﻿

مشرف عالم ذوقی سے
 بات چیت

مختلف ادباء




مشہور ہندی کتھا کار سدرشن نارنگ کی مشرف عالم ذوقی سے ایک مختصر گفتگو


سوال: دونوں زبانوں میں لکھنے والوں کے ساتھ ایک عام دشواری یہ ہے کہ آخر اُنہیں کس زبان کا تسلیم کیا جائے ؟
جواب: آپ نے بات بالکل صحیح جگہ سے شروع کی ہے ، میری خود بھی یہی خواہش تھی کہ دونوں زبانوں میں لکھنے والوں کے مسئلہ کو ذرا صحیح طریقے سے اٹھایا جائے۔ زبان کسی قوم کی جاگیر نہیں ہے۔ اگر کوئی تخلیق کار دو زبان جانتا ہو اور وہ دونوں زبانوں میں لکھتا ہے تو اُسے دونوں ہی زبانوں میں اپنانے میں پریشانی نہیں ہونی چاہئے۔ اگر پریم چند کی بات کریں تو پریم چند نے بھی دونوں ہی زبانوں کو اپنایا۔ شروع میں وہ اردو میں لکھتے رہے ، پھر ہندی میں بھی لکھنا شروع کر دیا۔ صرف پریم چند اس معاملے میں خوش قسمت رہے کہ اُنہیں اردو اور ہندی دونوں ہی زبانوں میں پائینیر تسلیم کیا گیا۔ یہ الگ بات ہے کہ بعد میں اُن کی ہندی اور اردو کہانی کی بدلی بدلی فضا کو لے کر اُن پر فرقہ پرست ہونے کا الزام بھی تھوپا گیا، لیکن اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ پریم چند آج بھی اردو اور ہندی کہانی کے بانی کے طور پر بنے ہوئے ہیں۔ لیکن یہی خوش قسمتی اُپیندر ناتھ اشک یا دیویندر ستیارتھی کے ساتھ نہیں رہی۔ ’گرتی دیواریں ‘ جیسی کتاب کے مصنف اُپیندر ناتھ اشک یا ستیارتھی کو جس طرح سے آج دونوں ہی زبانوں میں ریجکٹ کر دیا گیا یہ افسوسناک ہے۔ جہاں تک میرا سوال ہے میں نے شروع سے ہی دونوں زبانوں میں لکھنا شروع کیا____ کہانی میں زبان کی سطح پر میں نے وہی زبان استعمال کی جس سے میں دونوں ہی زبانوں میں اپنی بات کہنے میں اہل تھا۔ یعنی کہ ہندستانی زبان۔ میں اُسی طرح اپنے آپ کو اردو کا افسانہ نگار مانتا ہوں جیسے ہندی کا۔ میں ہندی میں جیسا ہوں ٹھیک اُسی طرح اردو کا بھی ہوں ، ہاں اِس نظریئے سے مجھے ہندی کے نقاّدوں سے شکوہ ضرور ہے کہ مجھے ہندی کا تسلیم کرنے کے باوجود بھی جب نام گنوانے کی باری آتی ہے تو اُن پر میرا اردو لکھنا کچھ زیادہ ہی حاوی ہو جاتا ہے۔ 
سوال: آج جب یہ دنیا ایک چھوٹے سے گلوبل ویلیج میں داخل ہو چکی ہے۔ آپ اپنی کہانیوں کو کہاں دیکھتے ہیں ؟
جواب: بات گلوبل ویلیج میں داخل ہونے یا انفارمیشن ٹکنالوجی میں ہونے والے انقلاب کی نہیں ہے۔ سچ پوچھئے تو ایک طرف ایسے انقلاب کا چونکانے والا عمل ہے تو دوسری طرف ہماری کہانی، آج بھی دلت سے متعلق ادب اور خواتین سے متعلق ادب جیسے ہزاروں تنگ نظریئے کا سامنا کر رہی ہے۔ کیا صرف ایک چھوٹی سی تنگ زمین کو بنیاد بنا کر ہم کوئی بین الاقوامی کہانی کا تانا بانا بُن سکتے ہیں ؟ حیرانی تب ہوتی ہے جب ایک بے حد سپاٹ کہانی آپ کی علاقائی زبان کے بوجھل لباس میں ، آپ کے سامنے آ جاتی ہے۔ جسے پڑھنے کے لئے کنواں کھودنے سے زیادہ مشقت کرنی پڑتی ہے۔ کہانی اتنا لمبا سفر طے کرنے کے باوجود آج بھی ہندی میں کنویں کے مینڈک کی طرح کسی تنگ قید خانے میں یا اندھیرے کنویں میں گھٹن کا شکار لگتی ہے۔ فنتاسی کی کمی، تصور یا جدید تر خیالات سے الگ یا بغیر کسی نئے تجربے کے کہانی آج بھی، جب اُسی پریم چند کے زمانے میں جیتی ہوئی نظر آتی ہے تو دکھ ہوتا ہے۔ شاید اسی لئے میں ایسی کسی کہانی کا تصور نہیں کر سکتا جس میں علامت یا فنتاسی نہ ہو۔ ہم آخر اپنی ہی کہانیوں کی ایک نئی یا جدید زمین کیوں نہیں تیار کرتے ؟ مجھے لگتا ہے ، ہندی کے نقاّدوں کے ہاتھ بھی بندھے ہوئے ہیں۔ کبھی کبھی اس پر بھی بڑا تعجب ہوتا ہے کہ کیا کسی کا دلت ہونا، یا بدقسمتی سے زیادہ پڑھا لکھا نہیں ہونا نقادوں کی نظر کو اتنا پسند آتا ہے کہ وہ دیکھتے ہی دیکھتے عظیم بن جاتا ہے۔ اپنی بات کہوں تو شروع میں میرا فلک محدود تھا یعنی جب لکھنا شروع کیا تو ترقی پسندی کی ایک تنگ زمین سامنے تھی۔ میں نے اپنا ادب اسی پروپیگنڈے کو بنیاد بنا کر لکھنا شروع کیا۔ اِس کے بعد، آزادی کے دوران ہونے والے دنگے اور اقلیتوں کے مسائل پر میرا دھیان گیا۔ لگا، اِن پر بھی لکھنے کی ضرورت ہے۔ تب بہار میں فساد برپا ہونا ایک عام سی بات تھی۔ نفرت کی خلیج تو بہت پہلے ہی پڑ چکی تھی۔ مسلمان لگاتار گھائل کر دینے والے سوالوں کی زد میں تھے۔ اس طرح اپنی شروعاتی کہانیوں پر غور کرتا ہوں تو یہ کہانیاں آزادی سے پہلے کی غلامی، تقسیم کا درد اور اُس کے بعد سامنے آنے والے فرقہ وارانہ فساد کی سیاہ تاریخ تک پھیلتی چلی جاتی ہیں۔ ایک بات جو میری سمجھ میں کبھی نہیں آئی، وہ تھی کہ آخر پندرہ کروڑ سے زیادہ مسلم آبادی کو آپ اقلیت کیسے کہہ سکتے ہیں۔ غلام بخش، بیان، ذبح، سب سازندے سے لے کر تازہ افسانوی مجموعہ لیبارٹری (ہندی) تک میں مسلسل اپنے اس سوال سے لڑتا بھڑتا رہا کہ آخر اتنی بڑی مسلم آبادی کو اقلیت کی جگہ دوسری بڑی اکثریت کیوں نہیں کہا جاتا۔ 90کے بعد کہانی کی سطح پر میرے انداز فکر میں بڑا فرق آیا۔ میں کہانی کو سپاٹ طرز پر دیکھنے سے بچنا چاہتا تھا۔ ممکن ہے اس درمیان جو کچھ ’بڑا‘ پڑھا تھا اُس کا بھی اثر ہو لیکن ایک وقت آتا ہے جب آپ تخلیقی سطح پر ناسترودیمس کی تیسری آنکھ کی تلاش میں لگ جاتے ہیں ، ایسا بھی ہوتا ہے کہ زندگی کے نئے فلسفے آپ کی کہانیوں پر حاوی ہونے لگتے ہیں۔ لیکن یہ وہ وقت تھا جب میں سپاٹ کہانی کے جنگل سے آزاد ہو کر اپنی الگ پہچان یا راستہ تلاش کرنا چاہتا تھا۔ میرے نزدیک زندگی کے معنی بہت حد تک بدلے تھے اور میں اپنی کہانی کو اپنے ماحول یا گھر کی چہار دیواری میں گھٹتے ہوئے نہیں دیکھ سکتا تھا۔ سچ کہوں تو اس سطح پر اگر ہندی میں مجھے کسی نے چونکایا ہے تو وہ صرف ایک نام ہے الکا سراوگی۔ 
سوال: تو ذوقی صاحب، اس سے یہ نتیجہ نکالا جائے کہ آپ نے مسلمانوں سے متعلق ادب پر تو لکھا ہے لیکن دلت سے متعلق ادب اور عورت سے متعلق ادب …؟
جواب: جیسا میں نے پہلے ہی عرض کیا، میں کہانی کو ان دائروں سے الگ دیکھتا اور محسوس کرتا ہوں۔ اگر میں دلت پر لکھنا بھی چاہوں گا، تو جھکا ہوا، غربت کا مارا دلت میرے سامنے نہیں ہو گا۔ دلت آج اس مہذب ترین سماج میں بڑے بڑے عہدوں اور رتبوں پر نظر آئیں گے۔ آخر ہم خود کو ایک تنگ نظام میں قید یا گھٹا ہوا کیوں محسوس کرتے ہیں ؟ ڈاکٹر امبیڈکر کے انقلابی خیالات کے بعد، اتنا لمبا سفر طے کرنے کے باوجود ہم آج بھی اگر اس تنگ نظر لفظ دلت میں گھرے ہوئے ہیں تو یہ افسوسناک ہی کہا جا سکتا ہے۔ دنیا تیزی سے بدلی ہے ، کہانی صرف چار گھر کی نہیں ، چار سو گھروں کی بھی ہوتی ہے۔ ممکن ہے یہ مسئلے آج بھی موجود ہوں لیکن سورج پال چوہان جیسے لوگ بھی ہیں ، جن کی آپ بیتی پڑھ کر ایک خوشگوار احساس ہوتا ہے۔ میں بہت ہی زیادہ دل آزار یا Pathos میں ڈوبی کہانیاں نہیں لکھ سکتا۔ اس معاملے میں ، میں ’ایڈگر ایلن پو‘ کے قریب ہوں جو زندگی بھر بیمار رہا لیکن آپ اُس کی کہانیوں میں بیماری یا دکھ تلاش نہیں کر سکتے۔ اب رہی عورت سے متعلق ادب کی بات۔ عورت کو میں ویسے ہی دیکھتا ہوں جیسے مرد ہیں۔ اس لئے مجھے روتی گاتی تہمینہ درّانی میں دلچسپی ہے نا ’ناری‘ کے دکھ کا پہاڑ اٹھائے ’اَبلا اَبلا‘ چلاتی تسلیمہ نسرین میں۔ دونوں اپنے اپنے دکھ کی ذمہ دار خود ہیں۔ ایک بار بار کے تجربے کے باوجود اپنے جسم کی کہانی یا آپ بیتی لکھنے میں مصروف رہیں تو دوسری اپنے استحصال میں ، اپنے وجود اور مذہب کی حصہ داری تلاش کرتی رہیں۔ اس لئے مجھے عصمت چغتائی زیادہ پسند رہیں یا پھر فہمیدہ ریاض، کشور ناہید یا سارا شگفتہ میری پسند میں شامل ہیں۔ آج جہاں W.W.F.کی سطح پر بھی عورت کسی سے کم نہیں ہے ، کہانی کی سطح پر مسلسل آپ اُسے ایک ستائی گئی ابلا ناری کے طور پر کیوں دیکھ رہے ہیں۔ خاص کر جس طرح آج مسلمانوں میں نکاح، طلاق یا نماز پڑھانے کے نام پر ہنگامے ہو رہے ہیں ، وہ اچانک مجھے اکیسویں صدی سے پندرہویں صدی میں کھینچ لے جاتے ہیں۔ آخر عورت مردوں کی امامت کیوں نہیں کر سکتی۔ معاملہ طلاق کا ہو یا شریعت کا، عورت کو اپنا فیصلہ خود لینے کا حق حاصل ہونا چاہئے۔ ڈر لگتا ہے۔ ہم آج بھی ایک گمراہ کن معاشرے میں پھنسے ہوئے ہیں جہاں ہمارے مردانہ سماج اپنی خوبصورت تسلیوں سے آج بھی عورت کا استحصال کر رہا ہے۔ دراصل ان سب کی ذمہ دار ہماری تہذیب رہی ہے۔ جس کا صدیوں سے ڈھول پیٹا جاتا رہا ہے اور ہوتا کیا ہے۔ رشتہ ازدواج ایک عجیب سی افسردگی اور بورڈم کا شکار ہو جاتا ہے ، سات پھیرے لینے والے کبھی کبھی ایک دوسرے کو پسند نہ کرنے کے باوجود زندگی بھر بس نبھائے جانے کے ڈھونگ میں اپنی زندگی ختم کر دیتے ہیں ، آخر کیوں ؟ اسی لئے مجھے کبھی کبھی غیر ملکی تہذیب زیادہ پسند آتی ہے۔ چار دن ہی سہی، لیکن اس چار دن میں وہ جو زندگی کا بہتر تجربہ حاصل کرتے ہیں ، ہم زندگی بھر نبھائے جانے کے ڈھونگ میں اُس سے قاصر رہ جاتے ہیں۔ ایک دوغلی زندگی۔ ایک تقسیم شدہ چہرہ۔ ابھی کچھ دن قبل ماہنامہ ہنس (ہندی) نے ایک نیا کالم شروع کیا، تخلیق کاروں کو سچ بولنا تھا۔ کچھ تخلیق کاروں نے سچ کا بیڑا اُٹھایا بھی، لیکن اُن کی آپ بیتی سے بھی پوری طرح واضح تھا کہ وہ ذاتی زندگی میں دوہرے کردار کے عادی رہے ہیں۔ چلئے ، تسلیم کرتا ہوں ، لیکن اِس انٹرویو کا سچ بھی لوگ ہضم نہیں کر پائے۔ آخر کیوں ؟ سچ بولنا اتنا مشکل کیوں ہوتا ہے ؟ شاید اسی لئے تخلیق کی سطح پر بھی وہ سچا اور ایماندار آدمی سامنے نہیں آ پاتا۔ میں صرف کہانی لکھتا ہوں۔ عورت یا مرد محض اُس کہانی کے کردار ہوتے ہیں ممکن ہے ، یہ ادب سے متعلق باتیں آج ہندی کہانی کی ضرورت ہو لیکن یہ میری تخلیق کی ضرورت نہیں ہے۔ 
سوال: ذوقی صاحب! ہندی کی باتیں تو ہو گئیں … لیکن آپ کا تعلق اردو سے بھی ہے تو کیوں نا کچھ باتیں اردو کہانیوں پر بھی کر لی جائیں۔ مین اسٹریم میں ، آپ آج کی اردو کہانی کو کہاں رکھتے ہیں ؟
جواب:اردو کہانیاں۔ سوچتا ہوں تو آنکھیں بھر آتی ہیں۔ جس زبان نے منٹو، بیدی، کرشن چندر اور عصمت جیسے بڑے نام دیئے ، آج وہ زبان کہاں ہے ؟ کس حالت میں ہے ؟ اردو کہانیوں کی ایک سنہری، فخریہ تاریخ رہی ہے ، صرف بیدی یا کرشن چندر نہیں ، اچھا لکھنے والوں کی لمبی قطار رہی ہے۔ لیکن بھلا ہو، شمس الرحمن فاروقی کا، جنہوں نے جدیدیت کی شمع جلا کر اردو کہانی کا روشن مستقبل چھین لیا۔ یہ آدمی آج اردو کی بدقسمتی کا سب سے بڑا ذمہ دار ہے ، ناقابل معافی۔ اس نے اپنے پیمانے بنائے۔ اپنے ڈھول پیٹے اپنی پسند کے پتلے کھڑے کئے اور اردو کہانی کو اندھیرے میں ڈھکیل دیا۔ 2005 اس معاملے میں ایک یادگار سال ہے کہ اس سال ان کا رسالہ بند ہونے جا رہا ہے۔ میرے نزدیک اس سے بڑا جرم کوئی دوسرا نہیں ہو سکتا کہ قاری کے نہیں چاہنے کے باوجود آپ اپنی پسند کے پتلے اُن پر تھوپنے کی کوشش کریں۔ اردو کے بیس پچیس برسوں میں فاروقی نے جو ذلیل ترین کام کیا وہ کسی کو قتل کرنے سے بھی زیادہ سنگین اور بڑا جرم تھا۔ عام طور پر لکھنے والے جیسے ، سیّد محمد اشرف یا خالد جاوید کو آسمان پر بیٹھانے کی مہم شروع ہوئی۔ شمیم حنفی جیسے لوگ ساتھ میں تھے۔ دیکھتے ہی دیکھتے قاری کا غصّہ اُبل پڑا۔ یہ سارے ناٹک روز کے ناٹک تھے۔ کہیں گوپی چند نارنگ کہیں کوئی اور۔ سب اپنی ڈفلی اپنا راگ الاپ رہے تھے۔ پھر باری آئی عہدے ، رُتبے اور اکادمیوں کی، کرسی پر بیٹھے لوگوں کی۔ جیسا مافیا اردو میں ہے شاید کسی دوسری زبان میں نہیں ہو گا۔ اردو کو سر بازار رسوا اور ذلیل کرنے کی دوسری بڑی ذمہ داری نارنگ نے اُٹھائی اس وقت بین الاقوامی سطح پر اردو کے تمام چھوٹے بڑے انعام اُس کی مٹھی میں ہیں۔ دو، دوسروں کو دیتا ہے تو تیسرا خود لے لیتا ہے۔ نتیجہ ان بیس پچیس برسوں میں اردو کی جو بُری حالت ہوئی ہے وہ پہلے کبھی نہیں ہوئی تھی۔ سچی بات یہ ہے کہ ہم ایک مردہ زبان کے گواہ بن گئے ہیں۔ نئی نسل کے نام پر اردو کا مستقبل تاریک ہے۔ نئے لوگ ہندی یا غیر علاقائی زبانوں کی طرف دوڑ لگا رہے ہیں۔ 

٭٭٭




 ’لے سانس بھی آہستہ‘ کے بہانے معروف ناول نگار، مشرف عالم ذوقی سے ایک گفتگو

نبی احمد
		
سوال: ذوقی صاحب، سب سے پہلا سوال، آپ نے لکھنا کب سے شروع کیا؟
جواب: نبی احمد صاحب، اسے مختصر لفظوں میں بتانا مشکل ہے۔ گھر کا ماحول ادبی تھا اس لیے بچپن سے ہی لکھنا  اور پڑھنا پہلے شوق پھر جنون بنتا گیا۔ چھٹی کلاس میں تھا تو پہلی کہانی بچوں کے رسالہ پیام تعلیم میں شائع ہوئی۔ پہلا افسانہ تیرہ سال کی عمر میں ممبئی سے نکلنے والے رسالہ کہکشاں میں شائع ہوا۔ 
 سوال: آپ کا پہلا ناول؟
جواب: بچپن سے ہی کتابیں اوڑھنا بچھونا بن گئیں — رائیڈرس ھیگڈرڈ سے متاثر ہوا۔ ۱۷سال کی عمر میں پہلا ناول لکھ ڈالا — عقاب کی آنکھیں۔ بیس سال کی عمر تک ۴ناول لکھ چکا تھا — لمحۂ آئندہ، عقاب کی آنکھیں ، نیلام گھر  اور  شہر چپ ہے — ان میں صرف عقاب کی آنکھیں اب تک شائع نہیں ہوا ہے۔ سن ۲۰۱۲ میں اس کی اشاعت متوقع ہے — 
سوال: گفتگو کی شروعات آپ کے نئے ناول لے سانس بھی آہستہ سے کرتے ہیں — یہ ناول لکھنے کا خیال آپ کو کیسے آیا؟
جواب: لے سانس بھی آہستہ دراصل تہذیبوں کے تصادم کی کہانی ہے — میرے ذہن میں اس ناول کو لے کر کئی بنیادی سوال راستہ روکے کھڑے تھے۔ ڈارون سے روسو، والٹیر  اور ہٹنگٹن تک میں مسلسل اخلاقیاتی نظریے سے ایک جنگ لڑتا رہا۔ کون بناتا ہے یہ نظریہ — ؟ جب ایک نظریہ سچ ہے تو اختلاف کی گنجائش ہی کیوں پیدا ہوتی ہے ؟ کیا اخلاقیات ہر بار ہمارے ایک چیلنج ہیں ؟ کیا وقت اپنے حساب سے اپنی اخلاقیات کی تھیوری پیش کرتا ہے — ؟ کیا آج کی ساری بحث صرف  اور صرف اخلاقیات تک سمٹ کر رہ گئی ہے — ؟ گلوبل دنیا  اور  گلوبل وارمنگ کے اس دور میں الگ الگ اخلاقیات کے عفریت ہمیں حصار میں لیے کھڑے ہیں — کہ پہلے ہم سے الجھو —  اور جیسا کہ ان دنوں مغرب کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ مغرب کے بنیادی مسائل نہ تو معاشی ہیں  اور  نہ ہی آبادی کا بڑھنا — بلکہ اصل مسئلہ ہے — اخلاقیات کاگ م ہو جانا — ثقافتی خودکشی —  اور انہی سب سے ایک نہ ختم ہونے والا سیاسی بحران پیدا ہو گیا ہے — ایک طرف دہشت پسندی  اور  القاعدہ تہذیب ہے جس کی زمین بنیاد پرستی سے زیادہ دہشت پسندی پر کھڑی ہیں — دراصل اس ناول کو لکھنے کا بنیادی نکتہ یہی تھا — مختلف تہذیبوں کے درمیان عالمی جنگ کے خطرات کے امکانات سے بچنے کی کیا صورت ہو سکتی ہے — ؟ کیا دنیا کے حکمراں اس کی تہذیبی فطرت کو قبول کرنے  اور اسے بچانے کے لیے تیار ہیں — اندھیرے سے جنم لینے والی ایک نئی دنیا ہے — معاشرتی تبدیلیوں کی دھند میں شناخت گم ہوتی جا رہی ہے۔ 
سوال: پھر آپ نے کیا محسوس کیا؟ کیا یہ ناول ہمیں اندھیرے کی طرف لے جاتا ہے۔ ؟ مثال کے لیے ، جس طرح کے ناول آج کل لکھے جا رہے ہیں۔ دکھ، رنج، تاریکی  اور ایک دنیا اندھیرے میں ڈوبی ہوئی۔ کیا آپ کا اشارہ بھی اسی جانب ہے۔ 
جواب: میں اندھیرے کا قائل ہی نہیں۔ آغاز سے ہی میں نگیٹیو فکر کا قائل نہیں رہا — مجھے لگتا ہے ، تہذیبیں جب نئی شکل لینے کو آتی ہیں تو ایک دھماکہ ضرور ہوتا ہے۔ اسی لیے ناول کے آغاز میں ، میں نے ہر من ہیسے کے مشہور ناول ڈیمیان کا سہارا لیا ہے۔ یونانی لوک کتھاؤں میں ابراکسس نام کے ایک دیوتا کا ذکر ملتا ہے — ابراکسس کے مطابق، جائز  اور ناجائز سب ایک برابر ہیں  اور ہر شخص کو اپنے حساب سے جھوٹ، سچ، غلط، جائز  اور  ناجائز کی تعریف کرنی پڑتی ہے۔ قدرت کے نظام کو بھلی  اور بری باتوں کے درمیان تقسیم نہیں کیا جا سکتا۔  اور  — ارتقا کے راستے میں اخلاقیات کا کوئی دخل نہیں — 
سوال: گویا آپ کہنا چاہتے ہیں کہ تہذیبیں ختم ہو چکی ہیں  اور اسی لیے آپ نے القاعدہ جیسی تنظیموں کو بھی ایک تہذیب قرار دیا ہے۔ کیا سچ مچ دہشت پسندی کو کسی تہذیب سے وابستہ کیا جا سکتا ہے۔ 
 جواب: آپ نے جو سوال پوچھا ہے دراصل یہی میرے ناول کا موضوع ہے۔ نئی صدی کی شروعات ہوتے ہی ہم نے ایک نئی دنیا میں قدم رکھا تھا۔ 31دسمبر 1999 ہندستانی طیارے کو اغوا کر کے افغانستان لے جایا گیا۔ 9/11 جیسا حادثہ پیش آیا۔ جس نے امریکہ جیسے ملک کو خوفزدہ کر دیا۔ دہشت پسندی کی کوکھ سے ایک نئی تہذیب برآمد ہو رہی تھی۔ مجھے ڈیمیان کی یاد آ رہی تھی۔ ایک انڈہ ٹوٹنے والا ہے۔ ایک نئی دنیا نئی شکل لینے والی ہے۔ یہ خطرہ ان لوگوں کے ہے جو پرانی دنیاؤں سے چپکے ہوئے ہیں۔ ہم ایک ایسی دنیا میں آ گئے تھے جہاں رشتے کھو گئے تھے۔ جنسی اشتعال انگیزی کا بازار گرم تھا۔ سیکس کے نئے کھلونے بازار میں آ چکے تھے۔ جہاں کنڈوم کے لیے بنداس بول کا سہارا لیا جا رہا تھا۔ دراصل یہ خطرناک دہشت پسندی کی کوکھ سے برآمدہ تہذیبیں ہی تھیں جو نئی نسل کا شکار کر رہی تھیں — اس لیے میں نے اس کو لکھتے ہوئے ایک ایسی کہانی کا انتخاب کیا جو ہالی ووڈ کی ہارر فلم سے زیادہ بھیانک تھی۔ 
 سوال: لے سانس بھی آہستہ، یہ نام آپ کی کہانیوں یا دوسرے ناول کے ناموں سے مختلف ہے۔ آخر اس کی کوئی وجہ۔ 
جواب:مجھے اس نام سے بہتر کوئی دوسرا نام نہیں آیا — 
لے سانس بھی آہستہ کہ نازک ہے بہت کام
آفاق کی اس کار گہہِ شیشہ گری کا
میرا نیا ناول ’لے سانس بھی آہستہ‘ در حقیقت میرؔ کے اسی شعر کی ترجمانی کرتا ہے۔ اس انتہائی ترقی یافتہ سائنسی عہد میں ہمارا معاشرہ اچانک ایک ایسی تاریک سرنگ میں داخل ہو گیا ہے۔ جہاں حقیقت  اور  تصوریت سے الگ ایک سوال ذہن میں پیدا ہوتا ہے — ’کہ کیا مذہبی تصورات اس جینوم  اور  کلوننگ عہد میں قابلِ قبول بھی ہیں یا نہیں — ؟یا پھر یہ — کہ جدید طرز زندگی  اور  عریانیت اگر ایک دوسرے کے ہم خیال ہیں تو پھر انسانی اخلاقیات کے کورے صفحوں کو لکھنے کی نہ ذمہ داری کس کی ہے — ؟شاید اسی لیے یہ کہانی ایک ایسے موقع پر جنم لیتی ہے جب سن۲۰۰۹ کے آخر میں کوپن ہیگن میں ماحولیات کے تحفظ کو لے کر ہونے والی کانفرنس ایک فلاپ شو میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ ایک ایسے پر آشوب  اور  پر فریب عہد میں ‘ جہاں بھوتوں کی آن لائن شاپنگ کے دروازے کھلتے ہیں ، یہ کہانی ایک ایسے کردار کو شامل لے کر چلتی ہے جو ۴۷ء آزادی ملنے سے صرف ایک گھنٹے پہلے پیدا ہوتا ہے۔ ایک غلام ملک کی اخلاقیات جو صرف ایک گھنٹے بعد ایک آزاد ملک کی اخلاقیات میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ لیکن تقسیم کے بطن سے پیدا ہونے والی نفرتوں نے سرحد کے دونوں طرف جنگ کے شعلوں کو کبھی مدھم ہونے کا موقع نہیں دیا — لیکن ان شعلوں میں بہت کچھ جلا — بہت دل ٹوٹے —  اور  پھر — تہذیب کی اندھیری سرنگ میں دو آنکھیں تھیں ، جو ایک سترہ سال کی بچی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہہ رہی تھی — ’یہ میری بیٹی ہے —‘ اس کی آواز زلزلوں کے جھٹکوں سے زیادہ تیز تھی۔ — لیکن شاید آپ یقین نہ کریں کہ اس کی ماں بھی میری بیٹی تھی — کہیں نہ کہیں اس بے حد لاغر  اور  مجبور انسان کی اخلاقیات، انسان نہیں بلکہ قدرت لکھ رہا ہے۔ تہذیبوں کا تصادم جاری ہے۔ مگر ریموٹ  اور  کمان در حقیقت قدرت کے ہاتھ میں ہے  اور  یہی اس ناول کا موضوع ہے۔ 
سوال: آپ کے ناولوں میں سیاسی، سماجی  اور تاریخی حوالے بھی ملتے ہیں۔ آپ کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ آپ کی کہانیاں  اور ناول مستقبل کے خطرات کو بھی پیش کرتے ہیں۔ کیا اس ناول میں بھی آپ نے تاریخی حقائق کو سامنے رکھا ہے۔ ؟
جواب: کہانی ایک چھوٹے سے واقعے پر مبنی ہوتی ہے۔ ناول کی دنیا ایک بڑی دنیا ہوتی ہے جہاں زندہ کردار ہوتے ہیں۔ زندگی سے موت تک کی رسم کو نبھاتے ہوئے — بھیانک واقعات کا گواہ بنتے ہوئے۔ اس لیے یہ ناول تحریر میں تب آیا جب بیحد سہمی ہوئی خوفزدہ کرنے والی صدی کے دس سال گزر گئے تھے۔ انسانی زندگی کے ساتھ تاریخ کی وابستگی کی کہانی بہت پرانی ہے۔ اس لیے یہ ناول ایسے دس برسوں کا گواہ بن گیا جہاں ساری دنیا میں بھوک مری  اور  غریبی لوٹ آئی تھی۔ تیل کی قیمتیں آسمان چھو رہی تھیں۔ شیئر بازار لڑھک کر گر پڑے تھے۔ ہزاروں بینکوں کو دیوالیہ قرار دے دیا گیا تھا۔ ابوظہبی  اور  دوبئی جیسے جدید مراکز ہل گئے تھے۔ امریکی کرنسی گریٹ ڈپریشن کا شکار ہوئی۔ ماحولیات کے تحفظ کے لیے نئے نئے ماڈل بنائے گئے تھے جو ناکام رہے — انٹاریٹکا کے بڑے بڑے گلیشر سمندر میں گم ہو گئے تھے — سر جوڑتے ہوئے دنیا کے تمام بڑے سائنسدانوں نے اپنا فیصلہ سنایا تھا۔ انسانی ترقی  اور کامیابی کی کہانیاں ہی دراصل انسانی بربادی کی بھی اصل وجہ ہیں۔ ایک طرف دہشت پسندی ہے  اور دوسری طرف خطرناک بیماریوں سے لڑتے ہوئے لوگ۔  اور ان سے الگ تہذیبیں ہیں جو اپنی شکلیں تبدیل کر رہی ہیں۔ اسی لیے تاریخی حقائق و شواہد کے بغیر میں ناول تحریر نہیں کر سکتا۔ 
سوال: لے سانس بھی آہستہ کے بعد آپ کا اگلا پروجیکٹ ؟
جواب: آتش رفتہ کا سراغ — 720صفحہ  پر مشتمل یہ ناول ہندستانی مسلمانوں کی آپ بیتی ہے۔ یہ ناول مکمل ہے — ان دنوں ایک نیا ناول لکھ رہا ہوں — سرحدی جناح — یہ ناول سرحدی گاندھی، خان عبدالغفار، خان کی زندگی سے متاثر  ہو کر لکھ رہا ہوں۔ 
سوال: آپ نے اپنا قیمتی وقت دیا۔ آپ کا بیحد شکریہ۔ 
جواب: نبی احمد صاحب، آپ کا بھی شکریہ۔ 
٭٭٭



عہد حاضر کے معروف ناول نگار جناب مشرف عالم ذوقی سے گفتگو (ذوقی کے تازہ ناول لے سانس بھی آہستہ کی روشنی میں ) 

رضی احمد تنہا، نعمان قیصر

رضی احمد تنہا:اپنے گاؤں کے بارے میں بتائیے ؟چونکہ گاؤں کی پوری زندگی کام پر اثرانداز ہوتی ہے۔ عموماً ادبی سفر کا آغاز لوگ شاعری سے کرتے ہیں ، لیکن آپ نے افسانے سے کیا  اور  محض۱۷ سال کی عمر میں آپ نے ’عقاب کی آنکھیں ‘ لکھا۔ ناول دراصل داستان کی جدید شکل ہے ، یہ داستانی جراثیم آپ کے اندر کیسے آیا؟۔ 
ذوقی:تنہا صاحب، گاؤں کا میری زندگی سے گہرا تعلق رہا ہے۔ یہ بات کم لوگ جانتے ہیں۔ میں بہار کے ایک چھوٹے سے شہر آرہ میں پیدا ہوا۔ میرا ننیہال برہ بترا ہے۔ برہ بترا ایک چھوٹا سا گاؤں ہے۔ امی جان اکثر مجھے لے کر برہ بترا جایا کرتی تھیں۔ وہاں آم کے بڑے بڑے درخت تھے۔ ہم عمر بچوں کے ساتھ ہاتھ میں غلیل لے کر میں آم توڑنے کے لیے نکل جاتا۔ وہاں ایک چھوٹی سی ندی ہے۔ ایک بار تیرنے کی کوشش میں ، میں ڈوبنے لگا تھا — گاؤں کی کہانیاں لکھتے ہوئے میں اسی گاؤں کا سہارا لیتا ہوں۔ چھٹے کلاس سے کہانیاں لکھنے لگا تو یہ گاؤں الگ الگ شکلوں میں میری کہانیوں میں نمایاں ہونے لگا۔ 
تنہا صاحب، آپ کے اس ایک سوال میں کچھ  اور  سوال بھی چھپے ہوئے ہیں جن کا جواب دینا ضروری ہے۔ گھر میں ادب کا ماحول تھا۔ ابا حضور مشکور بصیری شاعری کا بلند ذوق و شوق رکھتے تھے۔ گھر میں مشاعرہ بھی ہوتا تھا۔ ابا بچپن سے میرو غالب کے اشعار سنایا کرتے۔ ان شاعروں میں ذوق سے مجھے کچھ زیادہ ہی محبت ہو گئی۔ مجھے یاد ہے۔ ایک چھوٹی سی بچوں والی سائیکل ہوا کرتی تھی۔ میں سائیکل چلاتا ہوا بلند آواز میں ذوق کے اشعار پڑھا کرتا  — کسی بیکس کو اے بیداد گر مارا تو کیا مارا  — نہنگ و اژدہا و شیر ونر مارا تو کیا مارا۔ ایک دن ابا اتنے خوش ہوئے کہ مجھے گلے سے لگایا  اور  کہا  — یہ ذوقی ہے۔  اور    اور  لیجئے میں مشرف عالم سے مشرف عالم ذوقی بن گیا۔ شاعری وراثت میں ملی۔ مگر چھوٹی عمر سے ہی افسانوں نے مجھے متوجہ کرنا شروع کیا۔ گھر میں جتنی بھی کتابیں تھیں ، سب پڑھ ڈالیں۔ پھر ناول پڑھنا شروع کیا۔ رائیڈرس ہیگررڈ  اور  ڈیوما کے ناولوں نے کچھ اس حد تک متاثر کیا کہ ۱۷ سال کی عمر میں عقاب کی آنکھیں کے عنوان سے پہلا ناول لکھ ڈالا۔ داستانی جراثیم مجھ میں کیسے پیدا ہوا یہ بھی ایک خوبصورت  اور  لمبی کہانی ہے۔ 
نعمان قیصر: ہم یہ کہانی بھی آپ سے جاننا چاہیں گے۔ 
ذوقی: ضرور۔ گرمیوں کے موسم میں چھت پر چارپائیاں بچھی ہوتی تھیں۔ آسمان پر تاروں کی بارات  — ٹھنڈی ٹھنڈی بہتی ہوئی ہوا۔ ہم بھائی بہن چھت پر ابا کے آنے کا انتظار کرتے۔ ابا کے آتے ہی ہم انہیں گھیر کر بیٹھ جاتے۔ ابا پھر داستانوں کو لے کر بیٹھ جاتے۔ داستان امیر حمزہ۔ طلسم ہوشربا  — عمرو عیار کی ٹوپی۔ یہاں تک کہ سراج انور کے ناول بھی ابا سے ہی سننے کا موقع ملا۔ مطالعہ میں بعد میں کیا۔ ابا کے سنانے کا مخصوص انداز تھا۔ وہ ڈرامائی انداز میں ان کہانیوں کو بیان کیا کرتے۔ آج محفلوں میں کہانیاں سناتے ہوئے میں کسی حد تک اس انداز کو اپنا نے کی کوشش کرتا ہوں۔ مگر وہ ہنر کہاں سے لاؤں جو ابا مرحوم کے پاس تھا۔ داستانی جراثیم میرے اندر یہیں سے پیدا ہوا۔ وہ چاندنی راتیں ، چھت پر پانی کا چھڑکاؤ، ابا کا داستانی انداز — میں آج بھی کچھ نہیں بھولا۔ آپ نے داستانوں کا مطالعہ نہیں کیا تو آپ اچھا ادب لکھ بھی نہیں سکتے۔ نہ کہانی یا ناول کے کرافٹ سے واقف ہو سکتے ہیں۔ 
نعمان قیصر:گزشتہ دنوں ’آج کل‘ میں ابرار رحمانی نے انکشاف کیا کہ اردو افسانے میں انبار ہے شاہکار نہیں۔ آپ کا کیا خیال ہے ؟
ذوقی:ابرار رحمانی میرے گہرے دوست ہیں ، ان کی بات سر آنکھوں پر، وہ ایک سلجھے ہوئے ذہین انسان ہیں۔ میں نے ابرار کے بیشتر مضامین پڑھے ہیں۔ ابرار اکثر قارئین کے لیے کچھ ایسی فضا پیدا کرتے ہیں جہاں سوالات ہوتے ہیں۔ آپ ابرار رحمانی کی جگہ ہوتے  اور  آجکل کی ڈاک میں روز آنے والی کہانیوں کا مطالعہ کرتے تو شاید آپ کا بھی یہی حال ہوتا قیصر صاحب۔ ایسا نہیں ہے کہ کہانیاں نہیں لکھی جا رہی ہیں۔ ابرار صاحب کا یہ اداریہ میں نے بھی پڑھا تھا۔ میں نے ایک طویل خط بھی لکھا تھا  اور آجکل کے ۴۔ ۳ شماروں میں اداریہ  اور  میرے خط کو لے کر نئی بحث کی شروعات ہوئی تھی۔ پھر اسی موضوع پر میں نے ایک مضمون لکھا جو تحریر نو میں شائع ہوا — کیا 1980کے بعد کہانیاں نہیں لکھی گئیں۔ یہ ہر دور میں ہوا ہے قیصر صاحب۔ شاہکار سامنے کم آتے ہیں۔ انبار زیادہ لگتے ہیں۔ مگر نقاد پڑھتے کہاں ہیں۔ کسی سے بھی پوچھیے تو اپنے خیمے کے چند لوگوں کے سوا کوئی کہانی پڑھی ہی نہیں۔ میں یہ قطعی ماننے کو تیار نہیں کہ میں نے جو کچھ لکھا ہے ، وہ انبار ہے۔ کیونکہ جب اس طرح کا الزام لگایا جاتا ہے تو اس دائرے میں ، میں بھی آتا ہوں۔ مجھ پر لگائے گئے بسیار نویس، زود حس فنکار کے الزامات پرانے ہو گئے۔ میں سال میں ایک یا دو کہانیاں ہی لکھتا ہوں۔  اور  دعوے کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ میں شوقیہ، فیشن کے تحت یا زبردستی نہیں لکھتا۔ میں ہر بار اسلوب  اور  کہانی کی سطح پر نئے تجربے کرتا ہوں۔ یہ تو رہی میری بات۔ مگر ایک بات  اور  جان لیجئے کہ اردو صرف ہندستان میں نہیں ہے۔ پاکستان میں بہت بہتر لکھا جا رہا ہے۔ طاہرہ اقبال نے تو کمال کی کہانیاں لکھی ہیں۔ ہندستان میں شائستہ فاخری، رخشندہ روحی، رحمن عباس، خورشید حیات تک بہت اچھی کہانیاں لکھ رہے ہیں۔ ابھی حال میں شائستہ فاخری کی ایک ایسی کہانی میں نے پڑھی جو مجھے لحاف سے عمدہ معلوم ہوئی۔ سوال یہ ہے کہ آپ پڑھیں گے ہی نہیں تو جانیں گے کیسے کہ کیا لکھا جا رہا ہے  اور  کیا نہیں —  اور  میرا دعویٰ ہے۔ زیادہ تر لوگ نہیں پڑھتے۔ بغیر پڑھے ہی فتویٰ صادر کر دیتے ہیں۔ منٹو  اور عصمت چغتائی کے دور میں بھی کوئی بہت اچھا نہیں لکھا جا رہا تھا۔ اسے آپ یوں کہہ سکتے ہیں کہ بہت کم لوگ تھے جو اچھا لکھ رہے تھے۔  اور  یہ ہر عہد کا المیہ ہے۔ انبار زیادہ لگے شاہکار کم آئے۔ 
رضی احمد تنہا:کیا یہ ممکن ہے کہ ہر تخلیق شاہکار ہی ہو؟
ذوقی:ہر تخلیق شاہکار ہو یہ ضروری نہیں — میر و غالب کی غزلیں ہوں یا چیخوف، موپاساں کے افسانے — لیکن ایک بات توجہ طلب ہے۔ ایک اچھا ادیب اپنی طرف سے کبھی کسی کمزور موضوع کو لے کر افسانہ نہیں بناتا۔ ممکن ہے وہ افسانہ پہلی نظر میں آپ کو متاثر نہ کر پائے مگر یہ بھی غور کرنا چاہئے کہ تخلیق کار نے اسے لکھنے کی ضرورت کو کیوں محسوس کیا ہے۔ ایک بستی خدا کی ہے۔ ایک بستی ہم جیسے لکھنے والوں کی۔ یہاں بھی ہم نئے نئے واقعات  اور  کرداروں سے کھیلتے ہیں۔ یوں تو ذہن و دماغ میں ہزاروں کہانیاں فلیش کرتی ہیں۔ مگر ان ہزاروں کہانیوں میں ہم اپنے نظریہ یا آئیڈیا لوجی کے مطابق کچھ، کا ہی انتخاب کرتے ہیں جنہیں لکھنا ضروری سمجھتے ہیں۔  اور  لکھنا اس لیے ضروری سمجھتے ہیں کہ، کہیں نہ کہیں یہ احساس بھی وابستہ ہوتا ہے کہ اگر یہ کہانی رہ گئی تو تخلیقی کائنات کی تکمیل میں کمی رہ جائے گی۔ کیوں کہ جیسا میں نے پہلے کہا، خدا کی بستی کی طرح ایک بستی ہم تخلیق کاروں کی بھی ہوتی ہے۔  اور  ہم جتن سے محنت سے اس بستی میں ہزاروں لاکھوں کرداروں کو کھڑا کر دیتے ہیں — اس کے باوجود — ہر کہانی شاہکار کا درجہ رکھے یہ ممکن نہیں — لیکن شاہکار، کے ہونے کا فیصلہ کون کرے گا صاحب۔ تنہا صاحب آپ؟ نعمان قیصر صاحب آپ، نقاد یا قاری؟ پریم چند کو کفن پسند نہیں تھی لیکن کفن کو شاہکار کہانی کا درجہ مل گیا۔ 
رضی احمد تنہا:اگر تمام تخلیقات شاہکار ہی ہوں تو پھر کن معنوں میں شاہکار ممکن ہے۔ اب تک آپ کے کتنے ناول شائع ہو چکے ہیں۔ غیر مطبوعہ ناول بھی ہے ؟
ذوقی:شاہکار تو کوئی کوئی ہوتا ہے تنہا صاحب۔ مجھے اپنا ناول پروفیسر ایس کی عجیب داستان وایا سنامی کئی وجوہات کی بنا پر بیحد پسند ہے۔ زیادہ تر لوگوں کو یہ ناول پسند نہیں آیا۔ زیادہ تر لوگ سمجھ ہی نہیں سکے۔ اسی طرح بیان کا مطالعہ آج کرتا ہوں تو مجھے بس ٹھیک ٹھیک لگتا ہے۔ لیکن پروفیسر محمد حسن کو یہ ناول آزادی کے بعد کے تمام ناولوں میں سب سے بڑ الگا — ایک طرح سے دیکھیے تو بیان کا نام ہی میری شناخت بن گیا۔ بیان پر گوشہ نکلا۔ کتاب شائع ہو گئی۔ ناول پر تحریر کیا جانے والا کوئی بھی مضمون بیان کے ذکر کے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔ اس لیے ہمارا کام صرف لکھنا ہے — اچھا لکھنا — شاہکار کا فیصلہ آنے والا وقت کرتا ہے  اور اس میں ہزاروں لاکھوں قارئین کی آراء بھی شامل رہتی ہیں۔ 
عقاب کی آنکھیں میرا پہلا ناول تھا۔ لمحہ آئندہ دوسرا۔ اس کے بعد کئی ناول لکھے — نیلام گھر، شہر چپ ہے ، مسلمان، ذبح، بیان، پو کے مان کی دنیا، پروفیسر ایس کی عجیب داستان وایا سنامی، لے سانس بھی آہستہ  اور آتش رفتہ کا سراغ — آتش رفتہ کا سراغ ابھی غیر مطبوعہ ہے۔ ۷۰۴ صفحات پر مشتمل یہ ناول ممکن ہے آپ کا رسالہ آنے تک منظر عام پر آ جائے۔ یہ ناول ہندستانی مسلمانوں کی آپ بیتی ہے — آزادی کے بعد سے لے کر اب تک مسلمانوں پر جو بھی گزری، اس کا مکمل تجزیہ ہے یہ ناول — ابھی اس ناول کے بارے میں ، میں زیادہ باتیں نہیں کرنا چاہتا۔ اس کے بعد ایک  اور  ناول ہے جو ان دنوں زیر تحریر ہے۔ سرحدی جناح، یہ ناول میں نے سرحدی گاندھی خان عبدالغفار خاں کی زندگی سے متاثر ہو کر لکھنا شروع کیا ہے۔ 
نعمان قیصر:اپنے معاصرین ناول نگاروں میں آپ کی نگاہ میں فعال  اور  عہد حاضر پر گرفت رکھنے والے کون کون ہیں ؟۔ 
ذوقی:معاصرین میں کئی لوگ ہیں جو بہت اچھا لکھ رہے ہیں۔ پیغام نے مکان کے بعد پلیتہ لکھا۔ نور الحسنین نے اہنکار، غضنفر نے پانی  اور  مم۔ شفق اپنے عہد کی Triology قلمبند کرنے والے تھے مگر عمر نے موقع نہیں دیا۔ اب بادل پڑھیے۔ کابوس پڑھیے تو بادل کے کردار ہی کابوس میں سامنے آتے ہیں۔ ۱۱/۹ کا حادثہ۔ راشٹریہ سویم سوک سنگھ، مسلمانوں کو نشانہ بنانے کی سازش۔ کابوس کے ذریعہ شفق گودھرہ حادثے تک پہنچے تھے۔  اور  اس سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے تیسرا ناول قلمبند کرنا چاہتے تھے۔ مگر یہ ممکن نہ ہو سکا — اشرف، ترنم ریاض — سب قابل لوگ ہیں جو اپنی اپنی سطح پر نئی فکر سے گزر رہے ہیں۔ غضنفر نے پانی  اور  مم کے ذریعہ ماحولیات کی ایک نئی دنیا ہمارے سامنے رکھی۔ پاکستان میں حامد سراج  اور طاہرہ اقبال نے عمدہ ناول لکھے — عبدالصمد  اور حسین الحق کے ناولوں پر دفتر کے دفتر کھلے — ممبئی سے ہی رحمن عباس نے ایک ایسا ناول تحریر کیا، جسے میں ایک بیحد ضروری ناول قرار دیتا ہوں۔ ایک ممنوعہ محبت کی کہانی — میں نے اس ناول کے بارے میں یہ اشاریہ دیا تھا کہ یہ ناول اردو کے بڑے ناولوں خصوصاً اشرف شاد کے ناول بے وطن، وزیر اعظم  اور  صدر اعلیٰ کی طرح اردو زبان میں ایک گرانقدر اضافہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ یوں رحمن کے اس ناول کی مکمل فضا کو کن کے مسلمانوں کی ترجمانی کرتی ہے لیکن اصل میں یہ ناول آج حاشیہ پر پھیکے گئے مسلمانوں کی آپ بیتی بھی ہے۔ رحمن نے کوکن کے مسلمانوں کے بہانے آج کی سیاست کو بے نقاب کرنے کی جو ہمت دکھائی، وہ کم لوگوں میں ہے۔ یہی وہ لوگ ہیں جو فعال بھی ہیں  اور  عہد حاضر پر گرفت بھی رکھتے ہیں۔ 
رضی احمد تنہا:آپ کا تازہ ترین ناول ’لے سانس بھی آہستہ‘ ایسا نہیں لگتا کہ یہ آپ کے سابقہ ناولوں سے الگ ہے  اور آپ جیسا با تدبر آدمی تقدیر کی گرفت میں کیسے آ گیا۔  اور  انہونی  اور ہونی جیسے اوہام کا شکار کیسے ہو گیا؟۔ 
ذوقی:مجھے خوشی ہے کہ آپ نے لے سانس بھی آہستہ کا ذکر شروع کیا۔ یہ ناول مجھے بے حد پسند ہے۔ لیکن یہ ناول ہونی انہونی یا تو ہم پرستی کا شکار نہیں ہے۔ میں طلسمی حقیقت نگاری کا شروع سے قائل ہوں — میرے بیشتر ناولوں میں طلسمی حقیقت نگاری کے نمونے آپ کو آسانی سے مل جائیں گے۔ میں محض کرداروں کے سہارے سپاٹ بیانیہ میں ناول تحریر نہیں کر سکتا۔ ناول میں ایسے مقام آتے ہیں جب ایک گھر، ایک خاندان کے کچھ لوگ اوہام پرستی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ دراصل جسے آپ اوہام کا شکار ہونا قرار دے رہے ہیں میں نے اسے ناول میں جادو نگری سے تعبیر کیا ہے — پدرم سلطان بود — تباہ ہوتی ہوئی حویلیاں — نکمے لوگ — نوآبادیات — دنیا کی ترقی —  اور  ایک قوم فقط ۷۰۰ برسوں کی اسلامی حکومت کا قصیدہ پڑھتی ہوئی — قوم کا جب برا وقت آتا ہے تو یہ قوم جادو  اور  اوہام کا شکار ہو جاتی ہے۔ بوڑھی ہوتی حویلی کی تقدیر میں کچھ بھی نہیں ہے۔ عبدالرحمن کاردار آزادی کے بعد کا وہ منظر دیکھتے ہیں ، جسے دیکھنے کے بعد کم عمری کے باوجود وہ سوچتے ہیں کہ یہ منظر دیکھا ہی کیوں۔ حویلی کھنڈر میں تبدیل ہو رہی ہے۔ پرانے زمانے کے ایسے بہت سے لوگ ہیں جنہوں نے خاندانی قصیدہ پڑھتے ہوئے زندگی گزار دی۔  اور  جب حویلی کے پاس کچھ نہیں رہا تو حویلی والوں کو گمشدہ خزانے کا خیال آتا ہے۔ جو قوم کچھ کرنا نہیں چاہتی صرف ماضی کے بھروسے رہتی ہے۔ وہ قوم تباہ ہو جاتی ہے۔ اس لیے تہذیبوں کا نوحہ لکھنے کے لیے میں نے ان کرداروں کا سہارا لیا۔ یہاں میں عبدالرحمن کاردار ہوں جو پہلی بار مضبوط ہو کر سوچتا ہے کہ حویلی فروخت کر دینی چاہئے۔ اس زمانے میں مسلمان، مسلمان سے ہی سودے بازی کیا کرتے تھے — یہی تجارت کا اصول تھا۔ مگر ایک ہندستان میں رہتے ہوئے یہ اصول ٹوٹ رہے تھے۔ پرانے بت ٹوٹ رہے تھے  اور  پرانے متھ یا بت کی جگہ نئی قدریں لے رہی تھیں — میں نے جس موضوع کا انتخاب کیا، مغرب میں بھی اس موضوع پر بحث چھڑ چکی ہے۔ ہٹنگن نے تہذیبوں کا تصادم لکھا۔ ابھی حال میں دی ہندو میں ایک کتاب کا ریویو پڑھا۔ دس برسوں میں بدلے بدلے ہوئے امریکہ کو لے کر ایک ناول ابھی حال میں آیا ہے۔ اس طرح اسامہ  اور  اس کی دہشت پسندی کو لے کر ڈامنک لیپٹر  اور  لاری کالنس نے بھی ایک ناول لکھا۔ میں بدلتی ہوئی قدروں  اور  تہذیبوں کو لے کر وسیع کینواس پر ایک ناول لکھنا چاہتا تھا — مگر محتاط ہو کر — میں تہذیبی ناستیلجیا کا شکار نہیں ہونا چاہتا تھا۔  اور  اس طرح کے ناول قلم زد نہیں کرنا چاہتا تھا، جیسے ناول ڈپٹی نذیر احمد سے لے کر فاروقی تک نے تحریر کیے۔ میرے لیے اس ناول کو لکھتے ہوئے بہت سارے چیلنج تھے ، جنہیں مجھے ہمت کے ساتھ عبور کرنا تھا — 
نعمان قیصر: مثال کے لیے ؟
ذوقی: جیسے ہماری تہذیب — یہ عام طور پر کہا جاتا ہے کہ ہماری تہذیب سے بڑھ کر کوئی تہذیب نہیں۔ مثال کے لیے ، رن صابن کا اشتہار لیجئے۔ میرا کپڑا ان کے کپڑے سے کم سفید کیوں۔ آنکھیں کھولتے ہی گنگا  اور  ہمالیہ کی عظمت کے سبق یاد کرائے جاتے ہیں  اور  اپنی تہذیب کی وکالت کچھ اس طرح کی جاتی ہے کہ مغربی تہذیب تو واہیات ہے۔ میں مسلسل ناول لکھتے ہوئے تہذیبوں کے تصادم سے دوچار رہا۔ سچ کیا ہے۔ جائز  اور  ناجائز کی تشریحات کیا ہیں۔ روسو سے ڈارون تک کے فلسفے — مذہب سے اخلاقیات تک کیا صرف سچ وہی ہے جو ہمارا ہے ؟ یعنی ہمارا مذہب۔ ہمارا لباس۔ ہماری تہذیب  — ؟ مثال کے لیے ایک دشمن ملک کا ایک سپاہی ہمارے ملک میں گرفتار ہوتا ہے تو وہ ہمارے ملک کے لیے کیا ہوا ؟ غدار — لیکن دوسرے ملک کے لیے ؟ وفادار  اور  جانباز سپاہی — دو عورتیں ہیں۔ دونوں بچے پیدا کرتی ہیں۔ ایک کی شادی نہیں ہوئی تو بچہ نا جائز۔ دوسری کی شادی ہوئی تو بچہ جائز — جائز  اور  نا جائز، صحیح  اور  غلط پر مسلسل غور و فکر کرتا ہوا تہذیبوں کی شکستو ریخت تک پہنچنا چاہتا تھا۔  اور  یہ سلسلہ اپنے ملک سے جوڑنا چاہتا تھا۔  اور  مجھے حیرانی ہوئی، میری آنکھوں کے سامنے لے سانس بھی آہستہ کی کہانی پردے پر کسی فلم کی طرح چل پھر رہی تھی۔ 
رضی احمد تنہا: اسے  اور  واضح کیجئے ذوقی صاحب
ذوقی: سمجھاتا ہوں۔ میں ذرا سا پیچھے لوٹا تو تہذیبوں کے شکست و ریخت کی ایک کہانی یہاں بھی روشن تھی۔ حویلیوں کا زوال۔ نوآبادیات کا مسئلہ۔ گھروں میں قید عورتوں نے پہلی بار گھر سے باہر نکلنا کب شروع کیا ہو گا؟ تب عموماً عورتوں کو باہر جانے کی ضرورت نہیں تھی۔ ضرورت کے ہر سامان گھر آ جاتے تھے۔ کپڑے لتے سے لے کر دودھ دہی تک — لے سانس بھی آہستہ میں ایک وہ موڑ آتا ہے جب عبدالرحمن کاردار کی ماں پہلی بار حویلی کا دستور توڑ کر تھانے جاتی ہے۔ کیونکہ گمشدہ خزانہ تو ملا نہیں وسیع الرحمن کاردار کے گھر پہلی بار پولس آئی تھی  اور  ایک مہذب آدمی ڈر گیا تھا — تب سے قدریں مسلسل بدلتی رہیں  اور  عبدالرحمن ان تیزی سے بدلتی ہوئی قدروں کا گواہ بنتا گیا۔ مجھے ارسطو کی یاد آئی جس نے پہلی بار اخلاقی فلسفے کا وہ تعارف پیش کیا جو اس سے پہلے کسی نے پیش نہیں کیا تھا۔ آپ لے سانس بھی آہستہ میں دیکھیں تو Ethics  اور  تہذیب پر شروع ہوئی بحث صرف وہیں تک محدود نہیں رہتی وہ سن ۲۰۱۰ تک کا احاطہ کرتی ہے۔  اور  اس ناول کے لیے اسی لیے میں نے تاریخ کو گواہ بنا کر پیش کیا ہے۔ یہاں بھی ایک نشاۃ الثانیہ کی کرن پھوٹی ہے۔ ادب  اور  آرٹ کی دنیا میں انقلابات آئے۔ تحقیق و جستجو نے اس بات کا احساس دلایا کہ اس سے زیادہ مہذب ترین عہد کوئی دوسرا نہیں ہو سکتا۔ مگر کیا ہو رہا ہے۔ کہیں مذہب جاگ رہا ہے کہیں سیکس  اور  بچے کنزیومر ورلڈ کا حصہ بن گئے ہیں۔ اس لیے عبدالرحمن کاردار جب حویلی سے ہجرت کرتا ہے تو وہ ایک ساتھ ہزاروں نئے واقعات  اور  نئی تہذیب کا بھی گواہ بن جاتا ہے۔  اور  یہیں اس کی ملاقات اس نور محمد سے ہوتی ہے جو محبت کی صحیح تعریف جانتا تھا مگر کیا ہوتا ہے۔ یہ سچی محبت، محبت میں قربانی کا جذبہ ایک دن ان قدروں کی پامالی کا سبب بن جاتا ہے۔ اِسے نور محمد سمیٹنے کی کوشش کرنا چاہتا تھا۔  اور  ایک آئیڈیل محبوب ہونے کے باوجود سب سے زیادہ نقصان میں بھی وہی رہا۔ کیونکہ تہذیب کے جس شکستو ریخت کی کہانی نور محمد کی زندگی نے لکھی تھی، اس سے بھیانک کہانی ممکن بھی نہیں تھی — 
رضی احمد تنہا:لے سانس بھی آہستہ، پڑھ کر کیا ایسا نہیں لگتا ہے کہ آدمی محض قدرت کے مشین کا ایک پرزہ ہے جس میں اس کے اپنے ارادے  اور  آدرشوں کے لیے کوئی مقام نہیں ہے ؟۔ 
ذوقی:آپ نے بالکل کہا تنہا صاحب۔ دراصل یہ سوال ہی میرے ناول کا موضوع ہے۔ آدرش، آئیڈیل یہ ہم بناتے ہیں۔ ہم تنگ نظر  اور  غیر محفوظ لوگ ہیں۔ اس لیے آغاز سے ہی ہم بت بنانے کے عادی رہے ہیں۔ مگر آپ کسے آئیڈیل مانیں گے ؟ ناول کو ہی لیجئے — نور محمد کو یا عبدالرحمن کاردار کو؟  اور  ان دونوں کی کڑیوں کو جوڑنے کے لیے میں نے پروفیسر نیلے کا کردار رکھا ہے — جو کہتا ہے ہم تو کٹھ پتلیاں ہیں۔ تباہ و برباد  اور  آباد تو قدرت کرتی ہے۔ اس لیے جب گاؤں کے نئے اوتار میں عبدالرحمن، نور محمد کو دیکھتا ہے تو کہتا ہے — ماضی کو مت دیکھو — ممکن ہے سچ وہی ہو جو تمہارا آج ہے۔ کیونکہ — ہر نفس نومی شود دنیاو ما — ہر آن ایک دنیا تعمیر ہو رہی ہے۔ دراصل یہ ایک عام غلطی ہے کہ ہم لوگ شروع سے ہی ایک آدرش یا آئیڈیل کا مکھوٹا لگانے کے عادی ہو گئے ہیں۔ سماج سے سیاست تک آدرش  اور  آئیڈیل کے متھ مسلسل ٹوٹتے رہے ہیں۔ اس ملک میں گاندھی کو ہی لیجئے۔ ۵۰ فی صد لوگ اگر گاندھی کی حمایت میں کھڑے ہوتے ہیں تو ۵۰ فیصد گاندھی کی مخالفت میں۔ کہیں کسی کے لیے مذہب ایک آدرش ثابت ہوتا ہے تو کسی کے لیے سیکولرزم  اور  لبرزم۔ سیکولر کردار کے لوگ مذہب کو گالیاں دیتے ہیں  اور  مذہب کو ماننے والے سیکولرزم کو ایک سو کالڈ ڈرامہ، جس کی اس جمہوریت میں کوئی ضرورت نہیں۔ یہاں نہ راہل گاندھی آدرش ہیں نہ انا ہزارے۔ اس لیے لے سانس بھی آہستہ میں آدرش سے سماج  اور  سیاست تک میں نے صرف سوال کھڑے نہیں کیے بلکہ نور محمد کو آئیڈیل کے طور پر پیش کر کے اس بت کو بھیانک  اور  خطرناک طریقے سے توڑتے یا لکھتے ہوئے مجھے بھی وحشت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ بائیسویں صدی کی اس مہذب ترین دنیا کے لیے آدرش ایک مضحکہ خیز لفظ ہے جس کی بنیادیں سالم نہیں بچی ہیں۔ 
رضی احمد تنہا:زیر بحث ناول کا مرکزی کاردار رحمان بابو آزادی ہند کی رات کو ۱۲ بجنے سے ایک گھنٹہ قبل ہی کیوں پیدا ہوا، ایک گھنٹہ بعد کیوں نہیں ؟
ذوقی:بالکل درست۔ دراصل ایسا کرنے کی ایک خاص وجہ تھی۔ یہاں دو اخلاقیات سے عبدالرحمن کاردار کا واسطہ پڑتا ہے۔ آزادی سے آدھا گھنٹہ قبل یعنی ایک غلام ملک کی اخلاقیات۔ اس اخلاقیات میں غلامی  اور  آدرش کے وہ چیتھڑے شامل ہیں ایک نسل جن کا شکار ہوئی تھی۔ آزادی صرف آزادی نہیں تھی۔ ایک لہولہان آزادی تھی۔ ملک کے آزاد ہوتے ہی گاندھی جی تشدد کے واقعات سے گھبرا کر ان شن پر بیٹھ گئے۔ چاروں طرف مار کاٹ مچی تھی۔  اور  اس خوں خرابے سے ایک نئی اخلاقیات یا ایک نئی تہذیب کا جنم ہو رہا تھا۔ عبدالرحمن کاردار یوں تو آزاد ہندستان میں پیدا ہوا لیکن اس کے باطن میں ایک غلام ہندستانی بھی موجود تھا — آزادی کے ۶۵ برسوں میں آزاد مسلمان اس غلامانہ ذہنیت سے باہر نہیں نکل سکے۔ میں خوف کے مسلسل انجکشن کو بھی اسی غلامانہ ذہنیت سے تعبیر کرتا ہوں۔ آج تک مسلمان اپنا ایک حق نہیں لے پائے۔ آزادی کے بعد کے ایک بھی بڑے فیصلے پران کے نام کی مہر نہیں لگی۔ سچر کمیشن صرف رپورٹ پیش کرتی ہے۔ میں ایک آدھے گھنٹے کے پروگرام کے لیے راجندر سچر سے ملا تو ان کے اس جواب سے مجھے مایوسی ہوئی کہ وہ تو ایک سرکاری رپورٹ تھی۔ مسلمان جس رپورٹ کو لے کر مستقبل کے آئنہ میں مضبوط ہونے کی کوشش کر رہے تھے وہ سچر بابو کے لیے ایک معمولی رپورٹ سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتی تھی — اس ملک میں اسی لیے مسلمانوں کی غلامانہ ذہنیت سے فائدہ اٹھا کر انہیں محض ووٹ بینک کا ایک حصہ تصور کر لیا گیا ہے۔ سیاست  اور  سماج میں آج بھی ان کی حصہ داری نہیں کے برابر ہے۔  اور  ظاہر ہے اس صورت میں عبدالرحمن کاردار کے کردار کو پیش کرنا آسان نہیں تھا۔ دراصل اس کردار کے آئنہ میں میں نے اپنی صورت دیکھی ہے۔ ایک مہذب شرمیلا انسان، جو نادرہ کی محبت کو بھی سمجھ نہیں پاتا۔  اور  ایک آسان زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ یہاں تک کہ نور محمد جب نگار سے اپنے تعلق کی داستان مجبور الفاظ کے سہارے بیان کرتا ہے تو عبدالرحمن کاردار یہاں سے ہجرت کر کے پہاڑوں کی زندگی کو اختیار کرتا ہے —  اور  یہ پہاڑ اپنی عظمت کا اعتراف کرتے ہوئے انسان کو اس کی کمتری کا احساس دلاتے ہیں۔ ٹھیک اسی طرح جیسے گولیور جب گھوڑوں کے دیس پہنچتا ہے تو گھوڑے انسانی جسم کا مذاق اڑاتے ہیں۔ میرے لیے انسانی تہذیب کی اس جدید داستان کو قلمبند کرنا آسان نہیں تھا کیونکہ ناول میں کئی ایسے بھیانک موڑ تھے جہاں الفاظ میرا ساتھ چھوڑنے لگے تھے۔ 
رضی احمد تنہا:زیر بحث ناول میں چار نسلیں ہیں — رحمان، بابو، ان کے والد ان کے لڑکے ان کی لڑکیاں — ان چار نسلوں کے جینے کے اپنے آداب ہیں — کیا ایسا نہیں لگتا کہ یہ سارے کردار اپنے ہی طلسم کے اسیر ہیں ؟۔ 
ذوقی:نہیں۔ ایسا نہیں ہے۔ سب سے پہلے کچھ باتیں اپ کو بتانا ضروری سمجھتا ہوں۔ میری کسی بھی کہانی یا ناول کی عمارت ہوا میں معلق نہیں ہے۔ اس ناول کو بھی میں نے مکمل پلاننگ  اور  اسٹریٹیجی کے ساتھ لکھا ہے۔ میں جب بھی کسی ناول کا پلاٹ بنتا ہوں تو سب سے پہلے اس کے کرداروں پر جم کر کام کرتا ہوں۔ فٹ نوٹس لیتا ہوں۔ کتابیں پڑھتا ہوں۔ چھوٹی سے چھوٹی معلومات حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔ اس کے بعد میری کوشش ہوتی ہے کہ ہر کردار کا ٹریٹمنٹ دوسرے کردار سے مختلف ہو۔ یہاں ایک بات  اور  بھی کہنا چاہوں گا۔ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ اردو کہانی میں کردار نہیں ہیں۔ وہ میری کہانیاں یا ناول پڑھ سکتے ہیں۔ بیان کا بالمکند شرما جوش، پوکے مان کی دنیا کا سنیل کمار رائے لے سانس بھی آہستہ کا عبدالرحمن کاردار  اور  نور محمد — میرا دعویٰ ہے کہ ناول ختم کرنے کے بعد بھی یہ کردار دیر تک آپ کے ساتھ چلتے رہیں گے۔ اب آپ کی بات پر آتا ہوں — ناول میں چار نسلیں ہیں۔ اس لیے شروع میں میں نے ان خاندانوں کا شجرہ بھی دیا ہے۔ ان چار نسلوں کے سماجی سیاسی حالات مختلف ہیں۔ ذہنیت مختلف ہے۔ ان کی فکر  اور  ان کی جنگ مختلف ہے۔ دراصل یہی ارتقاء کی ریس ہے جسے میں نے پیش کرنا چاہا ہے۔ سب اپنی اپنی تہذیب کی جنگیں پیش کر رہے ہیں۔ شہر سے نکل کر نور محمد جب گاؤں میں بس جاتا ہے تو وہاں زندگی کی جنگ مختلف ہے  اور  یہ کہنا مشکل کہ کون سی تہذیب سب سے بہتر ہے۔ 
نعمان قیصر:تقسیم ہند  اور  تقسیم ہند کے بعد کے واقعات و حادثات پر اردو میں لامتناہی ذخیرہ موجود ہے  اور  ایسے میں آپ کا بھی اس موضوع پر قدر توسیع کے ساتھ لکھنا کیا اسے دوہرانا نہیں ہے ؟۔ 
ذوقی:قیصر صاحب۔ آپ کی بات حق ہے مگر یہ ایسا موضوع ہے جس پر اگلے سو سال تک مسلسل لکھا جائے تب بھی کم ہو گا۔ ہم جب بھی آزاد ہندستان  اور  شائننگ انڈیا کے مستقبل، سیاسی  اور  سماجی حالات پر غور کریں گے ماضی کی گپھاؤں سے تقسیم کا ناگ سر تو نکالے گا ہی — بابری مسجد، گودھرہ  اور  گودھرہ کے بعد کے واقعات یا ہندستان پر تجزیہ کرنا ہو تب بھی ۶۵برسوں کے ہندستان کا پوسٹ مارٹم تو کرنا ہی ہو گا — تقسیم ہند پر ایک سے بڑھ کر ایک کہانیاں لکھی گئیں — مگر آپ دیکھیے تو سب کی نوعیت  اور  فکر مختلف تھی۔ منٹو اپنے انداز میں سوچتا تھا۔ عصمت  اور  عزیز احمد اپنے انداز میں۔ اپندر ناتھ اشک  اور  سہیل عظیم آبادی کا اپنا انداز تھا۔ اسی طرح خدیجہ مستور سے انتظار حسین تک تقسیم کے مختلف Shades تھے جو سامنے آ رہے تھے۔ اسی طرح میرے ناولوں کی طرف آئیے تو بیان کی مختلف کہانی تھی  اور  لے سانس بھی آہستہ اسی ۶۵ برس کے ہندستان سے تہذیبوں کے تصادم کی ایک بالکل نئی کہانی لے کر سامنے آتا ہے۔ ہندی زبان میں تقسیم کو کم موضوع بنایا گیا۔ لیکن پنجابی  اور  اردو زبان میں آج بھی اس کے اثرات کو لے کر کہانیاں رقم ہو رہی ہیں  اور  آئندہ بھی ہوتی رہیں گی۔ 
نعمان قیصر:اردو فکشن میں قرۃ العین حیدر کے بعد معیارو مقبولیت کے لحاظ سے وہ کون ایسا ناول نگار ہے جس کا نام سر فہرست رکھا جا سکتا ہے ؟۔ 
ذوقی:نعمان قیصر صاحب، اچھا کیا جو آپ نے یہ سوال پوچھ لیا۔ معیارو مقبولیت کا پیمانہ مختلف ہے۔ جو شہرت  اور  مقبولیت قرۃ العین کے حصے میں آئی، وہ کسی  اور  کے حصے میں آنی مشکل ہے۔ ناول سے الگ اگر ان کی ذات کا احاطہ کروں تو قرۃ العین کیا نہیں تھیں۔ مصور بھی تھیں۔ لندن تک ان کی پینٹنگس کی نمائش ہوئی۔ لکھنؤ اسکول سے موسیقی سیکھی۔ ڈاکومینٹری بنائی۔ امپرنٹ  اور  السٹریٹیڈ ویکلی کی ادارت سنبھالی۔ اپنے ناول آگ کا دریا کا انگریزی ترجمہ خود کیا۔  اور  یہ بات سب نے تسلیم کیا ہے۔ قرۃ العین نے مخصوص اسلوب میں اپنے ناولوں میں تہذیب کے المیہ کو ہی قلمبند کیا ہے۔  اور  اس کے لیے انہوں نے تاریخ کے حوالے سامنے رکھے۔ میں یہ ضرور کہنا چاہوں گا کہ بدلتے ہوئے وقت کی رفتار کے ساتھ کہانی  اور  ناول کا مزاج بھی تبدیل ہوا ہے۔ قرۃ العین کے بعد کون؟ اس کا فیصلہ ابھی نہیں ہوا ہے۔ شاید آگے کے دس بیس برسوں میں بھی نہیں ہو گا۔ لیکن بہتر یہ ہے کہ نقاد قرۃ العین کے بعد کے ناولوں کو بھی ایمانداری کے ساتھ پڑھنا شروع کریں۔ کسی قدر ان کے بعد مقبولیت (معیار نہیں ) کے لحاظ سے انتظار حسین کا نام لیا جاتا ہے۔ لیکن نئی تہذیب  اور  نئے تقاضوں کے ساتھ کچھ  اور  بہتر ناول بھی سامنے آئے ہیں۔ جیسے مجھے آسٹریلیا میں مقیم اشرف شاد کے ناول بہت پسند ہیں۔  اور  سب سے ضروری بات یہ ہے کہ نئے ناولوں پر گفتگو کے دروازے کھلنے چاہئیں جواب تک نہیں کھلے ہیں۔ 
نعمان قیصر:اردو ناول میں مسلم تہذیب کی نوحہ خوانی کے علاوہ  اور  بھی کچھ ہے کیا؟
ذوقی:نعمان قیصر صاحب، آپ نے یہ اچھا سوال پوچھا ہے۔ اس لیے کہ یہ سوال اکثر لوگوں کے ذہن میں ہے کہ اردو ناول تہذیب کی نوحہ خوانی سے آگے کا سفر طے نہیں کرتا ہے۔ لیکن یہ آدھا سچ ہے۔ ہندستان سے پاکستان تک اچھے ناول مسلسل لکھے جا رہے ہیں۔ اشرف شاد نے اپنے ناولوں میں جن موضوعات کا احاطہ کیا، وہاں دہشت پسندی ہے۔ ہلاکت خیزی ہے  اور  بدلتا ہوا پاکستانی معاشرہ ہے۔ عاصم بٹ کے ناول دائرے کی فضا مختلف ہے۔ وہاں علاقوں سے کام لیا گیا ہے لیکن یہاں بھی پاکستانی مشنری  اور  حکومت پر گہرا طنز موجود ہے۔ رحمن عباس کے ناول میں کوکن کے مسلمانوں کے تعلق سے آج کے مسلمانوں کا المیہ بیان کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ میرا ناول پوکے مان کی دنیا مختلف تھا۔ عبدالصمد کا مہاتما یا حسین الحق کے ناول بولو مت چپ رہو کے بارے میں بھی آپ یہ بات نہیں کہہ سکتے۔ پیغام کا مکان  اور  پلیتہ دونوں نئے معاشرے کو سامنے رکھتے ہیں۔ سید محمد اشرف کا ہی ناول دیکھیے۔ ہاں کچھ  اور  لوگ اب بھی ایسے ہیں جو ناول میں ان موضوعات سے آگے نہیں بڑھتے۔ نام لینا مناسب نہیں۔ ان کے قد  اور  نام سے ساری دنیا واقف ہے۔ کچھ لوگ ایسے ہیں جن کے پاس ناول لکھنے کے لیے اس سے زیادہ آسانیاں کہیں  اور  ممکن نہیں ہیں۔ اس لیے وہ سہولت کے حساب سے وہی لکھتے ہیں جو وہ لکھ سکتے ہیں۔ ناول کے لیے جو ایک تخیلی دنیا آباد کرنی پڑتی ہے یہ ہنر سب کو نہیں آتا۔ 
رضی احمد تنہا:اردو ناول میں اطراف تقسیم ہند کے علاوہ عہد نو کے چیلنج کا سامنا کرنے کا مادہ اردو کے کن کن ناول نگار میں ہے۔ کچھ مثال دیں تو بہتر  اور  آپ نے عہد نو کے چیلنج کو کس طرح برتنے کی کوشش کی ہے ؟۔ 
ذوقی:تنہا صاحب، نئے عہد میں نئے چیلنج تو ہونگے ہی۔  اور  یہ چیلنج مختلف سطح پر ہوں گے۔ مذہبی، سیاسی، سماجی، تعلیمی — یہ دنیا بدل چکی ہے — مکاری و عیاری کے معنیٰ بدل چکے ہیں — سیاست  اور  سماج کا چہرہ تبدیل ہو چکا ہے — چھوٹے چھوٹے بچے ڈپریشن  اور  ہائپر ٹینشن جیسے مرض کا شکار ہو رہے ہیں۔ ماں باپ  اور  بچوں کی دنیا بدل چکی ہے — ایک طرف دہشت پسندی ہے  اور  دوسری طرف کنڈوم کلچر۔ مسلمانوں کا معاملہ ذرا مختلف ہے۔ کیونکہ اس وقت عالمی نظام میں مسلمانوں کو دہشت کی علامت بنا کر پیش کیا گیا ہے۔ اس لیے وہ مسلمان جو ہندستان میں ہے پاکستان میں یا غیر ملکوں میں — وہ اردو میں لکھتا ہو یا دوسری زبانوں میں — وہ کہیں نہ کہیں دہشت پسندی کے چیلنج کو بھی قبول کر رہا ہے۔ نجیب محفوظ کو پڑھ جائیے۔  اور  ہان پا مک کو — خالد حسین کے ناول — سوال ہے جب ٹارگیٹ آپ ہیں تو اس موضوع سے بچ کیسے سکتے ہیں ؟ افغانستان  اور  عراق کا المیہ سامنے ہے۔ ابھی حال میں لیبیا  اور  دوسرے اسلامی ممالک میں بغاوت کی جو آگ پھیلی ہے اس کا بھی جائزہ لیجئے۔ ابھی حال میں ایک خبر آئی۔ امریکہ نے مودی کو ہندستان کا ہیرو بنا کر پیش کیا۔ یہی امریکہ کچھ سال پہلے تک مودی کو ویزا دیئے جانے کے خلاف تھا — ۱۱؍۹ حادثے کے بعد امریکن کرنسی گریٹ ڈپریشن کا شکار ہو چکی ہے — بش ہوں یا ابامہ ان میں زیادہ فرق نہیں — ان کی ایک ہی منزل ہے امریکیوں کو خوش کرنے کے لیے مسلمانوں کو حاشیے پر پھینکنا۔ آپ غور کریں تو عہد نو کے دوسرے چیلنج اسی چیلنج کی شاخیں ہیں جہاں مسلمان دہشت پسندی کے الزام سے الگ خود کو مضبوط کرتے ہوئے ارتقاء کی ریس میں آگے رہنا چاہتے ہیں۔ اس لیے یہ موضوعات پاکستان سے ہندستان تک مسلسل ہمارے ناولوں کا ایک حصہ بن رہا ہے — پیغام آفاقی نے پلیتہ میں بڑے کنواس پر اسی موضوع کو برتنے کی کوشش کی ہے۔ شفق کے بادل  اور  کابوس کا موضوع بھی یہی تھا — پوکے مان کی دنیا، پروفیسر ایس کی عجیب داستان  اور  لے سانس بھی آہستہ میں میں نے عہد نو کے مسخ شدہ چہرے کو دکھانے کی کوشش کی ہے۔ 
رضی احمد تنہا:میرا ماننا ہے کہ قرۃ العین حیدر کے بعد والی نسل کے نمائندہ فکشن نگار آپ ہیں  اور  اس کے لیے میں آپ کو مبارکباد دیتا ہوں — میں آپ کے شکریے کا خواہش مند نہیں ہوں۔ آپ کو میرے اس خیال پر اعتراض تو نہیں ؟۔ 
ذوقی:یہ آپ کی محبت ہے — ابھی حال میں آفاق عالم صدیقی نے بھی کم و بیش یہی بات میرے فکشن کو لے کر کی تھی۔ مشرف عالم ذوقی اپنے انداز کے سب سے توانا  اور  منفرد افسانہ نگار ہیں۔ تہذیب کی ہر نئی کروٹ  اور  تیز رفتار زندگی سے پیدا ہونے والے ہر مسئلہ پر عموماً ذوقی کی نظر سب سے پہلے پڑتی ہے۔ وہ آج کی زندگی کے ایسے سفاک افسانہ نگار ہیں جو تمام تر معنویت کو جھیلنے کے لیے ہمہ وقت تیار رہتے ہیں۔ وہ سنگین سے سنگین ترین مسائل  اور  پیچیدہ ترین صورتحال پر اتنی خوبصورتی سے افسانے کا محل کھڑا کر دیتے ہیں کہ حیرت ہوتی ہے۔ مشرف عالم ذوقی کی افسانہ نگاری ہو یا ناول نگاری کا معاملہ ان کے تمام ہمعصر  اور  پیش رووں سے مختلف ہے۔ ان کے کہانی کہنے کا ڈھنگ  اور  طریقہ بھی سب سے الگ ہے۔ انہیں اپنے ہمعصروں میں وہی انفرادیت حاصل ہے جو کبھی قرۃ العین حیدر کو حاصل تھی۔ یا جو انتظار حسین کو حاصل ہے۔ کسی نے کہا تھا کہ منٹو، ابن صفی،  اور  یوسفی جو کچھ  اور  جس طرح لکھ سکتے ہیں ضرور ہی لکھ سکتے ہیں دوسرا کوئی نہیں لکھ سکتا یہی بات قرۃ العین حیدر، انتظار حسین،  اور  ذوقی کے بارے میں بھی کہی جا سکتی ہے — مجھ پر اعتراض کرنے والے یا ناک بھوں چڑھانے والے زیادہ تر وہ لوگ ہیں جنہوں نے مجھے پڑھا ہی نہیں یا جنہوں نے میری ۲۵ سال پہلے پڑھی ہوئی کسی کہانی کو پڑھ کر کوئی رائے قائم کی تو اس سے ہٹے نہیں۔ آج بھی اسی رائے پر قائم ہیں۔ مگر وہ لوگ جنہوں نے میری نئی کہانیاں یا نئے ناول پڑھے ہیں اب ان کی رائے میرے بارے میں بہت حد تک بدل چکی ہے۔ میں اتنا ضرور جانتا ہوں کہ میں محنت سے  اور  ایمانداری سے لکھتا ہوں۔ آپ کے خیال پر مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے۔ 
نعمان قیصر:موجودہ عہد میں مذہب  اور  سیکس میں زیادہ کون بکتا ہے ؟
ذوقی:نعمان قیصر صاحب، سچ تو یہ ہے کہ دونوں بکتے ہیں۔ دونوں میں کون زیادہ بکتا ہے۔ میں یہ تو نہیں کہہ سکتا لیکن دہشت پسندی  اور  فرقہ واریت نے مذہب کے بند دروازے کھول دیئے ہیں۔ یہاں ترشول  اور  بھگوا جھنڈے بھی بکتے ہیں۔ دوزخ کا کھٹکا  اور  جنت کی کنجی بھی — 
رضی احمد تنہا:نومولود رسالہ ’ابجد‘ کے بارے میں اپنے تاثرات و خیالات چند الفاظ میں دینے کی زحمت گوارا کریں ؟
ذوقی:ابجد کے لیے میری نیک خواہشات۔ ابجد سے وابستہ ایسے لوگ ہیں جنہیں ادبی دنیا تسلیم کر چکی ہے۔ حقانی القاسمی ہوں یا رفیع حیدر انجم — یا آپ ہوں — آپ کی فوج میں نعمان قیصر جیسے نوجوان بھی شامل ہیں جو محنتی ہیں صحافت  اور  ادب سے وابستگی ہے  اور  کچھ کر دکھانے کے خواہشمند ہیں۔ ابجد کی روز افزوں ترقی  اور  مقبولیت کے لیے دعا کرتا ہوں۔ 
٭٭٭

پروفیسر ایس کی عجیب داستان وایا سونامی کے بہانے مشرف عالم ذوقی سے ایک مختصر گفتگو

رحمان شاہی

سوال:میرا پہلا سوال، آپ نے اب تک کتنے ناول لکھے ؟
٭ ’’عقاب کی آنکھیں ‘‘میرا پہلا ناول تھا، جو میں نے محض سترہ سال کی عمر میں لکھا۔ بیس سال کی عمر تک میں ’’لمحۂ آئندہ‘‘ اور  ’’نیلام گھر‘‘ لکھ چکا تھا۔ اس کے علاوہ ’’شہر چپ ہے ‘‘ ’’ذبح‘‘ ’’بیان‘‘ ’’پوکے مان کی دنیا‘‘ ’’مسلمان‘‘ ’’پروفیسر ایس کی عجیب داستان‘‘ شائع ہو چکے ہیں۔ 
سوال: سارے مطبوعہ ہیں ؟
٭ ’’عقاب کی آنکھیں ‘‘سن 2006 میں منظر عام پر آ جائے گا۔ ’’اردو‘‘ لکھ رہا ہوں۔ سب سازندے ابھی غیر مطبوعہ ناول کی فہرست میں ہے۔ 
سوال:آپ کا سب سے اچھا ناول آپ کی نظر میں ؟
٭ ’’سب سازندے ‘‘___ یہ ہندستانی مسلمانوں کی آپ بیتی ہے۔ ممکن ہے میں ڈاکٹر محمد حسن کی اس بات کو سچ کر دکھاؤں کہ اُردو میں اگر کوئی تالستائے ہے تو وہ آپ ہیں  اور  آپ ہی مسلمانوں کو لے کر ’’وار اینڈ پیس‘‘ جیسا شاہکار دے سکتے ہیں۔ 
سوال: قاری کی نظر میں ؟
٭قاری کی نظر میں جس ناول کو سب سے زیادہ مقبولیت ملی، وہ ’’بیان‘‘ ہے۔ 
سوال:کس ناول کا سب سے زیادہ Response ملا؟
٭ ’’بیان‘‘ ’’پوکے مان کی دنیا‘‘ کا ریسپانس سب سے زیادہ ملا۔ 
سوال:پروفیسر ایس کی عجیب داستان — کی تخلیق کے پیچھے آپ کے تخلیقی محرکات کیا تھے ؟
٭تخلیقی محرکات ___ سچ تو یہ ہے کہ میں ایک لمبے عرصے سے اِس ناول پر غور کر رہا تھا، مگر مجھے ناول کو مکمل طور پر اپنی گرفت میں لینے کے لئے کوئی راستہ نہیں مل رہا تھا۔ راستہ اچانک ملا۔ 26؍دسمبر2004 سونامی کے حملے نے جیسے ناول کا مکمل تانابانا بُن لیا۔ دراصل بہت پہلے ہرمن ہیسسے کا ناول ’’ڈیمیان‘‘ پڑھتے ہوئے میں ’’سپرمین‘‘ سے  انسپائر ہوا تھا۔ برنارڈشا کے یہاں بھی جا بہ بجا اس سوپرمین کے اشارے ملتے ہیں۔ ہرمن ہیسسے کا خیال تھا کہ ہم میں سے ہر شخص کی زندگی اُس راستے کی نمائندگی کرتی ہے جو خود اس کی طرف جاتا ہے۔ کوئی بھی شخص اپنے آپ میں مکمل نہیں ہے۔ پھر بھی وہ اپنے مکمل ہونے کا بھرم پال لیتا ہے۔ پھر اِس بھرم کے ساتھ اپنی زندگی گزارتا رہتا ہے۔ یہیں سے میں نے Ultra-humanکا Concept لیا ___ دراصل آج کا سب سے بڑا ہیرو موسم ہے۔ ہم سب خوفناک یا پھر کسی حد تک خوشگوار تبدیلیوں سے گھر گئے ہیں۔ میں ’موسم‘ کو ہیرو کی طرح پیش کرنا چاہتا تھا۔ میں دیکھ رہا تھا کہ ہمارا سسٹم کرپٹ ہو چکا ہے۔ نئی ٹیکنالوجی عام آدمیوں کو کمزور  اور  بیکار کرتی جا رہی ہے۔ ایک معمولی روبوٹ عام انسان پر بھاری پڑتا ہے۔ انٹرنیٹ، سائبر کرائم سے لے کر جینوم  اور  کلوننگ پروسیس تک آنکھ کھول کر دیکھئے ___انسان اپنی ایجادوں کی روشنی میں اگر فاتح ہے تو وہیں وہ ہارا ہوا بھی ہے۔ وہ اپنے جیسے کلون بناتا ہے  اور  آئن اسٹائن سے لے کر اب تک کے سائنسداں اِس پر بھی مغز ماری کرتے ہیں کہ خدا کے وجود سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ خدا کے کاموں میں دخل نہیں دیا جا سکتا۔ اسی لئے کلوننگ پروسیس کو ابھی تک انٹرنیشنل قانون نے عام انسانوں کے لئے Approve نہیں کیا ہے۔ حال میں ہنگامہ ہوا کہ برین ڈاؤن لوڈ کیا جا سکتا ہے پچاس یا سو سال کے بعد کوئی بھی نہیں مرے گا۔ نئی دنیا کا ایک بھیانک تصور اِن سب سے الگ میزائل  اور  ایٹم بم بنا لینے کے راستوں سے بھی گزرتا ہے۔ امریکہ جیسے ملک اس بات سے بھی ڈر رہے ہیں کہ آج چھوٹے چھوٹے ملکوں نے بھی نیوکلیائی، ایٹم بم  اور  دوسرے نیوکلیائی ہتھیار تیار کر لئے ہیں۔ کہتے ہیں آج عدم تحفظ کی فضا کو لے کر امریکی پریشان ہیں۔ ایک مثال  اور  دیکھئے غیر معمولی طور پر امریکہ  اور  یوروپ کے ملکوں میں صوفیانہ کلام مشہور ہو رہا ہے۔ امریکہ میں مولانا روم کا صوفیانہ سنگیت اِس قدر مشہور ہو رہا ہے کہ امریکی اِس موسیقی پر ناچ رہے ہیں۔ دراصل خدا واپس آ گیا ہے۔ ایک بار پھر خدا کے خوف نے گرجا گھروں میں لوگوں کی آمدورفت بڑھا دی ہے۔ 
 ’سونامی‘ لکھتے ہوئے میں بار بار ان حادثوں سے گزرا کیونکہ نئی اُلفی یا نئے ہزارا کی سب سے بڑی دریافت ہے خدا۔ خدا، جو واپس آچکا ہے جو سب کچھ دیکھ رہا ہے  اور  جو سب کچھ فنا کر سکتا ہے۔ اس لئے ہزا رہا ترقی کے باوجود ایک لہر سونامی آتی ہے  اور  سب کچھ بہا کر لے جاتی ہے۔ ایک معمولی سا زلزلے کا جھٹکا آتا ہے  اور  پاکستان کا ایک شہر مظفر آباد دیکھتے ہی دیکھتے مردہ انسانوں کا قبرستان بن جاتا ہے ___ سونامی کے بعد بھی قدرتی تباہی کے دروازے بند نہیں ہوئے ___ ریٹا، کیٹرینا، ویلومی ___ چینئی میں بارش کا عذاب، ممبئی میں بارش کا قہر ___ ’پروفیسر ایس‘ لکھتے ہوئے میں بار بار اسی خیال سے گزر رہا تھا، کہ ہمارا مکمل سسٹم اگر کرپٹ ہو گیا ہے تو اس میں ہماری تیز رفتار ترقی کو بھی دخل ہے ___ اس لئے کہ سوپر نیچرل  اور  سب کچھ دیکھ رہا ہے  اور  یہ کرپشن زندگی کے ہر شعبے میں ہے ___ اسی لئے ابھی حال میں ایک امریکی صحافی نے صارفیت کے موضوع پر کتاب لکھتے ہوئے کہا کہ جدید دور کا خاتمہ ہو چکا ہے ___ ہم ایک بار پھر پرانے دور میں داخل ہو چکے ہیں  اور  اس پرانے دور کا ہیرو، رئیل ہیرو ہو گا۔ خدا ___
قاعدے سے دیکھیں تو سونامی میں جا بجا میری اِس فکر کے اشارے ملتے ہیں۔ ایک طرف ہمارا Cultural Pollution ہے تو دوسری طرف Literary Pollution۔  اور  ان کے درمیان ہے۔ ہمارا الٹرا ہیومین یعنی پروفیسر صدر الدین پرویز قریشی۔ جو جذبات  اور  احساس کو خاطر میں نہیں لاتا۔ لیکن وقت کے دھارے میں یہی چیز اس کو آہستہ آہستہ کھوکھلا  اور  کمزور کرتی چلی جاتی ہے۔ پھر وہ ایک بھیانک سائیکی کا شکار ہو جاتا ہے ___ غور سے دیکھیں تو اس ناول کا کینوس کافی بڑا ہے۔ ایک پوری دنیا میرے سامنے ننگی ہے۔ روس کا ٹوٹنا بکھرنا، مذہب کی طرف واپسی، زندگی کی جدوجہد، محبت، جنگ، بے وفائی  اور  مضبوطی کے تین مونولاگ۔ میں نے عصری شعور کے ساتھ اِس ناول کو آج کے عہد میں جینے کی کوشش کی ہے۔ 
سوال:آپ کے گزشتہ ناولوں کے برعکس اس ناول میں کوئی اہم سیاسیو سماجی مدا نہیں اٹھایا گیا۔ اس کی کیا وجہ ہے ؟
٭تخلیقی محرکات پر ہونے والی گفتگو کے بعد اب آپ یہ نہیں کہیں گے کہ میں نے گذشتہ ناولوں کے برعکس اِس ناول میں کوئی اہم سیاسی  اور  سماجی مدّا نہیں اُٹھایا ہے۔ ’’پوکے مان‘‘                                                                                                                                 کی اگلی کڑی کے طور پر میں نے اِس بھیانک سوچ کو ’’پروفیسر ایس کی عجیب داستان‘‘ میں پیش کیا ہے۔ ہاں ! اتنا ضرور کہنا چاہوں گا کہ یہ ناول بہت غور سے  اور  ٹھہر ٹھہر کر پڑھنے کی چیز ہے کیونکہ قدم قدم پر میں نے اِس ناول کو اِس وقت کی سب سے بڑی فکر سے جوڑنے کی کوشش کی ہے۔ اس لئے سیاسی  اور  سماجی شعور کے بغیر میں قلم اُٹھانے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا۔ 
سوال:اس ناول کے کرداروں کے نام بعض ادبی شخصیات کے نام کا چربہ لگتے ہیں۔ یہ ناول کسی ادبی تنازعہ کا Result تو نہیں ؟
٭میں جانتا تھا، اِس ناول کے تعلق سے یہ بات اُٹھے گی کہ یہ ناول کسی ادبی تنازعہ کا نتیجہ تو نہیں۔ ذرا غور کیجئے ادبی تنازعے کو اِس ناول میں کتنے صفحے ملے ہیں۔ ادبی پولیوشن کا ذکر اس لئے ضروری تھا کہ جب ادب بھی پولیوٹیڈ ہو چکا ہے تو باقی کیا رہ جاتا ہے۔ اس لئے میں نے ادب کو بھی ’سونامی‘ کا شکار بنایا  اور  جب شکار بنایا تو ادب کے لٹیرے میری نظروں کے سامنے آ گئے۔ نام لینا ضروری نہیں سمجھتا۔ لیکن برسوں سے ادب کی لوٹ جاری ہے۔ ادب ایک مافیا بن چکا ہے۔ ادیب اگر بڑے عہدے  اور  رتبے پر ہے تو زبان کا نا جائز استعمال کر رہا ہے۔ مجھے بتائیے آخر اِس Pollutionکے خلاف مجھے آواز بلند کیوں نہیں کرنی چاہئے تھی۔ میں نے ’سونامی‘ کا سہارا لیا  اور  پتھر اُچھال دیا۔ یہ شروعات ہے۔ ’اردو‘ میں  اور  بھی کئی چہرے بے نقاب ہوں گے۔ انتظار کیجئے۔ 
سوال:اس ناول میں ’سونامی‘ کا واقعہ اصل کہانی سے Matchنہیں کرتا  اور  قاری کو تقریباً سو صفحات کی مشقت اٹھانی پڑتی ہے ___ کیا آپ اس سے متفق ہیں ؟
٭ Matchنہیں کرنے کا سوال ہی نہیں ہے۔ ’سونامی‘ پر 100صفحات سے زائد اسی لئے خرچ کئے گئے کہ یہاں ’سونامی‘ ایک علامت ہے۔ ذرا البیر کامو کی ’پلیگ‘ دیکھئے ___ پلیگ پھیل رہا ہے ___ ایک جنگ شروع ہوتی ہے۔ Survival for Existance ___ پورے ناول میں پلیگ کا اثر ہے  اور  زندگی کی کشمکش جاری ہے۔ الکزنڈر سولنسٹین کا کینسر وارڈ  اور  گلاگ آرکیپلاگو اٹھا لیجئے ___ ’موبی ڈک‘ دیکھئے ___ دی اولڈ مین اینڈ دی سی ___ زندگی  اور  کشمکش کو پیش کرنے کے لئے یہ ایک شارٹ کٹ راستہ ہے ___ کینسر وارڈ کا ہر باب مختلف ہے ___ پھر بھی یہ ایک مکمل ناول ہے  اور  ساری دنیا اس میں ننگی نظر آتی ہے ___ اسی لئے دنیا داری سے مذہب، سماج  اور  سیاست کے تعلق سے ہر چہرہ بے نقاب کرتے ہوئے مجھے ’سونامی‘ لہروں کی ضرورت تھی، جو سب کچھ بہا کر لے گئی ہے  اور  سونامی کے بعد ؟ موت کو کیش کیا جا رہا ہے۔ عام انسان سے حکومت تک۔ اِسی لئے پروفیسر ایس کو کہنا پڑتا ہے ___
 ’’موسیو، موت کے بعد بھی زندگی چلتی رہتی ہے ___ سونامی سے جہاں نقصان ہوا ہے وہاں فائدے  اور  روزگار کے نئے نئے دفتر کھل رہے ہیں۔ اب ایسے مجھے چونک کر مت دیکھئے موسیو ___ سمندر میں ہزاروں طرح کے روزگار چھپے ہیں ___ بایواسنیوگرافی، فزیکل اسنیوگرافی، مرین کیمسٹری  اور  آگے بڑھئے موسیو ___ سمندری غذا، سمندری علاج، سمندری کھیل، موتیوں کی تجارت___ سونامی لہریں موت دیتی ہیں تو آپ کو زندگی بھی دیتی ہیں ___ ذرا لہروں سے نکل کر ساحل پر جا کر دیکھئے ___ زندگی سے لبریز لوگ ہنستے گاتے قدرتی لباس میں مساج یا سن باتھ لیتے ہوئے ___ موسیو، مجھے تعجب اِسی بات پر ہے کہ آپ موت کھوجتے رہے  اور  میں سمندر سے زندگی تلاش کرتا رہا ___ موت کے ہر ڈر کے بعد زندگی کے دس راستے کھل جاتے ہیں۔‘‘
ایک مثال  اور  دیکھئے ___
 ’’موسیو، وہ ساری پیشن گوئیاں اب صحیح ثابت ہو رہی ہیں۔ ریگستان پھیل سکتے ہیں ___ مونگے کی چٹانیں غائب ہو سکتی ہیں۔ گرم ہوائیں اپنا رُخ بدل سکتی ہیں ___ دنیا کا ایک بڑا حصہ برف میں گم ہو سکتا ہے ___  اور  ایک بڑے حصے کو دھوپ کی ہر پل بڑھتی ہوئی شدت جھلسا کر راکھ کر سکتی ہے ___ انٹارکٹیکا میں گھاس اُگ سکتی ہے ___ گلیشیر پگھلنے لگیں گے ___ چھوٹے چھوٹے ندی تالاب میں ان کا پانی بھر جائے گا  اور  یہ سمندر سے بھی زیادہ بھیانک ہو جائیں گے ___ موسیو، ممکن ہے تب بھی یہ دنیا قائم رہے ___ ایک مرد  اور  ایک عورت جیسے ___ اُس اطالوی فلم میں دکھایا گیا تھا ___ بس ایک مرد  اور  ایک عورت ___ ساری دنیا ختم ہو چکی ہے ___ لیکن دنیا بننے کا عمل جاری ہے ___ کیونکہ ہم ہیں ___ گلیشیر کے ٹوٹنے بھیانک زلزلے سونامی کے قہر کے باوجود ہم میں جینے کی طاقت موجود ہے ___ مگر آہ، موسیو، ابھی کچھ دیر پہلے جو کچھ ہوا وہ آگے نہیں ہونا چاہئے ___‘‘
زندگی  اور  موت کی کشمکش کے یہ اشارئیے ناول میں قدم قدم پر ملتے ہیں۔ اس لئے یہ ناول کا سب سے ضروری حصہ ہے ___ ’ہاں ‘ یہاں آپ کو ٹھہرنا پڑے گا۔ کیونکہ پروفیسر ایس پہلی بار انہی سونامی لہروں کے درمیان بے نقاب ہوتا ہے۔ حکومت کرنے کے دو اہم مونولاگ سے اُس کا سابقہ یہیں پڑتا ہے۔ اپنے کلون یعنی پرویز سانیال اِسی سونامی سے اپنے اندر ایک مضبوطی پیدا کرتا ہے  اور  الٹرا ہیومین کا کینسپٹ (Concept) بھی یہیں ٹوٹتا ہے۔ 
سوال:پروفیسر ایس، جو اس ناول کا بنیادی کردار ہے حکومت کرنے کے لئے اپنا ایک کلون تیار کرنا چاہتا ہے یا یہ کہا جائے تو غلط نہ ہو گا کہ وہ ایک ایسا انسان تیار کنا چاہتا ہے جو جذبات سے عاری ہو یا شاید وہ انسان کو Dehumanise کرنا چاہتا ہے  اور  ہوتا ایسا ہے کہ جس نوجوان کو وہ Dehumanise کرنے کا سبق پڑھاتا ہے وہی اس کا قتل کر دیتا ہے۔ تو کیا یہ سمجھا جائے کہ پروفیسر ایس اپنے مشن میں کامیاب ہوا؟ یعنی یہ ممکن ہے کہ انسان کو Dehumanise کیا جا سکے ؟
٭گابرئیل گارسیا مارکیز نے اپنے ایک ناول میں لکھا کہ ہم یہاں فطرت کو شکست دینے آئے ہیں لیکن آپ جانئے اس کا دوسرا پہلو ہے کہ آپ فطرت کو شکست نہیں دے سکتے۔ فطرت لگاتار آپ کو Dehumanise کر رہا ہے۔ آپ ترقی  اور  ایجادات کے نئے راستے تلاش کرتے ہیں  اور  قدرت سکنڈ میں آپ کو تباہو برباد کر دیتی ہے۔ تعمیر کے ہر شعبے میں تخریب کی پیوند لگی ہے۔ Theory of deconstruction ___آپ ہتھیار بناتے ہیں امن کے لئے ملک کی سلامتی کے لئے  اور  ڈر جاتے ہیں کہ دوسرے ممالک نے بھی ایسے ہتھیار تیار کر لئے ہیں۔ کہیں کوئی بھی محفوظ نہیں ہے۔ پروفیسر ایس اپنے مشن میں کامیاب ہوہی نہیں سکتا تھا کیونکہ اُس کا کلون بغاوت پر آمادہ تھا۔ برسوں پہلے ایچ جی او پلس نے ایک ناول لکھا تھا۔ نام اِس وقت یاد نہیں آ رہا ہے۔ انسان نے اپنی چھوٹی چھوٹی ضرورتوں کے لئے بھی روبوٹ تیار کر لئے ہیں  اور  ایک دن یہ روبوٹ انسان کے خلاف جنگ کا اعلان کر دیتے ہیں ___ انسان بڑی بڑی مشینیں ایجاد کرتا جا رہا ہے  اور  ہر بڑی ایجاد کے ساتھ اُس کا اپنا قد، مائیکرو ہوتا جا رہا ہے یقیناً ایک دن وہ یا تو مارا جائے گا یا پھر دھماکے اُسے ہوا میں تحلیل کر دیں گے۔ یہی ہے اُس کی ترقی کا آخری پڑاؤ ___ Dehumanisation اِسی لئے ناول کے آخر میں پروفیسر ایس کو مرنا ہی تھا  اور  پروفیسر ایس مرا بھی کہاں۔ اُس کی اپنی خطرناک سائیکی نے اُس کی جان لے لی___ اردو کے مشہور ناول نگار جوگیندر پال نے ناول کی کامیابی کا ذکر کرتے ہوئے کہا ___ پروفیسر کے کمرے کی کھڑکی ایک ایسا بلیغ اشارہ ہے جہاں ہم سب کی سانس پھول جاتی ہے۔ تم نے اتنا بھیانک منظر کیسے لکھا ___
یہ پال صاحب کی محبت ہے۔ مجھے لگتا ہے قدرت کے ہاتھوں ہم سب کھلونا ہیں۔ حقیر کھلونا۔ شاید اسی لئے مجھے اپنے الٹرا ہیومین کو Dehumanise کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی۔ 
سوال:گذشتہ برسوں میں اردو میں کئی ناول آئے ہیں۔ آپ ان میں سے کن ناولوں سے مطمئن ہیں ؟  اور  کیوں ؟
٭وحید احمد کا ناول ’زینو‘ ایک شاہکار ناول ہے۔ کئی اعتبار سے یہ ناول آگ کے دریا سے بھی بڑا ہے۔ یہ ناول پاکستان میں ایک سال پہلے شائع ہوا۔ یہاں بھی وقت ہیرو ہے۔ ’زینو‘ ایک ایسا کردار ہے جو ہر عہد میں بدلے بدلے کرداروں کے ساتھ جنم لے رہا ہے۔ وہ گوتم بدھ بھی ہے اُسامہ بن لادن بھی ___ ناول میں ایک عجیب و غریب زبان استعمال ہوئی ہے۔ میں کہہ سکتا ہوں کہ میں نے اردو میں اتنا بھر پور فکشن اِس سے پہلے نہیں پڑھا۔ اِس کے علاوہ اشرف شاد کا ’بے وطن‘ وزیر اعظم‘ عاصم بٹ کا ’دائرہ‘  اور  مصطفی کریم کا ناول ’طوفان کی آہٹ‘ ممبئی سے رحمان عباس کا ایک چونکانے والا ناول آیا ہے۔ یاروں نے اُس ناول کو پورنو ناول کا درجہ دے دیا۔ مجھے ایسی سوچ رکھنے والوں پر ترس آتا ہے۔ ناول لکھنے کے نتیجہ میں رحمان عباس کو نہ صرف اُس اسکول سے نکالا گیا جہاں وہ پڑھایا کرتا تھا بلکہ ممبئی کے ایک اخبار ’’اردو ٹائمس‘‘ نے تو اُسے ’کافر‘ بھی قرار دے دیا لیکن فکریہ اعتبار سے رحمان کا یہ ناول بھی متاثر کرتا ہے ___ یہ سارے ناول بڑے ہیں۔ بڑے اس لئے ہیں کہ اِن میں بڑی فکر ہے۔ ایسی فکر جو ہمارے یہاں نہیں ہے۔ ہندستان میں عبدالصمد کا ’دھمک‘  اور  ترنم ریاض کے ناولٹ ’مورتی‘ کو میں اچھے ناولوں میں شمار کرتا ہوں۔ 
سوال: کیا آپ کے پاس نئے ناول نگاروں کے لئے کوئی Messageہے ؟
٭پیغام دینا میرا کام نہیں ہے۔ 
سوال:اردو میں ناولوں کی اشاعت ہو تو رہی ہے لیکن تعداد کے لحاظ سے اس کی رفتار بہت سست ہے۔ اس کی کیا وجوہات ہو سکتی ہیں ؟
٭ناول لکھنا ایک مشکل کام ہے جو لوگ پانچ سال میں ایک ڈھنگ کی کہانی نہیں دے سکتے اُن سے آپ ناول لکھنے کی امید کیوں کرتے ہیں ؟
سوال:اردو میں افسانہ لکھنے والوں کی ایک بڑی تعداد ہے لیکن بہت کم افسانہ نگاروں نے ناول کی طرف مراجعت کی ہے ؟ کیا ناول لکھنا بہت دقت طلب ہے ؟ کیا افسانہ نگار اتنی محنت نہیں کرنا چاہتے ؟
٭آج کوئی بھی محنت کرنا نہیں چاہتا۔ پڑھنا نہیں چاہتا، اس لئے ناول کون لکھے گا۔ ہاں یہ اطمینان ہے کہ پاکستان میں اچھا ادب لکھا جا رہا ہے۔ ہندستان کا دامن اچھے ادب سے لگ بھگ خالی ہو چکا ہے۔ کوئی فعال نہیں ہے۔ بس گنتی کے چند لوگ عبدالصمد، شوکت حیات، ترنم ریاض ___ ممبئی میں سناٹا ہے۔ سلام بھائی  اور  علی امام نقوی کا بھی قلم خاموش ہے۔ اِس سناٹے سے ہول آتا ہے۔ 
٭٭٭




بیان   اور ذوقی
ایک مکالمہ

ڈاکٹر مشتاق احمد

گفتگو بیان سے شروع ہوئی لیکن اردو ادب کے مختلف گوشوں تک پھیلتی چلی گئی___ اتنا غصہ، اتنی آگ؟ شاید اس مکالمہ سے قبل میں اس نئے ذوقی سے واقف ہی نہیں تھا۔ ذوقی نے بتایا، کالج کے دنوں میں جب وہ آ رہ میں تھے، کہانی سوڑ باڑی پڑھ کر ڈاکٹر محمد حسن کا ایک خط ملا تھا۔ ’اپنے اندر کی چنگاری کو بجھنے مت دینا‘۔ ۴۳ سال کی عمر ہو جانے کے باوجود ذوقی نے یہ چنگاری اب تک بجھنے نہیں دی ہے۔ اس گفتگو میں ذوقی کھل کر بولے   اور خوب بولے ___    اور ان میں کچھ باتیں ایسی بھی ہیں، جس کا اظہار ذوقی نے شاید پہلی بار اس بات چیت میں کیا ہے۔ 
مشتاق احمد :  آپ کا تعارف یا آپ کی کتابوں کے بارے میں کسی کو بھی بتانے کی ضرورت نہیں ہے۔ تو کیوں نہ سیدھے، بات بیان سے ہی شروع کی جائے۔ 
ذوقی :  آپ بات کہیں سے بھی شروع کریں گے، ذوقی کی بات آئے گی تو ’’بیان‘‘ کا تذکرہ ہو گا ہی___
مشتاق احمد :  تو کیوں نہ ’’بیان‘‘ کے پس منظر کے بارے میں کچھ بات کر لی جائے ___
ذوقی :  منظر   اور پس منظر کے بارے میں، میں نہیں جانتا۔ آنکھیں کھولیں تو بہار میں دنگے بھڑک رہے تھے۔ اس زمانے میں دنگے ہونا کوئی بڑی بات نہیں تھی۔ میں جین اسکول آ رہ میں پڑھتا تھا۔ وہاں کے بچے، مسلمانوں کے بارے میں جو رائے رکھتے تھے، اس سے تکلیف ہوتی تھی۔ پیچھے مڑ کر دیکھتا ہوں تو جیسے صدیاں گزر گئیں معلوم ہوتی ہیں۔ لیکن لگتا ہے، آزادی کے بعد نفرت کا کہرا چھٹا نہیں ہے۔ وہ دلوں میں گھر کر گیا ہے۔ بابری مسجد تو ۱۹۹۲ء میں شہید ہوئی۔ گجرات کا زخم تو حالیہ ہے ___ لیکن آ رہ شہر میں برسوں پہلے میں کیا دیکھ رہا تھا، جس نے بعد میں مجھ سے نہ جانے کتنی کہانیاں   اور ’’مسلمان‘‘ جیسا ناول بھی لکھنے پر مجبور کیا۔ دوستی   اور محبت کی رسم نبھاتے ہوئے بھی لگتا تھا، گھر   اور باہر کی دنیا دو مختلف دنیائیں ہیں۔ آدمی ایک ہوتا ہے۔ لیکن گھر میں زبان مختلف   اور باہر کی زبان مختلف ہوتی ہے۔ آدمی اتنا دوغلہ ہوتا ہے کیا___؟ باہر کا ترقی پسند گھر کے دروازے پر پہنچتے ہی ہندو   اور مسلمان بن جاتا تو خود پر رونا آتا۔ سچّائیاں کیوں نہیں لکھتے ہو تم؟ بولو___ جھوٹ لکھتے ہو۔ اس لیے کہ جھوٹ لکھنے پر مجبور ہو۔ اور تو   اور جب نوکری کرنے لگ جاؤ گے تو سرکاری پابندیوں کی قید میں وہی لکھنے پر مجبور ہو گے جو حکومت چاہتی ہے۔ بچپن میں ہی طے کر لیا تھا___ سرکاری نوکری نہیں کرنی ہے مجھے ___ اتنا غصہ، اتنی آگ تھی کہ پریشان رہتا تھا۔ جھوٹ برداشت نہیں کر سکتا تھا___ نوجوانی کے زمانے میں منٹو، اقبال مجید کے بعد والی نسل کی کہانیاں پڑھتا تو رونا آتا تھا۔ وہ زمین کہاں ہے ؟ جھوٹ لکھتے ہیں سب کے سب___ اس لیے کہ سچ لکھ ہی نہیں سکتے۔ پھر ایسی کہانیاں لکھنے سے فائدہ___ بچپن میں طے کر لیا تھا کہ جو کچھ یہ آنکھیں دیکھ رہی ہیں، اس سچ سے منہ چھپانے کی کوشش نہیں کروں گا۔ مشتاق صاحب، اسی لیے میری شروعات کی کہانیاں دیکھ لیجئے، ان میں بہار کے دنگے ہیں۔ ہنگامے ہیں۔ دہشت ہے   اور سماج   اور سیاست کا ننگا سچ ہے ___ آزادی کے ۱۵ برس بعد ۱۹۶۲ء میں، میرا جنم ہوا۔ کتابوں   اور بڑے بزرگوار کے منہ سے غلامی کی جو کہانیاں سنیں   اور پڑھیں، اس کا بھی اثر تھا۔ اور پھر آ رہ کے گلی کوچوں، جین اسکول   اور وہاں سے گھر کی چہار دیواری تک واپس آتے ہوئے میں جس سچ سے آپ گزر رہا تھا، اسے لکھنا میرے لیے ضروری ہو گیا تھا۔ ایک خاص بات بتاؤں۔ ۱۹۸۳ء مظفر پور میں امی کا انتقال ہوا۔ میں اس زمانے میں کالج، شاید گریجویشن کے دوسرے سال میں تھا۔ امّی جیسی ہستی الوداع کی گھاٹیوں میں ہمیشہ کے لئے گم ہو گئی تھیں   اور میں ___ دنگے کی کہانی لکھ رہا تھا۔ مجھے تسلّی مل رہی تھی۔ امّی، اچھا کیا، جو تم یہ شہر، یہ دنیا چھوڑ کر چلی گئی۔ یہ رہنے والوں کی جگہ ہی نہیں ہے ___ میں مانتا ہوں۔ یہ نفرت اس ملک کا سچ نہیں ہے۔ اچھے لوگ بھی ہیں ___ مگر بچپن سے جوانی تک واقعات کی لڑیوں نے مجھے اتنا توڑا، اتنا تقسیم کیا کہ میں نے اپنی کہانیوں کا ’فلک‘ محدود کر لیا۔ غلامی، ہجرت، تقسیم   اور تقسیم کے بعد ملک میں ہونے والے فرقہ وارانہ دنگے۔ میری کہانیاں یہیں سے شروع   اور یہیں پر ختم ہو جاتی تھیں۔ میں ذکی انور کی شہادت کو بھی نہیں بھول پایا۔ بھاگلپور، ملیانہ، بھیونڈی کے فسادات کو بھی نہیں۔ ۱۹۸۵ء میں، میں دلّی چلا آیا___ ۱۹۸۹ء میں پاکستان کو لے کر پراکسی وار، کی شروعات ہو چکی تھی۔ اڈوانی جی کی رتھ یاتراؤں نے نفرت کو اپنی انتہا پر پہنچا دیا تھا۔ اب لگتا ہے، گجرات ہو، یا پھر پروین توگڑیا جسے زہر میں ڈوبے ہوئے لوگ، یہ سب تو اڈوانی کی پیداوار ہیں۔ ان سب کا مجرم تو اڈوانی ہے۔ مودی تو اسی نقش پا کے پیچھے چلا، جہاں اڈوانی کھڑے تھے۔ اڈوانی کی خوبی یہ تھی کہ ایک سیکولر ملک میں جہاں جن سنگھ، جیسی فاشسٹ تنظیم یا پارٹی کو بھی پھلنے پھولنے کا موقع نہیں ملا، اُس نے زہریلے دماغ دیئے۔ زہر کے بیج بوئے۔ اور جب یہ پودا تھوڑا بڑا ہوا تو اپنی نگرانی میں اس پودے کو سینچا۔ بڑا کیا___ یہ ملک کی خوش نصیبی ہے کہ بی جے پی چھ برسوں میں سمٹ گئی یا کھو گئی___   اور خدا نہ کرے یہ دوبارہ واپس آئے۔ کیونکہ اگر یہ دوبارہ واپس آتی ہے تو یہ اس بار یہ اپنا کھلا کھیل فرخ آبادی‘ کھیلنے پر مجبور ہو گی۔ اور مسلمانوں کے لیے اس ملک میں چین سے جینا مشکل ہو جائے گا۔ سچ یہ ہے کہ میں جب آج کے حالات پر غور کرتا ہوں توماضی میں تقسیم کے ہولناک واقعات میرا راستہ روک لیتے ہیں۔ 
   اور سچ یہ ہے ملک کی تقسیم کی تاریخ کو، بعد کی نسلیں بھی فراموش کرنے میں ناکام رہیں۔ گویا یہ اپنے آپ میں ایسا زخم تھا جس کا ذکر آتے ہی مسلمانوں کے لئے ایک عجیب سی نفرت کا جذبہ پیدا ہوتا تھا___ جن سنگھ   اور جن سنگھ سے پیدا ہوئی ہندوتو۔ شاکھاؤں نے اسی نفرت بھرے تصور کو پروان چڑھایا۔ اور لوگوں کو بھڑکایا۔۔۔دراصل یہ وہی فلسفہ تھا، جو خون آلودہ تقسیم کی کوکھ سے پیدا ہوا تھا۔۔۔شاید یہ سچ بھی جلد ہضم نہیں ہو سکا کہ بٹوارے سے پیدا ہوا ایک ملک تو اپنے کلچر   اور تہذیب کو لے کر ’’جمہوریت‘‘   اور سیکولرزم کا دعویٰ ٹھوکتا رہا___ وہیں دوسرے ملک نے جمہوریہ اسلام کا ’’ٹھپّہ‘‘ لگا کر رہی سہی وفاداری   اور دوستی کی دیوار پر آخری کیل ٹھونک دی___ یہی نہیں جب اس جمہوریہ اسلام کہنے جانے والے ملک سے بنگلہ دیش الگ ہوا۔۔۔تب اس دوسرے ملک پر بھی اسلامی ملک کا ٹھپّہ برقرار رہا___
پچھلے 57 برسوں میں وشو ہندو پریشد، ہندو مہا سبھا، یا شیوسینا جیسی جماعتوں کے گلے سے اسلام کی ہڈّی نہیں نکلی ہے۔ آزادی کی بعد کی تاریخ میں پڑوسی ملک کے تعلق سے جب کبھی مذہبی آزادی کو لے کر کلنک‘ جیسا کوئی بھی حادثہ سامنے آیا ہے، اسے فوراً اسلام سے یا مسلمانوں سے جوڑ کر دیکھا گیا ہے ۔۔۔نتیجے کے طور پہ نفرت کی آندھی کم ہونے کے بجائے بڑھتی چلی گئی ہے۔ 
آزادی کے بعد جن سنگھ کی مسلسل شکست نے مسلمانوں   اور سیکولرازم کے خلاف نیا مورچہ کھولنا شروع کیا۔ جن سنگھ کے نئے اوتار بھاجپا نے جن سنگھ سے سبق لیتے ہوئے نئے طریقے سے کام کرنا شروع کر دیا۔ کام مشکل تھا، لیکن ٹھوس   اور کامیاب نتیجہ دینے والا۔ اور جس رتھ کے مہارتھی اٹل بہاری، شری اڈانی   اور مرلی جی جیسے دانشور ہوں، وہاں ’صبر‘ انتظار  اور راج کرو، کے نظریئے خود ہی کام کرنے لگتے ہیں۔ رتھ یاترا، بابری مسجد یا متنازعہ ڈھانچے کے گرائے جانے کے بعد سے ہی نئے ہندو سمی کرن، بننے شروع ہو گئے تھے ۔۔۔انہیں سمی کرنوں ‘ سے کٹیار، توگڑیا   اور مودی جیسے تیز دھار والے بے لگام شمشیروں کی تخلیق ہوئی تھی۔ اب یہ ایسے بے لگام گھوڑے بن چکے ہیں، جن کی آواز اگر روکی نہیں گئی تو ملک کو ایک بار پھر سخت مصیبت سے گزرنا پڑ سکتا ہے۔ اسی لیے میں کہتا ہوں کہ کوشش کیجئے کہ یہ حکومت بنی رہے   اور ہماری غلطیاں بی جے پی کی واپسی نہ کرادیں۔ 
مشتاق احمد :  بیان پر جلد ہی ہم واپس لوٹیں گے۔ ظاہر ہے اس گھناؤنی سیاست نے ہندستان کے تمام مسلمانوں کا دل دکھایا ہے۔ تقسیم کے بعد بابری مسجد شہادت کی داستان یا پھر گودھرا کانڈ کے بعد ہونے والے فسادات کو ہی دیکھ لیجئے۔ 
ذوقی:  تقسیم ایک پڑاؤ تھا۔۔۔اب ایک اہم پڑاؤ گودھرا بن گیا ہے۔ مسلمان آنے والے وقت میں بھی اس پڑاؤ سے گزرے بغیر آگے نہیں جا سکتے ۔۔۔مہیش مانجریکر کی حالیہ فلم ’’پران جائے پرشان نہ جائے ‘‘ میں ایک مسلم غریب کردار ایک ہندو کے منہ سے بار بار پاکستانی کہے جانے پر چیختا ہے ۔۔۔’سالے ۔۔۔ورلڈ ٹریڈٹ اور میں ہوائی جہاز گھستا ہے تب بھی یہاں آکر ہم سے پوچھتے ہو جیسے ہم نے ہی گھسایا ہے۔‘‘ 
اصلیت یہی ہے کہ آپ اقلیت میں ہوتے تو جانتے کہ اقلیت ہونا کیا ہوتا ہے۔ تقسیم کے بعد سے لے کراب تک میں نے پتہ نہیں اپنے کتنے مضامین میں اس لفظ اقلیت کے خلاف اپنا احتجاج درج کرایا ہے۔ مجھے شروع سے ہی اقلیتی کمیشن جیسے اداروں سے خدا واسطے کا بیر رہا ہے۔ میری اپنی منطق تھی کہ ہندستان میں مسلمان کی آبادی ۲۰ کروڑ سے کم نہیں  اور اتنی بڑی آبادی اقلیت نہیں ہو سکتی۔ اسے دوسری بڑی اکثریت کا نام دینا چاہئے۔ مجھے احساس تھا کہ محض دوسری بڑی اکثریت کے اعلان کے انجکشن سے ہمارے بہت سارے مسائل حل ہو سکتے ہیں۔ لیکن شاید میں غلطی پر تھا۔ 
گودھرا کانڈ کے بعد جیسے ساری حقیقتیں بدل گئیں۔ مودی کا ہندوتو چمکا۔۔۔گجرات ہندوتو کی پہلی لیبارٹری بنا۔۔۔وی ایچ پی، بجرنگ دل جیسی ہندو تنظیموں کی نفرتیں کھل کر سامنے آئیں ۔۔۔توگڑیا کا ترشول گھر گھر پہنچا۔۔۔ملک میں اس سے پہلے بھی فساد ہوتے رہے لیکن نفرت کی ایسی کہانی کا جنم پہلی بار ہوا تھا۔۔۔کیا تاریخ خود کو دھرا رہی تھی؟ تہذیبوں کی تاریخیں بدلی تھیں ۔۔۔نئی دنیا میں مہذب ہونے کا ایک ہی مطلب تھا۔۔۔طاقتور ہونا___ ہم نے یہ بھی جانا کہ اصول، قاعدے قانون اقلیتوں کے پاس نہیں ہوتے ___ طاقتوروں کے پاس ہوتے ہیں۔ ہزاروں چشم دید گواہوں کے باوجود مودی یا توگڑیا پر کوئی پوٹا کوئی قانون نافذ نہیں ہوتا۔ لیکن اب حالات بدلے ہیں۔ کتنوں دنوں تک بدلے رہیں گے۔ کوئی نہیں جانتا___ لیکن ایک بات ہے مشتاق صاحب کبھی کبھی لگتا ہے ___ بی جے پی کو تھوڑے دنوں تک  اور رہنا چاہئے تھا۔ 
مشاق احمد :  کیوں ؟
ذوقی:  اردو والوں کے چہروں کا ماسک اترتا۔ پہلے بھی اُتر چکا تھا۔ قاضی عبیدالرحمن ہاشمی سے علی احمد فاطمی تک___ میں زور دے کر کہتا ہوں اگر بی جے پی دوبارہ برسر اقتدار آگئی ہو تی تو شاید اردو والے سارے ہی سینگ کٹا کر بی جے پی میں شامل ہو گئے ہوتے۔ مگر اس آندھی میں، یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں، پانچ فیصدی ہندی والے ہی ہوتے جو اپنی جنگ بی جے پی کے خلاف جاری رکھتے۔ 
مشتاق احمد :  چلیے تسلیم___ غلامی، تقسیم   اور دنگوں پر ڈھیر ساری کہانیاں لکھنے کے باوجود آخر آپ کو وہ درجہ کیوں نہیں دیا گیا، جو منٹو کو دیا گیا؟ 
ذوقی:  درجہ آسانی سے نہیں مل جاتا۔ منٹو اس معاملے میں خوش قسمت تھے۔ اس کی زندگی میں ۔۔۔خوش قسمتی کی لاٹری نکل چکی تھی۔ قصور ہمارے نقادوں کا ہے، جنہوں نے اپنی تساہل پسندانہ طبیعت کی وجہ سے منٹو سے آگے جھانکنے کی ضرورت بھی محسوس نہیں کی۔ وہی چار بڑے۔ منٹو، عصمت، کرشن، بیدی___ لیکن ایک زمانہ آتا ہے جب اچانک تبدیلی   اور خوشگوار انقلاب کے تھپیڑے چلتے ہیں۔ اور پھر اچانک آپ تک لوگوں کی نگاہ جاتی ہے ___ مجھے لگتا ہے۔ آج نہیں کل، کل نہیں پرسوں، میرے مرنے کے بعد ہی سہی۔ کم سے کم یہ دن ضرور آئیں گے کہ منٹو کی کہانیوں سے الگ میری کہانیوں پر بھی توجہ کی جائے گی___ وہ کہانیاں جو غلام بخش سے شروع ہو کر احمد آباد ۳۰۲ میل تک پھیلتی چلی گئی ہیں۔ 
مشتاق احمد :  لیکن بیان کے بعد آپ کے یہاں زبردست تبدیلی بھی دیکھنے کو ملی۔ جیسے آپ ماڈرن سینسی بیلیٹی کی بات کرنے لگے۔ آپ کی کہانیوں میں دلت سے لے کر ایلٹ کلاس کے لوگ بھی جگہ بنانے لگے۔ کیا یہ بکھراؤ ہے یا کہانی کو نئے اُفق میں دیکھنے کی کوشش۔ 
ذوقی :  بیشک صحیح کہا آپ نے۔ مگر خدارا، دشمنوں کی زبان نہ بولیے۔ ذوقی کے یہاں جتنے یا ڈائمنشن ہیں۔ کس کے یہاں ہیں۔ میں عبد الصمد یا شوکت حیات کے بعد کی نسل سے تعلق رکھتا ہوں۔ اگر آ رہ جیسی چھوٹی جگہ میں مجھے پبلشر مل گئے ہوتے تو سب سے پہلا ناول اس نسل میں، عبد الصمد سے پہلے میرا آگیا ہوتا۔ ۱۹۸۰ء تک میں یہ ناول لکھ چکا تھا۔ لمحۂ  آئندہ، شہر چپ ہے، نیلام گھر   اور عقاب کی آنکھیں۔ میں ہمیشہ نئے موضوعات کی تلاش میں رہا۔ دلت سے ایلٹ کلاس تک__ آپ اسے ویرائیٹی کیوں نہیں کہتے کہ جتنی ویرائٹی ذوقی کے یہاں ہے۔ کسی میں نہیں۔ ناول کی بات کریں تو بیان کے بعد ذبح، پوکے مان کی دنیا   اور اب ’پروفیسر ایس کی کی عجیب داستان وایا سونامی‘ تک___ میں لفظوں کا غلام نہیں۔ زبان سے کھیلتا ہوں میں۔ لوگ جلتے ہیں   اور میرے بارے میں زبان زبان کی افواہیں پھیلاتے ہیں یا پھر بسیار نویس کہہ کر میرے قارئین کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ حساب لگائیے تو سن ۲۰۰۰ء سے ۲۰۰۵ء تک مشکل سے دس کہانیاں   اور دو ناول یعنی ایک سال میں دو کہانیوں کا حساب بس۔ کیا یہ بسیار نویسی ہے ___ کیا ذوقی اپنے آپ کو ریپیٹ کرتا ہے۔ پچھلے سال صرف دو نئی کہانی لکھی۔ وارن ہسٹنگس کی ٹوپی   اور ڈرا کیولا۔ اس سال ایک نئی کہانی شروع کی ہے۔ امام بخاری کی نیپکین۔ کہانی بھی ناول کی طرح کئی نشست میں لکھتا ہوں۔ ہاں، میرا اُفق اتنا بڑا ہے کہ فاطمیوں   اور قاسمیوں کے ہاتھ نہیں آئے گا۔ علی گڑھ کے نقاد، ہاں یہ نام زیادہ موزوں ہے (ہنسی)۔ علی گڑھ والے، شافع قدوائی کو چھوڑ دیجئے۔ کہاں پڑھتے ہیں۔ علی گڑھ کی سنتے رہیں ، علی گڑھ پر لکھتے ہیں۔ ہندستان میں اردو کی نمائندگی نہیں کرتے۔ صرف علی گڑھ کی نمائندگی کرتے ہیں۔ اور پھر آپ کیوں سوچتے ہیں کہ ہر ایرہ  غیرہ آپ کا نام لیتا رہے۔ میرے لیے قارئین کی محبت سب سے زیادہ اہم ہے۔ اور وہ میرے حصے میں شروع سے رہی ہے۔ 
مشتاق احمد :  ابھی حال میں گجرات کے موضوع پر آپ کی کتاب ’’لیبارٹری‘‘ شائع ہوئی۔ مگر ہندی میں ___ اردو میں کیوں نہیں ؟ دیکھا تو جائے تو اس نوعیت کی کتابیں بیان کا ہی Extension لگتی ہیں۔ 
ذوقی:  بجا فرمایا۔ لیبارٹری کو ہندی میں پبلشر مل گئے۔ اردو میں نہیں ___ آپ کیوں چاہتے ہیں کہ اردو کا مصنف صرف اپنی جیب سے پیسے لگاتار ہے   اور لوگوں کو اپنے ڈاک خرچ پر کتابیں بھیجتا رہے۔ اتنا سرمایہ نہیں ہے میرے پاس۔ خواہش تھی کہ لیبارٹری بھی اردو میں شائع ہو سکے۔ نہیں ہو سکی۔ میں ٹھہر ٹھہر کر در اصل اسی موضوع پر، آ جاتا ہوں۔ بی جے پی کے دورِ اقتدار میں بھلا فرقہ واریت سے الگ، کسی موضوع پر سوچا ہی کیسے جا سکتا تھا؟   اور جہاں گجرات، مودی کا ہندوتو، اور ترشول پورے بھارت میں چمک رہا ہو تو آپ بھلا ایک مصنف کی حیثیت سے ایسے Issues کو Ignore کیسے کر سکتے ہیں۔ جابر حسین نے گجرات پر نظمیں شائع کیں تو ان کی کتاب میں میری ۳۰ نظمیں گجرات پر ایک ساتھ شامل تھیں ___ یہ نظمیں پسند کی گئیں۔ اس لیے یہ طے کرنا مشکل نہیں ہے کہ اردو میں زیادہ کون جاگ رہا ہے ___ باقی سوئے ہوئے لوگوں کو ہمارے عہد کے دانشور جتنا چاہیں، تاڑ پر چڑھانے کی کوشش کر لیں، کوئی فائدہ نہیں۔ 
سوال: بیان کو لے کر زبان کی بات چھڑی   اور خوب چھڑی۔ آج بھی جب آپ پر بات ہوتی ہے تو زبان کا ذکر آ جاتا ہے۔ 
ذوقی :  میرے بھائی، جب آپ کو کچھ نہیں کہنے کے لیے ملے گا تو زبان کا ذکر ہی سہی۔ ان کے ترکش میں اس کے سوا کوئی تیر نہیں ہے   اور سنیے آپ___ جب بیان منظر عام پر آیا تو مجھے گجراتی   اور ہندی کے بڑے ادیب عابد سورتی کا خط ملا۔ تعجب کا اظہار تھا کہ اردو میں ایسی کہانیاں، ایسی جادوئی زبان بھی ملتی ہے۔ میرا موازنہ ہنری ملر سے کیا گیا___ بھوپال سے اقبال مسعود صاحب دلی شریف لائے فون پر بات ہوئی۔ ملنے کی خواہش ظاہر کی   اور کہا۔ بیان پڑھنے سے پہلے ڈرایا گیا کہ کس کو پڑھ رہے ہو، ڈراؤنی زبان لکھنے والے کو___ اب ناول پڑھ لیا ہے۔ تو کہہ سکتا ہوں یہ لہجہ، یہ رنگ یہ زبان کسی دوسرے کے پاس نہیں ___ ایسی ہزاروں مثالیں ہیں۔ اب وہ لوگ بھی جو زبان زبان چلاتے تھے۔ میری کہانیوں، کہانیوں میں در آئی فکر کے عاشق ہو چکے ہیں۔ کب تک زبان کی شکایت لے کر مجھے کنارے کرنے کی کوشش کریں گے۔ ذوقی اپنی دنیا کا بادشاہ ہے۔ اسے کسی نقاد کی ضرورت نہیں۔ ذوقی کے لیے قارئین کی محبت کافی ہے۔ بیان کا ذکر آیا تو ایک خاص بات بتاتا چلوں۔ زبان کی بات بھی پہلی بار یہیں سے شروع ہوئی___ زندگی کا سب سے زیادہ دل دکھا دینے والا واقعہ__ میرے ایک دوست ہیں۔ نام لینے کی ضرورت نہیں۔ میرے دکھ سکھ کے حصے دار۔ میں شاید سب سے زیادہ بھروسہ ان پر کرتا تھا۔ بیان کے ریلیز فنکشن کی ذمہ داری ان پر سونپی گئی۔ انہوں نے نظامت کے لئے اپنے دوست سراج اجملی کا نام لیا۔ اور بیان فنکشن میں جو ہوا، وہ ایک نہ بھولنے والا حادثہ ہے۔ میری کتاب کا فنکشن تھا۔ مجھے سامعین کے بیچ بیٹھنا پڑا۔ ایسے لوگوں کو شروع میں بلوایا گیا۔ جنہوں نے بیان   اور میرے خلاف بولنے کی تمام حدیں پار کرنی شروع کر دیں۔ تھیٹر کو مقبولیت دینے والے حبیب تنویر سے رہا نہیں گیا تو انہوں نے دریافت کیا، کیا یہ پروگرام بیان کی مخالفت میں کیا جا رہا ہے۔ پھر باری آئی مشہور شاعر شجاع خاور کی۔ جب وہ بھی خلاف بول کر جانے لگے تو آخر میں، میں ڈائس پر آیا۔ انہیں روکا کہ اُنہیں جانے کی ضرورت نہیں۔ کیونکہ ابھی ان کی بات ختم ہوئی ہے۔ میری بات ادھوری ہے۔ پھر میں خوب بولا۔ جی بھر کر بولا۔ اور اس کے ایک ہفتہ کے اندر ہی سننے کو ملا کہ موصوف کو پارالائسز ہو گیا ہے۔ مجھے افسوس ہوا کہ ایک اچھے شاعر کے اندر کس قدر گمراہ کرنے والے خیالات تھے۔ یہ وہ وقت تھا جب شجاع لگاتار پارٹیاں بدل رہے تھے۔ بی جے پی کی حمایت میں ان کا بولنا تو سمجھ میں آ رہا تھا مگر دوستوں کی کرم فرمائی مجھے حیرت میں ڈال رہی تھی۔ اس کے بعد سنیے۔ قومی آواز میں کسی مظہر صاحب کا ایک مضمون شائع ہوا۔ غلط بیان۔ بیان کے بارے میں غلط فہمیاں یہیں سے شروع ہوئیں۔ تب میرے وہ دوست تاج انکلیو میں، میرے آمنے سامنے رہتے تھے۔ میں قومی آواز نہیں خریدتا تھا۔ وہ قومی آواز لے کر آئے۔ بولے ___ یار یہ مظہر کون ہے ؟ میں صرف جے۔ ان یو والے مظہر کو جانتا تھا۔ اس کے دو دنوں بعد ہی معلوم ہوا۔ میرے دوست، سراج، سہیل وحید   اور مظہر تو گہرے دوستوں میں ہیں۔ پھر ایک دن اپنے اسی دوست کے گھر مجھے اتفاق سے اپنی کتاب بیان بھی مل گئی۔ کتاب پر پنسل سے جہاں جہاں نشان لگایا گیا تھا۔ وہی باتیں کتاب میں تھیں۔ میری سمجھ میں نہیں آیا کہ فکشن یا ناول پڑھنے کا یہ کون سا انداز ہے۔ ظاہر ہے یہ ساری سازش جان بوجھ کر رچی گئی تھی۔ پھر ایک دن اردو سرکاری رسالہ آجکل کے دفتر کی سیڑھیوں پر مجھے سہیل وحید ایک خاصے صحت مند آدمی کے ساتھ نظر آیا، جس نے مجھے دیکھ کر چھپنے کی کوشش کی۔ یہ آدمی مظہر تھا۔ میں نے سہیل   اور اپنے دوست دونوں سے کہا۔ جو آدمی مجھے دیکھ کر آنکھیں ملاتے ہوئے گھبراتا ہو، وہ مجھ پر نہیں لکھ سکتا۔ بتاؤ یہ شخص کتنے میں بکا ہے ؟ تو صاحب، یہ دلّی ہے دلّی___ بیان کے سلسلے میں سازش تو انہوں نے کی مگر کیا ہوا___ بیان سے پہلے  ہندستان کی سیاست پر، خاص کر مسلمانوں کی سیاست پر اس انداز سے عملاً کس نے سوچا   اور لکھا تھا___ ؟خوشی اس بات کی ہے کہ بیان کے خلاف جس قدر لکھا یا بولا گیا، بیان کی اس سے کہیں زیادہ تعریف ہوئی۔ 
مشتاق احمد:  میرے خیال میں یہ وہ باتیں ہیں، جو اس سے پہلے کبھی سامنے نہیں آئی تھیں۔ حقیقت یہ ہے کہ آپ ایک جینوئن رائٹر ہیں ___ لیکن کیا آپ کو ایسا نہیں لگتا ہے کہ آپ کے ساتھ دوسرے لوگ بھی ہیں جو جینوئن کہلانے کا حق رکھتے ہیں۔ ایسے میں، یہ کیسے سمجھا جائے کہ کون جینوئن ہے   اور کون نہیں ؟
ذوقی :  یہ دلیل گمراہ کن ہے کہ یہ کیسے پتہ چلے گا کہ جینوئن کون ہے ؟ کون نہیں ہے ؟ اچھے ادیب کو اس کا عرفان ہوتا رہتا ہے۔ یہ   اور بات ہے کہ اس کے خلاف یا حق میں فیصلہ صادر کرنے والا وقت ہوتا ہے۔ میں نے کبھی خود کے لئے نہیں لکھا۔ نہ اپنی ذات یا روح کی تسکین کے لئے۔ میرے سامنے ہمیشہ میرا عہد رہا ہے۔ تغیرات رہے ہیں۔ ’’باپ‘‘، ’’بیٹا‘‘، ’’دادا   اور پوتا‘‘ ایک صدی کو الووداع کہتے ہوئے ‘‘، ’’بارش میں ایک لڑکی‘‘، ’’نہیں آپ اس شہر کا مذاق نہیں اڑا سکتے۔‘‘ ’’مرد‘‘، ’’کاتیائن بہنیں ‘‘ میں نئے نئے کردارکا خالق ہوں۔ نئی نئی دنیائیں آباد کرتا ہوں ___ اپنی کہانیوں میں۔ میں صرف لکھتا نہیں ہوں۔ کہانیوں کو اپنی فکر سے گزارتا ہوں۔ راستہ دیتا ہوں ___ کبھی خود راستہ بنتا ہوں۔ میں زندگی کو نئی صبح، نیا آسمان، نئی دنیا   اور نئے خیال دینے آیا ہوں   اور یہ سب میرے سامنے الفاظ کے چمکتے ستارے نہیں ہیں۔ میں براہ راست عوام سے مخاطب ہوتا ہوں   اور اس کے لئے تنگ گلیاں، ٹیڑھے میڑھے راستہ چنتا ہوں ___ کبھی اُجلی نورانی راتیں مجھ پر مہربان ہوتی ہیں   اور کبھی میں سڑے گلے چہروں میں جیتا ہوں۔ میں ڈرائنگ روم میں بند ہو کر نہیں لکھ سکتا۔ مجھے محض جذباتی ہونے سے چڑ ہے۔ انسانوں کے لئے امڈی ہوئی ہمدردیاں مجھے پسند نہیں۔ جیسے مجھ میں صرف ایک ہندستان نہیں بستا __ ایک ملک سے بے پناہ محبت یا قربان ہو جانے کا خیال دوسرے ملک کے لئے نفرت یا دشمنی کا سبب بن جاتا ہے۔ جیسے میں محض کرۂ  ارض کے ایک خطہ سے، ایک انسان سے محبت نہیں کر سکتا   اور بقول ہیمنگ وے ’’ساحل سے ایک ’ڈھیلا‘ بھی سمندر بہالے جاتا ہے تو دھرتی کم ہو جاتی ہے ___ ایک بھی آدمی مرتا ہے تو انسانی برادری میں کمی آ جاتی ہے۔‘‘ میرے لیے یہ مکمل کائنات کسی صحیفہ یا آیت جیسی ہے جسے مجھے پڑھنے یا سمجھنے کا حق حاصل ہے۔ مجھے یقین ہے کہ اچھا ادیب کشف سے گزرتا ہے، نئے خیال وضع کرتا ہے   اور اپنی نئی دنیائیں اپنے پڑھنے والوں کو سونپ دیتا ہے۔ میں یہ نئی بستیاں، سو کروڑ کی آبادی والے اس ملک کے صرف پانچ سو، یا ہزار لوگوں تک پہنچا کر مطمئن نہیں ہو سکتا۔ اور یقیناً وہ لوگ بھی مطمئن نہیں ہو سکتے جو اچھا ادب خلق کر رہے ہوں۔ اور جو اپنی بسائی ہوئی دنیائیں یا نئی بستیاں ایک زمانے کو دکھانے کا ارادہ کر چکے ہوں۔ 
شاید اسی لیے، میں نے اپنے لیے اردو کے علاوہ ایک دوسری زبان کا سہارا لیا۔ ہندی کا___ ہندی میں میری کہانیوں کے ترجمے نہیں چھپتے۔ مجھے ہندی میں اب اردو افسانہ نگار کے طور پر نہیں پہچانا جاتا___ میں ہندی میں ہندی افسانہ نگار کی حیثیت سے ہوں، اردو میں اردو افسانہ نگارکی حیثیت سے۔ ممکن ہے کہ میرے دوست اب اس بات کو بھی اٹھانے کی کوشش کریں کہ ارے ذوقی تو ہندی کا آدمی ہے۔ لیکن جو آدمی مسلسل بیسیوں برس سے اردو میں لکھتا رہا۔ اور آج بھی لکھ رہا ہے، کیا صرف ان کے کہنے سے میرے قارئین گمراہ ہو جائیں گے۔ قطعی نہیں۔ صرف ہندی نہیں۔ میں تو کہتا ہوں۔ جس میں صلاحیت ہے۔ اسے اپنی تخلیق کو اب انگریزی زبان میں لانے پر غور کرنا چاہئے۔ کیونکہ جب تک ہم اپنی کہانیوں کا دائرہ نہیں بڑھاتے ہیں۔ اردو کی مخصوص شناخت عالمی سطح پر طے  نہیں ہو سکتی۔ 
مشتاق احمد:  یوں تو آپ نے لکھنا ۸۰ء سے کافی پہلے ہی شروع کر دیا تھا۔ لیکن آپ کی شناخت ۸۰ کے کافی بعد سامنے آئی۔ کیا اپنی شروعاتی کہانیوں کے بارے میں کچھ روشنی ڈالنا پسند کریں گے ؟
ذوقی:  ۸۰ء کے آس پاس کا عہد مجھے الجھنوں میں مبتلا کرنے کے لئے کافی تھا، کیونکہ میں جو لکھنا چاہتا تھا، وہ اس عہد کے لئے موزوں نہیں تھا جو نہیں لکھنا چاہتا تھا، رسائل میں چھپنے کے لئے، وہ لکھنے پر مجبور تھا___ جدیدیت کی آندھی میں، سچ پوچھئے تو میں بھی بہتا چلا گیا تھا___
دابۃ الارض، فاختائیں، اعرف نفسک بنفسک، پیر تسمہ پا، اب قید ہے، اشغلا کی بند مٹھّیاں، پتھّر یگ، فاصلے کے درمیان جلتی ہوئی ایک لالٹین، فاختاؤں کا شہر، وغیرہ___ افسانوی مجموعہ منڈی میں، میں نے ان میں کچھ کہانیاں شامل تو کیں، لیکن اس بات کا بھی اظہار کیا ہے   ؎
 ’’یہ وہ کہانیاں ہیں، جنہیں میں نے ردّ کیا‘‘ 
دلّی یعنی مہا نگر___ چھوٹے سے قصباتی شہر میں رہ کر، اس شہر کا تصور کر پانا بھی مشکل تھا___ مجھے اس شہر سے بہت کچھ سیکھنے کو ملا۔ ہجرت کیا ہوتی ہے۔ اپنے گھر کا سکھ کیا ہوتا ہے۔ یہاں تو در در کی ٹھوکریں تھیں   اور خالی ہاتھ تھے ___ دلّی دل والوں کی دلّی نہیں تھی، تنگ دل لوگوں کی دلّی بن کر رہ گئی تھی بے شمار خطرات، ذہنی یا تنائیں، پریشانیاں ___ بہت ممکن ہے، میں ہار گیا ہوتا، مگر، میں نے جو کچھ پڑھا تھا، اب وہی میرے کام آ رہا تھا___ کہتے ہیں، ایک زندگی وہ ہوتی ہے، جسے اپنے طور پر جینے کی کوشش کرتے ہیں ___ ایک زندگی وہ ہوتی ہے، جو آپ کا مطالعہ، آپ کا Vision آپ کو سونپتا ہے ___ الکزینڈر پشکن، نکولائی گوگول، فیودر دوستوفسکی، لیوتالستائے، میخائل شولو خوف، میکسم گورکی، ترگنیف___ روسی ادب کا میں مداح تھا۔ اور یہ لوگ میرے لئے مشعل راہ___ ان سب کے یہاں زندگی سے لڑنے کی جسارت موجود تھی۔ خاص کر آ رہ چھوڑنے سے قبل، ایک بہت بعد کے روسی مصنف کی کتاب میں نے پڑھی تھی۔ بورس پولو، کتاب کا نام تھا___ The story of a real man ایک فوجی جس کا پاؤں کاٹ ڈالا جاتا ہے۔ اور جو اپنے ول پ   اور سے اپنی خود اعتمادی دوبارہ بحال کرنے میں کامیاب ہوتا ہے ___ مجھے ہیمنگ وے کے The old man and the sea سے محبت تھی___ ہیمنگ وے کی کہانیوں کے مرد آہن مجھ میں نیا جوش، نیا دم خم بھرتے تھے۔ مجھے ہنری ملر کے موبی ڈک سے پیار تھا___ وکٹر ہیوگو، کفکا، ورجیناؤلف، البیر کامو، یہ سارے میرے اپنے تھے۔ خاص کر Les-miserable کا پادری   اور The Plague کا Dr. Riox میرا آئیڈیل تھا۔ ٹھیک اسی طرح کرائم اینڈ پنشمنٹ کا رسکلانیکود، گور کی مدر کا پاویل ولا سوف   اور ترگنیف کی the father and the son کے باپ بیٹے مجھے بے حد پیارے تھے۔ گوگول کی کتاب Deal Soul مجھے ذہنی عذاب میں مبتلا کرتی تھی۔ وہیں گبریل گارشیا مارکیز کا ادب مجھے ایک نئی دشا میں لے جانے کی تیاری کر رہا تھا___ عجیب بات یہ تھی کہ مجھے الیکزینڈر سولنسٹین سے بھی اسی قدر محبت تھی۔ گلاگ آرکیپلاگو   اور کینسر وارڈ دونوں مجھے پریشان کر رہے تھے۔ نیتھنیئل ہینیٹیے کی The Scarlet Letter بھی مجھے پسند تھی۔ جارج آرویل کی Animal Farm   اور ۱۹۸۴ء مجھے نئی فکر سے روشناس کرا رہے تھے ___ میں سال بیلو کو بھی پڑھنا چاہتا تھا، ولیم گولڈنگ   اور گراہم گرمین کو بھی___ اردو میں قرۃ العین حیدر کے یہاں مجھے تصنع کی جھلک ملتی تھی۔ منٹو مجھے چونکاتا تھا، لیکن فکری اعتبار سے زیادہ بلند نہیں لگتا تھا۔ عصمت مجھے راس نہیں آئیں __ راجندر سنگھ بیدی کی کہانیاں ہر بار زیادہ سے زیادہ قربت کا احساس دلا رہی تھیں۔ اور کرشن کی نثر کسی جادو کی طرح مجھ پر سوار تھی___ مجھے اردو کی داستانوں نے لبھایا تھا   اور مجھے لکھنا سکھایا تھا۔ مجھے پنچ تنتر بھی پسند تھی   اور The magic mountain بھی۔ طلسم ہوش ربا کا تو میں شیدائی تھا___ دلّی کی پاگل بھیڑ بھری سڑکوں پر ہیمنگ وے کا The old man تسمہ پا کی طرح مجھ پر سوار تھا___ دلّی کی پریشان حال زندگی   اور لڑتے رہنے کا جذبہ، ۸۵ء سے ۹۵ء تک کے بیچ میری کہانیوں پر ترقی پسندانہ رنگ غالب رہا___ میں سوچتا تھا نثر، غریبی کے بدحال جسم کی طرح ہونی چاہئے۔ Glamour less نثر کو کی زبان عصمت کی کہانیوں کی طرح رواں دواں نہیں ہو سکتی۔ میں نے اپنا تجزیہ کیا   اور ایک نئی روش اپنائی، نئی ڈگر پر چلا۔ 
میں ترقی پسندی کے راستے پر اسی لئے چلا کہ میں ان سوالوں سے بچ بچا کر نہیں گزر سکتا تھا۔ میرے اندر کا تخلیق کار ان سوالوں کو نظر انداز نہیں کر سکتا تھا۔ اور میں صرف شوقیہ ادیب نہیں بننا چاہتا تھا___ میں، کسی ایک قاتل لمحے سے بھی کہانی چرا سکتا تھا___
مشتاق احمد :  ذوقی صاحب، آپ کا بیحد شکریہ ___ اردو کہانی یا ناول کی تاریخ میں آپ آج ایک نا قابل فراموش ادیب کی حیثیت سے ہمارے سامنے ہیں۔ یقیناً منٹو   اور بیدی کے بعد کا ادبی سفرنامہ جب بھی لکھا جائے گا، ذوقی کی کتابوں کے دفتر کھلیں گے  اور نئی نئی باتیں سامنے آئیں گی۔ آپ نے اپنی کہانیوں یا ناولوں کے کردار پر بھی بہت محنت کی ہے۔ خصوصاً پوکے مان کی دنیا کا سنیل کمار کے رائے   اور بیان کا بالمکند شرما جوش۔ آخر میں ایک سوال۔ بالمکند شرما جوش، بیان کا یہ کردار کیا کوئی فرضی کردار ہے یا۔۔۔ ؟
ذوقی :  بالکل نہیں ___ آ رہ کے چھوٹے سے شہر میں اس کردار کو میں نے دیونندن سہائے پارسا آروی   اور جین صاحب کی شکل میں اتنی بار دیکھا ہے کہ جب بیان لکھنے کا وقت آیا تو یہ دونوں کردار مجھ پر حاوی ہو کر ایک زندہ کردار میں بول گئے۔ یعنی بالمکند شرما جوش___ کردار نگاری ایک مشکل فن ہے   اور یہ ریاضت چاہتی ہے ___ بہر کیف، آنے والے دنوں میں، میں آپ کو ایک   اور نہ بھولنے والا کردار دینے والا ہوں۔ پروفیسر ایس ___میرے ناول ’پروفیسر ایس کی عجیب داستان وایا سونامی‘ کا انتظار کیجئے۔ 
مشتاق احمد :  ذوقی بھائی آپ کا ایک بار پھر بہت بہت شکریہ!
٭٭٭

زیرِ نظر  برقی کتاب اصل کتاب  ’دستخط اور چہرے‘ نامی کتاب کا ایک حصہ ہے۔
صاحب مصاحبہ مشرف عالم ذوقی کے تشکر کے ساتھ، جنہوں نے اس کی فائلیں عطا کیں۔
ان پیج سے تبدیلی، تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید