﻿

بحر و ارض 




مرتبہ: عالمی قرآن وسنت میں سائنسی اعجاز بورڈ








روئے زمین کا سب سے زیادہ نشیبی حصہ (علاقہ)


 ارشاد ربانی ہے۔ 

{ غلبت الروم (2) فی  أدنی الأرض وہم من بعد غلبہم سیغلبون(3) فی بضع سنین للہ الأمر من قبل ومن بعد ویومئذ یفرح المؤمنون(4)}  
سورة الروم.

روم زمین کے ادنی حصہ میں مغلوب ہوں گے اور مغلوبیت کے بعد چند سال کے اندر پھر غالب ہوں گے۔ پہلے اور بعد کے تمام حکم اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے اور اس روز مؤمنین خوشی منائیں گے۔ 

سائنسی حقیقت:

        تاریخی مصادر میں مملکت بیزنطیہ  جو رومی سلطنت کا مشرقی حصہ ہے۔ کے درمیان ہونے والی جنگ کا تذکرہ ہے۔  اور یہ جگہ مقام اذرعات اور بصری کے درمیان بحر میت کے قریب ہے۔ ۔ سنہ619ء میں ہونے والی جنگ مین فارسیوں نے روم پر عظیم فتح حاصل کی۔

   اور بیزنطینی رومیوں کو اس جنگ میں زبردست نقصان برداشت کرنا بڑا۔ ان تمام معاصرین کو اس جنگ کے نتیجہ میں اس کا اندیشہ تھا۔ کہ مملکت بازنطینیہ اس معرکہ کے بعد بالکل ختم ہو جائے گی۔  لیکن غیر متوقع طور پر دسمبر 627 ء میں بازنطینیوں اور فارسیوں کے درمیان نینوا کے مقام پر ایک اور جنگ ہوئی جس میں رومیوں نے فارس کوشکست دی۔اور چند ماہ کے بعد فارسی لوگ بازنطینہ کے ساتھ معاہدہ کرنے پر مجبور ہو گئے۔  جس کی بنیاد پر وہ تمام علاقے ان کو واپس کرنے پڑے جو انھوں نے گذشتہ جنگ میں حاصل کئے تھے۔ 

عالمی پیمانے پر نشیبی زمین کی جغرافیائی تصویریں اس بات کی وضاحت کرتی ہیں کہ زمین کاسب سے نشیبی حصہ وہ حصہ ہے جو بحر میت کے قریب فلسطین میں ہے۔  جو سطح سمندر سے 395 میٹر گھرا ہے۔   

 سبب اعجاز:

مندرجہ بالا آیات میں معجزہ کے دو اسباب ہیں۔ پہلا یہ کہ قرآن کریم نے روم کی شکست فاش کے چند سال بعد پھر فارس پر ان کے غلبہ اور فتح کی پیشین گوئی کی ہے۔ جس کے لئے قرآن میں بضع کا لفظ استعمال ہوا ہے۔  اور یہ کلمہ عربی زبان میں پانچ اور سات یا ایک اور نو کے عدد کے درمیان کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔  اور قرآن کریم کی پیشین گوئی سات سال کے بعد پوری ہوئی، اور فارس اور روم کے درمیان 627 ء میں دوسری جنگ ہوئی جس میں روم کو فتح حاصل ہوئی، اس کے ساتھ اگر غزوۂ بدر میں مشرکین قریش پر مسلمانوں کی فتح کو جوڑ کر دیکھا جائے جو مشرکین عرب کے نزدیک ایک نا ممکن بات تھی یہاں تک کہ انھوں نے قرآن کریم کی ان آیات کا مذاق اڑایا، اور مسلمانوں کے لئے اس گمان شدہ فتح پر رہن دیے تک کا خطرہ مول لیا، لیکن ان کے تمام گمان غلط ہوئے اور قرآن کریم کا معجزہ اس وقت سامنے آگیا جب لوگوں نے پہلے سے روم کی فتح کی خبر دی۔

آیات میں معجزہ کا دوسرا سبب یہ ہے کہ  قرآن کریم نے ایک جغرافی حقیقت کا اس وقت انکشاف کیا جب لوگ اس سے بالکل نا واقف تھے۔  قرآن کریم کے مطابق رومیوں کو زمین کے "ادنی" علاقہ میں شکست ہوئی اور لفظ "أدنیٰ" عربی میں اقرب، اور سب سے زیادہ نشیبی، دونوں معنوں میں آتا ہے تو ایک اعتبار سے یہ علاقہ جزیرةالعرب کے سب سے زیادہ قریب ہے ، اور دوسرے اعتبار سے یہ زمیں کا سب سے زیادہ نشیبی علاقہ ہے۔  جو سطح سمندر سے 1321 فیٹ (تقریباً 400 میٹر) گھرا ہے ، اور سٹلائٹ کے انکشاف کے اعتبار سے خشکی پر یہ سب سے زیادہ نشیبی علاقہ ہے ، جیسا کہ انسائیکلوپیڈیا  برٹانیکا میں مذکور ہے۔   تاریخ بھی اس پر شاہد ہے کہ یہ جنگ بحر میت کے گھرے حصہ میں ایسی جگہ ہوئی جو سب سے زیادہ نشیب میں ہے۔  جو عصر جدید کے آلات سے بھی جس کا صحیح اندازہ نہیں کیا جا سکتا۔ اس لئے اس وقت یہ نا ممکن چیز تھی کہ یہ دنیا کا سب سے نشیبی حصہ ہے ، کیا یہ اس بات کی دلیل نہیں ہے۔   کہ قرآن کریم  اللہ کی جانب سے نازل شدہ وحی ہے۔   ارشاد ربانی ہے ،( وقل الحمد للہ سیریکم آیاتہ فتعرفونہا ) اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ فرما دیجئے کہ شکر ہے اس اللہ جل شانہ کا جو عنقریب تم سب کو اپنی نشانیاں دکھا دے گا، پس تم عنقریب اس کو جان جاؤ گے ۔
٭٭٭



پہاڑ شکل و صورت اور کام کے اعتبار سے بڑی میخیں


   ارشاد ربانی ہے :

"والجبال أوتاداً"

(سورة النبأ آیة 7)

ترجمہ:اور کیا ہم نے پہاڑوں کو (زمین کی) میخیں نہیں بنایا؟

 (سورة النبا آیت 7)

سائنسی حقیقت:

 پہاڑوں کے متعلق بہلے صرف اتنا علم تھا کہ سطح زمین سے بلند بہت ساری اونچی اونچی چٹانیں ہیں۔  اور اس وقت تک یہی مشہور تھا جبکہ بیئر بوگر نے 1835ء میں اس کی طرف اشارہ کیا کہ انڈینز پہاڑوں کے سلسلے کی قوت جذب اتنے بڑے چٹانوں کے مجموعے سے متوقع قوت کے مقابلہ میں بہت کم ہے۔  اور اس نے یہ تجویز پیش کی کہ بڑا پہاڑی سلسلہ انہیں پہاڑوں سے بنایا جائے تا کہ جاذبیت کی مقدار میں شذوذ کی تشریح مکمل ہو اور انیسویں صدی کے وسط میں جورج ایوریسٹ نے پمالیہ پہاڑ میں دو مختلف جگہوں پر جاذبیت کے ناپنے کے نتائج کے سلسلے میں شذوذ کی طرف اشارہ کیا ، اور ایوریسٹ بھی اس حقیقت کو واضح نہ کر سکا تو اس نے اس کا نام ہندوستانی معمہ رکھ دیا اور 1865ء میں جورج ابری نے یہ اعلان کیا کہ کرّۂ ارض پر تمام پہاڑی سلسلے زمین کے نچلے چھلکے کے مادوں سے سمندر کے اوپر تیر رہے ہیں اور یہ موجودہ مادے پہاڑی مادوں کے مقابلے میں زیادہ کثیف ہیں۔  اسی وجہ سے پہاڑوں کو اتنی ہیئت اور سیدھا پن برقرار رکھنے کے لئے ان زیادہ کثافت والے مادوں میں مل جانا ضروری ہے    (سورة النبا آیت 7)

       اسی طرح بتدریج جیولوجی علم نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ زمینی پرت ملے ہوئے قریبی ٹکڑوں سے عبارت ہے جن کو ہم الواح (تختیاں) یا ٹھرے ہوئے پٹرے کہہ سکتے ہیں اور بڑے پہاڑ معمولی چٹانوں کے مقابلے میں جو ان سے زیادہ کثیف ہوتی ہیں جو کسی سمندر پر ختم ہوتے ہیں۔  اور پہاڑوں کی بھی جڑیں ہوتی ہیں جو ختم ہونے میں اور ان تختیوں کے جمنے میں معاون ثابت ہوتی ہیں تاکہ پہاڑ تل نہ سکے۔  وان انگلن(Van Anglin) نے اپنی تصنیف (Geomorphology) شائع شدہ 1948ء کے ایڈیشن صفحہ 27 پر رقم طراز ہے " کہ اب یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ روئے زمین کے اوپر ہر پہاڑ میں ایک جڑ کا پایا جانا ضروری ہے جہاں تک زمینی پرت کے جمانے میں پہاڑوں کا کردار ہے تو زمیں کے ہائیڈرو اسٹیٹی توازن کے اصول سے اس کی تائید ہوتی ہے جیسا کہ امریکی جیولوجسٹ ڈیٹون(Dutton) نے 1889ء میں اس کا ذکر کیا ہے جو یہ ثابت کرتا ہے کہ پہاڑی بلندیاں اپنی بلندی کے اعتبار سے اسی مقدار میں زمین میں گھری ہوتی ہیں اور زمینی تختیوں کی حقیقت کی تائید1969ء میں ہوئی جس میں کہ واضح ہوا کہ پہاڑ زمینی پرت کی ہر تختی کا توازن بر قرار رکھتے ہیں۔

سبب اعجاز:

 ایسے وقت میں جب کہ انسان پہاڑوں کی حقیقت سے نا واقف تھا اور انیسویں صدی کے نصف تک نا واقف ہی رہا اس وقت قرآن کریم نے اس آیت کریمہ میں پورے جزم و یقین کے ساتھ  وضاحت کی کہ پہاڑ شکل و صورت اور کام کے اعتبار سے بڑی میخوں کے مشابہ ہیں اور عصر حاضر مین اس دقیق تشبیہ کی سچائی بھی ثابت ہو گئی چونکہ میخ کا ظاہری حصہ زمین کے اوپر اور ایک حصہ زمین کی پرت کے اندر ہوتا ہے اور اس کا کام اپنے متعلقات کو جمائے رکھنا ہے اور اسی طرح سے پہاڑوں کا ایک حصہ روئے زمین کے اوپر ظاہر ہے۔  اور دوسرا حصہ ظاہری بلندی کے اعتبار سے زمین کے اندر پوشیدہ ہے پہاڑوں کا کام زمین کی پرت کی تختیوں کو جمائے رکھنا اور ان کو نیچے طبقات کے رد فعل کے نتیجہ میں ملنے نہ دینا ہے اس سے یہ واضح طور پر پتہ چلتا ہے کہ قرآن اللہ کا کلام ہے جو پہاڑوں کو اور کائنات کو پیدا کرنے والا ہے اللہ تعالی نے سچ فرمایا:

"ألا یعلم من خلق وہو اللطیف الخبیر"

(سورة الملک آیة 14)

ترجمہ: اور کیا وہ جانے گا جس نے پیدا کیا ہے اور وہ باریک بیں (اور) پورا باخبر ہے۔ 
٭٭٭


گہرے سمندروں کی خصوصیات


  ارشاد باری تعالی ہے :

"أو کظلمات فی بحر لجی یغشاہ موج من فوقہ موج من فوقہ سحاب,ظلمات بعضہا فوق بعض إذا أخرج یدہ لم یکد یراہا ومن لم یجعل اللہ لہ نوراً فما لہ من نور"

(سورة النور آیة 40).

ترجمہ: یا مثل ان اندھیروں کے ہے جو نہایت گھرے سمندر کی تہ میں ہوں جسے اوپر تلے کی موجوں نے ڈھانپ رکھا ہو پھر اوپر سے بادل چھائے ہوئے ہوں الغرض اندھیریاں ہیں جو اوپر تلے پے در پے ہیں جب اپنا ہاتھ نکالے تو اسے بھی قریب ہے کہ نہ دیکھ سکے اور (بات یہ ہے کہ) جسے اللہ تعالی ہی نور نہ دے اس کے پاس کوئی روشنی نہیں ہوتی (سورہ نور آیت 40)

سائنسی حقیقت:

انسائکلوپیڈیا برٹانیکا کی تحقیق کے مطابق اکثر سمندر گھنے یا کثیف بادلوں کی پرت سے ڈھکے رہتے ہیں جو سورج کی روشنی کو روکے رکھتے ہیں جیسا کہ سٹلائٹ سے لے گئی اکثر تصویروں میں ظاہر ہوتا ہے۔  کیونکہ یہ بادل سورج کی بہت سی شعاعوں کو روک لیتے ہیں اس طرح اچھی خاص روشنی کو روک لیتے ہیں باقی روشنی کے ایک حصے کو پانی اپنے اندر جذب کر لیتا ہے جو پانی کی گھرائیوں کے بڑھنے  کے ساتھ ساتھ بنیادی طور پر کم ہوتی جاتی ہے جس سے سمندروں کے اندر زبردست تاریکی پیدا ہو جاتی ہے ایسا دو سو میٹر تک ہوتا ہے اور ایک ہزار میٹر کی گہرائی تک تاریکی اس قدر بڑھ جاتی ہے کہ کسی چیز کے دیکھنے کا امکان باقی نہیں رہتا اور سیچیڈسک (The Sechi Disk)پہلا ایسا آلہ ہے جو سمندر کے پانی روشنی کی گہرائی ناپنے کے لئے استعمال کیا گیا۔ 

سائنسدانوں نے 600میٹر سے لیکر 2700میٹر کی گھرائی میں سمندر میں مچھلیوں کو دیکھنے کے لئے اور اپنا شکار حاصل کرنے کے لئے اپنے روشن اعضاء کا استعمال کرتی ہیں۔

 جدید سمندری علوم نے بیسویں صدی کے تیسرے دہے میں ترقی یافتہ تصویر کے آلات کے استعمال کے بعد انیسویں صدی کے آخری میں انکشاف کیا اس طور پر کہ الکٹرک روشنی والے خلیوں کا استعمال کیا گیا جن کے ذریعے گھرے سمندروں میں سرکش موجوں کا انکشاف ہوا  اور انسائکلوپیڈیا برٹانیکا کی تحقیق کے مطابق سمندروں کی گھرائیوں میں پائی جانے والی اندرونی موجوں کو انسان نے صرف سو سال پہلے جانا ہے جو ہواؤں کی تاثیر،مد و جزر ،ٹمپریچر، پریشر اور کثافت کے اعتبار سے مختلف پانیوں کے دو طبقوں کی ظاہری سطح پر دکھائی دیتی ہے اور حرارتی انخفاض والے علاقہ کے نزدیک مختلف کثافتی اور فاصل سطح بنتی ہے جس سے گھرائیوں والے ٹھنڈے پانی اور اوپر کے گرم پانی الگ الگ ہو جاتے ہیں اور یہ موجیں ٹمپریچر، ملاحت اور کثافت میں دو مختلف طبقوں کے ذریعہ سطحی امواج کے مشابہ امواج ظاہری سطح پر بنتی ہیں لیکن پانی کی سطح کے اوپر سے ان کو بآسانی نہیں دیکھا جا سکتا اور اسے (امواج)بننے سے اتنی زیادہ طاقت خرچ ہوتی ہے کہ جس سے بآسانی ایک کشتی کو آگے دھکیلا جا سکتا ہے اسی وجہ سے ان پانی میں سفر کرنے والے بعض کشتیوں کو ہم دیکھتے ہیں کہ ان کے آگے بڑھنے کی طاقت ختم ہو جاتی ہے یہ سب اندرونی موجیں ہیں جن کو پھیلے ہوئے پانی سے تعبیر کیا جاتا ہے اور جس کی تشریح وتحقیق بیسویں صدی کے اوائل میں سوئزرلینڈ کے ایک ڈاکٹر  وی ڈبلیو ایکمان(v. w. EKman)کے ذریعہ ہوئی۔

سبب اعجاز:

قدیم زمانے میں سمندروں کے متعلق انسان عجیب طرح کے خرافات کا عقیدہ رکھتا تھا اور سمندروں کی گھرائیوں کے حالات کے بارے میں کوئی تحقیق اور علمی معلومات ملاحوں کے سامنے نہیں تھی اسی طرح سمندری موجوں سے متعلق معلومات بھی اس زمانے میں بہت محدود تہیں ٹھرے ہوئے سمندروں کے متعلق جن کو کشتیاں پار نہیں کر سکتی تہیں اور اس کے علاوہ بہت ساری باتیں بھی معروف تہیں قدیم روم کا عقیدہ یہ تھا کہ ان کے اندر چپکنے والی مچھلیاں جو کشتیوں کی حرکت کو روکنے میں جادوئی اثر رکھتی ہیں اور باوجودیکہ قدماء کو اس بات کا علم تھا ہوائیں موجوں اور ظاہری امواج پر اثر انداز ہوتی ہیں لیکن گھرے سمندروں میں اندرونی امواج کو جاننا دشوار تھا اور سمندری علوم کی تاریخ سے اس بات کا پتہ لگتا ہے کہ سمندری علوم اور اس کی گھرائیوں سے متعلق تحقیقات بیسویں صدی کے ابتدا میں اسی وقت شروع ہوئی جب ان باریک تحقیقات کے لئے مناسب آلات کی ایجاد ہوئی اور جدید سمندری علوم نے بیسویں صدی کے دوسرے نصف میں سمندروں کی گھرائیوں کے متعلق حیرت ناک اسرار و رموز کا انکشاف کیا جس میں سے دو معروف یہ ہیں گھرے سمندر کی تاریکیاں اور اندرونی امواج کی حرکت اور قرآن کریم نے ان دونوں کی نسبت اشارہ کر دیا ہے چنانچہ بحر لجّی کہہ کر کے قرآن کریم نے گھرے سمندروں میں پائی جانے والی تاریکیوں کی جانب اشارہ کر دیا ہے اور سمندروں کی تاریکی تہہ در تہہ ہے مفسرین کہتے ہیں کہ ان تاریکیوں سے مراد بادل کی تاریکی موج کی تاریکی اور سمندر کی تاریکی ہے چنانچہ ان تاریکیوں میں ٹھرنے والا کچھ بھی نہیں دیکھ سکتا ان سمندروں کو ڈھکنے والے گھنے بادل سورج کی روشنی کے ایک بڑے حصے کو روک لیتے ہیں اور سمندر اپنی اوپر موجوں کے ذریعہ روشنی کے باقی حصہ کو اپنے اندر لے لیتے ہیں پھر پانی سورج کے ہیولے کے رنگوں کو یکے بعد دیگرے اپنے اندر جذب کر لیتے ہیں یہاں تک کہ ہیولے کے تمام رنگ چھپ جاتے ہیں پھر اندرونی موجوں کا جب نمبر آتا ہے جو گھرائیوں کو بھیانک تاریکی میں بدل دیتی ہیں یہاں تک کہ انسان اگر اپنا ہاتھ نکالے تو اس کو نہیں دیکھ سکتا اور - ظلمات بعضہا فوق بعض – کی تعبیر سمندروں کی اس حقیقت کو بڑی باریک بینی سے واضح کرتی ہے جیسا کہ ان گھرائیوں مین پائی جانے والی مچھلیوں کی آنکھیں نہیں ہوتیں بلکہ ان کے اندر روشن اعضاء ہوتے ہیں جن کو اللہ تعالی نے ان کے جسم میں راستہ کو روشن کرنے کے لئے پیدا کیا ہے اور اللہ رب العزت کے اس قول کا یہی مفہوم ہے 

"ومن لم یجعل اللہ لہ نورا فما لہ من نور"

(جسے اللہ تعالی ہی نور نہ دے اس کے پاس کوئی روشنی نہیں ہوتی)

اور اللہ تعالی کے اس قول میں اندرونی موجوں کی حرکت کی طرف بھی اشارہ ہے۔    

"فی بحر لجی یغشاہ موج من فوقہ موج"

(جو نہایت گھرے سمندر کی تہہ میں ہوں جسے اوپر تلے کی موجوں نے ڈھانپ رکھا ہو)

مطلب یہ ہے کہ موج گھرے سمندر کو ڈھانکے ہوئے ہے اور سمندر کے ماہرین نے اپنی اس تحقیق میں اس کو واضح کیا ہے کہ خوب گھرا سمندر سے مختلف ہوتا ہے اس کے اندر گھرے سمندر اور ظاہر سمندر کے ظاہری سمندر سے  درمیان جدائی کی جگہوں پر ایسی موجیں ہوتی ہیں جو اوپری موجوں سے مختلف ہوتی ہیں جس کا علم صرف سو سال پہلے ہوا ہے یہ حیرت انگیز سائنسی حقائق وہ ہیں جن کا قرآن کریم نے چودہ صدی پہلے بیان کر دیا ہے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالی کے علاوہ کس نے اس کی خبر دی؟۔ 
٭٭٭



بحری کتلات کا تداخل وتمایز


     ارشاد ربانی ہے :

"مرج البحرین یلتقیان. بینہما برزخ لا یبغیان. فبأی آلاء ربکما تکذبان. یخرج منہما اللؤلؤ والمرجان۔" 

( الرحمن 19- 22)

ترجمہ: دوسمندر آپس میں ملتے ہیں ان دونوں کے درمیان ایک حاجز ہے جس کے سبب دونوں ایک دوسرے سے نہیں ملتے۔  تو تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے  ان دونوں سے لؤلؤ اور مرجان نکلتے ہیں۔

سائنسی حقیقت:

   نمکین سمندر اجزاء ترکیبیہ میں ایک نہیں ہوتے ، بلکہ مختلف ہوتے ہیں۔ اس کا انکشاف 1873ءمیں اس وقت چیلنجر نے تین سال تک سمندری سفر کیا۔ اور 1943ء میں پھلی بار ان طویل تحقیقات کا نتیجہ سامنے آیا۔ جس کی بنا پر سمندروں میں سیکڑوں سمندری اسٹیشن قائم ہوئے۔ اس وقت یہ معلوم ہوا کہ مثال کے طور پر بحر اٹلانٹک ایک سمندر نہیں ہے بلکہ مختلف سمندروں سے مل کر بنا ہے۔  اور وہ ایک بڑا سمندر ہے۔  جس کے اندر پانی کے اجزاء، ٹمپریچر، کثافت، ملاحت اور آکسیجن کے پگھلنے میں مختلف ہے ، یہ صرف ایک بڑے سمندر میں ہے چہ جائیکہ دو مختلف سمندر میں ہو۔ جیسے بحر احمر اور متوسط ، اور بحر اٹلانٹک، اور بحر احمر اور خلیج عدن، دونوں خاص تنگ جگہوں پر ملتے ہیں چنانچہ 1942ء میں اس کا انکشاف ہوا کہ بہت سے سمندروں کا پانی آپس میں ملتا ہے۔  لیکن وہ سب خصوصیات اور صفات کے اعتبار سے ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں اور سمندروں کے پانی ٹھرے ہوئے نہیں ہیں بلکہ مسلسل حرکت میں رہتے ہیں، جس کی وجہ سے پانی ایک دوسرے میں ملتے رہتے ہیں۔ اس کے باوجود ہر پانی ملاحت ، ٹمپریچر، کثافت، میں اپنی صفات بر قرار رکھتا ہے اور مد و جزر پانی کی امواج اور طوفان ایسے اسباب ہیں جو مختلف سمندروں کے پانی کو حرکت میں رکھتے ہیں اس کے باوجود مختلف خصوصیات والے سمندروں کے پانی ایک دوسرے میں ضم نہیں ہوتے گویا کہ ہر دو ملنے والے سمندروں کے درمیان ایک دیوار ہے جو دونوں کو جدا رکھتی ہے۔ 

سبب اعجاز:

    آیات کریمہ کے اندر دو ملاحت والے ،آپس میں ملنے والے سمندروں کا تذکرہ ہے ، جن میں سے ہر ایک اپنی خصوصیات کے ساتھ باقی رہتا ہے ،جن کے درمیان ایک ایسی  دیوار حائل ہوتی ہے ، جو دونوں کو ایک دوسرے سے ملنے نہیں دیتی، اور آیات کریمہ میں لؤلؤ اور مرجان کا تذکرہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ دونوں ملاحت والے سمندرہیں کیونکہ لؤلؤ اور مرجان صرف ملاحت والے سمندروں ہی میں پائے جاتے ہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ حدیث کا تعلق ان نمکین سمندروں سے ہے جو ایک ہی خصوصیت والے ایک سمندر معلوم ہوتے ہیں لیکن  در حقیقت وہ مختلف خصوصیات والے مختلف سمندر ہیں آپس میں ملے ہوئے نمکین سمندر ظاہری نظر میں ایک ہی طرح کے صفات والے ایک سمندر محسوس ہوتے ہیں لیکن در حقیقت ملاحت، ٹمپریچر اور کثافت کے اعتبار سے وہ مختلف صفات والے سمندر ہیں۔ جس کا علم صرف جدید ٹکنالوجی کے ذریعہ ہوا، جبکہ قرآن کریم میں ان اوصاف کا تذکرہ ہے یہ اس بات کی دلیل ہے کہ ہر دو ملنے والے نمکین سمندر باوجودیکہ وہ ہمیشہ ایک دوسرے سے ملتے رہتے ہیں مختلف ہوتے ہیں اور ان کے درمیان ایک ایسی دیوار ہوتی ہے جوان کے پانی کو ایک دوسر ے سے ملنے نہیں دیتی کیا یہ اس بات کی واضح دلیل نہیں کہ قرآن اللہ کا کلام ہے 
٭٭٭



دریاؤں کے گرنے کی جگہیں (سنگم)

    ارشاد ربانی ہے :

"و ہو الذی مرج البحرین ہذا عذب فرات وہذا ملح أجاج وجعل بینہما برزخاً وحجراً محجوراً."

(سورة الفرقان آیة53)

ترجمہ:اور وہ ایسا ہے جس نے دریاؤں کو ملایا جن میں ایک کا پانی شیریں پیاس بجھانے والا، اور ایک کا سور تلخ ہے اور ان کے درمیان میں (اپنی قدرت سے ) ایک حجاب اور ایک مانع قوی رکھ دیا۔ 

سائنسی حقیقت:

   آٹھویں صدی میں سمندری علوم کے متعلق جو پہلی کتاب منظر عام پر آئی اس میں ابتدائی معلومات تھی پھر بحری علوم جدید سائنس میں اپنا مقام بنانے لگے ، جب برطانوی کشتی چیلنجر نے 1873ء سے 1876ء تک دنیا کاسفر کیا اس کے بعد سمندری انکشافات کے لئے مسلسل سائنسی اسفار ہونے لگے اور بیسویں صدی کے اواخر میں دور کی تصویر کشی اور سٹلائٹ کے ذریعہ انسان کو سمندر  کو سمجھنے کی مزید امیدیں نظر آنے لگی اور بہت سے سمندروں اور دریاؤں کے سنگموں کو تحقیق کرنے کے بعد محققین اس نتیجہ پر پہونچے کہ سنگم کی جگہ کا ماحول سمندر کے مد و جزر خشکی وسیلاب، اور پانی کا آپس میں ملنے کے با وجود اپنی طبیعی اور نمو کی صفات میں یکسر مختلف ہوتا ہے۔  گویا کہ کوئی دیوار ہے ،جو سنگم کے ما حول کو سمندر اور دریا کے ماحول سے جدا رکھتی ہے۔  اور باوجود مد و جزر اور خشکی وسیلاب کے شدید عوامل کے وہ اس جگہ کی الگ خصوصیات کو محفوظ رکھتی ہے اور زندہ کائنات کے اعتبار سے جو اس میں زندگی گزارتے ہیں ان تینوں ما حول کو تقسیم کرتے وقت معلوم ہوتا ہے کہ سنگم کی جگہ زندہ کائنات کے بیشتر حصہ کی بنیاد ہے چونکہ یہ کائنات نمایاں خصوصیات والے سنگم کے مقام پر ہی زندہ رہ سکتی ہے اور ٹھیک اسی طرح یہ مقام ان کائنات جانداروں کے لئے ممنوع ہوتا ہے جو سمندر اور دریا میں زندگی گزارتے ہیں چونکہ یہ جاندار خصوصیات کے مختلف ہونے کی وجہ سے اس میں داخل ہوتے ہی مر جائیں گے۔ 

سبب اعجاز:

پانی کا ہر مجموعہ بحر کہلاتا ہے بہت میٹھے بحر کو نہر کہتے ہیں۔ اور خوب ملاحت والے بحر کو سمندر یا دریا کہتے ہیں۔ اسی طرح سے سنگم کا پانی ان دونوں سے خارج ہے کیونکہ اس کے اندر ملاحت اور شیرینی دونوں چیزیں جمع ہیں۔  لہذا اس کو نہ تو شیریں اور نہ تو کھارا پانی کہا جا سکتا ہے ان اوصاف سے پانی کے مجموعہ کی تین قسمیں ہو گئیں، نہر کا پانی، سمندر کا پانی، دونوں کے درمیان سنگم کا پانی، جس کے لئے آیت کریمہ میں برزخ یا حاجز کا لفظ استعمال کیا گیا ہے جو سمندر کی ملاحت کی صفت کو نہر پر یا نہر کی شیرینی کی صفت کو سمندر پر غالب نہیں آنے دیتا اور سنگم کا ما حول ممتاز ہوتا ہے چونکہ وہ ایک حجاب ہے جس میں زندہ جاندار ہیں اور جن کا نکلنا نہر یا سمندر کے جانوروں کے ساتھ ممنوع ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ طبعی صفات اور زندہ جانداروں کے اعتبار سے تینوں ماحول مختلف ہوتے ہیں

  سمندری علم کے سفر کے تاریخی ترقی سے پتہ چلتا ہے کہ چار سو سال پہلے سمندروں کے متعلق اتنی دقیق معلومات نہیں تہیں اس کے باوجود قرآن کریم نے پوری باریک بینی کے ساتھ سنگموں کا تذکرہ کیا ہے اور بتایا کہ اس کا ماحول اس کی خاص طبعی  خصوصیات کی وجہ سے نہر اور سمندر کے ما حول سے مختلف ہے اور اس بات کا بھی انکشاف کیا کہ باوجود پانی کے آپس میں ملنے اور سمندری جہت میں اس کے متحرک رہنے کے باوجود وہ خصوصیات باقی رہتی ہیں ، قرآن کریم میں بغیر جدید سائنس اور اس کے آلات کے ذریعہ یہ علم کہاں سے آ گیا اگر یہ قرآن اس ذات باری کی طرف سے نہیں ہے جس کا علم ہر چیز پر محیط ہے ؟
٭٭


٭٭٭
ماخذ:
http://www.eajaz.org/eajaz/index.php?option=com_content&view=category&layout=blog&id=35&Itemid=60&lang=pk
Abdullah ibn Abd al-Aziz al-Muslih, Gen Sec’y, International Commission on Scientific Signs in the Qur'an and the Sunnah
تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید
