﻿


آسان عروض
کے
دَس سبق


محمد یعقوب آسیؔ
نوٹ: اس میں مائکرو سافٹ ورڈ کے جداول بھی شامل ہیں جن کی شکل  ٹیکسٹ فائل میں  درست نہیں ہو گی۔ بہتر ہے کہ ورڈ ڈاکیومینٹ  ڈاؤن لوڈ کریں۔





حرفِ غایت

میں شعر کیوں کہتا ہوں ؟ اس سوال کا جواب چنداں مشکل نہیں۔ میں کیا سوچتا ہوں ، کیا محسوس کرتا ہوں ، میرے خیالات کیا ہیں ؛ میرے گرد و پیش میں کیا کچھ ہو رہا ہے ، میرے قلب و نظر میں کیا کچھ ظہور پذیر ہو رہا ہے؛ اور میں اس سے کیا اخذ کرتا ہوں ؛ کیا ہونا چاہئے اور کیا نہیں ہونا چاہئے؛ مجھے اپنے افکار اپنے ہم نفسوں تک پہنچانے ہیں ؛ میں اس لئے شعر کہتا ہوں۔ 
اظہار کے بہت سارے پیرائے ہیں۔ جن میں ایک پیرایہ شاعری ہے۔ مجھے فطرت کی طرف سے اگر شعر کہنے کی صلاحیت عطا ہوئی ہے تو اُسے کام میں لاتا ہوں اور میری کوشش ہوتی ہے کہ میری امیدیں ، واہمے، خوف، صدمات، جذبات، سب کچھ آپ تک احسن طریقے سے پہنچے۔ میرے کہے میں اسلوب کے لحاظ سے بھی کشش ہو، اسے آپ جمالیات کہہ لیجئے۔ میرے الفاظ سے آپ میرے ما فی ضمیر کو کہاں تک پا لیتے ہیں ، یہ ابلاغ ہے۔ گویا شعر کے بنیادی عناصر میں اول تو فکر و احساس ہے، دوسرے اسلوب ہے اور تیسرے ابلاغ ہے۔ میں ان میں سے کسی کو بھی ایک دوسرے پر قطعی ترجیح نہیں دے سکتا۔ از ماست کہ بر ماست کے مصداق میری سوچیں ، میرے واہمے، میری امیدیں ، میری آرزوئیں ، میرے خدشات، میری توقعات، میری محبتیں ، میری نفرتیں ؛ میری ذات کا حصہ ہیں میں ان سے کٹ کر شعر نہیں کہہ سکتا۔ اگر کہیں کوئی ایک آدھ شعر کہہ بھی لوں تو وہ خود مجھے اجنبی سا لگتا ہے۔ یہ ایک بہت بڑی شعری صداقت ہے۔ 
مجھے بزبانِ شعر جو بھی کہنا ہے، میری اولین ترجیح یہ ہے کہ وہ شعر ہو اور اسے شعر قرار دیا جائے۔ لہجے کی شستگی اور شائستگی، زبان و بیان کا درست ہونا، ملائمت کا عنصر، شعر کے فنی تقاضوں کا ایفاء، میری پسندیدہ لفظیات اور تراکیب۔ یہ سب کچھ مل ملا کر میرا اسلوبِ بیان کہلاتے ہیں۔ اور میری شناخت کا سامان بہم پہنچاتے ہیں۔ یہاں تک جو کچھ میں نے عرض کیا ہے، صیغہ واحد متکلم میں عرض کیا ہے۔ آپ چاہیں تو اس میں خود کو بھی شامل سمجھ لیں۔ 
شعری فنیات میں اوزان اور بحور کا معاملہ بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ علمِ عروض اپنی علمی حیثیت میں شعر کے اوزان اور اصوات سے بحث کرتا ہے۔ ’’فاعلات‘‘ کی اولین اشاعت کے ایک عرصہ بعد انٹرنیٹ پر عروضی مباحث کے دوران میں نے محسوس کیا کہ شعر کے اوزان و اصوات اور خود علمِ عروض کو بلا جواز ہوّا بنایا جاتا ہے یا سمجھا جاتا ہے۔ حالانکہ یہ کوئی ایسی کڑی مشکل نہیں جس کو آسان نہ کیا جا سکے۔ 
’’آسان عروض کے دس اسباق‘‘ دراصل بہت سارے ان سوالوں کا جواب ہیں ، جو مذکورہ مباحث میں بار بار سامنے آئے۔ ’’فاعلات‘‘ کی تصنیف میں بھی میرے سامنے یہ مقصد تھا کہ علمِ عروض کی مشکل اور پیچیدہ اصطلاحات اور ان کے علمی اطلاق کو ممکنہ حد تک آسان بنا کر پیش کر سکوں۔ بحمد للہ، مجھے اس میں بہت حد تک کامیابی ہوئی، اور میری اس کاوش کو علم دوست اور خاص طور پر نومشق شعراء میں بہت پذیرائی ملی۔ آپ ان اسباق کا ’’فاعلات‘‘ کے تسلسل میں مطالعہ کریں تو آپ دیکھیں گے کہ یہ اپنے ہی کام کو ’’آسان تر‘‘ بنانے کی ایک کوشش ہے۔ مجھے یہ تسلیم کرنے میں کوئی عار نہیں کہ ابھی بہت کام باقی ہے اور یہ تو ایک سلسلہ ہے جو وقت کے ساتھ ساتھ بدلتے رجحانات کے مطابق چلتا رہے گا، میں نہیں تو کوئی اور اِس کو رواں رکھے گا۔ 
ایک بات البتہ بہت اہم ہے کہ خلیل بن احمد سے بہت پہلے بھی علمِ عروض معروف اور مستعمل تھا۔ تاہم معلوم ذرائع کے مطابق خلیل بن احمد نے اس کو ایک باضابطہ علم کی صورت دی ہے۔ بعد میں آنے والے علمائے عروض کی محنتوں اور کاوشوں کا انکار بھی ممکن نہیں۔ میری حیثیت ایک ایسے شاگرد کی سی ہے کہ اسے ایک بات مشکل لگی تو اس نے سوچا دوسروں کو بھی مشکل لگی ہو گی! چلئے اس کو جہاں تک ہو سکے آسان بنا کر پیش کرتے ہیں۔ ’’فاعلات‘‘ اور اِن سباق میں شامل خطی تشکیل کا طریقہ اسی کوشش کا حاصل ہے۔ 
ان اسباق کا بالاستعیاب مطالعہ کیجئے گا اور اس کو آسان تر بنانے کے عمل میں میرا ساتھ دیجئے گا۔ اللہ ہمارا حامی و ناصر ہو۔  

 محمد یعقوب آسیؔ ۔ ۔ ۔ ۔  ۱۲؍ نومبر ۲۰۱۲ء


	
پہلا سبق :  مبادیات

ہم میں سے کتنے ہی لوگ ہیں جو ادب اور خاص طور پر شعر کا اچھا ذوق رکھتے ہیں۔ وہ بھی ہیں جو شعر کہنے پر مائل ہیں مگر عروض اور بحور کا یا تو پورا شعور نہیں رکھتے یا رکھتے تو ہیں مگر شعر موزوں کرتے ہوئے کہیں نہ کہیں ایسی فروگزاشت کر جاتے ہیں جو کسی بھی خوش ذوق قاری پر گراں گز رتی ہے۔ ادھر عروض اور بحور کا صحیح صحیح ادراک اور تفہیم بہر حال ایک محنت طلب کام ہے۔ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ بہت سے ادب دوست احباب عروض اور بحور کے رسمی علم سے بہت زیادہ شناسائی نہ رکھنے کے باوجود شعر کو درست آہنگ میں پڑھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ شعر کو درست آہنگ میں پڑھ لینے کی صلاحیت کو عام زبان میں ’’شعری وجدان‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔ 
شعر اور نثر میں بنیادی فرق کیا ہے! نثر میں تو یہ ہے کہ اپنے موضوع پر ہمارے جملے اور ان میں شامل الفاظ ایک ایسی ترتیب میں آتے ہیں جس میں معانی اور مفاہیم کو اولیت دی جاتی ہے۔ نثر میں کسی خاص آہنگ یا سُر اور لے کی ضرورت نہیں ہوتی، اور نہ کوئی ایسی قید ہوتی ہے کہ ایک مضمون یا پیراگراف سے سب جملے ضخامت میں برابر ہوں ، نہ اُن کو ادا کرنے میں حرکات و سکنات کی کوئی خاص ترتیب ملحوظ رکھنا ہوتی ہے۔ معانی اور مطالب کا بہاؤ اور نثر نگار کے منتخب کردہ الفاظ جملوں کو مکمل کرتے ہیں۔ 
ابھی ہم نے آہنگ کی بات کی ہے۔ آپ نے بہت سارے گلو کاروں کو غزل گاتے سنا ہو گا (غزل کی بات نادانستہ طور پر چل پڑی، اس کی توضیح آگے آئے گی)۔ بہت سے شعراء کو کسی مشاعرے میں یا ریڈیو، ٹی وی پر غزل پڑھتے سنا ہو گا۔ آپ نے یہ بھی نوٹ کیا ہو گا کہ ایک شاعر جب غزل پڑھ رہا ہوتا ہے تو اس کے ہر مصرعے میں ادا ہونے والے حروف کا صوتی اتار چڑھاؤ ایک سا ہوتا ہے۔ یہی چیز آہنگ ہے۔ شعر کا ایک اچھا قاری بھی شعر کو ایسے ہی اتار چڑھاؤ کے ساتھ پڑھتا ہے۔ اس پر مزید غور کیجئے تو کھلتا ہے کہ ایک فن پارے کے تمام مصرعوں میں حرکت والے حروف اور ساکن حروف کی ترتیب ایک جیسی ہوتی ہے۔ کسی ایک شعر میں وارد ہونے والی اسی ترتیب کو فن کی زبان میں بحر کہتے ہیں۔ اب بات کرنا کسی قدر آسان ہو گیا، آپ یوں کہہ لیجئے کہ ایک غزل کے تمام مصرعے ایک ہی بحر میں ہوتے ہیں اور یہ ضروری ہے۔ 
عام مشاہدے کی بات ہے کہ ایک شخص شعر کہنا شروع کرتا ہے تو غزل سے شروع کرتا ہے۔ جوں جوں وہ پختہ ہوتا چلا جاتا ہے غزل کے ساتھ دوسری شعری اصناف (مثنوی، مسدس، مخمس، قطعہ؛ وغیرہ) میں بھی طبع آزمائی کرتا ہے، اور غزل ساتھ ساتھ چلتی ہے۔ تا وقتیکہ کوئی شاعر کسی خاص صنفِ شعر کے حوالے سے معروف و مشہور ہو جاتا ہے۔ رباعی اور مثنوی فی زمانہ بہت کم لکھی جا رہی ہیں۔ بہت سے شعراء تو کہتے ہی صرف غزل ہیں۔ اردو غزل کا مستقبل بھی دیگر اصناف کی طرح ایک عرصے تک موضوعِ بحث رہا ہے، کبھی غزل کے حق میں آواز اٹھی تو کبھی اس کے خلاف غلغلہ بلند ہوا۔ تاہم اب یہ تسلیم کر لیا گیا ہے کہ غزل ہر زمانے کے حالات میں زندہ رہنے اور پنپنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اس وقت ہمارے ادبی ذخیرے میں غزلیات سب سے زیادہ ہیں۔ 
اوزان اور عروض کی تفہیم کے لئے غزل کے اشعار بہترین مواد فراہم کرتے ہیں۔ غزل کی عمومی ہیئت کو سمجھنے کی غرض سے نمونے کے طور پر یہ ایک غزل نقل کی جا رہی ہے:۔ 
مجھے محسوس کرنے والا اک دِل چاہئے تھا
ستم پھر اُس کے شایان و مقابل چاہئے تھا
تجھے بھی چاہئے تھی پردہ داری چاہتوں کی
مجھے بھی خود پہ قابو، جانِ محمِل، چاہئے تھا
غمِ ہجرت اٹھانا ہے کوئی آسان ایسا
یہاں پہلے قدم پر ہی بڑا دل چاہئے تھا
ذرا سی رُت بدلنے پر یہ اتنی آہ و زاری؟
ذرا اک حوصلہ جمِّ عنادِل چاہئے تھا
سرِ دیوار لکھے ہیں زمانے آنے والے

 پانچ شعروں پر مشتمل اس غزل کے ہر شعر کے دوسرے مصرعے کے آخری الفاظ جو تمام شعروں میں مشترک ہیں ’’چاہئے تھا‘‘، اس کو ردیف کہتے ہیں۔ ان سے فوراً پہلے : دل، مقابل، محمل، دل، عنادل، کامل؛ اِن سب کا آخری حرف ’’ل‘‘ ساکن ہے اور ’’ل‘‘ ساکن سے پہلے واقع ہونے والا حرف مکسور ہے یعنی اس پر ’’زیر‘‘ واقع ہو رہا ہے۔ یہ قافیے ہیں۔ غزل کا پہلا شعر مطلع کہلاتا ہے بشرطیکہ اس کے دونوں مصرعوں میں قافیہ اور ردیف کو لایا جائے۔ ماسوائے مطلع کے، ہر شعر کے دوسرے مصرع میں قافیہ اور ردیف کی پابندی کرنا ہوتی ہے، پہلے میں نہیں۔ بلکہ پہلا مصرع غیر مقفّیٰ، غیر مردّف ہو تو اچھا لگتا ہے۔ غزل کے تمام مصرعے ایک ہی بحر میں ہونے چاہئیں۔ مقطع غزل کے آخری شعر کو کہتے ہیں ، اس میں شاعر اپنا نام یا تخلص لاتا ہے۔ تاہم بہت ساری غزلوں میں شاعر اپنا تخلص یا نام استعمال نہیں بھی کرتے۔ اس پر اختلافِ رائے موجود ہے کہ ایسی غزلوں کے آخری شعر کو مقطع تسلیم کیا جائے یا نہیں ، تاہم فی الوقت یہ ہمارا موضوع نہیں۔ ہمارے ایک دوست احمد فاروق اپنی ایک غزل کی ردیف میں اپنا نام لائے ہیں ، اِس میں حال، خال وغیرہ قوافی ہیں 
اور پھر اُس سے ملاقات ہوئی؟
اور کیا حال ہے احمد فاروق!
غزل کے پہلے شعر (مطلع) میں تخلص لانے کی ایک بہت معروف مثال دیکھئے:۔ 
انشا جی اٹھو، اب کوچ کرو اِس شہر میں جی کا لگانا کیا
وحشی کو سکوں سے کیا مطلب، جوگی کا نگر میں ٹھکانا کیا
یاد رہے کہ غزل میں قافیہ کی پابندی لازمی ہوتی ہے، ردیف اختیاری ہے آپ ردیف شامل کریں یہ نہ کریں، یہ آپ پر منحصر ہے۔ تاہم جب ردیف کو اختیار کر لیا جائے تو پھر اُس کو نبھانا لازم قرار پاتا ہے۔ غزل کا مطلع سے شروع ہونا ہمیشہ لازمی سمجھا گیا ہے، تاہم بغیر مطلع کے غزلیں بھی کثیر تعداد میں مل جاتی ہیں۔ اس کی وجہ غالباً یہ ہے کہ مطلع کے دونوں مصرعوں میں قافیہ اور ردیف کے ہونے سے مضمون آفرینی کسی قدر مشکل ہو جاتی ہے، اور کچھ شعراء ایک ڈھیلا ڈھالا اور کمزور مضمون باندھنے کی بجائے مطلع کو ترک کر دینا مناسب سمجھ لیتے ہیں۔ 
ایک غیر مردّف غزل نقل کی جا رہی ہے (اتفاق سے یہ غزل مطلع کے بغیر ہے):۔ 
بات بنانے کے سَو ڈھب ہیں 
وہ مجھ سے کچھ تو فرماتا
بات سرے تو پہونچی ہوتی
چاہے ناطہ ٹوٹ ہی جاتا
اپنے غم کی دھیمی لے پر
ہے وہ گیت خوشی کے گاتا
میرا اُس کا غم سانجھا تھا
میں اُس کو کیسے بہلاتا
اُس کی بڑی نوازش ہے، وہ
مل جاتا ہے آتا جاتا
باتوں باتوں میں ہے آسیؔ
بڑی بڑی باتیں کہہ جاتا
 اس غزل میں ردیف نہیں لائی گئی۔ ہر شعر کے آخری الفاظ: فرماتا، جاتا، گاتا، بہلاتا جن میں ’’۔ ۔ ۔ اتا‘‘ مشترک ہے، اس غزل کے قوافی ہیں۔ یہ بات بالکل واضح ہے کہ منقولہ بالا دونوں غزلوں کی بحریں ایک دوجی سے مختلف ہیں۔ بحر کا تفصیلی مطالعہ کرنے سے پہلے چند اور تصورات کی وضاحت ضروری ہے اور شعر کے قاری اور شاعر دونوں سے کچھ توقعات بھی وابستہ کی جاتی ہیں ، ان کا مختصر ذکر ہو جائے۔ 
شعری وجدان کی طرف اشارہ پہلے کر دیا گیا۔ یہ بہت خاص ملکہ ہے جس کا کسی رسمی تعلیم اور علمی سطح سے کوئی تعلق نہیں۔ اس کو ’’شعر کا لاشعوری ترازو‘‘ کہنے میں بھی کوئی قباحت نہیں۔ آپ ایک شعر پڑھتے ہیں یا سنتے ہیں ، اور علمِ عروض یا اوزان کا رسمی علم نہ ہونے کے باوجود آپ اس کے صوتیاتی اتار چڑھاؤ (یعنی آہنگ یا بحر ) اور اگر شاعر یا قاری سے کہیں کوئی فروگزاشت ہو چکی ہے تو آپ کو اُس کا احساس ہو جاتا ہے۔ یہ احساس میرے اپنے تجربے میں بھی آ چکا ہے اور یہی وہ احساس تھا جس نے مجھ سے ’’فاعلات‘‘ لکھوائی۔ یہ شعری وجدان شعر کہنے کے عمل میں بھی لاشعوری طور پر عامل رہتا ہے، اوراس سے قطع نظر کہ آپ کو اپنے زیرِ مشق بحر کے ارکان اور تقطیع کی قطعیت پر یقین ہے یا نہیں ، آپ کے اشعار اُس بحر کے مطابق نکلتے ہیں۔ اس کو عرفِ عام میں ’’موزونیتِ طبع‘‘ کہا جاتا ہے۔ یہ کسی فرد کے اندر یا تو موجود ہوتی ہے یا نہیں ہوتی، یعنی بنیادی طور پر یہ ایک وہبی خاصہ ہے اس کو پیدا نہیں کیا جا سکتا، ہاں اِس کو نکھارا سنوارا ضرور جا سکتا ہے۔ یہ مضمون اسی نکھارنے سنوارنے کی ایک کوشش ہے۔ 
درست املاء اور تلفظ بہت ضروری ہے اور یہ خالصتاً اکتسابی علم ہے، یعنی آپ محنت اور توجہ سے درست املائ، درست تلفظ، اور درست ادائیگی کی صلاحیت حاصل کر سکتے ہیں۔ زبان و بیان کی غلطی اہلِ ادب کے ہاں بہت ناپسندیدہ ہوتی ہے اور ادب سے وابستہ یا دلچسپی رکھنے والوں سے بجا طور پر یہ توقع رکھی جاتی ہے کہ لسانی حوالے سے اُن کا علم عامۃ الناس کی نسبت بہتر ہو گا۔ الفاظ کے ہجوں ، معانی اور حرکات و سکنات ( زیر، زبر، پیش، شد، مد، جزم، سکون، وقف وغیرہ) کا علم چنداں مشکل نہیں ہے۔ کسی بھی دقت کی صورت میں کسی بھی اچھے لغات سے مدد لی جا سکتی ہے۔ ڈاکٹر شان الحق حقی کی مرتب کردہ ’’فرہنگِ تلفظ‘‘ (ناشر: مقتدرہ قومی زبان) کا شمار اچھی کتابوں میں ہوتا ہے۔ 
 مرکبات کی ساخت کے چند سیدھے سیدھے اصول ہیں ، اُن کے اطلاق اور تفہیم کی اہمیت مسلمہ ہے۔ اردو قواعد کا معتد بہ حصہ فارسی اور عربی سے ماخوذ ہے، اور قواعد کی کسی بھی اچھی کتاب سے استفادہ کیا جا سکتا ہے۔ ہمارا مقصد یہ ہے کہ ادب تخلیق کرنے والا اور پڑھنے والا؛ دونوں کو چاہئے کہ اوپر بیان کئے گئے امور سے اعتماد کے درجے تک شناسا ہوں۔ 
اب آتے ہیں اوزان کی طرف۔ اوزان، ارکان، بحور وغیرہ کیا ہیں اور اوزان یا ارکان کی خصوصی املاء مثلاً فاعلاتن، مفاعیلن، فعولن، مفعولات وغیرہ کی تشکیل کس طرح عمل میں آئی اور ہم کسی شعر کی عبارت کو اِن اوزان و ارکان پر کس طور پرکھ سکتے ہیں۔ ایک دوست نے طنزاً کہا کہ: ’’آسی صاحب ترازو لئے پھرتے ہیں ‘‘۔ بات انہوں نے بہت پتے کی کی ہے۔ اسی رعایت سے یوں سمجھ لیجئے کہ فاعلاتن، مفاعیلن، فعولن، مفعولات وغیرہ باٹ ہیں اور ہمیں اپنے سامنے موجود شعر کو اُن باٹوں سے تولنا ہے، شعر کے وزن کے مطابق باٹ ایک ترتیب سے لگانے ہیں اور یہ دیکھنا ہے کہ مذکورہ شعر باٹوں کی کس ترتیب پر کس حد تک پورا اترتا ہے۔ 
خلیل بن احمد کو اس علم کا بانی سمجھا جاتا ہے، تاہم ایک تازہ تحقیق کے مطابق اُس نے دورِ جاہلیت کی عربی شاعری کے معیارات اور اس زمانے میں رائج تصورات اور فنیات کو دریافت کر کے ان کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا ہے۔ اُس نے ایک بھولے بسرے علم کو نئی زندگی دی اور بہت حد تک سائنسی طرزِ اطلاق سے کام لیا اور اس علم کو ’’علمِ عروض‘‘ کا نام دیا۔ یوں ہم خلیل بن احمد کو اگر علم عروض کا بانی نہ بھی تسلیم کریں تو اُسے مجدد ضرور تسلیم کرنا پڑے گا۔ مکہ شہر کا نام کسی زمانے میں عروض تھا۔ علم عروض میں مستعمل اصطلاحات کے لفظی معانی میں عرب کی بدوانہ زندگی کی جھلک نظر آتی ہے۔ تفصیل اِن اصطلاحات کے تعارف میں آئے گی۔ تاہم ایک اصطلاح ’’رکن‘‘ کو سمجھ لینا از بس ضروری ہے کہ اِس کے بغیر ہم آگے نہیں چل سکیں گے۔ 
اوپر جن باٹوں کا ذکر ہوا ہے، اُن میں ہر باٹ کو ایک رکن تسلیم کرنا ہوتا ہے اور ایک سے زیادہ ارکان کو جس ترتیب سے رکھا جائے وہ ’’بحر ‘‘ ہے۔ جملہ ارکان عربی زبان کے ثلاثی مجرد اِسمِ مصدر مرفوع ’’فِعْلٌ‘‘ (معنی: کام، کام کرنا) اور اس کے کچھ مشتقات پر مشتمل ہیں۔ عربی کا ایک عام قاعدہ ہے کہ جب کوئی اسم کسی نصب یا جر سے مبرا ہو تو اُسے مرفوع کہتے ہیں اور علامت یہ ہے کہ اسم مصدر ہو یا مشتق، اُس کے آخری حرف پر ’’پیش‘‘ وارد ہوتا ہے جسے عربی میں ضمہ کہتے ہیں۔ ایسے اسم کے شروع میں اگر الف لام تعریفی ووارد ہو یا ایسا اسم غیر منصرف ہو، تو یہ ایک پیش ہوتا ہے، ورنہ دو پیش یعنی تنوین ضمہ۔ تفصیلات عربی گرامر کی کتب سے لی جاسکتی ہے، یا میرے مضامین دیکھئے ’’اردو میں عربی کا نفوذ‘‘، ’’اردو میں فارسی کا نفوذ‘‘، ’’اسباقِ فارسی‘‘، ’’زبانِ یارِ من‘‘۔ یاد رہے کہ تنوین دو زبر، دو زیر یا دو پیش کی صورت میں لکھی جاتی ہے اور اس کو ادا کرنے میں آخر میں نون پیدا ہو جاتا ہے، اِس کو نونِ تنوین کہتے ہیں۔ جمیلٌ (صوت: ج می لُن)، اتفاقاً (صوت: اِت تِ فا قن)، حادِ ثۃً (صوت: حا دِ ثَ تَن)، وقتاً بعدَ وقتٍ (وَق تَن بع دَ وَق تِن)؛  و علیٰ ہٰذا القیاس۔ ارکان کی اور ان پر پورے اترنے والے (ہم وزن) الفاظ کی مکمل فہرست ’’فاعلات‘‘ میں درج ہے۔ وہیں سے استفادہ کرتے ہوئے اِن ارکان کا کسی قدر مختلف زاویے سے مطالعہ کرتے ہیں۔ 
بنیادی ارکان: مندرجہ ذیل آٹھ ارکان پانچ بنیادی دائروں سے براہِ راست اخذ ہوتے ہیں۔ (۱) فعُوْلُن (اصل میں فعولٌ): کام سے متعلق صفتِ استمرار۔ (۲) مفاعیلن(اصل میں مفاعِیلٌ): کام کی چیزیں ، اسمِ آلہ جمع۔ (۳) فاعِلاتُن (اصل میں فاعِلاتٌ): کام کرنے والیاں ، اسم فاعل جمع مؤنث۔ (۴) فاعلُن (اصل میں فاعِلٌ): کام کرنے والا، اسم فاعل مذکر۔ (۵) مستفعِلُن (اصل میں مُستَفعِلٌ): کام کرنے کی خواہش کرنے والا، مذکر۔ (۶) متفاعلُن (اصل میں مُتَفاعِلٌ): کام میں تقابل یا شراکت کرنے والا۔    (۷) مفاعلَتُن (اصل میں مفاعلَۃٌ): کام میں تقابل یا شراکت۔ (۸) مفعولات (ت ساکن کے ساتھ): جس پر کام واقع ہو، جمع مؤنث۔ ان کو حکماً دس تسلیم کیا جاتا ہے، اور ’’ارکانِ عشرہ‘‘ کہا جاتا ہے۔ وہ بحث فی الحال مؤخر کی جاتی ہے۔ 
ثانوی ارکان: بنیادی ارکان میں بحر کی ضرورت کے مطابق بسا اوقات کچھ نہ کچھ تبدیلی لازمی ہوتی ہے۔ بہ الفاظِ دیگر پہلے سے موجود باٹوں میں کچھ کمی بیشی کر کے نئے باٹ وضع کئے جاتے ہیں ، اس عمل کو علم عروض میں زحاف کا نام دیا جاتا ہے۔ زحافات کے نتیجے میں حاصل ہونے والے ایسے ارکان یہ ہیں۔ (۱) فِعْلُن (اصل میں فِعلٌ): کام، کام کرنا، اسم مصدر مجرد۔ (۲) مفعول (لام ساکن کے ساتھ): جس پر کام واقع ہو، واحد مذکر۔ (۳) مفاعیل (لام ساکن کے ساتھ): یہ مفاعیلن سے ماخوذ ہے۔ (۴) مفعولُن (اصل میں مفعولٌ): اس میں لام متحرک ہوتا ہے اور اُس پر تنوین وارد ہوتی ہے۔ (۵) فاعلات (ت ساکن کے ساتھ): فاعلاتن سے ماخوذ ہے۔ (۶) فاعلتُن (اصل میں فاعِلَۃٌ): کام کرنے والی، اسم فاعل مؤنث واحد۔ (۷) مفاعِلات (ت ساکن کے ساتھ): یہ فاعلات سے ماخوذ ہے۔ (۸) مَفاعِلُن (اصل میں مفاعِلٌ): یہ فاعلٌ سے ماخوذ ہے اور جمع کے معانی میں آتا ہے۔ (۹) فاعلتان (فاعلۃٌ سے تثنیہ ہے): کام کرنے والیاں جن کی تعداد دو ہے۔ اس کا متبادل رکن مفتَعِلات بھی مروج ہے۔ 
اضافی ارکان: عربی دوائر کے مطابق ایک رکن میں حروف کی تعداد پانچ، چھ یا سات ہوتی ہے۔ فارسی عروض میں آٹھ حروف پر مشتمل تین اور ارکان بھی ملتے ہیں۔ اسی نہج پر ہم نے مزید ارکان وضع کئے ہیں : (ا) متفاعلتن:یہ مُتَفاعلن سے ماخوذ ہے۔ (۲) مفاعلاتن: یہ مفاعلتن سے ماخوذ ہے۔ (۳) مستفعِلَتُن: یہ مستفعلن سے ماخوذ ہے۔ (۴) متفاعلات: یہ متفاعلن سے ماخوذ ہے۔ (۵) مستفعلات: یہ مستفعلن سے ماخوذ ہے۔ (۶) مفعولاتن: یہ مفعولات سے ماخوذ ہے۔ 
شاذ ارکان: مختلف زحافات کے نتیجے میں چھ ایسے ارکان بھی حاصل ہوتے ہیں جنہیں اصولی طور پر اجزاء کی حیثیت حاصل ہے:     (۱) فَعَ، (۲) فا، (۳) فَاع، (۴) فَعُو، (۵) فُعِلَتْ، اور (۶) فُعول۔ یہ سمجھنے کے لئے کہ جزو کیا ہے، رکن اور جزو میں کیا فرق ہے، ہمیں شعر گوئی میں متن کے الفاظ کی ادائیگی کا مطالعہ کرنا ہو گا۔ 
جمالیات انسانی فطرت کا خاصہ ہے، اور ذوق جمالیات کا حصہ ہے۔ حسِ جمالیات کے مظاہر کا تجزیہ اور تقابل اس عریضے کا حصہ نہیں ، تاہم زبان و بیان کے حوالے سے ایک مثال: کسی کو بیٹھنے کے لئے کہنا مقصود ہے (۱) بیٹھ جا، (۲) بیٹھو، (۳) بیٹھ جاؤ، (۴) تشریف رکھئے، (۵) تشریف فرمائیے؛ اِن سب کا مفہوم ایک ہے، اظہار میں فرق ہے۔ بہ الفاظِ دیگر زبان میں شستگی اور شائستگی کا عنصر حسن  پیدا کرتا ہے، آپ اس کو لسانی جمالیات کا نام دے لیجئے۔ بیان میں جمالیاتی عنصر پیدا کرنے کا ایک انداز یہ بھی ہے کہ اپنے ما فی الضمیر کو کسی صوتی آہنگ یا نظام کے تحت لا کر بات کی جائے۔ اور ایسے نظام کے تحت کہے جانے والے جملے ضخامت میں برابر ہوں ، اپنے اندر بھی حرکات و سکنات کا ایک جیسا تموج رکھتے ہوں اور اُن کے اختتامی الفاظ میں صوتی ہم آہنگی بھی شامل ہو تو اِس کو کلامِ منظوم کہا جائے گا۔ شعر کلامِ منظوم ہوتا ہے جب کہ ہر کلامِ منظوم ضروری نہیں کہ شعر کے جملہ تقاضے پورے کر رہا ہو۔ ہمارا اس وقت کا مقصود کلامِ منظوم کے صوتی تموج، ضخامت اور ہم آہنگی کو دیکھنا ہے، ابتداء کے طور پر مندرجہ بالا عبارت سے کوئی ایک جملہ اٹھائے لیتے ہیں ، چلئے یہی جملہ لے لیجئے:۔ ’’ بیان میں جمالیاتی عنصر پیدا کرنے کا ایک انداز یہ بھی ہے کہ اپنے ما فی الضمیر کو کسی صوتی آہنگ یا نظام کے تحت لا کر بات کی جائے‘‘۔ ہم اِس کے الفاظ کو یوں توڑ کر دیکھیں گے کہ اس میں شامل ہر ہجاء اپنی اپنی جگہ پر ساکن ہے یا اُس پر کوئی حرکت (زبر، زیر، پیش وغیرہ) یا جزم یا شد ہے یا وہ حرفِ علت (الف، واو، یائے) ہونے کی وجہ سے اپنے سے پہلے حرف کو اپنے ساتھ ملا کر اس کی صوت کو کوئی رخ دے رہا ہے (یعنی واصل الصوت ہے)؟ ہم اپنے منتخب جملے کے الفاظ کو توڑ کر اصوات کے مطابق لکھیں گے۔ اس عمل کو ہم نے املائے اصوات کا نام دیا ہے۔ 
متن یہ ہے: 
’’بیان میں جمالیاتی عنصر پیدا کرنے کا ایک انداز یہ بھی ہے کہ اپنے ما فی الضمیر کو کسی صوتی آہنگ یا نظام کے تحت لا کر بات کی جائے‘‘
 اس کی املائے اصوات ہم نے یہ بنائی ہے:
 ’’بَ یا ن۔ مے۔ جَ ما لِ یا تی۔ عُن صَر۔ پَے دا۔ کَر نے۔ کا۔ اے ک۔ اَن دا ز۔ یہ۔ بی۔ ہے۔ کہ۔ اَپ نے۔ ما فِض ضَ می ر۔ کو۔ کِ سی۔ صَو تی۔ آ ہَن گ۔ یا۔ نِ ظا م۔ کے۔ تَح ت۔ لا۔ کر۔ با ت۔ کی۔ جا۔ ئے‘‘
 آپ نے دیکھا کہ ہم نے ’’میں ‘‘ کو املائے اصوات میں ’’مے‘‘ لکھا ہے، اور ’’بھی‘‘ کو ’’بی‘‘۔ یہ تھوڑی سی رعایت لینے والی بات ہے (اس قسم کی رعایتوں پر بھی ساتھ ساتھ بات کرتے جائیں  گے)، پہلے ہجاؤں کو دیکھ لیا جائے۔ ہجاء دو طرح کے ہیں : ہجائے بلند اور ہجائے کوتاہ۔  (۱) ہجائے بلند دو حرفوں کا مجموعہ ہے جس میں پہلا متحرک اور دوسرا ساکن ہوتا ہے اور دونوں مل کر ایک صوت بناتے ہیں ، اس کو روایتی طور پر ’’سببِ خفیف‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔ اور (۲) ہجائے کوتاہ ایسا متحرک یا ساکن حرف ہے جو کسی ہجائے بلند کا حصہ نہیں ہوتا، روایتی عروض میں اس کو کوئی نام نہیں دیا گیا، بلکہ حسبِ ضرورت اسے کبھی حرف اور کبھی حرکت کہہ دیتے ہیں۔ 
بیان (بَ یا ن): یہاں ’’ب‘‘ ہجائے کوتاہ ہے، ’’یا‘‘ ہجائے بلند، اور ’’ن‘‘ ہجائے کوتاہ۔ 
 میں (مے): یہ ہجائے بلند ہے۔ لفظ ’’میں ‘‘ کا آخری حرف نون غنہ ہے، جس کی اپنی کوئی صوت نہیں بلکہ یہ اپنے حرف ماقبل پر منتج ہونے والی صوت کو ’’ناک سے نکالنے‘‘ کا عمل کرتا ہے ( غنہ کا معنی ہے ’’گنگنانا‘‘)، لفظ کے حصے کے طور پر یہ صوت میں گنگناہٹ پیدا کرتا ہے۔ عروض میں نون غنہ کو ناطق حروف میں نہیں گنا جاتا۔ 
جمالیاتی ( جَ ما لِ یا تی) ج: ہجائے کوتاہ، ما: ہجائے بلند، ل:ہجائے کوتاہ، یا: ہجائے بلند، تی: ہجائے بلند
عنصر ( عُن صَر) عُن: ہجائے بلند، صَر: ہجائے بلند۔ اس لفظ کے ہجے عَنصر اور عُنصر دونوں معروف ہیں۔ 
پیدا ( پَے دا)، کرنے( کَر نے): یہ دونوں لفظ دو دو ہجائے بلند کا مجموعہ ہیں 
 کا (کا): ایک ہجائے بلند ہے
ایک ( اے ک) اے: ہجائے بلند، ک: ہجائے کوتاہ
انداز ( اَن دا ز) اَن: ہجائے بلند، دا: ہجائے بلند، ز: ہجائے کوتاہ
 یہ، بھی، ہے، کہ (یہ۔ بی۔ ہے۔ کہ) یہ چاروں لفظ ایک ایک ہجائے بلند ہیں۔ لفظ ’’بھی‘‘ میں بظاہر تین حرف ہیں : ب، ھ ، ی۔ حقیقتاً یہ دو حرف ہیں : بھ، ی۔ بھ، پھ، تھ، ٹھ، جھ، چھ، دھ، ڈھ، ڑھ، کھ، گھ، لھ، مھ، نھ؛ دو چشمی ھ (ہائے مخلوط ) والے حروف میں ہر ایک کی صوت ایک ہوتی ہے اس لئے اِن کو عروض میں ایک ایک حرف گنا جاتا ہے۔ مزید وضاحت کے لئے اِن الفاظ پر غور کریں۔ بھاری، بَہاری، بِہاری: یہ تینوں مختلف ہیں۔ لفظ ’’بھاری‘‘ میں بھ کی ایک صوت ہے، جب کہ بعد کے دونوں لفظوں میں ’’ب‘‘ اور ’’ہ‘‘ کی صوت الگ الگ ہے۔ اسی طرح: تھائی اور تہائی، کھار اور کہار، چھَک اور چہک، و علیٰ ہٰذا القیاس۔ بعض اوقات عربی اور فارسی رسم الخط کے تحت ’’ہ‘‘ کو بھی ’’ھ‘‘ کی طرح لکھ دیا جاتا ہے، اس سے گریز کیا جائے تو بہتر ہے۔ عدم احتیاط کی صورت میں سیاق و سباق کی مطابقت کی وجہ سے ’’دھُرا‘‘ اور ’’دُہرا‘‘ جیسے الفاظ میں اِشکال پیدا ہو سکتا ہے۔ 
اپنے ( اَپ نے): دو ہجائے بلند
ما فی الضمیر ( ما فِض ضَ می ر) اس لفظ میں ض مشدد ہے۔ ی، ا، ل: یہ تینوں حرف یہاں غیر ناطق ہو گئے اور ض مشدد ہونے کی وجہ سے دو بار ادا ہوا (حرف ف کی زیر اِس کو ض سے ملاتی ہے اور ض پر زبر بھی ہے)۔ 
کو (کو): ایک ہجائے بلند
کسی ( کِ سی) ک: ہجائے کوتاہ، سی: ہجائے بلند
صوتی ( صَو تی): دو ہجائے بلند
آہنگ (آ ہَن گ) آ: ہجائے بلند، ہَن: ہجائے بلند، گ: ہجائے کوتاہ
یا، کے، لا، کر، کی: یہ سارے لفظ ایک ایک ہجائے بلند پر مشتمل ہیں 
 نظام ( نِ ظا م) ن: ہجائے کوتاہ، ظا: ہجائے بلند، م: ہجائے کوتاہ
تحت ( تَح ت) تَح: ہجائے بلند، ت: ہجائے کوتاہ۔ اسی قیاس پر لفظ بات میں با: ہجائے بلند ہے اور ت:ہجائے کوتاہ۔ 
جائے: یہ دو ہجائے بلند پر مشتمل ہے۔ 
پہلے بیان ہو چکا کہ (۱) ہجائے بلند دو حرفوں کا مجموعہ ہے جس میں پہلا متحرک اور دوسرا ساکن ہوتا ہے اور دونوں مل کر ایک صوت بناتے ہیں ، اس کو روایتی طور پر ’’سببِ خفیف‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔ اور (۲) ہجائے کوتاہ ایسا متحرک یا ساکن حرف ہے جو کسی ہجائے بلند کا حصہ نہیں ہوتا، روایتی عروض میں اس کو کوئی نام نہیں دیا گیا، بلکہ حسبِ ضرورت اسے کبھی حرف اور کبھی حرکت کہہ دیتے ہیں۔ عروض میں سببِ خفیف کے مقابل ایک اصطلاح ’’سببِ ثقیل‘‘ معروف ہے، اس سے مراد دو متواتر ہجائے کوتاہ ہیں۔ شعر کا صوتی تموج انہی دو ہجاؤں (ہجائے بلند اور ہجائے کوتاہ) کی مختلف تراتیب پر منحصر ہوتا ہے۔ جدید نظام میں ہم علامتی طور پر ہجائے بلند کو ایک (۱) اور ہجائے کوتاہ کو صفر (۰) سے ظاہر کرتے ہیں۔ اس کے دو بڑے مقاصد ہیں۔ اول: شعر میں واقع ہونے والے صوتی تموج کی ترسیم (علامتی شکل) بہم پہنچانا، اور دوم: عروض کو کمپیوٹرائز کرنے کی غرض سے ثنائی نظام (بائنری سسٹم) سے ہم آہنگ کرنا۔ اب تو یہ ثابت بھی ہو چکا ہے کہ ترسیم کی مدد سے ارکان و اَوزان کی تفہیم میں آسانی پیدا ہوتی ہے۔ ہم اپنے اسباق میں ترسیم کو دائیں سے بائیں (۱۰) لکھیں گے، تاکہ اردو رسم الخط سے مطابقت قائم رہے۔ پروگرامر حضرات رومن ہندسوں (01) کے ساتھ بائیں سے دائیں لکھیں گے جو اُن کی فنی ضرورت ہے (اِن کو علامات سمجھا جانا چاہئے نہ کہ اعداد)۔ مشکل مرحلہ اگر کوئی ہے تو صرف رویہ ہے، حقیقتاً روایتی اور جدید نظام میں کوئی تصادم نہیں ہوتا، بلکہ جدید عروض کا منبعِ فیض روایتی عروض ہی تو ہے۔ 
ابھی ہم نے کہا ہے کہ ’’ شعر کا صوتی تموج انہی دو ہجاؤں (ہجائے بلند اور ہجائے کوتاہ) کی مختلف تراتیب پر منحصر ہوتا ہے‘‘۔ شعری تموج کے پیمانے وہی ارکان ہیں جن کا اجمالی تعارف پہلے آ چکا ہے۔ شاذ ارکان چھ ہیں ، جنہیں اصولی طور پر اجزاء کی حیثیت حاصل ہے: (۱) فَعَ، (۲) فا، (۳) فَاع، (۴) فَعُو، (۵) فُعِلَتْ، اور (۶) فُعول؛ ان کو ایک نظر دیکھے لیتے ہیں۔ 
۔ (۱) فَعَ (سببِ ثقیل): دو متواتر ہجائے کوتاہ کا مجموعہ ہے، پہلے مذکور ہو چکا۔ اس کوئی آزاد مثال اردو میں نہیں ملتی، تقطیع کے تحت مثالیں سامنے آئیں گی، ترسیم (۰۰)۔ 00۔ 
۔ (۲) فا (سببِ خفیف): ہجائے بلند بھی یہی ہے، مثالیں اوپر آ چکیں ، ترسیم (۱)۔ 1۔ 
۔ (۳) فَاع (وتد مفروق): ایک ہجائے بلند اور ایک ہجائے کوتاہ۔ مثالیں : خار، داغ، حرف، لفظ، سوز، دَرد، ہِجر، نام، سیب، سیخ، شیخ، موج، تار، خون، جام، صدر، حُسن، بخش، شام، فجر، رات، صبح، وقت، ذہن، قلب، عقل، عشق ؛ وغیرہ، ترسیم (۰۱)۔ 10۔ 
۔ (۴) فَعُو (وتد مجموع): ایک ہجائے کوتاہ اور ایک ہجائے بلند۔ مثالیں : کہو، سنو، ستم، بجا، سبھی، وطن، بدن، غلط، جنوں ، خرد، سماں ، زباں ؛ وغیرہ، ترسیم (۱۰)۔ 01۔ 
۔ (۵) فُعِلَتْ (فاصلہ صغریٰ): دو ہجائے کوتاہ اور ایک ہجائے بلند (یعنی: ایک سببِ ثقیل اور ایک سببِ خفیف)۔ مثالیں تقطیع کے دوران آئیں گی۔ اس کو رسماً فَعِلُن لکھتے ہیں جس کا اعراب کی عدم موجودگی میں فِعلُن سے خلط ہو سکتا ہے۔ اس سے بچنے کے لئے ہم نے عبارت میں ذرا سی تبدیلی کی ہے، ترسیم (۱۰۰)۔ 001۔ 
۔ (۶) فعول (مرار):عربی عروض میں ایک جزو ’’فاصلہ کبریٰ‘‘ بھی ہے، جو تین ہجائے کوتاہ اور ایک ہجائے بلند پرمشتمل ہے، ترسیم (۱۰۰۰)۔ 0001۔ اردو اور فارسی شاعری میں ہجاء کی یہ ترتیب دیکھنے میں نہیں آتی، لہٰذا ہم نے سے فہرست میں شامل نہیں کیا۔ ’’مرار‘‘ میں ہجاء کی ترتیب ہے: ایک ہجائے کوتاہ، ایک ہجائے بلند اور ایک ہجائے کوتاہ، ترسیم (۰۱۰)۔ 010۔ اس کی بجائے ایک اور چیز ’’مرار‘‘ ہے جو اردو میں بہت مستعمل ہے۔ فارسی اور روایتی عروض میں اس کو سببِ طویل کہا جاتا ہے۔ مثالیں : کتاب، ثواب، عذاب، حنیف، قریب، بہشت، درخت، نشست، دوات، فضول، نزول، مہین، شفیق، غریب، امیر، نفوذ، وجود، شہاب، کمال؛ وغیرہ۔ 
حروف کے نطق و سکوت کے حوالے سے اردو میں معتد بہ الفاظ ایسے ہیں جہاں املاء میں تو ایک حرف موجود ہے مگر وہ بولنے میں نہیں آتا، یہ یہ کہ بظاہر دو حرف لکھے ہوئے ہیں جب کہ اُن کی صوتیت ایک حرف کی ہوتی ہے۔ مقامی زبانوں کے کچھ الفاظ میں جہاں مثال کے طور پر دیوناگری رسم الخط سے فارسی رسم الخط میں ڈھالی جانے والی آوازوں کے لئے پہلے سے موجود حروفِ تہجی میں اختصاص کیا گیا۔ بھ، پھ، تھ، ٹھ کی وضاحت پہلے ہو چکی۔ الفاظ: کیا، دھیان، گیان، پیار، پیاس، کیوں ؛ وغیرہ میں حرفِ علت الف یا واؤ سے پہلے کا ’’ی‘‘ لکھنے میں تو پورا ہے مگر اس کی صوتیت فارسی اور عربی کی ’’ی‘‘ سے بہت مختلف ہے۔ اس کو اصطلاحاً آدھی یے کہتے ہیں پروفیسر غضنفر نے اسی کو ’’یائے بطنی‘‘ کہا ہے۔ شعر میں آدھی یے کو ناطق حروف میں نہیں گنا جاتا اور اوزان میں کیا (کا کے وزن پر: ہجائے بلند)، دھیان (دان کے وزن پر: وتد مفروق)، گیان (گان کے وزن پر: وتد مفروق)، پیار (پار کے وزن پر: وتد مفروق)، پیاس (پاس کے وزن پر: وتد مفروق) کی ذیل میں آتے ہیں ، و علیٰ ہٰذا القیاس۔ بعض الفاظ میں آدھی واؤ ہوتی ہے جیسے: دوارا (دارا کے وزن پر: دو ہجائے بلند)، سواگت (ساگت کے وزن پر: دو ہجائے بلند)، اور کچھ الفاظ میں آدھی رے، جیسے: پریم (پیم کے وزن پر: وتد مفروق)، پریت (پیت کے وزن پر: وتد مفروق)، پرجا (پجا کے وزن پر: وتد مجموع) ادا کئے جاتے ہیں۔ الفاظ کی صوتیت میں جہاں کوئی شک، اختلاف یا مغالطہ واقع ہو رہا ہو، وہاں ہمیں اُس زبان کے بولنے والوں کا اتباع کرنا ہو گا جس سے وہ لفظ لیا گیا ہے۔ رسم الخط کی تبدیلی میں ایسے چھوٹے چھوٹے مسائل آیا کرتے ہیں ، ان پر بہت زیادہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ 
واوِ معدولہ فارسی الاصل الفاظ سے خاص ہے۔ اس کا رویہ توجہ طلب ہے۔ مثال کے طور پر لفظ ’’خار‘‘ (کانٹا) اور ’’خوار‘‘ (رُسوا)؛ دونوں کی صوتیت ’’خار‘‘ (وتد مفروق) ہے۔ تاہم املاء میں ’’خوار‘‘ کا واوِ معدولہ قائم رکھنا پڑے گا۔ واوِ معدولہ کی موٹی سی شناخت دیکھ لیجئے کہ اس سے فوراً پہلے ہمیشہ خ ہوتا ہے اور فوراً بعد ا، ی، ر ، ش یا، د۔ میرے مشاہدے میں ان پانچوں کے علاوہ کوئی اور حرف نہیں آیا۔ الف اور یائے کی صورت میں واوِ معدولہ کی صوت کوئی نہیں رہ جاتی: ہم خویش کو خیش اور خواب کو خاب بولتے ہیں۔ ’’ر‘‘ ، ’’ش‘‘ یا ’’د‘‘ کی صورت میں واوِ معدولہ کی صوتیت حرکت پیش (ضمہ) کے موافق ہوتی ہے: ہم خود کو خُد، خوشی کو خُشی اور خوردنی کو خُردنی بولتے ہیں۔ اہم بات یہ کہ حرف ماقبل اور حرف مابعد کی شرائط پوری کرنے کے باوجود بھی ضروری نہیں کہ ایسے ہر لفظ میں واوِ معدولہ ہی ہو گا۔ اگر ’’خ‘‘ پر کوئی حرکت واقع ہو تو وہ واوِ معدولہ نہیں ہو گا۔ قاعدہ یہی ہے کہ نطق یا عدم نطق سے قطع نظر ہم واوِ معدولہ کو املاء سے خارج نہیں کر سکتے۔ 
فارسی سے خاص اِن الفاظ کو ملاحظہ کیجئے: دوست، برداشت، فروخت، شناخت، درخواست، واسوخت، ریخت؛ وغیرہ۔ ایسے الفاظ کے آخر میں واقع ہونے والے ’’ت‘‘ پر ہم نے ’’فاعلات‘‘ میں تائے فارسی کے تحت گفتگو کی ہے۔ غور فرمائیے کہ اس ’’ت‘‘ سے پہلے واقع ہونے والے حرف پر کوئی حرکت نہیں (یعنی وہ ساکن ہے)، اور اُس سے فوراً پہلے حرفِ علت (الف، واو، یائے) ہے۔ اس طرح ایک لفظ کے آخر میں تین حرف ساکن واقع ہو گئے۔ شعر کی تقطیع کرتے ہوئے آخری ’’ت‘‘ کا وزن کالعدم ہو جاتا ہے۔ اور اِن کی املائے اصوات کچھ یوں بنتی ہے: دوس، برداش، فروخ، شناخ، درخاس، واسوخ، ریخ؛ و علیٰ ہٰذا القیاس۔ یاد رہے کہ کسی بھی وجہ سے یہی ’’ت‘‘ متحرک ہو جائے اُس تقطیع میں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، جیسے دوستی، برداشتہ، فروختن، شناختیں ، درخواستی؛ وغیرہ۔ ان کو املائے اصوات میں دوس تی، بر داش تہ، فروخ تن، شناخ تیں ، درخاس تی کے وزن پر رکھا جائے گا۔ بہت سے الفاظ ایسے ہیں ، جن کا آخری ’’ت‘‘ تائے فارسی کی ذیل میں نہیں آتا؛ مثلاً درخت، بہشت، نشست، کشت، بخت؛ وغیرہ، کہ اِن میں تین تین ساکن کی شرط پوری نہیں ہوتی۔ 
تاریخی، معاشرتی، تہذیبی اور ثقافتی پس منظر میں جانے کا موقع نہیں ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ اردو کے خمیر میں عربی اور فارسی کے علاوہ دیگر مقامی زبانیں اور لہجے بھی شامل ہیں جنہیں عرفِ عام میں بھاشائیں اور پراکرتیں کہا جاتا ہے، ان میں پوربی (مشرقی) یا ہندی لہجہ نمایاں تر ہے۔ الفاظ کی ساخت اور معنویت میں بہت سے عناصر کار فرما ہیں۔ ہمارا اس وقت کا موضوع صوتیت ہے۔ عربی کو لے لیجئے۔ نظم یا نثر سے قطع نظر عربی کے بہت سارے الفاظ میں کچھ حروف (الف، واو، یائے، لام، وغیرہ) لکھنے میں تو آتے ہیں پڑھنے میں ان کا رویہ مختلف ہوتا ہے۔ ایسے حروف پڑھنے میں آئیں یا نہ آئیں ، املاء میں اُن کو قائم رکھنا ضروری ہوتا ہے۔ چند موٹی موٹی باتیں نوٹ کر لیجئے۔ 
ہمزۃ الوصل: عربی میں صرف کے قواعد کے مطابق ہمزہ اور الف میں بنیادی فرق یہ ہے کہ الف ہمیشہ ساکن یا خالی ہوتا ہے؛ یعنی نہ اُس پر کوئی حرکت (زبر، زیر، پیش) ہوتی ہے اور نہ جزم۔ حرکت یا جزم واقع ہو جائے تو یہی الف تبدیل ہو کر ہمزہ بن جاتا ہے۔ اردو میں لکھتے وقت ہم ہمزہ اور الف میں تفریق نہیں کرتے تاہم پڑھنے میں یہ تفریق واضح ہو جاتی ہے۔ مثال کے طور پر لفظ ’’الکتاب‘‘ میں پہلا الف دراصل ہمزہ ہے کہ اس پر حرکت زبر واقع ہو رہی ہے، جب کہ دوسرا الف کسی بھی حرکت یا جزم کا حامل نہیں سو، یہ ہمزہ نہیں الف ہے۔ اس پر کوئی حرفِ جار داخل کرنے پر مثال کے طور پر ’’من الکتاب‘‘ یا ’’فی الکتاب‘‘ کی صورت میں پہلا الف (جو دراصل ہمزہ ہے) پڑھنے میں نہیں آتا اور ان الفاظ کی صوتیت ’’مِ نل ک تاب‘‘ اور ’’فل کِ تاب‘‘ بن جاتی ہے۔ اس کو ہمزۃ الوصل کہتے ہیں ، ہمیں اس سے زیادہ تفصیل میں نہیں جانا۔ یہاں ضمناً یہ بات ثابت ہو گئی کہ لفظ ’’بالکل‘‘ کو یہ جو اکثر ’’بلکل‘‘ لکھ دیا جاتا ہے، غلط ہے۔ یہاں الف کی صورت میں در اصل ہمزۃ الوصل ہے، جس کا املاء میں قائم رہنا ضروری ہے۔ 
کھڑا زبر، کھڑا زیر، الٹا پیش (معروف حرکات): ’’الکتاب ‘‘ کو ’’الکتٰب‘‘ لکھنا بھی معروف ہے۔ اس میں کھڑا زبر صوتیت کے لحاظ سے الف کے برابر ہے لفظ کی صوت وہی (ال کِ تا ب) رہے گی۔ اسی طرح ’’داوٗد‘‘ اللہ کے ایک نبی کا نام ہے علیہ السلام۔ پڑھنے میں یہ دا، وُو، د ہے، اردو میں ہم اس کو ’’داؤد‘‘ لکھتے ہیں اور دا،ؤ،د پڑھتے ہیں۔ ایک اور لفظ دیکھئے: ’’فی نفسہٖ‘‘ اس کی صوتیت ’’فی نف سِ ہی‘‘ ہے۔ یعنی فی اور ہی میں بالترتیب ’’ی‘‘ اور ’’ہ‘‘ جو املاء اور معانی میں الگ ہیں صوتیت میں برابر ہو گئے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ معروف حرکات صوتیت میں اپنے متعلقہ حرف کی معروف صورت کے برابر ہوتے ہیں۔ کسی ذہن میں یہ سوال پیدا ہو سکتا ہے کہ اگر مثال کے طور پر ’’ہُو‘‘ اور ’’ہٗ‘‘؛ ’’فی‘‘ اور ’’فٖ‘‘؛ ’’ہا‘‘ اور ’’ہٰ‘‘ کی صوتیت یکساں ہے تو معروف حرکت یا معروف حرف سے کسی ایک کو کیوں نہیں اپنا لیا گیا، ان دونوں کا ہونا کیا ضروری ہے؟ ہمارا جواب اثبات میں ہے۔ قواعد اللسان کے مطابق ان کے رویے اور تخصیص یا تعمیم انفرادی طور پر طے ہوتے ہیں۔ اس وقت ہمارا موضوع چونکہ صرف صوتیت ہے اس لئے ہم دیگر تفاصیل کو کسی اور وقت پر اٹھا رکھتے ہیں۔ 
الف مقصورہ: یہ املاء میں کھڑے زبر کی طرح لکھا جاتا ہے، تاہم اصلاً یہ اس سے مختلف ہے۔ الف مقصورہ کی دو صورتیں معروف ہیں۔ پہلی صورت؛ عیسیٰ، موسیٰ، اعلیٰ، ادنیٰ، مصطفیٰ، منتہیٰ وغیرہ میں حرف ما قبل ی پر کھڑا زبر لکھا گیا ہے، جو الف کی صوتیت رکھتا ہے اور ’’ی‘‘ کو صوتیت سے خارج کر دیتا ہے۔ دوسری صورت صلٰوۃ، زکوٰۃ کی ہے۔ ان میں واو صوتیت سے خارج ہو رہا ہے۔ مقامات اور قواعد ہمارا اس وقت کا موضوع نہیں۔ ہمیں قرآنِ کریم میں الف مقصورہ کی ایک اور صورت ملتی ہے، اسے عرفِ عام میں خالی دندانہ کہا جاتا ہے۔ یہ خالی دندانہ اس بات کی علامت ہے کہ یہاں الف مقصورہ (ی کے ساتھ) ہے، اس لئے ی کے نقطے نہیں ڈالے گئے۔ ان پیج اور یونی کوڈ میں خالی دندانہ مہیا نہیں کیا گیا (اور اگر کیا گیا ہے تو بھی ہمارے علم میں نہیں )۔ یہاں خالی دندانہ ہی درست ہے، اللہ ہماری نیتوں کا حال جانتا ہے۔ آگے آنے والی کچھ مثالوں میں بات کو سمجھانے کی غرض سے ہم اپنی سہولت کے پیشِ نظر یہاں نقطوں والی ی لکھنے کے سوا کوئی اور طریقہ نہیں پا رہے۔ اللہ گواہ ہے کہ اسے ہماری کسی جسارت پر محمول نہ کیا جائے۔ وما ادریٰک: قواعد کے مطابق یہاں فعل اَدریٰ (الف مقصورہ کے ساتھ) ہے۔ وما ادریٰک میں ی کی جگہ خالی دندانہ لکھا اور پڑھا جائے۔ اس پورے جملے کی صوتیت ہے: و، ما، اَد، رٰ، ک۔ اسی نہج پر: ’’والقمرِ اذا تلیٰھا‘‘ یہاں فعل تلیٰ ہے اور لٰ کے فوراً بعد خالی دندانہ ہی درست ہے۔ اس کی صوتیت ہے: وَل، قَ مَ رِ اِ ذا تَ لٰ ھا۔ ان مثالوں کی روشنی میں یہ بھی واضح ہو جاتا ہے کہ لفظ ’’اعلیٰ‘‘ کو یہ جو اکثر لوگ ’’اعلا‘‘ لکھ دیتے ہیں یہ اصولی طور پر غلط ہے۔  
تنوین (دو زبر، دو زیر، دو پیش): عربی مصرف اسمائے غیر معرفہ کے کلمۂ آخر پر عام طور پر تنوین ہوتی ہے۔ رفع، جر، نصب، اور دیگر عاملات کی تفصیل ہمارے اس مضمون کا حصہ نہیں۔ اردو میں مستعمل منوّن اسماء کی فہرست خاصی طویل ہے۔ مثلاً: اتفاقاً، عملاً، حقیقتاً، نسلاً بعد نسلٍ، اصولاً، شرعاً؛ و علیٰ ہٰذا القیاس۔ دو زبر والے لفظ کے آخر میں ایک خالی الف شامل کیا جاتا ہے، دو زیر یا دو پیش والے لفظ پر کچھ اضافہ نہیں کیا جاتا۔ یاد رہے کہ یہاں نون ساکن کی صوت تو ہے، نون لفظاً یا معناً موجود نہیں۔ کسی وجہ سے جب ایسے الفاظ پر وقف واقع ہو تو دو زبر کی جگہ ایک زبر بچتا ہے اور اس پر شامل کیا ہوا الف صوتی طور پر لفظ کا حصہ بن جاتا ہے۔ دو زیر یا دو پیش والے لفظ پر ایسا کوئی حرف شامل نہیں کیا جاتا، اور سکون کی صورت اردو کے موافق ہوتی ہے۔ وقف کی صوتی مثالیں دیکھئے:۔ 
۔ (۱) انہٗ کان علیماً خبیراً : اِن نَ ہُو کا نَ عَ لی من خَ بی را۔ (۲) قل ہو اللہ احدٌ: قُل ہُ وَل لا ہُ اَ حَد(وقف نہ ہوتا تو اَ حَ دُن ہوتا)۔ (۳) اسی آیت کو قرآئے کرام اگلی آیت (اَللہ الصمدُ) سے ملا کر پڑھتے ہیں تو اس کی صوتیت یوں ہو جاتی ہے: اَ حَ دُ نِل لا ہُص صَ مَد (دال پر وقف) یہاں صوتیت میں جو نون پیدا ہوا ہے وہ نہ املاء کا حصہ ہے اور نہ معانی کا؛ ایسے نون کو نون قطنی کہتے ہیں۔ (۴) اردو والوں کے لئے سیدھا سا ضابطہ یہ ہے کہ نون قطنی جہاں پیدا ہوتا ہے یا رموزِ اوقاف و علامات و اعراب میں مندرج ہوتا ہے اسے عام نون کی طرح ادا کریں : آتِ محمَّدَ(نِ) الوسیلۃَ: مُ حَم مَ دَ نِل وَ سی لَ ۃَ؛ و علیٰ ہٰذا القیاس۔ نون قطنی کہاں پیدا ہوتا ہے اور اس کے قواعد کیا ہیں ، یہ بحث عربی کے علم الصرف سے تعلق رکھتی ہے۔ اس کو ہم کسی اور موقع پر اٹھائے رکھتے ہیں۔ 
غیر متلؤ حروف (الف، واو، یائے، لام؛ وغیرہ): افعال کی تصریف (گردان) میں بعض صیغوں کے آخر میں حرف ’’ن‘‘ شامل ہوتا ہے۔ اسے اپنی آسانی کے لئے نون صرفی کا نام دے لیجئے: یفعلُ، یفعلانِ یفعلونَ؛ تفعلُ تفعلانِ تفعلونَ؛ وغیرہ۔ فعل امر یا فعل نفی کی صورت میں یہ نون املاء سے خارج ہو جاتا ہے اور اس کی جگہ ایک خالی الف شامل کرتے ہیں۔ وَ اذکروا اللہ کثیراً (صوت: وذ کُ رُل لا ہَ کَ ثی را)۔ اس میں ہم نے دیکھا کہ قرأت میں ’’واذکرو۱‘‘ کا ’’ر‘‘ اللہ کے دوسرے لام سے مل کر ’’رُل‘‘ کی آواز دیتا ہے۔ اس کا پہلا الف ہمزۃ الوصل ہے، اور دوسرے واو کے بعد والا الف نون صرفی کی جگہ پر آیا ہے، لفظ اللہ کا الف اللہ کے ذاتی نام کا حصہ ہے، اس کو الگ نہیں کیا جا سکتا، قواعد میں یہ ہمزۃ الوصل ہے۔ یوں ان الفاظ کی املاء میں آئے ہوئے وہ حروف جو اصوات میں نہیں بھی آ رہے، اُن کا قائم رکھنا از بس ضروری ہے۔ یہ کسی قدر دقیق بحث یہاں شامل کرنے سے یہ عرض کرنا مقصود ہے کہ ایسی عبارات میں املاء کی کوئی تبدیلی نہیں کی جا سکتی، حروف کا ساکت (خاموش) ہونا کسی نہ کسی قاعدے کے تحت ہوتا ہے۔ آپ کو جہاں دقت محسوس ہو، کسی متقدم (سینئر) سے مشورہ لینے میں تامل نہ کیجئے۔ صحیح متن اور صحیح تلفظ دونوں اپنی اپنی اہمیت رکھتے ہیں ، اور ایک دوسرے کا تکملہ ہیں۔  
ال تعریفی، شمسی اور قمری حروف: الف لام تعریفی کی عربی میں کم و بیش وہی حیثیت ہے جو انگریزی میں the  کی ہے۔ اس الف لام کا ایک معروف معنیٰ اور بھی ہے all of the۔ چند مثالیں ملاحظہ ہوں : کتاب a book  یعنی کوئی ایک کتاب، الکتاب the book   کوئی خاص کتاب جس کی طرف اشارہ یا تو پہلے ہو چکا یا آگے آتا ہے۔ ذٰلک الکتٰب لا ریب فیہ: یہ ہے وہ کتاب (the book) کہ اس  میں شک، شبہ یا کھٹکے کی کوئی بات نہیں۔ الحمد للہ: سب کی سب (all of the) اچھائیاں اللہ کے لئے ہیں۔ آئیے اب ان کو لفظی سطح پر دیکھتے ہیں۔ 
 اسم نکرہ مصرف کی عام علامت یہ ہے کہ اُس پر تنوین واقع ہوتی ہے۔ ہم اپنے سبق کو آسان رکھنے کے لئے تنوین رفعی یعنی دو پیش تک محدود کئے لیتے ہیں۔ کسی عام اسم (نکرہ) کو خاص قرار دینے (معرفہ بنانے) کے لئے اس سے پہلے الف لام داخل کرتے ہیں۔ اس کو الف لام تعریفی کہا جاتا ہے۔ اِس سے تنوین باقی نہیں رہتی، حرکت باقی رہتی ہے اگر کوئی اور امر واقع نہ ہو رہا ہو۔ چند ایک سادہ مثالیں دیکھے لیتے ہیں : کتابٌ (نکرہ)، الکتابُ (معرفہ)۔ مَرئٌ (نکرہ) المرئُ (معرفہ)۔ علیمٌ (نکرہ) العلیمُ (معرفہ)۔ حمدٌ (نکرہ) الحمدُ (معرفہ)، کٰفرون (نکرہ) الکٰفرون (معرفہ)۔ شجرۃٌ (نکرہ) الشجرۃُ (معرفہ)؛ و علیٰ ہٰذا القیاس۔ 
آپ نے نوٹ کیا کہ العلیم، الکتاب وغیرہ کی صوتیت میں لام شامل ہے: ال ع لی م، ال ک تاب۔ اور الشجرہ میں لام کی صوت شین میں گم ہو گئی۔ بہ الفاظِ دیگر لام کی صوت ختم ہو گئی اور شین مشدد ہو گیا۔ اس التزام کو ظاہر کرنے کے لئے اس پر شد کی علامت لگا دی جاتی ہے۔ قرآن شریف میں بھی ہے: ولا تقربوا ہٰذہِ الشّجرۃ۔ اور۔ فتکونا من الظّٰلمین۔ شجرہ اور ظالمین سے پہلے الف لال تعریفی ہے، شین اور ظاء پر شد کی علامت ہے۔ صوتیت یوں ہو گی: و لا تق ر بو ہا ذ ہِش شَ جَ رَ تَ۔ اور۔ ف ت کُو نا مِ نَظ ظا ل می ن۔ یہاں حروف کے دو گروہ بنتے ہیں۔ پہلا گروہ: الف لام تعریفی داخل ہونے پر لام جن حروف میں ضم ہو جائے اور وہ حروف مشدد ہو جائیں وہ حروفِ شمسی کہلاتے ہیں : (الشمس میں شین مشدد ہے ؛ صوت : اَش شم س)۔ ت، ث، د، ذ، ر، ز، س، ش، ص، ض، ط، ظ، ل، ن۔ التحیات، الثور، الدنیا، الذنوب، الراس، الزخرف، السمائ، الشمس، الصلح، الضبیط، الطارق، الظلام، اللیل، النہار۔ اور دوسرا گروہ : الف لام تعریفی داخل ہونے پر لام جن حروف میں صاف ادا ہوتا ہو، وہ حروف قمری کہلاتے ہیں (القمر میں لام صاف ادا ہوتا ہے؛ صوت: ال ق مَر)۔ ا، ب، ج، ح، خ، ع، غ، ف، ق، ک، م، و، ہ، ی۔ الانبیاء، البروج، الجاشیہ، الحکیم، الخیر، العطش، الغاویہ، الفرقان، القائم، الکتاب، المبین، الودود، الہویٰ، الیسع۔ 
 اشعار کی تقطیع کا مرحلہ نزدیک آن پہنچا۔ تقطیع یعنی ٹکڑے ٹکڑے کرنا؛ اس عمل کا مقصد کیا ہے؟ ہمیں دیکھنا یہ ہوتا ہے کہ ایک شعر میں ناطق حروف کی تعداد کیا ہے؛ اُن کی حرکات و سکنات کیا ہیں اور ہجائے کوتاہ اور ہجائے بلند کس ترتیب میں واقع ہوئے ہیں ؛ وغیرہ۔ ہجائے کوتاہ (۰) اور ہجائے بلند (۱) کی تعریفات اور علامات کا تعارف بھی ہو چکا، ارکان اور اجزاء پر بھی مختصر بات ہو چکی، ہم یہ بھی دیکھ چکے کہ ارکان انہی دو ہجاؤں سے ترتیب پاتے ہیں۔ اب ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ کسی شعر کے ایک مصرعے میں کون کون سے ارکان کس ترتیب میں واقع ہوتے ہیں۔ قاعدے کی بات جان لیجئے کہ نہ صرف ایک شعر کے دونوں مصرعوں میں ، بلکہ پوری غزل، قطعہ رباعی وغیرہ کے تمام مصرعوں میں یہ ترتیب مماثل ہونی چاہئے۔ کچھ متبادلات، رعایات اور اختیارات البتہ موجود ہیں جن کا تفصیلی تعارف ’’فاعلات‘‘ میں مندرج ہے (’’شاعرانہ اختیارات‘‘ کا باب ملاحظہ ہو)۔ شعر کی بہترین عروضی صورت تو یہی ہے کہ شاعر نے کسی رعایت سے کام نہ لیا ہو؛ ایسی مثالیں بھی بہت ہیں اور دوسری بھی بہت ہیں ، اس سے کوئی مسئلہ پیدا نہیں ہونا چاہئے۔ 
اس میں بنیادی بات ہے ’’شعری وجدان‘‘ یا ’’موزونیتِ طبع‘‘؛ یہ ایک وہبی صلاحیت ہے، اس کو پیدا نہیں کیا جا سکتا، اس کی تہذیب البتہ کی جا سکتی ہے۔ اسی بات کو کچھ احباب یوں بیان کرتے ہیں : ’’شاعر یا تو ہوتا ہے یا پھر نہیں ہوتا، آپ کسی غیر شاعر کو شاعر نہیں بنا سکتے البتہ ایک کمزور شاعر خود کو مضبوط بنا سکتا ہے‘‘۔ یہ بات ایک حد تک شعر کے قاری پر بھی صادق آتی ہے۔ عین ممکن ہے کہ ایک قاری اچھے بھلے شعر کو پڑھنے میں بگاڑ کر رکھ دے، اور ایک قاری شعر کو پڑھتے ہی کسی عروضی سقم کی نشان دہی کر دے۔ ہماری پہلی گفتگو اُس قاری سے ہے جسے عرفِ عام میں ’’صاحبِ ذوق‘‘ کہا جاتا ہے۔ ایک صاحبِ ذوق قاری عروضی اصطلاحات اور باریکیوں سے بھلے آگاہ نہ ہو، وہ کسی بھی شعر کو اُس کے درست آہنگ میں پڑھ لینے اور اپنی استطاعت تک اس کے مفاہیم کو پا لینے کا ملکہ رکھتا ہے۔ 
کسی شعر کو درست آہنگ (صحیح وزن) میں پڑھ سکنے کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ شعر کا قاری یہ جانتا اور سمجھتا ہو کہ: کسی زیرِ نظر شعر میں کہاں کہاں الف، واو، یائے، ہائے ہوز، تائے فارسی، نون غنہ وغیرہ لکھنے میں تو آئے ہیں پڑھنے میں نہیں آئیں گے، زیر والی ترکیب میں کہاں زیر کی حرکت کو طویل کر کے کے یائے مجہول کے برابر لایا جائے گا، کس لفظ کے شروع میں آنے والا الف لفظ کہاں لفظ ماقبل کے آخری حرف کو حرکت دے کر خود کو اُس میں ضم کر دے گا، دو چشمی ھ والے الفاظ، کیا کیوں ، پریم، پریم، دوست، وغیرہ کی قبیل کے الفاظ کی درست صوتیت کیا ہو گی؛ و علیٰ ہٰذا القیاس۔ تقطیع کا بنیادی اصول یہ ہے کہ تقطیع ایک مصرعے کی بنیاد پر نہیں ہوتی، اس کے لئے کم از کم ایک پورا شعر درکار ہوتا ہے اور بسا اوقات پوری غزل۔ ہمارا مشاہدہ ہے کہ تقطیع کے لئے غزل کے اشعار بہترین مواد فراہم کرتے ہیں ، لہٰذا ہم نے غزل کے اشعار کو ترجیح دی ہے۔ 
ہم شعر کہتے ہیں تو اِس لئے کہ اپنے خیال، احساس، فلسفہ، پیغام، تصور، خدشہ، امید، امنگ، آرزو (وغیرہ) کو خوب سے خوب تر پیرائے میں بیان کر سکیں اور ہمارا کہا ہوا قاری تک پورا پورا صاف اور واضح طور پر پہنچ پائے۔ اس کے لئے ہمیں محض اوزان کو پورا کرنے کے علاوہ بھی بہت سارے امور کا خیال رکھنا ہو گا۔ شعر کے مقاصد اور تقاضے ایک عرصہ سے زیرِ بحث رہے ہیں اور اِس موضوع پر خاصا عمدہ مواد دستیاب ہے، اُس سے ضرور استفادہ کیجئے گا۔ ایک فطری ودیعت اور بھی ہے جسے سلامتِ طبع یا ذوقِ سلیم کہا جاتا ہے؛ اس کو ہم جمالیاتی حس بھی کہہ سکتے ہیں جو کہ انسانی فطرت کا خاصہ ہے۔ ہماری بنائی ہوئی مختلف اشیاء کی ظاہری شکل کو دیکھ لیجئے۔ چنگیر، چارپائی، پیالی، شیشی، دروازہ، کھڑکی، کتاب اور اس کی جلد، بلب، پہیہ، اینٹ، روٹی، کیک، دیگچی، رکابی؛ وغیرہ۔ ان سب میں چیزوں کی لمبائی، چوڑائی، موٹائی، گولائی وغیرہ کسی نہ کسی ہندسی ترتیب میں ہوتے ہیں اور ایسا نہ ہو تو دیکھنے والا فوراً کہہ اٹھتا ہے کہ مثلاً: یہ دروازہ ٹیڑھا ہے، وہ کھڑکی ایک طرف کو جھکی ہوئی ہے، یہ دیگچی بینگی ہے، وہ روٹی کسی اناڑی نے پکائی ہے، اِس چارپائی میں ٹیڑھ ہے؛ و علیٰ ہٰذا القیاس۔ اسی جمالیات کا ایک عنصر رنگ ہے: مجھے فلاں رنگ اچھا لگتا ہے، فلاں نہیں ؛ دروازے اور کھڑکیوں کے فریم کا رنگ فلاں رکھیں ؛ دیوار پر فلان رنگ کریں ؛ کتاب کے سرورق میں فلاں فلاں رنگوں کی فلاں ترکیب بنائیں یا فلاں تصویر بنائیں ؛ کپڑا تو اچھا ہے مگر اس کا پرنٹ کچھ بھلا نہیں لگ رہا؛ وغیرہ۔ ظاہری شکل و ساخت کا تو دیگچی، پیالی کے استعمال پر کوئی ٹیکنیکی اثر ہوتا ہے، جو رنگ سے بے نیاز ہوتا ہے۔ پھر بھی ہم رنگوں اور تصاویر پر توجہ ضرور دیتے ہیں۔ بُو (اچھی یا بری)،آواز (اچھی یا بری)، لے، سُر، تال، اور کئی دیگر عناصر ہیں جو کسی نہ کسی انداز میں کسی نہ کسی سطح پر ہمارے مزاج اور محسوسات پر کوئی نہ کوئی اثر ضرور ڈالتے ہیں۔ یہ سب جمالیات کے کرشمے ہیں۔ 
جمالیات یا ذوقِ سلیم کو شعری وجدان یا موزونیتِ طبع کے ساتھ ملائیے۔ آپ پر شعر اور ادا کے بہت سے انداز کھلیں گے۔ اس میں لفظیات کیسی ہیں ؟ پڑھنے میں کہیں رکاوٹ تو نہیں ہو رہی؟ صوتی تموج کیسا لگتا ہے؟ ردیف مترنم ہے یا نہیں ؟ قافیہ تنگ ہے یا کھلا ہے؟ مضامین فطرت سے کتنے قریب ہیں ؟ حقائق کے خلاف تو نہیں ؟ زبان و بیان اور محاورے کا استعمال کیسا ہے؟ مضمون آفرینی کی سطح کیا ہے؟ ترکیب سازی کیسی ہے؟ استعارات و علامات کا نظام کس طور واقع ہوا ہے؟ابلاغ کی سطح کیا ہے؟ ابہام اگر ہے تو کس قدر چابک دستی سے لایا گیا ہے؟ معنی آفرینی کے کیا حربے استعمال کئے گئے ہیں ؟ صنائع، بدائع، تلمیحات وغیرہ وغیرہ۔ یہ ساری شعر کی فنیات ہیں ، جن میں عروضی تقاضوں کا پورا کرنا بھی شامل ہے۔ اس تناظر میں ہماری عرض داشت کا یہ حصہ ذہن میں تازہ کیجئے: ’’شعر میں کہاں کہاں الف، واو، یائے، ہائے ہوز، تائے فارسی، نون غنہ وغیرہ لکھنے میں تو آئے ہیں پڑھنے میں نہیں آئیں گے، زیر والی ترکیب میں کہاں زیر کی حرکت کو طویل کر کے کے یائے مجہول کے برابر لایا جائے گا، کس لفظ کے شروع میں آنے والا الف لفظ کہاں لفظ ماقبل کے آخری حرف کو حرکت دے کر خود کو اُس میں ضم کر دے گا‘‘۔ اصولی طور پر تقطیع ایک مصرعے کی بنیاد پر نہیں کی جاتی۔ بلکہ بعض اوقات ایک پورے شعر پر بھی تقطیع نگار کوئی غلط نتیجہ کر سکتا ہے۔ ایسے میں پوری غزل یا اُس کے ایسے اشعار کو سامنے رکھنا ہوتا ہے جو تقطیع نگار کی درست سمت میں راہ نمائی کر سکیں۔ مثال کے طور پر ڈاکٹر اشفاق احمد وِرک کی ایک غزل (مشمولہ سہ ماہی ’’کارواں ‘‘ بہاول پور) کے پہلے دو شعر ملاحظہ ہوں :۔ 
ہمارا جسم بھی ہم سے رہائی چاہتا ہے
نمودِ خاک ہے لیکن خدائی چاہتا ہے
مکانِ جسم پر اِس دل کی دستکیں بھی سنو
خوشی سے رقص میں ہے یا رہائی چاہتا ہے
 اس میں مطلع کے دونوں مصرعے؛ اور دوسرے شعر کا دوسرا مصرع ذو بحر ین کی عمدہ مثال ہیں۔ اس غزل پر قدرے تفصیلی بات ’’ذاتی بحر اور توازن‘‘ کے تحت کریں گے۔ 
یہاں ایک اصطلاح ذہن نشین کر لیجئے: ’’املائے اصوات‘‘۔ ایسا اکثر ہوتا ہے کہ ہم شعر کو بالکل حرف بہ حرف ویسے ادا نہیں کرتے جیسے وہ لکھا ہوتا ہے۔ کہ لفظ اصل املاء میں الف، واؤ، یائے، ہائے ہوز وغیرہ شامل ہے۔ ہم اُس کو یوں بھی ادا کرتے ہیں کہ الف کی جگہ زبر کی حرکت رہ گئی، واؤ کی جگہ پیش کی، یائے کی جگہ زیر کی اور ہائے ہوز (ہ) یا تو سرے سے ادا ہی نہیں ہوا یا اپنے سے پہلے حرف کو متحرک کر گیا؛ اس کو عرفِ عام میں گرانا یا ’’اِخفاء ‘‘ کہتے ہیں۔ نون غنہ، واوِ معدولہ، دو چشمی ھ والے حروف اور عربی الفاظ میں الف، لام، واؤ ، یائے وغیرہ کا ذکر پہلے ہو چکا۔ کہیں ہم نے کسی لفظ کے بالکل شروع میں واقع الف کو یوں گرا دیا کہ الف پر جو حرکت (زبر، زیر، پیش) تھی وہ پہلے والے لفظ کے آخری حرف پر واقع ہو گئی؛ اس کو ملانا یا ’’ایصال‘‘ کہتے ہیں۔ کہیں کوئی ترکیبِ اضافی، ترکیبِ توصیفی میں مضاف کے آخری حرف پر واقع ہونے والی حرکت (زیر) کو کھینچ کر یائے مجہول کے برابر کر دیا؛ اس کو بڑھانا یا ’’ اشباع‘‘ کہا جاتا ہے۔ اِخفاء، اِشباع، ایصال وغیرہ کے زیرِ اثر شعر کی اصوات میں تغیر کے بعد شعر کی صوتیات کو املاء کی جو صورت مل سکتی ہے، اُسے املائے اصوات کہتے ہیں۔ اس کے مقابلے میں شعر کی اصل عبارت کو ’’متن‘‘ قرار دیا جاتا ہے۔ یاد رہے کہ متن اصل اور مستقل شے ہے جب کہ املائے اصوات شعر بہ شعر مصرع بہ مصرع تبدیل ہو سکتی ہے۔ املائے اصوات میں شعر کے الفاظ کو توڑ کر لکھتے ہیں اور اِسی وجہ سے اس عمل کو تقطیع (توڑنا، ٹکڑے ٹکڑے کرنا) کہا جاتا ہے۔ 
٭٭



دوسرا سبق: عملی تقطیع


اس حصے میں ہم عملی تقطیع کی مشق کریں گے۔ اور مشق کے ابتدائی مراحل میں تقطیع کے مشمولات کی یہ ترتیب بنائیں گے۔ (۱) شعر کا متن، (۲) ہر دو مصرعوں کی املائے اصوات ہجائے بلند اور ہجائے کوتاہ کے لحاظ سے، (۳) خطی تشکیل یعنی نقطہ اور عمودی خط یا صفر اور ایک کی علامات، (۴) بحر کے اجزا سے تطبیق، (۵) بحر کی عبارت یعنی عروضی متن، (۷) ضروری مباحث اور توضیحات۔ شہزاد عادل کی ایک غزل کے کچھ اشعار کی تقطیع سے ابتدا کرتے ہیں :۔ 

اِدھر بھی لوگ آنے لگ گئے ہیں 
کہ پتے کھڑکھڑانے لگ گئے ہیں 
ہے دیکھو کیا غضب موسم نے ڈھایا
کہ ہم بھی گنگنانے لگ گئے ہیں 
ترے دل میں ہوا ہے پیار پیدا
مگر اس میں زمانے لگ گئے ہیں 
غمِ دنیا ہٹا لے بوجھ اب تو
زمیں سے میرے شانے لگ گئے ہیں 
اِدھر بھی لوگ آنے لگ گئے ہیں 
کہ پتے کھڑکھڑانے لگ گئے ہیں 
اِ
دھر
بھی
لو
گ
آ
نے
لگ
گ
ئے
ہیں 
کِ
پت
تے
کھڑ
کھ
ڑا
نے
لگ
گ
ئے
ہیں 
ہجائے کوتاہ
ہجائے بلند
ہجائے بلند
ہجائے بلند
ہجائے کوتاہ
ہجائے بلند
ہجائے بلند
ہجائے بلند
ہجائے کوتاہ
ہجائے بلند
ہجائے بلند
۰
۱
۱
۱
۰
۱
۱
۱
۰
۱
۱
م
فا
عی
لُن
م
فا
عی
لُن
فُ
عُو
لُن

مفاعیلُن مفاعیلُن فعولُن : یہ بحرِ  ہَزَج مسدس محذوف ہے۔ 
دو چشمی ھ والے حروف (دھ، بھ، کھ) کو صوتیت کے لحاظ سے ایک حرف کے برابر سمجھا جاتا ہے، نون غنہ حروف کی گنتی میں نہیں آتا۔ مشدد حرف دو بار پڑھا جاتا ہے، پہلے مجزوم پھر متحرک (پتے: پت تے)، یہاں ’’کہ‘‘ میں ’’ہ‘‘ کا اخفاء ہو گیا۔ 
ہے دیکھو کیا غضب موسم نے ڈھایا
کہ ہم بھی گنگنانے لگ گئے ہیں 
ہَ
دے
کھو
کیا
غ
ضب
مو
سم
نِ
ڈھا
یا
کِ
ہم
بھی
گن
گ
نا
نے
لگ
گ
ئے
ہیں 
ہجائے کوتاہ
ہجائے بلند
ہجائے بلند
ہجائے بلند
ہجائے کوتاہ
ہجائے بلند
ہجائے بلند
ہجائے بلند
ہجائے کوتاہ
ہجائے بلند
ہجائے بلند
۰
۱
۱
۱
۰
۱
۱
۱
۰
۱
۱
م
فا
عی
لُن
م
فا
عی
لُن
فُ
عُو
لُن

مفاعیلُن مفاعیلُن فعولُن : یہ بحرِ  ہَزَج مسدس محذوف ہے۔ 
دو چشمی ھ والے حروف (کھ، ڈھ، بھ) ایک ایک شمار ہوئے؛ ہے، نے، کہ میں اخفاء ہوا، یائے لین زبر میں بدل گئی، یائے مجہول اور یائے معروف زیر میں بدل گئی، ہیں کا نون غنہ حسبِ سابق گنتی میں نہیں آیا، کیا (سوالیہ) کو کا پڑھتے ہیں۔ 
ترے دل میں ہوا ہے پیار پیدا
مگر اس میں زمانے لگ گئے ہیں 
ت
رے
دل
میں 
ہ
وا
ہے
پیا
ر
پے
دا
م
گر
اس
میں 
ز
ما
نے
لگ
گ
ئے
ہیں 
ہجائے کوتاہ
ہجائے بلند
ہجائے بلند
ہجائے بلند
ہجائے کوتاہ
ہجائے بلند
ہجائے بلند
ہجائے بلند
ہجائے کوتاہ
ہجائے بلند
ہجائے بلند
۰
۱
۱
۱
۰
۱
۱
۱
۰
۱
۱
م
فا
عی
لُن
م
فا
عی
لُن
فُ
عُو
لُن

مفاعیلُن مفاعیلُن فعولُن : یہ بحرِ  ہَزَج مسدس محذوف ہے۔ 
میں کا نون غنہ شمار میں نہیں آتا، پیار کو پار کے وزن پر پڑھتے ہیں ، بقیہ حسبِ سابق۔ 

غمِ دنیا ہٹا لے بوجھ اب تو
زمیں سے میرے شانے لگ گئے ہیں 
غ
مے
دن
یا
ہ
ٹا
لے
بو
جھ
اب
تو
ز
میں 
سے
مے
رِ
شا
نے
لگ
گ
ئے
ہیں 
ہجائے کوتاہ
ہجائے بلند
ہجائے بلند
ہجائے بلند
ہجائے کوتاہ
ہجائے بلند
ہجائے بلند
ہجائے بلند
ہجائے کوتاہ
ہجائے بلند
ہجائے بلند
۰
۱
۱
۱
۰
۱
۱
۱
۰
۱
۱
م
فا
عی
لُن
م
فا
عی
لُن
فُ
عُو
لُن

مفاعیلُن مفاعیلُن فعولُن : یہ بحرِ  ہَزَج مسدس محذوف ہے۔ 
غَمِ دنیا میں م پر اشباع واقع ہوا اور وہ ’’مے‘‘ بن گیا، بوجھ میں جھ ایک حرف جیم کے برابر ٹھہرا، زمیں میں نون غنہ ہے، میرے کی ی پر اخفاء ہوا، جب کہ یہاں شانے کی ی پر نہیں ہوا (تاکید: اخفاU، اشباع، اور ایصال کا اطلاق موقع محل کے مطابق ہوتا ہے)۔ 
علم عروض کی بنیاد نو دائروں پر ہے، جن کا تفصیلی مطالعہ ’’فاعلات‘‘ میں شامل ہے۔ تیسرے دائرے کا نام ’’دائرہ مجتلبہ‘‘ ہے۔ اس سے تین سالم بحریں نکلتی ہیں : (۱) بحر ہَزَج ، (۲) بحر رَجَز، اور (۳) بحر رَمَل؛ دائرے کے مطابق یہ تینوں بحریں مسدس ہیں۔ 
بحر ہزج مسدس سالم میں ایک مصرعے کا وزن ’’مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن‘‘ ہوتا ہے۔ مسدس کا مطلب ہے چھ: پورے شعر یا بیت میں (جو دو مصرعوں کا ہوتا ہے) ارکان کی تعداد چھ ہو، یعنی ایک مصرعے میں تین ارکان۔ اسی طرح؛ مثمن کا مطلب ہے آٹھ: پورے شعر میں ارکان کی تعداد آٹھ ہو، یعنی ایک مصرعے میں چار ارکان۔ روایتی علم عروض ارکان کی اس سے زیادہ تعداد کو احاطہ نہیں کرتا۔ 
شہزاد عادل کے اشعار کی بحر جو ہم نے متعین کی ، وہ ہے: مفاعیلُن مفاعیلُن فعولُن ( بحرِ  ہَزَج مسدس محذوف)۔ محذوف کا مطلب ہے کہ اس بحر کے آخر میں ایک سببِ خفیف (ایک ہجائے بلند) حذف کر دیا گیا۔ مثمن سالم ’’مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن‘‘ کے آخری رکن ’’مفاعیلن‘‘ سے آخری ہجائے بلند ’’لُن‘‘ ہٹا دیا تو ’’مفاعی‘‘ باقی بچا۔ مفاعی میں مجرد فعل کے حروفِ مادہ (ف ع ل) پورے نہیں ہوتے سو، یہ لفظ بطور رکن قابلِ قبول نہیں ہے۔ ہم نے اس کی جگہ اس کا ہم وزن رکن ’’فعولن‘‘ رکھ دیا، جو بنیادی ارکان کی فہرست میں موجود ہے۔ پہلے دونوں ارکان ویسے ہی رہے جیسے اصل دائرے سے نکلتے ہیں ؛ اور بحر کا متن ہوا: ’’مفاعیلن مفاعیلن فعولن‘‘۔ 
تقطیع کی ایسی مثالیں بھی آگے آئیں گی جن میں اسی بحر کے آخر میں ایک سبب (دو حرف) کی بجائے ایک حرف کم کیا گیا ہو۔ ’’مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن‘‘ سے آخری حرف نون ہٹا دیں تو ’’ل‘‘ کی پیش بھی ساقط کرنی پڑے گی کہ وہ جس حرف سے مل کر ہجائے بلند (سببِ خفیف) بنا رہا ہے وہی باقی نہ رہا؛ اس عمل کو قصر کرنا کہتے ہیں۔ قصر کے نتیجے میں آخری رکن ’’مفاعیل‘‘ بچے گا اور بحر کو اس رعایت سے ’’مقصور‘‘ کہا جائے گا (اس کو ’’مکسور‘‘ لکھنا قطعاً درست نہیں۔ مکسور اصطلاحاً اس حرف کو کہتے ہیں جس پر کسرہ یعنی زیر واقع ہو)۔ ’’مفاعیلن مفاعیلن مفاعیل‘‘ بحر ہزج مسدس مقصور کہلاتی ہے۔ اس نہج پر ہمارے پاس بحر ہزج کی یہ صورتیں مانوس ہیں :۔ 
	 بحر ہزج مسدس سالم: ’’مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن‘‘ 
	 بحر ہزج مسدس مقصور: ’’مفاعیلن مفاعیلن مفاعیل‘‘
	 بحر ہزج مسدس محذوف: ’’مفاعیلن مفاعیلن فعولن‘‘
	 بحر ہزج مثمن سالم: ’’مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن‘‘ 
	 بحر ہزج مثمن مقصور: ’’مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیل‘‘ 
	 بحر ہزج مثمن محذوف: ’’مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن فعولن‘‘
یہ کس مسلک میں لکھا ہے ہمیشہ ظلم سہہ جانا
درِ انصاف پر جا کر دہائی کیوں نہیں دیتے
۔ ۔ ۔ ۔ ۔   عارف خیام راؤ		
ی
کس
مس
لک
م
لِکھ
کھا
ہے
ہَ
مے
شہ
ظل
م
سہ
جا
نا
د
رے
ان
صا
ف
پر
جا
کر
د
ہا
ئی
کو
ن
ہی
دے
تے
۰
۱
۱
۱
۰
۱
۱
۱
۰
۱
۱
۱
۰
۱
۱
۱
م
فا
عی
لن
م
فا
عی
لن
م
فا
عی
لن
م
فا
عی
لن

مفاعیلُن مفاعیلُن مفاعیلُن مفاعیلن : یہ بحرِ  ہَزَج مثمن سالم ہے۔ 
یہ، میں : یہاں اخفاء ہوا؛ سہہ: اس میں رسماً ہ دو بار لکھا جاتا ہے، اصل ایک بار ہے؛ درِ انصاف: یہاں اشباع واقع ہوا؛ کیوں : اس کی صوتیت کوں ہے، نون غنہ؛ نہیں میں دوسرا نون غنہ ہے۔ 
بحر ہزج مثمن محذوف کی ایک مثال دیکھتے ہیں :۔ 
مجھے محسوس کرنے والا اِک دل چاہئے تھا
ستم پھر اُس کے شایان و مقابل چاہئے تھا
تجھے بھی چاہئے تھی پردہ داری چاہتوں کی
مجھے بھی خود پہ قابو، جانِ محمل، چاہئے تھا
ذرا سی رُت بدلنے پر یہ کیسی آہ و زاری
ذرا، اک حوصلہ جمِّ عنادلِ چاہئے تھا
م
جھے
مح
سُو
س
کر
نے
وا
لَ
اِک
دِل
چا
ہِ
ئے
تھا
س
تم
پھر
اس
کِ
شا
یا
نو
م
قا
بِل
چا
ہِ
ئے
تھا
ت
جھے
بھی
چا
ہِ
ئے
تھی
پر
دَ
دا
ری
چا
ہ
توں 
کی
م
جھے
بھی
خُد
پَ
قا
بو
جا
ن
مح
مل
چا
ہ
ئے
تھا
ذ
را
سی
رُت
بَ
دل
نے
پر
یِ
کے
سی
آ
ہُ
زا
ری
ذ
را
اک
حو
ص
لہ
جم
مے
ع
نا
دل
چا
ہ
ئے
تھا
۰
۱
۱
۱
۰
۱
۱
۱
۰
۱
۱
۱
۰
۱
۱
م
فا
عی
لُن
م
فا
عی
لُن
م
فا
عی
لُن
ف
عو
لُن

مفاعیلُن مفاعیلُن مفاعیلُن فعولُن : یہ بحرِ  ہَزَج مثمن محذوف ہے۔ 
والا: لام پر الف کا اخفاء ہوا، تھا: دوچشمی ھ والا حرف پہلے بیان ہو چکا؛ شایان و مقابل: اس کی املائے اصوات ’’شا یا نو م قابل‘‘ ہوئی؛ تجھے، بھی، تھی: دو چشمی ھ، پردہ: دال پر ہ کا اخفاء، خود : واوِ معدولہ پیش کی حرکت کے برابر ہوا، پہ: ہ پر اخفاء ہوا ( علمائے عروض کا کہنا ہے کہ ’’پہ، کہ، نہ‘‘ یہ تینوں لفظ شعر میں ہمیشہ یک حرفی آئیں گے اور ان کی صوتیت بالترتیب ’’پَ، کِ، نَ‘‘ ہو گی، بعض کے ہاں ’’نہ‘‘ پر یہ شرط قطعی، اور باقی دونوں پر نرم ہے)؛ یہ کیسی: یہ کی ہ پر اخفاء ہوا؛ جمِ عنادل کی میم مشدد ہے اور اس کی علامت زیر پر اشباع کے نتیجے میں اس کی املائے اصوات ’’جم مے ع نا دل‘‘ ہوئی۔ 
 اسی دائرہ سے نکلنے والی دوسری بحر کو بحر رجز کا نام دیا گیا ہے؛ بحر رجز مسدس سالم کا متن ہے ’’مستفعلن مستفعلن مستفعلن‘‘۔ یہ مثمن سالم میں بھی مانوس ہے: ’’مستفعلن مستفعلن مستفعلن مستفعلن‘‘؛ ابنِ انشا کے ہاں ایک خوبصورت مثال دیکھئے:۔ 
کل چودھویں کی رات تھی شب بھر رہا چرچا ترا
کچھ نے کہا یہ چاند ہے کچھ نے کہا چہرہ ترا
ہم بھی وہاں موجود تھے ہم سے بھی سب پوچھا کئے
ہم ہنس دئے ہم چپ رہے منظور تھا پردہ ترا
کل
چو
دھ
ویں 
کی
را
ت
تھی
شب
بھر
ر
ہا
چر
چا
ت
را
کچھ
نے
ک
ہا
یہ
چاں 
د
ہے
کچھ
نے
ک
ہا
چہ
رہ
ت
را
ہم
بھی
و
ہاں 
مو
جو
د
تھے
ہم
سے
بھِ
سب
پو
چھا
ک
ئے
ہم
ہنْس
د
ئے
ہم
چپ
ر
ہے
من
ظو
ر
تھا
پر
دہ
ت
را
۱
۱
۰
۱
۱
۱
۰
۱
۱
۱
۰
۱
۱
۱
۰
۱
مُس
تَف
عِ
لُن
مس
تف
ع
لُن
مس
تف
ع
لن
مس
تف
ع
لن

مستفعلن مستفعلن مستفعلن مستفعلن: یہ بحر رجز مثمن سالم ہے
چاند اور ہنس میں نون غنہ ہے؛ بقیہ حسبِ سابق۔ 
دائرہ مجتلبہ سے تیسری بحر کا متن ہے ’’فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن‘‘: اس کی مانوس صورتیں یہ ہیں :
	 بحر رمل مسدس سالم: ’’فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن‘‘
	 بحر رمل مسدس مقصور: ’’فاعلاتن فاعلاتن فاعلات‘‘
	 بحر رمل مسدس محذوف: ’’فاعلاتن فاعلاتن فاعلن‘‘
	 بحر رمل مثمن سالم: ’’فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن‘‘
	 بحر رمل مثمن مقصور: ’’فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن فاعلات‘‘
	 بحر رمل مثمن محذوف: ’’فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن فاعلن‘‘
بحر رمل ایک کثیر الاستعمال بحر ہے۔ اس میں (۱) سالم اور مقصور کو ایک دوسرے کے مقابل، اور (۲) مقصور اور محذوف کو ایک دوسرے کے مقابل لایا جا سکتا ہے۔ اِس میں کوئی قباحت نہیں ، تاہم (۳) سالم اور محذوف کو ایک دوسرے کے مقابل لانا مستحسن نہیں ہے۔ توازن پر ’’فاعلات‘‘ میں تفصیلی مباحث دستیاب ہیں۔ بحر رمل مثمن سالم یعنی ’’فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن‘‘ میں شعر کہنا ایک عرصہ تک پسندیدہ نہیں سمجھا جاتا تھا، تاہم فی زمانہ یہ بحر خاصی مقبول ہے۔ ایک غزل کے دو شعر ملاحظہ ہوں :۔ 
توڑ پھینکے پھول بندھن خود پرستی کی ہوا نے
ٹوٹتے جاتے ہیں گھر اِس شہر کی آب و ہوا سے
خونِ تازہ بن کے دوڑوں گا بہاروں کی رگوں میں 
خاک بھی ہو جاؤں گر اِس شہر کی آب و ہوا سے
تو
ڑ
پھیں 
کے
پھو
ل
بن
دھن
خود
پ
رس
تی
کی
ہ
وا
نے
ٹو
ٹ
تے
جا
تے
ہَ ں 
گھر
اِس
شہ
ر
کی
آ
بو
ہ
وا
سے
خو
نِ 
تا
زہ
بن
کِ
دو
ڑوں 
گا
ب
ہا
روں 
کی
ر
گوں 
میں 
خا
ک
بھی
ہو
جا
ئیں 
گر
اِس
شہ
ر
کی
آ
بو
ہ
وا
سے
۱
۰
۱
۱
۱
۰
۱
۱
۱
۰
۱
۱
۱
۰
۱
۱
فا
ع
لا
تن
فا
ع
لا
تن
فا
ع
لا
تن
فا
ع
لا
تن

بحرِ  رَمَل مثمن سالم: ’’فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن
پھینکے: نون غنہ؛ بندھن: دونوں نون ناطق ہیں ؛ خود: واوِ معدولہ، ہیں : اخفاء اور نون غنہ؛ کے: اخفاء؛ دوڑوں ، رگوں ، بہاروں ، میں : نون غنہ؛ جاؤں : اخفاء اور نون غنہ؛ آب و ہوا سے (املائے اصوات:آ بو ہ وا سے): ’’بو‘‘ کو اشباع بھی کہا جا سکتا ہے اور ایصال بھی۔  
دائروں اور بحور کی ترتیب سے قطع نظر،اِن اسباق میں ہم نے مانوس اور نسبتاً آسان سمجھی جانے والی بحور پر گفتگو کو پہلے رکھا ہے۔ رسمی اور مستند ترتیب ’’فاعلات‘‘ میں مندرج ہے۔ چوتھا دائرہ متفقہ سے دو بحریں نکلتی ہیں : (۱) بحر متقارب مثمن سالم ’’فعولن فعولن فعولن فعولن‘‘ اور (۲) بحر متدارک مثمن سالم ’’فاعلن فاعلن فاعلن فاعلن‘‘۔ ان کی کثیر الاستعمال صورتیں درجِ ذیل ہیں :۔ 
	 بحر متدارک مثمن سالم: ’’فاعلن فاعلن فاعلن فاعلن‘‘
	 بحر متقارب مثمن سالم: ’’فعولن فعولن فعولن فعولن‘‘
	 بحر متقارب مثمن مقصور: ’’فعولن فعولن فعولن فعول‘‘
	 بحر متقارب مثمن محذوف: ’’فعولن فعولن فعولن فعو‘‘؛ حذف کے نتیجے میں حاصل ہونے والا آخری رکن ’’فعو‘‘ ہمارے لحاظ سے نواقض میں آتا ہے، تاہم چونکہ اسی طرح مروج ہے، سو، ہم نے نقل کر دیا ہے۔ حروفِ مادہ (ف ع ل) کی شرط کو اولیت دیتے ہوئے اس بحر کو ’’فعولن فعولن مفاعیلتن‘‘ قرار دینے میں بھی چنداں قباحت نہیں تاہم، ہم یہ انتخاب تقطیع نگار پر چھوڑتے ہیں۔ بحر متقارب بھی بہت زیادہ مستعمل ہے اور اِس میں بھی (۱) سالم اور مقصور کو ایک دوسرے کے مقابل؛ اور (۲) مقصور اور محذوف کو ایک دوسرے کے مقابل ؛لایا جا سکتا ہے۔ (۳) یاد رہے کہ سالم اور محذوف کو ایک دوسرے کے مقابل لانا مستحسن نہیں ہے۔ 
دائرہ متفقہ سے نکلنے والی بحروں میں تقطیع کی کچھ مثالیں دیکھتے ہیں۔ 
نہ آتے ہمیں اس میں تکرار کیا تھی
مگر وعدہ کرتے ہوئے عار کیا تھی
بھری بزم میں اپنے عاشق کو تاڑا
تری آنکھ مستی میں ہشیار کیا تھی
تمہارے پیامی نے سب راز کھولا
خطا اس میں بندے کی سرکار کیا تھی
۔ ۔ ۔ ۔ علامہ اقبال		
ترے عشق کی انتہا چاہتا ہوں 
مری سادگی دیکھ کیا چاہتا ہوں 
یہ جنت مبارک رہے زاہدوں کو
کہ میں آپ کا سامنا چاہتا ہوں 
بھری بزم میں راز کی بات کہہ دی
بڑا بے ادب ہوں سزا چاہتا ہوں 
۔ ۔ ۔ ۔ علامہ اقبال		
نَ
آ
تے
ہ
میں 
اس
مِ
تک
را
ر
کیا
تھی
م
گر
وع
دَ
کر
تے
ہُ
ئے
عا
ر
کیا
تھی
بھ
ری
بز
م
میں 
اپ
نِ
عا
شق
کُ
تا
ڑا
ت
ری
آن
کھ
مس
تی
مِ
ہُش
یا
ر
کیا
تھی
ت
مھا
رے
پ
یا
می
نِ
سب
را
ز
کھو
لا
خ
طا
اس
مِ
بن
دے
کِ
سر
کا
ر
کیا
تھی
ت
رے
عش
ق
کی
ان
ت
ہا
چا
ہ
تا
ہوں 
م
ری
سا
د
گی
دے
کھ
کیا
چا
ہ
تا
ہوں 
یِ
جن
نت
م
با
رک
ر
ہے
زا
ہ
دوں 
کو
کِ
مَیں 
آ
پ
کا
سا
م
نا
چا
ہ
تا
ہوں 
بھ
ری
بز
م
میں 
را
ز
کی
با
ت
کہ
دی
ب
ڑا
بے
ا
دب
ہوں 
س
زا
چا
ہ
تا
ہوں 
۰
۱
۱
۰
۱
۱
۰
۱
۱
۰
۱
۱
ف
عو
لُن
ف
عو
لُن
ف
عو
لُن
ف
عو
لُن

فعولُن فعولُن فعولُن فعولُن :  بحر متقارب مثمن سالم
کیا (سوالیہ، ندائیہ): اس کو ہمیشہ ’’کا‘‘ کے وزن پر پڑھتے ہیں ؛ اخفاء، نون غنہ اور دو چشمی ھ پر مزید وضاحت کی چنداں ضرورت نہیں ؛ تمہارے، تمہارا، تمہاری، تمہیں : ان میں م ہ کی درست صوتیت ’’مھ‘‘ ہے؛ تمھارے تمھارا تمھاری، تمھیں لکھنا بھی درست املاء ہے ؛ کہہ، سہہ: ان میں رسماً ’’ہ‘‘ دو بار لکھا جاتا ہے، صوتیت میں دوسری ہ ساقط ہوتی ہے، مشتقات (رہتے، رہنا، کہنے، کہا، کہنا، کہو، سہتے، سہنا) کی املا میں بھی دوسری ہ نہیں لکھی جاتی۔ اخفاء اور اشباع کا اطلاق حسبِ موقع ہوتا ہے، یہ کسی لفظ سے خاص نہیں۔ 
بھری بزم میں اپنے عاشق کو تاڑا
تری آنکھ مستی میں ہشیار کیا تھی
اس شعر میں لفظ ’’میں ‘‘ دیکھئے؛ پہلے مصرعے میں اس پر اخفاء واقع نہیں ہوا، اور ’’میں ‘‘ ہجائے بلند ٹھہرا؛دوسرے مصرعے میں اخفاء ہوا، اور یہی لفظ ہجائے کوتاہ ٹھہرا۔  
ہوا خیمہ زن کاروانِ بہار
اِرَم بن گیا دامنِ کوہسار
گل و نرگس و سوسن و نسترن
شہیدِ ازَل لالہ خونیں کفن
جہاں چھپ گیا پردۂ رنگ میں 
لہو کی ہے گردش رگِ سنگ میں 
۱۱۰ ۱۱۰ ۱۱۰ ۰۱۰
۱۱۰ ۱۱۰ ۱۱۰ ۱۰۔ 
یہ علامہ اقبال کی مشہورِ زمانہ نظم ’’ساقی نامہ‘‘  (مشمولہ : بالِ جبریل) کے ابتدائی اشعار ہیں۔ اِس میں بحرِ  متقارب مثمن مقصور ’’فعولن فعولن فعولن فعول‘‘ اور بحرِ  متقارب مثمن محذوف ’’فعولن فعولن فعولن فعو‘‘ دونوں ملی جلی آئی ہیں : مثلاً پہلا شعر مقصور میں ہے اور دوسرا محذوف میں۔  نو آموز دوست اس مثنوی کی تقطیع خود کریں ، بہت کچھ سیکھنے کو ملے گا۔ آموختہ دہرا لیجئے: ’’ بحر متقارب بھی بہت زیادہ مستعمل ہے اور اِس میں بھی (۱) سالم اور مقصور کو ایک دوسرے کے مقابل؛ اور (۲) مقصور اور محذوف کو ایک دوسرے کے مقابل ؛لایا جا سکتا ہے۔ (۳) یاد رہے کہ سالم اور محذوف کو ایک دوسرے کے مقابل لانا مستحسن نہیں ہے‘‘۔ 
 شعر میں دو لفظ یوں واقع ہوں کہ پہلے لفظ کے آخر یا دوسرے کے شروع میں الف، واو، یائے، ہائے وغیرہ کا اخفاء اس طور ہو کہ املائے اصوات میں وہ دونوں متصل ہو جائیں ؛ ایسی صورت کو ایصال کہتے ہیں۔ مثال کے طور پر ’’ساقی نامہ‘‘ کا ایک شعر دیکھتے ہیں :۔ 
گل اِس شاخ سے ٹوٹتے بھی رہے
اسی شاخ سے پھوٹتے بھی رہے
گُ
لِس
شا
خ
سے
ٹو
ٹ
تے
بھی
ر
ہے
ا
سی
شا
خ
سے
پھو
ٹ
تے
بھی
ر
ہے
۰
۱
۱
۰
۱
۱
۰
۱
۱
۰
۱
ف
عو
لن
ف
عو
لن
ف
عو
لن
ف
عو

فعولن فعولن فعولن فعو : بحرِ  متقارب مثمن محذوف
’’فعولن فعو‘‘ میں ’’فعو‘‘ اصولی طور پر رکن نہیں رہ پاتا کہ اس میں حروفِ مادہ (ف ع ل) پورے نہیں ہوتے۔ یہاں کسی متبادل رکن کی سفارش کی جاتی ہے جو ’’فعولن فعو‘‘ کی جگہ لے سکے جیسے اضافی ارکان میں ’’مفاعیلتن‘‘ ہے؛ یا پھر ’’فعو‘‘ کی جگہ ’’فَ عِل‘‘ کو، اور ’’فاع‘‘ کی جگہ ’’فِع ل‘‘ کو اعتبار دیا جائے؛ہم یہ فیصلہ ہم تقطیع نگار پر چھوڑتے ہیں۔ 
پہلے مصرع کے شروع میں ’’گل اِس‘‘ میں الف کا اخفاء ہوا اور اس کی حرکت (زیر) نے لام مجزوم کو متحرک کر دیا، املائے اصوات میں دونوں لفظ متصل ہو گئے اور ان کی صوتیت ’’گُ لِس‘‘ ہو گئی۔ اس کو ایصال کہا جاتا ہے؛ مثلاً اقبال کا یہ شعر:۔ 
جب اِس انگارۂ خاکی میں ہوتا ہے یقیں پیدا
تو کر لیتا ہے یہ بال و پرِ روح الامیں پیدا
ج
بِس
ان
گا
ر
ئے
خا
کی
مِ
ہو
تا
ہے
ی
قیں 
پے
دا
تُ
کر
لے
تا
ہ
یہ
با
لو
پ
رے
رو
حُل
ا
میں 
پے
دا
۰
۱
۱
۱
۰
۱
۱
۱
۰
۱
۱
۱
۰
۱
۱
۱
م
فا
عی
لن
م
فا
عی
لن
م
فا
عی
لن
م
فا
عی
لن

مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن : بحر ہزج مثمن سالم (تیسرے دائرے مجتلبہ سے)
یہاں پہلے مصرعے میں جب اِس کی صوتیت جَ بِس ہو گئی۔ دوسرے مصرعے میں ’’روح الامیں ‘‘ : یہاں ح کے فوراً بعد کا الف عربی کا ہمزۃ الوصل ہے، یعنی شعر یا نثر سے قطع نظر، یہاں ایصال ہو گا؛ انگارۂ خاکی: اشباع، بال و پرِ۔ ۔ ۔ : اشباع؛ میں ، تو، ہے: اخفاء۔ 
دائرہ متفقہ کی دوسری بحر ہے : ’’فاعلن فاعلن فاعلن فاعلن‘‘  بحر متدارک مثمن سالم۔ روایتی عروض ایک مصرعے میں چار سے زیادہ ارکان والی بحور کے لئے کوئی نام نہیں دیتا۔ بحرِ  متدارک بارہ رکنی (ایک مصرعے میں ’’فاعلن‘‘ چھ بار) کی ایک مثال دیکھئے:۔ 
کیا خبر کیسی کیسی بہشتیں نظر میں بسا لائے تھے
مر گئے لوگ شہرِ بلا میں اماں ڈھونڈتے ڈھونڈتے
میرے جذبوں کے بازو بھی لگتا ہے جیسے کہ شل ہو گئے
سرد لاشوں میں ٹھٹھری ہوئی بجلیاں ڈھونڈتے ڈھونڈتے
یوں خیالوں کی تصویر قرطاس پر کیسے بن پائے گی
لفظ کھو جائیں گے فن کی باریکیاں ڈھونڈتے ڈھونڈتے
آدمی کیا ہے یہ جان لینا تو آسیؔ بڑی بات ہے
سوچ پتھرا گئی رشتۂ جسم و جاں ڈھونڈتے ڈھونڈتے
کیا
خ
بر
کے
سِ
کے
سی
ب
ہش
تیں 
ن
ظر
میں 
ب
سا
لا
ئِ
تھے
مر
گ
ئے
لو
گ
شہ
رے
ب
لا
میں 
ا
ماں 
ڈھوں 
ڈ
تے
ڈھوں 
ڈ
تے
مے
رِ 
جذ
بوں 
کِ
با
زو
بھِ
لگ
تا
ہَ
جے
سے
کِ
شل
ہو
گ
ئے
سر
د
لا
شوں 
مِ 
ٹھٹھ
ری
ہُ
ئی
بج
ل
یاں 
ڈھوں 
ڈ
تے
ڈھوں 
ڈ
تے
یوں 
خ
یا
لوں 
کِ
تص
وی
ر
قر
طا
س
پر
کے
سِ
بن
پا
ء
گی
لف
ظ
کھو
جا
ئِں 
گے
فن 
کِ
با
ری
ک
یاں 
ڈھوں 
ڈ
تے
ڈھوں 
ڈ
تے
آ
د
می
کیا
ہَ
یہ
جا
ن
لے
نا
تُ
آ
سی
ب
ڑی
با
ت
ہے
سو
چ
پتھ
را
گ
ئی
رش
تَ
ئے
جس
مُ
جاں 
ڈھوں 
ڈ
تے
ڈھوں 
ڈ
تے
۱
۰
۱
۱
۰
۱
۱
۰
۱
۱
۰
۱
۱
۰
۱
۱
۰
۱
فا
ع
لُن
فا
ع
لُن
فا
ع
لُن
فا
ع
لُن
فا
ع
لُن
فا
ع
لُن
’’فاعلن فاعلن فاعلن فاعلن فاعلن فاعلن‘‘ : بحر متدارک بارہ رکنی سالم
 تقطیع کے مراحل میں تھوڑا اختصار کرتے ہیں ، اس توقع پر کہ ہمارا قاری ہجائے کوتاہ اور ہجائے بلند کے اطلاق، ان کی ترتیب اور ارکان کی تشکیل سے مانوس ہو چکا ہے، اور مانوس بحور کی تعیین میں اب اسے کوئی خاص مشکل درپیش نہیں۔ بحر متدارک میں ایک مصرعے میں ’’فاعلن‘‘ (آٹھ بار) کی دو مثالیں بھی دیکھتے چلئے۔ 
تو نے شبنم فشاں موسموں کی دعائیں تو دی تھیں مگر پیاری ماں دیکھ لے
میرے چہرے پہ بے رحم سورج کی جلتی ہوئی انگلیوں کے نشاں دیکھ لے
۔ ۔ ۔ ۔ ۔     اختر شادؔ		
تو نے شب (فاعلن) نم فشاں (فاعلن) موسموں (فاعلن) کی دعا(فاعلن) ئیں تو دی (فاعلن) تھیں مگر (فاعلن) پیاری ماں (فاعلن) دیکھ لے (فاعلن) ؛
میرے چہ (فاعلن) رے پہ بے (فاعلن) رحم سو(فاعلن) رج کی جل (فاعلن) تی ہوئی (فاعلن) انگلیوں (فاعلن) کے نشاں (فاعلن) دیکھ لے (فاعلن)۔ 

مصلحت کے لبادے میں لپٹے ہوئے ہم بھی کرتے رہے زندگی دیر تک
دل جزیرے پہ جاری رہی ان گنت حوصلوں کی مگر خود کُشی دیر تک
۔ ۔ ۔ ۔ ۔     صدیق ثانیؔ	
مصلحت (فاعلن) کے لبا(فاعلن) دے میں لپ (فاعلن) ٹے ہوئے (فاعلن) ہم بھی کر(فاعلن) تے رہے (فاعلن) زندگی (فاعلن) دیر تک (فاعلن) ؛
دل جزی (فاعلن) رے پہ جا(فاعلن) ری رہی (فاعلن) ان گنت (فاعلن) حوصلوں (فاعلن) کی مگر (فاعلن) خود کُشی (فاعلن)  دیر تک (فاعلن)۔ 
٭٭٭


تیسرا سبق:  ایک قدم آگے

 بحرِ  متدارک کے بنیادی رُکن ’’فاعلن‘‘ کی تکرار پر مبنی بحروں میں کہے گئے اشعار کی تقطیع ہم نے کی۔ اس رکن سے پہلے ایک حرف (ہجائے کوتاہ) کا اضافہ کرنے سے ’’مفاعلن‘‘ حاصل ہوتا ہے۔ ’’مفاعلن مفاعلن مفاعلن مفاعلن‘‘ کو پروفیسر غضنفر امروہوی نے بحرِ  نغمہ کا نام دیا ہے۔ مثال کے طور پر یہ اشعار دیکھئے:۔ 
سیاہ رات رہ گئی ہے روشنی کے شہر میں 
دکھا کے چاند تارے اپنی تاب و تب چلے گئے
زباں کوئی نہ مل سکی ظہورِ اضطراب کو
تمام لفظ چھوڑ کر لرزتے لب چلے گئے
س
یا
ہ
را
ت
رہ
گ
ئی
ہَ
رو
ش
نی
کِ
شہ
ر
میں 
د
کھا
کِ
چاں 
د
تا
رِ
اپ
نِ
تا
ب
تب
چ
لے
گ
ئے
ز
باں 
کُ
ئی
نَ
مل
س
کی
ظ
ہو
رِ
اض
ط
را
ب
کو
ت
ما
م
لف
ظ
چھو
ڑ
کر
ل
رز
تِ
لب
چ
لے
گ
ئے
۰
۱
۰
۱
۰
۱
۰
۱
۰
۱
۰
۱
۰
۱
۰
۱
م
فا
ع
لُن
م
فا
ع
لُن
م
فا
عِ
لُن
م
فا
ع
لُن

مفاعلن مفاعلن مفاعلن مفاعلن: بحرِ  نغمہ مثمن 
 اخفاء، اشباع، ایصال سے ہماری اب تک خاصی شناسا ئی ہو چکی۔ لہٰذا ہر مثال کے نیچے ان عوامل کی وضاحت کی اب چنداں ضرورت نہیں رہی۔ املائے اصوات اور خطی تشکیل پر غور کیجئے، بہ آسانی معلوم ہو جائے گا کہ ان تینوں میں سے کوئی عامل کہاں کہاں کارفرما ہے۔ مناسب ہے کہ جوں جوں ہمارا سبق آگے بڑھتا جاتا ہے،تقطیع کے مراحل میں مزید اختصار سے کام لیا جائے۔ اب تک ہم نے ہر مصرعے کو ہجائے کوتاہ اور ہجائے بلند میں توڑ کر اس کی تقطیع کی ہے، یہاں سے آگے ہم موقع کے مطابق اجزاء (سبب، وتد، فاصلہ) سے اور بتدریج ارکان میں براہِ راست تقطیع کی طرف پیش قدمی کریں گے۔ یاد دلاتے چلیں کہ کسی فن پارے کی تقطیع کے نتیجے میں بننے والے عناصر (ہجاء، اجزاء اور ارکان) کو مقررہ علامات (صفر، ایک) کی صورت میں لکھنے کو خطی تشکیل کہا جاتا ہے۔ اردو رسم الخط میں ہم اس تشکیل کو دائیں سے بائیں لکھیں گے: مثلاً: فاعلاتن (۱۱۰۱)، مفاعلن (۰۱۰ا)۔ ہمارے کمپیوٹر پروگرامر اپنی فنی ضروریات اور سہولت کے مطابق اس کو بائیں سے دائیں لکھیں تو بہتر نتائج اخذ کر سکیں گے، مثلاً: فاعلاتن (1011)، مفاعلن (0101)۔ 
 
بحرِ  رمل کو بھی ہم دیکھ چکے: ’’فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن‘‘۔ اس کے مکرر رکن ’’فاعلاتن‘‘ سے پہلے ایک حرف (ہجائے کوتاہ) لگانے سے ’’مفاعلاتن‘‘ حاصل ہوا۔ ’’مفاعلاتن مفاعلاتن مفاعلاتن ‘‘ کو پروفیسر غضنفر نے بحرِ  مرغوب کا نام دیا ہے۔ کچھ اشعار ملاحظہ ہوں :۔ 
گئی رتوں کا ملال چہروں پہ لکھ دیا ہے
یہ تم نے کیسا سوال چہروں پہ لکھ دیا ہے
۔ ۔ ۔ ۔ صدیق ثانیؔ		
گئی
رتوں 
کا
ملا
ل چہ
روں 
پَ لکھ
دیا
ہے
یِ تم
نِ کے
سا
سوا
ل چہ
روں 
پَ لکھ
دیا
ہے
۱۰
۱۰
۱
۱۰
۱۰
۱
۱۰
۱۰
۱
مفا
علا
تن
مفا
علا
تن
مفا
علا
تن

مفاعلاتن مفاعلاتن مفاعلاتن : بحرِ  مرغوب مسدس
ہمارے ہاتھوں میں آ گئے ہیں اگرچہ تیشے
کسے کہیں اب تلاش کر لائے ہمتوں کو
چھپائے پھرتے ہیں آپ لوگوں سے اپنے چہرے
جو آزمانے چلے تھے میری محبتوں کو
ہما
رِ ہا
تھوں 
مِ آ
گئے
ہیں 
اگر
چِ تے
شے
کسے
کہیں 
اب
تلا
ش کر
لا
ئِ ہم
مَتوں 
کو
چھُپا
ئِ پھر
تے
ہَ آ
پ لو
گوں 
سِ اَپ
نِ چہ
رے
جُ آ
ز ما
نے
چلے
تھِ مے
ری
م حَب
بَتوں 
کو
۱۰
۱۰
۱
۱۰
۱۰
۱
۱۰
۱۰
۱
مفا
علا
تن
مفا
علا
تن
مفا
علا
تن

مفاعلاتن مفاعلاتن مفاعلاتن : بحرِ  مرغوب مسدس
زمانہ آیا ہے بے حجابی کا عام دیدارِ یار ہو گا
بنے گا سارا جہان مے خانہ ہر کوئی بادہ خوار ہو گا
تمہاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خود کشی کرے گی
جو شاخِ نازک پہ آشیانہ بنے گا نا پائیدار ہو گا
۔ ۔ ۔ ۔ 	 اقبال		
زما
ن آ
یا
ہ بے
حجا
بی
ک عا
م دی
دا
ر یا
ر ہو
گا
بنے
گ سا
را
جہا
ن مے
خا
ن ہر
ک ئی
با
د خا
ر ہو
گا
تمھا
رِ تہ
ذی
ب اَپ
ن خن
جر
س آ
پ ہی
خُد
کشی
کرے
گی
ج شا
خ نا
زک
پ آ
شیا
نہ
بنے
گ نا
پا
ء دا
ر ہو
گا
۱۰
۱۰
۱
۱۰
۱۰
۱
۱۰
۱۰
۱
۱۰
۱۰
۱
مفا
علا
تن
مفا
علا
تن
مفا
علا
تن
مفا
علا
تن

مفاعلاتن مفاعلاتن مفاعلاتن مفاعلاتن :  بحرِ  مرغوب مثمن
بحرِ  زمزمہ، جسے عرفِ عام میں ’’فعلن فعلن‘‘ کہتے ہیں ، اردو شاعری میں خاصی مقبول ہے۔ یہ بحر مقامی سطح پر پروان چڑھی۔ بحرِ  زمزمہ کے ارکان جتنے سادہ ہیں اُسی قدر متنوع شاعری اس بحر میں کی گئی۔ یوں اِس کی بہت سی صورتیں پیدا ہو گئی ہیں اور اِس بحر کا فنی تجزیہ اور کمپیوٹر پر اس کی ترویج اسی قدر مشکل ہو گئی ہے۔ فی الحال ہم اس کے اطلاقی پہلو پر بات کریں گے، فنیات پھر کبھی سہی کہ یہ بحر چونکہ مقامی مزاج رکھتی ہے لہٰذا اس پر روایتی قواعد کا اطلاق اگرچہ ممکن ہے تاہم مشکل اور پیچیدہ ضرور ہے۔ 
ہجائے کوتاہ، ہجائے بلند(سببِ خفیف) اور سببِ ثقیل کو ہم جان چکے ہیں۔ اطلاقی لحاظ سے اس کی بہت خوبصورت اور آسان ترین مثال بہادر شاہ ظفر کے ہاں ملتی ہے:۔ 
نہیں عشق میں اِس کا تو رنج ہمیں کہ قرار و شکیب ذرا نہ رہا
غمِ عشق تو اپنا رفیق رہا کوئی اور بلا سے رہا نہ رہا
ظفرؔ آدمی اُس کو نہ جانئے گا ہو وہ کتنا ہی صاحبِ فہم و ذکا
جسے عیش میں یادِ خدا نہ رہی جسے طیش میں خوفِ خدا نہ رہا
 اس کی تقطیع میں ہم اپنی سہولت کے لئے روایتی اوزان سے کسی قدر ہٹ کر سببِ ثقیل اور سببِ خفیف کو بنیاد بنائیں گے، خطی تشکیل کے نیچے دئے گئے اشاروں میں ’’ث‘‘ سببِ ثقیل کو، اور ’’خ‘‘ سببِ خفیف کو ظاہر کرتا ہے۔ ملاحظہ ہو:۔ 
ن۔ ہ عش ق۔ م اس ک۔ ت رن ج۔ ہ مے ک۔ ق را ر۔ ش کے ب۔ ز را ن۔ ر ہا 
۰۰ ۱ ۰۰ ۱ ۰۰ ۰۱ ۱۰ ۰۰ ۱ ۰۰ ۱ ۰۰ ۱ ۰۰ ۱
غ۔ م عش ق۔ ت اپ ن۔ ر فی ق۔ ر ہا کُ۔ ئِ او ر۔ ب لا س۔ ر ہا ن۔ ر ہا
۰۰ ۱ ۰۰ ۱ ۰۰ ۱ ۰۰ ۱ ۰۰ ۱ ۰۰ ۱ ۰۰ ۱ ۰۰ ۱
ظ۔ ف را د۔ م اُس ک۔ ن جا ن۔ ء گا ہُ۔ وُ کت ن۔ ہِ صا حِ۔ بِ فہ مُ۔ ذ کا
۰۰ ۱ ۰۰ ۱ ۰۰ ۱ ۰۰ ۱ ۰۰ ۱ ۰۰ ۱ ۰۰ ۱ ۰۰ ۱
جِ۔ سِ عے ش۔ مِ یا دِ۔ خ دا ن۔ ر ہی جِ۔ سِ طت ش۔ م خو فِ۔ خ دا ن۔ ر رہا
۰۰ ۱ ۰۰ ۱ ۰۰ ۱ ۰۰ ۱ ۰۰ ۱ ۰۰ ۱ ۰۰ ۱ ۰۰ ۱
ث خ ث خ ث خ ث خ ث خ ث خ ث خ ث خ
اس غزل کے ایک مصرعے میں شاذ رکن (فُعِلَت: ۱۰۰) آٹھ بار واقع ہوا ہے۔ روایتی عروض میں اس کو ’’فَعِلُن‘‘ پڑھتے ہیں۔ ہم ارکان بندی کی ترجیحات کو تقطیع نگار پر چھوڑتے ہیں۔ ہماری ذاتی ترجیح ’’ مُتَفاعِلَتُن چار بار‘‘ ہے، کہ اس میں کوئی دقت ہے نہ التباس، نہ اِشکال۔ تقطیع نگار جو پسند کرے، اُس پر قدغن نہیں۔ کچھ متماثل صورتیں درج کئے دیتے ہیں :۔ 
فُعِلَت فُعِلَت فُعِلَت فُعِلَت فُعِلَت فُعِلَت فُعِلَت فُعِلَت (فُعِلَت آٹھ بار)
فَعِلُن فَعِلُن فَعِلُن فَعِلُن فَعِلُن فَعِلُن فَعِلُن فَعِلُن ( فَعِلُن آٹھ بار )
مُتَفاعِلَتُن مُتَفاعِلَتُن مُتَفاعِلَتُن مُتَفاعِلَتُن ( مُتَفاعِلَتُن چار بار)
جیسا کہ پہلے کہا جا چکا بحرِ  زمزمہ میں بہت تنوع پایا جاتا ہے۔ علامہ اقبال کی اس غزل کی بحر بنیادی طور پر بحرِ  زمزمہ ہے، تاہم اس کا عروضی نظام بہادر شاہ ظفر کی منقولہ بالا غزل کی نسبت بہت لچک دار ہے۔ 
مسجد تو بنا لی شب بھر میں ایماں کی حرارت والوں نے
من اپنا پرانا پاپی ہے برسوں میں نمازی بن نہ سکا
کیا خوب امیرِ فیصل کو سنوسی نے پیغام دیا
تو نام و نسب کا حجازی ہے پر دل کا حجازی بن نہ سکا
مس جد ت۔ ب نا لی شب بھر میں ای ماں ک۔ ح را رت وا لوں نے
۱ ۱ ۰۰ ۱ ۱ ۱ ۱ ۱ ۱ ۱ ۰۰ ۱ ۱ ۱ ۱ ۱
من اپ ن۔ پ را نا پا پی ہے بر سوں م۔ ن ما زی بن ن۔ س کا
۱ ۱ ۰۰ ۱ ۱ ۱ ۱ ۱ ۱ ۱ ۰۰ ۱ ۱ ۱ ۰۰ ۱
کیا خو ب۔ ا می رے فے صل کو سن نو سی نے پے غا م۔ د یا
۱ ۱ ۰۰ ۱ ۱ ۱ ۱ ۱ ۱ ۱ ۱ ۱ ۱ ۱ ۰۰ ۱
تو نا م۔ ن سب ک۔ ح جا زی ہے پر دل ک۔ ح جا زی بن ن۔ س کا
۱ ۱ ۰۰ ۱ ۰۰ ۱ ۱ ۱ ۱ ۱ ۰۰ ۱ ۱ ۱ ۰۰ ۱
خطی تشکیل کو دیکھئے، ایک نظر میں ہی واضح ہو جاتا ہے کہ ان دونوں شعروں میں بعض مقامات پر سببِ خفیف اور سببِ ثقیل ایک دوسرے کے مقابل آ گئے ہیں۔ ابن انشا کی مشہور غزل کے شعر بھی دیکھتے چلئے:۔ 
انشا جی اٹھو اب کوچ کرو اِس شہر میں جی کا لگانا کیا
وحشی کو سکوں سے کیا مطلب جوگی کا نگر میں ٹھکانا کیا
جب شہر کے لوگ نہ رستہ دیں کیوں بن میں نہ جا بسرام کرے
دیوانوں کی سی نہ بات کرے تو اور کرے دیوانہ کیا
شب بیتی چاند بھی ڈوب چلا زنجیر پڑی دروازے پر
کیوں دیر گئے گھر آئے ہو سجنی سے کرو گے بہانہ کیا
ان شا جِ۔ اُ ٹھو اب کو چ۔ ک رو اِس شہ ر۔ م جی ک۔ ل گا نا کیا
۱ ۱ ۰۰ ۱ ۱ ۱ ۰۰ ۱ ۱ ۱ ۰۰ ۱ ۰۰ ۱ ۱ ۱
وح شی ک۔ س کوں سے کیا مط لب جو گی ک۔ ن گر م۔ ٹھ کا نا کیا
۱ ۱ ۰۰ ۱ ۱ ۱ ۱ ۱ ۱ ۱ ۰۰ ۱ ۰۰ ۱ ۱ ۱
جب شہ ر۔ ک لو گ۔ ن رس تہ دیں کیوں بن م۔ ن جا بس را م۔ ک رے
۱ ۱ ۰۰ ۱ ۰۰ ۱ ۱ ۱ ۱ ۱ ۰۰ ۱ ۱ ۱ ۰۰ ۱
دی وا نوں کی س۔ ن با ت۔ ک رے تو او ر۔ ک رے دی وا نہ کیا
۱ ۱ ۱ ۱ ۰۰ ۱ ۰۰ ۱ ۱ ۱ ۰۰ ۱ ۱ ۱ ۱ ۱
شب بی تی چاں د۔ بھ ڈو ب۔ چ لا زن جی ر۔ پ ڑی در وا زے پر
۱ ۱ ۱ ۱ ۰۰ ۱ ۰۰ ۱ ۱ ۱ ۰۰ ۱ ۱ ۱ ۱ ۱
کیوں دے ر۔ گ ئے گھر آ ئے ہو سج نی س۔ ک رو گ۔ ب ہا نہ کیا
۱ ۱ ۰۰ ۱ ۱ ۱ ۱ ۱ ۱ ۱ ۰۰ ۱ ۰۰ ۱ ۱ ۱
یہاں بھی کچھ ویسی ہی صورت ہے کہ سببِ خفیف (ہجائے بلند) اور سببِ ثقیل (دو متواتر ہجائے کوتاہ) باہم مقابل واقع ہو رہے ہیں۔ ایسے میں اگر ہم سببِ خفیف اور سببِ ثقیل کے امتیاز کو فراموش کر کے دیکھیں تو ’’مندرجہ بالا تینوں مثالوں میں ایک مصرع کا وزن سولہ سبب ہے اور کسی بھی مقام پر سوائے قافیہ (اور ردیف) کے سببِ ثقیل اور سببِ خفیف باہم مقابل واقع ہو سکتے ہیں ‘‘ یہ نتیجہ یقینا درست ہے مگر ہنوز مکمل نہیں ہے۔ میرا جی کی ایک غزل کے کچھ شعر دیکھتے ہیں :۔ 
نگری نگری پھرا مسافر گھر کا رستہ بھول گیا
کیا ہے تیرا کیا ہے میرا اپنا پرایا بھول گیا
سوجھ بوجھ کی بات نہیں ہے من موجی ہے مستانہ
لہر لہر سے جا سر ٹپکا ساگر گہرا بھول گیا
ہنسی ہنسی میں کھیل کھیل میں بات کی بات میں رنگ مٹا
دل بھی ہوتے ہوتے آخر گھاؤ کا رِسنا بھول گیا
نگری نگری پھرا مسافر گھر کا رستہ بھول گیا
نگ ری نگ ری پھ را م سا فر گھر کا رس تہ بھو ل۔ گ یا
۱ ۱ ۱ ۱ ۰ ۱ ۰ ۱ ۱ ۱ ۱ ۱ ۱ ۱ ۰۰ ۱
کیا ہے تیرا کیا ہے میرا اپنا پرایا بھول گیا
کیا ہے تے را کیا ہے مے را اپ ن۔ پ را یا بھو ل۔ گ یا
۱ ۱ ۱ ۱ ۱ ۱ ۱ ۱ ۱ ۰۰ ۱ ۱ ۱ ۰۰ ۱
سوجھ بوجھ کی بات نہیں ہے من موجی ہے مستانہ
سو جھ بو جھ کی با ت۔ ن ہِیں ہے من مو جی ہے مس تا نہ
۱ ۰ ۱ ۰ ۱ ۱ ۰۰ ۱ ۱ ۱ ۱ ۱ ۱ ۱ ۱ ۱
لہر لہر سے جا سر ٹپکا ساگر گہرا بھول گیا
لہ ر لہ ر سے جا سر ٹپ کا سا گر گہ را بھو ل۔ گ یا
۱ ۰ ۱ ۰ ۱ ۱ ۱ ۱ ۱ ۱ ۱ ۱ ۱ ۱ ۰۰ ۱
ہنسی ہنسی میں کھیل کھیل میں بات کی بات میں رنگ مٹا
ہَ سی ہَ سی میں کھے ل کھے ل میں با ت۔ ک با ت۔ مِ رن گ۔ م ٹا
۰ ۱ ۰ ۱ ۱ ۱ ۰ ۱ ۰ ۱ ۱ ۰۰ ۱ ۰۰ ۱ ۰۰ ۱
دل بھی ہوتے ہوتے آخر گھاؤ کا رِسنا بھول گیا
دل بھی ہو تے ہو تے آ خر گھا و۔ ک رس نا بھو ل۔ گ یا
۱ ۱ ۱ ۱ ۱ ۱ ۱ ۱ ۱ ۰۰ ۱ ۱ ۱ ۰۰ ۱
 مذکورہ فن پاروں کی بحور کی خطی تشکیل کو برابر رکھ کے دیکھتے ہیں :۔ 
پہلا فن پارہ
۰۰ ۱ ۰۰ ۱ ۰۰ ۱ ۰۰ ۱ ۰۰ ۱ ۰۰ ۱ ۰۰ ۱ ۰۰ ۱
۰۰ ۱ ۰۰ ۱ ۰۰ ۱ ۰۰ ۱ ۰۰ ۱ ۰۰ ۱ ۰۰ ۱ ۰۰ ۱
۰۰ ۱ ۰۰ ۱ ۰۰ ۱ ۰۰ ۱ ۰۰ ۱ ۰۰ ۱ ۰۰ ۱ ۰۰ ۱
۰۰ ۱ ۰۰ ۱ ۰۰ ۱ ۰۰ ۱ ۰۰ ۱ ۰۰ ۱ ۰۰ ۱ ۰۰ ۱
دوسرا فن پارہ
۱ ۱ ۰۰ ۱ ۱ ۱ ۱ ۱ ۱ ۱ ۰۰ ۱ ۱ ۱ ۱ ۱
۱ ۱ ۰۰ ۱ ۱ ۱ ۱ ۱ ۱ ۱ ۰۰ ۱ ۱ ۱ ۰۰ ۱
۱ ۱ ۰۰ ۱ ۱ ۱ ۱ ۱ ۱ ۱ ۱ ۱ ۱ ۱ ۰۰ ۱
۱ ۱ ۰۰ ۱ ۰۰ ۱ ۱ ۱ ۱ ۱ ۰۰ ۱ ۱ ۱ ۰۰ ۱
تیسرا فن پارہ
۱ ۱ ۰۰ ۱ ۱ ۱ ۰۰ ۱ ۱ ۱ ۰۰ ۱ ۰۰ ۱ ۱ ۱
۱ ۱ ۰۰ ۱ ۱ ۱ ۱ ۱ ۱ ۱ ۰۰ ۱ ۰۰ ۱ ۱ ۱
۱ ۱ ۰۰ ۱ ۰۰ ۱ ۱ ۱ ۱ ۱ ۰۰ ۱ ۱ ۱ ۰۰ ۱
۱ ۱ ۱ ۱ ۰۰ ۱ ۰۰ ۱ ۱ ۱ ۰۰ ۱ ۱ ۱ ۱ ۱
۱ ۱ ۱ ۱ ۰۰ ۱ ۰۰ ۱ ۱ ۱ ۰۰ ۱ ۱ ۱ ۱ ۱
۱ ۱ ۰۰ ۱ ۱ ۱ ۱ ۱ ۱ ۱ ۰۰ ۱ ۰۰ ۱ ۱ ۱
چوتھا فن پارہ
۱ ۱ ۱ ۱ ۰ ۱ ۰ ۱ ۱ ۱ ۱ ۱ ۱ ۱ ۰۰ ۱۔ 
۱ ۱ ۱ ۱ ۱ ۱ ۱ ۱ ۱ ۰۰ ۱ ۱ ۱ ۰۰ ۱۔ 
۱ ۰ ۱ ۰ ۱ ۱ ۰۰ ۱ ۱ ۱ ۱ ۱ ۱ ۱ ۱ ۱۔ 
۱ ۰ ۱ ۰ ۱ ۱ ۱ ۱ ۱ ۱ ۱ ۱ ۱ ۱ ۰۰ ۱۔ 
۰ ۱ ۰ ۱ ۱ ۱ ۰ ۱ ۰ ۱ ۱ ۰۰ ۱ ۰۰ ۱ ۰۰ ۱۔ 
۱ ۱ ۱ ۱ ۱ ۱ ۱ ۱ ۱ ۰۰ ۱ ۱ ۱ ۰۰ ۱۔ 
 اردو عروض کا سببِ خفیف اور سببِ ثقیل دو دو حرفوں پر مشتمل ہوتے ہیں اور ان دونوں کا امتیاز اِن ہجاؤں کا ملنا اور نہ ملنا ہے۔ چھندا بندی اور عروض میں قریب ترین ممکنہ ہم آہنگی کے لئے یوں سمجھ لیجئے کہ ایک ماترا ایک حرف کے برابر ہوتی ہے اور اس کا دوسرے حرف سے ملا ہوا یا الگ ہونا مشروط نہیں ہوتا۔ اس طرح ایک سبب (خفیف ہو یا ثقیل) دو ماتراؤں کے برابر ہوتا ہے۔ یوں پہلے تینوں نمونوں کی ’’چال‘‘ (ایک مصرعے کا وزن) بتیس بتیس ماترائیں ہے جب کہ چوتھے کی چال تیس ماترائیں ہے۔ 
مذکورہ بالا نمونوں میں ، ماتراؤں کی تعداد سے قطع نظر، قابلِ توجہ امر یہ ہے کہ پہلے نمونے میں سبب ثقیل اور سبب خفیف کی ترتیب پر سختی سے عمل کیا گیا ہے؛ دوسرے اور تیسرے نمونے میں سبب ثقیل اور سبب خفیف ایک دوسرے کے مقابل لائے گئے ہیں ؛ چوتھے نمونے میں ایک ایک دو دو سبب ثقیل یوں ٹوٹے ہیں کہ ان کا ایک حرف کہیں جا پڑا تو دوسرا کہیں جا پڑا تاہم ماتراؤں کی گنتی برابر رہی۔ یہ بات صرف بحرِ  زمزمہ سے خاص ہے، سبب خفیف کا ٹوٹنا کسی اور بحر میں روا نہیں ماسوائے رباعی کی بحور کے جس کے اپنے مخصوص چوبیس اوزان ہیں۔ ایک اور بات اِن چاروں نمونوں میں مشترک ہے کہ کہیں بھی تین یا زیادہ ہجائے کوتاہ متواتر واقع نہیں ہوئے۔ اردو شاعری کا کوئی سا نمونہ دیکھ لیں اس میں دو سے زیادہ ہجائے کوتاہ متواتر کہیں نہیں آتے۔ ہمارے ان مشاہدات کی روشنی میں بحرِ  زمزمہ کی قابلِ فہم تعریف یہ ہو گی:۔ 
بحرِ  زمزمہ میں ہجائے بلند اور ہجائے کوتاہ کسی بھی ترتیب میں ہو سکتے ہیں بشرطیکہ کہیں بھی دو سے زیادہ ہجائے کوتاہ یک جا نہ ہوں 
 اور قافیہ اور ردیف میں مکمل توازن قائم رہے
مشق کو آگے بڑھاتے ہوئے، ہم ایک غزل کی براہِ راست خطی تشکیل کرتے ہیں :۔ 
بات بنانے کے سَو ڈھب ہیں 
۱ ۰ ۰ ۱ ۱ ۱ ۱ ۱ ۱
وہ مجھ سے کچھ تو فرماتا
۱ ۱ ۱ ۱ ۱ ۱ ۱ ۱
بات سرے تو پہونچی ہوتی
۱ ۰ ۰ ۱ ۱ ۱ ۱ ۱ ۱
چاہے ناطہ ٹوٹ ہی جاتا
۱ ۱ ۱ ۱ ۱ ۰ ۰ ۱ ۱
اپنے غم کی دھیمی لے پر
۱ ۱ ۱ ۱ ۱ ۱ ۱ ۱
ہے وہ گیت خوشی کے گاتا
۱ ۱ ۱ ۰ ۰ ۱ ۱ ۱ ۱
میرا اُس کا غم سانجھا تھا
۱ ۱ ۱ ۱ ۱ ۱ ۱ ۱
میں اُس کو کیسے بہلاتا
۱ ۱ ۱ ۱ ۱ ۱ ۱ ۱
اُس کی بڑی نوازش ہے، وہ
۱ ۱ ۱ ۰ ۰ ۱ ۱ ۱ ۱
مل جاتا ہے آتا جاتا
۱ ۱ ۱ ۱ ۱ ۱ ۱ ۱
باتوں باتوں میں ہے آسیؔ
۱ ۱ ۱ ۱ ۱ ۱ ۱ ۱
بڑی بڑی باتیں کہہ جاتا
۰ ۱ ۰ ۱ ۱ ۱ ۱ ۱ ۱
مشترک تشکیلات (جیسے سیٹ تھیوری میں نکالتے ہیں ) یہ حاصل ہوئیں :۔ 
۱ ۰ ۰ ۱ ۱ ۱ ۱ ۱ ۱
۱ ۱ ۱ ۱ ۱ ۱ ۱ ۱
۱ ۱ ۱ ۱ ۱ ۰ ۰ ۱ ۱
۱ ۱ ۱ ۰ ۰ ۱ ۱ ۱ ۱
۰ ۱ ۰ ۱ ۱ ۱ ۱ ۱ ۱
اس غزل کے زیادہ تر مصرعے چار فعلن پر مکمل پورے اتر رہے ہیں ؛ جہاں باریکیوں میں جانا مقصود نہ ہو، وہاں یہ کہہ دینا کافی ہو گا کہ یہ غزل ’’فعلن فعلن فعلن فعلن‘‘ پر ہے۔ حاصلِ بحث یہ ہے کہ بحرِ  زمزمہ میں پائی جانے والی لچک اسی بحر سے خاص ہے، اس کو ہر جگہ لاگو نہیں کیا جا سکتا۔ 
٭٭٭



چوتھا سبق:  کچھ مزاحف بحریں 


دوسرے سبق میں ہم نے دیکھا کہ ایک ہی بحر کی متفرق صورتوں کو ظاہر کرنے کے لئے بحر کے نام کے آگے ایک لفظ کا اضافہ کر دیتے ہیں ، جیسے یہاں سالم، مقصور اور محذوف لکھا ہوا ہے:۔ 
 	بحر ہزج مسدس سالم: ’’مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن‘‘ 
	 بحر ہزج مسدس مقصور: ’’مفاعیلن مفاعیلن مفاعیل‘‘
	 بحر ہزج مسدس محذوف: ’’مفاعیلن مفاعیلن فعولن‘‘
	 بحر ہزج مثمن سالم: ’’مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن‘‘ 
	 بحر ہزج مثمن مقصور: ’’مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیل‘‘
 	 بحر ہزج مثمن محذوف: ’’مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن فعولن‘‘
سالم کا وہی معروف معنی ہے: پورے کا پورا؛ مقصور : جس پر قصر واقع ہوا؛ اور محذوف: جس پر حذف واقع ہوا۔ قصر اور حذف کی تعریفات بھی مختصراً بیان ہو چکیں۔ ان کو ہم بحر کا خاصہ کہہ سکتے ہیں ، ایسے خاصوں کے لئے علم عروض میں ایک اصطلاح ’’زحاف‘‘ مستعمل ہے۔ زحاف کو ممکنہ حد تک سادہ الفاظ میں بیان کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ’’دائروں اور اُن سے حاصل ہونے والی سالم بحروں پر مشتمل جداول ’’فاعلات‘‘ میں شامل ہیں ؛ ان سب کو بنیادی بحریں کہہ لیجئے۔ یہ بات ضروری نہیں کہ ہر شعر کہنے والا انہی بنیادی بحروں تک محدود رہے گا۔ بلکہ شعراء اپنے تہذیبی اور ثقافتی مزاج اور جمالیات کے دیگر عناصر کے مطابق ان بنیادی بحور میں کہیں کہیں کچھ کمی بیشی بھی کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر: بحرِ  مرغوب کو دیکھئے کہ اس میں بحرِ  رمل کے بنیادی رکن ’’فاعلاتن‘‘ کے شروع میں ایک حرف بڑھا کر اسے ’’مفاعلاتن‘‘ کر دیا گیا؛ بحرِ  متقارف کے بنیادی رکن ’’فعولن‘‘ کے شروع میں ایک حرف کی کمی کر کے بحرِ  زمزمہ کا رکن ’’فعلن‘‘ حاصل کیا گیا؛ وغیرہ۔ اس عمل کو زحاف کہتے ہیں۔ مختلف زحافات کی بدولت نئی نئی بحور وجود میں آتی ہیں ، جن کو عرفِ عام میں مزاحف بحریں کہا جاتا ہے۔ ‘‘ عربی اور فارسی عروض میں کم و بیش انتالیس زحافات مذکور ہیں۔ اس سبق میں ہم زحافات کی رسمی تفصیل میں جائے بغیر چند ایسی مزاحف بحروں کا براہ راست مطالعہ کریں گے جو اردو شاعری میں مانوس ہیں۔ 
بحرِ  اہزوجہ مثمن کے نام سے اشارہ مل جاتا ہے کہ یہ بحر ہزج سے ماخوذ ہے۔ ’’اردو کا عروض‘‘ کے مصنف نے اس کی دو مانوس صورتیں لکھی ہیں : ’’مفعول مفاعیل مفاعیل مفاعیل‘‘۔ ہم نے اس کو ساتویں دائرے سے براہِ راست اخذ کیا ہے۔ اس حوالے سے نئے نظام میں یہ بحر بنیادی بحور کے زمرے میں آتی ہے۔ اس پر قصر وارد ہو تو دوسری صورت ’’مفعول مفاعیل مفاعیل فعولن‘‘ حاصل ہوتی ہے۔ یوں ہم اپنی آسانی کے لئے ’’مفعول مفاعیل مفاعیل مفاعیل‘‘ کو بحر اہزوجہ مثمن سالم ، اور ’’مفعول مفاعیل مفاعیل فعولن‘‘ کو بحر اہزوجہ مثمن مقصور کہیں گے۔ یہ دونوں صورتیں ایک ہی شعر میں ایک دوسرے کے مقابل آ سکتی ہیں ؛ کلام اقبال سے کچھ مثالیں دیکھئے (مناسب ہو گا کہ معنونہ فن پارے پورے دیکھ لئے جائیں ) :۔ 
اک دن کسی مکھی سے یہ کہنے لگا مکڑا
اس راہ سے ہوتا ہے گزر روز تمہارا
(ایک مکڑا اور مکھی)  ماخوذ		
اک مولوی صاحب کی سناتا ہوں کہانی
تیزی نہیں منظور طبیعت کی دکھانی
(زہد اور رندی)		
اس دور میں مے اور ہے جام اور ہے جم اور
ساقی نے بنا کی روشِ ظلم و ستم اور
(وطنیت) یعنی وطن بحیثیت ایک سیاسی تصور کے	
اک مرغِ سرا نے یہ کہا مرغِ ہوا سے
پر دار اگر تو ہے تو کیا میں نہیں پر دار
(ایک مکالمہ)		
’’تسکینِ اوسط‘‘ سے مراد ہے: دو ارکان کے بیچ پیدا ہونے والے سببِ ثقیل کو سببِ خفیف میں بدل دینا۔ اس کے اطلاق کی مثال کے طور پر بحرِ  اہزوجہ سالم’’مفعول مفاعیل مفاعیل مفاعیل‘‘ کی خطی تشکیل ہے: (۰۱۱۔ ۰۱۱۰۔ ۰۱۱۰۔ ۰۱۱۰)۔ اس کے درمیانی سببِ ثقیل کو سبب خفیف میں بدلنے کا عمل یوں ہو گا: پہلے رکن مفعول کو ایسے ہی رہنے دیجئے، دوسرے رکن مفاعیل کی لام اور تیسرے رکن مفاعیل کی ف کو ملا کر سببِ خفیف بنائیے تو دوسرا رکن بدل کر مفاعیلن ہو گیا، اور تیسرے رکن مفاعیل کی جگہ ’’فاعیل‘‘ بچ رہا جس کا ہم وزن رکن ’’مفعول‘‘ ہماری فہرست میں موجود ہے۔ آخری رکن مفاعیل جوں کا توں رہنے دیں۔ تسکینِ اوسط کے نتیجے میں بحر کی ایک نئی صورت حاصل ہوئی:
 ’’مفعول مفاعیلن مفعول مفاعیل‘‘ (۰۱۱۔ ۱۱۱۰۔ ۰۱۱۔ ۰۱۱۰)۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بحر مہزوج مثمن مقصور
 اس نئی صورت کے آخری رکن ’’مفاعیل‘‘ پر ایک حرف کا اضافہ کر دیجئے، ’’مفاعیلن‘‘ حاصل ہوا اور بحر کی دوسری نئی صورت یہ نکل آئی: 
’’مفعول مفاعیلن مفعول مفاعیلن‘‘ (۰۱۱۔ ۱۱۱۰۔ ۰۱۱۔ ۱۱۱۰)۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بحر مہزوج مثمن سالم 
ان دونوں صورتوں کو ’’اردو کا عروض‘‘ کے مصنف نے بحر مہزوج کا نام دیا ہے۔ پہلی صورت میں ایک اور تبدیلی کیجئے: آخری رکن مفاعیل کا آخری حرف ہٹا دیجئے، فعولن رہ گیا اور ایک تیسری نئی صورت نکل آئی:
 ’’مفعول مفاعیلن مفعول فعولن‘‘ (۰۱۱۔ ۱۱۱۰۔ ۰۱۱۔ ۱۱۰)۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بحر مہزوج مثمن محذوف
بحرِ  رمل کے مصداق ان تینوں صورتوں میں سے محذوف اور مقصور کو ایک دوسرے کے مقابل، اور مقصور اور سالم کو ایک دوسرے کے مقابل استعمال کیا جا سکتا ہے ( محذوف اور سالم کو ایک دوسرے کے مقابل استعمال کرنے میں ہمیں تامل ہے)۔ بانگِ درا سے کچھ مثالیں دیکھئے (مناسب ہو گا کہ معنونہ فن پارے پورے دیکھ لئے جائیں ) :۔ 
منظر چمنستاں کے زیبا ہوں کہ نازیبا
محرومِ عمل نرگس مجبورِ تماشا ہے
(انسان)		
یارب دلِ مسلم کو وہ زندہ تمنا دے
جو قلب کو گرما دے جو روح کو تڑپا دے
(دعا)			
پھر بادِ بہار آئی، اقبال غزل خواں ہو
غنچہ ہے اگر گل ہو، گل ہے تو گلستاں ہو
(غزل)			
 بحر اہزوجہ، بحرِ  مہزوج اور بحر زمزمہ میں با ہم دگر اِشکال ہو جایا کرتا ہے؛ دھیان رہے کہ یہ الگ الگ بحریں ہیں۔ 
’’تسکینِ اوسط‘‘ اور ’’تصرف لطیف‘‘ میں فرق کو سمجھ لیجئے۔ مثال کے طور پر ہماری فہرست میں ایک رکن ’’فاعلتن‘‘ ہے (خطی تشکیل: ۱۰۰۱)؛ جو ایک ہجائے بلند، دو ہجائے کوتاہ اور ایک ہجائے بلند (بہ الفاظِ دیگر: ایک سبب خفیف، ایک سبب ثقیل اور ایک سبب خفیف) کا مجموعہ ہے۔ اس سبب ثقیل کو سبب ثقیل میں بدل دیا تو کل تین سبب خفیف یا تین ہجائے بلند پر مشتمل رکن مفعولن (خطی تشکیل: ۱۱۱) حاصل ہوا۔ اسی طرح شاذ رکن ’’فُعِلت‘‘ (خطی تشکیل:۱۰۰) میں ’’ف ع‘‘ پر مشتمل سبب ثقیل کو سبب خفیف میں بدل دیا تو دو سبب خفیف پر مشتمل رکن ’’فِعلن‘‘ (خطی تشکیل: ۱۱) حاصل ہوا۔ اس عمل کو ہم نے ’’تصرف لطیف‘‘ کا نام دیا ہے۔ تسکینِ اوسط کی تعریف ہم دیکھ چکے۔ حاصل یہ ہے کہ: تصرف لطیف ’’ایک رکن کے اندر‘‘ واقع سبب ثقیل پر کیا جاتا ہے، اور صرف اس رکن میں تبدیلی پیدا کرتا ہے۔ اس کے آگے پیچھے واقع ارکان پر اس کا براہِ راست کوئی اثر نہیں ہوتا۔ جب کہ تسکینِ اوسط میں ’’دو ارکان کے درمیان‘‘ پیدا ہونے والے سبب ثقیل کو سبب خفیف میں بدلتے ہیں اور وہ عموماً پہلے رکن کا حصہ بن جاتا ہے۔ اس طرح ہر دو ارکان تبدیل ہو جاتے ہیں۔ 
بحرِ  رمل کی ایک مزاحف صورت ’’فاعلاتن فعلاتن فعلاتن فعلان؍فعلات‘‘ کو پروفیسر غضنفر نے بحرِ  ارمولہ کا نام دیا ہے۔ اس میں آخری رکن کو فِعلان، فَعِلات، فَعِلن، فِعلن وغیرہ بھی لکھتے ہیں۔ نئے نظام میں یہ ساتویں دائرے سے نکلنے والی ساتویں بنیادی بحر ہے، دائرے کے لحاظ سے اس کا متن ہے: ’’فاعلن فاعلتن فاعلتن فاعلتن‘‘ جس کا آخری رکن تصرف لطیف کے نتیجے میں ’’مفعولن‘‘ ہو سکتا ہے۔ یوں اس کی چار صورتیں بنتی ہیں ، جن کی تفہیم ہمارے نزدیک نسبتاً آسان ہے: (۱) فاعلن فاعلتن فاعلتن فاعلتن، (۲) فاعلن فاعلتن فاعلتن فاعلتان، (۳) فاعلن فاعلتن فاعلتن مفعولن، اور (۴) فاعلن فاعلتن فاعلتن مفعولات۔ یہاں اِن سب کو ہم بلاتفریق بحرِ  ارمولہ ہی کہیں گے کہ یہ بحر مثمن میں زیادہ مستعمل ہے۔ مثمن، مسدس وغیرہ کا لحاظ بہر طور رکھا جانا چاہئے۔ علامہ اقبال کی مشہور نظموں ’’شکوہ‘‘ اور ’’جواب شکوہ‘‘ کے علاوہ بانگِ درا میں شامل متعدد نظمیں اور غزلیں بحرِ  ارمولہ میں ہیں۔ تقطیع اور اُس کو بحرِ  ارمولہ پر منطبق کرنے کا کام ہم ان اسباق کے قاری پر چھوڑتے ہیں۔ 
ہے بلندی سے فلک بوس نشیمن میرا
ابرِ کوہسار ہوں ، گل پاش ہے دامن میرا
(ابرِ کوہسار)		
لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری
زندگی شمع کی صورت ہو خدایا میری
(بچے کی دعا)  ماخوذ		
صبح خورشیدِ درخشاں کو جو دیکھا میں نے
بزمِ معمورۂ ہستی سے یہ پوچھا میں نے
(انسان اور بزمِ قدرت)	
مضطرب رکھتا ہے میرا دل بے تاب مجھے
عین ہستی ہے تڑپ صورتِ سیماب مجھے
(موجِ دریا)		
جس طرح ڈوبتی ہے کشتیِ سیمینِ قمر
نورِ خورشید کے طوفان میں ہنگامِ سحر
(حسن و عشق)		
تجھ کو دزدیدہ نگاہی یہ سکھا دی کس نے
رمز آغازِ محبت کی بتا دی کس نے
(۔ ۔ ۔ کی گود میں بلی دیکھ کر)		
جب دکھاتی ہے سحر عارضِ رنگیں اپنا
کھول دیتی ہے کلی سینۂ زریں اپنا
(کلی)		
جلوۂ حسن کہ ہے جس سے تمنا بے تاب
پالتا ہے جسے آغوشِ تخیل میں شباب
اٹھ کہ ظلمت ہوئی پیدا افقِ خاور پر
بزم میں شعلہ نوائی سے اجالا کر دیں 
(عبدالقادر کے نام)	
میں ترے چاند کی کھیتی میں گہر بوتا ہوں 
چھپ کے انسانوں سے مانندِ سحر روتا ہوں 
(رات اور شاعر ۔ ۔ ۔ شاعر)		
خوش تو ہیں ہم بھی جوانوں کی ترقی سے مگر
لبِ خنداں سے نکل جاتی ہے فریاد بھی ساتھ
(تعلیم اور اس کے نتائج) تضمین بر شعرِ ملا عرشی		
اخترِ شام کی آتی ہے فلک سے آواز
سجدہ کرتی ہے سحر جس کو وہ ہے آج کی رات
رہِ یک گام ہے ہمت کے لئے عرشِ بریں 
کہہ رہی ہے یہ مسلمان سے معراج کی رات
(شبِ معراج)		
نالہ ہے بلبلِ شوریدہ ترا خام ابھی
اپنے سینے میں اسے اور ذرا تھام ابھی
(غزل)		
پردہ چہرے سے اٹھا انجمن آرائی کر
چشمِ مہر و مہ و انجم کو تماشائی کر
(غزل)		
پروفیسر غضنفر نے بحرِ  ارمولہ ہی کے نام سے ایک اور بحر بھی لکھی ہے: ’’فعلاتن فعلاتن فعلاتن فَعِلن‘‘ جس میں آخری فعلن کے مقابل فعلان بھی آ سکتا ہے۔ اس بحر کا منقولہ بالا بحرِ  ارمولہ ’’فاعلن فاعلتن فاعلتن فاعلتن‘‘ سے موازنہ کرنے سے پتہ چل جاتا ہے کہ ان میں صرف مصرع کی ابتداء میں ذرا سا فرق ہے: فَعِلن (فُعِلت) کے مقابل فاعلن، یا اولین ہجائے کوتاہ کے مقابل ہجائے بلند؛ باقی سب کچھ باہم متماثل ہے۔ یہ دونوں صورتیں ایک دوسرے کے مقابل آ سکتی ہیں۔ 
پانچویں دائرے (دائرہ مشتبہ) سے نو مسدس بحریں نکلتی ہیں ؛ادھر نویں دائرے (دائرہ متوافقہ) سے چھ مثمن بحریں نکلتی ہیں جن کے نام دائرہ مشتبہ سے نکلنے والی بحروں پر ہیں۔ ان میں سے ایک بحرِ  مضارع ہے۔ اس کے مختلف متون کو سامنے رکھ کر دیکھتے ہیں :۔ 
بحرِ  مضارع (دائرہ مشتبہ سے): 	مفاعیلن فاعلاتن مفاعیلن
بحرِ  مضارع (دائرہ متوافقہ سے):	مفاعیلن فاعلاتن مفاعیلن فاعلاتن
بحرِ  مضارع (پروفیسر غضنفر سے):	مفعول فاعلات مفاعیل فاعلن (یا فاعلان)
علم عروض کے طالب علم کے لئے یہاں پہلا مسئلہ تو یہ بن جاتا ہے کہ اِن میں سے کسے قبول کرے، کسے نہ کرے۔ قابلِ لحاظ بات یہ بھی ہے کہ دائرہ مشتبہ سے نکلنے والی کوئی بھی بحر اردو شاعری میں مستعمل نہیں ہے، ماسوائے کچھ تجرباتی شعری نمونوں کے۔ دائرہ متوافقہ سے حاصل شدہ بحور بھی اردو شاعری میں مانوس کے درجے کو نہیں پہنچیں (تجربات کی بات مختلف ہے)۔ پروفیسر غضنفر سے منقول بحرِ  مضارع البتہ اردو کے شعری مزاج سے لگا کھاتی ہے، اور مستعمل بھی ہے۔ ہمارے وضع کردہ چھٹے دائرے (دائرہ موتودہ) سے نکلنے والی چوتھی بحر ’’مفاعیل فاعلات مفاعیل فاعلات‘‘ کے پہلے رکن کا اولین حرف ’’م‘‘ منہا کر دینے سے مذکورہ بالا بحرِ  مضارع (از: پروفیسر غضنفر) ’’مفعول فاعلات مفاعیل فاعلات‘‘ حاصل ہوتی ہے جو اپنی اصل میں مثمن سالم ہے؛ ہم اسی کو بحرِ  مضارع تسلیم کرتے ہیں۔ تسکینِ اوسط کا تعارف پہلے ہو چکا۔ بحرِ  اہزوجہ سے بحرِ  مہزوج حاصل کرنے کا عمل بھی ہم کر چکے۔ اسی نہج پر بحرِ  مضارع مثمن سالم ’’مفعول فاعلات مفاعیل فاعلات‘‘ میں مصرع کے وسط میں تسکینِ اوسط، اور آخر میں ایک حرف کے اضافے کا حاصل ’’مفعول فاعلاتن مفعول فاعلاتن‘‘  بحرِ  ضروع مثمن سالم ہے۔ بانگ درا میں شامل تین غزلیں اور پچیس نظمیں بحر ضروع (بشمول بحرِ  مضارع: پروفیسر غضنفر) میں ہیں۔ کچھ نمونے ذیل میں درج کئے جا رہے ہیں ؛ ان کی تقطیع کرنا، اَب کے کچھ ایسا مشکل نہیں رہا ہو گا۔ 
آتا ہے یاد مجھ کو گزرا ہوا زمانہ
وہ باغ کی بہاریں وہ سب کا چہچہانا
(پرندے کی فریاد)		
پروانہ تجھ سے کرتا ہے اے شمع پیار کیوں 
یہ جانِ بے قرار ہے تجھ پر نثار کیوں 
(شمع و پروانہ)		
دنیا کی محفلوں سے اکتا گیا ہوں یارب
کیا لطف انجمن کا جب دل ہی بجھ گیا ہو
(ایک آرزو)		
پنہاں تہِ نقاب تری جلوہ گاہ ہے
ظاہر پرست محفلِ نو کی نگاہ ہے
(دردِ عشق)		
جگنو کی روشنی ہے کاشانۂ چمن میں 
یا شمع جل رہی ہے پھولوں کی انجمن میں 
(جگنو)		
چشتی نے جس زمیں میں پیغامِ حق سنایا
نانک نے جس چمن میں وحدت کا گیت گایا
(ہندوستانی بچوں کا گیت)		
گلزارِ ہست و بود نہ بیگانہ وار دیکھ
ہے دیکھنے کی چیز اے بار بار دیکھ
(غزل)		
ظاہر کی آنکھ سے نہ تماشا کرے کوئی
ہو دیکھنا تو دیدۂ دل وا کرے کوئی
(غزل)		
مجنوں سے شہر چھوڑا تو صحرا بھی چھوڑ دے
نظارے کی ہوس ہو تو لیلیٰ بھی چھوڑ دے
(غزل)		
جس کی نمود دیکھی چشمِ ستارہ بیں نے
خورشید میں قمر میں تاروں کی انجمن میں 
(سلیمیٰ)		
چین و عرب ہمارا، ہندوستاں ہمارا
مسلم ہیں ہم، وطن ہے سارا جہاں ہمارا
(ترانۂ ملی)	
کیوں میری چاندنی میں پھرتا ہے تو پریشاں 
خاموش صورتِ گل، مانندِ بو پریشاں 
(رات اور شاعر ۔ ۔ ۔ رات)		
سورج نے جاتے جاتے شامِ سیہ قبا کو
طشتِ افق سے لے کے لالے کے پھول مارے
(بزمِ انجم)		
مسلم سے ایک روز یہ اقبال نے کہا
دیوانِ جزو و کل میں ہے تیرا وجود فرد
(شبلی و حالی)		
اک دن رسولِ پاک ﷺ نے اصحابؓ سے کہا
دیں مال راہِ حق جو ہوں تم میں مال دار
(صدیقؓ)	
لکھا ہے ایک مغربیِ حق شناس نے
اہل قلم میں جس کا بہت احترام تھا
(بلالؓ)		
صف بستہ تھے عرب کے جوانانِ تیغ بند
تھی منتظر حنا کی عروسِ زمینِ شام
(جنگِ یرموک کا ایک واقعہ)		
ہم اپنے نو مشق قارئین سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ ان اسباق میں نقل کئے گئے اشعار کی تقطیع خود بھی کریں۔ خطی تشکیل کا طریقہ اختیار کرنا مفید تر ثابت ہو گا۔ اپنے زیرِ مطالعہ آنے والی شاعری کے دیگر نمونوں کی مشق بھی کریں۔ 
٭٭٭



پانچواں سبق:  کچھ مزید بحریں 

تیسرے اور چوتھے سبق میں ہم نے بحرِ  نغمہ، بحرِ  مرغوب اور بحرِ  زمزمہ ، بحرِ  اہزوجہ، بحرِ  مہزوج، بحرِ  ارمولہ اور بحرِ  ضروع کا مطالعہ کیا۔ اس سبق میں ہم بحرِ  متزاج اور بحرِ  ترانہ کا جائزہ لیں گے، پہلے بحرِ  مزدَوِج کو ایک نظر دیکھتے چلیں۔ 
 بحرِ  ضروع کے متن ’’مفعول فاعلاتن مفعول فاعلاتن‘‘ میں ’’مفعول‘‘ کی ف کو متحرک کرنے سے فعلات حاصل ہوا۔ یہ بحرِ  مزدوج ہے: ’’فَعِلات فاعلاتن فَعِلات فاعلاتن‘‘۔ یہ بحر بھی مانوس بحروں میں شمار کی جاتی ہے۔ اِس بحر میں اقبال کے کچھ اشعار ملاحظہ ہوں :۔ 
یہ پیام دے گئی ہے مجھے بادِ صبح گاہی
کہ خودی کے عارفوں کا ہے مقام پادشاہی
تری زندگی اسی سے تری بندگی اسی سے
جو رہی خودی تو شاہی، نہ رہی تو رو سیاہی
مرے حلقۂ سخن میں ابھی زیرِ تربیت ہیں 
وہ گدا کہ جانتے ہیں رہ و رسمِ کج کلاہی
یہ معاملے ہیں نازک جو تری رضا ہو تو کر
کہ مجھے تو خوش نہ آیا یہ طریقِ خانقاہی
تو عرب ہو یا عجم ہو ترا لا الٰہ اِلّا
لغتِ غریب جب تک ترا دل نہ دے گواہی
اقبال (بالِ جبریل)		
نہ رقیب ہم، نہ ناصح، نہ ہی راز داں ، نہ قاصد
تری داستانِ الفت، تری ذات تک ہی اچھی
(محمد یعقوب آسیؔ)		
 بحرِ  متزاج : لفظ متزاج کا ماخذ ’’زوج‘‘ ہے یعنی جوڑا۔ علمائے عروض کے ہاں یہ دو متوازی بحریں ہیں : ’’ فاعلتن مفاعلن فاعلتن مفاعلن‘‘ اور ’’ فاعلتن مفاعلات فاعلتن مفاعلات‘‘۔ باریک بینی سے مطالعہ کیا جائے تو اِن دو میں سے ضمنی طور پر دو مزید صورتیں نکلتی ہیں۔ گویا بحرِ  متزاج کی مندرجہ ذیل چار صورتیں ہیں جوکسی بھی فن پارے میں بلا اکراہ جمع کی جا سکتی ہیں :۔ 
	۱۔ ’’فاعلتن مفاعلن فاعلتن مفاعلن‘‘
	۲۔ ’’ فاعلتن مفاعلات فاعلتن مفاعلات‘‘
	۳۔ ’’ فاعلتن مفاعلن فاعلتن مفاعلات‘‘
	۴۔ ’’ فاعلتن مفاعلات فاعلتن مفاعلن‘‘
لوح بھی تو قلم بھی تو تیرا وجود الکتاب
گنبدِ آبگینہ رنگ تیرے محیط میں حباب
شوکتِ سنجر و سلیم تیرے جلال کی نمود
فقرِ جنید و با یزید تیرا جمالِ بے نقاب
شوق ترا اگر نہ ہو میری نماز کا امام
میرا قیام بھی حجاب میرا سجود بھی حجاب
تیری نگاہِ ناز سے دونوں مراد پا گئے
عقل غیاب و جستجو، عشق حضور و اضطراب
(اقبال)		
عشق نے کر دیا تجھے ذوقِ تپش سے آشنا
بزم کو مثلِ شمعِ بزم حاصلِ سوز و ساز دے
اقبال (پیام)		
اوروں کا ہے پیام اور میرا پیام اور ہے
عشق کے درد مند کا طرزِ کلام اور ہے
اقبال (طلبۂ علی گڈھ کالج کے نام)		
فرقتِ آفتاب میں کھاتی ہے پیچ و تاب صبح
چشمِ شفق ہے خوں فشاں ، اخترِ شام کے لئے
اقبال (کوششِ  ناتمام)		
جوئے سرود آفریں آتی ہے کوہسار سے
پی کے شرابِ لالہ گوں ، مے کدۂ بہار سے
اقبال (شاعر)		
یاد رہے کہ علامہ کی مشہور نظم ’’مسجدِ قرطبہ‘‘ (مشمولہ: بالِ جبریل) بحرِ  متزاج میں نہیں ، تاہم اس کے بہت قریب ہے اور بحرِ  متزاج سے اِشکال عین ممکن ہے۔  
بحرِ  ترانہ: یہ بحرِ  ہزج سے ماخوذ ہے۔ پروفیسر غضنفر کے ہاں اس کے بارہ اوزان مذکور ہیں ؛ مفعول مفاعیل فعولن فعلن، مفعول مفاعیل فعولن مفعول وغیرہ۔ مزید یہ کہ ان سب میں مفعول کی جگہ مفاعلن آ سکتا ہے۔ یوں یہ کل چوبیس اوزان ہو گئے جو ایک دوسرے کے مقابل آ سکتے ہیں۔ یہ سب رباعی کے اوزان ہیں ، ان پر ہم نے فاعلات میں ایک الگ باب باندھا ہے۔ یہاں ہم عطاء الرحمٰن قاضی کی دو رباعیاں نقل کر رہے ہیں :۔ 
دیکھا یہ کسے شام کنارے خاموش
سینے میں سلگ اٹھا شرارِ خاموش
حد سے جو ہوئی ہوائے وحشی گستاخ
سب طائرِ خاموش پکارے، خاموش
وہ پیاس تھی پنگھٹ کو ترستے دیکھا
سناٹے میں آہٹ کو ترستے دیکھا
ہاتھوں کی بنا اوک، مے آشاموں کو
مے خانے میں تلچھٹ کو ترستے دیکھا
٭٭٭



چھٹا سبق:  ذاتی بحر اور توازن


مشاہدے اور تجربے کی بات ہے کہ عروضی مطالعے کے لئے غزل کے اشعار بہترین مواد فراہم کرتے ہیں۔ تجزیے کے لئے ہمیں سب سے پہلے یہ معلوم ہونا چاہئے کہ فلاں غزل یا شعر کو کس بحر میں پورا اترنا ہے، یا یہ غزل کس بحر میں کہی گئی ہے۔ اس کو ’’ذاتی بحر ‘‘ کا تعین کہا جاتا ہے، اور غزل کا مطلع اس عمل کے لئے مثالی شعر کی حیثیت رکھتا ہے۔ 
سرِ شام ہے جو بجھا بجھا یہ چراغِ دل
دمِ صبح پاؤ گے اطلاعِ فراغِ دل
شبِ تار بھی مرا راہبر بھی ہے بے جہت
کوئی لو تو دے، ذرا جگمگا، مرے داغِ دل
وہ نگاہِ ناز ہے مہرباں ، رہے احتیاط
اے وفورِ شوق چھلک نہ جائے ایاغِ دل
جب یہ طے ہو گیا کہ (مثال کے طور پر) مندرجہ بالا غزل کا مطلع بحر کامل مسدس سالم ’’متفاعلن متفاعلن متفاعلن‘‘ میں ہے، تب اس غزل پر بات کرتے وقت بار بار بحر کا نام یا ارکان دہرانے کی بجائے یہ کہہ دینا کافی ہے کہ فلاں شعر یا مصرع ذاتی بحر سے خارج ہے؛ یا یہ ساری غزل ذاتی بحر پر پوری اتر رہی ہے؛ وغیرہ وغیرہ۔ یہاں ذاتی بحر سے مراد ہو گا: بحر کامل مسدس سالم ’’متفاعلن متفاعلن متفاعلن‘‘ ؛ لہٰذا بار بار الفاظ ’’بحر کامل مسدس سالم‘‘ یا ’’متفاعلن متفاعلن متفاعلن‘‘دہرانے کی ضرورت نہیں۔ مزید برآں ہم جب یہ کہتے ہیں کہ دوسرا شعر ذاتی بحر پر پورا اتر رہا ہے، جب کہ تیسرے شعر کا پہلا مصرع: ’’وہ نگاہِ ناز ہے مہرباں ، رہے احتیاط‘‘ غزل کی ذاتی بحر سے ایک حرف کے برابر بڑا ہے (یا، اِس میں آخری حرف ’’ط‘‘ ذاتی بحر سے زائد ہے)؛ تو ہم ’’توازن‘‘ کی بات کر رہے ہوتے ہیں۔ توازن اس کیفیت کا نام ہے کہ وہ شعر یا مصرع جسے ہم پرکھ رہے ہیں وہ متعلقہ فن پارے کی ذاتی بحر پر کہاں تک پورا اترتا ہے۔ 
گزشتہ اسباق میں یہ بتایا جا چکا ہے کہ بہت ساری بحور میں سالم کے مقابل مقصور لانا جائز ہے اور مقصور کے مقابل محذوف؛ تاہم سالم کے مقابل محذوف لانا مستحسن نہیں ہے۔ سالم، مقصور اور محذوف کی وضاحت پہلے آ چکی ہے۔ آئیے، کسی قدر تفصیل سے دیکھتے ہیں :۔ 
 توازن کی متعدد صورتوں میں اولین تو مکمل توازن ہے۔ مثال بالا میں مطلع اور اس کے بعد والے شعر کو ارکان کے مطابق توڑ کر لکھیں تو:
سرِ شام ہے (متفاعلن) جو بجھا بجھا (متفاعلن)  یہ چراغِ دل (متفاعلن)
دمِ صبح پا (متفاعلن) ؤ گے اطلا (متفاعلن) عِ فراغِ دل (متفاعلن)
شبِ تار بھی (متفاعلن) مرا راہبر (متفاعلن) بھی ہے بے جہت (متفاعلن)
کوئی لو تو دے (متفاعلن) ذرا جگمگا (متفاعلن) مرے داغِ دل (متفاعلن)
یاد دلا دیں کہ اس غزل کی ذاتی بحر ہے:  ’’بحر کامل مسدس سالم‘‘ یعنی ’’متفاعلن متفاعلن متفاعلن‘‘، اور اوپر والے چاروں مصرعے اس پر ٹھیک پورے اتر رہے ہیں ، اس کو مکمل توازن کہا جاتا ہے۔ تیسرا شعر دیکھئے:۔ 
وہ نگاہِ نا (متفاعلن) ز ہے مہرباں (متفاعلن) رہے احتیاط (متفاعلات)
اے وفورِ شو (متفاعلن) ق چھلک نہ جا (متفاعلن) ئے ایاغِ دل (متفاعلن)
  اس شعر کے پہلے مصرع میں ذاتی بحر کے آخری رکن متفاعلن کے مقابل متفاعلات آیا ہے (یعنی بالکل آخر میں ایک حرف زائد)۔ اس کو ہم نے فاعلات میں ’’مَدِّ اَصغر‘‘ کہا ہے۔ اس کی عام اجازت ہے،بلکہ تقطیع میں بسا اوقات مدِّ اصغر غیر مذکور ہوتا ہے۔ اساتذہ کے ہاں بھی اس کی بے شمار مثالیں ملتی ہیں ، استاد ابراہیم ذوقؔ کا یہ شعر دیکھئے:۔ 
نہ ہوا پر نہ ہوا میرؔ کا انداز نصیب
ذوقؔ یاروں نے بہت زور غزل میں مارا
  اس غزل کی ذاتی بحر ہے: ’’فاعلن فاعلتن فاعلتن فاعلتن‘‘ یعنی بحرِ  ارمولہ، جس میں آخری فاعلتن کے مقابل مفعولن آ سکتا ہے۔ اِس شعر کی تقطیع کر کے دیکھتے ہیں۔ 
نَ
ہُ
وا
پر
نَ ہُ
وا
می
ر کَ
اَن
دا
ز نَ
صی
ب
۰
۰
۱
۱
۰۰
۱
۱
۰۰
۱
۱
۰۰
۱
۰
فَ
عِ
لُن
فا
ع ل
تن
فا
ع ل
تن
فا
ع ل
تا
ن
ذو
ق
یا
روں 
ن ب
ہت
زو
رغَ
زل
میں 
ما
را
۔ 
۱
۰
۱
۱
۰۰
۱
۱
۰۰
۱
۱
۱
۱
۔ 
فا
ع
لُن
فا
ع ل
تن
فا
ع ل
تن
مف
عو
لُن
۔ 

لفظ ’’نہ‘‘ نافیہ کے بارے میں جان لیجئے کہ اس کو اساتذہ نے ہمیشہ یک حرفی (ہجائے کوتاہ) باندھا ہے۔ اگر کہیں دو حرفی (ہجائے بلند) باندھے بغیر بات بنی نہیں وہاں اس کی جگہ فارسی کا ہم معنی لفظ ’’نے‘‘ لائے ہیں :۔ 
نہ تخت و تاج میں نے لشکرو سپاہ میں ہے
جو بات مردِ قلندر کی بار گاہ میں ہے
فعول فاعلتن فاعلات فاعلتن
 فارسی میں ’’نے‘‘ کا ایک معنی بانسری بھی ہے مگر اِن دونوں شعروں میں ’’نے‘‘ ہر جگہ ’’نہ‘‘ نافیہ کے معانی میں آیا ہے۔ 
زیرِ بحث شعر (نہ ہوا پر نہ ہوا۔ ۔ ۔ ۔ ) میں ایک تو وہی مد اصغر ہے؛دوسرا تھوڑا سا فرق پہلے مصرعے کے شروع میں ہے۔ ذاتی بحر کے رکن فاعلن کے مقابل استاد ذوق ’’فَعِلُن‘‘ لائے ہیں۔ ایسا تصرف عموماً وہاں جائز سمجھا جاتا ہے جہاں مصرعے کی ابتداء سببِ خفیف سے ہو رہی ہو؛ وہاں پہلے سببِ خفیف (ہجائے بلند) کے مقابل ایک حرف (ہجائے کوتاہ) لایا جا سکتا ہے، بشرطیکہ نتیجے میں دو سے زیادہ ہجائے کوتاہ متواتر نہ آئیں۔ یہ بھی عام طور پر غیر مذکور ہوتا ہے، یعنی تقطیع میں اِس کو واضح طور پر بیان کیا جانا لازمی نہیں۔ تصرف کی اس صورت کی کچھ مزید مثالیں دی جا رہی ہیں :۔ 
خبر اقبال کی لائی ہے گلستاں سے نسیم
نو گرفتار تڑپتا ہے تہِ دام ابھی

خ
ب
رِق
با
ل ک
لا
ئی
ہ گ
لِس
تاں 
س ن
سی
م
۰
۰
۱
۱
۰۰
۱
۱
۰۰
۱
۱
۰۰
۱
۰
فَ
عِ
لُن
فا
ع ل
تن
فا
ع ل
تن
فا
ع ل
تا
ن
نو
گ
رِف
تا
ر ت
ڑپ
تا
ہ ت
ہے
دا
م ا
بھی
۔ 
۱
۰
۱
۱
۰۰
۱
۱
۰۰
۱
۱
۰۰
۱
۔ 
فا
ع
لن
فا
ع ل
تن
فا
ع ل
تن
فا
ع ل
تن
۔ 
بحر ارمولہ میں یہ تصرف (مصرع کے شروع میں ہجائے بلند کے مقابل ہجائے کوتاہ لانا) بہت عام ہے۔ ایک اور مثال دیکھئے:۔ 
بڑی باریک نظر رکھتے ہیں اچھے پاگل
پاگلو بات کی تہہ کو نہیں پہنچے؟ پاگل
کبھی تو اپنے ہی افکار سے خوف آتا ہے
کبھی ہم خود کو سمجھ لیتے ہیں جیسے پاگل
اس میں پہلے شعر کا پہلا، اور دوسرے شعر کے دونوں مصرعوں کے شروع میں غزل کی ذاتی بحر (بحر ارمولہ) کے پہلے رکن فاعلن کے مقابل فَعِلُن لایا گیا ہے۔ گزشتہ اسباق میں ہم نے دیکھا کہ بحر کے اندر بھی اس طرح کا تصرف روا رکھا جاتا ہے، مثلا ً بحرِ  متزاج کا ذکر پانچویں سبق میں ہو چکا، اس کی چار صورتوں میں سے دو میں مصرع کے اندر ایک ہجائے کوتاہ کا فرق روا رکھا گیا ہے؛ مثالیں بھی آ چکیں۔ 
 ذاتی بحر کے بارے میں ، جیسا کہ بات ہو چکی، مطلع کی بحر کو ذاتی بحر قرار دینا سب سے آسان اور معتبر ہوتا ہے۔ اگر کہیں مطلع دستیاب نہ ہو تو وہاں شعر کے دوسرے مصرعے کی بحر کو ذاتی بحر سمجھا جائے گا۔ ایک غزل کے تمام شعروں کا ہم قافیہ ہونا چونکہ لازمی ہے، لہٰذا مصرع ہائے ثانی میں فرق کا امکان تقریباً صفر ہوتا ہے۔ اگر کہیں شک و شبہ پیدا ہو جائے اور مطلع بھی دستیاب نہ ہو تو ایسے میں غزل کے دو، تین، چار شعروں کو یک جا کر کے دیکھا جا سکتا ہے۔ قاعدہ یہی ہے کہ ایک اکیلے مصرعے کی بنیاد پر ذاتی بحر کا تعین نہ کیا جائے کہ اس میں بہت سے احتمالات ہو سکتے ہیں۔ تقطیع نگار کی اپنی ترجیحات بہر حال اہم ہیں۔ تصرف لطیف میں ہم سببِ ثقیل اورسببِ خفیف کو باہم مقابل لا سکتے ہیں ، اور اس سے بالعموم بحر پر کوئی فرق نہیں پڑتا جیسے رباعی کی بحر (بحرِ  ترانہ)، بحرِ  ارمولہ وغیرہ۔ تاہم ایک امر کا دھیان رہنا چاہئے کہ ایسا تصرف کبھی کبھی بحر کو سرے سے تبدیل بھی کر سکتا ہے۔ مثلاً بحرِ  کامل میں اس کے رکن ’’متفاعلن‘‘ (۱۰۱۰۰) کے اولین سببِ ثقیل ’’مُ تَ‘‘ کو ہر جگہ سببِ خفیف سے بدل دیں تو ’’مستفعلن‘‘ (۱۰۱۱) بنا اور بحر بدل کر بحرِ  رجز بن گئی۔ بحرِ  ہزج کے رکن ’’مفاعیلن‘‘ (۱۱۱۰) کے دوسرے سببِ خفیف کو سببِ ثقیل میں بدلا تو ’’مفاعلتن‘‘ (۱۰۰۱۰) حاصل ہوا جو بحرِ  وافر کا رکن ہے۔ ہر رکن کو بدل دیا تو بحر ہی بدل گئی ؛ و علیٰ ہٰذا القیاس۔ اس طرح کے تصرفات سے صرفِ نظر ممکن نہیں۔ 
ہمارے مطالعے میں ایک ایسی غزل بھی آئی ہے جس کے مطلع کی بنیاد پر بھی ذاتی بحر کا تعین نہیں ہو سکتا۔ یہاں ہم اپنے مشاہدات اور محسوسات میں بھی اپنے قارئین کو شامل کرنا چاہیں گے۔ ڈاکٹر اشفاق احمد وِرک کی یہ غزل ملاحظہ ہو:۔ 
ہمارا جسم بھی ہم سے رہائی چاہتا ہے
نمودِ خاک ہے لیکن خدائی چاہتا ہے
مکانِ جسم پر اِس دل کی دستکیں بھی سنو
خوشی سے رقص میں ہے یا رہائی چاہتا ہے
اسیرِ نفس ہے کوئی کہ خواہشوں کا غلام
ہر ایک شخص یہاں پارسائی چاہتا ہے
یہ میرا دل تو مرے پاؤں پڑ گیا کل شام
یہ مجھ سے بڑھ کے ترے ہاں رسائی چاہتا ہے
ہے مختصر کہ مرا دل اداس رہتا ہے
وفا کے قحط میں یہ دل ربائی چاہتا ہے
(بہ شکریہ: سہ ماہی ’’کارواں ‘‘ بہاول پور)		
پہلی خواندگی میں ہم نے دو شعروں کو یوں پڑھا:۔ 
ہمارا جس (مفاعیلن) م بھی ہم سے (مفاعیلن) رہائی چا (مفاعیلن) ہتا ہے (فعولن)
نمودِ خا (مفاعیلن) ک ہے لیکن (مفاعیلن) خدائی چا (مفاعیلن) ہتا ہے (فعولن)
مکانِ جسم پر اِس دل کی دستکیں بھی سنو (یہ مصرع بحر ہزج مثمن محذوف میں نہیں آتا)
خوشی سے رق (مفاعیلن) ص میں ہے یا (مفاعیلن) رہائی چا (مفاعیلن) ہتا ہے (فعولن)
دوسرے شعر کا پہلا مصرع ’’فعول فاعلتن فاعلات فاعلتن‘‘ (بحرِ  مجتث مثمن)  پر پورا اترتا ہے، ملاحظہ ہو:۔ 
مکانِ (فعول) جسم پر اِس (فاعلتن) دل کی دست (فاعلات) کیں بھی سنو (فاعلتن)
خوشی سے (فعول) رقص میں ہے (فاعلتن) یا رہائی (فاعلات) چاہتا ہے (فاعلتن)
یہاں پہنچ کر ہم پر کھلا کہ دوسرے شعر کا دوسرا مصرعہ اس بحر پر بھی پورا اُتر رہا ہے۔ کیوں نہ مطلع کو پھر سے دیکھا جائے!۔ 
ہمارا (فعول) جسم بھی ہم (فاعلتن) سے رہائی (فاعلات) چاہتا ہے (فاعلتن)
نمودِ (فعول) خاک ہے لے (فاعلتن) کن خدائی (فاعلات) چاہتا ہے (فاعلتن)
یہ تو اِس بحر میں بھی پورا ہے!!۔ غزل کے باقی تمام اشعار بھی بحر مجتث مثمن پر پورے اترتے ہیں۔ 
اسیرِ (فعول) نفس ہے کو (فاعلتن) ئی کہ خواہ (فاعلات) شوں کا غلام (فاعلتان)
ہر ایک (فعول) شخص یہاں (فاعلتن) پارسائی (فاعلات) چاہتا ہے (فاعلتن)
یہ میرا (فعول) دل تو مرے (فاعلتن) پاؤں پڑ گ (فاعلات) یا کل شام (فاعلتان)
یہ مجھ سے (فعول) بڑھ کے ترے (فاعلتن) ہاں رسائی (فاعلتن) چاہتا ہے (فاعلتن)
ہے مخت (فعول) صر کہ مرا (فاعلتن) دل اداس (فاعلتن) رہتا ہے (مفعولن)
وفا کے (فعول) قحط میں یہ (فاعلتن) دل ربائی (فاعلات) چاہتا ہے (فاعلتن)
اس تجزیے سے ظاہر ہوا کہ ڈاکٹر ورک کی اس غزل کی ذاتی بحر ہزج مثمن محذوف نہیں ، بلکہ بحر مجتث مثمن:’’فعول فاعلتن فاعلات فاعلتن‘‘  ہے جس میں آخری فاعلتن کے مقابل فاعلتان، مفعولن یا مفعولات آ سکتا ہے۔ ادھر مطلع کے دونوں مصرعے اور دوسرے شعر کا دوسرا مصرع بحرِ  ہزج مثمن محذوف پر بھی پورے اترتے ہیں۔ ایسے شعر اور مصرع کو جو بیک وقت دو، دو بحروں پر پورا اترے؛ ’’ذو بحر ین‘‘ کہا جاتا ہے (یعنی دو بحروں والا)۔ ہمارا اپنا خیال ہے کہ ذوبحر ین شعر کی تخلیق غیر شعوری طور پر ہوتی ہے، قصداً یہ ناممکن ہے؛ کوئی استاذ الاساتذہ ہو تو ہو!۔ 
٭٭٭


ساتواں سبق: بنیادی بحریں 

علم عروض میں دائرہ کا تصور قریب قریب وہی ہے جو ریاضی میں ہوتا ہے۔ ہم دائرے کے محیط پر کسی ایک نقطے سے سفر شروع کریں تو محیط پر واقع مختلف مقامات سے ہوتے ہوئے اسی نقطے پر پہنچ جاتے ہیں جہاں سے سفر شروع ہوا تھا۔ پھر بھی اگر سفر جاری رکھنا مقصود ہو تو ہمیں بارِ دگر انہی مقامات سے اسی ترتیب میں گزرنا ہو گا۔ عروضی دائروں میں بھی ایسا ہوتا ہے؛ یہاں ہم لفظ ’’نقطہ‘‘ کی بجائے ’’جزو‘‘ لاتے ہیں۔ اور عروضی دائروں میں ہمارا سفر ایک مصرع میں ارکان کی مطلوبہ تعداد پوری ہونے تک جاری رہتا ہے۔ بحر کے کوائف میں سب سے پہلے بحر کا نام ہوتا ہے، اس کے بعد ارکان کا معدد ، اور پھر اس بحر میں نافذ کردہ زحافات (اگر کوئی ہوں )۔ جہاں کوئی زحاف لاگو نہ ہوا ہو، وہاں بحر کے کوائف کے آخر میں لفظ ’’سالم‘‘ لکھ دیتے ہیں۔ ارکان کا عدد رسماً دو مصرعوں کی بنیاد پر لکھا جاتا ہے اور بحر کا عروضی متن ایک مصرعے کی بنیاد پر۔ یعنی مربع (چار والی) سے مراد وہ بحر ہے جس کے ایک مصرعے میں دو رکن ہوں ؛ مسدس (چھ والی) سے مراد ایک مصرعے میں تین رکن؛ اور مثمن (آٹھ والی) سے مراد ایک مصرعے میں چار رکن والی بحر ہے (عربی میں اس سے زیادہ کا رواج نہیں رہا ہو گا)۔ فارسی میں معشر (دس والی) بحر بھی مستعمل ہے جس کے ایک مصرعے میں پانچ رکن ہوتے ہیں ؛ جب کہ اردو میں اس سے زیادہ ارکان کی بحور بھی مستعمل ہیں ؛ مثلاً: بارہ رکنی (ایک مصرع چھ رکن کا)، چودہ رکنی (ایک مصرع سات رکن کا)، سولہ رکنی (ایک مصرع آٹھ رکن کا)، اٹھارہ رکنی (ایک مصرع نو رکن کا)، و علیٰ ہٰذا القیاس۔ 
اس سبق میں ہم عروضی دائروں اور ان سے براہِ راست حاصل ہونے والی بحور کا مختصر تعارف پیش کریں گے۔ ہمارے پاس اس وقت کل نو دائرے ہیں ؛ پانچ بنیادی عربی دائرے، دو نئے دائرے، دو عجمی دائرے۔ پہلے پانچ دائرے عربی عروض سے لئے گئے ہیں ، دائرہ نمبر ۶، اور ۷ ہمارے وضع کردہ ہیں ،تین عجمی دوائر میں سے ہم نے دو دائرے منتخب کئے ہیں اور اُن کو دائرہ نمبر ۸، اور ۹ دیا ہے۔ ان کی ترتیب کو ذہن میں رکھ لیجئے، اپنے آئندہ مباحث میں ان دائروں کا نام یا نمبر (حسبِ موقع) استعمال ہو گا۔ ایک خاص عمل نوٹ کیجئے گا کہ ہم نے اس فہرست میں شامل بحور کے روایتی ناموں کے ساتھ تین ہندسوں پر مشتمل ایک ’’عدد‘‘ کا اضافہ کیا ہے، جسے ہم نے ’’شماریہ‘‘ کا نام دیا ہے۔ یہ عمل در اصل عروض کو کمپیوٹر سے ہم آہنگ کرنے کی طرف پہلا قدم ہے، تاہم اس کا ایک بڑا فائدہ یہ ہوا کہ بحروں کے رسمی ناموں کی نسبت شماریہ کو یاد رکھنا اور اس کی فوری تفہیم بہت آسان ہو گئی۔ شماری نظام کا تفصیلی تعارف فاعلات میں شامل ہے، یہاں ہم دوائر اور اُن سے ماخوذ بنیادی بحور کا سادہ تعارف پیش کر رہے ہیں۔ 

 دائرہ نمبر ۱ (دائرہ مختلفہ)فعولن مفاعیلن فعولن مفاعیلن (۱۱۰۔ ۱۱۱۰۔ ۱۱۰۔ ۱۱۱۰)۔ 
عروضی متن سے ہم جان لیتے ہیں کہ اس دائرے کے چار ارکان ہیں ؛ رکن ’’فعولن‘‘ ایک وتد مجموع: فعو(۱۰) اور ایک سببِ خفیف: لُن (۱) کا مرتب مجموعہ ہے۔ اور ’’ مفاعیلن‘‘ میں ترتیب وار ایک وتد مجموع: مفا (۱۰) اور دو سببِ خفیف: عی اور لُن (۱۱) شامل ہیں۔ یوں دائرے میں کل اجزاء کی تعداد دَس ہوئی؛ خطی تشکیل (۱۰، ۱، ۱۰، ۱، ۱، ۱۰، ۱، ۱۰، ۱، ۱)۔ 
دائرہ مختلفہ سے مندرجہ ذیل پانچ بحریں نکلتی ہیں جو اصلاً مثمن ہیں (یعنی ایک مصرع کا عروضی متن چار ارکان )۔ 
بحر طویل (۱۱۴):	فعولن مفاعیلن فعولن مفاعیلن 	(۱۱۰۔ ۱۱۱۰۔ ۱۱۰۔ ۱۱۱۰)
بحر مدید (۱۲۴):	فاعلاتن فاعلن فاعلاتن فاعلن 	(۱۱۰۱۔ ۱۰۱۔ ۱۱۰۱۔ ۱۰۱)
بحر عریض (۱۳۴):	 مفاعیلن فعولن مفاعیلن فعولن 	(۰ااا۔ ۰اا۔ ۰ااا۔ ۰اا)
بحر بسیط (۱۴۴):	مستفعلن فاعلن مستفعلن فاعلن 	(۱۰۱۱۔ ۱۰۱۔ ۱۰۱۱۔ ۱۰۱)
بحر عمیق (۱۵۴):	 فاعلن فاعلاتن فاعلن فاعلاتن 	(۱۰۱۔ ۱۱۰۱۔ ۱۰۱۔ ۱۱۰۱)
شماریہ کی تفہیم: انتہائی بائیں طرف کا ہندسہ: دائرے کا نمبر (یہاں :۱)، درمیان والا ہندسہ: دائرے میں اس جزو کا نمبر ہے جس سے بحر شروع ہو رہی ہے ( یہاں :۱، ۲، ۳، ۴، اور ۵)، دائیں طرف کا ہندسہ: ایک مصرع میں ارکان کی تعداد (یہاں : ۴)۔ سو، بحر کا شماریہ دیکھتے ہی؛ مثلاً (۱۴۴)، ہم یہ جان گئے کہ بحر کا نام بھلے جو بھی ہے، یہ پہلے دائرے کے چوتھے جزو سے شروع ہوتی ہے اور اس کے ایک مصرعے میں چار رکن پورے آتے ہیں۔ دائرے کو دیکھ کر ہم اس بحر کے عروضی متن کا تعین پورے اعتماد کے ساتھ کر سکتے ہیں۔ مستفعلن فاعلن مستفعلن فاعلن؛ یہ بحر بسیط مثمن سالم ہے۔ اسی قیاس پر شماریہ ۱۴۳کی حامل بحر بسیط مسدس سالم مستفعلن فاعلن مستفعلن ہو گی۔ شماری نظام کی بنیادی غایت علم عروض کو کمپیوٹر پروگرامنگ سے ہم آہنگ کرنے کے لئے اشارات کا تعین ہے، جزئیات میں دل چسپی رکھنے والے احباب فاعلات کا مطالعہ کریں۔  

دائرہ نمبر ۲ (دائرہ مؤتلفہ) متفاعلن متفاعلن متفاعلن (۱۰۱۰۰۔ ۱۰۱۰۰۔ ۱۰۱۰۰)
 اس دائرے کے چار ارکان ہیں ؛ رکن ’’متفاعلن‘‘ ایک فاصلہ: متفا (۱۰۰) اور ایک وتد مجموع:علن(۱۰) کا مرتب مجموعہ ہے۔ یوں دائرے میں کل اجزاء کی تعداد چھ ہوئی؛ خطی تشکیل (۱۰۰، ۱،۰ ۱۰، ۱۰، ۱۰۰، ۱۰)۔ 
دائرہ مؤتلفہ سے دو بحریں نکلتی ہیں جو اصلاً مسدس ہیں ( ایک مصرع کا عروضی متن تین ارکان )۔ 
بحر کامل (۲۱۳):	متفاعلن متفاعلن متفاعلن	(۱۰۱۰۰۔ ۱۰۱۰۰۔ ۱۰۱۰۰)
بحر وافر (۲۲۳):	مفاعلتن مفاعلتن مفاعلتن	(۱۰۰۱۰۔ ۱۰۰۱۰۔ ۱۰۰۱۰)

دائرہ نمبر ۳ (دائرہ مجتلبہ) مفاعلین مفاعیلن مفاعیلن (۱۱۱۰۔ ۱۱۱۰۔ ۱۱۱۰)
اس کے تین ارکان ہیں۔ رکن ’’مفاعیلن‘‘ ایک وتد مجموع: مفا (۱۰) اور دو سببِ خفیف: عی اور لُن (۱۱) کا مرتب مجموعہ ہے۔ اس طرح دائرے میں کل اجزاء کی تعداد نو ہوئی؛ خطی تشکیل (۱۰، ۱، ۱، ۱۰، ۱، ۱، ۱۰، ۱، ۱)۔ 
دائرہ مجتلبہ سے تین مسدس بحریں نکلتی ہیں۔ 
بحر ہزج (۳۱۳):	مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن 	(۱۱۱۰۔ ۱۱۱۰۔ ۱۱۱۰)		
بحر رجز (۳۲۳)	مستفعلن مستفعلن مستفعلن	(۱۰۱۱۔ ۱۰۱۱۔ ۱۰۱۱)
بحر رمل (۳۳۳)	فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن		(ا۱۱۰۔ ۱۱۰۱۔ ۱۱۰۱)
 ان تینوں بحروں کا شمار اردو شاعری میں مانوس بحروں کا میں ہوتا ہے۔ اشعار کی تقطیع کی مثالیں دوسرے سبق میں آ چکی ہیں۔ 

دائرہ نمبر ۴ (دائرہ متفقہ) فعولن فعولن فعولن فعولن (۱۱۰۔ ۱۱۰۔ ۱۱۰۔ ۱۱۰)
اس کے چار ارکان ہیں۔ رکن ’’فعولن‘‘ ایک وتد مجموع: مفا (۱۰) اورایک سببِ خفیف: لُن (۱) کا مرتب مجموعہ ہے۔ اس دائرے میں کل اجزاء کی تعداد آٹھ ہوئی؛ خطی تشکیل یہ ہے: (۱۰، ۱، ۱۰، ۱، ۱۰، ۱، ۱۰، ۱)۔ 
دائرہ مجتلبہ سے دو مثمن بحریں نکلتی ہیں۔ 
بحر متقارب (۴۱۴):	فعولن فعولن فعولن فعولن		(۱۱۰۔ ۱۱۰۔ ۱۱۰۔ ۱۱۰)
بحر متدارک (۴۲۴):	فاعلن فاعلن فاعلن فاعلن	(۱۰۱۔ ۱۰۱۔ ۱۰۱۔ ۱۰۱)
 ان دونوں بحروں کا تعارف اور تقطیع کی مثالیں بھی دوسرے سبق میں آ چکی ہیں۔ 

دائرہ نمبر ۵ (دائرہ مشتبہ) مفعولات مستفعلن مستفعلن (۰۱۱۱۔ ۱۰۱۱۔ ۱۰۱۱)
اس کے تین ارکان اور نو اجزاء ہیں (۱، ۱، ۰۱، ۱، ۱، ۱۰، ۱، ۱، ۱۰)؛ اس سے نو مسدس بحریں نکلتی ہیں ، جن کا اردو میں استعمال شاذ ہے۔ بحروں کے نام اور شماریے درج کئے جا رہے ہیں۔ بحر مقتضب(۵۱۳)، بحر مجتث(۵۲۳)، بحر مشاکل(۵۳۳)، بحر سریع(۵۴۳)، بحر جدید(۵۵۳)، بحر قریب(۵۶۳)، بحر منسرح(۵۷۳)، بحر خفیف(۵۸۳) اور بحر مضارع(۵۹۳)۔ فارسی میں ان میں سے چھ ناموں کی مثمن بحریں مستعمل ہیں ، جن کا مختصر تعارف دائرہ نمبر ۹ (دائرہ متوافقہ) کے تحت آئے گا۔ دوائر کا تفصیلی مطالعہ اور جداول فاعلات میں شامل ہیں۔ 

دائرہ نمبر ۶ (دائرہ موتودہ) فاعلات فاعلتن فاعلات فاعلتن (۰۱۰۱۔ ۱۰۰۱۔ ۰۱۰۱۔ ۱۰۰۱)
یہ ہمارا وضع کردہ دائرہ ہے۔ اس کے سارے اجزاء چونکہ وتد ہیں اس لئے ہم نے اسے ’’دائرہ موتودہ‘‘ کا نام دیا ہے۔ اس کے چار ارکان اور آٹھ اجزاء ہیں۔ پہلے تین وتد مفروق، پھر ایک وتد مجموع، پھر تین وتد مفروق اور پھر ایک وتد مجموع۔ فاعلات دو وتد مفروق پر مشتمل ہے اور فاعلتن ایک وتد مفروق اور ایک وتد مجموع پر ؛ خطی تشکیل (۰۱،۰۱،۰۱، ۱۰،۰۱،۰۱،۰۱، ۱۰)۔ اس دائرہ سے چار مثمن بحریں نکلتی ہیں۔  
۶۱۴:	فاعلات فاعلتن فاعلات فاعلتن	(۰۱۰۱۔ ۱۰۰۱۔ ۰۱۰۱۔ ۱۰۰۱)
۶۲۴:	فاعلات مفاعیل فاعلات مفاعیل	(۰۱۰۱۔ ۰۱۱۰۔ ۰۱۰۱۔ ۰۱۱۰)	
۶۳۴:	فاعلتن فاعلات فاعلتن فاعلات	(۱۰۰۱۔ ۰۱۰۱۔ ۱۰۰۱۔ ۰۱۰۱)
۶۴۴:	مفاعیل فاعلات مفاعیل فاعلات	(۰۱۱۰۔ ۰۱۰۱۔ ۰۱۱۰۔ ۰۱۰۱)

دائرہ نمبر ۷ (دائرہ مقطوعہ) فاعلتن فاعلتن فاعلتن فاعلن (۱۰۰۱۔ ۱۰۰۱۔ ۱۰۰۱۔ ۱۰۱)
یہ دائرہ بھی ہمارا وضع کردہ دائرہ ہے۔ اس کے سارے اجزاء بھی وتد ہیں ، تاہم ان کی ترتیب اور تعدد قدرے مختلف ہے اور آخری وتد کو قطع کر کے ہم نے سببِ خفیف بنا دیا، اس رعایت سے اسے ’’مقطوعہ‘‘ کا نام دیا ہے۔ اس دائرے میں چار ارکان اور آٹھ اجزاء ہیں۔ فاعلتن ایک وتد مفروق اور ایک وتد مجموع پر مشتمل ہے جب کہ فاعلن ایک وتد مفروق اور ایک سبب خفیف پر۔ دائرہ مقطوعہ کی خطی تشکیل یہ ہے: (۰۱، ۱۰، ۰۱، ۱۰، ۰۱، ۱۰، ۰۱، ۱)۔ 
اس دائرے سے آٹھ مثمن بحریں نکلتی ہیں۔ ان اسباق میں ہم جیسے جیسے ان بحروں سے منطبق یا تقریباً منطبق بحروں کا متن حاصل کرتے جاتے ہیں ، ان کے نام بھی تجویز کرتے جائیں گے۔ 
۷۱۴:	فاعلتن فاعلتن فاعلتن فاعلن	(۱۰۰۱۔ ۱۰۰۱۔ ۱۰۰۱۔ ۱۰۱)
۷۲۴:	مفاعیل مفاعیل مفاعیل مفعول	(۰۱۱۰۔ ۰۱۱۰۔ ۰۱۱۰۔ ۰۱۱)
۷۳۴:	فاعلتن فاعلتن فاعلن فاعلتن	(۱۰۰۱۔ ۱۰۰۱۔ ۱۰۱۔ ۱۰۰۱)
۷۴۴:	مفاعیل مفاعیل مفعول مفاعیل 	(۰۱۱۰۔ ۰۱۱۰۔ ۰۱۱۔ ۰۱۱۰)
۷۵۴:	فاعلتن فاعلن فاعلتن فاعلتن 	(۱۰۰۱۔ ۱۰۱۔ ۱۰۰۱۔ ۱۰۰۱)
۷۶۴:	مفاعیل مفعول مفاعیل مفاعیل	(۰۱۱۰۔ ۰۱۱۔ ۰۱۱۰۔ ۰۱۱۰)
۷۷۴:	فاعلن فاعلتن فاعلتن فاعلتن	(۱۰۱۔ ۱۰۰۱۔ ۱۰۰۱۔ ۱۰۰۱)
۷۸۴:	مفعول مفاعیل مفاعیل مفاعیل	(۰۱۱۔ ۰۱۱۰۔ ۰۱۱۰۔ ۰۱۱۰)

دائرہ نمبر ۸ (دائرہ منعکسہ) مفاعیلن فاعلاتن فاعلاتن (۱۱۱۰۔ ۱۱۰۱۔ ۱۱۰۱)
یہ دائرہ فارسی عروض سے لیا گیا ہے۔ اس کے تین ارکان اور نو اجزاء ہیں (۱۰، ۱، ۱، ۰۱، ۱، ۱، ۱، ۱۰، ۱)؛ اس سے نو مسدس بحریں نکلتی ہیں ، جن کا اردو میں استعمال شاذ ہے۔ بحروں کے نام اور شماریے درج کئے جا رہے ہیں ؛ بحر صریم (۸۱۳)، بحر کبیر (۸۲۳)، بحر بدیل (۸۳۳)، بحر قلیب (۸۴۳)، بحرِ  حمید (۸۵۳)، بحر صغیر (۸۶۳)، بحر اصیم (۸۷۳)، بحر سلیم (۸۸۳)،اور بحر حمیم (۸۹۳)۔ تفصیلی مطالعہ اور جداول فاعلات میں شامل ہیں۔  

دائرہ نمبر ۹ (دائرہ متوافقہ) مستفعلن مفعولات مستفعلن مفعولات (۱۰۱۱۔ ۰۱۱۱۔ ۱۰۱۱۔ ۰۱۱۱)
یہ دائرہ بھی فارسی عروض سے لیا گیا ہے۔ اس کے چار ارکان اور بارہ اجزاء ہیں (۱، ۱،۱۰، ۱، ۱، ۰۱، ۱، ۱،۱۰، ۱، ۱، ۰۱)۔ اس سے چھ مثمن بحریں نکلتی ہیں ، جن کا اردو میں استعمال شاذ تو نہیں البتہ بہت کم ہے۔ بحروں کے نام اور شماریے درج کئے جا رہے ہیں ؛ بحرِ  منسرح (۹۱۴)، بحر خفیف (۹۲۴)، بحر مضارع (۹۳۴)، بحر مقتضب (۹۴۴)، بحر مجتث (۹۵۴)، اور بحر مشاکل (۹۶۴)۔ ان بحور کا تفصیلی مطالعہ اور جداول فاعلات میں شامل ہیں۔ جیسا کہ پہلے ذکر ہو چکا، انہی ناموں کی چھ بحریں دائرہ مشتبہ (دائرہ نمبر ۵) سے بھی نکلتی ہیں تاہم وہ سب مسدس ہیں۔ اس دائرہ کی بحروں کی مسدس صورت اُن سے منطبق ہو گی۔ 
مذکورہ بالا نو دائرے اردو کے عروض کے لئے ایک مکمل نظام کی بنیاد فراہم کرتے ہیں۔ تاہم اردو میں مروج بحور کا معتد بہ حصہ چھ دوائر (دائرہ نمبر ۱، ۲، ۳، ۴، ۶، ۷) سے ماخوذ ہے:۔ 
دائرہ نمبر ۱ (دائرہ مختلفہ)فعولن مفاعیلن فعولن مفاعیلن (۱۱۰۔ ۱۱۱۰۔ ۱۱۰۔ ۱۱۱۰)
دائرہ نمبر ۲ (دائرہ مؤتلفہ) متفاعلن متفاعلن متفاعلن (۱۰۱۰۰۔ ۱۰۱۰۰۔ ۱۰۱۰۰)
دائرہ نمبر ۳ (دائرہ مجتلبہ) مفاعلین مفاعیلن مفاعیلن (۱۱۱۰۔ ۱۱۱۰۔ ۱۱۱۰)
دائرہ نمبر ۴ (دائرہ متفقہ) فعولن فعولن فعولن فعولن (۱۱۰۔ ۱۱۰۔ ۱۱۰۔ ۱۱۰)
دائرہ نمبر ۶ (دائرہ موتودہ) فاعلات فاعلتن فاعلات فاعلتن (۰۱۰۱۔ ۱۰۰۱۔ ۰۱۰۱۔ ۱۰۰۱)
دائرہ نمبر ۷ (دائرہ مقطوعہ) فاعلتن فاعلتن فاعلتن فاعلن (۱۰۰۱۔ ۱۰۰۱۔ ۱۰۰۱۔ ۱۰۱)
تعدادِ ارکان اور زحافات و تصرفات کے اطلاق سے ہم ایک ہی بحر سے اس کی کئی ذیلی صورتیں حاصل کر سکتے ہیں۔ اور یہ بھی عین ممکن ہے کہ دو مختلف بحروں پر مختلف زحافات نافذ کرنے کے نتیجے میں متماثل حرکات و سکنات کا حامل عروضی متن حاصل ہو جائے۔ کچھ کا ذکر پچھلے اسباق میں دی گئی مثالوں میں ہو بھی چکا ہے۔ آئندہ اسباق میں ہم اس عنصر کا مطالعہ بھی ساتھ ساتھ کرتے جائیں گے۔ 
٭٭٭


آٹھواں سبق: شعری فنیات


مختلف بحروں میں زحافات کے نتیجے میں بحروں کی نئی نئی صورتیں بنتی ہیں۔ بسا اوقات ایسی نئی صورتیں متماثل ہو جاتی ہیں یا کسی اور بحر سے اس قدر مشابہ ہو جاتی ہیں کہ ایک بحر پر دوسری کا شبہ ہونے لگتا ہے۔ اس سبق میں ہم کچھ ایسی ہی بحور کے تقابل اور بحروں کی باہمی مطابقت کا مطالعہ کریں گے۔ پہلے زحاف کو از سرِ نو سمجھ لیا جائے۔ 
لغت کے مطابق زِحاف (فی العروض) (مادہ: ز ح ف) علم عروض کی اصطلاح میں وہ تغیر ہے جو سبب خفیف یا سبب ثقیل کے دوسرے حرف میں واقع ہو۔ جو تغیر وتد میں واقع ہو، اس کو رسماً علت کہتے ہیں۔ عربی اور فارسی عروض میں کم و بیش چالیس مفرد اور مرکب زحافات ملتے ہیں ؛ کلاسیکی عروض کی کتب میں ان کی تعیین اور تفہیم بہت تفصیل سے دست یاب ہے۔ اردو عروض میں سبب اور وتد سے قطع نظر زحاف وہ تغیر ہے جو موجود ارکان سے نئے ارکان پیدا کرے۔ مَزحَف وہ مقام ہے جہاں زحاف واقع ہو (جمع: مَزاحِف)؛ اور مُزاحف وہ رکن ہے جو کسی دوسرے رکن میں زحاف کی وجہ سے حاصل ہو۔ 
 بحر متقارب کا رکن فعولن (۱۱۰)ہے اور بحر متدارک کا فاعلن (۱۰۱)۔ فعولن کا ’’ف‘‘ یا فاعلن کا ’’ع‘‘ ہٹا دیں ، ہر دو صورتوں میں فعلن (۱۱) حاصل ہوتا ہے؛ جب کہ فاعلن کا الف یا فعولن کا واو ہٹانے کا حاصل فُعِلت (۱۰۰) ہے، جس کو فَعِلُن لکھتے ہیں۔ بحر زمزمہ انہیں دو ارکان پر مشتمل ہوا کرتی ہے؛ تفصیلی بحث تیسرے سبق میں آ چکی۔ ساتویں دائرے کی بحر ۷۸۴ ’’مفعول مفاعیل مفاعیل مفاعیل‘‘ میں ہر جگہ تسکینِ اوسط لگا دینے کا حاصل ’’مفعولن مفعولن مفعولن مفعول‘‘ (بحر زمزمہ) ہے۔ بحر اہزوجہ، محر مہزوج اور بحر زمزمہ میں اشکال کی بات چوتھے سبق میں ہو چکی۔ بحرِ  کامل کے رکن متفاعلن میں حرف ’’ت‘‘ کو ساکن کر دیں تو مستفعلن حاصل ہوا جو بحر رجز کا رکن ہے؛ اور بحر وافر کے رکن مفاعلتن میں ’’ل‘‘ کی تسکین سے مفاعیلن بنا جو بحر ہزج کا رکن ہے؛ ان دونوں صورتوں میں گویا بحر ہی بدل گئی۔ وسیع تر شعری مطالعہ سے متنوع مسائل اور مثالیں سامنے آئیں گی، اُن کی تفہیم اپنی صوابدید کے مطابق کر لیجئے گا۔ 
دوسرے دائرے (دائرہ مؤتلفہ) سے نکلنے والی دونوں بحریں یعنی بحرِ  کامل (۲۱۳): متفاعلن متفاعلن متفاعلن ، اور بحرِ  وافر (۲۲۳): مفاعلتن مفاعلتن مفاعلتن؛ اصلاً مسدس ہیں۔ بحرِ  وافر میں کوئی قابلِ ذکر اردو شاعری ہمارے علم میں نہیں آئی، بحرِ  کامل مثمن البتہ بہت مانوس ہے؛ کچھ مثالیں دیکھئے:۔ 
خبرِ تحیرِ عشق سن نہ جنوں رہا نہ پری رہی
نہ تو تُو رہا نہ تو میں رہا جو رہی سو بے خبری رہی
چلی سمتِ غیب سے اک ہوا کہ چمن سرور کا جل گیا
مگر ایک شاخِ نہالِ غم جسے دل کہیں سو ہری رہی
سراج اورنگ آبادی	
میں نوائے سوختہ در گلو تو پریدہ رنگ رمیدہ بو
میں حکایتِ غمِ آرزو، تو حدیثِ ماتمِ دلبری
مرا عیش غم مرا شہد سم مری بود ہم نفسِ عدم
ترا دل حرم گروِ عجم ترا دیں خریدۂ کافری
دمِ زندگی رمِ زندگی غمِ زندگی سمِ زندگی
غمِ رم نہ کر سمِ غم نہ کھا کہ یہی ہے شانِ قلندری
کبھی اے حقیقتِ منتظر نظر آ لباسِ مجاز میں 
کہ ہزاروں سجدے تڑپ رہے ہیں مری جبینِ نیاز میں 
اقبال		
وہ جو زخم تھا جو مٹا دیا وہ جو پیار تھا سو بھلا دیا
وہ جو درد تھا سو لٹا دیا پہ کسک سی ایک بچی رہی
میں مثالِ تختۂ کاہ تھا کئی تتلیوں کی پناہ تھا
وہ حریفِ حلقۂ ماہ تھا مرے دل پہ اُس کی شہی رہی
کوئی خوف تھا نہ امنگ تھی وہ جو اپنے آپ سے جنگ تھی
دلِ مضطرب کی ترنگ تھی، دلِ مضطرب سے لگی رہی
محمد یعقوب آسیؔ		
بحرِ  متقارب (فعولن فعولن فعولن فعولن) کے پہلے رکن کا ’’ف‘‘ ہٹا دینے سے ’’فعلن فعولن فعولن فعولن‘‘ ، اور مصرع کے وسط میں یعنی تیسرے فعولن کا ’’ف‘‘ بھی ہٹا دیں تو ’’فعلن فعولن فعلن فعولن‘‘ حاصل ہوا۔ اس کو بحر مقبول کہا جاتا ہے، اور اس کی یہ دونوں صورتیں باہم مقابل آ سکتی ہیں۔ مثال کے طور پر علامہ اقبال کے یہ اشعار دیکھئے:۔ 
ہر شے مسافر ہر چیز راہی
کیا چاند تارے کیا مرغ و ماہی
تو مردِ میداں تو میرِ لشکر
نوری حضوری تیرے سپاہی
کچھ قدر اپنی تو نے نہ جانی
یہ بے سوادی یہ کم نگاہی
دنیائے دوں کی کب تک غلامی
یا راہبی کر یا بادشاہی
پیرِ حرم کو دیکھا ہے میں نے
فعلن فعولن فعلن فعولن
کردار بے سوز گفتار واہی
فعلن فعولن فعولن فعولن
بحرِ ترانہ کی ایک صورت ’’مفعول مفاعیل مفاعیل فعول‘‘ میں مختلف مقامات پر تسکینِ اوسط کے نتیجے میں سولہ بحور بنتی ہیں۔ یہ سولہ بحریں رباعی کے چوبیس اوزان میں شامل ہیں۔ ہم نے فاعلات میں  رباعی کے اوزان پر ایک الگ باب باندھا ہے، یہ نقشہ بھی دیکھ لیجئے:۔ 

پہلا رکن
دوسرا رکن
تیسرا رکن
چوتھا رکن
فِعلن  (۱۱)
فِعلن یا فُعِلت
(۱۱)یا (۱۰۰)

فاعلتن یا مفعولن یا مفاعلن
(۱۰۰۱) یا (۱۱۱)یا (۱۰۱۰)
فاعلتن یا فاعلتان یا مفعولن یا مفعولات
(۱۰۰۱) یا (۰۱۰۰۱)یا (۱۱۱) یا (۰۱۱۱)

نوٹ:  ان چاروں کالموں میں سے ایک ایک رکن لے کر اُن کو ترتیب وار لکھ لیجئے؛ یہ رباعی کے اوزان میں سے ایک ہے۔ اسی طرح آپ کل چوبیس اوزان اس نقشے سے حاصل کر سکتے ہیں۔ 
  اگرچہ بحر کے آخری رکن کے آخر میں ایک حرف کی کمی بیشی کی عام اجازت ہے، تاہم بعض ارکان کے آخر میں ایسی کمی بیشی ذوقِ سلیم پر گراں بھی گزر سکتی ہے، اور فاع، فعو جیسے ناقص ارکان پر بھی منتج ہو سکتی ہے۔ علمِ عروض میں اصولی طور پر بہت ساری رعایات اور تصرفات کی گنجائش ہے تاہم ضروری نہیں کہ ایسے شاعرانہ اختیارات کو لازماً استعمال کیا جائے۔ جیسا کہ پہلے بیان کیا جا چکا، شعر کہنے کا اولین مقصد بیان میں حسن پیدا کرنا ہے۔ علم عروض شعر میں پائی جانے والی حرکات و سکنات سے بحث کرتا ہے اور بس۔ شعر کی دیگر فنیات کی اہمیت سے کسی طور انکار ممکن نہیں ، چند ایک کا ذکر ہم یہاں کئے دیتے ہیں۔ 
ابلاغ بہت ضروری ہے۔ شاعر صرف اپنے لئے شعر نہیں کہتا، بلکہ شعر کا قاری یا سامع کسی نہ کسی طور ضرور موجود ہوتا ہے۔ ورنہ شعر کہنے کے بکھیڑوں میں پڑنے کی ضرورت ہی کیا ہے!۔ ابلاغ کی سطح جتنی بلند ہو گی، شاعر اور قاری کے درمیان تعلق اتنا ہی مضبوط ہو گا۔ ابلاغ کی بنیاد میں کچھ اشتراکات ہوتے ہیں ؛ مذہب عقائد اور نظریات کا اشتراک، زبان اور لفظیات کا اشتراک، افکار کا اشتراک، اقدار کا اشتراک، حالات و واقعات کا اشتراک، آرزوؤں اور خدشات کا اشتراک، جذبوں کا اشتراک، محرومیوں کا اشتراک، روایات کا اشتراک، رجحانات کا اشتراک، مزاج کا اشتراک، انداز فکر و اظہار کا اشتراک؛ و علیٰ ہٰذا القیاس۔ ابلاغ کے عمل میں شاعر اور قاری دونوں برابر کے شریک ہوتے ہیں ؛ بسا اوقات ابلاغ کی ساری ذمہ داری شاعر پر ڈال دی جاتی ہے اور بسا اوقات قاری پر؛ یہ دونوں رویے غیر صحت مند ہیں۔ 
ملاحت کا عنصر شاعری کی جملہ اصناف میں عمومی اور غزل میں خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔ کھردرا پن چاہے لفظیات میں ہو یا افکار میں یا اسلوب میں ، خوش ذوق قاری اس کو بہت پسند نہیں کرتا۔ تلخی اور کھردرا پن دو الگ الگ اوصاف ہیں ، ان میں التباس بھی ہو جاتا ہے۔ لہجہ جس قدر نرم اور دھیما ہو گا، الفاظ کی ادائیگی اور صوتیت میں جس قدر روانی ہو گی شعر کو اسی قدر زیادہ پذیرائی ملے گی۔ شاعر کے اپنے مزاج، مخصوص لب و لہجہ، لفظیات اور تراکیبی ترجیحات، موضوعات،اور فکری رجحان کے ساتھ ساتھ ردائف قوافی اور بحور کا چناؤ اور تصرفات کی طرف میلان بھی اہمیت رکھتے ہیں۔ نظم میں موضوع اور مضامین بھی شاعر کو کوئی خاص لفظیاتی اور صنفی ترجیحات اختیار کرنے پر مائل کر سکتے ہیں ، ان سے بھی انکار ممکن نہیں۔ 
لسانیاتی ترجیحات اور جھکاؤ میں ہر شاعر آزاد ہوتا ہے، تاہم کچھ ایسے طے شدہ امور ہیں ؛ مثلاً املاء اور معانی، ترکیب سازی، محاورہ اور روزمرہ، کہاوتیں اور ضرب الامثال، تلمیحات، استعارے، علامات اور مراعات النظیر وغیرہ میں انحراف کی بہت کم گنجائش ہوا کرتی ہے۔ صنائع بدائع کا نظام بھی روایت کے ساتھ بہت مضبوطی سے جڑا ہوتا ہے۔ شاعر اس بنی بنائی فضا میں رہتے ہوئے بھی اظہار کر سکتا ہے اور کوئی نئی روش بھی اپنا سکتا ہے۔ مقبولیت کے رجحانات میں بھی تبدیلیاں آتی رہتی ہیں ، تاہم مستقل اور فطری اقدار کا انکار ممکن نہیں۔ 
قوافی کا نظام، اس کا حسن و قبح اور محددات شعر کا بنیادی عنصر ہے۔ ردیف اختیار کرنا یا نہ کرنا شاعر پر منحصر ہے تاہم ایک ردیف جو اختیار کر لی گئی اس کو نبھانا لازم ہو جاتا ہے۔ ردیف، قوافی اور بحر مل کر غزل کے لئے ایک خاص قسم کا ماحول بناتے ہیں اور شاعر کو موضوعات و مضامین بھی سجھاتے ہیں ، پابندیاں بھی لگاتے ہیں ، اور مضمون آفرینی میں بھی معاونت کرتے ہیں۔ شاعر کو ایسی جملہ پابندیوں سے بھی عہدہ برآ ہونا ہے اور اپنی بات بھی کرنی ہے۔ مضمون آفرینی لفظی، معنوی، واقعاتی، فکری، اور اسلوبیاتی ہر سطح پر ممکن ہے، تاہم قاری اس سے اسی حد تک لطف اندوز ہو سکے گا، جہاں تک ابلاغ ساتھ دے گا۔ 
یہ فہرست خاصی طویل ہے، شعر و ادب اور زبان و بیان کی مستند کتب سے استفادہ کرنا لازم ہے۔ 
٭٭٭


نواں سبق: تقطیع کی مشق


اس سبق میں ہم اپنے کچھ معاصر دوستوں کے بے شست چیدہ چیدہ اشعار نقل کر رہے ہیں۔ نئے سیکھنے والے ان اشعار کی تقطیع کر کے اوزان اور ارکان، بحر کا نام اور جہاں تک ممکن ہو،شماریہ کا بھی تعین کریں۔ اِن اشعار کو بحور کے مطابق ترتیب دے لیں تو اور بھی اچھی بات ہے؛ اس سے دورِ حاضر کی مقبول بحور کا موٹا موٹا اندازہ بھی لگایا جا سکتا ہے۔ 
محمد اشرف ساقی (راولپنڈی):۔ 
حدودِ کوچۂ جاناں میں آ کر
قدم کیوں لڑکھڑانے لگ گئے ہیں 
مفاعیلن مفاعیلن فعولن
اک شور تلاطم کا تنفس میں ہے برپا
تکرار سرِ بزم ہے زندان میں کچھ ہے
مفعول مفاعیل مفاعیل مفاعیل
عمرِ دَوراں کے لئے برسوں کا پیمانہ بھی خوب
زندگی ہے ایک لمحہ حسن کی خیرات کا
فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (فاعلات)
منیر انور (لیاقت پور):۔ 
بڑا بلیغ اشارہ تھا اُس کی باتوں میں 
ہمارا ذکر تھا اور راہ کے غبار کی بات
فعول فاعلتن فاعلات فاعلتن (مفعولن)
کہا اُس نے کہ منزل اور کتنی دور ہے انورؔ
کہا میں نے ہمیں اِس دھُند کے اُس پار جانا ہے
مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن
میں نے کچھ سوچ کر نہیں پوچھا
ایک چبھتا ہوا سوال تو تھا
فاعلن فاعلات فاعلتن (مفعولن)
صرف سورج پہ نہ تکیہ کرنا
راہ میں رات بھی ہو سکتی ہے
فاعلن فاعلتن فاعلتن (مفعولن)
بہت آسان ہو سکتی تھیں راہیں 
ہمیں چلنا گوار۱ ہی نہیں تھا
مفاعیلن مفاعیلن فعولن
میرے گھر میں دھوپ اور دکھ
تیرے آنگن سکھ سارے
فعلن فعلن مفعولن
بات ہوتی تو حل نکل آتا
بات کرنا ہی مسئلہ تھا مگر
فاعلن فاعلات فاعلتن (مفعولن)
ضیاء الدین نعیم (راولپنڈی):۔ 
راہ میں اک دیا تو دھر جائے
آدمی کچھ نہ کچھ تو کر جائے
فاعلن فاعلات فاعلتن (مفعولن)
دوستی طریقے سے دشمنی طریقے سے
زیست کیوں نہیں کرتا آدمی طریقے سے
فاعلن مفاعیلن فاعلن مفاعیلن
کرم بدرجۂ اتم، ستم بدرجۂ اتم
ہیں انتہا پسند لوگ ہم بدرجۂ اتم
مفاعلن مفاعلن مفاعلن مفاعلن
آنسوؤں میں جہاں ڈبو لینا
نہ رہیں ہم تو کھل کے رو لینا
فاعلن فاعلات فاعلتن (مفعولن)
تمہیں پسند ہے تنہا سفر زیادہ تر
یہی رہا مرے پیشِ نظر زیادہ تر
فعول فاعلتن فاعلات فاعلتن
خواجہ ناظم (حیدر آباد، دکن):۔ 
دو لفظ معذرت کے اب خوں بہا ہے اس کا
ہیہات جان جس کی کعبے سی محترم تھی
فعلات فاعلاتن فعلات فاعلاتن
منہ زور بارشوں کے مقابل تھی کیا بساط
کچا مرا مکان تھا چپ چاپ ڈھے گیا
مفعول فاعلات مفاعیل فاعلن (فاعلات)
زندگی مان جا تجھے لینے
ہم سمندر بھی پار کر آئے
فاعلن فاعلات فاعلتن (مفعولن)
اچھا ہی کیا آپ نے لہرا دئے گیسو
بے چین شگوفے تھے پریشان صبا تھی
مفعول مفاعیل مفاعیل فعولن
دل شکستہ ہی سہی رسم نبھا لی جائے
غیر سے مل کے گلے عید منا لی جائے
فاعلن فاعلتن فاعلتن فاعلتن (مفعولن)
جنہیں شعور نہیں زخم کی گہرائی کا
انہیں کہو نہ کریں اندمال کی باتیں 
فعول فاعلتن فاعلات فاعلتن (مفعولن)
خواجہ شاہین (لاہور):۔ 
سنو، اس شخص کے دل میں محبت گھر نہیں کرتی
جسے یہ بدگمانی ہو محبت اختیاری ہے
مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن
ذرا محتاط رہ کے گفتگو کر
محبت تو بہانہ مانگتی ہے
مفاعیلن مفاعیلن فعولن
وہ خدا جانے کب آئیں اور یاں 
دم نکل جائے گا کچھ ہی دیر میں 
فاعلاتن فاعلاتن فاعلن
وہ بھی لٹا تھا پیار میں ، یہ بھید یوں کھلا
اک پھول مل گیا مجھے اس کی کتاب میں 
مفعول فاعلات مفاعیل فاعلن (فاعلات)
کبھی ابر گیسوئے یار کے جو مرے خیال پہ چھا گئے
گری بوند بوند کچھ اس طرح کہ میں پیرہن نہ بچا سکا
متفاعلن متفاعلن متفاعلن متفاعلن
محمد یحییٰ خان (عظیم آباد، بھارت):۔ 
اپنی پہچان کیا کروں لے کر
کوئی بہتان کیا کروں لے کر
فاعلن فاعلات فاعلتن (مفعولن)
اپنی یادوں میں ہمارے بھی حوالے رکھنا
ظلمتوں کے لئے کچھ دیپ سنبھالے رکھنا
فاعلن فاعلتن فاعلتن فاعلتن (مفعولن)
کوئی لغزش بہت دن سے نہیں کی
امیرِ شہر اک فریاد کر لوں 
مفاعیلن مفاعیلن فعولن
فاختہ ترس گئی اڑان کو
تاک میں عقاب بے شمار تھے
فاعلن مفاعلن مفاعلن
روشنی بن کے چلا جاؤں نہ دنیا سے پرے
میری دشمن مری رفتار نہ ہو جائے کہیں 
فاعلن فاعلتن فاعلتن فاعلتن
زندگی سے کوئی سوال نہ کر
کیا پتہ، لاجواب ہو جائے
فاعلن فاعلات فاعلتن (مفعولن)
میں بھی ہوں بضد اور ہے عاجز تو بھی
اے زندگی ہم دونوں ہیں یکساں ، لاحول
مفعول مفاعیل مفاعیل مفاعیل (فعولن)
نوید صدیقی (لودھراں ):۔ 
اداس ہے دل مگر ہنسی کو سجایا لب پر
کمال پایا ہے اس ہنر میں ، بچھڑنے والے!
مفاعلاتن مفاعلاتن مفاعلاتن
بندھی ہو جس سے زنجیرِ اطاعت
ہم ایسا آب و دانہ چھوڑتے ہیں 
مفاعیلن مفاعیلن فعولن
مرا شعور مرے تن کو کھا رہا ہے نویدؔ
میں سوچتا ہوں اسی واسطے پگھلتا ہوں 
فعول فاعلتن فاعلات فاعلتن
علم ہے سارے جہاں کو کون کتنا ہے بلند
سوچ کر یارو کسی کو آسماں لکھا کرو
فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (فاعلات)
عمر خوابوں کی لکیریں کھینچنے میں کٹ گئی
زندگی تعبیر کے رنگوں سے خالی رہ گئی
فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن فاعلن
روز وہی محنت سانسوں کی
روز وہی مزدوری سوچیں 
فعلن فعلن فعلن فعلن
جانتے بوجھتے غلط کرنا
اتنا آسان کام بھی تو نہیں 
فاعلن فاعلات فاعلتن (مفعولن)
اب کے ساون میں بدن سلگا نہیں 
اس مہینے کا ہنر بھی رائیگاں 
فاعلاتن فاعلاتن فاعلن
عارف خیام راؤ (ٹیکسلا):۔ 
ہم اپنے آپ سے بچھڑی ہوئی صدا بن کر
مثالِ ابرِ رواں کیوں بھٹکتے رہتے ہیں 
فعول فاعلتن فاعلات فاعلتن
دل جذبوں کی پھلواری ہے
پھلواری کی سیر کو آؤ
فعلن فعلن فعلن فعلن
خموشی دسترس میں جب سے آئی
تکلم انتہا کا ہو گیا ہے
مفاعیلن مفاعیلن فعولن
روشنی ہار ہی نہیں سکتی
لائیے ایک تو دیا رکھئے
فاعلن فاعلات فاعلتن (مفعولن)
عارفؔ شبِ وصال کو ڈھلنے نہ دوں گا میں 
کرتے پھرے ہزار مری منتیں سحر
مفعول فاعلات مفاعیل فاعلن (فاعلات)
طارق بصیرؔ (ٹیکسلا):۔ 
لفظ بصیرؔ اگرچہ اس کے نازک تھے
لہجہ لیکن دُکھتی آنکھوں جیسا تھا
فعلن فعلن فعلن فعلن مفعولن
جو روٹی سر جھکا کر ہو میسر
نہیں خیرات کیسے مان لوں میں 
مفاعیلن مفاعیلن فعولن
معافی صد معافی بھوک میں روٹی کی خاطر
میں پیاسا تیرے خوں کا میری ماں ہونے لگا ہوں 
مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن فعولن
شہزاد عادل (ٹیکسلا):۔ 
بنایا ہے مرے دل کی تپش سے اس نے سورج کو
تمہارے حسن کی لو سے مہِ کامل بنایا ہے
مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن
موت کے تم گلے سے لگو
اور کہو زندگی زندگی
فاعلن فاعلن فاعلن
پھر تو دستار بھی سر پہ ٹکتی نہیں 
جب اکھڑ جائے سرداریوں کی ہوا
فاعلن فاعلن فاعلن فاعلن
یقیں سے پھر گماں تک آ گئے ہیں 
کہاں تھے ہم کہاں تک آ گئے ہیں 
مفاعیلن مفاعیلن فعولن
امجد شہزاد (واہ چھاؤنی)
کون کس درجہ خوب صورت ہے
یہ فقط رابطے بتاتے ہیں 
فاعلاتن فاعلات مفعولن
عدو حیرت سے مجھ کو دیکھتے تھے
میں اس انداز سے آگے بڑھا تھا
مفاعیلن مفاعیلن فعولن
اندھیرا ہے مگر سب کچھ دکھائی دے رہا ہے
یہ ویرانی یہ گھر سب کچھ دکھائی دے رہا ہے
مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن فعولن
صدیق ثانیؔ (راولپنڈی)
دھرتی پہ چاند نوچ کے لانے سے پیش تر
سن لو پکار خون میں ڈوبی زمین کی
مفعول فاعلات مفاعیل فاعلن
مصلحت کے لبادے میں لپٹے ہوئے ہم بھی کرتے رہے زندگی دیر تک
دل جزیرے پہ جاری رہی ان گنت حوصلوں کی مگر خود کشی دیر تک
فاعلن فاعلن فاعلن فاعلن فاعلن فاعلن فاعلن فاعلن
ضبط دریا میں شناور درد کا اترا تو ہے
دیکھتا ہوں کون کرتا ہے کسے تسخیر اب
فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن فاعلن
لپٹ کے قدموں سے رو پڑی تھی انا وگرنہ
مفاہمت کا تھا ایک موقع حسین نکلا
مفاعلاتن مفاعلاتن مفاعلاتن
اختر شادؔ (راولپنڈی)
میرے پیچھے آئے گا وہ ریشمی تلوے لئے
چن رہا ہوں راستے کے خار زخمی پاؤں سے
فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن فاعلن
ردائے سبز پر خیمہ بنائیں چاہتوں کا
دھنک سے رنگ میں لاؤں تو کرنیں کات رانی
مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن فعولن
تو نے شبنم فشاں موسموں کی دعائیں تو دی تھیں مگر پیاری ماں دیکھ لے
میرے چہرے پہ بے رحم سورج کی جلتی ہوئی انگلیوں کے نشاں دیکھ لے
فاعلن فاعلن فاعلن فاعلن فاعلن فاعلن فاعلن فاعلن
اس مختصر انتخاب میں ہم نے دیکھا کہ شعرائے کرام بالعموم مانوس بحروں اور زمینوں میں مشقِ سخن کرتے ہیں۔ یہ بات اس لحاظ سے بھی مستحسن ہے کہ غیرمانوس بحور میں شاعر کی بہت سی توانائی تو ارکان پورے کرنے میں صرف ہو جاتی ہے، اور اس پر مستزاد یہ کہ خیال اور احساس کی ترسیل بھی متاثر ہوتی ہے۔ ہمارا مقصد نئی اور غیر مانوس بحور کو شجرِ ممنوعہ قرار دینا ہرگز نہیں ، تاہم ابلاغ کی اعلیٰ سطح برقرار رکھنے میں بحور اور زمینوں کا مانوس ہونا ممد و معاون ہوا کرتا ہے۔ 
٭٭٭



دسواں سبق: خلاصہ



ان اسباق میں علم عروض کی سادہ سی تفہیم اور اُس کے اطلاقی پہلو کو پیش نظر رکھا گیا ہے۔ تقریباً تمام بنیادی تصورات پر بات ہو گئی ہے،  اجزاء اور ارکان کا تعارف، بحور کی تشکیل اور عملی تقطیع ہمارا مطمع نظر رہا ہے۔ ہمارا اولین مخاطب نوآموز تقطیع نگار ہے، لہٰذا ہم نے دقیق فنی مباحث سے گریز کرتے ہوئے، جس قدر آسان پیرائے میں ہو سکتی تھی بات کی ہے۔ دائروں اور ان سے اخذ ہونے والی بحور کا تعارف بیانیہ انداز میں شامل کر دیا ہے ( مدوری ساخت ’’فاعلات‘‘ میں دیکھی جا سکتی ہے)۔ ہمارے وہ دوست جو عروض میں اعلیٰ مہارت چاہتے ہیں علمائے عروض کی معروف تصانیف سے استفادہ کر سکتے ہیں۔ 
ان اسباق کی خاص بات خطی تشکیل کا تعارف اور اطلاق ہے۔ خطی تشکیل کی افادیت ایک ثابت شدہ امر ہے۔ اس میں مصرع کی ایک ایسی ’’ترسیم‘‘ یا ’’شکل‘‘ بن جاتی ہے جس کو ’’پڑھنا‘‘ بہت آسان ہے اور قاری اپنی سہولت کے مطابق ارکان بندی کا عمل کر سکتا ہے۔ ہم یہ سفارش ضرور کریں گے کہ ارکان بندی میں دوائر سے اخذ ہونے والی ترتیب کو اولیت دی جائے۔ آسانی سے پڑھی جا سکنے کے با وصف مختلف مصارع کی خطی تشکیل میں ’’فوری‘‘ تقابل بہت آسان ہو گیا ہے، جملہ ارکان اور اوزان دو اشاروں میں آ گئے ہیں ؛ ہجائے بلند اور ہجائے کوتاہ۔ ہم نے ابتدائی اسباق میں تقطیع کے جملہ مراحل کا تتبع کیا ہے جس کو بتدریج مختصر کرتے ہوئے، قاری کی اس فوری تقابل تک راہنمائی کی کوشش کی ہے۔ 
علمِ عروض میں زحافات کے نظام اور اُس کی اہمیت کا انکار کسی طور ممکن نہیں۔ پروفیسر حبیب اللہ خان غضنفر کی مساعی اس حوالے سے قابلِ اتباع ہیں کہ انہوں نے اپنے قاری کو بحور کے کچھ نئے ناموں اور تقابلی صورتوں سے آشنا کیا اور زحافات کی بہت ساری پیچیدگیوں کے عمل سے گزر کر عروض کے مشاقوں کے لئے بہت زیادہ ہموار رہگزار فراہم کر دی۔ ہم نے پروفیسر صاحب کی مساعی کے فائدہ اٹھایا ہے اور اُن کے کئے ہوئے کام کو آگے بڑھانے کے ساتھ ساتھ عروض کی بنیاد یعنی دوائر کے ساتھ براہِ راست مربوط کرنے کی کوشش کی ہے۔ چھٹے اور ساتویں دائرے کی توضیع اسی کوشش کا حصہ ہے۔ ہم نے رباعی کے اوزان کی نسبتاً آسان تفہیم کی طرف بھی قدم بڑھایا ہے۔ 
اردو شاعری کی مانوس بحور کی کل تعداد تیس کے لگ بھگ ہے، ان کا تعارف اور استعمال ان اسباق میں ہو چکا۔ نامانوس بحروں کے شعر کہنے کے معتد بہ تجربات ہوئے ہیں اور لکھنے والوں نے دائرہ مشتبہ کی بحور تک کو اردو بلکہ پنجابی شاعری میں بھی بعینہٖ استعمال کیا ہے۔ تاہم اپنے عمومی قاری کے لئے ہم یہ سفارش کرتے ہیں کہ وہ مانوس بحروں میں طبع آزمائی کریں تاکہ اپنی زیادہ توجہ شعر کو نکھارنے سنوارنے پر مرکوز کر سکیں۔ 
٭٭٭

تشکر: مصنف جنہوں نے متن کی فائل فراہم کی
ان پیج سے تبدیلی، تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید
