر سطر اس کی سفہاے بے ادب کے لیے تازیانہ ہدایت ہے،ہر صفحہ اس کا صلحاے صافی مشرب کے واسطے آئینہ رونماے سعادت ہے۔یہ کتاب تعلیم غیبی کا وہ نادر سبق ہے جس کے فیوضات کا جوش آئینہ اسرار نُہ طبق ہے، یہ اس شہسوارمیدان دین وایمان کا عالی نشان ہے جس کی یکہ تازی سمندتحقیق سے کشور وہابیت پامال و ویران ہے، وہ خضر وادی تحقیق ہادی منازل تدقیق بالانشین صدر رفیع جناب مولانا مولوی عبد السمیع ہیں۔سبحان اللہ! دلائل وہ مدلل کہ جائے گفتار نہیں براہین وہ مبرہن کہ مقام انکار نہیں، عاشقان رسول مقبول نے اسے آنکھوں سے لگایا،عالمان معقول ومنقول نے مستندٹھہرایا،سنیوں کا یہ مذہب صوفیوں کا یہ مشرب علمائے ہند سے تامفتیان حرمین الشریفین سب اس کے قائل، ہر خانوادہ کا صوفی اس پرجان ودل سے مائل علی الخصوص وہ بلبل بستان حجاز یعنی مکہ معظمہ کا مفتی حنفی بلاغت طراز دیکھو کہ کس خوش آہنگی سے زمزمہ پرداز ہے   ؎
أنزہ ربي عن مقالۃ کاذب
۹
کفو ربما سمی براہین قاطعۃ
و ما حکمہ في ذا سوی ضربۃ امراء
۹
بسیف لہ في الحق أنوار ساطعۃ
یباعد منہا رأسہ عن مکانہ
۹
و تبقی لأہل الزیغ و الجہل قامعہ
یہ اشعار ملیح بطرز تلمیح حضرت مفتی حرم محترم ان فتاوی کے ذیل میں رقم فرماتے ہیں جو مولوی غلام دستگیر صاحب قصوری نے درباب ردّمسائل کتاب براہین قاطعہ مواہیر علمائے حرمین شریفین سے  ۱۳۰۷ھ میں مستند کرائے ہیں اور یہ بات ان اشعار آب دار سے آشکاراہے کہ مولف براہین قاطعہ بالکل کاذب وکفور اور اس کا گروہ اہل جہالت و اہل زیغ ہے اور کتاب انوار ساطعہ راہِ حق میں مخالفین حق کاسرکاٹنے کے لیے تیغ بے دریغ ہے۔ الٰہی اس کتاب مستطاب کی شہرت ومقبولیت جلوہ آرائے اوج کمال ہو اور اس کے ناظرین و سامعین کا دل لذت یاب کیف جلال وجمال ہو۔ آمین یارب العالمین۔  
ئئئئئء                                                                                        
مولف کہتا ہے کہ تقاریظ نقل کرتے کرتے کافی طول ہو گیا ہے اور ابھی علمائے عصر کی بہت تحریریں آئی ہوئی باقی ہیں۔ جناب مولوی عبد الخالق صاحب اور عبد المجید صاحب جودونوں حضرت بحر العلوم  قدس سرہ  کی اولاد امجادسے ہیں۔ مولوی عبد الوہاب صاحب خلف الصدق حضرت مولانا عبد الرزاق صاحب  رحمۃ اللہ علیہ   مولوی محمد  ابراہیم صاحب،مولوی محمد  عبد الباقی صاحب اور مولوی محمد  عبد العزیزصاحب یہ سب حضرات عالی درجات بلدہ لکھنو محلہ فرنگی محل کے علمائے باوقار ہیں   رفع اللہ درجہاتہم ونفع المسلمین بحسناتہم   اور میرے مشفق کرم فرما مولوی محمد  عبد العلی صاحب مدراسی دام فیضہ  اور مولاناشاہ محمد  سکندرعلی صاحب خلیفہ حضرت شاہ عبد السلام ہسوی رحمۃ اللہ علیہ ان کے علاوہ مرادآباد،دہلی اور بمبئی وغیرہ کے علمائے کرام  جزاہم اللہ عنا خیر الجزا نے اپنی تقریظوں سے اس ذرۂ بے مقدار کومشرف فرمایا لیکن بعض اہل دانش اور دور اندیشوں نے یہ سمجھایاکہ ان سب کے مطبوع ہونے میں بہت طول ہو گا اور لمبی تحریروں کے دیکھنے سے ہر ناظر ملول وبرداشتہ خاطر ہو گالہٰذا میں ان حضرات کی خدمت والادرجت میں تقریظ شائع نہ ہوسکنے کا عذر اور ان کی توجہ اور بذل عنایت تقریظ نگاری کا تہ دل سے شکریہ ادا کرتاہوں لیکن ایک تقریظ جس کو خاتم التقاریظ کہنابجاہو گا اگر چہ وہ میرے پاس سب سے اخیر میں پہنچی ہے لیکن اس کوتقدم ذاتی کا شرف حاصل ہے وہ ضرورشائع ہونی چاہیے اور اس کی طباعت کو ہر ایک کا دل چاہے گا اور کیوں نہ ہو کہ تمام عرب وعجم،ہندوستان وقسطنطنیہ اور مصروشام وغیرہ میں انھیں فضیلت شہرت حاصل ہے اور آپ کی عظمت وکرامت کاشہرہ دور دور ہے۔حضرت سلطان روم نے بکمال اشتیاق وآرزو آپ کو مکہ معظمہ زادہما اللہ شرفا سے دوباربلایا ہے اور آپ کابھرپوراجلال واعزاز کیا ہے۔چنانچہ ممالک ہندوستان وغیرہ اخبار نگاروں نے جابجا اس خبرکوشائع کیا اور پھیلایا ہے۔نیز حضرت سلطان نے جناب شیخ الاسلام مفتی الانام مولانا احمد اسعد آفندی کی تجویز سے پایہ حرمین شریفین آپ کا خطاب مقرر فرمایا ہے اور فرمان شاہی میں آپ کو ان الفاظ(اقضی قضاۃ المسلمین اولی ولاۃ الموحدین وغیرہ القاب عالیہ سے یاد کیاجاتا ہے آپ میرے اساتذہ میں سب سے پہلے استاذ ہیں کہ درس علم عربی شروع آپ سے کیا اور تصحیح عقائد اہل سنت کاحصہ بھی آپ سے لیا،طرفہ تریہ کہ اس دیس کے رہنے والوں میں جو صاحب میرے مقابل اور مجادل ہو کر میلاد مقدس حضرت محبوب رب العالمین کی توہین کرتے ہیں وہ بھی حضرت مولانا کومانتے ہیں۔ازاں جملہ کتاب براہین قاطعہ گنگوہی کے صفحہ اٹھارہ کی چوتھی سطر میں حضرت کانام اس ادب سے لیا ہے  :
ہمارے شیخ الہند مولوی رحمت اللہ۔
پھر صفحہ ۲۷۶کی دوسری سطر میں لکھا  :
اب مولوی رحمت اللہ صاحب تمام علمائے مکہ پرفائق اور باقرار علمائے مکہ اعلم ہیں۔
بھلایہ صاحب بھی جب حضرت کو اپنا شیخ الہند تسلیم کرچکے، اور عرب کے جملہ علماپر فضیلت رقم کرچکے تواب حضرت کی تصدیق کمال درجہ کو پہنچ گئی اور آپ کی فضیلت کیا ہندوستان اور کیاعرب سب جگہ کے علماپرخود ہمارے معاصرین کے اقرار سے ثابت ہوچکی،لہٰذا ان کی تقریظ کا آخرتقاریظ میں چھاپ دینامجادلین کے اوپرآخروانتہادرجہ کی حجت سمجھتاہوں علاوہ بریں حضرت مولانا کے حکم کی تعمیل ادا کرتاہوں کہ آپ نے مکہ زادہا اللہ شرفاوتکریما سے اس کو روانہ فرما کر مجھ کو مشرف فرمایا اور مخدومی مولوی منور علی صاحب مہاجر مقیم مکہ معظمہ کا یہ نوشتہ آیا کہ حضرت مولانا ارشاد فرماتے ہیں کہ چوں کہ کتاب درمنظم اور کتاب انوارِ ساطعہ کا اصل مدعا اثبات مولدوقیام میں ایک ہے اس لیے میری طرف سے دونوں کتاب کی ایک ہی تقریظ ہے۔تقریظ یہ ہے  :
تقریظ مجددِ زماں پایہ حرمین شریفین شیخ العلما حضرت 
مولانا رحمت اللہ مہاجرمکی  مد اللہ ظلہ العالی مدی الایام و اللیالی 
اس رسالے کو میں نے اول سے آخرتک اچھی طرح سنا،اسلوب عجیب اور طرزغریب بہت پسند آیا،اگر اس کے وصف میں کچھ لکھوں تولوگ اسے مبالغہ پر حمل کریں گے اس لیے اسے چھوڑ کر دعاپر اکتفا کرتاہوں کہ خداے تعالیٰ اس کے مصنف کو اجرجمیل اور ثواب جزیل عطافرمائے، اس رسالہ کے ذریعہ منکروں کے تعصب بیجاکوتوڑ کران کوراہِ راست پرلائے اور مصنف کے علم،فیض اور تندرستی میں برکت بخشے۔
میلاد شریف کے باب میں میرے اساتذۂ کرام کا اور میرا عقیدہ قدیم سے یہی تھا اور یہی ہے بلکہ بحلف سچ مچ ظاہرکرتاہوں کہ میرا ارادہ یہ ہے کہ   ع :
بریں زیستم ہم بریں بگذرم
 اور عقیدہ یہ ہے کہ انعقاد مجلس میلاد بشرطے کہ منکرات سے خالی ہو جیسے تغنی اور باجا اور کثرت سے روشی بیہودہ نہ ہو بلکہ روایات صحیحہ کے موافق ذکر معجزات اور ذکرولادت حضور صلی اللہ علیہ وسلم  کیا جائے اور اس کے بعد اگر طعام پختہ یا شیرینی بھی تقسیم کی جائے تو اس میں کچھ حرج نہیں بلکہ اس زمانہ میں جو ہرطرف سے پادریوں کا شور اور بازاروں میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے د ین کی مذمت کرتے ہیں اور دوسری طرف سے آریہ لوگ خدا ان کو ہدایت کرے  پادریوں کی طرح بلکہ ان سے زیادہ شور مچارہے ہیں ایسی محفل کا انعقاد ان شروط کے ساتھ جو میں نے اوپرذکر کیں اس وقت میں فرض کفایہ ہے۔میں مسلمان بھائیوں کو بطورِ نصیحت کہتاہوں کہ ایسی مجلس کرنے سے نہ رکیں اور اقوال بیجامنکروں کی طرف سے جو تعصب سے کہتے ہیں ہرگز التفات نہ کریں اور تعین یوم میں اگر یہ عقیدہ نہ ہو کہ اس دن کے سوا اور دن جائزنہیں توکچھ بھی حرج نہیں اور جواز اس کا بخوبی ثابت ہے اور قیام وقت ذکر میلاد کے چھ سوبرس سے جمہور علمائے صالحین نے متکلمین اور صافیہ اور علمائے محدثین نے جائز رکھا ہے اور صاحب رسالہ نے اچھی طرح ان امور کو ظاہر کیا ہے اور تعجب ہے ان منکروں پرجو ایسے بڑھے کہ فاکہانی مغربی کے مقلد ہو کرجمہور سلف صالح کو متکلمین اور محدثین اور صوفیہ سے ایک ہی لڑی میں پرودیا اور ان کو ضال مضل بتلایا اور خداسے نہ ڈرے کہ اس میں ان لوگوں کے استاد اور پیربھی تھے مثلاً حضرت شاہ عبد الرحیم دہلوی اور ان کے صاحبزادے شاہ ولی اللہ دہلوی اور ان کے صاحبزادے شاہ رفیع الدین دہلوی اور ان کے بھائی شاہ عبد العزیز دہلوی اور ان کے نواسے حضرت مولانامحمد  اسحق دہلوی  قدس اللہ اسرارہم  سب کے سب انھیں ضال مضل میں داخل ہوئے جاتے ہیں۔اُف ایسی تیزی پرکہ جس کے سبب جمہورمتکلمین، حرمین،مصروشام اور یمن کے صوفیہ ومحدثین اور دیارعجیبہ میں لاکھوں گمراہی میں ہوں اور یہ گنے چنے چندحضرات ہدایت پر۔یا اللہ! ہمیں اور ان کو ہدایت فرمایا اور سیدھے راستہ پرچلا۔آمین ثم آمین۔
 اور وہ جوبعضے میری طرف نسبت کرتے ہیں کہ عرب کے خوف سے تقیہ کے طورپر سکوت کرتا ہوں اور ظاہرنہیں کرتا،بالکل جھوٹ ہے اور ان کا قول مغالطہ دہی ہے۔میں بحلف کہتاہوں کہ میں نے کبھی حضرت سلطان کے سامنے جو میرے نزدیک خلاف واقع ہو ان کی رعایت یا ان کے وزراؤامرا کی رعایت سے کبھی نہیں کہا بلکہ دونوں دفعہ جومیں بلایا گیاہوں توصاف صاف کہتا رہا ہوں اور کبھی یہ خیال نہیں کیا کہ حضرت سلطان المعظم یا ان کے وزراؤامراناراض ہوں گے۔ اور میرا جھگڑاجوعثمان نوری پادشاہ سے ہوا جو بڑے مہیب اور زبردست بادشاہ تھے اور اپنے حکم کی مخالفت کو بدترین امورسمجھتے تھے  اور مجلس عام میں ان سے جومیری گفتگو ہوئی وہ  جملہ اہل حجاز  بالخصوص حرمین کے بڑے چھوٹے سبھی بخوبی جانتے ہیں۔ بلکہ اگر میں تقیہ کرتاتوان حضرات منکرین کے خوف سے تقیہ کرتا۔مجھے یقین ہے کہ جب ان کے ہاتھ سے امام سبکی،جلال الدین سیوطی، ابن حجر اور ہزارہاعلمائے تقویٰ شعار خاص کر ان کے استادوں اور پیروں میں شاہ ولی اللہ وغیرہ  قدس اللہ اسرارہم نہ چھوٹے تو میں غریب  نہ توان کے سلسلہ اساتذہ میں شامل اور نہ ان کے پیروں کی فہرست میں داخل  کس طرح چھوٹوں گا،یہ توہرطرح سے تفسیق بلکہ تکفیر میں قصور نہ کریں گے لیکن میں ان کی ان حرکتوں سے نہیں ڈرتا اور میرے ان اقوال کی تائید اور سند مولف رسالہ نے جو جابجا تحریرفرمائی ہے اسی پراکتفا کرتاہوں۔واللہ اعلم و علمہٗ اتم  فقط۔
أمربرقمہ و قال بفمہ الراجی رحمۃ ربہ المنان 
محمد  رحمت اللہ بن خلیل الرحمن  غفرلہما اللہ المنان 
  محمد  رحمت اللہ ۱۲۵۳

اختتام کتاب 
بہ کلمات طیبات مرشد زماں ہادیِ دوراں حضور مرشدی،مولائی، ثقتی و رجائی، المشتہر بالالسنہ والافواہ الحافظ الحاج المہاجر مولاناشاہ امدادُ اللہ متع اللہ المسلمین بامدادہ و إرشادہ وتقواہ 
بعد حمدو صلاۃ فقیرحقیرامداد اللہ عرض می نماید کہ درینولاچیزے کیفیت اعتقاد مذہب ومشرب خود کہ جامع شریعت وطریقت میدانم بقلم آوردن مناسب افتاد باید دانست و بغور باید شنیدکہ فقیر مدعی مذہب حنفی و مشرب صوفی است اگرچہ در دعویٰ خود کامل نہ باشد مگر خود راحنفی مذہب و صوفی مشرب می گویانددمی شمارد زیراکہ فقیر را از راہِ عقل ونقل محقق ومعلوم شد کہ ہر قدرکہ فہم معانی قرآنی و ادراک حقائق و معارف کلام الٰہی  جل شانہ وفہم وادراک حدیث مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم  ایں دوگروہ یعنی علمائے مجتہدین احناف و مشایخ صوفیہ را حاصل ونصیب است دیگراں ایں درجہ ندارندکہ از یک مسئلہ مسائل کثیرہ استخراج کردہ اند وپشت وپناہ دین محمد ی صلی اللہ علیہ وسلم گشتہ اند رضوان اللہ علیہم اجمعین لہٰذا فقیر بدل مقلد ہر دوفریق موصوف گشتہ مذہب ومشرب ایشاں اختیار کردہ است و فوائد بسیار ظاہری و باطنی حاصل کردہ است و می کند  و ہو الموفق وبہ نستعین  پس معتقدومختار فقیرآنست کہ دراں مسئلہ کہ ایں ہر دوفریق متفق اند یعنی احناف و صوفیہ فقیر بے تکرار وبحث بدل نمودہ برآں کار بند می شود دراں مسئلہ کہ فریقین موصوفین را اختلاف واقع شدہ درآں مسئلہ دیدہ خواہد شد کہ اگر آں اختلاف در حقائق و معارف و توحید بصوفیہ کرام  رحمہم اللہ تعالیٰ کردہ خواہد شد زیراکہ ایں گروہ محقق و اہل کشف ہستندوفریق ثانی نظروفکر عقلی را دخل می دہندواگر اختلاف درمسائل عبادات ومعاملات است دراں نیزغورکردہ خواہد شد پس اگر آں اختلاف در مسائل اعمال جوارح تعلق دارد باہل مذہب حنفی رجوع کردہ آیدواگر اختلاف در اعمال قلبی ست رجوع بصوفیہ خواہدشد۔ (دستورالعمل حضور مرقومہ  ۱۳۰۶ھ )
یعنی فقیرحقیر امداد اللہ عرض گزار ہے کہ میں مشرباً اور مذہباًاپنے عقیدہ و عمل کو شریعت وطریقت کا سنگم سمجھتاہوں،جسے اپنے قلم سے لکھ دینامناسب ہے۔ہوش کے کان لگا کرسنیں کہ یہ فقیرحنفی المسلک اور صوفی المذہب ہونے کامدعی ہے گرچہ اپنے اس دعوے میں کامل نہیں مگرخود کو حنفی اور صوفی کہتا اور شمار کرتاہوں کیوں کہ اس فقیر پر عقلی ونقلی دلائل کی روشنی میں یہ حقیقت آشکارہوچکی ہے کہ جس قدر قرآنی علوم کے فہم ومعانی ادراک حقائق اور معرفت کلام الٰہی جل شانہ اور احادیث مصطفویہ کافہم وادراک ان دوگروہوں یعنی علمائے مجتہدین احناف اور مشائخ صوفیہ کو نصیب ہواہے شاید ہی کسی اور کو اتنا حاصل ہواہو،کیوں کہ انھوں نے ایک ہی مسئلہ سے بہت سے مسائل کا استخراج کیا ہے اور دین محمدی کی پشت پناہی کافریضہ بطریق احسن انجام دیا ہے،اس لیے فقیر ان دوگروہوں کا تہ دل سے اتباع کرکے ان کے مذہب ومسلک پرجادہ پیماہواہے۔ اور فوائد ظاہری وباطنی سے مستفید ہوا اور ہو رہاہے۔ وہوالموفق وبہ نستعین۔پس فقیر کامعتقدومختاریہ ہے کہ جس مسئلہ میں یہ دوگروہ یعنی احناف وصوفیہ متفق ہیں فقیر اس کو بغیر کسی ہچکچاہٹ کے تہ دل سے قبول کرکے اس پرکاربند ہوتا ہے۔ اور جس مسئلے میں مذکورہ گروہوں کا اختلاف ہو اس کے بارے میں دیکھاجائے گاکہ اگر یہ اختلاف حقائق ومعارف اور توحید سے متعلق صوفیہ کرام کاہے ہو توممکن ہے کیوں کہ یہ محقق اور اہل کشف کی جماعت ہے۔ اور دوسرا گروہ اپنے نظروفکرمیں عقل کا استعمال کرتے ہیں لیکن اگر اختلافات عبادت ومعاملات سے متعلق مسائل میں ہوں تو اس پر غور کیاجائے گا،پس اگر اس اختلاف کا تعلق اعمالِ جوارح والے مسائل سے ہو تو ان پرمذہب حنفی کی طرف رجوع کیا جائے گا اور اگر اختلاف اعمال قلبی میں ہو تو صوفیہ کی طرف رجوع لایاجائے گا۔
					   (دستورالعمل حضور مرقومہ  ۱۳۰۶ھ )
و قال  دام إرشادہ و إمدادہ 
ازفقیرامداد اللہ  عفا اللہ عنہ بخدمت بابرکت جناب مولوی نذیراحمد خاں صاحب  سلمہ اللہ تعالیٰ بعد وعلیکم اللہ و رحمۃ اللہ و برکاتہ۔
آپ کا نامہ مورخہ ۲۰؍رجب  ۱۳۰۷ھ  مع ایک پرچہ مطبوعہ مطبع محبوب المطابع شہرمیرٹھ جو فقیرکے خط سے منسوب ہے جناب مولوی غلام دستگیرصاحب قصوری کے ہاتھ پہنچا،فقیرکایہ مسلک ضرور ہے کہ اہل اسلام کی تکفیرپرجرأت نہیں کرتابلکہ اس سے تنفرقلبی رکھتا ہے اور اس میں صرفِ اوقات کو حماقت بلکہ خسران وخذلان کاموجب سمجھتا ہے۔جہاں تک ممکن ہو تاویل کو محبوب سمجھتا ہے بشرطیکہ سوادِ اعظم کے خلاف نہ ہو۔ اور فقیرصلح بین المومنین کا بدل خواہاں ہے اور اپنے احباب کو بھی فقیرکی یہی نصیحت ہے کہ نزاع سے کنارہ کش رہیں اور مسائل مختلف فیہا میں سوادِ اعظم کا اتباع کریں،اگرچہ وہ مسئلہ اپنی تحقیق کے مخالف ہو کیوں کہ سوادِاعظم علماو مشائخ کا خلاف تنزل مرتبہ ایمانیہ کا موجب اور انحطاط کمالات کا مثمر ہے۔
اس خط میں یعنی خط مطبوعہ محبوب المطابع میں جو فقیرکے خلاف ہے اس کی تصریح کرتاہوں :
جواب اول میں امکان ووقوع کا فرق بتایا گیا ہے۔فقیرکواس سے اتنامعلوم ہوا کہ کذب کا نقائص میں ہونامتفق علیہ ہے پھر ذاتِ مقدس باری تعالیٰ کی طرف نقص کا استناد کس طرح جائز ہوسکتا ہے، گوبرسبیل امکان ہی سہی۔
جواب ثانی میں آیت :  إنما أنا بشر مثلکم  الخ کامنکر کوئی اہل اسلام نہیں سب کایہی اعتقاد ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بشر ہیں۔حضرت آدم علیٰ نبینا و علیہ الصلوٰۃ و السلام کی اولاد میں ہیں انکاراس بات کا ہے کہ کوئی بشرسمجھ کر بڑابھائی کہنے لگے یا مثل اس کے اور کلمہ گستاخی زبان سے نکالے،یہ البتہ موجب خذلان ہے،فقیرکے اعتقاد میں تورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اشرف المخلوقات ہیں اور باعث ایجادِکائنات     ع :
بعدازخدا بزرگ توئی قصہ مختصر
جواب ثالث کی تصریح یہ ہے کہ فقیر مجلس شریف میلاد مبارک کا مع ہیئت کذائیہ معمولہ علمائے ثقات صلحاومشائخ کرام بارہا اقرار کرچکاہے اور اکثراس کا عامل ہے جیساکہ فقیرکی دیگر تقریرات و تحریرات سے یہ مضمون ظاہرہے فقیر کو اس مجلس شریف کے باعث حسنات وبرکات کے معتقدہونے کے علاوہ یہ عین الیقین ہے کہ اس مجلس مبارک میں فیوض وانوار ورحمت الٰہی کا نزول ہوتا ہے۔
جواب رابع میں فقیر کا یہ عقیدہ ہے کہ علمائے حرمین شریفین کی توہین شمہ بھرجائزنہیں اور ان کا اتفاق کسی مسئلہ شرعیہ میں حجت سمجھتاہوں۔جیساکہ بزرگانِ سلف لکھتے آئے ہیں۔
جواب خامس فقیرہمیشہ سے حنفی المذہب صوفی المشرب ہونے کا مدعی ہے اگرچہ اپنے دعوے میں کامل نہ ہو۔فقیرتقلید کو واجب جانتا ہے اور اس بات کو اچھانہیں جانتاکہ کوئی حنفی المذہب ہو کر ایسے مسئلہ کی تائید کرے جس میں حمایت لامذہبی پائی جائے اور عوام ضلالت میں پڑیں۔ 
(فقرات مندرجہ کرامت نامہ)حضور مرشدی اسمی مولوی نذیراحمدخاں صاحب مدرس مدرسہ احمدآبادگجرات مرقومہ رمضان  ۱۳۰۷ھ  
و قال  دام إرشادہ و إمدادہ 
از : امداد اللہ  عفا اللہ عنہ 
بخدمت عزیزم پیرجی مولوی خلیل احمد صاحب انبیٹھوی و عزیزم مولوی محمود حسن صاحب دیوبندی  سلمہما اللہ تعالیٰ 
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
تمام بلاد وممالک ہندمثلاً بنگال، بہار، مدراس، دکن،گجرات، بمبئی، پنجاب،راج پوتانہ، رام پور اور بہاول پوروغیرہ سے متواتراخبارات حیرت انگیز حسرت خیز اس قدر آتی ہیں کہ جس کو سن کر فقیرکی طبیعت نہایت ملول ہوتی ہے اس کی علت یہی براہین قاطعہ و دیگرایسی ہی تحریرات ہیں،یہ آتش فتنہ انوارِ ساطعہ کی تردیدسے مشتعل ہوئی کہ تمام عالم اس کی حمایت میں کھڑاہو گیا،اللہ تعالیٰ نے اس کو کچھ ایسی مقبولیت عطافرمائی کہ تمام ممالک کے علماومفاتی نے ساری کتاب کو تہ دل سے پسند فرما کر اس پر اتفاق کیا۔دیکھو ہندوستان میں سیکڑوں مذاہب کفریہ وعقائد باطلہ مخالف دین و بیخ کن اسلام ظاہرہوتے جاتے ہیں اور کیسے کیسے شبہات الزام واعتراض شہادت و شبہات وشکوک مذہب اسلام پر وارد کرتے جاتے ہیں پس ایسے وقت میں آپس کی مجادلہ کی جگہ اس کی تردید کرنی چاہیے اور قرآن شریف کی خوبیاں و فضائل اور رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کے محامدومکارم اخلاق ومحاسن اوصاف کو ہر مقام وہرشہروقریہ میں نہایت زوروشورسے مشتہرکرناچاہیے ایسے وقت میں رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کے محامدواوصاف و مکارم اخلاق کو مشتہرواشاعت عام کرنے کے لیے ہر مقام میں مجلس میلاد شریف کاچرچا بڑاعمدہ ذریعہ و مستحسن وسیلہ ہے۔
(فقرات مندرجہ کرامت نامہ حضورمرشدی اسمی پیرجی خلیل احمد صاحب 
ومولوی محمود حسن صاحب مرقومہ ذی قعدہ  ۱۳۰۷ھ )
و قال  دام إرشادہ و إمدادہ 
انوارِساطعہ کے اکثر مسائل میں فقیر دل سے متفق ہوا تو اللہ تعالیٰ کی جناب میں بہت التجاو دعاکی یا اللہ اگر میں ان مسائل میں صراط مستقیم پر ہوں اور حق بجانب ہوں تو اس کتاب کو مقبول علمائے دیاروامصار و اہل اسلام کر۔چنانچہ ظاہرایسامعلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کوقبول فرمایا کہ تمام علمائے حرمین شریفین وبلاد اسلام اس کے مسائل میں متفق ہیں۔ اور خود کتاب کو بھی پسند کرتے ہیں۔ ذلک فضل اللّٰہ یؤتیہ من یشاء۔
(مرقومہ دہم رمضان روزسہ شنبہ  ۱۳۰۷ھ  اسمی راقم الحروف)
و قال  دام إرشادہ و إمدادہ 
میں خود مولود شریف پڑھواتاہوں اور قیام کرتاہوں، اور ایک روز میرایہ حال ہوا کہ بعد قیام سب بیٹھ گئے مگر میں بے خبرکھڑارہ گیا بعد دیرکے مجھ کوہوش آیاتب بیٹھا۔
(مرقومہ ۱۳؍ربیع الآخر۱۳۰۴ھ اسمی راقم الحروف)
و قال  دام إرشادہ و إمدادہ 
انوارِساطعہ از اول تا آخرشنیدم و بغور و تدبر نظرکردم ہمہ تحقیق را موافق مذہب ومشرب خود و بزرگان خودیافتم۔
(مرقومہ یازدہم رجب  ۱۳۰۴ھ  راقم الحروف)
و قال  دام إرشادہ و إمدادہ 
فی الحقیقت نفس مطلب کتاب انوارِ ساطعہ موافق مذہب ومشرب فقیروبزرگان فقیر است خوب نوشتید جزاکم اللّٰہ خیرَ الجزائ اللہ تعالیٰ ما وشما وجمیع مومناں را در ذوق وشوق ومحبت خود داشتہ حسن خاتمہ نصیب کند آمین۔
(مرقومہ بست و دویم شوال  ۱۳۰۴ھ  اسمی راقم الحروف)
واضح ہو کہ اول انوارِ ساطعہ ۱۳۰۲ھ میں مطبوعہ ہوئی تھی،رفتہ رفتہ کچھ مدت کے بعد مکہ معظمہ پہنچی اور حضرت مرشدی و مولائی نے بتدریج اس کو ملاحظہ فرمایا۔اس کے بعد حضرت نے جس قدر کرامت نامے مکہ معظمہ سے رقم فرمائے سب میں یہ مضمون تھا کہ اس کتاب کے مسائل میرے اور میرے مشایخ کے مشرب کے بالکل موافق و مطابق ہیں۔ پھر حضرت کے قبول فرمانے کی یہ برکت ہوئی کہ یہ کتاب مقبول عام ہو گئی،سب اس کو ہاتھوں ہاتھ لے گئے ایک نسخہ بھی باقی نہ رہا، اور لوگوں کے اشتیاق کایہ عالم کہ دوردورسے مطالبے کے خطوط آرہے ہیں،گلوگیریِ تمناے مشتاقین نے مجبورکر دیا کہ اسے پھرچھپوایاجائے تو حضرت مرشدی ومولائی کے ارشاد کے مطابق  ۱۳۰۶ھ  میں انوارساطعہ کی نظر ثانی شروع کر دی لیکن اتنی رکاوٹیں پیش آئیں کہ  العیاذ باللہ دو روز کام ہوا تو دومہینے ناغہ گئے،بہرکیف ! اس مولاے کریم کاشکرکہ انجام کار  ۱۳۰۷ھ میں اس کام سے فارغ ہوا۔و الحمد للّٰہ رب العالمین و الصلوٰۃ علی شفیعنا خاتم النبیین۔
اللّٰہم اجعلنا بذکرک و ذکر حبیبک متلذذین 
و بآلائک و نعمائک في الدنیا و الأخرۃ متنعمین 
توفنا مسلمین و الحقنا بالصالحین 
و ارزقنا شفاعۃ سید المرسلین 
و ادخلنا الجنۃ بسلام فرحین 
و صلی اللہ تعالیٰ علی خیر خلقہ 
و نور عرشہ محمد  
و آلہ و أصحابہ و أولیاء أمتہ أجمعین۔
اللہم ارحمنا معہم برحمتک یا أرحم الراحمین۔


کتابیات

تخریج وتحقیق کے دوران حسب ذیل کتابوں سے بطورِ خاص مددلی گئی  :
    قراٰن کریم۔ ابتدائے نزول  :  ۶۱۰ئ   انتہائے نزول:۹؍ذی الحجہ ۱۰ھ /  ۶۳۲ء
    تفسیر ابن مقاتل  :  سلمان بن بشرازدی					[۵۰ ۱ھ]
   جامع معمر بن راشد  :  معمربن راشد ازدی				[۴؍۱۵۳ھ]
   مشیخۃ ابن طہمان  : 	 ابوسعید ابراہیم بن طہمان بن شعیب ہروی			[۱۶۳ھ]
    مؤطا إمام مالک  :  امام مالک بن انس مدنی					[۱۷۹ھ]
   مسند عبد اللّٰہ بن مبارک  :  عبد اللہ بن مبارک				[۱۸۰ھ]
   الزہد و الرقائق لابن المبارک  :  عبد اللہ بن مبارک			[۱۸۰ھ]
   حدیث إسماعیل بن جعفر  :  ابواسحق اسماعیل بن جعفربن ابی کثیر انصاری زرقی مدنی	[۱۸۰ھ]
   الآثار لأبي یوسف  :  	امام قاضی ابو یوسف یعقوب بن ابراہیم الانصاری البغدادی	[۱۸۲ھ]
   نسخۃ وکیع بن اعمش  :   ابوسفیان وکیع بن جراح بن ملیح بن رواس رؤاسی 	 	[۱۹۷ھ]
   جزء سفیان ابن عیینۃ  :  سفیان بن عیینہ کوفی				[۱۹۸ھ]
   مسند الطیالسي  :  سلیمان بن داؤد طیالسی					[۲۰۴ھ]
   جمہرۃ أنساب العرب   :  ہشام بن محمد  بن سائب کلبی			[۲۰۴ھ]
   فتوحات الشام   :  ابوعبد اللہ محمد  بن عمربن واقد				[۲۰۷ھ]
   مصنف عبد الرزاق :  	ابوبکرعبد الرزاق بن ہمام صنعانی			[۲۱۱ھ]
   مسند الحمیدي  :  عبد اللہ بن زبیر مکی					[۲۱۹ھ]
   أخبار مکۃ للأزرقي :  امام ابوالولیدمحمد  بن عبدالکریم غسانی ازرقی			[۲۲۳ھ]
   فضائل القرآن لقاسم بن سلام  :  ابوعبید اللہ قاسم بن سلام			[۲۲۴ھ]
   معجم الأدباء  :  عبداللہ یاقوت حموی					[۲۲۶ھ]
   جزء أبي الجہم  :  علابن موسیٰ بن عطیہ باہلی بغدادی				[۲۲۸ھ]
   مسند ابن الجعد  :  ابوالحسن علی بن جعدبن عبیدہاشمی				[۲۳۰ھ]
   تاریخ یحیٰ بن معین   :  ابوزکریایحییٰ بن معین				[۲۳۳ھ]
    مصنف ابن أبي شیبۃ : ابوبکر عبد اللہ بن محمد  بن احمد نسفی				[۲۳۵ھ]
   الفہرست لابن ندیم  :   اسحق بن ابراہیم بن ماہان بن بہمن تمیمی ابن ندیم موصلی	[۲۳۵ھ]
   مسند عبد بن حمید  :  ابومحمد  عبد بن محمد  حمیدکشی				[۲۳۸ھ]
   مسند إسحاق بن راہویہ  :  حافظ اسحق بن راہویہ				[۲۳۸ھ]
   مسند ابن أبي شیبۃ  :   عثمان بن ابوشیبہ کوفی				[۲۳۹ھ]
   مسند ابن راہویہ  :  حافظ اسحاق بن راہویہ					[۲۳۸ھ]
   مسند امام احمد بن حنبل :  امام احمد بن محمد  بن حنبل شیبانی			 [۲۴۱ھ]
   مسند سعد بن أبي الوقاص  :	ابوعبداللہ الدورقی احمد بن ابراہیم بن کثیر		[۲۴۶ھ]
   سنن الدارمی :  امام عبدا للہ بن عبدا لرحمن دارمی				[۲۵۵ھ]
   الأدب المفرد للبخاري  :  امام ابو عبد اللہ محمد  بن اسماعیل بخاری			[۲۵۶ھ]
   صحیح بخاری :  امام ابو عبد اللہ محمد  بن اسماعیل بخاری				[۲۵۶ھ]
   خلق أفعال العباد للبخاري  :  ابو عبد اللہ محمد  بن اسماعیل بخاری			[۲۵۶ھ]
   الأحادیث المرفوعۃ من التاریخ الکبیر  :  امام ابو عبد اللہ محمد  بن اسماعیل بخاری	[۲۵۶ھ]
   الأغاني   :  ابوالفرج علی بن حسین اصبہانی					[۳۵۶ھ]
   مکارم الأخلاق للطبراني  :   سلیمان بن احمد طبرانی				[۲۶۰ھ]
   المعجم  الکبیر  :   امام سلیمان بن احمد طبرانی				[۲۶۰ھ]
   المعجم  الأوسط :  امام سلیمان بن احمد طبرانی				[۲۶۰ھ]
   المعجم  الصغیر  :  امام سلیمان بن احمد طبرانی				[۲۶۰ھ]
   مسند الشامیین للطبراني  :  امام سلیمان بن احمد طبرانی			[۲۶۰ھ]
   الدعاء للطبراني  :  امام سلیمان بن احمد طبرانی				[۲۶۰ھ]
   صحیح مسلم :  امام ابو الحسین مسلم بن الحجاج قشیری				 [۲۶۱ھ]
   سنن ابن ماجہ :  امام عبداللہ محمد بن یزیدابن ماجہ قزوینی				[۲۷۳ھ]
   سنن سعید بن منصور  :  سعید بن منصور خراسانی				[۲۷۳ھ]
   أخبار مکۃ للفاکہي  :  محمد  بن اسحق بن عباس فاکہی 				[۲۷۵ھ]
   سنن ابی داؤد :  امام ابو داؤد سلیمان بن اشعث				[۲۷۵ھ]
   الشمائل المحمد یۃ للترمذي : امام ابو عیسیٰ محمد  بن عیسیٰ ترمذی			 [۲۷۹ھ]
   جامع  ترمذی :  امام ابو عیسیٰ محمد  بن عیسیٰ ترمذی				 [۲۷۹ھ]
   مسند الحارث  :  الحارث بن ابواسامہ					[۲۸۲ھ]
   فضل الصلوٰۃ علی النبي   :  قاضی اسماعیل بن اسحق بن حمادجہضی ازدی مالکی 	[۲۸۲ھ]
   مسند عمر بن عبد العزیز للباغندی  :	ابوبکرمحمد بن سلیمان حارث واسطی باغندی	[۲۸۳ھ]
   غریب الحدیث للحربي  :  ابواسحق ابراہیم بن اسحق حربی مروزی 		[۲۸۵ھ]
   غریب الحدیث  :  ابواسحق بن ابراہیم مروزی 				[۲۸۵ھ]
   الآحاد والمثاني لابن أبي عاصم :  ابوبکربن عمروبن ضحاک بن مخلد شیبانی 		[۲۸۷ھ]
   المذکر و التذکیر لابن ابی عاصم  :  حافظ ابوبکر احمد ابن ابی عاصم عمرشیبانی 	[۲۸۷ھ]
   البحر الزخار مسند البزار  :  حافظ ابوبکر احمد بن عمرو عتکی بزار			[۲۹۳ھ]
   صلاۃ الوتر لمحمد  بن نصر المروزي  :  ابوعبداللہ محمد  بن نصر الحجاج مروزی	[۲۹۴ھ]
   قیام رمضان للمروزي  :  ابوعبداللہ محمد  بن نصر الحجاج مروزی			[۲۹۴ھ]
   تعظیم قیام الصلوٰۃ  للمروزي  :  ابوعبداللہ محمد  بن نصر الحجاج مروزی		[۲۹۴ھ]
   دلائل النبوۃ للفریابي  :  ابوبکر جعفر بن محمد بن حسن				[۳۰۱ھ]
   الصیام للفریابي  :  ابوبکر جعفر بن محمد بن حسن					[۳۰۱ھ]
   السنن الکبریٰ للنسائي :  امام ابو عبد الرحمن احمد بن شعیب نسائی 			[۳۰۳ھ]
   سنن نسائی :  امام ابو عبد الرحمن احمد بن شعیب نسائی 				[۳۰۳ھ]
   الغرباء للآجري  :  ابوبکر محمد  بن حسین آجری					[۳۰۶ھ]
   الشریعۃ للآجري  :  ابوبکر محمد  بن حسین آجری				[۳۰۶ھ]
   أخلاق حملۃ القرآن للآجري  :  ابوبکر محمد  بن حسین آجری			[۳۰۶ھ]
   أخلاق العلماء للآجري  :  ابوبکر محمد  بن حسین آجری				[۳۰۶ھ]
   معجم أبي یعلی الموصلي  :  احمدبن علی موصلی				[۳۰۷ھ]
   مسند الرویاني  :  محمد بن ہارون رویانی					[۳۰۷ھ]
   مسند أبي یعلی الموصلي  :  احمدبن علی موصلی				[۳۰۷ھ]
   المنتقی في الحدیث لابن الجارود :  عبد اللہ بن علی جارود			[۳۰۷ھ]
    تفسیر طبري :  ابوجعفرمحمد  بن جریربن یزیدطبری				[۳۱۰ھ]
   التوحید لابن خزیمۃ  :  ابوبکرمحمد  بن اسحاق بن مغیرہ بن صالح سلمی نیساپوری	[۳۱۱ھ]
   صحیح ابن خزیمۃ  :  	محمد  بن اسحق بن خزیمہ 				[۳۱۱ھ]
   مستخرج أبي عوانۃ  :  یعقوب بن اسحاق اسفرائنی				[۳۱۶ھ]
   الأوسط لابن المنذر  :  محمد  بن ابراہیم بن منذرنیساپوری شافعی			[۳۱۸ھ]
   طبقات ابن سعد   :  محمد  بن سعد						[۳۲۰ھ]
   مشکل الآثار للطحاوي  :  ابو جعفر احمد بن محمد  طحاوی				[۳۲۱ھ]
   الضعفاء الکبیر للعقیلي  :  ابوجعفر محمد  بن عمرو عقیلی مکی				[۳۲۲ھ]
   مکارم الأخلاق للخرائطي  :  محمد  بن جعفر خرائطی				[۳۲۷ھ]
   تفسیر ابن أبي حاتم  :  ابومحمد  عبد الرحمن بن ابوحاتم رازی			 [۳۲۷ھ]
   شکر اللہ علی نعمہ للخرائطي  :  محمد  بن جعفر خرائطی			[۳۲۷ھ]
   فوائد محمد  بن مخلد  :  ابوعبد اللہ محمد  بن مخلدبن حفص دوری عطار		[۳۳۱ھ]
   المسند للشاشي  :  ابوسعید ہثیم بن کلیب شاشی				[۳۳۵ھ]
   الناسخ و المنسوخ للنحاس  :  احمد بن محمد  اسماعیل مرادی ابوجعفر نحاس		[۳۳۸ھ]
   معجم ابن الأعرابي  :  ابوسعید احمد بن محمد  بن اعرابی 				[۳۴۱ھ]
   من حدیث خیثمہ بن سلیمان  :  خیثمہ بن سلیمان بن حیدرہ قرشی طرابلسی مقری	[۳۴۳ھ]
   معجم الصحابۃ لابن قانع  :  ابوا لحسن عبد الباقی بن قانع			[۳۵۱ھ]
   طبقات المحدثین  :  مسلمہ بن قاسم اندلسی					[۳۵۳ھ]
    تفسیر نیسافوري  : 	احمد بن محمد  نیساپوری					 [۳۵۳ھ]
   صحیح ابن حبان   :  ابوالشیخ محمد  بن حبان					[۳۵۴ھ]
   ثقات ابن حبان  :  محمد  بن حبان بن احمد بن حبان ابوحاتم بستی			[۳۵۴ھ]
   تہذیب الآثار للطبري  :  ابوالقاسم سلیمان بن احمد طبری			[۳۶۰ھ]
   عمل الیوم و اللیلۃ لابن السنی  :  حافظ ابوبکر احمد بن محمد  بن اسحق ابن السنیٰ	[۳۶۴ھ]
   الکامل لابن عدي   :  	ابواحمد عبد اللہ بن عدی				[۳۶۵ھ]
   أحکام القرآن للجصاص   :  ابوبکر احمد بن علی جصّاص			[۳۷۰ھ]
   تنبیہ الغافلین و إرشاد الجاہلین   :  فقیہ ابواللیث نصربن محمد  بن ابراہیم سمرقندی	[۳۷۳ھ]
   بحر الفوائد المسمیٰ بمعاني الأخیار   :  محمد  بن ابراہیم کلاباذی بخاری 	[۳۸۰ھ]
    بحر الفوائد المسمّٰی بمعانی الاخبار  :  محمد  بن ابراہیم کلاباذی بخاری	[۳۸۰ھ]
    مفاتیح العلوم  :  محمد  بن احمد بن یوسف خوارزمی				[۳۸۰ھ]
   حدیث أبوالفضل الزہري  :  ابو الفضل عبید اللہ بن عبد الرحمن الزہری 		[۳۸۱ھ]
   علل الدار قطني  :  ابوالحسن علی بن عمر دارقطنی					[۳۸۵ھ]
   سنن الدار قطني  :  ابوالحسن علی بن عمر دارقطنی					[۳۸۵ھ]
   قوت القلوب   :  ابوطالب محمد  بن علی مکی					[۳۸۶ھ]
ٔء   الإبانۃ الکبریٰ لابن بطۃ :  ابوعبد اللہ عبید اللہ بن محمد  بن محمد  بن حمدان ابن بطہ حنبلی	 [۳۸۷ھ]
   سبعۃ مجالس من أمالي أبي الطاہر  :	ابوطاہر محمد  بن عبد الرحمن بن عباس بغدادی 	[۳۹۳ھ]
   معجم الشیوخ   :  ابوالحسین محمد  بن احمد بن عبد الرحمن ابن جُمیع غسانی صیداوی		[۴۰۲ھ]
   المستدرک  :  امام ابوعبد اللہ محمد  بن عبد اللہ الحاکم نیشاپوری			[۴۰۵ھ]
   معرفۃ علوم الحدیث   :  امام ابوعبد اللہ محمد  بن عبد اللہ الحاکم نیشاپوری		[۴۰۵ھ]
   أمالي ابن مردویۃ  :  احمدبن موسیٰ بن مردویہ					[۴۱۰ھ]
   آداب الصحبۃ لابی عبد الرحمن السلمی   :  ابوعبد الرحمن محمد  بن حسین سلمی 	[۴۱۲ھ]
   فوائد تمام  :  	تمام بن محمد  بن عبد اللہ حلبی					[۴۱۴ھ]
   فوائد العراقیین لأبی سعید النقاش  :  حافظ ابوسعیدمحمد  بن علی مہدی نقاش حنبلی	[۴۱۴ھ]
   شرح أصول اعتقادأہل السنۃوالجماعۃ للألکائي : ابوالقاسم ہیئت اللہ بن حسن [۴۱۸ھ]
   المجموع   :  حسین بن شعیب معروف بہ ابن سنجی				[۴۳۰ھ]
   حلیۃ الأولیاء   :  ابونعیم احمد بن عبد اللہ اصبہانی				[۴۳۰ھ]
   الإصابۃ في معرفۃ الصحابۃ  :  	ابونعیم احمد بن عبد اللہ اصبہانی			[۴۳۰ھ]
   تثبیت الإمامۃ و ترتیب الخلافۃ  :  ابونعیم احمد بن عبد اللہ اصبہانی		[۴۳۰ھ]
   الأربعون علی مذہب المتحققین من الصوفیۃ  :  ابونعیم احمدابن عبد اللہ اصبہانی	[۴۳۰ھ]
   تثبیت الإمامۃ و ترتیب الخلافۃ  :  ابونعیم احمد بن عبد اللہ اصبہانی		[۴۳۰ھ]
   دلائل النبوۃ لأبي نعیم الأصبہاني  :  ابونعیم احمد بن عبد اللہ اصبہانی		[۴۳۰ھ]
   معرفۃ الصحابۃ لأبي نعیم الأصبہاني  :  ابونعیم احمد بن عبد اللہ اصبہانی		[۴۳۰ھ]
   أخبار أصبہان  :   ابونعیم احمد بن عبد اللہ اصبہانی				[۴۳۰ھ]
   أمالي ابن بشران  :  	ابوالقاسم عبد الملک بن محمد  بن بشران			[۴۳۲ھ]
   قوت القلوب  :  مکی بن ابوطالب قیسی مقری					[۴۳۷ھ]
   الفوائد الشہیر بالغیلانیات لأبي بکر الشافعي  :  عبداللہ بن محمد ابراہیم شافعی	[۴۴۰ھ]
   الاستیعاب في معرفۃ الأصحاب  :  ابوعمریوسف بن عبد البر			[۴۵۳ھ]
   مسند الشہاب القضاعي  :  ابوعبد اللہ محمد بن سلامہ قضاعی شافعی			[۴۵۴ھ]
   الأحکام في أصول القراٰن  :  ابومحمد علی بن سعید بن حزم اموی ظاہری اندلسی 		[۴۵۶ھ]
    شعب الایمان :  ابوبکر احمد بن حسین بن علی بیہقی				[۴۵۸ھ]
   فضائل الأوقات للبیہقي  :  ابوبکر احمد بن حسین بن علی بیہقی			[۴۵۸ھ]
   القضاء و القدر  للبیہقي  :  ابوبکر احمد بن حسین بن علی بیہقی			[۴۵۸ھ]
   الأربعین الصغریٰ  للبیہقي  :  ابوبکر احمد بن حسین بن علی بیہقی			[۴۵۸ھ]
   السنن الکبریٰ للبیہقی :  ابوبکر احمد بن حسین بن علی بیہقی			[۴۵۸ھ]
   دلائل النبوۃ للبیہقي  : ابوبکر احمد بن حسین بن علی بیہقی				[۴۵۸ھ]
    شعب الایمان للبیہقي :  ابوبکر احمد بن حسین بن علی بیہقی			[۴۵۸ھ]
   معرفۃ السنن و الآثار للبیہقي  :  ابوبکر احمد بن حسین بن علی بیہقی		[۴۵۸ھ]
   الآداب للبیہقي  :  ابوبکر احمد بن حسین بن علی بیہقی				[۴۵۸ھ]
   الأسماء و الصفات للبیہقي  :  ابوبکر احمد بن حسین بن علی بیہقی			[۴۵۸ھ]
   الاعتقاد للبیہقي  :  ابوبکر احمد بن حسین بن علی بیہقی				[۴۵۸ھ]
   المدخل إلی السنن الکبریٰ للبیہقي  :  ابوبکر احمد بن حسین بن علی بیہقی		[۴۵۸ھ]
   القضاء و القدر للبیہقي  :  ابوبکر احمد بن حسین بن علی بیہقی			[۴۵۸ھ]
   السنن الصغیر للبیہقي  :  ابوبکر احمد بن حسین بن علی بیہقی			[۴۵۸ھ]
   شرف أصحاب الحدیث  :  ابوبکر احمد بن علی خطیب بغدادی			[۴۶۳ھ]
   الکفایۃ في علم الروایۃ للبغدادي  :  ابوبکر احمد بن علی خطیب بغدادی		[۴۶۳ھ]
   تقیید العلم للخطیب البغدادي  :  ابوبکر احمد بن علی خطیب بغدادی		[۴۶۳ھ]
   جامع بیان العلم و فضلہ لابن عبد البر  :  ابوعمریوسف بن عبد البر		[۴۶۳ھ]
   الجامع لأخلاق الراوي وآداب السامع  : ابوبکر احمد بن علی خطیب بغدادی	[۴۶۳ھ]
   الفقیہ و المتفقہ للخطیب البغدادي  :  ابوبکر احمد بن علی خطیب بغدادی		[۴۶۳ھ]
   الکفایۃ في علم الروایۃ للخطیب البغدادي  :  ابوبکر احمد بن علی خطیب بغدادی	[۴۶۳ھ]
   الأربعون للفسوي  :  ابوالقاسم زید بن علی فارسی فسوی 				[۴۶۷ھ]
   التوحید لابن مندہ  :  حافظ ابوعبداللہ بن مندہ اصبہانی				[۴۷۵ھ]
   فوائد ابن مَندۃ  :  حافظ ابوعبداللہ بن مندہ اصبہانی				[۴۷۵ھ]
   الشرح الکبیر لابن قدامۃ   :   ابو المعالی بغدادی معروف بہ ابن قدامہ		[۴۸۶ھ]
   جذوۃ المقتبس من ذکر ولاۃ الأندلس  :   محمد ابن ابونصرفتوح ازدی حمیدی	[۴۸۸ھ]
   أصول السرخسي  :   ابوبکر محمد  بن احمدسرخسی حنفی				[۴۹۰ھ]
   المبسوط للسرخسي  :  ابوبکر محمد  بن احمدسرخسی				[۴۹۰ھ]
   إحیاء علوم الدین  :  ابوحامدمحمد  بن محمد  بن محمد غزالی طوسی				[۵۰۵ھ]
    تفسیر ابوالسعود :  ابومحمد  حسین بن مسعود بغوی شافعی			 [۵۱۶ھ]
    تفسیر معالم التنزیل :  ابومحمد  حسین بن مسعود بغوی شافعی			 [۵۱۶ھ]
    تفسیر کشاف : ابو القاسم محمد  بن عمروزمخشری                        		 [۵۲۸ھ]
   الفتاویٰ الکبریٰ   :  حسام الدین عمر بن عبد العزیز حنفی				[۵۳۶ھ]
   الفتاویٰ الکبریٰ  :  عمربن عبد العزیزحسام الدین حنفی 				[۵۳۶ھ]
   فتاویٰ نسفیۃ  :  نجم الدین عمربن محمد بن احمدحنفی نسفی سمرقندی 			[۵۳۷ھ]
   الفائق في غریب الحدیث و الأثر   :  جار اللہ ابو القاسم محمود بن عمرزمخشری		 [۵۳۸ھ]
   تحفۃ الفقہاء    :  ابوحمدمحمد  بن احمدسمرقندی					[۵۳۹ھ]
   الشفا بتعریف حقوق المصطفیٰ  :  ابوالفضل عیاض بن موسیٰ			[۵۴۴ھ]
   غنیۃ الطالبین   :  شیخ محی الدین ابومحمد  عبد القادر جیلانی				[۵۶۱ھ]
   تاریخ مدینۃ دمشق   :  علی بن حق دمشقی معروف ب ابن عساکر			[۵۷۱ھ]
   الأمثال للرامہرمزي   :  ابو الحسن بن عبد الرحمن بن خلادرام ہرمزی		[۵۷۶ھ]
   بدائع الصنائع في ترتیب الشرائع  :  علاء الدین بن ابی بن مسعود الکاسافی	[۵۸۷ھ]
   فتاویٰ قاضي خاں  :  فخر الدین حسن بن منصور قاضی خاں 			[۵۹۲ھ]
   الہدایۃ    :  برہان الدین علی ابوالحسن فرغانی حنفی 			   [۵۹۳ یا ۵۹۶ھ]
   الموضوعات   :  ابو الفرج عبد الرحمن بن علی بن الجوزی القرشی 			[۵۹۷ھ]
   جامع الأصول لأحادیث الرسول  :  مبارک بن محمد ابن اثیر جزری شافعی		[۶۰۶ھ]
   النہایۃ في غریب الأثر   :  محب الدین مبارک بن محمد  جزری ابن اثیر		[۶۰۶ھ]
   المحصول فی علم أصول الفقہ   :  فخر الدین محمد  بن عمر بن حسین رازی 		[۶۰۶ھ]
    تفسیر رازی :  امام فخرالدین محمد  بن عمر رازی 				[۶۰۶ھ]
   المغني  في علم الحدیث  :  عمربن زیدبن بدربن سعیدموصلی حنفی		[۶۱۹ھ]
   معجم الشعراء  :  یاقوت بن عبد اللہ حموی					[۶۲۶ھ]
   إحکام الأحکام في أصول الأحکام  :  علی بن محمد  سیف الدین آمدی شافعی	[۶۳۱ھ]
   غایۃ المرام  :  سیف الدین علی بن ابوعلی آمدی				[۶۳۱ھ]
   عوارف المعارف  :  شیخ شہاب الدین ابوحفص سہروردی بغدادی صوفی 		[۶۳۲ھ]
   جزء الألف دینار للقطیعي  :  احمد بن محمد  ازجی بغدادی معروف بہ قطیعی		[۶۳۴ھ]
   تاریخ بغداد   :  محمد  بن محمود حسن بغدادی النجار					[۶۴۳ھ]
   مرآۃ الزمان في تاریخ الأعیان   : شمس الدین ابومظفر حنبلی بغدادی سبط الجوزی	[۶۵۴ھ]
    الترغیب والترہیب  :   زکی الدین عبد العظیم منذری 				[۶۵۶ھ ]
   فوائد السالکین  :  فرید الدین گنج شکر					[۶۶۴ھ]
    تفسیرقرطبي :  ابو عبداللہ محمد بن احمد ابی بکر قرطبی			      	[۶۷۱ھ]
   الأربعین النوویۃ   :  حافظ ابو زکریا یحییٰ بن شرف نووی				[۶۷۶ھ]
   شرح النووي علی مسلم  :  حافظ ابو زکریا یحییٰ بن شرف نووی شافعی 		[۶۷۶ھ]
   ریاض الصالحین  :  حافظ ابو زکریا یحییٰ بن شرف نووی				[۶۷۶ھ]
   الاختیار لتعلیل المختار  :  عبد اللہ بن محمود ابن مودود الموصلی حنفی 		[۶۸۳ھ]
   أنوار البروق في أنواع الفروق  :  احمد بن ادریس شہاب الدین قرافی		 [۶۸۴ھ]
    تفسیر أنوار التنزیل و أسرار التاویل  : ابوالخیر عبد اللہ بن عمربن محمد  بیضاوی 	 [۶۸۵ھ]
    الریاض النضرۃ في مناقب العشرۃ  :  	احمد بن محمد  طبری مکی شافعی		[۶۹۴ھ]
   منیۃ المصلي  :  سدید الدین کاشغری					[۷۰۵ھ]
   تاج العروس   :  احمد بن محمد  اسکندرانی					[۷۰۹ھ]
    تفسیر مدارک التنزیل : ابو البرکات عبد اللہ بن احمدنسفی			[۷۱۰ھ]
   لسان العرب   :  محمد  بن مکرم انصاری افریقی مصری				[۷۱۱ھ]
   نصاب الاحتساب  :  ضیاء الدین محمد  بن عمرسنامی				[۷۲۵ھ]
   نصب الرایۃ في تخریج أحادیث الہدایۃ  :  عبداللہ بن یوسف زیلعی		[۷۲۶ھ]
   اقتضاء الصراط المستقیم لمخالفۃ أصحاب الجحیم  :  تقی الدین ابن تیمیہ	[۷۲۸ھ]
   کشف الأسرار  :  عبد العزیز بن احمد بن محمد  بخاری 				[۷۳۰ھ]
   نہایۃ الأرب في فنون الأدب  : 	  احمد بن عبد الوہاب بکری قرشی کندی 		[۷۳۲ھ]
   المورد في عمل المولد  :  عمربن ابوالیمن تاج الدین ابوحفص فاکہانی مالکی 	[۷۳۴ھ]
   مدخل الشرع الشریف  :  محمد  عبدری معروف ب ابن الحاج مالکی		[۷۳۷ھ]
    تفسیر خازن  :  ابوالحسن علی بن محمد  خازن بن عمرشیخی	 			[۷۴۱ھ]
    تحفۃ الأشراف بمعرفۃ الأطراف  :  ابوالحجاج یوسف بن زکی عبدالرحمن مزی	[۷۴۲ھ]
   تہذیب الکمال  :  جمال الدین یوسف بن ترکی مزنی				[۷۴۲ھ]
    مشکوٰۃ المصابیح :  شیخ ولی الدین محمد  بن عبد اللہ خطیب تبریزی عراقی		[۷۴۲ھ]
   تبیین الحقائق شرح کنز الدقائق  :  فخر الدین عثمان بن علی زیلعی		[۷۴۳ھ]
   الجوہر النقي لابن الترکماني  :  احمد بن عثمان بن ابراہیم تاج الدین ترکمانی حنفی 	[۷۴۴ھ]
   تہذیب الکمال في أسماء الرجال  :  ابن زکی ابو الحجاج جمال الدین یوسف مزی 	[۷۴۴ھ]
    تفسیر البحر المحیط :  اثیر الدین ابوحیان محمد بن یوسف اندلسی		[۷۴۵ھ]
   شرح التلویح علی التوضیح  :  صدر الشریعہ ثانی عبید اللہ بن مسعود بن تاج الشریعہ 	[۷۴۷ھ]
   سیر أعلام النبلاء  :  حافظ شمس الدین ابوعبد اللہ بن احمد ذہبی			[۷۴۸ھ]
   میزان الاعتدال في نقد الرجال  :  حافظ شمس الدین ابوعبد اللہ بن احمد ذہبی	[۷۴۸ھ]
   تاریخ الإسلام للذہبي   :  شمس الدین محمد  بن احمدذہبی			[۷۴۸ھ]
   الطرق الحکمیۃ  :  محمد  ابوبکربن قیم الجوزیہ دمشقی حنبلی				[۷۵۱ھ]
   إعلام الموقعین عن رب العالمین  :  محمد  ابوبکربن قیم الجوزیہ دمشقی حنبلی		[۷۵۱ھ]
   زاد المعاد   :  شمس الدین ابوعبد اللہ محمد  ابن قیم جوزیہ حنبلی			[۷۵۱ھ]
   الفتاویٰ السبکي  :  شیخ تقی الدین علی بن عبد الکافی سبکی				[۷۵۶ھ]
   روض الریاحین  :  عبداللہ بن اسعدیافعی یمنی				[۷۶۸ھ]
   المصباح المنیر في غریب (الشرح الکبیر)   :  احمد بن محمد  بن علی فیومی	[۷۷۰ھ]
   النہایۃ في الفتن و الملاحم  :  حافظ عماد الدین ابوالفداء اسمٰعیل ابن کثیر		[۷۷۴ھ]
    البدایۃ و النہایۃ  :   حافظ عماد الدین ابوالفداء اسمٰعیل ابن کثیر			[۷۷۴ھ]
    تفسیر ابن کثیر  :  حافظ عماد الدین ابوالفداء اسمٰعیل ابن کثیر			[۷۷۴ھ]
   قصص الأنبیاء  :  حافظ عماد الدین ابوالفداء اسمٰعیل ابن کثیر			[۷۷۴ھ]
   العنایۃ شرح الہدایۃ  :  اکمل الدین محمد  بن محمد  بابرتی				[۷۸۶ھ]
   شرح العقیدۃ الطحاویۃ  :  ابوالعزحنفی 					[۷۹۲ھ]
   شرح عقائد النسفیۃ  :  سعد الدین مسعود بن عمرتفتازانی			[۷۹۲ھ]
   البحر المحیط فی الأصول  :  بدرالدین محمد  بن عبد اللہ زرکشی شافعی 		[۷۹۴ھ]
   جامع العلوم و الحکم   :  ابوالفرج عبد الرحمن بن احمدابن رجب حنبلی		[۷۹۵ھ]
   فتح الباري لابن رجب    :  زین الدین ابن رجب حنبلی			[۷۹۵ھ]
   الجوہرۃ النیرۃ شرح القدوري  :ابوبکر بن علی بن محمد  حدادی مصری		[۸۰۰ھ]
   تحفۃ المحتاج في شرح المنہاج  :  عمربن علی بن احمدالوادیاشی اندلسی		[۸۰۴ھ]
   طبقات المحدثین  :  سراج الدین عمر بن علی بن ملقن شافعی			[۸۰۴ھ]
   بغیۃ الباحث عن زوائد  مسند  الحارث :  نور الدین ابوبکر بن سلمان ہیتمی  	 [۸۰۷ھ]
   موارد الظمآن إلی زوائد ابن حبان  :  نورالدین ابوالحسن ہیثمی			[۸۰۷ھ]
    مجمع الزوائد و منبع الفوائد :  امام نور الدین علی بن ابی بکر ہیتمی		[۸۰۷ھ]
   أصول حدیث  :  علی بن سید محمد  علی ابو الحسن معروف بہ میرسیدشریف 			[۸۱۶ھ]
   المستخرج علی المستدرک   :  حافظ عبد الرحیم العراقی			[۸۲۶ھ]
   فتاوٰی بزازیۃ  :  حافظ الدین محمد  بن محمد  شہاب کردری				[۸۲۷ھ]
   معجم ابن المقریء  :  اسماعیل بن ابوبکربن علی شرجی زبیدی 			[۸۳۷ھ]
    عرف التعریف بالمولد الشریف  :  شمس الدین ابوالخیرمحمد ابن الجزری		[۸۳۳ھ]
   الفتاویٰ الرملي  :  احمد بن حسین رملی شافعی					[۸۴۴ھ]
   فتح الباری  :   ابو الفضل احمد بن علی معروف ب ابن حجر عسقلانی			[۸۵۲ھ]
   عمدۃ القاری   :  بدر الدین محمود بن احمد عینی				    	 [۸۵۵ھ]
   فتح القدیر  :  کمال الدین محمد  بن عبد الواحد ابن الہمام				[۸۶۱ھ]
   دلائل الخیرات   :  ابوعبد اللہ محمد  بن سلیمان جزولی 				[۸۷۰ھ]
   التقریر و التحبیر  :  محمد  بن محمد  بن محمد  ابن امیر حاج حلبی حنفی 			[۸۷۹ھ]
   درر الحکام في شرح مجلۃ الأحکام  : 	شیخ الاسلام منلا خسرورومی حنفی		[۸۸۵ھ]
   درر الحکام شرح غرر الأحکام  :  محمد  بن فرامرز بن علی منلاخسرورومی حنفی	[۸۸۵ھ]
    تفسیر نظم الدرر لتناسب الآیات و السور :  برہان الدین محمد  بن ابراہیم بقاعی	[۸۸۵ھ]
    نزہۃ المجالس و منتخب النفائس  :  	عبد الرحمن بن عبد السلام صفوری شافعی	[۸۹۴ھ]
   شرح ملا جامي   :  عبد الرحمن ابن احمد جامی				[۸۹۸ھ] 
   المقاصد الحسنۃ للسخاوي  : شمس الدین محمد  بن عبد الرحمن سخاوی		[۹۰۲ھ]
   الدرر المنتثرۃ في الأحادیث المشتہرۃ  :  جلال الدین عبد الرحمن سیوطی	[۹۱۱ھ]
    تفسیر درّ منثور :  جلال الدین عبدا لرحمن بن ابی بکر سیوطی  		   	 [۹۱۱ھ]
   الإتقان في علوم القرآن للسیوطي :  	جلال الدین عبد الرحمن ابوبکرسیوطی	[۹۱۱ھ]
   انتباہ الأذکیاء  :  جلال الدین عبد الرحمن ابوبکرسیوطی				[۹۱۱ھ]
   مہمات المعارف للسیوطي :  	جلال الدین عبد الرحمن ابوبکرسیوطی		[۹۱۱ھ]
   الدیباج علی مسلم  :  جلال الدین عبد الرحمن ابوبکرسیوطی			[۹۱۱ھ]
   حسن المقصد في عمل المولد  :  جلال الدین عبد الرحمن ابوبکرسیوطی		[۹۱۱ھ]
   الجامع الصغیر للسیوطي    :  جلال الدین عبد الرحمن بن ابوبکر سیوطی		[۹۱۱ھ]
   الحبائک في أخبار الملائک  :  جلال الدین عبد الرحمن ابوبکرسیوطی		[۹۱۱ھ]
   تاریخ الخلفاء  :  جلال الدین عبد الرحمن ابوبکرسیوطی				[۹۱۱ھ]
   المواہب اللدنیۃ  بالمنح المحمد یۃ  :  شہاب الدین احمد بن محمد  قسطلانی شافعی	[۹۲۳ھ]
   فتح المعین في شرح قرۃ العین بمہمات الدین : زین الدین احمدملیباری شافعی[۹۲۸ھ]
   سبل الہدیٰ و الرشاد  :  ابوعبداللہ محمد  بن یوسف صالحی شامی 			[۹۴۲ھ]
    فص الخواتم فیما قیل في الولائم  :  شمس الدین محمد  بن طولون حنفی دمشقی	[۹۵۳ھ]
   جامع الرموز  :  شمس الدین محمد  خراسانی قہستانی 				[۹۶۲ھ]
   البحر الرائق شرح کنز الدقائق  :  زین الدین بن ابراہیم ابن نجیم مصری		[۹۷۰ھ]
   الأشباہ و النظائر  :  زین الدین بن ابراہیم ابن نجیم مصری			[۹۷۰ھ]
   غنیۃ المستملي شرح منیۃ المصلي معروف ب کبیري  :  شیخ ابراہیم حلبی	[۹۷۱ھ]
   المطالب العالیۃ   :  حافظ شہاب الدین احمدبن ابن حجرعسقلانی مکی		[۹۷۳ھ]
   فتح المبین  :  حافظ شہاب الدین احمدبن ابن حجرعسقلانی مکی			[۹۷۳ھ]
    تخریج أحادیث الإحیاء  :  حافظ شہاب الدین احمدبن ابن حجرعسقلانی مکی		[۹۷۳ھ]
   لسان المیزان  :  شہاب الدین احمدبن حجر عسقلانی مکی				[۹۷۳ھ]
   کنز العمال :   علاء الدین علی متقی بن حسام الدین ہندی برہانپوری			[۹۷۵ھ]
   الطریقۃ المحمد یۃ  :  محمد بیرعلی معروف بہ برکلی				[۹۸۱ھ]
   میزان الشریعۃ الکبریٰ  :  شیخ عبد الوہاب بن احمد شعرانی			[۹۸۳ھ]
   کشف الغمۃ عن جمیع الأمۃ  :  شیخ عبد الوہاب بن احمد شعرانی			[۹۸۳ھ]
ٔء    تذکرۃ الموضوعات  :  محمد  بن طاہر صدیق فتنی گجراتی ہندی			[۹۸۶ھ]
   مجمع بحار الأنوار :  محمد بن طاہرپٹنی ہندی				[۹۸۶ھ]
   نہایۃ المحتاج  :  محمد  بن شہاب الدین احمد انصاری رملی 				[۱۰۰۴ھ]
   الموضوعات الکبیر  :  علی بن سلطان ملاعلی قاری				[۱۰۱۴ھ]
   مورد الروي في مولد النبي  :  علی بن سلطان ملاعلی قاری			[۱۰۱۴ھ]
   مرقاۃ شرح مشکوٰۃ  :  علی بن سلطان ملاعلی قاری حنفی 				[۱۰۱۴ھ]
   زبدۃ النصائح لأرباب المصالح  :  جعفر بن ابراہیم سنہوری مصری 		[۱۰۲۰ھ]
   فیض القدیر   :  شمس الدین عبدالرؤف مناوی شافعی 				[۱۰۳۰ھ]
   مکتوبات إمام رباني  :  سیداحمد سرہندی مجددالف ثانی			[۱۰۳۵ھ]
   کشاف القناع عن متن الإقناع  :  منصور بن یونس البہوتی حنبلی 		[۱۰۵۱ھ]
   جذب القلوب إلی دیار المحبوب   :  شیخ محقق عبد الحق محدث دہلوی		[۱۰۵۲ھ]
   أشعۃ اللمعات   :  شیخ محقق عبد الحق محدث دہلوی				[۱۰۵۲ھ]
   شرح سفر السعادۃ   :  شیخ محقق عبد الحق محدث دہلوی				[۱۰۵۲ھ]
   مطالع المسرات  :  ابوحامد بن ابوالمحاسن بن محمد  فاسی				[۱۰۵۲ھ]
   لوامع التنویر فی شرح الکوکب المنیر  :  قاضی عبد الباقی بن محمد  منوفی مصری 	[۱۰۶۶ھ]
   کشف الظنون عن أسامي الکتب و الفنون  :  مصطفیٰ بن عبد اللہ قسطنطینی رومی حنفی	[۱۰۶۷ھ]
   مراقي الفلاح شرح نور الإیضاح  :  ابو الاخلاص حسن بن عمارشرنبلالی حنفی	[۱۰۶۹ھ]
   مجمع الأنہر في شرح ملتقی الأبحر  :  عبد الرحمن بن شیخ محمد  آفندی ستیخی زادہ	[۱۰۷۸ھ]
    الدر المختار  :  علاء الدین محمد  بن علی  حصکفیدمشقی حنفی 	  			[۱۰۸۸ھ]
   فہرس الفہارس  :  شمس الدین محمد  معروف بہ ابن ہمات زادہ 			[۱۰۹۱ھ]
   غمز عیون البصائر شرح الأشباہ والنظائر  :  احمد بن محمد حموی مکی		[۱۰۹۸ھ]
    قرۃ العیون بأنموذج الفنون  :	احمد بن سید محمد  مکی حسینی حموی 			[۱۰۹۸ھ]
   شرح مختصر خلیل للخرشي   :  محمد  بن عبد اللہ بن علی ابوعبد اللہ خرشی		[۱۱۰۱ھ]
   شرح المواہب اللدنیۃ   :  محمد  بن عبد الباقی زرقانی				[۱۱۲۲ھ]
   الفواکہ الدواني علی رسالۃ ابن أبي زید القیرواني  :  احمد بن غنیم نفراوی	[۱۱۲۵ھ]
   نور الأنوار  :  ملا احمد جیون ابن ابوسعید حنفی امیتھوی				[۱۱۳۰ھ]
    تفسیر روح  البیان :  ابو الفداء شیخ اسمٰعیل حقی بروسوی				[۱۱۳۷ھ]
   شرح سنن نسائي  :  ابوالحسن نور الدین بن عبد الہادی				[۱۱۳۸ھ]
   حاشیۃ السندي علی ابن ماجۃ  :  ابوالحسن نور الدین بن عبد الہادی		[۱۱۳۸ھ]
   کشف الخفاء و مزیل الألباس للعجلوني : ابوالفداء اسماعیل بن محمد بن عبدالہادی 	[۱۱۶۲ھ]
   شرح ابن بطال  :  عمروبن زکریابطال برہانی اشبیلی 				[۱۱۷۶ھ]
   حجۃ اللّٰہ البالغۃ   :  شاہ ولی اللہ محدث دہلوی				[۱۱۷۶ھ]
   الانتباہ في سلاسل أولیاء اللّٰہ  :  شاہ ولی اللہ محدث دہلوی			[۱۱۷۶ھ]
   تفہیمات إلٰہیّۃ   :  شاہ ولی اللہ محدث دہلوی					[۱۱۷۶ھ]
   القول الجمیل   :  شاہ ولی اللہ محدث دہلوی					[۱۱۷۶ھ]
   إزالۃ الخفاء   :  شاہ ولی اللہ محدث دہلوی					[۱۱۷۶ھ]
   عقد الجید   :  شاہ ولی اللہ محدث دہلوی					[۱۱۷۶ھ]
   الدر الثمین في مبشرات النبي الأمین   :  شاہ ولی اللہ محدث دہلوی		[۱۱۷۶ھ]
   مصفیٰ شرح مؤطا   :  شاہ ولی اللہ محدث دہلوی				[۱۱۷۶ھ]
  عقد الجوہر في مولد النبي الأزہر  :  	جعفر بن حسن بن عبد الکریم برزنجی مدنی	[۱۱۷۷ھ]
   حیاۃ الأنبیاء في قبورہم  :  احمد بن حسن عبد الکریم جوہری			[۱۱۸۲ھ]
   حاشیۃ البجیرمي علی الخطیب  :  سلیمان بن عمر بن محمد  بجیرمی مصری شافعی 	[۱۲۲۱ھ]
   حاشیۃ البجیرمي علی المنہج  :  سلیمان بن عمر بن محمد  بجیرمی مصری شافعی 	[۱۲۲۱ھ]
    تفسیر مظہری  :  قاضی محمد  ثناء اللہ مظہری پانی پتی				[۱۲۲۵ھ]
   تذکرۃ الموتیٰ و القبور  :  قاضی ثناء اللہ پانی پتی				[۱۲۲۵ھ]
   حاشیۃ الدسوقي  :  محمد  بن احمد بن عرفہ مصری مالکی				[۱۲۳۰ھ]
   فتح العزیز معروف ب تفسیر عزیزي  :  شاہ عبد العزیزمحدث دہلوی		[۱۲۳۹ھ]
   تحفۂ اثنا عشریہ  :  شاہ عبد العزیزدہلوی					[۱۲۳۹ھ]
   وسیلۃ النجاۃ  :  شاہ عبد العزیز محدث دہلوی					[۱۲۳۹ھ]
   سوالات عشرۂ محرم  :  شاہ عبد العزیز دہلوی				[۱۲۳۹ھ]
   حاشیۃ الصاوي علی الشرح الصغیر  :  احمد بن محمد  صاوی مالکی 		[۱۲۴۱ھ]
   تقویۃ الإیمان  :  اسماعیل دہلوی						[۱۲۴۶ھ]
   تذکیر الإخوان  :  اسماعیل دہلوی						[۱۲۴۶ھ]
   صراط مستقیم  :  اسماعیل دہلوی						[۱۲۴۶ھ]
   إثبات رفع یدین  :  اسماعیل دہلوی					[۱۲۴۶ھ]
   حاشیۃ العطار علی جمع الجوامع  :  شیخ الازہرابوالسعادات حسن بن محمد  شافعی	[۱۲۵۰ھ]
   رد المحتار  :  سید محمد  امین معروف ب ابن عابدین شامی حنفی 			[۱۲۵۲ھ]
   حاشیۃ رد المحتار  :  سید محمد  امین معروف ب ابن عابدین شامی حنفی 		[۱۲۵۲ھ]
   مائۃ مسائل  :  شاہ محمد  اسحق دہلوی 						[۱۲۶۲ھ]
   أسنی المطالب في أحادیث مختلفۃ المراتب   :  درویش بیروتی حنفی 		[۱۲۷۶ھ]
    ہدیۃ العارفین  :  اسماعیل پاشا بن محمد  امین بغدادی				[۱۲۸۹ھ]
   ایضاح المکنون في الذیل علی کشف الظنون  :  اسماعیل پاشا بن محمد  امین	[۱۲۸۹ھ]
   مظاہر حق شرح مشکوٰۃ  :  نواب قطب الدین خان دہلوی			[۱۲۸۹ھ]
   تحفۃ العرب و العجم  :  نواب قطب الدین خان دہلوی			[۱۲۸۹ھ]
   تنویر الحق  :  قطب الدین خاں دہلوی 					[۱۲۸۹ھ]
   شفاء السائل  :  شاہ عبد الغنی مجددی دہلوی	 				[۱۲۹۶ھ]
   شفاء الصدور  :  فیض الحسن سہارن پوری	 				[۱۳۰۴ھ]
   إعانۃ الطالبین علی حل ألفاظ فتح المعین :  ابوبکربن سیدمحمد  شطادمیاطی شافعی	[۱۳۱۰ھ]
   ضیاء القلوب  :  حاجی امداد اللہ مہاجر مکی					[۱۳۱۷ھ]
    کنز الإیمان في ترجمۃ القراٰن  :   امام احمد رضا قادری محدث بریلوی  		[۱۳۴۰ھ]
   نظم المتناثر من الحدیث المتواتر  :  محمد  بن جعفر کتانی			[۱۳۴۵ھ]
   الرسالۃ المستطرفۃ  :  محمد  بن جعفر الکتانی					[۱۳۴۵ھ]
    تفسیر أضواء البیان :  محمد  امین بن محمد  مختار شنقیطی	 			[۱۳۹۳ھ]
   المسند الجامع  :  ابو الفضل سید ابو المعاطی النوری 				[۱۴۰۱ھ]
   إنسان العیون في سیرۃ الأمین المأمون  :  علی بن برہان الدین حلبی		[۱۴۰۴ھ]
    مطالب أولي النہی في شرح غایۃ المنتہیٰ  : محمد  امین بن ملا احمد آفندی داغستانی	[ھ]
   الإنصاف فیما قیل في المولد من الغلو و الإجحاف  :  ابوبکر جابر الجزائری 	[ھ]
    تفسیر ہمیان الزاد إلی دار العباد :  سحنون بن عثمان وہبی اباضی 		[ھ]
   حواشي الشرواني  :  عبد الحمید الشروانی     احمد بن قاسم العبادی 			[ھ]
   خزانۃ الروایات مستند مائۃ مسائل   :  قاضی جگن حنفی گجراتی			[ھ]
   الفتاویٰ الہندیۃ  :  	جمعیت علمائے اور نگ زیب عالم گیر			
   نصاب الاحتساب  :  	عمربن محمد  بن عوض شامی حنفی				[ھ]
   کتاب القواعد  :  عز الدین بن سلام					[ھ]
    دستور القضاۃ :  صدربن رشید تبریزی                        		 [ھ]
   دلائل الأذکار  :  شیخ محمد  تھانوی						[ھ]
   تمہید  :  ابوشکور سالمی							[ھ]
   سبیل الرشاد  :  محمد  عاشق پھلنی						[ھ]
   أنوار محمد ي  :  شیخ محمد  محدث تھانوی					[ھ]
   حواشي مشکوٰۃ  :  سید جمال الدین 					[ھ]
   وصیت نامہ  :  عبد اللہ گجراتی						[ھ]
    مکتوبات قدوسي : شیخ عبد القدوس گنگوہی                        		 [ھ]
   مخزن أحمدي  :  سید محمد علی 		 				[ھ]
   منح الجلیل شرح مختصر خلیل  :  					[ھ]
   التلخیص الحبیر في تخریج أحادیث الرافعي  :  			[ھ]
   روضۃ المحدثین  :  							[ھ]
   حاشیۃ الجمل  :  							[ھ]
   حاشیتا قلیوبي و عمیرا  :  						[ھ]
   تفسیر أضواء القرآن  :  						[ھ]
   فضائل القرآن و تلاوتہ   :  						[ھ]
   فضائل القرآن   :  							[ھ]
   التغني بالقرآن   :  							[ھ]
   تاریخ القرآن الکریم   :  						[ھ]
   التبیان   :  								[ھ]
   جامع الرسائل   :  							[ھ]
   شرح الطحاویۃ   :  							[ھ]
   فضل حفظ القرآن   :  						[ھ]
   المعرفۃ و التاریخ   :  							[ھ]
   اکتفاء القنوع بما ہو مطبوع  : 					[ھ]
    معجم المطبوعات  :  						[ھ]
   تکملۃ مجمع بحار الأنوار :  						[ھ]
   دقائق الأخبار  :  							[ھ]
   المختصر في أصول الحدیث  :  					[ھ]
    محبۃ الرسول بین الاتباع و الابتداع  :  				[ھ]
   شرح الطحاویہ في العقیدۃ السلفیۃ  :  					[ھ]
  تبصرۃ الحکام في أصول الأقضیۃ و مناہج الأحکام  :  			[ھ]
    الفقہ و الشریعۃ  :  							[ھ]
   بہجۃ قلوب الأبرار  :  						[ھ]
   بریقہ محمودیہ فی شرح طریقہ محمد یہ  : 				[ھ]
   أصول الایمان في ضوء الکتاب والسنۃ  :  				[ھ]
   شرح الأربعین النوویۃ في الأحادیث الصحیحۃ النبویۃ  :  		[ھ]
    معجم أصحاب القاضي أبي علي الصدفي  :  				[ھ]
  روضۃ النعیم  :  							[ھ]
   تحقیق الحق  :  							[ھ]
   تفیہم المسائل  :  							[ھ]
   نصاب الفقہ  :  							[ھ]
   رسالہ قنوجیہ  :  							[ھ]
   مسائل بہیّہ  :  							[ھ]
   جامع الأوراد  :  							[ھ]
   صمصامِ قادري  :  							[ھ]
   تنویر الملک  :  							[ھ]

	یقول الفقیر إلی سیدہ ومولاہ والراجي شفاعۃ نبیہ فی دنیاہ وأخراہ أبو الرفقۃ محمّد افروز القادری الجریاکوتی أظہرہ اللّٰہ بالحجۃ البالغۃ علی کل عادٍ من الأعادي   ہٰذا ما وفقني اللّٰہ تبارک و تعالیٰ و أعانني علیہ  من وضع  ہٰذا الکتاب الذي دأبتُ في ترتیبہٖ و تسہیلہ و تجدیدہ و تہذیبہٖ و تذہیبہ و تحقیقہ و تخریجہ بکل ما في وسعي و طاقتي و ] لاَ یُکَلِّفُ اللّٰہُ نَفْساً اِلاَّ مَا آتٰہَا[ [طلاق : ۷]۔
	و إني أسئل اللّٰہ سبحانہ و تعالیٰ أن یجعل عملي ہٰذا و جہدي خالصا لوجہ الکریم  و ہدیۃ الیٰ جناب سیدي رسول اللّٰہ العظیم أنجو بہ من نار الجحیم و ما توفیقي إلا باللّٰہ العظیم علیہ توکلت و إلیہ أنیب۔ قد بدأت عمل التسہیل و التخریج  یوم الثلثاء ، الرابع عشر من صفر المظفر عام  ۱۴۲۸؁ ھ  الموافق شہر مارس  ۲۰۰۷؁ ء   و کان الفراغ منہ  بفضل اللّٰہ و منتہ  و توفیقہ و معونتہ   في منتصف یوم الخمیس ، التاسع و العشرین من ربیع الآخر عام  ۱۴۲۸؁  من الہجرۃ   النبویۃ   علیٰ   صاحبہا  السلام  و التحیۃ ، الموافق  شہر مایو  ۲۰۰۷؁ من میلاد المسیح علیہ الصلوۃ و التسلیم ۔ 
رَبَّنَا لاَ تُؤاخِذْنَا إنْ نَسِیْنَا أو أخْطَأنَا
]تمَّت و بالخیر عمَّت  [
٭٭٭
تشکر: ڈاکٹر محمد مشاہد رضوی جن کے توسط سے فائل کا حصول ہوا
جزوی تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید

