﻿

بچوں کے ترانے



جمع و ترتیب: سیدہ شگفتہ







الف سے اللہ

سُہیل رعنا


الف سے نام لیں اللہ کا
پھر شروع کریں سب کام
اس سے امی ابو خوش
یہ سب سے بڑا انعام
٭٭٭




دُعا کو ہاتھ اُٹھائیں



آؤ دُعا کو ہاتھ اُٹھائیں
گیت خُدا کے مل کر گائیں

اے مالک! رکھ یاد ہماری
سُن لے تُو فریاد ہماری

بخش ہمیں اب علم کی دولت
بخش ہمیں اب عقل کی نعمت

راستہ سیدھا ایک دِکھا دے
ہم سَب کو تُو نیک بنا دے

آؤ دُعا کو ہاتھ اُٹھائیں
گِیت خُدا کے مِل کر گائیں
٭٭٭



میرے خُدا

میرے خُدا ، میرے خُدا
تُو ہے بڑا سَب سے بڑا

تُو نے مُجھے پیدا کیا
تُو نے مُجھے سَب کُچھ دیا

چھوٹا ہُوں میں تُو ہے بڑا
ہو شُکر پھر کیسے ادا

میرے خُدا ، میرے خُدا
سُنتا ہے تُو سَب کی دُعا

اِس بات کی توفیق دے
کرتا رہوں سب کا بَھلا

ہر ایک کی خدمت کروں
ہر ایک کے کام آؤں سَدا

نیکی کا ہے جو راستہ
وُہ راستہ مُجھ کو دِکھا

میرے خُدا ، میرے خُدا
سُن لے دُعا ، سُن لے دُعا
٭٭٭


اَے دو جہاں کے والی

اَے دو جہاں کے والی
رُتبہ تیرا ہے عالی

آیا ہُوں تیرے دَر پر
رَحمت کی اِک نظر کر

سب دُور کر بَلائیں
سب بخش دے خَطائیں

میں نیک نام پاؤں
دُنیا کے کام آؤں

اے دو جہاں کے مَولا
رَحمت ہے کام تیرا
٭٭٭



آؤ کریں ہم شُکر ادا

سب کو پیدا کیا خُدا نے
سب کچھ ہم کو دیا خُدا نے

پیارے پیارے پیڑ اور پودے
جھیلیں ، دریا ، ندی نالے

چمکیں سُورج ، چاند ، ستارے
لگتے ہیں جو کتنے پیارے

اس کی ہر اِک نعمت کا
آؤ کریں ہم شُکر ادا
٭٭٭


یا رب

ساقی جاوید

اللہ تُو ہے رحمت والا
نام ہے تیرا برکت والا

دیتی ہے ہر چیز گواہی
پاک ہے تیری ذات الٰہی

تُو ہی مالک ، تُو ہی رب ہے
مولا ! تیری شان عجب ہے

چاند اور سُورج ، پھُول اور تارے
تُو نے بنائے کتنے پیارے

ہم کو سیدھی راہ دکھانا
نیکی کے رستے پہ چلانا

ہمت دینا ، عزت دینا
علم کی یارب دولت دینا
٭٭٭


لڑنا بھڑنا کام بُرا ہے

لڑنا بھڑنا کام بُرا ہے
لڑنے کا انجام بُرا ہے

آپس میں مل جُل کر رہنا
جھُوٹی بات نہ منہ سے کہنا

کرتے رہو ماں باپ کی خدمت
ماں کے پاؤں تلے ہے جنت

اپنے بڑوں کا کہنا مانو
دل سے اُن کو اچھا جانو

کام کی ہیں یہ ساری باتیں
کیسی پیاری پیاری باتیں
٭٭٭



نبی ہمارے

صُوفی غلام مُصطفیٰ تبسم 


نبی ہمارے ، نبی ہمارے
وہ حق کی باتیں بتانے والے
وہ سیدھا رستہ دکھانے والے
وہ راہبر ، راہنما ہمارے
نبی ہمارے ، نبی ہمارے
دُرُود اُن پر ، سلام اُن پر

بلند،نبیوں میں نام اُن کا
فلک سے اُونچا مقام اُن کا
ہمارے ہادی ، خُدا کے پیارے
نبی ہمارے ، نبی ہمارے
دُرُود اُن پر ، سلام اُن پر

اُنھی کی خاطر دمک رہے ہیں
اُنھی کے دم سے چمک رہے ہیں
زمیں کے ذرے ، فلک کے تارے
نبی ہمارے ، نبی ہمارے
دُرُود اُن پر ، سلام اُن پر

اُنھی کی سرکار کے گدا ہیں
اُنھی کے دربار کے گدا ہیں
جہاں کے یہ تاج دار سارے
نبی ہمارے ، نبی ہمارے
دُرُود اُن پر ، سلام اُن پر
٭٭٭

آؤ مل کر کام کریں

صُوفی تبسم

آؤ مل کر کام کریں
آؤ مل کر کام کریں

دولت وہ جو سب کی دولت
عزت وہ جو سب کی عزت

مل کر پیدا نام کریں
آؤ مل کر کام کریں

مل کر محنت کرنے والو !
محنت کا دم بھرنے والو !

محنت صبح و شام کریں
آؤ مل کر کام کریں	٭٭٭



اس دل کو چمکا دے اللہ

رئیس فروغ

اس دل کو چمکا دے اللہ
سیدھی راہ دکھا دے اللہ

محنت ہو پہچان ہماری
دنیا دیکھے شان ہماری
دیکھیں ہم کو چاند اور تارے
اپنے کرم سے دل میں ہمارے
سب کا پیار بسا دے اللہ

خدمت کی عظمت کو جانیں
جتنے فرض ہیں ان کو مانیں
عادت سب سے اعلیٰ دے دے
نیکی کا اُجیالا دے دے
یوں تقدیر بنا دے اللہ
٭٭٭


دریا رواں دواں ہے

عباس العزم


ہر سُو ہے پانی پانی
موجوں کی ہے روانی

ہر موج نغمہ خواں ہے
دریا رواں دواں ہے

کیا خوب کشتیاں ہیں
دیکھو یہاں وہاں ہیں

موجوں کا کارواں ہے
دریا رواں دواں ہے

ملّاح گا رہے ہیں
کشتی چلا رہے ہیں

ہر شخص شادماں ہے
دریا رواں دواں ہے

شاداب ہیں کنارے
ہیں خوشنما نظارے

کیا دل رُبا سماں ہے
دریا رواں دواں ہے

منظر بہت حسیں ہے
خاکستری زمیں ہے

نیلا وہ آسماں ہے
دریا رواں دواں ہے 	٭٭٭


ماں


ماں اِک ایسی نعمت ہے
جس کے دل میں شفقت ہے

رہتی ہے وہ بے آرام
کرتی ہے وہ دن بھر کام

بچوں کو رکھتی ہے عزیز
ان کو کھلاتی ہے ہر چیز

پھرتی ہے یوں تھکن اُٹھائے
ماتھے پر وہ شکن نہ لائے

کوئی نہیں ہے اُس کا ثانی
کہلاتی ہے دادی نانی

پیروں تلے ہے اُس کے جنت
بچوں سے کرتی ہے محبت
٭٭٭



ہمیں ایک کر دے

تُو نے بنائی دُنیا
تُو نے بسائی دُنیا

کلیاں بنائی تُو نے
ندیاں بنائی تُو نے

یہ چاند اور سِتارے
تُو نے بنائے سارے

اِنساں بنائے تُو نے
حیواں بنائے تُو نے

یہ آسماں بنایا
سارا جہاں بنایا

ہم سب کا تُو خُدا ہے
تُجھ سے یہی دُعا ہے

ہم سب کو ایک کر دے
ہم سب کو ایک کر دے
٭٭٭


اَے خُدا تیری رحمت

اے خُدا تیری رحمت ہمیں چاہیے
اِک تیری عنایت ہمیں چاہیے

یاد رکھیں سبھی تیرے فرمان ہم
ساری دُنیا میں ہوں تیری پہچان ہم

اے خُدا ایسی حکمت ہمیں چاہیے
اِک تیری عنایت ہمیں چاہیے

عِلم جیسی کوئی اور نعمت نہیں !
عِلم سے بڑھ کے دُنیا میں دولت نہیں

اے خُدا بس یہ دولت ہمیں چاہیے
اِک تیری عنایت ہمیں چاہیے
٭٭٭


آؤ۔۔اِک نئی دُنیا تعمیر کریں !


چلتا رہے گا یہ سفر
چلتا رہے گا کارواں

بس جائے کچھ ایسا جہاں
اتفاق کے بندھن وہاں

ہاتھوں میں ہاتھ کو تھام کر
چلو آج اِک وعدہ کریں

رشتہ ہے خوشبو اور پھُول کا
ویسا ہی انسانوں میں ہو

قدموں سے ہو کر ہم قدم
چلو آج اِک وعدہ کریں

برداشت پروانے کی ہے
جگنو سے جل جانے کی ہے

دنیا کو رنگنا ہے اگر
اتفاق کے رنگوں سے رنگ

جو دلوں کو صاف ہی رکھنا ہو
تو جواب ظلم کا ظلم نہ ہو
کہ نفس پہ قابو ضرور ہو

چلو آج اک وعدہ کریں
ہم دلوں سے کینہ و بغض کو
کریں دُور تو کچھ بات ہے
ہو جہاں میں امن کیا بات ہے
دعا کرنا ایسے جہان کی
جہاں ہوں دُعائیں امان کی
جہاں بات بات میں پھول ہوں
جہاں نفرتیں بنی دھُول ہوں

چلو آج اِک وعدہ کریں
برداشت کریں ، برداشت ، برداشت کریں
٭٭٭


پیارے بچّو !

غنی دہلوی

پاکستان کے جیالے بچّو
دریا بن کر نُور کا پھیلو

اپنے وطن کے پیارے بچّو
سُورج بن کر گھر گھر چمکو

کپڑے پہنو صاف اور سُتھرے
بن کر رہو تُم دن بھر اُجلے

نِکھرے نِکھرے آؤ نظر تُم
ایسے چمکو جیسے انجم

اُبھرو گے تُم سُورج بن کر
جاؤ گے اِک دن چاند کے اُوپر

چمکو بن کے چاند ستارے
چہرے ہوں پُر نُور تمہارے

تُم ہی ہو تنویر وطن کی
تُم ہی ہو تقدیر وطن کی

اپنی کاوش، اپنی محنت
اپنے بازو ، اپنی طاقت

راہِ عمل میں قدم بڑھاؤ
اپنے وطن کو اور سجاؤ

منزل منزل بڑھتے جاؤ
پربت پربت چڑھتے جاؤ

اپنے وطن کے نغمے گاؤ
علم و عمل کی شمع جلاؤ
٭٭٭

ماں

عارف شفیق

ہو گئے جواں بچے ، بوڑھی ہو رہی ہے ماں
بے چراغ آنکھوں میں خواب بو رہی ہے ماں

روٹی اپنے حصے کی دے کے اپنے بچوں کو
صبر کی ردا اوڑھے بھوکی سو رہی ہے ماں

دیکھ کر بہو کو ، کیا یاد آ گیا اس کو
کن حسین خوابوں میں آج کھو رہی ہے ماں

سانس کی مریضہ ہے پھر بھی ٹھنڈے پانی سے
کتنی سخت سردی میں کپڑے دھو رہی ہے ماں

منتظر نگاہیں ہیں ، لب پہ بس دعائیں ہیں
پل دو پل بھی بچوں سے دور جو رہی ہے ماں

کھیلنے سے جو مجھ کو روکتی تھی مٹی میں
اوڑھ کر وہی مٹی آج سو رہی ہے ماں

غیر کی شکایت پر ، پھر کسی شرارت پر
مار کر مجھے عارف خود بھی رو رہی ہے ماں
٭٭٭

علم

عباس العزم



باعثِ تکریم و عزت علم ہے
سر پہ دستارِ فضیلت علم ہے

اپنی دنیا ہے اسی سے رشکِ خُلد
اس جہاں میں ایک نعمت علم ہے

فیض ہے اللہ کا انسان پر
باعثِ فیضانِ رحمت علم ہے

اہلِ دنیا کے لیے اے دوستو!
تحفہ گلزارِ جنت علم ہے

خرچ کرنے سے کمی آتی نہیں
دوستو ! کیا خوب دولت علم ہے

زندگی کی ہر شبِ تاریک میں
مشعلِ راہِ ہدایت علم ہے

آدمی اس کی بدولت ہے عظیم
بے گُماں مینارِ عظمت علم ہے
٭٭٭

آج

عباس العزم

بات یہ میری سن لو آج
علم کے موتی چُن لو آج

آج ترقی کا پیغام
آج سے قائم صبح و شام

کل پر مت ٹالو اب کام
آج کرو اپنا سب کام

آج کا ہر لمحہ انمول
آج کرو مت ٹال مٹول

آج جو ہو گے غافل تم
رہ جاؤ گے جاہل تم

بعد میں پھر پچھتاؤ گے
لیکن "آج" نہ پاؤ گے

آج کی تم اب قدر کرو
اپنی محنت نذر کرو

آج کی ہر محنت مقبول
آج کے دامن میں ہے پھول

جو کرنا ہے کر لو آج
پھول سے دامن بھر لو آج
٭٭٭


وطن

ڈاکٹر خواجہ عابد نظامی


وطن پیارا پیارا ، ہے آنکھوں کا تارا
وطن کے لیے ہم ، وطن ہے ہمارا
ہمارا وطن ہم کو ہر شئے سے پیارا
ہمارا وطن جان و دل کا سہارا

وطن پیارا پیارا

وطن کی بدولت ہے عزت ہماری
وطن کی بدولت ہے عظمت ہماری
وطن کی بدولت ہے شوکت ہماری
ہمارا وطن ہم کو جاں سے بھی پیارا

وطن پیارا پیار

ہمیں یہ وطن چین و جاپاں سے بڑھ کر
ہمیں یہ وطن ہند و یوناں سے بڑھ کر
ہمیں یہ وطن تاجکستاں سے بڑھ کر
کرے تو کوئی آ کے اس کا نظارا

وطن پیارا پیارا

ہمارے وطن میں ہیں شاداب صحرا
ہمارے وطن میں ہیں کوہ اور دریا
ہمارے وطن کی ہے مٹی بھی سونا
ہے جنت کا ٹکڑا وطن یہ ہمارا

وطن پیارا پیارا

یہ قائد کی محنت سے ہم کو ملا ہے
تخیل یہ علامہ اقبال کا ہے
خدا نے بہت فضل ہم پر کیا ہے
دیا ہے ہمیں یہ وطن پیارا پیارا

وطن پیارا پیارا
٭٭٭


دیدہ بینائے ملّت

پروفیسر محمد ظریف خان

دیدہ بینائے ملت حضرتِ اقبال ہیں
قابل تقلید اُن کے سارے ہی اقوال ہیں

شاعرِ رنگیں نوا تھے اور مفکر آپ تھے
حق پرستی اور سچائی کا پیکر آپ تھے

مومنِ صادق تھے اور عاشق رسول اللہ کے
اور ناموسِ رسالت کے مبلّغ بھی بنے

ملکِ پاکستان ان کے خواب کی تعبیر ہے
جس کی بنیادوں میں اُن کا جذبہ تعمیر ہے

نوجوانوں کو دیا شاہین کا کیسا خطاب
اس کا مطلب تھا ، کریں پرواز وہ مثلِ عُقاب

شاعری ہے اُن کی آفاقی ، جسے بچّو ! پڑھو
اُس کو پڑھ لو ، تا کہ اِک انسان بہتر تم بنو

درسِ خدمت دے رہی ہے نظم "ہمدردی" ہمیں
اور سبق یہ ہے کہ ہم بھی اوروں کی خدمت کریں

کیا بتاؤں میں ، مرے اقبال کی کیا شان ہے ؟
زیست اُن کی ، اچھے مُسلم کی بھی اک پہچان ہے
٭٭٭


اپنا وطن


سرشار صدیقی

ساحل موج اُڑاتا ہے
گیت سمندر گاتا ہے
خوش حالی اس کی پہچان
یہ ہے اپنا پاکستان

کھیتوں میں ہریالی ہے
بھری ہوئی ہر بالی ہے
بھرے ہوئے کھلیان
یہ ہے اپنا پاکستان

الفت ہے ، یکجائی ہے
ہر اک بھائی بھائی ہے
اس میں بستے ہیں انسان
یہ ہے اپنا پاکستان

سبزہ ، میداں اور بازار
دریا ، نہریں اور کہسار
صحرا ، جنگل ، ریگستان
یہ ہے اپنا پاکستان
٭٭٭



ماں باپ کی محبت

عبد الحفیظ ظفر


انمول ہے یقیناً ماں باپ کی محبت
وہ خوش نصیب ہے جو پاتا ہے ان کی شفقت

ماں باپ گر ہوں زندہ تو کوئی غم نہیں ہے
ان کا وجود بچو! جنت سے کم نہیں ہے

کرتا ہے جو ہمیشہ ماں باپ کی اطاعت
ملتی نہیں پھر اُس کو اس زندگی میں ذلت

کتنی ہی مشکلیں ہوں ، طوفاں ہو یا بلائیں
انساں کو ہیں بچاتی ماں باپ کی دعائیں

رہتا ہے اُس بشر پر پیارے نبی کا سایا
ماں باپ کا کبھی دل جس نے نہیں دُکھایا

اس آدمی سے پوچھو ماں باپ کی حقیقت
جس کو نہیں میسر یہ لاجواب نعمت

روشن ظفر ہے ان کی تقدیر کا ستارا
بنتے ہیں جو بھی اپنے ماں باپ کا سہارا
٭٭٭

ماں وقارِ ہستی ہے

لبنیٰ بدر

ماں ہماری وقار ہستی ہے
ان کے دم سے بہارِ ہستی ہے

رات دن کتنا کام کرتی ہیں
گھر کو جنت مقام کرتی ہیں

ہے انھیں فکر دادا ، دادی کی
چُنّی ، مُنّی کی ، شیری ، سعدی کی

بانٹیں سب ہی کو چاہتیں یکساں
پوری ہوں سب کی غایتیں یکساں

سارے گھر بھر کی چارہ گر ہمدم
اپنے پیاروں سے باخبر ہر دَم

کچھ صلہ ہم بھی دے دیں چاہت کا
حق ادا کر دیں ان کی محنت کا

با ادب ، با وقار بن جائیں
ماں کے دل کا قرار بن جائیں
٭٭٭


اللہ کا بندہ


مشتاق حسین قادری کاشمیری


جو رب کا بندہ ہے ، وہ ہے نیک خُو
اسے نیکی کرنے کی ہے جستجو

ہر اک کو گلے سے لگاتا ہے وہ
سبق چاہتوں کا پڑھاتا ہے وہ

وہ کانٹوں میں ہے اک مہکتا گلاب
نہیں اس کا ہر گز کہیں بھی جواب

دعائیں وہ لیتا ہے ہر ایک کی
ہے نیکی سے اس کی فقط دوستی

تمنا ہے مشتاق اچھا بنوں
غریبوں کی میں دل سے خدمت کروں
٭٭٭


پیار سے رہیے

ضیاء الحسن ضیاء


پیار سے رہیے ، محبت کیجیے
اس جہاں سے ختم نفرت کیجیے

کیجیے چھوٹوں سے شفقت کیجیے
جو بڑے ہیں اُن کی عزت کیجیے

خوب کیجیے علم حاصل اور پھر
عام دنیا میں یہ دولت کیجیے

روشنی پھیلائیے کردار کی
آپ ہر دل پر حکومت کیجیے

سر زمینِ پاک امانت رب کی ہے
ہر طرح اس کی حفاظت کیجیے

مانیے ماں باپ کے احکام کو
اپنے اُستادوں کی خدمت کیجیے

ساتھ رہیے نیک لوگوں کے ضیاء
ہر بُرائی کی مذمت کیجیے
٭٭٭


آرزو


کرشن پرویز 

خدایا ! ملے علم کی روشنی
منور ہو اس سے مری زندگی

چلوں نیک رستے پہ میں عمر بھر
ہو اپنی کمائی پہ میری گزر

جہاں میں سبھی سے ملوں پیار سے
نہ چھوٹا کروں دل کبھی ہار سے

بدی سے بچوں ، میں بھلائی کروں
نہیں بھول کر بھی برائی کروں

یہ توفیق دینا مجھے اے خدا
کروں فرض دنیا میں اپنا ادا

ہے پرویز کی بس یہی آرزو
ملے تیرا جلوہ اسے چار سُو
٭٭٭

دعا

محمد مشتاق حسین قادری


مانگتے ہیں یہ دعا اے خدا ! منظور کر
نور ایماں کر عطا ، سب ظلمتیں کافور کر

ہم ترے لطف و کرم کے سب ہیں طالب اے خدا !
یہ ہمارے دل خدایا ! نور سے معمور کر

ہاتھ پھیلائے ہوئے آئے ہیں ہم در پر ترے
مہربانی کر ہماری تنگ دستی دور کر

نام پر اسلام کے تو نے ہمیں بخشا وطن
تو اسے قرآن کی تنویر سے پُر نور کر

یا الٰہی ! رحم فرما پیارے پاکستان پر
ہر مصیبت ، ہر پریشانی تو اس سے دور کر

آج اس پیارے وطن میں ظلم و استبداد ہے
دور اس کے جسم سے یہ بد نما ناسور کر

تیری نصرت ہر لمحہ ، ہر آن اس کے ساتھ ہو
اپنی رحمت سے اسے مسعود کر ، منصور کر

یہ عظیم الشان ہو ، مشتاق اور اہل وطن
مانگتے ہیں یہ دعا ہم اے خدا ! منظور کر
٭٭٭


برائی کا انجام

شمس القمر عاکف


برائی کے رستے پہ جو بھی چلے گا
ہمیشہ وہ نقصان اپنا کرے گا

نہ دنیا میں ہو گی کبھی اُس کی عزت
نہ ہی جان اور مال میں کوئی برکت
کرے گا یہاں ہر کوئی اس سے نفرت

سبھی کی نظر میں وہ نیچا رہے گا
ہمیشہ وہ نقصان اپنا کرے گا

ستاتا ہے دنیا میں جو ہر کسی کو
جو کرتا ہے ناخوش خدا اور نبی کو
خدا کیوں نوازے گا اس آدمی کو

جو بوئے گا کانٹے تو کانٹے چنے گا
ہمیشہ وہ نقصان اپنا کرے گا

بری شئے ہے اے نونہالو ! برائی
برائی میں کیا ہے ، فقط جگ ہنسائی
بڑوں نے ہے یہ بات سچ ہی بتائی

برا آدمی ہو کے رُسوا مرے گا
ہمیشہ وہ نقصان اپنا کرے گا
٭٭٭



فروری

محمد ظریف خان


سال کا پہلا مہینہ ہے اے بچو ! جنوری
جب کہ اس کے بعد آتا ہے ہمیشہ فروری

اس کے دن اٹھائیس ہوتے ہیں عموماً سال میں
لوند کا ہو گر برس ، انتیس ہیں ہر حال میں

یہ خزاں کا ہے مہینہ ، بعد جس کے ہے بہار
جو عطا کرتی ہے جنگل اور صحرا کو نکھار

جو ہیں تنخواہ دار ، اُن کو یہ بہت محبوب ہے
اس مہینے جلد ، ہر نوکر کو اُجرت جو ملے

محنتی بچے کیا کرتے ہیں اس کا انتظار
کیوں کہ اس کے بعد ہے پھر امتحانوں کی بہار

مارچ میں ہوتے ہیں پرچے اور نتیجہ بھی ملے
اس کا وہ پھل پائے گا ، جو خوب محنت بھی کرے

سال کے سارے مہینے ہیں خدا کی ہی عطا
اُن میں جو کچھ فائدہ ہے ، بس وہی ہے جانتا
٭٭٭


قائد اعظم

انجم رومانی

اس شخص کی آنکھوں میں
اک عزم کا شعلہ تھا

جو آگ لگاتا تھا
ٹھٹھرے ہوئے سینوں میں

اس شخص کی باتوں میں
اک نور تیقن تھا

جو چاند اگاتا تھا
بے نور جبینوں میں

باطل سے نہ ڈرتا تھا
حق بات پہ اڑتا تھا

اللہ سے ڈرتا تھا
جو کہتا تھا وہ کرتا تھا

میں نے اسے دیکھا تھا
اک شخص تھا دُبلا سا

اس شخص کے سینے میں
دل میرا دھڑکتا تھا
٭٭٭



پیامِ سحر

ایس مغنی حیدر


سحر ہو گئی ہے ، اُٹھو سونے والو !
یونہی وقت بے کار ، اے کھونے والو !

بہت سو چکے اب نہ بستر ٹٹولو
تغافل نہ برتو ، ذرا آنکھ کھولو

اندھیرے نے دنیا سے خیمے اٹھائے
اُجالے نے ہر سمت ڈیرے جمائے

ہوائے سحر لے کے پیغام آئی
نیا دن ، نئی زندگی ساتھ لائی

شگفتہ چمن میں نئی شان دیکھو
اُٹھو ، اُٹھ کے قدرت کا سامان دیکھو

ملا چاند کو نور جس کی نظر سے
وہ اب آنے والا ہے مشرق کے دَر سے

دعا مانگ حیدر ، مبارک گھڑی ہے
زہے منتظر شانِ رحمت کھڑی ہے
٭٭٭


محنت

خواجہ الطاف حسین حالی


وہی لوگ پاتے ہیں عزت زیادہ
جو کرتے ہیں دنیا میں محنت زیادہ

اسی میں ہے عزت خبردار رہنا
بڑا دکھ ہے دنیا میں بیکار رہنا

زمانے میں عزت ، حکومت یہی ہے
بڑی سب سے دنیا میں دولت یہی ہے

ہری کھیتیاں جو نظر آ رہی ہیں
ہمیں شان محنت کی دکھلا رہی ہیں

جو محنت نہ ہوتی تجارت نہ ہوتی
کسی قوم کی شان و شوکت نہ ہوتی

ہمارا ، تمہارا ، سہارا یہی ہے
اندھیرے گھروں کا اُجالا یہی ہے

جو ہاتھوں سے اپنے کمایا وہ اچھا
جو ہو اپنی محنت کا پیسہ وہ اچھا

مری جان غافل نہ محنت سے رہنا
اگر چاہتے ہو فراغت سے رہنا
٭٭٭


محنت


    محنت ہر دم کرتے جاؤ
    آگے سب سے بڑھتے جاؤ

    محنت میں ہے عزت بچو !
    محنت میں ہے شہرت بچو !

    محنت میں ہے دولت بچو !
    محنت میں ہے راحت بچو !

    محنت سے تم مت گھبراؤ
    محنت سے تم جی نہ چراؤ

    محنت ہے انسان کا زیور
    محنت ہے عظمت کا محور

    جس نے محنت کو اپنایا
    اس نے محنت کا پھل پایا
٭٭٭

ٹائپنگ: سیدہ شگفتہ
ماخذ:
http://www.urduweb.org/mehfil/forumdisplay.php?11
تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید
