﻿

بانگِ درا




علاّمہ محمّد اقبال
 

حصہ اول ـــــــ 1905 تک

ہمالہ

اے ہمالہ! اے فصلص کشور ہندوستاں
 چومتا ہے تر ی پیشانی کو جھک کر آسماں
 تجھ مںہ کچھ پد0ا نہںو دیرینہ روزی کے نشاں
 تو جواں ہے گردش شام و سحر کے درمااں
 ایک جلوہ تھا کلمس طور سناں کے لےی
 تو تجلی ہے سراپا چشم بناا کے لےی
 امتحان دیدۂ ظاہر مںا کوہستاں ہے تو
 پاسباں اپنا ہے تو ، دیوار ہندستاں ہے تو
 مطلع اول فلک جس کا ہو وہ دیواں ہے تو
 سوئے خلوت گاہِ دل دامن کش انساں ہے تو
 برف نے باندھی ہے دستار فضیلت ترسے سر
 خندہ زن ہے جو کلاہِ مہر عالم تاب پر
 تردی عمر رفتہ کی اک آن ہے عہد کہن
 وادیوں مںہ ہں  تری کالی گھٹائںھ خمہے زن 
 چوٹایں ترہی ثریا سے ہںی سرگرم سخن
 تو زمںن پر اور پہنائے فلک ترلا وطن
 چشمۂ  دامن ترا  آئۂہن سارل ہے
 دامن موج ہوا جس کے لےۂ رومال ہے
 ابر کے ہاتھوں مںک رہوار ہوا کے واسطے
 تازیانہ دے دیا برق سر کہسار نے
 اے ہمالہ کوئی بازی گاہ ہے تو بھی ، جسے
 دست قدرت نے بنایا ہے عناصر کے لےگ
 ہائے کات فرط طرب مں  جھومتا جاتا ہے ابر
 فلئ بے زنجر  کی صورت اڑا جاتا ہے ابر
 جنبش موج نسم  صبح گہوارہ بنی
 جھومتی ہے نشۂ ہستی مںا ہر گل کی کلی
 یوں زبان برگ سے گویا ہے اس کی خامشی
 دست گلچیں کی جھٹک مںھ نے نہںی دییھ  کبھی
 کہہ رہی ہے مر ی خاموشی ہی افسانہ مرا
 کنج خلوت خانۂ  قدرت ہے کاشانہ مرا
 آتی ہے ندی فراز کوہ سے گاتی ہوئی
 کوثر و تسنمن کی موجوں کی شرماتی ہوئی
 آئنہ سا شاہد قدرت کو دکھلاتی ہوئی
 سنگ رہ سے گاہ بچتی ، گاہ ٹکراتی ہوئی
 چھڑ تی جا اس عراق دل نشیں کے ساز کو
 اے مسافر دل سمجھتا ہے تری آواز کو
 لی م شب کھولتی ہے آ کے جب زلف رسا
 دامن دل کھیچت ہ ہے آبشاروں کی صدا
 وہ خموشی شام کی جس پر تکلم ہو فدا
 وہ درختوں پر تفکر کا سماں چھایا ہوا
 کانپتا پھرتا ہے کاک رنگ شفق کہسار پر
 خوشنما لگتا ہے یہ غازہ ترے رخسار پر
 اے ہمالہ! داستاں اس وقت کی کوئی سنا
 مسکن آبائے انساں جب بنا دامن ترا
 کچھ بتا اس سد ھی سادی زندگی کا ماجرا
 داغ جس پر غازۂ رنگ تکلف کا نہ تھا
 ہاں دکھا دے اے تصور پھر وہ صبح و شام تو
 دوڑ پچھے  کی طرف اے گردش ایام تو
 

گل رنگیں 


تو شناسائے خراش عقدۂ مشکل نہںر 
اے گل رنگں  ترے پہلو مںہ شاید دل نہں  
زیب محفل ہے ، شریک شورش محفل نہںل 
یہ فراغت بزم ہستی مںش مجھے حاصل نہںں 
اس چمن مںغ مَیں سراپا سوز و ساز آرزو 
اور تر ی زندگانی بے گداز آرزو 
توڑ لنام شاخ سے تجھ کو مرا آئںی نہںا 
یہ نظر غرن از نگاہ چشم صورت بں  نہںر 
آہ! یہ دست جفا جو اے گل رنگں  نہں  
کس طرح تجھ کو یہ سمجھاؤں کہ مںگ گلچیں نہںا 
کام مجھ کو دیدۂ حکمت کے الجھیڑوں سے کا  
دیدۂ بلبل سے مںا کرتا ہوں نظارہ ترا 
سو زبانوں پر بھی خاموشی تجھے منظور ہے 
راز وہ کا  ہے ترے سینے مںا جو مستور ہے 
مرزی صورت تو بھی اک برگ ریاض طور ہے 
مںز چمن سے دور ہوں تو بھی چمن سے دور ہے 
مطمئن ہے تو ، پریشاں مثل بو رہتا ہوں مں  
زخمی شمشر  ذوق جستجو رہتا ہوں مں  
یہ پریشانی مری سامان جمعت  نہ ہو 
یہ جگر سوزی چراغ خانہ حکمت نہ ہو 
ناتوانی ہی مری سرمایۂ قوت نہ ہو 
رشک جام جم مرا آئینۂ حرحت نہ ہو 
یہ تلاش متصل شمع جہاں افروز ہے 
توسن ادراک انساں کو خرام آموز ہے
 
عہد طفلی

 
 تھے دیار نو زمنا و آسماں مرہے لےۂ 
وسعت آغوش مادر اک جہاں مراے لےس 
تھی ہر اک جنبش نشان لطف جاں مرمے لےے 
حرف بے مطلب تھی خود مرفی زباں مرہے لےہ 
درد ، طفلی مںج اگر کوئی رلاتا تھا مجھے 
شورش زنجری در مںن لطف آتا تھا مجھے 
تکتے رہنا ہائے! وہ پہروں تلک سوئے قمر 
وہ پھٹے بادل مںہ بے آواز پا اس کا سفر 
پوچھنا رہ رہ کے اس کے کوہ و صحرا کی خبر 
اور وہ حر ت دروغ مصلحت آمزک پر 
آنکھ وقف دید تھی ، لب مائل گفتار تھا 
دل نہ تھا مریا ، سراپا ذوق استفسار تھا
 
مرزا غالب

فکر انساں پر تری ہستی سے یہ روشن ہوا 
ہے پر مرغ تخلت کی رسائی تا کجا 
تھا سراپا روح تو ، بزم سخن پکرت ترا 
زیب محفل بھی رہا محفل سے پنہاں بھی رہا 
دید ترفی آنکھ کو اس حسن کی منظور ہے 
بن کے سوز زندگی ہر شے مں  جو مستور ہے 
محفل ہستی تری بربط سے ہے سرمایہ دار 
جس طرح ندی کے نغموں سے سکوت کوہسار 
تر ے فردوس تخلک سے ہے قدرت کی بہار 
تر ی کشت فکر سے اگتے ہںر عالم سبزہ وار 
زندگی مضمر ہے ترری شوخی تحریر مں  
تاب گویائی سے جنبش ہے لب تصویر مںت 
نطق کو سو ناز ہںا تر ے لب اعجاز پر 
محو حر ت ہے ثریا رفعت پرواز پر 
شاہد مضموں تصدق ہے ترے انداز پر 
خندہ زن ہے غنچۂ دلی گل شرراز پر 
آہ! تو اجڑی ہوئی دلی مں  آرامدمہ ہے 
گلشن ویمر مںڑ تر ا ہم نوا خوابد ہ ہے 
لطف گویائی مںپ ترمی ہمسری ممکن نہںی 
ہو تخلن کا نہ جب تک فکر کامل ہم نشیں 
ہائے! اب کاب ہو گئی ہندوستاں کی سر زمںآ 
آہ! اے نظارہ آموز نگاہ نکتہ بںو 
گسوےئے اردو ابھی منت پذیر شانہ ہے 
شمع یہ سودائی دل سوزیِ  پروانہ ہے 
اے جہان آباد ، اے گہوارۂ علم و ہنر 
ہں  سراپا نالۂ خاموش تروے بام و در 
ذرے ذرے مںس ترے خوابدوہ ہں  شمس و قمر 
یوں تو پوشداہ ہںب تردی خاک مں  لاکھوں گہر 
دفن تجھ مںپ کوئی فخر روزگار ایسا بھی ہے؟ 
تجھ مںھ پنہاں کوئی موتی آبدار ایسا بھی ہے؟
 
ابر کوہسار
 

ہے بلندی سے فلک بوس نشمن  مررا 
ابر کہسار ہوں گل پاش ہے دامن مرنا 
کبھی صحرا ، کبھی گلزار ہے مسکن مررا 
شہر و ویرانہ مرا ، بحر مرا ، بن مرزا 
کسی وادی مں  جو منظور ہو سونا مجھ کو 
سبزۂ کوہ ہے مخمل کا بچھونا مجھ کو 
مجھ کو قدرت نے سکھایا ہے در افشاں ہونا 
ناقۂ شاہد رحمت کا حدی خواں ہونا 
غم زدائے دل افسردۂ دہقاں ہونا 
رونق بزم جوانان گلستاں ہونا 
بن کے گسوج رخ ہستی پہ بکھر جاتا ہوں 
شانۂ موجۂ صرصر سے سنور جاتا ہوں 
دور سے دیدۂ امدا کو ترساتا ہوں 
کسی بستی سے جو خاموش گزر جاتا ہوں 
سری کرتا ہوا جس دم لب جو آتا ہوں 
بالایں نہر کو گرداب کی پہناتا ہوں 
سبزۂ مزرع نوخزا کی امدا ہوں مںک 
زادۂ بحر ہوں پروردۂ خورشدا ہوں مںد 
چشمۂ کوہ کو دی شورش قلزم مںخ نے 
اور پرندوں کو کاب محو ترنم مں  نے 
سر پہ سبزے کے کھڑے ہو کے کہا قم مں  نے 
غنچۂ گل کو دیا ذوق تبسم مں  نے 
فضچ سے مرھے نمونے ہںو شبستانوں کے 
جھونپڑے دامن کہسار مں  دہقانوں کے
 
ایک مکڑا اور مکھی
ماخوذ - بچوں کے لےد
 
اک دن کسی مکھی سے یہ کہنے لگا مکڑا 
اس راہ سے ہوتا ہے گزر روز تمھارا 
لکنر مری کٹام کی نہ جاگی کبھی قسمت 
بھولے سے کبھی تم نے یہاں پاؤں نہ رکھا 
غرووں سے نہ ملیے تو کوئی بات نہںج ہے 
اپنوں سے مگر چاہے  یوں کھنچ کے نہ رہنا 
آؤ جو مرے گھر مں  تو عزت ہے یہ مرںی 
وہ سامنے سڑرھی ہے جو منظور ہو آنا 
مکھی نے سنی بات جو مکڑے کی تو بولی 
حضرت! کسی نادان کو دیجے گا یہ دھوکا 
اس جال مں  مکھی کبھی آنے کی نہںی ہے 
جو آپ کی سڑیھی پہ چڑھا ، پھر نہںر اترا 
مکڑے نے کہا واہ! فرییک مجھے سمجھے 
تم سا کوئی نادان زمانے مںھ نہ ہو گا 
منظور تمھاری مجھے خاطر تھی وگرنہ 
کچھ فائدہ اپنا تو مرا اس مںے نںی  تھا 
اڑتی ہوئی آئی ہو خدا جانے کہاں سے 
ٹھہرو جو مرے گھر مںی تو ہے اس مں  برا کاا! 
اس گھر مںم کئی تم کو دکھانے کی ہںا چز یں 
باہر سے نظر آتا ہے چھوٹی سی یہ کٹان 
لٹکے ہوئے دروازوں پہ باریک ہںس پردے 
دیواروں کو آئنوبں سے ہے مںی نے سجایا 
مہمانوں کے آرام کو حاضر ہںس بچھونے 
ہر شخص کو ساماں یہ مسر  نہںب ہوتا 
مکھی نے کہا خر  ، یہ سب ٹھکت ہے لکنں 
مںھ آپ کے گھر آؤں ، یہ امد  نہ رکھنا 
ان نرم بچھونوں سے خدا مجھ کو بچائے 
سو جائے کوئی ان پہ تو پھر اٹھ نہںد سکتا 
مکڑے نے کہا دل مں  سنی بات جو اس کی 
پھانسوں اسے کس طرح یہ کم بخت ہے دانا 
سو کام خوشامد سے نکلتے ہں  جہاں مںہ 
دیکھو جسے دنال مںں خوشامد کا ہے بندا 
یہ سوچ کے مکھی سے کہا اس نے بڑی بی ! 
اللہ نے بخشا ہے بڑا آپ کو رتبا 
ہوتی ہے اسے آپ کی صورت سے محبت 
ہو جس نے کبھی ایک نظر آپ کو دیکھا 
آنکھں  ہںی کہ ہرکے کی چمکتی ہوئی کناتں 
سر آپ کا اللہ نے کلغی سے سجایا 
یہ حسن ، یہ پوشاک ، یہ خوبی ، یہ صفائی 
پھر اس پہ قاہمت ہے یہ اڑتے ہوئے گانا 
مکھی نے سنی جب یہ خوشامد تو پسیتی 
بولی کہ نہںت آپ سے مجھ کو کوئی کھٹکا 
انکار کی عادت کو سمجھتی ہوں برا مںو 
سچ یہ ہے کہ دل توڑنا اچھا نہںو ہوتا 
یہ بات کہی اور اڑی اپنی جگہ سے 
پاس آئی تو مکڑے نے اچھل کر اسے پکڑا 
بھوکا تھا کئی روز سے اب ہاتھ جو آئی 
آرام سے گھر بیٹھ کے مکھی کو اڑایا
 
ایک پہاڑ اور گلہری

(ماخوذ از ایمرسن) 
(بچوں کے لےہ) 

کوئی پہاڑ یہ کہتا تھا اک گلہری سے 
تجھے ہو شرم تو پانی مں  جا کے ڈوب مرے 
ذرا سی چزی ہے ، اس پر غرور ، کاے کہنا 
یہ عقل اور یہ سمجھ ، یہ شعور ، کا  کہنا! 
خدا کی شان ہے ناچزم چزہ بن بںھیا  
جو بے شعور ہوں یوں باتمزی بن بںھز ب 
تری بساط ہے کا  مریی شان کے آگے 
زمںب ہے پست مری آن بان کے آگے 
جو بات مجھ مں  ہے ، تجھ کو وہ ہے نصبک کہاں 
بھلا پہاڑ کہاں جانور غریب کہاں! 
کہا یہ سن کے گلہری نے ، منہ سنبھال ذرا 
یہ کچی باتں  ہںن دل سے انھںا نکال ذرا 
جو مں  بڑی نہںک ترںی طرح تو کاا پروا 
نہںم ہے تو بھی تو آخر مری طرح چھوٹا 
ہر ایک چز  سے پدکا خدا کی قدرت ہے 
کوئی بڑا ، کوئی چھوٹا ، یہ اس کی حکمت ہے 
بڑا جہان مںہ تجھ کو بنا دیا اس نے 
مجھے درخت پہ چڑھنا سکھا دیا اس نے 
قدم اٹھانے کی طاقت نہںا ذرا تجھ مںہ 
نری بڑائی ہے ، خوبی ہے اور کا  تجھ مں  
جو تو بڑا ہے تو مجھ سا ہنر دکھا مجھ کو 
یہ چھالاے ہی ذرا توڑ کر دکھا مجھ کو 
نہںت ہے چز  نکمی کوئی زمانے مں  
کوئی برا نہںی قدرت کے کارخانے مںی
 
ایک گائے اور بکری 
(ماخوذ )
بچوں کے لےگ


اک چراگہ ہری بھری تھی کہںج 
تھی سراپا بہار جس کی زمںن 
کای سماں اس بہار کا ہو بایں 
ہر طرف صاف ندیاں تھںہ رواں 
تھے اناروں کے بے شمار درخت 
اور پیپل کے سایہ دار درخت 
ٹھنڈی ٹھنڈی ہوائںت آتی تھںن 
طائروں کی صدائںہ آتی تھںں 
کسی ندی کے پاس اک بکری 
چرتے چرتے کہںل سے آ نکلی 
جب ٹھہر کر ادھر ادھر دیکھا 
پاس اک گائے کو کھڑے پایا 
پہلے جھک کر اسے سلام کاے 
پھر سلقے  سے یوں کلام کاب 
کورں بڑی بی! مزاج کسےا ہں  
گائے بولی کہ خری اچھے ہںز 
کٹ رہی ہے بری بھلی اپنی 
ہے مصبتل مںے زندگی اپنی 
جان پر آ بنی ہے ، کاا کہےپ 
اپنی قسمت بری ہے ، کاہ کہےے 
دیکھتی ہوں خدا کی شان کو مں  
رو رہی ہوں بروں کی جان کو مںو 
زور چلتا نہں  غریبوں کا 
پشر آیا لکھا نصبواں کا 
آدمی سے کوئی بھلا نہ کرے 
اس سے پالا پڑے ، خدا نہ کرے 
دودھ کم دوں تو بڑبڑاتا ہے 
ہوں جو دبلی تو بچک کھاتا ہے 
ہتھکنڈوں سے غلام کرتا ہے 
کن فریبوں سے رام کرتا ہے 
اس کے بچوں کو پالتی ہوں مںک 
دودھ سے جان ڈالتی ہوں مںں 
بدلے نی ج کے یہ برائی ہے 
مرلے اللہ! تری دہائی ہے 
سن کے بکری یہ ماجرا سارا 
بولی ، ایسا گلہ نہںک اچھا 
بات سچی ہے بے مزا لگتی 
مںت کہوں گی مگر خدا لگتی 
یہ چراگہ ، یہ ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا 
یہ ہری گھاس اور یہ سایا 
اییہ خوشا ں ہمںس نصب  کہاں 
یہ کہاں ، بے زباں غریب کہاں! 
یہ مزے آدمی کے دم سے ہںر 
لطف سارے اسی کے دم سے ہںد 
اس کے دم سے ہے اپنی آبادی 
قد  ہم کو بھلی ، کہ آزادی! 
سو طرح کا بنوں مںھ ہے کھٹکا 
واں کی گزران سے بچائے خدا 
ہم پہ احسان ہے بڑا اس کا 
ہم کو زیبا نہںک گلا اس کا 
قدر آرام کی اگر سمجھو 
آدمی کا کبھی گلہ نہ کرو 
گائے سن کر یہ بات شرمائی 
آدمی کے گلے سے پچھتائی 
دل مںس پرکھا بھلا برا اس نے 
اور کچھ سوچ کر کہا اس نے 
یوں تو چھوٹی ہے ذات بکری کی 
دل کو لگتی ہے بات بکری کی
 
 
بچے کی دعا 
(ما خو ذ) 
بچوں کے لےذ

لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا مر ی 
زندگی شمع کی صورت ہو خدایا مر ی 
دور دنات کا مرے دم سے اندھیرا ہو جائے 
ہر جگہ مرےے چمکنے سے اجالا ہو جائے 
ہو مرے دم سے یونہی مراے وطن کی زینت 
جس طرح پھول سے ہوتی ہے چمن کی زینت 
زندگی ہو مری پروانے کی صورت یا رب 
علم کی شمع سے ہو مجھ کو محبت یا رب 
ہو مرا کام غریبوں کی حمایت کرنا 
درد مندوں سے ضعفویں سے محبت کرنا 
مرے اللہ! برائی سے بچانا مجھ کو 
نیک جو راہ ہو اس رہ پہ چلانا مجھ کو 

ہمدردی 
( ماخوذ از ولما کو پر ) 
بچوں کے لےخ
 

ٹہنی پہ کسی شجر کی تنہا 
بلبل تھا کوئی اداس بٹھاج 
کہتا تھا کہ رات سر پہ آئی 
اڑنے چگنے مںر دن گزارا 
پہنچوں کس طرح آشارں تک 
ہر چزں پہ چھا گان اندھیرا 
سن کر بلبل کی آہ و زاری 
جگنو کوئی پاس ہی سے بولا 
حاضر ہوں مدد کو جان و دل سے 
کڑضا ہوں اگرچہ مںل ذرا سا 
 
کاض غم ہے جو رات ہے اندھیری 
مںض راہ مںج روشنی کروں گا 
اللہ نے دی ہے مجھ کو مشعل 
چمکا کے مجھے دیا بنایا 
ہںک لوگ وہی جہاں مںر اچھے 
آتے ہںے جو کام دوسرں کے
 
ماں کا خواب 
(ماخوذ بچوں کے لےا )

مںں سوئی جو اک شب تو دیکھا یہ خواب 
بڑھا اور جس سے مرا اضطراب 
یہ دیکھا کہ مں  جا رہی ہوں کہںو 
اندھیرا ہے اور راہ ملتی نہںا 
لرزتا تھا ڈر سے مرا بال بال 
قدم کا تھا دہشت سے اٹھنا محال 
جو کچھ حوصلہ پا کے آگے بڑھی 
تو دیکھا قطار ایک لڑکوں کی تھی 
زمرد سی پوشاک پہنے ہوئے 
دیے سب کے ہاتھوں مں  جلتے ہوئے 
وہ چپ چاپ تھے آگے پچھے  رواں 
خدا جانے جانا تھا ان کو کہاں 
اسی سوچ مںو تھی کہ مرےا پسر 
مجھے اس جماعت مںس آیا نظر 
وہ پچھے  تھا اور تزآ چلتا نہ تھا 
دیا اس کے ہاتھوں مںز جلتا نہ تھا 
کہا مںے نے پہچان کر ، مرتی جاں! 
مجھے چھوڑ کر آ گئے تم کہاں! 
جدائی مں  رہتی ہوں مں  بے قرار 
پروتی ہوں ہر روز اشکوں کے ہار 
نہ پروا ہماری ذرا تم نے کی 
گئے چھوڑ ، اچھی وفا تم نے کی 
جو بچے نے دیکھا مرا پچا و تاب 
دیا اس نے منہ پھر  کر یوں جواب 
رلاتی ہے تجھ کو جدائی مری 
نہںت اس مںت کچھ بھی بھلائی مری 
یہ کہہ کر وہ کچھ دیر تک چپ رہا 
دیا پھر دکھا کر یہ کہنے لگا 
سمجھتی ہے تو ہو گاد کاگ اسے؟ 
ترے آنسوؤں نے بجھایا اسے
 
پرندے کی فریاد 
بچو ں کے لےھ 

آتا ہے یاد مجھ کو گزرا ہوا زمانا
وہ باغ کی بہاریں وہ سب کا چہچہانا 
آزادیاں کہاں وہ اب اپنے گھونسلے کی 
اپنی خوشی سے آنا اپنی خوشی سے جانا 
لگتی ہے چوٹ دل پر ، آتا ہے یاد جس دم 
شبنم کے آنسوؤں پر کلو ں کا مسکرانا 
وہ پاکری پا ری صورت ، وہ کامنی سی مورت 
آباد جس کے دم سے تھا مررا آشا نا 
آتی نہںا صدائںآ اس کی مرے قفس مں  
ہوتی مری رہائی اے کاش مروے بس مںم! 
کات بد نصبم ہوں مںر گھر کو ترس رہا ہوں 
ساتھی تو ہںم وطن مںی ، مںر قد  مںم پڑا ہوں 
آئی بہار کلایں پھولوں کی ہنس رہی ہںا 
مںی اس اندھیرے گھر مں  قسمت کو رو رہا ہوں 
اس قدج کا الہی! دکھڑا کسے سناؤں 
ڈر ہے یںکا قفسں مںے مںے غم سے مر نہ جاؤں 
جب سے چمن چھٹا ہے ، یہ حال ہو گاڑ ہے 
دل غم کو کھا رہا ہے ، غم دل کو کھا رہا ہے 
گانا اسے سمجھ کر خوش ہوں نہ سننے والے 
دکھے ہوئے دلوں کی فریاد یہ صدا ہے 
آزاد مجھ کو کر دے ، او قدن کرنے والے! 
مںا بے زباں ہوں قددی ، تو چھوڑ کر دعا لے
 
خفتگان خاک سے استفسار

 
مہر روشن چھپ گاس ، اٹھی نقاب روئے شام 
شانۂ ہستی پہ ہے بکھرا ہوا گسوئئے شام 
یہ سہۂ پوشی کی تااری کس کے غم مں  ہے 
محفل قدرت مگر خورشدو کے ماتم مںا ہے 
کر رہا ہے آسماں جادو لب گفتار پر 
ساحر شب کی نظر ہے دیدۂ بدوار پر 
غوطہ زن دریاۓ خاموشی مںو ہے موج ہوا 
ہاں ، مگر اک دور سے آتی ہے آواز درا 
دل کہ ہے بے تابئ الفت مںو دناں سے نفور 
کھنچ لایا ہے مجھے ہنگامۂ عالم سے دور 
منظر حرماں نصیبی کا تماشائی ہوں مںس 
ہم نشین خفتگان کنج تنہائی ہوں مںے 
تھم ذرا بے تابی دل! بیٹھ جانے دے مجھے 
اور اس بستی پہ چار آ نسو گرانے دے مجھے 
اے مے غفلت کے سر مستو ، کہاں رہتے ہو تم 
کچھ کہو اس دیس کی آ خر ، جہاں رہتے ہو تم 
وہ بھی حرست خانۂ امروز و فردا ہے کوئی؟ 
اور پکا ر عناصر کا تماشا ہے کوئی؟ 
آدمی واں بھی حصار غم مںر ہے محصور کاھ؟ 
اس ولایت مںا بھی ہے انساں کا دل مجبور کاک؟ 
واں بھی جل مرتا ہے سوز شمع پر پروانہ کاا؟ 
اس چمن مںل بھی گل و بلبل کا ہے افسانہ کاک؟ 
یاں تو اک مصرع مںی پہلو سے نکل جاتا ہے دل 
شعر کی گرمی سے کا  واں بھی پگل جاتا ہے دل؟ 
رشتہ و پو ند یاں کے جان کا آزار ہںی 
اس گلستاں مںی بھی کاک ایسے نکلےم خار ہںا؟ 
اس جہاں مںم اک معشتی اور سو افتاد ہے 
روح کاں اس دیس مںش اس فکر سے آزاد ہے؟ 
کاح وہاں بجلی بھی ہے ، دہقاں بھی ہے ، خرمن بھی ہے؟ 
قافلے والے بھی ہںا ، اندیشۂ رہزن بھی ہے؟ 
تنکے چنتے ہںھ و ہاں بھی آشا ں کے واسطے؟ 
خشت و گل کی فکر ہوتی ہے مکاں کے واسطے؟ 
واں بھی انساں اپنی اصلتہ سے بگا؟نے ہں، کای؟ 
امتیاز ملت و آئںں کے دیوانے ہںے کاگ؟ 
واں بھی کائ فریاد بلبل پر چمن روتا نہںا؟ 
اس جہاں کی طرح واں بھی درد دل ہوتا نہںا؟ 
باغ ہے فردوس یا اک منزل آرام ہے؟ 
یا رخ بے پردۂ حسن ازل کا نام ہے؟ 
کاغ جہنم معصیت سوزی کی اک ترکب  ہے؟ 
آگ کے شعلوں مں  پنہاں مقصد تادیب ہے؟ 
کا  عوض رفتار کے اس دیس مںد پرواز ہے؟ 
موت کہتے ہںو جسے اہل زمںس ، کا  راز ہے ؟ 
اضطراب دل کا ساماں یاں کی ہست و بود ہے 
علم انساں اس ولایت مںی بھی کاب محدود ہے؟ 
دید سے تسکین پاتا ہے دل مہجور بھی؟ 
'لن ترانی' کہہ رہے ہںہ یا وہاں کے طور بھی؟ 
جستجو مںر ہے وہاں بھی روح کو آرام کاب؟ 
واں بھی انساں ہے قتلی ذوق استفہام کای؟ 
آہ! وہ کشور بھی تارییہ سے کا  معمور ہے؟ 
یا محبت کی تجلی سے سراپا نور ہے؟ 
تم بتا دو راز جو اس گنبد گرداں مںہ ہے 
موت اک چبھتا ہوا کانٹا دل انساں مںے ہے
 
 
شمع و پروانہ

پروانہ تجھ سے کرتا ہے اے شمع پا ر کواں 
یہ جان بے قرار ہے تجھ پر نثار کو ں 
سمااب وار رکھتی ہے ترںی ادا اسے 
آداب عشق تو نے سکھائے ہںا کای اسے؟ 
کرتا ہے یہ طواف تری جلوہ گاہ کا 
پھونکا ہوا ہے کاہ تری برق نگاہ کا؟ 
آزار موت مںہ اسے آرام جاں ہے کاب؟ 
شعلے مںت ترںے زندگی جاوداں ہے کا ؟ 
غم خانۂ جہاں مںر جو تر ی ضا  نہ ہو 
اس تفتہ دل کا نخل تمنا ہرا نہ ہو 
گرنا ترے حضور مںل اس کی نماز ہے 
ننھے سے دل مں  لذت سوز و گداز ہے 
کچھ اس مںل جوش عاشق حسن قدیم ہے 
چھوٹا سا طور تو یہ ذرا سا کلمی ہے 
پروانہ ، اور ذوق تماشائے روشنی 
کڑوا ذرا سا ، اور تمنائے روشنی!
 

عقل و دل 


عقل نے ایک دن یہ دل سے کہا 
بھولے بھٹکے کی رہنما ہوں مںک 
ہوں زمںھ پر ، گزر فلک پہ مرا 
دیکھ تو کس قدر رسا ہوں مںپ 
کام دناھ مں  رہبری ہے مرا 
مثل خضر خجستہ پا ہوں مںا 
ہوں مفسر کتاب ہستی کی 
مظہر شان کبریا ہوں مںک 
بوند اک خون کی ہے تو لکن  
غرنت لعل بے بہا ہوں مںو 
دل نے سن کر کہا یہ سب سچ ہے 
پر مجھے بھی تو دیکھ ، کاے ہوں مں  
راز ہستی کو تو سمجھتی ہے 
اور آنکھوں سے دیکھتا ہوں مںر 
ہے تجھے واسطہ مظاہر سے 
اور باطن سے آشنا ہوں مںت 
علم تجھ سے تو معرفت مجھ سے 
تو خدا جو ، خدا نما ہوں مں  
علم کی انتہا ہے بے تابی 
اس مرض کی مگر دوا ہوں مںں 
شمع تو محفل صداقت کی 
حسن کی بزم کا دیا ہوں مں  
تو زمان و مکاں سے رشتہ بپا 
طائر سدرہ آشنا ہوں مںہ 
کس بلندی پہ ہے مقام مرا 
عرش رب جللآ کا ہوں مںق! 
 
صدائے درد 

جل رہا ہوں کل نہں  پڑتی کسی پہلو مجھے 
ہاں ڈبو دے اے محط  آب گنگا تو مجھے 
سرزمںب اپنی قانمت کی نفاق انگزم ہے 
وصل کساپ ، یاں تو اک قرب فراق انگزا ہے 
بدلے یک رنگی کے یہ نا آشنائی ہے غضب 
ایک ہی خرمن کے دانوں مںہ جدائی ہے غضب 
جس کے پھولوں مںن اخوت کی ہوا آئی نہںغ 
اس چمن مںل کوئی لطف نغمہ پراائی نہںغ 
لذت قرب حقیںی پر مٹا جاتا ہوں مںی 
اختلاط موجہ و ساحل سے گھبراتا ہوں مںت 
دانۂ نم خرمن نما ہے شاعر معجز باںں 
ہو نہ خرمن ہی تو اس دانے کی ہستی پھر کہاں 
حسن ہو کان خود نما جب کوئی مائل ہی نہ ہو 
شمع کو جلنے سے کا  مطلب جو محفل ہی نہ ہو 
ذوق گویائی خموشی سے بدلتا کوگں نہں  
مرقے آئنےک سے یہ جوہر نکلتا کوبں نہں  
کب زباں کھولی ہماری لذت گفتار نے! 
پھونک ڈالا جب چمن کو آتش پکاہر نے
 
آفتاب 
(ترجمہ گایتری ) 

اے آفتاب! روح و روان جہاں ہے تو 
شر ازہ بند دفتر کون و مکاں ہے تو 
باعث ہے تو وجود و عدم کی نمود کا 
ہے سبز تروے دم سے چمن ہست و بود کا 
قائم یہ عرصےوں کا تماشا تجھی سے ہے 
ہر شے مںی زندگی کا تقاضا تجھی سے ہے 
ہر شے کو تروی جلوہ گری سے ثبات ہے 
تر ا یہ سوز و ساز سراپا حاقت ہے 
وہ آفتاب جس سے زمانے مںو نور ہے 
دل ہے ، خرد ہے ، روح رواں ہے ، شعور ہے 
اے آفتاب ، ہم کو ضاحئے شعور دے 
چشم خرد کو اپنی تجلی سے نور دے 
ہے محفل وجود کا ساماں طراز تو 
یزدان ساکنان نشبک و فراز تو 
تر ا کمال ہستی ہر جاندار مں  
تر ی نمود سلسلۂ کوہسار مںر 
ہر چزد کی حاوت کا پروردگار تو 
زائدزگان نور کا ہے تاجدار تو 
نے ابتدا کوئی نہ کوئی انتہا تری 
آزاد قدا اول و آخر ضای تری 
 
شمع
 
بزم جہاں مںئ مںآ بیا ہوں اے شمع! دردمند 
فریاد در گرہ صفت دانۂ سپند 
دی عشق نے حرارت سوز دروں تجھے 
اور گل فروش اشک شفق گوں کاو مجھے 
ہو شمع بزم عشش کہ شمع مزار تو 
ہر حال اشک غم سے رہی ہمکنار تو 
یک بںش تری نظر صفت عاشقان راز 
مر ی نگاہ مایۂ آشوب امتیاز 
کعبے مںں ، بت کدے مںر ہے یکساں تری ضا  
مںب امتیاز دیر و حرم مںہ پھنسا ہوا 
ہے شان آہ کی ترے دود ساوہ مںش 
پوشداہ کوئی دل ہے تری جلوہ گاہ مںہ؟ 
جلتی ہے تو کہ برق تجلی سے دور ہے 
بے درد تر ے سوز کو سمجھے کہ نور ہے 
تو جل رہی ہے اور تجھے کچھ خبر نہںم 
بناج ہے اور سوز دروں پر نظر نہںم 
مںا جوش اضطراب سے سماپب وار بھی 
آگاہ اضطراب دل بے قرار بھی 
تھا یہ بھی کوئی ناز کسی بے نا ز کا 
احساس دے دیا مجھے اپنے گداز کا 
یہ آگہی مری مجھے رکھتی ہے بے قرار 
خوابد ہ اس شرر مںھ ہںم آتش کدے ہزار 
یہ امتیاز رفعت و پستی اسی سے ہے 
گل مں  مہک ، شراب مںں مستی اسی سے ہے 
بستان و بلبل و گل و بو ہے یہ آگہی 
اصل کشاکش من و تو ہے یہ آگہی 
صبح ازل جو حسن ہوا دلستان عشق 
آواز 'کن' ہوئی تپش آموز جان عشق 
یہ حکم تھا کہ گلشن 'کن' کی بہار دیکھ 
ایک آنکھ لے کے خواب پریشاں ہزار دیکھ 
مجھ سے خبر نہ پوچھ حجاب وجود کی 
شام فراق صبح تھی مردی نمود کی 
وہ دن گئے کہ قدی سے مں  آشنا نہ تھا 
زیب درخت طور مرا آشاسنہ تھا 
قد ی ہوں اور قفس کو چمن جانتا ہوں مںھ 
غربت کے غم کدے کو وطن جانتا ہوں مں  
یاد وطن فسردگی بے سبب بنی 
شوق نظر کبھی ، کبھی ذوق طلب بنی 
اے شمع! انتہائے فریب خا ل دیکھ 
مسجود ساکنان فلک کا مآل دیکھ 
مضموں فراق کا ہوں ، ثریا نشاں ہوں مںب 
آہنگ طبع ناظم کون و مکاں ہوں مں  
باندھا مجھے جو اس نے تو چاہی مری نمود 
تحریر کر دیا سر دیوان ہست و بود 
گوہر کو مشت خاک مںن رہنا پسند ہے 
بندش اگرچہ سست ہے ، مضموں بلند ہے 
چشم غلط نگر کا یہ سارا قصور ہے 
عالم ظہور جلوۂ ذوق شعور ہے 
یہ سلسلہ زمان و مکاں کا ، کمند ہے 
طوق گلوئے حسن تماشا پسند ہے 
منزل کا اشتانق ہے ، گم کردہ راہ ہوں 
اے شمع ! مں  اسرد فریب نگاہ ہوں 
صا د آپ ، حلقۂ دام ستم بھی آپ 
بام حرم بھی ، طائر بام حرم بھی آپ! 
مںم حسن ہوں کہ عشق سراپا گداز ہوں 
کھلتا نہں  کہ ناز ہوں مںگ یا نایز ہوں 
ہاں ، آشنائے لب ہو نہ راز کہن کہںا 
پھر چھڑ نہ جائے قصۂ دار و رسن کہںا
 

ایک آرزو
 

دنا  کی محفلوں سے اکتا گاا ہوں یا رب
کاا لطف انجمن کا جب دل ہی بجھ گای ہو 
شورش سے بھاگتا ہوں ، دل ڈھونڈتا ہے مر ا 
ایسا سکوت جس پر تقریر بھی فدا ہو 
مرتا ہوں خامشی پر ، یہ آرزو ہے مرفی 
دامن مںں کوہ کے اک چھوٹا سا جھونپڑا ہو 
آزاد فکر سے ہوں ، عزلت مںا دن گزاروں 
دناد کے غم کا دل سے کانٹا نکل گاو ہو 
لذت سرود کی ہو چڑیوں کے چہچہوں مںو 
چشمے کی شورشوں مںو باجا سا بج رہا ہو 
گل کی کلی چٹک کر پغابم دے کسی کا 
ساغر ذرا سا گویا مجھ کو جہاں نما ہو 
ہو ہاتھ کا سرھانا سبزے کا ہو بچھونا 
شرمائے جس سے جلوت ، خلوت مںو وہ ادا ہو 
مانوس اس قدر ہو صورت سے مرںی بلبل 
ننھے سے دل مںہ اس کے کھٹکا نہ کچھ مرا ہو 
صف باندھے دونوں جانب بوٹے ہرے ہرے ہوں 
ندی کا صاف پانی تصویر لے رہا ہو 
ہو دل فریب ایسا کہسار کا نظارہ 
پانی بھی موج بن کر اٹھ اٹھ کے دیکھتا ہو 
آغوش مںر زمںف کی سویا ہوا ہو سبزہ 
پھر پھر کے جھاڑیوں مں  پانی چمک رہا ہو 
پانی کو چھو رہی ہو جھک جھک کے گل کی ٹہنی 
جسےی حسنڑ کوئی آئنہھ دیکھتا ہو 
مہندی لگائے سورج جب شام کی دلھن کو 
سرخی لےا سنہری ہر پھول کی قبا ہو 
راتوں کو چلنے والے رہ جائںس تھک کے جس دم 
امدو ان کی مرتا ٹوٹا ہوا دیا ہو 
بجلی چمک کے ان کو کٹام مری دکھا دے 
جب آسماں پہ ہر سو بادل گھرا ہوا ہو 
پچھلے پہر کی کوئل ، وہ صبح کی مؤذن 
مںھ اس کا ہم نوا ہوں ، وہ مرصی ہم نوا ہو 
کانوں پہ ہو نہ مرمے دیر و حرم کا احساں 
روزن ہی جھونپڑی کا مجھ کو سحر نما ہو 
پھولوں کو آئے جس دم شبنم وضو کرانے 
رونا مرا وضو ہو ، نالہ مری دعا ہو 
اس خامشی مں  جائں  اتنے بلند نالے 
تاروں کے قافلے کو مرمی صدا درا ہو 
ہر دردمند دل کو رونا مرا رلا دے 
بے ہوش جو پڑے ہںر ، شاید انھںا جگا دے
 

آفتاب صبح

 
شورش مخاحنۂ انساں سے بالاتر ہے تو 
زینت بزم فلک ہو جس سے وہ ساغر ہے تو 
ہو در گوش عروس صبح وہ گوہر ہے تو 
جس پہ سما ئے افق نازاں ہو وہ زیور ہے تو 
صفحۂ ایام سے داغ مداد شب مٹا 
آسماں سے نقش باطل کی طرح کوکب مٹا 
حسن ترسا جب ہوا بام فلک سے جلوہ گر 
آنکھ سے اڑتا ہے یک دم خواب کی مے کا اثر 
نور سے معمور ہو جاتا ہے دامان نظر 
کھولتی ہے چشم ظاہر کو ضا  تر ی مگر 
ڈھونڈتی ہں  جس کو آنکںا  وہ تماشا چاہے  
چشم باطن جس سے کھل جائے وہ جلوا چاہےآ 
شوق آزادی کے دنا  مںآ نہ نکلے حوصلے 
زندگی بھر قد  زنجرم تعلق مںن رہے 
زیر و بالا ایک ہںج ترلی نگاہوں کے لےے 
آرزو ہے کچھ اسی چشم تماشا کی مجھے 
آنکھ مر ی اور کے غم مںں سرشک آباد ہو 
امتیاز ملت و آئںر سے دل آزاد ہو 
بستۂ رنگ خصوصتا نہ ہو مرلی زباں 
نوع انساں قوم ہو مر ی ، وطن مررا جہاں 
دیدۂ باطن پہ راز نظم قدرت ہو عامں 
ہو شناسائے فلک شمع تخلط کا دھواں 
عقدۂ اضداد کی کاوش نہ تڑپائے مجھے 
حسن عشق انگزل ہر شے مںک نظر آئے مجھے 
صدمہ آ جائے ہوا سے گل کی پتی کو اگر 
اشک بن کر مرہی آنکھوں سے ٹپک جائے اثر 
دل مںن ہو سوز محبت کا وہ چھوٹا سا شرر 
نور سے جس کے ملے راز حققت  کی خبر 
شاہد قدرت کا آئنہر ہو ، دل مر ا نہ ہو 
سر مںق جز ہمدردی انساں کوئی سودا نہ ہو 
تو اگر زحمت کش ہنگامۂ عالم نہںں 
یہ فضیلت کا نشاں اے نرن اعظم نہں  
اپنے حسن عالم آرا سے جو تو محرم نہںن 
ہمسر یک ذرۂ خاک در آدم نہںک 
نور مسجود ملک گرم تماشا ہی رہا 
اور تو منت پذیر صبح فردا ہی رہا 
آرزو نور حققت  کی ہمارے دل مں  ہے 
لیزو ذوق طلب کا گھر اسی محمل مںا ہے 
کس قدر لذت کشود عقدۂ مشکل مںر ہے 
لطف صد حاصل ہماری سعی بے حاصل مںں ہے 
درد استفہام سے واقف ترا پہلو نہںم 
جستجوئے راز قدرت کا شناسا تو نہںم
 
درد عشق


اے درد عشق! ہے گہر آب دار تو 
نامحرموں مں  دیکھ نہ ہو آشکار تو 
پنہاں تہ نقاب تری جلوہ گاہ ہے 
ظاہر پرست محفل نو کی نگاہ ہے 
آئی نئی ہوا چمن ہست و بود مں  
اے درد عشق! اب نہںو لذت نمود مں  
ہاں خود نمائولں کی تجھے جستجو نہ ہو 
منت پذیر نالۂ بلبل کا تو نہ ہو! 
خالی شراب عشق سے لالے کا جام ہو 
پانی کی بوند گریۂ شبنم کا نام ہو 
پنہاں درون سنہ  کہںے راز ہو ترا 
اشک جگر گداز نہ غماز ہو ترا 
گویا زبان شاعر رنگںر با ں نہ ہو 
آواز نے مںا شکوۂ فرقت نہاں نہ ہو 
یہ دور نکتہ چں  ہے ، کہںق چھپ کے بیٹھ رہ 
جس دل مںر تو مکںں ہے، وہں  چھپ کے بیٹھ رہ 
غافل ہے تجھ سے حر ت علم آفریدہ دیکھ! 
جویا نہں  تری نگہ نارسد ہ دیکھ 
رہنے دے جستجو مںں خالل بلند کو 
حرنت مں  چھوڑ دیدۂ حکمت پسند کو 
جس کی بہار تو ہو یہ ایسا چمن نہںک 
قابل تری نمود کے یہ انجمن نہںس 
یہ انجمن ہے کشتۂ نظارۂ مجاز 
مقصد تری نگاہ کا خلوت سرائے راز 
ہر دل مے خا ل کی مستی سے چور ہے 
کچھ اور آجکل کے کلمواں کا طور ہے
 
گل پژمردہ

 
کس زباں سے اے گل پژمردہ تجھ کو گل کہوں 
کس طرح تجھ کو تمنائے دل بلبل کہوں 
تھی کبھی موج صبا گہوارۂ جنباں ترا 
نام تھا صحن گلستاں مںد گل خنداں ترا 
ترمے احساں کا نسم  صبح کو اقرار تھا 
باغ تراے دم سے گویا طبلۂ عطار تھا 
تجھ پہ برساتا ہے شبنم دیدۂ گریاں مرا 
ہے نہاں ترای اداسی مں  دل ویراں مرا 
مر ی بربادی کی ہے چھوٹی سی اک تصویر تو 
خوا ب مرری زندگی تھی جس کی ہے تعبرت تو 
ہمچو نے از نستاےن خود حکایت می کنم 
بشنو اے گل! از جدائی ہا شکایت می کنم
 
سیدکی لوح تربت 


اے کہ تردا مرغ جاں تار نفس مںی ہے اسر  
اے کہ تردی روح کا طائر قفس مںا ہے اسر  
اس چمن کے نغمہ پرااؤں کی آزادی تو دیکھ 
شہر جو اجڑا ہوا تھا اس کی آبادی تو دیکھ 
فکر رہتی تھی مجھے جس کی وہ محفل ہے ییا 
صبر و استقلال کی کھی   کا حاصل ہے یی  
سنگ تربت ہے مرا گرویدہ تقریر دیکھ 
چشم باطن سے ذرا اس لوح کی تحریر دیکھ 
مدعا ترنا اگر دنا  مںت ہے تعلمک دیں 
ترک دنان قوم کو اپنی نہ سکھلانا کہںھ 
وا نہ کرنا فرقہ بندی کے لےح اپنی زباں 
چھپ کے ہے بٹھاہ ہوا ہنگامۂ محشر یہاں 
وصل کے اسباب پد ا ہوں تری تحریر سے 
دیکھ کوئی دل نہ دکھ جائے تری تقریر سے 
محفل نو مں  پرانی داستانوں کو نہ چھڑا
رنگ پر جو اب نہ آئںر ان فسانوں کو نہ چھڑہ 
تو اگر کوئی مدبر ہے تو سن مرکی صدا 
ہے دلر ی دست ارباب سانست کا عصا 
عرض مطلب سے جھجک جانا نہںس زیبا تجھے 
نیک ہے نتک اگر ترںی تو کا  پروا تجھے 
بندۂ مومن کا دل بم  و ریا سے پاک ہے 
قوت فرماں روا کے سامنے بے باک ہے 
ہو اگر ہاتھوں مں  ترکے خامۂ معجز رقم 
شیشۂ دل ہو اگر تریا مثال جام جم 
پاک رکھ اپنی زباں ، تلمذا رحمانی ہے تو 
ہو نہ جائے دیکھنا ترںی صدا بے آبرو! 
سونے والوں کو جگا دے شعر کے اعجاز سے 
خرمن باطل جلا دے شعلۂ آواز سے

 
ماہ نو 

ٹوٹ کر خورشد  کی کشتی ہوئی غرقاب نلا 
ایک ٹکڑا ترشتا پھرتا ہے روئے آب نلح 
طشت گردوں مںڑ ٹپکتا ہے شفق کا خون ناب 
نشتر قدرت نے کات کھولی ہے فصد آفتاب 
چرخ نے بالی چرا لی ہے عروس شام کی 
نلخ کے پانی مںی یا مچھلی ہے سمر خام کی 
قافلہ ترلا رواں بے منت بانگ درا 
گوش انساں سن نہںر سکتا تری آواز پا 
گھٹنے بڑھنے کا سماں آنکھوں کو دکھلاتا ہے تو 
ہے وطن ترنا کدھر ، کس دیس کو جاتا ہے تو 
ساتھ اے ساےرۂ ثابت نما لے چل مجھے 
خار حسرت کی خلش رکھتی ہے اب بے کل مجھے 
نور کا طالب ہوں ، گھبراتا ہوں اس بستی مںب مں  
طفلک سمااب پا ہوں مکتب ہستی مںب مں 
 
 
انسان اور بزم قدرت 


صبح خورشد  درخشاں کو جو دیکھا مں  نے 
بزم معمورۂ ہستی سے یہ پوچھا مںم نے 
پر تو مہر کے دم سے ہے اجالا تر ا 
سم  سا ل ہے پانی ترے دریاؤں کا 
مہر نے نور کا زیور تجھے پہنایا ہے 
ترری محفل کو اسی شمع نے چمکایا ہے 
گل و گلزار ترے خلد کی تصویریں ہںی 
یہ سبھی سورۂ 'والشمس' کی تفسر یں ہں  
سرخ پوشاک ہے پھولوں کی ، درختوں کی ہری 
ترخی محفل مں  کوئی سبز ، کوئی لال پری 
ہے ترے خیمۂ گردوں کی طلائی جھالر 
بدلارں لال سی آتی ہںا افق پر جو نظر 
کال بھلی لگتی ہے آنکھوں کو شفق کی لالی 
مے گلرنگ خم شام مںگ تو نے ڈالی 
رتبہ ترگا ہے بڑا ، شان بڑی ہے ترشی 
پردۂ نور مںب مستور ہے ہر شے تروی 
صبح اک گت  سراپا ہے تری سطوت کا 
زیر خورشدل نشاں تک بھی نہںت ظلمت کا 
مںح بھی آباد ہوں اس نور کی بستی مںر مگر 
جل گار پھر مری تقدیر کا اختر کوینکر؟ 
نور سے دور ہوں ظلمت مںب گرفتار ہوں مںا 
کورں سہ  روز ، سہو بخت ، سہں کار ہوں مں ؟ 
مںر یہ کہتا تھا کہ آواز کہں، سے آئی 
بام گردوں سے وہ یا صحن زمں  سے آئی 
ہے ترے نور سے وابستہ مری بود و نبود 
باغباں ہے تری ہستی پے گلزار وجود 
انجمن حسن کی ہے تو ، تری تصویر ہوں مں  
عشق کا تو ہے صحفہہ ، تری تفسرد ہوں مں  
مرقے بگڑے ہوئے کاموں کو بنایا تو نے 
بار جو مجھ سے نہ اٹھا وہ اٹھایا تو نے 
نور خورشدھ کی محتاج ہے ہستی مرہی 
اور بے منت خورشدد چمک ہے تری 
ہو نہ خورشدخ تو ویراں ہو گلستاں مر ا 
منزل عشو کی جا نام ہو زنداں مرما 
آہ اے راز عاکں کے نہ سمجھے والے! 
حلقۂ  دام تمنا مںہ الجھنے والے 
ہائے غفلت کہ تری آنکھ ہے پابند مجاز 
ناز زیبا تھا تجھے ، تو ہے مگر گرم نامز 
تو اگر اپنی حققت  سے خبردار رہے 
نہ سہر روز رہے پھر نہ سہ  کار رہے
 
 
پیا م صبح 
( ماخوذ از لانگ فلو ) 

اجالا جب ہوا رخصت جبنو شب کی افشاں کا 
نسمل زندگی پغابم لائی صبح خنداں کا 
جگایا بلبل رنگںن نوا کو آشالنے مںک 
کنارے کھتہ کے شانہ ہلایا اس نے دہقاں کا 
طلسم ظلمت شب سورۂ والنور سے توڑا 
اندھیرے مں  اڑایا تاج زر شمع شبستاں کا 
پڑھا خوابدشگان دیر پر افسون بدشاری 
برہمن کو دیا پغارم خورشدش درخشاں کا 
ہوئی بام حرم پر آ کے یوں گویا مؤذن سے 
نہںی کھٹکا ترے دل مںک نمود مہر تاباں کا؟ 
پکاری اس طرح دیوار گلشن پر کھڑے ہو کر 
چٹک او غنچۂ گل! تو مؤذن ہے گلستاں کا 
دیا یہ حکم صحرا مں  چلو اے قافلے والو! 
چمکنے کو ہے جگنو بن کے ہر ذرہ بایباں کا 
سوئے گور غریباں جب گئی زندوں کی بستی سے 
تو یوں بولی نظارا دیکھ کر شہر خموشاں کا 
ابھی آرام سے لٹےگ رہو ، مںو پھر بھی آؤں گی 
سلادوں گی جہاں کو خواب سے تم کو جگاؤں گی 
 
عشق اور موت 
( ماخو ذ از ٹی ہ سن) 


سہانی نمود جہاں کی گھڑی تھی 
تبسم فشاں زندگی کی کلی تھی 
کہںم مہر کو تاج زر مل رہا تھا 
عطا چاند کو چاندنی ہو رہی تھی 
سہا پرچہن شام کو دے رہے تھے 
ستاروں کو تعلمن تابندگی تھی 
کہںر شاخ ہستی کو لگتے تھے پتے 
کہںر زندگی کی کلی پھوٹتی تھی 
فرشتے سکھاتے تھے شبنم کو رونا 
ہنسی گل کو پہلے پہل آ رہی تھی 
عطا درد ہوتا تھا شاعر کے دل کو 
خودی تشنۂ کام مے بے خودی تھی 
اٹھی اول اول گھٹا کالی کالی 
کوئی حور چوٹی کو کھولے کھڑی تھی 
زمںی کو تھا دعوی کہ مںو آسماں ہوں 
مکاں کہہ رہا تھا کہ مںع لا مکاں ہوں 
غرض اس قدر یہ نظارہ تھا پاکرا 
کہ نظارگی ہو سراپا نظارا 
ملک آزماتے تھے پرواز اپنی 
جبنوآں سے نور ازل آشکارا 
فرشتہ تھا اک ، عشق تھا نام جس کا 
کہ تھی رہبری اس کی سب کا سہارا 
فرشتہ کہ پتلا تھا بے تابومں کا 
ملک کا ملک اور پارے کا پارا 
پے سرا فردوس کو جا رہا تھا 
قضا سے ملا راہ مںو وہ قضا را 
یہ پوچھا ترا نام کاو ، کام کاا ہے 
نہں  آنکھ کو دید ترکی گوارا 
ہوا سن کے گویا قضا کا فرشتہ 
اجل ہوں ، مرا کام ہے آشکارا 
اڑاتی ہوں مںش رخت ہستی کے پرزے 
بجھاتی ہوں مںش زندگی کا شرارا 
مری آنکھ مںک جادوئے نیت ک ہے 
پاھم فنا ہے اسی کا اشارا 
مگر ایک ہستی ہے دنا  مں  اییی 
وہ آتش ہے مںک سامنے اس کے پارا 
شرر بن کے رہتی ہے انساں کے دل مں  
وہ ہے نور مطلق کی آنکھوں کا تارا 
ٹپکتی ہے آنکھوں سے بن بن کے آنسو 
وہ آنسو کہ ہو جن کی تلخی گوارا 
سنی عشق نے گفتگو جب قضا کی 
ہنسی اس کے لب پر ہوئی آشکارا 
گری اس تبسم کی بجلی اجل پر 
اندھیرے کا ہو نور مں  کا  گزارا! 
بقا کو جو دیکھا فنا ہو گئی وہ 
قضا تھی شکار قضا ہو گئی وہ
 
زہد اور رندی 


اک مولوی صاحب کی سناتا ہوں کہانی 
تز ی نہںب منظور طبعتا کی دکھانی 
شہرہ تھا بہت آپ کی صوفی منشی کا 
کرتے تھے ادب ان کا اعالی و ادانی 
کہتے تھے کہ پنہاں ہے تصوف مںو شریعت 
جس طرح کہ الفاظ مں  مضمر ہوں معانی 
لبریز مۓ زہد سے تھی دل کی صراحی 
تھی تہ مںن کہںے درد خادل ہمہ دانی 
کرتے تھے بالں آپ کرامات کا اپنی 
منظور تھی تعداد مریدوں کی بڑھانی 
مدت سے رہا کرتے تھے ہمسائے مںم مرکے 
تھی رند سے زاہد کی ملاقات پرانی 
حضرت نے مرے ایک شناسا سے یہ پوچھا 
اقبال ، کہ ہے قمری شمشاد معانی 
پابندی احکام شریعت مںن ہے کسا ؟ 
گو شعر مںہ ہے رشک کلمی ہمدانی 
سنتا ہوں کہ کافر نہں  ہندو کو سمجھتا 
ہے ایسا عقدہہ اثر فلسفہ دانی 
ہے اس کی طبعتد مںد تشعک بھی ذرا سا 
تفضلس علی ہم نے سنی اس کی زبانی 
سمجھا ہے کہ ہے راگ عبادات مںہ داخل 
مقصود ہے مذہب کی مگر خاک اڑانی 
کچھ عار اسے حسن فروشوں سے نہںگ ہے 
عادت یہ ہمارے شعرا کی ہے پرانی 
گانا جو ہے شب کو تو سحر کو ہے تلاوت 
اس رمز کے اب تک نہ کھلے ہم پہ معانی 
لکنر یہ سنا اپنے مریدوں سے ہے مں  نے 
بے داغ ہے مانند سحر اس کی جوانی 
مجموعۂ اضداد ہے ، اقبال نہںج ہے 
دل دفتر حکمت ہے ، طبعتہ خفقانی 
رندی سے بھی آگاہ شریعت سے بھی واقف 
پوچھو جو تصوف کی تو منصور کا ثانی 
اس شخص کی ہم پر تو حققتص نہںت کھلتی 
ہو گا یہ کسی اور ہی اسلام کا بانی 
القصہ بہت طول دیا وعظ کو اپنے 
تا دیر رہی آپ کی یہ نغز با نی 
اس شہر مںر جو بات ہو اڑ جاتی ہے سب مں  
مں  نے بھی سنی اپنے احبا کی زبانی 
اک دن جو سر راہ ملے حضرت زاہد 
پھر چھڑ گئی باتوں مں  وہی بات پرانی 
فرمایا ، شکایت وہ محبت کے سبب تھی 
تھا فرض مرا راہ شریعت کی دکھانی 
مںا نے یہ کہا کوئی گلہ مجھ کو نہںک ہے 
یہ آپ کا حق تھا ز رہ قرب مکانی 
خم ہے سر تسلمق مرا آپ کے آگے 
پر ی ہے تواضع کے سبب مرکی جوانی 
گر آپ کو معلوم نہں  مر ی حققت  
پد ا نہں  کچھ اس سے قصور ہمہ دانی 
مں  خود بھی نہں  اپنی حققتق کا شناسا 
گہرا ہے مرے بحر خا لات کا پانی 
مجھ کو بھی تمنا ہے کہ 'اقبال' کو دیکھوں 
کی اس کی جدائی مںھ بہت اشک فشانی 
اقبال بھی 'اقبال' سے آگاہ نہںت ہے 
کچھ اس مںی تمسخر نہںا ، واللہ نہںہ ہے 
شاعر 


قوم گویا جسم ہے ، افراد ہں  اعضائے قوم 
منزل صنعت کے رہ پماس ہںر دست و پائے قوم 
محفل نظم حکومت ، چہرۂ زیبائے قوم 
شاعر رنگںح نوا ہے دیدۂ بناائے قوم 
مبتلائے درد کوئی عضو ہو روتی ہے آنکھ 
کس قدر ہمدرد سارے جسم کی ہوتی ہے آنکھ

دل 


قصۂ دار و رسن بازئ طفلانۂ دل 
التجائے 'ارنی' سرخی افسانۂ دل 
یا رب اس ساغر لبریز کی مے کا  ہو گی 
جاوۂ ملک بقا ہے خط پماونۂ دل 
ابر رحمت تھا کہ تھی عشق کی بجلی یا رب! 
جل گئی مزرع ہستی تو اگا دانۂ دل 
حسن کا گنج گراں مایہ تجھے مل جاتا 
تو نے فرہاد! نہ کھودا کبھی ویرانۂ دل! 
عرش کا ہے کبھی کعبے کا ہے دھوکا اس پر 
کس کی منزل ہے الہی! مرا کاشانۂ دل 
اس کو اپنا ہے جنوں اور مجھے سودا اپنا 
دل کسی اور کا دیوانہ ، مںا دیوانۂ دل 
تو سمجھتا نہں  اے زاہد ناداں اس کو 
رشک صد سجدہ ہے اک لغزش مستانۂ دل 
خاک کے ڈھیر کو اکسرت بنا دییا ہے 
وہ اثر رکھتی ہے خاکستر پروانۂ دل 
عشق کے دام مںے پھنس کر یہ رہا ہوتا ہے 
برق گرتی ہے تو یہ نخل ہرا ہوتا ہے


مو ج دریا

 
مضطرب رکھتا ہے مر ا دل بے تاب مجھے 
عنط ہستی ہے تڑپ صورت سماھب مجھے 
موج ہے نام مرا ، بحر ہے پایاب مجھے 
ہو نہ زنجر  کبھی حلقۂ گرداب مجھے 
آب مں  مثل ہوا جاتا ہے توسن مربا 
خار ماہی سے نہ اٹکا کبھی دامن مرجا 
مںر اچھلتی ہوں کبھی جذب مہ کامل سے 
جوش مںہ سر کو پٹکتی ہوں کبھی ساحل سے 
ہوں وہ رہرو کہ محبت ہے مجھے منزل سے 
کوںں تڑپتی ہوں ، یہ پوچھے کوئی مررے دل سے 
زحمت تنگی دریا سے گریزاں ہوں مںح 
وسعت بحر کی فرقت مں  پریشاں ہوں مںے

رخصت اے بزم جہاں 
( ماخوذ از ایمرسن) 


رخصت اے بزم جہاں! سوئے وطن جاتا ہوں مںی 
آہ! اس آباد ویرانے مںت گھبراتا ہوں مں  
بسکہ مں  افسردہ دل ہوں ، درخور محفل نہںں 
تو مرے قابل نہںں ہے ، مں  ترے قابل نہںا 
قد  ہے ، دربار سلطان و شبستان وزیر 
توڑ کر نکلے گا زنجرر طلائی کا اسرا 
گو بڑی لذت تری ہنگامہ آرائی مں  ہے 
اجنبتر سی مگر تریی شناسائی مںہ ہے 
مدتوں تریے خود آراؤں سے ہم صحبت رہا 
مدتوں بے تاب موج بحر کی صورت رہا 
مدتوں بٹھاا ترے ہنگامۂ عشرت مںت مں  
روشنی کی جستجو کرتا رہا ظلمت مںہ مں  
مدتوں ڈھونڈا کاج نظارۂ گل خار مںن 
آہ ، وہ یوسف نہ ہاتھ آیا ترے بازار مںا 
چشم حرہاں ڈھونڈتی اب اور نظارے کو ہے 
آرزو ساحل کی مجھ طوفان کے مارے کو ہے 
چھوڑ کر مانند بو ترنا چمن جاتا ہوں مںے 
رخصت اے بزم جہاں! سوئے وطن جاتا ہوں مںی 
گھر بنایا ہے سکوت دامن کہسار مںت 
آہ! یہ لذت کہاں موسیر  گفتار مں  
ہم نشین نرگس شہلا ، رفقس گل ہوں مں  
ہے چمن مر ا وطن ، ہمسایۂ بلبل ہوں مںس 
شام کو آواز چشموں کی سلاتی ہے مجھے 
صبح فرش سبز سے کوئل جگاتی ہے مجھے 
بزم ہستی مںا ہے سب کو محفل آرائی پسند 
ہے دل شاعر کو لکنئ کنج تنہائی پسند 
ہے جنوں مجھ کو کہ گھبراتا ہوں آبادی مںن مں  
ڈھونڈتا پھرتا ہوں کس کو کوہ کی وادی مںم مںں ؟ 
شوق کس کا سبزہ زاروں مں  پھراتا ہے مجھے 
اور چشموں کے کنارے پر سلاتا ہے مجھے؟ 
طعنہ زن ہے تو کہ شدپا کنج عزلت کا ہوں مںں 
دیکھ اے غافل! پا می بزم قدرت کا ہوں مںہ 
ہم وطن شمشاد کا ، قمری کا مںل ہم راز ہوں 
اس چمن کی خامشی مںت گوش بر آواز ہوں 
کچھ جو سنتا ہوں تو اوروں کو سنانے کے لے  
دیکھتا ہوں کچھ تو اوروں کو دکھانے کے لے  
عاشق عزلت ہے دل ، نازاں ہوں اپنے گھر پہ مں  
خندہ زن ہوں مسند دارا و اسکندر پہ مں 
 
طفل شیر خوار

 
مںل نے چاقو تجھ سے چھنار ہے تو چلاتا ہے تو 
مہرباں ہوں مںچ ، مجھے نا مہرباں سمجھا ہے تو 
پھر پڑا روئے گا اے نووارد اقلما غم 
چبھ نہ جائے دیکھنا! ، باریک ہے نوک قلم 
آہ! کو ں دکھ دینے والی شے سے تجھ کو پاےر ہے 
کھل  اس کاغذ کے ٹکڑے سے ، یہ بے آزار ہے 
گند  ہے تر ی کہاں ، چی ب کی بلی ہے کد ھر؟ 
وہ ذرا سا جانور ٹوٹا ہوا ہے جس کا سر 
تر ا آئنہ  تھا آزاد غبار آرزو 
آنکھ کھلتے ہی چمک اٹھا شرار آرزو 
ہاتھ کی جنبش مں  ، طرز دید مںی پوشدکہ ہے 
ترتی صورت آرزو بھی تربی نوزائدکہ ہے 
زندگانی ہے تری آزاد قد  امتیاز 
تردی آنکھوں پر ہویدا ہے مگر قدرت کا راز 
جب کسی شے پر بگڑ کر مجھ سے ، چلاتا ہے تو 
کا  تماشا ہے ردی کاغذ سے من جاتا ہے تو 
آہ! اس عادت مںک ہم آہنگ ہوں مںہ بھی ترا 
تو تلون آشنا ، مںس بھی تلون آشنا 
عارضی لذت کا شد ائی ہوں ، چلاتا ہوں مںز 
جلد آ جاتا ہے غصہ ، جلد من جاتا ہوں مںہ 
مردی آنکھوں کو لبھا لتان ہے حسن ظاہری 
کم نہںج کچھ ترآی نادانی سے نادانی مری 
تر ی صورت گاہ گریاں گاہ خنداں مںہ بھی ہوں 
دیکھنے کو نوجواں ہوں ، طفل ناداں مںں بھی ہوں 
 
 
تصویر درد

 
نہںن منت کش تاب شند ن داستاں مرںی 
خموشی گفتگو ہے بے زبانی ہے زباں مرںی 
یہ دستور زباں بندی ہے کسات ترری محفل مں  
یہاں تو بات کرنے کو ترستی ہے زباں مر ی 
اٹھائے کچھ ورق لالے نے ، کچھ نرگس نے ، کچھ گل نے 
چمن مں  ہر طرف بکھری ہوئی ہے داستاں مر ی 
اڑالی قمریوں نے ، طوطوچں نے ، عندلبوں نے 
چمن والوں نے مل کر لوٹ لی طرز فغاں مرےی 
ٹپک اے شمع آنسو بن کے پروانے کی آنکھوں سے 
سراپا درد ہوں حسرت بھری ہے داستاں مروی 
الہی! پھر مزا کاے ہے یہاں دنا  مں  رہنے کا 
حاہت جاوداں مرپی ، نہ مرگ ناگہاں مردی! 
مرا رونا نہںا ، رونا ہے یہ سارے گلستاں کا 
وہ گل ہوں مںا ، خزاں ہر گل کی ہے گویا خزاں مردی 
"دریں حسرت سرا عمریست افسون جرس دارم 
ز فضد دل تپیدنہا خروش بے نفس دارم" 
ریاض دہر مںت نا آشنائے بزم عشرت ہوں 
خوشی روتی ہے جس کو ، مںہ وہ محروم مسرت ہوں 
مری بگڑی ہوئی تقدیر کو روتی ہے گویائی 
مںش حرف زیر لب ، شرمندۂ گوش سماعت ہوں 
پریشاں ہوں مں، مشت خاک ، لکنم کچھ نہںہ کھلتا 
سکندر ہوں کہ آئنہو ہوں یا گرد کدورت ہوں 
یہ سب کچھ ہے مگر ہستی مری مقصد ہے قدرت کا 
سراپا نور ہو جس کی حققت  ، مںد وہ ظلمت ہوں 
خزینہ ہوں ، چھپایا مجھ کو مشت خاک صحرا نے 
کسی کا  خبر ہے مںج کہاں ہوں کس کی دولت ہوں! 
نظر مرنی نہںب ممنون سرک عرصۂ ہستی 
مںر وہ چھوٹی سی دنا  ہوں کہ آپ اپنی ولایت ہوں 
نہ صابن ہوں نہ ساقی ہوں نہ مستی ہوں نہ پماانہ 
مں  اس مخاانۂ ہستی مںپ ہر شے کی حققت  ہوں 
مجھے راز دو عالم دل کا آئنہ  دکھاتا ہے 
وہی کہتا ہوں جو کچھ سامنے آنکھوں کے آتا ہے 
عطا ایسا باہں مجھ کو ہوا رنگںآ با نوں مں  
کہ بام عرش کے طائر ہںہ مروے ہم زبانوں مںم 
اثر یہ بھی ہے اک مریے جنون فتنہ ساماں کا 
مرا آئۂ ک دل ہے قضا کے راز دانوں مںت 
رلاتا ہے ترا نظارہ اے ہندوستاں! مجھ کو 
کہ عبرت خزر ہے ترنا فسانہ سب فسانوں مںت 
دیا رونا مجھے ایسا کہ سب کچھ دے دیا گویا 
لکھا کلک ازل نے مجھ کو ترسے نوحہ خوانوں مںں 
نشان برگ گل تک بھی نہ چھوڑ اس باغ مںں گلچیں! 
تری قسمت سے رزم آرائاوں ہںں باغبانوں مں  
چھپاکر آستں  مںر بجلا ں رکھی ہںن گردوں نے 
عنادل باغ کے غافل نہ بںھرزم آشاھنوں مںم 
سن اے غافل صدا مر ی، یہ اییب چزو ہے جس کو 
وظفہے جان کر پڑھتے ہںا طائر بوستانوں مںب 
وطن کی فکر کر ناداں مصبت  آنے والی ہے 
تری بربادیوں کے مشورے ہں  آسمانوں مں  
ذرا دیکھ اس کو جو کچھ ہو رہا ہے، ہونے والا ہے 
دھرا کاا ہے بھلا عہد کہن کی داستانوں مںں 
یہ خاموشی کہاں تک؟ لذت فریاد پدنا کر 
زمںا پر تو ہو اور ترتی صدا ہو آسمانوں مں  
نہ سمجھو گے تو مٹ جاؤ گے اے ہندوستاں والو! 
تمھاری داستاں تک بھی نہ ہو گی داستانوں مںں 
ییھ آئنت قدرت ہے، ییگ اسلوب فطرت ہے 
جو ہے راہ عمل مںآ گام زن، محبوب فطرت ہے 
ہویدا آج اپنے زخم پنہاں کر کے چھوڑوں گا 
لہو رو رو کے محفل کو گلستاں کر کے چھوڑوں گا 
جلانا ہے مجھے ہر شمع دل کو سوز پنہاں سے 
تری تاریک راتوں مںے چراغاں کر کے چھوڑوں گا 
مگر غنچوں کی صورت ہوں دل درد آشنا پدرا 
چمن مںچ مشت خاک اپنی پریشاں کر کے چھوڑوں گا 
پرونا ایک ہی تسبحپ مںش ان بکھرے دانوں کو 
جو مشکل ہے، تو اس مشکل کو آساں کر کے چھوڑوں گا 
مجھے اے ہم نشیں رہنے دے شغل سنہچ کاوی مں  
کہ مںا داغ محبت کو نمایاں کر کے چھوڑوں گا 
دکھا دوں گا جہاں کو جو مر ی آنکھوں نے دیکھا ہے 
تجھے بھی صورت آئنہ  حرناں کر کے چھوڑوں گا 
جو ہے پردوں مںا پنہاں، چشم بانن دیکھ لیگا ہے 
زمانے کی طبعتہ کا تقاضا دیکھ لیکھ ہے 
کاا رفعت کی لذت سے نہ دل کو آشنا تو نے 
گزاری عمر پستی مںد مثال نقش پا تو نے 
رہا دل بستۂ محفل، مگر اپنی نگاہوں کو 
کاا بر ون محفل سے نہ حریت آشنا تو نے 
فدا کرتا رہا دل کو حسنو ں کی اداؤں پر 
مگر دییھا نہ اس آئنےد مںد اپنی ادا تو نے 
تعصب چھوڑ ناداں! دہر کے آئنہل خانے مں  
یہ تصویریں ہںد تریی جن کو سمجھا ہے برا تو نے 
سراپا نالۂ بدواد سوز زندگی ہو جا 
سپند آسا گرہ مں  باندھ رکھی ہے صدا تو نے 
صفائے دل کو کاں آرائش رنگ تعلق سے 
کف آئنہل پر باندھی ہے او ناداں حنا تو نے 
زمںآ کار آسماں بھی ترای کج بیے  پہ روتا ہے 
غضب ہے سطر قرآں کو چلپای کر دیا تو نے 
زباں سے گر کاآ توحدآ کا دعوی تو کات حاصل! 
بنایا ہے بت پندار کو اپنا خدا تو نے 
کنویں مں  تو نے یوسف کو جو دیکھا بھی تو کاے دیکھا 
ارے غافل! جو مطلق تھا مقدد کر دیا تو نے 
ہوس بالائے منبر ہے تجھے رنگںت باینی کی 
نصحتب بھی تری صورت ہے اک افسانہ خوانی کی 
دکھا وہ حسن عالم سوز اپنی چشم پرنم کو 
جو تڑپاتا ہے پروانے کو، رلواتا ہے شبنم کو 
نرا نظارہ ہی اے بوالہوس مقصد نہںم اس کا 
بنایا ہے کسی نے کچھ سمجھ کر چشم آدم کو 
اگر دیکھا بھی اس نے سارے عالم کو تو کا  دیکھا 
نظر آئی نہ کچھ اپنی حققتک جام سے جم کو 
شجر ہے فرقہ آرائی، تعصب ہے ثمر اس کا 
یہ وہ پھل ہے کہ جنت سے نکلواتا ہے آدم کو 
نہ اٹھا جذبۂ خورشدو سے اک بر گ گل تک بھی 
یہ رفعت کی تمنا ہے کہ لے اڑتی ہے شبنم کو 
پھرا کرتے نہںی مجروح الفت فکر درماں مںگ 
یہ زخمی آپ کر لتےو ہںد پدیا اپنے مرہم کو 
محبت کے شرر سے دل سراپا نور ہوتا ہے 
ذرا سے بجر سے پد ا ریاض طور ہوتا ہے 
دوا ہر دکھ کی ہے مجروح تغر آرزو رہنا 
علاج زخم ہے آزاد احسان رفو رہنا 
شراب بے خودی سے تا فلک پرواز ہے مروی 
شکت رنگ سے سکھاد ہے مں  نے بن کے بو رہنا 
تھمے کا  دیدۂ گریاں وطن کی نوحہ خوانی مںد 
عبادت چشم شاعر کی ہے ہر دم با وضو رہنا 
بنائں  کای سمجھ کر شاخ گل پر آشااں اپنا 
چمن مںچ آہ! کا  رہنا جو ہو بے آبرو رہنا 
جو تو سمجھے تو آزادی ہے پوشدہہ محبت مںہ 
غلامی ہے اسرا امتیاز ماو تو رہنا 
یہ استغنا ہے ، پانی مں  نگوں رکھتا ہے ساغر کو 
تجھے بھی چاہےی مثل حباب آبجو رہنا 
نہ رہ اپنوں سے بے پروا ، اسی مں  خر  ہے تر ی 
اگر منظور ہے دناے مںی او بگاینہ خو رہنا 
شراب روح پرور ہے محبت نوع انساں کی 
سکھایا اس نے مجھ کو مست بے جام و سبو رہنا 
محبت ہی سے پائی ہے شفا بماور قوموں نے 
کاب ہے اپنے بخت خفتہ کو بدیار قوموں نے 
باببان محبت دشت غربت بھی ، وطن بھی ہے 
یہ ویرانہ قفس بھی، آشا نہ بھی ، چمن بھی ہے 
محبت ہی وہ منزل ہے کہ منزل بھی ہے ، صحرا بھی 
جرس بھی، کارواں بھی، راہبر بھی، راہزن بھی ہے 
مرض کہتے ہںن سب اس کو، یہ ہے لکنر مرض ایسا 
چھپا جس مںں علاج گردش چرخ کہن بھی ہے 
جلانا دل کا ہے گویا سراپا نور ہو جانا 
یہ پروانہ جو سوزاں ہو تو شمع انجمن بھی ہے 
وہی اک حسن ہے، لکنع نظر آتا ہے ہر شے مں  
یہ شرییں بھی ہے گویا بیستوں بھی ، کوہکن بھی ہے 
اجاڑا ہے تمزی ملت و آئں  نے قوموں کو 
مرے اہل وطن کے دل مںز کچھ فکر وطن بھی ہے؟ 
سکوت آموز طول داستان درد ہے ورنہ 
زباں بھی ہے ہمارے منہ مںک اور تاب سخن بھی ہے 
نمیگردید کوتہ رشتۂ معنی رہا کر دم 
حکایت بود بے پایاں، بخاموشی ادا کر دم
 

نالۂ فراق 
(آرنلڈ کی یاد مںں) 

جا بسا مغرب مںب آخر اے مکاں تریا مکںن 
آہ! مشرق کی پسند آئی نہ اس کو سر زمںد 
آ گاس آج اس صداقت کا مرے دل کو یں م 
ظلمت شب سے ضا ئے روز فرقت کم نہںد 
''تا ز آغوش وداعش داغ حرقت چدآہ است 
ہمچو شمع کشتہ در چشم نگہ خوابدقہ است'' 
کشتۂ عزلت ہوں، آبادی مں  گھبراتا ہوں مںز 
شہر سے سودا کی شدت مںق نکل جاتا ہوں مں  
یاد ایام سلف سے دل کو تڑپاتا ہوں مںا 
بہر تسکںو ترلی جانب دوڑتا آتا ہوں مں  
آنکھ گو مانوس ہے تررے در و دیوار سے 
اجنبتگ ہے مگر پدسا مری رفتار سے 
ذرہ مروے دل کا خورشدد آشنا ہونے کو تھا 
آئنہ ٹوٹا ہوا عالم نما ہونے کو تھا 
نخل مروی آرزوؤں کا ہرا ہونے کو تھا 
آہ! کا  جانے کوئی مںک کا  سے کاب ہونے کو تھا 
ابر رحمت دامن از گلزار من برچد  و رفت 
اند کے بر غنچہ ہائے آرزو بارید و رفت 
تو کہاں ہے اے کلمئ ذروۂ سناائے علم 
تی  تری موج نفس باد نشاط افزائے علم 
اب کہاں وہ شوق رہ پمارئی صحرائے علم 
تر ے دم سے تھا ہمارے سر مںم بھی سودائے علم 
''شور لیسے کو کہ باز آرایش سودا کند 
خاک مجنوں را غبار خاطر صحرا کند 
کھول دے گا دشت وحشت عقدۂ تقدیر کو 
توڑ کر پہنچوں گا مں  پنجاب کی زنجرش کو 
دیکھتا ہے دیدۂ حرداں تری تصویر کو 
کاڑ تسلی ہو مگر گرویدۂ تقریر کو 
''تاب گویائی نہںر رکھتا دہن تصویر کا 
خامشی کہتے ہںص جس کو، ہے سخن تصویر کا'' 
 
چاند 

مرنے ویرانے سے کوسوں دور ہے تر ا وطن 
ہے مگر دریائے دل ترسی کشش سے موجزن 
قصد کس محفل کا ہے؟ آتا ہے کس محفل سے تو؟ 
زرد رو شاید ہوا رنج رہ منزل سے تو 
آفرنشو مںد سراپا نور ، ظلمت ہوں مںے 
اس سہو روزی پہ لکنر ترںا ہم قسمت ہوں مں' 
آہ ، مںش جلتا ہوں سوز اشتا ق دید سے 
تو سراپا سوز داغ منت خورشد  سے 
ایک حلقے پر اگر قائم تری رفتار ہے 
مر ی گردش بھی مثال گردش پرکار ہے 
زندگی کی رہ مں  سرگرداں ہے تو، حرہاں ہوں مںک 
تو فروزاں محفل ہستی مںس ہے ، سوزاں ہوں مںہ 
مں  رہ منزل مںی ہوں، تو بھی رہ منزل مں  ہے 
تر ی محفل مںی جو خاموشی ہے ، مرمے دل مںں ہے 
تو طلب خو ہے تو مرما بھی ییا دستور ہے 
چاندنی ہے نور تراا، عشق مراا نور ہے 
انجمن ہے ایک مرری بھی جہاں رہتا ہوں مںر 
بزم مںہ اپنی اگر یکتا ہے تو، تنہا ہوں مںا 
مہر کا پرتو ترے حق مں  ہے پغایم اجل 
محو کر دیتا ہے مجھ کو جلوۂ حسن ازل 
پھر بھی اے ماہ مبںل! مںل اور ہوں تو اور ہے 
درد جس پہلو مںا اٹھتا ہو وہ پہلو اور ہے 
گرچہ مںپ ظلمت سراپا ہوں، سراپا نور تو 
سنکڑ وں منزل ہے ذوق آگہی سے دور تو 
جو مری ہستی کا مقصد ہے ، مجھے معلوم ہے 
یہ چمک وہ ہے، جبںے جس سے تری محروم ہے 
 
 
بلال 


چمک اٹھا جو ستارہ ترے مقدر کا 
حبش سے تجھ کو اٹھا کر حجاز مں  لایا 
ہوئی اسی سے ترے غم کدے کی آبادی 
تری غلامی کے صدقے ہزار آزادی 
وہ آستاں نہ چھٹا تجھ سے ایک دم کے لےا 
کسی کے شوق مںز تو نے مزے ستم کے لےی 
جفا جو عشق مںھ ہوتی ہے وہ جفا ہی نہںڑ 
ستم نہ ہو تو محبت مںں کچھ مزا ہی نہںو 
نظر تھی صورت سلماں ادا شناس تری 
شراب دید سے بڑھتی تھی اور پااس تری 
تجھے نظارے کا مثل کلمب سودا تھا 
اویس طاقت دیدار کو ترستا تھا 
مدینہ ترتی نگاہوں کا نور تھا گویا 
ترے لےظ تو یہ صحرا ہی طور تھا گویا 
تری نظر کو رہی دید مںت بھی حسرت دید 
خنک دلے کہ تپید و دمے نا  سائد  
گری وہ برق تری جان ناشکبام پر 
کہ خندہ زن تری ظلمت تھی دست موسی پر 
تپش ز شعلہ گر فتند و بر دل تو زدند 
چہ برق جلوہ بخاشاک حاصل تو زدند 
ادائے دید سراپا نا ز تھی ترای 
کسی کو دیکھتے رہنا نماز تھی ترتی 
اذاں ازل سے ترے عشق کا ترانہ بنی 
نماز اس کے نظارے کا اک بہانہ بنی 
خوشا وہ وقت کہ یثرب مقام تھا اس کا 
خوشا وہ دور کہ دیدار عام تھا اس کا
 
 
سر گزشت آدم

 
سنے کوئی مری غربت کی داستاں مجھ سے 
بھلایا قصۂ پما ن اولں  مںد نے 
لگی نہ مر ی طبعت  ریاض جنت مںس 
پای شعور کا جب جام آتشںم مںط نے 
رہی حققت  عالم کی جستجو مجھ کو 
دکھایا اوج خا ل فلک نشیں مںج نے 
ملا مزاج تغرا پسند کچھ ایسا 
کاا قرار نہ زیر فلک کہںس مں  نے 
نکالا کعبے سے پتھر کی مورتوں کو کبھی 
کبھی بتوں کو بنایا حرم نشیں مں  نے 
کبھی مںو ذوق تکلم مں  طور پر پہنچا 
چھپایا نور ازل زیر آستںح مںر نے 
کبھی صلبز پہ اپنوں نے مجھ کو لٹکایا 
کاھ فلک کو سفر، چھوڑ کر زمںے مںا نے 
کبھی مںب غار حرا مں  چھپا رہا برسوں 
دیا جہاں کو کبھی جام آخریں مںو نے 
سنایا ہند مںھ آ کر سرود ربانی 
پسند کی کبھی یوناں کی سر زمںن مںی نے 
دیار ہند نے جس دم مری صدا نہ سنی 
بسایا خطۂ جاپان و ملک چںا مںی نے 
بنایا ذروں کی ترکبم سے کبھی عالم 
خلاف معنی تعلمی اہل دیں مںس نے 
لہو سے لال کا  سنکڑغوں زمنواں کو 
جہاں مںل چھڑ  کے پکاںر عقل و دیں مں  نے 
سمجھ مںل آئی حققتں نہ جب ستاروں کی 
اسی خاآل مں  راتںا گزار دیں مں  نے 
ڈرا سکںل نہ کلسال کی مجھ کو تلواریں 
سکھایا مسئلۂ گردش زمںی مںک نے 
کشش کا راز ہویدا کا  زمانے پر 
لگا کے آئنۂ عقل دور بںز مںی نے 
کاا اسر  شعاعوں کو ، برق مضطر کو 
بنادی غرنت جنت یہ سر زمںی مں  نے 
مگر خبر نہ ملی آہ! راز ہستی کی 
کار خرد سے جہاں کو تہ نگں  مںہ نے 
ہوئی جو چشم مظاہر پرست وا آخر 
تو پایا خانۂ دل مں  اسے مکں  مںی نے 
 
ترانۂ ہندی 


سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا 
ہم بلبلںں ہںد اس کی، یہ گلستاں ہمارا 
غربت مںں ہوں اگر ہم، رہتا ہے دل وطن مںی 
سمجھو وہں  ہمں  بھی، دل ہو جہاں ہمارا 
پربت وہ سب سے اونچا، ہمسایہ آسماں کا 
وہ سنتری ہمارا، وہ پاسباں ہمارا 
گودی مںا کھیتاں ہں  اس کی ہزاروں ندیاں 
گلشن ہے جن کے دم سے رشک جناں ہمارا 
اے آب رود گنگا، وہ دن ہںج یاد تجھ کو؟ 
اترا ترے کنارے جب کارواں ہمارا 
مذہب نہں  سکھاتا آپس مںا برا رکھنا 
ہندی ہںس ہم وطن ہے ہندوستاں ہمارا 
یونان و مصر و روما سب مٹ گئے جہاں سے 
اب تک مگر ہے باقی نام و نشاں ہمارا 
کچھ بات ہے کہ ہستی مٹتی نہںہ ہماری 
صدیوں رہا ہے دشمن دور زماں ہمارا 
اقبال! کوئی محرم اپنا نہںہ جہاں مںر 
معلوم کا! کسی کو درد نہاں ہمارا 
 
جگنو 


جگنو کی روشنی ہے کاشانۂ چمن مںا 
یا شمع جل رہی ہے پھولوں کی انجمن مںم 
آیا ہے آسماں سے اڑ کر کوئی ستارہ 
یا جان پڑ گئی ہے مہتاب کی کرن مںم 
یا شب کی سلطنت مںہ دن کا سفرا آیا 
غربت مںب آ کے چمکا، گمنام تھا وطن مںک 
تکمہ کوئی گرا ہے مہتاب کی قبا کا 
ذرہ ہے یا نمایاں سورج کے پرنہن مں  
حسن قدیم کی یہ پوشد ہ اک جھلک تھی 
لے آئی جس کو قدرت خلوت سے انجمن مںک 
چھوٹے سے چاند مںج ہے ظلمت بھی روشنی بھی 
نکلا کبھی گہن سے، آیا کبھی گہن مں  
پروانہ اک پتنگا، جگنو بھی اک پتنگا 
وہ روشنی کا طالب، یہ روشنی سراپا 
ہر چزش کو جہاں مںا قدرت نے دلبری دی 
پروانے کو تپش دی، جگنو کو روشنی دی 
رنگںن نوا بنایا مرغان بے زباں کو 
گل کو زبان دے کر تعلم  خامشی دی 
نظارۂ شفق کی خوبی زوال مں  تھی 
چمکا کے اس پری کو تھوڑی سی زندگی دی 
رنگں  کای سحر کو، بانکی دلھن کی صورت 
پہنا کے لال جوڑا شبنم کی آرسی دی 
سایہ دیا شجر کو، پرواز دی ہوا کو 
پانی کو دی روانی، موجوں کو بے کلی دی 
یہ امتیاز لکنک اک بات ہے ہماری 
جگنو کا دن وہی ہے جو رات ہے ہماری 
حسن ازل کی پدکا ہر چز  مں  جھلک ہے 
انساں مںک وہ سخن ہے، غنچے مں  وہ چٹک ہے 
یہ چاند آسماں کا شاعر کا دل ہے گویا 
واں چاندنی ہے جو کچھ، یاں درد کی کسک ہے 
انداز گفتگو نے دھوکے دیے ہںا ورنہ 
نغمہ ہے بوئے بلبل، بو پھول کی چہک ہے 
کثرت مں  ہو گاھ ہے وحدت کا راز مخفی 
جگنو مں  جو چمک ہے وہ پھول مںح مہک ہے 
یہ اختلاف پھر کووں ہنگاموں کا محل ہو 
ہر شے مںت جبکہ پنہاں خاموشیِ ازل ہو 
 

صبح کا ستارہ 


لطف ہمساییھ شمس و قمر کو چھوڑوں 
اور اس خدمت پغارم سحر کو چھوڑوں 
مررے حق مںی تو نہںھ تاروں کی بستی اچھی 
اس بلندی سے زمںت والوں کی پستی اچھی 
آسماں کار ، عدم آباد وطن ہے مرںا 
صبح کا دامن صد چاک کفن ہے مر ا 
مرحی قسمت مںر ہے ہر روز کا مرنا جناھ 
ساقی موت کے ہاتھوں سے صبوحی پنام 
نہ یہ خدمت، نہ یہ عزت، نہ یہ رفعت اچھی 
اس گھڑی بھر کے چمکنے سے تو ظلمت اچھی 
مر ی قدرت مںچ جو ہوتا، تو نہ اختر بنتا 
قعر دریا مںق چمکتا ہوا گوہر بنتا 
واں بھی موجوں کی کشاکش سے جو دل گھبراتا 
چھوڑ کر بحر کہںچ زیب گلو ہو جاتا 
ہے چمکنے مں  مزا حسن کا زیور بن کر 
زینت تاج سر  بانوئے قصرگ بن کر 
ایک پتھر کے جو ٹکڑے کا نصیبا جاگا 
خاتم دست سلمارں کا نگںص بن کے رہا 
اییس چزںوں  کا مگر دہر مںا ہے کام شکست 
ہے گہر ہائے گراں مایہ کا انجام شکست 
زندگی وہ ہے کہ جو ہو نہ شناسائے اجل 
کاد وہ جناو ہے کہ ہو جس مں  تقاضائے اجل 
ہے یہ انجام اگر زینت عالم ہو کر 
کودں نہ گر جاؤ ں کسی پھول پہ شبنم ہو کر! 
کسی پیشانی کے افشاں کے ستاروں مںہ رہوں 
کس مظلوم کی آہوں کے شراروں مںے رہوں 
اشک بن کر سرمژگاں سے اٹک جاؤں مںں 
کوکں نہ اس بوےی کی آنکھوں سے ٹپک جاؤں مں  
ق 
جس کا شوہر ہو رواں، ہو کے زرہ مں  مستور 
سوئے مدوان وغا ، حبِّ وطن سے مجبور 
یاس و امدی کا نظارہ جو دکھلاتی ہو 
جس کی خاموشی سے تقریر بھی شرماتی ہو 
جس کو شوہر کی رضا تاب شکباقئی دے 
اور نگاہوں کو حای طاقت گویائی دے 
زرد ، رخصت کی گھڑی ، عارض گلگوں ہو جائے 
کشش حسن غم ہجر سے افزوں ہو جائے 
لاکھ وہ ضبط کرے پر مںو ٹپک ہی جاؤں 
ساغر دیدۂ پرنم سے چھلک ہی جاؤں 
خاک مںہ مل کے حاکت ابدی پا جاؤں 
عشق کا سوز زمانے کو دکھاتا جاؤں 
 
ہندوستانی بچوں کا قومی گیت
 
چشتی نے جس زمںک مںی پغاام حق سنایا 
نانک نے جس چمن مںے وحدت کا گتی گایا 
تاتاریوں نے جس کو اپنا وطن بنایا 
جس نے حجازیوں سے دشت عرب چھڑایا 
مر ا وطن وہی ہے ، مرھا وطن وہی ہے 
یونانواں کو جس نے حر ان کر دیا تھا 
سارے جہاں کو جس نے علم و ہنر دیا تھا 
مٹی کو جس کی حق نے زر کا اثر دیا تھا 
ترکوں کا جس نے دامن ہرکوں سے بھر دیا تھا 
مرکا وطن وہی ہے، مر ا وطن وہی ہے 
ٹوٹے تھے جو ستارے فارس کے آسماں سے 
پھر تاب دے کے جس نے چمکائے کہکشاں سے 
وحدت کی لے سنی تھی دناھ نے جس مکاں سے 
مرد عرب کو آئی ٹھنڈی ہوا جہاں سے 
مردا وطن وہی ہے، مرنا وطن وہی ہے 
بندے کلمر جس کے ، پربت جہاں کے سنا  
نوح نبی کا آ کر ٹھہرا جہاں سفینا 
رفعت ہے جس زمں  کی بام فلک کا زینا 
جنت کی زندگی ہے جس کی فضا مں  جناج 
مرتا وطن وہی ہے، مر ا وطن وہی ہے

لاہور و کراچی 


نظر اللہ پہ رکھتا ہے مسلمان غو،ر 
موت کال شے ہے، فقط عالم معنی کا سفر 
ان شہدلوں کی دیت اہل کلسا  سے نہ مانگ 
قدر و قمتپ مںف ہے خوں جن کا حرم سے بڑھ کر 
آہ! اے مرد مسلماں تجھے کاج یاد نہںا 
حرف 'لا تدع مع اللہ الھاً آخر' 

 
نیا شوالا 


سچ کہہ دوں اے برہمن! گر تو برا نہ مانے 
تر ے صنم کدوں کے بت ہو گئے پرانے 
اپنوں سے برص رکھنا تو نے بتوں سے سکھاا 
جنگ و جدل سکھایا واعظ کو بھی خدا نے 
تنگ آ کے مںک نے آخر دیر و حرم کو چھوڑا 
واعظ کا وعظ چھوڑا، چھوڑے ترے فسانے 
پتھر کی مورتوں مںف سمجھا ہے تو خدا ہے 
خاک وطن کا مجھ کو ہر ذرہ دیوتا ہے 
آ ، غرنیت کے پردے اک بار پھر اٹھا دیں 
بچھڑوں کو پھر ملا دیں نقش دوئی مٹا دیں 
سونی پڑی ہوئی ہے مدت سے دل کی بستی 
آ ، اک نا  شوالا اس دیس مںی بنا دیں 
دنا  کے تروتھوں سے اونچا ہو اپنا تر تھ 
دامان آسماں سے اس کا کلس ملا دیں 
ہر صبح اٹھ کے گائںک منتر وہ مٹیھے مٹیھے 
سارے پجاریوں کو مے پتن کی پلا دیں 
شکتی بھی شانتی بھی بھگتوں کے گتب مں  ہے 
دھرتی کے باسوےں کی مکتی پریت مںی ہے
 
داغ 


عظمت غالب ہے اک مدت سے پوپند زمںی 
مہدی مجروح ہے شہر خموشاں کا مکں  
توڑ ڈالی موت نے غربت مںں مناےئے امر  
چشم محفل مںے ہے اب تک کفں صہبائے امرن 
آج لکنف ہمنوا! سارا چمن ماتم مں  ہے 
شمع روشن بجھ گئی، بزم سخن ماتم مںں ہے 
بلبل دلی نے باندھا اس چمن مںن آشااں 
ہم نوا ہںب سب عنادل باغ ہستی کے جہاں 
چل بسا داغ آہ! مت  اس کی زیب دوش ہے 
آخری شاعر جہان آباد کا خاموش ہے 
اب کہاں وہ بانکپن، وہ شوخئ طرز با ں 
آگ تھی کافور پرخی مںں جوانی کی نہاں 
تھی زبان داغ پر جو آرزو ہر دل مںں ہے 
لییت معنی وہاں بے پردہ، یاں محمل مں  ہے 
اب صبا سے کون پوچھے گا سکوت گل کا راز 
کون سمجھے گا چمن مں  نالۂ بلبل کا راز 
تھی حققتگ سے نہ غفلت فکر کی پرواز مںم 
آنکھ طائر کی نشمنق پر رہی پرواز مںز 
اور دکھلائںی گے مضموں کی ہمںی باریامںں 
اپنے فکر نکتہ آرا کی فلک پماہئایں 
تلخی دوراں کے نقشے کھنچن کر رلوائںی گے 
یا تخلئ کی نئی دناں ہمںا دکھلائںو گے 
اس چمن مںئ ہوں گے پدشا بلبل شرراز بھی 
سنکڑ وں ساحر بھی ہوں گے، صاحب اعجاز بھی 
اٹھںی گے آزر ہزاروں شعر کے بت خانے سے 
مے پلائںی گے نئے ساقی نئے پماجنے سے 
لکھی جائں  گی کتاب دل کی تفسرسیں بہت 
ہوں گی اے خواب جوانی! ترای تعبرسیں بہت 
ہوبہو کھنچےو گا لکنا عشق کی تصویر کون ؟ 
اٹھ گاک ناوک فگن، مارے گا دل پر تری کون ؟ 
اشک کے دانے زمنا شعر مںد بوتا ہوں مں  
تو بھی رو اے خاک دلی! داغ کو روتا ہوں مں  
اے جہان آباد، اے سرمایۂ بزم سخن 
ہوگاہ پھر آج پامال خزاں تر ا چمن 
وہ گل رنگں  ترا رخصت مثال بو ہوا 
آہ! خالی داغ سے کاشانۂ اردو ہوا 
تھی نہ شاید کچھ کشش ایی  وطن کی خاک مں  
وہ مہ کامل ہوا پنہاں دکن کی خاک مں  
اٹھ گئے ساقی جو تھے، مخاشنہ خالی رہ گای 
یادگار بزم دہلی ایک حالی رہ گای 
آرزو کو خون رلواتی ہے بدخاد اجل 
مارتا ہے تر  تاریی  مںل صا د اجل 
کھل نہںے سکتی شکایت کے لےر لکند زباں 
ہے خزاں کا رنگ بھی وجہ قاام گلستاں 
ایک ہی قانون عالم گر  کے ہںر سب اثر 
بوۓ گل کا باغ سے، گلچیں کا دنا  سے سفر
 
ابر 


اٹھی پھر آج وہ پورب سے کالی کالی گھٹا 
ساھہ پوش ہوا پھر پہاڑ سربن کا 
نہاں ہوا جو رخ مہر زیر دامن ابر 
ہوائے سرد بھی آئی سوار توسن ابر 
گرج کا شور نہں  ہے ، خموش ہے یہ گھٹا 
عجب  مے کدۂ بے خروش ہے یہ گھٹا 
چمن مں  حکم نشاط مدام لائی ہے 
قبائے گل مںن گہر ٹانکنے کو آئی ہے 
جو پھول مہر کی گرمی سے سو چلے تھے ، اٹھے 
زمںپ کی گود مں  جو پڑ کے سو رہے تھے ، اٹھے 
ہوا کے زور سے ابھرا، بڑھا، اڑا بادل 
اٹھی وہ اور گھٹا، لو! برس پڑا بادل 
عجبی خمہہ ہے کہسار کے نہالوں کا 
یںبی قاہم ہو وادی مںک پھرنے والوں کا
 

ایک پرندہ اور جگنو 


سر شام ایک مرغ نغمہ پرگا 
کسی ٹہنی پہ بٹھان گا رہا تھا 
چمکتی چزن اک دییھن زمں  پر 
اڑا طائر اسے جگنو سمجھ کر 
کہا جگنو نے او مرغ نوا ریز! 
نہ کر بے کس پہ منقار ہوس تزک 
تجھے جس نے چہک ، گل کو مہک دی 
اسی اللہ نے مجھ کو چمک دی 
لباس نور مںچ مستور ہوں مں  
پتنگوں کے جہاں کا طور ہوں مںہ 
چہک تر ی بہشت گوش اگر ہے 
چمک مر ی بھی فردوس نظر ہے 
پروں کو مرجے قدرت نے ضاگ دی 
تجھے اس نے صدائے دل ربا دی 
تری منقار کو گانا سکھایا 
مجھے گلزار کی مشعل بنایا 
چمک بخشی مجھے، آواز تجھ کو 
دیا ہے سوز مجھ کو، ساز تجھ کو 
مخالف ساز کا ہوتا نہںک سوز 
جہاں مںا ساز کا ہے ہم نشیں سوز 
قاام بزم ہستی ہے انھی سے 
ظہور اوج و پستی ہے انھی سے 
ہم آہنگی سے ہے محفل جہاں کی 
اسی سے ہے بہار اس بوستاں کی 
 
 
بچّہ اور شمع

 
کیّآ حربانی ہے یہ اے طفلک پروانہ خو! 
شمع کے شعلوں کو گھڑیوں دیکھتا رہتا ہے تو 
یہ مری آغوش مںا بٹھےس ہوئے جنبش ہے کار 
روشنی سے کاغ بغل گرںی ہے تر ا مدعا؟ 
اس نظارے سے ترا ننھا سا دل حر ان ہے 
یہ کسی دییھح ہوئی شے کی مگر پہچان ہے 
شمع اک شعلہ ہے لکنھ تو سراپا نور ہے 
آہ! اس محفل مں  یہ عریاں ہے تو مستور ہے 
دست قدرت نے اسے کا  جانے کوہں عریاں کام! 
تجھ کو خاک تر ہ کے فانوس مںج پنہاں کا  
نور تر ا چھپ گاہ زیر نقاب آگہی 
ہے غبار دیدۂ بنا  حجاب آگہی 
زندگانی جس کو کہتے ہںں فراموشی ہے یہ 
خواب ہے، غفلت ہے، سرمستی ہے، بے ہوشی ہے یہ 
محفل قدرت ہے اک دریائے بے پایان حسن 
آنکھ اگر دیکھے تو ہر قطرے مںے ہے طوفان حسن 
حسن ، کوہستاں کی ہبتط ناک خاموشی مں  ہے 
مہر کی ضوگستری، شب کی سہ  پوشی مںر ہے 
آسمان صبح کی آئنہی پوشی مں  ہے یہ 
شام کی ظلمت، شفق کی گل فرو شی مںپ ہے یہ 
عظمت دیرینہ کے مٹتے ہوئے آثار مںش 
طفلک ناآشنا کی کوشش گفتار مںا 
ساکنان صحن گلشن کی ہم آوازی مںو ہے 
ننھے ننھے طائروں کی آشاہں سازی مںہ ہے 
چشمۂ کہسار مںی ، دریا کی آزادی مںچ حسن 
شہر مںن، صحرا مںم، ویرانے مںس، آبادی مںر حسن 
روح کو لکنط کسی گم گشتہ شے کی ہے ہوس 
ورنہ اس صحرا مںص کو ں نالاں ہے یہ مثل جرس! 
حسن کے اس عام جلوے مں  بھی یہ بے تاب ہے 
زندگی اس کی مثال ماہی بے آب ہے 
 
کنار راوی 


سکوت شام مںا محو سرود ہے راوی 
نہ پوچھ مجھ سے جو ہے کتحو  مرے دل کی 
پا م سجدے کا یہ زیر و بم ہوا مجھ کو 
جہاں تمام سواد حرم ہوا مجھ کو 
سر کنارۂ آب رواں کھڑا ہوں مںہ 
خبر نہںو مجھے لکنڑ کہاں کھڑا ہوں مںک 
شراب سرخ سے رنگںی ہوا ہے دامن شام 
لےا ہے پرں فلک دست رعشہ دار مںھ جام 
عدم کو قافلۂ روز تزد گام چلا 
شفق نہںق ہے ، یہ سورج کے پھول ہںہ گویا 
کھڑے ہںق دور وہ عظمت فزائے تنہائی 
منار خواب گہ شہسوار چغتائی 
فسانۂ ستم انقلاب ہے یہ محل 
کوئی زمان سلف کی کتاب ہے یہ محل 
مقام کاا ہے سرود خموش ہے گویا 
شجر ، یہ انجمن بے خروش ہے گویا 
رواں ہے سۂگہ دریا پہ اک سفۂں  تزہ 
ہوا ہے موج سے ملاح جس کا گرم ستیز 
سبک روی مںک ہے مثل نگاہ یہ کشتی 
نکل کے حلقۂ حد نظر سے دور گئی 
جہاز زندگی آدمی رواں ہے یونہی 
ابد کے بحر مں  پدحا یونہی ، نہاں ہے یونہی 
شکست سے یہ کبھی آشنا نہںی ہوتا 
نظر سے چھپتا ہے لکنب فنا نہںن ہوتا 
 
 
التجائے مسافر

(بہ درگاہ حضرت محبوب الٰین، دہلی) 


فرشتے پڑھتے ہںض جس کو وہ نام ہے تریا 
بڑی جناب تری، فضے عام ہے تریا 
ستارے عشق کے ترتی کشش سے ہں  قائم 
نظام مہر کی صورت نظام ہے تررا 
تری لحد کی زیارت ہے زندگی دل کی 
مسحم و خضر سے اونچا مقام ہے تررا 
نہاں ہے تریی محبت مںے رنگ محبوبی 
بڑی ہے شان، بڑا احترام ہے تریا 
اگر ساےہ دلم، داغ لالہ زار تو ام 
و گر کشادہ جبینم، گل بہار تو ام 
چمن کو چھوڑ کے نکلا ہوں مثل نکہت گل 
ہوا ہے صبر کا منظور امتحاں مجھ کو 
چلی ہے لے کے وطن کے نگار خانے سے 
شراب علم کی لذت کشاں کشاں مجھ کو 
نظر ہے ابر کرم پر ، درخت صحرا ہوں 
کار خدا نے نہ محتاج باغباں مجھ کو 
فلک نشیں صفت مہر ہوں زمانے مںو 
تری دعا سے عطا ہو وہ نردباں مجھ کو 
مقام ہم سفروں سے ہوا اس قدر آگے 
کہ سمجھے منزل مقصود کارواں مجھ کو 
مری زبان قلم سے کسی کا دل نہ دکھے 
کسی سے شکوہ نہ ہو زیر آسماں مجھ کو 
دلوں کو چاک کرے مثل شانہ جس کا اثر 
تری جناب سے ایی  ملے فغاں مجھ کو 
بنایا تھا جسے چن چن کے خار و خس مںے نے 
چمن مںو پھر نظر آئے وہ آشاکں مجھ کو 
پھر آ رکھوں قدم مادر و پدر پہ جبںے 
کار جنھوں نے محبت کا راز داں مجھ کو 
وہ شمع بارگہ خاندان مرتضوی 
رہے گا مثل حرم جس کا آستاں مجھ کو 
نفس سے جس کے کھلی مر ی آرزو کی کلی 
بنایا جس کی مروت نے نکتہ داں مجھ کو 
دعا یہ کر کہ خداوند آسمان و زمںے 
کرے پھر اس کی زیارت سے شادماں مجھ کو 
وہ مرھا یوسف ثانی وہ شمع محفل عشق 
ہوئی ہے جس کی اخوت قرار جاں مجھ کو 
جلا کے جس کی محبت نے دفتر من و تو 
ہوائے عشس مں  پالا، کان جواں مجھ کو 
ریاض دہر مں  مانند گل رہے خنداں 
کہ ہے عزیز تر از جاں وہ جان جاں مجھ کو 
شگفتہ ہو کے کلی دل کی پھول ہو جائے! 
یہ التجائے مسافر قبول ہو جائے! 
 
 
غزلیات
٭ ٭ ٭ ٭


گلزار ہست و بود نہ بگاونہ وار دیکھ
ہے دیکھنے کی چزا اسے بار بار دیکھ
آیا ہے تو جہاں مںل مثال شرار دیکھ
دم دے نہ جائے ہستی ناپائدار دیکھ
مانا کہ ترای دید کے قابل نہںک ہوں مںک
تو مرکا شوق دیکھ، مرا انتظار دیکھ
کھولی ہں  ذوق دید نے آنکھںھ تری اگر
ہر رہ گزر مں  نقش کف پائے یار دیکھ

٭ ٭ ٭ ٭
 

نہ آتے ، ہمں  اس مںف تکرار کا  تھی 
مگر وعدہ کرتے ہوئے عار کام تھی 
تمھارے پاکمی نے سب راز کھولا 
خطا اس مںک بندے کی سرکار کا  تھی 
بھری بزم مں  اپنے عاشق کو تاڑا 
تری آنکھ مستی مںق ہشاھر کا  تھی! 
تامل تو تھا ان کو آنے مںی قاصد 
مگر یہ بتا طرز انکار کاا تھی 
کھنچے خود بخود جانب طور موسی 
کشش ترخی اے شوق دیدار کاہ تھی! 
کہں  ذکر رہتا ہے اقبال ترقا 
فسوں تھا کوئی ، تربی گفتار کای تھی

٭ ٭ ٭ ٭

 
عجب واعظ کی دینداری ہے یا رب 
عداوت ہے اسے سارے جہاں سے 
کوئی اب تک نہ یہ سمجھا کہ انساں 
کہاں جاتا ہے، آتا ہے کہاں سے 
وہںں سے رات کو ظلمت ملی ہے 
چمک تارے نے پائی ہے جہاں سے 
ہم اپنی درد مندی کا فسانہ 
سنا کرتے ہں  اپنے راز داں سے 
بڑی باریک ہںی واعظ کی چالں  
لرز جاتا ہے آواز اذاں سے

٭ ٭ ٭ ٭

 
لاؤں وہ تنکے کہںے سے آشاںنے کے لےر 
بجلا ں بے تاب ہوں جن کو جلانے کے لےا 
وائے ناکامی ، فلک نے تاک کر توڑا اسے 
مںئ نے جس ڈالی کو تاڑا آشاانے کے لےا 
آنکھ مل جاتی ہے ہفتاد و دو ملت سے تری 
ایک پماجنہ ترا سارے زمانے کے لےت 
دل مںم کوئی اس طرح کی آرزو پد ا کروں 
لوٹ جائے آسماں مریے مٹانے کے لےے 
جمع کر خرمن تو پہلے دانہ دانہ چن کے تو 
آ ہی نکلے گی کوئی بجلی جلانے کے لےن 
پاس تھا ناکامی صااد کا اے ہم صفرے 
ورنہ مں  ، اور اڑ کے آتا ایک دانے کے لے ! 
اس چمن مںا مرغ دل گائے نہ آزادی کا گت  
آہ یہ گلشن نہںد ایسے ترانے کے لےد

٭ ٭ ٭ ٭


کا٭ کہوں اپنے چمن سے مں  جدا کورنکر ہوا 
اور اسرم حلقۂ دام ہوا کوکنکر ہوا 
جائے حرمت ہے برا سارے زمانے کا ہوں مںن 
مجھ کو یہ خلعت شرافت کا عطا کوننکر ہوا 
کچھ دکھانے دیکھنے کا تھا تقاضا طور پر 
کاھ خبر ہے تجھ کو اے دل فیصلا کوننکر ہوا 
ہے طلب بے مدعا ہونے کی بھی اک مدعا 
مرغ دل دام تمنا سے رہا کوےنکر ہوا 
دیکھنے والے یہاں بھی دیکھ لتےل ہں  تجھے 
پھر یہ وعدہ حشر کا صبر آزما کوہنکر ہوا 
حسن کامل ہی نہ ہو اس بے حجابی کا سبب 
وہ جو تھا پردوں مں  پنہاں ، خود نما کوینکر ہوا 
موت کا نسخہ ابھی باقی ہے اے درد فراق! 
چارہ گر دیوانہ ہے ، مںب لا دوا کوانکر ہوا 
تو نے دیکھا ہے کبھی اے دیدۂ عبرت کہ گل 
ہو کے پددا خاک سے رنگںق قبا کو نکر ہوا 
پرسش اعمال سے مقصد تھا رسوائی مری 
ورنہ ظاہر تھا سبھی کچھ ، کاں ہوا ، کوکنکر ہوا 
مرنے مٹنے کا تماشا دیکھنے کی چزو تھی 
کان بتاؤں ان کا مرھا سامنا کوونکر ہوا

٭ ٭ ٭ ٭

 
انوکھی وضع ہے ، سارے زمانے سے نرالے ہںو 
یہ عاشق کون سی بستی کے یا رب رہنے والے ہںل 
علاج درد مںک بھی درد کی لذت پہ مرتا ہوں 
جو تھے چھالوں مںی کانٹے ، نوک سوزن سے نکالے ہںت 
پھلا پھولا رہے یا رب! چمن مرنی امد وں کا 
جگر کا خون دے دے کر یہ بوٹے مں  نے پالے ہںی 
رلاتی ہے مجھے راتوں کو خاموشی ستاروں کی 
نرالا عشق ہے مرےا ، نرالے مرشے نالے ہںا 
نہ پوچھو مجھ سے لذت خانماں برباد رہنے کی 
نشمنو سنکڑموں مںں نے بنا کر پھونک ڈالے ہں  
نہںن بگاکنگی اچھی رفقا راہ منزل سے 
ٹھہر جا اے شرر ، ہم بھی تو آخر مٹنے والے ہںن 
امدر حور نے سب کچھ سکھا رکھا ہے واعظ کو 
یہ حضرت دیکھنے مں  سد ھے سادے ، بھولے بھالے ہں  
مرے اشعار اے اقبال کو ں پاورے نہ ہوں مجھ کو 
مرے ٹوٹے ہوئے دل کے یہ درد انگز  نالے ہںہ


٭ ٭ ٭ ٭
 
ظاہر کی آنکھ سے نہ تماشا کرے کوئی 
ہو دیکھنا تو دیدۂ دل وا کرے کوئی 
منصور کو ہوا لب گویا پاۂم موت 
اب کا  کسی کے عشق کا دعوی کرے کوئی 
ہو دید کا جو شوق تو آنکھوں کو بند کر 
ہے دیکھنا ییق کہ نہ دیکھا کرے کوئی 
مں  انتہائے عشق ہوں ، تو انتہائے حسن 
دیکھے مجھے کہ تجھ کو تماشا کرے کوئی 
عذر آفرین جرم محبت ہے حسن دوست 
محشر مںے عذر تازہ نہ پدنا کرے کوئی 
چھپتی نہںذ ہے یہ نگہ شوق ہم نشیں! 
پھر اور کس طرح انھںذ دیکھا کر ے کوئی 
اڑ بٹھے  کاں سمجھ کے بھلا طور پر کلمک 
طاقت ہو دید کی تو تقاضا کرے کوئی 
نظارے کو یہ جنبش مژگاں بھی بار ہے 
نرگس کی آنکھ سے تجھے دیکھا کرے کوئی 
کھل جائں  ، کاک مزے ہںی تمنائے شوق مں  
دو چار دن جو مر ی تمنا کرے کوئی
 
٭ ٭ ٭ ٭

 
جنھں  مںں ڈھونڈتا تھا آسمانوں مںش زمنوھں مں  
وہ نکلے مرجے ظلمت خانۂ دل کے مکنو ں مںز 
حققتک اپنی آنکھوں پر نمایاں جب ہوئی اپنی 
مکاں نکلا ہمارے خانۂ دل کے مکنونں مں  
اگر کچھ آشنا ہوتا مذاق جبہ سائی سے 
تو سنگ آستانِ کعبہ جا ملتا جبنو ں مںں 
کبھی اپنا بھی نظارہ کان ہے تو نے اے مجنوں 
کہ لیگ  کی طرح تو خود بھی ہے محمل نشنومں مں  
مہنےی وصل کے گھڑیوں کی صورت اڑتے جاتے ہںم 
مگر گھڑیاں جدائی کی گزرتی ہںل مہنو ں مں  
مجھے روکے گا تو اے ناخدا کا  غرق ہونے سے 
کہ جن کو ڈوبنا ہو ، ڈوب جاتے ہںا سفنو ں مںج 
چھپایا حسن کو اپنے کلمہ اللہ سے جس نے 
وہی ناز آفریں ہے جلوہ پرےا نازننوےں مںم 
جلا سکتی ہے شمع کشتہ کو موج نفس ان کی 
الہی! کا  چھپا ہوتا ہے اہل دل کے سنو ں مںں 
تمنا درد دل کی ہو تو کر خدمت فقرےوں کی 
نہںا ملتا یہ گوہر بادشاہوں کے خزینوں مں  
نہ پوچھ ان خرقہ پوشوں کی ، ارادت ہو تو دیکھ ان کو 
ید بضان لے  بٹھے  ہں  اپنی آستینوں مںں 
ترستی ہے نگاہ نا رسا جس کے نظارے کو 
وہ رونق انجمن کی ہے انھی خلوت گزینوں مںت 
کسی ایسے شرر سے پھونک اپنے خرمن دل کو 
کہ خورشدی قایمت بھی ہو ترکے خوشہ چنو ں مںں 
محبت کے لےج دل ڈھونڈ کوئی ٹوٹنے والا 
یہ وہ مے ہے جسے رکھتے ہںی نازک آبگنوےں مں  
سراپا حسن بن جاتا ہے جس کے حسن کا عاشق 
بھلا اے دل حسںا ایسا بھی ہے کوئی حسنویں مںں 
پھڑک اٹھا کوئی تر ی ادائے 'ما عرفنا' پر 
ترا رتبہ رہا بڑھ چڑھ کے سب ناز آفرینوں مں  
نمایاں ہو کے دکھلا دے کبھی ان کو جمال اپنا 
بہت مدت سے چرچے ہںک ترے باریک بنو ں مں  
خموش اے دل! ، بھری محفل مںن چلانا نہںا اچھا 
ادب پہلا قرینہ ہے محبت کے قرینوں مںج 
برا سمجھوں انھںچ مجھ سے تو ایسا ہو نہںل سکتا 
کہ مںم خود بھی تو ہوں اقبال اپنے نکتہ چنوچں مںن

٭ ٭ ٭ ٭

 
ترے عشق کی انتہا چاہتا ہوں 
مری سادگی دیکھ کاا چاہتا ہوں 
ستم ہو کہ ہو وعدہ بے حجابی 
کوئی بات صبر آزما چاہتا ہوں 
یہ جنت مبارک رہے زاہدوں کو 
کہ مں  آپ کا سامنا چاہتا ہوں 
ذرا سا تو دل ہوں ، مگر شوخ اتنا 
وہی لن ترانی سنا چاہتا ہوں 
کوئی دم کا مہماں ہوں اے اہل محفل 
چراغ سحر ہوں ، بجھا چاہتا ہوں 
بھری بزم مںم راز کی بات کہہ دی 
بڑا بے ادب ہوں ، سزا چاہتا ہوں

٭ ٭ ٭ ٭


کشادہ دست کرم جب وہ بے نااز کرے 
نااز مند نہ کوبں عاجزی پہ ناز کرے 
بٹھا کے عرش پہ رکھا ہے تو نے اے واعظ! 
خدا وہ کار ہے جو بندوں سے احتراز کرے 
مری نگاہ مں  وہ رند ہی نں   ساقی 
جو ہوشاکری و مستی مں  امتیاز کرے 
مدام گوش بہ دل رہ ، یہ ساز ہے ایسا 
جو ہو شکستہ تو پد ا نوائے راز کرے 
کوئی یہ پوچھے کہ واعظ کا کاہ بگڑتا ہے 
جو بے عمل پہ بھی رحمت وہ بے ناہز کرے 
سخن مںع سوز ، الہی کہاں سے آتا ہے 
یہ چزی وہ ہے کہ پتھر کو بھی گداز کرے 
تمز  لالہ و گل سے ہے نالۂ بلبل 
جہاں مںز وا نہ کوئی چشم امتیاز کرے 
غرور زہد نے سکھلا دیا ہے واعظ کو 
کہ بندگان خدا پر زباں دراز کرے 
ہوا ہو اییپ کہ ہندوستاں سے اے اقبال 
اڑا کے مجھ کو غبار رہ حجاز کرے

٭ ٭ ٭ ٭

 
سختا ں کرتا ہوں دل پر ، غرو سے غافل ہوں مںی 
ہائے کام اچھی کہی ظالم ہوں مںں ، جاہل ہوں مں  
مںئ جبھی تک تھا کہ تریی جلوہ پر ائی نہ تھی 
جو نمود حق سے مٹ جاتا ہے وہ باطل ہوں مں  
علم کے دریا سے نکلے غوطہ زن گوہر بدست 
وائے محرومی! خزف چنگ لب ساحل ہوں مں  
ہے مری ذلت ہی کچھ مر ی شرافت کی دللں 
جس کی غفلت کو ملک روتے ہں  وہ غافل ہوں مںت 
بزم ہستی! اپنی آرائش پہ تو نازاں نہ ہو 
تو تو اک تصویر ہے محفل کی اور محفل ہوں مںہ 
ڈھونڈتا پھرتا ہوں اے اقبال اپنے آپ کو 
آپ ہی گویا مسافر ، آپ ہی منزل ہوں مںک

٭ ٭ ٭ ٭

مجنوں نے شہر چھوڑا تو صحرا بھی چھوڑ دے 
نظارے کی ہوس ہو تو لییف بھی چھوڑ دے 
واعظ! کمال ترک سے ملتی ہے یاں مراد 
دناظ جو چھوڑ دی ہے تو عقبی بھی چھوڑ دے 
تقلدے کی روش سے تو بہتر ہے خودکشی 
رستہ بھی ڈھونڈ ، خضر کا سودا بھی چھوڑ دے 
مانند خامہ تر ی زباں پر ہے حرف غرک 
بگاننہ شے پہ نازش بے جا بھی چھوڑ دے 
لطف کلام کاہ جو نہ ہو دل مںی درد عشق 
بسمل نہں  ہے تو تو تڑپنا بھی چھوڑ دے 
شبنم کی طرح پھولوں پہ رو ، اور چمن سے چل 
اس باغ مںک قاطم کا سودا بھی چھوڑ دے 
ہے عاشقی مںح رسم الگ سب سے بٹھنا  
بت خانہ بھی ، حرم بھی ، کلساچ بھی چھوڑ دے 
سوداگری نہں  ، یہ عبادت خدا کی ہے 
اے بے خبر! جزا کی تمنا بھی چھوڑ دے 
اچھا ہے دل کے ساتھ رہے پاسبان عقل 
لکنا کبھی کبھی اسے تنہا بھی چھوڑ دے 
جناا وہ کات جو ہو نفس غرن پر مدار 
شہرت کی زندگی کا بھروسا بھی چھوڑ دے 
شوخی سی ہے سوال مکرر مںس اے کلمچ! 
شرط رضا یہ ہے کہ تقاضا بھی چھوڑ دے 
واعظ ثبوت لائے جو مے کے جواز مںس 
اقبال کو یہ ضد ہے کہ پناں بھی چھوڑ دے 
 
حصہ دوم ـ 1905 سے 1908 تک

محبت 
 

عروس شب کی زلفں  تھں9 ابھی نا آشنا خم سے 
ستارے آسماں کے بے خبر تھے لذت رم سے 
قمر اپنے لباس نو مںب بگاسنہ سا لگتا تھا 
نہ تھا واقف ابھی گردش کے آئنہ مسلم سے 
ابھی امکاں کے ظلمت خانے سے ابھری ہی تھی دنا  
مذاق زندگی پوشد ہ تھا پہنائے عالم سے 
کمال نظم ہستی کی ابھی تھی ابتدا گویا 
ہویدا تھی نگنے  کی تمنا چشم خاتم سے 
سنا ہے عالم بالا مںا کوئی کاعا  گر تھا 
صفا تھی جس کی خاک پا مں  بڑھ کر ساغر جم سے 
لکھا تھا عرش کے پائے پہ اک اکسرو کا نسخہ 
چھپاتے تھے فرشتے جس کو چشم روح آدم سے 
نگاہںے تاک مںک رہتی تھںخ لکن  کاسے  گر کی 
وہ اس نسخے کو بڑھ کر جانتا تھا اسم اعظم سے 
بڑھا تسبحے خوانی کے بہانے عرش کی جانب 
تمنائے دلی آخر بر آئی سعی پیہم سے 
پھرایا فکر اجزا نے اسے مدیان امکاں مں  
چھپے گی کا  کوئی شے بارگاہ حق کے محرم سے 
چمک تارے سے مانگی ، چاند سے داغ جگر مانگا 
اڑائی تراگی تھوڑی سی شب کی زلف برہم سے 
تڑپ بجلی سے پائی ، حور سے پاکز گی پائی 
حرارت لی نفسہائے مسحا ابن مریم سے 
ذرا سی پھر ربوبتا سے شان بے ناحزی لی 
ملک سے عاجزی ، افتادگی تقدیر شبنم سے 
پھر ان اجزا کو گھولا چشمۂ حوداں کے پانی مں  
مرکب نے محبت نام پایا عرش اعظم سے 
مہوس نے یہ پانی ہستی نوخزا پر چھڑکا 
گرہ کھولی ہنر نے اس کے گویا کار عالم سے 
ہوئی جنبش عا ں ، ذروں نے لطف خواب کو چھوڑا 
گلے ملنے لگے اٹھ اٹھ کے اپنے اپنے ہمدم سے 
خرام ناز پایا آفتابوں نے ، ستاروں نے 
چٹک غنچوں نے پائی ، داغ پائے لالہ زاروں نے
 
حقیقت حسن 

خدا سے حسن نے اک روز یہ سوال کاے 
جہاں مںح کو ں نہ مجھے تو نے لازوال کاک 
ملا جواب کہ تصویر خانہ ہے دناے 
شب دراز عدم کا فسانہ ہے دناے 
ہوئی ہے رنگ تغرہ سے جب نمود اس کی 
وہی حسںر ہے حققتج زوال ہے جس کی 
کہںی قریب تھا ، یہ گفتگو قمر نے سنی 
فلک پہ عام ہوئی ، اختر سحر نے سنی 
سحر نے تارے سے سن کر سنائی شبنم کو 
فلک کی بات بتا دی زمںم کے محرم کو 
بھر آئے پھول کے آنسو پا م شبنم سے 
کلی کا ننھا سا دل خون ہو گاش غم سے 
چمن سے روتا ہوا موسم بہار گال 
شباب سرر کو آیا تھا ، سوگوار گا 
 
سوامی رام تیر تھ 

ہم بغل دریا سے ہے اے قطرۂ بے تاب تو 
پہلے گوہر تھا ، بنا اب گوہر نایاب تو 
آہ کھولا کس ادا سے تو نے راز رنگ و بو 
مں  ابھی تک ہوں اسر  امتیاز رنگ و بو 
مٹ کے غوغا زندگی کا شورش محشر بنا 
یہ شرارہ بجھ کے آتش خانۂ آزر بنا 
نفئ ہستی اک کرشمہ ہے دل آگاہ کا 
'لا' کے دریا مںر نہاں موتی ہے 'الااللہ' کا 
چشم نابنار سے مخفی معنی انجام ہے 
تھم گئی جس دم تڑپ ، سماںب سمن خام ہے 
توڑ دیتا ہے بت ہستی کو ابراہمں عشق 
ہوش کا دارو ہے گویا مستی تسنمب عشق
 
طلبۂ علی گڑھ کالج کے نام

اوروں کا ہے پا م اور ، مر ا پاام اور ہے 
عشق کے درد مند کا طرز کلام اور ہے 
طائر زیر دام کے نالے تو سن چکے ہو تم 
یہ بھی سنو کہ نالۂ طائر بام اور ہے 
آتی تھی کوہ سے صدا راز حاہت ہے سکوں 
کہتا تھا مور ناتواں لطف خرام اور ہے 
جذب حرم سے ہے فروغ انجمن حجاز کا 
اس کا مقام اور ہے ، اس کا نظام اور ہے 
موت ہے عشم جاوداں ، ذوق طلب اگر نہ ہو 
گردش آدمی ہے اور ، گردش جام اور ہے 
شمع سحر یہ کہہ گئی سوز ہے زندگی کا ساز 
غم کدۂ نمود مںئ شرط دوام اور ہے 
بادہ ہے نم  رس ابھی ، شوق ہے نارسا ابھی 
رہنے دو خم کے سر پہ تم خشت کلیسیا ابھی
 
اختر صبح

ستارہ صبح کا روتا تھا اور یہ کہتا تھا 
ملی نگاہ مگر فرصت نظر نہ ملی 
ہوئی ہے زندہ دم آفتاب سے ہر شے 
اماں مجھی کو تہ دامن سحر نہ ملی 
بساط کار ہے بھلا صبح کے ستارے کی 
نفس حباب کا ، تابندگی شرارے کی 
کہا یہ مںب نے کہ اے زیور جبن  سحر! 
غم فنا ہے تجھے! گنبد فلک سے اتر 
ٹپک بلندی گردوں سے ہم رہِ شبنم 
مرے ریاض سخن کی فضا ہے جاں پرور 
مںے باغباں ہوں ، محبت بہار ہے اس کی 
بنا مثال ابد پائدار ہے اس کی
 
حسن و عشق

 
جس طرح ڈوبتی ہے کشتی سنر   قمر 
نور خورشدب کے طوفان مںت ہنگام سحر 
جسے ہو جاتا ہے گم نور کا لے کر آنچل 
چاندنی رات مںک مہتاب کا ہم رنگ کنول 
جلوۂ طور مںک جسےا ید بضابئے کلم  
موجۂ نکہت گلزار مں  غنچے کی شممم 
ہے ترے سل  محبت مںر یونہی دل مراا 
تو جو محفل ہے تو ہنگامۂ محفل ہوں مںی 
حسن کی برق ہے تو ، عشق کا حاصل ہوں مںں 
تو سحر ہے تو مرے اشک ہںت شبنم تروی 
شام غربت ہوں اگر مںک تو شفق تو مرںی 
مرے دل مںہ تری زلفوں کی پریشانی ہے 
تری تصویر سے پدوا مری حراانی ہے 
حسن کامل ہے ترا ، عشق ہے کامل مروا 
ہے مرے باغ سخن کے لےق تو باد بہار 
مر ے بے تاب تخل  کو دیا تو نے قرار 
جب سے آباد ترا عشق ہوا سینے مںب 
نئے جوہر ہوئے پدشا مرے آئنےم مں  
حسن سے عشق کی فطرت کو ہے تحریک کمال 
تجھ سے سر سبز ہوئے مرای امدموں کے نہال 
قافلہ ہو گاب آسودۂ منزل مروا

ــــــــ کی گود میں بلی دیکھ کر

 
تجھ کو دزدیدہ نگاہی یہ سکھا دی کس نے 
رمز آغاز محبت کی بتا دی کس نے 
ہر ادا سے ترتی پد ا ہے محبت کیوں 
نی ا آنکھوں سے ٹپکتی ہے ذکاوت کینس 
دیکھتی ہے کبھی ان کو، کبھی شرماتی ہے 
کبھی اٹھتی ہے ، کبھی لٹی کے سو جاتی ہے 
آنکھ ترکی صفت آئنہ حرہان ہے کا  
نور آگاہی سے روشن تری پہچان ہے کا  
مارتی ہے انھںر پونہچوں سے، عجب ناز ہے یہ 
چھڑت ہے ، غصہ ہے یا پاںر کا انداز ہے یہ؟ 
شوخ تو ہوگی تو گودی سے اتاریں گے تجھے 
گر گاو پھول جو سینے کا تو ماریں گے تجھے 
کا  تجسس ہے تجھے ، کس کی تمنائی ہے 
آہ! کات تو بھی اسی چزگ کی سودائی ہے 
خاص انسان سے کچھ حسن کا احساس نہںے 
صورت دل ہے یہ ہر چزا کے باطن مں  مکںز 
شیشۂ دہر مںز مانند مۓ ناب ہے عشق 
روح خورشدے ہے، خون رگ مہتاب ہے عشق 
دل ہر ذرہ مںی پوشدرہ کسک ہے اس کی 
نور یہ وہ ہے کہ ہر شے مںت جھلک ہے اس کی 
کہں  سامان مسرت، کہںم ساز غم ہے 
کہں  گوہر ہے ، کہںہ اشک ، کہں  شبنم ہے
 

کلی 

جب دکھاتی ہے سحر عارض رنگںں اپنا 
کھول دییگ ہے کلی سۂاپ زریں اپنا 
جلوہ آشام ہے یہ صبح کے مے خانے مں  
زندگی اس کی ہے خورشدں کے پما نے مںی 
سامنے مہر کے دل چر  کے رکھ دییا ہے 
کس قدر سنہک شگافی کے مزے لییا ہے 
مرے خورشدہ! کبھی تو بھی اٹھا اپنی نقاب 
بہر نظارہ تڑپتی ہے نگاہ بے تاب 
تررے جلوے کا نشمنی ہو مرے سینے مںپ 
عکس آباد ہو ترےا مرے آئنےہ مںب 
زندگی ہو ترا نظارہ مرے دل کے لےب 
روشنی ہو تری گہوارہ مرے دل کے لےم 
ذرہ ذرہ ہو مرا پھر طرب اندوز حاوت 
ہو عاہں جوہر اندیشہ مںہ پھر سوز حایت 
اپنے خورشد  کا نظارہ کروں دور سے مںت 
صفت غنچہ ہم آغوش رہوں نور سے مں  
جان مضطر کی حققت  کو نمایاں کر دوں 
دل کے پوشدیہ خا لوں کو بھی عریاں کر دوں
 
چاند اور تارے 

ڈرتے ڈرتے دم سحر سے 
تارے کہنے لگے قمر سے 
نظارے رہے وہی فلک پر 
ہم تھک بھی گئے چمک چمک کر 
کام اپنا ہے صبح و شام چلنا 
چلنا چلنا ، مدام چلنا 
بے تاب ہے اس جہاں کی ہر شے 
کہتے ہںہ جسے سکوں، نہں  ہے 
رہتے ہںہ ستم کش سفر سب 
تارے، انساں، شجر، حجر سب 
ہوگا کبھی ختم یہ سفر کاں 
منزل کبھی آئے گی نظر کاہ 
کہنے لگا چاند ، ہم نشنو  
اے مزرع شب کے خوشہ چنوو! 
جنبش سے ہے زندگی جہاں کی 
یہ رسم قدیم ہے یہاں کی 
ہے دوڑتا اشہب زمانہ 
کھا کھا کے طلب کا تازیانہ 
اس رہ مںک مقام بے محل ہے 
پوشدہہ قرار مں  اجل ہے 
چلنے والے نکل گئے ہںم 
جو ٹھہرے ذرا، کچل گئے ہںا 
انجام ہے اس خرام کا حسن 
آغاز ہے عشق، انتہا حسن
 
وصال 

جستجو جس گل کی تڑپاتی تھی اے بلبل مجھے 
خوبئ قسمت سے آخر مل گا  وہ گل مجھے 
خود تڑپتا تھا ، چمن والوں کو تڑپاتا تھا مںو 
تجھ کو جب رنگں، نوا پاتا تھا ، شرماتا تھا مںھ 
مرھے پہلو مںن دل مضطر نہ تھا ، سماھب تھا 
ارتکاب جرم الفت کے لےں بے تاب تھا 
نامرادی محفل گل مںب مری مشہور تھی 
صبح مر ی آئنہ دار شب دیجور تھی 
از نفس در سۂرف خوں گشتہ نشتر داشتم 
زیر خاموشی نہاں غوغائے محشر داشتم 
اب تاثر کے جہاں مں  وہ پریشانی نہںھ 
اہل گلشن پر گراں مر ی غزل خوانی نہںے 
عشق کی گرمی سے شعلے بن گئے چھالے مرے 
کھلیتے ہںر بجلورں کے ساتھ اب نالے مرے 
غازۂ الفت سے یہ خاک سہے آئنہ  ہے 
اور آئنےۂ مںس عکس ہمدم دیرینہ ہے 
قدر مںی آیا تو حاصل مجھ کو آزادی ہوئی 
دل کے لٹ جانے سے مرمے گھر کی آبادی ہوئی 
ضو سے اس خورشدم کی اختر مرا تابندہ ہے 
چاندنی جس کے غبار راہ سے شرمندہ ہے 
یک نظر کر دی و آداب فنا آموختی 
اے خنک روزے کہ خاشاک مرا واسوختی
 
سلیمی 

جس کی نمود دییھی چشم ستارہ بںہ نے 
خورشدک مںن ، قمر مں  ، تاروں کی انجمن مں  
صوفی نے جس کو دل کے ظلمت کدے مں، پایا 
شاعر نے جس کو دیکھا قدرت کے بانکپن مںا 
جس کی چمک ہے پدھا ، جس کی مہک ہویدا 
شبنم کے موتو ں مںھ ، پھولوں کے پر ہن مں  
صحرا کو ہے بسایا جس نے سکوت بن کر 
ہنگامہ جس کے دم سے کاشانۂ چمن مں  
ہر شے مںس ہے نمایاں یوں تو جمال اس کا 
آنکھوں مں  ہے سلیۂ  تر ی کمال اس کا
 
عاشق ہر جائی 
(1)

ہے عجب مجموعۂ اضداد اے اقبال تو 
رونق ہنگامۂ محفل بھی ہے، تنہا بھی ہے 
ترنے ہنگاموں سے اے دیوانۂ رنگںی نوا! 
زینت گلشن بھی ہے ، آرائش صحرا بھی ہے 
ہم نشیں تاروں کا ہے تو رفعت پرواز سے 
اے زمںت فرسا ، قدم تروا فلک پماا بھی ہے 
عن  شغل مںس پیشانی ہے تریی سجدہ ریز 
کچھ ترے مسلک مںں رنگ مشرب منان بھی ہے 
مثل بوئے گل لباس رنگ سے عریاں ہے تو 
ہے تو حکمت آفریں ، لکنش تجھے سودا بھی ہے 
جانب منزل رواں بے نقش پا مانند موج 
اور پھر افتادہ مثل ساحل دریا بھی ہے 
حسن نسوانی ہے بجلی ترےی فطرت کے لے  
پھر عجب یہ ہے کہ تریا عشق بے پروا بھی ہے 
ترری ہستی کا ہے آئنا تفنن پر مدار 
تو کبھی ایک آستانے پر جبںئ فرسا بھی ہے ؟ 
ہے حسنو ں مںہ وفا نا آشنا ترجا خطاب 
اے تلون کشت! تو مشہور بھی ، رسوا بھی ہے 
لے کے آیا ہے جہاں مںت عادت سما ب تو 
تر ی بے تابی کے صدقے، ہے عجب بے تاب تو

(2) 

عشق کی آشفتگی نے کر دیا صحرا جسے 
مشت خاک اییں نہاں زیر قبا رکھتا ہوں مں  
ہںت ہزاروں اس کے پہلو ، رنگ ہر پہلو کا اور 
سینے مںر ہرہا کوئی ترشا ہوا رکھتا ہوں مںے 
دل نہںک شاعر کا ، ہے کتورن ں کی رستخیز 
کا  خبر تجھ کو درون سنہا کاو رکھتا ہوں مں  
آرزو ہر کتخب  مںن اک نئے جلوے کی ہے 
مضطرب ہوں ، دل سکوں نا آشنا رکھتا ہوں مں  
گو حسنہ تازہ ہے ہر لحظہ مقصود نظر 
حسن سے مضبوط پمازن وفا رکھتا ہوں مں  
بے ناےزی سے ہے پداا مر ی فطرت کا نازز 
سوز و ساز جستجو مثل صبا رکھتا ہوں مںا 
موجب تسکں  تماشائے شرار جستہ اے 
ہو نہںس سکتا کہ دل برق آشنا رکھتا ہوں مں  
ہر تقاضا عشق کی فطرت کا ہو جس سے خموش 
آہ! وہ کامل تجلی مدعا رکھتا ہوں مںت 
جستجو کل کی لےل پھرتی ہے اجزا مںں مجھے 
حسن بے پایاں ہے ، درد لادوا رکھتا ہوں مںک 
زندگی الفت کی درد انجاموںں سے ہے مری 
عشق کو آزاد دستور وفا رکھتا ہوں مںر 
سچ اگر پوچھے تو افلاس تخلت ہے وفا 
دل مںر ہر دم اک نات محشر بپا رکھتا ہوں مںا 
فض  ساقی شبنم آسا ، ظرف دل دریا طلب 
تشنۂ دائم ہوں آتش زیر پا رکھتا ہوں مں  
مجھ کو پد ا کر کے اپنا نکتہ چںر پدتا کاں 
نقش ہوں ، اپنے مصور سے گلا رکھتا ہوں مںد 
محفل ہستی مں  جب ایسا تنک جلوہ تھا حسن 
پھر تخلت کس لےم لا انتہا رکھتا ہوں مں  
در باخبان طلب پومستہ می کوشمت ما 
موج بحریم و شکست خویش بر دوشمھ ما 
 
کوشش نا تمام 


فرقت آفتاب مںم کھاتی ہے پچھ و تاب صبح 
چشم شفق ہے خوں فشاں اختر شام کے لےر 
رہتی ہے قسش روز کو لیرہ شام کی ہوس 
اختر صبح مضطرب تاب دوام کے لے  
کہتا تھا قطب آسماں قافلۂ نجوم سے 
ہمرہو ، مںط ترس گاک لطف خرام کے لے  
سوتوں کو ندیوں کا شوق ، بحر کا ندیوں کو عشق 
موجۂ بحر کو تپش ماہ تمام کے لےم 
حسن ازل کہ پردۂ لالہ و گل مںے ہے نہاں 
کہتے ہں  بے قرار ہے جلوۂ عام کے لےن 
راز حاںت پو چھ لے خضر خجستہ گام سے 
زندہ ہر ایک چز  ہے کوشش ناتمام سے 
 
نوائے غم 

زندگانی ہے مری مثل رباب خاموش 
جس کی ہر رنگ کے نغموں سے ہے لبریز آغوش 
بربط کون و مکاں جس کی خموشی پہ نثار 
جس کے ہر تار مں  ہں  سنکڑاوں نغموں کے مزار 
محشرستان نوا کا ہے امں  جس کا سکوت 
اور منت کش ہنگامہ نہںں جس کا سکوت 
آہ! امدہ محبت کی بر آئی نہ کبھی 
چوٹ مضراب کی اس ساز نے کھائی نہ کبھی 
مگر آتی ہے نسم  چمن طور کبھی 
سمت گردوں سے ہوائے نفس حور کبھی 
چھڑ  آہستہ سے دییچ ہے مرا تار حاےت 
جس سے ہوتی ہے رہا روح گرفتار حایت 
نغمہ یاس کی دھیگر سی صدا اٹھتی ہے 
اشک کے قافلے کو بانگ درا اٹھتی ہے 
جس طرح رفعت شبنم ہے مذاق رم سے 
مر ی فطرت کی بلندی ہے نوائے غم سے
 
عشر ت امروز 

نہ مجھ سے کہہ کہ اجل ہے پایم عش  و سرور 
نہ کھنچک نقشۂ کیفیّتِ شراب طہور 
فراق حور مںہ ہو غم سے ہمکنار نہ تو 
پری کو شیشۂ الفاظ مں  اتار نہ تو 
مجھے فریفتۂ ساقی جملر نہ کر 
باھن حور نہ کر ، ذکر سلسبلس نہ کر 
مقام امن ہے جنت ، مجھے کلام نہںل 
شباب کے لےے موزوں ترا پاںم نہںن 
شباب ، آہ! کہاں تک امدلوار رہے 
وہ عش، ، عشم نہںم ، جس کا انتظار رہے 
وہ حسن کاے جو محتاج چشم بناق ہو 
نمود کے لےے منت پذیر فردا ہو 
عجبد چزے ہے احساس زندگانی کا 
عقددہ 'عشرت امروز' ہے جوانی کا
 
انسان 

قدرت کا عجب  یہ ستم ہے! 
انسان کو راز جو بنایا 
راز اس کی نگاہ سے چھپایا 
بے تاب ہے ذوق آگہی کا 
کھلتا نہںر بھدق زندگی کا 
حرلت آغاز و انتہا ہے 
آئنےی کے گھر مںہ اور کای ہے 
ہے گرم خرام موج دریا 
دریا سوئے سجر جادہ پمان 
بادل کو ہوا اڑا رہی ہے 
شانوں پہ اٹھائے لا رہی ہے 
تارے مست شراب تقدیر 
زندان فلک مںب پا بہ زنجر  
خورشد  ، وہ عابد سحر خزو 
لانے والا پادم بر خز  
مغرب کی پہاڑیوں مں  چھپ کر 
پتاب ہے مے شفق کا ساغر 
لذت گری وجود ہر شے 
سر مست مے نمود ہر شے 
کوئی نہںے غم گسار انساں 
کائ تلخ ہے روزگار انساں! 
 
جلوۂ حسن 


جلوۂ حسن کہ ہے جس سے تمنا بے تاب 
پالتا ہے جسے آغوش تخلہ مںت شباب 
ابدی بنتا ہے یہ عالم فانی جس سے 
ایک افسانۂ رنگںہ ہے جوانی جس سے 
جو سکھاتا ہے ہمںب سر بہ گریباں ہونا 
منظر عالم حاضر سے گریزاں ہونا 
دور ہو جاتی ہے ادراک کی خامی جس سے 
عقل کرتی ہے تاثر کی غلامی جس سے 
آہ! موجود بھی وہ حسن کہںں ہے کہ نہںس 
خاتم دہر مںج یا رب وہ نگں  ہے کہ نہںس
	
 
ایک شام 
( دریائے نکر  'ہائڈیل برگ ' کے کنارے پر ) 

خاموش ہے چاندنی قمر کی 
شاخںش ہںی خموش ہر شجر کی 
وادی کے نوا فروش خاموش 
کہسار کے سبز پوش خاموش 
فطرت بے ہوش ہو گئی ہے 
آغوش مں  شب کے سو گئی ہے 
کچھ ایسا سکوت کا فسوں ہے 
نکر  کا خرام بھی سکوں ہے 
تاروں کا خموش کارواں ہے 
یہ قافلہ بے درا رواں ہے 
خاموش ہںف کوہ و دشت و دریا 
قدرت ہے مراقبے مں  گویا 
اے دل! تو بھی خموش ہو جا 
آغوش مں  غم کو لے کے سو جا
 
تنہائی

 
تنہائی شب مںک ہے حزیں کا  
انجم نہںی ترںے ہم نشیں کا ! 
یہ رفعت آسمان خاموش 
خوابدنہ زمںس ، جہان خاموش 
یہ چاند ، یہ دشت و در ، یہ کہسار 
فطرت ہے تمام نسترن زار 
موتی خوش رنگ ، پا رے پاکرے 
یینی ترے آنسوؤں کے تارے 
کس شے کی تجھے ہوس ہے اے دل! 
قدرت تری ہم نفس ہے اے دل!
 
پیام عشق 


سن اے طلب گار درد پہلو! مںک ناز ہوں ، تو ناسز ہو جا 
مں  غزنوی سومنات دل کا ، تو سراپا ایاز ہو جا 
نہںا ہے وابستہ زیر گردوں کمال شان سکندری سے 
تمام ساماں ہے تر ے سینے مںم ، تو بھی آئنہ  ساز ہو جا 
غرض ہے پکا ر زندگی سے کمال پائے ہلال ترھا 
جہاں کا فرض قدیم ہے تو ، ادا مثال نماز ہو جا 
نہ ہو قناعت شعار گلچیں! اسی سے قائم ہے شان تر ی 
وفور گل ہے اگر چمن مںم تو اور دامن دراز ہو جا 
گئے وہ ایام ، اب زمانہ نہںا ہے صحرا نوردیوں کا 
جہاں مںا مانند شمع سوزاں ماین محفل گداز ہو جا 
وجود افراد کا مجازی ہے ، ہستی قوم ہے حقی   
فدا ہو ملت پہ یین  آتش زن طلسم مجاز ہو جا 
یہ ہند کے فرقہ ساز اقبال آزری کر رہے ہںط گویا 
بچا کے دامن بتوں سے اپنا غبار راہ حجاز ہو جا
 
فراق
 
تلاش گوشۂ عزلت مںا پھر رہا ہوں مںں 
یہاں پہاڑ کے دامن مںت آ چھپا ہوں مںو 
شکستہ گتپ مں  چشموں کے دلبری ہے کمال 
دعائے طفلک گفتار آزما کی مثال 
ہے تخت لعل شفق پر جلوس اختر شام 
بہشت دیدۂ بنا  ہے حسن منظر شام 
سکوت شام جدائی ہوا بہانہ مجھے 
کسی کی یاد نے سکھلا دیا ترانہ مجھے 
یہ کتیجد ہے مری جان نا شکبا  کی 
مری مثال ہے طفل صغرن تنہا کی 
اندھیری رات مںر کرتا ہے وہ سرود آغاز 
صدا کو اپنی سمجھتا ہے غرر کی آواز 
یونہی مںے دل کو پارم شکبک دیتا ہوں 
شب فراق کو گویا فریب دیتا ہوں
 
عبد القادر کے نام

 
اٹھ کہ ظلمت ہوئی پددا افق خاور پر 
بزم مں  شعلہ نوائی سے اجالا کر دیں 
ایک فریاد ہے مانند سپند اپنی بساط 
اسی ہنگامے سے محفل تہ و بالا کر دیں 
اہل محفل کو دکھا دیں اثر صقلک عشق 
سنگ امروز کو آئۂو  فردا کر دیں 
جلوۂ یوسف گم گشتہ دکھا کر ان کو 
تپش آمادہ تر از خون زلخاگ کر دیں 
اس چمن کو سبق آئنو نمو کا دے کر 
قطرۂ شبنم بے مایہ کو دریا کر دیں 
رخت جاں بت کدۂ چںن سے اٹھا لں  اپنا 
سب کو محو رخ سعدی و سلیھا کر دیں 
دیکھ! یثرب مںس ہوا ناقۂ لی د بکا ر 
قس  کو آرزوئے نو سے شناسا کر دیں 
بادۂ دیرینہ ہو اور گرم ہو ایسا کہ گداز 
جگر ششہح و پماینہ و مناا کر دیں 
گرم رکھتا تھا ہمںپ سردی مغرب مںک جو داغ 
چرم کر سنہں اسے وقف تماشا کر دیں 
شمع کی طرح جں س بزم گہ عالم مںا 
خود جلںت ، دیدۂ اغا ر کو بنا  کر دیں 
''ہر چہ در دل گذرد وقف زباں دارد شمع 
سوختن نستر خاذلے کہ نہاں دارد شمع''
 
صقلیہ 
( جزیرہ سسلی) 


رو لے اب دل کھول کر اے دیدۂ خوننابہ بار 
وہ نظر آتا ہے تہذیب حجازی کا مزار 
تھا یہاں ہنگامہ ان صحرا نشنونں کا کبھی 
بحر بازی گاہ تھا جن کے سفنوںں کا کبھی 
زلزلے جن سے شہنشاہوں کے درباروں مںس تھے 
بجلوےں کے آشاکنے جن کی تلواروں مںھ تھے 
اک جہان تازہ کا پغاشم تھا جن کا ظہور 
کھا گئی عصر کہن کو جن کی تغو ناصبور 
مردہ عالم زندہ جن کی شورش قم سے ہوا 
آدمی آزاد زنجرہ توہم سے ہوا 
غلغلوں سے جس کے لذت گرن اب تک گوش ہے 
کاغ وہ تکبرذ اب ہمشہت کے لے  خاموش ہے؟ 
آہ اے سسلی! سمندرکی ہے تجھ سے آبرو 
رہنما کی طرح اس پانی کے صحرا مںآ ہے تو 
زیب تریے خال سے رخسار دریا کو رہے 
ترنی شمعوں سے تسلی بحر پماو کو رہے 
ہو سبک چشم مسافر پر ترا منظر مدام 
موج رقصاں ترسے ساحل کی چٹانوں پر مدام 
تو کبھی اس قوم کی تہذیب کا گہوارہ تھا 
حسن عالم سوز جس کا آتش نظارہ تھا 
نالہ کش شرواز کا بلبل ہوا بغداد پر 
داغ رویا خون کے آنسو جہاں آباد پر 
آسماں نے دولت غرناطہ جب برباد کی 
ابن بدروں کے دل ناشاد نے فریاد کی 
غم نصبر اقبال کو بخشا گاف ماتم ترا 
چن لاب تقدیر نے وہ دل کہ تھا محرم ترا 
ہے ترے آثار مںت پوشدنہ کس کی داستاں 
تر ے ساحل کی خموشی مں  ہے انداز باھں 
درد اپنا مجھ سے کہہ ، مں  بھی سراپا درد ہوں 
جس کی تو منزل تھا ، مںں اس کارواں کی گرد ہوں 
رنگ تصویر کہن مںں بھر کے دکھلا دے مجھے 
قصۂ ایام سلف کا کہہ کے تڑپا دے مجھے 
مںگ ترا تحفہ سوئے ہندوستاں لے جاؤں گا 
خود یہاں روتا ہوں ، اوروں کو وہاں رلواؤں گا
 
غزلیات
٭ ٭ ٭ ٭

 
زندگی انساں کی اک دم کے سوا کچھ بھی نہں  
دم ہوا کی موج ہے ، رم کے سوا کچھ بھی نہںج 
گل تبسم کہہ رہا تھا زندگانی کو مگر 
شمع بولی ، گریۂ غم کے سوا کچھ بھی نہں  
راز ہستی راز ہے جب تک کوئی محرم نہ ہو 
کھل گات جس دم تو محرم کے سوا کچھ بھی نہں  
زائران کعبہ سے اقبال یہ پوچھے کوئی 
کائ حرم کا تحفہ زمزم کے سوا کچھ بھی نہں !
 
٭ ٭ ٭ ٭

 
الہی عقل خجستہ پے کو ذرا سی دیوانگی سکھا دے 
اسے ہے سودائے بخیہ کاری ، مجھے سر پردہن نہں  ہے 
ملا محبت کا سوز مجھ کو تو بولے صبح ازل فرشتے 
مثال شمع مزار ہے تو ، تری کوئی انجمن نہںہ ہے 
یہاں کہاں ہم نفس مسرر ، یہ دیس نا آشنا ہے اے دل! 
وہ چزا تو مانگتا ہے مجھ سے کہ زیر چرخ کہن نہںا ہے 
نرالا سارے جہاں سے اس کو عرب کے معمار نے بنایا 
بنا ہمارے حصار ملت کی اتحاد وطن نہںے ہے 
کہاں کا آنا ، کہاں کا جانا ، فریب ہے امتیاز عقبی 
نمود ہر شے مں  ہے ہماری ، کہںا ہمارا وطن نہں  ہے 
مدیر 'مخزن' سے کوئی اقبال جا کے مرہا پارم کہہ دے 
جو کام کچھ کر رہی ہںو قومںپ ، انھںل مذاق سخن نہں  ہے
 
٭ ٭ ٭ ٭


زمانہ دیکھے گا جب مرے دل سے محشر اٹھے گا گفتگو کا 
مری خموشی نہں  ہے ، گویا مزار ہے حرف آرزو کا 
جو موج دریا لگی یہ کہنے ، سفر سے قائم ہے شان مر ی 
گہر یہ بولا صدف نشیمر ہے مجھ کو سامان آبرو کا 
نہ ہو طبعت  ہی جن کی قابل ، وہ تربتن سے نہں  سنورتے 
ہوا نہ سرسبز رہ کے پانی مںک عکس سرو کنار جو کا 
کوئی دل ایسا نظر نہ آیا نہ جس مں  خوابدےہ ہو تمنا 
الہی تر ا جہان کا  ہے نگار خانہ ہے آرزو کا 
کھلا یہ مر کر کہ زندگی اپنی تھی طلسم ہوس سراپا 
جسے سمجھتے تھے جسم خاکی ، غبار تھا کوئے آرزو کا 
اگر کوئی شے نہںگ ہے پنہاں تو کووں سراپا تلاش ہوں مں  
نگہ کو نظارے کی تمنا ہے، دل کو سودا ہے جستجو کا 
چمن مں  گلچیں سے غنچہ کہتا تھا ، اتنا بدسرد کولں ہے انساں 
تری نگاہوں مں  ہے تبسم شکستہ ہونا مرے سبو کا 
ریاض ہستی کے ذرے ذرے سے ہے محبت کا جلوہ پددا 
حققتی گل کو تو جو سمجھے تو یہ بھی پما ں ہے رنگ و بو کا 
تمام مضموں مرے پرانے ، کلام مرھا خطا سراپا 
ہنر کوئی دیکھتا ہے مجھ مں  تو عبو ہے مر ے عبا جو کا 
سپاس شرط ادب ہے ورنہ کرم ترا ہے ستم سے بڑھ کر 
ذرا سا اک دل دیا ہے ، وہ بھی فریب خوردہ ہے آرزو کا 
کمال وحدت عاکں ہے ایسا کہ نوک نشتر سے تو جو چھڑ ے 
یںال ہے مجھ کو گرے رگ گل سے قطرہ انسان کے لہو کا 
گاا ہے تقلدم کا زمانہ ، مجاز رخت سفر اٹھائے 
ہوئی حققتی ہی جب نمایاں تو کس کو یارا ہے گفتگو کا 
جو گھر سے اقبال دور ہوں مںہ ، تو ہوں نہ محزوں عزیز مریے 
مثال گوہر وطن کی فرقت کمال ہے مر ی آبرو کا
 
٭ ٭ ٭ ٭

چمک تر٭ی عاوں بجلی مںم ، آتش مںا ، شرارے مںف 
جھلک ترہی ہویدا چاند مں  ،سورج مںش ، تارے مںر 
بلندی آسمانوں مںو ، زمنودں مںم تری پستی 
روانی بحر مںں ، افتادگی ترمی کنارے مں  
شریعت کوحں گریباں گر  ہو ذوق تکلم کی 
چھپا جاتا ہوں اپنے دل کا مطلب استعارے مںگ 
جو ہے بداار انساں مںب وہ گہری نندل سوتا ہے 
شجر مںب ، پھول مںا ، حوواں مںہ ، پتھر مںس ، ستارے مںں 
مجھے پھونکا ہے سوز قطرۂ اشک محبت نے 
غضب کی آگ تھی پانی کے چھوٹے سے شرارے مں  
نہں  جنس ثواب آخرت کی آرزو مجھ کو 
وہ سوداگر ہوں ، مںث نے نفع دیکھا ہے خسارے مں  
سکوں نا آشنا رہنا اسے سامان ہستی ہے 
تڑپ کس دل کی یا رب چھپ کے آ بیھے  ہے پارے مں، 
صدائے لن ترانی سن کے اے اقبال مں  چپ ہوں 
تقاضوں کی کہاں طاقت ہے مجھ فرقت کے مارے مںں
 
٭ ٭ ٭ ٭

یوں تو اے بزم جہاں! دلکش تھے ہنگامے ترے 
اک ذرا افسردگی تراے تماشاؤں مں  تھی 
پا گئی آسودگی کوئے محبت مںؤ وہ خاک 
مدتوں آوارہ جو حکمت کے صحراؤں مںت تھی 
کس قدر اے مے! تجھے رسم حجاب آئی پسند 
پردہ انگور سے نکلی تو مناجؤں مں  تھی 
حسن کی تاثری پر غالب نہ آ سکتا تھا علم 
اتنی نادانی جہاں کے سارے داناؤں مں  تھی 
مںن نے اے اقبال یورپ مںے اسے ڈھونڈا عبث 
بات جو ہندوستاں کے ماہ سماھؤں مںے تھی
 
٭ ٭ ٭ ٭

مثال پرتو مے ، طوف جام کرتے ہںپ 
ییا نماز ادا صبح و شام کرتے ہںر 
خصوصتپ نہںم کچھ اس مںر اے کلم  تری 
شجر حجر بھی خدا سے کلام کرتے ہںے 
نار جہاں کوئی اے شمع ڈھونڈیے کہ یہاں 
ستم کش تپش ناتمام کرتے ہںد 
بھلی ہے ہم نفسو اس چمن مںم خاموشی 
کہ خوشنواؤں کو پابند دام کرتے ہں  
غرض نشاط ہے شغل شراب سے جن کی 
حلال چزط کو گویا حرام کرتے ہںخ 
بھلا نبھے گی تری ہم سے کوںنکر اے واعظ! 
کہ ہم تو رسم محبت کو عام کرتے ہںا 
الہی سحر ہے پرکان خرقہ پوش مںس کاو! 
کہ اک نظر سے جوانوں کو رام کرتے ہںن 
مں  ان کی محفل عشرت سے کانپ جاتا ہوں 
جو گھر کو پھونک کے دنا  مں  نام کرتے ہںں 
ہرے رہو وطن مازنی کے مدعانو! 
جہاز پر سے تمھںا ہم سلام کرتے ہں  
جو بے نماز کبھی پڑھتے ہںم نماز اقبال 
بلا کے دیر سے مجھ کو امام کرتے ہںی
 
مارچ 1907ء 

زمانہ آیا ہے بے حجابی کا ، عام دیدار یار ہو گا 
سکوت تھا پردہ دار جس کا ، وہ راز اب آشکار ہوگا 
گزر گاھ اب وہ دور ساقی کہ چھپ کے پتےب تھے پنے  والے 
بنے گا سارا جہان مے خانہ ، ہر کوئی بادہ خوار ہو گا 
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے ، وہ بستوہں مںے پھر آ بسںو گے 
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر ناا خارزار ہو گا 
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر 
جو عہد صحرائو ں سے باندھا گا  تھا ، پھر استوار ہو گا 
نکل کے صحرا سے جس نے روما کی سلطنت کو الٹ دیا تھا 
سنا ہے یہ قدسووں سے مں  نے ، وہ شرا پھر ہوشا ر ہو گا 
کاا مرا تذکرہ جوساقی نے بادہ خواروں کی انجمن مںش 
تو پرے مخارنہ سن کے کہنے لگا کہ منہ پھٹ ہے ، خوار ہو گا 
دیار مغرب کے رہنے والو! خدا کی بستی دکاں نہں  ہے 
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو ، وہ اب زر کم عاخر ہو گا 
تمھاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خود کشی کرے گی 
جو شاخ نازک پہ آشاہنہ بنے گا ، ناپائدار ہو گا 
سفۂار برگ گل بنا لے گا قافلہ مور ناتواں کا 
ہزار موجوں کی ہو کشاکش مگر یہ دریا سے پار ہو گا 
چمن مںو لالہ دکھاتا پھرتا ہے داغ اپنا کلی کلی کو 
یہ جانتا ہے کہ اس دکھاوے سے دل جلوں مںد شمار ہو گا 
جو ایک تھا اے نگاہ تو نے ہزار کر کے ہمںپ دکھایا 
یی  اگر کتگا  ہے ترہی تو پھر کسے اعتبار ہو گا 
کہا جو قمری سے مں  نے اک دن ، یہاں کے آزاد پا بہ گل ہں  
تو غنچے کہنے لگے ، ہمارے چمن کا یہ راز دار ہو گا 
خدا کے عاشق تو ہںک ہزاروں ، بنوں مںن پھرتے ہںر مارے مارے 
مںا اس کا بندہ بنوں گا جس کو خدا کے بندوں سے پاتر ہو گا 
یہ رسم بزم فنا ہے اے دل! گناہ ہے جنبش نظر بھی 
رہے گی کاہ آبرو ہماری جو تو یہاں بے قرار ہو گا 
مںے ظلمت شب مں  لے کے نکلوں گا اپنے درماندہ کارواں کو 
شرر فشاں ہوگی آہ مرکی ، نفس مرا شعلہ بار ہو گا 
نہں  ہے غرگ از نمود کچھ بھی جو مدعا ترشی زندگی کا 
تو اک نفس مںں جہاں سے مٹنا تجھے مثال شرار ہو گا 
نہ پوچھ اقبال کا ٹھکانا ابھی وہی کت م  ہے اس کی 
کہںپ سر رہ گزار بٹھات ستم کش انتظار ہو گا 
 
حصہ سوم سے 1908— —

بلاد اسلامیہ

 
سرزمںا دلی کی مسجود دل غم دیدہ ہے 
ذرے ذرے مں  لہو اسلاف کا خوابد ہ ہے 
پاک اس اجڑے گلستاں کی نہ ہو کوینکر زمں  
خانقاہ عظمت اسلام ہے یہ سرزمںہ 
سوتے ہںع اس خاک مں  خری الامم کے تاجدار 
نظم عالم کا رہا جن کی حکومت پر مدار 
دل کو تڑپاتی ہے اب تک گرمی محفل کی یاد 
جل چکا حاصل مگر محفوظ ہے حاصل کی یاد 
ہے زیارت گاہ مسلم گو جہان آباد بھی 
اس کرامت کا مگر حق دار ہے بغداد بھی 
یہ چمن وہ ہے کہ تھا جس کے لے  سامان ناز 
لالۂ صحرا جسے کہتے ہںب تہذیب حجاز 
خاک اس بستی کی ہو کو نکر نہ ہمدوش ارم 
جس نے دیکھے جانشینان پمبر  کے قدم 
جس کے غنچے تھے چمن ساماں ، وہ گلشن ہے ییر 
کاپنتا تھا جن سے روما ، ان کا مدفن ہے ییر 
ہے زمن  قرطبہ بھی دیدۂ مسلم کا نور 
ظلمت مغرب مںن جو روشن تھی مثل شمع طور 
بجھ کے بزم ملت بضاو پریشاں کر گئی 
اور دیا تہذیب حاضر کا فروزاں کر گئی 
قبر اس تہذیب کی یہ سر زمنئ پاک ہے 
جس سے تاک گلشن یورپ کی رگ نم ناک ہے 
خطۂ قسطنطنہی یینن قصرے کا دیار 
مہدی امت کی سطوت کا نشان پائدار 
صورت خاک حرم یہ سر زمں  بھی پاک ہے 
آستان مسند آرائے شہ لولاک ہے 
نکہت گل کی طرح پاکزلہ ہے اس کی ہوا 
تربت ایوب انصاری سے آتی ہے صدا 
اے مسلماں! ملت اسلام کا دل ہے یہ شہر 
سنکڑ وں صدیوں کی کشت و خوں کا حاصل ہے یہ شہر 
وہ زمںم ہے تو مگر اے خواب گاہ مصطفی 
دید ہے کعبے کو تر ی حج اکبر سے سوا 
خاتم ہستی مںر تو تاباں ہے مانند نگںو 
اپنی عظمت کی ولادت گاہ تھی ترای زمںل 
تجھ مںس راحت اس شہنشاہ معظم کو ملی 
جس کے دامن مں  اماں اقوام عالم کو ملی 
نام لودا جس کے شاہنشاہ عالم کے ہوئے 
جانشیں قصر  کے ، وارث مسند جم کے ہوئے 
ہے اگر قومتم اسلام پابند مقام 
ہند ہی بناےد ہے اس کی ، نہ فارس ہے ، نہ شام 
آہ یثرب! دیس ہے مسلم کا تو ، ماوا ہے تو 
نقطۂ جاذب تاثر کی شعاعوں کا ہے تو 
جب تلک باقی ہے تو دناس مںو ، باقی ہم بھی ہں  
صبح ہے تو اس چمن مںب گوہر شبنم بھی ہںق
 
ستارہ 

قمر کا خوف کہ ہے خطرۂ سحر تجھ کو 
مآل حسن کی کاا مل گئی خبر تجھ کو؟ 
متاع نور کے لٹ جانے کا ہے ڈر تجھ کو 
ہے کان ہراس فنا صورت شرر تجھ کو؟ 
زمںک سے دور دیا آسماں نے گھر تجھ کو 
مثال ماہ اڑھائی قبائے زر تجھ کو 
غضب ہے پھر تری ننھی سی جان ڈرتی ہے! 
تمام رات تری کانپتے گزرتی ہے 
چمکنے والے مسافر! عجب یہ بستی ہے 
جو اوج ایک کا ہے ، دوسرے کی پستی ہے 
اجل ہے لاکھوں ستاروں کی اک ولادت مہر 
فنا کی نندں مے زندگی کی مستی ہے 
وداع غنچہ مں  ہے راز آفرینش گل 
عدم ، عدم ہے کہ آئنہں دار ہستی ہے! 
سکوں محال ہے قدرت کے کارخانے مںد 
ثبات ایک تغرک کو ہے زمانے مںی
 
دوستارے 


آئے جو قراں مں  دو ستارے 
کہنے لگا ایک ، دوسرے سے 
یہ وصل مدام ہو تو کا  خوب 
انجام خرام ہو تو کاو خوب 
تھوڑا سا جو مہرباں فلک ہو 
ہم دونوں کی ایک ہی چمک ہو 
لکند یہ وصال کی تمنا 
پغادم فراق تھی سراپا 
گردش تاروں کا ہے مقدر 
ہر ایک کی راہ ہے مقرر 
ہے خواب ثبات آشنائی 
آئنخ جہاں کا ہے جدائی
 
گورستان شاہی

آسماں ، بادل کا پہنے خرقۂ دیرینہ ہے 
کچھ مکدر سا جبن  ماہ کا آئنہر ہے 
چاندنی پھیےی ہے اس نظارۂ خاموش مں  
صبح صادق سو رہی ہے رات کی آغوش مںہ 
کس قدر اشجار کی حر ت فزا ہے خامشی 
بربط قدرت کی دھیاح سی نوا ہے خامیں 
باطن ہر ذرۂ عالم سراپا درد ہے 
اور خاموشی لب ہستی پہ آہ سرد ہے 
آہ! جولاں گاہ عالم گرا یینے وہ حصار 
دوش پر اپنے اٹھائے سکڑگوں صدیوں کا بار 
زندگی سے تھا کبھی معمور ، اب سنسان ہے 
یہ خموشی اس کے ہنگاموں کا گورستاں ہے 
اپنے سکان کہن کی خاک کا دلدادہ ہے 
کوہ کے سر پر مثال پاسباں استادہ ہے 
ابر کے روزن سے وہ بالائے بام آسماں 
ناظر عالم ہے نجم سبز فام آسماں 
خاک بازی وسعت دناا کا ہے منظر اسے 
داستاں ناکامی انساں کی ہے ازبر اسے 
ہے ازل سے یہ مسافر سوئے منزل جا رہا 
آسماں سے انقلابوں کا تماشا دیکھتا 
گو سکوں ممکن نہں  عالم مںھ اختر کے لے  
فاتحہ خوانی کو یہ ٹھہرا ہے دم بھر کے لے  
رنگ و آب زندگی سے گل بدامن ہے زمںا 
سنکڑ وں خوں گشتہ تہذیبوں کا مدفن ہے زمںک 
خواب گہ شاہوں کی ہے یہ منزل حسرت فزا 
دیدۂ عبرت! خراج اشک گلگوں کر ادا 
ہے تو گورستاں مگر یہ خاک گردوں پایہ ہے 
آہ! اک برگشتہ قسمت قوم کا سرمایہ ہے 
مقبروں کی شان حرقت آفریں ہے اس قدر 
جنبش مژگاں سے ہے چشم تماشا کو حذر 
کتبش  ایی  ہے ناکامی کی اس تصویر مںی 
جو اتر سکتی نہںک آئۂے  تحریر مںص 
سوتے ہںس خاموش ، آبادی کے ہنگاموں سے دور 
مضطرب رکھتی تھی جن کو آرزوئے ناصبور 
قبر کی ظلمت مں  ہے ان آفتابوں کی چمک 
جن کے دروازوں پہ رہتا تھا جبںد گستر فلک 
کا  ییہ ہے ان شہنشاہوں کی عظمت کا مآل 
جن کی تدبرہ جہاں بانی سے ڈرتا تھا زوال 
رعب فغفوری ہو دناج مںا کہ شان قصرری 
ٹل نہںف سکتی غنمہ موت کی یورش کبھی 
بادشاہوں کی بھی کشت عمر کا حاصل ہے گور 
جادۂ عظمت کی گویا آخری منزل ہے گور 
شورش بزم طرب کاک ، عود کی تقریر کا  
درد مندان جہاں کا نالۂ شب گرو کاا 
عرصۂ پکاار مںد ہنگامۂ شمشر  کاگ 
خون کو گرمانے والا نعرۂ تکبرگ کا  
اب کوئی آواز سوتوں کو جگا سکتی نہں  
سۂ ک ویراں مںج جان رفتہ آ سکتی نہں  
روح ، مشت خاک مں  زحمت کش بدیاد ہے 
کوچہ گرد نے ہوا جس دم نفس ، فریاد ہے 
زندگی انساں کی ہے مانند مرغ خوش نوا 
شاخ پر بٹھا  ، کوئی دم چہچادیا ، اڑ گا  
آہ! کاا آئے ریاض دہر مںخ ہم ، کاڑ گئے! 
زندگی کی شاخ سے پھوٹے ، کھلے ، مرجھا گئے 
موت ہر شاہ و گدا کے خواب کی تعبر، ہے 
اس ستم گر کا ستم انصاف کی تصویر ہے 
سلسلہ ہستی کا ہے اک بحر نا پدوا کنار 
اور اس دریائے بے پایاں کے موجں  ہں  مزار 
اے ہوس! خوں رو کہ ہے یہ زندگی بے اعتبار 
یہ شرارے کا تبسم ، یہ خس آتش سوار 
چاند ، جو صورت گر ہستی کا اک اعجاز ہے 
پہنے سماوبی قبا محو خرام ناز ہے 
چرخ بے انجم کی دہشت ناک وسعت مںخ مگر 
بے کسی اس کی کوئی دیکھے ذرا وقت سحر 
اک ذرا سا ابر کا ٹکڑا ہے ، جو مہتاب تھا 
آخری آنسو ٹپک جانے مںت ہو جس کی فنا 
زندگی اقوام کی بھی ہے یونہی بے اعتبار 
رنگ ہائے رفتہ کی تصویر ہے ان کی بہار 
اس زیاں خانے مںک کوئی ملت گردوں وقار 
رہ نہںئ سکتی ابد تک بار دوش روزگار 
اس قدر قوموں کی بربادی سے ہے خوگر جہاں 
دیکھتا بے اعتنائی سے ہے یہ منظر جہاں 
ایک صورت پر نہںئ رہتا کسی شے کو قرار 
ذوق جدت سے ہے ترکبن مزاج روزگار 
ہے نگنت دہر کی زینت ہمشہہ نام نو 
مادر گی ی رہی آبستن اقوام نو 
ہے ہزاروں قافلوں سے آشنا یہ رہ گزر 
چشم کوہ نور نے دیکھے ہںی کتنے تاجور 
مصر و بابل مٹ گئے باقی نشاں تک بھی نہںن 
دفتر ہستی مںھ ان کی داستاں تک بھی نہںت 
آ دبایا مہر ایراں کو اجل کی شام نے 
عظمت یونان و روما لوٹ لی ایام نے 
آہ! مسلم بھی زمانے سے یونہی رخصت ہوا 
آسماں سے ابر آزادی اٹھا ، برسا ، گاا 
ہے رگ گل صبح کے اشکوں سے موتی کی لڑی 
کوئی سورج کی کرن شبنم مںب ہے الجھی ہوئی 
سۂئی دریا شعاعوں کے لےں گہوارہ ہے 
کس قدر پاصرا لب جو مہر کا نظارہ ہے 
محو زینت ہے صنوبر ، جوئبار آئنہے ہے 
غنچۂ گل کے لےن باد بہار آئنہب ہے 
نعرہ زن رہتی ہے کوئل باغ کے کاشانے مںی 
چشم انساں سے نہاں ، پتوں کے عزلت خانے مںا 
اور بلبل ، مطرب رنگںپ نوائے گلستاں 
جس کے دم سے زندہ ہے گویا ہوائے گلستاں 
عشق کے ہنگاموں کی اڑتی ہوئی تصویر ہے 
خامۂ قدرت کی کیست شوخ یہ تحریر ہے 
باغ مں  خاموش جلسے گلستاں زادوں کے ہںت 
وادی کہسار مں  نعرے شباں زادوں کے ہںہ 
زندگی سے یہ پرانا خاک داں معمور ہے 
موت مں  بھی زندگانی کی تڑپ مستور ہے 
پتا ں پھولوں کی گرتی ہںں خزاں مں  اس طرح 
دست طفل خفتہ سے رنگںں کھلونے جس طرح 
اس نشاط آباد مں  گو عشھ بے اندازہ ہے 
ایک غم ، یینی غم ملت ہمشہ  تازہ ہے 
دل ہمارے یاد عہد رفتہ سے خالی نہں  
اپنے شاہوں کو یہ امت بھولنے والی نہںہ 
اشک باری کے بہانے ہںھ یہ اجڑے بام و در 
گریۂ پیہم سے بناو ہے ہماری چشم تر 
دہر کو دیتے ہںے موتی دیدۂ گریاں کے ہم 
آخری بادل ہںب اک گزرے ہوئے طوفاں کے ہم 
ہںر ابھی صد ہا گہر اس ابر کی آغوش مںو 
برق ابھی باقی ہے اس کے سۂطی خاموش مںا 
وادی گل ، خاک صحرا کو بنا سکتا ہے یہ 
خواب سے امدب دہقاں کو جگا سکتا ہے یہ 
ہو چکا گو قوم کی شان جلالی کا ظہور 
ہے مگر باقی ابھی شان جمالی کا ظہور 
 

نمود صبح 

ہو رہی ہے زیر دامان افق سے آشکار 
صبح یینو دختر دوشزفۂ للو و نہار 
پا چکا فرصت درود فصل انجم سے سپہر 
کشت خاور مں  ہوا ہے آفتاب آئنہ  کار 
آسماں نے آمد خورشدص کی پا کر خبر 
محمل پرواز شب باندھا سر دوش غبار 
شعلۂ خورشدس گویا حاصل اس کھیور کا ہے 
بوئے تھے دہقان گردوں نے جو تاروں کے شرار 
ہے رواں نجم سحر ، جسےن عبادت خانے سے 
سب سے پچھےم جائے کوئی عابد شب زندہ دار 
کا  سماں ہے جس طرح آہستہ آہستہ کوئی 
کھنچتاپ ہو مارن کی ظلمت سے تغا آب دار 
مطلع خورشدس مںم مضمر ہے یوں مضمون صبح 
جسےع خلوت گاہ مناح مںر شراب خوش گوار 
ہے تہ دامان باد اختلاط انگزس صبح 
شورش ناقوس ، آواز اذاں سے ہمکنار 
جاگے کوئل کی اذاں سے طائران نغمہ سنج 
ہے ترنم ریز قانون سحر کا تار تار
 

تضمین بر شعر انیسی شاملو 

ہمشہ  صورت باد سحر آوارہ رہتا ہوں 
محبت مں  ہے منزل سے بھی خوشتر جادہ پماوئی 
دل بے تاب جا پہنچا دیار پر  سنجر مں  
مسرب ہے جہاں درمان درد نا شکبایئی 
ابھی نا آشنائے لب تھا حرف آرزو مربا 
زباں ہونے کو تھی منت پذیر تاب گویائی 
یہ مرقد سے صدا آئی ، حرم کے رہنے والوں کو 
شکایت تجھ سے ہے اے تارک آئنر آبائی! 
ترا اے قسد کو نکر ہو گاو سوز دروں ٹھنڈا 
کہ لیے  مں  تو ہںے اب تک وہی انداز لیلائی 
نہ تخم 'لا الہ' ترںی زمنر شور سے پھوٹا 
زمانے بھر مں' رسوا ہے تری فطرت کی نازائی 
تجھے معلوم ہے غافل کہ تروی زندگی کا  ہے 
کنشتی ساز، معمور نوا ہائے کلسا ئی 
ہوئی ہے تربت  آغوش بتر اللہ مںم ترای 
دل شوریدہ ہے لکنت صنم خانے کا سودائی 
''وفا آموختی از ما، بکار دیگراں کر دی 
ربودی گوہرے از ما نثار دیگراں کر دی''
 

پھول کا تحفہ عطا ہونے پر 

وہ مست ناز جو گلشن مں  جا نکلتی ہے 
کلی کلی کی زباں سے دعا نکلتی ہے 
''الہی! پھولوں مں  وہ انتخاب مجھ کو کرے 
کلی سے رشک گل آفتاب مجھ کو کرے'' 
تجھے وہ شاخ سے توڑیں! زہے نصبں ترے 
تڑپتے رہ گئے گلزار مںک رقب  ترے 
اٹھا کے صدمۂ فرقت وصال تک پہنچا 
تری حا ت کا جوہر کمال تک پہنچا 
مرا کنول کہ تصدق ہںم جس پہ اہل نظر 
مرے شباب کے گلشن کو ناز ہے جس پر 
کبھی یہ پھول ہم آغوش مدعا نہ ہوا 
کسی کے دامن رنگںم سے آشنا نہ ہوا 
شگفتہ کر نہ سکے گی کبھی بہار اسے 
فسردہ رکھتا ہے گلچیں کا انتظار اسے
 
ترانۂ ملی

 
چنا و عرب ہمارا ، ہندوستاں ہمارا 
مسلم ہںک ہم ، وطن ہے سارا جہاں ہمارا 
توحد  کی امانت سنواں مں  ہے ہمارے 
آساں نہںی مٹانا نام و نشاں ہمارا 
دناں کے بت کدوں مں  پہلا وہ گھر خدا کا 
ہم اس کے پاسباں ہںت، وہ پاسباں ہمارا 
تغواں کے سائے مںو ہم پل کر جواں ہوئے ہںد 
خنجر ہلال کا ہے قومی نشاں ہمارا 
مغرب کی وادیوں مںہ گونجی اذاں ہماری 
تھمتا نہ تھا کسی سے سلں رواں ہمارا 
باطل سے دنبے والے اے آسماں نہں  ہم 
سو بار کر چکا ہے تو امتحاں ہمارا 
اے گلستان اندلس! وہ دن ہں  یاد تجھ کو 
تھا ترتی ڈالووں پر جب آشامں ہمارا 
اے موج دجلہ! تو بھی پہچانتی ہے ہم کو 
اب تک ہے ترنا دریا افسانہ خواں ہمارا 
اے ارض پاک! تر ی حرمت پہ کٹ مرے ہم 
ہے خوں تری رگوں مںب اب تک رواں ہمارا 
سالار کارواں ہے مرو حجاز اپنا 
اس نام سے ہے باقی آرام جاں ہمارا 
اقبال کا ترانہ بانگ درا ہے گویا 
ہوتا ہے جادہ پماا پھر کارواں ہمارا
 
وطنیت 

(یین  وطن بحتکار ایک سامسی تصور کے) 


اس دور مںن مے اور ہے ، جام اور ہے جم اور 
ساقی نے بنا کی روش لطف و ستم اور 
مسلم نے بھی تعمری کال اپنا حرم اور 
تہذیب کے آزر نے ترشوائے صنم اور 
ان تازہ خداؤں مں  بڑا سب سے وطن ہے 
جو پرزہن اس کا ہے ، وہ مذہب کا کفن ہے 
یہ بت کہ تراشدسۂ تہذیب نوی ہے 
غارت گر کاشانۂ دین نبوی ہے 
بازو ترا توحدۂ کی قوت سے قوی ہے 
اسلام ترا دیس ہے ، تو مصطفوی ہے 
نظارۂ دیرینہ زمانے کو دکھا دے 
اے مصطفوی خاک مں  اس بت کو ملا دے ! 
ہو قدط مقامی تو نتجہ  ہے تباہی 
رہ بحر مں  آزاد وطن صورت ماہی 
ہے ترک وطن سنت محبوب الہی 
دے تو بھی نبوت کی صداقت پہ گواہی 
گفتار سایست مںو وطن اور ہی کچھ ہے 
ارشاد نبوت مںت وطن اور ہی کچھ ہے 
اقوام جہاں مںت ہے رقابت تو اسی سے 
تسخرم ہے مقصود تجارت تو اسی سے 
خالی ہے صداقت سے ساوست تو اسی سے 
کمزور کا گھر ہوتا ہے غارت تو اسی سے 
اقوام مں  مخلوق خدا بٹتی ہے اس سے 
قومتم اسلام کے جڑ کٹتی ہے اس سے
 
ایک حاجی مدینے کے راستے میں 


قافلہ لوٹا گاہ صحرا مںج اور منزل ہے دور 
اس با باں یینح بحر خشک کا ساحل ہے دور 
ہم سفر مراے شکار دشنۂ رہزن ہوئے 
بچ گئے جو ، ہو کے بے دل سوئے بت  اللہ پھرے 
اس بخاری نوجواں نے کس خوشی سے جان دی ! 
موت کے زہراب مںک پائی ہے اس نے زندگی 
خنجر رہزن اسے گویا ہلال عدخ تھا 
'ہائے یثرب' دل مں  ، لب پر نعرۂ توحد  تھا 
خوف کہتا ہے کہ یثرب کی طرف تنہا نہ چل 
شوق کہتا ہے کہ تو مسلم ہے ، بے باکانہ چل 
بے زیارت سوئے بتہ اللہ پھر جاؤں گا کال 
عاشقوں کو روز محشر منہ نہ دکھلاؤں گا کاج 
خوف جاں رکھتا نہںر کچھ دشت پما ئے حجاز 
ہجرت مدفون یثرب مںک ییا مخفی ہے راز 
گو سلامت محمل شامی کی ہمراہی مںف ہے 
عشق کی لذت مگر خطروں کے جاں کاہی مں  ہے 
آہ! یہ عقل زیاں اندیش کای چالاک ہے 
اور تاثر آدمی کا کس قدر بے باک ہے
 
قطعہ
 
کل ایک شوریدہ خواب گاہ نبی پہ رو رو کے کہہ رہا تھا 
کہ مصر و ہندوستاں کے مسلم بنائے ملت مٹا رہے ہںئ 
یہ زائران حریم مغرب ہزار رہبر بنںہ ہمارے 
ہمںم بھلا ان سے واسطہ کاا جو تجھ سے نا آشنا رہے ہںہ 
غضب ہںز یہ مرشدان خود بںت خدا تری قوم کو بچائے! 
بگاڑ کر تراے مسلموں کو یہ اپنی عزت بنا رہے ہںہ 
سنے گا اقبال کون ان کو ، یہ انجمن ہی بدل گئی ہے 
نئے زمانے مں  آپ ہم کو پرانی باتںب سنا رہے ہںہ !
 
شکوہ 

کووں زیاں کار بنوں ، سود فراموش رہوں 
فکر فردا نہ کروں محو غم دوش رہوں 
نالے بلبل کے سنوں اور ہمہ تن گوش رہوں 
ہم نوا مں  بھی کوئی گل ہوں کہ خاموش رہوں 
جرأت آموز مری تاب سخن ہے مجھ کو 
شکوہ اللہ سے ، خاکم بدہن ، ہے مجھ کو 
ہے بجا شو ۂ تسلمھ مںج مشہور ہںش ہم 
قصۂ درد سناتے ہںت کہ مجبور ہں  ہم 
ساز خاموش ہںی ، فریاد سے معمور ہں  ہم 
نالہ آتا ہے اگر لب پہ تو معذور ہں  ہم 
اے خدا! شکوۂ ارباب وفا بھی سن لے 
خوگر حمد سے تھوڑا سا گلا بھی سن لے 
تھی تو موجود ازل سے ہی تری ذات قدیم 
پھول تھا زیب چمن پر نہ پریشاں تھی شممں 
شرط انصاف ہے اے صاحب الطاف عممہ 
بوئے گل پھیت ا کس طرح جو ہوتی نہ نسمم 
ہم کو جمعتی خاطر یہ پریشانی تھی 
ورنہ امت ترے محبوب کی دیوانی تھی؟ 
ہم سے پہلے تھا عجب تررے جہاں کا منظر 
کہںس مسجود تھے پتھر ، کہںں معبود شجر 
خوگر پکری محسوس تھی انساں کی نظر 
مانتا پھر کوئی ان دیکھے خدا کو کوجنکر 
تجھ کو معلوم ہے ، لتاس تھا کوئی نام ترا؟ 
قوت بازوئے مسلم نے کاس کام ترا 
بس رہے تھے یں ک سلجوق بھی، تورانی بھی 
اہل چں  چنی مںں ، ایران مںن ساسانی بھی 
اسی معمورے مں  آباد تھے یونانی بھی 
اسی دناو مںں یہودی بھی تھے ، نصرانی بھی 
پر ترے نام پہ تلوار اٹھائی کس نے 
بات جو بگڑی ہوئی تھی ، وہ بنائی کس نے 
تھے ہمںب ایک ترے معرکہ آراؤں مں  
خشکیوں مں  کبھی لڑتے ، کبھی دریاؤں مںی 
دیں اذانںم کبھی یورپ کے کلسانؤں مںی 
کبھی افریقہ کے تپتے ہوئے صحراؤں مںس 
شان آنکھوں مںن نہ جچتی تھی جہاں داروں کی 
کلمہ جب پڑھتے تھے ہم چھاؤں مںح تلواروں کی 
ہم جو جتےں تھے تو جنگوں کے مصبتا کے لےں 
اور مرتے تھے ترے نام کی عظمت کے لے  
تھی نہ کچھ تغی زنی اپنی حکومت کے لے  
سربکف پھرتے تھے کا  دہر مںغ دولت کے لےے؟ 
قوم اپنی جو زر و مال جہاں پر مرتی 
بت فروشی کے عوض بت شکنی کو ں کرتی! 
ٹل نہ سکتے تھے اگر جنگ مںض اڑ جاتے تھے 
پاؤں شرکوں کے بھی مدااں سے اکھڑ جاتے تھے 
تجھ سے سرکش ہوا کوئی تو بگڑ جاتے تھے 
تغھ کاہ چزی ہے ، ہم توپ سے لڑ جاتے تھے 
نقش توحدغ کا ہر دل پہ بٹھایا ہم نے 
زیر خنجر بھی یہ پغا،م سنایا ہم نے 
تو ہی کہہ دے کہ اکھاڑا در خبرہ کس نے 
شہر قصرد کا جو تھا ، اس کو کا  سر کس نے 
توڑے مخلوق خداوندوں کے پکرا کس نے 
کاٹ کر رکھ دیے کفار کے لشکر کس نے 
کس نے ٹھنڈا کاو آتشکدۂ ایراں کو؟ 
کس نے پھر زندہ کاے تذکرۂ یزداں کو؟ 
کون سی قوم فقط ترتی طلب گار ہوئی 
اور ترپے لےو زحمت کش پکا ر ہوئی 
کس کی شمشری جہاں گر  ، جہاں دار ہوئی 
کس کی تکبری سے دنار تری بدہار ہوئی 
کس کی ہبتر سے صنم سہمے ہوئے رہتے تھے 
منہ کے بل گر کے 'ھو اللہ احد' کہتے تھے 
آ گاک عنہ لڑائی مںت اگر وقت نماز 
قبلہ رو ہو کے زمںب بوس ہوئی قوم حجاز 
ایک ہی صف مں  کھڑے ہو گئے محمود و ایاز 
نہ کوئی بندہ رہا اور نہ کوئی بندہ نواز 
بندہ و صاحب و محتاج و غنی ایک ہوئے 
تردی سرکار مںی پہنچے تو سبھی ایک ہوئے 
محفل کون و مکاں مںج سحر و شام پھرے 
مے توحدن کو لے کر صفت جام پھرے 
کوہ مںد ، دشت مںے لے کر ترا پغا م پھرے 
اور معلوم ہے تجھ کو ، کبھی ناکام پھرے! 
دشت تو دشت ہںت ، دریا بھی نہ چھوڑے ہم نے 
بحر ظلمات مںں دوڑا دیے گھوڑے ہم نے 
صفحۂ دہر سے باطل کو مٹایا ہم نے 
نوع انساں کو غلامی سے چھڑایا ہم نے 
ترعے کعبے کو جبنوبں سے بسایا ہم نے 
ترعے قرآن کو سنووں سے لگایا ہم نے 
پھر بھی ہم سے یہ گلہ ہے کہ وفادار نہںڑ 
ہم وفادار نہںآ ، تو بھی تو دلدار نہںا! 
امتںف اور بیں ہںگ ، ان مںر گنہ گار بھی ہںے 
عجز والے بھی ہں  ، مست مۓ پندار بھی ہںہ 
ان مںا کاہل بھی ہں،، غافل بھی ہںگ، ہشا ر بھی ہں  
سنکڑ وں ہںہ کہ ترے نام سے بز ار بھی ہںب 
رحمتںا ہںہ تری اغاغر کے کاشانوں پر 
برق گرتی ہے تو بچاترے مسلمانوں پر 
بت صنم خانوں مںں کہتے ہںچ ، مسلمان گئے 
ہے خوشی ان کو کہ کعبے کے نگہبان گئے 
منزل دہر سے اونٹوں کے حدی خوان گئے 
اپنی بغلوں مںو دبائے ہوئے قرآن گئے 
خندہ زن کفر ہے ، احساس تجھے ہے کہ نہںئ 
اپنی توحدا کا کچھ پاس تجھے ہے کہ نہںگ 
یہ شکایت نہںس ، ہںچ ان کے خزانے معمور 
نہںی محفل مں، جنھںا بات بھی کرنے کا شعور 
قہر تو یہ ہے کہ کافر کو ملںھ حور و قصور 
اور بچاکرے مسلماں کو فقط وعدۂ حور 
اب وہ الطاف نہںے ، ہم پہ عنایات نہںر 
بات یہ کا  ہے کہ پہلی سی مدارات نہںن 
کوتں مسلمانوں مںں ہے دولت دنا  نایاب 
ترتی قدرت تو ہے وہ جس کی نہ حد ہے نہ حساب 
تو جو چاہے تو اٹھے سۂدر صحرا سے حباب 
رہرو دشت ہو سیاٹ زدۂ موج سراب 
طعن اغاتر ہے ، رسوائی ہے ، ناداری ہے 
کان ترے نام پہ مرنے کا عوض خواری ہے؟ 
بنی اغاہر کی اب چاہنے والی دناح 
رہ گئی اپنے لےن ایک خاالی دنا  
ہم تو رخصت ہوئے ، اوروں نے سنبھالی دنان 
پھر نہ کہنا ہوئی توحدل سے خالی دنار 
ہم تو جتےن ہںو کہ دنای مںی ترا نام رہے 
کہںت ممکن ہے کہ ساقی نہ رہے ، جام رہے! 
ترںی محفل بھی گئی ، چاہنے والے بھی گئے 
شب کے آہںن بھی گئںا ، صبح کے نالے بھی گئے 
دل تجھے دے بھی گئے ، اپنا صلا لے بھی گئے 
آ کے بےھدے بھی نہ تھے اور نکالے بھی گئے 
آئے عشاق ، گئے وعدۂ فردا لے کر 
اب انھںق ڈھونڈ چراغ رخ زیبا لے کر 
درد لیںق بھی وہی ، قسب کا پہلو بھی وہی 
نجد کے دشت و جبل مںھ رم آہو بھی وہی 
عشق کا دل بھی وہی ، حسن کا جادو بھی وہی 
امت احمد مرسل بھی وہی ، تو بھی وہی 
پھر یہ آزردگی غرھ سبب کاو معنی 
اپنے شدداؤں پہ یہ چشم غضب کار معنی 
تجھ کو چھوڑا کہ رسول عربی کو چھوڑا؟ 
بت گری پشہل کاہ ، بت شکنی کو چھوڑا؟ 
عشق کو ، عشق کی آشفتہ سری کو چھوڑا؟ 
رسم سلمان و اویس قرنی کو چھوڑا؟ 
آگ تکبرا کی سنورں مںڑ دبی رکھتے ہں  
زندگی مثل بلال حبشی رکھتے ہںں 
عشق کی خرل وہ پہلی سی ادا بھی نہ سہی 
جادہ پمایئی تسلمی و رضا بھی نہ سہی 
مضطرب دل صفت قبلہ نما بھی نہ سہی 
اور پابندی آئنھ وفا بھی نہ سہی 
کبھی ہم سے ، کبھی غرںوں سے شناسائی ہے 
بات کہنے کی نہںی ، تو بھی تو ہرجائی ہے ! 
سر فاراں پہ کاب دین کو کامل تو نے 
اک اشارے مں  ہزاروں کے لےک دل تو نے 
آتش اندوز کاک عشق کا حاصل تو نے 
پھونک دی گرمی رخسار سے محفل تو نے 
آج کو ں سینے ہمارے شرر آباد نہںم 
ہم وہی سوختہ ساماں ہںر ، تجھے یاد نہں ؟ 
وادی نجد مںس وہ شور سلاسل نہ رہا 
قسد دیوانۂ نظارۂ محمل نہ رہا 
حوصلے وہ نہ رہے ، ہم نہ رہے ، دل نہ رہا 
گھر یہ اجڑا ہے کہ تو رونق محفل نہ رہا 
اے خوش آں روز کہ آئی و بصد ناز آئی 
بے حجابانہ سوئے محفل ما باز آئی 
بادہ کش غر  ہں  گلشن مں  لب جو بٹھے  
سنتے ہں  جام بکف نغمۂ کو کو بٹھےو 
دور ہنگامۂ گلزار سے یک سو بٹھے  
تررے دیوانے بھی ہں  منتظر 'ھو' بٹھے  
اپنے پروانوں کو پھر ذوق خود افروزی دے 
برق دیرینہ کو فرمان جگر سوزی دے 
قوم آوارہ عناں تاب ہے پھر سوئے حجاز 
لے اڑا بلبل بے پر کو مذاق پرواز 
مضطرب باغ کے ہر غنچے مںا ہے بوئے نایز 
تو ذرا چھڑک تو دے، تشنۂ مضراب ہے ساز 
نغمے بے تاب ہںر تاروں سے نکلنے کے لےر 
طور مضطر ہے اسی آگ مںل جلنے کے لےہ 
مشکلںض امت مرحوم کی آساں کر دے 
مور بے مایہ کو ہمدوش سلمامں کر دے 
جنس نایاب محبت کو پھر ارزاں کر دے 
ہند کے دیر نشنوتں کو مسلماں کر دے 
جوئے خوں می چکد از حسرت دیرینۂ ما 
می تپد نالہ بہ نشتر کدۂ سۂے  ما 
بوئے گل لے گئی برتون چمن راز چمن 
کائ قائمت ہے کہ خود پھول ہںا غماز چمن ! 
عہد گل ختم ہوا ٹوٹ گام ساز چمن 
اڑ گئے ڈالوہں سے زمزمہ پرواز چمن 
ایک بلبل ہے کہ ہے محو ترنم اب تک 
اس کے سینے مںہ ہے نغموں کا تلاطم اب تک 
قمریاں شاخ صنوبر سے گریزاں بھی ہوئں  
پتّیاں پھول کی جھڑ جھڑ کے پریشاں بھی ہوئںں 
وہ پرانی روشںی باغ کی ویراں بھی ہوئںں 
ڈالارں پروہن برگ سے عریاں بھی ہوئںب 
قدل موسم سے طبعتش رہی آزاد اس کی 
کاش گلشن مںو سمجھتا کوئی فریاد اس کی! 
لطف مرنے مںو ہے باقی ، نہ مزا جے ی مںی 
کچھ مزا ہے تو ییہ خون جگر پنےا مںد 
کتنے بے تاب ہں  جوہر مرے آئنےع مںن 
کس قدر جلوے تڑپتے ہںں مرے سینے مںج 
اس گلستاں مںت مگر دیکھنے والے ہی نہںی 
داغ جو سینے مں  رکھتے ہوں ، وہ لالے ہی نہںں 
چاک اس بلبل تنہا کی نوا سے دل ہوں 
جاگنے والے اسی بانگ درا سے دل ہوں 
یینن پھر زندہ نئے عہد وفا سے دل ہوں 
پھر اسی بادۂ دیرینہ کے پا سے دل ہوں 
عجمی خم ہے تو کاہ ، مے تو حجازی ہے مری 
نغمہ ہندی ہے تو کاۂ ، لے تو حجازی ہے مری! 
 
چاند 

اے چاند! حسن ترکا فطرت کی آبرو ہے 
طوف حریم خاکی تر ی قدیم خو ہے 
یہ داغ سا جو تریے سینے مںز ہے نمایاں 
عاشق ہے تو کسی کا، یہ داغ آرزو ہے؟ 
مںش مضطرب زمںا پر، بے تاب تو فلک پر 
تجھ کو بھی جستجو ہے ، مجھ کو بھی جستجو ہے 
انساں ہے شمع جس کی ، محفل وہی ہے ترسی؟ 
مںس جس طرف رواں ہوں ، منزل وہی ہے ترسی؟ 
تو ڈھونڈتا ہے جس کو تاروں کی خامی  مںم 
پوشدھہ ہے وہ شاید غوغائے زندگی مںہ 
استادہ سرو مںہ ہے ، سبزے مںغ سو رہا ہے 
بلبل مںس نغمہ زن ہے ، خاموش ہے کلی مںہ 
آ ! مںن تجھے دکھاؤں رخسار روشن اس کا 
نہروں کے آئنے مںم شبنم کی آرسی مںم 
صحرا و دشت و در مںن ، کہسار مںی وہی ہے 
انساں کے دل مںر ، ترسے رخسار مںہ وہی ہے
 
رات اور شاعر 

(1) رات 

کوتں مرںی چاندنی مںس پھرتا ہے تو پریشاں 
خاموش صورت گل ، مانند بو پریشاں 
تاروں کے موتو ں کا شاید ہے جوہری تو 
مچھلی ہے کوئی مرہے دریائے نور کی تو 
یا تو مری جبںا کا تارا گرا ہوا ہے 
رفعت کو چھوڑ کر جو بستی مںک جا بسا ہے 
خاموش ہو گاڑ ہے تار رباب ہستی 
ہے مر ے آئنے مںہ تصویر خواب ہستی 
دریا کی تہ مں  چشم گرداب سو گئی ہے 
ساحل سے لگ کے موج بے تاب سو گئی ہے 
بستی زمںے کی کی ر ہنگامہ آفریں ہے 
یوں سو گئی ہے جسےک آباد ہی نہںو ہے 
شاعر کا دل ہے لکنم ناآشنا سکوں سے 
آزاد رہ گا  تو کوبنکر مرے فسوں سے؟

(2) شاعر

مںا ترے چاند کی کھیر  مںں گہر بوتا ہوں 
چھپ کے انسانوں سے مانند سحر روتا ہوں 
دن کی شورش مں  نکلتے ہوئے گھبراتے ہں  
عزلت شب مںا مرے اشک ٹپک جاتے ہںت 
مجھ مںب فریاد جو پنہاں ہے ، سناؤں کس کو 
تپش شوق کا نظارہ دکھاؤں کس کو 
برق ایمن مرے سینے پہ پڑی روتی ہے 
دیکھنے والی ہے جو آنکھ ، کہاں سوتی ہے! 
صفت شمع لحد مردہ ہے محفل مرای 
آہ، اے رات! بڑی دور ہے منزل مرںی 
عہد حاضر کی ہوا راس نہںن ہے اس کو 
اپنے نقصان کا احساس نہںل ہے اس کا 
ضبط پغاصم محبت سے جو گھبراتا ہوں 
ترطے تابندہ ستاروں کو سنا جاتا ہوں 
 
بزم انجم 


سورج نے جاتے جاتے شام سہ  قبا کو 
طشت افق سے لے کر لالے کے پھول مارے 
پہنا دیا شفق نے سونے کا سارا زیور 
قدرت نے اپنے گہنے چاندی کے سب اتارے 
محمل مں  خامشی کے لیلائے ظلمت آئی 
چمکے عروس شب کے موتی وہ پاےرے پاظرے 
وہ دور رہنے والے ہنگامۂ جہاں سے 
کہتا ہے جن کو انساں اپنی زباں مں  'تارے' 
محو فلک فروزی تھی انجمن فلک کی 
عرش بریں سے آئی آواز اک ملک کی 
اے شب کے پاسانو، اے آسماں کے تارو! 
تابندہ قوم ساری گردوں نشیں تمھاری 
چھڑنو سرود ایسا ، جاگ اٹھںا سونے والے 
رہبر ہے قافلوں کی تاب جبںگ تمھاری 
آئنے  قسمتوں کے تم کو یہ جانتے ہںر 
شاید سنںم صدائں  اہل زمںں تمھاری 
رخصت ہوئی خموشی تاروں بھری فضا سے 
وسعت تھی آسماں کی معمور اس نوا سے 
''حسن ازل ہے پدسا تاروں کی دلبری مںب 
جس طرح عکس گل ہو شبنم کے آرسی مںم 
آئنط نو سے ڈرنا ، طرز کہن پہ اڑنا 
منزل یی  گھٹن ہے قوموں کی زندگی مں  
یہ کاروان ہستی ہے تزے گام ایسا 
قومںہ کچل گئی ہں  جس کی روا روی مں  
آنکھوں سے ہںں ہماری غائب ہزاروں انجم 
داخل ہںس وہ بھی لکنں اپنی برادری مںھ 
اک عمر مں  نہ سمجھے اس کو زمنل والے 
جو بات پا گئے ہم تھوڑی سی زندگی مںب 
ہں  جذب باہمی سے قائم نظام سارے 
پوشدیہ ہے یہ نکتہ تاروں کی زندگی مں 
 
سیر فلک 

تھا تخلم جو ہم سفر مرنا 
آسماں پر ہوا گزر مروا 
اڑتا جاتا تھا اور نہ تھا کوئی 
جاننے والا چرخ پر مر ا 
تارے حرات سے دیکھتے تھے مجھے 
راز سر بستہ تھا سفر مر ا 
حلقۂ صبح و شام سے نکلا 
اس پرانے نظام سے نکلا 
کا  سناؤں تمھںا ارم کار ہے 
خاتم آرزوئے دیدہ و گوش 
شاخ طوبی! پہ نغمہ ریز طوار 
بے حجابانہ حور جلوہ فروش 
ساقاجن جملہ جام بدست 
پنےا والوں مں  شور نوشانوش 
دور جنت سے آنکھ نے دیکھا 
ایک تاریک خانہ سرد و خموش 
طالع قس  و گسوائے لیو  
اس کی تاریوھاں سے دوش بدوش 
خنک ایسا کہ جس سے شرما کر 
کرۂ زمہریر ہو روپوش 
مںک نے پوچھی جو کتروپ اس کی 
حرکت انگزچ تھا جواب سروش 
یہ مقام خنک جہنم ہے 
نار سے ، نور سے تہی آغوش 
شعلے ہوتے ہں  مستعار اس کے 
جن سے لرزاں ہںم مرد عبرت کوش 
اہل دنار یہاں جو آتے ہںش 
اپنے انگار ساتھ لاتے ہںس
 
نصیحت 

مںن نے اقبال سے از راہ نصحتو یہ کہا 
عامل روزہ ہے تو اور نہ پابند نماز 
تو بھی ہے شوہۂ ارباب ریا مںی کامل 
دل مںی لندن کی ہوس ، لب پہ ترے ذکر حجاز 
جھوٹ بھی مصلحت آمزن ترا ہوتا ہے 
تروا انداز تملق بھی سراپا اعجاز 
ختم تقریر تری مدحت سرکار پہ ہے 
فکر روشن ہے ترا موجد آئنی نا ز 
در حکام بھی ہے تجھ کو مقام محمود 
پالسی بھی تری پدر  ہ تر از زلف ایاز 
اور لوگوں کی طرح تو بھی چھپا سکتا ہے 
پردۂ خدمت دیں مںی ہوس جاہ کا راز 
نظر آ جاتا ہے مسجد مں  بھی تو عدر کے دن 
اثر وعظ سے ہوتی ہے طبعتں بھی گداز 
دست پرورد ترے ملک کے اخبار بھی ہں  
چھڑ نا فرض ہے جن پر تری تشہرں کا ساز 
اس پہ طرہ ہے کہ تو شعر بھی کہہ سکتا ہے 
تر ی منابئے سخن مں  ہے شراب شر از 
جتنے اوصاف ہںک لڈیر کے ، وہ ہںہ تجھ مں  سبیز 
تجھ کو لازم ہے کہ ہو اٹھ کے شریک تگ و تاز 
غم صاود نہںہ ، اور پر و بال بھی ہںم 
پھر سبب کام ہے ، نہں، تجھ کو دماغ پرواز 
''عاقبت منزل ما وادی خاموشان است 
حالاس غلغلہ در گنبد افلاک انداز''
 
رام 


لبریز ہے شراب حققتد سے جام ہند 
سب فلسفی ہںح خطۂ مغرب کے رام ہند 
یہ ہندیوں کے فکر فلک رس کا ہے اثر 
رفعت مںن آسماں سے بھی اونچا ہے بام ہند 
اس دیس مںں ہوئے ہںک ہزاروں ملک سرشت 
مشہور جن کے دم سے ہے دناں مںی نام ہند 
ہے رام کے وجود پہ ہندوستاں کو ناز 
اہل نظر سمجھتے ہں  اس کو امام ہند 
اعجاز اس چراغ ہدایت کا ہے ییہ 
روشن تر از سحر ہے زمانے مںک شام ہند 
تلوار کا دھنی تھا ، شجاعت مںہ فرد تھا 
پاکزرگی مںش ، جوش محبت مںھ فرد تھا
 
موٹر 


کیٹر پتے کی بات جگندر نے کل کہی 
موٹر ہے ذوالفقار علی خان کا کاگ خموش 
ہنگامہ آفریں نہںی اس کا خرام ناز 
مانند برق تزف ، مثال ہوا خموش 
مںن نے کہا ، نہں، ہے یہ موٹر پہ منحصر 
ہے جادۂ حا،ت مں  ہر تزپ پا خموش 
ہے پا شکستہ شوہۂ فریاد سے جرس 
نکہت کا کارواں ہے مثال صبا خموش 
منات مدام شورش قلقل سے پا بہ گل 
لکنت مزاج جام خرام آشنا خموش 
شاعر کے فکر کو پر پرواز خامشی 
سرمایہ دار گرمی آواز خامشی!
 
انسان 


منظر چمنستاں کے زیبا ہوں کہ نازیبا 
محروم عمل نرگس مجبور تماشا ہے 
رفتار کی لذت کا احساس نہں  اس کو 
فطرت ہی صنوبر کی محروم تمنا ہے 
تسلم  کی خوگر ہے جو چزح ہے دنا  مںم 
انسان کی ہر قوت سرگرم تقاضا ہے 
اس ذرے کو رہتی ہے وسعت کی ہوس ہر دم 
یہ ذرہ نہںی ، شاید سمٹا ہوا صحرا ہے 
چاہے تو بدل ڈالے ہئتں چمنستاں کی 
یہ ہستی دانا ہے ، بنان ہے ، توانا ہے
 
خطاب بہ جوانان اسلام 


کبھی اے نوجواں مسلم! تدبر بھی کام تو نے 
وہ کاب گردوں تھا تو جس کا ہے اک ٹوٹا ہوا تارا 
تجھے اس قوم نے پالا ہے آغوش محبت مں  
کچل ڈالا تھا جس نے پاؤں مںح تاج سر دارا 
تمدن آفریں خلاق آئنش جہاں داری 
وہ صحرائے عرب یینآ شتربانوں کا گہوارا 
سماں 'الفقر فخری' کا رہا شان امارت مںا 
''بآب و رنگ و خال و خط چہ حاجت روے زیبا را'' 
گدائی مںو بھی وہ اللہ والے تھے غوہر اتنے 
کہ منعم کو گدا کے ڈر سے بخشش کا نہ تھا یارا 
غرض مںم کاک کہوں تجھ سے کہ وہ صحرا نشیں کا  تھے 
جہاں گرئ و جہاں دار و جہاں بان و جہاں آرا 
اگر چاہوں تو نقشہ کھنچا کر الفاظ مںج رکھ دوں 
مگر ترہے تخلک سے فزوں تر ہے وہ نظارا 
تجھے آبا سے اپنے کوئی نسبت ہو نہںن سکتی 
کہ تو گفتار وہ کردار ، تو ثابت وہ سا را 
گنوا دی ہم نے جو اسلاف سے مرناث پائی تھی 
ثریا سے زمںہ پر آسماں نے ہم کو دے مارا 
حکومت کا تو کاس رونا کہ وہ اک عارضی شے تھی 
نہںم دناز کے آئن  مسلم سے کوئی چارا 
مگر وہ علم کے موتی ، کتابں  اپنے آبا کی 
جو دیںھک  ان کو یورپ مں  تو دل ہوتا ہے سپا را 
''غنی! روز ساںہ پرو کنعاں را تماشا کن 
کہ نور دیدہ اش روشن کند چشم زلخاض را''
 
غرۂ شوال 
یا 
ہلال عدد 


غرۂ شوال! اے نور نگاہ روزہ دار 
آ کہ تھے ترکے لے  مسلم سراپا انتظار 
ترکی پیشانی پہ تحریر پامم عدپ ہے 
شام ترھی کا  ہے ، صبح عش  کی تمد ی ہے 
سرگزشت ملت بضام کا تو آئنہ  ہے 
اے مہ نو! ہم کو تجھ سے الفت دیرینہ ہے 
جس علم کے سائے مںو تغھ آزما ہوتے تھے ہم 
دشمنوں کے خون سے رنگںم قبا ہوتے تھے ہم 
ترمی قسمت مںغ ہم آغوشی اسی رایت کی ہے 
حسن روز افزوں سے ترگے آبرو ملت کی ہے 
آشنا پرور ہے قوم اپنی ، وفا آئںی ترا 
ہے محبت خزہ یہ پر،اہن سں ں  ترا 
اوج گردوں سے ذرا دنای کی بستی دیکھ لے 
اپنی رفعت سے ہمارے گھر کی پستی دیکھ لے ! 
قافلے دیکھ اور ان کی برق رفتاری بھی دیکھ 
رہر و درماندہ کی منزل سے بزآاری بھی دیکھ 
دیکھ کر تجھ کو افق پر ہم لٹاتے تھے گہر 
اے تہی ساغر! ہماری آج ناداری بھی دیکھ 
فرقہ آرائی کی زنجر وں مں  ہںی مسلم اسرد 
اپنی آزادی بھی دیکھ ، ان کی گرفتاری بھی دیکھ 
دیکھ مسجد مںا شکست رشتۂ تسبحی شخک 
بت کدے مںھ برہمن کی پختہ زناری بھی دیکھ 
کافروں کی مسلم آئییت کا بھی نظارہ کر 
اور اپنے مسلموں کی مسلم آزاری بھی دیکھ 
بارش سنگ حوادث کا تماشائی بھی ہو 
امت مرحوم کی آئنہی دیواری بھی دیکھ 
ہاں ، تملق پیگ ک دیکھ آبرو والوں کی تو 
اور جو بے آبرو تھے ، ان کی خود داری بھی دیکھ 
جس کو ہم نے آشنا لطف تکلم سے کام 
اس حریف بے زباں کی گرم گفتاری بھی دیکھ 
ساز عشرت کی صدا مغرب کے ایوانوں مںر سن 
اور ایراں مںب ذرا ماتم کی تامری بھی دیکھ 
چاک کر دی ترک ناداں نے خلافت کی قبا 
سادگی مسلم کی دیکھ ، اوروں کی عاھری بھی دیکھ 
صورت آئنہر سب کچھ دیکھ اور خاموش رہ 
شورش امروز مںا محو سرود دوش رہ
 
شمع اور شاعر 
(فروری 1912ء) 
شاعر 


دوش می گفتم بہ شمع منزل ویران خویش 
گسو ے تو از پر پروانہ دارد شانہ اے 
در جہاں مثل چراغ لالۂ صحراستم 
نے نصبو محفلے نے قسمت کاشانہ اے 
مدتے مانند تو من ہم نفس می سوختم 
در طواف شعلہ ام بالے نہ زد پروانہ اے 
می تپد صد جلوہ در جان امل فرسودمن 
بر نمی خز د ازیں محفل دل دیوانہ اے 
از کجا ایں آتش عالم فروز اندوختی 
کرمک بے مایہ را سوز کلما آموختی 

شمع 

مجھ کو جو موج نفس دییو ہے پغاتم اجل 
لب اسی موج نفس سے ہے نوا پر ا ترا 
مں  تو جلتی ہوں کہ ہے مضمر مری فطرت مں  سوز 
تو فروزاں ہے کہ پروانوں کو ہو سودا ترا 
گریہ ساماں مںو کہ مروے دل مں  ہے طوفان اشک 
شبنم افشاں تو کہ بزم گل مںں ہو چرچا ترا 
گل بہ دامن ہے مری شب کے لہو سے مرری صبح 
ہے ترے امروز سے نا آشنا فردا ترا 
یوں تو روشن ہے مگر سوز دروں رکھتا نہں  
شعلہ ہے مثل چراغ لالۂ صحرا ترا 
سوچ تو دل مںچ ، لقب ساقی کا ہے زیبا تجھے؟ 
انجمن پالسی ہے اور پما نہ بے صہبا ترا! 
اور ہے تر ا شعار ، آئنا ملت اور ہے 
زشت روئی سے تری آئنہت ہے رسوا ترا 
کعبہ پہلو مںی ہے اور سودائی بت خانہ ہے 
کس قدر شوریدہ سر ہے شوق بے پروا ترا 
قس  پدیا ہوں تری محفل مںے یہ ممکن نہںھ 
تنگ ہے صحرا ترا ، محمل ہے بے لیلا ترا 
اے در تابندہ ، اے پروردۂ آغوش موج! 
لذت طوفاں سے ہے نا آشنا دریا ترا 
اب نوا پر ا ہے کاد ، گلشن ہوا برہم ترا 
بے محل تر ا ترنم ، نغمہ بے موسم ترا 
تھا جنھںر ذوق تماشا ، وہ تو رخصت ہو گئے 
لے کے اب تو وعدۂ دیدار عام آیا تو کاا 
انجمن سے وہ پرانے شعلہ آشام اٹھ گئے 
ساقان! محفل مں  تو آتش بجام آیا تو کام 
آہ ، جب گلشن کی جمعتگ پریشاں ہو چکی 
پھول کو باد بہاری کا پائم آیا تو کاچ 
آخر شب دید کے قابل تھی بسمل کی تڑپ 
صبح دم کوئی اگر بالائے بام آیا تو کا  
بجھ گا  وہ شعلہ جو مقصود ہر پروانہ تھا 
اب کوئی سودائی سوز تمام آیا تو کا  
پھول بے پروا ہںہ ، تو گرم نوا ہو یا نہ ہو 
کارواں بے حس ہے ، آواز درا ہو یا نہ ہو 
شمع محفل ہو کے تو جب سوز سے خالی رہا 
ترعے پروانے بھی اس لذت سے بگاہنے رہے 
رشتۂ الفت مںز جب ان کو پرو سکتا تھا تو 
پھر پریشاں کوںں تری تسبحو کے دانے رہے 
شوق بے پروا گاا ، فکر فلک پماب گاس 
ترقی محفل مں  نہ دیوانے نہ فرزانے رہے 
وہ جگر سوزی نہں  ، وہ شعلہ آشامی نہںر 
فائدہ پھر کای جو گرد شمع پروانے رہے 
خرئ ، تو ساقی سہی لکنم پلائے گا کسے 
اب نہ وہ مے کش رہے باقی نہ مے خانے رہے 
رو رہی ہے آج اک ٹوٹی ہوئی مناپ اسے 
کل تلک گردش مں  جس ساقی کے پماخنے رہے 
آج ہںک خاموش وہ دشت جنوں پرور جہاں 
رقص مں  لیمو رہی ، لی ر کے دیوانے رہے 
وائے ناکامی! متاع کارواں جاتا رہا 
کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا 
جن کے ہنگاموں سے تھے آباد ویرانے کبھی 
شہر ان کے مٹ گئے آبادیاں بن ہو گئں  
سطوت توحد  قائم جن نمازوں سے ہوئی 
وہ نمازیں ہند مںن نذر برہمن ہو گئں  
دہر مںز عشں دوام آئںن کی پابندی سے ہے 
موج کو آزادیاں سامان شوآن ہو گئںں 
خود تجلی کو تمنا جن کے نظاروں کی تیب 
وہ نگاہںز نا امدم نور ایمن ہو گئںے 
اڑتی پھرتی تھںو ہزاروں بلبلںب گلزار مں  
دل مںا کاپ آئی کہ پابند نشمنب ہو گئںا 
وسعت گردوں مں  تھی ان کی تڑپ نظارہ سوز 
بجلا ں آسودۂ دامان خرمن ہو گئں  
دیدۂ خونبار ہو منت کش گلزار کوبں 
اشک پیہم سے نگاہںب گل بہ دامن ہو گئںا 
شام غم لکن  خبر دییم ہے صبح عدو کی 
ظلمت شب مں  نظر آئی کرن امدن کی 
مژدہ اے پمامنہ بردار خمستان حجاز! 
بعد مدت کے ترے رندوں کو پھر آیا ہے ہوش 
نقد خود داری بہائے بادۂ اغایر تھی 
پھر دکاں ترتی ہے لبریز صدائے ناؤ نوش 
ٹوٹنے کو ہے طلسم ماہ سماییان ہند 
پھر سلیو  کی نظر دییص ہے پغارم خروش 
پھر یہ غوغا ہے کہ لاساقی شراب خانہ ساز 
دل کے ہنگامے مۓ مغرب نے کر ڈالے خموش 
نغمہ پرنا ہو کہ یہ ہنگام خاموشی نہںر 
ہے سحر کا آسماں خورشد  سے مناگ بدوش 
در غم دیگر بسوز و دیگراں را ہم بسوز 
گفتمت روشن حدیثے گر توانی دار گوش 
کہہ گئے ہں  شاعری جزو یست از پغمبرری 
ہاں سنا دے محفل ملت کو پغاتم سروش 
آنکھ کو بد ار کر دے وعدۂ دیدار سے 
زندہ کر دے دل کو سوز جوہر گفتار سے 
رہزن ہمت ہوا ذوق تن آسانی ترا 
بحر تھا صحرا مںق تو ، گلشن مںا مثل جو ہوا 
اپنی اصلتی پہ قائم تھا تو جتعل  بھی تھی 
چھوڑ کر گل کو پریشاں کاروان بو ہوا 
زندگی قطرے کی سکھلاتی ہے اسرار حاھت 
یہ کبھی گوہر ، کبھی شبنم ، کبھی آنسو ہوا 
پھر کہںب سے اس کو پدھا کر ، بڑی دولت ہے یہ 
زندگی کیسے جو دل بگاڑنۂ پہلو ہوا 
فرد قائم ربط ملت سے ہے ، تنہا کچھ نہںو 
موج ہے دریا مںہ اور برںون دریا کچھ نہںہ 
پردۂ دل مںے محبت کو ابھی مستور رکھ 
آبر باقی تری ملت کی جمیعت ہے تھی 
جب یہ جمعیّت گئی ، دنار مںی رسوا تو ہوا 
یین  اپنی مے کو رسوا صورت مناو نہ کر 
خمہ  زن ہو وادی سناک مںا مانند کلمن 
شعلۂ تحققا کو غارت گر کاشانہ کر 
شمع کو بھی ہو ذرا معلوم انجام ستم 
صرف تعمرو سحر خاکستر پروانہ کر 
تو اگر خود دار ہے ، منت کش ساقی نہ ہو 
عن  دریا مںک حباب آسا نگوں پما نہ کر 
کت ا  باقی پرانے کوہ و صحرا مں  نہں  
ہے جنوں تردا نای، پدرا ناح ویرانہ کر 
خاک مںں تجھ کو مقدر نے ملایا ہے اگر 
تو عصا افتاد سے پدقا مثال دانہ کر 
ہاں ، اسی شاخ کہن پر پھر بنا لے آشااں 
اہل گلشن کو شہدد نغمۂ مستانہ کر 
اس چمن مںک پریو بلبل ہو یا تلمذ  گل 
یا سراپا نالہ بن جا یا نوا پدما نہ کر 
کو ں چمن مںب بے صدا مثل رم شبنم ہے تو 
لب کشا ہو جا ، سرود بربط عالم ہے تو 
آشنا اپنی حققتم سے ہو اے دہقاں ذرا 
دانہ تو ، کھی،  بھی تو ، باراں بھی تو ، حاصل بھی تو 
آہ ، کس کی جستجو آوارہ رکھتی ہے تجھے 
راہ تو ، رہرو بھی تو، رہبر بھی تو ، منزل بھی تو 
کانپتا ہے دل ترا اندیشۂ طوفاں سے کات 
ناخدا تو ، بحر تو ، کشتی بھی تو ، ساحل بھی تو 
دیکھ آ کر کوچۂ چاک گریباں مں  کبھی 
قسخ تو، لیکو بھی تو ، صحرا بھی تو، محمل بھی تو 
وائے نادانی کہ تو محتاج ساقی ہو گاص 
مے بھی تو، منای بھی تو، ساقی بھی تو، محفل بھی تو 
شعلہ بن کر پھونک دے خاشاک غرن اللہ کو 
خوف باطل کاپ کہ ہے غارت گر باطل بھی تو 
بے خبر! تو جوہر آئۂل  ایام ہے 
تو زمانے مںپ خدا کا آخری پغا م ہے 
اپنی اصلتں سے ہو آگاہ اے غافل کہ تو 
قطرہ ہے ، لکنب مثال بحر بے پایاں بھی ہے 
کورں گرفتار طلسم ہچا مقداری ہے تو 
دیکھ تو پوشدطہ تجھ مں  شوکت طوفاں بھی ہے 
سنہہ ہے ترشا امں  اس کے پا م ناز کا 
جو نظام دہر مںت پدرا بھی ہے ، پنہاں بھی ہے 
ہفت کشور جس سے ہو تسخرپ بے تغب و تفنگ 
تو اگر سمجھے تو ترتے پاس وہ ساماں بھی ہے 
اب تلک شاہد ہے جس پر کوہ فاراں کا سکوت 
اے تغافل پشہہ! تجھ کو یاد وہ پمایں بھی ہے ؟ 
تو ہی ناداں چند کلو ں پر قناعت کر گاد 
ورنہ گلشن مںا علاج تنگی داماں بھی ہے 
دل کی کتدا  ہے پدپا پردۂ تقریر مں  
کسوت منای مں  مے مستور بھی ، عریاں بھی ہے 
پھونک ڈالا ہے مری آتش نوائی نے مجھے 
اورمر ی زندگانی کا ییے ساماں بھی ہے 
راز اس آتش نوائی کا مرے سینے مںے دیکھ 
جلوۂ تقدیر مررے دل کے آئنےی مںک دیکھ! 
آسماں ہوگا سحر کے نور سے آئنہ  پوش 
اور ظلمت رات کی سمارب پا ہو جائے گی 
اس قدر ہوگی ترنم آفریں باد بہار 
نکہت خوابدیہ غنچے کی نوا ہو جائے گی 
آ ملںت گے سنہی چاکان چمن سے سنہ  چاک 
بزم گل کی ہم نفس باد صبا ہو جائے گی 
شبنم افشانی مری پد ا کرے گی سوز و ساز 
اس چمن کی ہر کلی درد آشنا ہو جائے گی 
دیکھ لو گے سطوت رفتار دریا کا مآل 
موج مضطر ہی اسے زنجر  پا ہو جائے گی 
پھر دلوں کو یاد آ جائے گا پغایم سجود 
پھر جبںں خاک حرم سے آشنا ہو جائے گی 
نالۂ صاخد سے ہوں گے نوا ساماں طوجر 
خون گلچیں سے کلی رنگں  قبا ہو جائے گی 
آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے ، لب پہ آ سکتا نہںر 
محو حروت ہوں کہ دناد کاہ سے کات ہو جائے گی 
شب گریزاں ہو گی آخر جلوہ خورشدس سے 
یہ چمن معمور ہوگا نغمۂ توحد  سے 
 
مسلم 
(جون1912ء) 


ہر نفس اقبال تر2ا آہ مں  مستور ہے 
سۂ ن سوزاں ترا فریاد سے معمور ہے 
نغمۂ امدا تر ی بربط دل مںہ نہں  
ہم سمجھتے ہںۂ یہ لییو ترلے محمل مںد نہںھ 
گوش آواز سرود رفتہ کا جویا ترا 
اور دل ہنگامۂ حاضر سے بے پروا ترا 
قصۂ گل ہم نوایان چمن سنتے نہںع 
اہل محفل ترما پغاضم کہن سنتے نہں  
اے درائے کاروان خفتہ پا! خاموش رہ 
ہے بہت یاس آفریں تر ی صدا خاموش رہ 
زندہ پھر وہ محفل دیرینہ ہو سکتی نہں  
شمع سے روشن شب دو شینہ ہوسکتی نہںط 
ہم نشیں! مسلم ہوں مںہ، توحد  کا حامل ہوں مں  
اس صداقت پر ازل سے شاہد عادل ہوں مںہ 
نبض موجودات مںل پدعا حرارت اس سے ہے 
اور مسلم کے تخل  مںی جسارت اس سے ہے 
حق نے عالم اس صداقت کے لے  پدںا کا  
اور مجھے اس کی حفاظت کے لےد پداا کا  
دہر مںھ غارت گر باطل پرستی مںپ ہوا 
حق تو یہ ہے حافظ ناموس ہستی مںہ ہوا 
مر ی ہستی پرجہن عریانی عالم کی ہے 
مر ے مٹ جانے سے رسوائی بنی آدم کی ہے 
قسمت عالم کا مسلم کوکب تابندہ ہے 
جس کی تابانی سے افسون سحر شرمندہ ہے 
آشکارا ہں  مری آنکھوں پہ اسرار حاہت 
کہہ نہںہ سکتے مجھے نومدآ پکاار حا ت 
کب ڈرا سکتا ہے غم کا عارضی منظر مجھے 
ہے بھروسا اپنی ملت کے مقدر پر مجھے 
یاس کے عنصر سے ہے آزاد مرکا روزگار 
فتح کامل کی خبر دیتا ہے جوش کارزار 
ہاں یہ سچ ہے چشم بر عہد کہن رہتا ہوں مںک 
اہل محفل سے پرانی داستاں کہتا ہوں مںک 
یاد عہد رفتہ مرےی خاک کو اکسرا ہے 
مرلا ماضی مرسے استقبال کی تفسر  ہے 
سامنے رکھتا ہوں اس دور نشاط افزا کو مں  
دیکھتا ہوں دوش کے آئنےا مںت فردا کو مںت
 
حضور رسالت مآب میں 


گراں جو مجھ پہ یہ ہنگامۂ زمانہ ہوا 
جہاں سے باندھ کے رخت سفر روانہ ہوا 
قواد شام وسحر مںف بسر تو کی لکنک 
نظام کہنۂ عالم سے آشنا نہ ہوا 
فرشتے بزم رسالت مںر لے گئے مجھ کو 
حضور آیۂ رحمت مںے لے گئے مجھ کو 
کہا حضور نے ، اے عندلبل باغ حجاز! 
کلی کلی ہے تری گرمئ نوا سے گداز 
ہمشہح سرخوش جام ولا ہے دل ترزا 
فتادگی ہے تری غر ت سجود نامز 
اڑا جو پستی دناا سے تو سوئے گردوں 
سکھائی تجھ کو ملائک نے رفعت پرواز 
نکل کے باغ جہاں سے برنگ بو آیا 
ہمارے واسطے کاں تحفہ لے کے تو آیا؟ 
''حضور! دہر مںک آسودگی نہںں ملتی 
تلاش جس کی ہے وہ زندگی نہں  ملتی 
ہزاروں لالہ و گل ہںب ریاض ہستی مں  
وفا کی جس مں  ہو بو' وہ کلی نہںل ملتی 
مگر مں  نذر کو اک آبگنہ  لایا ہوں 
جو چزں اس مںو ہے' جنت مںہ بھی نہں  ملتی 
جھلکتی ہے تری امت کی آبرو اس مںب 
طرابلس کے شہد وں کا ہے لہو اس مںل''
 
شفا خانۂ حجاز 

اک پشو ائے قوم نے اقبال سے کہا 
کھلنے کو جدہ مںئ ہے شفا خانۂ حجاز 
ہوتا ہے تردی خاک کا ہر ذرہ بے قرار 
سنتا ہے تو کسی سے جو افسانۂ حجاز 
دست جنوں کو اپنے بڑھا جیب کی طرف 
مشہور تو جہاں مں  ہے دیوانۂ حجاز 
دارالشفا حوالی لبطحا مںب چاہےر 
نبض مریض پنجۂ عیسی مںس چاہےں 
مںض نے کہا کہ موت کے پردے مںک ہے حاات 
پوشدیہ جس طرح ہو حققتد مجاز مںا 
تلخابۂ اجل مںہ جو عاشق کو مل گاا 
پایا نہ خضر نے مے عمر دراز مںک 
اوروں کو دیں حضور! یہ پغا م زندگی 
مںر موت ڈھونڈتا ہوں زمنر حجاز مں  
آئے ہںک آپ لے کے شفا کا پاحم کا  
رکھتے ہںی اہل درد مسحا  سے کام کاا! 
جواب شکوہ

دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے 
پر نہیں ، طاقتِ پرواز مگر رکھتی ہے 
قدسی الاصل ہے، رفعت پہ نظر رکھتی ہے 
خاک سے اُٹھتی ہے ، گردُوں پہ گزر رکھتی ہے 

عشق تھا فتنہ گر و سرکش و چالاک مرا 
آسماں چیر گیا نالۂ  فریاد مرا


پیر گردُوں نے کہا سُن کے ، کہیں ہے کوئی ! 
بولے سیارے ، سرِ عرشِ بریں ہے کوئی ! 
چاند کہتا تھا ، نہیں اہلِ زمیں ہے کوئی ! 
کہکشاں کہتی تھی پوشیدہ یہیں ہے کوئی ! 

کُچھ جو سمجھا مرے شکوے کو تو رضواں سمجھا 
مجھے جنت سے نکالا ہوا انساں سمجھا

تھی فرشتوں کو بھی حیرت کہ یہ آواز ہے کیا ! 
عرش والوں پہ بھی کھلتا نہیں یہ راز ہے کیا ! 
تا سرِ عرش بھی انساں کی تگ و تاز ہے کیا ؟ 
آ گئی خاک کی چُٹکی کو بھی پرواز ہے کیا ؟ 

غافل آداب سے سُکانِ زمیں کیسے ہیں ! 
شوخ و گُستاخ یہ پستی کے مکیں کیسے ہیں !

اس قدر شوخ کہ اللہ سے بھی برہم ہے 
تھا جو مسجودِ ملائک یہ وہی آدم ہے ؟ 
عالمِ کیف ہے دانائے رموزِ کم ہے 
ہاں ، مگر عجز کے اسرار سے نا محرم ہے 
 
ناز ہے طاقتِ گُفتار پہ انسانوں کو 
بات کرنے کا سلیقہ نہیں نادانوں کو

آئی آواز غم انگیز ہے افسانہ ترا 
اشکِ بیتاب سے لبریز ہے پیمانہ ترا 
آسماں گیر ہوا نعرۂ  مستانہ ترا 
کس قدر شوخ زباں ہے دلِ دیوانہ ترا 

شکر شکوے کو کیا حُسنِ ادا سے تُو نے 
ہم سُخن کر دیا بندوں کو خدا سے تُو نے

ہم تو مائل بہ کرم ہیں کوئی سائل ہی نہیں 
راہ دکھلائیں کسے؟ رہروِ منزل ہی نہیں 
تربیت عام تو ہے ، جوہرِ قابل ہی نہیں 
جس سے تعمیر ہو آدم کی ، یہ وہ گِل ہی نہیں 

کوئی قابل ہو تو ہم شان کئی دیتے ہیں 
ڈُھونڈنے والوں کو دُنیا بھی نئی دیتے ہیں

ہاتھ بے زور ہیں ، الحاد سے دل خُوگر ہیں 
اُمتی باعثِ رسوائی پیغمبر ہیں 
بُت شکن اُٹھ گئے ، باقی جو رہے بُت گر ہیں 
تھا براہیم پدر اور پسر آذر ہیں 

بادہ آشام نئے ، بادہ نیا ، خم بھی نئے 
حرمِ کعبہ نیا ، بُت بھی نئے ، تم بھی نئے

وہ بھی دِن تھے کہ یہی مایۂ  رعنائی تھا ! 
نازشِ موسمِ گُل ، لالۂ  صحرائی تھا ! 
جو مُسلمان تھا اللہ کا سَودائی تھا ! 
کبھی محبُوب تمہارا یہی ہرجائی تھا ! 

کسی یکجائی سے اَب عہدِ غُلامی کر لو 
ملتِ احمدِ مُرسل کو مقامی کر لو

کِس قدر تُم پہ گراں صُبح کی بیداری ہے ! 
ہم سے کب پیار ہے ؟ ہاں نیند تُمہیں پیاری ہے 
طبع آزاد پہ قیدِ رمضاں بھاری ہے 
تمہیں کہہ دو یہی آئینِ وفا داری ہے ؟ 

قوم مذہب سے ہے ، مذہب جو نہیں تم بھی نہیں 
جذبِ باہم جو نہیں ، محفلِ انجم بھی نہیں

جن کو آتا نہیں دُنیا میں کوئی فن ، تُم ہو 
نہیں جس قوم کو پروائے نشیمن ، تُم ہو 
بِجلیاں جِس میں ہوں آسُودہ وہ خرمن ، تُم ہو 
بیچ کھاتے ہیں جو اسلاف کے مدفن ، تُم ہو 

ہو نکو نام جو قبروں کی تجارت کر کے 
کیا نہ بیچو گے جو مل جائیں صنم پتھر کے ؟

صفحۂ  دہر سے باطل کو مٹایا کس نے ؟ 
نوعِ انساں کو غلامی سے چُھڑایا کس نے ؟ 
میرے کعبے کو جبینوں سے بسایا کس نے ؟ 
میرے قرآن کو سینوں سے لگایا کس نے ؟ 

تھے تو آباء وہ تمہارے ہی ، مگر تم کیا ہو ؟ 
ہاتھ پر ہاتھ دھرے منتظرِ فردا ہو !

کیا گیا ؟ بہرِ مُسلماں ہے فقط وعدۂ حُور 
شکوہ بیجا بھی کرے کوئی تو لازم ہے شعور ! 
عدل ہے فاطرِ ہستی کا اَزل سے دستور 
مُسلم آئیں ہوا کافر تو ملے حُور و قصور 

تُم میں حُوروں کا کوئی چاہنے والا ہی نہیں 
جلوۂ طُور تو موجُود ہے مُوسٰی ہی نہیں

منفعت ایک ہے اِس قوم کی ، نقصان بھی ایک 
ایک ہی سب کا نبی ، دین بھی ، ایمان بھی ایک 
حرمِ پاک بھی ، اللہ بھی ، قُرآن بھی ایک 
کچھ بڑی بات تھی ہوتے جو مُسلمان بھی ایک؟

فرقہ بندی ہے کہیں ، اور کہیں ذاتیں ہیں ! 
کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں ؟

کون ہے تارک آئینِ رسول مختار؟ 
مصلحت وقت کی ہے کس کے عمل کا معیار؟ 
کس کی آنکھوں میں سمایا ہے شعارِ اغیار؟ 
ہو گئی کس کی نگہ طرزِ سلف سے بیزار؟ 

قلب میں سوز نہیں، روح میں احساس نہیں 
کچھ بھی پیغام محمد ﷺ کا تمہیں پاس نہیں 

 
جا کے ہوتے ہیں مساجد میں صف آراء تو غریب 
زحمتِ روزہ جو کرتے ہیں گوارا، تو غریب 
نام لیتا ہے اگر کوئی ہمارا، تو غریب 
پردہ رکھتا ہے اگر کوئی تمہارا، تو غریب 

امراء نشۂ  دولت میں ہیں غافل ہم سے 
زندہ ہے ملت بیضا غربا کے دم سے 

واعظ قوم کی وہ پختہ خیالی نہ رہی 
برق طبعی نہ رہی، شعلہ مقالی نہ رہی 
رہ گئی رسم اذاں،  روح ہلالی نہ رہی 
فلسفہ رہ گیا، تلقین غزالی نہ رہی 

مسجدیں مرثیہ خوان ہیں کہ نمازی نہ رہے 
یعنی وہ صاحب اوصاف حجازی نہ رہے 

شور ہے، ہو گئے دنیا سے مسلماں نابود 
ہم یہ کہتے ہیں کہ تھے بھی کہیں مسلم موجود! 
وضع میں تم ہو نصاریٰ تو تمدن میں ہنود 
یہ مسلماں ہیں! جنہیں دیکھ کے شرمائیں یہود 

یوں تو سید بھی ہو، مرزا بھی ہو، افغان بھی ہو 
تم سبھی کچھ ہو، بتاؤ  تو مسلمان بھی ہو! 

دم تقریر تھی مسلم کی صداقت بے باک 
عدل اس کا تھا قوی، لوث مراعات سے پاک 
شجر فطرت مسلم تھا حیا سے نم ناک 
تھا شجاعت میں وہ اک ہستیِ فوق الادراک 

خود گدازی نم کیفیت صباتیش بود 
خالی از خویش شدن صورت مینایش بود 

ہر مسلماں رگِ باطل کے لیے نشتر تھا 
اس کے آئینۂ ہستی میں عملِ جوہر تھا 
جو بھروسا تھا اسے قوت بازو پر تھا 
ہے تمہیں موت کا ڈر، اس کو خدا کا ڈر تھا 

باپ کا علم نہ بیٹے کو اگر ازبر ہو 
پھر پسر قابل میراث پدر کیونکر ہو! 

ہر کوئی مست مۓ ذوق تن آسانی ہے 
تم مسلماں ہو! یہ انداز مسلمانی ہے؟ 
حیدری فقر ہے نے  دولت عثمانی ہے 
تم کو اسلاف سے کیا نسبت روحانی ہے؟ 

وہ زمانے میں معزز تھے مسلماں ہو کر 
اور تم خوار ہوئے تارک قرآں ہو کر 

تم ہو آپس میں غضبناک، وہ آپس میں رحیم 
تم خطاکار و خطابیں، وہ خطا پوش و کریم 
چاہتے سب ہیں کہ ہوں اوج ثریا پہ مقیم 
پہلے ویسا کوئی پیدا تو کرے قلب سلیم 

تختِ  فغو ر بھی ان کا تھا، سریرِ کَے بھی 
یونہی باتیں ہیں کہ تم میں وہ حمیت ہے بھی؟ 

خود کشی شیوہ تمہارا، وہ غیور و خود دار 
تم اخوت سے گریزاں، وہ اخوت پہ نثار 
تم ہو گفتار سراپا، وہ سراپا کردار 
تم ترستے ہو کلی کو، وہ گلستاں بہ کنار 

اب تلک یاد ہے قوموں کو حکایت ان کی 
نقش ہے صفحۂ ہستی پہ صداقت ان کی 

مثل انجم افق قوم پہ روشن بھی ہوئے 
بت ہندی کی محبت میں برہمن بھی ہوئے 
شوق پرواز میں مہجور نشیمن بھی ہوئے 
بے عمل تھے ہی جواں، دین سے بد ظن بھی ہوئے 

ان کو تہذیب نے ہر بند سے آزاد کیا 
لا کے کعبے سے صنم خانے میں آباد کیا 

قیس زحمت کش تنہائیِ صحرا نہ رہے 
شہر کی کھائے ہوا، بادیہ پیمانہ نہ رہے 
وہ تو دیوانہ ہے، بستی میں رہے یا نہ رہے 
یہ ضروری ہے حجاب رُخ لیلا نہ رہے 

گلۂ جور نہ ہو، شکوۂ بیداد نہ ہو 
عشق آزاد ہے، کیوں حسن بھی آزاد نہ ہو! 

عہد نو برق ہے، آتش زن ہر خرمن ہے 
ایمن اس سے کوئی صحرا نہ کوئی گلشن ہے 
اس نئی آگ کا اقوام کہیں ایندھن ہے 
ملت ختم رسل شعلہ بہ پیراہن ہے 

آج بھی ہو جو براہیم کا ایماں پیدا 
آگ کر سکتی ہے انداز گلستاں پیدا 

دیکھ کر رنگ چمن ہو نہ پریشاں مالی 
کوکب غنچہ سے شاخیں ہیں چمکنے والی 
خس و خاشاک سے ہوتا ہے گلستاں خالی 
گل بر انداز ہے خون شہداء کی لالی 

رنگ گردوں کا ذرا دیکھ تو عنابی ہے 
یہ نکلتے ہوئے سورج کی افق تابی ہے 

امتیں گلشن ہستی میں ثمر چیدہ بھی ہیں 
اور محروم ثمر بھی ہیں، خزاں دیدہ بھی ہیں 
سینکڑوں نخل ہیں ، کاہیدہ بھی ، بالیدہ بھی ہیں 
سینکڑوں بطنِ چمن میں ابھی پوشیدہ بھی ہیں
 
نخل اسلام نمونہ ہے برد مندی کا 
پھل ہے یہ سینکڑوں صدیوں کی چمن بندی کا 

پاک ہے گرد وطن سے سرِ داماں تیرا 
تو وہ یوسف ہے کہ ہر مصر ہے کنعاں تیرا 
قافلہ ہو نہ سکے گا کبھی ویراں تیرا 
غیر یک بانگ درا کچھ نہیں ساماں تیرا 

نخل شمع استی و در شعلہ دود ریشۂ تو 
عاقبت سوز بود سایۂ اندیشۂ تو 

تو نہ مٹ جائے گا ایران کے مٹ جانے سے 
نشۂ مے کو تعلق نہیں پیمانے سے 
ہے عیاں یورش تاتار کے افسانے سے 
پاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانے سے 

کشتیِ حق کا زمانے میں سہارا تو ہے 
عصر نو رات ہے، دھندلا سا تارا تو ہے 

ہے جو ہنگامہ  بپا یورش بلغاری کا 
غافلوں کے لیے پیغام ہے بیداری کا 
تو سمجھتا ہے یہ سامان ہے دل آزاری کا 
امتحاں ہے ترے ایثار کا، خود داری کا 

کیوں ہراساں ہے صہیل فرس اعدا سے 
نور حق بجھ نہ سکے گا نفس اعدا سے 

چشم اقوام سے مخفی ہے حقیقت تیری 
ہے ابھی محفل ہستی کو ضرورت تیری 
زندہ رکھتی ہے زمانے کو حرارت تیری 
کوکب قسمت امکاں ہے خلافت تیری 

وقت فرصت ہے کہاں، کام ابھی باقی ہے 
نور توحید کا اتمام ابھی باقی ہے 

مثل بوٗ  قید ہے غنچے میں، پریشاں ہو جا 
رخت بردوش ہوائے چمنستاں ہو جا 
ہے تنک مایہ تو ذرے سے بیاباں ہو جا 
نغمۂ موج سے ہنگامۂ طوفاں ہو جا! 

قوت عشق سے ہر پست کو بالا کر دے 
دہر میں اسم محمد سے اجالا کر دے 

ہو نہ یہ پھول تو بلبل کا ترنم بھی نہ ہو 
چمن دہر میں کلیوں کا تبسم بھی نہ ہو 
یہ نہ ساقی ہو تو پھر مے بھی نہ ہو، خم بھی نہ ہو 
بزم توحید بھی دنیا میں نہ ہو، تم بھی نہ ہو 

خیمہ افلاک کا استادہ اسی نام سے ہے 
نبض ہستی تپش آمادہ اسی نام سے ہے 

دشت میں، دامن کہسار میں، میدان میں ہے 
بحر میں، موج کی آغوش میں، طوفان میں ہے 
چین کے شہر، مراکش کے بیاباں میں ہے 
اور پوشیدہ مسلماں کے ایمان میں ہے 

چشم اقوام یہ نظارہ ابد تک دیکھے 
رفعت شان رَفعَنَا لَکَ ذِکرَک دیکھے 

مردم چشم زمین یعنی وہ کالی دنیا 
وہ تمہارے شہداء پالنے والی دنیا 
گرمیِ مہر کی پروردہ ہلالی دنیا 
عشق والے جسے کہتے ہیں بلالی دنیا 

تپش اندوز ہے اس نام سے پارے کی طرح 
غوطہ زن نور میں ہے آنکھ کے تارے کی طرح 
 
عقل ہے تیری سپر، عشق ہے شمشیر تری 
مرلے درویش! خلافت ہے جہاں گیر تری 
ماسوا اللہ کے لیے آگ ہے تکبیر تری 
تو مسلماں ہو تو تقدیر ہے تدبیر تری 

کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں 
یہ جہاں چیز ہے کیا، لوح و قلم تیرے ہیں

امتیں گلشنِ ہستی میں ثمر چیدہ بھی ہیں 
اور محروم ثمر بھی ہیں، خزاں دیدہ بھی ہیں 
سینکڑوں نخل ہیں ، کاہیدہ بھی ، بالیدہ بھی ہیں 
سینکڑوں بطنِ چمن میں ابھی پوشیدہ بھی ہیں 

نخلِ اسلام نمونہ ہے برد مندی کا 
پھل ہے یہ سینکڑوں صدیوں کی چمن بندی کا
 
ساقی 


نشہ پلا کے گرانا تو سب کو آتا ہے 
مزا تو جب ہے کہ گرتوں کو تھام لے ساقی 
جو بادہ کش تھے پرانے، وہ اٹھتے جاتے ہںے 
کہںب سے آب بقائے دوام لے ساقی! 
کٹی ہے رات تو ہنگامہ گستری مںش تری 
سحر قریب ہے، اللہ کا نام لے ساقی!
 
تعلیم اور اس کے نتائج 
( تضمنم بر شعر ملا عرشی ) 


خوش تو ہںو ہم بھی جوانوں کی ترقی سے مگر 
لب خنداں سے نکل جاتی ہے فریاد بھی ساتھ 
ہم سمجھتے تھے کہ لائے گی فراغت تعلم  
کا  خبر تھی کہ چلا آئے گا الحاد بھی ساتھ 
گھر مںھ پرویز کے شرچیں تو ہوئی جلوہ نما 
لے کے آئی ہے مگر تیشۂ فرہاد بھی ساتھ 
''تخم دیگر بکف آریم و بکاریم ز نو 
کانچہ کشتیم ز خجلت نتواں کرد درو
 
قرب سلطان 

تمز  حاکم و محکوم مٹ نہںد سکتی 
مجال کاا کہ گداگر ہو شاہ کا ہمدوش 
جہاں مںا خواجہ پرستی ہے بندگی کا کمال 
رضاۓ خواجہ طلب کن قباۓ رنگں  پوش 
مگر غرض جو حصول رضائے حاکم ہو 
خطاب ملتا ہے منصب پرست و قوم فروش 
پرانے طرز عمل مںب ہزار مشکل ہے 
نئے اصول سے خالی ہے فکر کی آغوش 
مزا تو یہ ہے کہ یوں زیر آسماں رہے  
''ہزار گونہ سخن در دہان و لب خاموش'' 
ییا اصول ہے سرمایۂ سکون حا ت 
''گداے گوشہ نشیہے تو حافظا مخروش'' 
مگر خروش پہ مائل ہے تو ، تو بسم اللہ 
''بگر  بادۂ صافی، ببانگ چنگ بنوش'' 
شریک بزم امر  و وزیر و سلطاں ہو 
لڑا کے توڑ دے سنگ ہوس سے شیشۂ ہوش 
پاام مرشد شرہاز بھی مگر سن لے 
کہ ہے یہ سر نہاں خانۂ ضمرح سروش 
''محل نور تجلی ست راۓ انور شاہ 
چو قرب او طلبی در صفاۓ نتا کوش''
 
شاعر 

جوئے سرود آفریں آتی ہے کوہسار سے 
پی کے شراب لالہ گوں مے کدۂ بہار سے 
مست مے خرام کا سن تو ذرا پاںم تو 
زندہ وہی ہے کام کچھ جس کو نہںو قرار سے 
پھرتی ہے وادیوں مںن کاں دختر خوش خرام ابر 
کرتی ہے عشق بازیاں سبزۂ مرغزار سے 
جام شراب کوہ کے خم کدے سے اڑاتی ہے 
پست و بلند کر کے طے کھیتوں کو جا پلاتی ہے 
شاعر دل نواز بھی بات اگر کہے کھری 
ہوتی ہے اس کے فضڑ سے مزرع زندگی ہری 
شان خلل  ہوتی ہے اس کے کلام سے عاجں 
کرتی ہے اس کی قوم جب اپنا شعار آزری 
اہل زمں  کو نسخۂ زندگی دوام ہے 
خون جگر سے تربتی پاتی ہے جو سخنوری 
گلشن دہر مںت اگر جوئے مے سخن نہ ہو 
پھول نہ ہو، کلی نہ ہو، سبزہ نہ ہو، چمن نہ ہو
 
نو ید صبح 
1912ء 

آتی ہے مشرق سے جب ہنگامہ در دامن سحر 
منزل ہستی سے کر جاتی ہے خاموشی سفر 
محفل قدرت کا آخر ٹوٹ جاتا ہے سکوت 
دیید ہے ہر چز  اپنی زندگانی کا ثبوت 
چہچایتے ہںو پرندے پا کے پغامم حایت 
باندھتے ہںک پھول بھی گلشن مںغ احرام حارت 
مسلم خوابدکہ اٹھ ، ہنگامہ آرا تو بھی ہو 
وہ چمک اٹھا افق ، گرم تقاضا تو بھی ہو 
وسعت عالم مںا رہ پمات ہو مثل آفتاب 
دامن گردوں سے نا  پد ا ہوں یہ داغ سحاب 
کھنچ  کر خنجر کرن کا ، پھر ہو سرگرم ستیز 
پھر سکھا تارییخ باطل کو آداب گریز 
تو سراپا نور ہے، خوشتر ہے عریانی تجھے 
اور عریاں ہو کے لازم ہے خود افشانی تجھے 
ہاں ، نمایاں ہو کے برق دیدۂ خفاش ہو 
اے دل کون و مکاں کے راز مضمر! فاش ہو
 

دعا

یا رب! دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے 
جو قلب کو گرما دے ، جو روح کو تڑپا دے 
پھر وادی فاراں کے ہر ذرے کو چمکا دے 
پھر شوق تماشا دے، پھر ذوق تقاضا دے 
محروم تماشا کو پھر دیدۂ بنا  دے 
دیکھا ہے جو کچھ مںی نے اوروں کو بھی دکھلا دے 
بھٹکے ہوئے آہو کو پھر سوئے حرم لے چل 
اس شہر کے خوگر کو پھر وسعت صحرا دے 
پد ا دل ویراں مںو پھر شورش محشر کر 
اس محمل خالی کو پھر شاہد لیلا دے 
اس دور کی ظلمت مںپ ہر قلب پریشاں کو 
وہ داغ محبت دے جو چاند کو شرما دے 
رفعت مںم مقاصد کو ہمدوش ثریا کر 
خود داری ساحل دے، آزادی دریا دے 
بے لوث محبت ہو ، بے باک صداقت ہو 
سنولں مں  اجالا کر، دل صورت مناو دے 
احساس عنایت کر آثار مصبت، کا 
امروز کی شورش مںص اندیشۂ فردا دے 
مںر بلبل نالاں ہوں اک اجڑے گلستاں کا 
تاثری کا سائل ہوں ، محتاج کو ، داتا دے!
 
عید پر شعر لکھنے کی فرمائش کے جواب میں 


یہ شالامار مں  اک برگ زرد کہتا تھا 
گاث وہ موسم گل جس کا راز دار ہوں مں  
نہ پائمال کریں مجھ کو زائران چمن 
انھی کی شاخ نشمنچ کی یادگار ہوں مں  
ذرا سے پتے نے بتایب کر دیا دل کو 
چمن مں  آ کے سراپا غم بہار ہوں مں  
خزاں مںپ مجھ کو رلاتی ہے یاد فصل بہار 
خوشی ہو عد  کی کوںنکر کہ سوگوار ہوں مں  
اجاڑ ہو گئے عہد کہن کے مخا نے 
گزشتہ بادہ پرستوں کی یادگار ہوں مںی 
پاشم عشس ، مسرت ہمںی سناتا ہے 
ہلال عدا ہماری ہنسی اڑاتا ہے
 
فاطمہ بنت عبداللہ 
عرب لڑکی جو طرابلس کی جنگ مں  غازیوں کو پانی پلاتی ہوئی شہدم ہوئی 
1912ء
 
فاطمہ! تو آبروئے امت مرحوم ہے 
ذرہ ذرہ ترعی مشت خاک کا معصوم ہے 
یہ سعادت ، حور صحرائی! تری قسمت مںو تھی 
غازیان دیں کی سقائی تری قسمت مں  تھی 
یہ جہاد اللہ کے رستے مںک بے تغی و سپر 
ہے جسارت آفریں شوق شہادت کس قدر 
یہ کلی بھی اس گلستان خزاں منظر مںم تھی 
اییک چنگاری بھی یا رب، اپنی خاکستر مں  تھی! 
اپنے صحرا مں  بہت آہو ابھی پوشدیہ ہںب 
بجلا ں برسے ہوئے بادل مںو بھی خوابدہہ ہں ! 
فاطمہ! گو شبنم افشاں آنکھ تریے غم مں  ہے 
نغمۂ عشرت بھی اپنے نالۂ ماتم مںے ہے 
رقص ترحی خاک کا کتنا نشاط انگزے ہے 
ذرہ ذرہ زندگی کے سوز سے لبریز ہے 
ہے کوئی ہنگامہ ترزی تربت خاموش مںم 
پل رہی ہے ایک قوم تازہ اس آغوش مںر 
بے خبر ہوں گرچہ ان کی وسعت مقصد سے مںم 
آفرینش دیکھتا ہوں ان کی اس مرقد سے مںم 
تازہ انجم کا فضائے آسماں مںا ہے ظہور 
دیدۂ انساں سے نامحرم ہے جن کی موج نور 
جو ابھی ابھرے ہں  ظلمت خانۂ ایام سے 
جن کی ضو ناآشنا ہے قدم صبح و شام سے 
جن کی تابانی مںم انداز کہن بھی، نو بھی ہے 
اور تریے کوکب تقدیر کا پرتو بھی ہے
 
شبنم اور ستارے

 
اک رات یہ کہنے لگے شبنم سے ستارے 
ہر صبح نئے تجھ کو مسرے ہںے نظارے 
کا  جانیے ، تو کتنے جہاں دیکھ چکی ہے 
جو بن کے مٹے، ان کے نشاں دیکھ چکی ہے 
زہرہ نے سنی ہے یہ خبر ایک ملک سے 
انسانوں کی بستی ہے بہت دور فلک سے 
کہہ ہم سے بھی اس کشور دلکش کا فسانہ 
گاتا ہے قمر جس کی محبت کا ترانہ 
اے تارو نہ پوچھو چمنستان جہاں کی 
گلشن نہںن ، اک بستی ہے وہ آہ و فغاں کی 
آتی ہے صبا واں سے پلٹ جانے کی خاطر 
بے چاری کلی کھلتی ہے مرجھانے کی خاطر 
کا  تم سے کہوں کاو چمن افروز کلی ہے 
ننھا سا کوئی شعلۂ بے سوز کلی ہے 
گل نالۂ بلبل کی صدا سن نہں  سکتا 
دامن سے مرے موتویں کو چن نہں  سکتا 
ہںم مرغ نوا ریز گرفتار، غضب ہے 
اگتے ہں  تہ سایۂ گل خار، غضب ہے 
رہتی ہے سدا نرگس بمانر کی تر آنکھ 
دل طالب نظارہ ہے ، محروم نظر آنکھ 
دل سوختۂ گرمی فریاد ہے شمشاد 
زندانی ہے اور نام کو آزاد ہے شمشاد 
تارے شرر آہ ہںہ انساں کی زباں مں  
مںر گریۂ گردوں ہوں گلستاں کی زباں مںو 
نادانی ہے یہ گرد زمں  طوف قمر کا 
سمجھا ہے کہ درماں ہے وہاں داغ جگر کا 
بناھد ہے کاشانۂ عالم کی ہوا پر 
فریاد کی تصویر ہے قرطاس فضا پر
 
محاصرۂ درنہ 

یورپ مںہ جس گھڑی حق و باطل کی چھڑ گئی 
حق خنجر آزمائی پہ مجبور ہو گا  
گرد صلب  گرد قمر حلقہ زن ہوئی 
شکری حصار درنہ مںق محصور ہو گاس 
مسلم سپاہومں کے ذخر ے ہوئے تمام 
روئے امد  آنکھ سے مستور ہو گام 
آخر امرا عسکر ترکی کے حکم سے 
'آئنا جنگ' شہر کا دستور ہو گاا 
ہر شے ہوئی ذخرتۂ لشکر مںف منتقل 
شاہںے گدائے دانۂ عصفور ہو گار 
لکنں فقہگ شہر نے جس دم سنی یہ بات 
گرما کے مثل صاعقۂ طور ہو گای 
ذمی کا مال لشکر مسلم پہ ہے حرام 
فتوی تمام شہر مںم مشہور ہو گا  
چھوتی نہ تھی یہود و نصاریٰ کا مال فوج 
مسلم ، خدا کے حکم سے مجبور ہو گاد
 
غلام قادر رہیلہ 

رہیلہ کس قدر ظالم، جفا جو، کنہ  پرور تھا 
نکالںق شاہ تمو ری کی آنکھں  نوک خنجر سے 
دیا اہل حرم کو رقص کا فرماں ستم گر نے 
یہ انداز ستم کچھ کم نہ تھا آثار محشر سے 
بھلا تعملا اس فرمان غرنت کش کی ممکن تھی! 
شہنشاہی حرم کی نازنناکن سمن بر سے 
بنایا آہ! سامان طرب بدنرد نے ان کو 
نہاں تھا حسن جن کا چشم مہر و ماہ و اختر سے 
لرزتے تھے دل نازک، قدم مجبور جنبش تھے 
رواں دریائے خوں ، شہزادیوں کے دیدۂ تر سے 
یونہی کچھ دیر تک محو نظر آنکھںد رہں  اس کی 
کاا گھبرا کے پھر آزاد سر کو بار مغفر سے 
کمر سے ، اٹھ کے تغ  جاں ستاں ، آتش فشاں کھولی 
سبق آموز تابانی ہوں انجم جس کے جوہر سے 
رکھا خنجر کو آگے اور پھر کچھ سوچ کر لیٹا 
تقاضا کر رہی تھی نندج گویا چشم احمر سے 
بجھائے خواب کے پانی نے اخگر اس کی آنکھوں کے 
نظر شرما گئی ظالم کی درد انگز  منظر سے 
پھر اٹھا اور تمویری حرم سے یوں لگا کہنے 
شکایت چاہےی تم کو نہ کچھ اپنے مقدر سے 
مرا مسند پہ سو جانا بناوٹ تھی، تکلف تھا 
کہ غفلت دور سے شان صف آرایان لشکر سے 
یہ مقصد تھا مرا اس سے ، کوئی تمو ر کی بیمر 
مجھے غافل سمجھ کر مار ڈالے مرےے خنجر سے 
مگر یہ راز آخر کھل گار سارے زمانے پر 
حمت  نام ہے جس کا، گئی تموےر کے گھر سے
 
ایک مکالمہ

اک مرغ سرا نے یہ کہا مرغ ہوا سے 
پردار اگر تو ہے تو کاہ مںغ نہںم پردار! 
گر تو ہے ہوا گر  تو ہوں مںو بھی ہوا گرے 
آزاد اگر تو ہے ، نہںی مں  بھی گرفتار 
پرواز ، خصوصتے ہر صاحب پر ہے 
کووں رہتے ہںہ مرغان ہوا مائل پندار؟ 
مجروح حمتں جو ہوئی مرغ ہوا کی 
یوں کہنے لگا سن کے یہ گفتار دل آزار 
کچھ شک نہںے پرواز مںم آزاد ہے تو بھی 
حد ہے تری پرواز کی لکنی سر دیوار 
واقف نہںہ تو ہمت مرغان ہوا سے 
تو خاک نشمن  ، انھںم گردوں سے سروکار 
تو مرغ سرائی ، خورش از خاک بجوئی 
ما در صدد دانہ بہ انجم زدہ منقار
 
میں اورتو 

مذاق دید سے ناآشنا نظر ہے مری 
تری نگاہ ہے فطرت کی راز داں، پھر کات 
رہنق شکوۂ ایام ہے زبان مری 
تری مراد پہ ہے دور آسماں، پھر کاے 
رکھا مجھے چمن آوارہ مثل موج نسمآ 
عطا فلک نے کا  تجھ کو آشاسں، پھر کا  
فزوں ہے سود سے سرمایۂ حاپت ترا 
مرے نصب  مںا ہے کاوش زیاں، پھر کاا 
ہوا مںب تربتے پھرتے ہںش تراے طاررے 
مرا جہاز ہے محروم بادباں، پھر کاے 
قوی شدیم چہ شد، ناتواں شدیم چہ شد 
چنیں شدیم چہ شد یا چناں شدیم چہ شد 
بہیچ گونہ دریں گلستاں قرارے نست  
توگر بہار شدی، ما خزاں شدیم، چہ شد
 
تضمین بر شعر ابوطالب کلیم

خوب ہے تجھ کو شعار صاحب یثرب کا پاس 
کہہ رہی ہے زندگی تر ی کہ تو مسلم نہںم 
جس سے ترجے حلقۂ خاتم مںپ گردوں تھا اسرس 
اے سلمارں! ترری غفلت نے گنوایا وہ نگںر 
وہ نشان سجدہ جو روشن تھا کوکب کی طرح 
ہو گئی ہے اس سے اب ناآشنا ترفی جبںہ 
دیکھ تو اپنا عمل، تجھ کو نظر آتی ہے کان 
وہ صداقت جس کی بے باکی تھی حرات آفریں 
تر ے آبا کی نگہ بجلی تھی جس کے واسطے 
ہے وہی باطل ترے کاشانۂ دل مںھ مکںر 
غافل! اپنے آشا ں کو آ کے پھر آباد کر 
نغمہ زن ہے طور معنی پر کلمآ نکتہ بںر 
''سرکشی باہر کہ کردی رام او باید شدن، 
شعلہ ساں از ہر کجا برخاستی ، آنجا نشیں‘‘
 
شبلی و حالی
 
مسلم سے ایک روز یہ اقبال نے کہا 
دیوان جزو و کل مںر ہے ترکا وجود فرد 
ترلے سرود رفتہ کے نغمے علوم نو 
تہذیب تررے قافلہ ہائے کہن کی گرد 
پتھر ہے اس کے واسطے موج نسمق بھی 
نازک بہت ہے آئنۂ آبروئے مرد 
مردان کار، ڈھونڈ کے اسباب حادثات 
کرتے ہںا چارۂ ستم چرخ لاجورد 
پوچھ ان سے جو چمن کے ہںا دیریہم راز دار 
کوچنکر ہوئی خزاں ترے گلشن سے ہم نبرد 
مسلم مرے کلام سے بے تاب ہو گال 
غماز ہو گئی غم پنہاں کی آہ سرد 
کہنے لگا کہ دیکھ تو کت زا خزاں 
اوراق ہو گئے شجر زندگی کے زرد 
خاموش ہو گئے چمنستاں کے راز دار 
سرمایۂ گداز تھی جن کی نوائے درد 
شبلی کو رو رہے تھے ابھی اہل گلستاں 
حالی بھی ہو گاخ سوئے فردوس رہ نورد 
''اکنوں کرا دماغ کہ پرسد زباغباں 
بلبل چہ گفت و گل چہ شندک و صبا چہ کرد''
 
ارتقا 

ستیزہ کار رہا ہے ازل سے تا امروز 
چراغ مصطفوی سے شرار بولہبی 
حاات شعلہ مزاج و غوےر و شور انگزد 
سرشت اس کی ہے مشکل کشی، جفا طلبی 
سکوت شام سے تا نغمۂ سحر گاہی 
ہزار مرحلہ ہائے فغانِ نمن شبی 
کشا کش زم و گرما، تپ و تراش و خراش 
ز خاک ترمہ دروں تا بہ شیشۂ حلبی 
مقام بست و شکت و فشار و سوز و کشدش 
ماان قطرۂ نساشن و آتش عنبی 
اسی کشاکش پیہم سے زندہ ہں  اقوام 
ییی ہے راز تب و تاب ملت عربی 
''مغاں کہ دانۂ انگور آب می سازند 
ستارہ می شکنند، آفتاب می سازند''
 
صدیق 
 
اک دن رسول پاک نے اصحاب سے کہا 
دیں مال راہ حق مں  جو ہوں تم مںع مالدار 
ارشاد سن کے فرط طرب سے عمر اٹھے 
اس روز ان کے پاس تھے درہم کئی ہزار 
دل مںز یہ کہہ رہے تھے کہ صدیق سے ضرور 
بڑھ کر رکھے گا آج قدم مرہا راہوار 
لائے غرضکہ مال رسول امںر کے پاس 
ایثار کی ہے دست نگر ابتدائے کار 
پوچھا حضور سرور عالم نے ، اے عمر! 
اے وہ کہ جوش حق سے ترے دل کو ہے قرار 
رکھا ہے کچھ عاقل کی خاطر بھی تو نے کار؟ 
مسلم ہے اپنے خویش و اقارب کا حق گزار 
کی عرض نصف مال ہے فرزند و زن کا حق 
باقی جو ہے وہ ملت بضا  پہ ہے نثار 
اتنے مں  وہ رفق  نبوت بھی آگاا 
جس سے بنائے عشق و محبت ہے استوار 
لے آیا اپنے ساتھ وہ مرد وفا سرشت 
ہر چز  ، جس سے چشم جہاں مںا ہو اعتبار 
ملک ینے  و درہم و دینار و رخت و جنس 
اسپ قمر سم و شتر و قاطر و حمار 
بولے حضور، چاہےر فکر عاںل بھی 
کہنے لگا وہ عشق و محبت کا راز دار 
اے تجھ سے دیدۂ مہ و انجم فروغ گر ! 
اے ترھی ذات باعث تکوین روزگار! 
پروانے کو چراغ ہے، بلبل کو پھول بس 
صدیق کے لےب ہے خدا کا رسول بس
 
تہذیب حاضر 

تضنا  بر شعر فیپے 

حرارت ہے بلا کی بادۂ تہذیب حاضر مںو 
بھڑک اٹھّا بھبوکا بن کے مسلم کا تن خاکی 
کاڑ ذرے کو جگنو دے کے تاب مستعار اس نے 
کوئی دیکھے تو شوخی آفتاب جلوہ فرما کی 
نئے انداز پائے نوجوانوں کی طبعتی نے 
یہ رعنائی ، یہ بدیاری ، یہ آزادی ، یہ بے باکی 
تغر  آگاج ایسا تدبر مںس، تخل  مںی 
ہنسی سمجھی گئی گلشن مںت غنچوں کی جگر چاکی 
کاس گم تازہ پروازوں نے اپنا آشااں لکنش 
مناظر دلکشا دکھلا گئی ساحر کی چالاکی 
حاات تازہ اپنے ساتھ لائی لذتںی کاک کا  
رقابت ، خود فروشی ، ناشکبایئی ، ہوسناکی 
فروغ شمع نو سے بزم مسلم جگمگا اٹھی 
مگر کہتی ہے پروانوں سے مرھی کہنہ ادراکی 
''تو اے پروانہ ! ایں گرمی ز شمع محفلے داری 
چو من در آتش خود سوز اگر سوز دلے داری''
 
والدہ مرحومہ کی یاد میں 

ذرہ ذرہ دہر کا زندانی تقدیر ہے 
پردۂ مجبوری و بے چارگی تدبرز ہے 
آسماں مجبور ہے، شمس و قمر مجبور ہںگ 
انجم سمابب پا رفتار پر مجبور ہںگ 
ہے شکت انجام غنچے کا سبو گلزار مںج 
سبزہ و گل بھی ہںل مجبور نمو گلزار مںت 
نغمۂ بلبل ہو یا آواز خاموش ضمرر 
ہے اسی زنجر  عالم گرز مںر ہر شے اسرے 
آنکھ پر ہوتا ہے جب یہ سر مجبوری عابں 
خشک ہو جاتا ہے دل مں  اشک کا سلخ رواں 
قلب انسانی مںو رقص عش  و غم رہتا نہںر 
نغمہ رہ جاتا ہے ، لطف زیر و بم رہتا نہںر 
علم و حکمت رہزن سامان اشک و آہ ہے 
یین  اک الماس کا ٹکڑا دل آگاہ ہے 
گرچہ مرکے باغ مںم شبنم کی شادابی نہںو 
آنکھ مرکی مایہ دار اشک عنابی نہںو 
جانتا ہوں آہ ، مں  آلام انسانی کا راز 
ہے نوائے شکوہ سے خالی مری فطرت کا ساز 
مر ے لب پر قصۂ نرآنگی دوراں نہںس 
دل مرا حرےاں نہںں، خنداں نہں ، گریاں نہںں 
پر تری تصویر قاصد گریۂ پیہم کی ہے 
آہ! یہ تردید مرری حکمت محکم کی ہے 
گریۂ سرشار سے بنادد جاں پائندہ ہے 
درد کے عرفاں سے عقل سنگدل شرمندہ ہے 
موج دود آہ سے آئنہے ہے روشن مرا 
گنج آب آورد سے معمور ہے دامن مرا 
حرجتی ہوں مںر تری تصویر کے اعجاز کا 
رخ بدل ڈالا ہے جس نے وقت کی پرواز کا 
رفتہ و حاضر کو گویا پا بپا اس نے کار 
عہد طفلی سے مجھے پھر آشنا اس نے کا  
جب ترے دامن مںس پلتی تھی وہ جان ناتواں 
بات سے اچھی طرح محرم نہ تھی جس کی زباں 
اور اب چرچے ہں  جس کی شوخی گفتار کے 
بے بہا موتی ہںی جس کی چشم گوہر بار کے 
علم کی سنجد ہ گفتاری، بڑھاپے کا شعور 
دنو ی اعزاز کی شوکت، جوانی کا غرور 
زندگی کی اوج گاہوں سے اتر آتے ہںو ہم 
صحبت مادر مں  طفل سادہ رہ جاتے ہںا ہم 
بے تکلف خندہ زن ہںج، فکر سے آزاد ہںا 
پھر اسی کھوئے ہوئے فردوس مںہ آباد ہںع 
کس کو اب ہوگا وطن مںک آہ! مرتا انتظار 
کون مراا خط نہ آنے سے رہے گا بے قرار 
خاک مرقد پر تری لے کر یہ فریاد آؤں گا 
اب دعائے نم  شب مں  کس کو یاد مں  آؤں گا! 
تربتع سے ترہی مں  انجم کا ہم قسمت ہوا 
گھر مرے اجداد کا سرمایۂ عزت ہوا 
دفتر ہستی مںش تھی زریں ورق ترتی حاگت 
تھی سراپا دیں و دنا  کا سبق ترری حا ت 
عمر بھر تردی محبت مر ی خدمت گر رہی 
مںر تری خدمت کے قابل جب ہوا تو چل بسی 
وہ جواں، قامت مں  ہے جو صورت سرو بلند 
تر ی خدمت سے ہوا جو مجھ سے بڑھ کر بہرہ مند 
کاروبار زندگانی مںا وہ ہم پہلو مرا 
وہ محبت مںد تری تصویر، وہ بازو مرا 
تجھ کو مثل طفلک بے دست و پا روتا ہے وہ 
صبر سے ناآشنا صبح و مسا روتا ہے وہ 
تخم جس کا تو ہماری کشت جاں مں  بو گئی 
شرکت غم سے وہ الفت اور محکم ہو گئی 
آہ! یہ دناک ، یہ ماتم خانۂ برنا و پر  
آدمی ہے کس طلسم دوش و فردا مںی اسرن! 
کتنی مشکل زندگی ہے، کس قدر آساں ہے موت 
گلشن ہستی مںن مانند نسم  ارزاں ہے موت 
زلزلے ہںی، بجلادں ہںس، قحط ہںا، آلام ہںن 
کیزل کیاد دختران مادر ایام ہںں! 
کلبۂ افلاس مںی، دولت کے کاشانے مںد موت 
دشت و در مںو، شہر مں ، گلشن مںا، ویرانے مںا موت 
موت ہے ہنگامہ آرا قلزم خاموش مںا 
ڈوب جاتے ہںم سفنےو موج کی آغوش مںم 
نے مجال شکوہ ہے، نے طاقت گفتار ہے 
زندگانی کاق ہے ، اک طوق گلو افشار ہے! 
قافلے مںش غرف فریاد درا کچھ بھی نہںا 
اک متاع دیدۂ تر کے سوا کچھ بھی نہںم 
ختم ہو جائے گا لکنے امتحاں کا دور بھی 
ہںم پس نہ پردۂ گردوں ابھی اور بھی 
سنہ  چاک اس گلستاں مںا لالہ و گل ہں  تو کاو 
نالہ و فریاد پر مجبور بلبل ہںو تو کاک 
جھاڑیاں، جن کے قفس مںب قدی ہے آہ خزاں 
سبز کر دے گی انھںب باد بہار جاوداں 
خفتہ خاک پے سپر مں  ہے شرار اپنا تو کاا 
عارضی محمل ہے یہ مشت غبار اپنا تو کا  
زندگی کی آگ کا انجام خاکستر نہں  
ٹوٹنا جس کا مقدر ہو یہ وہ گوہر نہںا 
زندگی محبوب اییو دیدۂ قدرت مںا ہے 
ذوق حفظ زندگی ہر چزی کی فطرت مںق ہے 
موت کے ہاتھوں سے مٹ سکتا اگر نقش حاہت 
عام یوں اس کو نہ کر دیتا نظام کائنات 
ہے اگر ارزاں تو یہ سمجھو اجل کچھ بھی نہںو 
جس طرح سونے سے جنےک مںھ خلل کچھ بھی نہںں 
آہ غافل! موت کا راز نہاں کچھ اور ہے 
نقش کی ناپائداری سے عاوں کچھ اور ہے 
جنت نظارہ ہے نقش ہوا بالائے آب 
موج مضطر توڑ کر تعمرق کرتی ہے حباب 
موج کے دامن مںر پھر اس کو چھپا دیی  ہے یہ 
کتنی بدمردی سے نقش اپنا مٹا دیی  ہے یہ 
پھر نہ کر سکتی حباب اپنا اگر پدسا ہوا 
توڑنے مںر اس کے یوں ہوتی نہ بے پروا ہوا 
اس روش کا کای اثر ہے ہئتو تعمرا پر 
یہ تو حجت ہے ہوا کی قوت تعمرئ پر 
فطرت ہستی شہدث آرزو رہتی نہ ہو 
خوب تر پکرج کی اس کو جستجو رہتی نہ ہو 
آہ سما ب پریشاں ، انجم گردوں فروز 
شوخ یہ چنگاریاں ، ممنون شب ہے جن کا سوز 
عقل جس سے سر بہ زانو ہے وہ مدت ان کی ہے 
سرگزشت نوع انساں ایک ساعت ان کی ہے 
پھر یہ انساں، آں سوئے افلاک ہے جس کی نظر 
قدسوشں سے بھی مقاصد مں  ہے جو پاکز ہ تر 
جو مثال شمع روشن محفل قدرت مںا ہے 
آسماں اک نقطہ جس کی وسعت فطرت مں  ہے 
جس کی نادانی صداقت کے لےں بتااب ہے 
جس کا ناخن ساز ہستی کے لے  مضراب ہے 
شعلہ یہ کمتر ہے گردوں کے شراروں سے بھی کاب 
کم بہا ہے آفتاب اپنا ستاروں سے بھی کا  
تخم گل کی آنکھ زیر خاک بھی بے خواب ہے 
کس قدر نشوونما کے واسطے بے تاب ہے 
زندگی کا شعلہ اس دانے مں  جو مستور ہے 
خود نمائی ، خود فزائی کے لے  مجبور ہے 
سردی مرقد سے بھی افسردہ ہو سکتا نہں  
خاک مںا دب کر بھی اپنا سوز کھو سکتا نہںں 
پھول بن کر اپنی تربت سے نکل آتا ہے یہ 
موت سے گویا قبائے زندگی پاتا ہے یہ 
ہے لحد اس قوت آشفتہ کی شرےازہ بند 
ڈالتی ہے گردن گردوں مںش جو اپنی کمند 
موت، تجدید مذاق زندگی کا نام ہے 
خواب کے پردے مںش بدںاری کا اک پغامم ہے 
خوگر پرواز کو پرواز مں  ڈر کچھ نہںک 
موت اس گلشن مںپ جز سنجد ن پر کچھ نہں  
کہتے ہںگ اہل جہاں درد اجل ہے لا دوا 
زخم فرقت وقت کے مرہم سے پاتا ہے شفا 
دل مگر ، غم مرنے والوں کا جہاں آباد ہے 
حلقۂ زنجرو صبح و شام سے آزاد ہے 
وقت کے افسوں سے تھمتا نالۂ ماتم نہں  
وقت زخم تغو فرقت کا کوئی مرہم نہںہ 
سر پہ آجاتی ہے جب کوئی مصبتہ ناگہاں 
اشک پیہم دیدۂ انساں سے ہوتے ہںی رواں 
ربط ہو جاتا ہے دل کو نالہ و فریاد سے 
خون دل بہتا ہے آنکھوں کی سرشک آباد سے 
آدمی تاب شکباہئی سے گو محروم ہے 
اس کی فطرت مںا یہ اک احساس نامعلوم ہے 
ق 
جوہر انساں عدم سے آشنا ہوتا نہںو 
آنکھ سے غائب تو ہوتا ہے ،فنا ہوتا نہںر 
رخت ہستی خاک، غم کی شعلہ افشانی سے ہے 
سرد یہ آگ اس لطف، احساس کے پانی سے ہے 
آہ، یہ ضبط فغاں غفلت کی خاموشی نہں  
آگہی ہے یہ دل آسائی، فراموشی نہںہ 
پردۂ مشرق سے جس دم جلوہ گر ہوتی ہے صبح 
داغ شب کا دامن آفاق سے دھوتی ہے صبح 
لالۂ افسردہ کو آتش قبا کرتی ہے یہ 
بے زباں طائر کو سرمست نوا کرتی ہے یہ 
سۂ ز بلبل کے زنداں سے سرود آزاد ہے 
سنکڑ وں نغموں سے باد صبح دم آباد ہے 
خفتگان لالہ زار و کوہسار و رود باد 
ہوتے ہںل آخر عروس زندگی سے ہمکنار 
یہ اگر آئنا ہستی ہے کہ ہو ہر شام صبح 
مرقد انساں کی شب کا کو ں نہ ہو انجام صبح 
دام سننس  تخلب ہے مرا آفاق گر  
کر لاا ہے جس سے تربی یاد کو مںر نے اسرس 
یاد سے ترای دل درد آشنا معمور ہے 
جسےل کعبے مںس دعاؤں سے فضا معمور ہے 
وہ فرائض کا تسلسل نام ہے جس کا حاضت 
جلوہ گاہںک اس کی ہں  لاکھوں جہاں بے ثبات 
مختلف ہر منزل ہستی کی رسم و راہ ہے 
آخرت بھی زندگی کی ایک جولاں گاہ ہے 
ہے وہاں بے حاصلی کشت اجل کے واسطے 
ساز گار آب و ہوا تخم عمل کے واسطے 
نور فطرت ظلمت پکرت کا زندانی نہںے 
تنگ ایسا حلقۂ افکار انسانی نہںو 
زندگانی تھی تری مہتاب سے تابندہ تر 
خوب تر تھا صبح کے تارے سے بھی ترنا سفر 
مثل ایوان سحر مرقد فروزاں ہو ترا 
نور سے معمور یہ خاکی شبستاں ہو ترا 
آسماں ترعی لحد پر شبنم افشانی کرے 
سبزۂ نورستہ اس گھر کی نگہبانی کرے
 
شعاع آفتاب 

صبح جب مرری نگہ سودائی نظارہ تھی 
آسماں پر اک شعاع آفتاب آوارہ تھی 
مںم نے پوچھا اس کرن سے ''اے سراپا اضطراب! 
ترمی جان نا شکباا مںا ہے کسا  اضطراب 
تو کوئی چھوٹی سی بجلی ہے کہ جس کو آسماں 
کر رہا ہے خرمن اقوام کی خاطر جواں 
یہ تڑپ ہے یا ازل سے تریی خو ہے، کا  ہے یہ 
رقص ہے، آوارگی ہے، جستجو ہے، کار ہے یہ''؟ 
''خفتہ ہنگامے ہںا مروی ہستی خاموش مںے 
پرورش پائی ہے مںے نے صبح کی آغوش مںے 
مضطرب ہر دم مری تقدیر رکھتی ہے مجھے 
جستجو مں  لذت تنویر رکھتی ہے مجھے 
برق آتش خو نہںن، فطرت مںد گو ناری ہوں مں  
مہر عالم تاب کا پغا م بدگاری ہوں مںے 
سرمہ بن کر چشم انساں مںف سما جاؤں گی مںے 
رات نے جو کچھ چھپا رکھا تھا، دکھلاؤں گی مںں 
ترتے مستوں مںر کوئی جویائے ہشا ری بھی ہے 
سونے والوں مںت کسی کو ذوق بدواری بھی ہے؟ 
 
عرفی 
محل ایسا کام تعمرک عرفی کے تخلے نے 
تصدق جس پہ حرات خانۂ سناب و فارابی 
فضائے عشق پر تحریر کی اس نے نوا اییی 
مسرئ جس سے ہںر آنکھوں کو اب تک اشک عنابی 
مرے دل نے یہ اک دن اس کی تربت سے شکایت کی 
نہں  ہنگامۂ عالم مں  اب سامان بتاابی 
مزاج اہل عالم مںگ تغرس آگاب ایسا 
کہ رخصت ہو گئی دناگ سے کتمیس وہ سما بی 
فغان نمم شب شاعر کی بار گوش ہوتی ہے 
نہ ہو جب چشم محفل آشنائے لطف بے خوابی 
کسی کا شعلۂ فریاد ہو ظلمت ربا کو نکر 
گراں ہے شب پرستوں پر سحر کی آسماں تابی 
صدا تربت سے آئی ''شکوۂ اہل جہاں کم گو 
نوا را تلخ تر می زن چو ذوق نغمہ کم یابی 
حدی را تز  تر می خواں چو محمل را گراں بیر '' 
 

ایک خط کے جواب میں
 

ہوس بھی ہو تو نہں  مجھ مں  ہمت تگ و تاز 
حصول جاہ ہے وابستۂ مذاق تلاش 
ہزار شکر، طبعتب ہے ریزہ کار مری 
ہزار شکر، نہںت ہے دماغ فتنہ تراش 
مرے سخن سے دلوں کی ہںف کھار مں سرسبز 
جہاں مں  ہوں مں  مثال سحاب دریا پاش 
یہ عقدہ ہائے ساہست تجھے مبارک ہوں 
کہ فض  عشق سے ناخن مرا ہے سنہر خراش 
ہوائے بزم سلاطںش دلل  مردہ دلی 
کاا ہے حافظ رنگںا نوا نے راز یہ فاش 
''گرت ہوا ست کہ با خضر ہم نشیں باشی 
نہاں ز چشم سکندر چو آب حوخاں باش''
 
نانک 

قوم نے پغا م گو تم کی ذرا پروا نہ کی 
قدر پہچانی نہ اپنے گوہر یک دانہ کی 
آہ! بد قسمت رہے آواز حق سے بے خبر 
غافل اپنے پھل کی شراییخ سے ہوتا ہے شجر 
آشکار اس نے کاک جو زندگی کا راز تھا 
ہند کو لکنے خا لی فلسفے پر ناز تھا 
شمع حق سے جو منور ہو یہ وہ محفل نہ تھی 
بارش رحمت ہوئی لکند زمںن قابل نہ تھی 
آہ! شودر کے لےن ہندوستاں غم خانہ ہے 
درد انسانی سے اس بستی کا دل بگاہنہ ہے 
برہمن سرشار ہے اب تک مۂ پندار مںل 
شمع گو تم جل رہی ہے محفل اغاار مں  
بت کدہ پھر بعد مدت کے مگر روشن ہوا 
نور ابراہم  سے آزر کا گھر روشن ہوا 
پھر اٹھی آخر صدا توحدر کی پنجاب سے 
ہند کو اک مرد کامل نے جگایا خواب سے 
 
کفر واسلام 
تضمنو بر شعر مرگ رضی دانش 

ایک دن اقبال نے پوچھا کلمد طور سے 
اے کہ ترکے نقش پا سے وادی سناے چمن 
آتش نمرود ہے اب تک جہاں مںس شعلہ ریز 
ہو گاب آنکھوں سے پنہاں کو ں ترا سوز کہن 
تھا جواب صاحب سناک کہ مسلم ہے اگر 
چھوڑ کر غائب کو تو حاضر کا شد ائی نہ بن 
ذوق حاضر ہے تو پھر لازم ہے ایمان خللو 
ورنہ خاکستر ہے ترری زندگی کا پر ہن 
ہے اگر دیوانۂ غائب تو کچھ پروا نہ کر 
منتظر رہ وادی فاراں مںغ ہو کر خمہ  زن 
عارضی ہے شان حاضر ، سطوت غائب مدام 
اس صداقت کو محبت سے ہے ربط جان و تن 
شعلۂ نمرود ہے روشن زمانے مںت تو کا  
''شمع خود رامی گدازد درماان انجمن 
نور ما چوں آتش سنگ از نظر پنہاں خوش است''
 
بلال 

لکھا ہے ایک مغربی حق شناس نے 
اہل قلم مں  جس کا بہت احترام تھا 
جولاں گہ سکندر رومی تھا ایاس  
گردوں سے بھی بلند تر اس کا مقام تھا 
تاریخ کہہ رہی ہے کہ رومی کے سامنے 
دعوی کار جو پورس و دارا نے، خام تھا 
دناو کے اس شہنشہ انجم سپاہ کو 
حرات سے دیکھتا فلک نل  فام تھا 
آج ایا س مںک اس کو کوئی جانتا نہںک 
تاریخ دان بھی اسے پہچانتا نہںا 
لکنا بلال، وہ حبشی زادۂ حقرس 
فطرت تھی جس کی نور نبوت سے مستنرق 
جس کا امںن ازل سے ہوا سۂک  بلال 
محکوم اس صدا کے ہںا شاہنشہ و فقرر 
ہوتا ہے جس سے اسود و احمر مںہ اختلاط 
کرتی ہے جو غریب کو ہم پہلوئے امرت 
ہے تازہ آج تک وہ نوائے جگر گداز 
صدیوں سے سن رہا ہے جسے گوش چرخ پرل 
اقبال! کس کے عشق کا یہ فضپ عام ہے 
رومی فنا ہوا ، حبشی کو دوام ہے
 

مسلمان اور تعلیم جدید 
تضمنا بر شعر ملک قمی
 
مرشد کی یہ تعلمے تھی اے مسلم شوریدہ سر 
لازم ہے رہرو کے لےع دنام مںی سامان سفر 
بدلی زمانے کی ہوا ، ایسا تغرر آگا  
تھے جو گراں قتے  کبھی، اب ہںد متاع کس مخر 
وہ شعلۂ روشن ترا ظلمت گریزاں جس سے تھی 
گھٹ کر ہوا مثل شرر تارے سے بھی کم نور تر 
شدٹائی غائب نہ رہ، دیوانۂ موجود ہو 
غالب ہے اب اقوام پر معبود حاضر کا اثر 
ممکن نہںا اس باغ مںا کوشش ہو بار آور تری 
فرسودہ ہے پھندا ترا، زیرک ہے مرغ تزو پر 
اس دور مںا تعلمں ہے امراض ملت کی دوا 
ہے خون فاسد کے لےر تعلم  مثل نشتر  
رہبر کے ایما سے ہوا تعلم  کا سودا مجھے 
واجب ہے صحرا گرد پر تعملا فرمان خضر 
لکنب نگاہ نکتہ بںل دیکھے زبوں بختی مری 
''رفتم کہ خار از پا کشم ،محمل نہاں شد از نظر 
یک لحظ غافل گشتم و صد سالہ را ہم دور شد''
 
پھولوں کی شہزادی

کلی سے کہہ رہی تھی ایک دن شبنم گلستاں مںا 
رہی مں  ایک مدت غنچہ ہائے باغ رضواں مں  
تمھارے گلستاں کی کتلہ  سرشار ہے اییم 
نگہ فردوس در دامن ہے مرری چشم حرراں مںم 
سنا ہے کوئی شہزادی ہے حاکم اس گلستاں کی 
کہ جس کے نقش پا سے پھول ہوں پد ا باسباں مںں 
کبھی ساتھ اپنے اس کے آستاں تک مجھ کو تو لے چل 
چھپا کر اپنے دامن مں  برنگ موج بو لے چل 
کلی بولی، سریر آرا ہماری ہے وہ شہزادی 
درخشاں جس کی ٹھوکر سے ہوں پتھر بھی نگںں بن کر 
مگر فطرت تری افتندہ اور بگمت کی شان اونچی 
نہں  ممکن کہ تو پہنچے ہماری ہم نشیں بن کر 
پہنچ سکتی ہے تو لکن  ہماری شاہزادی تک 
کسی دکھ درد کے مارے کا اشک آتشںھ بن کر 
نظر اس کی پادم عدا ہے اہل محرم کو 
بنا دییر ہے گوہر غم زدوں کے اشک پیہم کو
 
تضمین بر شعر صائب 

کہاں اقبال تو نے آ بنایا آشاوں اپنا 
نوا اس باغ مںا بلبل کو ہے سامان رسوائی 
شرارے وادی ایمن کے تو بوتا تو ہے لکنئ 
نہںر ممکن کہ پھوٹے اس زمںت سے تخم سنایئی 
کلی زور نفس سے بھی وہاں گل ہو نہںک سکتی 
جہاں ہر شے ہو محروم تقاضائے خود افزائی 
قاامت ہے کہ فطرت سو گئی اہل گلستاں کی 
نہ ہے بداار دل پر ی، نہ ہمت خواہ برنائی 
دل آگاہ جب خوابددہ ہو جاتے ہںی سنوہں مںن 
نو اگر کے لےو زہراب ہوتی ہے شکر خائی 
نہںا ضبط نوا ممکن تو اڑ جا اس گلستاں سے 
کہ اس محفل سے خوشتر ہے کسی صحرا کی تنہائی 
''ہماں بہتر کہ لیکس در بارباں جلوہ گر باشد 
ندارد تنگناۓ شہر تاب حسن صحرائی''
 
فردوس میں ایک مکالمہ

ہاتف نے کہا مجھ سے کہ فردوس مںم اک روز 
حالی سے مخاطب ہوئے یوں سعدی شرلاز 
اے آنکہ ز نور گہر نظم فلک تاب 
دامن بہ چراغ مہ اختر زدہ ای باز! 
کچھ کتہ   مسلم ہندی تو با ں کر 
واماندۂ منزل ہے کہ مصروف تگ و تاز 
مذہب کی حرارت بھی ہے کچھ اس کی رگوں مں ؟ 
تھی جس کی فلک سوز کبھی گرمی آواز 
باتوں سے ہوا شخ  کی حالی متاثر 
رو رو کے لگا کہنے کہ ''اے صاحب اعجاز 
جب پر  فلک نے ورق ایام کا الٹا 
آئی یہ صدا ، پاؤگے تعلمچ سے اعزاز 
آیا ہے مگر اس سے عقد،وں مں  تزلزل 
دناپ تو ملی، طائر دیں کر گا  پرواز 
دیں ہو تو مقاصد مںی بھی پداا ہو بلندی 
فطرت ہے جوانوں کی زمںا گر  زمںا تاز 
مذہب سے ہم آہنگی افراد ہے باقی 
دیں زخمہ ہے ، جمعت  ملت ہے اگر ساز 
بنابد لرز جائے جو دیوار چمن کی 
ظاہر ہے کہ انجام گلستاں کا ہے آغاز 
پانی نہ ملا زمزم ملت سے جو اس کو 
پدنا ہںج نئی پود مںو الحاد کے انداز 
یہ ذکر حضور شہ یثرب مں  نہ کرنا 
سمجھں  نہ کہںں ہند کے مسلم مجھے غماز 
خرما نتواں یافت ازاں خار کہ کشتیم 
دیبا نتواں بافت ازاں پشم کہ رشتیم'' 
(سعدی)
 
مذہب 

تضمن  بر شعر مرززا بد ل 

تعلم  پر  فلسفۂ مغربی ہے یہ 
ناداں ہںپ جن کو ہستی غائب کی ہے تلاش 
پکرا اگر نظر سے نہ ہو آشنا تو کات 
ہے شخ  بھی مثال برہمن صنم تراش 
محسوس پر بنا ہے علوم جدید کی 
اس دور مںب ہے ششہ  عقائد کا پاش پاش 
مذہب ہے جس کا نام، وہ ہے اک جنون خام 
ہے جس سے آدمی کے تخلو کو انتعاش 
کہتا مگر ہے فلسفۂ زندگی کچھ اور 
مجھ پر کاہ یہ مرشد کامل نے راز فاش 
''با ہر کمال اند کے آشفتگی خوش است 
ہر چند عقل کل شدہ ای بے جنوں مباش'' 
 
جنگ یر موک کا ایک واقعہ

 صف بستہ تھے عرب کے جوانان تغی بند 
تھی منتظر حنا کی عروس زمن  شام 
اک نوجوان صورت سماتب مضطرب 
آ کر ہوا امرت عساکر سے ہم کلام 
اے بو عبدسہ رخصت پکاہر دے مجھے 
لبریز ہو گاظ مرے صبر و سکوں کو جام 
بے تاب ہو رہا ہوں فراق رسول مںم 
اک دم کی زندگی بھی محبت مںا ہے حرام 
جاتا ہوں مںہ حضور رسالت پناہ مںس 
لے جاؤں گا خوشی سے اگر ہو کوئی پاںم 
یہ ذوق و شوق دیکھ کے پرنم ہوئی وہ آنکھ 
جس کی نگاہ تھی صفت تغک بے ناتم 
بولا امری فوج کہ ''وہ نوجواں ہے تو 
پرلوں پہ تر ے عشق کا واجب ہے احترام 
پوری کرے خدائے محمد تری مراد 
کتنا بلند تر ی محبت کا ہے مقام! 
پہنچے جو بارگاہ رسول امںی مں  تو 
کرنا یہ عرض مر ی طرف سے پس از سلام 
ہم پہ کرم کا  ہے خدائے غوکر نے 
پورے ہوئے جو وعدے کےی تھے حضور نے'
 

مذہب 

اپنی ملت پر قا س اقوام مغرب سے نہ کر 
خاص ہے ترکبو مںا قوم رسول ہاشمی 
ان کی جمعتب کا ہے ملک و نسب پر انحصار 
قوت مذہب سے مستحکم ہے جمعتہ تری 
دامن دیں ہاتھ سے چھوٹا تو جمعت  کہاں 
اور جمعت  ہوئی رخصت تو ملت بھی گئی 
 

پیوستہ رہ شجر سے ، امید بہار رکھ! 

ڈالی گئی جو فصل خزاں مںت شجر سے ٹوٹ 
ممکن نہںی ہری ہو سحاب بہار سے 
ہے لازوال عہد خزاں اس کے واسطے 
کچھ واسطہ نہں  ہے اسے برگ و بار سے 
ہے تراے گلستاں مں  بھی فصل خزاں کا دور 
خالی ہے جیب گل زر کامل عا ر سے 
جو نغمہ زن تھے خلوت اوراق مںی طوکر 
رخصت ہوئے ترے شجر سایہ دار سے 
شاخ بریدہ سے سبق اندوز ہو کہ تو 
ناآشنا ہے قاعدۂ روزگار سے 
ملت کے ساتھ رابطۂ استوار رکھ 
پوتستہ رہ شجر سے ، امدا بہار رکھ!
 
شب معراج 

اختر شام کی آتی ہے فلک سے آواز 
سجدہ کرتی ہے سحر جس کو، وہ ہے آج کی رات 
رہ یک گام ہے ہمت کے لےک عرش بریں 
کہہ رہی ہے یہ مسلمان سے معراج کی رات 
 
پھول 

تجھے کوتں فکر ہے اے گل دل صد چاک بلبل کی 
تو اپنے پریہن کے چاک تو پہلے رفو کر لے 
تمنا آبرو کی ہو اگر گلزار ہستی مںا 
تو کانٹوں مںن الجھ کر زندگی کرنے کی خو کر لے 
صنوبر باغ مںی آزاد بھی ہے، پا بہ گل بھی ہے 
انھی پابندیوں مں  حاصل آزادی کو تو کر لے 
تنک بخشی کو استغنا سے پغایم خجالت دے 
نہ رہ منت کش شبنم نگوں جام وسبو کر لے 
نہںر یہ شان خود داری ، چمن سے توڑ کر تجھ کو 
کوئی دستار مںہ رکھ لے ، کوئی زیب گلو کر لے 
چمن مںم غنچۂ گل سے یہ کہہ کر اڑ گئی شبنم 
مذاق جور گلچیں ہو تو پد ا رنگ و بو کر لے 
اگر منظور ہو تجھ کو خزاں ناآشنا رہنا 
جہان رنگ و بو سے، پہلے قطع آرزو کر لے 
اسی مںپ دیکھ ، مضمر ہے کمال زندگی ترنا 
جو تجھ کو زینت دامن کوئی آئنہ  رو کر لے 
 
شیکسپیر 

شفق صبح کو دریا کا خرام آئنہھ 
نغمۂ شام کو خاموشی شام آئنہ  
برگ گل آئنۂ عارض زبایئے بہار 
شاہد مے کے لے  حجلۂ جام آئنہب 
حسن آئنۂ حق اور دل آئنۂ حسن 
دل انساں کو ترا حسن کلام آئنہ  
ہے ترے فکر فلک رس سے کمال ہستی 
کا  تری فطرت روشن تھی مآل ہستی 
تجھ کو جب دیدۂ دیدار طلب نے ڈھونڈا 
تاب خورشد  مںد خورشدو کو پنہاں دیکھا 
چشم عالم سے تو ہستی رہی مستور تری 
اور عالم کو تری آنکھ نے عریاں دیکھا 
حفظ اسرار کا فطرت کو ہے سودا ایسا 
راز داں پھر نہ کرے گی کوئی پدھا ایسا 
 
میں اورتو 

نہ سلقہپ مجھ مںن کلم  کا نہ قرینہ تجھ مںا خلل' کا 
مںز ہلاک جادوئے سامری، تو قتلم شو ۂ آزری 
مںز نوائے سوختہ در گلو ، تو پریدہ رنگ، رمدوہ بو 
مںز حکایت غم آرزو ، تو حدیث ماتم دلبری 
مرا عشر غم ،مرا شہد سم ، مری بود ہم نفس عدم 
ترا دل حرم، گرو عجم ترا دیں خریدہ کافری 
دم زندگی رم زندگی، غم زندگی سم زندگی 
غم رم نہ کر، سم غم نہ کھا کہ ییخ ہے شان قلندری 
تری خاک مںک ہے اگر شرر تو خا ل فقر و غنا نہ کر 
کہ جہاں مںر نان شعر  پر ہے مدار قوت حدشری 
کوئی اییش طرز طواف تو مجھے اے چراغ حرم بتا! 
کہ ترے پتنگ کو پھر عطا ہو وہی سرشت سمندری 
گلۂ جفائے وفا نما کہ حرم کو اہل حرم سے ہے 
کسی بت کدے مں  با ں کروں تو کہے صنم بھی 'ہری ہری' 
نہ ستیزہ گاہ جہاں نئی نہ حریف پنجہ فگن نئے 
وہی فطرت اسد اللہی وہی مرحبی، وہی عنتری 
کرم اے شہ عرب و عجم کہ کھڑے ہںک منتظر کرم 
وہ گدا کہ تو نے عطا کاک ہے جنھںر دماغ سکندری
 
اسیری 


ہے اسر ی اعتبار افزا جو ہو فطرت بلند 
قطرۂ نسا ں ہے زندان صدف سے ارجمند 
مشک اذفر چزو کاس ہے ، اک لہو کی بوند ہے 
مشک بن جاتی ہے ہو کر نافۂ آہو مںد بند 
ہر کسی کی تربت  کرتی نہںس قدرت، مگر 
کم ہںی وہ طائر کہ ہںہ دام وقفس سے بہرہ مند 
''شہپر زاغ و زغن در بند قدی و صدک نستہ 
ایں سعادت قسمت شہباز و شاہںن کردہ اند'' 
 
دریوزۂ خلافت 


اگر ملک ہاتھوں سے جاتا ہے، جائے 
تو احکام حق سے نہ کر بے وفائی 
نہںا تجھ کو تاریخ سے آگہی کان 
خلافت کی کرنے لگا تو گدائی 
خریدیں نہ جس کو ہم اپنے لہو سے 
مسلماں کو ہے ننگ وہ پادشائی 
''مرا از شکستن چناں عار ناید 
کہ از دیگراں خواستن مومایئی''

 
ہمایوں 

(مسٹر جسٹسں شاہ دین مرحوم ) 

اے ہمایوں! زندگی تروی سراپا سوز تھی 
تر ی چنگاری چراغ انجمن افروز تھی 
گرچہ تھا ترٹا تن خاکی نزار و دردمند 
تیچ ستارے کی طرح روشن تری طبع بلند 
کس قدر بے باک دل اس ناتواں پکرم مںو تھا 
شعلۂ گردوں نورد اک مشت خاکستر مںن تھا 
موت کی لکنو دل دانا کو کچھ پروا نہںت 
شب کی خاموشی مں  جز ہنگامۂ فردا نہں  
موت کو سمجھے ہںل غافل اختتام زندگی 
ہے یہ شام زندگی، صبح دوام زندگی
 
خضرِ راہ

شاعر 

ساحل دریا پہ مںو اک رات تھا محو نظر 
گوشۂ دل مںم چھپائے اک جہان اضطراب 
شب سکوت افزا، ہوا آسودہ، دریا نرم سر  
تھی نظر حرہاں کہ یہ دریا ہے یا تصویر آب 
جسےس گہوارے مںح سو جاتا ہے طفل شرر خوار 
موج مضطر تھی کہںا گہرائو ں مں  مست خواب 
رات کے افسوں سے طائر آشاکنوں مںہ اسرں 
انجم کم ضو گرفتار طلسم ماہتاب 
دیکھتا کاا ہوں کہ وہ پکں جہاں پما  خضر 
جس کی پرطی مںں ہے مانند سحر رنگ شباب 
کہہ رہا ہے مجھ سے، اے جویائے اسرار ازل! 
چشم دل وا ہو تو ہے تقدیر عالم بے حجاب 
دل مںل یہ سن کر بپا ہنگامۂ محشر ہوا 
مں  شہد  جستجو تھا، یوں سخن گستر ہوا 
اے تری چشم جہاں بں  پر وہ طوفاں آشکار 
جن کے ہنگامے ابھی دریا مںط سوتے ہںو خموش 
'کشتی مسکن ، و 'جان پاک' و 'دیوار یم ے، 
علم موسی بھی ہے تر ے سامنے حرہت فروش 
چھوڑ کر آبادیاں رہتا ہے تو صحرا نورد 
زندگی ترمی ہے بے روز و شب و فردا دوش 
زندگی کا راز کات ہے، سلطنت کاو چزا ہے 
اور یہ سرمایہ و محنت مںل ہے کساا خروش 
ہو رہا ہے ایا ر کا خرقۂ دیرینہ چاک 
نوجواں اقوام نو دولت کے ہںا پر ایہ پوش 
گرچہ اسکندر رہا محروم آب زندگی 
فطرت اسکندری اب تک ہے گرم ناؤ نوش 
بچتا  ہے ہاشمی ناموس دین مصطفی 
خاک و خوں مںہ مل رہا ہے ترکمان سخت کوش 
آگ ہے، اولاد ابراہمو ہے، نمرود ہے 
کا  کسی کو پھر کسی کا امتحاں مقصود ہے! 

جواب خضر 
صحرا نوردی 

کورں تعجب ہے مری صحرا نوردی پر تجھے 
یہ تگا پوئے دما دم زندگی کی ہے دلل  
اے رہنت خانہ تو نے وہ سماں دیکھا نہںا 
گونجتی ہے جب فضائے دشت مںں بانگ رحلں 
ریت کے ٹلےہ پہ وہ آہو کا بے پروا خرام 
وہ حضر بے برگ و ساماں، وہ سفر بے سنگ و ملے 
وہ نمود اختر سماسب پا ہنگام صبح 
یا نمایاں بام گردوں سے جبنم جبرئلم 
وہ سکوت شام صحرا مںب غروب آفتاب 
جس سے روشن تر ہوئی چشم جہاں بنب خلل  
اور وہ پانی کے چشمے پر مقام کارواں 
اہل ایماں جس طرح جنت مںم گرد سلسبلب 
تازہ ویرانے کی سودائے محبت کو تلاش 
اور آبادی مںی تو زنجروی کشت و نخیل 
پختہ تر ہے گردش پیہم سے جام زندگی 
ہے یی  اے بے خبر راز دوام زندگی 
زندگی 

برتر از اندیشۂ سود و زیاں ہے زندگی 
ہے کبھی جاں اور کبھی تسلمی جاں ہے زندگی 
تو اسے پمادنۂ امروز و فردا سے نہ ناپ 
جاوداں پیہم دواں، ہر دم جواں ہے زندگی 
اپنی دناد آپ پد ا کر اگر زندوں مںہ ہے 
سر آدم ہے، ضمرش کن فکاں ہے زندگی 
زندگانی کی حققتگ کوہکن کے دل سے پوچھ 
جوئے شر  و تشہن و سنگ گراں ہے زندگی 
بندگی مںو گھٹ کے رہ جاتی ہے اک جوئے کم آب 
اور آزادی مںہ بحر بے کراں ہے زندگی 
آشکارا ہے یہ اپنی قوت تسخر  سے 
گرچہ اک مٹی کے پکرب مںس نہاں ہے زندگی 
قلزم ہستی سے تو ابھرا ہے مانند حباب 
اس زیاں خانے مں  ترہا امتحاں ہے زندگی 
خام ہے جب تک تو ہے مٹی کا اک انبار تو 
پختہ ہو جائے تو ہے شمشرت بے زنہار تو 
ہو صداقت کے لےو جس دل مںت مرنے کی تڑپ 
پہلے اپنے پکرے خاکی مں  جاں پدتا کرے 
پھونک ڈالے یہ زمنک و آسمان مستعار 
اور خاکستر سے آپ اپنا جہاں پدںا کرے 
زندگی کی قوت پنہاں کو کر دے آشکار 
تا یہ چنگاری فروغ جاوداں پداا کرے 
خاک مشرق پر چمک جائے مثال آفتاب 
تا بدخشاں پھر وہی لعل گراں پدوا کرے 
سوئے گردوں نالۂ شب گرر کا بھجےا سفرگ 
رات کے تاروں مں  اپنے راز داں پد ا کرے 
یہ گھڑی محشر کی ہے ، تو عرصۂ محشر مںے ہے 
پشت کر غافل ، عمل کوئی اگر دفتر مں  ہے 

سلطنت 

آ بتاؤں تجھ کو رمز آیۂ 'ان الملوک' 
سلطنت اقوام غالب کی ہے اک جادوگری 
خواب سے بدمار ہوتا ہے ذرا محکوم اگر 
پھر سلا دییل ہے اس کو حکمراں کی ساحری 
جادوئے محمود کی تاثرس سے چشم ایاز 
دیکھتی ہے حلقۂ گردن مںر ساز دلبری 
خون اسرائلت آ جاتا ہے آخر جوش مںد 
توڑ دیتا ہے کوئی موسی طلسم سامری 
سروری زیبا فقط اس ذات بے ہمتا کو ہے 
حکمراں ہے اک وہی، باقی بتان آزری 
از غلامی فطرت آزاد را رسوا مکن 
تا تراشی خواجہ ے از برہمن کافر تری 
ہے وہی ساز کہن مغرب کا جمہوری نظام 
جس کے پردوں مںہ نہںغ غرر از نوائے قصرحی 
دیو استبداد جمہوری قبا مںت پاے کوب 
تو سمجھتا ہے یہ آزادی کی ہے نلمح پری 
مجلس آئنا و اصلاح و رعایات و حقوق 
طب مغرب مںہ مزے مٹھےو، اثر خواب آوری 
گرمی گفتار اعضائے مجالس، الاماں! 
یہ بھی اک سرمایہ داروں کی ہے جنگ زر گری 
اس سراب رنگ و بو کو گلستاں سمجھا ہے تو 
آہ اے ناداں! قفس کو آشاجں سمجھا ہے تو 
سرمایہ و محنت 

بندۂ مزدور کو جا کر مرا پغاہم دے 
خضر کا پغاںم کاک، ہے یہ پادم کائنات 
اے کہ تجھ کو کھا گا  سرمایہ دار حلہو گر 
شاخ آہو پر رہی صدیوں تلک تر ی برات 
دست دولت آفریں کو مزد یوں ملی  رہی 
اہل ثروت جسےہ دیتے ہںں غریبوں کو زکات 
ساحر الموط نے تجھ کو دیا برگ حششی 
اور تو اے بے خبر سمجھا اسے شاخ نبات 
نسل، قومت ، کلساا، سلطنت، تہذیب، رنگ 
خواجگی نے خوب چن چن کے بنائے مسکرات 
کٹ مرا ناداں خارلی دیوتاؤں کے لے  
سکرکی لذت مں  تو لٹوا گاد نقد حا ت 
مکر کی چالوں سے بازی لے گاو سرمایہ دار 
انتہائے سادگی سے کھا گال مزدور مات 
اٹھ کہ اب بزم جہاں کا اور ہی انداز ہے 
مشرق و مغرب مںج تررے دور کا آغاز ہے 
ہمت عالی تو دریا بھی نہں  کرتی قبول 
غنچہ ساں غافل ترے دامن مں  شبنم کب تلک 
نغمۂ بدداری جمہور ہے سامان عشر 
قصۂ خواب آور اسکندر و جم کب تلک 
آفتاب تازہ پد ا بطن گیدر سے ہوا 
آسمان! ڈوبے ہوئے تاروں کا ماتم کب تلک 
توڑ ڈالں! فطرت انساں نے زنجرایں تمام 
دوری جنت سے روتی چشم آدم کب تلک 
باغبان چارہ فرما سے یہ کہتی ہے بہار 
زخم گل کے واسطے تدبرس مرہم کب تلک 
کرمک ناداں! طواف شمع سے آزاد ہو 
اپنی فطرت کے تجلی زار مںک آباد ہو 
دنایئے اسلام 

کاا سناتا ہے مجھے ترک و عرب کی داستاں 
مجھ سے کچھ پنہاں نہںج اسلامو ں کا سوز و ساز 
لے گئے تثلثپ کے فرزند مرااث خللک 
خشت بناتد کلساے بن گئی خاک حجاز 
ہو گئی رسوا زمانے مں  کلاہ لالہ رنگ 
جو سراپا ناز تھے، ہںی آج مجبور نا ز 
لے رہا ہے مے فروشان فرنگستاں سے پارس 
وہ مۂ سرکش حرارت جس کی ہے منا  گداز 
حکمت مغرب سے ملت کی یہ کت  م ہوئی 
ٹکڑے ٹکڑے جس طرح سونے کو کر دیتا ہے گاز 
ہوگا  مانند آب ارزاں مسلماں کا لہو 
مضطرب ہے تو کہ ترزا دل نہںو دانائے راز 
گفت رومی ''ہر بناۓ کہنہ کآباداں کنند'' 
می ندانی ''اول آں بنا د را ویراں کنند'' 
''ملک ہاتھوں سے گا  ملت کی آنکھں  کھل گئںن'' 
حق ترا چشمے عطا کردست غافل در نگر 
مومارئی کی گدائی سے تو بہتر ہے شکست 
مور بے پر! حاجتے پشک سلماانے مبر 
ربط و ضبط ملت بضار ہے مشرق کی نجات 
ایاضب والے ہںا اس نکتے سے اب تک بے خبر 
پھر ساضست چھوڑ کر داخل حصار دیں مںت ہو 
ملک و دولت ہے فقط حفظ حرم کا اک ثمر 
ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لےب 
نلک کے ساحل سے لے کر تا بخاک کاشغر 
جو کرے گا امتیاز رنگ و خوں ، مٹ جائے گا 
ترک خر گاہی ہو یا اعرابی والا گہر 
نسل اگر مسلم کی مذہب پر مقدم ہو گئی 
اڑ گاگ دناا سے تو مانند خاک رہ گزر 
تا خلافت کی بنا دنا  مں  ہو پھر استور 
لا کہںف سے ڈھونڈ کر اسلاف کا قلب و جگر 
اے کہ نشناسی خفی را از جلی ہشاتر باش 
اے گرفتار ابوبکر و علی ہشاار باش 
عشق کو فریاد لازم تھی سو وہ بھی ہو چکی 
اب ذرا دل تھام کر فریاد کی تاثری دیکھ 
تو نے دیکھا سطوت رفتار دریا کا عروج 
موج مضطر کس طرح بنتی ہے اب زنجرک دیکھ 
عام حریت کا جو دیکھا تھا خواب اسلام نے 
اے مسلماں آج تو اس خواب کی تعبرخ دیکھ 
اپنی خاکستر سمندر کو ہے سامان وجود 
مر کے پھر ہوتا ہے پدتا یہ جہان پر ، دیکھ 
کھول کر آنکھںا مرے آئۂا  گفتار مںر 
آنے والے دور کی دھندلی سی اک تصویر دیکھ 
آزمودہ فتنہ ہے اک اور بھی گردوں کے پاس 
سامنے تقدیر کے رسوائی تدبر  دیکھ 
مسلم استی سنہو را از آرزو آباد دار 
ہر زماں پشہ نظر، 'لایخلف المعا د' دار
 
طلوع اسلام 


دللع صبح روشن ہے ستاروں کی تنک تابی 
افق سے آفتاب ابھرا ،گا  دور گراں خوابی 
عروق مردۂ مشرق مںت خون زندگی دوڑا 
سمجھ سکتے نہںا اس راز کو سنار و فارابی 
مسلماں کو مسلماں کر دیا طوفان مغرب نے 
تلاطم ہائے دریا ہی سے ہے گوہر کی سر ابی 
عطا مومن کو پھر درگاہ حق سے ہونے والا ہے 
شکوہ ترکمانی، ذہن ہندی، نطق اعرابی 
اثر کچھ خواب کا غنچوں مںن باقی ہے تو اے بلبل! 
''نوا را تلخ تر می زن چو ذوق نغمہ کم یابی'' 
تڑپ صحن چمن مں ، آشاہں مںن ، شاخساروں مںب 
جدا پارے سے ہو سکتی نہںچ تقدیر سماببی 
وہ چشم پاک بںں کوتں زینت برگستواں دیکھے 
نظر آتی ہے جس کو مرد غازی کی جگر تابی 
ضمر  لالہ مںے روشن چراغ آرزو کر دے 
چمن کے ذرے ذرے کو شہدے جستجو کر دے 
سرشک چشم مسلم مںو ہے نساتں کا اثر پداا 
خللک اللہ کے دریا مںی ہوں گے پھر گہر پدبا 
کتاب ملت بضال کی پھر شرںازہ بندی ہے 
یہ شاخ ہاشمی کرنے کو ہے پھر برگ و بر پدنا 
ربود آں ترک شریازی دل تبریز و کابل را 
صبا کرتی ہے بوئے گل سے اپنا ہم سفر پدیا 
اگر عثمانوکں پر کوہ غم ٹوٹا تو کاہ غم ہے 
کہ خون صد ہزار انجم سے ہوتی ہے سحر پد ا 
جہاں بانی سے ہے دشوار تر کار جہاں بیغم 
جگر خوں ہو تو چشم دل مںہ ہوتی ہے نظر پداا 
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے 
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن مں  دیدہ ور پدیا 
نوا پر ا ہو اے بلبل کہ ہو ترنے ترنم سے 
کبوتر کے تن نازک مںے شاہںن کا جگر پدنا 
ترے سینے مںم ہے پوشدکہ راز زندگی کہہ دے 
مسلماں سے حدیث سوز و ساز زندگی کہہ دے 
خدائے لم یزل کا دست قدرت تو، زباں تو ہے 
یںائ پدزا کر اے غافل کہ مغلوب گماں تو ہے 
پرے ہے چرخ نی پ فام سے منزل مسلماں کی 
ستارے جس کی گرد راہ ہوں، وہ کارواں تو ہے 
مکاں فانی ، مکںر آنی، ازل ترگا، ابد ترہا 
خدا کا آخری پغا م ہے تو، جاوداں تو ہے 
حنا بند عروس لالہ ہے خون جگر تر ا 
تری نسبت براہیگر ہے، معمار جہاں تو ہے 
تری فطرت امںہ ہے ممکنات زندگانی کی 
جہاں کے جوہر مضمر کا گویا امتحاں تو ہے 
جہان آب و گل سے عالم جاوید کی خاطر 
نبوت ساتھ جس کو لے گئی وہ ارمغاں تو ہے 
یہ نکتہ سرگزشت ملت بضاگ سے ہے پداا 
کہ اقوام زمنر ایار  کا پاسباں تو ہے 
سبق پھر پڑھ صداقت کا ، عدالت کا ، شجاعت کا 
لاق جائے گا تجھ سے کام دنا، کی امامت کا 
ییق مقصود فطرت ہے، ییت رمز مسلمانی 
اخوت کی جہاں گرہی، محبت کی فراوانی 
بتان رنگ و خوں کو توڑ کر ملت مںا گم ہو جا 
نہ تورانی رہے باقی، نہ ایرانی، نہ افغانی 
ما ن شاخساراں صحبت مرغ چمن کب تک! 
ترے بازو مںش ہے پرواز شاہن  قہستانی 
گمان آباد ہستی مںر یںگم مرد مسلماں کا 
بااباں کی شب تاریک مںی قندیل رہبانی 
مٹایا قصرا و کسری کے استبداد کو جس نے 
وہ کاآ تھا، زور حدرر، فقر بو ذر، صدق سلمانی 
ہوئے احرار ملت جادہ پماح کس تجمل سے 
تماشائی شگاف در سے ہں  صدیوں کے زندانی 
ثبات زندگی ایمان محکم سے ہے دنا  مںے 
کہ المانی سے بھی پائندہ تر نکلا ہے تورانی 
جب اس انگارۂ خاکی مں  ہوتا ہے یں   پدیا 
تو کر لتاا ہے یہ بال و پر روح الامںت پدیا 
غلامی مں  نہ کام آتی ہںم شمشرپیں نہ تدبرھیں 
جو ہو ذوق یں ہ پد ا تو کٹ جاتی ہں  زنجرنیں 
کوئی اندازہ کر سکتا ہے اس کے زور بازو کا 
نگاہ مرد مومن سے بدل جاتی ہںے تقدیریں 
ولایت ، پادشاہی ، علم اشا  کی جہاں گرنی 
یہ سب کام ہںی، فقط اک نکتۂ ایماں کی تفسرریں 
براہی س نظر پد ا مگر مشکل سے ہوتی ہے 
ہوس چھپ چھپ کے سنودں مں  بنا لیشک ہے تصویریں 
تمز  بندہ و آقا فساد آدمت  ہے 
حذر اے چرھہ دستاں! سخت ہںہ فطرت کی تعزیریں 
حققتا ایک ہے ہر شے کی، خاکی ہو کہ نوری ہو 
لہو خورشد  کا ٹپکے اگر ذرے کا دل چرخیں 
یںو  محکم، عمل پیہم، محبت فاتح عالم 
جہاد زندگانی مںپ ہںم یہ مردوں کی شمشرہیں 
چہ باید مرد را طبع بلندے ، مشرب نابے 
دل گرمے ، نگاہ پاک بنےب ، جان بتاببے 
عقابی شان سے جھپٹے تھے جو ، بے بال و پر نکلے 
ستارے شام کے خون شفق مںج ڈوب کر نکلے 
ہوئے مدفون دریا زیر دریا تررنے والے 
طمانچے موج کے کھاتے تھے ، جو ، بن کر گہر نکلے 
غبار رہ گزر ہںک، کا جو پر ناز تھا جن کو 
جبںر ر خاک پر رکھتے تھے جو، اکسرز گر نکلے 
ہمارا نرم رو قاصد پاںم زندگی لایا 
خبر دییر تھںر جن کو بجلالں وہ بے خبر نکلے 
حرم رسوا ہوا پرص حرم کی کم نگاہی سے 
جوانان تتاری کس قدر صاحب نظر نکلے 
زمںن سے نور بان آسماں پرواز کہتے تھے 
یہ خاکی زندہ تر، پائندہ تر، تابندہ تر نکلے 
جہاں مںا اہل ایماں صورت خورشد  جتےں ہںع 
ادھر ڈوبے ، ادھر نکلے ادھر ڈوبے ، ادھر نکلے 
یںھر افراد کا سرمایۂ تعمرے ملت ہے 
ییھ قوت ہے جو صورت گر تقدیر ملت ہے 
تو راز کن فکاں ہے، اپنی آنکھوں پر عاےں ہو جا 
خودی کا راز داں ہو جا، خدا کا ترجماں ہو جا 
ہوس نے کر دیا ہے ٹکڑے ٹکڑے نوع انساں کو 
اخوت کا بادں ہو جا، محبت کی زباں ہو جا 
یہ ہندی، وہ خراسانی، یہ افغانی، وہ تورانی 
تو اے شرمندۂ ساحل! اچھل کر بے کراں ہو جا 
غبار آلودۂ رنگ ونسب ہںک بال و پر تراے 
تو اے مرغ حرم! اڑنے سے پہلے پر فشاں ہو جا 
خودی مںو ڈوب جا غافل! یہ سر زندگانی ہے 
نکل کر حلقۂ شام و سحر سے جاوداں ہو جا 
مصاف زندگی مںگ سررت فولاد پدںا کر 
شبستان محبت مں  حریر و پرنارں ہو جا 
گزر جا بن کے سلہ تند رو کوہ و باتباں سے 
گلستاں راہ مںس آئے تو جوئے نغمہ خواں ہو جا 
ترے علم و محبت کی نہںئ ہے انتہا کوئی 
نہں  ہے تجھ سے بڑھ کر ساز فطرت مںہ نوا کوئی 
ابھی تک آدمی صدت زبون شہر یاری ہے 
قاھمت ہے کہ انساں نوع انساں کا شکاری ہے 
نظر کو خرمہ کرتی ہے چمک تہذیب حاضر کی 
یہ صناعی مگر جھوٹے نگوں کی ریزہ کاری ہے 
وہ حکمت ناز تھا جس پر خرو  مندان مغرب کو 
ہوس کے پنچۂ خونںج مںن تغر کار زاری ہے 
تدبر کی فسوں کاری سے محکم ہو نہںک سکتا 
جہاں مںپ جس تمدن کی بنا سرمایہ داری ہے 
عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی، جہنم بھی 
یہ خاکی اپنی فطرت مںج نہ نوری ہے نہ ناری ہے 
خروش آموز بلبل ہو ، گرہ غنچے کی وا کر دے 
کہ تو اس گلستاں کے واسطے باد بہاری ہے 
پھر اٹھی ایااد کے دل سے چنگاری محبت کی 
زمں  جولاں گہ اطلس قبایان تتاری ہے 
باں پدںا خریدارست جان ناتوانے را 
''پس از مدت گذار افتاد بر ما کاروانے را'' 
باں ساقی نواے مرغ زار از شاخسار آمد 
بہار آمد نگار آمد نگار آمد قرار آمد 
کشدر ابر بہاری خمہ  اندر وادی و صحرا 
صداۓ آبشاراں از فراز کوہسار آمد 
سرت گردم تو ہم قانون پں از سازدہ ساقی 
کہ خیل نغمہ پردازاں قطار اندر قطار آمد 
کنار از زاہداں برگرپوبے باکانہ ساغر کش 
پس از مدت ازیں شاخ کہن بانگ ہزار آمد 
بہ مشتاقاں حدیث خواجہ بدر و حنین آور 
تصرف ہاے پنہانش بچشمم آشکار آمد 
دگر شاخ خللہ از خون ما نم ناک می گرد 
بار زار محبت نقد ما کامل عامر آمد 
سر خاک شہدلے برگہاے لالہ می پاشم 
کہ خونش با نہال ملت ما سازگار آمد 
''با  تا گل بیفشانمع و مے در ساغر اندازیم 
فلک را سقف بشگافم  و طرح دیگر اندازیم'' 

 
غزلیات
٭ ٭ ٭ ٭


اے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پغاحم مرا 
قبضے سے امت بچافری کے دیں بھی گاب، دناا بھی گئی 
یہ موج پریشاں خاطر کو پغانم لب ساحل نے دیا 
ہے دور وصال بحر بھی، تو دریا مںا گھبرا بھی گئی! 
عزت ہے محبت کی قائم اے قسر! حجاب محمل سے 
محمل جو گات عزت بھی گئی، غرحت بھی گئی لیلا بھی گئی 
کی ترک تگ و دو قطرے نے تو آبروئے گوہر بھی ملی 
آوارگی فطرت بھی گئی اور کشمکش دریا بھی گئی 
نکلی تو لب اقبال سے ہے، کار جانیے کس کی ہے یہ صدا 
پغایم سکوں پہنچا بھی گئی ، دل محفل کا تڑپا بھی گئی 


٭ ٭ ٭ ٭


یہ سرود قمری و بلبل فریب گوش ہے 
باطن ہنگامہ آباد چمن خاموش ہے 
ترطے پماانوں کا ہے یہ اے مۓ مغرب اثر 
خندہ زن ساقی ہے، ساری انجمن بے ہوش ہے 
دہر کے غم خانے مںچ ترسا پتا ملتا نہںے 
جرم تھا کاخ آفرینش بھی کہ تو روپوش ہے 
آہ! دناف دل سمجھتی ہے جسے، وہ دل نہں  
پہلوئے انساں مںم اک ہنگامۂ خاموش ہے 
زندگی کی رہ مںم چل، لکنا ذرا بچ بچ کے چل 
یہ سمجھ لے کوئی منام خانہ بار دوش ہے 
جس کے دم سے دلی و لاہور ہم پہلو ہوئے 
آہ، اے اقبال وہ بلبل بھی اب خاموش ہے
 
٭ ٭ ٭ ٭

نالہ ہے بلبل شوریدہ ترا خام ابھی 
اپنے سینے مںب اسے اور ذرا تھام ابھی 
پختہ ہوتی ہے اگر مصلحت اندیش ہو عقل 
عشق ہو مصلحت اندیش تو ہے خام ابھی 
بے خطر کود پڑا آتش نمرود مںت عشق 
عقل ہے محو تماشائے لب بام ابھی 
عشق فرمودۂ قاصد سے سبک گام عمل 
عقل سمجھی ہی نہں  معنی پغا م ابھی 
شولۂ عشق ہے آزادی و دہر آشوبی 
تو ہے زناری بت خانۂ ایام ابھی 
عذر پرہزا پہ کہتا ہے بگڑ کر ساقی 
ہے ترے دل مںی وہی کاوش انجام ابھی 
سی  پیہم ہے ترازوئے کم و کفم حایت 
تر ی مزواں ہے شمار سحر و شام ابھی 
ابر نسادں! یہ تنک بخشی شبنم کب تک 
مرے کہسار کے لالے ہں! تہی جام ابھی 
بادہ گردان عجم وہ ، عربی مربی شراب 
مرے ساغر سے جھجکتے ہںر مے آشام ابھی 
خبر اقبال کی لائی ہے گلستاں سے نسمش 
نو گرفتار پھڑکتا ہے تہ دام ابھی
 

٭ ٭ ٭ ٭
 
پردہ چہرے سے اٹھا ، انجمن آرائی کر 
چشم مہر و مہ و انجم کو تماشائی کر 
تو جو بجلی ہے تو یہ چشمک پنہاں کب تک 
بے حجابانہ مرے دل سے شناسائی کر 
نفس گرم کی تاثرس ہے اعجاز حاہت 
ترسے سینے مںا اگر ہے تو مسحایئی کر 
کب تلک طور پہ دریوزہ گری مثل کلمم 
اپنی ہستی سے عا ں شعلۂ سناچئی کر 
ہو تری خاک کے ہر ذرے سے تعمر  حرم 
دل کو بگاےنۂ انداز کلساوئی کر 
اس گلستاں مںی نہں  حد سے گزرنا اچھا 
ناز بھی کر تو بہ اندازۂ رعنائی کر 
پہلے خود دار تو مانند سکندر ہو لے 
پھر جہاں مں  ہوس شوکت دارائی کر 
مل ہی جائے گی کبھی منزل لیی  اقبال! 
کوئی دن اور ابھی بادیہ پمالئی کر
 
٭ ٭ ٭ ٭
 
پھر باد بہار آئی ، اقبال غزل خواں ہو 
غنچہ ہے اگر گل ہو ، گل ہے تو گلستاں ہو 
تو خاک کی مٹھی ہے ، اجزا کی حرارت سے 
برہم ہو، پریشاں ہو ، وسعت مںہ بایباں ہو 
تو جنس محبت ہے ، قمت  ہے گراں ترای 
کم مایہ ہںے سوداگر ، اس دیس مںی ارزاں ہو 
کو ں ساز کے پردے مں  مستور ہو لے ترسی 
تو نغمۂ رنگںں ہے ، ہر گوش پہ عریاں ہو 
اے رہرو فرزانہ! رستے مںے اگر تریے 
گلشن ہے تو شبنم ہو، صحرا ہے تو طوفاں ہو 
ساماں کی محبت مں  مضمر ہے تن آسانی 
مقصد ہے اگر منزل ، غارت گر ساماں ہو 
 
٭ ٭ ٭ ٭
 
کبھی اے حققت  منتظر نظر لباس مجاز مںس 
کہ ہزاروں سجدے تڑپ رہے ہںر مری جبنم نا ز مں  
طرب آشنائے خروش ہو، تو نوا ہے محرم گوش ہو 
وہ سرود کا  کہ چھپا ہوا ہو سکوت پردۂ ساز مںا 
تو بچا بچا کے نہ رکھ اسے، ترا آئنہ ہے وہ آئنہ 
کہ شکستہ ہو تو عزیز تر ہے نگاہ آئنہ ساز مں  
دم طوف کرمک شمع نے یہ کہا کہ وہ اثرِ کہن 
نہ تری حکایت سوز مں ، نہ مری حدیث گداز مں  
نہ کہں  جہاں مںے اماں ملی، جو اماں ملی تو کہاں ملی 
مرے جرم خانہ خراب کو ترے عفو بندہ نواز مںث 
نہ وہ عشق مںب رہںب گرمارں،نہ وہ حسن مںا رہںل شوخا ں 
نہ وہ غزنوی مںر تڑپ رہی، نہ وہ خم ہے زلف ایاز مںز 
جو مں  سر بسجدہ ہوا کبھی تو زمںن سے آنے لگی صدا 
ترا دل تو ہے صنم آشنا، تجھے کای ملے گا نماز مںی 
 
٭ ٭ ٭ ٭

تہ دام بھی غزل آشنا رہے طائران چمن تو کا  
جو فغاں دلوں مںن تڑپ رہی تھی، نوائے زیر لبی رہی 
ترا جلوہ کچھ بھی تسلی دل ناصبور نہ کر سکا 
وہی گریۂ سحری رہا ، وہی آہ نم  شبی رہی 
نہ خدا رہا نہ صنم رہے ، نہ رقبل دیر حرم رہے 
نہ رہی کہںہ اسد اللہی، نہ کہںے ابولہبی رہی 
مرا ساز اگرچہ ستم رسد ۂ زخمہ ہائے عجم رہا 
وہ شہدز ذوق وفا ہوں مںد کہ نوا مری عربی رہی 
 
٭ ٭ ٭ ٭

گرچہ تو زندانیِ اسباب ہے 
قلب کو لکند ذرا آزاد رکھ 
عقل کو تنقدا سے فرصت نہں  
عشق پر اعمال کی بناہد رکھ 
اے مسلماں! ہر گھڑی پش  نظر 
آیۂ 'لا یخلف المعاشد' رکھ 
یہ 'لسان العصر' کا پغا م ہے 
''ان وعد اللہ حق'' یاد رکھ
 
ظر یفانہ
٭ ٭ ٭ ٭

مشرق مںہ اصول دین بن جاتے ہںا 
مغرب مںہ مگر مشنق بن جاتے ہںا 
رہتا نہںا ایک بھی ہمارے پلے 
واں ایک کے تنگ تنی بن جاتے ہںے

٭ ٭ ٭ ٭

لڑکا٭ں پڑھ رہی ہںب انگریزی 
ڈھونڈ لی قوم نے فلاح کی راہ 
روش مغربی ہے مد نظر 
وضع مشرق کو جانتے ہںم گناہ 
یہ ڈراما دکھائے گا کاد سنا 
پردہ اٹھنے کی منتظر ہے نگاہ
 

٭ ٭ ٭ ٭
شخ٭ صاحب بھی تو پردے کے کوئی حامی نہںن 
مفت مں٭ کالج کے لڑکے ان سے بد ظن ہو گئے 
وعظ مں٭ فرما دیا کل آپ نے یہ صاف صاف 
''پروہ آخر کس سے ہو جب مرد ہی زن ہو گئے''
یہ کوئی دن کی بات ہے اے مرد ہوش مند!
یہ کوئی دن کی بات ہے اے مرد ہوش مند! 
غر ت نہ تجھ مںد ہو گی، نہ زن اوٹ چاہے گی 
آتا ہے اب وہ دور کہ اولاد کے عوض 
کونسل کی ممبری کے لےے ووٹ چاہے گی
 
٭ ٭ ٭ ٭

تعلم٭ مغربی ہے بہت جرأت آفریں 
پہلا سبق ہے، بیٹھ کے کالج مںت مار ڈینگ 
بستے ہںق ہند مںٹ جو خریدار ہی فقط 
آغا بھی لے کے آتے ہںں اپنے وطن سے ہنگن 
مراا یہ حال، لوٹ کی ٹو چاٹتا ہوں مںگ 
ان کا یہ حکم، دیکھ! مرے فرش پر نہ رینگ 
کہنے لگے کہ اونٹ ہے بھدا سا جانور 
اچھی ہے گائے، رکھتی ہے کاو نوک دار سنگگ
٭ ٭ ٭ ٭
 
کچھ غم نہںہ جو حضرت واعظ ہںر تنگ دست 
تہذیب نو کے سامنے سر اپنا خم کریں 
رد جہاد مںہ تو بہت کچھ لکھا گا  
تردید حج مںو کوئی رسالہ رقم کریں
 
٭ ٭ ٭ ٭

تہذیب کے مریض کو گولی سے فائدہ! 
دفع مرض کے واسطے پل پشہ کے گو 
تھے وہ بھی دن کہ خدمت استاد کے عوض 
دل چاہتا تھا ہدیۂ دل پشک کے    
بدلا زمانہ ایسا کہ لڑکا پس از سبق 
کہتا ہے ماسٹر سے کہ ''بل پشس کے   !''
٭ ٭ ٭ ٭

انتہا بھی اس کی ہے؟ آخر خریدیں کب تلک 
چھتریاں، رومال، مفلر، پرپہن جاپان سے 
اپنی غفلت کی یی؟ حالت اگر قائم رہی 
آئںی گے غسال کابل سے ،کفن جاپان سے
 
٭ ٭ ٭ ٭

ہم مشرق کے مسکنوکں کا دل مغرب مںا جا اٹکا ہے 
واں کنڑ سب بلوری ہںں یاں ایک پرانا مٹکا ہے 
اس دور مںب سب مٹ جائںہ گے، ہاں! باقی وہ رہ جائے گا 
جو قائم اپنی راہ پہ ہے اور پکا اپنی ہٹ کا ہے 
اے شخئ و برہمن، سنتے ہو! کاپ اہل بصر ت کہتے ہںج 
گردوں نے کتنی بلندی سے ان قوموں کو دے پٹکا ہے 
یا باہم پا ر کے جلسے تھے ، دستور محبت قائم تھا 
یا بحث مںا اردو ہندی ہے یا قربانی یا جھٹکا ہے
٭ ٭ ٭ ٭

''اصل شہود و شاہد و مشہود ایک ہے'' 
غالب کا قول سچ ہے تو پھر ذکر غر  کاہ 
کولں اے جناب شخپ! سنا آپ نے بھی کچھ 
کہتے تھے کعبے والوں سے کل اہل دیر کاے 
ہم پوچھتے ہںے مسلم عاشق مزاج سے 
الفت بتوں سے ہے تو برہمن سے برق کای! 
 
٭ ٭ ٭ ٭

ہاتھوں سے اپنے دامن دنان نکل گای 
رخصت ہوا دلوں سے خا ل معاد بھی 
قانونِ وقف کے لےل لڑتے تھے شخ  جی 
پوچھو تو، وقف کے لے  ہے جائداد بھی! 

٭ ٭ ٭ ٭

وہ مس بولی ارادہ خودکشی کا جب کا  مں  نے 
مہذب ہے تو اے عاشق! قدم باہر نہ دھر حد سے 
نہ جرأت ہے ، نہ خنجر ہے تو قصد خودکشی کسای 
یہ مانا درد ناکامی گاے تروا گزر حد سے 
کہا مںم نے کہ اے جاں جہاں کچھ نقد دلوا دو 
کرائے پر منگا لوں گا کوئی افغان سرحد سے 

 
٭ ٭ ٭ ٭

ناداں تھے اس قدر کہ نہ جانی عرب کی قدر 
حاصل ہوا یید، نہ بچے مار پٹ  سے 
مغرب مںا ہے جہاز با باں شتر کا نام 
ترکوں نے کام کچھ نہ لاہ اس فلٹا سے 

٭ ٭ ٭ ٭

ہندوستاں مںم جزو حکومت ہںل کونسلں  
آغاز ہے ہمارے سایسی کمال کا 
ہم تو فقرم تھے ہی، ہمارا تو کام تھا 
سںھت   سلقہی اب امرا بھی 'سوال' کا 
 
٭ ٭ ٭ ٭

ممبری امپیریل کونسل کی کچھ مشکل نہں' 
ووٹ تو مل جائںس گے ، پسےت بھی دلوائںھ گے کاں؟ 
مرٹزا غالب خدا بخشے ، بجا فرما گئے 
''ہم نے یہ مانا کہ دلی مںھ رہںک، کھائں  گے کاک؟''

٭ ٭ ٭ ٭

دلل  مہر و وفا اس سے بڑھ کے کال ہوگی 
نہ ہو حضور سے الفت تو یہ ستم نہ سہںل 
مصر ہے حلقہ ،کمیفت مںن کچھ کہں  ہم بھی 
مگر رضائے کلکٹر کو بھانپ لںس تو کہںں 
سند تو لے کل ، لڑکوں کے کام آئے گی 
وہ مہربان ہںی اب، پھر رہں ، رہںی نہ رہں  
زمنم پر تو نہںب ہندیوں کو جا ملتی 
مگر جہاں مںں ہں، خالی سمندروں کی تہیں 
مثال کشتی بے حس مطع  فرماں ہں  
کہو تو بستۂ ساحل رہںی ، کہو تو بہیں
 

٭ ٭ ٭ ٭

فرما رہے تھے شخر طریق عمل پہ وعظ 
کفار ہند کے ہںخ تجارت مںہ سخت کوش 
مشرک ہںد وہ جو رکھتے ہںی مشرک سے لن  دین 
لکنک ہماری قوم ہے محروم عقل و ہوش 
ناپاک چزر ہوتی ہے کافر کے ہاتھ کی 
سن لے، اگر ہے گوش مسلماں کا حق نوےش 
اک بادہ کش بھی وعظ کی محفل مںہ تھا شریک 
جس کے لےک نصحتا واعظ تھی بار گوش 
کہنے لگا ستم ہے کہ ایسے قوعد کی 
پابند ہو تجارت سامان خورد و نوش 
مںب نے کہا کہ آپ کو مشکل نہںظ کوئی 
ہندوستاں مںے ہں  کلمہ گو بھی مے فروش
 
٭ ٭ ٭ ٭

دیکھے چلتی ہے مشرق کی تجارت کب تک 
شیشۂ دیں کے عوض جام و سبو لتاا ہے 
ہے مداوائے جنون نشتر تعلمں جدید 
مر ا سرجن رگ ملت سے لہو لتا  ہے
گائے اک روز ہوئی اونٹ سے یوں گرم سخن 
گائے اک روز ہوئی اونٹ سے یوں گرم سخن 
نہںے اک حال پہ دنا  مںو کسی شے کو قرار 
مںں تو بد نام ہوئی توڑ کے رسی اپنی 
سنتی ہوں آپ نے بھی توڑ  کے رکھ دی ہے مہار 
ہند مںک آپ تو از روئے سانست ہںڑ اہم 
ریل چلنے سے مگر دشت عرب مںی بکایر 
کل تلک آپ کو تھا گائے کی محفل سے حذر 
تھی لٹکتے ہوئے ہونٹوں پہ صدائے زنہار 
آج یہ کال ہے کہ ہم پر ہے عنایت اتنی 
نہ رہا آئنۂ دل مںک وہ دیرینہ غبار 
جب یہ تقریر سنی اونٹ نے، شرما کے کہا 
ہے ترے چاہنے والوں مںر ہمارا بھی شمار 
رشک صد غمزۂ اشتر ہے تری ایک کللہ 
ہم تو ہںم اییت کللو ں کے پرانے بمالر 
ترے ہنگاموں کی تاثرس یہ پھیوں بن مںا 
بے زبانوں مںک بھی پدیا ہے مذاق گفتار 
ایک ہی بن مںہ ہے مدت سے بسرذا اپنا 
گرچہ کچھ پاس نہںی، چارا بھی کھاتے ہںی ادھار 
گوسفند و شتر و گاو و پلنگ و خر لنگ 
ایک ہی رنگ مں  رنگںد ہوں تو ہے اپنا وقار 
باغباں ہو سبق آموز جو یکرنگی کا 
ہمزباں ہو کے رہںو کویں نہ طو ر گلزار 
دے وہی جام ہمںن بھی کہ مناسب ہے ییا 
تو بھی سرشار ہو، تریے رفقا بھی سرشار 
''دلق حافظ بچہ ارزد بہ مشل رنگںی کن 
وانگہش مست و خراب از رہ بازار بایر''
 
٭ ٭ ٭ ٭

رات مچھر نے کہہ دیا مجھ سے 
ماجرا اپنی نا تمامی کا 
مجھ کو دیتے ہںا ایک بوند لہو 
صلہ شب بھر کی تشنہ کامی کا 
اور یہ بسوہ دار، بے زحمت 
پی گاب سب لہو اسامی کا
٭ ٭ ٭ ٭

یہ آیۂ نو ، جلا سے نازل ہوئی مجھ پر 
گتا  مںۂ ہے قرآن تو قرآن مںل گتای 
کاا خوب ہوئی آشتی شخا و برہمن 
اس جنگ مں  آخر نہ یہ ہارا نہ وہ جتای 
مندر سے تو بز ار تھا پہلے ہی سے 'بدری' 
مسجد سے نکلتا نہں ، ضدی ہے مسیتا'
 
٭ ٭ ٭ ٭


جان جائے ہاتھ سے جائے نہ ست 
ہے ییا اک بات ہر مذہب کا تت 
چٹّے بٹّے ایک ہی تھیا  کے ہں  
ساہو کاری، بسوہ داری، سلطنت

٭ ٭ ٭ ٭

محنت و سرمایہ دنار مں، صف آرا ہو گئے 
دیکھے ہوتا ہے کس کس کی تمناؤں کا خون 
حکمت و تدبر  سے یہ فتنۂ آشوب خزا 
ٹل نہں  سکتا ، وقد کنتم بہ تستعجلون، 
'کھل گئے، یاجوج اور ماجوج کے لشکر تمام 
چشم مسلم دیکھ لے تفسرا حرف 'ینسلون'
 
٭ ٭ ٭ ٭

شام کی سرحد سے رخصت ہے وہ رند لم یزل 
رکھ کے مخاےنے کے سارے قاعدے بالائے طاق 
یہ اگر سچ ہے تو ہے کس درجہ عبرت کا مقام 
رنگ اک پل مں  بدل جاتا ہے یہ نییش رواق 
حضرت کرزن کو اب فکر مداوا ہے ضرور 
حکم برداری کے معدے مںر ہے درد لایطاق 
وفد ہندستاں سے کرتے ہں  سرآغا خاں طلب 
کاد یہ چورن ہے پۓ ہضم فلسطنط و عراق؟
 
٭ ٭ ٭ ٭

تکرار تھی مزارع و مالک مں  ایک روز 
دونوں یہ کہہ رہے تھے، مرا مال ہے زمں  
کہتا تھا وہ، کرے جو زراعت اسی کا کھتا 
کہتا تھا یہ کہ عقل ٹھکانے تری نہںط 
پوچھا زمںو سے مںل نے کہ ہے کس کا مال تو 
بولی مجھے تو ہے فقط اس بات کا یںکا 
مالک ہے یا مزارع شوریدہ حال ہے 
جو زیر آسماں ہے ، وہ دھرتی کا مال ہے

 
٭ ٭ ٭ ٭

نئی تہذیب کے انڈے ہں  گندے 
الکشن، ممبری، کونسل، صدارت 
بنائے خوب آزادی نے پھندے 
مااں نجار بھی چھلے  گئے ساتھ 
نہایت تزب ہں  یورپ کے رندے

٭ ٭ ٭ ٭


کارخانے کا ہے مالک مردک ناکردہ کار 
عشر کا پتلا ہے، محنت ہے اسے ناسازگار 
حکم حق ہے لسا للا نسان الا ماسعی 
کھائے کوےں مزدور کی محنت کا پھل سرمایہ دار
 
٭ ٭ ٭ ٭

سنا ہے مں  نے، کل یہ گفتگو تھی کارخانے مںد 
پرانے جھونپڑوں مں  ہے ٹھکانا دست کاروں کا 
مگر سرکار نے کام خوب کونسل ہال بنوایا 
کوئی اس شہر مں  تکہا نہ تھا سرمایہ داروں کا

٭ ٭ ٭ ٭
 
مسجد تو بنا دی شب بھر مں  ایماں کی حرارت والوں نے 
من اپنا پرانا پاپی ہے، برسوں مںں نمازی بن نہ سکا 
کا  خوب امری فصلے کو سنوسی نے پغادم دیا 
تو نام و نسب کا حجازی ہے پر دل کا حجازی بن نہ سکا 
تر آنکھں  تو ہو جاتی ہںا، پر کا  لذت اس رونے مںی 
جب خون جگر کی آمز ش سے اشک پارزی بن نہ سکا 
اقبال بڑا اپدیشک ہے من باتوں مں  موہ لتا  ہے 
گفتار کا یہ غازی تو بنا ،کردار کا غازی بن نہ سکا

***
تشکّر: علاّمہ اقبال ڈاٹ کام
مزید ٹائپنگ: مہوش علی، سیّدہ شگفتہ
پروف ریڈنگ اور ای بک: اعجاز عبید