﻿


آشرم



شکیل الرّحمٰن



شکیل الرحمٰن کی آپ بیتی

© جملہ حقوق بحق عصمت شکیل محفوظ
مدھوبن، A-267، ساؤتھ سٹی -I
گڑگاؤں -122001(ہریانہ)
	Website	:	www.shakeelurrehman.com
	email	:	shakeelrehman2001@hotmail.com
زیرِ اہتمام
تنویر احمد





انتساب


حضرت عنایت خاں ؒ کے نام

آپ نے فرمایا تھا جب اپنی آنکھیں کھولتا ہوں تو اس بھری دُنیا میں خود کو سمندر کا ایک قطرہ محسوس کرتا ہوں لیکن جب آنکھیں بند کر کے اپنے باطن میں اُتر جاتا ہوں تو ساری کائنات میرے دل کے سمندر کا ایک بلبلہ نظر آتی ہے!
	بابا سائیں 
	--- شکیل الرحمٰن


زندگی کی کوئی کہانی اگر وہ کہانی ہے تو وہ محض کوئی شئے نہیں ہوتی یا صرف ’’ایک تخلیق‘‘ نہیں بن جاتی بلکہ ایک ’’عمل‘‘ (Process) کی طرح بھی سامنے آتی ہے، مختلف لمحوں اور مختلف منزلوں پر زندگی کوئی نہ کوئی ’’فارم‘‘ یا صورت دیتی رہتی ہے، صورت بدلتی رہتی ہے اور سلسلہ جاری رہتا ہے۔
کہانیاں سنائی جاتی ہیں -- وہ بھی ایک معمولی سی کہانی سنا رہا ہے، جانی پہچانی سی کہانی، ایسی کہانی جو سناتے تو سب ہیں لیکن بہت کم ایسے ہیں جو واقعی اسے جانتے پہچانتے ہیں ۔
ذرّے کا دل اس لیے چیرتے ہیں یا جوہر (Atom) کو اس لیے توڑتے ہیں کہ توانائی یا ’انرجی‘ کا علم ہو جائے اور توانائی کے ساتھ کمزوریوں کی بھی پہچان ہو، اگر ’وائلن‘ کو توڑ دیا جائے تو یقیناً آہنگ کی نئی ترتیب پیدا ہو جائے گی اور نئے آہنگ کے اتصال کا احساس ملنے لگے گا۔ یہ ’ذات‘ کو توڑنے کی ایک کوشش ہے تاکہ وہ خود اپنے ذرّے یا جوہر کی توانائی اور کمزوری دونوں کو پہچان لے۔
اُس میں ہمیشہ زندگی کو ایک متحرّک مجسّمہ بنائے رکھنے کی آرزو رہی ہے کہ جس میں آہنگ بھی ہو رنگ بھی، موسیقی بھی ہو اور روشنی بھی! اس آرزو نے اُسے ایسا ’بودھی ستوا‘ بنادیا کہ جس نے ’نروان‘ سے گریز کیا تاکہ عمربھر دوسروں کو بچائے رکھے اور اُن کے اوپر سلامتی کا سایہ ڈالے رکھے۔
رُوح کو خود اُس سے بچائے رکھنے کی جدوجہد میں معلوم نہیں اُسے کتنی کامیابی ہوئی لیکن یہ ضرور محسوس ہوا کہ رُوح میں کوئی پُراسرارسی انجانی سی خوشبو پیدا ہو جائے تو انسان دیوانگی سے محفوظ رہتا ہے۔
غالباً کہیں پڑھا تھا قدیم تبّت کے ایک تصوّر کے متعلق!--- یہ تصوّر ہے ’’وجود اور اُس کی کیفیت‘‘ کا! 
اِس کے مطابق ’’سب کچھ اسی زندگی میں ہے! ہم مرتے ہیں تو اپنی ’ذات‘ کے اندر--- اور پھر فوراً جنم لے لیتے ہیں ، اسی ذات کے اندر ایک نیا جنم ہوتا ہے!‘‘
مشرقی افکار میں عدم (Nothingness) کا تصوّر بہت اہم ہے، اس لیے کہ اِسی میں ’’سب کچھ ہے‘‘ ہم عدم سے آتے ہیں ، اِسی میں زندگی بسر ہوتی ہے اور پھر اسی میں چلے جاتے ہیں --- اور اِسی میں ’’سب کچھ ہے‘‘ سب کچھ ہوتا ہے۔
’’باپ نے بیٹے سے کہا
’’اُس درخت سے ایک پھل توڑ کر لاؤ‘‘
بیٹا پھل لے آیا
’’اسے توڑ کر دیکھو اس میں کیا ہے؟‘‘
’’اِس میں بیج ہیں ‘‘
’’ایک بیج توڑ کر بتاؤ اندر کیا ہے؟‘‘
’’کچھ بھی نہیں !‘‘
’’یہی کچھ نہیں ، سب کچھ ہے، کچھ نہیں ، سچ ہے، حقیقت ہے، سچّائی ہے، بنیادی جوہر ہے، اِسی سے اس درخت کا وجود قائم ہے۔‘‘
(اپنشد)
باپ نے کہا
’’اِس نمک کو پانی میں گھول دو‘‘
بیٹے نے حکم کی تعمیل کی،نمک پانی میں گھل گیا
’’اب پانی پی کر بتاؤ کیسا ہے؟ پہلے اوپر سے چکھو‘‘
بیٹے نے پانی پی کر کہا ’’نمکین ہے‘‘
کہا ’’درمیان سے چکھو۔‘‘
جواب ملا ’’نمکین ہے۔‘‘
کہا ’’نیچے سے پی کر بتاؤ۔‘‘
جواب ملا ’’یہ بھی نمکین ہے۔‘‘
باپ نے کہا ’’پانی پھینک دو۔‘‘
بیٹے نے پانی پھینک دیا لیکن
نمک موجود تھا!‘‘
	باپ نے بتایا ’’میرے بچّے، وجود کی بھی روح اسی طرح رہتی ہے، اس سچّائی کو دیکھنا آسان نہیں ہوتا، وہ نمک کی مانند گھُل جاتی ہے، یہی جوہر ہے، آتما ہے، برہما ہے، ذات اور وجود ہے!
(اُپنشد)
	’داخلی دیوانگی‘ سے خارجی شعور تک اور خارجی شعور سے ’داخلی دیوانگی‘ تک اُس نے بار بار اپنی تخلیق کی، اُس کا نیا جنم ہوتا رہا، عدم کا احساس ہمیشہ کچھ اس طور پر رہا کہ اسی میں سب کچھ ہے!
ایسا محسوس کرتا رہا جیسے دماغ میں کوئی ایسی جگہ ہے، کوئی نقطہ یا بندُو ہے جو پھیلتا اور سکڑتا ہے، زندگی اور موت دونوں کو لیے ہوئے، حقیقت اور تخیل کو لیے ہوئے، ماضی اور حال کو لیے ہوئے، بلندی اور پستی کو لیے ہوئے--- اور کہیں کوئی تضاد نہیں ہے! اس ’بندو‘ کو آگے چل کر زیادہ جانا پہچانا اُس نے!
زندگی کے جلال و جمال سے جو رشتہ قائم ہوا اُس کا تحرّک ہر لمحہ محسوس کرتا رہا، اس کا تقاضا صرف یہ تھا کہ زندگی کے اندر اُترتے جاؤ، بے خوف--- اور پھر خوف ہی جاتا رہا، بڑا نڈر ہو گیا!
’سائیکی‘ اور زندگی کے آہنگ کی آمیزش مختلف سطحوں پر ہو جائے تو یقیناً ایک نئی موسیقی [سمفنی (Symphony) کی مانند] جنم لے لے لیکن اس نئی موسیقی کی ترسمیم (Notation) کے لیے نئی زبان اور نئے الفاظ کی ضرورت ہے، ان کی تلاش میں ساری عمر گزر گئی، راگوں اور ’ژاژ‘ کی زبان میں ممکن ہے کچھ یکسانیت ہو لیکن ’ژاژ‘ کی زبان بھی مدد نہیں کر سکتی، اپنے آہنگ کے اظہار کے لیے کوئی زبان نہیں ملی، ایسی زبان کی تلاش میں رہا جو محض ترسیل کا ذریعہ ہی نہیں بلکہ تخلیق کے متحرّک تسلسل کا نقش بھی بنتی جائے، ایسے لفظوں کی تلاش جو اُن حسّی تجربوں کو ظاہر کر دے کہ جنھیں وہ جانتا اور محسوس کرتا ہے۔
اس سلسلے میں چند مثالیں اس طرح پیش کرتا ہے:
	جب بادلوں میں کچھ صورتوں کو بنتے اور گم ہوتے دیکھتا ہے
	اور اِن سے ایک نئی قوت کا احساس ملتا ہے،
	نغمہ ریز لہریں پورے وجود کو گرفت میں لے لیتی ہیں 
	تو اِن کے اظہار کے لیے اُس کے پاس
	الفاظ نہیں ہوتے!

	جب خوابوں سے کہیں اور آگے جاتا ہوا محسوس کرتا ہے
	تو اس کا جی چاہتا ہے سب کچھ بیان کر دے!
	اُن فضاؤں کے متعلّق
	جو خوابوں سے کہیں آگے ملتی ہیں 
	اُن خوشبوؤں کے متعلّق
	جو اُس کے وجود کو گرفت میں لے کر اچانک چھوڑ دیتی ہیں 
	دماغ فضاؤں کی خوشبوؤں سے معطّر ہو جاتا ہے
	ان خوشبوؤں کو بیان نہیں کر سکتا!

	انسان اور کائنات کے حسن اور عمل میں جو عجیب و غریب پراسرار رشتہ ہے،
	آہنگ اور آہنگ کی وحدت جو سرگوشیاں کرتی ہے؟
	بھلا اُنھیں کس طرح بیان کرے،
	چاہتا تو ہے کہ حسّی سطح پر جو ’’تجربہ‘‘ حاصل ہو اُسے لکھ دے۔
	لیکن کس طرح لکھ دے!
	اُس کی زبان میں اتنی طاقت کب ہے!

	جب وہ چھوٹا تھا، ایک انتہائی دلفریب منظر دیکھا تھا اُس نے
	دو سانپوں کا رقص
	دونوں ایک دوسرے میں جیسے جذب ہو گئے تھے، ایک دوسرے سے لپٹے بار بار نیچے سے اُوپر کی جانب اُٹھ رہے تھے،
	عجیب آہنگ تھا!
	عجیب مترنّم حرکت تھی کہ جس سے لمحے مترنّم ہو گئے تھے،
	دیر تک یہ منظر سامنے تھا
	یقیناً ’سِکس‘ کا پہلا معصومانہ احساس ملا تھا اُسے

تب سے ’سِکس‘ اور اس کی لذّت اور اُس کے آہنگ کا احساس اُسے سانپوں کے اُس رقص تک پہنچا دیتا ہے
	اس آہنگ کو آج بھی محسوس کرتا ہے لیکن
	اسے بیان نہیں کر سکتا!
	اور جب کسی کے وجود سے اُس کا وجود ہم آہنگ ہوتا ہے
	تو محسوس ہوتا ہے جیسے اُس نے
	اپنے وجود کی تمام ہڈّیوں کو توڑ کر ہاتھوں میں لے لیا ہے اور عبادت میں 
	مصروف ہو گیا ہے!
	ان ’’ہڈّیوں کے بجنے کی صدا‘‘ سنائی دیتی ہے
	کبھی دُور سے جرس کی مانند
	اور کبھی نزدیک سے سَنکھ اور گجر کی طرح،
	اِس صدا میں 
	اِس آہنگ میں پورے وجود کا آہنگ ہوتا ہے
	بھلا ایسے لمحوں کے تمام نشیب و فراز کے آہنگ کو کس طرح بیان کر سکتا ہے!
	کسی قدیم قبائلی تمدّن میں یہ رواج تھا کہ انسان کی ہڈّیوں سے ساز بنائے جاتے تھے، اُن کا استعمال صرف اُسی وقت ہوتا جب ’’عورت‘‘ کی عبادت ہوتی تھی، مُردہ انسانوں کی ہڈّیوں کے ساز کی آواز
	اور اپنے وجود کی ہڈّیوں کے بجنے کی صدا میں بڑا فرق ہے
	مُردہ انسانوں کی ہڈّیوں کے ساز سے ممکن ہے بہت اچھی آواز نکلتی ہو اُس آواز کے زیر و بم کی خبر نہ بھی ملے تو حقیقت کی پہچان ہو جاتی ہے، عمل کی خبر مل جاتی ہے

	لیکن اپنے وجود کی ہڈّیوں کے بجنے کی صدا اور جسم کی سچّی عبادت کے لمحوں میں جن کیفیتوں میں ہوتا ہے بھلا اُن کیفیتوں سے کس طرح آشنا کر سکتا ہے۔
	کون سی زبان ہے
	اور کون سے الفاظ ہیں جو ’سائیکی‘ اور حسّی تجربوں کے آہنگ کا احساس بخش دیں ؟‘

	ابتداء سے نرگسی رہا ہے
	لیکن نرگسیت ایسی کہ ہر پیکر اس کے خوابوں کی دُنیا کا ’اظہار‘ بن گیا، اس کی رُوح کا اظہار!
	زندگی اور خواب کے درمیان جیسے اس نے کوئی راہ نکالی ہو
	جُدائی کا دُکھ ملا یا کسی قسم کا غم، ذات کا حصّہ بن گیا تو
	فوراً ’شناخت‘ نے اُسے سنبھال لیا،
	زندگی، فطرت، لوگ، اشیاء و عناصر میں ’ذات‘ کے کئی پہلو نظر آنے لگے‘
	یہ سب
	اپنے ساتھ خود اپنے موضوع پر لکھی ہوئی کتابوں کے ساتھ Unknown کی گہرائیوں میں بھی لے گئے اور ہمیشہ کچھ نئی سچّائیوں کا احساس عطا کیا!	 



ایک

اس کی ہمیشہ یہ خواہش رہی ہے کہ وہ اپنی آنکھوں کے اندر رہے۔
اپنے وجود کے آشرم میں !
غالباً یہی وجہ ہے کہ زندگی کے سفر میں اس نے غالبؔ کی طرح ہمیشہ یہ محسوس کیا کہ زندگی میں رہتے ہوئے بھی زندگی کرنے والوں سے الگ ہے، اسی طرح جس طرح امام تسبیح میں ہوتا ہے مگر شمار میں نہیں ہوتا!
اپنی آنکھوں کے اندر رہتے ہوئے اُسے حیات و کائنات اور اشیاء و عناصر کے جو تجربے حاصل ہوئے اُنھیں وہ بہت قیمتی اور عزیز جانتا ہے۔
اپنے وجود کے آشرم اور اپنی آنکھوں کے اندر نہ ہوتا تو اُسے 
ماضی کی قدر و قیمت کا احساس نہیں ملتا، ماضی کی تاریکی اور روشنی، اس کے تحرک اور رقص اور اس کی سیّال کیفیت سے ناآشنا رہتا، قبائلی، مذہبی، مابعد الطبعیاتی اور مادّی تجربوں کی چمکتی ہوئی روشن لہروں میں بار بار جذب نہ ہوتا۔
وہ یہی سوچتا
ماضی کتنا معنی خیز، کتنا جہت دار اور کس قدر پہلو دار ہے!

’تجربہ‘ جب تک ماضی کا حصہ نہیں بن پاتا اُس وقت تک اس کی قدر و قیمت کا اندازہ نہیں ہوتا اور ہر نیا، تازہ اور معنی خیز تجربہ تو ماضی کا ہی حصہ بن کر اپنی تہہ دار معنویت کا احساس دیتا ہے۔

’ماضی‘ ایک کائنات ہے، اس کا مکمل سفر ممکن نہیں ، ایسی صحرا نوردی کا تصوّر بھی آسان نہیں ، صرف وہ ’نگاہ‘ جو آنکھ کے اندر ہوتی ہے ماضی کے بعض علاقوں کا سفر کر لیتی ہے اور اپنی کائنات کے اُن رنگوں کو کسی حد تک پہچان لیتی ہے جو وہاں پہنچ کر نئے رنگوں کی صورتیں اختیار کر لیتے ہیں ۔
ابتداء میں جب اُسے اِس گہری سچائی کا احساس اس طرح ہوا کہ ماضی ایک دوسرا ملک ہے، انتہائی پراسرار اور وہ--- ’وقت‘ اور ’زمانے‘ میں عارضی طور پر زندگی بسر کرتا رہا ہے تو آہستہ آہستہ اپنی اس ’نگاہ‘ کے تئیں بیدار ہونے لگا، اپنی آنکھوں کے اندر رہنے لگا اور اپنی اُس ’نگاہ‘ کی حفاظت کرنے لگا جو آنکھ کے اندر ہوتی ہے--- 
اسی وجہ سے
اُس کے قبیلے نے اُسے اچانک علیٰحدہ کر دیا، قبیلے کے تمام افراد نے رشتے توڑ لیے، اس بھری دُنیا میں ایسے مسافر سے بھلا کیوں رشتہ قائم کیا جائے جو صرف عارضی طور پر یہاں رہنے آتا ہے اور پھر اپنی دُنیا میں واپس چلا جاتا ہے۔
اور وہ تھا
کہ ماضی کے تجربوں کی روشنی پی رہا تھا، جس قدر پیتا، اُس کی تشنگی اُسی قدر اور بڑھ جاتی۔

اندھیرے میں نوری لکیروں کی تلاش میں سرگرداں رہا، جب بھی کوئی روشن، منوّر اور متحرّک لکیر ایسی ملی تو اسے اپنی نگاہ سے چوم لیا اور انسان اور اُس کی تمام تہذیب کے تئیں کسی نہ کسی سطح پر خود کو بیدار محسوس کرنے لگا۔

اپنی ڈائری میں لکھا تھا:
 ’’میری زندگی میں جانے کتنے ایسے لمحے آئے ہیں 
جن لمحوں میں 
میں نے خود کو بے حد اجنبی پایا ہے
بھلا ان کو میں نے
کب خلق کیا؟
ایسے لمحے کہاں سے آتے ہیں 
جو مجھے اچانک
اجنبی بنا دیتے ہیں ۔‘‘		(ڈائری ۳۰-۳-۷۴، مطبوعہ)

اُس نے اپنے تاثرات کبھی اِس طرح پیش کیے تھے:
’’میرا ماضی ایک آئینہ خانہ ہے، ہر آئینہ بہت کچھ کہتا ہے مجھ سے مجھے ہر آئینے سے محبت ہے، کسی کو توڑنا نہیں چاہتا، کسی کوٹوٹا ہوا دیکھنا نہیں چاہتا، ہر آئینہ، ہر شیشہ میری روح، میرے وجود کا حصہ ہے!‘‘
(یہ باتیں ہماریاں ، مطبوعہ)
اور کبھی اس طرح:
 ’’جب میں ماضی کا تصوّر کرتا ہوں ---کبھی محسوس ہوتا ہے میرا ماضی قطرۂ خون کی مانند میری پلکوں پر جم گیا ہے اور کبھی محسوس ہوتا ہے میری زندگی میں جتنے چراغ روشن ہیں سب اسی محفل سے آئے ہیں ۔‘‘ 
(ایضاً)

 بہت چھوٹا تھا تب سے اُس کی ایک عجیب و غریب عادت رہی ہے، بیٹھے بیٹھے، سوچتے سوچتے اُلٹے سیدھے خاکے بنانے کی، ماضی کی کوئی یاد آئی اور انگلیوں میں تحرک سا پیدا ہو گیا اور یہ یاد ایک خاکے میں جیسے بند ہو گئی۔

عموماً یہ خاکہ ذہن پر نقش ہو جاتا اور واقعہ کی علامت یا اس کا نشان بن کر زندہ رہتا، اسے کئی خاکے یاد ہیں اور ان کے تعلق سے وہ ماضی کے بعض واقعات اور تجربات کو پہچانتا رہتا ہے، ان کے سہارے یادیں تازہ ہو جاتی ہیں ۔

اس عمر تک پہنچتے پہنچتے جانے کتنے خاکے بنائے، انھیں کبھی محفوظ نہیں رکھا، لکیریں اُبھر آئیں ، کوئی نقشہ بن گیا تو ذہن پر بھی جیسے نقش ہو گیا اور اسی وقت نقشہ یا خاکہ ضائع کر دیا، جلسوں میں بیٹھ کر بھی وہ اکثر عجیب و غریب خاکے کھینچتا رہتا ہے، کچھ کر دار، واقعات اور عوامل کو ذہن پر نقش کرنے کے لیے اپنے نقشوں اور خاکوں کو خود ہی جانتا پہچانتا ہے، اس نے ریڈیو اور ٹیلی ویژن کے لیے جو ڈرامے لکھے وہ پہلے مختلف نقشوں اور خاکوں ہی میں اُبھرے، کر دار اور واقعات لکیروں ، زاویوں اور مربعوں کے علاوہ مختلف چہروں اور تصویری عوامل میں سامنے آئے ہیں پھر کوئی تمثیل وجود میں آئی ہے، ابتدائی دور کے کچھ خاکے اور نقشے آج بھی ذہن پر نقش ہیں اور ان میں اکثر پرانی یادوں کو تازہ کر دیتے ہیں ، ماضی کو محسوس بنا دیتے ہیں ، تجربوں کو گرفت میں لینے کا یہ عجیب و غریب عمل رہا ہے، ممکن ہے ایسے نقشوں اور خاکوں میں صرف وہی سچائیاں نہ ہوں جو لمحوں میں اُس کے تجربوں میں شامل ہو گئی ہوں ،ان کے ساتھ شعور اور لاشعور کی کچھ مخفی سطحیں بھی اُبھر کر آ گئی ہوں ، وہ نہیں جانتا، لیکن اُس نے اکثر محسوس کیا ہے کہ کچھ خاکے اور نقشے وجود میں آ کر اُس کے لیے متحرک قوت بن گئے ہیں ، ان میں جادو یا سحر کی سی کیفیت پیدا ہو گئی ہے،کبھی ایسا بھی محسوس ہوتا ہے کہ کوئی واقعہ یاد آیا اور انگلیوں میں حرکت پیدا ہو گئی اور اُس واقعے کی ایک عجیب و غریب تصویر بن گئی اور اپنی سحر انگیز قوت کا احساس دلانے لگی، وہ اپنے اس عمل کو ’’ذاتی یانتر‘‘ (Personal Yantra) سے تعبیر کرتا ہے!



دو

 صبح ہو رہی تھی، پوری فضا کہر میں لپٹی ہوئی تھی،
کمپارٹمنٹ کے مسافر سو رہے تھے، چند بیٹھے بیٹھے اونگھ رہے تھے، دسمبر کی سرد صبح تھی، کمپارٹمنٹ کے باہر اُسے ہر شئے اچھی لگ رہی تھی، ٹرین کی رفتار تیز ہو گئی تھی، جاگتی آنکھوں کا بھاری پن محسوس تو کر رہا تھا لیکن اس کا جی چاہ رہا تھا کہ اپنی آنکھیں کھُلی رکھے، صبح کی ٹھنڈی ہوا بھلی لگ رہی تھی، یہ ہوا اُسے ہمیشہ بھلی لگی ہے، لیکن آج تو جیسے یہ رگِ جاں میں اُترتی جا رہی تھی۔
اچانک دُور سے ایک جانی پہچانی خوشبو کی لہر سی آئی اور پھر محسوس ہونے لگا جیسے سحر کا 
سارا دھواں اس خوشبو میں لپٹا جا رہا ہے، وہ فوراً سمجھ گیا کہ ٹرین اُس کے شہر کے قریب پہنچ رہی ہے۔ اُسے دور ہی سے محسوس ہو جاتا کہ وہ اپنے چھوٹے سے، پیارے سے شہر کے قریب آ گیا ہے۔ ّمٹی کی سوندھی خوشبو جانی پہچانی تھی، اپنے شہر سے دور ہی رہتا کہ اس کے نتھنوں میں اُس علاقے کی مٹی کی خوشبو سمانے لگی، یہ خوشبو تو ہمیشہ یادوں کا عنوان بنی رہی ہے، اس کے ساتھ ایک عجیب سے درد کا احساس ہوتا، ایک کسک سی محسوس ہوتی۔

اپنے شہر کا عاشق جب بھی مسرتوں کے لیے ترستا، اپنی یادوں میں کھو جانے کے لیے چلا آتا، وہاں اس کا کچھ بھی باقی نہ بچا تھا، صرف یادیں تھیں جو وہاں پہنچ کر تازہ ہو جاتیں ، یادیں کہیں بھی آ جاتی تھیں لیکن کبھی رنگ برنگی تتلیاں بن کر اس طرح نہیں اُڑتی پھرتی تھیں ، یہ شہر جیسے اس کی یادوں کی خوبصورت اور دلکش تتلیوں کا مسکن تھا۔

بڑا سکھ اور بڑا آنند ملتا اُسے اس طرح آتے ہوئے۔
اپنے شہر کا ہم نفس رہا ہے، ہمیشہ بڑی شدّت سے محسوس کرتا رہا ہے اپنے شہر کو! ایک وقت تھا جب یہ شہر اُس کے وجود کے شوالے کا کلس تھا جس سے شعاعیں پھوٹتی تھیں ۔

 مٹی کی خوشبو کی لہر آئی اور رگِ جاں میں ایک کسک سی اُٹھی، آنکھیں بھیگ گئیں ۔
اب اِس شہر میں اپنا یا پرایا کوئی نہ تھا۔
شہر ہی تھا جو اپنا محسوس ہوتا تھا، قربت کی آنچ اچھی لگ رہی تھی، جنوں اور آگہی دونوں اسی کی ّمٹی سے ملے تھے، درد کا یہ عجیب و غریب رشتہ تھا!

اِسی مٹی پر اُس کا جنم ہوا تھا۔
۱۸ تاریخ تھی، فروری کا مہینہ تھا--- اور سال تھا ۱۹۳۱ء کا!
صبح پانچ بجے!
جانے اُسے یہ کہانی کیوں سنائی گئی تھی کہ ہمالہ کی ترائی میں ایک پرانا صندوق ملا تھا، اُس صندوق میں ایک ناگ، ایک خوبصورت سی ڈبیا کی حفاظت کر رہا تھا، ڈبیا کو اُٹھایا گیا تو ناگ بڑے سکون اور اطمینان کے ساتھ گھنے جنگل میں چلا گیا، اور ڈبیا کو کھولا گیا تو تم نکلے، تم پہاڑ کے بیٹے ہو، وہی پہاڑ، وہی ہمالہ جو تمھاری حویلی کی چھت سے نظر آتا ہے۔
اور وہ اپنی حویلی کی چھت پر روز صبح جا کر ہمالہ کی اُس چوٹی کو دیکھتا رہتا جس پر اکثر برف جمی رہتی تھی، جی چاہتا اُڑ کر وہاں پہنچ جائے!

’موتیہاری‘ اُس کے شہر کا نام ہے، ریاستِ بہار کے شمال میں ، ضلع ’چمپارن‘ میں ! ’چمپارن‘ نیپال کی سرحد ہے، کہا جاتا ہے گوتم بدھ جب کپل وستو سے چلے تو اِس مقام پر بھی رُکے، کسی نے اُنھیں چمپا کا زرد خوشبودار پھول پیش کیا اور پھر سارا علاقہ چمپا کے مہکتے ہوئے زرد پھولوں سے لد گیا۔ اسی سے اِس کا نام ’چمپا--- رن‘ ہوا!
یعنی چمپا کے پھولوں کی خوشبوؤں سے بھرا جنگل!
اِسی مٹی نے اُسے دُنیا کو دیکھنے کے لیے آنکھیں بخشیں ۔
یہ شہر ’ماں ‘ بن کر پریوں کی کہانیاں سناتا رہا،
پہاڑ کے بیٹے نے اپنے شہر کو ہمیشہ اپنی ماں کی طرح محسوس کیا ہے۔
اِسی شہر نے آرزوؤں کو جنم دیا، تمناؤں کو کھلونوں کی مانند طاق پر سجایا۔
اُسے یاد تھا وہ لمحہ جب اس شہر کو چھوڑتے ہوئے اس کی آنکھوں سے اچانک آنسو ٹپک پڑے تھے، اب تو حیات کا رُخ ہی بدل چکا تھا!
اس شہر سے دُور جانے کتنی بار سولی پر چڑھا اُترا
اندھے کنوؤں میں جھانکتا رہا،
تاریکیوں میں ڈوبا
روشنیوں میں اُبھرا۔

انجن کی سیٹی گونجی، اسٹیشن قریب آ گیا تھا، تنہائی کا پرندہ بس اب اُڑنے والا تھا۔
ٹرین رُکی، اسٹیشن کا نام پڑھا
جانا پہچانا پیارا سا نام ’’موتیہاری‘‘!
اور دوسرے مسافروں کے ساتھ پلیٹ فارم پر اُتر گیا،
اِدھر اُدھر دیکھا، کوئی چہرہ شناسا نہ تھا، اپنا مختصر سا سامان لے کر باہر آ گیا۔
عکس در عکس ہر جانب اُسی کا سراپا تھا!

بچھڑے ہوئے دنوں کا ایک گہرا سایہ اُس کے استقبال کے لیے کھڑا تھا۔
’’کیسے ہو تم؟‘‘
سایہ ایک دلکش پیکر بن گیا، بیتے لمحوں کو لیے رقص کرنے لگا، اُس نے اپنے مرمریں بازو میں اُسے سمیٹ کر اُس کے ہونٹوں پر اپنے گرم ہونٹ رکھ دیئے، وہ کوئی ہیولیٰ نہ تھا، سنہرے بدن کا ایک دلفریب آئینہ تھا!

رِکشے پر بیٹھ گیا
’’گیان بابو کی چوک، لوہار پٹی محلہ!‘‘
صبح ہو چکی تھی، آفتاب کی کرنوں میں عجیب رعنائی تھی، صبح اوّلیں کی کرنوں کی مانند!
دسمبر کی صبح کی یہ دھوپ اُسے ہمیشہ اچھی لگتی تھی، اِن ہی لمحوں میں وہ اکثر ہار سنگھار کے پھول چنتا تھا، اپنی حویلی میں یہی تو ایک درخت تھا کہ جس سے اُس کی دوستی تھی، کتنی یادیں وابستہ ہیں اُس درخت سے کہ جس کی خوشبو اس وقت بھی اُس کے وجود میں سرایت کر رہی تھی۔
’’اسی سہر کے ہو بابو؟‘‘
’’ہاں !‘‘
(معلوم نہیں اب اس شہر کا ہوں بھی یا نہیں ، یہ ضرور جانتا ہوں کہ اسی نے مجھے حسین خواب دیئے تھے کہ جن کی تعبیر کی تلاش میں دور دور بھٹکتا رہا رہا ہوں ، میرا شوق اِسی کا عطا کیا ہوا ہے، اپنے صنم کدے کی تخلیق کے لیے اِسی شہر نے قشقہ کھینچنے کی تربیت دی تھی)

’’باہر کام کرتے ہو، بہت دن بعد آئے ہو کا؟‘‘
’’ہوں !‘‘
(اُن حکایات کی تلاش میں کہ جنھیں یہاں پرانی کتابوں میں بند کر کے چلا گیا تھا، انھیں پھر پڑھنا چاہتا ہوں ، وہ میری حکایات ہیں میری اپنی!)

’’کون کام کرت ہو بابو؟‘‘
’’وہی جو تم کرتے ہو۔‘‘
(زنجیرِ وقت میں بندھے دونوں ایک ہی کھیل میں مصروف ہیں ، کھیل کا انداز مختلف ہے۔ اِسی کھیل کو کام کہتے ہیں ، جس طرح تم نے اپنی امیدوں کو پالا ہے اُسی طرح میں نے بھی لیکن دونوں کی تمنّاؤں کے خلاف وقت کی سازش ایک جیسی ہے)

’’رکسہ چلات ہو، دھت، مجاک کرت ہو۔‘‘
’’دُنیا میں سب ہی رکشہ چلاتے ہیں بھائی!‘‘
(کاش تم دیکھ سکتے، جو رکشہ مجھے ملا ہے اُسے چلاتے چلاتے اتنے برسوں میں کتنا ٹوٹ چکا ہوں !)

’’لوہار َپٹیا میں اپنا گھروابا کا؟‘‘
’’کبھی تھا، اب نہیں ہے!‘‘
(حویلی تو ہے لیکن میرا گھر ماضی کی گہری دھُند میں لپٹ کر جانے کہاں کھو گیا ہے، اُسے اب تلاش بھی نہیں کر سکتا، تلاش کروں گا تو ملے گا بھی نہیں ، بس کچھ یادیں رہ گئی ہیں ، اب تو یادوں میں بھی شگاف پڑتے جا رہے ہیں )

’’تو پھر کدھر جاوے کا با؟‘‘
’’جہاں تم لے چلو۔‘‘
(گھر نہیں ہے اپنا شہر تو ہے، اِس شہر کو کوئی مجھ سے نہیں چھین سکتا! یہاں ہر کنج میں میرے وجود کی خوشبو ہے اور ہر کنج کی خوشبو مجھ میں بسی ہوئی ہے)

’’دھت بابو، مجاک کرت ہو!‘‘
(تم چلو تو، خود دیکھ لو گے میرا کوئی گھر نہیں ہے، دیکھو، اُس طرف، وہ جو پتھر پڑے ہوئے ہیں نا مجھ سے باتیں کر رہے ہیں ، تم ان کی آواز نہیں سن سکتے، سرگوشیاں کر رہے ہیں ، کہہ رہے ہیں تمھارا چہرہ کتنا بدل گیا ہے اور یہ اشجار، بہت پرانے ہیں ، یہ میرے اپنے ہیں ، اُن کے سائے سے گزر کر ہر روز کالج جایا کرتا تھا۔

پیچھے یہ ڈاک بنگلہ تھا نا، اس میں اکثر آیا ہوں --- اور وہ پوسٹ آفس ہے، میرے ا بو کے وارث یہاں سے روپے نکالنے آتے تھے، اور آگے چلو، یہ میرے یحییٰ بھائی کا مکان ہے اس میں میرے بچپن کا ایک دوست رہتا ہے، اس کا نام ممتاز احمد ہے۔ جانے کتنی یادیں وابستہ ہیں اُس کی ذات سے۔

جب چھوٹا تھا تو اُس نے ایک طوطا پالا تھا، بڑا پیار تھا اُس طوطے سے، ایک دن وہ طوطا مرگیا تو پھوٹ پھوٹ کر رویا۔
اور ایک دن جب ہم دونوں کا لہو کنوارا تھا اس نے مجھ سے کہا تھا:
’’وہ لڑکی بہت خوبصورت ہے، کہئے تو بات کروں ۔‘‘
اور میں چونک پڑا تھا، کتنی بری بات کی تھی، اس طرح تو وہ مجھ سے کبھی مخاطب نہیں ہوا تھا، مجھ سے پہلے اُسے زبان مل گئی تھی، اُس وقت اُس کی بہکی بہکی باتوں سے جیسے گناہ کا کوئی ناگ میری جانب لپکنے کو تیار تھا، کئی دنوں تک میں اُس سے ناخوش رہا۔

دیکھو اب ہم موتی جھیل کے قریب پہنچ رہے ہیں ، وہاں ، اس جھونپڑی میں ماسٹر سورج دیو دوبے رہتے تھے، نیلی نیلی خطرناک آنکھوں والے ماسٹر جی، علم الحساب پڑھاتے تھے، چند دنوں کے لیے میں بھی اُن کے پاس پڑھنے کے لیے بھیجا گیا تھا، جانتے ہو کیا ہوا، انھوں نے ایک سوال دیا اور میں نے اُن کے دیئے ہوئے تمام ہندسوں کو جوڑ کر ایک تصویر بنا دی۔ ایک مندر کی تصویر کہ جس کے اندر تین مجسّمے تھے، دو دیوتاؤں کے اور ایک دیوی کے، ماسٹر سورج دیو دوبے آئے تو لگا کوئی آسیب آ گیا، کاپی چھین لی اور ایک زوردار چانٹا مارا، کہا تمھارے ہر بھائی کو پڑھایا ہے لیکن تم بڑے نالائق ہو۔ چانٹا اچانک بڑے زور کا پڑا تھا، آنکھوں سے آنسو چھلک پڑے تھے، واقعی میں نے غلطی کی تھی، ہندسوں کو جوڑ کر مندر کی تصویر بنانے کی کیا ضرورت تھی، اُن لمحوں میں آخر میں تھا کہاں ؟ کاپی چھوڑ کر جو بھاگا تو پھر اُن کے پاس نہیں گیا، ماسٹر جی کو دور سے دیکھتا تو لہو خشک ہو جاتا۔

اب بھی جانتے ہو کیا کرتا ہوں ؟
جب بھی ہندسوں کو جوڑنے بیٹھتا ہوں تو جوڑنے کے بعد اُسی مندر کی تصویر بنا دیتا ہوں ، ہندسے غائب ہو جاتے ہیں اور مندر ابھر آتا ہے۔

آ گئے نا ہم ’’موتی جھیل‘‘ کے پل پر!
’موتی جھیل‘ میرے لیے ہمیشہ ایک ایسے سمندر کی طرح رہا ہے کہ جس نے مجھے طرح طرح کی کہانیاں سنائی ہیں ، چاندنی راتوں میں اکثر اس پُل پر آیا ہوں اور جھیل سے باتیں کرتا رہا ہوں ۔ تنہائی کا احساس جب بھی جاگا، اس جھیل کی یاد آئی ہے، یہ جھیل میرے محبوب کی مانند رہی ہے، سرگوشیوں کا ایک طویل سلسلہ قائم ہو گیا ہے جب بھی اس پُل پر آیا ہوں ۔ یہ جھیل میرے خوابوں میں آئی ہے، اس میں کبھی کوئی تلاطم نہیں دیکھا، اس نے مجھے ہمیشہ خاموش آہنگ ہی دیا ہے، اس کے پانی پر میرے تصوّر کی کھینچی ہوئی جانے کتنی لکیریں اب تک تیر رہی ہیں )

’’رکشہ بائیں گھما لو‘‘ اُس نے کہا۔
(یہ مینا بازار ہے، اس کے پیچھے میرے کچھ رشتہ داروں کے گھر تھے جہاں ہم اکثر آیا جایا کرتے تھے، اندر کی تمام گلیاں مجھ سے واقف ہیں ۔ یہ میونسپل پارک ہے، یہاں ’’کوی سمّیلن‘‘ اور مشاعرے بھی ہوتے تھے، میں نے بابو راجندر پرشاد اور ان کے بعد جے پرکاش نارائن کی پہلی تقریر اسی پارک میں سنی تھیں --- اور یہ سرِپھل پان والے کی دُکان ہے، جہاں ہر شام شریف گھرانے کے لوگ آتے، خوشبودار پان کھاتے اور موتی جھیل کی جانب ٹہلنے نکل جاتے--- یہ پولیس تھانہ ہے، اسی کے پیچھے اُردو لائبریری ہے اور اس کے پیچھے ا بو کا دوسرا مکان ہے کہ جس میں میرے دو بڑے بھائی رہتے ہیں --- اور باسو صاحب کی مشہور دُکان ہے--- ساری دُکانیں ابھی اُسی طرح ہیں ، بہت کم تبدیلیاں آئی ہیں --- یہ جامع مسجد ہے، اس کا خوبصورت دروازہ میرے ا ّبو نے بنوایا تھا---!)

’’رکشے والے، سیدھے ہاتھ گھوم جاؤ!‘‘
(اس راستے سے جانے کتنی بار گزرا ہوں ، ایک ایک مکان مجھے پہچانتا ہے، یہ ’پنچ مندر‘ ہے اسے روز اپنی چھت سے دیکھا کرتا تھا، بہت پرانا مندر ہے، چھوٹا تھا تو اکثر یہاں نو ٹنکی دیکھنے آتا تھا، تہواروں میں یہاں میلہ لگتا اور میں اپنے ننھے دوستوں کے ساتھ جی بھر کر سیر کرتا!)
’’بائیں ہاتھ--- اس طرف بھائی، ہاں ۔‘‘
(ا بو کی حویلی صاف نظر آ رہی ہے، محسوس ہو رہا ہے جیسے ایک بار پھر اپنے بچپن کی جانب لوٹ رہا ہوں --- یہاں حلوائی کی دُکان تھی جہاں سے میرے لیے روز گرم جلیبیاں آتی تھیں --- اب تو سب کچھ مٹ چکا ہے--- یہ رہا گرجا چچا کا مکان، ابھی تک اسی طرح ہے، اچانک چمپا پھوپھی کی یاد آئی، وہ تو ہوں گی، میرے ا بو کی گاؤں کی ہیں ، سنا ہے خون کا رشتہ بھی ہے، آس پاس دو گھرانے ہیں ، ایک ہندو اور دوسرا مسلمان! دونوں رشتہ دار ہیں !)
’’بس روک دو یہاں ۔‘‘
رِکشہ رُک گیا
(یہ حویلی میرے ا بو کی ہے،کتنی اُداس اور کتنی سنسان، جانتے ہو، میرا جنم اسی حویلی میں ہوا تھا، میرا بچپن اِسی حویلی میں گزرا ہے)
’’یہ لو پیسے۔‘‘اُس نے رکشے والے کو کرایہ ادا کیا اور اپنا مختصر سا سامان اُٹھا لیا۔ گیٹ پر کھڑے ہو کر حویلی پر ایک نظر ڈالی، اوپر کا وہ حصہ ٹوٹ چکا تھا کہ جس پر لکھا تھا ’’محمد جان منزل (۱۹۳۶ء)۔‘‘ عجیب سی چوٹ لگی دل پر، پھر اس نے صحن میں ’’ہار سنگھار‘‘ کے اُس درخت کو دیکھنا چاہا کہ جس سے اس کا رشتہ بچپن سے تھا، اُس کی امّی کو ’’ہار سنگھار‘‘ کے پھول بہت پسند تھے، انھوں نے جانے کب یہ پیڑ لگایا تھا، بچپن میں وہ روز اس کے پھول چننے کے لیے صبح سویرے اُٹھ جایا کرتا تھا، اُس پیڑ سے اُس کی بڑی جذباتی وابستگی تھی، امّی کے گزر جانے کے بعد وہ اِسی پیڑ کے پھولوں اور ان کی خوشبوؤں میں اپنی امّی کو محسوس کرتا تھا۔
’’ہار سنگھار‘‘ کا وہ پیڑ اب وہاں نہیں تھا!
اسے محسوس ہوا جیسے واقعی اس حویلی سے اُس کا تعلق ہمیشہ کے لیے ختم ہو چکا ہے،
اپنا مختصر سا سامان اُٹھائے گیٹ کے اندر داخل ہو گیا۔


تین

 اس نے ’’محمد جان منزل‘‘ پر ایک نظر ڈالی، ہر جانب خاموشی تھی، سنّاٹا تھا۔
یہ وہی ’’گیٹ‘‘ ہے نا کہ جس پر انگور کی بیلیں چڑھی ہوئی تھیں !
اور اسی ’’گیٹ‘‘ کے اوپر تو آپا کی شادی میں شہنائی بج رہی تھی!
بارہ دس دن پہلے سے حویلی میں خوشیاں منائی جا رہی تھیں ، مراثنیں دیر رات تک ڈھول بجا بجا کر گا رہی تھیں ، ’رت جگا‘ کی دھوم دھام، رشتہ داروں اور محلّے والوں کی آمد و رفت، لڑکیوں کے دلکش قہقہے--- ہر ہونٹ پان سے سرخ، چائے کے کئی دور، ہر شخص مصروف، کیسی چہل پہل تھی!
شہنائی بجانے والے بنارس سے
سے آئے تھے، شہنائی کی آواز پورے ماحول کو گرفت میں لیے ہوئی تھی، سویرے شہنائی کی آواز سے اس کی آنکھیں کھُل جاتیں اور وہ دوڑتا ’گیٹ‘ پر چلا آتا اور گم سم کھڑا دلفریب آہنگ میں گم ہو جاتا۔
حویلی کی خاموشی آہستہ آہستہ شہنائی کی آواز میں ڈوبنے لگی، دیکھتے ہی دیکھتے فضا تبدیل ہونے لگی، اس آواز کے سہارے ماضی میں اُترنے لگا۔
خوبصورت شامیانے
جھاڑ فانوس
لوگوں کی بھیڑ بھاڑ
دعوتیں ،
نوجوان لڑکیوں کے قہقہے،
بارات
نکاح
شب میں ماسٹر راحت اینڈ پارٹی کا رقص
صبح آپا کی رخصتی 
ایک کہرام جیسے سارا شہر بیٹی کو رخصت کر رہا ہو،
ا بو کا اُداس چہرہ، عینک کے پیچھے ڈبڈبائی ہوئی آنکھیں 
کل ہی تو جیسے یہ سب کچھ ہوا تھا۔

پھر اچانک شہنائی رُک گئی
جیسے سنّاٹے میں تحلیل ہو گئی ہو
پھر وہی سنّاٹا، وہی خاموشی،
وہ سنّاٹے اور خاموشی کی گرفت میں تھا
ابھی مسرتوں کو لیے آسمانوں سے جو نازک خوبصورت پریاں اُتری تھیں 
ساری سوغات لیے اس گہری خاموشی میں تحلیل ہو گئیں ۔

اُسی لمحہ
دیو قامت حویلی کے دو بڑے ستونوں کے درمیان، ٹھیک دالان کے باہر ایک پرچھائیں سی اُبھری۔
دیکھتے ہی دیکھتے ایک گہری یاد ایک پر کشش پر وقار پیکر میں تبدل ہو گئی، اس کے سامنے ا ّبو کھڑے تھے۔
ہونٹوں پر ہلکی سی پیاری سی مسکراہٹ لیکن حد درجہ سوچتی ہوئی آنکھیں عینک کے پیچھے وہ آنکھیں جو اس حویلی کی نگہباں رہی ہیں ۔
جن آنکھوں نے صرف حویلی کے مختلف الخیال افراد کے درمیان اپنے جیتے جی محبت کا ایک گہرا رشتہ قائم نہیں کر رکھا تھا بلکہ مختلف گھرانوں کے درمیان بھی محبت اور پیار کا ایک عمدہ احساس پیدا کر دیا تھا،
وہی سرخ رنگ کی ترکی ٹوپی
سیاہ شیروانی
سفید پا جامہ
ایک ہاتھ میں چھڑی
دو بڑے ستونوں کے درمیان، ٹھیک دالان کے باہر کھڑے اُسے محبت بھری نگاہوں سے دیکھ رہے تھے۔
’’تم کب آئے میرے بیٹے!‘‘
اُس کی آنکھوں میں آنسو چھلک آئے، دوڑ کر آگے بڑھا
وہاں کوئی بھی نہ تھا!
ایک ستون سے لپٹ کر رونے لگا،

دسمبر کی صبح کی ہلکی سرد ہوا تھی، دھوپ نکل کر دیواروں پر آ گئی تھی، چہار دیواری پر دھوپ آہستہ آہستہ اُتر رہی تھی، بچپن سے وہ دھوپ کو اس طرح اُترتے دیکھتا آیا تھا اور اس سے وقت کا اندازہ کر لیتا تھا، آج بھی دھوپ دیواروں پر اسی طرح اُتر رہی تھی کوئی فرق نہ تھا۔
اور وقت
وقت تو بہت گزر گیا تھا!


چار

اس کے والد ’’خان بہادر مولوی محمد جان‘‘ کا شمار ریاست بہار کے معروف ترین وکیلوں میں ہوتا تھا، چھپرہ سے موتیہاری آ بسے تھے، جب تک زندہ رہے، اپنے اقبال کی بلندی سے ہی پہچانے گئے۔ صوفیانہ مزاج رکھتے تھے، آخری زمانے میں انتقال سے کچھ عرصہ قبل پھلواری شریف کے ایک معروف صوفی بزرگ کے مرید ہو گئے تھے۔
ایک بڑے سماج کے خالق تھے، عزیزوں ، رشتہ داروں ، دوستوں اور شہر کے بعض کنبوں کو لے کر ایسے سماج کی تشکیل کی تھی کہ جس میں زندگی کی عمدہ ترین قدروں کی روشنی پھیلی ہوئی تھی،
بڑی عزت تھی ان کی، سرکاری وکیل ہوئے اور ’پبلک پروسیکوٹر‘ بھی، حویلی میں ہندو رشتہ داروں کی حیثیت وہی تھی جو مسلمان رشتہ داروں کی تھی، اس کے دادا نے اسلام قبول کر لیا تھا اور خاندان کے بہت سے افراد ہندو ہی رہ گئے تھے لیکن رشتے ناطے اُسی طرح قائم تھے، خاندان کے بہت سے لوگ اب بھی ہندو ہیں ۔

دو مختلف مذاہب اور دو مختلف نظریۂ حیات کے ایک بڑے خاندان میں وہ پرورش پاتا رہا اور ایک انوکھے طرزِ زندگی سے آشنا ہوتا رہا،سب اس طرح رہے جیسے ایک ہی خاندان کے ہوں ، اور تھے بھی ایک ہی خاندان کے، کبھی کسی قسم کا کوئی اختلاف نہیں ہوا۔

اُس نے پیار و محبت، عزّت و احترام کی ایک حیرت انگیز زندگی دیکھی اور اس کی وجہ صرف یہ تھی کہ ا ّبو کی شخصیت اور مزاج کی تشکیل اعلیٰ ترین انسانی قدروں سے ہوئی تھی، اُن کی فکر اور اُن کے روشن تجربوں کا سایہ غیر معمولی نوعیت کا تھا۔

سب ایک دوسرے کے تہواروں اور خوشیوں میں شریک ہوتے، ایک فرد کا غم دوسرے کا غم بن جاتا، دو بڑے مذاہب کی تہذیبی اور تمدّنی آمیزشوں کے جلوے وہ بچپن سے دیکھتا آیا ہے۔ اپنے ابّو کی بعض خصوصیتوں سے بے حد متاثر ہوا، ممکن ہے ان کے اثرات اُن کی اپنی زندگی پر بھی ہوں ، چھوٹی عمر میں بھلا اُن کے اوصاف کو کتنا اور کس حد تک حاصل کر سکتا تھا، ابھی تو ہوش ہی سنبھال رہا تھا کہ ان کا سایہ سر سے اُٹھ گیا۔

وہ ایک پر وقار شخصیت کے مالک تھے، بڑی کشش تھی اُن کی شخصیت میں ، لوگ اُن کی جانب بس کھنچے چلے آتے، کم گو تھے، اپنی روشن چمکتی ہوئی آنکھوں اور اپنی مسکراہٹوں سے بہت سی باتیں کہہ جاتے تھے۔ کبھی کسی پر خفا ہوتے تو خاموش رہتے، کسی سے کچھ نہیں کہتے، خفگی بھی ایسی جو چند لمحوں کے اندر ختم ہو جاتی، شہر کے سماج میں بڑی عزّت حاصل تھی، ہر شخص کے مددگار بن جاتے، بڑی خاموشی سے مدد کرتے، جانے کتنے لوگوں کے گھر بسائے، جانے کتنے یتیموں کی پرورش کی، جانے کتنے بچوں کی دیکھ بھال کی اور ان کی تعلیم و تربیت کا انتظام کیا، بنگلے کے پیچھے کئی کمرے تھے کہ جن میں بے سہارے طالب علم رہتے تھے اور حویلی سے انھیں کھانا بھی ملتا اور وقت پر مدد بھی ملتی۔ جانے کہاں کہاں سے حاجت مند حویلی آتے اور خوش خوش واپس جاتے، عمدہ انسانی رویوں کو ہمیشہ پسند کرتے، کہا جاتا ہے کہ انھوں نے کبھی کسی کو کسی قسم کی نصیحت نہیں کی غالباً اس لیے کہ سب کے سامنے خود اُن کی شخصیت اعلیٰ انسانی معیار کو پیش کرتی تھی۔

اُس کے ا ّبو کا احساسِ جمال بڑا تیز اور متحرک تھا، لباس اور کھانے کے معاملے میں اُن کے احساسِ جمال کی پہچان زیادہ ہوتی تھی، عمدہ صاف ستھرے لباس پسند کرتے، عموماً شیروانی اور پا جامہ پہنتے، سیاہ رنگ کی شیروانی انھیں زیادہ پسند تھی، سر پر سرخ رنگ کی ترکی ٹوپی ہوتی، چہرہ نورانی تو تھا ہی، سیاہ داڑھی سے اور بھی پرکشش نظر آتا تھا۔ انگریزوں کی پارٹیوں میں اس نے انھیں کبھی کبھی خوبصورت سوٹ میں ملبوس دیکھا ہے ورنہ ایسی پارٹیوں میں بھی وہ اپنے مخصوص لباس ہی میں جاتے۔ پھول اور پرندے پسند تھے۔ دو بڑے باغ تھے، ایک باغ اگروا بستی میں تھا اور دوسرا اُس کے قریب ہی کہ جہاں آج سرکاری ہسپتال ہے، دونوں مقامات پر ان کے احساسِ جمال کے مطابق خوبصورت پھول لگائے جاتے، صدر ہسپتال والے باغ میں آم، لیچی، جامن، برگد، پیپل وغیرہ کے جانے کتنے درخت تھے، باغ والے حصّے سے الگ ان درختوں کی وجہ سے ایک خوبصورت جنگل بسا ہوا تھا، جب بھی اپنے کسی باغ میں جاتے، باغبانوں کو مناسب ہدایتیں دیتے، پھولوں کو توڑنا انھیں پسند نہ تھا، انھیں باغ کی زینت ہی تصوّر کرتے تھے۔

’’بنگلے کے باہر یہی وہ جگہ ہے نا کہ جہاں اکثر ا ّبو بیٹھا کرتے تھے، مقدموں کے کاغذات دیکھا کرتے تھے، کتنی بھیڑ رہتی تھی یہاں ہر صبح--- اور اُن کے قریب کرسیوں پر کتنے لوگ بیٹھتے تھے۔ ابّو سے مشورہ لینے کے لیے شہر کے کئی وکلا آتے، کبھی کبھی مقدمہ لڑنے والوں سے لان بھرا رہتا، گاؤں سے ایسے لوگ پیدل چل کر بھی آتے اور بیل گاڑیوں پر بھی--- اُسی دن کی تو بات ہے، مدھوبن کے راجہ صاحب ابّو کے پاس صبح سویرے آئے تھے۔ بپھرے ہوئے، اس لیے کہ اُن کی رانی صاحبہ نے اُن پر مقدمہ کر رکھا تھا اور ابّو رانی صاحبہ کے وکیل تھے، چاہتے تھے ابو اُن کے وکیل نہ رہیں اس کے لیے اصلی سونے کی اشرفیاں لے کر آئے تھے، ابّو کے بنگلے کا عجیب منظر تھا، ایک بھیڑ لگ گئی تھی، ابّو کچھ دیر خاموشی سے راجہ صاحب کی باتیں سنتے رہے، اُن کے سخت لہجے کو برداشت کرتے رہے، جب مدھوبن کے راجہ صاحب زیادہ گرم ہو گئے تو انھوں نے صرف یہ کہا ’’آپ میرے گھر پر آئے ہیں ، میرے مہمان ہیں ، جتنا برداشت کر سکتا تھا کر لیا اب آپ کی زبان اسی طرح چلتی رہی تو شاید مجھے آپ کو حویلی سے باہر کر دینا ہو گا۔ یہ راجہ صاحب مدھوبن کا دربار نہیں میرا گھر ہے۔ میں رانی صاحبہ کا وکیل ہوں ، مجھے کورٹ میں ان کی جانب سے لڑنا ہے، فیصلہ عدالت ہی کرے گی۔‘‘ اور راجہ صاحب اُسی وقت سونے کی اشرفیوں کے ساتھ اپنی کار میں بیٹھ کر چلے گئے۔ اُن کے اصلی سونے کی اشرفیوں کا ذکر شہر میں ہوتا رہا۔‘‘

’’ببوا، مالک بلاوت ہیں ۔‘‘
وہ دوڑ کر حویلی سے باہر نکلا، اس کے ابّو بنگلے کے باہر اپنی کرسی پر بیٹھے تھے۔
ہونٹوں پر وہی مسکراہٹ تھی جو اُسے دیکھ کر اکثر ا جاگر ہو جاتی تھی۔
قریب ہی پرندہ فروخت کرنے والا بیٹھا تھا اور اس کے پاس دو بڑی ٹوکریاں تھیں کہ جن میں چھوٹے بڑے کئی خوبصورت پرندے تھے۔
ابّو نے سارے پرندے خرید لیے تھے اور اس کا کام یہ تھا کہ ٹوکریوں سے ایک ایک پرندہ نکالے اور ہوا میں اُچھال دے تاکہ ہر پرندہ آزاد ہو جائے۔

اپنے ابّو کی مسکراہٹ دیکھ کر سمجھ گیا اُسے کیا کرنا ہے، اُس نے ایک ایک پرندہ نکالا اور اُڑا دیا۔ آزاد ہوتے ہوئے یہ پرندے ابّو کو بھی اچھے لگتے اور اسے بھی، پرندے بیچنے والے اکثر حیران رہتے یہ کیا سلسلہ ہے، کچھ ہی عرصہ بعد وہ سب کچھ سمجھ گئے اور ہر پندرہ بیس دنوں کے بعد حویلی آتے رہے۔ وہ جان گئے کہ جب بھی پرندے لے کر حویلی آئیں گے سارے پرندے خرید لیے جائیں گے۔
اس نے اکثر دیکھا ہے ابّو پرندے کو ہاتھوں میں لے کر دیر تک دیکھتے، خوش ہوتے، پاس بیٹھے ہوئے لوگوں سے اس کی خوبصورتی کی تعریف کرتے اور پھر اُڑا دیتے، اس طرح آزاد ہوتے پرندوں کو دیکھ کر اُنھیں بڑی خوشی ہوتی، پھر ایسے کام پر اُسے معمور کر دیا، اس کے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں سے پرندوں کو اُڑتے ہوئے دیکھ کر اُن کے چہرے پر خوشی کی عجیب لہر دوڑ جاتی۔

جب یہ یاد آئی تھی تو اس نے اپنی ڈائری میں لکھا تھا:
		’’بہت چھوٹا تھا
		ابّو پرندے خریدتے تھے
		اور مجھ سے کہتے
		’’انھیں اُڑا دو‘‘
		پرندوں کو اس طرح آزاد کرتے ہوئے
		مجھے بے حد خوشی ہوتی تھی
		جب پرندے
		میرے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں سے اُڑتے تو
		ابّو کے چہرے پر عجیب طرح کی مسکراہٹ پھیل جاتی تھی
		اور اُن کی آنکھوں میں 
		خوشی سے آنسو چھلک آتے تھے!

		مجھے آزاد ہوتے ہوئے
		خوبصورت پرندے
		بہت اچھے لگتے تھے
		تب سے آزادی مجھے پسند ہے
		جی چاہتا ہے سب اسی طرح اُڑتے پھریں 
		کوئی کسی کو اذیت نہ دے
		کوئی کسی کو دُکھ نہ دے

		آزادی کا یہ پہلا احساس تھا
		جو مجھے ملا تھا!
		جب بھی بعض لمحوں میں قید ہوا ہوں 
		ایک عجیب کرب کا احساس ہوا ہے
		اور مجھے
		پرندہ بیچنے والے کی
		وہ ٹوکری یاد آ گئی ہے
		کہ جس میں 
		پرندوں کو قید دیکھا ہے!‘‘
(مطبوعہ: ڈائری ۲ جولائی ۱۹۷۵ء)

صبح ۸ بجے بنگلے میں بیٹھتے، کام کرتے، لوگوں کی بھیڑ رہتی، مقدموں کے کاغذات پڑھتے اور موکلّوں کو ہدایتیں اور مشورے دیتے، دس ساڑھے دس بجے عدالت جاتے، وہ اکثر ’’گیان بابو‘‘ کے چوک تک اُن کی گہری نیلی کار میں بیٹھ کر جاتا اور ایک ملازم جو پہلے سے وہاں موجود ہوتا اسے واپس گھر لے آتا، ہیرا ڈرائیور کو معلوم تھا کہ چلتے وقت اگر وہ حویلی میں چھوٹ گیا تو دن بھر ایک ہنگامہ رہے گا لہٰذا وہ اسے پہلے ہی بلا کر کار میں بٹھا لیا کرتا تھا۔

سوکھاڑیا ابو کا خاص ملازم تھا جو ’’گیان بابو‘‘ کے چوک پر پہلے سے کھڑا رہتا، اُس کے ساتھ واپس آتے ہوئے جب وہ کسی بات پر مچل جاتا تو سوکھاڑیا اسے انگریزی زبان میں ڈانٹتا اور وہ ڈر جاتا، اُس سے کم اُس کی انگریزی سے زیادہ، کیا کہتا تھا اُسے معلوم نہیں لیکن جس انداز سے انگریزی کے چند الفاظ ادا کرتا، اُس سے اس کے پورے وجود میں خوف کی لہرسی دوڑ جاتی تھی۔ سب اُسے پیار سے ’’سوکھاڑی بھگت‘‘ کہتے تھے، حویلی میں تمام ملازموں کا حاکم تھا، جب بھی کسی ملازم نے الٹی سیدھی حرکت کی سوکھاڑی بھگت نے اپنی انگریزی کے کوڑے برسائے، کیا بولتے کوئی نہیں سمجھتا لیکن یہ بات ضرور سمجھ میں آ جاتی تھی کہ سخت ڈانٹ پڑ رہی ہے، ایک نئی خادمہ آئی تو انھوں نے سب سے پہلے اپنی انگریزی سے اُس کا سواگت کیا، جانے وہ کیا سمجھ بیٹھی روتے روتے اس کا بُرا حال ہو گیا، ہچکیاں آنے لگیں ، خالہ امّاں اور ممانی جان نے اسے بہت سمجھایا، تب سکون ملا اُسے لیکن جب تک رہی ’’سوکھاڑی بھگت‘‘ کے سائے سے دُور دُور رہنے کی کوشش کرتی رہی۔

اُس کے ابّو کا بنگلہ بڑا دلکش نظر آتا، جھاڑ فانوس سے سجا سجایا تھا، دو بڑے قد آدم آئینے تھے، عمدہ فرنیچر تھے، قانون کی کتابیں سلیقے سے الماریوں میں سجی ہوئی تھیں ۔ حویلی میں دو کاریں تھیں ، ایک اونٹنی تھی اور اس کا ایک پیارا سا بچّہ تھا، اونٹنی کا نمکین دودھ اُسے اچھا نہیں لگتا۔ لیکن ابو کے کہنے پر تھوڑا دودھ روز پی لیتا تھا، کئی گائیں تھیں اور انھیں دیکھنے کے لیے کئی افراد تھے، ان کی پرورش بھی حویلی میں ہو رہی تھی، ابو کاشتکار بھی تھے اور زمیندار بھی، معلوم نہیں کتنے گاؤں کے زمیندار تھے، بعض گاؤں میں اُس کے بھی حصّے تھے، دودھ دَہی، چاول، دال، گھی، سلامی، نذرانے، بچپن میں وہ یہ سب کچھ دیکھتا رہا ہے، کھیتوں سے دھان لائے جاتے تو بیل گاڑیوں کی ایک لمبی قطار لگ جاتی۔

ہولی، دیوالی، دسہرہ، عید اور بقرعید کے تہواروں میں سب شریک رہتے، ایک دوسرے کے گھر جاتے مبارکباد دیتے، خوب کھاتے پیتے، حویلی میں سب ہولی کھیلتے، دیوالی میں حویلی کی بچیاں گھروندے بناتیں ، رنگاؤلی سجائی جاتی، اُس کی چھوٹی بہن عطیہ کے لیے ممانی جان ہر سال ایک خوبصورت سا گھروندہ بناتی تھیں ، دیوالی کے دن تمام گھروندوں کو سجایا جاتا، اُن پر دیئے جلائے جاتے، عید بقرعید میں حویلی کے تمام افراد دوسرے محلّوں میں رہنے والے رشتہ داروں کے ساتھ نماز کے لیے جاتے، ہندو رشتہ دار آتے اور گھر کے کام کاج میں بڑے انہماک سے حصّہ لیتے۔

حویلی میں اکثر میلاد شریف کی محفلیں ہوتیں ، مشاعرے ہوتے، اُس کے ابّو کی دلچسپی موسیقی سے بھی تھی۔ لہٰذا قوالی کی محفلیں بھی سجائی جاتیں ، دُور دراز علاقوں سے قوّال آتے، اُس کے والد کی دلچسپی کی خبر سن کر کلکتے سے کئی قوّال آتے، رات بھر قوّالی کی محفلیں جمی رہتیں اور وہ اپنی چھوٹی سی عمر میں دیر تک قوّالیاں سنتا رہتا۔

ماسٹر قادر مرحوم ایک معروف موسیقار تھے، اکثر آتے، ستار اور طبلے کے اُستاد تھے جل ترنگ بھی خوب بجاتے تھے، ہارمونیم پر نغمے سناتے، وہ اُن کے بہت قریب بیٹھا کرتا اور اُن کے ہاتھوں اور انگلیوں کی سحر انگیز کیفیتوں سے متاثر ہوتا تھا۔ ماسٹر راحت جو اُس زمانے کے معروف ’اسٹیج ڈانسر‘ تھے حویلی میں کئی بار آئے، اُس کے رشتہ داروں کی دلچسپی اسٹیج کے ڈراموں سے تھی لہٰذا آئے دن اسٹیج پر ڈرامے ہوتے، خاندان کے بعض افراد نے اسٹیج ڈرامے کی روایتوں کو جانے کب سے عزیز تر بنا رکھا تھا، اُسے معلوم ہوا کہ جب یہ لوگ ہر پور اور چھپرہ میں تھے تو اکثر اسٹیج ڈرامے پیش کرتے تھے، اُس کے چچا زاد بھائی محمد یحییٰ صاحب اس معاملے میں ہمیشہ پیش پیش رہتے، اُن کی وجہ سے شہر میں جہاں ’کیرم‘ اور شطرنج کے مقابلے مقبول ہوئے وہاں اسٹیج کے ڈرامے بھی ہر دلعزیز بن گئے۔ ڈائریکٹر کی حیثیت سے انھوں نے کئی ڈرامے اسٹیج کئے اور جانے کتنے لوگوں کو اداکار بنا دیا۔ حویلی کی عورتیں بات بات پر منتیں مانتیں اور رت جگا، کی تقریبیں ہوتی رہتیں ۔ ڈھول پر گیت گائے جاتے، خوشیاں منائی جاتیں ، پیروں فقیروں کے مزاروں پر چراغ جلائے جاتے۔

اُس کے ابّو کی اپنی ’ہارمونیم‘ تھی کہ جس پر اکثر انھیں گنگناتے سنتا، اپنی چھوٹی بہن عطیہ کے ساتھ اکثر اُن کے پاس بیٹھ جاتا اور وہ دونوں کے لیے گیت مرتب کرتے، ہمیں نت نئے گیت سنا کر ہنساتے، جہاں تک اُسے یاد آتا ہے وہ اکثر بھوجپوری گیت ہی گنگناتے تھے، بھوجپوری اُن کی مادری زبان تھی، حویلی میں اُردو اور بھوجپوری دونوں زبانوں کا چلن تھا، ابّو کبھی کبھی شکار کھیلنے بھی جاتے، وہ اکثر اُن کے ساتھ گیا، خود کبھی بندوق نہیں چلاتے، شکار کے بہانے سیر و تفریح ہی مقصد تھا، انھیں قدیم تمدّنی زندگی کی کہانیاں پسند تھیں ، لہٰذا جب بھی ایسی فلمیں آ جاتیں کہ جن میں مصر، افریقہ یا ہندوستان کی قدیم زندگی کی کہانیاں ہوتیں وہ ضرور جاتے۔

اُسے یاد ہے، حویلی میں اکثر دعوتیں ہوتی رہتی تھیں ، طرح طرح کے کھانے بنتے، شہر کے مصروف باورچی اسمٰعیل میاں اپنے فن کے استاد تھے، اکثر کہتے میں نے جو کچھ سیکھا اسی حویلی میں ۔ دعوتوں میں اُس نے ہمیشہ شہر کے معززین اور دوسرے شہروں کے عالموں اور بڑے عہدوں پر فائز بڑے افسروں کو دیکھا، جب بھی کوئی دعوت ہوتی تو گیٹ کے باہر سڑک پر فقیروں کا ہجوم جمع ہو جاتا اور انھیں کھانا کھلایا جاتا، ہر جمعرات کی شام کو اُس کے ہاتھ سے فقیروں اور محتاجوں کو پیسے اور کبھی کپڑے دیئے جاتے، عید اور بقرعید میں اُن کے کپڑوں کا خاص انتظام ہوتا۔

اُس کے ابّو کو اخبار پڑھنے کا بڑا شوق تھا، کلکتے سے انگریزی اخبارات شام کو پہنچتے تھے، پٹنہ سے اخبار دن میں آتے تھے، شام کے وقت اکثر بستر پر لیٹ کر اخبار پڑھتے اور اُس وقت اُن کے قریب کوئی نہیں جاتا، اگر کوئی ضرورت ہوتی تو صرف اسی کو بھیجا جاتا جو ان کے پلنگ سے لگ کر کھڑا ہو جاتا اور ضرورت بتاتا۔سال میں ایک بار اکتوبر کے مہینے میں سب سفر پر جاتے، پہلے سے تیاریاں ہوتیں ، کبھی کلکتہ، کبھی رانچی، کبھی لکھنؤ کبھی نینی تال اور کبھی دہلی، ایک بڑا قافلہ چلتا، باورچی، خادمائیں ، خادم، ڈرائیور، دھوبی سب ہوتے، شکور دھوبی تو اکثر ساتھ ہوتا، ایک ماہ باہر رہتے، کچھ لوگ ٹرین سے سفر کرتے اور کچھ کار سے، جہاں جاتے کرائے پر ایک بڑا مکان لیا جاتا اور سب اُسی مکان میں رہتے، کچھ شہروں کی یادیں اب تک تازہ ہیں ، بھیم تال اور نینی تال میں جھیل میں کشتیوں پر گھومنا، لکھنؤ میں خوبصورت تانگوں اور بھگیوں کی سیر، رانچی میں صبح سویرے تازہ گرم رس گولے کھانا، پہاڑوں پر چڑھنا، چڑیا گھروں اور عجائب گھروں میں طرح طرح کے جانوروں ، پرندوں اور اشیاء و عناصر کو دیکھنا۔

رات کے کھانے سے قبل اُس کے ابّو اکثر گھر والوں کے ساتھ کبھی تاش کھیلتے اور کبھی ’کیرم‘ وہ دور سے تماشا دیکھتا جس دن اُن کی طبیعت خراب رہتی وہ کچھ نہیں کھیلتے، اُس شب گھر میں عجیب طرح کی اُداسی چھا جاتی، اُن کی مرکزی حیثیت کو وہ بڑی شدّت سے محسوس کرتا تھا۔ اُنھیں اچھی گفتگو پسند تھی، اپنے تمام بیٹوں سے اچھے رویوں کے متمنی تھے، کسی کی تعریف کرتے تو اُن کی شخصیت میں مضمر انسان دوستی کا جذبہ اچھی طرح ا جاگر ہوتا، کھلے دماغ اور کھلے دل کو پسند کرتے تھے، اُن کے اسلوبِ زندگی سے اپنی ننھی سی عمر میں وہ بے حد متاثر ہوا۔ درختوں ، پھولوں ، پرندوں ، پہاڑوں اور جھیلوں اور فطرت کے حسن و جمال کو اُس نے سب سے پہلے اُن کے قریب رہ کر محسوس کیا ہے۔ انسان دوستی کا پہلا بنیادی سبق اُن کے کر دار اور عمل سے حاصل کیا ہے۔ زندگی کی عمدہ اور نفیس قدروں کا پہلا احساس انھوں نے دیا۔ ایسے مکتب کا تصور پیدا ہوتا ہے کہ جہاں معلّم نے اپنی زبان نہیں کھولی لیکن زندگی اور مظاہرِ زندگی محبت اور ایثار، انسانی رشتوں اور اللہ کی نعمتوں اور اُن نعمتوں کے مناسب استعمال سب کا سبق پڑھا دیا، کاش وہ کچھ عرصہ اور حیات رہتے، کچّی عمر میں بھلا وہ کتنا سیکھ سکتا تھا، کتنے سبق پڑھ سکتا تھا۔ یہ وہی تھے کہ جنھوں نے اُسے مادّہ اور روح اور مادّی اور روحانی زندگی کے توازن کے تئیں پہلی بار بیدار کیا، اُن ہی کا فیض تھا کہ دنیا ابتدا ء ہی سے اُس کے وجود کا حصّہ بن گئی، زندگی کے جلال و جمال کی گرفت میں حد درجہ آسودگی پانے لگا، جدوجہد کرنے کا حوصلہ ملا، آرزوؤں اور تمنّاؤں کو پیدا کرتے رہنے کا عجیب و غریب شوق جاگا۔ ’نینی تال‘ کے پہاڑوں پر چڑھتے ہوئے انھوں نے اپنے چھوٹے بیٹے سے یہ پوچھا تھا ’’یہ خوبصورت پہاڑ اگر موتی ہاری والے کسی باغ میں ہوتے تو کیسا لگتا؟‘‘ اور اُسے لگا تھا جیسے وہ اِن خوبصورت پہاڑوں کو اُٹھا کر لے جانا چاہتے ہیں ، واقعی کتنا خوبصورت لگے گا اپنا باغ! اِن ہی پہاڑوں کی تو وہاں کمی ہے، آج اُسے محسوس ہوتا ہے کہ اُن کی آرزو میں اور اُن کی تمنّائیں کس نوعیت کی تھیں ، اِسی قسم کی پُر اسرار خواہشیں اُس کے دل میں پیدا ہوتی رہی ہیں ، ناممکن، ممکن بن جائے! یہ لمحہ اُس کی زندگی کا عجیب و غریب لمحہ تھا، جانے انھوں نے کیا سوچ کر یہ بات کہی تھی، ممکن ہے بس یونہی کہہ دی ہو اس لیے کہ پہاڑوں پر چڑھتے ہوئے اپنے بچّے سے کسی نہ کسی موضوع پر بات کرنا ضروری تھا، لیکن انھوں نے ایک معصوم ذہن کو چھیڑ دیا تھا، تخیل میں حرکت سی پیدا کر دی تھی، اسے ایسی توانائی بخش دی جو آج بھی حد درجہ متحرک ہے۔

اُسے یاد نہیں کہ اُس نے کبھی اپنے ابّو سے کوئی کہانی سنی ہو، ممکن ہے اُس کے بڑے بھائیوں اور بڑی بہنوں کو اُن سے کہانیاں سننے کا موقع ملا ہو، بعض دلچسپ مقدموں کی کہانیاں وہ ضرور سناتے تھے جو اس وقت اُس کی سمجھ سے باہر تھیں اور ایسے لمحوں میں وہ وہاں کبھی بیٹھا نہیں تھا، اُسے یاد ہے۔ اُس نے قاعدہ پڑھنا شروع کر دیا تھا، تصویروں والی ایک کتاب ملی تھی۔ جسے لے کر آم کے کسی درخت کے نیچے بیٹھ جاتا اور کبھی تصویروں کو دیکھتا اور کبھی ٹیڑھے میڑھے سیاہ حروف کو، دونوں میں کوئی رشتہ تعلق نظر نہیں آتا، ’ا‘ سے ’آم‘ آم کی تصویر سے بھلا الف کا کیا تعلق ’آم‘، ’آم‘ ہے، خوبصورت، لذیذ رس بھرا، بھلا ’الف‘ میں یہ بات کہاں ؟ ایک صبح جب وہ آم کے پیڑ کے نیچے اپنی کتاب لیے بیٹھا، الف، بے کی رٹ لگا رہا تھا۔ ٹہلتے ہوئے ابّو اُس کے قریب آ گئے، اُسے دیکھ کر مسکرائے، کہا اٹھو باغ میں ٹہلتے ہیں ، کتاب بند کر کے اُن کے ساتھ ہو گیا، پیڑوں درختوں کے جنگل سے گزر کر خوبصورت باغ میں آئے، رنگ برنگے پھول کھلے ہوئے تھے، انھوں نے پوچھا:
’’یہ بتاؤ، یہ کون سا رنگ ہے؟‘‘
’’سرخ‘‘
’’اور یہ‘‘
’’زرد‘‘
’’اور یہ‘‘
’’یہ تو سفید ہے‘‘
’’مجھے یہ سب رنگ پسند ہیں ، تمھیں بھی پسند ہیں کیا؟‘‘
پہلی بار رنگوں کا احساس ہوا، روز ہی مختلف رنگوں کو دیکھا کرتا تھا لیکن کبھی غور نہیں کیا تھا۔
’’اپنی کتاب کے ساتھ اس کتاب کو بھی پڑھا کرو، جانتے ہوا نہیں کسی کتاب کے ذریعہ پڑھا نہیں جا سکتا، یہ اللہ میاں کا ’قاعدہ‘ ہے مولوی اسمٰعیل میرٹھی کا نہیں ہے۔‘‘

پہلی بار محسوس ہوا کہ ’قاعدہ‘‘ کے سیاہ ٹیڑھے میڑھے حروف اللہ میاں کی لکھی ہوئی کتاب کے سامنے کوئی حقیقت نہیں رکھتے۔ اگرچہ اُس نے خود کو اُردو حروف کے حوالے کر دیا لیکن اللہ میاں کی لکھی ہوئی کتاب سے ایک رشتہ قائم کر لیا، تب سے یہ رشتہ گہرا ہی ہوتا گیا--- 

پہاڑوں ، ندیوں ، جھیلوں ، تتلیوں ، پرندوں ، درختوں اور پودوں اور دنیا کے مختلف رنگوں نے آہستہ آہستہ اُسے اپنی مکمل گرفت میں لے لیا اور اس طرح عمر کے ساتھ اُسے محسوس ہوتا رہا جیسے ساری دنیا اس کے وجود کا حصّہ بنتی جا رہی ہے۔
	آج غور کرتا ہے تو محسوس ہوتا ہے جیسے اُس کے ابّو کا یہ اشارہ جانے کتنی سبق آموز کہانیوں سے زیادہ اہم تھا! جو سبق آموز کہانیاں اُس نے سنیں اور پڑھیں وہ عام اخلاقی شریعت ہی کو پیش کرتی رہیں ، احمق گدھے کو اُس وقت تک سزا ملتی ہے جب تک کہ وہ عقلمند نہیں بن جاتا، ظلم کرنے والے کو سزا ملتی ہے، فریب دینے والا خود اپنے جال میں پھنس جاتا ہے، حاسد اپنی آگ میں جل جاتا ہے وغیرہ وغیرہ۔ یہ کہانیاں اُسے بعد میں حاصل ہوئیں ، یہ اچھا ہوا اس لیے کہ یہ انسانی جبلّتوں اور انسانی رشتوں کی عام کہانیاں تھیں ، ان سے قبل اللہ میاں کی لکھی ہوئی کہانیوں سے جو رشتہ پیدا ہوا اُن سے ان عام کہانیوں کی معنویت زیادہ واضح ہوتی گئی اور فطرت کے حسن کی ترتیب اور موزونیت کے پیش نظر انسان اور انسان کی فطرت اور عمل کے مختلف رنگوں اور تحرکات کے بہتر توازن کا احساس جاگا۔

اب اُس کی ایک عجیب عادت ہو گئی، کوئی سیاہ بھنورا کسی پھول پر بیٹھتا تو وہ اُس سے کچھ فاصلے پر کھڑا ہوتا اور دیر تک اُس کے عمل کو دیکھتا رہتا بھنورے کی آواز میں کشش سی محسوس ہونے لگتی، نیلے آسمان کو دیر تک تکتا رہتا، طلوع ہوتے اور غروب ہوتے ہوئے آفتاب اُسے اپنی جانب کھینچتے پتوّں پتیوں اور پھولوں پر شبنم کے ٹھہرے ہوئے چمکتے ہوئے قطروں کو دیکھتا، کبھی کسی پتّے سے شبنم کے بعض قطروں کو اپنی ہتھیلی پر لینے کی کوشش کرتا، مکڑوں کی جالیوں کو تنتے ہوئے دیکھتا اور ان جالیوں پر سورج کی روشنی کے مختلف رنگوں کو پا کر خوش ہوتا، رنگ برنگی تتلیوں سے باتیں کرتا، بارش ہوتی تو بے اختیار کپڑے اُتار کر نہانے لگتا، بارش تھم جاتی تو خوشگوار موسم سے عجیب طرح کی ہم آہنگی محسوس کرتا، صبح شام آسمان کے بدلتے ہوئے رنگوں سے اُس کی دلچسپی بہت پرانی ہے، ایک ہی طرح کا سبق روز ملتا ہے لیکن اِس سبق میں آج تک اُس نے کسی قسم کی یکسانیت محسوس نہیں کی ہے--- لیکن ساتھ ہی یہ بھی حقیقت ہے کہ مولوی محمد اسمٰعیل میرٹھی کی کتابیں پڑھنے کے بعد جب اُس نے دوسری کتابیں پڑھیں اور نت نئے قصّے اُس کے سامنے آئے تو اُسے بڑی شدّت سے محسوس ہوا کہ سیاہ ٹیڑھے میڑھے حروف غیر معمولی نوعیت کے تھے، اگرچہ اُس نے بڑی بے دلی کے ساتھ خود کو اِن حروف کے حوالے کیا تھا لیکن یہ نہ کیا ہوتا تو حروف اور الفاظ جملوں تک کس طرح لے جاتے، وہ جملے جو مرتب ہو کر ایک اِکائی بنتے رہے، تصویروں کی صورتیں اختیار کرتے رہے، خوابوں کی تخلیق کرتے رہے، حیرت اور حسرت کے جذبوں کو اُبھارتے رہے، کالے سیاہ ٹیڑھے میڑھے حروف کے اندر سے وہ چمک دمک پیدا ہوئی کہ جس کا وہ بچپن میں اندازہ ہی نہیں کر سکتا تھا، الفاظ اور جملے ہی چمکتے تھے کہ جن سے خوبصورت پیاری پیاری کہانیاں ، پُر اسرار اور حیرت انگیز کر دار اور واقعات اُبھر کر سامنے آ جاتے تھے، ’سیاہ‘ کے اندر سارے رنگ ہوتے ہیں اور ہر رنگ جانے کتنی کہانیوں کو جنم دیتا ہے۔

ابّو کو اُس نے اُس دن بلک بلک کر روتے دیکھا جب امّی کا انتقال ہوا اور اُن کا جنازہ اُٹھا، بہت چھوٹا تھا جب امّی کا انتقال ہوا لیکن ابّو کا بلکتا ہوا چہرہ اُس کے ذہن پر اب تک نقش ہے۔

ابّو کا سایہ اچانک سر سے اُٹھ گیا!
کتنی چہل پہل تھی حویلی میں ، اُس کے بڑے بھائی جمیل الرحمن صاحب کی بارات تیار ہو رہی تھی۔ ابّو علیل تھے اس کے باوجود ہر کام کی نگرانی کر رہے تھے، کتنے خوش تھے وہ اُس شام! علالت کی وجہ سے بارات کے ساتھ جانا اُن کے لیے ممکن نہ تھا، ڈاکٹروں نے مکمل آرام کرنے کا مشورہ دیا تھا۔ اپنے بیٹے کے سرپر خوبصورت سہرا باندھا اور خوشی خوشی بارات روانہ کی، ۱۸ دسمبر ۱۹۳۹ء کی سرد رات تھی، ٹرین سے بارات روانہ ہوئی۔ اِس واقعے کو اُس نے اپنی ڈائری میں اِس طرح لکھا تھا:
’’۱۸ دسمبر ۱۹۳۹ء کی بات ہے
بھائی جان کی بارات جا رہی تھی
اور میں بھی بارات کے ساتھ تھا

۱۹ دسمبر کی سرد رات کو
جب پکوڑ، ضلع سنتھال پرگنہ
بھائی جان کی بارات پہنچی
تو موتی ہاری سے ایک ٹیلی گرام ملا،
مجھے کسی نے نہیں بتایا کیا لکھا تھا اُس میں 
لیکن سب کو روتے دیکھ کر اُلجھ کر رہ گیا
شادی، بارات--- اور یہ آنسو!
بھائی جان بہت بے قرار تھے

ہم واپس آئے
اُسی طرح جس طرح گئے تھے، بھابی جان ساتھ نہیں آئیں ،

پوری حویلی ماتم کدہ بنی ہوئی تھی
میری سمجھ میں اب تک کچھ نہیں آیا تھا
مجھے کسی نے کچھ نہیں بتایا تھا
خاموشی سے ابو کے کمرے میں گیا
اُن کا پلنگ خالی تھا
میری آنکھیں اُنھیں ڈھونڈھ رہی تھیں 

میری چھوٹی باجی نے روتے ہوئے
مجھے سینے سے لگا لیا اور کہا!
’’شکیل ابو کا انتقال ہو گیا!‘‘
میں حیرت سے انھیں دیکھ رہا تھا
اچانک سنّاٹے کا عجیب احساس ہوا
سنّاٹے کا یہ احساس
اب تک مجھ سے چمٹا ہوا ہے
اپنی زندگی میں ایسا سنّاٹا
کبھی نہیں دیکھا تھا
اس سنّاٹے میں صدیوں زندہ رہا ہوں 
اور اب بھی اِسی میں سانس لے رہا ہوں !
(مطبوعہ: ڈائری ۱۹ دسمبر ۱۹۶۳ء)

۱۹ دسمبر ۱۹۱۶ء کے نوٹ بک کا ایک ورق اس طرح ہے:
’’ننھے شکیل کے لیے
وہ منظر کتنا دردناک تھا
جب ابّو کے انتقال کے فوراً بعد
حویلی کی تمام چیزیں تین فریقوں میں 
تقسیم ہونے لگیں !
برتن، پلنگ، الماریاں ، ٹیبل، کرسیاں ،
گھڑیاں ، آئینے، تصویریں ، فانوس
صوفے، شامیانے،دریاں ، خیمے
بندوقیں ، آئرن سیف، چاندنی،
قالینیں !
دیکھتے ہی دیکھتے دونوں ’کار‘ فروخت ہو گئیں 
اونٹی اپنے بچی کے ساتھ بک گئی
ملازم بھی تقسیم ہو گئے
ننھا شکیل حیرت سے یہ منظر دیکھ رہا تھا!
سب نے مل کر ایک نظام کو دیکھتے ہی دیکھتے
درہم برہم کر دیا تھا
حویلی وہی تھی

ابو کے انتقال کے بعد ہی
بعض لوگوں نے نئے چہرے لگا لیے
دوپہر کی دھُوپ میں 
حویلی کی دیواریں 
ننھے شکیل کے ساتھ
بلکتی رہی ہیں ، روتی رہی ہیں ،
یہ دردناک منظر
کسی نے نہیں دیکھے!				(مطبوعہ: نوٹ بک ۱۹ دسمبر ۱۹۶۵ء)

صبح ہوئی، آفتاب طلوع ہوا لیکن بہت دھندلی صبح تھی، بہت ہی دھندلا آفتاب تھا، سب باتوں میں مصروف تھے، حالات پر تبصرہ کر رہے تھے غالباً صرف وہی تھا جو ایسی دھُندلی صبح اور ایسے دھُندلے آفتاب میں عجیب سی بے چینی محسوس کر رہا تھا، اپنے خیالوں میں گم ہوتا پھر فوراً ہی تبصرہ نگاروں کی باتیں سننے لگتا۔ کبھی اندر کسی دیوار کے سہارے کھڑا رہتا اور کبھی باہر نکل جاتا، ایک ہی طرح کی گہری اُداسی اندر بھی تھی اور باہر بھی، باہر ’ہار سنگھار‘ کے درخت کے نیچے بہت سے پھول جھڑ کر گرے ہوئے تھے، آج اُنھیں چننے کوئی بھی نہیں آیا تھا، وہی تو سب سے پہلے ان پھولوں کو چننے آیا کرتا تھا اور اس کے بعد حویلی کے دوسرے بچی آتے تھے، گیراج کے قریب ہیرا ڈرائیور سسک سسک کر رو رہا تھا، دیکھتے ہی دیکھتے ایک بھیڑ جمع ہو گئی جیسے سارا شہر ٹوٹ پڑا ہو، پھر گھر میں کہرام تھا، ہر شخص رو رہا تھا، دلاسے دیئے جا رہے تھے، نصیحتیں کی جا رہی تھیں ، ہر کمرے سے رونے کی آوازیں آ رہی تھیں ، ایسا ماتم کدہ اُس نے پہلے کبھی دیکھا نہ تھا، کچھ عزیز رشتہ دار اُسے سینے سے لگا کر بے اختیار رو رہے تھے اور وہ گم سم تھا، خاموش!

اپنے ابّو سے خفا تھا، اس طرح کیوں چلے گئے، جب جانا تھا تو اس طرح دوستی کیوں کی تھی، سب کی نگاہیں بچا کر وہ حویلی سے نکلا اور قبرستان پہنچ گیا، ضعیف مجاور نے اُسے ابّو کی قبر دکھائی جو اُس کی امّی کے پاس تھی، وہ کچھ دیر خاموش دونوں قبروں کو دیکھتا رہا، ایک ٹیس سی اٹھی اور وہ دونوں قبروں سے لپٹ کر بے اختیار پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔



پانچ

تین چار سال ہی کی عمر تھی کہ اچانک اُس کی امّی کا انتقال ہو گیا تھا!
کچھ ہی دن پہلے وہ سخت بیمار ہوا تھا اور اُس کی امّی نے اُس کے سرہانے بیٹھ کر یہ دعا مانگی تھی۔ ’’اللہ میرے بچّے کو زندگی دے دے اس کے لیے چاہے مجھے اُٹھا لے۔‘‘
یہ بات اُسے خالہ امّاں نے سنائی تھی، ہوا بھی یہی مرنے کے لیے وہ زندہ رہا اور اُس کی امّی اسے چھوڑ کر اچانک چلی گئیں ۔ تب سے اپنی زندگی میں ایک عجیب طرح کا خلا سا محسوس کرتا رہا ہے۔ اس عمر میں بھی جیسے وہ ممتا کے آنچل کی تلاش میں ہے،
وہ بچہ جو یتیم ہوا تھا، غالباً آج بھی اُس کے وجود میں کہیں چھپا بیٹھا ہے جو کبھی کبھی اُسے بے حد بے چین اور مضطرب کر دیتا ہے۔
ابّو کے گزر جانے کے بعد تو وہ بالکل تنہا ہو گیا، دونوں کی یادیں طرح طرح سے آنے لگیں ، اکثر دونوں کو بہت قریب محسوس کرتا اور تنہائی میں اُن سے باتیں کرتا۔
امّی کی صورت کا بہت ہی ہلکا عکس اُس کے ذہن پر تھا، اُن کی تصویر سے یہ نقش بہت ا جاگر ہو گیا۔ اُن کا جنازہ اُس کے ذہن پر اِس طرح نقش ہو گیا کہ کبھی بھول نہ سکا، جب تک حویلی میں رہا بھرے گھر میں تنہا رہا، حویلی میں جانے کتنے افراد تھے لیکن اِس ہجوم میں اُسے جس صورت کی تلاش رہی وہ نظر نہیں آئی، ایک چہرے کی تلاش میں جو ناکامی نصیب ہوئی غالباً اُس کا اثر اُس کے وجود اور اُس کی زندگی پر بہت ہی گہرا رہا۔
فطرت سے ذہنی اور جذباتی وابستگی کا زمانہ شروع ہوا، ابّو نے اِس جانب اور مائل کیا،

ابّو کے انتقال کے بعد ہر صبح اپنی حویلی کی چھت سے ہمالہ کی برف پوش چوٹیوں کو تکتا رہتا، یہ اپنے وجود کا احساس دلا کر اُن اساطیری کہانیوں کی تصدیق کرتی رہیں کہ جنھیں وہ ہر رات اپنی ممانی جان سے سنتا تھا، دیو اور پریوں کی کہانیوں میں پہاڑ ہوتے، جادو کے پہاڑ جادو کے دروازے، پراسرار روحیں ، بھوت، بھوتنی، جادوگر، جادوگرنیاں ، شیو پاروتی کی کہانیوں میں بھی ہمالہ ایک پُر اسرار پہاڑ بن کر سامنے آتا، اُس کا جی چاہتا ہمالہ کے قریب چلا جائے، اُس سے باتیں کرے، اُس سے کہانیاں سنے، وہ پہاڑوں کا بیٹا ہے نا، وہیں سے تو اُسے لایا گیا تھا۔

درختوں ، تتلیوں ، پرندوں ، بدلتے ہوئے موسموں میں جذب ہونے لگا، کبھی درختوں سے دوستی کرتا، کبھی پرندوں سے، ایسا لگتا جیسے اللہ میاں نے اُس سے امّی اور ابو کو چھین کر بہت سے کھلونے دے دیئے ہیں ، بچپن میں وہ ایسے ہی کھلونوں سے کھیلتا رہا ہے اور جب اچانک کسی کی کمی محسوس ہوئی ہے تو پھوٹ پھوٹ کر بے اختیار رونے لگا ہے اور پھر تھک کر سو گیا ہے۔

درختوں کی دوستی کو یاد کرتے ہوئے اُس نے اپنی ڈائری میں لکھا تھا:

’’درخت بچپن سے میرے دوست رہے ہیں ، اُن سے میری دوستی بہت پرانی ہے
 عجیب بات ہے، بہت کم درختوں کو اُن کے نام سے پہچانتا ہوں !
جب بھی کسی درخت کو دیکھتا ہوں اُس کی شخصیت محسوس ہونے لگتی ہے
فوراً ایک رشتہ قائم ہو جاتا ہے
اُسی طرح
جس طرح کسی پیاری سی غزل یا نظم سے رشتہ قائم ہو جاتا ہے، کسی خوبصورت سی تصویر یا کسی دلفریب نغمے سے رشتہ قائم ہو جاتا ہے۔
درخت، ایک غزل، ایک تصویر ایک نغمہ ہے میرے لیے!

ویران اور اُجڑے ہوئے درختوں کو دیکھ کر اکثر محسوس ہوتا ہے جیسے
صدیوں پہلے جوگی کی طرح ان کے نیچے بیٹھا تھا
اور آنکھیں موند کر
تپسیا میں ڈوب گیا تھا
اور اُس وقت یہ درخت
ہرے بھرے تھے، پُر اسرار باہوں کو اِدھر اُدھر پھیلائے
مجھ سے پُر اسرار باتیں کرتے تھے، سرگوشیاں کرتے تھے،
اور جب آنکھیں کھلیں تو میں گم ہو چکا تھا
اور مجھے اپنے پاس نہ پا کر یہ سب
اچانک ویران ہو گئے!

تنہائیوں میں اکثر
بعض درخت آئینے بن گئے ہیں 
ایسے آئینے کہ جن سے کبھی خوف زدہ نہ ہوا!‘‘
(ڈائری، مطبوعہ: ۷ اگست ۱۹۷۲ئ)

اور آج بھی:
’’اکثر ایسا ہوتا ہے
کسی درخت کے نیچے بیٹھ جاتا ہوں 
کسی پہاڑی پر لیٹ جاتا ہوں 
کسی چشمے یا کسی ندی کے قریب کچھ دیر آرام کرتا ہوں 
تو لگتا ہے جیسے
ان میں جذب ہو گیا ہوں !
اٹھتا ہوں تو اُٹھا نہیں جاتا
اکثر خود کو پیوست محسوس کرتا ہوں 
جب کوشش کر کے اُٹھتا ہوں تو شدّت سے محسوس ہوتا ہے کہ
میرے وجود کی جڑیں وہیں کہیں پیوست ہو کر رہ گئی ہیں !‘‘
(ڈائری مطبوعہ: ۱۱ جولائی ۱۹۶۵ء)

بہت چھوٹا تھا وہ،
اُسے یاد ہے، موتی ہاری میں جہاں آج صدر ہسپتال ہے وہی جگہ ہے کہ جہاں ابّو کا ایک بڑا باغ تھا، اُس میں آم کے بہت سے درخت تھے، لیچی، آم، جامن، شریفہ، بیر، جنگلی انگور، گاگل، لیموں ،کیلا، انھیں اُس نے جنم لیتے ہوئے اور آہستہ آہستہ بڑھتے ہوئے تیار ہوتے اور پکتے ہوئے دیکھا ہے، بہت سے ایسے ترش اور میٹھے پھل تھے کہ جن کے نام آج بھی معلوم نہیں ، اُس نے ان چھوٹے چھوٹے جنگلی پھلوں کو بھی چپکے چپکے کھایا ہے،
بہت چھوٹا تھا
لیکن اسی عمر میں اس بڑے باغ کے بعض درختوں سے اُس کی دوستی ہو گئی تھی اور وہ اکثر گھر والوں کی نگاہیں بچا کر درختوں کے پاس پہنچ جاتا، اُن پر چڑھتا، بیٹھتا، اُن سے باتیں کرتا، آنکھیں بچا کر اس لیے بھاگتا کہ اُس کی دیکھ بھال کے لیے دو ملازم تھے اور وہ اُسے اپنی آنکھوں سے اوجھل ہونے نہیں دیتے تھے اور اُس کے خالو ابّا کی آنکھیں تو اُسے ہر لمحہ موجود دیکھنا چاہتی تھیں ۔

وہ لمحے جو اُن درختوں کے درمیان گزرے اُس کی زندگی کے خوبصورت لمحے تھے، آم کے کئی درخت اُس کے دوست تھے، اُن کے پتوں کی خوشبو اُسے بے حد پسند تھی اور اُن کی چھاؤں میں اُسے بڑا سکون ملتا تھا۔

اُس کی امّی کو گزرے کئی برس ہو چکے تھے اور اُن کی جدائی ایک دکھائی نہ دینے والے زخم، گہرے زخم کی مانند ٹیس مارتی تھی، جب وہ جدا ہوئی تھیں تو وہ حیران سا تھا، ’موت‘ کا لفظ غالباً اُس نے پہلی بار سنا تھا۔

اکثر اپنے ہم عمر عزیزوں کی ماؤں کو ٹکٹکی باندھ کر دیکھا کرتا، انہیں اپنے بیٹوں کو پیار کرتے دیکھا، کہانیاں سناتے، نہلاتے، ڈانٹ ڈپٹ کر کھانا کھلاتے دیکھتا، اُن لمحوں میں اُسے اپنی تنہائی کا احساس بڑی شدّت سے ہوتا اور اکثر غصّے میں پتھر اُٹھا کر درختوں پر بیٹھے پرندوں کو مارتا، جھنجھلا جاتا اور آم کے ان ہی درختوں کے درمیان بیٹھ جاتا تھا!

پھر یہ درخت اُسے سکون دینے لگتے، جب بھی اِن درختوں پر بیٹھا، اُن سے باتیں کیں ، انھیں کہانیاں سنائیں ، اُسے لگا جیسے ان درختوں کو واقعی، اُس سے محبت ہو گئی ہے، وہ اُسے خوابوں میں بلانے لگے، آم کے چھوٹے بڑے پیڑوں کے درمیان ہی غالباً اُس نے پہلی بار کہانیاں لکھی ہیں کر داروں کو اُبھرتے ہوئے محسوس کیا ہے۔

آم کے اِن ہی درختوں کے درمیان ایک بڑا درخت تھا۔
گھنا، سوچتا ہوا آم کا درخت، اُس سے اسے بے حد محبت ہو گئی تھی، اُس کے آم بہت میٹھے تھے اور اُس کے پتّوں میں بڑی پیاری خوشبو تھی، اُس نے اُس درخت پر اپنے چھوٹے سے خوبصورت چاقو سے اپنے نام کا پہلا حرف ’ش‘ لکھا تھا، جب بسم اللہ ہوئی اور وہ پہلی بار مولوی عترت حسین صاحب کے پاس نئی شیروانی، نیا کرتا، نیا پا جامہ اور نئی ٹوپی پہن کر بیٹھا تو اس درخت کی چھاؤں میں اُسے ایسا محسوس ہوا جیسے اپنی امّی کے آنچل کے سائے میں بیٹھ گیا ہے!

وہ زمین حکومت نے خرید لی۔
اور سارا چمن اُداس ہو گیا، سب بجھ گئے۔
وہ اکثر چپکے سے نکل جاتا اور باغ میں اپنے پیارے دوست سے باتیں کرتا، اُسے یہ دیکھ کر خوشی ہوتی کہ آم کے اس درخت نے اُس کے نام کے پہلے حرف کو اس طرح سنبھال کر رکھا ہے۔

پھر باغ اُجڑنے لگا، درخت کٹنے لگے، حکومت وہاں صدر ہسپتال بنانا چاہتی تھی، اور ایک دن جب باغ میں گیا تو کانپ کر رہ گیا،
اُس کا دوست کٹ کر زمین پر گرا ہوا تھا!
اُس کے نام کے پہلے حرف پر مٹّی لگی ہوئی تھی،
وہ بے اختیار رو پڑا،
جانے وہ درخت کتنے دن اسی طرح پڑا رہا، ایک روز جب اُسے دیکھنے گیا تو دیکھا اُس کے کئی حصّے کاٹے جا چکے تھے اور مزدور انھیں بیل گاڑی پر رکھ کر لے جا رہے تھے۔
اسے اچانک اپنی امّی کا جنازہ یاد آ گیا!!

آج بھی آم کا کوئی پتّہ مل جاتا ہے تو وہ اُسے توڑ کر ضرور سونگھتا ہے اور یہ خوشبو اُسے اُس درخت تک لے جاتی ہے اور دھُندلکوں میں کئی مبہم یادیں جھانکنے لگتی ہیں ۔

آم کا وہ درخت زندگی کی بعض منزلوں پر بہت یاد آیا اور اب بھی اکثر خوابوں میں اپنی گھنی چھاؤں لیے آتا ہے اور جانے کیسی سرگوشیاں کرتا ہے۔



چھ

زندگی کی کڑی دھوپ اور صحرا نوردی میں جانے کتنی دشوار گزار اور کٹھن منزلیں آئیں ، اکثر ٹوٹ سا گیا اور خود کو ریزہ ریزہ چُنتا بھی رہا، اُن لمحوں میں سہارے کے لیے ترستا رہا، کسی شجر سایہ دار کی ضرورت بھی محسوس کی، وقت نے اتنا زہر اُگلا کہ اُس نے کبھی مستقبل کے بارے میں کچھ نہ سوچا، بس زندگی کا زہر پیتا رہا--- لیکن وہ شیو کب تھا:
اب تک صرف ’ماضی‘ ہی نے اُسے زندہ رکھا ہے،جس حد تک ہوا اُسی نے زندگی کے رموز سکھائے، ماضی کا گھنا تاریک اور روشن، رنگین اور دلفریب سایہ ہی اُس کے ہر تحرک کا سبب بنا، جو بھی
تھوڑا بہت گیان پایا اِس زندگی کا، تو اسی کی چھاؤں میں بیٹھ کر!

موتی جھیل اور ہمالہ کی وہ برف پوش چوٹیاں جو اُسے حویلی کی چھت سے نظر آتی تھیں ، آم کا وہ درخت کہ جس سے پہلی دوستی کی تھی، ہار سنگھار، کا وہ پیڑ جو سردی کے موسم میں خوبصورت پھول بکھیرتا رہا جسے امّی نے اپنے ہاتھوں سے لگایا تھا اور جس کے ہر پھول میں اُن کے وجود کی خوشبو رچی بسی تھی اور جنھیں چننے کے لیے سردی کے مہینوں میں ہر صبح اُٹھ جایا کرتا تھا، حویلی کا وہ ویران کنواں کہ جس کے متعلق بچپن میں یہ سنتا آیا کہ اس کے اندر کوئی جن رہتا ہے جو اکثر راتوں میں حویلی کی چھت پر چڑھ کر ٹہلتا دوڑتا ہے، بنگلے کے پیچھے ناریل کے دو عجیب و غریب درخت کہ جن پر کبھی پھل نہیں آئے، جنھیں کاٹ کر گرایا نہ گیا، مشہور یہ تھا کہ ان پر دو چڑیلیں رہتی ہیں جو اکثر تاریک شب میں اُترتی ہیں اور تیز ہواؤں کی مانند رقص کرتی ہیں ، نانا جان کا وہ گھوڑا کہ جو اُسے کبھی نہیں ملا لیکن جس پر بیٹھ کر اپنے تخیل میں اُس نے جانے کہاں کہاں کا سفر کیا ہے، گنگا کہ جس نے زندگی کی معنویت اور لا معنویت کو اپنے طور پر بار بار سمجھایا---

حویلی کا وہ کمرہ کہ جس میں اپنے خالو ابّا کے ساتھ رہتا تھا، جس میں اُس کا بچپن گزرا، جس کی دیواروں پر اپنی پسند کی تصویریں لگایا کرتا، جس کمرے میں اُس نے اپنے بعض بزرگوں اور اپنی پیاری بہنوں سے پیاری پیاری کہانیاں سنی تھیں ، کبھی پُر اسرار اور ڈراؤنی کہانیاں ، کبھی جدوجہد اور بہادری کی کہانیاں ، ممتا اور ایثار اور قربانیوں کی کہانیاں ، جس کمرے میں اس کے لیے ایک چھوٹا سا ٹیبل تھا، ایک کرسی تھی، ٹیبل پر اس کی کتابیں تھیں ، ایک لالٹین تھی، جہاں تخت کو اسٹیج بنا کر اکثر اپنے ہم عمر ساتھیوں کے ساتھ ڈرامے کرتا تھا--- یہ سب اُس کی زندگی کی کہانی کے کر دار ہیں ، اِن کر داروں نے اُسے زندگی کو طرح طرح سے سمجھایا ہے۔ اپنی شناخت کے لیے وہ اکثر ان کے قریب جاتا ہے، یہ سب اس سے آج بھی سرگوشیاں کرتے ہیں ۔

اِس کمرے میں اکثر بزرگوں اور بچوں ، کی محفلیں ہوتی تھیں ، مختلف موضوعات پر باتیں ہوتی تھیں ۔ خالو ابّا مرکزی حیثیت رکھتے تھے کیرم کھیلے جاتے، کبھی شطرنج کی بساط بچھ جاتی، گھریلو مسئلوں پر بھی تبادلۂ خیال ہوتا، کبھی کوئی فلم دیکھ کر آتے تو سب اسی کمرے میں جمع ہو جاتے اور فلم پر تبصرہ ہوتا، کہانیاں سننے کے لیے دوسرے کمروں سے بعض بزرگوں کو پکڑ کر لایا جاتا اور دیر رات تک کہانیوں کا سلسلہ جاری رہتا، کبھی امّی کا ذکر آتا کبھی بڑی بھابی مرحومہ کا، امّی کا ذکر آتے ہی وہ آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر ہر بات سنتا، کتنی ملنسار تھیں ،حویلی کے لوگوں سے کتنی محبت کرتی تھیں ، ہونٹوں پر کیسی مسکراہٹ رہتی تھی، جب ہنستی تھیں تو اُن کی ہنسی سے ماحول کتنا روشن ہو جاتا تھا، اُسے محسوس ہوتا جیسے وہ کہیں قریب ہی بیٹھی ہیں ، ابھی اُس کا سر اپنے دونوں ہاتھوں سے اوپر اٹھائیں گی اور اُس کی پیشانی کو بوسہ دیں گی،

جب وہ اِس کمرے سے باہر نکلا تو اُسے محسوس ہوا جیسے اُس کا بچپن اُسی کمرے میں رہ گیا ہے اور وہ جب تک چاہے گا وہ وہیں رہے گا۔

اُس کمرے سے باہر نکلتے ہی اُسے لگا جیسے اُس کی پرچھائیں پہلے سے کہیں بڑی ہو گئی ہے!



سات

وہ تخیل پسند ہو گیا تھا اور اس حد تک کہ وہم، چھل اور فریب نظر (Hallucinations) کا شکار ہو جاتا تھا، بیٹھے بیٹھے اُسے دلفریب اور کبھی عجیب و غریب خواب نظر آنے لگے تھے، دیواروں پر تصویریں بننے لگتی تھیں اور متحرک ہو جاتی تھیں ، آسمان کی جانب دیر تک تکتا رہتا اور چھوٹے بڑے بادلوں سے صورتوں کو اُبھرتے ہوئے دیکھتا، کبھی ایسی حیرت انگیز صورتیں اُبھرتی تھیں کہ جن کا وہ تصور بھی نہیں کر سکتا تھا، اپنے پیکروں اور کر داروں سے خاموشی کے عجیب و غریب لہجے میں باتیں کرتا، چیونٹوں کی قطار دیکھتا تو اُن کے لیے شکر لا کر ڈال دیتا اور دیر تک ان کے عمل پر نظر رکھتا چیونٹیاں کس طرح دوسری چیونٹیوں کو خبر دیتی ہیں کس طرح شکر چنتی ہیں ، آہستہ آہستہ اُٹھا کر لے جاتی ہیں ، اُن کی قطار میں ذرا سی چھیڑ ہو جاتی ہے تو وہ بکھر کر پھر کس طرح ایک لکیر بنا لیتی ہیں ، وہ سوچتا یہ چیونٹیاں شکر لے کر زمین کے اندر چلی جاتی ہیں تو پھر کیا ہوتا ہے؟اور اس کے بعد وہ اپنے تخیل کی ایک دنیا بنا لیتا اور چیونٹیوں کے عمل اور کر دار پر سوچتے ہوئے ایک کہانی تیار ہو جاتی۔ اُسے محسوس ہوتا جیسے یہ سب کچھ اُس کی آنکھوں کے سامنے ہو رہا ہے، یہ ڈراما ہوتا رہتا ہے اُسے بنانے میں اس کا کوئی ہاتھ نہیں ، ایک شہزادی چیونٹی ہوتی جو حکومت کرتی اور حکم دیتی، اُسے یاد ہے ایک بار اُس کے مولوی صاحب نے ڈرائنگ کی کاپی پر تصویر بنانے کو کہا اور اُس نے چیونٹیوں کی چھوٹی چھوٹی تصویریں بنا کر چار حصّوں میں ایک کہانی سامنے رکھ دی مولوی صاحب نے پوچھا یہ کیا ہے، کہا یہ ’چیونٹیاں ہیں ‘، ’’تمھیں دنیا میں اور کوئی چیز نظر نہیں آتی کیا جو چیونٹیاں بنائی ہیں انھیں دیکھنے کے لیے کون سی عینک استعمال کروں ؟ بہت احمق لڑکا ہے، ہاتھی گھوڑے نظر نہیں آتے اسے، چیونٹیاں نظر آتی ہیں ‘‘ انھوں نے ڈانٹ کر ڈرائنگ کاپی پھینک دی، اُس مشاہدے اور اس کہانی کو بھی دیکھنا گوارا نہ کیا کہ جن کا تعلق اُس کے اپنے تجربے سے تھا!

سیاہ اور سرخ چیونٹے اُسے پسند نہ تھے، یہ اُسے کئی بار کاٹ چکے تھے، اُسے سیاہ چیونٹیاں پسند تھیں ، سرخ چیونٹیوں سے بھی ڈرتا تھا اس لیے کہ وہ بھی اُسے پریشان کرچکی تھیں لیکن شکر دینے کے لیے وہ ہر رنگ کے چیونٹوں اور چیونٹیوں کے پاس جاتا تھا، شکر سب کو ملنی چاہیے نا!

امّی اور ابّو کے انتقال کے بعد حویلی میں روحوں کے متعلق بہت سی کہانیاں سن چکا تھا، روحیں آتی ہیں ، اپنے عزیزوں اور رشتہ داروں سے ملنے، روحیں اپنے بچوں کو پیار کرنے آتی ہیں ، جسم کے اندر سے نکل جانے کے بعد اللہ میاں کی اجازت سے دنیا کا سفر کرتی رہتی ہیں ، --- رُوح کیا ہوتی ہے؟ نظر کیوں نہیں آتی؟ امّی اور ابّو دونوں ضرور آتے ہوں گے لیکن کب؟ وہ تو انھیں کبھی دیکھ نہیں پاتا!--- تخیل نے اُسے بڑا سہارا دیا اور جب بھی وہ اپنی امّی اور ابّو کو قریب محسوس کرنا چاہتا،محسوس کر لیتا، اُن سے اپنے دل کی باتیں کرتا، وہ جواب بھی دیتے، مسکراتے بھی، محبت بھری نگاہوں سے دیکھتے بھی، وہ اپنے اندر، بہت اندر سب کچھ بڑی شدّت سے محسوس کرتا تھا،یہ غالباً اِسی تخیل کا کرم تھا کہ وہ دنیا سے بے پناہ محبت کرنے لگا رنگوں سے محبت ہو گئی، تیز ہواؤں اور تیز بارش سے بھی کبھی پریشان نہ ہوا، سب بہت اپنے سے لگے۔ مذہبی تعلیم سے بعض بنیادی باتوں کو سمجھنے میں یقیناً مدد ملی لیکن حیرت، معجزہ اور استعجاب نے بہت زیادہ اپنی گرفت میں لے لیا، ایسا لگنے لگا جیسے خود اُس کی آنکھوں نے معجزہ کو دیکھا ہو!

وہ وقت بھی آ گیا
جب محسوس ہوا کہ یہ اُس کی اپنی آنکھیں تھیں کہ جنھوں نے اپنے لیے روشنی طلب کی اور روشنی ہو گئی!
وہ اپنی ہر بصارتی اور لمسی دریافت سے خوش ہوتا رہا اس لیے کہ کتابوں سے پہلے یہ تجربے اُس کی اپنی زندگی سے حاصل ہوئے تھے۔
اُسے یاد ہے
بہت چھوٹا تھا ابھی،
اُس کے نانا جان مولوی عبدالصمد صاحب چھپرہ سے موتی ہاری آئے تھے، وہ اُن سے بہت جلد گھل مل گیا تھا نانا جان چھوٹی چھوٹی پیاری کہانیاں سناتے اور کم و بیش ہر کہانی میں ایک طاقتور بہادر اور خوبصورت گھوڑا ہوتا، 

کہانیوں کا یہ گھوڑا اس کی تنہائیوں کا ساتھی بن گیا، خوبصورت گھوڑے اُسے بے حد پسند آنے لگے، اُس کے منجھلے بھائی مطیع الرحمن صاحب پولیس کے محکمے میں افسر تھے اور اکثر گھوڑے پر سوار آتے، اُن کا گھوڑا اُسے بہت اچھا لگتا تھا، جب بھی آتے بہت پیار کے ساتھ اُسے اپنے گھوڑے پر بٹھا دیتے اور اردلی کو حکم دیتے کہ وہ اسے سڑکوں پر گھومائے۔ رستم اور سکندر کے گھوڑوں کی کئی کہانیاں سن چکا تھا۔ لہٰذا جب بھی بھائی صاحب کے گھوڑے کی سواری ملتی یہی سوچتا جیسے وہ بھی کوئی رستم یا سکندر رہے، اگر دشمن نے حملہ کر کے اُسے گرا دیا تو بس یہی بہادر گھوڑا اُس کی حفاظت کرے گا، کسی چشمے تک اٹھا لے جائے گا اور اسے ہوش میں لے آئے گا، جانے کہاں کہاں سے گھوڑوں کی تصویریں کاٹ کر جمع کر رکھی تھیں ، اکثر اپنے مولوی صاحب سے اِس قسم کے سوالات کرتا سکندر کا گھوڑا زیادہ بہادر تھا یا رستم کا؟ نیپولین کا گھوڑا بہادر تھا یا بابر کا؟ بابر کایا ٹیپو سلطان کا؟ اور کئی بار اُسے سخت ڈانٹ پڑ چکی تھی۔

اُس کے نانا جان نے بتایا کہ اُن کے پاس بھی ایک بہادر گھوڑا ہے اور اتنا چھوٹا ہے کہ اُس پر بچی بھی آسانی سے چڑھ سکتے ہیں ، اُن کے لیے بیکار ہے یہ گھوڑا۔
	’’تو پھر مجھے دے دیجیے نا‘‘ اُس نے عاجزی سے کہا۔
	’’ٹھیک ہے دوسری بار جب آؤں گا تو لیتا آؤں گا۔‘‘
	’’چھوٹا سا ہے، پیارا سا بہت بہادر؟‘‘
	’’ہاں !‘‘
اب وہ تخیل میں اُس گھوڑے پر بیٹھنے لگا، سرپٹ دوڑنے لگا اس کا گھوڑا، اُس پر بیٹھ کر اونچے اونچے پہاڑوں پر گیا، جنگلوں میں گیا، جادو گروں سے لڑا، انھیں شکست دی، بار بار اُس گھوڑے نے اُسے دشمنوں سے بچایا، بڑے معرکے سر کئے اُس نے اُس پر بیٹھ کر!

عالم یہ ہو گیا کہ وہ کسی کی چھڑی لے لیتا کوئی ڈنڈا اٹھا لیتا اور اُس پر سوار ہو جاتا، چھڑی ڈنڈے میں وہ خوبصورت بہادر گھوڑے کی صورت محسوس کرتا اور تیز تیز دوڑتا، اندر باہر، چھت پر، لان میں ، اس کے اپنے چہرے کے تاثرات سے گھوڑے کی پہچان ہوتی، گھوڑا کبھی ہنہناتا کبھی پانی چاہتا کبھی اکڑ جاتا اور کبھی سرپٹ دوڑتا، پھر اس کے ساتھ اس کے ہم عمر دوستوں کے کئی ڈنڈے والے گھوڑے بھی دوڑنے لگے، سکندر اعظم کی فوج تیار ہو جاتی، جنگ ہوتی، سپاہی زخمی ہوتے، وہ بھی گھوڑے سے نیچے گر کر بے ہوش ہوتا اور خود ہی ڈنڈے کے سہارے چشمے تک پہنچتا، گھوڑا اس پر پانی ڈالتا اور وہ پھر اُٹھ کر بیٹھ جاتا اپنے بہادر گھوڑے پر اور دشمنوں کو شکست دیتا۔

اُس کے نانا جب بھی آتے پہلا سوال یہی ہوتا:
’’نانا جان میرا گھوڑا کہاں ہے؟‘‘
وہ گھوڑا اُسے کبھی نہیں ملا!
نانا جان پاکستان کی مٹی کے اندر ابدی نیند سو رہے ہیں اور وہ ننھا، خوبصورت، بہادر طاقتور گھوڑا آج بھی کبھی کبھی خوابوں میں آتا ہے اور اُس پر بیٹھ کر وہ دور جانے کہاں ، دھُندلکوں میں چھپ جاتا ہے!

’محبت‘ ایک ہمہ گیر جذبہ اور حد درجہ متحرک قوت ہے کہ جسے علم نفسیات نے اب تک نظر انداز کیا ہے، غالباً اس لیے بھی کہ اس کی تعریف ممکن نہیں ہے، اس کے مفاہیم مختلف ہیں ، مختلف اشخاص کے لیے مختلف مفاہیم ہیں ، افراد اپنے طور پر اس کی مختلف تشریحیں اور تاویلیں کرتے رہے ہیں ، کسی کے لیے یہ جسمانی کشش ہے، کسی کے لیے ’تحفظ‘ کسی کے نزدیک تشخص کا شعور، اور کسی کے لیے دوستی، لغت میں عموماً اسے اِس طرح سمجھانے کی کوشش کی گئی ہے کہ محبت وابستگی کا ایک ذاتی لطیف احساس ہے یا ’وابستگی‘ کی لطافت کا ذاتی احساس! وابستگی کی لطافت، جذبے کی گہرائی کا بھی احساس دیتی ہے، ظاہر ہے اسے سمجھنے کے لیے تخیل کو آزاد چھوڑ دیا گیا ہے، اس تعریف یا تشریح کو آپ جس طرح سمجھنا چاہیں سمجھ لیں ۔ عورت اور مرد کی وابستگی سے بھی اسے سمجھنے کی کوشش کی گئی ہے اور دوست احباب، والدین اور بچوں کی وابستگی سے بھی اسے سمجھانے کی کوشش ہوئی ہے، ’ماں سے محبت‘ اور ’ممتا‘ دونوں کو پہلی محبت کہا گیا ہے۔ ’ماں ‘ کا آنچل ہی سب سے پہلے آزادی کا محرک بنتا ہے ’ماں ‘ ہی اپنے آنچل سے باہر آزادی دیتی ہے، نگراں آنکھیں اعتماد بخشتی ہیں ، عمر کے ساتھ پھر ہم عمر ملنے لگتے ہیں اور محبت کا ایک دوسرا مظہر سامنے ہوتا ہے اور پھر سماجی رشتوں سے محبت کے کئی مظاہر جلوے بن جاتے ہیں ، ذات کی شناخت کا یہ طویل سلسلہ سب کی زندگی میں اہمیت رکھتا ہے، آئینے بنتے اور ٹوٹتے رہتے ہیں ، فرد آخر عمر تک محبت کے معاملے میں ایک آئینہ ساز ہوتا ہے، بنیادی نرگسی رجحان سے شکست و ریخت اور مجسمہ سازی کا عمل جاری رہتا ہے۔
وہ یہ نہیں کہہ سکتا کہ اُسے والدین کی محبت حاصل نہ ہوئی اس لیے کہ یہ غلط ہو گا۔ البتہ یہ ضرور کہہ سکتا ہے کہ وابستگی کی لطافت سے بہت محروم رہا، نگراں آنکھیں بہت جلد بند ہو گئی تھیں ، اپنے اندر سے آزادی کے احساس اور اعتماد کو پیدا کرنا آسان کام نہ تھا، ان کے لیے مسلسل باطنی جدوجہد میں مصروف رہا ہے، شکست و ریخت اور مجسمہ سازی کا ایک طویل عمل جاری رہا ہے۔ کتنے چہرے پر کشش بنے لیکن وہ لطافت حاصل نہ ہوئی کہ جس کی تمنّا تھی، جانے کتنے وجود کی گرمی محسوس کی اُن کے قریب گیا اور پھر عجیب ٹھنڈک کا احساس ہوا، پھر اُن کی جانب نہیں دیکھا، جو چہرہ بے حد پسند آیا، جس پیکر کی وابستگی اُس کے پورے وجود میں توازن پیدا کر سکتی تھی، لطیف جذبوں کو بیدار کر کے اُسے اندر سے باہر لا سکتی تھی، ذات کی تشکیل کر سکتی تھی، سماج کی گھورتی ہوئی سُرخ آنکھوں جیسی قدروں کی وجہ سے اُس سے کوئی رشتہ قائم نہ ہو سکا۔ بچپن میں ہم عمر دوستوں اور بہنوں سے دوستی غنیمت تھی لیکن یہ بھی سحر انگیز کیفیتوں سے محروم تھی، جس سے محبت ہوتی ہے اس کا مکمل خیال رکھنا پڑتا ہے، وہ انسان ہو یا درخت، جھیل ہو یا گھوڑا، محبت آہستہ آہستہ گرم ہوتی ہے اور پھر پرسکون لمحے حاصل ہونے لگتے ہیں ، انتشار کے لمحوں میں ان سے سہارا ملتا ہے، باطنی رشتے کا احساس زندہ رکھتا ہے۔ اگر ہم کسی شئے یا فرد سے محبت کرتے ہیں تو ہم اس کے ذمّہ دار بھی ہوتے ہیں ہم بھی اُس کے کام آئیں ، ہم بھی اس کے ہو جائیں ، اپنی جسمانی اور نفسیاتی ضرورتوں کے ساتھ اُس کی ضرورتوں کو بھی بخوبی سمجھیں ۔

عجیب بات ہے کہ جب بھی محبت کا کوئی رشتہ قائم ہوا، فطرت کے حسن سے یا ایسے عناصر سے کہ جو اس محبت کو محسوس نہیں کر سکتے تھے، اظہارِ محبت نہیں کر سکتے تھے لیکن آزادی، تحفظ، وابستگی اور وابستگی کی لطافت کو حد درجہ محسوس ضرور بنا دیتے تھے، اُن کا بن جانا اُس کے لیے بڑا غیر معمولی کام تھا جو کرتا رہا لیکن کبھی یہ نہ جان سکا کہ وہ اُن کے کس کام آ سکتا ہے، اُس کی ذمّہ داریاں کیا ہیں ، خاموش اشیاء و عناصر اور ساکت اور متحرک پیکروں نے اُسے کبھی کسی قسم کی ذمّہ داری کا احساس نہیں دیا۔ اس کے باوجود وہ شدّت سے محسوس کرتا رہا کہ فطرت نے اپنی بے لوث محبت کی ایک دنیا سامنے رکھ دی ہے، ممتا ہر جانب ہاتھ پھیلائے بلا رہی ہے، پیشانی پر بوسے دے رہی ہے، پیار کر رہی ہے، وابستگی کے ساتھ لطافت کی بھینی بھینی خوشبو پھیلنے لگی، کتنی کشادگی، کتنی گہرائی اور کتنی بلندی تھی اِس محبت میں ، اس کا اندازہ کرنا ممکن نہ تھا--- اُن کے منتروں کا جادو عجیب تھا، اُن کی حمد انتہائی پراسرار تھی، اُن کے رنگ رُوپ میں عجیب کشش تھی، اُن کے وجود کے آہنگ میں ایسی موسیقی کا احساس ملتا جو صرف زمین اور آسمان کی ہم آہنگی ہی سے جنم لے سکتی ہے، ایسے ہی جذبوں اور جذبوں کے رنگوں کے انتہائی پُر اسرار رشتوں کے درمیان ہی اُس نے ’محبت‘ کو محسوس کیا ہے، اپنے طور پر اسے جانا پہچانا ہے، اِسی کے ذریعہ جس حد تک ممکن ہوا ہے اپنی ذات سے باہر آیا ہے اور اپنی شناخت کی کوشش کی ہے۔ چونکہ ابتدائی زندگی سے زمینوں ، آسمانوں ، جھیلوں ، ندیوں ، درختوں ، پہاڑوں ، تتلیوں ، چونٹیوں وغیرہ سے آزادیِ تحفظ اور اپنی شناخت کا شعور حاصل ہوتا رہا ہے۔ ان سے محبت کر کے آرزوؤں اور تمنّاؤں کو جنم دیا ہے اِن کے لیے جدوجہد کی ہے، سماجی زندگی کے تئیں بیداری پیدا ہوئی ہے اس لیے آج بھی یہ سب اُسے عزیز تر ہیں ، یہ رشتے اب تک قائم ہیں ، اِن میں کوئی بھی مل جاتا ہے جب بھی مل جاتا ہے یادیں تازہ ہوتی ہیں اور سرگوشیوں کا ایک ایسا پراسرار رشتہ قائم ہو جاتا ہے کہ ہر لمحہ عجیب سی لطافت اور آسودگی حاصل ہوتی رہتی ہے۔ جذباتی دباؤ اور تناؤ کے لمحوں میں یہی وہ دوست ہیں جو راحت اور سکون بہم پہنچاتے ہیں ، آج بھی جب جذباتی انتشار پیدا ہوتا ہے تو وہ موسیقی سنتا ہے، بعض راگوں کے ذریعہ اُن تک پہنچ جاتا ہے اور اس طرح جذباتی تناؤ میں آہستہ آہستہ کمی واقع ہونے لگتی ہے۔ یہ وہ بادشاہی ہے کہ جس میں وہ زندہ رہا ہے، یہ اس کے گھنٹوں اور دِنوں کی دُنیا ہے--- خوابوں کی دلفریب اور حد درجہ پراسرار دُنیا کہ جس نے زماں و مکاں کو گرفت میں لے رکھا ہے۔ زمین سے وابستگی کے تئیں اِس طرح بیدار کیا ہے کہ کھیتوں اور کارخانوں کی محنت اور فنکاروں کی ثقافتی محنت کی قدر و قیمت کو حد درجہ محسوس بنا دیا ہے۔ یہ نہ ہوتے تو وہ اپنی تنہائی کی زندگی سے باہر نہ نکلتا، تنہائی کے یہ ساتھی سماجی رشتوں اور اُن کی معنویت تک لے آئے۔ غالباً حویلی کے کنویں کا جن ہی تھا اور بنگلے کے پیچھے سپاری کے درختوں پر جھولتی ہوئی چڑیلیں ہی تھیں ، جو قصوں ، کہانیوں اور داستانوں تک لے گئیں اور پھر فنونِ لطیفہ اور خصوصاً لوک کہانیوں اور قدیم سحر انگیز قبائلی اعتقادات اور مذہبی عوامل سے سماجی اقتصادی زندگی تک اور پھر برِّصغیر کی قدیم ترین تمدّنی اور تہذیبی روایات سے جاگیرداری نظام تک بہت سی سچائیوں کو سمجھنے کے لیے راہیں کھل گئیں ۔ مذاہب، تاریخ، اساطیر، فلسفہ اور مارکسزم کا مطالعہ تو اُس نے بعد میں کیا، ابتدائی تحرک کے ضامن یہی کر دار تو تھے۔

پہاڑوں اور خصوصاً ہمالہ کی برف پوش چوٹیوں سے جو حسّی اور جذباتی تعلق پیدا ہوا اُن ہی سے ممکن ہے اساطیر اور قدیم مذاہب کے مطالعے کا شوق بیدار ہوا ہو، ان سے وابستہ جانے کتنی کہانیاں لحاف میں دُبک کر سنتا رہا، شیو اور پاروتی، گنگا اور جمنا اور غاروں اور یوگیوں کی کہانیاں ، پرانوں کی کہانیاں --- کون جانے وہ نانا جان کا تخیلی گھوڑا ہی ہو کہ جس پر بیٹھ کر اُس نے اپنے ملک کا جغرافیہ پڑھا ہو، موتی جھیل اور گنگا نے تو یقیناً اُسے رموزِ زندگی کو کسی حد تک سمجھایا ہے، آم کے درختوں نے آزادی، تحفظ اور محبت کے رشتوں کی جو پہلی خبر دی تھی، کون جانے اُسی سے سائیکی میں توانائی پیدا ہوئی ہو، ان سچائیوں کو بھلا وہ کس طرح ثابت کر سکتا ہے، وہ تو انھیں صرف شدّت سے محسوس کرتا ہے اور ہر ایسا احساس اُس کا اپنا ہے صرف اپنا، اور جس شدّت سے آج تک محسوس کرتا ہے اس سے تو ایسا ہی لگتا ہے کہ یہ ّسچائیاں ہی ہیں ۔ جس کمرے کا اُس نے ذکر کیا ہے وہ اُس کا داخلی تجربہ ہے۔ اوّلین تجربوں میں ایک اہم داخلی تجربہ، اسی تجربے کے ساتھ تو وہ کوٹھری سے باہر نکلا اور اُسے محسوس ہوا کہ اُس کی پرچھائیں پہلے سے کہیں اور زیادہ بڑھ گئی ہے۔ خیالات اور اقدار اور احساسات اور دوسری خاموش پراسرار کیفیتیں سب مل کر ہی تو کسی ذات کی تشکیل کرتی ہیں ۔ ممکن ہے یہی سبب ہو کہ اُس نے کسی سے تخیل کی بھیک نہیں مانگی اور اپنے ہی تخیل اور تجربوں سے، ’ سچائی کی محبت‘ اور ’ سچائی سے محبت‘ کے راز کو کسی نہ کسی سطح پر سمجھ گیا اور اسی محبت کو سب سے قیمتی اور افضل مانتا رہا اس لیے کہ اسی میں اُس کی تمام محبتوں کی خوشبو جذب ہے۔

وہ آہستہ آہستہ آگے بڑھنے لگا، صبح ہو چکی تھی لیکن حویلی بھائیں بھائیں کر رہی تھی، ایک تکلیف دہ خاموشی تھی، ایک دلخراش سنّاٹا تھا۔ اچانک خیال آیا حویلی کے سیدھے ہاتھ ذرا آگے بڑھے گا تو اُسے وہ کنواں نظر آئے گا جس کے متعلق جانے کتنی کہانیاں مشہور تھیں ۔کنویں میں پانی ہمیشہ موجود رہا، اس کی بار بار صفائی بھی ہوتی رہی، لیکن اس کا پانی کوئی پیتا نہ تھا، قریب کے خوبصورت چبوترے پر کچھ لوگ اس کنویں کے پانی سے نہا لیا کرتے تھے، وہ بھی بچپن میں اس چبوترے پر بیٹھ کر اس کنویں کے پانی سے نہا چکا ہے۔
آگے بڑھتے ہی کنواں نظر آ گیا۔
جانا پہچانا کنواں ، پراسرار کہانیوں کو جنم دینے والا، اُن کہانیوں کو سن کر اندھیری رات میں اُس کے قریب کوئی جاتا بھی نہ تھا، اس کے کچھ ہی فاصلے پر بنگلہ ہے اور اسی کے پیچھے سپاری کے وہ دو پیڑ تھے کہ جن کے متعلق مشہور تھا کہ ان پر دو چڑیلیں اُلٹی لٹکی رہتی ہیں ، اُن کے پاؤں اُلٹے ہیں ، راتوں میں تیز ہواؤں کی مانند گھرنی کی مانند رقص کرتی ہیں ، گھرنی کی تیز آواز سے قریب کمروں میں سوئے ہوئے لوگ جاگ پڑتے ہیں اور جاگتے ہوئے بھی یہ آواز سنتے ہیں ۔
اور آگے بڑھا، کنواں بہت اپنا سا لگا، اندر جھانک کر دیکھا، پانی موجود تھا لیکن بڑی گندگی تھی، نتھنوں میں جو بُو سمائی اُس سے وہ اچانک ماضی میں بہت دُور چلا گیا۔

ایک دلخراش چیخ گونجی
حویلی کے سنّاٹے میں ، رات کے وقت،
سب گھبرا کر اُٹھ بیٹھے، اپنے اپنے کمروں سے لالٹین لیے باہر آئے،
ایک ہنگامہ تھا پوری حویلی میں ،
ننھے ننھے بچی چیخ کر رونے لگے،
وہ بھی اپنے خالو ابّا کے پیچھے پیچھے چلنے لگا، ڈرا ہوا، سہما ہوا،
’’کیا ہوا؟‘‘،’’کیا ہو گیا!‘‘، ’’ہائے اللہ یہ کیسی چیخ تھی!‘‘، ’’کون چیخا‘‘، ’’کدھر سے یہ آواز آئی؟‘‘
جتنے منہ اُتنی ہی آوازیں ، صرف سوالات، کوئی جواب نہیں ۔

معلوم ہوا یہ ایک ملازم کی چیخ تھی جو دالان میں سویا ہوا تھا، جب اُس نے دیکھا تو ادھیڑ عمر کا یہ پرانا ملازم تھر تھر کانپ رہا تھا، خوف سے آنکھیں باہر نکلنے کو تیار تھیں ، اُس پر ہر طرف سے سوالات کی بوچھار ہو رہی تھی۔ تبصرے بھی ہونے لگے تھے ’’نیند میں ڈر گیا ہو گا‘‘، ’’پاگل کہیں کا، کیسی بھیانک چیخ تھی سب کی نیند خراب ہو گئی!‘‘،’’اس سے کہا جائے باہر جا کر سویا کرے۔‘‘

سب کچھ سننے کے بعد وہ چیخ پڑا ’’وہ جن آیا تھا! کنویں والا، ہاں !‘‘ یہ سننا تھا کہ بھیڑ میں بھگدڑ مچ گئی، جانے کتنی اور چیخیں سنائی دینے لگیں ، بچیّ، لڑکیاں سب اپنے اپنے کمروں کی جانب دوڑنے لگیں ، بعض مائیں بھی اپنے کمروں کی طرف بے اختیار دوڑ گئیں اس لیے کہ وہ اپنے بچوں کو وہاں چھوڑ کر دالان میں آئی تھیں ۔
اب ہر طرف یہی آواز تھی ’’جن‘‘ جن آیا تھا، وہی جن ہو بہو وہی جیسا کہ نظر آتا ہے (اس سے قبل بھی وہ کئی لوگوں کو نظر آ چکا تھا) بھیڑ کا ایک بڑا حصہ گم ہو چکا تھا۔ اب چند ہی لوگ وہاں رہ گئے تھے،وہ اپنے خالو ابّا کی قمیض تھامے ملازم کے قریب ہی کھڑا رہ گیا۔ گم سم۔
’’ہاں خالو بابو (خالو ابّا کو سارے ملازم خالو بابو کہتے تھے) جن آیا تھا، میرے سامنے کھڑا تھا کہ آنکھیں کھل گئیں ، دیکھا دانت نکالے ہنس رہا ہے، اُس نے کچھ نہیں کیا، ہنستا ہوا غائب ہو گیا، میں نے جاگتے ہوئے اُسے دیکھا ہے، اللہ کی قسم کھاتا ہوں خالو بابو۔‘‘
’’کیا کہہ رہا ہے یہ، ذرا میں بھی تو سنوں ۔‘‘چھپرہ سے آئی ہوئی ایک معمر خاتون آہستہ آہستہ آگے بڑھیں ۔ (خالو ابّا انھیں بالکل پسند نہیں کرتے کہ ان سے کسی کی رشتہ داری نہ تھی لیکن ہر مہینے کسی نہ کسی بہانے موتیہاری پہنچ جاتیں ، پندرہ بیس روز رہتیں ، خوب کھاتی پیتیں ، حویلی سے کسی نہ کسی بہانے مدد مانگتیں اور واپس چلی جاتیں ۔ کبھی بہانہ ہوتا شوہر نے نکال دیا ہے، کبھی کہتیں بیٹے بہو سے لڑ کر آئی ہیں ، جب حویلی آتیں تو ایک کی شکایت دوسرے سے کرتیں اور جھگڑا کرا دیتیں ، کئی بار تو اُنھیں حویلی سے زبردستی نکال کر ٹرین پر بٹھایا گیا، ٹکٹ دے کر کہا گیا تشریف لے جائیے، لیکن وہ پھر اس طرح آتیں جیسے ماضی میں اُن کی حرکتوں کو سب بھول گئے ہوں ) اور پوچھا ’’ابے تجھے کیا ہوا ہے، نیند میں ڈرتا ہے تو ہم سے تعویذ لکھوا لے، ہماری نیند خراب کر دی نکھٹو نے، توبہ توبہ!‘‘
خالو ابّا نے اُن کی طرف دیکھ کر کہا ’’یہاں ابھی کنویں سے نکل کر جن آیا تھا۔‘‘
’’جن؟؟‘‘ اُن کی سٹھی گم ہو گئی۔
’’ہاں جن!!‘‘
اور پھر ایک اور بھیانک چیخ حویلی میں گونجی، کچھ لوگ ایک بار پھر دوڑے، اس بار ایک عورت کی چیخ گونجی تھی، کچھ عورتیں صرف اپنے دروازے سے جھانک رہی تھیں ۔محترمہ بظاہر بے ہوش ہو گئی تھیں !
’’پانی لاؤ، پانی، پانی۔‘‘
اُس ملازم اور اُس کے جن اور اُس کی چیخ کو سب بھول گئے اس لیے کہ یہ مسئلہ زیادہ نازک ہو گیا تھا۔ کچھ دیر بعد ہوش میں آئیں اور رونے لگیں ۔ ’’بس ہمیں ابھی اسی وقت اسٹیشن پہنچا دو ورنہ ہم مر جائیں گے، ہمیں کیا پتہ تھا کہ اس گھر میں جن رہتے ہیں ، ہم تو یہاں کبھی نہیں آتے، ہم اپنے گھر ہی میں اچھے تھے، ارے یہ جن ضرور ایک رات ہمیں مار ڈالے گا، ہم ہی تو ایک اجنبی ہیں یہاں ، وہ ضرور ہمارے پیچھے پڑ جائے گا، بس ہمیں ابھی اسی وقت اسٹیشن لے جاؤ، ورنہ ہم سر پھوڑ کر اپنی جان دے دیں گے۔‘‘
’’اری بڑی بی، اتنی رات کو کون سی گاڑی ملے گی، جائیے سو جائیے۔‘‘خالو ابّا نے ذرا سخت لہجے میں کہا۔
’’آپ کے سامنے بھلا جن کیا اہمیت رکھتے ہیں ۔ آپ کو دیکھ کر تو بڑے بڑے جن بھاگ جائیں ۔‘‘
’’سو جائیں تاکہ وہ کمبخت آ کر گردن دبوچ دے، ہائے اللہ سب ہماری موت چاہتے ہیں ، شوہر بھی چاہتا ہے ہم مر جائیں ، بہو بھی چاہتی ہے۔۔۔‘‘
’’بڑی بی، ہم بھی غالباً یہی چاہتے ہوں گے۔‘‘خالو ابّا لالٹین لے کر دالان سے نکلے، وہ بھی ساتھ ہولیا، چلتے ہوئے خالو ابّا نے کہا ’’صبح نقی سے کہہ دوں گا آپ کو اسٹیشن پہنچا دے گا۔‘‘
(غالباً ملازم حیران ہو گا یہ کیا ہو گیا، جن کو اُس نے دیکھا، چیخ اُس نے ماری، یہ بیگم صاحبہ درمیان میں کہاں سے آ ٹپک پڑیں اور انھیں کیا حق ہے جو ایسا ڈراما کریں ، ڈراما کرنے کا حق تو اس وقت صرف اُسی کو حاصل تھا)

شب میں کسی آواز سے اچانک اُس کی آنکھیں کھل گئیں ۔
چھت پر کسی کے تیز تیز دوڑنے کی مسلسل آواز سنائی دے رہی تھی،
’’خالو ابّا؟‘‘
’’ہوں ۔‘‘ وہ جاگے ہوئے تھے۔
’’یہ چھت پر کون دوڑ رہا ہے؟‘‘
’’سو جاؤ۔‘‘
’’کنویں والا جن تو نہیں ہے؟‘‘
’’وہ چھپرے والی بڑھیا ہو گی، پاگل ہو گئی ہے، روز اِس طرح دوڑتی رہتی ہے، سو جاؤ بہت رات ہو گئی ہے۔‘‘
لیکن دیر تک اُسے نیند نہیں آئی، جانے کتنی دیر تک مسلسل دوڑنے کی آواز سنتا رہا۔

اُس نے ایک بار پھر کنویں میں جھانکا اور اندر منہ ڈال کر چیخ کر پوچھا۔
’’جن میاں کہاں ہو؟ باہر تو آؤ، میں تنہا ہوں ، حویلی میں کوئی نہیں ہے۔‘‘
اندر اُس کی آواز گونج کر رہ گئی!
جن باہر نہیں آیا۔
غالباً ویرانیوں کو دیکھ کر وہ بھی اس کنویں کو چھوڑ کر کسی دوسرے کنویں میں چلا گیا ہو گا۔
پھر وہ بنگلے کے پیچھے گیا۔

سپاری کے دونوں درخت غائب تھے کہ جن پر دو چڑیلیں اُلٹی لٹکی رہتی تھیں ، جن کے پاؤں اُلٹے تھے اور جو گھرنی کی مانند ناچتی تھیں ۔ سپاری کے دونوں درختوں کو نہ پا کر اُسے دُکھ ہوا، حویلی کی فضاؤں کو کبھی کبھی پراسرار بنانے اور اُس کے تخیل کو چھیڑتے رہنے میں ان کا بھی ایک حصہ رہا ہے۔
وہ اُداس آہستہ آہستہ لان کی جانب بڑھنے لگا!



آٹھ


 حویلی کی پہلی تین سیڑھیوں پر چڑھ کر ایک بڑے ستون کے قریب رُک گیا، دائیں جانب دیکھا، خالو ابّا کا وہ کمرہ تھا کہ جس میں وہ اپنی ضروری چیزیں رکھتے تھے، ایک چھوٹی سی لکڑی کی الماری تھی، جس میں اُن کے ضروری کاغذات رہتے تھے، دوائیں تھیں ، یہ دوائیں حویلی کے تمام افراد کے لیے ہوتیں ، کسی کی طبیعت خراب ہوئی تو اسی الماری سے دوائیں ملتیں ، عموماً دن کا کھانا وہ اسی کمرے میں کھاتے، چوبیس گھنٹے میں صرف ایک ہی بار تو کھاتے تھے، اسی کے باہر دروازے کے قریب اُن کی کرسی لگی رہتی، دن بھر، دیر رات
تک اپنی آرام کرسی پر نظر آتے، حویلی کا ڈسپلن اُن کی وجہ سے بھیقائم تھا، حلق پھاڑ کر بولنے والے بعض لوگ بھی اس مقام پر آ کر آہستہ بولنے لگتے تھے، چونکہ وہ اُن سے بہت قریب تھا اس لیے اس کمرے میں اُس کا آنا جانا تھا، اپنی کتابیں کاپیاں اطیمنان سے رکھ دیتا اور جب چاہتا اندر باہر کرتا، ورنہ کسی کی جرأت نہ تھی کہ وہ اِس کمرے میں جائے۔
کمرہ بند تھا، کرسی نہیں تھی!
دالان سے گزر کر اندر پہنچا، ہر طرف خاموشی تھی،
دائیں جانب وہی کمرہ تھا کہ جس میں اُس کا بچپن گزرا تھا!
اُس کے دروازے کو دیکھ کر اُسے محسوس ہوا جیسے وہ اپنے کسی بہت ہی پرانے ساتھی سے مل رہا ہے، وہی دروازہ تھا کہ جس پر وہ اکثر اپنی پسند کی تصویریں چپکایا کرتا تھا۔
دروازہ بند تھا اور اُس پر ایک مضبوط تالا پڑا ہوا تھا، جانے کب سے، قریب سے دیکھا، زنگ آلود تھا وہ تالا!
دروازے کو بوسہ دیا، ایسا لگا جیسے اپنے ماضی کو چوم رہا ہو، اپنے بچپن کو بوسہ دے رہا ہو، اپنی پیاری پیاری خوبصورت یادوں کے قریب آ گیا ہو۔

اندر جھانکنے کی کوشش کی، چند پرانے تخت نظر آئے، چند اُلٹی سیدھی رکھی کرسیاں نظر آئیں ،اندر اندھیرا تھا، اسے اور کچھ نظر نہ آیا لیکن شدّت سے محسوس ہوا جیسے اِس کمرے میں اُس کا بچپن ابھی تک بند ہے، اچھا ہوا جو اسے بند کر دیا گیا ورنہ جانے وہ کہاں بھٹک جاتا، اِس کمرے میں اُس نے اپنی ممانی جان سے جانے کتنی کہانیاں سنی ہیں ، اپنی بہنوں کے ساتھ بیٹھ کر، لحاف میں دُبک کر، آنکھیں پھاڑپھاڑ کر، اونگھتے ہوئے۔ ممانی جان ہر شب قصّے سناتیں ، اکثر ماموں جان دن میں ہندی کتابوں سے ممانی جان کو کہانیاں سناتے اور وہ شب میں گھرکے بچوں کو سناتیں ۔ اساطیری اور فوق الفطری کہانیوں سے اُس کا رشتہ سب سے پہلے اِن ہی کہانیوں سے قائم ہوا۔ دیوس، وایو، یاما، برہما، وِشنو، شیو، کرشن اوتار، دُرگا، کالی، جگ، دھرتی، نارد، روی یا سوریہ، گنیش، رام، لکشمن، سیتا، راون باتیں کرتے ہوئے درخت، ہیروں کے درخت، ناگ، ناگ دیوتا، بلرام، بُدھ، سرسوتی، کرشن کی بنسری، رادھا، اِندردیوتا، اپسرائیں ،اگنی،، دیوتاؤں کی جنگ، راہ بتانے والے سادھو اور یوگی، جادو منتر سے بنے ہوئے قلعے، غریب کسان، مچھلی رانی، وِشنو، راجہ کی آنکھوں میں روشنی آ جانا، سمندر کے نیچے رہنے والی عورتیں اور اُن کی حکومت، پاتال، حاتم طائی کی سات کہانیاں ، الٰہ دین اور اُس کا چراغ، تسمہ پا، غرض اِن سب سے تعارف اسی کمرے میں ہوا، اسی کمرے میں اِن کی کہانیاں سنیں ،بہت ہی دلچسپ کہانیاں ، جس شب کوئی کہانی مکمل نہ ہوتی اور وہ ’’باقی کل‘‘ کہہ کر چلی جاتیں تو اُس کا ذہن نامکمل کہانی کے متعلق طرح طرح سے سوچتا رہتا، دیر تک قصّے اور کر داروں سے اُلجھتا رہتا، بھوجپوری لہجے میں اُن کی سنائی ہوئی کہانیوں میں بڑی مٹھاس تھی، بعض قصّوں کے درمیان کوئی نہ کوئی بھوجپوری لوک گیت ہوتا اور وہ اسے ایک خاص آہنگ کے ساتھ سناتیں ۔ کبیر کے دوہے بھی سب سے پہلے اُن سے سنے، بعض کہانیوں کے درمیان دوہے آ جاتے، کہانی شکنتلا کی ہو یا نل دمینتی کی، َلو اور کش کی ہو یا راجہ ہریش چندر، پرہلاد، دشرتھ اور کیکئی کی، درمیان میں کبیر داس بھی آ جاتے اور بھوجپوری گیت بھی، شیوجی کی بارات آ رہی ہے اور پاروتی جی کی سکھیاں بھوجپوری گیت گا رہی ہیں ، اُن کی آواز اتنی اچھی تھی اور بوجھپوری گیتوں میں اتنا رَس تھا کہ وہ ان میں گم ہو جاتا، کسی مہارشی کی دعاؤں سے راجہ کے گھر میں بیٹا پیدا ہوتا تو ممانی جان بھوجپوری میں ’’سوہر‘‘ ضرور سناتیں اور ’’سوہر‘‘ بھی ایسا جو ایک نئی کہانی بن جاتا۔ ایسے گیتوں میں بھی کہانیاں ہوتیں کہ جو دیوتاؤں کے کر داروں کو اُبھارتیں ، جب ہولی کا تہوار آتا تو حویلی میں بھی خوب ہولی کھیلی جاتی اور خاندان کے ہندو عزیز اور رشتہ دار ہولی کھیلنے آ جاتے اور حویلی کے لوگ بھی نئے نئے کپڑوں میں رنگوں کی پچکاریاں لیے اُن کے گھر جاتے، سب مل کر ’پھگوا‘ گاتے اور ممانی جان پیش پیش ہوتیں ۔ محرم میں ’داہا‘ سناتیں ، برسات میں اچانک تیز بارش ہوتی تو ’ویاس‘ گانے لگتیں ، بہت ذہین تھیں ، اُن کا حافظہ غضب کا تھا، یہ سب سنانے کا مخصوص انداز بزرگوں کو نصیب تھا، کہانیاں سنتے ہوئے وہ اکثر ہر کہانی میں خود کو تلاش کرتا، ’وہ‘ کہاں ہے؟ وہ کہانیاں اُسے زیادہ پسند آئیں کہ جن میں اُس نے خود کو کہیں نہ کہیں پہچان لیا۔ ’’میں یہاں ہوں !‘‘ ’’یہ میں ہوں !‘‘ ایسے کر داروں میں الٰہ دین اور حاتم طائی کہاں ہوتا، وہ تو اپنی ذات کے عمل کے پیشِ نظر ہی پوری کہانی سنتا، جب بھی کوئی تاریک سایہ آتا تو چاہتا کہ وہ اس سے جلد باہر آ جائے۔
اُس کا ذہن اِن یادوں میں گم ہونے لگا، ایسا لگا جیسے ماضی، حال کے لمحوں میں اُترنا چاہتا ہے۔
اِسی کمرے میں اُس نے سب سے پہلے اخلاقی نوعیت کی کہانیاں سنی تھیں ، احمقوں اور بدمعاشوں کو سزا ملتی ہے، ایمانداروں کو اللہ ہزار نعمتوں سے نوازتا ہے، ’حقیقت‘ اور ’قیاسی باتیں ‘ دونوں ایک دوسرے سے جذب ہو کر آتیں ، ہر کہانی کسی تصویر کی مانند خوبصورت لگتی، الفاظ چمکتے ہوئے محسوس ہوتے، کہانیوں کے ذریعہ جانے کتنی دُنیائیں آہستہ آہستہ اُس کے وجود کا حصہ بننے لگی تھیں ۔ کہانیاں سنتے ہوئے وہ خود کو کہانی سنانے والوں کے لفظوں اور اُن کے مختلف اندازِ بیان کے حوالے کر دیا کرتا تھا، بعض کہانیوں میں اُسے دلفریب خواب ملتے حیرت انگیز واقعات ملتے، اونگھتے ہوئے بھی یہ چاہتا کہ کہانی جاری رہے، کھانا کھاتے ہوئے بھی کہانیاں سنتا، اسے یاد ہے جب اُسے زبردستی کھانا کھلایا جاتا تھا، ایک نوالہ الٰہ دین کا، دوسرا نوالہ اُس کے چراغ کا، یہ نوالہ راجہ بھوج کا اور یہ نوالہ ناگ راج کا، اور یہ نوالہ بھی کھالو ورنہ زمرد غلام روئے گا‘--- اور وہ کھالیتا تھا!
اِسی کمرے میں بچوں کی میلاد ہوتی تھی، حویلی کے تمام بچی جمع ہو جاتے اور آپا میلاد پڑھتیں ، سب ہاتھ باندھ کر کھڑے ہوتے، ’یا حبیبؐ سلام علیک، یا رسولؐ سلام علیک‘ شیرینی تقسیم ہوتی، شیرینی کے لیے جھگڑے ہوتے، جب بھی میلاد کی محفل ہوتی وہی سارا انتظام کرتا، نقی میاں یا محبوب رضا بھائی مسجد والے حلوائی کی دُکان سے شیرینی لاتے، اِسی کمرے میں ’رت جگا‘ کے لیے تیاریاں ہوتی تھیں ، شبِ قدر میں چائے بنتی اور سب رات بھر عبادت کرتے، شبِ برأت میں حلوہ روٹی رکھ کر اسی کمرے میں کسی مولوی مولانا کو بلایا جاتا اور وہ دیر تک فاتحہ خوانی میں مصروف رہتے، بچی چاہتے فاتحہ کی رسم جلد ختم ہو تاکہ جلد حلوہ روٹی مل سکے۔ محرم کی نویں کو اسی کمرے میں خالہ امّاں نیاز کرتیں اور بچوں کو سہرابدھی پہنائی جاتی۔ دوسرے بچوں کی طرح اس کے لیے بھی سبز کرتا بنتا، سبز کرتے میں ، سہرابدھی پہنے وہ اِس کمرے سے جانے کتنی بار اکڑ کر نکلا ہے، ایک تخت تھا جسے وہ اسٹیج بنایا کرتا، پردہ لگایا جاتا، حویلی کے چند بچی اُس کی ہدایت میں ڈراما کرتے، گھر کے افراد ڈراما دیکھتے، اِسی کمرے کے باہر تو عطیہ کے لیے ممانی جان ہر سال دیوالی میں خوبصورت گھروندے بناتی تھیں ، اِسی جگہ تو گھروندے بنتے تھے، دیے جلائے جاتے، رنگاولی سجائی جاتی، لائی بتاشے آتے، ہر سال اس جگہ کتنی چہل پہل رہتی تھی دیوالی کے دن!
اُس کی بہنیں اُسے بہت چاہتی تھیں ، آپا کی شادی ہو چکی تھی، تین بہنیں اُس کے ساتھ اِسی کمرے میں رہتی تھیں اور وہ اُن کے ساتھ کھیلتی تھیں ، سب سے چھوٹی بہن عطیہ سب کی پیاری تھی، اُسے گڑیوں کا کھیل بے حد پسند تھا، اُس کی ضد پر دونوں بڑی بہنیں اُس کے ساتھ بیٹھ جاتیں اور کھیلتیں ، گڑیا بنانے کا شوق سب کو تھا،چچی جان جب بھی آئیں گڑیا لے کر آئیں ، ممانی جان، خالہ امّاں ، بڑی آپا، شکیلہ باجی، منیرہ باجی سب کی بنائی ہوئی گڑیائیں عطیہ کے پاس ہوتیں ۔ اچانک کسی کو خیال آیا کہ عطیہ کی ایک خوبصورت گڑیا کی شادی کا انتظام کیا جائے، نصرت عالم بھائی کی لڑکی لالی کے گھر پیغام بھیجا گیا اور رشتہ منظور ہو گیا، پھر شادی کی تیاریاں شروع ہو گئیں ، کہا جاتا ہے کہ گڈّے گڈّی کی ایسی شادی شہر میں نہیں ہوئی تھی، آنگن کو سجایا گیا، تخت بچھائے گئے، اُن پر خوبصورت چادریں ڈالی گئیں ، شامیانہ لگا، مراثنیں آئیں ، ڈھول پر مسلسل گاتی رہیں ،طرح طرح کے کھانے پکنے لگے، خوشبوؤں سے ماحول معطر ہو گیا، نکاح کی تاریخ مقرر ہو چکی تھی، دو کلو میٹر دُور سے بارات آئی اُسی طرح جس طرح کسی کی بھی بارات آتی ہے، دولہا گھوڑے پر سوار کیا گیا تھا، گھوڑے کو سجایا گیا تھا، بارات میں بینڈ والے بینڈ بجا رہے تھے۔ بارات جس محلّے سے گزری جانے کتنے بچی شامل ہوتے گئے، شہر میں ہر شخص حیران تھا، بارات آئی، پھولوں سے استقبال کیا گیا، نکاح کے بعد شیرینی تقسیم ہوئی، دعوت ہوئی، خوشیاں منائی گئیں ، دعوت کے بعد رخصتی ہوئی، ننھی عطیہ اپنی گڑیا کو رخصت کرتے ہوئے بے اختیار رونے لگی جیسے اُس کی بیٹی رخصت ہو رہی ہو، اپنی گڑیا سے لپٹ لپٹ کر اُس کا رونا بعض معمر خواتین سے برداشت نہ ہو سکا اور وہ بھی با جماعت رونے لگیں ، بڑی مشکل سے عطیہ کو بہلایا گیا اور گڑیا کو اُس کے گڈّے کے ساتھ بھیج دیا گیا۔
کیا وقت تھا!
اپنی پیاری بہنوں کے ساتھ وہ اِسی کمرے میں پڑھتا رہا، مختلف کھیل کھیلتا رہا ہے۔ اِسی کمرے میں اُس نے اپنی بہنوں کو پڑھنے لکھنے، سوئیٹر بننے اور سلائی اور لباس کی آرائش و تزئین میں مصروف دیکھا ہے، دہلی کے رسالہ ’عصمت‘ کو سب سے پہلے اُس نے اِسی کمرے میں دیکھا، علامہ راشد الخیری اور جناب خواجہ حسن نظامی وغیرہ کی کتابیں شوق سے پڑھی جاتی تھیں ۔
’ٹیوشن‘ کے لیے ایک استاد مقرر ہوئے، علم الحساب پڑھانے کے لیے وہ صبح سویرے حاضر ہو جاتے، پہلا دن ٹھیک گزرا، پہلے ہی دن ماسٹر جی اُسے پسند نہیں آئے، اُن کی مونچھیں حد درجہ بدنما تھیں ، ماسٹر ہو کر ایسی مونچھیں رکھتے ہیں توبہ! پھر ہر وقت منہ میں سگار لگائے رکھتے تھے۔ سگار کا دھُواں اچھا نہیں لگا، پڑھاتے ہوئے سگار بند رکھیں تو کتنا اچھا ہو،دوسرے دن بید سے مارکر اُس کی ہتھیلیوں کو نیلا کر دیا، ایک حساب غلط ہو گیا تو کیا ہوا، اُس کی سمجھ میں نہیں آیا تو اُنھیں پھر سمجھا دینا چاہیے، سسک سسک کر رویا، دو بڑی بہنوں نے دیر تک ہتھیلیاں سہلائیں ، دوائیں لگائی گئیں ۔ دونوں بہنوں نے احتجاج کیا اس کے باوجود تیسری صبح پھر سزا دے دی، دو طمانچے۔ چوتھی صبح بستر سے اُٹھتے ہی پلنگ کے نیچے چھپ گیا۔ فیصلہ کر لیا تھا کہ ایسے ظالم کے پاس اب نہیں جائے گا۔ ماسٹر جی آئے، تلاش شروع ہوئی، پھر اسی کمرے کے ایک پلنگ کے نیچے پکڑ لیا گیا۔ ماسٹر جی نے سگار کا کش لیا، دُور سے اُن کی بڑی بڑی آنکھوں کو دیکھ کر ڈر گیا تھا۔
’’نزدیک آؤ۔‘‘
محبوب رضا بھائی اُسے لے کر آہستہ آہستہ آگے بڑھ رہے تھے، ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ بکرے کو قصائی کے پاس لیے جا رہے ہیں ۔
قریب پہنچتے ہی ایک چانٹا پڑا، ایسے اچانک حملے کے لیے وہ تیار نہ تھا، آنکھوں کے سامنے اندھیرا غالباً پہلی بار دیکھا تھا۔
’’یہ کیا بات ہوئی جناب، بچوں کو اِس طرح پڑھاتے ہیں !‘‘ خالو ابّا کی آواز سنائی دی، کچھ دیر سگار والے ماسٹر جی اور خالو ابّا کے درمیان تیز تیز باتیں ہوتی رہیں --- اِس کے بعد سگار والے اور بدنما مونچھوں والے ماسٹر جی جو گئے پھر نہیں آئے۔ شہر میں کہیں اُن پر نظر پڑ جاتی تو اُسے اُن کے طمانچے یاد ا جاتے اور وہ اُن کی نگاہوں سے چھپ جاتا!

 مذہبی تعلیم گھر پر ہوئی اور دو مدرّسوں میں بھی،
اِسی کمرے میں ایک ٹیبل پر اُردو اور عربی کی کتابیں سلیقے سے رکھتا تھا، قرآن مجید رحل پر نہایت عقیدت اور احترام کے ساتھ رکھتا، قریب ہی ایک تخت پر جائے نماز بچھا کر پانچ وقتوں کی نمازیں ادا کرتا۔
مولوی منظور صاحب اپنی ٹوٹی ہوئی بائیسکل پر دُور کسی محلّے سے پڑھانے آتے، وہ پہلے اُستاد تھے، انتہائی شفیق اور بہت پیارے، اُردو کے حروف انہی سے سیکھے، مسلسل لکھتے رہنے کی مشق اُن ہی کی نگرانی میں کرتا رہا، مولوی صاحب کے حروف موتیوں جیسے تھے، اُن کے حروف کی نقل کرنا آسان نہ تھا، رفتہ رفتہ اُس کی تحریر اچھی ہو گئی، مولوی منظور صاحب روز تختی لکھواتے، وہ خود اپنی تختی صاف کیا کرتا، روشنائی بناتا، مولوی صاحب انتہائی سلیقے سے کنڈے کے قلم تراشتے۔
مولوی صاحب، صاحبِ علم تھے، ابتدائی منزلوں پر قرآن پاک پڑھاتے ہوئے بعض آیات کی تشریحیں کرتے اور مفہوم سمجھاتے،عربی اور فارسی کے بھی عالم تھے، اُن ہی کی زبان سے پہلی بار مولانا رومؔ، حافظؔ شیرازی، عمر خیامؔ اور مرزا غالبؔ کے نام سنے، باتوں باتوں میں اسلامی تاریخ کے واقعات سنا دیتے، ہندوستان کی آزادی کا مفہوم سمجھاتے، آزادی کی جدوجہد اور اس میں علماء کی شرکت کا ذکر سب سے پہلے اُن سے سنا، چمپارن کی تحریک انھوں نے سمجھائی، سلطنتِ مغلیہ کے عروج و زوال کے کئی واقعات سنائے، پہلی بار بہادر شاہ ظفرؔ اور اُن کے بیٹوں کے کٹے ہوئے سروں ، رانی جھانسی،ٹیپو سلطان اور برما میں بہادر شاہ کے آخری لمحوں کے قصّے اُن سے سنے، اُن ہی سے معلوم ہوا کہ ہم انگریزوں کے غلام ہیں ، غلامی کیا ہے، آزادی کیا ہے، محبت کتنی بڑی نعمت ہے اور نفرت اور حسد کتنی بڑی لعنتیں ہیں ، غارِ حرا کیا ہے، اس کی اہمیت کیا ہے، رسول اللہؐ کی زندگی ہمیں کیا سمجھاتی ہے، انسان اور انسان کے رشتوں میں مذہبی معاملات کو کیوں نہیں لانا چاہیے، گرونانک دیو کون تھے،ان کا پیغام کیا تھا، حضرت عمر فاروقؓ کی عظمت کا راز کیا ہے، میدانِ کربلا کے شہیدوں کے لہو کن سچائیوں سے آشنا کرتے ہیں اور جانے کتنی باتیں اور کیسی بڑی بڑی باتیں آسانی سے سمجھا دیتے تھے، ہر بات اِس طرح سمجھاتے جیسے کوئی کہانی سنا رہے ہوں ، اُس کے معصوم ذہن پر اسی منزل پر بہت سی باتیں نقش ہو کر رہ گئیں ۔
مولوی صاحب سے سبق حاصل کر کے جب وہ اپنے کمرے میں آتا تو اپنی پیاری بہنوں کو بہت سی باتیں سناتا، تخت پر کھڑا ہو جاتا اور تقریریں کرتا، اپنے ہم عمر ساتھیوں کو پکڑ کر لاتا، اُنھیں بٹھا کر مولوی صاحب سے سنی ہوئی باتوں کی روشنی میں اپنی ٹوٹی پھوٹی زبان میں تقریریں کرتا، وہی کمرہ ہے نا یہ!
مولوی منظور صاحب کے لباس اور اُن کی بائیسکل کو دیکھ کر بہت دُکھ ہوتا تھا، جب اُس نے ایک دن کہا: 
’’مولوی صاحب، آپ اپنی بائیسکل ٹھیک کیوں نہیں کرا لیتے؟‘‘
تو جواب ملا:
’’بیٹے ہم غریب ہیں ، مشکل سے دال روٹی چلتی ہے۔‘‘
غالباً اپنی زندگی میں اتنے تعلیم یافتہ غریب کو پہلی بار اتنے قریب سے دیکھا تھا۔ اکثر سوچتا وہ غریب کیوں ہیں ؟ اُن کے کپڑے پھٹے کیوں رہتے ہیں ، نماز پڑھتا تو یہ بھی دُعا کرتا ’’اللہ میاں مولوی صاحب کو امیر بنا دے!‘‘ لیکن مولوی منظور صاحب عمربھر اسی حال میں رہے، سوچتا نوکری کروں گا تو ان کے لیے ایک نئی بائیسکل خریدوں گا، یہ حسرت دل میں رہ گئی، ابھی اُس نے ایم۔اے کا امتحان بھی نہ دیا تھا کہ مولوی صاحب کا انتقال ہو گیا۔
ابتدائی تعلیم و تربیت میں جن بزرگ استادوں نے حصّہ لیا اُن میں مولوی منظور صاحب نقشِ اوّل کی حیثیت رکھتے ہیں ، وہ علم کا پہلا سرچشمہ ہیں کہ جن سے فیضیاب ہوا، انھوں نے صرف علم کی روشنی سے نہیں بلکہ محبت اور شفقت سے بھی بے حد نوازا، اتنی محبت کے ساتھ اُسے کسی نے نہیں پڑھایا۔ ان کا نقش ذہن پر قائم ہے۔
اِسی کمرے میں پیارے خالو ابّا کا انتقال ہوا!
پہلی بار اُس نے اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھا، موت آہستہ آہستہ دبے پاؤں آئی اور مٹّی کے جسم سے زندگی چرا کر لے گئی، وہ اُن کے سرہانے بیٹھا تھا۔
۳ جون ۱۹۳۹ء، بدھ کا دن، گرمی کی دوپہر، ۲بج کر ۱۰ منٹ۔
اُن کی آنکھیں آہستہ آہستہ بند ہو گئیں ۔
ایک شجرِ سایہ دار ٹوٹ کر گر گیا،
انھوں نے ایک باپ کی محبت دی تھی، اب تک اُن کی نگاہوں کی نگرانی میں رہا تھا،
اچانک شدید تنہائی کا احساس ہوا تھا، جانے کتنے دنوں تک سسک سسک کر روتا رہا، اُن کی شخصیت حویلی کے لیے بڑی غنیمت تھی۔ ابّو ہر مسئلے پر اُن کی رائے لیتے تھے، ابّو نے ٹھنڈی سانس لے کر کہا ’’میرا ایک ہاتھ ٹوٹ گیا آج!‘‘
خالہ امّاں کے غم کو دُور کرنے کی کوشش میں رہا لیکن عمر بھر کے لیے اِس طرح چپ ہو گئیں وہ جیسے کبھی بولنا ہی نہیں جانتی تھیں ، کبھی کبھی اُن کی ہلکی آواز سنائی دیتی، وہ خوش ہو جاتا۔
اُن کی یاد سے ایک ایسے ادارے کی یاد آتی ہے جو اب ختم ہو چکا ہے، یہ ادارہ تھا بعض بزرگوں کا، محلّے کے ضعیف لوگوں کا، اُس کی حویلی میں وہی اس ادارے کے نمائندہ تھے، محلّوں میں ایسے اشخاص ہوتے جو عموماً چائے کی دُکانوں یا بعض چوراہوں یا لبِ سڑک بیٹھے رہتے تھے، مختلف مذاہب اور مختلف عقیدوں کے بزرگ، بچی اور جوان پاس سے گزرتے تو نہایت ادب سے سلام کرتے، سڑکوں ، گلیوں اور حویلیوں میں کھیلتے ہوئے بچی جانتے تھے کہ اُن کی نگاہیں اُن پر گڑی ہوئی ہیں ۔ ایسے بزرگوں کی اعلیٰ قدروں کو کسی حد تک سمجھتے ہوئے اُن کا احترام کرتے تھے، ان بزرگوں کو حق تھا کہ وہ ان کی غلطیوں اور غلط حرکتوں پر اُنھیں ٹوک دیں ،ڈانٹ دیں اور چھڑی سے مرمت بھی کر دیں ، والدین یا کسی کو حق نہ تھا کہ اُن سے وجہ دریافت کریں ، ایک یقین سا تھا کہ انھوں نے جو کچھ کیا ہو گا ٹھیک ہی کیا ہو گا۔
یہ عجیب و غریب ادارہ تھا معاشرے کا جسے کوئی قائم نہیں کرتا تھا خودبخود قائم ہو جاتا تھا۔ بچیّ، جوان سب اُن سے ڈرتے تھے، اُن سے محبت بھی کرتے تھے، اکثر خدمت بھی کرتے تھے، اُن کے حکم کی تعمیل کرتے تھے، کوئی فوراً بازار سے دوا لا دیتا، کوئی پاؤں دباتا، انھیں صرف دعائیں ملتی تھیں ، اُن کے دل میں یہ بات جم کر رہ جاتی تھی کہ یہ بزرگ ہمدرد ہیں ، محبت کرتے ہیں ، اُن کی کسی بات یا کسی گالی کا برا نہیں مناتے، اِن بزرگوں میں اگر کوئی اللہ کو پیارا ہو جاتا تو صفِ ماتم بچھ جاتی اور بچی کئی دنوں تک کھیلنا بند کر دیتے حالانکہ انھیں کوئی منع نہیں کرتا تھا، نوجوان اُداس ہو جاتے، گھنٹوں اُن کا ذکر کرتے رہتے، انھیں اپنی جگہ نہ پا کر بے حد اُداس ہو جاتے، اچانک کسی بڑے گھنے اور سایہ دار درخت کے گم ہو جانے کا احساس ملتا، مجنوں کے مرنے پر جنگل کی اُداسی کا یہ منظر بھی دیکھنے کے قابل تھا۔

حویلی میں خالو ابّا تھے، شجرِ سایہ دار کی مانند، سارا شہر اُنھیں خالو ابّا ہی کہتا، نام زین العابدین تھا، لیکن بہت کم لوگ اُن کے نام سے واقف تھے، دن بھر آرام کرسی پر نیم دراز رہتے، شام ہوتی تو بڑے گیٹ پر بیٹھ جاتے اور وہیں شام کی چائے پیتے، اُن کا دبدبہ بچوں اور نوجوانوں پر قائم رہتا، حویلی اور سڑکوں پر چلتے ہوئے لوگ اُن کے سامنے سر جھکا کر چلتے۔ ۳ جون ۱۹۳۹ء کی دوپہر کو جب وہ اللہ کو پیارے ہوئے تو حویلی کے بچوں کو ایسا لگا جیسے اچانک کسی اہم چیز کی کمی ہو گئی ہے، برسوں تک اُن کی کمی محسوس ہوتی رہی، اُن کی شفقت اور محبت، اُن کی ڈانٹ ڈپٹ، اُن کا رُوٹھ جانا، ایک ایک بات یاد آ رہی تھی۔ باپ کی محبت کی خوشبو کسی دوسرے شخص کی ذات میں بہت کم لوگ پاتے ہیں ۔ یہ خوشبو اُس کے لیے ایک بڑی نعمت تھی، اُن کا گزر جانا کسی قیامت سے کم نہ تھا، امّی کے انتقال کے بعد انھوں نے اُسے اور اُس کی دو بہنوں کو اپنی ساری محبت بخش دی تھی، خالہ جان تو آخری لمحے تک اپنی بے پناہ محبت اور شفقت سے نوازتی رہیں ، ہر بات کا خیال رکھا، کبھی کسی قسم کی تکلیف ہوئی تو یہی دونوں تھے کہ جن سے وہ اپنی تکلیف بیان کرتا اور دونوں ہر ممکن کوشش کرتے تکلیف دُور ہو جائے، ہائے ایسے لوگ اب کہاں ہیں !



نو

 اُس کے گھر کا ماحول صوفیانہ رہا ہے، اُس کے والد پھُلواری شریف کی خانقاہ سے وابستہ ہو گئے تھے، گھر پر عابدوں ، بزرگوں اور اللّٰہ والوں کو آتے جاتے دیکھا کرتا، صوفی شعراء کی کتابیں پڑھی جاتیں ، سماع کی محفلیں ہوتیں ، جانے کہاں کہاں سے قوّال آتے اور حق و معرفت کے نغمے سناتے، قوّالی کی محفلیں بھی مقدس محفلوں جیسی ہوتیں ، مقامی قوّال تو اکثر آتے رہتے، گھر کے ایسے ماحول کے اثرات قبول کرتا رہا ہے، نصرت عالم بھائی اُس کے عزیز رشتہ دار تھے، اُس کے سگے چچا کی لڑکی زبیدہ بہن اُن سے بیاہی گئی تھیں ، نصرت عالم بھائی اُس کے بزرگوں میں تھے، اُن کے گھر پر اکثر سماع کی محفلیں ہوتیں اور وہ اُن میں شریک ہوتا تھا۔ بہار شریف اور پھلواری شریف کے کئی اللہ والے، بزرگ صوفیاء ان محفلوں میں آتے، اُن کے نورانی چہروں اور صاف بے داغ سفید لباس سے بے حد متاثر ہوتا، قوالوں کے بعض بول سن کر وہ روتے، اُن کی ہچکیاں بندھ جاتیں ، جھومتے، حق ہو کے نعرے لگاتے اور بے اختیار کھڑے ہو کر دیوانہ وار گھومتے، گھومتے ہوئے جس شخص کو سینے سے لگا لیتے وہ بھی رقص کرنے لگتا، ایسی فضاؤں میں اکثر گم ہو جاتا، حمد، نعت اور منقبت سن کر اُس کی عجیب حالت ہو جاتی، جب بھی خبر مل جاتی کہ ایسی کوئی محفل ہے تو کسی نہ کسی طرح وہاں پہنچ جاتا اور اکثر دیر رات تک جاگتا رہتا، بزرگوں کی ایسی صحبتوں میں بڑا جذباتی سکون ملتا تھا۔ مکتب میں نہیں کہ جہاں قرآن اور حدیث کی تعلیم ملتی تھی بلکہ ان ہی محفلوں میں اللہ اور رسولِ پاکؐ سے اُس کا ایک جذباتی رشتہ قائم ہوا، تصوف سے گہری دلچسپی کا تعلق ممکن ہے ان محفلوں سے بھی ہو۔
اُسے یاد آیا۔
حویلی میں ایک بزرگ آئے، آنکھیں حد درجہ سرخ،گھورتی ہوئی، بڑے بڑے لمبے بال، سیاہ لباس، ساٹھ پینسٹھ برس کی عمر، ننگے پاؤں ، ایک ہاتھ میں تسبیح دوسرے ہاتھ میں سانپ جیسا ڈنڈا، گلے میں پتھروں اور جانے کیسے کیسے موتیوں کے ہار، سفید داڑھی، چہرہ شکن آلود، بڑی بڑی گھورتی ہوئی انتہائی سرخ آنکھوں کو دیکھ کر ڈر گیا، وہ اُسے کچھ دیر غور سے دیکھتے رہے، اللہ ہو کا ایک زبردست نعرہ بلند کیا اور چبوترے پر کھڑے ہو گئے، انھیں دیکھ کر حویلی کے چھوٹے بچی سہم گئے، بعض بزرگ جو باہر بیٹھے تھے ادب سے کھڑے ہو گئے اور اُن کی جانب آہستہ آہستہ بڑھنے لگے جیسے کوئی کشش تھی جو اُنھیں کھینچے جا رہے تھی، چند ہی لمحوں میں چبوترے کے گرد ایک بھیڑ جمع ہو گئی، محلّے والے بھی جمع ہو گئے، اس بھیڑ میں ذرا دُور رہ کر وہ اُنھیں دیکھ رہا تھا۔ اُن کی سرخ آنکھیں اِدھر اُدھر گھومنے لگیں ، کسی نے کہا ’’قلندر بابا ہیں ۔‘‘
حویلی میں کئی طالب علم رہتے تھے جن کی دیکھ بھال حویلی کرتی تھی، اُن ہی میں ایک صاحب تھے رمضان میاں جو مقامی مدرسے میں تعلیم حاصل کر رہے تھے، کٹر مذہبی سمجھے جاتے تھے، نماز روزے کے پابند، تبلیغ کے قائل، شریعت پر تقریریں کرتے اور اپنے بزرگوں کو بھی ہدایتیں دیتے تھے۔ آگے بڑھے اور کہا ’’آ گئے بھیک مانگنے، بھائی انھیں لا کر کچھ دے دو، خواہ مخواہ اپنی جھوٹی قلندری کا تماشا دِکھاتے ہیں یہ لوگ۔
اتنا کہنا تھا کہ وہ سرخ سرخ آنکھیں اُن پر پڑیں ، ’اللہ ہو‘ کا ایک زبردست نعرہ بلند ہوا جیسے یہ نعرہ نہ ہو کوئی چیخ ہو اور رمضان میاں ا چکرا کر اس طرح گرے کہ بے ہوش ہو گئے۔ کسی نے کہا رمضان میاں کا کوئی پاؤں پھسل گیا ہے، کسی نے کہا ’’پڑ گئی نا قلندری کی مار!‘‘ اس واقعہ کے رونما ہوتے ہی بھیڑ قلندر کی گرفت میں آ گئی، اچانک ہر طرف سنّاٹا سا چھا گیا۔ اُس کے رونگٹے کھڑے ہو گئے تھے۔ رمضان میاں اُس وقت تک ہوش میں نہ آئے جب تک کہ قلندر واپس نہ گئے۔
قلندر نے چیخ کر کہا ’’ہم کسی سے کچھ نہیں مانگتے، ہم خود دینے والے ہیں ، ہم کچھ نہیں کھاتے، دوسروں کو کھلاتے ہیں ، ہماری جھولی میں ساری دُنیا ہے، دیکھنا چاہتے ہو تو بولو۔
’’بولو‘‘
ہر طرف خاموشی تھی، کسی کی زبان نہیں کھلی۔
’’اِدھر آ جا!‘‘ قلندر نے اچانک اُسے آواز دی، وہ کئی لوگوں کے پیچھے جھکا درمیان سے اُنھیں دیکھ رہا تھا۔ ’’اِدھر آ جا، ہم تیرے لیے آئے ہیں ۔‘‘ انھوں نے بہت پیار سے بلایا، اب سب کی نظر اُس پر تھی، وہ ڈر گیا تھا۔
’’کس بات سے ڈر رہا ہے تو؟ آ جا ہمارے پاس، دیکھ ہم تیرے لیے کیا لائے ہیں ۔‘‘
وہ آہستہ آہستہ آگے بڑھا، اُن کے قریب آیا، قلندر نے اُسے غور سے دیکھا اور بے اختیار ہنسنے لگے۔
’’ہاں ہاں ، ہم تیرے لیے آئے ہیں ، یہ لے، یہ لے۔‘‘ انھوں نے اپنی بڑی جھولی میں ہاتھ ڈالا، ایک تھیلا نکالا، اُس میں کچی چاول تھے، یہ لے جا اِسے پکوا کر لے آ، ہم دونوں ساتھ کھائیں گے، اس کے ساتھ اور کوئی چیز نہ لانا، صرف اسے پکوا لے، ہم انتظار کریں گے۔‘‘
وہ چبوترے پر بیٹھ گئے اور وہ تھیلا لے کر اندر چلا گیا۔ بہنوں کو ماجرا سنایا اور صاف پتیلے میں چاول تیار کر کے ایک صاف برتن میں لے کر باہر آیا۔ بھیڑ میں اضافہ ہو گیا تھا، وہ آہستہ آہستہ چاول کی پلیٹ لے کر اُن کے پاس پہنچا۔
قلندر نے کہا ’’ٹھیک ہے، رکھ دے یہاں ، بیٹھ جا۔‘‘
وہ بیٹھ گیا۔ پلیٹ کا چاول بہت گرم تھا، بھاپ اُٹھ رہی تھی۔
’’بسم اللہ، چل کھا، ہم کھا رہے ہیں تُو بھی کھا۔‘‘
وہ اپنا ہاتھ بڑھا نہ سکا۔
’’ڈرتا ہے، ہاتھ جل جائے گا، گرم چاول ہے اِسی لیے، ارے ڈال ہاتھ اپنا، دیکھ پہلے ہم ڈالتے ہیں ۔‘‘ انھوں نے اپنی پانچوں انگلیاں چاول میں ڈال دیں اور اپنے دوسرے ہاتھ سے اُس کا ہاتھ پکڑ کر اُس میں ڈال دیا۔ بھاپ ابھی تک اُٹھ رہی تھی لیکن اُسے سخت حیرت ہوئی کہ چاول ٹھنڈا تھا۔
’’چل شروع کر، بسم اللہ!‘‘
’’بسم اللہ‘‘ دونوں نے کھانا شروع کر دیا، اُسی چبوترے پر، ایک ہی برتن میں ، تماشائی حیرت سے دیکھ رہے تھے۔
اُس نے پہلا نوالہ منہ میں ڈالا تو لگا شکر کھا رہا ہے، اُس نے قلندر کی جانب دیکھا تو اُن کے ہونٹوں پر مسکراہٹ تھی۔
دوسرا نوالہ کھایا تو وہی شکر، تیسرا نوالہ بھی شکر کا،چاول کہاں ہے، نظر تو آ رہا ہے۔
لیکن منہ میں ڈالتے ہی شکر۔۔۔
دونوں مسلسل کھاتے رہے،پلیٹ خالی ہو گئی۔
’’لے جا اسے، اپنے ہاتھوں سے دھوکر رکھنا، کسی کو نہ دینا دھونے کے لیے--- اور سن اب میں چلا، تجھے وہ مل گیا جو ہم دینا چاہتے تھے، تو سب کے لیے شکر ہی ہو گا، سب کو شکر ہی بانٹے گا، یہی ہمارا حکم ہے۔‘‘ اور اللہ ہو کے ایک نعرے کے بعد وہ تیزی سے باہر نکل گئے، کہاں گئے کسی کو خبر نہیں ، اُنھیں پھر کسی نے نہیں دیکھا۔
وہ اُس شکر کی لذّت آج تک محسوس کرتا ہے!
قلندر کے جانے کے بعد اُس نے سب کو بتایا کہ چاول شکر میں تبدیل ہو گیا تھا، بہت کم لوگوں کو یقین آیا۔
اس کے بعد وہ سیاہ چادر اوڑھ کر قلندر بننے لگا اور اللہ ہو کے نعرے بلند کرنے لگا۔ اُسے عجیب و غریب خواب آتے، کمرے کی دیواروں پر جس طرح نظر ڈالتا اُسے قلندر کا چہرہ نظر آتا، اپنی ڈرائنگ کاپی پر قلندر کی تصویریں بنانے لگا، یہ قلندر اب تک اس کے ذہن میں بسے ہوئے ہیں ، اُن کی ایک ایک بات اُسے یاد ہے، اُس کی اپنی ذاتی زندگی میں جو قلندری آ گئی کون جانے اُس کا تعلق اُس واقعے سے بھی ہو۔ یزیدوں کے درمیان جب بھی اُس نے محسوس کیا ہے کہ وہ تنہا حسین ہے تو حسین قلندر کی صورت ہی اختیار کر بیٹھا ہے۔



دس

 ایک ٹھنڈی آہ بھرکر آنگن میں اُتر گیا۔
آنگن کے گرد کئی کمرے تھے،
یہ وہ کمرہ ہے جو آپا کا تھا--- اور اس کمرے میں ماموں جان رہتے تھے، اِس کے قریب کچن تھا، یہاں ، اور اُس طرف اُس کمرے میں چاول کی کئی بوریاں تھیں ، سیدھے ہاتھ والے کمرے میں ابّو رہتے تھے۔
یہ بھی تو بند پڑا ہوا ہے۔
اِسی کمرے میں ابّو کا انتقال ہوا تھا اور اُس کی زندگی کا سب سے خوبصورت باب ہمیشہ کے لیے بند ہو گیا تھا!
ابّو کے اس کمرے میں بھی اُس نے جانے کتنی کہانیاں سنی ہیں ، کتابوں سے دوستی اُس وقت سے ہے
جب وہ اُنھیں پڑھنا بھی نہیں جانتا تھا۔ ابّو اور عبدالصمد نانا کے علاوہ اس کے دو بڑے بھائیوں جناب عنایت الرحمن صاحب اور جناب جمیل الرحمن صاحب کو بھی قصّوں ، کہانیوں اور داستانوں سے گہری دلچسپی تھی، عنایت بھائی تو داستانِ امیر حمزہ کے دیوانے تھے، اُس کی بڑی آپا بھی پرانی داستانوں اور قصّوں کو پڑھتی رہتی تھیں اور گھر کے بچوں کو جمع کر کے اُن داستانوں اور قصّوں کے بعض دلچسپ واقعات سناتی تھیں ۔ وہ اُن سے ضد کر کے کہانیاں سنتا۔
ابّو کے کمرے میں داستان گوئی کی محفلیں جمتی تھیں ۔ اُردو کی جو داستانیں پڑھی جاتیں اُن میں بہت سی تصویریں ہوتی تھیں ، ان تصویروں میں اُس کی ذات جیسے کر دار کی مانند جذب تھی، نہیں جانتا تھا کہ ان کتابوں میں کونسی کہانیاں یا داستانیں ہیں لیکن وہ ان تصویروں کے کر داروں کو اکثر دوپہر کی تنہائی میں اپنے تراشے ہوئے مکالمے دیتا تھا اور وہ سب تصویری کر دار اُس کی زبان سے مکالمے ادا کرتے تھے، اُنھیں دیکھ کر اُس کا ذہن نئی کہانیاں خلق کر لیتا تھا۔ تصویروں کے کر دار اُس کی داستانوں کے کر دار بن جاتے تھے، بعض کتابوں کو پہچانتا بھی تھا اس لیے کہ اُن کی تصویروں سے واقف تھا، تسمہ پا، الٰہ دین اور اس کا چراغ، علی بابا چالیس چور، سندباد جہازی وغیرہ اپنی کاپی پر اُن کی تصویریں بھی بناتا اور اُنھیں مختلف قسم کی رنگین پنسلوں سے آ جاگر بھی کرتا، اپنی بہنوں کو دِکھاتا اور اپنی تعریفیں سن کر بہت خوش ہو جاتا۔
حویلی کے لوگ داستانوں اور قصّوں کی کتابیں پڑھ کر جہاں چاہتے رکھ دیتے اور وہ انھیں یہاں وہاں سے اُٹھا کر ہمیشہ بڑے سلیقے سے رکھتا، پھر سب جان گئے یہ کام وہی کرتا ہے، لہٰذا جب بھی کسی کتاب کی ضرورت ہوتی ہر شخص اُسی کو آواز دیتا، وہ جو اَن پڑھ تھا۔ سرورق کی تصویر کی مدد سے کتاب پیش کر دیتا تھا، رفتہ رفتہ کتابوں کی پہچان سرورق سے کرنے لگا۔
تنہائی میں بیٹھ کر کوئی داستان کھول لیتا اور اُس کی تصویروں کو دیکھ کر اپنی ایک کہانی تیار کر لیتا، ننھے دوستوں کو سناتا اور وہ سب حیرت سے اس کی جانب دیکھتے، ہر داستان یا ہر کہانی کے اوپر اُس کی اپنی سوچی ہوئی کہانی ہی سرسراتی رہتی اور ننھے دوستوں کو پتہ نہیں چلتا کہ وہ کوئی فرضی کہانی سنا رہا ہے--- اس سے یہ بھی ہوا کہ ہر کتاب کو اپنے تمثیل کی تراشی ہوئی کہانی کی مدد سے بھی پہچاننے لگا۔
اُس کے ابّو جب کورٹ چلے جاتے تو اکثر اُن کے بنگلے میں ہوتا کہ جہاں الماریوں میں قانون کی موٹی موٹی کتابیں سلیقے سے سجی رہتی تھیں اور اِن کتابوں کے رنگوں اور اِن کے خوبصورت سے حروف سے باتیں کرتا، رفتہ رفتہ بنگلے کی الماریوں کی تمام خوبصورت کتابوں سے اُس کی دوستی ہو گئی۔ جلد ساز حویلی میں آ کر کتابوں کی جلد بندی کرتا تو اُس کے پاس بیٹھ جاتا اور اُس کے کام کو بڑی دلچسپی سے دیکھتا، اکثر رنگوں کا انتخاب خود ہی کرتا اور ضعیف مہربان جلدساز ہمیشہ اُس کی خواہش پوری کر دیتا، اُس کی پسند کے رنگ کو کتاب کی جلد کے لیے استعمال کرتا۔ آج بھی اپنی الماریوں سے کسی کتاب کی ضرورت ہوتی ہے تو وہ جلد کا رنگ بھی بتا دیتا ہے۔ بعض کتابوں کے نام یاد نہیں رہتے، لیکن جلد کا رنگ یاد رہتا ہے اور رنگ اور ضخامت کی مدد سے کوئی بھی شخص اُس کی مطلوبہ کتاب ڈھونڈ نکالتا ہے۔
ابّو کے اسی کمرے میں داستانِ امیر حمزہ کی جلدیں پڑھی جاتی تھیں ۔ وہ اپنے پیارے بھائی مولوی عنایت الرحمن صاحب کی شخصیت سے بے حد متاثر ہوا ہے، اُن کی صوفیانہ قدروں کو ہمیشہ للچائی نگاہوں سے دیکھتا رہا ہے، اِسی کمرے میں وہ ’داستانِ امیر حمزہ‘ پڑھ کر سناتے اور ابّو اور بھائی بہن سب غور سے سنتے تھے۔ اُن کی وجہ سے حویلی میں ایک ادبی فضا بن گئی تھی، کلاسیکی شاعری سے بھی اُن کی گہری دلچسپی تھی، شاعری میں کلاسیکی انداز اختیار کیے ہوئے تھے۔
جب وہ ’داستانِ امیر حمزہ‘ پڑھتے تو وہ بھی اکثر موجود ہوتا، داستان سنانے کا اپنا انداز رکھتے تھے، ایک ایسی فضا بنا دیتے جیسے سارے واقعات آنکھوں کے سامنے ہو رہے ہوں اور اس داستان کی زبان بھی ایسی تھی جو اس سلسلے میں بڑی مددگار ثابت ہوتی تھی۔
اس بڑی داستان سے اُس کا تعارف سب سے پہلے اسی محفل میں ہوا۔ اس کے تمام حصّے پڑھے گئے، تخیل کی بیداری میں اِس داستان نے بڑا حصہ لیا ہے اس لیے کہ اسے سنتے ہوئے زندگی زیادہ قریب محسوس ہونے لگی تھی، دُنیا کتنی گہری ہے، زندگی کے کتنے پہلو ہیں ۔ دُنیا میں کیسے کیسے چہروں کے لوگ بستے ہیں ، جنگ اور امن، سچ اور جھوٹ، مکاّری اور فریب،دوستی اور محبت سب کے متعلق تاثرات پیدا ہو رہے تھے۔
۳۸-۱۹۳۷ء میں ابّو کے اسی کمرے میں پہلی بار ریڈیو آیا تھا جسے دیکھنے کے لیے محلّے والوں کی ایک بھیڑ لگ گئی تھی۔ دیکھتے ہی دیکھتے یہ دُنیا کہاں چلی گئی! اِسی کمرے سے تو اُس کے لیے محبت اور شفقت کا سرچشمہ پھوٹا تھا!



گیارہ


 دالان سے گزرتے ہوئے اپنے بھائی مولوی عنایت الرحمٰن صاحب بہت یاد آئے، اللّہ کے فضل و کرم سے ابھی حیات ہیں ، وکالت کرتے ہوئے منصف اور منصف مجسٹریٹ بنے، سب جج ہوئے، ڈسٹرکٹ جج ہوئے، ریاستی اسمبلی کے سیکریٹری مقرر ہوئے، بی۔اے اور بی۔ایل (ایل ایل بی) کے امتحانات امتیازی نمبروں سے پاس کر کے گولڈ مڈل حاصل کیا۔ اُن کی شخصیت سے وہ بے حد متاثر ہوا ہے، اُن کی صوفیانہ قدروں کو ابتداء سے پسند کرتا آیا ہے، بیگم عنایت الرحمٰن، روزی بھائی بھی اُسے بہت پسند رہی ہیں ، اُن کے ایثار اور شوہر سے ان کی عقیدت اور محبّت نے ایک
معیار قائم کر دیا، مصیبتوں اور تکلیفوں کا مقابلہ کر کے انھوں نے ثابت کر دیا کہ عورت چاہے تو کیا نہیں کر سکتی، دونوں اُسے عزیز رکھتے تھے، عنایت بھائی تاش اور شطرنج دونوں سے شوق رکھتے تھے، اُن کے کئی دوست تاش اور شطرنج کھیلنے آتے اُن میں ایک انیس امام صاحب بھی تھے جو نصرت عالم بھائی کے چھوٹے بھائی تھے، بھائی جان اُنھیں استاد کہتے تھے اس لیے کہ بزرگ دوست بھی تھے اور تاش اور شطرنج کے ماہر سمجھے جاتے تھے۔ حویلی سے نکل کر اُستاد کا لقب شہر تک پہنچ گیا اور ہر شخص انھیں اُستاد ہی کہنے لگا، رفتہ رفتہ بہت سے لوگ اُن کا نام بھول گئے، بھائی جان اُنھیں دیکھ کر نعرہ بلند کرتے ’’یا اُستاد، خوش آمدید!‘‘ سب کو معلوم ہو جاتا کہ اُستاد آ گئے ہیں ، تاش اور شطرنج کی بازیاں لگتی جائیں گی۔ اُستاد صرف اُس وقت خوش ہوتے جب جیت جاتے اور اُس وقت بڑی شدّت سے اپنی خفگی اور ناراضگی کا اظہار کرتے جب ہار جاتے، تاش کھیل رہے ہوتے تو اپنے ’پارٹنر‘ کی زبردست خبر لیتے، اپنا قصور کبھی نہیں مانتے، بڑی دلچسپ شخصیت تھی اُن کی، شام کے بعد نہیں آتے اس لیے کہ شراب چھوڑ کر کوئی اور کام نہیں کر سکتے تھے، شراب پی کر کبھی حویلی کا رُخ نہیں کرتے، دن بھر پان چباتے رہتے، ایک ساتھ چار پانچ گلوریاں منہ میں ٹھونس لیتے، جب تاش یا شطرنج کھیلتے ہوئے ہار جاتے تو اکثر آگ بگولہ ہو جاتے اور ناراض ہو کر گھر چلے جاتے، ڈسٹرکٹ بورڈ میں ملازم تھے اور بہت ہی کم دفتر میں نظر آتے، ناراض اس طرح ہوتے کہ لگتا اب گئے اُستاد، پھر کبھی نہیں آئیں گے لیکن دوسرے دن اُسی طرح آ جاتے، لگتا کچھ ہوا ہی نہ تھا، بھائی جان نے اپنے اکثر دوستوں کو نام دے رکھے تھے اور وہ حویلی میں اُن ہی ناموں سے پہچانے جاتے تھے، ایک صاحب تھے، بھلا سا نام تھا اُن کا، لیکن بھائی جان اُنھیں ’’جھانپی‘‘ کہتے تھے اور بچارے ہر جگہ اِسی نام سے مشہور ہو گئے، اُن کا نام اب اُسے بھی یاد نہ رہا، ایک بار اُس نے ’’جھانپی بھائی‘‘ کہہ دیا تو بس اُس پر جھپٹ پڑے اور اُسے معافی مانگنا پڑی۔

عنایت الرحمن بھائی تاش شطرنج کھیلتے کھیلتے تھک جاتے تو اپنے دوستوں کو پرانی کہانیاں سنانے لگتے، کبھی تاش کھیلتے ہوئے کوئی کہانی شروع ہو جاتی، جب بھی وہ کہانی سناتے وہ دوڑ کر اُن کے پاس بیٹھ جاتا، اُسے یاد ہے، پدماوت کی کہانی سب سے پہلے بھائی جان ہی سے سنی تھی، تاش کھیل رہے تھے اور کہانی سنا رہے تھے، مہابھارت کی کئی کہانیاں اُن سے سنی ہیں ۔
اِسی طرح بولتا ہوا طوطا، جوگی کے بھیس میں راجہ، رانی پدمنی، راجپوت سرداروں کی سیاست، جنگ، پدمنی کا ستی ہونا،وہ اِس کہانی میں گم ہو گیا تھا، پدماوت کی کہانی اُسے اچھی لگ رہی تھی کہ اچانک انھوں نے سمجھانا شروع کر دیا کہ مصنف نے یہ کہانی یونہی نہیں لکھی ہے، پدماوت ’اللہ نور‘ ہے، طوطا مرشد ہے، راگھو شیطان ہے، وہ دل ہے اور وہ عقل، وہ جسم ہے اور وہ مایا جال--- حیران رہ گیا، کہانی میں تو ایسی کوئی بات نہیں تھی! یہ نور، مرشد، دل، عقل سب کہاں سے آ گئے۔

ایک صبح ناشتہ کرتے ہوئے ڈرتے ڈرتے بھائی جان سے پوچھ بیٹھا، وہ مسکرائے اور کہا:
’’بابو، یہ تصوّف کی باتیں ہیں ، بڑے ہو جاؤ سب سمجھ جاؤگے۔‘‘
اب وہ ’’تصوّف‘‘ کے لفظ میں اُلجھ گیا تھا۔
جانے بھائی جان کیسے کیسے الفاظ استعمال کرتے ہیں ۔
اُن کے پاس بیٹھ کر مثنوی مولانا روم کی بھی کئی حکایتیں سنیں ۔ ’’باز اور گدھے کی حکایت‘‘، ’’حکایتِ سگ آموختہ‘‘، ’’طوطی اور تاجر کی حکایت‘‘، ’’ قصہ خرگوش کا‘‘ اور جانے کئی اور قصّے۔
کبھی حضرت ابوبکر صدیقؓ کی شخصیت پر اظہارِ خیال کرتے، کبھی حضرت عمر فاروقؓ اور ان کے تدبّر کا ذکر فرماتے، کچھ باتیں سمجھ میں آتیں کچھ نہ آتیں ، محرم میں مجلسیں ہوتیں تو وہ بھائی جان کے ساتھ شریک ہوتا، بھائی جان ہر جگہ مراثی پڑھتے، کچھ اس انداز سے کہ سب رونے لگتے، واقعاتِ کربلا کو اِس طرح سناتے کہ لوگوں کی ہچکیاں بندھ جاتیں ، خود بھی روتے جاتے اور واقعات سناتے جاتے، اِن ہی مجلسوں میں وہ اسلامی تاریخ کے کئی پہلوؤں سے پہلی بار واقف ہوا، عنایت الرحمن بھائی ہر واقعے کو بڑی آسانی سے سمجھا دیتے، حضرت علیؓ کا کوفہ تشریف لانا، حضرت معاویہ کے مقابلہ کی تیاریاں ، دریائے فرات کو عبور کرنا، جنگ کا آغاز، محرم کے چاند کو دیکھ کر عارضی صلح، حضرت علیؓ کی شہادت، حضرت حسنؓ کے زیر خلافت کی بیعت، حضرت امام حسینؓ کے لشکر کی حالت اور اُن کی تاریخی تقریر، میدانِ کربلا کے دردناک واقعات--- اُنھیں اِس طرح سناتے جیسے وہ خود وہاں موجود تھے، آواز اور آہنگ میں واقعات کے تعلق سے عجیب اُتار چڑھاؤ محسوس ہوتا، اُسے زندگی اور موت کی سچائیوں سے قربت سی محسوس ہونے لگی، قوت اور حرارت محسوس ہوتی اور ساتھ ہی زندگی کی المناکی کے اندر اُمید اور فتح کی روشنی نظر آنے لگی۔
محرم کی نویں اور دسویں کو جلوس کے آگے عنایت بھائی اپنے دوستوں کے ساتھ نوحہ خوانی کرتے چلتے اور بے اختیار روتے رہتے،وہ بھی اکثر اُن کے ساتھ رہا ہے اور آواز سے آواز ملاتا رہا ہے۔

بھائی عنایت الرحمن صاحب کی وجہ سے حویلی میں بڑی رونق رہتی تھی، مشاعرے ہوتے رہتے کہ جن میں نئے پرانے شعراء شریک ہوتے،دوسرے شہروں یعنی مظفرپور، بتیا، رکسول وغیرہ سے بھی شعراء آ جاتے تھے، دیکھتے ہی دیکھتے حویلی شہر کی ادبی زندگی کا مرکز بن گئی۔ بھائی جمیل الرحمن صاحب بھی شاعری کرنے لگے، مشورۂ سخن عنایت بھائی سے کرتے، دونوں بھائیوں نے اپنی شاعری سے لوگوں کو بے حد متاثر کر رکھا تھا، مشاعروں کے گل دستے بھی شائع ہوئے، اُس کی ذہنی تربیت میں حویلی اور شہر اور قرب و جوار کے بعض علاقوں کے مشاعروں اور ادبی محفلوں نے جو حصہ لیا ہے فراموش نہیں کر سکتا، مشاعروں میں آدابِ مفل کا خاص خیال رکھا جاتا، ہر ماہ کسی نہ کسی کے گھر پر مشاعرہ ہوتا اور اُردو اور فارسی کے شعراء جمع ہوتے، دیر رات تک محفل جمی رہتی، اُس کے دو عزیز بزرگ مزاحیہ نظمیں اور غزلیں کہتے تھے، محمد یحییٰ صاحب پھیپھڑاؔ جو اُس کے سگے چچا زاد بھائی تھے اور قمرالعالم صاحب وحشتؔ جو استاد انیس عالم صاحب کے بڑے بھائی تھے، یہ دونوں اپنے اشعار سے لوٹ پوٹ کر دیتے تھے، یحییٰ بھائی (پھیپھڑؔا تخلص تھا)،عنایتؔ بھائی اور جمیلؔ بھائی دونوں سے مشورۂ سخن کرتے تھے اور قمرالعالمؔ صاحب وحشتؔ شہر کے معروف سیاسی کارکن اور استاد شاعر جناب اسماعیل وحشیؔ کے شاگرد تھے۔ بزرگ شعراء میں مولانا عترتؔ مرحوم، جناب اسماعیل وحشیؔ، جناب حاجی مجیبؔ الرحمن، بابورگھوبیرؔ پرشاد،جناب اشرفؔ بتیاوی، جناب احمد حسنؔ، جناب انیسؔ الرحمن، بابو بھگوتی پرشادؔ اور جناب کفیلؔ کے نام ذہن میں رہ گئے ہیں ، اب ایسی محفلیں کہاں ہیں ، ایسے مہذب لوگ بس یاد بن کر رہ گئے ہیں ، اُردو تہذیب نے ایسی محفلوں کو جنم دیا تھا۔

ایسی ہی محفلوں کی وجہ سے اُسے اُردو اور فارسی سے دلچسپی ہوئی، جب بھی وقت ملتا کلاسیکی شعراء کے دواوین پڑھتا، اُسی زمانے غالبؔ، حالیؔ، داغؔ، مصحفیؔ، شادؔ عظیم آبادی اور بعض دوسرے بزرگوں کے کلام پر پہلی بار نظر گئی، علامہ جمیلؔ  مظہری کو اُس نے پہلی بار شہر کے ایک مشاعرہ میں پڑھتے ہوئے دیکھا تھا، اُسے کیا معلوم تھا کہ کسی دن وہ اُستاد بن کر اُسے مراثی، قصائد اور مثنویات وغیرہ پر لکچر بھی دیں گے، پٹنہ یونیورسٹی میں اُن سے قریب رہنے کے لمحے نصیب ہوتے رہے ہیں ۔ اکثر شعراء کے دواوین سے اپنے پسندیدہ اشعار نوٹ کر لیا کرتا تھا اور اُنھیں پڑھتا رہتا تھا، اُس زمانے میں آفتاب داغ اور مہتابِ داغ اُسے بہت پسند تھے، اُسے یاد ہے بعض مشاعروں کے گلدستے شائع ہوتے تو وہ انھیں بڑی حفاظت سے رکھتا تھا، اسماعیل وحشیؔ صاحب، مولانا عترتؔ مرحوم کے شاگرد لیکن بہت جلد خود اُستاد بن گئے اور اُن کے جانے کتنے شاگرد پیدا ہو گئے۔ مولانا عترتؔ مرحوم اُردو اور فارسی دونوں زبانوں میں شاعری کرتے تھے، اُن کا احترام سب کے دل میں تھا، انھوں نے اُس کے بھائیوں اور بہنوں کو اُردو اور فارسی پڑھائی تھی، اپنے شاگردوں کو خوب پیٹتے تھے اور اکثر پیٹتے پیٹتے خود بے ہوش ہو جاتے تھے، ایک بار اُن سے پڑھنے بیٹھا اور پہلی ’بیٹھک‘ میں اُس کی پٹائی ہو گئی پھر وہ اُن کے قریب نہیں گیا۔ اُن کی رفیقۂ حیات کا انتقال ہوا تو انھیں خبر دی گئی، پوچھا ’’کب انتقال ہوا؟‘‘ جواب ملا ’’ابھی، اِسی وقت‘‘ کہا ’’تو پھر دیر کس بات کی ہے، میرے جنازے کی بھی تیاری کرو۔‘‘ اُسی وقت بستر پر لیٹ گئے اور پھر نہ اُٹھے، میاں بیوی دونوں کے جنازے ساتھ اُٹھے۔
بابو بھگوتی پرشادؔ کلاسیکی روایات سے وابستہ تھے اور ’شمع‘ اور ’پروانہ‘ کے استعاروں کی مدد سے دل میں اُتر جانے والے اشعار کہہ دیتے تھے، جب مشاعرے میں آتے تو لوگ فرمائش کرتے ’’حضور، شمع پروانے کا وہ شعر عنایت فرمائیے جو آپ نے پچھلے مشاعرے میں سنایا تھا--- اور پھر، وہ شعر وہ شعر کی آوازیں ہر طرف سے آنے لگتی تھیں ۔

 اسکول میں داخلے کے لیے اُسے امتحان دینا پڑا۔
تمام پرچوں میں بہت اچھے نمبر آئے لیکن اُردو میں فیل ہو گیا!
’’ہیکاک آکادمی‘‘ میں داخلے کے بعد اُس نے اپنے ٹیبل کو زیادہ سجایا، کتابیں سلیقے سے رکھنے لگا۔
یہی وہ زمانہ تھا جب اُسے تنہائی کا احساس زیادہ پریشان کرنے لگا تھا، سب اپنے کام میں مصروف ہو گئے تھے اور وہ اکثر اپنے اسکول کے پیچھے ایک جنگل میں پہنچ جاتا اور گھاس پر لیٹ کر عناصرِ فطرت میں گم ہو جاتا۔



بارہ


اسکول کے پیچھے جب بھی گھنے درختوں کے درمیان کہیں لیٹ جاتا تو لگتا جیسے جیل سے نکل بھاگا ہے، جب تک اسکول میں رہا اسے یہی لگا جیسے کسی جیل میں بند کر دیا گیا ہے، ایک طرح کا کام، ایک ہی طرح کا عمل روز روز اُسے پسند نہیں تھا، اکثر حد درجہ اُکتا جاتا، ہوا چلتی تو درختوں کی آوازیں بہت بھلی لگتیں ، بچپن میں بھوت، بھوتنی، جادوگرنی، سوتیلی ماں وغیرہ کی کہانیاں یاد آ جاتیں اور ان کے تعلق سے درختوں کے درمیان نئی کہانیاں بُننے لگتا۔ زمین پر لیٹنا اُسے اچھا لگتا، لیٹے لیٹے آسمان کو تکتا، اُونچے اُونچے درختوں کو دیکھتا، نیلے آسمان پر
تیرتے ہوئے بادلوں کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے اُس کی توجہ کا مرکز بن جاتے، انھیں مختلف صورتوں میں متشکل کرنے کی کوشش کرتا، کبھی لگتا ہنومان جی لنکا اُٹھائے چلے جا رہے ہیں ، کبھی کسی رِشی منی کا چہرہ نظر آتا، نیلا آسمان، بادل، زمین، گھاس، بھنورے، تتلیاں ، مختلف قسم کے رنگ، دُور کھیتوں کا پھیلا ہوا سلسلہ، ایک بزرگ کے مزار کے قریب پرانا تالاب، پرندے اور اُن کی آوازیں یہ سب کتابوں سے زیادہ اچھے لگتے۔ اُنھیں اپنے طور پر کتابوں کی طرح پڑھتا۔ ذہن میں سوالات اُبھرتے اور خود ہی ہر سوال کا جواب تلاش کرتا۔

اِن ہی درختوں کے درمیان اُسے ایک دوست ملا تھا، ڈمرو،۔ عمر میں بڑا تھا، گائے چرانے آتا تھا، اس کے ساتھ دو تین بھینسیں بھی ہوتیں کہ جن پر اکثر بیٹھ بھی جاتا تھا، گائے بھینس چراتے ہوئے اکثر گاتا رہتا تھا، اُس کی آواز بھلی لگتی، ایک دن اُس سے دوستی ہو گئی، اُسے خود اپنا نام معلوم نہ تھا، بچپن سے لوگ اُسے ڈمرو پکارنے لگے تھے، بس ہو گیا تھا بیچارہ ڈمرو، بڑا ہنس مکھ تھا، گورکھپور سے نوکری کی تلاش میں اِس طرف آ گیا تھا اور گائے بھینس چرانے کی ملازمت مل گئی تھی، اکثر زور زور سے گیت گاتا اور خود اپنی آواز میں گم ہو جاتا، اُس نے بتایا کہ اُس کے باپ نے اُسے یہ گیت سکھائے تھے، یہ گیت دوہے کبیر داس کے ہیں ، اُس کے بہت سے بول سمجھ میں نہیں آتے لیکن اُس کی آواز بہت پیاری تھی، کبیر داس کا بھگت تھا، کہتا اُس کے گاؤں کے سارے لوگ کبیر داس کے بھگت ہیں ، جانے کبیر کے کتنے دوہے تھے، کبیر کے دوہے تھے بھی یا نہیں لیکن ہر دوہے گیت میں ، کہیں کبیر، سنو بھائی سادھو، ضرور آتا، یہ دوہے گیت دل میں اُتر جاتے تھے، کبھی کبھی ایسا لگتا جیسے دوہوں کے جادو سے ہر چیز رقص کرنے لگی ہے، اب اُسے یاد نہیں کہ وہ کون سا دوہا تھا لیکن اُسے بہت پسند تھا اور ڈمرو کی خوشامد کر کے بار بار سنتا تھا، اُس میں پریم کے راگ کا ذکر تھا اور اس طرح کہ اِس راگ سے ساری دُنیا رقص کر رہی ہے، چاند، سورج، ستارے،پہاڑ، زمین، سمندر، راہو کیتو، ناچ رے میرے من، کی آواز آج بھی گونجتی ہے اور کانوں میں رَس گھولتی ہے۔
ڈمرو اچانک چلا گیا پھر نہیں ملا، اُسے بڑا دُکھ ہوا، عوامی آہنگ سے سب سے پہلے اُسی نے اِس طرح آشنا کیا تھا، کتنا قیمتی احساس دے گیا تھا وہ!

اسکول میں آنے کے بعد اُس نے اپنے ابّو کے بنگلے کے دائیں جانب ایک کمرے کو اپنا کمرہ بنا لیا تھا، اس میں ایک چھوٹی سی الماری تھی، ایک تخت تھا، ایک ٹیبل اور دو کرسیاں تھیں ۔ ذات کی آزادی کا ایک احساس ملا، اپنا کمرہ، خاموشی اور تنہائی کے لمحوں کو لیے ہوئے، اپنی پسند کی کئی تصویریں لگا رکھی تھیں دیواروں پر، مناظرِ فطرت کی تصویریں ، مضبوط، طاقتور، خوبصورت گھوڑوں کی تصویریں ، جب پڑھنے بیٹھتا تو تنہا ہوتا اور خود اپنے سایوں کے درمیان اُبھرتے ڈوبتے اچھا لگتا، اسی کمرے کے تخت پر نماز پڑھتا اور صرف یہی آرزو رہتی کہ وہ کوئی درویش بن جائے اور جلد سے جلد اللہ میاں اُسے اپنے قریب کر لیں ۔ اُس عمر میں اُس کی یہ عجیب و غریب تمنّا رہی ہے۔
صبح سویرے اُٹھ جانے کی عادت تھی، اپنے ساتھ فطرت کی بیداری کا بھی احساس ہوتا۔ صبح دونوں دیر تک ایک دوسرے کے ساتھ رہتے۔

ایک صاحب تھے امام صاحب، چھٹی جماعت سے بارہویں جماعت تک ہم جماعت رہے۔ جب وہ چھٹی جماعت میں تھا تو ایک معصوم بھولا بھالا طالب علم تھا اور امام صاحب جو عمر میں کچھ بڑے تھے کسی حد تک ’’تجربہ کار‘‘ تھے، اکثر ملنے آتے اور اپنے ’علم‘ اور ’تجربے‘ کی نمائش کر کے اُسے مرعوب کرتے، وہ حیرت سے اُن کی باتیں سنتا اور کبھی آنکھیں پھاڑ کر اُن کی انوکھی باتوں کو سمجھنے کی کوشش کرتا،کلاس میں سب اُنھیں ’’بڈّھا امام‘‘ کہتے۔ جماعت کے بعض ساتھی جب اُن سے مشورہ کرتے اور مطمئن ہو جاتے تو کہتے ’’امام، تیری داڑھی تیرے پیٹ کے اندر ہے‘‘ اور بات بھی کچھ ایسی ہی تھی، لگتا تھا انھوں نے اپنے بچپن کی چھوٹی شیروانی جانے کب کھونٹی پر لٹکا دی تھی اور کسی کو خبر نہ ہوئی۔

جب اسکول آتے تو اکثر انگریزی یا اُردو کی کوئی ضخیم کتاب لیے ہوتے اور سب اُنھیں حیرت سے دیکھتے، کوئی پوچھتا ’’تم اتنی موٹی کتاب پڑھ کر سمجھ لیتے ہو؟‘‘ تو تن کر بیٹھ جاتے اور کتاب کی اہمیت پر روشنی ڈالتے، یہ سمجھنا مشکل تھا کہ وہ اُسی کتاب پر اظہارِ خیال کر رہے ہیں یا اپنے طور پر باتیں بنا رہے ہیں ، اس عمر میں بھلا خاک کسی کی سمجھ میں کچھ آتا۔ ایک بار ایک موٹی سی انگریزی اُردو ڈکشنری لے کر آئے اور کہا کہ وہ انگریزی کے مشکل سے مشکل ترین الفاظ یاد کر رہے ہیں ، دوسری بار انگریزی زبان میں ’بائبل‘ لیے ہوئے تھے اور اُسے خاموشی سے اِس طرح پڑھ رہے تھے، جیسے ہر بات سمجھ رہے ہوں ، اُن کے پاس کبھی نصاب کی کوئی کتاب نہیں دیکھی، ممکن ہے نصاب کی کتابیں گھر پر رکھتے ہوں ، کلاس میں لکچر کے وقت کسی نہ کسی ساتھی کی کتاب میں شریک ہو جاتے، ’لنچ‘ میں کسی سے نصاب کی کوئی کتاب مانگ لیتے اور پھر واپس کر دیتے، عجیب رعب تھا اُن کا تمام ساتھیوں پر، کلاس میں اچھے نمبر بھی لاتے تھے۔ ہر موضوع پر گفتگو کرتے، فلم ہو یا اسٹیج، ملکہ وکٹوریہ ہوں یا جارج پنجم، دلّی دربار ہو یا نظام حیدرآباد، جبریل ہوں یا ابلیس۔ ایک سال بعد انھوں نے اعلان کیا کہ وہ اللہ کے وجود سے انکار کر چکے ہیں ، نہاتے نہیں تھے، انھیں نہاتے ہوئے کسی نے نہیں دیکھا، غلاظت کو اوڑھنا بچھونا بنا لیا تھا، منہ نہیں دھوتے، دانتوں کو صاف کرنا ضروری نہیں سمجھتے تھے، بالوں میں جوئیں رینگتی رہتی تھیں ، پھٹے پا جامے پسند کرتے تھے لیکن تھے بہت ذہین، انتہائی چوکنی اور ہوشیار۔

ایک صبح اچانک آ گئے۔
وہ اپنے کمرے کی صفائی میں لگا ہوا تھا، کتابیں سلیقے سے سجا رہا تھا، اخبار میں لپٹی ہوئی ایک کتاب لیے ہوئے تھے، اُسے یہ دیکھ کر حیرت ہوئی اس لیے کہ وہ کبھی کوئی کتاب اس طرح لیے نہیں رہتے تھے، کتابوں کی نمائش ہمیشہ کرتے رہے، آج کیا بات ہو گئی، مسکراتے ہوئے کمرے میں آئے اور دروازہ بند کر دیا۔
’’کیا بات ہے امام؟‘‘ اُس نے حیرت سے پوچھا۔
’’تمھیں چند تصویریں دِکھانے آیا ہوں ۔‘‘ کرسی پر بیٹھ کر اخبار کے اندر سے کتاب نکالنے لگے۔
’’کیسی تصویریں ؟‘‘
’’دیکھ تو لو، جنت میں پہنچ جاؤ گے،ہاں تمھیں صرف یہ بتانا ہے کہ انھیں دیکھ کر تم نے کیا محسوس کیا۔‘‘
بڑی خوبصورت کتاب تھی، چمکتی ہوئی روشن، اتنی خوبصورت کتاب اُس نے پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی، کام چھوڑ کر اُن کے پاس دوسری کرسی پر بیٹھ گیا۔
’’کہاں سے لائے ہو اتنی خوبصورت کتاب؟‘‘
’’مسٹر میرک کے ذاتی کتب خانے سے!‘‘ انھوں نے فخر سے کہا۔
مسٹر میرک موتیہاری میں برطانوی افسر تھے، جانے کیا تھے، اس انگریز کو سب جانتے تھے، کبھی سڑک سے گزرتے تو سب انھیں دیکھنے کو دوڑتے،بڑا رعب دبدبہ تھا، اس شہر پر اُن کا! ’اسپورٹس‘ سے دلچسپی تھی، شہر میں ’اسکاؤٹس‘ کو منظم کیا تھا، اُن کے بنگلے کے اندر جانے کی کوئی ہمّت نہیں کر سکتا تھا، کئی خطرناک قسم کے کتی پال رکھے تھے، وہ مسٹر میرک کو جانتا تھا، اُنھیں قریب سے دیکھ چکا تھا، اُس کے ابّو سے ملنے کئی بار آ چکے تھے اور وہ بھی کئی بار ابّو کے ساتھ اُن کے بنگلے پر جا چکا تھا۔
’’بھلا امام مسٹر میرک کے ذاتی کتب خانے سے کتاب کیسے لا سکتا ہے!‘‘ وہ حیران تھا۔
’’وہاں کس طرح پہنچے؟‘‘
’’مسٹر میرک کے خانساماں کے ذریعہ اُس سے دوستی کر لی، جب یہ کتاب اُسے واپس کر دوں گا تو وہ دوسری کتاب چھپا کر دے گا مجھے۔‘‘
’’تم نے تو کمال کر دیا۔‘‘
’’علم کی پیاس بجھانے کے لیے ہر جگہ جانا چاہیے، اُس کا ذاتی کتب خانہ بہت اچھا ہے، کمبخت کسی کو اپنی کوئی کتاب نہیں دیتا۔‘‘
’’لیکن تمھیں کیسے معلوم ہوا کہ اس کے پاس بہت سی کتابیں ہیں ؟‘‘
’’احمق ہو تم، انگریز جیسا بھی ہو کتابیں ضرور رکھتا ہے، میں بس سونگھتے سونگھتے پہنچ گیا وہاں ، اُس کے خانساماں میاں جی سے دوستی کی اور اُن سے پوچھ لیا اور پھر وہ میری مدد کرنے کو تیار ہو گئے، بس!--- اِس میں بہت سی تصویریں ہیں ، تمھیں دِکھانے لایا ہوں ،ہر تصویر غور سے دیکھو، لیکن ایک شرط ہے۔‘‘
ابھی تک کتاب بند کیے ہوئے تھے۔
’’کیسی شرط؟‘‘
’’تم اس کا ذکر کسی سے نہ کرو گے۔‘‘
’’نہیں کروں گا۔‘‘
’’اور دوسری شرط بھی ہے۔‘‘
’’وہ کیا؟‘‘
’’دو تصویریں ایسی ہیں جنھیں تمھیں بہت غور سے دیکھنا ہے، جی بھر کر انھیں دیکھو اور اِن دونوں تصویروں کو دیکھتے ہوئے تمھیں جو کچھ محسوس ہو مجھ سے کہتے جاؤ، رُکنا نہیں ہے، بس بولتے جانا ہے، میں نوٹ کرتا جاؤں گا۔‘‘
’’لیکن تم نوٹ کیا کرو گے؟‘‘
’’اپنے لیے، دیکھنا چاہتا ہوں انھیں دیکھ کر کون کیا کہتا ہے اور کس طرح کہتا ہے، اور بھی دوستوں کو دِکھاؤں گا۔‘‘
امام نے اپنی جیب سے چند کاغذات نکالے جن پر پنسل سے اُردو میں کچھ لکھا ہوا تھا۔
’’دیکھو تمھاری رائے یہاں ہو گی۔‘‘ انھوں نے ایک سادہ کاغذ دِکھاتے ہوئے کہا۔
’’ٹھیک ہے، دِکھاؤ تصویریں ۔‘‘ اُسے دونوں شرطیں منظور تھیں ۔
امام نے فوراً کتاب کھول کر ایک تصویر سامنے رکھ دی۔
پورے جسم میں جیسے سنسنی سی پھیل گئی،
ایسی سنسنی کبھی پیدا نہیں ہوئی تھی۔
آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں ۔
ایسا منظر اُس نے کب دیکھا تھا،
ایک انتہائی خوبصورت عریاں عورت سامنے کھڑی تھی! چار پیارے پیارے بھولے بھالے بچی اُس کی ٹانگوں سے لپٹ رہے تھے۔ (عورت کے مترنم جسم کا آہنگ نقش تھا)
وہ دیکھتا رہ گیا،
اِس سے قبل کسی ننگی عورت کو دیکھا تھا اور نہ کسی عریاں عورت کی تصویر دیکھی تھی، نقش نے اپنے سحر سے پوری گرفت میں لے لیا، محسوس کر رہا تھا جیسے کمرے میں صرف وہ ہے، اور یہ انوکھا تازہ تجربہ!
سمندر کی دیوی---؟ مقدس دیوی؟ کس کا انتظار کر رہی ہے اس طرح؟--- ممکن ہے کچھ ایسے اور ان سے ملتے جلتے تاثرات پیدا ہوئے ہوں لیکن اُس کی زبان اچانک بند ہو گئی تھی، کچھ بھی کہنے سے قاصر تھا، ایسے صاف شفاف روشن جسم کا کبھی کوئی تصوّر ہی پیدا نہیں ہوا تھا، یہ کتنا البیلا اور کتنا لذیذ تجربہ تھا، پہلا انوکھا تجربہ! اُس کی آنکھیں دیر تک پیکر پر پھسلتی رہیں ، اُس کی سانس میں آہستہ آہستہ تیزی سی آ رہی تھی۔
’’اور دیکھو، خوب دیکھو اور بتاتے جاؤ کیا محسوس کر رہے ہو؟ تصویر کے متعلق کہو، آنکھیں کیسی ہیں ؟ بازو کیسے ہیں ؟ چھاتیاں کیسی ہیں ؟ ناف اور ناف کے نیچے غور سے دیکھو اور یہ حسین ٹانگیں ، ہاں ، کہو، جلد کہو، میں لکھ رہا ہوں ۔‘‘
امام بکتا جا رہا تھا اور وہ حیرت اور مسرّت دونوں کی لذتوں کو لیے تصویر دیکھتا ہی جا رہا تھا، کوشش کر کے کچھ کہنا چاہتا تھا لیکن الفاظ نہیں تھے، ہونٹ کھلنے کو تیار ہی نہیں ہو رہے تھے، حلق میں جیسے کئی آوازیں ایک ساتھ پھنس گئی ہوں اور سب ساتھ ہی باہر نکلنا چاہتی ہوں ، اُسے امام کی باتیں پسند نہیں آ رہی تھیں ، چاہتا تھا بس اس تصویر کو دیکھتا ہی رہے، اسے کوئی پریشان نہ کرے۔
’’کچھ تو کہو، بولتے کیوں نہیں ، دیکھی تھی کبھی کوئی تصویر ایسی؟ کبھی نہیں دیکھی ہو گی، اسی لیے تو لایا ہوں ، ایک ہی جملہ کہو وہی لکھ لوں گا۔‘‘
وہ کچھ بھی سننا نہیں چاہتا تھا،
کیا ایسا ہی ہوتا ہے عورت کا جسم! (ٹھہرا ہوا، ساکت، سنبھلا ہوا، کسا ہوا، لیکن شہد کی مانند ٹپکتا ہوا؟)
کچھ نہ کہہ سکا۔
اسے شہد کی شیرینی کا پہلا احساس ہوا تھا اور وہ بھی کاغذ پر، مصوّری کے ایک نمونے میں (بھلا شہد کی مٹھاس کس طرح بتا سکتا تھا!)
امام میاں نے دوسری تصویر دِکھائی، پھر تیسری اور چوتھی، ایک تصویر میں ایک حسین عریاں عورت بے خبر سو رہی تھی، صرف آبِ رواں جیسا ایک ہلکا کپڑا اُس کے نصف جسم پر تھا کہ جسے ایک اجنبی آہستہ آہستہ کھینچ رہا تھا، عجیب سڈول اور مرمریں جسم تھا، ایک اور تصویر تھی کہ جس میں وصل کی تیاری کا منظر تھا جسے وہ اُس وقت سمجھ نہ سکا صرف عریاں عورت اور مرد ہی اُس کی توجہ کا مرکز تھے، اُس کی خاموشی دیکھ کر امام میاں نے غصّے میں کتاب بند کر دی، اور اخبار میں اچھی طرح لپیٹ کر کمرے سے باہر نکل گئے، صرف اتنا کہا:
’’تم واقعی گدھے ہو گدھے۔‘‘
اُنھیں کس طرح بتاتا کہ اب وہ گدھا نہیں رہا تھا، اُن ہی لمحوں میں ایک عجیب سی پراسرار تبدیلی محسوس کر رہا تھا اپنے اندر۔
اُس کا سایہ اب تو اُس سے اور آگے بڑھ گیا تھا اچانک!
--- گیارہ برس بعد ۱۹۵۲ء میں جب وہ پٹنہ یونیورسٹی کا طالب علم تھا یونیورسٹی لائبریری میں جرمن، فرانس، اطالیہ اور برطانیہ کے بعض مصوّروں کی تخلیقات دیکھ رہا تھا، یوروپی مصوّری سے اُس کی دلچسپی ہو گئی تھی لہٰذا کچھ کلاسیکی شاہکار دیکھنا چاہتا تھا، وہاں مصوّری کے چند نمونے ایسے تھے کہ جنھیں دیکھ کر اُسے فوراً امام میاں اور اُن کی لائی ہوئی کتاب یاد آ گئی، چند تصویریں وہی تھیں کہ جنھیں وہ گیارہ برس پہلے دیکھ چکا تھا اور امام میاں کے اصرار کرنے کے باوجود زبان بند تھی، وہ کسی قسم کا کوئی تبصرہ نہ کر سکا تھا۔

عریاں عورت کی وہ تصویر کہ جس میں پانچ بچے تھے دُنیا کی ایک انتہائی قیمتی تصویر تھی، Jean Auguste Ingres کی 'Portrait of Madenoiseue'، جین انگرس (۱۷۹۱ء-۱۸۲۴ء) نے اپنی تصویروں سے ریفل (Raphel) کے مسلک کی بنیاد مضبوط کی، ریفل کا بڑا مدّاح تھا، آسمانی اور ہلکے گلابی اور ہلکے پیازی رنگ کی آمیزش کا ایک ہوش مند فنکار سمجھا جاتا تھا۔ ڈیوڈ دبستان کا ایک معتبر مصوّر تھا کہ جس نے مثالی پیکر پیش کیے، اُسے ’’مثالی حسن کی تخلیق‘‘ کا فنکار کہا جاتا ہے، اُس کے ساتھ ایک دلچسپ واقعہ یہ ہوا کہ پچاس برس کی عمر تک اُسے کسی قسم کی کوئی اہمیت حاصل نہ ہوئی، مصوّری کے نقاّدوں کو اُس کے فن کے حسن کا اچانک احساس اُس وقت ہوا جب وہ ضعیف ہو چکا تھا۔ اُس کی تصویروں میں جبلّتیں بڑی گہرائیوں سے اُبھرتی ہوئی محسوس ہوتی ہیں ، صاف ستھرے اور چکنے اسلوب میں جبلّتوں کا عمل اس طرح جذب ہے کہ دونوں کو علیحدہ کر کے دیکھا ہی نہیں جا سکتا۔ عورت کے پیکر کو اُس نے اپنا محبوب موضوع بنا لیا تھا، واضح اور چمکتے اسلوب میں جسم کو تمام جلوؤں کے ساتھ پیش کیا۔ گولائی اور خمیدگی پر اُس کی نظر بہت گہری تھی، عورت کے جسم کی نمائش کا وہ ایک بڑا تخلیقی فنکار تھا۔

گیارہ برس بعد ایک بار پھر یہ تصویر اُس کے سامنے آئی تھی، ۱۹۴۱ء کی باتیں یاد آئیں ، امام میاں یاد آئے، آج یہ تصویر دوسرے انداز سے متاثر کر رہی تھی، ایک بڑے تخلیقی عمل کی صورت میں ۔
سوچنے لگا اس تصویر نے گیارہ سال قبل اُس میں کیسی سنسناہٹ پیدا کی تھی، پہلی عجیب سنسناہٹ تھی کہ جس نے عورت اور اُس کے جسم کے تئیں اچانک بیدار کر دیا تھا، کچی عمر میں سوچ کا ایک عجیب و غریب تسلسل پیدا کر دیا تھا اور اس تسلسل میں اُس کے ذہن نے کتنی اور کیسی کیسی تصویریں اُبھاری تھیں ۔ امام میاں کے اصرار اور دباؤ کے باوجود اُس کی کئی آوازیں حلق میں پھنس کر رہ گئی تھیں ۔ یونیورسٹی لائبریری میں بیٹھ کر، سوچ سوچ کر مسکرا رہا تھا، کاش آج امام میاں اُس کے پاس ہوتے تو وہ اس تصویر پر جی بھرکر اظہارِ خیال کرتا--- اس تصویر کے ساتھ جو جذباتی اور نفسیاتی وابستگی ان لمحوں میں پیدا ہوئی تھی اُس کے پیشِ نظر کہتا امام میاں ، حسن جتنا بھی ٹھہرا ہوا، ساکت، سنبھلا ہوا اور کسا ہوا نظر آئے، ٹپکتا ہی ہوا محسوس ہوتا ہے، وہ ستارے ہوں ، جنگل کا جلوہ ہو یا عورت کا جسم! تصویر کو غور سے دیکھئے، دشتِ طلب میں تلاشِ درد کی منزل بہت واضح ہے۔ بحرِ عنبر کی کشتی ہے، سمندر کی دیوی موجوں کے کف سے باطن کا عکس لیے رمزِ زندگی بن کر صاف شیشے کی مانند کھڑی ہے، سحر کا رشتہ مقدس ّمٹی سے جڑا ہوا ہے، قصہ تخیل کے شہرِ طرب سے جڑا ہوا ہے۔ ریت کے بھیگے ذرّے پر بدن کی خوشبو خلاصۂ کائنات بن گئی ہے، بدن آشرم بن گیا ہے کہ تمام سچائیاں زندگی کی اِسی میں چھپی ہوئی ہیں ، وجود کا ہر شعلہ نفس کے لیے ایک سوغات ہے، پیکر کی تلاش، تلاشِ وحدت ہے--- اور وہ اُس کے ایسے جملوں سے یقیناً بہت خوش ہوتے--- اُس کے شعری تاثرات سن کر باؤلے ہو جاتے، اُس عمر میں وہ ایسی شاعری بھلا کس طرح کر سکتا تھا!

چند اور تصویروں کو بھی پہچان گیا، انھیں بھی گیارہ برس قبل دیکھ چکا تھا، ان میں ریوبنس (Peter Ral Rubens) (۱۵۷۷ئ-۱۶۵۰ئ) کی معرفت تصویر Angelica And The Monk تھی، وہ اپنے دور کا انتہائی ذہین مصوّر تھا، اپنے کلاسیکی مزاج سے اپنے عہد کے بعض مصوّروں کو بھی متاثر کیا اور کئی نسلوں پر بھی گہرے اثرات ڈالے، عورت کے جسم کی نزاکتوں اور روشنیوں کے مناسب عمل پر اُس کی گہری نظر رہی ہے، کہا جاتا ہے کہ اُس نے مصوّری کو نغمہ بنا دیا، تمثیلوں سے گہری دلچسپی تھی کہ جس کی وجہ سے اطالوی فن میں ایک نئی جہت پیدا ہو گئی۔ ’بائبل‘ کے مناظر اور اساطیری واقعات سے اس کی گہری وابستگی کی وجہ سے بعض نہایت قیمتی تصویریں نصب ہوئی ہیں ۔ اعلیٰ کلاسیکی ذہن رکھتا تھا، یہی وجہ ہے کہ بعض نقاّدوں نے یہ کہا کہ اُس کے کلاسیکی رجحان میں ’’ہومریت‘‘ ایک جوہر کی مانند پوشیدہ ہے، یہ نہایت ہی عمدہ تخلیقی کارنامہ ہے۔ ’’ مقدس برہنگی‘‘ راہب کے تخیل کی تمثیل بن گئی ہے (تصویر میں عریاں بے خبر سوئی ہوئی عورت ہے اور ایک عمر رسید راہب) راہب، وصل کی آرزو کے طلسم کا استعارہ بن گیا ہے، سانسوں کی شعاعوں سے جیسے لمحے سلگ رہے ہوں ، عورت کے جسم کے زاویے پیچ و خم کا انتہائی دلکش اور لذیذ منظر پیش کر رہے ہیں ، جنم جنم کی تشنگی جیسے اچانک ’’رسوں ‘‘ کے قریب آ گئی ہو!
امام میاں کو فراموش نہیں کر سکتا،
وہ نہ ہوتے تو جانے کب تک ایک گدھا ہی رہتا!


تیرہ


 وقت اور لمحوں میں جیتے جیتے اکثر اس کا رشتہ ایسی سچّائیوں سے بھی پیدا ہو گیا کہ جہاں وقت اور لمحوں کی یہ میکانکی صورتیں موجود نہ تھیں ۔ بعض سچّائیوں کو پاتے ہوئے Timeless Reality کے تئیں عجیب طرح کی جاگرتی پیدا ہوئی ہے۔ ایسے لمحوں میں کبھی کبھی یہ محسوس ہوا کہ وہ اچانک بیٹھے بیٹھے اُٹھ کھڑا ہو گیا ہو، ایک جانب سے دوسری جانب بے اختیار جانے لگا ہے۔ تنہائی کے غار سے نکل کر باہر آ گیا ہے، تجریدی تصویریں اپنی معنویت کا احساس دینے لگی ہیں ، ایک نئے جنم کا احساس ملنے لگا ہے، ایسا ہوا کہ وہ اپنی تنہائی کے غار سے نکل کر اچانک ایک ایسے خوبصورت غار میں داخل ہو گیا کہ جہاں ہر شئے چمک رہی تھی، سونے کے ذرّات تھے جن سے غار میں دلکش چمک دمک پیدا ہو گئی تھی، اپنی ذات کو وجود کے اندر سے چپکے سے نکلتے دیکھ رہا تھا، کھو جانے کی آرزو کے ساتھ، دانتے کا ہیرو غالباً اسی طرح جنگلوں میں گم ہوا ہو گا اور ہومر کا اوڈیسیس کلائیسپو (Calypso) کے گہرے خوبصورت غار میں اسی طرح گرفتار ہوا ہو گا۔ ہر ایسے جنگل اور غار میں فرد کا نیا جنم ہوتا ہے۔ کوئی نہ کوئی مل جاتا ہے، آدم کو حوا عموماً اِسی طرح بار بار ملتی رہی ہے۔
جوانی کی منزل میں قدم رکھ چکا تھا، اپنے معصوم بھولے بھالے تجربوں کی دُنیا میں سانس لے رہا تھا--- اُسے بے حد پسند آئیں!
انھیں دیکھ کر جانے کتنی پراسرار خوشبوؤں میں گم ہو جاتا، بہت اچھی تھیں ، بہت پیاری، اُن کی آواز میں عجیب جادو تھا، چمکتی ہوئی روشن آنکھیں بے چین کر دیتی تھیں ،
عمر میں کچھ بڑی تھیں !
انھیں چاہنے لگا، ’چاہت‘ کا یہ پہلا انوکھا تجربہ تھا۔ انتہائی لذیذ، میٹھے آم کے رَس کی مانند!
محسوس ہوتا جیسے وہ اُس کی ذات کا حصہ ہیں ، آواز کے جادو اور آنکھوں کے سحر سے اُس کا رشتہ جیسے جنم جنم کا ہے۔
جب بھی حویلی میں آتیں وہ باؤلا سا ہو جاتا،
برسات کا موسم ہوتا اور تیز جھماجھم بارش ہوتی تو بارش میں نہانے لگتا، دیر تک، برسات میں ننگے بدن اِدھر اُدھر دوڑتا رہتا، چھپ چھپاچھپ اور اِس طرح دوڑتے اور تھکتے ہوئے اچھا لگتا،
سردی کے موسم میں صبح کی پہلی دھوپ میں جب ’ہار سنگھار‘ کے پھول چنتا تو لگتا جیسے یہ تمام پھول ان کے البیلے جسم سے رشتہ رکھتے ہیں ، انھیں ’ہار سنگھار‘ کے پھول بہت پسند تھے اور وہ صبح سویرے بہت سے پھول چن کر اُن کے بستر پر رکھ دیتا اور اُن کی آنکھوں میں ایک عجیب پراسرار چمک سی دیکھ کر خوش ہوتا۔
اور گرمی کی دھوپ میں جب تیزی آ جاتی اور لو چلتی اور گھر کے لوگ کھڑکیاں دروازے بند کر کے سو جاتے تو وہ جاگا رہتا، حویلی میں گھومتا رہتا اور انھیں احساس دلاتا رہتا کہ اُن کے قریب ہی رہنا چاہتا ہے۔
یہ سب کچھ کرتے ہوئے دیکھتی تھیں ، دلچسپی کا اظہار کرتیں ، مسکراتی رہتیں ، کبھی کھلکھلا کر ہنستیں تو ایسا لگتا جیسے اچانک ’ہار سنگھار‘ کے پیڑ سے خوبصورت پھول جھڑنے لگے ہیں اور اُس پر مہکتے ہوئے پھولوں کی بارش ہونے لگی ہے۔
اور ایک دن شدّت سے محسوس ہوا کہ وہ بھی اسے بے حد چاہتی ہیں ،
لیکن دونوں نے کبھی اپنی چاہت کا اظہار صاف طور پر نہیں کیا، کبھی نہیں ،
چاہت کا مفہوم سمجھ میں آیا تو اُن کے پیکر ہی میں کائنات کی تمام روشنیوں اور تمام خوشبوؤں کو جیسے پانے لگا ہو۔
جیسے وہی
تمام روشنیوں اور تمام خوشبوؤں کا سرچشمہ ہو۔
ایک شب
جب نانا جان کے چھپرہ والے مکان میں اچانک بجلی چلی گئی اور وہ موم بتی جلائے اس کے اور بڑی آپا کے سامنے کھڑی تھیں تو آپا نے، جو بہت حساس تھیں اور اس خاموش رشتے کو سمجھ رہی تھیں ، دونوں کے سامنے مسکراتے ہوئے کہہ دیا ’’میں سب سمجھ رہی ہوں !‘‘ دونوں اس ’انکشاف‘ سے حیران رہ گئے، نگاہیں نیچے گڑی ہوئی تھیں جیسے دونوں مجرم ہوں ۔
اُس نے دیکھا
اُن کے خوبصورت نازک ہاتھ پر موم بتی کے گرم گرم قطرے ٹپک رہے ہیں اور اُنھیں جیسے کچھ بھی احساس نہ ہو،
آگے بڑھ کر اُن کے ہاتھ سے موم بتی لے لی اور پوچھا:
’’ہاتھ تو نہیں جلا؟‘‘
اور اس کے بعد دونوں صرف ایک بار ملے
اور پھر کبھی نہیں !
اُن سے اُس کے ایک رشتہ دار جو حویلی میں رہتے تھے اور عمر میں دونوں سے بڑے تھے عشق فرمانے لگے اور اکثر اپنے عشق کا اظہار اتنے بھونڈے انداز میں کرتے کہ اُس کا جی چاہتا منہ نوچ لے اُن کا!
وہ بھی اُن کی حرکتوں کو پسند نہیں کرتی تھیں لیکن کچھ نہیں کہتیں ، خاموش رہتیں ۔
وہ چھوٹا تھا عمر میں لہٰذا حضرت مغرور ہو گئے تھے، انھیں یقین تھا کہ وہ ان کی آواز کا جادو اور اُن کی آنکھوں کا سحر اور اُن کا پیارا سڈول بدن سب اُس کے سامنے اُٹھا کر لے جائیں گے اور وہ منہ دیکھتا رہ جائے گا۔ حضرت جب اُسے دُکھ دیتے تو بہت خوش ہوتے۔
سوچتا تھا اس معاملے میں بھی دُکھی بنا کر رہیں گے،
یہ سوچ کر جل جاتا کہ وہ عمر میں بڑے ہیں ،
کاش وہ دونوں سے عمر میں بڑا ہوتا!
حضرت جب بھی دیکھتے کہ وہ اُن کے قریب بیٹھا باتیں کر رہا ہے تو طنز کرتے، انتہائی بھونڈے اور بیہودہ جملے ادا کرتے، ایک دن تو اُن کی باتیں سن کر اُس کی آنکھوں میں آنسو چھلک آئے اور وہ بے قرار ہو گئیں ، کہا ’’تم بھی اس سے کیوں نہیں کہتے۔۔۔‘‘
’’کیا کہیں گے یہ‘‘ حضرت نے اکڑ کر پوچھا۔
وہ جھنجھلا سی گئیں اور کہا ’’یہی کہ اتنی عمر ہو گئی اور بستر پر پیشاب کرتے ہو، لعنت ہے تم پر! حضرت سہم گئے، اب تک تو یہ راز ہی تھا، وہ واقعی اتنی عمر میں نیند میں یہ حرکت کرتے تھے، غصّے میں واپس گئے اور اپنی والدہ سے لپٹ کر خوب روئے، چیخ چیخ کر، اُنھیں اپنی والدہ سے شکایت تھی کہ انھوں نے راز کی یہ بات انھیں کیوں بتا دی اگر نہ بتاتیں تو یہ واقعہ نہیں ہوتا۔
وہ ہمیشہ اُس سے مل کر خوش ہوتی تھیں ،
چاہتی تھیں اُن کے پاس بیٹھا رہے،
سبز رنگ کے اُون سے انھوں نے ایک سوئیٹر بننا شروع کیا اور حضرت خوش تھے کہ یہ سوئیٹر ان کے لیے بن رہا ہے اور غالباً اسے ’’اظہارِ محبت‘‘ کا ایک اشارہ سمجھ رہے تھے، اس کی وجہ بھی تھی، اکثر دیکھتا وہ نامکمل سوئیٹر کو اُن کے جسم پر رکھ کر ناپتی تھیں اور وہ اپنے مغرورانہ احساس کے ساتھ اُن لمحوں میں اُس کی جانب دیکھتے اور جانے کیوں اُس کی آنکھوں میں آنسو چھلک آتے۔
اسے ’’سبز رنگ‘‘ سے وحشت سی ہونے لگی۔
محرم کی نویں تاریخ کو ہر سال کی طرح اُس کے لیے سبز کرتا بنا تھا، اُس نے چپکے سے بکس کھول کر اپنا نیا کرتا نکالا اور اُس پر بھری روشنائی کی شیشی اُنڈیل دی۔ جی چاہتا تھا بنتے ہوئے سوئیٹر کو اُن کے ہاتھوں سے چھین کر پچھواڑے کے کنویں میں ڈال دے۔
جب وہ سوئیٹر تیار ہو گیا تو اُسے لے کر اُس کے پاس آئیں اور اُسے پہنانا چاہا، اُس نے صاف انکار کر دیا،
’’جو چیز میرے لیے نہیں ہے بھلا میں اُسے کیوں پہنوں ؟‘‘
وہ مسکرائیں ، کہا ’’شکیل، یہ تو تمھارے لیے ہے اللہ کی قسم!‘‘
وہ حیرت سے تکنے لگا اُنھیں !
مسرّت کی عجیب سی لہریں اُٹھیں ، باؤلا سا ہو گیا۔ ہر طرف سے ’اللہ قسم، اللہ قسم‘ کی جیسے آواز گونجنے لگی ہو،
انھوں نے وہ سبز سوئیٹر اُسے پہنا دیا اور بہت خوش ہو گئیں ، چہرہ گلنار ہو گیا۔
اچانک
سبز رنگ اُس کا ایک محبوب رنگ بن گیا، اُن کے جسم کی خوشبوؤں کو جیسے لباس کی طرح پہن لیا تھا اُس نے!
۱۹۴۷ء میں ملک تقسیم ہو گیا اور وہ اپنے والدین کے ساتھ پاکستان چلی گئیں ۔
ایک عرصہ تک وہ سوئیٹر اُس کے جسم سے لپٹا رہا،
تیز سبز رنگ کو دیکھ کر فوراً اُس سوئیٹر کی یاد آ جاتی ہے اور یادوں کا ایک سلسلہ قائم ہو جاتا ہے۔
۱۹۴۷ء کے بعد پھر نہیں ملے اب تک! 



چودہ


 دوسری جنگِ عظیم ختم ہو رہی تھی اور شہر میں عجیب سی بے چینی پھیلی ہوئی تھی، مختلف قسم کے بدبو دار چاول بازار میں تھے اور وہ بھی مشکل سے راشن کارڈ پر ملتے تھے، شہر کے بعض افسروں اور شہریوں کو منتخب کر لیا گیا تھا جو اپنے دستخط سے لوگوں کو کارڈ دیتے تھے، یہ اُن کی مرضی پر منحصر تھا کہ کتنا راشن کسے دیا جائے، کپڑوں پر بھی راشن تھا اور مٹّی کے تیل پر بھی، جب پٹرول پر راشن ہوا تو محمد یحییٰ صاحب پھیپھڑاؔ نے ایک نظم کہی تھی ’’پٹرول پر راشن ہوا پٹرول پر راشن، اے بی بی ظہورن اے بی بی وفاتن‘‘ اور نظم بہت مشہور ہو گئی 
تھی، لوگ کپڑوں کے لیے بھی ترس رہے تھے، راشن کی دُکانوں پر انتہائی خراب کپڑے ہوتے تھے لیکن لوگ مجبوراً خرید رہے تھے، حویلی میں یہ حال تھا کہ چاول پکتا تو اُس کی بُو برداشت نہیں ہوتی اور سب ایک ہاتھ سے اپنی ناک بند کر کے چاول نگلتے تھے۔ راشننگ کے باوجود عام لوگوں کو چاول، آٹا، تیل اور کپڑے لینے میں بڑی دُشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا تھا، افسروں کے دروازوں پر صبح سے ایک بھیڑ جمع ہوتی، افسروں کے پاس بھی راشن کے لیے ہر دن کا کوٹہ مقرر تھا لہٰذا وہ اتنا ہی دیتے کہ جتنا دے سکتے تھے۔ بہت سے لوگ مایوس واپس جاتے، دوڑ دھوپ کے بعد انتہائی معمولی کپڑے صرف چند گز ہی ملتے، شہر میں بجلی تو تھی نہیں ، لالٹینوں ، لیمپوں اور دیوں پر اب تک گزارا کرتے آ رہے تھے (بی، اے تک تعلیم حاصل کرتے ہوئے وہ لالٹین ہی کی مدد سے پڑھتا رہا ہے) لوگ صرف دو تین گھنٹوں کے لیے ہی دیے جلاتے، انتہائی بدبو دار چاول، حد درجہ گھٹیا آٹے اور ایک پیالی مٹی کے تیل کے لیے لوگ اکثر ایک دوسرے کی مدد چاہتے اور وقت پر مدد کرنے والوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے چند دنوں کے بعد اتنی ہی چیزیں واپس کر دیتے۔

گاؤں اور دیہاتوں کی حالت اور غیر تھی، دوسری جنگ عظیم نے جیسے سب کچھ نگل لیا تھا، غذا کی تلاش میں چھوٹے بڑے گاؤں چھوڑ کر شہر کا رُخ کرتے اور یہاں پہنچ کر اُن کی حالت اور خراب ہو جاتی، گھروں میں ملازمت آسانی سے نہیں ملتی، اور اُن میں اکثر فاقے کی زندگی بسر کرتے، سڑکوں اور فٹ پاتھوں پر اپنے خاندان کے افراد کے ساتھ پڑے رہتے، بیمار ہوتے تو علاج کا کوئی انتظام نہ ہوتا۔ تڑپ تڑپ کر مر بھی گئے کتنے لوگ۔ شہر کے نچلے طبقوں کے لوگ حد درجہ غربت کی زندگی بسر کرنے لگے تھے، غالباً سارے ملک کا یہی حال تھا، بہار کے کھیتوں کا سارا اناج سرکاری تحویل میں جا چکا تھا، قحط کا اعلان نہیں ہوا تھا لیکن قحط زدہ علاقے موجود تھے کہ جہاں جانے کتنے افراد غذا نہ ملنے کی وجہ سے مر چکے تھے اور مر رہے تھے۔ کسی کو بھوکا دیکھتا تو بے چین ہو جاتا، کوشش کرتا اُسے کچھ نہ کچھ مل جائے۔۔۔ لیکن ایسے المناک ماحول میں اس عمر میں کتنا سوچ سکتا تھا اور کتنا کر سکتا تھا، بھیک مانگنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا تھا۔ بھیک مانگنے والے چاول اور آٹا ہی چاہتے، ہندستان کے عوام جنگ میں شریک نہ تھے لیکن اسے کیا کہیے کہ جنگ نے غلام ملک کو ہر جانب بھیک مانگنے پر مجبور کر دیا تھا۔ جنگ سے بڑی نفرت ہو گئی۔ جنگوں میں جو تباہیاں ہوتی ہیں وہ تو ہوتی ہی ہیں ، وہ قومیں اور وہ ملک جو ان میں شریک نہیں ہوتے کس طرح متاثر ہوتے ہیں ، اقتصادی اور معاشی زندگی کس طرح ٹوٹ کر بکھر جاتی ہے اور آنے والی نسلوں پر کیا اثرات ہوتے ہیں ، ایسے موضوعات پر سوچتا اور جس قدر سوچتا جنگوں اور اُن کی تباہ کاری اور بربادی کے تصوّر سے نفرت بڑھتی رہتی۔

۱۹۳۹ء سے ۱۹۴۵ء تک وہ دوسری جنگِ عظیم کے واقعات بڑی دلچسپی سے سنتا رہا ہے، اخباروں میں جو خبریں شائع ہوتیں اُنھیں پڑھتا اور سنتا، اپنے بزرگوں سے سوالات بھی کرتا۔ تخیل آہستہ آہستہ بیدار ہونے لگا تھا اور یہ محسوس ہونے لگا تھا کہ دنیا جنگ کے دیوانوں اور انسان دشمنوں کے ہاتھوں میں چلی جائے تو اس سے زیادہ پوری کائنات میں تاریک مقام اور کوئی نہ ہو گا۔ اخباروں اور لوگوں کی گفتگو سے دوسری جنگِ عظیم کی ہولناک کہانیوں ، جبر و تشدد، لہو اور درد، وحشت اور دہشت اور موت کی کربناک صورتیں ،سب اپنی حقیقتیں سمجھا رہی تھیں ۔
جب جنگ شروع ہوئی تھی تو بزرگوں سے یہی سنتا کہ اس کا کوئی اثر اپنے ملک پر نہیں ہو گا لیکن رفتہ رفتہ اِس کے اثرات ظاہر ہونے لگے، اپنا ملک کچھ عرصہ تو یقیناً ایک تماشائی بنا رہا لیکن یہ صورت برقرار نہ رہی۔

ہٹلر اور نازی فوجوں کے خلاف لوگوں کی باتیں سنتا اور ساتھ ہی یہ بھی سنتا کہ برطانیہ اور فرانس دونوں اپنی بادشاہت کی حفاظت کے لیے آخر وقت تک لڑتے رہیں گے، بزرگوں کی بعض گفتگو اِدھر اُدھر سے سن لیتا، اُسے ایسی ہی گفتگو سے یہ معلوم ہوا کہ پنڈت جواہر لال نہرو اور اُن کے کچھ ساتھی جرمنی کے سخت خلاف ہیں اور ساتھ ہی برطانوی حکومت پر بھی بھروسہ نہیں کرتے اور سبھاش چندر بوس یہ کہہ رہے ہیں کہ ابھی دیکھو کیا ہوتا ہے، حالات کا جائزہ لو، ابھی جرمنی اور برطانیہ کے خلاف کچھ کہنا مناسب نہیں ہے۔ اخباروں میں یوروپ کے ملکوں کی تصویریں شائع ہوتیں اور وہ ان سے سمجھنے کی کوشش کرتا کہ برطانیہ کہاں ہے، جرمنی کدھر ہے اور فرانس کس طرف ہے، اپنے استادوں اور بزرگوں سے بھی یوروپ اور ایشیا کے ملکوں کو مختلف نقشوں میں پہچاننے کی کوشش کرتا--- جب فرانس ٹوٹا تو برطانیہ تنہا ہو گیا اور ’’بیچارے برطانیہ‘‘ کے ساتھ ایک عجیب طرح کی عوامی ہمدردی پیدا ہو گئی، گاندھی جی نے برطانیہ سے ہمدردی کا اظہار کیا تھا تو اُسے یاد ہے بعض بزرگ اِسی بحث میں اُلجھ گئے تھے، کوئی کہتا ’’گاندھی جی نے یہ کیا کیا!‘‘ کوئی کہتا ’’انھوں نے غلط کیا ہے‘‘، کسی کا یہ خیال تھا ’’ٹھیک ہی کیا‘‘، جب اُس کی سمجھ میں نہیں آیا کہ گاندھی جی نے کیا کیا تھا تو اُس نے اپنے مولوی صاحب سے پوچھا۔
’’گاندھی نے کیا کیا ہے جو یہ سب لوگ باتیں کر رہے ہیں ؟‘‘
مولوی صاحب نے پہلے حیرت سے اس کا جائزہ لیا، پھر کہا:
’’ہوں ، جاننا چاہتے ہو گاندھی جی نے کیا کیا؟ ہریجنوں کے گھر میں جا کر کھانا کھایا اور کیا کرتے ہیں وہ، یہی تو کرتے ہیں لاحول ولاقوۃ۔۔۔‘‘
سمجھ گیا کہ مولوی صاحب قطعی نہیں جانتے کہ گاندھی جی نے کیا کیا۔

لوگ فوج میں شامل ہونے لگے، اس وقت اخباروں اور بعض بزرگوں کے ذریعہ بہت سے الفاظ اور نام سننے کو ملے، ’مشرقِ وسطیٰ‘، ’ہندوستان کی منڈی‘، ’برما اور آسام کی سرحدیں ‘، ’ہندوستانی فوج‘، ’آزاد برما‘، ’ہندو مسلم فساد‘، ’قوم، قومیت‘، ’کانگریس راج‘، ’گاندھی ٹوپی‘، ’مسلم لیگ‘، ’محمد علی جناح‘، ’الیکشن‘، ’ملک کی بڑھتی ہوئی آبادی‘، ’سرتفضل حسین‘، ’ڈاکٹر سی۔وی۔رمن‘، ’ڈاکٹر سرمحمد اقبال‘، ’سر رادھا کرشنن‘، ’سوویت یونین‘، ’لینن‘، ’سرخ انقلاب‘، ’اسٹالن‘، ’چرچل‘، ’سری آربندو‘، ’سروجنی نائیڈو‘، ’ستیہ گرہ‘، ’بائیں بازو اور جانے کتنے نام اور الفاظ، بعض لوگوں کی تصویریں بھی دیکھتا رہا، ان کی تقریروں کو پڑھتا بھی رہا،اِن کے تعلق سے سوالات بھی کرتا رہا۔

۱۹۴۳ء میں جب بنگال میں زبردست قحط پڑا تو بہار بھی گہرے طور پر متاثر ہوا۔ سڑکوں اور گلیوں میں لاغر بچوں کی بھیڑ نظر آنے لگی، ماؤں کی سوکھی چھاتیوں سے چمٹے کمزور اور نحیف بچیّ،دھنسی ہوئی آنکھیں ، پچکے ہوئے پیٹ، انتہائی کمزور باتھ پاؤں ، ہاتھوں میں بھیک لینے کے لیے پرانے برتن--- ایسے جلوس دیکھتا تو لرز اُٹھتا، کئی صبحیں ایسی آئیں کہ بعض گلیوں ، درختوں اور گھروں کے قریب ان کی لاشیں ملیں ، کبھی کبھی اختلاف اس بات پر بھی ہوا کہ مرنے والا ہندو تھا یا مسلمان، جب تک وہ انسان تھا اُسے اپنا پیٹ کاٹ کر کسی نے نہیں دیا، مرگیا تو ہندو اور مسلمان ہو گیا اور لاش کا مسئلہ مذہبی بن گیا، زندگی کا مسئلہ مذہبی تھا اور نہ سماجی!

زندگی کی بعض قدریں کہ جنھیں وہ عزیز رکھتا تھا اور بھی روشن نظر آنے لگیں اور عزیز تر بن گئیں ، سماجی اور معاشرتی زندگی میں ’طبقات‘ اور اُن کے مسائل کے تئیں اُس میں ہلکی ہلکی بیداری سی پیدا ہونے لگی، مذہب، ذات پات اور فرسودہ قدیم نظام کی تشکیل دی ہوئی طبقاتی زندگی کے پیشِ نظر انسان کی تقسیم اُسے اچھی نہیں لگی، ایسی سماجی زندگی کے خلاف ہو گیا جو انسان کو تقسیم کر کے اُن کی حدبندی کرتی ہے۔ ایک عجیب سی نفرت اُسے بے چین کرنے لگی تھی، اُسے کچھ عرصہ بعد معلوم ہوا کہ برما کے آزاد ہو جانے کے بعد برما کا چاول بند ہو گیا تھا، بنگال اور جنوبی ہند پر اس کا گہرا اثر پڑا، جنگ کی وجہ سے جو اناج جمع کیا گیا تھا اُسے بنگال لے جانا فوراً ممکن نہ ہوا لہٰذا قیمتیں بڑھتی گئیں ، کسانوں نے اپنے قرضوں کی ادائیگی کے لیے اپنا اناج فروخت کر دیا تھا اور اُن کے پاس کھانے کے لیے کچھ بھی نہ تھا، کھیتوں اور کھلیانوں کو چھوڑ کر کسان کلکتہ شہر کی طرف آنے لگے، بنگال کی حکومت حالات کا مقابلہ نہیں کر سکی، مرکزی حکومت نے کسی قسم کی مدد نہیں کی، بھوک اور بیکاری کے عجیب و غریب، دل دہلا دینے والے مناظر سامنے آنے لگے، بنگال سے بھوک سے بے چین قافلے دوسرے صوبوں میں پہنچنے لگے۔ ایسے کئی قافلوں کو اُس نے اپنے شہر میں اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا۔

جب جنگ ختم ہوئی تو بہت سے ایسے شہری جو اپنے گھروں سے بھاگ کر سپاہی بن گئے تھے اور جانے اُنھیں کن محاذوں پر رکھا گیا تھا آہستہ آہستہ واپس آنے لگے، معلوم ہوا کہ اکثر لوگوں کی فوجی ملازمتیں عارضی نوعیت کی تھیں لہٰذا انھیں چھٹی دے دے گی، کچھ ایسے تھے جو بھاگ کر واپس آ گئے تھے اور کچھ ایسے جو بعض مہلک اور موذی امراض کے شکار ہو گئے تھے اور برطانوی حکومت کو ان کی ضرورت نہیں تھی، اِن ہی سپاہیوں میں نقی میاں بھی تھے جو اچانک حویلی چھوڑ کر فوج میں بھرتی ہو گئے تھے، وہ تپِ دق کے مریض بن کر واپس آئے۔ اُس زمانے میں اس مرض کا علاج آسان نہ تھا اور اُن کا کوئی مددگار بھی نہ تھا جو اُن کے بہتر علاج کا انتظام کرتا، نقی میاں نے ابتداء میں اُس کے ساتھ تعلیم حاصل کی تھی پھر ایک آزاد پروانے کی مانند اِدھر اُدھر اُڑتے پھرے، عمر میں کافی بڑے تھے لیکن اس کے باوجود اُس کے ساتھ مختلف کھیلوں میں شامل رہتے اور لیڈری کرتے، ایک اچھے دوست بن گئے تھے، وقت پر بہت کام آتے، بہت وقت گزر چکا تھا، بچی جوان ہو رہے تھے اور نقی میاں کی عمر میں بھی کافی اضافہ ہو چکا تھا۔ جب انھیں دیکھا تو بس دیکھتا ہی رہ گیا، سوکھ گئے تھے، آنکھیں دھنس گئی تھیں ، حد درجہ لاغر ہو گئے تھے، خون تھوک رہے تھے، کھانسی اُٹھتی تو سینے کو پکڑ کر تڑپنے لگتے۔ عزیزوں نے اُنھیں گھر سے باہر کر دیا، وہ اُن کے پاس جانے لگا، اُن کی خدمت کرنے لگا، کوشش کر کے اُنھیں ہسپتال میں داخل کیا، اس زمانے میں تپِ دق کے مریضوں کے لیے ہسپتال سے کچھ دُور ایک ’وارڈ‘ بنایا گیا تھا کہ جس میں تین چار کمرے تھے اور ان میں جانے کتنے مریض ایک ساتھ رہتے تھے، صفائی کا کوئی خیال رکھا نہیں جاتا، مریضوں کے کھانے پینے کی جانب کوئی توجہ نہیں تھی، رشتہ دار جو کچھ گھر سے لاتے یا بھیج دیتے وہی اُن کی غذا ہوتی اور ڈاکٹر کبھی نہیں دیکھتے کہ مریض کیا کھا رہے ہیں ، یہ غذا اُن کے لیے مناسب بھی ہے یا نہیں ۔

نقی میاں کی حالت روزبروز خراب ہوتی گئی اور ایک دن وہاں سے بھاگ آئے، اب اُنھیں دیکھنے والا کوئی نہ تھا، اُن کے دوست راستے سے گزر جاتے اُن کی جانب نہیں دیکھتے، ایک وہی تنہا تھا جو اپنی بائیسکل پر اُنھیں دیکھنے جاتا، اُن کے لیے پھل اور دوائیں لاتا اور ایک شب نقی میاں گزر گئے!
کوئی زمین جائیداد نہیں چھوڑی تھی لہٰذا کوئی رونے والا بھی نہ تھا۔
کفن دفن کا انتظام کیا گیا اور محلّے کے چند نوجوانوں اور بزرگوں کی مدد سے اُن کا جنازہ اُٹھا اور سپردِ خاک ہوئے۔
رہے نام اللہ کا!
بچپن کے کھیلوں میں چونکہ وہ ایک ساتھی تھے اس لیے اکثر اُن کی یاد آتی رہی، کتنے تندرست، صحت مند، چلبلے، رات دن لوگوں کے کام آنے والے، رات کے دو تین بجے ہوں ، سردی کے دن ہوں یا برسات کے مہینے، جب بھی کسی کی طبیعت خراب ہوتی ڈاکٹر بلانے کے لیے نقی میاں ہی یاد آتے اور وہ تھے کہ بس فوراً خدمت کے لیے حاضر ہو جاتے۔ انسان بھی کتنا عجیب ہے، اکثر صرف اپنے وقت اور اپنے لمحوں اور تکلیفوں سے تعلق رکھتا ہے اور جو شخص اُن کی تکلیفوں میں کام آتا ہے اُسے بھول جاتا ہے اور اُس کے دُکھ کے لمحوں کی جانب کبھی نہیں دیکھتا۔
دُنیا اور زندگی کی سچائیوں کو دیکھنے کے لیے مشاہدہ اور تجربہ ہی تو بڑے ذرائع ہیں ، یہ دونوں ، حقیقتوں اور نئی سچائیوں کو پرکھنے میں مدد کرتے ہیں اور ان کے تئیں ذہن اور فکر کو بیدار کرتے ہیں ۔ مزاج زیادہ فلسفیانہ ہو تو سچائی کو قیاس آرائیوں سے بھی بہت کچھ سمجھا جا سکتا ہے۔ معمولی لوگ بھی تجربہ حاصل کر لیتے ہیں تو سچائی کو کسی نہ کسی سطح پر پہچان لیتے ہیں ، مذہبی ذہن یا مذہبی مزاج ہو تو پھر کیا کہنا، حقیقت یا سچائی کا تجربہ باطنی طور پر بھی حاصل ہوتا ہے، معاشرے میں آخر یہ کس قسم کے لوگ ہیں جنھیں سمجھنا ہی ممکن نہ ہوتا۔
وہ ۱۹۴۲ء میں اپنی چھوٹی باجی کے شوہر محمد علی صاحب کے ساتھ کلکتہ گیا، کلکتے کا یہ پہلا سفر تھا، جاپانی حملوں سے کلکتہ کو بھی نقصان پہنچا، اُس نے دریچوں اور دروازوں کے ٹوٹے ہوئے شیشوں کو دیکھا۔ بعض لوگوں سے ہوائی حملوں کے واقعات سنے۔


پندرہ

 سب سے پہلے ’کارٹون‘ کے ذریعہ ’سیاست‘ سے ذہن کا ایک نا محسوس رشتہ قائم ہوا۔ حکومتوں کے بارے میں بہت کم جانتا تھا، سیاست دانوں کے متعلّق بھی زیادہ خبر نہ تھی۔ انگریزی حکمرانوں کو تصویروں سے پہچانتا تھا، کوئین وکٹوریہ، ایڈورڈ ہفتم، جارج پنجم، جارج ہشتم کی صورتیں سکّوں پر دیکھتا اور کورٹ کچہری کے کاغذات اور ٹکٹوں پر، بھائی جان کی کتابوں میں ، لارڈ کلایو وارن ہسٹینگز اور لارڈ رپن وغیرہ بھی نظر آئے تھے۔ اپنے ملک کے سیاست دانوں میں گاندھی جی، جواہر لال، سبھاش چندر بوس، مولانا ابوالکلام آزاد اور بابو راجندر پرشادوغیرہ کو پہچانتا تھا۔ بابو راجندر پرشاد تو کئی بار اُس کے ابّو سے ملنے حویلی میں آ چکے تھے، جانتا تھا کہ بابو جی کانگریس کے لیے چندہ لینے آتے تھے اور ابّو چپکے سے انھیں کوئی بڑی رقم تھما دیتے تھے، خان بہادر تھے، سرکاری وکیل اور پبلک پروسیکوٹر تھے، انگریز افسروں سے مراسم تھے اس لیے کانگریس کی مدد کرتے ہوئے محتاط رہتے تھے، ایک بار ایک انگریز کلکٹر نے ابّو سے دریافت کیا تھا ’’سنا ہے آپ کے پاس راجندر پرشاد آتے ہیں ؟‘‘ ابّو نے جواب دیا ’’وہ رشتہ دار ہیں ، عمر میں چھوٹے ہیں اس لیے ملنے آتے ہیں ، ہم لوگوں کا خاندان دو مذاہب میں منقسم ہے اور مذہب کی بنیاد پر ہم نے عزیزوں اور رشتہ داروں کو تقسیم نہیں کیا‘‘ اور ضلع کلکٹر مطمئن ہو گیا تھا۔ راجندر بابو جب بھی آتے، اسے بہت پیار کرتے اور عموماً اُسی کے ذریعہ اندر خبر بھجواتے، وہی ابّو سے کہتا ’’چھپرے والے چاچا جی آئے ہیں مونچھوں والے۔‘‘ابّو سمجھ جاتے اور انھیں حویلی میں اپنے کمرے میں بلا لیتے، دونوں جانے کتنی باتیں کرتے، کیا باتیں ہوتیں اُسے کچھ معلوم نہیں ، اُنھیں کپڑے میں باندھ کر روپے دیتے ہوئے یقیناً اُس نے کئی بار دیکھا ہے۔

دوسری جنگِ عظیم کے زمانے میں جانے کہاں کہاں سے انگریزی رسالے اور اخبارات آتے اور اُن میں عموماً کئی کارٹون ہوتے، مسٹر میرک اور دوسرے کئی انگریز افسر ابّو کے پاس کچھ انگریزی رسالے اور کتابیں بھجوا دیا کرتے تھے، کارٹونوں کے ذریعہ اسٹالن، چرچل، ہٹلر، مسولینی اور روزولٹ وغیرہ کو بخوبی پہچاننے لگا تھا۔ اُن کے چہرے اُس کے ذہن پر نقش ہو گئے تھے، کم و بیش سارے کارٹون ہٹلر اور مسولینی کے خلاف ہوتے، انھیں کاٹ کر جمع کرتا، جب بہت سے کارٹون جمع ہو گئے تو انھیں ایک نوٹ بک پر چسپاں کر دیا، ہر صفحے پر ایک کارٹون! دیکھتے ہی دیکھتے کارٹونوں کی ایک مکمل کتاب بن گئی، جنگ عظیم کے کئی واقعات بھی مختلف قسم کے کارٹونوں میں تھے لہٰذا یہ ’کتاب‘ کچھ لوگوں کے لیے بہت دلچسپ بن گئی اور حویلی میں آئے ہوئے مہمانوں کو دِکھانے کے لیے اُس سے مانگی جانے لگی، جو بھی دیکھتا خوش ہوتا۔

ذہن میں یہ بات بیٹھ گئی کہ چرچل، ہٹلر اور مسولینی سے اچھا، ہٹلر بہت بڑا دشمن ہے۔ نیکی اور بدی کی جنگ ہو رہی ہے، قصّوں ، کہانیوں کی جنگ کی طرح، بدی کی شکست ہو گی اور نیکی کی فتح۔
اپنے ننھے دوستوں کے پاس بیٹھ کر نیکی اور بدی کی جنگ کی کہانیاں سناتا، ہٹلر کو انسان کا دشمن کہتا اور چرچل کی تعریف کرتا، چرچل بہادر، ہوشیار اور فرشتۂ رحمت تھا اور ہٹلر ذلیل، بدمعاش اور شیطان۔ چرچل کا سگار بہت پسند تھا اور ہٹلر کی مکھی جیسی مونچھیں ناپسند تھیں ، کارٹونوں میں جو واقعات پیش ہوتے اُنھیں بعض بزرگوں سے سمجھنے کی کوشش کرتا اور پھر اپنی محفل جماتا، چند چھوٹے چھوٹے دوستوں کو چرچل اور ہٹلر کی جنگ کی کہانی سناتا، اپنی طرف سے بہت سے واقعات جوڑ دیتا، واقعات گڑھتا، نمک مرچ کے ساتھ مصری اور شہد بھی ملاتا، دوست متاثر ہوتے اور اُن پر اُس کے علم کی دھونس جم جاتی۔

بات اِسی حد تک نہ رہی، ہٹلر اور چرچل کے ’’ڈرامے‘‘ بھی اسٹیج کیے جانے لگے، دوپہر میں جب حویلی کے لوگ اپنے کمروں میں آرام کرنے چلے جاتے تو وہ دوستوں کی چھوٹی سی فوج لے کر دالان میں پہنچ جاتا، کسی چادر سے بڑے ٹیبل کے ساتھ پردہ بنایا جاتا، ٹیبل اسٹیج ہوتا اور ڈراما شروع ہو جاتا، خود چرچل بنتا اور منہ میں ’سگار‘ دبا لیتا، اپنے چچا زاد بھائی محمد یحییٰ صاحب کے لڑکے ممتاز احمد کو ہٹلر بناتا اور اپنے ایک عزیز رشتہ دار ونود کو مسولینی! ونود بہت موٹا تھا اور مسولینی بن کر سمجھتا تھا جیسے کارٹونوں میں اُسی کی تصویریں چھپنے لگی ہیں لہٰذا ہمیشہ مسولینی کے کارٹون مانگ کر لے جاتا۔

پہلے دن ہٹلر بننے کو کوئی تیار نہ ہوا، ممتاز احمد اسٹالن بننے کے لیے ضد کرتے رہے، ساتھی ایسے تھے جو ناظرین کی حیثیت سے بیٹھنے کو تیار تھے لیکن ہٹلر بننے کو تیار نہ تھے، ڈرامے کے ’منظر نامے‘ (جو لکھے نہیں جاتے صرف اداکاروں کو سنائے جاتے تھے) کے مطابق آخری منظر میں ہٹلر کو چرچل کے ریوالور سے تڑپ تڑپ کر مر جانا تھا، ہٹلر جیسے شیطان کا کر دار ادا کرنا اور پھر اس طرح تڑپ تڑپ کر مر جانا کسی کو پسند نہ تھا، ممتاز احمد نے کہا ’’چچا، اگر آپ ہٹلر کو نہ ماریں تو میں اسٹالن اور ہٹلر دونوں کا کام کروں گا۔‘‘ اُس نے سوچا ’’ٹھیک ہے، نہیں ماروں گا، صرف جیل بھیج دوں گا اور پھر اسٹالن اور ہٹلر کی ملاقات ہی کیوں ہو؟ چرچل ہی کافی ہے۔ ڈراما بھی تو چرچل اور ہٹلر کی لڑائی کا ہے۔
بات مان لی گئی، ایک چھوٹی سی لکڑی کو توڑ کر اُس پر سیاہ کپڑا لپیٹا گیا اور چرچل کا سگار تیار ہو گیا۔ ممتاز میاں جانے کہاں سے کسی حجام کے پھینکے ہوئے کچھ بال لے آئے، اُنھیں ٹھیک ٹھاک کر کے ہٹلر کی مکھی جیسی مونچھیں تیار ہو گئیں اور اُن کی ناک کے نیچے کسی طرح چپکا دی گئیں ۔ جب بھی ڈراما اسٹیج ہوا بیچارے چرچل کا سگار بھی کھلا اور ہٹلر کی مونچھیں بھی گریں ۔ناظرین خوب ہنستے اور اس طرح ڈراما ہمیشہ کامیاب رہا۔
اب کہانی صرف تین کر داروں کی رہ گئی تھی،
تنہا چرچل، اپنی بہادری کا ثبوت دیتا ہوا،
سامنے ہٹلر، ہر سوال کا جواب چیخ کر دیتا ہوا اور تیز لہجے میں تقریریں جھاڑتا ہوا،اول فول بکتا ہوا اور اُس کے پیچھے موٹا مسولینی جو للکارنے پر بھی ایک لفظ نہیں بولتا، خود مکالمے تیار نہیں کر سکتا تھا، کیا کہنا چاہیے، نہیں جانتا تھا، سب اپنے اپنے ڈائیلاگ خود تیار کرتے لیکن مسولینی سے کوئی جملہ بنتا ہی نہ تھا۔ ’’آپ ٹھیک کہتے ہیں حجور‘‘ کہہ کر ہٹلر کے پیچھے سپاہی کی طرح بس کھڑا ہی رہتا۔
	ہر ایسا ڈراما صرف نام کے اعتبار سے چرچل اور ہٹلر وغیرہ کا تھا ورنہ حقیقت یہ تھی کہ ہر بار سکندر اور پورس ہی کا ڈراما ہوتا تھا، رستم اور سہراب کی طرح کشتی بھی ہونے لگتی تھی، چرچل سکندر تھا تو ہٹلر پورس، رستم اور سہراب کی کہانی سن کر جو مکالمے ذہن میں تیار ہو سکتے وہی اسٹیج پر سنائے جاتے تھے۔
ایک دن گرم دوپہر میں تمام اداکاروں اور ڈراما دیکھنے والوں کو شور کرنے کی وجہ سے ایسی ڈانٹ پڑی کہ پھر چرچل ہٹلر کا کوئی ڈراما اسٹیج نہ ہوا!

کارٹون نہ ہوتے تو ڈرامے بھی نہ ہوتے اور یہ ڈرامے نہ ہوتے تو ’’حالاتِ حاضرہ‘‘ پر سوچنے کا وقت جانے کب آتا، آہستہ آہستہ وہ خود کو اس لائق سمجھنے لگا کہ بزرگوں کی محفلوں میں خاموشی سے بیٹھے، باتیں سنے اور جب موقع ملے اپنی چونچ مار دے۔

 حویلی میں بابو راجندر پرشاد کے علاوہ جناب مولانا شفیع داؤدی اور جناب ڈاکٹر سیّد محمود بھی اکثر آتے تھے، دونوں ابّو کے گہرے دوستوں میں تھے، جب بھی آتے گھنٹوں ابّو سے باتیں کرتے، کانگریس پارٹی اور برطانوی سرکار ہی موضوعات ہوتے، کانگریس پارٹی کے کام اور پروگرام وغیرہ کی خبر ابّو کو اِن ہی بزرگوں سے ملتی تھی، گاندھی جی کیا کہہ رہے ہیں ، انھوں نے اپنی تقریروں میں کون سی خاص باتیں کہی ہیں ، تبصرہ ہوتا، ابّو کی تمام ہمدردیاں کانگریس پارٹی کے ساتھ تھیں اور اس دوستی کا ایک بڑا سبب یہ بھی تھا، خاموشی سے چندہ دیا کرتے، رسیدیں کسی اور کے نام پر کٹا کرتیں ۔ شہر کے ایک کانگریس لیڈر کی گرفتاری کے بعد سرکار نے مقدمہ دائر کیا اور کئی سنگین الزامات لگائے تو سرکاری وکیل کی حیثیت سے ابّو کو سرکار کی طرف سے کورٹ میں جرح کرنا تھی، بہت بے چین رہے کیا کریں ، مولانا شفیع داؤدی صاحب سے مشورہ کیا اور یہ فیصلہ کیا کہ وہ ایک ماہ کی رخصت پر رہیں ، بعد میں وہ مقدمہ مظفرپور کورٹ میں منتقل ہو گیا اور شفیع داؤدی صاحب شکریہ ادا کرنے تشریف لائے۔ کانگریس والوں کو خطرہ تھا کہ اگر کورٹ کی جانب سے خان بہادر کھڑے ہو گئے تو سرکار کی نظر میں جو شخص ملزم ہے اُسے یقیناً بڑی سزا ملے گی۔

ابّو جب بھی چھپرہ یا مظفرپور جاتے اپنے دونوں دوستوں سے ضرور ملتے، کئی بار وہ بھی اُن کے ساتھ چھپرہ اور مظفرپور گیا، مولانا شفیع داؤدی صاحب اُسے بہت پیار کرتے تھے اور جب بھی دیکھتے بلا کر اپنی گود میں بٹھا لیتے۔ اُن کی خواہش تھی کہ اُن کے لڑکے حبیب الرحمن داؤدی کی شادی اُس کی منجھلی بہن سے ہو جائے، یہ ممکن نہ ہوا، اللہ کو منظور نہ تھا--- جب پاکوڑ سے بھائی جان کی بارات ابّو کی علالت (حالانکہ ان کا انتقال ہو چکا تھا) کی خبر سن کر واپس آ رہی تھی تو مولانا شفیع داؤدی صاحب مظفرپور ریلوے اسٹیشن پر رات کے دو بجے کھڑے تھے، اُن کی محبت اور شفقت سے سب ہمیشہ متاثر رہے۔



سولہ

 ۱۹۴۲ء میں اپنی چھوٹی باجی کے شوہر محمد علی صاحب مرحوم کے ساتھ پہلی بار کلکتہ گیا تھا، اپنے خوابوں کے شہر کو پہلی بار دیکھا اور بے حد متاثر ہوا۔
سہراب مودی کی فلم ’پکار‘ دیکھی جو منروا  سنیماہال میں لگی ہوئی تھی، پیراڈائز میں ’کنگن‘ دیکھی، یہ دونوں اپنے وقت کی مشہور فلمیں تھیں ، محمد علی صاحب کے ایک عزیز کے ساتھ مشہور اداکار نواب سے ملنے گیا جن کے متعلّق یہ مشہور تھا کہ فلم ’’یہودی کی لڑکی‘‘ کی کہانی کے پیشِ نظر انھوں نے اپنے تمام دانت نکلوا دیئے تھے، اُس نے دیکھا اُن کے دانت ٹھیک ٹھاک تھے، ممکن ہے یہ نقلی دانت ہوں ، اتفاق سے وہیں کے۔ایل۔سہگل صاحب آ گئے، انھیں دیکھ کر بہت خوش ہوا۔ اُن کے کئی گانے سن چکا تھا اور ان کی کئی فلمیں بھی دیکھ چکا تھا۔ کچھ دیر بیٹھے، نواب سے باتیں کرتے رہے، نواب انھیں کچھ سمجھا رہے تھے، کچھ اس طرح کہ تم ایسا نہ کرو تو اچھا ہے وغیرہ وغیرہ۔جانے کیا بات تھی، کون سا مسئلہ تھا، اُس کو سمجھ میں کچھ نہیں آیا، نواب نے تیسرے دن اُسے ’نیو تھیٹرز‘ کی سیر کرائی اور دِکھایا کہ فلموں کی شوٹنگ کس طرح ہوتی ہے، اُس وقت کسی بنگالی فلم کی شوٹنگ ہو رہی تھی۔ ایک ماہ رہا اور خوب سیر کی۔ ’وکٹوریہ میموریل‘ اور ’عجائب گھر‘ سے بہت متاثر ہوا۔ یہ پہلا میوزیم تھا کہ جسے اُس نے دیکھا تھا۔

محمد علی صاحب کے بڑے بھائی محمود علی صاحب مرحوم نے اُسے ہمیشہ عزیز رکھا، بہت ذہین تھے، بنگال اور بہار کی تاریخ سے باخبر تھے، اکثر کھانے کے ٹیبل پر کوئی نہ کوئی سوال کرتے اور پھر خود ہی جواب دے کر علم میں اضافہ کرتے، اُسے یاد ہے انھوں نے پوچھا تھا ’’پٹنہ کا گول گھر کیوں بنا تھا؟‘‘
اُس نے ’گول گھر‘ کو کئی بار دیکھا تھا لیکن کبھی یہ نہیں سوچا تھا کہ ایسی عجیب و غریب چیز کیوں وجود میں آئی، انھوں نے بتایا تھا کہ انگریزوں نے صرف اناج جمع کرنے کے لیے بنایا تھا۔ غریب کسانوں سے اناج وصول کر کے اس کے اندر جمع کیا جاتا رہا ہے۔ بہار کے کسانوں کی محنت کی کمائی انگریز زبردستی لے لیتے اور ’گول گھر‘ کا پیٹ بھرتے، ہوا یہ کہ اس کا دروازہ غلط بنا، دروازہ اندر کی جانب کھلتا ہے لہٰذا ’گول گھر‘ کبھی اُوپر تک نہیں بھرا، اوپر سے ایک بڑا سوراخ ہے کہ جس سے اناج اندر ڈالا جاتا تھا۔ غور کرو تو لگتا ہے جیسے منہ کھولے اناج مانگتا جا رہا ہے، صرف ’گول گھر‘ سے بہار میں برطانوی حکومت کے ظلم و ستم اور سفاکانہ رویے کو سمجھا جا سکتا ہے۔

محمود بھائی سے یہ بھی معلوم ہوا کہ بہار سے چین افیون بھیجنے کا ایک طویل سلسلہ قائم رہا ہے۔ اچھے چاول اسکاٹ لینڈ جاتے رہے ہیں ، انگریزوں نے افیون اور چاول کی تجارت کر کے بڑا فائدہ حاصل کیا اور بہار کے کسانوں اور کاشتکاروں کو ہمیشہ غربت کی زندگی نصیب ہوئی۔ ایسٹ انڈیا کمپنی نے بہار کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا اور جس چیز کی تجارت میں فائدہ دیکھا اُسے حاصل کر کے رہے، اچھے چاول جو بہار کے مختلف علاقوں سے حاصل کیے جاتے اسکاٹ لینڈ جاتے رہے، یہی وجہ ہے کہ اسکاٹ لینڈ میں ایک چھوٹے سے قصبے کا نام آج بھی ’پٹنہ‘ ہے، یہ چاول وہیں پہنچتے تھے۔
یہ اُس کا پہلا یادگار سفر تھا کہ جس میں اُس نے خود کو بہت آزاد محسوس کیا تھا! ۴۳-۱۹۴۲ء میں وہ ’ہیکوک اکاڈمی‘ (اب نام تبدیل ہو گیا ہے) میں تعلیم حاصل کر رہا تھا۔ جب چھٹے درجے میں تھا تو اُردو نصاب میں چند غزلیں اور نظمیں بھی تھیں ۔ مولوی اطہر حسین صاحب اُردو پڑھاتے تھے، ایک ماہ کی چھٹی لے کر گئے تو اُن کی جگہ شہر کے ایک نوجوان حکیم صاحب کی خدمات حاصل کی گئیں ۔ وہ حکیم بھی تھے اور شاعر بھی، نوجوانی میں صوم و صلوٰۃ کے بڑے پابند تھے، پانچوں وقت نماز پڑھتے، سرپر ہلکی ٹوپی ہوتی، انگرکھا پہنے رہتے، بہت پیارے لگتے۔ ہر شعر میں تصوّف ہی کا کوئی موضوع ہوتا، مشاعروں میں بھی شرکت کرتے تھے، جب چلتے تو لچکتے ہوئے یہی وجہ تھی کہ اُن کا نام حکیم لچکا پڑ گیا، وہ اسی نام سے جانے پہچانے لگے، عجیب بات یہ تھی کہ شہر میں جتنے حکیم تھے سب کسی نہ کسی نام سے ’معروف‘ تھے، جہاں تک اُسے یاد ہے ہر ایسا نام اُس کی حویلی ہی سے ملا تھا، اُس کے دو بڑے بھائی بھی کم ستم ظریف نہ تھے، عنایت الرحمن بھائی میں مزاح کا مادّہ بھی کم نہ تھا،کچھ لوگوں سے انتہائی لطیف چٹکیاں لیتے تھے اور لاجواب کر دیتے تھے، ایک ’حکیم ناشتہ‘ تھے جو عموماً صبح کے ناشتے کے وقت حویلی پہنچ جاتے تھے، دوسرے ’حکیم معجون‘ تھے اس لیے کہ اِدھر کسی نے اپنا حال سنایا اور کوئی نہ کوئی معجون تجویز کر دی گئی اس شرط کے ساتھ کہ حکیم صاحب خود ہی معجون تیار کریں گے۔

’حکیم لچکا صاحب‘ اُردو پڑھانے آئے، غزل کا ہر شعر رُومانی ہی ہوتا اور اُن کی پریشانی بڑھ جاتی، اشعار کی تشریح کریں تو بھلا کس طرح، شعر سامنے آیا ’’یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصالِ یار ہوتا۔۔۔‘‘ چہرہ سرخ ہو گیا، گورے چٹّے تو تھے ہی، سرخی آئی تو بس چہرہ ہی کچھ اور ہو گیا۔ چند لمحے زبان بند رہی پھر کہا: ’’کاٹ دو یہ شعر، لاحول ولاقوۃ، بچوں کے نصاب میں ایسے اشعار!‘‘
اور سب نے قلم سے اس شعر کو کاٹ دیا۔ 
شعر آیا ’’بازار سے گزرا ہوں خریدار نہیں ہوں ۔‘‘ اس طرح شرمائے جیسے اُنھیں بازار میں اچانک کسی نے دیکھ لیا ہو، کلاس میں لچکے اور کہا ’’لاحول ولاقوۃ، اللہ توبہ، اللہ توبہ!‘‘ اپنے دونوں گال پر ہاتھ مارے اور حکم دیا ’’اسے کاٹ دو،بہت ہی بے شرم شاعر ہے، بازار کی بات کرتا ہے۔ اللہ توبہ، اللہ توبہ!‘‘
اور وہ شعر بھی کٹ گیا۔
ایک ماہ میں جتنے کلاس لیے ہر کلاس میں بس اشعار کٹتے رہے، بہت کم ایسے اشعار تھے جن کی تشریحیں ہوئیں ۔
جب مولوی اطہر حسین صاحب تشریف لائے تو پوچھا (ناک سے بولتے تھے، ان کے بارے میں مشہور تھا افیون پیتے ہیں ، مشاعروں میں استاد شاعر تصوّر کیے جاتے تھے، کلاسیکی رنگ میں شاعری کرتے تھے) ’’کہاں تک پڑھ چکے ہیں آپ لوگ؟‘‘
’’سر وہیں تک، یہ سمجھئے بس وہیں تک کہ جہاں تک آپ چھوڑ گئے تھے۔‘‘ ایک طالب علم نے جواب دیا۔
’’بھلا کیوں ؟ حکیم صاحب نے کچھ نہیں پڑھایا؟ مفت کی تنخواہ لے گئے؟ ایسا کبھی نہیں ہو سکتا۔‘‘ انھیں یقین تھا کہ سب جھوٹ بول رہے ہیں ۔
’’انھوں نے بہت اچھا کیا سر، پچیس اشعار کٹوا دیئے، اب امتحان میں بھی یہ اشعار نہیں آئیں گے۔‘‘ ایک دوسرے طالب علم نے لہک کر کہا۔
’’اُلّو، گدھے، نالائق، کیا بکتا ہے، اشعار کٹوا دیئے، کتاب سے اشعار کٹوا دیئے، کیوں --- کیوں ؟ کہاں ہیں تم لوگوں کی کتابیں ، ادھر لاؤ۔‘‘ بہت غصّے میں تھے۔
’’نہیں معلوم سر کیوں کٹوا دیئے اتنے اشعار، دیکھئے نا، آپ خود ہی دیکھ لیجیے۔‘‘ اُس نے نصاب کی کتاب کھول کر مولوی اطہر حسین صاحب کے سامنے رکھ دی اور پھر ایک کے بعد دوسرا طالب علم کتاب ٹیبل پر اُن کے سامنے رکھتا گیا۔
’’دیکھئے یہ شعر، یہ دیکھئے، اسے دیکھئے، یہ بھی دیکھئے، آپ کو یقین نہیں آتا سر، سب کی کتابوں کا یہی حال ہے۔‘‘
انھوں نے غور سے دیکھا، پھر ہر طالب علم کی کتاب پر نظر ڈالی اور اچانک ایک جھٹکے کے ساتھ اپنی کرسی پر بیٹھ کر سر پیٹنے لگے اور پھر ایک گھونسا مارا اپنے سینے پر اور چیخ پڑے ’’یا مولا!‘‘
آنکھیں بند کر کے نیم دراز ہو گئے۔
پانی پلایا گیا تو آنکھیں کھلیں کہا ’’آج کی کلاس ختم!‘‘

اسکول (ہیکاک اکیڈمی) میں جن اساتذہ سے تعلیم حاصل کی اُن میں بعض عالم تھے، جب پڑھاتے تو لگتا جیسے اندھیرے میں روشنی پھیلتی جا رہی ہے۔ حبیب الرحمن صاحب تھے جو ہندوستان اور انگلستان کی تاریخ پڑھاتے تھے، گنیش بابو تھے جو علم الحساب کے ٹیچر تھے، مولوی عبد الجلیل صاحب تھے جو انگریزی زبان کے معروف استاد تھے، سریواستو بھی تھے جو اُردو زبان اور خصوصاً اُردو شاعری سے گہری دلچسپی رکھتے تھے، ہیڈ ماسٹر  کیلاش پتی مصرجی انگریزی زبان و ادب کے استاد تھے، وہ خوش قسمت تھا کہ اتنے اچھے اساتذہ کے قریب تھا۔

حکیم صاحب کے علاوہ تین اور استادوں کو بھی فراموش نہیں کر سکتا۔ ان میں ایک تھے دیو نارائن دوبے جی پانچویں کلاس کے ٹیچر تھے، اُن کی آنکھیں عموماً بند رہتی تھیں ، آنکھیں بند کر کے بولتے اور آنکھیں بند کر کے سنتے، کلاس روم میں آئے، کرسی پر بیٹھے،حاضری لی، سوال دیئے اور آنکھیں بند کر لیں ،پھر سو گئے، جب جاگے تو کاپیاں طلب کیں ، کب جاگ رہے ہیں کب سو رہے ہیں پتہ ہی نہیں چلتا، ایسا شخص کبھی کبھی بڑا خطرناک ثابت ہو جاتا ہے، آنکھیں بند کیے کیے اچانک زور سے کہتے ’’ہوں !‘‘ تو سب لرز جاتے، ایک بید رہتی تھی ہر وقت ساتھ، جب خواہش ہوئی جب موڈ آیا پیٹ دیا، کسی کو پیٹتے ہوئے آنکھیں بند رہتیں ، ایسا بھی ہوتا کہ مار کھانے والا طالب علم آہستہ سے اپنی جگہ سے ہٹ جاتا اور دوبے جی کی بید بینچ ٹیبل پر مسلسل پڑتی رہتی، اور ایسا بھی ہوا ہے انھوں نے ان غریبوں کو پیٹ کر رکھ دیا جو صحیح جواب لکھتے، آنکھیں بند کیے ہوئے پاس بیٹھے ہوئے بے قصوروں کی مرمت کر دیتے اور یہ بتانے پر بھی کہ وہ غلط شخص کو پیٹ رہے ہیں کچھ نہیں سنتے، ذرا شور ہوتا تمام طلبہ کو بنچ پر کھڑا کر دیتے اور خود سو جاتے۔

پانچویں سے ساتویں جماعت تک ایک صاحب اُردو پڑھاتے تھے، میاں جی مشہور تھے۔ سال کا کورس چٹکی بجا کر ایک ماہ کے اندر ختم کر دیتے۔ ایک کلاس لیتے اور پانچ چھ غزلیں ختم ہو جاتیں ، غزلیں اس طرح سمجھاتے:
دلِ ناداں تجھے ہوا کیا ہے
آخر اس درد کی دوا کیا ہے
’’شاعر کہتا ہے دل ناداں آخر تجھے کیا ہوا ہے، اس درد کی آخر دوا کیا ہے، آگے چلو۔‘‘
ہم ہیں مشتاق اور وہ بیزار
یا الٰہی ! یہ ماجرا کیا ہے
’’شاعر کہتا ہے کہ ہم مشتاق ہیں اور وہ بیزار، یا الٰہی یہ ماجرا کیا ہے، آگے چلو۔‘‘
کوئی اُمید بر نہیں آتی
کوئی صورت نظر نہیں آتی
’’بہت آسان شعر ہے، شاعر کہتا ہے کوئی امید بر نہیں آتی اور کوئی صورت نظر نہیں آتی، آگے چلو۔‘‘
لڑکے اُنھیں دیکھتے تو کہتے ’’میاں جی آ رہے ہیں آگے چلو!‘‘ پھر سب آواز سے آواز ملا کر کہتے ’’آگے چلو، آگے چلو۔‘‘

تیسرے تھے انگریزی شاعری پڑھانے والے اُستاد کیلاش مصرجی، نصاب میں ایک نظم تھی ’جان گلپن‘ (John Gilpin)، سال بھر بس وہی ایک نظم پڑھاتے تھے، دوسری کسی نظم کو پڑھنے کا وقت ہی نہیں آتا، برسوں سے یہ سلسلہ جاری تھا، سب جانتے تھے۔ اُسی طالبِ علم سے آخر میں خوش ہوتے جسے ’جان گلپن‘ یاد ہو جاتی۔ آج بھی اُسے اُس نظم کے کئی بند یاد ہیں خصوصاً وہ مصرعہ تو وہ بھولتا ہی نہیں :
'Away went Gilpin, away went hat!'
انگریزی نظموں کو پڑھنے کے لیے سب کسی اور اُستاد کے پاس جاتے ورنہ اُن کا پاس ہونا مشکل تھا، ایک نظم پڑھ کر بھلا امتحان کس طرح دیا جا سکتا تھا۔ مصرجی اُس زمانے میں اکثر سوٹ پہن کر آتے، ٹائی بھی ہوتی اور ہیٹ بھی، چھاتا ضرور ہوتا موسم سردی کا ہو، گرمی کا یا برسات کا، کبھی کھلا ہوا اور کبھی بند، انگریزوں کی طرح بولتے اور گھر میں بھی مغربی انداز اختیار کیے ہوئے تھے، جب ریٹائر ہوئے تو سب بہت روئے، طلبہ انھیں پھولوں کے ہار پہنا کر گیان بابو کے چوک تک لے گئے اور روتے روتے انھیں رخصت کیا، ایسا لگا جیسے مصرجی ہی نہیں گئے ’جان گلپن‘ بھی چلا گیا۔ چوک سے واپس آتے ہوئے طلبہ اسی نظم کا یہ مصرعہ زور زور سے با  ّییٰ،                                                                                                                          جماعت پڑھ رہے تھے:
'Away went gilpin, away went hat!'l ’ہیوک اکیڈمی‘ کی لائبریری بہت اچھی تھی، جہاں بچوں کے لیے بہت سی اچھی اچھی کتابیں تھیں اسی طرح یوروپ میں چھپی ہوئی جانے کتنی کتابیں ’’انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا‘‘ کی تمام جلدیں اُس نے سب سے پہلے اِسی اسکول میں دیکھی تھیں ۔ اس کے لائبریرین بہت پرانے تھے، اس پر بہت مہربان تھے، وہ اکثر ان کے پاس بیٹھتا اور اُن کے مشوروں سے کتابوں اور اُن کی تصویروں کو دیکھتا، تصویروں والی کہانیوں کی کتابیں پڑھتا، اس طرح یوروپ کی بہت سی کہانیاں اُسے یاد ہو گئی تھیں ، پرندوں اور جانوروں کی کہانیاں ، کئی لوک کہانیاں ، یونانی دیوتاؤں کی کہانیاں ، پریوں کی کہانیاں ، لائبریرین ہندو تھے لیکن ’بائبل‘ کے عاشق تھے، ’بائبل‘ پڑھتے اور اس کے بعض قصّے اُسے بھی سناتے، اُس کی دلچسپی اِس طرح بڑھی کہ کالج میں آنے کے بعد ’بائبل‘ پڑھنا شروع کر دیا اور پروفیسر مکرجی سے مدد لینے لگا۔ اسکول کے زمانے میں کئی ایسی فلمیں دیکھیں کہ جن کی حیثیت کلاسیکی ہو گئی مثلاً ’اچھوت کنیا‘، ’یہودی کی لڑکی‘، ’پکار‘، ’کنگن‘، ’جیلر‘، ’بندھن‘، ’قسمت‘، ’سکندر‘، ’سنت گیانیشور‘، ’سنت تلسی داس‘، ’پریذیڈنٹ‘، ’دیوداس‘ وغیرہ۔ اُسی زمانے میں ایک فلم دیکھی جس کا نام اُسے یاد نہیں ، موسیقی اُستاد جھنڈے خاں کی تھی، اس موسیقی کا اس پر جانے کیا اثر ہوا کہ وہ کلاسیکی موسیقی پسند کرنے لگا۔ کلاسیکی موسیقی کے ایسے آہنگ سے کان پہلی بار آشنا ہوئے تھے، صرف موسیقی کے لیے اُس نے یہ فلم کئی بار دیکھی، پھر حالت یہ ہو گئی کہ جب بھی سنا کہیں کلاسیکی موسیقی یا پکے گانوں کے استاد آئے ہیں دوڑ گیا، اکثر رات بھر بیٹھ کر استادوں کو سنتا رہا، کچھ سمجھ میں نہیں آتا لیکن آوازوں کے نشیب و فراز اور آہنگ سے بے حد متاثر ہوتا تھا، کلاسیکی موسیقی اور پکے گانوں کو سن کر ایسا لگتا جیسے اس کے وجود میں کہیں کوئی کمی رہ گئی تھی جو پوری ہو رہی ہے، جانے کیسی کیفیت طاری ہو جاتی تھی، اس کے بعد تو کلاسیکی موسیقی اور پکے گانوں کے تئیں زیادہ بیدار ہوتا گیا۔ اُس کی چھوٹی بہن عطیہ کے شوہر غلام عبدالستار کلاسیکی موسیقی کے عاشق تھے، خود بھی گاتے تھے، اُن کے گھر میں اس کی روایت رہی ہے، شاہجہاں صاحب اُن کے بڑے بھائی تھے جو پکے گانوں کے استاد تھے، استادوں کے ریکارڈ رکھتے تھے۔ غلام عبدالستار نے اُس کے اس شوق کو اور بڑھایا۔ وہ بازار سے بڑے بڑے استادوں کے ریکارڈ خرید کر لاتا اور انھیں سنتا۔ ۲۷ مارچ ۱۹۷۵ء میں اس نے اپنے نوٹ بک پر لکھا تھا:
 ’’ہندوستانی کلاسیکی موسیقی سن کر مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے
کسی نے مجھ پر جادو کر دیا ہے
بہت کم سمجھتا ہوں 
لیکن جب کسی استاد کے الاپ اور تان کے ساتھ
کلاسیکی موسیقی سنتا ہوں 
میرا ’نروس سسٹم‘ متاثر ہونے لگتا ہے
اور ایسا لگتا ہے کہ
موسیقی کی لہروں کے جمنے کے لیے
میرے وجود کی گہرائیوں میں ایسی سطحیں پہلے سے موجود ہیں 
بعض نغموں کو سنتے ہوئے
اندر سے باہر اُبھرنے لگتا ہوں 
میری سانسوں سے اِس موسیقی کا آہنگ ایک پراسرار رشتہ قائم کر لیتا ہے!

بی۔اے کے پہلے سال میں تھا
میری چھوٹی بہن عطیہ کے شوہر غلام عبدالستار میرے بہت قریب ہو گئے تھے وہ پکے گانوں کے عاشق ہیں ، خود بھی گاتے ہیں ۔
ہندوستانی کلاسیکی موسیقی کے بعض اچھے استاد اُن کے گھر آتے رہے ہیں 
اُن کے بڑے بھائیوں (شاہجہاں بھائی اور شہریار بھائی) کو کلاسیکی موسیقی سے عشق رہا ہے۔
غلام عبدالستار ہی ہیں جنھوں نے
مجھے کلاسیکی گیتوں کے بول اور اُن کے آہنگ کی طرف مائل کیا۔
فیاض خاں اور اُن کے نغموں سے اُسی زمانے میں آشنا ہوا
اُن کے ریکارڈ خریدے اور اُن میں ایسی کشش محسوس ہوئی
کہ فرصت کے لمحوں میں انھیں خوب سنتا رہا
آہستہ آہستہ
بعض راگوں اور راگنیوں کو پہچاننے لگا!

فلم ’چتر لیکھا‘ بار بار دیکھی
صرف اس لیے کہ اس کی موسیقی نے مجھے بہت متاثر کیا تھا
پھر نوشاد علی کو پسند کرنے لگا
اُن کی موسیقی کی بنیاد چونکہ ہندوستانی موسیقی پر تھی
اس لیے اُس کی لہروں سے متاثر ہوتا تھا
فیاض خاں کی آواز سن کر اب بھی ایسا لگتا ہے جیسے
فطرت کی آزاد فضاؤں سے بہت قریب ہو گیا ہوں 
کبھی اُن کی آواز
پہاڑوں سے ٹکرا کر گونجنے والی انتہائی پراسرار لگتی ہے
اور کبھی یہ محسوس ہوتا ہے جیسے
میرے احساسات کا آہنگ
پراسرار ہواؤں اور لطیف خوشبوؤں میں جذب ہو گیا ہے۔

ہندوستانی گھرانوں کی باتیں سنتا تھا
لیکن اُن کے متعلق معلومات حاصل نہ تھیں 
البتہ یہ محسوس کرتا تھا کہ اپنے ملک میں 
کلاسیکی موسیقی کی کچھ عمدہ روایتیں اب بھی موجود ہیں 
کہ جن کا تحفظ فنکاروں نے اپنے اپنے طور پر کیا ہے
جب بعض گھرانوں سے واقف ہوا
تو ایسا لگا کہ ہر گھرانے نے کچھ پوشیدہ اور پراسرار آہنگ کا تحفظ کیا ہے
انھیں زندہ رکھا ہے
ہر گھرانے کے نغموں کا جادو
اُن کی تیزی اور شدّت
اُن کی اثر پذیری
اور باطن کی زرخیزی
مختلف ہے!
’خیال‘ ہو یا ’ٹھمری‘
’پٹاّ‘ ہو یا ’راگ مالیکا‘
’دھرپد‘ ہو یا ’کھجری‘
’ملہار‘ ہو یا ’مالکوس‘
ہر گھرانہ ان میں اپنا منفرد جادو جگاتا ہے
اس سچائی کی دریافت
میرا تجربہ ہے!

یہ دریافت میرے لیے اہم بن گئی
اور میں نے
خان صاحب عبدالکریم خان
علاء الدین خان
وشنو دیگھمبر پالیکر، پنڈت بھاٹ کھنڈے اور امیر خاں وغیرہ کے نغموں کے ذریعہ گھرانوں کے مختلف جادوؤں کو اپنے طور پر سمجھنا شروع کیا
اور ہمیشہ ایسی جمالیاتی آسودگی حاصل کی
کہ دوسری کوئی مثال میرے سامنے نہیں !
کرنا گھرانے کے لمبے الاپ اور گہری تان کے ساتھ
اچانک خود کو اپنے ملک کے اُونچے اُونچے پہاڑوں 
بہتی ندیوں 
خاموش اور پراسرار جنگلوں کے قریب پایا ہے
اور ایسا لگا ہے جیسے
صدیوں پرانا کوئی جوگی ہوں ، کسی گہرے تاریک جنگل میں آنکھیں بند کیے ہوئے
ایک پرانے گھنے پیڑ کے نیچے گم سم!
باطن میں اُڑنے کا احساس شدّت سے جاگا ہے
اور گہری تان کے درمیان بہت کم سرگم کو پا کر
اُڑتے ہوئے بہت کم کہیں بیٹھا ہوں !

اسی طرح
گوالیار گھرانے کے تیز الاپ اور جلد رونما ہونے والے سرگم سے
لگا ہے کہ اچانک زندگی تیز کام ہو گئی ہے
ہوائیں تیز ہو گئی ہیں 
زندگی کی پراسراریت ٹوٹتی جا رہی ہے
تیز بہاؤ میں بہنے لگا ہوں 
اور منزلیں 
تیزی سے پیچھے بھاگتی جا رہی ہیں !

جے پور گھرانے کے نغموں میں 
تان میں جو تسلسل ہے
اُس سے
بلندیوں پر جانے کہاں پہنچ جاتا ہوں 
اور اس کا آہنگ
میری طاقت بن جاتا ہے!
کبھی باطن میں بے اختیار اُترتا ہوں ، جانے کن گہرائیوں میں 
اور اُس وقت بھی
اُس کا آہنگ مجھے متوازن رکھتا ہے!

دو عظیم قوموں کی تہذیبی اور جذباتی آمیزش کے جلوے
کلاسیکی موسیقی میں ہیں 
اُن سے
اپنی مٹی کے آہنگ سے رشتہ قائم کیا ہے
کلاسیکیت کی رُوح
اور اعلیٰ روایتوں کی روشنیوں سے میرے عشق و محبت کی ایک وجہ ممکن ہے یہ بھی ہو!
(مطبوعہ نوٹ بک ۲۷-۳-۷۵ء)

 اُس دَور میں سلوچنا، مادھوری، کانن دیوی، سہگل، ڈی بلموریا، ای بلموریا، سہراب مودی، پری چہرہ نسیم، نادرہ، گوپ، موتی لال، چارلی، نواب، بردا، کے۔سی۔ڈے، اشوک کمار، لیلا  چٹنس، یعقوب، دیویکارانی، مرزا مشرف، نورجہاں وغیرہ کو سب پہچانتے تھے۔ ڈی بلموریا اور سلوچنا کی فلمیں بہت مقبول تھیں ، بچوں اور نوجوانوں کو نقاب پوش بلموریا بہت متاثر کرتا تھا، چارلی کی اداکاری سب کو ہنساتی تھی، سہگل کے گانے بہت مقبول تھے، ’دیو داس‘ کے بعد تو سب پر جیسے سہگل کے کر دار اور اُس کی آواز کا جادو چل گیا تھا، عورتیں کانن دیوی اور اس کے بعد نسیم کے بالوں کی اسٹائل کی نقل کرنے لگی تھیں ، ہندو صنمیات کے کھیل بہت مقبول تھے اور ساتھ ہی بلموریا کی مار پیٹ کی فلمیں رش لیتی تھیں (آج ہندوستانی فلمیں ایک بار پھر ان ہی موضوعات پر آ گئی ہیں ) اُسے یاد ہے جب ’بھرت ملاپ‘، ’سنت تلسی داس‘ اور ’سنت گیانیشور‘ جیسی فلمیں آئی تھیں تو جیسے تمام گاؤں کے لوگ ٹوٹ پڑے تھے، بیل گاڑیوں کی لمبی قطاریں سینما ہال کے قریب لگی رہتیں ، اسکرین پر جب رام، لکشمن، بھرت، تلسی داس اور گیانیشور نظر آتے تو ہال میں بیٹھے لوگ نہایت ادب سے پرنام کرتے اور اکثر نعرے لگاتے۔

اُسی زمانے میں ’حاتم طائی‘ آئی تھی، سات حصوں پر مشتمل، فلم رات بھر چلتی، نو بجے شب شروع ہوتی تو چھ بجے صبح ختم ہوتی، وہ بھی اپنے دو دوستوں کے ساتھ ’حاتم طائی‘ دیکھنے گیا۔ بہت دلچسپ فلم تھی، جب پہلا قصہ ختم ہوا اور ہال میں روشنی ہوئی تو دیکھا آخری کلاس میں بہت آگے دیو نارائن دوبے جی بیٹھے ہوئے ہیں ۔ وہی دوبے جی جو کلاس میں آنکھیں بند کر کے بیٹھے رہتے تھے اور آنکھیں بند کر کے سزا دیتے تھے، اپنے استاد کو آخری کلاس میں اس طرح بیٹھے دیکھ کر سب حیرت زدہ تھے، زیادہ حیرت اس بات پر تھی کہ اُن کی آنکھیں کھلی ہوئی تھیں ،آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر پورے ہال کا جائزہ لے رہے تھے اور مونگ پھلیاں کھا رہے تھے، اُسے اور اُس کے دوستوں کو یہ خوف کھائے جا رہا تھا ایسا نہ ہو وہ تینوں کو دیکھ لیں ، صبح یقیناً پٹائی ہو جائے گی، صبح جب فلم ختم ہوئی تو تینوں اُن کی آنکھیں بچا کر بھاگ گئے۔

’حاتم طائی‘ میں ایک ایسا فوق الفطری کر دار تھا جو اپنی مخصوص آواز سے حاتم کو اپنی جانب کھینچتا تھا اور یہ آواز تھی ’یاخی، یاخی!‘‘ گلی کوچوں میں لوگ ’یاخی یاخی‘ کرنے لگے تھے، اب جو دیونارائن دوبے جی کلاس میں سوئے اور خرّاٹے کی آواز سنائی دی تو کلاس میں ’یاخی یاخی‘ کی آواز آہستہ آہستہ اُبھرنے لگی اور اچانک تمام طلبہ کی آوازیں مل کر تیز ہو گئیں ، دوبے جی بیدار ہو گئے، غالباً انھوں نے یہ آواز سن لی تھی، کھڑے ہو کر سب کو اپنی بید سے پیٹنے لگے اور آنکھیں بند کر کے کہتے گئے ’’رات بھر حاتم طائی دیکھتا ہے اور صبح ’یاخی یاخی‘ کرتا ہے۔‘‘
اُس دن سب کی پٹائی ہوئی اور خوب ہوئی۔


سترہ

 حویلی کی پہلی منزل پر پہنچنے کے لیے شمال کی جانب سے بھی زینے ہیں اور جنوب کی طرف سے بھی،
وہ جنوبی زینے کے قریب آیا اور آہستہ آہستہ سیڑھیاں چڑھنے لگا۔
سوچ رہا تھا
اِن سیڑھیوں سے کتنا پُرانا رشتہ ہے!
اِن پر کھیلتا رہا ہے، آنکھ مچولی کھیلتے ہوئے اپنے ننّھے ننّھے دوستوں کے ساتھ یہاں سے کتنی بار اوپر گیا اور نیچے آیا، دوپہر میں کبھی کبھی اس کے درمیانی چوڑے زینے کو اسٹیج بنا کر ڈرامے کرتا رہا ہے، ناظرین نیچے بیٹھتے اور اپنی چھوٹی چھوٹی گردن اُٹھائے کھیل دیکھتے، کبھی راجہ چندر گپت تخت پر بیٹھا نظر آتا اور کبھی ٹیپو سلطان، اس کے ساتھ
کتنے خیالی اور تصوّراتی کر دار ہوتے، وہی تنہا مختلف کر داروں میں ظاہر ہوتا اور مختلف مکالمے ادا کرتا، تلواریں اِس طرح چلتیں جیسے اسٹیج پر صرف ایک تنہا کر دار نہیں جانے کتنے کر دار ہیں ،
اچانک یاد آیا
یہی وہ سیڑھیاں ہیں نا کہ جن پر حویلی کے کچھ لوگوں کو پچھواڑے کے کنویں کا جن نظر آیا تھا، ایک چیخ گونجتی اور تمام لوگ اِس طرف دوڑے آتے ’’کیا ہوا؟ کیا ہوا؟‘‘
’’کیا ہو گیا آخر؟‘‘
واقعی
کیا ہو گیا آخر؟
پہلی منزل پر آتے ہی بائیں جانب کے کمرے پر نظر پڑی، دروازے کے دونوں پٹ کھلے ہوئے تھے، کمرہ سائیں سائیں کر رہا تھا، ’’جانے کب سے غیرآباد ہے!‘‘
۱۹۳۴ء کے زلزلے سے قبل یہ عنایت الرحمن بھائی اور پیاری بھابی کا کمرہ تھا۔
۱۹۴۰ء میں اُس کی چھوٹی باجی کا کمرہ تھا، اُن کی شادی کے بعد وہ خود اِس کمرے میں رہنے لگا تھا،
اندر داخل ہوا
یہاں اُس کا پلنگ تھا، اُس مقام پر شیشے کی ایک الماری تھی جس میں اُس کی کتابیں تھیں اور اُس طرف ایک بڑا ٹیبل تھا، اس کے پاس ہی تو ایک کرسی پر بیٹھ کر لکھتا پڑھتا تھا، کالج کے زمانے میں اِسی کمرے میں لکھتا پڑھتا رہا ہے۔ اپنے کئی ابتدائی مضامین اِسی کمرے میں لکھے مثلاً ’ادب اور نفسیات‘، ’فسادات اور اُردو ادب‘، ’کلیم الدین احمد کی تنقید نگاری‘، ’اُردو غزل‘ وغیرہ۔ اِن میں چند ’نگار‘ لکھنؤ میں بھی شائع ہوئے۔ اُس وقت وہ انٹرمیڈیٹ اور بی۔اے سال اوّل کا طالب علم تھا۔

اِسی کمرے میں چھپ چھپ کر ’داستانِ امیر حمزہ‘ پڑھتا تھا۔ آہستہ آہستہ کئی جلدیں پڑھ گیا۔ اُس وقت میٹرک پاس کیا تھا اور انٹرمیڈیٹ میں داخلہ لیا تھا، جانے کب سے ’داستانِ امیر حمزہ‘ کی یہ جلدیں ’نعمت خانے‘ میں پڑی تھیں ۔ ان کی گرد بھی عرصہ سے صاف نہیں کی گئی تھی، وہ تمام جلدیں اُٹھا لایا، اُنھیں جھاڑا صاف کیا، اپنی الماری میں رکھا، ابّو کے زمانے میں ان کی کتنی اہمیت تھی، اب تو ان کی جانب کوئی دیکھتا ہی نہ تھا، ہر جلد کو رحل پر رکھ کر پڑھتا اس لیے کہ ’سائز‘ بڑی تھی اور وزن بھی کم نہ تھا۔

’داستانِ امیر حمزہ‘ اور ’طلسم ہوش رُبا‘ نے زندگی کو کئی انداز سے سمجھایا۔ اِن داستانوں نے اُسے جو کچھ دیا ہے ابھی تک اُن کے اظہار کا موقع نہیں ملا ہے۔ ایسے شخص کی تلاش میں ہے جو اُس کے ساتھ مل کر ان کے اسالیب کی مختلف صورتوں پر کام کرے اور ان کے تعلق سے تہذیبی مناظر کا تجزیاتی مطالعہ کرے اور افراد اور اشیا و عناصر کی ایک لغت تیار کرے۔

’داستانِ امیر حمزہ‘ اور خصوصاً ’طلسم ہوش رُبا‘ پڑھتے ہوئے ’جادوگر‘ اور ’جادوگرنیاں ‘ سب کو پسند کرتا لیکن سب سے زیادہ عیّار پسند آتے اور عمرو عیّار کا کیا کہنا، عمرو عیّار سے اتنا متاثر ہوا کہ ۱۹۵۲ء میں بچوں کے لیے ایک ناول لکھا ’عمرو عیّار کی واپسی‘ جو ۵۷-۱۹۵۶ء میں شائع ہوا لیکن بہت ہی خراب چھپا۔

اُس نے ’داستانِ امیر حمزہ‘ اور ’طلسم ہوش رُبا‘ پڑھتے ہوئے سینکڑوں محاورے جمع کیے تھے، جو محاورے اُسے پسند آتے نوٹ کر لیتا۔ ۱۹۵۳ء میں جب پٹنہ یونیورسٹی کے اقبال ہوسٹل میں تھا تو ایک صاحب اُس نوٹ بک کو دیکھ کر بے حد متاثر ہوئے اور ایک دن کے لیے مانگ کر لے گئے، خود تو کئی بار ملے لیکن نوٹ بک واپس نہیں ملا، بڑا دُکھ ہوا اُسے اس لیے کہ اب وہ یہ کام نہیں کر سکتا تھا۔

کمرے میں داخل ہوتے ہی امیر حمزہ، افراسیاب، نور الدہر، خمار، برق، صرصر، ناقوس، حیرت، ظلمات، سیارہ، سوگند، حنظل، اجلال، عمرو عیّار، لندھور، مہر نگار اور جانے کتنے کر داروں کو تلاش کرنے لگا، وہ تو انھیں اسی کمرے میں چھوڑ کر گیا تھا کہاں چلے گئے سب! ’داستانِ امیر حمزہ‘ کی وہ جلدیں کہاں چلی گئیں !
اُس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے، یہی تو ایک میراث تھی کہ جسے اُس نے زبردستی چھین لی تھی اپنی حویلی کی تہذیب اور اپنے ابّو کی یادیں اِسی میں تو بند تھیں ۔ کتنی یادیں ان سے وابستہ ہیں !
عمرو بھی اپنی زنبیل لیے جانے کہاں چلا گیا، تمام حیرت انگیز واقعات سمیٹ کر بہت ہی مایوس گیا ہو گا۔ کرتا بھی کیا، اِس حویلی میں وہی تو آخری شخص تھا کہ جس نے ان داستانوں سے ایک تخیلی اور جذباتی رشتہ قائم کر رکھا تھا۔
اِسی کمرے میں تو
عمرو صورت ساحر کے مثل بن کر لشکر یرت میں داخل ہوا تھا اور ایک گوشے میں ٹھہر کر صورت اپنی مثل ایک زن خوبصورت بنائی تھی، گیسوئے مشک فام کو بل دے کر رخساروں پر چھوڑا تھا اور مانگ کو موتیوں سے بھرا تھا، چشم غزال سرمہ آگیں کر کے رخسار تابناک کو گلگونہ کش فرمایا تھا۔
اور یہیں تو
عمرو نے گلیم اوڑھ لیا تھا اور نگاہوں سے گم ہو گیا تھا، فقط سر اور دست و پا ظاہر تھے، اِس طرح ملکہ کے سامنے آیا تھا اور کہا تھا میں بے دھڑ کا شہید ہوں ، تم سب کو کھالوں گا، ملکہ اور خواصوں نے جو یہ صدا سنی اور دیکھا کہ ایک سر اور ہاتھ پاؤں کٹے ہوئے چلے آتے ہیں مارے ڈر کے اوندھے منہ زمین پر گر پڑی تھیں ، عمرو نے غبارِ بے ہوشی سب کے منہ پر مَل دیا تھا کہ سب بے ہوش ہو جائیں ، سب بے ہوش ہوئیں اور جلدی اندر اور باہر سب طرف کے دروازے اس کمرے کے بند کر کے اسی جگہ بیٹھ کر ملکہ کی صورت دیکھ دیکھ کر ویسی ہی اپنی صورت بنائی تھی اور ملکہ کے کپڑے اُتار کر آپ پہنے تھے اور ملکہ کو اُٹھا کر زنبیل میں رکھ لیا تھا۔

اِسی کمرے میں ’طلسم ہوش رُبا‘ سے پلاؤ، قورمہ، زردہ، شیرمال، کباب، باقر خانی آبی اور ہوائی کلچوں کی جانے کیسی کیسی خوشبوئیں اُڑی تھیں ،
اور ایک بار
قارن اور امیر لڑے اور امیر قارن کی چھاتی پر سوار ہوئے، خنجر نکالنا چاہا تو قارن نے کہا اے حمزہ! اگر تو مجھے نہ مارے تو میں تین چیزیں ایسی دوں کہ بادشاہ ہفت کشور کی سرکار میں بھی نہ نکلیں ، امیر نے چھوڑنے کا اقرار کیا تو اُس نے پہلے ایک خنجر نکال کر امیر کو دیا کہ یہ طیمورس دیوبند کی کمر کا ہے اور ایک بازو بند دیا کہ اس میں لعل شب چراغ لگے ہوئے تھے اور ہر لعل وزن میں چالیس مثقال کا تھا اور تیسرا اس پہاڑ میں دفینہ ہے جس میں بے شمار مال ہے، یہ کہہ رہا تھا کہ عمرو بھی آن پہنچا، امیر نے اس کے ہاتھ باندھ کر عمرو کے حوالے کیا کہ وہ دفینہ بتلائے--- باقی داستان شب فردا!

اسی کمرے میں اُس نے اژدہا کی آتش سے تمام جنگل کو سیاہ ہوتے دیکھا تھا، زہرہ بانو کو تلوار کھینچ کر اپنے مرد کا سر کاٹتے ہوئے دیکھا تھا، اور پریوں کو دیکھا تھا کہ وہ کس طرح تلواریں پکڑ کر کافروں کے سر تن سے جدا کر رہی ہیں ، کافروں کے سر تن پر سے اُڑ رہے تھے اور مارنے والے نظر نہیں آ رہے تھے۔
کتنا خوبصورت، دلکش، سحر انگیز اور دلفریب ماضی اُس سے اچانک چھن گیا!
’داستانِ امیر حمزہ‘ پڑھتے پڑھتے اُس کی ایک عجیب عادت ہو گئی تھی، کوئی واقعہ رونما ہوتا تو اِس داستان کے کسی نہ کسی واقعے سے اس کا رشتہ پیدا کر کے انبساط حاصل کرتا، ایک صاب بیمار ہوئے، اُنھیں دیکھنے حکیم صاحب آئے تو اُسے بائیسویں داستان کے حکیم صاحب یاد آ گئے، اُن ہی کی طرح چونکہ انھوں نے بھی دودھ منگوایا تھا اور دودھ میں اپنی دوا ڈال کر مریض کو پلایا تھا اس لیے بائیسویں داستان کی تصویر کچھ اس طرح سامنے آ گئی، دودھ آیا، کئی ناؤ دودھ سے بھروا کر حکیم صاحب نے ’شاہ مہرہ‘ میں ایک سوراخ کیا۔ اس میں ریشمی ڈورہ ڈال کر امیر کے حلق میں اُتار دیا اور ایک ساعت کے بعد نکال کر دودھ میں ڈالا، دودھ فالودہ کی مثال بن کر جم گیا، پھر اس مہرے کو اسی طرح صاحبقران کے منہ میں ڈالا، غرض اسی طرح پانچوں ناؤ کا دودھ جم گیا اور چھٹی ناؤ میں کم اثر کیا، حکیم خوش ہوئے اور ایک کتی کو دودھ پلایا وہ پیتے ہی مرگیا،اِسی طرح مہرے کو امیر کے حلق میں سے نکال کر دودھ میں ڈالتے اور کتوّں کو پلاتے رہے، کتے مر جاتے تھے، جب کتوّں کا مرنا موقوف ہوا تو دو تین مرتبہ مہرہ دودھ میں بدلا گیا تو امیر کو چھینک آئی اور آنکھیں کھول کر کہا الحمدللہ سب حاضرینِ مجلس کو عجیب طرح کی خوشی ہوئی۔
اُس نے مریض سے پوچھا ’’آپ کو چھینک تو نہیں آنے والی ہے؟‘‘ مریض نے گھبرا کر اُس کی جانب دیکھا تو کہا ’’ایک چھینک آ جائے پھر دیکھئے آپ بالکل تندرست ہو جائیں گے۔‘‘

اِس داستان کے کئی نام دوسروں کو دے رکھے تھے، مثلاً حویلی میں کوئی اُس کے لیے نوشیرواں تھا کوئی مہر نگار، کوئی لندھور تھا تو کوئی دیو، ایک تاریک کمرہ کوہِ قاف تھا، جہاں دیو جمع ہوتے تھے، ایک نوکرانی کو قریشیہ سلطانہ سمجھنے لگا تھا اور اُسے یقین تھا کہ وہ بھی کسی دن تلوار کھینچ کر اُن دو تین ملازم دیوؤں کو مارے گی جو اُسے چھیڑتے رہتے ہیں ۔

’سندباد جہازی‘ کے سفر کی داستانیں بچپن میں ہی سنی تھیں ، ’الف لیلہ با تصویر‘ کا ایک پرانا نسخہ آ گیا تو خود پڑھنے لگا، قصّے کے اندر سے قصہ پیدا ہوتا اور جانے کہاں کہاں کا سفر کرتا رہتا، کبھی بغداد میں ہوتا اور کبھی مصر میں ۔ یک چشم قلندر سے ملتا، پہاڑ پر پیتل کا گنبد دیکھتا، راستے میں مردم خور ملتے، اور مردم خور سردار کی آنکھوں میں گرم سلاخ ڈالی جاتی تو وہ محسوس کرتا جیسے وہ بھی کہیں قریب یہ منظر دیکھ رہا ہے۔ اس میں دوسری بھی کئی کہانیاں تھیں ، ’دست بریدہ نوجوان کی کہانی‘، ’درزی کا قصّہ‘، ’کبڑے کا واقعہ‘، ’حجام اور اُس کے بھائیوں کے قصّے‘، ’جن پری کا قصّہ‘، ’علی بابا اور چالیس چوروں کا قصّہ‘ اور جانے کون کون سے قصّے تھے، اب تو اُسے یاد بھی نہیں ۔

نصاب کی کتاب کے علاوہ دوسری کتابوں کو پڑھنے کا شوق بڑھتا ہی جا رہا تھا۔ داستانیں زیادہ پسند آئیں ۔ ’داستانِ رانی کیتکی اور کنور اودے بھان‘ اُسی زمانے میں پڑھی تھی۔ ’جل ترنگ‘ کو جانتا پہچانتا تھا لیکن ’منہ چنگ‘ اور ’کٹ تال‘ کے متعلق اُسے کوئی خبر نہیں تھی لہٰذا ایک دن اپنے ایک بزرگ سے پوچھا ’’منہ چنگ اور کٹ تال کیا ہوتے ہیں ، کون سے باجے ہیں ؟ کیا یہ ساز ہیں ؟‘‘ انھوں نے برا منہ بنایا اور کہا ’’دیکھو جمعہ کی نماز پڑھنے جا رہا ہوں ، ناچ تال ساز کی بات کر کے نیت خراب نہ کرو میری، جاؤ پوچھو کسی گانے ناچنے والے سے۔‘‘ اس داستان کا اندازِ بیان بہت اچھا لگا، لہٰذا وہ اپنی بول چال میں بھی ’آتیاں ‘، ’جاتیاں ‘، ’رُکھائیاں ‘، ’اٹکھیل‘، ’سپھل‘، ’ہووے‘، ’ہودے گا‘، ’سودے گا‘، ’جاوے گا‘ استعمال کرنے لگا، اسی طرح بولتے ہوئے وہ جتنا سنجیدہ رہتا لوگ اُتنا ہی غیر سنجیدہ رہتے۔ حویلی میں ایک خاتون اپنے ننھے سے بچی کو بڑی بے مروّتی کے ساتھ پیٹ رہی تھیں ، اُس سے رہا نہ گیا، آگے بڑھ کر کہا ’’ایسی رُکھائیاں اچھی نہیں ، یہ آپ کیا کر رہی ہیں ۔‘‘ جانے انھوں نے کیا سمجھا اور لگیں رونے، وہ گھبرا گیا، اپنے شوہر سے شکایت کی کہ شکیل نے مجھے گالی دی ہے، اُن کے شوہر نامدار کو سمجھانے میں کچھ وقت تو لگا لیکن سمجھانے کے وہ لمحے قیامت سے کم نہ تھے، خدا جانے انھوں نے اس لفظ کو کس طرح سنا پھر اُس کا جملہ بھی تو بڑا صاف تھا، معصوم جان کی مرمت کرتے ہوئے وہ اپنے ہوش میں کب تھیں ۔ ۱۹۴۲ء میں بھی یہی کمرہ تھا کہ جہاں اُس نے سنا کہ ’’ہندوستان چھوڑ دو‘‘ کی تحریک زور پکڑ چکی ہے۔

اُس کے شہر میں بھی کافی ہنگامہ تھا، موتیہاری ریلوے اسٹیشن پر ’گوروں ‘ کی فوج کا ایک چھوٹا سا کیمپ قائم ہو گیا تھا، شہر کے بھی چند سیاسی لیڈر گرفتار ہو گئے۔ بابو گنیش پرشاد اور اسماعیل وحشی صاحب بھی گرفتار ہو گئے، پٹنہ کے اخباروں سے سیاسی حالات کی خبریں مل رہی تھیں ۔

اب وہ اخباروں کا مطالعہ پابندی سے کرنے لگا تھا، ایک دن جب اپنی بائیسکل پر ریلوے اسٹیشن گیا تو ’گوروں ‘ کے پریڈ کو دیکھ کر جل سا گیا۔
ملک میں کیا ہو رہا ہے، سیاسی رہنما کیا کہہ رہے ہیں یہ سب اخباروں میں تو پڑھ لیتا لیکن یہ بھی چاہتا کہ بزرگوں کے قریب بیٹھ کر ان حالات پر تبصرہ بھی سنے۔ موتیہاری سینما گھر کے سامنے ڈاکٹر شیاما  پرشاد بیٹھتے تھے، وہاں مریضوں کے علاوہ ایسے لوگ بھی آ جاتے جو سیاسی مسائل پر گفتگو اور تبادلۂ خیال کرتے، عموماً شام کے بعد کئی لوگ وہاں پہنچ جاتے، معروف سیاسی لیڈر بابو گنیش پرشاد ساہ میر مجلس ہوتے اور باتیں ہوتی رہتیں ، وہ بھی اکثر وہاں جا کر بیٹھنے لگا۔ ۴۵-۱۹۴۴ء میں تو بہت کم گیا لیکن ۴۷-۱۹۴۵ء میں زیادہ بیٹھا، بابو گنیش پرشاد اُسے بہت عزیز رکھتے تھے۔ یہی حال ڈاکٹر شیاما  کانت ورما بابو کا تھا، وہ فیملی ڈاکٹر تھے اس لیے گھر کے تمام افراد کو بخوبی جانتے تھے۔ دور سے دیکھتے تو اُسے اپنے مطب میں بلا لیتے۔

اِسی محفل کا اثر ہوا کہ وہ کانگریس کے چھوٹے بڑے جلسوں میں جانے لگا۔ ایک ایسے ہی جلسے میں اچانک کھڑا ہو گیا اور جذباتی تقریر کرنے لگا، گنیش بابو بہت خوش ہوئے، پیٹھ ٹھونکی اور جہاں بیٹھے تعریف کی، پھر کانگریس کے کچھ لوگ اُسے جلسوں میں بلانے لگے اور تقریر کرنے کے لیے کھڑا کرنے لگے، اب تو اُس کی جذباتی قسم کی تقریروں سے لوگ متاثر ہونے لگے تھے۔

ڈاکٹر شیاما پرشاد ورما جی کے مطب میں بیٹھ کر آہستہ آہستہ محسوس کر رہا تھا کہ ملک کی سیاست فرقہ پرستی کی سیاست بنتی جا رہی ہے، کچھ ایسے لوگ بھی آ جاتے جو مسلمانوں کے خلاف بولتے اور گنیش بابو اور ڈاکٹر صاحب دونوں ایسے لوگوں سے سخت اختلاف کرتے ہوئے انھیں سمجھاتے لیکن ان کی سمجھ میں بہت کم آتا اور ایسا لگتا جیسے وہ ان کی باتیں سمجھنا ہی نہیں چاہتے تھے، ایسے لوگوں کی تعداد آہستہ آہستہ بڑھی جا رہی تھی، زندگی میں غالباً پہلی بار وہیں ایک پڑھے لکھے فرقہ پرست اُستاد کی زبان سے سنا، ہم مسلمانوں کے زمانے سے غلام ہیں ، مسلمانوں نے ہم پر بڑے مظالم ڈھائے ہیں ، مندروں کو توڑا ہے، انگریزوں کے ساتھ انھیں بھی نکال دینا چاہیے، جائیں یہ سب عرب کی اور، اُسے افسوس ہوا کہ ایسی باتیں ایک پڑھا لکھا استاد کر رہا ہے، اب وہ بہت کم وہاں جاتا، اُسے فرقہ پرستی پسند نہ تھی، ایک بار بابو گنیش پرشاد جی نے اُسے بلا کر پوچھا ’’تم آتے نہیں ڈاکٹر صاحب کے یہاں ، پڑھنے لکھنے میں زیادہ لگے ہو کیا؟‘‘

’’اب فرقہ پرست آ گئے ہیں آپ لوگوں کے نزدیک۔‘‘ اُس نے صاف صاف کہا۔ انھوں نے قہقہہ لگایا، کہا ’’جاہل لوگ ہیں ، ان سے ہم لوگوں کا کوئی سمبندھ نہیں ہے، آ جاتے ہیں اور بیکار قسم کی باتیں کرتے ہیں ، ہم منہ توڑ جواب بھی تو دیتے ہیں ۔‘‘
’’دیکھو، آج شام میرے گھر پر کانگریس پارٹی کا ایک خاص جلسہ ہے، بہت کم لوگ ہوں گے، پٹنہ، مظفرپور اور بتیا سے بھی کچھ لوگ آ رہے ہیں ، تم بھی آؤ۔‘‘
’’لیکن میں تقریر نہیں کروں گا۔‘‘ اُس نے کہا۔
’’ٹھیک ہے، ہم بھاشن تو اُن لوگوں کا سنیں گے، تم صرف ایک نظم سنا دینا۔‘‘
شام کو اُن کی بیٹھک میں پہنچا، بہت کم لوگ تھے، بتیا، پٹنہ اور مظفرپور سے کچھ نیتا آئے ہوئے تھے، کہا گیا جلسہ نظم سے شروع ہو گا اور اُس نے ترنم میں اقبال کی نظم ’’سارے جہاں سے اچھا ہندوستان ہمارا‘‘ سنائی، اس کے بعد چند تقریریں ہوئیں اور وہ واپس چلا آیا۔

دو تین دن گزرے تھے کہ مسلم لیگ یوتھ ایسوسی ایشن کے صدر جناب رحمن نے بلا بھیجا، جانتا تھا کانگریس والوں کے ساتھ رہنے اور جلسوں میں تقریریں کرنے سے شہر کے چند مسلمان لیڈر ناخوش ہیں ۔ مسلم لیگ منظم ہو چکی ہے،ممکن ہے اِسی سلسلے میں بلاوا آیا ہو، رحمن صاحب اُس کے بھائی جمیل الرحمن صاحب کے دوست تھے۔ لہٰذا اُن کی بہت عزّت کرتا تھا، رحمن صاحب نوجوان مسلمانوں کو اپنے طور پر منظم کر رہے تھے جیسے خدانخواستہ کسی جنگ کی تیاری ہو رہی ہو، ڈنڈے چلانا سکھاتے، اس کام کے لیے پٹھان ٹولی اور چق ٹولی محلّوں کے کئی استاد بھی معمور تھے، اسے یہ سب کچھ پسند نہ تھا لہٰذا دُور ہی رہتا تھا۔ اکثر ان کے مکان پر چند مسلمان نوجوان جمع ہوتے اور وہ قائد اعظم اور مسلم لیگ پر اظہارِ خیال کرتے۔ اپنی بعض جذباتی قسم کی تقریروں سے وہ اتنا بدنام ہو گیا تھا کہ بعض مسلمان بزرگوں نے سلام کا جواب دینا بھی چھوڑ دیا تھا، اپنا منہ گھما لیتے تھے۔ اُس کی دلچسپی کانگریس سے تھی اور نہ مسلم لیگ سے، وہ تو عام لوگوں میں تھا اور اُن کی طرح ہندوستان کی آزادی کا خواہش مند تھا، کسی بھی سیاسی رہنما یا کسی بھی جماعت یا پارٹی کا ذکر کیے بغیر جذباتی قسم کی تقریریں جھاڑتا تھا، برطانوی سامراج سے نفرت تھی اور اس کا اظہار کرتا رہتا، تقریر شروع کرنے سے پہلے کوئی مختصر کہانی سناتا، عام سی کہانی اور اس میں ایسا موڑ پیدا کر دیتا کہ تقریر کے لیے موضوع مل جاتا، لوگ اُس کے اس انداز کو پسند کرتے تھے۔

جب وہ رحمن صاحب کے پاس پہنچا تو دیکھا وہاں محلّے کے کئی مسلمان نوجوان جمع ہیں ان میں چند طالب علم ہیں ، چند فٹ بال کے کھلاڑی اور کچھ ڈنڈا لاٹھی سکھانے والے۔ محرم کے جلوسوں میں انھیں اکثر ڈنڈوں سے کھیلتے ہوئے دیکھتا آیا تھا۔
رحمن صاحب ایک بڑی کرسی پر نیم دراز کبھی حقہ پی رہے ہیں اور کبھی بھاشن دے رہے ہیں ۔ اس نے سلام کیا اور ایک جانب بیٹھ گیا۔
محفل میں بیٹھے نوجوانوں کے چہروں پر عجیب گھناؤنی مسکراہٹ تھی، ایک دوسرے سے سرگوشیاں بھی کر رہے تھے، اُس کے آتے ہی خاموشی سی چھا گئی، اچانک رحمن صاحب مخاطب ہوئے۔
’’یہ بتاؤ تم کانگریسیوں کے ساتھ ہو یا مسلمانوں کے ساتھ؟ صاف صاف بتاؤ۔‘‘ اسے محسوس ہوا جیسے اچانک عدالت میں کھڑا کر دیا گیا ہو۔‘‘
’’میں کسی کے ساتھ نہیں ہوں ۔‘‘ اُس نے جواب دیا۔
’’یہ کوئی جواب نہ ہوا، کسی کے ساتھ تو ہو۔‘‘
’’اپنے ساتھ۔‘‘ اُس نے قدرے چڑچڑا کر کہا۔
’’تو میاں پھر اپنی حویلی ہی میں کیوں نہیں رہتے، ہندوؤں کے جلسوں میں تقریریں کیوں کرتے رہتے ہو۔‘‘
’’میں نے کبھی کسی ہندو یا مسلم جلسے میں تقریر نہیں کی۔‘‘
سارے لونڈے ہنسنے لگے جیسے اُس کا مذاق اُڑانا مقصد ہو۔
’’میاں کانگریس ہندوؤں کی پارٹی ہے نا، اتنا تو جانتے ہو اور تم صرف اس کے جلسوں میں نہیں جاتے بلکہ تقریریں بھی کرتے ہو۔‘‘
’’تو پھر مولانا ابوالکلام آزاد اور خان عبدالغفار خان کیوں ہیں اس پارٹی میں ؟‘‘ وہ اچانک چیخ پڑا۔
’’وہ سب غدار ہیں ، قوم کے غدار ہیں ،اسلام کے دشمن، یہ سب اندر سے ہندو ہیں ،جہنم میں جائیں گے۔‘‘
رحمن صاحب نے اس طرح فیصلہ سنایا جیسے اللہ میاں کا فیصلہ ہو۔
’’میاں تم نوجوان ہو، مسلمان ہو، تمھارے خاندان پر شہر والوں کو فخر ہے، بہت اچھی تقریریں کر لیتے ہو، بہت تعریف سنی ہے تمھاری، یہ بھی تو سوچو کیا کر رہے ہو؟ اسلام کے دشمنوں کے ہاتھ مضبوط کر رہے ہو۔‘‘
’’اسلام کے دشمن؟‘‘ اُس نے پوچھا۔
’’ہاں اور تمھارے بھی دشمن!‘‘
’’میرا کوئی دشمن نہیں ہے۔‘‘
’’تم قوم سے الگ تو نہیں ہو میاں اور اس وقت ’میں ، میں ‘، ’میرا، میرا‘ کی کیا رٹ لگا رکھی ہے۔ ہم ’کہو‘ ہم سے مراد اہلِ جماعت ہے، مسلم لیگ ہے، کانگریس والے گاندھی کی رہنمائی میں ہم مسلمانوں کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دینا چاہتے ہیں ، اللہ نے ہماری قوم کو ایک قائد بھیج دیا ہے، اللہ اُسے تا قیامت، سلامت رکھے۔‘‘
سارے لونڈوں نے ایک ساتھ کہا ’’آمین!‘‘
’’وہی ہمارا واحد رہنما ہے، واحد قائد، ایک خدا،ایک رسول، ایک قائد۔‘‘
’’ممکن ہے ایسا ہی ہو، میں نہیں جانتا۔‘‘ وہ بے چین ہو رہا تھا۔
’’تمھارے بھائی صاحب بھی کہتے ہیں کہ تم بہت ضدّی ہو۔‘‘
’’کوئی ضد نہیں کر رہا ہوں ۔‘‘
’’یہ بتاؤ تم مسلمان ہو یا نہیں ؟‘‘
ایک عمر رسیدہ لڑکے نے کہا ’’ہاں سر، پہلے یہی پوچھئے۔‘‘
’’کیوں نہیں ، مسلمان ہوں ۔‘‘
’’تو پھر آج سے دشمنوں کے پاس نہ جاؤ،یہ ’بیج‘ لو اور اسے لگا لو، مسلم لیگ کے اسٹوڈنٹس فیڈریشن کا ’بیج‘ ہے،تم کو ہم نے فیڈریشن میں شامل کر لیا، دیکھو سب یہ ’بیج‘ لگائے ہوئے ہیں ۔‘‘
اُس نے دیکھا چاند تارہ بنا ہوا سبز رنگ کا بیج سب کی قمیض پر لگا ہوا ہے۔
’’میں یہ سب نہیں لگاتا، مجھے پسند نہیں ہے، اسے اپنے پاس ہی رکھئے، اب وہ جذباتی ہوتا جا رہا تھا، اندر سے بے چین تھا۔
’’اب تو تمھاری شکایت جمیل صاحب (بڑے بھائی صاحب) سے کروں گا، تم نہیں جانتے نتیجہ کیا ہو گا۔‘‘ وہ خاموش رہا، اُس کی آنکھوں میں آنسو چھلک آئے۔
’’جانتے ہو میاں ، ان محلّوں سے تمھارا گزرنا مشکل ہو جائے گا، بتائے دیتا ہوں ، یہ جو یہاں بیٹھے ہیں نا یہ سب اسلام کے سپاہی ہیں ، تمھیں اپنے محلّوں سے گزرنے نہیں دیں گے۔‘‘
بہت بڑی دھمکی تھی یہ، ایسی دھمکی آج تک نہیں دی گئی اُسے، سوچنے لگا۔
’’آخر وہ ہے کیا؟ اور اس کی اہمیت کیا ہے؟ اچانک وہ اتنا اہم کیسے ہو گیا ہے۔‘‘ اس کی سمجھ میں کچھ نہیں آ رہا تھا۔
’’سنا تم نے اُس روز گنیش کے گھر پر علامہ حضرت سر محمد اقبالؒ کی نظم سنائی تھی؟‘‘
’’جی ہاں ۔‘‘
’’جانتے ہو یہ کس کی نظم ہے؟ کوئی خبر ہے اُن کے بارے میں ؟‘‘
’’اقبال کی ہے اور کس کی ہے۔‘‘ اُس نے بڑی معصومیت سے جواب دیا۔ ’’اور آپ ہی تو ابھی کہہ رہے تھے کہ تم نے اقبال کی نظم سنائی۔‘‘
’’یہی علم حاصل کیا ہے آں ، علامہ حضرت سر محمد اقبالؒ کو اقبال اقبال کہے جا رہے ہو،جانتے ہو وہ کون تھے؟‘‘ رحمن صاحب چیخ پڑے۔
’’شاعر تھے!‘‘
’’شاعرِ اسلام تھے، شاعرِ مشرق تھے، اور بھی بہت کچھ تھے، مفکرِ اسلام تھے، عالمِ اسلام تھے، اسلامی مفکر، فلسفۂ اسلام کے حکیم،پاکستان کا پہلا نقشہ حضرت علامہؒ نے تیار کیا تھا، قائد اعظم اسی نقشے کو حقیقت میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں ، سنو، تمھیں آج سے حضرت علامہ سر محمد اقبالؒ کی کوئی نظم کہیں بھی پڑھ کر سنانے کا کوئی اختیار نہیں ہے۔‘‘
اُس کی آنکھیں بھر آئیں ، بے چین سا ہو گیا، اچانک اُٹھا اور واپس چلا آیا۔ اُسی وقت بھائی جان کے کمرے سے ’بانگِ درا‘ اُٹھا لایا اور حویلی کے چھوٹے بڑے بچوں اور اپنے ہم عمروں کو جمع کر کے کہا ’’سنو ایک گیت سناتا ہوں ، تم سب میرے ساتھ گاؤ۔‘‘ اور اُس نے گانا شروع کر دیا ’’سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا‘‘ اور سب زور زور سے گانے لگے، اُسے عجیب سی مسرّت حاصل ہو رہی تھی، ایسا لگ رہا تھا جیسے رحمن صاحب کے ہر سوال کا جواب دے رہا ہے، جیسے اُن کی چھاتی پر بیٹھ کر گا رہا ہے، جیسے اُن کی گردن داب کر کہہ رہا ہے، سنئے یہ آپ کا جواب ہے، میں واقعی بڑا ضدی ہوں ۔‘‘
اُس وقت غالباً وہ یہی کر سکتا تھا اس سے زیادہ کچھ نہیں !

اسے سیاسی جماعتوں ، اُن کے جلسوں اور جلوسوں سے کوئی دلچسپی نہیں رہی، فرقہ پرست سیاست نے اُسے علیحدہ کر دیا تھا، بہت کم کسی جلسے میں کسی سیاسی لیڈر کی تقریر سننے گیا۔
راجندر پرشاد، جگ جیون رام، شاہنواز خان، جے پرکاش نرائن، پنڈت جواہر لال نہرو اور پٹنہ کی پرارتھنا سبھاؤں میں گاندھی جی کی تقریریں سننے ضرور گیا۔
تیزی سے وقت گزرتا جا رہا تھا۔
اللہ بھلا کرے مولوی منظور صاحب کا اور جنت نصیب کرے اللہ سر سیّد احمد خان کو، اِن لوگوں نے بعض اقدار کا احساس دے کر اُسے ایسی جگہ پہنچا دیا تھا کہ جہاں کھڑے ہو کر بالشتوں کو اچھی طرح دیکھ سکتا تھا، وہ پڑھے لکھے عمر رسیدہ بالشتے ہوں یا کم عمر! مولوی منظور صاحب اس کے پہلے معلم تھے، اُن کی دو باتوں کو گرہ میں باندھے اب تک بیٹھا ہے۔ ’’انسان کی قدر کرو‘‘ اور ’’انسان سے محبت کرو‘‘ یہ جملے اُسے ہمیشہ باطنی طور پر آسودگی عطا کرتے رہے ہیں ، ان میں زندگی کی تمام حرارتوں کو محسوس کرتا رہا ہے، کون جانے ابتداء سے فرقہ پرستی سے جو نفرت پیدا ہوئی وہ ان ہی باتوں پر مکمل اعتماد کے پیدا ہو جانے کی وجہ سے ہوئی ہے، سر سیّد احمد خان نے ان باتوں پر طرح طرح سے مہر لگا دی، اگر اُس نے اُن کے مضامین ’اخلاق‘، ’مخالفت‘، ’تعلیم و تربیت‘، ’تعصب‘، ’بحث و تکرار‘، ’سولزیشن یا تہذیب‘ وغیرہ کا مطالعہ نہ کیا ہوتا تو رحمن صاحب اُس وقت اطمینان سے بیٹھے حقّہ نہ پی رہے ہوتے اور وہ اپنی بھیگی آنکھوں کو لیے حویلی واپس نہ آیا ہوتا، بہت عرصہ بعد محسوس ہوا کہ سر سیّد احمد خان نے اُسے کمزور اور بزدل نہیں بنایا تھا بلکہ زندگی اور انسان کے تعلق سے بعض بنیادی اقدار اور روایات کا زبردست احساس ابتدائی زندگی ہی میں دے دیا تھا کہ جس کی وجہ سے وہ اندر سے ہمیشہ خود کو مضبوط اور توانا سمجھتا رہا۔ اُسے سر سیّد احمد ان کی ایک تقریر یاد آ گئی تھی اور رحمن صاحب اس تقریر کی گرد سے بھی واقف نہ تھے، سر سیّد احمد خان نے کہا تھا کہ ہندوستان ہی ہم دونوں کا وطن ہے، ہندوستان ہی کی ہوا سے ہم دونوں جیتے ہیں ، مقدس گنگا اور جمنا کا پانی ہم دونوں پیتے ہیں ، ہندوستان ہی کی پیداوار ہم دونوں کھاتے ہیں ، مرنے جینے میں دونوں کا ساتھ ہے، ہندوستان میں رہتے رہتے دونوں کا خون بدل گیا، دونوں کی رنگتیں یکساں ہو گئیں ، دونوں کی صورتیں بدل کر ایک دوسرے کے مشابہ ہو گئیں ، مسلمانوں نے ہندوؤں کی سینکڑوں رسمیں اختیار کر لیں ، ہندوؤں نے مسلمانوں کی سینکڑوں عادتیں لے لیں ، ہندوستان میں ہم دونوں بہ اعتبار اہلِ وطن ہونے کے ایک قوم ہیں ہندوستان ایک دلہن کی مانند ہے جس کی خوبصورت اور رسیلی دو آنکھیں ہندو مسلمان ہیں ۔

جو وقت بچتا چند اچھے لوگوں کے پاس بیٹھ کر گزار دیتا، کوئی بیمار ہوتا تو تیمار داری کی ذمّہ داری لے لیتا، ڈاکٹروں کے پاس جانا، دوائیں لانا، وقت پر انجکشن دلوانا، بزرگوں کی خدمت کرنا، یہ سب کچھ کرتے ہوئے اُسے بے حد سکون ملتا، کئی راتیں ایسی بھی گزریں کہ وہ ’پینسلین‘ کے انجکشن یا ’پینسلین‘ جیسی دوائیں دینے کے لیے جاگتا رہا ہے، مریضوں کے پاس بیٹھتا اور انھیں وقت پر دوائیں دیتا رہا۔ اس زمانے میں ’پینسلین‘ برف کے ساتھ ’تھرماس‘ میں رکھی جاتی تھی اور وہ اکثر برف کی تلاش میں بازاروں میں مارا مارا پھرا ہے۔

لوگوں کے پاس بیٹھنے کے باوجود اُسے ہر وقت ایک تنہائی سی محسوس ہوتی، لگتا رشتہ تو قائم کرتا ہے، لیکن اُس سے کوئی بھی شخص گہرا تعلق نہیں رکھتا، لمحوں کے رشتے ہوتے ہیں بس، اُس کا کوئی قبیلہ ہی نہ ہو جیسے، اگر ہے بھی تو اُس سے الگ ہے تنہا، اکیلا، باہر رشتے ناطے بس یونہی ہیں ، اندر جو درد ہے وہی کمبخت سب سے تعلق قائم کرتا ہے، کچھ سنتا ہی نہیں ، جانے کیا ہے یہ! کسی کو تکلیف میں دیکھ کر غالباً اسی کی وجہ سے بے چین ہو جاتا ہے۔ عجیب بات ہے کہ اس کی یہ بے چینی کسی کو بے چین نہیں کرتی اور اس کی تکلیف سے کوئی بے چین نہیں ہوتا، کبھی ایسی باتوں کی پروا نہیں کی اس لیے کہ اپنے اندر جو آشرم بنا رہا تھا اُسی میں رہنا اچھا لگ رہا تھا اُسے!

گھر کے بچوّں اور محلّے کے بچوّں میں عجیب سی کشش محسوس کرنے لگا، یہ ننھے منّے دوست اُسے بہت اچھے اور پیارے لگے، ان کے ساتھ کھیلتا، انھیں کہانیاں سنا کر ہنساتا، ڈراتا، بہت سے بچی اس سے گھل مل گئے تھے، اپنے والدین سے زیادہ اس کی ہدایتوں کا خیال رکھتے تھے، کسی کا بچہ ضد کرتا تو اُسے اس کے پاس لایا جاتا اور کچھ ہی دیر میں بچی کی ضد ختم ہو جاتی۔ کوئی مار کھاتا تو بلکتا ہوا اُسی کے پاس آتا، اور اُس کی ہمدردی اور محبت پا کر اپنا غم بھول جاتا، جب بچی کھلکھلا کر ہنستے تو اُسے لگتا ہر جانب فرشتوں نے ہنسنا شروع کر دیا ہے، اسے بڑی خوشی حاصل ہوتی، اُن کے لیے گھوڑا بنتا، انھیں اپنی پیٹھ پر چڑھاتا، گھوڑا بن کر گھاس مانگتا، بچی اُسے گھاس کھلاتے اور سواری کرتے، کاغذ اور اخباروں سے چھوٹے چھوٹے کھلونے بناتا، مختلف قسم کے چہرے اور مختلف قسم کی کشتیاں ۔ انھیں گیت یاد کراتا مثلاً ’’لب پہ آتی ہے دُعا بن کر تمنّا میری‘‘، ’’گرمی کی تپش بجھانے والی، سردی کا پیام لانے والی‘‘، ’’وہ سارے برس کی جان برسات، وہ کون؟ خدا کی شان برسات۔‘‘ چھوٹے چھوٹے بچوں کی توتلی زبان سے ایسے اشعار سن کر بہت خوش ہوتا۔

رحمن صاحب کی تقریر سے اُسے بے حد صدمہ ہوا تھا، انسان اور انسان کے بندھن پر اس کا جو اعتماد تھا اُسے ٹھیس لگی تھی، آزادی کے بعد شہر میں فرقہ پرستی کو نقطۂ عروج پر پہنچا کر رحمن صاحب ۱۹۴۷ء ہی میں پاکستان چلے گئے اور اپنے ان تمام ’ بچوں ‘ کو بھول گئے کہ جنھیں انھوں نے ’اسلام کا سپاہی‘ بنایا تھا اور سبز رنگ کے ’بیج‘ پر چاند ستارہ بنا کر اُن کے کلیجوں پر ٹھونک دیا تھا، یہ بھی نہیں دیکھا کہ وہ کہاں ہیں ، کس حال میں ہیں ، ان پر کیا گزری، کس طرح مرے اور کس طر زندہ رہے۔

ان ہی نوجوانوں میں کچھ ایسے تھے جو ان کے قریب آ گئے، سب نے مل کر ایک ’بزمِ ادب‘ قائم کی، ہر اتوار کو حویلی میں اُس نے ’بزمِ ادب‘ کی میٹنگ شروع کی نوجوانوں کی تعداد آہستہ آہستہ بڑھتی گئی، محفل میں کوئی افسانہ سناتا، کوئی غزل، کوئی نظم سناتا، کوئی گیت گاتا، اِن کے ساتھ مل کر اُس نے کئی نغمے گائے مثلاً:
ناقوس سے غرض ہے نہ مطلب اذاں سے ہے
مجھ کو اگر ہے عشق تو ہندوستاں سے ہے
ذرّے میں گر تڑپ ہے تو اس خاکِ پاک سے
سورج میں روشنی ہے تو اس آسماں سے ہے
(ظفر علی خان)
وہ بجلی سی چمکی وہ ٹوٹا ستارا
وہ شعلہ سا لپکا وہ تڑپا شرارا
جنونِ بغاوت نے دل کو اُبھارا
بڑھیں گے ابھی اور آگے بڑھیں گے
مہکتے ہوئے مرغزاروں سے آگے
کچلتے ہوئے آبشاروں سے آگے
بہشتِ بریں کی بہاروں سے آگے
بڑھیں گے ابھی اور آگے بڑھیں گے
(علی سردار جعفری)
برادرانِ نوجواں غرورِ کارواں ہو تم
جہانِ پیر کے لیے شبابِ جاوداں ہو تم
بہ نقش پائے رفتگاں 
بڑھے چلو بڑھے چلو
برادرانِ نوجواں 
بڑھے چلو بڑھے چلو
(علامہ جمیل مظہری)
ان کے ساتھ مل کر ایک چھوٹا سا کتب خانہ قائم کیا، لوگوں سے مانگ کر بہت سی کتابیں جمع کی گئیں ، نوجوان دوست پابندی کے ساتھ مطالعہ کرنے لگے،ان میں جانے وہ کون شخص تھا کہ جس نے اُس کی غیر موجودگی میں اس چھوٹے سے کتب خانے سے تمام اچھی کتابیں چرا لیں اور کتابوں کے ساتھ اس کے حاصل کیے ہوئے کپ اور مڈل بھی لے گیا
اس کے بعد ہی یہ مرکز ٹوٹ گیا۔


اٹھارہ

 پہلی منزل کے آٹھ کمروں سے گزرتے ہوئے اس کی خواہش ہوئی کہ فوراً چھت پر چلا جائے۔
زینے طے کر ہی رہا تھا کہ پیاری پیاری، دلفریب اور خوبصورت یادوں نے چہکتے بچّوں کی طرح گھیر لیا۔ بھولی بھالی پیاری یادیں ، اب تک ان زینوں اور حویلی کی چھت پر بیٹھی تھیں ۔
انسان سوچتا ہے تو یادیں آتی ہیں اور وہ بعض یادوں میں گم ہو جاتا ہے۔ یہاں تو یادوں نے اسے یاد کیا ہو جیسے اور وہ آ گیا ہو--- یادیں اس میں جذب ہو کر گم ہو جانے کے لیے جیسے بے چین ہوں ۔ ایک ہی سوال تھا، ایک ہی شکایت تھی۔
’’تم کہاں چلے گئے تھے؟ ہمیں یہاں 
چھوڑ کر کہاں چلے گئے تھے؟‘‘
پازیب کی ہلکی سی آواز آئی اور ایک یاد نے آگے بڑھ کر اچانک اپنے گرم ہونٹ اُس کے ہونٹوں پر رکھ دیئے،اُسے چھت پر جانے ہی نہ دیا، درمیانی چوڑے زینے پر روکے رکھا، اُس سے لپٹ گئی جیسے جنم جنم کی پیاسی ہو، دیکھتے ہی دیکھتے ایک دلفریب پیکر بن گئی، اُس سے پیوست اٹھتی بیٹھتی رہی، عجیب آہنگ تھا اس عمل میں ، یہ یاد تو سنگِ مرمر میں ڈھل گئی تھی، اچانک اس میں کیسی لچک آ گئی! سنگِ مرمر آبشار بن کر جیسے پہاڑوں سے اچانک پھوٹ پڑا ہو، سرخ و سفید نرم گرم میٹھے آم کے رس کی مانند،
عجیب آہنگ تھا ہر عمل میں 
اُسے وہ دو سانپ یاد آ گئے جو اُس کی آنکھوں کے سامنے ایک دوسرے میں پیوست ایک خاص آہنگ کے ساتھ اٹھتے تھے جیسے اچانک اُڑجائیں گے نیلے آسمانوں کی جانب اور پھر آہستہ آہستہ نیچے آتے تھے جیسے دھرتی کی گہرائیوں میں اُتر رہے ہوں ، کتنی پرانی یادیں اچانک کتنی شاداب ہو جاتی ہیں ۔
چھت پر آیا صبح کی نماز عموماً اِس گوشے میں پڑھتا تھا، رحل پر قرآن پاک رکھ کر تلاوت کیا کرتا، کتنا سکون ملتا اُسے کتنی آسودگی حاصل ہوتی، تلاوت سن کر حویلی کے لوگ بیدار ہوتے تھے اور اُسے یہ اچھا لگتا تھا۔
اِس چھت پر پتنگ اُڑائے جاتے تھے، پتنگ کے مقابلے ہوتے تھے، اِس مقابلے میں عنایت الرحمن بھائی اور جمیل الرحمن بھائی بھی شریک رہے ہیں ، محلّے والوں کی پتنگ بازی بھی کم نہ تھی، دلچسپ مقابلے ہوتے رہے ہیں ۔ دھاگوں پر مانجھے لگائے جاتے، بڑے بڑے پتنگ بازار سے لائے جاتے، وہ بھی بچوں میں شامل ہو کر پتنگ بازی کے نظارے دیکھ کر خوش ہوتا۔
اِس جنوب مشرقی گوشے میں بیٹھ کر امتحان کی تیاری کرتا تھا، پڑھنے لکھنے کی یہ بہت اچھی جگہ تھی، یہاں اُسے کوئی پریشان نہیں کرتا، جب فرصت ملی کتابیں لے کر آ جاتا اور پڑھنے لکھنے میں مصروف ہو جاتا۔ یہاں بیٹھ کر اس نے ’’سیرۃ النبی‘‘ کی بعض ضخیم جلدیں ختم کی ہیں ، مولانا شبلی نعمانی اور مولانا سیّد سلیمان ندوی کی کئی تصانیف سے واقفیت حاصل ہوئی، دونوں نے تحقیق اور طرزِ بیان کے جلوؤں سے آشنا کیا مولانا سیّد سلیمان ندوی سے بے حد متاثر تھا، ’’سیرۃ النبی‘‘ کا اس پر بڑا گہرا اثر ہوا تھا، اُن کی تصانیف مثلاً ’عرب د ہند کے تعلقات‘، ’سیرت عائشہ‘، ’یاد رفتگاں اور نقوش سلیمانی‘ وغیرہ کی فکر انگیز گفتگو بھی متاثر کرتی رہی اور اظہارِ بیان کے پختگی اور نفاست بھی، پہلی بار ایک عالم سے متعارف ہوا تھا، اُن کی تصانیف سے علم کا ایک معیار سامنے آیا تھا، جس طرح مولانا شبلی کے ذریعہ پہلی بار حضرت امیرؔ، خسرؔوؒ کے قریب پہنچنے کا موقعہ ملا اُسی طرح مولانا سیّد سلیمان ندوی کے ذریعہ ’خیام‘ کو کسی قدر جانا پہچانا، ’خسروؔ‘ اور ’خیام‘ سے واقفیت اُس کے لیے علم کی بہت بڑی دولت ثابت ہوئی، دونوں سے اب تک کسی نہ کسی سطح پر رشتہ قائم ہوتا رہتا ہے۔ دونوں کی شخصیتیں ایک ساتھ کئی جہتوں کو پیش کرتی ہیں ، اُسے یقین ہے بہت جلد خیام کی نئی تلاش و جستجو، اس کی جمالیات کے مطالعے اور علم الحساب میں اُس کے تفکر اور ’وژن‘ کو پہچاننے کا ایک نیا دَور آئے گا۔

یونانی اور رومی اساطیر سے دلچسپی ہوئی تو اِسی چھت کے اسی گوشے میں بیٹھ کر اُس نے دیویوں اور دیوتاؤں کی جانے کتنی کہانیاں پڑھیں ۔ کالج کی لائبریری سے کتابیں لاتا اور ہر قصّے کو غور سے پڑھتا، ’یولی سس‘ (Ulysses) کے سفر کی داستان پڑھی۔ اسے پہلی بار معلوم ہوا کہ یونانی اوڈلیسیس (Odysseus) ’یولی سس‘ بن گیا ہے۔ ’سائیک لوپیس‘ (cyclopses) کے ملک کی پُر اسرار فضاؤں نے اُسے بے حد متاثر کیا تھا۔ کہانیوں اور قصّوں میں خود کو کہیں نہ کہیں پہچاننے کی کوشش جیسے کوئی تیز جبلّت بن گئی تھی، ’یولی سس‘ اور ’سائیک لوپیس‘ کے حیرت انگیز تصادم اور لرزہ خیز واقعات میں ہمیشہ یہ محسوس کرتا جیسے وہ خود ’یولی سس‘ کے وجود کے اندر ہے۔ اسی طرح جب ’یولی سس‘ سمندر کی شہزادی ’کلالیسو‘ (Calyso) کا مہمان بنا تو اسے لگا جیسے وہ خود حسن کی گرفت میں ہے۔ ’’کیوپڈ اور سائیکی‘، ’مزاد‘، ’میڈیا‘، ’اپولو‘ اور ’ڈیفین‘، ’پرد میتھس اور پنڈورا‘ ہرکولیز‘ وغیرہ سے زیادہ ’یولی سس‘ نے اُس کے ذہن کو اپنی گرفت میں لے رکھا تھا۔ کشمیر میں جمس جوائس کے ناول ’یولی سس‘ کو غالباً کبھی نہیں پڑھ سکتا تھا۔ اگر اس چھت پر اس کی ملاقات اساطیر کے یولی سس سے نہیں ہوتی، اس نے جیمس جوائس کا یہ ناول صرف پڑھا ہی نہیں بلکہ اس پر ایک مختصر مضمون بھی لکھا جو کلکتہ کے کسی پندرہ روزہ رسالے میں نہایت اہتمام سے شائع ہوا۔
اسی چھت پر کھڑے ہو کر ہر صبح ہمالہ کی برف پوش چوٹیوں کو دیکھتا تھا اور انھیں دیکھتے دیکھتے جانے کہاں کھو جاتا تھا۔


اُنیس

موتیہاری میں اس وقت صرف ایک ہی سینما ہال تھا جسے ایک ساہوکار چلا رہے تھے، اُن کے دو لڑکے کارتک پرشاد ساہ اور برج موہن پرشاد ساہ دیکھ بھال کرتے تھے، دونوں اسے کئی ہوئی فلمیں دیتے جنھیں وہ ٹارچ کی مدد سے سفید دیواروں پر دیکھتا، اُس کے پاس بہت سی فلمیں جمع ہو گئی تھیں ، بازار سے ’ویو ماسٹر‘‘ جیسی چیز بھی لے آیا تھا جس سے فلمیں دیکھتا اور دوسروں کو دکھاتا۔
برج موہن بھائی عموماً سہ پہر میں حویلی آتے اور اسے ڈنڈا کھیلنا سکھاتے، ڈنڈے بازی میں بڑے تیز تھے اور داؤ پیچ خوب جانتے تھے، ’بنوٹ‘ کے فن سے بھی
 واقف تھے،ڈنڈا کھیلنا اس نے اپنی آپا کے شوہر محفوظ الرحمن بھائی اور پٹھان ٹولی محلّے کے ایک استاد سے بھی سیکھا تھا۔ یہ دونوں بھی ’بنوٹ‘ کے فن سے واقف تھے، استاد کا تو اکھاڑہ تھا کہ جس میں وہ لاٹھی، ڈنڈا اور تلوار چلانے کی مشق کراتے تھے۔ محرم کے جلوسوں میں اپنے تینوں استادوں کی دعاؤں سے اپنے فن کا مظاہرہ کرتا تو لوگ اُس کی تعریف کرتے۔ چھت سے جھانک کر جنوب کی جانب دیکھا، یہی وہ جگہ تھی جہاں وہ لاٹھی چلانا سیکھتا تھا۔
ہوا یہ کہ سینما ہال کے مالک نے ایک تھیٹر کمپنی کو ہال کرایے پر دے دیا، فلمیں بند ہو گئیں ، روز اسٹیج پر کوئی نہ کوئی ڈراما ہوتا۔ اس نے بعض اچھے ڈرامے دیکھے، ان میں کچھ کلاسیکی کہانیوں کے ڈرامے بھی تھے مثلاً ہیر رانجھا، لیلیٰ مجنوں ، شیریں فرہاد، سلطانہ ڈاکو، حاتم طائی، نوشیرواں وغیرہ۔ چند تاریخی واقعات کے ڈرامے تھے مثلاً اکبرِ آعظم، نور جہاں ، چندر گپت موریہ وغیرہ۔

جون ۱۹۴۷ء کی بات ہے اس کی خواہش ہوئی کہ ایسا ڈراما لکھے جو اسٹیج ہو سکے، ڈراموں سے دلچسپی اُسی زمانے میں پیدا ہوئی تھی، انٹرمیڈیٹ میں داخلہ لیا تھا، بھلا وہ کیا سوچ سکتا تھا اور کیا لکھ سکتا تھا۔ پھر بھی ایک اسٹیج ڈراما لکھ مارا ’ملاپ‘ موضوع تھا فرقہ وارانہ فسادات اور ہندو مسلم اتحاد، اُس کی خواہش تھی کہ اس کا ڈراما ۱۵ اگست ۱۹۴۷ء کو پیش ہو۔
اُس وقت ملک میں فرقہ وارانہ فسادات شروع ہو چکے تھے اور پنجاب کے مختلف علاقوں سے دل ہلا دینے والی خبریں آ رہی تھیں ۔ ۱۹۴۶ء میں کلکتہ میں زبردست فساد ہوا تھا اور مسلم لیگ کے ’ڈائریکٹ ایکشن‘ کے اعلان کے نتائج سامنے تھے۔ زبردست قتل و غارت ہوئی ہزاروں لوگوں کی جانیں گئیں ۔ گاندھی جی نے کلکتہ پہنچ کر بھوک ہڑتال کی، انٹریم گورنمنٹ بن چکی تھی، پنڈت جواہر لال نہرو وزیر اعظم تھے۔ بنگال میں حسین سہروردی صاحب کی حکومت تھی، گاندھی جی کی بھوک ہڑتال اور پنڈت نہرو کی کوششوں سے فسادات رُکے۔غالباً ہوش سنبھالتے ہی ہندوستانی سیاست سے کسی نہ کسی سطح پر واقف رہا ہے۔اس کی وجہ دوسری جنگِ عظیم تھی، جنگ کی خبروں کے ساتھ سیاسی لیڈروں کے بیانات کی خبریں بھی اس کے کانوں تک پہنچتی رہی تھیں ، اخباروں کی خبروں ، کارٹونوں اور بعض بزرگوں کی محفلوں سے اُسے جنگِ عظیم کے واقعات اور سیاسی رہنماؤں کے خیالات کا تھوڑا بہت علم حاصل ہوتا رہا۔ جنگ کے تعلق سے ملک کا رویہ کیا تھا کیا ہونا چاہیے تھا، دوسری جنگِ عظیم سے قبل آزادی حاصل ہو گئی ہوتی تو ملک کی اہمیت کیا ہوتی، ۱۹۴۳ء میں جب لارڈ دیول وائسرائے بن کر آئے تو کلکتہ کیوں گئے، ’ریلیف‘ کے لیے برطانوی فوج کو آگے رکھنے کا مقصد کیا تھا، اشیائے خوردنی کی تقسیم کی پالیسی سے برطانوی فوج کو کتنی مقبولیت حاصل ہوئی۔ ہندوستان آزاد ہو گیا ہوتا تو ہندوستان کے مثبت روّیے سے انگلستان کو کتنا فائدہ ہو سکتا تھا، گاندھی جی کا یہ کہنا کس حد تک درست تھا کہ برطانیہ کی تباہی کی راکھ پر ہم آزادی حاصل کرنا نہیں چاہیں گے، اپنے ملک کے لیے یہ کتنا مشکل مسئلہ تھا کہ وہ جنگ میں برطانیہ کے ساتھ ہے یا الگ تھلگ ہے، وائسرائے کا یہ اعلان کتنا شرمناک تھا کہ قانوناً ہندوستان برطانیہ کے ساتھ ہے، اور کانگریس کا جواب کتنا تیکھا تھا، دسمبر ۱۹۴۱ء میں جب جاپان اور امریکہ دونوں جنگ میں شامل ہو گئے۔ تو ہندوستان کے سامنے دو عجیب و غریب ّسچائیاں تھیں ، ایک یہ کہ برطانیہ کی وجہ سے جاپان ہندوستان کے دروازے پر پہنچ گیا تھا اور دوسری سچائی یہ کہ امریکہ برطانیہ پر حاوی ہو گیا تھا۔ برطانیہ نے یہ پوزیشن لے لی تھی کہ جنگ کے خاتمے کے بعد ہی اس ملک کی آزادی کے مسئلے پر غور کیا جائے گا۔ مسلم لیگ نے ہندوستان کے مسلمانوں کی رہنمائی کرنے کا دعویٰ کس طرح کیا اور کانگریس کے سامنے صرف لمحوں کے پیشِ نظر کیسا ’چیلنج‘ سامنے رکھ دیا تھا، ہندوستان کی تاریخ کے خوبصورت تسلسل اور مشترکہ تہذیب کی اعلیٰ روایات کو کس طرح نظر انداز کیا گیا، مسلمانوں کی انتہا پسندی کے ساتھ ہندوؤں کی انتہا پسندی بھی کس طرح اُبھرنے لگی۔ دو قومی نظریہ کو ہندوؤں اور مسلمانوں نے خود اپنے اپنے طور پر آہستہ آہستہ کتنا مضبوط کر دیا، اُس نے ایک طرف نوجوان مسلمان والنٹیرز دیکھے جو سڑکوں پر گھومتے نظر آتے تھے۔ نماز کے لیے وہ اکثر بڑی مسجد جایا کرتا تھا لیکن وہاں مسلم لیگ کے لیڈروں کی تقریریں سن کر جانا ہی چھوڑ دیا، جمعہ کی نماز کے بعد مولوی فرحت حسین اور انیس الرحمن صاحب وغیرہ ایسی تقریریں کرتے کہ جن سے صرف فرقہ پرستی ہی پھیل سکتی تھی۔ دیکھتے ہی دیکھتے شہر میں ہندو اور مسلمان ایک دوسرے سے علیحدہ نظر آنے لگے، اس کے باوجود اچھے اور سمجھ دار لوگوں میں ایک مربوط رشتہ قائم تھا۔ اُس کے سامنے دیکھتے ہی دیکھتے شہر کا کلچر دو حصّوں میں تقسیم ہو گیا۔ یہی وہ کلچر تھاکہ جس نے اس کی ذہنی تربیت میں آگے بڑھ کر حصّہ لیا تھا!

مارچ ۱۹۴۲ء میں کرپس مشن کی وجہ سے مسرت کی ایک تیز لہر دوڑ گئی تھی، اُس وقت جاپان نے برما کو قبضے میں لے لیا تھا، لہٰذا کسی قسم کی کامیابی کی اُمید نہیں رہی، اگست ۱۹۴۲ء میں ’ہندوستان چھوڑ دو‘ کی تحریک شروع ہوئی، بہار سب سے زیادہ متاثر ہوا، جے پرکاش نارائن کی شخصیت اُسی وقت خاص توجہ کا مرکزی بنی، ساٹھ ہزار سے زیادہ ہندوستانی گرفتار ہوئے تھے، کرپس مشن کی تجاویز کو مسترد کرنے سے یہ نقصان ہوا کہ لارڈ یول کے ہاتھ مضبوط ہو گئے۔ اور اس نے سامراجی کھیل کو اور آگے بڑھا دیا۔ جنگ ختم ہو گئی تو برطانیہ کا رویہ اور سخت ہو گیا۔ کانگریس نے ہندوستان کی تاریخ اور اعلیٰ روایات کے پیشِ نظر ملک کی وحدت کو سب سے اہم سمجھا لیکن دو قومی نظریے نے اس تصوّر کو بار بار توڑنے کی کوشش کی اور سیاسی نقطۂ  نظر سے اسے توڑ ہی دیا۔
کیبنٹ مشن کا آنا اُسے یاد ہے۔ لارڈ پیتھک لارنس، سرکرپس اور دی، الگذنڈر آئے تھے اور ان کی تصویریں بار بار اخباروں میں شائع ہوتی تھیں ۔ یہ اپریل ۱۹۴۶ء کی بات ہے، متحدہ ہندوستان پُر اصرار رہا لیکن مسلم لیگ کو یہ منظور نہ تھا، کانگریس یہ چاہتی کہ ملک کی وحدت برقرار رہے اور کسی بھی ایسے فیصلے کو قبول نہ کیا جائے کہ جس سے آئندہ کبھی ملک کے ٹوٹنے کا اندیشہ ہو۔ کیبنٹ مشن نے ایک پلان سامنے رکھا لیکن یہ بھی کامیاب نہ ہو سکا، پاکستان کا نعرہ بلند ہونے لگا اور پھر فرقہ وارانہ فسادات شروع ہو گئے۔ معاملہ یہ تھا کہ کانگریس نے ’’انٹریم پلان‘‘ میں شامل ہونا پسند نہیں کیا تھا لیکن وہ Constituent Assembly میں شریک رہنا چاہتی تھی، اس کا ردِ عمل ملک کی تاریخ کا ایک انتہائی دردناک باب ثابت ہوا۔ ۱۶ اگست ۱۹۴۶ء کو مسلم لیگ نے ’’ڈائریکٹ ایکشن‘‘ کا نعرہ دیا، کلکتہ کہ جہاں لیگ کی حکومت تھی لہو میں ڈوب گیا، فسادات کی دلخراش خبریں آتی رہیں ، ’دو قوموں ‘ میں تقسیم شہر اب کسی وقت بھی فسادات سے قریب ہو سکتا تھا، فسادات کے خوف سے ہندو مسلمان دونوں سہمے ہوئے تھے، شہر کے بعض لوگوں نے کمیٹیاں تشکیل کیں اور محلّوں میں گھوم گھوم کر اعتماد پیدا کرنے کی کوشش کی۔ یہ کوشش کامیاب ہوئی، اس کے شہر میں کوئی فساد نہیں ہوا۔ بہار، یوپی اور مشرقی بنگال کے کئی علاقوں میں فسادات ہوئے، اس کی کوئی ہمدردی فسادیوں کے ساتھ نہیں تھی، اُسے یہ سب کچھ سنتے اور پڑھتے ہوئے اچھا نہیں لگ رہا تھا۔ ۲۰ فروری ۱۹۴۷ء کو اعلان ہوا کہ جون ۱۹۴۸ء میں آزادی مل جائے گی اس وقت لارڈ دیول واپس جائیں گے اور لارڈ ماؤنٹ بیٹن وائسرائے کی حیثیت سے آئیں گے۔ اس وقت ’پاکستان‘ بنتا ہوا ہی نظر آ رہا تھا۔
	جب خضر حیات خان کی حکومت پنجاب میں ٹوٹ گئی تو امرت سر اور پنجاب کے بعض علاقوں میں زبردست فسادات شروع ہو گئے ملتان بھی محفوظ نہ رہا، حالات نازک ہوتے جا رہے تھے، اور پھر ملک تقسیم ہو گیا!
شرنارتھیوں کے قافلے ایک ملک سے دوسرے ملک میں پہنچنے لگے، لاشوں سے بھری ٹرینیں اسٹیشنوں پر پہنچے لگیں ، خاندان بکھر گئے لاشوں سے کنویں بھرے نظر آنے لگے، کسی کو کسی پر اعتماد نہ رہا، انسان انسان کا دشمن بن گیا!

ہندومسلم فسادات کا اُس پر بڑا گہرا اثر ہوا تھا، گیا، نوادہ، پٹنہ اور چھپرہ کے فسادات نے اس عمر میں بھی اُسے جھنجھوڑ کر رکھ دیا تھا، اس کے خاندان کے بعض افراد پاکستان جانے کی تیاری کر رہے تھے، وہ حیرت سے یہ تمام مناظر دیکھ رہا تھا جیسے انتہائی بھیانک خواب دیکھ رہا ہو۔ نانا جان اپنے خاندان کے ساتھ پاکستان چلے گئے اسے بہت مجبور کیا گیا کہ وہ بھی چلا جائے لیکن وہ تیار نہ ہوا، اپنے ملک اور اس کی مٹّی کو چھوڑ کر جانا نہیں چاہتا تھا کہیں بھی جانا نہیں چاہتا تھا--- اسے اعلیٰ تعلیم اور عمدہ سے عمدہ ملازمتوں کے خواب دکھائے گئے لیکن اس قسم کی کوئی تجویز اُسے منظور نہ تھی، بہت رویا جب آپا اپنے بچوں کے ساتھ کراچی چلی گئیں ، پھوٹ پھوٹ کر رویا، انھیں رخصت کرتے ہوئے اس کا کلیجہ پھٹنے کو تیار تھا۔ ’’کیا ہم پھر کبھی ملیں گے؟‘‘ --- اور پھر کبھی نہ ملے، آپا اور اُن کے شوہر محفوظ بھائی دونوں کا کراچی ہی میں انتقال ہو گیا، ان کے بچوں سے بھی نہیں ملا، آپا اور محفوظ بھائی اب بھی بہت یاد آتے ہیں اور دل میں ایک ہوک سی اٹھی ہے، خاندان کے اور کئی گھرانے پاکستان چلے گئے، سب خواب بن کر رہ گئے ہیں ، ان میں وہ بزرگ بھی تھے جن کی شفقت کی چھاؤں بہت کم ملی، وہ ہم عمر دوست بھی تھے جن کے ساتھ وہ بچپن میں کھیلتا رہا ہے، وہ پیاری پیاری بچیاں بھی تھیں کہ جنھیں گود میں اُٹھائے حویلی میں گھومتا۔ اور اُن کے ساتھ کھیلتا رہا ہے۔ ذات کا یہ غم بھلا کس طرح بیان کر سکتا ہے اس کے پاس تو اس غم کے اظہار کے لیے الفاظ ہی نہیں ہیں ۔ ٹوٹ کر رہ گیا جب دیکھا کہ اُس کے بہت سے چاہنے والے پاکستان چلے گئے اور وہ بھی چلے گئے کہ جن سے چاہت کا اس نے انتہائی خاموش رشتہ قائم کیا تھا۔

اُس نے ’ملاپ‘ کے عنوان سے اپنا پہلا اسٹیج ڈراما لکھا، فرقہ وارانہ فسادات کو موضوع بنایا۔ اُس وقت اس کے چچا زاد بھائی محمد یحییٰ صاحب ۱۵ اگست کے لیے ایک کھیل کا ریہرسل کرا رہے تھے، تھیٹر کمپنی سے بات طے ہو چکی تھی کہ ۱۴ اگست کی شب کمپنی کا کوئی ڈراما اسٹیج نہیں ہو گا شہر کے بڑے بڑے لوگ اُن کے ڈرامے سے گہری دلچسپی لے رہے تھے، محمد یحییٰ بھائی کی ڈراموں سے گہری دلچسپی تھی۔ انھوں نے ہر پور، چھپرہ اور موتی ہاری میں جانے کتنے اسٹیج ڈرامے پیش کئے تھے، اچھے ڈائریکٹر تھے، اُن کی بڑی عزت تھی، خاموش طبیعت تھی لیکن جب اسٹیج پر کسی کر دار کو نبھاتے تو اُن کے فنکارانہ جوہر کھلتے، بچپن میں اپنے ابّو کے ساتھ ان کے کئی اسٹیج ڈرامے دیکھ چکا تھا۔ ۱۴-۱۵ اگست کا ڈراما تاریخی نوعیت کا تھا۔ شہر کے کئی افراد ڈرامے میں کام کر رہے تھے، اُس کے بڑے بھائی جمیل الرحمن صاحب کو کسی شہزادے کا رول ملا تھا، روز ریہرسل ہوتے اور کبھی کبھی وہ بھی وہاں بیٹھ کر ریہرسل دیکھتا۔

وہ اپنا اسٹیج ڈراما ’ملاپ‘ لے کر محمد یحییٰ بھائی کے پاس پہنچا، ریہرسل عروج پر تھا لیکن ایک اداکار انھیں بار بار پریشان کر رہا تھا اور یحییٰ، بھائی اُس پر خفا ہو رہے تھے، بات یہ تھی کہ وہ شخص ہر بار اپنا مکالمہ غلط ادا کر رہا تھا، مکالمہ کچھ اس نوعیت کا تھا ’’ہم صرف بھارت میں نہیں ساری دنیا میں امن چین قائم کرنے کے خواہش مند ہیں ‘‘ اور اداکار تھا کہ وہ بار بار ’’امن چین‘‘ کو ’’امن چمن‘‘ کہہ رہا تھا، ’’امن چین‘‘ کی پریکٹس اس نے اتنی بار کی تھی مگر زبان پر امن چین کی جگہ ’’امن چمن‘‘ ہی آتا۔ کچھ دیر کے لیے ریہرسل روک دیا گیا۔ اُسی وقت وہ یحییٰ بھائی کے پاس آیا اور اپنے ڈرامے کا ذکر کرنے لگا، مسکرائے، غالباً یہ سوچا اس نے بھلا کیا لکھا ہو گا، مسودہ لے لیا اور کہا ’’رات کو پڑھ کر کل بتاؤں گا۔‘‘
وہ بے چینی سے دوسرے دن کا انتظار کرنے لگا۔
دوسرے دن انھوں نے کہا ’’بہت اچھا ہے یہ ضرور اسٹیج ہو گا اور میرے ڈرامے سے پہلے اسٹیج ہو گا،۱۴ اگست کی شب میں دونوں اسٹیج ہوں گے‘‘ انھوں نے اپنے احباب سے ’ملاپ‘ کی تعریف کی اور یہ فیصلہ کیا کہ یہ کھیل چند نوجوان کر داروں کو لے کر پیش کیا جائے گا۔ اس کے ہم عمر چند نوجوانوں کو منتخب کیا گیا۔ پیٹرومیکس‘ کی روشنی میں ’ہیکوک اکیڈمی‘ میں اس کا ریہرسل شروع ہوا، یحییٰ بھائی ہدایت کار تھے اور وہ اس کا مصنف مکالمہ نگار اور مرکزی کر دار:
۱۴-۱۵ اگست ۱۹۴۷ء کی درمیانی شب تھی، وہ اپنے لکھے ہوئے پہلے اسٹیج ڈرامے کا مرکزی کر دار تھا، فرقہ وارانہ فسادات کے المیے پر یہ کھیل اُس وقت لکھا تھا جب میٹرک پاس کر کے انٹرمیڈیٹ کے پہلے سال میں داخل ہوا تھا، یہ کھیل دھوم دھام سے اسٹیج ہوا، سارا شہر اسے دیکھنے کے لیے جیسے ٹوٹ پڑا ہو، تمام ٹکٹ فروخت ہو گئے شہر کے لوگوں نے ’ملاپ‘ کے ساتھ آزادی ہند کا استقبال کیا رات کے ٹھیک ۱۲ بج کر ایک منٹ پر سب نے اتنی محنت کی تھی کہ بعض مناظر میں لوگوں کی چیخ نکل گئی، اُس کے سر سے بہتے ہوئے لہو اور اس کی ادا کاری دیکھ کر اُس کے عزیز اس قدر روئے کہ انھیں سنبھالنا مشکل ہو گیا، تھیٹر کمپنی والوں کو اس کی اداکاری اتنی پسند آئی کہ انھوں نے اُسی وقت سونے کا ایک تمغہ دیا، یہ اس کا سب سے پہلا بڑا انعام تھا، کئی دنوں تک اس ڈرامے کا چرچا ہوتا رہا، جہاں جاتا اپنا ہی ذکر سنتا، یحییٰ بھائی بہت خوش ہوئے اور ’’امن چمن‘‘ کو بھول گئے۔
اس کے بعد پھر اداکار کی حیثیت سے اسٹیج پر نہیں آیا۔
آج بھی وہ رات یاد آتی ہے، سوچتا ہے اتنے سال بیت گئے، اپنے ملک میں روح کا بحران ختم کیوں نہیں ہوتا۔
کیوں نہیں ہوتا!


بیس

 اُس کی خواہش تھی پٹنہ جائے اور وہیں داخلہ لے کر تعلیم حاصل کرے، جب پٹنہ پہنچا تو بہار میں اچانک فرقہ وارانہ فسادات شروع ہو گئے، چھپرہ، بہار شریف، گیا نوادہ سب فسادات کی زد میں آگے، ٹرینوں میں مسافروں کی جگہ اُن کی لاشیں پہنچ رہی تھیں ، شب میں کہیں سے ہر ہر مہا دیو اور کہیں سے نعرۂ تکبیر اللّٰہ اکبر کی آوازیں آتیں ، حکومت جیسے ختم ہو گئی تھی، لوگ انتہائی بے دردی سے ایک دوسرے کا قتل کر رہے تھے، گھر جلا رہے تھے، جلوسوں میں نعرے لگاتے نکلتے اور کسی محلّے پر حملہ آور ہو جاتے، عورتوں اور بچّوں کو بھی ٹکڑے ٹکڑے کر رہے تھے، ایک قیامت ٹوٹ پڑی تھی ہر جانب۔
وہ بی، این کالج کے قریب ہیں ’’کھدکا ویلاس پریس‘‘ کے پاس ٹھہرا ہوا تھا اور حد درجہ بے چین تھا، گھر واپس جانے میں بھی خطرہ تھا، انسانیت کے قاتلوں نے ہر طرف آگ لگا رکھی تھی، کوئی شخص خود کو محفوظ نہیں سمجھ رہا تھا، شام ہوتے ہی لوگ گھروں میں چھپ جاتے اور ایک عجیب طرح کی منحوس اُداسی ہر طرف چھا جاتی۔
موتی ہاری کے ایک نوجوان سے ملاقات ہوئی جو ابھی چھپرہ سے آیا تھا، بتانے لگا وہاں فرقہ پرستوں نے ظلم کی انتہا کر دی ہے، بچوں کے سروں کو بھالوں کی نوک پر اٹھائے شہر میں گشت کر رہے ہیں ، پیدل چل کر اور پھر گنگا میں کشتی کے ذریعہ بڑی مشکل سے پٹنہ آیا ہے۔

اس کے ایک دوست تھے انیس الرحمن، نوجوان تھے، خوبصورت تھے، بی، این کالج کے طالب علم تھے، موتی ہاری کے رہنے والے تھے، ملے تو روتے ہوئے، پوچھا معاملہ کیا ہے تو بتایا اُن کے والد نوادہ سے واپس نہیں آئے ہیں وہ روز اُن کا انتظار کر رہے ہیں ، نوادہ لٹ چکا تھا، ٹرینوں کو روک کر لوگوں کو قتل کیا جا رہا تھا، کئی دن ہو گئے تو انیس الرحمن پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے، ان کی خواہش تھی کہ وہ اُن کے ساتھ نوادہ چلے تاکہ وہ اپنے والد کو تلاش کر سکیں ، حالات ایسے تھے کہ کہیں بھی جانا ممکن نہ تھا، جو لوگ بچ بچا کر اس علاقے سے آ گئے انھوں نے دردناک اور دلخراش واقعات سنائے، انسان کتنا بے رحم ہو گیا تھا، اس کے علاوہ وہ کچھ سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔
انیس الرحمن اپنے والد کا انتظار کرتے کرتے تھک گئے۔
وہ نہیں آئے
اور پھر کبھی نہیں لوٹے!
انیس الرحمن اپنے گھر کے تمام افراد کے ساتھ پاکستان چلے گئے پھر اُن سے ملاقات نہیں ہوئی لیکن وہ لمحے جب بھی یاد آتے ہیں انیس الرحمن کا خوبصورت بھولا چہرہ اور آنسوؤں سے بھری ہوئی آنکھیں ، نگاہوں کے سامنے آ جاتی ہیں ۔
وہ چھپرہ کے واقعات سے زیادہ پریشان تھا اس لیے کہ اُس کے نانا جان اور اُن کے گھر کے تمام افراد چھپرہ میں تھے۔ وہ بہت بے چین تھا، چاہتا تھا کسی طرح چھپرہ پہنچ جائے لیکن یہ ممکن ہی نہ تھا تنہائی میں رونے لگتا اور اللہ پاک سے اُن کی سلامتی کے لیے دعائیں مانگنے لگتا۔ اللہ کا شکر تھا کہ سب محفوظ رہے، اُن کے مکان پر کوئی حملہ نہیں ہوا حالانکہ اُن کے محلّے کے بہت سے مکانات نذر آتش کر دیئے گئے تھے اور جانے کتنے لوگوں کو موت کے گھاٹ اُتار دیا گیا تھا۔
چھپرہ سے مہاجروں کے کئی قافلے پاکستان کے لیے روانہ ہوئے۔
اور پھر نانا جان بھی پاکستان چلے گئے!

حالات سنبھل گئے تو وہ پٹنہ کے کئی رفیوجی کیمپس میں گیا اور اپنے نئے دوستوں کے ساتھ اُن کی مدد کرنے لگا، اپنے داخلے کا معاملہ بھول گیا، کچھ نوجوان دوستوں کے ساتھ گیا اور نوادہ بھی گیا اور جلے ہوئے مکانوں اور عورتوں اور بچوں کی لاشوں سے بھرے ہوئے کنوؤں کو دیکھ کر لرز اٹھا، یہ اس کا انتہائی بھیانک تجربہ ہے کہ جسے آج تک بھول نہیں سکا ہے، بعض حالات میں انسانیت مر جاتی ہے۔

کچھ دنوں کے بعد ایک بار پھر قتل و غارت شروع ہو گئی، جب بعض دوسرے علاقوں سے رفیوجی بہار پہنچے اور اپنے حالات سنا کر جذبات میں گرمی پیدا کی تو اس کے نتائج سامنے آئے، یہی پاکستان میں بھی ہوا۔
خان عبدالغفار خان صاحب تشریف لائے اور پیدل ہر جگہ جانے لگے۔
خان صاحب کو اس نے سب سے پہلے پٹنہ ریلوے اسٹیشن کے ایک پلیٹ فارم پر کچھ لوگوں کے ساتھ دیکھا اور اس کے بعد کئی اور دوسری جگہوں پر، خان صاحب مختلف کیمپوں میں گئے، معائنہ کیا، بدنصیبوں کی ہر ممکن مدد کی، اپنی تقریروں میں فرقہ پرستوں پر بڑے تیز حملے کئے، اُن کی باتوں کا اثر ہونے لگا۔

پھر گاندھی جی پٹنہ آئے، مختلف علاقوں میں گئے، لوگوں کو بڑی ڈھارس ملی، فرقہ پرستوں کے ساتھ ساتھ حکومت پر بھی خوب برسے، ہر شام پٹنہ میدان (جواب گاندھی میدان ہے) میں پرارتھنا سبھا ہونے لگی، گاندھی جی کو دیکھنے اور سننے کے لیے لاکھوں افراد جمع ہوئے، گاؤں اور دیہاتوں سے لوگ آنے لگے، بلاشبہ ان کی تقریروں کا سب سے زیادہ اثر بہار پر ہوا، لوگوں کے دل میں اُن کے تئیں واقعی بڑی عقیدت اور محبت تھی، گاندھی جی بہت دن رہے، ڈاکٹر سیّد محمود صاحب کی کوٹھی پر قیام تھا اور وہاں ہر وقت بھیڑ لگی رہتی تھی، اُس نے اُن کی بہت سی تقریریں پٹنہ میدان میں سنی تھیں اور اُن کی تقریروں کے جادو کو بھی محسوس کر رہا تھا،

ایک روز دن کے دو بجے ڈاکٹر سیّد محمود صاحب کی کوٹھی پر پہنچ گیا، وہ اُس کے ابّو کے گہرے دوستوں میں تھے اور اُس نے بچپن سے جانتے تھے، ایک چھوٹا سا خط لکھ کر ڈاکٹر صاحب کو بھیج دیا--- انھوں نے اندر بلا لیا، کچھ دیر خیریت پوچھتے رہے باتیں کرتے رہے، خوش تھے کہ چمپارن فسادات سے بچا رہا۔

اس نے خواہش ظاہر کی کہ وہ گاندھی جی کو قریب سے دیکھنا چاہتا ہے، چند لمحے سوچتے رہے پھر کہا ’’باپو جب پرارتھنا سبھا کے لیے روانہ ہوں تو انھیں قریب سے دیکھ لینا، اسی طرف سے گزریں گے۔‘‘
ڈاکٹر صاحب چلے گئے، کمرے میں تنہا بیٹھا رہا، تین چار گھنٹے گزر گئے تو گھر کا ایک ملازم آیا اور کہنے لگا ’’مہاتما جی آ رہے ہیں ، دیکھ لو‘‘ وہ اُسی وقت باہر نکلا، دیکھا گاندھی جی بہت قریب آ چکے ہیں ، ڈاکٹر صاحب بھی اُن کے ساتھ ہیں ، بابو جگ جیون رام بھی ہیں اور بھی کئی لوگ ہیں ۔ سامنے آ گیا، فوراً ادب سے جھک کر سلام کیا تو ڈاکٹر سیّد محمود صاحب نے اُسے اپنی طرف کھینچ کر از راہِ کرم کہا ’’اسے آشرواد دیجیے میرا بیٹا ہے۔ گاندھی جی لمحے بھر کے لیے رُکے اُس کی جانب دیکھا اور اپنا ہاتھ اس کے سرپر رکھ دیا کچھ بولے اور فوراً تیز تیز آگے بڑھ گئے، اُن کے لمبے ہاتھ کو اتنے قریب سے پہلی بار دیکھا تھا، اپنے سرپر اُس ہاتھ کو محسوس کر کے اُسے بڑا اچھا لگا، بہت خوش تھا کہ گاندھی جی نے اُسے دُعا دی ہے۔‘‘

دوسرے یا تیسرے دن واپس موتی ہاری آ گیا اور منشی سنگھ کالج میں ’انٹرمیڈیٹ‘ کے پہلے سال میں داخلہ لے لیا، سوچا یہاں انٹرمیڈیٹ کرے پھر بی۔اے۔آنرز کے لیے پٹنہ جائے گا۔


اِکّیس

 منشی سنگھ کالج (موتیہاری) ایک سرکاری بنگلے ہیں قائم ہوا جو چند سال قبل کسی انگریز آفیسر کا بنگلہ تھا، پھر یہ کالج ریلوے اسٹیشن کے قریب ایک عمارت میں منتقل ہو گیا اور اس کے بعد ریلوے اسٹیشن کے قریب ہی پرانے جیل خانے میں آ گیا۔ بی۔اے(آنرز) تک وہ اسی کالج میں تھا۔
(جب بہار یونیورسٹی کا وائس چانسلر ہوا تو اس نے اپنے اس کالج کا معائنہ کئی بار کیا۔ ان کمروں میں بھی گیا۔ جہاں ایک طالبِ علم کی حیثیت سے تعلیم حاصل کر رہا تھا۔ بہت سی یادیں تازہ ہو گئیں ، اپنے بعض پرانے اساتذہ کو وہاں پا کر اسے بے حد خوشی ہوئی) پروفیسر سیّد احمد حسن صاحب اُردو کے معلّم تھے، پروفیسر مکر جی انگریزی زبان و ادب پڑھاتے تھے، پروفیسر مترا فلسفہ اور نفسیات کے لکچرر تھے، پروفیسر شتروگن پرشاد سنگھ ہندی اور سنسکرت کے استاد تھے۔اس نے اُردو (بی۔اے میں اُردو ادب کے ساتھ آنرز) ’سائیکولوجی‘ اور ’اکنامکس‘ کے موضوعات منتخب کئے۔ انگریزی ادب لازمی مضمون تھا۔

پروفیسر سیّد احمد حسن صاحب نے ’’انٹرمیڈیٹ‘‘ ہی سے ادب کا ایک ذوق پیدا کیا۔ اور اس نے کئی مضامین لکھے، انھوں نے جو پہلا مضمون لکھوایا تھا اس کا عنوان تھا۔ ’’میر تقی میر بیسویں صدی میں آتے ہیں ۔‘‘ اس کا یہ انشائیہ انھیں بے حد پسند آیا۔ لہٰذا وہ لکھنے کے لیے مختلف موضوعات دیتے رہے مثلاً ’’اُردو شاعری میں رقیب کا بدلتا ہوا تصور‘‘ مسجد قرطبہ کا تنقیدی جائزہ‘‘، ’’شہنشاہ حبشہ (اختر اورینوی) کی ڈرامائی خصوصیات‘‘، ’’فسادات اور اُردو ادب‘‘، ’’رشید احمد صدّیقی کا فن‘‘ وغیرہ۔ کلاس کے موضوعات سے ان کا کوئی تعلّق نہ تھا۔ ان مضامین کو دیکھتے اور حاشیے پر اپنی رائے لکھ دیتے، اس کے بعد اس نے درجنوں مقالے اور مضامین لکھے جنھیں انھوں نے ہمیشہ اشاعت کے بعد ہی پڑھا۔

جب بہت چھوٹا تھا تو ’پھول‘‘ (لاہور) پڑھا کرتا تھا، اِسی میں اس کا ایک مختصر مضمون ’’غور‘‘ شائع ہوا تھا جس کی اصلاح اُس کے بھائی جمیل الرحمن صاحب نے کی تھی، ۱۹۴۵ء میں اس کا پہلا افسانہ ’طوفان‘ نظام دہلی میں چھپا تھا، اس کے بعد کچھ نہ کچھ لکھتا ہی رہا۔

اقبال کو پسند کرنے لگا تھا لیکن پروفیسر سیّد احمد صاحب کی طرح ’’اقبالؔ پرست‘‘ نہ تھا ’’بال جبریل‘‘ ان کی محبوب کتاب تھی، ’’مسجد قرطبہ‘‘، ’’ذوق و شوق‘‘ اور ’’ساقی نامہ‘‘ کے ایک ایک بند کو سمجھاتے اور عموماً ایک دو بند سمجھاتے سمجھاتے کلاس کا وقت ختم ہو جاتا۔ اُردو افسانہ پر ان کے لکچرز بہت مفید اور فکر انگیز ہوتے ابتداء میں فن و ادب کے تعلّق سے جو واقفیت ہوئی وہ پروفیسر سیّد احمد حسن صاحب کی وجہ سے شاعر بھی تھے اور مضمون نگار بھی۔ انھوں نے چند اچھے افسانے بھی لکھے لیکن اپنے کسی مضمون یا افسانے کو اشاعت کے لیے نہیں بھیجا۔

۵۲-۱۹۵۱ء میں ’نگار‘ لکھنؤ میں اُس کے جو دو مضامین شائع ہوئے ’’اُردو ادب اور فسادات‘‘ (جس کا عنوان علامہ نیاز فتح پوری صاحب نے ’’اُردو ادب میں فسادات‘‘ کر دیا تھا) اور ’’پروفیسر رشید احمد صدّیقی کا آرٹ،اُن میں بنیادی باتیں وہی تھیں جو انٹر میڈیٹ میں لکھے ہوئے ان موضوعات کے مضامین میں تھیں ، دونوں مضامین نیاز صاحب کو پسند آئے تھے اور انھوں نے اس کی حوصلہ افزائی کی تھی۔

’’بی۔اے۔آنرز‘‘ کے پہلے سال میں مولانا ابوالکلام آزاد کی تحریروں سے دلچسپی پیدا ہو گئی تھی اور اس کی وجہ یہ تھی کہ اُسے ’’ترجمان القرآن‘‘ کی پہلی جلد حاصل ہو گئی اور اس کا ’مقدمہ‘ اُسے بے حد پسند آیا۔ ’ترجمان القرآن‘ کو بے حد عزیز رکھنے لگا اور ہر صبح اس کی تلاوت بھی کرنے لگا۔ قرآن حکیم کے مفاہیم کی وضاحتیں اور تشریحیں غیر معمولی نوعیت کی تھی اور اس کا ذہن سورہ فاتحہ کی تفسیر کی گرفت میں تھا۔ ’ربوبیت‘ کی وضاحت اور اس وضاحت میں مولانا کی فکر و نظر کی روشنی اور اس روشنی میں اُبھرے ہوئے معنی خیز نکات--- وہ بس مولانا کا بن گیا۔

پہلی بار محسوس ہوا کہ حکیمانہ خیالات کے اظہار کے لیے ایسے ہی حکیمانہ اسلوب کی ضرورت ہوتی ہے مولانا کا اسلوب حکیمانہ تصوّرات اور خیالات ہی کے بطن سے پھوٹا ہے ایک تیز آبشار کی مانند، انتہائی تیز لیکن متوازن، نوکدار، دلکش، جاذبِ نظر اور حد درجہ پر وقار!

اُسے یاد ہے تفسیر سورۂ فاتحہ کو پڑھ کر اکثر بعض بزرگوں سے بعض نکات کی وضاحتیں چاہتا تھا، کبھی تشفی ہوتی اور کبھی نہیں ہوتی، ان میں چند حضرات ایسے ملے جو مولانا کا نام سنتے ہی علامہ اقبالؔ کا ذکر لے بیٹھتے اور علاّمہ اقبالؔ اور اسلام پر تقریریں فرمانے لگتے۔

’’ترجمان القرآن‘‘ کا جو نسخہ حاصل ہوا تھا وہ ’’زمزم کمپنی لمیٹڈ لاہور‘‘ سے ۱۹۴۷ء میں نہایت ہی خوبصورت شائع ہوا تھا، مولانا کا انتساب اُسے بے حد پسند آیا تھا۔ پہلی بار ایسا انتساب نظر سے گزرا تھا، ایک غریب شخص قندھار سے پیدل چل کر کوئٹہ پہنچا، اُسے وہاں چند ہم وطن سوداگر مل گئے، اُن کا ملازم ہو گیا پھر آگرہ آیا اور آگرہ سے رانچی تک پیدل سفر کیا، مقصد صرف یہ تھا کہ مولانا سے ’’قرآن مجید‘‘ کے بعض مقامات سمجھ لے، اُس نے الہلال اور البلاغ کا بھی مطالعہ کیا تھا، چند دنوں تک ٹھہر کر واپس چلا گیا۔ جاتے ہوئے مولانا سے ملا بھی نہیں ، انھیں اس کا نام بھی یاد نہیں رہا، مولانا نے لکھا مجھے اس کا نام یاد نہیں ، معلوم نہیں کہ وہ زندہ ہے یا نہیں ، لیکن اگر میرے حافظہ نے کوتاہی نہ کی ہوتی تو میں یہ کتاب اس کے نام منسوب کرتا--- ‘‘ اس کے ذہن میں قندھار کا وہ شخص ایک ناقابلِ فراموش کر دار بن گیا جو علم کی پیاس بجھانے قندھار سے رانچی پہنچا تھا!

بعض باتیں ذہن پر نقش ہو کر رہ گئیں ، مثلاً ان کا یہ فرمانا کہ صفات الٰہی کا مسئلہ ایک نہایت دقیق اور پیچیدہ مسئلہ ہے اس کے بحث و نظر کی سرحد ایک جانب مابعد الطبیعات سے مل گئی ہے اور دوسری جانب مذہب سے اور دونوں نے یکساں طور اُسے اپنے حلقۂ فکر کا موضوع تصوّر کیا ہے۔ یہی وجہ ہے علم و نظر کے ہر دور میں علماء مذاہب سے زیادہ فلسفیوں کی کاوشوں نے اس میں حصّہ لیا اور ہندوستان، یونان اور قرونِ وسطیٰ کے فلسفیانہ مباحث کا ایک بڑا ذخیرہ جمع ہو گیا، مسلمانوں میں جب علم توحید و کلام کی بحثوں نے سر اٹھایا تو اسی مسئلے میں سب سے زیادہ رد و کد ہوئی اور مختلف مذاہب پیدا ہو گئے، اصحابِ حدیث اور اشاعرہ کا سب سے بڑا اختلاف اسی دروازے سے آیا تھا۔

یا ---رب العٰلمین میں اللہ کی عالمگیر ربوبیت کا اعتراف ہے جو ہر فرد، ہر جماعت، ہر قوم، ہر ملک، ہر گوشۂ وجود کے لیے ہے اور اس لیے یہ اعتراف ان تمام تنگ نظریوں کا خاتمہ کر دیتا ہے جو دنیا کی مختلف قوموں اور نسلوں میں پیدا ہو گئی تھیں اور ہر قوم اپنی جگہ سمجھنے لگی تھی کہ اللہ کی برکتیں اور سعادتیں صرف اُسی کے لیے ہیں ، کسی دوسری قوم کا ان میں حصّہ نہیں ۔
یا--- ’اللہ‘--- الف، لام اور ہ کا مادّہ ہے اور مختلف شکلوں میں مشق ہوا ہے، کلدانی و سریانی کا ’’الاہیا‘‘ طبرانی کا ’’الوہ‘‘ اور عربی کا ’اِلہ‘ اسی سے ہے اور بلاشبہ یہی ’الہٰ‘ ہے۔ جو حرف تعریف کے اضافہ کے بعد اللہ ہو گیا ہے اور تعریف نے اسے صرف خالق کائنات کے لیے مخصوص کر دیا ہے۔
معنی کی وضاحت اس طرح کی تھی:
’’لیکن اگر ’اللہ‘ الٰہ سے ہے تو ’الٰہ‘ کے معنی کیا ہیں ؟ علماء لغت و اشتقاق کے مختلف اقوال میں مگر سب سے زیادہ قوی قول یہ معلوم ہوتا ہے کہ اِس کی اصل ’الٰہ‘ ہے اور ’الٰہ‘ کے معنی تحیر اور درماندگی کے ہیں ۔ بعضوں نے اسے ولہ سے ماخوذ بتایا ہے اور اس کے معنی بھی یہی ہیں ۔ پس خالقِ کائنات کے لیے یہ لفظ اس لیے اسم قرار پایا کہ اس بارے میں انسان جو کچھ جانتا اور جان سکتا ہے وہ عقل کے تحیر اور ادراک کی درماندگی کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ وہ جس قدر بھی اس ذاتِ مطلق کی ہستی میں غور و خوض کرے گا، اس کی عقل کی حیرانی اور درماندگی بڑھتی جائے گی، یہاں تک کہ وہ معلوم کرے گا کہ اس راہ کی ابتداء بھی عجز و حیرت سے ہوتی ہے اور انتہا بھی عجز و حیرت ہی ہے:
اے بروں از دہم وقال وقیلِ من
خاک برفرقِ من تمثیلِ من
اب غور کرو، خدا کی ذات کے لیے انسان کی زبان سے نکلے ہوئے لفظوں میں ، اس سے زیادہ موزوں لفظ اور کونسا ہو سکتا ہے؟ اگر خدا کو اُس کی صفتوں سے پکارنا ہے تو بلاشبہ اس کی صفتیں بے شمار ہیں لیکن اگر صفات سے الگ ہو کر اس کی ذات کی طرف اشارت کرنا ہے تو وہ اس کے سوا کیا ہو سکتا ہے کہ ایک متحیر کر دینے والی ذات ہے۔۔۔‘‘
مولانا کی تحریروں کو جب بھی پڑھتا اُسے محسوس ہوتا جیسے وہ سامنے بیٹھے گفتگو کر رہے ہیں ۔ ’غور کرو‘، ’دیکھو‘۔ ایسا لگتا ہے سامنے بیٹھے ایک ایک نکتے کو سمجھا رہے ہیں ، ان کے مقدمے کے ذریعہ اُن کی شخصیت سے ایک عجیب رشتہ قائم ہو گیا، وہ ہر وقت بہت ہی قریب محسوس ہوتے رہے۔

قرآن پاک اُسے تین بار پڑھایا گیا، مکتب میں بھی اور دو تین مولوی صاحبان کے پاس بیٹھ کر بھی اس نے بہت سے نکات پر باتیں سنی تھیں لیکن ’تفسیر سورہ فاتحہ‘ کو پا کر ہی اس کی خوشبوؤں اور ان خوشبوؤں کے سحر کو کسی قدر محسوس کرنے لگا۔ ’نظام ربوبیت‘، ’رحمت‘ اور عدالت‘، ’تقدیر‘، ’الرحمن اور الرحیم‘، ’فطرت کا جلال و جمال‘، ’برہانِ فضل و رحمت‘ مالکِ یوم الدین‘، ’اھدنا الصراط المستقیم‘ پر ان کی گفتگو دل کی گہرائیوں میں اُترنے لگی، اُس نے محسوس کیا جیسے ’تفسیر سورہ فاتحہ‘ کا مطالعہ کر کے اُس نے قرآن حکیم کے بعض بنیادی معنی خیز آہنگ کو پا لیا ہے۔ مکتب میں قرآن پاک کو پڑھتے ہوئے خوف کا ایک عجیب جذبہ بیدار تھا، احترام اور عقیدت کے ساتھ خوف کی ایک عجیب و غریب جبلت بیدار ہو گئی تھی، مکتب سے واپس آ کر صرف دیئے ہوئے سبق کورٹ جاتا، اللہ کا خوف بھی طاری تھا اور مولوی صاحب کی بید کا خوف بھی پریشان کرتا تھا۔ مولانا کی تفسیر نے محبت اور رحمت کا احساس اس طرح پیدا کیا کہ قرآن پاک کے مطالعے کا پھر شوق جاگا اور محبت اور رحمت کا احساس گہرا ہی ہوتا گیا۔ ّسچائیاں پہلی بار سامنے آئی تھیں اور انھوں نے ہر ّسچائی کو اپنے خاص مہربان انداز میں سمجھایا تھا، ’ربوبیت‘ کو سمجھاتے ہوئے اس طرح گویا ہوئے ’’سب سے زیادہ عجیب مگر سب سے زیادہ نمایاں حقیقت، نظامِ ربوبیت کی یکسانیت اور ہم آہنگی ہے۔ یعنی ہر وجود کی پرورش کا سر و سامان جس طرح اور جس اسلوب میں کیا گیا ہے وہ ہر گوشے میں ایک ہی ہے اور ایک ہی اصل و قاعدہ رکھتا ہے، پتھر کا ایک ٹکڑا تمھیں گلاب کے شاداب اور عطر بینر پھول سے کتنا ہی مختلف دکھائی دے لیکن دونوں کی پرورش کے اصول واحوال پر نظر ڈالو تو صاف نظر آ جائے گا کہ دونوں کو ایک ہی طریقے سے سامانِ پرورش ملا ہے اور دونوں ایک ہی طرح پالے پوسے جا رہے ہیں ، انسان کا بچّہ اور درخت کا پودا تمھاری نظر میں کتنی بے جوڑ چیزیں ہیں ؟ لیکن اگر ان کی نشوونما کے طریقوں کا کھوج لگاؤ گے تو دیکھ لو گے کہ قانون پرورش کی یکسانیت نے دونوں کو ایک ہی رشتے میں منسلک کر دیا ہے، پتھر کی چٹان ہو یا پھول کی کلی، انسان کا بچّہ ہو یا چیونٹی کا انڈا، سب کے لیے پیدائش ہے اور قبل اس کے کہ پیدائش ظہور میں آئے سامانِ پرورش مہیّا ہو جاتا ہے۔‘‘

صرف علم میں اضافہ ہوتا نہ رہا ذہن کے دریچے بھی کھلتے رہے، بعض تشریحوں سے مشاہدہ کرنے کے شوق میں ایک نیا تحرک پیدا ہو گیا، اللہ کی رحمتوں کے تئیں نئی بیداری پیدا ہونے لگی۔ ایک تو قرآن پاک میں چھوٹی بڑی باتوں کو سمجھانے کا انوکھا انداز اور پھر مولانا کا منفرد اسلوب جو قرآن حکیم کے جوہر کو لیے آتا ہے اُس کے شاداب تجربے بن گئے۔
	’’اس نے رات اور دن کے اختلاف اور ظہور کا ایسا انتظام کر دیا۔ کہ رات دن پر لپٹی جاتی ہے اور دن رات پر لپٹا آتا ہے۔‘‘(قرآن مجید)
	’’کیا ان لوگوں نے کبھی زمین پر نظر نہیں ڈالی اور غور نہیں کیا کہ ہم نے نباتات کی ہر دو دو بہتر قسموں میں سے کتنے (بے شمار) درخت پیدا کر دیئے ہیں ۔‘‘ (قرآن مجید)
	اور (دیکھو) اللہ نے جو پیداوار مختلف رنگتوں کی تمھارے لیے زمین میں پھیلا دی ہے سو اُس میں بھی عبرت پذیر طبیعتوں کے لیے (مکتب ِ الٰہی کی) بڑی ہی نشانی ہے!‘‘
	اور پہاڑوں کو دیکھو، گوناگوں رنگتوں کے ہیں ، کچھ سفید، کچھ سرخ کچھ کالے کلوٹے۔‘‘ 
(قرآن مجید)
	’’ربوبیت اور رحمت کے بعد مالک یوم الدین کے وصف نے یہ حقیقت بھی آشکار کر دی کہ اگر کائنات میں صفاتِ رحمت و جمال کے ساتھ قہر و جلال بھی اپنی نمو رکھتی ہیں تو یہ اس لیے نہیں کہ پروردگارِ عالم میں غضب و انتقام ہے بلکہ اس لیے ہے کہ وہ عادل ہے اور اُس کی حکمت نے ہر چیز کے لیے اُس کا ایک خاصّہ اور نتیجہ مقرر کر دیا ہے، عدل منافی رحمت نہیں ہے بلکہ عین رحمت ہے۔‘‘ (مولانا ابوالکلام آزاد)
مولانا نے پہلی بار کائنات کے حسن و جمال کے تئیں اس طرح بیدار کر کے نظامِ ربوبیت اور اللہ کی رحمتوں کا شعور عطا کیا تھا۔ بڑی خاموشی سے اُس کے دل کا گداز بن گئے۔ عشق و طلب کی آتش کو تیز کر کے شوق کو متحرک کر گئے۔
اُن کی اِن تحریروں کی فصاحت اور بلاغت کا سحر قبول کرتے ہوئے اُن کی دوسری تخلیقات کی جانب بڑھا ہے۔

اُن کا وہ خطبۂ صدارت ملا کہ جس نے پہلی بار اُسے مشترکہ ہندوستانی تہذیب کی قدر و قیمت سے آشنا کیا، ۱۹۴۰ء میں مولانا کانگریس کے صدر منتخب ہوئے تو انھوں نے اپنے خطبۂ صدارت میں جو کچھ کہا اس نے بار بار پڑھا اور بہت سے جملے اور فقرے اُسے یاد ہو گئے مثلاً میں اس بات پر فخر کرتا ہوں کہ میں ایک ہندوستانی ہوں اور ناقابلِ تقسیم اور متحدہ ہندوستانی قومیت میں شامل ہوں ، گیارہ صدیاں گزر گئیں ہندوستان کی سرزمین سے اسلام بھی اسی طرح وابستہ ہے جس طرح کہ ہندو دھرم، اگر اس ملک کے باشندوں کا ہندو دھرم کئی ہزار سال سے یہاں موجود ہے تو ایک ہزار سال سے اسلام بھی ہندوستانیوں کا مذہب بن چکا ہے--- اور ’’صدیوں کی مشترک تاریخ نے ہماری ہندوستانی زندگی کے تمام گوشوں کو اپنی تعمیر سامانوں سے بھر دیا ہے، ہماری زبانیں ، ہماری شاعری، ہمارا ادب، ہماری معاشرت، ہمارا ذوق، ہمارا لباس، ہمارے رسم و رواج، ہماری روزانہ زندگی کی بے شمار حقیقتیں کوئی گوشہ بھی ایسا نہیں جس پر اس مشترک زندگی کی چھاپ نہ لگ سکی ہو۔‘‘ ۱۹۵۹ء میں اس نے مولانا پر جو ایک مختصر مضمون لکھا تھا اس میں کہا تھا:
’’مولانا ابوالکلام آزاد بڑے صاحبِ نظر تھے،مذاہب کے مطالعے نے انھیں جہاں جمالِ فطرت کے رموز و اسرار سے آگاہ کیا تھا وہاں تاریخ کے قدیم تصوّرات کے تجزیے کا شعور بھی عطا کیا تھا۔
ستاروں کے نظام اور ان کی گردش، آفتاب کی روشنی اور اس کی بوقلمونی، چاند کی گردش اور اس کے اُتار چڑھاؤ، آسمانوں کی وسعتیں اور اُن کی نیرنگیاں ، سمندر کے مناظر، پہاڑوں کی بلندیاں ، اور وادیوں کے نشیب و فراز، حیوانات کے اجسام اور نباتات کی صورت آرائیاں جہاں انھیں حیات و کائنات کے رموز سے آگاہ کرتی ہیں وہاں مصر کے قدیم ترین آثار، مہنجوداڑو کے تمدّنی نمونے، چینی جمیعت اور چینی مملکت، چینی زندگی کے مذہبی اور اخلاقی تصوّرات، ہندوستانی تمدن کے نقوش، رگ وید کے زمزمے، اُپنشدوں کے توحیدی تصورات، ویدانت کے فلسفے کی وسعتیں تاریخ اور تہذیب کا شعور عطا کرتی ہیں ، مولانا کا ذہن ہندوستان کی تاریخ کی طرح کھلا رہا، جذب کرنے اور کچھ دیتے رہنے کی صلاحیت غیر معمولی ہے، ان کی فکر و نظر میں اسی وجہ سے بڑی کشادگی اور تہہ داری پیدا ہوئی ہے۔‘‘
’’انٹرمیڈیٹ‘‘ سے بی۔اے آنرز تک نصاب سے باہر جن کتابوں کا مطالعہ کیا اُن میں ’فسانہ آزاد‘ کو اب تک بھولا نہیں ہے، ’فسانہ آزاد‘ کا ایک پرانا نسخہ ملا تھا جسے پڑھنے لگا تھا، کئی صفحات غائب تھے، پہلے تو اِدھر اُدھر سے پڑھا، بعض حصّے دلچسپ لگے تو ابتداء سے اس کا مطالعہ کرنے لگا، جو صفحات نہیں ملے اُن کا غم نہ کیا اس لیے کہ فسانہ ہی ایسا تھا کہ جہاں سے چاہیے پڑھنا شروع کر دیجیے لطف ملتا جائے گا۔ زبان اور اندازِ بیان میں کشش تھی، وہ نا محسوس طور پر لکھنؤ کی تمدنی زندگی سے واقف ہو رہا تھا، اس کی تمام تر توجہ اظہارِ بیان پر تھی، عجیب چاشنی مل رہی تھی، خوجی، آزاد، حسن آرا، نواب صاحب، ہمایوں فر، سپہر آرا سب بول چال اور اپنے لب و لہجے سے قریب آئے، تیز اور تڑاق تڑاق چلتی ہوئی زبان اچھی لگ رہی تھی، مصاحبین بھی کیا غضب کے ہوتے تھے، نوابوں کو بڑی آسانی سے احمق بنا دیتے تھے۔ چھوٹی چھوٹی تصویریں اور معمولی واقعات اِدھر اُدھر بکھرے ہوئے ہوتے لیکن اچانک یہ سب مل کر اُس کے ذہن میں کوئی نہ کوئی تصویر بنا دیتے اور ایسی تصویر قابلِ توجہ بن جاتی، سرشار نے جانے کن کن گوشوں کو دیکھا کہ نواب اور اُن کے مصاحبین کے ساتھ ’افیونی‘، ’چانڈوباز‘، ’بیٹر باز‘، ’بیکار‘ اور عاقبت کوش، سب نظر آئے اور پھر ان کے ’اوصاف‘ کی وحدت سے ’خوجی‘ وجود میں آ گیا۔ اس نے مصنف کی آنکھوں سے ’عیش باغ‘ کو بھی دیکھا اور محرم کے جلسوں اور جلوسوں کو بھی۔ اُن کے ساتھ ’’نخاس‘ بھی گیا اور ’بیٹر بازی‘ کے نظارے بھی دیکھے۔

پہلی بار ایسی زبان سے لطف اندوز ہونے لگا جو صدیوں کی بول چال سے دلکش اور دلنشین بنی تھی، مثلاً:
	’’اس موئے کو خوفِ خدا بھی نہیں ہے‘‘
	’’بگڑے دل آوازے کستے ہیں ‘‘
	’’سینہ شیر کا سا ایسا چھیتت بھی نہیں دیکھا‘‘
	’’حضور وقت جاتا ہے، جھٹپٹے وقت کیا سوجھے گا‘‘
	’’یار تم تو بیکار ہنسواتے ہو واہی تباہی باتیں کہتے ہو‘‘
	’’بندگی، پان کھائے جاؤ‘‘
	’’سانس تک نہیں سماتی ہے‘‘
	’’دل لگی تو ہماری صورت دیکھے دوڑی آتی ہے‘‘
	’’سب اس سن میں کہیں چپیٹ کھائیں اور مفت میں الّو بنیں ۔‘‘
	’’آپ بھی واللہ مزے چونچ ہی رہے‘‘
	’’خوجی کی چاند پر بے بھاؤ پڑنے لگیں ، اِدھر دیکھا اُدھر پڑی، اُدھر نظر کی اِدھر پڑی چٹاخ‘‘
	’’وہ مارا، ہات تیرے گیدی کی، وہ مارا‘‘
عمر و عیار سے خوجی تک اُس کے تجربوں کا ایک عجیب و غریب لیکن انتہائی دلچسپ حیرت انگیز اور معنی خیز سفر جیسے مکمل ہوا ہو۔ عمر و عیار کے ساتھ اب خوجی بھی اُس کے ساتھ ہولیے، گنگا جمنی تمدن کے یہ دو کر دار اُس سے سرگوشیاں کرتے رہتے ہیں :
ساقی کی بھول چوک سے ہم رند لٹ گئے
جامِ جہاں نما ں سے جو ساغر بدل گیا
جہاں تمدّن کی تاریخ کو ان کر داروں سے سمجھنے کی کوشش کی ہے وہاں جدید دَور میں بھی ان کی زنبیل اور قرولی کے پیشِ نظر بہت کچھ سمجھنے کا موقع ملتا رہا ہے۔

’موتی ہاری‘ میں طرح طرح کے لوگ آتے رہے ہیں ان میں ایک صاحب تھے ’’مہمان‘‘! نام تھا۔ سیّد اظہار حسین کاظمی، لکھنؤ کے رہنے والے تھے، بزرگوں نے بتایا وہ صدیوں سے آ رہے ہیں یعنی کسی کو یاد نہیں کب سے آ رہے ہیں ۔ پہلے محرم کے مہینے میں آتے تھے اور مجلسوں میں مراثی پڑھ پڑھ کر لوگوں کو رُلاتے تھے اب جب دیکھئے حاضر ہیں ، لیکن ہیں ’مہمان‘ سارا شہر انھیں جانتا پہچانتا ہے، ہندوؤں کی دُکانوں پر بھی بیٹھتے ہیں اور مسلمانوں کے گھروں پر بھی تشریف فرما ہوتے ہیں ، ہندو دکاندار اُن کی بہت عزّت کرتے ہیں اس لیے کہ میدانِ کربلا کے بعض واقعات ترنّم سے سنا کر انھیں بھی رلاتے ہیں ، شہر کے بہت سے ہندو محرم کے مہینے میں منتیں مانگتے ہیں اور سہرا بدھی پہن کر نویں اور دسویں کے جلوسوں میں شریک ہوتے ہیں ۔ لاٹھی ڈنڈا کھیلتے ہیں ، تعزیہ کے قریب شیرینی رکھتے ہیں ، بھوجپوری میں محرم اور محرم کے مہینے کو ’داہا‘ کہتے ہیں ، اس پیاری زبان میں کئی عوام مراثی اور گیت میں جو ’داہا‘ سے موسوم ہیں ، ہندو مسلمان دونوں مل کر شب میں ’داہا‘ سناتے ہیں ، ’مہمان‘ کی بڑی عزت ہے، جہاں بیٹھتے ہیں فرمائش ہوتی ہے۔ کچھ سنائے، کچھ پڑھئے، اور مہمان، میر انیسؔ کے مراثی کے کچھ بند ترنّم سے سنا دیتے ہیں ، ایسا سوز و گداز ہے لہجے میں کہ آنکھوں میں آنسو آ جاتے ہیں ، قد آور ہیں ، گورے چٹی ہیں ، سیاہ شیروانی اور چوڑی دار پائجامہ، ہاتھ میں چھڑی، خوبصورت سیاہ داڑھی اور گھنگھروالے بال، لکھنوی زبان سے بھوجپوریوں کو اتنا مرعوب کر دیتے کہ جہاں بیٹھے وہاں کھانے پر ضرور رک لیا گیا جب سے آ رہے ہیں اس شہر میں بس ایک ہی گھر میں قیام رہتا ہے اُن کا ایک وکیل صاحب کی کوٹھری میں رہتے ہیں اور انھیں لکھنوی تہذیب کے آداب سکھاتے ہیں ، وکیل صاحب کی وجہ سے ’مہمان‘ گاؤں اور دیہاتوں میں بھی بلائے جانے لگے ہیں ، نوحہ خوانی میں اُن کا جواب مشکل سے ملے گا، محرم کے جلوسوں میں انھیں اکثر سب سے آگے سینہ کوبی کرتے دیکھتا رہا ہے۔ شیعہ ہوں یا سُنّی، برہمن ہوں یا راجپوت، اونچی ذات کے لوگ ہوں یا نچلے طبقے کے لوگ سب سے تعلقات قائم تھے، سب اُن کی عزت کرتے تھے، جس کے گھر پہنچ جاتے مہمان نوازی شروع ہو جاتی ’’مہمان آئے ہیں ‘‘، ’’مہمان آوت ہیں ‘‘، ’’مہمان آویں گے‘‘ کی آواز سنائی دیتی۔

’مہمان‘ واقعی عالم تھے، جب باتیں کرتے تو لگتا سارا علم اُن کے پاس ہے۔ لکھنؤ کی تہذیب کے واقعات سنا رہے ہوں یا حالاتِ حاضرہ پر تبصرہ کر رہے ہوں ،جنوبی افریقہ کے سفر کی داستان سنا رہے ہوں یا کلکتہ بمبئی یا مدراس میں گزارے ہوئے دنوں کے واقعات بیان کر رہے ہوں ، اُس نے ہمیشہ محسوس کیا جیسے وہ بہت ہی پڑھے لکھے شخص ہیں ، کسی وجہ سے گھر چھوڑ کر نکل گئے ہیں اور عوامی رشتوں کے درمیان ہی جینا چاہتے ہیں ۔ انھوں نے کبھی اپنی گھریلو زندگی کے تعلق سے گفتگو نہیں کی، ہمیشہ ایسا لگتا جیسے اِس شہر کے ہر گھر کو اپنا گھر سمجھتے ہیں ۔
کئی بار ’مہمان‘ حویلی آئے اپنی دلفریب زبان اور اپنے علم سے لوگوں کو نوازا، کھانا کھایا، بچّوں کو نصیحتیں کیں ، مذہب کی اہمیت پر اظہارِ خیال کیا اور چلے گئے۔

ایک ہار اچانک آ گئے، وہ بنگلے والے اپنے کمرے میں کچھ پڑھ رہا تھا۔ بیٹھ گئے، پوچھا کیا پڑھ رہے ہو، بتایا ’’اُردو کی یہ کتاب‘‘ جانے کون سی کتاب تھی اُسے یاد نہیں ہے، کہا ’’میاں جس شخص نے فسانۂ آزاد نہیں پڑھا اور میرا انیسؔ کے مراثی کا مطالعہ نہیں کیا وہ اُردو زبان سے واقف نہیں ہو سکتا‘‘ اُن کا یہ جملہ وہ کبھی فراموش نہیں کر سکتا، کہا ’’فسانۂ آزاد تو پڑھ چکا ہوں ۔ میر انیسؔ کے مراثی بہت کم پڑھے ہیں ۔ وہی مراثی پڑھے جو نصاب میں شامل رہے ہیں ۔‘‘ انھوں نے اُسی وقت میر انیسؔ کے مراثی کے کئی بند سنائے اور تشبیہوں کو سمجھایا۔ الفاظ کی قدر و قیمت سمجھائی، وہ بے حد متاثر ہوا، کہا ’’میں تمھارے لیے مراثی انیسؔ لے کر آؤں گا لیکن شرط یہ ہے کہ جس بند پر اپنی انگلی رکھ دوں اسے سمجھانا ہو گا، اس طرح کہ اُس بندے کے اسلوب کی خوبیاں ظاہر ہو جائیں ۔‘‘
شرط منظور کر لی اُس نے اور اُسی شام وہ مراثی انیسؔ کا ایک پرانا نسخہ بغل میں دبائے پہنچ گئے۔
اس کے بعد وہ صرف اُسی کے لیے حویلی آتے رہے اور حقیقت یہ ہے کہ اُن کے ساتھ بیٹھ کر ہی پہلی بار میر انیسؔ سے واقف ہوا۔ میر انیسؔ کے کئی بند یاد ہو گئے اُن کی وجہ سے انیسؔ کی بعض رباعیوں کو بھی پڑھنے کے لمحے نصیب ہوئے۔ انھوں نے یہ بھی بتایا کہ مراثی کس طرح پڑھے جاتے ہیں ، ہاتھوں کی جنبش، آنکھوں کی حرکت اور چہرے کے مختلف رنگوں کے ساتھ مرثیہ پڑھتے تھے اشعار کی روح کو اپنی آواز، لب و لہجے اور تحرک سے پیش کر دیتے۔ اب بھی اُن کی آواز سنائی دیتی ہے اور اُن کا پیکر آنکھوں کے سامنے آ جاتا ہے:
اَبر ڈھالوں کا اُٹھا، دو پیکر چمکی
برقِ چھپتی ہے، یہ چمکی تو برابر چمکی
سوئے پستی کبھی کو ندی،کبھی سُر پر چمکی
کبھی انبوہ کے اندر، کبھی باہر چمکی
جس طرف آئی وہ ناگن، اُسے ڈستے دیکھا
مینھ سروں کا، صفِ دشمن کے برستے دیکھا!
---------
بے پانو، جدھر ہاتھ سے چلتی ہوئی آئی
ندّی اُدھر اِک خوں کی، اُبلتی ہوئی آئی
دم بھر میں ، وہ سو رنگ بدلتی ہوئی آئی
پی پی کے لہو، لعل اُگلتی ہوئی آئی
ہیرا تھا بدن، رنگ زمرد سے ہرا تھا
جوہر نہ کہو، پیٹ جواہر سے بھرا تھا
--------
زینب کی وہ زاری وہ سکینہ کا بلکنا
وہ ّننھی سی چھاتی میں کلیجے کا دھڑکنا
وہ چاند سا منہ اور وہ بندے کا چمکنا
حضرت کا وہ بیٹی کی طرف یاس سے تکنا
حسرت سے یہ ظاہر تھا کہ معذور ہیں بی بی
پیدا تھا نگاہوں سے کہ مجبور ہیں بی بی
یہ بند اُس نے ’مہمان‘ سے سنے ہیں ، ---جانے آج وہ کہاں ہیں ، اِس دنیا میں ہیں بھی یا نہیں ، اُس کے پاس وہ واقعی ’مہمان‘ کی طرح آئے، ’مہمان‘ کی طرح رہے اور ’مہمان‘ کی طرح واپس چلے گئے۔ کچھ رحمتوں سے نواز گئے۔ انھیں کبھی فراموش نہیں کر سکتا:
قطرے کو شرف، بحر کرم نے بخشا!


بائیس

 پروفیسر مکر جیؔ ’’جولیس سیزر‘‘ اور انگریزی ادب کے بعض رومانی شعراء کو پڑھاتے تھے، بہت اچھے استاد تھے، جب انھوں نے ادبیات سے اُس کی دلچسپی دیکھی تو ایک صبح ’اسٹاف روم‘ میں بلا کر اُس سے باتیں کیں اور چند اچھی کتابوں کے نام لکھ کر دیئے تاکید کی کہ کالج لائبریری سے لے کر پڑھتا رہے، دو کتابیں ادبی تنقید پر تھیں جن میں ایک کتاب ہڈسن کی تھی۔ انگریزی کے رومانی شعراء کے کلام کا ایک انتخاب بھی تھا۔ اور--- ایک کتاب تھی شیکپیئر کی ’’میک بتھ!‘‘
ڈراما، میک بتھ، نصاب میں نہیں تھا لیکن وہ چاہتے تھے کہ وہ اُسے ضرور پڑھے، اُسے پڑھتے ہوئے بار بار اُلجھ جاتا، بہت سی باتیں سمجھ میں نہیں آتیں ، مکالمے بھی کبھی کبھی پریشان کرتے، ڈکشنری لے کر ہمیشہ بیٹھتا لیکن یہ بھی زیادہ مدد نہیں کرتی، میک بتھ، پڑھنا اور سمجھنا ممکن ہی نظر نہیں آ رہا تھا، مکرجیؔ صاحب نے بڑی حوصلہ افزائی کی، وقت نکال کر اُسے سمجھاتے پڑھاتے رہے، نوٹس تیار کراتے رہے، اس کے بہت سے اہم حصّوں پر بار بار لکچرز دیئے۔ تین چار ماہ کے اندر اُن کے پاس بیٹھ کر اُس نے ’میک بتھ‘ ختم کر لیا، یہ اس کا بہت بڑا کارنامہ تھا اس لیے کہ دنیا کے سب سے اہم ڈرامے کو اُس نے بہت حد تک پڑھ سمجھ لیا تھا اور آج بھی اُسے بہت سی باتیں یاد ہیں ۔
مکرجی صاحب انتہائی شفیق استاد تھے، شاعری کے تعلق سے کئی اہم باتیں سمجھائیں ۔ نیز ڈرامے کے فن پر بھی غیر رسمی طور پر کئی لکچرز دیئے۔ درڈزورتھ شیلے، کیٹس، بائرن وغیرہ کی بعض نظموں کو سمجھایا۔
بی۔اے کے پہلے سال میں آنے کے بعد ادبیات کے تعلّق سے ایک ہلکی سی بیداری کا احساس ہونے لگا تھا، بی۔اے۔آنرز میں آنے کے بعد تو کتابوں کے انتخاب کے معاملے میں بڑا چوکنّا ہو گیا تھا لیکن اس کے باوجود اپنے استادوں سے پوچھتا رہتا یہ کتاب کیسی ہے اور وہ کتاب کیسی ہے۔ چاہتا، چندکتابوں اور مضامین کی خبر اپنے اساتذہ سے حاصل کرتا رہے، اِس سلسلے میں اُسے کبھی مایوس نہیں ہوئی۔

ایک بار اپنے ایک لکچر میں ٹینی سن کے متعلق پروفیسر مکر جی نے کہا، ’’اُس کے پیکر کبھی شاعرانہ کر دار نہیں کھوتے‘‘"His images never lose their poetic character" اور وہ "Images" اور Poetic Character میں اُلجھ گیا۔ مکر جی صاحب سے مل کر اپنا حال بیان کیا، انھوں نے سمجھایا اور کچھ باتیں سمجھ میں آ گئیں ۔ یہ پہلا موقع تھا جب اپنے ذہن کی کسی سطح پر شاعری کے جلوؤں سے آشنا ہو رہا تھا۔ انھوں نے Nature Images کو بنیاد بنا کر کئی مثالوں سے پیکر تراشی کو سمجھایا۔

برٹرنڈ رسل (Bertrand Russell) کی معروف کتاب "Conquest of Happiness" اُسی دَور میں پڑھی تھی اور اُس کی صاف اور واضح انگریزی اور صاف اور واضح خیالات سے متاثر ہوا تھا۔ اُس کی دو عمدہ کتابیں "On Education" اور "An Out-line of Philosophy, Mysticism and Logic" بعد میں حاصل ہوئیں ، ان کتابوں سے بھی روشنی ملی۔

سوٹفٹ کا 'Gulliver's Travels' نصاب میں شامل تھا۔ میٹریکولیشن کے نصاب میں اس کا ایک باب پڑھ چکا تھا لہٰذا اور بھی دلچسپی ہو گئی، سوٹفٹ کے ساتھ بھی تخئیلی دُنیاؤں کی سیر کرتے ہوئے اُسے بڑا لطف آیا خصوصاً 'Voyage to Lilliput' نے ایک بالکل انوکھی دُنیا سے آشنا کیا، ایچ۔جی۔ولس (H.G. Wells) کا معروف کارنامہ 'The Invisible Man' انٹرمیڈیٹ کے نصاب میں تھا اور اُسے پسند تھا، بی۔اے میں بھی 'The Machine'اور "The Kipps' میں کسی ایک کو منتخب کرنا تھا، اُس نے 'The Kipps' کو منتخب کیا تھا اور ایچ۔جی۔ولس کے طنز کو پسند کرنے لگا تھا، لیکن سوفٹ کے 'Gulliver's Travels' کی وجہ سے ایچ۔جی۔ولس کے ناول کو کسی حد تک نظرانداز کر رکھا تھا۔ حالانکہ ولس کم قیامت کا فنکار نہیں تھا۔ التباس کے اندر حقیقت کو دِکھانے کا یہ انداز کسے نصیب ہوا؟ دراصل بات یہ تھی کہ 'Voyage to Lilliput' تخیل اور التباس کے گھنگھور بادلوں میں ذہن کو گم کر دیتا تھا اور ایک نئی داستان کی خصوصیتیں پیش ہو جاتی تھی، بلاشبہ یہاں بھی تحمل کی گہرائیوں میں ’’حقیقتیں ‘‘ اور سچائیاں ، موجود تھیں اور اُن ہی حقیقتوں کے لیے التباس کا اتنا دلکش گہرا پردہ تنا ہوا تھا، زندگی کے مسائل بہت چھوٹے لیکن حد درجہ مضحکہ انگیز ساتھ ہی حیرت انگیز بن گئے تھے۔
".... I went on Boldly in spite of the enemy's arrows, many of which stuck against the glasses of my spectacles, but without any other effect, farther than a little to discompose them..."
پروفیسر، زندگی کے مسائل اور طنز کی کیفیتوں کو سمجھاتے لیکن اُس کا ذہن ایسی ہی دلچسپ تصویروں سے زیادہ لطف لیتا رہتا۔

مارک ٹوئن (Mark Twain) کے "Huckleberry Finn" سے ملاقات کالج ہی کے زمانے میں ہوئی،
 ’فن‘ (Finn) کی زندگی اور اُس کے تجربے ایک خاص دائرے میں کسی ’ایپک‘ سے کم نہ تھے، مرکزی کر دار آہستہ آہستہ احساس اور جذبے سے قریب ہوتا چلا گیا، اُس کے تجربوں کی پُر اسراریت نے اُس کے ذہن کو اپنی گرفت میں لے لیا تھا۔ اکثر اپنی ذات کو اِس کر دار میں تلاش کرتا اور خود کو اُس کے سفر میں پہچاننے کی کوشش کرتا۔

پروفیسر شتروگھن پرشاد سنگھ ہندی اور سنسکرت کے معلّم تھے اور وہ اُن سے بھی قریب رہا۔ شترو گھن جی اکثر ہندی ادب کے جدید رجحانات پر گفتگو کرتے، ہندی کی نئی کویتا سناتے، سنسکرت ادب کے کلاسیکی رجحانات پر اظہارِ خیال کرتے بہت شرمیلے اور خاموش طبیعت رکھتے تھے، جب تک انھیں چھیڑا نہ جاتا آسانی سے کچھ بولنے کو تیار نہ ہوتے، جب وہ کالج کی بزم کا سکریٹری بنا اور کئی مشاعرے اور ادبی جلسے ہوئے تو شتروگھن جی بھی اُس کی گزارش پر شریک ہوئے اور اپنی کویتائیں سنائیں ، اُردو زبان سے بھی محبت تھی، اُردو کی ترقی پسند تحریک سے خاص دلچسپی کا اظہار کرتے تھے۔
 پروفیسر مترا ’’سائیکولوجی‘ پڑھاتے، علم نفسیات سے دلچسپی اُسی زمانے میں ہوئی۔ پروفیسر مترا سخت مزاج تھے، بحث پسند نہیں کرتے، لیکن خود زیادہ سے زیادہ بولنا پسند کرتے تھے، شروع ہو جاتے تو آسانی سے چپ بھی نہیں ہوتے جب تک کہ کوئی اور نہ آن ٹپکے اور وہ اُس سے اُلجھ جائیں یا خود انھیں اپنا کوئی کام یاد نہ آ جائے۔ کسی نکتے یا مسئلے پر اُن سے کسی کا اختلاف ہو جاتا تو دوسرا شخص اپنے خیالات کا اظہار ہی نہیں کر سکتا تھا، بات بات پر خفا ہو جاتے تھے، کلاس میں طلبہ کی جانب سے سوالات بھی اُنھیں پسند نہ تھے، اپنے ’نوٹ بک‘ سے ’نوٹس‘ لکھا دیتے اور کچھ بنیادی باتیں سمجھانے کی کوشش کرتے، کلاس میں ذہن کی گرہیں کھلتی ہی نہ تھیں لہٰذا وہ نفسیات کے علم کو زیادہ سے زیادہ سمجھنے اور اس علم کے تعلق سے کچھ اچھی کتابیں پڑھنے کے لیے بے چین رہنے لگا، پٹنہ کے چند کتب فروشوں کی دکانوں پر کئی اچھی کتابیں مل گئیں اور وہ اپنے طور پر کچھ نہ کچھ پڑھتا رہا۔

ترقی پسند ادیبوں کے درمیان فرائیڈ کی تحلیل نفسی بحث کا موضوع بنی ہوئی تھی، موتی ہاری میں ہندی اور اُردو زبانوں میں کچھ لکھنے والوں نے انجمن ترقی پسند مصنّفین کی ایک شاخ قائم کر لی تھی، جلسوں میں نظمیں اور کویتائیں زیادہ پڑھی جاتی تھیں ، بھوجپوری کے شعرا بھی شریک ہوتے، وہ اس کا ایک سرگرم کارکن بن گیا تھا۔ ایک جلسہ میں سگمنڈ فرائیڈ کی تحلیل نفسی پر تقریر کی جس پر کافی بحث ہوئی۔ ایک مضمون لکھا ’’ادب اور نفسیات‘‘ اور فرائیڈ صاحب کے خلاف ایک عدد مقدمہ اپنی طرف سے بھی دائر کر دیا۔ ترقی پسندی کی انتہا پسندی نے اُسے اپنی گرفت میں لے رکھا تھا، اُس دور میں اِس نوعیت کے کئی اور مضامین لکھے جن میں چند شائع بھی ہوئے۔
سگمنڈ فرائیڈ اور اُن کی تحلیل نفسی نے اُس کی آنکھیں کھول دی تھیں ، خوابوں کے نفسیاتی تجزیوں نے اُس سے سرگوشیاں شروع کر دی تھیں ، اپنے ترقی پسند خیالات سے انھیں اپنی جانب بڑھتے ہوئے روک بھی نہیں سکتا تھا۔ ’مارکسزم‘ کا مطالعہ بھی کیا تھا جو ترقی پسند بننے سے خود کو طاقتور سمجھتا، نفسیاتی سچائیاں اُسے اپنے طور پر کچھ نہ کچھ سمجھا رہی تھیں ۔ ترقی پسندوں کے دلائل بھی کمزور نظر آنے لگے تھے۔

کچھ عرصہ بعد اُسے کرسٹوفر کا ڈول کی کتاب Illusion And Reality ملی جس نے اُسے متاثر کیا، اس کے بعد کا ڈول کی دو اور کتابیں حاصل ہوئیں : Studies in a Dying Culture اور Further Studies in a Dying Culture، برنارڈشا، ٹی۔ای۔لارنس، ڈی۔ایچ۔لارنس، ایچ۔جی۔ولس اور سگمنڈ فرائیڈ پر کاڈول کے مقالوں نے اُسے اُس دور میں بے حد متاثر کیا۔ 'Illusion and Reality' میں ’شاعری کا جنم‘ (The Birth of Poetry) ’سائیکی اور فینتاسی‘ (The Psyche and Fantasy) اور ’آرٹ کی تنظیم‘ (The Organisation of the Arts) بہت قیمتی مقالے تھے اور وہ انھیں آج بھی کئی لحاظ سے اہم تصور کرتا ہے۔
کرسٹو فرکاڈول نے فنون کے مطالعے کے لیے ایک ایسے ترقی پسند نظریے کے تئیں بیدار کیا کہ جس کی اُسے پہلے خبر نہیں تھی۔ اُردو کے بعض اہم تنقیدی مضامین لکھنے والوں نے بھی ’مارکسزم‘ کی روشنی میں اتنی بصیرت افروز گفتگو نہیں کی تھی اور آج تک نہیں کی ہے۔ پروفیسر سیّد احتشام حسین صاحب کے علاوہ کوئی ایسا ترقی پسند ناقد نہیں تھا جو مارکسی تنقید کے بعض بنیادی اصولوں کی وضاحت کر رہا ہو، ان کی عملی تنقید سے متاثر نہ تھا، البتّہ تنقیدی اصولوں کی بحث کو قیمتی تصور کرتا تھا، پروفیسر سیّد احتشام حسین صاحب کے بعد اس کی نظر اگر کسی مارکسی ناقد پر ٹھہری تو وہ جناب علی سردار جعفری تھے۔ اگرچہ ترقی پسندوں میں جذباتیت اور انتہا پسندی موجود تھی لیکن اُس کے باوجود اچھی تخلیقات سامنے آ رہی تھیں ، اچھے افسانے لکھے جا رہے تھے اور عمدہ شاعری کے اچھے نمونے بھی مل رہے تھے، ایک تاریخی دور تھا، ادب میں نئے دھارے پیدا ہو رہے تھے، میلانات اور رجحانات میں تبدیلیاں آ رہی تھیں ، ایسی فضا میں شکست و ریخت تو ہوتی ہی ہے۔ کرشن چندرؔ، راجندر سنگھ بیدیؔ، عصمت چغتائیؔ، فیض احمد فیضؔ، احمد ندیم قاسمی، مجروح سلطانپوریؔ، معین احسن جذبیؔ، خلیل الرحمن اعظمی، سہیل عظیم آبادیؔ، غلام ربانی تاباں ، ہاجرہ مسرورؔ، انورؔ عظیم، خدیجہؔ مستور، مہندر ناتھؔ، پرویز شاہدیؔ اچھے فنکاروں کا ایک قافلہ چل رہا تھا۔ کچھ عمدہ رسائل بھی شائع ہو رہے تھے، ایسی مؤثر تحریک تھی جو اس دور میں نہ ہوتی تو زندگی اور حیات و کائنات کے مسائل اور طبقاتی زندگی کے تضادات کو دیکھنے اور پرکھنے کا وقت جانے پھر کب آتا، اِس تحریک سے فکر و نظر میں ایک انقلابی تبدیلی پیدا ہو گئی، بعض تخلیقات کی اہمیت واقعی کلاسیکی ہو گئی، ترقی پسند فنکاروں نے نئے محاوروں اور نئے پیکروں کی تخلیق کی، ترقی پسند ادب کے جمہوری مزاج کو ادب کی تاریخ میں ایک نیا عنوان سمجھ رہا تھا اس لیے کہ یہ مزاج انسان دوستی کی اعلیٰ ترین قدروں سے پیدا ہوا تھا اور فنّی تجربے صرف خارجی نہیں بلکہ داخلی اور حسّی بھی تھے۔ انسان کے مستقبل پر گہرا اعتماد تھا۔

ترقی پسند ادب پر اعتراضات کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا تھا، تحریک کی مخالفت کرنے والوں میں چند بزرگ بھی تھے، اشتراکیت اور مارکسزم کے نام سے بعض لوگوں کی پیشانی پر شکن پڑ جاتی تھی، مخالفت کرنے والوں میں اکثر حضرات اپنی جذباتیت اور انتہائی پسندی کا ثبوت دے رہے تھے، لیکن کچھ ایسے تھے جو کچھ بنیادی سوالات اُبھار رہے تھے، اُس دور میں ’ادبی تنقید‘ بہت پیچھے رہی، مضامین ہی کی صورت نظر آتی، کسی ترقی پسند ناقد نے مارکسی تنقید پر کوئی مستقل کام نہیں کیا، مارکسزم پر اعتماد اور بھروسہ تو تھا لیکن مارکسزم کی روشنی میں فنون لطیفہ کا بہتر مطالعہ نہیں تھا، مجنون گورکھپوری، سیّد احتشام حسین، سیّد سجاد ظہیر، علی سردار جعفری اور ممتاز حسین صاحب وغیرہ اپنے مضامین کے ذریعہ مارکسی انتقادی نظریات سے آشنا کر رہے تھے، اُس وقت بلاشبہ اُردو ادب کو کسی کرسٹوفر کاڈویل کی ضرورت تھی، کاڈویل بھی اپنی فکر میں بڑا کٹر تھا اور اس کی وجہ یہ تھی کہ اسے مارکسزم پر مکمل اعتماد اور بھروسہ تھا اور یہ اعتماد اور بھروسہ مارکسزم اور فنونِ لطیفہ اور سماجیات کے گہرے رشتوں سے پیدا ہوا تھا۔ وہ ایک معمولی طالب علم تھا، بہت کچھ جاننا سیکھنا چاہتا تھا، کئی مضامین لکھے لیکن لکھتے رہنے سے زیادہ پڑھتے رہنے اور زیادہ سے زیادہ علم حاصل کرنے ہی کی خواہش رہی۔

اُس دور میں اُسے اِس قسم کی باتیں زیادہ پسند آتی تھیں :
---	 ’’تمام بورژوائی شاعری بورژوائی التباس کے تحرک کا اظہار ہے۔‘‘
--- 	’’بورژوا ادیب انسان کی جبلّتوں کو دیکھتا ہے یعنی انسان کے دل کو، جسے وہ اپنی خواہشات کا سرچشمہ سمجھتا ہے، یہ سمجھتا ہے کہ آزادی کا تصوّر اسی سے پھوٹا ہے حالانکہ یہ جھوٹ ہے اس لیے کہ جبلّتیں اندھی ہوتی ہیں اور آزاد بھی نہیں ہوتیں ، جب تک جبلّتوں کا رشتہ سوسائٹی سے قائم نہیں ہوتا، جذبات کا بہتر اظہار نہیں ہو سکتا، فنکار اپنی جبلّی توانائی کو سوسائٹی کی جانب موڑتا ہے ورنہ وہ فطرت یا نیچر کا مقابلہ نہیں کر سکتا، جدوجہد نہیں کر سکتا، فنکار کی انفرادیت افراد اور سماج کے تجربوں میں جذب ہو جاتی ہے۔‘‘
--- 	’’شیکسپیئر کی ٹریجڈی کا مطالعہ کرتے ہوئے یہ فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ اس نے ’بورژوا التباس‘ میں ایک سفر کیا ہے اور اسی سفر نے انسانی سماج کا شعور بخشا ہے۔‘‘
--- 	’’جارج برنارڈ شا کو اِس بات کا تو احساس ہے کہ ّسچائی ہی آزادی کی ضامن ہے لیکن اُس کا یہ انکار عجیب و غریب ہے کہ یہ احساس سماجی نہیں ہے، اس احساس کو تنہا کوئی شخص بھلا کس طرح حاصل کر سکتا ہے۔‘‘

کرسٹو کاڈوویل کے مطالعے کو وہ آج بھی قدر کی نگاہوں سے دیکھتا ہے۔ آج بھی اس کی کتابوں پر نظر ڈالتا ہے تو کچھ نہ کچھ حاصل کر لیتا ہے۔ اُردو کے ادیبوں اور تنقیدی مضامین لکھنے والوں میں معلوم نہیں کتنے لوگ ایسے تھے جنھوں نے واقعی مارکسی تنقید کی روح اور سگمنڈ فرائیڈ اور تحلیل نفسی کا مطالعہ کیا تھا۔ یقیناً یہ معتبر لوگ نہیں تھے ورنہ کئی اہم مقالے لکھے گئے ہوتے، سگمنڈ فرائیڈ کے نظریات اور تحلیل نفسی کے اصولوں پر انگریزی کی بعض کتابوں کی مدد سے کچھ لوگ لکھ تو رہے تھے لیکن فنونِ لطیفہ کے تعلّق سے کسی قسم کی کوئی فکر انگیز گفتگو نہیں ہو رہی تھی، وہ اپنے بزرگوں کی تحریروں سے کچھ جاننا سمجھنا چاہتا تھا اور اُسے مایوسی ہو رہی تھی، مخالفت کرنے والے بھی اس علم سے اپنی جانکاری کا بہتر ثبوت فراہم نہیں کر رہے تھے۔ تشنگی بڑھ رہی تھی۔ اُسے پروفیسر کلیم الدین احمد صاحب کی کتاب Psycho-Analysis And Literary Criticism ہاتھ آ گئی اور اُسے پڑھنے لگا۔ پہلی بار ایک ایسی کتاب ملی تھی جو نفسیات کے علماء کی فکر و نظر کی روشنی میں ’ادبی تنقید اور نفسیات‘ کو سمجھانے کی کوشش کر رہی تھی۔ اس کتاب سے نفسیات کے بعض علماء کے خیالات کا علم ہوا۔ ’ادبی تنقید اور علم نفسیات‘ کے رشتوں کا ایسا تجزیہ پہلی بار سامنے آیا تھا۔ بعض نقّادوں کے نظریات بھی اُس کے لیے نئے تھے۔ ہربرٹ ریڈ کے خیالات پُر کشش نظر آئے۔ اُس کے بعد ہی وہ ہربرٹ ریڈ کی تحریروں کی تلاش کرنے لگا۔ اُسے حیرت اس بات کی تھی کہ ناقد نفسیات اور اس علم کے معلّمین سے اس بات کی توقع کیوں کرتے ہیں کہ وہ جمالیات کو بھی موضوع بناتے، ذہنی امراض اور نفسی اور جنسی ہیجانات وغیرہ کے لیے ہی تو یہ علم وجود میں آیا اس سے کیوں توقع کریں کہ وہ ’جمالیاتی اقدار‘ کو بھی موضوع بنائے۔ پروفیسر کلیم الدین احمد نے لکھا تھا:
"The aesthetic process is not explained by Adler."
"Freud does not concern himself with the question of aesthetic values which are of great importance to the literary critic."
ہر برٹ ریڈ نے اس سوال کا جواب بہت پہلے دے دیا تھا اور اس کی خبر اُسے بہت بعد میں ملی، اس سوال کو اس طرح اٹھانے کی ضرورت بھی نہ تھی، ’فینتاسی‘ کے ’ارتفاع‘ میں جمالیاتی قدروں کی پہچان ہو جاتی ہے۔ اس کتاب کے مطالعے سے یہ فائدہ ضرور ہوا کہ تحلیلِ نفسی کے بعض بنیادی اصولوں اور علم نفسیات کے بعض بنیادی تصوّرات سے واقفیت حاصل ہو گئی۔ اس کے بعد علم نفسیات پر کتابیں پڑھنے کا شوق زیادہ بڑھا ایم۔اے کرتے ہوئے اور اس کے بعد ہی سگمنڈ فرائیڈ کی چند کتابیں پڑھ سکا مثلاً:'Civilization and its Discontents'، 'The Ego and The ID'، 'The Future of an Illusion'، 'Totem and Taboo' اور 'Wit and Its relation to the Unconscious'وغیرہ ان میں سب سے زیادہ 'Totem and Taboo' اور 'Beyond the Pleasure Principle' سے متاثر ہوا۔

اُردو کی ترقی پسند تنقید میں ’’حقیقت نگاری‘‘ کے سپاٹ تصوّر کو اُس کا ذہن قبول کرنے کو کسی طرح بھی تیار نہ تھا اور اسی طرح علم نفسیات کی روشنی سے گریز کرتے رہنے کا انداز  اور سماح                                                                                                                       اسے عجیب سا لگ رہا تھا۔


تئیس

علم معاشیات و اقتصادیات (Economics) بھی ایک خاص مضمون تھا، تین چار سال میں ، ’اکنامکس‘ پڑھانے کے لیے کئی استاد آئے اور چلے گئے۔ جو بھی آتا چند مہینوں کے بعد چلا جاتا، ’اکنامکس‘ کے نصاب میں ایک مقالہ تیار کرنا لازمی تھا، آخری سال میں کسی نہ کسی گاؤں میں جا کر وہاں کی اقتصادی حالت کے تعلق سے مبینہ حقائق اور امور معلومہ جمع کرنا ہوتا۔ تفصیلات و u                                                                                                                               جزئیات کا تجزیہ کر کے امتحان کے لیے داخل کرنا ضروری تھا۔ اس کے لیے اُس نے ایک چھوٹا سا گاؤں منتخب کیا اور وہاں کئی بار گیا۔ ہر طبقہ کے لوگوں سے گفتگو کی، جو کاغذات
ملے اُن سے نوٹس تیار کئے، پچھلے دس برسوں میں جس نوعیت کی غربت رہی اُس کا گراف تیار کیا۔ کسانوں نے ساہو کاروں سے جو قرض لیے تھے اور مالگذاری کی وصولیابی کے لیے اُن پر جو دباؤ رہتا تھا اُن کی تفصیل بھی لکھی۔ کسان اپنے کھیتوں میں محنت کرتے لیکن اناج کسی اور کے پاس پہنچتا تھا، کسانوں کو کیا ملتا تھا؟ اُن کے گھروں کی حالت کیا تھی، غربت نے اُنھیں تعلیم سے کتنا دُور کر دیا تھا، اُن کی جہالت سے کس طرح نا جائز فائدے حاصل کئے جاتے تھے۔ یہ سب لکھنا تھا، اُسی گاؤں میں اُس کی ملاقات رامیشور سے ہوئی۔
رامیشور کمیونسٹ تھے اور ’’کمیونسٹ لٹریچر‘ فروخت کرتے تھے،اخباروں اور کتابوں کو تھیلے میں لیے گاؤں گاؤں پھرتے،کبھی پیدل کبھی بیل گاڑی پر، کبھی کسی کی سائیکل پر اور کبھی کسی یکّے پر، بہت دنوں کے بعد انھوں نے اپنے لیے ایک پرانی بائیسکل خریدی۔ رامیشور کسانوں سے رابطہ قائم کئے ہوئے تھے، ہر گاؤں میں لوگوں سے باتیں کرتے، انقلاب کی باتیں ، مارکس، لینن اور استالن کی باتیں ۔ سوویت یونین کے ’’سرخ انقلاب‘‘ پر گفتگو کرتے، ہندوستان میں بھی ایک ایسے انقلاب کی تصویر پیش کرتے، ’’بھوجپوری‘‘ میں تبادلۂ خیال کرتے لہٰذا لوگوں کو اُن کی باتیں بہت پسند آتی تھیں ۔ نوجوانوں میں مقبول ہو رہے تھے، بہت جلد کسانوں کے جلسوں اور عوامی تہواروں میں کیمونسٹ پارٹی کا ’’سرخ پرچم‘‘ لہرانے لگا۔
رامیشور پڑھے لکھے تھے ۴۰، ۴۲ کی عمر تھی، بہت اچھی گفتگو کرتے تھے، اُس سے ملے اور پھر بہت قریب آ گئے۔
اُن کی وجہ سے ’’کمیونسٹ پارٹی‘‘ کا لٹریچر بھی ملنے لگا، اُس کی دعوت پر حویلی آئے۔ اور پھر پارٹی کے کام کے سلسلے میں مشورہ بھی کرنے لگے۔ کھاتے پیتے زمیندار گھرانے سے تعلق تھا، اچانک گھر سے نکل بھاگے اور پارٹی میں شامل ہو گئے۔ اُس زمانے میں پارٹی کی ممبر شپ آسانی سے نہیں ملتی تھی، بتا رہے تھے برسوں کام کیا، پارٹی نے کام کا جائزہ لیا اور کئی برسوں کے بعد جب اُن کے کام اور کر دار کی جانب سے اطمینان ہوا۔ تب ممبر شپ دی گئی۔ اُن کی وجہ سے وہ بھی پارٹی کا ایک عام ممبر بن گیا۔

خاموش طبیعت کے مالک تھے، جب تک کوئی چھیڑتا نہیں ایک لفظ نہیں بولتے لیکن جب تقریر کرنے کھڑے ہوتے تو لگتا جیسے عمدہ تقریروں کے لیے ہی جنم ہوا ہے ان کا، غضب کا حافظہ تھا، مارکس اور لینن کے خیالات کو بڑی آسانی سے سمجھاتے رہے، اُس وقت ’کیمونزم‘ کو کتابوں سے کم، رامیشور سے زیادہ جانا پہچانا۔
بڑے بڑے لمبے بال، چمکتی ہوئی ذہین آنکھیں ، بڑھتی ہوئی داڑھی، معمولی لباس اور تھیلا، یہی رامیشور تھے! کھانا مل گیا تو کھا لیا نہ ملا تو پروا نہیں کی۔ ’کمیونسٹ لٹریچر‘ فروخت کر کے غالباً معمولی سا کمیشن مل جاتا تھا ورنہ عموماً دوست احباب ہی اُن کا خیال رکھتے تھے، گاؤں گاؤں گھومتے اور پارٹی کا کام کرتے، بہت کم ایسے بے لوث لوگوں کو دیکھا۔

رامیشور پٹنہ جاتے رہتے تھے، پارٹی کے کام سے، جب بھی آتے اچھی اچھی کتابیں لے کر آتے۔ کچھ کتابیں وہ خرید لیتا۔ اُن کی وجہ سے وہ بہت کچھ پڑھ سکا، پٹنہ یا مظفر پور سے جب کچھ کتابیں لے کر آتے تو پہلے اُسی کو دکھاتے۔
’’مارکسزم سے گہری دلچسپی کا زمانہ یہی ہے‘‘، ’’جدلّیاتی مادّیت‘‘ اور ’’سوویت انقلاب‘‘، ’’مارکس‘‘ انجلس، لینن وغیرہ بنیادی موضوع بنے، ایسا محسوس ہوا جیسے اچانک کوئی دریچہ کھل گیا ہے اور تازہ ہوا اور نئی روشنی حاصل ہو رہی ہے۔

ایک کتاب ملی 'Lenin, on Art and Literature'۔ اِسے Lunacharsky نے مرتب کیا تھا، اِس چھوٹی سی کتاب نے اسے بے حد متاثر کیا۔ ایک بار رامیشور اُسے ’کیپتتل‘ (Capital) کی پہلی جلد دے گئے جو مہینوں اُس کے پاس پڑی رہی، اسے کھول کر اِدھر اُدھر سے کچھ پڑھا پھر ہمّت نہیں ہوئی، اسے پڑھنا اور سمجھنا آسان نہ تھا، رامیشور سے صاف طور پر کہا ’’بھیّا، اسے پڑھنا اور سمجھنا ناممکن ہے، یہ بہت اونچی چیز ہے۔‘‘ رامیشورہنسے اور کہا۔ ’’میں تمھیں آہستہ آہستہ کچھ سمجھانے کی کوشش کروں گا۔ جتنا سمجھ لوگے نابس اسی سے خوشی ہو گی مجھے۔‘‘
اب جب بھی بیٹھتے اس کتاب کو کھول کر کچھ نہ کچھ بتاتے رہے، آہستہ آہستہ دلچسپی بڑھنے لگی، سرمایہ دارانہ نظام کی بعض بنیادی حقیقتوں کو سمجھتے ہوئے اشتراکیت کی جانب بڑھا، کپیتال، (Capital) میں ’لیبر‘ (Labour) کے متعلق کارل مارکس نے جن خیالات کا اظہار کیا تھا وہ غیر معمولی نوعیت کے تھے۔ آج بھی ان کا قائل ہے۔ کارل مارکس کی بات اُس کے ذہن میں بیٹھ گئی کہ ’محنت‘ (Labour) وہ عمل ہے کہ جس میں انسان اور فطرت یا نیچر دونوں شریک رہتے ہیں ۔ ’نیچر‘ اور اپنی صلاحیتوں کے درمیان انسان، مادّی ردِّ عمل کو صرف منظم ہی نہیں کرتا بلکہ اسے اپنی مکمل گرفت میں لے لیتا ہے۔ ’نیچر‘ کے سامنے ایک قوت بن کر کھڑا ہو جاتا ہے کچھ اس طرح جیسے خود بھی فطرت کی ایک قوت ہو، اپنے جسم کا تحرک بھی رکھتا ہے اور اپنی ضرورتوں کے مطابق فطرت میں مناسب ترتیب پیدا کر دیتا ہے۔ انسان کی محنت کا وہی عمل قابلِ توجہ ہے کہ جس سے خارجی دنیا میں تبدیلی آ جاتی ہے، خارجی دنیا کی تبدیلی غیر معمولی نوعیت کی ہوتی ہے۔ اس لیے کہ اس عمل سے خود اُس کی فطرت میں تبدیلی آ جاتی ہے، جو قوتیں وہ پیدا کر لیتا ہے وہ اُس کی محکوم ہوتی ہیں اور اُسی کے اشاروں پر عمل کرتی ہیں ۔

جب آہستہ آہستہ دلچسپی بڑھتی تو کتاب لے کر تنہا بیٹھنے لگا اور کارل مارکس کے خیالات اور نظریات کا مطالعہ کرنے لگا، کبھی ایک حصہ سامنے ہوتا اور کبھی دوسرا، اسے پڑھتے ہوئے اچانک ’تخیل‘ (Imagination) کے موضوع پر کارل مارکس کے خیالات ملے اور وہ آہستہ آہستہ، ہر لفظ کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہوئے پڑھنے لگا اُسے محسوس ہوا کہ کارل مارکس نے ’تخیل‘ (Imagination) کو بہت اہم قرار دیا ہے اور اسے اِس طرح سمجھایا ہے کہ صرف ’فطرت‘ سے کوئی شئے خلق نہیں ہو جاتی۔ تخلیقی عمل صرف فطری عمل نہیں بلکہ تخیلی عمل بھی ہے، ایک مکڑی کی فطرت یہ ہے کہ وہ جال بنتی ہے، شہد کی مکھی کا عمل بھی ہم جانتے ہیں ، انھیں دیکھ کر بڑے بڑے عمارت ساز کو بھی حیرت ہوتی ہے لیکن فرق یہ ہے کہ معمولی عمارت ساز بھی عمارت کا نقشہ پہلے اپنے تخیل میں بناتا ہے اور اس کے بعد ہی اسے حقیقت کی صورت دیتا ہے، ہر محنت کے بعد جو نتیجہ سامنے آتا ہے وہ وہی ہوتا ہے جو ذہن اور تخیل میں ہوتا ہے! وہ صرف مادّہ کی صورت ہی تبدیل نہیں کرتا بلکہ اپنی محنت کی قدر و قیمت اور مقصد کے تئیں بھی بیدار ہو جاتا ہے، محنت کا درست اور سب سے بہتر تصوّر جسم اور دماغ دونوں کے پیشِ نظر ہی پیدا ہوتا ہے۔

شیکسپیئر کے متعلق کارل مارکس کے خیالات کا علم ہوا، ’’جرمن تصوریت‘‘ یونانی المیات‘‘، ’’انقلابی فکر اور المیہ کا انقلابی تصوّر‘‘، ’’ادب کا اسلوب‘‘ زبان اور سماج کا رشتہ‘‘، ’’حقیقت پسندی اور نظریہ‘‘، ’’سماجی شعور‘‘، ’’آرٹ کا ارتقائ‘‘، ’’فرد اور سماج‘‘، ’ہومر کی شاعری میں یونان کا سماج‘‘، ’’سرمایہ دارانہ نظام میں فنکاروں کا عمل‘‘ تخلیق کے نئے تقاضے‘‘، ’’کلچر کی ابتدائ‘‘ اسطور کی سماجی بنیادیں ‘‘ وغیرہ ایسے موضوعات تھے کہ جن پر اُس کی نظر پہلی بار پڑی، مارکس اور انجلس کے خیالات کی روشنی میں بہت سی بنیادی سچائیوں کا علم ہوا۔ ۱۹ اپریل ۱۹۷۶ء کو جب یاد ایک بار پھر تازہ ہوئی تو اُس نے اپنی ’ڈائری‘ میں لکھا:
’’کارل مارکس کا مطالعہ اپنے طور پر اتنی دلچسپی سے نہ کیا ہوتا تو میری سوچ بہت سی سماجی اور معاشرتی سچائیوں کے تجزیے میں کبھی مدد نہیں کرتی، کارل مارکس کو اپنے طور پر آہستہ آہستہ پڑھتا اور سمجھتا رہا ہوں ، غالباً اسی وجہ سے میرے ذہن کا وہ دریچہ کھلا کہ جس کے وجود کا احساس کبھی نہ تھا!‘‘ (ڈائری ۱۹-۴-۱۹۷۶ء مطبوعہ)
پڑھنے لکھنے کا یہ بہت اچھا وقت تھا، کتابیں بھی مل رہی تھیں اور مشورے بھی حاصل ہو رہے تھے۔ بی۔اے آنرز کی تعلیم ختم کرتے کرتے جانے اُس نے کتنی کتابیں پڑھیں ، اپنے کمرے میں بند رہتا اور تنہائی میں پڑھتا رہتا۔
اسی زمانے میں دو اور اہم کتابیں حاصل ہوئیں ، ایچ۔ایل۔مورگان (H.L. Morgan) کی معروف تصنیف 'Ancient Society' اور انجلس (Frederick Engels) کی 'The Origin of the Family، Private Property and the State،اِن دونوں کتابوں نے بھی اُسے بہت متاثر کیا، ان میں جانے کتنے دن اُلجھا رہا، کبھی درمیان سے پڑھنے کی کوشش کی کبھی آخری حصّے کو دیکھا کبھی ابتداء سے پڑھنے کی کوشش کی۔
کئی اور اہم کتابوں کے ساتھ یہ دونوں بھی ہمیشہ اُس کے ساتھ رہیں ۔ اُس دور میں چند مضامین لکھے مثلاً:
	ادب اور فسادات،
	ادب اور نفسیات،
	کلیم الدین احمد بحیثیت نقاد،
	سردار جعفری کا لال سلام،
	ترقی پسند ادب اور غزل،
	ادب کی جدلیاتی ماہیت،
	اُردو افسانہ کا مستقبل،
	جوش کے سماجی شعور کا تجزیہ، 
	اُردو ادب میں آزاد نظمیں ، 
	اکبر کا آرٹ وغیرہ
یہ مضامین ۱۹۴۸ء سے ۱۹۵۰ء کے درمیان لکھے گئے جو ’’ادب اور نفسیات‘‘ میں شامل ہوئے۔ ’’ادب اور نفسیات‘‘ ۱۹۵۳ء میں پروفیسر سیّد احتشام حسین صاحب کے تعارف کے ساتھ پٹنہ سے شائع ہوئی، علامہ نیاز فتح پوری اور فراق گورکھپوری صاحب نے حوصلہ افزائی کی۔ نیازؔ صاحب نے لکھا: ’’شکیل الرحمن نقد و ادب میں اپنے لیے نمایاں جگہ پیدا کر رہے ہیں ۔ ’’احتشام صاحب نے تحریر فرمایا ’’شکیل الرحمن تنقید نگاری میں اُن اصولوں کی ترجمانی کرتے ہیں ۔ جو مارکسی فلسفہ کی بنیاد پر مرتب ہوتے ہیں ۔ ’’فراقؔ صاحب نے لکھا‘‘ شکیل الرحمن نئی ترقی پسند تنقید میں بہت مفید اور نہایت قابلِ قدر اضافہ کر رہے ہیں ، مارکسی نظریہ کی ترجمانی کرتے ہوئے ان کے تنقیدی مقالے دعوتِ غور و فکر دیتے ہیں ’’انھوں نے اُسے‘‘ نمک حلال نقاّد کہا۔ بزرگوں نے اس طرح ایک نئے لکھنے والے کی حوصلہ افزائی کی اور اس نے انھیں اُن کی دعائیں اور نیک خواہشات ہی تصوّر کیا۔

ہوا یہ کہ ۱۹۴۹ء میں ’’سردار جعفری کا لال سلام‘‘ لکھا اور اسے پروفیسر سیّد احتشام حسین صاحب کو بھیج دیا، کچھ ہی دنوں کے اندر ہی اُن کا ایک نہایت ہی حوصلہ افزا خط ملا اور ان کی رائے ملی، علی سردار جعفری صاحب کی شاعری پر یہ پہلا یا دوسرا مضمون تھا، احتشام صاحب نے بھی علی سردار پر ایک مقالہ لکھا تھا جو غالباً روایت اور بغاوت‘‘ میں شامل ہوا۔ جب تمام مضامین کتابی صورت میں شائع ہونے لگے تو احتشام صاحب نے از راہِ کرم ایک مختصر تعارف لکھا اور ایک نئے لکھنے والے کی ہر ممکن حوصلہ افزائی کی۔ کتاب کی اشاعت کے بعد فراق صاحب جب بھی ملے اپنی گول گول آنکھوں کو نچاتے ہوئے یہی کہا ’’تم تو مارکسزم کا دودھ پی کر جوان ہوئے ہو۔ علی سردار جعفری صاحب نے اپنی کتاب ’’ترقی پسند ادب‘‘ میں اُس کا ذکر کیا، ترقی پسند حلقے میں اُس کی کتاب پسند کی گئی لیکن وہ کبھی مطمئن نہ تھا، جانتا تھا یہ ایک طالب علم کی کوشش ہے اور بس! ادبی تنقید کے لیے جس بصیرت اور وسیع النظری کی ضرورت ہے موجود نہیں ہے، اپنا جائزہ لیتا رہا۔ تحریری طور پر اپنے خیالات کو رد بھی کرتا رہا۔ ۵۱-۱۹۵۰ء میں اُس نے ’’حسن عسکری اور فرانسیسی ادب‘‘ اور ’’پروفیسر رشید احمد صدّیقی‘‘ پر جو مضامین لکھے وہ بھی اُسی نوعیت کے تھے، اُس دور کے چند اور مقالے یہ تھے:
	’’فیض کی شاعری‘‘
	’’منٹو کی حقیقت نگاری‘‘
	’’اُردو غزل کی تکنیک‘‘
	’’روش صدّیقی کا سوز و گداز‘‘
	’’جدید افسانہ، جدید مطالبے‘‘
	’’جذبی کا شعور‘‘
	’’مخدوم کی شاعری‘‘
	’’اختر اورینوی کی افسانہ نگاری‘‘
	’’احمد ندیم کی شاعری‘‘
	’’فانی کا غم‘‘
	سہیل عظیم آبادی کی کہانیاں ‘‘
	’’میرا جی کی شاعری کے دو پہلو‘‘
یہ مقالے ’’شعور اور تنقیدی شعور‘‘ میں شامل ہوئے۔ ’’ادب اور نفسیات‘‘ اور ’’شعور اور تنقیدی شعور‘‘ کے تمام مضامین طالب علمی کے زمانے میں لکھے گئے تھے، علاّمہ نیاز فتح پوری نے اُس کی بڑی حوصلہ افزائی کی، ’نگار‘ میں لکھا ’’شکیل الرحمن صوبۂ بہار کے ایک نوجوان ادیب و نقّاد ہیں جنھوں نے حال ہی میں لکھنا شروع کیا اور دو تین سال کے اندر ہی نقّادوں کی صف میں اپنی جگہ پیدا کر لی، شکیل کے یہاں نری منطق ہی منطق نہیں بلکہ عقل کی باتیں بھی ہیں (منطق اور عقل میں بڑا فرق ہے وہ مغالطہ پیدا کرتی ہے اور یہ مغالطہ دُور کرتی ہے) اندازِ بیان بھی بہت سلجھا ہوا ہے اور طریقِ استدلال بھی مستعار نہیں ہوتا، مارکسی اسکول کے نقّادوں میں سب سے بڑا عیب ژولیدگی بیان ہوتا ہے اور وہ شکیل کے یہاں بالکل نہیں ہے۔‘‘
ایسے خیالات پڑھ کر خوش ہوتا لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ اپنے طور پر مطمئن نہ تھا، فنون لطیفہ کو بار بار سمجھنے کی خواہش ہوتی، ان کی اقدار کو جاننا پہچاننا چاہتا تھا، ’زندگی اور فنون لطیفہ‘ اور ’تخلیقی عمل اور تخلیقی محنت‘ تخیل اور ’فینتاسی‘ نظریہ اور ’وژن‘ سب کو سمجھنا چاہتا تھا، بڑا خوش قسمت تھا کہ اُسے اپنے بزرگوں کی رائے ملتی رہی، جب کوئی مقالہ شائع ہوا چند بزرگوں نے اپنی رائے ضرور لکھی۔ جب علی سردار جعفری پر مضمون لکھا تو پروفیسر سیّد احتشام حسین صاحب نے لکھا ’’جعفری کی شاعری میں اشتراکی روح کو پانے کی کوشش پسند آئی۔ ‘‘ایک بار اپنی قیمتی رائے کا اظہار اس طرح کیا ’’شکیل الرحمن تنقید کے لیے ان علوم کا مطالعہ ضروری سمجھتے ہیں جن سے حقائق کی پرکھ ہوتی ہے، وہ تنقید نگاری میں اُن اصولوں کی ترجمانی کرتے ہیں جو مارکسی فلسفہ کی بنیاد پر مرتب ہوتے ہیں ، اس میں شک نہیں کہ ادب اور زندگی کے رشتہ کو سمجھنے کے لیے جتنے طریقے ہمارے سامنے آئے ہیں اُن میں سب سے زیادہ حکیمانہ طریقہ یہی ہے…‘‘
سیّد احتشام حسین صاحب کے خط محفوظ نہ رکھ سکا، بعض خط بہت قیمتی تھے اس لیے کہ اُن کے مفید مشوروں میں ان کے نقطۂ  نظر کی بھی وضاحت ہوتی تھی۔ یہ وہ دور تھا جب ترقی پسند فنکار اور ناقد سچائیوں کو صاف طور پر سمجھانا چاہتے تھے اور اس کے لیے صاف گوئی کا لہجہ اختیار کئے ہوئے تھے جذباتی اندازِ بیان تھا، خطابت کا رنگ تھا، عوامی ذہن تک پہنچنے کی کوشش کی تھی اور یہ سب کچھ ضروری تھا، اقبالؔ، جوشؔ، ظفر علی خان اور پریم چند کی روایات کے ایسے پہلو موجود تھے، مثلاً:
اُٹھ کہ اب بزم جہاں کا اور ہی انداز ہے
مشرق و مغرب میں تیرے دور کا آغاز ہے
---------
آفتاب تازہ پیدا بطن گیتی سے ہوا
آسماں ٹوٹے ہوئے تاروں کا ماتم کب تلک
---------
تو قادر و عادل ہے مگر تیرے جہاں میں 
ہیں تلخ بہت بندۂ مزدور کے اوقات
---------
کب ڈوبے گا سرمایہ پرستی کا سفینہ
دنیا ہے تیری منتظر روز مکافات
---------
سلطانیٔ جمہور کا آتا ہے زمانہ
جو نقش کہن تم کو نظر آئے مٹادو
جس کھیت سے دہقاں کو میسر نہیں روزی
اس کھیت کے ہر خوشۂ گندم کو جلادو
(اقبالؔ)
اٹھائے گا کہاں تک جوتیاں سرمایہ داری کی
جو غیرت ہو تو بنیادیں ہلا دے شہر یاری کی  (جوشؔ)
ترقی پسند ادیبوں اور فنکاروں نے تو ان ہی روایات کے فیض سے اس قسم کے تجربے پیش کئے تھے:
پیشانیِ افلاس سے جو پھوٹ رہی ہے
اُٹھتے ہوئے سورج کی کرن ہے کہ نہیں ہے!
(سردار جعفری)
شب کے سنّاٹے میں رونے کی صدا
کبھی بچوں کی کبھی ماؤں کی
چاند کے تاروں کے ماتم کی صدا
رات کے ماتھے پہ آزردہ ستاروں کا ہجوم
صرف خورشید درخشاں کے نکلنے تک ہے
رات کے پاس اندھیرے کے سوا کچھ بھی نہیں 
(مخدوم محی الدین)
جوشؔ ملیح آبادی کی نظم ’ایسٹ انڈیا کمپنی کے فرزندوں کے نام‘ نے یہ انداز اختیار کیا تھا:
جب یہاں آئے تھے تم سوداگری کے واسطے
نوعِ انسانی کے مستقبل سے کیا واقف نہ تھے؟
اپنے ظلم بے نہایت کا فسانہ یاد ہے؟
کمپنی کا پھر وہ دورِ مجرمانہ یاد ہے؟
لوٹتے پھر تھے جب تم کارواں در کارواں 
سر برہنہ پھر رہی تھی دولتِ ہندوستاں 
دست کاروں کے انگوٹھے کاٹتے پھرتے تھے تم
سرد لاشوں سے گڑھوں کو پاٹتے پھرتے تھے تم
اور عوامی جذبوں میں تحرک پیدا کرنے کے لیے ترقی پسندوں نے اس قسم کا لہجہ اختیار کیا:
ڈھل رہی ہے زر گری کی رات کے تاروں کی چھاؤں 
مفلسی پھیلا رہی ہے وقت کی چادر میں پاؤں 
انقلابِ دہر کا چڑھتا پارہ ہے جنگ
وقت کی رفتار کا مڑتا ہوا دھارا ہے جنگ
(سردار جعفری)
ابھی گرانیٔ شب میں کمی نہیں آئی
نجات دیدہ و دل کی گھڑی نہیں آئی
چلے چلو کہ وہ منزل ابھی نہیں آئی
(فیضؔ)
کرشن چندر نے جب آزادی کے چراغ تلے اندھیرا دیکھا تو گوپال کرشن گوکھلے کے جھکے ہوئے تاریک بت کے سامنے دیر تک ٹھہر نہ سکے:
’’مالی آنکھیں ملتا ہوا آہستہ سے اپنے بستر سے اٹھا، اُس نے دیکھا کہ آزادی کی رات ختم ہو چکی ہے اور سپیدۂ سحر نمودار ہو رہا ہے، وہ نلائی کا سامان اُٹھائے باغیچے میں چلا گیا جہاں پر اُس نے گلاب کے پیڑ پر ایک ننھی سی کلی کو پھوٹتے دیکھا تھا، یہ کلی اُس وقت گلاب کا ایک ہنستا ہوا شگفتہ پھول بن گئی تھی اور اس کی نازک پتیوں پر شبنم کی بوندیں لرز رہی تھیں ۔‘‘(بہار کے بعد)
علی سردار جعفری ہندوستان اور پاکستان کے مہاجرین کے نام ایک پیغام لے کر آئے:
	یہ کس سے فریاد کر رہی ہو؟ 
	یہ کس کو آواز دے رہی ہو؟
	تم اپنے زخمیوں کی راکھیاں لے کے کس کی محفل میں جاری ہو!
	تمھارے یہ راہبر نہیں ہیں ۔
	تمھارے یہ داد گر نہیں ہیں ۔
	یہ کاٹھ کی پتلیاں ہیں جن کو۔
	سیاسی پردوں کے پیچھے بیٹھے ہوئے مداری
	سفید ریشم کی ڈوریوں پر نچا رہے ہیں ۔
	اندھیری شب سے میرے شفق کی سنہری دُنیا جھلک رہی ہے۔
	وہ اپنے سینے کا سوز لائیں ۔
	میں اپنے نغموں کی آگ لاؤں 
	تم اپنی آہوں کی مشعلوں کو جلا کے نکلو
	ہم اپنی روحوں کی تابناکی سے اس اندھیرے کو پھونک دیں گے
	کہ جن کے منحوس دامنوں میں گناہ پروان چڑھ رہے ہیں !
(سردار جعفری)
’ہم وحشی‘ (کرشن چندر) ’سردار جی‘، ’اجنتا‘ (خواجہ احمدؔ عباس) ’دھانی بانکیں ‘ (عصمت چنتائی) طوفان سے پہلے (اوپندر ناتھ اشک) اور اس قسم کی دوسری تخلیقات نئی بھی تھیں اور اپنی ادبی روایات سے جڑی ہوئی بھی، اپنے دور کی یہ تخلیقات ایسی نہ تھیں کہ جنھیں نظر انداز کر دیا جاتا، یہ اُس دور کے ایسے تجربے تھے کہ جنھیں اُن لوگوں نے بھی ٹھٹھک کر دیکھا جو ترقی پسند ادب کے مخالف تھے۔ یہی فن آہستہ آہستہ نکھرتا گیا ہے، کرشن چندرؔ، بیدی، عصمتؔ، خواجہ احمد عباسؔ، فیضؔ، سردار جعفریؔ، مجروحؔ، کیفیؔ، وامقؔ، پرویزؔ، انور عظیمؔ، بلونت سنگھ، احمد ندیمؔ، ساحرؔ، غلام ربانی تاباں ؔ، ہاجرہ مسرورؔ وغیرہ نے اپنی بہتر تخلیقی صلاحیتوں کا اظہار کیا۔ اُن کی تخلیقات تاریخی نقطۂ نگاہ سے بھی اہم ہیں اور ادبی اور فنّی نقطۂ  نظر سے بھی بہتر تجزیہ کا مطالبہ کرتی ہیں ، وہ انھیں آج بھی کئی لحاظ سے بہت اہم تصوّر کرتا ہے۔ ترقی پسند تنقید بہت پیچھے رہی، اس تنقید نے صحافتی انداز اختیار کر رکھا تھا۔ تبصرہ نگاری ’ادبی تنقید‘ بن گئی تھی، تجزیاتی مطالعہ نہیں ہو رہا تھا، چند ہی بزرگ ایسے تھے جو عملی تنقید کی جانب متوجہ تھے اور عملی تنقید بھی ایسی تھی جو متاثر نہیں کرتی تھی، مارکسزم نے فنکار، تخلیق اور ماحول کے تجزیے کا جو شعور بخشا ہے وہ بھی نظر نہیں آ رہا تھا، اپنی تہذیب کی تاریخ بدلتے ہوئے رجحانات فنکار کے بنیادی رویوں ، مشترکہ تہذیب کے روشن پہلوؤں ، طبقاتی زندگی کے انتشار اور ہیجانات، زندگی کے تعلق سے بعض سخت نظریات، عوامی گیتوں اور کہانیوں کے رموز و اسرار، تخلیقی عمل اور فنکار اور سماج کے باہمی رشتوں کا کوئی ایسا مطالعہ سامنے نہیں آیا کہ جس سے اندازہ ہو کہ ادبی تنقید نے اُس عہد میں کوئی نمایاں کارنامہ انجام دیا ہو، کچھ لوگ ’درمیان‘ میں تھے، ترقی پسند تھے بھی اور نہیں بھی تھے۔ روایات کی خبر طرح طرح سے دے رہے تھے، ریڈیائی مضامین کے مجموعوں سے اپنے علم کا ثبوت تو کسی نہ کسی طرح فراہم کر رہے تھے لیکن کھل کر کچھ نہیں کہہ پا رہے تھے۔ شاعری کیا ہے؟ ترقی پسند شاعری شاعری ہے یا نہیں ؟ ترقی پسند افسانہ افسانہ ہے یا نہیں ؟ نہیں ہے تو کیوں نہیں ہے؟ ان کی زبان خاموش رہتی، کبھی گاندھی کے نظریہ کو سامنے رکھتے اور کبھی نہرو کے خیالات پر اظہارِ خیال کرتے، ہندوستان کی معاشرتی اور طبقاتی زندگی اور معاشی اور اقتصادی زندگی کو اس طرح نظر انداز کر رہے تھے جیسے سماج یا معاشرے میں ان کی کوئی اہمیت ہی نہ تھی، اقبالؔ پسند اور اقبالؔ پرست تھے لیکن کبھی اقبالؔ کی روایات پر قلم نہیں اُٹھایا اور ان کی روایات کی روشنی میں نئے ادب کا جائزہ نہیں لیا۔ خطیبانہ شاعری کی مخالفت کر رہے تھے۔ لیکن اس کی جمالیات سے واقف ہونا ضروری نہیں سمجھتے تھے، یوروپی ادبیات کے حوالے دیتے تھے لیکن اُن کی نظر کبھی یوروپی ادبیات کی خطیبانہ روایات پر نہیں گئی، اقبالؔ کی خطیبانہ شاعری کو سینے سے لگائے ہوئے تھے ترقی پسند شعراء کے خطیبانہ انداز کو پسند نہیں کرتے تھے، جب بھی اس کی حمایت میں کچھ کہا جاتا تو ’شعریت‘ کی بحث اٹھاتے حالانکہ عمر بھر یہ نہ بتا سکے کہ ’شعریت‘ کیا ہے، ہندوستان کی ’بوطیفا‘ سے بے خبر تھے، اپنی مٹّی کی خوشبو پہچاننے سے قاصر تھے، یوروپی نقّادوں کے حوالوں سے سب کچھ سمجھا دینے کی کوشش فرما رہے تھے اُردو کے ایسے نقّادوں کو اپنی تہذیب اور اپنے فنون کی خبر بہت کم تھی۔ تہذیبی اور فنّی روایتوں کو جس نظر کی ضرورت تھی وہ مفقود تھی روایات اور ادبی اور فنّی روایات کی پہچان کے لیے نظر کل بھی نہیں تھی اور آج بھی نہیں ہے۔ یوروپ اور برصغیر کے مزاج اور دونوں کی ادبی روایات کے فرق کو نہیں سمجھ پا رہے تھے، پروفیسر لوگ تھے ناقد نہیں تھے۔ دوسری طرف ترقی پسند شاعری کے نام پر بھی جانے کیسی کیسی چیزیں لکھی جا رہی تھیں ، کلام اور دیگر تخلیقات کا تجزیاتی مطالعہ ہوتا رہتا تو یقیناً ترقی پسند ادب بہت سی خامیوں سے پاک ہو جاتا، یوں تو ہر دور کے ادب میں کمزور پہلو ہوتے ہیں اور جب کوئی تحریک چلتی ہے تو اس میں کمزور پہلوؤں کی پیدا ہو جانا فطری ہے، بے راہ روی آ جاتی ہے، ادبی تنقید ایسے ہی لمحوں میں تجزیاتی مطالعے سے روشنی عطا کرتی ہے، بدنصیبی سے ایسا نہ ہوا۔ وہ آج بھی ترقی پسند تحریک کو ادب کی تاریخ میں نمایاں مقام دیتا ہے، ترقی پسند فنکاروں کی تخلیقات کی قدر کرتا ہے۔ اسے اُردو ادب میں پہلی واحد ادبی تحریک سمجھتا ہے جس نے سوچنے کے انداز کو تبدیل کر دیا، فنون کے تعلق سے ایسے بہت سے سوالات سامنے رکھ دیئے کہ جن پر آج بھی گفتگو ہو رہی ہے اور یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ افہام و تفہیم کے لیے اِس تحریک نے جو تحرک بخشا ہے اس کی قدرو قیمت کا احساس نہ ہو تو افسوس کی بات ہے۔
اُس دور میں اُس میں بہتر تنقیدی مقالوں کے لکھنے کی صلاحیت کیا تھی، اپنے ناقص مطالعے کی روشنی میں کبھی کبھی کچھ لکھ لیتا تھا، اُس دور میں اُس نے صرف کیا کہ میرا جی کی--- عریاں نگاری اور فحش نگاری، حسن عسکری کی ’فرانسیت‘ تحلیل نفسی، کی جبلّت نوازی اور پروفیسر کلیم الدین احمد کی غیر ذمّہ دارانہ تنقید نگاری، وغیرہ پر اظہارِ خیال کیا اور جوش فیض، علی سردار جعفری، کرشن چندر، عصمت چغتائی، مخدوم محی الدین اختراورینوی، سہیل عظیم آبادی، سعادت حسنؔ منٹو، جذبی وغیرہ پر عام نوعیت کے مضامین لکھے۔ اپنے تمام ایسے مضامین کو رد کر چکا ہے، اُن کی کوئی اہمیت نہیں سمجھتا۔ اپنے صحافتی اور جذباتی انداز کو پسند نہیں کرتا، یہ نہیں چاہتا کہ کوئی ان کا ذکر کرے اس لیے کہ یہ طالب علمی کے دور کے معمولی مضامین تھے۔ اگر وہ اُس زمانے میں ’طلسم ہوش ربا‘ فسانۂ آزاد‘ اور مارکسزم کی روشنی میں فنون کا مطالعہ کرتا تو شاید کچھ کام کی باتیں کرتا۔ سب کچھ پڑھ لینے کے باوجود اتنا حوصلہ نہیں تھا کہ ایسے موضوعات کو منتخب کرے اور اُس میں ایسی تنقیدی بصیرت کب تھی جو ان کا تنقیدی جائزہ اُس دور میں لے لیتا اور ان کی معنویت اور اہمیت سمجھاتا، کلاسیکی ادب کو پڑھ کر انبساط تو حاصل کر لیتا تھا لیکن نورِ بصیرت حاصل کرتا اور اسے عام کرنا اُس کے بس کی بات نہیں تھی، چاہتا تھا اُردو کے بزرگ نقّاد ایسے موضوعات پر قلم اُٹھائیں تاکہ وہ اپنے ناقص مطالعے کے پیشِ نظر انتقادی بصیرت کو پا سکے۔ اُس میں لکھتے رہنے سے زیادہ پڑھنے کا شوق تھا اور اسے عبادت تصوّر کرتا تھا۔ ایم۔اے تک آتے آتے کئی ادبی تحریکوں اور کئی معروف ’رُوسی‘، ’فرانسیسی‘ اور ’جرمن‘ فنکاروں سے انگریزی زبان کے ذریعہ واقف ہو چکا تھا، دوستو وسکی (Dostoevsky) نے کہ جس کے متعلق کسی فرانسیسی ادیب نے یہ کہا تھا کہ وہ پاگل خانے کا شیکپیئر ہے، اپنے فن سے بے حد متاثر کیا پہلے The Brothers Karamazov پڑھا اور بہت دنوں کے بعد اُس کا ناول Crime And Punishment حاصل ہوا، نفسیاتی کیفیات اور نفسیاتی عمل اور ردِّ عمل کا ایسا منظر نامہ نگاہوں سے نہیں گزرا تھا، کر دار نگاری کے فن کو اتنے عروج پر دیکھ کر سوچنے لگا تخلیقی فنکار نئی تخلیق کرتے ہوئے کیسی معنی خیز تصویریں پیش کر دیتا ہے، اسی طرح موپاساں کی کہانیوں کا اثر ہوا۔ اُس کے سنجیدہ افسانے پڑھے اور ایسے افسانے بھی کہ جن میں مزاحیہ کر دار زندگی کی کسی ّسچائی کو اچانک نئی صورت عطا کر دیتے ہیں (موپاساں کی دو کہانیوں کو ڈرامائی صورتیں دے کر ریڈیو کشمیر کے ذریعہ پیش کیا) ایسا افسانہ نگار پہلے ملا اور نہ پھر کبھی، یوں چیخوف کے افسانے بھی بے حد پسند آئے، اور اعلیٰ ترین فنکاری کا ثبوت ملتا رہا لیکن موپاساں کا جادو ہمیشہ قائم رہا (چیخوف نے اعتراف کیا ہے کہ اُس نے موپاساں کو پڑھا تھا) موپاساں کے افسانوں میں ’ایک آوارہ‘، ’انتقام تنہائی‘ ایک مردہ عورت کا راز، کمرہ نمبر۱۱، بستر نمبر ۳، پاگل عور ت، نکلس، بھوت اور سفید عورت وغیرہ اسے آج بھی یاد ہیں ۔ اِسی طرح چیخوف کے افسانوں میں ’وارڈ نمبر۶، ’میری زندگی‘، ’سیاہ راہب‘، ’تین بہنیں ‘، ’چیری کا باغ‘ وغیرہ کی یاد ابھی بھی تازہ ہے۔ (۱۹۸۵ء میں جب وہ دوسری بار سویت یونین گیا تو چیخوف کی ایک سو پچیسویں سالگرہ منائی جا رہی تھی، اُس نے ’چیخوف اور اُردو فکشن‘ کے موضوع پر ’ماسکو ریڈیو‘ سے ایک تقریر کی، کہا چیخوف، طالسطائی اور گورکی کی کہانیوں کی بدولت بھی ’اُردو فکشن‘ میں ہیرو اور مرکزی کر داروں کا تصوّر تبدیل ہوا ہے، نئے ہیرو نے جنم لیا ہے، پسماندہ اور متوسط طبقے کے جانے پہچانے کر دار، مرکزی اور ضمنی کر داروں کی صورتوں میں سامنے آئے ہیں ، یہ ہیرو اور یہ کر دار ہندوستان کے گھرانوں اور کھیتوں اور کھلیانوں اور کار خانوں میں موجود تھے، جانے کب سے جی رہے تھے لیکن اُردو فکشن میں نہیں آئے تھے، اس نے یہ بھی کہا تھا کہ چیخوف کی کہانیوں کا دوسرا پہلو جو اُردو ادیبوں کے شعور و احساس سے ہم آہنگ ہوا ’انسان‘ اور اُس کے ایک خوبصورت مستقبل پر مکمل اعتماد کا پہلو ہے، چیخوف کی بعض کہانیوں میں اگرچہ زندگی کی بے پناہ گھٹن کی تصویریں جا بجا ملتی ہے لیکن ساتھ ہی یہ بھی حقیقت ہے کہ اُمید، آرزو اور آنے والی اچھی زندگی پر اعتماد کی روشنی بھی پھوٹتی رہتی ہے)

طالسطائی کی خود نوشت سوانح حیات (Childhood, Boyhood And Youth مل گئی جس میں اُس نے زندگی کی انتہائی معمولی بات اور لمحوں میں رونما ہوئے معمولی واقعات کو تازہ، معنی خیز اور متحرک بنا دیا تھا، زندگی کے ہر چھوٹے بڑے واقعے سے خود کو وابستہ کرنے اور ہر واقعہ میں اپنی شناخت کے عمل کی فنکارانہ تصویریں سامنے آئیں ، تیز مشاہدہ اور نفسیاتی درون بینی دونوں قابلِ توجہ بن گئیں ، ایک بچّے کی زندگی میں جو سادگی ہو سکتی ہے موجود تھی، شدّت احساس کی تازگی نے بے حد متاثر کیا، یہ تلاشِ ذات کا بھی فسانہ تھا اور تلاش زندگی کا بھی، ’ماما‘، ’پاپا‘، ’کھیل‘، ’طوفان‘، ’ماشا‘، ’خواب‘، ’اعتراف‘، ’محبت‘، ’جوانی‘، ’والد کی دوسری شادی‘، ’سماج‘، ’سوتیلی ماں ‘ وغیرہ ایسے موضوعات تھے کہ جن کی یاد اب تک تازہ ہے۔ Annnار کا مڑتا ہوا دھارہ                                                                                                        a Karenina بھی پڑھا اور کر دار نگاری کے فن سے متاثر ہوا۔ War And Peace کی ضخامت سے ڈر گیا۔ ایم۔اے پاس کرنے کے بعد جب وہ رانچی میں تھا تو اس کے ایک دوست سعید صاحب جو ’تھریکنا‘ محلّے میں اُس کے پڑوسی بھی تھے۔ یہ ناول ہاتھ میں لیے رہتے، آتے، بیٹھتے اور اس ناول پر گفتگو شروع کر دیتے،جب اُس نے انھیں یہ بتایا کہ اب تک یہ ناول نہیں پڑھ سکا ہے تو اصرار کرنے لگے، سچ تو یہ ہے کہ اُن کے مسلسل دباؤ میں آ کر یہ ضخیم ناول پڑھا، اس میں کافی وقت صرف ہوا، فطرت کے کر دار سے بے حد متاثر ہوا۔ بعض حصّے بہت بوجھل لگے، یہاں وہاں سے کئی اوراق اُلٹ دیئے جنگ کی تفصیل سے کوئی دلچسپی نہیں تھی، سعید صاحب بخشنے والے نہیں تھے، آتے اور اس ناول پر بحث کرتے رہتے، اب بحث سے ذہن کی گرہیں کھلنے لگی تھیں ۔ سعیدؔ صاحب تو اس ناول کو جیسے گھول کر پی گئے تھے۔۵۱-۱۹۵۰ء میں موتی ہاری میں انجمن ترقی پسند مصنّفین کی جو شاخ تھی اُس میں اُردو کے کم بھوجپوری اور ہندی زبانوں کے شاعر و ادیب زیادہ شریک ہوتے تھے۔ سیّد شمیم ہاشمی (اب سیاست میں ہیں ، بہار اسمبلی کے ممبر بھی رہ چکے ہیں) انجمن کے سیکریٹری تھے۔ ہر ہفتہ جلسہ ہوتا، اب افسانہ اور شاعری کے علاوہ ترقی پسند ادب کے مسائل پر بھی گفتگو ہونے لگی تھی، عموماً کسی معروف ترقی پسند شاعر یا افسانہ نگار کی کوئی تخلیق منتخب کر لی جاتی، سیّد شمیم ہاشمی اسے پڑھ کر سناتے اور حاضرین اپنے خیالات کا اظہار کرتے، جلسے کی رپورٹ مرتب کی جاتی اور پٹنہ کے اخباروں میں رپورٹ شائع ہوتی رہتی۔پٹنہ اور رانچی میں بھی انجمن ترقی پسند مصنّفین کی شاخیں قائم تھیں ، رانچی میں انور عظیم، اختر پیامی، صدّیق مجیبی اور کلام حیدریؔ وغیرہ نے مقامی شاخ کو بہت مضبوط کر رکھا تھا، اسی طرح پٹنہ میں حسن نعیم نادم بلخی، سیّد علی اور بدیع مشہدی وغیرہ کی وجہ سے انجمن مستحکم تھی،پٹنہ اور رانچی کا رابطہ قائم تھا، انور عظیم اور اختر پیامی کی تخلیقات شائع ہو رہی تھیں ’افکار‘ بھوپال میں یہ دونوں خاص طور پر چھپ رہے تھے۔ ان کا رابطہ بہار سے باہر بھی ادیبوں سے قائم ہو رہا تھا، دربھنگہ میں مظہر امامؔ اور منظر شہاب وغیرہ کی وجہ سے بڑی سرگرمی تھی، ان لوگوں نے ’نئی کرن‘ بھی نکالا تھا، جو ترقی پسند ادب کا ترجمان تھا۔ موتی ہاریؔ کی انجمن بہت چھوٹی تھی اور الگ تھلگ تھی اس لیے کہ اس میں اُردو والے کم تھے، بزرگوں کی اس سے کوئی دلچسپی نہیں تھی، بھوجپوری اور ہندی کے چند لکھنے والے ہی اسے چلا رہے تھے۔ ۵۱-۱۹۵۰ء میں غلام سرورؔ نے ’حلقہ ادب‘ قائم کیا، ان کی کتاب ’پرکھ‘ پروفیسر آل احمد سرور کے مقدمہ کے ساتھ شائع ہوئی تھی اور بہار کے ترقی پسندوں کے درمیان بحث کا موضوع بنی ہوئی تھی، غلام سرورؔ نے ترقی پسند تحریک اور ترقی پسند ادیبوں پر سخت نکتہ چینی کی تھی، حلقۂ ادب کا بنیادی مقصد بھی یہی تھا کہ نوجوان ادیبوں کو ترقی پسند تحریک سے وابستہ ہونے نہ دیا جائے، ’صالح ادب‘ پیش کرنے کا پروپیگنڈہ کچھ اس طور پر ہو رہا تھا جیسے ترقی پسند ’صالح ادب‘ کے سب سے بڑے مخالف ہوں ‘ جب ’حلقۂ ادب‘ قائم ہوا تو اس کے اغراض و مقاصد مرتب نہیں ہوئے تھے، غلام سرور نے اُسے بھی مدعو کیا۔ اُسی جلسے میں اُس کی پہلی ملاقات سعیدؔ اختر، قمر التوحیدؔ، شہباز حسین، سیّد اسدؔ حسین اور ظل حسن وغیرہ سے ہوئی جو ۵۳-۱۹۵۲ء میں ’اقبال ہوسٹل‘ پٹنہ یونیورسٹی میں اُس کے اچھے دوست بن گئے۔

اس سفر میں اُس کی پہلی ملاقات سہیل عظیم آبادی صاحب سے ہوئی، انتہائی مخلص اور نیک طبیعت انسان تھے، چند ہی لمحوں میں جیسے دوست بن گئے ہوں ، رکشہ لیا اور پٹنہ یونیورسٹی کے سامنے پنٹو ہوٹل لے آئے جہاں کافی پیتے ہوئے جانے کتنے موضوعات پر گفتگو کرتے رہے، کرشن چندر، بیدیؔ، علی سردار، اور جواہر لال، اُردو صحافت، ترقی پسند تحریک، شعبہ اُردو، پٹنہ یونیورسٹی، جانے کتنے موضوعات تھے اب کچھ یاد بھی نہیں اسے ترقی پسند تحریک سے وابستہ ’کٹر ادیبوں ‘ سے خوش نہیں تھے، کمیونسٹ پارٹی کو تحریک سے دور دیکھنا چاہتے تھے۔ ’ان کا یہ خیال تھا کہ‘ پارٹی کی پالیسی کا براہِ راست کوئی اثر تحریک پر نہ ہو، کمیونسٹ انجمن کو برباد کر دیں گے، گاندھی ازم چھوڑ کر کمیونسٹ پارٹی کی ہدایتوں پر عمل نہیں کر سکتے، ترقی پسند ادیبوں کے کٹرّپن کا نتیجہ ہے کہ ’حلقۂ ادب‘ وجود میں آیا ہے، نوجوان ترقی پسند اسی طرح سوچتے اور عمل کرتے رہے تو جانے اور کتنے حلقے پیدا ہو جائیں گے، سہیل عظیم آبادی صاحب سے اس طرح ملتے ہوئے بہت اچھا لگا، اُن کی گفتگو سے اُن کی پُر خلوص اور صاف ستھری شخصیت کا بار بار عیاں ہوتے رہنا اُسے بھلا لگ رہا تھا۔
کسی ’ترقی پسند نوجوان‘ نے سہیل صاحب کے خلاف ایک مضمون لکھا تھا اور اس کا اُن پر اچھا اثر نہیں ہوا تھا لہٰذا وہ بار بار اس مضمون کا ذکر کرتے رہے، چونکہ اس نے مضمون نہیں پڑھا تھا اس لیے اپنی کوئی رائے نہیں دے سکتا تھا،

منشی سنگھ کالج موتی ہاری کی ’بزم ادب‘ کے سرپرست پروفیسر سیّد حسن صاحب تھے جو اس کے استاد اور پروفیسر اختر اورینوی صاحب کے شاگرد تھے، ان کی خواہش تھی کہ بزم ادب کے سالانہ جلسے میں کلیدی خطبہ اختر صاحب کا ہو لہٰذا انھوں نے اُسے اختر صاحب کے نام ایک خط دیا اور تاکید کی کہ سیکریٹری بزم ادب کی حیثیت سے اُن سے گزارش کرے، سہیل صاحب سے رخصت ہو کر وہ پروفیسر اختر اورینوی صاحب سے ملا، اختر صاحب سے بھی یہ اُس کی پہلی ملاقات تھی۔ بہت اچھی گفتگو کرتے تھے، بڑی صاف اور پیاری زبان تھی، لفظوں اور جملوں کا آہنگ متاثر کرتا تھا، کئی موضوعات پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے رہے، ترقی پسند تحریک، ترقی پسند شعراء، مذاہبِ عالم، اسلام وغیرہ، ترقی پسندوں کے مخالف تھے، بہت تیز لہجے میں مخالفت کرتے لیکن اظہار میں توازن قائم رہتا، آواز بھی متاثر کرتی اور فصاحت اور بلاغت بھی، مغربی تہذیب و تمدّن پر سخت نکتہ چینی اور تنقید کرتے، مسلمانوں کی تاریخ کی عظمت سے باخبر کرتے، اسلام کی جمہوریت اور اللہ کے احکامات پر اچانک اس طرح باتیں کرنے لگے۔ جیسے سامنے بیٹھے ہوئے کافر کو اسی وقت مسلمان بنانا چاہتے ہوں ۔ بہت پیاری اور دلکش شخصیت تھی اُن کی، جی چاہتا وہ بولتے جائیں اور وہ سنتا جائے۔ ترقی پسند ادیبوں کی اس طرح مخالفت کرنے لگے کہ اُسے ’بائبل‘ کی یہ بات یاد آ گئی:
"Their Wine is the poison of dragon, and the cruel venom of asps"
 قابلِ احترام استاد تھے، جتنی دیر اُن کے پاس بیٹھا خاموش ہی رہا، جب تک کچھ دریافت نہیں کرتے کچھ نہیں بولتا، جب اُن کی خوبصورت، پیاری پیاری دلکش چھوٹی چھوٹی پر وقار تقریریں ختم ہو گئیں تو وہ رخصت ہوا۔ ان کے علم اور اُن کے دلکش خطیبانہ اندازِ گفتگو سے وہ ہمیشہ متاثر رہا ہے۔ جب پٹنہ یونیورسٹی آیا تو انھیں اپنا سب سے شفیق استاد پایا۔


چوبیس

 حویلی کی چھت پر ٹہلتے ٹہلتے اچانک اُسے ’الف لیلہ‘ کے شاہِ جنّات اور زین الصنم کی کہانی یاد آ گئی۔ کہانی یوں تھی کہ شاہِ جنّات نے ’زین الصنم‘ سے کہا ’’میرے عزیز بچّے جس طرح مجھے تمھارے والد سے محبت تھی اُسی طرح تم کو چاہتا ہوں ، تم میرے بچّے ہو، تمھارے والد جب آتے تو کچھ تحفے لایا کرتے، اور میں اُن کو الماس کی تصویریں دیا کرتا۔ وہ آٹھ عدد تصویریں لے جا چکے تھے کہ حکم قضا آ گیا اور ان کا انتقال ہو گیا۔ میں نے فیصلہ کر لیا ہے کہ نویں الماس کی تصویر جو سب سے قیمتی ہے تمھیں دوں گا لیکن شرط یہ ہے کہ ایک نہایت خوبصورت
بے عیب پندرہ سولہ سال کی دوشیزہ میرے لیے لاؤ، جب منتخب کر چلو تو اس کے متعلق کوئی دوسرا ارادہ نہ کرتا، وہ میری دلہن بنے گی۔‘‘
	غریب زین الصنم ایسی دوشیزہ کی تلاش میں نکل پڑا جو شاہِ جنّات کی دلہن بن سکے، جانے کتنے شہروں اور قصبوں کی چھان ماری۔ آخر ایک ایسی حسین لڑکی مل ہی گئی کہ جسے دیکھ کر ’زین الصنم‘ اپنے دل سے ہاتھ دھو بیٹھا، اب اُس کی نیت بدل گئی اور سوچا یہ دلہن بنے گی تو صرف اُسی کی، شاہِ جنّات کی نہیں لیکن شرافتِ نفس نے اُسے مجبور کیا اور اس دوشیزہ کو لے کر شاہِ جنّات کے پاس قاہرہ آیا، شاہِ جناّت بے حد خوش ہوا۔ کہا ’’ٹھیک ہے تم بصرہ واپس چلے جاؤ الماس کی سب سے قیمتی تصویر تمھیں بصرہ میں مل جائے گی، مایوس اور نامراد زین الصنم بصرہ واپس آ گیا۔ اُس شب اُس نے خواب میں دیکھا کہ شاہِ جنّات ارشاد فرما رہے ہیں کہ تم تہہ خانے میں جاؤ وہیں الماس کی تصویر رکھی ہے، مجبوراً تہہ خانے کے اندر گیا، کیا دیکھتا ہے کہ وہ حسین دو شیزہ اُس کے انتظار میں بیٹھی ہے۔ اسی وقت تہہ خانے میں ایک زلزلہ سا آیا پھر زمین شق ہوئی اور شاہِ جنات سامنے آ گئے، مسکراتے ہوئے کہا ’’میں تیرا امتحان لے رہا تھا، چاہتا تھا تمھیں ملے تو بہت ہی اچھی دلہن ملے ایسی دلہن جو کسی کو نصیب نہ ہو، دلہن مبارک ہو، یہی الماس کی سب سے قیمتی تصویر ہے۔‘‘
اس کے بعد شاہِ جنّات غائب ہو گئے!

حویلی کے بنگلے کے پیچھے والی کوٹھریوں میں کئی طلبہ رہا کرتے تھے، اُن کے ساتھ ایک مولوی صاحب آ کر رہنے لگے، ۴۲، ۴۵ کا سن، گورے چٹے، نورانی داڑھی، سرپر مخل کی سیاہ ٹوپی، نماز کے پابند، صبح سویرے تلاوت کرتے اکثر شب میں ان کے کمرے سے تلاوت کی دل فریب آواز آتی، شب میں دیر تک عبادت میں مصروف رہتے۔
وہ طلبہ جو اُن کے کمرے کے قریب ہی دوسری کوٹھریوں میں رہتے تھے اُن سے دُور دُور رہتے، اُن کا کہنا تھا کہ مولوی صاحب شب میں جنوں سے باتیں کرتے ہیں ، اُن سے ملنے کئی جن آتے ہیں ، کمرے میں بات چیت کرنے کی آوازیں سنائی دیتی ہیں ، ایک بار جنوں کو دیکھنے کے لیے دو طلبہ چپکے سے اُن کی کوٹھری کے دروازے کے قریب چھپ گئے، اندر پہلے تو تلاوت کرنے کی آواز آتی رہی پھر کئی آوازیں سنائی دینے لگیں ، یہ دونوں خوف زدہ تھے لیکن باتیں سننے کی کوشش میں دُبک کر چپ چاپ کھڑے رہے پھر اچانک آوازیں رُک گئیں اور مولوی صاحب نے کوٹھری کا دروازہ کھول دیا، گرج کر پوچھا ’’کون ہے یہاں ‘‘ جب اُن دونوں کو دیکھا تو بپھر گئے۔ ’’شرم نہیں آتی تم لوگوں کو، کیوں اس طرح کھڑے ہو؟‘‘
دونوں بھاگ گئے،
لیکن حد درجہ سہمے ہوئے تھے۔
اس لیے کہ دروازہ کھلتے ہی دو تین بلّیاں میاؤں میاؤں کرتی کمرے سے باہر نکل کر اندھیرے میں گم ہو گئی تھیں ۔
صبح یہ مشہور ہو گیا کہ مولوی صاحب کے قبضے میں کئی جن ہیں ، یہ جن اُن سے پڑھنے آتے ہیں ، بلّیوں کی صورتوں میں آتے ہیں اور سبق حاصل کر کے بلّیوں کی صورتوں میں ہی میاؤں میاؤں کرتے چلے جاتے ہیں ۔ اب وہ جن والے مولوی صاحب مشہور ہو گئے۔
اُس کی نظر میں وہ ’شاہِ جناّت‘ تھے الف لیلہ والے۔ ایسا لگتا جیسے مولوی صاحب چاہتے تھے کہ اُن کی شہرت اس طرح ہو، کوئی اُنھیں جن والے مولوی صاحب کہتا تو مسکراتے اور پوچھتے ’’کیا چاہیے؟ بنارس کے لڈّو منگوا دوں ابھی؟‘‘

ہوا یہ کہ ’شاہِ جناّت‘ حویلی کی ایک خوبصورت سی ملازمہ پر عاشق ہو گئے، پہلے تو تعویذ گنڈے کے بہانے اُسے قریب کیا پھر اظہارِ عشق کر بیٹھے، غالباً وہ ملازمہ بھی انھیں پسند کرنے لگی تھی، دونوں شادی کرنا چاہتے تھے لیکن لڑکی کی ماں راضی نہیں تھی، وہ شاہِ جناّت کو پسند تو کرتی تھی لیکن جنوں کے خیال سے کانپ جاتی تھی۔ اپنی بیٹی کو جنوں کے گھر بھیجنے کو تیار نہ تھی، کہتی ’’جن اُس کی بیٹی کو بھی بلّی بنا دیں گے۔‘‘ اُسے علم نہ تھا کہ مولوی صاب نے تعویذ گنڈے سے اُس کی بیٹی کو پہلے ہی بلّی بنا دیا ہے۔ ایک شام شاہِ جناّت اُس کے کمرے میں آئے اور کہا ’’آپ ہماری مدد کر دیں ، خواہ مخواہ لوگوں نے ہم کو بدنام کر دیا ہے، جنوں سے ہمارا بھلا کیا تعلق، آپ لڑکی کی والدہ کو سمجھا دیں ، اُن کی بیٹی بہت خوش رہے گی۔
اور ایسا ہوا کہ اُس کے سمجھانے کا اثر ہوا اور لڑکی کی والدہ صاحبہ راضی ہو گئیں ، شاہِ جناّت بہت خوش ہو گئے، نکاح کے بعد اپنی خوبصورت دلہن اور اپنی گائے جیسی ساس کو لے کر گاؤں چلے گئے۔
تین چار ماہ کے بعد حویلی آئے کہا ’’ہم آپ ہی سے ملنے آئے ہیں ۔‘‘
’’فرمائیے اور کیا خدمت کر سکتا ہوں ؟‘‘
’’اس طرف پٹنہ جانے کا پروگرام ہے آپ کا؟‘‘
’’جی ہاں ، پرسوں جا رہا ہوں ، کورس کی چند کتابوں کی تلاش میں ، کیا حکم ہے؟‘‘
’’ہمیں بھی کتابوں کی ضرورت ہے، کیا ہمارے لیے کچھ کتابیں خرید لاویں گے؟‘‘
’’کیوں نہیں ، ضرور لاؤں گا، لکھ کر دیجیے کون سی کتابیں درکار ہیں ۔‘‘
’’یہ رہے تیس روپے ’دیوانِ غالب‘ کے لیے۔‘‘
’دیوانِ غالب‘ کے لیے تیس روپے؟ مولوی صاحب ۱۲ آنے سے ڈھائی روپے تک غالبؔ کا دیوان مل جائے گا، روپے رکھ لیجیے میں ’دیوانِ غالب‘ لیتا آؤں گا۔‘‘
’’بات یہ ہے کہ تیس روپیوں میں ’دیوانِ غالب‘ کے جتنے نسخے مل جاویں مختلف قسم کے نسخے سب لیتے آویں ۔‘‘
اُسے یاد ہے مولوی صاحب کی آنکھوں میں عجیب چمک تھی، اس چمک کی معنی خیزی کو سمجھنا اس کے لیے ممکن نہ تھا، البتّہ یہ ضرور سمجھ رہا تھا کہ اُن کی آنکھیں خاموشی سے کچھ کہہ رہی ہیں ۔
’’مرزا کے اتنے دیوان لے کر کیا کریں گے آپ؟‘‘
’’جو بھی کریں گے، آپ لادیں گے نا؟‘‘
’’انشاء اللہ۔‘‘
’’ہم آپ کے احسان مند ہیں ، ہم شادی کے بعد بہت خوش ہیں ، اللہ آپ کو سلامت رکھے، کب واپس آویں گے آپ پٹنے سے؟‘‘
’’صرف دو روز کا پروگرام ہے۔‘‘
’’بس ٹھیک ہے، ہم تیسرے ہفتے میں آویں گے۔‘‘
شاہِ جناّت چلے گئے، پٹنہ میں ’دیوانِ غالب‘ کی تلاش اچھی لگی، مختلف دُکانوں سے کئی نسخے مل گئے، بعض خوبصورت چھپے ہوئے تھے، چند نسخوں پر مرزا کی تصویر بھی تھی۔
واپس آیا تو ان نسخوں کو دیکھ کر منہ میں پانی آ گیا، اُس وقت تک غالبؔ یا ’دیوانِ غالب‘ سے اس کا کوئی رشتہ قائم نہیں ہوا تھا۔
نصابات میں البتّہ اُن کی ایسی غزلیں بار بار پڑھتا آیا تھا کہ جنھیں کئی بار سن چکا تھا، ان نسخوں کو دیکھ کر ایک عجیب سی کشش محسوس ہونے لگی ’’کاش یہ تمام نسخے اُس کی الماری میں بھی ہوتے، شاہِ جناّت انھیں لے کر کیا کریں گے؟‘‘ نیت خراب ہونے لگی تھی اُس کی!
چند دن گزرے کہ شاہِ جناّت آ گئے۔
اس نے ’دیوانِ غالب‘ کے پانچ چھ نسخے، اُن کی رسیدیں اور بچے ہوئے روپے اُن کے سامنے رکھ دیئے، کہا ’’بہت کم قیمت ہے ہر نسخے کی، آپ نے زیادہ رقم دے دی تھی۔‘‘
’’اب تو بہت قیمت ہو گئی ہے اِن کی، دُکانوں سے نکل کر ہمارے پاس جو آ گئیں یہ کتابیں ۔‘‘ بہت خوش تھے۔ رسیدیں جیب میں رکھ لیں ، بچے ہوئے روپے بھی اُٹھا لیے، تمام نسخوں کو اُٹھا کر کبھی اِدھر سے دیکھا اور کبھی اُدھر سے، جانے کیا پڑھ پڑھ کر پھونکتے رہے تمام نسخوں پر۔
’’آپ انھیں تقسیم کریں گے کیا؟‘‘
انھوں نے مسکرا کر اُس کی جانب دیکھا اور کہا:
’’یہ سارے نسخے آپ کے لیے ہیں ، انھیں قبول کر لے ویں ، ہم عمر بھر آپ کو بھول نہ سکیں گے، جب بھی آپ ’دیوانِ غالب‘ پڑھیں گے ہماری یاد آوے گی آپ کو۔‘‘
وہ حیرت سے اُن کی جانب تک رہا تھا۔
’’اللہ آپ کو عزّت دے وے گا، یہ ہمارا تحفہ ہے قبول کر لے ویں ، اُن کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو تھے۔
وہ چلے گئے، پھر کبھی نہیں ملے
پہلی بار کسی نے اُسے کتابوں کا تحفہ دیا تھا۔
پہلی بار کسی نے اُسے ایک ساتھ ’دیوانِ غالب‘ کے اتنے نسخوں سے نوازا تھا۔
پہلی بار کسی کے ذریعہ مرزا غالبؔ اُس کے قریب آئے تھے۔
اُسے لگا جیسے شاہِ جناّت نے زین الصنم کو دُنیا کی سب سے خوبصورت دُلہن ایک بار پھر دے دی ہو۔ ’دیوانِ غالب‘ کی صورت الماس کی کئی تصویریں اُس کے سامنے بکھری ہوئی تھیں ۔
’مرزا غالب اور ہند مغل جمالیات‘ لکھتے ہوئے اسے ہر لمحہ ایسا محسوس ہوتا رہا جیسے شاہِ جناّت اُس کے پاس ہی بیٹھے مسکرا رہے ہیں ، دُعائیں پڑھ کر پھونک رہے ہیں ،اُن کی دُعاؤں سے ذہن کے دریچے کھلتے جا رہے ہیں ۔
یہ واہمہ تھا کیا تھا نہیں جانتا لیکن مرزا غالبؔ اور اُس کے درمیان رشتے کی پہلی کڑی وہی تھے نا! کتنی عجیب بات تھی کہ انھوں نے صرف ’دیوانِ غالب‘ کی فرمائش کی، کسی اور کتاب کی نہیں ، ’دیوانِ غالب‘ کے نسخوں کے درمیان اُسے بٹھا کر گم ہو گئے اور پھر کبھی نہ ملے--- کون تھے وہ؟


پچّیس


 اُسے اپنے بھائیوں اور بہنوں کا پیار ہمیشہ حاصل رہا ہے۔ خلیل الرحمٰن بھائی، مطیع الرحمٰن بھائی، عنایت الرحمٰن بھائی اور جمیل الرحمٰن بھائی نے اسے بہت پیار دیا ہے۔ بہت دُعائیں دی ہیں ۔ اُس کے دل میں اپنے چاروں بھائیوں کا بڑا احترام ہے۔ خلیل الرحمٰن بھائی کو جب بھی دیکھتا ہے اسے حافظ شیرازی کا یہ شعر یاد آتا ہے:
بچشم خلق عزیز آنگہے مثنوی حافظ
کہ بردوش بہنی روئے مسکنت بر خاک
یعنی اے حافظ، مخلوق کی نگاہ میں تجھے اس وقت عزّت ملے گی، جب تو اس کے در پر عاجزی سے اپنا چہرہ رکھ دے گا!
مطیع الرحمٰن بھائی کی محبّت کا انکشاف اُس وقت ہوا جب وہ محبت کی تلاش میں اِدھر اُدھر پھر رہا تھا، ان کے پیار میں جھانک کر دیکھا تو لگا جیسے کنواں بہت گہرا ہے، اب تک وہ اس سے محروم کیوں رہا؟ جب یہ پیار ملا تو سلسبیل کی پروا رہی اور نہ کافور کی، شفقت اور محبت کی خالص شراب ملی، اچانک یہ احساس ملا:
مامستِ شرابِ نابِ عشقیم
نہ تشنۂ سلسبیل و کافور (حافظ)
عنایت الرحمن بھائی کے صوفیانہ مزاج کو تو اس نے ہمیشہ للچائی نگاہوں سے دیکھا ہے۔ ان کا چہرہ لطفِ الٰہی کا آئینہ ہے۔ جو شخصیت کا پر تو ہے:
روئے تو مگر آئینۂ لطفِ الٰہی ست
حقا کہ چنین ست و دریں روی و ریانیت
(حافظ)
یقیناً ایسا ہی ہے اور اس میں کوئی رو رعایت نہیں ہے۔
جمیل الرحمن بھائی کی محبت نے والدین کے غم کو ہلکا کر دیا۔ ان کے وجود کی خوشبو ہی کی وجہ سے پھول کی طرح، گریباں سے دامن تک کپڑے چاک کرتا رہا ہے:
چوگل ہر دم ببویت جامہ برتن
کنمچاک از گریباں تابد امن
(حافظ)
بڑی آپا، (منّی بُو بُو) آپا (جمیلہ خاتون) منجھی آپا (شکیلہ خاتون) چھوٹی آپا (صالحہ خاتون منیرہ) نے ہر وقت اپنا پیار نچھاور کیا ہے، چھوٹی بہن (عقیلہ خاتون عطیہ) کو بہت عزیز رکھتا ہے، بچپن میں اپنی چھوٹی آپا اور چھوٹی بہن عطیہ کے ساتھ کھیلتا رہا ہے، اس بات کا اُسے ہمیشہ دُکھ رہا کہ زندگی کی اُلجھنوں اور تقدیر نے اُسے ان سے بہت دُور کر دیا۔ اپنا پیار اُن پر نچھاور نہ کر سکا۔ آج بھی بیٹھے بیٹھے اُسے محسوس ہوتا ہے جیسے عطیہ اُس کے قریب ہی کہیں بیٹھی ستار بجا رہی ہے، بہت عمدہ ستار بجانے لگی تھی، چاہتا تھا۔ وہ اس فن کی ماہر ہو جائے لیکن حالات ایسے ہو گئے کہ اس کا ریاض چھوٹ گیا، زندگی کی حقیقتوں اور ّسچائیوں کو فوراً قبول کر لینا آسان نہیں ہوتا۔ عطیہ میں یہ بڑی صلاحیت رہی ہے، یہ وہ سبق ہے کہ جسے اُس نے اپنی چھوٹی بہن سے سیکھنے کی بار بار کوشش کی ہے، کبھی کامیاب رہا ہے اور کبھی ناکام!
بڑی آپا اور آپا دونوں کا انتقال اُس وقت ہوا۔ جب وہ اُن سے بہت دُور تھا غالباً یہی وجہ ہے کہ ان کی یادیں آتی ہیں تو دل میں ٹیس سی اُٹھتی ہے، بڑی آپا کے شوہر محترم نور الہدیٰ بھائی اور آپا کے شوہر محفوظ الرحمن بھائی بھی اُسے بہت چاہتے تھے، یہ دونوں بھی اپنی محبتیں دے کر اس دنیا سے رخصت ہو گئے اور وہ ان سے مل نہ سکا۔ ان سے ماضی کی جانے کتنی یادیں وابستہ ہیں ۔ کاش یہ سب ہوتے اور وہ اُن کے پاس بیٹھ کر ماضی کی کہانیاں سنتا!
منجھلی آپا کے شوہر احمد علی صاحب اور چھوٹی آپا کے شوہر محمد علی صاحب دونوں دوستوں کی طرح رہے اور اُس کے لمحوں کو طرح طرح سے خوشگوار بناتے رہے، عطیہ کے شوہر غلام عبدالستّار تو بہت اچھے اور پیارے دوست ثابت ہوئے اُن سے مذہب اور انسانی رشتوں پر ہمیشہ بحث کرتا رہا۔ ان ہی کی وجہ سے کلاسیکی موسیقی اور پکّے گانوں سے دلچسپی پیدا ہوئی۔

اپنے بھائیوں اور اپنی بہنوں کے بچوں کا بھی دوست بنا رہا ہے، حویلی کی اسی چھت پر مطیع الرحمن بھائی کے دو ذہین لڑکوں قیصرؔ (پروفیسر احسن جان قیصر، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی) اور سرورؔ (محسن جان حیدر)کے ساتھ بیٹھ کر زندگی کے مختلف موضوعات پر باتیں کرتا رہا ہے، دونوں نے بہت کم عمر میں جانے کہاں کہاں کا علم حاصل کر لیا تھا، زندگی، مذہب، خدا، فطرت، انسان، سیکس جانے کتنے موضوعات تھے کہ جن پر ان سے اکثر گفتگو ہوتی رہتی تھی۔ عنایت الرحمن بھائی کی دو بچیاں بلقیس (بلقیس ظفیر الحسن) اور ناہید اس سے بہت قریب تھیں جب بھی اسے پکڑ لیتیں بس کہانیوں کی فرمائش شروع کر دیتیں ، اُس نے انھیں جانے کتنی کہانیاں سنائی ہیں ، ان ہی دونوں کی فرمائش پر اس نے بچّوں کے لیے ایک ناول لکھا تھا۔ ’’عمر عیار کی واپسی!‘‘
بڑی آپا کے لڑکے جمال (پروفیسر نجم الہدی، مدراس یونیورسٹی) کے ساتھ بھی بچی کی طرح کھیلتا رہا ہے، شیشے کی رنگ برنگ گولیوں کے ساتھ! اسی طرح جمیل الرحمن بھائی کے بچوں انور جمیل اور نیز جمیل، چھوٹی باجی کے لڑکے شاہد (مشتاق علی شاہدؔ) آپا کے ّبچوں شمیم الرحمن، نعیم الرحمن، پرویز الرحمن، محمد ظفر اور خلیل الرحمن بھائی کے لڑکے نسیم (نسیم ممد جان) کو گود میں لیے پھرتا، ان کے ساتھ کھیلتا، انھیں چھیڑتا، ہنساتا۔ اس کے وجود کے آشرم میں جو چھوٹا بچّہ مچلتا رہتا تھا وہ ایسے لمحوں میں باہر آ جاتا تھا۔

بچپن کے دوستوں میں ممتاز احمد، شفیع احمد، ونود اور منظور الامام بہت یاد آتے ہیں ۔ ان کے ساتھ رہ کر زندگی کی معصومیت اور اس کے بھولے پن کو بہت قریب سے دیکھتا رہا ہے۔ ان کے ساتھ لڑنا، جھگڑنا، بات بات پر روٹھ جانا، پھر مسکرا کر دوستی کرنا، پڑھنا اور پڑھائی لکھائی سے بھاگنا، سب بچپن کی پیاری پیاری تصویریں ہیں کہ جنھیں اب بھی عزیز رکھتا ہے۔ یہ سب اُس کے آشرم میں آئے اور کچھ وقت گزار کر چلے گئے (یا وہ خود ہی بچپن کے آشرم سے اپنی ذات کے آشرم کو نکال کر زندگی کے طوفان میں گم ہو گیا) اُسے مولانا رومی کے ایک شعر کا وہ ترجمہ یاد آیا جسے آربری (Arberry) نے اِس طرح پیش کیا تھا:
"Happy was I
In the pearls heart to lie;
Till lashep by life's hurricane,
Like A Tossed wave I ran.


چھبّیس

’موتی جھیل‘ کی گہرائیوں سے نکل کر گنگا کی گہرائیوں میں اُتر گیا!
’موتی جھیل‘ کی خاموش اور پُر سکون کیفیت اور ’گنگا‘ کے تیز بہاؤ میں بڑا فرق تھا! یہ تو زندگی کے دو بنیادی پہلو ہیں ! ۱۹۵۳ء میں ’پٹنہ یونیورسٹی‘ کے شعبۂ اُردو میں داخلہ لیا، پروفیسر سیّد اختر احمد، اختر اورینوی اور علاّمہ جمیل مظہری جیسے اچھے استاد نصیب ہوئے، ڈاکٹر صدر الدین احمد فضا اور ڈاکٹر مطیع الرحمن بھی اس شعبے سے وابستہ تھے۔ ’پٹنہ یونیورسٹی‘ کے ’اقبال ہوسٹل‘ میں ایک کمرہ مل گیا، سعید اختر شعبہ‘ تاریخ کے سینئر طالب علم تھے۔ جن کی وجہ سے ’اقبال ہوسٹل‘ کے کلچر سے بہت جلد واقفیت حاصل ہو گئی، نیز اس ہوسٹل کے دوسرے طلبہ سے جان پہچان ہوئی، قمرالتوحید، شبیر حسن، شہباز حسین، کلام حیدریؔ، منظر شہاب، ظلِ حسن، سیّد اسداللہ، ہارون رشید، صغیر احمد وغیرہ اس ہوسٹل میں تھے۔ نادم بلخی اور انیس امام ہم جماعت تھے لہٰذا دونوں اکثر آتے رہتے۔نادم بلخی آہستہ آہستہ بہت قریب ہو گئے، اس ہوسٹل میں اختر پیامی، حسن نعیم، احمد یوسف، غلام سرور، کامریڈ حبیب اور فضل الرحمن وغیرہ بھی آتے رہتے تھے۔ راہی معصوم رضا آتے تو بڑی چہل پہل ہو جاتی، شعر و شاعری کی محفلیں جم جاتیں ، ترقی پسندوں کی ایک مضبوط جماعت تھی، نادم، کلام، شہاب، انیس، حبیب، ع۔یوسف، سیّد وغیرہ انجمن ترقی پسند مصنّفین سے وابستہ تھے، ع۔یوسف (احمد یوسف) انجمن کے سیکریٹری تھے، کبھی کبھی انور عظیم اور اختر پیامی بھی آ جاتے تھے، ہر ہفتے انجمن کی میٹنگ ہوتی تھی۔ ’حلقہ ادب‘ غلام سرور کی نگرانی میں پروان چڑھ رہا تھا، سعید اختر، قمر التوحید، شبیر حسن، شہباز حسین، ظلِ حسن، اسداللہ، وغیرہ اس کے سرگرم رکن تھے، غلام سرور اکثر ہوسٹل آتے رہتے اور ترقی پسندوں کے خلاف بحث میں حصّہ لیتے رہتے۔ ترقی پسندوں کی جماعت بھی بہت مضبوط تھی، اکثر لطیف سا تصادم بھی ہو جاتا۔ اس سے اور کلام حیدری سے ملنے سہیل عظیم آبادی صاحب بھی کبھی کبھی آ جاتے تھے اور گھنٹوں دلچسپ باتیں ہوتی رہتی تھیں ۔ ’اقبال ہوسٹل‘ کا ایک اپنا کلچر تھا اور یہ سب کو عزیز تھا، اس ہوسٹل کی اپنی روایتیں تھیں جن میں شعوری اور غیر شعوری طور پر سب کسی نہ کسی سطح پر اضافہ کرنے کے خواہش مند تھے، صبح چائے ناشتے کے لیے عبدل کی کوٹھری کے پاس ملاقات ہوتی، عبدل پرانا ملازم تھا، ٹوسٹ انڈا اور چائے، عبدل میاں مشین کی طرح کام کرتے ہوئے سب کے سامنے ناشتہ پیش کرتے رہتے، اُدھار بھی چلتا، عبدل میاں اُدھار کھانے والوں کا کھاتہ بڑی حفاظت سے رکھتے، بڑی دلچسپ شخصیت تھی ان کی، صبح سویرے ان سے ملاقات ہوتی اور بڑے اہتمام کے ساتھ ناشتہ دیتے، صبح ہوئی اور عبدل عبدل کی آواز سنائی دیتی، کلام حیدری اُن سے بہت لطف لیتے۔ اسی طرح چھکو میاں بھی اقبال ہوسٹل کے ایک ناقابلِ فراموش کر دار بن گئے تھے۔ اُن سے تازہ دودھ ملتا، ہوسٹل کے پچھلے دروازے کے نگہبان بھی تھے، جب طلبہ رات دیر تک باہر رہتے تو چھکو میاں ہی کی مدد سے وہ اندر آتے تھے، انتہائی شفیق ذات تھی ان کی قمر التوحید اور سعید اختر وغیرہ کی وجہ سے Mess کا اچھا انتظام تھا۔ فضل الرحمن صاحب اکثر بتیا سے آتے اور اس کے کمرے میں پہنچ جاتے، کانگریسی بھی تھے اور سوشلسٹ بھی، ’مارکسزم کے مخالف تھے اور خواہ مخواہ بحث شروع کر دیتے تھے‘ سیاست سے تعلق رکھتے تھے، منسٹروں سے بھی روابط تھے (جنتا پارٹی کے دور میں مرکزی حکومت میں منسٹر ہو گئے تھے) کامریڈ حبیب کا آنا جانا بھی بہت تھا، وہ کلام حیدری سے بہت قریب تھے اکثر اُن کے کمرے میں بھی بیٹھ جاتے اور کمیونسٹ پارٹی کے مسائل پر گفتگو کرتے۔ نادم بلخی کے ساتھ بھی وہ اکثر اس کے پاس آئے، ان کی وجہ سے بڑی رونق تھی، ان کے ذریعہ کمیونسٹ پارٹی کے کئی رہنماؤں سے ملاقات ہوئی۔ اِسی طرح ۱۹۳۸ء کے بعض فنکاروں سے بھی اس کا رابطہ قائم ہوا۔ کلکتہ سے پرویز شاہدی صاحب آ جاتے یا دہلی سے غلام ربانی تاباں تشریف لاتے تو اقبال ہوسٹل کے ترقی پسند نوجوان اُن سے ملنے ضرور جاتے، جلسے ہوتے، ان کا کلام سنایا جاتا، انجمن کے تعلق سے باتیں ہوتیں ۔ پروفیسر سیّد احتشام حسین، پروفیسر آل احمد سرور، برج موہن دتاتریہ کیفی، عرش ملسیانی، جگن ناتھ آزاد، معین احسن جذبی وغیرہ کو اسی زمانے میں دیکھا۔ پرتھوی راج، پرتھوی تھیٹرز کے ساتھ آئے اور کئی ڈرامے اسٹیج کیے، پٹنہ میدان (گاندھی میدان) کے عوامی جلسے میں ان کی تقریر بھی ہوئی، ان کا ڈراما ’پیٹھان‘ دیکھ کر بہت متاثر ہوا۔ چند دوستوں کے ساتھ اُن سے ملنے کا اتفاق ہوا، مختلف موضوعات پر اُن سے بہت اچھی گفتگو رہی۔
پروفیسر کلیم الدین احمد صاحب پٹنہ یونیورسٹی میں انگریزی زبان و ادب کے پروفیسر تھے۔ ایم۔اے۔ فائنل میں آنے کے بعد کبھی کبھی وہ بڑی خاموشی سے اُن کے کلاس میں بیٹھ جاتا اور اُن کے لکچر سنتا۔ جب بھی بیٹھا علم کی دولت ہی حاصل کی۔

	۱۹۵۲ء میں شعبۂ اُردو کو شعبۂ فارسی سے علیحدہ کرنے کی بات شروع ہوئی، پروفیسر اختر اورینوی صاحب نے اس کا ذکر کیا، پروفیسر کلیم الدین احمد صاحب بھی یہی چاہتے تھے، ایک صبح وہ اور سعید اختر دونوں بلائے گئے، کلیم صاحب سے یہ اس کی پہلی ملاقات تھی، اچھے لگے۔ ملاقات کے لمحوں میں بہت کم بولے، ایک ہی ہدایت دی۔ ’’آپ دونوں کل صبح ۸ بجے وائس چانسلر سے مل لیجیے۔ میں نے ان سے بات کی ہے۔‘‘ دوسرے دن دونوں صبح سویرے وائس چانسلر کی کوٹھی پر پہنچے۔ ڈاکٹر بھال وائس چانسلر تھے، ملاقات ہوئی، شعبۂ اُردو کو شعبۂ فارسی سے علیٰحدہ کرنے کے سلسلے میں بات چیت ہوئی، ایسا لگا کلیم صاحب نے پہلے ہی ذہن تیار کر دیا تھا، انھوں نے کہا ’’ہو جائے گا!‘‘
اور یہ ہو گیا!
شعبۂ اُردو، شعبۂ فارسی سے علیٰحدہ ہو گیا، پروفیسر اختر احمد اختر اورینوی صدر شعبۂ اُردو ہو گئے، شعبۂ اُردو کی ایک نئی تاریخ شروع ہوئی![ڈاکٹر بھال (وائس چانسلر پٹنہ یونیورسٹی) کے سامنے اُس نے جو تقریر کی اُس کا ذکر سعید اختر خوب کرتے رہے۔ انھوں نے پروفیسر کلیم الدین احمد صاحب اور پروفیسر اختر اورینوی اور علامہ جمیل مظہری صاحبان کو اس کی تقریر کا خلاصہ بتایا۔ بار بار کہتے رہے کہ شکیل الرحمن نے ایک فاضل وکیل کی طرح جرح کی اور وائس چانسلر پر اس کا اچھا اثر ہوا۔ اساتذہ نے یہ فیصلہ کیا کہ شعبۂ اُردو کے قیام سے کچھ پہلے شکیل الرحمن اور سعید اختر کی تصویریں شعبے میں لگائی جائیں گی۔ شعبۂ اُردو پٹنہ یونیورسٹی کی تاریخ ان دونوں کو فراموش نہیں کر سکتی۔ ایک سینئر طالب علم نے جو افسانہ نگار بھی تھے اس تجویز کی مخالفت کی، یہ مخالفت برائے مخالفت تھی۔ دونوں کی تصویریں آویزاں نہ ہو سکیں ۔]
’اقبال ہوسٹل‘ میں رہتے ہوئے جو احباب اُس سے قریب رہے اُن میں نادم بلخی، ترپاٹھی، احمد یوسف، حسن نعیم، صغیر احمد، کلام حیدری، منظر شہاب، حبیب الرحمن اور سعید اختر کو فراموش نہیں کر سکتا۔ بہت سی پیاری شخصیتوں کی قربت کے باوجود بڑی تنہائی کا احساس ہوتا تھا، جانے کس شئے کی کمی کا احساس کھائے جاتا تھا، کبھی کبھی بے چینی بڑھ جاتی تھی۔
اُسی زمانے میں ’گنگا‘ سے ایک عجیب رشتہ قائم ہوا۔
اکثر ’مہندرو گھاٹ‘ کی طرف نکل جاتا، کبھی گنگا کے کنارے کنارے دُور تک چلا جاتا ندی کی لہروں سے لطف لیتا، لہروں سے کئی کر دار اُبھرتے اور وہ اُن سے باتیں کرتا، رفتہ رفتہ گنگا سے بڑی قربت محسوس ہونے لگی۔
اسٹیمر پر پہلے کئی بار گزر چکا تھا، لیکن کبھی اس ندی نے سرگوشیاں نہیں کی تھیں ۔
اب جانے کیا ہو گیا تھا، اسٹیمر کو آتے جاتے دیکھتا اور لوگوں کے ہجوم کو بیچ ندی میں پاتا تو لگتا جیسے گنگا کے اوپر ایک بڑا سماج تیر رہا ہے، انسانوں اور جانوروں کی لاشوں کو بہتے ہوئے دیکھتا، گدھوں ، چیلوں اور کوؤں کو اُن پر بیٹھے ہوئے پاتا، گھاٹ کے کنارے چتاؤں کو جلتے بجھتے دیکھتا، چتاؤں کے قریب آنسوؤں سے بھیگی ہوئی آنکھوں میں جانے کتنے المناک منظر دیکھتا، گھاٹ پر لوگوں کو نہاتے ہوئے، پوجا کرتے اور ایک دوسرے کو چھیڑتے ہوئے پاتا۔
گنگا کے پاس اُس نے زندگی کے جانے کتنے پہلوؤں کو دیکھا۔
اور ہر پہلو ایک نیا تجربہ بنا۔
اِس ندی کے گدلے پانی میں اُتر کر عجیب لذّت حاصل کی۔
اُسے یاد ہے وہ شام جب اُس نے گنگا کو بڑی حیرت سے دیکھا تھا، اُس کے کنارے ایک ساتھ تین چتائیں جل رہی تھیں اور اُن کے پاس کھڑے کچھ لوگ اپنے لٹ جانے کا دردناک منظر دیکھ رہے تھے اور کچھ لوگ جو ارتھیوں کے ساتھ آئے تھے غالباً فرض نبھانے آئے تھے اور کاروباری گفتگو میں مصروف تھے اور گنگا کی لہریں اِن سب کے قریب آ آ کر ہٹ رہی تھی--- اور اس کی تیز لہروں کے درمیان چند ہی قدموں کے فاصلے پر گھاٹ کے نیچے دو نوجوان سڈول سانولے جسم اُس کے سامنے جل پریوں کی مانند باہر نکلے تھے، بھیگی ساڑیوں کے درمیان، سیکس کی لذّت آمیز اور لذیذ تر علامتوں کو دیکھا تھا اُس نے، اُسے قریب پا کر دونوں چہرے اچانک گلنار ہو گئے تھے، شرم بھی تھی اور دعوتِ نظارہ بھی تھی--- اور چند ہی لمحوں میں دونوں جسم یہ بھول گئے کہ کوئی اور بھی اُن کے پاس کھڑا ہے،اُس کے سامنے بھیگے کپڑے اُتر گئے اور زعفرانی ساڑیوں نے سانولے بدن کو چھپا لیا۔ موتی جیسے سیپ میں واپس چلے گئے ہوں ۔
	اور گنگا کے کنارے ہی، اس عمارت کے سامنے جہاں صلیب کا پیکر جانے کب سے زندگی کی معنویت اور لامعنویت کو سمجھا رہا تھا، ایک بڑی کشتی پر گاؤں کی کوئی بارات واپس جا رہی تھی، دلہن لجائی سی، شرمائی سی بیٹھی تھی اور چند عورتیں ڈھول بجا کر گا رہی تھیں ، لہروں پر کشتی ہچکولے کھا رہی تھی اور کشتی پر بیٹھے لوگ اس طرح بیٹھے ہوئے تھے جیسے اُسی کشتی میں اُن کی تمام مسرتیں اور تمام خوشیاں سمٹ آئی ہوں --- 
اور ان ہی لہروں پر کسی جانور کی لاش بہہ رہی تھی، کئی پرندے اُس پر مسلسل حملے کر رہے تھے، جسم گم سم تھا، بے حس تھا، کوئی حرکت نہیں تھی اس میں ، جانے کہاں کا سفر تھا! اُس شام اس نے گنگا کو بڑی حیرت سے دیکھا تھا، جانے وہ حیرت اب کہاں چلی گئی، حیرت، تجربہ کیوں بن گئی؟ کیا وہ حیرت اُسے پھر مل سکتی ہے؟
گنگا سے اُس نے بہت سی باتیں کی ہیں اور گنگا نے بھی اسے جانے کتنی کہانیاں سنائی ہے۔ ایک صبح اُس نے گنگا سے کہا تھا۔
کوئی فنکار، کوئی مصوّر تصویر اس طرح بنائے کہ آنکھوں اور انگلیوں کی جنبش احساس کو آسمانوں پر لے جائے، دور، بہت دور۔
جانے کہاں --- جانے کہاں ۔۔۔۔
بدن، خوبصورت دھرتی کی علامت بن جائے
اور سڈول خوبصورت پاؤں 
سانپ کی مانند
زمین سے باہر نکلتے ہوئے محسوس ہوں 
تو فنکار یقیناً ’یوگ‘ کی اعلیٰ ترین منزل کا احساس عطا کر دے گا!
اور گنگا نے جواب دیا تھا:
’برہم‘ اور ’آتم‘ دونوں ایک ہیں اور اس کا علم میرے وجود ہی سے پھوٹا ہے۔ ہندوستان کے فنکاروں اور مجسمہ سازوں نے اِس علم کی روشنی حاصل کر کے ایسی جانے کتنی تصویریں اور ایسے جانے کتنے مجسّمے تراشے ہیں ۔
اور تمھارے خاکے میں کسمساتی ہوئی تصویر اور کسمساتے ہوئے مجسّمے سے کہیں زیادہ ارفع اور افضل!گنگا آہستہ آہستہ اُسے ماضی کی تہذیب اور ماضی کے فنونِ لطیفہ کی جانب لے جانے لگی۔--- اور جب اُس کی شناسائی ہندوستانی تفکر کے ’وقت‘ کے تصوّر سے ہوئی تو اُسے لگا جیسے ہندوستان کے قدیم ترین مابعد الطبیعاتی تجربوں میں پگھلتے ہوئے وقت کا جو تصوّر ہے کہ جس سے کائنات کی چوتھی جہت کا احساس ملتا ہے، وہ ممکن ہے گنگا کے کنارے تپسیا کرتے ہوئے پیدا ہوا ہو!
آج بھی گنگا کو پار کرتے ہوئے یا اس کے کنارے بیٹھ کر فطرت جتنی گہری، تہہ دار اور پراسرار نظر آتی ہے کہیں اور نظر نہیں آتی۔
اُس نے اپنی ڈائری میں لکھا تھا:
	ابتدا میں صرف ’تجربہ‘ تھا
	’اساطیر‘ نے جنم لیا، فنونِ لطیفہ نے جنم لیا
	’تجربہ‘ رومانی اور جمالیاتی بن گیا!
	’گنگا‘ آریوں کا تجربہ بنی
	’اساطیر‘ بنی، فنونِ لطیفہ میں جذب ہوئی
	پھر حد درجہ رومانی اور جمالیاتی تجربہ بن گئی!			(پٹنہ، ۲ نومبر ۱۹۵۲ء، مطبوعہ)
	’گنگا،اَنا،زندگی--- اور خاموشی اور چپ کی
	عجیب و غریب علامت ہے۔
	مجھے یقین ہے جن بزرگوں نے ’یوگ‘ سے روحانی قوت حاصل کی ہو گی
	صدیوں --- صدیوں --- صدیوں پہلے
	انھوں نے سب سے پہلے
	’گنگا‘ کے نغمے خلق کیے ہوں گے!‘				(پٹنہ، ۱۲ مارچ ۱۹۵۳ء، مطبوعہ)
۱۹۵۳ء میں دہلی گیا، راشٹر پتی بابو راجندر پرشاد نے ملنے کے لیے بلایا تھا۔ راشٹر پتی بھون میں اُن سے ملاقات کی، گھر کے افراد کی خیریت دریافت کرتے رہے، ان کی شفقت اور محبت سے بے حد متاثر ہوا۔
اِسی سفر میں اُردو کے بعض ادیبوں اور شاعروں سے پہلی بار ملنا ہوا، جوشؔ ملیح آبادی، ساغرؔ نظامی، سلامؔ مچھلی شہری، روشؔ صدّیقی، عرشؔ ملسیانی، فکرؔ تونسوی،ساحرؔ لدھیانوی، کمالؔ احمد صدّیقی، پرکاشؔ پنڈت، ہنس راج رہبرؔ، مخمورؔ جالندھری، نریش کمار شادؔ، دیوندرؔ ستیارتھی، اور دوسرے کئی بزرگ ادیبوں اور شاعروں کا نیاز حاصل ہوا۔ایک محفل میں جوشؔ ملیح آبادی، فراقؔ گورکھپوری، ساغرؔ نظامی اور سلامؔ مچھلی شہری وغیرہ کا کلام بھی سنا۔ نجی محفل تھی لیکن بہت یادگار بن گئی اس لیے کہ پہلی بار جوشؔ صاحب اور فراقؔ صاحب کی لطیف نوک جھونک سے لطف اندوز ہونے کا موقع ملا تھا اور بزرگوں کی زبان سے کئی لطیفوں کو سننے کے لمحے نصیب ہوئے تھے۔ جہاں قیام تھا وہاں جگن ناتھ آزاد صاحب اکثر ملنے آتے، اُن کی پیاری شخصیت سے متاثر ہوا، ان کے ساتھ جامع مسجد کی بعض دُکانوں پر بیٹھ کر چائے پیتا اور اُن سے لاہور کے ادیبوں اور فنکاروں اور تقسیم سے قبل کے لاہور کا ذکر سنتا۔ اُن کی صحبت اُس کے لیے بڑی غنیمت تھی۔ ہنس راج رہبرؔ اور فکرؔ تونسوی بھی آ جاتے تھے اور ان سے خوب باتیں ہوتی تھیں ۔ ایک شام ہنس راج رہبرؔ، فکرؔ تونسوی اور مخمورؔ جالندھری نے اُسے دریاگنج کے ایک ریستوراں میں بلایا جہاں اس کی ملاقات دیوندرؔ ستیارتھی، ساحرؔ لدھیانوی اور پرکاشؔ پنڈت سے بھی ہوئی، اچھی صحبت تھی۔ ’شاہراہ‘ اور ’شاہراہ‘ کی تخلیقات کو بار بار موضوع بنایا جا چکا تھا کہ ہنس راج رہبرؔ نے کرشنؔ چندرکا ذکر کر کے موضوع تبدیل کر دیا اور پھر کرشن چندر موضوع بن گئے۔ رہبرؔ  کرشنؔ چندر کے افسانوں کے خلاف مسلسل بولتے رہے، ساحرؔ لدھیانوی اور پرکاشؔ پنڈت اُن کے اُٹھائے ہوئے سوالات کا جواب دیتے لیکن رہبرؔ حد درجہ جذباتی ہو گئے تھے۔ کافی وقت گزر گیا تو اُس نے ساحرؔ لدھیانوی اور مخمورؔ جالندھری سے فرمائش کی اور کئی نظمیں پڑھی گئیں ۔
انجمن ترقی پسند مصنّفین کا ایک جلسہ آزاد ہند ہوٹل میں ہوا، پرکاش پنڈت غالباً انجمن کے سیکریٹری تھے، ان کی تجویز پر اس نے جلسے کی صدارت کی، ہنس راج رہبرؔ نے ایک مختصر مضمون پڑھا، اس پر تنقید ہوئی، سوالات اُٹھائے گئے۔ جگن ناتھ آزادؔ اور مخمورؔ جالندھری کے علاوہ کئی دوسرے شعراء وہاں موجود تھے جنھوں نے اپنی تخلیقات پیش کیں ۔ فکر تونسوی نے ایک طنزیہ مضمون پڑھا۔ ہر تخلیق پر جس طرح بحث ہوئی اُس سے وہ متاثر ہوا۔ ایسے جلسوں کا مقصد بھی یہی ہوتا کہ تخلیق سن کر اُس پر تبصرہ کیا جائے، سوالات اُٹھائے جائیں ، اس طرح ذہن کی گرہیں نکلتی تھیں ۔ اُس زمانے میں کمال احمد صدّیقی علیل تھے، اُن کی مزاج پرسی کے لیے پرکاش پنڈت اور ساحرؔ لدھیانوی کے ساتھ گیا، کمال سے یہ پہلی ملاقات تھی۔

پٹنہ سے پندرہ روزہ ’زمین‘ نکالا، دو تین شمارے نکلے تو اسے ادریسؔ سہناروی نے لے لیا اور اسے ترقی پسند تحریک کا ترجمان بنایا۔ اس کے ساتھ نادمؔ بلخی بھی ادارہ میں شامل رہے۔ ادریس سہناروی ایک اچھے اور بہت پیارے دوست تھے، اس کے دل میں ان کی بڑی قدر ہے۔ ’سہیل‘ کو زندہ رکھا اور ترقی پسند نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کرتے رہے۔ سہیل عظیم آبادی صاحب کے رسالہ ’تہذیب‘ کو سہارا دیا۔ آخری بار ان سے مظفرپور میں ملاقات ہوئی۔ جب وہ بہار یونیورسٹی کا وائس چانسلر تھا۔ علاّمہ جمیل مظہری صاحب سے بھی اُس کی آخری ملاقات بہار یونیورسٹی ہی میں ہوئی، کیسے بزرگ تھے، اُس زمانے کے استاد تھے۔ یہ بھی نہیں کہلوایا کہ وہ مظفرپور تشریف لائے ہوئے ہیں ، اُسے خود جا کر نیاز حاصل کرنے کا موقع نہیں دیا خود ہی تشریف لائے اور جانے کتنی دعائیں دے کر چلے گئے۔

اعجاز صدّیقی صاحب نے اُسے ’شاعر‘ بمبئی کے ادارۂ تحریر میں شامل کیا اور وہ ہر ماہ ایک مستقل کالم لکھنے لگا۔ ’خود تنقید‘(Self Criticism) بھی کی، ایک شمارے میں کرشن چندر کے کسی افسانے کا تجزیہ کیا جسے عزیز دوست مہندر ناتھ نے پسند نہیں کیا (وہ بھی اُس کے ساتھ ادارۂ تحریر میں تھے) بڑے بھائی صاحب کا بھی معاملہ تھا۔ حالانکہ اعجاز صدّیقی صاحب نے اس تجزیے کو پسند کیا تھا اور وہ چاہتے تھے کہ ترقی پسند تخلیقات کا اس طرح جائزہ لینا مفید ہے۔


ستّائیس

 اُسے ’ڈائری‘ لکھنے کا بھی شوق تھا اور ’نوٹ بُک‘ پر مختلف تجربوں کے تعلّق سے اپنے تاثرات بھی لکھا کرتا تھا، چند صفحات اس طرح لکھے گئے تھے:
 اکثر جب زیادہ دباؤ محسوس کرتا ہوں تو خاموش ہو جاتا ہوں اور خاموش رہتا ہوں چُپ!
پھر ایسا لگتا ہے جیسے اپنے اندر تیزی سے اُترا جا رہا ہوں ، خاموشی کا وسیع ریگستان--- خاموشی کا پُر اسرار سمندر--- پھر کچھ عجیب و غریب تاثرات اُبھرنے لگتے ہیں ، انوکھے، نئے--- اور ایسا بھی ہوتا ہے کہ ماضی کی یادیں بادلوں کی مانند سایہ ڈالنے لگتی ہیں اور ان میں سے کچھ یادوں اور تجربوں کو
دونوں ہاتھوں سے تھامنے لگتا ہوں --- اور اچانک ان کی ’نئی دریافت‘ سے انبساط حاصل کرنے لگتا ہوں ، ماضی کی نئی تخلیق اچھی اور بھلی لگتی ہے۔ جب اس چپ سے باہر نکلتا ہوں تو دُنیا ایک بار پھر ایسی لگنے لگتی ہے کہ جس سے گفتگو کی جائے۔
میری زندگی کے زیادہ لمحے تو اسی چپ کے اندر گزرے ہیں !	(نوٹ بک، ۷ جنوری ۱۹۵۲ء)

لیونارڈو کی تخلیق ’مونالیزا‘ کے عاشقوں کی کمی نہیں ہے، پٹنہ یونیورسٹی کی لائبریری میں آرٹ کی بہت سی تصویروں کو دیکھتے ہوئے اُسے ’مونالیزا‘ بھی ملی، تب سے وہ بھی اس کا عاشق بن گیا۔ اس تصویر کی دلچسپ کہانی کا ڈراما بھی کہیں پڑھا، اس وقت ’مونالیزا‘ پر کچھ لکھنے کا حوصلہ نہ تھا، اس تخلیق کے پس منظر میں عجیب سی کشش محسوس ہونے لگی، اُسے جس قدر دیکھتا اُسی قدر یہ پس منظر سرگوشیاں کرتا، اُس نے اپنے ’نوٹ بک‘ پر لکھا:
 	’’مونالیزا کا پس منظر ایک پراسرار پیکر کی مانند پھیلتا ہے، انتہائی وسیع، بسیط اور گہرا ہو جاتا ہے، پراسرار نیند سے اچانک بیداری سے چاہت کے پراسرار رشتے تک کے تجربے، یادوں کا سلسلہ بن جاتے ہیں ۔
	کیا واقعی یہ میرے اپنے تجربے ہیں ؟ اپنی یادیں ہیں ؟
	گہری پراسرار نیند سے بیدار ہو گیا اچانک، کتنی گہری پراسرار نیند تھی، کوئی خواب نہ تھا، کوئی چاپ، کوئی آواز نہ تھی!
	’کن‘--- اور میں ایک گہری نیند سے اچانک بیدار ہو گیا، عدم سے وجود میں آنے لگا، نغمے کی طرح، خوشبو کی مانند، ’کن‘ کی آواز کا آہنگ جیسے میرے وجود کا آہنگ تھا، میں خود یہ آواز تھا جیسے!
	میرے ساتھ مٹّی کی خوشبو عدم سے وجود میں آ رہی تھی، میرے وجود سے ہر شئے آہستہ آہستہ بکھرنے لگی تھی جیسے میں خود مختلف صورتوں میں بکھرا جا رہا تھا۔
	ہر شئے میں -- میں تھا، میرے اندر-- ہر شئے تھی، آہنگ نغمہ بن گیا۔ ’کن‘ کی آواز باطن میں جذب ہو چکی تھی، ہر شئے ہو چکی تھی، میں ہر شئے میں ثنا خواں تھا، ’’اُس نے جنم دیا مجھے!‘‘
	رنگوں کا دھُواں --- میں تھا،بجلی کی چمک--- میں تھا، نیلگوں فضا، آسمان کا پانی، زمین کی مٹّی، چاند، سورج، تارے، آتش، نور، سبز درختوں کا نغمہ، سمندر، پہاڑ، دریا--- صبح، شام، شب، طوفاں ، آتش فشاں ۔
	میں تھا!
	تسبیح کے آہنگ کو سن رہا تھا، تسبیح کا آہنگ میں تھا!
	آہنگ الگ الگ ہوا لیکن میرا ہی آہنگ بنا رہا، ہر شئے کو دیکھا--- میرا وجود تھا، انگنت حصّوں میں بٹا ہوا تھا، آئینے بکھر گئے تھے، اپنا ہی جلوہ بکھرا ہوا تھا، دھوپ، سایہ، آہنگ،
	عجیب رحمت تھی جو ہر جانب گھیرے ہوئے تھی
	اس کا تبسم!
	اس کے تبسم نے خود اپنے وجود کی قسم کھائی!
	’’رب العٰلمین!!‘‘
	چاہت کا یہ کیسا رشتہ تھا؟					(نوٹ بک، ۱۶ فروری ۱۵۳ء)

چند صفحات اس طرح لکھے گئے تھے:
	’’وہ لوگ کتنے بھولے اور معصوم ہیں (اور کس قدر خطرناک) جو یہ سمجھتے ہیں کہ دوسری زبانوں کی لاشوں پر ایک مصنوعی زبان کا ڈھانچہ کھڑا کر کے اپنا ایک کلچر ’خلق‘ کر لیں گے؟ نتیجہ ظاہر ہے قدروں کا تسلسل رُک سا گیا ہے، ثقافتی قدریں ٹوٹ رہی ہیں ۔ شمالی ہند کا یہ المیہ اس عہد کا انتہائی المناک حادثہ ہے!‘‘	(ڈائری، ۲ اکتوبر ۱۹۵۳ء)
	’’میں نے پوچھا ’یہ لہو کی پیاس۔۔۔؟‘
	غالبؔ نے کہا ’جبلّی ہے!‘
	کچھ لوگ دوسروں کا لہو پیتے ہیں اور کچھ لوگ اپنا خونِ دل!
	خونِ دل پینے والوں کا قد اُن سے کہیں بلند ہے جو دوسروں کا لہو پیتے ہیں !
(ڈائری، ۸ اکتوبر ۱۹۵۳ء)
	’’فرقہ پرستی کے اس دور میں کوئی یہ سمجھنے کی کوشش کیوں نہیں کرتا کہ ’ہماری تاریخ‘ اور ’ہمارا حال‘ ہندوستان کا تجربہ ہے! ہم جن اقدار کی نمائندگی کرتے ہیں وہی ہندوستان ہے۔ ہم زندہ رہیں گے تو یہ ملک زندہ رہے گا، اگر ہندوستان اپنا ماضی بھول گیا ہے تو اُسے ہمارے شعور میں جھانک کر دیکھنا ہو گا، ’زندہ ماضی‘ ’حال میں ‘ میں متحرک ہے۔‘‘	(۱۱ جون ۱۹۵۳ء)
	’’ریاستِ بہار کے لوگ تحریکیں چلانے میں ہمیشہ پیش پیش رہتے ہیں لیکن کسی بھی تحریک کی معنویت کو بہت کم سمجھ پاتے ہیں ، دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ بعض تحریکیں بہار سے چلی ہیں اور انھیں دوسروں نے اُچک لیا ہے اور اس ریاست کے لوگ اطمینان سے اپنی پرانی زندگی کی جانب لوٹ گئے ہیں ۔‘‘	(۸ مئی ۱۹۵۳ء)
	’’جن لمحوں میں ’عورت‘ لتا سادھنا پر یقین کرتی ہے، شیو کے وجود کا نصف حصّہ گوری ہو جاتا ہے اور اُن لمحوں میں ’مرد‘ جنگلوں کی تمام پراسراریت کے ساتھ آہستہ آہستہ آشرم میں بیٹھ جاتا ہے، ہر ایسا تجربہ انسان کا پہلا انوکھا تازہ تجربہ بن جاتا ہے۔‘‘	(۳۰ اپریل ۱۹۵۳ئ)
	’’جن لمحوں میں حضرتِ نظام الدین اولیاؒ نے حضرت امیر خسروؔ سے گفتگو کی ہو گی وہ لمحے کتنے بلیغ اور معنی خیز ہوں گے۔ کاش ایسے لمحے مجھے بھی کہیں نصیب ہو جاتے۔‘‘
(۲۴ دسمبر ۱۹۵۲ء، نئی دہلی)
	’’درویش کے باطن میں سمندر کی بے پناہ گہرائیوں کا سکون ہوتا ہے، اوپر سمندر کی سطح کی طرح لہروں اور موجوں کی جتنی ہلچل ہو۔‘‘ 	(۲۵ دسمبر ۱۹۵۲ء، نئی دہلی)
	’’میں نے پوچھا ’اندر کا یوگی کیسے جاگے؟ پراسرار خوشبوؤں کا احساس کیسے پیدا ہو؟‘
	غالبؔ نے کہا جب دل خون ہو جائے اور رنگِ مدعا ختم ہو جائے!
	’ولے کہ خون شود و رنگِ مدعا ریزد!‘	(۲۴ دسمبر ۱۹۵۲ء، نئی دہلی)
	’’ہندوستان کے وہ لوگ کہاں ہیں جو پیکروں اور علامتوں میں سوچتے تھے اور صرف سوچتے نہ تھے مندروں کی صورتوں میں انھیں نقش بھی کر دیتے تھے!‘‘
(۵ جولائی ۱۹۵۴ئ، بھدرک، اڑیسہ)
	’’دسمبر ۱۹۵۲ء میں مرزا غالبؔ کی قبر مٹّی کی تھی اور اس کے آس پاس کئی قبریں تھیں ، اُس وقت کی ایک تصویر میرے البم میں لگی ہوئی ہے، آج اُسے دیکھ کر اچانک کئی باتیں یاد آ گئیں ، ایک چمکتا ہوا چہرہ بھی ہے ان میں ! سیاہ برقعے میں ، نقاب اُٹھائے، سوچتا ہوا سنجیدہ چہرہ، جانے وہ مرزا سے کیا مانگ رہی تھی، ان لمحوں میں آنسوؤں کا اسلوب سمجھ میں نہیں آیا۔‘‘
(۱۸ اپریل ۱۹۵۴ء)
	’’آج ایک پرانے مندر میں گیا، دروازے پر ایک دوسرے سے پیار کرتے ہوئے دو پرانے مجسّمے تھے، ایک دوسرے میں جذباتی طور پر کسے ہوئے پیوست، اچانک لگا جیسے زندگی کے کسی نئے دروازے پر آ گیا ہوں ، سچائی کا ایک تازہ احساس جاگ پڑا، دیوتاؤں کے گھر میں داخل ہوتے ہوئے چند لمحے چوکھٹ پر جو کھڑا ہوا تو محسوس ہوا کسی نامعلوم شئے کی چاہت کا مجسمہ بن گیا ہوں !‘‘	(۱۱ اگست ۱۹۵۴ء، اڑیسہ)
	’’آزادی کے بعد ہندوستان کی بعض ترقی پسند سیاسی جماعتیں بھی، علاقائی امراض میں گرفتار ہو رہی ہیں ، کیا ان جماعتوں کو اپنے ملک کی تہذیبی وحدت اور وحدت میں کثرت کے جلوؤں کا واقعی احساس نہیں رہا ہے؟ یقین نہیں آتا۔
	کچھ عرصہ تک توجہ کا مرکز بن جانے کا یہ آسان نسخہ ہو سکتا ہے، لیکن مستقبل میں بڑے خطرے ہیں ، علاقائی گھوڑوں پر بیٹھ کر یہ جماعتیں شان سے دوڑ سکتی ہیں ، اپنے کرتب دِکھا سکتی ہیں لیکن یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ علاقائی جماعتوں کی صورتوں میں کبھی خطرناک قسم کے زہریلے کیڑے بھی اِدھر اُدھر سے نکلنے لگیں اور ان کے لیے بھی ’چیلنج‘ بن جائیں یہ کہیں کہ اپنے علاقوں کے نمائندے صرف ہم ہیں تو کیا ہو گا؟ ترقی پسند سیاسی جماعتوں کے پاؤں کے نیچے سے اس وقت زمین کھسک جائے گی، کاش وہ سمجھتے کہ کل رجعت پسند جماعتیں نئے ہندوستان کے لیے خطرناک چیلنج بن سکتی ہیں !	(۲۷ فروری ۱۹۶۰ء)
	’’آج زہر اُگلتے ہوئے ایک فرقہ پرست ملے، میں نے کہا: ’’ہماری طرف دیکھو ہمیں جانو، سمجھو، اس طرح تم خود کو جان لو گے، سمجھ لو گے، جس طرح ہم آئے تھے اس ملک میں رہنے کے لیے اسی طرح تم بھی آئے تھے، صرف صدیوں کا فرق ہے، جس طرح تم نے اس مٹّی سے پیار کیا اور یہاں رچ بس گئے اسی طرح ہم نے بھی اس مٹّی کو آنکھوں سے لگایا اور یہاں جذب ہو گئے،ماضی میں ہم تم الگ نہیں تھے، جس طرح تم نے دوسرے باشندوں کے ساتھ مل کر نٹ راج کی تخلیق کی، اجنتا کی تصویریں اُبھاریں اور رنگ بھرے اُسی طرح ہم نے بھی تمھارے ساتھ مل کر تاج محل بنایا، موسیقی کے سروں کو نئے انداز سے مرتب کیا، کتھک میں نئی رُو پھونک دی، ہم دونوں نے مل کر ہی تو ایک مہذب عوامی زبان خلق کی ہے۔ تمھاری زندگی سے ہم نے خود کو جانا پہچانا ہے، ہم تمھارے آئینے ہیں ، ہم میں جھانک کر دیکھو خود کو پہچان لو گے!‘‘	(۲۶ جون ۱۹۶۱ء)
	’’گنگا! جب میں اس دُنیا میں نہیں رہوں گا، میری پرچھائیں تیری خاموش سطح اور تیری متحرک لہروں پر سب دیکھیں گے اور جب تیرے کنارے کوئی بنسری بجائے گا تو تیری سطح اور تیری متحرک لہروں پر ’نٹ راج‘ کا وہ رقص شروع ہو گاجس کا تصوّر کسی یوگی یا رشی نے نہیں کیا ہو گا!‘‘	( ڈائری، ۶ مئی ۱۹۵۲ء، پٹنہ)
مصوّری کے بعض نمونوں کو دیکھ کر اپنے تاثرات لکھتا رہا، جب اس نے Paul Cezanne کی تصویر 'The Aqueduct' دیکھی تو ’جنگل‘ سے عجیب و غریب تاثرات پیدا ہونے لگے، اپنے تاثرات اس طرح قلمبند کیے:
	’’گھنے، تاریک، پراسرار جنگل میں ایک درخت بھی تھا، زمین میں پیوست، گہرائیوں میں اُترا ہوا، اندر ہی اندر پھیلا ہوا، تحیر کی لہر آئی، خوف نے جنم لیا اور میں نے اچانک خود کو الگ پایا۔
	عجیب آوازوں میں گھرا، خوشبوؤں کی لہروں میں لپٹا، روشنیوں اور سایوں میں اُلجھا، تنہا ہر جانب دیکھ رہا تھا۔
	اور پھر
	جنگل بہت گھنے تھے، دیو ءطرح لہوں                                                                                                                       پیکر مجسّمے تھے، تاریک، سیاہ، پراسرار، مجھ سے الگ! جنگل کے باطن سے جنگل نکل رہے تھے، دیو، روشنیوں کے پیکر، سانپ، نیل کنٹھ، رُوحیں ، مکھیاں شہد کی--- سب آ گئے عجیب رشتۂ بطن تھا، الگ تھا مگر ہر شئے میں پیوست تھا! آئینے بکھرے ہوئے تھے، اپنے چہرے کی جانے کتنی صورتوں کو دیکھ کر حیرت زدہ تھا، اپنے چہرے کے پیکروں نے خوف کم کر دیا تھا، حیرت، شہد کا قطرہ! لمحۂ شہد کا قطرہ!شہد کے قطرے ٹپک رہے تھے۔ عجیب ذائقہ تھا۔ لطیف سروں کا چشمہ، رقص، انکشافِ ذات بن گیا۔ وجود شجر تھا، اُفق تا اُفق تھا، موج در موج آئینے میں اُتر رہا تھا، بند آنکھوں میں دُعا تھی، آہنگ درد بن گیا تھا، روشنی قبا تھی، جنگل سمٹ رہا تھا ایک نقشِ پا جو مٹ رہا تھا، مرکزِ کائنات پر رقصِ خدا تھا میں نٹ راج بن گیا تھا!‘‘	(نوٹ بک، ۷ مارچ ۱۹۵۳ء)
Vincent Vangogh کی ایک تصویر دیکھی تھی، زرد سورج، نیم زرد آسمان، ایک درخت، دریا، ٹیلا اور اس پر پرچھائیں جیسا انسان کا پیکر، یہ منظر آہستہ آہستہ محسوس بنتا گیا۔ اس نے اپنے ’نوٹ بک‘ پر لکھا:
	’’یہ پیکر نقش، نقشِ ماضی ہے جب ہر شئے آئینے بنی تھی--- 
	--- صدیوں کا رشتہ، وسیع اور گہرا!
	اسی فضا میں مٹّی اور آکاش نے سرگوشیاں کی تھیں ، الگ الگ تھے لیکن ایک دوسرے میں اُتر رہے تھے، آب و گل کی زبان کچھ کہہ رہی تھی، آسماں لمحہ لمحہ پہلو بدل رہا تھا، چاند سورج کنایے بن گئے تھے، پیڑ، پھل، دانے، پھول، پتیّ،شاخیں ، موج، دریا، سمندر، شام و سحر، حلقۂ گرداب، کوہسار، آواز، نغمہ، کیسی رحمتیں تھیں !فلک کا سونا، زمین کا جادو، زرد سورج کے زیر سائے دہان و لب پر اُتر رہے تھے، زرد، نیلگوں ، سُرمئی! ہر رنگ جلوہ، ہر رنگ نغمہ، ہر رنگ تحیر، ہر رنگ آرزو، دھُند خوابناکی، دھواں ، فضا، پیاس، کانٹا، چشمِ نم،کربِ شعور، آشوبِ آگہی،کچھ خواب جیسا، سراب جیسا، جسم، درد کا صحرا، کل کا جز، قلزمِ خوں ؟
	مقتل تو نہیں ہے؟	(نوٹ بک، ۱۷ فروری ۵۲- ۱۹۵۳ء)
	’’چین میں ثقافتی انقلاب آیا، اس کے کئی اسباب تھے، اس انقلاب کا تعلق ملک کی مٹّی سے تھا، اُس مٹّی سے کہ جس کا رشتہ وہاں کے سوچنے والوں کے احساس اور جذبے سے تھا، ایک نصب العین سامنے تھے، ماوزے تنگ کا چوکنّا، سوچتا ہوا ذہن تھا جو اپنی صلاحیتوں کے مطابق بہتر سے بہتر روشنی عطا کر رہا تھا جسے اپنی تاریخ، اپنے معاشرے اور بین الاقوامی سیاست کی خبر تھی، اپنے ملک کے نوجوانوں کی سوچ اور فکر اور ان کے عمل کے لیے راہیں معین کرنے کا حوصلہ تھا، سوویت یونین کے انقلاب نے ’مارکسزم‘ کی سچائی کا شعور عطا کر دیا تھا، لینن کے عظیم کارنامے سامنے تھے، سوویت یونین کا غیر معمولی تجربہ انسان کی تاریخ کا ایک مستقل باب بن چکا تھا۔
	اپنے ملک میں ثقافتی انقلاب‘ کی باتیں ہو رہی ہیں ، یہ باتیں وہ لوگ کر رہے ہیں جو اپنی تاریخ اور تہذیب کی تاریخ سے بے خبر ہیں ، مشترکہ تہذیب کی اعلیٰ روایات و اقدار کی جانب جن کی نظر نہیں ہے، ’منزل‘ یا ’نصب العین‘ کیا ہے؟ وہ لوگ جو صرف اس لیے حکومت کرنے کا حق رکھتے ہیں کہ وہ آزادی کی جدوجہد‘ میں جیل گئے تھے، ’منزل‘ کا تعین کس طرح کر سکیں گے؟ ان کا علم کیا ہے؟ ان کی فکر و نظر میں کتنی کشادگی ہے؟ ان کی سیاست تو اس زمین کی مٹّی کی خوشبو سے جیسے کوئی رشتہ نہیں رکھتی، عوام سے ان کی سیاست کا تعلق کن سطحوں پر ہے؟ یہ لوگ تو ذات پات اور فرقہ پرستی اور ٹوٹے ہوئے لوگوں کو اور توڑ کر ’الیکشن‘ لڑتے ہیں ، ان کے لیے بڑے بڑے سرمایہ داروں کی تجوریاں کھلتی ہیں ، ’سیاسی شعور‘ کہاں ہے؟ وہ کیا جانیں صنعتی انقلاب کیا ہے اور اس کی کتنی ضرورت ہے، انقلاب کی باتیں کرنے والے اپنے ’انقلاب‘ کا ایک خاکہ ہی پیش کر دیں تو ہم کچھ سمجھیں ، کچھ جانیں ۔ ایک ہی سانس میں گاندھی ازم اور سوشلزم کے نعرے لگانے والے اپنے ذاتی مفاد اور اپنی جماعت کے مفاد کے لیے فرقہ وارانہ فسادات بھڑکاتے ہیں اور جلے ہوئے لوگوں کی طرف مرہم پٹی لے کر دوڑتے ہیں ،جب چاہتے ہیں ’دانشوروں ‘ کو خرید لیتے ہیں (دانشور؟) تعصب، عناد اور اپنی لسانی پالیسیوں سے ذہن اور دل کو تقسیم کر رکھا ہے؟ کون ہیں وہ سیاست داں جو اپنی تاریخ اور اپنی تہذیب کے مظاہر اور ان مظاہر کے تسلسل کا بہتر شعور رکھتے ہیں ؟
	’ثقافتی انقلاب‘ ثقافت اور تہذیب کے بہتر شعور سے آتا ہے،
	یہ شعور کہاں ہے؟
	ثقافتی انقلاب دیوانے لاتے ہیں ، سیاست کے یہ شہزادے کیا جانیں ثقافت کیا ہے، انقلاب کیا ہے؟	(۲۴ جون۱۹۸۰ء)
کئی اہم کتابوں پر اپنے تاثرات لکھے، افراد اور شخصیتوں کے تعلق سے بھی کئی صفحات لکھے، یہ تنہائی کا شغل تھا اور کچھ بھی نہ تھا، جن تصویروں ، کتابوں اور شخصیتوں کو پسند کرتا، انھیں خود میں جذب کرنے کی عجیب و غریب کوشش کرتا، اپنے ایسے تاثرات کو پڑھ کر ایک دن اسے بے اختیار ہنسی آ گئی، اور اپنی کئی ڈائریاں اور اپنے کئی نوٹ بک نذرِ آتش کر دیئے۔ کتابیں ، تصویریں اور شخصیتیں اس کے ذہن کو جانے کہاں کہاں لے جاتی تھیں ، جن لمحوں میں اپنے تاثرات لکھتا وہ لمحے تو اُسے انبساط ضرور عطا کرتے لیکن پھر ان کی کوئی حیثیت اور اہمیت نہیں رہتی۔ ممکن ہے اس طرح لکھتے ہوئے ’اظہار‘ کے لیے اپنے اسلوب کی تلاش میں ہو، وہ کچھ نہیں جانتا، ایسی تحریروں کو وہ محض ایک کھیل ہی سمجھتا رہا۔

اس کی ڈائری کے سینکڑوں صفحات پڑھ کر محترمہ عصمت چغتائی نے لکھا تھا:
’’۔۔۔شکیل میں نے تمھیں پڑھا، مینا (عصمت شکیل) نے تمھیں سمیٹ کر ایک خوبصورت کتاب میں بند کرنے کی بڑی کامیاب کوشش کی ہے اور کوزہ چھلک چھلک گیا ہے۔
بڑے دھیمے چپکے اور نرم انداز سے شکیل کی شخصیت اس ڈائری کے اوراق میں اُبھرتی ہے، تنہا قدم قدم بڑھتا ہے، سن بلوغت کو پہنچتا ہے اور بزرگی کی حدوں کو چھو لیتا ہے، تحریر میں مٹھاس، ترشی اور تلخی کا مزیدار امتزاج ہے جسے پڑھنے والا گھونٹ گھونٹ پیتا ہے، زندگی کا قریب قریب ہر اہم نکتہ اس ’سیناریو‘ میں سمو دیا ہے۔
تم شنکر کے بے حد قائل ہو اور مجھے شنکر بور کرتے ہیں ، کچھ اَڑیل سے دیوتا ہیں ، سخت بھنائے ہوئے۔ ان سے زیادہ مجھے کرشن موڈرن معلوم ہوتے ہیں ۔ تم جدید لکھنے والوں کی صف میں نمایاں حیثیت رکھتے ہو اس لیے مجھے کچھ ایسا محسوس ہوا انفرادیت سے کنی کاٹ جاتے ہو، جملوں کی تراش خراش متاثر کرتی ہے، تمھارے پاس الفاظ کا بڑا محیط خزانہ ہے، پھر ایک بار اپنے قلم کی طاقت اور فنِ تحریر پر گرفت کی مبارکباد قبول کرو، بہت سی دعائیں !‘‘
عصمت آپا


اٹھائیس

 حویلی کی چھت سے گرجا چچا کے مکان کے قریب اُس کنویں کو دیکھا جہاں صبح سویرے محلّے والے پانی بھرنے آتے تھے اور جہاں کئی لوگ اشنان بھی کرتے تھے، ابّو کے گماشتہ روز اسی کنویں پر نہاتے تھے، برہمن تھے اور کچھ برہمنی اوصاف اور اقدار کو عزیز رکھتے تھے، سب سے پہلے اسی کنویں پر اس نے گماشتہ جی کو ’سورج پُوجا‘ کرتے ہوئے دیکھا تھا، ’سورج پُوجا‘ کے مختلف عمل پر غور کرتا اور اس عبادت پر تبادلۂ خیالات کر کے کچھ سمجھنے جاننے کی کوشش کرتا۔ اسی کنویں کے قریب ایک جھونپڑی تھی جس میں ایک نیپالی کنبہ رہتا تھا، میاں بیوی، ایک جوان
بیٹی اور ایک نوجوان بیٹا! ایک صبح اس جھونپڑی سے اچانک ایک دلخراش چیخ کی آواز سنائی دی، آس پاس کے لوگ دوڑے، معلوم ہوا تھاپا کی جوان بیٹی پر کوئی بد رُوح سوار ہو گئی ہے۔ سب کو یقین تھا کہ یہی ہوا ہے، جھاڑ پھونک کے لیے جانے کہاں کہاں سے لوگ بلائے گئے لیکن کامیابی نہیں ہوئی، وہ لڑکی بیٹھے بیٹھے اچانک چیخنے لگتی اور عجیب و غریب حرکتیں کرنے لگتی۔ کچھ دنوں کے بعد معلوم ہوا کہ تھاپا اپنے گھر کے تمام افراد کو لے کر اپنے دیس چلا گیا ہے۔

اس واقعے کے ساتھ اسے مادام کی یاد آ گئی۔
وہ مادام کو کبھی فراموش نہیں کر سکتا، انھوں نے اس کے علم میں اضافہ کیا ہے اس وقت اور اُس عمر میں جبکہ عام طور پر ایسے ’گرو‘ نہیں ملتے، مادام ایک نعمت سے کم نہ تھیں ۔

ان سے پہلی ملاقات پٹنہ یونیورسٹی کے سامنے ایک ریستوران میں ہوئی، شام کے چار پانچ بجے چائے پی رہا تھا، اپنے خیالوں میں گم! (اکثر یہاں آ جاتا تھا، سکون کی جگہ تھی، کم لوگ آتے اور اچھے لوگ آتے تھے اس ریستوراں میں ، نپٹو ہوٹل میں بھیڑ رہتی تھی لہٰذا وہ اِسی ریستوراں کو پسند کرتا تھا) اُسے محسوس ہونے لگا جیسے کوئی اس کی جانب دیکھ رہا ہے، غالباً اِسی لیے کہ اپنی جانب مخاطب کرے، ایسا عمل جو بہت خاموش ہوتا ہے محسوس بن ہی جاتا ہے۔ چند لمحوں کے اندر ہی اس کی نظر سامنے ٹیبل پر پڑی جہاں مادام بیٹھی تھیں اور عجیب نگاہوں سے اس کی جانب دیکھ رہی تھیں ، یہ سلسلہ اس طرح جاری تھا کہ وہ کچھ اُلجھ سا گیا، مادام کی عمر چالیس سال کے قریب ہو گی، صحت مند تھیں ، پرکشش تھیں ،عام سادہ لباس تھا اُن کا، ساڑی اور بلاؤز! چمکتا ہوا روشن چہرہ، پراسرار آنکھیں ، ہونٹوں پر پیاری سی مسکراہٹ--- جب بھی نظر ان تک پہنچتی مسکرا دیتیں ، بس گھورے جا رہی تھیں اُسے جیسے اس سے کچھ کہنا چاہتی ہوں ۔
سوچنے لگا بھلا ایسی خاتون کی دلچسپی۲۲-۲۳ سال کے شخص سے کیا ہو سکتی ہے، ایک بار پھر جو نظر پڑی تو غالباً اس کے ہونٹوں پر بھی مسکراہٹ کی کوئی لہر آ گئی اور انھوں نے اسی لمحہ اشارہ کیا اور وہ بے اختیار اپنے ٹیبل سے اُٹھ کر اُن کے ٹیبل پر آ گیا۔
قریب سے دیکھا، غور سے دیکھا، اچھی عمر رسیدہ اور تجربہ کار لگ رہی تھیں ۔ لیکن آنکھیں اپنی پراسراریت کی وجہ سے پریشان کر رہی تھیں ۔ ہلکا سا تعارف ہوا۔
کسی پرانے رئیس گھرانے سے تعلق تھا، پڑھنے لکھنے کا شوق تھا، فیزکس (Physics) میں ایم۔ایس۔سی کرنے کے بعد گھر پر ہی رہتی تھیں ، کسی قسم کی ملازمت کرنا پسند نہیں کیا۔ نومِ توجہ یا نظر کی نیند (Hypnosis) کے علم سے گہری دلچسپی رہی ہے۔ سولہ سترہ برس کی عمر میں شادی ہوئی تھی، ایک بیٹی ہوئی، پھر کسی وجہ سے شوہر سے علیٰحدہ ہو گئیں ، اب اُن کا تمام وقت گھر کے کام کاج اور مطالعے میں گزرتا ہے۔

اس کا خوف دُور ہو گیا،
چائے پیتے ہوئے اپنے شوق کے تعلق سے کئی چھوٹی چھوٹی دلچسپ کہانیاں سنائیں ، گفتگو کرتے ہوئے یقین آ گیا کہ وہ ایک شریف خاتون ہیں لیکن ہیں کسی قدر پراسرار،اپنے دلچسپ علم کی گہرائیوں میں ہیں ، مطالعہ وسیع ہے۔ گفتگو کرتے ہوئے اُسے اپنا دوست بنا رہی ہیں ، اپنا پتہ دیا اور کہا ’’جب چاہو آ جاؤ، یوں کل شام آ جاؤ تو بہتر ہے، ہم بیٹھ کر خوب باتیں کریں گے۔‘‘ نپٹو ہوٹل کے ساتھ ہی جو راستہ اندر کی جانب جاتا ہے اسی راستے پر کچھ ہی دُور ایک گلی میں ان کا بنگلہ تھا، کل ملنے کی بات طے ہو گئی اور وہ چلی گئیں ۔

وہ حیران تھا، آج تک ایسا تجربہ نہیں ہوا تھا اور وہ بھی بہار میں جہاں عورتیں حد درجہ شرمیلی ہوتی ہیں اس حد تک کہ اکثر گونگی لگتی ہیں ، گھر میں چاہے جتنی باتیں کر لیں ، اجنبیوں کے ساتھ اس طرح بیٹھ کر باتیں نہیں کرتیں ۔
شب میں وہ کچھ بے چین سا رہا، مادام کے متعلق طرح طرح کے خیالات پیدا ہوتے رہے۔ کیا وہ واقعی اچھی خاتون ہیں ؟
ان کے گھر جانا چاہیے؟
انھوں نے پہلی ملاقات میں جیسی کہانیاں سنائیں کیا کوئی عورت اس طرح سنا سکتی ہے جب وہ اُن کے لیے قطعی اجنبی تھا؟
اُن کی وجہ سے کوئی مصیبت تو نہیں آ جائے گی؟
مادام کی پراسرار آنکھیں بار بار سامنے آ رہی تھیں ،ان کے مسکراتے ہوئے ہونٹ اپنی جانب راغب کر رہے تھے،
ریستوراں میں گفتگو کرتے ہوئے وہ کتنی شفیق اور مہربان تھیں !
دوسری شام وہ ان کے بنگلے پر تھا،
ایک پرانا بوسیدہ بنگلہ جس کی دیواریں ٹوٹ رہی تھیں ۔
مادام اسی کا انتظار کر رہی تھیں ، بیٹھک میں لے گئیں ، ہر طرف کتابیں بکھری ہوئی تھیں ، کئی پرانی الماریاں تھیں ان میں بھی کتابیں تھیں لیکن کچھ اس طرح جیسے بس اندر پھینک دی گئی ہوں ۔ کئی چوکیوں کو ملا کر بیٹھک بنا دیا گیا تھا، کچھ پرانی وضع کی کرسیاں تھیں ، دوچار ٹیبل تھے، کمرہ گرد آلود تھا اور بجلی کی روشنی بھی مدھم تھی،
وہ اس طرح ملیں جیسے جانے کب کی ملاقات ہو، کہا ’’بیٹھو!‘‘
ان کے سامنے ایک کرسی پر بیٹھ گیا۔
چائے بنا کر لائیں اور دونوں چائے پینے لگے۔
’’جانے تم نے مجھے کیا سمجھا ہو گا، میں طوائف یا کوئی بازاری عورت نہیں ہوں !‘‘
’’کیسی بات کر رہی ہیں ، آپ؟ ایسا ہوتا تو کیا میں آپ سے ملنے آتا؟‘‘
’’تم نے ایسا سوچا ضرور ہو گا اس لیے کہ ایسی عورتیں لڑکیاں عموماً ہوٹلوں اور ریستوراں میں ملتی ہیں --- تم میں اچانک ایک عجیب کشش محسوس کی اور جی چاہا کہ تم سے دوستی کر لوں ۔‘‘
’’دوستی تو ہو گئی!‘‘
وہ خاموش رہیں ۔
’’مادام، آپ کہہ رہی تھیں کہ آپ کی دلچسپی 'Hypnosis' سے ہے۔‘‘
’’میں نے تمھیں ’ہپناٹائز‘ تو کر ہی دیا ورنہ آج یہاں کس طرح آ جاتے۔‘‘ وہ ہنسیں ، بہت اچھی لگیں ہنستے ہوئے۔ ’’کون جانے تم نے مجھے Hypnotise کر دیا ہو، اِس عمل کے لیے ضروری نہیں کہ شخص اس علم سے واقف بھی ہو، رات بہت غور کیا، میں اس قسم کی حرکت نہیں کرتی، مجھے کیا ہو گیا تھا جو تمھیں اپنی جانب متوجہ کیا، اچھی عورتیں ایسا نہیں کرتیں ۔۔۔ جانے کیوں ، یہی سوچتی رہی کہ تم ہی میں کوئی بات ہے جس کی وجہ سے اچانک دوستی کرنے کے لیے بے چین ہو گئی، تم مجھے بہت اچھے لگے۔‘‘
’’ہوسٹل جا کر ایک بار پھر آئینے میں اپنی صورت دیکھوں گا۔‘‘
’’لیکن میری آنکھوں سے دیکھنا اپنی آنکھوں سے نہیں ۔‘‘ ہنسنے لگیں ، دل کھول کر۔
’’میرا سوال تو اسی طرح رہ گیا!‘‘
’’تم مجھ سے کچھ اور سننا چاہتے ہو، کیا تمھیں میری دلچسپی کا اندازہ کل نہیں ہوا؟ میں نے تمھیں کئی واقعات سنائے، چھوٹی چھوٹی کہانیاں سنائیں ۔‘‘
’’آپ کے علم سے بہت متاثر ہوں ۔‘‘
’’بیٹھ گئے احمق بنانے مجھے، میں کیا اور میرا علم کیا، بس تھوڑی بہت دلچسپی ہے، جانتے ہو میں نے 'Mesmerism' اور 'Possession' وغیرہ پر بھی بہت پڑھا ہے۔ بہت اچھا لگتا ہے یہ سب پڑھتے ہوئے، ایک دوسری دُنیا ملتی ہے، بہت دلچسپ اور کبھی کبھی بہت اُلجھی ہوئی--- یہ نہ سمجھو کہ میں ان پر عمل کرتی ہوں یا میں Possessed ہوں ، میرے اندر کوئی کرائسٹ یا شیطان نہیں ہے، میں ایک عام سی عورت ہوں ، البتّہ ان پر یقین کرتی ہوں اور میرا اپنا بھی ایک تجربہ ہے۔‘‘
’’یعنی آپ Possessed رہی ہیں ؟ آپ نے اپنے تجربے کی بات کی۔‘‘
’’ہاں ، ایک بار--- اور جب چاہوں ہو جاؤں ۔‘‘
وہ کچھ پریشان سا ہونے لگا۔
’’دیکھو نا اس وقت تم اقبال ہوسٹل سے یہاں آئے اور میں Possessed ہو گئی۔‘‘پھر اسی طرح ہنسنے لگیں ۔

مادام سے مسلسل ملتا رہا، بہت اچھی دوست بن گئیں ، ہر موضوع پر دل کھول کر باتیں کرتیں ، گفتگو کرتے ہوئے ان کا ذہن بھی ہر لمحہ متحرک رہتا، چند جملوں کے سنتے ہی لگتا جیسے علم کا شہد ٹپکنے لگا ہے۔
بڑی صاف گو تھیں ۔ ’سیکس‘ کو بھی کئی بار موضوع بنایا لیکن اس پر اس طرح باتیں کرتیں جیسے مقصد صرف اپنے علم کو لٹانا ہو۔ کہتی تھیں وہ علم ہی کیا ہوا کہ جسے لٹایا نہ گیا ہو۔

ایک شام مادام نے اچانک پوچھا:
’’اگر میں تم سے یہ کہوں کہ میں اپنے پورے جسم کے ساتھ تم سے محبت کرتی ہوں تو تمھارا تاثر کیا ہو گا؟‘‘
وہ پریشان ہو گیا، اُن کی آنکھیں اُس کے چہرے پر تھیں جیسے اس کے تاثرات پڑھنا چاہتی ہوں ۔
’’پریشان نہ ہو، میری اور تمھاری عمر میں بڑا فرق ہے، میں ایسا سوچ بھی نہیں سکتی اور ایسی بات کہہ بھی نہیں سکتی، تم میرے اچھے دوست ہو، یہ بات اس لیے کہی ہے کہ تم اس عمر میں یہ ضرور جان لو کہ روح اور جسم کی وحدت کے بغیر زندگی کی کوئی اہمیت نہیں رہتی۔ ’پورے جسم کے ساتھ محبت‘ یا ’پورے جسم کے ساتھ عبادت‘ کا مطلب یہ ہے کہ جسم روح کے اندر تحلیل ہو گیا ہے اور یہ آواز جسم کی نہیں روح کی ہے، یہی Possession ہے، اس کے بغیر محبت یا سیکس کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔‘‘

زندگی میں پہلی بار ایک معمر خاتون کی زبان سے ایسی باتیں سن رہا تھا۔
کہنے لگیں ’’ معاملہ Mystical Experience' کا ہو یا 'Sexual Experience' کا، جسم ہی رُوح میں تحلیل ہوتا ہے، اس کے لیے ایک گہری نظر کی ضرورت ہے، بہت گہری جس کا تصوّر آسان نہیں ہے، عام معمولی خواہشوں سے ’تجربہ‘ حاصل نہیں ہوتا، خواہشوں کو وجود کی آنچ پر تپانا ہوتا ہے پھر ایسی آرزوئیں جنم لیتی ہیں جو ’تجربے‘ بخشتی ہیں ۔‘‘
کسی کتاب کے حوالے سے بتایا کہ ایسی جانے کتنی 'Nuns' ہیں جو مراقبے میں محسوس کرتی ہیں کہ ’کرائسٹ‘ نے انھیں اپنی گرفت میں لے لیا ہے، ایک ایسی راہبہ کو وہ خود جانتی ہیں ، انھوں نے کہا:
’’یہ کرائسٹ کون ہے؟ روح ہے، وہی روح جو جسم کو اپنے اندر لے لیتی ہے اور جسم کی زبان ہی میں گفتگو کرتی ہے، کون کس وقت شیو بن جاتا ہے اور کون کس وقت کالی بن جاتی ہے کہنا مشکل ہے، کالی روح ہے، شیو جسم ہے، کالی ہی شیو کو ’بھیرو‘ بناتی ہے۔‘‘
’’میں تمھیں ٹرانس (Trance) کے بارے میں کچھ بتاؤں --- ’ٹرانس‘ کے بعد زندگی کے اوپر ہی سے گزرتے رہو گے، زندگی کا تقاضہ یہ ہے کہ اس کے اندر چلے جاؤ۔ جیسے ایک پیغمبر مچھلی کے پیٹ میں چلے گئے تھے اور زندگی کے اندر جانے کے لیے ’ٹرانس‘ (وجد) ہی مدد کر سکتا ہے۔‘‘
چند لمحے رُک کر کہا:
’’لٹریچر پڑھتے ہونا، تمھیں جاننا چاہیے کہ لکھنے والے کے لیے بھی ’ٹرانس‘ ضروری ہے، اس کیفیت کے بنا بھلا وہ زندگی کے اندر کس طرح جا سکتا ہے، میں ’یونیفارم والے‘ ادیبوں کی بات نہیں کر رہی ہوں ، میں بات کر رہی ہوں شیکسپیئر کی، ورجل کی، ہومر کی، اسی طرح ’ریڈرس‘ لٹریچر پڑھنے والا اچھی کتابوں میں زندگی کے اندر گھستا ہے اور اس طرح زندگی کے اندر پہنچنے کا طریقہ بھی جان لیتا ہے، اسی لیے لٹریچر سائنس سے آگے ہے۔‘‘

ایک دن اس نے مادام سے پوچھا ’’دُنیا کی تاریخ میں جو انقلابات آتے رہے ہیں کیا ان میں بڑی ’ٹرانس‘ (وجد) کا عمل دخل رہا ہے۔‘‘
فوراً جواب ملا ’’ہاں ، کوئی نظریہ، کوئی خواب فرد کے ’ٹرانس‘ کو عوام میں منتقل کر دیتا ہے، اس کی سحر انگیزی کی پہچان ہو جائے تو ’ٹرانس‘ کی قدر و قیمت کی بھی صحیح پہچان ہو جائے گی۔‘‘
’’لینن اور انقلابِ روس کے متعلق آپ کا کیا خیال ہے؟‘‘
’’یہ ’ٹرانس‘ ہی کا کرشمہ ہے، مارکسزم ایک نظریہ تھا جس نے لینن کے ذہن و شعور میں وجد کی کیفیت پیدا کر دی، معاشی اور معاشرتی نظام کی نئی تشکیل میں مارکسی اصولوں اور نظریوں نے اپنی سحر انگیزی کا گہرا احساس دیا، لینن نے جس خوبی کے ساتھ اپنے ’ٹرانس‘ کو عوام میں منتقل کیا اُس کی مثال دُنیا کی تاریخ میں نہیں ملتی۔‘‘

ایک بار اُس نے مادام کو یاد دلایا، انھوں نے کہا تھا Possession کا انھیں خود تجربہ ہے۔
’’آپ نے اپنے تجربے کے بارے میں نہیں بتایا۔‘‘
اُس نے محسوس کیا جیسے وہ اچانک اپنی یادوں میں گم ہو گئی ہیں ، سوچتے سوچتے چہرہ مسکرانے لگا، آنکھیں چمکنے لگیں ۔
’’کیا کرو گے سن کر، میری عمر اب ایسی نہیں کہ اپنی جوانی کے تجربوں کے بارے میں کچھ کہوں ، کچھ بھی بتانے میں کسی قسم کی جھجک نہیں ہے، ایک تجربہ ہوا تھا اُنیس سال کی عمر میں ۔ ایک شام اُس پیپل کے پیڑ کے نیچے کھڑی تھی۔‘‘ انھوں نے بنگلے کے گیٹ کے قریب پیپل کے درخت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا۔
’’اچانک لگا کوئی درخت سے اُترا اور چپکے سے میرے اندر سما گیا، اسے اچھی طرح محسوس کر رہی تھی، مجھ سے زیادہ طاقتور تھا جو بھی تھا، فوراً ہی مجھے اپنی گرفت میں لے بیٹھا، اب میں کہاں تھی، بس وہی تھا، جو حکم دیا وہی کیا، اپنا نام بتایا ’چندا‘ اور کہا:
’’اس وقت تمھارے اندر ہوں ، بہت جلد تمھیں اپنے اندر لے لوں گا۔‘‘
’’آپ کو ڈر نہ لگا؟‘‘
نہیں ، ڈر کیسا، میں تو وہی بن گئی تھی، ہاں کبھی کبھی یہ لگ رہا تھا کہ میں پہلے کچھ اور تھی اور اسی سے پریشان ہو جایا کرتی تھی، فوراً ہی Emotional Excitement پیدا ہو گئی اور میں بہت خوش رہنے لگی، کسی قسم کی دیوانگی نہیں تھی، اس کے آنے سے میں خود کو بہت مضبوط اور طاقتور محسوس کرنے لگی تھی، ہونے والے کسی واقعے کو کاغذ پر لکھ دیتی اور وہ واقعہ ہو جاتا، ڈیڈی پریشان ہو گئے، انھوں نے ڈاکٹروں کو دِکھانا شروع کر دیا، بس وہ چلا گیا جو آیا تھا، جو مجھے ایک پراسرار علم سے آشنا کر رہا تھا، پھر نہیں آیا--- اُسے بھول نہیں سکتی اس لیے کہ اس وقت سے مجھ میں جو خوداعتمادی پیدا ہو گئی وہ آج بھی موجود ہے--- ایسا نہ ہوتا تو تم ہی بتاؤ اس شام تمھیں ریستوراں میں اچانک کس طرح پکڑ لیتی۔‘‘

مادام نے انسانی ذہن کی پیچیدگیوں کو طرح طرح سے سمجھایا، ’وجد‘ یا ’ٹرانس‘ کی قدر و قیمت سمجھائی، ’فیزکس‘ اور ’علم الحساب‘ سے اپنی باتوں کی سائنسی بنیادیں قائم کرتی تھیں لیکن اُن کا خیال یہ تھا کہ انسانی ذہن کو سائنس مشکل ہی سے کچھ سمجھا سکتی ہے، سائنس تو اس ذہن کی ایک معصوم سی بچی ہے۔‘‘
ان کی باتوں کا اس پر بہت اثر ہوا، آج بھی ان کی بہت سی باتیں یاد آتی ہیں ، اپنی زندگی میں ’ٹرانس‘ کی کئی کیفیتوں سے گزرنے کے بعد اُسے یقین آ گیا کہ مادام کی بہت سی باتیں سچ تھیں ۔

ایک شام جب وہ ان سے رخصت ہو رہا تھا تو اسے محسوس ہوا جیسے اُن کی آنکھوں میں عجب سی چمک آ گئی ہے اور وہ اسے مسلسل گھور رہی ہیں ۔اُلجھ سا گیا، چند ہی لمحوں میں ان کی کیفیت تبدیل ہو گئی تھی، آہستہ آہستہ اس کے قریب آئیں ، بہت قریب اور اچانک اس کی پیشانی کو چوم لیا، ایک عجیب سی لہر پورے وجود میں دوڑ گئی، رخصت کرتے ہوئے کہا۔
’’تم بہت جلد کسی کے دیوتا بن جاؤ اور اپنی پجارن کو اپنی دیوی بنا لو۔‘‘
کتنی خوبصورت اور پیاری دعا تھی۔

کئی ہفتے گزر گئے۔ ایک شام اُن سے ملنے گیا تو معلوم ہوا اب اس گھر میں کوئی نہیں رہتا، مادام گھر چھوڑ کر چلی گئی ہیں ، کہاں ؟ معلوم نہیں ۔ مایوس واپس لوٹ آیا۔

آٹھ برس گزر گئے، پٹنہ پہنچا تو مادام کی یاد آئی اور اس امید کے ساتھ کہ ان سے ملاقات ہو گی اُن کے بنگلے پر پہنچ گیا۔
بنگلہ ٹوٹ کر بیٹھ گیا تھا۔
اسے محسوس ہوا جیسے یہ بھی Possession کا کوئی عمل ہو!


اُنتیس

 ۵۵-۱۹۵۴ء کی بات ہے، ترقی پسند تحریک سے وابستہ تھا، مارکس اور لینن کے بعض بنیادی تصورات اور خیالات سے وابستہ تھا، اپنے ملک میں جمہوری اور اشتراکی قدروں کی روشنی--- بہتر روشنی دیکھنے کا خواہش مند تھا، سوویت یونین اور چین کے سماج کی طرح اپنے ملک میں بھی ایک اشتراکی سماج دیکھنے کی خواہش تھی، چاہتا تھا اسی نوعیت کا ایک انقلاب اپنے ملک میں آ جائے۔
’زمیندار سسٹم‘ کے ختم ہونے کا اعلان ہو چکا تھا اور دوسرے کئی زمینداروں کے منیموں کی طرح اس کے منیم جی بھی حساب کتاب درست کر رہے تھے، کاغذات کو جلد داخل کر دینا تھا تاکہ معاوضے کی رقم کا تعیّن ہو سکے، منیم جی اکثر صبح بعض کاغذات پر دستخط لینے آتے، اچانک خواہش ہوئی اپنے کسی گاؤں کو دیکھنے جائے، اُس کی یہ خواہش منیم جی کے لیے قدرے حیران کن تھی اس لیے کہ اُس زمانے میں کسی ’زمیندار‘ کا اپنے گاؤں میں جانا عجیب بات تھی، ’اب وہاں کیا رکھا ہے‘ انھوں نے کہا اور مشورہ دیا:
’’چھوٹے بابو نہ جائیے۔‘‘
اُس نے ضد کی اور منیم جی کو ساتھ لے کر ایک دور دراز علاقے میں چلا گیا جہاں اُس کے والد کا ایک گاؤں تھا۔
ٹرین کے سفر کے بعد کئی ’کوس‘ بیل گاڑی پر گیا، راستے کے کھیت کھلیان اور چھوٹے بڑے خوبصورت درخت اور کسانوں کے بھوجپوری گیت اُسے اچھے لگ رہے تھے۔ گاؤں پہنچ کر ایک ’پاٹ شانے کی جھونپڑی میں ٹھہرا‘ شام ہوئی اور منیم جی گاؤں کے مندر میں چلے گئے، وہ اس جھونپڑی میں تنہا رہ گیا، چاندنی رات میں کھیتوں کھلیانوں کو دیکھتا رہا، گاؤں سو رہا تھا، کتّے گیڈر دور نزدیک شور مچائے ہوئے تھے، سامنے جھونپڑیوں کے چراغ بجھ چکے تھے، رات بھر نیند نہیں آئی۔
صبح ہوئی کسانوں کو کھیتوں کی جانب جاتے ہوئے دیکھ کر اچھا لگ رہا تھا۔ عورتیں اپنے کام میں مصروف تھیں ، بچّے کھیل رہے تھے، سامنے لوہار کی ایک دکان تھی اور لوہاروں نے اپنا کام شروع کر دیا تھا، سب اپنے کام میں مصروف تھے، گاؤں والوں کو اس بات کی خبر تھی کہ وہ گاؤں میں آیا ہوا ہے لیکن اُس سے ملنے کوئی نہیں آیا تھا۔
’اشنان‘ کرنے کے بعد قریب کے ایک تالاب کی جانب نکل گیا، وہاں کچھ لوگ نہا رہے تھے ان میں مرد بھی تھے، عورتیں بھی تھیں اور چند بچّے بھی تھے، ان کے ساتھ ہی کچھ بھینسیں بھی نہا رہی تھیں ، کچھ عورتیں اپنے برتن مانجھ رہی تھیں ، قریب کے مندر میں ایک چھوٹی سی گھنٹی بار بار بج رہی تھی،
اجنبی چہرے کو دیکھ کر کچھ چہروں پر مسکراہٹ کی لہریں اُبھر رہی تھیں ،
کچھ دیر اِدھر اُدھر گھوم کر واپس آ گیا۔
اس کے ذہن پر گاؤں کی خوبصورت صبح اور بھولے بھالے معصوم چہروں کا تاثر گہرا تھا۔ جب واپس آیا تو یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ گاؤں کے کچھ لوگ اس کا انتظار کر رہے ہیں ، نہایت احترام سے ان لوگوں نے اس کا استقبال کیا، گاؤں کے یہ لوگ اُس کے لیے ناشتہ لے کر آئے تھے، دیر تک زبردستی کھلاتے رہے اور پھر اِدھر اُدھر کی باتیں کر کے واپس چلے گئے۔ناشتے کے بعد واپس جانے کو تیار ہوا تو منیم جی نے کہا:
’’چھوٹے بابو، ہم نے کہا تھا تاکہ اس سمے آنا مناسب نہیں ہے، ہر کسان کا دماغ آسمان پر ہے، سب جانتے ہیں کہ زمینداری ختم ہو رہی ہے، مالک کی پروا کس کو ہے، دیکھا نا آپ نے، کسی نے ’سلامی‘ نہیں دی، حرامزادے، ناشتہ لے کر آئے تھے۔‘‘
منیم جی کی باتیں سن کر اسے ہنسی آ گئی، وہ کچھ اور دیکھنے آیا تھا اس گاؤں میں ، ایک نیا دَور کس طرح آہستہ آہستہ گاؤں میں قدم رکھ رہا ہے، رجحانات کس طرح تبدیل ہو رہے ہیں ، اُس نے گاؤں والوں کے چہروں پر بہت کچھ پڑھ لیا تھا، اس کا بنیادی تاثر یہ تھا کہ اُن کے چہروں پر صدیوں کے بعد سکون آ رہا ہے۔ وہ اسے اپنے ملک کا ایک بڑا تجربہ سمجھ رہا تھا۔

بیل گاڑی والے نے ایک بھوجپوری گیت چھیڑ دیا اور وہ گم ہو گیا اس گیت کی لہروں میں ، کھیتوں اور کھلیانوں میں ہر جانب ایک سرمستی سی تھی۔ جو اس گیت کے ذریعہ دل اور دماغ کو چھو رہی تھی۔
جب اسٹیشن پہنچ کر ٹرین پر بیٹھا تو ایک بوڑھا کسان آیا، ہانپ رہا تھا، گاؤں سے تیز تیز چلتا، غالباً کبھی کبھی دوڑتا ہوا آیا تھا، سرپر ایک معمولی سی پگڑی، میلی کچیلی دھوتی، گھٹنوں سے اوپر اُٹھی ہوئی، گندی مرزئی، معمولی سا انگوچھا، اس نے پلیٹ فارم پر منیم جی سے چند لمحے باتیں کیں پھر ان کے ساتھ کمپارٹمنٹ میں آیا، ہاتھ جوڑ کر اس طرح سلام کیا، جیسے وہ کوئی دیوتا ہو، اس کے کمزور ہاتھ کانپ رہے تھے، چہرے پر جھریاں تھیں ، آنکھوں میں عقیدت تھی، اچانک اپنی مرزئی سے چاندی کا ایک سکّہ نکالا، ایک پرانا لیکن چمکتا ہوا سکّہ جو نئے روپے سے بھاری تھا اور اُسے اس طرح پیش کیا جیسے اپنے دیوتا کو نذرانہ پیش کر رہا ہو۔
اُس نے سوچا انکار کر دے شکریہ کے ساتھ واپس کر دے لیکن ایسا نہ کر سکا، چاندی کا وہ روپیہ قبول کر لیا۔ سوچا قبول نہ کروں گا تو اُسے دُکھ ہو گا۔ جیسے ہی اس نے وہ سکّہ قبول کیا وہ خوش ہو گیا، اس کی بوڑھی آنکھوں میں خوشی سے آنسو چھلک آئے، دونوں ہاتھ جوڑ کر ادب سے کھڑا رہا ٹرین نکل گئی اور وہ آہستہ آہستہ دور ہو گیا، وہ دیکھ رہا تھا اُسے، وہ اُسی طرح ہاتھ جوڑے پلیٹ فارم پر کھڑا تھا صرف اس کا رُخ بدل گیا تھا۔
اسے محسوس ہونے لگا جیسے وہ ضعیف کسان ماضی میں پہلے آہستہ آہستہ اور پھر تیزی سے چلا جا رہا ہے۔
اور وہ 
مستقبل کی جانب بڑھتا جا رہا ہے، بہت تیز،
اُس کی ہتھیلی پر ماضی کا ایک نشان تھا، ماضی اور حال کے درمیان ٹرین چل رہی تھی۔
حویلی پہنچ کر اس نے وہ سکّہ حفاظت سے رکھ دیا۔
بہت دنوں تک وہ سکّہ محفوظ رہا پھر جانے کہاں گم ہو گیا۔ اس بوڑھے کسان کا چہرہ اب بھی یاد آتا ہے، وہ چہرہ جو پلیٹ فارم پر اُس کی نگاہوں کے سامنے ٹوٹی ہوئی ایک کڑی کی مانند تھا۔


تیس

 حویلی کی چھت سے آہستہ آہستہ اترتا پہلی منزل پر آیا، سامنے وہ بڑا کمرہ تھا جو ۱۹۳۴ء کے زلزلے کے بعد دوسرے کئی کمروں کی طرح ۱۹۳۶ء میں ایک بار پھر بنا تھا۔ کمرے میں داخل ہوتے ہی کسی کے گنگنانے کی آواز سنائی دینے لگی، یہ آواز آہستہ آہستہ اُبھرنے لگی اور جانی پہچانی سی لگنے لگی، بھوجپوری گیت، چچی جان کی آواز، اور بابو کنور سنگھ کا ذکر!
چچی جان جب بھی آتیں وہ اُن سے بہادروں اور ویروں کی کہانیاں سنتا، انھیں بھوجپوری زبان میں جانے کتنے عوامی گیت یاد تھے۔ جن میں ویروں اور بہادروں کا ذکر ہوتا، اُن کے خیالات اور کارناموں کی باتیں ہوتیں ۔ ایک دن جب انھوں نے بابو کنور سنگھ کی بہادری اور شجاعت کی کہانی اپنے مخصوص لہجے میں گنگنا کر سنائی تو اسے یہ کہانی بہت پسند آئی اور اس کے بعد وہ جب بھی تشریف لائیں اس کی خواہش اور ضد پر کنور سنگھ کا نغمہ ضرور سنایا، اس وقت وہ صرف اتنا ہی جان سکا کہ بابو کنور سنگھ بہار کے ایک ایسے بہادر شخص تھے۔ جنھوں نے انگریزوں سے جنگ کی اور سامراجی حکومت کے ہوش ٹھکانے لگا دیئے، چچی جان کے گیت میں جگدیش پور اور راجپوت سپاہیوں کے ساتھ انگریزوں کی چالبازیوں کا بھی ذکر تھا، راجپوتوں کی بہادری کے کئی واقعات تھے، جب گیت اُس منزل پر پہنچتا جہاں انگریزوں سے لڑتے ہوئے بابو کنور سنگھ کا ایک بازو کٹ جاتا ہے تو وہ سہم کر رہ جاتا، کہانی کے ہیرو کی یہ حالت اُسے اچھی نہیں لگی۔ چچی جان کے اسی گیت کی وجہ سے اُس نے بابو کنور سنگھ کے متعلق کچھ جاننے کی کوشش کی، جب پٹنہ آیا تو ہندوستان کی جنگِ آزادی پر کئی کتابچے پڑھے اور کنور سنگھ کو تلاش کرنے کی کوشش کی، اکثر مایوسی ہوئی، نام بھی ملا، تھوڑا سا ذکر بھی لیکن تفصیل معلوم نہیں ہوئی۔ صرف اتنی خبر ملی کہ شاہ آباد (جگدیش پور) کے راجہ تھے، انگریزوں سے زبردست جنگ ہوئی جس میں ان کا ایک بازو کٹ گیا، اسّی برس سے کچھ زیادہ عمر تھی جب یہ بہادر سامراج سے ٹکرایا تھا! شکست ہوئی لیکن حوصلے اتنے بلند تھے کہ اعظم گڑھ میں ایک بار پھر ٹکرائے اور زخموں سے چور گنگا عبور کر کے شاہ آباد آئے جہاں انتقال کر گئے۔ چچی جان کے گیت میں آ رہ شہر کا ذکر بھی تھا کہ جہاں بابو کنور سنگھ نے انگریزوں کو شکست دی تھی، سوچ رہا تھا، کاش وہ گیت کسی سے حاصل کر سکتا، جانے وہ خوبصورت گیت کسی کو یاد بھی ہے یا بزرگوں کے ساتھ ماضی میں گم ہو گیا۔

اِسی گیت نے تحرک بخشا کہ اس نے ۱۸۳۱ء کے بعد بہار میں جنگِ آزادی کی جدوجہد کی تاریخ اِدھر اُدھر سے پڑھی، ۱۸۵۷ء سے قبل بہار میں ایسٹ انڈیا کمپنی کی حکومت کے خلاف چھوٹا ناگپور میں لوگ منظم ہوئے تھے اور انگریزوں کو چیلنج کیا تھا۔ سنتھالیوں اور کولوں نے آزادی کے لیے آواز بلند کی، چھوٹا ناگپور، سنتھال پرگنہ، بھاگلپور، پٹنہ، شاہ آباد، چمپارن، مظفر پور سارن، وغیرہ وہ علاقے تھے جہاں انگریزوں کے خلاف صرف عوامی سطح پر بے چینی نہیں تھی بلکہ لڑنے اور مرنے کے جانے کتنے واقعات ہو چکے تھے، ۱۸۵۷ء میں آزادی کی تحریک میں بڑی شدّت پیدا ہو گئی۔دیوگہر کے قریب ہندوستانی سپاہیوں نے ایک میجر جنرل کا قتل کیا اور اس کے بعد کئی علاقوں میں بغاوت پھیل گئی۔ شیخ قاضی (ذوالفقار علی) اور پیرمل جیسے بزرگوں نے تحریکِ آزادی کو پروان چڑھانے کے لیے اپنا سب کچھ لٹا دیا، زندگی کی تلخیاں برداشت کیں اور جدوجہد میں مصروف رہے،معلوم نہیں کسی نے میر علی کریم کا کوئی نغمہ لکھا ہے یا نہیں ، ہندوستان کی مٹّی کو اپنی آنکھوں سے لگانے والے اس شخص نے آزادی کی تحریک کی تاریخ میں ایک ڈراما خلق کر دیا ہے، مشترکہ تہذیب کی عمدہ روایات کو عزیز رکھتے تھے، سنسکرت زبان سے واقف تھے، انگریزوں نے انھیں طرح طرح سے پریشان کیا، روپوش ہوئے، جلاوطنی اختیار کی، مندروں میں چھپتے پھرے پہلے مجاہد تھے کہ جن کے سرکی قیمت لگائی گئی تھی، وہابی تحریک کے زمانے میں بھی انگریزوں نے بعض علماء کو سخت سزائیں دیں ، وہابی تحریک کے رہنماؤں نے صادق پور میں جو قربانیاں دی ہیں وہ اپنی مثال آپ ہیں ، ایسی تمام شخصیتوں اور ایسی تمام قربانیوں کی تاریخ ابھی لکھی نہیں گئی ہے۔

اس کے ساتھ والے کمرے میں دیوار میں پیوست دو چھوٹی الماریاں ہیں ، جانے کب سے بند، اس نے دونوں الماریوں کو کھولا، پرانے کاغذات تھے، دستاویزات، بچوں کی پرانی کتابیں ، سلیٹیں ، ٹوٹی ہوئی تختیاں ، پرانے لفافے، کیڑوں نے انھیں ختم کر دیا تھا، چھوتے ہی ہر کاغذ بس سرمہ بن جاتا تھا، اچانک اُس کی نظر کچھ ایسے کاغذات پر پڑی جو دھاگے سے بندھے ہوئے ایک جانب رکھے ہوئے تھے، وہ بھی برباد ہو چکے تھے لیکن یہ کاغذات اس کے اپنے تھے، اپنی تحریروں کو پہچان گیا۔ جانے کب یہاں چھوڑ کر چلا گیا تھا، کھول کر دیکھا، بعض شعراء کی نظمیں تھیں جنھیں رسالوں سے نقل کر کے رکھا کرتا تھا۔ بہت سی نظمیں پڑھی نہ جا سکیں ، اپنی پرانی تحریر دیکھ کر خوش ہو رہا تھا، ان ہی نظموں میں اسے کیفی اعظمی صاحب کی نظم ’پاسٹ‘ ملی جو غالباً ان کے کسی مجموعے میں شامل نہیں ہے۔ رومانی نظم تھی اور اُسے پسند تھی اسے لکھ کر رکھ دیا تھا، (کیفیؔ صاحب سے اس کا ذکر آیا تو انھوں نے کہا یہ نظم اُن کے پاس نہیں ہے، اس کی نقل مل جائے تو کتنا اچھا ہو، اُس نے یہ نظم انھیں بھیج دی):
دستِ رنگیں کی لکیروں میں یہی لکھا ہے
مجھ کو جھلا کے نہ دیکھ
-------
یہ جوانی تری بیدار ہوا چاہتی ہے
چشمِ بے باک فسوں بار ہوا چاہتی ہے
تنگ آغوش کے حلقے میں گھٹی باہوں میں 
بھینچ کے تو پھول سے گلزار ہوا چاہتی ہے
-------
اب یہ ڈورے تیری آنکھوں کے لہک جائیں گے
لب و رخسار کے یہ جام چھلک جائیں گے
ہے جو سینہ ابھی ہموار ابھی ناہموار
اس کے بے چین شرر اور بھڑک جائیں گے
-------
ہر جھجک محشر جذبات میں کھو جائے گی
روح گم جسم کے ہیجان میں ہو جائے گی
دیکھ سینہ مرا، ایسے ہی کسی سینے پر
تو مچل جائے گی بل کھائے گی سو جائے گی
دستِ رنگیں کی لکیروں میں یہی لکھا ہے
مجھ کو گھبرا کے نہ دیکھ
-------
جب یہ جوڑا کسی شانے پہ بکھر جائے گا
اور بھی حسنِ دلآویز سنور جائے گا
چاندنی اور بھی ماتھے پہ چھٹک جائے گی
رنگ کچھ اور بھی عارضی کا نکھر جائے گا
-------
یہ ترا سرجو مری سمت جھکا آتا ہے
یہ نفس گرم سے جو گرم ہوا جاتا ہے
اور یہ آنکھیں جو تری بند ہوئی جاتی ہیں 
ان سے ہاتھوں کا ہر اِک راز کھلا جاتا ہے
-------
تھرتھراتے ہوئے یہ ساعد سیمیں تیرے
ٹمٹماتے ہوئے یہ عارض شیریں تیرے
بہ مرا حلقۂ آغوش ترا جسم لطیف
میرے ترسے ہوئے ہونٹ اور لب لعلیں تیرے
دستِ رنگیں کی لکیروں میں یہی لکھا ہے
مجھ کو شرما کے نہ دیکھ!
(کیفی ؔاعظمی)
یہ نظم لیے وہ آہستہ آہستہ جھروکے کی جانب بڑھا اور وہاں پہنچ کر اِس سے لطف لینے لگا۔
کئی ترقی پسند شعرا نے آزادی کے نغمے سنائے ہیں ، کیفیؔ اعظمی بھی اِن میں پیش پیش رہے ہیں ۔ تحریکِ آزادی اور فسادات ان کے بھی خاص موضوعات بنے ہیں ، بھوجپوری گیتوں میں اُس نے بابو کنور سنگھ، جگدیش پور، اعظم گڑھ، بھگت سنگھ، برسا بھگوان، گاندھی تلک، وغیرہ کو کسی حد تک جانا پہچانا تھا جب وہ بہت چھوٹا تھا، کیفی اعظمی اور دوسرے ترقی پسند شعرا ء کے کلام میں کلکتہ، نواکھالی، ٹیگور، سنی آر، داس، محمد علی، مولانا آزاد، سروجنی نائیڈو، وغیرہ کو جانا پہچانا، اس وقت جوان ہو چکا تھا، سوچ رہا تھا آزادی کی تحریک کا زمانہ کہاں سے کہاں تک پھیلا ہوا تھا!!


 
اِکتیس

 یہ جزیرہ نہیں مچھلی ہے
’’۔۔۔۔ہمارا جہاز مختلف مقامات پر ٹھہرا، ایک روز ہمارا جہاز ایک چھوٹے سے جزیرے کے پاس رُکا اور ہم لوگ اُتر آئے، دوسرے ساتھیوں سے زیادہ دُور تک پھرتا ہوا چلا گیا۔
دفعتاً ایک زلزلہ کا جھٹکا محسوس ہوا ’یہ جزیرہ نہیں مچھلی ہے!‘ لوگ بے تحاشہ دوڑے، جو جہاز کے قریب تھے وہ تو سوار ہو گئے، لیکن میں چونکہ دور چلا گیا تھا، جہاز تک نہ پہنچ سکا۔
اتنے میں مچھلی نے ڈبکی لگائی اور پانی کی سطح پر میں رہ گیا ہر چند ہاتھ پیر مارے کہ جہاز تک پہنچ جاؤں لیکن موجوں کے زور سے خدا جانے کہاں کا کہاں جا نکلا، 
آخر یونہی اُچھلتا بیٹھتا کسی موج کے زد میں ایک جزیرے کے کنارے جا پڑا خشکی تک پہنچا اور خداوند کریم کا شکریہ ادا کیا، جنگلی پھل اور پتی کھا کر ایک چشمے سے پانی پیا تو اوسان درست ہوئے کچھ دیر ایک درخت کے نیچے پڑا رہا۔‘‘(سند باد جہازی کا پہلا سفر)

 ۱۹۵۳ء میں پٹنہ یونیورسٹی سے ایم۔اے کیا، ’اُردو زبان و ادب‘ میں فرسٹ کلاس میں پہلی پوزیشن آئی، یونیورسٹی کا طلائی تمغہ بھی ملا۔
اس کے بعد ملازمت کی تلاش کرنے لگا، ریاست بہار کے کئی کالجوں میں درخواستیں دیں ، دو کالجوں میں انٹرویو کے لیے بھی بلایا گیا۔ لیکن ملازمت نہیں ملی، بعض دوست جو سکنڈ کلاس میں آئے تھے اور فرسٹ کلاس میں اس سے نیچے تھے، ملازم ہو گئے۔ پھر معلوم ہوا کہ اُردو لکچروں کی تقرری کے لیے ’بعض بزرگوں ‘ کی سفارش ضروری ہے، ہر جگہ اُن سے ’مشورے‘ لیے جاتے ہیں اور بعض کالجوں میں وہ اپنے طور پر بھی خوامخواہ دخل دیتے رہتے ہیں اور اپنے خاص ’شاگردوں ‘، ’عزیزوں ‘ اور ’رشتہ داروں ‘ کو ملازمتیں دلا دیتے ہیں ‘ وہ کسی کی سفارش حاصل کرنا پسند نہیں کرتا تھا۔ بہت پریشان رہا، اس پر زندگی ایک عذاب کی طرح گزرنے لگی تھی، وہ ایسے لمحوں کی تلاش میں تھا کہ جن میں وہ خود زندگی پر گزرنا شروع کر دے۔

جب حالات بگڑتے گئے تو اس نے سوچا کیوں نہ اپنے ایک ’استاد‘ سے مشورہ کیا جائے، وہ اپنی شفقت اور محبت کا ہمیشہ اظہار کرتے رہے ہیں اور اس کی صلاحیتوں کی تعریف کرتے رہے ہیں (وہ بھی ان ’بزرگوں ‘ میں شامل تھے جو اپنے ’عزیزوں ‘، ’رشتہ داروں ‘ اور ’محبوب شاگردوں ‘ کو ملازمتیں دلاتے رہتے تھے)
ایک دن اُن کے پاس پہنچا تو دیکھا اس کے دو دوست پہلے سے ان کے پاس بیٹھے ہیں ۔ بہت پیار سے ملے، اپنی شفقت کا اظہار کیا، دونوں دوستوں کے جانے کے بعد اس نے اپنے حالات کا ذکر کیا اور ان سے مشورہ مانگا، فرمایا ’’تم بہت اچھے طالب علم رہے ہو، فرسٹ کلاس میں پہلی پوزیشن آئی ہے، فوراً کھگڑیا کالج اور ’صاحب گنج کالج‘ میں درخواستیں دے دو، میں ہر ممکن مدد کروں گا، انشاء اللہ تم بہت جلد لکچرر ہو جاؤ گے۔‘‘
بڑا سہارا ملا اسے، اس نے دونوں کالجوں میں درخواستیں دے دیں ، دونوں کالجوں میں انٹرویو کے لیے بھی گیا۔ معلوم ہوا میرے ’استاد‘ نے دونوں کالجوں میں ان دو دوستوں کی سفارشیں کی ہیں جو اس دن ان کے پاس بیٹھے تھے اور صرف یہی نہیں کیا ہے بلکہ دوسرے دو کالجوں میں کہ جہاں اس نے پہلے درخواستیں دے رکھی تھیں ، اُس کی شدید مخالفت کی ہے اور اپنے دو عزیزوں کے لیے ’پوسٹ‘ پر قبضہ بھی کر لیا ہے۔
اسے ’سند باد جہازی کے پہلے سفر‘ کا تجربہ یاد آ گیا۔
’یہ جزیرہ نہیں ، مچھلی ہے!‘‘
 ’’رُخ اور اس کا انڈا‘‘
’’۔۔۔۔میں دور تک جزیرے کی سیر کرتا ہوا نکل گیا، اپنے خیالات میں ایسا محو تھا کہ یہ یاد ہی نہ رہا کہ ساحل کدھر ہے، گھبرا کر لوٹا لیکن تمام دن پھرنے کے باوجود مجھے وہ کنارہ نہ ملا جہاں ہمارا جہاز ٹھہرا تھا، میں نے بہ تقدیر یہ سمجھ لیا کہ جہاز تو چلا گیا ہو گا اور جدھر منہ اٹھا روانہ ہو گیا، ایک رات دن کی مسافت کے بعد میں نے ایک گیند جیسی سفید چیز دیکھی لیکن یہ معلوم نہ کر سکا کہ یہ کیا ہے، دفعتاً سرپر اور آس پاس سایہ چھا گیا، میں نے اوپر نظر اٹھائی تو ایک دیو پیکر پرندہ آتا ہوا نظر آیا، میں ایک طرف ہٹ کر کھڑا ہو گیا، وہ پرندہ نیچے اترا اور اس سفید گیند پر بیٹھ گیا اس وقت مجھے خیال آیا کہ یقیناً یہ رُخ جانور ہے اور وہ سفید گیند اس کا انڈا ہے، میں نے سوچا کہ یہاں سے نکلنے کی تدبیر یہی ہے کہ جب یہ رُخ اُڑے تو اس کے پنجوں سے لپٹ جاؤں جہاں کہیں یہ اترے گا میں بھی پہنچ جاؤں گا، آگے خدا کی مرضی جو کچھ بھی ہو، چنانچہ میں نے اپنی پگڑی کا ایک سرا اپنی کمر سے باندھ لیا اور دوسرا رُخ کے پیر سے، اگلے روز وہ اُڑا، میں اس کے پیر سے بندھا ہوا تھا، رُخ اُڑتے اُڑتے اتنا بلند ہوا کہ نیچے کی کوئی چیز نظر نہیں آتی تھی، بہت دیر کے بعد وہ نیچے اُترنا شروع ہوا، میں تیار تھا، جونہی زمین قریب آئی میں نے کمر سے پگڑی کھول دی اور ایک طرف کود گیا، رُخ نے قریب ہی پڑے ہوئے ایک اژدہا کو پنجے سے اٹھایا اور اُڑ گیا، اب جو میں نے اپنے چاروں طرف دیکھا تو معلوم ہوا کہ میں کئی پہاڑوں میں گھرے ہوئے ایک چھوٹے سے میدان میں کھڑا ہوں اور اس میں چاروں طرف بہترین الماس بکھرے پڑے ہیں ۔‘‘(سند باد جہازی کا دوسرا سفر)

 	ملازمت کی تلاش میں مارا مارا پھرا، زندگی میں تلخیاں اُترتی جا رہی تھیں ، بیکاری کا احساس جان لیوا بنتا جا رہا تھا، ابو کے دیئے ہوئے روپے تعلیم حاصل کرتے کرتے ختم ہو چکے تھے۔
اچانک بیکاری کا تجربہ زندگی کا ایک باب بن گیا۔
اُس نے ایسا سوچا بھی نہ تھا۔
کارل مارکس کو پڑھتا ہوا ’نروان‘ اور ’موکشا‘ تک پہنچ جاتا،ایسا لگتا ’نروان‘ اور ’موکشا‘ اور مارکسزم میں کوئی باطنی رشتہ ہے، مادّی نجات کے عجیب و غریب تصوّرات پیدا ہوتے اور وہ خود اپنی ذات سے ڈرنے لگتا، یہ احساس بھی اُسے پریشان کرتا کہ ایسا کیوں سوچنے لگا ہے۔
ملازمت کے لیے دوڑ دھُوپ کرتا، بزرگوں کو خط لکھتا اور پھر ناکامی کے شدید احساس کو لیے کمرے میں خود کو دیر تک بند کر لیتا۔ بعض بزرگوں کے ردّیوں سے سخت تکلیف پہنچتی، اکثر رات کو سخت دباؤ محسوس کرتا اتنا کہ لگتا دم نکل جائے گا،عجیب طرح کی گھٹن سے اس عمر میں واسطہ پڑا تھا، ایسی گھٹن کو کبھی جانا بھی نہ تھا۔ اکثر نیند میں چیخ کر اٹھ جاتا اور دیر تک بستر پر بیٹھ کر سوچتا رہتا۔
مجبور ہو کر ملازمت کی تلاش میں دہلی کا سفر کیا۔ پٹنہ جنکشن پر محترم سہیل عظیم آبادی صاحب سے ملاقات ہو گئی، وہ بھی طوفان اکسپریس سے دہلی جا رہے تھے، سری نگر کا سفر تھا ان کا اس لیے کہ ریڈیو کشمیر میں اُردو کے مشیر مقرر کئے گئے تھے، دونوں نے دہلی تک ایک ساتھ سفر کیا۔ دہلی کئی ماہ رہا، دوڑ دھُوپ کرتا رہا، مئی جون کی گرمی سخت تھی اسی دھُوپ میں دفتروں کی خاک چھانتا، لوگوں سے ملتا اور شام تک ناکام واپس آتا۔
اس زمانے میں اس نے کئی دلچسپ تجربے حاصل کئے۔
محترم سہیل عظیم آبادی کے ساتھ ڈاکٹر سیّد محمود صاحب سے ملا جو اس وقت حکومت ہند میں وزیر تھے والد کے گہرے دوستوں میں تھے، حویلی آتے جاتے تھے، حسن نعیم ان کے سکریٹری تھے، انھوں نے کئی سفارشی خط لکھے لیکن حاصل کچھ نہ ہوا۔

ایک صبح مولانا ابوالکلام آزاد صاحب کی کوٹھی میں گھس گیا، محترم اجمل خاں صاحب انتہائی نفیس انسان تھے ایک پڑھے لکھے نوجوان کو اس طرح بیکار دیکھ کر انھیں دُکھ ہوا، فرمایا ’’مولانا پرسوں لندن تشریف لے جا رہے ہیں ، انڈیا آفس لائبریری کا معاملہ ہے، تم کل صبح آ جاؤ، ملاقات ہو جائے گی‘‘ وہ صرف مولانا کو دیکھنا اور اُن کا نیاز حاصل کرنا چاہتا تھا، اسی وقت مولانا باہر نکلے کسی کو رخصت کر رہے تھے، اچانک ان کی نظر اس پر پڑی اور اجمل خاں صاحب سے کچھ دریافت کیا، وہ آگے بڑھ گیا، سلام کر کے صرف اتنا کہا ’’آپ کو قریب سے دیکھنے کا آرزو مند تھا، آج میری بہت بڑی خواہش پوری ہو گئی ’’دعائیں لے کر اجمل خاں صاحب کے کمرے میں آ کر بیٹھ گیا۔ اس لیے کہ وہ مولانا کے ساتھ اندر چلے گئے تھے، کچھ دیر بعد واپس آئے تو کہا ’’ملاقات ہو گئی نا۔‘‘
’’جی ہاں ، شکریہ‘‘
’’مولانا کی خواہش ہے کہ تم کشمیر چلے جاؤ، میں حکومت جموں و کشمیر کے وزیر تعلیم خواجہ غلام محمد صادق کو خط لکھ دوں گا، اپنے متعلق کچھ لکھ کر لائے ہو؟‘‘
’’تو آپ نے انھیں میرے حالات سے آگاہ بھی کر دیا؟‘‘ وہ حیرت سے ان کی طرف دیکھ رہا تھا۔‘‘
’’ہاں ۔‘‘
’’اور انھوں نے میرے لیے…؟ وہ تو مجھے جانتے بھی نہیں !!‘‘
اجمل خاں صاحب مسکرائے، ’’انشاء اللہ سب ٹھیک ہو جائے گا، کشمیر جانا پسند کرو گے نا؟‘‘
’’مولانا کا حکم میرے سر آنکھوں پر ہے‘‘ اُس کی خوشی جیسے پورے وجود سے چھلنے لگی۔ اپنے متعلق جو کچھ لکھ کر لایا تھا اجمل خاں صاحب کو دے دیا اور واپس چلا آیا۔ اسے یقین تھا کشمیر میں ملازمت مل جائے گی۔

دہلی میں رہتے ہوئے وہ جن لوگوں کے قریب رہا ان میں یونس دہلوی، ادریس دہلوی، الیاس دہلوی، ظ۔ انصاری (مدیر آئینۂ) سلام مچھلی شہری، ش۔مظفر پوری، نریش کمار شاد، پرکاش پنڈت، جگن ناتھ آزاد، ہنس راج رہبر، عرش ملسیانی، خوشتر گرامی، مولانا سمیع اللہ، گلزار زتشی، بدیع مشہدی، افضل پشاوری، دیوندر ستارتھی وغیرہ کے نام اس کے ذہن میں محفوظ ہیں ۔ کرشن چندر صاحب سے اس کی پہلی ملاقات دہلی میں ہوئی، بہت دیر ان کے ساتھ بیٹھا اور مختلف مسائل پر گفتگو کرتا رہا، اس وقت پرانی دہلی میں ’ٹرام‘ چلتی تھی، کرشن چندر کے ساتھ ہی ’ٹرام‘ میں پہلی بار سفر کیا، وہ ’ٹرام‘ میں کھڑے رہے اور اس کی چال ڈھال پر دلچسپ تبصرہ بھی کرتے رہے۔ ایک بار وہ نیاز حیدر کے ساتھ بھی کرشن چندر سے ملنے گیا، نیاز حیدر نے اپنی ایک طویل نظم سنائی اور دونوں اُن کے اندازِ بیان سے متاثر ہوئے۔

بعض مدیروں اور ادیبوں نے اس کی مدد کی، مضامین، مقالے، افسانے لکھوائے، اخباروں میں مختلف موضوعات پر لکھتا رہا، جو کچھ بھی لکھتا اس کا معاوضہ مل جاتا بچوں کے لیے کہانیوں کی کئی چھوٹی چھوٹی کتابیں لکھیں ، ایک اس کے نام سے چھپی (نیلی کھوپڑی) اور دوسری کئی کتابیں دوسروں کے نام سے، ہر ایسی چھوٹی کتاب کا مناسب معاوضہ مل جاتا تھا۔

’آزاد ہند ہوٹل‘ میں اُردو کے لکھنے والے اکثر جمع ہوتے، چائے پیتے، باتیں ہوتیں ، نظمیں غزلیں پڑھی جاتیں ، وہ بھی آزاد ہند ہوٹل کے ایک کمرے میں رہ رہا تھا، سلام مچھلی شہری اور ش۔مظفر پوری تو اس طرح رہتے تھے جیسے وہ ان کمروں کے مستقل باشندے ہوں ، یہ دونوں بہت پیارے لگے اور ان کے ساتھ اس کا بہت اچھا وقت گزرا۔ آزاد ہند ہوٹل میں جوشؔ ملیح آبادی اور فراقؔ صاحب بھی تشریف لائے۔ دونوں کی دلچسپ نوک جھونک کے کئی مناظر دیکھے۔ شام کو جامع مسجد کے قریب مولانا سمیع اللہ صاحب کی دکان پر بہت سے فنکار جمع ہوتے۔ دلچسپ باتیں ہوتیں ، مولانا انور صابری، گلزار زتشی، سلام مچھلی شہری، نریش کمار شاد، جگن ناتھ آزاد وغیرہ بھی آتے رہتے، دکان کے اندر اور دکان کے باہر بنچوں پر بیٹھ جاتے اور دیر تک باتیں ہوتیں ۔ مرزا غالب کے مزار پر پہلی بار گیا، اس وقت ان کی قبر مٹّی کی تھی، مرزا سے اس وقت تک کسی قسم کا کوئی جذباتی رشتہ قائم نہیں ہوا تھا لیکن پہلی ملاقات میں ایک کشش ضرور محسوس ہوئی تھی، اسے کیا معلوم تھا کہ ایک زمانہ ایسا بھی آئے گا جب وہ اس کے احساس و شعور کو اپنی مکمل گرفت میں لے لیں گے اور دیو زاد کی طرح اس کے وجود پر سوار ہو جائیں گے۔
حضرت نظام الدین اولیاء کا عرس مبارک تھا، اپنے چند دوستوں کے ساتھ درگاہِ عالیہ پر گیا، تب سے ایک رشتہ قائم ہے۔

یہ سب کچھ ہونے کے باوجود وہ بہت پریشان تھا، اس عمر میں اندر سے ٹوٹتا جا رہا تھا،اسے سند باد جہازی کے دوسرے سفر کی یاد آ رہی تھی، وہ بھی دُور تک نکل آیا تھا، ساحل کدھر ہے نہیں جانتا تھا۔ تمام دن پھرنے کے باوجود کنارہ نہیں ملا تھا۔

اچانک اسے خبر ملی کہ ڈگری کالج بھدرک (اُڑیسہ) میں ملازمت مل گئی ہے، اس کے دوست بدیع مشہدی وہاں لکچرر تھے یہ ان ہی کی جگہ تھی۔ جس کے لیے بہار سے روانگی سے قبل اس نے درخواست بھیج دی تھی، بہت خوش ہوا، اسے لگا جیسے دہلی پہنچ کر وہ رُخ کے بڑے انڈے پر بیٹھ گیا تھا، اچانک رُخ نے اپنے انڈے کو اٹھا لیا اور اس کے ساتھ وہ بھی اُڑیسہ کی جانب اُڑ گیا اور رُخ نے اسے بھدرک میں اُتار دیا۔ اس نے دیکھا ایک چھوٹے سے شہر میں کھڑا ہے اور کالج کے کتب خانے کی اچھی اور عمدہ کتابیں اور اُڑیسہ کے پیارے اور معصوم لوگ بہترین الماس کی مانند اُسے گھیرے ہوئے ہیں ۔
یہ سند باد جہازی کا دوسرا سفر ہی تو تھا!



بتّیس


 ۱۹۵۳ء میں اسے اچانک محسوس ہوا کہ وہ انتہائی ارتفاعی روحانی تجربے حاصل کرنے لگا ہے، ذہنی اور اخلاقی سطح جیسے آہستہ آہستہ اُوپر اٹھنے لگی ہو، باطنی ارتعاشات کی شدّت ایسی کہ ازلی وجود کی عظمت اور اس کے وقار کی پہچان ہونے لگی ہو، کبھی ایک پہلو روشن ہوتا کبھی دوسرا، کبھی اندھیرے میں اچانک جگنوؤں کے ننھے ننھے چراغ روشن ہو جاتے، جو جمالیاتی انبساط حاصل کرتا رہا اُس کی وضاحت ممکن ہی نہیں ہے۔
جسم کی چاہت کے ایک عجیب و غریب احساس نے اچانک اپنی مکمل گرفت میں لے لیا، تخیل میں  جو آلاتِ طرب تھے اُن کی آواز گونجنے لگی، ہم آہنگی کی لذّت نے جیسے تمام لذّتوں کی سرحدوں کو توڑ دیا ہو۔
اُسے ایسا لگا جیسے رُوح، مادّہ میں سرایت کرتی ہے تو مادّہ کی صورت تبدیل ہو جاتی ہے، اس کی تازگی اور شادابی پُر اسرار طور پر ’موضوع‘ پر حاوی ہو جاتی ہے!
ہم آہنگی، ذات کے جلال کو مسلسل اس طرح اُبھارتی رہتی ہے کہ ذات کا ارتقاء بھی ہوتا رہتا ہے اور اس کی توسیع بھی ہوتی رہتی ہے، زندگی میں تکمیل کا مسلسل احساس فرد کی تہذیب میں توازن تو پیدا کرتا ہی ہے توانائی کی سچائی کا بہتر شعور بھی بخش دیتا ہے،ان سے ایک ارفع معیار بھی قائم ہوتا ہے، منزل بھی نظر آنے لگتی ہے، فرد کے عمل کی سمت مقرر ہو جاتی ہے۔
ہم آہنگی جلال و جمال کی ایسی آمیزش بن گئی کہ روحانی، جذباتی، تخلیقی، ثقافتی اور فنکارانہ عمل میں بڑی شدّت پیدا ہو گئی۔ اس کی وجہ غالباً یہ ہے کہ جہاں جمالیاتی تاثرات اُبھرے وہاں لذتوں اور تصورات کے ساتھ نئے زاویوں کی اپنی منفرد صورتیں بھی اُبھرنے لگیں ۔ اتصال--- شیریں ہم آہنگی اور نفسی موزونیت کا تقاضا کرتا ہے، دو مختلف ذاتوں کی مختلف کیفیتوں ہی سے ہم آہنگی ممکن ہے، فرد کی داخلی زندگی میں جو ہیجان پیدا ہوتا ہے اُس سے ذات یا شخصیت میں تحریک پیدا ہوتی ہے اور ذات اور شخصیت کے اظہار کے کئی ذرائع سامنے آ جاتے ہیں ۔
اتصال اُس کے لیے اس عجیب و غریب مظہر یا Phenomenon بن گیا ہے، جیسے کرۂ فلک کی توسیع ہو رہی ہو، نغمۂ افلاک سے فضا گونج رہی ہو، اکثر ساز کے تاروں پر چند متناسب نغماتی وقفوں کی یکساں شدّت متاثر کرنے لگی، بالمقابل ذاتوں کی وحدت کا انحصار یکساں موزوں تناسب پر ہے، ان کی پہچان نغماتی ہم آہنگی سے ہوتی ہے، آہنگ اور آہنگ کی ایسی وحدت کا احساس شدید تر ہو گیا جس سے کائناتی ہم آہنگی کی پہچان ہوتی ہے۔
اتصال سے کا حسن اُن لمحوں میں ا جاگر ہوتا ہے جب پورے عمل میں وجود کی سچائی مختلف سطحوں پر نمایاں ہونے لگتی ہے--- اور آخر میں یہ محسوس ہوتا ہے کہ کائناتی حسن کے ایک سے زیادہ مظاہر سے ہم آہنگی ہو گئی ہے اور کوئی بامعنی اشاریہ ہاتھ آ گیا ہے! لگتا ہے جیسے سیّاروں کا تحرک یقیناً نغموں کو جنم دیتا ہے کہ جس کا زیر و بم کی رفتار پر منحصر کرتا ہے۔ انسان کے پاس ایک انتہائی نازک آلۂ طرب ہے یعنی جدلیاتی فکر، اسی سے زندگی۔ جوہر اور فطرت کے حسن کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے، زندگی کے جوہر اور فطرت کے حسن کو سمجھنے کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے وجود کے بحث طلب کر دار کو کسی نہ کسی طرح پہچان لیا ہے۔ پیدائش اور موت اور جدوجہد اور ہم آہنگی۔ تئیں بہت حد تک بیدار ہو گئے ہیں ، آتش ہو یا ہوا، مٹّی ہو یا پانی، یہ سب اتصال کے حسن کی گرفت میں آ جائے، ان ہی سے ہم آہنگی کا حسن اور حسن کی ہم آہنگی کا شعور حاصل ہوتا ہے۔ بلاشبہ دنیا کے جمالیاتی ارتقاء اتصال کا عمل ہی سب سے اہم رہا ہے۔
اُس نے رفتہ رفتہ محسوس کیا کہ اُس کی زندگی محبت میں تبدیل ہوتی جا رہی ہے، محبت کو ایک پُر اسرار داخلی توانائی محسوس کرنے لگا اس لیے کہ اپنی ذات کو اندر سے باہر پھیلتے ہوئے پا کر اسے لگا جیسے ذات وسیع سے وسیع تر ہونے کے لیے بے چین ہے، عجیب سی اُٹھان تھی،جسم کی دیوار کو توڑ کر جیسے کوئی تیز روشنی باہر نکل آئی ہو، کیا وہ پُر اسرار داخلی توانائی جسے وہ محبت کا نام دے رہا تھا تیز روشنی میں تبدیل ہو گئی ہے؟ یقیناً وہ روشنی کو اچھی طرح دیکھ رہا تھا، ذات کی وسعت، پھیلاؤ اور اس کے ارتقا کو پہچان لینا مشکل نہ تھا، جب تک زندگی محبت کی صورت اختیار کرتی ہے غالباً اُس وقت تک ذات ایک مخصوص راہ پر سفر کرتی رہتی ہے، داخلی توانائی کی شدّت اسے ایک تماشا بنا دیتی ہے، ہر جانب چراغاں کی کیفیت ہو جاتی ہے، پھر روشنی کا سفر شروع ہوتا ہے جس سے جانے کتنی راہیں منّور ہو جاتی ہیں ، یہ پورا عمل طویل عبادت کا عمل محسوس ہوتا رہا ہے!
اُسے محسوس ہوتا رہا کہ محبت تمام حسن اور تمام جلوؤں کی لذتوں سے آشنا کرتی ہے، یقیناً جذباتی تصوّف کی ابتدا کسی ذات یا فرد کی محبت سے ہوتی ہے، جذباتی تصوّف کی جڑیں جب کسی ذات یا فرد کے باطن میں دُور تک پیوست ہو جاتی ہیں اور جمالیاتی انبساط حاصل کر کے سرمستی پیدا ہو جاتی ہے تو جذباتی تصوّف کا پُر اسرار جنم ہوتا ہے اور عاشق کو تمام حسن اور تمام جلوؤں کی لذتیں حاصل ہونے لگتی ہیں ۔
اُس نے غالباً اب تک صرف کاغذ کے بنے ہوئے گلابوں کو دیکھا تھا، ان کی ظاہری خوبصورت صورتیں اور کچھ نہیں ، ہر انداز واضح، تمام نشیب و فراز ظاہر، کوئی شے چھپی ہوئی نہیں ، جب قدرت کی تخلیق ایک خوبصورت اور انتہائی دلفریب گلاب کی صورت حاصل ہوئی تو ہم آہنگی کے پُر اسرار عمل میں میں مسلسل یہ محسوس ہوتا رہا کہ جو شے وجود میں جذب ہو گئی ہے وہ قدرت کی ایک نادر تخلیق تو ہے ہی ساتھ ہی جو شے نظر آ رہی ہے، جو پیکر اس شدّت سے محسوس ہو رہا ہے اُس کے آگے بھی کچھ ہے جسے دیکھا نہیں جا سکتا سانسوں کے نشیب و فراز کے آہنگ میں صرف محسوس کیا جا سکتا ہے، کسی نامعلوم ہستی سے ایک پُر اسرار رشتے کا عجیب و غریب احساس ’آنند‘ کی منزل تک جانے کتنی بار لے گیا، آنکھوں کے سامنے گلاب ہے، اس کی نازک پتّیاں ہیں ، مٹّی کی سوندھی خوشبو اس بات کی خبر دے رہی ہے کہ گلاب کے اس خوبصورت پودے کی جڑیں اپنی دھرتی میں چھپی ہوئی ہیں ، لیکن--- اِن کے علاوہ ایک اور سچائی ہے جسے حسّی سطح پر ہی محسوس کیا جا سکتا ہے اور وہ یہ کہ--- یہ جڑیں بھی اپنی نہ دکھائی دینے والی جڑیں رکھتی ہیں جو وجود کی گہرائیوں میں پیوست ہیں ۔ ’نامعلوم‘ جڑیں ، آہستہ آہستہ جب حد درجہ محسوس ہونے لگتی ہیں تو اپنی حقیقی جڑوں کے تئیں بیداری پیدا ہونے لگتی ہے، یہ بیداری جتنی قیمتی ہو سکتی ہے اس کا اندازہ کرنا بھی غالباً ناممکن ہے، نامعلوم وجود کو جاننا ممکن نہیں ہے لیکن بلاشبہ اس سے ہم آہنگ ہونا ممکن ہے!
پُر کیف اور پُر تکلّف اور آتشیں اور روشن تجربوں کے لیے قبولیت اور محبت دونوں لازمی ہیں : قبولیت سے محبت میں جو حیرت انگیز تحرک پیدا ہوتا ہے وہی توانائی کا ضامن ہوتا ہے کہ جس سے بڑی فطری تبدیلی ممکن ہے، یہی فطری تبدیلی بار بار حسن کی نئی دریافت کرنے لگتی ہے، جانے کتنی جہتوں اور پہلوؤں کے مظاہر ا جاگر کرنے لگتی ہے، وجود کی وسعت اور اس کی تہہ داری ہی میں سب آ جاتے ہیں ۔ وجود یونانی دیومالا کے ’کوسائیٹس‘ Cocytus میں اُتر جاتا ہے، دھرتی کے اندر کی اس پُر اسرار ندی کو اپنے احساسات کے نئے سانچے میں ڈھال دیتا ہے، انوکھی نغمگی، پُر جلال اور پُر جمال سعادت اور انبساط اور کبھی ختم نہ ہونے والا انوکھا سکون سب وجود کا حصّہ بن جاتے ہیں ! اپنی بے پناہ طاقت اور اپنی بے پناہ صلاحیتوں کا احساس ہونے لگتا ہے، یہ پوشیدہ صلاحیتیں تخلیقی ہوتی ہیں ، اُلو ہی ہوتی ہیں ، بیچ کی صورتوں میں رہتی ہیں پھر محسوس ہوتا ہے جیسے ہر عمل اُلو ہی ہے، پوری زندگی الوہی ہے، ہر شے الّوہی ہے، کوئی عمل، کوئی شئے غیر اُلوہی نہیں ہے، یہ تب ہوتا ہے جب ہم آہنگی ارفع اور افضل مقام پر ہو کہ جہاں مٹّی پھول بن جائے اور کھاد عطر! جب ’مَیں ‘ موجود نہ ہو صرف ’تُو‘ ہو!

عاشق نے اپنے محبوب کے دروازے پر دستک دی
اندر سے آواز آئی ’’کون ہے؟‘‘جواب ملا ’’مَیں ، مَیں ہوں !‘‘
اندر سے آواز آئی ’’اس گھر میں ’مَیں ، اور ’تُو‘ کی جگہ نہیں ہے۔‘‘
دروازہ بند رہا۔
کئی برسوں کی عبادت اور تپسّیا کے بعد آیا اور محبوب کے دروازے پر دستک دی۔
اندر سے آواز آئی ’کون ہے؟‘‘
جواب ملا ’’صرف تُو!‘‘
اور دروازہ کھل گیا!

یہی وجود کے مذہب کی روح ہے ’’صرف تُو!‘‘
مَیں ، انسان کو وجود سے باہر اُچھال دیتا ہے، ’مَیں ، تو زندگی اور وجود کی وحدت کے بے پناہ سمندر کی بے پناہ لہروں ہی کا حصّہ ہے، وہ کب تنہا قطرے کی مانند الگ تھلگ رہ سکتا ہے، اور وہ اپنا علیحدہ وجود ہی کب رکھتا ہے، اپنے اندر جھانک کر خود کو دیکھتا ہے تو سمندر ہی نظر آتا ہے، یہ بھی سچ ہے کہ جب ’مَیں ‘ نہیں ہے تو ’تُو‘ بھی نہیں ہے صرف وجود ہے، وجود جو پاکیزہ اور حد درجہ مقدّس اور خالص ہے!
اس کی حیرت اور مسرّت کی انتہا نہ رہی جب اسے بڑی شدّت سے محسوس ہوا کہ۔
معاملہ یک طرفہ نہ تھا!!
ایک بار گوتم بدھ کچھ کہنا چاہتے تھے کہ درخت پر ایک پرندے نے اپنا نغمہ چھیڑ دیا، وہ خاموش رہے، جیسے جیسے صبح ہوتی گئی اور آفتاب کی کرنیں درخت کو روشن کرتی گئیں پرندے کی سرمستی بڑھتی گئی، اُس کے نغمے کے آہنگ میں شدّت پیدا ہوتی گئی۔
بدھ بالکل خاموش رہے اور اس خاموشی میں پرندے کا نغمہ اُلو ہی بنتا گیا۔
اُس دن بدھ خاموش رہے، جیسے ان کی آواز اور ان کے الفاظ سب پرندے کے نغمے میں ڈھل گئے ہوں --- اُس روز کی خاموشی کو کبھی الفاظ نہیں ملے، پرندے کا اُلوہی نغمہ ہی کافی تھا، آہنگ اور آہنگ کے رشتے کی خبر مل چکی تھی، یہ کتنا بڑا تجربہ تھا۔ 
یہی تو
’آنند‘ ہے!!


ضمیمہ

وہ ضعیف شخص

	وہ ضعیف شخص جو زندگی کے ایک بڑے پھیلے ہوئے گہرے سمندر کو عبور کرنے کے بعد سامنے سوچ میں ڈوبا بیٹھا ہے اس کا نام۔ محمد شکیل الرحمن ہے!
	جس نے ۱۸ فروری ۱۹۳۱ء کو شہر موتیہاری ضلع مشرقی چمپارن میں جنم لیا۔۸۰ سال زندگی بسر کرنے کے بعد ابھی ابھی ۸۱ ویں برس میں قدم رکھا ہے۔ اتنے برسوں میں زندگی کبھی اس پر گزری اور کبھی وہ زندگی پر گزرا، چہرے پر بہت اطمینان ہے۔ سوچتے سوچتے کبھی کبھی اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آ جا رہی ہے، شاید اس لیے بھی کہ زندگی کے نشیب و فراز اور تلخ اور شیریں تجربوں سے گزرتے ہوئے اللہ نے اسے اپنی خاص رحمتوں کے سائے میں رکھا ہے۔
	کچھ ہی عرصہ ہوا وہ اپنے آبائی گاؤں ہر پور (بنیاپور، ضلع سارن) گیا تھا صرف اس واسطے کہ اپنے دادا حضور حضرت محمد عبد الرحمنؒ اور اپنی دادی اماں کے مزار کی زیارت کر سکے، بات صرف زیارت کی نہ تھی اپنے دادا حضور سے خاموشی اور سنّاٹے میں ایک گفتگو کی خواہش بھی تھی جو پوری ہوئی۔
	اس کے دادا حضور کا نام تھا لیلا دھر پرشاد!
	اسلام قبول کرنے کے بعد اپنے قلندر پیر و مرشد کے مشورے سے نام رکھا محمد عبدالرحمن! اس کے گھر میں ’رحمن‘ کا جو سلسلہ قائم ہوا وہ اسی عبدالرحمن کے روحانی سحر کا کرشمہ ہے۔
	شری لیلا دھر پرشاد اپنے گاؤں ہر پور کے ایک بہت ہی پڑھے لکھے شخص تھے، جو تعلیم حاصل کی وہ ان کے اپنے شوق کا نتیجہ تھی۔ اُردو ہندی، سنسکرت، فارسی اور عربی زبانوں کی روشنی حاصل کی، ویدوں کے ساتھ شاستروں ، اُپنشدوں اور رامائن،مہابھارت اور گیتا کا بھی گہرا مطالعہ کیا، انجیل مقدس کو بھی اپنے زیر مطالعہ رکھا، اس بات کا ثبوت ان کی تحریروں سے ملتا ہے۔ مطبوعہ اُردو کتاب ’عقل کی تجویز‘ سے علم ہوتا ہے کہ ان کا مطالعہ بہت وسیع اور گہرا تھا، ہرپور گاؤں میں بسے کئی بزرگوں نے اپنے پرکھوں سے سنی یہ بات بتائی کہ شری لیلا دھر پرشاد کی ملاقات ایک ایسے قلندر فقیر سے ہو گئی کہ جس نے ان کی زندگی ہی بدل کر رکھ دی۔ کہتے ہیں کہ اسی قلندر کا فیض ہے کہ اس کے دادا جان نے برسوں قرآن اور حدیث کا مطالعہ کیا اور کئی برسوں کے مطالعہ کے بعد اسلام قبول کیا۔ اُردو زبان میں دو کتابیں تحریر کیں ’عقل کی تجویز‘ (دو حصّے) اور وصیت نامہ جو چھپرہ سے معمولی کاغذ پر شائع ہوئیں ۔
	’عقل کی تجویز‘ کا جو نسخہ اس کی نظر سے گزرا وہ پہلی جلد تھی جو مکمل نہ تھی، کتاب کی دوسری جلد دستیاب نہ ہو سکی (موتیہاری کی اُردو لائبریری میں تینوں کتابیں موجود تھیں جانے اسے کون لے گیا) پہلی جلد کے سرورق پر تحریر ہے ’حسب الحکم جناب لیلا پرساد عرف عبدالرحمن صاحب دام اقبال۔‘‘
	اس کتاب میں یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ انھوں نے اسلام کیوں قبول کیا۔ سرورق پر اور نیچے یہ تحریر ہے ’درمطبع نسمیارن واقع شہر چھپرہ و رونق طبع یافت‘ کتاب پر تاریخ درج نہیں ہے، بلاشبہ یہ دو ڈھائی سو سال قبل کی اُردو ہے جو سلیس اور بہت واضح ہے۔ کتاب میں چھ مقدمے ہیں ۔
	پہلے مقدمے میں دین حق کی اہمیت پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ یہ کہا گیا ہے کہ دین حق کی تحقیق انسان ضرور کرے۔ دوسرے مقدمے میں اس موضوع پر گفتگو کی گئی ہے کہ تمام عالم کا ایک ہی خالق ہے۔ تیسرے مقدمے میں قرآن حکیم کی ہدایتوں کا ذکر ہے۔ چوتھے مقدمے میں ’’کتاب ہدایت قرآن حکیم کی شناخت‘‘ موضوع ہے اس قانون کو سمجھنے کی کوشش ہے جس کے وسیلے سے مرضی اور نا مرضی خالق کی معلوم ہو، پانچویں مقدمے میں حضور کریمؐ کا ذکر ہے۔ عنوان ہے ’’ہادی حق کی پہچان یعنی جس کی معرفت کتاب ہدایت نازل ہوئی اور آخری مقدمے میں پیشواؤں پر اظہارِ خیال ہے۔ بعض مقامات پر اُردو اور ہندی اشعار لکھے ہوئے ہیں جو ان کے اپنے ہیں ۔ حیرت ہوتی ہے کہ دو ڈھائی سو سال قبل کی یہ اُردو کتنی سلیس اور کتنی واضح ہے۔
	تین خصوصیات پہلی نظر میں توجہ طلب بن جاتی ہیں ، ایک یہ کہ پرانی اور نئی اُردو کی آمیزش کی عمدہ مثالیں ملتی ہیں ۔ زبان صاف اور پُر کشش ہے، موضوع کو واضح کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ وضاحت اور تشریح کرنے کی پوری توانائی کا احساس دیتی ہے۔ ایسی زبان اور ایسے اسلوب کی مثال اس عہد میں شاید ہی کہیں ملے۔ ایک بہت ہی پچھڑے ہوئے پسماندہ علاقے (شمالی بہار، نیپال کی سرحد کے قریب) کے ایک بہت ہی پسماندہ گاؤں کی اُردو ہے، دوسرے یہ کہ کتاب میں بعض نکات کی وضاحت کے لیے تمثیلی انداز اختیار کیا گیا ہے، سچائیوں کو تمثیلی انداز میں پیش کرنے کی عمدہ کوشش ملتی ہے۔ زندگی اور موت پر دلچسپ گفتگو ہے نیز عقل اور دل کے درمیان سوال و جواب کا ایک دلچسپ سلسلہ بھی موجود ہے۔ اور تیسری خصوصیت یہ کہ جذباتیت سے اوپر اُٹھ کر ایک منطقی اندازِ اختیار کیا گیا ہے۔ محسوس ہوتا ہے جیسے ایک فلسفیانہ ذہن چھان بین کے بعد اپنے نتائج سے مطمئن ہے۔
	’وصیت نامہ‘ منظوم ہے، اس میں اپنے بیٹوں اور آنے والی نسلوں کو زندگی کی حقیقت اور سچائی سمجھانے کی کوشش کی گئی ہے۔ یہ کتاب اس کی نظر سے تب گزری تھی جب وہ بہت چھوٹا تھا، صرف اتنا یاد ہے کہ اکثر وصیت نامہ کے اشعار بڑے بزرگ زور زور سے پڑھا کرتے تھے۔ سنا ہے اس کے کچھ عزیزوں کے پاس اس کے نسخے اب بھی موجود ہیں ، اس کتاب سے اپنے بزرگوں کے ذریعہ یہ اشعار سنے تھے:
تین بیٹے دیئے اس شاہ نے
یہ کرم اس پر کیا اللہ نے
جو پڑھے اس کو دعا حق سے کرے
لیلا دھر پرشاد کو رب بخش دے
اے میرے بیٹوں سنبھالو راہ کو
منہ دکھانا ہے تمھیں اللہ کو
کوئی کہتا ہے چلو میلے چلیں 
زندگی کا کیا بھروسہ دیکھ لیں 
اس کے والد کا نام محمد جان تھا، حضرت کا یہ شعر سنیے:
اور محمد جان جانِ ناتواں 
جس سے دنیا میں رہے نام و نشاں 
	اور واقعی اس کے والد خان بہادر مولوی محمد جان مرحوم نے اپنے خاندان کو بڑی عزّت بخشی۔
	اس کی دادی جان کا تعلق ایک بڑے زمین دار گھرانے سے تھا، کائستھوں کا ایک ایسا خاندان تھا جسے کسی چیز کی کمی نہ تھی، بہت خوشحال لوگ تھے۔ کمی تھی تو بس اس بات کی کہ کوئی اولاد نہیں تھی، بڑی آرزو تمنّا کے بعد دادی جان پیدا ہوئیں ، نام رکھا گیا رادھا (دادا جان کا نام لیلا دھر تھا جو کرشن کا نام ہے ان کے لیے رادھا آ گئی تھیں ) ان کے والد نے منت مانگی تھی کہ لڑکا ہو یا لڑکی وہ اس کے نام پر چھپرہ میں ایک مندر بنائیں گے۔ دادی جان کی عمر ابھی بہت ہی کم تھی کہ ان کی شادی دادا جان شری لیلا دھر پرشاد سے ہو گئی اور اس کے بعد ہی چھپرہ میں ایک مندر کی تعمیر ہوئی کہ جس پر سونے کا کلس لگایا گیا جو بہت دن بعد پیتل کے کلس میں تبدیل ہو گیا۔ سونے کا کلس چور نکال لے گئے۔ یہ مندر عرصہ تک رادھا دیوی کے نام سے یاد کیا جاتا رہا ہے۔ عام طور پر دیویوں کے علاوہ کسی عورت کے نام پر مندر نہیں ہوتا۔ اس کے دادا جان مسلمان ہوئے تو دادی جان نے بھی اسلام قبول کر لیا۔ ہر پور گاؤں کی وہ پہلی خاتون تھیں کہ جنھوں نے اسلام قبول کیا تھا۔ اس کے دادا حضور نے ان کا نام رکھا عائشہ خاتون۔
	اس کی دادی جان کے گھر والوں کی جانب سے دادا حضور کی بڑی مخالفت ہوئی۔ کئی مناظرے ہوئے جن میں دادا جان کو کامیابی حاصل ہوئی، دادی جان کے ایک چچا نے گاؤں کے ایک غریب شخص کو روپے پیسے دے کر رنگون (برما) بھیج دیا اور اس کے بچھونے پر کسی جانور کا خون ڈال کر یہ ہنگامہ کھڑا کیا کہ اس شخص کا قتل لیلا دھر پرشاد عرف محمد عبدالرحمن نے کیا ہے، اس کے دادا جان گرفتار ہو گئے اور انھیں چھپرہ جیل میں ڈال دیا گیا۔ مقدمہ چلتا رہا، چند ہی ماہ گزرے کہ وہ شخص جسے مقتول‘ بنایا گیا تھا برما سے واپس آ گیا۔ راز کھلا تو دادا جان کا مقدمہ اٹھا لیا گیا اور وہ جیل خانے سے نکل آئے۔ اس کے بعد ان کی زندگی کی خبر بس اس حد تک ملی کہ انھوں نے درویشی اختیار کر لی اور بہت حد تک گوشہ نشیں ہو گئے۔ ان سے دعائیں لینے کے لیے گاؤں اور گاؤں سے دور علاقوں کے افراد آتے ان میں مسلم اور غیر مسلم سبھی ہوتے۔ کہتے ہیں صبح ان کی تلاوت کی آواز کے ساتھ گاؤں کے مندر کا گجر سنائی دیتا۔
	حضرت محمد عبدالرحمنؒ کے خاندان اور رشتہ داروں کا ایک بڑا حلقہ آج بھی ہندو ہے، محبتوں کا رشتہ ہنوز قائم ہے۔ اسی طرح مسلمان رشتہ داروں کا ایک بہت بڑا حلقہ موجود ہے۔ دنیا کے مختلف ملکوں میں بسے ہوئے ہیں مثلاً پاکستان، بنگلہ دیش، عرب امارات، انگلستان، امریکہ، جرمنی، کینیڈا وغیرہ۔
	اس کے والد محترم جناب خان بہادر مولوی محمد جان موتیہاری آ بسے، اسی شہر میں وکالت شروع کی اور دیکھتے ہی دیکھتے ایک نامور وکیل بن گئے۔ سرکاری وکیل بھی تھے اور بتیاراج کے وکیل بھی، کاشت کار بھی تھے اور زمیندار بھی، چمپارن تحریک کے تعلق سے گاندھی جی پر جو مقدمہ چلا اس میں گاندھی جی کی جانب سے ایک جونیئر وکیل کی حیثیت سے بھی کام کیا تھا۔ ۱۸ دسمبر ۱۹۳۹ء میں انتقال ہوا۔ اس کی والدہ امت الفاطمہ سیو ان کے معروف راجہ اسماعیل خاں کے گھرانے سے تعلق رکھتی تھیں ۔ جناب ہادی خاں اور جناب عبدالصمد خاں راجہ کے عزیزوں میں تھے کہ جنھیں سیوان اور چھپرہ میں کاشتکاری کے لیے زمین دی گئی تھی۔ ہادی خان صاحب جو اس کی والدہ کے والد تھے اپنی زمین فروخت کر کے موتیہاری آ بسے اور عبدالصمدخاں چھپرہ میں رہے، پاکستان کی تشکیل کے بعد اپنے بال بچوں کے ساتھ کراچی چلے گئے۔
	اس کے والد کی حویلی ’خان بہادر محمد جان منزل‘ ۱۹۳۴ء کے زبردست ’بہار زلزلے‘ کے بعد ایک بار پھر تعمیر ہوئی تھی، دیکھتے ہی دیکھتے یہ حویلی ایک اہم سماجی مرکز میں تبدیل ہو گئی۔ اس میں خاندان کے کتنے لوگ رہے، کیسے کیسے لوگ آتے جاتے رہے اس کی تاریخ بڑی ہے، چھوٹی عمر میں اس نے اس حویلی میں آتے جاتے جن خاص لوگوں کو دیکھا ان میں بابو راجندر پرشاد جو پہلے صدر جمہوریہ ہند بنے، ڈاکٹر سیّد محمود جو پنڈت جواہر لال نہرو کے کابینہ میں وزیر خارجہ رہے، معروف کانگریس لیڈر مولانا شفیع داؤدی، بیرسٹر عبدالعزیز وغیرہ کے نام ذہن میں محفوظ ہیں ۔ اس کے والد کچھ عرصہ بہار کے گورنر کی تشکیل کی ہوئی مشاورتی کمیٹی کے رکن بھی تھے اس لیے کچھ انگریز ایلچیوں کو پٹنہ موتیہاری آتے جاتے دیکھا، خوب دعوتیں ہوتیں شہر کے استاد باورچی اسماعیل میاں اپنی ٹیم کے ساتھ جٹ جاتے اور جانے کتنے افراد کے لیے کھانا تیار ہوتا رہتا، کورٹ جانے سے قبل صبح سویرے اس کے والد کی اپنی کچہری لگتی، مختلف مقدموں سے وابستہ لوگوں کی بھیڑ لگی ہوتی، ساتھ ہی زمینداری اور کھیتوں کے کاغذات دیکھے جاتے۔ یہاں کانگریس پارٹی کے لیے چندہ لینے والے بھی آتے،موتیہاری، مظفر پور اور بتیا کے یتیم خانوں کے بچوں کے لیے کپڑوں کو جمع کر کے لے جانے والے بھی، مشاعرے ہوتے، شہر کے شعرا تو شریک ہوتے ہی مظفر پور، رکسول اور بتیا سے بھی شعرا تشریف لاتے۔ اس نے حویلی کے مشاعروں میں علامہ جمیل مظہری، بسمل الٰہ آبادی، کشتہ گیاوی وغیرہ کو بھی پہلی بار دیکھا تھا۔ کبھی مولود شریف، کبھی عورتوں کی میلاد، کبھی بچوں کا مشاعرہ، کبھی رَت جگا، کبھی گڈے گڈی کی شادی، دیوالی میں چھوٹی بچیوں کے لیے گھروندوں کی تعمیر۔ چق پٹی اور پٹھان ٹولی سے محرم کے جو جلوس نکلتے وہ حویلی کے بڑے دروازے پر رُک جاتے اور دیگر تک مراثی پڑھے جاتے، جنت الفردوس کا رستہ بتاتے ہیں حسینؓ کی آواز ابھی تک اس کے کانوں میں گونج رہی ہے۔ دیر تک لاٹھی ڈنڈا، تلوار، لوکاری وغیرہ کے کھیل دکھائے جاتے، وہ بھی بچوں کے ساتھ گدکا کھیلتا۔ ایک بار اس زمانے کے مشہور رقاص ماسٹر راحت بھی آئے تھے کہ جنھوں نے حویلی کے خوبصورت شامیانے کے نیچے اپنا رقص پیش کیا تھا، شہر بھر کے شرفا رقص دیکھنے آئے تھے، شہر کے معروف موسیقار ماسٹر قادر بھی آتے اور جل ترنگ کی آواز سے لوگوں کو شدّت سے متاثر کرتے۔ پھلواری شریف سے حضرت مولانا نعمت اللہ صاحب تشریف لاتے تو ماحول کا رنگ ہی کچھ اور ہوتا، صوفیوں کی محفل سج جاتی، جانے کہاں کہاں کے بزرگ محفل میں تشریف فرما ہوتے، قوالی کی محفل میں ہر شخص جھومتا نظر آتا، قوالوں کے بول سے سب پر جیسے رقت طاری ہو جاتی، لوگ زار زار روتے نظر آتے۔ حضرت مولانا اُٹھ کھڑے ہوتے اور ان پر وجد طاری ہو جاتا۔ رقص کرنے لگتے تو سب کھڑے ہو جاتے سب رونے لگتے، کچھ لوگوں کی تو ہچکیاں بندھ جاتیں ، حضرت مولانا جسے سینے سے لگا لیتے وہ دیوانہ سا ہو جاتا ہے اس پر وجد طاری ہو جاتا اور رقص کرنے لگتا۔
	یہ اس کے والد کی ہمہ گیر شخصیت کا کرشمہ تھا کہ تمام تہواروں کو ہولی ہو یا دیوالی، عید ہو بقرعید شہر کے لوگ اپنا تہوار تصوّر کرتے، محبتوں کا بڑا خوبصورت رشتہ قائم رہا۔ یہ ان ہی کی شخصیت کا فیض تصور کیا گیا کہ موتیہاری میں کبھی فرقہ وارانہ فساد نہیں ہوا حالانکہ فرقہ پرست ذہنیت کے لوگ ہر وقت موجود رہے۔
	اگرچہ اب یہ حویلی تاریخ کا ایک حصّہ بن چکی ہے اس کے کچھ عزیزوں نے اس کے وجود کو صفحۂ ہستی سے مٹا دیا ہے۔ شہر اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں حویلی کی عطا کی ہوئی ایک خاموش نعمت اب بھی موجود ہے اور وہ اس دور کے کلچر اور اس کی علامت کی پوشیدہ ’ہارمونی‘ (Hidden Harmony) اللہ اسے قائم رکھے وہ یہی دعا کرتا ہے۔
	چھوٹی عمر سے قصوں کہانیوں نے اسے اپنی گرفت میں لیے رکھا، کہانیاں سننے کا شوق اسے بھی تھا، شب میں کھانے کے بعد اپنی بہنوں کے ساتھ بستر پر ممانی جان سے کہانیاں سنتا، چھوٹی عمر سے اسے فنتاسی کی خوبصورت دنیا ملی جس میں وہ بار بار گم ہوتا رہا۔ ’’پنچ تنتر‘‘ کی بیشتر کہانیاں اسی زمانے میں سنی تھیں ، را جا ہری چندر اور ہندی اور سنسکرت کی کہانیوں کے کر دار اسے اپنے قریب محسوس ہونے لگے تھے، را جا اندر، علاء الدین اور اس کا چراغ، علی بابا چالیس چور، سند باد جہازی اور اس کے سات سفر کی کہانیاں ، گل بکاؤلی، رستم اور سہراب یہ سب اپنے اپنے لگنے لگے تھے۔ اس کے شعور اور لاشعور پر ان کہانیوں کی گرفت بہت مضبوط رہی ہے۔ کون جانے ابھی اس نے اساطیر اور اس کی جمالیات سے جو گہری دلچسپی لی ہے اور یہ کہا ہے کہ فکشن شاعری کا نقطۂ عروج ہے یا جب تک شاعری فکشن نہیں بن جاتی بڑی شاعری نہیں ہوتی یا ہر فن کی تابناکی کا انحصار اس کے فکشن کے ہونے پر ہے۔ اس کے پیچھے بچپن میں پائی ہوئی کہانیوں کی عمدہ ’فنتاسی‘ بھی موجود ہو۔
	حویلی میں داستان امیر حمزہ اور طلسم ہو شربا کے عاشقوں کی کمی نہ تھی، خود اس کے والد داستان سننا پسند کرتے تھے۔ ہوتا یہ کہ دن کے کھانے کے بعد یا پھر شب کے کھانے سے قبل والد مرحوم کے کمرے میں بھائی بہن جمع ہو جاتے، والد صاحب حقی کا لطف لینے کے بعد اپنے بستر پر لیٹے رہتے اور اس کے بڑے بھائی صاحب جناب عنایت الرحمن داستان پڑھنا شروع کرتے۔ بڑے انہماک سے ہر بات سنی جاتی، ہر واقعہ سنا جاتا، تھوڑی ہی دیر میں کمرے کا ماحول تبدیل ہو جاتا۔ لگتا ہر وہ شخص جو وہاں موجود ہے طلسم کی دنیا کی گرفت میں ہے۔ عنایت بھائی داستان سنانے کا فن جانتے تھے۔ داستان کی زبان اپنی جگہ بھائی جان کا لہجہ تمام سننے والوں کو اپنی جانب کھینچ لیتا تھا، حویلی میں داستان سرائی اور داستان گوئی کی یہ محفل بھی اس پر شدّت سے اثر انداز ہوئی ہے،وہ امیر حمزہ، افراسیاب، عمر و عیار، ملکہ بہار، مہرخ، بختیارک اور لقاوغیرہ کو جاننے پہچاننے لگا تھا۔ دیو، جن، پری، ساحر، پتلے، حکیم، پیر، غول، ملکہ دمامہ جادو اور ساحر شمس سب ملے۔اسے یاد ہے کہ عنایت الرحمن بھائی داستان پڑھتے ہوئے اکثر تشریحیں بھی کرتے تھے تاکہ باتیں ٹھیک ٹھاک سمجھ میں آ جائیں ۔ ایک بار انھوں نے طلسم کے تین مقامات کو سمجھایا تھا، ایک پردۂ ظلمات، دوسرا طلسم باطن اور تیسرا ظاہر۔
	تسمہ پاؤں کا حمزہ اور عمرہ اور مقبل اور تمام لشکر پر سوار ہونا اور سب کو دوڑانا ایک عجیب و غریب منظر تھا، دعا کرتا تسمہ یا یوں سے حمزہ اور عمر و عیار اور مقبل وغیرہ کو جلد نجات ملے۔ اسے عمر و عیار سب سے زیادہ پسند آئے۔ اس کے ذہن نے اس بڑی داستان کو ذہن میں ہمیشہ محفوظ رکھا غالباً یہی وجہ تھی کہ اس نے بچوں کا ناول ’عمر و عیار کی واپسی‘ لکھا جو سری نگر سے شائع ہوا تھا اور پھر ۱۹۹۵ء میں ’داستان امیر حمزہ اور طلسم ہو شربا‘ لکھی جو بہت مقبول ہوئی۔
	اس نے ابتدائی تعلیم گھر پر حاصل کی، اُردو پڑھانے کے لیے مولوی منظور صاحب آتے جو بہت شفیق استاد تھے۔ اس نے ان کا ذکر اپنی خود نوشت سوانح حیات ’آشرم‘ میں بھی کیا ہے۔ ایک مولانا تھے جو صبح  سویرے قرآن پاک کی تعلیم دیتے اور مولانا عشرت مرحوم تھے جو مولوی اسمٰعیل میرٹھی کی تحریر کی ہوئی ابتدائی کتابیں پڑھاتے۔ ۳۹-۱۹۳۸ء میں ایک مقامی اسکول ’ہیکوک اکیڈمی‘ میں داخل ہوا۔ میٹرک کے بعد منشی سنگھ کالج سے انٹر اور بی اے آنرز کے امتحانات پاس کیے، بی اے آنرز میں فرسٹ کلاس لانے کے بعد پٹنہ یونیورسٹی کے شعبہ اُردو میں داخل ہوا۔ ایم اے کیا فرسٹ کلاس، فرسٹ پوزیشن آئی اور یونیورسٹی کا طلائی تمغہ ملا۔
	اسی سال عصمت اس کی زندگی میں آئیں اور ایک نئی زندگی شروع ہو گئی، یہ زندگی محبت کی تھی جدوجہد کی تھی، تب سے اب تک جو ذاتی تجربہ ہے وہ علیم اختر کے اس شعر کی تفسیر ہے:
خود حسن ہی کرتا ہے یہاں دل کی حفاظت
خود شدّت جلوہ ہی نگہبان نظر ہے
	وہ بھدرک (اُڑیسہ) ڈگری کالج میں اُردو کا لکچرر مقرر ہوا۔ اس کے بعد کشمیر آ گیا اور وادیِ کشمیر میں ۳۲ برس گزارے۔ ۱۹۵۳ء میں ایم اے پاس کیا تھا اسی سال دہلی میں حضرت مولانا ابوالکلام آزاد کا نیاز حاصل کیا تھا، ان کے سکریٹری جناب اجمل خاں صاحب نے بتایا کہ مولانا چاہتے ہیں کہ آپ کشمیر چلے جائیں ، پھر وہی ہوا وہ بھدرک کالج میں لیکچرر تھا کہ کشمیر بلا لیا گیا۔ جموں و کشمیر یونیورسٹی میں شعبہ اُردو قائم ہوا تو اللہ کے فضل و کرم سے اسی نے اس کی پہلی اینٹ رکھی۔ لیکچرر اور ریڈر ہوا۔ پٹنہ یونیورسٹی سے ڈی لٹ کی ڈگری لی پروفیسر بنا اور پھر وائس چانسلر۔ اسی دوران میں بہار یونیورسٹی کا وائس چانسلر ہوا، پھر متھلا یونیورسٹی دربھنگہ میں وائس چانسلر مقرر کیا گیا، دربھنگہ ہی سے پارلیمانی الیکشن لڑا اور شاندار کامیابی کے بعد لوک سبھا کا ممبر بنا۔ چندر شیکھر جی کی حکومت میں مرکزی وزیر صحت عامہ اور خاندانی بہبود رہا۔ صحت خراب ہو گئی اس کے دل کا بڑا آپریشن ہوا، تب سے وہ ایک گوشے میں لکھنے پڑھنے کے کام میں مصروف ہے۔
	وہ ضعیف شخص جو زندگی کے ایک بڑے پھیلے ہوئے گہرے سمندر کو عبور کرنے کے بعد سامنے سوچ میں ڈوبا بیٹھا ہے اس نے ابتدا سے اپنے مطالعے کے شوق کو بڑھایا ہے۔ اس کی کتابوں اور اس کے کام کی ایک لمبی فہرست ہے، اس کا کہنا ہے کہ اس کا سارا کام آنے والی نسلوں کے لیے ہے۔ ’جمالیات‘ کو فنون کی روح تصور کرتا ہے۔ کہتا ہے جمالیات ہی نے اس کی سوچ اس طرح تبدیل کی ہے کہ ’ہمعصر‘ لکھنے والوں کے تعلق سے وہ اس طرح سوچنے لگا ہے کہ ان سے اس کا تعلق بہت ہی کم ہے۔ اس کے ’ہمعصر‘ وہ نہیں ہیں جو مکاں (Space) اور اس دھرتی پر آس پاس رہتے ہیں اس کے ہمعصر وہ ہیں جو وقت یا ٹائم (Time) میں رہتے ہیں ، جن سے اس نے جمالیات کی روشنی میں ایک گہرا رشتہ قائم کیا ہے مثلاً شیکسپیئر، مولانا رومی، مرزا غالب، حافظ شیرازی، کبیر، امیر خسرو، محمد قلی قطب شاہ، پریم چند، سعادت حسن منٹو وغیرہ۔ وہ ’ٹائم‘ میں اپنے ہمعصروں کے پاس پہنچتا رہا ہے، ان کی تخلیقات میں ڈوبنے کی کوشش کی ہے۔ ان پر کتابیں لکھی ہیں ، ان کی جمالیات کے ’رسوں ‘ کو پا کر مست مست رہا ہے، جمالیاتی انبساط حاصل کرتا رہا ہے۔
	اس کی زندگی کے اور کئی باب ہیں جن پر روشنی ڈالنا اس وقت ممکن نہیں ہے۔ ایک باب ہے کشمیر کا، دوسرا ہے تین یونیورسٹیوں کی وائس چانسلرا کا، تیسرا باب ہے سیاست کا۔ کیا اس کی زندگی اتنی فرصت دے گی کہ وہ ان پر روشنی ڈال سکے؟
	یہ ضعیف شخص جو زندگی کے ۸۰ برس گزار کر ۸۱ ویں برس میں داخل ہوا ہے آخر میں بتانا چاہتا ہے کہ اسے اپنی زندگی میں تین قسم کی روحانی توانائی کا شدید احساس ہوا ہے۔
	ٹکراؤ ہوا کبھی تو شدید تصادم، زخم بھی کھائے، عرصہ تک زخم ہرے رہے پھر یہ ہوا کہ رقص کرتا سوئے دار چلا گیا۔ اس طرح جیسے منصور کی توانائی پورے وجود میں سرایت کر گئی ہو جھول جھول گیا دار پر!
	اور پھر ایسا ہوا کہ رومی سے منسوب رقص اس کی زندگی بن گیا، بڑی روحانی توانائی حاصل ہوئی، رقص کرتا رہا، رقص کرتے کرتے نڈھال ہو گیا اور گر گیا، گرنے کے بعد علم ہوا کہ اس توانائی نے اسے شاندار تجربے عطا کیے ہیں ۔ ایک پھیلے ہوئے ریگستان میں جیسے ایک بہشت کی تشکیل ہو گئی ہو۔ ایسی خوشبو پھیلی ہے کہ جیسے پورا وجود اس میں ڈوب ڈوب رہا ہے۔ اور پھر ایسا ہوا کہ بدھ کی طرح خاموش بیٹھ گیا۔ اندر کا حسن جلوہ بن گیا اور وہی جلوہ بنا ہوا ہے !
(مطبوعہ ’آجکل‘ مارچ ۲۰۱۱ء)
٭٭٭

٭٭٭
مصنف اور  ان کی صاحبزادی شاہینہ  کے تشکر کے ساتھ جنہوں نے اس کی فائل فراہم کی
ان پیج سے تبدیلی، تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید
