﻿


آتش رفتہ کا سراغ

ناول



مشرف عالم ذوقی




میں کہ، مری غزل میں ہے آتشِ رفتہ کا سراغ
میری تمام سرگزشت کھوئے ہوؤں کی جستجو
		—  علامہ اقبال





انتساب

ایک ناول دوستوں کے نام!

	ڈاکٹر انور پاشا
	ڈاکٹر خواجہ اکرام
	ڈاکٹر ابرار رحمانی
	 کے نام
	 اور
اُس عالمی سیاست کے نام بھی جہاں ہر مسلمان
ایک خوف کی زندگی گزارنے پر مجبور ہے




آتشِ رفتہ کا سراغ: 

کچھ اس ناول کے بارے میں 

’میری تمام سرگزشت کھوئے ہوؤں کی جستجو‘
’لے سانس بھی آہستہ‘ کے فوراً بعد— ’آتشِ رفتہ کا سراغ—‘
قیصر و کسریٰ کو فتح کرنے والوں کے نام دہشت گردی کی مہر لگا دی گئی۔  سائنسی انقلابات نے ارتقا کے دروازے تو کھولے لیکن ڈی۔ ان۔  اے اور جینوم سے زیادہ شہرت اے کے ۴۷ اور اسلحوں کو ملی— ایک زمانے میں جہاں علوم و فنون کے لیے برٹنڈرسل جیسے دانشور بھی مسلمان سائنسدانوں کی مثالیں دیا کرتے تھے، وہاں دیکھتے ہی دیکھتے مغرب نے جیش، لشکر طیبہ، ظواہری اور اسامہ بن لادن کے نام جپنے شروع کر دیئے— انحطاط اور ذلّت کی حد یہ ہے کہ مسلسل مسلمانوں کو اپنی وفاداری اور حب الوطنی کی شہادت پیش کرنی پڑتی ہے۔ 
میں نے مسلمانوں کے مسائل پر پہلے بھی بہت کچھ لکھا— مسلمان، بیان، ذبح— سن ۲۰۱۱ تک آتے آتے اس پر تصادم دنیا کے درمیان مسلمانوں کی عام حالت کٹھ پتلی جیسی ہو چکی ہے۔  اس تحریر کے لکھے جانے تک مصر میں بغاوت کا پرچم لہرایا جا چکا ہے۔  چین اور اس کے جیسے سہمے ہوئے کئی ملکوں نے فیس بک اور گوگل پر پابندی عائد کر دی ہے— ان واقعات کو بھی مسلمانوں کے اصل انحطاط اور محرومیوں و ناکامیوں سے جوڑ کر دیکھنا چاہیے— ہندوستان کی بات کیجئے تو لبراہن کمیشن سے بابری مسجد فیصلے تک، جمہوریت کی ڈگ ڈگی بجا کر مسلمانوں کو خاموش رہنا سکھایا جاتا ہے۔  ہزاروں فرضی انکاؤنٹرز کی داستانیں سامنے آتی ہیں اور ایسا بھی ہوتا ہے کہ انکاؤنٹر کرنے والوں کو حکومتی اعزاز اور تمغے بھی مل جاتے ہیں۔ 
میں ایک بڑے ناول کی اسٹریٹجی تیار کرتے ہوئے مسلم نقطۂ نظر سے جدید دور کے تقاضوں پر اپنا موقف پیش کرنا چاہتا تھا۔  لیکن اس میں ایک خطرہ بھی تھا— اور ایک چیلنج بھی— عام نقاد ایسے ناولوں کو محض رپورٹنگ بتا کر قارئین کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔  شروع میں میرے ناول بیان کے ساتھ بھی یہی ہوا تھا— یہ جاننا ضرور ی ہے کہ اس طرح کے ناول محض خلا میں تحریر نہیں کیے جا سکتے— سماجی اور سیاسی شعور کے بغیر کوئی بڑا ناول قلم بند نہیں کیا جا سکتا— ایک خطرہ اور بھی تھا، اگر اس ناول میں بابری مسجد کا نام آتا ہے تو کیا میں بابری مسجد کی جگہ کوئی اور فرضی نام استعمال کروں ؟ یا جیش محمد، لشکر طیبہ کی جگہ کوئی فرضی تحریک، یا پھر ۳۰۔ ۲۰ برسوں کی سیاست میں جو سیاسی رہنما ہمیں ’تحفے‘ میں ملے، کیا ان کے ناموں کو بھی تبدیل کر دیا جائے؟
میں کہہ سکتا ہوں، یہاں میں آزادی اظہار کا اعلان کرتے ہوئے ہر طرح کے تیر و کمان سے لیس تھا۔  میرے سامنے روسی ناول نگاروں کی مثالیں موجود تھیں، جنہوں نے اپنے عہد کی داستانوں کو قلم بند کرتے ہوئے، اس عہد کی سیاسیات اور سماجیات کو نئی معنویت کے ساتھ متعین کیا اور یہ سلسلہ اب تک چلا آ رہا ہے— اس لیے مجھے ان ادبی فتووں کا ڈر نہیں کہ سیاسی شعور کو کچھ لوگ ابھی بھی رپورٹنگ کا درجہ دیتے ہیں۔ 
ناول کے آغاز سے قبل ایک مشکل اور بھی سامنے آ رہی تھی کہ اسے شروع کہاں سے کیا جائے—آج کے مسلمانوں کی سیاسی وسماجی زندگی کی عکاسی کے لیے بٹلہ ہاؤس انکاؤنٹر سے بہتر مثال میرے نزدیک کوئی دوسری نہیں تھی۔  یہاں یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ بٹلہ ہاؤس انکاؤنٹر کو میں نے محض علامت کے طور پر استعمال کیا ہے۔  اصل بٹلہ ہاؤس انکاؤنٹر کا اس ناول سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں ہے۔  کچھ لوگ بے گناہ مارے جاتے ہیں۔  لباسوں پر انگلیاں اٹھتی ہیں — کچھ نوجوان خاموشی سے غائب ہو جاتے ہیں۔  مسلمانوں کو کرائے کے گھر نہیں ملتے۔  کال سینٹر سے لے کر ہر جگہ ایک مسلمان نام کا ہونا شک کی وجہ بن جاتا ہے— پچھلے دس برسوں میں صرف انصاف کی موہوم سی امید کو لے کر مسلمانوں نے جینا تو جاری رکھا ہے مگر زندگی کے اس سفر میں شکوک، بندشیں نا انصافیوں اور محرومیوں کا ہی تحفہ ملا ہے— 
اب کچھ بٹلہ ہاؤس انکاؤنٹر کے بارے میں — کہ اسی انکاؤنٹر سے۔  مجھے اس ناول کی تحریک ملی اور یہاں کسی حد تکمیں نے اپنے معنی و مفہوم کو سامنے رکھنے کی حتی الامکان کوشش کی ہے۔ 
سرسری اس جہان سے گزرے
’’میرا خواب ہے کہ ایک دن
جارجیا کے پرانے غلاموں /
اور پرانے زمیں داروں کے بیٹے/
بھائی چارے کے ساتھ ایک جگہ رہیں /
میرا خواب ہے کہ میرے بیٹے ایسے امریکہ میں سانس لیں 
جہاں انہیں رنگ و نسل کی بنیاد پر نہیں /
انہیں عملی نمونہ کے طور پر پرکھا جائے/‘‘
—  مارٹن لوتھر کنگ
براک اوباما کے امریکی صدر بنتے ہی مارٹن لوتھر کنگ کا خواب تو پورا ہو گیا اور شاید دنیا کے لیے ایک نئے عہد کا آغاز بھی ہو گیا— یہ بھی کہا گیا کہ اوباما لہر نے برلن سے بڑی دیوار توڑ دی— نفرت اور عصبیت کی وہ دیوار جو سینکڑوں برسوں سے کروڑوں لوگوں کے دکھ درد کا سبب بنی ہوئی تھی— لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ایسی ایک دیوار ہندوستان میں بھی ہے اور دور دور تک اس دیوار کے ٹوٹنے کے آثار نظر نہیں آتے۔  آج سے ۷ سال قبل (۱۳ مئی ۲۰۰۳) نیو یارک کے ریورسائڈ چرچ میں اروندھتی رائے نے ایک بیان دیتے ہوئے کہا تھا— ’ہم ایسے بے رحم دور سے گزر رہے ہیں جہاں تیزی سے، ہم سے ہماری آزادی چھینی جا رہی ہے‘— جامعہ کے فرضی انکاؤنٹر سے ملک کی ۲۵ کروڑ مسلم آبادی (جسے ہندی انگریزی میڈیا صرف ۱۵ کروڑ ظاہر کرتی ہے اور اردو میڈیا ۲۵ کروڑ سے کم ماننے پر راضی نہیں۔  کیا یہ بھی ایک طرح کی فرقہ واریت ہے؟) ایک بار پھر یہ سوچنے اور سمجھنے پر مجبور ہوئی ہوں کہ وہ یہاں محفوظ نہیں ہیں۔ 
اس سوال کو خوف و ہراس اور بزدلی کا درجہ مت دیجئے۔  اس سوال کو برلن کی طرح مضبوط ہندوستان کی جمہوری دیوار کا راستہ مت دکھائیے۔  یہ سوال ہر بار بنا ہوا ہے۔  یہ سوال اکثر و بیشتر ایک تسلی، یقین یا امید کی کرن میں تبدیل ہو جاتا ہے۔  اور اچانک کسی غیر متوقع حادثہ کے احساس سے ایک بار پھر جاگ جاتا ہے— سن ۴۷، بارودی ڈھیر پر ایک خوفناک آزادی ہمارا انتظار کر رہی تھی۔  جنہیں یہاں تحفظ نظر نہیں آیا۔  وہ پاکستان چلے گئے— یہ مت بھولیے کہ پاکستان بننے کے پیچھے بھی شیخ عبد اللہ یا جناح جیسے قد آور رہنماؤں کی ایک منطق رہی تھی کہ جو قوم ان کے ہاتھ سے ایک گلاس پانی نہیں پی سکتی، کیا وہ موجودہ حالت میں انہیں ان کا رتبہ دے سکتی ہے؟ اگرچہ اس دلیل کو کاٹنے کی صلاحیت ہے ہم میں، کہ دو بھائیوں کی طرح ہم آزاد ہندستان میں پلے، بڑھے اور نوکریاں حاصل کرنے میں کامیاب رہے— عمر گزری ہے اسی دشت کی سیاحی میں — اور وہ لوگ جو پاکستان چلے گئے، ان کے پاس بھی اپنے جواز تھے۔  چنانچہ اپنے لوگ—، اپنی سرزمیں، اپنا پیارا ہندوستان— آخر اپنی مٹی کا کچھ تو جواز ہوتا ہے۔  لیکن آزادی کے بعد کے ہندوستان میں مسلمانوں کا وہ سہما ہوا چہرہ بھی دیکھ لیجئے، جہاں ہر چھوٹی سے چھوٹی اور بڑی سے بڑی کارروائی کے لیے ایک ساتھ ۲۵ کروڑ کی آبادی نشانے پر آ جاتی ہے۔  بہار شریف، بھاگلپور، جمشید پور، ملیانا میں ہونے والے فرقہ وارانہ فسادات سے الگ کی بھی ایک کہانی ہے جو مجھے چونکاتی ہے۔ 
گاندھی جی کا قتل ہوتا ہے— مسلمان اپنے اپنے گھروں میں بند ہو جاتے ہیں۔  (کیوں کیسا خوف ہے یہ؟۔  اگر کسی مسلمان نے قتل کیا ہے تو؟)
برسوں بعد اندرا گاندھی کا قتل ہوتا ہے۔  مسلمان ایک بار پھر اپنے اپنے گھروں میں بند —(کیوں ؟)
راجیو گاندھی کا قتل ہوتا ہے، جب تک قاتلوں کی خبر نہیں آ جاتی، پورا مسلم معاشرہ دہشت اور خوف کے خیمے میں رہتا ہے کہ اب فسادشروع… (کیوں —؟)
ایک وقت ایسا لگ رہا تھا کہ ایودھیا تنازعہ یا ہندوتو کا ’ایشو‘ سیاسی گلیارے میں ہلچل پیدا کرنے میں ناکام ہیں۔  لیکن بعد کی واردات نے بتا دیا کہ ایسا سوچنے والے غلط تھے۔  در اصل ہندوستانی تہذیب میں مذہب کی جڑیں، اتنی گہری ہیں کہ ۱۱۰ کروڑ کے عوام سے لے کر سیاست اور سیاسی گلیارے تک ہمارے عہد کا تنہا فاتح یا ہیرو مذہب رہا ہے— اور یہ بھی کھلا سچ ہے کہ نئے ہزارہ یا نئی صدی میں قدم رکھنے تک اسی مذہب کی آڑ لے کر ایک بار پھر سے اسلام کو پاکھنڈ، قرآن شریف کو غلط کتاب اور مسلمانوں کو دہشت گرد قرار د ینے کی کارروائی اپنے آخری مرحلوں میں پہنچ چکی ہے۔  شاید چہرے بدل بدل کر آزاد ہندوستان میں ایک ہی پارٹی اس ملک میں حکومت کرتی رہی ہے— اور وہ ہے ’ہندوتو‘— کانگریس کا نرم ہندوتو اور بھاجپا کا گرم ہندوتو— مگر بھاجپا کے مقابلے کانگریس کا نیا ہندوتو خطرناک ہے۔  ووٹ بینک یا ووٹ کی سیاست میں در اصل کانگریس دونوں ہاتھوں سے لڈو کھانے کی کوشش کرتی ہے۔  وہ ہندوتو کو بھی خوش رکھنا چاہتی ہے اس لیے ’سنگھ‘ اور پرگیہ معاملے میں اس کی چپّی خطرناک حد تک ملک کے لیے انتہاپسند لگتی ہے۔  وہیں وہ مسلمانوں کے ووٹ بینک پر قبضہ کرنے کے لیے اپنے چھٹ بھیے نیتاؤں کو بٹلہ ہاؤس بھیج کر مسلمانوں کے زخموں پر مرہم تو لگانا چاہتی ہے، مگر پورے معاملے پر انصاف اور جانچ کرانے کو تیار نہیں ہوتی کہ اس سے اکثریتی ووٹ کے کٹنے کا خطرہ اسے نظر آ جاتا ہے۔ 
بار بار جامعہ:
مودی کے سپہ سالار بنجارا اور اس کے انکاؤنٹرز کو لوگ بھولے نہیں ہیں — گجرات سے ممبئی تک میڈیا، انکاؤنٹرز کی خبروں کو ایسے اچھالتی تھی جیسے دیش کا ہرایک مسلمان دہشت گرد ہے— کیونکہ بار بار دہشت گردی کی ہر کارروائی میں نشانہ کسی ایک عاطف یاساجد پر نہیں ہوتا تھا، بلکہ میڈیا کے شور وغل میں ملک کے سارے مسلم نوجوان نشانے پر ہوتے تھے۔  ہر بار دہشت گرد کی جیب میں اردو میں لکھی ایک پرچی ہوتی تھی۔  (آج کی نوجوان مسلم نسل اردو نہیں جانتی)— ہر بار کرتا، پاجامہ پہننے والا شخص، چشم دید گواہوں کے نشانے پر ہوتا تھا۔  (تاکہ جائے واردات پر وہ اپنے لباس کے ذریعہ آسانی سے پہچان لیا جائے)— کیا آج کے مسلم نوجوان کرتا پائجامہ پہنتے ہیں —؟ کیا جینس کی پینٹ اور ٹی شرٹ پہنے ہوا شخص مسلمان نہیں ہو سکتا—؟ اس کا جواب ہے، ہو سکتا ہے، لیکن پولیس انتظامیہ اور حکومت کی نظر میں جینس اور پینٹ شرٹ پہننے والا شخص ملک کے تمام مسلمانوں کی نمائندگی نہیں کر سکتا۔   میڈیا کو ایک فیکس یا میل حاصل ہو جاتا ہے— ہر بار کسی انڈین مجاہدین کی جانب سے یہ اعتراف نامہ بھی آ جاتا ہے کہ بھیا، یہ تو ہم نے کیا ہے۔  کیا کبھی حکومت نے ان فرضی فیکس یا میل کی تحقیق کرنے یا جانچنے کی کوشش کی؟ ان باتوں کا ذکر اس لیے ضروری ہے کہ ایسی ہر کارروائی ہندوستان میں پیدا ہونے والے ایک ایک مسلمان کے رنج و غم کا سبب بن جاتی ہے۔ 
جامعہ یا بٹلہ ہاؤس میں جو کچھ ہوا، وہ اچھا نہیں ہوا۔  شاید بہت سے لوگوں نے انکاؤنٹر کے بعد کا وہ چہرہ نہیں دیکھا جو میں نے دیکھا ہے۔  رمضان کے مہینے میں ہونے والی اس واردات نے علاقے کے تمام مسلمانوں کو جیسے کسی لاش میں تبدیل کر دیا تھا۔  پولیس کسی بھی وقت کسی کے بھی گھر دھمک جاتی تھی۔  یہ کہنے پر کہ بھائی، ہم تو پڑے لکھے لوگ ہیں۔  پولیس کا جواب ہوتا تھا ’تم جیسے پڑھے لکھے لوگ ہی یہ کارروائی کرتے ہو۔ ‘‘ مالیگاؤں سے لے کر اعظم گڑھ تک کے تار دہشت گردوں سے جوڑ دیئے جاتے تھے۔  سب سے زیادہ نوجوان پریشان تھے۔  وہ گھر سے باہر نکل ہی نہیں سکتے تھے۔  یہ دہشت اور خوف کہ پولیس کی کتوں جیسی آنکھیں کب ان کا شکار کر لیں، کہا نہیں جا سکتا۔  اسی ماحول میں عید جیسا دن بھی آیا۔  عید جسے خوشی کا دن کہتے ہیں۔  لیکن مسجدیں سنسان رہیں — ایک اطلاع کے مطابق کئی مسلم نوجوان اس دن مارے ڈر کے مسجد نہیں گئے۔  اس تحریر سے پہلے میں جامعہ اور بٹلہ ہاؤس کے بہت سے لوگوں سے ملا۔  ایک تکلیف دہ بات اور بھی سامنے آئی۔  کچھ مسلم بچے جنہیں نئی نئی اپنی پرائیوٹ نوکری جوائن کرنے کا پیغام ملا تھا، انہیں نوکری پر آنے سے منع کر دیا گیا— (شاید یہ بھیانک بات آپ کو معلوم ہو کہ آج بھی دلی سے ممبئی تک کسی بھی مسلمان کا اپنے لیے کرائے کا مکان تلاش کرنا ایک بے حد مشکل کام ہوتا ہے۔  عام طور پر مکان مالک کرایہ دار مسلمانوں کو اپنا گھر نہیں دینا چاہتے— جاوید اختر جیسے لوگوں کو بھی ممبئی میں اپنا گھر خریدنے پر خبر بننا پڑتا ہے— بھلے ہی ان باتوں کو فرقہ واریت سے جوڑا جائے لیکن یہی سچ ہے۔  جامعہ والی واردات کے بعد تو مسلمانوں کے لیے رہائشی مکانوں کی تلاش اور بھی مشکل کام ہو گیا ہے۔ 
اسی ملک میں وہ بھی ہوا، شاید جس کو کبھی خواب و خیال میں بھی نہیں لایا جا سکتا تھا— جو شاید بابری مسجد گرانے اور گودھرا کی واردات سے زیادہ شرمناک تھا۔  بٹلہ ہاؤس فرضی انکاؤنٹرزکی واردات کے کچھ ہی روز بعد ایک پورے محلے پر پابندی لگا دی گئی—  ہماری گلوبل تہذیب کو کہیں نہ کہیں انٹرنیٹ یا فاسٹ فوڈ کلچر سے بھی جوڑا جاتا ہے۔  انکاؤنٹر کے بعد جو خبریں آئیں وہ دردناک تھیں۔  انٹر نیٹ ایجنسیوں نے نئے کنکشن دینے سے انکار کر دیا — یہاں تک کہ جنک فوڈ یا پزہ ڈلیور کرنے والوں نے کہا کہ ہم جامعہ میں ڈلیوری نہیں دیں گے۔  لیجئے نئی دنیا کے دروازے جامعہ کے لئے بند— وہ بھی ایک ایسے فرضی انکاؤنٹر کے لیے، حکومت جس کی منصفانہ جانچ تک کرانا نہیں چاہتی تھی—
کیا ممبئی کے سینکڑوں انکاؤنٹرز فرضی نہیں پائے گئے؟ جس کے بارے میں میڈیا چیخ چیخ کر عام دنوں میں مسلمانوں کے لیے نفرت اور زہر بھرا کرتی تھی؟
کیا گجرات میں بنجا رہ کے ذریعہ ہونے والے انکاؤنٹرز فرضی نہیں تھے؟ یہ مت بھولیے کہ جب سہراب اور اس کی بیوی پر میڈیا دہشت گردی کے الزام طے کرتے ہوئے ۲۴۔ ۲۴ گھنٹے ہر ایک ہندوستانی کے دل میں مسلمانوں کی مسخ شدہ شبیہ پیش کر رہی تھی، ان واردات سے ملک کا ایک ایک مسلمان اپنے دامن پر ان داغوں کو لگا ہوا محسوس کر رہا تھا— لیکن کیا ہوا؟ سچائی سامنے آئی اور بنجا رہ آج سلاخوں کے پیچھے ہے— یہاں میں بڑی بڑی باتوں یا بڑے بڑے فلسفوں میں الجھنا نہیں چاہتا۔  بدلے بدلے سے ہندوستان کا یہ چہرہ بھی دیکھئے۔ 
(الف)  جہاں چھوٹے چھوٹے مسلم معصوم بچوں کو اسکول میں ان کے دوست اسامہ یا دہشت گرد کہہ دیتے ہیں اور ان کے پاس یہ جواب نہیں ہوتا ’کہ دہشت گرد کسی مذہب کے نہیں ہوتے۔ ‘
(ب)  میری نیٹ فرینڈ سومیا بنرجی جس سے میرے رشتے دو سال پرانے تھے، اس نے  یہ آف لائنس مجھے بھیج کر چونکا دیا، کہ تم مسلمان ہو، میں اب تم سے رشتہ نہیں رکھ سکتی۔ 
شاید تقسیم کے بعد سے ہم مسلسل ایسی صورت حال کا شکار ہو رہے ہیں جہاں ہر کارروائی یا واردات میں شک کی سوئی اچانک ہماری طرف تن جاتی ہے— اور بار بار دوستووسکی کے ایڈیٹ کی طرح سامنے آ کر مسکراتے ہوئے ہمیں یہ جواب دینا پڑتا ہے— کہ بھائی اسامہ ہم نہیں ہیں — پاکستان سے آزاد ہندوستان کے مسلمانوں کا کوئی لینا دینا نہیں ہے— کہ بھائی دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں ہوتا—کہ بھائی فلاں کارروائی ہم نے نہیں کی۔ 
سن ۲۰۰۳ء، جلتے ہوئے گجرات پر میری کتاب ’لیبارٹری‘ شایع ہوئی تھی— جس کے اجرا میں نامور جی، راجندر یادو اور کملیشور جیسے بڑے نام بھی شامل تھے— اجرا کے ٹھیک دوسرے دن رات کے گیارہ بجے میرے گھر دو پولیس والے آئے— مجھ سے کہا گیا، مجھے لودھی روڈ تھانہ بلایا گیا ہے— میرا سارا خاندان پریشان ہو گیا۔  میں نے اس کی اطلاع راجندر یادو جی کو بھی دی۔  انہوں نے کہا۔  جاؤ دیکھو— گھبرانا مت— ٹھیک گیارہ بجے دن میں لودھی روڈ تھانہ میں موجود تھا۔  وہاں اپنی اہلیہ کی موجودگی میں راجویر (انکاؤنٹر اسپیشلسٹ، جس کو دو سال پہلے قتل کر دیا گیا) سے جو پہلا جملہ میں نے کہا، وہ یہ تھا—’اگر میں اس ملک کے لیے وفادار نہیں تو اس ملک کے لیے کوئی بھی وفادار نہیں ہو سکتا— وہاں میری پوری فائل کھلی ہوئی تھی۔  مجھ سے بیہودہ اور اس طرح کے شرمناک سوال پوچھے گئے… جیسے ’کشمیر کے فلاں شخص کو میں جانتا ہوں ؟‘‘
’’پاکستان کا فلاں آدمی کبھی میرے گھر آیا؟‘‘
میں نے ان سوالوں کے جواب میں کہا— ’’ہندوستان کی طرح میری کہانیاں پاکستانی رسائل میں بھی شایع ہوتی ہیں —  پاکستان سے کبھی کبھار میرے قلم کار دوست ہندوستان آتے ہیں تو وہ مجھ سے بھی ملنا چاہتے ہیں — لیکن میں ان سے نہیں ملتا۔  میں اسی خوف کی وجہ سے ان سے نہیں ملتا کہ ایسے حالات پیدا نہ ہوں جو آج پیدا ہوئے ہیں۔ ‘‘ چار پانچ گھنٹے کی پوچھ تاچھ کے بعد مجھ سے کہا گیا کہ در اصل آپ کا نام دہشت گردوں کی ہٹ لسٹ میں ہے۔  ہم آپ کو سیکورٹی دینا چاہتے ہیں۔ ‘‘میرا سیدھا سا جواب تھا— ’مجھے سیکورٹی نہیں چاہئے— جاتے جاتے انہوں نے ایک توپ اور داغی— ’آپ کہانیاں لکھئے— مضامین مت لکھئے— میں نے پوچھا ’کیا میں اسے دھمکی سمجھوں ؟ مسکراتے ہوئے جواب ملا— ’دھمکی ہی سمجھئے— مضمون لکھنے سے باز آ جائیے۔ ‘
فرقہ واریت کے ان چہروں کو دکھانا اس لیے بھی ضروری ہے کہ آپ اب بھی سمجھ جائیے کہ کوئی بھی حکومت آپ کی نہیں ہے— ہم ایک بار پھر تقسیم کے دروازے پر کھڑے ہیں —؟ بھاجپا کے دور اقتدار میں ہندوستانی مسلمانوں کے دلوں میں نفرت پیدا کرنے کا جو کام میڈیا (منوج رگھو ونشی کے زہر بھرے پروگرام) اور حکومت نے شروع کیا تھا، کانگریس اسی کام کو بڑھاوا دے رہی ہے۔ فرقہ پرستی کی ایک نئی تہذیب چپکے چپکے اس آزاد بھارت میں پیدا ہو رہی ہے— کیا کسی کو اس کا احساس ہے؟ ہندو مسلم بھائی بھائی کے نعرے کہاں گم ہو گئے؟ یہ کیسی تہذیب ہے جہاں مسلمانوں کو اپنی حفاظت کے لیے  ایک الگ پاکستان تلاش کرنا پڑتا ہے—  ایک ایسی بستی جہاں صرف مسلمان رہتے ہوں — (میں جس کالونی میں رہتا ہوں اس کا نام تاج انکلیو ہے— یہاں 358 فلیٹ ہیں مسلمانوں کے۔  آزادی کے بعد کی فرقہ واریت، اڈوانی جی کی خطرناک رتھ یاتراؤں نے غیر محفوظ مسلمانوں کو اس کا احساس کرایا کہ انہیں ایک جگہ مل کر رہنا چاہئے۔  سوال یہ ہے کہ یہ احساس کس نے کرایا؟ کیا جامعہ جیسے فرضی انکاؤنٹرز کو دیکھتے ہوئے مسلمانوں کا ایسا سوچنا ناجائز ہے؟
ہندی رسالہ پاکھی، نومبر ۲۰۰۸ کے شمارے کے اداریہ میں، اپورو جوشی نے لکھا۔  ’’اگر اس ملک کے مسلمان ایک لمحہ میں اسلام کے نام پر دھندا کر رہے دھوکہ بازوں کو چاہے وہ راج نیتا ہوں یا مذہبی نیتا، سے باز آنے کے لیے کہیں تو یقیناً ہندوتو کے ٹھیکیداروں کی  زبان بھی بند ہو جائے گی— پھر کوئی مودی ہزاروں معصوموں کی بلی لے کر بھی اقتدار میں نہیں بیٹھا رہ سکے گا۔ ‘‘
ہنس (نومبر 2008) میں آشوتوش نے ’جامعہ انکاؤنٹر اور مسلم شناخت‘ کے بہانے صلاح دیتے ہوئے تحریر کیا۔ 
’اگر مسلمان، مودودی، اسامہ اور ظواہری جیسی سوچ کا شکار ہو گئے تو اس مذہب کا کوئی مستقبل نہیں بچے گا— جو امن اور شانتی کا سبق پڑھاتا ہے— اس ماسٹر مائنڈ کی زبردست مخالفت کرنے کا وقت آ گیا ہے— اگر اب ایسا نہیں ہو گا تو، ایم جے اکبر جیسے لوگ تاریخ میں ولین کی صورت میں دیکھے جائیں گے اور ہندو کٹّر پنتھی جیسی طاقتیں اس ملک پر راج کریں گی—‘
ان سوالوں کا سیدھا سا جواب ہے، آخر کسی بھی دہشت گرد کارروائی کے لیے ملک میں پورے مسلمانوں کا سامنے آنا کیوں ضروری ہے؟ کیا پرگیہ معاملہ میں سارے ہندو آ کر یہ جواب دیں گے کہ اس کارروائی کے پیچھے وہ نہیں ہیں — یہاں یہ بات بھی غور طلب ہے کہ کسی بھی دہشت گردی کی حمایت میں ملک کا کوئی بھی مسلم نیتا کبھی سامنے نہیں آیا۔  چاہے وہ بخاری ہوں یا شہاب الدین۔  لیکن پرگیہ کے معاملے میں تو جیسے بھاجپا اور سنگھ پریوار کھل سامنے آ گیا تھا۔  اوما بھارتی تو پرگیہ کو اپنی پارٹی سے ٹکٹ تک دینا چاہتی تھیں۔  کیا اپنے گھر کو اپنا گھر کہنے کے لیے بار بار مسلمانوں کو اس ملک کے آگے اپنی صفائی دینی ہو گی؟ کیسے حالات ہیں کہ مسلمان اپنے لیے الگ کالونی یا انکلیو کی مانگ کرتے ہیں۔  کیا یہ افسوسناک صورت حالت نہیں۔ 
انتظامیہ، فوج وغیرہ سبھی جگہوں پر سنگھ کے بڑے افسر خاموشی سے اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں تو کیا عام میڈیا اس خبر سے آشنا نہیں —؟ کیا اس سے یہ نتیجہ نکالنا غلط ہے کہ اس طرح کی زیادہ تر دہشت گرد کارروائیوں کے پیچھے صرف سنگھ ماسٹر مائنڈ رہا ہے، جو اپنی اس گھناؤنی سازش میں کامیاب ہے کہ اتنے شکار کرو، کہ ہر ایک مسلمان پر دہشت گرد ہونے کا شبہ ہو۔ 
کیا سنگھ کی ان ناپاک سازشوں کا حالیہ سرکار کے پاس کوئی حل نہیں ؟ کیا واحد راستہ نوجوان مسلمانوں کے مستقبل کے آگے سوالیہ نشان لگانا ہی ہے— کیا سنگھ کے معاملے میں اپنی زبان کھول کر کانگریس ہندو ووٹوں سے اپنے ہاتھ دھو بیٹھے گی— ان سے بھی بڑا ایک سوال ہے— میڈیا اس آتنک وادی بازار سے کب اپنا پیچھا چھڑائے گی— جہاں ٹی آر پی بڑھانے کے چکر میں وہ مسلسل ملک کو ایک نئے خطرے کی جانب ڈھکیل رہی ہے۔ 
سو سال پہلے امریکی آزادی کے حلف نامے پر دستخط کرنے والوں نے ایک خواب دیکھا تھا— کب ختم ہو گی نا انصافی؟ غلاموں کی زندگی میں کب آئے گی امید کی کرن — ۶۲ برسوں میں فرقہ وارانہ فسادات کی بڑھتی پھیلتی آگ بار بار ہندوستانی مسلمانوں کے حق میں شاید اسی سوال کو اٹھاتی رہی ہے— کب ختم ہو گا، غیر محفوظ ہونے کا احساس—؟ فی الحال تو راجستھان سے ممبئی اور عدلیہ کے حالیہ فیصلے کو دیکھتے ہوئے صرف اتنا کہا جا سکتا ہے کہ کسی نہ کسی کو تو آگے بڑھ کر ان نا انصافیوں کے خلاف آواز بلند کرنی ہو گی۔ 
آخر میں 
میں نے ایک چھوٹی سی آواز بلند کرنے کی ہمت کی ہے— اس میں تلاش ماضی کے بلیغ استعارے نہ سہی، اس میں آج کی آواز تو شامل ہے۔  میں نہیں جانتا، اردو دنیا میں اس ناول کا استقبال کیا جائے گا یا نہیں — مگر میں یہ ضرور جانتا ہوں کہ میں اپنی تخلیق میں کبھی بھی خود کو دہرانا پسند نہیں کرتا— اس ناول میں بھی میں نے خود کو دہرانے کی کوشش نہیں کی ہے— اب یہ ناول آپ کے سامنے ہے۔  اس یقین کے ساتھ کہ نئی دنیا کے اس ’بے رنگ اور بے رحم تحفے‘ کو آپ تک پہنچاتے ہوئے مجھے کوئی خوشی نہیں ہے۔  لیکن ایمانداری اور دیانت داری کے ساتھ میں نے اپنی بات آپ تک پہنچانے کی جرأت ضرور کی ہے۔ 
		مشرف عالم ذوقی
		ڈی۔ ۳۰۴، تاج انکلیو
		گیتا کالونی، دلّی۔ ۱۱۰۰۳۱





حصہ اوّل





سراغ سے قبل۔  الف
(۲۰۰۸ء)


آگ بجھی ہوئی ادھر، ٹوٹی ہوئی طناب ادھر
کیا خبر اس مقام سے گزرے ہیں کتنے کارواں 
				      — اقبال






(1)

وہ خوفناک رات

تب فیصلہ نہیں آیا تھا— فیصلہ آنے والا تھا۔ 
اور ملک کے ایک سو دس کروڑ عوام کی طرح مجھے بھی اس فیصلہ کا احترام کرنا تھا۔ 
٭٭
’وہ سب سے اچھا وقت تھا/
وہ سب سے بُرا وقت تھا/
وہاں آستھائیں روشن تھیں /
وہاں اندھے یقین میں ڈوبے ہوئے لوگ تھے/
وہ موسم نور کی بارشوں کا تھا/
وہ موسم تاریک سناٹوں کا تھا/
وہاں امیدیں، بہار کے گیت اپنے ساتھ لائی تھیں 
وہاں سرد راتوں میں ٹھٹھرتی ہوئی نا امیدی کا بسیرا تھا۔ 

ہمارے سامنے سب کچھ تھا
اور ہمارے سامنے کچھ بھی نہیں تھا—
ہم سب سیدھے جنت کی طرف جا رہے تھے
یا ہم سب کسی اور منزل کی طرف
—  چارلس ڈکنس (اے ٹیل آف ٹوسیٹیز)

تب اسامہ کے چہرے پر ہلکی ہلکی داڑھی آنی شروع ہوئی تھی— اور حق بات یہ ہے کہ میں اُس کے بدلے ہوئے طور طریقے سے خوفزدہ رہنے لگا تھا— سر پر سفید سی دو پلّی ٹوپی اور کرتا پائجامہ— سولہ سال کے اسامہ میں آنے والی ان تبدیلیوں سے میرا گھبرا جانا واجب تھا۔  مجھے یہ تسلیم کرنے میں کوئی پریشانی نہیں کہ مسلمان ہونے کے باوجود زندگی جینے کا میرا اپنا انداز تھا اور اس انداز میں مذہبی رنگ کبھی غالب نہیں رہا— کبھی کبھی کوئی جمعہ یا عید، بقر عید کی نماز— ایسا اس لیے بھی ہے کہ شعور کی آنکھیں کھولنے کے بعد اشتراکی نظریہ نے مجھے اپنی قید میں لے لیا تھا— پاشاؤں کی کوٹھی تک وہ مذہب زندہ تھا۔ 
پاشاؤں کی کوٹھی—
یاد کروں تو آنکھوں کے پردے پر ایک خستہ حال عمارت کے نقوش ابھرتے ہوئے مجھے اپنی قید میں لے لیتے ہیں۔  کچھ آوازیں ہیں جو اچانک میرا راستہ روک لیتی ہیں …
’ارشد… جمعہ کا دن ہے بیٹا— آج تو نہا دھوکر جلدی تیار ہو جاؤ۔  نماز پڑھنے نہیں جاؤ گے کیا…؟‘
ابّا حضور تغلق پاشا کی آواز گونجتی اور ایک وقت کی مار کھائے ہوئے بوڑھے وجود میں، میں سسکتے ہوئے مذہب کو دیکھ کر ڈر جاتا تھا— اور یہ وہ دور تھا جب ملک کے نقشہ پر سب سے بڑا ہیرو مذہب تھا— (یہ کہانی آگے آئے گی۔ )
پاشاؤں کی کوٹھی کو زوال آ گیا— بزرگ منوں مٹی کے نیچے سوگئے— خاندان بکھر گیا— انور پاشا ممبئی چلے گئے۔  راشدہ کی شادی ہو گئی اور وہ بنگلور چلی گئی۔  میں خوشی سے دلّی چلا آیا— پھر جد و جہد کی ایک نئی کہانی شروع ہوئی— بنجاروں کی طرح گھر بدلتے ہوئے بٹلہ ہاؤس کے دلکشا انکلیو میں دو کمرے کا ایک چھوٹا سا گھر میری زندگی بن گیا—
یہ علاقہ مجھے کبھی پسند نہیں رہا— گھر سے باہر نکلتے ہی انسانوں کا ایک جم غفیر— تنگ گلیاں — تنگ سڑکیں — دونوں طرف دکانیں اور عمارتیں ساتھ ساتھ— کباب، بریانی اور گوشت کی خوشبو— ٹوپی پہنے کرتا پائجامہ میں گھومتے معصوم بچوں، نوجوانوں سے بوڑھوں تک— یہ علاقہ مجھے پاکستان کے تصور میں گم  کرتا تھا اور میری پریشانی یہ ہے کہ پاکستان کے تصور سے تقسیم اور دہشت پسندی کے کتنے ہی واقعات میری نظروں میں گھوم جایا کرتے تھے— چھوٹے چھوٹے نکڑ پر لوگوں کا ہجوم— گھیرا بند مسلم نوجوانوں کی ٹولی… کبھی کبھی اڑتی ہوئی گفتگو کے کچھ حصے مجھ تک بھی پہنچ جاتے تھے— اور یقیناً مجھے اس گفتگو میں ایک خاص فرقہ کے لیے نفرت کے جراثیم محسوس ہوتے تھے۔  لیکن میں اب مفصل ان باتوں کا تجزیہ کر سکتا ہوں کہ اس ذہنیت کے پیچھے آزاد ہندستان کے ۶۲ برسوں میں کہیں نہ کہیں اُن حادثات و واقعات کا بھی ہاتھ رہا ہے، جس سے یہ قوم مسلسل زخمی ہوتی رہی ہے— اور شاید اسی لیے سولہ برس کے اسامہ کو دیکھ کر میرا ڈر جانا واجب تھا…
میں رباب سے پوچھتا—
کہاں گیا ہے اسامہ…؟
مسجد…
لیکن یہ مسجد جانے کا کون سا وقت ہے…؟
’باہر سے جماعت آئی ہوئی ہے۔  اُس کے دوست آئے تھے۔  وہی اُس کو لے کر چلے گئے—‘
’جماعت…؟ میں خوفزدہ لہجے میں پوچھتا— ’جماعت سے اُس کا کیا کام…؟‘
میں جھلّائے ہوئے لہجے میں چیخ پڑتا۔  ’اُسے روکو رباب۔  سمجھاؤ اسے— ہم ایک بُرے اور خوفناک نظام کا حصہ بن گئے ہیں۔  جہاں سروں پر پہنی گئی دو پلّی ٹوپیاں مجھے ڈراتی ہیں۔  کرتا پائجامہ مجھے خوفزدہ کرتا ہے— پیشانی پر چمکتے ہوئے سیاہ داغ مجھے الجھن میں مبتلا کرتے ہیں۔  کہاں سے سیکھ رہا ہے وہ یہ سب— یہ سب تو اس گھر میں کبھی نہیں رہا۔  وہ بدل رہا ہے رباب— اور اُس کا بدلنا مجھے پاگل کر رہا ہے—‘
’وہ میری بھی نہیں سنتا—‘ رباب کی پیشانی پر بل پڑ گئے تھے—’ تم نماز نہیں پڑھتے تو بیٹے کی نماز پر بھی پابندی لگا دو گے کیا—؟ نماز ہی تو پڑھنے گیا ہے۔  کسی بری صحبت میں تو نہیں پڑ گیا نا— کرتا پائجامہ پہننا گناہ ہے؟ ٹوپی پہننا جرم ہے—؟ آپ مذہب سے پھر گئے ہیں … وہ اچھے راستے پر چل رہا ہے تو اُسے چلنے دیجئے۔  روکتے کیوں ہیں آپ…؟‘
ہاں — میں روکتا کیوں ہوں ؟ شاید میں ڈر جاتا ہوں — ۴۸ سال کا یہ باپ اپنے سولہ سال کے بیٹے سے ڈر جاتا ہے… بیٹا، جو تاڑ کی طرح لمبا ہوا جا رہا ہے— اور جس کے گندمی چہرے پر ہلکی ہلکی اُگتی ہوئی داڑھی کے نمودار ہونے سے میں اندر ہی اندر خوفزدہ ہو گیا ہوں — اور میں ہی کیا، بدلی بدلی سی اس خوفناک فضا میں آس پاس رہنے والوں کی بھی کیفیت یہی ہے۔  جن کے بچے جوان ہو رہے ہیں۔  یا جوان ہو چکے ہیں۔  یہ بچے اگر دیر سے گھر آتے ہیں تو ماں باپ ڈر جاتے ہیں — اور اس ڈر کی وجہ بہت صاف ہے … اور شاید اس خوف کے پیچھے کے تار اعظم گڑھ سے لے کر ملک میں ہونے والے فرضی انکاؤنٹرزسے جڑے ہوئے ہیں — کیونکہ عام طور پر دہشت گردی میں ملوث جن نوجوانوں کو پولیس حراست میں لیتی ہے اُن کی عمر یہی کوئی پندرہ سے پچیس سال تک کی ہوتی ہے۔ 
٭٭
دیوار گھڑی رات کے دس بجا رہی تھی… کمرے میں گھنے سائے اکٹھے ہو گئے تھے… ارشد پاشا… تم ایک گہری دھند میں اتر چکے ہو… میں خود سے بڑبڑا رہا تھا… تیزی سے بدلتی ہوئی اس دنیا میں تم کہیں نہیں ہو— تم کھو چکے ہو یا چن چن کے مارے جا رہے ہو۔  افغانستان سے عراق، فلسطین سے چیچنیا… اور اپنے ملک میں — اپنے ہی لوگوں کے درمیان دہشت گرد بنا دیئے گئے ہو…
میں اس آواز سے بچنا چاہتا ہوں —کتنا بجا…؟ یہ بُری عادت ہے میری۔  گھڑی دیکھی اور عام طور پر وہیں اتار کر رکھ دی— اب گھڑی کہاں کھوجوں … رباب کبھی کبھی میری اس ادا پر مسکراتی ہے۔  نکاحی گھڑی سے اب تو پیچھا چھڑا لو— نئی گھڑی لے آؤ۔  اب تو ان سولہ سترہ برسوں میں تمہاری بیوی بھی پرانی ہو چکی ہے…‘
’تو بیوی بھی نئی لے آؤں …؟‘
’کیوں نہیں — رباب مسکراتی ہے— لیکن نئی بیوی لانے کے لیے ہمت چاہیے… جو تمہارے پاس نہیں ہے…‘
قاتل اداؤں سے مجھے دیکھتی ہوئی رباب اپنے کمرے میں واپس لوٹ گئی ہے۔  لیکن مجھے یادوں کے ملبے میں تنہا چھوڑ گئی ہے… برسوں پیچھے چھوٹی ہوئی ایک آواز میرے تعاقب میں ہے…
’تم میں … ہمت کی کمی ہے ارشد پاشا…‘
آنکھوں کے پردے پر دھندلاتی سی ایک تصویر ابھرتی ہے… صوفیہ…
سب کہاں کچھ لالۂ و گل میں نمایاں ہو گئیں 
خاک میں کیا صورتیں ہوں گی کہ پنہاں ہو گئیں 
میں یادوں کے اس ملبے سے نکلنا چاہتا ہوں۔  دس بج گئے۔  اسامہ کہاں ہے—؟ اب تک کیوں نہیں آیا۔  میں چلتا ہوا اسامہ کے کمرے تک آ گیا ہوں — بدلا بدلا سا کمرہ اسامہ میں آنے والی نئی تبدیلیوں کا گواہ بن گیا ہے۔  پہلے اس کمرے میں بڑے خطرناک پوسٹرزہوا کرتے تھے— ٹی وی پر آنے والے اتنے سارے پروگرامز میں اسے بس wwf کے پروگرام پسند تھے— اور انہی خطرناک آدمیوں کے پوسٹرز اُس نے اپنے کمرے میں لگا رکھے تھے… مگر اب یہ پوسٹر اُتر گئے تھے۔  کمرے میں کتابوں کی ایک میز تھی۔  دوسری میز پر ایک کمپیوٹر تھا— مگر اب دیواروں پر مذہبی کلینڈر آویزاں تھے… کمپیوٹر والی میز پر ایک دو پلّی ٹوپی بھی پڑی تھی— اس سے پہلے کہ میں اس کے کمرے کا جائزہ لیتا— کال بیل کی گھنٹی کی آواز کمرے میں گونج چکی تھی۔  رباب نے آگے بڑھ کر دروازہ کھولا تو سہما ہوا اسامہ سامنے تھا۔ 
’تم اتنے گھبرائے ہوئے کیوں ہو…؟‘
رباب کی آواز سن کر میں کمرے سے باہر نکل آیا تھا— اسامہ کے چہرے پر خوف ہی خوف تھا…
’کیا ہوا—؟‘ میرے چہرے پر بھی خوف کے بادل روشن تھے…
’وہ راشد…؟‘
’راشد… کیا ہوا راشد کو…؟‘
’راشد، منیر، علوی اور میں عشا کی نماز کے بعد چہل قدمی کے لیے نکلے تھے…‘
پھر—؟
’پلیا کے پاس پولیس چوکی بیٹھی ہے نا…‘
’ہاں … پولیس چوکی تو یہاں ۲۴ گھنٹے رہتی ہے… مگر ہوا کیا—؟‘ اس بار میں زور سے چیخا تھا— اور شاید یہی میری غلطی تھی۔  میں بھول گیا تھا کہ اسامہ اب بچہ نہیں ہے۔  وہ جوان ہو رہا ہے۔  اس کے پنکھ نکل آئے ہیں۔  اُس میں تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں —
مجھ سے کہیں زیادہ زور سے اسامہ چیخا تھا—
’اس ملک کو اپنا ملک کہتے ہوئے اب شرم محسوس ہوتی ہے۔ ‘
’پاگل ہو گئے ہو تم— کچھ لوگ یہی چاہتے ہیں کہ اس ملک کو اپنا ملک کہتے ہوئے تم شرم محسوس کرو—‘
’پوری دنیا میں جو کچھ ہو رہا ہے کیا اُس کے پیچھے مسلمان ہی ہیں —؟‘
وہ چیختا ہوا اب بھی میری طرف دیکھ رہا تھا— ’ہر مسلمان میں ایک Terrorist دیکھتے ہیں یہ لوگ…‘
میری آواز بھی سرد تھی— ’مسلمان ایسی کارروائی کر تے ہی کیوں ہیں —؟‘
’کیا سچ مچ جو کچھ ہو رہا ہے وہ مسلمان کر رہے ہیں ؟، اس کی آواز سرد تھی— جسم میں اتر جانے والی اور یقیناً اس کی اس سرد آواز نے مجھے ڈرا دیا تھا۔  یہ وہ اسامہ نہیں تھا جس کی میں نے پرورش کی تھی… یہ تو وہ زبان بول رہا تھا جو شاید بدلی بدلی سی فضا نے اس کو عطا کی تھی—
وہ کرسی پر بیٹھ گیا۔  اس کی آنکھیں جل رہی تھیں — ’اب میرا یقین اور پختہ ہو گیا ہے کہ ہم غلط نہیں ہوتے بلکہ ہمارے صبر، ہمارے حوصلے کا امتحان لیا جاتا ہے—‘
’کیا ہوا ہے۔  پہلے پوری بات بتاؤ—‘ میں اس کے ٹھیک سامنے والی کرسی پر بیٹھ گیا تھا— میرے پیچھے سہمی ہوئی رباب کھڑی تھی۔ 
’پلیا کے پاس دو پولیس والے تھے۔  ہم چاروں ہنستے ہوئے آگے بڑھے تو پیچھے سے آواز سنائی پڑی… آتنک وادی— یہ چوکی پر بیٹھا ہوا ایک پولیس والا تھا، جو ہماری طرف دیکھ کر ہنس رہا تھا—‘
’تو…؟‘
’تو…؟ وہ غصے سے میری طرف گھوما۔  کیا آپ اسے چھوٹی سی بات سمجھتے ہیں —‘
’ہاں —‘
’یعنی ہمیں آتنک وادی کہا جاتا ہے تو یہ چھوٹی بات ہے…؟‘
’ہاں — آتنک وادی کہنے سے آتنک وادی بن تو نہیں گئے—؟‘
اسامہ چیخا تھا— ’مجھے گھٹن ہوتی ہے ایسے ماحول سے—‘
’لیکن اسی ماحول میں رہنا ہے اور ہوشیاری سے رہنا ہے۔ ‘
’ہوشیاری سے رہنے کی تعلیم صرف ہمیں ہی کیوں دی جاتی ہے۔  اس لیے کہ ہم مسلمان ہیں ؟‘‘
رباب سامنے آ گئی تھی۔  ’تم لوگ کیوں جھگڑ رہے ہو۔  اسامہ سے پوچھو۔  ہوا کیا تھا—؟‘
اسامہ کی آنکھیں خوف سے پھیل گئی تھیں — ’ہم نے راشد کو سمجھایا تھا۔  پولیس والوں سے پنگا مت لے۔ ‘
’پھر—؟‘
’راشد پولیس والے سے الجھ گیا۔  ہاں، ہم آتنک وادی ہیں۔  کیا کر لو گے۔  یہاں رہنے والے سارے آتنک وادی ہیں —‘
’راشد کو ایسا نہیں کہنا چاہیے تھا۔ ‘
’کیوں نہیں کہنا چاہیے تھا؟ کیا پولیس والے کو ہمیں آتنک وادی کہنے کا کوئی حق تھا؟‘
’پھر کیا ہوا—‘ رباب کے خوفزدہ چہرے پر پسینے کی بوندیں جھل مل کر رہی تھیں —
’راشد اور پولیس والے میں ہاتھا پائی ہو گئی۔  کافی لوگ جمع ہو گئے۔  پولیس والے نے راشد کو کافی مارا پیٹا— کسی طرح ہم اسے چھڑانے میں کامیاب ہوئے—‘
پولیس والے نے تم لوگوں سے تو کچھ نہیں پوچھا؟
’نہیں —‘
’تمہارے چہرے پہچانتے ہیں —؟‘
’نہیں بھی پہچانتے ہوں تو پہچان گئے ہوں گے…‘
میرے چہرے پر زلزلے کے آثار تھے۔  ‘کیا اس نے تم سے تمہارا نام بھی پوچھا—؟
اسامہ ایک لمحے کے لیے ٹھہرا— غور سے میرے لرزتے ہوئے چہرے کو دیکھا۔  پھر گردن جھٹک کر بولا— نہیں۔  اس کی ضرورت پیش نہیں آئی—‘
رباب عجیب سی نظروں سے میری طرف دیکھ رہی تھی‘ جیسے میرے چہرے کے تاثرات کو سمجھنے کی کوشش کر رہی ہو—
٭٭
مجھے یہ بتانے میں کوئی پریشانی نہیں ہے کہ میں اپنے کمرے میں لوٹنے تک خاصہ ڈرا ہوا تھا۔  لیکن میں کیوں ڈرا ہوا تھا؟ کیا اسامہ کے نام سے—؟ پاشا تو ہمارا خاندانی نام تھا— اور ابّا حضور نے میرے بیٹے کا نام اسامہ تجویز کرتے ہوئے سوچا بھی نہیں ہو گا کہ ایک دن اس نام سے خطرے کی بو آنے لگے گی۔  اسامہ صحابی تھے اور ابّا حضور کو اس طرح کے اسلامی نام پسند آتے تھے۔  مگر تب 9/11 کی واردات سامنے نہیں آئی تھی۔  تب اسامہ نام دہشت گردی کی علامت کے طور پر سامنے نہیں آیا تھا— لیکن جیسے جیسے اسامہ پاشا بڑے ہوتے گئے، اُن میں  اس نام کا خوف بھی سمانے لگا تھا— جیسے وہ اسکول سے واپسی کے بعد چیختا—
’ابّا، آپ کو کوئی اور نام نہیں ملا۔ ‘
’کیوں ؟‘
’بچے چڑاتے ہیں۔  پوچھتے ہیں تری داڑھی کہاں گئی؟‘
’چڑانے دو—‘
رباب سہمے ہوئے چہرے کے ساتھ پوچھتی — ’کیا نام بدلا نہیں جا سکتا—؟‘
میں غصے میں کہتا— ’کیا ایک نام کے سارے لوگ دہشت گرد ہوتے ہیں۔ ؟‘
’نہیں —‘
لیکن اسامہ پاشا کی پریشانی تھی کہ اس کے ساتھ پڑھنے والے بچے اس کا نام لے کر پاگل کر دینے والے سوال پوچھتے تھے— ورلڈ ٹریڈ ٹاور توڑنے کا خیال کیسے آیا؟ جارج بش تیرا دوست ہے یا دشمن؟ تیرا اے کے ۴۷ کہاں ہے؟ ضرور اسکولی بیگ میں چھپا کر رکھا ہو گا—‘
میں اسامہ کو سمجھانے کی کوشش تو کرتا لیکن جیسے میرے سارے تیر خالی چلے جاتے۔ 
’تم اپنے دوستوں سے کہو، وہ تمہیں پاشا پکاریں —‘
’نہیں — اُنہیں اسامہ ہی پسند ہے—‘
’پھر کیا علاج ہے۔  اسکول سے نام کاٹ کر کسی اور اسکول میں …؟‘
میں اس کی آنکھوں میں جھانکتا تو وہاں وحشت کے گھنے بادلوں کے ٹکڑے…… نظر آ جاتے—
’کوئی فائدہ نہیں — نام تو یہی رہے گا۔  وہاں بھی سب مجھے اسی نام سے پکاریں گے—‘
شکسپیئر نے کہا تھا، نام میں کیا رکھا ہے— لیکن یہاں یہ نام میرے بیٹے کی پریشانیوں کا باعث بن گیا تھا۔  میری مجبوری یہ تھی کہ اب میں اس نام کی جگہ کوئی دوسرا نام نہیں رکھ سکتا تھا۔  لیکن مجھے کیا پتہ تھا کہ ایک دن یہ نام وقت کی زنبیل سے ایک نئے چہرے کو برآمد کر لے گا— ایک ایسے نئے چہرے کو، جسے میں پہچان بھی نہیں پاؤں گا…
رباب میری گھڑی لے کر کمرے میں داخل ہوئی تھی—
’مل گئی—  بیسن کے پاس چھوڑ آئے تھے— پہن لو، ورنہ پھر اسے تلاش کرتے رہو گے…‘
٭٭

(2)

 ستمبر، ۲۰۰۸

یہ وہی دور تھا جب دہشت گردوں کی کارروائیاں زوروں پر تھیں۔  اخبار اور میڈیا، سیمی اور انڈین مجاہدین کا نام زور زور سے اچھال رہے تھے— سیمی کو اسپیشل ٹریبیونل سے راحت ملی تھی لیکن مرکزی سرکار نے ٹریبیونل کے اس فیصلے کو خارج کرنے کا حکم سنا دیا تھا۔  پولیس عام طور پر مسلم نوجوانوں کو ایسی نظروں سے دیکھتی تھی جیسے وہ سیمی کے ممبر ہوں — خاص کر ایسے بچے جن کے سروں پر ٹوپیاں ہوتی تھیں یا جو کرتا پائجامہ میں ہوتے تھے— لیکن خدا کا شکر تھا کہ اس وقت تک یہ تبدیلیاں اسامہ میں نہیں آئی تھیں لیکن ان تبدیلیوں کے آنے کے امکانات ضرور روشن ہو گئے تھے۔ 
یہ اسی رات کا قصہ ہے جب اچانک کال بیل کی آواز سن کر ہم چونک گئے تھے— اب کون آیا…؟
گیارہ بج گئے تھے۔  عام طور پر محلے والوں کے آنے کا سلسلہ بارہ بجے تک جاری رہتا تھا۔  اس علاقے میں عام طور پر دیر رات تک دکانیں کھلی ہوتیں۔  سڑکوں پر بھیڑ بھاڑ رہتی۔  رکشے والے، اسکوٹر اور گاڑیوں سے تنگ سڑکیں جام ہی رہتیں — لوگ دیر رات تک جاگنے کے عادی تھے— مگر اسامہ کی خبر نے ہم سب کو اس قدر دہشت زدہ کر دیا تھا کہ کال بیل کی آواز بھی خطرے کا سائرن لگ رہی تھی۔ 
’کون ہو سکتا ہے…؟‘ یہ رباب تھی—
اسامہ کا کمرہ بند تھا—
رباب کے چہرے کی ہوائیاں اڑ رہی تھیں … ’کہیں اُن لوگوں میں سے تو کوئی نہیں …؟‘
’دیکھتے ہیں …‘
آگے بڑھ کر میں نے دروازہ کھول دیا اور چونک گیا…
’تھاپڑ تم…؟‘
میں نے راحت کی سانس لی تھی— یہ اجے سنگھ تھاپڑ تھا— میرا دوست جو کاشی سے میری ہی طرح اب دلّی آ کر بس گیا تھا— مگر اب وہ صحافت چھوڑ کر سیاست میں پناہ تلاش کر رہا تھا— اُس کی اونچی پہنچ کا مجھے بھی اندازہ تھا— مگر تھاپڑ کی معصومیت یہ تھی کہ وہ اب تک کرپٹ پولیٹیشین سے نفرت کرتا تھا۔  اس موضوع پر کتنی ہی بار میرا اس کا جھگڑا ہو چکاتھا— مگر تھاپڑ کی دلیل تھی کہ وہائٹ کالرس بھی اسی زمین میں پیدا ہوتے تھے۔  چند سیاست دانوں کے گندہ ہونے سے سیاست گندی نہیں ہو جاتی—
تھاپڑ نے کھادی کا کرتہ پائجامہ پہن رکھا تھا۔  آگے کے بال اڑ گئے تھے— کندھے سے جھولتا ہوا ایک جھولہ بھی تھا جس میں عام طور پر کتابیں اور میگزینس ہوتی تھیں —
’تم اس وقت…؟‘
’کیوں مجھے نہیں آنا چاہیے تھا؟‘ وہ قہقہہ لگا کر ہنسا— پھر غور سے ہمارے چہروں کا جائزہ لینے لگا—
’اتنی مردنی کیوں چھائی ہے…؟ اور وہاں …، اس نے ہاتھ سے باہر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا— کچھ ہوا ہے کیا؟ ہر طرف بھیڑ ہے… لوگ غصے میں ہیں …‘
تھاپڑ صوفے پر بیٹھ گیا۔  رباب نے پانی کا گلاس اُس کے آگے رکھ دیا— چائے کی فرمائش کرتے ہوئے اُس نے ایک بار پھر میرے چہرے کو دیکھا—
’یہ مسلمانوں کی طرح چہرہ کیوں بنا رکھا ہے…؟‘ اس بار بھی اس نے زور سے قہقہہ لگایا تھا۔ 
’مسلمان ہوں اس لیے …‘
’کس نے کہا مسلمان ہو— مسلمانوں جیسا کوئی کام تو کرتے نہیں۔ ‘
’بہادروں والا…؟‘
میرا اشارہ وہ سمجھ چکا تھا۔  نہیں مسلمانوں جیسا… اس بار وہ سنجیدہ تھا— ’اس ملک میں رہتے ہوئے بھی جیسے وہ مین اسٹریم سے کاٹ دیئے گئے ہوں۔  ڈرے ہوئے ہوں۔  کیوں ہے ایسا—؟ میں گارنٹی کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ جتنی پولیس تمہارے علاقے میں ہوتی ہے، اس سے آدھی پولیس بھی دوسرے علاقوں میں نہیں ہوتی— اور کیوں ہوتی ہے پولیس—؟ تمہیں تحفظ دینے کے لیے…؟ یا… تمہارا شکار کرنے کے لیے…؟‘
’پتہ نہیں …‘
’سب پتہ ہے تمہیں — یہ بھی پتہ ہے کہ تمہارا شکار کیا جا رہا ہے۔  لیکن مجھے میڈیا پر ہنسی آتی ہے— ایک طرف تمہیں اسامہ اور ظواہری جیسے دہشت گردوں سے جوڑ کر یہ پبلی سٹی کی جاتی ہے کہ تم ساری دنیا کے امن و چین کو غارت کر رہے ہو— اور یہ ساری دنیا تم سے، تمہارے لباس سے خوف کھاتی ہے— اور اسی کا دوسرا پہلو دیکھو ارشد پاشا— اور ایک تم لوگ ہو۔  عام مسلمان— تم ایک خوف کی عمارت میں قید ہو— بے بس اور لاچار— ہندوستان سے پاکستان اور بنگلہ دیش یا یوروپ اور امریکہ جیسے ممالک میں ان عام مسلمانوں کو تلاش کرلو۔  سب خوفزدہ ہیں۔  تمہارے نام، تمہارے لباس اور تمہارا مذہب ایک طرف لوگوں میں دہشت اور خوف پیدا کر رہا ہے اور دوسری طرف سب سے زیادہ ڈرے ہوئے تم ہو—‘
تھاپڑ نے گہری سانس لی— ’اور تم ذرا ذرا سی بات سے ڈر جاتے ہو۔  پھر مطمئن بھی کہ جمہوری نظام میں تمہارا ساتھ دینے والے بھی کم نہیں۔  لیکن اس جمہوری نظام میں خود سے زیادہ دوسروں پر بھروسہ کرتے ہی کیوں ہو؟ تمہیں میڈیا سے لے کر دوسروں کی ضرورت ہی کیوں پڑتی ہے ارشد پاشا— ؟کیا یہ کافی نہیں کہ تم ہو اور تم بڑی تعداد میں ہو— لیکن جب کبھی بھی دنگے ہوتے ہیں۔  دہشت کا ماحول تمہیں اپنے ہی گھر میں قید کر دیتا ہے۔  جب کبھی تمہارے وطن پرست ہونے پر شبہات کے بادل منڈلاتے ہیں، تم بے بسی اور لاچاری سے دوسروں کی طرف دیکھتے ہو۔  رحم تلاش کرتی آنکھوں سے— لیکن کیوں دیکھتے ہو—؟ یہ ملک تمہارا ہے تو تمہارا ہے— کیا اتنا کہنے سے بات نہیں بنتی؟ تمہیں بار بار اپنے ہونے کی صفائیاں کیوں دینا پڑتی ہیں ؟ اپنے ملک میں رہنے کے باوجود بار بار تمہیں سوالوں کے کٹہرے میں کیوں کھڑا ہونا پڑتا ہے—؟ کب نکلو گے اس نظام سے ارشد پاشا—؟ نکلو— وقت برا ہے— ’اپنے لیے نہیں تو اپنے بچے کے لیے نکلو۔  نئی جنریشن کے لیے نکلو کہ آزادی کے ۶۲ برسوں میں جو زخم مسلسل تم کھاتے رہے، وہ کہانی تمہارے بچوں کے ساتھ نہ دہرائی جائے—‘
’ یہ سب کہنا آسان ہے لیکن… ‘ ارشد پاشا بولتے بولتے رک گئے تھے۔ ‘ لفظ— کبھی کبھی ہماری حمایت میں بولی جانے والی باتیں بھی تسلی دینے والے الفاظ سے زیادہ نہیں لگتیں — کبھی کبھی لگتا ہے باپ داداؤں نے تقسیم کا جو بوجھ اٹھایا تھا، ہمیں وراثت میں مل گیا— اور یہی وراثت ہم اپنی نسلوں کو سونپ کر ایک دن اس دنیا سے چلے جائیں گے اور نسلیں اس خونی تقسیم کی وراثت کا بوجھ اٹھاتی ہوئیں پریشان ہوتی رہیں گی—‘
’لیکن اب معاملہ صرف تقسیم کا نہیں ہے ارشد پاشا— عالمی نقشے پر دہشت پسندی کی تصویریں روشن ہیں۔  ایک بڑی سیاست ہے تمہیں حاشیے پر ڈالنے اور گم کرنے کی— تمہارے عرب ممالک لاچار امریکہ کے تلوے سہلانے میں مصروف ہیں اورتم امریکہ سے آسٹریلیا تک ایک بے جان کٹھ پتلی یا جوکر بنا دیئے گئے ہو—‘
رباب چائے لے کر آ گئی تھی۔  وہ پاس والی کرسی پر بیٹھ گئی— تھاپڑ نے ادھر اُدھر دیکھتے ہوئے پوچھا—
’یہ پاشا نمبر دو کہاں ہیں —؟‘
وہ اسامہ کو کبھی کبھی پاشا نمبر دو کہتا تھا— وہ ہنستا تھا کہ یار اس نام کے آتے ہی امریکہ کا ایک پٹھو چہرہ نگاہوں میں روشن ہو جاتا ہے۔  وہ چہرہ جس نے امریکی آڑ میں تم سے نہ صرف جینے کی آزادی چھین لی ہے بلکہ تمہیں ساری دنیا میں ننگا کر دیا ہے۔  تھاپڑ کے سوال پر کانپتی آنکھوں سے رباب نے میری طرف دیکھا۔ 
’باہر فضا کچھ خراب ہے…؟‘ تھاپڑ اب باری باری سے ہم دونوں کی طرف دیکھ رہا تھا۔  ’جسولہ کسی سے ملنے آیا تھا۔  سوچا تم زیادہ دور نہیں ہو۔  تم لوگوں کی خیریت لیتا چلوں — معاملہ کیا ہے؟‘
اس کی بھنویں سکڑ گئی تھیں —
’ایک چھوٹی سی واردات ہوئی ہے…‘
’واردات؟ وہ چونکا— ہو سکتا ہے تمہیں چھوٹی لگ رہی ہو اور اتنی چھوٹی بھی نہ ہو۔  کھل کر بتاؤ کیا ہوا ہے۔ ‘
میں نے اسے راشد، علوی والی بات بتا دی مگر جان بوجھ کر اسامہ کی موجودگی پر پردہ ڈال دیا۔  ساری باتیں سننے کے بعد اس نے گہری سانس کھینچی—
’یہ کوئی چھوٹا موٹا واقعہ نہیں ہے دوست— تم اس کے نتائج اور اثرات سے واقف نہیں۔  وہی تو کہوں کہ جہاں دیکھو، ہر جگہ لوگ غصے میں ہیں۔  کچھ تو ہوا ہے—‘
تھاپڑ کے چہرے پر تشویش کے بادل چھا گئے تھے۔  ’ہونا تو یہی چاہیے تھا جو راشد نے کیا— ایک پولیس والے کو ایک معصوم بچے کو دہشت گرد کہنے کا رائٹ ہی کیا تھا؟ بہت ممکن ہے اسے بھڑکانے کے لیے کہا گیا ہو— اور مقصد ہو یہاں کی فضا کو خراب کرنا— مگر راشد کو…‘
اس کے چہرے پر گہرا سناٹا طاری تھا— ’وہ خطرے میں آ گیا ہے اور سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ وہ ایک مسلمان ہے— ایک نوجوان مسلمان— اور اس وقت برہمن طاقتیں سب سے زیادہ مسلم نوجوانوں کو کچلنا چاہتی ہیں —‘
رباب نے خوف سے میری طرف دیکھا— میں اس سے پہلے کہ سنبھل پاتا۔  کال بیل کی آواز نے مجھے خوفزدہ کر دیا تھا۔ 
’اب کون آیا—؟‘
’اب کون ہو سکتا ہے؟‘
رباب نے سہمی نظروں سے میری طرف دیکھا—
’جاؤ دروازہ کھول دو—‘
تھاپڑ گہری آنکھوں سے اب بھی میری طرف دیکھ رہا تھا— جیسے اسے شک ہو کہ میں کہیں کچھ چھپانے کی کوشش تو نہیں کر رہا ہوں — رباب دروازہ کھول کر ہٹ گئی تھی—
اور یہ زلزے کی پہلی دستک تھی—
میرے دروازے پر آس پاس اور محلے کے کئی افراد کھڑے تھے۔  ساڑھے گیارہ بج چکے تھے— 
آئیے… اندر آئیے…
 باہر کم از کم ۱۲ سے پندرہ لوگ ہوں گے۔  کچھ سیڑھیوں پر کھڑے تھے— دلکشا انکلیو میں کل آٹھ گھر بنے ہوئے تھے۔  جن میں دو گھر بند رہتے تھے— یعنی ابھی آباد نہیں ہوئے تھے۔  کمرے کے اندر آنے والوں کو میں اچھی طرح پہچانتا تھا۔  ان میں راشد کے ابّا بھی تھے جن کا ایک چھوٹا سا بزنس تھا۔  ڈاکٹر اجمل، انجینئر صاحب، عبد المتین، زاہد صاحب، عمر شیخ صاحب۔  مسجدوالی گلی میں رہنے والے مجاہد صاحب— دوا کی دکان والے ذاکر— چھوٹی مسجد کے پیش امام—
’کیا بات ہے—؟‘
میری طرح تھاپڑ بھی ان سب کے چہرے دیکھ رہا تھا۔ 
’بیٹھیے…‘
’نہیں ہم بیٹھنے نہیں آئے— اور ویسے بھی اس ڈرائنگ روم میں زیادہ لوگوں کے بیٹھنے کی گنجائش نہیں ہے۔  کچھ اور لوگ بھی ہیں جو سیڑھیوں پر کھڑے ہیں —‘ یہ پیش امام صاحب تھے۔  عمر ۶۰ کے آس پاس— گہری آنکھیں اور اس وقت ان آنکھوں میں نفرت کے غبار کو محسوس کیا جا سکتا ہے۔ 
عمر شیخ آگے بڑھے— ’آپ کو پتہ ہو گا… پلیا چوکی پر ایک پولیس والے نے راشد کو پیٹا ہے۔  جب کہ راشد کی کوئی غلطی نہیں تھی۔ ‘
’غلطی تھی کیسے نہیں۔ ‘ عمر شیخ بولے۔ 
’مجاہد غصے میں تھے۔ ‘ راشد مسلمان ہے۔  اس سے بڑی غلطی کیا ہو سکتی ہے—‘
پیش امام آگے بڑھے— ’لیکن راشد اور علوی اکیلے نہیں تھے۔  آپ کا بیٹا اسامہ بھی تھا—‘
اس بار تھاپڑ نے پلٹ کر میری طرف دیکھا— میرے چہرے پر لرزہ طاری تھا—
انجینئر صاحب آگے بڑھے— ’ہم یہ ماننے کو قطعی طور پر تیار نہیں ہیں کہ پولیس والے نے انجانے طور پر راشد کو گالی دی تھی۔  آپ جانتے ہیں کہ اوکھلا، جامعہ، ذاکر نگر، بٹلہ ہاؤس… یہ تمام جگہیں غیر مسلموں کے نشانے پر ہیں۔  اور بار بار یہاں کی فضا بگاڑنے کی کوشش ہوتی رہی ہے۔  ہم بھولے نہیں ہیں کہ پچھلے سال بھی اسی طرح کا ایک واقعہ ہوا تھا— وہ تو اچھا ہوا ہم ایم ایل سی صاحب کے پاس گئے اور انہوں نے اپنے سیاسی اثر و رسوخ کا استعمال کیا—‘
عمر شیخ صاحب غصے میں تھے— ’کب تک اس طرح دب دب کر جینا ہو گا ہمیں۔ ‘
مجاہد صاحب کی آنکھیں بھی آگ اُگل رہی تھیں — ’مخالف قوتیں ہمیں کمزور کرنا چاہتی ہیں۔ ‘
عبد المتین صاحب چلا کر بولے— ’اور ہم ہمیشہ سے ان کا استعمال ہوتے رہے ہیں۔ ‘
امام صاحب نے اشارہ کیا— ’چپ رہیے— یہاں ہم مجمع لگانے یا بھیڑ لگانے نہیں آئے ہیں۔  لوگوں میں غم و غصہ ہے۔  لیکن آج کی صورتحال میں ہم اس سچ سے بھی بخوبی واقف ہیں کہ جو کچھ ہوا ہے وہ اچھا نہیں ہوا۔  یہ پولیس والے خاموش نہیں بیٹھیں گے۔  یہ اپنی کارروائی ضرور کریں گے۔ ‘
پردے کے پیچھے رباب سہمی ہوئی کھڑی تھی۔ 
امام صاحب نے بات آگے بڑھاتے ہوئے کہا— ’آپ کے پاس صرف ایک ہی مقصد سے ہم آئے ہیں۔  راشد میاں کے ساتھ آپ کا بیٹا بھی تھا— یہ پولیس والے خاموش بیٹھ جائیں، ایسا لگتا نہیں ہے— کیا یہ ممکن نہیں ہے کہ آپ اپنے بیٹے کو کچھ دنوں کے لیے کہیں باہر بھیج دیں۔ ‘
رباب پردے سے نکل آئی تھی۔ 
’لیکن کہاں بھیجیں گے بھائی صاحب‘ اس کی آنکھوں میں آنسو رواں تھے۔  آواز کانپ رہی تھی— ’وہ صرف ان بچوں کے ساتھ تھا— اس نے تو کچھ بولا بھی نہیں —‘
امام صاحب نے بات سنبھالی— ’بہن، بات اس کی نہیں کہ وہ شامل ہے یا نہیں اور ویسے بھی راشد میاں کا بھی کوئی قصور نہیں۔  سوا اس کے کہ وہ پولیس والے کی بات پر بھڑک گئے— اور ان کی جگہ شاید میں بھی ہوتا تو مجھے بھی مشکل سے خود کو ضبط کرنے کا حوصلہ کرنا پڑتا— ابھی سوال صرف یہ ہے کہ اگر پولیس ہمارے بچوں پر کوئی کارروائی کرتی ہے تو ہمیں کیا کرنا ہو گا—‘
’پولیس کیا کارروائی کر سکتی ہے اور کیوں ؟‘ اس بار تھاپڑ نے اپنے غصہ کا اظہار کیا—
امام صاحب نے پلٹ کر تھاپڑ کی طرف دیکھا۔  ’آپ کی تعریف…؟‘
اس سے قبل کہ تھاپڑاپنے بارے میں کچھ بتاتا، میں نے جلدی سے کہا۔  ’یہ میرے دوست ہیں، سبحان علی—‘
’سبحان علی—‘
امام صاحب نے آگے بڑھ کر مصافحہ کیا۔  آگے کھڑے کچھ لوگوں نے بھی تھاپڑ سے ہاتھ ملایا۔  تھاپڑ ناراض نظروں سے میری طرف دیکھ رہا تھا— میرے پاس اس کا کوئی جواب نہیں تھا کہ آخر ان لوگوں کے سامنے تھاپڑ کی اصلیت چھپانے کی وجہ کیا تھی۔ 
امام صاحب ٹھہر کر بولے— سبحان صاحب، آپ شاید اس محلے کے یا علاقے کے نہیں ہیں۔  اس لیے اس علاقے کی پریشانیوں کا آپ کو علم نہیں —
’علاقے کی پریشانی مت کہیے، مسلمانوں کی پریشانی کہیے—‘ یہ دوا کی دکان والے ذاکر صاحب تھے— سرپر چھوٹے چھوٹے سفید بال، کالی ٹوپی، سفید داڑھی، شلوار اور کرتے میں ملبوس— ذاکر کے چہرے پر غصے کا طوفان آیا ہوا تھا—
’اس علاقے کو کچھ لوگ پاکستان کہتے ہیں۔  اس لیے کہ یہاں مسلمانوں کی آبادی زیادہ ہے— جہاں بھی ہماری آبادی زیادہ ہو، وہیں ہمیں کاٹ دیا جاتا ہے—‘
’یہ ان باتوں کا وقت نہیں ہے—، امام صاحب نے سمجھانے والے انداز میں کہا—
’پھر کس چیز کا وقت ہے…؟‘
’اور ہم یہاں جمع کس لیے ہوئے ہیں ؟ یہ عمر شیخ تھے۔ 
’آئے دن اس علاقے میں اس طرح کی واردات عام بات ہو گئی ہے۔  ہم کسی بھی حکومت پر اب یقین نہیں کر سکتے—‘
’یقین کرنے کو کہہ کون رہا ہے آپ کو…؟ یہ انجینئر صاحب تھے— انہوں نے ہاتھ کے اشارے سے سمجھانے والے انداز میں کہا۔ 
’بہتر ہے کہ ہم امام صاحب کی سنیں — اس لیے کہ راشد سے آج رات جو بے وقوفی سرزد ہوئی ہے اس کی سزا راشد کو بھی مل سکتی ہے اور یہاں کے تمام مسلمانوں کو—’
تھاپڑ کے لیے یہ سب برداشت سے باہر ہو رہا تھا۔  وہ ایک بار پھر اس میدان میں کود پڑا—
’آپ لوگ ایسا کیوں سوچتے ہیں کہ راشد کو بھی سزا ملے گی اور آپ لوگوں کو بھی…؟‘
’واہ— اس معصومیت کا بھی جواب نہیں —‘ ذاکر دوبارہ سامنے آ گئے تھے۔  وہ شعر آپ نے نہیں سنا سبحان علی صاحب۔  برق گرتی ہے تو بیچارے مسلمانوں پر…‘
عمر شیخ بولے— مسلمانوں کا قصور ہو یا نہ ہو، سزا مسلمانوں کو ہی ملتی ہے— اور ہمیشہ سے ملتی رہی ہے—‘
’ایسا نہیں ہے—‘ میں نے درد بھری آواز میں اپنی بات رکھنے کی کوشش کی تھی۔  ’آخر اسی ملک میں مسلمان آگے بھی تو بڑھ رہے ہیں۔  سیاست سے میڈیکل اور آئی ٹی آئی تک۔  فلموں سے اسپورٹس تک—
امام صاحب درمیان میں آ گئے— خدا کے واسطے ہم جس مقصد کے لیے آئے ہیں اسی پر گفتگو کریں — یہ آپس میں لڑنے جھگڑنے کا وقت نہیں ہے— ہم ایک سنجیدہ معاملے پر صلاح و مشورہ کے لیے آئے ہیں — اور اس لیے آئے ہیں کہ جس وقت یہ چھوٹی سی واردات ہوئی، اس وقت آپ کا بیٹا بھی ان میں شامل تھا— اور اگر پولیس والے کوئی خوفناک کارروائی کرتے ہیں تو آنچ آپ کے بیٹے پر بھی آ سکتی ہے۔ 
٭٭
میں اس وقت جاگا، جب کمرے میں سناٹا چھا چکا تھا اور رباب کی سسکیاں گونج رہی تھیں — بارہ بج گئے تھے۔  تھاپڑ غور سے میرے چہرے کا جائزہ لے رہا تھا— میری آنکھیں بند تھیں — اندر دھماکے ہو رہے تھے— اسامہ پاشا کی غلطی کیا تھی؟ صرف یہی نا… کہ عشا کی نماز کے بعد وہ اپنے دوستوں کے ساتھ چہل قدمی کے لیے نکلا تھا— اور راشد کی بھی غلطی کیا تھی۔  کیا اس ملک میں مسلمانوں کے گھر پیدا ہو کر اس نے کوئی غلطی کی ہے؟… ہزاروں واقعات… ہزاروں کہانیاں آنکھوں کے پردے پر روشن ہو گئی ہیں۔  بابری مسجد شہادت سے گودھرا… اور گودھرا کے بعد کے فرضی انکاؤنٹرزکی ہزاروں کہانیاں — کیا کاشی سے دلّی آ کر میں نے کوئی غلطی کی ہے؟ کاشی کی کم و بیش فضا بھی یہی تھی، جو اس علاقے کی ہے— وہاں کون سے محفوظ تھے ہم—
اسامہ کے کمرے کا دروازہ اب بھی بند تھا—
تھاپڑ غور سے میرے چہرے کے اتار چڑھاؤ کا جائزہ لے رہا تھا…
ایک بات پوچھوں —؟
ہاں —
’تم نے ان لوگو ں کے سامنے جھوٹ کیوں بولا۔  میرا نام سبحان علی کیوں بتایا—؟‘
غلطی سے—
’غلطی سے نہیں —‘
’ہاں غلطی سے۔  دوسرے ہی لمحے مجھے احساس ہوا کہ صحیح نام بھی تو لے سکتا تھا۔ 
’غلطی سے نہیں —‘
’پھر کیا وجہ ہو سکتی ہے—؟‘
’یہ وجہ تمہیں تلاش کرنی ہے اور یہ وجہ بھی کہیں نہ کہیں تمہاری اس واردات سے وابستہ ہے۔ ‘
’میں سمجھا نہیں —‘
’اتنے سارے لوگوں کے سامنے تم بھی ایک خوف کی علامت تھے ارشد پاشا—‘
’یہ کیا بات ہوئی؟‘
تھاپڑ کی آنکھیں کہیں اور دیکھ رہی تھیں — ’تمہیں چھوٹی چھوٹی باتوں میں بہت کچھ خود سے چھپانا پڑتا ہے۔  بہت ممکن تھا کہ ایسے ماحول میں تم میرا اصل نام ان لوگوں کو بتاتے تو ان لوگوں کے لہجے کی ادائیگی میں فرق آ جاتا۔  لیکن بات صرف اتنی نہیں ہے— خوف سے جڑی ہے یہ بات— کیا اکثریتی فرقے کے کسی آدمی کو یہ پولیس والے آتنک وادی کہہ سکتے تھے؟
’نہیں —‘
’مان لو، کہہ دیتے— اور وہ راشد کی طرح سینہ تانے ان کے سامنے آ جاتا— کیا پولیس والے اس پر بھی ہاتھ اٹھاتے—؟‘
نہیں —
’پھر—؟ تم بھی اکثریت میں ہو— اس ملک میں تم مٹھی بھر نہیں ہو— اس ملک میں تمہیں بھی اسی طرح جینے کا حق ہے، جس طرح دوسرے جی رہے ہیں۔ ‘
وہ میری آنکھوں میں جھانک رہا تھا—
تم نے بتایا نہیں کہ اسامہ بھی…؟
ہاں …
’تم نے شاید اسے محض ایک چھوٹی سی بھول سمجھی ہو گی—؟‘
تھاپڑ غور سے میری آنکھوں میں جھانک رہا تھا… ’میں یہ نہیں کہتا کہ اسامہ پریشانی میں آ گیا ہے مگر وہ— پریشانی میں آ سکتا ہے…‘ وہ سوچ میں گم تھا۔ ‘
’ٹھہرو… میڈیا میں میرے کچھ دوست ہیں، انہیں فون لگاتا ہوں … ان سے مشورہ کرتا ہوں …‘
وہ صوفے سے اٹھ کھڑا ہوا تھا… رباب اور میں خاموشی سے اس کا چہرہ پڑھ رہے تھے۔ 
تھاپڑ کے چہرے کے تاثرات لگاتا ر بدل رہے تھے… شاید وہ کسی پر چیخ رہا تھا۔ 
’تمہارا نیوز چینل کیا کرتا ہے؟ اور تم لوگ کیا کرتے ہو؟ کیا جب پانی سر سے اونچا ہو جاتا ہے، تب ہی پہنچتے ہو— خبریں کیش کرنے کے لیے۔  ایک چھوٹا سا واقعہ اور سہمے ہوئے لوگ— کیا یہ واقعہ تمہارے لیے کوئی حادثہ کوئی کہانی نہیں ہے—؟ کیا تمہیں اسٹوری کرنے کے لیے تبھی کہا جاتا ہے، جب دس پندرہ لاشیں گر چکی ہوتی ہیں —؟ اس جمہوری نظام کا یہ بھی ایک حادثہ ہے کہ پڑھے لکھے معصوم مسلمان نوجوانوں کو کچھ جاہل پولیس والے ٹیررسٹ کہہ دیتے ہیں۔  اور جب وہ اپنے آتنک وادی ہونے کی مخالفت کرتا ہے تو اسے لہولہان کر کے اس کے گھر بھیج دیتے ہیں۔  یہ سب کس کے اشارے پر ہو رہا ہے؟ کیا یہاں بھی اسلامی آتنک واد ہے یا تمہارا منو آتنک واد—؟ مالیگاؤں میں ہوئے حادثوں نے تمہاری پول کھول دی ہے— تم مسلمانوں کے کندھے پر رکھ کر گولیاں نہیں چلاتے۔  سیدھے ان کا شکار کرتے ہو… میں جانتا تھا تم میں سے کوئی نہیں آئے گا— اور بس میں نے یہی جاننے کے لیے فون کیا تھا…‘
تھاپڑ نے فون بند کر دیا۔  غصہ سے اس کا چہرہ لال ہو رہا تھا۔  ’’یہ سارے PAID چینل ہیں۔  Paidنیوز کے سہارے اپنے چینل کے لیے کروڑوں، اربوں کا کاروبار کرنے والے— یہ تمہیں بھی بیچتے ہیں اور تم سمجھتے ہو کہ یہ تمہاری حمایت میں کھڑے ہیں — دھوکے میں ہو تم— یہ تمہارے بھروسے سے اپنا کاروبار چمکا رہے ہیں — تمہارے فتووں کو بیچتے ہیں۔  تمہارے اسامہ بن لادن سے ظواہری اور تمہارے نکاح اور طلاق کی کہانیاں بیچتے رہتے ہیں — اس غلط فہمی میں مت رہنا کہ تمہیں ان کا سہارا ملا ہوا ہے۔  یہ سہارا نہیں ہیں۔  ہو بھی نہیں سکتے— ان میں سے ہر آدمی اپنی جیب گرم کر رہا ہے۔  اپنے چینل کھولنا چاہتا ہے اورسیاست میں آنے کے لیے ہاتھ پاؤں مار رہا ہے— لوک سبھا نہ سہی، راج سبھا کے پچھلے دروازے سے—‘
’ایک دن تم بھی ان میں شامل ہو جاؤ گے۔ ‘
’کہہ نہیں سکتا۔  مگر شاید نہیں — جب تک میں اپنے اصول اپنے ضمیر پر قائم ہوں ایسا نہیں ہو سکتا…‘
تھاپڑ اب میری آنکھوں میں جھانک رہا تھا۔  ’مگر سوچو— سوچو ارشد پاشا۔  اسامہ پاشا کے بارے میں سوچو۔  آزادی کے بعد کے ایک ایسے ملک کے بارے میں سوچو، جسے سن ۲۰۵۰ کا سپر پاور کہا جا رہا ہے۔  اوراس سپر پاور دیش میں دلّی کے اس سپر ہائے وے پر تمہاری گاڑی کے ٹائر کی ہوا اس لیے نکل گئی ہے کہ تمہارا بیٹا اب جوان ہونے جا رہا ہے۔  اور اس سے بھی بری بات ہے کہ وہ ایک مسلمان ہے۔  ایک مسلم نوجوان — جسے تمہارا میڈیا، تمہاری پولیس شک کی نگاہوں سے دیکھتی ہے۔  مجھے دیر ہو رہی ہے۔  میں جا رہا ہوں۔  کبھی بھی میری ضرورت محسوس ہو تو مجھے فون کر لینا۔ ‘
جس آندھی اور طوفان کی طرح وہ آیا تھا، اسی آندھی اور طوفان کی طرح وہ چلا بھی گیا۔  لیکن کمرے میں ایک ایسا سناٹا چھوڑ گیا، جس میں آتش فشاں کے بارود موجود تھے… رباب سہمی ہوئی تھی… اور اسامہ کے کمرے کا دروازہ اب تک بند تھا— یہ رات قیامت کی رات تھی۔  جیسے ایک بارودی سرنگ پر ہم سب بیٹھے تھے اور کسی وقت بھی کوئی دھماکہ ہو سکتا تھا—
’اس نے دروازہ اب تک بند کر رکھا ہے۔ ‘ یہ رباب تھی۔ 
’وہ اکثر ایسا کرتا ہے…‘
’مجھے ڈر لگ رہا ہے…‘
’وہ کتابیں پڑھ رہا ہو گا۔  یا نیٹ کر رہا ہو گا…‘
’نہیں — اس نے ایک بار بھی دروازہ نہیں کھولا… ؟اتنے سارے لوگ آئے۔  بھائی صاحب آئے۔  مگر وہ کسی سے ملنے نہیں آیا…‘
’وہ ایسا ہی ہے۔  آج کے بچے بدل گئے ہیں۔ ‘
’نہیں — وہ ایسا نہیں ہے۔  عام بچوں سے الگ ہے— دروازہ تو کھٹکھٹاؤ۔  دیکھو تو وہ کیا کر رہا ہے…؟‘
’میں پھر کہہ رہا ہوں، تم بلا وجہ پریشان ہو رہی ہو…‘
’جب وہ آیا تھا، تم نے اس کی آنکھیں نہیں دیکھیں۔  اس کی آنکھوں میں خون اترا ہوا تھا۔  وحشت سوار تھی…‘
’ہاں — مجھے پتہ ہے۔  لیکن تم نے یہ بھی دیکھا ہو گا کہ وہ محض چہل قدمی کر کے گھر نہیں لوٹا تھا۔  ایک واردات ہو گئی تھی۔ ‘
رباب اپنی ضد پر قائم تھی— ’مجھے اس سے ڈر لگ رہا ہے۔  اس کے اندر کچھ چل رہا ہے— وہ بہت کم باتیں کرتا ہے۔ ‘
’ہاں، ممکن ہے اس کے اندر کچھ چل رہا ہو۔  لیکن جب تک وہ بتائے گا نہیں۔  ہم کیسے جان سکتے ہیں …‘
’اسی لیے تو کہتی ہوں — دروازہ کھٹکھٹاؤ۔  اسے سمجھاؤ۔ ‘ اس کی آنکھوں میں آنسو تھے— ہم دوبارہ کاشی نہیں جا سکتے—؟‘
’نہیں —‘
’کیوں نہیں جا سکتے—؟‘
’کیونکہ اگر ہم یہاں محفوظ نہیں ہیں توکہیں محفوظ نہیں ہیں —‘
’لیکن اسے سمجھاؤ— ابھی بچہ ہے۔  ابھی سمجھانے اور بتانے کی ضرورت ہے۔ ‘ 
مجھے غصہ آ رہا تھا— تم کیوں نہیں دورازہ کھٹکھٹاتیں …‘
’مجھے اس سے ڈر لگتا ہے—‘
’یہ کیا بات ہوئی—‘
’مجھے اس کی آنکھوں کی طرف دیکھتے ہوئے ڈر لگتا ہے— اب وہ ویسا نہیں ہے— وہ… بدل رہا ہے… بدل گیا ہے…‘
رباب کی آواز برف کی طرح سرد ہو رہی تھی…
’ممکن ہے سو گیا ہو۔ ‘
’وہ اتنا سویرے نہیں سوتا۔  اُسے نیند نہیں آتی— اور آج تو وہ کسی بھی قیمت پر نہیں سویا ہو گا…
’ٹھیک ہے…‘
میری آنکھوں میں پرچھائیاں تیر رہی تھیں — لیکن میں آج کی رات کے اس بے رحم سناٹے کا گواہ نہیں بننا چاہتا تھا۔  اور یہ بھی سچ ہے کہ ہزاروں پرچھائیاں میری آنکھوں کے آگے جمع ہو گئی تھیں۔ 
اور یہ بھی سچ ہے کہ یہ پرچھائیاں میرے اندر خوف ہی خوف پیدا کر رہی تھیں۔ 


(3)

وہ خوفناک رات

میں نے آگے بڑھ کر ڈرائنگ روم کی کھڑکی کھول دی۔  رباب نے میری طرف پلٹ کر دیکھا—
’تم بیٹے کے کمرے میں جا رہے ہو نا…؟‘
’ہاں …‘ میں شاید زور سے چیخا تھا— ۵ منٹ دیر ہو جائے گی تو طوفان نہیں آ جائے گا—‘
مجھے یقین ہے باہر اب بھی چوک پر لوگ کھڑے ہوں گے۔  بھیڑ لگائے ہوئے— سوتے کیوں نہیں ہیں یہ لوگ— مسلمانوں کو تو نیند ہی نہیں آتی۔  کوئی کام خاموشی اور صبر سے نہیں کرتے۔  اسی لیے تو مارے جا رہے ہیں — ہوش کھو دیتے ہیں — لڑ جاتے ہیں — جہاں بھی دھماکے ہوں، وہاں ایک مسلمان نام موجود— کوئی اسلامی تنظیم کسی چینل کو میل بھیج کر دھماکے کی ذمہ داری قبول کر لیتی ہے۔  کوئی لڑکا ہوتا ہے۔  اسامہ پاشا سے کچھ بڑا یا اُس کی عمر کا— جیب میں اردو کی پرچیاں لیے—کم بختوں نے انگریزی سیکھی ہی نہیں۔  اردو سے کام چلاتے ہیں — مگر— اسامہ تو اردو بھی نہیں جانتا۔  اٹک اٹک کر بارہویں سال میں کسی طرح قرآن شریف مکمل کرایا۔  کتنے مولوی بدلے— مگر اردو— اردو میں جی ہی نہیں لگا— گھر میں اردو اخبار آتا ہے لیکن ایک سرخی بھی نہیں پڑھ سکتا— اور وہ سارے بچے، سروں پر ٹوپیاں رکھ کر دھماکے کرنے نکلتے ہیں … اور اپنے ہونے کی نشانیاں بھی چھوڑ آتے ہیں —
مگر کچھ بدلا تھا—
تصویر اچانک بدل گئی تھی—
ستمبر کے مالیگاؤں دھماکے میں یہ تصویر بدلی تھی— اور اس تصویر کی جگہ اب ایک نئی تصویر روشن ہوئی تھی۔  ایک ایسی تصویر، جس کے سامنے آنے کے بعد میڈیا کے بھی ہوش اڑ گئے تھے۔  اسلامی آتنک واد کی خبریں دینے والے چینلس کو پہلی بار ہندو آتنک واد کے ثبوت ملے تھے— اور یہ ثبوت اتنے پختہ تھے کہ عالمی نظام کی جڑیں ہل گئی تھیں — سادھوی مرگیہ اور کرنل نروپت  کی گرفتاری کے بعد اب اس آتنک واد کے تار سابق فوجی اور بڑے بڑے دفاتر میں سنگھی کارروائی کے لیے بیٹھائے گئے آئی ایس افسران کی جانب موڑ دی گئی تھی — اور ملک میں پہلی بار سنگھ کا خوفناک منصوبہ سامنے آیا تھا— یہ منصوبہ تھا، اسلامی آتنک واد کی آڑ میں اپنی روٹیاں سینکنا— اور مسلم نوجوانوں کو بلی کا بکرا بنانا— لیکن کیا سنگھ آسانی سے شکار ہو جاتا ہے؟
’تمہیں بیٹے سے ڈر لگ رہا ہے کیا؟ دروازہ کیوں نہیں کھٹکھٹاتے…‘ رباب سامنے آ کر میرے چہرے کو دیکھ رہی ہے۔  اس نے کچھ کھایا بھی نہیں ہے… ذرا دیکھو تو، وہ کیا کر رہا ہے…‘
اچھا ٹھہرو—
میں اسامہ کے دروازے پرہوں۔  یہ ا سکا کمرہ ہے۔  پچھلے سال سے وہ اسی کمرے میں سوتا ہے— لیکن کچھ دن پہلے تک اس دروازے پر کئی طرح کی تصویریں لگی رہتی تھیں اور پھر اُتر جاتی تھیں — یہ اس کے wwf کے سپر ہیرو ہوتے تھے— مگر اب۔  اس دروازے پر قرآن شریف کی، لیمی نیشن کی گئی ایک آیت کو جگہ دی گئی ہے— باہر رات سوگئی ہے۔  کتّے بھونک رہے ہیں۔ 
ایک … دو…
تین چار…
لیکن میں کیوں ڈر رہا ہوں …
اندر سے ایک آواز اب بھی مجھ پر حملہ کر رہی ہے— تم خوف میں مبتلا ہو ارشد پاشا۔  لیکن کیوں ؟
کیا کیا ہے تمہارے بیٹے نے؟
ایک صحافی ہو تم۔  کاشی سے دلّی تک کی ایک تاریخ رہی ہے تمہاری، ایک نڈر اور بیباک صحافی— لیکن تم سمجھتے ہو کہ تمہاری آواز ایک مسلمان صحافی کی آواز ہے— اس لیے یہ آواز پہلے بھی دبائی جاتی رہی ہے۔  اور اس بار بھی یا کبھی بھی تم نے کوئی آواز بلند کرنے کی کوشش کی تو شاید اس کا حشر بُرا ہو گا—
’ہاں ‘
’لیکن کیوں ہے ایسا— تم اپنی آواز کی مضبوطی بھی کھو چکے ہو۔  ارشد پاشا— ایسا کیوں ہے…؟
’شی… شی۔ ‘ رباب میرے سامنے ہونٹوں پر انگلی رکھے کھڑی ہے— کیا ہے…
وہ آواز سنو…
آواز…؟
ہاں …؟
لیکن کیسی آواز…؟
سنو تو… اس نے دروازے کے باہر کی طرف اشارہ کیا ہے— باہر سے کتّوں کے لڑنے اور بھونکنے کی آوازیں آ رہی ہیں۔  مگر یہ آواز… جیسے کوئی رینگ رہا ہو… کوئی ویمپائر…
کوئی ہے… نا…
ہاں …
میں دیر سے سن رہی ہوں۔  کوئی ہے… جو سیڑھیوں سے اوپر آتا ہوا میرے دروازہ تک آ کر ٹھہر جاتا ہے۔  شی… اُس نے چپ رہنے کا اشارہ کیا— غور سے سنو۔  ایک نہیں۔  دو ہیں — بلکہ تین۔ 
نہیں دو ہیں …
ہو سکتا ہے… میں نے کچھ سوچتے ہوئے پوچھا— لیکن اس وقت تک کیا مین  گیٹ بند نہیں ہوا—؟
’بند تو ہو جاتا ہے۔  ہو جانا چاہیے— مگر ہو سکتا ہے کہ … 
’اگر مین گیٹ بند ہے تو…؟‘
’وہی تو میں پوچھ رہی ہوں ؟ کون ہو سکتے ہیں یہ—؟ شی۔  آواز دھیرے نکالو…
وہ مجھے لے کر دروازے کے پاس آ گئی— آواز صاف تھی… جیسے کوئی رینگ رہا ہو—
’ٹھہرو میں دیکھتا ہوں —‘ اس ناگہانی آفت نے خیالوں کی دھند صاف کر دی تھی۔  مگر اب یہ نئی مصیبت سامنے تھی۔  کیا سچ مچ کوئی ہے— یا یہ صرف ہمارا وہم ہے۔  لیکن اس وقت…؟
رباب کی آواز میں خوف ہی خوف پوشیدہ تھا۔  یہ اسامہ کے دوست تو ہو ہی نہیں سکتے…‘
’پھر— وہ پولیس والے…؟‘
’ممکن ہے…‘
’پولیس والے کیوں آئیں گے؟ اُنہیں آ کر کوئی کارروائی کرنی ہو گی تو کل کا پورا دن ہے…‘
’مگر کوئی ہے…؟ رباب کے چہرے پر گہری لکیریں روشن تھیں۔  مگر اسے ہمارا دروازہ ہی کیوں ملا ہے—؟‘
’کھولنے دو مجھے۔  دیکھتا ہوں۔ ‘
’نہیں آپ کو میری قسم—‘ رباب سامنے آ گئی تھی— مگر… ڈر لگ رہا ہے۔  ایک ہی رات میں جیسے دنیا بدل گئی— اسامہ کو کیا ضرورت تھی باہر گھومنے کی…‘
’پھرکہو گی، جینے کی کیا ضرورت تھی—‘
’جینا اور باہر گھومنا دو چیز ہے—‘
’لیکن ان سب سے بڑی ہے۔  آزادی— آزادی ہی کھو دی تو جینا کیسا؟‘
’سائے اتر رہے ہیں —‘ یہ رباب تھی۔ 
’’ممکن ہے اُنہیں احساس ہو گیا ہو کہ ہم اب بھی جاگ رہے ہیں ؟‘
’کیوں نہ رات بھر باہر کے بلب کوجلتے رہنے دیں …‘
’ہاں —‘
رباب مطمئن تھی… مگر اس کی آنکھوں کے حلقے گہرے ہو گئے تھے…
’وہ پھر آ سکتے ہیں …‘
’مگر کون…؟‘
’وہی— ابھی جو باہر تھے۔  سیڑھیوں پر رینگتے ہوئے…‘
وہ میری آنکھوں میں جھانک رہی تھی… ’ڈر رہی ہوں میں۔  یہ سارا گھر مجھے ڈرا رہا ہے— در، دروازے، کھڑکیاں … سب کے سب ڈرا رہے ہیں مجھے— اور اسامہ… اس کا بڑا ہونا ڈرا رہا ہے مجھے… شاید تم ٹھیک کہتے تھے۔  یہ کرتا پاپجامہ پہننا کیا ضروری ہے اور سر پر دو پلّی ٹوپی پہننا… ساری دنیا کوبتانا کہ میں مسلمان ہوں … آخر نمائش کی کیا ضرورت ہے۔  اسی نمائش میں مسلمان مارے جا رہے ہیں …‘
مجھے غصہ آ گیا تھا۔  کیا وہ ٹیکہ نہیں لگاتے— مندروں میں نہیں جاتے۔  بھگوا لباس نہیں پہنتے؟‘‘
’مگر وہ مارے تو نہیں جا رہے…‘
اس کا لہجہ کانپ رہا تھا— مارے تو ہم ہی جاتے ہیں ہر بار۔  ہمیشہ— کچھ ہو گا تو نہیں نا…؟‘
’کچھ نہیں ہو گا—‘
’تم دیکھو نا— اسامہ کیا کر رہا ہے۔  اب تو بہت دیر ہو گئی۔ ‘ 
’ہاں — دیکھتا ہوں —‘
ایک لمحے کے لیے رک جاتا ہوں — دیوار پر تیزی سے رینگتی دو چھپکلیاں — باہر کتوں کے بھونکنے اور چلّانے کی آوازوں میں کمی آ گئی ہے— گہرے سناٹے نے دور تک اپنا جال بن دیا ہے— یہ پورا علاقہ جاگ رہا ہو گا— جاگے مجھے کیا— میں اسامہ کے دروازے پر کھڑا ہوں …
اسامہ دروازہ کھولو…
دروازہ کھولو بیٹا…
کیا کر رہے ہو…؟
اسامہ— پہلے کچھ کھا لو— بغیر کھائے نہیں سوتے بیٹا—
رباب میری آنکھوں میں جھانک رہی ہے—
’بند دروازے سے مجھے وحشت ہو رہی ہے— یہ بچے دروازہ اندر سے کیوں بند کر لیتے ہیں۔  بھول جاتے ہیں کہ ماں باپ اس حرکت سے کتنے پریشان ہو جاتے ہیں۔ ‘
اب دروازے پر ہتھیلیوں کی دستک جاری ہے۔ 
اسامہ…
بیٹے اسامہ… دروازہ کھولو…
دروازہ کیوں نہیں کھولتے ہو تم…؟
اندر خوف طاری ہے۔  کہیں اس برے موسم میں اس نے کوئی برا قدم تو نہیں اٹھا لیا۔  مثلاً… ہزاروں بچوں کی ننھی ننھی بے رحم نادانیوں کے قصے روشن تھے۔  جیسے اسکول میں نمبر کم آنا یا فیل ہو جانا— کمزور بچے کوئی بھی قدم اٹھا سکتے ہیں۔  اس بار میرا لہجہ سخت تھا۔  مجھے اسامہ پر غصہ آ رہا تھا۔ 
’اسامہ دروازہ کھولو—‘
’دروازہ کھولو…‘
اور یہ کیا۔  ایک جھٹکے میں دروازہ کھل گیا۔  سامنے اسامہ کھڑا تھا۔  نہیں، یہ کوئی اور تھا۔  نہیں اسامہ ہی تھا۔  لیکن اب بدلا ہوا ا سامہ… آنکھیں خوفناک حد تک ڈراؤنی اور سلگتی ہوئی۔  چہرے پر غم و غصہ کا طوفان— بال الجھے ہوئے— مٹھیاں کسی ہوئی—
وہ زور سے چلّایا تھا—
’اب کیا ناٹک ہے۔  آپ لوگ چین سے جینے بھی نہیں دیتے…‘
میں دو قدم پیچھے ہٹا— اس بدلے بدلے سے اسامہ کو میں نے آج تک نہیں دیکھا تھا—
رباب نے گھبرائی ہوئی نظر سے اس کی طرف دیکھا…
’کھ… کھانا…‘
’مجھے نہیں کھانا…‘ اس کا لہجہ سخت تھا— ’اور فی الحال مجھے پریشان کرنے کی کوشش نہ کی جائے۔  میں آرام کر رہا ہوں —‘
اسامہ نے دروازہ ایک جھٹکے سے بند کر دیا—
اور اس ایک خونخوار لمحے میں، میں نے مستقبل میں آنے والے زندگی کے جھٹکوں کی بے رحم سچائیوں کو محسوس کر لیا تھا—



(4)

کیا یہ وہی اسامہ ہے؟ آنکھوں کے آگے حلقے گہرے ہو گئے ہیں — باہر رات کا خوفناک سنگیت جسم میں لرزہ پیدا کر رہا ہے۔  نیند آنکھوں سے اچٹ گئی ہے۔ 
کیا ایک لمحے میں ساری زندگی بدل جاتی ہے؟
کمرے میں سسکیاں روشن ہیں۔  بستر پر لیٹی ہوئی رباب چادر میں منہ چھپائے خود سے لڑنے کی کوشش کر رہی ہے۔  اُسے اس بات کا احساس بھی ہو گا کہ کہیں یہ سسکیاں مجھ تک نہ پہنچ جائیں۔  لیکن یہ آوازیں مجھے ڈرا رہی ہیں۔ 
’کیا کچھ ہونے والا ہے…‘
’کیا کل سے سب کچھ تبدیل ہو جائے گا…؟‘
میں خوف کی رسی پر چل رہا ہوں … اور اس رسّی پر چلتے ہوئے کتنے ہی چہرے نظروں کے آگے روشن ہیں۔  ابّا حضورتغلق پاشا، چھوٹا بھائی انور پاشا، بہن راشدہ— انور پاشا میں غصہ کی وہی لہریں تھیں جو آج اسامہ پاشا کے وجود میں دیکھتا ہوں۔  ذرا ذرا سی بات پر غصہ ہو جانا…
’اب یہ ملک رہنے کا نہیں ہے۔ ‘
’تو کون سا ملک رہنے کا ہے…؟‘ ابا حضور تغلق پاشا پوچھتے— 
’پاکستان…‘
’جہاں ایک مسلمان دوسرے مسلمان کو دیکھنا نہیں چاہتا۔ ‘
انور پاشا کو غصہ آ جاتا— ’یہ سب جھوٹی باتیں ہیں جو میڈیا آپ لوگوں تک پہنچاتا رہتا ہے۔ ‘
’جو سچ ہے وہ ہم بھی دیکھ رہے ہیں اور ان آنکھوں سے ہی دیکھ رہے ہیں۔ ‘
’تو دیکھیے نا… چاروں طرف تو دنگے بھڑک رہے ہیں یہاں۔  مارا کون جا رہا ہے— مسلمان— ہر جگہ نفرت کا شکار ہے مسلمان۔  غیر مسلموں کو اپنا نام بتاتے ہی لگتا ہے ایک توپ داغ دیا ہو میں نے۔  مسلمان… آتنک وادی۔  دہشت گرد—‘
’ایسا نہیں ہے انور…‘
’ایسا ہے اور یہی ہو رہا ہے… جیسے دنیا کے ہر خون خرابے کے پیچھے مسلمان ہوں — یعنی ہم— کسی سے آنکھیں ملاتے ہوئے بھی خوف کا احساس ہوتا ہے اور کبھی کبھی اپنے ہی حلیے سے ڈر جاتا ہوں … ‘
تغلق پاشا گہری سوچ میں ڈوب گئے تھے…
منظر تبدیل ہو گیا تھا۔  انور پاشا کی جگہ اسامہ پاشا— تصویر بدل گئی تھی۔  رنگ وہی تھا—
تب فیصلہ نہیں آیا تھا۔  لیکن ایک خوفناک کہانی دلکشا انکلیو میں شروع ہو چکی ہے—
٭٭
یہ سوچا جانا آسان تھا کہ پولیس والے چین سے نہیں بیٹھیں گے۔  وہ کوئی نہ کوئی کارروائی ضرور کریں گے… اسامہ پاشا نے دروازہ اندر سے بند کر رکھا تھا۔  میں دو بار یہ دیکھنے کے لیے گیا کہ وہ سویا ہے یا جاگ رہا ہے۔  مگر اس کے کمرے سے کسی بھی طرح کی کوئی آہٹ یا آواز سنائی نہیں پڑی تو میں اپنے کمرے میں لوٹ آیا—
رباب اٹھ کر بستر پر بیٹھ چکی تھی۔  اس کی آنکھوں میں ہزاروں سوالات جاگ گئے تھے…
’اسامہ کو… میرا مطلب ہے اسے کچھ ہو گا تو نہیں نا… ؟‘
’کچھ نہیں ہو گا—‘
’وہ لوگ کہہ رہے تھے کہ…‘
’ہاں … میرے علم میں ہے۔  وہ لوگ کہہ رہے تھے کہ…‘
’ہم اسامہ کو کہیں بھیج دیں …‘
’مگر کہاں بھیج سکتے ہیں …؟‘
’کسی جان پہچان والے کے پاس…؟‘
’نہیں …‘
اور کوئی رشتہ دار بھی سمجھ میں نہیں آ رہا ہے—؟ ’رباب الجھ گئی تھی— لیکن جب اسامہ کی کوئی غلطی ہی نہیں ہے تو…‘
’غلطی تو راشد کی بھی نہیں تھی۔ ‘
’ہاں وہی تو…‘
’لیکن پولیس والے نے اسے مارا اور پیٹا…‘
’غلطی تو پولیس والوں نے کی… مارا اور پیٹا بھی…‘ رباب کی آنکھوں میں سوال ہی سوال تھے… ’پھر کیا برا ہو سکتا ہے—؟‘ میں سوچ نہیں پا رہی ہوں۔  اگر بچوں کی غلطی نہیں ہے تو محلے والے اتنا گھبرائے ہوئے کیوں تھے؟ اور کیوں کہہ رہے تھے کہ ہم اسامہ کو کہیں باہر بھیج دیں۔  کچھ نہ کچھ تو ہے—‘
’خدا جانے…‘
’نہیں کچھ نہ کچھ ضرور ہے۔  ورنہ محلے والے اتنے خوفزدہ نظر نہیں آتے۔ ‘
لیکن ہم اسامہ کو کہاں بھیجیں گے…؟
’وہی تو سمجھ نہیں پا رہی ہوں …‘
’کوئی دوست… میری الجھنیں بڑھ گئی تھیں — اور اس وقت تھاپڑ کے علاوہ دوسرا کوئی نام مجھے سوجھ نہیں رہا تھا۔  لیکن اس سے بڑا ایک سوال تھا۔  کیا اسامہ پاشا، تھاپڑ کے گھر جانا قبول کریں گے؟‘
’وہ جو آپ کے دوست ہیں ؟ رباب نے میرے دل کی آواز سن لی تھی۔ ‘
’تھاپڑ—؟‘
ہاں — 
’تھاپڑ بھائی صاحب کے یہاں کیوں نہ بھیج دیں ؟‘
’لیکن کیا اسامہ جانا پسند کرے گا؟‘
رباب کی آنکھوں کے حلقے گہرے ہو گئے تھے۔  اگر آپ خیال نہ کریں تو ایک بات پوچھوں …؟
ہاں …
’وہ جو راجیہ سبھا کی ممبر ہیں …؟‘ اس نے پلٹ کر میری طرف دیکھا اور جیسے میرے جسم میں نگاڑے بجنے شروع ہو گئے۔  میں نے کمزور آواز میں کہا— ’صوفیہ، صوفیہ احمد…؟‘
’ہاں … آپ ان سے مشورہ کیوں نہیں کرتے—؟‘
میرے جسم میں ایک لمحے کے لیے زلزلہ آ گیا تھا۔  جیسے ماضی زندہ ہو گیا تھا— صوفیہ… اس ایک نام کو کتنے رنگوں میں دیکھا ہے میں نے… کتنے رنگوں میں محسوس کیا ہے میں نے… ہفتہ وار مجاہد—
سب کہاں کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہو گئیں … احمد صاحب وکیل… صوفیہ… بدر… کتنی ہی تصویریں آنکھوں کے پردے پر زندہ ہو گئیں — لیکن کیوں ملوں صوفیہ سے؟ کیا صوفیہ مجھے پہچانے گی—؟ اور صوفیہ سے کہوں گا کیا—؟ کیا جرم ہے رشید یا میرے بیٹے کا… اس دنیا میں کیسے کیسے جرم ہوتے ہیں۔  کیسے کیسے گناہ— اور مجرم آرام سے گھومتے رہتے ہیں۔  قتل اور دنگے کی کیسی کیسی وارداتیں ہوتی ہیں — لیکن بڑا سے بڑا قاتل بھی چھوٹ جاتا ہے۔  اور یہاں — مجھے اس سسٹم پر غصہ آ رہا تھا— آخر خوف کی مورت بنے کیوں بیٹھے ہیں ہم—؟ کیا گناہ ہوا ہے ہم سے؟ کیا رات کو عشا کی نماز کے بعد ٹہلنا جرم ہے؟ اگر جرم ہے تو میرے بیٹے سے بس ایک یہی گناہ سرزد ہوا ہے… لیکن کیا اسامہ پاشا سے صرف یہی گناہ سرزد ہوا تھا؟ یا اس دور میں ایک مسلمان کے گھر پیدا ہونا ہی کسی جرم سے کم نہیں —
مجھے احساس ہوا۔  رباب اٹھنے کی کوشش کر رہی ہے۔  شاید اسے بھی اس بات کا احساس تھا کہ مجھے نیند نہیں آ رہی ہے۔  وہ اٹھ کر بیٹھ گئی تھی۔ 
تم سوئے نہیں …؟
ہاں —
وہ میری آنکھوں میں جھانک رہی تھی۔  شاید میں ڈر گئی ہوں۔  ڈر کی کوئی ڈور الجھ گئی ہے مجھ سے— وہ میری آنکھوں میں جھانک رہی تھی۔  کیا صرف اس لیے ڈروں کہ میں ایک جوان ہوتے بیٹے کی ماں ہوں، اور میرا بیٹا مسلمان ہے۔ 
’نہیں —‘
لیکن … اس وقت سارے ملک میں ہو تو یہی رہا ہے— تم بھی اس لیے نہیں سوئے کہ تم بھی ڈر گئے ہو— کیا ڈر نا کوئی حل ہے؟
’نہیں —‘
تو پھر کیا کرنا چاہیے ہمیں …
’بس یہی تو نہیں سوچ پا رہا—‘
’بیٹے کو کہیں باہر بھیج دیتی ہوں۔  فرض کر لیتے ہیں۔  تو کیا وہ کہیں اور محفوظ ہے؟ اس کی گارنٹی کون لے گا…؟‘
’ہاں یہ بھی سچ ہے…‘
’تو جب اس کی گارنٹی کوئی نہیں لے سکتا تو پھر بیٹے کو کہیں اور بھیجوں ہی کیوں ؟‘
وہ دوبارہ بستر پر لیٹ گئی تھی—
شاید اتنی دیر سے رباب اسی سوچ میں الجھی تھی۔  اور مجھے خوشی تھی، ہمیشہ کی طرح وہ کسی ایک ٹھوس نتیجے پر پہنچنے میں کامیاب ہو گئی تھی اور وہ نتیجہ تھا کہ اس کا بیٹا کہیں نہیں جائے گا، اس کے پاس رہے گا۔ 
اپنی زندگی کے گزرے ہوئے ماہ و سال کے بارے میں سوچتا ہوں تو رباب پر فخر کرنے کو جی چاہتا ہے— زندگی میں ایسے ہزاروں مواقع آئے ہوں گے جب رباب نے اپنے مضبوط فیصلوں سے کتنی ہی بار اس گھر کو برباد ہونے سے بچایا تھا— گزری ہوئی کہانیوں میں کہیں صوفیہ کا چہرہ لہراتا ہے—
باہر سرد ہوائیں چل رہی ہیں — اٹھ کر باہر بالکونی تک جانا چاہتا ہوں۔  مگر پھر ٹھہر جاتا ہوں — سناٹے کے عفریت مجھے گھیر کر بیٹھ جاتے ہیں —
یہاں آنے کا فیصلہ میرا تھا۔  یعنی اس دلکشا کالونی میں۔  رباب نے تب بھی مجھے سمجھانے کی کوشش کی تھی۔ 
’آخر تم کیوں سمجھتے ہو کہ مسلمانوں کے درمیان ہی ہم محفوظ رہیں گے؟‘
میرے پاس کوئی جواب نہیں تھا— لیکن رباب کی آنکھیں پڑھ رہا تھا اور ان آنکھوں کو پڑھتے ہوئے میں شاید خود کو بہت چھوٹا محسوس کر رہا تھا—
رباب کے لہجے میں طنز تھا— ’مسلمان کب سے ہو گئے…؟‘
میں گڑبڑا گیا تو وہ زور زور سے ہنس پڑی—
’جرنلسٹ ہو— خود کو ترقی پسند کہتے ہو۔  مگر اندر ایک مسلمان چھپا بیٹھا ہے۔  مانو نہ مانو یہ ہمیشہ سے موجود تھا تمہارے اندر۔  جب تم سیاست یا انتظامیہ کے لیے گندے الفاظ کا استعمال کرتے تھے تب بھی— یا جب بہت زور دے کر تم خود کو ترقی پسند ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہو تب بھی—‘
رباب سوچ میں گم تھی— میرے ایک ماموں تھے، وہ بھی تمہارے ہی جیسے تھے۔  ساری زندگی نماز نہیں پڑھی۔  مذہب کو گالیاں دیتے رہے— لیکن جب آخر وقت آیا تو ایسے نمازی ہوئے کہ لوگ ان کی مثالیں دیا کرتے تھے۔  اس لیے تم جیسے ترقی پسندوں سے خوب واقف ہوں —‘
میں نے سر جھکا لیا تھا—
’ایسے حالات میں …‘
رباب نے بات کاٹ دی تھی۔  ’مسلمانوں کے محلے سے بہتر جگہ کوئی نہیں — ہے نا ؟ کم سے کم بچے کے کانوں میں اذان کی آواز تو جائے گی— اپنے مذہب، اپنی تہذیب کو جانے گا۔  ہے نا؟ کیوں سوچتے ہو ایسا؟ دنیا کافی آگے بڑھ گئی ہے— اور تم چور دروازے سے اپنے بیٹے کو مذہبی بنانا چاہتے ہو…‘
شاید رباب نے سچ کہا تھا۔  شاید یہی وہ حقیقتیں تھیں، جس کی وجہ سے میں نے دلکشا کالونی میں بسنے کا فیصلہ کیا تھا— اور اس فیصلے کے پیچھے ملک کی، آزادی کے بعد کی وہ خونی تاریخ بھی ذمہ دار تھی، جس نے قدم قدم پر میری فکر کو متاثر کیا تھا— شاید ہم ہزار سیکولرزم اور جمہوریت کی دہائیاں دینے کے بعد بھی مذہب کی ایک تنگ سرنگ میں قید رہتے ہیں۔ 
رات آہستہ آہستہ گزر رہی تھی۔ 
رباب کو نیند آ گئی تھی۔  اب اس کے خراٹے گونج رہے تھے… لیکن میرے ذہن میں مسلسل چلنے والی آندھیوں نے خوفناک رخ اختیار کر لیا تھا۔ 
میں آنے والے کل کی صبح کے بارے میں سوچتے ہوئے فکر مند تھا۔  میں یہ بھی سوچ رہا تھا، کہ اس وقت اسامہ کے اندر کیسی کشمکش چل رہی ہو گی؟
اسامہ کے نظریے سے یہ دنیا
منیر، راشد اور علوی— اسامہ نے ان تینوں سے موبائل پر بات کی تھی۔  سب سے پہلے اس نے علوی کو فون کیا تھا۔  علوی ڈرا ہوا تھا۔  اس نے بتایا کہ اس کے گھر کا برا حال ہے۔  امی بس روئے جا رہی ہیں۔  مگر ہمارا قصور کیا ہے اسامہ…؟‘
یہی بات منیر اور راشد نے بھی کہی تھی۔  ہمارا قصور کیا ہے؟
لیکن اس عمر میں آنے تک اسامہ یہ اچھی طرح جان گیا تھا کہ اس کا قصور کیا ہے؟
اُس کا قصور ہے— مسلمان ہونا—
اُسے غصہ آ رہا تھا۔  جی چاہ رہا تھا کہ کمرے کی ساری چیزیں توڑ ڈالے۔  سالے، مسلمانوں کو دیکھنا نہیں چاہتے پھوٹی آنکھ— اُسے اپنے باپ پر بھی غصہ آ رہا تھا— وہ تو ایسے سہمے ہوئے ہیں جیسے اس نے کسی کا قتل کر دیا ہو—
منیر، راشد اور علوی کی سہمی گھبرائی آوازیں اس کا پیچھا کر رہی تھیں۔ 
ہمیں کچھ ہو گا تو نہیں نا…؟
کچھ نہیں ہو گا—
منیر نے کہا— ابّا کہہ رہے تھے، یہ کوئی چھوٹی موٹی بات نہیں ہے۔  یہ لوگ ایسی چھوٹی موٹی باتوں کے پیچھے ہی تو رہتے ہیں۔ 
علوی کہہ رہا تھا— امی کہہ رہی تھیں کہ مجھے اپنے چچا کے گھر بھیج دیں گے۔  اس پر ابی نے کہا، اس طرح چچا کے خاندان کو خطرے میں ڈالنا ہو گا—
راشد کہہ رہا تھا— مجھے بار بار یہ ڈر ستا رہا ہے کہ یہ پولیس والے میرے گھر ضرور آئیں گے۔ 
’لیکن کیوں ؟‘
’خدا جانے—‘
’پھر کیا کریں گے۔ ‘
’انکاؤنٹر بھی کر سکتے ہیں۔ ‘ راشد کی آواز سہمی ہوئی تھی۔ 
اسامہ کو اچانک سب کچھ دھندلا دھندلا سا نظر آنے لگا تھا۔  کیا راشد سچ کہہ رہا ہے۔  کیا یہ معمولی نظر آنے والا واقعہ اتنے بڑے حادثے میں تبدیل ہو سکتا ہے؟
کئی بار دروازہ کھول کر باہر نکلنے کی خواہش ہوئی مگر اسامہ کو ہر بار محسوس ہوا، جیسے اس کے قدم شل ہوں۔  اپنی جگہ سے وہ ہل بھی نہیں سکتا۔  راشد کی آواز نے اسے کسی بت میں تبدیل کر دیا ہے۔ 
تو کیا اس کا بھی انکاؤنٹر …؟
لیکن کیوں —؟
اُسے غصہ آ رہا تھا۔  اسے ساری دنیا پر غصہ آ رہا تھا۔  ایک لمحے کو اسامہ کھڑا ہوا۔  ٹہلتا ہوا کھڑکی کے قریب گیا۔  پردہ ہٹایا— سناٹے اور گہرے اندھیرے کا احساس ہوتے ہی اس نے پردہ برابر کیا— اب اسے یہ کمرہ کاٹ کھانے کو دوڑ رہا تھا— ایک لمحے کو خیال آیا، بستر پر لیٹ جائے۔  آنکھیں بند کر لے۔  مگر وہ جانتا تھا۔  نیند اس کی آنکھوں سے رخصت ہو چکی ہے۔ 
دماغ میں صرف دھماکے ہو رہے ہیں — اور ان دھماکوں میں وہ اپنی اب تک کی زندگی کا ایک مختصر سا کولاژ دیکھ سکتا تھا—
٭٭
بیحد پیار کرنے والے پاپا ممّی— لیکن وہ بچپن سے سرکش اور ضدّی تھا۔  ممی بار بار پاپا سے کہتی تھیں۔ 
’تم اسے بگاڑ دو گے—‘
اور پاپا ہر بار یہی جواب دیتے۔  میرا بچہ ہے۔  یہ بگڑ ہی نہیں سکتا۔ 
اسے سب یاد ہے۔  رات ہوتے ہی، پاپا کی بانہیں اس کا تکیہ بن جاتی تھیں۔  پاپا اسے سینے سے لگا کر سوتے تھے۔  لیکن آہستہ آہستہ اسے گھر کے اندھیروں سے وحشت ہونے لگی تھی— وہ پانچ سال کا ہو گیا تو اسے پڑھانے کے لیے مولوی صاحب رکھے گئے— مگر اسے مولوی صاحب کی صورت پسند نہیں تھی—
اس نے ممی سے کہا— مولوی صاحب کے کپڑوں سے بدبو آتی ہے، وہ نہیں پڑھے گا۔ 
ممی ناراض ہو گئی تھیں —
پاپا نے جب یہ بات سنی تو وہ دیر تک ہنستے رہے—
پاپا نے مولوی صاحب کی جگہ پاس والے مدرسے سے ایک دوسرے مولوی صاحب کو بلا لیا—اُسے اچھی طرح یاد ہے۔  چار پانچ مولوی صاحب اُسے اردو اور قرآن شریف پڑھانے کے لیے رکھے گئے— مگر اُسے جیسے ضد ہو گئی تھی کہ وہ نہ اردو سیکھے گا۔  نہ قرآن شریف پڑھے گا— ممی اسے سردیوں میں نہلایا کرتیں کہ مولوی صاحب کے آنے کا وقت ہو گیا ہے— وہ نہاتے ہوئے چلایا کرتا تھا— اُسے نہیں پڑھنا— 
ممی سمجھاتیں — نہیں پڑھو گے تو پھر نماز کے طور طریقے کیسے جانو گے۔ 
’پاپا کو کیوں نہیں بولتیں کہ نماز پڑھیں —‘
اُس دن پہلی بار ممی نے پاپا سے شکایت کی۔  بیٹے کا کیا قصور— گھر میں مذہب کا رنگ ہو گا تو بچہ بھی سیکھے گا۔  وہ کہتا ہے۔  پاپا تو نماز پڑھتے نہیں —‘
پاپا کو ہنسی آ گئی تھی۔  میں بھی اُسے کوئی مولوی نہیں بنانا چاہتا— اور یہ بھی سچ ہے کہ میں اپنے بیٹے پر کوئی مذہبی رنگ نہیں دیکھنا چاہتا۔ 
’تو مولوی صاحب کو منع کر دو نا—‘
’بات منع کرنے کی نہیں ہے۔  جو تعلیم مجھے دی گئی وہی بیٹے کو دے رہا ہوں۔  پانچ برس کی عمر میں مجھے بھی مولوی صاحب کے حوالے کر دیا گیا تھا—‘
’لیکن اپنے جیسا تو اپنے بیٹے کو مت بناؤ—‘
’میں کسی کے جیسا نہیں بنانا چاہتا۔  میں چاہتا ہوں، وہ بڑا ہو جائے تو اپنا مذہب خود جانے— اپنی دنیا، اپنی آنکھوں سے دیکھے— اور خود فیصلہ کرے کہ اُسے کیسا بننا ہے۔ ‘
شاید اسی لیے بچپن سے اپنے فیصلے وہ خود کرنے لگا تھا۔  جیسے آخر تک اُس نے اردو نہیں سیکھی— قرآن شریف کے دو پارے بمشکل پڑھ پایا— کاشی کے اس ماحول میں آہستہ آہستہ وہ نئی نئی باتیں سیکھ رہا تھا— ہندو۔  مسلمان، شیعہ، سنی دنگے۔ فساد۔  مسلک … کافر…
وہ ہر روز ہی نئے نئے لفظ سیکھ رہا تھا—
نئے نئے دوست بن رہے تھے— ایسے دوست، جن کے والد کے پاس چمچماتی ہوئی کاریں ہوتی تھیں۔  جن کے پاس اُس سے کہیں زیادہ خوش رنگ اور مہنگے لباس ہوتے تھے— جو اپنی چمچماتی گاڑیوں پر اسکول آتے جاتے تھے۔  اور اچانک بانہوں میں سلانے والے پاپا اُسے دور دور لگنے لگے تھے— گھر کے اندھیرے سے اُسے وحشت ہونے لگی تھی۔  اس کی مانگیں بڑھنے لگی تھیں — اُس کی ضد کئی کئی بار ممّی پاپا کو پریشان کر دیتی تھی—
’مجھے کار پراسکول جانا ہے—‘
’کہاں سے لاؤں —؟ پاپا بے چارگی سے ممی کو دیکھتے تھے۔ 
ممی کا جواب ہوتا— میری طرف مت دیکھیے— وہ وہی کر رہا ہے جو آپ نے اسے سکھایا—‘
’کار نہیں تو اسکول نہیں جاؤں گا۔ ‘
اسامہ کو غصہ تھا کہ اُس کے پاپا جرنلسٹ ہیں — اور اتنے بڑے  جرنلسٹ بھی نہیں کہ وہ اس کے لیے ایک کار لا سکیں۔ 
ہنسنے ہنسانے والے پاپا اس کی فرمائشوں پر خاموش رہنے لگے تھے۔ 
گھاٹوں اور مندروں کے شہر میں وہ آہستہ آہستہ اپنی نئی پہچان حاصل کر رہا تھا— یہ پہچان اس کے دوستوں کی پہچان سے مختلف تھی۔  وہ خاموش رہنے لگا تھا— اور پاپا سے لڑتے جھگڑتے وہ یہ جان چکا تھا کہ پاپا اس کی بہت سی فرمائشیں  پوری کرنے سے قاصر ہیں۔  اس لیے اس کے ذہن میں آہستہ آہستہ صرف ایک ہی بات سر نکالنے لگی تھی۔ 
اُسے بڑا بننا ہے—
بہت بڑا بننا ہے—
اُس کے پاس اپنی کار ہو گی۔  کار بھی چھوٹی موٹی نہیں۔  بہت بڑی— اُسے بہت پیسہ کمانا ہے—
’لیکن یہ سب ہو گا کیسے—؟‘
’کیا بننا ہے اُسے؟‘
پاپا کی طرح ایک جرنلسٹ؟
’بالکل بھی نہیں —‘
وہ ایک ڈراؤنے گھر میں زندگی گزارنے سے بہتر مرنا پسند کرے گا— وہ گھنٹوں گھنٹوں یہی بات سوچتا رہتا کہ اُسے کیا بننا ہے— ڈاکٹر— انجینئر—  ہر بار اسے لگتا، ان پیشوں میں بھی زیادہ پیسے نہیں ہیں۔  پھر— ؟ کرکٹر، اسپورٹس مین، فلم میڈیا، ہیرو… بزنس مین— ؟پڑھنے میں اس کا دل نہیں لگتا تھا— کتابیں اُسے کاٹ کھانے کو دوڑتی تھیں — اور راتوں رات امیر بننے کا شوق اُسے پریشان کیے جا رہا تھا—
گھر میں اس کی باتیں اب عام ہو گئی تھیں۔ 
جیسے پاپا کہتے۔  وہ بدل رہا ہے—
ممی سر جھکا لیتیں۔  ہاں —
’میں اب بھی اُسے ویسے ہی پیار کرنا چاہتا ہوں۔  مگر وہ— گم ہو رہا ہے۔  ‘
’ہاں —‘
’وہ کھویا کھویا رہتا ہے—‘
’میں اسی لیے ڈر جاتی ہوں۔ ‘
’مگر میں کیا کر سکتا ہوں — آسمان سے ہیرے توڑ کر اُس کے ہاتھوں میں تو نہیں ڈال سکتا۔ ‘
’ہم نے محبت میں تو کوئی کمی نہیں کی—‘
وہ ان باتوں کو سن کو بور ہو جاتا تھا۔  محبت— محبت— یہ لوگ آخر کیوں نہیں سمجھتے کہ اُسے محبت سے زیادہ بھی کچھ چاہیے… اُسے بہت پیسہ چاہیے— اور وہ سب کچھ جو امیر زادوں کے پاس ہوتا ہے— اور اُس کے پاس نہیں ہے۔ 
اس لیے وہ چڑچڑا ہوتا جا رہا تھا—
گھر کا کھانا اُسے پسند نہیں تھا— اُسے فاسٹ فوڈ پسند تھا۔  برگر، پزا، میگی یا پھر چکن، چکن روسٹ، فرائیڈ چکن۔  یوں عام طور پر اُس کی ان فرمائشوں کا خیال رکھا جاتا لیکن اگر کسی وقت، کسی وجہ سے یہ فرمائشیں پوری نہیں ہوپاتیں تو اس کا غصہ ساتویں آسمان پر ہوتا—
’مجھے نہیں کھانا یہ سب—‘
’روز تمہارے لیے مرغ نہیں آ سکتا—‘
ممی کی آواز پر وہ چیخ پڑتا— تم لوگ اچھا کھانا بھی نہیں کھلا سکتے تو کیوں پیدا کیا—؟
پاپا سر جھکا لیتے— اور ممی کے صبر کا باندھ ٹوٹ جاتا۔ 
’تم کسی اچھے گھر کیوں نہیں پیدا ہو گئے— یہاں کیوں پیدا ہوئے—؟‘
اسامہ کو سب کچھ یاد آ رہا تھا۔  بچپن کی ایک ایک بات اُس کا راستہ روک رہی تھی۔  آہستہ آہستہ وہ عمر کے گھوڑے پر سوار ہو کر اڑنے کی کوشش کر رہا تھا۔  اُس کی آنکھیں کھل رہی تھیں۔  کبھی کبھی وہ شہر اور محلے کو خوف کے سائے میں دیکھتا۔  جیسے عام طور پر محرم کے، شیعہ سنی فسادات کے کیسے کیسے قصے سنتا ہوا وہ بڑا ہوا۔  دیکھتے ہی دیکھتے آپس کی محبت کہیں کھو جاتی— اور ایک ہی کلمہ پڑھنے والے ایک دوسرے کے دشمن بن کر سامنے آ جاتے۔  لیکن اب یہ کہانیاں پرانی پڑ رہی تھیں — کیونکہ اب ملک کی فضا بدلی تھی۔  اس کے ذہن سے کتنے ہی الفاظ بار بار ٹکراتے تھے۔  اجودھیا… بابری مسجد… رام مندر… ہندو مسلم دنگے… پاپا بتایا کرتے تھے کہ وہ تب پیدا ہوا جب بابری مسجد…
بابری مسجد— تب وہ اس نام سے صرف اس حد تک واقف تھا کہ بابر نام کے ایک بادشاہ نے یہ مسجد تعمیر کی تھی۔  شاید اس سے زیادہ وہ نہیں جانتا تھا۔  وہ یہ بھی نہیں جانتا تھا کہ رام مندر کیا ہے اور بابری مسجد کیوں توڑی گئی— اور یہ بھی کہ اس کا اسامہ نام اس قدر خوفناک کیوں ہے—؟
تب کافر اور جہاد کی باتیں تو زورو شور سے ہو رہی تھیں مگر اسامہ کا نام تب تک عالمی نقشہ پر سامنے نہیں آیا تھا۔  ممکن ہے کبھی بچپن میں اسے بھی اپنے نام سے عشق رہا ہو مگر عالمی دہشت گرد اسامہ کے سامنے آنے کے بعد اُسے اپنے نام سے بھی چڑ ہو گئی تھی—
بابری مسجد۔  رام جنم بھومی— ہر سال اس موقع پر شہر میں تناؤ بڑھ جاتا۔  امی باہر نہیں جانے دیتیں۔  دروازہ بند کر دیتیں۔  اسکول کے دوستوں کے چہروں پر بھی اُسے تفریق کی لکیریں صاف نظر آ جاتیں …
تم مسلمان ہونا…؟
ہاں … کیوں …؟
نہیں کچھ نہیں —
’اس لیے کہ مسلمان گندے ہوتے ہیں ‘ وہ ایک موٹا سا لڑکا تھا— ’گندے ہوتے ہیں ؟‘
’ٹوٹ گئی نا تیری بابری مسجد— ہم تیری ساری مسجدیں کو توڑ دیں گے۔ ‘
’ایسے ہی توڑ دو گے…؟‘
اسامہ کو غصہ آ جاتا—
کبھی بچے اس سے لڑائی پر آمادہ ہو جاتے— بچپن کے ان دوستوں نے ہی اُسے اس بات کا احساس کرا دیا تھا کہ بابری مسجد ایک بے حد خاص قسم کی مسجد تھی۔  جسے توڑ دیا گیا۔  پاپا نے سمجھایا تھا— توڑی نہیں شہید کر دی گئی—
بچے اُسے میئن کہتے تھے— میئن— اس لفظ سے اُسے نفرت تھی— وہ خون کا گھونٹ پی کر رہ جاتا—
پھر آہستہ آہستہ ایسے کئی لفظوں سے اس کی دوستی ہوتی چلی گئی۔  مسلمان ملیچ  ہیں —
گندے ہیں —
آتنک وادی ہیں —
اور ان کی بابری مسجد توڑ دی گئی— یعنی آتنک وادی ہو کر بھی مسلمان کچھ نہیں کر سکے اور ان کی بابری مسجد شہید کر دی گئی—
وہ پاپا سے اس بارے میں پوچھنے کی کوشش کرتا تو وہ منع کر دیتے—
’یہ باتیں سمجھنے کے لیے تمہاری عمر بہت کم ہے—‘
’لیکن میں جاننا چاہتا ہوں … مجھے میرے دوست چڑاتے ہیں —‘
ممی سمجھاتیں — بس، دوستوں کے پاس سے ہٹ جایا کرو۔  جواب مت دیا کرو۔  ناراضگی مت دکھاؤ— اور سنو، ایسی باتوں پر اُن سے لڑنا بھی نہیں۔  فضا اچھی نہیں ہے— بس سنو اور سن کر چپ ہو جاؤ—‘
’ایسے کیسے چپ ہو جاؤں —‘
’کیونکہ اسی میں بہتری ہے—‘
’بہتری نہیں — اس سے تو وہ مجھے کمزور سمجھیں گے—‘
’کمزور سمجھنے سے کمزور تو نہیں ہو جاؤ گے—‘
’میں اُن کی یہ باتیں برداشت نہیں کر سکتا۔ ‘
’لیکن اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے—‘
’چارہ ہے۔  میں اُن کا سر توڑ دوں گا— وہ کہتے ہیں۔  یہ میرا ملک نہیں ہے۔  ہم بابر کی اولادوں میں سے ہیں —‘
’بابر بس ایک بادشاہ تھا—‘
’تو ہم اس کی اولاد کیسے ہو گئے؟‘
’وہ جھوٹ کہتے ہیں —؟‘
’تو اس جھوٹ کو ہمیں روکنا کیوں نہیں چاہیے۔ ‘؟
کیونکہ ہم اس جھوٹ کو روک نہیں سکتے—
’روک سکتے ہیں — اُن کی زبانیں کاٹ کر—‘
’پاگل ہو—‘ ممی کو غصہ آ جاتا—
’ہاں پاگل ہوں کیوں سنوں دوستوں کی باتیں۔  وہ کہتے ہیں یہ میرا ملک نہیں ہے۔  میرا گھر نہیں ہے۔ ‘
’یہ باتیں تمہیں آگے بھی سننے کو ملیں گی—‘
’تو ابھی سے کیوں نہ ان باتوں کو روک دیں۔ ‘
’یہی باتیں دنگا پھیلاتی ہیں —‘
’دنگا وہ پھیلاتے ہیں جو ایسی باتیں کرتے ہیں۔  اُنہیں کیوں نہیں منع کیا جاتا—
ممی بے بس ہو جاتیں — خبردار— اسکول میں تم اپنی زبان بند رکھو گے۔ 
’میں تو نہیں بند رکھوں گا— میں تو صاف کہہ دوں گا— میں بابر کی اولاد نہیں ہوں — اور کوئی مجھے گالی دے گا تو میں خاموش بھی نہیں رہوں گا—‘
ممی کے سہمے ہوئے چہرے پر خوف کی ان گنت لکیریں نمودار ہو چکی ہوتیں —
اسامہ کے لیے یہ سب نیا تھا— خوف کی ان عبارتوں کو سمجھنے سے وہ قاصر تھا۔  مگر آہستہ آہستہ اس کی سمجھ میں سب کچھ آنے لگا تھا— بچپن میں اسے دوسرے بچوں کی طرح کا مکس پڑھنا پسند تھا۔  اُسے کارٹون شو دیکھنا اچھا لگتا تھا۔  اسپائڈر مین  جیسی سیریز اُسے پسند تھی— اور جنک فوڈ کا وہ دیوانہ تھا— لیکن اب اُس میں تبدیلیاں آ رہی تھیں — کھلونوں میں ہمیشہ سے اُسے مشین گن یاپسٹل جیسے کھلونے پسند تھے— کمپیوٹر پر عام طور پر وہ اپنے پسندیدہ فائٹر شو گیم جیسے خطرناک کھیلوں میں گم رہتا— جہاں ایک قطار سے اُسے مانسٹر کو ختم کرتے ہوئے کم سے کم وقت میں اس چیلنج کو پورا کرنا ہوتا تھا— اُسے w.w.f جیسے پروگرام میں مزہ آتا تھا۔  یہی اُس کا بچپن تھا۔  اور اس بچپن میں مذہب کہیں بھی شامل نہیں تھا۔  وہ پرانے بنارس کی تنگ اور پر پیچ گلیوں میں اُن بچوں کی طرح نہیں گھومتا تھا جو سروں پر دو پلّی ٹوپیاں چپکائے ہوتے۔  کرتا پائجامہ پہنے ادھر سے اُدھر آ جا رہے ہوتے— شاید یہ مذہبی ماحول اس کے گھر میں ہی نہیں تھا۔  اس لیے کہ ڈیڈی کو اُس نے عید، بقر عید یا رمضان کے آخری جمعہ کے علاوہ کبھی نماز پڑھتے نہیں دیکھا تھا— اور شاید اسی لیے مولوی صاحب کے رکھے جانے کے باوجود نہ قاعدہ پڑھ سکا۔  نہ دو پارے سے زیادہ قرآن شریف۔  بس کسی طرح ممی نے اُسے پہلا کلمہ، دوسرا کلمہ، تیسرا کلمہ اور نماز کا طریقہ سکھا دیا تھا۔  مگر نماز پڑھنے کے لیے جو اندر ایک قوتِ ارادی ہوتی ہے، وہ کافی دنوں تک اُس میں نہیں آپائی— ممی اس بات سے ناراض رہتی تھیں — جبکہ پاپا کا خیال تھا کہ ایک وقت آتا ہے جب بچے اپنا راستہ خود بنا لیتے ہیں۔  اس لیے اسامہ کو لے کر پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے—
دنگے اور فساد کے ماحول میں کاشیکی ان گلیوں میں وہ خوف اور دہشت کے ملے جلے رنگوں کو دیکھتا ہوا بڑا ہو رہا تھا— اور بڑا ہوتے ہوئے وہ ایسے ہر حادثے کو لے کر دیر تک منتھن کرتا— شاید ایسا کرتے ہوئے وہ کسی نتیجہ پر پہنچنے کی کوشش کر رہا تھا—
اُس میں تبدیلیوں کے نئے رنگ پیدا ہو رہے تھے۔ 
وہ کسی پرندے کی طرح اڑنا چاہتا تھا— مگر جیسے اُس کے پر کاٹ دیئے گئے تھے— اُنہی دنوں اس نے مضبوط آواز میں کہنا شروع کیا تھا—
’پاپا میں یہاں نہیں رہوں گا۔  میں اس اسکول میں بھی نہیں پڑھوں گا—‘
پاپا دیر تک کمرے میں ٹہلتے رہے۔  اچانک رُک گئے— پھر کہاں جاؤ گے؟ کس اسکول میں پڑھو گے—؟‘
’کہیں بھی—‘
’لیکن سب جگہ یہی ماحول ہو گا۔  یہی لوگ ہوں گے۔  یہاں سے باہر جاؤ گے۔  دوسرے ملک میں تو وہاں، یہاں سے بھی بدتر سلوک ہو گا—‘
رباب غصہ ہو گئی تھی— ابھی سے یہ زہر بچے میں کیوں بھر رہے ہو؟
’کیوں کہ اس ماحول نے اس بچے میں زہر بھرنا شروع کر دیا ہے۔  اس کے سوالوں کا جواب دینا ضروری ہے۔ ‘
’کوئی ضروری نہیں —‘
’ضروری ہے— اسے سمجھنا ہو گا کہ چند برے لوگوں کی موجودگی کے باوجود اگر ہم کہیں محفوظ ہیں تو اپنے ملک میں — پاکستان میں مسلمان، مسلمان کو مار رہے ہیں — دہشت گرد پیدا کیے جا رہے ہیں۔  ہزار طرح کی بندشیں اور پابندیاں ہیں۔  اور باہر کے ملکوں میں ہر داڑھی والے مسلمان کو شک کی نگاہوں سے دیکھا جاتا ہے۔  اس لیے اسامہ کو یہ سمجھنا ہو گا کہ اس ملک میں سارے لوگ برے نہیں ہیں۔  اور یہ اُس کے دوست جو زبان بولتے ہیں وہ آنے والے کل میں نہیں بولیں گے— اس لیے کہ کوئی بھی تعلیم یافتہ انسان مذہب کے وجود کو تسلیم نہیں کرتا—‘
’پاگل ہو— یہ کیا کہہ رہے ہو— یعنی کوئی مجرم ہے تو وہ مذہب ہے۔ ‘
’نہیں — میں یہ نہیں کہہ رہا—‘
’شاید تم یہی کہہ رہے ہو—‘
’مذہب میں نفرت کے جراثیم گھل جائیں تو مذہب زہر بن جاتا ہے—‘
’رہنے دو— کوئی مذہب جنگ نہیں سکھاتا—‘
’لیکن لوگ مذہب کے نام پر ہی تو لڑ رہے ہیں۔  دنگے کر رہے ہیں۔  آتنک واد کی فیکٹریاں بن رہی ہیں — فدائین پیدا ہو رہے ہیں — جہاد کے نام پر معصوم انسانوں کے قتل ہو رہے ہیں — اور کس کے نام پر ہو رہا ہے یہ سب—؟ مذہب کے نام پرنا… تو مذہب قصور وار ہوا نا…؟‘
ممی کو پہلی باراس نے بہت زیادہ غصے میں دیکھا تھا—
’یہی وجہ ہے کہ اس گھر میں فلاح نہیں ہے— سکون نہیں ہے— شانتی نہیں ہے— کیونکہ یہاں مذہب نہیں ہے— نماز نہیں پڑھنا تمہارے لیے صرف ایک اسکیپ ہے۔  کیونکہ تم شروع سے ہی کنفیوژن کا شکار رہے ہو— اور کنفیوژن یہ ہے کہ تم مذہب مانتے ہو یا نہیں۔  مجھے لگتا ہے تمہارے اندر ہم سب سے کہیں زیادہ مذہب بستا ہے جسے در اصل تم چھپانے کی کوشش کرتے ہو—
اپنی آئیڈیالوجی میں — اپنے جرنلسٹ ہونے میں — کہ تم سیکولر اور جمہوری قدروں کو مانتے ہو۔  ممی نے گہری سانس لی—
’لیکن تم یہ سب مذہب میں رہ کر بھی کر سکتے ہو۔  سال میں دو تین بار ہی سہی، تم نماز تو پڑھتے ہو اور پورے اہتمام کے ساتھ— تمہاری مشکل یہ ہے کہ اس عمر میں بھی آئیڈیا لوجی اور مذہب کو لے کر تم الجھے ہوئے ہو اور ابھی تک کسی نتیجے پر نہیں پہنچ پائے—
ممی نے ٹھنڈی سانس بھری تھی— اس گھر سے سکون چھن گیا ہے۔  خدا کے لیے اپنے بیٹے کو اپنے جیسا مت بناؤ— اُسے ایک کامیاب آدمی بننے دو—‘
’تو گویا میں ناکام اس لیے ہوں کہ میں مذہب کو نہیں مانتا‘
’نہیں — اس لیے کہ تم ابھی بھی دوراہے پر ہو— کنفیوژن کے شکار— جبکہ تمہارے اندر بھی دوسروں کی طرح ایک مذہبی آدمی بستا ہے۔  اور اس آدمی کا مشاہدہ میں نے ہزاروں بارکیا ہے—‘
اس بار ممی کے چہرے پر مسکراہٹ تھی۔ 
٭٭

اسامہ کے ننھے دماغ کے لیے یہ مکالمے بھلے ہی بے معنی ہوں لیکن آہستہ آہستہ ان مکالموں سے وہ آج کی دنیا کو سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا— جیسے یہ کہ اس کے پاپا جرنلسٹ ہیں۔  مگر ایک بے حد کمزور جرنلسٹ— شاید بے حد کمزور ہونے میں بھی پاپا کے مذہب کا ہاتھ تھا— کاشی کے اُن بے حد دکھ بھرے دنوں میں پایا اردو اخبار سے وابستہ تھے— لیکن آہستہ آہستہ انکا رجحان ہندی کے اخباروں کی طرف ہوتا جا رہا تھا— اردو اخباروں کی ایک سمٹی ہوئی دنیا تھی— پاپا سے ملنے  اردو اخباروں کے  صحافی جب گھر آیا کرتے تو اُسے ان دوستوں کی شکل و صورت سے نفرت محسوس ہوتی۔  نہ پہننے کا سلیقہ۔  نہ باتیں کرنے کا— یہ وہ دور تھا جب نئے نئے چینلنز آ چکے تھے— کتنے ہی جرنلسٹ سی لے بریٹی بن چکے تھے۔  اب وہ گھر گھر میں پہچانے جاتے تھے— ممی بھی اب دبے لفظوں میں پاپا سے اس کا اظہار کرنے لگی تھیں —
’آپ دوسرے اخباروں کی طرف کیوں نہیں دیکھتے۔ ‘
’نوکری ملنا آسان ہے کیا—‘ یہ پاپا ہوتے۔ 
کوشش کرنے سے ساری دنیا مل جاتی ہے۔ ‘ ممی، پاپا کو سمجھانے کی کوشش کرتیں۔  دنیا آگے بڑھ رہی ہے اور اس حقیقت سے آپ بھی واقف ہیں کہ ان پیسوں میں اب گزارہ مشکل ہے۔  اسامہ بڑا ہو رہا ہے۔  کل اس کی ضرورتیں بڑھ جائیں گی۔  آخر تھاپڑ بھائی بھی تو ہیں۔  ٹی وی پر دیکھیے۔  یہاں بھی تو جرنلسٹ اور آپ جیسے لوگ ہی چھائے ہوئے ہیں۔ 
’اب عمر نکل گئی—‘
’کس نے کہا عمر نکل گئی— اور آپ کب سے عمر کو ماننے لگے۔  ماشاء اللہ آج بھی کون سی کمی ہے آپ میں — آپ ان صحافیوں سے کہیں زیادہ خوبصورت لگتے ہیں جو ٹی وی چینلوں پر نظر آتے ہیں۔  بس آپ نے کبھی خود کو پھیلانے کی کوشش نہیں کی۔  لیکن ابھی بھی کچھ نہیں بگڑا اور ہاں، ایک بات اور کہنا چاہتی ہوں —‘
ممی نے نظریں جھکا لی تھیں۔  آپ اجازت دیں تو میں بھی کچھ کر سکتی ہوں — آخر میں بھی پڑھی لکھی ہوں —‘
’لیکن اسامہ…‘
’اسامہ کی فکر مت کیجئے— دو لوگ مل کر کام کریں گے تو گھر کی آمدنی میں بھی اضافہ ہو گا— اور اسامہ کے لیے گھر میں کوئی آیا رکھ لیں گے۔  مگر آپ کی اجازت ضروری ہے—‘
ممی کو اجازت نہیں ملی۔  پاپا کو ممی کا کام کرنا پسند نہیں تھا۔  بنارس میں ابھی بھی عورتوں کا گھر سے باہر نکلنا معیوب سمجھا جاتا تھا— تھاپڑ انکل کاشی سے دلّی ہجرت کر گئے تھے۔  ممی سے اُن کی فون پر بات چیت ہوتی رہتی تھی— اور انہوں نے وعدہ کیا تھا کہ یہاں اخباروں میں ارشد کو آرام سے کام مل جائے گا— اور اُسے کسی کی سفارش کی ضرورت نہیں ہو گی—
پھر تھاپڑ انکل نے پاپا کو دلّی بلا لیا—
اور ایک اچھے اردو اخبار میں پاپا کو ملازمت مل گئی— پھر کچھ دنوں بعد پاپا نے ایک کرائے کا گھر بھی لے لیا۔  اور ہم لوگوں کو دلّی بلا لیا—
یہ وہی دور تھا جب عالمی نقشے پر دہشت گردی کے بادل مکمل طور پر چھا چکے تھے— کبھی حاشیے پر نظر آنے والے مسلمان اب سرخیوں میں تھے— وہ دہشت گرد تنظیموں سے وابستہ تھے۔  وہ طیارے اغوا کرتے تھے— دھماکے کرتے تھے— افغانستان سے عراق، پاکستان ہر جگہ ان کی بربادی کے قصے اب میڈیا کی سرخیوں کی زینت بن رہے تھے— وہ دنیا جو پہلے ایک چھوٹی سی سیپی میں بند نظر آئی تھی اب اس نے شاہین کی طرح اپنے پر نکال لیے تھے— اب اس دنیا کی، حقیقت پسندی کی گرہیں اُس کے سامنے کھلتی جا رہی تھیں — اور اب ایسے مسلمانوں کے لیے اس کے ذہن میں نفرت ہی نفرت تھی—
تب پاپا دلکشا انکلیو، بٹلہ ہاؤس میں نہیں آئے تھے— پاپا نے کرائے کا جو فلیٹ لیا تھا، وہاں آس پاس مسلمان تھے ہی نہیں — اور یہ فلیٹ بھی بہت مشکل سے تھاپڑ انکل کی سفارش سے ملا تھا— اور یہ بات بھی اُس کے ننھے سے دماغ میں بیٹھا دی گئی کہ آج کے اس ماحول میں مسلمانوں کو کوئی کرائے کا مکان بھی نہیں دیتا۔  کیا پتہ کون شریف آدمی ہے اور کون دنگائی—
اُسے اس وقت کا، پاپا کا چہرہ اب بھی یاد ہے۔ 
تھاپڑ انکل نے کہا تھا— مبارک ہو— مکان مل گیا۔  ایک مہینے کی ایڈوانس رقم دینی ہے— بس— گیارہ مہینے کا ایگریمنٹ ہے— بچولیے ہوتے تو ایک مہینے کا ایڈوانس تو وہی لے جاتے— ہاں، آس پاس کوئی مسجد نہیں ہے—‘
پاپا گہری سوچ میں تھے— ’تمہاری سفارش نہ ہوتی تو…‘
سفارش— تھاپڑ انکل غصہ ہوئے تھے۔ 
پاپا کے لہجے میں بے چارگی تھی— ہم دار السلطنت میں ہیں۔  لیکن تمہاری سفارش کے بغیر سانس بھی نہیں لے سکتے۔ ‘
’میری سفارش مطلب ہندو کی سفارش؟‘ تھاپڑ انکل چونک گئے تھے— میں ہندو کب سے بن گیا تمہارے لیے— اور تم مسلمان کب سے ہو گئے میرے لیے—‘
’یہ میں نہیں جانتا…‘ پاپا کا لہجہ کمزور تھا— 
’لیکن یہ بات آئی کہاں سے ارشد پاشا—؟‘
پاپا کی آواز بھیگ گئی تھی— ’ہر جگہ تمہارے سائے میں رہتے ہوئے لگتا ہے، یہ ملک کبھی ہمارا رہا ہی نہیں۔  یہ اور بات کہ صدیوں سے ہمارے باپ داداؤں کی ہڈیاں  یہاں دفن ہو رہی ہیں تھاپڑ— صدیوں حکومت رہی ہماری— لیکن جو غلطیاں حکومت کرنے والوں نے کیں، اُن غلطیوں کی سزائیں ہمیں کیوں دی جا رہی ہیں ؟ ملک کو آزاد ہوئے مدت ہو چکی ہے لیکن کہاں آزاد ہیں ہم؟ ہر قدم پر شک کرتی آنکھیں جیسے سیدھے ہماری آنکھوں میں اتر جاتی ہیں۔  ملک میں کوئی بھی بدنما واقعہ یا حادثہ ہوتا ہے تو سب سے پہلے گھر میں ہم قید ہوتے ہیں۔  چاہے کرنے والا کسی بھی مذہب کا ہو— لیکن  ہم ڈر جاتے ہیں — اور ایسے میں جب تم سہارا بن کر سامنے آتے ہو تو ہم بہت کمزور لگتے ہیں — جیسے یہ ملک اپنا ہو بھی کر اپنا نہیں ہے— جیسے اپنا مکان بھی اپنا نہیں — یہاں تمہاری سفارش کے بغیر سانسیں بھی نہیں لی جا سکتیں۔  ایک کرائے کا مکان ملنا بھی مشکل ہو جاتا ہے—‘
تھاپڑ نے لمبی سانس لی—
پاپا نے بولنا جاری رکھا— ’ٹی وی پر میڈیا جب ہماری حمایت میں بولتا ہے تو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے لاش کو کندھا یا سہارا دے رہا ہو۔  ہم اپنے ہی ملک میں لاش بن گئے— کبھی پاکستانی کبھی کینسر— اپنی طرف حقارت سے اٹھنے والی آنکھیں اب دیکھی نہیں جاتیں — چہرے اور کپڑوں سے کہاں مسلمان لگتے ہیں ہم— لیکن یہ نام— یہ مسلمان نام انجانے میں ایک شک بن جاتا ہے ہمارے لیے…‘
تھاپڑ نے سر جھکا لیا تھا— شاید تم سچ کہتے ہو— ممکن ہے آنے والا کل اتنا کڑوا نہ ہو— صورتحال بدل جائے—لیکن ابھی— تم جو کچھ کہہ رہے ہو، اُس حقیقت سے انکار بھی نہیں کیا جا سکتا۔ 

٭٭
نام… اسامہ، پاپا کے بولے گئے جملے کی زد میں ہے— یہ نام اچانک اُسے بھاری پڑنے لگا تھا… پہلے جو لوگ اس نام کی تعریف کرتے تھے، اچانک ہی یہ نام ان کے لیے خطرے کا سائرن بن گیا تھا۔  ۱۱؍۹ کے حادثے نے اچانک اسامہ بن لادن کو دہشت گردی کی علامت بنا کر پیش کیا تھا۔ 
اسامہ…
اسامہ…
اسامہ بن لادن…
اسامہ پاشا…
وہ خوف سے نہا گیا تھا۔  چاروں طرف خوف کی بارش ہو رہی تھی— لوگ اُس کا نام لے کر چھیڑنے لگے تھے۔  ارے اسامہ تم… امریکہ سے کب لوٹے… ؟دوست پوچھتے— ارے تو تو بڑا بہادر نکلا۔  امریکیوں کا ٹاور ہی گرا دیا۔  وہ بھی ورلڈ ٹریڈ ٹاور… ایک نام آتنک واد سے وابستہ تھا— اور یہی نام اس کا دشمن بن گیا تھا۔  جلتے ہوئے  ورلڈ ٹریڈ ٹاور کی تصویر اس کی آنکھوں میں فریز ہو گئی تھی۔ 
اسامہ اس منظر سے باہر نکلنا چاہتا تھا۔  مگر ہر لمحہ وہ زیادہ سے زیادہ اس منظر کی زد میں خود کو محسوس کر رہا تھا— وہ کیوٹ سا لگنے والا معصوم نام اب آگ اُگل رہا تھا— اسامہ… پہلی بار اُس کا نام جاننے والا اچانک چونک کر ہنس دیتا تھا۔ 
اسامہ…؟
اسامہ بن لادن… تو آپ ہیں لادن؟ کیوں چھپتے پھر رہے تھے اب تک…؟ وہ اس خوفناک الزام یا مذاق کو سمجھنے سے قاصر تھا—
٭٭
بٹلہ ہاؤس کے دلکشا انکلیو میں فلیٹ لینے تک اس نام کے معنی بدل چکے تھے۔  جیسے اُس کے پڑوسی نے اس کا نام جان کر زور سے الحمد للہ کہا تھا— پھر کہا— ماشاء اللہ— میاں نام لیا ہے تو اسامہ کی بہادری بھی لو—
یہاں آنے کے بعد اس کے نئے نئے دوست بننے لگے تھے۔  پرانا بنارس کہیں گم ہو گیا تھا۔  لیکن یہاں بہت کچھ پرانے بنارس  یا بنارس  کے گلی کوچوں کی طرح تھا۔  تنگ گلیاں، ہر طرح کی دکانیں، بھیڑ بھاڑ، گوشت کی دکانیں، کباب کی خوشبو— لیکن یہ ماحول بنارس کے ماحول سے الگ تھا— زیادہ تر لوگ ایسے تھے، جن کی نظر میں اسامہ جو کچھ کر سکا، وہ کوئی عام آدمی نہیں کر سکتاتھا۔  اُس نے امریکہ کو سبق سکھایا ہے—‘
پھر اچانک اس میں تیزی سے تبدیلیاں آنے لگیں۔  شروع شروع میں تیزی سے آنے والی تبدیلیوں کو نہ گھر والے سمجھ سکے، نہ وہ سمجھ سکا— لیکن یہ غیر معمولی تبدیلیاں اس کے اندر کے مسلم جذبات کو بیدار کر رہی تھیں —
اس کے دوست اسے سمجھاتے۔  نماز پڑھا کرو— وہ بھی تو پوجا کرتے ہیں۔  مندر جاتے ہیں۔  تو ہم کیوں پیچھے رہیں۔  ہمیں بھی اپنے مذہب کو ماننا چاہیے— نماز فرض ہے۔  نماز پڑھنے سے مضبوطی ملتی ہے۔ 
یہ نیا ماحول اُسے راس آ رہا تھا—وہ خود نہیں جانتا کہ اُس نے اچانک اپنے اندر کے فیشن پرست اسامہ کا قتل کیسے کر دیا— اب ایک مسلمان اُس کے وجود میں داخل ہو رہا تھا— ممی، پاپا کو فخر سے بتایا کرتیں —
تم نے سنا، وہ نماز پڑھنے گیا تھا—
اچھا—
ہاں، ماشاء اللہ، یہاں آنے کے بعد تو وہ بالکل ہی بدل گیا ہے— اب ضد بھی نہیں کرتا—
اُسے یقین ہے، پاپا کی آنکھیں دیر تک شک سے اُسے دیکھا کرتی تھیں — اُس دن، اس نے پاپا کو ممی سے گفتگو کرتے ہوئے سن لیا تھا—
پاپا کہہ رہے تھے۔  نماز پڑھنا اچھی چیز ہے— مگر اسامہ کے دوست؟‘
ممی نے بات کاٹ دی۔  سب اچھے گھروں کے ہیں۔ 
’نہیں یہ  بات نہیں ہے۔ ‘
پھر کیا بات ہے— کیا اُس کے نماز پڑھنے کی بات سے ڈر گئے ہو—‘
’نہیں — ہاں اُسے یوں کہہ سکتی ہو اچانک اُس میں آنے والی ان تبدیلیوں نے مجھے حیران کر دیا ہے۔  میں اس کی کچی اور نازک عمر سے ڈرتا ہوں رباب— تمہیں یاد ہے، قرآن شریف پڑھانے کے لیے کتنے مولوی رکھے— مگر اُس کو نہیں پڑھنا تھا، اُس نے نہیں پڑھا— مگر اب— یہاں تبلیغی جماعت اور جماعت اسلامی کے لوگ بھی ہیں — جو بہت خاموش طریقے سے ایسے بچوں کی عقل چرا لیتے ہیں۔ ‘
’عقل چرا لیتے ہیں ؟‘
پاپا کچھ سوچ میں ڈوبے تھے— برین واش — مذہب کا خوف دکھا کر وہ ایسے معصوم بچوں کا برین واش کرتے ہیں۔  بس خدا کرے— اسامہ صرف نماز سے ہی مطلب رکھے۔  ان کے چلائے راستوں پر نہ چلے—‘
لیکن اسامہ پاشا اُسی راستے کی طرف چل پڑے تھے۔ 
٭٭
اب سارے منظر گم تھے۔  بدن میں چیونٹیاں سی رینگ رہی تھیں۔  اسامہ پاشا اندر ہی اندر خوف بھی محسوس کر رہے تھے۔  جیل کی سلاخوں سے پھانسی کے پھندے تک، سب کچھ نظروں کے سامنے تھا۔  مگر سب سے بڑا سوال تھا— قصور؟ اس کا قصور کیا ہے؟
کتنی ہی بار اُسے محسوس ہوا، پاپا چلتے ہوئے اس کے دروازے تک آئے، پھر واپس لوٹ گئے—
سناٹا گہرا ہو گیا ہے—
رات آہستہ آہستہ گزر رہی ہے— دل و دماغ میں چلنے والی آندھیاں ایک لمحہ کو رک گئی ہیں — وہ کچھ سوچ رہا ہے۔  کسی نتیجہ پر پہنچنے کی کوشش کر رہا ہے۔  اس سسٹم کے ساتھ وہ زیادہ دن تک نہیں چل سکتا۔  اس سسٹم میں وہ زیادہ دن تک خود کو قید نہیں دیکھ سکتا۔ 
پھر…؟
وہ اس سسٹم کو توڑ دے گا۔  یا اس سسٹم سے باہر نکل جائے گا… آنکھوں میں رقص کرتے ہوئے مناظر اب گم ہو گئے ہیں — یہ آدھا ادھورا فیصلہ ہے—
اور اس فیصلے میں ابھی بھی ہزاروں سوالات بھنور کی صورت اختیار کرتے جا رہے ہیں —
لیکن وہ اس سسٹم سے نکلے گا کیسے؟
گھر چھوڑ دے گا—
’ممی اور پاپا—؟‘
’کیا پولیس اُسے تلاش کرنے کی کوشش نہیں کرے گی؟‘
اور اگر خدا نخواستہ وہ پکڑ لیا جاتا ہے تو…؟
’تب تو یہ یقین اور بھی پختہ ہو جائے گا کہ وہ غلط ہے۔  کیا اُس کے پاس خود کو بچانے کے لیے کوئی اورراستہ ہے—؟‘
وہ اٹھ کر ٹہلتا ہوا دوبارہ کھڑکی کی طرف بڑھا— آسمان پر کانپتا ہوا چاند روشن تھا— چاند کے ارد گرد بادلوں کی شکلیں بنی ہوئی تھیں — یہ شکلیں اُسے جانی پہچانی محسوس ہوئیں —
وہ ایک ٹک بادلوں کے درمیان چھپن چھپائی کا کھیل کھیلتے چاند کا رقص دیکھتا رہا—
شہر سو گیا تھا—
مگر اُس کی نیند غائب تھی—
وہ دوبارہ بستر پر آ کر لیٹ گیا— اب اُسے دونوں پولیس والوں کی یاد آ رہی تھی—
کیا وہ اب تک خاموش بیٹھے ہوں گے—؟
یقیناً وہ کوئی نہ کوئی کارروائی ضرور کریں گے؟
لیکن وہ کس طرح کی کارروائی کریں گے، یہ سوچنے سے اس کا ذہن قاصر تھا—
٭٭٭




پولیس انسپکٹر ورما کے نظریے سے یہ دنیا

تھانے میں اس وقت خاموشی تھی۔  باہر کا دروازہ کھلا تھا— کانسٹبل نرسمہا گیٹ کے باہر کھڑا بیڑی پھونک رہا تھا— گیٹ کے پاس چاند کی روشنی میں دو تین اسکوٹر اور ایک ٹوٹا ہوا رکشہ نظر آ رہا تھا— رات کے بارہ بج گئے تھے۔  انسپکٹر روی ورما گھر کے لیے نکلنے ہی والے تھے کہ نوین کے موبائل نے اُنہیں روک دیا تھا— اُنہوں نے بس اتنا ہی پوچھا—
’اگر وال کہاں ہے؟‘
’وہ ڈیوٹی دے رہا ہے سر—‘
’ٹھیک ہے تم آ جاؤ…‘
میز کی فائلوں کو کنارے کرتے ہوئے وہ کرسی سے اٹھ کھڑے ہوئے۔  کچھ دیر ٹہلتے رہے۔  پھر تھانے کے مین گیٹ پر آ گئے— اس وقت ورما کا چہرہ ہر طرح کے جذبات سے عاری تھا۔  کچھ دیر نظر اٹھا کر وہ آسمان پر رقص کرتے چاند کا تماشہ دیکھتے رہے۔  پھر نرسمہا کو آواز دی—
’کتنی بار منع کیا— بیڑی مت پیا کر— مجھے اس کے دھویں سے پریشانی ہوتی ہے—‘
’آپ جا رہے ہیں سر؟‘ نرسمہا نے جلدی سے بیڑی کے ٹکڑوں کو جوتے سے بجھانے کی کوشش کی—
’نہیں — کچھ پنگا ہوا ہے—‘
’کہاں سر—‘
’وہ— بٹلہ ہاؤس میں —‘
’نوین اور اگروال تو ڈیوٹی پر ہوں گے—؟‘
’نوین آ رہا ہے— تو میرے لیے بھاگ کر دو پان  بنوا لے—‘ ورما نے دس کا نوٹ نرسمہا کی طرف بڑھایا—
نرسمہا پان لینے کے لیے بھاگ کھڑا ہوا— انسپکٹر ورما کا دماغ تیزی سے کام کر رہا تھا۔  بٹلہ ہاؤس اور آس پاس کے علاقے پر ایک مدت سے ان کی نظر تھی— اور وہ اس بات کو اچھی طرح سے جانتے تھے کہ اس علاقے میں ہاتھ ڈالنا، شیر کے منہ میں ہاتھ ڈالنے جیسا ہے۔  سارے معاملے کو مسلمانوں سے جوڑ کر دیکھا جائے گا۔  پھر میڈیا سے حکومت تک اس گونج میں اُن کی اچھی خاصی نوکری بھی جا سکتی ہے— مگر انسپکٹر ورما مطمئن تھے۔  اُنہیں یہاں ٹرانسفر کرا کر لانے والے ریٹائرڈ پولیس کمشنر ابھے کمار دوبے تھے۔  اب انہیں ریٹائرڈ ہوئے بھی دس سال گزر چکے تھے۔  وہ جب بھی پریشان ہوتا، دوبے جی کی چوکھٹ پر حاضر ہو جاتا— دوبے جی پولیس میں رہتے ہوئے بھی سنت آدمی تھے۔  وہ ہمیشہ کہا کرتے—
’ورما— بڑی سے بڑی مشکل میں بھی دماغ کا توازن مت کھونے دو۔  ٹھنڈے دماغ سے کام لو گے تو سب ٹھیک ہو جائے گا—‘
وہ سنگھ کے پرانے آدمی تھے اور اُسے بھی سنگھ میں لانے والے وہی تھے— وہ کہا کرتے تھے—
’سنگھ اب بدل رہا ہے ورما— راجنیتی اور ستّہ کا سواد تو سیکھنا ہو گا— پہلے ہم اُن باتوں سے الگ رہے مگر اب، ستّہ میں پوری بھاگیداری چاہیے— تبھی ہم جس سوشاسن کی بات کرتے ہیں، وہ سپنا پورا ہو پائے گا—‘
’بالکل سہی—‘
’آخر سنگھ کو بھی بدلنے کا ادھیکار ہے نا؟ پوری دنیا بدل رہی ہے— ہم اپنی نیتیوں سے ہارے— اور ۸۳ ورشوں میں بھی وہی رہے— اب یہاں بھی نیتیوں کو بدلنے پر غور کرا جا رہا ہے— وچار دھارا کو نہیں — نیتیوں کو— جانتے ہو۔  ۱۹۲۵ میں سنگھ کی بنیاد ڈالتے ہوئے ڈاکٹر ہیڈ گیوار نے کیا کہا تھا— ہندو سماج کو ایکتا اور سنگٹھن سوٹر میں باندھنا ہی راشٹریہ کاریہ ہے۔  کیونکہ کیول ہندو تو ہی ہندوستان کی آتما ہے۔  ستیہ ہے— اور ہندو تو کے اُتھان کے لیے کیا جانے والا کوئی بھی کاریہ راشٹریہ کاریہ ہے— اور اس طرح— ہم تم سب اس راشٹریہ کاریہ میں سہیوگ دے رہے ہیں۔  بس آنکھیں کھلی رکھو۔  لوگوں کی نظر میں مت آؤ— خاموشی سے راشٹریہ کاریہ کو آگے بڑھاؤ۔ ‘
دوبے جی کی سرد آواز سیدھے ورما کے دل میں اُتر جاتی تھی—
نرسمہا پان لے کر آ گیا تھا۔  آسمان پر ابھی بھی چاند کا رقص جاری تھا— ورما نے گھڑی دیکھی—
پھر گیٹ کے پاس والے برآمدے میں ٹہلنے لگے— ابھے کمار دوبے جی کی محبت میں ہی اس نے پہلی بار سنگھ کے چہرے کو قریب سے جانا تھا— ورنہ وہ تو یہی سمجھتا تھا کہ سنگھ کے لوگ مٹھی بھر ہیں — مگر دوبے جی نے ہی بتایا کہ وہ ساری جگہوں پر سیٹ کیے گئے ہیں — میڈیا میں بھی—  کتنے تو آئی ایس افسر ہیں — سی بی آئی اور ایف بی آئی میں بھی— راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے لوگ ہر جگہ ہیں اور خاموشی سے اپنا کام کرنے پر وشواس رکھتے ہیں۔ ‘
انسپکٹر ورما کی آنکھیں پھیل گئی تھیں —
نوین آ گیا تھا— اُسے لے کر وہ اپنے کمرے میں آ گئے— کرسی پر بیٹھ گئے۔ 
’ہاں اب پوری بات بتاؤ۔ ‘
نوین نے پوری بات بتا دی— پھر سر جھکا کر بولا— 
’آدیش—؟‘
’تو وہ چار تھے—؟‘
’ہاں جی—‘
’نام جانتے ہو—‘
’نہیں —‘
’چہرہ تو پہچانتے ہو گے—؟‘
’ہاں جی—‘
’تم نے اُکسایا…؟‘ ورما کے چہرے پر مسکراہٹ تھی—
’ہے… ہے… نوین شرما گیا— اب آپ تو سب جانتے ہیں۔  آپ کا آدیش ہو تو…‘
’آدیش نہیں —تم نے اُنہیں نہیں اُکسایا نوین— اُن کی گتی ودھیاں آپتّی جنک تھیں — کئی دنوں سے تم اُن کو دیکھ رہے تھے—‘
’رائٹ سر—‘
انسپکٹر ورما کا دماغ تیزی سے کام کر رہا تھا… تو اُن میں سے ایک نے تمہارے سامنے آ کر کہا کہ ہاں وہ ٹیررسٹ ہے— کیا کر لو گے—؟
’ہاں جی—‘
’اور تم نے اُسے پیٹ دیا—‘
’ہاں جی—‘
تم نے نہیں پیٹا— سب سے پہلے اسی نے تم پر ہاتھ اٹھایا۔ 
’رائٹ سر—‘
’وہاں کوئی گواہ…؟‘
’نہیں۔  سر— ساری دکانیں اٹھ چکی تھیں — بس لوگ آ جا رہے تھے—‘
’دو گواہ بنا لو— کسی کو بنا سکتے ہو—‘
وہ ہم پر چھوڑ دیجئے سر جی— ایک تو ملّا ہے کپڑے بیچتا ہے— اور دوسرا وہیں پر آئینہ کنگھی کا ٹھیلہ لگاتا ہے—‘
’دونوں مسلمان ہیں ؟‘
’ہاں جی—‘
’پکّا— تم اُنہیں گواہ بنا لو گے—؟‘
’میرے بائیں ہاتھ کا کام ہے یہ—‘
’گھر جانتے ہو—؟‘
ہاں جی— ایک تو وہیں — پاس کے نالے کے پاس رہتا ہے۔  وہ ٹھیلے والا— اُس سے ملّا کے گھر کا پتہ چل جائے گا—‘
انسپکٹر ورما کسی گہری سوچ میں گم ہو گئے تھے— دلّی بم وسفوٹ سے لے کر مالیگاؤں بم وسفوٹ تک کے ہزاروں واقعات ان کے دماغ میں ناچ گئے تھے۔ 
’پہلے اُن دو گواہوں کو لاؤ— اور اپنی ایف آئی آر نوٹ کراؤ— گھبراؤ نہیں۔  میں گھر فون کر دیتا ہوں کہ میں دیرسے آؤں گا— رات میں ہی پولیس فورس اتارنی ہو گی— میں سب مینیج کر لوں گا—‘
’یس سر—‘
ورما زور سے چیخے— اب یہاں بیٹھا رہے  گا کیا۔  یس سر کیا کہہ رہا ہے— گواہوں کو لاؤ— اور جلدی— باقی میں دیکھ لوں گا—‘
’یس سر—‘
نوین نے اس بار زور سے سیلوٹ کیا جیسے وہ کسی اہم مہم پر نکل رہا ہو— سیلوٹ کرنے کے بعد وہ سرعت سے باہر نکل گیا۔  انسپکٹر ورما کچھ دیر تک خیالوں میں ڈوبے رہے— اُنہیں دوبے جی کی بات یاد آ رہی تھی—
’ہمارے لیے دن اور رات سب ایک برابر ہیں۔  رات میں بھی بپتا آئے تو سیدھے میرے پاس چلے آنا— نوین کے آنے میں وقت تھا— وہ کچھ لمحے دوبے جی کے ساتھ گزارنا چاہتا تھا۔  
انسپکٹر ورما باہر آئے اور نرسمہا کو گاڑی نکالنے کے لیے آواز دی—
٭٭
ابھے کمار دوبے ستّر سال عمر میں بھی کسی نوجوان سے کم نہیں تھے— وہ لیپ ٹاپ پر تھے۔  کچھ دیر تک اِدھر اُدھر کچھ میسج بھیجتے رہے۔  دھوتی  ٹھیک کی۔  کرتے کو پاؤں پر پھیلایا— پھر مسکرا کر انسپکٹر ورما کی طرف دیکھا—
’اچھا کیا چلے آئے۔  گھبراؤ مت— یہ دنیا گھبرانے سے نہیں چلتی ورما— ہمارا ٹارگٹ سیدھا  ہے لیکن ہمارے پاس صبر ہے— دنیا چلانے کے لیے بھی صبر چاہیے۔  ورنہ ۷۰۰؍برسوں تک یہ مسلمان یہاں حکومت نہیں کرتے— اورنگ زیب نے کیا کیا؟ اسلامی حکومت کے لیے اپنے ہی بھائیوں کو مار ڈالا— مسلمانوں کی پوری تاریخ اٹھا کر دیکھ لو— کچھ لوگ کہتے ہیں، سنگھ اپنے وشیوں، اپنے اصولوں میں بھٹک رہا ہے۔  نہیں — ہم اسے ایک مضبوطی دے رہے ہیں۔  ہندو سماج کو سنگھٹ کرنا، شکتی شالی بنانا ہی ہمارا ایک ماتر اُددیش ہے— اب اس دشا میں ہم پہلے سے کہیں زیادہ سکریہ ہوئے ہیں۔  ہمارا مسلمانوں سے کوئی مت بھید نہیں — اس دیش کا ہر ناگرک، اس دیش کی سنسکرتی کا حصہ ہے۔  ان کے پروج بھی ہندو تھے۔  اور اس لیے سنگھ کے دروازے ان کے لیے بھی کھلے ہیں۔ 
دوبے کے ہونٹوں پر مسکراہٹ تھی— ’اس لیے۔  ہم چاروں اور پھیل رہے ہیں ورما— کہیں بھوکمپ آئے یا باڑھ۔  ہمارے سیوک سنگٹھن کے لوگ پہنچ جاتے ہیں۔  ہم نے سویم سیکوں کو اب دیش کی مکھیہ دھارا سے جوڑ دیا ہے— لوگوں کے بیچ جاؤ— اپنے ہونے، اپنی اپستیتھی کو ہر جگہ سدھ کرو۔  آدی واسی چھیتروں میں دیکھو۔  وہاں بھی ہمارا سیوا کاریہ چل رہا ہے۔  چھاتر مز دور سنگھ، اکھل بھارتیہ ودھارتی پریشد سب ہمارے ہی تو پرمکھ سنگٹھن ہیں۔  تمام ورودھی سوروں کے بیچ ستیہ یہ ہے کہ ہم تیزی سے سب جگہ پہنچ رہے ہیں — پہلی بار…‘
دوبے کے چہرے پر ابھی بھی مسکراہٹ تھی، مالیگاؤں دھماکے نے ذرا سا کھیل بگاڑا ہمارا۔  ہمارے ہی لوگ ہمارے ہی دھرم کے ورودھ میں پرچار کرنے لگے… وہ آئی ٹی ایس ادھیکاری… لیکن جانے دو— ایسا ہوتا ہے ورما— یہ ہم بھی جان رہے تھے— ایک دن ایسا کچھ ہو سکتا ہے۔  لیکن ہم یہ بھی جان رہے ہیں کہ سمسیاؤں کے اس دیش میں ان باتوں کو بھلانے میں بھلا کتنا وقت لگے گا— لابھ ہمیں ہی ہو گا— پہلے سے کہیں زیادہ ہم چاق و چوبند ہو جائیں گے—‘
وہ ابھی بھی لیپ ٹاپ پر کام کر رہے تھے… کام کرتے کرتے بولتے بھی جا رہے تھے— ورما کو پتہ تھا کہ دوبے اکارن لیپ ٹاپ پرنہیں بیٹھے ہیں۔  اس درمیان انہوں نے اس مدعے پر نہ جانے کتنے کاریہ کرتاؤں کو میسج بھیج دیا ہو گا۔  اب اُسے ہمیشہ کی طرح دوبے جی کے آدیشوں کا پالن کرنا ہو گا۔  اُس نے اپنا مسئلہ دوبے جی کے حوالے کر دیا تھا— اور اب وہ مطمئن تھا— اُسے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں تھی—
دوبے کسی سے باتیں کر رہے تھے۔  باتیں کرنے کے بعد وہ مطمئن تھے۔  مسکرا کر اس کی طرف دیکھا—
’سب سے بڑی مضبوطی ہیں یووا— جانتے ہونا— اُن کے یوواؤں کو کمزور کر دو کہ وہ سر بھی نہ اٹھا سکیں اور ہم اپنے یوواؤں کو مضبوط کریں —کم کو زیادہ جانو بچے… آگے کے آدیش تم کو ملتے رہیں گے اور جب تک ضروری نہ ہو، فون مت کرنا—‘
نوین کا فون آ گیا تھا— دونوں گواہ مل گئے تھے۔ 
اب اُسے آگے کی کارروائی کو انجام دینا تھا—
٭٭
صبح پانچ بجے کے آس پاس ابھے کمار دوبے نے دوبارہ انسپکٹر ورما کو فون کیا—
’ابھی دو دن تک اس کارروائی کو ٹال دو—‘
’لیکن سر…‘
’لیکن ویکن کچھ نہیں — اوپر سے یہی فیصلہ آیا ہے— ابھی وہاں کے حالات پر ایک نظر ڈالو۔  جلد بازی سے بنا بنایا کھیل بگڑ سکتا ہے—‘
’یس سر—‘
’تیل اور تیل کی دھار پر نظر رکھو— آگے کی اطلاع تمہیں دے دی جائے گی…
’یس سر—‘
فون ڈس کنکٹ ہو گیا تھا—
انسپکٹرورما کے لیے موجودہ حالات پر نظر رکھنے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں تھا—
٭٭٭





سراغ سے قبل۔ (ب)

یہاں خیریت بالکل نہیں ہے…




 (1)

بس ایک رات… اور ایک رات میں زندگی بدل گئی تھی— یا یوں کہیں کہ ایک خوفناک رات نے ہماری قسمت پر اندھیرے کی مہر لگا دی تھی…
میں ایک بار پھر آپ کے سامنے ہوں۔  میں یعنی ارشد پاشا— میں اس کہانی کا گواہ بھی ہوں — لیکن اس سے پہلے اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ مجھے لکھنے کا ہنر نہیں آتا— میں کوئی کہانی کار یا ناول نگار نہیں کہ ہر واقعہ یا حادثہ کو مرچ مصالحہ لگا کر آپ کے سامنے پیش کر دوں۔  یوں تو میں ایک صحافی ہوں۔  پیشے سے صحافی، لیکن صحافت اور تخلیق کے درمیان ایک مضبوط دیوار ہمیشہ حائل رہی ہے۔ 
تخلیق کار ایک یوٹوپیا میں جیتا ہے۔  ایک خیالی دنیا آباد کرتا ہے اور مجھے اس یوٹوپیا میں رہنے کا ہنر نہیں آتا۔ 
میرے پاس حقیقت کے علاوہ کوئی خیالی دنیا نہیں ہے— اس لیے پچھلے صفحوں میں آپ نے میرے اناڑی پن کا جائزہ لیا ہو گا … جیسے ممکن ہے، آپ کے ذہن میں یہ خیال پیدا ہو کہ میں ابھے کمار دوبے یا انسپکٹر نوین کے اس منظر کا گواہ کیسے ہوں۔  یا اسامہ کے اندر کی الجھنیں اور اُس کے خیالات سے کیسے واقف ہوں —؟
یا ممکن ہے یہ واقعے اس طرح پیش نہیں آئے ہوں، جس طرح میں نے لکھنے کی ضرورت محسوس کی —
لیکن یہاں آپ کی اس بات سے مجھے اتفاق نہیں ہے۔  ہم صحافی لوگوں کی اپنی دنیا ہے۔  کبھی کبھی حالات کی سرنگ میں داخل ہوتے ہوئے ہم کسی کسی واقعہ کو فرض بھی کر لیتے ہیں کہ ممکن ہے ایسا ہوا ہو— جیسے ریپ، مرڈر یا کوئی سیاسی نوعیت کا سنگین واقعہ— اس واقعہ سے خود کو وابستہ کرتے ہوئے ہم ذہن میں ایک مکمل تصویر بنا لیتے ہیں یا بسا لیتے ہیں — یا پھر کسی بھی سیاسی یا ہنگامی حالات  سے گزرتے ہوئے ہم سب سے زیادہ اُس کی سچائی کو سامنے رکھنے کے لیے پریشان ہوتے ہیں۔  جیسے ثبوت— اے وی ڈینس—
اس لیے یہاں کوئی واقعہ بھی محض ’فرض کر لیا‘ کے اصولوں یا قانونوں پر قائم نہیں ہے— اس کی شہادت یا ثبوت سے گزرتے ہوئے ہی میں نے ان واقعات کو قلم بند کرنے کی ضرورت محسوس کی ہے…
اس طویل تمہید کی ضرورت مجھے اس لیے محسوس ہوئی کہ آپ ان واقعات سے محض سرسری نہ گزر جائیں۔ 
اور اُف… ان سطور کو قلم بند کرتے ہوئے بھی میں کیسی اذیت سے گزر رہا ہوں، یہ میں ہی جانتا ہوں —
ایک اور ضروری بات… کہ میں نے ان واقعات کو آپ تک پہنچانے کا فیصلہ کیوں کیا—؟
اور یہ سب سے ضروری بات ہے…
اور اس کے لیے مجھے آزادی کے ۶۰؍ برسوں کے پر آشوب دور کا حوالہ دینے دیجئے کہ میں خود بھی، اپنی پیدائش کے بعد مسلسل اس آگ میں جلتا رہا ہوں —
میں ارشد پاشا… میں ان سنگین لمحوں کا گواہ ہوں … اور اس گواہی میں خدا کو حاضرو ناظر جانتے ہوئے میں آپ کو بھی شریک کرنے کا جوکھم اٹھا رہا ہوں — اس لیے آنے والے خوفزدہ واقعات سے، گزرنے سے پہلے اس سچ سے بھی گزرنا ہو گا، جس سچ کو بے حد قریب سے میں نے دیکھا ہے۔  محسوس کیا ہے—
اور اس سچ پر صرف میرے جذباتی ہونے کی مہر نہ لگائیے…
میں نے آنکھیں کھولیں تو آزادی کے پندرہ برس گزر چکے تھے۔  لیکن ملک مسلسل فساد کی آندھیوں سے گزر رہا تھا— در اصل آر ایس ایس جیسی تنظیمیں شروع سے ہی میڈیا اور اینٹلی جینس کو اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کر رہی ہیں — اور ایک بڑا مقصد تھا۔  ۷۰۰؍ برس تک حکومت کرنے والے مسلمانوں کو اس ملک میں ڈرا اور دھمکا کر رکھا جائے—
اس لیے جو فسادات سامنے آ رہے تھے، یا جن کی باتیں سنتا ہوا میں بڑا ہو رہا تھا، ان واقعات یا حادثوں کی یورش میں کہیں نہ کہیں میرے اندر کی مضبوطی بھی متاثر ہو رہی تھی— جیسے اپنے ہی ملک کو اپنا کہنے کے لیے بھی وہ مضبوطی میرے پاس نہیں تھی، جو دوسروں کے پاس تھی— لیکن بڑا ہوتے ہوئے ملک سے بے پناہ محبت کے نشے میں، میں ان باتوں کو اپنے وجود سے کھرچنے کی کوشش کر رہا تھا— لیکن آہستہ آہستہ مجھے اس بات کا بھی احساس ہو رہا تھا کہ فتح اور حکومت کے باوجود مسلمانوں کی تاریخ غداروں اور ملک کو بدنام کرنے والوں سے بھی بھری رہی ہے— نادر شاہ، ابراہیم لودھی، میر جعفر اور میر صادق جیسوں کی بھی ایک دنیا ہے۔  اور ایک دنیا پاکستان بنانے کے جنون کی بھی ہے۔  ایک ایسی ڈراؤنی دنیا جس سے ہندستان کے مسلمان کبھی باہر نکل نہیں پائے۔  اس لیے ہندوستان کے عام مسلمانوں کی طرح میں بھی کبھی پاکستان سے محبت نہیں کر سکا— پاکستان میرے لیے ہمیشہ ایک دشمن ملک رہا جس کے قیام نے ہماری صدیوں کی وفاداری پر بھی شکوک و شبہات کی چادر ڈال دی تھی—
بی اماں کی باتیں کانوں میں گونجتی ہیں —
’نوج… یہ پاکستان کا زخم مسلمانوں کی کتنی نسلوں کو سہنا پڑے گا…؟‘
ابا حضور تغلق پاشا کی آواز بوجھل ہو جاتی— ’مسلمان اس پاکستان کے زخم سے کبھی باہر نہیں نکل سکیں گے…‘
فساد اور دنگوں کے ماحول میں بی اماں روتے ہوئے بس ایک ہی بات دہراتیں —
’نوج— جناح کو بھی کیا ضرورت پڑی تھی، پاکستان بنانے کی۔  دیکھ لیا نا پاکستان بنانے کا حشر— جو وہاں کے ہو رہے، وہ بھی مصیبت میں اور جو یہاں رہ گئے وہ اپنی وفاداری کے ثبوت کو ترس رہے ہیں —‘
’ثبوت؟ ثبوت کیوں لائیں ہم…؟‘ ابّا حضور ناراض ہوتے—
’کیا باپ داداؤں کی ہڈیاں کافی نہیں ‘ جو یہیں کی مٹی میں دفن ہیں —‘
’نوج— انگریز تو چلے گئے— لڑانے والے چلے گئے— پھر بھی ہم آپس میں لڑے جا رہے ہیں —‘
٭٭
مسلم دہشت پسندی— میں ارشد پاشا، میں پورے ہوش و حواس میں کنفیس کرتا ہوں کہ یہ لفظ شروع سے ہی مجھے پریشان کرتا آیا ہے— مجھے اُن دہشت پسندوں پر غصہ آتا ہے جو حملہ کرتے ہیں، قتل کرتے ہیں پھر چینلوں کو ذمہ داری لیتے ہوئے میسج بھی بھیج دیتے ہیں — کوئی کوئی آتنک وادی مارا جاتا ہے تو کم بخت اپنی جیب میں اردو میں لکھا ہوا ایک پرچہ بھی چھوڑ جاتا ہے— یہ کیسے دہشت پسند ہیں جو ہر جگہ اپنے ہونے کا ثبوت لیے پھرتے ہیں ؟ اور پھر جب میڈیا مسلمان… مسلمان… چلّاتا ہے تو ٹی وی سے کچھ فاصلے پر اُنہیں دیکھتا ہوا ایک عام مسلمان دہشت اور خوف کا شکار ہو جاتا ہے۔  آئی جی اور ان ٹیلی جینس کے پاس ساری خفیہ سوچنائیں صرف مسلمانوں سے وابستہ ہوتی ہیں — اور ان کے تار پاکستان سے افغانستان، ملا عمر سے اسامہ بن لادن تک جڑے ہوتے ہیں — صدی کے خاتمے تک دہشت پسندی کے ان ہزاروں واقعات نے دوسرے مسلمانوں کی طرح مجھے بھی جکڑ رکھا تھا—
آتنکی مدرسے— مدرسوں میں بم بنائے جا رہے ہیں۔  ہندوستان کے خاص مندر  دہشت پسندوں کے نشانے پر— القاعدہ ممبئی اور دلّی پر حملہ کر سکتا ہے— نیو یارک ٹائمز کی ایک رپورٹ— دلّی میں مسلم آتنک وادی گھوم رہے ہیں۔  مخصوص ایٹمی ٹھکانوں پر دہشت پسندانہ حملوں کا خوف— لشکر طیبہ کا اگلا قدم— ملک کے اہم لیڈران کو ختم کرنے کا پلان— کرکٹ کھلاڑیوں پر حملوں کا اندیشہ۔  گجرات حادثے کے بعد تو اس طرح کی خبرو ں کی ایک قطار لگ گئی تھی— القاعدہ کا ہندوستان کے خلاف جہاد کا اعلان—
حیدر آباد میں ہائی الرٹ— دلّی میں — ممبئی میں ہائی الرٹ… لشکر کے چھ لوگ دلّی میں پکڑے گئے— ڈی کمپنی میں لشکر کا حصہ— جگن ناتھ مندر نشانے پر— انڈین مجاہد نے ذمہ داری قبول کی— سچن تندولکر کو جیش سے خطرہ—
جیش— لشکر— القاعدہ— مسلمان— مسلمان اور صرف مسلمان— میڈیا لاکھ یہ بتانے کی کوشش کرتا کہ یہ نام مسلمانوں کے نہیں ہیں مگر یہ واقعات، مسلسل ہمیں موت کے اندھیرے کنویں میں ڈھکیلنے کے لیے کافی ہوتے— اور مجھے یہ کہنے میں کوئی خوف نہیں کہ جہاد اور دہشت گردی کے یہ خلاصے ملک سے عام مسلمانوں کی طرح مجھے بھی کھوکھلا کر رہے تھے— کہیں انسانی بم، کہیں لشکر، سر پر ٹوپی— چہرے پر داڑھی۔  اسلامی لباس— ایک مذہب دیکھتے ہی دیکھتے آتنک کی فیکٹری بن گیا تھا— اور مجھے غصہ اس بات پر آتا کہ خود کو جہادی کہنے والے ان نوجوانوں کی عمر ۱۵سے۱۷ سال تک کی ہوتی— قوم اور مذہب کو داغدار کرنے والوں سے مجھے نفرت تھی— لیکن اس نفرت کے باوجود کچھ سوالوں کو سمجھنے سے میں ہمیشہ قاصر رہا—
جیسے یہ کہ لشکر، جیش اور القاعدہ کی تربیت پائے ہوئے یہ جہادی ہر جگہ اپنے ہونے کا ثبوت لے کر کیوں گھومتے پھرتے ہیں —؟
یا پھر یہ کہ کیا ان جہادی تنظیموں کو اس سے کوئی مطلب نہیں کہ ان کے کارناموں کی برق عام مسلمانوں پر گر سکتی ہے؟ کیا یہ عام انسانوں کو مارنے والے مجاہد عام زندگی میں، معصوم انسانوں کے قتل کے بعد نماز بھی پڑھتے ہوں گے؟ عبادت بھی کرتے ہوں گے؟
اگر کرتے ہوں گے تو کیوں ؟
کہ اللہ ان کارناموں سے بہت خوش ہو گا—؟
اور شاید اسی لیے ایسے کارناموں کے فوراً بعد یہ جہادی تنظیمیں ایسے گناہوں کی ذمہ داری بھی قبول کر لیتی ہیں۔  چینلوں کو خفیہ پیغامات بھیج کر— اور ایسے پیغام کا نتیجہ کیا نکلتا ہے…؟
کیا ہندوستان کا عام مسلمان بھی دہشت گرد ہے؟
عالمی نقشہ پر صرف اسلامی دہشت گردی رہ گئی ہے اور اسی سے وابستہ خبریں —
اور اسی لیے بٹلہ ہاؤس، دلکشا انکلیو میں وہ رات میرے لیے زندگی کی سب سے خوفناک رات بن گئی تھی—
وہ قصے جسے سنتا ہوا میں عمر کی ۴۸ بہار اور خزاؤں سے گزر چکا تھا، اب اُن قصوں کی اصلیت میرے سامنے تھی— ڈرا سہما ہوا میرا بیٹا اسامہ پاشا—
اور وہ رات—
صبح ہو گئی تھی۔  آس پاس کی مسجدوں سے اذان کی آوازیں آ رہی تھیں — مجھے یقین تھا، بٹلہ ہاؤس میں زندگی لوٹنے لگی ہو گی۔  دکانیں کھلنے لگی ہوں گی۔  لوگ نماز سے فارغ ہو کر دکانوں پر جمع ہونے لگے ہوں گے…
میں صبح کی سپیدی  کا انتظار کر رہا تھا—
کھڑکی سے، سڑک سے گزرنے والی گاڑیوں کے ہارن کے چیخنے کی آوازیں بھی اب سنائی دینے لگی تھیں —
اس درمیان میں نے کرتا پائجامہ تبدیل کیا۔  رباب اٹھ گئی تھی— دروازہ کھولتے ہوئے میں نے صرف اتنا کہا—
’میں باہر جا رہا ہوں —‘
سیڑھیوں سے اترتے ہوئے بھی ذہن میں مسلسل دھماکوں کی گونج تھی—
٭٭٭




(2)

پلیا کے پاس بیرک لگ گئے تھے— اب یہاں ایک پولیس چوکی بن گئی تھی۔  کل تک جہاں صرف دو پولیس والے تھے، اب وہاں صبح ہوتے ہی کئی پولیس والے جمع تھے— 
آس پاس کی دکانیں کھل گئی تھیں۔  چائے والے— جنرل اسٹور— آج کم ہی بچے اسکول جا رہے تھے— سڑک پر کل والی وہ رونق نہیں تھی—
صبح کے چھ بج گئے تھے— چائے کی دکانوں پر مسجد سے نماز کے بعد لوٹے ہوئے لوگ جمع تھے۔  رات کی واردات کا قصہ سب کی زبان پر تھا— پولیس کو گالیاں دی جا رہی تھیں — چائے والا اک ایک کر کے سب کو چائے بڑھاتا جا رہا تھا— گفتگو آہستہ آہستہ زہریلی ہونے لگی تھی—
’وہ چار بچے تھے—‘
’ہاں —‘
’کیا پولیس کوئی کاروائی نہیں کرے گی؟‘
’کرے گی کیسے نہیں۔  آج ہی دیکھ لینا—‘
’لیکن ان بچوں کی غلطی کیا تھی—؟‘
’مسلمانوں کی غلطی کیا ہوتی ہے— لیکن ہر جگہ مسلمان ہی تو نشانے پر ہیں —‘
’اگر وہ بچے قصوروار نہیں ہیں اور اگر فرض کر لیا ان بچوں پر کوئی مصیبت آتی ہے تو کیا ہم کچھ نہیں کر سکتے؟‘
’کل ہمارے بچوں کی بھی باری آ سکتی ہے—‘
’لیکن یہ بھی سوال ہے کہ اگر پولیس والے خاموش نہیں بیٹھتے، تو پھر— وہ ان بچوں کے خلاف کیا کارروائی کرتے ہیں ؟‘
’اور اس سے بھی بڑا سوال کہ جب ان بچوں نے کچھ کیا ہی نہیں تو پولیس کارروائی کی ضرورت ہی کیوں پیش آتی ہے؟‘
’سیدھا جواب ہے، پولیس مسلمانوں کو پریشان کرنا چاہتی ہے—‘
’اور پریشان اس لیے کرتی ہے کہ باقی لوگ منہ سی کر اپنے اپنے گھروں میں دبک جاتے ہیں —‘
’یہ کانگریس، بی جے پی سے زیادہ خطرناک ہے—‘
’لیکن اگر پولیس ان بچوں کے خلاف کوئی کارروائی کرتی ہے تو ہمیں کیا کرنا ہو گا—؟
کچھ لوگ غصے میں تھے— چائے کی دکان پر آنے والے لوگوں کی تعداد بڑھتی جا رہی تھی— ان میں زیادہ تر لوگوں سے علیک سلیک تھی— مگر ابھی گفتگو کا وقت نہیں تھا—
تنگ گلیوں سے گزرتا ہوا، سلام میڈیکل اسٹور سے قبرستان تک آنے میں مجھے نصف گھنٹہ سے زیادہ لگا تھا۔  اس درمیان چہل پہل بڑھ گئی تھی—
۹ بجے کے آس پاس زیادہ تر دکانیں کھلنی شروع ہو گئیں۔  رکشہ والے، سائیکل والے، گاڑی، ٹرک… اور فٹ پاتھ پر دکان سجانے والوں کا ہنگامہ شروع ہو گیا— ٹوپیوں کی دکان، چھوارے اور ڈرائی فرٹس بیچنے والے، سستے داموں میں سلے سلائے کپڑے بیچنے والے— چوڑیاں، کھلونے، پھل اور سبزیوں کے لیے آواز لگانے والے— چوراہے پر ٹریفک کا بڑھنا شروع ہو گیا تھا—
حنیف چائے والے نے آواز دے کر مجھے روک دیا تھا—
’سلام بھائی—‘
’وعلیکم السلام—‘
’یہ کیا سننے میں آ رہا ہے؟‘ چاروں طرف دیکھتا ہوا اُس نے پھسپھساتے ہوئے میری طرف دیکھا—‘
حنیف چائے والا ضرور تھا مگر ا س کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ اچھا شاعر بھی ہے— مگر تقدیر کی مجبوری—
’کیا سننے میں آ رہا ہے؟‘
’آپ کو تو سب معلوم ہے…‘ حنیف نے آہ کھینچ  کر شعر پڑھا—
’مٹی کی محبت میں ہم آشفتہ سروں نے
وہ قرض چکائے ہیں کہ واجب بھی نہیں تھے‘
’اس کی تیوریاں چڑھ گئی تھیں — بس مسلمان چوڑیاں پہن کر بیٹھے رہیں۔  یہی چاہتی ہے نا حکومت— اور یہ پولیس— لیکن آپ گھبرائیے مت— کسی کو کچھ نہیں ہو گا—‘
میں نے وہاں ٹھہرنا مناسب نہیں سمجھا— در اصل میں اس کی طرح باتوں یا افواہوں سے بچنا چاہتا تھا— اب میں گھر واپس لوٹ رہا تھا— مگر مجھے اس نئے دن  کی صبح میں وحشت اور دہشت کے گھنگھرو نظر آ گئے تھے—
اور یہ کہنا زیادہ مناسب ہو گا کہ میرے اندر دھماکوں کی گونج اب تک کچھ زیادہ ہی بڑھ چکی تھی—
٭٭
صبح ناشتہ سے سارا گھر فارغ ہو چکا تھا— کرتا پائجامہ پہن کر اسامہ کمرے سے باہر نکلا—
اس سے پہلے کئی فون آ چکے تھے— راشد اور علوی کے پاپا کا فون— سب کے لہجے میں تشویش کے بادل چھپے ہوئے تھے۔ 
راشد کے پاپا نے بتایا—
’راشد آج اسکول نہیں گیا—‘
’اسامہ بھی نہیں —‘
’آپ کو کیا لگتا ہے؟‘
’میں کسی خوش فہمی میں نہیں ہوں۔  لیکن پھر بھی لگتا ہے، ماحول کچھ زیادہ بہتر نہیں ہے۔  دھماکے کبھی بھی ہو سکتے ہیں۔ ‘
علوی کے پاپا نے پوچھا تھا—
’کیا ہندو آتنک واد کا اگلا ٹارگٹ ہمارا یہ محلہ ہے؟‘
میں نے آہستہ سے کہا تھا— ’آتنک واد کو مذہب سے جوڑنا ابھی مناسب نہیں۔  جو غلطیاں اس وقت پوری دنیا کر رہی ہے، کوئی ضروری نہیں وہ غلطیاں ہم بھی کریں —‘
علوی کے پاپا غصے میں تھے— ’غلطیاں، مسلم آتنک واد اور اسلامی آتنک واد کا نعرہ بلند کرنے والوں کے لیے آپ محض غلطیوں جیسا لفظ استعمال کر رہے ہیں ؟ یہ ایک ناجائز سیاست ہے، جہاں مٹھی بھر یہودیوں نے پوری دنیا کے مسلمانوں کو آتنک کے ہتھیار سے جوڑ دیا ہے—‘
میں نے فون  رکھ دیا— اسامہ میری طرف دیکھ رہا تھا— 
کیا آپ بھی مانتے ہیں کہ ہم نے کوئی غلطی کی؟‘
’نہیں —‘
عشا کی نماز پڑھنا جرم تھا—؟
’نہیں —‘
’نماز کے بعد کیا اپنے ہی محلے میں گھومنا کوئی غلطی تھی؟‘
’نہیں —‘
’کیا ٹوپی پہننا، کرتا پائجامہ پہننا اس ملک کے سنو دھان کے خلاف ہے؟‘
’نہیں —‘
’پھر وہ کیا کر سکتے ہیں —؟ گالی اُس پولیس والے نے دی تھی۔  راشد نے صرف اپنا بچاؤ کیا تھا—‘
’ہاں —‘
’کیا ہمیں وہ ٹارگٹ کر سکتے ہیں ؟‘
میں اچانک چونک گیا تھا— ساری رات جاگنے کی وجہ سے اُس کی آنکھیں پھولی ہوئی تھیں —
’اچھا، وہ کیا ٹارگٹ کر سکتے ہیں۔  انکاؤنٹر؟‘ وہ میری آنکھوں میں جھانک رہا تھا— لیکن وجہ…؟
’کچھ کرنے کے لیے وہ وجہ بھی لے آتے ہیں اور ثبوت بھی—‘
’جیسے ہمیں سیمی کا ممبر بتا دیں گے— یا پھر کسی دوسرے اسلامک یوتھ آرگنائزیشن سے جوڑ دیں گے…‘ وہ آہستہ آہستہ بڑبڑا رہا تھا— وہ ایسا کر سکتے ہیں — کیونکہ وہ ایسا کرتے رہے ہیں —‘
اسامہ اب میری آنکھوں میں جھانک رہا تھا— ’لیکن اب میں نے فیصلہ کر لیا ہے— میں کہیں نہیں جاؤں گا۔  جیسا کہ آپ سوچ رہے ہیں — میں یہیں اسی گھر میں رہوں گا— میں نے ساری رات سوچنے کے بعد یہ فیصلہ کیا ہے۔  آخر کیوں ڈر ڈر کے زندگی گزاریں ہم؟ ہم مسلمان ہیں — آتنک وادی نہیں — سڑک پر دھول میں سنے کتّے اور مسلمانوں میں فرق ہے— غلطی یہ ہوئی کہ میڈیا اور سیاست اسلامی آتنک واد، مسلم آتنک واد چیختی  رہی اور آپ سیکولرزم کا لباس پہن کر تماشہ دیکھتے رہے— مسلم قیادت داغی ہوئی آتش بازی کی طرح ہے— اس لیے ہر حکومت لالچ دے کر اُنہیں اپنے آئین اور منصوبوں میں اتارتی رہی ہے۔  میڈیا کا سچ ہم جان چکے ہیں — اور آپ یہ مت بھولیے کہ آپ اس ملک میں ۲۰ ؍کروڑ سے زیادہ ہیں — اس لیے کہیں نہ کہیں لڑنے کے لیے عام مسلم ذہن یا طاقت کو سامنے آنا پڑے گا—‘
رباب اور میں سہمے ہوئے انداز سے اسامہ کا چہرہ پڑھ رہے تھے۔  اس ننھے سے اسامہ میں اپنے وقت کی سیاست زندہ ہو گئی تھی۔  ہم ان چھوٹے معصوم بچوں سے وہ سچ چھپانا چاہتے تھے اور یہ بچے انٹر نیٹ، کتابیں، اور میڈیا سے گزرتے ہوئے اس سچ کو کہیں بہتر طور پر ہم سے زیادہ جانتے تھے۔ 
’پلک جھپکتے بڑھاپے میں پاؤں رکھتے ہیں 
ہمارے عہد کے بچے جواں نہیں ہوتے‘
اب تشویش اس بات کی تھی کہ کیا سچ مچ پولیس کی جانب سے کوئی کارروائی نہیں ہو گی—؟
کیا پولیس والے کل رات کے واقعات کو بھول جائیں گے؟
ایسا لگتا نہیں تھا—
مجھے تھاپڑ کا انتظار تھا— اُس نے آنے کا وعدہ کیا تھا—
٭٭٭



(3)

انسپکٹر ورما پوجا کمرے سے نکلے تو ڈائننگ ٹیبل پر ناشتہ لگ چکا تھا— چپاتی، کٹہل کی سبزی، اچار—
’دہی کہاں ہے…؟‘ وہ چیخے—
’آج دہی کے بغیر بھی کھالو—‘
ورما نے زور سے تھالی میز پر پٹخ دی— سارا دن گھر میں رہتی ہو— جانتی ہو دہی کے میں بغیر نہیں کھاتا—‘
اٹھ کر اپنے کمرے میں آ گئے۔  آج ورما کو ہر بات پر غصہ آ رہا تھا— کم بخت یہ نوکری ہی ایسی ہے کہ غصے کے بغیر گزارا نہیں — لیکن کل رات تک جس بات کو انہوں نے بہت آسانی سے لیا تھا، اب وہی باتیں اُنہیں پریشان کر رہی تھیں — اس محلے پر ہاتھ ڈالنا آسان نہیں۔  اُس محلے کی اپنی ایک سیاست ہے۔  دوبے بابا کا دماغ چل گیا ہے۔  آخر وہ بھی تو اتنے دنوں سے سنگھ کی سیاست میں ہیں۔  لیکن کیا ملا؟ ایک بڑے پروموشن کو وہ اب تک ترس رہے ہیں —
ورما جانتے تھے کہ کوئی بھی غلط قدم اُن کے لیے بھاری پڑ سکتا ہے۔  اس لیے کہ ادھر کچھ عرصے میں سنگھ کے کئی لوگ بے نقاب ہو چکے تھے۔  خاص کر بھیونڈی بم بلاسٹ کے حادثے میں تو آر ایس ایس کے ایک بڑے پرچارک کا نام بھی سامنے آ چکا تھا— اور ایسی ہر کارروائی کے بعد سنگھ ایک پرانا بیان جاری کر دیتا کہ سب کچھ حکومت کے اشارے پر— یا ہندو سنگٹھنوں کو بدنام کرنے کی ایک اور سازش— وہ گھر سے نکلنے کے لیے تیار تھے لیکن باہر سے بجنے والی گھنٹی کی آواز سن کر رُک گئے—
پتنی نے خبر دی— ڈاکٹر متّل آئے ہیں —
ورما ڈرائنگ روم میں آ گئے— ڈاکٹر متل کے ساتھ آہو جہ بھی تھا۔  کپڑوں کے شو کئی روم تھے آہو جہ کے— ڈاکٹر متل نے زور سے کہا—
’جے شری رام…‘
ورما مسکرائے— ’دوبے سے مل کر آ رہے ہیں —؟‘
’ہاں — سوچا— آپ سے بھی ملتا جاؤں۔  کیا خبر ہے— ؟‘
متل اور آہو جہ صوفے پر بیٹھ چکے تھے۔  پتنی چائے اور نمکین لے کر آ گئی تھی—
’خبر تو آپ کو معلوم ہو گی—‘
’ہاں —‘ آہوجہ نے ٹھنڈی سانس بھری—
ورما نے چائے کا گلاس اٹھا لیا— ’دوبے جی سمجھتے ہیں کہ یہاں ہاتھ ڈالنا کوئی بچوں کا کھیل ہے۔ ‘
’بچے بھی ہتھیار سے کھیلتے ہیں آج—‘ آہو جہ کا چہرہ سنجیدگی میں ڈر رہا تھا— مسلم طاقتوں کو کمزور کرنے کے لیے جدو جہد تو جاری رکھنی ہو گی نا… انہیں چاروں طرف سے تو ڑنا ہے۔  اور اتنا توڑنا ہے کہ…‘
’جیسے آپ چکن کی ہڈیاں توڑتے ہیں — بلکہ چباتے ہیں —‘ ڈاکٹر متل نے قہقہہ لگایا— پھر چپ ہو گئے—
’مجھے معلوم ہے، معاملہ اتنا آسان نہیں — مگر کرنا تو ہے— بھیونڈی دھماکے میں اے ٹی ایس کی جانچ نے رخ ہماری طرف موڑ دیا ہے۔  ابھینو بھارت جیسے سنگٹھن بھی سامنے آ گئے ہیں۔  جنتا چپ ہے۔  مگر ایسا لگتا ہے جیسے وہ بھی ان آشنکاؤں سے پیڑت ہے کہ کہیں کیا سچ مچ مسلم آتنک واد کی آڑ میں ہندو آتنک واد تو کام نہیں کر رہا—؟‘
’سب کہنے کی باتیں ہیں —‘ آہو جہ نے گلاس خالی کر دیا تھا۔ 
’آپ سنیے تو— سب کہنے کی باتیں نہیں ہیں —‘ ورما نے سگریٹ سلگا لیا— جان پر ہماری بنتی ہے۔  مورچہ ہم سنبھالتے ہیں۔ ‘
ڈاکٹر متل سنجیدہ تھے— ’ہندو آتنک واد کی اس بحث میں آر ایس ایس کی بھومیکا کو لے کر اب سوال اٹھنے لگے ہیں۔  یہ مت بھولیے کہ پورا میڈیا آپ کا نہیں ہے— اور میڈیا میں سب کو آپ نہیں توڑ سکتے۔  یہاں کانگریس بھی ہے۔  ہمارے لوگ بھی بک جاتے ہیں — اب پچھلے بم دھماکوں کی فائلیں بھی کھولی جا رہی ہیں — اور جیسے جیسے یہ فائلیں کھلیں گی، ہندو آتنک واد کا مدعا تو سامنے آئے گا ہی—‘
’وہی تو— اب راجستھان کے دھماکوں کو ہی لیجئے— اینٹی ٹیررسٹ اسکواڈ کی جانچ میں ہندو نوجوان ہی سامنے آئے — اور شاید پہلی بار میڈیا میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ صرف آر ایس ایس یا سنگھ ہی نہیں، ہماری ہزاروں شاخیں ہیں جو اس وقت خاموشی سے پورے ملک میں کام کر رہی ہیں۔ ‘
آہوجہ کرسی پر اڑ گئے— ’بی جے پی آ گئی تو میڈیا نئے سرے سے اپنا گنت چلائے گی— لوگ بے وقوف ہوتے ہیں — جو خوراک دو وہی یاد رکھتے ہیں —‘
’لیکن تب تک دیر ہو چکی ہو گی—‘ ورما نے متل کو غور سے دیکھا— یہ مت بھولیے کہ ہماری جلد بازی کی کارروائیوں کی وجہ سے کئی لوگ ہمارے سنگٹھنوں سے پلّہ جھاڑ چکے ہیں۔  کئی ایسے معاملے ہیں جہاں ہم آج بھی ایک نہیں — خاص کر کشمیر کے معاملے کو لے کر تو ہمارے سنگٹھنوں میں الگ الگ رویے پائے جاتے ہیں —‘
’ابھی مخالفت کا وقت نہیں ہے— دوبے جی آج کئی ادھیکاریوں سے مل رہے ہیں۔  شام تک آپ کو پوری رپورٹ مل جائے گی— مگر ہاں ساودھانی شرط ہے—‘
’ساودھانی کے باوجود میڈیا جینے کہاں دیتا ہے— اور یہ مت بھولیے کہ اس میڈیا کے ساتھ ایک اور میڈیا بھی ہے—‘
’ایک اور…؟‘
’اردو میڈیا—‘
آہوجہ ہنسے— ’اردو اخبار پڑھتا ہی کون ہے؟ بکتے ہی کتنے ہیں ؟ اور ان کے پاس اپنا کوئی چینل بھی نہیں —‘
’لیکن اُن کی آواز سیدھے سرکار تک پہنچتی ہے۔  آج یہی میڈیا سرکار بنواتی اور گراتی ہے—‘
ڈاکٹر متل سنجیدہ تھے— ’یاد ہے۔  پچھلے سال ناجائز مکانوں کو توڑنے کی بات چلی تھی— بلڈوزر تک آ گئے تھے۔  لیکن کیا ہوا— سرکار ہی پیچھے ہٹی— کیونکہ معاملہ ایک بڑے ووٹ بینک کا تھا—‘
ورما ہنسے— ’اُس ایریا میں ایک مکھی بھی کسی کو کاٹتی ہے تو خبر بن جاتی ہے—‘
مگر دلّی کو ہلانے کے لیے تو سیندھ اُسی ایریا میں لگانا ہے۔  سیمی کا نام پہلے بھی اُس علاقے سے جڑ چکا ہے—‘
آہو جہ نے گھڑی دیکھی—
ڈاکٹر متل ابھی بھی سنجیدگی سے سوچ رہے تھے— ’مسلمانوں کے کھاؤ پکاؤ نیتاؤں کو خاموش کرنا ہمارے لیے مشکل نہیں — یہ دو تین دن تک اپنی قوم کے لیے بھاشن بازی تو کریں گے پھر ہماری جیب میں آ جائیں گے— یہ پتہ ہے— مگر ساودھانی شرط ہے— اس لیے  پھر کہوں گا— اب کسی بھی صورت میں ہمارے سنگٹھن کا نام سامنے نہیں آنا چاہیے— اور— کوئی بھی کڑی کمزور نہیں ہونی چاہیے کہ شک کی سوئی ہماری طرف گھوم جائے— اس لیے ہر قدم ناپ تول کر رکھنا ضروری ہے۔ 
ورما نے غصہ سے ڈاکٹر متل کو گھور کر دیکھا— ’ہم میں سے کون ہے جو  قدم پھونک کر نہیں رکھتا— اور مت بھولیے کہ چوک کبھی بھی کسی سے بھی ہو سکتی ہے—‘
آہو جہ ہنسے— ’اب تک سات گیلنٹری ایوارڈ لے چکے ہو— تم تو غلط کی بات مت ہی کرو تو بہتر—‘
پتنی چائے اٹھانے آ گئی تھی— ورما زور سے چلّائے—
’ہر کام الٹا— دیکھتی نہیں ہم بات کر رہے ہیں —‘
’ارے اپنا غصہ بھابھی پر کیوں نکالتے ہو—‘
لیکن ورما کو ابھی بھی غصہ آ رہا تھا—’گھر میں آنے کے بعد ایسی جاہل عورت سے واسطہ پڑا ہے کہ…‘
’میں تو سہی میں جاہل ہوں اور آپ— پتنی سے کوئی ایسے بات کرتا ہے—‘
’اب بھاگتی ہے یا نہیں —‘ ورما غصے میں چلائے—
’دیکھیے…‘ پتنی رو رہی تھی— یہ ہمیشہ ایسے ہی بات کرتے ہیں۔  ساری اکڑ ہم کو ہی دکھاتے ہیں —‘
ورما اندر ہی اندر اُبل گئے تھے— غصے میں اٹھے— بیوی کو زور سے باہر کی طرف دھکّا دیا— متل نے تھاما نہیں ہوتا وہ سامنے پڑی میز سے ٹکرا کر گر گئی ہوتی—
’اب جائیے بھابھی۔  میں اسے سنبھالتا ہوں —‘
متل نے دروازہ بند کیا— ’تمہیں باہر کی عورتوں کی کچھ زیادہ ہی عادت پڑ گئی ہے ورما— جس کسی کو بھی ایسی عادت پڑ جائے…‘
آہوجہ نے ہنس کر جملہ پورا کیا— اُسے اپنے گھر کی دال پسند نہیں آتی—‘
’اور بریانی بھی—‘ متل نے زور کا قہقہہ لگایا—
باہر سے ابھی بھی ورما کی پتنی کے بولنے بکنے کی آواز آ رہی تھی— مگر ورما— وہ کچھ سوچنے میں مصروف تھا— اُس نے پلٹ کر متل کی طرف دیکھا—
’ہاں — تم بتا رہے تھے کہ دوبے…‘
’آج وہ سنگھ کے لوگوں سے ملنے والے ہیں …‘
٭٭٭



(4)

وہ ایک بڑا سا ہال تھا— کئی صوفے لگے تھے۔  دیوار پر بڑی بڑی پینٹنگز اس بات کی گواہی دے رہی تھیں کہ صاحب خانہ کو مصوری سے عشق ہے۔  کیونکہ یہ پینٹنگز نہ صرف اوریجنل تھیں بلکہ ایسے مصوروں کی شاہکار تھیں، ایک دنیا جن سے واقف تھی— ہال میں چار پانچ کمپیوٹر لگے تھے، جن پر ابھی بھی بیٹھے ہوئے لوگ کچھ سرچ کرنے میں مصروف تھے— میز پر دنیا بھر کے اخبارات پڑے تھے— ان لوگوں میں سپرویزن انڈسٹری کے مالک کانجی بھائی بھی تھے۔  زیادہ تر لوگ دھوتی میں تھے۔ 
چائے آ گئی تھی— دھواں دھار بحث کے بعد یہ لوگ خاموشی سے چائے پینے لگے تھے—
ٹی راگھون پیشے سے وکیل تھے۔  نٹ راجن کا ایک چینل میں شیئر تھا— ڈاکٹر راما مورتی کے کئی ٹرسٹ اور ہاسپٹل دلی سے ممبئی تک پھیلے ہوئے تھے— کاشی بھائی ایک فلم کمپنی کے مالک تھے— اشوک نمانی پیشے سے جرنلسٹ تھے— ایک بڑے جرنلسٹ— اور اس وقت یہ تمام لوگ اشوک نمانی کے ہی گھر میں اکھٹا ہوئے تھے—
’دوبے جی، آپ اتنا ڈرتے کیوں ہیں —؟‘ کانجی بھائی نے میز سے اپنی چائے اٹھاتے ہوئے کہا—
’آپ لوگ ساری ذمہ داری مجھ پر دے دیتے ہیں اور پوچھتے ہیں کہ کیوں گھبراتا ہوں —‘
’بھائی— یہاں کسی ایک کی ذمہ داری تو ہے نہیں — آپ سب سے بزرگ ہیں اور تجربہ بھی سب سے زیادہ آپ کو ہے— پھر سنگھ میں آپ کے مشورے نہ صرف چلتے ہیں بلکہ مانے بھی جاتے ہیں —‘
’لیکن میری کوئی سنتا کب ہے—؟‘
’کون نہیں سنتا آپ کی؟ راگھون زور زور سے ہنسا— ’ کس کی مجال؟‘
کاشی بھائی بولے— ’آپ کے لیے سب سے اچھی بات یہ ہے کہ آپ ابھی تک میڈیا کی نظر میں نہیں آئے—‘
’اور میں آنا بھی نہیں چاہتا—‘ ابھے کمار دوبے نے شانت لہجے میں کہا—‘
اشوک نمانی سنجیدہ تھے— ’جتنا الجھائیں گے، الجھیں گے— میڈیا چار دن شور کرتی ہے— پانچویں دن لوگ بھول جاتے ہیں — اب سوچنا یہ ہے کہ چلیں کہاں سے—‘ اشوک نمانی اٹھ کر سامنے والی کرسی پر آ گئے—
’آج سے چھ مہینے پہلے دلّی میں بم دھماکے ہوئے— اب دیکھنا یہ ہے کہ اگر اس ایریا کے مسلمانوں کو… ٹارگٹ کیا جاتا ہے تو کیا ا س کا رخ دلّی دھماکوں سے جوڑا جا سکتا ہے…؟‘
ابھے کمار دوبے سوچ میں ڈوبے تھے— ہاں ہو سکتا ہے— اُس وقت کی پوری کیس اسٹڈی پھر سے دیکھنی ہو گی—‘
’وہ مصطفی خان ایم ایل سی…‘
’وہاں کانگریس کے کئی دوسرے لیڈر بھی رہتے ہیں —‘
اشوک نمانی زور سے ہنسے— ’جو ہوتا ہے اُسے ہونے دیجئے— پچھلے ۶۰؍ برسوں سے ہم یہی تو کرتے آئے ہیں۔  خفیہ ایجنسیوں نے کبھی حکومت کو ہماری رپورٹ دی کہ ہم کیا کرتے رہے—‘
’مگر اب تو مالیگاؤں اور بھیونڈی حادثے کے بعد ہماری سچائی سامنے آ گئی ہے—‘
’اسے جنتا کے دماغ سے بھلا دینا دو سکنڈ کی چیز ہے—‘ اشوک نمانی چٹکیاں بجاتے ہوئے بولے— یہ جو پبلک ہے، سارے گناہ بھول جاتی ہے— میڈیا کو چلانے دیجئے اور آپ اپنا کام کرتے جائیے—‘
’ہم سب خاموشی سے ہی تو اپنا کام کر رہے ہیں —‘ یہ کانجی بھائی تھے۔ 
’پچھلی بار جو ہوا— وہ سنگھ کے سمر تھک منیش بھائی سرخیوں میں آ گئے۔  سنگھ نے کیا کیا اُن کے لیے؟ راگھون نے پوچھا— 
’سنگھ نے اخباری بیانات جاری کیے— کیے کہ نہیں —‘ ابھے کمار دوبے نے گھوم کر دیکھا— اور سنگھ اس کے علاوہ کیا کر سکتا تھا اور یہ مت بھولیے کہ…‘
وہ کہتے کہتے رک گئے—
’آگے بولیے— زبان کیوں بند ہو گئی—؟‘
’وہ ہم سے زیادہ موساد کا آدمی ہے— ہم دونوں کا ایک ہی راستہ ہے لیکن میں پھر کہتا ہوں۔  ہمیں موساد والوں پر آنکھ موند کر بھروسہ نہیں کرنا چاہیے—‘
’یہ کوئی نئی بات نہیں بتائی آپ نے— ہم میں سے کئی لوگوں کا تعلق موساد سے ہے۔  آخر سنگھٹن کو پیسے بھی تو چاہئیں۔  دیش بھر میں چلنے والی ۴۵؍ ہزار شاخوں کو پیسہ ہماری جیب میں سے تو نہیں آئے گا نا…‘
’درست—‘ کانجی بھائی بولے—
’اس لیے بے بنیاد باتوں کو بستے میں رکھیے— اور مدعے پر آئیے—‘
اشوک نمانی نے گھوم کر سب کی طرف دیکھا— دلّی بم دھماکے کو ابھی زیادہ عرصہ نہیں ہوا ہے۔  لوگ بھولے نہیں ہیں۔  ہم ایک بار اس ایریا پر ہاتھ رکھ دیں گے تو اُنہیں جڑ سے اٹھنے میں دسیوں سال لگ جائیں گے—‘
’پھر کوئی دوسرا دھماکہ کرادیں گے—‘ نٹ راجن نے ہنستے ہوئے خالی گلاس میز پر رکھ دیا—
’ہم اپنے مول برہموادی ایجنڈے سے نہیں ہٹ سکتے۔ ہمیں اکھنڈ بھارت بھی چاہیے— اور ستّہ بھی— راستہ کٹھن ہے۔  لیکن راستہ ان جیسی کوششوں سے ہی ہو کر گزرتا ہے‘
’آپ جو بھی نڑ نے لیں گے ہمیں منظور ہو گا— اس بار بھی پوری گھٹنا کا ریموٹ کنٹرول آپ کے ہاتھ میں ہو گا—‘
یہ اشوک نمانی تھے—
’تو پھر ہم پر بھروسہ رکھیے—‘ ابھے دوبے نے سب کی طرف دیکھا— ’جب تک ہمارے ہتھیار بھترے نہیں ہو جاتے ہم اُنہی پرانے ہتھیاروں سے کام لیں گے— اور ہمارے ہتھیار اس بار بھی یہی ہوں گے— خفیہ ایجنسیاں — جو مسلم دہشت گردی کی افواہیں پھیلائیں گی۔  فرضی انکاؤنٹرز اور مٹھ بھیڑ— جہاں ہماری مدد کو یہ ایجنسیاں کھل کر ہمارے ساتھ آ جائیں گی— اور ہمارا مسلم آتنک واد کو بڑھاوا دینے والا ایک ماتر نعرہ—‘
’سواگتم—‘ اشوک نمانی مسکرائے— ہمیں امریکیوں اور یہودیوں سے بھی ابھی بہت کچھ سیکھنا ہے۔  وہ اپنے لوگوں کو مسلمان بنا کر اس مہم میں اتار رہے ہیں۔  انہیں عربی سکھائی جاتی ہے۔  اسلامی طور طریقے سکھائے جاتے ہیں۔  داڑھی بنانے اور نماز کی صحیح ادائیگی کے طریقے بتائے جاتے ہیں۔  پھر اُنہیں مہم میں اتار ا جاتا ہے—‘
’ابھی یہاں اس کی ضرورت نہیں پڑے گی۔  ابھے کمار دوبے ہنسے— یہاں کے لیے اتنے ہی ہتھیار کافی ہیں — اور یہ ہتھیار پچھلے ساٹھ برسوں سے ہمارا ساتھ دے رہے ہیں تو آگے بھی دیں گے—‘
’اس کا مطلب آپ نے کچھ سوچ رکھا ہے—‘
’ہاں —‘
’کر لیا—؟‘
’ غور سے میری بات سنیے—‘
ابھے کمار دوبے سوچ میں گم تھے۔  ’سب سے پہلے میڈیا کو دلّی بم وسفوٹ کے بھوت کو پھر سے باہر نکالنا ہو گا۔  یہ کام تم کرو گے اشوک نمانی۔  تم صحافی بھی ہو— ورما کا بیان جائے گا کہ خفیہ ایجنسیوں سے خبر ملی ہے کہ دلّی بم وسفوٹ کے کچھ مفرور آتنک وادی اُس ایریا میں چھپے ہوئے ہیں۔  خفیہ ایجنسیوں کے لیے میں مہاویر سے بات کر لوں گا۔  سب سے پہلے میڈیا ہائی لائٹ— اور آگے کی کارروائی کے لیے مجھے ورما سے ملنا ہے— چمچہ گیری تو کرتا ہے لیکن اُسے ہینڈل کرنا مشکل نہیں ہے—‘
ابھے کمار دوبے اٹھ کھڑے ہوئے تھے۔  نمانی اور باقی لوگ ا نہیں چھوڑنے گیٹ تک آئے۔ 
گاڑیاں ایک ایک کر کے باہر نکل رہی تھیں۔ 
آسمان میں سورج غروب ہو رہا تھا—
٭٭
اشوک نمانی، ابھئے کمار دوبے کو اپنی سفاری میں چھوڑنے گئے تھے۔  راستے بھر زیادہ تر خاموشی ہی چھائی رہی۔  ذرا ٹھہر کر دوبے نے اسٹرنگ سنبھالے ہوئے نمانی کو دیکھا۔  پھر ہنس کر پوچھا—
’تمہارے جیسا آدمی سنگھ میں ہو تو پھر منزل آسمان ہو جاتی ہے—‘
’آپ کا آشیرواد چاہئے—‘ نمانی مسکرائے۔ 
’تم تو پہلے کمیونسٹ پارٹی میں تھے۔  اس اور کیسے نکل آئے؟‘ 
اشوک نمانی زور سے ہنسے— جس پارٹی کے نظریے میں کھوٹ ہو، وہاں کتنے دنوں تک کھوٹ سے بندھا رہتا دوبے بابا…‘
’نظریے میں کھوٹ…؟‘
’روس اور چین کا کمیونزم بھی بدل گیا مگر نہیں بدلا تو ہمارے ملک کا کمیونزم— یہاں سب بورژوا مخالفت کی کھیتی کرتے ہیں — سیکولرزم، سیکولرزم چلّاتے ہیں مگر دوبے بابا اندر سے سب ہمارے جیسے ہیں — بہت قریب سے دیکھا ہے ان چوسی ہوئی ہڈیوں کو—‘ نمانی نے گیئر بدلتے ہوئے کہا— پالیٹکس میں بھی تو آئے تھے—کیا اُکھاڑ کر گئے— اب حاشیے پر ہیں — اور حاشیے پر رہیں گے—‘
’ٹھیک کہتے ہو…‘ دوبے کی آنکھیں کہیں اور دیکھ رہی تھیں۔  بھارت ورش کی اکھنڈ زمین لچیلی ہے۔  یہاں ورشوں، شتابدیوں کی سبھیتا اور دھرم کا نواس ہے۔  یہ جڑیں اتنی گہری ہیں کہ اُنہیں نکالنے کا نظریہ کیول ایک مورکھتا ہے۔  اس لیے آج نہ کل ہم یہاں راجیہ بھوگیں گے ہی— اور وہ سمئے دور نہیں …‘
’تتھاستو…‘
’اور یہ سب کچھ تم شیگھر دیکھو گے۔  ہندو راشٹر۔  سپنوں کو سچ کرنے کے بیچ کہیں نہ کہیں بن آتی ہے نمانی۔  اسلام کو دیکھو۔  کوئی مانے یا نہ مانے لیکن شمشیر ہی ایک ستیہ تھا۔  مغلوں نے کیا کیا؟ ان کا پورا اتیت اٹھا کر دیکھ لو۔  صلاح الدین ایوبی سے لے کر اورنگ زیب تک— راجیہ بھوگ کے لیے اشوک کا اداہرن لے لو— آج کے سمے کے لیے نئی نیتیوں کی ضرورت ہے۔  یہ نیتی مہا بھارت کے کرشن وچن سے الگ ہو گی اور چانکیہ سے بھی—‘
اشوک نمانی نے گھوم کر دوبے کو دیکھا—
’وہاں کورو اور پانڈو تھے لیکن تھے تو دونوں اپنے— اور یہاں ودیشی لٹیرے ہیں۔  چانکیہ یاد ہے نا نمانی— چھوٹا تھا تو پاؤں میں کانٹا چبھ گیا— ضدی تھا— کانٹے کی جڑ تک پہنچا— اور زمین سے سارے کا نٹے نکال دیے— اور ساری زندگی راجنیتی کے کانٹے ہی نکالتا رہا لیکن یہاں راج یوگ چاہیے— کانٹے بھی نکالیں گے اور ستّہ سکھ بھی بھوگیں گے…‘
گھر آ گیا تھا—
نمانی دوبے کو چھوڑنے دروازے تک آئے۔ 
’میں ورما سے بات کر لوں گا— وہ کسی وقت بھی آپ سے آ کر مل لے گا…‘
’ٹھیک ہے—‘
’آپ اپنا دھیان رکھیے گا…‘
نمانی نے دوبارہ گاڑی اسٹارٹ کر دی تھی—



(5)

’ اسامہ… اسامہ…‘
رباب آواز لگاتی ہوئی اسامہ کے کمرے میں آئی تو اسامہ کمپیوٹر پر ویڈیو گیم سے دل بہلانے کی کوشش کر رہا تھا—
’آج کہیں باہر نہیں نکلے؟‘
’خواہش نہیں ہوئی۔ ‘
’چلو اچھی بات ہے—‘
رباب کرسی کے پیچھے کھڑی ہو کر اسامہ کے بالوں کو سہلانے لگی…
’آج تم نے کہا… یہ تمہارا فیصلہ ہے… کہانا…؟‘
’ہاں …‘
رباب مسکرا رہی تھی— ’یہ فیصلہ لینے کی عمر تمہاری کب سے ہو گئی اسامہ—؟‘
’جب سے میں بڑا ہوا…‘
رباب پاس والی کرسی پر آ کر بیٹھ گئی—
’تم ابھی اتنے بڑے نہیں ہوئے بیٹے کہ اپنے فیصلے خود لے سکو— ہاں شادی ہو جائے تو پھر تم اپنی مرضی کے مالک ہو گے…‘
’مجھے شادی کرنی ہی نہیں …‘
رباب زور سے ہنسی— ’اس عمر میں سارے بچے یہی کہتے ہیں۔  لیکن شادی سب کرتے ہیں۔  تم بھی کرو گے۔  ہاں تم سے  کچھ کہنے آئی تھی۔  جب غصے میں تم اپنا کوئی فیصلہ سناتے ہونا… تو اپنے باپ کو بہت چھوٹا کر دیتے ہو۔  میں ارشد کا چہرہ دیکھتی ہوں — وہاں کچھ زیادہ نہ کر پانے کا ایک گلٹ ہوتا ہے۔  احساس کمتری۔  میں اس گلٹ کو وہاں دیکھنا نہیں چاہتی— وہ جو کچھ کر سکتا تھا، اُس نے کیا ہے تمہارے لیے— ہمارے لیے۔  کاشی سے دلّی کا سفر کوئی آسان سفر نہیں تھا۔  لیکن یہ سفر اُس نے ہمارے لیے منظور کیا— اور…‘
رباب کی پلکیں نم تھیں — ’وہ اگر ناکام ہیں تو صرف اس لیے کہ وہ ایک ایماندار شخص ہیں۔  ایماندار آدمی جیتتا کم، ہارتا زیادہ ہے۔  ایماندار آدمی اندر سے شرمیلا ہوتا ہے—‘
’یہ سب آپ مجھے کیوں سنا رہی ہیں —‘ اسامہ کے لہجے میں ناراضگی تھی—
’سنا نہیں رہی بیٹے۔  کبھی کبھی تمہاری بغاوت میں جانے کیوں ایک بڑی ڈیمانڈ نظر آتی ہے۔ ‘
’لیکن میں آپ لوگوں سے کچھ مانگنے تو نہیں جا رہا—‘
’اسی لیے— مانگنے آتے تو شاید تسلی ہو جاتی۔  ناراض ہوتی۔  بگڑ جاتی کہ تمہاری یہ ڈیمانڈ ہم پوری نہیں کر سکتے۔  لیکن جیسے جیسے تم بڑے ہو رہے ہو، یہ ڈیمانڈ خاموشی سے، ہم لوگوں سے کچھ مطالبہ کرنے لگی ہے۔ ‘
رباب نے اسامہ کے ہاتھوں کو تھام لیا تھا— ’ارشد تمہارے ڈیڈی ہیں۔  اُن سے باتیں کرو۔  ہر طرح کی باتیں کرو۔  اُن سے اپنے دل کی بات کہو۔  فاصلہ مت پیدا کرو—‘
اسامہ خاموش تھا—
رباب نے اسامہ کی طرف دیکھا—’ ارشد بھی چاہتے ہیں اور میں بھی کہ ابھی کچھ دنوں تک…‘ وہ کہتے کہتے رُک گئی تھی…
’کیا —؟‘
’باہر نہ نکلو تو بہتر ہے…‘
’لیکن کیوں …؟‘
’سوال نہیں — کچھ دن باہر نہیں نکلے، یا اسکول نہیں گئے تو پہاڑ نہیں ٹوٹ پڑے گا بیٹے—مجھے امید ہے تم ہماری باتوں کو سمجھنے کی کوشش کرو گے—‘
’یہ مجھ سے نہیں ہو گا—‘ اسامہ زور سے چیخا—
’کوشش کرو گے— ہمارا درد سمجھو گے تو سب ہو جائے گا…‘
اسامہ نے کمپیوٹر بند کر دیا۔  غصے میں کھڑا ہو گیا—
’ابھی میں نے کچھ نہیں کیا تو اتنی بندشیں۔  خدا نخواستہ میں سچ مچ کسی کا قتل کر کے آ جاتا تو…؟ ‘
’اسامہ…‘ رباب اُس سے کہیں زیادہ زور سے چیخی—
’ہمیں کمزور مت بنائیے امی…‘ اسامہ رو رہا تھا۔  شاید کل رات سے وہ رونے کا بہانا تلاش کر رہا تھا—
’خود کو مضبوط بنانے والی ہر تسلی یہاں سوگئی ہے امی— کیوں بزدل بنانا چاہتی ہیں اپنے بیٹے کو— جب جب خود کو مضبوط کرنا چاہتا ہوں، آپ لوگ دبّو اور کمزور بنانے آ جاتے ہیں — بیٹا ہوں آپ کا، اس کا مطلب یہ تو نہیں کہ آپ مجھے میری نظروں میں ہی گرا دیں۔  میں کمزور ہو کر نہیں جینا چاہتا — میں ویسے ہی جینا چاہتا ہوں جیسے ایک ملک کا کوئی بھی آزاد شہری جیتا ہے— مجھے پابندیوں میں نہیں جینا امّی—‘
’میرا بیٹا—‘
سسکتے اسامہ کو رباب نے اپنی بانہوں میں بھر لیا تھا—
میری آنکھیں نم تھیں۔  کہیں خاموش سا میں بھی اس منظر کا گواہ بن گیا تھا—
٭٭٭



(6)

ابھے کمار دوبے کمرے میں تیز تیز ٹہل رہے تھے۔  اُن کا دماغ زور و شور سے کام کر رہا تھا— اتنی دیر میں وہ سنگٹھن میں اوپر سے نیچے تک تمام سہیو گیوں سے مشورہ کر چکے تھے۔  ٹہلتے ہوئے وہ میز کے سامنے والی کرسی کھینچ کر بیٹھ گئے۔  لیپ ٹاپ پر انگلیاں فرّاٹے سے دوڑنے لگیں —
کسی پر کبھی فرد جرم عائد کرنے سے پہلے تمام امور پر غور کرنا ضروری تھا— وہ پچھلے تمام انکاؤنٹرز کے اتہاس سرچ کر چکے تھے— ایسے حالات میں پولیس کن چیزوں کو سب سے پہلے بطور شہادت اپنے قبضے میں لیتی ہے؟ جیسے سم کارڈ، موبائل— لیپ ٹاپ یا کمپیوٹر— مجرم یا مقتول کے لیپ ٹاپ، کمپیوٹر سے اسی وقفے میں ضروری چھیڑ چھاڑ کے لیے بھی کسی تیز طرار، ذہین اور ماہر شخص کی ضرورت ہوتی ہے۔  پھر آپریشن سے پہلے میڈیا تک کسی بھی آتنک وادی آرگنائزیشن کی طرف سے ذمہ داری قبول کرنے کا میل  بھیجنا بھی اب کوئی مشکل نہیں رہ گیا تھا— لیکن مشکل یہ تھی کہ پورا میڈیا ابھی بھی قبضے میں نہیں آیا تھا— اگر پورا میڈیا قبضے میں ہوتا تو پھر شاید اتنی ماتھا پچی کی ضرورت پیش نہ آتی— لیپ ٹاپ کنارے رکھ کر انہوں نے ورما کو فون لگایا—
’وہ دشینت ہے نا…؟‘
’دشینت پانڈے— اسسٹنٹ سب انسپکٹر…‘
’ہاں — اُسے بھی ساتھ لے آنا—‘
’مگر کیوں …؟‘
’تم سوال بہت پوچھتے ہو ورما— بس لے آنا۔  بہت دنوں سے اُسے دیکھا نہیں ہے۔ ‘
اس وقت ابھے کمار دوبے کا دماغ بجلی کی رفتار سے چل رہا تھا— اس وقت وہ چانکیہ نیتی پر چلتے ہوئے مہروں  کی الٹ پھیر میں مصروف تھے—
’بساط ہی اُلٹ دو— مہروں کو الجھا دو… لیکن ایسا کیسے ممکن ہے…؟‘
لیپ ٹاپ پر ایک بار پھر ان کی انگلیاں تیز تیز چل رہی تھیں — اب وہ مطمئن تھے—
شطرنج کی بازی پوری طرح اُن کے ہاتھ میں تھی—
٭٭
ایک گھنٹے بعد ورما دشینت کو لے کر آ گیا تھا۔  دشینت ۳۵ ؍سال کا ایک خاموش نوجوان تھا— ابھی حال میں شادی ہوئی تھی— ورما کی طرح زیادہ نہیں بولتا تھا۔  کم گو تھا— اور اسی لیے ابھئے کمار دوبے کو زیادہ پسند تھا—
’کیسے ہو دُشینت—‘
’سب آپ کی کرپا ہے سر…‘
انہوں نے ورما کو اشارہ کیا—
’بیٹھ جاؤ—‘
ورما کے چہرے پر پھیلی ہوئی اُداسی سے دوبے کو اپنا کھیل بگڑتا ہوا نظر آیا— مگر وہ ورما کے تجربوں سے واقف تھے—
’آج پھر بیوی سے لڑ کر آئے ہو کیا—؟‘
’نہیں تو…‘
’پھر چہرہ اتنا لٹکا ہوا کیوں ہے؟‘
’چہرہ ہی ایسا ہے—‘ ورما نے ہنسنے کی کوشش کی—
’کل چھوڑ دو۔  پرسوں کے بارے میں کیا خیال ہے—؟‘
دوبے نے پلٹ کر ورما کو دیکھا—
’مطلب…؟‘ 
’آپریشن—‘ دوبے سنجیدہ تھے۔  دشینت کو بھی ملا لو۔  سارا پروگرام تمہیں سمجھا دیا جائے گا—‘
’اچھا۔  وہاں کی سچویشن کیا ہے…؟‘
وہ سالا خان…‘ ورما نے گندی گالی بکتے ہوئے کہا…
’ام۔  ال… سی؟‘
’ہاں … آج اُس کی تقریر ہوئی تھی۔  سنتے ہیں مسلمان جوش میں ہیں۔ ‘
’۹ بجے کی بریکنگ نیوز سن لینا—‘ دوبے ہنسے— ’نمانی نے اپنا کام کر دیا— اب سننا نیوز—‘
’آپ ہی بتا دیجئے—‘
برف جیسا سرد لہجہ— یہ دشینت تھا—
’سب جان لو گے۔  ایسی بھی کیا جلد بازی ہے—‘
’لیکن مجھے جلدی ہے…‘ ورما نے گھڑی دیکھتے ہوئے کہا۔ 
’ اتنے کنفیوژ کیوں رہتے ہو…‘ دوبے بولتے بولتے ٹھہر گئے… ورما نے پلٹ کر وار کیا—
’کنفیوز ہم رہتے ہیں یا آپ لوگ؟ ہندو تو سے کشمیر کے مدعے تک ہر جگہ کنفیوز— کشمیر میں کیا کیا ؟ چاٹتے رہیے دفعہ ۳۷۰— سارے کشمیری پنڈتوں کو بھگا دیا اور بس اسٹیٹ منٹ پہ اسٹیٹ منٹ جاری کرتے جائیے۔  سال میں ایک بار لال چوک پر جھنڈہ لہرانے سے کیا ہوتا ہے— اور ہندوتو— ایک مندر نہیں بن سکا آپ لوگوں سے۔  رہے بی جے پی کے بھروسے— اور بی جے پی راجنیتی کرتی رہی—‘
دوبے اٹھے— آگے بڑھ کر ورما کے کندھے کو سہلایا— ’تم ابھی پریشان لگتے ہو پُتّر— سب ہو گا ایک دن۔  گھبراتے کیوں ہو۔  صدیوں کا پھل ایک لمحے میں نہیں ملتا۔  اسی لیے تو تپسیا کرنی پڑی اتنی اور یہ بھی صدیوں کی تپسیا کا ہی ایک حصہ ہے— جو ذمہ داری تمہیں سونپی جا رہی ہے۔  تم ابھی پریشان ہو۔  جاؤ— گھر جاؤ۔  میں صبح خود آ کر تمہیں سمجھا دوں گا—‘
ورما اٹھ کھڑے ہوئے—
’چل دشینت—‘
’نہیں دشینت کو چھوڑ دو— مجھے دشینت سے کچھ کام ہے۔  تم جاؤ—‘
انسپکٹر ورما غور سے، کچھ شک سے دشنت کو دیکھتے ہوئے باہر نکل آئے—
دوبے آہستہ سے مسکرائے—
’تھوڑی بہت کامیابیوں نے اس کا دماغ خراب کر دیا ہے۔  ٹھہرو۔  تمہیں اچھا سا قہوہ پلاتا ہوں۔  پھر بات کریں گے—‘
دوبے کو اپنا کام خود کرنا پسند تھا— اور دشینت چند ملاقاتوں میں یہ راز جان چکا تھا—
وہ اخبار کے صفحے پلٹنے لگا—
دوبے واپس آ گئے تھے—
’دیکھا— موسم خراب ہو گیا۔  بادل گرج رہے ہیں۔  بارش بھی ہو سکتی ہے۔  لو قہوہ پیو…‘
وہ گہری سوچ میں ڈوب گئے تھے—
باہر بادل گرجنے لگے تھے— کچھ ہی دیر میں بارش کی رم جھم بھی شروع ہو گئی۔ 
٭٭٭



(7)

تھاپڑ کا انتظار کرتے کرتے سارا دن گزر گیا۔  شام کے چھ بجے وہ آیا۔  ہونٹوں پر مسکراہٹ تھی۔ 
’بارش میں پھنس گیا تھا—‘ اُس نے مسکراتے ہوئے پوچھا۔  جانتے ہو کہاں سے آ رہا ہوں ؟
’نہیں —‘
’پریس کلب میں ایک کانفرنس تھی۔  اقلیت اور فساد— بڑے بڑے لوگ آئے ہوئے تھے— اور تمہاری وہ…‘ تھاپڑ شرارت سے مسکرایا… صوفیہ لارین… کتنی بدل گئی ہے— لیکن وہی پٹی پٹائی تقریر، پرانی باتیں … لیڈر بن جانے کے بعد اندر کا وہ پرانا آدمی کہاں کھو جاتا ہے؟ میں اُس میں برسوں پرانی صوفیہ کو تلاش کرنے کی کوشش کرتا رہا…‘
’ملی…؟‘
’نہیں ملی یار… ہاں تم لے آتے تو…‘
’تب وہ راجیہ سبھا کی ممبر نہیں ہوتی…‘
’لیکن اُس میں ایک اوریجنل صوفیہ موجود ہوتی— اس کے گنہگار تم ہو— تم سالے ہمیشہ سے دبّو تھے…‘
رباب چائے اور نمکین لے کر آ گئی تھی—
’ماحول کیسا ہے؟‘ تھاپڑ میری آنکھوں میں جھانک رہا تھا—
’کہہ نہیں سکتا— تم تو ابھی اُسی راستے سے آئے ہو گے…‘
’ہاں —‘
’تم مجھ سے کہیں بہتر اس ماحول کا تجزیہ کر سکتے ہو—‘
تھاپڑ کے چہرے کا رنگ اچانک بدلا تھا۔ 
’میری مانو تو مجھے کچھ گڑ بڑ لگ رہی ہے۔ ‘
’لیکن کیسے…؟‘
’سب کچھ شانت ہوتے ہوئے بھی سب کچھ شانت نہیں ہے ارشد پاشا یہ خاموشی مجھے آنے والے کسی طوفان کا پیش خیمہ لگتی ہے— بات یہ نہیں ہے کہ یہاں کچھ نہیں ہوا۔  دراصل چھوٹی چھوٹی باتیں ہمیں زیادہ ڈراتی ہیں۔  سب سے بڑا خطرہ ہندو تو کی بڑھتی شاخوں سے ہے۔  ان کا ٹارگیٹ نوجوان مسلم لڑکے ہیں۔  اور کبھی یہ بڑی آسانی سے ان کے ٹارگیٹ میں آ جاتے ہیں — اور ان پر ہاتھ رکھنے کے لیے ایسے آرگنائزیشن کو ایک پوری اسٹریٹجی تیار کرنی ہوتی ہے— جیسے مثال کے لیے۔  کسی وجہ سے بھی کسی مسلم بچے کا پولیس لسٹ میں آ جانا— تو یہ سمجھ لو اس پر خطرے کے بادل کبھی بھی منڈرا سکتے ہیں۔ ‘
’میں جانتا ہوں —‘
’پولیس کبھی بھی ایسے نوجوانوں کو کسی بھی معاملے میں پھنسا سکتی ہے— انکاؤنٹر کر سکتی ہے؟‘
تھاپڑ سوچ میں گم تھا— ’کتنی عجیب حقیقت ہے ارشد پاشا— محض ۱۵۔ ۱۴ برسوں میں اس ملک میں دو ہزار سے زیادہ انکاؤنٹر ہوتے ہیں اور ان میں ہر دوسرا انکاؤنٹر فرضی ہوتا ہے۔  پولیس انکاؤنٹر کے بعد پولیس کا پہلا کام ہوتا ہے، اس انکاؤنٹر کو صحیح ثابت کرنا۔  اور پولیس اپنے ذرائع اور جبر سے سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ بنانا اچھی طرح جانتی ہے۔  فرضی انکاؤنٹر کرنے والے پولیس والوں کو سزا اس لیے نہیں ملتی کہ ان کی جانچ کا کام بھی پولیس والوں کو سونپا جاتا ہے۔ ‘
تھاپڑنے ایک گندی سے گالی بکی— یہ ہے ہمارے ملک کا کرپٹ سسٹم۔  گجرات کے ہتیاروں کو اسی ملک میں ترقی کے نام پر نائک بنایا جا رہا ہے۔  وہاب الدین فرضی انکاؤنٹر کا ہی معاملہ لو۔  شروع میں جب یہ انکاؤنٹر سامنے آیا تھا تو یہی میڈیا تھا جس نے وہاب الدین کو پورے ملک کا ہیرو بنا دیا تھا— لیکن جانچ کے دائرے میں اعلیٰ پولیس افسران اور سرکاری مشنریاں بھی شامل تھیں — کچھ نہیں ہوتا اس ملک میں۔  اربوں کھربوں کے گھوٹالے تک چھپا دیے جاتے ہیں۔  چار دن آگ لگتی ہے پانچویں دن سب ٹھنڈے ہو جاتے ہیں۔  بس گرم ہے ایک چیز— آتنک واد— مسلم آتنک واد—‘
تھاپڑ سلگ رہا تھا— ’مسلمان نام آتے ہی جیسے ایک سپرڈان، کرمنل یا آتنک وادی سامنے آ جاتا ہے۔  مسلمان؟ جیسے اسلحے لے کر گھومتا ہوا آدمی۔  اور کس نے کیا ہے یہ سب؟ عالمی سیاست کے ساتھ یہ تمہارا میڈیا بھی ہے جس کے سہارے تم گجرات یا بابری مسجد کے زخموں کو سہلانے کی کوشش کرتے ہو اور یہ بھول جاتے ہو کہ تمہیں یہ زخم بھی اُسی میڈیا سے ملے ہیں۔  تم ٹوٹ جاتے ہو پھر اسی میڈیا کے رحم و کرم پر دوبارہ اٹھنے کی کوشش کرتے ہو…‘
رباب نے پہلو بدلا— ’آپ سچ کہتے ہیں بھائی۔  مگر اس کے علاوہ ہمارے پاس چارہ بھی کیا ہے؟ ہمدردی کے دو بول ہمیں جہاں ملتے ہیں ‘ ہم وہیں آسرا تلاش کرنے لگ جاتے ہیں۔  جیسے اس وقت آپ کی باتیں نہ صرف ہمیں دلاسہ دے رہی ہیں بلکہ ہمارے زخموں کو بھی سہلا رہی ہیں —‘
تھاپڑ نے گھوم کر رباب کی طرف دیکھا— اُس کا چہرہ اچانک سنجیدہ ہو گیا تھا—
’اسامہ کہاں ہے؟‘
’ڈسٹرب ہے—‘
’میں سمجھ سکتا ہوں —‘
’آج کچھ نہیں ہوا— اس کا مطلب یہ نہیں کہ کل بھی کچھ نہیں ہو گا— ایک چھوٹی سی بات نے ہماری نیندیں چھین لیں۔  ہمارا سکون درہم برہم کر دیا۔  پھر سوچتا ہوں، کیا جو کچھ اُس رات ہوا، وہ سچ مچ کوئی چھوٹی سی بات تھی—؟ اب لگتا ہے — شاید آج، اس اکیسویں صدی میں مسلمان ہونا ہی کسی دھماکے سے کم نہیں ہے۔  مسلمان؟ سامنے والے کی بھنویں تن جاتی ہیں۔  غیر ملکی دورے پر جاؤ تو ایرپورٹ پر چیکنگ کرنے والوں کی شامت آ جاتی ہے، جب وہ یہ سنتے ہیں کہ سامنے والا ایک مسلمان ہے— اور اگر خدانخواستہ اُس وقت آپ کے چہرے پر داڑھی ہے، سر پر ٹوپی ہے، اور آپ کا لباس خان سوٹ یا کرتا پائجامہ ہے تو خوفناک سوالوں کے لیے تیار ہو جائیے کیونکہ جانچ کرنے والوں کے لیے آپ کسی اسامہ بن لادین سے کم نہیں ہیں — اور اپنے یہاں — اپنے ملک میں —؟ میڈیا مسلمانوں کا نام ایسے لیتی ہے جیسے آر ڈی ایکس یا کسی خطرناک ہتھیار کا نام لے رہی ہو— تم پوچھتے ہونا، ہم چھوٹی چھوٹی باتوں سے کیوں ڈرتے ہیں ؟ اتنی بڑی آبادی ہو کر کیوں ڈرتے ہیں ؟ تو جواب یہی ہے کہ برسوں سے، شاید پیدا ہوتے ہی ہمیں خوف کے اتنے انجکشن مسلمان ہونے کے نام پر لگائے گئے کہ ہم ہر قدم ناپ تول کر رکھنے کے باوجود بس ڈرتے رہے ہیں — رات میں گھر سے نکلتے ہوئے وحشت ہوتی ہے۔  اسامہ کو گھر سے باہر بھیجتے ہوئے وحشت ہوتی ہے— اور یہاں تک کہ اُس کے اس نام اسامہ سے بھی ڈر لگتا ہے کہ کس منحوس گھڑی میں ہم نے اس کا یہ نام تجویز کیا تھا—‘
رباب نے اپنے ہونٹ کھولے۔  ’دہشت گردی آج بنیادی طور پر ایک نفسیاتی جنگ بن چکی ہے۔  ہم اس جنگ میں جسمانی طور پر بھی پس رہے ہیں۔  روحانی اور ذہنی طور پر بھی— بھائی صاحب۔  یہ تین طرفہ حملہ ہے اور اس حملے نے ہمیں معذور اور مجبور کر دیا ہے— جیسے پرسوں سے ہم صرف اس بات سے نہیں سو سکے کہ اسامہ کو کیا سزا ملے گی۔  کیا سزا صرف اس لیے ملے گی کہ وہ اُن لوگوں کے ساتھ تھا یا کرتا پائجامہ میں تھا اور اس کے سر پر ٹوپی بھی تھی؟ یا صرف اس لیے کہ وہ ایک مسلمان نوجوان ہے—‘
رباب کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے— ’میں ہی کہتی تھی کہ مسلمانوں کے محلے میں رہیں گے— بچہ کم از کم اذان کی آواز تو سنے گا اور اب میں ہی کہتی ہوں۔  ایسا سوچنا میری سب سے بڑی غلطی تھی—‘
چائے ختم ہو چکی تھی— تھاپڑ باری باری سے ہم دونوں کے چہرے کو دیکھ رہا تھا—
’امریکہ اپنے تمام انفرا اسٹرکچر، اپنے وسائل اور اپنے لاجسٹک سپورٹ سے اس دہشت گردی کو بڑھاوا دے رہا ہے۔  افغانستان سے عراق اور پاکستان سے کشمیر تک— باقی تہذیبوں کی جگہ اب صرف ایک تہذیب رہ گئی ہے۔  دہشت گرد تہذیب۔  نئی دنیا اسی تہذیب کے سائے میں پل رہی ہے— بین الاقوامی طاقتیں اپنے اپنے انفرا اسٹرکچر سے اس تہذیب کو بڑھاوا دے رہی ہیں۔  جارج بش نے مسلمانوں کی طرف بندوق تان کر اس تہذیب کو بڑھاوا دینے کے لیے ایک غیر محفوظ امریکہ کو جنم دیا تھا— اور آج نتیجہ سامنے ہے۔  عالمی سیاست اس وقت صرف ایک خوف کا بوجھ اٹھا رہی ہے—‘
تھاپڑ نے لمبی سانس لی— ’صرف تم ہی نہیں۔  سب ایک انجانے خوف کے سائے میں جی رہے ہیں۔ ‘
یہ وہی وقت تھا جب ڈرسے سہمے اسامہ نے کمرے میں قدم رکھا تھا—
’بریکنگ نیوز آ رہی ہے۔  میرے دوست کا فون تھا—‘
رات کے ۱۱ بج گئے تھے—
رباب نے آگے بڑھ کر جلدی سے ٹی وی آن کیا— انڈیا نیوز پر خبروں کا سلسلہ چل رہا تھا— یہ اس وقت کی بڑی بریکنگ نیوز تھی— اینکر چلاتا شور کرتا ہوا، بار بار ایک ہی بات کو دہرا رہا تھا—
’اس وقت کی سب سے بڑی بریکنگ نیوز— دلّی بم دھماکے کے آتنک وادی آج بھی بے خوف گھوم رہے ہیں۔  خفیہ ایجنسیوں نے خبر دی ہے کہ ذاکر نگر، بٹلہ ہاؤس اور جامعہ کے علاقوں میں ایسے کچھ آتنک وادیوں کے رہائشی علاقے میں ہونے کی خبر ملی ہے جو آنے والے کچھ دنوں میں اس سے بھی بڑا حملہ کر سکتے ہیں — بریکنگ نیوز…‘
میں نے آگے بڑھ کر سوئچ آف کر دیا—
یہ کیا ہے…؟ رباب کے چہرے پر خوف کے سائے تھے۔ 
’ابھی کچھ کہنا مناسب نہیں ہے —‘ تھاپڑ سنجیدہ تھا—
’اس بریکنگ نیوز میں رہائشی علاقوں کا بھی ذکر ہے—‘
’اس سے کیا فرق پڑتا ہے—‘ تھاپڑ نے اسامہ کی طرف دیکھا— لیکن بہتر یہ ہے کہ…‘
’کیا بہتر ہے…‘
’اسامہ میرے ساتھ چلے۔  میرے گھر…‘
’لیکن کیوں ؟‘ یہ اسامہ تھا—
’فضا ٹھیک ہو جائے گی تو واپس آ جانا…‘ تھاپڑ کا لہجہ برف جیسا سرد تھا—‘
’کیا تمہیں کسی خطرے کی بو آ رہی ہے؟‘
’نہیں —‘ تھاپڑ نے میری طرف دیکھا— لیکن ساودھانی برتنے میں حرج ہی کیا ہے—؟‘
وہ پھر اسامہ کی طرف گھوما تھا— آؤ— یہاں بیٹھو— مان لو— وہ آتے ہیں …
’وہ کون …؟‘
پولیس والے… وہ آتے ہیں۔  اور تمہارا بیان لیتے ہیں۔  اس میں دیکھا جائے تو ایسا کوئی خطرہ نہیں ہے۔  مگر ایسا ہوتا ہے تو یہ معاملہ تم سے بہتر طور پر تمہارے ڈیڈی بھی سنبھال سکتے ہیں۔ ‘
’میں نہیں جاؤں گا—‘ اسامہ غصے میں تھا۔  کیوں جاؤں میں۔  کیا کیا ہے میں نے ؟‘
’تم نے کچھ نہیں کیا— یہ میں بھی جانتا ہوں اور تم بھی۔  لیکن تم اس وقت کے ماحول سے بھی واقف ہو اور یہ جانتے ہو کہ معصوم لوگ ہی ان کارروائیوں کی زد میں آتے ہیں۔  اس لیے بس دو ایک دن کی بات ہے۔  گھر میں ویڈیو گیم دیکھنا— آنندی  سے باتیں کرنا۔  خوب کھانا پینا…‘
تھاپڑ نے مسکرانے کی کوشش کی—
میں نے پھر اُس کی طرف دیکھا— کیا تمہیں سچ مچ ایسا لگتا ہے کہ کچھ ہونے والا ہے—‘
’میرا جواب ابھی بھی وہی ہے۔  میں کچھ کہہ نہیں سکتا۔  مگر اس خبر کے پیچھے کی  سچائی کو سمجھنا ضروری ہے۔  اور سچائی یہ ہے کہ دو دن پہلے چار مسلم لڑکوں کی ایک پولیس سے جھڑپ ہوئی تھی۔  بغیر کسی بات کے ہونے والی یہ تکرار میرے نزدیک کوئی معمولی بات نہیں ہے۔  دس سال کی ہسٹری اٹھا کر دیکھ لو— نانڈیر، پونے سے لے کر مالیگاؤں تک— اس لیے ضروری ہے کہ اگر… کوئی حادثہ ہونے والا ہے… تو پہلے سے اس کے بچاؤ کی کوشش کر لی جائے۔  چلو اسامہ— اپنے ساتھ کچھ کپڑے لے لو…‘
تھاپڑ اٹھ کھڑا ہوا تھا۔  اب وہ میری طرف دیکھ رہا تھا— ’پریشان مت ہو۔  در اصل یہ پورا سماج بے حد کمزور لوگوں کا ہے— یہاں وہ لوگ زیادہ کمزور ہیں جو ان کارروائیوں کو جنم دے رہے ہیں —‘ 
اسامہ اپنا بیگ لے کر آ گیا تھا—
٭٭٭



انسپکٹر ورما کی کہانی
(8)

رات ہو گئی تھی۔  بس اسی رات کے احساس سے ورما کو ڈر لگتا ہے۔  اس کے سارے بدن میں ہزاروں چیونٹیاں رینگ رہی ہیں۔  سات سات گیلینٹر ایوارڈ لینے والے ورما کو بس اس رات کے سناٹے سے ڈر لگتا ہے… بھاگو تی کیا کر  رہی ہو گی…؟
وہ رات کے سارے کاموں کو نپٹا چکی ہو گی۔  رسوئی میں کھٹ پٹ کی آوازیں اب خاموش ہیں۔  ابھی کچھ دیر پہلے بھاگوتی کے قدموں کی آہٹ گونجی تھی— مگر یہ آہٹ دروازے تک جا کر پھر لوٹ گئی تھی— شاید اُسے کچھ یاد آ گیا ہو گا…
باہر اپنے خونخوار ہونے اور مردانگی کا ڈھنڈورا پیٹنے والے ورما کی بس اس رات کے سناٹے میں ساری ہیکڑی نکل جاتی ہے… جب رات کے سناٹے میں نائیٹی پہنی ہوئی بھاگوتی اُس کے پہلو میں سونے آتی ہے… اور ایک بے جان احساس کے ساتھ وہ اس تاریکی میں ایک بے جان کیڑے  میں تبدیل ہو چکا ہوتا ہے…
’وہ آ رہی ہے…‘
بھاگوتی دوبارہ آ رہی ہے… یہ اُسی کے قدموں کی آہٹ ہے… اور اب وہ دروازہ بند کرے گی۔  دروازہ بند کرتے ہی اُس کی سانسوں کی آہٹ میں اسے کسی ایسے میزائل کے چھوٹنے کا احساس ہو گا، جس کا شکار وہ خود ہے…
وہ جل رہا ہے… سلگ رہا ہے…
لیکن وہ کیڑا خاموش ہے… ایک دم چپ—
بھاگوتی کے خرگوش سے سانپ بنتے ہاتھوں کو وہ خوب پہچانتا ہے۔  لیکن اب روز بروز وہ ان ہاتھوں کے وش سے بچنے کا کوئی نہ کوئی بہانا تلاش کرتا ہے…
یہاں اُس کی ساری افسری سو جاتی ہے— اور بس… وہ حقیر سا کیڑا اس کے جسم میں انگڑائیاں لیتا ہوا ایک دم سے بے حس ہو جاتا ہے۔  وہ آواز سنتا ہے۔  بھاگوتی کے ہاتھ اس کے جسم پر آ گئے ہیں …
اے جی…
’ہاں …‘
’سوگئے کیا…؟‘
نہیں …
’منہ اُس جانب کر کے کیوں سوئے ہیں …‘
’مجھے نیند آ رہی ہے…‘
ورما کی خواہش ہوتی ہے۔  وہ خوب چیخے۔  لیکن دن کے اجالے میں پتنی پر زور زور سے چلانے اور نیچا دکھانے والے ورما کو رات کے اس لمحے بے چارگی اور بے بسی کے پل سے گزرنا ہوتا ہے— پھر ایک بے لذت چیخ—
’کہہ دیا نا… مجھے آرام کرنے دو۔  سونے دو مجھے…‘
باہر سے کتوں کے بھوکنے کی آواز آ رہی ہے۔  بھاگوتی نے کروٹ بدل لی ہے۔  کتنے ہی چہرے آنکھوں کے پردے پر گھوم رہے ہیں۔  نرسمہا، نوین، ابھے کمار دوبے… سنگھ کی شاخیں — ابھے کمار دوبے نے آہستہ سے اُس کے ہاتھوں کو تھاما تھا۔ 
’تم نے اس سے قبل بھی بڑے بڑے کارنامے ہمارے لیے انجام دیئے ہیں۔  اور اس یقین کے ساتھ کہ…‘
چہرے اوجھل ہیں …
رات کا سناٹا بڑھتا اور پھیلتا جا رہا ہے…
وہ ایک سوال کی زد میں ہے… جانے انجانے، خاموشی اور تنہائی میں، جگمگاتے جگنو یا سیپیوں کی طرح یہ سوال چپ چاپ اُسے گھیر لیتا ہے…
’ورما… تم نے کبھی کسی سے محبت کی ہے؟‘
’محبت کی ہوتی تو شاید اُن راستوں پر نہیں چلتے جن پر چلنا چاہتے ہو یا چل رہے ہو…‘
اندر سویا ہوا کیڑا دوبارہ جاگتا ہے… وہ کسی غلط راستے پر نہیں ہے… بچپن سے ہی وہ ان سنگھ  کی سبھاؤں میں جاتا رہا ہے— یہ ملک کبھی اس کا نہیں رہا—
اندر کسی گھوڑے کے ہنہنانے کی آواز آتی ہے۔  ’تم نے کبھی محبت کی ہے ورما…؟ سچ بولنا… کبھی کی ہے… جسم کے خاموش حصہ میں اچانک جیسے کوئی آگ روشن ہو گئی ہے—
بھاگوتی سوگئی ہے—
بھاگوتی کے خرّاٹے تیز ہیں …
کچھ پرانی یادیں اچانک اُسے اپنی گرفت میں لے لیتی ہیں۔ 
کتنا عرصہ گزر گیا۔ 
وقت کے ساتھ دھندلی ہوتی تصویریں … لیکن وہ اک ایک چہرے کو جانتا ہے… بھوانی … رتناگر، معصوم سی صبیحہ… ٹاڈا اور پوٹا کے بے رحم قانونوں سے گزرتے ہوئے … ایک کولاژ تیار ہو رہا تھا…
ڈرم… ڈرم… ڈرم…
اندر نگاڑے بجنے شروع ہو گئے ہیں۔ 
تب اس کی پوسٹنگ کو زیادہ عرصہ نہیں ہوا تھا۔ 
٭٭
ورما— ایک مسلم خاندان سے وابستہ ڈراؤنی یادیں 
ورما کو یہ پوری دنیا ہی غلط نظر آتی تھی۔  ایسا نہیں ہے کہ ورما ہمیشہ سے غلط دیکھنے کا عادی رہا ہے مگر ایک تو اس کی بلوان بدّھی— اور اس پر سے سب انسپکٹری کا نشہ۔  دن رات چور، اچکے، ڈاکوؤں کی صحبت میں اس کی مت بھی ماری گئی تھی۔  ورما کا خیال تھا کہ یہ پولیس کی ذات ہے جس نے دنیا کو سدھار کر رکھا ہوا ہے۔  ورنہ اگر پولیس نہ ہوتی تو سارے ہی چور اچکے ڈاکو ہوتے— ورما کو پولیس کے ڈنڈے پر اتنا فخر تھا کہ جب اس کا پرموشن حولدار سے سب انسپکٹر کے لیے ہوا تو بے اختیار اس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے— لو، اب یہ خاص الخاص ڈنڈا ہاتھ سے گیا۔  حولداری میں تو یہ ڈنڈا ہر وقت کا ساتھی تھا۔  سب انسپکٹری میں ڈنڈے کا ایسا ساتھ کہاں —؟ وہ تو پرموشن اور پیسہ بڑھنے کا چکر نہ ہوتا تو کبھی وہ اس ڈنڈے کو ہاتھ سے جانے نہ دیتا۔  اور سب انسپکٹری کا عہدہ قبول ہی نہ کرتا مگر…
دنیاداری ہو یا، پولیٹکس— ورما کے پاس ہر سوال کا جواب موجود ہوتا۔  تھانہ کلائیں چک کے، اس کے ساتھی بھی اس کے جنرل نالج سے خاصہ رعب کھاتے تھے۔  خاص کر اس وقت جب وہ دیش کی پالیٹکس کے بارے میں چیخ چیخ کر گفتگو کر رہا ہوتا… ’’سب سالے آتنک وادی ہو گئے ہیں۔  سالے اندر سے ہی آتنک وادی تھے تبھی تو انگریز آ گئے۔  دیش کو غلام بنا دیا۔  پھر سالی آزادی ملی بھی تو کیا— وہی آتنک وادی بھتری چھری سے دیش کو لہو لہان کئے جا رہے ہیں …‘‘
ورما  اپنے خیال سے مطمئن ہو کر مونچھوں کو تاؤ دیتا اور سوچتا۔  پولیس نہ ہوتی تو دیش کہاں جاتا— نرک میں — اور کیا—؟‘‘
٭٭
ورما اپنی نوکری سے مطمئن تھا۔  وہ پولیس کی نوکری کو اس قدر با وقار مانتا تھا کہ دوسری تمام نوکریوں پر پولیس کی نوکری کو ترجیح دیتا تھا۔  اس کے اختیار اور دائرے میں اگر کوئی اونچ نیچ ہو بھی جاتی تو وہ اسے صحیح گردانتا تھا۔  تھپڑ، مار پیٹ، گالی گلوج، رشوت… وہ ان سب چیزوں کو قانون اور ’پولیسیا رعب‘ کا ایک حصہ مانتا تھا۔  اس کا کہنا تھا۔  سالے، آتنک وادی۔  سمجھانے پر نہیں سمجھیں تو ہم کیا کریں۔  ان کا برا حشر کر کے دیکھو۔  تب دیکھو، کیسے باپ کے سامنے بھیگی بلی بن جاتے ہیں۔  چھوڑ اس لیے دیتا ہوں کہ سالوں پر رحم آتا ہے۔  پیسہ اس لیے لیتا ہوں کہ سالوں کو چھوڑتے ہو نفرت  ہوتی ہے… سالوں نے دیش کو چوپٹ کر رکھا ہے۔ ‘‘
٭٭
ورما یوں تو اپنی بیوی پر ہر بات میں بھاری پڑتا تھا مگر رات میں، سونے کا لمحہ واحد لمحہ ہوتا جب اس کے پسینے نکل آتے تھے۔  یوں جیل کی کال کوٹھریوں میں بڑی بڑی مار سے قیدیوں کی موت نکلتے دیکھ کر اس کے ماتھے پر پسینے نہیں چوتے تھے— مگر ادھر کچھ برسوں سے وہ خود کو جسمانی کمزوری کا شکار محسوس کر رہا تھا۔  گو اس معاملے میں اس نے ساتھی سب انسپکٹر رتن لال اور دیگر معقول لوگوں سے مشورہ لینے، اور صلاح قبول کرنے میں بھی کوئی قباحت محسوس نہ کی۔ مگر رات کا مسئلہ دیوار پر رینگتی چھپکلی کی طرح اس کے وجود میں سرسراہٹ سی مچا دیتا۔  اندھیرے میں بتی گل ہوتے ہی جب کپڑوں کی سرسراہٹ اور سانسوں کے زیرو بم کی صدا اس کے کانوں میں پڑتی تو ورما کی دھڑکنیں تیز تیز چلنی شروع ہو جاتیں۔  دھرم پتنی کی حرکات و سکنات پر رات کے اندھیرے میں اس کی آنکھیں جیسے ’کان‘ بن جاتیں … دھڑکتے دل کے ساتھ وہ کمزور لمحے کے داؤں پیچ میں خود کو اتنا شکست خوردہ محسوس کرتا کہ اس کی آواز تک بند ہو جاتی اور سارا پولیسیا رعب ہوا جاتا… وہ کسی کیڑے جیسا خوف کھاتا اور بچے جیسا گھبراتا۔  دھرم پتنی جب اپنی سلگتی  آگ کو سنبھالتے ہوئے اس کے سامنے کسی ننگی کمان کی طرح تن جاتی تو اس کی سانس غبارے کی طرح پھول رہی ہوتی… یہ وہ لمحہ ہوتا جب اس کی پتنی کا ہاتھ اس کے سینے پر آ جاتا۔  کیچوے کی طرح پھدک کر، اپنے ڈھکے سینے کو روشنی میں جگا کر ورماکی پھول رہی سانسوں میں اپنی سانسیں رکھ دیتی… نسوں میں ہیجان دوڑجاتا، اور برداشت نہیں ہوتا تو بے حیا لفظوں کی اگنی میں بھی کود پڑتی۔ 
’’یہ کیا ہو جاتا ہے۔  نامرد تو نہیں ہو گئے۔ ‘‘
ورما چیختے چیختے ہاتھ اٹھاتے اٹھاتے رہ جاتا—
’’ڈاکٹر کو کیوں نہیں دکھاتے۔  یا کوئی اور بات ہے—؟‘
ورما کو، ہونٹوں کا لعاب سوکھتا محسوس ہوتا— ’اور بات مطلب؟‘
’’پولیس والے ہو۔  تم پولیس والوں کا ایمان دھرم کیا۔  روج ہی کلچھرے اڑا کر آتے ہو گے؟‘
ورما  کو اس جملے پر اپنی مردانگی دوبارہ ملتی ہوئی محسوس ہوتی۔  پھولی ہوئی سانس کے زیرو بم میں کمی آتی۔  مسکراتا، جھڑکتا… تو تمہیں کیا؟
’’وہ بھی تو جاتا ہے۔  تمہارا دوست، رتن لال، کوٹھے پر…؟‘‘
’سب جاتے ہیں۔  ایک رتن لال ہی کیوں ؟‘
’اچھی نوکری ہے۔  ایک پتنی سے دل نہیں بھرتا۔ ‘
’کسی کا نہیں بھرتا۔  سب کرتے ہیں ایسا۔  اب زیادہ بک بک مت کر۔  سوجا۔  ورنہ اتنی زور کا تھپڑ دوں گا کہ زندگی بھر کو چندلی ہو جائے گی۔ ‘
٭٭
اس بار بیوی کچھ نہیں بولی۔  گنجے ہو جانے کے ڈر سے یا ورما سے مار کھانے کے خوف سے دبک کر، بھیگی بلّی بن کر اپنے پگھلتے ساون کو سنبھالے سوجاتی۔  ورما  دیر تک جاگتا رہا۔  ٹانگوں اور ٹانگوں کے درمیانی حصے میں اس کے ہاتھ دیر تک رینگتے رہتے۔  چھپکلی کی کٹی، بے حس و حرکت ہو گئی دم کی طرح اب وہاں کوئی حرکت نہیں تھی۔  ورما کو ایسے کئی قصے معلوم تھے، جو اس کے دوست احباب پولیس والوں کی نوکری سے متعلق سناتے آئے تھے۔  جیسے یہ کہ آخری وقت میں یہ سالے نامرد ہو جاتے ہیں۔  سب بھگوان کراتا ہے۔  پولیس والوں کا آخری وقت بہت دکھ میں گزرتا ہے اور ثبوت کے طور پر آس پاس کی کتنی ہی مثالیں گنا دی جاتیں۔  گو شروع میں ورما  ان باتوں کو نہیں مانتا تھا مگر اب ادھر چند برسوں سے اپنی جسمانی طاقت کو دیکھتے ہوئے وہ تھوڑا تھوڑا ڈرنے ضرور لگا تھا۔ 
٭٭
ورما پولیس کے ہر کرم کو جائز مانتا تھا۔  اس کا کہنا تھا کہ پولیس جو بھی کرتی ہے، ٹھیک ہی کرتی ہے اور اسے سب کچھ کرنے کا ادھیکار بھی ہے۔  ورما کی جیب ہمیشہ پھولی رہتی تھی اور وہ اپنی پھولی جیب سے بڑے بڑے افسران کو بھی خوش رکھتا تھا۔  اسی لیے اس کی پہنچ بڑے بڑے افسران تک تھی۔  یہاں تک کہ بھوانی سنگھ سپرنٹنڈنٹ آف پولیس بھی اس سے کچھ زیادہ ہی خوش رہتے تھے۔  خوش رہنے کی ایک وجہ تو یہ بھی تھی کہ ورما  ان کے چھوٹے بڑے گھریلو کام بھی خوش دلی سے قبول کر لیا کرتا تھا اور ان کے لیے چھوٹے موٹے پیسوں کی پرواہ نہیں کرتا تھا۔  بھوانی سنگھ اپنی سخت گیری کے لیے محکمے میں مشہور تھے اور پولیس کی ناک سمجھے جاتے تھے— ان کے چنگل میں آ کر بڑا سے بڑا بدمعاش بھی پانی مانگتا تھا۔  ملزموں کو ٹارچر کرنے، سچ اگلوانے اور اقبالیہ بیان حاصل کرنے میں بھی بھوانی سنگھ کا جواب نہیں تھا۔  ملزم کی آدھی ہوا تو ان کی لمبی تگڑی شخصیت اور چہرے پر چھائے جلال کو دیکھتے ہی نکل جاتی… ہاں، کتنے ہی موقعوں پر یہ ناک کٹتے کٹتے بھی بچی تھی۔  اور بھوانی سنگھ کی مردانگی نے اس ناک کو دوبارہ بحال کیا تھا۔  کبھی کبھی کسی ملزم کو پکڑنے میں ورما سے بھول چوک ہو جاتی تو بھوانی سنگھ اسے تعزیرات، دفعہ، قانونی ہتھکنڈے اور وردی کی طاقت کے بارے میں چھوٹی چھوٹی باریکیاں سمجھایا کرتے۔  اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ورما  قانونی امور کے معاملے میں کچھ زیادہ ہی ہوشیار ہو گیا۔  اب جب سے ٹاڈا کا معاملہ شروع ہوا تھا، ورما  کے لیے اور آسانی ہو گئی تھی۔  وہ بلا روک ٹوک کسی پر بھی کوئی دفعہ آزما لیتا اور حراست میں لے لیتا۔  یا حراست کی دھمکی دے کر چھوٹی موٹی رقمیں اینٹھ لیتا۔  آرمس ایکٹ اور دسیوں ایکٹ کی وضاحت و وکالت وہ اس طرح کرتا کہ حراست میں لیا گیا آدمی گھبرا جاتا اور اس سے جو بھی بن پڑتا، ورما کو دے کر پیچھا چھڑانے کی کوشش کرتا۔ 
٭٭
پہلی پہلی بار جب ٹاڈا کی ہوا چلی تو اسے پتہ بھی نہیں تھا کہ ٹاڈا ہے کیا۔  لیکن اسے اتنا ضرور معلوم چل گیا تھا کہ ٹاڈا آ جانے کی وجہ سے اس کی حیثیت پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو گئی ہے۔  اسے یہ بھی معلوم تھا کہ اس کا صوبہ ان بیس صوبوں میں سے ایک ہے، جہاں ٹاڈا کی ناؤ تیر سکتی ہے۔  اور ورما تو اس ناؤ کو بہانے بلکہ اڑانے کا ارادہ رکھتا تھا۔ 
شروع شروع میں جب ٹاڈا اس کی سمجھ میں نہیں آیا تو وہ بھوانی بابو سے ملا۔ 
’ورما، تو بہت بھولا بھالا ہے، بھوانی بابو ہنسے… اب ایسے سمجھ لو جو گیند تیرے ہاتھ میں تھی وہ اب تیری جیب میں آ گئی ہے۔ ‘
’ہاں، آ گئی ہے۔  سرمگر میں اب بھی کچھ نہیں سمجھا۔ ‘
بھوانی سنگھ نے ٹھہاکا لگایا۔  ’گدھے کے بچے… رہے گا زندگی بھر سب انسپکٹر کا سب انسپکٹر۔  کچھ کام کر کے دکھا۔  یہی موقع ہے اوپر سے بھی حکم آیا ہے۔  ٹاڈا کے تحت زیادہ سے زیادہ لوگوں کو حراست میں لینا ہے۔ ‘
ورما کے چہرے پر چمک لہرائی۔  ’ذرا کھل کر بتائیے سر۔ ‘
’اب ایسے سمجھو کہ قانون تمہارے ہاتھ میں ہے۔  کوئی آدمی تمہاری مرضی کے خلاف کام کرے تو تم ٹاڈا میں اسے حوالات میں بند کرا سکتے ہو۔  کوئی تمہارا ’ٹھینگا‘ بھی نہیں بگاڑ سکتا۔ ‘
’وہ کیسے سر؟‘
’ٹاڈا کی خصوصی عدالت میں ملزم سے لیے گئے اقبالیہ بیان کو ہی بطور ثبوت تسلیم کیا جائے گا۔ ‘
ورما کا دماغ گھوم کر رہ گیا— ’مطلب، اس کا کیا مطلب ہوا سر؟‘
بھوانی پھر بے مطلب ہنسے۔  ’اپنی من مانی اور آسان ڈھنگ سے کر سکتے ہو ورما۔  کسی کو بھی میرے جیسے سینئر پولیس افسر کے سامنے لے آؤ۔  ٹھکائی کر دو۔  پٹائی کر دو۔  سادہ کاغذ پر انگوٹھا لگوا دو۔  گواہ کی پہچان بھی ٹاڈا کے معاملے میں پوشیدہ رہے گی۔  یہ دونوں ہی شقیں ہمارے لیے خطرناک اوزار ہیں۔  کیوں ورما؟‘
اس کے بعد بھوانی بابو نے اٹھ کر دو پیگ تیار کئے۔  ایک اپنے لیے، ایک ورما  کے لیے۔  وہ لمبے لمبے ڈگ بھرتے ہوئے ورما کے پاس آ کر ٹھہرے… لو پیو۔ 
’نہیں سر‘
’پیو‘— بھوانی سنگھ اس بار گرج کر بولے۔  ’پیو اس لیے پیو— کہ تم چغد آدمی ہو۔  ابھی کمائی کا وقت ہے اور تم ہو کہ ٹاڈا کے بارے میں سوال پوچھ رہے ہو۔  جاؤ جاکر دوسرے تھانوں میں دیکھو۔ ‘
’جی سر‘
’اورسنو۔  آتنک واد سے نپٹنے کے لیے ہی پولیس پرشاسن کو قانون کا یہ ہتھیار دیا گیا ہے۔  اس کا استعمال کرو۔  دھر پکڑ کرو۔  گرفتاری کرو۔  تھانہ بھرو اور سنو ۱۷ تاریخ کو رتھ یاترا کلائیں چک سے گزرنے والی ہے۔  زیادہ خطرہ لچھی ٹولہ امام باڑہ سے ہے۔  سمجھے رہے ہونا… ہر حالت میں … پیو… شرماؤ مت… کتے کی برادری میں سب چلتا ہے۔  کوئی چھوٹا بڑا نہیں ہوتا…
٭٭
لچھی ٹولہ کا امام باڑہ… سانولے چہرے والی صبیحہ اور وہ رشید حرام زادہ…
ورما کے چہرے پر تیزی سے کتنی ہی پرچھائیاں گزرگئیں۔  چڑیا کی طرح پھدک پھدک کر چلنے والی صبیحہ یاد آ گئی۔  ان دنوں کے ہر ایک لمحے پر جس کی دسترس تھی۔  جس کے چہرے کے نقوش ہر وقت آنکھوں میں تیرتے رہتے تھے۔  اور ورما  کبھی کبھی یہ بھی سوچتا تھا کہ وہ رشید کی طرح مسلمان کیوں نہیں ہے۔  کاپیوں پر اس کا نام لکھنا— اس کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے گھنٹوں امام باڑہ کے پاس، چائے کی دکان پر بیٹھے رہنا— امام باڑہ میں ہلچل محرم کے دنوں میں شروع ہوتی تھی۔  لچھی ٹولہ کا امام باڑہ در اصل مسلمانوں کا محلہ تھا اور اس محلے کے تعزیہ کی بہت دھوم تھی۔  رشید اور صبیحہ اسی محلے کے تھے اور کالج کے دنوں میں ورما کے ساتھی تھے۔  ہاں وہ بات تو پھٹک کو اس دن پتہ چلی جب…
٭٭
ڈماڈم… ڈماڈم… ڈماڈم… نا… نا… نہ… نہ
امام باڑے میں ہلچل تھی۔  نیاز فاتحہ ہو رہی تھی۔  ایک طرف محلے کے چھوکرے، بچے ہر… رے رہے اور یا علی، حسن حسین چیختے چلاتے آپس میں لکڑی بھالا کھیل رہے تھے۔  کچھ بڑے جوان لڑکے انہیں ہٹاتے ہوئے گھیرا بنا رہے تھے۔  امام باڑہ لچھی ٹولہ کا خلیفہ گلے میں موٹا سا پھولوں کا ہار ڈالے اپنی حد درجہ مصروفیت دکھاتا ہوا ادھر اُدھر گھوم رہا تھا۔  نگاڑہ بج رہا تھا… ڈھول ڈرم پیٹے جا رہے تھے۔  سروں پر دوپٹہ ڈالے عورتیں لڑکیاں ایک طرف بھیڑ کی صورت، ہنستی مسکراتی اس جم غفیر کو تک رہی تھیں۔  امام باڑہ کے ایک طرف لئی گوند اور رنگ برنگی چمکیاں لیے محلے کے لڑکے جالیاں جھالریں بناتے اور اسے تعزیہ میں سجانے کی تیاری کر رہے تھے۔  نگاڑے کی آواز پر گھیرے میں کھڑے لڑکوں نے ڈنڈا بھانجنا شروع کر دیا تھا۔ 
’ڈماڈم… ڈماڈم… نا… نا…نہ… نہ
لیکن پھٹک تو کچھ اور ہی دیکھ رہا تھا۔  نیاز والی رکابی لیے صبیحہ امام باڑے کے ایک طرف جانماز بچھائے، سر پر رومال رکھ کر فاتحہ کرتے ہوئے رشید کو کچھ زیادہ ہی انہماک سے دیکھ رہی تھی— زمین ٹھہر گئی، آسمان خاموش ہو گیا… نگاڑے رک گئے… وقت کی ہلچل میں سکوت چھا گیا۔ 
ورما کے دماغ میں سائیں سائیں ہو رہا تھا…
صبیحہ کے ہونٹوں پر مسکراہٹ تھی… فاتحہ کر دیجئے۔ 
رشید نے نظر اٹھائی۔  مسکرا کر صبیحہ کو دیکھا اور رکابی کا کپڑا اٹھا کر پھونک دیا۔ 
محرم کا نگاڑہ بج رہا تھا… ڈماڈم… ڈماڈم… نا… نا… نہ… نہ
٭٭
وہ رات آنکھوں میں گذر گئی۔  شدید بے چینی میں کروٹیں بدلتے ہوئے۔  صبح ہوتے ہی وہ ہنومان جی کے مندر نکل گیا۔  پرارتھنا کیا، تلک لگایا، پرساد کھایا، من میں اندھڑ چل رہے تھے۔  دو چار دن ایک دوسرے کو، آنکھوں آنکھوں میں دیکھتے ہوئے گزر گئے… ایک دن کالج میں گوشۂ تنہائی میں اس نے صبیحہ کا راستہ روک لیا۔  اس کے الفاظ سانسوں کی ہلچل میں کھو گئے تھے— صبیحہ کے ہونٹوں پر مسکراہٹ تھی۔  ویسی ہی، جیسے محرم کے دن نیاز والی رکابی لیے اس کے ہونٹوں پر تھی۔ ’’کیا ہے؟‘‘
ادھر اُدھر کی بات کے بعد اس نے دھڑاک سے پوچھ لیا—مجھ سے شادی کرو گی؟
’نہیں۔ ‘ مسکراہٹ میں شرارت سمٹ آتی تھی۔ 
’کیوں ؟‘
’’کیونکہ ابا نہیں چاہیں گے۔  تم ہندو ہو—‘‘ وہ خطرناک مسکراہٹ کے ساتھ دیکھ رہی تھی اور وہ مسکراہٹ کی دھار سے کٹا جا رہا تھا۔ 
’بس اتنی سی بات پر۔ ‘
’ہاں۔  ابا بہت سخت ہیں ہمارے— وہ تو لڑکیوں کی پڑھائی کے بھی خلاف تھے۔  لیکن تم مجھ سے شادی کیوں کرنا چاہتے ہو؟‘
وہی مسکراہٹ اور محرم کے نگاڑہ کی آواز… ڈماڈم… ڈماڈم… نا… نہ… ورماکو لگا، وہ بے جان ہو گیا ہے… اس کی حیثیت اس کچرے جیسی ہے جسے سمندر کی لہروں نے ساحل پر اچھال دیا ہے۔  وہ اس کے چہرے کو تکے جا رہا تھا جو بے حد ملائم، خوشنما اور تازگی لیے ہوا تھا۔ 
’اگر مان لو میں مسلمان ہوتا تو…؟‘
’تب تم اپنے ابا سے میرے یہاں رشتہ بھجواتے۔ ‘
’رشتہ بھجواتا… تب؟‘
’تب— تب میں ہاں کر دیتی۔ ‘
صبیحہ چڑیا کی طرح پھدکی— پھر ٹھہری نہیں۔  حیا جیسی سرخی اس کے چہرے پر دمک آئی تھی۔  اس کے بعد وہ رکی نہیں، قلانچیں بھرتی تیزی سے دوڑی… پھر ٹھہری۔  شرمائی۔ پلٹ کر اس کی طرف دیکھا اور ورما— اب اس کے دل میں۔  اس جگہ پر جہاں دھڑکن کے گیت گونجتے تھے— محرم کے نگاڑے بج رہے تھے… ڈما… ڈما… ڈما…
’تب میں ہاں کر دیتی… ساری رات صبیحہ کا یہ جملہ اس کے کانوں میں بجتا رہا۔  اس کا شرمانا، رکنا، پلٹ کر دیکھنا اور اپنی اداؤں کی سنہری دوڑ میں اسے کس لینا۔  ساری رات وہ انوکھے خمار میں ڈوبا رہا۔  جیسے وہ دن… وہ… لمحہ… وہ رات… سب کچھ اس کی زندگی کی کتاب میں کسی روشن روزن سے داخل ہو گیا تھا۔ 
دوسرے دن کالج میں پتہ چلا، رشید اور اس کے یار دوست اسے چاروں طرف پوچھتے چل رہے تھے۔  وہ اس کے محلے بھی گئے تھے۔  گھر جا کر بھی اس کے بارے میں پوچھ گچھ کی۔  اسے پتہ چلا— کل رشید کے کسی دوست نے اسے صبیحہ کے ساتھ دیکھ لیا تھا۔  رشید اسے کالج کینٹین میں مل گیا۔  اس سے پہلے کہ وہ سنبھلتا، رشید اور اس کے ساتھیوں نے چائے کے گلاس ہوا میں اچھالے اور آناً فاناً ان کے ہاتھوں میں ہاکی کی اسٹک ناچنے لگی۔  معاملہ سمجھتے ہی اس نے بھاگنے کی کوشش کی۔  پھر اسے کچھ پتہ نہیں۔  کچھ خبر نہیں۔ 

وقت گزرا۔  اندر کہیں محرم کے نگاڑہ کی آواز بچی رہ گئی تھی… ڈماڈم… ڈماڈم… نا… نہ…
جیسے جیسے رتھ یاترا پہنچنے کا دن قریب آ رہا تھا، ورما کی ذمہ داریاں بڑھتی جا رہی تھیں۔  شہر میں تناؤ بڑھ گیا تھا۔  خاص کر مسلم اکثریتی علاقوں میں تناؤ سے بچنے کے لیے جلوس نکالنے، سبھائیں کرنے، مجمع اکٹھا کرنے اور مذہبی عبادت گاہوں سے ہونے والی تقریروں پر پابندی عائد کر دی گئی تھی— ورما کو خبر ملی تھی، امام باڑہ کے پاس ایک جتھا یاترا کو روکنے اور بھنگ کرنے کی سازش رچ رہا ہے۔  اور اس جتھے کی نمائندگی کرنے والوں میں جو چند ناموں کی فہرست اس کے پاس تھی… اس میں ایک نام تھا… رشید انصاری۔ 
پھر ورما نے دیر نہیں کی۔  کسی ذمہ دار افسر کی طرح اس نے امام باڑہ کے پاس جیپ روکی— چاروں طرف ناکہ بندی کی گئی۔  ایر سٹنگ ہوئی۔  کمانی چائے والے اور تھوتھا کباب والے کی دکان سے چار پانچ ملّا ٹائپ لوگوں کو پولیس نے دھر دبوچا۔  ان میں مؤذن بھی تھے، امام بھی۔  ان سب کو ٹاڈا کے تحت حراست میں لے لیا گیا۔ 
امام باڑہ میں سناٹا چھا گیا۔ 

ورما نے رشید انصاری کے بارے میں پتہ کیا۔  ایک چائے والے نے آگے گلی میں ایک مکان کی طرف اشارہ کر دیا۔  گلی اتنی پتلی تھی کہ جیپ کے اندر جانے کا سوال ہی نہیں اٹھتا تھا۔ 
ورما نے سپاہیوں کو باہر ہی روکا۔  پھر وہ خود ہی مکان کی طرف بڑھ گیا۔  یہ ایک منزلہ ٹوٹا پھوٹا سا مکان تھا۔  مکان کی سفیدی جھڑ چکی تھی۔  پلاسٹر بھی ادھڑ چکا تھا۔  دروازے والی سیڑھی ٹوٹی ہوئی تھی— اور اس جگہ موٹی موٹی چار پانچ اینٹیں رکھ کر سیڑھی کی جگہ بنائی گئی تھی۔  جس وقت ورما گلی میں داخل ہوا، آس پاس کی کھڑکیاں دروازے کھل گئے۔  آنکھیں خوفزدہ تھیں اور پولیس کے قدم کو رشید کے مکان کی طرف بڑھتا دیکھ رہی تھیں …
ورما اینٹے والی سیڑھی پر ہمت کر کے چڑھا۔  پھر دروازہ پیٹنا شروع کیا۔ 
اندر سے آواز آئی ’’…کون؟‘‘
’پولیس۔  ورما نے جواب دیا۔ ‘
فوراً ہی دروازہ کھل گیا۔  دروازہ کھولنے والا ایک معمر بوڑھا آدمی تھا۔  اس نے میلی سی بنیان اور چار خانے کی لنگی پہن رکھی تھی۔  سر پر ایک گندی میلی سی ٹوپی چپکی تھی۔  ورما کی وردی کو دیکھتے ہی وہ آدمی سہم گیا۔ 
’رشید کہاں ہے؟‘
’جی… نا معلوم…‘
’آپ کون ہیں اس کے ؟‘
’سسر ہیں جی‘
’گھر میں اور کون ہے؟‘
’میری بیٹی یعنی رسید کی اہلیہ…ایک میری اہلیہ۔  ایک رشید کی لڑکی— بوڑھے کے چہرہ کا رنگ فق تھا۔ 
’لیکن سرکار، آپ یہ سب کیوں پوچھ رہے ہیں۔  رسید نے کوئی جرم تو نہیں کیا سرکار۔ ‘
ورما گلے کو کھنکھار کر بلند آواز میں بولا— ’رسید آ جائے تو کہنا کہ تھانہ میں ملے۔  کہہ دیناکہ انسپکٹر صاحب نے یاد کیا ہے۔  ضرور سے کہہ دینا۔ ‘‘
اس دن شہر میں پولیس کی پکڑ دھکڑ چلتی رہی۔  قریب 300 آدمیوں کو پولیس نے ٹاڈا کے تحت حراست میں لے لیا۔ 
٭٭
اس دن رشید انصاری تھانے میں حاضر نہیں ہوا۔ 
دوسرا دن، رتھ یاترا گزرنے کا دن تھا۔  صورت حال انتہائی نازک ہو چکی تھی۔  پولیس کی ڈیوٹی بانٹی جا چکی تھی۔  پولیس کی دھڑ پکڑ جاری تھی۔  امام باڑہ کے پاس سے ابھی بھی اچھی رپورٹ نہیں آئی تھی۔ 
رتھ یاترا ٹھیک بارہ بجے پہنچ گئی— یاترا میں شامل لوگوں کو دونوں طرف سے رکچھا کوچ لیس پولیس نے اپنے حصار میں لے رکھا تھا۔  آواز کا شور اتنا تھا کہ کان کو کان سنائی نہیں دے رہا تھا۔  جے شری رام کے نعروں سے آسمان گونج رہا تھا۔  ایک بجے کے آس پاس اس یاترا کو امام باڑہ سے گزرنا تھا۔  جس وقت ورما آدمیوں کے جم غفیر سے گزرتا ہوا امام باڑہ کے پاس آیا، وہیں بھیڑ میں — اچانک، وہ ٹھٹھک کر کھڑا ہو گیا۔  باڑے میں اسی جگہ، جہاں محرم کے روز نیاز فاتحہ ہو جانے کے انتظار میں کھڑی صبیحہ کو دیکھا تھا۔  اسی جگہ، چبوترے کے اسی مقام پر بجلی کی طرح وہ چہرہ کوندا۔  دبلا پتلا— لانبا، گھٹنے سے نیچے تک کا کرتا۔  پائجامہ اور ہوائی چپل۔  آنکھیں ذرا اندر کو دھنس گئی تھیں۔  گالوں کی ہڈیاں باہر نکل آئی تھیں۔  چہرے پر ہوائیاں اڑتی۔  لیکن اس کے باوجود ورما نے پہچاننے میں کوئی غلطی نہیں کی…
نگاڑہ بجا… ڈم… ڈما… ڈم…
یاترا دھیرے دھیرے آگے بڑھ رہی تھی۔  عورتیں، مرد، بچے، بوڑھوں کی بھیڑ امڈ آئی تھی۔  آس پاس کھڑکیوں، دروازے، چھتوں پر آدمیوں کے سیلاب کو دیکھا جا سکتا تھا۔  ورما جیسے سب کچھ بھول چکا تھا۔  وہ دھیرے دھیرے اس آدمی کی طرف بڑھ رہا تھا… کانوں میں برسوں پہلے گم ہوئی نگاڑے کی آواز گونج رہی تھی… ڈم… ڈما… ڈم… نا… نہ… برسوں پہلے کی اس آواز میں رتھ یاترا میں شامل ہجوم کی آواز مل گئی تھی… جے… ڈماڈم… شری… رام … نا… نہ…
اچانک چبوترے پر کھڑے کسی آدمی نے زور سے نعرہ لگایا— یا علی۔ 
اچانک بھگڈر مچ گئی… پولیس نے فائرنگ کی… آنسو گیس چھوڑے… اور نازک ماحول سے نپٹنے کی تیاریوں میں جٹ گئی…
٭٭
رتھ یاترا گزر گئی۔  لیکن طوفان نہیں تھما۔  اس دن لچھی ٹولہ امام باڑہ سے چن چن کر، گھروں سے مردوں کو نکالا گیا اور وین میں بھر بھر کر تھانے پہنچایا گیا۔ 
پولیس کے آدمی جس وقت رشید کے مکان کے دروازے پر پہنچے، ان میں سب سے آگے ورما تھا۔  ورما نے دروازہ کی کنڈی زور زور سے ہلائی۔  دروازے کھولنے والی ایک عورت تھی۔  آنچل ہٹا اور اس کا دہشت زدہ چہرہ باہر آ گیا۔  ورما چونک کر دو قدم پیچھے ہٹا۔ 
محرم کا نگاڑہ ایک بار پھر بج اٹھا۔  وہی امام باڑہ کے چبوترہ پر نیاز کرانے کی اپنی باری کا انتظار کرتی ہوئی صبیحہ… عورت تھر تھر کانپ رہی تھی۔  ورما کی سانسوں میں طوفان آ گیا۔  ہونٹوں کا لعاب سوکھ گیا۔  پھر اس نے خود کو بحال کیا۔  پولیسیا رعب میں واپس آ گیا۔ 
’رسید کہاں ہے؟‘
’جی۔  وہ تو گھر پر نا ہیں، … عورت تھر تھر کانپ رہی تھی۔ ‘
تم صبیحہ ہو…!
وقت جیسے ٹھہر گیا تھا، ہونٹ لرز رہے تھے…
ورما کی آواز نرم پڑی۔  عورت نے نظر اٹھا کر دیکھا… پھر تھم کر رہ گئی…
’ورما… میں ورما ہوں ‘… وردی میں وہ اپنی افسری کی گانٹھ باندھ رہا تھا… پہچانا؟
عورت کے بدن کی تھرتھراہٹ اب تک بند نہیں ہوئی تھی۔  اچانک پشت سے اس کے باپ کا چہرہ ابھرا۔  اس نے عورت کو جھٹکے سے پیچھے کھینچا… ’اندر جا۔  باہر زنانیوں کا کیا کام…‘‘
ورما پھر اسی ’پولیسیا رعب‘ میں واپس آ گیا۔  اس کے بدن سے تیز ہوا کا جھونکا ٹکرایا۔  سب کچھ بھول کر اس نے سپاہیوں کو آواز لگائی۔  لے سب کو حراست میں لے لے—‘
پولیس کے سپاہی شاید اسی انتظار میں تھے۔  وہ دندناتے ہوئے اندر گھس آئے۔  اندر چارپائی پر رشید کی جوان لڑکی زبیدہ سو رہی تھی… سپاہیوں کی ہوسناک آنکھوں نے اسے گھورا۔  لڑکی نے خوفزدہ ہو کر چیخ ماری… ایک سپاہی نے انتہائی بدتمیزی سے اس کے سینے پر چکوٹی بھری۔  ورما نے تن تنا کر اس کا ہاتھ روک لیا… شاید وہ تذبذب کی حالت میں تھا کہ یہ سب کیسے ہو گیا… مگر جو ہونا تھا وہ ہو چکا تھا۔  جس وقت پولیس وین تھانے کو کوچ کر رہی تھی، وین سے رونے دہاڑنے کی آواز گونج رہی تھی۔  اس سے بے نیاز ورما اس عورت کو گھور رہا تھا، جس میں اس کے خوابوں کی، پہلی بارش کی پھواریں کھوئی ہوئی تھیں…

ٹاڈا قانون کے تحت جیل رکارڈ میں نام درج کراتے وقت صبیحہ کی بیٹی کو لے کر پریشانی ہو گئی۔  وہ 15 سال کی نابالغ لڑکی تھی۔  سپرنٹنڈنٹ بھوانی سنگھ نے یہ گتھی بھی سلجھا دی۔  جیل ریکارڈ میں اس کی عمر 18 سال درج کی گئی، اور اس پر بھی ٹاڈا کا مقدمہ بنا دیا گیا۔ 

ورما کے بدن میں ٹھنڈی لہر دوڑ گئی… ’لیکن سر… لڑکی تو ابھی نابالغ ہے…‘
بھوانی ہنسے۔  ’’ملزم کے لیے عمر کی کوئی سیما اس قانون میں طے نہیں۔  دودھ پیتے بچے سے لے کر ۹۸ سال تک کے بوڑھے کو اس کی زد میں لیا جا سکتا ہے… ہم نے تو بس اس پر ذرا سی مہربانی کی ہے…‘
ورما کو حیرانی تھی… ’لیکن جرم کیا لکھا جائے گا۔ ‘
’رشید آتنک وادی ہے۔  اس نے بھیڑ میں بھگڈر پیدا کرنے کی کوشش کی۔  تم سچ مچ چغد ہو۔  ورما۔  جب ہم ہی قانون ہیں تو پھر ثبوت کی ضرورت کیا ہے۔  جو چاہیں، دفعہ ٹھوک دیں گے۔  رشید آتنک وادی ہے تو اس کو ٹھکانہ دینے والے بھی آتنک وادی ہوئے۔  اب رشید کی ماں کو لو۔  آتنک وادی کے شریر میں جو خون دوڑ رہا ہے وہ ماں کا ہے۔  کیوں — تو ماں بھی آتنک وادی ہوئی نا؟‘
’لیکن سر۔  وہ بڑھیا تو رشید کی ساس ہے۔  رشید کی ماں تو ہے ہی نہیں۔ ‘
’پھر وہی مورکھ جیسی باتیں۔  ارے بھگڈر پھیلانے اور گڑبڑی پیدا کرنے میں یہ سب تھے۔  ٹاڈا کی تیس دھاراؤں میں سے کوئی بھی لگا دیں گے۔  آتنک وادی گتی ودھیوں میں لپت ہونا ایک دھارا ہوئی۔  بھیڑ یا بھگڈر سے ایک آدمی کے ہلاک ہونے کی خبر ملی۔  اس طرح رشید پر مرتیو دنڈ اور کم سے کم اس کو پانچ سال کی سزا سنائی جا سکتی ہے۔  اس کے گھر ہتھیار رکھوا دو— اور اس پر آرمس ایکٹ کی دھارا لگوا دو۔ ‘
’لیکن سر، رشید تو ابھی فرار ہے۔ ‘
’دھارا ۸ کے مطابق بھگوڑے شخص کی سمپتی کی قرقی کی جا سکتی ہے۔  اس میں آگے یہ بھی جوڑا گیا ہے کہ جو شخص مفرور ہے اس کے خلاف مقدمہ کی سنوائی اس کی غیر موجودگی میں بھی ہو سکتی ہے۔  اور جرم ثابت ہو جانے پر اس کی غیر موجودگی میں بھی اسے سزا سنائی جا سکتی ہے۔ 
٭٭
ورما کے دماغ میں مسلسل نگاڑے بج رہے تھے… اس کے بعد اس نے کچھ نہیں پوچھا… اسے لگا، وہ کسی بلیک ہول میں پھنس گیا ہے— اور دھیرے دھیرے ہوا میں تحلیل ہوتا جا رہا ہے… اسے لگا، آنکھوں سے پاؤں تک پورے بدن میں اندھیرا پسر گیا ہے… اسے پہلی بار لگا، اس سے کچھ غلط ہو گیا ہے۔  مگر اب دیر ہو چکی تھی…
اسی شام وہ لاک اپ میں رشید کے خاندان  والوں سے ملنے گیا۔  ان کے چہروں پر ہوائیاں اڑ رہی تھیں۔  اس نے صبیحہ کی طرف دیکھا… آج اس کی آنکھوں میں محرم کے نگاڑے خاموش تھے… زبیدہ اسے دیکھ کر دو قدم پیچھے ہٹی— جیسے سامنے والا آدمی اس کی عزت لوٹنے پر آمادہ ہو… اس کی سانس پھول رہی تھی… وہ تو یہ اطلاع دینے آیا تھا کہ بہت جلد ڈڑاگنٹڈ کورٹ میں ان پر مقدمہ چلایا جائے گا۔  اس بیچ رشید کا ملنا بہت ضروری ہے۔  وہ انہیں بتانے آیا تھا کہ تیر کمان سے چھوٹ چکا ہے… تمہارے خلاف خفیہ گواہ بھوانی سنگھ نے پیدا کر لیے ہیں — اور انہیں دکھانے یا بتانے کی ضرورت عدالت کو نہیں ہے… یعنی جو غلطی ہو چکی ہے اس کا خمیازہ بھگتنے کے لیے تیار ہو جانے کا وقت آ گیا ہے… اس قانون میں ہم کچھ نہیں کر سکتے۔  بڑے بڑے ہیرو لوگ بھی زیرو ہو جاتے ہیں …
اچانک رونے کی آواز ابھری… لاک اپ میں کسی کی ہچکیاں گونج گئیں۔  ورما نے گھوم کر دیکھا۔ 
یہ صبیحہ تھی۔  اس کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے… برسوں پہلے کا ایک منظر ورما کی آنکھوں میں دوڑ گیا— اگر میں مسلمان ہوتا تو … پھر تم اپنا رشتہ بھجواتے…‘
’اور مان لو میں نے اپنا رشتہ بھی بجھوا دیا تو…، تو میں ہاں کر دیتی… ہاں کر…‘
ورما اندر تک ہل کر رہ گیا۔  پیٹ کے نیچے والے حصے میں ذرا سی ہلچل ہوئی… اس نے ناخن سے وہ حصہ کھجلایا… رات آسمان پر چھا رہی تھی۔  بیرکوں سے قیدیوں کے چیخنے چلانے اور رونے کی آوازیں آ رہی تھیں۔ 
اسی شام رشید نے حوالات میں خود آ کر اپنی گرفتاری دے دی۔  وہ بہت زیادہ ڈرا ہوا تھا… اب باقی تھا تو بس اقبالیہ بیان کی رسم اور ا س کے بعد ان سب کی قسمت پر قانون کی مہر لگ جانی تھی…
رات کے ٹھیک بارہ بجے بھوانی سنگھ کی کار باہر رکی— اور ورما چونک کر اٹینشن کی مدرا میں آ گیا۔ 
٭٭
وہ رات اقبالیہ بیان لینے کی رات تھی…
یاتنا گرہ یا اذیت گھر کی دیواروں میں خوف حلول کر گیا تھا۔  جیسے سناٹے میں دور سے گھوڑے کی ٹاپ سنائی پڑتی ہے، ویسے ہی دور سے بھوانی سنگھ کے بوٹوں کی ٹاپ ابھری۔ 
ورما نے ٹھنڈی سانس بھر کر یاتنا گرہ کی کالی ہو رہی کوٹھری کو دیکھا۔  دیواروں پر جا بجا مکڑے کے جالے لٹک رہے تھے۔  کالی ہو رہی دیوار کا پلسٹر جھڑ چکا تھا۔  کمرے میں ایک کرسی تھی۔  ورما  کے پاس ہی کانسٹبل رتنا گر کھڑا تھا۔ 
 باہر کتے بھونک رہے تھے۔ 
بھوانی سنگھ اس سے پہلے بھی کتنے ہی اقبالیہ بیان لے چکے تھے— اور ورما ان سب کا چشم دید گواہ رہا تھا۔  ورما جسے ساری دنیا ہی غلط نظر آ تی تھی— اور جو ہر چیز کو غلط انداز سے دیکھنے کا عادی ہو چکا تھا، آج پہلی بار خود کو الجھنوں کا شکار محسوس کر رہا تھا۔  اس نے تھوک نگلا۔  پھر رشید کی طرف مڑا۔ 
’تم جانتے ہو۔  تم لوگوں کو یہاں کیوں بلایا گیا ہے؟‘
ہاں — رشید کی آنکھوں میں موت ناچ رہی تھی۔ 
’اقبالیہ بیان کے لیے۔ ‘
’اس کا مطلب جانتے ہو۔ ‘
رشید نے سانس درست کی—’ ورما۔  میں جانتا ہوں تم یہ سب کیوں کر رہے ہو۔  کالج کی لڑائی کو تو عرصہ بیت گیا۔ ‘
’اب اس جرح کا وقت نہیں ہے۔  دیر ہو چکی ہے۔ ‘

رشید کی کمزور آواز ابھری۔  ’میں نے کوئی جرم نہیں کیا۔  نہ میرے خاندان والوں نے— آخر تم ہم لوگوں کو کیوں پھنسوانا چاہتے ہو… دھیرے دھیرے اس کی آواز میں تلخی آتی جا رہی تھی… ’چن چن کر امام باڑہ سے مسلمانوں کو جیپ میں بھر بھر کر لے گئے تم لوگ۔  رتھ یاترا نکالنا گناہ نہیں تھا— گناہ تھا بھیڑ میں کسی کا یا علی بول دینا… تمہاری حکومت ہے— اس لیے جو چاہو کر سکتے ہو۔  اتنی جیلیں نہیں ہیں تمہارے پاس۔  کتنے مسلمانوں کو بھرو گے۔ ‘
’ان سوالوں کے لیے ابھی وقت نہیں ہے رشید۔ ‘ ورما الجھتی سانسوں کو درست کرتے ہوئے چلایا۔ 
’اقبالیہ بیان کا مطلب جانتے ہو…؟‘
٭٭
تبھی دروازہ بھڑاک کے ساتھ کھلا۔  ورما نے اڑی رنگت کے ساتھ دیکھا۔  دو بوٹ یاتنا گرہ کے دروازہ پر آ کر ٹھہر گئے۔  بھوانی سنگھ کے قدموں میں لڑکھڑاہٹ تھی۔  ہاتھ میں شراب کا ایک گلاس تھا۔  آنکھیں لال سرخ ہو رہی تھیں۔  بدن پر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کی وردی تھی— جس پر کئی ستارے چمک رہے تھے۔  ہاتھ میں ایک پلین پیپر تھا۔ 
زبیدہ نے ہلکی سی چیخ ماری اور اماں صبیحہ سے لپٹ گئی۔  علیم نے اپنی بوڑھی بیوی کی طرف دیکھا۔ 
بھوانی سنگھ ایک قدم آگے بڑھے۔  گلاس سے ایک گھونٹ لیا۔  پھر آگے بڑھ رشید کے گال پر ایک زناٹے دار تھپڑ مارا۔ 
’سالے، سور کی اولاد۔  یہاں سائن کر۔ ‘
رشید کی آنکھوں کے آگے جیسے پوری دنیا گھوم گئی۔ ‘
’سائن کر یہاں۔ ‘
رشید نے پلٹ کر دیکھا۔  ’نہیں کروں گا۔  تم ڈرا رہے ہو مجھے۔  آخر چاہتے کیا ہو تم لوگ؟‘

بھوانی نے زور کا ٹھہاکا لگایا۔  باقی شراب ایک سانس میں پی گئے۔  پھر لڑکھڑاتے ہوئے آگے بڑھے۔  کاغذ کانسٹبل رتناگر کی طرف بڑھایا۔  پھر رشید کی طرف تیزی سے گھومے۔  اس بار ان کا دایاں بوٹ والا پیر تیز سے گھوما۔  بوٹ رشید کی جانگھوں سے ٹکرایا۔  وہ تیز چیخ کے ساتھ زمین پر لوٹنے لگا… گلے سے بھیانک چیخ گونج اٹھی…
رشید پھر چیخا— ’کچھ بھی کر لو۔  مگر سائن نہیں کروں گا میں …‘
بھوانی غصے میں آگے بڑھے۔  وزنی بوٹ کی نوک اس کے سینے پر رکھی۔  پھر انگلی کے اشارہ سے زبیدہ کو اٹھنے کے لیے کہا۔ 
ورما نے آنکھیں بند کر لیں۔  اس کے سارے بدن میں سہرن پھیل گئی۔  اسے لگا رات ہو گئی ہے… پتنی کام دھام سے فارغ ہو کر اس کے کمرے میں آئی ہے۔ 
بھوانی نے کانسٹبل رتنا کو اشارہ کیا— ’اس کے کپڑے کھولو!‘
کانسٹبل رتناگر نے ایسے زبان نکالی— جیسے قانون اور قانون کے اصولوں کا پالن کرنا اس کا اولین فرض ہو۔ 
رات دھیرے دھیرے سرک رہی تھی۔  آسمانوں پر کہیں بادلوں کا ایک بڑا سا ٹکڑا لاش کی مانند دکھائی دے رہا تھا… بڑے ٹکڑے کو گھیرے کچھ چوکور تاریک ٹکڑے بھی تھے۔  ایسا لگ رہا تھا جیسے چوکور ٹکڑے ان سوگواروں میں شامل ہوں، جو لاش کندھوں پر اٹھائے آسمان کی نگریا میں بڑھتے جا رہے ہوں … اکا دکا جو ستارے آسمان پر نظر آ رہے تھے وہ چپ تھے… اور بدلیوں میں چھپنے کے منتظر تھے…
ہوا یک بہ یک تیز ہو گئی۔ 
بھوانی سنگھ کرسی پر بیٹھ گیا— اندر دبا ہوا غصہ رہ رہ کر چاول کی بھاپ کی طرح کھنکھنا رہا تھا… ’سالے پتہ نہیں قانون کو کیا سمجھتے ہیں یہ آتنک وادی… دیس کو کھلوناسمجھ رکھا ہے۔  جب مرضی آئی دنگے کروا دیئے۔  اب یہ ہندو استھان… اور ایک رتھ یاترا نہیں نکل سکتی۔  سالے پاکستان بنوا کر بھی کھس نہیں ہوئے۔  یہاں بھی اپنی کریں گے… انہیں تو بس تھوڑی سی جگہ دے کر دیکھو… سالے چار ملّا جمع ہو جائیں تو یہاں بھی اسلامستان بنا لیں گے… سالے جاہل کی اولاد… سارا کٹر واد نہیں بھلا دیا تو… کیوں رے رتناگر بھڑوے سالے۔  آج تیری مردانگی کو کیا ہو گیا ہے… دیکھتا کیا ہے سالا… جوان لڑکی ہے— ترو تازہ ہے… ارے دیکھتا کیا ہے سالا بھڑوا…‘
آگے بڑھ کر اس نے رتناگر کو ایک ہاتھ دیا… ’یہ سب سالے آتنک وادی ہیں … لوٹ رہے ہیں دیس کو اور تو ان پر رحم کھا رہا ہے۔  ان پر…‘ وہ علیم الدین، اس کی اہلیہ، صبیحہ، زبیدہ اور گھبرائے سے رشید کی طرف اشارہ کر رہا تھا۔ 
’یس سر…‘ رتناگر مار کھا کر کسی بھوکے شیر کی طرح زبیدہ پر جھپٹا۔ 
’شاباش!‘
بھوانی نے قہقہہ لگایا— ایک لمحے کو وہ سوچ میں پڑ گیا۔  آج یہ کیسی زبان وہ استعمال کر رہا ہے… پھر اس نے اس خیال کو جھٹکا۔  پولیس کا وہ کتنا ہی بڑا افسر کیوں نہ ہو— اسی زبان کو ماڈل بنانا چاہیے۔  اسی زبان سے پولیس کی کھوئی ہوئی ناک بنی رہ سکتی ہے۔ 
بھوانی سنگھ کو ملزموں کا اتّھان (بھلا) کرنے میں مزہ ملتا تھا۔  ان کی پتنی جوانی میں ہی مر گئی تھی۔  ایک لڑکا تھا جو پڑھ کر ولایت چلا گیا۔  وہیں کی ایک میم سے شادی کر لی اور وہیں کا ہو کر رہ گیا۔  بھوانی سنگھ لمبے تگڑے آدمی تھے۔  دوبارہ شادی نہیں کی۔  اور پولیس کی نوکری میں شادی نہ کرنے کا غم بھی نہیں ہوا۔  وہ ایسے سودا گر تھے کہ جس مال پر ہاتھ رکھ دیں، وہ مال ان کا ہوا۔  اور وہ شروع سے ہی اس پولیسیا رعب کا استعمال کرتے رہے تھے۔ 
٭٭
زبیدہ چلائی۔  اس کے چلانے سے حوالات کی دیواریں دہل گئیں۔  شلوار کا ناڑا ٹوٹ کر گرا تھا۔  اس کا دودھیا سڈول پاؤں جیسے اچانک انگاروں کی بارش کرنے لگا تھا۔  بھوانی سنگھ کی آنکھوں میں نشہ چھا گیا۔  ’سالے ہر کام نیچے سے شروع کرتا ہے۔  ٹھہر جا… رشید نے مدافعت کی کوشش کی — بوڑھے علیم الدین نے آنکھیں پھیر لیں۔  بھوانی کانسٹبل رتناگر پر  چیخے۔  ان سالوں پر چابک مارو— اور جو ہو رہا ہے اسے دیکھنے پر مجبور کرو۔ 
بوڑھا علیم الدین روتا ہوا بھوانی کے پیروں پر گرا… ’صاحب یہ ظلم مت کرو… نادان بچی ہے۔  ابھی پوری عمر پڑی ہے… ابھی تو کچھ بھی دیکھا نہیں ہے اس نے …‘
’تو ؟ ہم دکھلائیں گے— ابھی دکھائیں گے۔  اسی وقت۔  کیوں ورما؟
بھوانی کو کافی دیر بعد ورما کا خیال آیا، جو گیٹ پر، دوسری طرف منہ کئے کھڑا تھا…
’ارے ورما … سالے کی حال ہے — ابھی بھی تیرے پینٹ کا حال ٹھیک نہیں ہوا— بھوانی مزے لے کر ہنسے۔ 
٭٭
کانسٹبل رتناگر نے چابک سنبھال لیا۔  چمڑے کا چابک۔  چابک ہوا میں لہرایا۔  ملی جلی کئی چیخ ایک ساتھ فضا میں بلند ہوئی… بھوانی کے ہاتھ آگے بڑھے۔   جسم کیا تھا… منجھے ہوئے کمہار کے چابک دست ہاتھوں کا کرشمہ… تراشے ہوئے عضو… دودھیا صندلی بدن… مخروطی انگلیاں — پھولے پھولے ہونٹوں سے ٹپکتا شہد… آنکھوں کی وحشت میں ہرنی سے بل… جیسے گورے انگ انگ میں شراب ہی شراب بھر دی گئی ہو…
زبیدہ اب چیخ بھول گئی تھی… وہ جیسے شدید ٹھنڈسے کانپ رہی تھی… جسم پر کپڑے کا ایک تار تک نہیں رہ گیا تھا… ہاتھ میں وہ قوت نہیں تھی کہ جسم اور جسم کے ابھاروں کو ڈھانپ سکتی… سینے کی حیرت ناک گداز گولائیاں اور دودھیا نورانی چمک نے بھوانی کے علاوہ کانسٹبل رتناگر کے دماغ کی نسوں کو بھی ہلا کر رکھ دیا تھا…
رشید نے پھٹی آنکھوں سے یہ منظر دیکھا— یا اللہ کہہ کر رونے کی کوشش کی— مگر آنسو تو کب کا آنکھوں سے پیچھا چھڑا چکے تھے… یہ اس کی بیٹی ہے… وہی زبیدہ… جو کتنی بار اس کی بانہوں میں ابا کہہ کر سمائی تھی… رشید بلّیاں لیتا تھا… پاگل۔  کیوں اتنا پیار کرتی ہے۔  ایک دن تو سسرال چھوڑ کر چلی جائے گی… میں تو نہ جاؤں گی۔  یہیں رہوں گی۔  تمہارے پاس۔  وہ جھوٹ موٹ روتے ہوئے اس کے بدن سے کسی چھوٹے بچے کی طرح چمٹ جاتی تھی۔ 
ایسے موقعوں پر آنکھوں کو دیکھنے کی تاب کہاں رہ جاتی ہے۔  آنکھیں دیکھ تو رہی ہوتی ہیں — مگر دیکھ کر بھی کچھ نہیں دیکھ رہی ہوتی ہیں … ایسے پتھرا جاتی ہیں کہ اندر ہی اندر موت ہو گئی ہو آنکھوں کی۔  ایسے سو جاتی ہیں کہ تاریکی کے سوا کچھ بھی سجھائی دینے کی حد سے باہر نکل آتی ہیں …
ورما کو لگا۔  کوئی چیونٹی سی سرسرا رہی ہے بدن میں — نہیں پیٹ کے نیچے والے حصے میں … کچھ جنبش ہوئی ہے… نہیں … وہ کمرے میں ہے… رات کا تھکا ہارا… پتنی نے اندھیرا کر دیا ہے بتی بجھا دی ہے… اور اب وہ دن بھر کی میلی کچیلی ساری پھینک کر نائیٹی بدل رہی ہے… اندر جیسے کچھ جھنجھنا رہا تھا… ٹوٹ رہا تھا…
رتناگر کے چابک پھر برسے اور اس نے پینٹ کے اندر اپنی ہتھیلیوں کو مضبوطی سے جانگھوں پر بھینچ لیا…
بھوانی کے ہاتھ اپنے پینٹ کی زپ تک آئے— اور زبیدہ کے ننگے بدن نے ایک بھیانک چیخ کے ساتھ  خود کو دو مضبوط حیوانی بازوؤں میں سمٹا ہوا محسوس کیا… رشید پوری قوت سے گالی دیتا ہوا مارنے کو جھپٹا تو رتناگر کے چابک نے اسے دوبارہ زمین دکھا دی۔  وہ بھرائی سی تیز تیز سسکیاں لے رہا تھا۔  ایسی سسکیاں جو بڑھ جائیں تو جسم سے روح کا رشتہ منقطع کر دیتی ہیں …
آسمان پر بادلوں کا بڑا سا گھنیرا ٹکڑا جو کسی لاش کی مانند دکھائی دے رہا تھا اب آسمان سے اوجھل ہو چکا تھا۔  اب وہاں سرمئی، سرخی مائل بدلیاں چھا گئی تھیں۔  اور پان کی پیک کی طرح بدلیوں میں لال لال چکتے اچھل پڑے تھے…
بھوانی نے لمبی لمبی سانس درست کی۔  ایک طرف نڈھال سی زبیدہ پھٹی پھٹی آنکھوں کے ساتھ، دیوار کے سہارے گھٹی گھٹی سانسیں چھوڑ رہی تھی… کمرے میں وہ سب تو تھے جنہیں چھتنار درخت کہتے ہیں … اور جن کے سہارے اسے زندگی کی طویل و عریض کھائیاں عبور کرنی تھیں … ماں باپ… نانا، نانی… اور ان سب کے سامنے اسے… اس نے خوف اور ہیبت سے پھر ایک تیز چیخ ماری… اندر دبی سسکیوں نے ندی کے باندھ کو توڑ دیا تھا اور وہ کسی ٹوٹی پھوٹی گڑیا کی طرح اپنا عریاں بدن سنبھالے پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی…
صبیحہ نے موت جیسی آنکھوں سے زبیدہ کو دیکھا… کچھ بول نہیں سکی… آواز اٹک کر رہ گئی۔ 
’آتنک وادیوں سے اقبالیہ بیان لکھوانا بھی کتنا مشکل کام ہوتا ہے… یہ سب بھی کرنا پڑتا ہے— یہ ملیچھ۔ ‘
بھوانی نے للچائی آنکھوں سے تاک رہے رتناگر کو دیکھا… ’تو کیا سوچتا ہے۔  میری مت ماری گئی تھی— جوان سی لڑکی سے۔  مگر یہ سالا کمبخت حرام کا جنا ایسے، بیان پر دستخط نہیں کرے گا اور تو ایسے للچائی آنکھوں سے کیا دیکھ رہا ہے… وہ تیرا شکار ہے… وہ … اس نے صبیحہ کی طرف اشارہ کیا۔ 
صبیحہ دو قدم خوف سے پیچھے ہٹی۔  پھر دیوار سے ٹکرا گئی۔ 

ورما کے اندر محرم کے نگاڑے ایک بار پھر سے چیخے… دھم… دھڑم… ڈماڈم… اس کی پتنی نے نائیٹی پہن لی ہے… بستر پر لیٹ گئی ہے اور اب اس نے پلٹ کر اس کی طرف دیکھا ہے۔  ورما نے زیر ناف اپنے ہاتھوں کو جنبش دی ہے… کٹی ہوئی چھپکلی ایک دم شانت ہے— سویا ہوا بے حس کیڑا۔  یہ کیڑا ہاتھ کی جنبش کے باوجود مردہ سا ہے۔  سویا ہوا۔ 

کانسٹبل رتناگر نے بانہہ کی آستین چڑھائی۔  پھر بندر کی طرح اچھلا۔  اگلے ہی لمحے اس نے صبیحہ کو ایسے دبوچ لیا جیسے کوئی چڑیا باز کے پنجوں میں آ گئی ہو… اچانک چر… ر… ر… کی آواز ہوئی۔  صبیحہ کے بلاؤز کا ایک بڑا حصہ رتناگر کے ہاتھ میں تھا۔ 
بوڑھے علیم الدین نے اپنا سر دیوار سے ٹکرایا۔  گڑگڑانے والے انداز میں بولا:
’میں ہاتھ جوڑتا ہوں تمہارے… بند کرو… بند کرو یہ سب۔ ‘
’بند کروں۔  مگر کیوں بھائی؟ بھوانی کرسی سے اچھلا۔  علیم الدین کی گردن تھامی اور اسے تیزی سے دیوار کی طرف دھکا دیا۔  ٹھیک اسی وقت پشت سے رشید نے پوری طاقت لگا کر اس پر حملہ کر دیا۔  لیکن حملہ کرنے میں زور سے زیادہ فرط جذبات کو دخل تھا۔  بدن کی بوٹی بوٹی کانپ رہی تھی۔  بھوانی نے ایک زور کی ٹھوکر اس کی زپ والی جگہ پر ماری۔  رشید ٹانگوں کے بیچ ہاتھ پھنسا کر بری طرح چیخا۔  اس کا پورا جسم جھنجھنا اٹھا تھا۔  چوٹ اتنی شدید تھی کہ وہ اپنا پیر پکڑ کر، بلبلا کر، زمین پر لوٹنے لگا—
بھوانی نے پینٹ کی گرد جھاڑی ’… بند کر دوں … آخر کیوں بھائی۔  اس لیے کہ تم اپنی من مانی کر سکو۔  کان کھول کر سن لو، اب تک جتنی من مانیاں تم لوگوں نے کی ہیں، ہم نے اس کی رائی برابر بھی زیادتی نہیں کی۔  آتنک وادی سالے… دیس کو لوٹنے چلے ہیں …‘
اس نے اوندھی پڑی زبیدہ کو دیکھا۔  جس کا بدن دیوار سے اڑا ہوا تھا اور جو تھر تھر کانپ رہی تھی۔  سولہ سال کا معصوم بدن حوالات کے اندر کی گرمی سے مرجھائے ہوئے پھول کی طرح لگ رہا تھا… اس سے پہلے جس جسم سے جودودھیا چاندنی کی دھار پھوٹ رہی تھی، اب وہ چاندنی بجھی بجھی لگ رہی تھی…

’نہیں — مزہ نہیں آیا۔  ان آتنک وادیوں کو تو ایسا مزہ چکھانا چاہیے کہ آنے والی پیڑھیاں یاد رکھیں — رشید کے حملے سے بوکھلائے بھوانی کا چہرہ گرم پانی کی طرح کھول رہا تھا۔  اس نے زور سے آواز لگائی۔  ورما!
’یس سر‘
’رتناگر‘
’یس سر‘
رتناگرکی زپ کھل گئی تھی۔  اور وہ کسی دور سے دوڑتے آ رہے مسافر کی طرح تھکا ہوا معلوم دے رہا تھا۔  اور سانس ’ہنپنی‘ کی صورت اختیار کر گئی تھی۔ 
صبیحہ کی ساری کھلی پڑی تھی۔  بلاؤز ایک طرف پھیکا ہوا تھا۔  اور وہ ادھ مری سی ننگے جسم کے ساتھ حوالات کی میلی ہو رہی چھت کو گھور رہی تھی…
’رتناگر۔  ورما…‘ بھوانی پھر زور سے چلایا۔ 
’یس سر‘… دونوں اٹینشن ہو گئے۔ 
’ان تینوں کو ننگا کر دو۔  چلو جلدی کرو۔ ‘ اس نے علیم الدین، اس کی اہلیہ اور رشید کی طرف اشارہ کیا۔ 
مدافعت میں اٹھے ہاتھ اور ماحول کی بھٹی میں جھلس گئے جسم میں اب طاقت ہی کہاں رہ گئی تھی— کپڑے اتر گئے۔  آنکھوں میں موت سے زیادہ بے شرمی کا خوف تھا…
ہوا تیز ہو گئی تھی۔  حوالات کا مضبوط دروازہ تیز ہوا سے ڈولا۔  بھوانی کے قہقہے میں دروازہ ہلنے کی آواز دب گئی۔ 
ورما کے ہاتھ بوڑھی عورت کے بدن سے کپڑا اتارتے ہوئے لگاتار کانپ رہے تھے۔  انگلیاں لرز رہی تھیں … مگر ڈر، عادت اور آفیسر کے حکم سے بندھے جسم میں کوئی حرکت نہیں تھی۔  اس کی آنکھوں میں اندھیرا چھایا ہوا تھا… بس وہی حرکت کرتی سی پر چھائیاں … اس کی پتنی کا بدن نائیٹی میں سرسراتا ہے… بستر ذرا سا کسمسایا ہے… پتنی کے سرسراتے ہوئے ہاتھ اس کے کندھے تک آ کر ٹھہر گئے ہیں …
بھوانی نے رشید کے ساکت  چہرے کو دیکھ کر ایک گندی سی گالی بکی— اور چیخ کر کہا… ’چل سالے… بیٹی سے زنا کر… زنا سمجھتا ہے… سالے یہ تیری ہی زبان کا لفظ ہے… پاکستان میں تو کوڑے پڑتے ہیں اس لفظ پر… پھر اس نے رتناگر کو اشارہ کیا۔  سالا دیر کرے تو چابک سے چمڑی چھیل دینا۔ ‘
رشید کانپتا ہوا پاؤں پر گر پڑا— ’ لاؤ میں سائن کر دیتا ہوں … جہاں چاہتے ہو… جتنے کاغذ پر۔  جہاں جہاں اسٹیمپ لگوانا چاہتے ہو… سب لے آؤ… مگر اس وقت بخش دو۔  مجھے… زندگی بھر کے لیے جیل میں ٹھونس دو— میرے خاندان والوں پر بھی رحم مت کرو… سب کو جیل میں ڈال دو۔  سڑا دو… عمر قید دے دو… پھانسی دے دو… اس سے بھی کوئی بڑی سزا ہو تو … مگر یہ سب…‘
وہ لرز رہا تھا۔  پھوٹ پھوٹ کر رو رہا تھا۔ 
’میں مر چکا ہوں۔  یہ زندگی نہیں ہے۔  موت سے بدتر زندگی مر چکا ہوں۔  جو کچھ دیکھ لیا ہے، اس سے آگے دیکھنے، سننے اور جینے کو باقی ہی کیا رہ جاتا ہے۔  انسانیت کے واسطے… یہ بچی ہے میری۔  سمجھو صاحب… آپ کی بھی بچی ہو گی…‘
’نہیں ہے۔  میری کوئی بچی نہیں ہے— بھوانی زور سے گرجے۔  رتناگر کے چابک نے برس برس کر رشید کو بیٹی کے پاس پہنچا دیا— وہاں دیوار کے پاس— ننگی زبیدہ کا سر بیہوشی کے عالم میں دیوار سے ٹک گیا تھا۔ 
’چل رے بوڑھے۔  تو بھی اٹھ۔  بڑی دیر سے دیوار میں سر مار رہا تھا— بھوانی گرج کر بولے۔  ’چل … چل اپنی بہو کے ساتھ شروع ہو جا— سنتے ہیں سالے مسلمان کا کٹا ہوا جانور اصلی رنگ تو بڑھاپے میں دکھاتا ہے۔  اپنی بوڑھی عورت سے تجھے بھلا کیا ملتا ہو گا۔  چل شروع ہو جا۔  ورما…، بھوانی ورما سے مخاطب ہوئے… ذرا بوڑھے کو سمجھا۔  بتا کہ یہ سب قانون کے دائرے میں آتا ہے۔  چل لگا اسے ایک ڈنڈا— کہ سالے آتنک وادی کا مزاج ٹھکانے آ جائے…‘
٭٭
آسمان پر چھائی سرخی مائل بدلیوں کی رنگت ایسے ہو گئی تھی جیسے آنسو گر رہے ہوں … فطرت کی نقاشی بھی عجیب ہے… کبھی کبھی جب بھرپور گھٹا اور بدلیاں چھائی ہوں تو آسمان کو دیکھیے— ایسی انوکھی اور زندہ تصویریں کہ رافیل اور لیوناڈونچی کے شاہکار بھی شرما جائیں — اب چاروں طرف آسمان پر خون پھیلا تھا۔  اور اس کے آنسو بدلیوں کے خفیف ٹکڑوں کے بیچ لٹکے ہوئے تھے۔ 
ورما کے قدموں میں جنبش ہوئی… اچانک وہ بھوانی سنگھ کی طرف مڑا اور گھٹی ہوئی آواز میں اپنا فیصلہ سنا دیا۔ 
’نہیں سرکار… مجھ سے یہ نہیں ہو گا۔ ‘
’کیوں ؟ بھوانی طیش میں مڑے۔  کیوں تیری کڑی ہے۔  تیری بیوی ہے… سالے پولیس میں نہیں رہنا ہے تو سنیاس کیوں نہیں لے لیتا…‘
’لیکن سر…، وہ اٹک اٹک کر بول رہا تھا… یہ … یہ قانون کے دائرے میں نہیں آتا— یہ قانون کے دائرے سے باہر ہے…‘
اس کا چہرہ سپاٹ ہو رہا تھا۔  اور برف کی طرح ٹھنڈا۔ 
’قانون— بھوانی سنگھ ہونٹ بھینچ کر مڑے۔  ’بڑا قانون والا ہو گیا ہے آج ورما … اس سے پہلے ایسے کتنے اقبالیہ بیان لے چکا ہے تو۔  میرے سامنے… میں گواہ ہوں۔ ‘
اس نے سر جھکا لیا۔ 
’قانون سکھاتا ہے تو— بھوانی نے اس کے سینے پر ہاتھ رکھ کر ٹھیلا… اتنی سی وردی اور قانون سکھاتا ہے تو… بتاتا ہوں تجھے۔  آزادی کے دنگوں میں یہ ہی لوگ تھے۔  کٹی ہوئی ریلیں آتی تھیں ہندو شرنارتھیوں کی— مردوں کے تو سر اتار لیتے تھے یہ سالے— اور ہندو لڑکیوں کو یہ ملاّ داڑھی والے اپنے ناڑے کے اندر بند کر لیتے تھے…‘
’اس وقت یہی کچھ سب کے ساتھ ہو رہا تھا سر…‘ ورما، کی آواز لڑکھڑا گئی مگر وہ بول نہ سکا— بھوانی کے دھکا دینے سے اس کے جسم کا توازن بگڑ گیا۔  وہ رتناگرکی طرف لڑھک پڑا۔  اچانک سنبھلا۔  اور دوسرے ہی لمحے سرعت کے ساتھ گھوما— اور ہوا سے ہلتے دروازے سے باہر نکل گیا۔ 
ورما— بھوانی زور لگا کر چیخے پھر بدبدائے… سالانا مرد کا بچہ۔ 
آسمان پر بدلیوں کا کھیل چلتا رہا۔  کتنے آنسو ٹپکے اور بادلوں کے کتنے ٹکڑے چکور ہو کر کندھے پر لاش اٹھائے سوگواروں میں بدل گئے۔  کس نے یہ منظر دیکھا… ہوا تیز چلتی رہی… آسمان کے منظر بدلتے رہے… بدلیاں گپ چپ نیلے آسمان اور خفیف اندھیرے میں چھپنے نکلنے کا کھیل کھیلتی رہیں۔ 
٭٭
انسپکٹر ورما اٹھ کر بیٹھ گیا ہے— سانسیں تیز تیز چلنے لگی ہیں۔  جسم پسینے میں ڈوب گیا ہے۔ 
بھگوتی نے چونک کر پوچھا—
’کیا ہوا…؟‘
’کچھ نہیں۔  تم سوجاؤ…‘
سگریٹ سلگا کر وہ بالکونی پر چلا آیا ہے— رات آہستہ آہستہ ڈوب رہی ہے۔ 
ایک ایک کر کے وہ سارے چہرے اوجھل ہوتے جا رہے ہیں۔  وہ بدل چکا ہے۔  اب وہ پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہو چکا ہے… اُسے بہادری کے تمغے ملے ہیں …
اب نئے چہرے ہیں —
اسے اپنی زمین تلاش کرنی ہے—
ایک نئی زمین—
ہوا تیز ہو گئی ہے— اشوک نمانی، دوبے کتنی ہی چہرے اس کی نگاہوں میں جگہ گھیرتے ہیں۔ 
وہ اپنی تمام کمزوریوں کو جھٹک کر آگے بڑھنا چاہتا ہے۔  وقت کم ہے— کل صبح سے ہی اُسے چاروں طرف اپنا جال بچھا دینا ہے—
ورما نے ایک بار پھر اپنی گھڑی دیکھی…
اُسے یقین تھا، دوبے اس وقت بھی اپنے کام میں لگا ہوا ہو گا—
٭٭٭



(9)

رات کے تین بج گئے تھے—
ابھے کمار دوبے کی آنکھوں میں ابھی بھی نیند کا نام و نشان نہیں تھا— میز پر نقشہ اور کاغذات پھیلے ہوئے تھے— اشوک نمانی بھی ڈنر کے بعد اُن کے گھر ہی آ گئے تھے— وہ اپنے ساتھ کچھ اور کارسیوکوں کو بھی لے آئے تھے— اور اس وقت یہ کارسیوک دوبے کے ساتھ لیپ ٹاپ میں الجھے ہوئے تھے—
’پریشانی یہ ہے کہ ہم ناکام کہاں ہوتے ہیں …؟‘
’درست—‘ اشوک نمانی نے صوفے پر خود کو گراتے ہوئے کہا۔ 
’اس لیے… کسی بھی مہم پر نکلتے ہوئے میں سب سے پہلے اپنی ناکامیوں کا سرا تلاش کرتا ہوں …‘
دوبے کی آنکھیں کمپیوٹر میں الجھی ہوئی تھیں — ۱۹۹۲ء سیریل بم بلاسٹ— ۱۹۹۸ء کوئمبٹورکا بم دھماکہ— ۲۰۰۱ء کے بعد ایسے بم دھماکوں میں تیزی آئی تھی— ناندیڑ بم دھماکہ ۲۰۰۶ئ، مالیگاؤں بم دھماکہ ۲۰۰۸— پہلی بار یہیں غلطیاں ہوئی تھیں — اور پہلی بار سنگھ کا نام سرخیوں میں آیا تھا— لیپ ٹاپ کے اسکرین پر بجرنگ دل والوں کا ایک ٹریننگ کیمپ ابھرتا ہے۔  دوبے، نمانی کی طرف مڑتے ہیں۔ 
’تم بھی تو تھے ہمارے ساتھ نمانی۔  کیوں ؟‘
’کہاں تھا میں ؟‘
دوبے ہنسے— ’ارے تمہیں تو نیند آنے لگی۔ ارے کوئی ہے— نمانی کو چائے پلاؤ۔  دیکھو ہم میں سے کوئی بھی نہیں سویا نمانی۔  تمہیں نیند کیسے آنے لگی۔  تم تو جرنلسٹ ہو بھائی— تم ہی سوجاؤ گے تو…‘
ایک کارسیوک سب کے لیے چائے بنا کر لے آیا تھا— نمانی نے چائے کا گلاس اٹھا کر پوچھا—
’ہاں، اب بتائیے، آپ کچھ پوچھ رہے تھے…‘
’ارے وہ ناگور شیور کی بات کر رہا تھا—‘
’وہاں — ہمارے ساتھ فوج کے کچھ سابق ادھیکاری بھی تھے۔ ‘
’یہ ادھیکاری ہی، کہیں نہ کہیں مورکھتا کر بیٹھتے ہیں۔ ‘
’مورکھتا نہیں — اسے میں بھاگیہ سے لیتا ہوں دوبے جی۔  کبھی کبھی لاکھوں گھٹناؤں میں ایک جگہ بھاگیہ ہمارا ساتھ نہیں دیتا—‘
’اس لیے میں اس پکچھ میں ہوں کہ سب کچھ بھاگیہ پر نہ چھوڑا جائے۔  کیوں نمانی…‘
دوبے زور سے ہنسے— غلطی کاریہ کرتا کرتے ہیں۔  اور دوش بھاگیہ کو— ابھی حال میں ہی تھانے کے پیتھے لاجک لیب پر چھاپہ مارا گیا— بم اور وسفوٹھک سامگریوں کے ساتھ سنگھ کے لوگ بھی پکڑے گئے۔  بھاگیہ تھا یہ ؟‘
’وہ تو…‘
’بارا بنکی، پن ویل، ازارا ضلع کو لہا پور، فیض آباد سے گجرات تک— ہر جگہ واردات کے ثبوت چھوڑ آتے ہیں ہمارے کاریہ کرتا… سب بھاگیہ ہے نا؟ اسی لیے میں بھاگیہ کو نہیں مانتا۔  بھاگیہ پر بھروسہ نہیں کرتا۔  بھاگیہ کے ہی تو بھروسے رہے اب تک اور لٹیرے دیش  پرشاسن کرتے چلے گئے۔  اب بھاگیہ کے چکرویوہ کو توڑو نمانی—‘
دوبے ٹھہرے—
’دشینت سے ملے تھے نا؟‘
’ہاں —‘
’اچھا بچہ ہے—‘
میرا بھی یہی خیال ہے—‘
’میں نے اسے کچھ ذمہ داریاں دی ہیں۔  تمہیں بتاؤں گا۔  ورما کو لگاتار ذمہ داریاں دینا سنکٹ کو نیوتا دینا ہے—ایک بار وواد میں آ چکا ہے۔ ‘
’ہاں —‘ نمانی غور سے دوبے کا چہرہ پڑھ رہے تھے۔ 
’اچھا ورما کو جانے دو ابھی— اس سیمی کے کاریہ کرتا کا نام کیا تھا…؟‘
’سی۔  می۔  کا کاریہ کرتا؟‘
’ارے وہی— جسے احمد آباد کے سیریل دھماکے کے لیے کھوجا جا رہا تھا— گجرات پولیس کے ایک اعلیٰ ادھیکاری کا بیان تھا کہ یہ آدمی دلّی کے دنگوں کا بھی دوشی ہو سکتا ہے… مت بتاؤ۔  مل گیا…‘
دوبے نے لیپ ٹاپ پر وہ فہرست نکال لی تھی—
’عبد الرحیم— یہ بھاگا ہوا ہے۔  لاپتہ— ایک ملٹی نیشنل کمپنی میں کام کرتا تھا اور سیمی سے بھی جڑا تھا—‘
نمانی تن کر بیٹھ گئے—
’کیا کرنا ہے اس کا ؟‘
’کھوج نکالنا ہے—‘ دوبے ایک ہی سانس میں چائے کا گلاس خالی کر گئے—
’لیکن کہاں ؟‘
دوبے نے اس کا جواب نہیں دیا۔  وہ کہیں دور خیالوں میں گم ہو گئے تھے۔ 
نوٹ:  میں ارشد پاشا— میں ایک بار پھر اس کہانی کی طرف لوٹتا ہوں، جس نے اچانک ہمیں کسی سرد لاش میں تبدیل کر دیا تھا— اور یقیناً اس حادثے کے بعد جو تاریخ لکھی جا رہی تھی، اس بھیانک تاریخ کے اوراق میں یہ سارے کردار اور واقعات بھی شامل تھے— ورما، دوبے، نمانی— لیکن تب مجھے اس حقیقت کا پتہ نہیں تھا کہ آنے والے کچھ ہی دنوں میں میرا اپنا گھر ایک بے رحم حادثے کا شکار ہونے والا ہے… لیکن اس سے قبل کہ ہم جاگتے، تب تک بہت دیر ہو چکی تھی—
٭٭٭



(10)

’وہ‘ وہ ہمیں اتنا جانتے ہیں۔ 
جتنا ہم بھی/
اپنے آپ کو نہیں جانتے—‘
اور یہ اُس حادثہ کے تیسرے دن کی صبح تھی۔ 
لیکن یہ صبح اپنے ساتھ خوف اور دہشت کے گردو غبار بھی لے کر آئے گی، اس کا علم نہیں تھا—
صبح، ناشتہ لگاتے ہوئے رباب کی آواز کانپ رہی تھی—
’آج صبح سے میری بائیں آنکھ پھڑک رہی ہے—‘ اُس نے پلٹ کر میری طرف دیکھا۔  اللہ ہر بلا سے محفوظ رکھے—
’اسامہ—؟‘
’تھاپڑ بھائی سے بات ہوئی تھی۔  وہ سویا ہے۔  بھابھی آنندی بھی اس کا پورا خیال رکھ رہی ہیں —‘
صبح ہی صبح حنیف بھائی نے کال بیل بجا کر سہمے ہوئے لہجے میں کہا تھا—
’آج کچھ خطرہ ہے—‘
’مگر کیوں —‘
’باہر نکل کر دیکھیے۔  چاروں طرف پولیس ہی پولیس—‘
جلد ہی مجھے اس بات کی خبر مل گئی کہ بٹلہ ہاؤس کا یہ علاقہ اچھی خاصی پولیس چھاؤنی میں تبدیل کیا جاچکا ہے۔ ‘
ٹھیک ۹ بجے میرے دروازے پر زور زور سے دستک ہوئی— دروازے پر راشد اور علوی کے ابّو تھے— ان کے چہرے خوف سے سہمے ہوئے تھے۔ 
’حالات اچھے نہیں ہیں —‘ یہ راشد کے ابو تھے—
’اسامہ کہاں ہے؟‘
’وہ نہیں ہے…‘ کہتے کہتے میں ٹھہر گیا تھا۔  آپ لوگوں کو ایسا کیوں لگ رہا ہے کہ حالات خراب ہو چکے ہیں ‘
آپ باہر نکلیے تو خود پتہ چل جائے گا۔  یہ علوی کے ابو تھے—
دونوں صرف خبر دینے آئے تھے اور خبر دینے کے ساتھ ہی لوٹ گئے تھے۔ 
میرے پیچھے سہمی ہوئی رباب کھڑی تھی۔ 
’ان لوگوں نے کیا کہا؟‘
’ان لوگوں نے جو کچھ کہا، وہ تم نے بھی سنا—‘
’یا اللہ—‘ رباب کا چہرہ کانپ رہا تھا۔  ’کل تک وہ ڈر محسوس نہیں کر رہی تھی جو آج کر رہی ہو۔  آج صبح سے ہی ایسا لگ رہا ہے، جیسے کچھ ہونے والا ہے۔  لیکن کیا ہو سکتا ہے؟ بس یہی نہیں سوچ پا رہی ہوں۔ ‘
میں نے رباب کی آنکھوں میں غور سے دیکھا— صرف گھبرانے سے مسئلے کا کوئی حل نہیں نکلے گا۔  خوف میں جیتے  ہوئے ایک پوری زندگی گذر گئی۔  ہم اس طرح جئے جیسے جیا  ہی نہیں جاتا— ایک صحافی ہو کر بھی میں ارشد پاشا کمزور اور ناکارہ لوگوں کی زندگی گذارتا رہا۔  کبھی پیسے نہیں۔  بچے کی تعلیم سے لے کر کسی تقریب میں جانے تک چار پیسے سوچنے میں عمر کٹ گئی— اس پر سے یہ اردو کا  صحافی ہونا، کبھی کبھی ایک پوری زندگی نقلی اور بھدّی لگتی ہے مجھے— جو کچھ ہو رہا ہے اس پر صرف غصہ آتا ہے مجھے— جیسے آگے بڑھ کر سارے سسٹم میں آگ لگا دوں۔  پھر خود پر ہنسی آتی ہے— ارشد پاشا، تم اس سسٹم میں آگ لگانے کے لائق بھی نہیں بچے ہو۔ ‘‘
رباب نے میری آنکھوں کی نمی محسوس کر لی تھی۔  وہ اپنی جگہ سے اٹھی اور میرے قریب آ کر بیٹھ گئی— ’سچ تو یہ ہے کہ سوچنے سے زیادہ ہم کچھ کر بھی نہیں سکتے۔  کیونکہ ہم کہیں نہ کہیں مجبور ہیں۔  یہ مجبوری ہم میں سے ہر آدمی کی ہے جو اس پورے سسٹم کا حصہ تو ہے— تنقید تو کر سکتا ہے مگر آگے بڑھ کر بندوق نہیں اٹھا سکتا—‘
میں نے چونک کر پلٹ کر رباب کو دیکھا۔  جس کی الجھی ہوئی آنکھوں میں اسامہ کو لے کر خوف کی جانی انجانی لہریں اٹھ رہی تھیں۔ 
میں نے نگاہیں پھیر لیں۔  ’عام آدمی جب تک مجبور ہوتا ہے، مجبور ہوتا ہے لیکن یہی عام آدمی ایک دن اپنی آئیڈیا لوجی کی سطح پر خطرناک بھی ہو جاتا ہے اور یہی آئیڈیا لوجی ہتیائیں بھی کراتی ہیں۔  اندرا گاندھی کا کیا ہوا؟ اور راجیو گاندھی کا؟
میری آنکھیں کچھ اور سوچ رہی تھیں — ایک دن برسوں سے بھڑکا ہوا عام آدمی اٹھ کھڑا ہوتا ہے لیکن ایسے کسی عام آدمی کی وکالت نہیں کی جا سکتی۔  رباب، کل رات میں دیر تک اپنے ہی فلسفوں سے الجھتا رہا۔  کیا کہیں ایک مسلمان ہونے کا احساس مجھے تنگ نظر اور کمیونل تو نہیں بنا رہا ہے؟ یہاں سے پاکستان تک کچھ ایسی وارداتیں بھی ہوتی ہیں جہاں ایک عام کٹّر وادی کو ہم ہیرو بنا دیتے ہیں۔  بش پر جوتے پھینکنے والا راتوں رات ایک مذہبی ناٹک  بن جاتا ہے— مذہبی ہیرو— مجھے اس مذہبی ہیرو سے نفرت محسوس ہوتی ہے۔ ‘
رباب نے میری طرف دیکھا۔  اس بار وہ خاموش رہی۔  شاید اس کے لفظ راستہ بھول گئے تھے۔  ایک ماں سامنے آ گئی تھی۔  اور یہاں کا ماحول اُس کے سامنے تھا۔  
اس پر آشوب فضا میں ہماری حیثیت کسی جوکر سے زیادہ نہیں تھی۔ 
جنگ کا بگل بج چکا تھا—
٭٭
یہ اُس ڈراؤنی رات کے بعد کی صبح تھی۔  لیکن اب جو حقیقت سامنے آ رہی تھی، اسے تحریر کرتے ہوئے اس وقت بھی میرے ہاتھ کانپ رہے ہیں — شاید ایک مہذب اور جمہوری قدروں کے حامل ملک میں میرے لیے یہ سوچنا بھی دشوار تھا کہ زندگی اچانک بغیر کچھ کیے ہوئے، ایسے سنگین موڑ لے سکتی ہے۔  اور حقیقت یہ تھی کہ ہماری زندگی اچانک نئے موڑ لے چکی تھی—
٭٭٭





 (۲۰۰۸ء)
ڈراؤنی رات کے بعد





 (1)

’’ وہ آ چکے ہیں /
وہ اپنی پوری تیاریوں کے ساتھ آئے ہیں ‘‘
صبح کے گیارہ بج گئے تھے۔ 
بٹلہ ہاؤس اور آس پاس کے علاقے اچھی خاصی پولیس چھاؤنی میں تبدیل ہو چکے تھے۔  چاروں طرف خوف اور دہشت کا ماحول تھا۔  صبح سے ہی سڑکوں پر گھومتے ہوئے لوگوں میں کمی آ گئی تھی۔  عام طور پر اس پورے علاقے میں زبردست چہل پہل ہوتی ہے۔  چلنے تک کی جگہ نہیں ہوتی۔  فٹ پاتھ پر اپنی اپنی دکان لگائے ہوئے دکانداروں کے شور، رکشہ والے، ٹھیلہ والے، چھوٹی بڑی کاریں سائیکل سے اسکوٹر تک اپنے اپنے گھروں سے نکلتے ہوئے سر پر ٹوپی لگائے، مٹر گشتی کرنے والے نوجوانوں کا قافلہ، یہ علاقہ دہلی کے عام پاش علاقوں سے بالکل الگ تھا۔  کیونکہ یہاں سیر سپاٹوں میں بھی فکری آزادی کا اُفق روشن نظر آتا تھا۔  لیکن آج یہ پوری دنیا بدل گئی تھی۔  بہت کم نوجوان تھے جو باہر آ کر پولیس کی ان خاموش کارروائیوں کو دیکھ رہے تھے اور یہ سمجھنے سے لاچار تھے کہ ان پولیس والوں کا اگلا قدم کیا ہو سکتا ہے۔  اِدھر میڈیا کو بھی معاملے کے سنگین ہونے کی خبر مل گئی تھی۔ 
دیکھتے ہی دیکھتے مختلف چینلس کی گاڑیوں کے ہارن بجنے لگے۔  الگ الگ چینلوں کی ٹیمیں گاڑیوں سے نکل کر بریکنگ نیوز کے لیے پکڑ پکڑ کر لوگوں سے انٹرویو کرنے لگیں — ٹی وی چینلوں پر کچھ دن پہلے ہوئے دہلی دھماکوں، بنگلور اور احمد آباد کے سیریل دھماکوں کا بھوت ایک بار پھر سامنے آ گیا تھا۔  ملک کی خفیہ تنظیمیں سیمی اور انڈین مجاہدین کے ناموں پر زور شور سے اپنی رائے دے رہی تھی— ان غیر قانونی تنظیموں کو لے کر چینلس چیخ رہے تھے۔  لیکن ابھی تک جامعہ علاقے میں پولیس کی طرف سے ہونے والی کوئی بڑی واردات سامنے نہیں آئی تھی۔  ہاں، یہ بات ضرور سامنے آ گئی تھی کہ دلّی پولیس کو دلّی سیریل بم دھماکوں کو لے کر کچھ خفیہ جانکاری ملی ہے۔  اب تک عبد الرحیم کا نام سامنے آ چکا تھا۔  اِدھر ایک گھنٹے کے ہنگامی واردات کے بعد پولیس نے اس علاقے کے کچھ مسلم نوجوانوں کو گرفتار کر لیا تھا۔ 
کیمرے کے فلیش چمک رہے تھے۔  الگ الگ نیوز چینلس کے اینکر بریکنگ نیوز کے لیے پورے معاملے کو زیادہ سے زیادہ سنسنی خیز بنا کر پیش کر رہے تھے۔  میڈیا ایک بات بار بار اُچھال رہی تھی کہ سیمی اور انڈین مجاہدین نے بھولے بھالے مسلم نوجوانوں کو اپنا شکار بنا لیا ہے۔ 
لیکن ابھی زلزلے کا ایک جھٹکا باقی تھا اور یہ جھٹکا اُس سیاہ رات سے تعلق رکھتا تھا جس رات ٹہلتے ہوئے راشد کی ایک پولیس والے سے معمولی کہا سنی ہو گئی تھی۔  لیکن شاید تب اس نے بھی نہیں سوچا ہو گا کہ یہ معاملہ اس قدر بھی خوفناک ہو سکتا ہے۔ 
ان سارے معاملوں کے پیچھے اب انسپکٹر ورما کا نام سرخیوں میں آ گیا تھا۔ 
٭٭
گرفتار کئے گئے نوجوانوں نے اپنا چہرہ چھپا رکھا تھا۔  پولیس کے مطابق اب تک اسٹوڈنٹ اسلامک مومنٹ آف انڈیا یعنی سیمی کے تیرہ لوگوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔  گرفتار کئے جانے والے نوجوانوں کی پولیس کو کافی دنوں سے تلاش تھی۔  جامعہ اور آس پاس کے علاقوں میں خوف و ہراس پھیل گیا تھا۔  علاقے کے مسلمانوں سے ہمدردی رکھنے والے لیڈران بھی سامنے آ گئے تھے جو ان شرمناک حرکتوں کو پولیس اور آر ایس ایس کی ملی بھگت بتا رہے تھے۔  ایسے ہی ایک لیڈر نے یہ بھی انکشاف کیا تھا کہ دو برس قبل ایک دھماکہ کے سلسلے میں پولیس نے کچھ ایسے لوگوں گرفتار کیا تھا جن کے چہروں پر داڑھیاں تھیں اور سر پر ٹوپی— لیکن یہ لوگ بجرنگ دل کے کارکن تھے۔  سارا دن پولیس مختلف مقامات پر چھاپے مارتی رہی اور تیرہ لوگوں کے بعد بھی کچھ ایک گرفتاریوں کا معاملہ سامنے آتا رہا۔  لیکن اُس دن اور کوئی خاص بات نہیں ہوئی۔ 
خاص بات یہ تھی کہ پولیس نے اچانک پورے علاقے پر سوالیہ نشان لگا دیا تھا۔  مسلمان اپنے گھروں میں سہمے ہوئے تھے۔  اخبارات چیخ رہے تھے۔  میڈیا آگ اُگل رہی تھی۔  نوجوان اپنے اپنے گھروں میں دبکے ہوئے تھے۔  شام تک میڈیا والے لوٹ گئے۔  زیادہ تر لوگوں نے دکانیں بند رکھیں۔  انسپکٹر ورما کے مطابق آپریشن ابھی پورا نہیں ہوا ہے۔  آنے والے کچھ دنوں میں کچھ اور گرفتاریاں بھی سامنے آ سکتی ہیں۔ 
٭٭
میں … ارشد پاشا… میں اس علاقے میں ہونے والی ساری واردات کا گواہ رہا ہوں — اب اپنے بارے میں کچھ باتوں کی وضاحت بھی ضروری ہے۔  جیسے یہ، کہ قلم کی ذمہ داری اٹھاتے ہوئے میں نے اپنے منصب کو پہچانا تھا۔  اور یہ تسلیم کر لیا تھا کہ قلم کی ذمہ داری کو محسوس کر نے والا ہندو یا مسلمان نہیں ہوتا۔  ہندو یا مسلمان ہو کر وہ اپنی ذمہ داریوں کو ادا کر ہی نہیں سکتا۔  پھر چاہے ادب کا میدان ہو یا صحافت، یہاں بس عام انسان ہو کر وہی لکھنا ہوتا ہے جو سچ ہوتا ہے— لیکن مجھے یہ بھی تسلیم کرنے دیجئے کہ ٹی وی پر مسلسل آنے والی ان خبروں سے گزرتا ہوا ارشد پاشا کوئی عام انسان نہیں رہ گیا تھا۔  یہاں وہ بس ایک ٹچّا سا مسلمان تھا۔  میڈیا کے شور اور ہنگامے اس طرح کے تھے جیسے کوئی بھی مسلمان اس دہشت گردی سے الگ نہیں ہے۔  جیسے ہر مسلمان بچہ مدرسے میں پڑھتا ہے۔  مدرسے آتنک کی فیکٹریاں ہیں۔  جہاں اسلحے اور بم بنائے جاتے ہیں۔  دنیا بھر کے مسلمان انہیں بم اور اسلحوں سے کھیل رہے ہیں۔ 
رباب خوفزدہ تھی—
ہم دونوں آس پاس ہی بیٹھے تھے۔  لیکن ہم دونوں میں سے کوئی بھی ایک دوسرے کی جانب نہیں دیکھ رہا تھا۔ 
اس درمیان تھاپڑ کا فون آ گیا تھا۔  اس نے یہ بتانے کے لیے فون کیا تھا کہ اُسامہ ٹھیک ہے۔  وہ بہت حد تک ڈر گیا ہے لیکن گھبرانے کی کوئی بات نہیں ہے۔  تھاپڑ نے یہ بھی بتایا کہ آفس سے نکل کر وہ سیدھے اس کے پاس آنے کی کوشش کرے گا۔ 
رات آٹھ بجے تک زیادہ تر پولیس والے جا چکے تھے لیکن سارا علاقہ ابھی بھی دہشت اور خوف کی سیاہ بدلیوں میں قید تھا۔ 
آٹھ بجے تک تھاپڑ آ گیا— اس کے چہرے پر غصے اور ناراضگی کو صاف طور پر محسوس کیا جا سکتا تھا۔ 
اُس نے سسٹم کو ایک سڑی ہوئی گالی دی— ’تیری ماں کی— کیا لگتا ہے اُنہیں ؟ اس پورے علاقے کے آپریشن کی وجہ کیا تھی؟ کیونکہ یہ علاقہ مسلمانوں کا ہے؟ یہاں کی اکثریت مسلمانوں کی ہے؟ اور وہ ساری دنیا میں یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ ہندوستان کا ہر مسلمان آتنک واد ی ہے؟ جس محلے میں مسلمان زیادہ رہتے ہیں وہاں صرف کٹرواد روشن ہے؟ اور یہ کٹرواد ملک کی سالمیت اور جمہوری قدروں کو توڑتی رہتی ہے؟ تم نہیں سمجھو گے ارشد پاشا— در اصل یہ ہندو سنگٹھنوں اور مہا سبھاؤں کی وہ آگ ہے جس نے اب سارے دیش کو جلانا اور سلگانا شروع کیا ہے۔  سیمی یا انڈین مجاہدین کا آسانی سے نام لینا ان کی سمجھ میں تو آتا ہے لیکن ایسے ہزاروں ہندو اُگروادی سنگٹھن ہیں، ان کا نام ان کی زبان پر کیوں نہیں آتا—؟‘
رباب چائے لے آئی تھی۔  اس نے بات کو بدلتے ہوئے یہ کہا—
’بھائی صاحب— آج تو سارا دن یہاں کے آسمان پر گدھ ناچتے رہے۔ ‘
تھاپڑ نے روکا— ’آپ کو کیا لگتا ہے؟ گدھ واپس چلے گئے ہیں —؟‘‘
’نہیں —‘ آواز کمزور تھی— مجھے بار بار لگ رہا ہے یہ گدھ لوٹ کر آئیں گے۔  آنے والی بڑی کارروائی کو انجام دینے کے لیے۔  پولیس کی طرف سے ہونے والی یہ محض ایک چھوٹی سی کارروائی تھی۔ ‘
تھاپڑ نے چائے کی چسکیاں لیتے ہوئے کہا— ’شاید میں بھی کچھ ایسا ہی محسوس کر رہا ہوں۔  بڑے دھماکے سے پہلے کا ایک چھوٹا دھماکہ— بڑی کارروائی سے پہلے کی ایک چھوٹی کارروائی— لیکن سمجھ میں نہیں آتا۔  ہندوستان کا اکثریتی طبقہ سب کچھ جانتے ہوئے بھی خاموش کیوں ہے۔  کیا وہ بھی میڈیا کی طرح عام مسلمانوں کو اس کا قصور وار مانتا ہے؟ ملک میں ہونے والی کسی بھی بڑی کارروائی کے پیچھے مسلمان نہیں تھے۔  گاندھی جی کو گوڈ سے نے مارا— اندرا گاندھی کی ہتیا بھی  کسی مسلمان نہیں کی تھی۔  اور نہ راجیو گاندھی کی ہتیا۔  دیش کے سب سے بڑے آتنک وادی حملہ یعنی بابری مسجد کو ڈھانے کے لیے بھی مٹھی بھر آر ایس ایس اور بجرنگ دل کے لوگ ہی آئے تھے۔  یہ حکومت عالمی سیاست کا حصہ کیوں بنتی جا رہی ہے—؟ میں دعوے کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ ہندوستان کا عام مسلمان بھی پاکستان سے نفرت کرتا ہے۔  جبکہ ایک پورے ملک سے نفرت کرنے کا کوئی جواز نہیں بنتا— لیکن یہ نفرت مختلف طریقوں سے پچھلے ساٹھ برسوں میں اس ملک کے مسلمانوں کے اندر بھری گئی ہے کہ خود کو سیکولر اُسی وقت کہلوانا جب پاکستان کو گالیاں دو گے۔ ‘
تھاپڑ نے پھر ایک گندی  سی گالی بکی—
اب وہ میری طرف مڑا— ’کل میں دیر تک اُسامہ کے ساتھ رہا— آنندی بھی رہی— شاید اسے پڑھنا چاہتا تھا یا اسے تم یوں بھی کہہ سکتے کہ اُس کے جیسے کسی بچے کو قریب سے پڑھنے اور جاننے کی میری منشا تھی۔  ایک مسلم نوجوان بچے کو ہماری اندر سے  پڑھنے کی منشا تھی— لیکن افسوس— وہ ہندستان کی مین اسٹریم سے کٹا ہوا بچہ نظر آیا مجھے— اندر سے لہولہان ایک خوفزدہ بچہ جس کی دہشت اور خوف کے سائے میں پرورش ہوئی ہے۔  میں نے اور آنندی نے تم نے کوشش کی کہ اُسامہ کو بہلایا جائے اُسے کسی کھیل میں شریک کیا جائے۔  لیکن یہ ممکن نہیں ہو سکا۔ ‘
رباب سہمی ہوئی میری طرف دیکھ رہی تھی۔  پلٹ کر اُس نے تھاپڑ کی طرف دیکھا— ’وہ ٹھیک تو ہے نا…؟‘
تھاپڑ نے مسکرانے کی کوشش کی— ’وہ بالکل ٹھیک ہے اور محفوظ ہے— میں ایک عام بات کہہ رہا تھا۔  وہ بچہ عام اکثریتی بچوں کی طرح کیوں نہیں ہے—؟  اور اس کا جواب تھا میرے پاس۔  میڈیا اور اخباروں کے ناجائز شور نے اس بچے کو دماغی طور پر کمزور کر دیا ہے۔  ہر روز جب یہ مسلمان بچے ٹی وی اور خبروں میں مسلمانوں سے متعلق دہشت گردی اور خون خرابہ کی خبر دیکھیں گے تو ان کا کیا ہو گا—؟ ایک دن وہ اسامہ کی طرح خاموش ہو جائیں گے۔ ‘
اُس رات تھاپڑ دیر تک اس موضوع پر گفتگو کرتا رہا۔  لیکن جیسے اب میں کچھ بھی نہیں سن رہا تھا۔  آنکھیں ہوا میں معلق تھیں — جسم سناٹے میں ڈوبا تھا— اور دماغ میں چلتی ہوئی میزائلیں شور مچا رہی تھیں۔ 
٭٭
اُس دن کا ہیرو انسپکٹر ورما تھا۔  نیوز چینلس نے اپنے اپنے بریکنگ نیوز میں ورما کے کارناموں کو سامنے رکھا تھا۔  ورما کے مطابق ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جنہیں گرفتار کرنا ضروری ہے۔  اور اسی کے ساتھ اعظم گڑھ کے تار دہشت گردی اور دلّی بم دھماکوں سے جوڑ دیئے گئے تھے۔ 

گرفتار کیے جانے والے سارے نوجوان مسلمان تھے۔  یہ وہ نوجوان تھے جو اپنے اپنے مستقبل کی جنگ لڑ رہے تھے۔  ان میں ایک 22 سالہ ذاکر تھا جو ہیومن رائٹس پر کئی برسوں سے ریسرچ کر رہا تھا۔  انجینئر تک کالج میں پڑھنے والا طاہر تھا جس پر احمد آباد، اجودھیا، گورکھپور میں ہونے والے بم دھماکوں کا الزام لگایا گیا تھا۔  اس کے بارے میں پولیس نے یہ رپورٹ دی تھی کہ وہ کئی دنوں تک اعظم گڑھ کے ایک گھر میں چھپا ہوا تھا— ان میں سے جامعہ میں پڑھنے والا ایک طالب علم ندیم بھی تھا۔  پولیس اب کچھ اور مسلم نوجوانوں کو تلاش کر رہی تھی۔  پولیس  کا یہ منشا تو سامنے آ ہی چکا تھا کہ چھاپے کی یہ کارروائیاں ابھی ختم نہیں ہوئی ہیں — آنے والے دنوں میں ابھی بھی اس علاقے پر خطرہ منڈلا رہا ہے۔ 
لیکن یہ خطرہ اتنی جلد سامنے آ جائے گا۔  اس کی امید نہیں تھی۔ 
٭٭
دوسرے دن صبح چھ بچے ہی دلّی پولیس  حرکت میں آ گئی۔  سب سے پہلے علوی کو اُس کے گھر سے اٹھا لیا گیا۔ 
ٹھیک سات بجے میرے گھر کے دروازے کی کال بیل چیخ اٹھی۔ 
’میں … ارشد پاشا… شاید میں نے خود کو بد سے بدتر حالات کے لیے اب ذہنی طور پر تیار کر لیا تھا— لیکن علوی کی گرفتاری کی خبر سن کر رباب کے ہوش اڑ گئے تھے—
دروازہ کھولا تو سامنے دو پولیس والے کھڑے تھے۔  ان کے تیور اچھے نہیں تھے۔  پہلا پولیس والا طنز سے مسکرایا۔ 
مجھے دھکّا دیتے ہوئے دونوں پولیس والے اندر کمرے میں چلے آئے تھے۔  رباب دروازے کے پاس سہمی ہوئی کھڑی تھی۔  ایک پولیس والے نے اِدھر اُدھر دیکھا پھر مسکراتا ہوا ہنسا—
’بم یہیں تیار گئے جاتے ہیں ؟‘‘
’’یہاں کوئی بم تیار نہیں ہوتا۔ ‘‘
’بکو مت— ہمکیں ساری اطلاع مل چکی ہے۔ ‘ دوسرا پولیس والا انتہائی بدتمیزی سے بولا— ’سالے بم بناتے ہو۔  بچوں کو بھی بم بنانا سکھاتے ہو۔ ‘
اس بار  رباب چیخی تھی— ’یہاں کوئی بم نہیں بنتا۔  یہاں سیدھے سادھے شریف لوگ رہتے ہیں۔ ‘ 
پہلے نے بے حیائی سے قہقہہ لگایا— ’شریف لوگ—‘
میں زور سے چیخا— ’تمہارے کہنے سے شریف لوگ دہشت گرد نہیں ہو جائیں گے۔ ‘
’’دہشت گرد ؟‘‘
پہلے نے دوسرے کی طرف دیکھا—’اب آ گئے نا اپنی اوقات پر— تم سب سالے آتنک وادی ہو۔  ہندوستان میں رہ کر پاکستان بنانے کے خواب دیکھتے ہو—‘ وہ زور سے چیخا— ’تیرا آتنک وادی بیٹا کہاں ہے رے؟‘
 رباب اس سے کہیں زیادہ زور سے چیخی — ’میرا بیٹا کوئی آتنک وادی نہیں ہے—‘
نام… ؟ پہلا زور سے ہنسا— تیر بیٹے کا نام کیا ہے؟
’اسامہ—‘
’اسامہ بن لادین… باپ رے۔  اور یہ کہتی ہے اسامہ آتنک وادی نہیں ہے—‘
اب وہ دونوں پولیس والے صوفے پر بیٹھ گئے تھے۔  پہلا غور سے میری طرف دیکھ رہا تھا— ’سنو، ہم عورتوں سے نہیں الجھتے۔  اپنی عورت کو اندر بھیج دو۔  اور جو سوال کروں اس کا صحیح صحیح جواب دو۔  زیادہ ہوشیاری نہیں چلے گی—
میں نے رباب کو اشارہ کیا۔  سہمی ہوئی رباب کمرے میں لوٹ گئی تھی۔ 
پولیس والا اب غور سے میری طرف دیکھ رہا تھا۔ 
’تمہارا بچہ کیا پڑھتا ہے… وہ جو تم لوگوں کی کتاب ہے…؟‘
’قرآن شریف—‘
’ہاں —‘
’تم نے اپنے بیٹے کو پڑھوائی ہے؟‘
’ہاں —‘
’یہ وہی کتاب ہے نا جو اُسامہ بن لادن بھی پڑھتا ہے؟‘
’ہاں —‘ کہہ کر میں کچھ آگے بولنا چاہتا تھا۔  مگر اُس نے ہاتھ کے اشارے سے روک دیا۔ 
’تو! اپنے بیٹے کو وہی پڑھواتے ہو جو لادن پڑھتا ہے‘ کہہ کر وہ زور سے ہنسا—
دوسرے پولیس والے نے چٹکی لی— ’اور وہ حدیث ‘ حدیث ہی کہتے ہیں نا…؟ وہ بھی پڑھوائی—؟‘
’ہاں —‘ میرا چہرہ لال سرخ ہو رہا تھا۔ 
پولیس والا غصے سے ہنسا— ’تو وہ سب پڑھوایا جو لادن پڑھتا ہے۔ ‘
میرے  صبر کا پارہ جواب دے چکا تھا۔  میں زور سے چیخا— ’وہ نماز بھی پڑھتا ہے جو لادن پڑھتا ہے۔  وہ سر پر ٹوپی بھی رکھتا ہے جو لادن رکھتا ہے۔  وہ کرتا پائجامہ پہنتا ہے۔  جو لادن پہنتا ہے۔  اور ابھی سے اس نے داڑھی رکھنا بھی شروع کیا ہے جیسے لادن رکھتا ہے۔ ‘
پہلا پولیس والا زور سے چیخا— ’سالے اپنے اپنے گھر میں لادن پیدا کر رہے ہو۔ ‘ اس نے ایک گندی سی گالی بکی۔ 
دوسرا غصے میں دہاڑا— ’تیرا بیٹا کہاں ہے؟‘
’نہیں ہے—‘
’کہاں گیا ہے؟‘
’اپنے چچا کے گھر—‘
’بھگا دیا— تم سمجھتے ہو بھگوڑا پکڑا ہی نہیں جائے گا۔  تیرے سارے گھر کی تلاشی ہو گی۔  تیرے بچے کے کمپیوٹر اور لیپ ٹاپ کی بھی تلاشی ہو گی—
’کیوں —؟‘
’دیکھنا یہ ہے کہ سیمی اور انڈین مجاہدین کے لوگوں سے اُس کا کیا رشتہ ہے؟‘
میں ایک بار پھر غصے میں اٹھ کھڑا ہوا تھا— ’کیوں ہمارے بچوں کو آتنک  وادی ثابت کرنا چاہتے ہو آپ لوگ —؟‘
پہلا پولیس والا اسامہ کے کمرے کی تلاشی لے رہا تھا— سہمی ہوئی رباب یہ سارا تماشہ دیکھ رہی تھی۔ 
مجھے ایسا لگ رہا تھا جیسے میں کسی غیر ملک میں ہوں۔  میری آواز میری اپنی آواز نہیں ہے۔  میرے جسم پر پہرا ہے۔  روح پر بندش ہے— سانسیں گھٹتی ہوئی محسوس ہو رہی تھیں — ذہن میں اندھیرا ہی اندھیرا سمٹ آیا تھا۔  پاؤں بے جان اور جسم سے  جیسے حرکت بھول گیا تھا— میری سانسیں ڈوب رہی تھیں — ایک گھنٹے کی توڑ پھوڑ کی کاروائی کے بعد پولیس والے واپس لوٹ گئے تھے۔  گھر کا سارا سامان بکھرا ہوا تھا۔  میز کی درازیں کھلی ہوئی تھیں۔  سامان زمین پر بکھرے ہوئے تھے میں اور رباب سہمے ہوئے ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے۔  میں نے تھاپڑ کو فون لگایا اور لرزتی آواز میں پولیس کی ظالمانہ کارروائی کی اطلاع دی—
تھاپڑ نے کہا— ’میں آ رہا ہوں اور ہم آج ہی صوفیہ سے ملیں گے۔  اب ہمیں مدد کی ضرورت ہے۔ ‘
لیکن مجھے اس بات کی اطلاع نہیں تھی کہ اسی درمیان بٹلہ ہاؤس میں ایک انکاؤنٹر ہو چکا ہے— اور اس انکاؤنٹر میں ورما کو بھی گولی لگی ہے۔  ساتھ ہی بم دھماکوں میں ملوث  دو ماسٹر مائنڈ کے مارے جانے کی بات بھی سامنے آ چکی ہے۔ 
نیوز چینلس بار بار اب تک کی سب سے بڑی بریکنگ نیوز کو فلیش کر رہے تھے۔ 
’مارے جانے والوں میں دو نام کی پہچان ہو چکی ہے۔  ایک راشد اور دوسرا اس کا دوست منیر—‘
٭٭


(2)

یہ اب تک کا سب سے بڑا انکاؤنٹر تھا۔  یہ انکاؤنٹر چوتھی منزل پر بنے ایک فلیٹ میں ہوا تھا اس فلور سے اوپر صرف ایک چھت تھی۔  گراؤنڈ فلور پر ایک ہی زینہ تھا— جو چھت تک چلا گیا تھا۔  پولیس کے جوانوں نے چاروں طرف سے اس فلیٹ کو گھیر رکھا تھا۔  چھوٹے سے بڑے آفیسر اور میڈیا کے لوگ بھی سڑکوں پر جمع تھے۔  اندھا دھند گولیوں کی آواز نے اچانک سب کو انجانے خوف میں تبدیل کر کر دیا تھا۔  ورما کے ساتھ راشد کے فلیٹ تک جانے والوں میں ایک دُشینت تھا اور دوسرا نوین— کچھ ہی دیر کے بعد سیڑھیوں سے باہر آتے ورما پر کیمرے کے فلیش چمکنے لگے تھے۔  نیچے  آنے، گاڑی میں بیٹھنے اور اسپتال جانے تک ورما زندہ تھا۔  لیکن اسپتال جانے کے کچھ ہی دیر کے بعد اُن کی موت کا سرکاری اعلان کیا جا چکا تھا۔  پولیس اس بات کا بھی اشارہ کر رہی تھی کہ ابھی دو ملزم فرار ہیں۔  بہت ممکن ہے کہ وہ چوتھی منزل سے کود کر فرار ہو گئے ہوں۔ 
نیوز چینلس چیخ رہے تھے۔  بریکنگ نیوز بار بار اُس تصویر کو فلیش کر رہی تھی جہاں دو ساتھیوں کی معرفت زخمی حالت میں انسپکٹر ورما چوتھی منزل سے نیچے آئے تھے— علاقے کے مسلم رہنما جاگ چکے تھے۔  سیاست حرکت میں آ گئی تھی۔  بی جے پی اور کانگریسی رہنماؤں کے بیان آ رہے تھے۔  سارے علاقے میں خوف و دہشت کی حکومت قائم ہو چکی تھی۔  علاقے کے نیٹ کنکشنس کاٹ دیئے گئے تھے۔  ایک چھوٹی سی خبر اور بھی آئی تھی— پزّا  ڈلیوری کرنے والوں نے یہ اعلان کیا تھا کہ ہم جامعہ کے علاقہ میں پزا کی ڈلیوری نہیں دیں گے۔ 
٭٭
اور اس وقت میں … میں ارشد پاشا، تھاپڑ کے ساتھ راجیہ سبھا کی ممبر صوفیہ احمد کے کمرے میں تھا۔  کمرے سے باہر ہزاروں لوگ جمع تھے۔  صوفیہ کے کمرے میں بھی اس وقت کئی مسلمان جمع تھے۔  اور اس انکاؤنٹر کو مسلمانوں کے خلاف ہونے والی ایک بڑی سازش بتا رہے تھے۔ 
میں مدّتوں بعد صوفیہ سے مل رہا تھا— اُس کا چہرہ ابھی بھی پرکشش تھا۔  کمرے میں آنے تک میرے قدم شل ہو چکے تھے۔  میں غور سے صوفیہ کو دیکھ رہا تھا— شاید وہ بھی نظر اٹھانے میں دشواری محسوس کر رہی تھی۔  تھاپڑ نے صوفیہ کواُس رات ہونے والی کارروائی کی پوری رپورٹ دے دی تھی۔ 
صوفیہ گہری سوچ میں ڈوبی تھی۔  ایک لمحے کو نظر اٹھا کر اُس نے میری طرف دیکھا— پھر کرسی پر بیٹھے ہوئے لوگوں کی طرف—
’یہ آپ بھی جانتے ہیں اور میں بھی جانتی ہوں کہ یہ مسلمانوں کے خلاف ہونے والی ایک سازش ہے۔  مگر یہ بھی دیکھیے کہ سازش کے پیچھے کون سی حکومت ہے۔  یہ وہی حکومت ہے جس پر مسلمان آنکھیں بند کر کے بھروسہ کرتے ہیں۔  کیا حکومت چاہتی تو اس کارروائی کو روکا نہیں جا سکتا تھا؟ کیا حکومت کی شہ کے بغیر ہی اتنی بڑی کارروائی ہو گئی؟سوال ہی نہیں — اب کانگریس والے بیان دیتے چل رہے  ہیں۔  ابھی کچھ دنوں میں دیکھئے اور بھی ڈرامے سامنے آئیں گے—‘
میری آواز لرز رہی تھی— ’میرا بیٹا بھی کہیں نہ کہیں اس سیاسی ڈرامے کا ایک مہرہ بن چکا ہے۔  اسے بچا لیجئے—‘
صوفیہ نے نظر جھکا لی تھی— ’ہم اسے بچانے کی پوری کوشش کریں گے۔  لیکن اگر پولیس اُسے عدالت میں پیش کرنا چاہتی ہے تو آپ زیادہ دن تک اسے چھپا نہیں سکتے۔  اُسے سامنے آنے دیجئے۔  ایسی ہر جگہ میں اس کے ساتھ رہوں گی۔  معاملہ بگڑ گیا ہے۔  صورتحال نازک ہے۔  حکومت بھی جانتی ہے کہ مسلمانوں کو ناراض کر کے  وہ اپنا ایک بڑا ووٹ بنک ختم کر دے گی۔  اس لیے، امید رکھئے ہم خاموش نہیں بیٹھیں گے۔  کچھ نہ کچھ ضرور کریں گے۔ ‘
اس بار میری طرف دیکھتے ہوئے اس کی نظروں میں وہی مسکراہٹ لوٹ آئی— ’بیٹے میاں کو کچھ نہیں ہو گا۔  مجھ پر بھروسہ رکھئے۔ ‘
باہر نکلتے ہوئے صوفیہ کی آواز بار بار میری کانوں میں گونج رہی تھی— مجھ پر بھروسہ رکھئے— لیکن میری کیفیت یہ تھی کہ میرا بھروسہ اب تمام لوگوں سے اٹھ گیا تھا۔ 
تھاپڑ نے بتایا کہ اُسامہ نے صبح سے کچھ کھایا نہیں ہے۔  وہ صرف روئے جا رہا ہے۔  گھنٹوں اس نے اپنا کمرہ بند رکھا— بڑی مشکل سے اس نے دروازے کھولا۔  تھاپڑ نے یہ بھی بتایا کہ ان واقعات نے اُسامہ کو بری طرح توڑ دیا ہے۔ 
’کیا ہم اس سے مل سکتے ہیں ؟‘
’ابھی نہیں ملو تو اچھا ہے— معاملہ ٹھنڈا ہو جائے تو میں اُسے لے کر خود ہی تمہارے یہاں آ جاؤں گا۔ ‘
تھاپڑ تسلیاں دے کر لوٹ گیا تھا—
واقعات تیزی سے نئی کروٹ لے رہے تھے—
میں — ارشد پاشا— میں اندر ہی اندر ایک ایسی آگ سے گزر رہا تھا، جس کا بیان مشکل ہے— مگر اس انکاؤنٹر کے بعد جو بیانات اور نئی نئی باتیں سامنے آ رہی تھیں، اُس نے مجھے مشہور ناول نگار سروانٹس کے مشہور زمانہ کردار ڈان کوئٹکزوٹ کی یاد دلا دی تھی…
یہاں سر کس کے جوکر جمع تھے—
اور پولیس کے ہر دوسرے بیان میں ’سوچھید‘ آسانی سے تلاش کیے جا سکتے تھے— میری خاموش تنہائیاں مسلسل ان واقعات کے تجزیہ سے گزر رہی تھیں۔  اس وقت جہاں پورا ملک اس انکاؤنٹر کو لے کر طرح طرح کی باتیں کر رہا تھا، وہاں شاید یہ اصلیت ابھی بھی کم لوگوں کو معلوم تھی کہ اس انکاؤنٹر سے کچھ روز قبل رات کو بٹلہ ہاؤس کی پلیا چوکی میں کون سا واقعہ پیش آیا تھا— اسامہ کے علاوہ پولیس تینوں بچوں کو اپنا شکار بنا چکی تھی— علوی پولیس کی حراست میں تھا۔  منیر اور راشد انکاؤنٹر میں مارے جا چکے تھے— اور پولیس انکاؤنٹر کو سچ ثابت کرنے کے لیے پرانے گڑے مردے اکھاڑنے کی کوشش کر رہی تھی—
ادھر اس علاقے میں مسلمانوں کی سیاست بھی گرما گئی تھی— مسلمان کانگریس سے خاصہ ناراض تھے— علاقے کے نوجوان لڑکوں نے گھروں سے باہر نکلنا بند کر دیا تھا—
ٹی وی چینلس شہید انسپکٹر ورما کے کارناموں پر آدھے آدھے گھنٹے کی فلمیں دکھا رہے تھے—
رباب گہرے سناٹے میں تھی—
اور شاید ایسا ہی ایک گہرا سناٹا میرے اندر بھی اتر آیا تھا—
٭٭
حالات بگڑ چکے تھے۔  سیاست گرما گئی تھی۔  مختلف پارٹیوں کے بیانات کا سلسلہ جاری تھا— ایک بڑا گروپ اس پورے انکاؤنٹر کو فرضی انکاؤنٹر ٹھہرا رہا تھا— حکومت کے کچھ لوگ بھی اس پورے معاملے کو فرضی انکاؤنٹرز مان رہے تھے۔  اس درمیان اس پوری سیاست کو لے کر پولیس کی ایک چھوٹی سی پریس کانفرنس ہوئی تھی— اس کانفرنس میں ہندی اور انگریزی اخباروں کے بڑے صحافی بھی موجود تھے— اس کانفرنس میں زور شور سے‘ انکاؤنٹر سے متعلق بہت سی نئی باتیں اٹھانے کی کوشش کی گئی— مثال کے لیے—
اس انکاؤنٹر کی تفصیل جو تفصیل سامنے آئی تھی اُس کے مطابق، پولیس کو مفرور آتنک وادی عبد الرحیم کی ڈائری ملی تھی۔  اس ڈائری میں اردو میں لکھے گئے کچھ ناموں کی فہرست تھی۔  عبد الرحیم کے بارے میں کہا جا رہا تھا کہ یہ آدمی دلی بم دھماکے کا بھی مجرم ہو سکتا ہے اور پولیس کو اس کی تلاش تھی۔  راشد اور منیر، عبد الرحیم کے دوستوں میں تھے۔  راشد اپنے فلیٹ کی چوتھی منزل پر اپنے  ماں باپ کے ساتھ رہتا تھا— جس وقت انکاؤنٹر ہوا اس وقت اس کا دوست منیر بھی وہیں تھا— پہلے تین لوگ راشد  کو حراست میں لینے کے لیے اُس کے گھر پہنچے۔  ایک پولیس کا سپاہی سیڑھیوں پر رہ گیا۔  دشینت اور ورما دونوں گرفتاری کے لیے اندرجانا چاہتے تھے۔  بیل بجتے ہی دروازہ منیر نے کھولا تھا— اس وقت دونوں پولیس کے سپاہی سادی وردی میں تھے۔  پولیس کا شک ہوتے ہی منیر کے پیچھے کھڑے راشد نے گولیاں چلانا شروع کیں — بدلے میں انسپکٹر ورما کی پسٹل سے گولیاں چلیں —‘
’راشد کے ماں باپ کہاں تھے؟‘
’راشد کے ماں باپ اُس وقت اندر کمرے میں تھے…‘
’ہنگامے اور گولیوں کی آواز سن کر بھی ان لوگوں نے باہر آنا ضروری نہیں سمجھا—؟‘
’جب تک وہ لوگ اندر کمرے سے باہر نکل آتے، پولیس انکاؤنٹر کا کام پورا ہو چکا تھا—‘
’ورما کو گولی کس نے ماری—‘
’گولی راشد نے چلائی تھی— ایک گولی اس کے کندھے پر لگی تھی—‘
کندھے پر گولی لگی تو پیٹھ پر گولی کس نے ماری؟
’بہت ممکن ہے— راشد کی طرف سے چلنے والی گولیوں سے گھبرا کر ورما نے راشد کی طرف اپنی پیٹھ کر لی ہو۔ ‘
’دشینت کو گولی کیوں نہیں لگی؟ اگر دونوں ایک ساتھ کمرے میں داخل ہوئے اور بقول پولیس، راشد نے ان پولیس والوں کو دیکھتے ہی گولیاں چلانی شروع کر دی تھیں —؟‘
’اس بارے میں اتنا ہی کہا جا سکتا ہے کہ دشینت کو اپنا بچاؤ کرنا آتا تھا اور ورما کو نہیں —‘
’راشد کی پستول میں کتنی گولیاں تھیں ؟
پولیس کی انفارمیشن کے مطابق اُس وقت کمرے میں منیر اور راشد کے علاوہ دو لوگ اور تھے— تو باقی دو لوگ کہاں بھاگ گئے؟‘
’یقیناً وہ زینے سے بھاگے ہوں گے—‘
لیکن زینہ تو ایک ہے— اور باہر پولیس کی کئی گاڑیوں کے ساتھ نیوز چینلس کی پوری فوج بھی کھڑی تھی—‘
مسکراہٹ— ’یہ آتنک وادی ایسے ہی نہیں آتنک وادی بنے— یہ پولیس کو چکمہ دینا بھی جانتے ہیں —‘
’اگر باقی دو اگر وادی زینے سے نہیں گئے تو کس راستے سے بھاگے ہوں گے۔ ‘
’یقیناً اُنہوں نے بھاگنے کے لیے چھت کا سہارا لیا ہو گا—‘
’چھت یعنی پانچویں منزل؟‘
’ممکن ہے—؟‘
’تو کیا پانچویں منزل سے کود کر فرار ہو گئے؟‘
’یہ آتنک وادی کسی اسپائڈر مین سے کم نہیں ہوتے۔ ‘
’انکاؤنٹر سے ایک دن— پہلے جن تیرہ لوگوں کو حراست میں لے کر میڈیا کے سامنے پیش کیا گیا تھا، اُن سب نے کرتا پائجامہ کیوں پہنا تھا؟ کیا اُن میں کسی کے پاس ٹی شرٹ نہیں تھی—‘
’یہ لوگ ٹی شرٹ نہیں پہنتے۔ ‘
’لیکن ہندوستان کا عام مسلمان تو بش شرٹ پہنتا ہے—‘
’خاموشی— نیکسٹ—‘
’کیا آتنک وادیوں کے لباس یعنی کرتے پائجامے ٹوپی عرب ملکوں سے امپورٹ  ہو کر آتے ہیں —؟‘
’ نیکٹ—‘
کیا عبد الرحیم یا کوئی بھی آتنک وادی اردو کے علاوہ کوئی دوسری زبان نہیں جانتا—؟‘
’نیکٹ—‘
پریس کانفرنس میں کمشنر بمشکل مسکرانے کی کوشش کر رہے تھے۔ 
’ورما نے پیچھے سے گولی کھائی تھی— پیچھے سے گولی کھانے والے کو آپ شہید کیسے کہہ سکتے ہیں —؟‘
ڈان کوٹکزوٹ کھل کر سامنے آ گیا تھا—
وہ شاید ہنس رہا تھا۔  قہقہہ بکھیر رہا تھا—
لیکن یہاں اس پریس کانفرنس میں قہقہے نہیں تھے۔  پولیس کمشنر سکسینہ اپنے ہی بیانات میں الجھ گئے تھے— نیوز رپورٹرس سوال پوچھ رہے تھے— اور کئی بار Next کہتے ہوئے اُن کے چہرے پر منڈراتے پسینے کو صاف طور پر دیکھا جا سکتا تھا— اور یقینی طور سکسینہ انکاؤنٹر سے جڑی بہت سی باتوں کا جواب نہیں دے پائے۔ 
٭٭
حالات اور نازک ہو گئے تھے—
انکاؤنٹر کا معاملہ اب آہستہ آہستہ فرضی انکاؤنٹر کی طرف نیا موڑ لینے لگا تھا—
پولیس کو اب دوسرے پریس کانفرنس کی ضرورت محسوس ہوئی تھی۔ 
اور یہاں بھی ڈان کوئکزوٹ موجود تھا—
جوائنٹ کمشنر آف پولیس مسٹر کجری وال پریس کانفرنس کر رہے تھے۔ 
ان کی آنکھیں گہری سوچ میں ڈوبی تھیں۔  ٹھہر ٹھہر کر انہوں نے اس پورے انکاؤنٹر کے بارے میں بتانا شروع کیا—
’جیسا کہ آپ جانتے ہیں۔  اس انکاؤنٹر میں دو ملزم راشد اور منیر مارے گئے۔  اور دو آتنک وادی فرار ہو گئے— ایک پہلے سے ہماری حراست میں ہے۔  شک کی بنا پر تیرہ اور لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے— اس انکاؤنٹر میں ہمارے کرمٹھ پولیس انسپکٹر ورما کو شہادت ملی ہے۔  گجرات بم دھماکوں میں ملوث عبد الرحیم پر شروع سے ہماری نظر تھی— اس کے گھر کی تلاشی لینے پر وہاں سے اردو میں لکھی  ایک ڈائری ملی تھی۔  اس ڈائری میں اردو بھاشا میں ان آتنک وادیوں کے نام ملنے کے بعد ہم نے اپنی تفتیش کو آگے بڑھایا۔ 
عبد الرحیم پکڑا گیا— اس نے راشد کا نام لیا۔  اس کی ڈائری میں بھی راشد، منیر اور علوی کے نام درج تھے۔  ان تمام دھماکوں کے پیچھے لشکر طیبہ، انڈین مجاہدین اور سیمی کا نام سامنے آ چکا ہے۔  راشد ان کے بیچ کی ایک مضبوط کڑی تھا۔  ان کا ایک ساتھی علوی ہماری حراست میں ہے۔  اس سے ملک میں ہونے والے بم دھماکوں کو لے کر مختلف سراغ ملنے کی امید ہے۔  ابھی ہمیں ان کے کچھ اور ساتھیوں کی بھی تلاش ہے۔  راشد کا لیپ ٹاپ اور موبائل بھی ہمارے قبضے میں ہے۔  ان سے بھی ہمیں کافی کچھ ملا ہے۔ ‘
کجری وال کے بیان کے ساتھ ہی سوالوں کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو گیا تھا۔ 
’کیا پولیس کو پہلے سے جانکاری تھی کہ آتنک وادی بٹلہ ہاؤس میں چھپے ہوئے ہیں ؟‘
’ورما کو آگے سے مارا گیا یا پیچھے سے؟‘
’پولیس کے مطابق اگر انہیں آگے سے مارا گیا تو خون کا نشان پیچھے کیوں ہے؟‘
’ورما کی موت کہاں ہوئی؟ گولی لگنے کے بعد صرف دو لوگوں کے سہارے چار منزل طے کرتے ہوئے نیچے تک کیسے آ گئے؟ اس  کا مطلب وہاں اتنی گولیاں نہیں لگیں کہ وہ شہید ہو سکتے تھے؟
’کیا کار سے اسپتال تک جاتے ہوئے ان کے ساتھ کچھ اور بھی ہوا تھا؟‘
’ان کے جسم سے نکلی گولیاں کس بور کے پستول کی تھی؟‘
’کیا مقتول کے پاس سے ہتھیار اور بم بنانے کے سامان بھی ملے؟‘
’کیا پولیس بٹلہ ہاؤس میں تفتیش کے ارادے سے گئی تھی یا انکاؤنٹر کے ارادے سے ؟‘
’کیا ورما کو دہشت گردوں کی گولی لگی یا پولیس کی؟‘
’فلیٹ میں انکاؤنٹر کے وقت کتنے لوگ موجود تھے؟‘
’دو آتنک وادی جو بھاگ گئے، کیا سچ مچ وہ چوتھی منزل سے کود کر بھاگے؟‘
’کیا مقتول کو سرینڈر کے لیے مجبور نہیں کیا جا سکتا تھا؟‘
’کیا انہیں گولی مارنا ضروری تھا؟‘
انسپکٹر ورما انکاؤنٹر کے ارادے سے گئے تھے تو انہوں نے بیلٹ پروف جیکٹ کیوں نہیں پہنی تھی…؟
کجری وال کے پاس ان باتوں کا صرف ایک ہی جواب تھا—
’جیسے جیسے ہمیں ان کے بارے میں معلومات حاصل ہو گی، ہم آپ کو انفارم کرتے رہیں گے…‘
مسکراتے ہوئے وہ اٹھ کھڑے ہوئے تھے—
کیمرے کے فلیش چمک رہے تھے—
اور یہ سب کچھ ایسا تھا جیسے ہر کوئی ان معاملوں سے اپنا دامن بچانے کی کوشش کر رہا ہو—
اور اس وقت کجری وال بھی یہی کر رہے تھے…


(3)

میں… ارشد پاشا… میں خود بھی نہیں جانتا حقیقت کیا ہے؟ یہ حقیقت کبھی سامنے بھی آئے گی یا نہیں۔ میں خود اس معاملے سے دور جانا چاہتا ہوں۔ اس سیاست سے جس نے ہزار قربانیوں کے باوجود میرے ملک کو میرا ملک نہیں رہنے دیا ہے۔ کمرے میں منحوس چمگادڑیں اکٹھی ہو گئی ہیں—
میں رباب کے کمرے تک گیا ہوں— پھر واپس لوٹ آیا ہوں۔ تنہائی میں ایک  ساتھ کتنے ہی چہرے میری آنکھوں کے سامنے روشن ہو گئے ہیں۔ ان میں ایک چہرہ بی امّاں کا ہے۔ ایک چہرہ ابّا حضور ’تغلق پاشا کا— مجھے سب یاد آ رہا ہے۔ شہر کی فضا مکدر ہو گئی تھی۔ ہم کمرے میں بند تھے— کاشی کے گلی کوچوں میں فرقہ واریت کے بادل منڈرا رہے تھے— ابّا حضور تغلق پاشا ٹہلتے ہوئے پاکستان کو گالیاں دے رہے تھے۔
’ابھی تو کچھ بھی نہیں ہے میاں— بس آگے آگے دیکھتے جاؤ— تقسیم کا بھوت ہر بار تمہارا جینا مشکل کرے گا۔ تمہارے راستے تنگ کرے گا—‘
بی اماں نے ناراضگی دکھاتے ہوئے کہا— ’نوج‘ صبح سے کوّے بھی کائیں کائیں کر رہے تھے۔ مجھے سب پتہ تھا کچھ نہ کچھ ضرور ہونے والا ہے۔ ارے یہ راشدہ کہاں مر گئی… انور کہاں گیا—‘
ابّا حضور ٹہلتے ہوئے مڑے۔ غصے میں چلائے— ’اب یہ گھر کے سارے لوگوں کو اسی کمرے میں جمع کرو گی کیا۔ راشدہ اور انور اپنے کمرے میں ہوں گے۔ چلّانا بند کرو۔ ممکن ہو تو تلاوت شروع کرو۔ اللہ اس  بُرے موسم سے ہم سب کو محفوظ رکھے— ‘
لیکن بی اماں کا چلّانا بند نہیں ہوا—  وہ ابھی بھی صبح صبح منڈرانے والے کوؤں کو ’کوس‘ رہی تھیں— 
’نوج‘ صبح ہی صبح اپنی منحوس آواز سے نحوست پھیلا گئے۔ برا ہو ان مسلمانوں کا— ‘
ابّا حضور زور سے چیخے—  ’برا ہی تو ہو رہا ہے۔ پاکستان میں بھی برے بن رہے ہیں اور یہاں بھی۔ وہاں بھی مارے جا رہے ہیں اور یہاں بھی۔ آنے والے وقت میں بھی ہم کچھ کریں یا نہ کریں، لیکن مسلمانوں کو پاکستان کی قیمت تو چکانی ہی پڑے گی —  
میں جیسے کسی ڈراؤنے خواب سے باہر نکل آیا تھا۔ ٹھیک یہی وقت تھا جب میرے موبائل کی گھنٹی بجی تھی، دوسری طرف اسامہ تھا— برف جیسی سرد آواز—  ’مجھے نہیں رہنا ہے یہاں— ‘
’لیکن کیوں؟‘
’میرا دم گھٹتا ہے—  اپنے ہی سوالوں کا جواب نہیں دے پاتا۔‘
’بہتر ہے خود سے سوال ہی نہ کرو کہ جواب دینے کی ضرورت ہی پیش آئے۔‘
’سوال نہیں کروں ؟ یہ کیسے ممکن ہے؟ جو کچھ ہو رہا ہے میں اس کا ایک حصہ ہوں۔ آئی ریپٹ… ہم سب اس کا حصہ ہیں۔ میری نیند اڑ گئی ہے۔ دماغ میں طوفان آیا ہوا ہے۔ ہر وقت دماغ جلتا رہتا ہے۔ کیسے نہیں سوچوں—  کیسے خود سے سوال نہیں کروں۔ کیا اس ملک میں رہنے کا قرض ادا کرنا ہو گا اور قرض یہ ہے کہ ہم پر الزام لگا کر ہمیں شوٹ آؤٹ کر دیا جائے۔ مجھے سب خبریں مل گئی ہیں۔ علوی جیل میں ہے۔ منیر اور راشد مارے جاچکے ہیں اور یہاں  میں چھپتا پھر رہا ہوں۔ لیکن ہم سب کا گناہ کیا ہے؟ ہم تو جرم، اسلحے اور اس دنیا کے بارے میں بھی نہیں جانتے تھے—  ہم نہیں جانتے تھے کہ ماسٹر مائنڈ کیا ہوتا ہے۔ ہم نہیں جانتے تھے کہ جیش، سیمی، انڈین مجاہدین اور لشکر طیبہ کیا ہے؟ ایسا کیوں ہو رہا ہے۔ اگر ایسا ہی ہے تو ایک آسان راستہ ہے حکومت کے پاس— یا تو کسی مسلمان بچہ کو پیدا ہی نہ کیا جائے۔ اگر غلطی سے کوئی ایک بچہ کسی مسلمان گھر میں پیدا ہو جائے تو اُسے اسی وقت مار ڈالا جائے— ‘
اسامہ چیخ رہا تھا —  ’مجھے نہیں رہنا ہے یہاں۔ میں آ رہا ہوں ڈیڈی۔‘
میں زور سے چلایا—  ’پاگل مت بنو۔ فضا خراب ہے۔ ابھی کچھ اور دن تھا پڑ انکل کے یہاں ہی رہو۔‘
’میں نہیں رہوں گا۔ مجھے گلٹ ہو رہا ہے۔ ہم میں سے کسی نے کچھ نہیں کیا۔ اُس رات ہم چار تھے— اگر قصور وار وہ تینوں ہیں تو میں بھی قصور وار ہوں— پھر میرے لیے آپ یا تھاپڑ انکل کس بات کی جنگ لڑ رہے ہیں۔‘
میری آواز لرزتی ہوئی تھی—  ’ہم جنگ نہیں لڑ رہے بیٹا۔ ہم ایک برے موسم میں صرف خود کو بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘
دوسری طرف اُسامہ چیخ رہا تھا—  ’بچانے کی کوشش کیوں کر رہے ہیں— یہ کوشش تب کی جاتی ہے نا جب کچھ ہوتا ہے؟ کوئی جرم ہوتا ہے یا کوئی گناہ  یا مسلمان ہونا ہی جرم ہے؟ اور اس کی سزا پہلے سے ہی طے ہے— ‘ اسامہ رو رہا تھا—  میں اس ماحول میں اب اور نہیں جی سکتا۔ مجھے اپنے کمزور اور بزدل ہونے پر شرم محسوس ہو رہی ہے۔ ایک گہری نفرت میرے اندر جمع ہو رہی ہے۔ جی چاہتا ہے… بولتے بولتے وہ ٹھہر گیا تھا۔ 
’’لیکن اب میں نے فیصلہ کر لیا ہے— میں تھاپڑ انکل اور آنٹی کو اور زیادہ پریشان نہیں کرسکتا۔ اب یہاں نہیں رہوں گا۔ میں آ رہا ہوں۔ اگر پولیس مجھے بھی آتنک وادی مانتے ہوئے میرا انکاؤنٹر کرنا چاہتی ہے تو مجھے کوئی افسوس یا ڈر نہیں ہے۔ کیوں کہ اب میں نے جان لیا ہے کہ اس ملک میں سب سے بڑا گناہ یا جرم مسلمان ہونا ہے اور اس کے لیے آپ کو کسی بھی سزا کے لیے تیار رہنا چاہیے—‘
اُسامہ نے فون کاٹ دیا تھا— 
میرے ہاتھوں میں موبائل کانپ رہا تھا۔ سامنے رباب کھڑی تھی۔ اُس کی آنکھیں خوف سے پھیلی ہوئی تھیں۔
’کس کا فون تھا؟‘
’اُسامہ کا—  وہ آ رہا ہے۔‘
رباب کی آنکھیں خوف سے سکڑ گئی تھیں— ’اُسے بتایا نہیں کہ ابھی حالات اچھے نہیں ہیں۔
’’میں اسے سب بتا چکا— لیکن وہ اب وہاں رکنے کو تیار نہیں ہے— ‘
’کیا ہو گا میرے بیٹے کا؟‘
میں کمرے میں ٹہل رہا تھا—  رباب کی سسکیاں گونج رہی تھیں۔
’وہ مار دیں گے اُسے—  میرے بیٹے کو بھی مار دیں گے۔ اُسے روکو، سمجھاؤ اُسے ۔ مت آنے دو اُسے۔ میں بات کرتی ہوں اس سے۔‘
’وہ تمہاری بات نہیں سنے گا— ‘ ٹہلتے ہوئے میں ٹھہر گیا—  رباب کی طرف دیکھا— 
’وہ اب کسی کی نہیں سنے گا—  وہ اب بڑا ہو گیا ہے۔ ان حالات میں وہ اپنے فیصلے اب خود کرے گا۔‘
مجھے اپنی آواز ڈوبتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی۔
٭٭



(4)
ڈان کوئکزوٹ کے کچھ اور کردار

جیسا کہ میں نے قبل عرض کیا، کچھ کہانیاں ہم فرض کر لیتے ہیں۔ فرض کر لیجیے کہ ایسا ہوا ہو گا۔ ممکن ہے ایسا ہو نہ ہو تب بھی اس کی بات کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے کہ ہو نہ ہو لیکن ۹۰ فیصد ایسا ہی ہوا ہو گا۔ آنکھیں کھلنے اور بند ہونے تک ہم مسلسل اس ’فرض کرو…‘ کے احساس سے گزرتے رہتے ہیں۔
مثال کے لیے جب تک کوئی واقعہ ہم اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھتے ہیں صرف اُس کے بارے میں سنتے ہیں اور جب اس کی صداقت کا یقین ہو جاتا ہے تو ہم خود ہی ذہن کے کورے کینواس پر اس کی تصویر اتارنے لگتے ہیں۔ یقیناً کچھ ایسا ہی ہوا ہو گا— 
اس لیے قارئین! یہاں بہت کچھ فرض کرو یا میرے اندازے کے مطابق ہے—  اور یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ آئندہ سطور میں جو کچھ بھی آپ پڑھنے جا رہے ہیں اس کا کس کہانی سے کوئی مطلب زیادہ تعلق بھی نہیں ہے—  لیکن ضمنی سطح پر ہی سہی، کیونکہ یہ کردار اس وقت اس ناول میں آ چکے ہیں— اس لیے ممکن ہے یہ بہت حد تک آپ کے ذہنی اُفق کو روشن کر سکیں، ہم اسے یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ  ان کرداروں کے طور پر ممکن ہے بہت کچھ آپ نے بھی پہلے سے فرض کر رکھا ہو— 
٭٭
یہاں بھی ڈان کوئکزوٹ پہلے سے موجود تھا— 
ہال نما کمرے میں اس وقت خاموشی تھی—  پھر ایک سرد آواز گونجی تھی— برف جیسی سرد آواز—
’اچھا تم پیچھے تھے یا آگے؟ سچ بولنا؟
سر میں پیچھے تھا…
’ہو ہو… یا آگے…؟
نہیں—  پیچھے…
اور وہ تم سے آگے تھا…؟
ہاں سر…
انگشت بھر کا فاصلہ ؟
’نہیں—  کچھ زیادہ فاصلہ … باہر کھڑے ہونے کی جگہ کم تھی…‘
’ہو ہو… ہو…‘
’گولی آگے سے لگی یا پیچھے سے لگی… الجھنے دیجئے سر… لوگوں کا کام ہی الجھنا ہے—  اس سے ہمارا کام آسان ہوتا ہے۔ اور حکومت…‘
’ہو ہو… ہر حکومت ہماری ہے—  تم کیا جانو— حکومت میں بھی ہمارے آدمی ہیں—  جو ہمارے لیے کام کرتے ہیں اور اس سے ہمارے راستے آسان ہو جاتے ہیں۔ ہو ہو… ہمارے آدمی سب جگہ ہیں…‘
یہ ابھے کمار دوبے تھے—  صوفے پر دوبے کے سامنے بیٹھے ہوئے نمانی اور دشینت پانڈے کے چہرے پر اس وقت مسکراہٹ کھیل رہی تھی— 
’اُس کی بیوی بہت رو رہی تھی— ‘
زندگی بھر اس کی بیوی نے اس کو رُلایا…‘ نمانی ہنسے…
’انعام دلائیں گے۔ مرنے کے بعد کا بڑا اعزاز…‘ دوبے لیپ ٹاپ کھول کر بیٹھ گئے تھے۔
’اب آپ کیا کر رہے ہیں سر…؟‘
’اسلامک سائٹس پر کچھ نئے اور خوبصورت نام تلاش کر رہا ہوں۔ انڈین مجاہدین… یہ سب بہت ہو گیا۔ تحریک اذاں، تحریک سجدہ…‘
ماؤس پر دوبے کے ہاتھ تیز تیز چل رہے تھے۔ وہ نمانی کی طرف پلٹے— 
’ہاں—  تم بتا رہے تھے کہ تم اردو سیکھ رہے ہو— ‘
’یس سر— ‘
’شاباش… ہماری آرگنائزیشن کو اردو اور عربی جاننے والوں کی سخت ضرورت ہے— ‘ دوبے سنجیدہ تھے۔ میڈیا کو اپنا کھیل کھیلنے دو۔ ہم اپنا کھیل کھیلیں۔ ایک کھیل سے نکل کر دوسرے کھیل میں—  اس کھیل کو جاری رکھنا چاہیے۔ اس کھیل میں ہماری جانوں کا بھی زیاں ہو گا۔ اور ہمیں اس کے لیے تیار رہنا ہو گا۔ ہمیں کبھی کبھی اپنے ہی لوگوں کی قربانی دینی ہو گی، اور ہم یہ سب اپنے بڑے لکشیہ کے لیے کریں گے—  لکشیہ کے لیے ایسی قربانیاں ضروری اور جائز ہیں۔ تمہارا پروموشن پکا ہے—  دشینت—  آرگنائزیشن تمہارے کام سے خوش ہے—  
’سب آپ کی کرپا ہے سر— ‘
٭٭
اور حقیقت یہی ہے کہ حکومت سے میڈیا اور عام آدمی تک اس آگے پیچھے کی گولیوں میں الجھ کر رہ گیا تھا—  جامعہ کے گلی کوچوں میں سناٹا پسرا ہوا تھا۔ لوگ خوف کے سائے میں جی رہے تھے۔ بچے گھر سے باہر نکلتے تو ماں باپ اس وقت تک پریشان رہتے جب تک کہ بچے گھر واپس نہیں آ جاتے— 
سیاست گرم تھی— 
اردو اخباروں اور باقی اخباروں کے رنگ جدا جدا تھے—  جو معاملات راشد اور منیر کو لے کر سامنے آئے تھے، اس نے مسلمانوں کے مستقبل کو لے کر سوالیہ نشان لگا دیے تھے— 
صوفیہ نے اپنا وعدہ نبھایا—  مجھے دو تین بار پولیس چوکی سے بلا وہ تو آیا—  مگر پولیس والے بھی شاید اب اس معاملے کو زیادہ آگے بڑھانے کے حق میں نہیں تھے—  ورما کنٹرو ورسی سے وہ پہلے ہی کم پریشان نہیں تھے— 
اسامہ گھر آ گیا تھا۔
لیکن اس کے بدلے بدلے چہرے میں بغاوت کی آنچ محسوس کی جاسکتی تھی۔
٭٭
’اسامہ کا کمرہ بند ہے…؟‘
پھر کیا کروں…
’کمرہ کھلوانے کی کوشش تو کرو…‘
’نہیں کھولے گا…‘
’دستک تو دو…؟‘
’کوئی فائدہ نہیں— ‘
’اس نے ناشتہ بھی نہیں کیا ہے— ؟‘
’جانتا ہوں—  بھوک لگے گی تو کچھ نہ کچھ کھا لے گا…‘
’مگر ایسا کب تک چلے گا— ‘
’یہ تو میں بھی نہیں جانتا— ‘
رباب کی آنکھیں خوفزدہ تھیں— ’’کیوں نہیں جانتے تم؟ جاننا چاہیے تمہیں۔ ایسا کب تک اور کتنے دنوں تک چلے گا۔ اُسامہ بھوکا رہے گا تو ہم کیسے کھا سکتے ہیں اور یہ بھی تو پتہ لگاؤ کہ آخر اس کے دل میں کیا ہے اور وہ کیا سوچ رہا ہے۔‘‘
اس بار میں زور سے چیخا تھا— ’بس بہت ہو گیا۔ یہ تم بھی جانتی ہو کہ اس کے اندر کیا چل رہا ہو گا۔ اس کے دوست مارے گئے ہیں۔ جن دوستوں کے ساتھ وہ اٹھتا بیٹھتا تھا، نماز پڑھنے جاتا تھا۔ اس کا ایک دوست پولیس کی حراست میں ہے۔ ایسے میں اسامہ جیسا ایک نوجوان جو بھی سوچے وہ کم ہے۔ ہم کچھ نہیں کرسکتے— ہم اس وقت اپاہج اور کمزور ہیں۔ صرف اندھیرا نظر آرہا ہے مجھے۔‘‘
رباب مجھ سے کہیں زیادہ زور سے چیخی— ’اپاہج ہو تو سارے گھر کو موت کی نیند سلادو۔ کہیں سے زہر لے کر آ جاؤ—‘‘
رباب رو رہی تھی — ’’ڈر ڈر کر جینا نہیں ہوتا ہم سے۔ذرا ذرا سی بات سے ڈر جاتی ہوں— ہوا سے دروازہ ہلے تب بھی خوف محسوس کرتی ہوں۔ فون کی گھنٹی بجتی ہے تو سارا جسم تھر تھر کانپنے لگتا ہے— اُسامہ کے بارے میں سوچتی ہوں تو ذہن کی نسیں ٹوٹنے لگتی ہیں۔ کیا ہو گا اسامہ کا؟ میرے بچے کا؟ مستقبل کے اندیشے ساراسکون درہم برہم کر دیتے ہیں۔ ہر وقت لگتا ہے جیسے پولیس آئے گی۔ میرے بچے کو کھینچتی ہوئی لے جائے گی— پھر کوئی انکاؤنٹر یا شوٹ آؤٹ—‘‘
رباب کا جسم لرز رہا تھا۔ ’کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ مسلمان ہونے کی اتنی بڑی قیمت بھی چکانی پڑ سکتی ہے۔‘
میں کمرے میں ٹہل رہا تھا۔ رباب کی سسکیاں گونج رہی تھیں— لیکن فی الوقت رباب کی کسی بات کا میرے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔
اُسامہ کو لے کر میں خود بھی پریشان تھا— میں بھی چاہتا تھا کہ اُسامہ کو پاس بٹھا کر اس سے پیار بھری باتیں کروں۔ اُسے اس اندھیرے سے نکالوں جو اس کے پورے وجود پر حاوی ہو چکا ہے۔ جیسے ایک گہرا کنواں ہے۔ وہ اس گہرے کنویں میں نیچے گرتا ہوا گم ہوتا جا رہا ہے۔ میں اس سے بہت ساری باتیں کرنا چاہتا تھا۔ جیسے یہ کہ، ایسے موڑ سب کی زندگی میں آتے ہیں۔ ایسی بھیانک واقعات کا سلسلہ سب کے ساتھ ہوتا ہے۔ لیکن ان واقعات کے ساتھ ایک پوری زندگی بسر نہیں کی جاسکتی۔ ان واقعات کو بھولنا ہوتا ہے۔
لیکن میرے لفظ کھوکھلے تھے—
میں خود اپنے ہی لفظوں میں کوئی سکون، کوئی تسلی محسوس نہیں کر رہا تھا۔
کیونکہ محض یہ ایک بھیانک سا واقعہ یا حادثہ نہیں تھا۔ یہ کوئی ڈراؤنا خواب بھی نہیں تھا کہ نیند کھلی اور ہم اس ڈراؤنے خواب سے باہر آ گئے۔ یہ تو آزادی کے بعد سے اب تک بھیانک خوابوں کا ایک لامتناہی سلسلہ تھا۔
مجھے یاد آیا، ایسے ہی بھیانک ماحول میں میری بھی پرورش ہوئی تھی۔ آزادی کے بعد بھڑکتے ہوئے دنگے کبھی رُکے ہی نہیں۔ پیدا ہوا تب بھی فساد کی چنگاریاں روشن تھیں۔ بچپن سے ہی ڈر اور خوف کے اتنے انجکشن لگائے گئے کہ کبھی اندر سے مضبوط ہی نہیں ہوسکا۔
میں ارشد پاشا… سوچتا تھا کہ آزادی کے اتنے برسوں بعد میرا بیٹا خوف کے اس ماحول میں بڑا نہیں ہو گا۔
وہ بڑا ہو گا اپنی آزادی کے احساس کے ساتھ— لیکن اس ننھی سی عمر میں، سسٹم نے اس کی آزادی کے پر کتر دیے تھے۔ اس لیے میں نہیں جانتا تھا کہ اب ایسے موقع پر وہ کیا سوچ رہا ہے۔ یا اس کے اندر کیا کارروائی چل رہی ہے—
لیکن اتنا ضرور تھا کہ اُسامہ کے بدلے بدلے چہرے نے مجھے ڈرا دیا تھا— ایسالگ رہا تھا جیسے کوئی بڑی بات ہونے والی ہے۔
بڑی بات، جس کا اندازہ میں اس وقت نہیں لگا سکتا تھا—
اب میں نے اخبار کے دفتر جانا شروع کر دیا تھا— اُس دن ڈیسک پر فرقہ واریت کو لے کر مجھے ایک مضمون قلمبند کرنے کو کہا گیا تھا— میں دیر تک اپنے خیالوں میں الجھا رہا۔ کیا سچ مچ مسلمان مین اسٹریم کا حصہ نہیں ہیں۔ یہاں سلیبریلٹی مسلمانوں کی بات نہیں ہے۔ وہ چاہے فلم میں ہوں، اسپورٹس میں یا سیاست میں، وہاں وہ صرف ایک سلیبریٹی رہتے ہیں۔ وہ وہی باتیں کرتے ہیں جو ملک کو مضبوط کرتی ہے— عام مسلم سلیبریٹی بھی مسلمانوں کی بات نہیں کرتا۔ عام مسلمانوں کی باتیں کرتے ہوئے— بڑے سلیبریٹی بھی بچنا چاہتے ہیں۔ ایک مسلمان مین اسٹیرم میں کیسے ہوسکتا ہے، جب تک وہ ایک بڑی اکثریت کے شک کے دائرے میں ہے۔ پاکستان سے کشمیر تک کرکٹ میچوں کو لے کر بھی اس کی وفاداری کو شک کی نظروں سے دیکھا جاتا ہے۔ 25کروڑ ہونے کے باوجود عام مسلمانوں کی حالت مرغیوں کے بند ڈربے جیسی ہے۔
میں نے صحافت کے مروجہ اصولوں سے بغاوت کا اعلان کیا تھا۔ ایک طرف جذباتی ہونے کو زرد صحافت سے جوڑا جاتا ہے لیکن غور سے دیکھئے تو مکمل صحافت کا رنگ زرد ہے۔ نیوز چینلس جذباتی رپورٹنگ نہ کریں تو ان کی ٹی آر پی نہیں بڑھتی— خبر ایک ہوتی ہے۔ لیکن اردو۔ ہندی اور انگریزی میں ان خبروں کے تجزیے مختلف ہوتے ہیں۔ مسلمانوں کا مسئلہ ہو تو اردو اخباروں کی رپورٹنگ محض اس بنا پر غیر معیاری قرار دی جاتی ہے کہ وہاں مسلمانوں کو لے کر ایک جذباتی وابستگی بھی ہوتی ہے۔ لیکن یہیں اگر دوسری زبانوں کے اخبار دہشت پسندی سے وابستہ معاملات کو لے کر مسلمانوں کی دکھتی نبض پر ہاتھ رکھتے ہیں تو انہیں معیاری رپورٹنگ کا درجہ دیا جاتا ہے— کیا رپورٹنگ کو جذباتی نہیں ہونا چاہیے؟
فرقہ واریت ایک چھوٹے سے بال کی طرح آپ کی اپنی جیب میں ہے۔ جسے اٹھائے آپ مدتوں سے گھوم رہے ہیں—‘
میں اپنے خیالوں میں الجھا ہوا تھا— آوارہ ذہن مسلسل سوالوں کی بوچھار کر رہے تھے۔ مجھے احساس تھا، خیالوں کے شیرازے بکھر رہے ہیں— میں اُنہیں سمیٹ نہیں پا رہا ہوں۔ لفظ گم ہیں۔ پھر فرقہ واریت کی جڑیں تلاش کرتا ہوں تو میری سوچ آج سے آزادی تک کا سفر طے کر جاتی ہے۔
اور اس سفر کے درمیان  میرا بیٹا آ جاتا ہے— اُسامہ!
٭٭
رات نو بجے تھاپڑ آ گیا تھا— اُسامہ کو لے کر وہ بیحد سنجیدہ تھا۔
’’ایسا نہیں چلے گا بڑے پاشا۔ چھوٹے پاشا کو سمجھاؤ اُس سے باتیں کرو—‘
’کہنا آسان ہے— وہ باتیں ہی نہیں کرتا۔ اُس نے صاف کہہ دیا ہے مجھے کسی موضوع پر بات نہیں کرنی— میں اس کی آنکھیں دیکھ کر ڈر جاتا ہوں۔
تھاپڑ غور سے میرا چہرہ دیکھ رہا تھا۔ وہ کچھ دن تک میرے ساتھ رہا ہے— اور یقیناً یہ لمحے میرے اور آنندی کے لیے کسی آزمائش سے کم نہیں تھے— اُسے کریدو— اُسے سمجھو، اس سے اگلواؤ کہ اس کے من میں کیا ہے؟ ورنہ اس کے اندر کی آگ اسے جلا ڈالے گی—‘
تھاپڑ گہری سوچ میں گم تھا— ’شاید وہ لوگ یہی چاہتے ہیں۔ ایک عام مسلم نوجوان کو توڑنا— اُن کا نشانہ سیدھے ایسے بچوں کے مستقبل کی طرف ہے ۔ یہ برہمن وادی طاقتیں ایک خطرناک وائرس کی طرح پھیل چکی ہیں— دنگے ہوتے ہیں تو نقصان سب کو ہوتا ہے— لیکن عام مسلمان پولیس کارروائی اور عدالتی مقدموں میں اتنا الجھ جاتا ہے کہ باہر نہیں نکل پاتا۔‘
تھاپڑ میری آنکھوں میں جھانک رہا تھا۔ ’لیکن ہم یہاں ایک بات بھول جاتے ہیں کہ ایک بڑی عدالت دل میں بھی لگی ہوتی ہے۔ اُسامہ اسی عدالتی کارروائی سے گذر رہا ہے— اُسے نکالو— آواز دو اسے—‘
لیکن اُس دن بہت آواز دینے کے بعد بھی اسامہ کمرے سے باہر نہیں نکلا—
رات کے دس بجے تک تھاپڑ واپس لوٹ گیا تھا۔
گیارہ بجے کے آس پاس اسامہ کمرے سے باہر نکلا تھا— وہ فریج کے پاس آکر ٹھہرا— شاید اسے بھوک لگی تھی—
رباب دوڑ کر آئی—
’کھانا گرم کر دوں—‘
’نہیں—‘
’گرم کرنے میں وقت ہی کتنا لگے گا— تم دو منٹ انتظار کرو—‘
میں اسامہ کے چہرے کا جائزہ لے رہا تھا— اُس کے چہرے کے رنگ مسلسل تبدیل ہو رہے تھے— اُس نے پلٹ کر ایک بار بھی کسی کی طرف نہیں دیکھا، اُسے بھوک لگی تھی— سر جھکائے وہ دیر تک کھاتا رہا— واش بیسن پر ہاتھ دھویا—پھر اپنے کمرے میں لوٹ گیا—
ایک بار پھر اس نے دروازہ بند کر لیا تھا—
رباب کے چہرے پر سکون کی ایک لہر آئی تھی— ’چلو اُس نے کھانا تو کھا لیا…‘
’ہاں—‘
’مجھے یقین ہے، جلد ہی وہ معمول پر لوٹ آئے گا—‘
میں خاموش رہا تھا—
میری بے قراری اس حد تک بڑھ گئی تھی کہ میں دیر تک کمرے کا چکر لگاتا رہا—
شاید میں نے ان آنکھوں کو پڑھ لیا تھا—
اُن آنکھوں میں مجھے خود سے کیے گئے ایک خوفناک فیصلے کی طمانیت نظر آ رہی تھی—
اور یقینی طور پر میں اندر تک لرز کر رہ گیا تھا— میرے جسم میں اس وقت ایک ایک کر کے ہزاروں میزائلیں چھوٹ رہی تھیں—
٭٭
اور اس کے ٹھیک دوسرے دن—
فجر کی اذان کے ساتھ ہی میری نیند ٹوٹ گئی تھی—
کمرے سے باہر آیا تو اسامہ کے کمرے کا دروازہ کھلا ہوا تھا۔ بستر خالی تھا۔ اُسامہ نہیں تھا— باہر کا دروازہ بھی کھلا تھا۔ آنکھوں کے آگے گہرا اندھیرا چھانے لگا تھا۔ ڈرائنگ روم میں میز پر پیپرویٹ سے دبا ہوا ایک کاغذ کا ٹکڑا میرا انتظار کر رہا تھا۔ کانپتے ہاتھوں سے میں نے کاغذ کے اس ٹکڑے کو اٹھا کر پڑھنا شروع کیا۔ یہ اسامہ کی تحریر تھی۔
’ڈیڈ— فیصلہ ہو چکا ہے— بہت سوجھ بوجھ کے ساتھ میں نے یہ فیصلہ کیا ہے میں اس سسٹم میں نہیں رہ سکتا۔ جہاں ہر کوئی مجھے بچانے کی کوشش کر رہا ہے۔ آخر کیوں—؟ مجھے بچانے کی یہ کوشش کیوں ہو رہی ہے۔ میں نے کیا کیا ہے؟ اور جب کچھ کیا ہی نہیں ہے تو پھر بچانے کا سوال ہی کیوں؟ میرا کوئی جرم نہیں ہے— پھر بھی میں اپنے ہی لوگوں کے درمیان چھپتا بھاگتا پھر رہا ہوں— اب میں کہیں چھپنا یا بھاگنا نہیں چاہتا اور نہ اس سسٹم میں بار بار خود کو مرتے ہوئے دیکھ سکتا ہوں— اس لیے خود کشی نہیں کروں گا— مجھے تلاش کرنے کی کوئی بھی کوشش فضول ہو گی۔ ہاں جس دن یہ سوچ لیا کہ میں اسی سسٹم میں کمزور بن کر آپ لوگوں کی طرح زندگی گزار سکتا ہوں تو میں واپس آ جاؤں گا ورنہ نہیں۔ امّی کو سنبھال لیجئے گا— وہ میرے جانے سے زیادہ ٹوٹ سکتی ہیں۔ 
آپ کا بیٹا 
اسامہ
خط میرے ہاتھ میں لرز رہا تھا۔ آنکھوں کے آگے کا اندھیرا گھنا ہو چکا تھا۔
پاؤں کی طاقت جواب دینے لگی تھی۔ شاید رات میں نے اسامہ کی آنکھوں میں اس فیصلے کو دیکھ لیا تھا— میری سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ میں رباب کو کیا کہوں گا۔ رباب پر کیا گزرے گی۔
لیکن— دھماکہ تو ہو ہی چکا تھا—
٭٭



(5)

بٹلہ ہاؤس انکاؤنٹر کی جانچ خفیہ ایجنسیوں کو سونپ کر حکومت نے اپنا پلّہ جھاڑ لیا تھا— اور یہ بات عام آدمی بھی جانتا تھا کہ ایسی جانچوں سے کبھی کوئی ’ہاتھی‘ برامد نہیں ہوتا— کچھ دنوں بعد سب بھول جائیں گے۔ پھر جانچ ٹھنڈے بستے میں ڈال دی جائے گی۔ کچھ دنوں بعد پھر کوئی نیا بٹلہ ہاؤس— پھر جانچ ایجنسیاں اور پھر لمبی خاموشی— پھر نئے ڈرامے کی شروعات—
زندگی معمول پر لوٹ رہی تھی—
سیاست اب بھی سرگرم تھی—
بٹلہ ہاؤس ، دلکشا انکلیو کا یہ کمرہ — جہاں میں اس وقت بستر پر لیٹا میں اپنی تنہائیوں کو آواز دے رہا ہوں— آسمان سے ٹوٹ کر کچھ تارے اس کمرے میں بکھر گئے ہیں—
سسکیوں کے درمیان ایک آواز بلند ہوتی ہے—
’کیا سچ مچ وہ ہے…؟‘
’وہ کون…‘
’خدا…‘
میں پلٹ کر دیکھتا ہوں—
دو آنکھیں اب بھی ہوا میں معلق ہیں…
’شاید وہ نہیں ہے— ہمارے لیے نہیں ہے۔ وہ چھپ گیا ہے کبھی کبھی اس پر سے اعتبار کھو دیتی ہوں— پھر اُسی کا سہارا تلاش کرتی ہوں…‘
’میری گھڑی…‘
میں ایک بار پھر اپنی گھڑی تلاش کرتا ہوں— رباب تکیے کے نیچے سے نکال کر مجھے گھڑی دیتی ہے۔
’گھڑی تو مل گئی— مگر … ، رخسار پر تیرتے آنسو بہت کچھ کہہ گئے  ہیں— ان آنسوؤں کو روکنے کی ہمت مجھ میں نہیں ہے۔
’تمہیں کیا لگتا ہے— خدا ہے تو وہ سنتا کیوں نہیں ہے…؟
’تم میری بات جانتی ہو…‘
’ہاں جانتی ہوں— اسی لیے ان دنوں چھپ چھپ کر نمازیں پڑھ رہے ہو— پہلے تو نہیں پڑھتے تھے— تلاوت بھی شروع کر دی ہے…‘
’ہم ایک دن تھک کر اور گھبرا کر بس اسی کے ہو کر رہ جاتے ہیں—‘
’ایسا کیوں ہوتا ہے—؟‘
’نہیں جانتا— لیکن شاید ایسا ہی ہوتا ہے— زندگی بھر ہم اُس سے منہ موڑے رہتے ہیں— بغاوت کرتے ہیں۔ اس کو ماننے سے انکار کرتے ہیں۔ اور پھر ایک دن …‘
’ایک دن نہیں— یہ مذہب ہمیشہ سے تمہارے اندر تھا…‘
میں کہنا چاہتا تھا— ’تمہارے اندر بھی… لیکن ابھی ایک سہمی ہوئی خوفزدہ عورت نے خدا کے وجود کو شک کے دائرے میں دیکھا تھا… ذہن کے خاموش اسکرین پر کہیں البیر کامو کے مشہور ناول دی پلیگ کا ایک کردار ابھرتا ہے۔ ڈاکٹر ریو— شہر میں ہیضہ پھیل چکا ہے۔ لوگ مر رہے ہیں— چرچ کی گھنٹیاں گونج رہی ہیں— عبادت کرنے والوں کی تعداد بڑھ گئی ہے— ڈاکٹر ریو ایک چھوٹے سے ننھے منّے بچے کو بچانے کی کوشش کر رہا ہے۔ چاروں طرف افراتفری کا ماحول ہے… یہ ہمارے گناہوں کی سزا ہے… لیکن… مرتے ہوئے بچے کو بچانے کی کوشش میں ڈاکٹر ریو اپنے خدا سے پوچھتا ہے… اس ننھے سے بچے نے کیا گناہ کیا ہو گا جیسس…؟‘
’تم نے کچھ کہا کیا…؟‘
رباب میرے چہرے کو پڑھنے کی کوشش کر رہی ہے—
’نہیں…‘
’شاید تم اپنے ہی سوالوں سے جنگ کر رہے ہو…؟‘
’ہاں…‘
’جواب ملتا ہے…؟‘
’نہیں—‘
’جواب نہیں ملے گا— مجھے بھی نہیں ملا…‘ اس کی آنکھیں ایک بار پھر ہوا میں معلق ہیں…
’یہاں سے کہیں اور چلیں…؟‘
’مطلب…؟‘
’نہیں— کہیں نہیں جائیں گے… وہ لوٹ آئے گا ایک دن…‘
مجھے اسامہ کی تحریر یاد آتی ہے… جس دن تمہارے سسٹم میں رہنے کے لائق ہو گیا، لوٹ آؤں گا…‘
’وہ آئے گانا… واپس…؟‘
’ہاں…‘
’تمہارے وائبریشن کیا کہتے ہیں؟‘
’وہ واپس آئے گا…‘
میں اپنے کمزور لفظوں سے واقف ہوں مگر شاید اب یہی تسلیاں رہ گئی ہیں…
’جانتے ہو…‘ پھر وہی سرد آواز میرا تعاقب کرتی ہے—
’کیا…؟‘
’اُس کے کمرے میں جاتے ہوئے گھبراتی ہوں— اس کی کتابیں۔ اس کے جوتے… اس کا لباس… اس کا کمپیوٹر… اس کی خالی چیئر— وہ وہاں بیٹھا ہوا لگتا ہے… سارے گھر میں گھومتا ہوا— فریج کھول کر پانی کی بوتل نکالتا ہوا…‘
پلکیں ایک بار پھر بھیگ گئی ہیں—
’کہاں گیا ہو گا وہ…؟‘
’خدا معلوم…‘
’پتہ نہیں، پیسہ بھی ہو گا یا نہیں…؟‘
’خدا معلوم…‘
’پیسے ہونگے اس کے پاس… ہمیشہ کچھ پیسے بچا کے رکھتا تھا— مگر… اب کہاں ہو گا وہ…؟‘
’خدا معلوم…‘
آنسو جذبات بن گئے تھے— ’خدا کو سب پتا ہے— پھر خدا ہمیں بتاتا کیوں نہیں— اشارے کیوں نہیں دیتا—؟‘
’نہیں جانتا—‘
رباب اٹھ کر بیٹھ گئی ہے—
’چھوٹی سی عمر میں وہ بہت بڑا بن گیا تھا— اپنی عمر سے کافی بڑا…‘
’ہاں…‘
’شاید ہمارے یہاں آنے کا فیصلہ غلط تھا— اپنے لوگ… اپنے مذہب کے لوگ… اسی نظریے نے ایک دن پاکستان کی بنیاد رکھی تھی— اور کیا ہو رہا ہے وہاں…؟ لوگ لڑ رہے ہیں— مر رہے ہیں…اور یہاں… میری ہی ضد تھی— بچہ اپنے لوگوں میں رہے گا تو اپنا مذہب جانے گا…‘
دیوار پر ایک چھپکلی چڑھنے کی کوشش کر رہی ہے… میری آنکھیں بھی نم ہیں…
’بھوک لگی ہو گی میرے بیٹے کو…‘
رباب نے پلٹ کر میری طرف دیکھا— ’گھر کی اچھی بری چیزیں تو کھاتا نہیں تھا— پتہ نہیں باہر کی چیزیں…؟‘
وہ کہتے کہتے رک گئی ہے…
’اس کے کمرے کو بالکل ویسا رہنے دوں گی— وہ آئے گا تو اپنا کمرہ تلاش کرے گا— ہے نا…؟
’ہاں… ‘
’وہ اپنے لباس بھی تو نہیں لے گیا۔ پہنتا کیا ہو گا…؟‘
’پتہ نہیں—‘
’تم نے دیکھا… وہ اپنی دونوں ٹوپیاں بھی چھوڑ گیا ہے…‘
’ہاں… ‘
’اچھا کیا جو ٹوپیاں چھوڑ گیا…‘
کیوں؟
رباب نے میری طرف دیکھا— بولی کچھ نہیں— اس کی آنکھیں اب بھی خلا میں دیکھ رہی تھیں—
’کیا ہم ہاتھوں پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جائیں—؟‘
نہیں—
’پھر کیا کریں گے۔ کہاں تلاش کریں گے اُسے…؟‘
’میں نے کہا نا… میں کچھ سوچ رہا ہوں…‘
’مجھے اسامہ چاہیے بس… اس کے بغیر نہیں رہ سکتی۔ لادو کہیں سے بھی اُسے—‘
آنسو سارے باندھ توڑ گئے تھے…
’کہیں سے بھی لادو اسے… تم سن رہے ہو نا…‘ وہ زور سے چیخی— نہیں لاسکتے تو مجھے بتاؤ— میں تلاش کروں گی— کہیں سے بھی لے آؤں گی اُسے— بھوکا پیاسا جانے کہاں کہاں مارا مارا پھر رہا ہو گا— تمہیں اُس کی یاد نہیں آتی— کلیجہ نہیں پھٹتا تمہارا—؟‘
’لے آؤ اُسے…‘
’رباب— میرا دل کہتا ہے وہ آ جائے گا— لیکن وہ اس طرح نہیں آئے گا جیسے تم سوچ رہی ہو— وہ آ جائے گا… صبر کرو— اللہ پر بھروسہ رکھو— ابھی ماحول ٹھیک نہیں ہے— ماحول ٹھیک ہوتے ہی وہ لوٹ آئے گا—‘
شام کے سائے گھنے ہو گئے تھے۔ پڑوس کی مسجد سے اذان کی آواز آ رہی تھی—
’میں مسجد جا رہا ہوں…‘
رباب نے پلٹ کر میری طرف دیکھا تھا— میرا سارا جسم اس وقت برف کی طرح سرد ہو رہا تھا—
رباب کو پلٹ کر دیکھنے کی ضرورت نہیں تھی— خود سے بھروسہ اٹھ گیا تھا— اور یہ بھروسہ اب کہیں اور زندہ ہو گیا تھا—
٭٭



(6)

اُس دن دفتر سے وقت ملتے ہی میں تھاپڑ سے ملنے چلا گیا۔ اُس نے بھی دفتر سے چھٹی کر لی تھی— ہم دیر تک سڑکوں پر خاموشی سے ٹہلتے رہے…
’بھابھی کیسی ہیں—؟‘
’ٹھیک نہیں ہیں…‘
’سمجھ سکتا ہوں—‘ تھاپڑ نے اشارہ کیا— چلو وہاں بیٹھتے ہیں—
یہ ایک چھوٹا سا پارک تھا— دو بج گئے تھے۔ اس وقت پارک میں لوگ کم تھے۔ باہر سڑک پر گاڑیاں تیز رفتاری سے آ جا رہی تھیں۔ ہم ایک بنچ پر بیٹھ گئے— کچھ دیر تک خاموشی رہی— پھر تھاپڑ نے ہی اس خاموشی کا خاتمہ کیا—
’انسپکٹر ورما کے بارے میں نئی نئی معلومات سامنے آ رہی ہے۔ پہلے وہ دلّی پولیس کی اسپیشل سیل میں تھا— وہاں سے اُسے جھنڈے والان ٹریننگ سینٹر بھیج دیا گیا— یہ پوسٹنگ عام طور پر ایک سزا مانی جاتی ہے— اور ورما کو تو پولیس کی طرف سے کئی اعزاز مل چکے تھے… پھر اسے جھنڈے والان ٹریننگ سینٹر کیوں بھیجا گیا—؟ وہ اسپیشل سیل سے ریلیو کر دیئے گئے تھے۔ لیکن نئی پوسٹنگ جوائن نہیں کیا— اب سوال ہے اسپیشل سیل سے اُنہیں نکالا کیوں گیا؟ اور اس کی وجہ صاف ہے— اُن سے کہیں نہ کہیں، کوئی نہ کوئی غلطی ضرور ہوئی تھی—‘
تھاپڑ نے ایک چھوٹے سے مونگ پھلی بیچتے بچے کو بلا کر مونگ پھلی خرید لی— پھر اس کے دانے منہ میں ڈالتے ہوئے بولا— ’دلّی پولیس یا آئی بی ورما سے خوش نہیں تھی۔ یقیناً ورما کے پاس کوئی نہ کوئی ایسا راز تھا جس کے فاش ہو جانے کا خطرہ تھا— ان دنوں ورما چھٹی پر تھے جب انہیں آپریشن کے لیے بلایا گیا— ورما کو اتنی جلد بازی میں طلب کیوں کیا گیا؟
مونگ پھلی کے دانے چباتا ہوا میں غور سے تھاپڑ کا چہرہ پڑھنے کی کوشش کر رہا تھا—
’کئی بیانات سمجھ سے پرے ہیں— جیسے یہ کہ آپریشن کے وقت ورما نے بلیٹ پروف جیکٹ کیوں نہیں پہنی تھی؟ اس معاملے کی پولیس کی جانب سے جو وضاحت کی گئی ہے وہ یقین کے لائق نہیں— پولیس کہتی ہے کہ وہ بھیڑ بھاڑ والا علاقہ ہے اور معاملے کو پوری طرح خفیہ رکھنے کے لیے ایسا کیا گیا— معاملہ اتنا خفیہ تھا کہ سارے چینلس والے ’بریکنگ نیوز کے لیے وہاں جمع ہو گئے تھے— ورما کے علاوہ باقی کئی ایسے جوان تھے جنھوں نے جیکٹ پہن رکھی تھی— یہاں تک کہ ورما کے ساتھ جو دو ساتھی دشینت اور نوین فلیٹ میں گئے تھے ، انہوں نے بھی جیکٹ پہن رکھی تھی— پھر ورما نے کیوں نہیں—؟
تھاپڑ سنجیدہ تھا— ’معاملہ جیسے جیسے آگے بڑھ رہا ہے، پولیس کے جھوٹ ایک ایک کر کے سامنے آ رہے ہیں۔ پولیس کے مطابق ورما کو گولی آگے سے ماری گئی— پھر آگے خون کا کوئی نشان کیوں نہیں؟ انکاؤنٹر کے دوران جب فلیٹ کی چاروں طرف سے گھیرا بندی کی گئی تھی تو باقی دو لوگ بھاگ کیسے گئے—؟ ایک سوال اور بھی ہے— پولیس کے بیان کے مطابق پہلے عبد الرحیم کی گرفتاری ہوئی اور عبد الرحیم کی گرفتاری کے بعد اُس کی نشاندہی کرنے پر اس آپریشن کا فیصلہ لیا گیا— پولیس کا کہنا ہے کہ عبدالرحیم کے تار ملک کے مختلف دھماکوں سے جڑے ہوئے ہیں— اور دلّی پولیس کا بیان ہے کہ اس سے پہلے کبھی عبد الرحیم سے بات ہی نہیں ہوئی—‘
’کیا اس سے ایسا نہیں لگتا کہ عبد الرحیم میڈیا اور پولیس کے ذریعہ پیدا کیا گیا ایک کردار ہے؟ ایک کٹھ پتلی‘ جس کو اس انکاؤنٹر کے لیے استعمال کیا گیا—؟‘
مونگ پھلیاں ختم ہو گئی تھیں—
تھاپڑ کی آنکھیں باہر کی جانب بھاگتی گاڑیوں کو دیکھ رہی تھیں— ’ایسے معاملے سامنے آتے ہیں— جانچ ایجنسیوں کو سونپ دیے جاتے ہیں اور سب کچھ ٹھائیں ٹھائیں فش— لیکن پولیس اور ایجنسیاں بھول جاتی ہیں کہ انہوں نے ایسے فرضی انکاؤنٹر سے کتنے خاندانوں کا سکون چھین لیا ہے— کتنوں کی ہنستی مسکراتی زندگی چھین لی ہے— اور کچھ لوگ تو… بس موت کے انتظار میں زندگی گزار دیتے ہیں…
’شاید…‘
’تھاپڑ میری طرف دیکھ رہا تھا—‘
’تو تم نے کیا سوچا—؟‘
’وہی— جو تمہیں بتایا—‘
’تم اس فیصلے پر اب بھی قائم ہو…؟‘
’ہاں—‘
’سوچ لو…‘
’میں نے اس کے ہر اچھے برے پہلو پر غور کر لیا ہے—‘
تھاپڑ دیر تک سوچ میں گم رہا—
’تو یہ تمہارا آخری فیصلہ ہے کہ اسامہ کے گم ہونے کی رپورٹ تم پولیس میں نہیں دو گے—‘
’ہاں—‘
’کیونکہ تمہیں یہ شک ہے کہ آنے والے کل کو تمہارے بیٹے کا گھر سے اس طرح فرار ہونا…‘
’بٹلہ ہاؤس انکاؤنٹرزسے جوڑ کر دیکھا جاسکتا ہے—‘
’شاید تم صحیح کہہ رہے ہو— لیکن تم اپنے آس پاس کے لوگوں کو کیا بتاؤ گے—؟‘
’انہیں بتا دیا ہے—‘
’کیا—؟
’وہ یہی جانتے ہیں کہ اسامہ اپنے چچا کے یہاں گیا ہے—‘ 
’لیکن چچا کے یہاں سے کبھی تو واپس آئے گا…؟ تھاپڑ کی چبھتی ہوئی آنکھیں مجھے دیکھ رہی تھیں—
’ابھی یہ نہیں سوچا—‘
’ہونہہ—‘
تھاپڑ نے لمبی سانس لی— ’کبھی کبھی اس ملک کو گالیاں دینے کی خواہش ہوتی ہے— اس ملک میں گاندھی کی پوجا ہوتی ہے— اور گاندھی وچاروں کو گالیاں ملتی ہیں— گاندھی پر فلمیں بنتی ہیں۔ ہر حکومت گاندھی واد  اور گاندھی جیسی شخصیت کو بیچنے میں لگی رہتی ہے— اُس گاندھی کے لیے جس کی نظر میں ہندو مسلم دو آنکھوں کی طرح تھے— لیکن کیا ہو رہا ہے—؟ ایک بڑی آبادی اقلیت بنا دی گئی ہے۔ ایک بڑی آبادی سوالوں کے گھیرے میں ہے— اس سے وفاداری اور حب الوطنی کی امید کی جاتی ہے اور دوسری طرف مسلسل دہشت گردی اور اسلامک آتنک واد کے نعروں کے درمیان ایک پوری قوم کو کمزور اور دبّو بنائے جانے کا کھیل جاری ہے— اردو مر رہی ہے— لیکن ہر دہشت گردی کے واقعات کے پیچھے اردو سرخیوں میں ہے— پڑھنے والے معصوم بچوں کا انکاؤنٹر ہوتا ہے اور ایک معصوم شریف بچہ صرف اس لیے اپنا گھر چھوڑ دیتا ہے کہ وہ اس سسٹم میں نہیں جی سکتا…‘
تھاپڑ غصے میں تھا— ’میں نہیں جانتا، اسامہ نے اچھا کیا یا برا— لیکن اس ملک نے، اس سسٹم نے اس کے پاس اور کیا آپشن چھوڑا تھا؟ بتا سکتے ہو مجھے؟ اسے کیوں کمزور بن کر جینا چاہیے تھا اس ملک میں؟ اس ملک میں جہاں صدیوں سے اُس کے باپ داداؤں کی ہڈیاں دفن ہیں؟ کیوں اُسے اسکول کے دوسرے بچوں کی طرح نہیں ہونا چاہیے تھا—؟ کیونکہ وہ مسلمان تھا—؟‘
’ہاں— ایک مسلمان ہونے کی سزا تو ملتی ہے— ملتی رہی ہے— شاید آزادی کے بعد سے ہی— اور اب تک مل رہی ہے— ہم جیسے کمزور لوگ اس سسٹم میں جینا سیکھ جاتے ہیں— اسامہ نہیں سیکھ پایا—‘
لہجے کمی برف پگھل گئی تھی— آنسو روا ں تھے— میں خود کو شاید روک نہیں پایا تھا—
’میں جانتا ہوں— یہ بڑا زخم ہے— اس سے بڑا دنیا کا کوی زخم نہیں ہوسکتا کہ ایک ہی بیٹا— اور وہ بھی گھر چھوڑ کر چلا جائے— وہ بھی اس ننھی سی عمر میں— تمہاری مجبوری سمجھ سکتا ہوں— لیکن بھابھی کے بارے میں سوچتا ہوں تو ٹوٹ جاتا ہوں— ہم تم تسلیاں پیدا کر لیتے ہیں— مگر بھابھی؟ بھابھی کیسے جیتی ہوں گی—‘
میری آواز بوجھل تھی— ’رباب تو جیسے جینا ہی بھول گئی ہے— آنسو خشک ہو گئے ہیں اس کے—‘
’سمجھ سکتا ہوں—‘
ایک چھوٹی سی کنکری زمین سے اٹھا کر تھاپڑ نے اپنی مٹھیاں سخت کر لی تھیں—
’اس سسٹم میں کوئی بھی جی نہیں پا رہا ہے بڑے پاشا— نہ تم نہ بھابھی اور نہ میں— میں دعا کرتا ہوں کہ اسامہ جلد واپس آ جائے مگر… جیسا کہ اُس نے لکھا… خدا نہ کرے… وہ ایک کمزور بچہ بن کر اس سسٹم میں واپس نہ لوٹے— جیسے تم… صحافت کے میدان میں زندگی بسر کرنے کے باوجود تم کیا ہو…؟ ایک کمزور اور دبّو مسلمان— اور صوفیہ احمد کی مثال لو— وہ آج بھی اپنے اخبار کو بیچ رہی ہے— اور اسی اخبار کے بوتے راجیہ سبھا کی ممبر تک بن گئی ہے…‘
تھاپڑ نے چونک کر دیکھا —
’کیا صوفیہ اس معاملے میں ہماری کوئی مدد نہیں کرسکتی—؟‘
’وہ پہلے ہی بہت مدد کر چکی ہے— کیا یہ کرم کم ہے کہ اسامہ کا نام کہیں نہیں آیا—‘
’ہاں—‘
’میں اُسے اور تکلیف نہیں دینا چاہتا—‘
’لیکن ہم اس سے مدد تو مانگ سکتے ہیں—‘
’کوئی فائدہ نہیں ہو گا— میں اس مدعے پر بھی دیر تک سوچتا رہا ہوں— ممکن ہے اگر صوفیہ اس معاملے کو اپنے اخبار میں اچھالتی ہے تو پولیس کو اُن دو مفرور لوگوں میں سے ایک میں میرے بیٹے کی جھلک دکھائی دے گی…‘
’ہاں — تم صحیح کہتے ہو—‘
’پھر اسامہ کو بچانا اور مشکل ہو جائے گا …‘ میری پلکیں بھیگ گئی تھیں۔
’بس یہی سوچ کر زندہ ہوں کہ وہ واپس آ جائے گا— کمزور بن کر ہی سہی— اس سسٹم میں جینے کے لیے— مگر وہ واپس آئے گا— ہمیں مضبوط اسامہ نہیں چاہیے۔ کمزور ہی سہی، اپنا بیٹا واپس چاہیے اور کتنی عجیب بات ہے تھاپڑ…‘
میں کہتے کہتے رک گیا تھا—
’کیا—؟ ‘تھاپڑ نے میری طرف پلٹ کر دیکھا—
’’زندگی کے سارے خواب سو گئے ہیں۔ بس ایک خواب رہ گیا ہے— سارے مقصد کھو گئے ہیں۔ بس ایک مقصد رہ گیا ہے— موجودہ سسٹم نے میرے بیٹے کو نگل لیا ہے— اور اس ۴۸ سال کی عمر میں اس مقصد سے زیادہ کوئی اور مقصد میرے پاس نہیں کہ مجھے اپنا بچہ چاہیے— زندہ اور واپس—‘
آسمان پر سورج کا گولہ آگ برسا رہا تھا—
ہم تھکے ہارے قدموں سے واپس لوٹ رہے تھے…
٭٭



(7)

وہ اچانک چپکے سے میرے سامنے آ جاتا تھا۔میں اسے چھونے کی کوشش کرتا تو وہ غائب ہو جاتا— ایسا جانے کتنی بار ہوا۔ کبھی کبھی یہ مرد ہونا بھی ایک بے رحم اور تکلیف دہ احساس بن جاتا ہے— مرد آنسو نہیں رکھتے— مرد زخموں کی نمائش نہیں کرتے— مرد آنسوؤں کو پی جاتے ہیں— لیکن آنسوؤں کو پی جانے کی کوشش میں بھی ہر بار کوئی نہ کوئی بے صبر قطرہ آنکھوں سے بہہ نکلتا تھا—
یقینی طور پر میں ایک جذباتی باپ تھا— اور مجھے اپنے احساسات و جذبات کو چھپانے میں کبھی کوئی دلچسپی نہ تھی— اسامہ کے بڑا ہونے کے بعد بھی شاید میں کبھی اسے اتنا بڑا محسوس نہیں کر پایا۔ بچپن میں وہ میری بانہوں میں سوتا تھا— میں پاگلوں کی طرح ہر وقت اُسے اپنی بانہوں میں لیے رہتا— کچھ عجیب سے احساس ہوتے جنہیں شاید میں کبھی لفظوں کا لباس نہ پہنا پاؤں— جیسے یہ خواہش کہ بڑے ہونے کے بعد بھی وہ ایسے ہی میری بانہوں میں آرام کرے— وہ میری نظروں سے ایک لمحہ کو بھی دور نہ ہو— لیکن بڑے ہونے کے احساس کے ساتھ یہ لمحے مجھ سے کہیں دور چلے گئے تھے— اسامہ میں خاموشی گھر کر گئی تھی اور یہ خاموشی مجھے ڈستی تھی—
میں سوچتا تھا— بچے بڑے کیوں ہو جاتے ہیں—؟
رباب ہنستی تھی— ’پاگل ہو تم…‘
’بچوں کو یوں بڑا نہیں ہونا چاہیے—‘
رباب سنجیدہ ہو جاتی— ’اتنا پیار مت کرو—‘
’مگر کیوں—؟‘
’نظر لگ جاتی ہے پیار کو…‘
اور شاید پیار کو نظر لگ گئی تھی—
گھر میں اتنی اداسیاں اکٹھی ہو گئی تھیں کہ اس ویرانے پن سے ہول آتا تھا—
اسامہ کے گم ہونے کے بعد رباب نے عبادت میں خود کو گم کر دیا تھا—
اچانک چند دنوں میں ہی ہم پہلے سے کہیں زیادہ بوڑھے لگنے لگے تھے—
اُس رات عشا ء کی نماز کے بعد ہمیں ٹھہرنے  کے لیے کہا گیا تھا— مسجد کے صحن میں نمازی جمع تھے— امام صاحب کچھ دیر کے لیے اپنے حجرے میں گئے۔ پھر واپس آ گئے—
’آپ جانتے ہیں— جو کچھ ہوا ہے، اچھا نہیں ہوا— مسلمان نشانے پر ہیں— یہاں کا ہر مسلمان خوفزدہ ہے— حکومت کی نظر میں مسلمانوں کی اب تک کی وفاداری مشکوک ہو گئی ہے— نوجوان سہمے ہوئے ہیں— جو کارروائی کچھ دن پہلے ہوئی، وہ دوبارہ بھی ہوسکتی ہے— اس لیے ہم نے فیصلہ کیا ہے…‘
امام صاحب نے چاروں طرف دیکھا— پھر بولنا شروع کیا— 
’کل صبح دس بجے میر صاحب کے گھر ہم لوگ جمع ہوں گے— یہ مسئلہ پوری قوم کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔ ابھی بھی سوئے رہے گر تو خود کو کھو دو گے… ان کا نشانہ مسلمان نہیں ہیں— بلکہ اصلی نشانہ اسلام ہے— اور ہم آئندہ ایسا ہونے نہیں دیں گے—‘
واپس گھر کی طرف لوٹتے ہوئے میرے قدم شل تھے— اسامہ کی یادیں مجھے پتھر کر گئی تھیں—
٭٭
گھر لوٹنے کے بعد بہت دنوں بعد میں نے رباب کو ٹی وی سیریل دیکھتے ہوئے پایا تھا—
کھانا کھاؤ گے…؟
’نہیں— ابھی کچھ دیر بعد…‘ میں پاس والے صوفے پر بیٹھ گیا۔ اس گھر میں آج کئی دنوں بعد ٹی وی چل رہا تھا— اس درمیان زندگی ہی گم ہو گئی تھی—
اسامہ کی گمشدگی اپنے ساتھ اس گھر کی خوشیاں بھی لے گئی تھی—
’تمہیں حیرت ہو رہی ہے نا…؟ رباب میری طرف دیکھ رہی تھی—
’کس بات کی—؟‘
’کہ میں ٹی وی دیکھ رہی ہوں— اور تم جانتے ہو مجھے سیریل ذرا بھی پسندنہیں—‘
’ہاں…‘
’کچھ سوچ رہی تھی— ’رباب نے ریموٹ سے ٹی وی بند کر دیا… ’پہلے کتنا ڈرتی تھی میں…؟‘
’کیوں؟‘
’اسامہ کی موجودگی سے… اس نے زیر لب مسکرانے کی کوشش کی، گھر میں اس کی موجودگی کے باوجود ڈرتی تھی— وہ کمرہ بند کرتا تھا تب بھی ڈرتی تھی— اے سی چل رہا ہے… کہیں اے سی پھٹ نہ جائے… بستر کے ٹھیک اوپر فین ہے۔ کہیں فین نہ گر جائے— سارا دن دعائیں پڑھتے ہوئے گزر جاتا تھا— وہ گھر سے نکلتا تھا تو وحشت ہوتی تھی— گھر سے باہر جاتا اور اس کا موبائیل سوئچ آف آتا تو میرا دل ہی بیٹھ گیا— خدا معلوم میرا بیٹا، کس حال میں ہو گا— اور جب تک اسامہ گھر واپس نہیں آ جاتا، میں مارے وحشت کے بس دعاؤں میں ڈوبی رہتی…؟ وہ میری طرف مڑی— ’اب دیکھو— پرسکون ہوں — دعائیں راستہ بھول گئی ہیں— بس ایک دعا، جیسے بھی ممکن ہو بس وہ گھر لوٹ آئے…‘
رباب نے چہرہ گھما لیا تھا— ممکن ہے اس طرح وہ اپنے آنسوؤں کو روکنے کی کوشش کر رہی ہو—
’ایک بار یاد ہے، اسے اسکول سے گھر آنے میں دیر ہو گئی تھی— باپ رے میری تو جان ہی نکل گئی تھی— بعد میں معلوم ہوا، اس کا کوئی دوست بیمار تھا، جس کو لے کر وہ ہولی فیملی گیا ہوا تھا— میرے جسم سے جیسے کسی نے سارا خون ہی نچوڑ لیا تھا… اور شب برأت کے موقع پر، یاد ہے نا…‘
’ہاں— وہ موبائیل گھر چھوڑ گیا تھا— دوستوں کے ساتھ مسجد میں ہی رہ گیا— تم نے روتے روتے سارا گھر اٹھا لیا— جبکہ میں کہتا رہا، وہ مسجد میں ہی ہو گا— بہت سے بچے اس موقع پر مسجد میں ہی عبادت کرتے ہیں—‘
’ہاں—‘ رباب کی آنکھیں چمک رہی تھیں— ’آج دیر تک اسامہ کے کمرے میں رہی۔ اس کے کمپیوٹر والی کرسی پر بیٹھی— اس کی کتابوں کو چھوا— دیر تک اس کی ہر شے میں اس کا لمس تلاش کرتی رہی— رباب کی آنکھوں میں نمی تھی— بچے بڑے ہو جاتے ہیں تو ماں باپ کے احساس کو کیوں نہیں سمجھتے— بچے ہمیں صرف کمزور بنانا جانتے ہیں—‘
’شاید…‘
’کبھی کبھی وہ ہنساتا بھی تھا— جیسے میں چلاتی تھی— اسامہ، کتابیں نکالو— نہیں پڑھو گے تو کیا کرو گے— کبھی کبھی وہ میرے قریب آکر بیٹھ جاتا— اُس کے چہرے پر ایسے موقع پر ایک عجیب سی معصومیت اور شرارت ہوا کرتی— کہتا، اتنی دولت چھوڑ جاؤ کہ میں کچھ نہ کروں— پھر فوراً اس کے چہرے کا رنگ تبدیل ہو جاتا— گھبراؤ مت— میرے لیے پریشان مت ہو— میں کچھ نہ کچھ ضرور بنوں گا۔ دیکھ لینا—‘
میں خلا میں دیکھ رہا تھا— شاید میری آنکھیں بھی بھیگ گئی تھیں— اسامہ کی یادوں نے اچانک ایک لمحے کے لیے مجھے پاگل کر دیا تھا— یہ وہی لمحہ تھا، جب عجیب سی چمک لیے ہوئے رباب میری طرف گھومی تھی—
’معجزہ پر یقین رکھتے ہو…؟‘
’کہہ نہیں سکتا‘
’میں رکھتی ہوں— دیکھ لینا— معجزہ ہو گا— بہت جلد ہو گا—‘
ایک بار پھر سے وہ اپنے آنسوؤں کے سیلاب میں بہہ گئی تھی—
اسامہ کی گمشدگی کو چھپانا اب مشکل ہو رہا تھا— کیونکہ اسامہ پاشا کوئی ننھے بچے نہیں تھے— انہیں آس پاس کے لوگ بھی جانتے تھے— اس کے دوست بھی تھے— ملنے والے بھی تھے— وہ اپنا موبائیل بھی ساتھ لے کر نہیں گیا تھا— اور یقیناً اس عجیب سے تجربے کو مجھے آپ سے شیئر کرنا چاہیے— اس نے موبائیل ٹون میں ایک عربی گانا فیڈ کر رکھا تھا۔ اس کے جانے کے شروع شروع دنوں میں جب اچانک یہ ٹیون بجتی تو وہ ہمارے درمیان موجو دہو جاتا— یہ اس کے دوستوں کے فون ہوتے— جو یہ ماننے کو قطعی راضی نہیں ہوتے کہ اسامہ اپنا فون چھوڑ کر چچا کے یہاں جاسکتا ہے۔ موبائیل تو آج زندگی کا حصہ ہے— ہمیں اس بات کا یقین تھا کہ ایک نہ ایک دن اسی موبائیل سے وہ واپس لوٹنے کا اعلان کرے گا— ایک دن گھنٹی بجے گی اور اُس کی چہکتی ہوئی آواز ہمیں سنائی دے گی… ممی… میں آ رہا ہوں…
اس دن کوڑے والی نے صبح صبح دوبارہ گھنٹی بجائی تو غصہ آ گیا—
’کیا ہے…؟‘
’وہ … بابو کو کئی دنوں سے نہیں دیکھ رہی ہوں…‘
’اسامہ چچا کے گھر گئے ہیں—‘
’وہی تو… دروازہ تو اکثر بابو ہی کھولتے تھے—‘
اخبار والا بھی دریافت کر رہا تھا—
’بھیّا دکھائی نہیں دے رہے—‘
کالونی کے بچوں میں بھی اسامہ مقبول تھا— آتے جاتے بچے بھی دریافت کرتے—
اس سے قبل مجھے یقین نہیں تھا کہ جھوٹ بولنا کتنا مشکل کام ہے— شاید کسی جھوٹ کو سچ کی طرح مسکرا کر بولنا بے حد تکلیف دہ ہوتا ہے— لیکن سوال تھا، اس جھوٹ کو آخر ہم کب تک چھپا پائیں گے— لیکن ابھی اسامہ کی زندگی اور مستقبل کے لیے یہ جھوٹ ایک ضروری قدم تھا— ہاں کبھی کبھی رباب اس جھوٹ کو چھپانے کی ناکام کوشش کرتی ہوئی ٹوٹ جاتی تھی—
’آخر ہم کب تک لوگوں سے اس سچ کو چھپائیں گے—؟‘
’جب تک حالات ٹھیک نہیں ہو جاتے—‘
’حالات ٹھیک ہو گئے تو…؟‘
’’ممکن ہے تب تک اسامہ واپس آ جائے…‘
ایک ماں اپنے ہی سوالوں میں الجھ جاتی تھی—
’سنو— ممکن ہے… پولیس بھی اسے تلاش کرنے کی کوشش کرے… تو شاید جلدی کامیابی مل جائے…‘
’ہاں ممکن ہے— لیکن اگر پولیس اسامہ کی گمشدگی کو بٹلہ ہاؤس انکاؤنٹر سے جوڑ کر دیکھنے لگی تو…؟
’نہیں… ‘ رباب کی آنکھوں میں خوف سما جاتا— کچھ دیر تک خود میں کھوئی کھوئی رہنے کے بعد وہ پوچھتی…
’وہ آئے گا نا…؟‘
’کیوں نہیں آئے گا…؟‘
’پھر وہ آنے میں اتنی دیر کیوں کر رہا ہے…‘
’وہ بھی تو جانتا ہے کہ حالات اچھے نہیں—‘
’ہاں— لیکن اس کو جانے کی اتنی جلدی کیوں تھی— ہمیں کہتا تو کیا ہم اسے کچھ دنوں کے لیے اپنے کسی رشتے دار کے پاس نہیں بھیج دیتے—؟‘
’وہ نئے زمانے کا بچہ ہے— یہ نئے زمانے کے بچے اپنے فیصلے خود کرتے ہیں—‘
’خود کیوں کرتے ہیں فیصلے— جب ماں باپ یہ فیصلے بہتر طور پر کرسکتے ہیں—‘ 
’یہ تو وہی بتائے گا…‘
’اگر وہ کچھ دن اور نہیں آیا…؟‘
’میں نے تھاپڑ سے بات کی ہے۔ پھر ہم پولیس کے اعلیٰ افسران سے ملیں گے— اور اسے کھوج نکالیں گے—‘
’وہ تب بھی نہیں ملا تو…؟‘
’ملے گا کیسے نہیں— اپنی دعاؤں پر بھروسہ نہیں تمہیں۔ دیکھ لینا وہ بہت جلد واپس آ جائے گا—؟
لیکن حقیقت یہ تھی کہ میں ابھی بھی خاموش نہیں بیٹھا تھا— میں دفتر کے  لیے نکلتا تھا لیکن میری آنکھیں چاروں طرف اُسے دیکھ رہی ہوتی تھیں— پلیا چوکی سے گزرتے ہوئے یا بڑا سا نالہ پار کرتے ہوئے میں کچھ دیر کے لیے ٹھہر جاتا— آگے ایک کھلا قبرستان ہے— یہاں بہت ساری زمین خالی پڑی ہے— یہاں بچے ہمیشہ کرکٹ کھیلتے رہتے ہیں— میں دیر تک ان بچوں میں اسامہ کے چہرے کو تلاش کرتا رہتا— اُس دن دفتر سے لوٹتے ہوئے میں یونہی نظام الدین ریلوے اسٹیشن نکل گیا— ممکن ہے میرا بچہ یہاں ہو— پلیٹ فارم ٹکٹ لے کر میں دیر تک ادھر اُدھر اسے تلاش کرتا رہا— جب بھی گھڑگھڑاتی ہوئی کوئی ٹرین رکتی— میں دوڑ کر واپس آتا… میری آنکھیں اترنے والے مسافروں کا غور سے جائزہ لیتی رہتیں۔ نہ جانے کب ان میں سے اسامہ نکل کر سامنے آ جائے— نئی دلّی ریلوے اسٹیشن ، پرانی دلّی… آنند وہار… میں نے بہت دیر تک اس بات پر بھی غور و خوض کیا تھا کہ اگر مان لیا، اس کے پاس پیسے ختم ہو جاتے ہیں تو وہ کیا کیا کام کرسکتا ہے— لیکن اس سے  بھی بڑا سوال تھا کہ کیا وہ سچ مچ اسی شہر میں ہے؟
یا اسامہ اس شہر سے کہیں دور نکل گیا؟
اگر دور نکل گیا تو کہاں؟ کس جگہ؟ کاشی کی گلیوں میں یا ممبئی—؟ میرا دل کہتا تھا، اسے کاشی کے گلی کوچوں میں تلاش کروں— وہاں ماضی کی ایک لمبی سڑک تھی اور اُس سڑک پر جاتے ہوئے مجھے ہول آتا تھا— ان گلی کوچوں سے ہزاروں یادیں وابستہ تھیں۔ میرا دل کسی طور بھی یہ ماننے کو تیار نہ تھا کہ اسامہ کاشی بھی جاسکتا ہے—
پھر وہ کہاں گیا ہو گا؟ کھاتا کیا ہو گا؟ سوتا کہاں ہو گا…؟ وہ اندر سے ایک مضبوط بچہ تھا اور اس میں اپنا فیصلہ لینے کی طاقت موجود تھی— اور یہی بات مجھے مطمئن کر رہی تھی کہ کم از کم اسے زندہ رہنے کا ہنر آتا ہے— اور یہ بات اُس نے خط میں بھی تحریر کیا تھا کہ وہ خودکشی نہیں کرے گا— مگر اتنی بڑی دنیا میں، اس نازک عمر کے ساتھ اکیلا، وہ کس حال میں اور کہاں ہو گا…؟
شام مجھے لوٹنے میں دیر ہو جاتی تو رباب میری کیفیت سمجھ جاتی تھی— اُس میں ایک خوبی یہ تھی کہ وہ زیادہ سوال نہیں کرتی تھی— ہاں، اس کے چہرے کے تاثرات سے میں اندازہ لگا لیتا کہ وہ میری تاخیر کی وجہ جان گئی ہے— کافی دیر بعد اس کی آواز ابھرتی—
’تم اسے تلاش کرنے گئے تھے؟‘
’ہاں—‘
ایک لمبی گہری سانس کے ساتھ کمرے میں خاموشی چھا جاتی—
٭٭



(8)

میر صاحب کا شمار علاقے کے معزز لوگوں میں ہوتا تھا— عمر یہی کوئی 70 کے آس پاس— پنج وقتہ نمازی— علاقے میں اُنکا اثر و رسوخ کافی تھا— جامعہ کے ریٹائرڈ پروفیسر تھے— اُن کا گھر حویلی نما تھا— بٹلہ ہاؤس اور جامعہ کی ان تنگ گلیوں میں اتننے کشادہ اور عالیشان مکان کے بارے میں سوچا بھی نہیں جاسکتا تھا— گھر کے باہر ایک چوڑی سڑک تھی— یہ یقین کرنا مشکل تھا کہ ان تنگ گلیوں سے باہر نکل کر اس علاقے میں ایسی کشادہ سرک بھی ہوسکتی ہے— گیٹ پر ہمیشہ ایک دربان یا محافظ ہوتا— جو دائرے نما وہیل کو گھما کر دروازے میں تھوڑی سی جگہ بناتا— اندر دور تک کافی خالی جگہ پڑی تھی— یہاں پروفیسر صاحب کی دو دو گاڑیاں ہر دم کھڑی رہتیں— برامدے میں غیر ہموار فرش پر ٹائلیں بچھی تھیں— ان کے دونوں طرف پھولوں کے گملوں کی ایک نہ ختم ہونے والی قطار تھی— ان سے گزرنے کے بعد ایک بڑا سا ہال نظر آتا تھا— انتہائی سلیقے اور قرینے سے صوفے لگے تھے— ایک بڑا سا تخت، جس پر سفید چادر بچھی تھی— گو تکیے لگے تھے— دیوار پر حسین پنٹنگس آویزاں تھیں— میر صاحب اسی ہال میں ملتے تھے— عمر کے اس پڑاؤ پر اب سیاست کے گلیاروں میں بھی ان کی باتیں غور سے سنی جاتیں— یہاں تک کہ ان کی ہر بات ایک خبر بن جاتی تھی— وقت کے ساتھ سیاست کے اس نئے کاروبار میں میر صاحب کو مزہ آنے لگا تھا—
دس بج گئے تھے—
ہال میں آہستہ آہستہ لوگ جمع ہونے لگتے تھے—
میر صاحب گاڑی کے پاس سفید پائجامہ اور کالی شیروانی میں ملبوس کچھ لوگوں سے گھرے ہوئے گفتگو کر رہے تھے— دروازے سے نکل کر اُن کی دعوت پر آئے ہوئے لوگوں کو ہال میں بیٹھنے کا اشارہ کرتے— اس وقت مسجد کے امام بھی ان کے ساتھ تھے— میر صاحب ایک بات بولتے اور باقی درست ہے، درست ہے… کہتے ہوئے اُن کی ہاں میں ہاں ملاتے۔ اس وقت بھی میر صاحب اپنے پورے رنگ میں تھے—
’میاں، آزمائش اور امتحانات سے تو بڑے بڑے پیغمبر گزرے— آپ کیا ہیں— اللہ کی آزمائش ہے— اور مسلمانوں کے لیے ایک موقع کہ ہم اس آزمائش میں کامیابی سے گزر جائیں—
’درست ہے…‘
’مسلمان کہاں نشانے پر نہیں— ساری دنیا میں مسلمان نشانے پر ہیں— مسلمانوں کے لیے یقیناً یہ ایک برا وقت ہے— لیکن یہی وقت محاسبہ اور تجزیہ کا ہے— ہم دیکھیں کہ ہم سے کہاں غلطی ہوئی— ہم دنیاوی رنگوں کے اتنے عادی ہو گئے کہ جھوٹ اور سچ کا فرق بھول گئے— اپنے رب، اپنے آقا کو بھول گئے— یہ عذاب تو آنا ہی تھا میاں— یہ عذاب جو مختلف صورتوں سے ہم پر نازل ہو رہا ہے…‘
’درست ہے—‘
لیکن ہم گھبرائیں گے نہیں— مقابلہ کریں گے— قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی— ہم اپنے بچوں کی شہادت پر خاموش نہیں بیٹھیں گے۔ ہم جانتے ہیں ہم چو طرفہ حملوں سے گھر گئے ہیں— ہم پر الزامات کی بارش ہو رہی ہے۔ کبھی ہمارے گھروں کو ڈھانے کے لیے سرکاری بلڈوزر آ جاتے ہیں— کبھی نشانہ ہمارے معصوم بچے ہوتے ہیں— حکومت ہم مسلمانوں کے دم سے بنتی ہے— اس لیے ہم سیاست کے ایوانوں میں زلزلہ لانے کا ہنر بھی جانتے ہیں—‘
’درست ہے…‘ امام صاحب نے اپنی خشخشی داڑھی پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا— ’ہم مومن ہیں— اور مومن کسی سے نہیں ڈرتے—‘
ہال میں لوگ بیٹھ گئے تھے— چہ می گوئیاں شروع ہو گئی تھیں— سب سے پہلے چائے کا دور چلا— میر صاحب امام صاحب کو لے کر کمرے میں داخل ہوئے— لوگ ادب سے اٹھ کھڑے ہوئے— میر صاحب نے اپنی جگہ سنبھالتے ہوئے اُنہیں بیٹھ جانے کا اشارہ کیا—
’آپ بخوبی جانتے ہیں کہ آج کی اس ہنگامی میٹنگ کا مقصد کیا ہے؟‘
میر صاحب ایک لمحے کو ٹھہرے— چاروں طرف دیکھا— پھر ٹھہر ٹھر کر بولنا شروع کیا—
’اس علاقے میں وہ بھی ہوا جو اس سے پہلے کبھی نہیں ہوا تھا— لیکن ہمیں کوئی حیرت نہیں ہوئی— کیونکہ آزادی کے بعد سے یہ عقدہ ہم مسلمانوں پر کھل چکا ہے کہ ایسی طاقتیں مسلمانوں کو کمزور کرنا چاہتی ہیں— یہ طاقتیں ان جگہوں پر ہی ہاتھ ڈالنا پسند کرتی ہیں جہاں مسلمان معاشی اور اقتصادی طور پر مضبوط ہوتے ہیں— بھاگلپور سے مالیگاؤں اور بھیونڈی تک— مسلمانوں کا اتحاد اور خوشحالی ان سے برداشت نہیں ہوتی— اور المیہ یہ ہے کہ اب کوئی بھی حکومت ہو، اس سازش میں ان کے شامل نظر آتی ہے— میں پوچھتا ہوں انہیں حق کس نے دیا، مسلمانوں کو آتنک وادی کہنے کا—؟ در اصل جب سے ان کے بھگوا آتنک واد کی قلعی کھلی ہے، یہ بوکھلا گئے ہیں۔ اور یہ چھوٹے چھوٹے بے قصور مسلمان بچوں کو اپنا نشانہ، اپنا ٹارگیٹ بنا رہے ہیں۔ پہلے مدرسہ… پھر اسکول اور کالج میں پڑھنے والے بچے… اور المیہ دیکھیے— اپنا کہیں کوئی بھی نہیں— میڈیا تک عام مسلمانوں کی آواز نہیں پہنچتی— پہنچتی ہے تو جامع مسجد اور امام پشاوری جیسے لوگوں کی، جن کے بارے میں دنیا جانتی ہے کہ یہ لوگ محض مسلمانوں کی سیاست کرنا جانتے ہیں— بٹلہ ہاؤس میں اتنا بڑا حادثہ ہو جاتا ہے اور ہمارے سیاسی رہنما شتر مرغ کی طرح ریت میں منہ چھپائے پھرتے ہیں۔ کیوں؟ کیونکہ آواز اٹھائی تو حکومت سے ملنے والی شیرینی بند ہو جائے گی— اور ہمارا المیہ کہ ہم ان جیسوں پر ہی منحصر ہیں—‘
’درست ہے۔‘
’الحمد للہ…‘
’صحیح فرمایا آپ نے …؟‘
’میر صاحب— سبحان اللہ ۔ کیا کہنے…؟
میں ان تمام چہروں کو پہچانتا تھا۔ ان میں راشد ، منیر اور علوی کے ڈیڈی بھی تھے۔ کچھ دنوں میں سب کی دنیائیں بے رنگ ہو گئی تھیں— ایسے ہر چہرے پر دہشت اور خوف کے امتزاج کو محسوس کیا جاسکتا تھا۔ اس طرح کی میٹنگ میرے لیے کوئی نئی نہیں تھی— ماضی کی اندھیری سرنگ میں کچھ یادیں روشن تھیں۔ احمد صاحب وکیل اور ان کا ہفتہ وار اخبار مجاہد اور ان کی بیٹی صوفیہ —ذہن کے پردے پر ایک تصویر بدر کی بھی تھی۔ جو اب اس دنیا میں نہیں تھا۔ میں اس میٹنگ میں شامل تو تھا لیکن اس سیاست کو قریب سے جانتا تھا۔ اس لیے میں نے کچھ بھی بولنا مناسب نہیں سمجھا۔ میں صرف سیاست کے ان رنگوں کو دیکھنے آیا تھا۔ ہال میں کچھ مقامی صحافی بھی تھے جو اردو اخباروں کو اپنی رپورٹ بھیجا کرتے تھے۔
میر صاحب نے ایک بار پھر لوگوں کی طرف دیکھا اور بولنا شروع کیا۔
’برق گرتی ہے تو بیچارے مسلمانوں پر— یہاں معز صاحب ہیں جن کا بیٹا راشد انکاؤنٹر میں مارا گیا ہے۔ منیر کے والد قاسم صاحب ہیں ان کا بیٹا بھی مارا گیا— منیر اور راشد  کا دوست علوی ابھی بھی پولیس کی حراست میں ہے۔ ان معصوم بچوں کی لڑائی کون لڑے گا— ؟کسی کو تو سامنے آنا پڑے گا۔ اب اس پورے معاملے کو ہم خاموشی سے نہیں لے سکتے— کیونکہ سنگھ پریوار کی ایک ہی منشا ہے، اسلام اور مسلمانوں کو بدنام کرو— انسانیت کی اس قتل و غارت گری کا بھیانک منظر ہم اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہوئے بھی خاموش رہ جائیں تو ان کے حوصلوں کو طاقت ملے گی۔ ملک و قوم کا نقصان ہو رہا ہے۔ گھر کے گھر تباہ و برباد ہو رہے ہیں۔ معصوم بچوں کی گرفتاریاں سامنے آ رہی ہیں۔ داڑھی رکھنے والوں اور ٹوپی پہننے والوں کو شک کی نظروں سے دیکھا جا رہا ہے۔ سوال یہ بھی ہے کہ یہ ان بچوں کے مستقبل کو کیسے بچایا جائے۔ مسلم رہنما اشتعال انگیز بیانات دے کر سیاست کی روٹیوں میں شریک ہو جاتے ہیں۔ مسلم بچے اپنے اپنے مستقبل سے بیزار اور پریشان— ان دنوں یہ بھی ہو رہا ہے کہ ماں باپ اپنے بچوں کو مسجد جانے سے روک رہے ہیں۔ کوئی بچہ کرتا پائجامہ پہن کر گھر سے نکلنا چاہتا ہے ، تو اسے پینٹ شرٹ پہننے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔ سڑکوں پر پولیس سیکورٹی کے لوگ مسلم بچوں کو روک کر ان کی تلاشیاں لیتے ہیں۔ انہیں ذلیل کرتے ہیں۔ آخر کس عہد میں آ گئے ہیں ہم—؟ یہ ظالمانہ کارروائی کب بند ہو گی— ابھی کچھ دن پہلے پرانی دہلی سے ایک مسلم نوجوان عشاء کی نماز پڑھ کر گھر سے باہر نکلا اور اسے پولیس نے حراست میں لے لیا۔ ان بچوں سے زبردستی اقبالیہ بیان لیے جاتے ہیں پھر کسی نہ کسی ناکردہ جرم میں انہیں پھنسا کر جیل میں بھیج دیا جاتا ہے۔ ایسا تو فرنگیوں کی حکومت میں بھی نہیں ہوا۔ حیدر آباد سے اعظم گڑھ تک کتنے بے قصور نوجوان ہیں جنہیں کسی وجہ کے بغیر پولیس نے حراست میں لے رکھا ہے۔ اُن کے خاندانوں پر کیا گزرتی ہو گی۔ آپ بخوبی سوچ سکتے ہیں۔
میر صاحب نے لمبی سانس لی—
’اے ٹی ایس نے پہلی بار ہندو انتہا پسند تنظیموں کی رپورٹ دی ہے— سنگھ پریوار کا چہرہ بے نقاب ہوا ہے۔
سادھوی مرگیہ سنگھ اور سابق فوجیوں کے نام سامنے آئے ہیں— لیکن میڈیا اور اخبار ہر بار ان ناموں پر دھول کی تہہ جما دیتی ہے۔ ان ناموں کے ساتھ کچھ ہی دنوں بعد کچھ اور دھماکے ہو جاتے ہیں پھر کسی انڈین مجاہدین اور  سیمی سے وابستہ  کسی فرد کا نام سامنے آ جاتا ہے— در اصل میڈیا بھی سنگھ پریوار اور بھگوا آتنک واد سے بچنا چاہتی ہے— لیکن خوشی کی بات یہ ہے کہ عام لوگوں تک ان دھماکوں کے پس پردہ یہ میسیج بھی پہنچ چکا ہے کہ بھگوا آتنک واد خاموشی سے اپنا کام کر رہی ہے۔‘‘میر صاحب بولتے بولتے ہانپ گئے تھے۔ ایک لمحے کے لیے وہ ٹھہرے پھر بولنا شروع کیا—
’’سوچنا یہ ہے کہ اب ہم ایسے معاملات میں کیا کر سکتے ہیں۔ ہمارے پاس اپنے بچوں کے مستقبل کو بچانے کے لیے کیا  اسٹریٹجی ہونی چاہیے۔‘‘
’’ٹھہریئے۔‘‘
میر صاحب نے میر صاحب کو روکا۔  اسٹریٹجی سے پہلے بھی کچھ باتیں ہونی چاہئیں۔ میں نے اپنا بیٹا کھویا ہے۔ میں اس بھیانک واقعے کا چشم دید گواہ ہوں۔ پولیس نے تین دنوں تک بے وجہ مجھے بھی جیل میں بند رکھا تھا۔ سوال یہ ہے کہ میں بیٹا تو کھو چکا ہوں— ایک معصوم بے قصور بیٹا— لیکن میرا بیٹا عام لوگوں کی نظر میں آتنکوادی ہے۔ ایک ٹیررسٹ— یہ بدنما گناہ ہم کیسے دھوئیں گے۔
علوی کے پاپا اپنی جگہ سے اٹھے— ’میرا بیٹا ابھی بھی پولیس کی حراست میں ہے اور میں نہیں جانتا کہ آنے والے وقت میں پولیس اس کے ساتھ کیا سلوک کرے گی— اُسے زبردستی اقبالیہ بیان دلائے گی۔ اُسے رہا کرے گی یا کسی انکاؤنٹر میں مار دے گی—؟‘
امام صاحب کھڑے ہو گئے۔
’میں آپ لوگوں کا درد سمجھ سکتا ہوں—‘ نوجوانوں سے ان کا مستقبل چھینا جا رہا ہے۔ ہونے والے تمام بم دھماکوں کا ذمہ دار مسلمانوں کو ہی بنایا جا رہا ہے۔ یہ بھی کیا جا رہا ہے کہ یہاں کے گھروں میں بم بنائے جاتے ہیں۔ لیکن کبھی کوئی بم کی فیکٹری نہیں ملی۔ بم بناتا ہوا کوئی مسلمان نہیں ملا۔ ان پر سات خون معاف اور ہمیں مسلمان ہونے کی سزا دی جا رہی ہے۔ بچوں پر جبر کیے جا رہے ہیں۔ من گھڑت کہانیاں بنائی جا رہی ہیں۔ زور زبردستی ان سے اقبالیہ بیان لیے جا رہے ہیں۔ پولیس میں فرقہ پرست عناصر کی تعداد پہلے بھی زیادہ تھی اب یہ تعداد اور بڑھ چکی ہے۔ میڈیا بھی ان کے ساتھ ہے— دونوں مل کر مسلمانوں کا مستقبل تباہ کر رہے ہیں—‘
میر صاحب نے ٹھنڈی سانس بھری—
’بجا فرمایا آپ نے۔‘‘
’پولیس چھوٹی کہانیوں میں ہمارے بچوں کو پھنسا کر اُنہیں جیل بھیجتی ہے پھر اُنہیں عربی رومال سے منہ ڈھانپ کر میڈیا کے  سامنے پیش کیا جا تا ہے— ایسا نہیں ہے کہ مسلمانوں کی حمایت کرنے والے صحافی اور دانشور ہمارے پاس نہیں ہیں۔ لیکن ایسے لوگ مسلمانوں کے زخموں پر مرہم رکھ کر، چند بیانات دے کر اپنا پلّہ جھاڑ لیتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اب ہمیں کیا کرنا چاہیے۔ اب کوئی ٹھوس قدم ہمارے لیے کیا ہوسکتا ہے—؟‘
میر صاحب نے ایک لمحے کو چاروں طرف دیکھا پھر گویا ہوئے—
’اسی لیے ہم یہاں جمع ہوئے ہیں کہ ہمیں کیا کرنا ہے؟ چار لوگوں کو جمع کیا اور ایک میٹنگ ہو گئی۔ کچھ دانشور جمع ہو گئے— تقریریں ہو گئیں۔ اس سے کام نہیں چلے گا اب— ہمیں سڑکوں پر مارچ کرنا ہو گا۔ حکومت کے خلاف کھلی بغاوت کا اعلان کرنا ہو گا۔ ہمیں سب سے پہلے ہوم منسٹرکو مل کر میمورنڈم دینا ہو گا— ہم اعلانِ جنگ کریں ، ان کے خلاف جنہوں نے ہمارے لیے مورچہ کھول رکھا ہے… جو ہمارے معصوم بچوں کے مستقبل سے کھیل رہے ہیں…‘
میر صاحب کا چہرہ سرخ ہو گیا تھا۔ لوگ ان کی ہاں میں ہاں ملا رہے تھے… لیکن میرے لیے یہ ساری تقریریں بے معنی تھیں…
میرے قدم بوجھل تھے۔ میں گھر واپس لوٹ رہا تھا— آنکھوں کے آگے ابھی بھی اسامہ کا چہرہ منڈرا رہا تھا۔ وہ کہاں ہو گا؟ کس حال میں ہو گا—؟
گھر پہنچتے ہی رباب لپک کر میرے پاس آئی—
’میٹنگ ختم ہو گئی اتنی جلدی…؟‘
’نہیں—‘
’پھر—؟‘
’میں واپس لوٹ آیا…‘
وہ آنکھوں میں سوال لیے میرا جائزہ لے رہی تھی… ’کسی نے بیٹے کے بارے میں کچھ پوچھا…؟‘
’ہاں…‘
’پھر تم نے کیا کہا…؟‘
’ وہی جو سب سے کہہ رہا ہوں—‘
’ہونہہ—‘
رباب گہری سوچ میں ڈوب گئی تھی—
پھر مسکراتے ہوئے بولی— ’اچھا چلو— کچھ کھا پی لو— صبح ناشتہ کیے بغیر ہی نکل گئے تھے— اللہ مصیبت دیتا ہے تو صبر بھی دیتا ہے۔ یہ نئی رباب تھی جو میرے لیے اپنے آنسو تک پی گئی تھی— میں زیر لب مسکرانے کی کوشش میں اس کا چہرہ دیکھتا رہ گیا—
٭٭



(9)
26/11
ہر چہرے میں اسامہ کی تلاش

گزرتے وقت کے ساتھ زخم مندمل ہونے کے بجائے اور گہرے ہو گئے تھے۔ میں نے اکثر تنہائی میں رباب کو اپنے آنسوؤں کا حساب لیتے دیکھتا تھا— سڑک سے گزرتے ہر بچے میں اسامہ کا عکس نظر آتا تھا۔ دو مہینے گزر چکے تھے— آس پاس کے لوگوں کے لیے یہ بات یقین سے پرے تھی کہ میں نے اسامہ کو چچا کے پاس بھیج دیا ہے اور وہ وہیں پڑھ رہا ہے— سب سے زیادہ غصہ تھاپڑ کو تھا—
’کیسے صبر آ گیا ہے تم کو—؟‘
’صبر نہیں آیا تھاپڑ—‘
’تو پھر اُسے تلاش کیوں نہیں کرتے۔ میں جانتا ہوں کہ اس بات سے ڈر رہے ہو کہ پولیس کو اس گمشدگی کے بارے میں کیا بتاؤ گے— اور جیسے ابھی ایک امید ہے تمہارے پاس کہ اسامہ لوٹ آئے گا۔ شاید پولیس کے پاس جانے سے تم اس یقین کو گم ہوتا ہوا محسوس کر رہے ہو…‘
’ہاں—‘
تمہاری بات سچ ہوسکتی ہے۔ کیونکہ بٹلہ ہاؤس انکاؤنٹر کا بھوت ابھی زندہ ہے— مگر یہ تو ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہنے کی کارروائی ہو گی نا بڑے پاشا؟  بیٹا ہے تمہارا— تمہارا اپنا خون— اس یقین کے ساتھ جی لو گے ایک دن وہ واپس آ جائے گا…؟‘
’ہاں…‘
شاید میں زور سے چلّایا تھا— ’اور کیا راستہ ہے تھاپڑ— بتا سکتے ہو ، سارے راستے گم ہیں—‘ میں نے گہری سانس لی—
’یا دراصل پہلے بھی کوئی راستہ نہیں تھا ہمارے پاس— تم کیا سوچتے ہو، ہم چین سے بیٹھے ہیں؟ صرف ایک بیٹا ہے ہمارا — رباب کو تڑپتے دیکھتا ہوں تو زندگی کے سارے دروازے بند ہو جاتے ہیں۔ اس کے آنسوؤں کا ہر قطرہ میری جان لے لیتا ہے— مگر رباب بھی جانتی ہے۔ مجبور ہیں ہم— پولیس کے پاس نہیں جاتا— ابھی کم از کم ایک آس تو ہے… امید تو ہے… پولیس کے پاس جانے سے صرف ایک انجانا خوف رہ جائے گا— کہیں کوئی خوف ناک گولی اس کا تعاقب کرتی ہوئی اس کے حصے میں موت نہ لکھ دے— ابھی اپنے بیٹے کے لیے کم از کم زندگی کا احساس ہے تو ہمارے پاس— پولیس کے پاس جانے سے تو یہ احساس بھی ختم ہو جائے گا…‘
’ہونہہ… تھاپڑ نے مسکرانے کی کوشش کی— کامریڈ پاشا، آپ کی داڑھی بڑھ گئی ہے…
’ہاں—‘
’نماز پڑھنے لگے ہو…؟‘
’ہاں…‘
’پہلے نہیں پڑھتے تھے…؟‘
’میری آنکھیں دور خلا میں دیکھ رہی تھیں—‘
’شاید بہت کچھ تبدیل ہو گیا اس درمیان— ایک حادثہ ہماری اب تک کی آئیڈیالوجی کو بدل کے رکھ دیتا ہے—‘
’شاید—‘
’نہیں پاشا— سوچتا ہوں، ہم جس قدر بھی کامریڈ بن جائیں۔ مذہب کے خلاف بغاوت کر دیں لیکن ہماری سنسکرتی ، ہماری جڑیں… ایک مذہب کہیں نہ کہیں  چھپا بیٹھا ہوتا ہے… ایسے حادثوں کے انتظار میں— اور حادثہ ہوتے ہی پلک جھپکتے ہی وہ سامنے آ جاتا ہے—‘
’ہاں—‘
’ممکن ہے یہ مذہب میرے اندر بھی ہو— مگر ابھی تک میری آئیڈیالوجی کے ڈر سے وہ سہما ہوا ہے۔ سامنے نہیں آیا…‘
٭٭
ہر ایک چہرے میں اسامہ کو تلاش کرنے والے رویّہ نے اس دن ہمیں کسی بت میں تبدیل کر دیا تھا— ۲۶نومبر ۲۰۰۸ — ٹی وی اسکرین پر گولیاں چل رہی تھیں— سہمی ہوئی رباب میری طرف دیکھ رہی تھی— گزرے ہوئے واقعات میں بٹلہ ہاؤس کی تکلیف دہ یادیں شامل ہو گئی تھیں— رات کے سناٹے اور گہرے اندھیرے میں گیٹ وے آف انڈیا کے علاقے سے ممبئی میں داخل ہونے والے آتنک وادیوں نے ایک بار پھر صبر اور سکون دونوں کو چھین لیا تھا— یقین کرنا مشکل تھا کہ عام نوجوانوں کی طرح نظر آنے والے یہ لوگ سمندری سفر کے بعد ممبئی میں آتنک کی خوفناک اور نئی فصلیں بونے والے ہیں۔ ٹی وی اسکرین پر گولیاں چل رہی تھیں— اینکر آگ اگل رہے تھے۔ قریب ساڑھے 8بجے اے کے 47 رائفلس کے ساتھ آتنک وادی چھتر پتی، شواجی ٹرمنل میں داخل ہوئے اور تیرہ نمبر پلیٹ فارم پر پہنچ گئے۔ دیکھتے ہی دیکھتے اندھا دھن گولیاں برسنے لگیں… دیکھتے ہی دیکھتے پلیٹ فارم انسانی لاشوں سے بھر گیا—
میں نے ریموٹ سے ٹی وی بند کر نا چاہا تو رباب نے روک دیا… ٹی وی اسکرین پر اس کی آنکھیں بغور ان چہروں کو دیکھ رہی تھیں۔ کارگو کی پینٹ… اور ورساچے کی ٹی شرٹ پہنے… کندھے پر مڑا تڑا بیگ لیے ایک نوجوان… سڑک پر گھومتے عام نوجوانوں جیسا ہی ایک نوجوان… ایک ہاتھ میں اے کے ۴۷…
رباب کی آنکھیں غور سے اس چہرے کا جائزہ لے رہی تھیں۔ نریمن پوائنٹ ، گاما ہاسٹل… جلتا ہوا تاج محل ہوٹل… چاروں طرف خوف ہی خوف… باہر سے گولیاں چلاتی پولیس…
لیوپولڈ سے نکل کر قاتل اب تاج محل ہوٹل پہنچ کر موت کا خونی رقص شروع کر چکے تھے— ایک ہی وقت میں کئی کئی جگہوں پر حملے شروع ہو گئے تھے۔ نریمن ہاؤس میں ہتھ گولے پھینکے گئے اور وہاں موجود لوگوں کو یرغمال بنا لیا گیا— کمانڈوز آپریشن کے لیے تیار تھے—اسکرین پر بار بار مارے گئے آتنک وادیوں کی تصویریں فلیش کی جا رہی تھیں— ان میں ایک تصویر شیشے کے پیچھے کھڑے ایک آتنک وادی کی تھی—
وہی کارگو کی پینٹ… اور ورساچے کی شرٹ پہنے ہوا نوجوان …
’ٹھہرو…‘
رباب زور سے چیخی— ’دیکھنے دو— یہ اس کے دوسرے ہاتھ میں امام ضامن ہے کیا—؟‘
’پتہ نہیں—‘
اس کا چہرہ صاف کیوں نہیں ہے…؟ کتنی عمر ہو گی اس کی…؟
’تمہیں اس سے کیا—‘
مجھے اس خبر یا اس منظر میں کوئی دلچسی نہیں تھی۔ جسم کے رونگٹے کھڑے تھے— یہ سارا منظر ایسا تھا جیسے ممبئی کو چاروں طرف سے دشمنوں نے گھیر لیا ہو—
میں اس منظر سے نکلنے کی کوشش کر رہا تھا— مگر شاید رباب اسی منظر میں گم تھی…
’تم نے ٹی وی کیوں بند کر دیا؟‘
’کیونکہ مجھے ایسے مناظر توڑ دیتے ہیں—‘
’ہونہہ…‘
رباب ابھی بھی اس چہرے میں گم تھی…
’تم نے اس بچے کو دیکھا…؟‘
’بچہ…؟‘
’ہاں— وہ شیشے کے پاس چھپا تھا…؟‘
’وہ آتنک وادی تھا—‘
’ہونہہ— آتنک وادی— بالکل ایک عام سا بچہ … جیسے عام بچے ہوتے ہیں…‘
میں رباب کی آنکھوں میں جھانکنے کی کوشش کر رہا تھا۔
’تم کو اس بچے میں دلچسپی کیوں ہے؟‘
’دلچسپی نہیں ہے—‘ رباب میری طرف مڑی— اس بچے کے ماں باپ بھی ہوں گے نا؟ ماں باپ بھی اپنے اپنے ٹی وی اسکرین پر یہ منظر دیکھ رہے ہوں گے…؟‘
’ہاں—‘
’پھر انہیں کیسا لگ رہا ہو گا—؟‘
’تم پاگل ہو گئی ہو رباب…‘
’شاید…‘
رباب گہری سوچ میں ڈوبی تھی— 
’اسامہ اس سے کتنا بڑا ہو گا؟‘
رباب کی بات پر میں چونک گیا تھا— ’کیوں؟‘
’بس یونہی… کچھ سوچ رہی تھی…‘
میری آنکھیں جذبات سے عاری تھیں۔ میں رباب کے فکر مند چہرے کو بغور دیکھ رہا تھا…
’اتنی وحشت کہاں سے آ جاتی ہے؟‘
’نہیں پتہ…‘
’لوگ کیسے کسی کو مار سکتے ہیں…؟‘
’نہیں جانتا…‘
’اور یہ چھوٹے چھوٹے بچے ہاتھوں میں اسلحے لیے…؟‘
میں نے نظریں اُس کے چہرے پر مرکوز کر دی تھیں—
رباب خوف سے نہا گئی تھی—
’ایسے تو ہم ڈرتے رہیں گے…؟‘
’ہاں…‘
’زندگی بھر ڈرتے رہیں گے…‘
’شاید…‘
’ایک پوری زندگی ڈر اور گھٹن کے ساتھ…؟ وہ میری آنکھوں میں جھانک رہی تھی…‘
’چارہ کیا ہے…‘
’عجیب رسم ہے… ہم نے بیٹا بھی کھویا ہے…؟‘
’اور ہم ڈر بھی رہے ہیں…‘
’لیکن کیوں ڈر رہے ہیں…؟‘
’کیونکہ ہمارا بیٹا جوان ہو رہا تھا—‘
’جوان ہو نا جرم ہے…؟‘
’نہیں—‘
’ایک مسلمان بچہ جوان ہو رہا تھا—‘
’مسلمان بچے کا جوان ہونا جرم ہے…؟‘
’ہاں…‘
’کیوں؟‘
’یہ تم بھی جانتی ہو کہ تم بھی ابھی ڈر گئی تھی… ‘
’ہاں … شاید…‘ رباب سہمی ہوئی، گردن ہلاتی ہوئی کچھ سوچ رہی تھی— میں ڈر گئی تھی… میں شاید اس آتنک وادی میں…‘
’اسامہ کو تلاش کر رہی تھی…‘
’ہاں… تمہیں کیسے معلوم…؟‘
’کیونکہ میں بھی شاید یہی کر رہا تھا۔ لیکن سوال ہے… میں ایسا کیوں کر رہا تھا ؟ اور تم ایسا کیوں کر رہی تھی۔ ہم دونوں جانتے ہیں کہ ہمارا بیٹا ایسا نہیں کرسکتا…‘
’پھر بھی …‘
’ہاں… پھر بھی… جانے انجانے ہم نفسیات کی ایک نازک گرہ سے بندھ جاتے ہیں۔‘
’شاید…‘
’لیکن پھر بھی اس دہشت گرد میں ایک کھوئے ہوئے بیٹے کو تلاش کرنا…؟‘ رباب میری طرف مڑی تھی…
’یہ پاگل پن ہے…‘
’پیار بھی ہوسکتا ہے۔‘
’ممکن ہے—‘
’ہم اسے سب جگہ تلاش کرتے ہیں— اچھی جگہ بھی اور بری جگہ بھی… اور ایسی جگہ بھی— ‘ اس کی آنکھوں میں دہشت کے سائے روشن تھے۔ ’جہاں اسے تلاش نہیں کرنا چاہیے۔‘
’پھر بھی ہم اسے تلاش کرتے ہیں۔‘
’ہاں…‘
’کہ وہ مل جائے— بس کسی طرح مل جائے وہ… یہ میں تھا…’ تم نے دیکھا، اس کے ایک ہاتھ میں…؟‘
’اے کے ۴۷…‘
’میرا بیٹا تو ایسے کسی اسلحے کے بارے میں جانتا بھی نہیں۔‘
’ہاں—‘
’دوسرے ہاتھ میں ایک سیاہ پٹّی تھی جیسے تعویذ …‘
’ممکن ہے اس کی ماں نے دی ہو… پناہ کے لیے…‘
’ماں کی محبت کا یہ بچے ایسے بدلا چکاتے ہیں…؟‘
’یہ بچے ان محبتوں سے واقف ہی کہاں ہوتے ہیں؟‘ میرے چہرے پر بھی درد کی ایک لکیر نمایاں تھی۔
’کیوں نہیں ہوتے ؟ ہوتے ہیں… اسامہ ان بچوں سے الگ تھا۔ شاید ہم ہی اپنے بچوں کی محبت کو نہیں سمجھ پاتے…‘
میں نے رباب کی طرف دیکھا۔ شاید ایک بار پھر اس کی آنکھوں میں ابھی ہونے والے دھماکے سما گئے تھے… اس کی آنکھیں گہری فکر میں ڈوب گئی تھیں۔
سچ تو یہ ہے کہ کچھ یہی حال میرا تھا۔ یہ کوئی عام دھماکہ نہ تھا— یہ صدی کے چند بڑے دھماکوں جیسا دھماکہ تھا— جیسے ایک ملک ، ایک دشمن ملک کے خلاف جنگ کا اعلان کرتا ہے—
کمانڈوز کے ذریعہ مارے جانے والے آتنک وادی اسلام سے تعلق رکھتے تھے… اور وہ بھی، جو ہاتھوں میں اے کے ۴۷ لیے شیشے کے پیچھے سے کمانڈوز کی حرکت پر نگاہ رکھ رہا تھا… ایسے واقعات کے بعد مسلمان ہونے کے نام پر جو ذلت اور شرمندگی ہمارے حصے میں آتی ہے، اس وقت میں انہی باتوں سے گز رہا تھا—
ان واقعات کے بعد جیسے اسلامی نام یا مسلمان ہونے کے نام پر شرم محسوس ہوتی تھی— غیر مسلم دوستوں کے سامنے پھیکی ہنسی یا شرمندہ ہونے کا احساس— جھکا ہوا سر—
مجھے یاد ہے ایک بار ایسی ہی کارروائی کے درمیان میرے جھکے سر کو دیکھ کر تھاپڑ چیخا تھا—
’وہ تم نہیں ہو—؟‘
’جانتا ہوں—‘
’پھر کس بات کی ندامت ہے تم کو…؟‘
’کیوں کہ وہ میری قوم کے ہیں۔ میرے ہم مذہب ہیں—‘
’یہ کس نے کہا کہ وہ تمہاری قوم یا مذہب کے ہیں— ہوسکتا ہے یہ بھی جھوٹ ہو۔ کرائے کے ٹٹو ہوں یہ— جو ایک ناپاک فیکٹری میں تیار کیے جاتے ہوں— ہوسکتا ہے ان میں کچھ مسلمان ہوں— آج پیسوں کے لیے کون نہیں بکتا— اور سوال یہ ہے کہ تم انہیں مسلمان سمجھتے ہی کیوں ہو؟‘

’لباس… ٹوپیاں… کرتا پائجامہ… داڑھی…‘
تھاپڑ ہنسا تھا— ’تو مت پہنو یہ لباس… وہ فوراً سنجیدہ ہو گیا— تمہارا بیٹا کتنی اردو جانتا ہے؟ پکڑے جانے والا ہر شخص اردو اور عربی جانتا ہے— عربی رومال ہوتے ہیں۔ داڑھی ہوتی ہے۔ ان کے لیے یہ آئیڈینٹٹی ضروری ہے کیونکہ اس مخصوص آئیڈینٹٹی کا مطلب مسلمان ہونا ہے— اور اس آئیڈینٹٹی کے ذریعہ اس  گلوبل دنیا میں آرام سے یہ میسج دینے میں کامیاب ہیں— اور مجھے اسی لیے…‘
تھاپڑ نے میری آنکھوں میں جھانکا— ’مجھے اسی لیے ان کی نیت پر شک ہوتا ہے۔ اسی لیے— اور جیسا میں نے کہا یہ آتنک وادی ایک خاص طرح کی لیبارٹری یا فیکٹری میں تیار کیے جاتے ہیں— تھاپڑ غصے میں تھا— ’وہ تم نہیں ہو— اور تمہیں یہ بات کسی کو سمجھانے کی ضرورت بھی نہیں ہے۔ تم اس ملک میں مٹھی بھر نہیں ہو— تمہاری تعداد اتنی ہے جتنے… میں ایک اچھا خاصہ بڑا ملک اپنی آزادی کے ساتھ سانس لے سکتا ہے۔ اس لیے ڈرتے کیوں ہو—‘
لیکن شاید تھاپڑ کے سمجھانے کے باوجود یہ ڈر ہم مسلمانوں کا حصہ تھا— اسی ڈر کے سائے میں ہماری پرورش ہوئی تھی— اور اسی ڈر کو لیے ہم بڑے ہوئے تھے۔ اور پھر اسی ڈر کے ساتھ ہمارے بچے بھی بڑے ہونے لگے—
’ایک بات میری سمجھ میں کبھی نہیں آئی… ؟‘ رباب کچھ سوچتی ہوئی ٹھہر گئی۔
’کیا … کون سی بات…؟‘
’کیا لوگ سچ مچ مسلمان ہوتے ہیں، لادن سے اس قصاب تک…؟‘
’کیوں—؟‘
’اب لادن یا ظواہری کو ہی لیجئے— اتنا نورانی چہرہ— مذہب کی باتیں— لیکن کیا اُنہیں اس بات کا پتہ نہیں تھا کہ ان خونی واقعات کے ری ایکشن کیا ہوسکتے ہیں؟‘
’سب پتہ ہے—‘
’کیا انہیں پتہ نہیں کہ وہ اسلام کی غلط تصویر پیش کر رہے ہیں—؟‘
’بالکل پتہ ہے—‘
رباب ابھی بھی سوچ میں ڈوبی تھی— ’یا جہاد کے نام پر… وہ سارے مسلمانوں کے آگے ایک سوالیہ نشان لگا رہے ہیں—؟‘
کیا تم انہیں اب بھی مسلمان سمجھتی ہو؟ ‘ اس بار میں نے تھاپڑ کا لہجہ اختیار کیا تھا—
’کیوں—؟‘
’مسلمان نام ہونے سے کوئی مسلمان ہو جاتا ہے۔؟‘
’نہیں— لیکن دوسروں تک پیغام…‘
’یہ دوسرے کون ہیں؟‘ مجھے سارترے کی یاد آ گئی تھی—
’پتہ نہیں—‘
’دوسروں پر یقین مت رکھو۔ لادن بش کی فیکٹری میں پیدا ہوا اور قصاب بھی اسی فیکٹری سے نکلا ہے— اس فیکٹری کا نام امریکہ ہے— پاکستان تو صرف ایک Puppet کا رول ادا کر رہا ہے… تمہیں وہ مضمون پڑھایا تھا نا رباب— ارون دھتی رائے کا… یاد ہے… ایک دن امریکی فوج پاکستان اور ہندستان کی سڑکوں پر مارچ کر رہی ہو گی اور سارے بڑے نیتا قید خانے میں ہوں گے…‘
’ہاں—‘
’انڈیا شائننگ کے بہلاوے میں، خواب دیکھنے والے یہ ملک امریکی غلام ہیں— اور یہ خواب بھی امریکی پارسل میں بند آیا ہے۔ بس خوش ہوتے رہو— کمان تو ہمارے ہاتھ میں ہے۔ جب مرضی ہو گی دو ملکوں کو لڑا دیں گے— اور شاید اس وقت یہی ہو رہا ہے—‘
رباب نے پلٹ کر میری طرف دیکھا—
’ایک بات کہوں— ان حادثات کے بعد اپنا ملک پرایا لگتا ہے مجھے … جیسے ایک پرائے دیس میں ہوں۔ اس ملک سے اپنا حق کھو چکی ہوں— چاروں طرف سے اٹھنے والی شک کی سوئیاں رہ گئی ہیں— ہم باہر نکلتے ہیں تو جیسے چبھتی ہوئی آنکھیں ہوتی ہیں— وہ رہی مسلمان عورت… پردے اور حجاب کو بھی شک کے دائرے میں دیکھنے والے لوگ ہیں— صرف ان کچھ لوگوں کی وجہ سے— جو مسلمان بن کر آتے ہیں۔ اسلامی نام کا سہارا لیتے ہیں۔ اسلامی لباس پہنتے ہیں۔ اور جہاد کے نام پر ہمارا سرشرم سے جھکا دیتے ہیں۔ ایسے میں ہم اپنے غیر مسلم دوستوںسے چھپتے پھرتے ہیں۔ سنو نا…؟ وہ میری آنکھوں میں جھانک رہی تھی۔ اتنے عرب ممالک ہیں۔ اتنے سارے مسلمان— کوئی یہ آواز کیوں نہیں اٹھاتا…‘
’کیسی آواز—؟‘
’کہ یہ آتنک وادی اپنے نام بدلیں— اور خدا کے لیے خود کو مسلمان نہ کہیں—‘
میرے چہرے پر ایک زہریلی مسکراہٹ تھی— ’یہ جن آقاؤں کے اشارے پر ہو رہا ہے، وہ یہی چاہتے ہیں کہ رباب— اور یہ بکے ہوئے کتّے اس معاملے میں صرف زر خرید غلام ہیں۔ اس سے زیادہ ان کی اوقات نہیں ہے—‘
’شاید تم سچ کہتے ہو…‘
رباب کے چہرے پر ایک لہر آئی تھی— اب اس کا چہرہ سیاہ بدلیوں سے باہر آیا تھا—
’کوئی اسامہ سے بھی تو غلط کام لے سکتا ہے؟‘
ڈھن… ڈھن…
اچانک میں چونک گیا تھا۔ ایک ساتھ ہزاروں میزائلیں چھوٹ گئی تھیں۔ جانے کہاں ہو گا؟ پیسے ہوں گے یا نہیں۔ یا مجبوریاں… لیکن جانتی ہوں اپنے بیٹے کو… پریشان مت ہو…‘
گیلی آنکھیں پوچھتی ہوئی وہ پھر میری طرف مڑی— ’پھر بھی— ایک بات کہوں؟‘
’بولو نا—‘ 
’اسے تلاش کرو— اب بہت ہو گیا۔ تلاش کرو اسے—
’تم کہو تو میں بھی…‘
میں صوفے سے اٹھ کھڑا ہوا تھا…
’کہیں سے تو کچھ معلوم ہو— دو مہینے اس کی گمشدگی ہم نے چھپا کر رکھی— کیا ہوا —کچھ نہیں ہوا— اب ہمت سے کام لو— پتہ لگاؤ اس کا—‘
’تمہارا مطلب ہے پولیس میں رپورٹ…؟
’کیوں نہیں—‘
’وہ پوچھیں گے کہ تمہارا بیٹا کب سے غائب ہے…؟‘
’تو سچ بتا دینا…‘
’کیا سچ بتاؤں گا—‘
’تمہارے پاس وہ خط ہے نا… وہ خط آج کے ایک وفادار اور ستائے ہوئے مسلم نوجوان کی آپ بیتی ہے کہ آپ کے اس سسٹم میں نہیں جی سکتے—‘
’اور تمہارا مطلب ہے وہ اس سچ کو مان لیں گے؟‘
’انہیں ماننا ہو گا— اور جیسا کہ آپ بھی کہتے ہیں… ہر دہشت گرد مسلمان ہوتا ہے لیکن ہر مسلمان دہشت گرد نہیں ہوتا—‘
’دہشت گرد تو راشد، منیر اور علوی بھی نہیں تھے—‘
’جانتی ہوں— ان کے ساتھ اُن کا نصیب تھا۔ میرے بیٹے کا نصیب ایسا نہیں ہو گا—‘
میں رباب کے اس مکالمے پر چونک گیا تھا— اس کے چہرے پر ایک انوکھی تازگی تھی—
’جانتے ہو، آج میں نے اس کے لیے کچھ لکھا ہے۔ چند بے معنی لفظ— یونہی اس کی یاد میں کاغذ پر اتار دیئے۔ بس، اس کی یادیں اوجھل ہی نہیں ہوتیں۔ ٹھہرو تمہیں دکھاتی ہوں…
دوڑ کر بیڈ روم سے وہ ایک ڈائری لے آئی—
’پڑھو نا… یہ میرے بچے کے لیے ہے— شاید ٹھیک طرح میں اپنے احساس کو لکھ بھی نہیں پائی— لیکن اب اپنے بیٹے سے گفتگو کا ایک ذریعہ مل گیا ہے مجھے—‘
ڈائری اس نے میری طرف بڑھا دی— میں نے ایک لمحہ کے لیے رباب کی طرف دیکھا— پھر میری نظر ڈائری میں تحریر کیے گئے  لفظوں پر تیرنے لگی—
میرے بچے—
میرے اسامہ
میرے چھوٹے ننھے پاشا/
ایک دن ہم دونوں وان گاگ کی پینٹنگس دیکھ رہے تھے…
یاد ہے تمہیں؟
کمپیوٹر اسکرین پر/
گوگل سرچ میں/ یاد ہے نا تمہیں…
جہاں کینواس پر برش اور رنگوں کے تصور سے 
اس نے روک لیا تھا… ہوا کو…
ایک جھل مل، شفاف جسم کے درمیان…
یاد ہے نا… تمہیں؟

میرے بیٹے۔
ٹھیک ویسے ہی
میں نے روک لیا ہے وقت کو
فریز کر دیا ہے/
تمہارے لیے / اور تمہاری یادوں کے نام پر/
کہ تمہاری موجودگی/ میرے لیے
موسیقی کا سب سے حسین راگ
اور دنیا کی سب سے حسین خوشبو بن جاتی تھی/
تمہاری روشن آنکھیں میرے لیے ایک خوابوں کا جزیرہ
اور تمہاری معصوم بانہیں
میرے لیے کائنات کا سب سے حسین منظر/
میرے بیٹے
میرے اسامہ
میں ان لمحوں کو کھونا نہیں چاہتی …/
اپنے اندر رکھنا چاہتی ہوں/
زندہ /ہمیشہ/
سب سے چھپا کر
ہوا، خوشبو ، تتلی، لہریں اور قدرت سے بھی/
تمہارے معصوم ہاتھوں کی چھون یا لمس کو
میں گزرے وقت کی تاریخ نہیں بنانا چاہتی
بس، زندہ رکھنا چاہتی ہوں/
ہمیشہ کے لیے اپنے اندر/
وان گاگ کی اس پینٹنگ کی طرح‘

اور حقیقت یہ ہے کہ میری آنکھوں میں آنسو تھے۔ میں سب بھول گیا تھا۔ اس ایک لمحے رباب میرے لیے دنیا کی سب سے مضبوط عورت اور ایک پیاری سی محبوبہ بن گئی تھی۔ میں سب کچھ بھول گیا تھا— رباب میری بانہوں میں تھی۔ میرے ہونٹ سونامی بن گئے تھے— اس منظر میں ہم وان گاگ کی نایاب پینٹنگس سے آگے نکل گئے تھے— چہرہ آنسوؤں سے تر مگر ایک دوسرے کے بوسے میں گم…
آنکھوں کے ذرا سے فاصلے پر آنکھیں…
کانپتی ہتھیلیاں مدتوں بعد اس کے گلابی جسم کی پشت پر رقص کرتی ہوئی—
ہونٹ، ہونٹ پر سجدہ کرتے ہوئے…
اور اس ایک لمحے سب کچھ بھول کر ہم نے خود کو جسم کی بے کراں موجوں کے حوالے کر دیا…
اور اس ایک لمحے میں بھی احساس کی ہر طرح کی سیپیاں ہمارے پاس موجود تھیں۔ آنسو، برہنہ احساس، سنامی، محبت اور ایک دوسرے میں بہہ جانے کا موسم…
میں شاید اسے چومتے ہوئے آہستہ آہستہ بڑبڑا رہا تھا…
رباب…
میری رباب…
تیرے ہر راگ میں 
جسم کے ساز میں
عمر بہتی رہی…
میں بھی بہتا رہا۔
مجھے اس کا غم نہیں کہ عمر کے کسی نازک پڑاؤ پر کوئی اور بھی لہر تھی، جو مجھ سے ٹکرائی تھی— اور اس حد تک ٹکرائی تھی کہ مجھے بے خود کر گئی تھی۔ آنکھوں میں کہیں صوفیہ کی تصویر ابھرتی ہے…
رباب کے ہونٹوں کو چومتا ہوا ایک سیلابی ندی سی کیفیت مجھ پر حاوی تھی… ہونٹ لرز رہے تھے…
کانپتی لرزتی ہتھیلیوں میں سانپ روشن تھے…
مریم ، سیتا، خدیجہ… رابعہ … ایسی ہزاروں کہانیوں سے الگ… میں نے ہر رنگ تم میں دیکھ لیا— ہر ایک سانسوں میں تمہیں جی لیا— تم ہر بار پہلے سے بڑی ہوتی رہی میرے لیے— اور میں ہر بار چھوٹا اور چھوٹا ہوتا گیا…
’پاگل ہو تم— پورے پاگل ہو تم…‘
ایک برہنہ ندی میری بانہوں میں انگڑائیاں لے رہی تھی۔
’تمہارے لیے تو فرشتے بھی سو راستے بھول جائیں میری جان…‘
ندی میں ہلچل تھی—
لہریں راگ ، نشہ اور سنامی بن گئی تھیں—
لہریں گرج رہی تھیں— برس رہی تھیں…
رباب میری بانہوں میں گم تھی…
ہلچل رک گئی تھی—
ندی اب شانت تھی…
میرے سینے پر سر رکھے وہ لمبی لمبی سانسیں لے رہی تھی…
’سنو… اب لے آؤ اسے— بہت دیکھنے کا من کرتا ہے— اسے لے آؤ نا…‘
’ہونہہ—‘
’اب تلاش کرو اسے— ‘ اس کی آنکھیں ٹی وی اسکرین کے ان خونی مناظر میں گم تھیں—
’سنو نا… کچھ لوگ ایک بُرے مقصد کے لیے … ہاں ، ایک بُرے ارادے اور برے مقصد کے لیے کسی بھی حد تک چلے جاتے ہیں۔ ایک چیلنج کو لے کر ، جو یقیناً ایک برے کام کے لیے ہوتا ہے— سمجھ رہے ہونا میری بات…‘
’ہونہہ…‘
تو پھر ہم ایک اچھے مقصد کے لیے… ایک چیلنج قبول کیوں نہیں کرسکتے؟
اب لے آؤ، بیٹے کو— اب رہا نہیں جاتا— صبر کی حدیں ختم ہو گئی ہیں… تلاش کرو اُسے—‘
آسمان پر جھلملاتے تاروں کا رقص جاری تھا— 
میرے لیے ابھی بھی یہ سوچ پانا مشکل تھا کہ میں اسامہ کی تلاش کہاں سے شروع کروں—
لیکن اب میں نے اُسے تلاش کرنے کا ارادہ کر لیا تھا—
یہ  تلاش ہی میری زندگی کا واحد مقصد تھا—
٭٭٭





سراغ
(2008-2010)







 (1)

تین مہینے کے اندر بٹلہ ہاؤس اور انسپکٹر ورما کا معاملہ اتنا طول پکڑ گیا تھا کہ میڈیا اور پولیس کے پسینے چھوٹ گئے تھے— ایک طرف ورما کو سچا دیش بھکت اور شہید بتانے والوں کا ایک بڑا طبقہ سامنے آیا تھا۔ ان کی نظر میں ایسے لوگ دیش دروہی تھے جو ورما کی شہادت کو ماننے کے لیے تیار نہیں تھے۔ وہیں ثبوت اور گواہوں کی غیر موجودگی میں سیاست کے ایوانوں سے لے کر میڈیا صحافی، دانشور اور کتنے ہی رنگ کرمی ایسے تھے جو ابھی بھی اس پورے حادثے کو فرضی انکاؤنٹر تسلیم کر رہے تھے— پولیس بوکھلا گئی تھی— اور اس کا نتیجہ تھا کہ جب تین مہینے بعد اسامہ کی گمشدگی کی اف آئی آر درج کرانے میں تھاپڑ کے ساتھ تھانے پہنچا تو اس ایچ او نے اف آئی آر درج کرنے سے صاف منع کر دیا—
اس درمیان ایک نیشنل ڈیلی اخبار میں اسامہ کو لے کر تھاپڑ کی ایک چونکا دینے والی رپورٹ شائع ہوئی—
’اس سسٹم میں کھوٹ ہے— مسلم نوجوان اپنے گھروں سے بھاگ رہے ہیں—‘
یہ رپورٹ اسامہ کو لے کر تھی— لیکن رپورٹ میں ایسے کئی بچوں کے نام لکھے گئے تھے جو گھر سے فرار تھے۔ انہیں سسٹم کا اژدہا نگل گیا تھا۔ ایسے کئی نوجوان تھے جنہوں نے ذلت اور مایوسی میں خودکشی کر لی تھی— بٹلہ ہاؤس انکاؤنٹر کے بعد تھاپڑ نے ان نو جوانوں کا ذکر بھی کیا تھا جن کو حال فی الحال میں نوکری ملی تھی مگر مسلمان ہونے کے نام پر کوئی نہ کوئی بہانہ بنا کر انہیں نوکری سے نکال دیا گیا— تھاپڑ نے آگے لکھا تھا۔ دار السلطنت دلّی میں آئے دن دوسرے شہروں اور گاؤں سے تعلیم حاصل کرنے یا روزگار کی تلاش میں مسلم نوجوان آتے رہتے ہیں۔ لیکن عام طور پر کرائے کے فلیٹ کے لیے ان مسلم نوجوانوں کو زبردست جھٹکے لگتے ہیں۔ کیونکہ کوئی بھی مکان مالک مسلمانوں کو اپنا مکان کرائے دار کے طور پر نہیں دینا چاہتا۔ یہاں تک کہ بہت سے مسلم جوڑے بھی کرائے کے مکان کی تلاش میں در در کی ٹھوکریں کھاتے رہتے ہیں— جس ملک میں عمران خاں اور جاوید اختر صاحب جیسے سے لی بریٹی کو مسلمان ہونے کے نام پر فلیٹ ملنا مشکل ہو وہاں ایک عام مسلمان کی بساط ہی کیا ہے؟
رپورٹ میں 16 سال کے اسامہ اور اس کے مستقبل کو لے کر اندیشہ ظاہر کیا گیا تھا— اس رپورٹ کا آنا تھا کہ اس کی گونج راجیہ سبھا سے سنسد کے گلیاروں میں بھی ہوئی— اردو  اخباروں کے ساتھ ہندی اور انگریزی کے اخباروں نے بھی مسلم بچوں کی گمشدگی کا معاملہ اچھالا اور یہ تشویش بھی ظاہر کی کہ پولیس ان مفرور بچوں کو دہشت پسندی کی آنکھ سے نہ دیکھے—
اب یہ معاملہ میڈیا تک پہنچ گیا تھا—
اس دن شام میں تھاپڑ کی موجودگی میں ایک بڑے نیشنل چینل سے فون آ گیا—
’کیا آپ ہمارے اسٹوڈیو آسکتے ہیں— ہم اسامہ کی کہانی کو ہائی لائٹ کرنا چاہتے ہیں—‘
’مبارک ہو—‘
تھاپڑ نے ہاتھ ہلاتے ہوئے کہا— میں یہی چاہتا تھا کہ میڈیا تک یہ خبر جائے— اس سے اسامہ کی تلاش میں مدد ملے گی۔ اس کی تصویر فلیش کی جائے گی اور یہ چینلس چھوٹے چھوٹے گاؤں اور قصبوں تک پہنچتے ہیں۔‘
بہت دنوں بعد میں نے رباب کے چہرے پر ایک ہلکی سی مسکراہٹ دیکھی تھی—
لیکن میں چینل پر اس مدعے کو اٹھانے سے خوش نہیں تھا— تھاپڑ میرے چہرے کے رنگ پڑھ رہا تھا—
’کیا بات ہے… تم کچھ الجھن میں لگ رہے ہو؟‘
’ہاں—‘
’میڈیا میں بات چلی جائے گی اس لیے—‘
’میڈیا میں بات تو جا ہی چکی ہے—‘
’پھر—؟‘
میں نے رباب کی طرف دیکھا— پھر تھاپڑ کے چہرے کا جائزہ لیا— مجھے لگتا ہے اس سے اسامہ کی مشکلیں بڑھ جائیں گی…‘
تھاپڑ گہری سوچ میں تھا—
میں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا— ’چینل میں آنے کا مطلب ہے وہ بہت جلد لوگوں کی آنکھوں میں آسکتا ہے۔ لیکن غلط لوگ بھی تو اس کا استعمال کرسکتے ہیں۔‘
’غلط لوگ—؟‘
’ہاں— جو اس کا سراغ پاتے ہی اسے مشکلوں میں بھی ڈال سکتے ہیں۔‘
’کہیں نہ کہیں ایک رسک تو اٹھانا ہو گا—‘ تھاپڑ رباب کی آنکھوں میں دیکھ رہا تھا— ’اور مجھے لگتا ہے تمہیں یہ رسک قبول کرنا چاہیے۔ ممکن ہے اس سے اسامہ کی واپسی میں آسانی ہو—‘
میں نے گہرے شک اور اندیشے کے باوجود تھاپر کی بات تسلیم کرلی تھی۔
٭٭
بریکنگ نیوز کی سرخی تھی— تیزی سے گم ہوتے جا رہے ہیں مسلم نوجوان۔
اسٹوڈیو پہنچے اور میک اپ کے بعد اینکر نے کچھ دیر تک ہم دونوں سے بات چیت کی۔ اس پروگرام کی حیثیت لائیو نہیں تھی— گھریلو البم سے اسامہ کی تصویریں پہلے ہی کیمرہ مین کے حوالے کی جاچکی تھیں— آدھے گھنٹے کے اس پروگرام میں اسامہ کے تعلق سے اینکر نے مسلم نوجوانوں کے دوسرے مسائل کو بھی اٹھانے کی کوشش کی تھی— اسامہ کے خط کو خاص طور پر ہائی لائٹ کیا گیا تھا—
’یہ آج کے مسلم یووا ہیں جو خود کو اس سسٹم میں آسورکچھت محسوس کرتے ہیں۔
کون لے گا اس کی ذمہ داری—؟
کیا سرکار سب کچھ دیکھتے ہوئے بھی خاموش رہے گی—؟ ٹی وی اسکرین پر بار بار اسامہ کی تصویر فلیش ہو رہی تھی… اس 16 سال کے نوجوان کو دیکھیے۔ یہ آپ کا بیٹا بھی ہوسکتا ہے— بھائی بھی— آپ کے اسکول میں پڑھنے والا ساتھی بھی— لیکن یہ بچہ صرف اس لیے اپنا گھر چھوڑ دیتا ہے کہ یہ اس سسٹم سے خوش نہیں ہے— وہ سسٹم جہاں مسلمانوں کو شک کی درشٹی سے دیکھا جاتا ہے۔ وہ سسٹم جہاں مسلمانوں کے لباسوں پر انگلیاں اٹھتی ہیں۔ وہ سسٹم جو نوجوان مسلمانوں کو داڑھی اور ٹوپی میں نہیں دیکھ سکتا— وہ سسٹم جہاں دہشت گردی اور آتنکی ہر کارروائی کے پیچھے مسلم نوجوان خود کو شک کے گھیرے میں محسوس کر رہے ہیں۔ سیکوریٹی پولیس ان کی تلاشیاں لیتی ہے— ان کے اسکول کے ساتھی تک اُنہیں شک کی نظروں سے دیکھتے ہیں اور پھر ایک دن بے بس ہو کر اسامہ جیسے نوجوان اپنے گھر سے بھاگ کھڑے ہوتے ہیں—‘
کرسی پر بیٹھی رباب بیحد سنجیدہ لگ رہی تھی۔ اس کی آنکھوں میں نمی محسوس کی جاسکتی تھی۔
’دہشت پسندی کا ہر واقعہ مسلمانوں سے جوڑ دیا جاتا ہے— ہر مسلمان دہشت گرد نہیں ہے، کہنے والے بھی مسلمانوں کو شک کی نظروں سے ہی دیکھتے ہیں۔ کسی بھی دھماکے یا حادثے کے بعد سب سے پہلا شک مسلمانوں پر ہی جاتا ہے۔
کیا مسلمان یہاں خود کو محفوظ سمجھتے ہیں؟
کیا وہ خود کو مین اسٹریم سے کٹا ہوا سمجھتے ہیں—؟ اگر اس کا جواب ہاں میں ہے تو اس کا ذمہ دار کون ہے—
مسلم نوجوانوں کا اصل خوف کیا ہے؟
کیوں تیزی سے گم ہوتے جا رہے ہیں مسلم نوجوان—؟
کیمرہ اسامہ کی تصویریں فلیش کر رہا تھا۔
اس تصویر کو دیکھیے…
غور سے دیکھیے—
اینکر زور زور سے سے جذباتی لہجے میں بول رہا تھا— ’ہمارے اس کمزور سسٹم میں آج کے مسلم نوجوان خود کو غیر محفوظ سمجھنے کے جذبے میں گھرے ہوئے ہیں۔ کچھ اس سسٹم سے گھبرا کر خودکشی کر لیتے ہیں اور کچھ اتنے بے بس ہو جاتے ہیں کہ گھر سے بھاگ کھڑے ہوتے ہیں۔
اسامہ پاشا—
عمر 16 سال
رہائش- دلکشا انکلیو، بٹلہ ہاؤس…
اینکر بار بار اسامہ کی تصویر ہائی لائٹ کرتا ہوا چیخ رہا تھا— ان نوجوانوں کو سمجھنے کی ضرورت ہے— ان نوجوانوں کو انکا حق دینے کی ضرورت ہے— اور جو نوجوان کسی بھی وجہ سے گم ہو گئے ہیں، انہیں تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔
دھماکوں میں گرفتار بہت سے معصوم مسلمان نوجوانوں کی رہائی اب تک نہیں ہو پائی ہے— اب تک کتنے ہی نوجوان ایسے ہیں جنھیں غیر قانونی طور پر حراست میں رکھا گیا ہے اور ان پر اذیتوں کے پہاڑ توڑے گئے— کتنے ہی نوجوان آج بھی ناکردہ جرم کے لیے سلاخوں کے پیچھے ہیں۔
اسکرین پر ایسے نوجوانوں کی تصویریں دکھائی جا رہی تھیں۔
یہ حیدر آباد کا شیخ سمیع ہے— 2006 ء ناندیڑ بم دھماکوں کے دوران پکڑا گیا۔ لیکن اس کا جرم ابھی تک ثابت نہیں ہو پایا۔
محمد قادر— پولیس نے اعظم گڑھ سے اٹھایا اور جیل میں بند کر دیا۔ ثبوت ناکافی—
محمد ابراہیم — حلف نامے میں اس بات کا اعتراف کیا کہ پولس نے اسے جبراً پھنسایا ہے۔ بم دھماکے میں گرفتار نوجوان کو وہ بالکل بھی نہیں جانتا۔ پولیس اسے مختلف جگہ اور مختلف لباس میں لے گئی۔ الگ الگ اس کے بیانات لیے گئے۔ جبراً نئے لباس پہنائے گئے اور ڈی وی ڈی رکارڈنگ کی گئی— اب پولیس اسے پریشان کر رہی ہے کہ اگر اس نے بیان بدلا تو اس کے گھر والوں کا جینا مشکل ہو جائے گا—
ایسے ایک دو نہیں ہزاروں نام ہیں۔ جنہیں پولیس صرف مسلمان ہونے کے نام پر پریشان کر رہی ہے۔ کچھ ملزمین کی کہانیاں بھی کافی دردناک ہیں۔ ہمارے پاس وی ڈی اور ٹیپ تو ہیں لیکن ہم وہ تصویریں آپ کو نہیں دکھا سکتے۔
ملزم کو ایک خاص قسم کے ساؤنڈ پروف کمرے میں لے جایا جاتا ہے۔ جہاں سے اس کی آواز باہر نہیں جاسکتی۔ ملزم کے سارے کپڑے اتار کر برہنہ زمین پر بٹھا دیا جاتا ہے— ایک پولیس والا ملزم کے پیچھے کھڑے ہو کر خود کے دونوں پیر ملزم کے ہاتھوں کے بیچ ڈال دیتا — اب ملزم کے دونوں پیر مخالف سمت میں پھیلائے جاتے ہیں— یہاں تک کہ دونوں پیر دائیں بائیں بالکل سیدھے ہو جاتے ہیں۔ جو 180 ڈگری کا زاویہ بناتے ہیں— کبھی کبھی اور زیادہ پھیلا دیا جاتا ہے تکلیف کی وجہ سے ملزم پوری طاقت لگا کر چیختا ہے۔ مگر اس کی آواز ساؤنڈ پر وف کمرے میں دب کر رہ جاتی ہے۔ اس ٹارچر کی وجہ سے خون کا پیشاب کئی دنوں تک جاری رہتا ہے۔
ملزم کے چہرے پر ایک نقاب ڈال کر خاص قسم کی گیس چھوڑی جاتی ہے جس کی وجہ سے پورے بدن میں سوجن ہو جاتی ہے— اب اگر اس کے بدن کے کسی بھی حصہ کو ذرا بھی دبایا جائے  تو ملزم تکلیف سے چلا اٹھتا ہے اور ایک مخصوص تیل جیسے سوزیہ پر کاش تیل کہتے ہو ناک میں ڈال دیا جاتا ہے۔ پولیس اذیت ناک حد تک ملزمین کو ناکردہ گناہ قبول کرنے کے لیے مجبور کرتی ہے—
اینکر ایک بار پھر اسامہ کی کہانی کی طرف لوٹ آیا تھا— اب وہ رباب سے مخاطب تھا۔
’تین مہینے… تین کم نہیں ہوتے— آپ نے ان تین مہینوں میں اسے تلاش کرنے کی کوشش نہیں کی —؟‘
جواب میں نے دیا—
’کوشش کی— جس حد تک کوشش کرسکتا تھا۔‘
’پھر پولیس کے پاس کیوں نہیں گئے؟‘
’اندیشہ تھا کہ میرے معصوم بچے میں پولیس کوئی دہشت گرد نہ ڈھونڈنے لگے—‘
’پولیس اس طرح کسی عام آدمی کو تو آتنکی نہیں ٹھہراتی—؟‘
’ہاں— اگر وہ عام آدمی اکثریت کا ہے تو—!‘
’اس کا مطلب اگر آپ مائنریٹی میں ہیں‘ تو پولیس آپ پر شک کرتی ہے—؟‘
اینکر اسکرین کی طرف دیکھتا ہوا گرج رہا تھا—
’یہ ہے ہماری آج کی سیاست کا چہرہ— اس چہرے نے آج عام مسلمانوں کو بھی شک کے گھیرے میں ڈال دیا ہے۔ ہمارے بچوں کو گھر پہنچنے میں ذرا بھی تاخیر ہوتی ہے تو ماں باپ پریشان ہو جاتے ہیں۔ لیکن یہاں معاملہ مختلف ہے— اپنے بچے سے بے حد پیار کرنے والے ارشد پاشا بیٹے کی گمشدگی کے بعد بھی پولیس تک اس لیے نہیں جا پائے کہ پولیس ان کے بیٹے پر شک کرسکتی ہے— ناکردہ جرم کے لیے جبراً اقبالیہ بیان لے کر اسے جیل میں ڈال سکتی ہے۔ اذیت دے سکتی ہے— یہ ہمارے ملک میں کیا ہو رہا ہے— یہ گاندھی کے سپنوں کا بھارت تو بالکل نہیں ہے۔‘
’تین مہینے بعد کیا آپ نے بچے کے گمشدگی کی رپورٹ درج کرائی؟‘
’ہاں— میں تھانے گیا تھا— ایس ایچ او سے بھی ملا تھا مگر ایف آئی آر درج نہیں ہوسکی۔‘
’کیوں؟ پولیس نے ایف آئی آر درج کرنے سے منع کر دیا؟‘
’ہاں—‘
’اس کی وجہ؟‘
’پولیس بٹلہ ہاؤس انکاؤنٹر کے معاملے میں الجھنا نہیں چاہتی تھی—‘
’لیکن اسامہ کا تو کوئی تعلق اس معاملہ سے نہیں تھا۔‘
’وہاں کے دوسرے نوجوانوں کا بھی نہیں تھا— لیکن پولیس کے شک کی سوئیوں میں کب کون آ جائے یہ کہا نہیں جاسکتا۔‘
اینکر ایک بار پھر زور زور سے بول رہا تھا۔
’یہ ہے آج کے مسلمانوں کا چہرہ— یہ ملک ان کا ہوتے ہوئے بھی جیسے ان کا نہیں رہ گیا ہے۔ پولیس ایف آئی آر درج کرتے ہوئے اپنے ہاتھ کھڑے کر دیتی ہے۔ کہاں جائیں یہ مسلمان؟ بٹلہ ہاؤس کے معاملے میں عام مسلمان کچھ بھی اس لیے بولنا نہیں چاہتا کہ اس کی برسوں کی ایمانداری اور وفاداری پر سوالیہ نشان لگ سکتے ہیں— خلاف بولنے پر یہ معاملہ کہیں نہ کہیں عدلیہ اور انصاف کے خلاف بھی چلا جاتا ہے۔ ایک بڑا طبقہ ایسے بیانات کو گمراہ کرنے والا اور دیش دروہ سے جوڑ کر دیکھتا ہے۔ سوال ہے ان سہمے ہوئے مسلمانوں کو اظہار رائے کی آزادی کیوں نہیں حاصل ہے۔ ایک آزاد ملک میں جہاں جمہوریت کی قدم قدم پر دہائی دی جاتی ہے، یہ سب کب تک چلتا رہے گا۔ کب تک اس سسٹم سے گھبرا کر معصوم اسامہ اپنے گھر سے بھاگتے رہیں گے۔ کب تک پولیس ان اساماؤں کی گمشدگی کی رپورٹ درج نہیں کرے گی۔
’کب تک—؟‘
’کب تک—؟‘
٭٭
آدھے گھنٹے کے اس پروگرام کو چینل نے کئی بار دکھایا۔ وہاں سے لوٹتے ہوئے ہمارے قدم خاموش تھے— دونوں میں سے کوئی کچھ نہیں بولا۔ گھر آنے کے بعد رباب کچھ دیر کے لیے اپنے کمرے میں بند ہو گئی۔
دو گھنٹے کے بعد دروازہ کھلا تو اس کی آنکھیں سوجی ہوئی تھیں۔ شاید وہ دیر تک روتی رہی تھی— پروگرام کے درمیان بھی بیٹے کا ذکر کرتے ہوئے اس کی آنکھیں کئی موقعوں پر چھلک آئی تھیں لیکن حتی الامکان اپنے جذبات کو چھپانے کی کوشش کر رہی تھی—
ہم صوفے پر بیٹھے گئے— رباب نے خود کو معمول پر لانے کی کوشش کی تھی—
’تمہیں کیا لگتا ہے—؟‘
’کس بارے میں؟‘
’آج کے پروگرام کے بارے میں۔‘
’یہ پروگرام بھکتی، جیوتش اور ناگ ناگنوں کے پروگرام سے الگ نہیں تھا۔‘
رباب چونک کر بولی—
’تمہیں ایسا کیوں لگا—؟‘
’وہ اسامہ کو بیچنے کی کوشش کر رہے تھے— ایک جذباتی پروگرام جو ایسے چینلس کی ٹی آر پی تو بڑھا سکتا ہے لیکن ہمیں کوئی فائدہ نہیں دے سکتا۔‘
رباب کی آنکھیں گہری سوچ میں گرفتار تھیں—
’آج اسامہ بہت یاد آ رہا ہے—‘
’لیکن مجھے آج کے اس پروگرام نے اداس کر دیا۔ مجھے معلوم تھا، ایسا ہی کچھ ہونے والا ہے اور اس لیے میں وہاں جانے سے منع کر رہا تھا۔ لیکن تھاپڑ کی ضد پر میں وہاں جانے کے لیے راضی ہو گیا— سب کچھ کسی نمائش گاہ یا میلے کی طرح جہاں میرے بیٹے کی بولی چل رہی ہو— میرا جی چاہتا تھا کہ درمیان میں ہی اٹھ کر بھاگ جاؤں—‘
رباب اب بھی گہری نظروں سے میرا جائزہ لے رہی تھی—
’تمہیں ایسا کیوں لگا— جب کہ اینکر مسلمانوں کے مسائل اٹھانے کی کوشش کر رہا تھا…‘
’ہاں— مسلمانوں کے مسائل اٹھانے کی کوشش کر رہا تھا— وہ بھی بے حد جذباتی انداز میں۔ جیسے مسلمان اس ملک کے شہری ہوں ہی نہیں— وہ ابھی ابھی منگول، ازبک، افغانستان کی سرحدوں سے نکل کر ہندوستان آئے ہوں۔‘
’شاید— تم ٹھیک کہتے ہو—‘
’میں یہ نہیں کہتا کہ ہماری باتیں نہیں اٹھائی جائیں۔ ہمارے مسائل پر توجہ نہیں دی جائے۔ مگر میڈیا مسلمانوں کے مسائل جس طرح اٹھاتی ہے، اس سے غیریت کی بو آتی ہے۔ جیسے یہ ملک مسلمانوں کا ہو ہی نہیں— لاش کے جیسے ہوں مسلمان اور انہیں کندھا دینے کی کوشش ہو رہی ہے۔‘
رباب نے حامی بھری— اس کی آنکھیں خلاء میں دیکھ رہی تھیں— آنکھیں ابھی نم آلودہ تھیں۔
میں بس اسامہ کی واپسی چاہتی ہوں۔ وہ آ جائے … کسی بھی طرح وہ آ جائے— اب صبر کی ساری حدیں ٹوٹ چکی ہیں۔ تین مہینے سے زیادہ ہو گیا— پتہ نہیں کہاں اور کس حال میں ہو گا— کیا کر رہا ہو گا— وہ تو گھر میں ایک گلاس پانی بھی خود اٹھ کر ‘ نہیں پیتا تھا۔ اپنا کمرہ بھی نہیں ٹھیک کر تا تھا۔ ابھی تو اس نے زندگی کو قریب سے دیکھا بھی نہیں تھا۔ وہ تو مزدوری کرنے کے لائق بھی نہیں ہے۔ پھر وہ کیسے گزارہ کر رہا ہو گا—‘
میں نے رباب کی طرف دیکھا—
’اللہ کو مانتی ہو نا— بھروسہ کرتی ہو نا— تو بس بھروسہ کرو۔ وہ راستے بناتا ہے۔ معصوم کیڑے مکوڑوں تک کو رزق پہنچاتا ہے، وہی میرے بیٹے کو بھی رزق پہنچائے گا—‘
رباب کی آنکھوں سے آنسو کے قطرے اس کی پلکوں کو بھگو گئے تھے— لیکن اس پروگرام کا ایک فائدہ ہوا— پولیس میں اسامہ کی گمشدگی کی رپورٹ درج کر لی گئی تھی— اور اس پروگرام کے ٹھیک تیسرے دن اسامہ سے ملنے کی ایک موہوم سی امید پیدا ہوئی تھی۔
٭٭



(2)

اس نازک صورتحال میں، اس پر آشوب موسم میں مجھے اکثر اپنے دوست بدر کی یاد آیا کرتی تھی۔ کبھی کبھی بدر کا عکس مجھے اپنے بیٹے میں نظر آتا تھا۔ ان دنوں اسامہ کو میں اکثر بدر کے بارے میں بتایا کرتا۔ ہم کیسے کھیلتے تھے— بدر کیا کیا سوچتا تھا۔ کوئی بھی غلط بات اُسے برداشت نہیں ہوتی تھی۔ اسامہ بدر کی باتیں غور سے سنا کرتا اور اس کیفیت میں اس کے چہرے پر بدر جیسی بغاوت کی جھلک نظر آتی۔
یادیں پریشان کرتیں تو ماضی کے کھنڈرات روشن ہو جاتے— ان میں ایک ساتھ کتنے چہرے موجود ہوتے۔
میں ہر بار ماضی کے ان کھنڈرات میں خود کو گم محسوس کرتا…
رباب مجھے سہارا دینے کی کوشش کرتی—
’میں جانتی ہوں، یادیں تمہیں پریشان کرتی ہیں— پھر ان یادوں کے جنگل میں جاتے ہی کیوں ہو—؟‘
سوچتا ہوں ، کیا جواب دوں رباب کو— شاید کوئی جواب نہیں ہے میرے پاس۔ رباب نے ایک ان جی او کی بات کی تھی جہاں مسلم یتیم بچیوں کی پرورش کی جاتی تھی اور بعد میں یہ ان جی او ان بچیوں کی شادی کا خرچ بھی برداشت کرتا تھا— مسلم آرفین گرلس ایجوکیشن، موگی نام کے ان جی او میں رباب کی دلچسپی تھی— اور وہ اسے جوائن کرنا چاہتی تھی— مجھے یقین تھا، اس طرح وہ خود کو مصروف کر لے گی— اس طرح اس کی پریشانیاں کسی حد تک کم تو ہو ہی جائیں گی—
شام چھ بجے کال بیل کی آواز کے ساتھ ہی میں نے دروازہ کھول دیا—
سامنے ایک نو وارد کھڑا تھا— عمر یہی کوئی چالیس کے آس پاس— پینٹ شرٹ پہنے… سر کے بال ذرا سا اڑے ہوئے—
میں اسے لے کر ڈرائنگ روم میں آ گیا— اس نے بتایا۔
’میرا نام چیتن شرما ہے۔ میں نے آپ کا پروگرام دیکھا— اس دن میں شملہ میں تھا…‘
ٹھہر کر اُس نے میری آنکھوں میں دیکھا— ’میں نے شملہ مال روڈ میں آپ کے بیٹے کو دیکھا ہے— اور مجھے اس کا احساس ہے کہ اس نے بھی مجھے دیکھا تھا—‘
’مطلب—؟‘
’جب میں اس کی طرف بڑھا تو وہ تیزی سے بھاگ کھڑا ہوا۔ دیکھیے— میں بھی بال بچوں والا ہوں— اور اس درد کو قریب سے جانتا ہوں۔‘
’کیا آپ کو لگتا ہے کہ وہ اب بھی وہیں ہو گا—‘
’ہوسکتا ہے—‘
’اس وقت اس کے بدن پر لباس کیسا تھا—؟‘
جہاں تک مجھے یاد ہے کہ وہ جینس اور ٹی شرٹ پہنے تھا— اور جو تصویر ٹی وی پر دکھائی گئی تھی ، اس سے ذرا سا مختلف—‘
’میں سمجھا نہیں—‘
’تصویر میں اس کے چہرے پر ہلکی اُگتی ہوئی داڑھی تھی—‘
’ہاں—‘
’میں نے جس لڑکے کو مال روڈ پر دیکھا وہ کلین شیوڈ تھا— پھر بھی اسے پہچاننے میں مجھے کوئی دقت نہیں ہوئی—‘
یقیناً یہ خبر ہمارے لیے خوشیوں کا نوید لے کر آئی تھی— اسامہ زندہ ہے۔ اس خبر نے ہم میں نئی روح پھونک دی تھی— سب سے زیادہ خوشی رباب کے چہرے پر تھی—
’پھر بیٹھے کیوں ہو— میں بھی چلوں گی شملہ—‘
’نہیں— ممکن ہوا تو کسی کو لے جاؤں گا—‘
’تھاپڑ بھائی سے بات کرو—‘
’اگر تھاپڑ کو فرصت ہوئی تو ہم ساتھ چلیں گے—‘
تھاپڑ ان دنوں اپنے نئے پراجیکٹ کو لے کر مصروف تھا— مگر اسامہ کو دیکھے جانے کی اطلاع نے اسے خوش کر دیا تھا— وہ میرے ساتھ جانے کو تیار ہو گیا تھا— تھاپڑ کے مطابق دلّی سے شملہ کوئی دور نہیں ہے۔ 8-9 گھنٹے کا سفر ہے۔ وہ اپنی گاڑی لے آئے گا— اور ہم رات میں ہی شملہ کے لیے نکل کھڑے ہوں گے تاکہ صبح ہوتے ہی ہم شملہ پہنچ جائیں اور اسامہ کو تلاش کرسکیں— شملہ میں بہت بار جا چکا تھا۔ مگر اس بار کا سفر میرے لیے مختلف تھا—
اس بار ایک موہوم سی امید، لیکن چہرے پر خوشی سے زیادہ فکر کی لکیریں موجود تھیں۔
رات دس بجے ہم نے گھر چھوڑ دیا اور شملہ کے لیے نکل کھڑے ہوئے— گاڑی تھاپڑ ڈرائیو کر رہا تھا—
٭٭
موگی، مسلم آرفین گرلس ایجوکیشن کا قیام 5برس پہلے عمل میں آیا تھا۔ بٹلہ ہاؤس دلکشا انکلیو سے اس کا فاصلہ کچھ زیادہ نہیں تھا۔ پہلے یہ چھوٹی سی عمارت تھی— لیکن جیسے جیسے وقت گزرتا گیا موگی سے ہزاروں نام وابستہ ہوتے چلے گئے— اب یہ بڑی سی عمارت تھی چار منزلہ— چوتھی منزل یتیم لڑکیوں کی رہائش کے طور پر استعمال کی جاتی تھی۔ چوتھے فلور پر پانچ کشادہ کمرے تھے اور ان کی نگرانی شافعہ نام کی ایک واڑدن کے ذمہ تھا۔ پہلا فلور دینی تعلیم کے لیے وقف تھا— دوسرے فلور پر کمپیوٹرس لگے تھے— جہاں ان بچیوں کو تعلیم دی جاتی تھی— تیسرے فلور کو آفس کی شکل دی گئی تھی۔ موگی کے اشتہارات اردو اخباروں میں تو اکثر شائع ہوتے رہے تھے۔ رباب کے لیے یہ ایک نیا تجربہ تھا۔ شروعات کے کچھ دن اسے بچیوں کو دینی تعلیم دینے کے لیے کہا گیا تھا— ساتھ ہی شوق کے مطابق یہ بچیاں رباب سے گھریلو کام کاج کو لے کر بھی مشورہ کرتی تھیں۔ یہ بھی اطلاع ملی تھی کہ جامعہ کے علاقہ میں موگی نے اپنا دائرہ وسیع کرنے کے لیے زمین کا ایک بڑا پلاٹ خریدا ہے۔ یہ بھی خبر ملی تھی کہ اس ان جی او کی کامیابی کی خبر سن کر سعودی ممالک سے بھی فنڈ آنے لگے تھے— صبح ہوتے ہی موگی میں ہلچل بڑھ جاتی۔ لڑکیاں زور شور سے قرآن شریف کی تلاوت کرنے لگتیں—
پہلے دن رباب کو جس لڑکی کی نگرانی دی گئی وہ شمیمہ تھی۔ عمر 16سال، کلکتہ سے ایک لڑکا اسے بھگا کر دلّی لایا تھا— اس کی ماں مر گئی تھی اور اس کا پ ایک نمبر کا عیاش تھا— وہ اپنے باپ کے ساتھ رہتے ہوئے خود کو غیر محفوظ سمجھتی تھی۔ اس لیے جب ذیشان نے اپنی محبت کا اعتراف کیا تو اس نے اس کے ساتھ بھاگنے میں دیر نہیں کی— ذلشان اسے لے کر دلّی تو آ گیا لیکن دلّی آنے کے بعد پیسوں کی مجبوری نے اسے ایک ہی راستہ دکھایا اور اس نے شمیمہ کو جی بی روڈ پر ایک چکلے میں فروخت کر دیا۔ شمیمہ کسی طرح نکل بھاگی اور پولیس اسٹیشن پہنچ گئی— اتفاق سے جس وقت وہ پولیس اسٹیشن آئی، اس وقت ایک کیس کے سلسلے میں ایک بزرگ رضاکار وہاں تشریف فرما تھے۔ انہوں نے شمیمہ کو موگی میں شامل کیے جانے کی سفارش کی— اور اس طرح شمیمہ موگی میں آ گئی۔ شمیمہ کم سخن تھی… زیادہ تر اس کی آنکھیں نم آلودہ ہی رہتیں— اس کی آواز بہت پیاری تھی…
رباب کو یہاں نئی زندگی کا احساس ہو رہا تھا—
٭٭
پہاڑوں کی چڑھائی شروع ہو چکی تھی— پہاڑی، پتھریلے راستے مجھے کبھی پسند نہیں رہے۔ شملہ کی سڑکوں پر چلتے ہوئے اکثر میری سانسیں پھول جایا کرتی تھیں— میں اپنے بیٹے کو تلاش کرنے جا رہا تھا— وہ بیٹا، جو مسلمان ہونے کی سزا کے طور پر گھر سے فرار ہو گیا تھا۔ میرے چہرے پر ایک عجیب سی مسکراہٹ پھیل گئی— میں تھاپڑ کی طرف مڑا—‘
’کتنی عجیب بات ہے تھاپڑ—‘
کہتے کہتے میں ٹھہر گیا تھا۔
’کیا عجیب بات ہے—‘ تھاپڑ نے گاڑی چلاتے ہوئے پوچھا۔
’جب فرنگیوں کی حکومت تھی، اسی شملہ میں مسلمانوں کا وفد پہلی بار آیا تھا— انگریز وائسرائے سے ملنے کے لیے— اپنی مضبوطی کا احساس کرانے کے لیے۔ مسلمانوں کی تاریخ میں یہ پہلا موقع تھا جو شملہ وفد 1906 کے نام سے مشہور ہے۔ مسلم رہنماؤں نے لارڈ منٹو سے ملاقات کی۔ ان میں نواب محسن الملک اور نواب وقار الملک جیسے لوگ بھی شامل تھے۔ تقسیم بنگال کی ہندوؤں نے شدید مخالفت کی تھی اور عدم تعاون کی تحریک شروع کر دی تھی— مسلمان اپنے قانونی حقوق کے تحفظ کے لیے نئے لائحہ عمل پر غور کر رہے تھے۔ اسی لیے یہ وفد انگریز وائسرائے سے ملنے شملہ گیا تاکہ اپنے حقوق اور تحفظ کو یقینی بنایا جاسکے—‘  تھاپڑ نے ایک لمبی سانس لی۔
’ہوں—‘ میں زیر لب مسکرایا— اس وقت بھی مسلمانوں کو اپنے حقوق اور اپنے تحفظ کا خیال آیا تھا۔ سوچتا ہوں اسی احساس نے اسامہ کو گھر چھوڑنے پر مجبور کیا— اور اس کی تلاش میں ہم شملہ جا رہے ہیں۔
آسمان پر چاند روشن تھا— ہائی وے پر گاڑیاں دوڑ رہی تھیں۔ اب گھماؤ دار اور پتھریلے راستے شروع ہو گئے تھے— چاند کی روشنی میں سادہ اور دھلی جگمگاتی پہاڑیوں کے درمیان مکانات کبھی کبھی نظر آ جاتے۔ ہلکی ہلکی ٹھنڈ کا احساس بھی ہونے لگا تھا۔ پہاڑ کے ٹیڑھے میڑھے راستوں کے درمیان گاڑی تیز رفتار سے بھاگ رہی تھی—
’تم پریشان ہو—‘ اسٹیرنگ پر ہاتھ رکھے تھاپڑ نے گھوم کر دیکھا—
’شاید…‘
’سمجھ سکتا ہوں—‘ تھاپڑ کی ہاتھوں کی گرفت اسٹیرنگ پر سخت ہو گئی۔
’پریشان مت ہو— میرا دل کہتا ہے ، اسامہ واپس آ جائے گا—‘
’لیکن ہم اسے تلاش کریں گے کہاں—‘
’مال روڈ، جیسا اس آدمی نے بتایا — ہوسکتا ہے مال روڈ کی کسی دکان میں وہ کام کرتا ہو—‘
’یہ بھی تو ہوسکتا ہے کہ وہ محض گھومنے آیا ہو—‘
تھاپڑ سنجیدہ تھا— گھومنے آنے کی بات میری سمجھ سے پرے ہے۔ کیونکہ اس حال اور کیفیت میں شملہ وہ بھی مال روڈ جیسی جگہ پر گھومنے کی بات کو میرا دل ماننے کے لیے قطعی طور پر تیار نہیں ہے—‘
میں ایک لمحہ کے لیے ٹھہرا—
’اچھا مان لو— اگر وہ وہاں نہیں ملا تو…؟‘
’ہم دو ایک دن وہاں ٹھہریں گے— اور اگر وہ شملہ میں ہی ہے تو ہم پولیس کی مدد بھی لے سکتے ہیں—‘
میں نے تھاپڑ کی طرف گھوم کر دیکھا—
نہیں— میں نے سوچ لیا ہے— اس بار ہم پولیس کی مدد نہیں لیں گے— ہم اسے تلاش کریں گے— وہ نہیں ملا تو واپس لوٹ آئیں گے—‘
آواز، جھینگروں کی آواز کے درمیان گم ہو گئی تھی— اب تک 4-5 گھنٹے گزر چکے تھے۔ میری بے قراری حد سے زیادہ بڑھتی جا رہی تھی۔ لیکن اس بے قراری کے ساتھ ناکامی کا احساس بھی شامل تھا— اگر اسامہ نہیں ملا تو… اس وقت مجھے رباب کا چہرہ یاد آ رہا تھا— یقیناً رباب اس کے نہ ملنے سے بری طرح ٹوٹ جائے گا۔
٭٭
صبح چھ بجے گاڑی شملہ میں داخل ہو چکی تھی—
ہم ایک چھوٹے سے ڈی لکس ہوٹل میں رکے۔ یہ ہوٹل شہر کے بیچوں بیچ تھا۔ یہاں سے مال روڈ کا فاصلہ زیادہ نہیں تھا۔ ہلکے پھلکے ناشتے اور فریش ہونے کے بعد ہم مال روڈ کے لیے نکل گئے۔ گاڑی پارک کی اور لفٹ سے پہاڑ کی اونچائیوں پر بنے مال روڈ پر آ گئے۔ راستے بھر ہماری آنکھیں ہر بچے میں اسامہ کو تلاش کرتی رہی تھیں— مال روڈ کچھ کچھ دلّی کے کناٹ پلیس جیسا ہے— لیکن خوبصورتی کے معاملے میں پہاڑ کی اونچائی پر آباد یہ علاقہ کناٹ پلیس سے حد درجہ حسین نظر آتا تھا۔ اس وقت مال روڈ پر لوگوں کی چہل پہل شروع ہو گئی تھی— لفٹ سے باہر آتے ہی خوبصورت پل نما راستے کو کراس کرتے ہی حسین خوبصورت دکانوں کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو گیا تھا۔ شرٹ کی اوپر والی جیب میں اسامہ کی تصویر میں نے رکھ لی تھی۔ اب یہ تصویر تھاپڑ کے ہاتھوں میں تھی۔ وہ ایک ایک دکان میں جاتا پھر نا امیدی میں واپس آتا— مشکل یہ تھی کہ اب اسامہ کو کہاں تلاش کیا جائے۔
صبح سے شام ہو گئی تھی— مال روڈ پر رنگ برنگے لباسوں میں لڑکے لڑکیوں کی آمد و رفت شروع ہو گئی تھی— شام کے وقت یہاں کبھی کبھی ہلکی ہلکی برفباری بھی شروع ہو جاتی ہے۔ ہم کچھ دیر تک خالی بینچ پر بیٹھ کر صلاح و مشورہ کرتے رہے— کچھ پھیری کرنے والے بھی تھے جو رومال، قلم اور اس طرح کے دوسرے سامانوں کے ساتھ ادھر سے اُدھر گھوم رہے تھے۔ مسئلہ یہ تھا کہ کس سے پوچھا جائے اور کس سے نہیں— اس علاقے میں کچھ خوبصورت پوٹل بھی تھے۔ لیکن اسامہ کو وہاں بھی سب نے پہچاننے سے انکار کر دیا— رات کے 8بجے کے آس پاس ہمیں ایک پھیری والا بوڑھا نظر آیا— اس کے کندھے پر سلے سلائے جینس کے پینٹ تھے۔ داڑھی سفید اور بڑھی ہوئی— سر پر شملہ ٹوپی بھی تھی جو اکثر ہماچلی مرد پہنتے ہوئے فخر محسوس کرتے ہیں۔ میں نے تھاپڑ کو دیکھا جو دوڑتا ہوا اس بوڑھے سے ملنے گیا۔ پھر اس نے اپنی جیب سے اسامہ کی تصویر نکالی— بوڑھے نے غور سے اسامہ کی تصویر دیکھی— اس کے چہرے پر مسکراہٹ تھی۔
’یہ تو بدر ہے…؟‘
’بدر؟‘
’ہاں— اپنا بچہ ہے— پچھلے دو مہینوں سے یہیں تھا— میں نے ہی ایک شاپ میں کام دلوایا تھا— اس نے اشارہ کیا۔ آگے ایک بڑی سی دکان ہے— شملہ ہورائزن… لیکن… پچھلے دو دنوں سے وہ نظر نہیں آیا…‘
بوڑھے کے ساتھ ہم شملہ ہورائزن میں آئے جو کپڑوں کا ایک بڑا سا شو روم تھا۔ وہاں کے مالک نے بتایا کہ دو دن پہلے اس نے کہا کہ وہ اب گھر جا رہا  ہے۔ اچھا بچہ تھا— ہم نے حساب کتاب کر دیا—‘
نا امیدی کے عالم میں، میں اور تھاپڑ بوڑھے کے ساتھ واپس آئے—
وہ رہتا کہاں تھا؟ تھاپڑ نے پوچھا—
بوڑھے نے کچھ سوچ کر کہا— کبھی کبھی تو شو روم میں ہی سوجاتا ۔ کہاں رہتا تھا یہ نہیں معلوم۔ آس پاس ہی رہتا ہو گا—
’اس کا کوئی دوست؟‘
’نہیں— وہ خود میں مگن رہتا تھا— کسی سے زیادہ گھلنا ملنا یا بات کرنا اسے پسند نہیں تھا— بس کبھی کبھی دو چار باتیں مجھ سے ہی کر لیتا—‘
میں نے پوچھا— ’کیا اس نے کبھی اپنے بارے میں کچھ نہیں بتایا؟‘
’نہیں—‘
’… کہ وہ کہاں رہتا ہے؟ کہاں سے آیا ہے؟‘
’نہیں— ہم اتنا ہی جانتے تھے کہ وہ دہلی سے آیا ہے— ‘ بوڑھا کچھ سوچتے ہوئے بولا۔ ’ہاں تین چار دن پہلے یہاں ایک بچہ گر کر زخمی ہو گیا تھا۔ بدر نے ہی اس بچے کو اٹھایا۔ اسپتال لے گیا اور ضرورت پڑنے پر بچے کو خون بھی دیا— اس بچہ کو لے کر بدر بہت پریشان تھا۔ اشیش نام تھا اس بچے کا— ہم اسے دیکھنے اسپتال بھی گئے تھے۔
تھاپڑ نے غور سے بوڑھے کو دیکھا— تم میرے ساتھ اسپتال چل سکتے ہو؟‘
’کوئی فائدہ نہیں— بوڑھے نے کچھ سوچتے ہوئے کہا— دو دن بعد ہی بچے کو وہاں سے چھٹی مل گئی اور اس کے ماں باپ اسے لے کر چلے گئے—‘
’بچے کے ماں باپ کو جانتے ہو؟‘
’نہیں صاحب— بدر جانتا ہو گا— بھگوان جانے کہاں چلا گیا اور کیوں چلا گیا— اچھا بچہ تھا—‘
تھاپڑ نے اپنا آئیڈنٹٹی کارڈ اس کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا— ’اچھا، کبھی اسے دوبارہ دیکھ لو تو ہمیں فون کر دینا—‘
کافی دیر بعد بوڑھے نے پلٹ کر دریافت کیا تھا— ’آپ لوگ کون ہیں صاحب؟‘
تھاپڑ کے بتانے کے بعد بوڑھے کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔
’میں جانتا تھا— ‘ وہ کسی اچھے گھر کا بچہ ہے۔ مگر آپ گھبرائیے مت صاحب۔ اب وہ جیسے ہی نظر آئے گا، میں آپ کو فون کر دوں گا—‘
بوڑھے کے ساتھ ہم اس اسپتال میں بھی گئے— مگر اسامہ کا کچھ پتہ نہیں چلا— وہاں سے ہمیں اشیش کے گھر والوں کا پتہ چلا— اشیش کے والد انجینئر تھے اور وہ مال روڈ سے کچھ فاصلے پر رہتے تھے۔ وہ بہت محبت سے ملے لیکن اسامہ کہاں گیا، انہیں اس کی کوئی خبر نہیں تھی— اشیش ایک پانچ چھ سال کا بچہ تھا— اسے بدر کا نام یاد تھا— اس کے گھر والے بدر کو بھگوان مان رہے تھے— کہ وہ نہیں ہوتا تو جانے بچے کو کیا ہو جاتا—‘
آڑے ترچھے پہاڑی راستوں سے اترتے چڑھتے ہم تھک چکے تھے۔ اب ڈی لکس ہوٹل لوٹنا تھا— دوسرے دن بھی شملہ میں اس کی تلاش جاری رکھنی تھی— اور دوسرے مقامات پر بھی اسے تلاش کرنا تھا—
میں نا امید تھا— لیکن نا امیدی کے گھنے بادلوں کے درمیان اسامہ کے زندہ ہونے کا احساس کہیں نہ کہیں مجھ میں ایک مضبوطی بھر رہا تھا—
٭٭
شملہ سے واپس لوٹتے ہوئے، ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھے تھاپڑ نے میری طرف مڑ کر دیکھا—
تم اس بوڑھے کی آواز ریکارڈ کرنا چاہتے تھے؟
’ہاں—‘
’اور شاید اشیش کے ماں باپ کی بھی—؟‘
’ہاں…‘
’کیونکہ اسامہ نے ایک بچے کو بچایا تھا۔ تم اس پروف کو ریکارڈ کے طور پر رکھنا چاہتے تھے۔ کیا صرف اس لیے کہ اشیش ایک ہندو بچہ تھا—؟
اس بار میں چونک گیا تھا— ’ممکن ہے؟‘
’تم کو ایسا نہیں لگتا کہ اس طرح کی سوچ کی وجہ سے بھی تم مین اسٹریم سے کاٹ دیے گئے ہو—؟‘
میں نے ذرا سا شیشہ کھول دیا تھا— ہوا کے ٹھنڈے جھونکے اس وقت مجھے اچھے لگ رہے تھے…
٭٭



(3)

بٹلہ ہاؤس انکاؤنٹر کو پانچ مہینے گزر گئے تھے۔ ۲۶؍ جنوری کے موقع پر انسپکٹر روی ورما کو حکومت کی طرف سے اس کی بہادری کے لیے موت کے بعد کا خصوصی سرکاری تمغہ دیا گیا— رباب پر یہ خبر بجلی کی طرح گری تھی۔ مگر اب وہ موگی میں مصروف ہو گئی تھی— یہاں اسامہ کی عمر کی کتنی ہی بیٹیاں اُسے مل گئی تھیں— شمیمہ پر تو وہ ضرورت سے زیادہ ہی فدا تھی— اس نے شمیمہ پر ایک نظم لکھی تھی—
’تم ہر بار پت جھڑ کیوں دیکھتی ہو/
مت دیکھو/
تمہاری آنکھوں میں بھی پت جھڑ کے سوکھے پتے ہی نظر آتے ہیں/
ہجرت کے موسم میں بھی/
تم پت جھڑ کے تحفے ہی لائی تھی/
تم ہر دن تھوڑا تھوڑا خود کو تقسیم کرتی رہتی ہو/
مت تقسیم کرو/
اس طرح تم ایک دن کھو جاؤ گی
اپنے ہی پت جھڑ میں/

اس وقت رباب کھڑکی پر تھی— گرمیوں کی شروعات ہو گئی تھی۔ سورج کی شعاعیں آگ برسا رہی تھیں۔ اتنی تیز کہ گوند بن کر اس کے جسم سے چپک رہی تھیں— آہستہ آہستہ وہ اپنی ہی تحریر کو دہرا رہی تھی… تم ہر بار پت جھڑ کیوں دیکھتی ہو…
کمرے میں مکھیاں آ گئی تھیں… بھنبھناتی ہوئی مکھیاں… کھڑکی سے آ کر کمرے میں رینگتی ہوئی… باہر ٹریفک کے شور یہاں تک سنائی دے رہے تھے… وہ کمرے کے سناٹے سے گھبرا کر باہر بالکنی پر آ گئی تھی… لیکن یہاں بھی دل نہیں لگا تو واپس کمرے میں لوٹ گئی— بستر پر لیٹ گئی— ہاتھ چپکے سے سینے پر آ گئے۔ کھلی کھڑکی سے دھوپ کی کرنیں ابھی بھی کمرے میں اتر رہی تھیں… وہ گنگنا رہی تھی…
’مت تقسیم کرو…‘
اس طرح تم ایک دن کھو جاؤ گی…
اپنے ہی پت جھڑ میں/
کھڑکی سے کمرے میں آتی روشنی کی کرنیں سیدھے اس کی آنکھوں پر حملہ کر رہی تھیں۔ رباب نے آنکھیں بند کرلیں— اس کی خواہش ہو رہی تھی… وہ تب تک آنکھیں موندے رہے جب تک کوئی خوشگوار ہوا کا جھونکا اسے گدگدا نہ دے— اسے احساس ہوا، وہ ہوا میں اڑتی ہوئی ایک چھوٹی سی تتلی میں تبدیل ہو گئی ہے۔ تتلی اڑتی ہوئی پھولوں کے ارد گرد گھوم رہی ہے۔ یہ اس کا گھر ہے… رسیاں کھیلتی ہوئی وہ تتلی سے ننھی سی رباب بن گئی ہے۔ وہ ہوا میں اڑ رہی ہے— لیکن تب بھی اس کے چہرے پر غضب کا سکون ہوا کرتا تھا، ایسا اس کے گھر والے بھی کہتے تھے۔ شاید بچپن سے اس سکون کے لیے مشق کی تھی اس نے— تب وہ آنکھیں بند کر لیتی— مٹھیوں کو سختی سے بند کر کے ہاتھ پھیلا دیتی اور دل ہی دل میں کہتی… رباب… تم یہ کرو گی… تم یہ کرسکتی ہو… وہ آنکھیں کھولتی تو دھوپ کی شعاعیں اس کی آنکھوں سے ٹکرا کر اس کی کائنات کو جھل مل جھل مل کر دیتیں۔
کھڑکی کے باہر درخت نہیں تھے… مکانات کی ایک لمبی قطار… باہر سے آنے والے شور اس کے آرام میں خلل اندازی پیدا کر رہے تھے… اپنی دنیا میں واپس آتے آتے ایک چہرہ اس کی آنکھوں کے پردے پر ابھرتا ہے…
’شمیمہ میرے ساتھ میرے گھر چلو گی…؟‘
ٹھہری ہوئی دو ساکت آنکھیں اس کی طرف اٹھتی ہیں۔ پھر خموشی سے جھک جاتی ہیں—
’میں جانتی ہوں، تم کیا سوچ رہی ہو— تم جہاں رہ رہی ہو، یہ بسیرا کوئی قید خانہ نہیں ہے…‘
بولتے بولتے وہ ٹھہر گئی ہے—
دو ٹھہری ہوئی آنکھیں پھر اس کی جانب اٹھتی ہیں… لرزتے ہوئے موتیوں کے قطرے… سوکھے ہونٹ…
’اگر میں یہاں کی انتظامیہ سے بات کر لوں تو…؟‘
موتیوں کے قطرے موگرے کے پھولوں میں تبدیل ہوچکے ہیں…
شمیمہ کو پیار سے لپٹا لیا رباب نے— اندر جیسے خون میں ہلچل مچی ہو…
وہ کہہ نہیں پائی… لیکن کہنا چاہتی تھی… کہ تم میں ’کچھ‘ نظر آتا ہے… اپنا سا— جسے دوسروں میں نہیں تلاش کرسکی۔ وہ رسیاں پھاندتی ننھی بچی… وہ ننھی سی تتلی… بھاگتے ہوئے بھی ننھے منھے قدموں میں ایک ٹھہراؤ ہوتا تھا— اور آنکھوں میں بے قراری کی جگہ، سمندر کی ساکت لہروں کی طرح قرار اور ٹھہراؤ— تم میں کچھ ہے… جو تم کو سیدھے مجھ سے جوڑتا ہے شمیمہ…
کھڑکی کی جالیوں سے ٹکراتی کرنیں سیدھے اس کی آنکھوں پر حملہ کر رہی ہیں…
اسے شمیمہ کا انتظار تھا— لیکن شمیمہ کو لینے کے لیے جانا پڑے گا— کھڑکی کے پاس اڑتے ہوئے کبوتر آ گئے ہیں۔ اکثر آ جاتے ہیں ، اُسے اچھا لگتا ہے۔ کبھی کبھی رات کی سوکھی ہوئی روٹیاں توڑ کر وہ کھڑکی کے پاس رکھ دیتی ہے۔ اب تنہائی کا احساس ہو رہا تھا— یادوں کے گھنے جنگل سے وہ کوئی رشتہ رکھنا نہیں چاہتی۔ پھر جی چاہتا ہے کہ اس کی تصویروں سے باتیں کروں، جی بھر کر باتیں کروں۔
ایک بار پھر اسامہ کی یادوں سے باہر نکلتے ہوئے وہ اپنے بچپن کو یاد کرتی ہے— ایک چھوٹی سی پھلواری ہے— وہ ادھر اُدھر دوڑ رہی ہے— تنکے دار جھاڑیوں کے بیچ دوڑتی ہوئی وہ اپنے ہاتھ زخمی کر لیتی ہے… ممی اسے ڈانٹ رہی ہیں… کس نے کہا تھا جھاڑیوں میں جانے کے لیے…؟
زندگی انہی تنکے دار جھاڑیوں کے درمیان الجھ گئی ہے—
تین بجے کے آس پاس وہ موگی سے شمیمہ کو لے کر گھر آ گئی— شمیمہ اس کے انتظار میں تھی۔ پہلے سے کہیں زیادہ خوش— اس نے آسمانی رنگ کی شلوار پہن  رکھی تھی— اُسی سے میچ کرتا دوپٹہ— دھانی رنگ کا کرتا، جس پر بیل بوٹے بنے ہوئے تھے۔ بال قرینے سے سنوارے ہوئے— اس کے چہرے پر ابھی بھی سناٹے کا سایہ تھا مگر اب اس سناٹے میں نئی جگہ جانے کا تجسس بھی تھا— شاید پہلی بار وہ موگی سے کسی کے گھر جا رہی تھی— موگی سے اس نے رکشہ کر لیا تھا— راستے بھر دونوں کے درمیان خاموشی حاوی رہی— جس وقت رکشا دلکشا انکلیو کے آگے رکا، اسی وقت شمیمہ کے چہرے پر ایک پیار بھرا رنگ آیا تھا—
’آپ کا گھر آ گیا—؟‘
’ہاں…‘
گھر میں داخل ہونے کے بعد شمیمہ دیر تک بچوں کی طرح چاروں طرف ادھر اُدھر دیکھتی رہی—پھر ڈرائنگ روم میں ٹی وی سیٹ کے آگے رکھی اسامہ کی تصویر کے آگے کھڑی ہو گئی—
یہ آپ کا بیٹا ہے؟
اس کی آنکھوں میں انوکھی سی چمک تھی—
’ہاں…‘
’اب کہاں ہے؟‘
جیسے اچانک ہوا رک گئی— شور کرتے کبوتروں کے جھنڈ خاموش ہو گئے ہوں—
’چلو‘ پہلے کچھ کھاتے پیتے ہیں— وہ آنکھوں میں مچلتے، آنسوؤں کے قطروں کو روکنے کی کوشش کر رہی تھی۔
ڈائننگ ٹیبل پر کھانا سج گیا تھا۔ آج بہت دنوں کے بعد اس نے مٹن بریانی بنائی تھی۔ میٹھا ٹکڑا بھی تھا۔ کباب کی بھی پلیٹ تھی۔
’اتنا سارا کھانا… میں تو بس تھوڑا سا لوں گی—‘
شمیمہ کے چہرے پر مسکراہٹ تھی— ’یہ سب آپ نے بنایا۔ اکیلے— مجھے بھی سکھا دیں گی آپ؟‘
’ہاں—‘
وہ خود بھی واقف نہیں تھی کہ اتنی ساری سمندر کی بے قرار موجیں اس کے اندر جمع کیسے ہو گئی ہیں— لیکن یہ سب شمیمہ کی وجہ سے تھا اور یہ احساس بھی کہ شام ہوتے ہی شمیمہ پھر سے موگی چلی جائے گی۔ لہریں اٹھ رہی تھیں— دماغ سن… ہو رہا تھا—
’آپ نے اپنے بیٹے کے بارے میں نہیں بتایا—؟‘
’وہ… پڑھنے گیا ہے۔‘
’واپس کب آئے گا؟‘
’نہیں جانتی—‘
شمیمہ چونک کر اس کی طرف دیکھتی ہے—
’آپ کے بیٹے کا نام کیا ہے؟‘
’اسامہ… اُسامہ پاشا…‘
شمیمہ نے نظر جھکا لی ہے۔ شاید بہت سے سوالات اٹھ رہے ہوں گے اس کے اندر۔ لیکن ابھی وہ سوالوں کے گرداب میں گم ہے۔
وہ بھی تو گم ہے— لیکن شمیمہ کی موجودگی اس وقت اسے اچھی لگ رہی ہے۔ ایک سچائی اور بھی ہے— شمیمہ کی موجودگی نے اس کی تنہائی کے احساس کو بڑھا دیا ہے۔
کھانے کے بعد وہ شمیمہ کو لے کر بالکونی میں آ گئی۔ چھوٹی سی بالکونی— یہاں دو کرسیاں لگی تھیں— چھوٹے چھوٹے پھولوں کے گلدستے بھی تھے۔ یہاں سے چاروں طرف عمارتیں ہی عمارتیں نظر آتی تھیں۔ باہر کے بھیانک شور بھی کان سے ٹکراتے تھے— بالکونی میں ابھی تک دھوپ پھیلی ہوئی تھی۔
شمیمہ کی آنکھوں میں چمک تھی— ’یہاں سے تو سارا شہر نظر آتا ہے—‘
شمیمہ بچوں کی طرح تالیاں بجاتی ہوئی رک گئی—
’آپ کا بیٹا ابھی تک نہیں آیا—؟‘
’ہاں— کبھی کبھی وہ نہیں آتا ہے…‘
’نہیں آتا ہے… پھر کہاں چلا جاتا ہے؟‘
’اب بڑا ہو گیا ہے نا، اس کے دوست بھی بڑے ہو گئے ہیں۔ بس دوستوں کے درمیان گھر کو بھول جاتا ہے۔‘
’لیکن یہ تو اچھی بات نہیں ہے۔‘
’ہاں، اچھی بات نہیں ہے۔ بچے بڑے ہو کر ماں باپ کے پیار کو بھول جاتے ہیں۔‘
وہی بے قرار لہریں— رباب کو خود پتہ نہیں تھا، وہ کیا جواب دے رہی ہے۔ اسامہ ابھی بھی بغور اس کے چہرے کا جائزہ لے رہی تھی۔
’مگر… وہ رات میں تو لوٹ آتا ہو گا؟‘
’ہاں، آ جاتا ہے… کبھی کبھی رات کو بھی نہیں آتا۔‘
’نہیں آتا…‘
اس بار شمیمہ زور سے چیخی تھی۔
’وہ رات کو بھی نہیں آتا— یہ تو بہت بری بات ہے۔‘
’ہاں، بہت بری بات ہے۔ بچے ماں باپ کو بڑے ہونے پر صرف ایک ہی تحفہ دیتے ہیں— انتظار کا تحفہ۔ وہ بھول جاتے ہیں کہ ماں باپ کے لیے یہ انتظار کتنا مشکل ہوتا ہے۔ کتنا اذیت ناک اور کتنا صبر آزما—‘
شمیمہ بالکونی سے ہٹ کر کرسی پر بیٹھ گئی۔ بے قرار لہروں نے آنکھوں پر پٹی باندھ دی تھی— اب شمیمہ کی جگہ اسامہ نظر آ رہا تھا— جی چاہ رہا تھا اسامہ کو سینے سے لگا لوں— پھر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگوں—
رباب نے شمیمہ کی طرف دیکھا—
’تمہیں اگر اپنے گھر بلا لوں تو؟‘
شمیمہ چونک گئی تھی—
’میرے گھر رہو گی… میرے پاس…‘
شمیمہ کی آنکھوں میں اچانک ہی آنسوؤں کے موٹے موٹے قطرے تیر گئے تھے۔
٭٭
شمیمہ کو موگی پہنچا کر رباب گھر تو آ گئی۔ لیکن جیسے وہ خود کو پہلے سے کہیں زیادہ تنہا محسوس کر رہی تھی— اب اسے ارشد کے آنے کا انتظار تھا۔ وہ ارشد سے شمیمہ کے بارے میں کھل کر باتیں کرنا چاہتی تھی۔
٭٭



(4)

میں ارشد پاشا… میں ایک بار پھر آپ کے سامنے ہوں— میں ان تمام واقعات کا گواہ ہوں جو ملک کے موجودہ حالات سے گزرتے ہوئے میرے گھر کا چین اور سکون درہم برہم کر گئے تھے— مجھے رباب پر ترس آتا تھا— رباب جو اپنی کیفیت کو چھپانے کی کوشش میں اور بھی زیادہ زخمی ہو جاتی تھی— اور میرے پاس نہ خود کو تسلی دینے کے سامان تھے اور نہ ہی میں جھوٹی تسلیاں رباب کو دے سکتا تھا۔
وقت تیزی سے اڑان بھرتا جا رہا تھا—
اس درمیان دو بار تھانے سے بلاوا آیا— 
’لاشیں پہچاننی ہیں—‘
یہ میرے اور رباب کے لیے بیحد صبر آزما اور قاتل لمحے ہوتے۔ مردہ جسم پر سفید کپڑے پڑے ہوتے— ہمیں چہرہ دکھایا جاتا۔ لاش کے کپڑے اور سامان دکھائے جاتے— پھر پوچھا جاتا، یہ آپ کا بچہ تو نہیں ہے—‘
زندگی کی اس جنگ میں یقینی طور پر ہم ابھی ایسے لمحوں کے لیے تیار نہیں تھے۔ شاید دنیا کی کوئی بھی ماں یا کوئی بھی باپ ان صبر آزما لمحوں کے لیے خود کو تیار نہیں کرسکتا ہے— پولیس کی دقت یہ تھی کہ وہ زندہ اسامہ پاشا نہیں، مردہ اسامہ پاشا کی شناخت کے لیے ہمیں بلا لیا کرتا تھا۔ اور اس کے لیے بس ایک فون کی ضرورت تھی—
اس درمیان دوایسے موقعے آئے جب اسامہ کے بارے میں پتہ چلا— کسی نے اسے بھوپال میں دیکھا تھا— پھر دوسری بار وہ رائے پور، چھتیس گڑھ میں دیکھا گیا— لیکن اسامہ نہ بھوپال میں ملا، نہ چھتیس گڑھ میں— اسے دیکھے جانے سے یہ خوشی ضرور ہوتی کہ وہ زندہ ہے— مگر دوسرے ہی لمحے یہ خوشی نا امیدی میں تبدیل ہو جاتی— وہ زندہ ہے تو واپس گھر کیوں نہیں آتا— اب تو اس معاملے کو بھی لوگ بھولنے لگے تھے— تھاپڑ کہتا تھا، وہ آئے گا ایک دن ضرور آئے گا۔ لیکن رباب کے ہونٹ اب اس کے آنے کی خبر کو لے کر سناٹے میں ہی ڈوبے رہتے— جیسے وہ جانتی ہو کہ سچ کیا ہے۔ شاید اسی لیے اس درمیان اس نے شمیمہ سے دوستی کرلی تھی— ممکن ہے شمیمہ میں وہ اسامہ کا عکس تلاش کرتی ہو۔ وہ موگی والوں سے کہہ کر شمیمہ کو گھر لانا چاہتی تھی۔ لیکن میں جانتا تھا، یہ سب اتنا آسان نہیں ہے۔ لکھا پڑھی— پھر ایک لڑکی کی ذمہ داری— اور کون جانے کب اسامہ واپس آ جائے— تھاپڑ کی طرح مجھے بھی اس بات کا یقین تھا کہ ایک دن کال بیل بجے گی— دروازہ کھلے گا تو سامنے اسامہ کا مسکراتا ہوا چہرہ ہو گا—
مگر وہ دن کب آئے گا…؟
کبھی کبھی خواہش ہوتی، بیٹے کی تصویر نکال کر نکل جاؤں… لوگوں سے دریافت کروں…
’میرے بیٹے کو دیکھا ہے؟ اسامہ پاشا— عمر ۱۶سال … ابھی تو جینا بھی نہیں سیکھا ہے اس نے— ابھی تو پر بھی نہیں نکلے— ابھی تو اڑنا بھی نہیں سیکھا— دیکھا ہے میرے اسامہ کو…‘
وقت بدل رہا تھا— زندگی مسجدوں میں پناہ تلاش کرنے لگی تھی— وقت گزرنے کے ساتھ نا امیدی کا احساس بڑھتا جا رہا تھا—
شاید ایک دن اچانک آپ پر عمر حملہ کرتی ہے— کنپٹیوں کے بال سفید ہو گئے تھے— آگے کے بال بری طرح جھڑ گئے تھے۔ اب کمزوری محسوس کرتا تھا— ایک چڑچڑا پن پورے وجود پر حاوی تھا— اس لیے رباب نے اس دن جب شمیمہ کو لانے کا ذکر کیا تو میں غصے سے اکھڑ گیا—
’میرا بیٹا زندہ ہے ابھی — مر نہیں گیا ہے— کیوں میرے زخموں کو چھیڑتی ہو تم— اسامہ کی جگہ کوئی اور مجھے منظور نہیں—‘
’میں نے یہ کب کہا کہ اسامہ کی جگہ…‘ رباب کے ہونٹ لرز رہے تھے— میں کیوں سوچوں گی کہ خدانخواستہ میرے لعل کو کچھ ہو جائے— اُداسیاں مجھے کھانے لگی ہیں اب…‘
’اسی لیے تو تم نے موگی آنا جانا شروع کیا ہے— خود کو بہلاؤ وہاں— جب جی چاہے شمیمہ کو لے آؤ— مگر شمیمہ ہمیشہ کے لیے اس گھر میں آ جائے، یہ فیصلہ مجھے قبول نہیں—‘
’تمہیں یاد ہے… نہیں تم سب بھول گئے… یاد ہے… اسامہ ابھی حال تک یہ ضد کیا کرتا تھا… اس کی بہن کیوں نہیں ہے… یاد ہے… وہ کہتا تھا— ہم کہیں سے بھی ایک بہن لے آئیں گے— اس کی پرورش کریں گے…‘
رباب کی آواز میں ٹھہراؤ تھا—
’میں ابھی اس بارے میں کوئی بھی فیصلہ نہیں لے سکتا—اور مجھے فی الحال کسی فیصلے کے لیے مجبور بھی مت کرو—‘
رباب سر جھکا لیتی—
اپنی اداسیوں اور تنہائیوں سے لڑتے لڑتے الجھ جاتا تو تھانے پہنچ جاتا—
’میرے بیٹے کی کوئی خبر…؟‘
اب ایک جوان صحافی کی جگہ ایک بوڑھا فریادی ہوتا ہے— ایک سہما اور ڈرا ہوا باپ— اپنے کمزور لہجے کے ساتھ…
’کوئی خبر ملے تو اطلاع دیجئے گا—‘
تھانے کی عمارت سے باہر نکلتے ہوئے بھی اسامہ کے الفاظ کان کے پردے پر آ کر چیختے رہتے…
’میں اس سسٹم میں نہیں رہ سکتا… نہیں رہ سکتا… نہیں رہ سکتا…‘
٭٭
معزز قارئین!
ایک کمزور سسٹم اور انصاف کی امید—
شاید اسی لیے ملک کے حاشیے پر پھینک دیئے گئے ایک کمزور صحافی نے ان سطور کو قلمبند کرنے کی ذمہ داری اٹھائی ہے۔ لیکن مجھے کس چیز کی تلاش تھی— اسامہ کی؟ اسامہ کو تو میں اب تک تلاش کر ہی رہا تھا— لیکن مجھے اس ملک یا ملک کی تقدیر رقم کرنے والوں سے کس انصاف کی امید تھی…؟‘
سسٹم ، جس سے لڑتے لڑتے میں ہارنے لگا تھا—
یہ انہی دنوں کا ذکر ہے جب مرگیہ اور کرنل روہت کا نام سرخیوں میں آ گیا تھا— سنگھ کو اس بات کی ناراضگی تھی— لیکن میڈیا نے ابھی بھی ان دونوں ناموں کے سلسلے میں کنجوسی ہی دکھائی تھی— چھوٹی چھوٹی باتوں کو بریکنگ نیوز کے طور پر پیش کرنے والے میڈیا کا رویہ ان دونوں کو لے کر انتہا پسندی کی حد تک سرد تھا—
اور اُنہی دنوں اے ٹی ایس نے سنگھ سے وابستہ ایک اور نام کو بے نقاب کیا تھا— ابھے کمار دوبے۔
اس نام کا سامنے آنا تھا کہ سنگھ میں کھلبلی مچ گئی تھی— اے ٹی ایس کو یقین تھا کہ ابھے کمار دوبے کے ساتھ بہت جلد کچھ اور نام بھی سامنے آ جائیں گے—
رباب خاموش رہنے لگی تھی— ممکن ہے، شمیمہ کو لے کر میرے فیصلے سے ناراض ہو لیکن اس دن کے بعد کبھی بھی اس نے بھولے سے بھی شمیمہ کا نام میرے سامنے نہیں لیا تھا—
اس دن وہ صبح سویرے ہی تیار ہو گئی— جاتے ہوئے اس نے بتایا—
’میں دیر سے آؤں گی— موگی جا رہی ہوں—‘
٭٭
تھرڈ فلور پر شمیمہ مل گئی— رباب کو دیکھ کر اس کے چہرے پر مسکراہٹ آ گئی تھی۔ وہ لپک کر آئی—
’آپ مجھے لینے آئی ہیں؟‘
رباب نے بمشکل اپنے آنسوؤں کو روکنے کی کوشش کی۔ وہ اس معصوم سوال سے اپنا دامن بچانا چاہتی تھی۔
’چلو پہلے کچھ پڑھائی کر لیں—‘
شمیمہ کی آنکھوں کے فانوس بجھ گئے —
’میں جانتی ہوں۔ انکل نے منع کر دیا ہو گا۔‘
شمیمہ نے دوبارہ مسکرانے کی کوشش کی— مگر رباب نے محسوس کیا جیسے اس نے شمیمہ کی خوشیوں کو چھین لیا ہو۔
اس دن موگی کا ماحول اچھا نہیں تھا۔ اسے یہاں کی فضا میں بھی سیاست کے اثرات دکھائی دے رہے تھے۔
موگی کے نگراں مولوی ہشام غصہ میں تھے۔
’آپ بھلائی کا بھی کام کیجئے تو حکومت آنکھیں دکھاتی ہے کہ پیسہ کہاں سے آ رہا ہے۔ دبئی کا پیسہ ہے یا حوالہ کا—؟‘
اس وقت ان کے کیبن میں افراتفری کا ماحول تھا— رباب خاموشی سے سہمے ہوئے لوگوں کا جائزہ لے رہی تھی—
مولوی ہشام نے بات آگے بڑھائی— ’ہم نے ایک اسلامک چینل کو لانے کا فیصلہ کیا تھا— بات رجسٹریشن تک پہنچ گئی تھی— ان کے اتنے سارے دھارمک چینل ہیں۔ لیکن ہمیں— ایک چینل کو رجسٹرڈ کرانے کے لیے اتنے سارے قاعدے اصول اور سوالوں سے گزرنا ہوتا ہے کہ عقل حیران رہ جاتی ہے— اتنے سارے الم غلم چینل ہیں۔ ان سے نہیں پوچھا جاتا کہ پیسہ کہاں سے آ رہا ہے— بس مسلمانوں کے پاس پیسہ نہیں ہو— مسلمان دو پیسے جوڑ کر اپنی قوم کے لیے کچھ کرنا چاہیں تو آفت— یہ حکومت تو سب سے گری ہوئی ہے—‘
مولوی نظام نے لقمہ دیا— ہم سے دریافت کیا گیا ہے کہ موگی کو فنڈ کہاں سے آ رہا ہے—؟
ہوم منسٹری سے آیا ہوا ایک خط اس نے ممبران کی طرف بڑھایا— ’آپ لوگ بھی پڑھ لیجئے— ہم یتیم لڑکیوں کی پرورش کر رہے ہیں اور یہ بھی ان کی نظر میں جرم اور گناہ ہے۔ تو ہم اپنی غریب بچیوں کی طرف سے آنکھیں موند لیں—؟‘
ماحول گرم ہو چکا تھا— ممبران غصے میں تھے—
’یعنی حد ہوتی ہے بے شرمی کی—‘
’مسلمان اگر ان باتوں کے باوجود کانگریس سے محبت رکھتے ہیں تو قصور کس کا ہے؟‘
’آپ فلاح کا کام کرنے نکلیے تب بھی حکومت شک کے ناخن تیز کرنے لگتی ہے—‘
مولوی ہشام سنجیدہ تھے— ’یہ ناراض ہونے کا وقت نہیں ہے— ہمیں سنجیدگی سے اس بات پر غور کرنا ہے کہ آگے ہمیں کون سی کارروائی کرنی ہے‘
رباب کو اس سیاست میں قطعی دلچسپی نہیں تھی— اس کی آنکھیں شمیمہ کو تلاش کر رہی تھیں۔
شمیمہ اسے سیڑھیوں پر مل گئی— لیکن وہ ٹھہری نہیں— تیز تیز سیڑھیاں طے کرتی ہوئی غائب ہو گئی۔
رباب کے لیے یہ ایک بڑا جھٹکا تھا— اس نے معصوم سی شمیمہ کا دل توڑ دیا تھا—
شام، رباب گھر واپس آئی تو اس نے موگی میں چلنے والے ہنگاموں کا ذکر چھیڑ دیا—
’یہ معاملے تو کسی کے بھی ساتھ ہوسکتے ہیں۔ وہ اپنا فنڈ، شو کیوں نہیں کرتے—‘
’خدا معلوم—‘ رباب معصومیت سے بولی—
’اتنا بڑا کام ہوا میں تو نہیں ہو رہا ہو گا— ان کے پاس بیلنس شیٹ ہو گی— پیسوں کی لین دین کی تفصیل ہو گی— اگر وہ بے گناہ ہیں تو حکومت کو بتائیں کہ فنڈ کہاں سے اور کیسے آ رہا ہے—‘
میرے چہرے پر ناراضگی تھی— ’میں ایسی تنظیموں سے بھی واقف ہوں جو قوم کے نام پر کروڑ روپے حاصل تو کر لیتے ہیں لیکن قوم کی پیٹ میں گنتی کے روپے بھی نہیں جاتے۔ ان پیسوں سے ان کے عالیشان گھر تعمیر ہوتے ہیں اور ان کے بچے بڑی بڑی گاڑیوں میں سفر کرتے ہیں۔ قوم کی فلاح سوچنے والے در اصل صرف اپنے بارے میں سوچتے ہیں—‘
’ایسا نہیں ہوتا—‘ رباب غصہ تھی— وہ لوگ کیا برا کر رہے ہیں۔ غریب اور یتیم لڑکیوں کو ایک چھت مل گئی ہے— ایک آسرا مل گیا ہے—‘
مجھے ہنسی آ گئی— ’یہ ۴۰۰ لوگوں کو آسرا دینے کا فنڈ حاصل کر لیتے ہیں کاغذی کاروائی بھی ۴۰۰؍ لوگوں کے لیے ہی ہوتی ہے اور آسرا ملتا ہے صرف 4 لوگوں کو— ایسے ان جی اوز کو فلاح کے نام پر جو پیسے ملتے ہیں، اس کا دسواں حصہ بھی ان غریب بچوں کے نام پر خرچ نہیں کیا جاتا— اسی لیے ایسی تنظیمیں اور ان جی اوز بہت جلد پولیس اور حکومت کے نشانے پر آ جاتی ہیں—‘
لیکن رباب کو میری باتوں سے اتفاق نہیں تھا— آج وہ بجھی بجھی اور سہمی تھی—
’پانچوں انگلیاں برابر نہیں ہوتیں۔ موگی سے اچھے لوگ وابستہ ہیں۔ حکومت کا کیا— وہ تو صرف پریشان کرنا جانتی ہے—‘
رباب اٹھ کر چلی گئی—
میں اسامہ کے کمرے میں آ گیا— یادیں جب بھی پریشان کرتیں، میں خاموشی سے اس کمرے میں آ کر اسی کی کرسی پر بیٹھ جاتا تھا—
تب یہ خیال نہیں آیا تھا کہ وقت ہمارے ساتھ کچھ اور نیا کھیل شروع کرنے والا ہے۔
٭٭



(5)

ابھے کمار دوبے کی گرفتاری سے سیاسی حلقوں میں طوفان آ گیا تھا— سوئے ہوئے سیاسی بت جاگ گئے تھے— بیانات کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا۔ ایک کانگریسی لیڈر کا بیان بھی آ گیا— ہندوستان کے تمام دھماکوں کے پیچھے ، آر ایس ایس کا ہاتھ ہے۔
اور ادھر بھگوا پارٹی اور سنگھ کے لوگ مخالفت میں اپنے اپنے بیان جاری کر رہے تھے۔ سادھوی چما بھارتی جو سیاست میں حاشیے پر چلی گئی تھیں، ایک بار پھر اپنے بیانوں کے ذریعہ سیاست میں واپسی کا خواب دیکھ رہی تھیں۔ بھگوا پارٹی کے بزرگ نیتا اب اس ریس میں ہانپنے لگے تھے— مراٹھوں کی سرپرستی کا نعرہ بلند کرنے والے بچہ ٹھاکر نے بھی اپنے اخبار میں ابھے کمار دوبے کی حمایت کا اعلان کیا تھا— حلوانی اس ایشو کو کانگریس کی مسلم دوستی سے جوڑتے ہوئے اکثریتی طبقے کو خوش کرنے میں لگے تھے—
ٹی وی اسکرین پر بار بار ابھے کمار دوبے کی تصویر فلیش کی جا رہی تھی۔ پولیس حراست میں— کرتا اور پائجامہ پہنے— آنکھوں پر چشمہ، سنجیدہ چہرہ ، ہلکی بڑھی ہوئی داڑھی— 
’میں نے اپنی ساری زندگی پولیس اور راشٹریہ کے نام کی— اب عمر کے آخری برسوں میں، میں اپنی صفائی کے نام پر کچھ بھی نہیں کہنا چاہوں گا— مگر میرا دل رو رہا ہے…‘
بوڑھا شیر ایک بار پھر گرجا تھا— بچہ ٹھاکر نے اپنے اخبار کی سرخی لگائی تھی— ’ہندوؤں کا اپمان کرنا بند کرو—‘
حاشیے پر پھینک دیئے گئے حلوانی جیسے لیڈر بھی اس معاملے کے بعد سامنے آ گئے تھے… در اصل حلوانی ان بد قسمت لوگوں میں سے ایک تھے جو ہزار خواہش کے باوجود پرائم منسٹر کی کرسی پر بیٹھنے کے خواب کو پورا نہیں کرسکے— ایک زمانے میں گرم ہندوتو کی باتیں کرنے والے حلوانی نے جب پاکستان اور جناح کا معاملہ اٹھا کر نرم ہندوتو کا سہارا لیا تو اپنی ہی پارٹی کے لوگوں کی مخالفت کھل کر سامنے آ گئی— یہ مخالفت اتنی شدید تھی کہ وہ دوبارہ اٹھ ہی نہیں سکے— لیکن اب بھی کہیں نہ کہیں کرسی کے لیے ایک بے چینی سی ان کے اندر رہتی ہے— اس لیے ایسے معاملات سامنے آتے تو ایک بار پھر بوڑھے شیر کی رگوں میں جوان خون دوڑنے لگتا—
حلوانی کے ساتھ مشکل یہ تھی کہ وہ اپنے رخ کا فیصلہ ہی نہیں کر پا رہے تھے۔ نرم ہندوتو یا گرم ہندوتو—
یہ مشکل اس پارٹی کے دوسرے نیتاؤں کے ساتھ بھی تھی۔ جبکہ کچھ لوگ شروع سے مسلمانوں کی مخالفت کی وجہ سے ہمیشہ سرخیوں میں رہے اور انہیں پارٹی کی حمایت بھی حاصل تھی۔
آر ایس ایس اور ہندو مہاسبھا سے وابستہ لوگ اس سلسلے میں پرائم منسٹر سے ملنے بھی جانے والے تھے۔
٭٭
تھاپڑ کے لیے اس طرح کی باتیں مذاق سے زیادہ کی حیثیت نہیں رکھتی تھیں— ایک مدت بعد وہ اپنی پتنی کے ساتھ آیا تھا— تھاپڑ کی پتنی ایک گھریلو خاتون تھی— آنندی، تھاپڑ کی طرح نہیں تھی— وہ دھرم اور کرم پر وشواس رکھتی تھی— وہ اکثر تھاپڑ کی کھنچائی بھی کرتی—
’ان کا کیا— کسی دن دیکھئے گا بھائی صاحب۔ یہ بھی دھرم پر لوٹ آئیں گے۔‘
رباب نے مسکرانے کی کوشش کی— آج برسوں بعد اس کے چہرے پر مسکراہٹ آئی تھی— آنندی رباب کی کیفیت سے آگاہ تھی۔ اسامہ کئی دنوں تک اس کے ساتھ رہا تھا— اور تھاپڑ کی نصیحت تھی کہ وہ رباب کے سامنے بھول کر بھی اسامہ کا ذکر نہ کرے— اس لیے اس ماحول میں آنندی، رباب کو بہلانے کی کوشش کر رہی تھی—
’پہلے یہ مندر جاتے تھے…‘
یہ تھاپڑ مندر جاتا تھا— 
رباب کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا—
’اور نہیں تو کیا— کاشی میں میرے پیچھے پیچھے یہ بھی مندر آ جاتے تھے—‘
’لو … چھپا رستم نکلا یہ تو…‘
میں نے ہنستے ہوئے تھاپڑ کی طرف دیکھا— وہ نئی نویلی دلہن کی طرح شرما گیا تھا—
’ارے وہ تو…؟‘
’وہ تو کیا … صاف بتا دیجئے کہ کوئی اور لڑکی نہیں ملی تھی گھاس ڈالنے والی— بس میں مل گئی تھی…‘ آنندی ہنس رہی تھی۔ صبح گھاٹ پر جاؤں تو وہاں حاضر— مندر جاؤں تو وہاں— ایک بار تو مجھ سے پرساد بھی لیا تھا— میں نے پرساد ہاتھ پر رکھا اور مسکرا کر آگے بڑھ گئی— اور ان صاحب کو محبت کے اقرار میں پورے دو سال لگے تھے…‘
’ابے سالے…‘ میں نے ہنس کر تھاپڑ کو دیکھا— ’لے، بھابھی تیری ساری پول کھول رہی ہے—‘
’وہ تو… ‘ ہنستا ہوا تھاپڑ اپنا سر کھجلا رہا تھا— محبت اور جنگ میں سب جائز ہے…
’یقین نہیں آتا کہ تھاپڑ بھائی صاحب بھی… ، رباب کے چہرے پر چمک تھی— میں تو انہیں…‘
’کافی شریف سمجھ رہی تھی…‘ میں نے ادھوری بات پوری کی— ‘کمرے میں ٹھہاکا گونجا—
’ہاں—‘
’ارے بھابھی—شریف لوگ پیار نہیں کرتے کیا… لو بھابھی کی سنو…‘ آنندی ہنس رہی تھی— تم بھی کمال ہو بھابھی— اس زمانے میں تو بھیا کی بھی پوری ہسٹری رہی ہے…‘
 آنندی نے میری طرف دیکھا اور سب کھلکھلا کر ہنس پڑے— اب آنندی کے نشانے پر میں تھا—
’ارے اس کی ہسٹری بایولوجی کچھ نہیں— یہ کمبخت پیار کے معاملے میں ایک نمبر کا ڈفر تھا—‘
تھاپڑ ہنس رہا تھا— آنکھوں کے آگے کتنی ہی کہانیاں لہرا کے گم ہو گئیں—
آنندی اٹھ کر رباب کے قریب بیٹھ گئی— رباب کا ہاتھ اس نے اپنے ہاتھوں میں لے لیا— وہ پیار سے رباب کو دیکھ رہی تھی—
’تو بھیا کی ہسٹری بایولوجی آج معلوم ہوئی— کیوں بھابھی—؟ یہ کہتے ہیں بھیا کو پیار نہیں آتا تھا— لیکن بھیا کو پیار آپ نے سکھا دیا—‘
رباب نے مسکرانے کی کوشش کی—
’ایک بات پوچھوں—؟‘
’رباب کے اس سوال پر اچانک سناٹا چھا گیا— آنندی نے پلٹ کر تھاپڑ کی طرف دیکھا— جیسے کہہ رہی ہو— بھابھی کو بہلانے کی کوشش تو کر رہی تھی لیکن اگر بھابھی نے اسامہ کے بارے میں کوئی ایسی ویسی بات پوچھ دی تو—؟ آنندی کو اس بات کا بھی خوف تھا کہ کہیں رباب اسامہ کی یاد میں رونا نہ شروع کر دے— پھر وہ کیا کرے گی—؟ اس کے ہاتھ پاؤں خود بھی ڈھیلے ہو جائیں گے۔‘
’ہاں بھابھی— پوچھئے نا… ‘ ذرا ٹھہر کر آنندی بولی—
’وہ اسامہ— آپ کے یہاں رہا نا…؟‘
’ہاں—‘
’کیا وہاں بھی وہ خاموش رہتا تھا…؟‘
’ارے نہیں بھابھی—‘ آنندی نے بات سنبھال لی— پیارا بچہ ہے— لیکن دوسرے بچوں سے مختلف— آپ تو جانتی ہیں کہ میرا بیٹا منوج ہاسٹل میں رہتا ہے— منوج ہوتا تو اسامہ کا دل بھی لگتا—‘
’تو اس کا دل نہیں لگتا تھا…؟‘ رباب کی آواز سرد تھی—
’یہ کس نے کہا— تم بھی نہ آنندی، تھاپڑ نے آنندی کو غصے میں دیکھا— ’دل کیوں نہیں لگتا اس کا۔ منوج نہیں تھا لیکن ہم تو تھے وہاں — آنندی تھی— لیکن آجکل کے بچوں کو تو آپ جانتی ہی ہیں بھابھی۔ منوج بھی ہاسٹل سے گھر آتا ہے تو سنجیدہ ہی رہتا ہے۔ کم بولتا ہے—‘
’ہاں— ان بچوں کی اپنی دنیا بن جاتی ہے— اور اپنی اس دنیا میں یہ بچے خوش بھی رہتے ہیں—‘
رباب کھڑکی سے باہر دیکھ رہی تھی… ’وہ پہلے ایسا نہیں تھا— مگر کچھ دنوں سے یا یہاں آنے کے بعد— اب سوچتی ہوں یہاں آئی ہی کیوں—؟ مگر ہونی کو کون ٹال سکتا ہے— قدرت کے قانون تو اٹل ہیں—‘
وہ آنکھوں میں منڈراتے آنسوؤں کو پی گئی تھی— پھر مسکراتے ہوئے بولی—
’ارے چائے کے لیے تو میں بھول ہی گئی—‘
’ارے بھابھی— آپ کیوں تکلیف کریں گی— میں ہوں نا…‘
’ارے نہیں—‘
تھاپڑ نے آنندی کو اشارہ کیا— آنندی رباب کے ساتھ کچن کی طرف بڑھ گئی—
کمرے میں کچھ دیر کے لیے خاموشی چھا گئی—
پھر اس سکوت کو تھاپڑ نے توڑا— ’تم نے ابھے کمار دوبے کی گرفتاری کی خبر پڑھی—‘
’ہاں—‘
’سنگھ کی سازش بے نقاب ہوئی تو سینے پر سانپ لوٹ گئے سالوں کے—‘
میں خاموش رہا—
’اب دیکھنا— یہ معاملہ اتنا آسان نہیں ہے۔ جتنا نظر آ رہا ہے— یا تو سچائی سامنے آئے گی یا حکومت اکثریتی طبقے کے ووٹ بینک کے چکر میں اس معاملے پر پردہ ڈال دے گی۔ ناگ ناگنوں پر بریکنگ نیوز کرنے والے نیوز چینلس کو دیکھا— کرنل روہت اور ابھے کمار دوبے کا معاملہ ان چینلوں کے لیے نہ بریکنگ نیوز ہے نہ ہاٹ—‘ تھاپڑ نے پھر ایک گندی سی گالی بکی— یہ سب ایک بڑی سازش کا حصہ ہے— بٹلہ ہاؤس کا فرضی انکاؤنٹر تو اس سازش کی صرف ایک معمولی کڑی ہے— سوال یہ بھی ہے کہ کتنے دنوں تک یہ معاملہ اٹھتا ہے یا یہ معاملہ بھی دبا دیا جائے گا— اور ہندوستان کی معصوم جنتا بھگوا آتنک واد کو بھول کر صرف مسلم آتنک واد کا نام جپے گی— یہ میڈیا کا کرشمہ ہے میرے بھائی— میڈیا جو یاد کروانا چاہتی ہے، وہ یاد کرا دیتی ہے اور جنتا سے جو بھلانا چاہتی ہے اسے بھلانے میں دیر نہیں کرتی۔ اور آپ کہتے ہیں یہ میڈیا سیکولر ہے— آپ کے فیور میں ہے، تھاپڑہنس رہا تھا۔ ’گھوٹالوں میں اب میڈیا کے بڑے بڑے چہرے بھی کھل کر سامنے آرہے ہیں برادر— وہ چہرے جو گجرات حادثے میں آپ کو اپنے لگتے تھے مگر آج ان چہروں نے پیڈ نیوز کی سچائی کو سامنے رکھ دیا ہے۔ یہ سب بکے لوگ ہیں— جو بریکنگ نیوز کے ذریعہ دہاڑ اس لیے لگاتے ہیں کہ حکومت ڈر جائے— پھر لین دین— سودے بازی اور بڑے سے بڑے معاملے دبادیئے جاتے ہیں۔ اسٹنگ آپریشن میں کچھ چھوٹے نام سامنے آتے ہیں اور بڑے اسٹنگ آپریشن کے لیے، ان بڑے ناموں سے بلیک میلنگ کی جاتی ہے— اور پھڑپھڑاتے ہیں ہم آپ خبریں دیکھ کر جذباتی ہوتے ہیں ہم آپ— ارے قصاب جیسوں سے بھی زیادہ کوئی دیش دروہی ہے تو یہ لوگ — جو ہماری ناک کے سامنے سب کچھ بیچ رہے ہیں— حکومت سے لے کر عام آدمی تک سب کچھ جانتا ہے— مگر ہوتا کیا ہے— حکومت ان پر ہاتھ بھی نہیں رکھ پاتی— سالے…‘ 
تھاپڑ نے پھر ایک گندی گالی بکی تھی— اب حکومت کو ہی دیکھو…‘
تھاپڑ کا چہرہ لال ہو رہا تھا— ’ابھے کمار دوبے کے معاملے میں صرف ایک کانگریسی نیتا بول رہا ہے— اور دوسرے تمام لیڈر اس کے بیان سے پنجہ جھاڑ رہے ہیں۔ ایک بیچارہ چلا رہا ہے… کہ آزادی کے بعد کے تمام دھماکوں میں سنگھ کا ہاتھ ہے— اور باقی کہہ رہے ہیں وہ اپنے بیان کے لیے خود ذمہ دار— کیوں ارشد پاشا—؟ یہ بھی ان سالوں کی پالیسی ہے— باقی مل کر اکثریت کا ووٹ بنک قائم رکھیں اور پارٹی کا ہی ایک نیتا اقلیت میں بھی اپنی پکڑ بنائے رکھے کہ لو… کانگریس عام مسلمانوں کی بات اٹھا رہی ہے— یہ کانگریس آج بھی مسلمانوں کو ہی بلی کا بکرا سمجھتی ہے اور عام جنتا کو بے وقوف— اور ایک ہم ہیں کہ جائیں کہاں— ایک طرف فرقہ واریت دوسری طرف ایک دوغلاپن—‘
تھاپڑ غصے میں ابل رہا تھا— ’کبھی کبھی اسی لیے اس ملک سے بھاگ جانے کی خواہش ہوتی ہے— یہاں آج بھی سیاست سے عام آدمی کی بنیاد گھوٹالے اور کرپشن ہیں— پھر بھی آدرش واد اور جمہوریت کی دہائی دی جاتی ہے— لواسے پڑھ لو—‘
تھاپڑ نے جیب سے ایک مڑا تڑا کاغذ نکالتے ہوئے کہا۔
’یہ کیا ہے؟‘
’ابھے کمار دوبے کے یہاں سے برآمد بہت سے خفیہ کاغذات میں سے ایک— اور یہ خط راشٹریہ سویم سیوک سنگھ نے اپنے ممبران کو لکھا ہے—‘
’لیکن یہ تم تک کیسے پہنچا—؟‘
تھاپڑ ہنسا— یہ کاغذ کسی طرح نیوز چینلس اور اخباروں کے ہاتھ لگ گیا—‘
’پھر—‘
’راشٹریہ ہت میں اس خط پر پردہ ڈال دیا گیا— سمجھ رہے ہو نا ارشد پاشا— راشٹریہ ہت— اب پڑھ بھی ڈالو—‘
میں نے ایک لمحہ کے لیے تھاپڑ کی طرف دیکھا— پھر میری نگاہیں ہندی میں ٹائپ کی گئی تحریر پر دوڑنے لگیں— اس تحریر میں راشٹریہ سویم سنگھ کے دوستوں کو رازدارانہ طور پر یہ بتانے کی کوشش کی گئی تھی کہ…
-1  اسلحے اور دھماکے کے سامان زیادہ سے زیادہ تعداد میں حاصل کریں۔
-2  مسلمانوں کے خلاف غیر سورن ہندوؤں کو لڑنے کے لیے اکسائیں۔
-3  سرکاری افسران کو ہندوتو کی بھاؤنا کے بارے میں سمجھائیں اور ان سے ہندوتو کے لیے کام لیں۔
-4  ڈاکٹروں اور میڈیکل اسٹور کے مالکوں میں ہندوتو کی بھاؤنا جگائیں جس سے وہ مسلمانوں کو نقصان پہنچانے والی دوائیں ہی فروخت کریں۔
-5  پچھڑی اور نچلی جاتیوں میں، چھوٹے چھوٹے بچوں میں ’اوم‘ اور ’جے شری رام جیسے لفظوں کو مقبول بنائیں۔
-6  ہندو مخالف یا برہم واد مخالف قوتوں کا بائی کاٹ کریں۔
-7  مسلمان اور پچھڑی ذات کی بستیوں میں لاٹری، جوا، شراب کے ذریعہ پیسہ بٹورنے میں لگے تاجروں کی مدد کریں۔
-8  مسلمان اور غیر سورن کی لڑکیاں کم عمری میں ہی طوائف کا پیشہ اپنا لیں، اس کی کوشش کی جائے۔
-9  سویم سیوک اور سنگٹھن سے جڑے لوگ غیر سورن ہندوؤں اور مسلم بچوں کے کھانے میں ملاوٹ کریں— جس کے اثر سے ذہنی اور جسمانی طور پر وہ کمزور ہو جائیں۔
-10  اسکولی بچوں کو سنگھ کے ذریعہ گڑھے گئے اتہاس کی ہی تعلیم دی جائے۔
-11  مسلمان، امبیڈکر وادی اور بودھ سماج کو بھڑکا کر آپس میں دنگا کرانے کے لیے باہر کے غنڈوں اور ہتھیار بند دلوں کی مدد لی جائے۔
-12  دنگے کے دوران بڑے پیمانے پر مسلمانوں ، غیر سورن ہندوؤں کی عورتوں کے ساتھ ساموہک (اجتماعی) بلاتکار کیا جائے— جان پہچان اور دوستی والے لوگ اس کام میں رکاوٹ نہ بنیں۔
-13  غیر ہندوؤں کے دھارمک استھلوں سے لگی زمین پر دیو پریتما استھاپت کرنے کا کام مسلسل ہونا چاہیے۔ مدد کے لیے مکھیالیہ، ہیڈ آفس سے تعلق قائم کریں۔ پرانے چرچ، مسجد اور استوپ کی جگہوں پر مندر ہونے کا دعویٰ پیش کیا جائے اور اس کے لیے لٹریچر تیار کیا جائے—
-14  مسلمان اور بودھ مذہب کے خلاف زیادہ سے زیادہ ساہتیہ چھاپا جائے— یہ بھی بتایا جائے کہ سمراٹ اشوک بودھ نہیں تھا—
-15  ہندو اور برہمن مخالف ساہتیہ کو نشٹ کیا جائے—
-16  غیر سورن اور مسلمانوں میں اندھ وشواس پھیلایا جائے۔ اس کے  لیے باباؤں اور سادھوؤں کی مدد لی جائے۔
-17  جین، بودھ، سکھوں کو ہندو بنانے کا کام چالو رکھا جائے۔ جین مندروں میں رام کی پوجا پر زور دیا جائے۔
-18  کمیونسٹ، مسلمان، شودر اور غیر سورنوں پر حملے جاری رکھے جائیں۔
حقیقت یہ ہے کہ میں پیپر پڑھ چکا تھا— اور اب میں کانپ رہا تھا۔ 
’یہ سب کیا ہے تھاپڑ—؟‘
’وہی جو تم دیکھ رہے ہو۔ اب بتاؤ مجھے یہ قصاب زیادہ بڑا ملزم ہے یا یہ لوگ—؟ کہاں محفوظ ہیں ہم یا ہمارے بچے؟ اسکولوں میں بچوں کے درمیان نشہ کون بانٹ رہا ہے؟ اسکول کے کھانوں میں ملاوٹ کا ذمہ دار کون ہے—؟ آئے دن جو فسادات ہو رہے ہیں اس کا ذمہ دار کون ہے؟ کیا ہمارے بچے صحیح تاریخ پڑھ رہے ہیں یا سنگھ کے ماسٹر مائنڈ کے ذریعہ تیار کیا گیا لٹریچر—؟‘
تھاپڑ غصے میں تھا— ’ایسے ہزاروں خفیہ خط ہیں یا لٹریچر جو سنگھ اپنے لوگوں کے نام جاری کرتا ہے— یہ ان ہزاروں لاکھوں خفیہ خطوط میں سے ایک ہے۔ ان خطوط میں اور کیا کیا ہوتا ہو گا، کیا تم تصور بھی کرسکتے ہو؟ کیا حکومت اس سے انجان ہے—؟ اتنے سارے بیورو، سی بی آئی ایجنسیاں ، خفیہ ایجنسیاں کیا سنگھ کے کارناموں کا انہیں پتہ نہیں—؟ سب سے زیادہ حیرت کی بات یہ ہے کہ پڑھا لکھا آدمی سنگھ جیسی تنظیم کیسے جوائن کرسکتا ہے؟ اور اگر جوائن کرتا ہے تو کیا ایسے لٹریچر کو پڑھتے ہوئے یا اس کی پیروی کرتے ہوئے اسے ذرا بھی شرم محسوس نہیں ہوتی—؟ وہ جانوروں کی پوجا کرتے ہیں اور انسانوں کے لیے سازش رچتے ہیں…‘
’کس سازش کی بات ہو رہی ہے بھائی—‘ رباب چائے اور ہلکا پھلکا ناشتہ لے کر آنندی کے ساتھ لوٹ آئی تھی—
’دو مرد ساتھ ہوں تو سازش تو ہو گی نہ بھابھی—‘ آنندی ہنس کر بولی—
’ٹھیک کہتی ہو— اس بار رباب بھی اس کی ہنسی میں شامل ہو گئی تھی—
٭٭



(6)

موگی پر چھاپا پڑا تھا۔ پولس کی ریڈ— سی بی آئی والے سرچ وارنٹ لے کر آئے تھے— موگی کے باہر بھیڑ جمع تھی۔ لڑکیاں سہمی اور دبکی ہوئی اپنے کمروں میں تھیں— پولس ان لڑکیوں سے بھی پوچھ تاچھ کر رہی تھی—
’وہ کب سے یہاں ہیں؟‘
’ان پر کسی طرح کی زیادتی تو نہیں ہوتی؟‘
’وہ کہاں سے آئی ہیں؟‘
’یہاں کیا پڑھایا جاتا ہے؟‘
ان سوالوں سے گھبرا کر کچھ لڑکیوں نے رونا بھی شروع کر دیا تھا— انفارمیشن بیورو نے موگی کے سارے کھاتے اور بینک اکاؤنٹ تک سیل کر دیئے تھے— موگی کے افسران اس اچانک کے چھاپے سے سہمے ہوئے تھے— سب سے زیادہ حیران اور پریشان لڑکیاں تھیں، جنہیں اپنے مستقبل کے نام پر پھر سے اندھیرا دکھائی دینے لگا تھا—
دو گھنٹے کے ہنگامے اور پوچھ تاچھ کے بعد پولس اپنے ساتھ مولوی ہشام اور ان کی نگرانی میں کام کرنے والے دو افسروں کو اپنے ساتھ لے گئی تھی—
رباب کے دل پر یہ خبر کسی بجلی کی طرح گری تھی— وہ سناٹے میں تھی۔ آنکھوں سے آنسو چھلک پڑے۔ ننھی سی شمیمہ کا چہرہ آنکھوں کے آگے لہرایا— کان کے پردے پر سریلی گھنٹیوں کے جیسی اس کی آواز ابھرنے لگی…
’پہلے سوچتی تھی، سارے برے ہیں دنیا میں…؟‘
’اور اب…‘
’اب ایسا نہیں لگتا…‘
’کیوں…؟‘
شمیمہ کی آنکھوں میں قمقمے روشن تھے۔
’اس دنیا میں آپ بھی ہونا…؟‘
ہاں میں بھی… لیکن صرف میرے ہونے سے …؟‘
’ماں نہیں تھی نا… اور باپ…‘ اس کی آنکھوں کے قمقمے بجھ گئے—  جانور تھا وہ…‘
آنکھوں میں نمی چھا گئی—
’جان بھی نہیں سکی کہ زندگی کیا ہوتی ہے؟ کس لیے ملتی ہے؟ ناشکری تھی— خداسے بدلا لیا کرتی تھی—‘
’کیسے؟‘
’ ہر وقت خدا کو کوستی رہتی… ایک محبت ملی… اس محبت نے بھی سودا کیا میرا…‘
’جو بیت گئی سو بات گئی…‘
’نہیں… گزرا ہوا پل دوزخ ہو تو یادیں نہیں جاتیں…‘
’لیکن پھر بھی شمیمہ— گزرے ہوئے پل یاد بھی نہیں رکھے جاتے۔ یاد رکھو گی تو آگے کی زندگی سخت ہو جائے گئی—‘
’یادیں بھلائی نہیں جاتیں—‘
’لیکن اب تم اس زندگی سے باہر نکل آئی ہو شمیمہ…‘
’پتہ نہیں…‘
عجیب سی مسکراہٹ تھی— خوشی کا نام و نشان نہیں۔ درد اور کڑواہٹ دونوں ساتھ ساتھ—
رباب نے پلٹ کر پوچھا—
’تم ابھی بھی خوش نہیں…؟‘
’خوش ہونے جیسی کوئی بات تو ہو…‘ وہ مسکرائی تو موتیوں جیسے دانت سامنے آ گئے—
’اب تم اچھی جگہ ہو…؟‘ رباب اس کی آنکھیں پڑھ رہی تھی—
’جیسا آپ سوچتی ہیں۔ ویسا نہیں ہے—‘ وہ کہتے کہتے رک گئی تھی— بھیڑیے سب جگہ ہوتے ہیں—
’بھیڑیے…‘
رباب ایک دم سے چونک گئی تھی—
آنسوؤں کو پیتی ہوئی شمیمہ اس سے لپٹ گئی تھی۔ لیکن آپ بہت اچھی ہو… لے چلو گی نا مجھے اپنے ساتھ…؟ اپنے بیٹے سے ملواؤ گی نا…؟‘
’ہاں کیوں نہیں…‘
معصوم سی خرگوش کی طرح وہ رباب کی بانہوں میں سما گئی… لیکن کہیں دور آسمان پر ایک تارہ ٹوٹا تھا…
رباب اپنی دنیا میں واپس لوٹی تو سانس تیز تیز چل رہی تھی…
اور اس کے ٹھیک دوسرے دن ہی وہ حادثہ ہو گیا تھا…
٭٭
لیکن ان حادثوں سے پہلے ایک چونکا دینے والی خبر آئی تھی— اور اس خبر کو آپ تک پہنچانا ضروری سمجھتا ہوں—
میں ارشد پاشا… میں نے پہلے بھی اعتراف کیا ہے کہ کچھ خبریں مختلف ذرائع سے ہم تک پہنچتی ہیں۔ اور جب ایک صحافی ہونے کے ناطے ان خبروں کی صداقت پر یقین ہو جاتا ہے، اس کے بعد ہی میں انہیں تحریر میں لانا شروع کرتا ہوں— اور جیسا کہ میں آپ کو بار بار بتاتا رہا کہ میں کوئی فکشن رائٹر یا ناولسٹ نہیں ہوں— اس لیے مجھے ناول لکھنے کا آرٹ نہیں آتا— اور میں ابھی، اس تحریر کے لیے اس فن کو ضروری بھی نہیں سمجھتا— کیونکہ میری دنیا الگ ہے۔ ہم خبروں کی دنیا کے لوگ ہیں جہاں جھوٹی اور من گھڑنت باتوں کے لیے کوئی جگہ نہیں—
ابھے کمار دوبے کو ۱۴ دن کے مزید ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا تھا— وہ اپنی بات پر ابھی بھی قائم تھے—
’ملک کے سیوک کو ہمیشہ سے جیل کی سلاخیں ملتی رہی ہیں— میں بے قصور ہوں—‘
سنگھ حرکت میں آ گیا تھا— ابھے کمار دوبے کے منہ کھولنے کا مطلب تھا، سنگھ لابی کے کئی دوسرے لوگوں کا بے نقاب ہو جانا— ایک سوال اور بھی تھا کہ اے ٹی ایس کیا ابھے کمار دوبے کا منہ کھلوا سکتی ہے—؟
اشوک نمانی کے گھر اسی سلسلے کو لے کر ایک میٹنگ ہوئی۔ میٹنگ میں راشٹریہ سویم سنگھ کے دوسرے کاریہ کرتا بھی موجود تھے۔
نمانی کا کہنا تھا—
’ابھے کمار دوبے پر آنکھیں موند کر بھروسہ نہیں کیا جاسکتا— عمر کی جن منزلوں پر وہ ہیں، وہاں انہیں توڑا جاسکتا ہے—‘
سپر ویژن انڈسٹری کے مالک کا نجی بھائی چلّائے— 
’یہ حال رہا تو ہم جیسے لوگ سنگھ میں آنے سے پناہ مانگیں گے—‘
’لیکن کیوں—؟‘ ڈاکٹر راما مورتی نے پوچھا، جن کے کئی ٹرسٹ اور ہاسپٹل دلی سے ممبئی تک چھائے ہوئے تھے۔
’کانجی بھائی صحیح بولتے ہیں—‘ یہ ٹی راجن تھے۔ جو پیشہ سے وکیل تھے—
ٹی راجن خاموش تھے— ان کا ایک بڑے چینل میں شیئر تھا—
اشوک نمانی غصے میں تھے— آپ لوگ سنگھ سے وفاداری دکھانے جمع ہوئے ہیں یا بغاوت کرنے؟‘
’میں نے ایک سیدھی بات پوچھی ہے— کہ کیا ابھے کمار دوبے پر بھروسہ کیا جاسکتا ہے۔؟
کانجی بھائی بولے— ’کیا سنگھ اپنے کسی بھی کاریہ کرتا پر بھروسہ کرتا ہے؟‘
نٹ راجن اب چپ نہیں بیٹھے— سادھوی مرگیہ کیس میں کیا ہوا؟ سب کے سامنے ہے— بم دھماکے میں ارون جوشی نے اپنی سیوا دی— مرگیہ نے اسی کی ہتیا کرادی— کہ کل کو ارون جوشی سے کوئی راز نہ اگلوا لیا جائے—‘
کمرے میں سناٹا تھا—
کانجی بھائی سلگ رہے تھے— ’اپنے لوگوں کو بچانے کے بجائے سنگھ تو اپنے ہی لوگوں کی ہتیائیں کرا رہا ہے—‘
’یہ ہتیا نہیں ہے— ‘ اشوک نمانی بولے—
’تو شہادت بھی نہیں ہے— ہندو آستھا کا مطلب یہ تو نہیں ہے کہ ہم سنگھ کے لیے سیوا بھی دیں اور مارے بھی جائیں۔ کون ایسی سیوا پسند کرے گا؟‘
ہال میں تیز تیز گفتگو کے سلسلے شروع ہو گئے تھے— اشوک نمانی کو سنگھ میں اچانک ہونے والی اس بغاوت کی امید نہیں تھی۔
کانجی بھائی بولے— ’آپ کا کیا ہے— ابھے کمار دوبے کو جیل میں ہی زہر دلوا دیں گے— رام نام ستیہ ہے۔ کون جانے، زہر خود چھپا کر لے گئے تھے یا کسی نے دیا— وہاں بھی تو سنگھ کے لوگ ہیں— اور بھول جائیں گے کہ ابھے کمار دوبے نے بٹلہ ہاؤس کے لیے کتنی بڑی قربانی دی—‘ 
‘خود دوبے نے کیا کیا؟‘ نمانی نے پلٹ وار کیا— دھرم کے لیے ورما کی بلی چڑھائی یا نہیں؟ ورما تو برسوں سے سنگھ کا سمرتھک تھا— پھر دشینت کے کندھے پر بندوق رکھ کر ورما کی بلی کیوں چڑھائی؟ نمانی ملائمیت سے بولے— دھرم کے کاریہ کے لیے اتنی راجنیتی چلتی ہے— ہمیں آگے بھی اپنی شہادت کے لیے تیار رہنا ہو گا— کیونکہ دھرم کا مورچہ ایک دن میں نہیں جیتا جاسکتا— یہاں سب کو قربان ہونے کے لیے تیار رہنا ہو گا— تبھی سفلتا ملے گی—‘
’وہ سفلتا کیسی جسے دیکھنے کے لیے ہم ہی نہ رہیں—‘ کانجی بھائی اپنی بات پر جمے ہوئے تھے— ’ہم میں سے ہر کوئی ایک مصروف زندگی گزار رہا ہے۔ کسی کے پاس انڈسٹری ہے کسی کے پاس چینلس۔ کسی کے پاس کوئی دوسری قابلیت ہے— لیکن ہم مرنے نہیں آئے ہیں— ہم پیسہ لگانے کو تیار ہیں لیکن کیا سنگھ آنے والے برسوں میں ہماری سرکچھا کی گارنٹی لیتی ہے—؟ سنگھ کو یہ گارنٹی لینی ہو گی— کیوں کہ بے نقاب ہونے پر ہم میں سے کوئی بھی ہندو آتنک واد کی بلی چڑھنے کو تیار نہیں ہو گا—
نٹ راجن دھیرے سے بولے— ’کانجی بھائی کی بات میں وزن ہے— سنگھ کو اس پر وچار کرنا ہو گا— ورما کو مروا دیا— ارون جوشی کی ہتیا کرا دی— اور اب ابھے کمار دوبے کو ان کی سیواؤں کے بدلے— وہ کہتے کہتے رکے— ’سنگھ کو اس پر پنر وچار کی ضرورت ہے کہ کیا اپنی آستھاؤں کے بدلے ہمیں ہی پرانوں کا بلیدان دینا ہو گا۔ یہ اُچت نہیں ہے— اور اس سے سنگھ کے کاریہ کرتاؤں میں دہشت پھیل گئی ہے—‘
’ہونہہ—‘
اشوک نمانی نے گہری سانس لی— ایک نظر سب کے چہرے پر ڈالی— پھر بولے—
’لیکن اگر دوبے منہ کھولتے ہیں تو؟ کوئی اتر ہے آپ کے پاس— آپ بھی پھنستے ہیں اور میں بھی— اور وہ دشینت بھی— ورما کا معاملہ پھر سرخیوں میں اچھل جائے گا— ابھی تک میڈیا میں یہ معاملہ دبا رہا ہے— کل کو سب بے نقاب ہوں گے— اور عام ہندو تک کیا میسج جائے گا—؟ کبھی سوچا ہے؟ سوئی تاگے سے ہوائی جہاز کے بزنس تک ہر جگہ سنگھ کے لوگ ہیں— آزادی کے بعد کے ہر دھماکے میں ہمارا ہاتھ ہے— اسلامی آتنک واد کنارے پڑ جائے گا— کیوں—؟ ہم رہ جائیں گے— اور یہ بات عام لوگوں تک پہنچے گی کہ ہر بزنس ہر انڈسٹری میں ہمارا پیسہ لگا ہے— فلم سے میڈیا اور حکومت بنانے کے کردار کے پیچھے ہم رہے ہیں— اور ہم ہی ہیں جو دھماکے کروا کے اپنے ہی لوگوں کی ہتیا کرتے رہے ہیں۔ کچھ سمجھ رہے ہیں آپ لوگ؟ یا ہم یہاں اپنا سمے برباد کر رہے ہیں— جب آپ سنگھ میں شامل ہوئے تھے تو لکشیہ کیا تھا آپ کا؟ اپنے دھرم کو بچانا— دھرم کو نیائے دلانا— اسلام کی پرگتی روکنا— اسلام مذہب کے ماننے والوں کو اسہائے بنانا— کیوں؟ کیونکہ ۷۰۰ برسوں تک انہوں نے ہندوؤں کو روندا ہے۔ کچلا ہے اور اب اپمان سے بدلہ لینے کے لیے ہندو جاگ چکے ہیں— اور اسی لیے آپ جیسے پونجی پتی اپنی سیوائیں دینے ہمارے ساتھ ہو لیے— یہی کارن تھا نا؟ پھر—؟ بھے کو نکالیے— سنگھ سدا آپ کے ساتھ ہے۔ ہاں ہمیں بھی اپنے لکشیہ کے لیے راجنیتی رچنی پڑتی ہے۔ کل اس راجنیتی کا ایک مہرہ میں بھی ہوسکتا ہوں۔ اور آپ بھی— تو اس بھے سے ہم آگے ہی نہیں بڑھیں۔ پیچھے ہٹ جائیں—؟ سنگھ کو آپ کے سہیوگ کی ضرورت کل بھی تھی، اور آج بھی ہے— اور ہمیشہ رہے گی— سمجھ رہے ہیں نا آپ لوگ—‘
کمرے میں گہرا سناٹا تھا—
کانجی بھائی، نٹ راجن چپ تھے— آگے کی یوجناؤںپر کام شروع ہوچکا تھا۔ اب ہنسی قہقہوں کے بیچ چائے ناشتے کا دور چل رہا تھا۔
٭٭



(7)

تب تک فیصلہ نہیں آیا تھا— لیکن فیصلے کی تاریخ مقرر ہو چکی تھی۔ نیوز چینلس چیخ رہے تھے— دلّی میں چاروں طرف سیاسی بساط بچھ چکی تھی۔ آر ایس ایس پر مکھ نے بھی اس موقع پر دلّی میں اپنا ڈیرہ جما لیا تھا—
یہ ایک لمبا اور رکا ہوا فیصلہ تھا، جس کے آنے کی امید میں ایک پھر فضا میں انتشار کے تخم بو دیے گئے تھے۔ چاروں طرف پولس چینلس پر بیانات کے سلسلے— ۶؍ دسمبر ۱۹۹۲ء کی تاریخ ابھی  تک بھلائی نہیں گئی تھی۔ ایک ایسا دن، جس نے ایک خوفناک اتہاس لکھا تھا— ان اٹھارہ برسوں میں ایک پوری دنیا بدل چکی تھی۔
نئی نسل جوان ہو گئی تھی— تب کے شیر اب بوڑھے اور کمزور ہو گئے تھے اور ایسے کتنے ہی لیڈر تھے، جواب حاشیے پر پھینک دیئے گئے تھے۔
کانگریس فیصلہ آنے سے پہلے تک مسلم لیڈر اور سادھو سنتوں کو اپنی حمایت میں لینے کی کوشش کر رہی تھی— آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ اور وشو ہندو پریشد کے ذمہ دار لوگوں سے حکومت نے گفتگو کا رشتہ قائم کر رکھا تھا۔ مگر اس کے باوجود عام آدمی خوف محسوس کر رہا تھا کہ کہیں دوبارہ ۱۹۹۲ء جیسے حالات نہ پیدا کر دیئے جائیں۔
ایودھیا کے اسی متنازعہ معاملے نے بھگوا پارٹی کو حکومت کے تخت تک پہنچایا تھا۔ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے ہاتھ مضبوط ہوئے تھے — میں کچھ بھی نہیں بھولا تھا۔ وہ ساری تصویریں جیسے آنکھوں کے پردے پر اب بھی روشن تھیں… مسلمان اپنے اپنے گھروں میں دبکے ہوئے تھے— ہونٹ چپ ، آنکھیں خوف زدہ اور دروازے بند—
ان اٹھارہ برسوں میں دنیا بدلی تھی— لیکن کتنی بدلی تھی دنیا— دہشت پسندی نئی تعریفوں کے ساتھ نئے بھیس بدل کر سامنے آ چکی تھی…
ابھی فیصلہ نہیں آیا تھا— فیصلہ آنے والا تھا— اور فیصلے کے آنے سے قبل وہ حادثہ ہو گیا ، جس کے بارے میں، میں نے خواب و خیال میں بھی نہیں سوچا تھا—
٭٭
عشا کی نماز میں نے گھر پر ہی پڑھی— رباب سہمی ہوئی تھی— نماز پڑھنے کے بعد اس نے پوچھا—
’کھانا لگاؤں؟‘
میں نے منع کر دیا— ’رہنے دو— جی بھاری ہے— بھوک لگے گی تو کھالوں گا…‘
’ٹھیک ہے— ’میں سونے جا رہی ہوں—‘
رباب بیڈ روم میں چلی گئی—
میں ڈرائنگ روم میں آ گیا— ٹی وی کھولا پھر ٹی وی بند کر دیا— خبروں سے اب گھبراہٹ ہونے لگی تھی— 
ٹھیک گیارہ بجے دروازے پر دستک ہوئی— آگے بڑھ کر میں نے دروازہ کھولا—
پولس کی وردی میں دروازے پر دشینت اپنے ایک ساتھی کے ساتھ کھڑا تھا— دونوں وردی میں تھے— اور حق بات یہ ہے کہ میں ان دونوں کو دیکھ کر ڈر گیا تھا—
دشینت کے چہرے پر قاتلانہ ہنسی تھی—
’اندر آنے کو نہیں کہو گے  ملّا جی—‘
مجھے دھکّا دیتے ہوئے وہ اندر آ گیا— اس کی آنکھیں چاروں طرف دیکھ رہی تھیں—
سہمی ہوئی رباب دروازے پر کھڑی تھی—
’اب کیا ہے؟ ، میری آنکھوں میں خوف کے ڈورے تیر رہے تھے۔
اتنی جلدی بھی کیا ہے  ملّا جی—‘ اپنے ساتھی کو دیکھ کر وہ قہقہہ مار کر ہنسا—
’بتا دوں سندیپ—؟‘
’یس سر—؟‘اس کے تخاطب سے پتہ تھا کہ اس کے ساتھ جو اسسٹنٹ تھا، اس کا نام سندیپ تھا— سندیپ راٹھور۔
’کیا بات ہے؟، میں اب بھی گھبرایا ہوا تھا۔
’لو جی سندیپ راٹھور— پولس والوں کی عزت ہی نہیں۔ چائے پانی کو بھی نہیں پوچھا جاتا اب۔ چلو جی، کوئی بات نہیں—‘
’چائے پانی کو بھی پوچھیں گے— لیکن بتائیے تو سہی۔ کیا بات ہے— کیا میرے بیٹے کی کوئی خبر ملی ہے—؟‘
’بیٹے کی خبر—‘ دشینت کے ساتھ سندیپ نے بھی زور کا قہقہہ لگایا— اسی بارے میں تو بات کرنے آیا ہوں۔ ماننا پڑے گا تم مسلمانوں کے دماغ چاچا چودھری سے بھی تیز چلتے ہیں—‘
’آپ ہمیں پریشان کر رہے ہیں…‘ یہ رباب تھی۔
’وہ تو ہمارا ادھیکار ہے جی، وردی پہنتے ہی ہم اس ادھیکار کے مالک بن جاتے ہیں۔ کیوں جی سندیپ—؟‘
سندیپ نے زور کا ٹھہاکہ لگایا—
دشینت کی نظریں ابھی بھی آس پاس کا معائنہ کر رہی تھیں—
’’وہ کیا ہے جی کہ فیصلہ آنے والا ہے۔ جنتا بھی پریشان، سرکار بھی اور ہم بھی— سب پریشان— سرکار کی پریشانی یہ کہ جنتا پھر سڑکوں پر نہ اتر آئے۔ سمجھ رہے ہو نا جی— پچھلی بار تو ہم نے مورچہ جیت ہی لیا۔ وہ تمہارے کھنڈ ر کو ہی دھوست کر دیا۔ پڑھ لو بیٹا نماز— مغلوں کی جاگیریں چھین لیں۔ اب فیصلہ آنے والا ہے جی— اور تم تو جانتے ہو ایسے موقعوں پر سرکاریں کیا کرتی ہیں۔ معاملہ کو دبانے کے لیے گڑے مردے اکھاڑے جاتے ہیں۔ وہ کیا کہتے ہیں جی… دھیان ڈائیورٹ کرنے کے لیے—‘
’تو آپ دھیان ڈائیورٹ کرنا چاہتے ہیں؟‘
’ہاں جی اور کیا— ہم پاگل ہوئے تھے جو سر اٹھایا ملّا کے گھر پہنچ گئے۔ ٹھیکہ نہیں جاتے۔ ہمارے لیے ٹھیکہ ساری رات کھلے رہتے ہیں۔‘
دشینت نے ٹھہاکہ لگایا— اب اس کی آواز سخت ہو گئی تھی—
’’سیدھی بات کریں گے جی۔ ہمیں گھما کے ناک پکڑنے نہیں آتی۔ اوپر سے آرڈر ملا ہے— گڑے مردے اکھاڑنے کے لیے ہمارے پاس دو مہرے ہیں۔ ایک علوی دوسرا تمہارا بیٹا اسامہ… اسامہ بن لادن— جو اسی دن سے فرار ہے۔ جب بٹلہ ہاؤس انکاؤنٹر ہوا تھا— ہے نا جی— دو انکاؤنٹر ہوئے— اور دو بھاگ گئے— ایک علوی اور دوسرا تمہارا بیٹا—‘
میں سکتے میں تھا— ’لیکن علوی کو تو آپ نے صبح صبح اس کے گھر سے حراست میں لیا تھا—‘
’لو جی— کہانی بدلنے میں ہم پولس والوں کو ٹائم ہی کتنا لگتا ہے۔ ہم تو پورا اتہاس بدل دیتے ہیں۔ اب غور سے میری باتیں سنو جی— ابھی تک بیٹا غائب ہے۔ اپنی اور اپنی پتنی کی بھلائی چاہتے ہو تو وہی کرو جو ہم کہیں گے— اور ذرا بھی ہوشیاری نہیں —ہوشیاری کے لیے کوئی جگہ بھی نہیں—‘
دشینت صوفے پر اڑ گیا تھا— یہ لمحے میرے اور رباب کے لیے کسی قیامت سے کم نہیں تھے۔ سانس تیز تیز چل رہی تھی۔ آنکھوں کے آگے گھنے اندھیرے اکٹھے ہو گئے تھے۔ میں نے پلٹ کر رباب کو دیکھا۔ اس کے چہرے پر مردنی چھائی تھی۔ کمرے میں بھیانک زلزلے کے آثار دیکھ رہے تھے— ہم نا سمجھوں کی طرح دشینت اور سندیپ راٹھور کے چہرے کا جائزہ لے رہے تھے۔ سندیپ راٹھور نے اس بار پلٹ کر رباب کی طرف دیکھا۔
’’بھابھی جی— آپ ٹینشن مت لو— ہمارے لیے چائے بنا کر لے آؤ—‘
سہمی ہوئی رباب کچن کی طرف چلی گئی— دشینت نے پلٹ کر میری طرف دیکھا۔
’زیادہ ٹینشن مت لو ملّا جی— یہ سمجھو ہم تمہارے بھلے کے لیے آئے ہیں۔ تمہیں ہمارا ایک چھوٹا سا کام کرنا ہے— وہ کیا پروگرام تھا جی… امیتابھ بچن کا… کون بنے گا کروڑ پتی— اس میں جواب کے لیے چار آپشن دیئے جاتے تھے۔ مگر ملّا جی یہاں آپ کے لیے کوئی آپشن نہیں ہے۔‘
میرے بدن میں تیز لہریں اٹھ رہی تھیں۔
’آپ جانتے ہیں نا… میرا بیٹا گم ہے۔ گمشدگی کو دوسال ہو گئے —‘
’لو جی— آپ کے بیٹے کو بچانے ہی تو آئے ہیں۔ اس دنیا کو ایک بڑی بریکنگ نیوز کے لیے تیار کرنے— ہم انتظار کریں گے کہ فیصلہ کیا آتا ہے۔ فیصلہ اگر ہندوؤں کے خلاف آیا— لوگ بھڑک گئے— سادھو سنت سڑکوں پر آ گئے تو وہی استتھی ہو گی جو ۹۲ میں تھی۔ اس استتھی سے عام جنتا کو ابارنے کا ایک اپائے ہے ہمارے پاس۔ بٹلہ ہاؤس انکاؤنٹر کے گڑے مردے اکھاڑ دو۔ بھاگے ہوئے دو آتنگ وادیوں کا پتہ چل گیا ہے۔ ایک ہے علوی اور دوسرا تمہارا بیٹا اسامہ— اور اسامہ کو بچانا چاہتے ہو تو علوی کی مخالفت تو کرنی ہو گی نا…؟ گواہ تم ہو گے ملا جی— بیان تم دو گے۔ رکارڈ ہم کریں گے۔ تم میڈیا کے سامنے بیان دو گے۔ علوی کے خلاف۔ کیا بیان دو گے یہ وقت آنے پر ہم بتا دیں گے۔ اس لیے ہم میڈیا کو یہ بتائیں گے کہ ابھی تک دو میں سے ایک مجرم ہمارے ہاتھ لگا ہے، ورنہ ہم تمہارے بیٹے کو بھی پھنسا سکتے تھے—‘
میں اندر تک لرز گیا ہوں۔ جسم پسینے ڈوب چکا ہے۔ رباب چائے لے کر آ گئی ہے۔ سندیپ نے دوبارہ اندر بھیج دیا ہے کہ ابھی آپ کی یہاں ضرورت نہیں ہے۔ ہم ملا جی سے باتیں کر رہے ہیں— آپ کی ضرورت ہو گی تو آپ کو بلا لیں گے—‘ آنکھوں کے آگے کا اندھیرا اب پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکا ہے۔
’لیکن علوی تو… اسامہ کا دوست ہے—‘
’لو… ملّا جی کی سنو— ارے ہم آپ کے بیٹے کو بچانے آئے ہیں اور آپ دوستی کی بات کر رہے ہیں۔ لگتا ہے آپ کو بیٹے سے محبت نہیں ہے۔ آتنک وادی کسی کا دوست نہیں ہوتا— ‘ دشینت کی آواز سخت ہو گئی تھی—
’ہم کمینگی پر اتر آئے ملا جی تو کچھ بھی کرسکتے ہیں— تمہارے کھوئے ہوئے بیٹے کو مفرور آتنگ وادی ثابت کرنے میں ہمیں دو سکنڈ نہیں لگے گا… لیکن ہم تم پر رحم کر رہے ہیں— بس یہی سمجھ لو— ابھی ٹھیکرا صرف علوی پر ٹوٹ رہا ہے…‘
’لیکن کل میرے بیٹے پر بھی تو ٹوٹ سکتا ہے؟‘
’لو ملّا جی کی سنو— ، دشینت نے ٹھہاکا لگایا— کل کی کل دیکھو ملا جی— آج کی آج—، اس بار اس نے بھدی سی گالی دی تھی—
’دو منٹ نہیں لگیں گے تم سب کو تڑی پار کرنے میں— تم سب کو آتنک وادی گھوشت کرنے میں۔ مع ثبوت— دس منٹ نہیں لگیں گے— تمہارے تار اعظم گڑھ سے مالیگاؤں تک جوڑتے ہوئے۔ سالے— مغلوں کے زمانے کی اکڑ دکھاتے ہو—‘
دشینت نے پھر ایک ٹھہاکا لگایا— اس بار اس کے لہجے میں معصومیت تھی—
’نہ— نہ— ٹینشن مت لو ملّا جی— علوی کے خلاف بیان دینا ہے، یہ بات اپنی گرہ میں باندھ لو— وہ بھی ابھی نہیں— فیصلے کی راہ تکو— فیصلہ ہمارے حق میں آیا تو ٹھیک— تمہارے حق میں آیا تو پھر— ماٹی مانگے خون— اب شانت ہو جاؤ— یہ وشواس تو ہے ہی کہ اس کا ذکر کسی سے نہیں کرو گے— کیا تو جانتے ہونا ملّا جی— ہمیں بھی اب حلال کرنا آ گیا ہے۔ چل سندیپ—‘
 کندھا تھپ تھپاتا ہوا وہ گیٹ سے باہر نکل گیا— کچھ دیر تک ساکت نگاہیں دروازے کو گھورتی رہیں— لیکن اب وہاں کوئی نہیں تھا— اس کے جاتے ہی جیسے کسی نے ٹھہرے ہوئے پانی میں کنکری پھینکی ہو— اب تیز لہریں اٹھ رہی تھیں— سارا گھر ہلتا ہوا لگ رہا تھا—
’وہ استعمال کریں گے مجھے؟ علوی کے خلاف؟ استعمال کریں گے؟‘ کانوں کے پاس نگاڑے بج رہے تھے— ’لیکن … تم کر بھی کیا سکتے ہو ارشد پاشا— استعمال ہونے کے علاوہ کوئی اور راستہ بچا ہے تمہارے پاس…
دروازے، کھڑکیوں سے خوف کی بارش ہو رہی ہے— چہرہ زرد ہو گیا ہے— دروازے کے پاس رباب کھڑی ہے— بالکل پتھر کی مورت کی طرح— چہرہ سن—
’اب کیا کرو گے—؟‘
کرنے کے لیے کیا بچا ہے…؟ سرد ٹھٹھری ہوئی آواز—
’اپنے بچے کے لیے کسی کی جان لے لو گے؟‘
رباب صوفے پر کانپتی ہوئی دراز ہو گئی ہے—
’کوئی راستہ ہے ہمارے پاس؟ میں زور سے چیختا ہوں— ’یہ نہ کریں تو بس ایک راستہ رہ جاتا ہے—‘
’وہ کیا—‘
’موت کا راستہ—‘ چہرہ آنسوؤں سے تر ہے— ’اپنے ہی ملک میں سالوں نے زمین تنگ کر دی ہے ہماری— بین چود…‘
رباب چلائی ہے— ’پاگل ہو گئے ہو… تم گالیاں دے رہے ہو…‘
’لفظ مر جائیں تو صرف بے بس گالیاں رہ جاتی ہیں— اسامہ کی زندگی سوچیں یا علوی کی؟‘
’اور ہماری؟ ‘ رباب کا چہرہ آنسوؤں سے تر تھا۔
’وہ علوی کو ہلاک کریں گے— پھر وقت آئے گا تو اسامہ کو شکار بنا لیں گے— اور ہم… ہم تو پہلے ہی ان کا شکار بن چکے ہیں۔‘
’کیا کہیں کوئی حل نہیں ہے؟ لرزتی آواز میں، میں رباب کے چہرے کو دیکھ رہا تھا، جہاں آواز گم تھی اور سسکیاں باقی رہ گئی تھی—
’حل ہے…‘ رباب روتے ہوئے بولی— ہم وہی کریں جو وہ کہتے ہیں۔ ہم ویسے جئیں جیسا وہ چاہتے ہیں۔ وہ کہیں ڈوگی بن جاؤ— ہم ڈوگی بن جائیں۔ وہ مسکرا کر کہیں ہم گولی چلا رہے ہیں— ہم وفاداری میں گولی کھا جائیں— اسامہ نے کیا غلط کیا—؟ اب لگتا ہے، اسامہ نے کچھ غلط نہیں کیا— اس سسٹم میں کوئی نہیں رہ سکتا— کوئی بھی نہیں—‘
میں زور سے چیخا— ’مگر یہ ہماری مجبوری ہے رباب— ہم اسامہ کو مردہ تسلیم نہیں کرسکتے—‘
’تو فیصلے کا انتظار کرو— ایسا لگتا ہے جیسے کلاشنکوف لیے ہوئے کوئی ہمارے پیچھے کھڑا ہے۔ یہ ہمارے محافظ ہیں— جن کی گولیاں ہمارے لیے بنتی ہیں—‘
٭٭
میں گہرے سناٹے میں ہوں—
میں … ارشد پاشا— یقین دلاتا ہوا، کہ اس لمحے جیسے میرے جسم کا قطرہ قطرہ خون چوس لیا گیا ہو—
اپنے ہی گھر میں تنہا اور خوفزدہ— کوئی چیخ ہے، جو رہ رہ کر گونجتی ہے— اور مجھے ٹوٹ جانا ہے—
’وہ تمہیں ایک خوف کا انجکشن دے گیا ہے— تم سلامت نہیں ہو ارشد پاشا— وہ تمہیں خوف میں رہنے کی بد دعا دے کر گیا ہے—
کمرے میں ڈھیر ساری چمگادڑیں اکٹھی ہو گئی ہیں… میں سر جھکاتا ہوں تو صرف تاریک سائے رہ جاتے ہیں… آنکھوں کے پردے پر کہیں ماضی اترتا ہے— کوئی چیخ مجھے اٹھارہ برس پہلے کی دنیا میں لے جانا چاہتی ہے—
نگاڑوں کی آواز تیز—
دھماکے اس سے بھی کہیں زیادہ تیز…
آنکھوں میں رقص کرتی دھندلی پرچھائیاں… ایک کہنہ عمارت کے نقوش ابھرتے ہیں۔ کچھ غنڈے دیوانگی اور جنون میں اس عمارت کی اینٹ سے اینٹ بجانے کی کوشش کر رہے ہیں… ہر ہر مہادیو…‘
سنگھ کی آواز—
رقص کرتی دھندلی پرچھائیوں میں اب اس عمارت کے واضح نقوش ابھرتے ہیں… ہر ہر مہادیو… ایک دھکا اور دو… بابری مسجد توڑ دو… ہر ہر مہادیو… جے شری رام…
گونجتے ہوئے نعرے اور سلگتی چیخ کے درمیان میں ہوں… میں ارشد پاشا— اپنے ہی گھر اور کمرے کی قبرنما دیواروں کے درمیان — توڑ پھوڑ کی بے ہنگم آوازوں کے درمیان—
ایک تاریخ مجھے آواز دے رہی ہے—
میں خوف کے سائے سے باہر آتا ہوا اس تاریخ کی طرف لپکنے کی سعی کرتا ہوں تو خوف کی بدلیاں یہاں بھی میرا راستہ روکے کھڑی ہیں۔
’کہاں جاؤ گے—؟‘
’کہیں بھی—‘
’تاریخ کے ایک ملبے سے نکل کر دوسرے ملبے میں—؟‘
’بد نصیبی ہے— ہماری مجموعی تاریخ مٹی کا ڈھیر، ملبہ بن چکی ہے…‘
اندر کوئی ہنس رہا ہے— ’اس سے آگے جاؤ گے تب بھی ملبہ ہی ملے گا— آزادی بھی تمہارے لیے ایک ملبہ تھی—‘
’جہاں اپنی ہی قبر کھودی ہم نے اور پاکستان لے لیا—‘
’تقسیم کو ایک مدت گزر چکی ہو— اس ملک کے باقی لوگ تقسیم کے زہر کو بھول چکے ہیں۔ بس ایک تم رہ گئے ہو ارشد پاشا— ٹوٹتے ہو یا ہارتے ہو— مرتے ہو یا زخمی ہوتے ہو تو سیدھے تقسیم تک پہنچ جاتے ہو…‘
اندر کوئی ہے جو چیخ رہا ہے— ’تقسیم ایک پڑاؤ تھا— ایک بڑا ملبہ— اس بڑے ملبے کے بعد … ایک دوسرا ملبہ …‘
’ہر ہر مہادیو… جے شری رام… شنکھ کی آوازیں…‘
’ایک ملبے سے نکل کر ایک دوسری تاریخ کے ملبے میں…‘
میں سر جھکا لیتا ہوں۔ شاید یہ ہماری مجبوری ہوتی ہے—
٭٭
ڈم… ڈم…
ڈرم… ڈرم…
نگاڑے بج رہے ہیں— میں اس بے ہنگم شور سے باہر نکلنا چاہتا ہوں تو ایک چہرہ میرا راستہ روک دیتا ہے—
’میں نے آپ کے بیٹے کو دیکھا ہے؟‘
’اسی دن شام ٹھیک چھ بجے— دروازے پر ایک انجانے آدمی کو دیکھ کر میں چونک گیا تھا—
’میں ہری پرساد ہوں— قرول باغ میں رہتا ہوں—‘
دبلے پتلے، ماتھے پر ٹیکا لگائے، دھوتی اور کرتا پائجامہ پہنے ہری بھائی کے ہاتھوں میں کچھ دن پرانا ہندی کا اخبار تھا، جس میں اسامہ کی تصویر چھپی تھی—
’یہ آپ کا بیٹا ہے نا…؟‘
’ہاں—‘
’میں نے اسے دیکھا ہے—‘
لیکن کہاں؟ اس بار میں چونک گیا تھا۔
ہری بھائی نے سر جھکا لیا— ’شاید آپ وشواس نہ کریں۔ لیکن میں نے دیکھا ہے— میں رام بھکت ہوں— اور میں رام نگری اجودھیا میں جاتا رہتا ہوں—‘
’جی—‘
ابھی ایک ہفتہ پہلے میں اجودھیا میں تھا— عمر کے اس پڑاؤ پر وہاں شانتی ملتی ہے مجھے…‘
’جی—‘
’میں نے سادؤھو سنتوں کے قافلے کے ساتھ ہنومان گڑھی کی سیڑھیاں چڑھتے آپ کے بیٹے کو دیکھا ہے—‘
’سادھوں سنتوں کے ساتھ؟‘ میں زور سے چیخا— ایسا تو نہیں کہ آپ کو وہم ہوا ہو—‘
’بالکل بھی نہیں— میں ہنومان گڑھی کے پاس ہی آشرم میں ٹھہرا ہوا تھا— میں نے آپ کا انٹرویو بھی دیکھا — مجھے یہ بچہ یاد رہ گیا— پھر اس کی تصویریں سماچار پتروں میں دیکھیں— اس کے بارے میں پڑھا تو مجھے اس سے ہمدردی ہوئی‘
’کیا وہ اب بھی وہیں ہے؟‘
’نہیں کہہ سکتا—‘
’کیا آپ نے اس سے بات کرنے کی کوشش کی؟‘
’اس کے بعد وہ ملا ہی نہیں— بس ایک جھلک دیکھی— شاید اس نے بھی میری طرف دیکھا تھا— مجھے حیرانی ہے کہ اس کے بعد وہ گڑھی کیا، سیتا رسوئی یا آس پاس کہیں نظر نہیں آیا—‘
’کیا آپ نے وہاں سادھوؤں سے اس کے بارے میں پوچھا—؟‘
’نہیں— وہ لوگ ہری دوار سے آئے تھے۔ پھر ہری دوار لوٹ گئے—‘
ہری پرساد کے جانے کے بعد رباب کی آنکھیں چھلک آئی تھیں۔ ایک بار پھر بیٹے کے سراغ نے امید کے دیئے روشن کر دیئے تھے۔
’ہم بھی اجودھیا چلیں گے—‘
’نہیں— میں جاؤں گا— اکیلے— ممکن ہوا تو ہری دوار بھی—‘ میں نے اچانک چونک کر رباب سے پوچھا۔
’تمہیں یاد ہے جب اسامہ کے شملہ میں ہونے کی خبر ملی تھی؟‘
’ہاں—‘
وہاں اس نے ایک ہندو لڑکے کو بچایا تھا— خون دیا تھا— اور اب اجودھیا— سادھو سنتوں کے ساتھ…‘
’تم کیا کہنا چاہتے ہو—؟‘
’پتہ نہیں…‘ میری آنکھیں کہیں کھو گئی تھیں…
’دھرم پر یورتن…؟‘ رباب نے چونک کر میری طرف دیکھا— کہیں تم یہ تو کہنا نہیں چاہتے—
’بالکل نہیں— جس طرح وہ اس سسٹم سے ناراض ہو کر گیا ہے، وہ کسی اور دھرم کو نہیں اپنا سکتا—‘
’پھر—‘
’مجھے لگتا ہے… وہ کچھ نئے راستوں کو تلاش کر رہا ہے— کیسے راستے— یہ میں بھی نہیں جانتا… ممکن ہے وہ اس ملک کو الگ الگ تہذیبوں میں پڑھنے کی کوشش کر رہا ہو۔ ابھی میں وثوق سے اس بارے میں کوئی بھی رائے قائم نہیں کرسکتا‘
ڈرم… ڈرم…
اسامہ اجودھیا میں دیکھا گیا…
میں ایک بار پھر سے ان آوازوں کی زد میں ہوں— دھماکے تیز ہو گئے ہیں…
اجودھیا…
بابری مسجد…
تاریخ کا ایک دوسرا بے ڈھب ملبہ— آنکھوں کے آگے رقص کرتی پرچھائیاں…
میری آنکھیں بند ہیں…
میں ہولناک مناظر کی زد میں ہوں…
ایک خون میں سنی ہوئی ٹرین ہے جو چھک چھک کرتی ہوئی مجھے اس تاریک سرنگ میں لے جا رہی ہے—
قارئین…
یہاں آپ کو ٹھہرنا پڑے گا— کیونکہ آئندہ سطور میں جو کچھ آپ پڑھنے جا رہے ہیں ، وہاں میں بھی ایک کردار ہوں… میں… ارشد پاشا…
اٹھارہ برس قبل کی دنیا—
نفرت کی رتھ یاتراؤں نے کاشی کے پوتر ماحول میں بھی زہر بھر دیئے تھے…
بی اماں، تغلق پاشا… انور پاشا… میں ایک ایک کر کے ان آوازوں کی زد میں ہوں…
کاشی کی گلیوں اور کوچوں میں شباب کو آواز دیتا ہوا— اچانک نفرت کی ایک سنامی لہر سارے شہر کو بہا کر لے گئی تھی…
مجھے سب کچھ یاد آ رہا تھا…
لیکن یہاں میں بھی ایک کردار تھا— ایک بے بس کردار۔
٭٭٭






حصہ دوم




آتشِ رفتہ کا سراغ
(۱۹۸۶ء سے ۱۹۹۲ء تک)




 (1)

کچھ میری سُن یا خود سُنا
کیا سچ بھی کہنا ہے بُرا
کاشی کی ایسی دل نشیں
کتنی مقدّس سرزمیں

وہ مطربہ وہ قمقمے
گجروں سے وہ بجرے سجے
اسّی کو واپس ہو گئے
ننگے جو تھے ننگے رہے
بھوکے جو تھے بھوکے رہے
پھولوں کی چادر کیا کرے
نغموں سے دوزخ کیا بھرے
فتح و ظفر کا شور اٹھا
صد مرحبا صد مرحبا


جب جشن کا یہ وقت ہے
پھر زندگی کیوں سخت ہے
کہنے کی ساری بات ہے
اس روشنی سے کچھ نہیں
یہ رات پھر بھی رات ہے
دریا کا پانی لال ہے
فطرت کا دل پامال ہے
٭٭
کاشی — کاشی کی گلیاں، چھوٹی چھوٹی ان گلیوں میں ہی کاشی آباد ہے۔ یہاں کی صبح مشہور ہے— صبح ہوتے ہی کاشی کے گھاٹوں کا نظارہ دیکھنے کے لائق ہوتا ہے۔ بازاروں میں دھوم، بنارسی پان اور بنارسی ساڑیاں— پیتل اور اسٹیل کے برتن، مٹھائیوں کی دکانیں، حکیم اور عطار کی دکانیں— چھوٹے بڑے گھروں سے جھانکتے ہوئے لوگ— انجانے لوگوں پر پھبتیاں کستے ہوئے، پان کی دکانوں پر ہنسی ٹھٹھول کرتے ہوئے، کہیں ڈھول باجے کی آوازیں— بڑی بڑی کوٹھیاں اور پرانی حویلیاں بھی اسی بنارس کا حصہ ہیں۔ مادھو جی کی کوٹھی— بھارتیندو بھون— بنگالی کی ڈیوڑھی— سب کے پیچھے ایک لمبی تاریخ— پھر پھاٹکوں کا سلسلہ— گھنٹے والا پھاٹک، شیر والا پھاٹک— گھنٹہ نہیں رہا پھر بھی اب تک وہ جگہ گھنٹے والا پھاٹک کے نام سے ہی مشہور ہے۔ مندروں کا ایک لمبا سلسلہ— رادھا رمن جی کا مندر، اور بھی آس پاس کتنے ہی مندر— مندروں اور گھاٹوں کی نگری ہے یہ کاشی— گھاٹ کے کنارے کنارے آسن کی مدرا میں سادھوؤں اور تانترکوں کو بھی دیکھا جاسکتا ہے۔ ایک زمانے میں بنارس کے بھانڈ مشہور تھے۔ شادی بیاہ جیسی تقریب میں ان بھانڈوں کو بلایا جاتا تھا— مرد عورتوں کے لباس میں ہوتے تھے۔ اس کے علاوہ بہروپئے بھی ہوتے تھے— لیکن بہروپئے اور بھانڈ آہستہ آہستہ تاریخی کتابوں میں دفن ہو گئے— بس، یادیں رہ گئیں یا پھر ان بھانڈوں کے گیت رہ گئے۔
اے پیا بجار جئی یو— واہ واہ جی واہ واہ
لمبے لمبے سیر اوڑالئی یو —واہ واہ جی واہ واہ
گرم گرم جلیبی لئی یو —واہ واہ جی واہ واہ
بڑکے بڑکے لڈّو لئی یو— واہ واہ جی واہ واہ
سنگھ جی کی کچوڑی لئی یو —واہ واہ جی واہ واہ
پہلا مہینوا گرم نہیں جانے اوں
حال نہیں جانے اوں، لگ گیا دوسرا مہینوا رے
اے پیا بجار جئی یو —واہ واہ جی واہ واہ
بنارس— دور تک گلیوں کا جال بچھا ہوا ہے۔ دائیں جانب پرانا شہر کے  اور گنگا گھاٹ اور بائیں جانب شہر کے باہری علاقوں کو جوڑتی بے شمار گلیاں ہیں جن میں ایک گلی وشوناتھ گلی کے نام سے ہے— جہاں با با وشوناتھ لنگ ہے۔ جن کے درشن کے لیے بارہ مہینے عقیدت مندوں کی قطار لگی رہتی ہے— جن کا درشن کر کے، جنہیں جل اور بیل پتر ارپن کر کے عقیدتمند اپنے آپ کو خوش قسمت سمجھتے ہیں— وشوناتھ مندر کے آس پاس پنڈوں کا ہجوم گھومتا رہتا ہے، بعض دفعہ غیر ضروری دباؤ ڈال کر کوئی بھی پنڈا اپنے لیے بڑی رقم اینٹھ لیتا ہے— یہ پنڈے خرید و فروخت میں بھی مدد کرتے ہیں، دکانداروں سے ان کا کمیشن طے رہتا ہے— یہاں نقلی گہنے،چوڑیوں اور سیندور سے دکانیں بھری ہوئی ہیں— خاص کر ایک قطار سے ساڑی اور کپڑے کی دکانیں—اور رہ رہ کر ہر ہر مہادیو کی گونج—
کاشی کی کم و بیش ہر گلی کہیں نہ کہیں سے گنگا تٹ تک پہنچ جاتی ہے— کہا جاتا ہے کہ شیو جی کے ترشول پر آباد ہے کاشی۔ بابا وشوناتھ یہاں براجمان ہیں۔ اس لیے تیرتھ استھلوں میں کاشی کی اپنی اہمیت ہے۔
لیکن کچھ برسوں سے جے گنگے جے گنگے  اور ہر ہر مہادیو کے نعرے بدل گئے ہیں —اب اس کی جگہ جے شری رام نے لے لی ہے— مندر کے کنارے کنارے آباد گھروں میں کتنے ہی گھر ایسے ہیں جہاں بھگوا جھنڈے لہرا رہے ہیں—
ان گلیوں میں مسلمانوں کی آبادی بھی اچھی خاصی ہے— لیکن بابری مسجد سے اٹھنے والی چیخ کی صداؤں نے کاشی کی ان گلیوں کے ماحول کو بھی خراب کر دیا ہے— یہیں سپرو مندر کے ذرا آگے ، مدن چوک کے دائیں طرف جانے والی گلی میں ایک پرانی حویلی آباد ہے— پاشاؤں کی حویلی— وقت نے اس حویلی کی رونق چھین لی— آن بان شان کے جنازے نکل گئے— باہر کی سیڑھیاں تک اب ٹوٹ چکی ہیں— مین سیڑھی کے دونوں طرف کمرے بنے ہوئے ہیں۔ یہ دونوں کمرے مہمانوں سے ملنے کے لیے بنائے گئے ہیں— درمیان کی جگہ پر لکڑی کا تخت بچھا ہے۔ مین سیڑھی سے اندر جاتے ہوئے ایک بڑا سا برآمدہ آتا ہے— برامدے میں ایک بڑا سا امرود کا درخت ہے— اور اس درخت کے نیچے ہمیشہ ہی ایک پلنگڑی بچھی رہتی ہے— گرمیوں کے دنوں میں یہ پلنگڑی بی اماں کے لیے تخت طاؤس سے کم نہیں— یہیں سے ان کی حکومت چلتی ہے…
او … بسمتیا…
ارے تیرا شرابی مرد کہاں ہے…؟
لو جی… عطار کے یہاں چلے جاؤ— اور ہاں وہ خیرو میاں رنگ ریز کے پاس بھی چلے جانا— ساڑی دی ہوئی ہے رنگنے کے لیے… ٹھہرو… کم بخت اس بلّی کو اسی وقت راستہ کاٹنا تھا… ابھی دو منٹ ٹھہر لو میاں— بلّی بد شگونی کر گئی ہے—
بڑے میاں یعنی تغلق پاشا اب ان باتوں کے عادی ہو چکے ہیں— وہ بس مسکرا کر رہ جاتے ہیں—
ارے یہ انور میاں کہاں رہ گئے —؟
راشدہ کی بچی۔ سر پر آنچل کیوں نہیں—؟
اور ارشد میاں— یہ کیا ڈراؤنی شکل بنا رکھی ہے—؟
پھر رہی سہی کسر بڑے میاں پر نکلتی— نوج… یہ بی بی، سی سن سن کر آپ کا دماغ چل گیا ہے— آدھا دماغ کمبخت نے پاکستان خراب کیا— اور میاں آدھا آپ کے آفس نے… ارے بسمتیا… کلموہی —سلہٹ پر باریک مصالحہ بھی نہیں پیسا جاتا— ہاتھ ہی نہیں چلتا تیرا… چل تیزی سے ہاتھ چلا— مصالحہ اور باریک… ہاں… اب ٹھیک ہے…‘
بابری مسجد کی گونج نے ارشد پاشا کو بھی زخمی کیا تھا— مگر ارشد پاشا ان نوجوانوں میں تھے جو مسجد مندر سے آگے نکل کر اپنے مستقبل کے گیسو سنوارنے میں دلچسپی رکھتے تھے— ادھر ان گلیوں میں آباد ایسے نوجوان بھی تھے جو شعر و ادب میں دلچسپیاں رکھتے تھے۔ محفلیں سجائی جاتیں— کوئی افسانہ لکھ رہا ہے— کوئی مضمون… کوئی شاعری کر رہا ہے۔ داڑھی بڑھ گئی ہے۔ چائے کے ہوٹلوں پر ان دانشور نوجوانوں کی بھیڑ جمع ہے۔ کوئی سر جھکائے ہے… کسی کی محبوبہ کا تذکرہ چل رہا ہے اور کوئی اپنی محبوبہ کے ذکر سے، شرم سے پانی پانی ہوا جا رہا ہے—
’چائے کون پلائے گا؟‘
’جس کی محبوبہ کی چٹھی آئی ہو گی—‘
اور کچھ ایسے بھی تھے جو ان پر آشوب ہواؤں سے گھبرا کر ترقی پسند نظریے کی آغوش  میں آسرا تلاش کر رہے تھے— یہاں مارکس اور اینجل کی باتیں تھیں— لینن کی کتابوں سے ریڈ بائبل تک کے تذکرے ہوتے— مسجد اور مندروں پر طنز کیے جاتے— اور ایسے نوجوانوں میں بدر بھی ایک تھا— اور شاید اسی لیے ارشد پاشا کی بدر سے کافی بننے لگی تھی۔ چہرے پر معصومیت— ہلکا سانولا رنگ— بڑی بڑی آنکھیں— داڑھی کئی دنوں کی بڑھی ہوئی— جب سے مندر اور مسجد کا یہ متنازعہ معاملہ شروع ہوا تھا، کاشی میں آنے والی تبدیلیوں کو آسانی سے محسوس کیا جاسکتا تھا۔

بدر اچانک چلتے چلتے رک جاتا— پھر ارشد پاشا کی طرف دیکھتا—
تمہیں ایسا نہیں لگتا کہ کاشی کے ان گھاٹوں سے اب آگ نکل رہی ہو— اور آگ کی لپٹیں برسوں کی محبت اور ملت کو جلا رہی ہوں…‘
ارشد پاشا گہری سانس لیتے—
’شاید تم سچ کہتے ہو— اجودھیا سے نکلی ہوئی آگ گنگا کے ان گھاٹوں تک پہنچ گئی ہے۔ سب کچھ بدلا بدلا سا لگتا ہے۔ آپسی محبت اور بھائی چارہ جیسے کتابوں اور کہانیوں کی باتیں لگتی ہیں— لگتا ہے جیسے اچانک ہماری طرف اٹھنے والی آنکھوں میں فرق آ گیا ہو— لوگ لباس سے ہمارے مذہب کی پہچان کر رہے ہوں۔ گھر سے باہر ٹوپی پہن کر جاتے ہوئے بھی ڈر لگتا ہے۔ آخر کس صدی میں آ گئے ہیں ہم—‘
بدر کی آنکھیں گہری سوچ میں گم تھیں— شاید ہم ہمیشہ سے ہی کمزور تھے۔ مذہب نے اس سے پہلے بھی بانٹ رکھا تھا۔ اسی مذہب کے نام پر ملک کی تقسیم بھی ہوئی۔ ہزاروں کے خون بہے۔ صرف مذہب کے نام پر— اور آج بھی یہی ہو رہا ہے ، ایک بابری مسجد کا سچ کیا سامنے آیا، نگاہیں بدل گئیں۔
ارشد پاشا نے برا سا منہ بنایا— ’تمہاری تمام باتوں سے اتفاق ہے— مگر جب تم مذہب کا مرثیہ پڑھنے لگتے ہو تو برا لگتا ہے۔ تم بھی اسی فرقہ پرستی کا شکار لگتے ہو جہاں تم بھی اس پر آشوب موسم کو بدلی بدلی سی آنکھوں سے دیکھ رہے ہو— مذہب ہے تو ہے اور مذہب ہمیشہ سے ہے— اور ہمیشہ رہے گا— اس کی جڑیں پختہ ہیں۔ 
بدر زور سے ہنسا— اتنی پختہ کہ اب رام اور رحیم ایک دوسرے سے لڑنے لگے ہیں— تمہارے اللہ میاں اور رام جی کے بیچ ٹھن گئی ہے— ارشد پاشا اس مذہب نے ہمیشہ دنگے کئے ہیں۔ ہمیشہ لڑایا ہی ہے۔ کم از کم اب تو جذبات کو بھڑکانے والے اس مذہبی رویّے سے باہر نکل کر دیکھو— نہیں دیکھو گے تو نفرت کی یہ آگ بڑھتے پھیلتے تم سب کو کھا جائے گی— کچھ بھی باقی نہیں بچے گا۔ مذہب کچھ لوگوں کے لیے ایک مضبوط سیاسی مہرہ ہے۔ اس لیے ایسے ٹھیکیداروں کی دکانیں چل رہی ہیں۔‘
ارشد پاشا گہری سوچ میں تھے— حقیقت یہی تھی کہ اس وقت سب سے بڑا ہیرو مذہب تھا— ۱۵۲۸ء میں مغل حکمراں بابر کے دور حکومت میں میر باقی نے ایک مسجد بنوائی تھی۔ صدیوں بعد مسجد سے فرقہ پرستی کا بھوت نکل کر سامنے آ گیا۔ ہندو تنظیموں نے دعویٰ کیا کہ یہ مسجد گیارہویں صدی میں ایک مندر کو گرا کر بنائی گئی ہے۔ آگ کی لپٹیں اٹھیں پھر بجھ گئیں۔ لیکن وقفے وقفے یہ لپٹیں اٹھتی رہیں— اور جب بھی اٹھتیں، محبت اور آپسی اتحاد کو جلا کر رکھ دیتیں۔ اجودھیا میں مسجد کی تعمیر کے کچھ برس بعد سے ہی نفرت کا ایک سلسلہ شروع ہو گیا— ۱۸۵۷ کا غدر— لیکن یہ خونی تاریخ اس مسجد سے بھی وابسطہ تھی۔ ایک مندر کے پجاری نے مسجد کے ایک حصے پر قبضہ کر کے پوجا کا انتظام کیا۔ دو سال بعد برطانوی حکومت نے مسجد کے دالان میں ایک دیوار کھڑی کر دی۔ اس طرح پوجا کرنے والے اور نمازیوں کے الگ الگ حصے ہو گئے۔ ۱۹۳۴ء میں ہندو مسلم فساد ہوا تو بابری مسجد کی دیوار اور گنبد کا ایک  حصہ شہید ہو گیا۔ نفرت کی لپٹیں اب آسمان چھونے لگی تھیں۔ ۱۹۴۹ء میں جبراً کچھ لوگوں نے مسجد میں بھگوان رام کی مورتی نصب کر دی اور اس طرح ہندو مسلمانوں کے پیچ نفرت کی ایک نہ ختم ہونے والی فصل بودی گئی۔ ہندوستانی سیاست کے حکمراں جب سنکٹ میں گھر جاتے تو بابری مسجد کے بھوت کو سامنے لے آتے— اب وشو ہندو پریشد اور ہندو مہا سبھا کی تحریکیں زور پکڑنے لگی تھیں۔ رام جنم بھوی کو آزاد کرانے کے لیے با ضابطہ کمیٹی بن چکی تھی۔ ملک کے حاشیے پر کتنے ہی بھگوا نیتا تھے جو آگے بڑھ کر متنازعہ مقام پر مندر بنانے کی تحریک کو ہوا دے رہے تھے۔ حلوانی ، چما بھارتی اور بچہ ٹھاکر جیسے لوگوں کے بیانات نے ملک کو بارود کے ڈھیر پر کھڑا کر دیا تھا۔ ۱۹۸۶ء میں فیض آباد ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نے مسجد کو ہندوؤں کے ذریعہ پوجا کے لیے کھولنے کا حکم دیا— اور ایک بار پھر رام جنم بھومی کی آزادی کی مانگ ہندستان کے ہر گوشے سے بلند ہونے لگی۔ اب ایک مورچہ کچھ سرپھرے مسلمانوں نے بھی سنبھالا تھا۔ بابری مسجد ایکشن کمیٹی کی بنیاد پڑ چکی تھی۔ ایک دوسرے کے خلاف بیانات کے سلسلے تیز ہو چکے تھے۔ اجودھیا کاشی سے کوئی بہت زیادہ دور نہیں تھا۔ وہاں سے چلنے والی ہر گرم ہوا کاشی کے ماحول کو خراب کر کے رکھ دیتی۔

ارشد پاشا تاریخ کے ایوانوں کی سیر کرتے ہوئے واپس اپنی دنیا میں لوٹ آئے تھے۔
’سیاست اور مذہب دو الگ الگ چیزیں ہیں۔ تم اکثر ان دونوں کو ملا دیتے ہو بدر—‘
بدر سنجیدہ تھا— ’مذہب میں ہمیشہ سے ایک سیاست رہتی ہے— اسی لیے مذہب نے ہر دور میں ہونے والی جنگوں کو بھی اپنی تاریخ میں جگہ دی ہے۔ اسلامی جنگیں ہوں یا کوروں اور پانڈوں کے بیچ کا مقابلہ— مذہب سے سیاست کو الگ نہیں کرسکتے۔ سیاست ہمیشہ سے مذہب کا ایک مضبوط حصہ رہا ہے—
ارشد پاشا خاموش رہ جاتے— شاید اس بدلی بدلی فضا میں بدر کی باتوں کا ان کے پاس کوئی جواب نہیں ہوتا—
لیکن یہ جواب انور پاشا کے یہاں موجود تھا۔ انور پاشا جنہوں نے مذہبی سیاست کی اس بھٹی میں نہ صرف آنکھیں کھولی تھیں بلکہ آج بھی وہ پاکستان کے قصیدے ہی پڑھتے تھے— انور پاشا ایسے نوجوانوں میں شامل تھے جو اکثر غصے میں کہا کرتے—
’پاکستان الگ سے بنانے کی کیا ضرورت تھی— ذرا عقلمندی کی ہوتی۔ سارے ہندوستان کو پاکستان بنا لیا ہوتا۔ آخر ہم نے یہاں ۷۰۰ برس حکومت کی ہے—
وہ آج بھی اسی سنہری ماضی کا حصہ تھے— اور اسی لیے سڑکوں سے ’پولیتھن‘ جمع کیا کرتے تھے—
راشدہ ہنس کر پوچھتی—
’ان میں ماضی تلاش کرتے ہو کیا بھیّا؟‘‘
انور پاشا کو غصہ آ جاتا— اب ہمارا ماضی اتنا گندہ بھی نہیں تھا— حکومت کرنے والے رہے ہیں ہم… مغلوں نے عیاش نسل پیدا نہ کی ہوتی تو فرنگی کبھی ہم پر حاوی نہ ہوتے—‘
انور پاشا کی اپنی منطق تھی— حالات نے بہت سے نوجوانوں کی طرح اُنہیں اپنے ارادوں کا سخت بنا دیا تھا— وہ ہندوؤں سے دوستی کو بھی صحیح نہیں سمجھتے تھے— بلکہ اگر ماحول سازگار ہوتا تو وہ کب کا پاکستان چلے گئے ہوتے— ان دنوں انہیں ایک نیا شغل مل گیا تھا— پولیتھن جمع کرنے کا — وہ شہر بھر کے پولیتھن لیے جب گھر آتے تو بی اماں دروازے سے ہی چلاتیں—
’میاں— پہلے واش بیسن پر ہاتھ دھونا— جانے کہاں سے یہ بری عادت لگ گئی ہے تمہیں—‘
’ایک دن میری یہی بری عادت پاشاؤں کو ساری دنیا میں مشہور کر دے گی—‘
انور پاشا ہنستے ہوئے اپنے کمرے کی طرف بڑھ جاتے—
٭٭
بابری مسجد اور رام جنم بھومی تنازعہ کے سامنے آنے کے بعد شہر کے کچھ ایسے بھی بڑے لوگ تھے، جواب آگے بڑھ کر سیاست میں روٹیاں سیکنا چاہتے تھے— یہ وہ دور تھا جب کاشی کے مسلم ہوٹلوں میں پرانی دنیا جیسے اخبارات زور زور سے پڑھے جاتے— بلکہ اس طرح کے اخبار ہر گھر میں آتے تھے اور آتے ہی ان اخباروں میں چھپی سرخیوں کو لے کر ہنگامہ مچ جاتا تھا— ایسے ہی لوگوں میں احمد صاحب وکیل بھی تھے۔ مدن پورا میں گھر تھا— لیکن اب وکیل صاحب کئی دنوں سے پرانی دنیا جیسا ایک اخبار نکالنے کے بارے میں دوستوں سے مشورہ کر رہے تھے— وہ جانتے تھے کہ اخبار نکالنا جوکھم کا کام ہے— مگر قوم کے لیے… جیسا وہ ہمیشہ کہا کرتے—
’میاں‘ مزہ تو تب ہے جب آپ قوم کے لیے کچھ کریں…‘
’تو کیا صرف ایک اخبار نکال کر…‘
’اخبار نکالنا کوئی بچوں کا کھیل نہیں ہے میاں— اخبار نے بڑے بڑے مورچے فتح کیے ہیں— بڑے بڑے انقلاب کے پیچھے بھی یہ اخبار رہے ہیں—‘
’ان سے سوال کیا جاتا—‘ تو آپ بھی ایسا ہی کوئی مورچہ فتح کرنا چاہتے ہیں—؟‘
احمد صاحب وکیل اس بات پر خفا ہو جاتے— ’کیسی بچوں کی طرح باتیں کر رہے ہیں۔ ہم کیا مورچہ فتح کریں گے۔ مورچہ فتح کریں گے آپ— اپنی قوم کو جگائیں گے— یہ قوم بیدار ہی نہیں ہوتی—صور پھونکنا پڑتا ہے— جگانا پڑتا ہے—‘
احمد صاحب وکیل کی بیٹی صوفیہ ان باتوں کو نہیں مانتی تھی— وہ نئے زمانے کی تھی— اسے یقین تھا کہ بہت جلد یہاں آئے لوگ مسجد مندر کے ان ہنگاموں سے گھبرا جائیں گے۔ سیاست کی یہ روٹیاں مذہبی ٹھیکیداروں کے کسی کام نہ آئیں گی—‘
کاشی کی ان پر پیچ گلیوں میں مذہب جاگ گیا تھا— اور کتنے ہی چہرے تھے جو اس مذہب کے پس پردہ اپنی اپنی کہانیاں لکھ رہے تھے—
٭٭



(2)

کائیں… کائیں…کائیں…
چھت کی بالائی منزل سے کوّا چیخا اور ادھر سارے گھر میں آفت مچ گئی۔ بی اماں کے کانوں میں آواز جاتے ہی جیسے پورے جسم میں برقی جھٹکے دوڑ گئے۔ اطمینان کرنے کے لئے دوبارہ کان لگایا… کاؤں… کاؤں… نوج کوّا ہی ہے۔ ہائے اﷲ اب کیسی آفت… جہاں تھیں وہیں سے اپنے لحیم شحیم بدن کو لئے دھب سے کودیں اور زنان خانہ پار کرتے ہوئے برامدے میں نکل آئیں… زنان خانہ… گھر میں ’زنانی‘ ہیں ہی کتنے۔ اگر چھوئی موئی سی راشدہ کو لیا جائے تو… لیکن نوج…تاریخ پر پھٹکار برسے… مرا ہوا ہاتھی بھی بائیس پسیری… بی اماں بس بولتی جا رہی تھیں۔ بکتی جا رہی تھیں۔ ان کی طرح ہی ان کے محاورے بھی عجیب عجیب سے ہوتے… زنان خانہ پار کرتے ہوئے برامدے میں نکل آئیں بی اماں___ نوج کہاں ہے… کہاں سے آئی آواز؟ لو… اڑ گیا کم بخت۔ نصیبوں جلا… مگر اس سے کیا ہوتا ہے۔ بد شگونی تو کر گیا۔ نحوست تو پھیلا گیا… ابھی تو دن بھی پورا نہیں چڑھا ہے۔ آٹھ ہی بجے ہوں گے۔ بی اماں نے ایک لمبی اونہہ کھینچ کر آواز لگائی…
اوبسمتیا… بسمتیا… سب کہاں مر گئیں… ارشد… انور… جسے ڈھونڈھو، کوئی نہیں ملتا۔ پتہ نہیں کہاں سب مر کھب گئے۔ اس بسمتیا کو اب نکالنا ہی پڑے گا۔ رہنے کو ہاتھ پیر جوڑ کر پیچھے کی خالی کوٹھری ہتھیا لی لیکن کام کی نہ کاج کی۔ اوپر سے میاں شرابی… منع کیا تھا میاں کو… یہ ہندوؤں کا بھروسہ کیا۔ پیچھے کی کوٹھری خالی ہے تو رہنے دو۔ کرایہ دار آئیں گے تو سودوسو دے جائیں گے۔ لیکن میاں غریبوں کے ہمدرد جو ٹھہرے۔ بچہ ہے۔ میاں مارتا ہے… رہنے دونا…بس ہو گئی چھٹی… مفت میں گھر مل گیا… اب کیا ہے… کسی دن کہہ دیں گے… میرا ہی گھر ہے… نکلو میاں جی… بس باندھو سامان… چلو پاکستان… یہاں کیا دھرا ہے۔ غیر ملک… غیر ملک نہیں ہوتا تو اتنی مار کاٹ مچتی۔ وہ میرٹھ میں— احمد آباد میں…باپ رے… رائٹ فساد کی خبریں پڑھتے پڑھتے اخباری ہی بند کروا دیا۔ چلو چھٹی۔ نہ اخبار آئے گا نہ فساد کی خبریں سنوں گی۔ اتنے مسلمان مارے گئے… نوج جی جلتا ہے… دشمنوں کو خدا غارت کرے— ایک سے چھٹی ملی دوسری بلا آ گئی۔ ٹی وی نہ ہوا جان کا جوکھم ہو گیا۔ جب دیکھو دفتر سے آنے کے بعد میاں سیٹ سے لگے بیٹھے ہیں۔ آواز دو… اوجی کیا ہوا… اب بڑھاپے میں سٹھیا گئے ہیں۔ سنائی بھی کم پڑنے لگا ہے۔ بولو کچھ۔ جواب کچھ… میاں بولیں گے… نوج یہ پاکستان پھر جنگ کروا کے چھوڑے گا۔ تباہی تباہی…‘
بی اماں دھم سے برامدے میں نکلی ہوئی چار پائی پر بیٹھ گئیں… تھوڑا سا بسمتیاسے دھیان ہٹا نہیں کہ آ گئی الم غلم سوچ… یہ بلڈ پریشر بھی کمبخت… خدا غارت کرے دشمنوں کو… سب مرض اس بڑھاپے میں ہی ہونا ہے… ارے کہاں گئی بسمتیا— کہتی تھی… اماں گھبرائیے نہیں۔ سب کام کر دیں گے… اب دیکھو… آواز دو تو سنتی نہیں ہے…او بسمتیا…
’جی اماں…‘
اندر کے کسی گوشے سے ایک زنانی آواز تیر کی طرح بی اماں کے کانوں کو چیرتی چلی گئی… اُف… آج کل کی لونڈیاں کھاتی کتنا ہیں… آواز تو دیکھو… اتنی تیز کہ بم کا گولہ ہو گیا… اب یہی لو… بسمتیا کی بچی آہستہ سے بھی تو کہہ سکتی تھی… کہ جی اماں… پتہ نہیں کیا ہونے والا ہے… دل دھک دھک کر رہا ہے… صبح ہی صبح کوّا اپنی منحوس آواز سے دل دھڑکا گیا کمبخت… اب دیکھو… آنے میں اتنی دیری…
’بات کیا ہے اماں…‘ آنچل سے سینے کو ڈھکتی ہوئی بی اماں نے شعلہ بار نگاہوں سے بسمتیا کو دیکھا…
’’کہاں تھی…؟‘‘
’’باورچی خانے میں اماں‘‘
’’کیا کر رہی تھی؟‘‘
’’پیاز چھیل رہی تھی اماّں اور کیا… اب یہی پوچھنے کو بلایا ہے…‘‘ بسمتیا جی جان سے جل گئی تھی…
’’نہیں۔ بہت بڑ بڑ کرنے لگی ہے۔‘‘ بی اماں خفا ہو گئی تھیں…’’خیر! تو نے آواز سنی یا نہیں…بول…؟‘‘
’’آواز…؟‘‘
’’ہاں… کائیں…کائیں…‘‘
یہ کیا کہہ رہی ہو اماں…‘‘
’’بدھو لڑکی… تو کہتی ہے کہ باورچی خانے میں تھی اور پیاز چھیل رہی تھی— مگر تو نے کوّے کے کائیں کائیں کرنے کی آواز نہیں سنی…؟‘‘
’’سنی ہو گی‘‘… بسمتیا نے دل رکھنے کو کہہ دیا۔
’’سنی ہو گی۔ کیا مطلب ۔ ہائے اﷲ کیسی پاگل خبطی لڑکی سے سابقہ پڑا ہے اور تو چپ بیٹھی رہی… جانتی ہے دن کیا ہے… جمعہ… جمعہ کے روز کوّا بولتا ہے تو کیا ہوتا ہے… وہ بھی صبح صبح… ہائے اﷲ میرا تو دل ڈر رہا ہے…‘‘
’’اب اماں۔ آپ بھی ذرا  ذرا سی بات کو لے کر پریشان ہو جاتی ہیں۔‘‘
’’تو نے کسی کو جگایا نہیں؟ کوّے کی آواز سن کر بھی‘‘___ بی اماں کی آنکھوں میں تشویش تھی… جیسے شک ہو… تو کیوں جگائے گی… مان لو… یہ کوّا ہندوستان پاکستان میں جنگ کی بُری خبر لایا ہو… مارے تو جائیں گے بے چارے مسلمان۔ اتنا سا ملک ٹھہرا بے چارا پاکستان… خیر… بی اماں نے ٹھنڈی سانس بھری… جا… میرا دل ڈر رہا ہے… سب کو جا کر جگا دے…‘‘
’’اماں۔ آپ بھی کمال کرتی ہیں… اب اتنی سی بات پر کس کو جگاؤں میں۔ سارے سوئے پڑے ہیں…‘‘
’’سوئے پڑے ہیں سے کیا مطلب… موئے ارشد کو… رشدو کو… انور کو… اﷲ رکھے انور کے ابا کو… اور کس کو… باؤلی ہو گئی ہے تو۔ کوّا بد شگونی کی نشانی ہے… ہائے اﷲ میرا تو دل دھڑکا جا رہا ہے… اور ہاں… تیرا شرابی مرد کدھر ہے۔‘‘
’’وہ…‘‘ بسمتیا کے ہونٹوں پر نفرت سی پھیل گئی۔ ’’سویا پڑا ہے۔‘‘
’’بچہ کو تو اُٹھا لے کمبخت… زمین میں چھوڑ دیتی ہے… اتنی صبح ہو گئی… دودھ پلا دیا…؟‘‘ بی اماں اچانک رحم دل ہو اُٹھی تھیں…
’’ہاں اماں‘‘
’’ٹھیک ہے۔ ٹھیک ہے… ہاں جا۔ ایک نظر بچہ پر ڈالتی جا۔ پگلی۔ بچے کو زمین پر ایسے چھوڑ دیتے ہیں…؟جیسے جیو جانور ہوں… اور ہاں جا اپنے شرابی مرد کو بھی آواز لگا دینا…اٹھ جائے تو کمبخت کو کمر کا درد نکالنے سے فرصت نہیں… ہزار بار کہا ہے۔ کمبخت پیٹھ اکڑا کر مت چلا کر… نحوست پھیلتی ہے اس سے۔ مگر کیا سروکار… مانتا ہی نہیں… انور کے ابا اس دن پسیجتے نہیں تو کم بخت شرابی کو گھر میں قدم رکھنے نہیں دیتی۔ چھی چھی… مسلمان کے گھر میں شرابی… اے بسمتیا… سن…اپنے مرد کو بول دینا کہ شراب پی کر آیا تو سارا سامان باہر— یہاں رہنے نہیں دوں گی سمجھا…‘‘
’’اب کی معاف کر دو اماں۔ سمجھادوں گی‘‘
’’ہوں۔ سمجھادوں گی۔ جیسے مان جائے گا… وہ…جا جا…آواز لگا اسے…‘‘
’’اچھا اماں۔‘‘
بسمتیا بُرا سامنہ بناتی ہوئی آگے بڑھ گئی۔ بی اماں نے تیز تیز چلتی ہوئی سانسوں پر قابو پایا… ان کی بک بک کم نہیں ہوئی تھی۔ وہ اب بھی بڑبڑائے جا رہی تھیں… بُرا وقت ہے۔ زمانہ ہی خراب آ گیا ہے… کوئی کسی کی سنتا نہیں… جب پڑے گی تب جانیں گے… اب انہیں کون سمجھائے کہ اسی لئے راج پاٹ سب چوپٹ ہو گیا… سلطنت تباہ ہو گئی… لو جی… اب اتنا کسے پتہ نہیں کہ واجد علی شاہ کا ہے مارے گئے… نوج جوتا نہیں ہوا کہ آ کر وزیر پہنائے تب باہر نکلیں گے۔ اس قوم کا کیا ہو گا… اتنی اتنی دیر سوتے رہیں گے تو؟ اور تو اور… نہ کہیں دیکھا پڑھا نہ سنا… مسلمان کے گھر میں ہندو شرابی… بھائی… یہ بھی کیسی ہمدردی… کسی نے دکھ کے چار بول بولے اور کہہ دیا… آ بیل مجھے مار… آ جاؤ… تمہارا ہی گھر ہے… رہ جاؤ… اسی میں تو چوپٹ ہوئے مسلمان… آج نہ دھان ہے نہ پسیری۔ جب بادشاہت تھی تو نوج دماغ خراب تھا… کافروں کو جاگیریں بخش دیں۔ خوش ہوکے کھیت بدھار زمینیں سونپ دیں… لو… نیلام ہو گیا ناسب… اب بیچو دھان بائیس پسیری… نہ رہے گا راجہ بھوج نہ آئے گا گنگوا تیلی… یہ بسمتیا… کمبخت… اب تک ایک بار بھی بچے کے رونے کی آواز نہیں آئی ہے… بیمار ہے کیا… بی اماں کا دل دھک سے کرتا ہے… سانس کا مرض… ایک بار چارپائی پر دھب سے بیٹھ جاؤ تو اٹھنے میں وقت لگتا ہے… اور رموا… او  رموا… کہاں ہے رے… صبح صبح کوّا کائیں کائیں کر گیا اور سویا پڑا ہے… کمبخت… بچے کا بھی ذرا خیال نہیں… پیئے گا تو رکشہ کیا چلائے گا رے…
’’جی ملکن۔‘‘
رامو ہڑبڑا کر باہر نکل آیا تھا۔
’کہا ں تھا اب تک؟‘
’جی‘
’کل زیادہ پی لی تھی کیا؟‘
’نہیں مالکن‘
’تجھے ہزار بار کہا ہے۔ رہنا ہے تو ٹھیک طرح سے رہ۔ مسلمان کے گھر میں شراب کا ایک قطرہ گرنا بھی گناہ ہے۔ کل سے تو شراب نہیں پئے گا۔ سنا… اور ہاں… تو نے آواز سنی‘
’آواز… کاہے کی مالکن؟‘ رامو اچانک ڈر گیا تھا…
’ارے کوے کی…‘
’کوے کی… دھت…‘
کالے اور ٹیڑھے میڑھے نقشے والے، رامو کے چہرے پر بڑی عجیب سی مسکان ابھر آئی— ’مالکن آپ بھی مذاق کرو ہو۔‘
’مذاق نہیں رے…‘
بی اماں کو غصہ آ گیا تھا… تو نے سنا نہیں… اب لو۔ بڑے میاں سے پوچھو تو جانتے ہو کیا ہیں گے… کیا؟لڑاکو ہوائی جہاز تو نہیں تھا؟ پاکستان سے پھر جنگ تو نہیں شروع ہو گئی؟ یہاں کے سب لوگ ہی افیم کھائے رہتے ہیں… ہاں تو… تو کر کیا رہا تھا۔ رکشہ چلانے کا ٹائم ہو گیا۔‘‘
’’نہیں مالکن… اب نکلوں گا…‘
’ہاں دیکھ۔ بچے کا خیال رکھنا… اور باہر جو تھوڑے سے پودے ہیں ان کو پانی پٹا دینا… ہاں سچ بتانا۔ تو نے واقعی کوے کی آواز نہیں سنی۔‘
’نہیں مالکن… صبح سے کتنے ہی کوے کاؤں کاؤں کرتے جاچکے ہیں… لگتا ہے کوئی آوے گا…‘
’نہیں رے… اچھا بتا کالیا بہت سارے کوے تھے‘ بی اماں نے آدھی بات سنی ان سنی کرتے ہوئے کہا…
’ہاں۔بہت سارے کوے—‘
’ اور تو کان میں روئی ڈالے بیٹھا تھا۔‘
’لو اور سنو… اور کیا کرتا مالکن۔‘
’صبح صبح کو ابو لے تو بد شگونی ہوتی ہے… سمجھا… اچھا انور کہاں ہیں۔ دیکھا ہے؟‘
’دیکھا ہے کیا مالکن‘— رامو ٹھٹھا کر ہنس پڑا۔
’تو ہنسا کیوں؟‘
’جس وقت میں اٹھا وہ اُسی وقت باہر کی کواڑ کھول کر چل دیئے…‘
’کہاں؟‘
’کہاں…ارے وہی… پولیتھن جمع کرنے کو___ صبح کا ٹیم ہے۔ لوگ کوڑے پھینکتے ہیں… وہاں بھی اچھا سا پولیتھن مل سکتا ہے… ہم کو مالومے نہیں تھا اس چمکی کا نام مالکن۔ ہم تو چمکئی کہتے رہیں۔ انور بوّا بتائن کہ ای پولیتھن ہے…‘
رامو ایک بار پھر ہنسا۔
’’خبطی کہیں کا… پولیتھن جمع کرے گا… وہ کیا ہے کم بخت کتاب کا نام… ہاں بی اماں نے ذہن پر تھوڑا زور ڈالا…
اس سے پہلے ہی آواز آئی…’تمہیں یاد نہیں آئے گا بیگم۔ کبھی پڑھی ہے انگریزی…‘
’تھو تھو… میں کیوں پڑھتی بھلا فرنگیوں کی زبان۔‘
’فرنگی چلے گئے مگر زبان تو ورثے میں چھوڑ گئے۔ آج جو نہ پڑھے وہ جاہل۔ جو پڑھے وہی قابل… ہاں تو بیگم اس کتاب کا نام ہے گینز بک آف ورلڈ ریکارڈ…‘
بڑے میاں نے ’وہ مارا‘ کا توپ چھوڑتے ہوئے کہا۔
بی اماں شرمندہ سی ہو گئی تھیں… ہاں ہاں… جیسے تم ہی جانتے ہو…‘ ابھی یہ باتیں ہو ہی رہی تھیں کہ میاں انور بھی ہاتھوں میں کئی ’گندے‘، ’چھنڈے‘ پولیتھن پکڑے چلے آئے۔ آدھی بات اُن کے کان میں بھی پڑچکی تھی اور اُن کا سینہ فخر سے پھول گیا تھا۔ وہ اکڑ کر بولے…
’تم دیکھ لینا اماں۔ ایک دن میرا نام بھی گینز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں چھپے گا۔ دنیا کا ،سب سے زیادہ پولیتھن کا جمع کرنے والا۔ انور پاشا۔ باپ کا نام…‘‘
’جاؤ… جاؤ… یہ الٹا پاٹھ اماں کو ہی پڑھانا۔ گنیز بک میں باپ کا نام نہیں چھپتا۔‘ یہ راشدہ تھی جو بی اماں کا شور سنتے ہی اچانک سیڑھیوں سے نیچے دالان خانے میں نازل ہو گئی تھی…
’کیوں نہیں چھپتا___ باپ کا نام۔ ماں کا نام بھی چھپنا چاہئے۔ وہی تو پیدا کرتی ہے۔‘ بی اماں نے اپنی منطق پیش کی۔
’بس نہیں چھپتا۔ اب اظہر الدین کے ابا میاں کو کون جانتا ہے… ‘راشدہ ہنسی…
انور میاں نے پھر پٹکا دیا۔ اماں میری آدھی ریک بھر چکی ہے… پولیتھن سے—‘
’پھر ایک دن پورا گھر بھر جائے گا۔‘ راشدہ نے مذاق اڑایا۔ پھر گھر میں پولیتھن اور باہر ہم… کیوں اماں… کیسا رہے گا تب…‘
’جا… ماروں گا…‘ انور پاشا نے غصّے سے مارنے کو ہاتھ اٹھایا۔
’یہ کیا خبط ہے انور—، بی اماں کو غصّہ آ گیا تھا… نوج… اب کیسی کیسی کتابیں بننے لگی ہیں… میں تو کہتی ہوں یہ سب قیامت کی نشانی ہے۔ اب تو ایسی ایسی گندی گندی چیزیں کوڑے کے ڈھیر سے اٹھا اٹھا کر گھر میں رکھتا رہے گا تو ہیضہ نہیں پھیلے گا تو اور کیا ہو گا…‘
’یہی تو کمال ہے اماں۔ تاکہ انہیں میری محنت اور مشقت کا بھی اندازہ لگے کہ میں، میاں انور پاشا نے کہاں کہاں سے جمع کئے ہیں۔ تبھی تو چھپتے ہیں گینز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں نام…‘
’اچھا بتا نام چھپ گیا تو کیا ہو گا…؟‘
’تم سب کا نام اونچا ہو گا اماں۔‘
انور پاشا قہقہہ لگاتے ہوئے اوپر کی سیڑھیاں چڑھتے چلے گئے۔
’ہائے اﷲ۔اس گھر میں کیسے کیسے بچے بستے ہیں۔ اب دیکھو، ذرا ٹھیک سے بات بھی نہیں کی اور اوپر بھاگ گیا۔ اب کیسے سب کو کہوں کہ کوّا بولا ہے۔ ضرور آفت آئے گی— مگر کوئی سنتا ہے…اچھا رامو تو جا۔ تیرا ٹیم ہو گیا۔ بسمتیا تو جا۔ ارشد میاں کو جگانا۔ اِتا اِتا دن چڑھ آیا۔ سوتے رہیں گے۔ جوان آدمی۔ صحت کیا رہے گی۔ کیسا پیلا پڑ گیا ہے۔ تو جا اٹھا دے اُسے‘
’جی اماں‘
’’بیگم تم خواہ مخواہ… پورا گھر سرپر اٹھا لیتی ہو۔‘‘ بڑے میاں نے ایک قہقہہ بلند کیا۔ اب کوّا کے آنے پر بھی ٹیکس لگاؤ گی۔‘‘
’نوج تم کو اس بڑھاپے میں مذاق سوجھ رہا ہے۔ کیسا کالا کالا ہوتا ہے موا… صورت سے ہی منحوس لگتا ہے۔‘
’گویا تمہیں صرف رنگ پر اعتراض ہے۔ اگر سفید ہوتا تو؟‘
’سفید کیوں ہونے لگا۔‘ بی اماں کا پارہ چڑھنے لگا تھا۔
’ہوتا ہے اماں۔ امریکہ میں کوے سفید ہی ہوتے ہیں۔ اب دیکھ لو بھلا وہاں کے لوگوں کو تو یہ منحوس نہیں لگتا۔‘ راشدہ نے بھی اپنی پٹاری کھولی۔
ارشد میاں کے کانوں میں بھی صبح صبح کوّا کے چیخنے کی بھنک مل چکی تھی۔ایک تو رات بھر مچھروں نے اپنا بے سُراگیت سناسنا کر پریشان کیا اور صبح صبح اماں نے ایک نیا راگ الاپنا شروع کر دیا۔
جماہی لیتے ہوئے بولے۔ ’اب بولو گی بھی اماں کیوں بلایا ہے۔ اب سب کو جمع کیا ہے تو کوئی خاص بات بھی ہو گی۔ کیوں ہے یہ میٹنگ؟
راشدہ کی طرف شرارتی آنکھوں سے دیکھتے ہوئے ارشد  میاں بولے۔
’گنبد پر کوّا بیٹھ گیا تھا۔‘
’اب بولوں کیا۔ بس کوّا بولا تو مجھے سب کی فکر ہونے لگی۔ جب تک آنکھ سے دیکھ نہ لوں چین نہیں پڑتا۔ ہاں تو میں کہہ رہی تھی۔ مجھے تو ڈر لگ رہا ہے۔ اس گھر پر نحوست کا سایہ پڑنے والا ہے…‘
ارشد پاشا نے پھر ایک لمبی جماہی لی— ’یعنی آج کا اجلاس بلائے جانے کا نیک مقصد ہے کہ صبح ہی صبح کوّے کو آکر اس گھر میں نہیں بولنا چاہئے۔‘
’وہ بھی اماں کے رہتے ہوئے۔‘ راشدہ نے بھی چٹکی لی۔
’لو سمجھداری کی بات کرو ایک تو سنودو۔ بس مل گیا تم لوگوں کو مذاق کا پہلو۔ ان بچوں سے تو خدا سمجھے۔‘
بڑے میاں نے بچوں کو ٹوکا… ’میاں یہ ہر بات کو مذاق میں لینا کوئی اچھی عادت نہیں ہے۔ کوّا آیا یعنی کوئی آنے والا ہے۔ صاف بات ہے…‘
’لو… آنے والا… اب کون آئے گا یہاں اور کیوں آنے لگا بھلا۔ نوج مہمان نہ ہوئے شیطان ہو گئے۔ جب جی سمایا آ دھمکے… میں تو یہ بولی کہ کوّا بد شگونی کی نشانی ہے۔ صبح صبح کوّا بولے اس کا مطلب ضرور کوئی خاص بات ہو گی۔‘
بات ہو گئی‘… انور پاشا دھم سے سیڑھیوں سے کودے۔ چہرہ تر و تازہ اور شاداب لگ رہا تھا—اماں میری کتابوں کی دوسری ریک بھی پولیتھن سے بھر گئی… بس بننے ہی والا ہے میرا ورلڈ ریکارڈ…‘
وہ مسکرائے۔ فاتح کی نظروں سے سب کو دیکھا اور اکڑتے ہوئے یہ جا وہ جا___ پلک جھپکتے دروازے سے باہر…
’’پاگل—‘‘ بڑے میاں بڑبڑائے۔ یہ لڑکا بھی نالائق نکل گیا۔ باہر جا کر پولیتھن اکٹھا کرے گا۔ کیسے نرالے کھیل ہیں اس کے…‘‘
راشدہ اکتائی ہوئی بولی۔ ہم بھی چلے… یہ صبح ہی صبح ایک نیا کھیل شروع ہو گیا گھر میں… آپ بھی کمال ہیں اماں۔ کوّا بولا نہیں کہ پریشان… بلی دیکھی نہیں کہ ڈریں… گھر میں کتا آ گیا تو فکر مند… ایسے نہیں چلتا اماں‘‘
’’کیسے نہیں چلتا‘‘۔ اس بار بڑے میاں نے راشدہ کو آنکھیں دکھائی تھیں… مانا تم نئے زمانے کے ہو بچو… مگر یاد رکھو پرانی روایتوں کی بھی اپنی ایک سچائی ہوا کرتی ہے۔ کسی نے دیکھا سنا، تبھی تو اس طرح کی روایت آج بھی جاری ہے…‘‘
ارشد میاں بھولی صورت بنائے ہوئے بولے… ’’اماں۔ آج میرے ساتھ صبح ہی صبح ایک انوکھی بات ہو گئی___  میں بستر پر لیٹا تھا کہ ایک گرگٹ ٹھیک میرے سینے پر گرا…‘‘
’’ہائے اﷲ گرگٹ۔ لو سنو۔ ارشد میاں کی بھی… تم خیریت سے تو ہونا… میرا مطلب کہ… کچھ ہوا تو نہیں… اب بتاؤ صبح ہی صبح کوا چیخا اور ارشد میاں کے سینے پر گرگٹ گرا۔ وہ تو اچھا ہوا سانپ وغیرہ نہیں تھا… ذرا سوچو اگر کوئی بھاری چیز ہوتی تو…‘‘
بی اماں کی باتوں میں دم تھا۔ بڑے میاں سوچ میں پڑ گئے تھے۔
’’تو اب حکم یہ ہے…‘‘ ارشد میاں معصومیت کی گٹھری بنے بولے… ’’کہ کل سے کوّے کو صبح صبح اس گھر میں نہیں آنا چاہئے… میرے خیال میں باہر بورڈ لگانا کیسا رہے گا… کسی بھی جانور، چرند پرند یا آدمی کو گھر میں داخل ہونے سے قبل پرمیشن لینا ضروری ہے…‘‘
’’مذاق نہیں بچے۔‘‘ بڑے میاں اچانک کچھ سوچ کرسنجیدہ ہو گئے تھے… پتہ نہیں کیا ہونے والا ہے… تم دیکھ لینا بیگم یہ پاکستان جنگ کروا کے چھوڑے گا۔ اب بھلا کشمیر کے آتنک وادیوں کو ہتھیار سپلائی کریں گے تو یہاں والوں کو بُرا تو لگے گا ہی… مجھے تو لگتا ہے کہ جنگ کی ساری تیاریاں مکمل ہو چکی ہیں…‘‘
’’متی ماری گئی ہے تمہاری…‘‘ بی اماں کو غصّہ آ گیا تھا۔ اسی لئے کہتی ہوں ہر وقت ٹی وی کے آگے مت بیٹھا کرو۔ بات کوئی بھی ہولے آؤ گے اپنا پاکستان۔ ارے کوئی جنگ ونگ نہیں ہو گی۔ بس کوّا صبح صبح آ کر  بد شگونی پھیلا گیا… تم لوگ اپنا اپنا خیال رکھو۔ یہی کہنا ہے۔ زمانہ اچھا نہیں۔ کب کیا ہو جائے…‘‘
’’آپ سے تو خدا سمجھے اماں…‘‘ ارشد پاشا دل ہی دل میں بڑبڑائے… اب لو صبح صبح کوّے میاں کے بولنے پر بھی پابندی لگ گئی اور ٹرٹراؤ کوّے میاں۔ کوئی اور گھر نہیں ملا پریشان کرنے کو… چلے آئے بے چارے اتاترک کمال پاشا کے شاہی خاندان کو چھیڑنے کے لئے۔ اب لیجئے فرمان جاری ہو گیا نا… بغیر پرمیشن کے آپ یہاں کائیں کائیں نہیں کرسکتے…‘‘
نشست برخاست ہو چکی تھی۔ بڑے میاں آہستہ سے بولے… اب چلو بھی… مجھے دفتر بھی جانا ہے…‘‘
بی اماں اپنے ’’لشتم پشتم‘‘ بدن کو سنبھالتے ہوئے چارپائی سے اٹھ کھڑی ہوئیں۔ ٹھیک اُسی وقت اوسارے کے پاس والی چھت سے آواز آئی…
کائیں… کائیں…
اور ایک کوّا اڑان بھرتا ہوا تیزی سے، سب کی آنکھوں کے آگے سے گزر گیا۔ بی اماں اپنی جگہ پتھر کی مورت میں تبدیل ہو گئیں۔ غصّے کے مارے لال پیلی… کمبخت منحوس— میں نہ کہتی تھی، اس گھر پر نحوست کے قدم پڑنے والے ہیں… خدا خیر کرے…‘‘
ارشد میاں کی ہنسی نکل گئی۔ وہ اپنی ہنسی کو دبائے ہوئے تیزی سے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئے۔
٭٭



(3)

راشدہ کو بی اماں کی باتیں پسند نہیں آئی تھیں— اسے گھر کا ماحول ہی پسند نہیں تھا۔ جب دیکھو تب گھبرائے ہوئے لوگ— ابّا تو بس پرانی یادوں کے غلام تھے— کاشی کے گلی کوچوں سے ابّا کو ڈر لگتا تھا— لیکن انور پاشا ابّا حضور تغلق پاشا کے خیالوں سے مختلف۔ وہ ہمیشہ غصے میں رہتے تھے، اس وقت بھی وہ راشدہ کے پیچھے پیچھے اس کے کمرے میں آ گئے۔
’’اس گھر میں کسی کا بھلا نہیں ہوسکتا—‘‘
راشدہ نے برا سا منہ بنایا— ’اب یہ بھلائی کی بات کہاں سے آ گئی—‘
’کوئی ہمارا بھلا چاہتا ہی نہیں۔ اس گھر میں ہر آدمی اپنے بارے میں سوچتا ہے اور بی اماں تو غضب کرتی ہیں۔ اب ذرا ذرا اسی بات پر بی اماں کا سارا گھر سر پہ اٹھا لینا برا لگتا ہے— اور ابّا حضور تو ایسے ڈرتے ہیں جیسے قدم قدم پر ہمارے لیے خطرہ ہو— آنے میں دیر ہو گئی تو یہاں سب کی جان سوکھ جاتی ہے کہ بیٹے کو کسی نے مار نہ دیا ہو۔ ارے ہم کوئی کم ہیں۔ اتنا ہی ڈر تھا تو پھر پاکستان کیوں نہیں چلے گئے— یہاں غیروں میں رہنے کے لیے کس نے کہا تھا—‘‘
راشدہ نے غصے سے منہ بنایا— ‘ بس یہی باتیں ہمیں دوسروں سے الگ کرتی ہیں۔ آپ وہی سوچتے ہیں جو ایک تنگ دل ہندو سوچتا ہے۔ اس لیے آگ نہیں بجھتی۔ ارے ہم میل ملاپ سے بھی تو رہ سکتے ہیں۔ اور جب ایک ملک میں رہنا ہے تو ہم ان کے لیے غیریت اور نفرت بھرے لفظ استعمال ہی کیوں کرتے ہیں؟‘‘
انور پاشا کو غصہ آ گیا تھا— ’’تم جیسے اس ملک میں رہتی ہی نہیں ہو راشدہ۔ اس وقت اس ملک کی صورتحال کیا ہے۔ سارا ملک بارود کے نشانے پر ہے— مسلمان تو پہلے ہی مجبور اور بے بس تھے۔ اب اُنہیں اپاہج اور لاچار بنانے کی کوشش ہو رہی ہے—اور یہاں کاشی کے ان گلی کوچوں میں نفرت کا زہر بھرا جا رہا ہے‘‘
’بھیا یہ سب تمہارا وہم ہے— چند لوگ برے ہو جائیں تو پورا ملک برا نہیں ہو جاتا— ہم یہاں اب بھی محفوظ اس لیے ہیں کہ یہاں ایک بڑا طبقہ اچھے لوگوں کا بھی ہے— اور یہ طبقہ ہمیشہ سے ہے، اور یہ طبقہ ہمیشہ مسلمانوں کے لیے مضبوط سہارا بن کر سامنے آ جاتا ہے۔ رہی بنارس کی بات تو تاریخ میں نے بھی پڑھی ہے بھیا— یہاں ۱۰۱۹ء تک محمود غزنوی کا حملہ ہوچکا تھا— ۱۱۹۴ میں یہاں قطب الدین ایبک نے حملہ کیا— مسلمانوں نے حملے کے علاوہ جانا ہی کیا۔ ایک مدت تک یہاں مسلمانوں کی حکومت رہی۔ مندروں کو توڑا گیا۔ ہنمان پھاٹک کے پاس اڑھائی کنگورے کی مسجد بنی— کچھ اور مسجدیں بھی اسی عہد کی ہیں۔ جون پور کے لال دروازہ مسجد میں آج بھی سنسکرت کا شیلا لیکھ موجود ہے۔ نفرت تو ایک دن جنم لیتی ہی ہے بھیّا—
انور پاشا غصے میں دہاڑے—’ یہ بس ان کی تاریخ ہے— یہ حکومت کرنا نہیں جانتے تھے تو اس میں مسلمانوں کی کیا غلطی؟ ایسٹ انڈیا کمپنی کی آمد کے بعد یہاں کی صورتحال بالکل بدل چکی تھی۔ دیکھتے ہی دیکھتے یہ شہر گھاٹوں، مندروں اور نفرت کا شہر بن گیا— لیکن ہم ان کی نفرتیں کیوں برداشت کریں؟ سچ پوچھو تو مجھ سے برداشت نہیں ہوتا—
’برداشت نہیں ہوتا… تو پاکستان چلے جاؤ— وہاں بھی ہائے توبہ مچی ہے—‘‘
ارشد پاشا کمرے میں داخل ہوتے ہوئے بولے—
’’تو آپ ہماری باتیں سن  رہے تھے—‘‘
انور پاشا نے غصہ سے ارشد پاشا کو دیکھا—
’’ہاں— سوچ رہا تھا تم نے اپنے اندر کتنی نفرتیں جمع کر لی ہیں۔ اگر ایک نفرت وہاں بھی ہے تو تم میں اور ان لوگوں میں فرق ہی کیا ہے؟‘‘
راشدہ مسکرائی— ’’ بھیّا ٹھیک کہتے ہیں— یہ وقت ہوش کھونے کا نہیں ہے— ہم بھی ہوش کھو دیں گے تو مسائل اور بڑھ جائیں گے—‘‘
کمرے کے باہر سے ابھی بھی بی اماں کے چلّانے کی آواز آ رہی تھی۔
’’ارے بسمتیا کہاں مر گئی— تیرا شرابی شوہر کہاں ہے۔ رکشہ چلانے نہیں گیا — اس سے کچھ سامان منگوانے ہیں اسٹور سے—‘‘
ارشد پاشا گہری سوچ میں ڈوبے تھے— ’’فضا اچھی نہیں ہے— ادھر پاکستان نے کشمیر کا راگ الاپنا شروع کر دیا ہے۔ ڈونڈا میں بم دھماکے ہوئے اور ادھر بابری مسجد— اللہ خیر کرے— یہ معاملہ جب بھی اٹھتا ہے ملک میں آگ لگ جاتی ہے—‘‘
انور پاشا کی طرف دیکھتے ہوئے وہ باہر نکل گئے۔
انور پاشا نے گھوم کر راشدہ کو دیکھا— بھیّا کی سنا۔ یہ لوگ انٹلکچول بنتے ہیں۔ ہیں نہیں— بننے کی کوشش کرتے ہیں۔ آج کے زیادہ تر مسلم نوجوان اسی سیکولرزم کے لبادے کو پہن کر انٹلکچول بننے کا ناٹک کر رہے ہیں—‘‘ انور پاشا ہنسے— ’’ذرا سی فضا خراب ہو جائے تو ان کی دانشوری کی ہوا نکل جاتی ہے—‘‘
راشدہ خاموش تھی۔ انور پاشا اپنے کمرے میں لوٹ گئے تھے۔ راشدہ کو اپنے چاروں طرف اندھیرا نظر آ رہا تھا۔ اس گھر میں اس کا مستقبل کیا ہے؟ یا اس ملک میں کسی بھی مسلمان لڑکی کا مستقبل کیا ہے؟ پڑھائی —پھر کسی گھرکی گھونٹ سے باندھ دیا جانا اور ساری زندگی ایک گھریلو عورت کی طرح جینا۔‘‘
اس کی آنکھوں میں ننھے ننھے آنسو تیر رہے تھے۔ لیکن ان آنسوؤں کو دیکھنے والا کوئی نہیں تھا—
٭٭



(4)

بڑے میاں، بڑے میاں بس گھر پر تھے۔ آفس میں تو بڑے بابو تھے۔ ہیڈ کلرک… سب کے بڑے بابو… نئے ہوں یا پرانے… بڑے بابو ذرا وہ فائل دیکھ دینا… بڑے بابو ذرا یہ کام دیکھ لیجئے۔ بڑے بابو! وہ کام ہو گیا___ پتلا دبلا جسم۔قد لگ بھگ چھ فٹ… سخت انگلیاں… تجربہ کار آنکھیں۔ آنکھوں پر جھولتی ہوئی موٹے شیشے والی عینک… جہاں بیٹھتے تھے وہاں فائلوں کے ڈھیر لگے ہوتے… گول گول آنکھیں فائل پر تیر رہی ہوتیں… کتنا وقت گزر گیا… شاید ایک لمبا عرصہ ایس ڈی او آفس کی کلرکی کی نذر ہو گیا… کام کرتے کرتے جھنجھلائے سے بڑے میاں اپنے خاندانی وقار اور منصب کا راگ الاپتے رہتے ہیں…
’’مہتہ… پتہ نہیں کس بُرے لمحے نے ایس ڈی او آفس میں ڈال دیا۔ اﷲ رکھے کیا نہیں تھا اپنے پاس… اتاترک کمال پاشا کے شاہی خاندان سے تعلق ہے ہمارا…‘
ٹھنڈی سانس کھینچتے ہیں بڑے میاں…’’کبھی ہمارا بھی زمانہ تھا مہتہ… وہ جو کہتے ہیں کہ دھن گیا تو نوکر بھی گئے… سو سب کچھ ختم ہو گیا… پرکھوں نے جو عیش کئے تو کئے، خوش ہو کر ساری جاگیریں کافروں میں بانٹ دیں… کون کہہ سکتا تھا کہ پاشا خاندان کے وارثوں کو کبھی یہ دن بھی دیکھنا نصیب ہو گا… پھر قسمت کا لکھا اس آفس میں لے آیا…‘‘
’’وہ تو اچھا ہوا بڑے بابو، آپ تھوڑا پڑھ لکھ گئے۔ ورنہ اس کلرکی سے بھی جاتے رہتے…‘‘
پڑوس والی میز سے مہتہ کی آواز بلند ہوتی اور پورے کمرے میں زور سے ٹھہاکے کی آواز گونج جاتی۔
قلم روک کر فائل سے نظر اٹھا کر نرمل بھی ایک نظر بڑے بابو پر ڈالتا___ ’’کیوں تاریخ کے گڑے مردے اکھاڑتے ہو بڑے بابو۔ جو نہیں ہے اُس کا غم ہی کیا کرنا۔ اب دھن نہیں ہے تو پھر کیسا ہاتھی اور کیا ہاتھی کا خریدنا۔ تمہارے پاس تو اور کوئی کہانی ہی نہیں ہے… خالی ہوئے نہیں کہ شروع ہو گئے…‘‘
بڑے بابو کے بدن میں جیسے آگ لگ جاتی… ’’شکر کرو کہ ایک لمبی مدت تک مسلمان بادشاہوں کی حکومت ملی ہے میاں کہ تھوڑے بہت اخلاق سے واقف ہو۔ ورنہ یہ سرمایہ بھی تمہارے پاس نہیں ہوتا…‘‘
غصّہ آنے پر بڑے میاں یہی راگ الاپا کرتے تھے۔ مگر ان کے ساتھ کام کرنے والے کبھی بھی بڑے بابو کی ان باتوں پر بگڑتے نہیں تھے۔ بلکہ مزہ لیتے تھے۔ اب نرمل نے جو یہ بات سنی تو مسکرائے بغیر نہیں رہ سکا۔
’’ٹھیک کہتے ہو بڑے میاں… اب تلوار کے زور پر حکومت تو رہی نہیں کہ اسلام کا بول بالا ہو اور اخلاق کا پاٹھ پڑھایا جاسکے۔نہ نادر شاہ نہ تیمور لنگ… اب جب تم اخلاق سکھاؤ گے تو سیکھیں گے…‘‘
بڑے میاں غصّہ سے جل اٹھتے… جیسے نرمل نے سیدھے ان کی شہ رگ پر ہاتھ رکھ دیا ہو… تاؤ کھا کر بولے… ’’اب تم اور کہو گے بھی کیا، سٹھیانی بلی کھمبا نوچے… میاں جان لو… اسلام ہمیشہ حق کی آواز پر پھیلا ہے… یہ تمہارے نصاب کا جھوٹ ہے جو پچپن سے تمہیں  گھول گھول کر پلایا جاتا رہا ہے کہ مسلمان بادشاہ ایسے رہے ویسے رہے… تلوار کے زور پر اسلام کو پھیلایا‘‘۔
بڑے میاں کو پتہ نہیں کہاں سے اچانک اورنگ زیب کی یاد آ جاتی۔ پھر لہک کر شعر پڑھتے___
تمہیں لے دے کے ساری داستاں میں یاد ہے اتنا
کہ اورنگ زیب ہندو کش تھا، ظالم تھا، ستمگر تھا
’’میاں ،باپ داداؤں کی جو تاریخ ہے اسے یوں بدلنا چاہو تو بدلے گی تو نہیں۔ اب جو تم لوگ تاریخ کی کتابوں میں جھوٹ جھوٹ لکھ لکھ کر بچوں کی برین واشنگ کرنے پر تلے ہو تو اس میں وقت لگے گا بچو۔ کافی وقت۔ اب لاکھ بتاؤ کہ مکہ معظمہ میں میکسکا کا مندر ہے۔ قطب مینار اشوک کی لاٹ اور تاج محل … میاں جان لو جو سچ ہے وہ سچ رہے گا اور ایک دن… ہاں کان کھول کر سن لو— سب کو اسلام کے جھنڈے تلے آنا پڑے گا…‘‘
بولتے بولتے بڑے میاں کی سانسیں اکھڑ جاتیں…دوسری میز سے کسی رامیشور کی آواز اُبھرتی___
’’مسلمانوں میں دم باقی نہیں ہے…‘‘
کھانستے کھانستے بڑے میاں پلٹ پڑے… ’’کس نے کہا— رامیشور کے بچے— یہ پکڑو اپنی فائل… میں نہیں دیکھنے کا… میں سب سمجھتا ہوں تم لوگوں کو… کافروں پر کبھی بھروسہ نہیں کرنے کا…‘‘
کھانستے کھانستے بڑے میاں کرسی پکڑ لیتے___
مہتہ اپنی میز سے اٹھ کر ان کے پاس کھڑے ہو جاتے۔ ’’آپ کو پرانا دمّہ ہے بڑے میاں۔ آپ کسی اچھے ڈاکٹر کو دکھاتے کیوں نہیں…‘‘
’’کس کو دکھاؤں بھائی‘‘۔ 
بڑے میاں ابھی آئے ہوئے طوفان کو بھول جاتے… ’’ایک پورے خاندان کی ذمہ داری ہے مجھ پر… کیا کیا کروں… لڑکی جوان ہو رہی ہے… اب دو چار پیسوں کے لئے ایمان نہیں بیچا جاتا میاں۔ یہاں سوطریقے ہیں پیسہ کمانے کے… لیکن یہ سب نہیں ہو گا… کئی بار بے ایمانی آئی بھی… لیکن ہر بار اﷲ رسول اور ایمان آڑے آ جاتا ہے… اب جو وقت بچا ہے…
پھر کھانسی اٹھی اور بڑے میاں کی آنکھوں میں لال لال ڈورے تیر گئے…
کچھ دیر کے لئے آفس میں خاموشی چھا گئی۔ آفس کا پرانا چپراسی سعید دوڑ کر بڑے میاں کے لئے گلاس میں پانی لے آیا۔ بڑے میاں آنکھوں میں امڈ آئے آنسوؤںکو پوچھتے ہوئے کہتے…
’’میاں سعید بس تمہاری یہ ادا طبیعت خوش کر دیتی ہے… جیتے رہو۔‘‘
’’اب کیا جیوں گا میاں! اب تو بچوں پوتے پوتیوں کو جینے کی دعا دو۔‘‘
سعید خالی گلاس ہاتھ میں اٹھاتا ہوا کہتا… ’’لیکن دل نہیں مانتا بڑے بابو۔ اتنا ضرور کہوں گا۔ یہ روز جو تم ڈفلی لے کر پرانے راگ الاپنے لگتے ہونا، اس سے اور کچھ تو نہیں ہوتا، کڑھن ہوتی ہے… کیوں گڑے مردے اکھاڑ کر اپنا دل دکھی کرتے ہو۔ اب تو یہی سب کچھ ہے بڑے بابو— اور ماشاء اﷲ تمہیں فکر کس بات کی…دو دو جوان لڑکے ہیں۔ تمہیں کھلائیں گے۔ عیش کرائیں گے…‘‘
’’اب کا ہے کی عیش سعید میاں‘‘۔ بڑے میاں لمبی سانس کھینچتے۔ بس ہر وقت بچوں کی فکر جان میں دم کئے رہتی ہے… کب کچھ ہونے کے لائق بنیں گے۔ اپنے پیروں پر کھڑے ہو جائیں تو چین کی سانس لوں…‘‘
ماحول میں دکھ کے رینگتے ہوئے کیڑے دیکھ کر نرمل پھر چٹکی لیتا… ’’یہ بڑے بابو آپ لوگ ہمیشہ لڑتے کیوں رہتے ہیں۔‘‘
’’کیا مطلب۔‘‘
اب یہ ایران عراق کی جنگ دیکھئے…پاکستان میں دیکھئے… مہاجروں کو کیسا پیٹ رہے ہیں بلوچی پٹھان… یہ چار چار شادیاں کرنے سے بھی کوئی فائدہ نہیں ہو گا بڑے میاں— یہ شیعہ سنی اور مہاجر، بلوچ کے نام پر لڑتے رہو گے تو ایک دن تمہاری نسل ہی ختم ہو جائے گی… پھر جپتے رہو اسلام کا نام…‘‘
’’کون کہتا ہے…‘‘
بڑے میاں کی آواز پھر پتھر کی طرح سخت ہو جاتی— کڑا کے دار آواز میں شعر پڑھتے
’ اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد… میاں سچی کہوں تو تم لوگ جلتے ہو؟‘
’’اب جلنے کی کوئی وجہ بھی تو ہو گی بڑے بابو… تم یہاں کسی معاملے میں بھی ہمارے برابر نہیں اور جہاں برابر ہو وہاں بھی پٹ رہے ہو…‘‘
’’برابر کیسے نہیں۔ کس معاملے میں کم ہیں ہم…‘‘
’’اب جو کہہ لو بڑے بابو… لیکن اتنا تم خود ایمان سے کہو، پاکستان کی بھول پر آج بھی پچھتا رہے ہو کہ نہیں؟ ایمان سے جواب دو ایسا ہے کہ نہیں…‘‘
’’ہاں بھائی‘‘۔ بڑے میاں سر جھکا لیتے… ’’یہ تمہاری بات سولہ آنے سچ ہے۔ ایک پاکستان کیا بنا، دلوں کے ٹکرے ہو گئے… اپنے تو ٹکڑے کر کے چلے ہی گئے۔ یہاں بھی شرمسار ہوئے کہ میاں تم نے تو اپنا ملک لے ہی لیا اب کرایہ دار بن کر زندگی جیو… ہاں میاں لعنت ہے اُن مسلم نیتاؤں کی سوچ پر جن کے ذہن میں پاکستان بنانے کا خیال آیا تھا…‘‘
بڑے میاں سرد آواز میں کہتے…بولتے ہوئے ان کے چہرے کی رگ رگ تن جاتی۔ چہرہ لال سرخ ہو جاتا… جیسے پرانی کہانی کے زخم ایک دم سے جاگ گئے ہوں… تازہ ہو گئے ہوں… سب کچھ تو آس پاس ہی ہوا لگتا ہے… جیسے ابھی حال میں سب کچھ گزرا ہو… ابھی ابھی آیا ہو طوفان اور سب کچھ سمیٹ کر لے گیا ہو…
 چھوٹے بھائی تاجور پاشا کی اچانک یاد آ جاتی… جو آزادی ملنے کے ٹھیک دس سال بعد پاکستان جابسا تھا۔ سب کچھ چھوڑ کر۔ گھر بار… یہاں ہے کیا بھیا۔ تم بھی چلو…نا… تغلق پاشا کی آنکھوں میں آنسو تھے… باپ دادا کی قبریں تو ہیں یہاں… دکھ میں دو آنسو بہا لوں گا تو چین مل جائے گا… تو یہیں رہ جا، تاجور… یہاں سب ملے گا… لیکن تاجور پاشا کو یہاں کی خاک راس نہ آسکی۔ پاکستان چلا گیا۔ دو سال بعد اُس نے وہاں شادی بھی کر لی۔ کہتے ہیں وہاں کی کسی اچھی فرم میں منیجر ہو گیا ہے۔ اس درمیان کتنی ہی بار تاجور پاشا نے اسے بلایا بھی۔ مگر ان کو نہ جانا تھا نہ گئے۔ ہاں درمیان میں تاجور خود ہی آیا تھا۔ بیوی کو لے کر۔ دو بچے تھے۔ شائمہ اور نصرت… چند دن بچوں سے گھلے ملے رہے۔ پھر جانے کا پروانہ آ گیا… ویزا ختم۔ واپسی کے وقت کتنا رو رہے تھے تاجور… بھیا، وہاں سب کچھ ہے… عزت دولت، شہرت۔ پھر بھی تہی دامن لگتا ہوں بھیا۔ آپ خوش نصیب ہیں کہ باپ داداؤں کی مٹی کے قریب ہیں… 
جاتے وقت کیسا پھوٹ پھوٹ کر رویا تھا تاجور… بچے بھی… اس کی بیوی بھی… چند دنوں میں ہی کیسا پیار امڈ آیا تھا… شائمہ بھی رو رہی تھی… چچا ابا… ہر وقت دل دھڑکتا رہتا ہے… پتہ نہیں کب سرحدیں بند ہو جائیں… آنے جانے پر پابندی لگ جائے… آپ لوگوں کو کبھی دیکھا نہیں تھا۔ چچا ابا… کہانیاں سنی تھیں… کیسے کھیلتے تھے… کیسے ہنگامے ہوتے تھے… اور اب… چند دنوں میں ہی آنکھیں جانے کی تاریخ پر جا کر ٹھہر جاتی ہیں… 
آنکھیں آنسوؤں کی داستان لکھ رہی تھیں… تغلق پاشا کے جسم سے جیسے کسی نے سارا لہو نچوڑ لیا ہو… کیا کہیں شائمہ کو… کیا جواب دیں… تاریخ کے رتھ نے چلتے چلتے جو منزل پائی ہے، اس کی وضاحت کیا کریں… آنکھیں جھکا لیں… روتے روتے تاجور پاشا کی بھی آنکھیں پھول گئی تھیں… اب اپنی غلطی کا احساس تو ہوتا ہے بھیا… مگر… آواز درد میں ڈوب جاتی ہے… مگر اب بہت دیر ہو چکی ہے… بہت دیر… جیسے برسوں بعد ایک خاندان میں بٹنے کے بعد میں ملا ہوں، پتہ نہیں یہ بچے آپس میں کب ملیں گے؟ کب ملیں گے…؟‘‘
آنکھیں آنسوؤں سے جل تھل ہیں… فائل سے نظر اٹھاتے ہوئے ڈرتے ہیں بڑے میاں___ یہ آنسو اُن کے درد کی چغلی نہ کھادیں… سر جھکائے فائلیں پلٹ دیتے ہیں… کسی صفحہ پر آنسو کا ایک موٹا سا قطرہ گرا ہے… ہاتھ کانپ رہے ہیں… شہادت کی انگلی اس قطرے تک آ کر ٹھہرتی ہے… صفحہ پر اس جگہ تھوڑی سیاہی پھیل گئی ہے… رب العّزت رحم… رحم کرنا… ٹھنڈی سانس بھرتے ہیں بڑے میاں…
اپنی اپنی میز سے نرمل، مہتہ اور کچھ دوسرے بڑے میاں کے اندر آئے ہوئے طوفان کو دیکھ رہے ہیں… یہی تو باتیں ہیں کہ بڑے میاں سب کو پیارے ہیں… اتنی بار ان کے اندر کے زخم دیکھے ہیں ان لوگوں نے… کہ ہر بار بڑے میاں کے لئے ایک پیار اُمڈا ہے… جانتے ہیں، اندر سے چھلنی چھلنی ہیں بڑے میاں… درد دیکھ کر تڑپ جانے والے…
مہتہ بڑے میاں کو یادوں کے گھنے جنگل سے دور کرنے کے لئے نئی چال چلتا…
’’بڑے میاں!کل ٹی وی پر سماچار دیکھا آپ نے… ایران عراق میں جنگ ختم ہو گئی۔ ضیاء کے بعد پتہ نہیں پاکستان کا کیا ہو گا…‘‘
’’کچھ کہا نہیں جاسکتا…‘‘ بڑے میاں پلٹ کر کہتے … ویسے یہ اچھا ہوا… چلو آٹھ سال سے چلی آ رہی مصیبت تو ختم ہوئی… یہ اچھا قدم اٹھایا دونوں ملکوں نے…‘‘
’’کہتے ہیں کہ یہ جنرل اسحاق خاں اچھا آدمی ہے۔ضیاء کی حکومت کے دوران تو ہند و پاک کے تعلقات اچھے نہیں رہے…‘‘
’’ہاں سچ کہتے ہو… مگر پاکستان کے مستقبل کے آگے سوالیہ نشان لگ ہی گیا ہے… اب ایمرجنسی لگا کر تو حکومت نہیں ہوسکتی… عوام اتنی ہوشمند ضرور ہے کہ دباؤ اور آزادی میں فرق کرسکے… میں تو پاکستان سے آئے ہوئے جن جن لوگوں سے ملا ہوں میاں، سب طرف یہی سننے کو ملا ہے کہ ہمارے پرکھوں نے یہ بٹوارہ کر کے اچھا نہیں کیا۔ کوئی خوش نہیں ہے… وہ وہاں چھٹپٹاتے ہیں اور یہاں ہم… ملک کا بٹوارہ نہیں تھا میاں یہ تو دلوں کا بٹوارہ تھا۔ دلوں کی آہ لگی ہے میاں… کچھ تو اثر کرے گی ہی…‘‘
بڑے میاں ٹھنڈی سانس بھر کر چپ ہو گئے۔ پھر فائلیں الٹی پلٹی جانے لگیں… انگلیوں میں قلم کانپتا رہا… اندر کسی گوشے میں بار بار یہ آواز دستک دیتی رہی۔ وہ کیا تھے اور کیا ہو گئے… کیسا شاندار ماضی… وہ بھی کیا دن تھے… کیسے شور غوغا کے دن…یہی گھر تھا جو کبھی شہر میں پاشاؤں کی کوٹھی کے نام سے مشہور تھا… تب شہر میں کیا رعب، دبدبہ تھا۔ جاگیریں تھیں… وہ زمانہ بھی دیکھا کہ کوٹھی کے باہر ہاتھی کھڑے رہتے تھے اور ہاتھی وان ہاتھ جوڑتا ہوا نظریں جھکا کر کہتا __ جناب سواری تیار ہے… چم  چم کرتی براق شیروانی پہنے ابا حضور اجمل پاشا اپنے دونوں بیٹوں تغلق پاشا اور تاجور پاشا کے ساتھ باہر نکل آتے۔ ادب کے ساتھ پیل بان سلام کرتا… اور یہ نکلی راجہ کی سواری… کتنی ہی آنکھیں تھیں جو بچوں کے چم  چم کرتے لباسوں پر جا کر ٹھہر جاتیں اور عش عش کر اٹھتیں…
تب کیسے کیسے لوگ تھے اور کیسے کیسے انوکھے قصّے… پھر اچانک جیسے نیند کھلی ہو… اور سب کچھ غائب۔ جو تھا وہ خواب تھا… ابا حضور اجمل پاشا کو کب دل کا دورہ پڑا… کب انتقال ہوا… سب کچھ آناً فاناً ہو گیا… ہوش تو اس وقت آیا، جب خاموش آنگن اور عمر کی کچی سیڑھیاں، گھر کے سونے بام  و در کو دکھا کر قبل از وقت آئی ہوئی ذمہ داری کو تھام لینے کی پکار کر رہے تھے… دالان کے ایک تنہا گوشے میں اماں حضور کی دھندلی آنکھیں گھر کے مستقبل کے لئے اُس کے کمزور کندھوں کو دیکھ رہی تھیں…
’’اب تو تم ہی سہارا ہو… باپ داداؤں کی جاگیریں تو بند آنکھوں کا خواب ہوا کرتی ہیں…‘‘
نوجوانی کے کمزور کندھے پر ذمہ داری کا بوجھ آیا— نہ جاگیریں تھیں نہ قارون کا خزانہ… اندھیرا تھا اور اندھیرے میں نہیں سجھائی دینے والے ہاتھ تھے… یہ وہ وقت تھا جب ابا حضور کی نا وقت وفات کے بعد انہیں پڑھائی کو سرے سے بھول جانا پڑا۔ مڈل پاس تھے… زندگی کا ایک نیا سفر شروع ہونے تک امی حضور نے بھی آنکھیں موند لیں… اور اس سے پہلے کہ وہ اپنے مضبوط توانا کندھوں کو تھکا تھکا محسوس کریں… کیا دیکھتے ہیں کہ تاجور پاشا شجرہ قلہ اٹھائے پشیمان سے ان کے سامنے کھڑے ہیں…
’’بھیا! میں پاکستان جا رہا ہوں…‘‘
’’کیا…؟‘‘
وہ اندر سے، ایکدم سے لہولہان ہی تو ہو گئے… پا…کستان… اس ایک لفظ نے ایٹم بم جیسا اثر کیا… کچھ دیر کے لئے تو جیسے ان پر سکتہ سا طاری ہو گیا… کچھ کہہ بھی تو نہیں سکے… کہ بھائی… کیا بگاڑا ہے میں نے… جو اتنی بڑی سزا دیئے جا رہا ہے تو… ابا حضور اور امی حضور کے قافلے کے بعد ایک تو ہی تو سہارا ہے میرا… تو بھی چلا جائے گا…؟
’’بھیا… سب بندوبست ہو گیا…‘‘ ٹکڑے ٹکڑے آوازیں جیسے آتش فشاں کی طرح اس کے پرخچے اڑا رہی تھیں… بہت تھک گیا تھا… مایوس ہو گیا تھا… آزادی کے دس سال غیریت کے احساس کو دھو نہیں سکے بھیا… دل پر میل سی جمی ہے… سچ ہے جب ہم نے اپنا الگ وطن لے لیا تو پھر ہمیں یہاں رہنے کا حق ہی کیا ہے…‘‘
نظریں جھکیں… تغلق پاشا غش ہی تو کھا گئے۔ پل میں لگا، یہ چھوٹا بھائی تاجور نہیں ہے… اُس کی جگہ کسی اور نے لے لی ہے… وہ…جو اپنی ذمہ داری کو محسوس کرتے ہوئے… پوری نہیں ہونے کی صورت میں ٹوٹ گیا ہے… بُری طرح لہولہان ہو گیا ہے… جسے— اتنی بڑی آبادی والے ملک میں، بڑے بڑے کمرے والی آفسوں میں کہیں ایک میز بھی نہ مل سکی… وہ آدمی بول رہا ہے… تھکا تھکا اور اپاہج … غیریت… ورنہ یہ لفظ تو نہ جاگتا… لیکن نہیں… شاید ٹھیک کہہ رہا ہے تاجور… آزادی سوغات کے روپ میں فسادکے جو تحفے لائی ہے… وہ تحفہ ہضم نہیں ہوتا… کتنے ہی سوالات کو جنم دیتا ہے… تم آزاد کب ہو… ہونٹوں پر قفل لگی یہ کیسی آزادی جھیل رہے ہو… پاکستانی… کتنی ہی بار اس لفظ سے اُن کا بھی سابقہ پڑا ہے… تم پاکستان نہیں گئے… میاں! تم لوگ دہری پالیسی رکھتے ہو… وہاں بھی حکومت اور یہاں بھی… تم لوگ غدار ہو… پھٹی پھٹی آنکھوں سے تغلق پاشا چھوٹے چھوٹے بچوں میں اترتے ہوئے فرق کے جراثیم کو دیکھ رہے ہیں… ان کا اپنا چھوٹا لڑکا باہر کھیل رہا ہے… بہت سے دوسرے بچے بھی ہیں… کھیل کبڈی کبڈی… چھوٹی… تی… روتا ہوا ارشد گھر میں داخل ہوا ہے… اور یہ کیا… نجمہ نے اُس کے کان پکڑ کر کھینچ دیئے ہیں… بول کیوں کھیلتا ہے… کافر لڑکوں کے ساتھ… مارا پیٹی کرتا ہے… بول کرے گا… تو ضرور فساد کرائے گا ایک دن —دنگے کرائے گا…‘‘
ارشد چپ ہے… ذہن میں سناٹا ساپھیل رہا ہے… اور اس سناٹے کی آگ کو لیے وہ نجمہ کے چہرے کو پڑھ رہے ہیں… یہ لفظ آیا کہاں سے۔ جنما کہاں؟ نجمہ کے اندر اندر اترا کیسے…؟ چھوٹا بچہ… دنگا کیا جانے… فساد کیا جانے… یہ باتیں… نجمہ کے کسی تلخ تجربے کا زخم تو نہیں ہیں… جو رستے رستے پھٹ گیا ہے… مواد کی طرح بہہ رہا ہے… بول کیوں کھیلتا ہے کافروں کے ساتھ… تو ضرور ایک دن…‘‘

تاجور پاشا گردن جھکائے کھڑے ہیں… ’’بھیا میری مانو تو آپ بھی… دونوں بھائی ساتھ ہی رہیں گے بھیاّ۔ کچھ بھی کرلیں گے… وہاں بہت سے روزگار مل جائیں گے۔ پھر اپنا ملک ہے وہ…‘‘
’’اپنا ملک…‘‘
مسلسل اُن کے ذہن پر ہتھوڑے پڑ رہے ہیں… تو یہ ملک اب اپنا نہیں رہا۔ یہاں غیریت پلنے لگی ہے… آریہ ورت کے ٹکرے کر کے مسلمانوں نے اس ملک سے اپنا حق بھی ختم کر دیا… اب یہ اپنا نہیں رہا… غیروں کا ہے… غور سے تاجور پاشا کے بے جان سے چہرے کو دیکھتے ہیں تغلق پاشا… آہستہ سے بس اتنا ہی تو کہہ پاتے ہیں…
’’مجھے تو یہ غیروں کا ملک ہی بھلا۔ تمہارا— خدا حافظ بھائی‘‘
’’بھیا میرے لئے دعا کرنا…‘‘
آنکھوں سے ٹپ ٹپ گرتے آنسو ہیں… جو زلزلے کے جھٹکے سے زیادہ اثر دار ہیں… جسم تھر تھر کانپ رہا ہے… گلے مل گئے ہیں بھائی سے… پھر پتہ نہیں کب… یا ملاقات ہی نہ ہو… کیا پتہ… کب سرحد پر کانٹے دار تار پاٹ دیئے جائیں… جاؤ بھائی… الوداع… ڈبڈبا آئی آنکھیں الوداعی منظر کو دیکھ سکنے کی تاب نہ لاسکیں… جھر جھر آنسو… کتنا اکیلا پن ہے… تاجور چلا گیا… زندگی کے طویل راستے پر چلنے والا ایک بھائی ملا تھا، سو اُس نے بھی اس وطن کو غیر کا وطن کہہ کر ٹھکرا دیا… آگے بڑھ گیا… اُس دن پہلی بار گھر کاٹنے کو دوڑا تھا… سنسان… ویران… پاشاؤں کی کوٹھی… محراب نما کمرے… تغلق پاشا کمرے کی دیواروں سے گلے مل کر پھوٹ پھوٹ کر رو پڑے… اُس وقت تک شادی نہیں ہوئی تھی… گھر کا اکیلا پن اور تنہائی جب بُری طرح ڈسنے لگی تو نجمہ اُن کی زندگی میں ہمسفر بن کر آ گئی… گھر میں کچھ اُجالا سا ہوا… کافی بڑے بڑے کمرے ہیں… نجمہ کو گھر دیکھ کر ڈرسا لگ تھا…
ہاں نجمہ۔ یہ پاشاؤں کی کوٹھی تھی… مگر اب یہاں ایک معمولی سا کلرک بستا ہے… جو کچھ نہیں… کوئی عہدہ نہ رتبہ… ہاں ایک شاندار ماضی ضرور ہے… اگر یہ وراثت قبول کرنا چاہو… میرے پاس گزرے وقت کی سنہری کہانی کے علاوہ اور کچھ بھی محفوظ نہیں ہے۔ اسے سمیٹ سکوتو…‘‘
اور نجمہ نے سب کچھ اپنے دامن میں بھر لیا۔ برابر برابر… خوشی غم…… تب سے یہ سفر جاری ہے اور ایس ڈی اور آفس میں ہیڈ کلرک بننے تک مسلسل وہ سفر میں ہیں… لیکن ماضی سے رشتہ منقطع ہوتا ہی نہیں… سب کچھ جیسے کل کی بات لگتی ہے… سوچو تو سارے منظر آنکھوں کے سامنے جی اٹھتے ہیں… تب بس اتنا ہوتا ہے… کہ گزرے مناظر کے سارے کمھلائے پھول ایک قطرہ آنسو بن کر آنکھوں سے ٹپک پڑتے ہیں… اور بڑے بابو کی بڑبڑاہٹ آفس کے بوجھل سے ماحول میں گونجتی رہتی ہے…

’’کھٹ… کھٹ… بڑے میاں یہ کاغذات…‘‘
وہ موٹے شیشے والی عینک سے کاغذات بڑھانے والے آدمی کو گھورتے ہیں… کاغذ سنبھال کر فائیل پر آنکھیں یوں بھی گھومتی رہتی ہیں… اب تھک چکے ہیں وہ… زندگی کا یہ سفر بھی کتنا طویل ہے… اب تو بس یہی خواہش ہے… بچوں کی شادی ہو جائے… وہ گھر سنبھال لیں… ذمہ داری اپنا لیں… وہ ہنسی خوشی موت اوڑھ لیں گے…

کھٹ کھٹ… ان کی میز سے دھیرے دھیرے فائلیں کھسک رہی تھیں… اور دھیرے دھیرے دھوپ بھی سمٹ رہی تھی…گھڑی کو غور سے دیکھتے ہیں بڑے میاں___ بی اماں کا چہرہ نظروں میں ابھرتا ہے… اُفّ کیسی باؤلی ہو گئی ہے اس عمر میں… اتنا اندھا یقین تو ان کے خاندان میں کسی کا بھی نہیں تھا۔ اب آج ہی کا، لو… کتنی قیامت مچا دی ایک لمحہ میں اُس نے… جیسے کوّا نہیں آیا زلزلہ ہی آ گیا ہو… اب وہ گھر میں ٹھیک طرح سے چھینک بھی سکتے۔ آفس آتے وقت چھینک دو تو دس اُپدیش سننے کو مل جائیں گے… تھوڑا ٹھہر جایئے۔ آج آفس مت جائیے… اُف ہو… اب آج ہی، بے بات ہی تو قیامت آ گئی…
بڑے میاں کو کھانسی پھر گھیرتی ہے… کھاؤں کھاؤں کرنے کے بعد خاموش ہوتے ہیں…آج ارادہ گھر جلدی جانے کا ہے… پتہ نہیں کیوں۔ کبھی کبھی تو وقت سے پہلے پہنچنا اچھا لگتا ہے… ڈھیر سارا وقت ہاتھ میں ہو تو باتیں کرنے میں بھی مزہ ملتا ہے… بسمتیا کے ہاتھوں کی بنی ہوئی گرم گرم چائے…  طبیعت جھوم جاتی ہے… بے چاری غریب عورت… اتنی بڑی کوٹھی میں ایک چھوٹا سا پیچھے والا کمرہ دے کر کون سا احسان کیا ہے انہوں نے… پورا گھر اکیلے کندھے پر سنبھالتی ہے۔ بسمتیا… پھر بھی نجمہ کو کافر لگتی ہے… خود ہی مسکراتے ہیں بڑے میاں… کافر… اتنا مانتی ہے بسمتیا کو، اُس کے بچے کو… پھر بھی — کبھی موڈ میں ہوئی تو کہے گی… کافر کا کیا ٹھکانہ۔ کسی دن کہہ دیں گے… اٹھاؤ سامان… جاؤ پاکستان۔

گھر کے لئے نکلتے ہوئے بڑے میاں کے کانوں میں یہ لفظ بار بار بج رہے تھے… کبھی کبھی کچھ لفظوں کا بار بار بجنا اچھا لگتا ہے… آفس سے تھوڑی ہی دور پر ایک چھوٹی سی پلیا ہے… جس کے نیچے ڈوم چماروں کی بستی ہے… جوئیں ’’نکلواتی‘‘ ہوئی عورتیں، بیڑی پھوکتے ہوئے مرد۔ بیلچا، کنسٹر، لے کر ادھم بازی کرتے ہوئے بچے… بچھی ہوئی ’ینواڑ‘ کی پلنگڑی… سوپ ٹوکریاں بنتی ہوئی عورتیں… بچھی ہوئی لکڑی کی کانتی… پلیا کے آس پاس چاروں طرف گندگی  بکھری رہتی ہے… کوڑے کا ڈھیر… وہیں میونسپلٹی کل… چھوٹی چھوٹی جھگی جھونپڑیاں… فضا میں باس پھیلی رہتی ہے… آتے جاتے ناک بند کر کے جانا پڑتا ہے…
پلیا سے گزرتے ہوئے اچانک بڑے میاں ٹھہر جاتے ہیں… ایک طرف پلیا کے کچے بانس کا سہارالئے ایک چھوٹا سا چودہ پندرہ سال کی عمر کا بچہ کھڑا ہے۔ رو رہا ہے۔ تیز آواز میں۔ بکھرے ہوئے بال۔ گندے میلے کپڑے— گندمی چہرہ —جیسے تماشے میں گم کوئی بچہ ہو… چاروں طرف روتا پھرتا ہو…
پتہ نہیں کیا سوچ کر ٹھہرتے ہیں بڑے میاں… کلرکی کرتے کرتے سوال  جواب کی عادت جو پڑ گئی ہے۔ ادھر ادھر دیکھتے ہیں… اتنا بڑا لڑکا… کسی چھوٹے بچے کی طرح سے کیوں رو رہا ہے… بڑے میاں کی ہمدردی پاکر لڑکا اور زوروں سے رونے لگتا اٹھتا ہے… اب بڑے میاں کچھ قریب آتے ہیں…
’’بات کیا ہے…‘‘
’’اوں اوں…‘‘
’’کس کے لڑکے ہو…‘‘
’’اوں… اوں…‘‘
لڑکا صرف روئے جا رہا ہے… اور اُس کے آنسو بڑے میاں کے دل پر وزنی ہتھوڑے کی طرح پڑتے ہیں…
’’بولنا نہیں جانتے…‘‘
’’آں…آں…‘‘
لڑکا پہلی بار ہاتھوں کے اشارے سے بتاتا ہے کہ وہ گونگا بھی ہے اور …
’’کوئی ہے تمہارا… دنیا میں؟‘‘بڑے میاں ہاتھوں کے اشارہ سے پوچھتے ہیں… لڑکا ’’نا‘‘ میں سرہلاتا ہوا اور تیز آواز سے رونے لگتا ہے…
’’اُف… کہاں پھنسادیا۔ کس مصیبت میں پڑ گئے۔ اب اس بلا کا کیا کریں…‘‘
وہ آگے بڑھنا چاہتے ہیں تو لڑکا لپک کر اُن کے دامن کو پکڑ لیتا ہے… اوں… اوں…
اُس کی طرف عجیب سی نظروں سے دیکھتے ہیں بڑے میاں۔ لڑکے کی آنکھوں میں رحم کی ایک ایسی اپیل تھی جسے وہ نظر انداز نہ کرسکے… قصائی کے ہاتھوں میں خنجر دیکھ کر کھونٹ تڑا کر بھاگا ہوا جانور جیسے اپنے مالک کے پاس واپس لوٹ کر اپنے لئے رحم کی مانگ کرتا ہے…
’’بھوکے ہو…‘‘
’’اوں…‘‘
’’کچھ کھاؤ گے…‘‘
’’اوں… اوں…‘‘
’’بے چارہ…‘‘
بڑے میاں میں ہمدردی جاگتی ہے… اچھا میرے ساتھ آؤ… سوچا تھا کھلا پلا کر لڑکے کوٹرخا دیں گے… کچھ پیسے تھما دیں گے۔ پتہ نہیں کس گھر کا ہے۔ اب گونگا بہرہ ہے کم بخت۔ بولنا جانتا تو پوچھ بھی لیتے کہ کہاں گھر باڑی ہے… اب کس چکّر میں پڑ گئے ہو… پلیا سے تھوڑی ہی دور چلنے کے بعد نانہوساؤکا ڈھابہ ہے۔ آفس سے چلنے کے بعد یہاں ایک بار ضرور رکتے ہیں بڑے میاں۔ یہاں نیبو کی چائے بڑی اچھی بنتی ہے… نانہو ساؤ خوب پہچانتا ہے انہیں… ڈھابہ پہنچ کر آواز لگاتے ہیں بڑے میاں
’’نانہوساؤ۔ اس بے چارے غریب کو کھانا کھلا دو اور ہاں بڑھیا اسپیشل نیبو کی چائے میرے لئے بنانا…‘‘
’’اسے کہاں سے پکڑ لائے…‘‘گلاس ایک قطار سے رکھتے ہوئے اور نیبو کا رس گاڑتے ہوئے نانہوساؤ نے پلٹ کر بڑے میاں کو دیکھا… اس کا باپ بھکاری تھا۔ کل مر گیا۔ گونگا ہے بابو… کہیں آفس میں لگوا دو تو جوانی سنور جائے…‘‘
’’ہونہہ…‘‘
سوچتے ہیں بڑے میاں… غور سے اُس گونگے کے چہرے کی طرف دیکھتے ہیں۔ پتہ نہیں کیوں اس بار اچھا لگا وہ… اگر بال سلیقے سے سنوارا جائے۔کپڑے بھی صاف پہنے تو… کیوں نہ گھر لے چلیں… کچھ کام ہی کر دے گا…
چائے پیتے ہوئے بڑے میاں نانہو ساؤ سے پوچھتے ہیں… ’’اچھا بتاؤ۔ اس کے باپ کی ذات کیا تھی…؟‘‘
’’مسلمان فقیر تھا بڑے بابو… آپ رکھ لو نا… جس کھونٹ سے باندھو بندھ جائے گا— آخر دم تک بندھا رہے گا…‘‘
’’ہونہہ۔‘‘
پھر ایک لمبی ہونہہ کھینچتے ہیں برے بابو— ادھر چائے ختم اور ادھر اُس گونگے بہرے نے جلدی جلدی کھانا ختم کیا…
’’اور…؟‘‘ وہ پوچھتے ہیں…
’’نہیں…‘‘ لڑکے کی آنکھوں میں پیار بھری چمک ہے… جیسے محبت کے تمام جاگتے لفظ اُس کی آنکھوں کی چمک میں سمٹ آئے ہوں… منہ سے عجیب سی آواز نکالتا ہوا… وہ اُس کا شکریہ ادا کر رہا ہے…
’’نام کیا ہے…؟‘‘
بڑے میاں پوچھتے ضرور ہیں— پھر فوراً ہی اپنی بھول کا احساس ہوتا ہے انہیں___ اب اگر اس کا کچھ نام ہے بھی تو یہ کیا بتائے گا۔ نہ بول سکتا ہے نہ لکھ سکتا ہے۔
’’بڑے بابو، اس کے باپ کو اکثر میں کھانا دیا کرتا تھا…‘‘ نانہوساؤچائے کا گلاس کھسکارہا ہے… اچھا آدمی تھا بے چارہ… گریبی نے بیکار کر دیا تھا۔ اتنا بڑا چھونڑا… کہیں لگوا دیتا تو زندگی سنورجاتی… لیکن ساتھ ساتھ رکھ کر بھیک منگواتا تھا۔ اسلم کہتا تھا بڑے بابو…‘‘
’’اسلم …‘‘بڑے میاں تیز آواز میں بولتے ہیں۔
’’اسلم… یہی تمہارا نام ہے…؟‘‘
’’آں…اں…‘‘
گونگا خوشی کا مظاہرہ کرتا ہے…
’’ٹھیک ہے…‘‘
بڑے میاں نے اب اپنے آپ کو مطمئن کر لیا ہے… شاید نجمہ نے جو صبح صبح کوّا کی آمد کا ہنگامہ مچایا، اُس کا مطلب یہی تھا___ گھر میں ایک نئے فرد کا اضافہ… چلو، چلے گا… دنیا میں ہر آدمی اپنا رزق خود لے کر آتا ہے… وہ کیا کھلائیں گے___ کھلانے والا تو اﷲ ہے… وہی دے گا…
وہ وہ مطمئن ہیں۔ آواز دیتے ہیں___
’’چلو لڑکے…‘‘
اسلم سر جھکائے اُن کے پیچھے پیچھے چل پڑتا ہے___
٭٭



(5)

اُس وقت تک بڑے میاں سوچ بھی نہیں سکے تھے کہ اس گونگے بہرے کو اپنے ساتھ لئے تو جا رہے ہیں لیکن اس کی موجودگی سے گھر میں ہنگامہ بھی مچ سکتا ہے… بی اماں نے اس نئے فتنے کو دیکھا تو خوب واویلا مچایا…
’’تمہیں تو عجوبے پالنے کا شوق ہو گیا ہے۔ گھر نہیں ہوا عجائب خانہ ہو گیا۔ ایک سے ایک نمونے… جسے دیکھو۔ ہمدردی جتائی۔ ترس کھایا۔ اٹھا لائے۔ اب یہی کافر کو لے آئے۔ تین تین جنے۔ اُس پر سے میاں شرابی۔ مسلمان کے گھر میں اور شراب۔ میاں شراب کی ایک بوند بھی اگر ہاتھ پر پڑ جائے تو اﷲ میاں کے یہاں ہاتھ کاٹ دیئے جاتے ہیں۔ توبہ توبہ اس بڑھاپے میں تمہاری متی ہی خراب ہو گئی ہے۔ اب نہ ذات کا پتہ نہ پات کا___ دو دکھ کے بول بولے ہوں گے اور لے کر چلے آئے…‘‘
’’نہیں جی۔ یہ گونگا ہے۔ گونگا بہرہ۔‘‘ بڑے میاں نے تعریف کی۔
’’کیا…؟‘‘ بی اماں ایک دم سے چونک گئیں___ ’’لو اب گونگا بہرہ بھی ہے۔ ایک اور تعریف کی بات۔ اب بولے گا بکے گا کس سے؟ سارا دن سر کھپانا پڑے گا اس سے اور یہ کرے گا کیا ؟ تم تو پورے گھر کو گونگا بہرہ بنا کر رکھو گے۔ اب ٹھکانا کیا… کہیں یہ بھی کافر ہوا تو۔ نوج تمہاری عقل پر پتھر پڑ گیا ہے۔‘‘
’’اب تم پوری بات توسنوگی ہی نہیں۔ پہلے ہی ہنگامہ شروع کر دو گی۔‘‘
’’بڑے میاں کو بھی غصہ آ گیا تھا۔ یہ بے چارا پلیا کے پاس رو رہا تھا۔ غریب مسلمان کا لڑکا ہے۔ اس کا باپ فقیر تھا۔ کل مر گیا…‘‘
’’چہ چہ‘‘ بڑی بی نے افسوس کیا۔ لیکن ان کے تیور فوراً ہی لوٹ آئے۔ ’’اب یہ کہو۔ کہ گھر میں فقیروں کی پوری فوج اکٹھی کرنے کی دھن سوار ہوئی ہے۔ ایک شرابی کبابی، دوسرا فقیر۔ کسی دن تمہاری جو یہ شاندار حویلی ہے نا، اسے بیچ باچ کر کھا جائیں گے یہ۔ پھر لیتے رہنا اپنے پرکھوں کا نام۔ ارے۔ ان فقیر چور اُچکّوں کا ٹھکانہ ہی کیا۔ کسی دن موقع ملا اورسب کچھ لے کر چمپت ہو گئے تو… کیا کر لو گے تم… بتاؤ۔‘‘
’’نہیں یہ ایسا نہیں ہے…‘‘
’’نہیں ایسانہیں ہے۔ جیسے تم اس کے پورے خاندان سے واقف ہو گئے منٹوں میں— بڑی شناسائی جو ٹھہری۔ اب اس عجوبے کا کیا کریں گے ہم۔‘‘
’’بھئی گھر میں رکھیں گے۔ کام کرے گا۔ جھاڑو تو دے گا۔ کپڑے صاف کرے گا۔ جو کہو گی کرے گا۔‘‘
’’اب کرنے کا ہے ہی کیا اس گھر میں۔ ایک اور مصیبت لے آئے۔ کوئی اور نہیں ملا تو فقیر مل گیا۔ چل رے فقیر۔ حاتم طائی کا دروازہ تو کھلا ہوا ہی ہے۔ میری مانو تو مسلمان بادشاہ اسی ہمدردی دکھانے میں چوپٹ ہوئے۔ ورنہ آج یہ حشر نہیں ہوتا، یہاں ہم پھوٹی کوڑی کوڑی کے محتاج نہ ہوتے۔ آخر کو کل تاج تھا تخت تھا۔ جاگیریں تھیں۔ اپنی سلطنت تھی اور آج… دیکھو تو فقیر بنے آرام سے گھوم رہے ہیں۔ اﷲ کے نام پردے دے… آہ… واہ… کیا کہنے… میاں کان کھول کر سن لو… چور اور فقیر‘ چوری اور فقیری سے باز نہیں آتے۔ کسی دن سن لینا، گھر سے غائب ہے اور سڑک پر بیٹھا بھیک مانگ رہا ہے۔ گھر کی ساری چیزیں نہیں بیچ دیں تو میرا نام بھی بدل دینا…‘‘
بی اماں اپنے اس لمبے لکچر کے بعد ہانپنے لگی تھیں… تیز تیز سانس چلنے لگی تھی۔ اپنے لحیم شحیم بدن کو سنبھالے چارپائی پر لیٹ گئیں۔ غور سے اُس گونگے بہرے جانور کا جائزہ لیا۔ جو غور سے گھر کی چیزوں اور بیگم کے بگڑے تیور کا دل ہی دل میں تجزیہ کر رہا تھا…
’’کیوں رے کیا نام ہے…‘‘ بیگم نے تھوڑی اپنائیت پیدا کرنے کی کوشش کی… پھر جلد ہی معمول پر لوٹ آئیں… ’’اب تو نام کیا بتائے گا۔ گونگا بہرہ جو ٹھہرا…‘‘
’’اسلم نام ہے’’… بڑے میاں جلدی سے بولے۔
’’اب لو تمہیں نام بھی پتہ چل گیا۔ اب بولو تو پورا شجرہ ہی بتا دو گے۔ آخر کیوں نہیں۔ اس شہر کی پوری تاریخ سے واقف جو ہو…‘‘
’’تم تو سر کھا جاتی ہو بیگم‘‘۔ بڑے میاں نے ناراضگی دکھائی۔ ’’ارے وہ لوٹتے وقت نانہوساؤ کی دکان پر رکا تھا۔ اُس نے بتایا…‘‘
بڑی بی تھوڑا نرم پڑیں ’’…ٹھیک ہے ٹھیک ہے… چل رے… نہا دھو لے… کیا شکل بنا رکھی ہے… نہانے سے تو مطلب ہی نہیں ہو گا۔ نوج اِن غریبوں کی فوج سے ہی تو ہمارا مذاق اڑتا ہے___ کہیں بھی جاؤدس مسلمان فقیر نظر آ جائیں گے۔ خدا جھوٹ نہ بلوائے تو اتنے فقیر کسی قوم میں نہیں ہوں گے۔ کچھ کرنا دھرنا ہے نہیں۔ ہاتھ پیر چلانے سے کام نہیں…بس اﷲ کے نام پر دے… نوج انہوں نے پوری قوم کو بدنام کرا کے چھوڑا ہے۔ پتہ نہیں اتنے فقیر کہاں سے نکل آتے ہیں۔ جسے دیکھو محنت سے جی چرائے پھرتا ہے… چل رے کلموہا… نصیب جلا…
بگڑتی بولتی بڑی بی نے اُسے غسل خانہ کا راستہ دکھاتے ہوئے پھر کوسہ دیا… جا جا نہا لے… اب اﷲ یہ کیسی آفت ہے… کھڑا کھڑا منہ کیا دیکھ رہا ہے… اب جا بھی… اُف… بولی تو سمجھتا ہی نہیں۔ کسی جنگل سے چھوٹ کر آیا ہے جیسے… نہا لے… اب بڑی بی نے اشارے سے بتایا… ہاں ایسے… اب جا بھی…‘‘
ڈر کے مارے اسلم کی شکل ایسی ہو گئی تھی کہ بڑے میاں ٹھہاکا لگا کر ہنس پڑے…
’’انور کی اماں! تم تو پہلے ہی دن بے چارے کو قبرستان بھیج دو گی۔ جس نے پانی کی شکل ہی نہ دیکھی ہو، اُسے آتے ہی غسل خانے بھیج دیا۔ اب وہ نہائے گا کیا۔ نہلانا پڑے گا اُسے…‘‘
’’یعنی میں نہاؤں گی؟‘‘ بڑی بی کا پارا چڑھ گیا تھا۔
’’نہیں۔ آج میں محنت کر دیتا ہوں۔ تم جاؤ بسمتیا کو چائے بنانے کو کہہ دو اور ہاں انور میاں کے پرانے کپڑے اس کو فٹ ہو جائیں گے۔ ایک جوڑی پائجامہ کرتا لے آنا…‘‘
’’نوج مصیبت ہے…‘‘ بولتی بکتی بی اماں باورچی خانہ کی طرف چل دیں۔ بڑے میاں ایک بار پھر مسکرائے… ٹھہر کر ایک فقرہ پھر جڑا…
’’اب تم ہی نے تو صبح صبح کوے کا ذکر چھیڑا تھا۔ لو شامت آ گئی نا…‘‘
’’کیا…‘‘
اس سے پہلے کہ بڑی بی پلٹیں، بڑے میاں اسلم کو لے کر جلدی سے غسل خانے میں داخل ہو گئے۔
بڑی بی کے بولنے کی آواز کچھ سکنڈ تک آتی رہی۔ پھر خاموشی چھا گئی۔

نہانے دھونے کے بعد انور میاں کا اترن پہن کر اسلم میاں آدمی لگنے لگے تھے۔ شکل نکل آئی تھی۔ بڑی بی نے لگانے کو تیل بھی دیا تھا۔ کافی تیل بال میں چپوڑنے کے بعد میاں اسلم نے بیچ کی مانگ نکال رکھی تھی اور شکل ایسی ’چنڈق‘ کی طرح ہو رہی تھی کہ راشدہ کا ہنستے ہنستے بُرا حال ہو گیا تھا… وہ قہقہہ لگاتے ہوئے بولی…
’’اباّ۔ اسے کس میوزیم سے لائے آپ!‘‘
’’اب حد ہوتی ہے بدتمیزی کی۔ یہ کیا بد اخلاقی ہے بیٹی۔ غریب آدمی ہے۔‘‘
’’اِسے اتنے تیل چپوڑنے کو کس نے کہا تھا۔‘‘بڑی بی پھر ناراض ہوئیں۔
’’اب لو۔ پوری شیشی اس کے ہاتھ میں تھما دو گی تو یہی ہو گا نا۔‘‘ بڑے میاں کو بھی لطف  آ رہا تھا۔
اسلم ناسمجھوں کے انداز میں سب کو باری باری سے دیکھ رہا تھا… شام کے سات بج گئے تھے۔ بسمتیا کے کھڑبڑ کھڑبڑ کی آوازیں باورچی خانے سے برابر رینگ رہی تھیں… پچھواڑے کمرے سے بچے کے چلانے کی آواز بھی گونج رہی تھی…
بڑی بی نے پھر زبان کا سوئچ آن کیا۔ ’’اب ایسی بھی کیا مصروفیت کہ بچے کو باہر زمین میں چھوڑ کر باورچی خانے میں لگی ہے… اوبسمتیا…‘‘
’’جی اماں‘‘
’’اب اماں اماں کیا کر رہی ہے۔ بچہ رو رہا ہے۔ اُسے چپ کرانا۔ زمین میں ایسے سلاتی ہے جیسے جانور کا بچہ ہو___‘‘
’’اب اماں غریب کا بچہ ایسے ہی پلتا ہے۔‘‘بسمتیا باورچی خانے سے ہی بولی۔
’’تو کھڑا کھڑا منہ کیا دیکھ رہا ہے۔‘‘ بڑی بی نے پھر بسمتیا کو آواز دی۔ آٹا سنے ہاتھوں کو لے کر بولتی بکتی بسمتیا باورچی خانے سے نکل کر باہر آ گئی تھی… ’’اماں! اب کیا ہوا۔ اس اُمر (عمر) میں اتنا نہیں بولا کرتے۔ طبیعت خراب ہو جاتی ہے۔ ہاں کیا ہے اب—؟‘
’’لے جا اسے۔ کام سکھا۔ بیٹھے بیٹھے روٹی تو توڑنے نہیں دوں گی۔ کچھ کام وام تو جاننا ہی چاہئے اسے…‘‘
’’اچھا اماں‘‘۔ بسمتیا نے غور سے گونگے کے چہرے کو دیکھا… تیل کے ٹپکنے سے پوری پیشانی تر ہو گئی تھی… شکل ایسی بیوقوفوں جیسی لگ رہی تھی کہ بسمتیا کی بھی ہنسی نکل گئی۔ انور میاں کا تنگ بش شرٹ اور ڈھیلا ڈھالا پائجامہ۔ ساتھ ہی آل پین لگی ہوئی ہوائی چپل۔ عجب سے ہو رہے تھے اسلم میاں…
’’اب بس بھی کر۔ لے جا اسے۔‘‘
بڑی بی نے بھی آدھی ہنسی گلے میں روکتے ہوئے بسمتیا کو حکم دیا… راشدہ تب تک پڑھنے کے لئے جاچکی تھی۔ بڑے میاں ڈرائنگ روم میں بیٹھ گئے تھے… ایک کونے میں ٹی وی کا پورٹیبل سیٹ پڑا تھا۔ ڈرائنگ روم پرانی چیزوں سے بھرا پرا تھا۔ پرانے زمانے کا صوفہ… دیوار پر کچھ پرانی مدھوبنی پینٹنگس… ایک طرف شیر کی کھال… مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ کی تصویریں… فریم کی گئی۔ ایک طرف ابا حضور اور امی حضور کے ساتھ دونوں بھائیوں کی کافی پرانی تاریخی تصویر… ریک پر ٹوٹا ہوا شیشہ کا گلدستہ— کافی پرانا—ٹوٹا ہونے کے باوجود یہ ڈرائنگ روم کی زینت اس لئے بھی تھا کہ بڑے میاں اس کی نوعیت کو بھی تاریخی ٹھہراتے تھے___ کہتے ہیں یہ خاندانی تحفہ ہے۔ خود اتاترک کمال پاشا نے اسے اپنے ہاتھوں سے اُن کے خاندان کے کسی وارث کو تحفے میں دیا تھا… اب ایسی چیزیں تو نوادرات میں ہیں ہی۔ اُس کی قیمت کا اندازہ کیا جو شاہ ایران اتاترک کمال پاشا سے تحفہ میں ملا ہو… بہت سنبھال کر رکھا تھا اس نایاب تحفہ کو… ٹوٹنے کے باوجود یہ اس ڈرائنگ روم کا سب سے قیمتی خزانہ تھا۔ روز خود ہی اس پر آئی موٹی دھول جھاڑتے بڑے میاں… خاندانی وقار کی نشانی تھا یہ گلدستہ… ڈرائنگ روم کے صوفہ پر چائے کی چسکیاں لیتے ہوئے کسی سوچ میں ڈوبے تھے کہ اچانک دروازے پر نظر آئے ارشد پاشا___ خاموش۔کسی فکر میں ڈوبے ہوئے…
’’آؤ آؤ بیٹھو‘‘ ___انہوں نے آواز دی۔
ارشد پاشا نے بھی نشست سنبھال لی۔
’’بات کیا ہے؟‘‘
کچھ نہیں‘‘
’’تمہارا ایم ایس سی کا امتحان کب ہے‘‘
’’ابھی دن ہے…‘‘
’’تیاری کیسی چل رہی ہے‘‘
’’ٹھیک ہے۔‘‘
’’کچھ سست سے لگ رہے ہو…‘‘
اتنا پوچھتے ہوئے دمّہ نے پھر اپنا اثر دکھایا تھا۔ بڑے میاں کھانسنے لگے تھے۔ آنکھوں میں لال لال ڈورے تیر گئے… کھانستے کھانستے بے دم سے ہو گئے۔ گونگا دوڑ کر پانی لے آیا تھا۔ پانی پیتے ہوئے متشکر آنکھوں سے انہوں نے گونگے کو دیکھا۔
’’دیکھا۔ کتنی جلد ہوش مند ہو گیا۔ فوراً سمجھ گیا کہ مجھے پانی کی ضرورت ہے‘‘۔ کھانسی سے کچھ آرام ملا تھا۔
گونگا خالی گلاس لے کر لوٹ گیا___
بڑے میاں نے پھر پوچھا ___ ’’ہاں تو تمہیں تکلیف کس بات کی ہے۔ آج کل کچھ بجھے سے رہتے  ہو—‘‘
’’ہاں اباّ‘‘___ ارشد پاشا نے غور سے بڑے میاں کی آنکھوں میں جھانکا… عمر کی اُس منزل میں تھے جہاں ہلکی ہلکی مونچھ اُن کے سفید خوبصورت چہرے پر خوب جچ رہی تھی۔ تھوڑی بہت داڑھی بھی نکل آئی تھی… آنکھوں پر کم عمری میں ہی فریم چڑھ گیا تھا۔
بڑے میاں ہنسے… ’’کافی انٹلکچول لگنے لگے ہو…‘‘
’’مسئلہ یہ نہیں ہے اباّ‘‘…کافی سنجیدہ آواز تھی ارشد پاشا کی۔
’’مسئلہ…‘‘ بڑے میاں نے صوفہ پر پینترا بدلا…‘‘ تمہیں ہوا کیا ہے۔ کیسا مسئلہ___؟
’’اب کیسے بتاؤں میں…‘‘ ارشد نے اپنے ہونٹوں کو دابا… چہرے پر شکن ابھری۔ الجھنوں کی کتنی ہی پرتیں چہرے پر بچھتی چلی گئیں… اب کیسے کہوں میں… اتنی عمر ہو گئی میری…‘‘
’’کون کہتا ہے؟ کوئی خاص عمر نہیں ہوئی تمہاری۔ ماشا اﷲ ابھی پڑھ رہے ہو… کچھ اماں نے کہا کیا‘‘؟
’’نہیں۔‘‘
’’پھر کیا مسئلہ ہے؟‘‘
’’میں کچھ بننا چاہتا ہوں اباّ‘‘… ارشد پاشا کی آواز جیسے کسی تنگ کنویں سے ابھری۔
’’دھت تری کے…‘‘ بڑے میاں قہقہہ مار کر ہنسے۔ اس میں ایسی کون سی بات ہے پریشانی کی ___ٹھیک ہے… اچھی بات ہے… تمہارے اندر یہ جذبہ تو پیدا ہوا کہ کچھ بننا چاہئے۔ اس عمر میں اس سے اچھی بات اور کیا ہوسکتی ہے…‘‘
’’مسئلہ یہ نہیں ہے اباّ‘‘۔ چہرے کو جھٹکتے ہوئے ارشد پاشا نے جھنجھلایا سا جواب دیا— آپ سمجھے نہیں… میں کچھ بننا چاہتا ہوں۔‘‘
’’اچھی بات ہے۔ تو میں نے کب کہا کہ تم کچھ بننا نہیں چاہتے‘‘۔
’’یہ بات نہیں اباّ۔ اب میں آپ کو کیسے بتاؤں… میں وہ بننا نہیں چاہتا جو دوسرے چاہتے ہیں… یہ کچھ الگ سا… کچھ مختلف…‘‘
آنکھوں میں چمک لہرائی تھی۔
بڑے میاں نے صوفہ پر پھر پینترا بدلا… ’’مجھے پوری بات سمجھاؤ…‘‘
’’میں اس سلسلے میں کئی دنوں سے کافی پریشان ہوں اباّ۔ یہ مسئلہ صرف میرا نہیں ہے… کبھی کبھی پوری قوم کا مسئلہ لگتا ہے… کبھی کبھی کچھ سمجھ میں نہیں آتا… شاید… مجھے لگتا ہے… میں جو بننا چاہتا ہوں… وہ پوری طرح خود مجھ پر واضح نہیں ہے… کہ میں کیا چاہتا ہوں… کیسا بننا… مگر دیکھئے نا… میں ڈاکٹر… انجینئر… آئی ایس افسرنہیں بننا چاہتا… یہ کتنے دنوں تک اپنے نام کو زندہ رکھ پاتے ہیں؟… اپنے پیشہ سے انصاف کرنے کے علاوہ اور کیا کر پاتے ہیں؟ اور مرنے کے بعد… میں چاہتا ہوں… میرا نام… میرے بعد بھی… آئی مین… شاید ابھی اچھی طرح وضاحت نہیں کرپاؤں… مگر میں کچھ انوکھا کر کے دکھانا چاہتا ہوں…‘‘
ارشد پاشا کو ٹٹولنے کے باوجود لفظ ہی نہیں مل رہے تھے۔ وہ کافی پریشان دکھ رہے تھے۔ اچانک بولتے بولتے خاموش ہو گئے…
’’تمہیں آرام کی ضرورت ہے… دماغ پر زیادہ زور ڈالنا اچھا نہیں۔‘‘ بڑے میاں نے مشورہ دیا۔ 
’’جاؤ جا کر سو جاؤ…‘‘
’’آپ نہیں سمجھیں گے اباّ… کوئی نہیں سمجھے گا___‘‘
ارشد پاشا تھکے تھکے سے اٹھ کھڑے ہوئے… اور کمرے سے باہر نکل گئے___
’’باؤلا ہو گیا ہے یہ لڑکا… پتہ نہیں کیا کیا سوچتا رہتا ہے… سچ تو یہ ہے کہ یہ نئی نسل ہی عجیب سی ہو رہی ہے…
بڑے میاں نے چائے ختم کر لی تھی… خالی کپ میز پر رکھ دیا … پتہ نہیں آج میچ کا کیا ہو گا… کوئی کرکٹ میچ تو تھا نہیں کہ جہاں دیکھو ہر طرف لوگ کھڑے ہیں… اب فٹ بال کا میچ کون سنے۔ کمبخت ٹیلی کاسٹ بھی نہیں۔ اب تو اسپورٹس مین شپ ہی نہیں رہی… پھر بھی— پتہ نہیں کیا ہوا۔ موہن بگان جیتا یا محمڈن اسپورٹنگ۔ فائنل میں تو یہی دونوں پہنچے…‘‘
بڑے میاں سوچ میں پڑگئے تھے۔ کتنا وقت بدل گیا اور کس تیزی میں بدلا وقت… اب کرکٹ میچ ہو تو لوگ یہ دیکھتے ہیں کہ ملک کون سا کھیل رہا ہے۔ ہندستان پاکستان کے درمیان میچ ہو تو سنسنی اتنی بڑھتی ہے کہ اﷲ اﷲ فساد کا خدشہ لگا رہتا ہے۔ دل گھبرایا رہتا ہے… نوج پاکستان جیتے یا ہندستان اپنا کیا جاتا ہے… میچ دیکھو… مگر یہ کون سنتا ہے… اب یہی لو… بنگال میں موہن بگان اور محمڈن اسپورٹنگ کے درمیان میچ ہو تو پریسٹیج ایشو بن جاتا ہے…
بڑے میاں کے چہرے پر الجھن پیدا ہوئی۔ ذہن بوجھل ہو گیا… اچانک باہر سے انور میاں کے جوتے کی کھٹ کھٹ سنائی پڑی… اور پھر دکھائی دیا انور میاں کا چمکتا ہوا چہرہ۔ ہاتھوں میں ہیں___ پولیتھین کے کتنے ہی گندے پیکٹ___ چہرے سے خوشی برس رہی تھی۔
’’اب یہ کیا۔ تمہارا تو دماغ خراب ہو گیا ہے‘‘
’’نہیں اباّ۔ ورلڈ ریکارڈ بنانے جا رہا ہوں… یہ پولیتھین شمیم چاچا کے یہاں سے لایا ہوں۔ جانتے ہیں یہ پولیتھین بہت قیمتی ہے… آج اُن کے یہاں صفائی ہو رہی تھی… پرانے پرانے بکس دھوپ کو دکھائے جا رہے تھے… ان کو میرے اس شوق کی معلومات تو تھی ہی۔ آدمی بھیج کر بلایا۔ پورے پچاس سال پرانے پولیتھن ہیں۔ لیکن دیکھئے اب تک خراب نہیں ہوئے… وہ تو خیر ہوا کہ کپڑوں کے بکس میں پڑے تھے یہ پولیتھن۔ لیکن دیکھئے اب تک خراب نہیں ہوئے… بکس میں فنائل کی گولی ڈالی ہوئی تھی۔ اب دیکھ لینا اباّ۔ بس کچھ سالوں کی ہی بات ہے… میرا نام گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں شامل ہو کر رہے گا…‘‘
’’اچھا اچھا۔‘‘ بڑے میاں ناراض ہوئے___ ’’اب یہ گندگی رکھے گا بھی یا پورے گھر کو دکھاتا پھرے گا۔‘‘
’’اباّ، آپ اسے گندگی کہتے ہیں___‘‘
’’نہیں۔ یہ تو جواہرات ہیں۔ شوکیس میں سجادو‘‘
’’جواہرات ہی ہیں اباّ۔ ابھی ان کی قدر کسی کو نہیں معلوم___ مگر کل…‘‘
انور پاشا خیال کی رو میں بہہ گئے تھے___
’’اچھا۔ آج میچ کا کیا ہوا۔ تو نے سنا کہ نہیں۔‘‘
’’وہ فٹ بال میچ کا…‘‘ انور چہکا…‘‘ وہاں تو ہنگامہ ہو گیا اباّ۔ اب تو یہ موہن بگان یا محمڈن اسپورٹنگ کے بیچ ہونے والے میچ بند ہونے چاہئیں۔‘‘
’’مگر ہوا کیا؟‘‘
’’ارے ہونا کیا تھا۔ محمڈن جیتنے لگی تو دیکھنے  والوں میں سے کچھ نے شور مچائے۔ پھر ہنگامہ شروع ہو گیا۔ توڑ پھوڑ مچنے لگی… پولیس کو لاٹھی چلانی پڑی… آنسو گیس تک چھوڑنے کی نوبت آ گئی…‘‘
’’اچھا‘‘… بڑے میاں کے ذہن پر دھماکہ ہوا… اﷲ بچائے اس ملک کو… اب کھیل کود میں بھی زہر کے جراثیم آ گئے۔ چاروں طرف آگ لگی ہے… خدا خیر کرے… پتہ نہیں دینا کا کیا ہو گا… ہو گا کیا تغلق پاشا… اندر کے کسی گوشے سے ایک سخت آواز حرکت کرتی ہے… اپنی کمزوریوں پر پردہ کیوں ڈالتے ہو تم!… تم نے بھی تو اُس وقت نجمہ کو نہیں روکا تھا، چھوٹے سے ارشد نے باہر کھیلتے ہوئے اپنی ہی عمر کے بٹوّ کو پیٹ دیا تھا… بچے کیا جانیں مذہب کی بات… مگر نجمہ نے تو اس معمولی سی بات کو بھی دنگے اور فساد سے جوڑ دیا تھا ___اور تم بھی تو خاموشی سے سارا کھیل دیکھ رہے تھے… اب تم مجھے بتاؤ تغلق پاشا، ایسی صورت میں فرق کے جراثیم اُس کے اندر آئیں گے یا نہیں… اور جب آئیں گے تو… تم اُس کی روک تھام کیسے کرسکو گے…؟
بڑے میاں ٹھنڈی سانس بھرتے ہیں… ایک بار پھر وہی حملہ… خدا خیر کرے… ایک بار پھر لوٹ آئے پاکستان… پتہ نہیں کیا ہونے والا ہے … ضیاء کے بعد پاکستان کی حالت سدھرتی بھی ہے یا نہیں… تعلقات کیسے ہوتے ہیں؟ اﷲ کرے تعلقات سدھر جائیں… خبر تو یہ بھی ہے کہ کراچی سے لے کر پشاور تک پورے ملک میں مارشل لا نافذ کر دیا جائے گا… اﷲ کرے کچھ ایسی صورت پیدا ہو کہ اپنے بھائی کو دوبارہ بلوا سکیں… صورت دیکھے… کتنی مدت ہو گئی… بچے بھی کتنے بڑے ہو گئے ہوں گے… سب کو دیکھنے کو کتنا جی چاہتا ہے… ابھی کچھ دن پہلے ہی تو تاجور نے تصویریں بھیجی تھیں… پورے خاندان کی تصویر… ایک تصویر اکیلی شائمہ کی تھی…گوری چٹی شائمہ… کتنی پیاری لگ رہی تھی… ہاتھوں میں مہندی لگائے… تصویر کے پیچھے لکھا تھا… پیارے بڑے اباّ کے لئے… وہ کتنا خوش ہوئے تھے… شائمہ تو انور کے ساتھ کی ہے… خواہش کا کیا ہے… اندر مچلتی ہے سو جاتی ہے… اب تعلقات اچھے ہوتے تو وہ شائمہ کو تاجور سے مانگ لیتے… بھائی میری بیٹی مجھے دے دو… مگر کس منہ سے کہیں… نصرت بھی تو کافی بڑا ہو گیا ہو گا… پتہ نہیں کب دیکھیں گے… اب تصویریں آتی ہیں تو عمر کا اندازہ ہوتا ہے… بچے اتنے بڑے ہو گئے… اتنی جلد… پھر اپنی عمر کا بھی اندازہ ہوتا ہے…
اوہ… ہم تو بوڑھے ہو گئے… روز عمر کی لمبی لمبی سیڑھیاں پار کرتے ہوئے اب گمشدہ تاریخ بننے کی تاری کر رہے ہیں… تاجور نے لکھا ہے… بھیاّ پورے خاندان کی تصویر بھجوائیے۔ سچ آپ لوگوں کو دیکھنے کا بڑا جی چاہتا ہے… پتہ نہیں یہ موقع کب آئے گا…
آنکھوں میں پھر وہی تھرکتے آنسو… اندر جذبات میں آیا ہوا انقلاب… ٹکرے ٹکرے ٹوٹتے ہیں بڑے میاں… آنسو کو مشکل سے پی جاتے ہیں… باورچی خانے سے بڑی بی کے بولنے کی آواز اب پھر سے آ رہی ہے۔ بسمتیا کا شوہر بھی آ گیا ہے… وہ کسی بات پر بگڑ رہا ہے… کمبخت کوئی دن ناغہ ہو تو… ہر روز ہی ٹھّرہ پیئے گا… اپنی جگہ سے اٹھنا چاہتے ہیں بڑے میاں۔پھر بیٹھ جاتے ہیں… کیا فائدہ… ٹھنڈی سانس کھینچتے ہیں…
٭٭
دوسرے دن صبح ہی صبح ایک چھوٹا سا حادثہ ہو گیا… مگر یہ پاشا خاندان کے لیے کسی بڑے حادثے سے کم نہیں تھا۔ تغلق پاشا تو جیسے مرنے مارنے پر تل گئے تھے۔ دمہ کے بیمار آدمی— سانس پھول گئی تھی… انور پاشا اور ارشد پاشا صرف ہنسی روکے تماشہ دیکھ رہے تھے۔ راشدہ اس منظر سے بور ہو کر اپنے کمرے میں لوٹ گئی تھی…
ہوا کچھ نہیں تھا… بس اتنا کہ اُس تاریخی گلدستہ کو بیکار سمجھ کر میاں گونگے نے صفائی کے دوران باہر کوڑے دان میں پھینک دیا تھا جہاں اب وہ کتنے ہی ٹکروں میں بٹا ہوا، قدیم تاریخ اور شہنشاہیت کے مرثیہ کا مذاق اڑا رہا تھا… بڑی بی نے ہی اُسے ڈرائنگ روم کی صفائی کا حکم نامہ سنایا تھا۔ آٹھ بجے کی مارننگ خبروں کو سننے کے لئے جب ٹی وی آن کرنے بڑے میاں ڈرائنگ روم میں داخل ہوئے تو اچانک سن سے رہ گئے…
یہ کیا… وہ تاریخی گلدستہ ہی غائب تھا…
سانس پھول گئی… چہرہ کتنی ہی آڑی ترچھی لکیروں سے بھر گیا۔ غصّہ میں چیخے… یہ کس نے کیا— اُن کی زوردار آواز سنتے ہی پورا گھر جیسے ڈرائنگ روم میں جمع ہو گیا…
’’اب ہوا کیا؟ ‘‘بڑی بی نے جو اس طرح میاں کو حواس باختہ دیکھا تو پوچھ پڑیں۔
’’اب ہو گا کیا۔ کچھ باقی رہ گیا ہے— وہ دیکھو۔‘‘
’’ہائیں…‘‘بڑی بی کی آنکھیں بھی پھٹی پھٹی رہ گئیں… اس گلدستہ کے بارے میں تو اب تک وہ میاں کی زبانی لاکھوں حکایتیں سن چکی تھیں۔ کہاں ہے گلدستہ… اب میاں گونگے کی خیر نہیں…
’’کس نے کی صفائی‘‘
’’اب میں کیا جانوں۔ میں نے تمہارے اسی نمونے کو کہا تھا—‘‘
بڑے میاں طیش میں تھے۔ اتنے طیش میں اُنہیں گھر کے کسی فرد نے اس سے قبل نہیں دیکھا تھا۔ فوراً ہی بڑے میاں کی عدالت میں اُس گونگے جانور کو پیش کیا گیا۔
بڑے میاں نے پہلے اشارے سے پوچھا۔ ’’تم نے صفائی کی‘‘
اُس نے اثبات میں سرہلایا۔
غصّہ میں اُسے کھینچتے ہوئے بڑے میاں اُسے ریک تک لائے… اشارہ کیا… یہاں کچھ تھا… اتنا بڑا…گلدستہ…
ہاں… اُس نے سمجھ کر کانپتے ہوئے اشارہ کیا… باہر کوڑے دان کی طرف۔ اور یہ دیکھ کر بڑے میاں ویسے ہی چت ہو گئے جیسے اچانک کسی عزیز کے انتقال کی خبر ملی ہو… چہرہ ایک دم سے سرخ ہو گیا۔ جتنی طاقت تھی، پوری طاقت سے اُس گونگے کو دیوار کی طرف ڈھکیل دیا— اُس وقت کچھ ملا نہیں تو ہاتھوں پیروں سے دھنائی کر دی۔ انور اور راشدہ نے روکا…
بڑے میاں جیسے پاگل ہو گئے تھے… گونگا اوں اوں کر کے کچھ نہ سمجھتے ہوئے رو رہا تھا۔
بڑی بی دہاڑیں… اب مار دو گے کیا… یہی کرنا تھا تو لائے کیوں۔‘‘
’’تم نہیں سمجھتی۔ اس نے کیا کیا ہے۔ آج اس نے میرا خاندانی وقار توڑ دیا… ا سے چھوڑوں گا نہیں… بول کمبخت… اپنے جیسا جانتا ہے… کیا اوقات ہے تیری۔ تجھے چھونا تک نہیں چاہئے تھا اُسے… ایران کے شاہی خاندان کی آخری نشانی تھی میرے پاس— تو نے اسے توڑ دیا… ختم کر دیا…
رو رہے تھے بڑے میاں… آنسوؤں کے قطرے طوفان بن کر چہرے کو بھگو گئے تھے…
’’گزرتے وقت کے ساتھ یہی کچھ تو باقی بچا تھا بیگم۔ سب کچھ ٹوٹ گیا۔ برباد ہو گیا… خاندانی عزت اور وقار کو آزادی کے بعد ملی تنگدستی اور مفلسی نے نیلام کر دیا… یہی چیزیں تو باقی رہ گئی تھیں جس میں گزرا کل دیکھا کرتا تھا۔ گزرے کل کی سنہری تاریخ دفن تھی جس میں… شاہی خاندان کے ہونے کی عظمت دفن تھی اُس بے جان سے گلدستہ میں۔ اس کمینے، نا اہل نے ذرا بھی پوچھا نہیں… کسی کو دکھایا نہیں… اور اس تاریخی یادگار کو وہ بھی کہاں پھینکا… کوڑے کے ڈھیڑ پر… میں کہتا ہوں نکل جاؤ… نکل جاؤ میاں بھک منگے… میں تمہاری صورت بھی نہیں دیکھنا چاہتا۔
بڑے میاں چیخے… اتنی زور سے کہ پھر کھانسی کا دورہ پڑ گیا۔ تیز تیز کھانسنے لگے… آنکھیں  باہر کو نکل گئیں مگر کھانسی تھی کہ رکتی ہی نہ تھی… بے دم کئے دے رہی تھی… کھوں کوں… سینہ سہلا رہے تھے بڑے میاں…
’’لو اور چیخو۔ اب اتنی سی بات پر…‘‘ بڑی بی نے لقمہ دیا…
’’اتنی سی بات… اب تم شاہی تحفے کی بے عزتی کو ایک معمولی بات ٹھہراتی ہو تو تمہارا عقل پر بھی ماتم کرنے کو جی چاہتا ہے بیگم…‘‘
’’اب مان بھی جاؤ‘‘
’’لیکن…‘‘بڑے میاں پھر پوری طاقت لگا کر چیخے۔ میرے سامنے سے دور ہٹاؤ اسے… میں اس کی صورت تک دیکھنا نہیں چاہتا…‘‘
سانسوں پر قابو پاتے ہوئے وہ کوڑے کے ڈھیر سے اُس شاہی تحفے اور تاریخی یادگار کرچیوں کو جمع کرنے لگے… پاگلوں کی طرح… بڑی بی حیرانی سے میاں کی حرکتوں کو دیکھے جا رہیں تھی۔ ایک ایک ٹکڑا وہ بڑی عقیدت سے سنبھال کر اٹھاتے۔ کنارے رکھتے… اب ٹوٹے ہوئے گدستہ کو عقیدت  اور پاکیزگی کی نگاہوں سے دیکھ رہے ہیں بڑے میاں… یہ کانسے کا گلدستہ اب ملتا کہاں ہے… وہ بھی کمال پاشا کے ہاتھوں دیا ہوا… آج تو اس کی قیمت کا ٹھکانہ نہیں ہے… کسی بھی میوزیم میں دے دوں تو مفت کے لاکھوں روپے آ جائیں۔ ہاں لاکھوں روپے… انور میاں منہ مت بناؤ… معمولی حقیر شئے سمجھ رکھا ہے تم نے… مگر میں اسے جوڑوں گا۔ اس گلدستہ کو… پھر وہیں رکھوں گا۔ یہ اس ڈرائنگ روم کا سب سے قیمتی خزانہ ہے… رانگا مل سکتاہے۔ کانسے کا یہ گلدستہ رانگے سے جڑسکتا ہے…‘‘
’’اب بچوں سی باتیں مت کرو… جڑسکتا ہے یہ میں بھی دیکھ رہی ہوں… چلو ہٹو بھی۔ میں اُس گونگے سے جڑوا لیتی ہوں۔‘‘
’’نہیں۔‘‘ بڑے میاں پھر کڑا کے دار آواز میں گرجے… میں اُس کی صورت تک…
’’پھر خود ہی کہو گے کہ کہاں گیا۔ غصّے کا اُبال کم ہوا نہیں کہ ڈھونڈنے نکل جاؤ گے— پھر کہاں سے لاؤں گی اُسے‘‘
بڑے میاں کے پاس اس کا کوئی جواب نہیں تھا۔
’’اب یہ تماشہ بند کرو۔ آفس بھی جانا ہے یا نہیں… یہ صبح صبح طبیعت خراب کرنے سے سارا دن ہی موڈ خراب رہتا ہے…‘‘
’’ہاں ٹھیک ہے…‘‘ بڑے میاں مطمئن تھے۔
کچھ ہی دیر بعد بسمتیا نے آ کر بتایا… ناشتہ بن گیا ہے۔ دسترخوان بچھاؤں۔‘‘
’’ہاں بچھا دے…‘‘
بڑے میاں گل کرنے بیٹھ گئے… گلدستہ جوڑنے کے لئے بڑی بی نے بسمتیا کو کہہ دیا تھا۔ ہونٹوں پر ایک معنی خیز مسکراہٹ لئے وہ بادشاہوں کے اس کھلونے کو جوڑنے میں لگ گئی …
پہلے تو اُس نے برے پیار سے بڑی بی سے کہا… ’’اب اماں! اسے پھینک بھی ڈالو… یوں بھی یہ اتنا پرانا ہے کہ…
’’دھیرے بولو…‘‘ اماں نے اشارہ کیا… وہ غصّہ میں ہیں‘‘
’’اب اس کا کیا ہو گا‘‘
’’ڈرائنگ روم میں سجے گا اور کیا ہو گا‘‘
مسکراتے ہوئے رانگا کی مدد سے بسمتیا گلدستہ جوڑنے میں لگ گئی۔ بڑے میاں جب گل کرنے سے فارغ ہوئے اور ڈرائنگ روم میں آئے تو یہ دیکھ کر خوش ہو گئے کہ گلدستہ دوبارہ اپنی جگہ سجا ہوا ہے… ہاں رانگے کی وجہ سے کئی جگہ جوڑ صاف نظر آ رہے تھے۔ مگر اس سے کیا ہوتا ہے… جڑتو گیا نا۔ وہ کسی سے کہہ توسکتے ہیں کہ ان کے پاس شاہی یادگار موجود ہے— دل و دماغ اب تک قابو میں آ چکا تھا… وہ پوری طرح معمول میں لوٹ آئے تھے… اچانک انہیں اُس بے جان سے جانور کا خیال آیا۔ کہاں گیا… کتنا ڈانٹ دیا اُسے… اتنا نہیں ڈانٹنا چاہئے تھا۔ اب اُس کا بھی کیا قصور… بیگم نے صفائی کرنے کو کہا تھا۔ اب اُسے کیا معلوم کہ اس کی قدر و قیمت کیا ہے… وہ بھلا اس کا اندازہ کیا کرتا… خیر جو ہو گیاسو گیا… اب وہ یہ غلطی نہیں دہرائے گا…
اُف… جب وہ باہر نکلے تو دیکھا، سیڑھیوں پر پیروں میں منہ  دیے اسلم بیٹھا ہے… آنکھیں لال لال ہو رہی ہیں…
’’جا جا… اندر جا…‘‘
اتنا کہہ کر وہ مسکرائے۔ پھر سائیکل نکالی… اور سائیکل پر بیٹھ کر آفس کے لئے روانہ ہو گئے۔
٭٭



(6)

چاروں طرف سے سڑک کے منہ کھلے ہوئے تھے۔ دائیں بائیں۔ چاروں طرف گاڑیاں برق رفتاری سے بھاگ رہی ہیں۔ ٹیمپو، بسیں، ٹم  ٹم، گھوڑا گاڑی، رکشہ… آسمان پر چمکتے سورج نے اپنی سخاوت کا خزانہ کھول دیا ہے… اور دھوپ پھیل گئی ہے… چاروں طرف… لوگ بھاگ رہے ہیں… وہ اس بھیڑ کا ایک حصہ بننا چاہتا ہے… جہاں ہر شخص تیز رفتاری کی اس دوڑ میں شریک ہے… آگے چوراہے پر ایک تنگ گلی بائیں طرف مڑ جاتی ہے۔ یہاں مسلمانی گوشت ملتا ہے۔ یعنی بھینس کاٹی جاتی ہے۔ ایک تیز بدبو اُس کی ناک سے ٹکراتی ہے… وہ ایک اچٹتی سی نظر دور تک پھیلی ہوئی گندگی کے ڈھیر پر ڈالتا ہے… کہیں اندر اندر کچھ ٹوٹے پھوٹے سے لفظ تیزی میں بجنے شروع ہوتے ہیں…
یہ مسلمان اتنے گندے کیوں رہتے ہیں؟ نہاتے کیوں نہیں ہیں یہ لوگ… جتنی گندگی مسلمانوں کے محلے میں رہتی ہے اُتنی…
لفظ ہلچل مچا رہے ہیں… فوراً ہی ایک دوسری آواز دستک دیتی ہے… یہ اُس کی اپنی آواز ہے… کمزور سی آواز… تم نے جن کی بات کی ہے وہ مزدور پیشہ لوگ ہیں۔ لیبر کلاس اور تم اس لیبر کلاس سے…آواز ٹوٹ رہی ہے… برسوں حکومت کی ہے نا… تاج تخت سے کھیلے ہیں نا… عیّاشی کی ہے… سستی اور کاہلی آ گئی ہے… تم لوگ… صفائی بھی نہیں رکھ سکتے…
آواز  ہتھوڑے کی طرح اُسے زخمی کر رہی ہے … ٹھک ٹھک… اب وہ ایک دوسری ہی آواز کی زد میں ہے…
ریلی جن، دھرم، مذہب… ایمان سے کہوں تو… یہ سب گورکھ دھندہ ہے… ہم سب اپنی آسانی کی خاطر اس گورکھ دھندے میں پھنستے چلے گئے ہیں۔ کہاں کے مسلمان… مطلب بھی جانتے ہو مسلمان کا… مسلّم ایمان والا… مسلّم تو چھوڑو… گوشت کی بوٹیاں توڑنے کے علاوہ آدھا ادھورامسلمان بھی ایمان سے اگر بچا ہو تو بولنا… سب گورکھ دھندہ ہے۔ ترقی کی اڑان… بہت پیچھے رہ جاؤ گے ارشد پاشا— مذہب کی اس بجھی ہوئی قندیل کا پیچھا تو تمہیں چھوڑنا ہی پڑے گا…‘‘
اس وقت ذہن میں کتنے ہی دھماکے ہو رہے تھے۔ ارشد پاشا کو لگ رہا تھا… وہ کچھ چاہتا ہے… کیا… ؟شاید ابھی اس ’کچھ چاہنے کو‘ وہ کوئی نام نہیں دے پاسکتا… لیکن وہ کچھ چاہتا ہے… اور وہ بھی اُن  لوگوں میں شامل ہے جو دیکھ رہے ہیں کہ اُس کی قوم وقت کے حساب سے ترقی نہیں کر رہی ہے بلکہ پچھڑتی جا رہی ہے…اب کوئی نہیں بچا سکتا… بد سے بدتر کی طرف… کہیں کوئی اڑان نہیں… سوئے ہوئے… سب سوئے ہوئے اور منجمد… کہیں کوئی حرکت نہیں— تحریک نہیں… مگر وہ کچھ چاہتا ہے کہ آن میں علاء الدین کے جادو کے چراغ کی طرح کوئی کارنامہ ہو جائے… اور اُس کی قوم کے تمام لوگ بلندیوں پر نظر آنے لگیں … مگر یہ کیسے ممکن ہے… وہ چاہتا بہت کچھ ہے… مگر چاہنے کی تصویر واضح نہیں ہے… دھندلی دھندلی سی…وہ بہت زیادہ کنفیوژن کا شکار ہے— اُن بہت سارے دوسرے مسلمانوں کی طرح جو سوچتے تو بہت کچھ ہیں مگر کچھ کر نہیں پاتے—
ایک بار پھر وہ منہ بناتا ہے… مسلمانوں کا محلہ اتنا گندہ کیوں رہتا ہے… صفائی تو جیسے یہ لوگ جانتے ہی نہیں… آگے گلی کے موڑ پر ہی سلطانی مسجد ہے… یہ پورا علاقہ مسلمانوں کا ہے… آج مسجد میں باہر سے تبلیغی جماعت کے لوگ آئے ہوئے ہیں۔ کل حاتم میاں تاجور پاشا کے پاس پہنچے تھے… حاتم میاں جن کی درزی کی دکان ہے… ایک وقت میں تو وہ دکان حاتم میاں درزی کی دکان کے نام سے ہی مشہور تھی لیکن وقت کے ساتھ حاتم میاں نے بھی سمجھوتا کیا۔ پرانی دکان کا حلیہ بدلا… دروازے، الماریاں، شیشے کے ریک… اور دکان کا نام رکھ دیا… ماڈرن ٹیلرس… پھر تو حاتم میاں کی بن آئی… ادھر دکان کی رنگت بدلی اور ادھر حاتم میاں کی تقدیر… پھر تو بہت کچھ بدل گیا۔ حاتم میاں اب عمامہ اور چوغے میں نظر آنے لگے تھے۔ چھوٹے چھوٹے بال، گندمی رنگ، درمیانہ قد، بڑھی داڑھی… پانچ وقت کے نمازی… اب وہاں اُن کے لڑکے بیٹھتے تھے اور حاتم میاں زیادہ تر اپنے تبلیغی سفر پر نکلے رہتے تھے… کہتے تھے… اب تو بڑھاپا آ گیا۔ دکان بچوں نے سنبھال لی۔ یہی تو وقت ہے اﷲ رسولؐ کرنے کا… عاقبت سدھر جائے… یہی حاتم میاں پہلے تبلیغ کے کاموں کو مذہبی پکنک بتایا کرتے تھے… مگر وقت نے ایسا رنگ بدلا کہ پورے پورے مذہبی رنگ میں رنگ گئے۔ اُس دن حاتم میاں نے جب تغلق پاشا کا دروازہ کھٹکھٹایا تبھی ارشد پاشا ڈر گئے تھے… خدا خیر کرے… ابوّ میاں بھی گئے کام سے…
تغلق پاشا نے دالان کا دروازہ کھلوایا۔ بڑی عقیدت سے حاتم میاں کو اندر دالان خانے میں لا کے بٹھایا۔
’’فرمائیے!‘‘
’’میاں! کل سلطانی مسجد میںجلسہ ہے ۔ پڑوس کے ایک آپ ہی بچے ہیں جو نہ کبھی چلہ پر گئے نہ کبھی تبلیغ کے جلسوں میں شریک ہوئے۔ سو آپ کو دعوت دینے چلے آئے۔ اس بار آپ کا کوئی انکار نہیں چلے گا۔ بچوں کو بھی بھیجئے۔ ماشاء اﷲ وقت کی ضرورت بھی ہے۔‘‘
’’میں تو نہیں جا پاؤں گا حاتم میاں‘‘
’’کیوں؟‘‘
’’آپ تو جانتے ہی ہیں آفس کا کام… اگر اتوار ہوتا تو…‘‘
’’اب اﷲ کے کام میں کیا اتوار کیا سمبار میاں۔ ایک دن چھٹی کر لینے سے کوئی آفت تو نہیں ٹوٹ پڑنے کی…اور وہ بھی آپ وہاں بڑے بابو ہو… بزرگی آ گئی میاں… اس بزرگی کا کچھ لحاظ کر کے اﷲ حضور دین ایمان کی کچھ باتیں کر لیا کرو۔ یہی کام آئیں گی… کل کیا پتہ۔ کب آنکھیں بند ہو جائیں اور وہاں فرشتے جو گنہ کا حساب لئے چلے آئیں تو شرمسار تو نہ ہونا پڑے گا…‘‘
’’حاتم میاں! سچ کہتے ہیں آپ… مگر میرے ساتھ مجبوری بھی ہے… بڑا بابو ہوں اسی لئے نہیں جاسکتا۔ آپ کہیں تو اپنے لڑکے کو…‘‘
حاتم میاں نے پھسپھسانے والے انداز میں کہا… زمانہ نازک ہے میاں… تبلیغ ضروری چیز بن گئی ہے… آج نوجوانوں کے دلوں میں اﷲ رسولؐ کا ڈر پیدا کرنا ہے… مذہب کی بنیادی باتوں کی جانکاری دینی ہے… ہم ایک غیرملک میں رہتے ہیں میاں۔ یہاں طاقت سے اور اتحاد سے رہنا ہو گا… ورنہ یہ ہندو بوٹی بوٹی کر ڈالیں گے ہماری… تو طے یہ  ہوا آپ نہیں آئیں گے… اپنے لڑکے کو بھیج دیں گے…‘‘
’’ہاں حاتم میاں‘‘
تغلق پاشا بے دلی سے بولے… ارشد پاشا جو پاس ہی بیٹھے تھے، صاف انکار کر گئے۔ 
’’میں نہیں جانے کا اباّ۔ ایسی جگہوں پر‘‘
’’اب بیٹا۔ میں نے وعدہ کر لیا ہے بات کی بھی عزت رکھنی پڑتی ہے۔ ایک گھٹنے کا اجلاس ہو گا۔ اب انورسے تو کہہ نہیں سکتا۔ چلا جانا بیٹا — دین کا کام ہے…‘‘
’’دین کا کام…‘‘
ارشد پاشا کی تیوریاں چڑھ گئیں… غصّے میں بڑبڑائے… یہ لوگ کچھ نہیں کرسکتے… کچھ نہیں کرسکتے… صرف باتیں… لمبی لمبی زبان — جیسے ہندو چھری، بندوق لے کر بیٹھے ہیں— جیسے بس یہی تو کام رہ گیا ہو ان کا۔ میاں کو دیکھ اور مار ڈالو… ابا ان لوگوں کی ذہنیت گندی ہو گئی ہے… یہ لوگ پوری قوم کا بھٹّا بیٹھا دیں گے اور آپ ایسی جگہوں پر…‘‘
’’مسجدوں میں جانا کوئی گناہ تو نہیں… تمہیں شراب کے ٹھیکے پر تو نہیں بھیج رہا۔‘‘ تغلق پاشا غصّہ سے اُبل گئے تھے… اور حاتم میاں نے ایسا کیا غلط کہا جو ایک دم سے غصہ میں آ گئے… یہ فساد… روز روز کے دنگے… کون مارا جاتا ہے ان میں… میرٹھ میں، احمد آباد میں، بہار شریف میں، جمشیدپور میں، علی گڑھ میں،مؤناتھ میں… کس کی حکومت ہے… کس کی سرکار؟ کس کی پولیس… کون مارا جاتا ہے… یہ ہندو…؟ پولیس کو ملا کر یہ ڈبل ہو جاتے ہیں… سرکار بھی ان کی اور پولیس بھی…برق گرتی ہے تو بے چارے مسلمانوں پر۔ بھیونڈی میں مرادآباد میں… اور تمہیں یہ خون نظر نہیں آتے… نوجوان ہو… جو سیکولرزم تم آج کی کتابوں میں پڑھتے ہو وہ اپنے آپ کو دلاسہ دینے کا، اس ہندو پریس نے ایک ہتھیار بنا لیا ہے… اخبار بھی ان کے… پورے ملک میں آگ لگی ہے۔ ہر جگہ مسلمانوں کو نیست و نابود کر دینے کی سازش ہو رہی ہے… اور تم کہتے ہو کہ… ایسا سوچنے والوں کی ذہنیت گندی ہو گئی ہے…؟‘
تغلق پاشا ہانپ رہے تھے… کمرے کے  دو چکّر دے لگائے… کھانسی کا دورہ پڑا… لیکن بولتے رہے۔
’’وہ کہتے ہیں یہ تمہارا ملک نہیں۔ آفس میں، بھی مذاق میں یہ ہندو اپنے دل کی بات کہہ جاتے ہیں۔ پاکستانی، دوغلے… بھاگو یہاں سے… اپنا وطن الگ لے کر بھی یہاں دال گلانے بیٹھے ہو… شیوسینا، وشو ہندو  پریشد… اُن کے خونی نعرے… مسجدوں پر قبضہ، مندر میں بدلنے کی چال… سب کچھ ایسا ہے کہ تمہیں توڑ دیا جائے… کمزور کر دیا جائے… اپنگ اور اپاہج… ہم کو… ہم جس نے صدیوں حکومت کی ہے۔  بادشاہت کا تاج صدہا… صدہا برسوں تک اپنے سروں پر رکھا تھا… ارے چھوٹا سا خطہ دے کر سمجھتے ہو کہ ہمیں ایک گھر مل گیا، ٹھکانہ مل گیا… ایک پورے گھر کا نناّنواں حصہ اور کہتے ہو کہ خوش رہیں… تم کو حصہ مل گیا… جھوٹ… فساد تو اسی لئے ہوتے ہیں کہ مسلمان ختم ہو جائیں… وہ اتنے کمزور ہو جائیں کہ کبھی سرنہ اٹھاسکیں… ہم تم سب کو خوف سے الگ ایک مضبوطی کا احساس چاہئے … مضبوطی…‘
تغلق پاشا کھانس رہے تھے… زور زور سے… سانس تیز تیز چل رہی تھی… ارشد پاشا چپ چاپ وہاں سے نکل گئے… مضبوطی… یہ آخری لفظ ہتھوڑے کی طرح اُن کے اندر گونجتا رہا… کتنی دھمک تھی سر میں… یہ وہ تغلق پاشا نہیں تھے جو سرکاری آفس میں نوکری کرتا تھا… جس کے اندر ملک کی وفاداری اور محبت کا جذبہ رہتا تھا… ابا حضور…
آج ابا حضور کے تیور بدلے تھے… شاید یہ چنگاری برسوں سے اندر دبا کر رکھی ہو گی ابا حضور نے— جو ایک دم سے اُنہیں لہو لہان کر گئی تھی… ہم سب کو ایک مضبوطی چاہئے… 
یہاں سے برامدے کا منظر صاف تھا… پتھر کی چوکھٹ پر گونگا بیٹھا بسمتیا سے جوئیں نکلوا رہا تھا… بسمتیا بڑے پیار سے اُس کے سر میں کنگھی دے رہی تھی… ارشد پاشا کچھ دیر کے لئے ٹھہرے…
بسمتیا نے نگاہ اوپر اٹھائی—
’’کیوں! ایک ہی مہینے میں خوب دوستی ہو گئی۔‘‘
’’میرا بیٹا ہے‘‘
بسمتیا نے پیار سے اسلم کے منہ کو سینے میں بھینچ  لیا۔’’میرا بیٹا‘‘… گونگے نے بھی خوشی کا اظہار کیا…
وہاں سے لوٹتے ہوئے کچھ سوچ کر ارشد پاشا ٹھہر گئے۔ بسمتیا کی آنکھوں میں جھانکا… جیسے پوچھ رہے ہوں—‘‘
’’تم ہندو ہونا…‘‘
’’ہاں… کیوں…‘‘
’’نہیں… کچھ نہیں۔‘‘
ارشد مسکرائے… آگے بڑھ گئے۔ پتہ نہیں کن مجبور لمحوں میں اُن کے گھر والوں نے اس ہندو عورت اور اُس کے شرابی مرد کو رہنے کے لیے اِس گھر میں ٹھکانہ دیا تھا… اُسے اپنے دوست آدتیہ کی بات یاد آئی…
تم مسلمان اتنے کنزر وٹیو اور آرتھوڈاکس کیوں ہوتے ہو… کٹروادی… اُگروادی… سب سے بڑے آتنک وادی تو تم ہو…‘‘
اندر سے ایک کمزور آواز گونجی… یہی باتیں ہیں جو اندر اندر، بوند بوند کر کے جمع ہوتی ہیں اور زہر بنتی رہتی ہیں پھر ایک دن ابا حضور کی طرح پھٹ جاتی ہیں… سالے سب سے بڑے آتنک وادی تو تم ہو… اُس وقت تو وہ مسکرادیا تھا لیکن اس وقت۔ اگر آدتیہ سے ملاقات ہو جاتی تو وہ اُس کا منہ نوچ لیتا۔
ارشد پاشا سوچتے ہیں… سچ کیا ہے… کیا سچ مچ سیکولرزم اور آدرش کی باتیں کتابوں کا ایک بوسیدہ صفحہ بن چکی ہیں… ؟دراصل وہ دو ناؤ پر سوار ہیں… ایک مذہب ہے… اور دوسری ناؤ برابری اور بھائی چارے کی ہے… مذہب برابری اور مساوات کی بات ضرور کرتا ہے… مگر اسی نظریے کو بنیاد بنا کر وہ اپنی بات کی نفی بھی کر دیتا ہے… یعنی برابری اور مساوات کی بات صرف اُس کی قوم کے ساتھ… اور بہت سارے دوسرے… دوسری قوم… ارشد پاشا کو لگتا ہے… کھیل ہو یا لمبی اڑان… ہر جگہ وہ مسلمان نام سن کر چونکا ہے… عبدالسلام نا… وہی پاکستانی سائنسداں… انٹارٹیکا کی مہم پر عبدالقاسم نے رہبری کے فرض انجام دیئے نا…کھیل میں بھی اُس کی نگاہ فقط مسلمان ناموں پر ہی کیوں جاتی ہے… ہر جگہ اپنا مذہب— اپنے نام… اپنے لوگ… دفتر سے اسپورٹس اور سیاست کے ایوانوں تک— ہر جگہ ایک مسلمان نام تمہاری توجہ کا مرکز بن جاتا ہے…
وہ سچ مچ دو ناؤ پر سوار ہے…
یا جو کچھ وہ چاہتا ہے وہ واضح نہیں ہے…
اُف… کتنی بدبو ہے… سرانڈ… اُس کے دوست ٹھیک کہتے ہیں۔ سب سے زیادہ گندگی مسلمانوں کے محلے میں ہی رہتی ہے…
آگے ہی موڑ پر وہ خوبصورت سی مسجد ہے… سلطانی مسجد…
اور اس وقت مسجد کے باہر کافی لوگ کھڑے ہیں…
سورج کا گولہ تیز آگ برسا رہا تھا۔
٭٭

سلطانی مسجد شہر کی پرانی مسجدوں میںسے ایک تھی۔ گذشتہ دو تین سالوں سے اسی مسجد میں تبلیغی جماعت کے جلسے ہوتے رہتے تھے— اس لئے مسجد کی قسمت بھی کھل گئی تھی۔ گنبد، محراب، دیواریں، کہتے ہیں عرب کے ایک شیخ نے اس مسجد کے لئے چندہ دیا تھا۔ اب تو یہ مسجد شہر کی سب سے خوبصورت مسجد تھی… چم  چم کرتی ہوئی… جیسے شیشہ کی مسجد ہو… سنگ مر مر جڑے ہوں… مسجد کے صحن میں کافی لوگ بیٹھے تھے… سروں پر ٹوپیاں لگائے۔ ان میں کم عمر بچے بھی تھے… نوجوان لڑکے بھی اور کئی بہت ضعیف بوڑھے بھی۔ اب تو تقریباً ہر مہینے یہاں کوئی نہ کوئی اجلاس ہوتا ہی رہتا تھا۔ ارشد پاشا مسلمان تو تھے مگر نماز روزہ سے کیا واسطہ… یاد نہیں تھا کہ عید بقر عید کے علاوہ کبھی جمعہ کی نماز بھی پڑھی ہو…
سلطانی مسجد میں اس وقت کافی لوگ جمع تھے۔ اجلاس شروع ہونے میں ابھی کافی وقت تھا۔ یہاں کتنے ہی چہرے تھے جنہیں وہ پہچان رہا تھا۔ یہ مولوی انیس تھے… کسی کالج میں پروفیسر… مگر سننے میں یہی آتا تھا کہ کلاس نہیں کرتے تھے۔ یوں بھی اردو کا پروفیسر ہونے کا مطلب ہی ہے مفت کا سرکاری پیسہ لینا۔ پروفیسر انیس کبھی کلاس لیتے بھی تھے تو صرف دین و ایمان کی باتیں کرتے تھے۔ لڑکے اسی وجہ سے ،ان سے کافی بگڑے رہتے تھے —اور بھی کتنے چہرے… مگر ارشد پاشا صرف مسجد کی خوبصورتی دیکھ رہے تھے… اچانک ان کے ذہن میں صرف ایک سال پہلے کا ایک واقعہ گھوم گیا۔ اتفاق سے اپنے پڑوس کی مسجد میں جمعہ کی نماز پڑھنے گئے تھے۔ رمضان کا زمانہ تھا۔ اسی درمیان اُس کا دوست بدر آ گیا تھا— بدر کو مذہب وزہب سے کوئی مطلب نہیں تھا۔ وہ اسے دنیا کے سارے فساد کی جڑ مانتا تھا— کام ضروری تھا اس لئے بدر مسجد ہی چلا آیا تاکہ نماز کے خاتمے کے فوراً بعد اُس سے ملا جاسکے… نماز ختم ہوئی اور وہ باہر نکلا تو دیکھا بدر بڑے غور سے مسجد کو دیکھ رہا ہے۔ محلے کی مسجد بھی بہت خوبصورت بنی تھی…
’’کیا ہے میاں؟‘‘
ٹوپی سر سے اتارتے ہوئے وہ بدر سے مخاطب ہوا۔
بدر چونکا… ’’یہ اﷲ کا گھر ہے نا…‘‘
’’ہاں کیا ہوا تمہیں‘‘
’نہیں… بدر کا چہرہ اتر گیا تھا— بڑا قیمتی گھر ہے۔ آج کے زمانے میں اﷲ میاں کا اتنا قیمتی گھر جبکہ ان کے بندوں کے پاس رہنے کو گھر نہیں ہے… اب بتاؤ اتنے عالیشان گھر میں مجھ غریب کا گزر کیسے ہو گا…؟‘
وہ ہنس رہا تھا…
اس سے پہلے کہ وہ بدر کی باتوں کی حقیقت سمجھ سکتا، اُس کے کان میں آواز آئی—
’’آؤ میاں… اﷲ بھلا کرے تمہارا—تمہیں ہی یاد کر رہا تھا‘‘
اُس نے پلٹ کر دیکھا… صاف شفاف کرتے پائجامے میں حاتم میاں چمک رہے تھے
’’السلام علیکم‘‘
’’وعلیکم السلام ‘‘۔ جواب ملا۔ ’’اباپاشا تو مزے میں ہیں۔‘‘
’’اﷲ کا فضل ہے…‘‘
’’بیٹھو‘‘…
صحن میں سفید چادر کے علاوہ قالین بچھی تھی۔ چپل کنارے اتار کر وہ حاتم میاں کے ساتھ ہی بیٹھ گیا… بہت سے لوگ ایک دوسرے سے باتوں میں مصروف تھے۔ اڑتی اڑتی باتیں اُس کے کانوں میں پہنچ رہی تھیں… اور ان کا مفہوم یہی تھا کہ مسلمانوں پر بُرا وقت پڑا ہے… اگر اب بھی ہم نہیں جاگے تو ہمیں کوئی نہیں بچاسکتا۔ ہمیں، نوجوان نسل میں نماز پڑھنے کی عادت پیدا کرنی ہے۔ لوگ ایک دوسرے سے باتیں کر رہے تھے کہ کس نے کتنے دن باہر چلہ کھینچا۔ تبلیغ سے کتنا فائدہ ہوا… کتنے مسلمان ہوئے… اور یہ بھی کہ تبلیغ کرنے والوں کو مشنریوں کی طرح پوری دنیا میں پھیلنے کی  ضرورت ہے… تبلیغ کی مہم کو تیز اور تیز کرنا ہے…
حاتم میاں جب تم تھوڑا انتظار کرو بیٹے‘ کہہ کر باہر چلے گئے تو وہ آس پاس سے آتی باتوں سے لطف اندوز ہونے لگا۔ پاس ہی ایک بڑے میاں بیٹھے تھے۔ بڑی سفید داڑھی … وہ ایک نوجوان لڑکے کو عیسائی مشنریوں کے بارے میں بتا رہے تھے۔ کیسے وہ لوگ آدمی واسیوں پر چھا گئے۔ اسکول کھولے۔ انگریزی تعلیم شروع کی… ارے انگریزی تعلیم تو بہانہ تھی۔ مقصد وہی تھا عیسائیت کی تبلیغ۔ اسی طرح ہمیں بھی… گاؤں گاؤں شہر شہر قصبہ قصبہ…
’’گستاخی کی معافی چاہوں گا بڑے میاں۔‘‘ وہ اچانک بول پڑا۔
بڑے میاں بات دخل دینے سے ناراض تو تھے ہی… لیکن اُس کے چہرے پر نظر پڑتے ہی وہ سنبھل گئے۔
’’ہاں کہو… جو دل میں ہو…‘‘
تو آپ بھی عیسائی مشنریوں کی کی طرح تبلیغی مہم تیز کرنا چاہتے ہیں‘‘
’’ہاں میاں۔ ہم کوئی کم ہیں ان سے‘‘
’’آپ نے کوئی مدرٹریسا پیدا کی… ؟کوئی بابا آمٹے…؟ اُس کا لہجہ ناگواری سے بھرا ہوا تھا… بتائیے کس بل بوتے پر آپ تبلیغ کریں گے…؟ وہ کوڑھی بیمار بچوں کو بلا جھجھک اپنی گود میں اٹھا لیتے ہیں… اُن کے ساتھ بیٹھتے ہیں… بیماروں سے ملتے ہیں… اُن کی مدد کرتے ہیں… اُن سے گھلتے ملتے ہیں… آپ… صرف تبلیغ کریں گے… کیونکہ اب صرف آپ لوگوں کو مذہب کا درس یاد رہ گیا ہے… عمل… عمل آپ بھول چکے ہیں…‘‘
اُس کے اندر جیسے آگ لگ گئی تھی… چہرہ آڑی ترچھی کتنی ہی لکیروں سے بھر چکا تھا…’کچھ نہیں ہوسکے گا آپ لوگوں سے…تبلیغ کو پہلے انسانیت سے جوڑنا ہو گا… اور جب انسانیت سے جوڑیں گے تو…‘
اتنا کہہ کر وہ خود ہی ٹھہر گیا تھا… آگے نہیں بولا… صرف ایک بات اندر حرکت کرتی رہی… پھر مذہب کہاں رہے گا… انسانیت ہی مذہب بن جائے گا… اور سارے لوگوں کا درد…
’’تم پہلی بار آئے ہو شاید—؟ بڑے میاں کو یہی جواب سوجھا تھا۔
’’ہاں اور آخری بار بھی…‘‘
اس سے پہلے کہ بات طویل پکڑتی… حاتم میاں آ گئے… اُس نے ایک لمبی سانس بھری۔ چہرے کو آڑی ترچھی لکیروں سے الگ کیا۔ تاکہ حاتم میاں اُس کے لہجے کی تلخی نہ بھانپ سکیں…
’’ہاں تو میاں! تغلق پاشا نہیں آئے کوئی بات نہیں۔ ضرورت تو اب تم لوگوں کی ہے۔ نوجوان نسل کی … مذہب کی ڈوبتی نیاّ کو اب تم ہی بچا سکتے ہو… ہم بوڑھے تو قبر میں پیر پھیلائے بیٹھے ہیں۔ آج مرے کل دوسرا دن… اور دنیا کے اس سب سے سچے مذہب کی تبلیغ ہم پر فرض کر گئی ہے…‘‘
حاتم میاں نے ایک ٹھنڈی سانس بھری۔ اُس کی طرف دیکھا پھر بولے… ’ابھی ابھی تمہاری اڑتی ہوئی کچھ بات میرے کانوں میں بھی گئی ہے… تم سے ناراض نہیں ہوں … خوش ہوں… کہ اپنے طور پر سوچتے ہو تم…کسی نتیجہ پر پہنچنے کی کوشش کرتے ہو… ہاں صرف اتنا کہنا چاہوں گا… تمہارے پاس سوچنے کا صرف ایک ہی زاویہ کیوں ہے؟‘
’’مطلب؟‘‘
’’مطلب کہ سب بُرا ہے— جو ہے غلط ہے… کچھ اچھا بھی تو ہوسکتا ہے… ساری کی ساری باتیں غلط تو نہیں ہوسکتیں… اچھائیاں نکالنی پڑتی ہیں… قوم پر جب بُرا وقت آتا ہے تو اچھائیاں اور سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ایکدم سے معدوم ہو جاتی ہے… تم نے کنویں کے مینڈھک کے بارے میں سنا ہے… کنواں ہی اُن کے لئے سب کچھ ہے… اُس کے آگے… اُس کے آگے کا آسمان…‘‘ وہ ٹھہرے… پھر گھڑی دیکھی… اجلاس شروع ہونے میں بھی ابھی وقت ہے… اس لئے تم سے کچھ باتیں ہوسکتی ہیں… میں درزی ٹھہرا… جوانی کے ایام میں شراب بھی پی ہے اور جوا بھی کھیلا۔ کتابیں کیا ہوتی ہیں پتہ بھی نہیں تھا۔ وِل پاور تو سمجھتے ہونا… بس اِن آٹھ سالوں میں اپنے وِل پاور کی بدولت میرے اندر ایک انقلاب آ گیا۔ مولوی ہشام الدین کی صحبت کیا ملی دنیا پلٹ گئی۔ میں نے مذہب کو سائنس کے نظریہ سے دیکھا اور  کامیاب پایا… پھر جینے کی جستجو جاگی اور پڑھنے کی… بہت کچھ جاننا چاہتا تھا… یہ دنیا کیا ہے… کائنات کیا ہے… زندگی کے معنی کیا ہیں… سچ کیا ہے اور جھوٹ کیا… سچ اور جھوٹ بنے ہی کیوں… جب ایک ہی کافی تھا… حرص کیا ہے… خواہشات کیا ہیں…  دنیاوی نظام… جب ایک خاندان میں بٹتے ہیں ہم… خواہشات میں بٹتے ہیں — حرص پیدا ہوتا ہے… جھوٹ آتا ہے… اور مذہب کیا ہے… پردہ کیا ہے… سوال درسوال … یہ سلسلہ اتنا لمبا ہے کہ رونا آ گیا ایک پل کو… پہلے کتابیں کیوں نہیں اٹھائیں… اس عمر میں جب سانس سانس چار دن بھی موت کے نہیں رہ گئے۔ خیر چھوڑو… میں کہہ رہا تھا…
حاتم بھائی کا چہرہ اچانک سرخ ہو گیا تھا…’ لوگ اگر مذہب کو غلط لے لیں۔ اُس کی تعلیمات کو… تو مذہب تو غلط نہیں ہوا نا…؟ تم سے یہی کہنا ہے بیٹے… ہم سب لوگوں کو بالآخر اُس حقیقت کی طرف سفر کرنا ہے جو اٹل ہے… جو موت ہے…ہاں عمل میں اب بھی ہم پیچھے ہیں… جب صحراؤں میں گھوڑے دوڑائے جاتے تھے۔ کشتیاں جلا کر فتح کے پرچم لہرائے جا رہے تھے… تم نے سچ کہا… ہم نے کتنی مدرٹریسا پیدا کی… کتنے بابا آمٹے… ہم صرف بولتے ہیں… صرف بولتے ہیں… لیکن یہ دھند باقی ہے… دھند باقی ہے ابھی— جب تم آؤ گے… تمہارے جیسے لوگ… اور جب ہم اُن بستیوں میں جائیں گے جہاں تم مثال بنو گے… فرق،نفرت‘ حقارت کے جراثیم کو خود سے الگ کر کے… آج ساری دنیا میں ہمیں شکست مل رہی ہے تو اس کی واحد وجہ ہماری بے عملی ہے…اور صرف باتیں…‘‘
حاتم بھائی چپ ہو گئے تھے…
ارشد پاشا جیسے سناٹے میں ڈوب گئے تھے… حاتم میاں اب بھی غور سے اُن کی طرف دیکھ رہے تھے… ارشد پاشا کے ہونٹوں پر جیسے تالہ لگ گیا تھا۔ جس حاتم میاں کو وہ بیکار سی چیز سمجھتے آئے تھے وہ بھی زندگی کے بارے میں کوئی نظریہ رکھتا ہو گا، یہ سوچنا بھی مشکل تھا… خواہ وہ نظریہ مذہب کو بنیاد بنا کر رکھا گیا ہو مگر زندگی کو سمجھنے کی جستجوتو اس میں بھی پوشیدہ ہے… کیا سچ مچ مذہب کوئی بیکارسی شے ہے… جس کے نام پر اچھے بھلے لوگوں کو بھڑکایا جاسکتا ہو… شیطان بنایا جاسکتا ہو… مرنے مارنے پر آمادہ کیا جاسکتا ہو… ساری دنیا میں آشانتی پھیلائی جاسکتی ہو… اور جس کا سہارا لے کر…
یہ اجلاس… یہاں آئے ہوئے لوگ… یہ حاتم بھائی… اگر یہ زندگی کو نہیں سمجھ پانے کا ذریعہ بنے تو… زندگی ہے کیا…؟ وہ تو کتنی ہی بار مذہب سے بد دل ہوا تھا… خود اُن کا گھر… اُن کی اندھے یقین والی بی امّاں، اباّ حضور تغلق پاشا— پرانے  رسم و رواج پر نئے زمانے کی مہر لگانے والے انور پاشا— اُسے تو شکستگی اور پامالی سے الگ اپنی قوم میں کچھ نظر ہی نہ آتا تھا۔ ہاں  قوم کے لوگوں کو لے کر ہزاروں بار اُس کے اندر کے زخم جاگے تھے— فلسطین کا زخم ہو…  تکلیف … شیعہ سنی فساد… پاکستان میں مہاجروں کا قتل عام ہو… ہر بار اُس کے دل پر دھمک سی پڑی تھی… جھگڑالو قوم… لڑاکو قوم… تاریخ ٹھیک ہی لکھتی ہے… اسلام شمشیر کے زور پر پھیلا… یہ قوم سدھرنے والی نہیں… ماننے والی نہیں… یہ زوال کے راستے پر چل نکلی ہے…‘
’’تم چپ ہو گئے میاں۔‘ حاتم میاں کی آواز محبت میں ڈوبی تھی—
وہ ایکدم سے چونکا۔
’’کس سوچ میں پڑ گئے میاں ؟‘‘
’’ہمارے یہاں اسپورٹس مین شپ نہیں ہے…‘‘ وہ جلد بازی میں بول گیا—
اُس کی آنکھیں گہری فکر میں ڈوبی تھیں…
’’اسپورٹس مین شپ…؟‘‘ حاتم بھائی ایکدم سے چونک گئے تھے… دفعتاً اُن کے ہونٹوں پر ہنسی رینگ گئی… یہ تم نے کیا کہا؟ اچانک اسپورٹس مین شپ کا خیال…‘‘
ارشد پاشا پتہ نہیں کیا سوچ کر بولے… یہ خیال ایک دم سے اچانک آیا… یہاں اتنے سارے لوگ ہیں۔ ان میں نوجوان بھی ہیں… کم عمر کے بچے بھی… سب جیسے ایک اوڑھا ہوا مذہب… کچھ بھی کہے لیجئے… یہ لوگ ایک عجیب طرح کا دباؤ لے کر یہاں آئے ہوئے محسوس ہو رہے ہیں… ان میں وہ گرمی نہیں ہے… وہ حرکت… کیا اسپورٹس مین شپ سے ان میں گرمی نہیں لائی جاسکتی… کوئی تحریک نہیں پیدا کی جاسکتی… اسپورٹس ان کے اندر کی سستی اور کاہلی کو ختم کرسکتا ہے… انہیں حرکت میں لاسکتا ہے… فی الحال ترقی کی ریس میں ہم اتنے پیچھے ہیں کہ ہم میں حرکت یا گرمی پیدا کرنے کے بارے میں بھی سوچنا بھی محال ہے… اونچی اڑان یا ہر شعبہ میں مضبوطی اور ترقی کیسے لائی جائے۔ ہمارے یہاں ایک بڑا طبقہ غریب ہے… ایک بڑا طبقہ غریبی ریکھا کے نیچے ہے… پڑھتا لکھتا نہیں ہے… یہی طبقہ سوچتا ہے… ہم  میں سے ہی کچھ لوگ مذہب سے الگ ہو جاتے ہیں… کچھ سنجیدگی سے غور کرتے ہیں۔ قوم کا درد محسوس کرتے ہیں… لیکن صرف اس بہت چھوٹے طبقے کی جدوجہد سے تو کام نہیں بننے والا… اور جہاں تک زیادہ بڑے طبقے کی بات ہے… آپ ایکدم سے سوئے ہوئے لوگوں کو تو جگا نہیں سکتے… دھیرے دھیرے آہستہ آہستہ … میرے خیال میں اگر ان میں زندگی کے احساس کو پیدا کیا جائے تو انکی آنکھیں کھول سکتے ہیں… اسپورٹس مین شپ پیدا کرنے کی ضرورتوں پر توجہ دلائی جائے… تو کہیں دور ایک انقلاب ضرور جھانکتا ہے… پھر ان میں کچھ لوگ آگے آئیں گے۔ زندگی کے مختلف شعبوں کے بارے میں جانیں گے— تعلیم کی اہمیت سمجھیں گے— اسپورٹس مین شپ— ہار جیت دونوں کو یکساں طور پر لیں گے— پھر، کہیں آپ مذہب کی اچھی باتیں بھی ان میں ڈالنے میں کامیاب ہوسکیں گے—
ارشد پاشا کی آنکھیں خلاء میں گم تھیں۔ گول گول دائرے میں بٹی ہوئی… بھنویں سکڑی ہوئی…
حاتم میاں نے فاتحانہ نظروں سے ارشد پاشا کو دیکھا… ’مجھے خوشی ہے نوجوان، تم سوچتے ہو… آج اجلاس کے بعد تمہیں کچھ دوسرے لوگوں سے بھی ملاؤں گا۔ تاکہ بتاسکوں کہ اس جماعت کا کام صرف اور صرف تبلیغ نہیں ہے… بلکہ اس کے پیچھے گہرا مقصد بھی چھپا ہے…‘‘
گھڑی کی سوئی گیارہ بجا رہی تھی… صحن میں کافی لوگ بیٹھ گئے تھے… چاروں طرف ٹوپیاں دکھ رہی تھیں… اجلاس ایک گھنٹہ تک چلا ہو گا۔ ارشد پاشا خاموشی سے سب کی باتیں سنتے رہے… باتیں زیادہ تر اسلام اور مسلمانوں سے متعلق تھیں… اور وہی باتیں جو بار بار کسی نہ کسی بہانے سنائی یا دہرائی جاتی رہی ہیں۔ ان باتوں سے ارشد پاشا کو کوئی زیادہ مطلب نہیں تھا… اِن میں اُس خطرے کی جانب بھی اشارہ کیا گیا تھا کہ ’’شاہی‘‘ مسجد کی فتح کے لئے ہم سب کو مل کر کوشش کرنی ہے… مسجد اﷲ کا گھر ہے اور اﷲ کے گھر میں مورتی بٹھانے کی اجازت نہیں دی جاسکتی… اس لئے بہت جلد ہی ایک میٹنگ طے پائے گی اور اُس میں یہ اعلان ہو گا کہ ہمیں کب اُس شاہی مسجد میں چلنا ہے اور وہاں نماز ادا کرنی ہے…
ارشد پاشا کو خطرے کی بُو آ رہی تھی… اس کے بعد اجلاس ختم ہو گیا۔ اجلاس کے خاتمے کے فوراً بعد ایک چھوٹا سا واقعہ ہوا۔ سڑک پر ایک غریب بوڑھے آدمی کو ایک سائیکل سوار سے ٹکڑ لگ گئی تھی… زیادہ خون تو نہیں لیکن وہ بیہوش ہو گیا تھا— کچھ مسلمان اُسے اٹھائے ہوئے مسجد کے صحن میں لے آئے تھے… بوڑھے کو ڈاکٹر کے پاس بھیجنے کا مشورہ ہو رہا تھا۔ اُسے پانی پلایا جا رہا تھا… کوئی شخص دوڑ کر پیش امام صاحب کے پاس سے ڈیٹول کی سیشی لے آیا… اب اُس بوڑھے آدمی کے  چوٹ کی جگہ پر ڈیٹول لگایا جا رہا تھا…
یہ کوئی خاص واقعہ نہیں تھا مگر یہ واقعہ اس لئے اہم تھا کہ بوڑھے کے چلے جانے کے بعد حاتم میاں نے فاتحانہ نظروں سے ارشد پاشا کو دیکھا جیسے کہہ رہے ہوں… دیکھا ہمارے یہاں صرف تقریر ہی نہیں چلتی… خدمتِ خلق کا جذبہ بھی ہے ہم لوگوں کے پاس… ورنہ بوڑھے کو یہاں اٹھا کر لانے کی کیا ضرورت تھی…
اور ارشد پاشا گھر کی طرف بڑھتے ہوئے سوچ رہے تھے… کہ اگر وہاں مذہب کی آنکھیں اُس بوڑھے میں ایک مسلمان کو نہیں دیکھ رہی ہوتیں، تو کیا وہ لوگ اُسے مسجد میں لاکر اس طرح مرہم پٹی کرسکتے تھے…؟
٭٭



(7)

بدر بھی ایم اے کا طالب علم تھا۔ ارشد پاشا کی طرح وہ بھی علم کیمیا میں ہی ایم اے کر رہا تھا۔ ایک طرف دونوں کے سبجیکٹ جہاں ایک تھے وہیں خیالات میں زمین آسمان کا فرق— اور دیکھا جائے تو وقت کے حساب سے یہ فرق اب رفتہ رفتہ کم ہوتا ہوا محسوس ہو رہا تھا۔ بدر نے تو کب کا مذہب کو ماننا چھوڑ دیا تھا۔ اُس کے والد اونچے عہدے پر تھے لیکن پنچ گانہ نمازی۔ انہوں نے بدر کو سمجھاتے سمجھاتے  توبہ کر لی تھی کہ اب تم خود ہی ہوش مند ہو۔ اپنا اچھا بُرا مجھ سے بہتر اب تم ہی سوچ سکتے ہو۔ بدر کے مزاج میں عجب طرح کا چڑچڑا پن بھی تھا۔ جیسے وہ سارے زمانے سے جلا بیٹھا تھا۔ اُس دن وہ ارشد پاشا کے یہاں بارہ بجے — آ دھمکا— اُس وقت بی اماں کی تیز تیز آواز سے پوری فضا محفوظ ہو رہی تھی۔
’’اب اس بسمتیا کی بچّی کو کیسے سمجھاؤ ں کہ جمعہ کا روز ہے۔ زوال کا وقت— اور چلی ہیں بی جھاڑو دینے— نوج… مسلمان کے گھر آ گئی— کمبختی کی ماری کچھ سیکھا بھی نہیں اور وہ دیکھو گونگا۔ صبح ہی صبح بلی کے بچے پر پتھر پھینک رہا تھا۔ اب بلی دودھ پی جاتی ہے تو پی جائے بھلا جمعہ کے روز پتھر مارنے سے اس کے گھر کے مقدر پھوٹیں گے کہ نہیں۔ کوئی خیال ہی نہیں جمعہ کا۔‘‘
’’اماں ٹھیک کہتی ہو‘‘۔
بدر جو دروازے پر کھڑے کھڑے کافی دیر سے بی اماں کی باتیں سن رہے تھے۔ مسکرائے۔ بولے—’ ٹھیک کہتی ہو اماں۔ جمعہ کے روز بلی کو پتھر مارنے یا زوال کے وقت جھاڑو لگانے سے سچ مچ یہ اﷲ میاں ناراض ہو جائیں گے۔
’مانتے ہونا بیٹے… اب یہ تو پوچھنا بھول ہی گئی کہ تم کب آئے اور کب سے یہاں کھڑے ہو… ’اُف میں بھی کیسی سٹھیاسی گئی ہوں۔ خیر ہاں۔ آج میاں جمعہ ہے اور تم نے پتلون شرٹ چڑھا رکھی ہے۔ میاں کچھ تو خیال کرو۔ ایک تو وہ بندہ گیا گزرا ہے۔ تم بھی ویسے ہی۔ بیٹے جوانی کی عبادت ہی تو قبول ہوتی ہے— اﷲ میاں خوش ہوتے ہیں۔‘‘
’’اﷲ میاں کی خوشی کا اسٹاک ختم ہو گیا اماں۔ اب دیکھو نا وہ صرف تماشہ دیکھتے ہیں اور آگ لگتی رہتی ہے۔‘‘
’’خیرسے  بیٹا۔ یہ کیا‘‘
’’اب دیکھو نا اماں۔ وہ مولوی کرامت تھے نا، اپنے محلے والے…‘‘
’’ہاں ہاں کیا ہوا ان کو‘‘۔
’’کل اﷲ اﷲ کر کے سڑک پار کر رہے تھے۔ ٹیکسی نے کچل دیا۔ اﷲ نے بلوایا۔‘‘
بیٹا یہ کیا زبان ہوئی تمہاری۔ مولوی کرامت گزر گئے ۔ اِنّا لِلّہِ وَ اِنّا اِلَیْہِ راجعون! اماں کا غصہ سرد ہو گیا…‘‘مگر بیٹا تمہاری باتوں سے کوئی اچھے آثار نہیں لگ رہے… تم بھی لگتا ہے ارشد ہی ہوئے جا رہے ہو۔‘‘
بدر کی آواز سن کر اندر دالان سے ارشد پاشا نکل کر چلے آئے۔ تغلق پاشا دفتر جا چکے تھے تھے اور انور پاشا بھی کالج نکل چکے تھے۔
ارشد پاشامسکرائے۔ ’’اماں سے باتیں چل رہی تھیں۔‘‘
’’اب دیکھو نا یار—یہ اماں دادی اماں وغیرہ ہر بات میں اﷲ میاں کو آسمان سے لے آتی ہیں— اللہ میاں کو کتنی مشکل ہوتی ہو گی—
’’توبہ توبہ… اے توبہ توبہ۔‘‘
بی اماں سنے خفگی سے اور بلند آواز سے کہا۔ غصیلی نظروں سے دیکھا ۔
’’آؤ آؤ اندر آؤ۔‘‘ ارشد پاشا نے ہنستے ہوئے کہا۔ تم تو لڑائی ہی لگا دو گے۔
’’سالے کہاں تھا اتنے دن—‘‘ کمرے میں پہنچتے ہی ایک مکاّ دیا بدر نے۔
’’کچھ الجھا ہوا تھا۔‘‘
’’الجھا ہوا تھا ؟—مطلب…‘‘
’’یار تجھے کیسے بتاؤں—۔ دراصل میں کچھ بننا چاہتا ہوں…‘‘
’’تو اوپر سے چھلانگ لگا دے نا۔ کل اخبار میں تمہاری بہادری کا ڈنکا بجوا دوں گا‘‘۔
’’مذاق نہیں یار۔ دراصل پوری قوم کے بارے میں… یہ قوم جو تعلیم پڑھائی سے بے بہرہ ہوتی جا رہی ہے…‘‘
’’تیری غلطی یہی ہے کہ تو صرف اپنے قوم کی بات سوچتا ہے اور میں کہوں تو یہ زبردست حماقت ہے… دراصل ہم  ہندوستانی ہی تعلیم سے کٹ گئے ہیں۔ کبھی کبھی سوچتا ہوں، کس عہد میں آ گئے ہیں ہم— پڑھ لکھ کر بھی ایک اندھیرے غار میں قید— اور اس غار میں مذہب کی حکومت ہے۔ مذہب کے ٹھیکیدار ہیں— اور یہ مذہبی ٹھیکیدار ایک طرف جہاں اپنے کارناموں سے ہمیں تقسیم کر رہے ہیں، وہیں ہمیں فرقہ پرست بھی بنا رہے ہیں۔ میں نے اپنے اُن دوستوں کو قریب سے دیکھا ہے جو مسجد جاتے ہوئے بھی پناہ مانگتے تھے۔ مگر آج اُن کے لباس بدل گئے ہیں۔ داڑھیاں بڑھ گئی ہیں۔ سر پر ٹوپی آ گئی ہے— اور ان کی آنکھوں میں نفرت کے اُس سیلاب کو دیکھا ہے جو اس ملک کو بہا کر لے جاسکتا ہے— ترشول اور بھگوا جھنڈوں سے ان ٹوپیوں تک— ملک کہاں جا رہا ہے۔ بتا سکتے ہو— ہم نئی صدی میں نہیں جا رہے بلکہ ہم نے خود کو پندرہویں صدی کی گپھاؤں میں بند کر لیا ہے—‘
وہ ایک لمحے کو ٹھہرا— فضا ساکت تھی— باہر ہوا خاموش— کمرے میں گھٹن کا ماحول تھا— اور بدر کے الفاظ کی چنگاریاں روشن تھیں—
وہ اس لفظ پر ٹھہرا… جیسے اس ایک لفظ میں کوئی خاص بات ہو۔ غور سے ارشد کو دیکھا۔
’’وقت کے ساتھ ہمارے اندر کی ہندوستانیت کیوں سوتی جا رہی ہے؟ کہیں وہ ولولہ وہ جوش وہ گرمی کہیں نظر نہیں آتی۔ آزادی سے پہلے اگر آج کی طرح ملک کے بارے میں اس طرح کا ٹھنڈا رویہ ہوتا، تو ملک کبھی آزاد نہیں ہوتا۔ دیش بھکتی کے گیتوں کے پرچار پر سار کے باوجود ہمارے اندر کا وہ مشینی آدمی ویسا ہی بے حرکت رہتا… اس جمود کو توڑنا ہو گا۔ آج اُس ہیومین رائٹس کے بارے میں بھی غور کرنا ہے کہ اُسے کہاں کرش کیا جا رہا ہے… کیا یہ جمود ٹوٹے گا… نہیں۔ کم از کم بھاشن سے نہیں… ہم ان ادھیکاروں کو حاصل کرسکیںگے جو ہم پر لگاتار ایک انکش ایک پرتبندہ لگاتے رہے ہیں… اس لئے پہلے اس سوئے ہوئے آدمی کو جگاؤ— اُس میں جذبات ، احساسات کے انجکشن لگاؤ کہ وہ درد، دکھ اور تکلیف کو محسوس کرے… اُسے بے حس نہیں چھوڑا جاسکتا— قطعی نہیں…
اس لمبی چوڑی تقریر سے ارشد سچ مچ بور ہو گیا تھا۔ اُس نے منہ پر ہاتھ رکھ کر ایک لمبی جماہی سی لی…
’’بیٹے تیرا عشق کیسا چل رہا ہے…؟‘‘
’’عشق —بدر نے منہ بنایا جیسے کڑوی کسیلی گولیاں نگل لی ہوں— ان چیزوں پر میرا یقین نہیں ہے۔ یوں بھی میں رومانٹیسزم پر یقین ہی نہیں رکھتا۔ شکنتلا کو ایک مرد چاہئے تھا۔ میری اپنی کچھ ضرورتیں تھیں۔ جو پوری ہوتی رہیں۔‘‘
’’ارشد پاشا نے دھرے سے کہا… ہم خود ایک بات کہتے ہیں جو با وزن ہوتی ہے پھر فوراً ہی اپنی بات کی نفی کر دیتے ہیں۔ ایسا کیوں ہے؟‘‘
بدر چونک گیا تھا۔ ’’کیا مطلب؟‘‘
’’نہیں کچھ نہیں۔‘‘
’’تم نے میرے بارے میں کچھ کہا۔‘‘
’’یہ اپنے بارے میں بھی تھا۔ ہماری سوچ جب کئی زاویوں میں کھو کر اپنی سمت بھول جاتی ہے تو یہ سوچنا پڑتا ہے… خیر میں کہہ تھا میں کچھ بننا چاہتا ہوں… اور ہم میں سے ہر آدمی کچھ نہ کچھ بننا چاہتا ہے— اس بننے سے مطلب ہے کچھ ایسا کرنا جو عام انسانوں کی بھلائی کے لئے ہو اور ہاں بیشک  جس کا سہرا پوری قوم کے سربندھے۔ مگر کیا چاہتا ہوں یہی واضح نہیں ہو پاتا اور یہی میری مشکل ہے…
’’ہم سب من و سلویٰ کے انتظار میں بیٹھے ہیں اور آنکھیں آسمان کی طرف لگی ہیں۔‘‘ بدر ہنسا— لیکن یہ اُس کی عادت تھی جب بھی کسی سنجیدہ  بات پر آتا فوراً اپنے چہرے پر بلا کی سنجیدگی اوڑھ لیتا—
’’تم نے یہ لفظ سنا ہے۔ پیریستریکا اور گلا سنوست… بیشک سنا ہو گا۔ روس میں اِن دو لفظوں نے جس خوبصورت انقلاب کی داغ بیل ڈالی ہے…اُس میں ہر قسم کی آزادی شامل ہے —جسمانی بھی— روحانی بھی— اور آزادی تو آزادی ہے میرے دوست— آزادی ایک خوشگوار احساس ہے— اور مجھے لگتا ہے ملک کی موجودہ فضا میں اس آزادی کا قتل ہو رہا ہے—
ابھی یہ باتیں چل رہی تھیں کہ اسلم ٹرے میں چائے لے آیا… معصوم یتیمی صورت بنائے گونگے نے چائے رکھی اور واپس دبے قدموں لوٹ گیا۔
’’یہ کوئی نیا دھماکہ ہے—‘‘ بدر نے پوچھا۔
’’ہاں ایک بھکاری کا لڑکا تھا۔ سڑک پر رو رہا تھا۔ ابّا پاشا رحم کھاکر لے آئے۔‘‘
’’اس سے پہلے اُس شرابی عورت کو… وہ ہے کہ نہیں اور اُس کا مرد… ویسے ہی شراب پی کر آتا ہے۔‘‘
’’ہاں!‘‘
’’یہ لڑکا مسلمان ہے؟‘‘
’’ہاں‘‘
’’کیا ایسا نہیں ہے کہ ایک مسلمان نوکر آ جانے کی وجہ سے تم اُس بیچاری کا صفایا کر دو کہ یہ تو سارا کام کر ہی لے گا۔‘‘
’نہیں یار‘ کیسی باتیں کر رہا ہے تو—‘
’’یہ ناپ تول کی باتیں ہیں بیٹے۔ رشتے ناطے اصول بھی اسی ترازو پر تولے جاتے ہیں۔ کوئی مشکل نہیں اگر تمہارے یہاں اس گونگے میاں کے آنے کے بعد  اُسے نکالنے کے بارے میں سوچا جا رہا ہو…‘‘
’’نہیں یار کیا جھوٹ موٹ کی بحث لے کر بیٹھ گیا۔‘‘
بدر قہقہہ مار کر ہنسا۔’بیٹے! بڑے لوگ جو کہا کرتے ہیں وہ آنے والے سمئے کے لئے بھوشیہ وانی ہوتی ہے… ایک دن اُس کا ہندو ہونا ابھشاپ بن جائے۔ آج چاہے بی امّاں کی دلاری کیوں نہ ہو…‘‘
’’یار بند بھی کر‘‘… ارشد جھنجھلا گیا تھا۔ تمہاری یہی باتیں سنتا ہوں تو سوچتا ہوں تم سے ملنا بند کر دوں۔ یہ کیا طریقہ ہے تمہارا۔‘‘
بدر نے پھر قہقہہ لگایا— ایسے جیسے چڑھا رہا ہو…’ تو آپ ملنا بند کر دیں گے۔ چلیے— ہم ہی ملا کریں گے۔ ہاں یہ تو بھول ہی گیا۔ کس مقصد کے تحت آیا تھا۔ آج کل جو تمہارے مذہب نے شہر میں نفرت کا ماحول پیدا کر دیا ہے اس سلسلے میں احمد صاحب وکیل کے یہاں ایک چھو ٹی سی میٹنگ ہے۔ شام چار بجے۔‘‘
’’میں نہیں جاؤں گا یار۔ وہاں سب کے سب ٹوپیوں والے لوگ ہوں گے۔
’’یار احمد صاحب وکیل پھر بھی نئے زمانے کے ہیں۔ دوسری ان کی لڑکی صوفیہ نہ صرف اسمارٹ ہے بلکہ نئے زمانے کی بھی ہے— اور اس میٹنگ میں احمد صاحب نے صرف ہم جیسے نوجوانوں کو ہی انوائٹ کیا ہے۔ وہ اس جینس کلچر کو لنگی دھوتی سے زیادہ سیکولر مانتے ہیں۔ تھوڑی تفریح بھی ہو جائے۔‘‘
چائے ختم کرتے ہوئے ارشد پاشا نے آہستہ سے بس اتنا کہا— ’تیرے اندر بھی کہیں نہ کہیں ایک چھپا ہوا مذہب رہ گیا ہے— ورنہ احمد صاحب کی میٹنگ سے بھلا تجھے کیا سروکار ہوتا—‘
٭٭



(8)

احمد صاحب کے یہاں اس وقت بھی دس بارہ لوگ بیٹھے تھے— سب نوجوان ہی تھے۔ باہر کھلا ہوا برآمدہ تھا جہاں اکثر وہ اپنے موکلوں سے ملا کرتے تھے۔ احمد صاحب نے ابھی حال ہی میں یہ مکان بنایا ہے۔ پریکٹس اچھی چلتی ہے اور پیسوں کی ریل پیل ہے۔ لے دے کر صرف ایک ہی لڑکی ہے صوفیہ— جو کالج میں پڑھتی ہے۔ کوئی فکر نہیں ہے احمد صاحب کو اور جب کوئی فکر نہیں ہو تو آدمی دوسری مشغولیت اور مصروفیت میں خود کو بانٹنا چاہتا ہے— اس لیے احمد صاحب نے سیاست کی طرف رجوع کرنا شروع کیا— شہر میں کوئی بھی اس طرح کا فنکشن ہو جہاں کوئی بڑے  نیتا یا ایم پی آرہے ہو تے تو احمد صاحب کی شرکت وہاں ضروری ہو جاتی۔ سوشل کاموں میں بھی حصہ لیتے تھے۔ لیکن ادھر انہیں اچانک مسلمانوں کا نیتا بننے کا شوق چرایا۔ یہی جگہ بچ گئی تھی جو انہیں خود سے پر کرنی ہے۔ اور اسے پر کرنا کتنا آسان تھا۔ احمد صاحب نوجوانوں کو لے کر چلنا چاہتے تھے۔ ان کے مطابق ان کے پاس مشن ہیں پروگرام ہیں— اگر نوجوان چاہیں تو آج مسلمانو ں کی تعلیم کو بلند معیار پر لا کھڑا کیا جاسکتاہے—
بدر اور ارشد ٹھیک وقت پر پہنچ گئے تھے۔ برآمدے میں سفید چادر بچھی تھی— ایک طرف سنجیدگی کی مورت بنے احمد صاحب بیٹھے تھے۔ چھوٹی سی داڑھی۔ آنکھیں روشن —چھوٹی پیشانی۔ سر کے بال کافی حد تک اڑے ہوئے تھے۔ اس بیچ ان کا خادم چائے لے کر آ گیا —سب چائے پینے میں لگ گئے۔ چائے ختم کرنے کے بعد سنجیدگی سے بابری مسجد کے سوال پر غور و فکر شروع ہوئی۔
شفاف سفید چادر پر سب ایسے غمگین صورت بنائے بیٹھے تھے جیسے کسی ماتمی جلسے میں شرکت کر رہے ہوں۔
ارشد پاشا نے بدر کے کان میں آہستہ سے سے کہا۔ ’’یہ لوگ ماتمی چہرہ کیوں بنائے ہوئے ہیں۔‘‘
’’تاکہ زیادہ سے زیادہ اس معاملے میں اپنی سنجیدگی کو ظاہر کرسکیں— بدر کے ہونٹوں پر طنزیہ مسکان پھیلی ہوئی تھی۔
’’اور تم مجھے یہی دکھانے لائے ہو۔‘‘
’’کبھی کبھی ان محفلوں میں بھی شامل ہونا چاہئے۔ کیا مضائقہ ہے۔ اس سے اونٹ کے قد اور چال کا بھی تو پتہ چلتا ہے۔‘‘
وہ اتنے دھیمے سُر میں ہنسا کہ آس پاس کے لوگ اس کے طنز کو سن نہ سکیں—  وہ پھر آہستہ  سے پھسپھسایا۔
’’بڑے میاں جوش میں آنے والے ہیں۔ آؤ ہم دونوں بھی یتیم  بن جائیں۔‘‘
اتنا کہہ کر وہ سچ مچ سنجیدہ ہو گیا— اور بیٹھے ہوئے تمام لوگوں میں سب سے سنجیدہ نظر آنے لگا—
احمد صاحب میانے قد کے آدمی تھے…چھوٹی سی خشخشی داڑھی پر ہاتھ پھیرتے ہوئے وہ نوجوانوں سے مخاطب ہوئے۔
’نوجوانو! آج کا دن اس لئے بھی اہم ہے کہ ہم ایک سنجیدہ فیصلے کے لئے یہاں اکٹھے ہوئے ہیں۔ گوا بھی ہم مٹھی بھر ہیں مگر امن کے خواہاں اگر مٹھی بھر لوگ بھی ہیں تو وہ ہزاروں دہشت پسندوں کو —وہ دن دور نہیں جب ایک سیدھی سچی راہ پر لاسکتے ہیں۔‘‘
احمد صاحب نے ایک ٹھنڈی سانس بھری— پھر انہو ں نے ایک نوجوان کو مخاطب کیا… فیروز! تم قلم کاغذ نکال لو۔ آخر تم ملکی آواز میں نائب مدیر ہو— اس خبر کو خوب سرخیوں میں چھاپنا— پھر انہوں نے کسی سرفراز کو مخاطب کیا… اور بھائی! پتہ نہیں تمہاری مجھ سے کیا دشمنی ہے—  آج تک تم نے میری کسی خبر کو کبھی اہمیت نہیں دی۔ تمہارے اخبار الہلال کو جب بھی کوئی رپورٹ بھیجی وہ شائع نہیں ہوئی…
’’یہ خبر ضرور شائع ہو گی۔‘‘
احمد صاحب نے پھر کہنا شروع کیا…’ آزادی کے بعد ملک میں جو چیز سب سے زیادہ بڑھی ہے وہ سے فرقہ وارانہ فساد۔ آج وہی سیاستداں کامیاب ہوتا ہے جو فرقہ وارانہ دنگوں کی بنیاد پر سیاست کا مہرہ چلتا ہے۔‘
’’بھائی خوب کہا—‘‘ ایک صاحب چہکے۔
’’آپ نے حکومت کی نبض پکڑ لی جناب۔‘‘
’’گوشت اور مچھلی کا بھاؤ لگ رہا ہے۔‘‘ بدر دھیرے سے پھسپھسایا۔
 پاشا کو اپنی ہسنی روکنی مشکل ہو گئی۔
احمد صاحب کی تقریر میں اب جوش آ گیا تھا۔ پتلا دبلا چہرہ سرخ ہو گیا تھا۔ مٹھیاں کس  گئی تھیں…
’’آج مسلمانوں میں جوش کی نہیں صبرواستقلال کی ضرورت ہے۔ جوش میں انسان ہوش کھو بیٹھتا ہے۔ بابری مسجد کے معاملے پر ان ملا ملاؤں کی باتوں میں آ کر پورے ملک میں آگ لگا دینے والی سیاست کا میں خیرمقدم نہیں کروں گا۔ ہم حکومت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ جلد از جلد کوئی صحیح راستہ نکالے۔ ہم حکومت کو جلد ہی ینگ مسلم فورم کی طرف سے میمورنڈم بھی بھیجنے والے ہیں۔‘‘
’’بوڑھے اب تک اپنے آپ کو ینگ سمجھتے ہیں کیا؟‘‘ بدر نے ہنستے ہوئے پوچھا—
’’یار بس بھی کر‘‘ ارشد پاشا کو احساس ہو رہا تھا جیسے اب ہنسی ضبط کرنا مشکل ہو جائے گا۔‘‘
’’… اگر ہو سکا تو ہم پیس مارچ بھی  تیاری بھی کریں گے۔‘‘
’’یعنی قوم کا لیڈر بننے  کی پوری تیاری مکمل ہے۔‘‘ بدر سے رہا نہیں گیا۔ ارشد پاشا اس بار خاموش رہا۔ ہاں وہ اندر ہی اندر وہ سلگ رہا تھا۔ یہ وہ کہاں آ گیا تھا۔ بدر نے یہ کہاں لا کر پھنسا دیا— خیر ایسی جگہوں پر آنے سے آنکھیں ہی کھلتی ہیں— یہی ہیں قائد… ایک پوری قوم انہی کے پیچھے بھاگتی ہے۔ قوم کے مسائل کو لے کر یہی بیمار بنتے ہیں۔ یہی جو مسلمانوں کا غم کھاتے ہیں اور ملک  ہندوستان سے جنہیں  سچ مچ بہت زیادہ محبت ہے— اور شاید ان سے زیادہ وفاداری کا جذبہ کہیں ہے بھی نہیں۔
تقریر اب کافی بلند ہو گئی تھی… تقریر کے بیچ بیچ میں وہ پریس والوں سے پوچھتے ۔ یہ لکھ لیا آپ نے… خوب… آپ اس پوائنٹ کو ضرور اچھالیے… آپ کو جو بھی پوچھنا ہے آپ سوال کیجئے۔ آپ میں سے کسی کو کوئی سوال کرنا ہو تو… بھائی  خوب… یہ خوب ان کا تکیہ کلام تھا۔ بھائی خوب سوال کیا آپ نے… اس جگہ کو اسپتال یا بچوں کا پارک بنا دیا جائے… واہ… یہی تو میں چاہتا ہوں۔ اﷲ کے گھر میں مورتی بٹھا دی گئی۔ یہی غلط ہوا۔ کل اگر مندر تھا اور اسے توڑ کر مسجد بنائی گئی تو یہ بھی غلط۔ اب نہ رہے بانس نہ بجے بانسری۔ بس اس پوائنٹ کو بھی نوٹ کر لو پیارے… اس کی جگہ اسپتال یا بچوں کا پارک… خوب… یا یوں لکھو کہ احمد صاحب وکیل نے تمام مسلمانوں کی طرف سے اس مسئلہ کا ایک خوبصورت حل نکالا ہے… چہ  خوب…
ابھی وہ خوب خوب کر ہی رہے تھے کہ دروازے سے ایک ہنسی کی آواز بھری… ’’ابا… جلسہ ابھی چل رہا ہے یا…‘‘
ارشد پاشا جیسے اپنی جگہ جم گئے۔ دروازے پر ایک نازک اندام خوبصورت لڑکی کھڑی تھی۔
’’مہمانوں کو ناشتہ کراؤ بیٹی…‘‘ احمد صاحب مسکرائے…‘‘ یہ میری لڑکی ہے صوفیہ‘‘ ’’آداب‘‘
صوفیہ نے ملائمیت سے ہاتھ اٹھایا — اُس کی نگاہوں میں کہیں بغاوت کی ایک آگ بھی روشن تھی۔ جیسے وہ ان چیزوں کو غیر ضروری مانتی ہے— ہاں ارشد پاشا کے جسم میں اس وقت تیز سنسنی سی دوڑ گئی جب اسے احساس ہوا کہ صوفیہ کی نظریں تیز تیز چلتی ہوئی اس کے وجود پر ٹھہر گئی ہیں… پھر کچھ ہی دیر بعد وہ اندر چلی گئی۔
قریب ایک گھنٹہ بعد یہ میٹنگ ختم ہوئی— احمد صاحب وکیل نے ’’پیسٹی، چنا جور، حلوہ سوہن، سموسے وغیرہ کا بھی خوبصورت انتظام کیا تھا۔ ایک بار پھر کافی چلی اور آہستہ آہستہ سب لوگ اٹھ کر چل دیئے— پتہ نہیں بدر کیوں بیٹھا رہا۔ ارشد پاشا نے اٹھنے کی کوشش کی تو بدر نے ہاتھ پکڑ کر روک لیا۔
’’تو چاہتا کیا ہے—‘‘
’’بس خاموش۔ ابھی دیکھنا‘‘
احمد صاحب نے بدر کی طرف دیکھ کر کہا…
’’آؤ بیٹے۔ تم سے باتیں بھی کرنی تھی اور— اس نوجوان کا تعارف—؟‘‘
’’ارشد پاشا‘‘— وہ آہستہ سے بولے۔
’’واہ خوب۔ کرتے کیا ہو—؟‘‘
’’ام، اس سی کر رہا ہوں۔‘‘
’’وہ تو ٹھیک ہے لیکن کرتے کیا ہوا۔‘‘
’’جی‘‘ ارشد پاشا گڑبڑا گئے … ’’ابھی ایم ایس سی کر رہا ہوں۔‘‘
’’میں یہ نہیں پوچھ رہا تھا— میں تو کچھ کرنے کے بارے میں پوچھ رہا تھا۔‘‘ احمد صاحب مسکرائے— آؤ ڈرائنگ روم میں— وہیں باتیں کریں گے۔‘‘
’’ڈرائنگ روم کافی سجا ہوا تھا۔ خوبصورت مخملی قالین— نئے طرز کے صوفے— صوفیہ بھی آ کر ایک طرف سمٹ گئی تھی— تھوڑی دیر تک ماحول میں خاموشی طاری رہی پھر اس خاموشی کو احمد صاحب نے ہی توڑا۔
’’ہاں تو میں کچھ کرنے کے بارے میں پوچھ رہا تھا— اب دیکھو نا— مسلمانوں کے یہاں غربت کیوں رہتی ہے— ایک آدمی کمانے والا اور بیٹا پڑھ رہا ہے تو پڑھ رہا ہے— تو میاں ارشد پاشا تمہارے یہاں کمانے والے کتنے ہیں… معاف کرنا یہ ذاتی سا سوال ہے اور اس گستاخی کے لئے ایک بار پھر معاف کرنا۔ لیکن یہ پوچھنا ضروری ہے۔‘‘
’’صرف ایک —ابا پاشا‘‘ 
’’کیا کرتے ہیں وہ‘‘
’’جی… ڈی او آفس میں کلرک ہیں۔‘‘
’’ٹھیک —ماشاء اﷲ تم کسی معاملے میں کم نہیں ہو— پھر کیا تم کچھ کما نہیں سکتے—؟ آج امریکہ روس، جرمنی کہیں بھی دیکھ لو— تمہاری عمر کے لوگ پڑھائی کے ساتھ کمانے کا ہنر بھی جانتے ہیں اور ہمارے یہاں مسلم سماج میں زیادہ تر لوگ ایسے ملیں گے جو صرف اور صرف پڑھائی کرتے چلے جا رہے ہیں— اور بے چارہ بوڑھا باپ اپنے کندھے زخمی کرتا جا رہا ہے۔‘‘

ارشد پاشا کا سرجھک گیا تھا۔ یہ تلخ حقیقت تھی ۔ وہ شخص جو اس جلسہ میں مسخرے جیسا نظر آرہا تھا، اس کی اس حقیقت نے ارشد پاشا کو پانی پانی کر دیا تھا۔
’’میں آپ کی اس بات سے متفق ہوں ابا۔‘‘ بہت دیر بعد صوفیہ نے ہونٹ کھولے… اس کی آواز میں موسیقی کے سات سروں کا جادو موجود تھا— ’نوجوانوں کو پڑھائی کے ساتھ اپنی دلچسپی اور شوق کے حساب سے کمانے پر بھی دھیان دینا چاہئے— آج مسلمانوں کی بدحالی کا ایک بڑا سبب ان کی غربت بھی ہے— دس، دس پندرہ افراد پر مشتمل خاندان کو ایک آدمی اکیلا ڈھوتا ہے— اور اس کے بچے بچیاں محض تعلیم حاصل کر رہے ہوتے ہیں۔ کیا ہم اپنے کھیل اور خالی وقت کا ایک بڑا حصہ ایسے کاموں پر نہیں نکال سکتے جو ہماری آمدنی کا سبب بن سکیں… لڑکیوں کو بھی اس میدان میں آنا چاہئے… مردوں کے شانہ بشانہ چلتے ہوئے…‘‘
ارشد نے تعریفی نظروں سے صوفیہ کی طرف دیکھا۔
بدر نے برا سا منہ بنا کر کہا… محترمہ!لیکن ابھی آپ کا مذہب اس حد تک آزاد نہیں ہوا کہ آپ کو وہ آزادی فراہم کرسکے جو  آزادی آپ چاہتی ہیں۔‘‘
’’مذہب!‘‘ صوفیہ اس لفظ پر ٹھہری… مذہب میں بہت وسعت ہے— ہاں اس کے  ماننے والوں نے بہت محدود معنوں میں لے لیا ہے— اور مجھے ان سے اختلاف ہے۔ ہاں یہ میرا اپنا عقیدہ ہے کہ میں وقت کے ساتھ شریعت میں بھی تھوڑی بہت تبدیلی چاہتی ہوں اور آج مسلم قوم کو وقت کے پیمانے  پر کھرا اترنے کے لئے اس کی ضرورت بھی ہے۔‘‘
’’یہ تبدیلی آپ چاہتی ہیں۔ لیکن آپ ہی کے مذہب کے ماننے والے آپ کو کافر قرار دے دیں گے۔ اس لئے وہ کوئی تبدیل نہیں چاہتے۔‘‘
صوفیہ آہستہ سے بولی… ’’بہرحال تبدیلی ضروری ہے… جیسے چھوٹی سی بات ہے۔ ہمارے یہاں بقر عید ہوتی ہے۔ ایک ایک قربانی کے جانور پر سات سات سو، ایک ایک ہزار روپے یا اس سے زیادہ خرچ کر دئے جاتے ہیں۔ پھر کھا پکا کر سب ہضم… اور خوش ہو لئے کہ اپنا فرض پورا ہو گیا— اب ذرا قوم کی صورت حال پر ایک نظر ڈالیے اور سوچئے کہ جانور کی قربانی کی جگہ اگر سب لوگ وہ پیسہ ایک بیت المال قائم کر کے وہاں جمع کریں تو قوم میں مفلسی اور غربت کا نام تک نہ رہے— لیکن یہی نہیں ہوتا اور نہیں ہوسکتا۔
’’بیٹی ایسانہیں ہوسکتا۔‘‘ احمد صاحب سنجیدہ آواز میں بولے— یہ ممکن نہیں— اس لئے کہ قرآن میں بھی قربانی کے جانور کا ہی ذکر آیا ہے۔‘‘ وہ ذرا لمحہ کو ٹھہرے… پھر معمول پر لوٹ آئے…
’’ہاں تو نوجوان… بات کہاں سے کہاں نکل جاتی ہے… ہاں تو— یہ ہمارے لئے بڑی  شرم کی بات ہے کہ…‘‘
آگے بات بدر نے پوری کی… گھر میں ایک کماتا ہے باقی کھاتے ہیں۔ بزرگوار آپ یہ بات میرے بارے میں  نہیں کہہ سکتے۔ میں ٹیوشن کرتا ہوں۔‘‘
’’ٹیوشن‘—‘ احمد صاحب نے ایسے منہ بنایا جیسے یہ کام انہیں کچھ زیادہ پسند نہیں آیا ہو— اور وہ کسی اور جواب کے منتظر ہوں—
انہوں نے پھر پلٹ کر پوچھا ’’تم کیا کرسکتے ہو ارشد پاشا—؟‘‘
’’جی…‘‘ وہ بہت سوچ کر بولا… لکھ سکتا ہوں میں… مضمون، کہانی…‘‘
’’آج ان کی ضرورت— نہیں اور سچ پوچھو تو آج ان کے لئے ایک ہی لفظ ہے۔ مجھے معاف کرنا— مگر یہی  لفظ صحیح ہے… کوڑا… یہ کچھ نہیں دیں گے— اور وہ بھی اردو صحافت… یہ اردو صحافت مفت کا مال خریدنے کی عادی ہو گئی ہے… بے شرم… اور ہمارے لکھنے والے ان سے زیادہ بے شرم کہ اپنی تخلیقات مفت  چھپوانے کے لیے…‘‘ ان کا لہجہ کڑوا تھا… اب کیا ہے کہ … اس سے کہ ہمارے یہاں صحافت کا معیار نہیں رہا— کوئی آنا نہیں چاہتا اور میں تم کو آنے کا مشورہ بھی نہیں دوں گا— جہاں دو پیسوں کی آمدنی نہ ہو وہاں کام کرنے سے فائدہ بھی کیا— اردو میں وہی چیزیں بکتی ہیں جہاں سنسنی ہو — Yellowجرنلزم —‘بیمار ذہنیت والے اسے خرید لیتے ہیں… کوڑا… انہوں نے ایک بار پھر اس لفظ کو دہرایا۔
’’اس لئے لکھنے کا خیال چھوڑ دو۔‘‘
بدر نے پھر لقمہ دیا ’’عزت مآب محترمہ! آپ اس بات پر کوئی تنقید کرنا چاہیں گی۔‘‘
صوفیہ نے آنکھیں اٹھائیں۔ کچھ دیر تک سوچا گویا ہوئی— ’’لکھنا کوڑا نہیں ہوسکتا۔ ہاں مقصد… یہ نہیں رہا ہے آج… اور شاید اسی لئے پورے لٹریچر کو ابّا نے کوڑا کہہ دیا۔ میں آج لکھنے کو کل سے زیادہ ضروری محسوس کرتی ہوں اور شدت سے۔ آج صحیح طور پر سوئی ہوئی قوم کو جگانے کی ضرورت ہے۔‘‘
میں ان تمام تر چیزوں کو نہیں مانتا…سوئی قوم… جاگی قوم… لیٹی ہوئی قوم… بدر نے پھر لقمہ دیا… یہ سب نقلی رومانیت کے احساس سے زیادہ نہیں ہیں!‘‘
’’ آپ اس رومانیت کے قائل نہیں؟‘‘ صوفیہ ہنسی— جبکہ مجھے احساس ہے کہ آپ کو زندگی کے ہر پہلو میں رومانیت نظر آتی …‘‘ وہ ٹھہری… مگر یقین ہے  آپ ایک دن روئیں گے— ضرور روئیں گے…‘‘
اس کے چہرے پر رونق پھر سے لوٹ آئی تھی… اب وہ بڑے پیار سے ارشد پاشا کو دیکھ رہی تھی۔
’’میں سائنس کی اسٹوڈینٹس ہوں— اور میرا خواب ہے ڈاکٹر بننا—  ویسے آپ کا سبجیکٹ کیا ہے۔‘‘
’’علم کیمیا—‘‘
’’آپ کا‘‘اس نے بدر سے پوچھا۔
’’جو جناب کا ہے۔‘‘
احمد صاحب نے ٹھنڈی سانس بھری… روس میں ایک وقت تھا جب معمولی سے معمولی کسان عورتیں بھی علم کیمیا کی پوری جانکاری رکھتی تھیں اور اس بات پر خاص نظر بھی کہ علم کیمیا میں اور کیا نئے تجربے ہو رہے ہیں لیکن ہماری نسل… آج سائنس گھر گھر پھیلانے کی ضرورت ہے… سائنس کی نئی نئی معلومات— جیسے عیسائی مشنری کے لوگ اپنے مذہب کے لیے کرتے ہیں۔ اس قوم کے معیار کو بلند کرنے کا ایک طریقہ یہ بھی ہے… اس لئے ہمیں خود پبلشر بننا ہو گا۔ اس کے لئے پیسے جٹانے ہوں گے۔ پرنٹنگ مشین بٹھانی ہو گی۔ سائنس کی نئی نئی معلومات حاصل کرنی ہو گی —اور مشن کے ہر شعبوں میں دخل رکھنا ہو گا— تبھی ہم کسی بہت بڑے انقلاب کا جز بن سکتے ہیں۔‘‘
ارشد پاشا اس درمیان زیادہ تر خاموش رہے۔ شاید یہ صوفیہ کا اثر تھا۔  مگر اس دوران زیادہ نظریں بچا کر صوفیہ کی طرف دیکھتے رہے— باتیں کافی دیر تک چلیں۔ پھر چلنے کا وقت آیا۔
احمد صاحب نے دونوں نوجوانوں کو آگے بڑھنے کو کہا۔ قوم کا نام روشن کرنے کے لئے… بدر صرف مسکراتا رہا۔
صوفیہ کی آنکھوں میں عجیب سی چمک تھی۔ اس نے پھر ملنے کا وعدہ کیا تھا۔
واپسی میں بدر نے پھر ارشد پاشا سے کہا… ویسے تم کو ماننا ہو گا میں تمہیں کبھی کسی غلط جگہ پر نہیں لے گیا۔ مانتے ہونا… آج کی محفل سے بھلے کچھ نہ حاصل ہوا ہو مگر صوفیہ…‘‘
وہ ہنس رہا تھا۔ ’’ہے نہ حسین لڑکی اور بلا کی ذہین۔ مجھے معلوم ہے میرے گلفام۔ اب تمہاری خیر نہیں… قوم کے درد کی جگہ اب عشق نے لے لی ہے…‘‘
وہ زور زور سے ہنس رہا تھا۔
اور ارشد پاشا سچ مچ صوفیہ کے خیالوں میں گم ہو گیا۔ وہ واقعی اچھی لڑکی تھی۔
٭٭



(9)

اس درمیان واقعات کے رتھ کافی تیزی سے چلے۔ صوفیہ اور ارشد پاشا کے درمیان ملاقاتوں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ اس میں کوئی عیب کی بات تو نہ تھی مگر جیسا کہ ہر چھوٹے شہر کا اپنا مزاج ہوتا ہے اور خاص کر یہ مرض مسلمانوں کے گھر میں زیادہ دیکھنے میں آتا ہے کہ کہاں کون کیا کر رہا ہے، بس اسی پر نظریں جمی ہوتی ہیں… اس لئے صوفیہ اور ارشد کی کہانی بھی گھر گھر میں گونجنے لگی۔ کہانی بننے میں دیر ہی کہاں لگتی ہے… لیکن جہاں ان دونوں کے ملنے میں کوئی عیب نہیں تھا، وہیں صوفیہ کی آزاد خیالی سے مسلمانوں کے نئے مسیحا مولوی احمد کو ضرور ایک خطرہ پیدا ہو گیا تھا۔ اس لئے کہ اب اس طرح باتیں بھی سننے میں آنے لگی تھیں کہ مولوی احمد پہلے اپنے گھر میں تبلیغ کریں۔ لڑکی کو اتنی آزادی دے رکھی ہے کہ غیر مردوں کے ساتھ گھومتی ہے۔
کہنے والے کتنے ہی تھے— کہ بھائی پہلے اپنے گھر کی تو خبر لو۔ پھر مسلمانوں کی بات کرو— دوسروں کے گریبان دیکھنے چلے ہیں۔
ممکن نہیں تھا کہ یہ باتیں مولوی احمد کے کانوں میں نہ گئی ہوں۔ وکیل صاحب اس چھوٹی سی کانفرنس کے بعد فوراً ہی ہائی لائٹ میں آ گئے تھے۔ ملکی آواز اور الہلال نے بھی سرخیوں میں ان کی خبر کو شائع کیا تھا۔ پرانی دنیا، مسائل اور اخبار وطن، جسے ہفتہ واروں نے بھی— جن کی پورے ملک میں دھوم تھی— مولوی احمد کی تقریر کو نمایاں طور پر جلی حروف میں پہلے صفحہ پر ہی جگہ دی گئی تھی— بڑے بڑے انٹرویو۔ تصویریں — یہ وہ اخبارات تھے جو مسلمانوں کے مسائل ہی چھاپتے تھے۔ وہ بھی نمک مرچ اور کہیں تو پورے مصالحے لگا کر اور ان کے مالک مسلمانوں کی نبض پر انگلی رکھ کر بین الاقوامی شہرت کے مالک بن گئے تھے۔ یہ بھی کہتے ہیں کہ پیڑو ڈالر کے کرشمے نے اخبار کے وطن کے مالک کو کار والا بھی بنا دیا تھا۔ اب تو سارے چھوٹے چھوٹے مدیر کار والے تھے— اور ہندستان میں جہاں بھی اسلام کو خطرے میں محسوس کرتے ہوئے کوئی جلسہ یا کارروائی ہوتی، ان کی شرکت وہاں لازمی ہو جاتی۔ یہ وہاں دھواں دھار تقریر کرتے۔ آنسو ان کی آنکھوں میں ہر وقت موجود ہوتے۔ اچھے لیڈر کی تمام خصوصیات سے ان میں موجود ہوتی— اور پھر قوم کا کیا ہے… وہ تو شعلے اُگلتی تقریر کا مطلب جانتی ہے… مکہ معظمہ جل رہا ہے— آج ہندوستان کے مسلمانوں کو قتل عام جیسی اشتعال انگیز سرخیوں جیسے مصالحے چاہئیں۔ شہید بھٹو اور شہید ضیاء کے کارناموں پر ہی ان کے اخباروں کی بکری منحصر کرتی تھی— اور انہیں پڑھنے والے ہر جگہ مل جاتے— مسلم ہوٹلوں میں… مسلم محلوں میں… چائے پیتے ہوئے… گفتگو کرتے ہوئے… باتوں میں حصہ لیتے ہوئے —اخبار پڑھا ہے… نظریں سرخیوں پر گھوم رہی ہیں… کشمیر سلگ رہا ہے… کب تک مسلمانوں کے خون سے سیاہ تاریخ لکھی جاتی رہے گی۔ کمزور ہاتھ کانپ رہے ہیں… بجھی بجھی آنکھیں غصہ میں سلگ رہی ہیں… ہر طرف قتل و غارت… تم نے وہ خبر پڑھی میاں… نہیں میاں… سارے اخبار بک گئے۔ ایک کاپی بچی نہیں… وہ مولوی احمد والی خبر… کیا تقریر کی ہے… مسلمانوں کو تو ایسا ہی لیڈر چاہئے اور بھی کتنے مسلم رہنما ہیں… مولوی فرقان، سید وہاب الدین، نعمان سیٹھ، مولوی قاسم حسین،امام پشاوری… سب کتنی محبت رکھتے ہیں قوم سے۔ کتنا درد ہے… ہر پل قوم کے دور میں سوکھتے جا رہے ہیں… پوری دنیا میں مسلمانوں پر ظلم ہو رہا ہے۔ پوری دنیا میں مسلمانوں کا گھر جلایا جا رہا ہے… اور اخبار دنادن بک رہے ہیں … سید وہاب الدین، امام پشاوری کے تذکرے ہر مسلم محلے، ہوٹلوں اور گھر گھر چل رہے ہیں… اور اب مولوی احمد کے بھی… وہ ان خبروں کو کاٹ کر فائیل میں لگاتے ہیں۔
اب باہر ایک آفس بنا رکھا ہے۔ چھوٹا سا کمرہ۔ ایک خوبصورت سی میز لگی ہے ۔شاہی بڑی والی کرسی— بیٹھنے کے لیے دونوں طرف لال اور نیلے صوفے— گاڈریج کے سب سے مہنگے صوفے— ایک طرف اخبارات کی فائل ہے۔ ہندی ، اردو اور انگریزی—  ایک نوجوان صفدر کو سکریٹری کے طور پر بحال کیا گیا ہے۔ جو بی اے گریجویٹ ہے مگر بیکار۔ شروع میں ہی شعر و شاعری کا شوق ہو گیا۔ سودو سو کے قریب غزلیں اردو رسائل سے لوٹ آئیں تو ادب سے جی بھر گیا۔ ادب کو کوڑا کرکٹ اور غزل کو بیکار سی شئے کہہ کر جناب نوکری کی تلاش میں لگ گئے۔ گھر پر بوڑھا باپ، پنشن یافتہ— دو نوجوان بہن— ایک بوڑھی ماں— گزارے کی صورت کیا ہوتی— شاعر دوستوں کی واہ واہی سے حاصل ہی کیا ہوتا۔ یوں بھی صفدر دیکھ رہا تھا… پہلے سے زیادہ بیکاری آ گئی ہے اب… اور ہر گھر میں ایسے بیکار اور ذہنی طور پر قلاش نوجوان لڑکے لڑکیاں دبستگی کے سامان کے لئے، اپنے لئے ایک مناسب اور آسان راستہ چن لیتے ہیں… شعر و شاعری، افسانے… ان کی تخلیقات چھپتی ہیں۔ چند ایک لوگ ان کے نام بھی جاننے لگتے ہیں اور انہیں اس سے زیادہ کی غرض بھی نہیں ہوتی— نہ یہ کہ وہ ادب کو کیا دے رہے ہیں… وہ اپنی حسابی کارروائی میں خوش رہتے— ہاں حساب کارروائی…
صفدر غزل کہنے کو حسابی کاروائی کہتا تھا۔ مغز ماری— جوڑ گھٹاؤ— شاید یہ اس کے ایک شاعر کے طور پر ناکامی کی کارروائی تھی یا حقیقت… مگر اتنا ضرور تھا کہ کبھی وہ بھی اس نشے، کا مارا نظر آتا— اور کبھی کبھی اس ذہنی خرافات پر خوب ہنستا کہ واہیات… اتنا بول بلاکر بھی اس شاعری سے پیچھا نہیں چھٹتا۔ واہیات… مگر مولوی احمد سے وابستہ ہونے کے بعد اسے جیسے ایک نئی منزل مل گئی تھی… وہ قوم کو ایک ایسا ’ٹانک‘ مولوی احمد کے ساتھ مل کر پلانا چاہتا تھا جس سے اس قوم میں ایک نئی جان آ جائے— وہ سربلند ہوسکیں… محنت اور عقیدت سے وہ اپنے کام میں لگا رہتا— صبح دس بجے وہ دفتر کا کمرہ کھول دیتا…ٹھیک دس بجے… اس وقت دو بات ہوتی— بوڑھا نوکر، جو مولوی احمد نے ادھر ہی رکھا تھا، وہ باغبانی کے فرائض انجام دے رہا ہوتا… یہ اس کا پسندیدہ مشغلہ تھا۔ صفدر کو دیکھ کر وہ بھاگا ہوا آتا اور وہ اتنا عجلت پسند واقع ہوا تھا کہ ہر بار تیز آنے کی صورت میں اسے کمرے کے دروازے سے دھکا ضرور لگتا— اور صفدر کو کہنا پڑتا… ’بوڑھے میاں! اتنی جلد بازی کا ہے کی… آپ تھوڑا دیکھ کر چلا کیجئے۔
’’اچھا صاحب۔‘‘
بوڑھا سلمان اپنی چھوٹی سی سفید داڑھی پر ہاتھ پھیرتا اور مسکراہٹ سے پھر ایک بار کہتا… بہت اچھا صاحب… پھر اپنے دل میں کہتا… اتنے آہستہ سر میں جیسے خود سے باتیں کر رہا ہو مگر اس کی آواز صفدر کے کان میں داخل ہو جاتی… مگر کیا کروں… آپ لوگ قوم کے لیے یہ کام کر رہے ہیں۔ اﷲ بھلا کرے… بھلا کرے… اتنا کہتا ہوا وہ ایک بار پھر شیشے کی چمچاتی میز پر پوچھا لگاتا۔ اخبار نکال کر سامنے رکھتا اور گلاس میں پانی بھر کرپلاسٹک کے گول ٹکرے سے ڈھک دیتا۔ پھر اچھا صاحب کوئی ضرورت ہو تو… میں یہاں باغیچے میں ہوں …کہہ کر ادب سے جھکتا۔ ایک بار پھر دروازے سے ٹکراتا اور خود کو کو ستا ہوا باہر نکل جاتا—
ادھر سلمان باہر نکلتا اور ادھر صفدر کے دل کی دھڑکن تیز ہو جاتی… وہ گھڑی پر نظر ڈالتا… اور پھر کھلے ہوئے دروازے سے زینہ اترتی صوفیہ پر نظر جاتی جو بُراسامنہ بناتی ہوئی دفتر کی طرف دیکھتی اور ناک بھوں چڑھا کر آگے بڑھ جاتی—
ہے…پتہ نہیں کیا بات ہے… صفدر کے دل کی دھک دھک کافی دیر تک چلتی رہتی۔ پھر وہ اخبارات کی اُلٹ پلٹ شروع کر دیتا۔ مسلم مسائل سے متعلق خبریں ایک طرف— وہ سرخ روشنائی سے ایسی خبروں کو گھیرتا جاتا… مولوی احمد کے تعلق سے جو خبر ہوتی، اُس کی الگ فائیل بناتا—پھر ایسی خبروں کو نشان لگانے کے بعد کاٹنے کے لئے کال بیل پر انگلی رکھتا— بوڑھا سلمان ایک بار پھر اس کی خدمت میں حاضر ہوتا…
’’بس آ گیا صاحب…‘‘
’’چائے ملے گی…؟‘‘
’’کیوں نہیں صاحب‘‘
’’سلمان میاں۔ یہ قوم کا کام ہے… اﷲ آپ کو بھی اس کا اجر دے گا۔‘‘ صفدر مسکراتا… یہ اخبارات لیجئے اور قینچی سے اچھی طرح کاٹ لیجئے۔‘‘
’’جیسا حکم صاحب‘‘
سلمان ہر کام کے لئے فوراً تیار رہتا۔ وہ اندر باہر دونوں کا کام کیا کرتا تھا۔ صفدر کو مولوی احمد نے آٹھ سو مہینے کی تنخواہ پر ملازم رکھا تھا۔ یہ تنخواہ بھی اس وقت صفدر کے لئے کافی بڑی رقم تھی۔ ایک تو مکان کا کرایہ نہیں دینا پڑتا تھا۔ پرانا خاندانی مکان ٹھہرا… بے مرمت… مگر مکان تو تھا۔ تھکے ہارے گھر لوٹنے کے بعد ایک سائبان تو تھا جہاں وہ کچھ دیر آرام کرسکتا تھا۔ اماں جی باورچی خانے میں مشغول رہتیں اور وہاں سے کھانے کی بھینی بھینی خوشبو یہاں تک آتی رہتی۔ دو بہنیں تھیں نکہت اور نشاط —صفدر علی ان دونوں کے لئے بھی اپنی ذمہ داری محسوس کرتا۔ ابا کو پینشن صرف سات سوروپے ہی ملتی تھی اور بیچارے تھے بھی کیا۔ مڈل اسکول میں معمولی ٹیچر… بڑھاپے نے جھکا دیا تھا۔ ’’اخبار وطن‘‘ اور ’’پرانی دنیا‘‘ کے زبردست مداح تھے۔ ایک اخبار کو اس وقت تک چاٹتے رہتے جب تک کہ دوسرا شمارہ نہیں آ جاتا۔ بار بار پڑھتے… صفدر کو کبھی کبھی چڑھ سی ہوتی… ابا بھی کمال کے ہیں اور کوئی رسالہ نہیں لیتے۔ جب دیکھو اخبار وطن اور پرانی دنیا لے کر بیٹھے ہیں… ہونہہ… وہ دل ہی دل میں بڑبڑاتا… اسی لئے مسلمان ترقی نہیں کرتے… یہ  قوم ختم ہوتی جا رہی ہے… لعنت ہے۔
٭٭
اس درمیان واقعات کے رتھ تیزی سے چلے… جیسے صفدر کو ارشاد پاشا پسند نہیں آئے۔ شاید اس وجہ سے کہ وہ صوفیہ سے زیادہ قریب تھے— اور صفدر علی یہ قربت خود بھی چاہتے تھے جو ان کے نصیب میں نہیں تھی۔ اس لئے کئی بار وہ بہت ایمانداری سے اور معصومیت سے دفتر سے چھٹی کے وقت جب دوستوں میں گھرے ہوتے تو اپنے کام کی ذمہ داری اور احمد صاحب وکیل کی مسلمان دوستی کا تذکرہ کرتے ہوئے صوفیہ کے تذکرے پر ایک سرد آہ ضرور بھرتے… ’آہ… گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے… اب بتاؤ تم ہی… جب لوگ صوفیہ کے بارے میں کچھ کہتے ہیں تو شرم سے سر جھک جاتا ہے۔ اب ایسی بھی بے پردگی—  آدمی اونچ نیچ بھول جائے… کالج میں کوایجوکیشن کا مطلب یہ تو نہیں ہے کہ انسان اپنی تہذیب چھوڑ دے… اسلام نے عورت مرد کے رشتے کو بہت نازک بتایا ہے مگر… احمد صاحب بیچارے کو کون سمجھائے…‘
یہ الگ بات تھی کہ اس کے دوستوں کو صوفیہ سے کوئی مطلب نہیں ہوتا— صوفیہ ارشد پاشا سے ملتی ہے، اس کی جانکاری خود ہمارے صفدر میاں ہی دیا کرتے تھے… مگر وہ اپنی کارگزاری پر خوش تھے کہ بڑی اور اہم ذمہ داری نبھا رہے ہیں—مولوی احمد کے ساتھ ساتھ ان کا نام بھی اب اخباروں میں آنے لگا تھا اور اس کا تراشہ الگ سے وہ اپنی فائل میں بھی لگاتے— اپنے لئے ایک الگ فائل بنا رکھی تھی اور موٹے کوٹ کی فائل پر کافی موٹی روشنائی والے قلم سے لال لال سرخیاں لگائی تھیں… ’صفدر علی کی فائل‘…جس دن ایسی کسی خبر میں ان کا نام شائع ہوتا، اُس دن وہ دوڑے دوڑے بازار رحمت علی نکل جاتے۔ جہاں اردو کتابوں اور اخبارات کی ایک قطار سے دوچار دکانیں لگتی تھیں۔ پھر اس کے تراشے کاٹے جاتے۔ اپنے نام کو وہ لال روشنائی سے گھیر دیتے… اس مخصوص فائل میں ایسے چھ سات تراشے جمع ہو گئے تھے— جسے بسا اوقات خالی وقت میں صفدر علی نکال نکال کر دیکھا کرتے اور خوش ہوتے رہتے… سید وہاب الدین اور امام پشاوری کے ساتھ ان کی تصویریں بھی پرانی دنیا اور اخبار وطن میں چھپی تھیں— اس کے تذکرے بھی انہوں نے دوستوں سے ہزاروں بار کئے ہوں گے… اور مشہور ہے کہ ان کے دوست اب ان سے اس لیے بھی کٹنے لگتے تھے کہ صفدر ملا نہیں کہ وہاب الدین اور امام پشاوری سے ملاقات کی باتیں لے کر بیٹھ جائے گا… احمد میاں وکیل کا چمچا…
لیکن صفدر کو اطمینان تھا کہ وہ بہت بڑا کام کرنے جا رہا ہے۔ ایسا کام جس میں اس کی قوم کی بھلائی ہے— اور وہ اس بات سے بہت خوش رہتا تھا اور مطمئن… کہ اب وہ دن دور نہیں جب وقت کی گردش دور ہو گی اور اس کا قطب ستارہ بلند ہو گا… بس وہ اسی ایک لمحہ کا منتظر تھا جب وہ بہت اوپر، بلندی کے آسمان پر نظر آئے گا۔ وہ کہتا بھی تھا—
’’ زندگی بہت مختصر ہے… یہاں ہر شخص اس ایک لمحے کی آرزو میں جیتا ہے… اس ایک خوش بخت لمحے کی آرزو میں جو اس کی تقدیر میں آسمان لکھ دے گا۔ اسے بلندیوں پر پہنچا دے گا۔ یہاں ہر شخص اسی ایک لمحے کے لئے جنگ لڑتا ہے… اب یہ جنگ میں نے بھی شروع کی ہے اور دیکھنا ہے تقدیر کب پلٹی مارتی ہے…
صفدر علی اپنے کام کو ایک جنگ تصور کرتے تھے۔ ایک خاص طرح کی جنگ… صبح دس بجے سے شام چھ بجے تک آفس میں فائلوں میں سردیے نظر آتے… کبھی کبھی آٹھ یا نو بج جاتے… کورٹ سے واپس آنے کے بعد احمد علی وکیل کی خواہش ہوتی کہ تھوڑی دیر صفدر میاں سے باتیں کی جائیں۔ وہ کبھی کبھی رات کے کھانے پر بھی زور دیتے اور صفدر علی کو چار و ناچار رکنا پڑ جاتا۔ اس رکنے کے پیچھے ایک اور وجہ تھی کہ اسی بہانے وہ صوفیہ کو زیادہ سے زیادہ دیکھ سکیں گے جوہر آدھے گھنٹے بعد کسی نہ کسی بہانے احمد صاحب کے کمرے میں ضرور پہنچ جاتی… ابا چائے پیجئے… دوائی کا وقت ہو گیا— کتنے بجے نماز پڑھیں گے— ہر بار وہ عجیب نظروں سے صفدر علی کی طرف نگاہ غلط ڈالتی اور صفدر علی کو لگتا جیسے آدھی سانس اندر اور آدھی سانس باہر… وہ ترچھی نظر سے صوفیہ کی طرف دیکھتے۔ دل دھک دھک کرنے لگتا… وہ اپنے آپ کو سمجھا پانے میں سو فی صدر ناکام ثابت ہوتے کہ وہ صوفیہ سے پیار کرنے لگے ہیں۔
صوفیہ کے جانے کے بعد مولوی احمد تھوڑی دیر تک کچھ ڈکٹیشن دیتے۔ کچھ بات نوٹ کراتے اور پھر کہتے۔ کیا خوب… بھئی خوب… واہ خوب… میاں طے رہا۔ اس بات سے ہنگامہ مچ جائے گا۔ کیوں کیسی رہی… اب دیکھو نا… یہ دماغ تو کمپیوٹر کا دماغ ہے… کچھ باتیں اچانک آ جاتی ہیں ذہن میں۔ اتنی اچانک کہ ہم تیار بھی نہیں ہوتے… خوب کیا خوب…‘
وہ مسکراتے… ہاں تو میاں صفدر علی— اب ،اس دن کا واقعہ لو… ملکی آواز اور الہلال کے نائب مدیر تشریف فرما تھے— کیا خوب… وہ لڑکا بھی تھا… وہی… نوجوان… ارشد پاشا… وہ ذرا ٹھہرے…
صفدر علی کے منہ کا مزہ کڑوا ہو گیا۔ اس نام سے اسے جنم کی چڑھ ہو گئی تھی…
’ہاں تو ارشد پاشا… وہ اچھا بھلا سا لڑکا ہے… بدر… مگر ایک خرابی ہے اس لڑکے میں۔ مذہب نہیں مانتا۔ اب مسلمان لڑکوں میں یہ برائی بھی آ گئی ہے۔ انٹکچلول سمجھتے ہیں اپنے آپ کو اور سمجھتے ہیں کہ مذہب کو برا بھلا کہیں گے تو ان کی تعریف ہو گی… مگر کیا خوب … میاں یہ بات سب سمجھتے ہیں کہ آدمی وہی کھرا ہے جو اپنے مذہب کا سچا ہے… لکھ لو میاں… شاید یہ بات بھی کسی اخبار میں دینے کے کام آ جائے۔ ایک سچے پنڈت اور سچے مولوی کی قدر سبھی کرتے ہیں۔ نوٹ کرتے جاؤ… یہ آج کے مولوی ملا نہیں…
اتنا کہہ کر وہ ٹھہرے… اپنی بات خود ہی غلط لگی۔ اس لیے فوراً بات بدلی… اب گزرے ہوئے کل کا ہی جائزہ لو… کیا قدر تھی جناب فقیروں کی… پہنچے ہوئے فقیروں کی، پنڈتوں کی… سر آنکھوں پر بٹھائے جاتے تھے۔ مجمع لگا رہتا تھا اور آج… دراصل ہم نے اپنی قدریں خود گھٹائی ہیں۔ مانتے ہونا یہ بات… خوب کہی… اب وہ ملا رہے نہ پنڈت… نہ شیخ رہے نہ برہمن… واہ میاں… مان گئے… ہاں تو میں کہہ رہا تھا…‘‘
’’اس دن ارشد پاشا پہلی بار آئے تھے۔‘‘
’’ہاں میاں خوب یاد دلایا۔ اب دیکھو نا… جب سارے لوگ چلے گئے اور یہ دونوں ٹھہر گئے تو سوچا کیوں نہ کچھ دیر گفتگو بھی کر لی جائے۔ ہوسکتا ہے یہ دونوں کسی ڈیلی یا ہفتہ وار اخبار میں ملازم ہوں… اس لئے پوچھا کہ بھائی کرتے کیا ہو… اتنا کہہ کر احمد میاں ہنسے… جانتے ہو… بندے نے کیا جواب دیا… ام ایس سی کر رہا ہوں… وہ دوبارہ ہنسے… بس کیا تھا میرے کمپیوٹر ذہن میں فوراً ایک نیا خیال آیا۔ میں نے پھر پوچھا— وہ تو ٹھیک ہے میاں مگر کرتے کیا ہو…؟ اب تو بیچارہ پریشان— پھر وہی جواب دیا… ام ایس سی کر رہا ہوں۔ بس کیا تھا میں نے ایک بڑی تقریر جھاڑ دی… کہ یہی تو کمزوری ہے قوم کے لوگوں میں۔ ایک آدمی کماتا ہے اور لڑکے جوان ہیں مگر صرف پڑھ رہے ہیں اور ماں باپ کے کندھوں پر بوجھ ہیں… کیوں خوب رہی نا… احمد میاں پھر ہنسے۔
’’مگر آپ کی یہ تقریر تو کئی اخباروں نے شائع کر دی تھی۔‘‘
’’ہاں میاں اور ان باتوں کو خوب سراہا گیا۔ مگر میں یہ کہہ رہا تھا کہ کبھی کبھی ذہن میں پہلے سے کوئی بات نہیں رہتی… اچانک آ جاتی ہے— جیسے دیکھو ابھی… ابھی اس وقت تم سے باتیں کرتے ہوئے ایک نیا خیال ذہن میں آ رہا ہے… نوٹ کرو میاں… قلم کاغذسنبھال لو… اپنی قوم میں کوئی سائنسداں کیوں نہیں ہے…؟ بولو… جواب دو… ارے ایک عبدالسلام سے کیا ہوتا ہے…؟ جہاں نظر دوڑاؤ وہاں ایسے قابل سائنسداں نظر آنے چاہئیں… قابل انجینئر، وکیل، آئی ایس افسر، ہم کیوں نہیں پیدا کرتے… چشتی اکادمی، امام غزالی اکادمی ان کے انگریزی اسکولوں کی طرح…‘‘
’مگر اردو پڑھ کر…‘ صفدر علی نے قطع کلام معاف کرتے ہوئے کہا… ’کون نوکری دے گا۔ اردو کا کیا مستقبل ہے ہندوستان میں؟‘
’’آہ اسے بھی لکھو… جس زبان کا رشتہ روزی روٹی سے الگ کر دو گے وہ زبان دم توڑ دے گی۔ میاں یہ اردو ہی کا دم ہے جو آزادی کے بعد لگاتار مظالم کو سہتے رہنے کے باوجود زندہ ہے اور شان سے زندہ ہے۔ فلم کی زبان اردو، نغمے کی زبان اردو— عام روز مرہ کی زبان اردو— کیا خوب میاں سب نوٹ کرتے جاؤ۔ اور  کل جتنے بھی اخبارات ہیں ہندی، اردو اور انگریزی سب جگہ یہ بیانات دے آؤ…‘‘
صفدر علی نے منہ بنایا۔ ’’ہندی اور انگریزی والے اس طرح کی خبر نہیں چھاپیں گے… ہاں کوئی خاص بات ہوئی تو…‘‘
’’تنگ نظر، متعصب…‘‘ احمد صاحب بڑبڑائے… میں جانتا ہوں سب شرارت ہے ان کی… وہ مسلمانوں کے مسائل میں دلچسپی نہیں لینا چاہتے… اس کو بھی نوٹ کرلو… کہ وہ صرف سیکولر پریس کا بہانہ بنانا چاہتے ہیں جبکہ ایسا نہیں ہے… میرے خیال سے اخبار وطن والے اور پرانی دنیا والے ان لائنوں کو سرخیوں میں چھاپیں گے… کیوں صفدر علی…؟‘‘
’’ہاں صحیح فرمایا آپ نے…‘‘
’’متعصب تنگ نظر‘‘— وہ ایک بار پھر بڑبڑائے… کیا خوب… یاد آیا ارے وہ سلمان رشدی کی کتاب کا آج کل ہنگامہ چل رہا ہے… کیا نام ہے… لاحول ولا قوۃ… Satanic Verses شیطان کی آیتیں… اﷲ کی آیتیں سنی تھی… یہ شیطان کی آیتیں… تم نے سنا اس کی بیوی فرنگی ہے۔ ایسے لوگوں کا کوئی مذہب نہیں ہوتا میاں… تم یہ خبر دے دو —اس طرح کی کتابوں کی بھرپور مذمت ہونی چاہئے… اور ہر شخص کو مذمت کرنی چاہئے اور جو نہیں کرتا وہ فاشسٹ ہے… ہاں فاشسٹ ہے لکھ لو…جو شخص اس کی حمایت میں بولتا ہے اس کا مطلب وہ سیکولر نہیں ہے۔ مسلمانوں کا دشمن ہے۔ آگے لکھو… مولوی احمد دنیا کے ہر ملک سے یہ توقع رکھتے ہیں کہ وہ اپنے اپنے یہاں اس کتاب پر پابندی لگا دیں…
’’مگر محترم! آپ نے یہ کتاب بڑھی ہے—؟‘‘
’خوب فرمایا میاں… شیطان کی آیتیں… اب شیطان بھی قرآن پاک نعوذ باﷲ لکھنے لگے اور تم ایسی کتابوں کے پڑھنے کی بات کرتے ہو— بس ایسی کتابوں پر پابندی لگنی چاہئے… تم دیکھ لینا یہ خبر ہندی اور انگریزی دونوں جگہوں پر شائع ہو گی۔ اس خبر کو سماچار بھارتی یو این آئی ہر جگہ بھیج دو… شابش…
احمد میاں اب مطمئن تھے… ایک نظر انہوں نے پرانی فائلوں پر ڈالی۔ کچھ دیر یونہی ادھر اُدھر کی باتیں کرتے رہے— پھر اچانک انہیں یاد آیا۔
’’ہاں تو میاں۔ اب ہمیں خودبھی ایک اچھا سا اخبار جاری کرنا ہو گا۔ کیوں کیسا رہے گا؟‘‘
صفدر علی تو اچھل پڑے… بیٹھے بیٹھے اچانک انہیں خوش نما خواب نظر آنے لگے… ایک خوبصورت سی کار۔ اُن کے آگے پیچھے بھیڑ لگی ہے۔ وہ تقریر کر رہے ہیں۔ مختلف جگہوں پر بلائے جا رہے ہیں۔ یہ سارے خواب ایک لمحہ میں ان کے سامنے سے گزر گئے۔ وہ اس وقت چونکے جب احمد صاحب ان سے پوچھ رہے تھے۔
’’کہاں کھو گئے میاں۔ اخبار کی ذمہ داری بھی تمہیں سنبھالنی ہو گی۔‘‘
’میں بخوشی تیار ہوں—‘
’’خوب‘‘ وہ آہستہ سے بولے… اب دیکھو نا… آج کے زمانے میں اپنا پریس ہونا بہت ضروری ہے۔ میرے خیال میں سب سے ضروری چیز اپنا لٹریچر چھاپنا ہے اور انہیں ساری دنیا میں تقسیم کرانا۔ پریس کی اہمیت یوں تو ہر زمانے، ہر دور میں رہی ہے— مگر آج، کل سے کہیں زیادہ اس کی ضرورت ہے۔ اُس دن بدر کی بات سے یہ خیال آیا کہ اپنا پریس ہوئے بغیر کام آگے نہیں بڑھ سکتا— بس ایک ہندوستانی آفسیٹ پریس ڈھونڈنا شروع کر دو۔ سیکنڈ ہینڈ مل جائے تو کام شروع ہو جائے۔ مگر ہاں میاں۔ تمہارے ذہن میں اخبار کے لئے کوئی اچھا سا نام ہے۔‘‘
’’کیسا اخبار نکالیں گے آپ—؟‘‘
’’ہفتہ وار‘‘— سوچتے ہوئے احمد علی بولے… ٹھیک رہے گا…؟‘‘
’’ہاں بالکل ٹھیک‘‘ صفدر علی کو اب بھی خواب آرہے تھے۔ اس کے ذہن میں اچانک ایک نام اُمڈا… یہ مجاہد نام کیسا رہے گا؟
’’بس میاں… خوب… بہت خوب… جی خوش کر دیا… بس یہ نام چلے گا۔ میں کل ہی اس نام کو رجسٹریشن کرانے کے لئے دے دیتا ہوں۔ میاں تم واقعی کام کے آدمی ہو… کیا نام ڈھونڈھ کر نکالا…‘‘
٭٭
اس طرح طے پایا کہ مجاہد کو جلد ہی ہفتہ وار کے طور پر نکالا جائے گا اور اسے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جائے گا۔ احمد میاں وکیل نے اس کے بعد دو بار منہ پر ہاتھ رکھ کر جماہی لی۔ واضح تھا کہ دفتر کے بعد کی اس مشغولیت سے اب وہ تھک چکے ہیں… اور آرام چاہتے ہیں۔ اچانک دروازے پر پھر وہ سلمان کا بچہ دکھائی دیا جو پانی کا گلاس لئے تیزی سے کمرے میں داخل ہوا تھا— اور ایک بار پھر دروازے سے ٹکراتے ٹکراتے بچا تھا… اس کی آنکھوں میں اداسی تھی— جیسے وہ اپنے بار بار دھکا کھانے پر رنج کر رہا ہے۔ احمد میاں مسکرادیئے… صفدر علی  خاموشی میں ڈوب گئے تھے… اب تو صرف ہرے بھرے خواب تھے… جوہر پل آنکھوں میں مچل رہے تھے… مدیر کے طور پر تو انہی کا نام جائے گا… پھر تو ہر وقت فون کی گھنٹی بجتی رہے گی… صفدر صاحب کو فون دیجئے۔ وہ سلمان کی ڈیوٹی یہیں لگا دیں گے… فون ریسیوکرنے کے لئے…
 ہفتہ وار مجاہد میٹنگ کی ختم ہو گئی۔ صفدر علی شان سے اٹھے… احمد میاں بھی اپنے کمرے میں لوٹ گئے تھے… رات کے دس بج گئے ہوں گے… آسمان پر تارے کم تھے… کچھ بادلوں کے ٹکڑوں نے آسمان کے زیادہ تر حصے پر اپنا قبضہ جما رکھا تھا۔ شان بے نیازی سے صفدر علی باہر آئے— ان کے قدم ہوا میں اٹھ رہے تھے… ایک لمحہ میں انہوں نے خود کو بہت آگے تصور کرلیا۔ یہ مولوی فرقان، قاسم حسین، سید وہاب الدین اور امام پشاوری کیا ہیں… جب صفدر علی کی قلم چلے گی… تب دیکھنا… قوم کے پرانے دن لوٹ آئیں گے… دھواں دھار قلم… اور چاروں طرف صرف صفدر علی کے ہنگامے ہوں گے… چہرے پر عجب سی خاموشی چھا گئی… دروازے سے باہر نکلتے ہوئے چونک گئے… اندھیرے میں آہستہ آہستہ باتیں کرتے ہوئے دو سائے نظر آئے… اس سے پہلے کہ وہ چونکتے، سرد سی آواز صفدر علی کے کانوں سے ٹکرائی…
’’کیوں میاں صفدر علی —بیمار ہو کیا؟ چہرہ بالکل پیلا پڑا ہوا ہے۔‘‘
صفدر علی نے گھوم کر دیکھا اور جیسے خواب کی وادیوں سے تاڑ کے درخت میں اُلجھ گئے ہو… یہ صوفیہ تھی اور ارشد پاشا… ارشد پاشا طنز سے اس کی طرف دیکھ رہے تھے۔
’’بیمار پڑیں میرے دشمن۔‘‘
’’آپ اپنا علاج کرائیے میاں۔ ایسا لگتا ہے یہ قوم کا درد آپ کو کسی خطرناک قسم کی بیماری میں مبتلا کر دے گا…‘‘
’’مجھے ایسی باتیں پسند نہیں‘‘۔
صفدر علی نے منہ بنایا… منہ کا مزہ کسیلا ہو گیا تھا۔ وہ تیز تیز چلتے ہوئے آگے بڑھ گئے۔ دھیمے قہقہے ابل رہے تھے۔ جن میں ایک نقرئی ہنسی بھی شامل تھی۔ اب وہ کچھ سن نہیں رہے تھے بلکہ تیز بہت تیز اپنے گھر کی طرف بڑھتے جا رہے تھے…


گزرے ہیں کتنے کارواں
ٍ

آگ بجھی ہوئی ادھر، ٹوٹی ہوئی طناب اُدھر
کیا خبر اس مقام سے گزرے ہیں کتنے کارواں
				    —  اقبال






(1)

’ہاں بھیا— کہاں جات ہو— کا کرت ہو بھیّا‘
’ایک ٹھو پان تو منہ میں داب لو بھیّا—‘
کاشی میں گنگا کے گھاٹ پر ارشد پاشا کی آنکھیں نم ہیں— گھاٹ کے نیچے گھاٹیے بیٹھے رہتے ہیں— جن کے پاس پوجا کے لباس اور پوجا کی ڈالیاں چھوڑ کر آپ اشنان کے لیے بھی جاسکتے ہیں۔ واپس آنے پر وہ آپ کو تلک لگاتے ہیں۔ ابھی ایک ایسے ہی گھاٹیے کے پاس نہانے کے بعد واپس آئے ہوئے ایک مرد اور ایک عورت کھڑے ہیں۔ دونوں کی ابھی شاید حال میں شادی ہوئی ہے— ان کے ساتھ ایک بوڑھی عورت بھی ہے— بی اماں کے جیسی۔
گزرے ہوئے مناظر ایک ایک کر کے ارشد پاشا کی آنکھوں کے آگے روشن ہو گئے۔ بسمتیا کے جانے کے بعد بی اماں نے بستر پکڑ لیا— گھر کے ہنگامے رخصت ہو گئے— منڈیر پر آنے والے کوّے اب بھی بیٹھے رہتے ہیں۔ لیکن بی اماں تو گونگی بن گئی تھیں۔ اس درمیان صرف اتنا ہوا کہ لکھنؤ سے راشدہ کے لیے ایک رشتہ آیا۔ لڑکا سعودی عرب میں ملازم تھا— شادی کی جلدی تھی۔ آناً فاناً رشتہ طے ہوا— اور دو مہینے میں ہی راشدہ کی رخصتی کر دی گئی— تغلق پاشا اب کمزور ہو گئے تھے— انور پاشا کو اپنے مستقبل کی فکر کھائے جا رہی تھی —ان کے کچھ دوست عرب ممالک میں جا کر بس گئے تھے— وہ دہلی جانا چاہتے تھے اور بار بار ان کی ایک ہی رٹ تھی— ’’ابھی بھی کچھ نہیں بگڑا ہے— کوٹھی کے خریدار مل جائیں گے— اب ان گھاٹوں کے شہر میں کیا رہنا۔ دلّی میں خوش رہیں گے۔ کوٹھی بیچ کر وہاں چھوٹا سا ہی سہی ایک فلیٹ لے لیں گے۔‘
تغلق پاشا آہ بھر کر رہ جاتے، دمّے نے اب پریشان کرنا شروع کر دیا تھا۔ ریٹائرمنٹ میں کچھ ہی مہینے رہ گئے تھے لیکن اب ان سے چل پھر نہیں ہوتا تھا۔ وہ آرام کرنے کے موڈ میں تھے— ارشد پاشا اُنہیں سمجھاتے تھے۔
 ’ابھی آپ کی ایسی کوئی عمر نہیں ہے۔ آخر دوسرے لوگ بھی تو ہیں آپ ہی کی عمر کے۔ ذرا ان لوگوں کو بھی تو دیکھئے۔ کیسے چاق چوبند رہتے ہیں— حکومت ریٹائر کر دیتی ہے تو کیا ہوا؟ ساٹھ سال کا آدمی— کوئی بوڑھا نہیں ہوتا۔‘ تغلق پاشا مسکرانے کی کوشش میں ہانپنے لگ جاتے۔ ارشد پاشا کے سوالوں کا ان کے پاس کوئی جواب نہیں ہوتا۔ ادھر بابری مسجد کا معاملہ اور بھی زیادہ گرما گیا تھا۔ ہنگامے پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئے تھے— ہندو سنگٹھنوں کی طرف سے لگاتار نفرت کی بارش ہو رہی تھی— اِدھر اے ایس آئی نے مندر کے فیور میں بیان دیا تھا— محکمۂ آثار قدیمہ کے مطابق یہاں مندر ہونے کے کئی وجوہات ہوسکتے ہیں—
٭  کھدائی کے دوران متنازع مقام سے عیسوی قبل تیسری صدی کے مندر جیسے مذہبی مقام کے نشانات ملے—
٭  نویں صدی کے دائرہ نما شیو مندر کے نشان بھی پائے گئے۔
٭  آثار قدیمہ کے افسران کو دسویں صدی کا ایک وشنو مندر بھی کھدائی کے دوران ملا۔ سریوندی کی باڑھ میں یہ مندر بہہ گیا تھا—
٭  تاریخ کے مطابق ۱۲۲۸ء میں گڑھوالی راجاؤں نے نیا وشنو مندر تعمیر کرایا تھا— اسی مندر کو بابر کے سپہ سالار میر باقی نے مسمار کر مسجد بنوائی تھی۔
٭  کھدائی کے دوران ملنے والی مندر کی کئی چیزوں کا بیربل ساہنی انسٹی ٹیوٹ آف پولیو باٹنی نے ٹیسٹ کرنے کے بعد اس کی صحیح تاریخ نکالی— اسے بھی عدالت میں بطور ثبوت رکھا گیا— ممکن ہے اسے بھی عدالت نے اپنے فیصلے کی بنیاد بنایا ہو گا۔
٭  رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ کھدائی کے دوران ملے کئی باقیات کشان کے عہد سے ملتے ہیں۔
٭  کھدائی کے دوران متنازع مقام سے قریب 50 کھمبے، سجے ہوئے پتھر، اینٹ اور دیوی دیوتاؤں کی مورتیاں ملی ہیں—
٭  ۱۵ ویں، ۱۶ویں صدی میں رائج ایرانی برتنوں کے ٹکڑے—
٭  ۱۵ ویں، ۱۶ ویں صدی کی مقامی کاریگری سے بنی چوڑیاں۔
٭  ۱۲ ویں صدی کا ۲۰ سطور کا ناگری خط اور سنسکرت زبان کا وشنو ہری شیلا لیکھ—
ان ثبوتوں کی بنیاد پر سنگھ کے لوگ وقف کمیٹی کے اس دعوے کو خارج کرتے تھے کہ یہ مسجد مغلیہ حکمراں بابر کے عہد میں بنی تھی— معاملہ طول پکڑ چکا تھا— ادھر کشمیر سلگ رہا تھا— برف پوش وادیوں میں آگ لگ چکی تھی—‘ کشمیر کو علیحدہ ریاست کے طور پر دیکھنے والی جماعتیں سامنے آ چکی تھیں—
اور ان سب کا اثر عام مسلمان پر پڑ رہا تھا— جو چاروں طرف سے دہشت میں گھر کر رہ گئے تھے—
ارشد پاشا کی آنکھوں میں آنسو تھے— ایک دن ایک نفرت بھری آندھی  آئی اور بی اماں کو یہ آندھی اپنے ساتھ لے گئی— اس دن شہر میں کارسیوک اکٹھے ہونے والے تھے۔ بی اماں نے وضو کا پانی مانگا۔ ظہر کی نماز کا وقت تھا— انور پاشا پانی لے کر گئے تو بی اماں کی دونوں پتلیاں ساکت ہو چکی تھیں— انور پاشا نے زور کی چیخ ماری—
جنازہ تیار تھا اور ادھر شہر میں فساد کا خطرہ منڈرا رہا تھا— تغلق پاشا کا دمہ اکھڑ گیا تھا— وہ روتے اور ہانپتے ہوئے چیخ رہے تھے—
’نفرت کی یہ آندھی تمہاری اماں کو بہا کر لے گئی— ایک دن یہ آندھی ہم سب کو بہا کر لے جائے گی۔ دیکھ لینا— نحوست کے گدھ منڈرا رہے ہیں— آدم خور ہیں گدھ— بوٹی بوٹی کھا جائیں گے ہماری—‘
شہر میں دفاع ۱۴۴ لگی تھی— اسی دفاع میں خاموشی سے محلے کے چند لوگوں کے کندھے پر سوار بی اماں کا جنازہ اٹھا اور پرانے قبرستان میں بی اماں کو آخری پناہ گاہ نصیب ہوئی—
راشدہ کے شوہر سعودی سے لکھنؤ لوٹ آئے تھے— خبر ملتے ہی راشدہ بھی بی اماں کے آخری دیدار کو آ گئی تھیں— عراق نے کویت پر حملہ بول دیا تھا— عرب ممالک پر اس کے اثرات نمایاں تھے— اب راشدہ کے شوہر لکھنؤ میں ہی بزنس کے خواہش مند تھے—
برامدے میں خاموشی تھی— ماحول میں لوبان کی مہک پھیلی ہوئی تھی— راشدہ نے آنسو بہاتے ہوئے کہا—
’نوج‘ آج پھر کوّے آ گئے ہیں منڈیر پر—‘
غم کے ماحول میں چپکے سے ایک مسکراہٹ داخل ہوئی— ٹھیک اسی وقت کارسیوکوں کا ایک دستہ جے شری رام اور ہر ہر مہادیو کی آواز لگاتا ہوا گزرا— ابّا حضور تغلق پاشا کی آواز گونجی—
’دروازے اور کھڑکیاں بند کر دو— جانے پھر کوئی مصیبت نہ ٹوٹ پڑے—‘
اور یہی وقت تھا جب باہر سے گھبرایا ہوا اسلم گھر کے اندر داخل ہوا تھا—
’غضب ہو گیا—‘
اس کے پیچھے انور پاشا بھی تھے— انہوں نے بتایا—
’دو فرقوں کے درمیان جھڑپ ہو گئی ہے— مدن پورا اور مخدوم پورا میں کچھ دکانیں جلا دی گئی ہیں—‘
انور پاشا چیخ رہے تھے—
’میری تو کوئی سنتا ہی نہیں ہے— یہ دنگے خاموشی سے بی امّاں کو اپنے ساتھ لے گئے— ہمیں بھی لے جائیں گے— روز ان نفرت بھرے نعروں کو سنتے ہوئے خوف محسوس ہوتا ہے—‘
’آگ تو سب جگہ لگی ہے— کہاں جاؤ گے انور پاشا— یہ آگ تو چھوٹے چھوٹے گلی کوچوں سے نکل کر پورے ملک میں پھیل چکی ہے۔ کہاں کہاں بھاگتے پھرو گے—‘ یہ ارشد پاشا تھے—
’اب توبس یہیں کی مٹّی میں دفن ہو جانا ہے— بی اماّں چلی گئیں۔ میرا انتظار باقی ہے— کچھ دن اور انتظار کر لو— پھر بولنے اور بکنے والا کوئی نہیں رہے گا— دو بھائی ہو اور ایک بہن— بٹوارہ کر لینا— مجھے تو کبھی بٹوارہ پسند ہی نہیں رہا— جیتے جی ملک کے بٹوارے میں، میں بھی جھلسا اور بی اماں بھی— ساری عمر اس بٹوارے کو روتے رہے— گھر کا بٹوارہ کیسے کر دیتے—‘
تغلق پاشا کی آنکھوں میں آنسو تھے—
’لیکن تم لوگوں کو روکوں گا نہیں— بڑے ہو چکے ہو۔ اپنی مرضی کے مالک ہو۔ میرے مرنے کے بعد جو چاہے کرنا— لیکن میری زندگی تک اس گھر کا بٹوارہ نہیں ہو گا—‘
وہ ہانپتے ہوئے اپنے کمرے میں لوٹ گئے تھے—
دوسرے دن راشدہ واپس لکھنؤ چلی گئی— گھر کے در و بام میں اب خاموشی کی حکومت تھی— انور پاشا اب دلّی جانے کے لیے خود کو تیار کر رہے تھے— شہر کی فضا ابھی بھی خراب تھی— دلّی کی ایک پرائیوٹ فرم سے انور پاشا کے لیے بلاوا آیا تھا— پھر وہ رُکے نہیں— ایک ہفتے کے اندر ہی وہ دلّی کے لیے کوچ کر گئے—
٭٭
گھر میں اب صرف تین لوگ رہ گئے تھے— گونگا اسلم، تغلق پاشا اور ارشد پاشا— تغلق پاشا اکثر و بیشتر پرانی یادوں کے حجرے میں گم ہو جاتے— ارشد پاشا اپنے مستقبل کو لے کر پریشان تھے— کاشی سے نکلنے والے ہفتہ وار مجاہد نے دیکھتے ہی دیکھتے اپنا ایک مقام بنا لیا تھا— احمد میاں وکیل کو اب سارا ہندوستان جاننے لگا تھا— صفدر کی لاٹری نکل آئی تھی۔
لیکن صوفیہ پریشان تھی— احمد میاں وکیل کی صفدر علی سے نزدیکیاں اب اسے راس نہیں آ رہی تھیں— لیکن ارشد پاشا کی خاموشی نے بھی اسے شدید نفرت میں مبتلا کر رکھا تھا— اس دن سنّاٹے میں جب احمد میاں وکیل نے پیار سے اس سے دریافت کیا— ’’صفدر کیسا لڑکا ہے؟‘ تو صوفیہ کے تن بدن میں آگ لگ گئی تھی— وہ اس سوال کا مطلب جانتی تھی— لیکن ارشد پاشا ابھی بھی اس سچ سے کوسوں دور صرف اپنے بارے میں سوچ رہے تھے۔ صوفیہ کو اپنی دنیا ویران سی نظر آنے لگی تھی—
٭٭
جمعہ کے روز ایک مندر میں پتھراؤ کی خبر آتے ہی شہر کی فضا ایک بار پھر نازک ہو گئی—
یہی وقت تھا جب ارشد پاشا کو حادثے میں بدر کے زخمی ہونے کی خبر ملی تھی۔ وہ باہر نکلنے کو ہوا تو تغلق پاشا نے روک دیا—
’کہاں جا رہے ہو؟‘
جان بوجھ کر ارشد پاشا بدر کی خبر کو چھپا گئے—
’بس ابھی ایک دوست سے مل کر آ رہا ہوں—‘
’زمانہ خراب ہے، جلدی آ جانا—‘
اسلم کو دروازہ بند کر دینے کی ہدایت دے کر وہ تیز قدموں سے بدر کی مزاج پرسی کے لیے نکل گئے—
٭٭
سانس تیز تیز چل رہی تھی— ارشد پاشا کو خبر ملی تھی کہ بدر اسپتال میں ہے— اور اس کی حالت نازک ہے—
وہ بھاگ رہا ہے—
دوڑ رہا ہے—
واقعات کے گھنے کہرے اس کی آنکھوں کے آگے اکٹھے ہو گئے ہیں… سب ایک ایک کر کے ساتھ چھوڑ رہے ہیں…
بی اماں چلی گئیں— انور پاشا کو ان کا کیریر لے گیا— راشدہ دلہن بن کر اپنے گھر چلی گئی اور صوفیہ—
وہ صوفیہ سے لا تعلق ہو کر رہ گیا تھا— بس خبریں مل رہی تھیں… احمد میاں وکیل صفدر علی سے صوفیہ کی شادی کرنا چاہتے ہیں— اور یہ خبر بجلی کی طرح اس کے حواس پر گری تھی— 
ارشد پاشا دوڑ رہے ہیں…
مگر ہر قدم جیسے موت کا اندھیرا— اب صرف خاموشی رہ گئی ہے اور گھر— ایک قید خانہ— وہ اس قید خانے میں کسی قیدی کی طرح زندگی کے دن کاٹ رہے ہیں— اس درمیان اجے سنگھ تھاپڑ اس کے کافی قریب آ گیا تھا— یہ ملاقاتیں پہلے بھی ہوتی رہی تھیں— اور تھاپڑ نے ان چند ملاقاتوں میں اس کا دل جیت لیا تھا— 
آنکھوں کے آگے کے اندھیرے گہرے ہو گئے ہیں—
ارشد پاشا خود کو زندگی کے اس اندھیرے میں گم ہوتا ہوا محسوس کر رہے تھے—
٭٭



(2)

اسپتال کے بے رونق کمرے میں دنیا جہان کی ویرانی سمٹ آئی تھی—
’ہاں، ہم نے کرایا ہے یہ فساد… اور یہ فساد بار بار ہوتے رہیں گے… جب جب وہ اپنی حد سے آگے بڑھیں گے، ہم اُنہیں روکیں گے ___ ہم سمجھائیں گے نہیں۔ کہ سمجھانا ہمارا کام ہے___  وہ اس ملک کے لیے کینسر ہیں… ہم اُن کے راستے میں بارود بچھا دیں گے…‘
’ہاں… ہم نے…‘
ارشد پاشا کے کان میں بار بار یہ آواز گونج رہی تھی اور آنکھوں کے آگے بدر کا چہرہ لہرا رہا تھا___  کوئی فائدہ نہیں… میں مارا جاؤں گا تو…؟ کون بتائے گا۔ کہ میری آئیڈیالوجی کیا تھی…؟ میں تو مارکسسٹ تھا…‘ اُس کی آنکھوں میں آنسو تھے…جمہوری اور اشتراکی نظریہ کو زندگی سمجھنے والا— جسے مذہب کے نام پر مار دیا گیا___   اب سوچتاہوں… میں خیالات کی سطح پر اتنی دور کیوں نکل گیا تھا، کہ اپنوں سے کٹ گیا___   اپنوں سے…‘
وہ رو رہا تھا___  
’’اپنوں سے… کہیں ایک درد جاگ رہا ہے ارشد پاشا___   کہیں مذہب کی بجھی ہوئی ایک قندیل حرکت میں آئی ہے___   کیا میں نے غلط کیا؟___  ‘‘
اسپتال میں چاروں طرف خاموشی تھی… جنرل وارڈ میں، الگ الگ بستروں سے زخمیوں کے کراہنے کی آواز آ رہی تھی…
’نہیں… تم جا نہیں سکتے میرے دوست…سب ٹھیک ہو جائے گا…‘
’وہ…‘
اُس نے دانتوں کو بھینچا… آنکھیں ویران ہو رہی ہیں… دماغ کھو رہا ہے… مگر میرے سوالوں کو کبھی اپنے اندر بھی ٹٹولنا ارشد پاشا اور اس ملک کے حوالے سے سوچنا … وہ درد سے مسکرایا… ابے سالے… کلمہ یاد ہے…
’ہاں…‘
’تو پڑھ نا کیا___  کیا معلوم اوپر جنت جیسی کوئی شے ہو…؟
اُس کی آواز رفتہ رفتہ کھوتی جا رہی تھی… ہو گی تو… تیرے لئے ایک عدد حور تلاش کر کے رکھوں گا۔ مگر سالے آنے میں جلدی مت کرنا۔ ابھی کافی عمر پڑی ہے تیری___   گھر بسا لینا…‘
آنسو جیسے دریا بن گئے تھے… دریا کی لہریں جوش مار رہی تھیں… لہریں جیسے ایک دوسرے سے ٹکراتی اپنے اپنے راستوں کو تلاش کرنے میں لگی تھیں۔ مگر انور پاشا___   وہ درد سے بلبلائے… اسپتال کے کمرے سے باہر آ گئے___   نہیں…وہ دیر تک بدر کے پاس نہیں رہ سکتے… بدر کے پاس… وہ… وہ جا رہا ہے… اننت گہرائیوں میں… وہ جا رہا ہے… مگر جانے سے قبل اُن سوالوں کی زد میں ہے، جس پر کبھی زندگی میں اُس نے غور نہیں کیا… تو کیا یہ سوال اُس کی آئیڈیالوجی کی عمارت کو مسمار کر کے نکلے تھے… یا…؟
یہ سوال ہمیشہ سے موجود تھے—؟
یا ان سوالوں سے فرار ممکن ہی نہیں ہے___  ‘
٭٭
شاید زندگی ہمیشہ اپنے کاروبار میں الجھی رہتی ہے—
اور وقت گزر جاتا ہے—ارشد پاشا کو بس یہ خبر ملی تھی کہ شہر میں ہونے والے دنگوں میں بدر کو بھی ذرا سی چوٹ آئی ہے۔ بدر دنگا کرنے والوں کو سمجھانے کے ارادے سے نکلا تھا۔ اور ان لوگوں نے اسے زخمی کر دیا—
 موت کی اجنبی آہٹ کو اب قریب سے ہر کوئی سن سکتا تھا—
مگر وہ آواز—
وہ درد میں ڈوبی ہوئی آواز—
’ہاں ہم نے مارا ہے…‘
آواز اچانک بلند ہو جاتی۔ آواز اچانک نرغے میں لے لیتی… آواز کانوں کے پاس چنگھاڑنے لگتی…
’ہاں ہم نے مارا ہے…‘ مگر اب یہ کوئی نئی بات نہیں رہ گئی تھی… اب تو ایسے حادثوں کے الزامات اپنے سر لینا شرپسند تنظیموں کے لئے فخر کی بات بن گئی تھی… اور گدھ سینک انسانی لاشوں پر کھڑے فخریہ اعلان کر رہے تھے… ہم نے مارا ہے…
اس تشدد کے بارے میں زیادہ تر بس چپ تھے… مگر سنگھ نے نہ صرف اس تشدد کی ذمہ داری قبول کی تھی بلکہ ضرورت پڑنے پر مزید تشدد جاری رکھنے کی کھلے عام دھمکی بھی دے دی تھی___  
اس درمیان سنگھیوں کے بیانات لگا تار اخبار کی زینت بنتے رہے… ان بیانات میں ایسا ’بہت‘ کچھ تھا، جس سے روحیں کانپ جاتی تھیں… آنکھوں میں وحشت ناچ جاتی … اور دل میں جیسے کوئی آگ کی بھٹّی سلگ اٹھتی …
وہ ہر بار چونکتا اور ہر بار ٹھہر جاتا… یہ بیانات… وہ اندر ہی اندر خوفزدہ ہو جاتا— مگر___   اُسے ہمیشہ محسوس ہوتا… ان بیانات پر کسی کے اندر بھی کوئی ردّ عمل نہیں ہے… وہ لوگ جو سڑکوں سے گزر رہے ہیں، تماشہ دیکھ رہے ہیں۔ گھروں میں ٹی وی سیٹ سے لگے بیٹھے ہیں۔ اگر یہ لوگ خوفزدہ ہیں تو پھر ان بیانات پر کسی کا ردّ عمل احتجاج کی صورت میں سامنے کیوں نہیں آتا___   یا وہی اکیلا ہے جو صرف گھبرا جاتا ہے۔ باقی آرام سے جینا چاہتے ہیں۔ ایسی باتوں میں اُلجھنا نہیں چاہتے___   مگر نہیں۔ شاید ایسا ایکدم سے نہیں تھا___  
ایسے موقع پربھی اُسے بدر کی یاد آتی تھی جو اچانک لمبی خاموشی حاوی کر کے کہا کرتا تھا___   احتجاج کو بھڑکنے کے لئے بھی کسی خاص موقع کی ضرورت ہوتی ہے… ایک خاص مدت گزر جانے کے بعد احتجاج ٹھنڈا پڑ جاتا ہے یا مر جاتا ہے…
اُسے لگتا تھا… نہیں، شاید ایک تیسری صورت بھی ہے… احتجاج ابھی اندر جمع ہو رہا ہے… تھوڑا تھوڑا کر کے… یہ کبھی بھی، کسی بھی موقع پر آتش فشاں کی طرح پھٹ سکتا ہے…
بدر کے آنسو ابھی بھی اُس کی آنکھوں میں لہرا رہے ہیں… میں تو مارکسٹ تھا… میں مر جاؤں گا تو…؟ کون بتائے گا اُنہیں کہ میری آئیڈیالوجی کیا تھی… سالے کلمہ یاد ہے… کیا معلوم اُوپر جنت جیسی کوئی شئے ہو…‘
بدر ___  وہ ہمت اور حوصلہ کی معراج دیکھ رہا تھا… بدر اور زیادہ تڑپا مت بدر___   لہولہان مت کر___   یہ دل تو پہلے سے ہی لہولہان پڑا ہے… اسے اور زیادہ زخمی مت کر… وہ دیکھ رہا ہے… بدر کے جسم سے زندگی جیسے غبارے کی ہوا کی طرح نکل رہی ہے… پاؤں… ہاتھ… وہ اُنہیں لمحہ لمحہ اکڑتے ہوئے دیکھ رہا ہے… جیسے ساری اذیت، ساری تکلیف آنکھوں میں بھر گئی ہو… ہاں آنکھوں میں… وہ مرتے مرتے بھی مسکرا رہا ہو___   آنکھوں میں گہری تکلیف کے باوجود جینے کی ایک چمک بچ گئی ہو… پڑھ نا سالے… مرنے سے پہلے مسلمان تو بنا دے…
شدت جذبات سے وہ بے قابو سا ہو گیا ہے___   وہ آنکھیںآنسوؤں کے سمندر کو روک پانے میں جیسے ناکام سی ہو گئی ہیں___   لب لرز رہے ہیں… تھرتھراہٹ سے ہونٹ ترچھے ہو گئے ہیں… سارا جسم کانپ رہا ہے… اور…
لا الہ… اللہ… محمدؐرسول اﷲ…
لا الہ…
لفظوں پر جیسے برف کی پرت جمع ہو گئی ہے… وہ… جا رہا ہے… ہمیشہ ہمیشہ کے لئے…اُسے موت نے نہیں سلایا ہے… اُسے بھاجپا کے ترشول نے سلایا ہے… اُسے…
بدر کی مُندتی ہوئی آنکھیں جیسے اُس کی آنکھوں میں سما گئی ہیں… سالے رُکنا مت… جب تک آنکھوں میں زندگی بچی ہے، کلمہ پڑھتے رہنا۔ رُکنا مت…
اب___  آنکھوں کے آنسو خشک ہو چکے ہیں___   شاید۔شاید زندگی اور موت کے درمیان جو فاصلہ ہے… اُس فاصلے کو پہچان گیا ہے وہ… یہ فاصلہ اب ختم ہونے والا ہے… موت کی حقیقت— ان دیکھی ان جان تسلّیوں سے پہچان بھی کرا دیتی ہے…
خدا حافظ بدر… خدا حافظ…
فرشتوں جیسی مسکراہٹ چہرے پر سمیٹ کر ہمیشہ کے لئے سو گیا ہے بدر۔ اُس کے لب تھرتھرائے… اِناّللہ… واِنا…
زندگی جبر کے ہاتھوں سے نکل کر کھلی ہوا میں پرواز کر گئی ہے… چلو اچھا ہے… کم از کم وہاں بچہ ٹھاکر تو نہیں ہے… گدھ سینکوں کے پاگل کر دینے والے شور شرابے تو نہیں ہیں…سنگھ اور مہا سنگھ کے ہنگامے تو نہیں ہیں— امام پشاوری اور وہاب الدین جیسوں کا جنون تو نہیں ہے—
٭٭
’کیوں، کیا ہوا، اتنی رات گئے کہاں سے آرہے ہو؟‘
وہ تغلق پاشا کے کمرے کے پاس آ کر ٹھہر گیا ہے___   تغلق پاشا اُس سے پوچھ رہے ہیں___   وہ سرجھکائے خاموش کھڑا ہے___   کمرے میں ہلکا اندھیرا ہے___   تغلق پاشا کی آنکھیں، جیسے اُس کی آنکھوں میں اُتر گئی ہیں___   اُن کا چہرہ برف کی طرح یخ ہو رہا ہے___  جیسے پورے وجود پر برف کی سلّی رکھ دی گئی ہو___   آواز لڑکھڑاتی ہے، ٹوٹتی ہے۔
’بولتے کیوں نہیں؟ جواب کیوں نہیں دیتے۔ کہاں سے آرہے ہو؟‘
پھر جیسے ساری برف یکلخت پگھل گئی___   اُس نے چہرے پر جمے ہوئے برف کو ہاتھوں سے ہٹایا___   آنکھیںاُس بوڑھے وجود پر ٹھہر گئیں، جس نے اُس کے انتظار میں جانے کیسے رات کے اتنے گھنٹے گزارے ہوں گے___  
’جواب کیوں نہیں دیتے؟___  ‘
’جواب ہی تو کھو گیا ہے۔‘
وہ بہت آہستہ سے پھسپھسایا___  
بوڑھی آنکھوں میں لرزہ طاری تھا___  
’کوئی حادثہ تو نہیں ہو گیا—؟‘
’ہاں۔‘
’کیا ہوا ہے!‘
’ایک آدمی مر گیا ہے۔‘ وہ بہت آہستہ سے بولا___   ایک آدمی بس۔ جس ملک میں ہر روز کسی نہ کسی بہانے لاکھوں لوگوں کی ہتیائیں کر دی جاتی ہوں___   وہاں ایک آدمی کا مرنا کوئی معنی نہیں رکھتا___   ایک آدمی کے مرنے سے انسانی برادری کے وسیع و عریض خطّے میں کوئی کمی نہیں آتی___   برّہ اعظم کا کوئی ٹکرا کم نہیں ہوتا___   ایک آدمی تو کوئی حیثیت ہی نہیں رکھتا اباّ حضور___  بس ایک آدمی کم ہو گیا ہے۔‘
تغلق پاشا نے ذرا سا کھانسا___   بستر سے اُٹھنے کی کوشش کی___   آنکھیں، اُس کی آنکھوں میں جم گئیں___  
 ’تمہارا کوئی جان پہچان والا تھا؟‘
’سچ کہا ہے آپ نے___   دُکھ یا غم کو محسوس کرنے کا تعلق بس اسی بات سے ہونا چاہئے کہ وہ آدمی ہمارا کیا لگتا ہے؟ کوئی عزیز،رشتہ دار یا دوست___  ؟ ممکن ہے،آنے والے کل میں ایسا کوئی سوال بھی نہ اُبھرے___   ایسے کسی سوال کی ضرورت ہی پیش نہ آئے___  ‘
بوڑھے ہونٹوں نے پھر پوچھا___   ’پریشان ہو؟‘
’نہیں ___ پریشان ہونا کیسا؟‘اُس کے لہجے میں کڑواہٹ بھری تھی___   ’موت تو تمام پریشانیوں کا سیدھا سادا حل ہے___   جو مر گیا،نجات پاگیا___   جو زندہ ہیں، وہ اس نجات کے بارے میں سوچ رہے ہیں— کب آئے گی موت؟
’ہار رہے ہو___  ‘
تغلق پاشا بستر سے اُٹھ کر دو قدم چلے___   چال میں لڑکھڑاہٹ سوار تھی —مگر آنکھیں روشن__آنکھیں جیسے کسی گہری فکر میں ڈوبی ہوئی تھیں__ ’کام نہیں ملا ہو گا۔میری طرف سے بھی پریشان ہو گے___  آگے کیا ہو گا؟ جیسے سوالوں سے___   مگر اِن سے کیا ہو گا ارشد پاشا؟ اِن سب کے باوجود، وہ اپنے لہجے کی تھرتھراہٹ محسوس کر رہے تھے— ’یعنی جو ہو رہا ہے، جو کچھ ہوا، یا جو آگے ہو گا، اُس کے باوجود___  تمہیں زندگی سے پیار کرنا چاہئے۔ زندگی سے پیار کرنے کا حق ہے تمہیں___   مجھے دیکھو___  کیا ہے اب اس زندگی میں؟ کچھ بھی نہیں۔ کوئی نشہ نہیں___   کوئی خواب نہیں___  تنہائی کا بے جا شکوہ کروں تو جو بھی زندگی ہے، اُسے عذاب بنا لوں___   جینا پڑتا ہے ارشد پاشا___   اس لئے کہ ہر طرح کے مصائب کے باوجود جیتے رہنا ایک ضرورت بن جاتی ہے مجھ سے سبق لو___   تم بتاؤ، مجھے کیوں جینا چاہئے—؟ جس کے پاس نہ حسرتیں ہیں، نہ کوئی اُمنگ نہ ولولہ___   پھر بھی کچھ باقی رہ جاتا ہے… ہزار حادثے کے باوجود بھی___   جیسے، سارے عذاب سے گزرنے کے بعد اب یہ دیکھنا چاہتا ہوں کہ تم اپنی زندگی کیسے گزارتے ہو—؟ اسے سنوارنے کا جتن کرو ارشد پاشا— اُن سوالوں کو وہیں چھوڑ دو، جس منزل سے بھٹک کر حیران پریشان اس ڈیوڑھی پر آکر مجسم سوال بن کر کھڑے ہو جاتے ہو؟‘تغلق پاشا کی آنکھیں نم تھیں—
’ہم تو سمجھے تھے کہ اے میر! یہ آزار گیا۔ مگر آزار کہاں جاتا ہے___   وہ میرا دوست تھا___   نہیں مجھے اس کا زیادہ غم نہیں ہے، اس کا شکوہ بھی نہیں کہ یہ دنیا ایک آدمی کے مرنے کا غم نہیں منایا کرتی___   مجھے کوئی گلہ نہیں ہے— مگر ساری زندگی ہم ایک آئیڈیالوجی کو بُننے اور اُس سے زندگی سنوارنے میں گزار دیتے ہیں___   پھر کیا ہوتا ہے —یہ ساری زندگی کی تلاش کا حاصل ایک نقطہ___   جس کے لئے سو سو جتن کئے جاتے ہیں اُس ایک مرکز، ایک نقطے پر پہنچنے کے لئے— مگر کیا ہوتا ہے___   ایک بہت بے رحم لمحے میں، وہ آئیڈیالوجی ایسے ٹوٹتی ہے جیسے کانچ کا برتن بھی نہیں ٹوٹتا ہو گا___   ایک بہت بے چین کر دینے والی ساعت میں زندگی کی تمام سانسوں سے بُنی گئی آئیڈیالوجی کا مذاق اُڑانے کی خواہش ہوتی ہے… کہ دھت، اسی لئے جئے— عمر تمام کی___   زندگی کے فلسفوں کو آلام کوٹھری میں جگہ دی___   اسی دن کے لئے___   صرف ایک شخص مرا نہیں ہے اباّ حضور___   آئیڈیالوجی کی موت ہو گئی ہے___  
وہ ٹھہرا تو اُس نے تغلق پاشا کو دیکھا، جن کی آنکھوں سے ایک قطرہ اشک باوجود ضبط اور کوشش کے بہہ کر، رخسار سے ہوتا ہوا کپڑوں میں جذب ہو گیا تھا___  
’سچ کہتے ہو—‘وہ واپس پلٹے۔تھرتھراتے قدموں سے دوبارا بستر پر بیٹھ گئے۔ سچ کہتے ہو___   مرنے سے زیادہ خطرناک ہوتی ہے آئیڈیالوجی کی موت___   خوابوں کے ٹوٹنے سے کہیں زیادہ اذیت ناک___   کون گزر گیا؟‘
’بدر___  ‘
اُس نے آنکھیں پھیر لیں___  
اُس نے تھرتھراتی سی آواز سنی__   اِناّ للّٰہِ واِناّ اِلیہِ راجِعوُن۔
’کیا ہوا تھا اُسے؟‘
ارشد پاشا کا لہجہ کسیلا تھا___   ’آسمان نہیں، زمین پر منڈراتے ہوئے گدھوں نے جان لے لی اُس کی—‘ وہ چیخ رہا تھا___   ’یہ کیسا ملک ہے اباّ حضور‘ آپ پوچھ سکتے ہیں مجھ سے کہ آج مجھے کیا ہو گیا ہے۔ اس سے پہلے بھی میں نے لاشیں دیکھی ہیں۔ ایک دو تین نہیں کتنی کتنی لاشیں___  لیکن اس سے قبل کبھی بھی ایسا پاگل پن مجھ پر سوار نہیں ہوا تھا___  تہذیب اور ارتقاء کی اتنی صدیاں گزارنے کے بعد بھی حلوانی اور نابنائی جیسے کرداروں کی اس ملک میں پوجا کیوں ہوتی ہے___ گدھ اُڑانے والے بچہ ٹھاکر ایک ریاست ہی نہیں، ملک کے ایک بڑے حصے کے ہیرو کیسے بن جاتے ہیں… وہ لوگ، جن کے ہر ایک بول میں فرقہ پرستی کا لہو جما ہوتا ہے___ان کے میٹھے اور سنجیدہ چہرہ پر بے گناہوں کے خون کے چھینٹے لوگ محسوس کیوں نہیں کرتے___؟ اِن لوگوں کو گولیاں کیوں نہیں ماری جاتیں___ ختم کیوں نہیں کیا جاتا___ یہ لوگ ایک ملک کے مستقبل، محافظ اور رہنما کیسے بن جاتے ہیں___؟ ایک بڑی جماعت انہیں ہیرو کیسے سمجھ بیٹھتی ہے___ نہیں— مجھے بتا لئے اباّ حضور___ کچھ اور بھی پوچھنا چاہتا ہوں آپ سے___
ٍ اُ س نے آنکھیں، تغلق پاشا کے کمزور ہوتے وجود پر مرکوز کر دیں — ’آج اپنے اور گھر کے بارے میں سوچ رہا تھا۔  آپ کے بارے میں — ایک پرانی تواریخ کے گواہ بن گئے ہیں آپ___ ایک زندگی گزاری ہے اس ملک میں ___اس ملک کی بیس کروڑ آبادی سے نہیں، صرف آپ سے پوچھتا ہوں، کہ اگر کہا جائے صرف خاندان کا اتہاس بتانے کے لئے تو کیا بتائیں گے آپ___ نہیں کچھ بھی نہیں ہے آپ کے پاس۔  خزانہ خالی ہے آپ کا اور یہی ہے سچ بات __آپ کیا بتائیں گے اباّ حضور، یہ سچ میں بتا رہا ہوں __
’دو بھائی تھے ___ایک بھائی ملک کی تقسیم کے بعد پاکستان چلا گیا ___اُس ملک کی تقسیم کے بعد جو پلاسی کی جنگ ہارنے کے بعد، انگریزوں کی، 200برسوں کی غلامی کا شکار ہو گیا___ اور دو سو برس سے پہلے کی تواریخ بھی کچھ بہت زیادہ شفاف نہیں ہے___ اس میں بھی وہی تذکرے ہیں — اپنی خود غرضی کی، خون آشام جنگوں کی— اُن نفرتوں کے قصّوں کی کہ بھائی نے اقتدار کے لئے بھائی کا خون بہا دیا___ آپ کے پاس اس سے زیادہ کوئی کہانی نہیں تھی کہ رو پیٹ کر اس بھائی نے اپنی سلامتی کے لئے، اپنی نہیں، اپنے مذہب کی سلامتی کے لئے وہ ملک چُنا جہاں اُس کا مذہب زندہ رہ سکتا تھا ___اور آپ نے ساری زندگی اُس بھائی کا دُکھڑا روتے ہوئے گزار دیا___ ایک خاتون آپ کی زندگی میں شریک سفر تھیں جو میری ماں تھیں ___ خدا ترست اور اندھ وشواس کی ماری___ میرا ایک چھوٹا بھائی تھا، جو گندے پولیتھن کو جمع کرتا تھا___ آپ کی وہ زندگی تھی، جو کلرک کے طور پر ڈی او آفس میں گزر ہی تھی___ ایک زہریلی ہوا چلتی ہے اور پھر___ صرف ہم اور آپ رہ جاتے ہیں ___ اور کیا خبر کہ اس کے بعد چلنے والی زہریلی ہوا زندگی میں اور کیا رنگ دکھائے___ مجھے بتائیے اباّ حضور، کہ اس زندگی میں، لمبی زندگی میں — وہ کیا ہے جسے چمکتی، آنکھوں کے ساتھ بتایا جائے___؟ جسے سناتے ہی سب اپنے ہوش کھو دیں ___ کیونکہ حقیقت، یہی ہے، آج انجانے میں ہم سے وہ وراثت چھینی جا رہی ہے— وہ ہمیں کھوکھلا کر رہے ہیں ___ یہ ملک، اس ملک کے نابنائی اور حلوانی ہمیں توڑ رہے ہیں ___ اگر، یہ ابا حضور المیہ ہے تو اس المیہ کو محسوس کیوں نہیں کیا جاتا___؟  کوئی آدمی گولیوں سے بھری ایک بندوق لے کر، اُن کے درمیان شامل کیوں نہیں ہوتا— جانوروں  کو راستے سے ہٹانے کے لئے___ گندگی صاف کرنے کے لئے__‘
’نہیں یہ ہر دور میں ہوا ہے۔  ہوتا رہا ہے__‘ تغلق پاشا دھیرے سے بڑبڑائے__ ایک قوم فاتح کہلاتی ہے اور دوسری مفتوح__ ایک اپنے بلند ہونے کا جشن مناتی ہے تو دوسری اپنی بربادیوں کا ماتم منانے کی تیاری کر رہی ہوتی ہے___ بولتے بولتے تھک گئے ہو گے— اُجڑا میں بھی ہوں ___ تم سے زیادہ اُجڑا ہوں ___ تم اُس عورت کے ساتھ کم رہے___ میں زیادہ رہا ہوں ___ کم وبیش تم سے 20-25سال زیادہ ___اُس عورت کے ساتھ جو تمہاری ماں تھی___ جو کہانی تم نے سنائی، وہ تمہیں میں بھی سنا سکتا تھا۔  مگر یہ سب… دل کی بھڑاس نکال کر کیا کہنا چاہتے ہو تم___ بس اتنی سی بات کہ ایک تہذیبی ورثہ ختم ہو رہا ہے___؟ تہذیب کی قندیلیں بجھ رہی ہیں ___؟ پہلے ہم سے داستانیں چھینی گئیں ___پھر حقیقی زندگی سے جڑی ہوئی وہ کہانیاں جو آنے والی نسلوں کو بتانے کے کام آیا کرتی تھیں — مگر تم صرف، اتنی دیر سے صرف ایک قوم کو ہی قصوروار ٹھہراتے کیوں آ رہے ہو___؟ وہاں صرف نابنائی اور حلوانی ہی تو نہیں ہیں ___
تغلق پاشا ہانپ رہے ہیں ___ ’تمہیں صرف زمین پر منڈرانے والے گدھ ہی نظر آئے؟ امام پشاوریوں اور سیّدوہاب الدینوں کی زبان میں لپٹے ہوئے سانپ تمہیں دکھائی نہ دیئے—؟ آہ، قصور تمہارا نہیں ___ اِن سانپوں کو زیادہ کچلنے کی ضرورت ہے ارشد پاشا___ تم نے سچ کہا— میں نے ایک لمبی عمر گزاری ہے— اس لئے تم سے زیادہ تاریخی خزانہ ہے میرے پاس— اور اس لئے اس حقیقت کو تم سے زیادہ پہچانتا ہوں کہ ان کے یہاں ہم سے زیادہ لبرل اور سیکولر کردار کے لوگ رہتے ہیں ___ہاں وہ لوگ جو ہم سے زیادہ نابنائیوں اور حلوانیوں کو گالیاں دیتے ہیں — اور اس جنون کے خاتمے پر ملک کے سیکولر کردار کی فتح کے نام پر جام جشن پیتے ہیں ___ مگر ہمارے یہاں ___ ایک اجودھیا کا المیہ ہوتا ہے___ اور ہم جانتے ہیں —اس المیہ کا قصوروار نفرت کی بارش کرنے والوں سے زیادہ وہ چہرے ہیں ___ جو ہمیشہ سے بکتے رہے ہیں ___ جن کی خون اُگلتی سرخیاں صرف اخباروں تک نہیں رہتی ہیں ___ پرائم منسٹر کے سامنے جن کی گردنیں خم ہو جاتی ہیں اور جیب نوٹوں کے وزن سے جھک جاتے ہیں اور پھر لمبے وقفے کے لئے یہ اپنی زبانیں خاموش کر لیتے ہیں ___‘
’تمہیں، یہ سب بتانے کی ضرورت نہیں ہے— کہ یہ سب وہ باتیں ہیں، جو اس ملک کا بچہ بچہ جانتا ہے___تم ہوا کا رخ پہچاننا ہی نہیں چاہتے ہو تو…
’پہاڑوں کو برابر کرنا ہو گا۔ ‘
ارشد پاشا کی آواز بوجھل تھی___ ’پہاڑوں کے درمیان سے راستہ بنانے کے لئے پہاڑوں کو کاٹنا ہو گا، تراشنا ہو گا___ یہ سب بارود کے دھماکے سے ہی ممکن ہے___ ان کے خاتمہ بالخیر سے ہی ایک نئی تہذیب وجود میں آ سکتی ہے___ آپ نے سچ کہا۔  آپ کی نسل کو سلام___‘
اُس کی آواز درد میں ڈوبی تھی___ ’ہم گمراہ ہو جاتے ہیں — ایک حادثہ اچانک ہمارے لبرل کردار کو مشکوک بنا دیتا ہے___ ہم مذہبی بھٹّی میں تپادینے پر مجبور کر دیئے جاتے ہیں ___ شاید اس ملک کے ساتھ یہی ہوتا رہا ہے___ ‘
’کس کے نصیب کو کوس رہے ہو___؟‘
تغلق پاشا اُس کی طرف گھومے___ اس بار اُن کا لہجہ سخت تھا___ باہر شام کا گھنا اندھیرا پھیل چکا تھا___ زور سے بجلی کڑکی تھی___ بجلی کی چمک کھڑکی کے شیشے پر ایک لمحہ کو کوندی اور تغلق پاشا کی آواز میں کھو گئی___
’بہت دیر سے تمہاری یہ باتیں سن رہا ہوں۔  ہمت جواب دے گئی ہے___ اب بوڑھا ہو گیا ہوں ___عقل کام نہیں کرتی ___ورنہ یہ ضرور کہتا کہ یہ سب بکواس کس کے لئے___ کہنے سے خوف کھاتا ہوں کہ گرم خون پلٹ کر بوڑھے وجود میں جواب کی سل نہ اُتار دے___ ہاں، کس سے کہہ رہے ہو یہ سب— اِن دیواروں سے— کمرے سے؟ چھت سے یا اپنے آپ سے___ کیا یہ فریاد ہے؟ شکایت ہے یا سب کچھ اندر سے نکال کر خالی ہو جانا چاہتے ہو، انور کی طرح___‘
’شاید آپ سچ کہتے ہیں ___‘وہ آہستہ سے بولا… سچ کہتے ہیں … اپنا آپ خالی ہو گیا تو…؟ پھر کسی بھی طرح کی جنگ کے لئے اندر قوت کہاں رہ پائے گی ___میں اپنے کمرے میں جا رہا ہوں۔  ضرورت پڑی تو آواز دے دیجئے گا مجھے…‘
قدم نڈھال تھے… آہستہ آہستہ زمین پر پڑ رہے تھے___ اس حادثے نے جیسے اُس کے جسم کا سارا خون ہی نچوڑ لیا تھا___ مگر ارشد پاشا نہیں جانتے تھے کہ ابھی ایک اور حادثہ ان کا انتظار کر رہا ہے—

کچھ دن اور گزر گئے—
 اس درمیان ارشد پاشا صوفیہ سے نہیں ملے—
دنیا نے تجربات و حوادث کی شکل میں 
 جو کچھ مجھے دیا ہے وہ لوٹا رہا ہوں میں 
 تجربات و حوادث نے ارشد پاشا کو تنہائی کے قید خانے میں ڈال دیا تھا— اس درمیان میں وہ کسی سے بھی نہیں ملے—  اخبارات اسے کاٹ کھانے کو دوڑتے تھے—
 شاید یہی ہوتا ہے۔  زندگی کبھی کبھی آپ کا امتحان لیتی ہے۔ 
٭٭



(3)

باہر ابھی بھی زور زبور سے بادل گرج رہے تھے___ پانی برسنے کی آواز بھی آ رہی تھی… جھم… جھم… جھم… جھم___
باہر بارش ہو رہی ہے… مگر ایک بارش اندر بھی ہو رہی تھی… خیالات کا ایک سیلِ رواں تھا اور وہ مسلسل اندر سے نم ہوا جا رہا تھا… اتنی بڑی کائنات۔  زندگی کا یہ سفر اُسے پتہ نہیں کہاں لے جائے___
بجلی پھر زور سے چمکی تھی___
کھڑکی پر پڑے پردے کو چیرتی ہوئی، آنکھوں میں اُتر گئی تھی بجلی… وہ اپنے اندر کے زخموں کو کریدتے ہوئے ڈر رہا تھا… نہیں، یہ سارے زخم اُس نے چھپا لیے ہیں … برف کے ٹکڑے ڈال دیے ہیں احساس کے ’زخموں ‘ پر… کہیں زخم رسنے لگا تو…؟
باہر دستک ہو رہی ہے… نہیں، اس وقت کون آئے گا۔  وہ بھی اس طوفانی بارش میں ___ وہم ہے اُس کا۔  اندھیرے اور تنہائی میں انسان کا واہمہ دستکوں میں تبدیل ہو جاتا ہے… ٹھک… ٹھک… 
نہیں صرف اُس کا وہم ہے___
آگے بڑھ کر کھڑکی کا پردہ ہٹانے کی خواہش ہوئی تو بی اماں کی آواز نے جیسے قدم پکڑ لیے___ نوج، بارش میں کوئی چمکتی ہوئی بجلی کو دیکھتا ہے…؟‘
ذہن کے دھندلے گوشے میں اب روشنی تھی اور وہاں بی اماں مسکرا رہی تھیں … اتنی خاموشی___ اس گھر میں تو کبھی ایسی خاموشی نہ تھی۔  پھر کیا ہوا… سارے کے سارے کہاں کھو گئے… آنکھوں کے پاس نمی لہرا رہی ہے…
ٹھک… ٹھک…
نہیں، کوئی واقعی ہے… سچ مچ کی دستک ہو رہی ہے…اُس نے کان لگایا… ہاں سچ مچ کوئی ہے۔  مگر اس طوفانی بارش میں ___ چھت پر بارش کے موٹے موٹے قطرے گرنے کی آواز آسیب زدہ معلوم ہو رہی تھی___
وہ اُٹھ کر چلتا ہوا دروازے تک گیا___ پانی کی بوندیں اُسارے میں بھر گئی تھیں ___ یہیں پاس والا کمرہ اباّ کا ہے۔  اُس نے اباّ حضور کے کمرے کی طرف دیکھا___ تکیہ پر سر ڈھلک گیا تھا۔  سرہانے تسبیح پڑی تھی… مطلب، اباّ حضور کو نیند آ گئی ___وہ باہر والے دروازے کی طرف بڑھا___ اور چٹخنی کھول دی… اور اچانک ایکدم سے تھم کر رہ گیا___
سامنے صوفیہ کھڑی تھی۔  ہاتھ میں چھوٹا سا بریف کیس پکڑے— بارش سے شرابور___
’تم !اس وقت___‘
’’اندر آنے کو نہیں کہو گے؟‘
صوفیہ کے لہجے میں ٹھہراؤ تھا ___سرکے بال، چہرے سب بارش میں نہائے ہوئے تھے… پانی کی ننھی ننھی بوندیں زلفوں سے ہوتی ہوئی پیشانی، رُخسار اور ہونٹ نم کرتی ہوئی زمین پر گر رہی تھیں … اُس نے صوفیہ کی آنکھوں میں جھانکا ___اُف کس قدر ہیبت ناک سناّٹا___ ایسا سناّٹا تو، ایسی خاموشی تو کسی آنے والے طوفان کا پیش خیمہ ہوتی ہے___
’اس بارش میں …؟‘
وہ اپنے لہجے کی تھرتھراہٹ خود بھی محسوس کر رہا تھا___
’رات کافی ہو چکی ہے ___اور میں بھیگ بھی چکی ہوں۔  ہاتھ میں بریف کیس بھی ہے___ کیا تمہیں ان سب کے معنی سمجھانے ہوں گے ارشد پاشا___؟‘
اُس نے لاجواب ہو کر صوفیہ کی آنکھوں میں دیکھا___
’معاف کرنا، کچھ عادتیں رہ جاتی ہیں ___ اندر آ جاؤ___‘
اُس نے دروازہ بند کیا___
باہر اب بھی پیٹ پیٹ کر بارش ہو رہی تھی___ گیلری سے گزرتے ہوئے اُس نے اباّ کے کمرے کی طرف نظر ڈالی۔  وہ شاید نیند میں سو گئے تھے___
وہ صوفیہ کو لے کر کمرے میں آ گیا ___صوفیہ کے کپڑے جسم سے چپک گئے تھے___ اُس نے اپنی اُٹھتی چڑھتی سانسوں کو برابر کیا___ اس بار وہ مسکرایا تھا___
’پہلے کپڑے بدل لو___ وہاں۔ وارڈ روب میں کچھ کپڑے ہیں۔  تب تک میں تمہارے لئے کافی گرم کرتا ہوں ___‘
صوفیہ کے لہجے میں اب بھی وہی ٹھہراؤ تھا___
’چائے مل سکتی ہے؟‘
’ہاں کیوں نہیں۔ ‘
’بہت بھیگ چکی ہوں ___اس وقت چائے کی طلب ہو رہی ہے۔ ‘

صوفیہ نے وارڈ روب کھولا، اپنے لئے ایک لباس پسند کیا اور باتھ روم میں داخل ہو گئی___
اُس نے اپنا جائزہ لیا___ نہیں ___اُس کی سانسیں اب بھی برابر نہیں ہوئی تھیں۔  باہر بارش تیز تھی۔  چھت سے ٹپ ٹپ کی تیز صدا بلند ہو رہی تھی۔  اُف! کمرے میں کس قدر اُمس ہے۔  کھڑکی کھول دینی چاہئے۔  کم از کم ٹھنڈی ہوا تو آئے گی۔  آگے بڑھ کر اُس نے کھڑکی کھول دیا اور اچانک ایک لمحے کو ٹھہر گیا___
وہیں کھڑکی کے قریب صوفیہ نے اپنا بریف کیس رکھا تھا۔  بریف کیس کے اردگرد ذرا سا پانی جمع ہو گیا تھا___ اُسے لگا، اُس کے اندر بھی اچانک موسلادھار بارش شروع ہو گئی ہو___ اور بارش سے اُس کا پورا جسم بھیگنے لگا ہو___
ذہن کے گوشے میں کہیں، کوئی اک مسکراہٹ بجلی کی طرح کوندی___ وہ پتہ نہیں کتنے برس پیچھے چلا گیا___ صوفیہ مسکرارہی ہے___ صوفیہ ہوا میں لہرا رہی ہے… صوفیہ کی آنکھوں میں اُس کی اپنی تصویر بن گئی ہے___
زندگی کے ریگستان میں، 
چلتے چلتے، اچانک ایک دن بہت تھک جاتے ہیں ہم/
پھر سہارا ڈھونڈتے ہیں ___
پھر اپنی کمزوریاں آڑے آ جاتی ہیں ___
ندی کا ریلا مٹّی کو کاٹتا ہوا گزر جاتا ہے…
پھر سہارا گُم ہو جاتا ہے…
وہ چلتے چلتے کسی ریگستان میں گم ہو گئی___ ایک دم آنکھوں سے اوجھل… چلتے چلتے___ آنکھوں میں صرف پرچھائیاں رہ گئیں ___اور___ پھر پرچھائیاں بھی اوجھل ہونے لگیں …
کھٹ کی آواز ہوئی___ خیالوں کے سلسلے منتشر ہوئے۔  اُس نے دیکھا___ باتھ روم کا دروازہ کھلا___ اُس کے پینٹ اور شرٹ میں ملبوس صوفیہ کھڑی تھی… نہیں صرف کپڑے اُس کے تھے۔  جسم صوفیہ کا تھا… پھر اچانک… پل میں سب کچھ گڈمڈ ہو گیا… جسم اُس کا تھا اور کپڑے___ صوفیہ کو اُس نے کبھی مرد کی آنکھوں سے نہیں دیکھا___ مگر ابھی… جیسے نظریں اُس کے جسم پر مرکوز ہو کے رہ گئیں ہیں … اُف، کس قدر شگفتہ اور کھلا کھلا چہرہ… کسی نوخیز پھول کی طرح… بس ابھی ابھی جس کی پنکھڑیاں، شبنم کے قطرے سے زندگی پاکر پھیلی ہوں … بس ابھی ابھی…
اُس کے بال ابھی ابھی گیلے تھے___ ہاتھ میں ٹاوِل تھا۔  وہ بال سکھا رہی تھی___
اُس نے صوفیہ کی آواز سنی___
’اباّ سو گئے؟‘
’ہاں ‘
اباّ جاگ گئے تو___؟
اُسے لگا، صوفیہ کی آواز میں طنز کی نشتریت ہو___
’کیا کہو گے اپنے اباّ سے___ ایک جوان لڑکی بارش میں بھیگی ہوئی تمہارے گھر آتی ہے___ تمہارا باتھ روم استعمال کرتی ہے۔  تمہارے کپڑے پہنتی ہے، وہ بھی اس طوفانی رات میں … بارش میں …‘
’اباّ سے کوئی بہانہ بنا دوں گا___‘
’ابھی بھی سچ کے اظہار سے خوف آتا ہے تمہیں ___؟‘

وہ مستقل ٹاول سے بال سکھانے میں لگی تھی___ ’جھوٹ کیوں بولو گے تم؟‘
اُس کا چہرہ پتھروں جیسا سخت ہو رہا تھا___ بولو؟کیا میں کل غلط تھی؟ تم غلط تھے…؟ اور آج___ اپنی کمزوریوں پر ہم جھوٹ کا پردہ کیوں ڈالتے ہیں ___؟ سچ کہنے کی ہمت کیوں نہیں رکھتے___؟‘
’مزاج___ وہ کہتے کہتے ٹھہر گیا___ بس، ایک مزاج بن جاتا ہے___ ایک موسم دبے پاؤں آ کر زندگی میں ٹھہر جاتا ہے۔  پھر ہم وہی دیکھنا چاہتے ہیں جو بار بار آنکھیں دیکھتی رہی ہوتی ہیں ___‘
’تم پوچھو گے نہیں کچھ؟ سوال نہیں کرو گے؟‘
و ہ ہنس رہی تھی…
اُس کی آنکھوں میں بچوں جیسی کھلکھلاہٹ تھی___
وہ چونک گیا…
’اتنی رات گئے…‘
’یہ تم پہلے بھی کہہ چکے___ اتنے کمزور کیوں ہو تم___ میری طرف نظر اٹھا کر دیکھتے کیوں نہیں ___ کرنٹ لگ جائے گا؟
اُس کا لہجہ سخت تھا___
’وہی… دبے پاؤں موسم___ ‘اُس کے لہجہ میں تھرتھراہٹ تھی…
’افسوس!‘
وہ ہونٹ بھینچ کر تلخی سے مسکرائی___ ’کبھی کبھی مجھے خود پر شرم آتی ہے… ایک وقت تھا جب میں نے تم سے محبت کیا تھا___ تم سے___ جو سیدھے آنکھ اُٹھا کر میری طرف دیکھ بھی نہیں سکتا___ کس بات سے شرمندہ ہو آخر؟ جو ہوا اُس سے___ یا عورت ہونے کی وجہ سے، میری طرف دیکھتے ہوئے شرم آتی ہے تمہیں ___‘
اُسے ہر بار لگا، وہ اُس کے سامنے ننگا ہو رہا ہے… اُس کے، جسم کے چھلکے اُدھڑ رہے ہوں … ایک ایک چھلکا… وہ اوپر سے لے کر نیچے تک ننگا ہو گیا ہے___
’صفدر کے بارے میں نہیں پوچھو گے؟‘
اُس نے آنکھیں جھکا لیں ___
صوفیہ نے ٹاول کرسی پر رکھ دیا___ کچھ دیر تک وہ غور سے اوپر سے لے کر نیچے تک اُسے بغور دیکھتی رہی___ پھر بستر پر آ کر بیٹھ گئی— وہ اب بھی سرجھکائے تھا۔  مگر محسوس کر رہا تھا، صوفیہ کی نگاہیں اُس کے جسم پر ٹھہر کر رہ گئی ہوں ___
’بیٹھو۔  یہاں ___ میرے پاس___‘
اُس کا لہجہ حکم دینے والا تھا___ وہ اچانک مڑا۔  غور سے صوفیہ کی طرف دیکھا___ اُس کی آنکھیں بے نشان تھیں ___ بے حرکت___ آواز ٹھوس، پتھر کی طرح تھی___
اُس نے پھر دانتوں کو بھینچا___ کندھے جھٹکے___ ہنسی___ ’کیوں ڈرتے ہو___ یہ ڈر تمہارے وجود میں کیوں سمایا ہوا ہے۔  کس سے ڈرتے ہو؟ بھولو مت، اسی ڈرنے ہمیں جُدا کیا___ اسی ڈرنے میری زندگی اجیرن کی___ تم ہو گنہگار— تم___‘
وہ سہما ہوا قریب بیٹھ گیا___
صوفیہ نے دھیرے سے اُس کے ہاتھوں کو چھوا___ ہاتھوں کو سیدھا کر کے ہتھیلی دیکھی___
’اُف، کس قدر ٹھنڈی۔  اور کس قدر شگاف بننے لگے ہیں ہتھیلی میں ___ جیسے زندگی کی رمق چھن رہی ہو تم سے___‘
اُس نے ہتھیلی چھوڑ دی___ آہستہ سے اُس کے کندھے پر ہاتھ رکھا___
’اتنے سارے سوال اس درمیان جمع ہو گئے تھے کہ… ان سوالوں کو اپنے وجود سے کھرچنا ضروری تھا___ کیونکہ سوالات بار بار مجھے پریشان کر رہے تھے___ سن رہے ہونا___ سوال ناگ کے پھن کی طرح بار بار مجھ سے لپٹ رہے تھے___ اور سارے سوالات تم سے شروع ہوتے تھے اور تم پر ہی ختم ہوتے تھے___ بتاؤ، ہمت کی کمی کیوں تھی تمہارے پاس؟‘
وہ خاموش رہا___
’وہ کون سی کمزوری تھی کہ اِدھر ایک طرف میں دوسرے کی ہوتی رہی اور تم چپ چاپ تماشہ دیکھتے رہے… تم بے حس رہے… اپنی سرد ہتھیلی کی طرح___‘
وہ پاؤں کے ناخنوں سے زمین کھرچ رہا تھا___
’تمہیں کبھی غصّہ بھی نہیں آیا… کہ ایک عورت جو تم سے پیار کرتی تھی، چاہتی تھی___ کبھی مسکراکر تمہارے ہاتھوں کو تھام لیتی تھی اور کبھی بے خود ہو کر بانہوں میں سما جاتی تھی… اور کبھی بات ہونٹوں کے لمس تک آ جاتی تھی___ تمہیں کبھی بھی غصّہ نہیں آیا کہ تم ایسا ہونے سے روک سکو___ یا کم از کم روکنے کی توفیق نہ ہو، تو کچھ جوشیلا کام کر گزرو___ ارے تم جو بھی کرتے، میں پسند کرتی___ میں آواز میں آواز ملاتی___ میں تو پاپا کی وجہ سے چپ رہی، جن کے پاس میرے علاوہ کوئی نہ تھا اور تمہاری خاموشی کی وجہ سے ہوتے ہوئے کو برداشت کرتی رہی___ یہاں تک کہ وہ ہو جانے دیا جس کے بارے میں، میں خواب میں بھی سوچ نہیں سکتی تھی___‘
اُس کے ذہن میں پٹاخے چھوٹ رہے تھے… اُس نے پھر پلٹ کر، کانپتی نظروں سے صوفیہ کی طرف دیکھا… اُس کے کپڑے… پینٹ… شرٹ… نہیں ___ وہ کہیں گم ہو گیا ہے… یا وہ صوفیہ میں منتقل ہو گیا ہے___
وہ بہت دھیرے سے بولا___ ’صفدر کہاں ہے___؟‘
’صفدر___؟‘
اُس کا لہجہ زہر میں ڈوبا تھا___ ’یہ نام کیسے لے لیتے ہو تم… مجھے اس نام سے نفرت کی بُو آتی ہے___ اس سے اچھے تو اَن پڑھ ہوتے ہیں ___ اخبار کا مالک بن گیا ہے— جھوٹی، ذلیل اور انسانوں کو ذبح کرنے والی خبریں بیچ رہا ہے___ تم کیا سمجھتے ہو، کسی ایسے قصاب کے ساتھ میں زندگی گزارسکتی ہوں ___؟‘
اُس کی آنکھوں سے نفرت کی پھلجڑیاں چھوٹ رہی تھیں … ’بہت چھوٹے سے دماغ والا___ بہت چھوٹے سے___ جہاں مذہب کی دو چار باتیں آم کی گٹھلیوں کی طرح ذہن میں بو دی گئی ہیں ___ بہت چھوٹے سے دماغ والا___ تمہارے اردو اخباروں میں ایسے ہی لوگ بستے ہیں ___ میں اُس کی واہیات باتیں سن سن کر اتنی بار مری کہ ڈھنگ سے مرنا بھول گئی اور وہ___ ابھی تک وہی، مسجد اور مندر بیچنے میں لگا ہے___ پاپا چلے گئے، تم نے خبر تو پڑھی ہو گی؟‘
اُس کے لہجے میں پہلی بار تھرتھراہٹ آئی۔  اُس نے ہاتھوں سے آخری قطرے کو بھی پوچھ لیا___ اتنی بڑی بات— مگر وہ ایسے کہہ رہی تھی جیسے بہت معمولی سی بات ہو___
’موت کا ایک وقت مقرر ہے۔  کوئی بھی ساری زندگی رہنے نہیں آیا___ پاپا بھی نہیں ___ ایک دن رات میں جو پاپا سوئے تو پھر نہیں اُٹھے___ پاپا کے جانے کا دُکھ ہوا مگر دُکھ کون کرتا___ میں زندہ کہاں تھی___ پاپا نے ہاتھوں سے قتل کر دیا ہوتا تب بھی اتنی تکلیف نہ ہوتی مگر اُس آدمی سے۔  وہ بھی اپنی چند روزہ خوشی کی خاطر— انا کی تسکین کی خاطر— مسلمانوں کا بڑا نیتا کہلانے کی غرض سے___ پاپا نے اُس کے سرمونڈھ دیا— سوچا ہو گا، اُن کے بعد بھی ’مجاہد‘ کا نام زندہ رہے گا اور یہ نام یہی دھان پان سا آدمی زندہ رکھ سکتا ہے___ یہی آدمی۔  صفدر علی۔  جسے نہ زندگی کا پتہ ہے نہ زندگی کے رنگوں کا___ نہ زندگی کی رفتار کا۔  جسے صرف یہ پتہ ہے کہ کون سی خبریں سرخیوں میں چھانپنے سے مجاہد کی سیل بڑھ سکتی ہے___ کمزور، دبوّ اور تھکا ہارا آدمی___ ایسے آدمی سے باندھ دیا پاپا نے مجھے___ اور تم دیکھنے کے علاوہ کچھ نہ کر سکے___‘
وہ ذراسانس لینے کے لئے رُکی پھر بولی___
’بریف کیس۔  بارش کا موسم۔  میرا تمہارے پاس آنا۔  یہ بتانے کی ضرورت تو نہیں ہے تمہیں کہ میں گھر چھوڑ کر آ گئی ہوں۔ ‘
’تم نے گھر چھوڑ دیا___؟‘ وہ بُری طرح چونکا___
’میں نے سمجھا تھا کہ خود ہی سمجھ گئے ہو گے۔  افسوس تمہیں یہ بھی بتانا پڑا۔  ہاں میں اپنا گھر چھوڑ آئی ہوں — اس لئے کہ وہاں میری سانسوں کا بوجھ بڑھتا جا رہا تھا— اُٹھتے بیٹھتے… سوتے جاگتے میں اُس کا چہرہ نہیں دیکھ سکتی تھی… اُف… تم کیسے سمجھو گے کہ وہ کوئی دیکھنے والی مخلوق نہیں ہے___ تم نے ادھر اُسے دیکھا ہے___؟
صوفیہ کے ہونٹوں پر کڑواہٹ بھری ہنسی تھی… ’وہ پہلے سے بھی بہت بدل گیا ہے۔  اُس کی خشخشی داڑھی بڑھ گئی ہے… بھیانک… بہت بھیانک لگنے لگا ہے… پہلے وہ صرف مسخرا لگتا تھا… گھٹنے سے ذرا نیچے تک کا تنگ پائجامہ۔  ڈھیلا ڈھالا کرتا اور سر پر جناح ٹائپ ٹوپی___ اُسے ایک لمحے بھی برداشت نہیں کیا جا سکتا… میں تو کیا کوئی بھی اُسے برداشت نہیں کر سکتا___ میں تو ہرگز نہیں ___‘
’پھر تم نے اتنے دنوں تک…؟‘
وہ کہتے کہتے رُک گیا___
صوفیہ نے پلٹ کر اُس کی طرف دیکھا۔  اُس کے لہجے میں ناگواری تھی___ ’تم نے کیا سمجھا___ صاف صاف کیوں نہیں پوچھتے کہ اتنے دنوں تک میں نے اُس کے ساتھ زندگی کیسے بسر کی۔  اس کا بس ایک جواب ہے___ اُس کے ساتھ زندگی بسر ہی نہیں کی___
وہ ہنس رہی تھی___ یوں تعجب سے مت دیکھو۔  اُن دنوں کی دھوپ اور صبح کی سپیدی سے نفرت کرنے کو دل چاہتا ہے— جن دنوں میں تم سے ملا کرتی تھی… تم مجھے اتنا بھی نہیں سمجھ سکے… اتنی ڈھیر ساری ملاقاتوں کے بعد بھی…‘
باہر بجلی پھر چمکی تھی___
وہ ایک لمحے کے لئے ٹھہری___ اور بارش کی طرح جیسے اُس کے اندر کا غبار ایک بار پھر سامنے آ گیا___
’سچ یہ ہے کہ ہم دونوں کے درمیان بس ایک سمجھوتا ہوا تھا۔  سمجھوتہ___ تمہیں عجیب لگے گا— مگر وہ مجھ سے ڈرتا تھا___ خوف کھاتا تھا۔  رات کے وقت وہ میرے کمرے میں آتے ہوئے ڈرتا تھا۔  ساتھ کمرے میں رہنا مجبوری تھی مگر ہم دونوں الگ سوتے تھے___ شادی کے دن سے، کبھی بھی اُس کی مجھ سے کچھ بھی پوچھنے کی ہمت نہیں ہوئی۔  یہاں تک کہ وہ کبھی تاخیر سے گھر آتا تو کمرے سے باہر ہی سو جاتا مگر کمرے میں داخل ہونے سے اُس کے بدن کا رواں رواں کانپتا تھا___ بزدل، امپوٹنٹ___‘
وہ پھر ہنسی___ ’ڈرو مت، مجھے غلط مت لو___ ایسے لوگوں کو ایسے ہی ناموں سے یاد کرنا چاہئے___ امپوٹنٹ___ وہ جب تک کمرے میں رہتا، میں دیکھ دیکھ کر کڑھتی تھی۔  کہ وہ کیسے کروٹیں بدلتا ہے… اُس کے بدن کی ہڈیاں کیسے چٹختی ہیں۔  چہرے پر کی خشخشی داڑھی کتنی گھناؤنی دکھتی ہے… اور… تنگ پائجامہ سے نکلا ہوا، اُس کا سکڑا ہوا پیر کتنا بدنما دکھتا ہے___ وہ میرے لئے قابلِ رحم بھی نہیں تھا___
صوفیہ نے پلٹ کر اُس کی طرف دیکھا… ’مگر، تم کیا تھے ارشد پاشا___ فلسفوں کے جنگل میں زندگی تلاش کرنے والے، تم کیا تھے…؟ تمہاری عمر فلسفے کی جس شراب میں ڈوبی تھی، اُس شراب کا کیا ہوا؟ سنو، ادھر دیکھو…‘
بستر سے اُٹھ کر وہ دھیرے دھیرے چلتی ہوئی اُس کے سامنے آ گئی___ باہر بوندا باندی اب بھی زور زور سے ہو رہی تھی… ہوا کے زور سے کھڑکی کے پردے ہل رہے تھے… چھت پر بوندوں کی ٹپ ٹپ سے موسیقی جاری تھی… اُس کے دماغ پر لگاتار ہتھوڑے برس رہے تھے…
سنو، ارشد پاشا… ’دیکھو… ادھر دیکھو___ میری طرف…‘
وہ اُس کے سامنے تن گئی تھی… پینٹ شرٹ___ سچ ہے اُس نے آنکھیں جھکا لیں ___ کبھی اس روپ میں، اس سے قبل اُس نے صوفیہ کو نہیں دیکھا تھا… اُس کے جسم میں ہلچل سی ہو رہی تھی… نہیں — جسے وہ شریانوں میں دوڑنے والے، گرم خون کے لاوے سمجھ رہا تھا، دراصل وہ خوف کی قسمیں تھی…  اس سے زیادہ کچھ نہیں …
میری طرف دیکھو___ ڈرتے کیوں ہو؟
وہ تیز آواز میں چلاّئی___ کیوں ؟میری طرف دیکھو گے تو میرا جسم ننگا ہو جائے گا تمہاری نظر میں …؟ یا میرے جسم کے اعضاء تمہاری نظر میں چبھنے لگیں گے۔  کوئی قیامت تو نہیں آ جائے گی ارشد پاشا___ میں پھر کہتی ہوں ___ دیکھو میری طرف…؟‘
اُس نے سہما سہما سا اپنا چہرہ اٹھایا___ صوفیہ کے چہرے کی سختی اُسے پہلے سے کہیں زیادہ بڑھی ہوئی لگی۔ 
’اب سنو ارشد پاشا___ جو پوچھتی ہوں، جواب دو۔  کل، جب ہم ملتے تھے، کبھی تمہیں مجھے کھولنے کا خیال نہیں آیا—؟ چونکو مت؟ ہاں کھولنے کا خیال— مجھے پانے کا خیال___ جیسے میں قریب ہوں، تو تمہارے اندر ایک بجلی چمکی ہو… خون میں اُبال آ گیا ہو___ میرے جسم سے بجلی کی ترنگیں پھوٹ رہی ہوں … یا___ تم نے صرف مجھے ایک مقدس ہستی ہی سمجھا۔  ایک بُت سمجھا۔  اور بُت کو مقدس مان کر ذہن کے فریم میں بند کر لیا۔  سیتا کی طرح، مریم کی طرح___ یعنی  میں اتنی مقدس ہو گئی تمہاری نظر میں کہ تمہیں کبھی خیالوں کی گرہ تک کھولنے کا خیال نہیں آیا… کیوں ارشد پاشا___؟
وہ زور سے کھلکھلائی۔  ’چلو مان لو___ میرے سامنے ڈرتے ہو گے تم۔  مگر ہر مرد کی ایک نفسیات ہوتی ہے۔  نفسیات نہ ہو تب بھی… عورت اور مرد کے درمیان ایک رشتہ تو مشترک ہوتا ہے۔  ضرورت کا رشتہ___ تم لوگ عورت کو تقدس کی دیوی اور بت بنا کر، اُسے فریم میں ’مڑھا‘ کر کیوں رکھ دیتے ہو۔  کیا سمجھتے ہو— اس سے وہ عورت خوش ہو جائے گی۔  تمہارے بارے میں سوچے گی کہ تم سے زیادہ شریف مرد تو دنیا میں کوئی نہیں ___ اسے گالی مت سمجھنا۔  ایسے شریف مردوں کی نسل سے زیادہ بہتر تو کارتک کے کتّے ہوتے ہیں ___‘
اُس کا چہرہ آڑی ترچھی، جانے کتنی لکیروں سے بھر گیا تھا۔  مگر اُس کی سانسوں میں، لہجے میں توازن برقرار تھا___
’ارشد پاشا، ابھی بھی وقت ہے۔  بدل جاؤ___ اچھا سنو، چلو میرے سامنے تم کبھی نہیں کھلے… مگر اپنی تنہائی میں، اپنی راتوں میں … جب کوئی بھی نہیں ہوتا تھا تمہارے پاس، تب؟ کیا صرف یادوں میں مجھے دیکھ کر خوش ہوتے تھے، بہلتے تھے—؟ میں جانتی ہوں ارشد پاشا… تم جیسے لوگ اپنی تنہائی سے بھی ڈرتے ہو۔  تنہائی، جہاں کوئی نہیں ہوتا— وہاں بھی مجھے ادھیڑنے یا کھولنے کی ہمت نہیں کر سکتے تھے تم… کیوں ارشد پاشا… جانتے ہو… اس کھولنے اور عورت مرد کے کھلنے کے عمل سے کیا جنم لیتا ہے —؟‘
اُس کے چہرے پر بلا کی سنجیدگی تھی___
’تب سچا پیار جنم لیتا ہے ارشد پاشا۔  سچی محبت جنم لیتی ہے۔  تم لوگوں نے انسانی نفسیات کے بھی بٹوارے کر رکھے ہیں۔  احساس کو بھی بوجھ بنا رکھا ہے___ مرد اور عورت کے بیچ تمہارے معاشرے نے اتنا بڑا فاصلہ پیدا کر دیا ہے کہ جذبات اور محبت کی اصل کلید ہی کھوئی لگتی ہے___ وہ، جو دل کو صحیح معنوں میں دل سے جوڑے رکھتی ہے… مگر نہیں … عمر کے نشے میں تم لوگ صرف ایک گلیمر بھرا پُل بناتے ہو اور جادو کی طرح گزر جاتے ہو___ پھر جو بھی ہوتا ہے وہ انسانی تقاضوں سے الگ ہوتا ہے… اور نقلی ہوتا ہے… جب تم اپنی، اپنے جسم کی مانگوں کو نہیں سمجھ سکتے، تم دنیا کی مانگوں کو کیا خاک سمجھو گے— یا دنیا کے مسائل کیا خاک سلجھاؤ گے… تم ذبح ہوتے رہو گے… بس اسی طرح… جیسے کہ آج ہو رہے ہو… ابھی اس وقت___ مجھے دیکھو…
صوفیہ بچوں کی طرح مسکرائی… ایک لمحے میں وہ ساری سنجیدگی اُس کے چہرے سے عنقا تھی… جیسے وہ ہر لمحہ اُسے تول رہی ہو… وزن کر رہی ہو… سمجھنے کی کوشش کر رہی ہو۔  ایک لمحے کو پھر اُس نے اپنی نگاہیں، اُس پر مرکوز کر دیں اور دوسرے لمحے جو ہوا، اُس کی تاب نہ لاکر، وہ ہڑبڑا کر کھڑا ہو گیا۔  جسم میں لرزش سی ہوئی… اُس نے نگاہیں جھکا لیں …
صوفیہ ایک لمحے کے لئے نہیں جھجھکی… ایک جھٹکے سے اُس نے شرٹ کے سارے بٹن کھول ڈالے… روشنی میں اُس کا روشن شفاف سینہ کسی چھلاوہ کی طرح چمکا___ اور وہ… اچانک خوف سے سہم گیا…
جسم سے جیسے نور ہی نور بہہ رہا تھا… مصفّی سینہ کی گولائیاں روشنی میں یوں چمک رہی تھیں، جیسے سفید شفاف تاروں میں بجلی دوڑ رہی ہو…
وہ چیخی… ’مجھے دیکھو… میں ہوں … مجھے محسوس کرو___ آنکھیں بند مت کرو ارشد پاشا___ آخر تم کیوں نہیں دیکھ سکتے مجھے۔  تمہاری دوست ہوں میں ___ اور یقین کے ساتھ کہہ سکتی ہوں …دوسروں کے ایسے جسم— تنہائی میں جانے تمہارے سامنے کتنی بار لہرائے ہوں گے— مگر یہاں ___ حیا کی، پاکیزگی کی ایک چادر ہم دونوں کے بیچ تان دی ہے تم نے___ دیکھو، میں نے اپنے آپ کو کھول دیا ہے ارشد پاشا___ میں نے اپنے اور تمہارے درمیان سے غیر ضروری حیا کی یہ دیوار اٹھا دی ہے… دیکھ مجھے ارشد پاشا___، 
مگر وہ…
اُس کی سانسیں پھول رہی ہیں …
ذہن پر پتھراؤ چل رہا تھا۔  پاؤں کانپ رہے تھے… جسم ہوا کے زور سے ڈول رہا تھا… ایک عجیب طرح کی لرزش حاوی تھی… ہونٹ لرز رہے تھے… پوری طاقت لگا کر وہ چیخا…
’صوفیہ۔  بند کرو… بند کرو یہ سب…‘
صوفیہ نے نفرت کے ساتھ منہ پھیر لیا۔  سرعت کے ساتھ اُس کے ہاتھ شرٹ کے بٹن بند کرنے لگے___
’جانتی ہوں ___ تم پڑھ بھی نہیں سکتے۔  جسم کو پڑھنا آسان بات نہیں ہے… اور میری طرف سے کوئی غلط فہمی مت پالنا___ میں کوئی گری ہوئی رنڈی نہیں ہوں جو بارش کی اس طوفانی رات اپنے جسم کی جاگی ہوئی بھوک یا بڑھتی ہوئی مانگوں کو لے کر، بریف کیس اٹھا کر تمہارے گھر میں آ گئی___ میں تو صرف تمہیں تمہاری اوقات دکھانا چاہتی تھی ارشد پاشا… کہ تم یہ بھی نہیں کر سکتے۔  تم بند آنکھوں سے نظارے تو کر سکتے ہو۔  مگر___ تم لوگوں نے ضمیر نام کی سنجیدہ چیز کو خواجہ سرا بنا رکھا ہے___ میں تمہیں صرف یہ بتانا چاہتی تھی کہ یہ صدی تم جیسوں کے لئے نہیں ہے___ تم میں اور صفدر علی میں بہت زیادہ فاصلہ نہیں ہے ارشد پاشا… تم دونوں بہت قریب قریب کی چیز ہو___ اور تم دونوں کے ذہن بھی قریب قریب برابر ہیں …‘
وہ مسکرا رہی تھی… ’چلو بہت ہوا… سو جاؤ تم… رات کافی ہو گئی ہے…’ہاں ‘رات کافی ہو گئی ہے… آج رہوں گی۔  کل سوچوں گی، مجھے کیا کرنا ہے… اب تم بتاؤ۔  تم کہاں سوؤ گے… یا مجھے کہاں سونا چاہئے۔  ڈرو مت… کبھی کبھی صفدر علی بھی میرے کمرے میں سو جاتا تھا… یہ اور بات ہے، میری طرف دیکھتے ہوئے بھی اُس کی روح خوف کھاتی تھی…‘
ارشد پاشا کے قدم زمین میں دھنس گئے تھے… یوں تو کھلی کھڑکی سے ٹکرا کر ٹھنڈی ہوا کمرے میں پھیل رہی تھی، مگر اُس کے جسم کے اندر اُمس بڑھتی جا رہی تھی… جیسے کوئی دھواں ہو، جو پھیلتے پھیلتے دماغ تک پہنچ چکا ہو… لفظ انگارے کی طرح اُسے جلا رہے تھے…وہ جس قدر اپنے کانوں کو بند کرتا، کانوں کے پاس تیز نگاڑے بجنے شروع ہو جاتے… وہ چلتا ہوا کھڑکی کے قریب آ گیا… کھڑکی کی سلاخوں کو اُس نے مضبوطی کے ساتھ تھام لیا… مینہ کی بوندیں ذرا ترچھی ہو کر اُس کے چہرے تک آنے کی کوشش کر رہی ہیں … اُسے لگا، دنیا کے تمام سمندر اُس کے دل کے گرد پھیلنے جمع ہونے لگے ہوں …
پانی کے کچھ چھینٹے دوبارہ اُس کے منہ تک آئے… لیکن اس بار اُسے کچھ بھی احساس نہ ہوا… دراصل وہ اندر کی مسلسل بارش سے شرابور ہو چکا تھا… کچھ میلی، مٹ میلی سی، دھندلی سی تصویریں Retinaپر بننے لگی تھیں …
اُس نے پلٹ کر دیکھا… صوفیہ مسکرارہی تھی… وہ کونسا سال تھا… دن کون سا تھا—؟ اور تاریخ… اُسے صرف صوفیہ کی باتیں یاد رہی تھیں …
’سنو، ایک دن جب بوڑھے ہو جاؤ گے تم… تو… کیسے نظر آؤ گے۔  تمہیں ہر وقت دیکھتی اور سوچتی رہی ہوں۔  تمہارے چہرے پر جھرّیوں کا جال پھیل جائے گا… چہرے پر انجانی، مبہم، گہری کتنی ہی لکیریں بن جائیں گی… یہاں … یہاں … وہ اُس کے چہرے کو چھو رہی تھی… اور یہاں ماتھے پر… تب جانتے ہو کیا ہو گا۔  بڑھاپے میں — ’مسکراتے ہوئے اُس نے منہ بنایا___ مجھے بڑھاپے سے نفرت ہے۔  کتابوں میں بہت دیکھا ہے بڑھاپا___ بڑھاپے کے بارے میں بہت پڑھا ہے… تب ہوس کی ایک چھپی ہوئی آگ تمہارے ہونٹوں پر ناچے گی___ ہوتا ہے… کئی بوڑھے، عمر کی ندیاں پار کر کے خطرناک ہو جاتے ہیں ___ جیل میں بلاتکار کی سزا کاٹنے والے قیدی سے زیادہ خطرناک___ مگر میں اس بڑھاپے کا تذکرہ لے کر کیوں بیٹھ گئی ہوں …‘
وہ کھلکھلائی… سنو ارشد پاشا___ ’کبھی دیکھا ہے خود کو‘ پہچانا ہے___ تمہارا چہرہ کتنا خوبصورت ہے___ تمہاری آنکھیں ___ تمہارے ہونٹوں پر، ابھی بھی، اس قدر سرخی اور کشش ہے کہ… بولو، کبھی تم سے آج سے پہلے کسی نے اس طرح تمہارے ہونٹوں کے بارے میں تعریف کی ہے۔  تم سچ مچ خوبصورت ہو___ خوبصورتی عظمت کا ایک حصہ ہے۔  خوبصورتی عظمت سے زیادہ بڑی شہ ہے— کیونکہ خوبصورتی کوئی دلیل نہیں مانگتی— خوبصورتی کے لئے بس خوبصورت ہونا کافی ہوتا ہے… آنکھوں کو بھلا لگنا… سورج کی روشنی، موسم بہار کا حسن اور چاند کا نیم تاریکی میں، سناّٹے پانی میں عکس___ اِن کے ابدی حسن کے لئے بھی کوئی دلیل نہیں ہے… کیونکہ یہ ہمیشہ سے ہیں، حسین اور آنکھوں میں خوبصورت خوابوں کی طرح اُتر جانے والے… اور میرے لئے خوبصورتی سے بڑھ کر دنیا میں کچھ بھی نہیں ہے… مجھے لگتا ہے… ہم ایک لفظ کہتے ہیں ___ خوبصورت___ اور ایک دنیا ہمارے شامل ہو جاتی ہے… ایک پوری کائنات کا حسن، قدرت کے ہونے کا فلسفہ اور خود پر یقین کرنے کا بھرم…‘
ارشد تیزی سے اُس کی طرف پلٹا… کبھی کبھی تمہاری باتیں سمجھ میں نہیں آتیں … لڑکیوں کے بارے میں یوں بھی کہا جاتا ہے کہ معمہ ہوتی ہیں، مگر تم تو کچھ زیادہ ہی معمہ ہو۔  ایک ایسی پہیلی، جسے کم از کم میں نہیں بوجھ سکتا___‘
صوفیہ مسکرائی تھی___
’ایسا کیوں نہیں ہو سکتا کہ معمہ اور پہیلی کہہ کر تم اُس سامنے والی لڑکی کو سمجھنا ہی نہیں چاہتے___ اور اپنی آسانی کے لئے اُسے پہیلی کہہ کر فرار کا راستہ اپنا لیتے ہو___ میں تو کچھ اور کہہ رہی تھی ارشد پاشا___ تم خوبصورت ہو تو سمجھ لو، قدرت نے تمہیں بناتے وقت خوشی خوشی آدھی کائنات یوں بھی تمہارے حوالے کر دی… اور تمہیں بس تھوڑی سی جنگ کرنی ہے، اُس باقی بچی کائنات کے لئے___ ذرا سوچو یہ خوبصورتی کتنے دنوں تک محفوظ رکھ سکتے ہو تم…؟ دو سال… چار سال… دس سال… پھر جب آنکھوں کے آگے سیاہ حلقے پڑنے لگیں گے… چہروں پر جھرّیوں کا جال بچھنے لگے گا… قدموں میں تکان آ جائے گی… اور آئینہ تمہیں ڈسنے لگے گا… یعنی جب وہ آدھی جنگ بھی نہیں لڑ پاؤ گے اور تمہاری خوبصورتی کا زوال شروع ہو چکا ہو گا، تب…؟ تمہیں اُس دن سے ڈرنا ہو گا…‘
’تمہاری طرح تمہاری باتیں بھی انوکھی ہیں …‘ وہ بہت دھیرے سے بولا… اس لئے کبھی کبھی تم سے ڈرسا لگنے لگتا ہے…‘
٭٭
ہوا اچانک تیز ہو گئی___ اُسے لگا، سارا کمرہ ناچ رہا ہو۔  گھوم رہا ہو۔  اُس نے دیوار گھڑی پر نظر ڈالی___ ایک بج کر دس منٹ ہو گئے تھے… رات کے اندھیرے میں ہوا کی سرسراہٹ بدن میں گھبراہٹ پیدا کر رہی تھی…صوفیہ سوگئی تھی___ مگراس رات کے بعد؟ 
باہر شاید طوفان آیا ہوا ہے… مگر طوفان تو اُس کے اندر اُٹھ رہا تھا… اس رات کے بعد… اس بھیانک رات کے بعد… اس رات کے بعد کی صبح کیسی ہو گی…؟ دیوار گھڑی ٹک…ٹک کر رہی ہے… اُس کی آنکھوں میں نیند کے ڈورے تیر رہے ہیں مگر… الفاظ کی برچھیاں اُسے مسلسل زخمی کر رہی ہیں …
وہ صوفیہ کو اپنے کمرے میں چھوڑ کر آ گیا۔  اس کے علاوہ وہ کر بھی کیا سکتا تھا… اُس نے اپنا چہرہ آئینہ میں دیکھا اور چونک پڑا___  شکن زدہ چہرہ… چہرے پر پڑی ہوئی اَنگنت لکیریں … کہیں کہیں بالوں کے درمیان ایک سفید سا بال بھی نظر آ جاتا… آنکھوں کے پاس گہرے حلقے بھی نمایاں ہو رہے تھے…
تو کیا اُس کی خوبصورتی کا زوال شروع ہو گیا ہے؟ کوئی حوصلہ؟ کوئی مضبوطی؟ زندگی جیسے کسی اندھیری سرنگ میں گم ہو گئی لگتی ہے… مگر… وہ کیا کر سکتا ہے…
’تم میں اور… صفدر علی میں بہت زیادہ فرق نہیں ہے‘
’تم میں اور… صفدر علی میں …‘
’تم میں اور… صفدر…‘
’تم میں اور…‘
آئینہ کے سامنے وہ حیران ساکھڑا ہے… جسم پسینے سے شرابور… دل بیٹھا جا رہا ہے۔ 
 ___ بیہوشی اُس پر طاری ہو رہی ہے…
ساری دنیا گھوم رہی ہے…
ساری دنیا رقص کر رہی ہے…
٭٭



(4)

جانے کب اُسے نیند آ گئی۔  جبکہ عام طور پر ان حالات میں نیند نہیں آتی… نیند اچانک ہی کھلی تھی۔  کھڑکی سے سورج کی نرم شعاعیں کمرے میں داخل ہو گئی تھیں … اُس نے دیکھا… کھڑکی کھلی ہوئی تھی۔  مگر سربھاری بھاری تھا… باہر بارش کا نام و نشان تک نہ تھا___  اس کے برخلاف چمکیلی دھوپ کمرے میں بھر گئی تھی… اچانک اُسے سب کچھ یاد آ گیا… اُس نے گھڑی کی طرف نظر اٹھا کر دیکھا… سانسوں کے زیر و بم میں ہلچل سی مچی___  وہ زمین پر ہی سو گیا تھا۔  کپڑے کی گرد جھاڑتا ہوا اُٹھا اور تیزی سے اپنے کمرے کی طرف بھاگا___  مگر___  اچانک ہی ٹھہر گیا…
دروازہ کھلا تھا___  کھڑکی کھلی تھی۔  کھڑکی کے پاس رکھا ہوا صوفیہ کا بریف کیس غائب تھا___  اُس نے بستر پر نظر ڈالی___  بستر پر شکن ضرور تھی، جو رات کسی کی موجودگی کی گواہی دینے کے لئے کافی تھا۔  مگر بستر خالی تھا___  وہ اُٹھتی چڑھتی سانسوں کے ساتھ کافی دیر تک کمرے میں کچھ تلاش کرتا رہا۔  مگر اب وہاں تھا ہی کیا—ہاں، مگر ایک عجیب سی خوشبو کمرے میں رچی بسی تھی۔ 
وہ نیم غنودگی کے عالم میں تھا۔  گھبرا کر وہ دو بارا بستر پر بیٹھ گیا___  اُس کا ذہن سائیں سائیں کر رہا تھا___  اب اس بات پر زیادہ غور کرنے کی ضرورت نہیں تھی کہ صوفیہ جاچکی تھی…
مگر سوال تھا… وہ کب گئی؟
کیا رات میں ہی چلی گئی؟
مگر کہاں گئی ہو گی___ ؟
کیا دوبارا صفدر علی کے یہاں ؟
کیا وہ صبح ہونے کے بعد گئی؟
یا، رات میں ہی اُس کے جانے کے بعد ہی اُس نے یہاں ٹھہرنا مناسب نہیں سمجھا؟
اگر وہ صفدر علی کے یہاں نہیں گئی تو پھر کہاں گئی___ ؟
اُس کا دل قطعی طور پر یہ ماننے کو تیار نہ تھا کہ وہ دوبارہ صفدر علی کے یہاں گئی ہو گی___  پتہ نہیں اُس نے، اُس کے بارے میں کیا سوچا ہو گا۔  رات میں کہے گئے صوفیہ کے جملے اُسے یاد آ رہے تھے…
اور ایک بار پھر ارشد پاشا کو اپنا ذہن ڈوبتا ہوا محسوس ہو رہا تھا___ 
٭٭
اُس کی باتیں سن کر بھی تھاپڑ کے چہرے پر کوئی ردّ عمل نہیں تھا… وہ خاموش بیٹھا ہوا میز تھپتھپا رہا تھا۔ 
’یہ کیا ہو گیا ہے تمہیں۔  ارشد پاشا کو غصّہ آیا___ ’میں اتنا پریشان ہوں اور تم ہو کہ میری کوئی فکر ہی نہیں ___ ‘
’وہ اور کیا کرتی؟‘
’مگر وہ بغیر بتائے چلی گئی۔  اُسے جانا تھا تو وہ کہہ کر بھی جا سکتی تھی؟‘
’تمہیں بتا کر جاتی، جو اتنا کچھ سننے کے بعد بھی نامرد بنا رہا___ ‘تھاپڑ مسکراکر اُس کی طرف دیکھ رہا تھا___ 
’’مگر جواب میرے پاس بھی تو تھا… میں بھی تو…‘
’اب وہ جواب جو تم صوفیہ کو نہیں کہہ سکے، وہ مجھے بتانا چاہتے ہو۔  یہی ہے نامردی___ ‘
’وہ مجھے سننے کو تیار کب تھی؟‘
اس بار تھاپڑ کے لہجے میں کرختگی تھی___ ’کیا تم وہ سب سننے کو تیار تھے جو صوفیہ تمہیں سنا رہی تھی___  میں نے تمہیں دو بار نامرد کہا___  لیکن تم نے ایک بار بھی مجھے ٹوکا نہیں ___  اعتراض نہیں کیا مجھ پر___  جانتے ہو کیوں ___  اس لئے کہ تم اندر سے مردہ ہو گئے ہو اور صوفیہ بھی اسی لئے چلی گئی___ ‘
’مجھ میں اور میرے بھائی میں یہی فرق تھا۔ ‘
ارشد پاشا نے نظریں جھکا لیں ___  آج تجزیہ کرتا ہوں تو لگتا ہے، کئی مقام ایسے تھے جہاں وہ دوست تھا اور میں غلط___  کم از کم اُس کے اندر بغاوت کا جذبہ تو تھا۔  آگ تو تھی اور میں ___ فقط، مصلحت پسند لفظوں کا کھلاڑی___ 
’کیوں ہے ایسا؟‘
تھاپڑ کی آنکھوں سے چنگاریاں نکل رہی تھیں —’کبھی غور کیا ہے تم نے؟ کیونکہ ہم سب کو سسٹم نام کے اجگر نے جکڑ کر مردہ کر رکھا ہے___  ارے، یار یہ وہ ملک ہے، جس پر جتنا غور کرو___  قہقہہ لگانے کو دل چاہتا ہے___  اس ملک میں بیک وقت اکیسویں صدی اور موہن جوداڑو دونوں تہذیبیں یکساں طور پر چل رہی ہیں ___  ایک ترقی کی باتیں کرتا ہے۔  دوسرا رتھ دوڑاتا ہے___  تیسرا آ کر مذہب کی کتابیں تھام لیتا ہے۔  چوتھا آتا ہے اور کہتا ہے کہ ہر تشدد جائز ہے___  کبھی کبھی یہ ذہن چکرا کر رہ جاتا ہے___  اور ایک وقت آتا ہے جب دماغی طور پر ہم کسی لائق نہیں رہ جاتے___  ہمارا دماغ سوچنا سمجھنا بند کر دیتا ہے___ ‘
٭٭
یہ وہی وقت تھا جب حکومت اپاہج ہو کر رہ گئی تھی— اجودھیا میں دور دور سے سادھوسنت جمع ہونے لگے تھے— ’ایک دھکّا اور دو بابری مسجد توڑ دو‘ کی صدا ہر گلی کوچے سے بلند ہو رہی تھی—
ہندوستان کی تاریخ ایک نیا باب لکھنے کی تیاری کر رہی تھی—
٭٭



چل خسرو گھر آپنے

 زہریلی ہوائیں چلتی رہیں۔  ابا حضور تغلق پاشا کو اب موت کا احساس ڈرانے لگا تھا۔  انور پاشا نے خاموشی سے شادی کر لی۔  اب وہ گھر کے بٹوارے کی ضد پر اتر آئے تھے۔  تغلق پاشا آنکھیں بند ہونے سے پہلے ارشد پاشا کی دلہن کو دیکھنا چاہتے تھے۔  صوفیہ نے صفدر علی سے طلاق لے لی تھی۔  اب وہ خود مجاہد کی ذمہ داری سنبھالنے لگی تھیں۔ 
 وقت تیزی سے گزر رہا تھا— لیکن حالات ویسے ہی تھے۔  تغلق پاشا نے اپنے ایک قریبی دوست کی لڑکی کا ہاتھ ارشد پاشا کے لیے مانگ لیا۔  رباب دلہن بن کر گھر میں آ گئی— شادی کے دو مہینے بعد ہی تغلق پاشا نے ہمیشہ کے لیے آنکھیں موند لیں — تغلق پاشا کے انتقال کی خبر سن کر انور پاشا اکیلے آئے۔  اس بار وہ بٹوارے کے ارادے سے آئے تھے۔  گھر کا بٹوارہ ہو گیا۔  اور انور پاشا اپنے حصے کی زمین بیچ کر بنگلور واپس چلے گئے— ارشد پاشا بھی اب کاشی میں رہنا نہیں چاہتے تھے۔  تھاپڑ کا خیال تھا کہ کیوں نہ دلی چلا جائے— تھاپڑ کو یقین تھا کہ دلی کے اخباروں میں کوئی نہ کوئی جاب مل جائے گی—
صورتحال بد سے بد تر ہوتی جا رہی تھی۔ 
 آسمان میں گدھ ناچ رہے تھے— اور یہ وہی وقت تھا جب ارشد پاشا اور رباب کی زندگی میں ایک پھول کھلا تھا— اس پھول کا نام اسامہ رکھا گیا—
زندگی ایک نئی کروٹ لے چکی تھی—
رباب کے آنے سے اچانک زندگی بدل گئی تھی— شروع میں وہ کھوئی کھوئی رہتی تھی— لیکن اسامہ کے آنے کے بعد اس میں تبدیلیاں آنے لگی تھیں —وہ دبی زبان میں کہتی۔  
’اب بیٹا آ گیا ہے۔  بیٹے کے لیے تو کچھ کرنا پڑے گا نا…؟‘
 ’ہاں۔ ‘
 ’انور دلی سے بنگلور چلے گئے— ہم ذمہ داریوں کا بوجھ اٹھاتے ہیں تو آشیانے بدل جاتے ہیں۔  ہے نا۔  راشدہ لکھنؤ چلی گئی—‘
 ارشد پاشا نے اس کی آنکھوں کی گہرائی میں جھانکتے ہوئے پوچھا۔  تم کہنا کیا چاہتی ہو۔ ‘
’ تھاپڑ بھائی صاحب کی طرح میں بھی کہوں گی۔  چلو۔  صحافت کے لیے وہاں زیادہ گنجائش ہے۔ ‘
 ارشد پاشا کاشی کے ایک چھوٹے سے اردو اخبار میں تھے۔  لیکن جو تنخواہ ملتی تھی۔  اس سے زندگی کے دن نہیں گزارے جا سکتے تھے۔  پھر یہاں صحافت بھی تسلی بخش نہیں تھی۔  زیادہ تر نقل یا ترجمے کے کام ہوتے تھے— مہینے کے آخری دن ہوتے ہوتے ان کی پریشانیاں بڑھ جاتیں۔  پریشانیوں کی ایک وجہ حالات کا خراب ہونا بھی تھا—
 اس دن ارشد پاشا، تھاپڑ کا انتظار کر رہے تھے— تھاپڑ نے دلی جانے کا فیصلہ کر لیا تھا—
 اور ادھر رام جنم بھومی اور بابری مسجد کو لے کر شہر کی فضا ایک بار پھر خراب ہو گئی تھی—
٭٭




چھ دسمبر ۱۹۹۲ء

حماّم تو برسوں سے ایک ہی 
ہے میاں /
یہاں جو کچھ ہو رہا ہے/
تمہیں دیکھنا نہیں چاہئے/
تمہیں سُننا نہیں چاہئے/
تمہیں بولنا نہیں چاہئے/


٭٭





(1)

ارشد پاشا اُلجھن میں تھے۔ 
تھاپڑ نے اس کی طرف غور سے دیکھ رہا تھا— ’ایک دن اس دنیا میں بالکل اکیلے رہ جاؤ گے میاں —‘
ارشد پاشا اُس کی طرف گھومے… تھاپڑ کے ہونٹوں پر مسکراہٹ برس رہی تھی… خیر چھوڑو… جس میڈیا میں ہم تم ہیں … وہاں زیادہ تر خاموش رہنا ہی پڑتا ہے… اس میڈیا میں آنے کا پہلا اصول ہے… ہونٹ سی لو… کان بند کر لو… اور آنکھوں پر ہاتھ رکھ لو… 
وہ ہنس رہا تھا…
ارشد پاشا کی پیشانی پر شکن پڑ گئی…، تم بھی وہی زبان بول رہے ہو تھاپڑ… جو…‘
تھاپڑ نے تھاپڑ کے چہرے پر ناراضگی تھی— ’اِن برسوں میں جو کچھ ہوا ہے، وہ تم نے بھی دیکھا ہے اور میں نے بھی… اور ایسے کسی بھی معاملے میں نہ دلیلیں کام آتی ہیں نہ منطق، نہ دماغ… ایک چوری چوری کرتا ہے۔  چوری کرتے ہوئے پکڑا جاتا ہے… دیکھنے والے گواہ موجود ہوتے ہیں مگر ہوتا کیا ہے ارشد پاشا___  چوراثررسوخ کا آدمی ہے تو سب کو خریدلیتا ہے___  دیکھتے  ہی دیکھتے میڈیا کا ہیرو بن جاتا ہے___  عدالت میں وہ خریدے گئے وکیل کی زبان اور آنکھوں کے اشارے سمجھتا ہے— اور کچھ بھی نہیں کہتا— کیسے بھولا بھولا معصوم بن جاتا ہے___  اس ملک میں پردھان منتری کو کروڑوں کے بریف کیس پہنچائے جاتے ہیں اور سارا معاملہ رفع دفع— تانترک اور رنڈیوں کے دلال جیسے سادھو سنت سیاست کی بساط بچھاتے ہیں ___  اُن کے پیر چومتے ہیں … یہاں عورت کو کمرے میں کاٹ کر مکھن اور کریم لگا کر تندور میں ڈال دیا جاتا ہے… اور سارے معاملات ہاضمے کی گولیوں کی طرح ہم چبا لیتے ہیں ___  پھر کوئی نیا اسکینڈل… نیا معاملہ… کوئی متھرا، کاشی، یا بابری مسجد… یہاں ایک کھلاڑی جوتے پر انجانے میں اپنے دستخط کسی کمپنی کو بیچتا ہے اور تمہارے چار داڑھی والے ملاّ اسے پبلک ایشو بنا لیتے ہیں۔  جھٹ سے اللہ اور ایشور کی بے حرمتی پر تیور چڑھ جاتے ہیں مگر تب… جب ڈھابے کے تندور میں کوئی عورت جلائی جاتی ہے…؟‘ کوئی دیوداسی جین رشی منیوں کے آشرم میں روز ہی بلاتکار کا شکار ہوتی رہتی ہے…؟ مندروں کے سادھو اور تنتر منتر کا ناٹک رچنے والے تانترک اس سیاست کا حصہ بن جاتے ہیں … قصّے ایک نہیں ہیں پاشا، ہزاروں ہیں لاکھوں ہیں … مگر ___ سوچنا نہیں ہے۔  بولنا نہیں ہے… سننا نہیں ہے___  ایک کان سے سننا ہے اور اُڑا دینا ہے… کیونکہ یہی اب تک ہوتا رہا ہے… بوفورس سے بابری مسجد تک… پرائم منسٹر ہاؤس سے تندور کی آگ تک___  انہیں پچانے والی ہاضمے کی گولیاں نہیں بنتیں تو اس ملک میں ایک آدمی نہیں ہوتا— تھوڑا سا بھی دل، جگر یا احساس ہوتا نا— تو کسی نہ کسی ایشو کو اٹھا کر ہم میں سے زیادہ تر لوگ یا تو ہتیارے بن چکے ہوتے یا  آتم ہتیا کر چکے ہوتے… یہ ملک ختم ہو چکا ہوتا یا ملک کا نقشہ بدل گیا ہوتا___  یا روز ہی اس طرح کے واقعات سامنے آتے کہ سنسدبھون میں لاشوں کے ڈھیر لگ گئے— یہاں پکڑا۔  وہاں مارا— کہیں زندہ جلایا اور تمہاری ویوستھا میں چلی آ رہی بیماری کا ایک پل میں صفایا___  مگر نہیں دوست، ایسا ممکن ہی نہیں ہے___  جانتے ہو کیوں ؟‘
تھاپڑ نے غصے میں کہا… کیونکہ دراصل ماننے نہ ماننے کے باوجود ایک، مذہبی چڑیل، اپنے بڑے بڑے پنجوں کے ساتھ اندر بیٹھی ہے___  چڑیل ہے نا، وہ ہر پل کوئی نہ کوئی روپ بدل کر سامنے آتی رہتی ہے___ 
ارشد پاشا کے لب تھرتھرائے___  ’تمہارے اندر کا فریسٹریشن بول رہا ہے… ڈر گئے ہو تم…‘
کیوں ؟ نہیں ڈرنا چاہئے… مجھے…؟‘
تھاپڑ ہنس رہا تھا…’ ہاں کہیں نہ کہیں ڈرتا ہوں میں — تم بزدل بھی کہہ سکتے ہو— لیکن مجھے کیوں نہیں ڈرنا چاہئے ارشد پاشا___ ‘
’پھر اس بھاشن کا مطلب؟‘
’مطلب یہ کہ ہم ابھی کمینے نہیں ہوئے___  ہونا بھی نہیں چاہتے___  آٹھ گھنٹوں کی مزدوری کے بعد ہم میں سے زیادہ تر لوگ ہیں، جو اپنا حق چاہتے ہیں یا مانگتے ہیں ___ 
تھاپڑ کی آوازسرد تھی…
’کہاں کھوگئے پاشا— آج تمہیں کچھ دکھانا چاہتا ہوں … لیکن شاید ابھی وقت نہیں آیا— وقت آنے دو۔  سیاست کے یہ سارے جوکر بے نقاب ہوں گے اور تم خود بھی اس سیاست کے درمیان ایک مہرہ ہو گے—‘
’مہرہ…‘
’ہاں —ہم سب مہرے ہی تو ہیں۔  کھیل، کوئی اور کھیل رہا ہے…‘
’ہونہہ—‘ ارشد پاشا نے لمبی سانس لی—
تھاپڑہنس رہا تھا… تمہارے پاس آنکھیں ہیں مگر تم کچھ دیکھ نہیں رہے ہو___ لکھنے کے لئے ابھی جو ایک حساس اور جذباتی چڑیا پرکٹا کر تمہارے اندر بستی ہے نا، وہ بے پر کے بھی اڑ جائے گی… پھر تم کچھ بھی لکھ نہیں سکو گے… سیاست کی بات، سادھو سنتوں اور تانترکوں کی بات، منتریوں کی فرمانبرداری کے قصّے… اونچے سے اونچے مسند پر بیٹھا ہوا کوئی بھی شخص تمہیں گندہ یا عیب والا نظر نہیں آئے گا اور سچ تو یہ ہے کہ اس کے بعد تم گناہ، ثواب، جرم، پردہ جیسی تمام چیزوں سے بے نیاز ہو جاؤ گے… سب چیزیں تمہیں ایک جیسی لگیں گی… یعنی اس قدر ملتی جلتی کہ تم فرق نہیں کر پاؤ گے۔  اچھے بُرے میں، بُرے اچھے میں … اور تمہیں کوئی بھی سودے بازی، سودے بازی، نظر نہیں آئے گی… تم ان کھرے کھوٹے اور اچھے بُرے تصورات سے بہت اوپر اُٹھ جاؤ گے پھر بھول جاؤ گے___ کہ ایک ملک ہے… جہاں امام پشاوری بستے ہیں، جہاں حلوانی اور نانبائی رہتے ہیں۔  جہاں کی قسمت کا فیصلہ ایک تانترک کرتا ہے… جہاں بچہ ٹھاکر جیسا کارٹونسٹ یا جو کر گدھ سینا بناتا ہے… جہاں کوئی بابری مسجد ہوتی ہے جس کی آڑ میں یہ سارے کے سارے سوداگر اپنی اپنی دکان سجاکر، اپنے اپنے قوم کے اندھے بندوں سے دے اﷲ اور دے بھگوان کرنے لگتے ہیں ___ بُرا مت ماننا ارشد پاشا___ مگر تم دیکھو گے… یہ وقت بھی بہت جلد آنے والا ہے…‘
ارشد پاشا کے ہوش اڑ گئے تھے… تھاپڑ کے لفظ، لفظ نہیں تھے… ہر لفظ اپنی جگہ بارود تھا… وہ جیسے بارودی سرنگ کے دہانے پر کھڑا تھا اور بس ایک جلتی ہوئی ماچس کی تیلی… وہ اڑ رہا ہے… نہیں … اُس کے چیتھڑے اڑ گئے ہیں …
 شاید یہ سب اس سیکولر ملک میں ہی چلتا ہے جہاں قاتل نیتا کہلاتے ہیں۔  سانپوں کی دودھ پلا کر پرورش کی جاتی ہے… جہاں فرقہ واریت کی کوکھ سے جنمی پارٹی عوام کی پارٹی کہلاتی ہے۔  حکومت بناتی ہے… اور تاش کے باون پتوں کو بکھیر کر اپنی من مانی اور کارناموں پر نہال ہوتی رہتی ہے…
شاید اس جمہوری ملک کا یہی نصیب ہے…
کہاں کھو گئے…؟تھاپڑ اُس سے پوچھ رہا ہے…
نہیں … کہیں نہیں ___
تھاپڑ کے چہرے پر معنی خیز مسکراہٹ تھی—
’زیادہ مت سوچو— زیادہ سوچنے کا وقت نہیں رہا— بد نصیبی کی وہ گھڑی اب سامنے آ چکی ہے۔  ہم اور تم فقط تماش بین ہیں — اور ہمیں دیکھنا ہے، یہ تماشہ کیا رنگ لاتا ہے—‘
’تمہیں اب بھی ان لوگوں سے کوئی امید ہے—؟‘
’نہیں —‘ تھاپڑ سنجیدہ تھا— اجودھیا چلو کے نعرے میں اس وقت جنون اور پاگل پن شامل ہو چکا ہے— حکومت کے لیے کیا اس جنون کو روکنا آسان ہے—‘
’کیا ہو گا بابری مسجد کا—؟‘
’نہیں جانتا— لیکن شاید ملک کے کورے صفحے پر ایک ایسی کویتا لکھی جانی ہے جو تقسیم کے وقت لکھی گئی تھی— اور یہ کویتا آنے والے دنوں میں بھیس بدل بدل کر عام ہندستانیوں کے دلوں کو تڑپایا کرے گی—‘
’یعنی تمہارا مطلب ہے—؟‘
’شاید حکومت بھی… یہی چاہتی ہے—‘ تھاپڑ سنجیدہ تھا۔ 
’اب دن ہی کتنے رہ گئے ہیں — حقیقت بہت جلد تمہارے سامنے آنے والی ہے—‘
تھاپڑ نے مسکرانے کی کوشش کی— زندگی کتنی جلد بدل گئی دوست— تمہاری بھی اور میری بھی—سچ کہوں تو اب یہ شہر چھوڑ دو۔  اپنے حصے کا مکان بھی فروخت کر دو اور دلّی میں ایک چھوٹا سا فلیٹ لے لو— پھر ہم بڑے شہر کی بڑی سیاست کا حصہ بن جائیں گے—‘
’نہیں مہرے—‘ میں نے ہنسنے کی کوشش کی — مگر شاید تھاپڑ کی گفتگو نے یہ مسکراہٹ بھی اس لمحہ مجھ سے چھین لی تھی—

٭٭

چھ دسمبر ۱۹۹۲ء

کبوتروں کا جھنڈ، انسانوں کے جنون اور پاگل پن کو دیکھ کر گنبد سے اڑا اور آسمان کی جانب پرواز کر گیا—
اجودھیا کے اس علاقے میں اس وقت صرف سر ہی سر دکھائی دے رہے تھے— امن و شانتی کا پیغام یوں تو پولیس کے ذریعہ لاؤڈ اسپیکٹر پر مسلسل سنایا جا رہا تھا لیکن یہ طے تھا کہ کسی کو بھی اس پیغام میں دلچسپی نہیں ہے— اب، سب کے سب فتح کے ارادے سے، جشن کی تیاریوں میں شامل ہونے— تاریخ کی اس انوکھی واردات کو دیکھنے کے لیے جمع ہوئے ہیں —
لوگ پاگل ہو رہے تھے— ناچ رہے تھے—
ڈنکے بج رہے تھے—
ماحول میں ابیر اور گلال اچھالے جا رہے تھے— آناً فاناً کچھ لوگوں کا جتھا، پولیس کے روکتے روکتے گنبد پر چڑھ گیا—
جے شری رام کے نعروں سے آسمان گونج اٹھا—
یہ جنون اور یہ دیوانگی تاریخ کی کتابوں میں نہ اس سے قبل دیکھی گئی نہ کبھی اس کے بعد دیکھی جائے گی—
پولیس خاموش تماش بین کی طرح اس پوری واردات کا ایک حصہ بن گئی تھی—
شور بلند تھے—
نعرے گونج رہے تھے…
اور کبوتر آسمان میں پرواز کیے جا رہے تھے…
ڈم… ڈرم… ڈرم…
گنبد ٹوٹ رہے تھے…
لوگ اچھل اچھل کر ایک دوسرے کو مبارکباد دے رہے تھے—
تاریخ نے اس باب کو ایک قوم کی فتح اور دوسرے قوم کی شکست کے طور پر قبول کر لیا تھا—
٭٭
اس حادثے کے چھ مہینے بعد تھاپڑ دلی چلا گیا— تھاپڑ کو ایک ہندی اخبار میں جگہ مل گئی— ارشد پاشا کاشی کے ایک اردو اخبار کو دیکھنے کے ساتھ ساتھ بچوں کو پڑھانے کی ذمہ داریاں بھی ادا کرنے لگے۔  اسامہ اب بڑا ہو رہا تھا— اسامہ جیسے جیسے بڑا ہو رہا تھا۔  اس میں نئے پنکھ نکل رہے تھے— رباب کی آنکھوں میں اب ہلکی سی ناراضگی صاف طور سے دیکھی جا سکتی تھی—
پھر وقت پنکھ لگا کر اڑا—تھاپڑ کے زور دینے کے بعد آخر وہ دلی جانے کے لیے تیار ہو گیا— اسامہ اب ۸سال کا ہو گیا تھا— دلی کے کرایہ کا مکان اسامہ کو پسند نہیں آیا تھا— مگر رباب نے سمجھا دیا تھا۔  ہم جلد ہی اپنا مکان لے لیں گے—
مجاہد کی زبردست مقبولیت کے راستے سے صوفیہ راجیہ سبھا کی ممبر بن گئی—
لیکن کہانی ختم نہیں ہوئی تھی—
کہانی جاری تھی—
دنیا کے نقشے میں دہشت پسندی نے اپنی جگہ بنا لی تھی—
٭٭٭



حصہ سوم

آبِ روانِ کبیر


’’آبِ روانِ کبیر، تیرے کنارے کوئی
دیکھ رہا ہے کسی اور زمانے کا خواب‘‘
		—اقبال

(۲۰۱۰سے مسلسل…)






(1)

میں ارشد پاشا…میں واپس اپنی دنیا میں لوٹنے کی کوشش کرتا ہوں تو وہ دھماکے میرا راستہ روک لیتے ہیں …
اٹھارہ برسوں کے طویل سفر کے بعد بھی جیسے وہ دھماکے مجھ میں ابھی ابھی زندہ ہیں۔  اور حقیقت یہی ہے کہ میں ان دھماکوں سے کبھی باہر نہیں نکل سکا۔  ابا حضور تغلق پاشا اور بی اماں کی کہانیاں وقت کی قبروں میں دفن ہو گئیں۔  اب بھی آسمان پر کوّے شور کرتے ہیں تو بادلوں کے درمیان سے بی اماں کا جھرّیوں بھرا چہرہ سامنے آ جاتا ہے— اور دمہ کے مریض تغلق پاشا کا سہماہوا چہرہ…
کتنے پاکستان—؟یہ ہمارے رہنما اور کتنے پاکستان بنائیں گے؟ ایک پاکستان کو روتے ہوئے بدنصیب زندگی ختم ہو گئی۔  اور یہ… ان کی زہریلی زبان کو نفرت اور تقسیم کا ذائقہ لگ چکا ہے… خدا جانے آگے کیا ہو گا۔  لیکن ہم تو نہیں ہوں گے، آگے آنے والے پر آشوب موسم کا مرثیہ پڑھنے کے لئے —لیکن تم تو ہو گے نا…؟ تمہاری نسل ہو گی۔ ‘

اس سنّاٹے سے باہر نکلتا ہوں تو دشینت کا چہرہ میراراستہ روک لیتا ہے۔  
میڈیا ایک بار پھر کرنل روہت، مرگیہ اور ابھے کار دوبے کی رپورٹ کو دبانے میں کامیاب ہو گئی تھی۔ 
رباب، شمیمہ کو لے کر پریشان تھی۔ لیکن اب آنندی کی وجہ سے وہ ایک بار پھر بہل گئی تھی۔  رباب کو آنند ی کا ساتھ اچھا لگتا تھا۔  آنند ی مزے مزے کی بات بتاتی تھی۔  جیسے اس نے تھا پڑ کے بارے میں انکشاف کیا۔  
’وہ ویسے نہیں ہیں جیسے نظر آتے ہیں ‘—
مطلب —؟رباب نے حیرانی سے پوچھا۔ 
’اندر سے بہت سخت ہیں۔  غصہ آ جائے تو پھر ہوش میں نہیں رہتے۔ ‘
’بھائی صاحب ایسے تو نہیں لگتے۔ ‘
’نہیں لگتے تو کیا۔  ہر مرد ایک جیسا ہوتا ہے۔ ‘
رباب نے بات کاٹ دی—’ نہیں یہ تو ایسے بالکل نہیں ہیں۔  بلکہ کبھی کبھی غصہ مجھے ہی آتا ہے۔  لیکن یہ خاموش رہتے ہیں۔ ‘

ان دو برسوں میں بٹلہ ہاؤس انکاؤنٹر کی کہانیوں پر دھند چھا گئی تھی— مگر کسی نہ کسی بہانے یہ معاملہ پھر سے زندہ ہو جاتا تھا۔  ایک دن ابھے کار دوبے کی بھی خبر آ گئی۔  انہیں جیل میں ہی زہر دے دیا گیا تھا۔  پولس انوسٹیگیشن میں دونوں باتوں پر غور کیا جا رہا تھا کہ یہ خودکشی ہے یا پھر قتل کی سازش—کیونکہ دوبے پولس دباؤ میں اپنا اقبالیہ بیان درج کرا چکے تھے۔  پولس کو اہم سراغ ملے تھے۔  لیکن یہ اہم سراغ کیا ہیں، اس کی تفصیل نہیں بتائی گئی تھی۔ 
مرنے سے کچھ روز پہلے کورٹ لے جاتے ہوئے میڈیا نے ان کا ایک انٹرویو بھی ہائی لائٹ کیا تھا۔ 
’’میں سنگھ کا آدمی ہوں۔  اور سنگھ آدمی کہاں نہیں ہے— ہو سکتا ہے جو آدمی آپ کو تسلی اور دلاسہ دے رہا ہو، وہ بھی سنگھ کا ہی آدمی ہو۔  جو آدمی آپ کے زخموں پر مرہم رکھ رہا ہو، وہ بھی سنگھ کا آدمی ہو— جو آدمی آپ کے گھر کا نوکر، خدمتگار یا گہرا دوست ہو، وہ بھی سنگھ کا آدمی— سنکھ کے آدمی کو کہاں کہاں تلاش کریں گے آپ—؟ وہ کسی بھی بھیس میں، کسی بھی روپ میں آپ کے پاس ہو سکتا ہے—اور آپ اسے پہچان بھی نہیں پائیں گے۔  ‘

میں ارشد پاشا…میں واپس اپنی دنیا میں آ گیا ہوں۔  یہاں سہمی ہوئی رباب کا چہرہ ہے، جو مجھے بغور دیکھ رہی ہے۔  
’تم اجودھیا جا رہے ہونا…؟‘
’  ہاں۔   ‘
’  تھاپڑ بھائی بھی —؟‘
’  میں نہیں چاہتا تھا۔  مگر وہ ساتھ چلنے پر بضد ہے۔ ‘
’  یہ تو اچھی بات ہے ۔ ‘
’  میں اسے اکیلا ہی تلاش کرنا چاہتا ہوں۔  ‘
میری آنکھیں سوچ میں ڈوبی تھیں —’ تھاپڑ کب تک میرا ساتھ دے گا۔  اور کہاں تک ساتھ دے گا۔ ‘
’مگر اس میں نقصان کیا ہے؟‘
’  نقصان کچھ نہیں۔  اس کی بیوی ہے۔  بیٹا بھی ہاسٹل سے آیا ہوا ہے۔  ‘
’  لیکن تھاپڑ بھائی کو تم تو زور نہیں دے رہے ہو— وہ خود ہی جانا چاہتے ہیں تو اس میں کوئی برائی نہیں ہے۔  ‘
رباب کی آنکھیں کہیں اور دیکھ رہی تھیں —
’بس۔  اس بار میرا بیٹا مل جائے۔  اسامہ واپس آ جائے۔  پھر ہم یہ علاقہ چھوڑ دیں گے۔ ‘
رباب کی آنکھیں نم تھیں۔ 

کل صبح ہم دونوں کو فیض آباد کے لئے ٹرین پکڑنی تھی۔  وہاں سے اجودھیا۔  اور پھر ٹھہر کر ہری دوار ہوتے ہوئے دلّی واپس آنا تھا۔  یہ سب کچھ مایوسی میں چراغ جلانے جیسا تھا— مگر یہ اسامہ کی تلاش کا معاملہ تھا۔  اور اس معاملہ میں، میں اپنی طرف سے کوئی کسر نہیں چھوڑنا چاہتا تھا۔ 
٭٭
فیض آباد ریلوے اسٹیشن سنسان پڑا تھا۔  مسافروں سے زیادہ تعداد اس وقت وہاں بندروں کی تھی۔  جوتا پالش کرنے والا بچہ زور زور سے ہنس رہا تھا—
’ڈریے مت کچھ نہیں کریں گے یہ ۔ ‘
تھاپڑ نے مسکرا کر میری طرف دیکھا۔ 
’  بندروں سے ڈر تو نہیں لگ رہا۔ ‘
’  نہیں۔ اب انسانوں سے زیادہ ڈر لگتا ہے۔ ‘
جو تا پالش کرنے والا بچہ بندروں کو دیکھ کر انہیں بھگانے کی کوشش کر رہا تھا۔  
’  یہاں سب رام بھکت ہیں۔  یہ بندر بھی۔  کیلے کھاتے ہیں۔  آپ کی آنکھوں پر چشمہ ہے تو چشمہ بچا کے چلیے۔ یہ چشمہ اتار لیتے ہیں۔  ساتھ میں کھانے پینے کے سامان ہوں تو لے کر بھاگ جاتے ہیں۔ ‘
’  سنا۔  رام بھکت ہیں — تھاپڑ پھر ہنسا— ان رام بھکتوں نے جو دیش میں تباہی مچائی، اس سے رام کا دل بھی رو رہا ہو گا۔  ‘

فیض آباد اسٹیشن سے باہر نکلنے کے بعد ہم ٹیمپو والوں کی طرف بڑھے۔  ایک قطار سے کھڑے ٹیمپو والے چیخ رہے تھے۔  
’  اجودھیا… اجودھیا چلو…‘
یہاں کی فضا میں ایک عجیب سا سنّاٹا چھا یا تھا— گرد آلود سڑکیں۔  سڑک پر ٹریفک شروع ہو گیا تھا۔  گاڑیوں کے ہارن چیخ رہے تھے۔  لیکن ان سب سے بے نیاز میں صرف اسامہ کے بارے میں سوچ رہا تھا۔ 
اجودھیا…ہری دوار… پتہ نہیں اس کے دل میں کیا ہے۔ ؟‘
کیا سوچنے لگے…تھاپڑ نے پلٹ پر پوچھا۔ 
میں نے مسکرا نے کی کوشش کی۔ 
’   اسامہ کے بارے میں سوچ رہا تھا— کیا سچ مچ وہ اجودھیا آیا ہو گا۔  اگر ہاں تو کیوں ؟ ہندستان میں اتنی ساری جگہیں ہیں۔  پھر اجودھیا ہی کیوں … اگر وہ آیا— تو کوئی نہ کوئی مقصد تو ضرور ہو گا۔ ‘
’ہونہہ۔ ‘ تھاپڑ نے میری طرف دیکھا۔  ’میں بھی یہی سوچ رہا تھا۔  خیر، کوئی نہ کوئی سراغ تو اس کے بارے میں ملے گا ہی۔ ‘
 اجودھیاکی تنگ گلیاں رام بھکتوں سے روشن تھیں۔  جہاں سے بھی نکلیے… جے شری رام کی آوازیں۔  مندروں سے، لاؤڈسپیکر سے بجتے ہوئے بھجن… عقیدت مندوں کا ہجوم… بھیڑ بھاڑ والے علاقے سے ہوتے ہوئے ہم ہنومان مندر اور سیتا رسوئی کی طرف بڑھ رہے تھے۔  یہاں قدم قدم پر پولس چوکی بھی تھی۔  ہماری آنکھیں چاروں طرف دیکھ رہی تھیں۔  اسامہ کی عمر کا کوئی بچہ نظر آتا توٹیس کی ایک لہر بدن میں سرایت کر جاتی…
’یہاں نو عمر سادھو بھی تھے جو بھگوا کپڑوں میں آتے جاتے ہوئے ہمیں دیکھ کر زور سے جے شری رام کہتے۔ 
مجھے اندر ہی اندر خوف کا احساس بھی ہو رہا تھا۔ 
مگر سوال یہ تھا کہ اسامہ کے بارے میں یہاں کس سے پوچھا جائے۔  اور جس سے پوچھا جائے، کیا وہ مشکوک نگاہوں سے ہماری طرف نہ دیکھے گا— تھاپڑ میری کیفیت کو سمجھ رہا تھا۔  اس نے میرے کندھے کو ہلایا—
’پریشان مت ہو۔ پہلے کچھ دیر اسے خود تلاش کرتے ہیں۔  پھر آگے جو ہو گا دیکھیں گے—‘
میں کچھ نہیں بولا۔  سامنے سے سادھوؤں کی ٹولی شنکھ بجاتی اور ہوا میں گلاتی اڑاتی ہوئی آ رہی تھی— ہاتھوں منجیرے بھی تھے۔ یہ نظارے اجودھیا کے گلی کوچوں میں عام ہیں —
٭٭
دھول اڑنے لگی تھی…
مندروں سے ٹھہر ٹھہر کر گھنٹیوں اور شنکھ کی آوازیں گونج رہی تھیں۔ 
 سیتا رسوئی سے آگے بڑھنے پر تھاپڑ نے ایک کرتا پائجامہ پہنے ہوئے شخص کو روکا۔  اس نے اپنا نام امام بخش بتایا۔  وہ یہیں، مدتوں سے اجودھیا میں ہے۔  میں نے اسامہ کی تصویر دکھائی— اس نے نا امیدی میں سرہلایا۔  تصویر میں نے دوبارہ جیب میں رکھ لی۔  امام بخش نے کئی دلچسپ باتیں بتائیں۔  جیسے یہ کہ وہ کنٹھی مالا بناتا ہے۔  یہ اس کا پشتینی کاروبار ہے۔  اس کاروبار میں مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد شامل ہے۔  عام طور پر یہاں کے سادھو گلے میں اس کی ہی کنٹھی مالائیں پہنتے ہیں۔  
امام بخش ہنسا—
 ’’مندروں میں پھول کا چڑھاوا ہوتا ہے۔  پھول کے کاروبار میں بھی مسلمان چھائے ہوئے ہیں۔  صبح ہوتے ہی پھول لے کر مندر کی سیڑھیوں پر بیٹھ جائیں گے— اپنا مذہب الگ لیکن ہمارا رزق انہی مندروں اور شردھالوؤں سے وابستہ ہے— اب جیسے یہاں کے سادھو سنت کھڑاون پہنتے ہیں۔  کھڑاون کو پاؤں میں پہننے کے لئے شدھ مانا جاتا ہے۔  اور یہ کاروبار بھی زیادہ تر مسلمانوں نے سنبھال رکھا ہے۔  لوگ مندر، مسجد کے لئے لڑ رہے ہیں اور یہاں کو ئی فرق نہیں۔  ہمارے کھڑاون بڑے آرام سے وہ پاؤں میں ڈالتے ہیں۔  پھول چڑھاوے پر چڑھاتے ہیں اور کنٹھی مالا گلے میں پہنتے ہیں۔ ‘
’یہاں کے حالات…‘ تھاپڑ نے ادھر ادھر دیکھتے ہوئے پھسپھساتے ہوئے پوچھا۔ 
’  کبھی کبھی بگڑ جاتے ہیں۔  لیکن ان میں باہر والوں کی تعداد زیادہ ہے۔ ‘
’مطلب؟۔ ‘
’یہاں اب بھی بھائی چارہ ہے۔  دونوں قوم کے لوگ ایک دوسرے کی ضرورتوں کو محسوس کرتے ہیں۔ ‘
امام بخش آہستہ سے بولا—’ اب تین مہینے پہلے ذرا حالات بگڑ گئے— باہر سے کچھ لوگ آئے تھے۔  پولس والے بتاتے تھے کہ وہ مندر کو تباہ کرنے آئے تھے…دو گھنٹے تک گولیاں چلتی رہیں۔  راکٹ داغے گئے۔  یہ سب ہوتا رہتا ہے۔  لیکن ان واقعات سے مسلمان ڈر جاتے ہیں — تب بھیانک آوازیں ہوتی ہیں۔  اب تو ہم عادی ہو گئے ہیں۔  بیس سال سے زیادہ ہو گئے۔ ‘
 امام بخش نے ٹھنڈی آہیں بھریں — ’بس کبھی کبھی پرانے زخم تازہ ہو جاتے ہیں۔  مندروں کے سائے میں ہم نے زندگی گزاری۔  رزق بھی یہیں سے ملا۔  جب بابری مسجد توڑی گئی تھی۔  ہمارے بھی گھر جلا دیئے گئے تھے۔  کتنے ہی مسلمان یہاں سے بھاگ کھڑے ہوئے۔ لیکن ہم نہیں گئے۔  کہاں جائیں باپ داداؤں کی وراثت کو چھوڑ کر۔  یہ بھی کہا گیا کہ ہم مسلمان آتنک وادیوں سے ملے ہوئے ہیں۔  مگر بھلائی اسی میں تھی کہ چپ رہیں۔  بولنے سے فائدہ بھی کیا تھا۔  پہلے ایسا نہیں تھا۔  لیکن بدلے ہوئے حالات میں … یہاں والوں کی نظریں بھی بدلنے لگی تھی۔ ‘
تھاپڑنے کچھ سوچتے ہوئے پوچھا— ’ اچھا‘ یہاں اجودھیا میں مسلمانوں کی کتنی تعداد ہو گی؟
 ’مسلمان تو فیض آباد میں ملیں گے صاحب— مسجدیں بھی ملیں گی۔  یہاں تو بس یہی کوئی دو ہزار۔  سلائی، جوتے بنانا، پھول، کنٹھی مالا اور کھڑاون کے پشتینی کاروبار— مگر اب ان دھندوں میں بھی فرق آیا ہے۔  یہ بات بھی اڑائی گئی کہ مسلمان اشدھ ہوتے ہیں۔  ان سے پوجا کی کوئی سامگری نہ لی جائے۔  کچھ سادھو سنت بھلے مانس ہیں۔  وہ ان باتوں پر ہنستے ہیں۔  رام نومی کے موقع پر پچھلے اکھاڑے سے ایک رتھ نکلتا ہے۔  اس کی اگوائی بھی ایک مسلمان ہی کرتا ہے۔  برسہا برس سے— پہلے تو دونوں مذہب کے لوگ ملے ہوئے لگتے تھے۔  مگر اب فرق آنے لگا ہے۔  اچھا صاحب اب کام کا وقت ہے۔  چلتا ہوں —‘ چلتے چلتے امام بخش ٹھہر ا— ’رام جنم بھومی استھان سے کچھ دور پر ہی ایک خانقاہ ہے۔  کیوں نہیں، آپ وہاں جا کر پتہ لگاتے ہیں۔  ‘

مندروں کی گھنٹیاں بج رہی تھیں۔  بھجن گائے جا رہے تھے۔  سادھو سنتوں کی ٹولیاں اپنے اپنے کام میں مصروف تھیں۔  رام جنم بھومی جانے والے راستوں پر پولس کا پہرہ تھا۔  چاروں طرف خاکی وردی نظر آ رہی تھی۔  خوف کی ایک انجانی لہر میں جسم میں محسوس کر رہا تھا۔ 
 مگر ایسا کیوں تھا—؟اس بات کو سمجھنے سے ذہن قاصر تھا۔  اس درمیان کئی لوگوں کو اسامہ کی تصویریں دکھائی گئیں۔  مگر ان لوگوں نے بھی لاعلمی کا اظہار کیا۔ 
 پولس کے پہروں اور تلاشی سے گزرتے ہوئے رام جنم بھومی استھان تک جانا آسان نہیں تھا۔  اور تھاپڑ کا خیال تھا، وہاں جانے سے کوئی فائدہ بھی نہیں۔  کیونکہ ایک تو وہاں کسی مسلمان کے ہونے کی گنجائش بہت کم— اور دوسری اہم بات، اسامہ نام تبدیل کر کے ان لوگوں میں شریک ہو، یہ ممکن نہیں — میں یہاں مسجد کے گنبد کو تلاش کر رہا تھا—
اٹھارہ سال پہلے جب میں اس مقام پر آیا تھا تب یہ گلی ویران ہوا کرتی تھی—ایک ویران مسجد، جس کے آس پاس دور دور تک آدم ذات کا نام   تک نہیں۔  لیکن اب یہاں کے ماحول میں خاکی وردی اور سرہی سر نظر آ رہے تھے۔  دور آسمان پر اڑتے ہوئے کبوتر تو نظر آئے لیکن ایسا محسوس ہوا جیسے وہ بھی اس مقام تک آنے سے کترا رہے ہوں۔ 
رہ رہ کر فضا میں جے شری رام کے بول ابھر جاتے— یہاں سے کچھ دوری پر ہی وہ خانقاہ تھی جس کے بارے میں امام بخش نے بتا یا تھا۔  میں نے تھاپڑ سے بات کر لی تھی۔  مناسب ہوا تو رات ہم وہیں ٹھہر جائیں گے۔ 
یہاں ایک اداسی مجھ پر مسلط تھی۔  لیکن اس اداسی کی وجہ میرا بیٹا اسامہ نہیں تھا۔ 
سیتا رسوئی سے رام جنم بھومی اور وہاں سے خانقاہ کی طرف کوچ کرتے ہوئے ہم دونوں کے درمیان بے حد کم مکالمے ہوئے— اب اگلا پڑاؤ خانقاہ تھا۔  

آسمان پر سورج غروب ہو رہا تھا۔  شام کی سیاہی چھانے لگی تھی۔  جسم ٹوٹ رہا تھا۔  نا امیدی غالب تھی۔  لیکن نا امیدی کے بطن سے ہی امید کا سورج طلوع ہوتا ہے۔  
کیا اسامہ کی تلاش میں کامیابی ملے گی؟
میں نہیں جانتا تھا کہ اس سفر میں بھی کوئی کامیابی ہاتھ آئے گی یا نہیں۔  مگر اس تلاش نے ہی مجھے اب تک زندہ رکھا تھا۔ 
خوف اور دہشت کے گھنے سایوں کے باوجود۔ 
٭٭
’ جی فرمائیے۔ ‘
خانقاہ کے دروازے پر قدم رکھتے ہی ایک بھاری بھرکم آواز سے واسطہ پڑا۔ 
 ’  السلام علیکم  ‘
’  وعلیکم السلام  ‘
مصافحہ ہوا۔  یہ انظار صاحب تھے۔  صاف شفاف کرتا پائجامہ اور دو پلّی ٹوپی۔  قد لامبا۔  عمر یہی کوئی ۶۰ کے آس پاس۔  سوال کیا گیا۔  
’کہاں سے آنا ہوا ہے ؟‘ 
’  دلّی سے؟  ‘
’یہاں قیام…؟ ‘
’قیام کے لئے تو ابھی سوچا بھی نہیں ہے ۔ ‘
انظار صاحب کی مسکراتی آنکھوں نے تھاپڑ کو دیکھا۔ 
’ یہ خانقاہ ہے۔  اب تو یہ ویران ہو گئی۔  پہلے یہاں رونق ہوا کرتی تھی۔  آپ لوگ چاہیں تو یہاں قیام کر سکتے ہیں۔  ‘
باہر دالان میں زمین پر بستر لگا ہوا تھا۔  یہ سمجھنا مشکل نہیں تھا کہ یہ جگہ انظار صاحب نے مسافروں کے قیام کے لیے رکھی ہے۔  وہ ملنسار آدمی تھے— مگر تھاپڑ کی موجودگی میں وہ دل کی بات زبان پر لانے سے خوف محسوس کر رہے تھے۔  چائے اور ہلکے ناشتے کے بعد انظار صاحب نے یہاں آنے کی وجہ جاننی چاہی— میں نے تھاپڑ کی طرف دیکھا۔  تھاپڑ نے اسامہ کی تصویر آگے بڑھا دی۔  
’آپ نے دیکھا ہے اس بچے کو ؟‘
میں نے انظار صاحب کے چہرے کا جائزہ لیا— وہ بغور اس تصویر کو دیکھ رہے تھے۔  پھر انہوں نے آواز لگائی—
 ’مدو میاں۔  ‘
مدو میاں گھر کے پرانے خانساماں تھے۔  ان کا تعارف کرانے کے بعد انظار صاحب نے مدو میاں سے کہا—
’ لپک کر جائیو۔  اور رمتا کو بلا کر لے آؤ۔  ‘
’اچھا صاحب’
مدو میاں چلے گئے۔ 
 یہ رمتا کون ہے؟ میں نے آہستہ سے کہا۔ 
 ’چائے اور سگریٹ کی گمتی لگاتا ہے۔  خانقاہ سے بس دو قدم دور اس کی گمتی ہے۔  ‘
’ کیا بات ہے—؟‘ میں نے پلٹ کر انظار صاحب کی طرف دیکھا۔  
’بس دو سکنڈ انتظار کر لیجئے۔  رمتا کو آنے دیجئے۔ ‘
پانچ منٹ کے اندر ہی مدو بھائی اپنے ساتھ رمتا کو لے کر آ گئے— رمتا پچیس سال کا نوجوان تھا۔  ڈھیلی ڈھالی پتلون۔  شرٹ۔ گیہواں رنگ۔  اور پیشانی پر چمکتا ہوا ٹیکا— 
’آپ نے بلایا صاحب۔ ؟‘
’  ہائے رمتا ‘
’کیا بات ہے صاحب—؟‘ رمتا باری باری سے ہم دونوں کی طرف دیکھ رہا تھا۔  
’یہاں آ کر بیٹھو۔  اور یہ تصویر دیکھ کر بتاؤ کہ کس کی ہے۔ ‘ 
رمتا قریب آ کر بیٹھ گیا۔  اس نے تصویر ہاتھ میں لی۔  پھر مسکرا کر بولا۔ 
 ’  یہ تو اپنا علوی ہے۔ ‘
’  علوی؟‘
اس بار ہم دونوں چونک گئے تھے۔  
انظار صاحب مسکرائے— یہ علوی ہے۔  کئی بارمجھ سے بھی مل چکا ہے۔  کمال کا بچہ ہے۔ 
 رمتا اب ہم دونوں کی طرف دیکھ رہا تھا—
’    لیکن علوی کی یہ تصویر آپ کے پاس کیسے آئی—؟‘
تھاپڑ آہستہ سے بولے—’ ہم اس کی تلاش میں نکلے ہیں۔ ‘
میں نے کمزور لہجے میں کہا —’ آپ لوگ اس کے بارے میں جو بھی جانتے ہوں بتایئے۔  ہماری مدد کیجئے۔ ‘
 انظار صاحب نے لمبی سانس لی—’ میں نے ایسے بچے بہت کم دیکھے۔  ایسا بچہ جودوسروں کا مزاج بدل دے۔  علوی کو جب بھی دیکھتا تھا، سو چتا تھا۔  وہ ایسا کیوں کر رہا ہے…کوئی تو وجہ ہو گی—؟‘
’  مطلب ؟  ‘
’  آپ ایک مسلم شناخت کے ساتھ ایسے لوگوں سے وابستہ ہو تے ہیں جو آپ کے ہم مذہب نہیں ہیں — دوسرے مذہب اور دوسرے عقیدے کے ہیں — اور وہ آپ کے مذہب کے ساتھ آپ کو قبول کر لیتے ہیں۔   ‘
اب ہم دونوں کے چونکنے کی باری تھی— تھاپڑ نے کشمکش کے لہجے میں میری طرف دیکھا۔  میں نے رمتا کی طرف دیکھا — تم تو ملے ہو گے اس سے۔  
’ملے کیا۔  ہم تو دوست تھے۔ ‘
’دوست ؟  ‘
 ’  ہاں۔  وہ کوئی بات مجھ سے چھپاتا نہیں تھا— نماز بھی پڑھتا تھا۔  جہاں بھی موقع مل جائے۔  اور وہ جو اپنے بابا ہیں نا، ترلوکی بابا۔  وہ تو بہت مانتے تھے اسے۔ ‘ 
’’ترلوکی بابا۔   ؟ ‘
’  کہتے ہیں۔  تین لوگوں کی خبر ہے ان کو —سب ترلوکی بابا کہتے ہیں — مگر علوی نے تو ترلوکی بابا پربھی جادو کر دیا۔ ‘
’  نہیں۔  مجھے شروع سے بتاؤ۔  علوی نے تمہیں کیا بتایا۔ ‘
’ اپنے بارے میں تو کچھ نہیں صاحب۔  بس یہاں آنے تک کی کہانی معلوم ہے۔ ‘
کمرے میں دھند چھا گئی تھی—
یہ دھند یکایک ہماری آنکھوں کے آگے آ گئی تھی۔  دل تیزی سے دھڑک رہا تھا۔ 
باہر سے بھجن کی آوازیں یہاں تک سنائی دے رہی تھیں۔  
رمتا نے ٹھنڈی سانس بھری۔ 
 ’وہ گھر سے بھاگ گیا تھا—کیوں —؟ یہ نہیں بتایا۔  دلّی سے میرٹھ آ گیا۔  یہاں کا لکا بابا ٹکرائے۔  جو پیدل ہی میرٹھ سے ہری دوار جا رہے تھے۔  سڑک کنارے وہ بیہوش پڑے تھے۔  لیکن ان کی خبر لینے والا کوئی نہیں تھا۔  
پھر—؟‘ یہ تھاپڑ تھا۔ 
’علوی نے کالکا بابا کو کچھ لوگوں کی مدد سے اسپتال پہنچایا— انہیں ہوش آ گیا۔ جب معلوم ہوا کہ اس بچے کا کوئی نہیں۔  تو وہ بولے چلو میرے ساتھ۔  ‘ 
’مسلمان ہونے کے باوجود ؟‘
’ ہاں کٹر کالکا بابو اچانک وچار دھارا کی سطح پر موم ہو گئے— علوی نماز پڑھتا تھا— اور وہ پوجا کرتے تھے۔  پھر بابا کالکا نے شملہ جانے کا ارادہ کیا۔  ‘
’شملہ۔  ؟‘ تھاپڑ چونکا۔  
’ہاں۔  شملہ کی پہاڑیوں پر کالکا بابا کے گرو بھیرو ناتھ تھے— یہاں سے دونوں شملہ آ گئے۔  کالکا بابا نے بھیرو ناتھ سے علوی کو ملایا۔  بھیروناتھ نے کہا۔  یہ لڑکا جس مارگ پر ہے اسے نہ تو سمجھ سکتا ہے اور نہ میں — اسے سنسار میں رہنے دے۔  اپنے ساتھ لے کر نہ گھوم۔  یہاں سے کالکا بابا اور علوی کے راستے جدا ہو گئے— پھر علوی نے کچھ دن وہاں کام بھی کیا۔  شاید کسی دکان میں۔  ‘
’ہاں۔ ‘
’پھر…؟‘ رمتا گہری سوچ میں تھا—’ یہاں اسے وہ سادھو ٹکرائے جو ہمالیہ کی پہاڑیوں میں تپ کیا کرتے تھے— علوی نے ان کی بھی سیوا کی۔  ‘
’کیا وہ بھی علوی کے بارے میں جانتے تھے؟
’ہاں — ان سادھوؤں کے ساتھ علوی یہاں اجودھیا آیا تھا— یہ سادھو پاس کے آشرم میں ہی ٹھہرے تھے۔  ترلوکی بابا کے آشرم میں۔  اور اتفاق کہ اسی دن ترلوکی بابا سیڑھیوں سے پھسل کر گر پڑے— اور علوی نے ایک بار پھر اپنی سیوا سے ان کا دل جیت لیا۔  سادھوؤں نے ترلوکی بابا کو بتایا۔  کہ بڑا عجیب لڑکا ہے۔  مسلمان ہے۔  مگر دلوں کو جیتنا جانتا ہے۔  اور ترلوکی بابا نے کہا —کہ اصل مذہب تو انسان کا کرم ہے۔  باقی دھرم توہم نے بنائے ہیں۔  پھر علوی ترلوکی بابا کے ساتھ رہنے لگا۔  ‘
’اب کہاں ہے۔ ؟‘ مجھ سے کہیں زیادہ تھا پڑ کے تجسس میں اضافہ ہو چکا تھا—
’ترلوکی بابا کے پاس سادھوؤں کا ایک جتھا ہری دوار سے آیا ہوا تھا۔  ‘
’پھر—؟‘
’ترلوکی بابا کہتے تھے۔ رمتا جو گی ہے علوی— شاید ہری دوار نکل گیا ہو۔ ‘ 
ترلوکی بابا کہاں رہتے ہیں۔  ہمیں لے چلو گے ؟ ‘
’کیوں نہیں۔  ابھی چلیے۔ ‘

یہاں سے ہم ترلوکی بابا کے آشرم گئے—یہ وقت ان کے آرام کا وقت تھا— لیکن جب انہوں نے علوی کے بارے میں سنا تو اٹھ کر بیٹھ گئے۔  
’بھگوان کی لیلا۔ اتنا ادھ بھت بچہ میں نے جیون میں کہیں نہیں دیکھا۔  ‘
ترلوکی بابا ۶۰ کی عمر کے ہوں گے۔  چہرہ بڑا اور پر نور— اس وقت وہ دھوتی اور بنیائن میں تھے۔  انہوں نے کم و بیش وہی باتیں بتائیں جو رمتا بتا چکا تھا۔  مگر وہ علوی کی تعریف کر رہے تھے۔ 
 ’علوی جیسے بچے ہوں تودھرم یدھ ہی سماپت ہو جائے— ایک ایشور— سب اس کی اُپاسنا کرنے والے…‘ انہوں نے انگلیوں سے آسمان کی طرف اشارہ کیا— 

ہمارا کام پورا ہو چکا تھا۔  جو معلومات حاصل کرنی تھی، ہم حاصل کر چکے تھے— اب ہم خانقاہ واپس لوٹ رہے تھے۔ 
 واپس لوٹتے ہوئے ہم دونوں خاموش تھے—
ذہن میں دھماکے ہو رہے تھے—
بٹلہ ہاؤس سے شروع ہونے والی کہانی اس انجام تک پہنچ سکتی ہے، سوچنا بھی مشکل تھا—
’لیکن اسامہ کیا چاہتا ہے—؟
وہ کیوں ایسا کر رہا ہے—؟ 
ہزاروں سوالات تھے۔  لیکن ہر جواب کی کڑی اسامہ کے پاس ہی تھی— ہم صرف اپنی تسلیاں کر سکتے تھے۔  ہاں، وہ زندہ ہے۔  یہ بات مجھے حوصلہ دینے کے لیے کافی تھی۔  مگر وہ ہے کہاں — واپس کیوں نہیں آتا— کیا ہری دوار میں ہے— یا پھر ہری دوار سے بھی کہیں آگے نکل گیا ہے؟
 تھاپڑ سنجیدہ تھا—
’کبھی کبھی زندگی امتحان لیتی ہے۔  صرف سوال کرتی ہے— اور جواب ہمارے پاس نہیں ہوتے۔ ‘
 جواب صرف اسامہ کے پاس تھا۔  
٭٭


(2)

ہم خانقاہ واپس آ چکے تھے۔  سنّاٹے میں ڈوبی ہوئی رات— ہم کمرے سے باہر برآمدے میں آ گئے— باہر کتے بھونک رہے تھے۔  دور آسیبی پرچھائیوں کا ہجوم تھا— جیسے اندھیرے میں بہت سے بادل اکٹھے ہو گئے ہوں۔ 
’  وہ کیا کرنا چاہتا ہے— ‘ میں چیخا تھا— آخراسامہ کیا چاہتا ہے۔   ‘
تھاپڑ نے میری طرف دیکھا—’ میری پریشانی یہ تھی کہ وہ شملہ کیوں گیا؟‘
 ’  ہاں — ‘
اس کا بھی جواب مل گیا۔  میرٹھ۔  میرٹھ سے شملہ۔  میرٹھ میں بھی وہ اپنے لوگوں سے نہیں ملا۔   ‘
’  اپنے لوگوں ؟ ‘
’  اپنے ہم مذہب  ‘
’  ہاں۔   ‘ میری آواز ڈوبتی ہوئی تھی—
’وہاں اس نے سڑک پر بیہوش پڑے ایک سادھو کی مدد کی۔  وہاں سے شملہ گیا۔  جس سے ملا۔  ان کے نظریے بدلتے گئے۔  مجھے سوچنے دو ارشد پاشا۔ ‘
 تھاپڑ نے جیب سے سگریٹ نکال لی تھی۔  دھوئیں کے چھلے بناتا ہوا وہ غور و فکر میں ڈوب گیا تھا— 
’  وہ ایسے لوگوں سے ملا جو کٹّر تھے۔  اور جیسا انظار صاحب نے کہا۔  وہ اپنی شناخت کے ساتھ ملا۔  شناخت چھپا کر نہیں۔  ‘
’  مطلب ؟ ‘
 ’  میرٹھ۔ شملہ۔  اجودھیا۔  اور اب ہری دوار۔  وہ کٹر سادھوؤں سے ملا۔  وہ بھی ایسے پر آشوب موسم میں۔  جہاں مسلمان نام ادھرم، اوشواس اور آتنک واد کی علامت ہے۔  تم سن رہے ہو ارشد پاشا— اور یقینی طور پر وہ جن لوگوں سے ملا، وہ مسلمانوں کے بارے میں اچھی رائے یا نظریے نہیں رکھتے ہوں گے۔  ‘
’  ممکن ہے رکھتے ہوں — ‘
’  نہیں۔  میں ایسے لوگوں کو قریب سے جانتا ہوں  ‘
تھاپڑ نے سگریٹ کا ایک لبا کش لیا —’ جوتم سوچ  رہے ہو، ایسا نہیں ہے۔  مگر سوال وہی ہے۔  آخر اسامہ کے دل میں کیا ہے۔  یہ وہی بتا سکتا ہے۔  ہم صرف قیاس لگا سکتے ہیں۔  یہ اتفاق ہی ہے کہ اس سے ایسے لوگ ٹکرائے جو کٹر دھارمک یا سادھوسنت سے وابستہ تھے —لیکن وہ ان لوگوں سے خوفزدہ نہیں تھا۔  وہ نماز بھی پڑھتا تھا— ‘
 میں پھر زور سے چیخا—’ یہی تو سمجھنا ہے مجھے۔  وہ کیا چاہتا ہے۔  کیا ہے اس کے دل میں —؟ ‘
تھاپڑ نے گہری سانس لی—’اب اس کہانی کو ذرا شروع سے دیکھو ارشد پاشا— چار معصوم بچے عشا کی نماز کے بعد گھر سے نکلتے ہیں۔  پولس والوں سے ان کی کہا سنی ہوتی ہے۔  بٹلہ ہاؤس کا انکاؤنٹر سامنے آتا ہے۔  پولس اسامہ کے دو دوستوں کو مار گراتی ہے— اور ایک دوست پولس کی حراست میں ہوتا ہے۔  ‘
’  ہاں ۔ ‘ میں غور سے تھاپڑ کے چہرے کو دیکھ رہا تھا۔ 
 ’’میں اسامہ کے فیصلے کو ان کڑیوں سے ملانے کی کوشش کر رہا ہوں۔  ایک بار تین سال پہلے جامعہ ملیہ اسلامیہ کے اردو ڈپارٹمنٹ میں گیا تھا۔  غالب پر سے می نار تھا۔  میں نے اردو ڈپارٹمنٹ کے ان بچوں کو غور سے دیکھا— لڑکیاں سروں پر آنچل رکھے— معصوم سے لڑکے— وہاں کی مکمل تہذیبی فضا ایسی تھی، جس نے مجھ پر جادو کر دیا—طالب علم ایسے بھی ہوتے ہیں — اتنے معصوم—فرشتہ صفت— یہ وہ بچے تھے ہی نہیں جن کی وجہ سے آج کے اسٹوڈینٹس بدنام ہیں —ہنگامہ۔ مار پیٹ۔  لڑائیاں۔  تین سال گزر گئے۔  لیکن جامعہ کے اردو ڈپارٹمنٹ کے ان بچوں کا چہرہ نہیں بھول سکا— ‘تھاپڑ نے پلٹ کر میری طرف دیکھا— اسامہ نے اسی ماحول میں آنکھیں کھولیں۔  ایک تہذیب یافتہ ماحول میں۔  لیکن اس نے کیادیکھا—؟ اس نے فرق کے کیڑے دیکھے۔  ہندو اور مسلمانوں کا فرق— دہشت کی کارروائیوں کو دیکھتے اور سنتے ہوئے وہ بڑا ہوا۔  اور پھر— ایک دن اس کے دوست پولس کے نشانے پر آ جاتے ہیں۔  ‘
’  ہاں  ‘
تھاپڑ نے سگریٹ بجھا دی—’ اسامہ تیزی سے ایک نئے افق یا نئے نظریے کی طرف بڑھ رہا ہے— اور وہ بھی اپنی مسلم شناخت کے ساتھ— وہ ایسے لوگوں سے مل رہا ہے جو کٹر ہیں۔  وہ ان سے اپنے نظریے بانٹتا ہے— اور ان کادل جیت لیتا ہے۔   ‘
تاریکی کے سائے گھنے ہو گئے تھے—
 ’ممکن ہے۔  ایسا ہی ہو۔  لیکن وہ یہ کیوں بھول جاتا ہے کہ ہمیں اس کی ضرورت ہے۔   ‘
’ کل صبح ہم ہری دوار کے لیے نکل جائیں گے۔   ‘ تھاپڑ نے میرے ہاتھوں کو تھاما۔  
’  پریشان مت ہو۔  کیا یہ کم ہے کہ ہر جگہ ہمیں اس کی موجودگی کے سراغ ملتے جا رہے ہیں۔   ‘
 میری آنکھوں میں اسامہ کا چہرہ ناچ رہا تھا۔  ہونٹ خاموش تھے۔ 
 کتوں کے بھونکنے کی آوازیں اب بند ہو چکی تھیں۔ 
اب ہمارا اگلا پڑاؤ ہری دوار تھا۔ 
 ٭٭



(3)
تلاش

کسی کو تلاش کرنا کتنا مشکل کام ہے۔  وہ بھی جب آپ کے پاس نہ پتہ ہو نہ ٹھکانا۔  سب کچھ اندھیرے میں تیر چلانے جیسا۔  مگر اس تلاش میں جو تجربے ہمیں حاصل ہو رہے تھے، وہ دلچسپ تھے۔  دنیا ایک نئی شکل میں ہمارے سامنے آ رہی تھی۔  
جیسے بٹلہ ہاؤس انکاؤنٹر کے بعد جو دنیا ہمیں بے حد ڈراؤنی اور دہشت زدہ معلوم ہو رہی تھی، وہ دنیا حقیقت میں ایسی نہیں تھی— یہاں سیدھے سادھے مہذب لوگ بھی تھے۔  اور شاید اسی وجہ سے اس حسین دنیا کا تصور بھی زندہ ہے۔  

ہری دوار پہنچنے تک ہم خاصا تھک چکے تھے۔  
اس لیے یہ طے کیا گیا کہ آج ہوٹل میں آرام کریں گے۔  اور دوسرے دن صبح سے ہی اسامہ کی تلاش شروع کر دی جائے گی۔  یہ مناسب فیصلہ تھا۔  
تھاپڑ کی الجھن یہ تھی کہ اسامہ بار بار اپنا نام کیوں تبدیل کر رہا ہے۔  
’ شملہ میں وہ بدر تھا۔  یہاں علوی  ‘
 ’  ہاں ۔  لیکن نام بھی جان پہچان والوں کے۔ ایسا کیوں ہے؟  ‘
’  ممکن ہے اس کواس بات کا خیال ہو کہ ہم اسے یہاں تلاش کرنے بھی آ سکتے ہیں۔   ‘
’  ممکن ہے۔   ‘
’  اس طرح وہ ہماری پریشانیوں کو کسی حد تک کم رہا ہے— کہ وہ زندہ ہے اور ہمیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔   ‘
میں گہری سوچ میں گرفتار تھا—’ لیکن اگر وہ ہمارے لیے اتنا ہی پریشان ہے تو پھر ملتا کیوں نہیں۔   ‘
’  ممکن ہے جانے انجانے اس کے پاس ایک بڑا مقصد آ گیا ہو —اور وہ اسی مقصد کی تلاش میں بھٹک رہا ہو— ابھی جیسے ہم اس کی تلاش میں بھٹک رہے ہیں۔ ‘

ہری دوار۔ گنگا کی نگری۔  مایا پوری۔  ایک ملک میں رہتے ہوئے یہاں کی گنگا جمنی تہذیب کو جاننا مجھے اچھا لگتا ہے— میں یہاں پہلے بھی آ چکا تھا۔ 

 دوسرے دن صبح میں ناشتہ کے بعد ہم نے ہوٹل چھوڑ دیا۔  صبح نکھری نکھری سی تھی— ہوا شائیں شائیں چل رہی تھی۔ 
 چلتے ہوئے تھاپڑ ہمیں اس شہر کے بارے میں بتا رہے تھے— اس شہر کا قدیم نام مایا تھا— مایا پوری— مایا پوری کو دھرتی کا نا بھی استھل کہا جاتا ہے۔  یعنی انسانی جسم میں ناف کو جو حیثیت حاصل ہے وہی دنیا کے نقشہ میں ہری دوار کو— راجہ دکش کے یگیہ توڑنے کے بعد شیو بھگوان کو غصہ آ گیا اور اپنی اہلیہ ستی کے جسم کو کندھے پر اٹھا کر تانڈو کرنے لگے۔  کہتے ہیں اسی تانڈو میں ستی کی نا بھی ٹوٹ کر ہری دوار میں گری تھی— کہتے ہیں راجہ بھگیرتھ جب گنگا کو لے کر آئے تو گنگا اس برہم کنڈسے ہوتی ہوئی بہی— یہ بھگوان بدری ناتھ دھام جانے کا دروازہ ہے۔  اسی لیے اس جگہ کو ہری دوار کہا گیا۔ ‘
 تھاپڑ مسکرایا—’ کسی کسی شہر سے کیسی کیسی کہانیاں وابستہ ہو جاتی ہیں — یہیں ہری دوار کے نیل پروت پر بیٹھ کر شیو نے منتھن میں نکلا ہوا ہلاہل، پیا تھا۔  زہر  یعنی وش کو کنٹھ یعنی گلے میں روک کر شیو، نیل کنٹھ بن گئے۔  اور یہاں کی شوالک پروت مالا نیل پروت بن گئی— کہتے ہیں وش کا تاپ مٹانے کے لیے شیو نے گنگا کی جس لہر میں غوطے لگائے، وہ لہر اب بھی نیل لہر بن کر بہہ رہی ہے۔ 
 سمندر منتھن—
 میں اس لفظ پر آ کر ٹھہر گیا ہوں — ایک وش ہے، جسے میں نے پی رکھا ہے— شاید جسے مجھ سے کہیں زیادہ اسامہ نے پیا ہے—پھر اس کے بعد اس نے گھر بھی چھوڑ دیا۔ 
راکشس اور دیوتاؤں کا یدھ۔ 
سمندرمنتھن—
شیو کا تانڈو—
ایک تانڈو اس وقت میرے جسم میں بھی چل رہا ہے۔  مگر لب سلے ہوئے ہیں — جسم بے حرکت—
اپنے ہی جسم کا ایک حصہ گم ہے—
 اور بس۔  اس کی تلاش رہ گئی ہے—

 ہم دیر تک ہری دوار کے چکر لگاتے رہے۔  وہاں کے مین بازار، موتی بازار بھی گئے۔  دوپہر کا کھانا وہیں کے ایک چھوٹے سے ہوٹل میں کھایا۔  برہمکنڈ، ہڑ کی پوری… گنگا کی دودھیا دھار— عقیدت مندوں کی اپنی دنیائیں ہوتی ہیں۔ 
 اب صبح سے شام ہو گئی تھی۔  ہم کتنے ہی لوگوں سے ملے۔  دکانوں میں پوچھا۔  سادھوؤں سے بات کی۔  شام گہری ہو گئی تھی۔  ایک سادھو نے ٹھہر کر بتایا۔  آگے سادھو آشرم ہیں۔  وہاں بہت سے سادھو ملیں گے۔  ناگا سادھو بھی ہیں۔  سنیاسی روڈ کہلاتی ہے وہ جگہ— کنکھل کے نام سے بھی لوگ بتا دیں گے۔  وہاں دکش مندر بھی ہے۔  اکھاڑے بھی ملیں گے— جیسے پنچایتی اکھاڑہ، نرمل اکھاڑہ— اتنی معلومات ہمارے لیے کافی تھی۔  لیکن کنکھل کا پروگرام ہم نے دوسرے دن صبح پر ٹال دیا تھا—تھاپڑ نے کہا تھا، یہ وہ وقت ہوتا ہے جب سادھو مدرا پی کر بھگوان شیو کی طرح تانڈو کرنے لگتے ہیں۔ 
٭٭
 دوسرے دن صبح سنیاسی روڈ یا کنکھل کی تلاش میں ہمیں زیادہ پریشانی نہیں ہوئی۔  وہاں ایک قطار سے کئی آشرم یا اکھاڑے بنے ہوئے تھے۔  گیروا کپڑوں میں بے نیازی سے آتے جاتے سادھوؤں کو ہم سے کوئی مطلب نہیں تھا۔  ہوا تیز تھی— دھول اڑ رہی تھی— اکھاڑوں میں چہل پہل شروع ہو چکی تھی۔  عام طور پر گنگا میں ڈبکیاں لگا کر ہی یہ سادھو اپنی صبح کی شروعات کرتے ہیں۔  مجھے بتایا گیا تھا کہ ان اکھاڑوں میں غیر ملکوں سے آنے والے لوگوں کی تعداد بھی بہت زیادہ ہوتی ہے۔ 
ممکن ہے یہ اتفاق ہو یا کرشمہ کہ ہم نے جس سادھو کو پہلی بار اسامہ کی تصویر دکھائی وہ اسے پہچاننے والا نکلا۔  
’  علوی…‘  سادھو نے مسکراتے ہوئے اشارہ کیا۔ ’ وہ بانس کا پھاٹک دیکھ رہے ہیں —؟‘
’  ہاں ‘
’  سیدھے وہاں چلے جائیے۔  وہ آچاریہ منی کا آشرم ہے۔  سب انہیں آچاریہ جی کہتے ہیں۔  کچھ ہی دیر میں وہ گھاٹ کے لیے روانہ ہو جائیں گے۔   ‘

ہم تیزی سے آچاریہ منی کے آشرم میں داخل ہو گئے۔  یہ باقی آشرم یا اکھاڑے سے مختلف تھا۔  یہاں سادگی بہت تھی۔  باہر دو تین چار پائیاں نکلی ہوئی تھیں۔  چھت کی جگہ لکڑیوں کے بڑے بڑے لٹھے تھے جن پر کھپڑوں سے چھاونی کی گئی تھی۔  اس کے ٹھیک نیچے تین دروازے بنے تھے۔  ایک دروازے کی طرف اشارہ کر کے بتایا گیا— آچاریہ ابھی پوجا پاٹھ سے فارغ ہوئے ہیں۔  آپ مل سکتے ہیں۔ 
 اندر داخل ہونے کے بعد تھاپڑ اور میں نے ہاتھ جوڑ کر نمستے کیا۔ 
 آچاریہ مسکرائے— آشیرواد دیا۔  آنے کا مقصد پوچھا۔  زمین پر چادر بچھی تھی۔  اور تخت لگا تھا۔ لکڑی کا تخت— جس کے دونوں طرف مورتیاں رکھی ہوئی تھیں۔  آچاریہ اسی تخت پر بیٹھے تھے۔  کمرے میں پوجا کی اگر بتیاں جل رہی تھیں۔ 
وقت ضائع کیے بغیر تھاپڑ نے علوی کی تصویر آگے بڑھا دی—
 مسکراتے ہوئے آچاریہ بولے۔ 
 ’  علوی۔  اوہ … اپنا بچہ ہے۔  رمتا جو گی— ایک مہان آتمابستی ہے اس میں۔  ‘ 
مجھے حیرت ہوئی۔ آچاریہ نے میری طرف دیکھا۔  آنکھیں موند لیں — پھر کہا۔  
’  تو آپ دلّی سے آئے ہیں۔  اس کے پتا —؟ ‘
’  جی ہاں۔  ‘
اور یہ آپ کے دوست؟ ۔ ‘
’  ہاں۔  اجے سنکھ تھاپڑ۔ ‘
’آچاریہ مسکرائے—مجھے پتہ تھا۔  ایک دن آپ لوگ اس کی تلاش میں آئیں گے۔  مگر کہاں تلاش کریں گے اسے—؟ ‘
’  مطلب؟  ‘ میری دھڑکنیں بڑھ گئی تھیں۔ 
 ’  رمتا جو گی ہے— میں نے بتایا نا۔  عام بچہ نہیں ہے۔  بھگوان نے کسی بڑے کاریہ کے لئے بھیجا ہے اسے۔  ایک مسلمان بچہ اس طرح ہم سادھو سنیاسیوں کا ہردے جیت لے۔  اسمبھو۔  وہ بھی اپنے دھرم کا پالن کرتے ہوئے۔  ‘
آچاریہ ہنسے۔  ورشوں بعد اس کی اُپستیتھی نے آبھاس دلایا۔  کہاں کا دھرم۔ سارے دھرم تو ایک ہیں — سرو دھرم کی شاکھائیں جہاں ملتی ہیں۔  وہ اومکار ہے۔  وحدہ ٗ لا شریک لہٗ…‘
’  وہ آپ کے ساتھ اجودھیاسے یہاں آیا۔  مطلب ہری دوار؟  ‘
تھاپڑ نے بے چینی کی کیفیت میں پوچھا—
 ’ہاں۔ 
’پھر کہاں گیا وہ — ؟‘
 آچاریہ مسکرائے—’تھوڑا دھیریہ رکھیے۔  کہاں گیا، اس سے زیادہ یہ جاننا ضروری ہے کہ کیوں گیا— ہم سادھو کہلاتے ہیں۔  جیون بھر بھگوان کو جاننے میں اس کی تپسیا میں لین رہتے ہیں۔ لیکن کیا ملتا ہے۔  کیا ملتا ہے بھگوان؟ کبھی کبھی سب پاکھنڈ لگتا ہے— دھرم تو دلوں کو جوڑتا ہے— لیکن دیش میں جوہو رہا ہے— وہ ہندومسلم— دھرموں کے بٹوارے— وہ ہندو یہ مسلم۔  ایک سمے تھا جب ہم بھی اسی رنگ میں رنگ گئے تھے۔  اور شاید اس سے باہر بھی نہیں نکلتے۔   ‘
آچاریہ نے کسی کو آواز دی—پاٹھک جی۔ ‘
دھوتی سنبھالتے ہوئے کندھے پر گیروا شال لپیٹے پاٹھک جی آ گئے۔  
’  ذرا بتایئے انہیں۔  جب ہم ترلوکی بابا کے آشرم میں گئے تھے— کیا دیکھا—؟ ‘ 
پاٹھک جی مسکرائے۔ ’  عجیب نظارہ تھا۔  ترلوکی بابا پوجا میں لین تھے۔  اور وہیں کچھ فاصلے پر وہ بالک نماز پڑھ رہا تھا— ہم چھ سات لوگ تھے— سب کے لیے یہ کرشمہ تھا۔  کیونکہ ہم ترلوکی بابا کو بھی اچھی طرح جانتے تھے۔  ادھر بابا نے پوجا ختم کی۔ اور ادھر اس نے نماز—دو بجے کا سمے رہا ہو گا۔  آچاریہ نے ہنس کر پوچھا تھا۔  بابا، یہ کیا چل رہا ہے۔  تب تک بالک نماز پڑھ چکا تھا۔  
’  پھر۔ ؟  ‘
’  اس سے پہلے کہ ترلوکی بابا ہمیں کچھ بتاتے—بالک پوتر ہردے سے ہمارے پاؤں دھلانے کے لیے پانی لے آیا۔  ہمیں شردھا سے پرنام کیا۔  میرے ایک ساتھی کو صبح سے بخار چڑھ رہا تھا۔  بالک نے یہ کیفیت بھانپ لی۔  اسی سمے اس نے ساتھی کے لیے دوا کا انتظام بھی کر دیا— پھر میں نے دیکھا۔  اکھاڑے میں آنے والوں کے ساتھ وہ جو ادب دکھا رہا ہے‘ اچھے اچھے سنتوں میں یہ بھاؤ نہیں ہو گا۔  ‘
’  جائیے پاٹھک جی۔   ‘
پاٹھک جی کو بھیج کر آچاریہ گمبھیر آواز میں بولے—’ ترولوکی نے کہا، مجھے پتہ ہے— وہ میرے دھرم کا نہیں — دھرم تو انسانوں کا ہوتا ہے نا آچاریہ جی۔  اور اس بالک کا سوا بھاؤ—ترلوکی نے کہا۔  یہ بالک سویم نہیں آیا۔  یہ دیو دوت ہے۔  یہ بھیجا گیا ہے ہمارے مارگ درشن کے لئے۔ ‘
آچاریہ نے ٹھنڈی سانس لی—’ہم نے علوی کی کہانی جان رکھی تھی۔  ترلوکی بابا نے سب بتایا تھا۔  وہاں سے وہ میرے ساتھ ہولیا۔  اور یہاں جتنے بھی اکھاڑے ہیں اس نے سب کا دل جیت لیا۔  جب سب کا مالک ایک تو انتر کرنے والے ہم کون ہوتے ہیں۔  ‘
’  لیکن آپ کو کبھی ایسا نہیں لگا کہ وہ ایسا کرنے پر کیوں مجبور ہے— ؟‘ 
تھاپڑ نے پوچھا—
 ’ آہ۔ مجبور نہیں۔  وہ مجبور نہیں ہے— یہ سمے ہے۔  ہم نیئتی کہتے ہیں اسے۔  اور اسی لیے ہم نے اسے رمتا جو گی کہا ہے۔  وہ ایک جگہ نہیں ٹھہرے گا۔  میں نے سوچا تھا۔  بہت سوچا— کہ وہ یہ سب کیوں کر رہا ہے—وہ اپنے دھرم کے لوگوں کے درمیان کیوں نہیں۔  ‘
’ہاں — یہی بات۔  ‘
آچاریہ ہنسے —ہمارے دھرم سے کوئی علوی اٹھے اور وہ پہنچے تمہارے لوگوں کے بیچ— علوی اپنے لوگوں کو کیا سمجھاتا— لیکن کہیں کوئی ایک بات اس کے دماغ میں پھنس گئی تھی۔   ‘
وہ کہتے کہتے ٹھہرے—
میں بغور ان کی باتیں سن رہا تھا—
 تھاپڑ نے میری طرف دیکھا۔  آچاریہ سنجیدہ تھے—
’ میں آپ سے پوچھوں گا نہیں کہ علوی کے ساتھ کیا ہوا— وہ گھر سے کیوں بھاگا۔  اور بھاگنے کے بعد اپنے دھرم پر قائم رہتے ہوئے وہ ہمارے لوگوں سے کیوں ملا— بھاگیہ— نہیں کیول بھاگیہ نہیں۔  رہسیہ— بھگوان کا رہسیہ ہے۔  شاید وہ  سدھ کرنا چاہتا تھا کہ…‘
آچاریہ مسکرائے—’جب کہ اسے سدھ کرنے کی اوشکتا نہیں تھی۔  جو سداسے اندھکار میں ہیں، ہم ان کی آنکھیں نہیں کھول سکتے— بھگوان بھی نہیں کھول سکتا —لیکن جیسا کہ ترلوکی بابا نے کہا— وہ دیو دوت بن کر ہمارے بیچ آیا— ہم میں ایک نئی الکھ جگانے۔   ‘
’  تو کیا اب وہ یہاں نہیں ہے—؟ ‘
’  ہاں  ‘
پھر کہاں گیا ہو گا—؟‘
’یہ تو وہی بتائے گا…‘
 ’ آپ نے پوچھا نہیں —؟‘
 ’رمتا جو گیوں کا کوئی ٹھکانہ ہوتا ہے— آج یہاں، کل وہاں —، 
’  پھر بھی۔  ‘
 کوئی انہیں جانتا— لیکن آپ اداس مت ہوئیے— کیونکہ وہ عام بچہ نہیں ہے۔  ‘
’  لیکن مجھے بیحد عام بچہ چاہیے—خاص نہیں۔  ‘ میری آواز کمزور تھی۔  آچاریہ نے غور سے میری طرف دیکھا— بھگوان بدھ نے مرت انسان کو دیکھا اور دنیا کا موہ چھوڑ کر نکل پڑے—ایسی ہزاروں کہانیاں ہر دھرم میں مل جائیں گی۔  میرا وشواس ہے— بھگوان آپ کے بیٹے سے کوئی بڑا کام لینا چاہتا ہے۔  آپ پتا ہیں۔  آپ کی چنتا واجب ہے۔  ‘
’  پھر بھی جاتے ہوئے کچھ تو بولا ہو گا— یاد کیجئے آچاریہ جی—‘ تھاپڑ کی آواز میں تجسس تھا۔  
آچاریہ جی نے پھر آواز دے کر پاٹھک کو بلایا۔  پاٹھک جی دندناتے ہوئے آ گئے۔  
’  آدیش …؟‘
’ آپ کو یاد ہے، جس دن وہ بالک گیا تھا۔  … ‘
’ ہاں آچاریہ جی۔  سبھا سے کچھ لوگ آئے تھے۔  رات میں وشرام کیا تھا یہاں۔  ‘
’  کتنے لوگ تھے۔   ‘
’  کل سات لوگ۔  ‘
’  کیا یہ کسی کو پتہ ہے کہ وہ لوگ کہاں سے آئے تھے —؟‘
’نہیں آچاریہ جی۔   ‘
’  ذرا کسی سے پوچھ کر دیکھئے۔  ‘
’  کوئی لابھ نہیں۔  اکثر سبھاسے لوگ آتے ہیں۔  رکتے ہیں اور چلے جاتے ہیں — آپ ہی کا آدیش ہے کہ سادھوؤں کو زیادہ تنگ نہ کیا جائے۔ ‘
’  جائیے پاٹھک جی۔  ‘
پاٹھک جی کے جانے کے بعد آچاریہ جی دل ہی دل میں کچھ سوچتے رہے پھر بولے۔  
’ وہ لوگ ہندو مہاسبھا سے آئے تھے۔  یا سنگھ سے۔  علوی ان لوگوں کے ساتھ جانا چاہتا تھا— ‘ وہ ہنسے— ’چلا گیاہو گا۔  بہتے پانی اور جو گی کو کون روک سکا ہے۔  لیکن اس کی کوئی سوچنا جب بھی ہمیں ملے گی تو ہم آپ کو ضرور بتائیں گے۔ ‘ 
’  کیا —‘ اس بار میں نے چونک کر تھاپڑ کی طرف دیکھا۔  
تھاپڑ نے آچاریہ کی طرف۔  
آچاریہ سنجیدہ تھے—’ سنسار ایک بھید ہے۔  رہسیہ ہے۔  یہ بالک بھی ایک رہسیہ ہے۔  وہ من کی شانتی چاہتا ہے۔  اور اس شانتی کے پیچھے وہ بھٹک رہا ہے۔  کبھی اس دوار۔  کبھی اس دوار۔  لیکن وہ غلط نہیں ہے۔  وہ کچھ برا نہیں کر رہا۔  بلکہ وہ کچھ اچھا ہی کر رہا ہے۔  تو اسے کرنے دیجئے۔  ‘
٭٭
اب ہم بڑے بازار سے گزر رہے تھے۔  یہ ہری دوار کے بھیڑ والا علاقہ تھا۔  مجھے بار بار غصہ آ رہا تھا۔  
’  وہ دنیا بدلنے چلا ہے۔  اور وہ اب ہندو مہاسبھا یا آر ایس ایس کے لوگوں کے ساتھ ہے۔  مگر کہاں —نہیں معلوم ‘
’  یہ تم سوچ رہے ہو کہ وہ دنیا بدلنے چلا ہے۔   ‘
 ’  پھر کیا سوچوں ؟ ان ساری باتوں کا مطلب کیا نکلتا ہے۔  ‘
تھاپڑ گہری سوچ میں تھا—
’مطلب وہی ہے جو ایک نظر میں ہمارے سامنے ہے— کیا وہ سچ مچ خود کو ثابت کرنا چاہتا ہے— یہ کہ ہر مسلمان برا نہیں ہے— ‘
’ہاں — ‘ اس بار میں نے غصہ کا مظاہرہ کیا— مگر کیا اس کے لیے وہ سب کرنا ضروری ہے جو اسامہ کر رہا ہے۔  وہ بھی الگ الگ نام کے ساتھ۔  ‘
’مگر ایک شناخت کے ساتھ۔  ‘
’  یہ تم پہلے بھی بتا چکے ہو۔  مگر اس سے فائدہ کیا— وہ اس سے ہندستان کی تقدیر بدل دے گا۔  ‘
’  میں یہ نہیں جانتا کہ وہ ہندستان کی تقدیر بدلے گا یا نہیں۔  لیکن اس نے اپنی طرف سے ایک چھوٹی سی کارروائی شروع کی ہے۔   ‘
’ لیکن جیسا آچاریہ نے بتایا، اب وہ سنگھ کے لوگوں کے ساتھ ہے— اور سنکھ کے لوگوں کے ساتھ ہونے کا مطلب جانتے ہو؟‘
تھاپڑ سنجیدہ تھا—’ وہ اپنا راستہ بنا رہا ہے— تم سے اور دوسروں سے الگ کا راستہ۔  اسے بنانے دو۔  ‘ 
’  کیا وہ واپس آئے گا؟  ‘
 اس بار میری آواز میں تھرتھراہٹ شامل تھی— 
’ضرور آئے گا— ‘
٭٭
 اب دلّی واپس لوٹنا تھا۔  
قدم بوجھل تھے۔  اور کہیں نہ کہیں ایک شکست کا احساس بھی شامل— مجھے رباب کی یاد آ رہی تھی۔  رباب کو کیا جواب دوں گا۔  

تب تک فیصلہ نہیں آیا تھا—
لیکن فیصلہ آنے میں چند ہی دن رہ گئے تھے۔  

(۳)

بٹلہ ہاؤس علاقے میں زندگی لوٹ آئی تھی۔  لوگ بھولنے لگے تھے کہ کبھی اس علاقے میں انکا ؤنٹر کی بے رحم اور سنسنی خیز واردات بھی ہوئی تھی۔  میں ارشد پاشا…اجودھیا اور ہری دوار سے ناکام و نا مراد واپس تو لوٹ آیا تھا لیکن جیسے جیسے فیصلے کی گھڑی قریب آ رہی تھی، میری دھڑکنیں بڑھتی جا رہی تھیں۔  علوی، اسامہ کے اسقدر قریب تھا کہ وہ اجودھیا اور ہری دوار میں اسی نام سے جانا گیا— اور اتنے سارے ناموں میں اس نام کو اپنانے کا مطلب صاف تھا— اسامہ کے لیے اس نام میں کتنی کشش، کتنی مضبوطی تھی۔ 
 رباب ڈری ہوئی تھی— 
’  کیا تم سچ مچ علوی کے خلاف …؟‘
آنکھوں میں دہشت کا چہرہ ابھرتا ہے۔  میں زور سے چیختا ہوں اور کوئی راستہ ہے۔ بتا سکتی ہو؟ کوئی راستہ ؟‘
’  ہونہہ  ‘
 رباب خاموش ہے—’ فیصلہ کیا ہو گا؟  ‘
’ یہ میں بھی نہیں جانتا  ‘
’  فیصلے کو کیا ہونا چاہئے—؟  ‘
 ’  یہ بھی میں نہیں جانتا۔  مگر…‘
’  مگر کیا…‘  
میں نے آنکھیں جھکا لیں —ان کے حق میں …‘
’  یعنی اپنے حق میں نہیں ؟ ‘رباب کا چہرہ پتھر ہو رہا تھا—ہاں میں بھی یہی سوچتی ہوں۔  فیصلہ ہمارے حق میں نہ ہو تو بہتر ہے۔  
رباب نے گہری سانس لی۔ 
 دشینت کی دھمکیوں نے گھر میں خوف کے انجکشن لگا دئیے تھے۔  میں نے یہ باتیں جان بوجھ کر تھاپڑ کو نہیں بتائی تھیں۔  اور بتانے سے فائدہ بھی کیا تھا۔  اٹھتے بیٹھتے، کھاتے پیتے اچانک ریڑھ کی ہڈی میں داخل ہوتی ہوئی سرد لہروں کو محسوس کر لیتا۔  ڈراؤنے خواب مجھے گھیر کر بیٹھ جاتے۔  ہوش میں آنے تک جسم کانپ رہا ہوتا۔ 
 کیاسارے فیصلے ڈر ڈر کے لینے ہوں گے—؟ کیا ساری زندگی اسی ڈر کی آغوش میں بسر کرنی ہو گی—؟ یہ سوالات مجھے زخمی کرتے رہتے۔  مضبوط ہوتے ہوتے دشینت کی دھمکیوں کی زد میں آ جاتا۔  اور پھر اندر کی کمزوری پیر تسمہ پا کی طرح مجھے اپنے قابو میں کر لیتی— 
مگر اس کے باوجود مجھے فیصلے کا انتظار تھا۔ 
 وہ فیصلہ جو مجھے خوفزدہ کر رہا تھا— جس سے میرے گھر کا سکون، امن چین، یا بربادی اب وابستہ ہو گئی تھی— لیکن اس دھمکی کے باوجود میں یہ فیصلہ اپنے حق میں چاہتا تھا۔  
٭٭
میں ارشد پاشا— 
ہندستان کی پچیس کروڑ اقلیت میں سے ایک۔  ایک ڈراسہما مسلمان۔  اور مجھے یہ کنفیس کرتے ہوئے ذرا بھی ہچک یا گھبراہٹ نہیں ہے کہ بیحد سیکولر ہونے کے باوجود میں آنے والے فیصلے کو اپنے نام دیکھنا چاہتا تھا— 
لیکن کیوں —؟ 
جہاں میری زندگی خود داؤ پر لگی تھی— 
جیسے میری اپنی چیخ میرے گلے میں پھنس گئی تھی—

 شام میں تھاپڑ آیا۔ 
وہ ایک ٹک میرے چہرے کو دیکھ رہا تھا— 
’’تمہیں کیا لگتا ہے۔  اس بار ڈرامے کے رنگ بدل جائیں گے— ڈرامہ ہر بار ایک ہی ہوتا ہے— لیکن ہم لوگ کٹھ پتلیوں کی طرح ان ڈراموں کا ایک حصہ بنے رہتے ہیں۔  حکومت تمہیں خوش کرنے کے لیے کچھ کمیٹیاں بنا دیتی ہے۔ سچر کمیٹی کی رپورٹ آنے کے بعد کتنا عمل ہوا— رنگ ناتھ مشرا کمیشن میں کیا ہوا؟ اور تمہاری لبراہن کمیشن —؟‘
 تھاپڑ ہنسا— 
’جو حادثے کے سب سے بڑے مجرم ہوتے ہیں —یہ قانون اور انصاف ان کا کچھ نہیں بگاڑ پاتے۔  اٹھارہ سال پہلے کی ساری کہانی ابھی بھی لوگوں کے سامنے ہے۔  رپورٹس ہیں — بیانات ہیں اور سب سے بڑھ کر سی ڈی اور تصویریں ہیں — لیکن لبراہن کمیشن نے سارے بڑے ملزموں کو انصاف دلا دیا—اور جھٹ بھیئے کاریہ سیوکوں کو مجرم قرار دیا۔  وہ کاریہ سیوک جو چند سکوں یا پاگل پن کے جنون میں ان بڑے لوگوں کے اکسانے پر مسجد توڑ رہے تھے۔  بس وہی مجرم گردانے گئے اور باقی لوگوں کو کمیشن نے راحت کی سانس لینے پر مجبور کر دیا۔ ‘
 تھاپڑ نے غور سے ارشد پاشا کی طرف دیکھا—’’اور ابھی بھی تم کسی اندھیرے میں بھٹک رہے ہو’ تو میں کہوں گا کہ اس اندھیرے سے باہر نکل آؤ ارشد پاشا— یہاں کوئی اخلاقیات نہیں ہے۔  نہ کوئی دلیل ہے نہ انصاف ہے۔   ہر شاخ پر الو بیٹھا ہے، انجام گلستاں کیا ہو گا۔  ‘
میری آنکھیں ابھی دھند میں کھوئی ہوئی تھیں۔  بیک وقت ان میں اسامہ کا بھی چہرہ تھا اور دشینت کا بھی۔ میری آواز بوجھل تھی۔ 
 ’کچھ بھی ہو۔  لیکن ہم ایک فیصلہ چاہتے ہیں۔  اپنی حمایت میں ہونے والا ایک فیصلہ— اس فیصلہ کا انتظار ہمیں آزادی کے بعد سے رہا ہے— آزادی سے اب تک کوئی فیصلہ ہماری حمایت میں نہیں آیا— جھوٹے دلاسے دیئے گئے۔  تسلیاں بہت ملیں۔  یہاں تک کہ ہم اس ملک کا ایک مضبوط ووٹ بینک بھی بن گئے— وہ ووٹ بینک جو کسی حکومت کو بنا سکتی ہے اور گرا بھی سکتی ہے۔  لیکن میرے دوست تھاپڑ— ہم ایک صحیح فیصلے کو ترس گئے۔  مجھے نہیں معلوم کہ آنے والا فیصلہ کتنا تاریخی ہو گا۔  ہماری حمایت میں ہو گا یا نہیں لیکن ہم خاموش ہیں — لب سی دیئے گئے ہیں —ملک کی پچیس کروڑ آبادی۔ سانس روکے اس فیصلے کا انتظار کر رہی ہے۔  جانتے ہو تم کیوں ؟ ‘
تھاپڑ خاموش تھا— اس کی آنکھیں بغور میرا جائزہ لے رہی تھیں۔  
میں نے ایک ٹھنڈی سانس لی۔  پھر بولنا شروع کیا— ’جیسا کہ میں نے پہلے کہا۔  آزادی سے لے کر اب تک ہم ایک صحیح فیصلے کو ترس گئے— اپنے حق، اپنی حمایت میں ہونے والے فیصلے کو— ہمیں مضبوط کرنے کی ہر کارروائی کبھی کبھی دوغلی لگتی ہے۔  کہاجاتا ہے کہ مسلمان مین اسٹریم میں نہیں ہے۔  کیسے رہیں گے مسلمان آپ کی مین اسٹریم میں ؟ جہاں ہر بار انہیں خوش کرنے کے لیے حکومت بچوں کی ایک ڈگڈگی تھما دیتی ہے— بہت سے چھوٹے چھوٹے فیصلے …اور یہاں جامعہ میں جو کچھ ہوا۔  اپنے بٹلہ ہاؤس میں — ساری دنیا اس سچ کو جاننے کے باوجود خاموش ہے— دو معصوم بچے مار دیئے جاتے ہیں۔  تیرہ معصوم بچوں کا کیریئر چھین لیا جاتا ہے اور خود کو صحیح ثابت کرنے کے لیے میرا بچہ اسامہ گم ہو جاتا ہے—ہری دوار سے اجودھیا تک بھٹکتا ہوا— ایک انصاف مجھے بھی چاہئے۔  میرے بیٹے کو ملنے والا انصاف—اور شاید اسی لیے میری نظریں اس بڑے انصاف کا راستہ دیکھ رہی ہیں۔  مجھے نہیں معلوم آنے والے کچھ برسوں میں میرا کیا ہو گا۔  اسامہ واپس آئے گا یا نہیں —؟ یا خود کو اس ملک کا سیکولر شہری ثابت کرنے کے لیے اپنی شناخت کے ساتھ بھٹکتا پھرے گا۔ ‘
 میری آنکھوں میں آنسوتھے —’ شاید تم اس سچ کو اس گہرائی سے نہیں سمجھ پاؤ تھاپڑ کہ مجھے اس فیصلے میں ’ اپنی چھوٹی سی مضبوطی کی امید کیوں نظر آ رہی ہے۔  لیکن 64برسوں سے ہم امید لگائے اپنی حمایت میں ہونے والے ایک فیصلے کے منتظر ہیں۔  ‘

کمرے میں خاموشی چھا گئی تھی۔  تھاپڑ چپ تھا۔  نظریں جھکی ہوئی تھیں — ان اٹھارہ برسوں میں ایک دنیا تبدیل ہو چکی تھی— اس درمیان کتنی حکومتیں گئیں اور کتنی نئی حکومتوں نے مورچہ سنبھالا۔  عالمی افق پر کیسے کیسے حادثے رونما ہوئے— اب نئی حکومت تھی اور اٹھارہ برسوں کا رکا ہوا فیصلہ آنے والا تھا۔  معاملہ سنگین تھا۔  میڈیا، بھائی چارگی اور محبت کو فروغ دہے رہے تھے۔  یہ بھی کہا جا رہا تھا کہ جو بھی فیصلہ آئے گا وہ ہندومسلم دونوں دل سے قبول کریں گے۔  لیکن پھر بھی سیاست کا ماحول گرم تھا— اور سب کی نگاہیں آنے والے تاریخی فیصلے پر ٹکی ہوئی تھیں۔ 
 کچھ دیر بعد اس بھیانک خاموشی کو توڑتے ہوئے تھاپڑ نے لمبی سانس بھری۔ 
’ شاید تم ٹھیک کہتے ہو۔  ایک بڑا فیصلہ کئی چھوٹے چھوٹے زخموں کو بھر دیتا ہے۔  ایک بڑے فیصلے سے کئی چھوٹے فیصلوں کے لیے ایک امید کی کرن جاگ جاتی ہے۔  ‘
میری آنکھوں میں چمک لہرائی— 
’اور شاید اسی لیے میں اس فیصلہ کا منتظر ہوں۔  یہ فیصلہ میرے حق میں ہوتا ہے تو یہ مجھے سکون دینے کے لیے کافی ہو گا۔  ‘
تھاپڑ نے کرسی پر کروٹ بدلی۔  
’تو سکون مل جائے گا تمہیں ؟ کیوں ارشد پاشا— اور تم ابھی بھی سوچ رہے ہو کہ فیصلہ تمہارے حق میں آنے والا ہے؟ 
’  ہاں ‘
 ’  اور ایسا سوچنے کی وجہ ہے تمہارے پاس— یہ تمہارا میڈیا— اور اس کی بریکنگ نیوز— جس نے اس بار پھر جھوٹے دلاسوں سے تم مسلمانوں کا پیٹ بھر دیا ہے۔   ‘
 ’  مطلب—؟ ‘
 تھاپڑ ہنسا— میڈیا پر مت جاؤ۔  حکومت، میڈیا، فیصلے، یہ سب پہلے سے طے ہوتے ہیں۔  ابھی تمہاری حمایت کی ہوا بہہ رہی ہے—  تاکہ تم لوگوں کے جذباتی بیانات بھی آ جائیں۔  کہ جو بھی فیصلہ ہو گا تمہیں منظور — کیونکہ میڈیا نے اپنی خبروں سے کچھ ایسا ہی ماحول پیدا کیا ہے— جیسے اس بار یہ فیصلہ تمہارے حق میں جانے والا ہو۔   ‘
’  ہاں  ‘
’  اور تمہارے مسلم لیڈران کے بیانات بھی آنے لگے۔  کہ جو بھی فیصلہ آئے گا وہ انہیں منظور ہو گا— یہ ان کی خوش فہمیوں کا نتیجہ ہے— مگر ارشد پاشا —تمہیں کیا معلوم کہ فیصلے کی بھنک انہیں نہیں لگی ہو۔   ‘
’  ممکن ہے۔  ماحول کو بارودی اور بھیانک بنانے سے بچنے کے لیے حکومت جوا کھیلنا چاہتی ہے۔   ‘
’  مطلب —؟ ‘
’  پہلے فیصلے کی ایک تاریخ رکھی گئی۔  اب دوسری تاریخ دے دی گئی—  کیوں ؟   ‘
’  نہیں جانتا  ‘
’  تاکہ گرمائے ہوئے ماحول کو کچھ تو شانت کیا جا سکے— اور اس لیے مجھے گھبراہٹ ہو رہی ہے کہ سب کچھ پہلے سے طے شدہ ہے—اور یہ فیصلہ کبھی کسی قیمت پر تمہارے حق میں نہیں آنے والا —ممکن ہے تمہارے لیڈران بھی خریدے جا چکے ہوں۔  اور ان سے یہ بیانات بھی حکومت کی شہہ پر دلائے جا رہے ہوں۔  ارے اس ملک میں سب ممکن ہے دوست —  میں اب بھی کہتا ہوں۔  خوش فہمیوں کی دنیا سے باہر نکل کر اس پورے معاملے کو دیکھو اور سمجھو۔  ‘
’  میرا دل نہیں مانتا ۔ ‘
’اور میرا دل کہتا ہے۔  تم اس بار بھی یہ جنگ ہار چکے ہو ہمیشہ کی طرح۔  اس بار بھی یہ فیصلہ تمہاری حمایت میں نہیں جائے گا۔  دن ہی کتنے بچے ہیں۔ مجھے اپنی آنکھوں کے آگے یہ ساری سیاسی کارروائی اب صاف دکھائی دے رہی ہے۔  جو تم نہیں دیکھ پا رہے ہو میرے دوست،  ‘
میں نے نڈھال ہو کر کرسی پر سر ٹیک دیا۔  
’ تم نے ہمت توڑ دی۔  ‘
 ’نہیں۔  صرف تمہیں تمہاری خوش فہمیوں سے نکال باہر کر رہا ہوں۔  ‘
 ’  اس فیصلے میں کہیں نہ کہیں میرا بیٹا بھی ہے۔   ‘
 ’تمہارا ساٹھ برس۔  آزاد ہندستان کے ساٹھ برس۔  ساٹھ برسوں کے زخم— اور اس لیے تم اس ایک تاریخی فیصلے کے ساتھ ان سارے زخموں کو بھرنا چاہتے ہو۔  ‘
 ’شاید۔   ‘ میری آواز درد میں ڈوبی ہوئی تھی—  مجھے انتظار ہے۔  شاید اس لیے بھی کہ ایک بے انصافی کہیں نہ کہیں میرے بچے اور میری قوم کے ساتھ ہوئی ہے۔  ‘
’ تمہارے لیڈر بھی تمہاری قوم کی اس ٹھگی کے ذمہ دار ہیں — ‘
’ میں وہ پرانے صفحے نہیں کھولنا چاہتا تھاپڑ— میں صرف اپنے بیٹے کے لیے ایک انصاف چاہتا ہوں —  ایک بڑے انصاف کے پردے میں اس چھوٹے انصاف کا بہانہ بھی تلاش کر لوں گا کہ آنے والی سیاست میرے مسلمان بیٹے کے کیریئر سے کھلواڑ نہیں کرے گی… وہ ایک دن واپس لوٹے گا— اپنی سچ مچ کی آزادی اور خود داری کے ساتھ۔   ‘
’  میں بھی چاہتا ہوں کہ وہ واپس آئے۔  لیکن میں یہ بھی چاہتا ہوں کہ تم پتھریلی زمین پر کھڑے ہو کر اس سچ کو جانو، جس سچ کو دیکھنے سے تمہاری آنکھیں آج بھی کترا رہی ہیں۔   ‘
 تھاپڑ نے معنی خیز انداز میں میری طرف دیکھا— پھر کرسی سے اٹھ کھڑا ہوا— 
’ اب چلتا ہوں دوست۔  مگر میرا ایک مشورہ ہے۔  مان لو تو بہتر۔  زیادہ خوش فہمیاں مت پالو۔  خوش فہمیاں اکثر زندگیاں چھین لیا کرتی ہیں — ‘
 پھر وہ ٹھہرا نہیں۔  ہاتھ ملا کر تیزی سے باہر نکل گیا— 
میں گہرے سناٹے میں تھا— 
اور شاید ابھی اس لمحہ، اس گہرے سناٹے سے باہر نکلنا میرے لیے مشکل تھا— 
٭٭
قدم شل تھے۔  میں دیر تک کمرے میں ٹہلتا رہا۔  یادوں کی پرچھائیاں ایک بار پھر آنکھوں کے آگے جمع ہو گئی تھیں۔  
ان میں دشینت بھی تھا—’ فیصلہ ہمارے حق میں آتا ہے تو ٹھیک، ورنہ علوی کے خلاف… سمجھ رہے ہو نا ملاجی۔   ‘
تھاپڑ کاسنجیدہ چہرہ سامنے ہوتا— ’تم یہ جنگ ہار چکے ہو۔  یہ فیصلہ تمہارے حق میں کبھی نہیں جائے گا۔  ‘

معزز قارئین ‘
اور انہی دنوں میں بھیانک خوابوں کی زد میں تھا—رات ہوتے ہی اچانک کسی لمحہ میری نیند کھل جاتی۔  اور کمرے میں ہلتی ڈولتی پرچھائیوں کا رقص مجھے خوفزدہ کرنے کے لیے کافی ہوتا—  نیند میں آسیبی چہرے ہوتے… جو مجھے گھیر کر بیٹھ جاتے۔  اور میں دیر تک ان ڈراؤنے خوابوں سے باہر نہیں نکل پاتا— ان دنوں میں نے ایسے کئی ڈراؤنے خواب دیکھے جن میں کچھ کا ذکر آگے آئے گا۔  مگر یہ خواب حیران کرنے والے تھے۔  اور میرے سامنے یہ خواب اس نئی دنیا کا ایک بالکل ہی نیا منظر نامہ پیش کر رہے تھے۔  

زندگی کے اس موسم میں بھیانک وارداتوں کے درمیان، کبھی کبھی ہلکی دھیمی بارش کے قطروں کا احساس آپ کو توانائی دینے کے لیے کافی ہوتا ہے—یہ رم جھم بارش کی سوغاتیں آپ کو نئے سرے سے جینے کے لیے تیار کرتی ہیں۔  اور اس رات ایسا ہی ہوا تھا— تھاپڑ نے ہمت توڑ دی تھی اور رباب زخموں پر مرہم لگانے کی تیاری کے ساتھ میرے سامنے تھی۔ 
 اور ایک بار پھر میں خدا کے آگے سجدہ کرنے کو مجبور تھا کہ اس سفر میں رباب کا ساتھ نہ ملا ہوتا تو میں کتنا ٹوٹ چکا ہوتا۔  بیٹے کی گمشدگی کے باوجود میرے لیے وہ اپنے غم اور صدمے کو بھول گئی تھی۔ 
 سنو نا…
رات گہری ہو گئی تھی۔  باہر کتے بھونک رہے تھے۔  
’ہاں بولو…‘
ایک سر پرائز۔  دینی ہے تمہیں۔  
میں چونک گیا تھا۔  اس خوں آشام موسم میں سرپرائز کی بات۔ ؟
 میں رباب کی طرف دیکھتا ہوں۔ 
’ سنونا۔  بچے ایک دن بڑے ہو جاتے ہیں۔  اور پھر ماں باپ کا گھر چھوڑ دیتے ہیں۔ ‘ 
’ہاں  ‘
’بیٹیاں بھی اور بیٹے— اب تو دونوں ہی اپنی اپنی منزلوں اور زندگیوں کے لیے گھر چھوڑ دیتے ہیں۔ ‘
 ’  ہاں  ‘
 ’  میں نے بھی سوچ لیا ہے۔  اسامہ اپنے کیریئر، اپنی منزل کے لیے باہر گیا ہوا ہے۔  لوٹ آئے گا ایک دن۔ ‘
رباب کے چہرے پر کشمکش کے آثار تھے—
’پھر چلا جائے گا۔  ہے نا… بچے تو پرندے ہوتے ہیں۔  پرندوں کو روک سکتے ہیں آپ…؟‘
رباب میری آنکھوں میں جھانک رہی تھی— 
’  میں نے بھی دل پر پتھر رکھ لیا ہے۔  شمیمہ یاد ہے …؟‘
’  ہاں  ‘
’  کل شمیمہ کولے آؤں گی۔  ‘
 باہر کتے اب بھی بھونک رہے ہیں۔  میں اچانک چونک جاتا ہوں۔  رباب مسکرارہی ہے— 
’  وہ کہاں جا سکتی ہے— میں برابر یہ سوچتی رہی۔  پھر خیال آیا کہ ان لوگوں کے پاس کوئی تو پتہ ہو گا۔  پھر مجھے اس کے ایک جاننے والے کا پتہ ملا۔  وہ دلشاد کالونی رہتے ہیں — جمنا پار — میں بھٹکتے ہوئے وہاں پہنچ گئی۔  اور اتفاق دیکھو— شمیمہ وہاں مل گئی۔  میلے کچیلے لباس میں۔  چہرے پر ہوائی اڑتی ہوئی۔  دو ہی دنوں بعد وہاں سے وہ کلکتہ جانے والی تھی۔   ‘
 رباب نے میری طرف دیکھا۔  پھر پلکیں جھکا لیں — 
’  مجھے یقین تھا، اس بار تم کچھ نہیں بو لو گے۔  وہ میرے ساتھ ہی آ جاتی۔  مگر اس نے ایک دن کا وقت مانگا۔  ان آنکھوں کا بیان ممکن نہیں —مجھے دیکھ کر کیسے کھل گئی تھی— بالکل ننھی سی بچی کی طرح وہ میرے گلے سے لگ گئی۔  ‘
’تو تم اسے لینے جاؤ گی۔  ؟‘
’  نہیں۔  اس کا ایک چاچا ہے۔  اس کو پتہ اور پیسے دے آئی ہوں۔  شمیمہ گھر آ چکی ہے۔  اس لیے پریشانی نہیں ہو گی۔   ‘
رباب کی آنکھیں کہیں دور دیکھ رہی تھیں —’ اب وہ ساتھ رہے گی۔  اسامہ آئے گا تو اسے بھی اچھا لگے گا۔  وہ ہمیشہ کہتا تھا۔  ایک بہن لے آؤ میرے لیے۔  مجھے امید ہے شمیمہ ایک بار پھر اس گھر کو گلزار کر دے گی۔   ‘
 میں نے ٹھنڈی سانس لی۔  رباب کے آخری جملے سے جسم میں ایک ٹھنڈی لہر دوڑتی چلی گئی تھی۔  گھر کو گلزار …؟ وہ بھی ایسے موسم میں جب دشینت کی دھمکیاں مجھے کمزور کر رہی ہیں اور میری نظر آنے والے فیصلے پر ہے— لیکن میں نے کچھ بھی کہنا مناسب نہیں سمجھا۔  اٹھ کر بیڈروم میں آ گیا۔  نیند مجھ پر آہستہ آہستہ سوار ہو رہی تھی۔  
٭٭



(4)
سلسلہ ڈراؤنے خوابوں کا

 اور جیسا کہ میں نے ذکر کیا تھا، کئی دنوں سے میں بھیانک خوابوں کی زد میں تھا۔  یہ خواب اتنے ڈراؤنے ہوتے کہ نیند کے عالم میں بھی میری چیخ نکل جاتی— جسم میں لرزہ طاری ہو جاتا۔  اور جب آنکھیں کھلتیں تو سارا جسم پسینے میں تر بتر ہوتا۔  کچھ خواب حقیقت سے بھی زیادہ قریب ہوتے ہیں اور اتنے قریب ہوتے ہیں کہ فرق کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ یہ خواب ہیں یا حقیقت —اس لیے معزز قارئین، یہ آپ پر منحصر ہے کہ مندرجہ ذیل سطور میں جن بھیانک خوابوں کی تفصیل آپ پڑھنے والے ہیں اسے آپ کن معنوں میں لیتے ہیں —ایک سہمے ہوئے آدمی کا ڈراؤنا خواب— یا پھر آپ اس خواب میں زندہ حقیقتوں کی شناخت کر مطمئن ہو جاتے ہیں کہ ان دنوں خواب اور حقیقت میں فاصلہ ہی کتنا رہ گیا ہے— 
وہ خواب تھا یا حقیقت کہنا مشکل تھا— 
تھاپڑ تاریخی فیصلے کے بارے میں اپنی گفتگو کا دھماکہ کر کے جا چکا تھا۔  اور رباب نے شمیمہ کے ذکر سے موجودہ صورتحال کو کسی قدر قابو میں کرنے کا کام کیا تھا— 
اس رات موسم ابرآلود تھا— 
اور باہر کتے زور زور سے بھونک رہے تھے— 
اور اس رات مکمل سورج گرہن بھی لگا تھا— چینلس بریکنگ نیوز میں مکمل سورج گرہن کو آنے والے، مستقبل کے خطرات اور اندیشوں سے وابستہ کر چکے تھے— 
نیند کے عالم میں سب سے پہلے مجھے یہ مکمل سورج گرہن دکھائی دیا— تاریکی میں، گم ہوتی شعاعوں میں جیسے ہزاروں کی تعداد میں آسیب اکٹھے ہو گئے تھے…
یہ آسیب میری طرف دیکھ رہے تھے— 
پھر اچانک بے ہنگم صدائیں ٹھہر گئیں —اب تھاپڑ کا چہرہ روشن تھا۔  وہ مجھ سے کہہ رہا تھا — 
’سنو ارشد پاشا— میں تمہیں ایک جگہ لے جانا چاہتا ہوں — مگر سنو۔  اور یاد رکھو۔  وہاں تم گاندھی جی کے تین بندر کی طرح ہو گے۔  دیکھو گے مگر نہیں دیکھو گے—اور بولنا تو ہے ہی نہیں۔  تم صرف دیکھو گے اور بھول جاؤ گے۔  سنو گے مگر نہیں سنو گے— سنو گے اور دھول کی طرح اڑا دو گے۔  ‘
 میرے جسم میں کپکپی طاری تھی۔  ’میں سمجھا نہیں تھاپڑ۔  اور مجھے ایسا کیوں کرنا پڑے گا۔  ‘
تھاپڑ مسکرایا—’ کیوں کہ ہم ایک سیکرٹ مشن پر جائیں گے۔  وہاں گنے چنے صحافیوں کو بلایا جاتا ہے اور یہ صحافی بھی اس سیکرٹ مشن کو بخوبی جان رہے ہوتے ہیں۔  کوئی کسی کو لے کر اس پارٹی میں جا نہیں سکتا۔  مگر گھبراؤ مت۔  میں تمہارے لیے خصوصی اجازت نامہ حاصل کروں گا۔  ‘
’ہونہہ۔  ‘
 میں گہری نظروں سے تھاپڑ کی طرف دیکھ رہا تھا۔  
 تھاپڑ سنجیدہ تھا—’ اور دیکھو تو… کبھی کبھی ہنسی آتی ہے۔  ہم ٹی وی دیکھتے ہیں۔  اخبار پڑھتے ہیں — خبریں سنتے اور پڑھتے ہوئے کبھی کبھی ہم بھی سونامی لہروں کی طرح بہتے چلے جاتے ہیں۔  ہے نا؟ حساس اور جذباتی لیکن مورکھ— پرلے درجے کے مورکھ— ہم اس سیاست کو قریب سے جان رہے ہوتے ہیں۔  لیکن پھر بھی بیوقوف بنے رہتے ہیں۔  ذرا ذرا سی خبروں پر آنکھیں چڑھ جاتی ہیں — دماغ میں گھنٹیاں بجنے لگتی ہیں —‘ 
میں ابھی بھی تھاپڑ کو سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا—
تھاپڑ نے میری طرف پلٹ کر دیکھا۔  اس بار وہ مسکرایا تھا۔ ’ کیونکہ حقیقت جانتے ہوئے بھی ہر بار ہم دوستوفسکی کا ایڈیٹ بننے کے لیے تیار رہتے ہیں۔  اس لیے میرے بھائی۔ گاندھی جی کے تین بندر… برا مت دیکھو۔  برا مت سنو۔  برا مت بولو— وہ ہنس رہا تھا—دیکھنا اور سننا ہے بس— بولنا نہیں ہے۔  ‘

اندھیرے میں روشنی کا حملہ ہوتا ہے۔  تھاپڑ کے ساتھ ماسک لگائے چہرے ہوتے ہیں۔  ڈراؤنے— ان کے ساتھ تھا پڑ بھی قہقہہ لگا رہا تھا— 
بدن ہیں ہزاروں چیونٹیاں سرسرارہی ہیں۔ 
’ انتخاب قریب ہے۔  سمجھ رہے ہو نا… اور  … سب کچھ تم ان آنکھوں سے دیکھو گے… ننگی آنکھوں سے …تمہیں معلوم ہے نا— ننگی آنکھوں سے سورج گرہن دیکھنے کو منع کیا گیا ہے…‘
 ’  ہاں  ‘
 لیکن وہاں اس کی اجازت ہو گی تمہیں۔  لیکن تمہارے ہوش وحواس تمہارا ساتھ نہیں دیں گے … ہہ…ہا…ہا…‘
تھاپڑ ہنس رہا ہے— 
جسم میں میزائلیں گرج رہی ہیں — 
بارودی دھماکے ہو رہے ہیں — 
باہر کتے بھونک رہے ہیں۔  یہ حقیقت ہے یا خواب۔  کوئی منظر اتنا ڈراؤنا کیسے ہو سکتا ہے…؟
’  سیاست ہر بار ڈراؤنی ہوتی ہے۔  پہلے سے کہیں زیادہ خطرناک اور بھیانک۔  ‘
’  ہونہہ— ‘ لفظ خاموش ہیں۔  
’ چلو میرے ساتھ۔  ‘
 ’ہونہہ ‘ —میرے جسم میں اس وقت لہو کا ایک قطرہ بھی نہیں ہے۔  
’اور باقی باتیں تمہیں سمجھا دی گئی ہیں۔  ‘
 ’ہاں ‘
’ وہی… گاندھی جی کے تین بندر!‘
’جو ہم ہمیشہ سے ہیں۔  ‘
تھاپڑ نے قہقہہ لگایا۔ ’ سمجھدار ہوتے جا رہے ہو۔  ‘
٭٭
باہر اس کی گاڑی لگی تھی— ہم گاڑی میں بیٹھ گئے—  رات کے اندھیرے میں گاڑی انجانی سمتوں کی جانب بھاگ رہی تھی—  اور یقیناً اس وقت میرے جسم میں طوفان آیا ہوا تھا۔  
یا یوں کہنا چاہئے—  تھاپڑ کی باتوں نے مجھے ڈرا دیا تھا۔  میں یہ بھی نہیں پوچھ سکتا تھا کہ ہم کہاں جا رہے ہیں۔  کیا دیکھنے جا رہے ہیں۔  مگر شاید ایک نئے ڈرامے کی شروعات ہو گئی تھی۔  
ایک مہذب ترین دنیا میں کھیلا جانے والا بھیانک ڈرامہ…
بے ہنگم آوازیں چاروں طرف سے مجھے حصار میں لے رہی ہیں —میں کروٹ بدلتا ہوں — اور اب میں دوسرے منظر کی زد میں ہوں۔  
ایک دوسرا منظر— 
یا خوفناک خوابوں کا ایک نہ ختم ہونے والا دوسرا سلسلہ…
لیکن کیا جو کچھ میں دیکھ رہا ہوں۔ وہ سچ ہے۔  
معاذ اللہ۔  یا خدا… میرے رب…میری آنکھیں چھین لے— میرے رب… اور …
جیسے حسین الحق کی کہانی کا ایک کردار زور سے چیختا ہے— 
’سنکٹ کا سمے ہے۔  شنکر میری آنکھیں واپس مت کرنا۔   ‘
میں اندھیرے میں ڈوبتا جا رہا ہوں۔  

٭٭
اور میرے پیارے قارئین، 
مندرجہ ذیل سطور میں اب جس بھیانک خواب کی تفصیل پڑھنے جا رہے ہیں، ممکن ہے تو مت پڑھیے—  یہ ڈراکیولا کی کہانی سے زیادہ بھیانک ہے— کسی آسیبی فلم سے زیادہ خطرناک۔  رونگٹے کھڑے کرنے والا…
میں تھاپڑ کے ساتھ اس بڑے سے ہال میں داخل ہو گیا تھا۔  
اور میری آنکھیں پھیلتی جا رہی تھیں۔ 
اس بڑے سے ہال میں کسی سیون اسٹار ہوٹل کی چمک دمک سے بھی زیادہ رنگینیاں دکھائی دے رہی تھیں۔  فرش پر بچھی ہوئی قیمتی قالین۔  فانوس۔  مہنگے قیمتی صوفے۔  جا بجا پتھر کی مورتیوں کے ساتھ سجے ہوئے کھانے کے سامان— گفتگو اور ٹھہاکوں کی آوازیں — اور جیسا کہ آپ جان چکے ہیں یہ پارٹی ایسے موقع پر دی گئی جب ملک مکمل سوریہ گرہن کی کہانی لکھ چکا تھا— اور انتخاب میں کچھ ہی مہینے باقی رہ گئے تھے— اس پارٹی میں میڈیا اور مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے منتخب لوگوں کو ہی دعوت دی گئی تھی۔  اور جیسا کہ تھاپڑ نے مجھے بتایا تھا—  انتخاب نزدیک ہے —ایک پارٹی کوبرسراقتدار آنا ہے اور ایک پارٹی حزب مخالف کا رول ادا کرے گی۔  اور ارشد پاشا… تم سب کچھ دیکھو گے ‘ مگر خاموش رہو گے…

میری آنکھیں پارٹی میں موجود  ہر شخص کو دیکھ رہی تھیں۔  ان میں ہر شخص اپنے اپنے میدان کا بڑا کھلاڑی تھا۔  بزنس کا برانڈ امبیسڈر— مختلف صوبوں میں اپنی نمائندگی ثابت کرنے والے۔ بڑے بڑے اخباروں کے مدیر— صحافی— سیاست کے علمبردار— الگ الگ پارٹیوں سے تعلق رکھنے والے تمام بڑے چہرے۔  جیوتش— گیانی— چینلس کے مالک… اور —ٹھہاکوں کی آوازیں — 
یہ نمبانی برادرز ہیں نا…؟
ہاں …
مندر والے بھی ہیں — ؟
اس بار تھاپڑ نے غصے سے میری طرف دیکھا تھا—’ میں نے جو کچھ کہا، وہ یاد نہیں۔ ‘
 ایک گہری خاموشی مجھ پر حاوی ہو گئی— مگر میری نگاہیں اب بھی چاروں طرف دیکھ رہی تھیں۔  سیاست کے تمام مہرے جمع تھے یا جوکر— 
 میڈیا کے تمام بڑے چہرے—بو فورس کے سوداگر— 
تمام بڑے بزنس مین— 
کچھ غیر ملکی مہمان بھی۔  جیسے بطروچی کے بھتیجے، اور کچھ ایسے بھی جن کے ناموں سے میڈیا اپنی بریکنگ نیوز تیار کرتا ہے…

پارٹی شروع ہو چکی تھی۔  اور مجھے اب چکر آنے بھی شروع ہو گئے تھے۔  
حلوانی، کسما بن راج۔  ورون کیتلی، ساحل گاندھی، ترون گاندھی… اور وہ …سخت سنگھ… بھانو پرساد یادو…ناکام پاسبان…وہ امام صاحب… اور وہ …ہندو مہا سبھا کے لوگ…پنج تنتر سے لے کر پرانی دنیا اردو تک کے مدیر…
نمبانی بردارز گلے مل رہے ہیں …
اور وہ آیوجا…ساٹا…
اور اچانک میں ٹھہر گیا ہوں …مسجد کمیٹی کے سنجیدہ نظر آنے والے چہرے— ہندو مہاسبھا اور مندر کمیٹی کے لوگوں کے ساتھ ٹھہا کے لگاتے ہوئے۔ 
کیا میں انہیں سن سکتا ہوں ؟
کیوں نہیں —
کیا ان کے قریب جا سکتا ہوں۔ ؟
 ’بالکل…‘
اب میں ان کے قریب ہوں۔  ان کی باتیں سننا چاہتا ہوں …
تھاپڑ نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھا۔ 
’  پہلے ڈھنگ سے تماشائی تو بن جاؤ۔  ابھی بہت کچھ دیکھنا ہے۔ ‘ اس نے ہاتھ تھام لیا— 
ادھر آؤ— 
میں اس کے قدموں کا تعاقب کرتے ہوئے ٹھہر گیا۔  اور جیسے سناٹا میرے وجود پر حاوی ہوتا جا رہا تھا۔  

وہ ہنس رہے تھے۔ قہقہہ بکھیر رہے تھے۔  یہاں سیاست گم تھی۔  سب مداری تھے۔  کسی میں کوئی فرق نہیں تھا۔  
ہندو مہاسبھا کے لکھی بھائی، راشٹر یہ سویم سیوک سنگھ کے کاندی، رام جنم بھومی مندر کے آچاریہ، اور مسجد کمیٹی کے کچھ اراکین۔  
ہاتھ میں جام۔  ٹھہاکے لگ رہے ہیں — 
’  ارے دیش کی فکر کرو  ‘
’جیب کی فکر نہ کریں۔  سب جیب سے چلتا ہے۔  ‘
’ بالکل سچ کہا۔  جیب بھاری تو سب اپنی مٹھیوں میں۔ ‘
ٹھہاکہ — 
’  آپ نے تھال میں سجا کر مندر ہمیں دے دیا۔   ‘
کیسے نہیں دیتا بھائی—  بھاؤ سے میٹنگ ہوئی تھی۔  بھاؤ بھی تو یہی چاہتے تھے۔ ‘
  ٹھہاکہ…
’  دراصل آپ بھی یہی چاہتے تھے۔   ‘
اور آپ نے اس کی منہ مانگی قیمت بھی تولے لی۔  سارے سگے سمبندھیوں کے لیے پٹرول پمپ مانگ لیے۔  ‘
’  آپ دے رہے تھے، ہم مانگ رہے تھے  ‘
’  اور آپ بھی تو دے رہے تھے۔  ایک مشت اس ملک کی تقدیر۔  کیوں جگو بھائی— ؟‘
ٹھہاکہ—قہقہہ— 
’  ادھر دیکھو— ‘تھاپڑ نے اشارہ کیا— 
مونیا گاندھی، الکا گاندھی، ترون، اور ساحل، حلوانی اور سخت سنگھ یادو کے ساتھ کسی بات پر زور زور سے ہنس رہے تھے۔  کچھ اور پارٹیوں کے لوگ بھی اس مسکراہٹ کا حصہ تھے۔  
’ اب دیکھیے— آپ نے اپنا ٹرم پورا کر لیا۔  ‘
’ ہاں تو آپ بھی پورا کیجئے نا۔  ‘مونیا گاندھی نے ہنستے ہوئے کہا۔   ‘  آپ اور ہم — پارٹی بدلتی رہے گی—  ایک پارٹی آپ ایک پارٹی ہم — ‘
’  اور ہماری پاری کب آئے گی۔  ‘ یہ سخت سنکھ یادو تھے۔ 
 بھائی آپ تو صوبے کی سیاست میں رہتے ہیں۔  آپ اپنے ہی بندھو میں الجھ گئے۔  فلم والے ہو گئے۔   ‘
’  ہمیں کیا پتہ تھا۔   ‘ 
ٹھہاکا گونجا — 
’  اس نے راستہ ہی ایسا دکھا یا کہ پھنستے چلے گئے۔   ‘
’  تو اب اپنی پاری کا انتظار کیجئے۔   ‘
حلوانی ہنسے —  آپ نے سارے ملک کو گھوٹالوں میں الجھا دیا۔  اتنا گھوٹالہ تو ہم نے کبھی نہیں کیا۔   ‘
’  اب زبان مت کھلوائیے۔   ‘
’  مونیا گاندھی نے ہنستے ہوئے کہا — ہمارے پاس پوری سی بی آئی رپورٹ ہے۔  ‘
’  سی بی آئی — حلوانی ہنسے — سی بی آئی بیچاری اور کرتی کیا ہے۔  آپ کے ٹکڑوں پر پلتی ہے۔  آج آپ  —کل ہماری باری  ‘۔ 
تو اس بار ہم آپ کو راستہ دے رہے ہیں نا۔  ‘
’راستہ آپ نہیں دے رہے ہیں۔  جنتا دے رہی ہے۔  اور یہ سب پہلے سے ہی طے ہے۔  طے کر کے آپ ہی نے ہمیں آگے کیا۔  بھول گئے — مونیا ہنس رہی تھی۔  انڈیا شائننگ کے نعروں کے باوجود آپ کو یہ تلخ حقیقت پتہ تھی کہ ننبائی اور بہت سارے دوسرے آپ کے خلاف مورچہ لینے کے لیے تیار ہیں —آپ نے گیند ہماری طرف بڑھا دی …‘
ہو…ہو … حلوانی مسکرائے—عینک کے اندر ان کی آنکھیں بے حد معصوم لگ رہی تھیں۔ 
 ’سب کچھ پہلے سے طے شدہ— اور آپ کو پتہ تھا کب کتنے گھوٹالوں کی پرتیں آپ کو کھولنی ہیں۔   ‘
’ہو…ہو …‘
’کل آپ کو بھی یہی کرنا ہے۔  اور وہ بھالو سنگھ یادو—بھائی، سب اپنے اپنے گھر کی ذمہ داریاں ہی تو ادا کر رہے ہیں۔   ‘
 ’ لو۔  میں کب خلاف ہوں ان سے ۔  ‘ مونیا کی آزادانہ ہنسی میں حلوانی اور سخت سنگھ یادو بہتے چلے گئے۔  
سخت سنگھ یادو نے پہلی بار منہ کھولا— لیکن اس بار ہمیں بھی چانس چاہئے۔ مرکزی سرکار میں۔  ‘
’  پہلے بہن جی سے راستہ تو لیجئے۔   ‘
راستہ بھی آپ دلوائیں گی۔  ‘ سخت سنگھ یادو سنجیدہ تھے۔  
’بہن جی بھی تاش کے وہی پتّے چلتی ہیں۔  جوان سے ہم چلنے کو کہتے ہیں مگر کبھی کبھی بے دردی سے وہ اپنے کھیل بھی کھیلنے لگتی ہیں۔  ‘
’  بہنوں کو سکھانا آسان نہیں۔  کولکتہ ہو یا ممبئی۔  حلوانی ہنسے— ہم تو سب کا کرشمہ جھیل چکے۔  ‘
’  چما بھارتی کا کرشمہ بھی۔   ‘
’  اب سیاست میں سنیا سینوں کا کیا کام… حلوانی ہنسے۔  ’کچھ لوگ اپنی چلتے ہیں۔  اور ایسے لوگ ناعاقبت اندیش ہوتے ہیں۔ ا نہیں سیاست میں نہیں آنا چاہئے— یہ سیاسی کھیل بگاڑ دیتے ہیں۔  ہمیں دیکھئے۔  رتھ پر چڑھے۔  پاکستان گئے تو جناح کے مزار پر ہولیے۔  جناح کے مزار کی چادر لے کر انڈیا آئے تو احساس تھا‘ ایک تیر سے کئی شکار۔  ‘
’وہی تو—‘ مونیا نے گہری سانس لی۔  
’لیکن اپنی ہی پارٹی۔ پہلے سے سب کچھ طے شدہ ہونے کے باوجود کھیل کی دشا بدل گئی۔ ‘
’ کچھ لوگ مورکھ ہوتے ہیں۔  جاننے کے باوجود کھیل کی دشا بدل دیتے ہیں —حلوانی سنجیدہ تھے— جانے دیجئے—‘
’اچھا وہ فیصلے کی بات ہو گئی۔  ؟‘
’  فیصلہ…‘
’ارے وہی۔  جس کو ہم اپنے اپنے پارٹی کے اصولوں کے طور پر گھما رہے ہیں …
’  نہیں نچا رہے ہیں …‘
’  ہاں وہی۔  مندر مسجد۔  فیصلہ…اُف آپ نے اٹھارہ سال لگا دیئے۔  ‘
’  کیا آپ سچ مچ چاہتے تھے فیصلہ ہونا…؟‘
’  نہیں۔   ‘
’  اور اب بھی وہی ہو گا جو آپ چاہیں گے… عدلیہ اور انتظامیہ کی باتیں ہم پر چھوڑئیے۔ 
 ’ ہو …ہو…‘
’  لیجئے۔  وہ بنگھل صاحب اور امام صاحب بھی ادھر ہی آ رہے ہیں۔  ‘ 
’آنے دیجئے۔  ‘
باہر کی دنیا میں یہ سب ایک دوسرے کے کٹّر دشمن— لیکن یہاں … ‘ بی۔  ام۔  کے کی ایک پارٹی ورکر نے کہا۔  
’یہاں سب دوست ہیں۔  عوام کے لیے جو چہرہ ہو۔  وہ عوام جانیں۔  سب کو اپنے اپنے تاش کے پتّے دے دیئے گئے ہیں اور سب اسی پتّے کی حکومت تسلیم کر رہے ہیں —ہم اور آپ بھی تو وہی کر رہے ہیں۔   ‘
حلوانی کی آنکھیں چشمہ کے اندر پھر سنجیدہ تھیں —
’  لیکن اس بار پردھان منتری بننے کا خواب—؟ ‘
’  ہم تھال میں سجا کے حکومت آپ کو دے سکتے ہیں۔  باقی کام آپ کو دیکھنا ہے۔   ‘
 ’ہو…ہو…‘ حلوانی مسکرائے۔  
’السلام علیکم۔  ‘
’جے شری رام۔  ‘
مسجد کمیٹی اور مندر کمیٹی کے دونوں نامور چہرے ہنستے مسکراتے ہوئے سامنے تھے۔  
’  فیصلہ دیکھ لیجئے گا— ہمیں بھی قوم کو جواب دینا پڑتا ہے۔  ‘
’ اور ہمیں بھی۔  ‘
’  تو فیصلہ آپ دونوں مل کر ساتھ کیجئے— ‘ ہنسی کی آواز ابھری— ’وہی فیصلہ سنادیا جائے گا۔  ‘
ٹھہاکے۔  شور …

تھاپڑ نے آہستہ سے میرے ہاتھوں کو تھاما—’ چلو میرے ساتھ۔  ابھی تو بہت کچھ دیکھنا باقی ہے…‘
’  اب— اب کیا دیکھنے کو باقی رہ گیا ہے۔   ‘
’ ابھی دیکھا ہی کہاں ہے  ‘
وہ مجھے لے کر کنارے آ گیا—
’تمہاری سانس پھولتی ہے نا ہر بات پر— ٹی وی دیکھتے ہو تو چکر آ جاتا ہے— اخبار پڑھتے ہو تو لرز جاتے ہو—یہاں وہ بھی ہیں جنہوں نے گھوٹالے کیے— وہ بھی جنہوں نے سزا تجویز کی— یہاں سب ایک تھالی میں کھا رہے ہیں — سب ایک ہی تھالی کے چٹے بٹے— مندر مسجد— لڑتے ہم تم ہیں — جذباتی ہم تم ہوتے ہیں — اور یہاں … سب ایک — سب پہلے سے طے شدہ…وہ دیکھو… وہ نمبانی برادرز…؟
’  ہاں۔  ‘
لیکن ان کے درمیان تو …‘
جھگڑا ہے…؟
’  ہاں  ‘
’کوئی جھگڑا نہیں ہے— ایک پارٹی کی دم پکڑتا ہے۔  دوسرا سر۔  ایک کان کو پیچھے سے پکڑتا ہے اور دوسرا آگے سے ‘
تھاپڑ ہنسا۔ ’ یہاں وہ سارے چہرے موجود ہیں، جنہیں تم بڑے لوگ کہتے ہو۔  اپنے اپنے شعبے کے بڑے لوگ… وہ بھی جن سے تم محبت کرتے ہو۔  اور محبت اس لیے کرتے ہو کہ آئے دن وہ تمہیں سہلاتے رہتے ہیں — اور وہ بھی موجود ہیں جن سے تم حد درجہ نفرت کرتے ہو۔  اس لیے کہ وہ تمہارے لیے نفرت بوتے رہتے ہیں۔  مگر یہاں دونوں ہیں۔  ایک ساتھ۔ ہاتھ میں ہاتھ دیے… ‘
وہ دیکھو…
سیاسی چہرے—
برانڈ امبیسڈر—
بزنس ورلڈ کے بادشاہ—
انڈر ورلڈ کے لوگ…
ان میں کچھ فلمی چہرے بھی ہیں — وہ دیکھو…
اور وہ… تمہارے میڈیا کے رہبر—اخباروں کے مدیران…وہ اخبار بھی، جن کی سرخیوں پر تم ایک طرح کا تحفظ محسوس کرتے ہو۔  اور وہ بھی جو اپنی زہریلی سرخیوں سے تم، تمہاری قوم کو جلاتے رہتے ہیں — لیکن یہاں۔  ان سرخیوں کا کرشمہ دیکھ لو— سب طے شدہ۔  ایک کو ایک بھومیکا انجام دینی ہے۔  اور دوسرے کو دوسری…‘
’  نہیں  ‘
آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا رہا تھا—
’دیکھو۔ ‘ تھاپڑ چلایا—’ لڑکھڑا نے سے گرنے سے کام نہیں چلے گا۔ یہ ہارر شو دیکھو۔  کسی بھی انتخاب سے پہلے کا ایک ہارر شو— صرف پارٹی اور بھومیکائیں بدلتی ہیں۔  سب ایک ہیں۔  اور ہم کیا ہیں …‘
آنکھوں کے آگے ہزاروں بھوت تانڈو کر رہے ہیں۔  مونیا گاندھی۔ حلوانی— کسمابن راج…
بھوت تانڈو کر رہے ہیں …
ڈرم…ڈر م…
مندر اور مسجد تحریک سے وابستہ لوگ…
بھوت تانڈو کر رہے ہیں —
سیاست کے وہ چہرے، جن پر اب تک بھروسہ کرتا آیا تھا—
بھوت رقص کر رہے ہیں …
وہ چہرے جنہیں اپنا جانتا تھا کہ یہ میری لڑائیاں لڑ رہے ہیں — میری قوم کی لڑائیاں …
ڈر م…ڈرم …
کمزور آواز سرنکالتی ہے—
’کیا یہ سب ایک ہیں ؟‘
’ہاں —‘
’اور پارٹی…؟‘
’پارٹی بھی ایک…‘
’ اور وہ بھگوا پارٹی… اس کا منی فیسٹو …؟‘
’سب ایک…‘
’نیشنل کانگریس پارٹی…؟‘
’ سب ایک…‘
بھومیکائیں …؟ ڈری آواز سہمی ہوئی آواز—
’ بس بھومیکائیں بدل جاتی ہیں۔  اور یہاں اس وقت یہی ہو رہا ہے۔  یہاں طے ہو رہا ہے۔  آنے والے کل میں کس کی حکومت ہو گی۔  کون پارٹی برسراقتدار آئے گی۔  جو حکومت کرے گی، اس کی بھومیکائیں کیا ہوں گی۔  جو پارٹی حزب اختلاف میں ہو گی، اس کا رول کیا ہو گا…‘
’  اور …‘
’ اور یہ کہ میڈیا میں کون کیا لکھے گا۔  کون مسلمانوں کی نبض پر ہاتھ رکھے گا… کون کس کو سہلائے گا۔ کون کس کو رلائے گا… دیکھتے جاؤ۔  یہاں سب کچھ۔ کچھ ہی دیر میں طے ہونے والا ہے…‘
’ کیا یہ سب یہاں موجود سارے لوگ جانتے ہیں ؟ ‘
’   ہاں  ‘
’  اخبار والے بھی…؟‘
ہاں 
’  چینلس والے بھی؟‘
 ’  ہاں  ‘
’  یہ مٹا دھیش… عدلیہ کے لوگ۔  جیوتشا چاریہ… سنگھ اور بزنس ورلڈ سے وابستہ لوگ…؟
’  ہاں۔ اس حقیقت سے سب واقف ہیں ‘
’ہاں — کہ بس پارٹی بدلتی ہے—؟ ‘
’  ہاں بدلتی صرف پارٹی ہے۔  جنتا ایک پارٹی سے بور ہو جاتی ہے۔  پھر دوسری آتی ہے— اس لیے بھومیکاؤں کا تبادلہ ہوتا رہتا ہے…‘
یعنی… یہاں موجود ہر شخص جانتا ہے…؟ ‘آواز بوجھل ہو گئی ہے۔  سرد۔  برف جیسی۔ 
’ یہاں موجود ہر شخص جانتا ہے۔  ‘
‘ پھر—؟‘
 ’  پھر کیا ؟ ‘
 میں نے تھاپڑ کی آنکھوں میں غور سے دیکھا۔  
’ پھر یہ سچ ہم کیوں نہیں جانتے—؟‘ 
’  نٹوے ہیں ہم— تھاپڑ نے گالی بکی—’ جنتا سب جانتی ہے۔  لیکن عام جنتا کی حالت کسی بھڑوے جیسی ہے۔  جو جانتی سب ہے پھر بھی کٹھ پتلی کا تماشہ بنتے ہوئے اسے مزہ آتا ہے— اور اسی لیے نچاتی ہے یہ سیاست۔  اور یہ لوگ—‘
’  تو میں بھی ناچوں …؟ ‘
’  ہاں۔   ‘
آگے بڑھ کر ویٹر سے دو گلاس تیار کرنے کے لیے کہا…
شراب کی بوند زہر کی طرح اندر جا رہی ہے…
میں ناچوں نا…؟
ہاں … یہاں سب ناچ رہے ہیں …

 رقص— رقص میں لیلیٰ رہی …لیلیٰ کے دیوانے رہے…
ذرا نچ کے دکھا… ذرا ٹھمکا لگا…
 چیرئس… ایک پیگ… دوپیگ… تیسراپیگ… جسم جھول رہا ہے… تین پیگ پینے کے باوجود کہیں کوئی نشہ نہیں — دماغ میں میزائلیں چھوٹ رہی ہیں۔  
سب سے بڑی جمہوریت والا ملک… ذرا جھوم کے دکھا… تھاپڑ یار…تم بھی تو لڑکھڑا رہے ہو… سب سے بڑی جمہوریت— آزادی کے بعد بھی تقسیم کا دور— ملک کی ہر بڑی پارٹی تقسیم ہوتی رہی— 1978کے بعد سے تین بار کانگریس کو تقسیم ہوتے دیکھا— 1989کے بعد جنتا دل تقسیم پر تقسیم ہوتا گیا۔  جن سنگھ کے خیالوں سے جنمی بھگوا پارٹی بھی اپنے اصولوں میں تقسیم ہوتی رہی۔  اور کتنی عجیب بات… ملک، ہندستان، بھارت اور انڈیا میں مسلسل تقسیم ہوتا رہا ہے۔  شہر بدل گئے۔  چمک دمک بدل گئی۔  جبکہ70فیصدی گاؤں میں غریبی بڑھی ہے۔  یہاں آج بھی دنیا کے 44فیصد غریب رہتے ہیں۔  اور کتنی عجیب بات… ہم مسلسل تقسیم ہو رہے ہیں …‘
رقص میں لیلیٰ رہی…
لیلیٰ کے دیوانے رہے…
 تقسیم ہونے کے باوجود سب ایک ہیں۔  ایک چہرے… ایک نام… ایک پارٹی …آنکھوں میں گھنے اندھیرے اتر آئے ہیں — میں لڑکھڑا تا ہوا تھاپڑ کی طرف دیکھتا ہوں۔ 
 کیا ہم سچ مچ سب جانتے ہیں ؟
 ہاں …
کیا ساری پارٹیاں ایک ہیں …؟
ہاں …
’تو پھر ہمارے جذبات کیوں تقسیم ہوئے—؟ بتا سکتے ہو— سب ایک ہیں تو ایک پارٹی ہمارے نفرت کی مستحق بن جاتی ہے اور دوسری میں ہم اپنا مستقبل دیکھنے لگتے ہیں۔  ‘
’   ہونہہ۔  ایک کی بنیاد ہی وش پر ہے۔  لیکن ہم بھول جاتے ہیں کہ جو دوسری پارٹی ہے… اس کی بنیاد بھلے وش پر نہ ہو مگر وہ زیادہ زہریلی ہے…یہ بھی تو دیکھو کہ کہیں کوئی فرق نہیں — سب ایک ہیں۔  ایک زہر اگلتی ہے یہ زہر اگلنا بھی پہلے سے طے شدہ رہتا ہے اور دوسری مرہم لگاتی ہے تو یہ بھی پہلے سے ہی طے ہو چکا ہوتا ہے…‘ 
میری آواز کمزور تھی۔  
’پھر ہم انتخاب کا انتظار کیوں کرتے ہیں۔  ووٹ دینے کیوں جاتے ہیں —؟ ہم ایک ناجائز سسٹم کا کھوکھلا ووٹ بینک بن کر کیوں رہ گئے ہیں —؟
’تماشہ۔  ایک بڑا جشن۔  اور ہم ہنستے مسکراتے اس جشن کا حصہ بن جاتے ہیں۔  برسوں سے یہی ہوتا رہا ہے۔  بھیس بدل بدل کر ایک ہی پارٹی اس ملک پر حکومت کرتی رہی ہے۔  اور ہم ہر بار دیوانوں کی طرح اپنے جذبات کا مظاہرہ کرتے رہے… کرپشن، گھوٹالہ… ملک کو فروخت کرنے والے مہنگائی، مندر مسجد، گجرات، کو فورس سے فرقہ وارانہ دنگوں تک— اخبار پڑھتے ہوئے مٹھیاں کس جاتی ہیں — ٹی وی دیکھتے ہوئے آنکھوں میں کسی کے لیے حیرانی جاگتی ہے، کسی کے لیے نفرت—کوئی بیگانہ لگتا ہے تو کوئی اپنا— کسی کو قتل کر دینے کی خواہش ہوتی ہے۔  تو کسی کے ہاتھوں اپنا مستقبل محفوظ نظر آتا ہے— مگر حقیقت تو دیکھو۔  حقیقت یہاں روشن ہے۔  یہاں سب مل رہے ہیں۔  اور سب کو پتہ ہے، ایک پارٹی کو حکومت میں آنا ہے اور دوسری کو حزب مخالف کا رول ادا کرنا ہے…

جام چل رہے ہیں۔ 
ہنگامے۔  ٹھہاکے… سیاست کی ڈیل چل رہی ہے۔  ہر شعبے کے لوگ ہیں۔  بزنس سے فلم اور مذہب سے سیاست تک—
چیئرئس۔ 
 ایک پیگ۔  آنے والے کل کے لیے—
اور دوسرا— عوام کے لیے۔ سلامتی کے لیے—
تیسرا…روپیوں کے لیے … سب سے بڑا روپیہ …
اب سب ناچ رہے ہیں۔ 
صرف میں ٹھہر گیا ہوں — میں اور تھاپڑ—
قدیم قبیلے جاگ گئے ہیں۔  پاشان یگ۔  آدی مانو…ازلی انسان…
رقص میں لیلیٰ رہی… لیلیٰ کے دیوانے رہے…
میں تھاپڑ کی طرف مڑتا ہوں … ’اب مجھے اسامہ کا خوف نہیں۔  ہمیں خوشی ہے کہ وہ اس بھیانک سسٹم اور انتظامیہ کا حصہ ہوتے ہوئے بھی کہیں اپنی موجودگی درج کرا رہا ہے— تواریخ کے کسی انجانے صفحے پر— ممکن ہے یہ موجودگی کل سب کی نظروں میں آ جائے —‘
لو گ جھوم رہے ہیں …
ناچ رہے ہیں …
میں لڑکھڑا تا ہوا سامنے کی دیوار سے ٹکراتا ہوں …
٭٭
 آنکھیں کھل گئی ہیں —
 باہر کتے بھونک رہے ہیں —
پتہ نہیں رات کتنی گزر چکی ہے —
میں قریب لیٹا ہوا رباب کو دیکھتا ہوں۔  میرا جسم پسینے میں ڈوب چکا ہے… اور اس خیال سے باہر نکلنا مشکل کہ میں نے ابھی کچھ لمحے پہلے جو کچھ بھی دیکھا، وہ محض ایک خواب تھا۔  
مگر اس دوران ایسے لامتناہی خوابوں کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ میرے ساتھ شروع ہو چکا تھا۔  
تب تک فیصلہ نہیں آیا تھا۔ 
٭٭


(5)

’’یہ زمین کا ایک چھوٹاساٹکڑا ہے۔  جس پر چلنے سے فرشتے بھی ڈرتے ہیں۔  زمین میں چاروں طرف بارودی سرنگیں بچھی ہیں۔  ہم سے کہا گیا ہے کہ اسے صاف کیا جائے۔  کچھ سمجھدار لوگوں نے صلاح دی ہے کہ اسے صاف کرنے کی کوشش نہ کی جائے۔  لیکن یہ خطرہ اٹھانا ہو گا۔ ‘‘
 تاریخی فیصلہ سنانے والے جج سبغت اللہ خاں کے شروعاتی بیان کا حصہ۔ 

 یہ صبح عام صبح جیسی نہیں تھی۔  ایک انقلاب ریت کے سمندر سے سر نکال رہا تھا۔  فضا گرد آلود تھی… اور سرخ آندھیوں نے اپنے آنے کی اطلاع دے دی تھی۔  ملک ایک بار پھر بارود کے دہانے پر تھا۔  سہمے ہوئے چہروں پر دعائیں کانپ رہی تھیں۔ 
 نیند سے اٹھا تو دشینت کا چہرہ آنکھوں میں تھا۔  یہ چہرہ مجھے خوفزدہ کرنے کے لیے کافی تھا۔ 
 دروازے پر دستک ہوئی تو مسکراتی ہوئی رباب کے ساتھ ہاتھوں میں چائے لیے شمیمہ کھڑی تھی۔  اور یقیناً اس لمحے اسامہ کو سوچتے ہوئے میری دھڑکن تیز ہو گئی تھی۔ 
 ’ ابو چائے…‘
 اس کے پیچھے کھڑی ہوئی رباب مسکرارہی تھی۔ 
 ’یہ چائے شمیمہ نے خود بنائی ہے۔  اپنے ہاتھوں سے  ‘
میں نے مسکرانے کی کوشش کی۔  
’اللہ تمہیں تقدیر کا بڑا بنائے بیٹی۔  ‘
میں نے ایک بار پھر مسکرانے کی کوشش کی—لیکن کامیابی نہیں ملی۔  میں باہر نکل کر آج کے ماحول کا جائزہ لینا چاہتا تھا۔ 
بابری مسجد اور اجودھیا کے زخم تازے ہو گئے تھے۔  تاریخ کا اعلان ہوتے ہی فوجی دستے چاروں طرف چھا چکے تھے۔  پولس گشت بڑھا دی گئی تھی۔  اجودھیا جانے والے سبھی راستوں پر بیر یئر لگا دیئے گئے تھے۔  پولس اور پی اے سی کے جوان چوکنے تھے۔  لوگوں کی تلاشیاں لی جا رہی تھیں۔  
ٹی وی پر بریکنگ نیوز میں بابری مسجد فیصلے کو لے کر ماحول کو پرسکون بنانے کی کوشش ہو رہی تھی۔ لیکن کیا سچ مچ؟ خبروں سے کچھ ایسا اشارہ دیا جا رہا تھا کہ اس بار فیصلہ مسلمانوں کے حق میں ہو گا۔  بٹلہ ہاؤس اور آس پاس کی گلیاں سنسان تھیں۔  بازار کھلے تھے لیکن ایک عجیب سے خوف اور دہشت کے رنگ کو چہرے پر دیکھا جا سکتا تھا۔ 
 کچھ دیر تک یونہی چہل قدمی کے بعد میں گھر لوٹ آیا تھا— دماغ بوجھل تھا۔  اٹھارہ سال پرانی یادیں دل و دماغ پر شب خون مار رہی تھیں — اٹھارہ سال پہلے کی یادیں —ان خوفناک یادوں کے ساتھ اب اسامہ کی یادیں مجھے پریشان کر رہی تھیں۔  ان یادوں سے باہر نکلنے کے لیے میں پھر ٹی وی کا رخ کرتا ہوں۔  ٹی وی پر اجودھیا اور وہاں کے ماحول کے بارے میں بتایا جا رہا ہے— اجودھیا میں صبح روز کی طرح ہوئی— لیکن ماحول بدلا ہوا تھا۔  صبح 5:20 بجے کے قریب سرجوندی کے کنارے نیا گھاٹ پر اڑیسہ سے آئے 50-55لوگوں کا پہلا جتھا پہنچا—
 سبھی عقیدت مند ٹرین سے آئے تھے اور فیض آباد اسٹیشن پر اترنے کے بعد راستے میں ڈھیر ساری حفاظتی چیکنگ سے گزرتے ہوئے گھاٹ پر پہنچے—  اڑیسہ کے عقیدت مندوں نے سرجو کے گھاٹ پر آ کر نہانے کی بھی ہمت نہیں کی— وہ متنازعہ احاطے میں رام کا درشن کر کے روانہ ہو گئے۔ 
گھاٹوں پر جہاں صبح 10بجے تک خاموشی چھا گئی— سناٹے کا منظر طلوع آفتاب کے بعد سے مسلسل بنا ہوا تھا۔  گھاٹ پر واقع رادھا کرشن مندر میں رہنے والے سنت اور سادھو منجیرے کی گونج کے درمیان رام دھن گا رہے تھے۔ 
 صبح گیارہ بجے کے قریب زیادہ تر بازاروں میں دکانیں کھلی رہیں۔  لیکن بند دکانوں کی بھی تعداد کم نہیں رہی۔  ممکنہ خوف کے چلتے کاروباریوں نے مخصوص جگہ پر آنے سے پرہیز کیا۔  سنت تلسی ادھان کے پاس والی سڑک پر صبح سے ہی جلیبی اور کھچڑی کی دکان سجائے ایک لڑکے نے بتایا کہ تھوڑی بہت بکری ہی ہوئی — عقیدتمند تو آئے نہیں — مقامی لوگ بھی کم ہی نکلے۔  کھانے کے ہوٹل مالک کے مطابق گاہکوں کا بالکل ٹونا ہے— صبح تک کھلے بازار تین بجتے بجتے بند ہونے لگے— ہنومان گڑھی کے آس پاس سناٹا پسر گیا۔  تین بجے تک تو چڑھاوے کے لیے پرشاد اور مالا بیچنے والا بھی کوئی نہیں تھا۔ 
 ہنومان گڑھی جانے والی خاص شاہ را ہوں پر بیریئر گرا دیا گیا— فورس مستعدتھی۔  آنے جانے والوں سے پوچھ تاچھ ہوئی— تب آگے بڑھنے کی اجازت ملتی۔  تناؤ کافی تھا— حالانکہ اس بازار میں کھلی اکا دکا دکانیں زندگی کا احساس کرا رہی تھیں۔  فیصلے سے کچھ پہلے فورس کی تعداد بڑھ گئی تھی۔  آر اے ایف، پی اے سی اور پولیس کے جوانوں سے بھری بسیں پہنچنے لگیں۔ 
 کیمرہ اجودھیا کی سڑکوں، گلی کوچوں پر پین ہو رہا تھا۔  لیکن میری آنکھیں کیا تلاش کر رہی تھیں — اسامہ کو؟ کچھ دن پہلے کی یادیں تازہ ہو گئی تھیں۔ 
 سراب بھی بھاری تھا— گھوم پھر کر پھر اسی مقام تک آ کر ٹھہر جاتا۔  فیصلے میں کیا ہو گا؟ کس کے حق میں آئے گا فیصلہ—؟
 آر ایس ایس اور ہندو مہاسبھا جیسی تنظیموں نے پہلے سے کہنا شروع کر دیا تھا کہ اگر فیصلہ ان کے حق میں نہیں آتا ہے تو وہ اسے قبول نہیں کریں گے۔  اور اس کے بعد اگر پورے ملک میں گجرات جیسا ماحول بنتا ہے تو یہ ان کی ذمہ داری نہیں ہو گی۔ 
 کتنے ہی سوال تھے جو راستہ روکے کھڑے تھے۔ 
 اجودھیا کی متنازعہ زمین پر کس کا حق قبول کیا جائے گا —؟ہندو تنظیموں کا یا مسلم وقف بورڈ کا—؟ چاروں طرف خوف کا منظر ہے— اس فیصلے پر دنیا بھر کی نظریں لگی ہوئی ہیں۔  لیکن میں کچھ اور بھی سوچ رہا ہوں — فیصلے کے بعد بھی کیا ہمیں کسی قسم کا تحفظ ملے گا؟
 دشینت کا چہرہ ایک بار پھر نظروں کے سامنے ہے۔ 
 یقیناً یہ چہرہ اس وقت رباب کی آنکھوں کے سامنے بھی ہو گا— لیکن وہ شمیمہ میں خود کو بہلانے کی کوشش کر رہی ہے۔  وقت جیسے جیسے گزر رہا ہے، دھڑکنوں میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے—

تین بج گئے—
رباب اور شمیمہ بھی صوفے پر آ کر بیٹھ گئے۔  سب خاموش ہیں۔  شاید ایک دوسرے سے نظریں ملانے کی بھی ہمت نہیں۔  اور کچھ ہی دیر میں وہ تاریخی فیصلہ آنے والا ہے۔  ایک ایک سکنڈ جیسے صدیوں کے برابر ہو گیا ہے… میں ایک بار پھر خود سے الجھتا ہوں۔  اس فیصلے میں کیا ہے؟ کیوں اس فیصلے کو جاننے کی بیقراری ہے؟
 میزائلیں ایک بار پھر گرج رہی ہیں — آزادی کے بعد کا ہندستان سامنے ہے—ہندستان، جہاں کی ایک بڑی اقلیت اپنے حق میں ہونے والے ایک فیصلے کے لیے ترستی رہ گئی—
رم…جھم … بارش کی پھواریں میرا راستہ روکتی ہیں۔  
 اس فیصلے کے بعد بھی محفوظ نہیں ہو تم…
پہلے فیصلہ تو آ جائے—

آنکھیں بند ہیں — کتنی ہی تصویریں روشن ہیں — اس تاریخ سے، اس فیصلے سے ایک ذہنی وابستگی بھی رہی ہے میری— اسامہ کی پیدائش— اس کے ننھے معصوم سراپے کو دیکھنا۔  گود میں لینا۔  اور پھر اسی آزاد ہندستان میں ایک دن اس کا گم ہو جانا… یہ صرف ایک فیصلہ نہیں ہے—
 مجھے ایک تسلی چاہئے— اپنے لیے —اپنے بیٹے کے لیے— اپنی آزادی کے احساس کے لیے—
 رباب اور شمیمہ میرے چہرے کے اتار چڑھاؤ کا جائزہ لے رہے ہیں۔  میں اس گہری نہ ختم ہونے والی دھند میں اتر گیا ہوں —
آزادی کے بعد کے فسادات مجھے گھیر رہے ہیں۔ 
اچانک میں آنکھیں کھولتا ہوں …
سامنے ہائی کورٹ کی عالیشان عمارت ہے۔  اور اینکر اس عمارت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے چلارہا ہے…
فیصلہ آ چکا ہے۔ 
 ایک تاریخی فیصلہ سننے کے لیے آپ تیار ہو جائیے۔  
فیصلہ آنے والا ہے— وہ تاریخی فیصلہ جس کے انتظار میں اٹھارہ سال کاٹے ہیں میں نے—ایک ایسا فیصلہ جس کے لیے عدلیہ نے 8189صفحات میں اپنا فیصلہ سنایاہے۔ 
 دھڑکنیں تیز ہیں۔  اندر جیسے اٹھنے والی آندھی بھیانک ہو چکی ہے۔ 
فیصلہ آنے والا ہے— 
 دل جیسے ڈوبتا ہوا محسوس ہو رہا ہے۔  میری حالت اس جوکر کی طرح ہو رہی ہے جو نہ ہنس سکتا ہے نہ روسکتا… بس وہ ایک تماشہ کا حصہ ہے۔  یا خود تماشہ ہے… اور اس کو دیکھنے والے مسلسل ہنس رہے ہیں۔  ٹھہا کا لگا رہے ہیں —

قارئین، یہاں ایک بار پھر آپ کو رکنا پڑے گا۔  کچھ باتیں ہیں جن کی جانب اشارہ کرنا ضروری ہے۔  فیصلہ کی رات سے فیصلہ آنے تک ایسی کتنی ہی باتیں ہوئیں جنہیں آپ کے سامنے رکھنا ضروری ہے۔ 
 جیسے رات کچن میں چوہوں کے شور کے باوجود رباب اطمینان سے شمیمہ سے باتیں کرتی رہی۔  میں بالکنی میں آیاتو…
 نہیں … یہ میرا وہم تھا… اور یقیناً آپ میری بات پر بھروسہ نہیں کریں گے—
 آسمان غائب تھا۔  حد نگاہ تک پھیلا ہوا نیلگوں آسماں … نہیں۔  مجھے اس طرح شک کی نگاہ سے نہیں دیکھیے۔  تارے نہیں تھے۔ چاند نہیں تھا۔  وہاں ایک گڈھا سا تھا۔  نیلی آسمانی چادر کی جگہ ایک بدنما سا گڈھا… میں اتنا خوفزدہ ہوا کہ اپنے کمرے میں آ گیا۔ 
میں رباب سے کہنا چاہتا تھا… کہ آسمان تو ہے ہی نہیں۔  یعنی اگر تم میری بات کا یقین نہیں کر رہی تو خد ا کے لیے بالکنی پر جاؤ۔  اور آسمان کی طرف دیکھو۔ ‘
 مگر حیرانی کی بات یہ تھی کہ میں بولنے کی کوشش ضرور کر رہا تھا مگر منہ سے آواز نہیں نکل رہی تھی۔ 
 کچھ اور بھی واقعات پیش آئے تھے—
 کمرے کی کھڑکی کھلی ہوئی تھی۔  اور ایک لمحے کے لیے محسوس ہوا، سیلاب کا پانی کھڑکی کے راستہ اندر کمرے میں داخل ہونے کی کوشش کر رہا ہے۔  میں چیخنا چاہتا ہوں۔  رباب کو آواز دے کر جگانا چاہتا ہوں۔  مگر بے سود۔  سنامی لہریں تب تک ہمیں بہا کر دور لیے جاچکی ہوتی ہیں۔  رباب کی آواز پر میں جیسے خواب سے جاگا تھا۔ 
’ ایسے کیا دیکھ رہے ہو…‘
’ وہ…‘ کہتا ہوا میں ٹھہر گیا تھا۔ 
’  پریشان ہونے سے کوئی فائدہ ہے۔  جو بھی ہونا ہے، وہ کل تک سامنے آ جائے گا۔ 
 اس رات تین بار مجھے اپنی چوکھٹ سے چوٹ لگی تھی۔  اور اس رات میری گھڑی پھر گم ہو گئی تھی۔  بہت دیر تک تلاش کرنے کے باوجود نہیں ملی۔ 
’  چلو، نکاحی گھڑی سے چھٹکارا ملا۔  رباب نے ہنستے ہوئے کہا۔  اب مت تلاش کرو۔  کل نئی لے آنا۔ ‘
لیکن مجھے اسی لمحے ایسا کیوں محسوس ہوا، جیسے وقت کی سوئیاں چلتے چلتے اچانک رک گئی ہوں۔  رباب غور سے میری طرف دیکھ رہی تھی۔ 
’ کیا ہوا۔ ؟‘
’کچھ نہیں ‘
’گھڑی کے گم ہونے سے پریشان ہو…؟‘
’ارے نہیں …‘ کہہ کر سر جھٹکنے کی کوشش کی۔  مگر وقت جیسے ٹھہر گیا تھا—
 مجھے یاد آیا، اس دن علوی کے ابو ملے تھے۔  کمزور اور تھکے ہوئے۔  سلام مصافحے کے بعد بابری مسجد فیصلہ کا ذکر آتے ہی ان کی آنکھوں میں عجیب سی چمک جاگی تھی۔ 
 ’بس فیصلہ آ جائے…‘
’  لیکن اس فیصلے سے آپ کو کیا حاصل ہو گا۔ ‘
’یہ فیصلہ میرے حق میں آتا ہے تو احساس ہو گا، علوی کو انصاف مل گیا ہے۔  برسوں سے ساری لڑائی انصاف کی ہے۔  انصاف ہی تو نہیں ملا۔ ‘
آنکھیں نم تھیں۔  پھر علوی کے ابو رکے نہیں، آگے بڑھ گئے—میں یادوں کے جزیرے سے باہر نکلنے کی کوشش کرتا ہوں۔ 
لیکن ہر بار باہر نکلنے کی کوشش میں وہ گھڑی سامنے آ جاتی ہے۔ 
 اس بار کہاں بھول آیا—؟ بیسن سے بیڈروم اور صوفے تک سب جگہ تلاش کرنے کے باوجود گھڑی نہیں ملی—وقت دیکھنے کی عادت پڑگئی ہے۔  یہ جانتے ہوئے بھی کہ اب کوئی وقت، میرا نہیں ہے— اندر ایک ہنسی کی آواز ابھرتی ہے۔ 
 فیصلہ تمہارے حق میں آیا تو…؟ تب بھی تم خطرے میں ہو ارشد پاشا۔ 
 اور اگر خلاف آیا تو— تب بھی…
 اور یقیناً عینک کی تلاش میں ہی میں بالکونی پر آیا تھا۔ 
 اور تا حد نظر پھیلے آسمان کی جگہ گڈھوں کو دیکھ کر ڈر گیا تھا…
 پھر گڈھے ہلنے لگے…
جیسے سرخ پانی کی لہریں ہوں — تیز لہریں۔ 
 ’  ان لہروں سے مسجد جیسی ایک شکل تعمیر ہو رہی تھی…
یقیناً یہ ایک مسجد تھی۔  مسجد کا تعاقب کرتے ہوئے کچھ سائے تھے۔  خوفناک شکلوں والے… پھر آن کی آن میں مسجد ڈھا دی گئی… اب وہاں گڈھے تھے۔  سرخ گڈھے… اور ان گڈھوں کے درمیان…
 میں حیرت سے دیکھ رہا تھا۔  اور مجھے پہچاننے میں قطعی کوئی دشواری نہیں ہوئی۔  وہ میری گھڑی تھی۔  اور عجیب بات اس کی ٹک ٹک کی آواز … یہاں تک مجھے سنائی دے رہی تھی…
 میں رباب اور شمیمہ کو چیخ چیخ کر آواز دینا چاہتا تھا— شاید میں ہنس رہا تھا… وہاں دیکھو تو… میری گھڑی ہے۔  لیکن گھڑی چل رہی ہے… تم لوگوں تک بھی اس کی ٹک ٹک کی آواز پہنچ رہی ہے نا… میرے ہونٹوں پر مسکراہٹ ہے…
میرے پیچھے شمیمہ کھڑی ہے۔ 
 ’ ابو… دیر ہو گئی۔  سو جائیے۔  آپ کی طبیعت خراب ہو جائے گی…‘
 میں پلٹ کر شمیمہ کو دیکھتا ہوں … ایک لمحہ کو لگتا ہے… شمیمہ میں اسامہ زندہ ہو گیا ہے۔ 
 میں جیسے گہری نیند سے بیدار ہو گیا ہوں۔  ٹی وی اسکرین روشن ہے۔  اور فیصلہ آ چکا ہے… 
٭٭
تاریخی فیصلہ آ چکا ہے۔  نگاہیں ٹی وی اسکرین پر جمی ہوئی ہیں۔ 
 زمین کی تقسیم تو ہو گی لیکن رام لللہ وہیں رہیں گے۔  8189صفحات پر مشتمل رپورٹ میں تمام حقائق سامنے رکھنے کے بعد یہ فیصلہ سنایا گیا کہ وہ جگہ وقف بورڈ کی نہیں ہندوؤں کی ہے— اور درمیانی گنبد سے نیچے رکھی گئی مورتیاں اسی جگہ سے ہٹائی نہیں جائیں گی—عدلیہ نے وقف بورڈ کے مالکانہ حق کے دعویٰ کو خارج کر دیا۔  متنازعہ زمین ہندومسلم اور اکھاڑے میں برابر تقسیم کی جائے گی۔  اس طرح دو تہائی حصوں پر ہندوؤں کا حق ہو گا۔  زمین کا ایک تہائی حصہ مسلمانوں کو ملے گا۔  رام لللہ کی مورتیوں والا حصہ ہندوؤں کو دیا جائے گا۔  رام چبوترہ، بھنڈار اور سیتا رسوئی پر اکھاڑے کا حق ہو گا۔  

میں گہرے سناٹے میں رہوں۔  اس سناٹے کا کوئی انت نہیں۔  کیا عقیدے کو بنیاد بنا کر جمہوریت کا مذاق اڑایا گیا ہے—؟ اور اس مذاق میں عدلیہ کے تین ستونوں میں سے ایک ستون کے طور پر اقلیت کی آواز بھی شامل ہے— کیا سب کو برابر کا حصہ دے کر خوش کرنے کی کوشش کی گئی ہے— لیکن خوش کون ہے ؟ اور ہارا ہوا کون ہے؟ پانچ سو سال سے جو متنازعہ زمین بابری مسجد کی شکل میں سامنے تھی، کورٹ نے اس کے بارے میں ایک لفظ بھی کہنا گوارا نہیں کیا— یہ بھی نہیں کہ جو مورتیاں ۱۹۴۹ء میں وہاں رکھی گئیں وہ وہاں کیسے آئیں —؟
 اس کی دیکھ بھال کرنے والے، زمین کے کاغذات رکھنے والے لوگ تو پیڑھیوں سے موجود رہے— اقلیت ہمیشہ حاشیے پر رہی ہے۔  فیصلہ سن کرمحسوس ہوا، جیسے کورٹ کہہ رہا ہے کہ ہندو راشٹر میں آپ کا سواگت ہے— دراصل یہی ہندستانی سماج کی اصلیت ہے۔  جو لوگ کہہ رہے تھے کہ 1992میں بابری مسجد گرنے کے بعد سے معاملہ ختم ہو گیا انہیں آج دیکھنا چاہئے کہ یہ اب کتنی بھیانک شکل اختیار کر چکی ہے۔ 
 دھوکہ… میں آہستہ سے چلاتا ہوں …

 دروازہ پر دستک ہوئی ہے۔  اجے سنکھ تھاپڑ کی موجودگی اس وقت مجھے گراں گزر رہی ہے—
 وہ صوفے پر بیٹھ چکا ہے۔  چہرہ ہر طرح کے تاثر سے عاری…
 لیکن میرے سوئے ہوئے لفظوں کو زبان مل گئی ہے—
 ’  کیا یہ سیاست ہے؟  ‘
 ’  ایک بے رحم سیاست  ‘
’  اچھا یہ بتاؤ تھاپڑ۔  اگر یہ فیصلہ مسلمانوں کے حق میں ہوتا تو کیا تم اسی خاموشی سے قبول کر لیتے جس طرح میں نے کیا ہے…؟‘
تھاپڑ چپ ہے—
 ’  یہ ملک جیسے تمہارا ہے، ویسے پچیس کروڑ مسلمانوں کا بھی— ایک بڑے تاریخی مقدمے کے فیصلے کے لیے تین لوگوں کو بیٹھا دیا جاتا ہے— ایک جج جو ماتھے پر ٹیکا لگاتا ہے اور ریٹائر ہونے والا ہے۔  کیا تم اس سے امید کرتے ہو کہ وہ انصاف کرتے ہوئے اپنے مذہب کو بھول جائے گا—؟ سونے پر سہاگا، تم اقلیت کے ایک کمزور اور دبو آدمی کو بھی جج کی کرسی پر بیٹھا دیتے ہو کہ وہ پچیس کروڑ مسلمانوں کے تحفظ کے بارے میں غور کرتے ہوئے سچ بھول جائے اور ایک نکمے فیصلے پر اپنی منظوری کی مہر لگا دے— تم وثوق سے کیسے کہہ سکتے ہو کہ ہائی کورٹ کے بعد اگر سپریم کورٹ کی باری آتی ہے تو ہمیں انصاف مل جائے گا؟
 تھاپڑ کی نظریں جھکی ہیں —
’  یہ صرف ایک فیصلہ نہیں تھا تھاپڑ— ہماری زندگیاں لگی تھیں داؤ پر— اٹھارہ برسوں کے بعد آیا یہ فیصلہ اگرسیاست کی نذر نہ ہوتا تو جانتے ہو کیا ہوتا— صرف یہ ایک فیصلہ آزادی کے بعد کے ہزاروں نکمے فیصلوں کے داغ دھو کر ہمیں مین اسٹریم میں لے آتا—علوی کے باپ اپنے بیٹے کے درد کو بھول جاتے۔  مجھے اسامہ کی گمشدگی میں بھی انصاف ملنے کی امید نظر آتی۔  گودھرہ سے مالیگاؤں اور بٹلہ ہاؤس تک کی نا انصافیوں کو ایک موہوم سی امید کی کرن مل جاتی۔  بار بار ہماری وفاداریوں کو چیلنج کرتے ہو تم— جبکہ ہماری وفاداریاں کھلی کتاب کی طرح روشن ہیں۔  لیکن تھاپڑ اب تمہاری وفاداری کو اس تاریخی فیصلہ کی آڑ میں ہم چیلنج کرنے آئے ہیں —جھوٹی ہیں تمہاری حکومتیں —مکار— ساری حکومتوں کے چہرے ایک ہیں۔  ‘
میں ایک لمحے کے لیے ٹھہر تا ہوں —’ آج ہم میں سے کوئی بھی اپنے بچوں کو سنہری ماضی کی کہانیاں نہیں سناتا۔  پدرم سلطان بود… یہ ایک واہیات حقیقت تھی، جس کے پیچھے تباہ ہوتی ہوئی نسلوں کو دیکھا ہے ہم نے— آنکھیں کھلتے ہی ہم اپنے بچوں کو حقیقت کی پتھریلی زمین پر چلنا سکھاتے ہیں — مگر ہوتا کیا ہے۔  آنکھیں کھلتے ہی اسامہ جیسے بچوں کو ایک بٹلہ ہاؤس مل جاتا ہے—کہیں دنگے ہوتے ہیں تو وہ ڈر جاتے ہیں۔  اسکول میں دوستوں کے درمیان بھی ڈرے ڈرے ہوتے ہیں۔  ڈر کے یہ انجکشن ان کے جسم میں ہم بھی پیوستہ کرتے رہتے ہیں — اور اس لیے کرتے ہیں کہ حکومت سے میڈیا تک بار بار ہمیں ڈرا رہی ہوتی ہے۔  ہم اخباروں میں مسلسل خوف و دہشت کی کہانیاں سنتے رہتے ہیں۔ چینلس پر دہشت گردوں کی یلغار دیکھتے ہوئے سہمے رہتے ہیں۔  اور یہ سب مسلمان ہوتے ہیں — دہشت کی ہر کارروائی کے پیچھے ایک مسلمان— ٹی وی دیکھتے، اخبار پڑھتے ہوئے ہمیں اپنے ہی مذہب اور اپنی قوم کے لوگوں سے نفرت ہونے لگتی ہے—پھر احساس ہوتا ہے کہ ارے اس کے پیچھے تو تم تھے۔  یہ سب کچھ سوچی سمجھی کارروائیوں کا حصہ تھا— ہم سکون کی سانس لیتے ہیں۔  پھر کوئی دوسری مسلم دہشت پسند کارروائی سامنے آ جاتی ہے— اور تم ہر بار کہیں نہ کہیں ان کارروائیوں سے ہمیں جوڑ دیتے ہو— ایک عام مسلمان کو— جو صبح آفس جاتا ہے اور رات گھر آتا ہے— ایک عام سیدھا سادا مسلمان جو تمہاری طرح اپنے وطن اپنے ملک سے اتنی ہی محبت کرتا ہے۔  اس لیے وہ اپنے ملک میں اپنے لیے دیئے جانے والے انصاف کی امید بھی کرتا ہے— مگر کیا ملتا ہے اسے انصاف کے بدلے —ہر بار ایک دھوکہ۔   ‘
 ’ ابھی سپریم کورٹ کا دروازہ کھلا ہے… ‘ تھاپڑ کی کمزور آواز ابھری۔ 
 ’  سارے ملک میں مسلمان جشن منا رہے ہیں۔  ٹی وی دیکھو۔  مٹھائیاں تقسیم جا رہی ہیں۔  جانتے ہو کیوں ؟ کیونکہ دنگے نہیں ہوئے۔  شانتی رہی۔  92نہیں دہرایا گیا— یہ مٹھائیاں نہیں تقسیم جا رہی ہیں دوست۔  تم سے ایک حقیقت بتائی جا رہی ہے کہ ہم ہر حال میں خوش ہیں۔  ہم دبے رہیں گے۔  ہمارے انصاف یہی رہیں گے۔  اور ہمارا کام مسکرانا ہو گا۔  جشن منانا ہو گا۔  مٹھائیاں تقسیم کرنا ہو گا۔  بات کسی قوم کی شکست اور فتح کی نہیں ہے۔  انصاف کے لیے حقائق ہوتے ہیں۔  دستاویز ہوتے ہیں۔  ثبوت ہوتے ہیں۔  مذہب کا آدرش یا مکھوٹا نہیں ہوتا— لیکن آدرش کا ایک مکھوٹا لگایا گیا —اور عدلیہ کی کرسی پر ایک بے زبان مسلم جج کو بیٹھا کر تاریخ کا اتنا بڑا فیصلہ لے لیا گیا— فیصلہ لینے والے جج نہیں تھے۔  دو الگ الگ مذہب کے لوگ تھے۔  اگر فیصلہ یہی تھا تو اس کے لیے اٹھارہ سال انتظار کرنے کی کیا ضرورت تھی—مذہب یا آدرش کی کسی بھی بوسیدہ کتاب سے یہ فیصلہ برسوں پہلے بھی سنایا جا سکتا تھا۔ ‘
میں زور زور سے بول رہا تھا اور اب میرے منہ سے جھاگ نکلنے لگی تھی۔  تھاپڑ غور سے میرے چہرے کے اتار چڑھاؤ کا جائزہ لے رہا تھا۔  اس کی آنکھیں سوچ میں گم تھیں —
’شاید تم ٹھیک کہتے ہو… شاید پہلے میں بھی ایسا ہی سوچتا تھا۔  اور ہزاروں بار اس موضوع کو لے کر تم سے بات بھی ہوئی ہے۔  تم سے زیادہ میں ناراض ہوا کرتا تھا۔  ملک کے اس کرپٹ سسٹم پر۔ مگر ایک بات میں بھی بھول رہا تھا اور تم بھی…‘
میں نے تھاپڑ کی طرف دیکھا۔  اس نے اپنا بولنا جاری رکھا—
’  یہ آستھاؤں کا دیش ہے— پھر انصاف میں ان آستھاؤں کو تھوڑی سی جگہ کیوں نہیں مل سکتی ارشد پاشا —؟ یہ فیصلہ آستھا بنام انصاف کے نام ہے۔  بہت کچھ بدلا ہے۔  جو صورتحال ۱۸ برس پہلے تھی وہ اب نہیں ہے— مگر آستھائیں موجود ہیں۔  اور آستھائیں اس ملک کی شانتی بھنگ ہونے سے روکتی ہیں تو غلط کیا ہے ارشد پاشا— اٹھارہ سال پہلے صرف مندر مسجد کا معاملہ تھا اور جوش سے بھرے دیوانے تھے— لیکن ان اٹھارہ برسوں میں دنیا کے ساتھ اپنا ملک بھی بدلا ہے۔  انڈیا شائننگ بھلے بھگوا پارٹی کا ایک باسی نعرہ بن کر رہ گیا ہو، جسے اچھالنے کے باوجود وہ اپنی قسمت نہیں چمکا سکے— لیکن انڈیا شائن تو کر رہا ہے۔  اور ایک بڑی طاقت، ایک بڑی حقیقت تو بن چکا ہے— اٹھارہ برس بعد خوشحالی کی ریس میں دوڑتے ہوئے نوجوان ہیں — جو جانتے ہیں مسجد مندر سے روٹی نہیں ملنے والی— کیریئر نہیں بننے والا۔  اس لیے اس بار فیصلے کو لے کر میڈیا کے ہنگامے کے باوجود عام آدمی خاموش رہا— اور سب سے بڑی بات کہ یہ فیصلہ کوئی آخری فیصلہ نہیں ہے‘
مجھے احساس ہوا، تھاپڑ، پہلی بار، مجھ سے نگاہیں بچانے کی کوشش کر رہا ہے—
’  تو یہ فیصلہ کہاں ہے تھاپڑ؟ سمجھو تہ ہے نا— آستھا کے نام پر ایک سمجھوتا کیا گیا۔  اگر یہ فیصلہ مسلمانوں کے حق میں ہوتا تو کیا سنگھ کے لوگ اسی طرح خاموشی اختیار کر لیتے؟ کیا وہ اس فیصلے کو منظور کرتے؟ کیا تب اس ملک کی شانتی بھنگ نہیں ہوتی؟‘
  ’  ہونہہ ۔ ‘ تھاپڑ نے گہری سانس کھینچی۔ 
’ یعنی تم بھی یہ تسلیم کرتے ہو کہ سنگھ خاموش نہیں رہتا۔  لیکن مسلمان خاموش رہ جائیں گے—کیونکہ مسلمان آزادی کے بعد کے ہر معاملے میں اب خاموش رہنا جان چکے ہیں۔   ‘
 ’  تمہاری آواز میں آزادی کے باسٹھ برسوں کی کڑواہٹ شامل ہے…‘
’  کیوں نہیں شامل ہونی چاہئے تھاپڑ؟ صرف اس لیے کہ ہر بار ہمیں اپنی ناکامیوں کے لیے بھی جشن کا انتظام کرنا پڑتا ہے— میں زور سے چلایا— میرا بیٹا غائب ہوا ہے۔  تمہاری اس جمہوریت میں۔ جہاں آستھاؤں کے نام پر کسی بھی فیصلے پر ہماری مہر نہیں لگتی— میں صرف اس لیے اس آستھا بنام انصاف کی حمایت نہیں کر سکتا کہ دنگے نہیں ہوئے— فیصلہ دنگے بھڑکانے والوں کے نام ہوا ہے۔  ‘
’دنگے بھڑکانے والوں کے نام—؟ تھاپڑ چونک کر بولا—
’  تم کیا سمجھتے ہو۔  وہ کل تک ا س بات کا اعلان کر رہے تھے کہ اگر فیصلہ ان کے حق میں نہیں آیا تو پرانی کہانی دہرائی جا سکتی ہے۔  یعنی اس جمہوریت کے قربان ہو جانے کے لیے صرف ہم بچتے ہیں — جسے آزادی کے بعد سے کھلونا دے کر بہلانے کی کوشش کی جاتی رہی ہے۔  لیکن کب تک بہلاؤ گے—؟ہم چین سے اور سکون سے رہتے ہیں تو تم بٹلہ ہاؤس لے کر آ جاتے ہو۔  ‘
تھاپڑ نے مسکرانے کی کوشش کی—
 ٹھیک یہی وقت تھا جب شمیمہ چائے کی ٹرے لے کر اندر آئی۔  اس کے ٹھیک پیچھے رباب تھی۔ 
 ’کیا باتیں چل رہی ہیں بھائی صاحب۔ ‘
 ’ارے کچھ نہیں۔  ‘
شمیمہ نے چائے کی ٹرے میز پر رکھ دی۔  تھاپڑ غورسے شمیمہ کے چہرے کو دیکھ رہا تھا۔  
 ’ یہ میری بیٹی ہے۔ ‘
 رباب نے اپنے پاس ہی اسے صوفے پر بیٹھنے کے لیے کہا۔  میں نے نارمل ہونے کی کوشش کی— لیکن شاید اس لمحے ایسا کرنا میرے لیے ناممکن ہو گیا تھا۔  شمیمہ سہمی ہوئی تھی۔  رباب نے مسکرانے کی کوشش کی۔ 
’چلیے۔  جو فیصلہ آیا ہے، اب اس کے بارے میں باتیں کرنے سے کیا فائدہ۔  ہم تو بس شانتی چاہتے ہیں بھائی صاحب۔  سب لوگ امن سے رہیں۔   ‘
میں نے رباب کی طرف دیکھا۔ یقیناً اس کی آنکھوں میں دہشت اب بھی موجود تھی— اور شاید رباب کو اس بات سے تقویت ملی تھی کہ اب مجھے علوی کے خلاف بیان دینے کے حادثے سے نہیں گزرنا ہو گا— کیونکہ فیصلہ ان کی حمایت میں آیا ہے۔ 
تھاپڑ نے پھر مسکرانے کی کوشش کی—’ تب سے اس بیوقوف کو یہی تو سمجھانے کی کوشش کر رہا ہوں بھابھی۔  مگر آج تو جیسے کریلے کی سبزی کھا کر  اٹھا ہے۔  آپ کریلا کیوں پکاتی ہیں بھابھی۔ ‘
’ہمارے یہاں کوئی کریلا نہیں کھاتا۔ ‘ رباب نے پھیکی ہنسی ہنستے ہوئے کہا—
چائے ختم ہو چکی تھی۔  رباب، شمیمہ کو لے کر واپس اپنے کمرے میں لوٹ گئی—
میری سوئی اب بھی وہیں اٹکی ہوئی تھی۔  میں نے تھاپڑ کی طرف دیکھا۔  جانتے ہو تھاپڑ ہماری ناراضگی کی اصل وجہ کیا ہے؟ ہم نے ان فیصلوں میں اپنے بچوں کے لیے انصاف کی شکست دیکھی ہے۔ ‘
 میری آنکھیں نم تھیں —’ اس ملک کے کسی بھی فیصلے سے اب یقین اٹھ چکا ہے—ایک فیصلہ امن کی شرطوں پر— امن کی امید صرف ہم سے کی جاتی ہے—؟ ‘ارے ہم تو پہلے ہی صدمے سے جھکے ہوئے ہیں۔  یہ درمیان کا کیساراستہ ہے جہاں سب کو خوش کرنے کے لیے صرف ہمیں ہار کا تحفہ دے دیا جاتا ہے— کورٹ کی ذمہ داری یہ نہیں تھی کہ سیتا رسوئی کہاں تھی اور بھگوان کہاں پیدا ہوئے— یہاں تو مذہبی کہانی ہی گواہ بن گئی— شاید دنیا میں ایسا پہلی بار ہوا۔  جب یقین اور آستھا نے ایک اہم تاریخی فیصلہ سنانے میں مدد کی ہو— اور ان  کٹّر وادیوں کے لیے اشارہ بس اتنا ہے کہ ہم ہار چکے ہیں — اگر کل کاشی اور متھرا کی باری آتی ہے تو ہم پہلے سے ہی اپنی ہار تسلیم کر لیتے ہیں۔  ‘
’دنیا اب بدل چکی ہے—‘ تھاپڑ اب بھی مجھ سے نظریں چرانے کی کوشش کر رہا تھا۔ ’ اس لیے یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ آنے والے وقت میں ایسا کچھ بھی نہیں ہو گا۔  آنے والے وقت میں ہم مندر مسجد معاملوں سے آگے نکل چکے ہوں گے۔‘
 ’شاید۔  لیکن تب بھی بٹلہ ہاؤس ہوتے رہیں گے— میں نے ہنسنے کی ایک ناکام کوشش کی—

فضا بوجھل ہو چکی تھی۔  اب اس فضا کو مزید بوجھل نہیں کرنا چاہتا تھا۔  مگر جانے کیوں، آج تھاپڑ مجھے بدلا بدلا سالگ رہا تھا۔ یہ وہ تھاپڑ نہیں تھا۔  سسٹم کے بھوت کو گالیاں دینے والا تھاپڑ۔  مجھ سے کہیں زیادہ غصہ کرنے والا تھاپڑ۔  اور یقیناً میرے لیے یہ نئی اور حیران کرنے والی بات تھی۔ 
مگر شاید حیران کرنے والی بات اب سامنے آنے والی تھی—
تھاپڑ نے اچانک دھماکہ کیا تھا—
’میں گم ہونے جا رہا ہوں۔   ‘
’  مطلب ؟  ‘
گم کا مطلب نہیں جانتے کیا…؟‘
’  ہاں جانتا ہوں۔  مگر گم ہونا …‘
’میں اچانک گم ہو جاؤں گا تمہارے درمیان سے۔  مگر میں چاہتا ہوں۔  اس سے پہلے ہم ایک بار ضرور ملیں۔  ‘
’ میں سمجھا نہیں۔  پہیلیاں مت بجھاؤ۔  کیا تم کاشی واپس لوٹ رہے ہو ؟۔ 
’  نہیں  ‘
’  لکھنؤ ؟  ‘
’  نہیں  ‘
’  تو پھر یہ گم ہونا؟ کیا گھر والے بھی…؟
’  ارے جہاں میں رہوں گا۔  وہیں تو گھر والے رہیں گے۔  ‘
تھاپڑ نے ہنسنے کی کوشش کی —
’  مگر کہاں گم ہو جا ؤ گے۔   ‘
’ یہ ٹاپ سیکرٹ ہے۔  لیکن کل تمہیں کہیں لے جانا چاہتا ہوں۔   ‘
’  کہاں ؟ کس جگہ؟ اور کیوں ؟‘
’کتنے سوالات ہیں تمہارے اندر۔  شاید انہی سوالات کو تمہارے اندر سے نکالنے۔  یا ان میں سے بہت سارے سوالوں کے جواب تلاش کرنے کے لیے …‘
تھاپڑ نے فلسفیانہ انداز میں کہنا شروع کیا— دراصل کبھی کبھی ہم وہ نہیں ہوتے جو نظر آتے ہیں۔  جیسے یہ کائنات بھی کبھی مجھے کسی بلیک ہول کا ایک حصہ لگتی ہے— ایک زندگی، تلاش کے نام پر ختم ہو جاتی ہے۔  کچھ لوگ آستھاؤں اور بھگوان کی تلاش کو زندگی کہتے ہیں۔  کچھ محبت کو۔  کچھ اشتراکی اور دوسرے نظریوں میں زندگی کی پناہ تلاش کرتے ہیں۔  اس لیے دراصل…
تھاپڑ کہتے کہتے رکا—’ہم وہ نہیں ہوتے جو اصل میں ہوتے ہیں۔  تمہارا ابھی کا چہرہ وہ نہیں تھا۔  جو تم اصل میں ہو۔  میں یہ نہیں کہہ رہا کہ ہم میں ایک وقت میں کئی چہرے ہوتے ہیں — ملٹی پل ڈس آرڈر۔  یہ کچھ اور ہے— ایک چہرے کو بنانے اور سنوارنے میں ہم کئی برس لگا دیتے ہیں۔  تب ایک بنیاد بنتی ہے۔  ایک یقین کی عمارت تیار ہوتی ہے۔  شاید ایک آئیڈیا لوجی بنتی ہے—‘
میں غور سے تھاپڑ کی آنکھوں میں جھانک رہا تھا—
تھاپڑ مسکرایا۔ 
’  اس لیے گم ہونے سے پہلے آخری بار تم سے ملنا چاہتا ہوں۔  اس کے بعد تم پر منحصر ہے کہ تم ملنا چا ہو گے یا نہیں — ممکن ہوا تو ملاقات کے راستہ آگے بھی کھلیں گے اور یہ ممکن ہے کہ یہ راستے ہمیشہ کے لیے بند ہو جائیں۔  ‘
’پہیلیاں …‘ مجھے غصہ آ رہا تھا۔  
’  نہیں اس میں کوئی پہیلی یا معمہ نہیں ہے میرے دوست— یہ فیصلہ میں نے بہت سوچ سمجھ کر لیا ہے کہ تم کو وہاں لے جانا چاہیے یا نہیں — میرے دل نے کہا۔  نہیں لے جانا چاہئے— شاید بدلتی ہوئی اس دنیا میں تم اپنے نظریہ کو ایک نیا موڑ دینے کے لیے تیا رہو سکو۔  جس کی امید مجھے کم لگتی ہے—مگر میں نے امید نہیں ہاری ہے—‘
’ تھاپڑ۔ آج تمہاری کوئی بھی بات میرے پلّے نہیں پڑرہی ہے۔  مجھے لگتا ہے، کہیں نہ کہیں اس فیصلے نے تمہیں بھی متاثر کیا ہے۔  ‘
’  پتہ نہیں۔  تھاپڑ نے مسکرانے کی کوشش کی۔  مگر تمہار ا شکریہ دوست۔  تم نے میرا بہت ساتھ دیا ہے۔ بلکہ قدم قد م پر۔  اور سچ یہ ہے کہ تم اپنے آپ کو تلاش کر رہے تھے اور میں تمہیں سمجھنا چاہتا تھا۔  ‘
 ’ سمجھ پائے  ؟‘
 ’تھوڑا تھوڑا— یا تم سے کہیں زیادہ تم کو سمجھ پانے کی کوشش کی۔  ‘
اس بار اس نے زور سے ٹھہاکا لگا یا تھا —
اس نے اٹھنے کی کوشش کی—
’ اب چلوں گا دوست۔  ‘
 ’ مگر خدا کے واسطے یہ تو بتا دو کہ چلنا کہاں ہے۔  ‘
’ وہ تمہیں پتہ چل جائے گا۔  ٹھیک دو بجے۔  وقت یاد رہے گانا… میں تمہارے پاس آ جاؤں گا۔  ‘
 ’تم مجھے الجھن میں ڈال رہے ہو۔  ‘
’زندگی ہی الجھن ہے۔   ‘
’ اور گم ہونا …؟
’  نجات میں داخل ہونے کی کارروائی۔  ‘
’ یہ تو مذہب کو ماننا ہوا۔  تم مذہب کو کب سے ماننے لگے؟ ‘
تھاپڑ ہنسا— تم ہی تو کہتے تھے، ہم میں سے ہر آدمی کے اندر کہیں نہ کہیں ایک سویا ہوا مذہب موجود رہتا ہے۔  ‘
 ’ تو کیا میں یہ سمجھوں کہ یہ مذہب جاگ گیا ہے۔  ‘
 ’ ہونہہ  ‘
’  یہ تبدیلی فیصلے سے پہلے آئی یا بعد میں ؟  ‘
 ’ اس تبدیلی میں اس فیصلے کا کوئی دخل نہیں — ‘ تھاپڑ زور سے مسکرا یا —
’  تو یہ مذہب تمہارے اندر پہلے سے ہی موجود تھا اور تم مجھ سے چھپا رہے تھے۔  ‘
’جرنلسٹ مت بنو۔  اردو کے ہی صحافی رہو تو بہتر ہے۔  سب کچھ آج جان لو گے تو کل کیا کرو گے ارشد پاشا۔  ‘
’  کل …؟
’ ارے دو بجے۔  بھول گئے کیا—ذہن پر زیادہ زور مت ڈالو۔  بس کل میرے ساتھ چلنا۔  اور اس سے زیادہ سوچنے کی ابھی کوئی ضرورت نہیں ہے۔  ‘
٭٭
تھاپڑ جا چکا ہے۔  لیکن مجھے پہیلیوں کی دنیا میں چھوڑ گیا ہے۔  یہ ماننے کو دل نہیں چاہتا کہ تھا پڑ کے اندر کہیں سویا ہوا ایک مذہب بھی رہ سکتا ہے۔  تھاپڑ کی اب تک کی زندگی مجھے ایک معمہ کی طرح لگنے لگی—آج کی طرح بدلا بدلا وہ مجھے کبھی نظر نہیں آیا—
لیکن الجھن یا پہیلی سے زیادہ وہ مجھے دہشت میں مبتلا کر گیا ہے— اس نے میرا شکریہ کیوں ادا کیا؟ وہ کہنا کیا چاہتا تھا؟
 کھل جا سم سم…
لیکن اس طلسم کی چابی ابھی میرے پاس نہیں تھی اور اس کے لیے مجھے آنے والے کل کا انتظار کرنا تھا—

تھاپڑ کے جاتے ہی رباب آ گئی تھی۔ 
 ’  بھائی صاحب آج کچھ بدلے ہوئے نہیں لگے؟  ‘
’  ہاں  ‘
’ سب کچھ بدل گیا ہے۔   ‘
’ زیادہ مت سوچو۔  دیکھو میں نے کچھ لکھنے کی کوشش کی ہے۔  پڑھو نا …
رباب نے ایک کاغذ میری طرف بڑھایا۔  میں نے پیار سے مسکرا تے ہوئے کاغذاس کے ہاتھوں سے لے لیا— رباب کی یہ ادا مجھے پسند ہے۔  جب وہ گھبراتی ہے یا پریشان ہوتی ہے تو اسے نظم یا کہانی کی صورت میں لکھ لیتی ہے۔  شاید ایسا کرتے ہوئے وہ اندر کے سارے غبار نکال کر خود کو ہلکا کر دیتی ہے۔  اور یہی میں نہیں کر پاتا۔ 
 میری آنکھیں نظم کا جائزہ لے رہی تھیں۔  آج اس نظم میں اس کا لہجہ مختلف تھا—
’  نہیں، سب کچھ ٹھیک ٹھاک نہیں ہے۔ 
 نہیں، سب کچھ ٹھیک ٹھاک ہے۔ 
 تیزی سے بدلنے کے عمل کو۔ 
 آپ، نیوٹن کا، سائنس کا فارمولا، نہیں کہہ سکتے
 نہیں کہہ سکتے
 گھبرائیے مت
 کہنے اور نہیں کہہ سکنے کے درمیان
 کھڑی ہے ایک مخدوش عمارت سیاست کی
 ایک جلتا ہوا شطرنج ہے۔  
آگ میں جھلستے مہرے
اور ان کے شامل ہے
 ایک جلتا ہوا فیصلہ

 سب کچھ ٹھیک ٹھاک ہے
 یا سب کچھ ٹھیک ٹھاک نہیں ہے
 سب کچھ اچھا ہے
یا سب کچھ اچھا نہیں ہے

جب آپ بچانا چاہتے ہوں 
 مہروں کو، اور پیادوں کو
 جلتی ہوئی شطرنج سے
 فی الحال سب کچھ ٹھیک ٹھاک ہے
 فی الحال سب کچھ ٹھیک ٹھاک نہیں ہے‘‘
 میری آنکھیں ان الفاظ میں ڈوب گئی ہیں۔  جیسے رباب نے خاموشی سے اس وقت کی کیفیت کو لفظوں کا لباس پہنا دیا ہو—
اس لمحہ میرے لیے وہ اپنے قد سے اور بڑی ہو گئی ہے—
٭٭



(6)

تھاپڑ کے جانے کے بعد رباب، شمیمہ کے ساتھ کیرم بورڈ نکال کر بیٹھ گئی۔  میں شمیمہ میں تیزی سے نئی اور خوشگوار تبدیلی کے آثار دیکھ رہا تھا۔  وہ خوش نظر آ رہی تھی۔  نئی زندگی اسے پسند آنے لگی تھی۔  ہاں، مجھ سے باتیں کرتے ہوئے ابھی بھی اسے گھبراہٹ سی ہوتی تھی۔  لیکن میری نفسیات بھلا وہ کیا سمجھتی۔  میں جب بھی اسے دیکھتا، اسامہ کی یادیں چاروں طرف سے شب خون مانے لگتیں۔  پھر میری ہمت نہیں ہوتی کہ میں شمیمہ کی طرف مسکرا کر دیکھوں یا اس سے باتیں کروں۔ 
’  وہ تم سے ڈرتی ہے… رباب نے بتایا تھا۔ 
’  اس سے کہو…بس کچھ دنوں میں سب ٹھیک ہو جائے گا …‘
اسی درمیان دروازے پر دستک ہوئی تھی۔  دروازہ کھولا تو سامنے اکبری مسجد کے امام صاحب کا بیٹا صفدر کھڑا تھا۔  گھبرایا ہوا۔  
’  کیا بات ہے صفدر…؟
’  غضب ہو گیا۔  علوی کے ابو کا انتقال ہو گیا۔  ہارٹ اٹیک۔ ‘ 
 ’ کب ؟ ‘
’  کچھ دیر پہلے۔  سارا محلہ جمع ہے۔  ‘
’ چلو میں آتا ہوں۔ ‘
میں کسی پتھر کے مجسمے میں تبدیل ہو چکا ہوں۔  جسم بے حرکت… آنکھیں بجھی ہوئی۔  آنکھوں میں بٹلہ ہاؤس انکاؤنٹر کی تصویر ایک بار پھر روشن ہو گئی … علوی کے ابو کا معصوم سانورانی چہرہ۔  وہ اس تاریخی فیصلے کو برداشت نہیں کر پائے—
قدموں میں لرزش تھی۔  رباب مجھے گھبرائی ہوئی نظروں سے دیکھ رہی تھی۔ 
 ’ٹھہر جائیے۔  میں بھی چلتی ہوں۔  
آنکھوں کے آگے جھلملا تے اندھیرے کا رقص ہے۔  اس لمحے مجھے اپنی دنیا کہیں کھو گئی لگتی ہے۔ 
 ٭٭
رات کے آٹھ بجے کا وقت۔  گاڑیوں کے ہارن کی تیز آوازیں۔  رکشے والے اور ٹیمپو والوں کے شور۔  تاریخی فیصلے کا شور علوی کے ابو مرنے کے شور میں کہیں گم ہو گیا تھا— نوجوان، ادھیڑ عمر، بزرگ عورتیں، محلے والے جمع ہونے لگے تھے۔  دیکھتے ہی دیکھتے کالونی کے باہر بھیڑ لگ گئی۔  اور اس بھیڑ سے ٹریفک میں خلل پیدا ہو گیا۔  لوگ بیحد غصے میں تھے۔  حکومت کو گالیاں دی جا رہی تھیں۔  بالائی منزل اور سیڑھیوں سے ٹھہر ٹھہر کر رونے کی آوازیں آ رہی تھیں۔ 
 بھیڑ بڑھتی جا رہی تھی۔  شور بڑھتا جا رہا تھا۔  لوگ اب بھی چیخ رہے تھے—
’ فیصلہ کھا گیا علوی کے ابو کو‘
 ’ ارے بالکل ٹھیک تھے۔  فیصلے کے آنے تک بالکل ٹھیک تھے۔  کہتے تھے فیصلہ حق میں آیا تو علوی کے حق میں بھی فیصلہ آ جائے گا۔  پھر ہم علوی کو گھر لے آئیں گے…‘
 ’  پھر …‘
’  ساڑھے تین بجے فیصلہ آیا۔  ۴ بجے سینے کے پاس تکلیف کی شکایت کی۔  لیٹ گئے۔  گھر والوں نے ڈاکٹر کو بلانے کے لیے کہا تو منع کر دیا۔  اور چھ بجے دل کا سخت دورہ پڑا۔  ‘
’ رہی سہی امید بھی دم توڑ گئی تو زندگی کہاں سے ملتی۔  ‘
’ اور دیکھو تو مرے بھی تو کس دن …فیصلے کے دن۔  جیسے جاتے جاتے اپنا آخری پیغام دے گئے ہوں کہ فیصلہ نامنظور۔  ‘

 بھیڑ بڑھتی جا رہی تھی۔  امام صاحب، ڈاکٹر اجمل، راشد کے ابو، انجینئر صاحب عبدالمتین، زاہد صاحب، عمر شیخ، دوا کی دکان والے ڈاکٹر، علوی کے دوست اور رشتہ دار—
 لوگ آنسو بہا رہے تھے۔  چیخ رہے تھے۔ 
 ’دیکھا۔  مسلمانوں کو جھوٹادلاسہ دیا۔  اور سنگھ کے لوگوں کو خوش کر دیا۔  ‘
’ ارے کمی ہم میں ہی ہے۔  ہم اینٹ سے اینٹ بجا دیں تو مجال ہے کہ ہماری آواز دب جائے۔  ‘
’  بس مسلمانوں کو مشورہ کہ ہم خاموش رہیں۔  ہم خاموش کیوں رہیں صاحب — ‘
’ صاحب۔  بٹلہ ہاؤس کے معاملے کو پھر سے اٹھانے کی ضرورت ہے— علوی جیل میں ہے اور انصاف کی امید کرتے کرتے علوی کے ابو دنیا سے کوچ کر گئے۔ ‘
’ ہم ہر بار دب جاتے ہیں۔  اس بار نہیں۔  اس بار ہم خاموش نہیں رہیں گے۔  
’تو جائیے۔  چیخئے۔ چلائیے—‘یہ امام صاحب تھے جو غصے میں چلتے ہوئے ان لوگوں کے پاس آ گئے تھے۔ 
 ’جائیے۔  ہنگامہ کیجئے۔  یہی تو وہ چاہتے ہیں —اور آپ کے ہنگاموں کو بابری مسجد فیصلے کی مخالفت کے طور پر لیا جائے گا۔  یعنی عدالت کا فیصلہ آپ کو منظور نہیں — اور اس کے بعد کیا ہو گا جانتے ہیں۔  جانتے ہیں آپ لوگ…؟‘
امام صاحب زور زور سے بول رہے تھے—’پہلے ایک بٹلہ ہاؤس ہوا تھا۔  وہ ہزاروں بٹلہ ہاؤس پیدا کر دیں گے۔  آپ، ہمیں۔  چھوٹے چھوٹے بچوں کو دہشت گرد بنا کر دنیا کے سامنے پیش کر دیں گے۔  طاقت ہے آپ میں اپنے دفاع کی— طاقت ہوتی تو پھر انکاؤنٹر کرنے والوں کو سرکاری تمغہ نہیں ملتا— طاقت ہوتی تو حکومت اکھڑ گئی ہوتی— بات مت بڑھائیے۔  سکون کی زندگی جینے دیجئے۔  ‘
’ سکون کہاں ہے امام صاحب…‘راشد کے ابو پوچھ رہے تھے— میرے بیٹے کو مار دیا ظالموں نے۔  مجھے گھٹ گھٹ کر مرنے کے لیے چھوڑ دیا۔  قصور بتائے گی حکومت کہ میرے بیٹے کا قصور کیا تھا—قصور تھا نوجوان ہونا— قصور تھا مسلمان ہونا— قصور تھا کہ وہ اپنا کیریئر بنانا چاہتا تھا—کچھ بننا چاہتا تھا— مار دیا سالوں نے۔  ٹیررسٹ بنا دیا— ناراض مت ہوئیے امام صاحب ان لوگوں پر۔  یہ سب دکھی ہیں۔  علوی کے ابو تو چلے گئے۔  ہم کون سا زندہ ہیں ؟ اور یہ کوئی زندگی ہے امام صاحب— ڈر ڈر کے جی رہے ہیں ہم اور آپ— ایک ہی خوف کہ پھر کوئی بٹلہ ہاؤس سامنے نہ آ جائے۔  لیکن کب تک ڈریں گے— کچھ تو کریں گے آپ؟ کوئی تو مورچہ لے گا۔  اس طرح تو حکومت اور سازشی جماعتیں مسلمانوں کا استعمال کرتی جائیں گی۔  کہیں تو کوئی آواز بلند ہو گی—؟ ‘
’ ٹھیک کہتے ہیں آپ—‘ ڈاکٹر اجمل سخت غصے میں نظر آ رہے تھے—’ہماری زندگیاں بھی جائیں اور ہم اف بھی نہ کریں۔  صرف اس لیے مرغی کے دربے میں بند ہو جائیں کہ ہمیں دہشت گرد نہ کہہ دیا جائے— صرف اس لیے کہ ہم داڑھی رکھتے ہیں اور ٹوپی پہنتے ہیں۔  موت سے بدتر لگنے لگی ہے یہ زندگی۔  ‘
 ڈاکٹر اجمل چیخ کر بولے—’ سہنے کی بھی ایک حد ہوتی ہے۔  آزادی کے بعد صرف سہتے ہی تو آئے ہیں مسلمان۔  ۱۸ سال ایک فیصلے کے انتظار کے بعد دھوکہ ملتا ہے۔  اس ملک سے کس انصاف کی امید رکھی جائے— کوئی بولنے والا ہے ہمارے لیے—؟ اردو اخبار لکھ لکھ کر، چیخ چیخ کر ہار گئے۔  حکومت کے کان میں جوں نہیں رینگی—؟ نہیں نا۔  حکومت جانتی ہے کہ لکھنے سے کچھ نہیں ہوتا۔  حکومت بھی انہی کی ہے۔  اور انہی کے تلوے چاٹتی ہے۔  اور ہم سب جھوٹی امید کی دنیا میں رہتے ہیں۔  میں تو کہتا ہوں …‘
’ آپ ٹھیک کہتے ہیں۔  اور میں آپ لوگوں کے جذبات سمجھ رہا ہوں۔ ‘
 ’ لیجئے میر صاحب بھی آ گئے۔  ‘
میر صاحب نے امام صاحب اور آس پاس کھڑے لوگوں کے تیور کو دیکھتے ہوئے کہا —
’  میری مانیے— اور اگر اسے سیاست سے نہ جوڑیے تو میں ایک بات کہنے کی اجازت چا ہوں گا۔  ‘
 ’ کہیے۔ ‘ امام صاحب کے لہجے میں تلخی برقرار تھی۔ 
 ’ میں پھر کہوں گا۔  میری تجویز کو سیاست نہ سمجھا جائے— جیسا کہ ہمارے بھائیوں کا خیال ہے، ان دنوں ہمارے ساتھ سخت نا انصافیاں ہوئی ہیں۔  آج ہی تاریخی فیصلہ آیا اور آج ہی علوی کے ابو اس فیصلے کی تاب نہ لا کر جام شہادت پی گئے— جی ہاں۔  جام شہادت— اس فیصلے کی مخالفت ضروری ہے۔  اس مسلم مخالف فیصلے نے ہمارے دل توڑ دیئے اور بٹلہ ہاؤس انکاؤنٹر کی یادیں تازہ کر دیں۔  ‘
’ آپ کیا کہنا چاہتے ہیں — ‘ امام صاحب کو یہ سیاست راس نہیں آ رہی تھی۔ 
 ’ میر صاحب کو کہنے تو دیجئے۔  ‘ 
’  ہاں میر صاحب اپنی بات پوری کیجئے۔   ‘
 ’  ہم سننا چاہتے ہیں کہ آخر آپ کے دل میں کیا ہے—؟ ‘
’  اور آپ کی تجویز کیا ہے۔  ‘
میر صاحب کے حمایتی اچھی خاصی تعداد میں جمع ہو گئے تھے—
میر صاحب نے آسمان کی طرف دیکھا —پھر گویا ہوئے—
’ علوی کے ابو کی موت رائیگاں نہیں جائے گی۔  کیوں نہ ہم ایک تیر سے دو شکار کریں۔  ‘
 ’ ایک تیر سے دو شکار، وہ کیسے—؟ ڈاکٹر اجمل نے پوچھا۔ 
 ’سیدھی سی بات ہے۔  ‘ میر صاحب مسکرائے۔  ہم ایک طرف اس فیصلے کی مخالفت کا اعلان کر دیں — دوسری طرف بٹلہ ہاؤس انکاؤنٹر کے لیے احتجاج۔  کہ یہ زخم نہ بھرے ہیں۔  نہ بھریں گے۔  ‘
’لیکن یہ کیسے ممکن ہے؟‘
 ’  کیا آپ پریس کو بلائیں گے؟‘
’  چینلس والوں کو …؟‘
’  کیسے کریں گے احتجاج—؟‘
’  میں اپنی تجویز رکھتا ہوں۔  سوچنا اور ماننا آپ کا کام ہے۔  ‘
 میر صاحب آہستہ سے بولے۔ 
 ’ تو پھر اپنی تجویز ہمارے سامنے رکھیے—، امام صاحب نے کہا۔  
’ ہاں ہم سننا چاہیں گے—ڈاکٹر اجمل بولے۔  
’ تو سنیے— ہم علوی کے ابو کے جنازے کو بطور احتجاج سڑک کے چوراہے پر رکھ دیں گے۔  نماز جنازہ وہیں ادا کی جائے گی۔  ‘
’  مطلب؟‘ امام صاحب زور سے چیخے—
’  نمبر ایک۔ وہ بھیڑ بھاڑ والا چوراہا ہے۔  ٹریفک جام ہو جائے گا۔  پریس اور چینلس کے لوگوں کو وہاں تک پہنچنے میں زیادہ دیر نہیں لگے گی۔  حکومت تک اپنا غصہ، اپنا احتجاج پہنچانے کا یہ بھی ایک راستہ ہے۔  مگر یہ تب ممکن ہے، جب آپ لوگ اس تجویز پر غور کریں۔  ‘
’  لیکن جنازہ چوک پر کب تک رکھا جائے گا—؟ ‘
 ’  جب تک حکومت نہ جاگ جائے۔  ‘
’  لاش بدبو دینے لگے گی۔  ‘
 ’ ہم برف کی سلّیوں کا انتظام کریں گے— ہمارے ساتھ اس جنازے میں ہزاروں لاکھوں لوگ ہوں گے۔  ‘
’ پھر تجہیز و تکفین ؟‘
 ’  انشاء اللہ کل ظہر کی نماز کے بعد۔  اتنی دیر میں حکومت اور سار ی دنیا تک ہمارا پیغام اور احتجاج پہنچ چکا ہو گا۔  ‘
میر صاحب خاموش ہو گئے تھے۔ 

 شور و غل میں اضافہ ہو چکا تھا— اتنی دیر میں میر صاحب کی چھوڑی ہوئی آتش بازی اپنا کام کر چکی تھی—
’  مسلمانوں کو کسی نہ کسی صورت میں اپنا احتجاج حکومت تک پہنچانا ہی چاہئے۔  کیوں بھائی۔  ‘
 ’ میر صاحب کی بات میں وزن ہے۔  دوسال ہو گئے لیکن ہم میں سے کوئی بھی بٹلہ ہاؤس انکاؤنٹر کو نہیں بھول سکا۔ ‘
 ’  قوم کے لیڈر ہمارے کام نہیں آئیں گے۔  میڈیا کو ساتھ لے کر چلنا ہو گا۔  اگر میڈیا کا ساتھ مل جاتا ہے تو یقیناً ہم اپنا غصہ بخوبی درج کرانے میں کامیاب ہوں گے۔  ‘
’  پولس؟ لاء اینڈ آرڈر؟ ‘ بھیڑ میں کسی نے سوال کیا۔ 
 ’  کچھ موقع آتے ہیں جب لاء اینڈ آرڈر کو توڑ نا پڑتا ہے۔  ایک رسک لینا پڑتا ہے۔  ‘
امام صاحب خاموش تھے۔  
’ کیا علوی کے رشتہ دار اس کے لیے تیار ہو جائیں گے۔  ؟‘
’کیوں نہیں تیار ہوں گے؟‘
’علوی جیل میں ہے —بے قصور— اور انتقال کے بعد بھی علوی کو آخری بار باپ کو دیکھنے کی اجازت نہیں ملی—‘
اس بات پر لوگوں کا غصہ دوبارہ پھوٹ پڑا—
’اجازت کیوں نہیں ملی—‘
’  کیونکہ علوی کا معاملہ دوسرے کریمنل معاملات سے مختلف ہے۔  ‘
’ ہم جیل کی دیواریں توڑ دیں گے۔  ‘
’ ہم ایسا کچھ بھی نہیں کریں گے۔  یہ ایک خاموش احتجاج ہو گا۔  ‘
میر صاحب نے دوبارہ اس بحث میں حصہ لیا۔  
’ اس بار انشاء اللہ سب ٹھیک رہا تو حکومت کو جھکنے پر مجبور کر دیں گے۔  اب اور بٹلہ ہاؤس نہیں۔  ‘
 ’  نعرہ ٔ تکبیر اللہ اکبر۔ ‘
کسی نے زور سے آواز لگائی۔ 
’  اللہ اکبر۔ ‘
 ایک ساتھ بہت ساری آوازیں بلند ہوئیں۔ 

سیڑھیوں سے تیزی سے بھاگتی ہوئی رباب نیچے آئی۔  ا س کی آنکھیں بھیڑ میں مجھے تلاش کر رہی تھیں۔  میں نے اسے پہلے ہی دیکھ لیا تھا۔ 
 رباب خوفزدہ تھی۔ ’ یہ سب کیا ہو رہا ہے—؟‘
 ’  سیاست گرما گئی ہے…‘
’  لاش کو لے کر…؟
’  نہیں کہہ سکتا۔   ‘
’  یہ کون سا وقت ہے، مرے ہوئے کی سیاست کرنے کا—؟ ‘
 میں نے اسے خاموش رہنے کا اشارہ کیا۔ 
 ’  مٹی منزل کب ہو گی؟‘
’  نہیں جانتا۔ ‘
 بھیڑ بڑھتی جا رہی تھی۔  ٹریفک کے شور بڑھ گئے تھے۔  اب مختلف گروپ بن گئے تھے۔  میر صاحب، امام صاحب اور راشد کے ابو الگ الگ اپنے اپنے لوگوں کے ساتھ گفتگو میں مصروف تھے۔  
رباب خوفزدہ تھی۔ 
’  مجھے یہاں ڈر لگ رہا ہے۔  شمیمہ اکیلی ہے۔  تم بھی گھر چلو۔  ‘
’  تم جاؤ۔  میں انتظار کروں گا۔  ابھی جانا مناسب نہیں۔  ‘
’  پھر میں بھی ابھی ہوں۔ ‘
رباب نے چاروں طرف دیکھا پھر پھسپھسا کر بولی۔  کیا ایسے موقع پر سیاست ضروری ہے—؟ ‘
’  ابھی اسکا جواب میرے پاس نہیں۔  ‘
’  انہیں کس کا انتظار ہو رہا ہے۔   ‘
’مرحوم کے بھائی اور ماموں آنے والے ہیں۔  ان سے مشورے کے بعد ہی تجویز کو عملی شکل دی جائے گی۔ ‘
٭٭

میر صاحب کے خیمے کے لوگ جوش میں تھے —
’  آپ کی بات میں وزن ہے۔  ‘
’نا انصافیاں ہی تو ہوئی ہیں مسلمانوں کے ساتھ۔  اس کے سوا مسلمانوں کے حق میں اچھا کیا ہوا—؟ ہماری اپنی ایک آواز نہیں۔  ‘
 ’  میر صاحب آگے بڑھیے۔  ہم آپ کے ساتھ ہیں۔  ‘
 ’  اللہ اکبر ۔ ‘
 ’  نعرۂ تکبیر۔  ‘
 میر صاحب نے ہاتھوں سے خاموش رہنے کا اشارہ کیا۔ 
 ’  میں آپ کے جذبات سمجھتا ہوں۔  اور میں نہیں سمجھوں گا تو کون سمجھے گا، آپ کے جذبات—اس حقیقت سے کون واقف نہیں کہ دو سال قبل آپ لوگوں پر کیا گزری۔  اور آج کے دن حکومت نے نفرت کی ایک اور کیل ہمارے سینے میں ٹھوک دی۔  یہ کون بتائے گا انہیں کہ ہمارے زخم اب رسنے لگے ہیں۔  سہے نہیں جاتے۔  برداشت سے باہر ہو گئے ہیں — ہم ساری دنیا میں ذلیل و خوار ہو رہے ہیں۔  اور یہاں اپنے ہی ملک میں آزادی کے بعد کی یہ ذلت اب برداشت کے باہر ہو چکی ہے۔  اور یہ سب اس لیے ہے کہ حکومت تک ہماری آواز پہنچانے والا کوئی نہیں۔  حکومت ہمیں گونگا اور مردہ سمجھتی ہے۔  اس لیے ہمیں اذیت پہنچانے اور مارنے کے حیلے بہانے تلاش کرتی ہے۔  ‘
’ بجا فرمایا۔  ‘
 ’  میر صاحب۔  زندہ باد۔  ‘
 ’  مسلمانوں کے قائد۔  میر صاحب۔  زندہ باد‘
 اللہ اکبر…
 نعرۂ تکبیر۔  اللہ اکبر…
’  سبحان اللہ۔  ‘
’  ہماری فکر کرنے والا تو کوئی ہو۔  ‘
بھیڑ سے پھرا یک نیا نعرہ اچھلا—
’  میر صاحب آگے بڑھیے۔  ہم آپ کے ساتھ ہیں۔  ‘
میر صاحب نے مسکراتے ہوئے لوگوں کو خاموش رہنے کا اشارہ کیا۔ 
 ’ یہ وقت ہوش کھونے کا نہیں۔  ہوش میں رہتے ہوئے سمجھداری سے اپنے مہرے چلنے کا وقت ہے۔  سیاست کی بساط بچھ چکی ہے— تو ہم کیوں خاموش رہیں ؟ کیوں مارے جائیں ؟ کیوں ان کے ظلم وستم کو اپنا مقدر مان لیں ؟ آواز کیوں نہ بلند کریں۔  احتجاج کیوں نہ کریں۔  اور یہ بہتر وقت ہے اپنی آواز ان لوگوں تک پہنچانے کے لیے…‘
 راشد کے ابو بھی اس وقت بہت سارے لوگوں سے گھرے ہوئے تھے۔  ان کی آواز بوجھل اور کمزور تھی۔ 
’ اس حقیقت سے وہی واقف ہے جس نے خود اس صدمے کو جھیلا ہے۔ ‘
 ’  ٹھیک کہتے ہیں آپ۔  ‘
 ’  میری آنکھوں کے سامنے میرا بیٹا مارا گیا۔  گولیاں چلیں۔  میری آنکھوں کے سامنے۔  میں نے اپنے پھول جیسے معصوم بچے کو آنکھوں کے سامنے مرتے ہوئے دیکھا ہے— اس پر بھی ظالموں نے بس نہیں کیا— میرے بچے کو دہشت گرد بنا دیا— میں اپنے بچے کی موت پر دو آنسو بھی نہیں بہا سکا۔  اہلیہ اور گھر والوں کو دلاسہ کیا دیتا۔  ‘
ہم میں سے زندہ کون تھا— اور اب کون زندہ ہے …‘
’  صحیح فرمایا۔  ‘
 الحمدللہ۔  ان کا خون خون، مسلمانوں کا خون پانی۔  ‘
 ’ اس لیے… راشد کے ابو کی آنکھوں میں آنسو تیر رہے تھے—’ میں نے یہ زخم کھایا ہے اور جانتا ہوں، یہ زخم کیسا ہے— علوی جیل میں ہے۔  بے قصور اور اس کے ابو فیصلے میں ہوئی نا انصافی کی تاب نہ لا کر انتقال کر چکے ہیں۔  کیا ہم سب اسی طرح ہارے جائیں گے— کیا مسلمانوں کے لیے اب اسی طرح گھٹ گھٹ کر مرنا ہی مقدر رہ گیا ہے۔  ‘
 ’  بالکل بھی نہیں۔  ‘
 ’ آپ سچ کہتے ہیں۔  ‘
’  ان کی حقیقت اب سب کے سامنے آ چکی ہے۔  ‘
’ تو پھر ہم حقیقت کو کب سمجھیں گے؟ جب پانی سر سے اونچا ہو جائے گا؟ اب کتنا اونچا ہو گا پانی۔  اس لیے۔  میر صاحب سچ کہتے ہیں۔  ہمیں میر صاحب کی بات مان لینی چاہئے۔ 
 ’   اللہ اکبر…
نعرۂ تکبیر—
امام صاحب اپنی کمزور آواز میں لوگوں کو سمجھانے کی کوشش کر رہے تھے  میر صاحب کی باتوں میں نہیں آئیے۔  وہ سیاست داں ہیں۔  ساری زندگی ناکام سیاست کرتے رہے۔  سیاست میں کچھ نہیں ملا تو اب مسلمانوں کی سیاست پر اتر آئے ہیں۔  میری بات مانیے۔  لاشوں کی سیاست مت ہونے دیجئے۔ 
 لوگ خاموش تھے۔  
’ زمانہ برا ہے۔  مسلمانوں پر بہت برا وقت آیا ہے۔  صبر سے کام لیجئے۔  ‘
’کب تک صبر کریں امام صاحب۔  صبر کی تو انتہا ہو چکی ہے۔ ‘
’  اور میر صاحب نے غلط کیا کہا؟‘
کچھ لوگ اما صاحب کی طرفداری کر رہے تھے—
 ’امام صاحب ٹھیک کہتے ہیں ‘
’  یہ وقت سیاست کا نہیں ہے‘
 ’  اس سیاست کو بابری مسجد فیصلے کی نا منظوری کے طور پر دیکھا جائے گا۔  ‘
 ’ ابھی امن ہے۔  لوگ ہمیں امن مخالف سمجھیں گے۔  ‘
 ’  دنگے بھی بھڑک سکتے ہیں۔  ‘
 ایک نوجوان غصے میں سامنے آیا— بھڑکنے دیجئے۔  لیکن کل پولس والے ہمارا فرضی انکاؤنٹر تو نہیں کریں گے۔  انکاؤنٹر سے پہلے انہیں دس بار سوچنا ہو گا۔  ‘
’امام صاحب ہمیں سمجھائیے مت۔  سمجھانا ہے تو حکومت کو سمجھائیے۔  انہیں سمجھائیے جو بھید بھاؤ کے ساتھ فیصلہ کرتے ہیں۔  ان کو سمجھائیے جو بٹلہ ہاؤس کے، امن کے دشمن بن جاتے ہیں۔  ‘
امام صاحب کی آواز کمزور تھی— میرا کام کہنا تھا۔  آگے آپ کی مرضی۔  آپ جانیں۔  اللہ سب کو اپنی امان میں رکھے۔ ‘ وہ کمزور قدموں سے آگے بڑھ گئے۔ 

 دس بجے تک علوی کے ابو کے رشتے دار آ گئے۔  کچھ لوگ علی گڑھ اور میرٹھ سے آئے تھے۔  کچھ ریلوے سے اور کچھ بس پکڑ کر۔  ابھی تک یہاں جو کچھ بھی ہو رہا تھا، اس کی اطلاع یا بھنک پولس کو نہیں ہوئی تھی— دس بجے تک ٹریفک بہت حد تک کم ہو گیا— آس پاس کے بہت سے دکاندار بھی دکان بند کر کے جنازے میں شریک ہونے کی غرض سے آ گئے تھے۔  جتنے منہ تھے اتنی ہی باتیں تھیں۔  
ساڑھے دس بج گئے تھے۔ 
 میر صاحب علوی کے ابو کے رشتہ داروں سے گفتگو کرتے ہوئے سیڑھیوں سے نیچے آ گئے۔  یہ چار لوگ تھے— بزرگ ہستیاں۔  کرتے پائجامہ میں — یہ لوگ میر صاحب کی ہاں میں ہاں ملا رہے تھے۔ 
’ بہت ممکن ہے، اس سے علوی کو باہر لانے میں مدد ملے۔  ‘
’  ہونہہ  ‘
’اور یہ فیصلہ آپ ہی لوگوں کو کرنا ہے۔  کیا آپ چاہیں گے کہ علوی زندگی بھر جیل میں سڑتا رہے— کیا آپ علوی کے ابو کی خواہش کا احترام نہیں کریں گے۔ جو علوی کو جیل سے واپس لانا چاہتے تھے۔  جو چاہتے تھے کہ علوی کے کیریئر پر لگا ہوا داغ دھل جائے۔  کس کے بھروسے ہیں آپ لوگ؟ ایسے تو وہ لوگ علوی کو جیل میں مار ڈالیں گے—اور جیل کی زندگی تو مردوں سے بد تر ہے— بس یہی ایک راستہ ہے۔  لیکن یہ راستہ آپ لوگوں کی حمایت پر منحصر ہے۔  آپ ساتھ دیتے ہیں تو علوی کے لیے ایک امید جاگتی ہے۔  نہیں دیتے تو علوی کی رہائی کا آخری راستہ بھی بند۔   ‘
’  آپ بجا فرماتے ہیں۔   ‘
’  انشاء اللہ ایسا ہی ہو گا۔ ‘
’  ایک بہتر سوچ علوی کو واپس لانے کا ذریعہ بن سکتی ہے۔  ‘
میر صاحب نے سرگوشیوں میں کہا— لیکن یہ کام ہمیں خاموشی سے اور بغیر شور مچائے انجام دینا ہو گا—اور اس لیے بہتر ہے کہ لائحہ عمل تیار کرنے کے لیے آپ لوگ میرے گھر چلیں — اس طرح بھیڑ لگانے سے یہ بات فورا پولس کی نوٹس میں آ سکتی ہے کہ ہم کیا کرنے جا رہے ہیں۔  اس لیے جو لوگ ہمارے ساتھ تعاون کرنا چاہیں وہ ہمارے غریب خانے پر چلیں۔  ‘
’  آپ کو ہم سب کا تعاون ملے گا۔   ‘
’  میر صاحب زندہ باد۔ ‘

علوی کے ابو کے خاندان والوں کی رضامندی ملتے ہی میر صاحب اور ان کے رفقاء میں جوش آ گیا۔  نوجوان بھی میر صاحب کے ساتھ تھے۔  اس لیے کہ مسلسل خوف و دہشت کی فضا میں جیتے ہوئے وہ اس پر آشوب موسم سے باہر آنا چاہتے تھے۔  
کچھ ہی دیر میں یہ قافلہ میر صاحب کے گھر کی طرف چل پڑا—
رات کے ساڑھے گیارہ بج گئے تھے۔ 
 میر صاحب کے گھر کے اس بڑے سے ہال میں اس وقت ساٹھ سے ستر لوگ آندھی طوفان کی طرح جمع ہو گئے تھے۔  اور اسی کے ساتھ مین گیٹ کو بند کر دیا گیا— میر صاحب کے دماغ نے احتجاج کے تمام پہلوؤں کو سوچ رکھا تھا۔  انہوں نے نوجوانوں کو آگے آنے کا اشارہ کیا۔  پھر کہا— ’فرحان۔  مونس، ذیشان، آپ لوگ بینر تیار کریں گے— 
 وہاں میز سے قلم اور کاپی اٹھائیے۔  اور بینر بنانے کی تیاری کیجئے— بینر میں کیا لکھا ہو گا۔  یہ میں بتاتا ہوں۔  فرحان، مونس اور ذیشان کی عمر بیس سے پچیس کے درمیان ہو گی۔  یہ لڑکے شان سے آگے بڑھے۔  میز سے قلم اور کاپی سنبھال لی۔  میر صاحب سوچتے ہوئے بولے—کچھ عنوانات اس طرح ہوں گے۔  اور یہ عنوانات اردو ہندی اور انگریزی تینوں زبان میں لکھے جائیں گے۔  بینر ایسے ہوں گے جو دور سے پڑھے جا سکیں۔  آپ عنوانات لکھیے۔ 
٭ اب اور بٹلہ ہاؤس نہیں۔  No more Batla House
٭ہم دہشت گرد نہیں ہیں۔  We are not terrorist
٭ علوی کو رہا کرو۔ 
٭ مسلم نوجوان کی زندگی سے مت کھیلو
٭مسلم بستیوں کو نشانہ بنانا بند کرو۔ 
٭ بٹلہ ہاؤس انکاؤنٹر کی فائلیں دوبارہ کھولی جائیں۔ 
٭ مظلوموں کے داغ دھوئے جائیں۔ 
 میر صاحب نے مجمع کی طرف دیکھا—پھر کہنا شروع کیا۔  اب غور سے میری بات پر توجہ دیجئے۔  یہ ایک خاموش احتجاج ہو گا۔  ہم کسی بھی حال میں کچھ نہیں بولیں گے۔  ہمارے بینر سب کچھ کہہ دیں گے۔ رات کے اندھیرے میں ہی ہم جنازے کو لے کر چوک کی طرف بڑھیں گے۔  اس وقت اگر چوکسی کرنے والے پولس نے پوچھا یا روکا تو ہم کہہ دیں گے— قبرستان جا رہے ہیں — بینر چوک پر پہنچنے کے بعد ہی کھلیں گے۔  رات کے وقت چوراہے پر بہت کم ٹریفک ہوتا ہے۔  جیسے ہی ہم چوراہے پر پہنچیں گے ہمارے لوگ آنے والے ٹریفک کو روک دیں گے۔  ہم لاش چوراہے کے درمیان میں رکھ دیں گے— لاش سے تھوڑی تھوڑی جگہ چھوڑ کر ہم بطور احتجاج زمین پر بیٹھ جائیں گے—آپ میں سے جو لوگ چادر تکیہ وغیرہ لے جانا چاہیں اس کی اجازت ہے— کیونکہ ضرورت ہو سکتی ہے۔  چوراہے تک پہنچنے سے پہلے تک اس بات کی کانوں کان خبر نہیں ہونی چاہئے کہ ہم کیا کرنے جا رہے ہیں۔  ہمارے بچے چوراہے پر پہنچتے ہی اپنی اپنی پوزیشن لے لیں گے اور بینر اونچا کر دیں گے— ٹریفک رکتے ہی، کچھ ہی دیر میں اس کی اطلاع نزدیکی تھانوں کو ہو جائے گی— لیکن ہم جنازہ لے کر وہاں پہنچتے ہی اپنی کارروائی شروع کر دیں گے۔  یہاں ہم میں سے کئی لوگ ہیں جن کے پاس مووی کیمرے ہیں یا جو نیوز چینل میں کام کرتے ہیں۔  وہ فوری طور پر یہاں سے اپنی خبریں چینلس کو بھیجنے لگیں گے۔  تب تک ہماری خبریں ٹی وی پر آنی شروع ہو جائیں گی۔  دوسری اہم بات۔  …‘
میر صاحب نے غور سے لوگوں کے چہرے جا ئزہ لیا۔  پھر کہنا شروع کیا—
’  مقصد ہے حکومت تک اپنی بات پہچانا۔  اور علوی جیسے معصوم بچوں کو انصاف دلانا۔  یہ ممکن ہے کہ صبح تک حکومت کے کان میں جوئیں نہ رینگے۔  کوئی بات نہیں۔  ہم یہ وقفہ بڑھا دیں گے۔  فجر سے ظہر۔ ظہر سے عصر۔  عصر سے مغرب— ہمارا مقصد ہو گا، حکومت اور انتظامیہ کو جھکانا—تاکہ آنے والے وقت میں حکومت اور پولس مسلمانوں کے فرضی انکاؤنٹرس سے دور رہیں — ہمارا احتجاج ہر حال میں خاموش احتجاج ہو گا۔  ہم ہنگامہ نہیں کریں گے۔  اور آپ یقین رکھیں۔  پولس ہم پر کسی طرح کا کوئی حملہ نہیں کرے گی۔  نہ لاٹھیاں برسائے گی۔  کیوں کہ چوراہے پر پہنچنے کے ساتھ ہی ہمارے دوسرے ہزاروں ساتھی بھی اس مقام پر پہنچ چکے ہوں گے۔ ہم اس چوراہے پر ایک دو نہیں لاکھوں مسلمان کو دیکھنا چاہتے ہیں۔  اور جب چینلس والے انٹرویو لینے پہنچیں گے تو ہم عام مسلمانوں کو یہاں تک پہنچنے کی دعوت دے چکے ہوں گے—کسی کو اور کچھ جاننا اور پوچھنا ہے۔  ‘
ایک صاحب آگے بڑھے—’ کیا یہ احتجاج کسی مخصوص پارٹی یا ان جی اوز کی طرف سے ہو گا—؟ ‘
 ’  نہیں۔  عام مسلمان کی طرف سے جو ملک کے کسی بھی گوشے میں رہتا ہو— مگر خوفزدہ ہو۔  یہ احتجاج ہم اپنے بچوں کے مستقبل کو محفوظ رکھنے کے لیے کریں گے۔ ‘
 ’  اور اگر حکومت ایک دن میں جھکنے پر راضی نہیں ہوتی تو ؟‘
 ’  تو ہم یہ مدت بڑھا دیں گے۔  یہ مت بھولیے کہ ہمارے ساتھ ایک جنازہ بھی ہو گا۔  حکومت یا پولس زندوں کا احترام بھلے نہ کرے، مردوں کا ضرور کرتی ہے۔  علوی کو میڈیا کی ہمدردی بہر طور ملے گی۔  اور انشاء اللہ تعالیٰ۔  ہم پہلے ایک قدم تو بڑھیں۔  بڑھیں گے تبھی تو تقدیر بھی ہمیں راستہ دے گی۔ 
 ’  الحمد للہ۔  ‘
’  کیا کہنے میر صاحب ۔ ‘
’  انشاء اللہ ہم فاتح ہوں گے۔   ‘
 ’  علوی کو انصاف ضرور ملے گا۔   ‘
 میر صاحب نے لوگوں کو خاموش رہنے کا اشارہ کیا— وقت کم ہے اور دو تین گھنٹہ ہی ہمارے پاس ہیں۔  اتنے ہی عرصے میں بینر بھی بننے ہیں۔  جنازہ بھی لے جانا ہے۔  اس لیے میٹنگ برخاست۔  آپ لوگ خاموشی سے اور سرعت سے اپنے اپنے کاموں میں لگ جائیے۔  اور خبردار۔  چوراہے تک پہنچنے سے قبل یہ خبر لیک نہیں ہونی چاہیے۔  ورنہ بنا بنایا کھیل بگڑ بھی سکتا ہے۔   ‘
میر صاحب کے خاموش ہوتے ہی جوش میں ڈوبے ہوئے لوگ آگے کی کارروائیوں کے لیے نکل کھڑے ہوئے۔  
٭٭
آسمان پر چاند ستاروں کا رقص جاری تھا۔  درختوں سے گزرتی سرسراتی ہوا میں اداسی کا نغمہ گھلا ہوا تھا—
 لوگ جا چکے تھے۔ 
 سڑک سنسان تھی۔  کبھی کبھی کتوں کے بھونکنے کی آواز ابھرتی۔  پھر کچھ دیر کے لیے خاموشی چھا جاتی۔ 
میں ارشد پاشا…میں ان تمام واقعات کا گواہ ہوں …
آنکھیں بے نور ہو گئی ہیں۔  اور دل پر پتھر جیسا بوجھ… میں یہ بھی نہیں جانتا کہ یہ سیاست کیا رنگ لائے گی۔ 
 یا، جو کچھ ہو رہا ہے یا پیش آنے والا ہے، اسے سیاست کا نام دینا چاہئے یا نہیں۔  برسوں سے یا صدیوں سے سلگتی ہوئی چنگاری کبھی کسی ایک لمحے، ایک بیمار اور سڑے ہوئے نظام کے خاتمے کی گواہ بن جاتی ہے۔ 
 کیا اس بار بھی ایسا ہو گا۔ ؟
باہر نکلتے ہوئے میں نے آسمان سے ٹوٹے اک تارے کو دیکھا تھا۔  کیا میں خوفزدہ تھا—؟
یا اسامہ کی یادیں مجھ پر حاوی ہو رہی تھیں ؟
میں سب سے آخر میں گیٹ کھول کر باہر آیا تھا—
 اور اب سنسان سڑک پر میرے جوتوں کے بجنے کی آواز، وحشت کے گھنگھروؤں کی آواز میں شامل ہو رہی تھی —
٭٭



(7)
’  ایک دن ہم ہار جاتے ہیں ؍
 اور ایک دن ؍
ہم پھر سے جینا سیکھ لیتے ہیں ‘

چنگی پر پولس کے سپاہی بیٹھے اونگھ رہے تھے۔  پلیا سنسان پڑی تھی۔  عبدل اور باری کی چائے کی دکانیں کھلی تھیں۔  دو ایک سگریٹ کی گمتیاں بھی کھلی تھیں۔  فٹ پاتھ کی دکانوں کے پاس ایک قطار سے سوئے ہوئے لوگوں کے خراٹے گونج رہے تھے۔  ان کے آس پاس کتے بھی اب بھونکتے بھونکتے سوگئے تھے —
رات کے تین بجنے والے تھے۔  جنازے کو اندھیرے میں خاموشی سے لے جانے کی تیاری مکمل تھی۔  الگ الگ گروپ میں تھوڑے تھوڑے وقفے بعد لوگوں کو چوراہے تک پہنچنے کے لیے کہا گیا تھا۔  جنازہ لے کر چلنے والوں میں لگ بھگ ۵۰ سے ۶۰ لوگ شامل تھے۔  نوجوانوں نے بینر کو کپڑوں اور سامانوں میں چھپا لیا تھا۔  عورتوں کو یہ بتانے سے منع کیا گیا تھا کہ جنازے کو کہاں لے کر جایا جا رہا ہے۔  ممکن ہے۔  اس کی ایک وجہ یہ ہو کہ عورتیں عام طور پر راز رکھنے کے فن سے واقف نہیں ہوتیں — امام صاحب ابھی بھی ناراض تھے۔  گو انہیں منانے کی بہت کوشش کی گئی۔  وہ چار قدم جنازے کے ساتھ چلنے کے بعد واپس لوٹ گئے تھے۔ 

 پلیا سے گزرتے ہوئے پٹرولنگ کرتے پولس کے سپاہی الرٹ تو ہوئے لیکن اتنے سارے لوگوں کے ساتھ جنازے کو دیکھ کر وہ پھر اپنی جگہ آ کر بیٹھ گئے — اندھیرے میں دور سے جنازے کے ساتھ سوگواروں کی بھیڑ کو دیکھ کر قطعی ایسا نہیں لگ رہا تھا کہ یہ کسی نئے انقلاب کی تیاری ہے۔ 

 میر صاحب خاموشی سے آگے آگے جا رہے تھے۔  پلیا اور تنگ سڑکوں سے گزرتے ہوئے چوراہے سے پہلے بھی ایک قبرستان کی چہار دیواری دور سے نظر آتی ہے۔  اب ۴ بجنے والے تھے۔  سڑک اب بھی سنسان تھی۔  یہ مشہور چوراہا تھا، ایک ایسا چوراہا جہاں سے دلی کے مختلف علاقوں کے لیے بسیں آرام سے مل جاتی ہیں۔  صبح ہوتے ہی ۷ بجے کے بعد سے ہی اس چوراہے پر جو ٹریفک کے ہنگامے شروع ہوتے ہیں وہ رات ۱۰-۱۱ بجے تک چلتے رہتے ہیں۔  لیکن اس وقت چوراہے پر خاموشی تھی۔  ٹھہر ٹھہر کر کوئی گاڑی یا بس مختلف سمت کی جانب بھاگتی ہوئی نظر آتی —اور اندھیرے میں دورسے یہ قافلہ ایسانظر آ رہا تھا جیسے بہت ساری روحیں ایک جگہ جمع ہو گئی ہوں۔ 
 کبھی فضا میں اللہ اکبر کی مدھم سی آواز گونجتی۔  عام طور پر کندھا بدلنے والے اللہ اکبر کی آواز کے ساتھ جنازے کو لے کر دو قدم چلتے۔  پھر ان کی جگہ کوئی دوسرا کندھا دینے والا آ جاتا…
اب چوراہا آ گیا تھا —
سناٹے میں ڈوبا ہوا چوراہا۔  سگنلس گرین تھے۔  میر صاحب نے اشارہ کیا۔  اور سرعت سے ۶۰۔ ۷۰ لوگوں کا یہ قافلہ چوراہا پر پہنچ گیا۔  لاش درمیان میں رکھ دی گئی۔  لاش سے دو گز کا فاصلہ بنا کر چوراہے کو چاروں طرف سے گھیر لیا گیا۔  نوجوانوں نے بینر کھول لیے۔  آنے جانے والی گاڑیوں کے لیے کوئی جگہ نہیں تھی۔  یہ خاموش احتجاج تھا۔ 
 دس منٹ کے وقفہ کے بعد الگ الگ گروپ میں سینکڑوں لوگوں کا جتھا وہاں پہنچ چکا تھا۔  اور اس درمیان پیٹرولنگ، گشتی پولس کے سپاہی بھی وہاں پہنچ چکے تھے۔  میر صاحب نے انہیں بینر پڑھنے کا اشارہ کیا۔ 
 جنازے کے ساتھ شامل لوگوں نے چوراہے کو چاروں طرف سے گھیر لیا تھا۔  کچھ بزرگ لوگ زمین پر بیٹھ گئے۔  میر صاحب پولس والوں سے باتیں کر رہے تھے۔ 
 ’ آپ کی مرضی۔  آپ گولیاں چلائیں۔  گولیاں برسائیں۔  لاشوں کے ڈھیر لگائیں — لیکن ہم میں سے کوئی نہیں جائے گا۔  ہم انصاف کے لیے آئے ہیں۔  اور ابھی کچھ دیر میں یہاں لاکھوں کی بھیڑ ہو گی— آپ کیسے روک پائیں گے۔ 

 پولس والوں کی پریشانیاں بڑھ چکی تھیں۔  وائر لیس سے چاروں طرف فون کیے جا رہے تھے۔  میسج بھیجے جا رہے تھے۔  اور ادھر چاروں طرف سے احتجاجی جلسے میں شامل ہونے والے مسلمانوں کی تعداد بڑھتی جا رہی تھی۔  جامعہ، بٹلہ ہاؤس، ذاکر نگر، اوکھلا، یہاں تک کہ جمنا پور، نئی دہلی، سیلم پور اور دور دراز علاقوں سے، جسے بھی خبر مل رہی تھی، وہ کسی بھی طرح اس احتجاج میں شامل ہونے کے لیے چلا آ رہا تھا۔  کپڑے لباسوں کے ساتھ، پانی کی بوتل لیے۔  کھانے پینے کے انتظام کے ساتھ۔ 
 کچھ ہی دیر بعد یہ علاقہ اچھی خاصی پولس چھاؤنی میں تبدیل ہو چکا تھا۔  چینلس کی گاڑیاں پہنچنے لگی تھی۔  چینلس والوں سے ابھی بات چیت کی اجازت صرف دو ایک ناموں کو دی گئی تھی۔  اور یہ مورچہ پوری طرح میر صاحب نے سنبھال رکھا تھا —
پانچ بجے تک ہلکی ہلکی صبح نمودار ہو چکی تھی۔  دلی الرٹ ہو گئی تھی۔  ہندستان کے بڑے بڑے چینلس ہل گئے تھے۔  زیادہ تر چینلس اس احتجاج کے خلاف تھے۔  سرکاری مشینریاں جاگ گئی تھیں۔  ہوم منسٹر سے پی ایم او تک مسلسل فون ہو رہے تھے —
اب تک خاموشی تھی۔  میر صاحب کے مطابق، ذرا صبح ہو جانے دیجئے— ہم اپنا موقف آپ کے اور حکومت کے سامنے رکھیں گے — ٹھیک چھ بجے میر صاحب چینلس والوں کے سامنے آئے۔  ایک قطار سے مائک اور کیمرے لگے تھے۔  فلیش چمک رہے تھے۔  میر صاحب نے گلا صاف کیا۔  اور پھر کہنا شروع کیا—

’’  ہم ایک لاش کے ساتھ آئے ہیں۔  جنازہ رکھا ہے۔  مگر اپنا خاموش احتجاج ہم آپ کے سامنے رکھنا چاہتے ہیں۔  آزادی کے بعد سے آپ وعدے کرتے رہے اور ہم سنتے رہے —سہتے رہے— اس لاش کو دیکھے۔  یہ اس آدمی کی لاش ہے جس کے معصوم بیٹے کو دوسال قبل آپ نے جیل کی سلاخوں میں بھیج دیا۔  بٹلہ ہاؤس میں ایک انکاؤنٹر ہوتا ہے۔  مجھے کہنے دیجئے ایک فرضی انکاؤنٹر— اور ایسا صرف میں نہیں کہہ رہا۔  یہ آپ بھی جانتے ہیں اور آپ کی میڈیا اور پولس بھی— شواہد بھی ہیں آپ کے پاس۔  اور ایسے تمام شواہد ہیں جو اس پورے معاملے کو فرضی انکاؤنٹر ثابت کرتے ہیں — علوی جیل میں ہے۔  دوبے قصور بچے مارے جاتے ہیں۔  تیرہ سے زیادہ معصوم بچوں کو آپ کی پولس گرفتار کرتی ہے اور ان پر چارج شیٹ لگاتی ہے۔  اس جنازہ کو لے کر اس چوراہے پر رکھنے اور احتجاج کرنے کے مطلب کو سمجھئے— اسے سمجھانا ضروری ہے—پہلی بات یہ ہے کہ اب تک ہمیں آپ ایک سرد لاش سمجھتے رہے— اور ہم بے قصور ہو کر بھی مرتے رہے۔  بے جان اور سرد لاش میں تبدیل ہوتے رہے— لیکن اسی کا دوسرا پہلو بھی ہے کہ اب ہم آپ کے اس منصوبے کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے ہیں جہاں برسوں سے آپ ہمیں سرد لاش میں تبدیل کرتے رہے ہیں — یہاں چاروں طرف دیکھیے۔  آپ کو سرہی سر نظر آئیں گے۔  اور یہ سب بس کچھ ہی دیر میں ہوا۔  اس میں زیادہ وقت نہیں لگا۔  اور اب آپ جتنا وقت لگائیں گے— یہاں یہ تعداد بڑھتی جائے گی۔  اور آپ اسے روک نہیں پائیں گے…‘
 یہاں یہ بتانا ضروری ہے کہ ہم لاش کی سیاست کرنے نہیں آئے—اپنا غم و غصہ ظاہر کرنے آئے ہیں اور آپ سے وعدہ لینے کہ آپ ہمارے ساتھ انصاف کریں گے— جبکہ یہ آپ بھی بہتر جانتے ہیں کہ آزادی کے بعد آج تک ہم ایک معمولی انصاف کو بھی ترس گئے۔  آپ سے کچھ بھی نہیں چھپا کہ سچ کیا ہے۔  ہم کتنے گنہگار ہیں یا بے گناہ۔  آپ کی خفیہ ایجنسیاں ہیں اور آپ سے بہتر اس حقیقت سے کون واقف ہو گا کہ اکثر دہشت پسندی کی اس واردات میں ہم نہیں ہوتے۔  پھر بھی ہمیں پھنسایا جاتا ہے۔ کسی کو بھی کرتا پائجامہ پہنا کر کھڑا کر دیا جاتا ہے۔  میڈیا کے سامنے  —کتنے بچے ہیں جو گھر سے باہر نکلتے ہوئے کرتا پائجامہ پہنتے ہیں ؟ یا اردو جانتے ہیں — او ر آپ ہمارے ساتھ مسلسل بے رحم مذاق کیے جا رہے ہیں۔  افسوس یہ کہ ہمارے بیٹے تک آج اردو نہیں جانتے۔  مگر آپ ان کے ہاتھ میں اردو میں لکھی ہوئی ایک پرچی تھما دیتے ہیں۔  اور میڈیا کے سامنے پیش کر دیتے ہیں۔  جسے اپنے اپنے ٹی وی سیٹ کے آگے دیکھتے ہوئے نہ صرف ہم شرمندہ ہوتے ہیں بلکہ اندر اندر تک لرز جاتے ہیں۔   ‘‘

 میڈیا کے فلیش چمک رہے ہیں۔  اس وقت ہندستان کے تمام چینلس کی بریکنگ نیوز یہی ہے۔  مسلمانوں کا احتجاج —
چینلس چیخ رہے ہیں — باغی مسلمانوں کا احتجاج۔  ہندستان کی مکمل تاریخ میں مسلمانوں کا ایسا احتجاج کبھی سامنے نہیں آیا—
حزب مخالف اس احتجاج کو دہشت پسندوں کی حمایت بتا رہے ہیں —
چینلس چیخ رہے ہیں — حکومت کیا کارروائی کرے گی؟ کیا ہزاروں مسلمانوں پر گولیاں چلوائے گی—
حکومت بظاہر جھکنے کوتیار  نظر نہیں آ رہی تھی۔  مگر حکومت اس وقت لاچار تھی۔  پی ایم او آفس میں ایمرجنسی میٹنگ بلائی گئی تھی۔  وزیر داخلہ کے بیان جاری کیے گئے تھے— جس میں پولس کو گولی نہ چلانے کی ہدایت کے ساتھ مسلمانوں سے امن کی اپیل کی گئی تھی—

میر صاحب مسلسل سرخیوں میں تھے۔  چینلس بار بار ان کے انٹرویو کو ہائی لائٹ کر رہا تھا…
’آپ مسلمان ہیں تو یہ جنگ آپ کی بھی ہے۔  آپ اب تک گھروں میں کیوں بیٹھے ہیں۔  باہر نکلیے۔  اور ہمارے اس پر امن احتجاج کا حصہ بنیے۔  اگر آج آپ نے کوئی آواز بلند نہیں کی تو تیار رہیے، مستقبل میں آپ کی ہر آواز دبا دی جائے گی۔ ‘
’ کیا آپ ایک مسلمان باپ ہیں ؟ ایمان سے کہیے، کبھی آپ کو ڈر محسوس نہیں ہوتا کہ آپ کی بچی کالج سے خیر خوبی سے واپس آئے گی یا نہیں۔  یا آپ کا بیٹا باہر ہے تو آپ گھر میں آرام کی نیند سو سکتے ہیں —؟‘
٭٭
یہ آدمی ٹھیک کہتا ہے…‘
’ابھی بھی سوگئے تو آنے والا وقت کبھی معاف نہیں کرے گا۔ ‘
لوگوں کا ہجوم اپنے گھروں سے باہر نکل رہا ہے—
پولس مجبور و بے بس— دور دراز علاقوں سے آنے والوں کا قافلہ— اور حکومت کو خوف کہ کہیں معاملہ ہاتھ سے نہ نکل جائے—
٭٭
میں ارشد پاشا— ٹی وی سیٹ کے آگے جھکا ہوا انقلاب کی اس نئی آہٹ کا تجزیہ کر رہا ہوں تو پاؤں شل ہے اور دماغ بے جان۔  جسم سرد—
مجھ سے کچھ فاصلے پر شمیمہ کھڑی ہے—
 رباب کی خوفزدہ آنکھوں نے میری طرف دیکھا—
’ چائے پئیں گے؟‘
’نہیں —‘
رباب کے چہرے پر وحشت کی پرچھائیاں تیر رہی ہیں۔ 
’یہ سب کیا ہے؟‘
’نہیں جانتا—‘
’کیا ان لوگوں کو یہ سب کرنا چاہئے تھا—؟‘
میری آواز کمزور ہے—’ نہیں جانتا— لیکن بتاؤ رباب راستہ کیا ہے۔  راستے بند ہیں۔  جب سارے راستے بند ہو جاتے ہیں، سانس گھٹنے لگتی ہے تو ہم کیا کرتے ہیں رباب— آخری بار حوصلہ کرتے ہیں … کبھی کبھی یہ حوصلے خطرناک بھی ہو جاتے ہیں …‘
’وہ دیکھیے…‘ رباب نے اشارہ کیا— میرٹھ، بلند شہر، مرادآباد… لوگ اپنے اپنے گھروں سے نکل کر، بسوں پر سوار دلی کی طرف کوچ کر رہے ہیں — چینلس کے نمائندے مختلف شہروں سے اپنے پیغامات بھیج رہے ہیں — بہار، یوپی، ممبئی، اڑیسہ، کولکتہ، کیرل، چینئی… تمام جگہوں پر مسلمانوں میں غم و غصہ کی لہر—
’یہ سب بہت پہلے ہو جانا چاہئے تھا۔ ‘
’پچیس کروڑ کی آبادی دوسرے درجے کا شہری بنا کر رکھ دی گئی—‘
حزب مخالف کے ہوش اڑ گئے تھے… بٹلہ ہاؤس چوک پولس چھاؤنی میں تبدیل ہو چکا تھا— بہت سارے این جی اوز مسلم حمایت میں سامنے آ گئے تھے۔  کمیونسٹ پارٹی اور کئی دوسرے پارٹیوں نے بلا شرط علوی کو رہا کرنے کی مانگ اٹھائی تھی۔  راشٹریہ کانگریس کے نیتا رگ وید سنگھ کا بیان آ گیا—
’میں پہلے ہی کہتا تھا کہ بٹلہ ہاؤس انکاؤنٹر ایک فرضی انکاؤنٹر ہے—‘
چاروں طرف سر ہی سر— حکومت کی طرف سے بیان آ گیا تھا۔  قانون کو اپنا فیصلہ کرنے دیجئے۔  حکومت ان مانگوں کو ماننے سے قاصر ہے۔ 
 
میں ڈرائنگ روم میں آیا تو رباب اسامہ کی ایک بڑی سی تصویر ہاتھ میں لیے، شیشہ پر پڑی گرد صاف کر رہی تھی۔  شمیمہ کی آنکھیں بے نور اور بے حرکت ہو رہی تھیں — مجھے دیکھ کر رباب ٹھہر گئی—
’بیٹے کی یاد آ رہی ہے؟‘
’ہاں —‘ رباب نے آہستہ سے کہا۔  اس کی آنکھوں میں نمی صاف نظر آ رہی تھی— اس نے پھر پلٹ کر میری طرف دیکھا…
’شاید ان لوگوں کے ایسا کرنے سے…‘
بولتے بولتے وہ ٹھہر گئی تھی—
’ہونہہ—‘ میں نے گہری سانس لی—’ تمہاری الجھنیں سمجھ سکتا ہوں رباب— ممکن ہے وہ جہاں بھی ہو، یہ منظر وہ بھی دیکھ رہا ہو…‘
’ہاں —‘ رباب کو تسلی ملی تھی… بہت ممکن ہے، اسے اس بات کا احساس ہو کہ اس کی لڑائی بھی لڑی جا سکتی ہے۔ ‘
’ہاں —‘
 شمیمہ غور سے ہم دونوں کا چہرہ دیکھ رہی تھی۔  اس کی پتلیوں میں لرزش تھی۔ 
’بھائی جان آ جائیں گے…؟‘
’ہاں کیوں نہیں۔  ضرور آئیں گے—‘رباب نے شمیمہ کو پیار سے لپٹا لیا۔  اور تجھے معلوم، وہ سارا سارادن تمہارے پیچھے پیچھے گھوما کرے گا۔ ‘
شمیمہ کے چہرے پر ایک نامعلوم سی مسکراہٹ تھی، جسے لفظوں کا لباس پہنانا اس وقت میرے لیے ناممکن ہو گیا تھا—

میں دوبارہ ٹی وی سیٹ کے سامنے بیٹھ گیا۔  تھاپڑ کی آواز میرے کانوں میں گونج رہی تھی۔  اس نے دو بجے کا وقت دیا تھا— مجھے ہر حال میں اس سے ملنے جانا تھا— لیکن ابھی اس وقت گھر سے تھوڑے ہی فاصلے پر جو کہانی لکھی جا رہی تھی اس نے مجھے خوف و دہشت میں مبتلا کر دیا تھا— میرا دل کہہ رہا تھا، اس احتجاج سے کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہو گا— بلکہ الٹا اس سے مسلمان سوالیہ گھیرے میں آ جائیں گے— 
میں ایک لمحے کو ٹھہر جاتا ہوں۔  ٹی وی پر مون ٹی وی کا نمائندہ پر تیوش اشارے سے لاکھوں کی بھیڑ کی طرف اشارہ کرتا ہوا چیخ رہا ہے۔ 
’آپ اس بڑھتی ہوئی بھیڑ کو دیکھیے اور نظرانداز مت کیجئے—
یہ وہی لوگ ہیں۔ یا وہی مسلمان جو روزانہ ہم سے ملتے ہیں۔  دفتروں میں کام کرتے ہیں۔  ہمارے دوست، ہمارے کلیگ ہوتے ہیں۔  لیکن وہ ہم سے کوئی گلہ کوئی شکایت نہیں کرتے۔  اپنے درد کو پی جاتے ہیں۔  کسی بھی آتنک وادی کارروائی میں ان کی قوم، ان کے مذہب کا آدمی سامنے آ جاتا ہے۔  اور وہ ہم سے منہ چھپائے پھرتے ہیں۔  لیکن ایک سچ یہ بھی ہے اور اس سچ کو اب مان لینا چاہئے کہ ہر جگہ، ہر آتنک وادی کارروائی میں کوئی مسلمان نہیں ہوتا— ہندستان کی جیلوں میں آتنک واد کے نام پر ہزاروں لاکھوں بے قصور مسلم بچے سڑرہے ہیں۔  ان کے پاس بھوشیہ، فیوچر یا مستقبل کے نام پر کوئی بھی خواب اب باقی نہیں بچا ہے— کون ہے اس کا ذمہ دار— اس بھیڑ کو پہچانیے۔  یہ اپنا حق مانگ رہے ہیں۔  یہ آپ کے اپنے ہیں۔  اور اب ان کے برداشت کرنے کی حد ختم ہو چکی ہے تو یہ اپنی مانگوں کو لے کر سڑکوں پر آ گئے ہیں —‘

ٹھیک یہی وقت تھا، جب حکومت کے نمائندے شاہی امام سے مل رہے تھے۔  اور کچھ ہی دیر بعد شاہی امام کا فرمان بھی آ گیا—
’مسلمان ہوش میں رہیں اور ملک کے آئین پر اعتبار کرنا سیکھیں کسی کے کہنے پر نہ آئیں — احتجاج کے دوسرے بھی پرامن طریقے ہیں — علوی کو حکومت سے انصاف ہم دلائیں گے—‘
لکھنؤ، بریلی، دارالعلوم سے بھی مسلمانوں کو ہوشیار کرنے والے ردّ عمل سامنے آ گئے تھے—
صبح کے آٹھ بج گئے تھے۔  سیاست الجھ گئی تھی۔  مسلم لیڈران دو حصوں میں  تقسیم ہو چکے تھے۔ 
 اور یہاں، بٹلہ ہاؤس چوک پر ایک لاش رکھی ہوئی تھی۔  آسمان میں کہیں دور اڑتے ہوئے گدھ بھی تھے— اور ان سے الگ سیاست کی گرم ہوا تھی۔ 
 سب اپنے اپنے مہرے چل رہے تھے۔ 
 میر صاحب کی آواز ٹی وی اسکرین پر گونج رہی تھی—
’علوی جیل میں ہے۔  معصوم اور بے قصور… اور ہندستان کی دورسری جیلوں میں اب بھی ہزاروں لاکھوں معصوم علویوں کو قیدی بنا کر رکھا گیا ہے۔  اور ان سب کا ایک ہی جرم ہے۔  ان نوجوانوں کا مسلمان ہونا۔  اگر آپ ایسے ہی کسی علوی کے رشتہ دار ہیں، باپ ہیں تو انصاف کی آس لگائے بیٹھے نہ رہے۔  گھرسے باہر نکلیے۔  اور ہماری اس حق کی لڑائی میں ہمارا ساتھ دیجئے۔ ‘

میں ارشد پاشا… میں بالکنی پر آ گیا ہو… صبح کے آٹھ بج چکے ہیں۔  دھوپ چاروں طرف پھیل چکی ہے— آنکھیں نیلے آسمان کی طرف اٹھتی ہیں۔  ایک چہرہ نمودار ہوتا ہے… میرے چہرے پر مسکراہٹ پیدا ہوتی ہے… پھر ایک کمزور آواز سرنکالتی ہے…
’یہ تم کہاں بھٹک رہے ہو اسامہ…؟‘
’کہیں تو نہیں —‘
’کبھی اجودھیا، ہری دوار… کبھی سنگھ کے لوگوں کے شامل…؟‘
’ہاں …‘
’لیکن کیوں …؟‘
’یہ تو مجھے بھی نہیں معلوم…‘
تمہیں یہ بھی معلوم نہیں کہ یہاں کوئی تمہارا انتظار بھی کر رہا ہے۔  مجھ سے خفا تھے۔ چلو کوئی بات نہیں۔  مگر سچ بتانا، تمہیں کبھی ماں کی یاد بھی نہیں آتی…‘
’آتی ہے…‘
’پھر آ کیوں نہیں جاتے۔  چلے آؤ— ا س گھر کی اداسی اور ویرانی تمہارا انتظار کر رہی ہے—‘
یقیناً میری آنکھیں نم تھیں … میں اس وقت چونکا، جب رباب پاس آ کر کھڑی ہو گئی۔ 
’تم نے سنا۔ ‘
’کیا…؟‘
’اب فسادات بھی شروع ہو گئے۔ اعظم گڑھ اور مالیگاؤں میں جلوس کے لے کر دو گروپ میں جھڑپ ہو گئی۔ ‘
میں نے مسکرانے کی کوشش کی—’ میں نہیں جانتا، اس بغاوت کا نتیجہ کیا ہو گا۔  مگر بغاوت اکثر تشدد کی آگ کو لے کر آگے بڑھتی ہے—‘
۹بجے تک وزیر داخلہ کا بیان آ گیا۔  علوی کو چھوڑنا ناممکن ہے۔  مسلمانوں کی مانگوں پر غور کیا جا سکتا ہے۔  لیکن اس کے لیے وقت چاہیے۔  مسلمان انصاف اور قانون پربھروسہ بنائے رکھیں — حکومت نے تمام پارٹیوں کی میٹنگ بلائی ہے جہاں اس مسئلے پر غور  و خوض کیا جائے گا۔ ‘
اپوزیشن اس بغاوت کومسئلہ ماننے کو تیار نہیں تھی—
 وہ آتنک وادیوں کے آگے جھکنے کو تیار نہیں تھی—
اپوزیشن اسے پاکستان کی نئی سازش قرار دے رہی تھی۔  لاش کے لیے برف کی سلیوں کا انتظام کیا گیا تھا۔  دھوپ کی تمازت سے برف تیزی سے پگھلتی جا رہی تھی— اوکھلا چوک کا نظام درہم برہم ہو چکا تھا۔  سیاست میں مزید گرمی آ چکی تھی—
دس بجتے بجتے تھاپڑ کا فون آ گیا—
’کہاں ہو تم…‘
’میں تو یہیں ہوں۔ ‘
 دوسری طرف سے ہنسنے کی آواز آئی۔  ’یہ کیا کرنے لگے ہو۔  یہ تمہیں نہیں کرنا چاہئے تھا۔ ‘
’مجھے کیا کرنا چاہئے تھا۔ ‘
’ وہی جو تم کر رہے ہو۔ ‘
 ’میں کیا کر رہا ہوں۔ ‘
’اب اتنے بھولے بھی مت بنو— سیاست— ایک لاش کی سیاست۔ ‘
اب مجھے غصہ آ گیا تھا— ایک لاش اگر پچیس کروڑ مسلمانوں کا حق مانگتی ہے تو گناہ کیا ہے۔ ‘
’گناہ یہ ہے کہ لاش بول نہیں سکتی۔  کیا پچیس کروڑ کی آبادی ایک لاش میں تبدیل ہو چکی ہے، تم یہ کہنا چاہتے ہو۔ ‘
’نہیں۔  پچیس کروڑ کی آبادی اب لاش میں تبدیل نہیں ہو گی۔  یہ کہنا چاہتا ہوں۔ ‘
 ’ہونہہ۔ ‘ دوسری طرف کچھ دیر کے لیے خاموشی چھا گئی۔  جیسے تھاپڑ کے چہرے پر فکر کی چادر تن گئی ہو۔ 
میرے لیے یہ تھاپڑ کا نیا چہرہ تھا۔ 
 تھاپڑ کی آواز دوبارہ ابھری—
’اس کے باوجود ڈرامہ بٹلہ ہاؤس چوراہے پر کھیلا جا رہا ہے۔  میں اس کی حمایت نہیں کروں گا— اس طرح کوئی انقلاب پیدا نہیں ہوتا۔  اور انقلاب کے نمائندے کون ہیں۔  میر صاحب— میں نے ان کے بارے میں پتہ کیا ہے۔  انہیں کوئی نہیں جانتا۔  یہ ان لوگوں میں شامل ہیں جو مسلم ٹکڑوں کی سیاست میں زندگی گزار دیتے ہیں لیکن ان کے ہاتھ کچھ نہیں آتا—‘
میری آواز زخمی تھی۔  میر صاحب غلط ہو سکتے ہیں لیکن یہ احتجاج غلط نہیں ہے۔  کوئی بھی اپنے اوپر ہونے والے ظلم کو کب تک برداشت کر سکتا ہے۔  ہزاروں بے قصور نوجوان جیلوں میں بند ہیں۔  آتنک واد کی ہر کارروائی کے بعد پولس ایک اسلامی جہاد ی تنظیم اور چند مسلمان چہروں کوسامنے لا کر بچ نکلتی ہے۔  کبھی تو انصاف ہو گا—‘
’تو انصاف چاہتے ہو تم…؟‘
’ہاں —‘
’اور انصاف کے لیے میر صاحب جیسے لوگوں کا آسرا ہے۔ ‘
’نہیں —‘
 اس بار میں زور سے ہنسا—’ لگتا ہے کہ ٹی وی نہیں دیکھتے —بٹلہ ہاؤس چوک کیوں نہیں آ جاتے۔  ہزاروں لاکھوں کے اس ہجوم کو دیکھ کر تم بھی ڈر گئے ہوتھاپڑ۔  اور یہ ہجوم صرف چند گھنٹوں میں اکٹھا ہوا ہے۔  صرف ۷۔ ۶ گھنٹوں میں ایک بڑی مسلم آبادی اگر احتجاج کے لیے جمع ہو سکتی ہے توسوچ سکتے ہو، چھ سات دنوں میں اس کا اثر کیا ہو سکتا ہے۔  یہ آزادی کے ۶۵ برسوں کی دبی ہوئی آگ ہے تھاپڑ، جنہیں اب نکلنے کا موقع ملا ہے۔ ‘
تھاپڑ کی آواز کمزور تھی— ’پھر بھی میں کہتا ہوں۔  یہ ٹھیک نہیں ہو رہا۔  مسلمانوں نے احتجاج کے لیے صحیح وقت کا انتخاب نہیں کیا— کیا اب بھی تم سمجھتے ہو کہ حکومت خود سے کوئی فیصلہ لے سکتی ہے۔  اور دوسری پارٹیاں خاموش رہ جائیں گی—‘
’ابھی میں یہ سب جاننا بھی نہیں چاہتا—‘
’خیر چھوڑو۔  دو بجے آ رہے ہونا…‘
 مجھے اچانک تھاپڑ کی آواز میں ایک خاص چمک محسوس ہوئی تھی۔  
’ہاں۔ ضرور آؤں گا—‘
 ’میں تمہارا انتظار کروں گا۔ ‘
فون کاٹ دیا گیا تھا—

میں گہرے سناٹے میں تھا۔  ایک ایسے سناٹے میں جس کا کوئی انت نہیں۔  کیا یہ سچ مچ تھاپڑ تھا۔  وہی تھاپڑ جو کاشی کی گلیوں سے اب تک میرے ساتھ تھا—میرے لیے نوکری کی تلاش کرنے والا، میرے زخموں پر مرہم رکھنے والا۔  میرے بچوں کی دلجوئی کرنے والا، اسامہ کے لیے میرے ساتھ شہر شہر مارا مارا پھرنے والا— مسلمانوں کی حمایت میں آواز بلند کرنے والا—
پھر یہ تھاپڑ کون تھا، جو فون پر مجھ سے مخاطب تھا…
میری آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا رہا تھا—

دھوپ چاروں طرف پھیل گئی تھی۔ 
 بارہ بجے تک میر صاحب کا نیا اعلان بھی سامنے آ گیا۔  جب تک حکومت علوی کو رہا کرنے کا فیصلہ نہیں لیتی، یہ لاش یہاں سے نہیں ہٹے گی— ہم تب تک یہیں ڈٹے رہیں گے۔  علوی کے ساٹھ بٹلہ ہاؤس حادثے میں جن معصوم نوجوانوں کو پولس نے گرفتار کیا ہے، حکومت انہیں بھی آزاد کرے— حکومت بٹلہ ہاؤس انکاؤنٹر کو فرضی انکاؤنٹر  گھوشت کرے— اور مقتول انسپکٹر ورما  کو دیا جانے والا سرکاری تمغہ حکومت واپس لے—‘

میں اٹھ کر اپنے کمرے میں آ گیا ہوں۔  سب کچھ تیزی سے بدلتا ہوا— ایک بدلتی ہوئی دنیا— بدلتا ہوا نظام— اور اس نظام میں سانس لیتا ہوا انقلاب۔  اور دوسری طرف — وہ سہمے ہوئے نوجوان مسلم چہرے جنہیں ٹی وی اسکرین پر دیکھتے ہوئے گھبراہٹ ہونے لگی تھی—

یہ سیاست اس وقت مجھے پاگل بنارہی تھی۔  مجھے تھاپڑ سے بھی ملنا تھا— ساڑھے بارہ بجے تھاپڑ  کا فون آ گیا—
’تم کسی طرح کناٹ پلیس ریولی سینما پہنچ جاؤ۔  میرا ایک آدمی تمہیں لینے آئے گا— پریشان مت ہونا۔  وہ آدمی تمہیں پہچانتا ہے۔ ‘
فون کاٹ دیا گیا—
میرے جسم میں ہزاروں کی تعداد میں چیونٹیاں سرسرا رہی تھیں۔  جو سوال اندر پیدا ہو رہے تھے ان کا جواب صرف اور صرف تھاپڑ کے پاس تھا—
٭٭



(8)

بندے ماترم

یقیناً تم وہ سب کچھ نہیں دیکھ پاؤ گے/
جنہیں تم دیکھنا چاہتے ہو/

ریڈ الرٹ۔ سڑ ک پر چاروں طرف پولس چھائی ہوئی تھی۔  میں باہر نکلا تو زیادہ تر علاقے کی دکانیں بند نظر آئیں۔  چاروں طرف سناٹے کی حکمرانی تھی۔  چائے کے ہوٹل اور پان کی گمتیاں بھی بند تھیں — مجھے یقین تھا، بس کی تلاش بے سود ہو گی— سڑک پر ایسا ماحول تھا جیسے عام طور پر کرفیو کے موقع پر ہوتا ہے۔  مگر یہی بات بٹلہ چوک کے بارے میں نہیں کہی جا سکتی تھی—
 یہاں ان اطلاعات کی چنداں ضرورت نہیں کہ میں ریولی سینما تک کیسے پہنچا۔  یہ تفصیلات بے رنگ ہیں اور ان کا جاننا کوئی ضروری نہیں۔  مگر ٹھہرئیے۔  کیا آپ جادو پر یقین رکھتے ہیں ؟ طلسمی کہانیوں پر— جیسے عام طور پر آپ کسی عجوبہ یا واقعہ کوسن کر کہہ دیتے ہیں۔  یہ کہانی تو فلمی ہے—
مگر اس وقت میں حیران کرنے والی ایسی ہی ایک دنیا کا مسافرتھا— اور ان چاند تاروں کی گواہی میں یہ کنفیشن میرے لیے ضروری ہے کہ مندرجہ ذیل سطور میں جو کہانی آپ پڑھنے جا رہے ہیں، وہ حرف بہ حرف سچ پر مبنی ہے۔  کبھی کبھی سچ بالکل سامنے ہوتا ہے۔  اور ہم اس سچ سے کتنے بیگانہ ہوتے ہیں —
ایک ایسی کہانی جس کے آگے طلسم ہوشربا کی کہانیوں کی چمک بھی دھندلی پڑجائے— میں ارشد پاشا، میں اس طلسمی دنیا سے واپس آ گیا ہوں۔  میرے قلم میں اس وقت لرزش ہے اور بہت ممکن ہے، میر ی چشم نم نے جو بے رحم نظارہ اپنی آنکھوں سے دیکھاہے… وہ میں اس طرح بیان بھی نہ کرپاؤں اور اس کے لیے میں معافی کا خواستگار ہوں — میری آنکھوں کی پتلیاں ابھی بھی ساکت اور بے جان … اور ہاتھوں میں قلم کا نپتا ہوا…

جیسے ہی میں ریولی پہنچا، ایک نیلے رنگ کی پرانی فیٹ کار میرے پاس آ کر رک گئی—
’بیٹھ جائیے—‘
میں پیچھے والی سیٹ پر بیٹھ گیا— میرے ساتھ والی سیٹ پر پچیس سال کی ایک خوبصورت سی لڑکی تھی— وہ سامنے کی طرف دیکھ رہی تھی۔  ڈرائیور نے بھی ایک بار بھی پلٹ کر میری طرف نہیں دیکھا تھا۔  بارہ کھمبا روڈ کراس کراتے ہی لڑکی نے بغیر میری طرف دیکھے ایک سیاہ رنگ کا چشمہ میری طرف بڑھایا — وہ شستہ اردو میں بات کر رہی تھی۔ 
’معاف کیجئے گا۔  آپ کو تکلیف ہو گی۔  مگر آپ اسے پہن لیجئے۔  اسے کچھ دور تک، جب تک ہم منزل تک پہنچ نہیں جاتے، آپ اسے پہنے رکھیے گا۔ ‘
میں خود کو نظر بند محسوس کر رہا تھا۔  چشمہ آنکھوں پر لگاتے ہی میں اپنی دنیا کا قیدی بن گیا تھا— ظاہر ہے، میرے لیے اس سیاہ چشمہ کو پہننے کے بعد یہ قیاس کرنا مشکل ہو گیا تھا کہ ہم کن راستوں سے گزر رہے ہیں۔ 
کھڑ کی کے شیشے چڑھے ہوئے تھے۔  مجھے اندازہ ہے کہ جائے مقصود پر پہنچنے میں مجھے تیس سے پینتیس منٹ لگے ہوں گے۔  گاڑی کے کسی عمارت میں داخل ہونے تک مجھے گیٹ کے بند ہونے کی آواز سنائی دی۔  کچھ ہی لمحے بعد پاس والی سیٹ پر بیٹھی لڑکی کی آواز میرے کانوں میں گونجی۔  اس بار لہجے میں ملائمیت اور اپنائیت شامل تھی۔ 
’اب چشمہ اتار دیجئے۔ ‘
 گاڑی سے اترتے ہی سامنے ایک دروازہ تھا۔  مجھے دروازے سے اندر لے جانے والا ایک نوجوان تھا، جس نے لڑکی کو کچھ اشارہ کیا— یہ ایک چھوٹا سا ہال تھا— دو صوفے لگے تھے۔  میں نے جائزہ لیا تو دیواروں پر کسی بھی طرح کی کوئی پینٹنگ نہیں تھی۔  مجھے یہ بھی نہیں معلوم تھا کہ مجھے یہاں کیوں اور کس ارادے سے لایا گیا ہے۔  میں یہ سمجھنے سے بھی قاصر تھا کہ آخر تھا پڑ جیسے دوست سے ملنے کے لیے اتنے انتظامات کیوں کیے گئے ہیں —؟ وہ بھی خفیہ انتظامات… جیسے میں یہ جگہ حفظ نہ کر لوں … جو بعد میں تھاپڑ جیسوں کے لیے مصیبت ثابت ہو—
یہ کون سا علاقہ ہے— کون سی جگہ ہے، میں یہ بھی سمجھنے سے قاصر تھا۔  اور حقیقت یہ ہے کہ میں تھاپڑ سے ملنے کے سوا کچھ بھی نہیں جاننا چاہتا تھا۔ یہ بھی نہیں کہ معمولی سا دکھنے والے تھاپڑ نے خود کے لیے اتنے سارے پردے کیوں بنا رکھے ہیں — مگر ان سب سے بڑی حقیقت اس وقت یہ تھی کہ میرے دل نے تیز تیز دھڑکنا شروع کر دیا تھا۔ 
 مجھے ایک چھوٹی سی سرنگ سے گزار کر ایک بڑے ہال نما کمرے میں لے جایا گیا۔  اور اچانک میں ٹھہر گیا۔  کمرے سے بندے ماترم کے بول ابھر رہے تھے۔ 
 سنگھ کے مخصوص لباس میں ۱۸ سے ۲۰ لڑکے تھے جو قطار میں کھڑے سر میں بندے ماترم گا رہے تھے۔  ان کے پشت کی دیوار سفید اور خالی تھی۔  جو لڑکے بندے ماترم گا رہے تھے، وہ تربیت یافتہ لگ رہے تھے۔  اور ان میں سب سے الگ وہ آدمی بھی تھا جس کا نام اجے سنگھ تھاپڑ تھا۔ 
ایک بجلی چمکی اور مجھے حیران کر گئی—
گیت ختم ہو چکا تھا۔  تھاپڑ میرے سامنے تھا۔  اس کی شکل بدلی ہوئی تھی۔  لباس بدلا ہوا تھا۔  اس وقت وہ سفید کرتا پائجامہ میں تھا۔  سر پر سفید سی ٹوپی تھی، جیسی ٹوپیاں عام طور پر سنگھ کے لوگ پہنتے ہیں — مجھے دیکھ کر بھی اس کے چہرے پر کوئی مسکراہٹ نہیں تھی۔ 
’آؤ میرے ساتھ۔ ‘
اس کا لہجہ برف کی طرح سرد تھا—

اب ہم اس کمرے میں تھے جو ایک طرح سے اس کی لیبارٹری تھی۔  کمرے میں ایک قطار سے چار کمپیوٹر تھے جن کو آپریٹ کرنے والے چار لڑکے تھے۔  کمرے میں خوشبودار اگربتی کی مہک پھیلی ہوئی تھی۔  کچھ کتابچے اور پوسٹر تھے جو آسانی سے اپنی کہانی بیان کر گئے تھے کہ اس وقت میں کہاں ہوں …
ایک معمولی سی میز اور کرسی تھی۔  سامنے والی کرسی پر تھاپڑ بیٹھ گیا۔  اور مجھے بیٹھنے کا اشارہ کیا—
 اس کی آنکھیں مجھے بغور دیکھ رہی تھیں …
’شاید تمہارے لیے اب یہ سمجھنا مشکل نہیں ہو گا کہ میں کون ہوں ؟‘
’ہاں۔ ‘ میری آواز بھی سرد تھی۔ 
’کچھ اشارے ان پوسٹرس اور ان کتابچوں سے مل گئے ہوں گے۔  میں نمائش میں یقین نہیں رکھتا۔  اس لیے میرے آفس سنبھالنے کے بعد دیواروں سے ساری تصویریں اُتار لی گئیں۔  کوئی ایسا پمفلٹ بھی مشکل سے ملے گا جس سے نشاندہی ہو سکے کہ ہم کیا کرنے جا رہے ہیں —یہاں ۳۰ بچے ہیں جو میری نگرانی میں کام کرتے ہیں —‘ اس نے ٹھنڈی سانس بھری— ’میں کالج کے دنوں سے ہی اس تحریک سے وابستہ تھا۔  مگر میری وابستگی کی شکل مختلف تھی۔  میں نے سنگھ کو جوائن کرنے کے بعد ہی اپنا فیصلہ سنا دیا تھا— مجھے مسلمانوں کو سمجھنے دیجئے۔  اس میں زندگی بھی گزرسکتی ہے۔  لیکن مسلمانوں کو سمجھنا ضروری ہے۔  اور مشکل یہ ہے کہ ابھی تک ہم بغیر مسلمانوں کو سمجھے اپنا کام کیے جا رہے تھے… سنگھ کی طرف سے ہری جھنڈی ملتے ہی میں اپنے کام میں لگ گیا— اور یقینی طور پر سنگھ مسلسل میرے کاموں پر نظر رکھ رہا تھا۔  پھر مجھے تم مل گئے… مجھے ایک مسلمان کو مکمل طور پر جاننے اور سمجھنے کے لیے ایک مسلمان گھر کی ضرورت تھی— اور تم میری یہ مشکل آسان کیے جا رہے تھے…‘ 
تھاپڑ سنبھل سنبھل کے بول رہا تھا۔  میرے جسم میں جیسے برف جم چکی تھی۔  سرد برف… میں اس کی طرف دیکھ رہا تھا۔  تھاپڑ کی بے جان آنکھوں میں میرے لیے نہ کوئی جذبات تھے، نہ احساس بلکہ آنکھوں کی پتلیاں ساکت اور بے جان معلوم ہوئیں —
’میں اپنی کیفیت، اپنے تجربے تحریری طور پر سنگھ کو دے رہا تھا۔  اور میرا مقصد واضح تھا۔  آپ ایک جنگ اس وقت تک نہیں لڑسکتے جب تک آپ ایک مسلمان فکر کو اندر اندر تک سمجھ سکنے سے محروم رہتے ہیں — میں نے کہہ رکھا تھا، ہو سکتا ہے میری زندگی اس تجربے میں ختم ہو جائے مگر میرے بعد یہ تحریریں سنگھ کے کام آئیں گی— کیونکہ آزادی کے بعد کے مسلمانوں کو سمجھنا آسان کام نہیں۔  یہ کئی حصوں میں بٹے ہوئے لوگ ہیں۔  ایک بڑی آبادی تعلیم سے بے بہرہ ہے— مڈل کلاس مذہب اور سیکولرزم کے درمیان پناہ تلاش کر رہا ہے۔  ایلٹ کلاس کے طبقے کی فکر الگ ہے۔  ایک نظام ایسا بھی ہے جہاں اسلام کی ترویج و ارتقاء کے لیے باہر سے پٹرو ڈالر آ رہے ہیں۔  ہم چھوٹی چھوٹی باتوں پر نظر رکھتے تھے— ان باتوں سے زیادہ یہ سمجھنا کہ تم لوگ عام زندگی کیسے گزارتے ہو۔  تمہاری زمین کیا ہے؟ تمہاری زمین کے مسائل کیا ہیں ؟ تم کن سطحوں پر سوچتے اور جھکتے ہو۔  تمہیں کیسے کمزور کیا جا سکتا ہے۔  ہاں۔  تمہیں کیسے داس بنایا جا سکتا ہے— اور میں کہہ سکتا ہوں، یقینی طور پر اس تجربے میں تم میرا پورا ساتھ دے رہے تھے—
 تھاپڑ ایک لمحے کو ٹھہرا—
اب وہ بغور میری طرف دیکھ رہا تھا، جسے اس وقت کے میرے جذبات یا احساس کو سمجھنا چاہتا ہو—
 میری مٹھیاں بار بار بند اور کھل رہی تھیں۔  آنکھوں میں اندھیرا اتر آیا تھا—
’ایک بڑی جنگ— ایک عقیدے کو باریکی سے سمجھنے کے لیے ایک زندگی بھی کم ہوتی ہے— میں تمہاری مضبوطی اور تمہاری کمزور یوں کو سمجھنا چاہتا تھا۔  اور میں بہت حد تک سمجھ بھی گیا تھا۔  میرے لیے چھوٹی چھوٹی باتوں کو جاننا ضروری تھا۔  تمہارا بادشاہ بابر جب پہلی بار ہندستان آیا تھا تو جانتے ہو اس نے اپنے فوجیوں سے کیا کہا تھا— یہ ہندوؤں کا ملک ہے۔  ہندو سیدھے اور شریف ہوتے ہیں۔  انہیں سمجھنا ہے تو قوت بازو سے نہیں۔  ان سے گھل مل کر انہیں سمجھنا شروع کرو— ہم تمہیں یعنی ایک عام مسلمان کو اتنا ہی جانتے تھے، جتنا باہر کی دنیا میں دیکھتے تھے، پھر تمہاری کمزوریوں سے، تمہاری عام روٹین سے واقف کیسے ہوتے۔  اور ان کے بغیر تم پر حکومت کیسے کرتے۔ ‘

تھاپڑ کی آواز سرد تھی۔ ’ ہم شانتی سے رہنے والے لوگ تھے۔  یہ ہماری زمین تھی— آریہ ورت۔  اور یہاں تم نے اپنے ناپاک پاؤں پھیلا دیئے۔ ۷۰۰ برسوں کی غلامی ہمارے نام لکھ دی۔  ہم سب کچھ برداشت کرتے رہے۔  یہ سوچ کر۔  کہ ایک دن… ایک دن ہم تمہارے وجود سے اس زمین کو پاک کر دیں گے۔  سمجھ رہے ہو نا تم… اس کام میں وقت لگے گا۔  لیکن… یہ کریں گے ہم۔  ہم بھارت کو ایک جمہوری مملکت کے بجائے ایک ہندو راشٹریہ بنانا چاہتے ہیں۔  ایک ایسی ہندو مملکت جہاں صرف ہماری حکومت ہو۔  اور اس لیے آزادی ملنے کے بعد سے ہی ہم نے سابق فوجی افسروں کو ملانا شروع کیا۔  چھوٹی موٹی کامیابیوں سے ہمارے حوصلے بلند ہوئے۔  ناکامیوں سے ہم گھبراتے نہیں — کیوں کہ ہر ناکامی آگے آنے والی کامیابی کی دلیل ہوتی ہے— لیکن…‘
تھاپڑ کے چہرے کا رنگ بدلا تھا— تمہارے بیٹے نے سب گڑ بڑ کر دیا۔  وہ اسی راستے پر چلا، جس راستہ پر ہم چلے تھے۔  ہم اسے مار سکتے تھے۔  لیکن ہم دیکھنا چاہتے تھے کہ وہ کیا کرتا ہے۔  اس نے وہ کیا، جو سوسال میں ہم نہیں کر پائے۔  اس نے ہندو تیرتھ استھانوں کو چنا— مندروں اور آشرم کوچنا— اور اپنی شناخت کے ساتھ ہمارے دھرم گروؤں کا دل جیتتا چلا گیا— سنگھ میں گھبراہٹ تھی۔  لوگ جاننا چاہتے تھے کہ وہ کون ہے اور کیا کرنا چاہتا ہے۔ ‘

تھاپڑ ایک لمحے کو ٹھہرا۔  وہ کرسی سے اٹھ کھڑا ہوا۔  پشت پر ہاتھ باندھے وہ ٹہلنے لگا— مجھے ساری زمین گھومتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی— ذہن و دماغ پر مسلسل دھماکے ہو رہے تھے۔  میں کچھ بھی نہیں دیکھ رہا تھا۔  آنکھوں کے آگے گہرے سناٹے کا جال بن دیا گیا تھا—
تھاپڑ کرسی پر آ کر بیٹھ گیا۔ اس نے میری طرف دیکھا۔ 
’اسامہ ہم سے دور دو قدم آگے تھا۔  جانے انجانے وہ اپنی قوم کے لیے ہمارے مشن جیسا کام کر رہا تھا۔  وہ بھی ہم سے دو قدم آگے بڑھ کر۔  ہر جگہ اپنی پہچان کو محفوظ رکھتے ہوئے— تم سمجھ رہے ہونا، اور ہم… اب تک نا کامیاب اس لیے رہے کہ ہم مہرے تو چلتے رہے لیکن اپنی پہچان چھپا کر…‘
 میرے اندر خوف کی بارش ہو رہی تھی۔ 
’تم لوگ اسے مار تو نہیں ڈالو گے۔ ‘
 ’بالکل بھی نہیں۔ ‘
 تھاپڑ کا لہجہ سرد تھا—’ انسان کو مارا جا سکتا ہے—و چار دھارا کو نہیں۔  وہ ایک وچار دھارا ہے کہ ہوا کا رخ یوں بھی بدلا جا سکتا ہے— ہمارے لیے وہ جب تک زندہ ہے۔  ایک ادھین کیندر ہے۔  سمجھ رہے ہو نا— سیکھنے کی جگہ ہے وہ —اسے مار دیں گے تو بہت کچھ سمجھنے سے ونچت رہ جائیں گے۔  اسے سمجھنا ہے کہ وہ کیا چاہتا ہے۔  چھپ کر اس کی کارروائیوں کو دیکھنا ہے۔  اور مورکھ، تم سمجھ رہے تھے کہ میں تمہاری مدد کر رہا ہوں — جبکہ میں اپنے سوا رتھ میں اسے تلاش کر رہا تھا۔  یہ جانتے ہوئے بھی کہ وہ نہیں ملے گا—‘
تھاپڑ مسکرایا۔ ’ آؤ تمہیں اپنے مشن کے کچھ ساتھیوں سے ملواؤں …‘
میں اٹھ کھڑا ہوا۔  اس وقت میری موجودگی کسی روبوٹ یا غلام جیسی تھی جسے اپنے آقا کے حکم کی تعمیل کرنی تھی۔ 
 ایک چھوٹے سے ہال میں لیپ ٹاپ اور کمپیوٹر اسکرین پر کام کرتے ہوئے آپریٹر ہمارے قدموں کی آہٹ کے باوجود اپنے کاموں میں مصروف تھے۔  اسکرین پر عربی الفاظ جگمگا رہے تھے… میں حیرت سے لیپ ٹاپ اور کمپیوٹر اسکرین کو دیکھ رہا تھا…
’یہ سب۔ ‘
 ’تمہاری تحریکیں ڈیزائن کی جا رہی ہیں۔  اسلامی ویب سائٹس تیار کیے جا رہے ہیں۔ ‘
’مطلب؟‘
’ایک بڑی جنگ کے لیے تمہارا Shadow بننے کی تیاری—‘
 ان لوگوں سے ملو۔  یہ رابن ہے۔  یہ اروند پارلیکر، یہ ارجن رامدیو… یہ گنیش شریواستو… یہ سارے لوگ عربی جانتے ہیں۔  یہ سب اپنے اپنے کام میں ماہر ہیں — دراصل تم سے ملنے کے بعد…‘
تھاپڑ مجھے لے کر ایک دوسرے کمرے میں آیا… اور اچانک میرے جسم میں میزائلیں چھوٹنے لگیں۔  میں ہکا بکا ساوہ منظر دیکھ رہا تھا۔  سامنے کمرے میں ایک شخص نماز پڑھ رہا تھا۔  اس کے پیچھے جماعت کھڑی تھی۔  میں نے گھڑی دیکھی۔  ساڑھے تین بجے تھے۔  یہ کوئی نماز کا وقت نہیں تھا۔ 

 امامت کرنے والے شخص کی قرأت میری روح کو معطر کر رہی تھی۔  ایسی شاندار قرأت میں نے کیو ٹی وی اور پیس ٹی وی پر توسنی تھی مگر یہاں، اس ماحول میں اس تعلق سے سوچنا میرے لیے کسی خواب کی مانند تھا…
میں حیران نظروں سے تھاپڑ کو دیکھ رہا تھا…’ یہ … یہ لوگ…‘
’آؤ۔  میرے ساتھ۔  نماز پڑھنے کے بعد یہ لوگ سیدھے میرے کمرے میں آئیں گے۔  تمہیں یاد ہے۔  میں نے بات ادھوری چھوڑ دی تھی۔  یعنی تم سے ملنے کے بعد…‘
 تھاپڑ مجھے لے کر دوبارا اپنے کمرے میں لوٹ آیا تھا— ہم آمنے سامنے کی کرسیوں پر بیٹھ گئے تھے—
’تم سے ملنے کے بعد سنگھ کو میرا یہی مشورہ تھا۔  کیا جانتے ہیں آپ مسلمانوں کو—پہلے انہیں جانیے—ان میں گھلیے ملیے۔  ان کا بن جائیے۔  اردو سیکھیے۔ عربی سیکھیے۔ تلفظ اور قرآن شریف کو سمجھنا سیکھیے۔  مجھے ایک ایسی فوج چاہیے جو اردو جانتی ہو۔  عربی جانتی ہو۔  صحیح تلفظ کے ساتھ قرآن شریف پڑھ سکتی ہو۔  ان کے معنی سمجھتی ہو— ہمیں ایسے لوگوں کی ضرورت کم تھی جو ہندی یا سنسکرت جانتے ہیں۔  کیونکہ وہ لوگ تو ہمارے ہیں ہی۔  جادو تو اصل میں تم لوگوں پر کرنا ہے۔  اور تم پر حکومت کرنے کے لیے سب سے پہلے تمہیں قریب سے سمجھنا ہے—‘
دروازے پر آہٹ ہوئی تھی۔  میں نے نگاہیں اٹھائیں تو اٹھارہ سے بیس لوگ تھے، جو کمرے میں داخل ہو رہے تھے۔  ان کے سرپر ٹوپیاں تھیں۔  پیشانی پرسیاہ نشان تھا، جس کے بارے میں عام روایت ہے کہ قیامت کے روز یہاں سے نور پھوٹے گا—ان میں کچھ کے چہرے پر داڑھیاں بھی تھیں۔  یہ ایک قطار سے کمرے میں آ کر کھڑے ہو گئے۔  ‘
’گھبراؤ مت۔  آؤ۔  ان میں سے کچھ کا تعارف کراؤں۔ ‘
’ یہ ورون ہے۔  ورون امامت کر رہا تھا۔ ‘
 ’السلام علیکم‘
 ورون نے وہیں کھڑے کھڑے مصافحہ کے لیے ہاتھ بڑھایا—
’یہ باگیشور۔  یہ گھنشیام… یہ سمت… یہ اروند…‘

 میں پاگلوں کی طرح ان لوگوں کو دیکھ رہا ہوں … پیشانی کے سیاہ نشان کو… ان کے چہروں کو… دنیا گھوم رہی تھی…مجھے چکر آ رہے تھے۔ 
 ’جاؤ تم لوگ۔ ‘
تھاپڑ نے اشارہ کیا۔  میرے ہاتھوں کو تھاما۔  مجھے لے کر کرسی پر بیٹھایا—
 ’ڈرو مت۔  نماز صرف تم ہی نہیں پڑھتے۔  انہیں باضابطہ صحیح نماز پڑھنے کی ٹریننگ دی گئی ہے۔  اور ان کی…پیشانیوں پر جوسیاہ داغ ہے وہ بھی نقلی نہیں۔  یہاں کچھ بھی نقلی نہیں ہے دوست۔  ہم انہیں اور یجنل اسامہ… یعنی مسلمان بن کر تمہارے درمیان اتار رہے ہیں۔ ‘
کمرے میں سناٹا پھیل گیا ہے۔  جیسے ہزاروں کی تعداد میں سانپ مجھے ڈس رہے ہوں … میں بے جان آواز میں پوچھتا ہوں …
’اجے سنگھ تھاپڑ۔  لیکن تم یہ سب کیوں کر رہے ہو…؟‘
دو خوفناک آنکھیں نفرت سے میری طرف دیکھ رہی ہیں —
’تو سنو ارشد پاشا— اس کا جواب بھی سن لو— ہم تم میں گھل مل رہے ہیں … جیسے دودھ میں پانی گھل مل جاتا ہے— کیا دودھ میں پانی دیکھ سکتے ہو تم…؟ ہم تم میں ایسے ہی گھل مل جائیں گے کہ تم اپنوں کی شناخت بھی نہ کر سکو۔  ہر جگہ ہر موڑ پر— ہم تمہارا سایہ بن کر ساتھ ساتھ چلیں گے— تم ہمیں پہچان بھی نہیں سکو گے اور ہم تمہارا آسانی سے شکار کر سکیں گے…‘
تھاپڑ کی آنکھوں میں اپنائیت لوٹ آئی تھی۔ 
’ڈرو مت۔  جیسے تمہیں یہاں با عزت لایا گیا ہے۔  ویسے ہی ہم تمہیں یہاں سے با عزت باہر بھی نکالیں گے۔  اور ہمیں تم سے کوئی ڈر کوئی خطرہ نہیں ہے— دو باتیں ممکن ہیں۔  یا تو تم باہر کے لوگوں کو یہ باتیں بتاؤ گے۔  یا نہیں بتاؤ گے۔  نہیں بتاؤ گے، اس کی امید زیادہ ہے۔  کیونکہ کاشی سے دلی تک تم میں ایک نپنسک صحافی کو دیکھا ہے میں نے۔  اس صحافی کے پاس قلم بھی نہیں ہے۔  اور اگر تم بتاؤ گے تب بھی، ہمیں کوئی خطرہ نہیں ہے۔  کسے بتاؤ گے؟ کس کس کو بتاؤ گے۔  ممکن ہے تم جسے بتا رہے ہو، وہ تمہارے حلیے میں ہمارا ہی آدمی ہو… وہ تمہارے لباس میں ہمارا ہو۔  تمہارے نام میں ہمارا ہو۔  تمہارے مذہب میں ہمارا ہوا…‘
اس بار تھاپڑ نے تیز ٹھہا کا لگایا تھا۔  اور اس لمحے اس میں پرانا والا تھاپڑ زندہ ہو گیا تھا—
٭٭



(9)

قارئین، 
میں ارشد پاشا… اگر میرے بس میں ہوتا تو میں ان حقائق کو قلمبند کرنے کے بعد بحر اوقیانوس کی تہہ میں ڈال دیتا۔  یا نذر آتش کر دیتا— لیکن تھاپڑ کے اس نپنسک صحافی کے لیے ایک سادہ لوح امید کی پرورش کرنا نسبتاً زیادہ آسان تھا۔ 
قارئین، کہانی یہاں اپنے انجام کو نہیں پہنچتی، بلکہ سچ پوچھیے تو کہانی یہاں سے شروع ہوتی ہے۔ 
 آب روان کبیر تیرے کنارے کوئی
 دیکھ رہا ہے کسی او زمانے کا خواب…

تھاپڑ کے قید خانے سے باہر نکلا تو شام کی پرچھائیاں مسلط ہو چکی تھیں۔ 
 میں بھاگ رہا تھا…
جیسے ہزاروں کی تعداد میں آسیب میرے پیچھے پڑے ہوں …
 میں بھاگ رہا تھا…
 اور شاید اس لمحے کے احساس کو میں کوئی نام نہ دے پاؤں۔ میری روح زخمی تھی۔  جسم میں خون کا نام و نشان نہیں۔  آنکھیں خیرہ۔  ہونٹ گویائی سے محروم… لیکن ان سب کے باوجود میں بھاگ رہا تھا… میرے لیے یقین کرنا مشکل تھا کہ میں زندہ ہوں۔  میرے لفظ گم تھے۔  یا گم کر دیے گئے تھے—

میں کب اس بھیڑ میں شامل ہوا مجھے خود بھی نہیں پتہ چلا۔  اور میں کس ارادے کے تحت اس بھیڑ کا حصہ بنا، مجھے یہ بھی نہیں معلوم… میرے قدم بٹلہ ہاؤس چوک کی جانب کیوں بڑھے، میں یہ بھی بتانے کے لائق نہیں —
وہاں دور تک سرہی سر تھے۔  یہ پورا علاقہ پولس چھاؤنی میں تبدیل کیا جا چکا تھا— اور پولس وہاں پہنچنے والی ہزاروں کی بھیڑ کو روک پانے میں ناکام ثابت ہو رہی تھی— مجھے یہ اطلاع مل چکی تھی کہ مغرب تک لاش کی تجہیز و تکفین روک دی گئی— میر صاحب اور ان کے رفقاء کو حکومت کے فیصلے کا انتظار تھا۔  لاش کے لیے برف کی بڑی بڑی سلیاں منگوائی گئی تھیں — مختلف چینلس والوں کے کیمرے لگے تھے— فلیش چمک رہے تھے۔ 
 بھیڑ بڑھتی جا رہی تھی—
یہ اطلاع بھی مجھے مل گئی تھی کہ حکومت کی مختلف پارٹیوں کے ساتھ میٹنگس سے بھی کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا— حکومت کوئی بھی سخت قدم اٹھا سکتی تھی۔  مگرسخت قدم اٹھا کرمسلم ووٹ بینک کو کھونے کی حماقت نہیں کرنا چاہتی تھی—
میر صاحب تقریر کر رہے تھے— تقریر کے درمیان ہزاروں کی بھیڑ زور سے نعرے لگاتی…
 نعرۂ تکبیر… اللہ اکبر…
 نعرۂ تکبیر…

بھیڑ میں جگہ بناتا ہوا اچانک میں ٹھہر جاتا ہوں … میرے لیے یقین کرنا مشکل تھا کہ رباب یہاں بھی آ سکتی ہے… بھیڑ میں جگہ بناتا ہوا رباب کی طرف بڑھتا ہوں۔  اس کے ہاتھوں میں اسامہ کی تصویر ہے۔  آگے بڑھ کر میں آہستہ سے اس کا ہاتھ تھامتا ہوں …
’تم… ؟‘
 ’یہاں بہت سے لوگ ہیں، جن کے بچے بچھڑ گئے ہیں … وہ دیکھو… ماں باپ اپنے اپنے بچوں کی تصویریں لے کر آئے ہیں۔  انہیں تلاش کرنے…‘
’چلو یہاں سے…‘
 ’لیکن کیوں …؟‘
 رباب میری آنکھوں میں جھانک رہی ہے۔  میں اس سے کیا کہوں … کیا جواب دوں … کس پر بھروسہ کروں … اور کس پر بھروسہ نہ کروں … میں اس لمحے بھی تھاپڑ کی آواز کی زد میں ہوں … ہم تم میں گھل مل رہے ہیں … جیسے دودھ میں پانی گھل مل جاتا ہے… کیا دودھ سے پانی کو الگ کر سکتے ہو تم؟ ہم تم میں ایسے ہی گھل مل جائیں گے کہ تم اپنوں کی شناخت بھی نہ کر سکو گے… ہم تمہارا سایہ بن کر تمہارے ساتھ ساتھ چلیں گے… تم ہمیں پہچان بھی نہ پاؤ گے… اور ہم تمہارا آسانی سے شکار کر سکیں گے…
 ’کیا سوچنے لگے؟‘ رباب پوچھ رہی ہے—
 شاید اس وقت میرے پاس رباب کی کسی بات کا کوئی جواب نہیں —
رباب کا ہاتھ تھامے میں ہزاروں کے اس مجمع سے دور نکل آیا ہوں —
٭٭
رات ہو گئی ہے۔  میں خاموشی سے بالکنی پر نکل آیا ہوں —
 مجھے نہیں معلوم کہ حکومت نے کون ساراستہ اختیار کیا… بٹلہ ہاؤس چوک پر کیا ہوا— بغاوت کتنی آگے بڑھی— یا بغاوت کچل دی گئی— میں یہ بھی نہیں سوچنا چاہتا کہ ان بغاوتوں سے امید و یقین کے راستے پیدا بھی ہوتے ہیں یا نہیں —
میں اس وقت کچھ بھی نہیں سوچنا چاہتا…
آسمان پرتاروں کا رقص جاری ہے… اور مجھے اس بات کا یقین کہ یہ کہانی ابھی اپنے انجام کو نہیں پہنچی— بلکہ یہ کہانی ابھی ابھی شروع ہوئی ہے—
		———مسلسل

٭٭٭
مصنف کی اجازت اور تشکر کے ساتھ
تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید
