﻿


بادبان باقی ہے


امجد جاوید


جمع و ترتیب: اعجاز عبید






اپنی اپنی ذات میں محسور کر ڈالا گیا
آدمی کو آدمی سے دور کر ڈالا گیا

ہس نے پھیلائی یہاں فکر و نظر کی روشنی
زہر پینے پر اسے مجبور کر ڈالا گیا

سچ کہا جس نے اسے سولی پہ چڑھوایا گیا
حاشیہ برادر کو تیمور کر ڈالا گیا

کھیل ایسا بھی مسیحاؤں نے کھیلا بارہا
زخم دے کر زخم کونا سور کر ڈالا گیا

یوں بھی امجد روشنی کے خواب دکھلائے گئے
دل غموں کی گرد سے مخمور کر ڈالا گیا
٭٭٭



زندگی تو نے اگر برف بنا رکھی ہے
میں نے بھی جسم میں اک آگ لگا رکھی ہے

اے خدا تو بھی کسی روز میرے دل میں اتر
میں نے مسجد میں تیری اس دل میں بنا رکھی ہے

دل یہ چاہتا ہے تیرے نام سے منسوب کروں
میں نے کاغذ پہ جو تصویر بنا رکھی ہے

اب تو اک بوجھ سا لگتا ہے مرے سر پہ مجھے
تو نے جو دھوپ میں یہ چھاؤں بنا رکھی ہے

یہ جو بدنام ہوئے جاتے ہیں ہم تم امجد
یہ خبر شہر میں کس کس نے اڑا رکھی ہے
٭٭٭






کشتیاں نہیں باقی بادبان باقی ہے
آنکھ کے سمندر میں اک چٹان باقی ہے

مرحلے محبت کے مجھ سے طے نہیں ہوئے
بعد امتحان کے بھی امتحان باقی ہے

یہ زمین مجھ کو تو راس ہی نہیں آئی
اب خلا نوردی کو آسمان باقی ہے

سوچنے پہ پابندی کس طرح لگاؤ گے
بول تو نہیں سکتے پر زبان باقی ہے

میرے دل کا دروازہ کوئی کھٹکھٹائے گا
جانے کیوں میرے دل میں یہ گمان باقی ہے

جو سفر مقدر تھا، اس سفر پہ نکلا ہوں
کس طرح کہوں امجد اب مکان باقی ہے
٭٭٭



انداز محبت کے نبھانے نہیں آئے
شاید کے مجھے دوست بنانے نہیں آئے

جاتا ہے نشانے کی طرف تیر ہمیشہ
خود تیر کی جانب یہ نشانے نہیں آئے

میں جس سے بچھڑ کر ہوں بڑی دیر سے تنہا
اس شخص سے ملنے کے زمانے نہیں آئے

وہ آگ جو مدت سے مرے دل میں لگی ہے
اس آگ کو طادل بھی بجھانے نہیں آئے

امجد کئی برسوں سے میں یہ سوچ رہا ہوں
کیوں پاس میرے دوست پرانے نہیں آئے
٭٭٭






ضروری ہے یہ کرنا چاہتا ہوں
کھڑا پاؤں پہ ہونا چاہتا ہوں

مری حالت پہ مجھ کو چھوڑ دو تم
میں خود گر کے سنبھلنا چاہتا ہوں

کوئی کردار باقی ہی نہیں ہے
فسانہ ختم کرنا چاہتا ہوں

مری آنکھوں سے خون بہنے لگا ہے
سوئے مقتل میں چلنا چاہتا ہوں

اندھیرے چار سو پھیلے ہوئے ہیں
چراغ شب ہوں جلنا چاہتا ہوں

نہیں کہنے کو امجد کچھ بھی باقی
مگر اک بات کہنا چاہتا ہوں
٭٭٭



زمانے بھر سے تو میں اختلاف کرتا ہوں
تمہارے پیار کا پر اعتراف کرتا ہوں

معاف کرنے کے قابل اگر ہو دشمن بھی
اے دوستو میں اسے بھی معاف کرتا ہوں

کبھی بھی جھوٹ کی کرتا نہیں حمایت میں
میں بات کرتا ہوں جو بھی شفاف کرتا ہوں

محبتوں کے سوا مرے پاس کچھ بھی نہیں
میں مانتا ہوں میں کب انحراف کرتا ہوں

مرا ضمیر کبھی مطمئن نہیں ہوتا
اگر مزاج کے امجد خلاف کرتا ہوں
٭٭٭






خیالوں میں تجھے لا کر کئی منظر بناؤں گا
تو تتلی ہے تو رنگوں سے میں تیرے پر بناؤں گا

مرا تو کج کلاہوں سے بغاوت کا ارادہ ہے
تری دستار سے اونچا میں اپنا سر بناؤں گا

اگر میں اس زمین کے واسطے بارش کا قطرہ ہوں
تو اک دن بادلوں میں جا کے اپنا گھر بناؤ ں گا

مرا دشمن لڑائی ہار کے محصور بیٹھا ہے
فیصل شہر میں تیروں کے اب کے در بناؤں گا

میں اپنے آسماں کا جاگنے والا ستارہ ہوں
مجھے کب نیند آئے گی میں کب بستر بناؤں گا

یہ خوشبو جب بھی میری دسترس میں آئے گی امجد
چمن کے پھول چن چن کر ترا پیکر بناؤں گا
٭٭٭



راہ میں گر چہ پیچ و خم آئے
آسماں تک مرے قدم آئے

زندگانی گھٹن مسافت ہے
رک گیا ہوں کہ دم میں دم آئے

ہنستے ہنستے چھلک پڑی آنکھیں
اس خوشی میں کہاں سے غم آئے

ہم مسافر ہیں ہم کو جانا ہے
اس لئے اپنے گھر بھی کم آئے

وہ جو پنجروں میں قید ہیں امجد
ان غزالوں کو کیسے رم آئے
٭٭٭

	

میں اندر سے صحرا تھا
تیرا دل تو دریا تھا

اتنی دھوپ تھی سورج بھی
سایہ اوڑھ کے نکلا تھا

شہر بھرا تھا لوگوں سے
لیکن ہر اک تنہا تھا

کون تھا کیا، معلوم نہیں
ہر چہرے پہ چہرہ تھا

امجد منزل کیا ملتی
ہر رستہ چو رستہ تھا
٭٭٭



یہ میں کیسا مسافر ہو گیا ہوں
رکا تو راستے میں کھو گیا ہوں

کچھ ایسے آنکھ خالی ہو گئی ہے
کہ جیسے سارے آنسو رو گیا ہوں

یہ کیسے خواب کا دھڑکا ہے دل میں
کھلی آنکھوں سے اکثر سو گیا ہوں

تو کوئی پھول ہے کہ جس کو چھو کر
سراپا خوشبو خوشبو ہو گیا ہوں

تجھے تبدیل کرتے کرتے امجد
میں خود بھی تیرے جیسا ہو گیا ہوں
٭٭٭



ہاتھ سے کیسے سمندر کو کھنگالا جائے
اس تماشے کے لئے چاند نکالا جائے

جس کو دیکھو وہی مسمار ہوا جاتا ہے
اب بھلا شہر میں کسی کسی کو سنبھالا جائے

تیرے ہاتھوں کو ہنر آ تو گیا ہے لیکن
اب کسی جسم کو پتھر میں نہ دھالا جائے

کب تلک روشنی کو ترسیں گی آنکھیں میری
تیرگی میں کوئی سورج تو نکالا جائے

موقع ملتا ہے تو ڈس لیتے ہیں امجد جاوید
آستینوں میں کوئی سانپ نہ پالا جائے
٭٭٭



دھوپ کی شدت کا ہم کو اس قدر احساس تھا
ایک سورج ڈھل چکا تھا ایک سورج پاس تھا

میں نے خود اس بار پہچانا ہے اپنے آپ کو
کوئی آئینہ بھی آخر کب مرا عکاس تھا

دکھ تو یہ ہے مجھ کو پتھر کا بنانے کے لئے
ایک دن نوچا گیا جتنا بدن پہ ماس تھا

ہم نے دیکھا ہے یہ دستار گر جانے کے بعد
ہو گیا ہے عام اتنا ، جتنا کوئی خاص تھا

ہو گئی ہے اس لئے امجد بری حالت مری
دشمن جان تھا زمانہ اور میں حساس تھا
٭٭٭



اس میں کچھ دوش مری جان ہوا کا ہی نہیں
وہ بھلا کیسے اڑے گا جو پرندہ ہی نہیں

اس کو معلوم ہی کیا، کوئی سمندر کیا ہے
جھانک کر جس نے کسی آنکھ میں دیکھا ہی نہیں

ان درختوں سے ہمیں چھاؤں ملے گی کیسے
جن درختوں کسی شاخ پہ پتا ہی نہیں

ایسے محبوس ہوئے خوفزدہ شہر کے لوگ
اپنے اندر سے کوئی شخص نکلتا ہی نہیں

اب کے بے برگ ہوا، اس طرح امجد جاوید
پیٹر بھی میری طرح پھولتا پھلتا ہی نہیں
٭٭٭



جب بھی کسی غم کے دریا کو پار کیا
ہم نے اپنے ہاتھوں کو پتوار کیا

سورج کی حدت سے ڈرنے والے سن
ہم نے اپنے سائے کو دیوار کیا

جب سے مری آنکھوں کو پڑھنا آیا
کب تم نے اپنا چہرہ اخبار کیا

ہم کو اپنی جان سے بھی جو پیارا تھا
اس نے موقع ملنے پر ہی وار کیا

نفرت ہی کچھ اتنی تھی امجد جاوید
اپنے ہاتھوں اپنا گھر مسمار کیا
٭٭٭



کسی دیوار میں در ڈھونڈھنا ہے
پرندوں کے لئے گھر ڈھونڈھنا ہے

تجھے قیامت کا غم ہے اور مجھ کو
ہر اک دستار میں سر ڈھونڈھنا ہے

ہتھیلی کے لکھے پر صبر کیسا
ہمیں اپنا مقدر ڈھونڈھنا ہے

ترے پیکر کو میں جس سے تراشوں
پہاڑوں میں وہ پتھر ڈھونڈھنا ہے

کھڑے ہیں اس لیے ساحل پہ امجد
کہ دریا سے سمندر ڈھونڈھنا ہے
٭٭٭



مرے خلاف مرے دوست ہیں زمانہ ہے
وہ اس لئے کہ مرا پیر ہن پرانا ہے

ہوا میں کھینچی ہوئی ہے کسی نے ایسے کماں
خبر نہیں ہے کہ اس بار کیا نشانہ ہے

ہمیں خبر ہی نہیں تھی علم اٹھاتے ہوئے
یہ کر بلا ہے یہاں ہم کو سر کٹا نا ہے

فضا میں اڑتے ہوئے جائیں گے کہاں آخر
تھکے پرندوں کا بس پیڑ ہی ٹھکانہ ہے

زمیں پر ہیں کسی گھاس کی طرح ہم لوگ
ہوا بھی اپنے لیے اب تو تازیانہ ہے
٭٭٭



اک روز ہو گئی تھی ملاقات باغ میں
تب سے بھٹک رہا ہوں کسی کے سراغ میں

میری ہی آگ مجھ کو جلاتی ہے آج بھی
خوں جل رہا ہے میرا ہی میرے چراغ میں

کیا چاہتوں کا ہے یہی انجام دوستو
وحشت کا یوں اترنا دل داغ داغ میں

شب بھر ہوا سے لڑتا رہا پر بجھا نہیں
آنسو جلے ہیں رات وفا کے چراغ میں

کوشش کے باوجود مجھے بھولتا نہیں
اک سانحہ جو نقش ہے امجد دماغ میں
٭٭٭






چاندنی شہر کے ہر گھر میں اتر جاتی ہے
میرے آنگن سے یہ کترا کے گزر جاتی ہے

اس کے دامن سے لپٹ کر جو ہوا آتی ہے
میرے کمرے میں مہک بن کے بکھر جاتی ہے

کتنے اشجار گرا دیتی ہے یہ تیز ہوا
بستیاں کتنی ہی مسمار یہ کر جاتی ہے

مانتا ہوں کہ یہ خوشیاں بھی ضروری ہیں مگر
غم کے صحراؤں میں بھی عمر گزر جاتی ہے

مرے احساس کی شمع نہیں بجھنے پائی
اس کی تنویر ہر اک سمت بکھر جاتی ہے

کیسے برداشت اذیت کروں امجد اس کی
بوجھ اتنا ہے اٹھانے سے کمر جاتی ہے
٭٭٭



دشت کو دیوارو در لکھا گیا
زیر کو اکثر زبر لکھا گیا

معتبر ،مشکوک ٹھہرائے گئے
بے ہنر کو با ہنر لکھا گیا

چند سکوں کے لئے تاریخ میں
کیا ہوا،کیا کیا مگر لکھا گیا

جس کے دامن پر کوئی پتا نہ تھا
اس شجر کو با ثمر لکھا گیا

ظلم کی امجد اندھیری رات کو
آنکھ بند کر کے سحر لکھا گیا
٭٭٭



دکھوں کی دھوپ سے آ کر ہمیں بچائے کون
ہمارے ہونے کا احساس اب دلائے کون

ہر ایک سمت یہاں کربلا کا منظر ہے
حسین کون بنے اور سر کٹائے کون

لہو لہو ہیں، تمنائیں دل کے آنگن میں
ہر ایک سمت ہی کانٹے ہیں گل کھلائے کون

تمام عمر دکھائے جنہوں نے خواب ہمیں
یہ تلخیوں کی حقیقت انہیں دکھائے کون

وہ جس کے شانوں پہ صدیوں کا بوجھ ہے امجد
وہ ایک بوجھ ہے، اس بوجھ کو اٹھائے کون
٭٭٭



فضاؤ ں میں بکھرنا چاہتی ہے
وہ خوشبو ہے مہکنا چاہتی ہے

وہ اپنی پھول جیسی انگلیوں سے
کوئی تتلی پکڑنا چاہتی ہے

لہو کی بوند سے قرطاس پر وہ
رقم تاریخ کرنا چاہتی ہے

مسافت کے دکھو ں سے آشنا ہے
سفر میں ساتھ چلنا چاہتی ہے

بناوٹ اس کی فطرت میں ہے امجد
نئے سانچے میں ڈھلنا چاہتی ہے
٭٭٭



کہ جیسے  شام ڈھلتی جا رہی ہے
یہ دنیا یوں بدلتی جا رہی ہے

کسی کے نام کی مہندی لگا کر
بلکتی اور سسکتی جا رہی ہے

تری آنکھوں کا جادو چل گیا ہے
مری حالت بدلتی جا رہی ہے

مسیحائی مرے کس کام کی ہے
کہ جاں اب تو نکلتی جا رہی ہے

سوا نیزے پہ سورج آگیا ہے
زمیں امجد پگھلتی جا رہی ہے
٭٭٭



ہم نہ ہوں گے ،کبھی مگر ہوگی
اس سیاہ رات کی سحر ہوگی

وہ نہ آئے گا دم نکلنے تک
آنکھ میری بھی راہ پر ہوگی

میری بستی اجاڑنے والے
تیری بستی بھی خوں میں تر ہوگی

کتنے ٹکڑوں میں بٹ گیا ہوں میں
بے خبر تجھ کو کب خبر ہوگی

ہار کر جیت جاؤں گا امجد
جیت میری تو ہار کر ہوگی
٭٭٭



ہمارے خواب حقیقت میں ڈھال دیتی ہے
وفا زوال نہیں بس کمال دیتی ہے

یہ بات سچ ہے محبت اگر ہو سچی تو
حصار ذات سے باہر نکال دیتی ہے

کسی مثال کے قابل کبھی نہیں ہوتی
وہ بات جس کی یہ دنیا مثال دیتی ہے

تری نظر کی اداسی تجھے نہیں معلوم
مرے وجود سے جاں کو نکال دیتی ہے

چھپائے رکھتی ہے امجد بڑی بڑی باتیں
ذرا سی بات کو دنیا اچھال دیتی ہے
٭٭٭



اس طرح کائنات کو تسخیر کروں گا
میں تاج محل چاند پہ تعمیر کروں گا

اس طرح مٹاؤں گا ترے گھر کے اندھیرے
مٹی کے دئیے سے ہی میں تنویر کروں گا

وہ خاک کہ جو خاک شفا میرے لئیے ہے
اس خاک کو تیرے لئیے اکسیر کروں گا

اک تیرے لئیے خود کو میں نیلام کروں گا
یہ لعل و جواہر تیری تقدیر کروں گا

حیرت سے جسے دیکھے گی دنیا کبھی امجد
اک ایسی عمارت بھی میں تعمیر کروں گا
٭٭٭



جو دل میں ہے وہ منظر دیکھنا ہے
تری آنکھوں کے اندر دیکھنا ہے

تو اک قطرہ ہے آ مجھ میں سما جا
میں دریا ہوں، سمندر دیکھنا ہے

وہ جن رستوں کی منزل ہی نہیں ہے
انہی رستوں پہ چل کر دیکھنا ہے

تری چاہت نے جو دل پر لگائے
انہی زخموں کو بنجر دیکھنا ہے

جسے جھکنا نہیں آیا ہے امجد
کسی نیزے پہ وہ سر دیکھنا ہے
٭٭٭



کبھی تو آب و دانہ ڈھونڈھتے ہیں
کبھی پنچھی ،ٹھکانا ڈھونڈھتے ہیں

زمانے،نے بدل ڈالا ہے جس کو
وہی موسم سہانا ڈھونڈھتے ہیں

زمیں سے لوگ اب اکتا گئے ہیں
فضاؤں میں ٹھکانا ڈھونڈھتے ہیں

تمہاری قربتوں کا حال یہ ہے !
بچھڑنے کا بہانہ ڈھونڈھتے ہیں

انہیں پرواز کی خواہش ہے امجد
مگر ہم آشیانہ ڈھونڈھتے ہیں
٭٭٭



خوف بے نام سا اس دل میں بسا رہتا ہے
شہر کا شہر ہی آسیب زدہ  لگتا ہے

جانے کس حال میں زندہ ہوں بچھڑ کر اس سے
جس کا چہرہ مری آنکھوں میں سدا رہتا ہے

دھوپ حالات کی احساس کو جھلساتی ہے
اب گھنی چھاؤں میں بھی جسم مرا جلتا ہے

یہ سفر راس ہے شاید کہ مجھے راس نہیں
اس مسافت میں کہاں اس کا پتہ چلتا ہے

میری چاہت کی نفی کرتا ہے امجد جاوید
دوست بن کر وہ مرے زخم ہرے کرتا ہے
٭٭٭






مری آنکھوں کا منظر کھو گیا ہے
زمانہ جیسے سارا سو گیا ہے

بہایا جا رہا ہے مسجدوں میں
ہمارا خون ارزاں ہو گیا ہے

دکھوں کا ایک دریا بہہ رہا تھا
سمندر میں کہیں جو کھو  گیا ہے

جو چاہت سے کبھی گل بھیجتا تھا
مری آنکھوں میں کانٹے بو گیا ہے

اسے اب ڈھونڈھے ہو کس لئیے تم
مسافر تھا سفر میں کھو گیا ہے

میں تنہا ہوں مرا کوئی نہیں
یقین مجھ کو بھی امجد ہو گیا ہے
٭٭٭



روانی کا طریقہ ڈھونڈھتا ہے
وہ اک قطرہ جو دریا ڈھونڈھتا ہے

درختوں میں بغاوت ہو گئی ہے
کہ اب سائے کو سایہ ڈھونڈھتا ہے

کوئی تو ڈھونڈھتا ہے راستوں کو
مگر مجھ کو تو رستہ ڈھونڈھتا ہے

زمیں نے آسمان سے کی شکایات
ستارے کو ستارہ ڈھونڈھتا ہے

چلو امجد نئے راستے تلاشیں
جنہیں سارا زمانہ نہ ڈھونڈھتا ہے
٭٭٭



تیرا گمان حقیقت میں ڈھالنے کے لئے
میں خود کو ڈھونڈھتا رہتا ہوں مارنے کے لئے

میں جیتنے کے ارادے سے کھیلتا ہی نہیں
میں کھیلتا ہوں، ہر اک کھیل ہارنے کے لئے

ہر اک زخم کو ہنس کر اٹھا رہا ہوں میں
ہر ایک درد کو سینے میں پالنے کے لئے

ہر ایک شخص ہی خنجر اٹھائے پھرتا ہے
مرے وجود سے روح کو نکالنے کے لئے

اتار ڈالے ہیں غربت نے پیرہن امجد
بدن پہ کچھ بھی نہیں اب اتارنے کے لئے
٭٭٭



تیرگی آنکھ کی چلمن میں ہی بھر جاتی ہے
کون کہتا ہے کہ شب آ کے گزر جاتی ہے

ہم تو اس عالم فانی میں ہیں زندہ ایسے
جسم کے ساتھ جہاں روح بھی مر جاتی ہے

کتنا دشوار ہے صحرا کی حفاظت کرنا
جب بھی چلتی ہے ہوا ریت بکھر جاتی ہے

یہ سفر ختم ہوا پر ہے مسافت باقی
اس سے آگے بھی کہیں راہ گزر جاتی ہے

کبھی صحراؤں میں پانی نہیں ملتا امجد
زندگی پیاس کی آغوش میں مر جاتی ہے
٭٭٭



تیرگی کا بول بالا ہو گیا
کام یہ کیسا نرالا ہو گیا

میں حوالہ تھا کبھی اس کیلئے
آج وہ میرا حوالہ ہو گیا

دیکھتا ہوں یاس کے پرچھائیاں
سوچتا ہوں شہر کیسا ہو گیا

آخرش دھرتی پہ آ کے گر پڑا
جو مخالف اس ہوا کا ہو گیا

تیر آیا کس طرف سے کیا کہوں
کس طرح امجد نشانہ ہو گیا
٭٭٭


تم کو بتاؤں کیسے خیالات ریت کے
مجھ پر تو کھل سکے نہ کمالات ریت کے

دریا بہا کے لایا، کہاں لے گیا اسے
کیوں پوچھتے ہو، مٹی سے حالات ریت کے

مٹی کے پاس ان کا کوئی بھی نہیں جواب
ہیں اتنے لاجواب، سوالات ریت کے

شکوہ نہیں ہے دھوپ سے پانی سے کیا گلا
ساحل بھی جانتا نہیں،حالات ریت کے

مٹی کا قرض جس سے ادا ہو نہیں سکا !
امجد وہ لکھ رہا ہے مقالات ریت کے
٭٭٭






وہ ہی غم وہی ہی دکھ رفاقت کے بعد
محبت سے پہلے محبت کے بعد

جو سجدے میں تن سے جدا ہوگا سر
ملے گا وہ رتبہ شہادت کے بعد

جہاں سے اڑے تھے، وہیں آ گئے
پرندے سبھی اک مسافت کے بعد

نئی ایک الجھن نیا ایک غم
نئی اک مصیبت، مصیبت کے بعد

وہی امتحان ہیں وہی مرحلے
قیامت سے پہلے قیامت کے بعد

محبت کا انجام کیا خوب ہے
وہی برف لمحے حرارت کے بعد
٭٭٭



یہ رت یہ چاندنی یہ فضا سوگوار ہے
صندل کے جنگلوں کے ہوا سوگوار ہے

گزرا نہیں ہے کوئی پرندہ ادھر سے آج
پیڑوں کے ساتھ ساتھ صبا سوگوار ہے

شدت کی دھوپ کھا گئی پھولوں کے شوخ رنگ
خوشبو بہت اداس ہوا سوگوار ہے

نفرت نے جب سے شہر میں ڈیرے لگائے ہیں
چاہت کی آنکھ نم ہے، وفا سوگوار ہے

امجد وہ مجھ سے دور ہے اس کو خبر نہیں
فرقت نے اس کی مجھ کو کیا سوگوار ہے
٭٭٭



زمانے بھر سے تو میں اختلاف کرتا ہوں
تمہارے پیار کا پر اعتراف کرتا ہوں

معاف کرنے کے قابل اگر ہو دشمن بھی
اے دوستو میں اسے بھی معاف کرتا ہوں

کبھی بھی جھوٹ کی کرتا نہیں حمایت میں
میں بات کرتا ہوں جو بھی شفاف کرتا ہوں

محبتوں کے سوا مرے پاس کچھ بھی نہیں
میں مانتا ہوں میں کب انحراف کرتا ہوں

مرا ضمیر کبھی مطمئن نہیں ہوتا
اگر مزاج کے امجد خلاف کرتا ہوں
٭٭٭

٭٭٭
ماخذ:
http://www.ipaki.com/urdu/user_poetry/amjad-javed/
تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید
