﻿




بڑے نصیب کی بات ہے 

(سفرِ حج کی روداد)


صفدر قریشی
وحدت پبلی کیشنزٹنچ بھاٹہ راولپن



وَلِلّٰہِ عَلَی النَّاسِ حِجّ الْبَیْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ اِلَیہِ سَبِیْلاً ط وَمَنْ کَفَرَ فَاِنَّ اللّٰہَ غَنِی۱ٌ عَنِ الْعٰلَمِیْنَ(۱۰،آلِ عمران)
ترجمہ:۔ لوگوں  پر اللّٰہ کا یہ حق ہے  کہ وہ جو اس گھر تک پہنچنے  کی استطاعت رکھتا ہو وہ اس کا حج کرے۔ اور جو منکر ہو تو(اللّٰہ  تعالیٰ کا کیا نقصان ہے) اللّٰہ تعالیٰ تمام جہاں  سے  غنی ہیں (ان کو کیا پرواہ)

صفدر قریشی
نمبر۱،نزد فیض مسجد،ٹنچ بھاٹہ،راولپنڈی



انتساب

خانہ خدا کے  گرد
محوِ طواف
وارفتگی
کے 
نام



 لَبَّیْکَ اَللّٰھُمَّ  لَبَّیْکَ ط لَبَّیْکَ طلَا شَرِیْکَ  لَکَ لَبَّیْکَ ط اِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَۃَ لَکَ وَالْمُلْکَ ط لَا شَرِیْکَ لَکَ               O
میں  حاضر ہوں،یا اللّٰہ  میں  حاضر ہوں،میں  حاضر ہوں،تیرا کوئی شریک نہیں، میں  حاضر ہوں،بے  شک تمام تعریفیں  اور نعمتیں  تیرے  لئے  ہیں  اور ملک بھی، تیرا کوئی شریک نہیں 


دیباچہ


نحمد ہٗ و نصلّی علیٰ رسولہ الکریم

	اللہ تبارک و تعالیٰ کا بے  انتہا کرم ہے  کہ اس نے  اس بندۂ نا چیز کو حج اور روضۂ رسول اللہ کی زیارت کی سعادت نصیب فرمائی۔ مزید بر آں  کہ اس کریم نے  اس سفرِ سعید کے  نورانی لمحات کو صفحۂ قرطاس پہ محفوظ کرنے  کی اہلیت بخشی۔ 
	حج دیگر ارکان کی طرح ایک رکنِ اسلا م ہے  جس کا پورا کرنا صاحبِ اسطتاعت مسلمان کے  لئے  فرض ہے۔ دیگر ارکان کی طرح اس رکن کا ادا کرنا بھی توفیق الٰہی سے  ہے۔ جس کے  مقدر میں  قادرِ مطلق نے  یہ سعادت لکھی ہے  اسے  ہر حال میں  بلا لیتا ہے۔ 
	زیرِ نظر کتاب ’’بڑے  نصیب کی بات ہے ‘‘ میری اور میری ہم سفر(اہلیہ)کے  سفرِ حج کی کہانی ہے۔ اس کہانی کو میں  نے  مناسک کی مناسبت سے  مرتب کرنے  کی کوشش کی ہے۔ اس ترتیب سے  میرا مقصد ضروری معلومات فراہم کرنا اور حج کا شوق پیدا کرنا ہے۔ معلومات کے  سلسلے  میں  حکومت یا دیگر اداروں  کی طرف سے  فراہم کردہ لٹریچر سے  استفادہ کیا گیا ہے۔ اس سلسلے  میں  کوئی غلطی کوتاہی ہو گئی ہو تو اس کے  لئی معذرت خواہ ہوں۔ 
	میں  جناب خواجہ غلام ربانی مجال صاحب کا بے  حد ممنون ہوں  کہ انہوں  نے  پروف ریڈنگ میں  خصوصی معاونت فرمائی۔ 
	قارئین سے  خصوصی دعاؤ ں کی درخواست ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ اس فقیر کی حقیر کوشش کو شرفِ قبولیت فرمائے۔ 
احقر صفدر قریشی
/۵ اگست  ۲۰۰۵ ؁


لَبَّیک----- حاضر جناب

لبیک!
حاضر ہوں 
اَللّٰھُمَّ لَبَّیک
اے  اللّٰہَ  !میں  حاضر ہوں 
	یہ ہے  وہ وظیفہ جو ہر حاجی کے  وردِ زبان ہوتا ہے۔ مشائخ نے  لکھا ہے  کہ:۔ 
 لبیک اس ندا کا جواب ہے  جو اللّٰہَ  جل شانہ کے  حکم سے  حضرت ابراہیمؑ نے  فرمائی تھی جس کا ذکر قرآنِ پاک کی آیت (وَاَذِّن فِی الناس)میں  گزر چکا ہے۔ اس لئے  جیساکہ حاکم کی پکار پر دربار کی حاضری میں  امید و خوف کی حالت ہوتی ہے  ایسا ہی حال ہونا چاہئے۔ اس سے  ڈرتے  رہنا چاہئے۔ ایسانہ ہو کہیں  اپنی بد اعمالیوں  سے  حاضری ہی قبول نہ ہو۔ (فضائل حج)
	بیشک جس نے  بلایا ہے  وہ بہت مہربان ہے۔ رحمٰن ہے، رحیم ہے۔ وہ کریم ہے، ستار ہے،غفار ہے،بخشن ہار ہے۔ بڑے  سے  بڑا گناہ اک اشکِ ندا مت سے  بخش دیتا ہے۔ مگر__ مگر توحید کے  معاملے  میں  بہت غیور ہے۔ وہ شرک کو نہیں  بخشتا۔ بیشک اس کا کوئی ہمسر نہیں۔ بلا شرکت غیرے  وہ ہر چیز کا خالق ہے،مالک ہے،رازق ہے۔ وہی معبود ہے۔ وہی حاجت روا ہے،وہی داتا ہے،وہی بادشاہوں  کا بادشاہ اور شہنشاہوں  کا شہنشاہ ہے۔ سوہر غرض کی عرض اسی کے  آگے  پیش کرنی چاہئے،اور ہر مصیبت میں  اسی کو پکارنا چاہئے۔ اور حج کے  موقع پر جو پکار اس کے  شایانِ شان ہے  وہ تلبیہ ہے۔ 
	تلبیہ کی آواز حاضری لگوانے  کی ہے۔ جب استاد صاحب حاضری بولتے  ہیں  تو جواب میں  لبیک کہا جاتا ہے۔ کچھ طلباء لبیک کے  بجائے  حاضر جناب اور کچھ یس سَر(yes sir)کہتے  ہیں۔ مطلب تینوں  کلمات کا یہی ہے  کہ حضور ہم حاضر ہیں۔ اس وقت کچھ طلباء جسمانی طور پر حاضر اور ذہنی طور پر غیر حاضر ہوتے  ہیں۔ اگر وہ جواب نہ دیں  تو ان کی غیر حاضری لگ جاتی ہے۔ کچھ ایسی ہی صورت اس موقع پر قیاس کی جا سکتی ہے۔ اس وقت اللّٰہَ  تعالیٰ کو حاجی کی پوری موجودگی یا حضوری مطلوب ہے۔ وہ بندے  کو پوری طرح اپنی طرف متوجہ کر کے  نوازنا چاہتا ہے۔ وہ مکمل سپردگی چاہتا ہے۔ 
	فریضہ حج جملہ عبادات کا مجموعہ اور عبودیت کی معراج ہے  کہ اس میں  اللّٰہَ  رسول کی فرمانبرداری،تسلیم و رضا اور عشق و محبت کا کامل مظاہرہ ہوتا ہے۔ اس فریضہ کی ادائے گی میں  مال،جان، وقت سبھی کچھ قربان کرنا پڑتا ہے۔ طواف وسعی کے  علاوہ دیگر مناسک کی ادائے گی جہاد سے  مشابہت رکھتی ہے۔ واقعی حج جہد و مشقت کا مجموعہ ہے۔ 
یہ شہادت گہ الفت میں  قدم رکھنا ہے 
لوگ آسان سمجھتے  ہیں  مسلمان ہونا	اقبال
 حضوراقدسﷺ نے  حضرت عائشہ ؓ سے  فرمایا۔ 
لٰکِن اجرک علی قدر نَصَبِکَ"تیرے  عمرہ کا ثواب بقدر تیری مشقت کے  ہے۔ "(فضائل حج)
	سو حاجی کو اس حقیقت کو مدِ نظر رکھتے  ہوئے  ہر کٹھن مرحلے  پر صبر و تحمل کا دامن تھامے  رکھنے  کی ضرورت ہے:۔ 
"آہ نہ کر لبوں  کوسی عشق ہے  دل لگی نہیں "
	 واقعی حج عشق و محبت کا والہانہ مظاہرہ ہے۔ کئی خوش قسمت ایسے  ہوتے  ہیں  جو رموزِ عشق سے  آگاہ ہوتے  ہیں  اور آدابِ حج و زیارت کا خوب خیال رکھتے  ہیں۔ مگر اکثر ہمارے  جیسے  ذرا ذرا سی بات پر بپھر جاتے  ہیں  اور تھوڑی سی آزمائش پر بلبلا اٹھتے  ہیں۔ ایسوں  کو بھی اللّٰہَ  تعالیٰ لذتِ عشق سے  آشنا فرما دیتا ہے۔ اور یہ نادان بھی اصحابِ حال کے  حال میں  رنگ جاتے  ہیں۔ سوجن کی نیت خالص ہوتی ہے  وہ جیسے  تیسے  بھی ہوں  ان کی حاضری لگ جاتی ہے۔ اور جن کی حاضری لگ جائے  وہ پاس ہو جاتے  ہیں۔ 

فضائل حج--- نوازشیں  ہی نوازشیں 

	انسان ہر چیز کو نفع و نقصان کی ترازو میں  تولنے  کا فطری طور پر عادی ہے۔ عبادات کے  معاملے  میں  بھی اس کا یہی رویہ کارفرما ہے۔ کوئی مانے  یا نہ مانے  لاشعوری طور پر دل میں  یہ خیال آتا ہے  کہ نماز پڑھنے  سے  کیا ملے  گا؟روزہ رکھنے،زکوٰۃ دینے  یا حج کرنے  سے  کیا فائدہ ہو گا؟نماز روزہ تو خیر بدنی مشقت ہے  اس میں  کوئی روپیہ پیسہ خرچ نہیں  کرنا پڑتا۔ اس کے  برعکس زکوٰۃ اور حج میں  مال کی قربانی دینا پڑتی ہے۔ اور جہاں  روپیہ خرچ ہو گا وہاں  اس کی واپسی کی خواہش بھی پیدا ہو گی۔ یہ خواہش فطری ہے  سوداگری یا بنیا پن نہیں۔ اس فطری تقاضے  کے  پیشِ نظر خدا اور خدا کا رسولﷺ اعمال کے  فضائل کی بشارتیں  سناتے  اور انعامات سے  نوازتے  ہیں۔ 
	ایک حدیث میں  آپؐ نے  فرمایا ہے :۔ 
جس شخص نے  اللّٰہَ  کے  لئے  حج کیا(اس کے  دوران میں)اس نے  کوئی فحش گوئی کی نہ کوئی برا کام تو وہ گناہوں  سے  اس طرح پاک صاف واپس لوٹے  گا جس طرح اس کی ماں  نے  اسے  ابھی جنم دیا تھا۔ 
	اور عمرہ کے  متعلق حضورﷺ کا فرمان ہے :۔ 
"ایک عمرہ کے  بعد دوسرا عمرہ درمیان کے  گناہوں  کے  لئے  کفارہ ہے۔ 
	حضورﷺ کا یہ بھی فرمان ہے  کہ:۔ 
"رمضان میں  عمرہ کرنا میرے  ساتھ حج کرنے  کے  برابر ہے "
	ایک مسلمان کی حیثیت سے  تمام مومنین کی سب سے  بڑی خواہش حضورﷺ کا ساتھ ہے۔ اور پھر جنت کا ساتھ۔ اس سے  بڑی خوش بختی کیا ہو سکتی ہے !بات یقین کی ہے۔ اللّٰہَ  اور اللّٰہَ  کے  رسولﷺ پر یقینِ کامل کی۔ اصل انعام تو ماننا ہے۔ جس نے  اللّٰہَ  اور اس کے  رسولﷺ کی مانی پوری مخلوق اس کی تابعدار ہے۔ دنیا اور آخرت کی نعمتیں  اس کا انعام اور حضورﷺ،اہلِ بیعت اور صحابہ کرامؓ کی سنگت اس کا مقدر ہے۔ جنت مقامِ معصومیت ہے،یہ صلحاء اور معصوموں  کا گھر ہے۔ اور حاجی یقیناً ایسا معصوم ہے  جیسا نو زائیدہ بچہ۔ تو!
	اے  خوش نصیب لوگو کہ جن کو بڑی بارگاہ سے  بلاوا آیا ہے۔ یقین رکھو کہ بادشاہوں  کے  بادشاہ نے  ان کی درخواست منظور کر لی ہے۔ وہ قبول ہو گئے  ہیں۔ اور اے  قبول ہونے  والو!
اُس بڑی بارگاہ میں  اس فقیر کی درخواست بھی دائر کر دینا۔ 
عرض کرنا!
رحمت دا دریا الٰہی ہر دم و گدا اے  تیرا
جے  اک قطرہ بخشیں  مینوں  کم بن جاندا ای میرا	(میاں  محمد)
(اے  ارحم الرحمین تیرا دریائے  رحمت توہر وقت رواں  ہے  اگر ایک قطرہ اس فقیر کو نصیب ہو جائے  تو اس کی بگڑی بن جائے)
اور پھر!
آقائے  دوجہاں  سے  میرا سلام کہنا۔ 
سوئے  حرم
جسے  چاہا اپنا بنا لیا جسے  چاہا در پہ بلا لیا
یہ بڑے  کرم کے  ہیں  فیصلے  یہ بڑے  نصیب کی بات ہے 
	ہاں  تو!
	اے  خوش نصیبو!
	اے  قبول ہونے  والو!یقین جانو یہ قبولیت کی بات ہے۔ اس میں  کسی کے  ذاتی کمال، علم و فضیلت یا  زہد و تقویٰ  کا دخل نہیں  بلکہ بلانے  والے  کی اپنی مرضی ہے،اس کی منشاء ہے،اس کی حکمت ہے۔ ہمیں  اس کی حکمت اور قدرت کا احساس و ادراک نہیں۔ یقیناً یہ ایسی نعمت ہے  جس کی طلب میں  بڑے  بڑے  تڑپتے  پھڑکتے،دعائیں  کرتے،آہیں  بھرتے  اور زاریاں  کرتے  ہیں  پھر بھی انہیں  اللّٰہ کے  گھر اور نبیﷺ کے  در کی زیارت نصیب نہیں  ہوتی۔ اللہ جانے  اس میں  اللہ کی کیا حکمت ہے۔ حکمت کا کھوج لگانا ضروری نہیں  حکم ماننا ضروری ہے۔ 
	اے  عازمینِ حج!
	یہ مبارک سفر عشق و محبت کا عملی مظاہرہ ہے۔ اور عشق میں  کیا؟کیوں ؟کیسے  جیسے  اشکالات و سوالات نہیں  ہوتے۔ یہاں  تو ایک ہی بات ہے۔ 
"سرِ تسلیم خم ہے  جو مزاجِ یار میں  آئے "
	سو اس سفر میں  اپنی فہم و فراست اور زہد و علم کو بھول کر صرف اللّٰہ اور  اللّٰہ  کے  رسولﷺ کے  حکم کے  تابع ہونا ہے۔ اپنے  آپ کو مکمل طور پر  اللّٰہ  اور رسولﷺ کی تحویل میں  دے  دینا ہے۔  اللّٰہ  بندے  کی خود سپردگی چاہتا ہے۔ مکمل سپردگی۔ اگرچہ انسان مکمل طور پر  اللّٰہ  کے  قبضہ قدرت میں  ہے۔ وہ زبردستی بھی منوا سکتا ہے  مگر اس کا تقاضا ہے  کہ بندہ اپنی رضامندی سے  اپنے  آپ کو میرے  حوالے  کرے۔ 
میں  اس کی دسترس میں  ہوں  مگر وہ
مجھے  میری رضا سے  مانگتا ہے 
 
آداب

	عازمینِ حج!
	ہمیں  معلوم ہونا چاہئے  کہ جس مقدس سرزمین کی زیارت  اللّٰہ  تعالیٰ نے  مقدر کی ہے  یہ نبیوں  کی آماجگاہ ہے۔ اور اللّٰہ  کے  محبوب حضرت محمدﷺ کی بارگاہ ہے۔ اس سرزمین پہ نبیوں،اہلِ بیت اطہار اور صحابہ کرامؓ کے  مبارک قدموں  کے  نشانات ثبت ہیں۔ اس سرزمین کے  افق سے  ہدایت کا سورج طلوع ہوا تھا۔ اس سرزمین سے  اسلام کا آغاز ہوا تھا اور اسی دھرتی پر اس کی تکمیل ہوئی تھی۔ یہاں  کعبہ ہے  جو  اللّٰہ  کا گھر ہے  اور یہیں  مسجدِ نبویؐ ہے  جو دوجہاں  کے  سردار کا مسکن و مرقد ہے۔ 
ادب گہہ ایست زیرِ آسماں از عرش نازک تر
نفس گم کردہ می آید جنید و بایزید ایں  جا
(اس آسمان تلے  دربارِ نبیؐ ایسا ادب کا مقام ہے  جو عرشِ الٰہی سے  بھی نازک تر ہے۔ یہاں  جنید بغدادی اور با یزید بسطامی جیسے  اولیاء آتے  ہیں  تو اپنا آپ بھول جاتے  ہیں۔)
	سواس سفر سے  پہلے  اس مبارک سفر کے  تقاضوں  اور نزاکتوں  کا شعور پیدا کرنے  کی ضرورت ہے۔ یاد رہے  اس سفر میں  دیوانگی و فرزانگی دونوں  کا امتحان ہے۔ عام مقولہ ہے  کہ’’ با خدا دیوانہ باش و  با محمدﷺ ہوشیار‘‘۔ سو مکہ و مدینہ دونوں  کی حرمت و نزاکت کو پیشِ نظر رکھنا بہت ضروری ہے۔ اس کا ایک طریقہ ہے  کہ شریعت مطہرہ کی پوری طرح پابندی کرنے  کی کوشش کی جائے۔ اور اوامر و نواہی کا خاص خیال رکھا جائے۔ اور ہر عمل میں   اللّٰہ  کی رضا اور نبیؐ کے  طریقے  کی رعایت رکھی جائے۔ اس لئے  کہ  اللّٰہ  کے  حکم کو نبیؐ کے  طریقے  کے  مطابق سرانجام دینا ہی شریعت ہے۔ 

میری کہانی میری زبانی

تازہ خواہی داشتن گرداغ ہائے  سینہ را
گاہے  گاہے  باز خواں  ایں  قصۂ پارینہ را
(اگر تو دل کے  داغوں  کو تازہ رکھنا چاہتا ہے  تو  قصۂ عشق و محبت کو کبھی کبھی دہرا لیا کر)
	یاد گار لمحوں  کو یاد رکھنا اور ان کا تذکرہ انسانی مجبوری ہے۔ انسان اپنے  گمشدہ ماضی کے  تعاقب میں  سرگرداں  رہتا ہے۔ آدمی جب بھی لمحۂ موجود کی گرفت سے  آزاد ہوتا ہے، ماضی کی یادوں  میں  کھو جاتا ہے۔ گذرے  ہوئے  لمحوں  کا خوشگوار لمس،خوشبودار ذائقہ، ہر کس و ناقص کا سرمایہ حیات ہے  اور ہر کوئی شعوری یا غیر شعوری طور پر اس سرمایہ کو محفوظ کرنے  کی کوشش کرتا ہے  کوئی تصویروں  میں  کوئی لفظوں  میں۔ ہر ایک کا اپنا اپنا انداز اور اسلوب ہے۔ پھر ہر کسی کا اندازِ نظر اور اندازِ فکر منفرد ہے۔ کوئی دنیا کو دل میں  بسانا چاہتا ہے  کوئی دین کو دل میں  جماتا ہے۔ میں ان مبارک لمحوں  کو صفحہ قرطاس پر محفوظ کرنے  کی کوشش کر رہا ہوں  جو دین کے  حوالے  سے  زندگی کا حصہ بنے۔ اس سلسلہ میں  "جنت کی راہگذر"جو کہ میرے  تبلیغی سفر کی روداد ہے  مجھے  بڑی محبوب ہے۔ حج سے  واپسی پر میں  نے  یہ کتاب ایک دوست کو ہدیہ کی تو اس نے  بآواز بلند پڑھنا شروع کر دیا۔ اپنی تحریر کو قاری کی زبان سے  سن کر دل خوش ہوا۔ اور سفرِ حج کی مبارک ساعتوں  کو ریکارڈ کرنے  کی تحریک شروع ہوئی۔ 
	اصل میں  جس طرح بولنا ہر مقرر کی مجبوری ہوتا ہے  اسی طرح لکھنا ہر لکھاری کی مجبوری ہے۔ اس مجبوری کی وجہ سے  رودادِ سفرِ حج کا آغاز کر رہا ہوں۔ میں  اپنے  قاری سے  یہ گذارش کرنا ضروری سمجھتا ہوں  کہ میں  کوئی عالم یا ادیب نہیں۔ اس لئے  اگر کوئی غلطی کوتاہی ہو جائے  تو مہربانی کر کے  اس سے  مجھے  مطلع فرمائیں۔ 

تمنا

	سلسلہ خیال کا آغاز کسی نہ کسی آرزو سے  ہوتا ہے۔ سفرِ حج کا آغاز بھی حج کی آرزو سے  ہونا چاہئے۔ دل میں  حج کی تمنا یا آرزو کب پیدا ہوئی؟مجھے  یاد نہیں۔ دو سال قبل میرے  وہم و گمان میں  بھی نہیں  تھا کہ میں  حج کروں  گا۔ جب میری پہلی کتاب" اللّٰہ  پناہ"شائع ہوئی تو اس کے  ٹائیٹل پر خانہ کعبہ کی تصویر بنوائی تھی۔ پھر جب نعتیہ مجموعہ"جبینِ نعت"شائع کرایا تو اس پر روضۂ رسولﷺ کی تصویر لگائی تھی۔ شاید اس عمل کے  پیچھے  حج کی سوچ کارفرما ہو........ معلوم نہیں۔ ہاں !اہلیہ محترمہ نے  خانہ کعبہ اور روضہ مبارک کی بڑی بڑی تصویروں  سے  اپنے  کمرے  اور میری بیٹھک کو مزین کر رکھا تھا۔ شاید ان کے  لاشعور میں  بھی حج کی تمنا مچل رہی ہو۔ مجھے  معلوم نہیں۔ 

دو آنسو

	دو قطرے   اللّٰہ  کو بہت پسند ہیں۔ ایک قطرہ جو شہید کے  بدن سے  ٹپکا ہو دوسرا جو  اللّٰہ  کی خشیت میں  چشمِ ندامت سے  نکلا ہو۔ 
	 اللّٰہ  کو رونا بہت پسند ہے۔ آنسو چاہے  مکھی کی آنکھ کے  برابر ہو اللّٰہ  کو بہت محبوب ہے۔ شرط یہ ہے  کہ یہ قطرہ صرف اسی کی نذر ہو۔ بیشک وہ بڑا مہربان اور قدردان ہے۔ وہی ان انمول موتیوں  کا مول جانتا ہے۔ وہی ان کا خریدار ہے۔ 
موتی سمجھ کے  شانِ کریمی نے  چن لئے 
قطرے  جو تھے  مرے  عرقِ انفعال کے 
بظاہر میرے  دل میں  حج کی حسرت،سوچ،خیال یا تمنا محسوس نہیں  ہوتی تھی۔ مگر جب ایک دوست نے  اپنے  حج کی نوید ٹیلیفون پر سنائی تو معاً آنکھوں  سے  بیچارگی اور بے  بسی میں  لتھڑے  ہوئے  دو موتی ٹپک پڑے۔ مجھے  محسوس ہوا میرے  لاشعور سے  حج کی تمنا مطلعِ شعور پہ ظہور پذیر ہو رہی ہے۔ مجھے  اعتراف ہے  کہ میرے  نہاں  خانہ دل میں  حج کی آرزو انجانے  زمانے  سے  چپکے  چپکے  پرورش پا رہی تھی۔ آج اس تمنا کا اظہار ہوا تو معلوم ہوا
وقت کرتا ہے  پرورش برسوں 
حادثہ ایک دم نہیں  ہوتا
	میرے  قدردان مولا نے  دو آنسوؤں  کے  بدلے  وہ کچھ عطا فرمایا جس کا نہ کبھی خیال کیا تھا نہ گمان۔ 
"جتنا دیا سرکار نے  مجھ کو اتنی میری اوقات نہیں "

قبولیت

	 اللّٰہ  تعالیٰ نے  نظامِ کائنات کو اسباب کے  ساتھ جوڑ رکھا ہے۔ اسباب بھی اس کی قدرت کا معجزہ ہیں۔ وہ قادرِ مطلق ہے۔ ناممکن کو بھی ممکن بناتا ہے۔ اس نے  سلسلۂ اسباب کو اس فقیر کی امداد کے  لئے  مرتب فرمانا شروع کر دیا۔ حج کے  لئے  پہلی ضرورت پیسوں  کی ہوتی ہے  تو اس نے  یہ انتظام بآسانی فرما دیا۔ درخواستیں  دینے  کا زمانہ آیا تو بروقت درخواست جمع کرا دی۔ اور بے  فکر ہو گیا۔ دل میں یہ گمان کہ پیسے  جمع کرا دئیے  ہیں۔ درخواست بھی بروقت جمع کرا دی ہے  اب ہمارے  حاجی بننے  میں  کوئی چیز مانع نہیں  ہو سکتی۔ اب رونے  دھونے،دعائیں  کرنے  اور  اللّٰہ  سے  مانگنے  کی ضرورت محسوس نہیں   ہو رہی تھی۔ مگر وہ تو مانگنا مانگتا ہے۔ رونا دھونا مانگتا ہے۔ مگر اب ہونٹوں  پہ دعا،نہ آنکھوں  میں  آنسو۔ ایک بے  فکری اور خوش گمانی تھی کہ پیسے  جمع کرا دئے،درخواست دے  دی،اب کس بات کی فکر !میری کم عقلی کہ میں  قانونِ خداوندی اور قدرت و تقدیر کو بھول گیا۔ اسی بھولپن میں  ایک روز میں  نے  اپنے  بڑے  بھائی کو بتایا کہ دل میں  حج کا کوئی شوق یا چاہت محسوس نہیں ہو رہی۔ بعد میں  انہوں  نے  بتایا کہ میں  نے  اس وقت بھانپ لیا تھا کہ اس سال آپ حج پر نہیں  جا سکیں  گے۔ سو اللّٰہ  کی تقدیر اور قدرت نے  اپنا جلوہ دکھایا اور میری خوش فہمیوں  پر پانی پھر گیا۔ وزارتِ مذہبی امور سے  قرعہ نہ نکلنے  کا کارڈ ملا تو دماغ چکرا کے  رہ گیا۔ ہیں  !یہ کیا ہو گیا!تو کیا میں  حج پر نہ جا سکوں  گا؟ارے  یہ قرعہ کیا ہوتا ہے۔ دل کے  ایک کونے  سے  صدا آئی یہ قرعہ قدرتِ خداوندی ہے۔ ارے  بے  فکر !بلاوا فکر والوں  کو آتا ہے۔ وہ فکر والے  جو اس سے  مانگتے  ہیں۔ اسباب پر تکیہ نہیں  کرتے۔ اسباب مخلوق ہیں۔ مخلوق سے  کچھ نہیں  ہوتا۔ سب کچھ  اللّٰہ  سے  ہوتا ہے۔ 
	یہ سلسلۂ اسباب و علل اور وسائل و مال تو ظاہری نقشے  ہیں۔ ان نقشوں  سے  کچھ نہیں  ہوتا۔ ان نقشوں  کے  پیچھے  امرِ الٰہی کارفرما ہے۔ ہر چیز  اللّٰہ  کے  امر میں  جکڑی ہوئی ہے۔ اس کی مرضی و منشا ء کے  بغیر کچھ نہیں  ہوتا سو مانگنا ہے  تو اس سے  مانگ۔ اس سے  مانگ جو خالق و مالک ہے۔

 
لبیک--- لا لبیک

	درخواست کی نا منظوری سے  ایک قصہ یاد آ رہا ہے  جو کہ میری اس حالت سے  قدرے  مماثلت رکھتا ہے۔ اپنی تسلی کے  لئے  اس قصہ کو دہرا رہا ہوں :۔ 
    ایک بزرگ مکہ مکرمہ میں  ستر برس رہے  اور برابر حج اور عمرے  کرتے  رہے  لیکن جب وہ حج یا عمرہ کا احرام باندھتے  اور لبیک کہتے  تو جواب لالبیک ملتا۔ ایک مرتبہ ایک نوجوان نے  ان کے  ساتھ ہی احرام باندھا اور ان کو جب لالبیک کا جواب ملا تو اس نے  بھی سنا،تو وہ کہنے  لگا چچا جان!آپ کو تو"لالبیک"کہا۔ کہنے  لگے  کہ بیٹا تو نے  بھی سنا؟اس نے  کہا میں  نے  بھی سنا ہے۔ اس پر شیخ روئے  اور کہنے  لگے  بیٹا میں  تو ستر سال سے  یہی سن رہا ہوں۔ جوان نے  کہا پھر کیوں  آپ اتنی مشقت ہمیشہ اٹھاتے  ہیں ؟شیخ نے  کہا بیٹا اس کے  بغیر اور کون سا دروازہ ہے  جس کو پکڑ لوں  اور اس کے  بغیر اور کون میرا ہے  جس کے  پاس جاؤں۔ میرا کام تو کوشش ہے  وہ چاہے  رد کرے  یا قبول کرے۔ بیٹا غلام کو یہ زیبا نہیں  کہ وہ اتنی بات کی وجہ سے  آقا کے  در کو چھوڑ دے۔ یہ کہہ کر شیخ رو پڑے  حتیٰ کہ آنسو سینے  تک بہنے  لگے۔ اس کے  بعد پھر لبیک کہی تو جوان نے  سنا کہ جواب میں  کہا گیا کہ ہم نے  تیری پکار کو قبول کر لیا اور ہم ایسا ہی کرتے  ہیں  ہر ایک شخص کے  ساتھ جو ہمارے  ساتھ حسن ظن رکھے  بخلاف اس کے  جو اپنی خواہشات کا اتباع کرے  اور ہم پر امیدیں  باندھے "	(فضائل حج)
	اس قصہ سے  بڑی تسلی ہوتی ہے۔ آدمی مایوس نہیں  ہوتا۔ میں  نے  بینک سے  حج کے  واجبات واپس نہیں  لئے۔ خدشہ تھا کہ اگر یہ رقم نکلوا لی تو کوئی نہ کوئی خرچ کرنے  کی مد نکل آئے  گی اس لئے  اس کو بینک میں  ہی رہنے  دیتے  ہیں  اگلے  سال پھر کوشش کریں  گے۔ بڑے  بیٹے  کو صورتحال کا پتہ چلا تو اس نے  کہا کہ اباجی اس سال امی جان کو بھی ساتھ لے  جانے  کا ارادہ فرمائیں  میں  نے  ان کے  نام کی کمیٹی ڈالی ہے۔ میں  نے  کہا بیٹا یہ تو تمہاری سعادت اور خوش بختی ہے۔ اللّٰہ  تعالیٰ تمہاری مراد پوری کرے۔ درخواستیں  دینے  کا وقت آیا تو اس نے  مطلوبہ رقم بھیج دی ہم نے   اللّٰہ  کا نام لے  کر دو درخواستیں  جمع کرا دیں۔ اب کی بار خوش فہمی کی بجائے  درخواست رد ہونے  کا خدشہ بھی تھا۔ اور خدشہ صحیح تھا۔ اب کی بار بھی قرعہ نہیں  نکلا۔ ایک دفعہ پھر لالبیک کا جواب ملا۔ 

منظوری

	دوسری نا منظوری سے  سخت دھچکا لگا۔ دل ٹوٹ گیا۔ سمجھ نہیں  آ رہا تھا کہ کیا کروں۔ دعائیں،التجائیں،رونا دھونا شروع ہو گیا۔ مگر دعا کیسے  کروں  ؟کیا کہوں ؟ پھر کیا کیا؟کس طرح کیا؟ کچھ یاد نہیں۔ 
"ہے  دعا یاد مگر حرفِ دعا یاد نہیں "
	ٹوٹے  الفاظ اور گونگی زبان نے  کس طرح دردِ دروں  کی ترجمانی کی یہ وہی جانتا ہے  جو سمیع و بصیر ہے  جوہر بے  آسرا کا آسرا ہے۔ جو خود بے  انتہا ہے  اور اس کے  خزانے  بھی بے  بہا ہیں۔ بیشک وہ بے  بسوں  اور بے  کسوں  کی بہت قریب ہو کر سنتا ہے۔ اس نے  پھر سے  سلسلہ اسباب کو اس فقیر کے  حق میں  مرتب کرنا شروع کر دیا۔ 
	میں  عالمِ یاس میں  بیٹھا تھا کہ ایک دم احباب کی تصاویر پردہ تصور پر ابھر نے  لگیں۔ میں  نے  جناب زاہد چغتائی سے  ٹیلیفون پر رابطہ کیا تو انہوں  نے  فرمایا کہ آپ مذہبی امور کے  وزیر کے  نام درخواست لکھ کر مجھے  دے  دیں۔ میں  وزیر موصوف تک آپ کی درخواست پہنچا دوں  گا۔ اس کے  ساتھ ہی انہوں  نے  بتایا کہ وزیر صاحب کے  پی۔ اے  صاحب سے  محترم رشید نثار صاحب کی یاد  اللّٰہ  ہے۔ ان سے  بھی رابطہ کریں۔ اسی دوران ماڈرن بک ڈپو اسلام آباد کے  مالک جناب سید ذاکر حسین شاہ صاحب کا خیال آ گیا۔ موصوف کی دوکان منسڑی کے  بالکل پہلو میں  ہے۔ انہوں  نے  بھی درخواست والا مشورہ دیا اور ساتھ ہی درخواست کے  مندرجات کے  متعلق بھی تفصیلات لکھوا دیں۔  انہوں  نے  یہ مشورہ بھی دیا کہ کسی ایم۔ این۔ اے  سے  سفارش بھی کروائیں۔ کسی ایم این اے  سے  ہمارا تو رابطہ نہیں  ہم نے  بغیر سفارش کے  اپنی اور اہلیہ کی طرف سے  دو درخواستیں  داخل دفتر کرا دیں۔ پی۔ اے  صاحب خود موجود نہیں  تھے۔ ان کے  قائم مقام سے  گذارش کی کہ انہیں  بتا دینا کہ یہ درخواستیں  ڈاکٹر رشید نثار اور نوائے  وقت کے  زاہد حسن چغتائی کے  دوست کی ہیں۔ موصوف نے  ہماری درخواستوں  پر دونوں  حضرات کے  نام نوٹ کر لئے۔ شاہ صاحب کے  مشورہ کے  مطابق ایک درخواست وزیر اعظم کے  نام بھی پوسٹ کر دی۔ گھر واپسی پر ٹیلیفون پر رشید نثار صاحب کو آج کی کارگذاری سنائی تو انہوں  نے  پی۔ اے  صاحب سے  رابطہ کرنے  کی کوشش کی۔ چند روز بعد ان کا ٹیلیفون پر رابطہ ہوا تو پی۔ اے  صاحب نے  فرمایا کہ تازہ درخواستیں  لکھ کے  بالمشافہ ملاقات کریں۔ دوسرے  روز میں  نے  ان سے  ملاقات کی تو انہوں  نے  ڈاکٹر رشید نثار صاحب کا نام لکھ کر درخواست وصول کر لی۔ چند روز بعد میری منظوری کا کارڈ مل گیا۔ بہت خوشی ہوئی۔ مگر یہ پوری نہیں  ادھوری خوشی تھی کہ اہلیہ کا کارڈ نہ ملا۔ اہلیہ اوپر سے  خوش مگر اندر سے  پریشان تھی۔ مجھے  خیال ہوا کہ ان کی رقم کا بینک میں  پڑے  رہنا فضول ہے۔ اس لئے  ان سے  کچھ رقم لے  کر کتابیں  چھپوا لینی چاہئیں۔ میں  نے  پچاس ہزار نکلوا کر "جنت کی راہگذر"اور"اسرارِ کائنات "چھپوا لیں۔ ایک دن خیال ہوا کہ اہلیہ کے  متعلق منسٹری سے  رابطہ تو کرنا چاہئیے۔ منسٹری میں  قرآن سیل کے  جناب ا کرام  اللّٰہ  جان سے  تازہ تازہ سلام دعا ہوئی تھی۔ ان سے  ٹیلیفون پر رابطہ کیا تو انہوں  نے  کہا اپنا اور اہلیہ کا نام اور فارم نمبر لکھوائیں۔ انہوں  نے  کمپیوٹر سے  چیک کر کے  خوشخبری سنائی کہ فکر نہ کریں  اہلیہ کا نام آ گیا ہے۔ چند روز تک کارڈ پہنچ جائے گا۔ اللّٰہ  کا شکر ادا کیا۔ بھتیجے  کا بینک میں  اکاؤنٹ تھا اس سے  پچاس ہزار لے  کر اہلیہ کے  واجبات بھی جمع کرا دئیے۔ دل مطمئن ہو گیا۔ کرب کم ہو گیا۔ آنسو تھم گئے .... پھر اللّٰہ  نے  ایک اور خوشی دی منجھلے  بیٹے  کو  اللّٰہ  نے  بیٹا عنایت فرمایا.....پھر ایک اور مہربانی ہوئی۔ بڑابیٹا دو سال بعد"صلالہ"سے  چھٹی آ گیا.......پھر

پھر نظر لگ گئی

اک اور دریا کا سامنا تھا منیر مجھ کو
میں  ایک دریا کے  پار اترا تو میں  نے  دیکھا     (منیر نیازی)
	حج کی درخواست کا منظور و نامنظور ہونا ایک امتحان تھا۔ اس امتحان کی شدت معمولی شدت تھی مگر اب کے  جو مرحلہ پیش آنے  والا تھا اس کا وہم و گمان بھی نہیں  تھا۔ کسے  خبر تھی کہ ہنستے  کھیلتے  مسکراتے  چہروں  سے  یکدم تازگی چھین لی جائے گی۔ خوشیوں  کو نظر لگ جائے گی۔ میری پھلواڑی کی کلی کلی یکدم مرجھا جائے گی۔ ہونے  والی حجن کو تقدیر اپاہج کر دے  گی۔ 
	وہ سادہ لوح عورت جس کے  لبوں  پر" مینوں  سوہنے  نے  بلایا میں  مدینے  چلی آں "(مجھے  حضورﷺ نے  بلایا ہے  میں  مدینے  جا رہی ہوں)کا ورد جاری تھا بولتے  بولتے  تتلانے  اور ہکلانے  لگی۔ وہ جو چاق و چوبند ہرنی کی طرح بہو بیٹیوں  سے  زیادہ مستعد تھی چلتے  چلتے  لڑکھڑانے  لگی اور لڑکھڑاتے  لڑکھڑاتے  بستر پر جا پڑی۔۔۔۔۔ مدینے  جانے  والی کو مدینے  جانے  سے  پہلے  فالج ہو گیا۔ جب مرکز ٹوٹ جائے  تو نظام کیسے  درست رہ سکتا ہے۔ سارا نظام معطل ہو گیا سخت آزمائش تھی۔ اللّٰہ  ایسی آزمائش سے  ہر مسلمان کو بچائے۔ (آمین)
	بیشک آزمائش امتحان ہوتا ہے۔ امتحان کے  نتیجہ میں  پاس ہونے  کی امید ہوتی ہے  اور فیل ہونے  کا کھٹکا بھی رہتا ہے۔ آدمی تھک جاتا ہے۔ مایوس ہو جاتا ہے۔ بعض دفعہ باغی ہو جاتا ہے۔ ناکام ہو جاتا ہے۔ یہ ناکامی کا کھٹکا دل میں  کھٹکتا رہا۔ مگر اللّٰہ  نے  امید کی شمع بجھنے  نہیں  دی۔ مایوس لمحوں  میں  اس کی رحمت مہربان ماں  کی طرح لوریاں  دیتی رہی۔ اس نے  ناتواں  حوصلوں  کو لڑکھڑانے  نہیں  دیا۔ یوں  معلوم ہوتا تھا کہ اسباب کے  سہاروں  کے  بجائے  دستِ قدرت خود سنبھالا دے  رہا ہے۔ 
	پندرہ جنوری کو ہماری فلائٹ تھی۔ بلاوا آ چکا تھا۔ جانا بھی ضروری تھا کہ حجن تتلاتی زبان سے  کہہ رہی تھی 
"اکھاں  مَل مَل کے  ایہہ دن ویکھیا اے۔ میں  ضرور جاناں  ایں "
(اتنی انتظار کے  بعد یہ دن نصیب ہوا ہے۔ میں  رہ نہیں  سکتی ضرور جاؤں  گی)
	آدمی اندر سے  بیمار ہوتا ہے  اور اندر ہی سے  تندرست ہوتا ہے۔ بیشک عزم و ارادہ اور ایمان و یقین بہت بڑی قوت ہے۔ مریضہ قوتِ ایمان کی بدولت حیرت انگیز انداز سے  رو بہ صحت  ہو رہی تھی۔ مگر ڈاکٹر حج کی اجازت نہیں  دے  رہے  تھے۔ اللّٰہ  تعالیٰ کا اپنا نظام ہے۔ اس نے  ہم دونوں  کو اپنے  دربار اور محبوب کے  دیار کی زیارت کرانا تھی اس لئے  اس نے  نظام تقویم کو اس طرح ترتیب دیا کہ جب مریضہ چلنے  کے  قابل ہو جائے  اس وقت روانگی ہو۔ یہی وجہ ہے  کہ حج کو جانے  والی پروازوں میں  ہماری آخری پرواز تھی۔ 
	اس آزمائش کے  دوران حیران کن اسرار کا مشاہدہ ہوا۔  اللّٰہ  تعالیٰ نے  اندر کی غلاظتوں  کو دھوکر پاک کر دیا۔ دل شیشے  کی طرح چمکنے  لگے۔ ابھی سے  دعائیں  قبول اور سنی جانے  لگیں۔ لگتا تھا محترمہ رابعہ بصری بن گئی ہیں۔ 
پرتیں  کھلیں  تو راز کئی منکشف ہوئے 
اک زلزلے  سے  ذات کی کایا پلٹ گئی       (سندیسہ)
	اسی تناظر میں  علامہ اقبال کا شعر بھی دل کی تسلی کا باعث بنا 
تو بچا بچا کے  نہ رکھ اسے  تیرا آئینہ ہے  وہ آئینہ
کہ شکستہ ہو تو عزیز تر ہے  نگاہِ آئینہ ساز میں 	(اقبال)
	پھر میاں  صاحب کے  اس شعر نے  بھی ڈھارس بندھائی
جنہاں  دکھاں  وچ دلبر راضی سُکھ اونہاں  توں وارے 
دکھ قبول محمد بخشا راضی رہن پیارے 
(جن دکھوں  سے  محبوب حقیقی خوش ہوتا ہے  ہر قسم کا سکھ اس پہ صدقے  قربان۔ اے  محمد بخش  اللّٰہ  کی رضا کے  لئے  ہرقسم کی آزمائش اور دکھ تکلیف قبول ہے)

بَعْثِِ بَعْدَالْمَوْت------- موت کی موت

	 اللّٰہ  تعالیٰ مارے  گا۔ 
	مار کے  جگائے  گا۔ 
	وت(پھر) نہیں  مارے  گا۔ 
	یہ الفاظ ایمان کی صفات میں  سے  ایک صفت بعث بعد الموت کا سادہ سا ترجمہ ہیں  جو ہم نے  بچپن میں  رٹے  تھے۔ بیشک حیات بعد الموت کا یقین کرنا ایمانیات کا اہم جزو ہے۔ ایمان نام ہے  زبان سے  ماننے  اور دل سے  اقرار کرنے  کا اور ایمان کی کیفیت یہ ہے  کہ انبیاءؑ کے  علاوہ عام انسانوں  کا ایمان گھٹتا بڑھتا رہتا ہے۔ ایمان کی باتیں  سننے  سنانے  سے  ایمان بڑھتا ہے۔ ایمان افروز مناظر و واقعات کے  مشاہدے  سے  بھی ایمان میں  ترقی ہوتی ہے۔ پھر آدمی کو جب عملی طور پر قدرتِ الٰہی کا تجربہ ہوتا ہے  تو ایمان پختہ ہو جاتا ہے۔ اہلیہ کی بیماری اور صحت یابی سے  یہ یقین پختہ ہو چکا ہے  کہ بیشک  اللّٰہ  تعالیٰ مارنے  کے  بعد دوبارہ زندہ کرے گا۔ موصوفہ کو جب ہسپتال لیکر گئے  تو ڈاکٹر صاحب نے  ربڑ کی ہتھوڑی سی انکے  گھٹنوں  وغیرہ پر مار کر چیک کیا تو موصوفہ نے  کوئی ردِ عمل ظاہر نہیں  کیا۔ انہوں  نے  پاؤں  میں  گدگدی کی تو وہ بھی بے  جان تھے۔ یہی حال بازوؤں  کا تھا۔ بائیں  آنکھ بھی پتھرا چکی تھی۔ یوں  سمجھیں  آدھا جسم مر چکا تھا۔ بچے  جسم پر چٹکی بھرتے،پاؤں  میں  گدگدی کرتے  مگر مردہ جسم میں  کوئی حرکت نہ ہوتی۔ اللّٰہ  کی قدرت کہ تیسرے  چوتھے  روز ڈاکٹر صاحب نے  پاؤں  میں  گدگدی کی تو پاؤں  نے  معمولی سا ردِ عمل ظاہر کیا۔ دل میں  تھوڑی سی امید پیدا ہو گئی۔ صدقہ،نوافل،دعائیں  اور دوائیں جاری رہیں۔ اللّٰہ  کے  کرم سے  دن بدن حیرت انگیز انداز سے  اعضاء نے  حرکت کرنا شروع کر دیا۔ ہم نے  اپنی آنکھوں  سے  بے  جان کو نیم جاں  اور نیم جان کو جاندار ہوتے  دیکھا ہے۔ پھر وہ دن بھی آ گیا جب آدھ موا جسم حاجی کیمپ اپنے  پاؤں  پر چل کر جا رہا تھا۔ واقعی وہ حیّ و قیّوم ہے  وہ قادر مطلق ہے۔ وہ زندہ کو مردہ اور مردہ کو زندہ کرنے  والا ہے۔ 

حاجی کیمپ

	منسٹری کی طرف سے  وصول ہونے  والے  کارڈ میں  تیرہ جنوری کی صبح کو حاضر ہونے  کا لکھا تھا۔ ہمارا کوئی گروپ یا گروپ لیڈر نہیں  تھا۔ نہ ہمیں  کسی تربیتی پروگرام میں  شمولیت کا موقع ملا نہ کھل کر کسی سے  مشورہ کیا۔ آزمائشوں  کی الجھنوں  میں  الجھے  رہے۔ ایک دن مرکز (زکریا مسجد)والوں  نے  حج کرنے  والوں  کو بلایا تھا۔ اس پروگرام میں  بھی کافی لیٹ پہنچا۔ ایک عالم بیان فرما رہے  تھے۔ انہوں  نے  فضائل کے  علاوہ جو اہم بات بتائی وہ یہ ہے  کہ:۔ 
غیر مسلموں  کو جس چیز کو رواج دینا ہوتا ہے  وہ مکہ مدینہ پہنچا دیتے  ہیں۔ یہاں  سے  یہ چیز حجاج کرام یا زائرین کے  ذریعے  تمام دنیا میں  پھیل جاتی ہے۔ دوسری بات یہ ہے  کہ مکہ معظمہ سے  آبِ زم زم اور حضورﷺ کی مکہ والی زندگی اور مدینہ منورہ سے  مدینہ کی کھجوریں  اور حضورﷺ والی مبارک زندگی لے  کر آنا ہے۔ 
	گورنمنٹ کی طرف سے  ہماری راہنمائی کے  لئے  کوئی لٹریچر بھی ہمیں  نہیں  ملا۔ بس دوست احباب نے  کچھ کتابچے  عنایت فرمائے  یا زبانی کچھ راہنمائی فرمائی۔ ہم نے  تمام حج بغیر معلم اور سرکاری رہبر کے  ساتھیوں  کی مدد سے  کیا ہے۔  اللّٰہ  کا کرم ہے  کہ اس نے  ہر مرحلہ پر ہماری راہنمائی اور نصرت کے  لئے  اپنے  غیبی نظام کو ہمارے  لئے  مستعد و متحرک رکھا۔ حاجی کیمپ تک منجھلے  بیٹے  کے  ساتھ گئے  تھے۔ مگر اہلکاروں  نے  بیٹے  کو گیٹ پر روک لیا۔ اب تک اپنی والدہ کو یہی سنبھالتا رہا ہے۔ اب اس کی ذمہ داری مجھے  سنبھالنا پڑی۔ میں  خود ساٹھ سالہ بوڑھا،شوگر کا مریض،مجھے  یہ ذمہ داری بہت بوجھل لگی۔ مگر  اللّٰہ  تعالیٰ نے  حوصلہ دیا، ہمت دی اور خصوصی نصرت کی۔ اس کا لاکھ لاکھ شکر ہے  کہ اس نے  یہ ذمہ داری سنبھالنے  کی توفیق دی۔ حاجی کیمپ میں  پی آئی اے  کے  دفتر سے  ٹکٹ،احرام اور حبیب بینک سے  ریال اور ڈالر لئے،گردن توڑ بخار کا ٹیکہ لگوایا،سٹال سے  چند چیزیں  خریدیں۔ حاجی کیمپ کے  گیٹ پر بیٹھے  اہلکاروں  سے  گلے  میں  لٹکانے  والا شناختی کارڈ لیا اور گھر آ گئے۔ 

تیاری

	حاجی کیمپ سے  واپسی پر دل بڑا مسرور تھا۔ عجیب قسم کا جوش و ولولہ اور سرشار ی تھی کہ میں  بھی گنگنانے  لگا:۔ 
"مینوں  سوہنے  نے  بلایا میں  مدینے  چلی آں "
	سارے  گھر میں  عید کا سا سماں  تھا۔ سامان کی لسٹیں  بن رہی ہیں۔ بیگ اور تھیلے  تیار کئے  جا رہے  ہیں۔ کوئی آ رہا ہے  کوئی جا رہا ہے۔ کسی کا کوئی مشورہ کسی کی کوئی رائے۔ ایک خاتون نے  گھر والی کو احرام ہدیہ کیا۔ میرے  ایک دوست نے  اپنی بیٹی کی طرف سے  احرام کے  لئے  پانچ سو روپے  ہدیہ کئے۔ ہماری ایک بزرگ ہیں  انہوں  نے  مکہ،مدینہ کے  کبوتروں  کے  دانے  کے  لئے  پیسے  دئیے۔ ان کی دیکھا دیکھی بڑی بیٹی نے  بھی کبوتروں  کے  دانے  کے  لئے  کچھ رقم اپنی والدہ کی مٹھی میں  دی۔ عجیب گہماگہمی تھی۔ دعاؤں  کی درخواستیں  اور سلام کے  پیغام دئے  جا رہے  تھے۔ مولانا عبدالکریم صاحب بڑی دور سے  ملنے  کے  لئے  آئے۔ بھائی اشتیاق صاحب جب بھی ملتے  مسکرا کر کہتے  بھول نہیں  جانا۔ حافظ عبد القیوم صاحب نے  ہاتھوں  کو بوسہ دیتے  ہوئے  فرمایا دربارِ رسالتﷺ میں  اس فقیر کا سلام عرض کر دینا۔ جو ملتا دعا و سلام کو کہتا۔ ایک صاحب کو میں  نے  کہا بھئی مجھے  یاد نہیں  رہتا آپ مجھے  رقعہ لکھ دیں۔ پھر میں  اپنی یادداشت کے  لئے  جو بھی پیغام دیتا اس کا نام ڈائری میں  لکھ لیتا۔ مجھے  اپنی یادداشت پہ اعتبار نہیں  لیکن عقیدت مندوں  کی دعاؤں  میں  مجھے  بوقت دعا و سلام خود بخود سب کے  نام اور پیغام یاد آ گئے۔ یہی نہیں  بلکہ ایسے  بہت سے  یاروں  اور پیاروں  کے  چہرے  سامنے  آئے  جنہیں  فوت ہوئے  یا بھولے  ہوئے  مدتیں  بیت چکی تھیں۔ ایک دن میں  نے  حدیث میں  پڑھا کہ حج کو جاتے  وقت لوگوں  سے  ملنا چاہئے۔ وقت کم تھا۔ مگر جس جس سے  ہو سکا میں  نے  اس سے  ملاقات کی اور قبولیت کے  لئے  دعا کی درخواست کی۔ گھر والی نے  بھی ہمسایوں  سے  فرداً فرداً ملاقات کی۔ ہم ملاقاتوں  میں  اور بچے  سامان تیار کرنے  میں  لگے  رہے۔ 
	سامان کے  متعلق تو عام طور پر ضروری سامان لے  جانے  کا مشورہ دیا جاتا ہے۔ مگر یہ ضروری سامان بھی اتنا ہو جاتا ہے  کہ ہم جیسے  بوڑھوں  کے  لئے  اس کا سنبھالنا مشکل ہوتا ہے۔ احرام،کپڑے،دریاں، چادریں،چپلیں،پلیٹیں  وغیرہ کافی بوجھ ہو جاتا ہے۔ میں  نے  بچوں  سے  کہا ایسی چیزیں  جو وہاں  سے  مل سکتی ہیں  انہیں  پیک کرنے  کی ضرورت نہیں۔ اس کے  باوجود ایک بڑا بیگ اور پی آئی اے  کی طرف سے  دئیے  گئے  دو چھوٹے  بیگ سامان سے  بھر گئے۔ ایک گلے  میں  لٹکانے  والا چھوٹا بیگ تھا جس میں  پاسپورٹ،ٹریول چیک اور دوسرے  ضروری کاغذات تھے۔ اس بوجھ کے  علاوہ بڑی ذمہ داری اس مفلوج مریضہ کی تھی جو ابھی پوری طرح صحت یاب نہیں  ہوئی تھی۔ مگر جب تک حاجی کیمپ کے  اندر داخل نہیں  ہوئے  مجھے  اس بوجھ کا احساس نہیں  ہوا کہ ابھی تک اس بوجھ کو دوسرے  سہارے  ہوئے  تھے۔ 

الوداع

	ہماری فلائٹ کی تاریخ پندرہ جنوری اور وقت دو بج کر دس منٹ تھا۔ ہم نے  سارے  عزیز و اقارب اور دوست احباب کو یہی وقت بتایا تھا۔ پی۔ آئی۔ اے  والوں  نے  چودہ تاریخ کی شام آٹھ بجے  پہنچنے  کی تاکید کی تھی۔ ہمارا خیال تھا کہ آٹھ بجے  رپورٹ کر کے  گھر آ کر آرام سے  سو جائیں  گے۔ اور صبح آرام سے  تیار ہو کر کیمپ پہنچ جائیں  گے۔ شکر خدا کا کہ تیرہ تاریخ کو احرام لیتے  وقت کسی صاحب نے  بتا دیا تھا کہ روانگی چودہ پندرہ کی درمیانی رات کے  دو بج کر دس منٹ پر ہے۔ سوچودہ تاریخ کی شام کو کھانا کھانے  کے  بعد مع اہل و عیال آٹھ بجے  ہم حاجی کیمپ پہنچ گئے۔ 
	حاجی کیمپ کے  باہر ایک دفعہ زادِ راہ کا جائزہ لیا تو تمام ضروری چیزیں  موجود تھیں  ایک چیز جو اصل زادِ سفر ہے  اس کا احساس نہیں  کہ وہ کس درجہ کی تھی۔ وہ چیز کیا ہے ؟وہ تقویٰ ہے۔ 

جاندار موت

	جاندار موت یقیناً حیران کن عنوان ہے۔ مگر سچ پوچھیں  تو مجھے  اس سے  بہتر عنوان نہیں  سوجھ رہا۔ 
	حاجی کیمپ کے  باہر سائبان کے  نیچے  میں  اپنی پوری زندگی اور  پوری دنیا کے  ساتھ کھڑا تھا۔ مگر جیسے  ہی گیٹ کے  اندر داخل ہوا میں  دنیا سے  اور دنیا مجھ سے  جدا ہو گئی۔ اور یہی تو موت ہے۔ بھائی بہنیں،بیٹے  بیٹیاں،عزیز و اقارب،دوست احباب سب سانس لیتے  رشتے  سانس لیتے  رشتوں  سے  چھوٹ جائیں  تو اسے  کیا کہیں  گے۔ جو تھوڑی سی دنیا میرے  ساتھ تھی وہ بھی مفلوج، بوجھ، ذمہ داری۔ باہر کی دنیا سے  ہمارا رابطہ بالکل کٹ چکا تھا۔ صرف گلاب کے  تازہ پھولوں کے  ہار جن میں  محبت کی مہک اور خون کا رنگ تھا ہمارے  سنگ سنگ تھے۔ مگر ایک وقت آیا کہ یہ سنگت بھی ٹوٹ گئی۔ کہ احرام باندھنے  کے  بعد مادی رشتوں  سے  کٹ کر روحانی خوشبوؤں  اور رنگوں  کی جنت کا سفر شروع ہو جاتا ہے۔ 
	مگر............. 
	جنت کا سفر............. 
	جنت کا سفر کوئی آسان سفر نہیں ہے۔ کٹھن آزمائشوں  اور مشقتوں  کا سفر ہے۔ ہم تو بوڑھے  اور ناتواں  ہیں  ہم نے  نوجوانوں  اور تواناؤں  کی توانائیوں  کو تھکتے  ہانپتے  دیکھا ہے۔ 
یہ شہادت گہہ الفت میں  قدم رکھنا ہے 
لوگ آسان سمجھتے  ہیں  مسلماں  ہونا	(اقبال)

زادِ سفر

	حضور پاکﷺ کے  فرمانِ مبارک کا مفہوم ہے  کہ حج کا ثواب بقدرِ مشقت ہے۔ بیشک  اللّٰہ  کی راہ میں  مشقت آتی ہے۔ اور مشقت کی صعوبت کو برداشت کرنے  کی اہلیت  اللّٰہ  تبارک و تعالیٰ عطا فرماتے  ہیں۔ اللّٰہ  کے  راستے  میں  مشکلات پیش آتی ہیں۔ مگر جو مشکلات کا خالق ہے  وہ حل المشکلات بھی ہے۔ وہ مشکلات اس لئے  پیدا کرتا ہے  کہ آدمی کو اس حقیقت کا احساس ہو جائے  کہ  اللّٰہ  مشکل کشا ہے۔ بیشک ہر مشکل کے  بعد آسانی ہے۔ ان باتوں  کا یقین ہو تو سفر آسان رہتا ہے۔ اللّٰہ  کی راہ میں  صبر،تحمل، برداشت،حلم اور تقویٰ اصل زادِ راہ ہے۔ ان امور کا تعلق ظاہر سے  نہیں  باطن سے  ہے۔ عام ماحول میں  یہ چیزیں  نایاب ہیں۔ اس لئے  حج پر روانہ ہونے  سے  پہلے  چند روز  اللّٰہ  کی راہ میں  صالحین کی صحبت میں  رہ کر گذارے  جائیں  تو ذہن صاف اور دل پاک ہو جاتا ہے۔ ذہن اور دل کو صاف کرنے  کے  لئے  چند صفات کا خیال رکھنا بہت مفید ہے۔ 
ہر عمل کلمے  کے  یقین،نفس کے  مجاہدے،فضائل کے  شوق،حضورﷺ کے  طریقے، اللّٰہ  کے  دھیان اور اللّٰہ  کو راضی کرنے  کے  جذبے  کے  ساتھ کیا جائے۔ 
	کلمے  کے  یقین سے  مراد یہ ہے  کہ ہر قسم کا ہونا صرف  اللّٰہ  تعالیٰ کے  ارادے  سے  ہوتا ہے۔ ماضی حال اور مستقبل کے  حالات و واقعات کے  پیچھے   اللّٰہ  تعالیٰ کا امرِ کُن کار فرما ہے۔ اور اللّٰہ  کے  امر کے  بغیر غیر سے  کچھ نہیں  ہوتا۔ اس بات کو دل میں  بٹھانا ضروری ہے۔ اپنے  فکر و عمل کو اس فکر کے  تابع کرنا۔ ہر عمل کے  دوران اس بات کا دھیان رہے  کہ  اللّٰہ  دیکھ رہا ہے۔ اللّٰہ  سن رہا ہے۔ اللّٰہ  ہمارے  ساتھ ہے۔ کلمہ طیبہ کے  پہلے  حصے  لا الہ الا اللّٰہ  کا یہی مفہوم و تقاضا ہے۔ اور دوسرے  حصے  یعنی محمد رسول اللہ کا تقاضا یہ ہے  کہ ہر عمل میں  حضورﷺ کی اتباع کا لحاظ رکھا جائے۔ اصل میں  دین تو حضورﷺ کی اداؤں  کی نقل کا نام ہے۔ جو حضورﷺ کے  طریقے  پر چلے  گا دونوں  جہانوں  میں  کامیاب رہے  گا اور جو غیروں  کے  طریقوں  پر چلے  گا دونوں  جہانوں  میں  ناکام و نامراد رہے  گا۔ 
	آدمی فطری طور پر حریص ہے۔ یہ وہی عمل کرتا ہے  جس میں  اسے  کچھ فائدہ نظر آتا ہے۔ دین کے  معاملے  میں  بھی اس کا یہی رویہ کارفرما ہے۔ چنانچہ ہر عمل کے  اجر و ثواب کو بار بار سن کر دل میں  اس کے  حصول کی تمنا پیدا کی جائے  اور دل کو ان فضائل پر یقین کرنے  پر مائل کیا جائے۔ دل کو مائل کرنے  کے  لئے  بار بار فضائل کا سننا سنانا ضروری ہے۔ دین کے  ہر عمل کا تقاضا و مقتضاء  اللّٰہ  کی خوشنودی حاصل کرنا ہے۔ اس لئے  جو نیکی بھی کی جائے  وہ  اللّٰہ  کو راضی کرنے  کے  جذبے  سے  کی جائے۔ اس لئے  کہ  اللّٰہ  کو وہی عمل منظور ہے  جو خالص اس کی رضا کے  لئے  کیا جائے۔ اور جو عمل مخلوق کی خوشنودی کے  لئے  کیا جائے  وہ مردود ہے۔ اللّٰہ  کی رضا کے  لئے  اگر ایک کھجور بھی خرچ کی جائے  تو اس کا بڑا اجر ہے۔ مگر دنیا کو دکھانے  کے  لئے  پہاڑوں  جتنا صدقہ کر دیا جائے  تو اس کا ذرہ برابر ثواب نہیں۔ ریا کا بڑے  سے  بڑا عمل بھی رد کر دیا جاتا ہے۔ 
	نفس کے  مجاہدے  سے  مراد ہے  کہ جہاں  تک ممکن ہو اپنے  تقاضوں  کو دبا کر صبر  و تحمل سے  مناسکِ حج ادا کئے  جائیں۔ اپنی ضروریات پر دوسروں  کی ضروریات کو ترجیح دی جائے  کہ ایثار و قربانی کا یہی تقاضا ہے۔ غصہ،حسد،کینہ وغیرہ سے  دل کو پاک رکھنے  کی کوشش کی جائے۔ نہ صرف اپنی،اپنے  اہل و عیال،ملک و قوم بلکہ پورے  عالم کے  انسانوں  کی فکر ہو۔ خاص طور پر امتِ محمدیہﷺ میں  اخوت و محبت کی دعائیں  کی جائیں۔ گروپ لیڈر کا حکم ماننے  کی اہلیت پیدا کی جائے۔ اس لئے  کہ جس نے  امیر کی مانی اس نے  نبیؐ کی مانی اور جس نے  نبیؐ کی مانی اس نے   اللّٰہ  کی مانی۔ اس کے  علاوہ ہر عمل باہمی مشورہ سے  سرانجام دینے  کی عادت ڈالی جائے۔ اپنے  نفس کو لایعنی باتوں  سے  بچانے  کی عادت ڈالنا ہے۔ لایعنی کے  ذریعے  شیطان اصل مقصد سے  ہٹا کر دوسری باتوں  میں  الجھا دیتا ہے۔ آدمی  کو ذکر و عبادت یعنی مناسک و اعمال سے  ہٹا کر فضول باتوں  یعنی گپ بازی یا غیبت جیسی باتوں  میں  لگا دیتا ہے۔ حاجی بیت الحرام سے  نکل کر بازار میں  گم ہو جاتا ہے۔ آدمی حاجی کے  بجائے  تاجر بن جاتا ہے۔ دین کا نہیں  دنیا کا تاجر۔ حج کا تقاضا تو یہ ہے  کہ دنیا سے  بے  رغبتی پیدا کی جائے  اس دنیا کے  متعلق روایت ہے  کہ"دنیا مردار ہے  اسے  چاہنے  والے  کتے  ہیں " اس کا مفہوم پنجابی شاعر میاں  محمد صاحب نے  اس طرح بیان فرمایا ہے :۔ 
"ایہہ دنیا زن حیض پلیدی طالب اس دے  کتے "
(اس دنیا کی مثال حیض و نفاس کی پلیدی کی سی ہے  اور اس کو چاہنے  والوں  کی مثال کتوں  کی سی ہے۔)
 ایک اور موقع پر میاں  محمد بخش صاحب فرماتے  ہیں :۔ 
دانش منداں  دا کم ناہیں  دنیا تے  چت لاناں 
اس و وہٹی سو خاوند کیتے  جو کیتا سو کھاناں 
جس چھڈی ایہہ بچڑے  کھانی اوہو سگھڑسیاناں 
ایسی ڈین دے  نال محمدؐ کاہنوں  عقد پڑھاناں 
(اصحاب دانش دنیا میں  دل نہیں  لگایا کرتے۔ اس لئے  کہ دنیا کی مثال ایک بے  وفا بیوی کی ہے  جس نے  ایک کے  بجائے  لاکھوں  سے  یارانہ لگا رکھا ہو۔ سو عقل کا تقاضا یہی ہے  کہ اس کو چھوڑ دیا جائے۔ یہ تو ایک ڈائن ہے  سواس سے  عقد کرنا درست نہیں)
	تقویٰ کا تقاضا ہے  کہ حرص و ہوس سے  دل کو پاک رکھا جائے۔ زبان سے   اللّٰہ  کے  سوا کسی سے  سوال نہ کیا جائے  اور نہ ہی دل میں  سوال کا خیال لایا جائے۔ اور خرچ کے  معاملے  میں  اعتدال کا راستہ اختیار کیا جائے  فضول خرچی اور کنجوسی سے  حتی الامکان بچا جائے۔ بغیر اجازت کسی کی چیز استعمال نہ کی جائے۔ نفس کے  مجاہدہ کے  لئے  کم کھانا، کم سونا، کم بولنا بہت مفید ہے۔ دل کی حضوری اور پورے  ذوق و شوق سے  مناسک ادا کرنا ضروری ہے۔ اور فارغ اوقات میں  ذکر و عبادت اور دین کے  مسائل و اعمال سیکھنا سکھانا بہت مفید ہے۔ اس کے  علاوہ دوسروں  کی خدمت کرنا بھی بہت بڑا عمل ہے۔ کہا جاتا ہے  کہ عبادت سے  جنت اور خدمت سے  خدا ملتا ہے۔ نفس کے  مجاہدہ کے  لئے  یہ عمل بہت مفید ہے۔ اس عمل سے  طبیعت میں  حلیمی اور مسکینی پیدا ہوتی ہے۔ تکبر اور بڑائی کا نشہ اتارنے  کے  لئے  خدمت اکسیر کا درجہ رکھتی ہے۔ 
	یہ چند باتیں  ان باتوں  کا خلاصہ ہیں جو میں  نے  کتابوں  میں  پڑھیں،صالحین سے  سنی اور اپنی کتاب "جنت کی راہگذر"میں  تحریر کی ہیں۔ میں  نے  اپنی تربیت کے  لئے  تین امور کو پیشِ نظر رکھا ہے۔ پہلے  نمبر پر ایمان دوسرے  نمبر پر ماننا اور تیسرے  نمبر پر مرنے  کی تربیت۔ 
لَاکاسفر

	سفرِ حجاز میں  ہمت،حوصلے  اور جوانمردی کی ضرورت ہے۔ یہ سفر ایمان و عمل کا امتحان ہے۔ ہمارا امتحان حاجی کیمپ میں  داخل ہوتے  ہی شروع ہو گیا۔ میرے  ایک ہاتھ میں  بڑا سا بیگ اور دوسرے  میں  بیگم کا ہاتھ تھا۔ میں  چھوٹا بیگ اٹھانے  کو تھا کہ ایک قلی نے  اٹھا کر ریڑھی پر رکھ لیا۔ اس نے  میرے  ہاتھ کا بیگ بھی لے  کر ریڑھی پہ لا دلیا۔ میں  اس کی نصرت سے  خوش ہوا۔ معاً خیال ہوا اسے  کچھ ہدیہ بھی تو دینا ہو گا۔ اب میرے  پاس پاکستانی کرنسی نہیں  تھی۔ میں  نے  باہر کھڑے  بیٹوں  کو آواز دی تینوں  کی جیبوں  میں  جتنے  جتنے  پیسے  تھے  مجھے  تھما دئیے۔ نہ انہوں  نے  گنے  نہ میں  نے  حساب کیا۔ حساب کتاب کی فرصت کہاں۔ قلی سامان لے  کر آگے  آگے  رواں  ہوا اور ہم اس کی اتباع میں  پی۔ آئی۔ اے  کے  ہال تک پہنچے۔ قلی مزدوری وصول کر کے  مزید مزدوری کے  لئے  واپس چلا گیا۔ اب میں  اور میرا بوجھ تنہا رہ گئے۔ سوائے   اللّٰہ  کے  کوئی ساتھی یا سہارا نہ رہا۔ مخلوق کی نفی اور خالق کا اثبات شروع ہو گیا۔ کلمہ کی تفہیم ہونے  لگی۔ معرفت کا سفر شروع ہو گیا۔ 

"عجب چیز ہے  لذتِ آشنائی"

	اہلیہ محترمہ ابھی اٹھنے  بیٹھنے  کے  قابل نہیں  ہوئی۔ مجھے  پی۔ آئی۔ اے  کے  قوانین اور آداب کا علم نہیں۔ جہاز کی سواری کا تجربہ نہیں۔ اور پھر مشیر یا  راہنما بھی کوئی نہیں۔ اکیلے  کا سفر ہے۔ جیسے  موت کا سفر۔ جیسے  قبر میں  سوالات کا سلسلہ ہوتا ہے  اسطرح ہال میں  داخل ہوتے  ہی سوال و جواب اور جانچ پڑتال کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ میں  نے  کندھوں  کا بوجھ اتار کر زمین پر رکھا۔ اہلیہ کو سامان کے  پاس بٹھایا اور لائن میں  کھڑا ہو گیا۔ ایک اہلکار نے  بیگ چیک کر کے  دوسرے  طرف پھینک دیا۔ میں  نے  بیگ کو تالا لگا کر پاسپورٹ اور ٹکٹ وغیرہ چک کرایا۔ بڑا بیگ عملہ کے  سپرد کر دیا اور چھوٹا بیگ جس میں  احرام وغیرہ تھے  وہ کندھوں  پہ لٹکا کر اوپر کے  ہال میں  چلے  گئے۔ یہاں  محلے  کے  ایک ساتھی سے  ملاقات ہوئی۔ دل خوش ہوا کہ چلو کوئی تو ساتھ دے  گا۔ مگر  اللّٰہ  کی رضا کہ وہ دوسری طر ف توجہ نہیں  ہونے  دیتا۔ وہ کہتا ہے  کہ مجھ پر توکل اور بھروسہ رکھو۔ میں  ہی مددگار ہوں۔ میں  ہی ساتھی ہوں۔ چنانچہ حج کے  دوران یا اس کے  بعد ان سے  دوبارہ ملاقات نہیں  ہوئی۔ PIA نے  مستورات کے  احرام پہلے  دے  دئیے  تھے۔ مردوں  کو احرام روانگی کے  وقت دینے  کو کہا تھا۔ میں  اہلیہ کو بٹھا کر احرام لینے  گیا تو واپسی پر وہ تنہا بیٹھی میرا انتظار کر رہی تھی۔ باقی ہال خالی  ہو رہا تھا۔ معلوم ہوا کہ سارے  حاجی گاڑیوں  میں  سوار  ہو رہے  ہیں۔ میں  اہلیہ کو لے  کر گاڑی میں  سوار ہوا تو سیٹیں  پُر ہو چکی تھیں۔ ہم دونوں  درمیان میں  کھڑے  ہو گئے۔ دو حاجیوں  کے  ساتھی پیچھے  رہ گئے  تھے  انہوں  نے  سیٹیں  خالی کیں  توہم ان پر بیٹھ گئے۔ ....... تھوڑی سی آزمائش آئی  اللّٰہ  نے  دور فرما دی.......آنے  والے  مرحلوں  میں  بھی یہی تجربہ ہوتا رہا۔ مسئلہ پیدا ہوا...  حل ہو گیا۔ کس نے  پیدا کیا ؟...  اللّٰہ  نے ...کس نے  حل کیا؟...  اللّٰہ  نے۔ 
	رات کے  اندھیرے  میں  کن کن مراحل سے  گذرے  صحیح یاد نہیں۔ ائرپورٹ میں  داخل ہوتے  ہی چیکنگ کا تھکا دینے  والا چکر شروع ہو گیا۔ کبھی اس گیٹ پر کبھی اس دروازے  پر۔ مختلف راستوں،دروازوں اور میزوں  پر سے  ہوتے  ہوئے  جب ائرپورٹ کے  بڑے  ہال میں  پہنچے  تو بدن تھکن سے  چور اور سر درد سے  چکرا رہا تھا۔ تھوڑی دیر کے  بعد چائے   بسکٹ سے  تواضع کی گئی۔ روانگی کے  لمحے  کی انتظار ہونے  لگی۔ تھوڑی دیر بعد مائیک پر احرام باندھنے  کی ہدایات سن کر لوگوں  نے  احرام باندھنا شروع کر دئیے۔ 

ماننا

	حج کا آغاز احرام باندھنے  اور حج و عمرہ کی نیت کرنے  سے  ہوتا ہے۔ اس آغاز سے  مسلمان کے  ایمان کا امتحان شروع ہوتا ہے۔ ایمان کیا ہے ؟ اللّٰہ  اور اس کے  رسولﷺ کے  احکام بے  سوچے  سمجھے  آنکھیں  بند کر کے  ماننا۔ ماننے  کے  بارے  میں  ایک حکایت یاد آ رہی ہے۔ 
	ایک دن محمود غزنوی کے  دل میں  آیا کہ اپنے  مصاحبین کی آزمائش کرنا چاہئیے۔ اس نے  وفاداری کا دعویٰ کرنے  والوں  کو بلایا اور ایک قیمتی ہیرا ان کے  سامنے  رکھ کر توڑنے  کا حکم دیا۔ سب نے  عرض کیا حضور یہ قیمتی ہیرا جو کہ آپ کو محبوب ہے  ہم اسے  کیسے  توڑ سکتے  ہیں۔ آخر میں  ایاز جو کہ حقیقی وفادار تھا اسے  کہا گیا تو اس نے  بغیر کچھ سوچے  سمجھے  ہیرا توڑ دیا۔ بادشاہ بہت خوش ہوا۔ اس قصہ سے  معلوم ہوتا ہے  کہ اصلی قیمتی چیز مالک کا حکم ہے۔ اس سلسلے  میں  ایک حدیث کا مفہوم عرض کرتا ہوں :۔ 
	ایک صحابی ؓ نماز پڑھ رہے  تھے۔ حضورﷺ نے  انہیں  آواز دی۔ انہوں  نے  جواب نہ دیا۔ حضورﷺ نے  پھر پکارا پھر بھی انہوں  نے  نماز نہیں  توڑی۔ جب نماز سے  فارغ ہوئے  تو حضورﷺ نے  فرمایا میری پکار کا جواب کیوں  نہیں  دیا۔ اصحابیؓ نے  نماز کا عذر پیش کیا تو حضورﷺ نے  فرمایا کیا تجھے   اللّٰہ  کے  حکم کا پتہ نہیں  کہ جب  اللّٰہ  یا اس کا رسولﷺ بلائے  تو ہر حال میں  اس کا جواب دو۔ 

مرنا

	احرام سفید رنگ کی دو چادریں  ہیں  ایک اڑھائی گز لمبی اور سوا گز چوڑی۔ یہ تہبند کے  طور پر ناف کے  اوپر باندھی جاتی ہے۔ اسی سائز کی دوسری چادر اوپر اوڑھ لی جاتی ہے۔ احرام باندھنے  سے  پہلے  غسل یا وضو ضروری ہے۔ احرام باندھ کر احرام کی نیت سے  سر ڈھانپ کر دو نفل پڑھنے  ہوتے  ہیں۔ نفل پڑھ کر عمرہ کی نیت کرنا ہوتی ہے۔ 
	میں  احرام کے  لئے  وضو کرنے  لگا تو گلے  سے  لپٹے  سینے  سے  چمٹے  گلاب تڑپنے  لگے۔ اے  حاجی! کیا ہمیں  اپنے  سینے  سے  جدا کر دو گے ؟
	ہاں !
	کیوں ؟
	مجبوری ہے !
	کیا مجبوری ہے ؟
	معلوم نہیں۔ بس حکم ہے !
	کس کا حکم ہے ؟
	 اللّٰہ،رسولؐ کا۔ 
میں  نے  لرزتے  ہاتھوں،تڑپتے  جذبوں  سے  رنگ و بو کا قلادہ اتار کر بیگ میں  رکھ لیا اور سفید کفن زیب تن کر لیا۔ ہاں !یہ احرام کفن کی علامت ہے۔ کفن آخرت کا لباس ہے۔ تومیں  اور میرے  ساتھی آخرت کی طرف رواں  ہونے  والے  ہیں۔ تو کیا ابھی جو غسل یا وضو کیا ہے  وہ میرا آخری غسل ہے۔ یہ خوبصورت لباس جو ابھی میں  نے  تن سے  جدا کیا ہے  کیا یہ مجھے  دوبارہ نصیب نہیں  ہو گا۔ عجیب بات ہے۔ اللّٰہ  جی نے  مجھ سے  سب کچھ چھڑا دیا۔ گھر بار،اہل و عیال،دوست احباب،گلاب سب کچھ چھڑا دیا۔ آخر میں سلا ہوا سوٹ ایک پردہ تھا یہ بھی اتار دیا۔ مجھے  ننگا کر دیا۔ ...... تومیں  اب ننگا ہوں۔ بالکل ننگا..... ننگا..... جیسے  سفید کپڑے  میں  لپٹا بچہ.....  ہاں  تو!..... میں  سفید لبادے  میں  لپٹا معصوم بچہ ہوں۔ ایک نوزائیدہ بچہ..... اور بچہ تو صغیرہ و کبیرہ گناہ سے  پاک ہوتا ہے۔ تومیں  پاک ہوں۔ میں  معصوم ہوں۔ 
	عجیب محویت تھی۔ چند لمحوں  کی کیفیت کا کیف مربوط جملوں  میں  بیان نہیں  ہو سکتا۔ اس خود کلامی سے  یقین ہو گیا کہ واقعی میرا رب مجھے  پاک کرنے  جا رہا ہے۔ میرے  لئے  اہلیہ کی بیماری باقاعدہ ایک امتحان تھی۔ ان کے  لئے  اٹھنا بیٹھنا مشکل تھا۔ گھر میں  تو بچے  بچیاں  یہ فرائض ادا کر رہے  تھے۔ ان کو وضو طہارت کرانا میرے  لئے  بڑا مسئلہ تھا۔ اللّٰہ  کی مہربانی ہے  کہ وہ ہر مرحلہ  پر دستگیری فرماتا رہا۔ انہوں  نے  بڑی مشکل سے  وضو کیا۔ احرام باندھا۔ بیشک عورتوں  کا احرام سادہ ہوتا ہے۔ مگر سرکو ڈھانپنے  والے  لبادہ کی ڈوریاں  وغیرہ باندھنا تو عورتوں  کا کام ہے۔ عورتیں  بہت تھیں  مگر شرم کے  مارے  میں  کسی سے  کہہ نہیں  سکا۔ جیسے  تیسے  ہو سکا میں  نے  خود احرام پہنا دیا۔ میں  پہلے  عرض کر چکا ہوں  کہ ہمیں  ٹریننگ لینے  کا موقع نہیں  ملا۔ حالانکہ یہاں  راولپنڈی میں  بہت سی جگہوں  پر حج کی ٹریننگ کے  پروگرام  ہو رہے  تھے۔ راولپنڈی سے  ملحقہ گاؤں  سہام کے  ایک بابو شفقت قریشی صاحب ہیں۔ وہ اس سلسلے  میں  بہت متحرک ہیں۔ جب تمام حاجی احرام زیب تن کر چکے  تو بابو صاحب بھی احرام باندھ کر آ گئے  اور آتے  ہی فرمانے  لگے 
	اے  حاجیو!
	بلند آواز سے  تلبیہ پڑھ کر اس بابے  کو خوش کر دو ساتھ ہی انہوں  نے  بلند آواز میں  پکارنا شروع کر دیا
لَبَّیْکَ اَللّٰھُمَّ  لَبَّیْکَ ط لَبَّیْکَ لَا شَرِیْکَ  لَکَ لَبَّیْکَ ط اِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَۃَ لَکَ وَالْمُلْکَ ط لَا شَرِیْکَ لَکَO
میں  حاضر ہوں،یا اللّٰہ  میں  حاضر ہوں،میں  حاضر ہوں  تیرا کوئی شریک نہیں  میں  حاضر ہوں بے  شک تمام تعریفیں  اور نعمتیں  تیرے  لئے  ہیں  اور ملک بھی، تیرا کوئی شریک نہیں 
	ہال لبیک کی آواز سے  گونج اٹھا۔ تھوڑی دیر بعد تمام حاجی جہاز میں  سوار ہونے  کے  لئے  قطار بنا کر کاغذات دکھا کر رن وے  کی طرف روانہ ہوئے۔ ائرپورٹ کی عمارت سے  نکلتے  ہوئے  پی۔ آئی۔ اے  نے  ہر حاجی کو ایک ایک چھتری مہیا کی۔ عمارت کے  باہر گاڑی کھڑی تھی۔ باری باری تمام حاجی گاڑیوں  کے  ذریعے  جہاز تک پہنچنے  لگے۔ 

ہوا کے  دوش پر

	جہاز کا عملہ بڑی حکمت سے  حاجیوں  کو سیٹوں  پر بٹھا رہا تھا۔ کارڈوں پر سیٹوں  کے  نمبر لکھے  ہوئے  تھے۔ مگر زیادہ رش کی وجہ سے  جس کو جہاں  سیٹ ملی بیٹھ گیا۔ حاجیوں  کی بدنظمی کو کنٹرول کرنا بڑے  صبر و تحمل کا کام ہے۔ جہاز کے  عملے  نے  بڑی حکمت سے  پُر جوش حاجیوں  کو مطمئن کیا۔ ان کی مہارت و تجربہ کی داد دینا پڑتی ہے۔ 
	جہاز کی روانگی سے  پہلے  اعلان ہوا کہ تمام سواریاں  حفاظتی پیٹیاں  باندھ لیں۔ ہمارے  جیسے  اکثر لوگ اس عمل سے  ناواقف تھے۔ جہاز کے  عملے  نے  تدریسی انداز میں  پیٹیاں  خود باندھیں۔ حفاظتی ہدایات کے  ساتھ ہی ٹھیک رات کے  دو بج کر دس منٹ پر جہاز نے  زمین کا ساتھ چھوڑ دیا۔ وطن بھی چھوٹ گیا۔ لو!اِک اور بت ٹوٹ گیا۔ علامہ اقبال نے  فرمایا تھا:۔ 
"ان تازہ خداؤں  میں  بڑا سب سے  وطن ہے "
	مگر ایک وطن ہی بت نہیں۔ کئی اور لات و منات ہیں۔ انسان کے  اندر ہر وقت بت گری و بت شکنی کا عمل جاری رہتا ہے۔ جیسے  ہی جہاز نے  اٹھتے  ہوئے  ہچکولا لیا۔ اندر سے  ایک نیا بُت نمودار ہوا۔ کریہہ،بدصورت،بہت خوفناک بت،خوف کا خوفناک عفریت۔ حادثے   کا بُت ہولناک خوف،موت کا خوف۔ خوف ہی خوف۔ میں  خوفناک ہیولوں  کے  حصار میں  مقید ہراساں  و ترساں  حفاظتی پیٹی سے  چمٹا ہوا تھا کہ بابو شفقت نے  لبیک کا نعرہ بلند کیا۔ جہاز تلبیہ کی گونج سے  بھر گیا۔ لا شریک لک کے  ساتھ لاخوف علیھم و لا ھم یحزنون کا نورانی تصور تحلیل ہونے  لگا۔ زبان تلبیہ کی حلاوت اور دل لا خوف کی تسلی سے  مطمئن ہونے  لگا۔ پھر اقبال یاد آ گیا:۔ 
تندیِ بادِ مخالف سے  نہ گھبرا اے  عقاب
یہ تو چلتی ہے  تجھے  اونچا اڑانے  کے  لئے 
ساتھ ہی میاں  محمد کا شعر بھی یاد آ گیا:۔ 
مرد ونگارے  مول نہ ہارے  پھردے  نیں  شیر مریلے 
مرداں  اتے  آندے  رہندے  اوکھے  سوکھے  ویلے 
(مردانِ حق مصائب و آرام کو اسطرح للکارتے  ہیں  جیسے  ببر شیر شکار کرنے  کے  لئے  دھاڑتا ہے۔ مردوں  پر تو تنگی اور آسانی کے  حالات آتے  رہتے  ہیں۔ وہ ہر حال میں  راضی برضا رہتے  ہیں۔ گھبراتے  نہیں)
	بڑی بیماری،چھوٹی بیماری کو بھلا دیتی ہے۔ اس طرح بڑا خوف چھوٹے  خوف کو دبا لیتا ہے۔ لاخوف علیھم ولا ھم یحزنون(ان کے  لئے  کوئی خوف ہے  نہ غم) مگر کن کے  لئے  ؟وہ جو اللّٰہ  کے  دوست ہیں۔ کیا ہم  اللّٰہ  کے  دوست ہیں ؟ اللّٰہ  ہی جانے ؟ہم تو بہت ریاکار اور گناہگار ہیں۔ استغفر اللّٰہ! اللّٰہ  معافی!اے   اللّٰہ  تو ہی محافظ ہے۔ میں  نے  آیت الکرسی پڑھنا شروع کر دی۔ اب چھوٹے  خوف پر بڑا خوف حاوی ہو گیا۔ معاً اپنے  پہلو میں  بیٹھے  ہمسفر کا خیال آیا کہ وہ تو صنفِ نازک ہے۔ نہ صرف نازک بلکہ بیمار بھی ہے۔ میں  نے  اس کے  چہرے  پہ خوف و ہراس کے  آثار دیکھ کر ذکر کرنے  کا مشورہ دیا۔ اب مجھے  ذکر کے  ساتھ ہم سفر کی فکر تھی۔ اس کی دلجوئی کے  لئے  کبھی ذکر کے  اور کبھی حج کے  فضائل بتاتا۔ جب کبھی جہاز ہچکولا کھاتا بے  ساختہ  اللّٰہ  کا نام زبان پہ آ جاتا۔ دل دھک سے  رہ جاتا۔ دھچکا نیچے  کو اور دل اوپر کو آ جاتا۔ ذکر تیز ہو جاتا۔ سچ ہے  خدا اور ماں  مصیبت میں  ہی یاد آتے  ہیں۔ جہاز کے  اندر ملگجی روشنی اور باہر گھپ اندھیرا تھا۔ آسمان کی طرف نظر اٹھائی تو جگمگاتے  ستارے  آنکھ مچولی کرتے  نظر آتے۔ میں  نے  ہمراہی کو جگمگاتے  جہان کی دعوت دی تو قرآن پاک کی آیت زینا السماء الدنیا بمصابیح(اور ہم نے  آسمان دنیا کو چراغوں  سے  مزین کیا)یاد آ گئی۔ اس یاد سے  خوف کا اندھیرا چھٹنے  لگا۔ جلال خداوندی کے  ساتھ ساتھ جمال خدا کا نور جگمگانے  لگا۔ ادھر جہاز کی بڑی سکرینوں  پر حج بیت  اللّٰہ  کے  مناظر روشن ہونے  لگے۔ دل ادھر متوجہ ہو گیا۔ تھوڑی دیر میں  سوندھی سوندھی خوشبو کا احساس ہوا۔ دائیں  بائیں  دیکھا تو لوگ سامنے  سیٹوں  پر لگے  ہوئے  ٹیبل سیدھے  کر رہے  ہیں۔ اور سامنے  سے  جہاز کا عملہ کھانا لا رہا ہے۔ ہم اگرچہ شام کا کھانا کھا کر گھر سے  چلے  تھے  مگر کھانوں  کی خوشبو سے  پھر سے  اشتہاء پیدا ہو گئی۔ میری بائیں  طرف اہلیہ اور دائیں  طرف ہماری طرح کا سیدھا سادا حاجی۔ نہ ہمیں  نہ اسے  کسی کو بھی سمجھ نہیں  آ رہی تھی کہ یہ جو کچھ ہمارے  سامنے  رکھا جا رہا ہے  اسے  کیسے  استعمال کریں۔ میں  دائیں  بائیں  دیکھ کر ٹرے  نما ڈبے  کو کھولا تو اندر سے  خوشبو کا بھبکا اٹھا۔ اشتہاء مزید بڑھ گئی۔ پلاسٹک کور سے  چمچے  نکال کر مزے  مزے  سے  کھانا کھایا۔ کھانے  کے  بعد ہم دوبارہ آسمان کی طرف متوجہ ہوئے۔ آسمان کا نظارہ کرتے  کرتے  دور اُفق پر زمین پر چمکتے  بجلی کے  قمقمے  دکھائی دئیے۔ روشنیوں  کے  سنگم پر زمین و آسمان گلے  ملتے  دکھائی دے  رہے  تھے۔ جہاز پوری رفتار سے  آگے  بڑھ رہا تھا۔ زمینی روشنیوں  کی کشش نے  توجہ کو اپنی طرف کھینچ لیا۔ ہمارے  نیچے  پتہ نہیں  کون سا شہر تھا۔ روشنیوں  سے  جگمگ کرتا شہر۔ اس شہر کے  وسط میں  مکعب نما ایک عمارت خانہ کعبہ کی طرح دکھائی دے  رہی تھی۔ بڑی خوبصورت۔ روشنیوں  سے  جگمگاتی کعبہ جیسی عمارت۔ وہ کعبہ جو ہم نے  تصویر میں  دیکھا تھا۔ کعبہ جو تصور میں  بنا رکھا تھا۔ بالکل اسی تصور کی تصویر ہمارے  سامنے  تھی۔ میں  نے  جذباتی ہو کر اپنی ہمراہی کو انگلی سے  اشارہ کرتے  ہوئے  کہا کہ وہ دیکھو وہ کیا ہے۔ اس نے  بھی میرے  خیال کی تائید کر دی۔ ہم بڑی عقیدت سے  اس تصوراتی کعبہ کو دیکھ رہے  تھے۔ اور جہاز اپنی رفتار سے  آگے  بڑھ رہا تھا۔ چند ہی لمحوں  میں  یہ تصوراتی منظر آنکھوں  سے  اوجھل ہو گیا۔ مکہ شریف پہنچ کر جب اصلی کعبہ کی زیارت کی تو تصوراتی کعبہ نفی ہو گیا۔ مگر اس نفی کے  باوجود جو خوشی تصوراتی کعبہ کو دیکھنے  سے  ہوتی تھی وہ بھولنے  کی نہیں۔ 

سرزمین حجاز پر

عرب شریف توں  صدقے  جانواں  جتھے  تلیاں  حضورؐ ٹکایاں 
پلکاں  نال بہاریاں  دینواں  کراں  خاک دیاں  سرم سلایاں 
(سرزمینِ حجاز پر صدقے  قرباں  کہ یہاں  حضورﷺ نے  پاؤں  مبارک لگائے۔ اس زمین کی زیارت نصیب ہو تو میں  پلکوں  سے  جھاڑو دوں گا اور خاک حجاز کو سرمہ بنا کر آنکھوں  میں  لگاؤں گا۔)

"سنبھل اے  دل محبت میں  بڑا نازک مقام آیا"

	جدہ پہنچنے  تک تصوراتی کعبہ کا تصور حرزِ جاں  رہا۔ طیارہ جدہ ائر پورٹ پہ  اترا تو عقیدت و محبت کا امتحان شروع ہو گیا۔ 
	یہ وہ سرزمین ہے  جہاں   اللّٰہ  کا گھر اور  اللّٰہ  کے  محبوب کا روضۂ مقدس ہے۔ یہ نبیوں  کی سرزمین اور ولیوں  کی سجدہ گاہ ہے۔ بڑے  بڑے  قطب ابدال اس سرزمین کی زیارت کو ترستے  ہیں۔ مگر زیارت مقدر سے  ہوتی ہے۔ زہد  و تقویٰ،علم و مرتبہ سے  نہیں  ہوتی۔ بڑے  بڑے  سرمایہ دار نیکوکار  اللّٰہ  کے  گھر اور نبیؐ کے  درکی زیارت کی تمنا لئے  بیٹھے  ہیں  مگر انہیں  بلاوا نہیں  آ رہا۔ ایک ہم جیسے  بے  مایہ، بے  کس و لاچار گناہ گار فقیر ہیں  کہ بغیر وسیلوں  کے  بلائے  جا رہے  ہیں۔ 
یہ بڑے  کرم کے  ہیں  فیصلے  یہ بڑے  نصیب کی بات ہے 
ہم نے  جیسے  ہی سرزمین حجاز پہ قدم رکھا دل بے  ساختہ پکار اٹھا   ؂
خس خس جتنا قدر نئیں  میرا خالق نوں  وڈیایاں 
میں  گلیاں  دا روڑاکوڑا محل چڑھایا سائیاں 
(مجھ بے  قدر کی قیمت خس و خاشاک سی بھی نہیں۔ صفت و ثنا اور بڑائی تو صرف خالق و مالک کو زیبا ہے۔ میں  تو گلیوں  کا روڑا کوڑا ہوں۔ میرے  مولا تو نے  اس کم مایہ پر کرم کمایا ہے  اور سرفرازی نصیب فرمائی۔)
	میرے  مولا!میں  اس کرم کے  کہاں  تھا قابل۔ یہ تو تیری کرم نوازی ہے  کہ آج پیارے  نبی ؐ کے  پیارے  دیس کی زیارت نصیب ہوئی...... 
	پیارے  قارئین!
	یہاں  سے  آزمائش کا سفر شروع  ہو رہا ہے۔ خیال رہے  کہ میں  خود بوڑھا شوگر کا مریض ہوں اور میرے  ساتھ میری اہلیہ فالج کی مریضہ ہے۔ اس کو وضو طہارت کرانا میرے  لئے  سب سے  بڑا مسئلہ ہے۔ اس کے  علاوہ بھی بہت سے  مسائل درپیش ہیں۔ مگر یہ سب مسائل  اللّٰہ  نے  اس طرح حل فرمائے  جس طرح معجزہ ہوتا ہے۔ بیشک وہ حل المشکلات ہے۔ مشکل کشا ہے۔ اس نے  ہر مرحلہ پر مشکل کشائی فرمائی۔ میں  اگر کہیں  کہیں  مشقت و مشکل کا ذکر کر رہا ہوں  تو اس کی مشکل کشائی کی یاد کے  لئے۔ شکرانِ نعمت کے  لئے،کہ اس کی مشکل کشائی کا تجربہ مجھے  لمحہ بہ لمحہ ہو تا رہا ہے۔ 
	جدہ ائر پورٹ پر جہاز اترا تو نمازِ فجر کا وقت تنگ ہو گیا تھا۔ ہم دونوں  کو طہارت وضو اور تقاضا درپیش تھا۔ جب بیسیوں  عورت مرد فارغ ہو چکے  تومیں  نے  ایک خاتون کو تعاون کی گذارش کی۔ اس نے  میری ہمسفر کو وضو کرایا۔ ہم نے  معلوم نہیں  نماز وقت پر پڑھی یا قضا پڑھی  اللّٰہ  معاف کرے۔ 
	جملۂ معترضہ کے  طور پر ایک بات سارے  سفر میں  مسلسل کھلتی رہی کہ انگریزی طرز کے  طہارت خانوں  میں  طہارت کیسے  کی جائے۔ کھڑی سیٹ پر تقاضا کرنا ایک توہم جیسے  ناواقف لوگوں  کے  لئے  عجیب تجربہ ہے۔ دوسرے  مجھے  آج تک یہ سمجھ نہیں  آ سکا کہ سیٹ سے  اٹھنے  کے  بعد رانیں  اور استنجا کی جگہیں  کیسے  پاک رہ سکتی ہیں۔ میں  نے  بہت سوچا،سمجھ نہیں  آئی۔ آخر شلوار اتار کر تقاضا سے  فارغ ہو کر استنجا کرتا۔ اس کے  علاوہ مجھے  بدن پاک کرنے  کا کوئی طریقہ نہیں  سوجھا۔ اگر کسی قاری کو بہتر طریقہ معلوم ہو تو وہ اس فقیر کو اس سے  ضرور مطلع فرمائے۔ 
خیر!
ہم نماز سے  فارغ ہوئے  تو حاجی حضرات اور عملہ والے  ہمیں  کچھ ناراضگی کے  لہجے  میں  بلا رہے  تھے۔ ویٹنگ روم کے  بغلی دروازے  سے  ملحقہ ہال میں  سارے  حاجی بیٹھے  پاسپورٹ چیک کروا رہے  تھے۔ یہاں  سے  پھر اسلام آباد ائرپورٹ کی طرح چیکنگ کا چکر شروع ہو گیا۔ اپنا بڑا بیگ جو حاجی کیمپ میں  عملہ کے  سپرد کیا تھا وہ وصول کیا۔ باہر نکلتے  وقت یہ بیگ پھر جدہ کے  عملہ نے  رکھ لیا۔ 
	جدہ شہر کو فضا سے  دیکھا ہے۔ زمین سے  نہیں۔ فضا سے  دیکھیں  تو ایسے  لگتا ہے۔ جیسے  اسلام آباد۔ جگمگ کرتا خوبصورت روشنیوں  کا شہر۔ ائرپورٹ سیمنٹ بجری سریے  کے  بجائے  پلاسٹک کی قسم (فائر گلاس)کے  مضبوط کپڑے  کی چھتریوں  سے  بنی ہوئی ہے۔ ان چھتریوں  کی چھاؤں  میں  دفاتر ہیں۔ اور یہیں  بڑے  بڑے  دیو ہیکل جہاز کھڑے  ہوتے  ہیں۔ غالباً یہ اپنی نوعیت کی واحد ائر پورٹ ہے۔ یہاں  پاکستان ہائی کمیشن کا عملہ مصروفِ عمل ہے۔ حاجی صاحبان سیمنٹ کی کرسیوں  پر بیٹھے  ناشتہ کر رہے  ہیں۔ ہم نے  بھی بیگ سے  پی آئی اے  کی طرف سے  دئیے  گئے  سامانِ ضیافت سے  ناشتہ کیا۔ مجھے  علم نہیں  تھا کہ ٹرالیاں  سامان لا کر کہاں  رکھ رہی ہیں۔ میرا مشاہدہ ہے  کہ میری طرح بہت سے  حاجیوں  کو صرف سامان کا ہی نہیں  بہت سی دوسری باتوں  کا علم نہیں۔ ہمیں  کوئی گروپ لیڈر یا معلم کا نمائندہ نظر نہیں  آیا۔ سارے  اپنی اپنی ذہانت سے  کام کر رہے  ہیں۔ ایک دوسرے  سے  پوچھ پوچھ کر اور دیکھ دیکھ کر بغیر عربی انگریزی جانے  کام چلا رہے  ہیں۔ میں  حیران ہوں  یہ پینڈو لوگ جو اردو بھی نہیں  بول سکتے  کتنے  ذہین ہیں  جو ایک اجنبی ماحول میں  اپنا کام چلا رہے  ہیں۔ ...... ہم کسی فرد یا حکومت سے  گلہ نہیں  کرتے۔ اس لئے  کہ ہمارا آخری جہاز تھا۔ اور سفرِ حج میں تو
"آہ نہ کر لبوں  کو سی عشق ہے  دل لگی نہیں "
	ٹرالیوں  والے  سامان لا کر پھینک رہے  تھے۔ لوگ اپنی اپنی نشانیوں  کے  ذریعے  پہچان کر سامان لے  رہے  تھے۔ ہمارا تو ایک بیگ تھا وہ بھی مل گیا۔ اسلام آباد ائرپورٹ والوں  نے  ایک پرچہ سا دیا تھا شائد اسے  بورڈنگ کہتے  ہیں۔ یہاں  پاکستانی حلقہ کے  ایک چھوٹے  سے  دفتر میں  بھی پاسپورٹ کی چیکنگ ہوئی تھی۔ یاد نہیں  کس چیز کی چیکنگ ہوئی۔ اتنا یاد ہے  کہ یہاں  کا عملہ سعودی تھا۔ یہاں  ایک صاحب سے  میں  نے  اپنے  بیگ کے  متعلق پوچھا تو اس نے  بڑی رعونت سے  کہا۔ عربی!انگلش! لَا اردو۔ میں  اپنی قومی زبان کی توہین سن کر جذباتی سا ہو گیا۔ مگر کیا کرتا۔ قہرِ درویش بر جانِ درویش۔ اے  عربو!اگر گونگا کہنا ہے  تو انگریزی کو بھی گونگا کہو!مگر یہ جواب دینے  والا عرب نہیں  تھا۔ اس کا لباس عربی مگر لہجہ عجمی تھا۔ مکہ مدینہ میں  تو اللّٰہ  کی مہربانی سے  عملی طور پر اردو بولی اور سمجھی جاتی ہے۔ بلکہ باب فہد کے  سامنے  کا بازار تو معلوم ہوتا ہے  اردو بازار ہے۔ حرم شریف کے  اندر زیادہ تر عملہ اردو خواں  ہے۔ 
	جدہ ائرپورٹ پر پی۔ آئی۔ اے  کی ذمہ داری ختم ہو جاتی ہے۔ اب کمیشن کی ذمہ داری شروع ہو جاتی ہے۔ اور کمیشن نے  اپنی ذمہ داری معلمین کے  سپرد کی ہوتی ہے۔ ہمیں  تو صرف ان کارندوں  کی پہچان ہے  جو سفید رنگ کے  ایپرن پہنے  ہوئے  حجاج کی راہنمائی فرما رہے  تھے۔ ان کے  ایپرن پر پاکستان کے  جھنڈے  کا نشان دیکھ کر بڑی تسکین ہوتی ہے۔ وطن بیشک بُت ہے۔ مگر یہ محبت فطری ہے۔ حضورﷺ جب ہجرت فرما رہے  تھے  تو مڑ مڑ کر مکے  کو دیکھتے  تھے۔ حضورﷺ نے  ایک عظیم مقصد کے  لئے  وطن کی نفی کی تھی۔ اس وقت حضورﷺ کے  امتی بھی حضورؐ کی اتباع میں  وطن کی نفی کر کے   اللّٰہ  تبارک و تعالیٰ کے  گھر کی زیارت کو جا رہے  ہیں۔ 

جدہ سے  مکہ

کعبہ کس منہ سے  جاؤ گے  غالبؔ
شرم تم کو مگر نہیں  آتی
	کیوں  نہیں   اللّٰہ  سے  شرم نبیؐ سے  حیا بھی آتی ہے۔ مگر شرم کا بھرم رکھنے  والے  نے  اپنے  کرم سے  بلایا ہے  تو آ رہے  ہیں۔ وہ ستا رہے۔ غفار ہے۔ پردہ پوش ہے۔ یہ اس کا کرم ہے  کہ اس نے  ہماری بخشش کی سبیل پیدا کر دی ورنہ
کہاں  میں کہاں  یہ مقام   اللّٰہ  ! اللّٰہ 
	میرے  سر پہ گناہوں  کی گٹھری مگر دل میں  حاضری کا شوق ہے۔ میں  خود نہیں  جا رہا۔ مجھے  بلایا گیا ہے۔ اللّٰہ  کے  گھر کی کشش مجھے  کشاں  کشاں  کھینچ رہی ہے۔ مجھے  ہی نہیں  اس کو بھی جس کا مستقل وظیفہ ہے۔ 
"مینوں  سوہنے  نے  بلایا میں  مدینے  چلی آں "
لیکن ہمارے  عصیاں  سے  لتھڑے  ہوئے  جسم مدینے  کے  قابل نہیں۔ پہلے  وہ ہمیں  پاک کرنا چاہتا ہے۔ اس لئے  وہ اس گھاٹ لئے  جا رہا ہے  جہاں  دل دھلتے  ہیں۔ مدینے  سے  پہلے  ہم مکہ جا رہے  ہیں۔ مکہ جو کہ ایک بھٹی ہے۔ کٹھالی ہے۔ کٹھالی کہ جس میں  پتھر کو لوہا اور لوہے  کو سونا بنایا جاتا ہے۔ نہیں !نہیں پارس بنایا جاتا ہے۔ پارس کہ جس سے  جو چیز مس کرے  سونا بن جائے۔ سوہماری پہلی اور اصلی منزل مکہ معظمہ ہے۔ 
	زوال آفتاب کے  بعد جدہ سے  مکہ روانگی کی تیاری شروع ہو گئی۔ پاکستانی عملہ نے  مکاتب کی ترتیب سے  سامان بسوں  پر لدوانا شروع کر دیا۔ ہمارا مکتب نمبر۳۴ اور بلڈنگ نمبر ۴۲۲۷ تھی۔ سامان لوڈ کرنے  کے  بعد ایک صاحب نے  ہمارے  پاسپورٹ اور واپسی کے  ٹکٹ لے  لئے۔ کچھ تردد ہوا کہ یہی دو چیزیں  تو زیادہ اہم ہیں۔ یہ لوگ کہیں  گم نہ کر دیں۔ مگر تمام لوگ یہ چیزیں  جمع کروا رہے  تھے۔ اس لئے  زیادہ پریشانی نہیں  ہوئی۔ اس وجہ سے  بھی تسلی تھی کہ میں  نے  پاسپورٹ،ٹکٹ،ٹریول چیک کی رسید کی فوٹوکاپی اپنے  چھوٹے  بیگ میں  رکھی ہوئی تھی۔ اتنا ہی نہیں  بلکہ ایک ایک کاپی گھر چھوڑ آیا تھا۔ بچوں  کو مکتب نمبر اور بلڈنگ نمبر بھی لکھوا دیا تھا۔ یہ چھوٹی چھوٹی احتیاطیں  بعض موقع پر  مفید ثابت ہوتی ہیں۔ 
	عصر کے  بعد ایک ایک کر کے  ہماری بسیں  جدہ سے  روانہ ہوئیں۔ دل میں  حضورﷺ کا پیارا دیس دیکھنے  کا بہت شوق تھا۔ جو کچھ پڑھا سنا تھا اس کی روشنی میں  دل میں  ایک نقشہ سا بنا ہوا تھا۔ سو اس تصور کی نظر سے  ارد گرد کا نظارہ کرنا شروع کیا۔ دل میں  حضورﷺ کے  زمانے  کی معاشرت اور معیشت دیکھنے  کی چاہت تھی۔ دل قدم بہ قدم خیر القرون کے  آثار کا متلاشی رہا۔ مگر نہ تو میرے  پاس دیکھنے  والی آنکھ تھی نہ نظر آنے  والا منظر میرے  تصور کی تصویر سے  مشابہت رکھتا تھا۔ گاڑی ایک صاف و شفاف سڑک پر صاف اور ہموار رفتار سے  جا رہی تھی۔ ہمارے  بائیں  ہاتھ بھی ایک کھلی اور ہموار شفاف سڑک تھی۔ اس پر بھی ٹریفک رواں  دواں  تھی۔ ہم مکہ کو جا رہے  تھے  اور وہ جدہ کی طرف آ رہی تھی۔ یہاں  ٹریفک کا اصول ہم سے  الٹ ہے۔ الٹ کا یہ مطلب ہے  کہ وہاں  کی ٹریفک کا اصول دائیں  ہاتھ چلنے  کا ہے۔ معلوم نہیں  وہ الٹ ہیں  یا ہم۔ اسلامی قانون تو راست روی ہے۔ 
	جدہ سے  نکلتے  وقت چھوٹے  چھوٹے  کھجور کے  باغ نظر آئے  مگر کھلے  میں  جا کر سیاہ پتھریلے  ٹیلوں  اور پہاڑوں  کے  سوا کچھ نظر نہیں  آیا۔ میرے  تصور میں  عرب شریف کا زیادہ تر حصہ ریتلا اور صحرائی علاقہ ہے۔ مگر جدہ سے  مکہ یا مکہ سے  مدینہ کے  راستہ میں  مجھے  کہیں  بھی صحرا نظر نہیں  آیا۔ البتہ پہاڑیوں  اور ٹیلوں  کے  درمیان وسیع ریگزار ہیں۔ مگر ان ریگزاروں  کو صحرا نہیں  کہا جا سکتا۔ ان ریگزاروں  میں  کہیں  کہیں  جنگلی جھاڑیاں  دکھائی دیتی ہیں۔ ان جھاڑیوں  سے  چمٹے  ہوئے،سڑک کے  دونوں  طرف بکھرے  ہوئے  شاپنگ بیگوں کے  علاوہ اور کچھ نظر نہیں  آتا۔ راستے  میں  کہیں  کہیں  صنعتی کارخانے  بھی نظر آتے  ہیں۔ اس کے  علاوہ مکہ معظمہ تک کوئی قابلِ ذکر چیز نظر نہیں  آئی۔ 

مکہ---- حرم پاک

	مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ دو حرمت والے  شہر ہیں۔ بہت سی احادیث سے  معلوم ہوتا ہے  کہ  اللّٰہ  تعالیٰ نے  تخلیق آسمان و زمین سے  پہلے  ہی مکہ معظمہ کو حرم قرار دے  دیا تھا۔ حضرت عبد اللّٰہ  بن عباسؓ کی روایت ہے :۔ 
قال رسول اللہﷺ یوم فتح مکہ اِنْ ھذا البلد حَرَمَہ اللہ یَوْم خَلق السمٰوٰت و الارض (الدلیل المختار)
	سو حرمتِ حرم کی وجہ سے  حدودِ حرم میں  کسی کو قتل کرنا،شکار کرنا یا درخت کاٹنا منع ہے۔ یہ مقامِ امن ہے۔ قرآن پاک کی آیت کا مفہوم ہے " جو شخص اس کے  (یعنی حرم کی حدود کے)اندر داخل ہو جائے  وہ امن والا ہو جاتا ہے "ایسا امن والا کہ حضرت عمرؓ فرماتے  ہیں 
اگر میں  اپنے  باپ کے  قاتل کو بھی حرم میں  پاؤں  تو وہاں  اس کو ہاتھ نہ لگاؤں  یہاں  تک کہ باہر نکلے "(فضائل حج)
	اس دار الامن میں  داخلے  کی صرف مسلمانوں  کو اجازت ہے۔ کفار و مشرکین کو اس پاک سرزمین پر قدم رکھنے  کی اجازت نہیں۔ کیونکہ  اللّٰہ  تعالیٰ نے  سورۃ توبہ میں  واضح حکم کے  ذریعے  حدود حرم میں  ان کے  داخلے  کو منع کر دیا ہے۔ مکہ معظمہ سے  تقریباً تئیس کلومیٹر پہلے  پولیس چوکی آتی ہے۔ یہاں  سڑک کے  اوپر بورڈ پر انگریزی میں  جلی حروف سے  لکھا ہوا ہے "صرف مسلمانوں  کے  لئے "یہاں  قرآن پاک رکھنے  والی رحل کی شکل کا پل بنا ہوا ہے۔ 
	حرمین شریفین میں  مشرکین کے  داخلے  کی ممانعت کی وجہ یہ فرمائی کہ وہ ناپاک ہیں۔ ناپاکی سے  مراد ظاہری نہیں  بلکہ عقیدہ کی ناپاکی ہے۔ قرآن پاک میں  ہے  کہ  اللّٰہ  تعالیٰ شرک کے  علاوہ باقی تمام گناہ توبہ کے  ذریعے  معاف فرما دیتا ہے۔ اور شرک کیا ہے ؟  اللّٰہ  کے  غیر سے  توقعات باندھنا۔ اللّٰہ  کا غیر کوئی انسان یا بت ہی نہیں  بلکہ مال و دولت، جاہ و حشمت، حکومت برادری تمام مخلوق یا نقشے   اللّٰہ  کا غیر ہیں۔ شرک کا متضاد ہے  توحید۔ اور توحید کا سیدھا سادہ مفہوم ہے  کہ سب کچھ  اللّٰہ  کرتا ہے۔ اللّٰہ  کے  غیر سے  کچھ نہیں  ہوتا۔ ملک و مال،عہدہ و مرتبہ سب کچھ غیر ہے۔ سو ان سب سے  توجہ ہٹا کر صرف  اللّٰہ  تعالیٰ کی طرف متوجہ ہونے  کی ضرورت ہے۔ تلبیہ پڑھتے  وقت دل میں   اللّٰہ  کے  حضور حاضری کا تصور جمانے  کی کوشش کرنا چاہئے۔ بیشک حمد و ثنا، نعت اور بادشاہی  اللّٰہ  کے  لئے  ہے۔ اور اس کا کوئی شریک نہیں۔ 
	حدودِ حرم میں  داخل ہوتے  وقت تمام حاجی مل کر تلبیہ پڑھ رہے  تھے۔ دلوں  کا معاملہ تو اللّٰہ  ہی جانتا ہے۔ زبان سے  سارے   اللّٰہ  کی یکتائی اور توحید کا اقرار کر رہے  تھے۔ سارے  پوری توجہ سے  پکار رہے  تھے۔ اے   اللّٰہ  میں  حاضر ہوں۔ اے   اللّٰہ  میں  تیری ربوبیت کا اقرار کرتا ہوں۔ بیشک تو لاشریک ہے۔ تیرا کوئی ہمسر نہیں  تو ذات و صفات میں  یکتا ہے۔ زبانیں   اللّٰہ  کی صفت و ثنا میں  مصروف تھیں  اور نگاہیں  مکہ شریف کی زیارت میں  محو تھیں۔ ہم مکہ کی عمارتوں،سڑکوں  اور پہاڑیوں کو عقیدت سے  دیکھنے  کا تکلف کر رہے  تھے  اور آنکھیں  کیمرے  کے  عدسہ کی طرح تصویر کشی کر رہی تھیں۔ دل اور آنکھوں  کی دید میں  بہت اختلاف تھا۔ دل کہہ رہا تھا یہ  اللّٰہ  کا شہر ہے۔ آنکھیں  کہہ رہی تھیں  یہ تو ہمارے  شہر جیسا ہی ایک شہر ہے۔ چند منٹ گذرے  تھے  کہ ہمارا مستقر آ گیا۔ 
	ہمارے  مکتب کا نمبر چونتیس اور بلڈنگ کا ۴۲۲۷تھا۔ یہ بلڈنگ ایک پہاڑی ڈھلوان پر واقع ہے۔ یہاں  تک پہنچتے  پہنچتے  اچھا خاصا صحت مند آدمی بھی تھک جاتا ہے۔ 
اور ہم دونوں  تو بیمار تھے  اور بوڑھے  بھی۔ یہ  اللّٰہ  تعالیٰ کا احسان ہے  کہ اس نے  تمام مناسک میں  ہماری خصوصی مدد فرمائی۔ 
	مکہ شریف پہنچنے  پر ایک اور کڑا ہاتھوں  پر پہنا دیا گیا۔ اس پر پرنٹ شدہ عبارت کا مفہوم ہے  مطوفی حجاج جنوبی ایشیا۔ مکتب نمبر۳۴،مطوف سعود احمد محمد سقطی۔ سیکٹر جرول۔ 
ٹیلیفون 5604161۔ اس عبارت کا کارڈ گلے  میں  آویزاں  کرنے  کو دے  دیا گیا۔ اس کے  علاوہ اس بلڈنگ کے  حدود اربعہ کی معلومات میرے  علم میں  نہیں  اس لئے  کہ میری توجہ معلومات کے  بجائے  مناسک پر مرکوز رہی ہے۔ کارڈ پر جرول،التسیر بجوار مدرسہ تحفیظ القرآن کی عبارت بھی لکھی ہوئی تھی۔ ہمارے  قریب کی مسجد سے  ملحقہ عمارت پر تحریر ہے  دار عائشہ بنت سعدؓ بن ابی وقاص۔ اس تحریر سے  عہدِ نبویؐ کے  نقوش افقِ شعور پہ ابھر نے  لگے ...حضرت سعدؓبن ابی وقاص... اسلام کا عظیم سپاہی... حضورﷺ کا صحابیؓ... تاریخ اسلام کا درخشندہ ستارہ... مگر تاریخ...اسلام کی تاریخ!وہ کہاں  ہے ؟میں  تاریخ کا طالب علم نہیں۔ مگر تاریخ اسلام میری ضرورت ہے۔ اس کے  بغیر میں  قرآن سمجھ سکتا ہوں  نہ حدیث۔ میں  قرنِ اول... خیرالقرون دیکھنا چاہتا ہوں ..... مگر وہ تو ماضی کے  پردہ میں  پوشیدہ ہے۔ میں  اس پوشیدہ ورثہ کے  آثار دیکھنا چاہتا ہوں۔ مگر یہ آثار مجھے  نظر نہیں  آ رہے ....... جناب رشید نثار کہتے  ہیں  کہ آپ نے  تاریخ دیکھی ہے۔ جغرافیہ دیکھا ہے۔ ماضی دیکھی ہے۔ ...... میں  کیا بتاؤں ..... مجھے  ماضی نظر نہیں  آیا.... میں  نے  حال دیکھا ہے۔ مگر خستہ حالی کی حالت میں۔ اس حال میں  مجھے  ماضی کی جھلک نظر آئی ہے  تو صرف حرمین شریفین کے  اندر.... باہر.... اور باہر سے  مجھے  غرض نہیں۔ میں  تو حج کے  لئے  آیا ہوں  اور حج احاطۂ حرمین شریفین کے  اندر ہے۔ سو حاجی کو حرم شریف کے  اندر ہی رہنا چاہئیے۔ 

عمرہ و حج

حج کی تین قسمیں  ہیں۔ 
(۱)افراد:۔ جو حج بالکل اکیلا کیا جائے،عمرہ ساتھ نہ ہو۔ 
(۲)قران:۔ حج اور عمرہ دونوں  کو ملا کر کیا جائے۔ دونوں  کی اکٹھی نیت کر کے  پہلے  عمرہ اور پھر حج بغیر احرام کھولے  کیا جائے۔ 
(۳)تمتع:۔ حج کے  ساتھ عمرے  کا فائدہ اٹھانا یعنی حج کے  مہینوں  میں  پہلے  عمرہ کیا جائے  اس کے  بعد احرام کھول دیا جائے۔ پھر اسی سال حج کا احرام باندھ کر مقررہ ایام میں  حج کیا جائے۔ 
	ہم نے  تمتع کا احرام باندھ رکھا ہے۔ احرام کی پابندیوں  سے  نکلنے  کے  لئے  کعبہ شریف کا طواف،صفا مروہ کی سعی اور حلق و قصر جیسے  مناسک ضروری ہیں۔ ہمیں  جو کمرہ ملا ہے  اس میں  چار آدمیوں  کے  لئے  بیڈ لگے  ہوئے  ہیں۔ مگر ہمارے  علاوہ کوئی تیسرا ساتھی نہیں  آیا۔ تھکے  ہارے  سوچ رہے  ہیں  یا رب کیا کریں۔ دائیں  بائیں  کے  لوگ سامان رکھ کر طواف و سعی کے  لئے  حرم شریف چلے  گئے  ہیں۔ ہمارے  اندر بھی وہی جوش و جذبہ ہے  مگر حرم شریف جانے  کی ہمت نہیں۔ بڑا مسئلہ میرے  لئے  ہمسفر کی بیماری ہے۔ بیماری کے  باوجود ان کا جذبہ طاقتور اور ارادہ قوی ہے۔ ان کے  اصرار پر ہم دونوں  حرم شریف کی طرف چل پڑتے  ہیں۔ ہماری رہائش گاہ شارع جبل کعبہ کے  نزدیک اور حرم شریف سے  تقریباً ایک کلومیٹر کے  فاصلے  پر ہے۔ ہم پوچھتے  پچھاتے  بڑی مشکل سے  حرم شریف پہنچتے  ہیں۔ طواف شروع کرتے  ہیں  مگر دوسرے  ہی چکر میں  اہلیہ کا سر چکرا گیا۔ ٹانگیں  لڑکھڑانے  لگیں۔ گھبرا کر ملتجی نظروں  سے  ملتمس ہوئی مر جاؤں  گی۔ مجھے  ڈاکٹر کلیم  اللّٰہ  طوری کا مشورہ یاد آ گیا کہ جان بچانا فرض ہے۔ مجبوراً بغیر طواف و سعی کے  واپس آنا پڑا۔ اس وقت کی کیفیت کو الفاظ میں  بیان نہیں  کیا جا سکتا۔ ہم دونوں  میاں  بیوی احرام کی پابندیوں  میں  جکڑے  ہوئے  ہیں۔ جب تک مناسکِ عمرہ سے  فارغ نہیں  ہوتے  ایک دوسرے  سے  ہنسی مذاق بھی نہیں  کر سکتے۔ میں  سلا کپڑا نہیں  پہن سکتا۔ وہ بھی منہ نہیں  ڈھانپ سکتی۔ میں  سر پر کپڑا نہیں  لپیٹ سکتا۔ ہم خوشبو نہیں  لگا سکتے۔ بال نہیں  اکھاڑ سکتے۔ سر میں  خارش ہو تو ڈر ہے  کوئی بال نہ اکھڑ جائے  ہاتھ کے  نیچے  کوئی جوں  آ کر نہ مر جائے۔ فکر رہتی ہے  کہیں دم نہ دینا پڑے۔ 
ہمارے  لئے  تو سنت قربانی کے  علاوہ بھیڑ بکری یا گائے  اونٹ وغیرہ خریدنا مشکل ہے۔ 
	انسانی ذہن بھی عجیب کمپیوٹر ہے۔ خوشی غمی۔ دکھ سکھ ہر حال میں  مصروفِ عمل رہتا ہے۔ سوچنے  اور نہ سوچنے  کی باتیں  بھی سوچتا رہتا ہے۔ وقت بے  وقت سوچتا ہی رہتا ہے۔ بھلا مشقت و آزمائش کے  وقت کیا؟کیوں ؟جیسے  سوالات میں  الجھنا کوئی ضروری ہوتا ہے۔ کوئی ضروری نہیں۔ مگر اس بے  یقین کو شکوک و شبہات کے  بغیر کچھ سوجھتا ہی نہیں۔ محکم احکام اور بین دلائل میں  فلسفیانہ نکتے  اور حکمتیں  تلاش کرتا رہتا ہے۔ 
	میرا دماغ بھی کیا؟کیوں ؟کے  چکر میں  پڑا ہوا ہے۔ میں  احکام کو نفع نقصان کی ترازو میں  تول رہا ہوں۔ عقل کہہ رہی ہے  آخر یہ ساری بھاگ دوڑ کس لئے۔ اس طواف یا سعی کا کیا فائدہ ہے۔ اور پھر حالتِ احرام میں  حلال چیزوں  کی ممانعت میں  کونسی سی حکمت ہے ؟میں  تخمین و ظن اور وہم و گمان کی دلدل میں  مسلسل دھنسا جا رہا ہوں۔ شیطان نے  وساوس کے  جال میں  جکڑ رکھا ہے ....... دفعتاً دروازے  پر دستک ہوئی۔ 
کون؟
ا کرم(یہ ہماری بلڈنگ کا چوکیدار ہے۔ ہمارے  لئے  یہی رہبر،یہی معلم اور یہی معاون تھا۔ اس کو خوش رکھے  اس نے  اور اس کے  بعد جلال نے  ہمارا خصوصی خیال رکھا ہے)
کیا؟آپ کے  ساتھی آ گئے۔ 
میں  نے  دروازہ کھولا تو ایک باریش جوان میرے  سامنے  کھڑا تھا۔ ساتھ اس کی اہلیہ تھی۔ ہم نے  ان کی آمد پر  اللّٰہ  کا شکر ادا کیا۔ اس جوان کا نام بھائی نصیر خان مروت ہے۔ یہاں  راولپنڈی میں  پراپرٹی کا کام کرتے  ہیں۔ تبلیغ سے  لگاؤ رکھتے  ہیں۔ بہت سمجھ دار ہیں۔ انہوں  نے  مشورہ دیا حاجی صاحب آپ پہلے  اپنے  مناسک ادا کر کے  فارغ ہو جائیں۔ پھر  اللّٰہ  تعالیٰ ان کے  لئے  بھی کوئی سبب بنا دے  گا۔ بھائی نصیر صاحب کے  مشورہ کے  مطابق میں  طواف و سعی اور حلق (ٹنڈ)کروا کے  احرام کی پابندیوں  سے  آزاد ہو گیا۔ 
	احرام کھولنے  پر دل مطمئن ہوا۔ کچھ سکون ہوا۔ حرم شریف کی نورانیت سے  وسواس کی ظلمت چھٹ گئی۔ وہم و گمان اور تخمین و ظن کی نفی ہو گئی۔ سیاہی دھل گئی۔ دماغ روشن اور دل پاک ہو گیا۔ حقیقت کھل کر سامنے  آ گئی۔ اللّٰہ  والوں  کا قول یاد آ گیا کہ:۔ 
	دین کی حکمت ہے   اللّٰہ  رسول کا حکم ماننا۔ آنکھیں  بند کر کے  ماننا۔ بغیر دلیل کے  ماننا۔ اور جب آدمی مان لیتا ہے  تو اسے  ماننے  کا جو انعام ملتا ہے  وہ تصور میں  نہیں  سما سکتا۔ 
	اپنے  اعمال کے  دوران اہلیہ کے  متعلق بھی سوچتا رہا۔ طواف و زیارت سے  فارغ ہو کر ویل چیئر کے  متعلق معلومات کرتا رہا۔ ڈیرے  پر آ کر اہلیہ کو لے  کر حرم پاک کی طرف چل پڑا۔ میرے  پاس صرف تیس ریال تھے۔ میں  نے  ٹریول چیک بھی ساتھ لے  لئے۔ راستے  میں  بینک کا پتہ کیا تو بینک نمازِ ظہر کی وجہ سے  بند ہو چکا تھا۔ (نماز کے  وقت بینک بند ہو جاتے  ہیں۔)حرم شریف کے  باہر باب فہد کی طرف ایک صرافہ کا دروازہ بند  ہو رہا تھا۔ دوسرے  صرافے  والے  بند کرنے  کی تیاری میں  تھے  میں  نے  ٹریول چیک پیش کئے  تو انہوں  نے  کیش کرنے  سے  انکار کر دیا۔ معاً خیال آیا کہ میرے  پاس عمانی ریال بھی ہیں۔ میں  نے  عرض کیا کیا عمانی تبدیل ہوتے  ہیں  ؟انہوں  نے  میری گذارش قبول کر کے  عمانی کے  بدلے  سعودی ریال عنایت فرما دئیے۔ کی مہربانی سے  مال کا مسئلہ حل ہوا۔ مگر کام مال سے  نہیں  ہوتے  اعمال سے  ہوتے  ہیں۔ ویل چئیر کے  متعلق پوچھتے  پوچھتے  ہم صفاء پر پہنچے  یہاں  بہت سے  عربی حضرات ویل چئیر لئے  سواریوں  کی انتظار میں  کھڑے  تھے۔ میں  نے  ٹوٹے  پھوٹے  الفاظ اور اشارے  کنائے  سے  اپنی غرض عرض کی انہوں  نے  طواف کرانے  سے  انکار کر دیا۔ ہم دونوں  میاں  بیوی تھک کر ایک ستون سے  ٹیک لگا کر بیٹھ گئے۔ دل ہی دل میں   اللّٰہ  کی طرف متوجہ ہوئے  تو اس نے  ایک فرشتہ سیرت نوجوان کو ہماری مدد کو بھیج دیا۔ اس نوجوان کا نام عامر اور ملک انڈیا ہے۔ اس کا پیشہ انجنئیرنگ اور ملازمت سعودیہ کی ہے۔ اس نے  ہمیں  پریشان دیکھ کر تسلی دی۔ اوپر کی منزل میں  لے  گیا۔ دوچار ویل چئیر والوں  سے  بات کی مگر وہ تین سو ریال سے  کم نہیں  کر رہے  تھے۔ آخر ایک نوجوان دو سو ریال پر راضی ہو گیا۔ وہ حاجن کو لے  کر روانہ ہوا تو تھوڑی دیر کے  بعد مجھے  تقاضا تنگ کرنے  لگا۔ بڑا صبر کیا۔ فکر تھی کہ میرے  بعد اگر اہلیہ آ گئی تو وہ مجھے  کہاں  تلاش کرے  گی۔ دوسرے  مجھے  ٹائلٹ کی جگہ بھی معلوم نہ تھی۔ میرے  ساتھ کوئی ہوتا تو اس کو بٹھا کر چلا جاتا۔ میرے  پاس بیٹھے  ہوئے  تمام حاجی غیر محرم تھے۔ ان کی شکل و صورت سے  معلوم ہوتا تھا کہ ایرانی ہیں۔ میں  نے  ٹوٹی پھوٹی فارسی اور اشارہ سے  اسے  صورتِ حال سے  آگاہ کرنے  کی کوشش کی۔ وہ  اللّٰہ  کے  ولی بھی سر ہلاتے  رہے  میں  سمجھا کہ میرے  مسئلہ کو حاجی صاحب سمجھ گئے  ہیں۔ بعد کے  مشاہدات سے  معلوم ہوا کہ اس حاجی سے  مشابہت رکھنے  والے  ایرانی نہیں  ترکی ہیں۔ ..... مجھے  اپنی حماقت سے  ایک دانش کا نقطہ ملا کہ غرض مند بڑا خوش فہم ہوتا ہے۔ میں  فارغ ہو کر واپس آیا تو وہ صاحب کہیں  جا چکے  تھے  اور سوار اور سواری میرے  انتظار میں  کھڑے  تھے۔ انہیں  دیکھ کر میں  اپنی ساری پریشانی بھول گیا۔ اللّٰہ  کا شکر ہے  کہ حاجن صاحبہ کا عمرہ بھی ہو گیا۔ 
قارئینِ کرام!
	یہ داستان میں  اپنی یاد دہانی اور تقویتِ قلب کے  لئے  سنا رہا ہوں۔ بیشک سفر حج میں  مشقتیں  ہیں۔ اللّٰہ  تعالیٰ اپنی قدرت دکھانے  کے  لئے  مشکلات پیدا فرماتے  ہیں  پھر اپنے  لطف و کرم کا احساس دلانے  کے  لئے  مشکلات حل فرماتے  ہیں۔ اللّٰہ  تعالیٰ نے  جتنا ظرف بنایا ہے  اتنی ہی آزمائش ڈالتے  ہیں۔ قوتِ برداشت سے  زیادہ بوجھ نہیں  ڈالتے۔ اور یہ آزمائش انسان کا ایمان پختہ کرنے  کے  لئے  ہے۔ انسان واضح طور پر محسوس کرتا ہے  کہ  اللّٰہ   ہی مشکل پیدا کرتا ہے۔ اور وہی مشکل حل کرتا ہے۔ وہی حل المشکلات ہے۔ 

حج۔۔۔ حقیقتِ حج___داستانِ عشق

	حج محبوبِ حقیقی کا بلاوا ہے۔ اور حج کے  راستہ میں  وہ تمام مراحل پیش آتے  ہیں۔ جو درِ حبیب تک پہنچنے  کے  لئے  ضروری ہیں۔ محبوب کا تقاضا ہے۔ 
انہی پتھروں  پہ چل کر اگر آ سکو تو آؤ
میرے  گھر کے  راستے  میں  کوئی کہکشاں  نہیں 	(مصطفے ٰ زیدی)
	سو راہِ محبت کوئی پھولوں  کی سیج یا مخمل کا بستر نہیں۔ یہ مشقتوں  اور تکلیفوں  کا سفر ہے۔ اس سفر میں  بہت مشکل مقام آتے  ہیں۔ ان مقامات کو عبور کرنا وصالِ یار کے  لئے  ضروری ہے۔ اگر عشق و محبت کے  حوالے  سے  دیکھا جائے  تو عاشق کے  لئے  راستے  کے  پتھر مخمل اور کانٹے  پھول ہوتے  ہیں۔ شمع پہ قربان ہونے  والے  پروانے  کو شعلے  پہ جلنے  کی جلن میں  نہ جانے  کیا لذت محسوس ہوتی ہے۔ کانٹوں  کی سولی پر سوار بلبل کو نجانے  کونسا نروان حاصل ہوتا ہے۔ اللّٰہ  جانے  یا بلبل۔ غالبؔ نے  کہا تھا!
کوئی میرے  دل سے  پوچھے  تیرے  تیرِ نیم کش کو
یہ خلش کہاں  سے  ہوتی جو جگر کے  پار ہوتا
	میٹھی میٹھی جلن،خلش،درد،کسک،کرب..... یہی تو عاشق کا سرمایہ ہے۔ اور یہ سرمایہ آلام و مصائب جھیل کر ہی کمایا جا سکتا ہے۔ 
یہ عشق نہیں  آساں  بس اتنا سمجھ لیجو
اک آگ کا دریا ہے  اور ڈوب کے  جانا ہے 
	حضرت ابراہیمؑ جب آگ کے  سمندر میں  ڈالے  گئے  تو خلیل کا خطاب پایا۔ ہاں !
یاریاں  نبھانا آسان نہیں۔ ....... حج آسان نہیں۔ یہ سنت خلیل ہے۔ خلیل جن کے  ایمان و عشق کے  متعلق اقبال نے  کہا ہے 
بے  خطر کود پڑا آتشِ نمرود میں  عشق
عقل ہے  محوِ تماشائے  لبِ باب ابھی
	آٹھ ذی الحجہ سے  بارہ ذی الحجہ تک ایامِ حج ہیں۔ آٹھویں  ذی الحجہ کی ظہر سے  نویں  کی نمازِ فجر تک منیٰ میں  قیام کر کے  نویں  کو وقوفِ عرفات کے  لئے  غروب آفتاب تک عرفات میں  وقوف کرنا ہے۔ نویں  اور دسویں  کی درمیانی رات مزدلفہ میں  گذارنا ہے۔ دسویں  تاریخ کو منیٰ واپس آ کر بڑے  شیطان کو کنکر مرنے  ہیں، پھر قربانی کرنا ہے،پھر سر کے  بال کٹوانا یا کتروانا ہے،پھر طواف زیارت کے  بعد واپس منیٰ آنا ہے  اور اگلے  روز یعنی یعنی گیارھویں  تاریخ کو چھوٹے،درمیانے  اور بڑے  شیطان کو رمی کرنا ہے،گذشتہ روز طوافِ زیارت نہیں  ہو سکا تو آج کیا جا سکتا ہے۔ اگلے  روز یہی مناسک دہرانے  ہیں۔ 
	حج کے  ان پانچ دنوں  میں  تین دن مسلسل مناسک ادا کرنے  پڑتے  ہیں۔ مسلسل سفر اور شب بیداری اور ہجوم کی دھکم پیل کی وجہ سے  اچھے  خاصے  صحت مند افراد بھی نڈھال ہو جاتے  ہیں۔ واقعی یہ پانچ دن بڑی مشقت اور امتحان کے  ہوتے  ہیں  مگر  اللّٰہ  تعالیٰ کی مدد ہر حاجی کے  ساتھ ہوتی ہے۔ ہم جیسے  بوڑھے،مریض ناتواں  کو بھی جرات و حوصلہ اور طاقت عطا فرما دیتا ہے۔ 
	حج کے  تین فرائض ہیں  (۱)احرام باندھنا(۲)عرفات کی حاضری(۳)طوافِ زیارت۔ باقی مناسک کی حیثیت سنن و  واجبات کی ہے۔ 

حکمتِ حج
	
	حج کی حکمت حقیقت میں  تو اللّٰہ  اور  اللّٰہ  کے  رسولؐ کے  حکم کو بے  چون و چرا عشق و عقیدت کے  جذبے  سے  تسلیم کرنا اور اس پر عمل کرنا ہے۔ آدمی جب اپنے  عقل و فہم کو احکام کے  تابع کر دیتا ہے   اللّٰہ  تعالیٰ حکمت کے  دروازے  وَا کر دیتا ہے۔ 
	حضورﷺ نے  عمر شریف کے  آخری ایام میں  حج فرمایا ہے۔ اسی حج کے  موقع پر  اللّٰہ  تعالیٰ نے  تکمیل دین کی خوشخبری سنائی تھی۔ اب گر حج کے  اعمال و مناسک کو اس حوالے  سے  دیکھیں  تویوں  محسوس ہوتا ہے  جیسے  حج پورے  دین کا نمونہ ہے۔ جدید زبان میں  اسے  دین کا ریفریشر کورس یا تربیتی کیمپ کہا جا سکتا ہے۔ حج وہ رکنِ دین ہے  جس میں  باقی ارکانِ دین یعنی کلمہ،نماز، زکوٰۃ (انفاق فی سبیل  اللّٰہ)اور روزہ (احرام کی صورت میں  حلال چیزوں  کو ترک کرنے)کی بھرپور مشق کی جاتی ہے۔ 
	کلمہ لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ (اللّٰہ  کے  سوا کوئی عبادت کے  لائق نہیں  اور حضورﷺ اللّٰہ  کے  رسول ہیں)تو دین کی بنیاد ہے۔ حدیث شریف کا مفہوم ہے  کہ دین کی مثال ایک خیمہ کی سی ہے  جو پانچ ستونوں  پر کھڑا ہوا ہے۔ یہ پانچ ستون کلمہ، نماز،زکوٰۃ،روزہ اور حج ہیں۔ ان میں  کلمہ کی مثال درمیانی ستون کی سی ہے۔ اگر یہ ستون نہ ہو تو خیمہ کھڑا نہیں  رہ سکتا۔ اس کلمہ کی تفسیر علمائے  کرام توحید و سنت اور فلاسفہ و صوفیاء نفی اثبات جیسے  عنوانات کے  تحت کرتے  ہیں۔ تبلیغ والے  سیدھے  سادھے  الفاظ میں  کہتے  ہیں  کہ کلمے  کا مفہوم ہے  اللّٰہ   ہی سے  ہوتا ہے۔ اللّٰہ  کے  امر کے  بغیر غیر(مخلوق)سے  کچھ نہیں  ہوتا۔ اور دونوں  جہانوں  کی کامیابی حضرت محمدﷺ کے  نورانی طریقوں  میں  اور دونوں  جہانوں  کی ناکامی غیروں  کے  طریقوں  میں  ہے۔ اس عقیدے  کو دل میں  بٹھانا اور اس کے  تقاضوں  کو عملی طور پر پورا کرنا کلمے  کا مقصد ہے۔ 
	کلمہ ایمان کی اساس ہے۔ اس کا تعلق دل سے  ہے۔ کلمے  کے  مفاہیم کو سمجھنا سوچنا اور اسے  اپنی ذات میں  جذب کرنا باطن کا تقاضا ہے۔ دین کا دوسرا رکن نماز ہے۔ یہ ظاہر کا تقاضا ہے۔ اعمال میں  سب سے  زیادہ اہمیت نماز کی ہے۔ کلمہ قلبی اور نماز عملی سپردگی کا نام ہے۔ اس کی اپنی حکمتیں  اور اپنے  فائدے  ہیں۔ 
	تیسرا رکن زکوٰۃ  ہے۔ زکوٰۃ مالی قربانی کا نام ہے۔ آدمی کو فطری طور پر مال سے  محبت ہے۔ اس محبت کو  اللّٰہ  کی محبت پہ قربان کرنے  کے  لئے  زکوٰۃ  فرض کی گئی ہے۔ 
	مذکورہ ارکان کے  علاوہ جو زائد ارکان ہیں  ان میں  اپنی اپنی حکمتیں  اور فوائد ہیں۔ ان میں  احکام کے  مطابق زندگی گذارنے  کی مشق کرائی جاتی ہے  اور حج کے  بقیہ مناسک میں  موت کی ریہرسل کرائی جاتی ہے۔ اس مشق میں  بھی اخلاصِ نیت، عشق و محبت،خشوع و خضوع جیسے  جذبے  کی تربیت کی جاتی ہے۔ بلکہ اس موقع پر تو ان جذبات کا اظہار عروج پر ہوتا ہے۔ 
	حج کا آغاز نیت و نوافل کے  بعد گھر سے  رخصت ہونے  سے  ہی ہو جاتا ہے۔ یہیں  سے  مخلوق کی نفی اور خالق کے  اثبات کا آغاز ہو جاتا ہے۔ آدمی کو گھر بار،مال مویشی، بال بچوں، عزیز و اقارب سے  فطری طور پر محبت ہوتی ہے۔ اب محض  اللّٰہ  کو راضی کرنے  کے  لئے  یہ سب کچھ چھوڑنا پڑتا ہے۔ سو گھر سے  باہر قدم رکھتے  ہی مال و متاع اور رشتہ و ناتا کا بُت ٹوٹ جاتا ہے۔ مخلوق سے  ناتا توڑ کر اللّٰہ  سے  لو لگانے  کی تربیت شروع ہو جاتی ہے۔ پھر جب آدمی احرام باندھتا ہے  تو گویا وہ اپنے  ہاتھوں  اپنے  بدن پر کفن لپیٹ رہا ہے۔ اب محرم اور مردہ میں  بس سانس کا فرق رہ گیا باقی نہ مردے  کا پس ماندگان سے  کوئی رابطہ رہتا ہے  اور نہ محرم کا۔ حاجی کا سفر سفرِ آخرت سے  مشابہت رکھتا ہے۔ پھر منیٰ سے  عرفات،عرفات سے  مزدلفہ،مزدلفہ سے  پھر منی واپسی۔ غرضیکہ تمام مراحل پر ایمان و اعمال کی مشق و مظاہرہ مرنے  اور مرنے  کے  بعد کے  مراحل کی یاد دلاتے  ہیں۔ 
	اگر مروجہ مزاج کو مدِ نظر رکھ کر دیکھیں  تو حج مسلمانوں  کا بین الاقوامی اجتماع ہے۔ جس میں  مسلمانوں  کی جمیعت اور اخوت و محبت کا مظاہرہ ہوتا ہے۔ اسلام نے  نظری طور پر جن امتیازات کو ختم کرنے  کی تعلیم فرمائی ہے۔ یہاں  اس کا عملی مظاہرہ ہوتا ہے۔ مختلف ملکوں، نسلوں، رنگوں  اور طبقوں والے  آپس میں  ایک کنبہ کی صورت نظر آتے  ہیں۔ اس کے  علاوہ حج کے  اعمال میں  گذشتہ نبیوں  کی شریعتوں  کا عکس بھی جھلکتا نظر آتا ہے۔ 

شریعت؟طریقِ پیغمبراں 

	حج دین اسلام کا نمونہ ہے۔ اس نمونہ میں  ایمان و اعمال کا بدرجۂ اتم اظہار ہوتا ہے۔ ان اعمال کو اگر تاریخی تناظر میں  دیکھیں  تو معلوم ہوتا ہے  کہ نہ صرف حج بلکہ تمام اعمال پیغمبروں  یا ان کے  پیاروں  کے  طریق عبادت یا یوں  کہیے  ان کی اداؤں  کی پیروی ہے۔ نماز، روزہ، حج،زکوٰۃ  سب کچھ حضورﷺ کی اداؤں  کی نقل ہے۔ رمی، طواف،قصر،حلق اور قربانی وغیرہ  اللّٰہ  کے  پیاروں  کی قربانیوں  کی یاد ہے۔ وہ پیارے  جنہوں  نے  اپنا سب کچھ  اللّٰہ  کی رضا کے  لئے  قربان کر دیا۔ جنہیں  کوئی مشکل آڑے  نہیں  آئی۔ کوئی مصیبت انہیں   اللّٰہ  کی راہ سے  روک نہیں  سکی۔ وہ ہمتوں  اور حوصلوں  کے  پہاڑ تھے۔ 
جو رکے  تو کوہِ گراں  تھے  ہم، جو چلے  تو جاں  سے  گذر گئے 
رہِ یار ہم نے  قدم قدم تجھے  یاد گار بنا دیا    (فیض)
	حج تمام پیغمبروں  کی سنت ہے۔ حضورﷺ کی ذاتِ پاک میں   اللّٰہ  تعالیٰ نے  تمام پیغمبروں  کی صفات کو مجتمع کر دیا ہے۔ آپ جامع الصفات ہیں۔ آپؐ کے  اعمال میں  ہر نبی کے  عمل کا عکس نظر آتا ہے۔ 
حسنِ یوسفؑ، دمِ عیسیٰؑ،یدِ بیضا داری
آنچہ خوباں  ہمہ  دارند تو تنہا داری 
کا حج تمام انبیاء کے  حج کا خلاصہ ہے۔ آپؐ خاتم الانبیاء ہیں۔ آپؐ کا ایک ایک عمل نمونہ ہے۔ صحابہ  کرامؓ نے  حضورﷺ کے  حج کے  اعمال کو اپنے  قلوب میں  محفوظ کر لیا پھر انہیں  اپنے  اعمال کے  ذریعے  زندہ کیا۔ آج جو دین قرآن و حدیث کی صورت میں  ہم تک پہنچا ہے  انہی کے  وسیلے  سے  پہنچا ہے۔ 

دین اسلام؟ اللّٰہ  کا حکم،نبیؐ کا طریقہ

	دین کیا ہے ؟
	 اللّٰہ  کے  حکم کو نبی پاکؐ کے  طریقے  کے  مطابق ماننا۔ سو حج بھی اصل میں   اللّٰہ  کے  حکم کو رسول ؐ کے  طریقے  کے  مطابق ماننے  کا نام ہے۔ اللّٰہ  تعالیٰ نے  قرآن پاک میں  ارشاد فرمایا ہے :۔ 
وَلِلّٰہِ عَلَی النَّاسِ حِجّ الْبَیْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ اِلَیہِ سَبِیْلاًط وَمَنْ کَفَرَ فَاِنَّ اللّٰہَ غَنِیٌّ عَنِ الْعٰلَمِیْنَ(۱۰،آلِ عمران)
اور اللّٰہ  تعالیٰ (کے  خوش کرنے  کے)واسطے  لوگوں  کے  ذمہ اس مکان(بیت  اللّٰہ)کا حج (فرض) ہے۔ اس شخص کے  ذمہ ہے  جو وہاں  جانے  کی سبیل رکھتا ہو اور جو منکر ہو تو(اللّٰہ  تعالیٰ کا کیا نقصان ہے) اللّٰہ  تعالیٰ تمام جہانوں  سے  غنی ہیں (ان کو کیا پرواہ)
	حضورﷺ کی حدیث کا مفہوم ہے :۔ 
"جس شخص کے  پاس اتنا خرچ ہو اور سواری کا انتظام ہو کہ بیت  اللّٰہ  شریف جا سکے  اور پھر وہ حج نہ کرے  تو کوئی فرق نہیں   اس بات میں  کہ وہ یہودی ہو کر مر جائے  یا نصرانی ہو کر"۔ 
	قرآنِ پاک اور احادیث مبارکہ میں  صاحبِ استطاعت کے  لئے  حج کرنا فرض قرار دیا گیا ہے۔ حج کے  بہت سے  فضائل بتائے  گئے  ہیں۔ مگر فضائل کے  برخلاف وہ شخص جو صاحبِ استطاعت ہونے  کے  باوجود یہ فریضہ ادا نہیں  کرتا اس کے  لئے  سخت سے  سخت وعیدیں  سنائی گئی ہیں۔ دوسرے  اعمال کی طرح حج بھی وہی حج ہے  جو  اللّٰہ  کا حکم سمجھ کر  اللّٰہ  کو راضی کرنے  کے  جذبے  سے  حضورﷺ کے  طریقے  کے  مطابق کیا جائے۔ 
	کتب احادیث میں  حضورﷺ کے  حج مبارک کی تفصیلات بکثرت ملتی ہیں۔ آپ کے  حج کو حجۃ الوداع کے  نام سے  موسوم کیا جاتا ہے۔ اس حج میں  حضورِ پاکﷺ نے  مناسکِ حج کے  مسائل تفصیل سے  تعلیم فرمائے  ہیں۔ اور مختلف خطبات میں  اسلامی تعلیمات کے  اہم امور سے  صحابہ کرام کو آگاہ کیا۔ آپؐ کا آخری خطبہ اسلامی معاشرہ کا دستور سمجھا جاتا ہے۔ اس موقع پر تکمیل دین کی آیت نازل ہوئی۔ جس سے  صحابہ  ؓ کو حضورﷺ کی رحلت فرمانے  کی فکر ہوئی۔ حضورﷺ نے  اپنے  خطبات میں  بھی کنایَۃً اس امر کی نشاندہی فرما دی تھی۔ 
	حج کا آغاز آٹھ ذِ ی الحجہ سے  ہوتا ہے۔ "حضورﷺ اس روز چاشت کے  وقت منیٰ تشریف لے  گئے  تھے  اور سب صحابہ کرامؓ بھی حج کا احرام باندھ کر ہمرکاب تھے۔ پانچ نمازیں  منیٰ میں پڑھیں۔ اس شب سورۃ المرسلات حضورﷺ پر نازل ہوئی۔ جمعہ کی صبح کو طلوع آفتاب کے  بعد عرفات تشریف لے  گئے "(فضائل حج)



حج ایک نظر میں 


حج کا پہلا دن۔۔ ۸  ذِی الحج
مکہ سے  منیٰ کو روانگی
منیٰ میں  نمازِ ظہر
منیٰ میں  نمازِ عصر
منیٰ میں  نمازِ مغرب
منیٰ میں  نمازِ عشاء
رات منیٰ مین قیام


حج کا دوسرا دن۔۔ ۹  ذِی الحج
نمازِ فجر کے  بعد عرفات کو روانگی
عرفات میں  نمازِ ظہر
وقوفِ عرفات
عرفات میں  نمازِ عصر
مغرب پڑھے  بغیر مزدلفہ کو روانگی
مغرب اور عشاء مزدلفہ میں 
رات مزدلفہ میں  قیام

حج کا تیسرا دن۔۔ ۰ ۱  ذِی الحج
مزدلفہ سے  نمازِ فجر کے  بعد منیٰ کو روانگی
بڑے  شیطان کی رمی
قربانی
سر کے  بال منڈانا یا کتروانا
طوافِ زیارت کو مکہ جانا
رات منیٰ میں  قیام


حج کا چوتھا دن ۔۔۱۱  ذِی الحج
منیٰ میں  زوال کے  بعد رمی کرنا
پہلے  چھوٹے  شیطان کو
پھر درمیانے  شیطان کو
پھر بڑے  شیطان کو رمی کرنا
پھر بڑے  شیطان کو رمی کرنا
اگر کل طوافِ زیارت نہیں  کیا تو آج کیا جا سکتا ہے 



حج کا پانچواں  دن۔۔ ۱۲  ذِی الحج
منیٰ میں  زوال کے  بعد رمی کرنا
پہلے  چھوٹے  شیطان کو
پھر درمیانے  شیطان کو
اگر کل طوافِ زیارت نہیں  کیا تو آج کیا جا سکتا ہے 
رات منیٰ میں  قیام



پھر بیان اپنا

پھر بہار آئی وہی دشتِ نوردی ہو گی
پھروہی پاؤں  وہی خارِ مغیلاں  ہوں گے 		(مومن)
	حج  اللّٰہ  کا حکم اور نبی ؐ کا فرمان ہے۔ حاجی کے  لئے  لازم ہے  کہ ہر حال میں  حکم کی تعمیل کرے۔ اصل میں  ماننا ہی عبادت ہے۔ مگر ماننا کوئی آسان کام نہیں۔ ماننے  کے  لئے  من مارنا پڑتا ہے۔ سرنگوں  ہونا پڑتا ہے۔ اپنا آپ حاکم کے  سپرد کرنا پڑتا ہے۔ مرنا پڑتا ہے۔ 
... مگر ہمیں  من مارنا اور سرنگوں  ہونا نہیں  آتا۔ ہم نے  مرنے  کی تربیت حاصل نہیں  کی۔ ہمارے  اندر کا شیطان بھی عذر اور بہانے  سجھاتا رہتا ہے۔ معمولی سی بیماری اور نقاہت بھی عذر بن جاتی ہے۔ ہم دونوں  میاں  بیوی تازہ تازہ طواف وسعی کر کے  آئے  تھے۔ ابھی عمرہ کا احرام اتارا تھا کہ حج کا احرام باندھنے  کا موقع آ گیا۔ اہلیہ کا فالج اور میرا نزلہ اچھا خاصا عذر تھا۔ ..... شیطان اپنا کام کر رہا تھا۔ وسواس کا جال بچھا رہا تھا۔ مگر جس نے  بلایا تھا وہی ہماری حفاظت کر رہا تھا۔ اس نے  اپنے  خصوصی کرم سے  ہر موقع پر معجزانہ طور پر مدد فرمائی۔ 
	ساتویں  ذی الحجہ کو منیٰ روانگی کی باتیں  اور مشورے  شروع ہو گئے۔ معلم کے  کارندے  خیموں  کے  کارڈ تقسیم کر رہے  تھے۔ ہمیں  بھی پیلے  رنگ کا ایک کارڈ مل گیا۔ اس پر خیمے  کا خاکہ اور نمبر ۵ لکھا ہوا تھا۔ ہم نے  پی۔ آئی۔ اے  کی طرف سے  ملنے  والے  تھیلوں  میں  دو چٹائیاں۔ دو پلیٹیں  اور کمبل وغیرہ رکھ لئے۔ آٹھویں  کو دوسرے  حجاج کرام کے  ساتھ منیٰ پہنچے۔ حاجی صاحبان وقفے  وقفے  سے  تلبیہ کا ترانہ پڑھتے  جا رہے  تھے۔ میں  ذکر و فکر کے  ساتھ ساتھ باہر کا نظارہ کر رہا تھا۔ باہر کیا تھا۔ بڑی بڑی عمارتیں،کشادہ سڑکیں۔ سڑکوں  پر رواں  دواں  ٹریفک، چوکوں  پہ لگے  ہوئے  بورڈ،سائن بورڈ(کسی بورڈ پر میں  نے  عورت کی تصویر نہیں  دیکھی۔ سگریٹ کا اشتہار بھی نہیں  دیکھا۔ حرم شریف کے  باہر جو سگریٹ نوشی کی ممانعت کا بورڈ لگا ہوا ہے۔ اس کا مفہوم ہے  کہ "حرم شریف کی فضا کو سگریٹ کے  دھوئیں  سے  آلودہ نہ کریں "حرم شریف کے  باہر بھی کہیں  کہیں  یہ بورڈ لگے  ہوتے  ہیں)سڑکوں  پر عجمی لوگ زیادہ اور مقامی لوگ کم نظر آ رہے  تھے۔ وجہ معلوم نہیں۔ میرا دل ان نظاروں  سے  مطمئن نہیں   ہو رہا تھا۔ سڑک کنارے  کہیں  کہیں  کھجور کے  درخت نظر آئے۔ عمارتوں  کی اوٹ سے  پہاڑ اور پہاڑیاں  نظر آ رہی ہیں۔ 

تصور کی نظر

(میں  ماضی کے  جھروکوں  سے  جھانک جھانک کر تھک گیا ہوں۔ تھا،تھے،تھی کی گردان میرے  حال کی ترجمان نہیں ... میں  اپنے  محبوب لمحوں  کو ماضی کے  دھندلکے  سے  نکال کر حال کا حصہ بنانا چاہتا ہوں)...
	 ہاں  تو پہاڑ اور کھجوریں  میرے  خوابوں  کی علامت اور سوچوں  کا تلازمہ ہیں۔ بے  آب و گیاہ ریگزاروں  اور پہاڑوں  کے  درمیان گھرے  ہوئے  نخلستان میرے  خیال میں  رچے  بسے  ہیں۔ میں  مکہ، مدینہ دیکھنا چاہتا ہوں۔ مگر میرے  چہرے  پہ سجی ہوئی عینک نور نظارے  دیکھنے  کی اہل نہیں۔ میری آنکھوں  میں  بصارت توہے  بصیرت نہیں،دل میں  جذبات تو ہیں  عقیدت نہیں۔ میں  منظر کو ظاہر کے  حوالے  سے  دیکھ رہا ہوں  پس منظر کے  حوالے  سے  نہیں۔ وہ پسِ منظر جو میرے  لاشعور میں  مستور ہے۔ وہ نظارہ جو قرآن دکھاتا ہے۔ چودہ سوسال پرانا۔۔۔۔ میں  تکلفاً لاشعور کو شعور کی سطح پہ لانے  کی شعوری کوشش کر رہا ہوں۔ ہاں !یہ وہی پہاڑ ہیں  جن پر اللّٰہ  کے  محبوبﷺ کے  نقوشِ پا نقش ہیں۔ انہی پہاڑوں  میں  حرا ہے۔ حراجس کی تنہائیوں  میں  حضورﷺ پُر نور گوشہ نشیں  رہے  ہیں۔ یہیں  سے  ہدایت کاسورج طلوع ہوا تھا۔ اسی کھوہ کی کوکھ میں  بنی نوع انسان کی فلاح کا غم پلتا رہا ہے۔ اس مطلع سے  سپیدۂ سحرطلوع ہوا تھا۔ یہیں  سے  اقراء کی قرات کا آغاز ہوا۔ یہی جگہ ہے  جہاں  حضورﷺ کو نبوت کی ذمہ داری سونپی گئی۔ 
	اے  غارِ حرا!اے  مطلعِ انوار!اے  معبدِ محمدﷺ!تجھ پر سلام! ...اور انہی پہاڑوں  میں  ایک اور غار ہے  جس نے  حضورﷺ اور حضورﷺ کے  رفیقِ خاص حضرت ابوبکر صدیق ؓ کو اپنی آغوش میں  پناہ دی تھی۔ ایسی حالت میں  کہ مادرِ وطن کی گود ان کے  لئے  تنگ ہو گئی تھی۔ وہ مکہ جہان حضورﷺ کے  بچپن کی معصومیاں  اور جوانی کی پاکیزگیاں  بکھری پڑیں  تھیں وہ اس کے  وجود پاک کو برداشت نہیں  کر رہا تھا....... تو اے  غارِ ثور تجھ پر سلام!تیرے  مقیم اور اس کے  یار پہ درود وسلام..... ہاں  تو اے  مکہ تو میرے  نبی ؐ کا شہر ہے۔ نبی ؐ کے  پیاروں  کا شہر ہے۔ یاروں  کا شہر ہے۔ اے  مکہ میرے  خوابوں  میں  آ جا!میری سوچوں  میں  سما جا۔ اے  مکہ تو میرا آدرش ہے۔ میرا مقصد ہے۔ میرا مطلوب ہے۔ میری منزل ہے۔ اے  میرے  مکہ۔ اے  میرے  ماضی!آ میرے  حال میں  سما جا!
میری منزل عہدِ پیمبرﷺ 
دوڑ زمانے  پیچھے  دوڑ	(جبینِ نعت)   

پھر لمحۂ موجود میں 

	ہماری گاڑی دوڑ نہیں  چل رہی ہے۔ اس لئے  کہ بھیڑ بہت ہے۔ دائیں  بائیں  آگے  پیچھے  ہر طرف گاڑیاں  ہی گاڑیاں  ہیں۔ ہمیں  ڈیرے  سے  نکلے  ہوئے  پتہ نہیں  کتنے  گھنٹے  ہوئے  ہیں۔ میں  ماضی میں  گم اور  میری ہمراہی حال کی بھیڑسے  بیزار مجھے  جھنجوڑ رہی ہے۔ میں  اسے  کہہ رہا ہوں  ان عمارتوں  اور سڑکوں  کے  بجائے  پہاڑوں  اور کھجوروں  کو دیکھتی رہو۔ کیونکہ یہ کوٹھیاں  تو راولپنڈی اور اسلام آباد میں  بھی ہیں۔ پہاڑ بھی پنڈی اسلام آباد میں  بہت ہیں۔ مگر ان پہاڑوں  اور دوسرے  پہاڑوں  میں  زمین وآسمان کا فرق ہے۔ میں  اسے  اپنے  تصور کی تصویروں  کی جھلکیاں  دکھانا شروع کر دیتا ہوں۔ تھوڑی ہی دیر میں  منیٰ آ جاتا ہے۔ 
	یہ منیٰ کا میدان ہے۔ حاجی کی پہلی منزل۔ حدِ نظر تک پھیلے  ہوئے  خیموں  کا ایک شہر۔ میں  بڑی مشکل سے  اپنی ہمسفر کو گاڑی سے  اتارتا ہوں۔ نیچے  بھی دھکم پیل  ہو رہی ہے۔ لوگوں  کو اپنے  خیموں  کا پتہ نہیں  چل رہا۔ خیموں  کے  درمیان کے  راستے  تنگ ہیں۔ اکثر حاجی ان پڑھ ہیں۔ اور پڑھے  لکھوں  کو بھی مشکل درپیش ہے  کہ خیموں  کی پہچان نمبر اور رنگ دونوں  سے  ہے۔ راستوں  پر حاجیوں  کی راہنمائی کے  لئے  مختلف کتبے  بھی آویزاں  ہیں۔ ہمارے  کارڈ پہ خیمے  کا نمبر۵ لکھا ہوا ہے۔ راستے  میں  پانچ نمبر خیمہ آتا ہے  تو اس میں  داخل ہونے  کی کوشش کرتے  ہیں۔ اس خیمہ کے  مقیم ہمارا کارڈ دیکھ کر آگے  بھیج دیتے  ہیں۔ یہ خیمہ سرخ کارڈ والوں  کا تھا۔ ہمارے  کارڈ کا نمبر تو پانچ مگر رنگ زرد ہے۔ آخر پوچھتے  پوچھتے  اپنے  زرد رنگ کے  خیمہ نمبر پانچ میں  پہنچ جاتے  ہیں۔ 
	خیمہ کافی وسیع ہے  چالیس،پچاس آدمی اس میں  بآسانی سماسکتے  ہیں۔ ظہر کی نماز کا وقت ہو چلا ہے۔ خیموں  کے  درمیان وضو طہارت کا انتظام موجود ہے۔ بھیڑ کی وجہ سے  تھوڑی دیر انتظار کرنا پڑتی ہے۔ قطار میں  کھڑے  ہونا پڑتا ہے۔ مگر جلد ہی باری آ جاتی ہے۔ آدمی آسانی سے  کھڑے  کھڑے  وضو کر سکتا ہے۔ ہمارے  خیمہ میں  ایک حافظ صاحب ہیں  ہم نے  ان کی اقتداء میں  ظہر، عصر،مغرب،عشا اور فجر کی پانچوں  نمازیں  ادا کیں۔ مجمع کی بدنظمی دیکھ کر میں  نے  ساتھیوں  کو ترغیب دی کہ کسی ایک ساتھی کو کیمپ کا امیر بنا لیجئے۔ 
چنانچہ ایک ساتھی جن کا ٹائٹل پیرزادہ ہے  (نام یاد نہیں)انہیں  امیر بنا دیا جاتا ہے۔ امیر صاحب نے  حاجی صاحبان کو گپ بازی کے  بجائے  ذکر اذکار کی ترغیب دی۔ مغرب کی نماز کے  بعد برادر نصیر خاں  صاحب نے  فضائل حج سے  کچھ حصہ پڑھ کرسنایا۔ میں  نے  بھی چند ترغیبی باتیں  بتائیں۔ عورتیں  مرد الگ الگ بیٹھے  تھے  مگر درمیان میں  حجاب نہیں  تھا۔ ایک صاحب نے  خیمہ کے  درمیان لگے  ہوئے  پردے  کی ڈوریاں  کھولیں  تو پردہ بڑے  زور سے  نیچے  گرا۔ پردے  کا پائپ میری اہلیہ کے  گھٹنے  پر لگا گھٹنا زخمی ہو گیا ہمارا امتحان مزید سخت ہو گیا۔ 

منیٰ___میدانِ جہاد

یہ فیضانِ نظر تھا یاکہ مکتب کی کرامت تھی
سکھائے  کس نے  اسماعیلؑ کو آدابِ فرزندی	(اقبال)
	منیٰ کے  میدان میں  شیطانوں  کو کنکریاں  مارنے  اور قربانی کرنے  کے  اعمال ہوتے  ہیں۔ یہ اعمال دو جلیل القدر پیغمبروں  کی محبوب اداؤں  کی نقل ہیں۔ یہ مقام حضرت ابراہیمؑ اور ان کے  فرزند حضرت اسماعیل ؑ کی امتحان گاہ ہے۔ 
	حضرت ابراہیمؑ  اللّٰہ  کے  خلیل ہیں۔ خلیل کا معنی ہے  دوست،یہ دوستی کا خطاب ویسے  ہی نہیں  ملا۔ اس کے  لئے  جناب کو بڑی قربانیاں  دینا پڑیں۔ اللّٰہ  کے  دین کے  لئے  گھر بار چھوڑنا یعنی ہجرت کرنا تو تقریباً تمام نبیوں ؑ کی سنت ہے۔ حضرت ابراہیمؑ نے  بھی  اللّٰہ کے  کلمے  کو دنیا میں  پھیلانے  کے  لئے  دور دور کا سفرکیا۔ اللّٰہ  کے  حکم کی تعمیل میں  اپنی بیوی حضرت ہاجرہؑ اور معصوم بچہ حضرت اسماعیل ؑ کو بے  آب و گیاہ ویرانے  میں  تنہا چھوڑ دیا۔ کلمہ حق کہنے  کی پاداش میں  آگ کے  الاؤ میں  ڈالے  گئے۔ ان سارے  امتحانوں  سے  بڑا امتحان اپنے  لختِ جگر حضرت اسماعیلؑ کو اللّٰہ  تعالیٰ کے  حکم کی تعمیل میں  ذبح کرنا تھا۔ 
	حضرت ابراہیمؑ نے  خواب میں  دیکھا کہ انہیں  اپنی سب سے  پیاری چیز قربان کرنے  کا حکم دیا جا رہا ہے۔ حکم عام ہوتا تو مال خرچ کرنے  سے  تعمیل ہو جاتی مگر حکم تھا سب سے  محبوب چیز قربان کرنے  کا۔ اور سب سے  پیاری چیز تو اولاد ہوتی ہے۔ اور اولاد بھی اسماعیلؑ جیسی۔ اسماعیل ؑ جو بڑھاپے  کا ثمر ہے۔ جو ہونے  ولا پیغمبر ہے۔ جس کی ایڑیوں  سے  زم زم پھوٹتا ہے۔ جو وفادار بیوی ہاجرہؑ کا وفادار بیٹا ہے۔ تو اسماعیل ؑ کی قربانی نہ صرف اپنی محبت بلکہ ہاجرہؑ کی مامتا کی بھی قربانی تھی.... مگر محبت میں  رشتہ ناتا کوئی اہمیت نہیں  رکھتا۔ محبت بڑا امتحان لیتی ہے۔ 
 
اللّٰہ  ! اللّٰہ .....  یہ کیسا امتحان ہے !

	ایک باپ اپنے  لختِ جگر کو قربان کرنے  کے  لئے  قربان گاہ کی طرف لے  جا رہا ہے۔ پیچھے  پیچھے  شیطان لعین آ رہا ہے۔ شیطان جو کہ انسان کا ازلی دشمن ہے۔ وہ اس تاک میں  ہے  کہ موقع ملے  تو خلیل  اللّٰہ  کو  اللّٰہ  کے  حکم سے  پھیرنے  کی کوشش کرے .... یہ لعین پیغمبروں  کا زیادہ دشمن ہے۔ ابا آدمؑ اور اماں  حواؑ کو بھی اس نے  ورغلایا تھا۔ اب حضرت ابراہیمؑ کو ورغلانے  کی کوشش کر رہا ہے۔ اولاد کی محبت کو بہانہ بنا کر خلیل کو خوار کرنا چاہتا ہے۔ مگر یہ خلیل ہے۔  اللّٰہ  کا دوست۔ اس نے  صغرسنی میں  ہی اسماعیل اور ہاجرہ کو  اللّٰہ  کے  حکم کے  تحت اپنے  سے  جدا کر دیا تھا۔ اب بیٹے  کے  گلے  پہ چھری چلانا کیا مشکل ہے۔ آپؑ شیطان کو پہچان جاتے  ہیں۔ اس پر کنکر برساناشروع کر دیتے  ہیں۔ لعین بھاگ جاتا ہے۔ کچھ دور جا کر پھر ورغلانے  کی کوشش کرتا ہے۔ حضرت ابراہیمؑ پھر سات کنکر مارتے  ہیں۔ شیطان بھاگ جاتا ہے۔ مگر ہارتا نہیں۔ پھر تیسری بار حملہ کرتا ہے۔ آپؑ پھر سات کنکر مارتے  ہیں۔ (یہ سات کا عدد بھی عجیب عدد ہے۔ کچھ لوگ اسے  لکی سیونLucky sevenکہتے  ہیں۔)دشمن پسپا ہو جاتا ہے۔ اور امتحان کا آخری مرحلہ شروع ہو جاتا ہے۔ 
	ایک باپ اپنے  پیارے  بیٹے  کو اللّٰہ  کے  حکم پر قربان کرنے  کے  لئے  زمین پر لٹا رہا ہے۔ باپ بھی مطمئن ہے  بیٹا بھی شانت۔ دل میں  موت کا کوئی خوف ہے  نہ جدائی کا غم۔ خوف کسیے  ہو؟ غم کیسے  ہو؟دونوں   اللّٰہ  کے  دوست ہیں۔ پیغمبر ہیں۔ اللّٰہ  والوں  کے  دل میں  صرف خالق کا خوف ہوتا ہے۔ یہ کسی سے  ڈرتے  ہیں  نہ کوئی غم کرتے  ہیں انہی کے  لئے  فرمایا گیا ہے 
 لَاخَوْفٌ عَلَیْھِمْ وَلَا ھُمْ یَحْزَنُونْ
	بیشک  اللّٰہ  کے  ولیوں  کو کسی قسم کا خوف یا غم نہیں۔ مگر ایک انسانی فطرت بھی ہے۔ اس حوالے  سے  دیکھا جائے  تو باپ کے  دل پر جو گذر رہی ہو گی اس کا اندازہ نہیں  کیا جا سکتا۔ انسان ہونے  کے  ناتے  شفقت پدری ضرور آڑے  آئی ہو گی۔ مگر انہیں  تو قربانی کا حکم تھا۔ اور قربانی صرف جسم کی نہیں  جذبات کی۔ عام آدمی ہوتا تو یقیناً شیطان کے  جھانسے  میں  آ جاتا۔ مگر یہ تو خلیل ہے۔ سچاپکادوست۔ ماننے  والا۔ اس نے  آنکھیں  بند کر کے  بیٹے  کے  گلے  پر چھری چلا دی۔ آنکھیں  کھولیں  تو اسماعیلؑ کے  بجائے  مینڈھا ذبح ہوا پڑا تھا۔ آج کی قربانی اس قربانی کی یاد ہے۔ 
بنا کر دند خوش رسمے  بخاک وخون غلطیدن
خدا رحمت کند ایں  عاشقانِ پاک طینت را

عرفہ ___مقام معرفت

	قربان جاؤں  اس مہربان پر جو قربانی مانگتا ہے۔ لیتا نہیں۔ وہ امتحان لیتا ہے  مگر برداشت سے  زیادہ بوجھ نہیں  ڈالتا۔ یہ اس کا قانون ہے۔ وہ انسان کو اپنی پہچان کرانے  کے  لئے  آزمائش کے  مراحل سے  گذارتا ہے۔ حاجی کی آزمائش کا آغاز احرام باندھنے  کے  ساتھ شروع ہو جاتا ہے۔ احرام کی پابندیاں، سفر کی صعوبتیں  اور ہجرت کی مصیبتیں  سب آزمائش ہیں۔ (حج کی مثال جہاد کی سی ہے۔ اس میں بھی مال جان وقت سب کچھ قربان کرنا پڑتا ہے۔ اپنا جسم و جان اور جذبات و خواہشات  اللّٰہ  کی تحویل میں  دینا پڑتے  ہیں۔ اپنی نفی اور ذاتِ باری تعالیٰ کا اثبات کرنا پڑتا ہے۔ خود لا ہونا پڑتا ہے۔ اور یہی اسے  مطلوب ہے۔ مخلوق کی نفی کرنا اور خالق کی وحدانیت کا ادراک کرنا ہی تو معرفت ہے !حج اصل میں  معرفت کاسفر ہے۔ اس معرفت کے  سفر کی اگلی منزل میدانِ عرفات ہے۔ 
	نویں  ذی الحجہ کی صبح کو نماز سے  فارغ ہو کر تمام حاجی وقوفِ عرفات کی تیاریاں  کرنے  لگے۔ تقریباً آٹھ بجے  ہم منیٰ سے  عرفات کے  لئے  روانہ ہوئے۔ عرفات کا میدان منیٰ سے  دس کلو میٹر کے  فاصلے  پر ہے۔ سڑکیں  کشادہ اور پختہ ہیں۔ ٹریفک کا مسئلہ پیدا نہیں  ہوتا۔ ابھی چاشت کا وقت نہیں  ہوا۔ ہم میدان عرفات میں  پہنچ جاتے  ہیں۔ گاڑی والے  ہمیں  میدان کے  آغاز میں  ہی اتار دیتے  ہیں۔ تھوڑی دور تک سب اکٹھے  رہتے  ہیں۔ میں  اہلیہ کو سنبھالے  ہوئے  آہستہ چلنے  پر مجبور ہوں۔ ہمارے  خیمہ کے  ساتھی ہمیں  چھوڑ کر آگے  چلے  جاتے  ہیں ..... لیجئے  یہ بلڈنگ کے  ساتھیوں  کا ساتھ بھی چھوٹ گیا۔ 
اک اور بُت ٹوٹ گیا۔ 
ساتھیوں  کا بُت۔ 
سہاروں  کا بت..... 
	عرفہ کا میداں  بھی بہت وسیع ہے۔ یہاں  بھی حدِ نظر تک خیمے  لگے  ہوئے  ہیں۔ منیٰ کے  خیمے  لوہے  کے  ستونوں  پہ استادہ چھتوں  والے  اور یہاں  کے  خیمے  بالکل عارضی اور سادہ ہیں۔ ہم دونوں  میاں  بیوی آہستہ آہستہ چلتے  ایک خیمے  میں  داخل ہو جاتے  ہیں۔ اس کا نمبر یاد نہیں۔ اتنا یاد ہے  اس کے  سامنے  ایک درخت تھا اور اس کے  آگے  ٹائیلٹ تھے۔ ٹائیلٹ میں طہارت کا صحیح انتظام ہے۔ میں  نے  خیمے  میں  چٹائی بچھا کر اپنی ہم سفر کو لٹا دیا۔ وہ لیٹتے  ہی سوگئی۔ میں  نے  لیٹنے  کی کوشش کی مگر اونچی نیچی زمین کی وجہ سے  نیند نہیں  آئی۔ تھوڑی دیر میں  چکوال کی چند خواتین اور مرد ہمارے  خیمے  میں  آ گئے۔ پھر کچھ اور لوگ آ گئے۔ رونق ہو گئی۔ تازہ بچھڑنے والے  ذہن سے  محو ہونے  لگے۔ نئے  ملنے  والوں  سے  واقفیت بڑھنے  لگی...... یہ ہجر و وصال کا عجیب تجربہ ہے۔ دونوں  حالتوں  کی اپنی کیفیتیں  اور لذتیں  ہیں۔ ان ساتھیوں  میں  ایک ادھیڑ عمر خاتون نے  میری اہلیہ کو سنبھالنے  میں  بڑی مدد کی۔ بہت نیک خاتون ہے۔ تمام وقت اس نے  تسبیح و تلاوت میں  گذارا جب کہ دوسرے  لوگ مختلف موضوعات پر بحث و مباحثہ میں  مصروف رہے۔ 
	سنا تھا کہ حج کے  تین دن کھانے  پینے  کا انتظام گورنمنٹ کے  ذمہ ہے۔ معلم کے  کارندوں  نے  ہمیں  کھانے  کے  کارڈ بھی دینے  تھے۔ منیٰ میں  ہمیں  ایک وقت کھانا ملا۔ دوسرے  کا بڑی گورنمنٹ (اللّٰہ)نے  انتظام فرما دیا۔ یہاں  عرفات میں  بیگم صاحبہ پوچھتی ہیں  کھانے  کا کیابندوبست ہو گا۔ میں  نے  کہا جو پہلے  کھلاتا رہا ہے  وہ اب بھی بندوبست کر دے  گا۔ میں  تقاضے  کے  لئے  باہر نکلا تو لوگوں  کو چائے  کے  کیک اور بسکٹ اٹھائے  دیکھا۔ پتہ چلا کہ چوک میں  ناشتہ تقسیم  ہو رہا ہے۔ ایک لمبی قطار لگی ہوئی تھی۔ تھوڑی سی انتظار سے  ناشتہ مل گیا۔ بہت سے  لوگ مسجد نمرہ کو جا رہے  تھے۔ میں  اپنے  ہمسفر کی وجہ سے  پابند تھا۔ مجھے  بھی شوق تھا۔ اپنی ذمہ داری مذکورہ خاتون کے  سپرد کر کے  میں  بھی زیارتِ نمرہ کے  لئے  نکل کھڑا ہوا۔ سڑک پہ پہنچا تو دیکھا کہ حاجی حضرات دو دو چار چار بسکٹوں  کے  پیکٹ اٹھا کر چلے  آ رہے  ہیں۔ میں  تجسس میں  تھا کہ بر لبِ سڑک کھڑے  ٹرالے  سے  ایک شخص نے  بسکٹ کا پیکٹ میری طرف پھینک دیا۔ میں  نے  یہ پیکٹ اپنی چادر میں  لپیٹ لیا۔ آگے  گیا تو خادمین حرمین شریفین کا لنگر لگا ہوا تھا۔ میں  نے  یہاں  سے  دو ڈبے  مرغ بریانی کے  لے  لئے۔ آگے  تھوڑے  ہی فاصلے  پر ایک اور ٹرالا خادمین کا کھڑا تھا۔ وہاں  بھی لنگر بٹ رہا تھا۔ دل میں  خیال آیا میرے  خیمے  میں  کچھ اور لوگ بھی ہیں۔ چلو یہاں  سے  بھی لنگر لے  لو۔ اب بوجھ اتنا ہو گیا کہ میں  آگے  نہیں  جا سکا۔ مجبوراًواپس آنا پڑا۔ میں  نے  ڈبے  بیگم کے  سامنے  ڈھیر کر تے  ہوئے  کہا کہ لیجئے  حاجی صاحب میزبان (اللّٰہ  تعالیٰ) نے  آپ کے  کھانے  کا بندوبست بھی کر دیا... کتنا مہربان میزبان ہے۔ بڑا مہمان نواز۔ بڑا کریم۔ منہ مانگی مرادیں  پوری کرتا ہے۔ اور پھر یہ تو عرفات ہے  یہاں  وہ بہت قریب ہوتا ہے۔ اور اس کا قرب اور معرفت ہی تو اصل حج ہے۔ 
	ابوداؤد کی روایت کے  مطابق اس جگہ نجد کی ایک جماعت براہِ راست پہنچی اور حضورﷺ سے  ایک آدمی کے  ذریعے  آواز دے  کر دریافت کرایا کہ حج کیا ہے ؟حضورﷺ نے  ایک آدمی کو حکم فرمایا کہ اعلان کر دوکہ حج عرفہ میں  ٹھہرنے  کا نام ہے۔ جو شخص دس ذی الحجہ کی صبح سے  پہلے  پہلے  یہاں  پہنچ جائے  اس کا حج ہو گیا۔ (فضائل حج)
	مسجدِ نمرہ میں  ایک اذان اور دو تکبیر اقامت سے  ظہر اور عصر کی نمازیں  جمع اور قصر کر کے  امام صاحب کے  ساتھ با جماعت ادا کی جاتی ہیں۔ نمازوں  سے  پہلے  امام صاحب حج کے  دو خطبے  دیتے  ہیں  جن کا سننا سنت ہے۔ بوڑھوں،ضعیفوں  اور عورتوں  کے  لئے  یہ رعایت ہے  کہ اپنے  خیمے  میں  ظہر اور عصر کی نمازیں  اپنے  اپنے  وقت پر اپنے  امام کے  پیچھے  با جماعت پڑھ لیں (کتاب الحج)
	عرفہ دعاؤں  اور استغفارکا دن ہے۔ حضورﷺ مغرب تک امت کے  لئے  دعا بہت الحاح و زاری سے  مانگتے  رہے۔ حق تعالیٰ شانہ کے  یہاں  سے  امت کے  لئے  ظالم کے  سوا اور سب چیزوں  کی مغفرت کا وعدہ ہو گیا۔ مگر حضورﷺ پھر بھی التجا فرماتے  رہے  کہ یا اللّٰہ  یہ بھی ہو سکتا ہے  کہ مظلوموں  کو تو اپنے  پاس سے  بدلہ عطا فرما دے  اور ظالموں  کو معاف فرما دے۔ اسی دوران یہ آیت نازل ہوئی(فضائل حج)
اَلْیَوْمَ اَکْمَلْت لَکُمْ دِیْنَکُمْ وَاَتْمَمْت عَلَیْکُمْ نِعْمَتِی وَ رَضِیْت لَکُم الْاِسْلَامِ دِیْناً(مائدہ۔ ۱)

خطبہ حجۃ الوداع____ دستورِ حیات

	میدانِ عرفات وہ مقام ہے  جہاں  سردارِ دوجہاں  نے  وہ تاریخی خطبہ ارشاد فرمایا جسے  خطبہ حجۃ الوداع کے  نام سے  یاد کیا جاتا ہے۔ یہ خطبہ بنی نوعِ انسان کے  لئے  مکمل ضابطۂ حیات اور جامع منشور ہے۔ خطبہ کا اردو ترجمہ مسلم کمرشل بینک کے  کتابچہ۔۔ ’’کتاب الحج‘‘ سے  درج کیا جاتا ہے۔ آپ نے   اللّٰہ  کی حمد و ثنا کرتے  ہوئے  خطبے  کی یوں  ابتداء کی:۔ 
اللہ کے  سواکوئی اور معبود نہیں  ہے۔ وہ یکتا ہے۔ کوئی اس کا ساجھی نہیں۔  اللّٰہ نے  اپنا وعدہ پورا کیا۔ اس نے  اپنے  بندے  (رسولﷺ) کی مدد فرمائی اور تنہا اس کی ذات نے  باطل کی ساری مجتمع قوتوں  کو زیر کیا۔ لوگو!میری بات سنو۔ میں  نہیں  سمجھتاکہ آئندہ کبھی ہم اس طرح کسی مجلس میں  یکجا ہو سکیں  گے  (اورغالبااًس سال کے  بعد میں  حج نہ کر سکوں گا)
لوگو! اللّٰہ  تعالیٰ کا ارشاد ہے "انسانو!ہم نے  تم سب کو ایک ہی مرد و عورت سے  پیدا کیا ہے  اور تمہیں  جماعتوں  اور قبیلوں  میں  بانٹ دیا ہے  کہ تم الگ الگ پہچانے  جا سکو۔ اللّٰہ تعالیٰ کے  ہاں  عزت و کرامت والا وہی ہے  جو زیادہ ڈرنے  والا ہے۔ چنانچہ اس آیت کی روشنی میں  نہ کسی عربی کو عجمی پر کوئی فوقیت حاصل ہے  نہ کسی عجمی کو کسی عربی پر،نہ کالا گورے  سے  افضل ہے  نہ گورا کالے  سے۔ ہاں  بزرگی اور فضیلت کا کوئی معیار ہے  تو تقویٰ ہے۔ انسان سارے  ہی آدمؑ کی اولاد ہیں  اور آدمؑ کی حقیقت اس کے  سواکیا ہے  کہ وہ مٹی سے  بنائے گئے۔ اب فضیلت و برتری کے  سارے  دعوے، خون و مال کے  سارے  مطالبے  اور سارے  انتظام میرے  پاؤں  تلے  روندے  جا چکے  ہیں۔ بس بیت اللّٰہ کی تولیت اور حاجیوں  کو پانی پلانے  کی خدمات علی حالہ باقی رہیں  گی۔ پھر آپؐ نے  ارشاد فرمایا" قریش کے  لوگو!ایسانہ ہو کہ اللّٰہ کے  حضور تم اس طرح آؤ کہ تمہارے  گردنوں  پر تو دنیا کا بوجھ ہو اور دوسرے  لوگ سامانِ آخرت لے  کر پہنچیں  اور اگر ایسا ہوا تومیں  اللّٰہ کے  سامنے  تمہارے  کچھ کام نہ آ سکوں  گا۔ 
قریش کے  لوگو! اللّٰہ نے  تمہاری جھوٹی نخوت کو ختم کر ڈالا اور باپ دادا کے  کارناموں  پر تمہارے  فخر و مباحات کی کوئی گنجائش نہیں۔ 	لوگو!تمہارے  جان و مال اور عزتیں  ایک دوسرے  پر قطعاً حرام کر دی گئی ہیں ہمیشہ کے  لئے۔ ان چیزوں  کی اہمیت ایسی ہی ہے  جیسے  تمہارے  اس دن کی اور اس ماہِ مبارک(ذی الحجہ) کی خاص کر اس شہر میں  ہے۔ تم سب اللّٰہ کے  آگے  جاؤ گے  اور وہ تم سے  تمہارے  اعمال کی بابت باز پُرس فرمائے  گا۔ 
دیکھو!میرے  بعد کہیں  گمراہ نہ ہو جانا کہ آپس میں  کشت و خوں  کرنے  لگو۔ اگرکسی کے  پاس امانت رکھوائی جائے  تو وہ اس بات کا پابند ہے  کہ امانت رکھوانے  والے  کو امانت پہنچا دے۔ 
لوگو!ہرمسلمان دوسرے  مسلمان کا بھائی ہے۔ اور سارے  مسلمان آپس میں  بھائی بھائی ہیں۔ اپنے  غلاموں  کا خیال رکھو۔ ہاں  غلاموں  کا خیال رکھو۔ انہیں  وہی کھلاؤ جو خود کھاتے  ہو۔ ایساہی پہناؤجیساتم پہنتے  ہو۔ دورِ جاہلیت کا سب کچھ میں  نے  اپنے  پیروں  سے  روند دیا۔ زمانہ جاہلیت کے  خون کے  سارے  انتقام اب کالعدم ہیں۔ پہلا انتقام جسے  میں  کالعدم قرار دیتا ہوں  میرے  اپنے  خاندان کا ہے۔ ربیعۃ بن الحارث کے  دودھ پیتے  بیٹے  کا خون جسے  بنو ہذیل نے  مار ڈالا تھا۔ اب میں  معاف کرتا ہوں۔ دورِ جاہلیت کا سوداب کوئی حیثیت نہیں  رکھتا۔ پہلاسود جسے  میں  چھوڑتا ہوں  عباسؓ بن عبدالمطلب کے  خاندان کا سود ہے۔ اب یہ ختم ہو گیا۔ لوگو!  نے  ہر حقدار کو اس کا حق خود دے  دیا ہے۔ اب کوئی کسی وارث کے  لئے  وصیت نہ کرے۔ 
     بچہ اس کی طرف منسوب کیا جائے گاجس کے  بستر پروہ پیدا ہو گا۔ جس پر حرام کاری ثابت ہو اس کی سزاپتھرہے۔ حساب و کتاب  اللّٰہ کے  ہاں  ہو گا۔ جو کوئی اپنا نسب بدلے  گا،غلام اپنے  آقا کے  مقابلے  میں  کسی اور کو اپنا آقا  ظاہر کرے  گا اس پر اللّٰہ کی لعنت۔ قرض قابلِ ادائی ہے۔ عاریتاً لی ہوئی چیز واپس کرنی چاہئے  اور جو کوئی کسی کا ضامن بنے  وہ تاوان ادا کرے۔ کسی کے  لئے  یہ جائز نہیں  ہے  کہ وہ اپنے  بھائی سے  کچھ لے۔ سوائے  اس کے  جس پر اس کا بھائی راضی ہو اور خوشی خوشی دے۔ خود پر اور ایک دوسرے  پر زیادتی نہ کرو۔ 
        عورت کے  لئے  یہ جائز نہیں  کہ وہ اپنے  شوہر کا مال اس کی بغیر اجازت کسی کودے۔ دیکھو!تمہارے  اور تمہاری عورتوں  کے  کچھ حقوق ہیں۔ اس طرح ان پر تمہارے  حقوق واجب ہیں۔ عورتوں  پہ تمہارا یہ حق ہے  کہ وہ اپنے  پاس کسی ایسے  شخص کو نہ بلائیں  جسے  تم پسند نہیں  کرتے  اور وہ کوئی خیانت نہ کریں۔ کوئی کام کھلی بے  حیائی کا نہ کریں۔ اور اگر وہ ایسا کریں  تو اللّٰہکی طرف سے  اس کی اجازت ہے  کہ تم انہیں  معمولی جسمانی سزادواوروہ باز آ جائیں  تو انہیں  اچھی طرح کھلاؤ پہناؤ۔ عورتوں  سے  بہتر سلوک کرو کیونکہ وہ تو تمہاری پابند ہیں  اور خود اپنے  لئے  وہ کچھ نہیں  کر سکتیں۔ چنانچہ ان کے  بارے  میں  اللّٰہ کا لحاظ رکھو کہ تم نے  انہیں  اللّٰہ کے  نام پر حاصل کیا اور اسی کے  نام پر وہ تمہارے  لئے  حلال ہوئیں۔ لوگو!میری بات سمجھ لو میں  نے  حقِ تبلیغ ادا کر دیا۔ میں  تمہارے  درمیان ایک ایسی چیز چھوڑے  جاتا ہوں  کہ کبھی گمراہ نہ ہو گے  اگر اس پر قائم رہے  اور وہ  اللّٰہ کی کتاب ہے۔ اور ہاں  دیکھو اپنے معاملات میں غلوسے  بچنا کہ تم سے  پہلے  کے  لوگ انہی باتوں  کے  سبب ہلاک کر دئیے  گئے۔ شیطان کو اب اس بات کی کوئی توقع نہیں  رہ گئی کہ اب اس کی اس شہر میں  عبادت کی جائے  گی۔ لیکن اس کا امکان ہے  کہ ایسے  معاملات میں  جنہیں  تم کم اہمیت دیتے  ہو اس کی بات مان لی جائے  اور وہ اسی پر راضی ہے۔ اس لئے  تم اس سے  اپنے  دین ایمان کی حفاظت کرنا۔ لوگو!اپنے  رب کی عبادت کرو۔ پانچ وقت کی نماز ادا کرو، مہینے  بھر کے  روزے  رکھو، اپنے  مالوں  کی زکوٰۃ خوش دلی کے  ساتھ دیتے  رہو،اپنے  اللّٰہ کے  گھر کا حج کرو اور اپنے  اہلِ امر کی طاعت کرو تو اپنے  رب کی جنت میں  داخل ہو جاؤ گے۔ 
اب مجرم خود ہی اپنے  جرم کا ذمہ دار ہو گا اور اب نہ باپ کے  بدلے  بیٹا پکڑا جائے گا اور نہ بیٹے  کا بدلہ باپ سے  لیا جائے گا۔ 
سنو!جو لوگ یہاں  موجود ہیں  انہیں  چاہیے  کہ یہ احکام اور باتیں  ان لوگوں  کو بتا دیں  جو یہاں  نہیں  ہیں۔ ہو سکتا ہے  کہ کوئی غیر موجود تم سے  زیادہ سمجھنے  اور محفوظ رکھنے  والا ہو۔ اور لوگو! تم سے  میرے  بارے  میں  (اللّٰہ  کے  ہاں)سوال کیا جائے گا،بتاؤ تم  کیا جواب دو گے ؟ لوگوں  نے  کہا ہم اس بات کی شہادت دیں  گے  کہ آپ ؐ نے  امانت (دین)پہنچا دی اور آپﷺ نے  حقِ رسالتؐ ادا فرمایا اور ہماری خیر خواہی فرمائی۔ یہ سن کر حضورﷺ نے  اپنی انگشت شہادت آسمان کی طرف اٹھائی اور لوگوں  کی جانب اشارہ کرتے  ہوئے  تین مرتبہ فرمایا" اللّٰہ گواہ رہنا! اللّٰہ گواہ رہنا! اللّٰہ گواہ رہنا!
	حضورﷺ نے  اس خطبہ میں  ان تمام امور دینیہ کی نشاندہی فرما دی ہے  جن کا تعلق ایمان و اعمال سے  ہے۔ یہ خطبہ صرف مسلمانوں  بلکہ تمام انسانوں  کے  لئے  مشعلِ راہ ہے۔ اس خطبہ میں  مندرجہ ذیل اہم نکات بیان فرمائے  گئے  ہیں :۔ 
(۱)توحید باری تعالیٰ(۲)انسانی مساوات(۳)جان و مال اور عزت کا تحفظ(۴)امانت داری (۵)باہمی اخوت بھائی چارہ (۶)غلاموں  کے  حقوق(۷)حرمتِ سود(۸)قانونِ وراثت کی پابندی(۹)نسب کے  متعلق بدگمانی کی ممانعت(۱۰)نسب غلط بتانے  کی وعید(۱۱)بدکاری کی سزا (۱۲)باہمی لین دین کا قانون(۱۳)زن و شوہر کے  حقوق و فرائض(۱۴)قرآنی تعلیمات کی پابندی(۱۵)غلو سے  پرہیز(۱۶)ارکانِ اسلام کی پابندی(عبادات)(۱۷)مجرم صرف جرم کرنے  والا ہے (۱۸)دعوت و تبلیغ۔ 
بیشک یہ نکات صالح معاشرے  اور فلاحی ریاست کے  لئے  دستور و منشور کی حیثیت رکھتے  ہیں۔ 

وقوفِ مُزدلفہ

	وقوفِ عرفات کے  بعد وقوفِ مزدلفہ کا مرحلہ آتا ہے۔ وقوفِ عرفات فرض اور وقوفِ مزدلفہ واجب ہے۔ وقوفِ عرفات کا وقت عرفہ کے  دن زوالِ آفتاب کے  وقت سے  شروع ہو کر نویں اور دسویں  ذی الحجہ کی درمیانی رات کو فجر سے  پہلے  تک ہے۔ وقوفِ مزدلفہ کا وقت صبح صادق سے  لے  کر طلوعِ آفتاب تک ہے۔ 
	مزدلفہ میں  مغرب اور عشاء کی دونوں  نمازیں  ایک ہی وقت میں  ایک اذان اور ایک اقامت کے  ساتھ اس طرح پڑھی جاتی ہیں۔ پہلے  مغرب کے  فرض با جماعت ادا کرتے  ہیں۔ تکبیر،تشریق اور لبیک کہہ کر عشاء کی فرض نماز با جماعت ادا کرتے  ہیں۔ یہ رات شبِ جمعہ یا شبِ قدر سے  بھی زیادہ قدر کی رات ہے  اس لئے  اس رات کو جتنی عبادت کی جائے  کم ہے۔ مگر ہم جیسے  کم ہمتوں  میں  راتوں  کو جاگنے  اور  اللّٰہ  سے  مانگنے  کی ہمت کہاں۔ یہ تو اس بابرکت ماحول کا اثر ہے  کہ مالک سے  مانگنے  اور اس کے  حضور زاری کرنے  کا موقع مل گیا۔ 
	عرفات سے  مزدلفہ جانے  کے  لئے  حاجی حضرات عصر کے  بعد سے  ہی تیار بیٹھے  تھے۔ ابھی دن کا ا جالا ہی تھا کہ خیمے  اکھڑنے  شروع ہو گئے۔ تھوڑی دیر کے  لئے  جو میلہ سالگا تھا ایک دم اجڑنے  لگا۔ شائد  اللّٰہ  کو یہی دکھانا مقصود ہے  کہ کسی ایک جگہ دل نہ لگاؤ۔ میرے  حکم کے  مطابق چلتے  رہو۔ اسی میں  برکت ہے۔ اسی میں  ثواب ہے۔ سو ہم بھی دوسروں  کی دیکھا دیکھی بس سٹینڈ کی طرف چل پڑے۔ بس سٹینڈ پر لا ہور کے  جناب محمود صاحب سے  ملاقات ہو گئی۔ یہ انجنئیر ہیں  اور لا ہور میں  ملازمت کر رہے  ہیں۔ بہت نیک آدمی ہیں۔ ان کی اہلیہ اور بہن نے  میری اہلیہ کی بڑی خدمت کی۔  اللّٰہ  تعالیٰ انہیں  جزائے  خیر دے۔ 
	ہم بس سٹینڈ کے  فٹ پاتھ پہ بیٹھے  ہوئے  تھے  کہ یہ ساتھی بھی ہمارے  پاس آ کر بیٹھ گئے۔ معمولی سی سلام دعا ہوئی۔ میں  نے  بیوی کے  متعلق بتایا کہ فالج کی مریضہ ہیں  تو انہوں  نے  ہمیں  تسلی دی۔ میری اہلیہ کے  لئے  اٹھنا بیٹھنامسئلہ تھا۔ بیگم محمود صاحب نے  انہیں اٹھانے  بٹھانے  اور تقاضا کرانے  میں  میری بہت مدد کی۔ بس اسٹینڈ بسوں  سے  بھرا ہوا تھا۔ حجاج کرام فٹ پاتھ پر بیٹھے  اپنے  اپنے  مکتب کی بسوں  کا انتظار کر رہے  تھے۔ کچھ حضرات چٹائیاں  بچھا کر آرام کر رہے  تھے۔ کچھ بسکٹ وغیرہ کھا رہے  تھے۔ یہ بسکٹ وغیرہ مکہ والوں  نے  حاجیوں  کو ہدیہ کئے  تھے۔ بڑے  سخی لوگ ہیں۔ ہماری حاجن صاحبہ کو کسی نے  روٹیاں  ہدیہ کی تھیں۔ ہم نے  وہ روٹیاں ساتھ والوں  کو دے  دیں۔ یہاں  اتنا کچھ ہوتا ہے۔ آدمی سنبھال نہیں  سکتا۔ دو تین گھنٹے  کے  انتظار کے  بعد گاڑیوں  نے  حرکت کرنا شروع کی۔ اس اثنا ء میں  اہلیہ کو تقاضا کی حاجت ہوئی تومیں  بیگم محمود کو لے  کر واپس کیمپ گیا۔ واپس آئے  تو مکتب چونتیس کی بس جا چکی تھی۔ بھائی محمود صاحب اور ان کی ہمشیرہ بہت پریشان تھے۔ مگر پریشانی تو حج کا لازمہ ہے۔ پریشانی آتی ہے۔ مگر بہت جلد  اللّٰہ  تعالیٰ اسے  دور کر دیتے  ہیں۔ 
	ہمارے  علاوہ مکتب نمبر ۳۴ کے  کچھ اور حاجی ہماری طرح پیچھے  رہ گئے  تھے۔ معلم کے  چند کارندے  بھی ہماری وجہ سے  ابھی بس سٹینڈ پہ موجود تھے۔ تھوڑی دیر کے  بعد ہمارے  مکتب کی ایک بس مزدلفہ سے  واپس آئی تو ہمیں  لے  کر مزدلفہ کو روانہ ہوئی۔ 
	مزدلفہ عرفات اور منیٰ کے  درمیان منیٰ سے  مشرق کی جانب حدودِ حرم میں  داخل ہو کر ایک تین میل کا میدان ہے۔ اس میدان کی آخری حد ایک پہاڑ ہے  جسے  مشعرِ  حرام کہتے  ہیں۔ حضورﷺ نے  وقوفِ مزدلفہ کی رات اسی کے  پاس قیام فرمایا تھا۔ ہمیں  پتہ نہیں  بس والے  نے  کہاں  اتارا۔ ہم نے  گذارش بھی کی کہ بھائی کسی ایسی جگہ اتارنا جہاں  وضو استنجے  کا انتظام ہو۔ مگر وہ حضرات اپنی مرضی کے  مالک ہوتے  ہیں  ہمیں  ایسی جگہ اتار گئے  جہاں  پانی وغیرہ کا کوئی انتظام نہ تھا۔ ہم نے  پینے  کے  پانی سے  وضو کیا اور چار مقتدیوں  نے  میری اقتداء میں  نمازِ مغربین یعنی مغرب و عشاء ادا کی۔ موذن کے  فرائض محمود صاحب نے  ادا کئے۔ نماز سے  فارغ ہو کر چٹائیاں  بچھا کر لیٹ گئے۔ میری اہلیہ کا کہنا ہے  کہ عرفات اور مزدلفہ میں  مجھے  بہت سکون ملا۔ مزدلفہ کی رات میرے  لئے  یادگار  رات ہے۔ کیوں  نہ ہو یہ مقام ہی ایسا ہے۔ فطرت کی گود میں، زمین کی مخمل پر، آسمان کے  سائبان تلے  جو سکھ ملتا ہے  وہ مصنوعی ماحول میں  نصیب نہیں  ہوتا۔ مگر یہ سکھ ان دلوں  کے  لئے  ہے  جو فطرت کے  ساتھ ہم آہنگی رکھتے  ہیں۔ تکلف و تصنع کے  عادی جسم آغوشِ فطرت میں  کہاں  سکون پاتے  ہیں۔ ہم نے  رات ہی کو چاند کی چاندنی میں  کنکریاں  چن کر تھیلوں  میں  رکھ لیں۔ صبح کی نماز کے  بعد وقوف کی نیت سے  تھوڑا ساتوقف کیا۔ حاجی صاحبان اپنے  اپنے  انتظام سے  منیٰ کی طرف روانہ  ہو رہے  تھے۔ محمود صاحب مجھے  مستورات کے  پاس بٹھا کر سواری ڈھونڈنے  لگے۔ کوئی بھی تیس چالیس ریال سے  کم پر راضی نہیں   ہو رہا تھا۔ کافی انتظار کے  بعد ایک ٹرالے  والادس دس ریال پر راضی ہوا۔ ہم اس میں  سوار ہو گئے۔ 

منیٰ واپسی___ مراجعت

	آج دسویں  ذی الحجہ ہے۔ آج کا دن بڑا مصروف دن ہے  اور اس دن ہر حاجی کو بہت سے  کام سرانجام دیتے  ہیں۔ منیٰ پہنچ کر بڑے  شیطان کو کنکریاں  مارنا ہیں،قربانی کرنا ہے،سر کے  بال منڈانے  ہیں،طواف زیارت کے  لئے  مکہ جا کر پھر منیٰ واپس آنا ہے۔ ان اعمال کی انجام دہی میں  اچھا خاصا صحت مند آدمی بھی تھک جاتا ہے  یا اکتا جاتا ہے۔ مگر یہ مجاہدہ ہی تو مقصدِ حج ہے۔ اصل میں  یہ جدوجہد اور مشقت نفس اور شیطان کے  خلاف جہاد ہے۔ اس لئے  فرمایا گیا ہے  کہ عورتوں  کے  لئے  حج کا ثواب جہاد کے  ثواب کے  برابر ہے۔ حج اور جہاد دونوں  میں  مال جان وقت تینوں  چیزوں  کی قربانی کرنا پڑتی ہے۔ جو مال  اللّٰہ  کے  راستے  میں  خرچ کیا جائے  اس کا ثواب سات لاکھ گنا بڑھا دیا جاتا ہے۔ 
	اگر جہاد کے  حوالے  سے  سوچا جائے  تو وقوفِ مزدلفہ تک کا عرصہ جہاد کی تیاری کا عرصہ ہے۔ وقوفِ عرفات میں  حاجیوں  کی ذہنی تربیت کی جاتی ہے۔ جیسا کہ حجۃ الوداع کے  خطبہ کے  مضامین سے  پتہ چلتا ہے۔ حاجی کے  ذہن میں  دین اسلام کے  پورے  احکام کا استحضار ضروری ہے۔  اللّٰہ  تعالیٰ کی ذاتِ عالی کی قدرت کا کامل یقین دل میں  بٹھانا درس عرفہ کا خاصہ ہے۔  اللّٰہ  سے  دعائیں  مانگنا، التجائیں  کرنا۔ معافیاں  مانگنا پھر میدانِ مزدلفہ کی تنہائی میں   اللّٰہ  کی یکتائی اور بڑائی کا تصور جمانا۔  اللّٰہ  سے  ہونے  اور  اللّٰہ  کے  غیر سے  کچھ نہ ہونے  کا مراقبہ کرنا۔ حضورﷺ کی سنت اور طریقے  کو دہراناسب کچھ دل بنانے  کے  اعمال ہیں۔ 
	جب دل بن جائے  تو بدن عمل کے  لئے  تیار ہو جاتا ہے۔ جہد و مشقت کی تکالیف سہنے  کی استعداد پیدا ہو جاتی ہے۔ صبر و تحمل کا ملکہ پیدا ہو جاتا ہے۔  اللّٰہ اور  نبی ؐ کی ماننے  میں  مزہ آتا ہے۔ اور یہ ماننا ہی تو حج ہے۔ مزدلفہ سے  کنکریاں  چنتے  وقت ایسے  محسوس  ہو رہا تھا جیسے  بچے  گولیاں  کھیلنے  کے  لئے  کنکر اکٹھے  کر رہے  ہیں۔ اس تصور کے  ساتھ معاً خیال آتا ہے  کہ حاجی بھی تو بچہ ہے۔ معصوم بچہ عرفات کے  بعد اس کے  ذمہ کوئی گناہ نہیں رہا۔ حاجی کی مثال اس وقت ایک بھولے  بھالے  معصوم عاشق کی سی ہے۔ جو آنکھیں  بند کر کے  بغیر سوچے  سمجھے  اپنے  محبوب حقیقی کا حکم ماننے  کے  لئے  بچوں  کی سی حرکتیں  کر رہا ہے۔ مگر یہ بچوں  کی حرکتیں  نہیں  یہ جہاد کی ٹریننگ ہے۔ یہ چھوٹی چھوٹی کنکریاں  شیطان مردود کو جو انسان کا سب سے  بڑا دشمن ہے  کو تباہ و برباد کرنے  کا اسلحہ ہے۔ یہ کنکریاں  نہیں  گولیاں  ہیں  اور جسے  ہم کھیل سمجھ رہے  ہیں  یہ کھیل نہیں  یہ من کو مارنے  کا عمل ہے۔ یہ جہادِ اکبر ہے۔ اس وقت کسی کا کوئی مرتبہ، پیشہ یا مسلک نہیں  سب بچے  ہیں۔ کسی کے  پاس کوئی سند نہیں، کوئی ڈگری نہیں۔ یہاں  کوئی عالم نہیں۔ کوئی فاضل نہیں۔ سب امی ہیں۔ سب بچے  ہیں۔ سب غلام ہیں   اللّٰہ  اور نبیؐ کے  غلام۔ یہاں  کسی کی کوئی اَنا نہیں،کوئی میں  نہیں۔ ہاں  تو یہ میں  مارنے  کی ٹریننگ ہے۔ اپنی اصل کی طرف لوٹنے  کی مشق ہے۔ اور آدمی کی اصل کیا ہے ؟یہی کہ سب آدمی آدم زاد ہیں۔ آدمؑ کی اولاد ہیں۔ اور آدم ؑ کون تھے۔ مٹی کے  پتلے ..... مگر یہی مٹی کا پتلا ہے  جسے   اللّٰہ  تعالیٰ نے  اپنا خلیفہ بنایا۔ 

اعادہ ____ تاریخ کی دہرائی

رکی نہیں  ہے  تو گردش پلٹ کے  آئے  گی
نجانے  کتنے  زمانوں  کو ساتھ لائے  گی	 رشید نثار
	زمانہ اگر ٹھہرا نہیں  توانسان بھی رکا نہیں  یہ بھی مسلسل چل رہا ہے۔ گردش کے  ساتھ ساتھ۔ سوچا جائے  تو یہ گردش دائرے  کی گردش  ہے۔ دائرے  کی گردش میں  نقطہ آغاز و انتہا ایک ہی ہے۔ جیسے  طواف کرتے  کرتے  اسی نقطے  پر آ جاتے  ہیں  اس طرح میں  تاریخ کے  نقطہ آغاز پہ کھڑا مستقبل کی طرف رواں  ہوں۔ 
	 آج کا منیٰ چودہ صدیاں پرانے  منیٰ کی تکرار ہے۔ وہ منیٰ جس میں  کم و بیش ایک لاکھ چوبیس ہزار صحابہ اپنے  پیارے  محبوب کی اداؤں  کی نقل کر رہے  ہیں۔ حضورﷺ اپنے  جدِّ امجد کی اداؤں  کی تجدید فرما رہے  ہیں۔ شیطانوں  پہ سنگ باری کر رہے  ہیں۔ جانور ذبح کر رہے  ہیں۔ اونٹ قربان ہونے  کے  لئے   اللّٰہ  کے  حبیب کی طرف دوڑے  چلے  آ رہے  ہیں .... حضرت علیؓ حضورﷺ کے  لئے  ہنڈیا پکا رہے  ہیں۔ باقی حضرات بھی شیطان کو کنکر مار رہے  ہیں۔ کوئی قربانی کر رہا ہے  اور کوئی بال کٹوا رہا ہے۔  سچ پوچھیں  تو میرا تصور حجۃ الوداع اور جسم مناسکِ حج میں  مصروف ہے۔ 

وارداتِ ہجر و وصال

	قصہ آدم ؑ و حوا میں  میاں  بیوی کے  بچھڑنے  اور ملنے  کا واقعہ بہت مشہور ہے۔ اس کا تجربہ ہمیں  بھی ہوا ہے۔ 
	مزدلفہ سے  منیٰ جاتے  ہوئے  ایک سرنگ سے  گذرنا پڑتا ہے۔ سرنگ کے  اختتام پر منیٰ آ جاتا ہے۔ سرنگ سے  نکلتے  ہی ڈرائیور صاحب نے  ہماری بیگم صاحبہ کو نیچے  اتار دیا۔ ہمیں  معلوم نہیں  تھا کہ یہ منیٰ ہی ہے۔ ہم شور مچاتے  رہے  کہ ہمیں  آگے  اتارو۔ ہم نے  منیٰ جانا ہے۔ ہمارے  شور مچانے  کی وجہ سے  ڈرائیور نے  تقریباً پندرہ بیس میٹر دور جا کر ہمیں اتارا۔ اب ہمیں  معلوم نہیں  کہ ہماری ہمسفر کہاں  ہے۔ بھائی محمود صاحب نے  مجھے  تسلی دی۔ اور میری اہلیہ کو ڈھونڈنے  کے  لئے  پیچھے  چلے  گئے۔ میں  بھی حیران و پریشان سڑک پر سرگرداں  ہوں۔ میری بینائی کمزور ہے۔ دور سے  کسی کو پہچاننا مشکل ہے۔ پھر پہچانوں  توکس کو پہچانوں۔ سب پردیسی سب اجنبی۔ اللّٰہ  نے  کرم کیا کہ دس پندرہ منٹ کی بھاگ دوڑ کے  بعد محترمہ سڑک کنارے  بیٹھی مل گئیں۔ معلوم ہوا کہ بھائی محمود صاحب انہیں  سڑک کنارے  بٹھا کر ہمیں  ڈھونڈنے  چلے  گئے  ہیں۔ میں  محمود صاحب کی اہلیہ اور ہمشیرہ کو سڑک کنارے  بٹھا آیا تھا۔ میں  محترمہ کو لے  کر ان کے  پاس پہنچا تو محمود صاحب بھی وہاں  پہنچ چکے  تھے۔ ہم نے   اللّٰہ  کا شکر ادا کیا کہ سارے  ساتھی دوبارہ مل گئے  ہیں۔ مگر یہ ملن بھی مستقل ملن نہ تھا بلکہ اس وصال نے  بھی ہجر کی صورت بچھڑنا تھا۔ 
	یہ جگہ جہاں  ہم بیٹھے  ہوئے  تھے  ایک پل ہے۔ اس پل کے  نیچے  سے  انسانوں کے  ریلے  آ جا رہے  تھے  اور دور حدِ نظر تک خیموں  کا شہر آباد تھا۔ ہمیں  صرف یہ معلوم تھا کہ ہمارے  خیمے  کا نمبر پانچ اور رنگ پیلا ہے۔ اس کے  علاوہ وہاں  تک پہنچنے  کی کوئی سبیل نظر نہیں  آ رہی تھی۔ کوئی ٹیکسی رکشہ وغیرہ نہیں  کہ ڈرائیور کی مدد سے  اپنے  خیمے  میں  پہنچ جائیں۔ اور ہم دونوں  میاں  بیوی میں  اتنی سکت نہیں  کہ گھوم پھر کر اپنی سکونت تلاش کریں۔ پھر آج کے  اعمال میں  سب سے  پہلا عمل بڑے  شیطان کو کنکریاں  مارنا ہے۔ راہ گذرتے  حاجیوں  کی زبانی معلوم ہوا کہ جمرات یہاں  سے  بہت قریب ہیں۔ سو ہمارے  مہربانوں  نے  رمی والا مسئلہ حل کر دیا۔ محمود صاحب اور ان کی اہلیہ نے  ہماری طرف سے  بڑے  شیطان کو کنکریاں  مارنے  کا عمل پورا کر دیا۔ اب اس کے  بعد دوسرامسئلہ قربانی کا تھا۔ اس کی سبیل  اللّٰہ  تعالیٰ نے  پہلے  ہی پیدا کر دی تھی۔ ہماری بلڈنگ کے  چندساتھیوں  نے  اپنے  چوکیدار کے  ذریعے  ایک پاکستانی کو قربانی کے  پیسے  جمع کرا دئیے  تھے۔ اس نے  وقت پر قربانی کر دی تھی۔ 
	قربانی کے  بعد بال منڈوا کر آدمی احرام کی پابندیوں  سے  آزاد ہو جاتا ہے۔ محمود صاحب کو ہماری بلڈنگ اور ہمیں  ان کی بلڈنگ کا نمبر معلوم نہیں۔ اتنی معلومات پوچھنے  کی فرصت ہی نہیں  ملی۔ بعد میں  پتہ چلا کہ ہماری بلڈنگ سے  ان کی بلڈنگ بمشکل چند میٹر کے  فاصلے  پر تھی۔ بہرحال اس میں  بھی  اللّٰہ  کی کوئی مصلحت ہو گی۔ رمی کرنے  کے  بعد انہوں  نے  کہا کہ ہم تواب ڈیرے  پر جا کر نہا دھو کر احرام کھولیں  گے۔ ہمیں  اپنے  خیمہ تک جانے  کا راستہ نہیں  آتا تھا۔ سوائے  حرم کے  اور کوئی مرکزی مقام معلوم نہیں تھا۔ ہم انہیں  اپنے  ساتھ لے  جانے  پر مجبور نہیں  کر سکتے  تھے۔ وہ ہمیں  خدا حافظ کہہ کر جدا ہو گئے۔ ہم ایک دفعہ پھر ہجر کی اذیت میں  مبتلا ہو جاتے  ہیں۔ اتنے  میں  ایک گاڑی سے  حرم حرم کی آواز آتی ہے  ہم بغیر کچھ سوچے  سمجھے  گاڑی میں  سوار ہو جاتے  ہیں۔ اور تھوڑی ہی دیر میں  حرم شریف پہنچ جاتے  ہیں۔ 

کعبہ___ مرکزِ کون و مکان
حرم شریف
  اللّٰہ کا  گھر
سب کا گھر!دار الامن!
پودوں  کے  لئے،انسانوں  کے  لئے  حیوانوں کے  لئے  سب کے  لئے  دار الامن،یہاں  قاتلوں،مظلوموں،غلاموں  سب کے  لئے  اماں  ہے۔ یہ سب کا گھر ہے۔  اللّٰہ  نے  کسی انساں  کو اس گھر کا حقِ ملکیت نہیں  دیا۔ خادمِ حرم اس کے  مالک نہیں  خدمتگار ہیں۔ سب ہی خادم ہیں۔ اور یہ گھر سب کی جائے  پناہ ہے۔ 
حضرت عمرؓ فرماتے  ہیں  کہ اگر میں  اپنے  باپ کے  قاتل کو بھی حرم میں  پاؤں  تو وہاں  اس کو ہاتھ نہ لگاؤں  یہاں  تک کہ باہر نکلے۔ حتی کہ حضرت عمرؓ کے  صاحبزادہ حضرت عبد اللّٰہ  بن عمرؓ سے  تو یہ نقل کیا گیا ہے  کہ اگر میں  اپنے  باپ حضرت عمر کے  قاتل کو وہاں  پاؤں  تومیں  اس کو مجبور نہ کروں۔ حضرت ابنِ عباس سے  بھی یہی اپنے  والد کے  قاتل کے  متعلق نقل کیا گیا۔ (در منثور،بحوالہ فضائل حج)
	مسجد حرام کے  درمیان سیاہ رنگ کے  غلاف میں  لپٹا ہوا ایک مکعب نما مکان ہے  جسے  کعبۃ اللّٰہ  کہا جاتا ہے۔ ایک مشہور قول کے  مطابق سب سے  اول اس کی تعمیر فرشتوں  نے  کی،دوسری تعمیر آدم ؑ نے،تیسری حضرت شیثؑ نے  اور چوتھی تعمیر حضرت ابراہیم ؑ نے  کی۔ مورخین کے  مطابق حضرت ابراہیم کے  تعمیر کردہ کعبۃ  اللّٰہ  کی بنیاد نو گز اونچی،تیس گز لمبی اور تئیس گز چوڑی تھی۔ یہ مسقف نہ تھی اور اس کے  اندر ایک کنواں  تھا جس میں  وہ نذر نیاز ڈال دی جاتی تھی جو کعبہ پر نثار کی جاتی تھی۔ 
	حضورﷺ کے  عہد جوانی میں  بھی بیت  اللّٰہ  ایک دفعہ تعمیر ہوا تھا۔ آپ نے  اس تعمیر میں  خود حصہ لیا۔ بلکہ حجراسود کو اپنے  دستِ مبارک سے  ایک چادر پر رکھ کر سربراہان قریش کی مدد سے  دیوارِ کعبہ میں  نصب فرمایا۔ اس کے  بعد۲۴ھ میں  یزید کی فوج نے  حضرت عبد اللّٰہ  بن زیبرؓ کے  خلاف جنگ کرتے  ہوئے  کعبۃ  اللّٰہ  پر منجیق سے  آگ برسائی تو کعبہ کی دیواروں  کو نقصان پہنچا غلافِ کعبہ جل گیا۔ حضرت اسماعیلؑ ذبیح  اللّٰہ  کے  فدیہ میں جو مینڈھا جنت کا ذبح ہوا تھا۔ اس کے  سینگ اس وقت سے  کعبہ شریف میں  محفوظ تھے۔ وہ اس حادثہ میں  جل گئے۔ ۶۴؁ھ میں  حضرت عبد اللّٰہ  بن زبیر نے  نئے  سرے  سے  حضورﷺ کی خواہش کے  موافق حطیم کے  حصہ کو اندر داخل کیا اور دروازہ زمین کے  قریب کر دیا۔ اس کے  بعد عبدالمالک بن مروان نے  حجاج کے  بہکاوے  میں  آ کر حضرت زبیر کے  تعمیر کردہ کعبہ کو حضورﷺ کے  زمانہ کے  مطابق کر دیا۔ یہ واقعہ۷۳؁ھ کا ہے۔ اس کے  بعد مختلف اوقات میں  اس کی مرمت ہوتی رہی ہے۔ ۱۳۶۷؁ھ میں  سلطان ابنِ سعود نے  ا سکے  دروازے  کے  کواڑوں  اور چوکھٹ کی تجدید کی ہے۔ (تلخیص فضائل حج) 
کعبۃ  اللّٰہ  کے  فضائل میں  ایک حدیث میں  حضورﷺ نے  ارشاد فرمایا ہے  کہ:۔ 
 اللّٰہ  تعالیٰ کی ایک سو بیس رحمتیں  روزانہ اس گھر پر نازل ہوتی ہیں۔ جن میں  سے  ساٹھ طواف کرنے  والوں  پر اور چالیس وہاں  نماز پڑھنے  والوں  پر اور بیس بیت  اللّٰہ  کو دیکھنے  والوں  پر ہوتی ہیں "(فضائل حج)
حضرت حسن بصریؒ نے  جو خط مکہ والوں  کو لکھا ہے  اس میں  تحریر ہے  کہ وہاں  پندرہ جگہ دعا قبول ہوتی ہے۔ (۱)طواف کرتے  وقت (۲)ملتزم پر(۳) میزابِ رحمت کے  پاس(۴) کعبہ شریف کے اندر(۵)زمزم کے  کنویں  کے  پاس (۶) صفا پر(۷)مروہ پر (۸)ان کے  درمیاں  دوڑتے  ہوئے (۹)مقامِ ابراہیم کے  پاس(۱۰)عرفات کے  میدان میں  (۱۱)مزدلفہ میں (۱۲)منیٰ میں (۱۳)تینوں  شیطانوں  کو کنکریاں  مارتے  وقت۔    (حصنِ حصین بحوالہ فضائل حج)
	کعبۃ  اللّٰہ  جو کہ برکتوں، فضیلتوں  اور رحمتوں  کا مرکز ہے  اس  کی موجودہ صورت کچھ اس طرح کی ہے :۔ 
	اس کی ظاہری شکل مکعب نما سی ہے۔ اس کی تعمیر نیم سیاہ پتھر سے  کی گئی ہے۔ اس کے  غلاف کا رنگ گہراسیاہ ہے۔ غلاف کی بنائی اس کاریگری سے  کی گئی ہے  کہ تسبیح و تحمید اور تحلیل کے  مبارک کلمات واضح طور پر ابھر ے  ہوئے  دکھائی دیتے  ہیں۔ غلاف کے  اوپر کے  حصے  سے  تقریباً ایک چوتھائی حصہ چھوڑ کر حج سے  متعلقہ آیات سونے  کے  تاروں  سے  لکھ کر ایک لمبی پٹی بنا دی گئی ہے  جو کہ کعبہ شریف کو چاروں  اطراف سے  گھیرے  ہوئے  ہیں۔ اس پٹی کے  نیچے  مختلف تقطیع کی چھوٹی چھوٹی پٹیاں  ہیں  ان پر آیاتِ قرآنی لکھی ہوئی ہیں۔ دروازے  کی طرف خادمینِ حرمین شریفین کے  نام بھی لکھے  ہوئے  ہیں۔ جنہیں  یہ غلاف بنوانے  کی سعادت نصیب ہوتی ہے۔ 
	کعبۃ  اللّٰہ  کے  اہم مقامات میں  (۱)رکنِ یمانی(۲)رکنِ عراقی(۳)رکنِ شامی (۴)حجرِ اسود(۶)ملتزم(۷)حطیم (۸)میزابِ رحمت اور مقامِ ابراہیم ؑ شامل ہیں۔ 
	رکنِ یمانی بیت  اللّٰہ  کا جنوب مغربی گوشہ ہے  جو یمن کی طرف واقع ہے۔ رکن عراقی بیت  اللّٰہ  کا شمالی گوشہ جو شام کی جانب واقع ہے۔ حجرِ اسود وہ پتھر ہے  جو جنت سے  آیا تھا۔ اس وقت اس کا رنگ دودھ کی طرح سفید تھا لیکن بنی آدم کے  گناہوں  نے  اس کو سیاہ کر دیا۔ یہ بیت  اللّٰہ  کے  مشرقی جنوبی کونہ میں  گڑا ہوا ہے۔ اس کے  چاروں  طرف چاندی کا حلقہ چڑھا ہوا ہے۔ ملتزم حجرِ اسود اور بیت  اللّٰہ  کے  دروازے  کے  مابین دیوار جس پر لپٹ کر دعا مانگنا مسنون ہے۔ حطیم بیت  اللّٰہ  سے  متصل شمالی جانب زمین کا وہ حصہ جو دیوار سے  گھرا ہوا اس کو طواف میں  شامل کرنا واجب ہے۔ میزابِ رحمت حطیم میں  کعبہ کے  اوپر سے  گرنے  والا پرنالہ جہاں  دعا قبول ہوتی ہے۔ اور مقامِ ابراہیمؑ وہ پتھر ہے  جس پر کھڑے  ہو کر حضرت ابراہیمؑ نے  بیت  اللّٰہ  کو تعمیر کیا تھا۔ (تلخیص کتاب الحج،مسلم کمرشل بینک)

کعبہ ___ قبلہ نما

	مکان کی اہمیت مکین سے  اور چیزوں  کی وقعت ان کے  مصرف کے  حوالے  سے  ہوتی  ہے۔ مذکورہ اجمال سے  معلوم ہوتا ہے  کہ وہ کالا کوٹھاجسے   اللّٰہ  کا گھر کہا جاتا ہے  وہ بھی عام عمارتوں  جیسی ایک سیدھی سادھی عمارت ہے۔ مگر دیکھنا یہ ہے  کہ اس عمارت کی نسبت کس سے  ہے۔ نسبت اس کی اس عالی ذات سے  ہے  جو خالقِ کائنات اور مالکِ کون و مکان ہے۔ فضیلتوں  اور عزتوں  کا صرف وہی مالک ہے۔ وہ جسے  معزز کہے  وہ معزز ہے۔ جسے  ذلیل کہے  وہ ذلیل ہے۔ کیوں ؟ یہ اسے  معلوم ہے۔ اس نے  اس عمارت کو اپنا گھر فرمایا ہے۔ 
	اور وہ..... وہ کون ہے۔ وہ  اللّٰہ  ہے۔ حکم کا مالک۔ حکومت کا مالک۔ عبادت اس کے  لئے۔ محبت اس کے  لئے۔ عقیدت اس کے  لئے۔ اس کے  علاوہ کوئی عباد ت کے  لائق نہیں۔ اس لئے  کہ وہ خالق ہے  اور کوئی خالق نہیں۔ وہ مالک ہے  اور کوئی مالک نہیں۔ وہ رازق ہے  اور کوئی رازق نہیں۔ وہ خالق ہے، وہ مالک ہے۔ وہ خالق و مالک ہے  زمین وآسمان کا۔ سارے  جہان کا۔ میرے  آپ کے  سب کے  جسم و جان کا۔ انسان کا حیوان کا ....... ہاں  تو جو خالق ہے، جو رازق ہے، جو مالک ہے، جو معبود ہے،جو مسجود ہے۔ وہ کہتا ہے  یہ میرا گھر ہے  اس کی طرف منہ کر کے  سجدہ کرو مجھے  سجدہ کرو۔ میرے  سواکسی کو سجدہ نہیں۔ میرے  سواکسی کے  آگے  سرنگوں  نہیں  ہونا۔ تم میرے  بندے  ہو، میرے  غلام ہو، میں  تمہارا مالک ہوں۔ میں  تمہاری ضرورتیں، خواہشیں، تمنائیں  سب کچھ پوری کرنے  والا ہوں۔ مانگو!مجھ سے  جو چاہتے  ہو مانگو،رزق مانگو،صحت مانگو، محبت مانگو، جنت مانگو،میری رضا مانگو جو چاہتے  ہو مانگو،جوتے  کا تسمہ ٹوٹ جائے  تو وہ بھی مجھ سے  مانگو...... مگر صرف مجھ سے، میرے  سواکسی اور کے  سامنے  دستِ سوال دراز نہ کرو۔ میری غیرت گوارا نہیں  کرتی کہ میرا غلام کسی غیر کے  آگے  دستِ سوال دراز کرے۔ نہیں  !نہیں ! میرے  سواکسی سے  نہ مانگو۔ جہاں  بھی مانگو گے  میں  دوں  گا۔ جب بھی مجھے  پکارو گے  تمہاری پکار کو پہنچوں  گا۔ اکیلے  مانگو گے  تومیں  دوں گا۔ مل کر مانگو گے  تومیں  دوں گا۔ مگر شرط یہ ہے  کہ جس طرح میرے  گھر میں  آ کر صرف مجھ سے  مانگ رہے  ہو۔ اور اکٹھے  ہو کر مانگ رہے  ہو۔ اس وقت تم فرد فرد طبقے  نہیں۔ فرقے  نہیں  برادریاں  نہیں۔ تم ایک ہو ایک ہو۔ اسی طرح اکائی بن کر مانگو گے  تو تمہیں  سب کچھ دوں گا۔ اور اگر مجھے  بھلا کر یہاں  بھی غیروں  پہ نظر رکھو گے  تومیں  تمہاری ہرگز نہ سنوں  گا۔ یاد رکھو یہ جو پتھروں  سے  تعمیر شدہ عمارت ہے  اس سے  بھی نہیں  مانگنا مجھ سے  مانگنا ہے ....... یہ میرا گھر ہے۔ یہ میں  نہیں۔ 

غیر محسوس احساس

	واقعی کعبہ اللّٰہ  کا گھر ہے۔ گھر بھی اس وجہ سے  کہ اس نے  فرمایا ہے  کہ کعبہ میرا گھر ہے۔ اور حکم ہے  کہ مجھے  سجدہ کرتے  وقت اس کی طرف رخ کر لیا کرو۔ حالانکہ جس طرف بھی منھ کیا جائے   اللّٰہ  کی طرف ہی ہوتا ہے۔ مگر آدمی کا مزاج سمتوں، حدوں، لکیروں، دائروں  سے  بننے  والے  نقشوں  کا عادی ہے۔ انسانی عقل حیطہ احساس سے  ماورا ء کا ادراک کرنے  سے  عاری ہے۔ سو اللّٰہ  تعالیٰ نے  جو کہ وراء  الوراء الذات ہے۔ بے  جسم اسم ہے۔ جسے  ہاتھ چھوسکتا ہے  نہ کان سن سکتا ہے۔ اسے  زبان سے  چکھا نہیں  جا سکتا۔ ناک سے  سونگھا نہیں  جا سکتا۔ حواس میں  اس کے  احساس کی اہلیت نہیں۔ وہ کوئی جسم نہیں،کوئی شکل نہیں،شکل ہو تو عقل اس کا ادراک کرے۔ شکل نہ ہو تو عقل کیا کرے !...... عقل کیا کرے ؟اپنی بے  بسی اور کم ہمتی کا اعتراف کر کے  ایمان و ایقان سے  نورِ معرفت حاصل کرنے  کی کوشش کرے۔ اس لئے  کہ غیر محسوس کو محسوس کرنا۔ صرف ایمان کے  امکان میں  ہے۔ 
	حاجی جب ایمان کی مان کر گھر سے  نکلتا ہے  تو بے  یقینی کی دھند چھٹنے  لگتی ہے۔ 
بصارت کے  راستے  بصیرت کا نور قلب میں  داخل ہونے  لگتا ہے۔ مشاہدہ کے  ذریعہ تجربہ کی واردات وارد ہونے  لگتی ہیں۔ معرفت کا سفر شروع ہو جاتا ہے۔ گھر سے  نکلتے  ہی مسائل ووسائل کے  نقشے  بننے  اور ٹوٹنے  لگتے  ہیں۔ باہر کی ٹوٹ پھوٹ سے  اندر بھی شکست و ریخت کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ یہ شکست و ریخت ہی بت شکستی ہے۔ اندر ٹوٹتے  ٹوٹتے  ٹوٹ جاتا ہے۔ خالی ہو جاتا ہے۔ صاف ہو جاتا ہے۔ اب اس خالی مکان میں  خالق کون و مکان گھر کرنے  لگتا ہے۔ کچھ کچھ محسوس ہونے  لگتا ہے۔ منیٰ میں  سرسراہٹ سی ہوتی ہے،پھر عرفات میں  عرفان ہوتا ہے۔ مزدلفہ کے  اندھیارے  میں  اجیارا جھلکتا ہے۔ پھر منیٰ میں  شوق کا سورج طلوع ہوتا ہے۔ یہاں  تک کیا ہوتا ہے،کیا نہیں  ہوتا،نہ میں  صحیح طرح بیان کر سکتا ہوں  نہ آپ اس کی نقشہ کشی کر سکتے  ہیں۔ میرے  پاس سوائے  استعارے  یا اشارے  کے  اور کوئی لسانی قرینہ نہیں  جس کے  ذریعے  میں  صحیح صورتِ حال کی نقشہ کشی کر سکوں۔ 
	مناسک منیٰ کے  بعد جب حاجی طواف زیارت کے  لئے  کعبۃ  اللّٰہ  کے  گرد طواف شروع کرتا ہے  تو پہلے  چکر میں  ہی  انا کا بت ٹوٹ جاتا ہے۔ یہی بت ہے  جسے  بڑے  بڑے  پارسا بھی گوشہ دل میں  چھپائے  پھرتے  ہیں۔ کعبۃ  اللّٰہ  پر پہلی نظر پڑتے  ہی ہیبت الٰہی اور جلالِ کبریا کی دہشت سے  آدمی سب کچھ بھول جاتا ہے۔ صرف کعبہ اور کعبے  والا ہوتا ہے  جو قلب و نظر کو گرفت میں  لے  لیتا ہے۔ خدا جانے  اس کالے  کوٹھے  میں  کون سی کشش ہے۔ آدمی خود بخود کھنچا جاتا ہے۔ 
	میں  نے  دیکھا بھی اور آزمایا بھی ہے، ضعیف، بیمار، مفلوج سبھی دیوانہ وار اس کوٹھے  کے  گرد گردش کر رہے  ہیں۔ 
طوافِ کعبہ یا رقصِ بسمل
نمی دانم چہ منزل بود شب جائے  کہ من بودم
بہر سو رقصِ بسمل بود شب جائے  کہ من بودم	(امیرخسرو) 
(معلوم نہیں  وہ کون سی منزل تھی جہاں  میں  رات کو قیام پذیر تھا۔ عجیب منظر تھا!میرے  ارد گرد تڑپتے  پھڑکتے  جسم رقص کناں  تھے)
	امیرخسروکا یہ شعر میرے  جذبات کا عکاس ہے  کہ میں  نے  عشق و محبت اور عقیدت و احترام کے  نشے  سے  سرشار تڑپتے  دلوں  اور پھڑکتے  جسموں  کو اس کالے  کوٹھے  کے  در و دیوار سے  اس طرح لپٹتے  دیکھا ہے  جیسے  بچہ اپنی ماں  سے  لپٹتا ہے۔ ہجرِ اسود کو بوسہ دینے  کے  لئے  سب دیوانے  ہوتے  ہیں  مگر یہ کام ہمت اور حوصلے  والوں  کا ہے  میں  نے  تو ادھیڑ عمر مردوں  اور عورتوں  کو بھی دیوار کعبہ کے  ساتھ ساتھ لپٹتے  سرکتے  دیکھا ہے  کہ کسی طرح اس سیاہ پتھر تک رسائی ہو جائے  جس کو  اللّٰہ  کے  پیارے  محبوبﷺ نے  اپنے  لبِ مبارک سے  بوسہ دیا ہے۔ صرف یہی ایک وجہ ہے  کہ ہر کوئی اس مبارک پتھر کو بوسہ دینے  کا خواہشمند ہے۔ صرف حضورﷺ کی ادا کی نقل اور  اللّٰہ  کا حکم ہے  ورنہ اس کے  متعلق حضرت عمرؓ خطاب فرماتے  ہیں :۔ 
میں  یقیناً جانتا ہوں  کہ تو محض ایک پتھر ہے  جو نہ کسی کو نقصان پہنچاسکتا ہے  اور نہ نفع، اگر میں  نے  رسول ا کرمﷺ کو تجھے  بوسہ دیتے  نہ دیکھا ہوتا تو میں  بھی نہ چومتا"(کتاب الحج)
	اس موقع پر جنید بغدادی جو کہ اپنے  زمانے  کے  عالم اور ولی کامل تھے  ان کا ایک واقع یاد آ رہا ہے۔ 
حج کے  موقع پر ان کا ایک ولیہ سے  مکالمہ ہوتا ہے۔ وہ  اللّٰہ والی پوچھتی ہے " جنید تم  اللّٰہ کا طواف کرتے  ہویا بیت  اللّٰہ کا طواف کرتے  ہو؟"جنید کہتے  ہیں  میں  نے  جواب دیا بیت  اللّٰہ کا طواف کرتا ہوں  تو اس نے  اپنا منہ آسمان کی طرف کیا اور کہنے  لگے۔ سبحان  اللّٰہ آپ کی بھی عجیب مشیت ہے  جو مخلوق خود پتھر جیسی ہے  وہ پتھروں  ہی کا طواف کرتی ہے۔ اس کے  بعد اس نے  تین شعر پڑھے  جن کا مطلب یہ ہے۔ 
"پتھروں  کا طواف کر کے  آپ کا قرب ڈھونڈتے  ہیں  ان لوگوں  کے  دل بھی خود پتھروں  سے  زیادہ سخت ہیں  اور حیرانی میں  حیران وپریشان پھر رہے  ہیں  اور اپنے  خیال میں  تقرب کے  محل میں  اترے  ہوئے  ہیں۔ اگر یہ لوگ اپنے  عشق میں  سچے  ہوتے  تو ان کی صفات اپنی تو غائب ہو جاتیں  اور  اللّٰہ  کی محبت کی صفات ان میں  پیدا ہو جاتیں "(روض بحوالہ فضائل حج)
	یہ باتیں  تو ان اہلِ  اللّٰہ  کی ہیں  جو معرفت کے  بلند مقام پر فائز ہوتے  ہیں۔ میں  نے  طواف کرتے  ہوئے  ایک جملہ ایسا سنا ہے  جو میرے  دل پہ نقش ہو چکا ہے  ایک خاتون اپنے  محرم کا پلو پکڑے  ہوئے  سرمستی کے  عالم میں  پکار رہی تھی
’’اوہ سوہنے  گھر والیا ربا‘‘(اے  خوبصورت گھر کے  مالک)۔ 
اس کے  اس جملے  میں  ایسا سوز و گداز تھا کہ میں  اس کے  اس جملے  سے  ایک سرمدی سرمستی سے  سرشار ہو گیا۔ میں  نے  دل میں  کہا"اوہ کرماں  والیے  میں  نے  توایسی تاثیر کسی واعظ،عابد، عالم یا ولی کی آواز میں  نہیں  دیکھی جو تیری اس بے  ساختہ ادھوری فریاد میں  ہے۔ 
	ایک روز سعی بسیار کے  بعد ملتزم تک رسائی ہوئی۔ دروازے  کو چھونے  کی سعادت نصیب ہوئی۔ میں  ملتزم سے  لپٹنے  کی فکر میں  تھا کہ پیچھے  سے  ہچکیوں  اور سسکیوں  میں  بھیگی معطر صدا سنائی دی۔ کوئی صاحب پشتو زبان میں  اپنے  آقا و مولا سے  فریاد کناں  تھا۔ میں  نے  مڑ کر دیکھا تو ایک خوبصورت نوجوان اپنے  مولا سے  پورے  عالم کے  انسانوں  کی نجات کی دعائیں مانگ رہا تھا۔ مفہوم اس طرح کا تھا کہ یا اللّٰہ  سارے  عالم میں  دین کی ہوائیں  چلا دے۔ سارے  انسانوں  کو دوزخ سے  بچا کر جنت میں  جانے  والا بنا دے۔ اے   اللّٰہ  اپنے  رستے  میں  چلنے  والوں  کی نصرت فرما۔ مجاہدین اسلام کی نصرت فرما۔ وغیرہ وغیرہ میں  پشتو نہیں  جانتا۔ مگر دعاؤں  اور آہوں  کی زبان بین الاقوامی ہے  اس سے  ہر کوئی آشنا ہے۔ اس نوجوان کی آنسوؤں  سے  بھیگی سیاہ داڑھی اس وقت بھی میری آنکھوں  کو تراوٹ پہنچا رہی ہے۔ میں  دعا کر رہا تھا اے   اللّٰہ !مجھے  بھی اس نوجوان جیسی فکر اور سوچ عطا فرما۔ یا اللّٰہ  میری آہ میں  بھی اس پنجاب کی جٹی جیساسوزوگداز پیدا کر دے۔ 
	ایک صاحب نے  واقعہ بتایا کہ ایک مفتی صاحب دورانِ طواف بڑے  خشوع و خضوع سے  مسنون دعائیں  مانگ رہے  تھے۔ انہوں  نے  ایک سادہ سے  دیہاتی آدمی کو دعا مانگتے  سناتو اپنی دعائیں  چھوڑ کر اس کی دعاؤں  پر آمین کہنے  لگے۔ 
	مانگنے  والا کوئی لپٹ کے  مانگ رہا ہے، کوئی جھک کے  مانگ رہا ہے،کوئی سجدہ میں  گر کر مانگ رہا ہے، کوئی روکے  مانگ رہا ہے،کوئی گڑگڑا کر مانگ رہا۔ منگتوں  کا تانتا بندھا ہوا ہے۔ فقیروں  کا ہجوم ہے۔ یہاں  سب گدا ہیں۔ کٹے  بازوؤں  والے، کٹی ٹانگوں  والے،اپنے  اپاہج پن کو بہانہ بنا کر مانگ رہے  ہیں۔ اندھے  بصارت اور بصارت والے  بصیرت مانگ رہے  ہیں۔ کوئی دولت، کوئی اولاد اور کوئی صحت مانگ رہا ہے۔ خواہشیں، تمنائیں،آرزوئیں  دلوں  میں  تڑپ رہی ہیں۔ ہونٹوں  پر مچل رہی ہیں۔ زبانیں  فریاد کناں  ہیں، ہاتھ دامن پسارے  ہوئے  ہیں،جبینیں   اللّٰہ  کی چوکھٹ پر جھکی ہوئیں  ہیں۔ کوئی سجدہ میں  ہے، کوئی رکوع میں  ہے،کوئی ملتزم سے  لپٹا کعبہ کی دیوار سے  سینہ رگڑ رہا ہے،کوئی رکنِ یمانی کو سلام کر رہا ہے، کوئی دور سے  حجرِ اسودکو استلام کر رہا ہے، کوئی حطیم کے  اندر داخل ہونے  کو تڑپ رہا ہے۔ کوئی میزابِ رحمت کے  نیچے  سجدہ ریز ہونے  کو بیتاب ہے۔ عجیب سماں  ہے  ایک پتھروں  سے  بنا ہوا سیاہ رنگ کا کوٹھا ہے۔ بظاہراس میں  کوئی دل کو کھنچنے  والی چیز نہیں۔ کوئی سجاوٹ نہیں۔ کوئی زیب و زینت نہیں  بہت ہی سادہ مکان ہے۔ مگر اس کے  گرد اتنی مخلوق کیوں  سرگرداں  ہے۔ یہ دوڑنے  والے  کیوں  دوڑ رہے  ہیں۔ یہ کس منزل کو جا رہے  ہیں۔ عجیب سماں  ہے  کوئی انجانے  میں  دھکا دے  رہا ہے۔ کوئی کسی کا پاؤں  مسل رہا ہے۔ کوئی پھسل رہا ہے۔ کوئی گر رہا ہے۔ ..... گرنے  والا اٹھ کر پھر چلنے  لگتا ہے۔ پھسلنے  والا پھر چکر لگانے  لگتا ہے۔ عجیب دیوانے  ہیں۔ کیا انہیں  درد نہیں  ہوتا؟ چوٹ نہیں  آتی؟زخم نہیں  ہوتے ؟ کیوں  نہیں  !چوٹیں  لگتی ہیں۔ زخم آتے  ہیں۔ ٹیسیں  اٹھتی ہیں۔ درد ہوتا ہے۔ ہاں  !میٹھا میٹھا درد! ویسادردجیسا بلبل کو کانٹا چبھنے  اور پروانے  کو جلنے   سے  ہوتا ہے۔ درد کے  باوجود بلبل پھول سونگھنا نہیں  چھوڑتی اور پروانہ شعلہ چومنا نہیں  چھوڑتا۔ تو یہ دیوانے،ہجر کے  مارے،زمانوں  کے  بچھڑے  اس لمحہ وصال پہ قربان نہ ہوں  تو کیا کریں۔ قربانی کا تعلق بابِ عشق سے  ہے۔ عقل کی سمجھ میں یہ بات آنے  کی نہیں۔ عقل کی رسائی جسم تک ہے۔ عقل ظاہر کو دیکھتی ہے۔ باطن کو نہیں۔ اور یہاں  معاملہ باطن کا ہے۔ یہاں  روحیں  اپنے  مرکز کے  گرد گھوم رہی ہیں۔ جسم بے  جسم کو محسوس کر رہا ہے۔ ملتزم سے  سینے  رگڑنے  والے  جسم کی روح بے  جسم سے  لپٹ رہی ہے۔ ہجرِ اسود کو چومنے  والی روح بے  جسم کو بوسہ دے  رہی ہے۔ یہ طواف کرتے  جسم مکان کا نہیں  خالقِ کون و مکان کا طواف کر رہے  ہیں۔ اور یہ جھکی جھکی گردنیں،زمین بوس جبینیں  کیا پتھر کے  گھر کو رکوع و سجدہ کر رہی ہیں ؟ نہیں !نہیں ! ایسا ہر گز نہیں۔ یہ بے  جسم کے  حکم کے  آگے  سرِ تسلیم  خم کر رہے  ہیں۔ حکم مان رہے  ہیں۔ کس کا؟اپنے  رب کا،حاکم اعلیٰ کا،محبوب حقیقی کا۔ معبودِ برحق کا،اسی لئے  غالب نے  کہا تھا
"کعبے  کو اہلِ نظر قبلہ نما کہتے  ہیں "

کعبہ ___ مرکزہ

	سائنسدانوں  کا تصور ہے  کہ ساری کائنات گھوم رہی ہے۔ اور گھومنے  میں  مدوری حرکت یعنی دائرے  میں  حرکت کرنے  کا تصور پایا جاتا ہے۔ جیسا کہ چاند زمین کے  گرد گھوم رہا ہے  اور زمین سورج کے  گرد گھوم رہی ہے۔ ہو سکتا ہے  کہکشانی نظام کی حرکت بھی مدوری ہو۔ اس حرکت کا موجب کشش بتائی جاتی ہے۔ کشش کی وجہ سے  الیکٹرون مرکزہ کے  گرد گھوم رہے  ہیں۔ اگر اس حوالے  سے  کعبہ اور اس کے  گرد گھومنے  والی مخلوق کو دیکھیں  تو یہ منظر کائناتی نظامِ تحرک کا مرکزہ معلوم ہوتا ہے۔ ایسے  معلوم ہوتا ہے  صرف انسان ہی نہیں  پوری کائنات کعبۃ  اللّٰہ  کے  گرد رقص کناں  ہے۔ زمین سے  بیت المعمور تک فرشتے  اور دوسری مخلوقات طواف کر رہی ہیں۔ کعبہ کی حیثیت ایٹم کے  مرکزہ کی سی معلوم ہوتی ہے۔ جتنا کوئی رکن مرکز سے  قریب ہوتا ہے  اتنی ہی اس میں  کشش زیادہ ہوتی ہے۔ مقناطیسی قوت سے  اس امر کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔ لوہے  کا ٹکڑا جتنا مقناطیس کے  قریب ہو گا اتنی ہی باہمی کشش زیادہ ہو گی۔ اس مثال کی روشنی میں  دیکھا جائے  تو کعبہ کے  گرد گھومنے  والے   اللّٰہ  کے  نہایت قریب ہوتے  ہیں۔ یہی وجہ ہے  کہ یہاں  ہرکس وناکس کی دعائیں  قبول ہوتی ہیں۔ میرا ہی نہیں سبھی کا تجربہ ہے۔ 

کعبہ ___ مرکزِ وحدت

	کعبۃ  اللّٰہ  نہ صرف مسلمانوں  بلکہ تمام انسانوں  کا مرکز ہے۔ تمام انبیاء اور ان کی امتیں  اس گھر کو مبارک سمجھتی رہی ہیں۔ غیر مذاہب کے  داخلے  کی جب تک ممانعت کا حکم نہیں  ہوا وہ اپنے  اپنے  طریقے  سے  حج اور زیارت کرتے  رہے  ہیں۔ اب سوائے  مسلمانوں  کے  حدودِ حرم میں  کسی کو داخلے  کی اجازت نہیں۔ ایمان و عقیدہ کے  اختلاف کے  باوجود غیر مسلموں  کے  لئے  بھی کعبۃ  اللّٰہ  کی حیثیت مرکز کی سی ہے  کہ وہ بھی کائناتی نظام کے  ارکان ہیں۔ اور ان کا خالق و  مالک بھی ربِ کعبہ ہے۔ 
یہ پہلاسبق تھا کتاب ھدیٰ کا
کہ مخلوق ساری ہے  کنبہ خدا کا		(حالی)
	آدمؑ کی اولاد ہونے  کے  ناتے  غیر مسلم اور مسلمان وحدتِ انساں  کے  ارکان ہیں۔ مسلمان اور غیر مسلم میں  واضح اختلاف یہ ہے  کہ وہ وحدتِ کائنات کے  خالق کو جو کہ وحدہٗ لا شریک ہے  یکتا و یگانہ مان کراس کی بندگی کا  اقرار و اظہار نہیں  کرتے۔ اس طرح وہ کائناتی برادری سے  خارج ہو جاتے  ہیں۔ اب ان بدقسمت انسانوں  کو اسلامی برادری میں  شامل کرنا مسلمانوں  کا فرض ہے۔ مگر کیا کیا جائے ........ مسلمان تو خود فرقوں  میں  بٹے  ہوئے  ہیں۔ چھوٹی چھوٹی باتوں  کو وجہ نزاع بنا کر ایک دوسرے  کے  دشمن بنے  ہوئے  ہیں۔ ہر کوئی اپنے  سوادوسرے  کو مسلمان نہیں  سمجھتا۔ سب کا کہنا ہے  ہم ناجی ہیں  باقی ناری ہیں۔ اس صورتِ حال میں  نہ صرف زمین بلکہ آفاقی نظام بگڑا ہوا ہے۔ اس لئے  کہ کائنات کا مرکزہ انتشار کا شکار ہو چکا ہے۔ مسلمان وحدت کے  بجائے  فرد فرد فرقوں  میں  بٹے  ہوئے  ہیں۔ بین الاقوامی طور پر دیکھا جائے  کہیں  بھی اخوت و محبت کی فضا نظر نہیں  آتی صرف یہ  اللّٰہ  کا گھر ہے  جہاں  وحدت و اتحاد کی جھلک نظر آتی ہے۔ الحمد للّٰہ  !بڑی غنیمت ہے۔ ابھی شیرازہ قدرے  قائم ہے۔ ابھی قیامت نہیں  آئے  گی۔ 

وحدت کی جھلک

	جب چشمِ تصور کو کعبۃ  اللّٰہ  کی طرف مرکوز کریں تو اس کے  گرد طواف کرنے  والے  فرد فرد حجاج کرام ایک وحدت کی صورت نظر آتے  ہیں۔ کہتے  ہیں  کہ جماعت وہ ہوتی ہے  جس کا مشن ایک ہو۔ مقصد ایک ہو۔ عمل ایک ہو۔ رخ ایک ہو۔ تو ان طواف کرنے  والوں  کا رخ ایک ہے۔ منزل ایک ہے۔ مقصد ایک ہے۔ سب اپنے  رب کو راضی کرنے  کے  جذبے  سے  اس گھر کے  چکر لگا رہے  ہیں۔ سفید لباس میں  ملبوس ایسے  لگ رہے  ہیں  جیسے  مردے  قبروں  میں  سے  نکل کر میدانِ حشر میں  مالک الملک کے  حضور حاضری کو جا رہے  ہوں۔ اپنی اپنی درخواستیں  پیش کر رہے  ہوں۔ اپنے  داتاسے  مانگ رہے  ہوں۔ دعائیں  کر رہے  ہوں۔ اپنی اپنی زبان میں۔ اپنے  اپنے  لہجے  میں۔ کوئی عربی میں، کوئی انگریزی میں،کوئی ترکی میں،کوئی اردو میں  اور کوئی فارسی میں  مانگ رہا۔ زبانیں  اپنی اپنی،لہجے  اپنے  اپنے،تمنائیں  اپنی اپنی،ضرورتیں  اپنی اپنی،سب درخواستیں   اللّٰہ  کے  حضور پیش کی جا رہی ہیں  کہ صرف وہی سب کی سننے  والا اور سب کی حاجتیں  پوری کرنے  والا ہے۔ 
	حاضرین حرم کا  منظر دیدنی ہے۔ بھانت بھانت کی بولیاں۔ قسم قسم کے  لوگ۔ طرح طرح کے  لباس،اپنے  اپنے  انداز، بظاہر ایک دوسرے  سے  مختلف،کسی کا رنگ گوراکسی کا کالا،کوئی عربی،کوئی عجمی،کوئی انڈیاسے  کوئی افریقہ سے۔ کوئی فقیر ہے  کوئی امیر، یہاں  عالم بھی ہیں  بے  علم بھی،کم مرتبہ بھی، اعلیٰ مرتبہ بھی۔ بظاہر بہت سے  اختلافات نظر آتے  ہیں۔ مگر جیسے  ہی تکبیرِ تحریمہ سنائی دیتی ہے  سب کا رخ کعبہ کی طرف ہو جاتا ہے۔ سب ایک امام کی اقتداء میں  ایک  اللّٰہ  کے  حضور حاضر ہوتے  ہیں۔ اب کوئی عربی نہیں  کوئی عجمی نہیں، کوئی عالم نہیں  کوئی جاہل نہیں،کوئی آقا نہیں  کوئی غلام نہیں،بلکہ اقبال کی زبانی
بندہ و صاحب و محتاج و غنی ایک ہوئے 
تیری سرکار میں  پہنچے  توسبھی ایک ہوئے 
ہاں  سبھی ایک ہیں۔ ایک وحدت،ایک یونٹ،ان سب کا ایک رخ، ایک منزل اور ایک مقصود ہے۔ یہ سارے  مسلمان ہیں۔ اللّٰہ  رسول کی ماننے  والے۔ سرِ تسلیم خم کرنے  والے۔ یہاں  کوئی رتبہ نہیں  کوئی درجہ نہیں۔ یہاں  فضیلتوں  کی پیمائش نہیں  مرتبوں  کی درجہ بندی نہیں، یہاں  ایک ہی فرقہ ہے۔ سب مسلمان ہیں۔ سب آپس میں  بھائی بھائی ہیں۔ ہاں یہ حرم کے  اندر کا منظر ہے۔ باہر کی حقیقت ہم سب کے  سامنے  ہے۔  اللّٰہ  کرے  حرم کا ماحول پورے  کرۂ ارض پر پیدا ہو جائے۔ 

آپ بیتی

سنی سنائی داستانِ شوق کا مزہ نہیں 
ہے  تجربہ وہی جو اپنے  دل کی واردات  ہو     (جبینِ نعت)
	گذشتہ اوراق میں  چند مشاہداتی تاثرات کا بیان کیا گیا ہے۔ اب تھوڑی سی سرگذشت گوش گذار کرنے  کی کوشش کر رہا ہوں۔ دسویں  ذی الحجہ حاجی کے  لئے  سخت مشقت کا دن ہے۔ با ہمت لوگ تو طوافِ زیارت وسعی بھی اسی روز کر لیتے  ہیں۔ مگر ہمارے  جیسے  ضعیفوں  کے  لئے  گنجائش ہے  کہ وہ اگلے  روز بھی یہ مناسک ادا کر سکتے  ہیں۔ میرے  لئے  اہلیہ کو طواف اور سعی کرانا بڑا مسئلہ تھا۔ مگر یہ مرحلہ سرکرناضروری تھا۔ سوصبح صبح ہی ہم دونوں  حرم شریف پہنچ گئے۔ 
	ہمارے  پاس تین بیگ تھے۔ دو کندھوں  پہ لٹکانے  والے  اور ایک گلے  میں  لٹکانے  والا۔ سابقہ تجربہ کی روشنی میں  ہم نے  ویل چیئر کا سراغ لگانا شروع کر دیا۔ ایک مقامی بھائی سے  دوسوریال میں  سودا ہو گیا۔ وہ محترمہ کو چیئر  پر بٹھا کر لفٹ کے  سامنے  لگی قطار تک گئے  تو ویل چیئر مجھے  پکڑا دی۔ میں  نے  احتیاطاً ان سے  نام پوچھا غالباحسن نام بتایا۔ میں  نے  کہا بھائی پورا نام بتاؤ۔ اس نے  کافی لمبا نام بتایا۔ موصوف نے  ہمارے  بیگ ہم سے  لے  کر ہمیں  بتائے  بغیر کہیں  رکھ دیئے۔ میں  نے  اس سے  کہا کہ اور جس جگہ سے  طواف شروع ہونا ہے  وہاں  ہماری انتظار کرے۔ ہم دونوں  میاں  بیوی لفٹ کے  ذریعے  اوپر والی منزل تک پہنچ گئے۔ یہاں  سے  آگے  تک کا راستہ مجھے  معلوم نہ تھا۔ خیر پوچھتے  پوچھتے   لکڑی کے  پل تک پہنچے۔ 
	پل کے  آغاز میں  کچھ چڑھائی ہے۔ اس چڑھائی پر چڑھتے  چڑھتے  میں  تھک گیا۔ لمحہ بھر ریڑھی کو گھٹنے  کی ٹیک لگا کر توقف کیا۔ اور پھر حوصلہ کر کے  چل پڑا۔ چلتے  چلتے  جب پل کے  اختتام تک پہنچا تو ہمت جواب دے  چکی تھی۔ بے  ہمتی کی وجہ سے  ریڑھی ہاتھ سے  چھوٹ گئی۔ ریڑھی کے  پیچھے  میں  بھی لڑھکتا ہوا جا رہا تھا کہ آگے  کھڑے  شرطے  نے  ہمیں  سنبھال لیا۔ یہ وہ مقام تھا جہاں  مقامی بھائی نے  ہمیں  ملنے  کو کہا تھا۔ میں  ریڑھی سنبھالے  موصوف کو تلاش کرنے  لگا۔ ہمارے  کھڑا ہونے  کی وجہ سے  لوگوں  کو نکلنے  میں  مشکل پیش آ رہی تھی۔ شرطہ ہمیں  باہر نکلنے  یا اندر جانے  کا اشارہ کر رہا تھا۔ میں  نے  لمحہ بھر کے  لئے  سوچا کہ طواف تو اپنا بھی کرنا ہے۔ چلو خود شروع کر دیتے  ہیں۔ سو بسم  اللّٰہ  پڑھ کر ریڑھی مطاف میں  داخل کر دی۔ 
	جن حجاج کرام نے  اوپر طواف کیا ہے  انہیں  اندازہ ہو گا کہ اس مطاف کا گھیرا کم از کم ایک کلومیٹر تو ہو گا۔ یہاں  سات چکر لگانے  میرے  جیسے  بوڑھے  کے  لئے  بہت مشکل ہیں۔ اور پھر مجھے  تو اپنی حاجن  کی ریڑھی بھی دھکیلنی تھی۔ محترمہ وقفے  وقفے  سے  پوچھتی تھک گئے  ہو؟ میں متبسم لہجے  میں  جھوٹ بولتا نہیں تو۔ اللّٰہ  معاف کرے  میں  حرم میں  جھوٹ بولنے  پر مجبور تھا۔ میں  تو آغازِ طواف میں  ہی تھکا ہوا تھا۔ اتنا تھکا کہ ٹانگوں  میں  چلنے  کی سکت نہ تھی۔ ایک قدم چلنے  کی ہمت نہ تھی۔ یہ تو اس داتا کا کرم ہے  جس کے  پاس ہمت و حوصلہ کے  بے  بہا خزانے  ہیں۔ اس نے  اس بے  ہمت کو اتنی ہمت دی کہ آہستہ آہستہ میں  نے  بھی سات چکر پورے  کر لئے۔ بالکل اسی طرح جس طرح دوسرے  حاجیوں  نے  کئے  تھے۔ جب ٹانگیں  پھول جاتیں  چلنے  کی سکت نہ رہتی تو قدرتی طور پر آگے  کی ریڑھیاں  رک جاتیں۔ جیسے  سڑک بلاک ہو جاتی ہے۔ اس وقفے  میں  مجھے  تازہ دم ہونے  کا موقع مل جاتا۔ طبیعت قدرے  تازہ ہوتی تو اگلی ریڑھیاں  چلنے  لگتیں  میں  بھی اپنی ریڑھی پر ٹیک لگائے  آہستہ آہستہ چلنے  لگتا۔ ویل چیر کی دستیوں  کی ٹیک میرے  لئے  سہارے  کا کام دینے  لگیں۔ میں  سوچتا ہوں  کہ اگر ریڑھی کا سہارانہ ہوتا تومیں  شاید ہی سات چکر لگاسکتا۔ میرے  لئے  حیرانی ہے  کہ جوانوں  کے  سنگ سنگ میں  نے  بھی سات چکر پورے  کر لئے  یہ محض  اللّٰہ  کا کرم ہے۔ سچ پوچھیں  تو یہ میرے  بس میں  نہیں  تھا۔ 
" اللّٰہ  اگر توفیق نہ دے  انسان کے  بس کی بات نہیں "
	طواف کے  بعد ہم نے  دو دو نفل پڑھے۔ آبِ زمزم پیا۔ اب اگلا مرحلہ سعی کا تھا۔ اور یہ بھی تقریباً تین چار کلومیٹر کا فاصلہ بن جاتا ہے۔ پھر یہاں  تو بھیڑ بھی بہت تھی۔ اہلیہ محترمہ کو  اللّٰہ  تعالیٰ نے  ہمت دی۔ فرمانے  لگیں  کہ سعی بغیر ریڑھی کے  کروں  گی۔ مجھے  بڑی حیرانی ہوئی کہ یہ فالج کی مریضہ اتنی بھیڑ میں  اپنے  پاؤں  چل کر کیسے  سعی کرے  گی۔ میں  نے  بڑا کہا کہ تھوڑی دیر آرام کر کے  میں  ریڑھی پر سعی کراؤں گا مگر یہ  اللّٰہ  کی بندی اپنے  پاؤں  سعی کرنے  پر بضد تھی۔ میں  اس کی قوت ایمانی دیکھ کر اسے  پیدل سعی کرانے  پر تیار ہو گیا۔ اب مسئلہ ویل چیئر واپس کر نے  کا تھا۔ بقدرِ ہمت اس مقامی بھائی کو تلاش کرنے  کی کوشش کی مگر وہ نہیں  ملا۔ مجھے  خیال ہوا کہ ریڑھی پہ لکھی ہوئی عبارت سے  اس کا ایڈریس معلوم ہو جائے گا۔ ریڑھی کی تحریر پڑھی تو معلوم ہوا کہ یہ کسی کی ذاتی ملکیت نہیں  بلکہ حرم شریف کے  لئے  وقف کردہ ریڑھی ہے۔ دل کی تسلی ہوئی۔ جہاں  دوسری ریڑھیاں  رکھی تھی وہاں  یہ ریڑھی رکھ کر سعی کرنے  کے  لئے  صفا پہنچے۔ 

سعی ___سنتِ ہاجرہؑ

	صفا پر دیکھاتوانسانوں  کا دریا ٹھاٹھیں  مارتا ہوا رواں  دواں  تھا۔ صفا و مروا تک انسان ہی انسان نظر آ رہے  تھے۔ مرد عورتیں  بلکہ بچے  بھی۔ بچے  جو پیدل چل سکتے  تھے  وہ بھی اور جو نہیں  چل سکتے  تھے  وہ بھی۔ کسی کو باپ نے  کسی کو ماں  نے  گود میں  بٹھایا ہوا ہے۔ کسی کو کندھے  پہ چڑھایا ہوا ہے۔ جوان،بوڑھے،مختلف عمروں  والے،مختلف ہمتوں  والے،سارے  کے  سارے   وفورِ عبودیت میں  ڈوبے  دیوانہ وار چل رہے  تھے، دوڑ رہے  تھے، یہ تقریباً طواف کا سامنظر ہے۔ مختلف ملکوں، نسلوں، رنگوں، زبانوں،مزاجوں  اور مرتبوں  والے  ایک سمت میں  ایک ہی طرح ایک ہی مقصد کے  لئے  چل رہے  ہیں  مقصد کیا ہے ؟  اللّٰہ  کو راضی کرنا۔ 
	 اللّٰہ  کو کس طرح راضی کیا جائے۔  اللّٰہ  کی شریعت پر چل کر۔ اور شریعت کیا ہے ؟  اللّٰہ  کے  پیاروں  کی اداؤں  کی نقل۔ اور یہ سعی بھی تو نقل ہے۔ یہ نقل ہے  ایک نبی کی بیوی کی دوڑ کی۔ اللّٰہ  کے  نبی ؑ نے  اپنے  شیر خوار بیٹے  اسمٰعیلؑ اور بیوی ہاجرہؑ کو  اللّٰہ  کے  حکم کی تعمیل میں  جب اس بے  آب و گیاہ ویرانے  میں  اکیلے  تنہا بے  سہارا چھوڑ دیا تو بیوی نے  اُف تک نہیں  کی۔ بے  چون و چرا اپنے  خاوند کی منشاء کے  مطابق آزمائش کے  لئے  تیار ہو گئی۔ انہیں  یقین تھا کہ میرا خاوند  اللّٰہ  کا نبی ہے۔ اور اللّٰہ  کا نبی  اللّٰہ  کے  حکم کے  بغیر کوئی کام نہیں  کرتا۔ سوہمارے  لئے  جو حکم فرما رہا ہے  وہ اصل میں   اللّٰہ  کا حکم ہے۔ انہوں  نے  بھی نبی کی تربیت میں  رہ کر  اللّٰہ  کی ماننا سیکھی ہوئی تھی۔ اور اللہ کی ماننا آسان نہیں۔ بہت مشکل ہے۔ اللہ تو آزماتا ہے۔ سواس ماں  بیٹے  کی بھی آزمائش تھی۔ سخت آزمائش۔ بیٹا بھوک پیاس سے  بلبلاتا ہے۔ ماں  کے  پاس اسے  کھلانے  پلانے  کو کچھ نہیں۔ آگے  پیچھے  نظر دوڑاتی ہیں  کوئی بشر نظر نہیں  آتا۔ اٹھتی ہیں  صفا پہاڑی پر چڑھ کر آگے  پیچھے  نظر دوڑاتی ہیں  دور تک کوئی دکھائی نہیں  دیتا۔ بے  اضطرابی میں  مروہ کی طرف چلنا شروع کر دیتی ہیں۔ نظر بچے  کی طرف اور قدم مروہ کی طرف ہیں  یکدم بچہ نظروں  سے  اوجھل ہو جاتا ہے۔ چند قدم بے  اضطرابی میں  دوڑتی ہیں  تھک جاتی ہیں۔ پھر تیز تیز چلنا شروع کرتی ہیں۔ مروا پر پہنچ کر پھر آگے  پیچھے  دائیں  بائیں  دیکھتی ہیں  کوئی آدمی نظر نہیں  آتا۔ واپس صفا کو آتی ہیں  اس بے  کلی اور اضطراب میں  ساتویں  چکر میں  مروہ پر جا کر بچے  کی طرف نظر کرتی ہیں  تو معصوم بچے  کے  اوپر پرندے  اڑتے  نظر آتے  ہیں۔ دل دھک سے  رہ جاتا ہے۔ یا اللّٰہ میرے  لختِ جگر کو کوئی درندہ نہ کھا جائے۔ واپس آتی ہیں  تو معصوم اسماعیلؑ کی ایڑیوں  کی رگڑسے  زمزم کا چشمہ جاری تھا۔ آج کا زمزم وہی چشمہ ہے  جو حضرت اسمٰعیلؑ کی ایڑیوں کی رگڑسے  پھوٹا تھا۔ سوسعی کیا ہے ؟ یہ حضرت ہاجرہؑ کی کہانی کی دہرائی ہے۔ جو حضرت ہاجرہ کی نقل نہ کرے گا اس کا حج مقبول نہیں ...ایک بیوی نے  خاوند کی مانی خاوند نے  اللّٰہ کی مانی۔ اللّٰہ نے  ان ماننے  والوں  کی اداؤں  کو شریعت بنا دیا۔ حج بنا دیا۔ عبادت بنا دیا۔ سچ ہے :۔ 
"نام فقیر تنہاں  دا با ہوقبر جنہاں  دی جیوے  ہو"
(وہی اللّٰہ والے  ہیں  جن کے  کارنامے  رہتی دنیا تک زندہ ہیں)توہم نے  بھی اللّٰہ کے  ماننے  والوں  کی نقل کا ارادہ کر رکھا ہے  ...
	سعی کا آغاز صفا پہاڑی سے  ہوتا ہے  ہم دونوں  میاں  بیوی صفا کے  ستون کے  پاس کھڑے  اللّٰہ کے  گھر کی طرف رخ کر کے  اللّٰہ سے  ہمت و حوصلہ اور آسانی مانگ رہے  ہیں۔ یا اللّٰہ ہماری یہ سعی صرف تیری خوشنودی کے  لئے  ہے۔ ہم کمزور ہیں، نحیف ہیں۔ کم ہمت ہیں۔ تو ہی ہمت بخشنے  والا ہے۔ تو ہی طاقت دینے  والا ہے۔ ہمیں  ہمت و حوصلہ دے۔ طاقت دے۔ 
	دعا کے  بعد میں  اہلیہ کا ہاتھ پکڑ کر ہجوم میں  گھس جاتا ہوں۔ دائیں  بائیں  آگے  پیچھے  انسان ہی انسان ہیں، عورت مرد، کئی ملکوں  کے،کئی زبانوں  کے، سب کو اپنی اپنی پڑی ہے۔ کسی کو کسی کی فکر نہیں۔ سب چل رہے  ہیں،دوڑ رہے  ہیں۔ لگتا ہے  حشر بپا ہے۔ جیسے  مردے  بد حواسی کے  عالم میں  قبروں  سے  نکل کر بھاگ رہے  ہیں۔ ہمیں  بھی کسی کی کوئی فکر نہیں۔ اپنی ہی پریشانی ہے۔ میں  بیوی کا بازو پکڑے  بچتا بچاتا درمیان کی دیوار کے  ساتھ ساتھ آہستہ آہستہ جا رہا ہوں۔ احتیاط کے  باوجود کبھی دائیں  سے  کبھی بائیں  سے  اور پیچھے  سے  دھکا لگتا ہے .... دھکا دینے  والے  بے  قصور ہیں۔ انہیں  بھی تو کوئی دوسرا دھکیل رہا ہے۔ میری حاجن کا بایاں  ہاتھ مفلوج ہے  وہ یہ ہاتھ دیوار پر ٹیک ٹیک کر چل رہی ہے۔ کچھ جذباتی جوان اس درمیانی دیوار کے  اوپر دوڑ کر سعی کر رہے  ہیں۔ ایک کا پاؤں  حاجن کے  مفلوج ہاتھ پر پڑتا ہے۔ بیچاری کی چیخ نکل جاتی ہے۔ منھ سے  کچھ کہنے  لگتی ہے۔ مجھے  فکر ہوتی ہے  کہیں  کوئی بددعا نہ دے۔ سومنھ پہ ہاتھ رکھ دیتا ہوں۔ اور دل میں  کہتا ہوں۔ 
"آہ نہ کر لبوں  کو سی عشق ہے  دل لگی نہیں "
مگر قربان جاؤں  اس محبوب کے  جس کے  عشق میں  یہ ہجوم دیوانہ وار سعی کر رہا ہے۔ وہ فوراً مہربان ہو جاتا ہے۔ مجھے  پیچھے  سے  کوئی آواز دیتا ہے۔ انہیں  اپنے  آگے  رکھیں۔ معلوم نہیں  یہ کس کی آواز تھی۔ شائد ہاتفِ غیبی تھا۔ میں  نے  اس آواز کی ہدایت کے  مطابق حاجن کو اپنے  بازوؤں  کے  حصار میں  لے  لیا۔ چند قدم آگے  چل کر ہم ویل چیئر کے  راستے  میں  داخل  داخل ہو گئے۔ یہاں  تھوڑی سی سہولت میسر آئی۔ مگر پیچھے  سے  آواز آئی حاجہ!حاجہ!طریق!
طریق!پیچھے  دیکھا تو مقامی حضرات ویل چیئر پر حاجیوں  کو سوا رکئے  بڑی تیزی سے  آ رہے  ہیں۔ ہم دونوں  میاں  بیوی سمٹ کر دیوار سے  لگ جاتے  ہیں۔ یہ راستہ اگرچہ تنگ ہے  مگر یہاں  دھکم پیل قدرے  کم تھی۔ حجاج کرام دعائیں  پڑھتے  جا رہے  ہیں۔ کئی زبانی،کئی کتابوں  سے۔ سب کی زبانیں  ذکروتسبیحات میں  مصروف ہیں۔ مجھے  اس وقت یاد کئے  ہوئے  الفاظ یاد نہیں۔ بہرحال میں  بھی ملتجی اہلیہ بھی ملتجی۔ دونوں  مانگ رہے  ہیں  ہماری زبانیں  گنگ اور دل بیٹھ رہے  ہیں۔ کیفیت یہ ہے :۔ 
"ہے  دعا یاد مگر حرفِ دعا یاد نہیں "
	لوگ باگ،تیز تیز چل رہے  ہیں  مگر ہم دونوں  تھکے  ہارے  اللّٰہ کے  سہارے  آہستہ آہستہ چل رہے  ہیں۔ اللّٰہ !اللّٰہ !کیساعظیم سہارا ہے۔ ہماری مثال منجھدار میں  گری ہوئی کشتی کی سی ہے۔ جس میں  چپو،پتواریا بادبان کچھ بھی نہیں۔ اس بے  بادبان سفینے  کا کھیون ہاراسوائے  اس عظیم سہارے  کے  کوئی نہیں۔ انسانوں  کا ہجوم طوفانِ بلا خیز کی صورت ہمیں  چاروں  سمت سے  گھیرے  ہوئے  ہے۔ بھنور ہی بھنور ہیں۔ قدم قدم پر ہم چکرا جاتے  ہیں۔ مگر وہ ہر قدم پر ہماری دستگیری کر رہا ہے۔ ہمیں  محسوس ہوا ہے  جیسے  کوئی بازو پکڑ کر ہر بھنور سے  نکال کر سوئے  ساحل لئے  جا رہا ہے۔ یوں  لگتا ہے  کسی نے  ہمیں  ہاتھوں  پہ اٹھایا ہوا ہے۔ جیسے  پُر خطر پُر آشوب ماحول سے  ماں  بچے  کو سینے  سے  چمٹائے  بچانے  کی کوشش کرتی ہے۔ ایسے  ہی کوئی اس بپھرے  ہوئے  ہجوم سے  ہمیں  بحفاظت نکالنے  کا انتظام کر رہا ہے۔ وہ کون ہے ؟دکھائی نہیں  دے  رہا مگرمحسوس  ہو رہا ہے۔ ہاں  اس وقت وہ غیر محسوس ہمارے  احساس میں  سرایت کئے  ہوئے  ہے۔ ایسے  محسوس  ہو رہا ہے  کہ ہمارے  اندر کے  حواس بیدار  ہو رہے  ہیں۔ باہر طوفان اور اندر اطمینان ہے۔ جسم میں  تھکن درد، ٹیسیں  نجانے  کیا کیا ہے۔ مگر دل میں  سکون،کامل یقین۔ ایسایقین جسے  حق الیقین کہا جا سکتا ہے۔ 
ہم اپنے  معبود کو دیکھ رہے  ہیں، چھو رہے  ہیں،اس سے  مانگ رہے  ہیں۔ التجائیں  کر رہے  ہیں۔ وہ سن رہا ہے  دعائیں  پوری کر رہا ہے۔ یہ کیفیت اس لمحۂ تحریر کی نہیں  لمحۂ حضوری کی ہے۔ وہ لمحہ جب ہم صفا و مروہ کے  درمیان اپنے  آقا و مولا کے  دربار میں فریاد کناں  تھے۔ 

حضوری

	امیرخسروؔنے  اپنی واردات کا بیان اپنی نعت میں  اس طرح کیا تھا:۔ 
خدا خود میرِ محفل بود اندر لامکاں  خسروؔ
محمدؐ  شمعِ محفل بود شب جائے  کہ من بودم
(محفلِ لامکان میں  اللّٰہ تبارک و تعالیٰ خود صدرِ محفل تھے  اور حضرت محمدﷺ اس محفل میں  شمع کی صورت موجود تھے۔ یہ اس رات کا واقعہ ہے  جب میں  مقام عرفان پہ تھا۔)
	ہمیں  پتہ نہیں  کہ لامکاں  کہاں  ہے ؟کہاں  یہ مبارک محفل سجی تھی جہاں  خسروکسی گوشہ میں  بیٹھا یہ نظارہ کر رہا تھا؟مگر ہمیں  معلوم ہے  کہ جس وقت امڈتے  ہجوم میں  ہم دونوں  میاں  بیوی تنہا طواف وسعی کر رہے  تھے  اس وقت ہم اپنے  مولا و آقا اللّٰہ جل جلالہ کو تختِ بادشاہی پہ جلوہ افروز دیکھ رہے  تھے۔ اس کے  حضور جھک رہے  تھے۔ سجدے  کر رہے  تھے۔ اس کے  گھر سے  لپٹ رہے  تھے۔ دوڑ رہے  تھے۔ اس کے  گھر کے  گرد،صفا و مروہ کے  درمیان۔ بے  تابانہ،مجنونانہ دوڑ رہے  تھے۔ مانگ رہے  تھے۔ اس وقت ہم اَن دیکھے  کو دیکھ رہے  تھے۔ ظاہر و باطن ہم آہنگ تھا۔ بصارت کا دروازہ بصیرت کی طرف کھل چکا تھا۔ انہوں  نے  کیا دیکھا کیسے  دیکھا؟ نہ وہ صحیح طرح بتاسکتے  ہیں  نہ میں  اس تصور کی تصویر پیش کر سکتا ہوں۔ میرے  پاس الفاظ نہیں،اسلوب نہیں،مناسب ذریعۂ اظہار نہیں  سواشارے  کنائے  سے  بات کہنے  کی کوشش کر رہا ہوں۔ 
	ایک روز اکیلے  عمرے  کی سعی کر رہا تھا۔ اب رش قدرے  کم تھا۔ اہلیہ کی سعی کی ذمہ داری بھی نہیں  تھی۔ بڑے  سکون سے  چوتھے  کلمے  کا ورد کر رہا تھا۔ اللّٰہ تعالیٰ کی وحدانیت کا تصور جمانے  کی سعی کر رہا تھا۔ بیشک وہ عالی ذات یکتا و تنہا ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں  کوئی ثانی نہیں،اس کی بادشاہی ہے۔ اور اس کے  لئے  تمام تعریفیں ہیں۔ موت و حیات اس کے  قبضۂ قدرت میں  ہے۔ وہ خود زندہ ہے۔ اسے  کبھی بھی موت نہیں  آنے  کی۔ وہی جلال وا کرام کے  لائق ہے۔ اسی کے  قبضۂ قدرت میں  خیر ہے  اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ میں  زبان سے  عربی ذہن سے  اردو اور دل سے  لا ہوتی بول بول رہا تھا اور الہامی زبان سن رہا تھا۔ میں  کلمہ کے  معنی و مفہوم کو اپنی ذات میں  جذب کرنے  کی سعی و کوشش کر رہا تھا۔ تین چار چکروں  میں  مجھ پر جذب کی سی کیفیت پیدا ہو گئی۔ مجھے  کلمہ کی بجائے  علامہ اقبالؔ مرحوم کی رباعی یاد آ گئی۔ میں  بے  ساختہ پکارنے  لگا
تو غنی از ہر دو عالم من فقیر
روزِ محشر عذر ہائے  من پذیر
گر توِی بینی حسابم ناگزیر
از نگاہِ مصطفے ٰ پنہاں  بگیر
(اے  میرے  مولا تو بے  نیاز ہے  مگر میں  تو تیرا گداگر ہوں۔ براہِ کرم حشر کے  دن میرے  عذر کو قبول فرمانا۔ اور اگر آپ نے  میراحساب ضرور لینا  ہی ہے  تو اپنے  پیارے  حبیب حضرت محمد مصطفے ٰ کی نگاہ سے  میرے  گناہوں  کو پوشیدہ رکھنا)
	اب تو یہ حالت تھی کہ بجائے  دیگر دعاؤں  کے  ایک ہی التجا ہونٹوں  پہ لرزاں  تھی۔ از نگاہِ مصطفے ﷺ پنہاں  بگیر۔ زبان اقبال کے  مصرعے  کو دہرا رہی تھی اور دل  خسرو کا شعر دہرا رہا تھا۔ میں  محفلِ لامکاں  میں  حضورﷺ سے  نظریں  چرائے  چرائے  داورِ محشرسے  التجا کر رہا تھا
گر توی بینی حسابم ناگزیر    از نگاہِ مصطفے ٰ پنہاں  بگیر
	بات موقع محل کی ہے۔ موقع و منظر بدلنے  سے  زاویۂ نظر بدل جاتا ہے۔ تصویر بدلنے  سے  تصور بدل جاتا ہے۔ ہر کیفیت اپنے  محلِ وقوع کے  مطابق ہوتی ہے۔ یہ اشعار کئی دفعہ سنے  ہوں گے،پڑھے  ہوں گے،مگر اس موقع پر جو سرور نصیب ہوا ہے  پہلے  کبھی محسوس نہیں  ہوا۔ اسی حوالے  سے  ایک اور واقعہ یاد آ رہا ہے۔ 

الفاظ کی جادوگری

	شعر محض الفاظ کی تنظیم کا نام نہیں  بلکہ اس کے  اندر ایک پورا نظام ہوتا ہے  جو شاعر کی پوری شخصیت کا عکاس ہوتا ہے۔ اور الفاظ بھی محض صوتی زیر و بم کا نام نہیں  بلکہ یہ متکلم کے  باطن کی کیفیات و تصورات کی مکمل تصویر ہوتے  ہیں۔ ان تصاویر کے  کئی ایک رخ ہو سکتے  ہیں۔ یہ سامع کی ترجیحات پر منحصر ہے  کہ وہ کلمہ و کلام کے  کس رخ کو پسند کرتا ہے۔ پھر کلام کے  معانی سمجھنے  اور اس سے  حظ اٹھانے  کے  لئے  مخصوص ماحول کی ضرورت ہے۔ جس طرح بیج کے  پھوٹنے  کے  لئے  خاص زمین اور موسم کی ضرورت ہے  اس طرح کلام کے  کھُلنے  اور کھلنے  کے  لئے  بھی مخصوص ماحول کی ضرورت ہوتی ہے۔ بعض دفعہ معمولی بات دل پہ ایسا اثر کرتی ہے  کہ آدمی وجد میں  آ جاتا ہے۔ 
	ایک آدمی سنگترے  بیچ رہا تھا۔ آواز لگا رہا تھا" سوہنے  سنگترے "ایک صاحب حال کے  کان میں  آواز پڑی تو پھڑکنے  لگے۔ ان کے  لب پر یہ الفاظ جاری تھے 
 " سوہنے  سنگ ترے " 
(اچھے  ساتھی کی سنگت ڈوبنے  نہیں  دیتی)
	بات موقع محل کی ہے۔ ایک روز ہم حرم شریف جانے  کی تیاری کر رہے  تھے۔ ہاتھوں  میں  دو کڑے  ایک پاکستان کا دوسرا سعودیہ کا۔ میں  کڑے  پہن کر گلے  میں  لاکٹ پہننے  لگا تو خیال آیا اس تکلف کی کیا ضرورت ہے۔ مجھے  اپنے  سارے  کوائف زبانی یاد ہیں۔ اگر خدانخواستہ کہیں  بھول گیا تو اپنا مکتب اور بلڈنگ نمبر بتا کر کسی سے  راہنمائی لے  لوں  گا۔ ایسانہ ہوا تو بلڈنگ میں  ٹیلیفون کر کے  راستہ معلوم کر لوں  گا۔ اس گلے  کے  قلادے  کی کوئی ضرورت نہیں۔ دل میں  گلے  کے  لاکٹ کی کچھ تحقیر محسوس ہوئی مگر قلادہ کے  لفظ سے  چونک گیا۔ معاً حافظ شیرازی کا شعر یاد آ گیا۔ حافظ کہتا ہے 
شنیدہ ام کہ سگاں  را قلادہ کردہ ای
چرا بگردنِ حافظ نمی کنی رَسنے  
(میں  نے  سنا ہے  کہ آپ نے  اپنے  کتوں  کے  گلوں  میں  پٹے  ڈالے  ہوئے  ہیں۔ کیا وجہ ہے  کہ اس سگِ درگاہ یعنی حافظ کے  گلے  میں  رسی نہیں  ڈالی)
	اس شعر کا لبوں  پہ جاری ہونا تھا کہ آنسوؤں  کی جھڑی لگ گئی۔ اہلیہ پوچھنے  لگی کیا ہوا۔ میں  اسے  کیا بتاتا!کیا ہوا؟بس بار بار دہرا رہا تھا۔ چرا بگردنِ حافظ نمی کنی رسنے۔ تو میرے  گلے  میں  رسی کیوں  نہیں  ڈالتا۔ جن کے  گلے  میں  قلادہ ہے۔ لوگوں  کو معلوم ہے  کہ یہ تیرے  ہیں۔ تو ان کا مالک ہے۔ بتا میرا کون مالک ہے ؟کیا تو میرا مالک نہیں !اگر مالک ہے  تو میرے  گلے  میں  بھی قلادہ امتیاز ڈال دے۔ میں  نے  فوراً بسم اللّٰہ پڑھ کر لاکٹ گلے  میں  ڈالا۔ بیگم کو بھی پہنایا اور سمجھایا کہ حضورﷺ جب حج مبارک کے  لئے  آئے  تو آپ کے  ساتھ قربانی کے  اونٹ تھے۔ اور قربانی کے  اونٹوں  کے  گلوں  میں  جو قربانی کی نشانی کے  طور پر نشان لٹکایا تھا اسے  قلادہ کہتے  ہیں۔ اور پھر دیکھو جس کتے  کے  گلے  میں  پٹہ ہوتا ہے  اسے  کوئی گزند نہیں  پہنچاتا۔ اس لئے  کہ لوگوں  کو پتہ ہے  کہ اس کا کوئی مالک ہے  اور اگر اس کتے  کو کوئی تکلیف پہنچائی تو اس کا مالک بدلہ لے  گا۔ اس لئے  پٹے  یعنی قلادے  والے  محفوظ رہتے  ہیں۔ اب یوں  سمجھ کہ یہ گلے  کا لاکٹ اس امر کا ثبوت ہے  کہ ہم حاجی ہیں۔ اللّٰہ کے  مہمان ہیں۔ وہ ہمارا مالک ہے۔ اس سوچ کا اثر تھا کہ گھرواپس آنے  تک میں  نے  یہ زیور نہیں  اتارا۔ 

بڑے  کرم کے  فیصلے 

	ایک روز مطاف میں  بیٹھے  کعبہ شریف کی زیارت میں  محو تھے۔ قریب ہی انڈیا کی چند مستورات تشریف فرما تھیں۔ ایک خاتون فرما رہی تھیں  اگر حج کے  لئے  پیسہ ہی شرط ہوتا تو ہم جیسے  غریب تو اللّٰہ کے  پیارے  گھر کا تصور بھی نہیں  کر سکتے  تھے۔ اس بڑھیا کی اس بات سے  مجھے  اپناپسِ منظر نظر آ گیا۔ سچ ہے  ہم نے  کبھی ایسا خواب بھی نہیں  دیکھا۔ یہ بس اس کریم کا کرم ہے  کہ اس نے  بن مانگے  اتنا کچھ دیا کہ تصور میں  بھی سمانہیں  سکتا۔ 
"اتنا دیا میرے  مولا نے  مجھ کو جتنی میری اوقات نہیں "
	اس کے  یہاں  غریب امیر کی کوئی تمیز نہیں۔ غریبی بھی اس کی طرف سے  ہے  اور امیری بھی۔ یہ اس کی اپنی منشاء ہے  جسے  بلانا چاہتا ہے  بلا لیتا ہے۔ ہمارے  ایک دوست  ہیں۔ شیخ برادری سے  ان کا تعلق ہے۔ وہ سناتے  ہیں  کہ ہمارے  ایک ملنے  والے  ایک روز رو رہے  تھے۔ لوگوں  نے  رونے  کی وجہ پوچھی تو کہنے  لگے ''میں  کتنا بدنصیب ہوں۔ حج نہیں  کر سکتا" لوگوں  نے  پوچھا شیخ صاحب کیوں ؟کیا وجہ ہے ؟آپ کو مال کی کوئی کمی نہیں۔ ماشاء اللّٰہ صحت بھی ٹھیک ٹھاک ہے۔ آہ بھر کر کہنے  لگے  کیا کروں۔ یہ پیسہ ہی تو عذاب بنا ہوا ہے۔ سنا ہے  حج حلال کے  پیسے  سے  ہوتا ہے۔ اور میرے  پاس حلال کی پائی بھی نہیں۔ اس تناظر میں  دو اور واقعات یاد آ رہے  ہیں۔ 
	ہمارے  ایک اور دوست ہیں  ڈاکٹر مبارک صاحب۔ فرماتے  ہیں ہماری دو خالائیں  تھیں۔ ایک خالہ بال بچے  دار اور مال دار تھی۔ بچے  بڑے  تابعدار اور فرمانبردار۔ اچھے  روز گار والے۔ اور دوسری خالہ کی اولاد نہیں  تھی۔ دو میاں  بیوی تھے۔ دونوں  اپنی بہن کے  ساتھ رہا کرتے  تھے۔ یہ خالہ جان اپنے  آپ کو مصروف رکھنے  کے  لئے  سلائی کا کام کرتی تھیں۔ ایک روز ایک کرنل صاحب کی اہلیہ سے  ملنے  گئیں  تو کرنل صاحب نے  حال احوال پوچھا۔ دورانِ گفتگو پوچھا کہ اماں  جان خالہ جان یعنی آپ کی بہن کا کیا حال ہے ؟فرمانے  لگیں  ماشاء اللّٰہ حج پر جا رہی ہیں۔ کرنل صاحب نے  کہا کیا آپ کو نہیں  لے  جا رہیں۔ وہ توہر معاملے  میں  آپ کو ساتھ رکھتی ہیں۔ فرمایا بس مقدر کی بات ہے۔ وہ اکیلی جا رہی ہیں۔ کرنل صاحب نے  کہا اماں  جی آپ مجھے  اپنا شناختی کارڈ لا کر دیں۔ ان دنوں  مرحوم ذوالفقار علی بھٹو پاکستان کے  وزیر اعظم تھے۔ کرنل صاحب ان کے  سٹاف میں  تھے۔ انہوں  نے  درخواست لکھ کر وزیرِ اعظم کو پیش کر دی۔ دیکھتے  دیکھتے  اماں  جان کے  کاغذات تیار ہو گئے  اور زادِ سفر کا بھی انتظام ہو گیا۔ حج کے  موقع پر اماں  جان شاہی مہمان اور ان کی بہن عام حاجی کی طرح مناسکِ حج ادا کر رہی تھیں۔ 
 اللّٰہ!اللّٰہ!
یہ سب تمہارا کرم ہے  مو لا
	اسی طرح سید شمیم احمد کو اللّٰہ تعالیٰ نے  صدر ضیاء الحق کے  ذریعے  حج کی سعادت بخشی۔ 
کوئی ایک دو واقعہ ہوتوسناؤں  یہاں  توجس سے  پوچھو یہی کہتا ہے  کہ
"یہ بڑے  کرم کے  ہیں  فیصلے  یہ بڑے  نصیب کی بات ہے "
ہماری بے  لال بیوہ ہے۔ تین عمرے  کر چکی ہے۔ چوتھے  کی تیاری ہے۔ بھائی عبدالرزاق کا بیٹا قیصر حجاج کی خدمت کے  بہانے  حج کر آیا ہے۔ 
	میرے  ایک دوست کی گاڑی چوری ہو گئی۔ وہ رمضان میں  عمرہ کر کے  آئے  تھے۔ بائیسویں  روزے  انھیں  لاہور فون پر اطلاع ملی کہ گاڑی پکڑی گئی ہے،کل صبح پشاور پہنچیں۔ رات خواب میں  دیکھا کہ دیارِ عرب میں ہیں  چوری شدہ گاڑی ملنے  کی خبر پائی ہے۔ یہ سوچ کر کہ شکرانہ کے  لئے  حج پر آنے  کی کوشش کرنا چاہیے۔ وہیں  خواب میں  کسی سے  سفارشی خط لیتے  ہیں کہ حج کا ویزہ مل جائے۔ صبح پشاور جاتے  ہیں تو گاڑی مل جاتی ہے۔ اور باوجود تاخیر کے  حج کا ویزہ بھی مل جاتا ہے۔ اور تمام انتظامات بھی ہو جاتے  ہیں۔ موصوف کی سات حاضریاں  ہو چکی ہیں،مگر چودہ برس سے  اگلا بلاوا نہیں  آیا۔ 	
	موصوف نے  مجھے  جاتے  ہوئے  پیغام دیا تھا کہ آٹھویں  بار بلا لیں  تو ان کے  خزانے  میں  کیا فرق پڑتا ہے۔ میں  درخواست پیش کر آیا ہوں۔ امید ہے  کہ وہ کسی کی درخواست رد نہیں  کرتا۔ انہی نے  ایک واقعہ بتایا کہ ہم دونوں  میاں  بیوی حج پر جانے  سے  پہلے  ایک عزیز کو ملنے  گئے  تو اس نے  رخصت ہوتے  وقت بڑی لجاجت سے  گذارش کی کہ میرے  لئے  بھی دعا کرنا۔ قدرت خدا کی اسی حج میں  اللّٰہ تعالیٰ نے  حرم شریف میں  ان سے  ملاقات کرا دی۔ ان کو اللّٰہ تعالیٰ نے  کیسے  بلایا۔ یہ بھی داستان ہے۔ یہ حقائق بتانے  سے  مقصد یہ ہے  کہ آپ میرے  لئے  اور میں  آپ کے  لئے  دعا کروں۔ اللّٰہ تعالیٰ اپنے  پیارے  دربار اور پیارے  کی سرکارمیں  بار بار بلائے۔ اور دعا کرنے  پر کیا قیمت لگتی ہے ؟ صرف زبان ہلانا پڑتی ہے۔ چند آنسوبہانے  پڑتے  ہیں۔ آپ بھی چند آنسوؤں  کی قیمت میں  حج کر سکتے  ہیں۔ ذرا بہا کر تو دیکھیں۔ 

سابقہ سے  رابطہ

	بات چل رہی تھی آپ بیتی کی مگر بات سے  بات نکلتے  بات جگ بیتی تک جا پہنچی۔ اس سے  ہو سکتا ہے  کسی کو تسلسل ٹوٹتا نظر آئے  مگر جگ بیتی میں  بھی غور کریں  تو آپ بیتی نظر آتی ہے۔ سب کو نہیں  تو کچھ کو بیان کردہ احوال میں  اپنے  اپنے  حالات کی جھلک نظر آ رہی ہو گی۔ ہو سکتا ہے  آپ بیتی میرے  حالات سے  مطابقت رکھتی ہو۔ اس لئے  میں  پھر صفاء و مروا کی طرف مراجعت کر رہا ہوں۔ اب تک کی ہماری کیفیت آپ کو معلوم ہو چکی۔ مگر اصل آزمائش اس وقت شروع ہوتی ہے  جب ہم ساتواں  چکر مکمل کر کے  مروا تک پہنچ جاتے  ہیں۔ یہاں  آ کر جسم نڈھال اور دماغ ماؤف ہو جاتا ہے۔ بالکل نیم جان۔ سمجھ نہیں  آتی کیا کریں ؟کہاں  جائیں ؟ایک توسوچنے  کی اہلیت نہیں  دوسرے  سوچنے  کا وقت نہیں۔ آگے  پیچھے  دائیں  بائیں  سے  دھکے  لگ رہے  ہیں  ہم دم لینے  کو رکتے  ہیں۔ مگر دھکے  دائیں  بائیں  دھکیل رہے  ہیں۔ اس دھکم پیل میں  ہم چلتے  ہوئے  ہجوم کے  ساتھ صفا کی طرف چلنے  لگتے  ہیں۔ آغاز میں  تو نیت تھی کہ واپس کعبۃ اللّٰہ کے  پاس آ کر جمعہ کی نماز ادا کریں  گے۔ واپسی کے  راستوں  کا بھی کچھ سروے  کر لیا تھا۔ مگر اس وقت دماغ ساتھ نہیں  دے  رہا۔ ہم لڑھکتے  لڑھکتے  قبلہ کی سمت کھلے  دروازے  میں  اندر جانے  کے  لئے  داخل ہوتے  ہیں۔ مگر یہ دروازہ نہیں  آبِ زمزم کی سبیل ہے۔ ہم نے  زمزم سے  اپنی پیاس بجھائی۔ اب کیا کریں ؟ دروازہ نظر نہیں  آ رہا۔ بائیں  ہاتھ دیکھا تو ایک لوہے  کا گیٹ ہے  جو باہر کو کھلتا ہے۔ مگر یہ گیٹ بھی بند ہے۔ ہم حرم سے  باہر بھی نہیں  جا سکتے۔ یہ خیال میں  نہیں  آ رہا کہ چند قدم آگے  صفا کی جانب جائیں  تو دائیں  جانب حرم شریف کے  اندر جانے  کے  گیٹ کھلے  ہوتے  ہیں۔ ہم سبیل سے  باہر نکل کر حرم سے  باہر جانے  کی کوشش کرتے  ہیں۔ چند قدم صفا کو جانے  والوں  کے  ساتھ ساتھ چلتے  ہیں۔ پھر صفاسے  مروہ کو جانے  والے  ریلے  میں  داخل ہو جاتے  ہیں۔ اس ریلے  میں  داخل ہوتے  ہی موت نظر آنے  لگتی ہے۔۔ ہجوم ہمیں  مروا کی طرف اور ہم ہجوم کو صفا کی طرف دھکیل رہے  ہیں۔ ایسے  میں  اچھے  خاصے  حوصلے  والے  بھی دم ہار جاتے  ہیں  مگر اللّٰہ کی قدرت نے  اس بوڑھی جوڑی کو ہمت اور حوصلہ عطا فرمایا۔ اور اس طوفانی ہجوم سے  اس طرح نکال لیاجیسے  مکھن سے  بال۔ سارے  سفر میں  سب سے  مشکل مرحلہ یہ تھاجس سے  اللّٰہ تعالیٰ نے  معجزاتی طور پر گزارا۔ ہمارے  دوست عبدالمالک صاحب اس نازک پوزیشن کے  شاہد ہیں۔ اس کے  بعد کے  مرحلے  بھی آزمائش کے  مرحلے  ہیں  مگر یہ مرحلہ تو گویا موت و حیات کی جنگ تھی۔ واقعی زندگی موت اللّٰہ کے  ہاتھ میں  ہے۔ زندگی ہوتو وہ موت کے  منہ سے  نکال لاتا ہے۔ یہ ہمارا تجربہ ہے۔ ہمارا ایمان ہے۔ 
منیٰ کو واپسی
	سعی سے  فارغ ہو کر باہر نکلے  تو ہوش وحواس گم تھے۔ بدن تھکن سے  چور اور دماغ چکرا رہا تھا۔ باہر نکل کر اہلیہ کو دروازے  سے  ملحقہ چبوترے  پہ لٹایا،تھوڑی دیر بعد جمعہ کی اذان ہوئی۔ جمعہ  کی نماز ہم نے  صفا مروا کے  باہر ادا کی۔ اس کے  بعدواپس منیٰ جانے  کے  لئے  سڑک پر پہنچے  تو یہاں  بہت رش تھا۔ حضورﷺ پاک کی جائے  پیدائش کے  پچھواڑے  سڑک پر بسیں،ویگنیں  اور ٹیکسیاں  کھڑی تھیں۔ منیٰ منیٰ کی آوازیں لگ رہی تھیں۔ عام تیس چالیس کرایہ مانگ رہے  تھے۔ ہمیں  یہ کرایہ بہت زیادہ لگ رہا تھا۔ کافی دیر انتظار کرنے  کے  بعد ایک چھوٹا ٹرالہ آیا۔ یہ عشرہ ریال کی آواز لگا رہا تھا۔ ہم دونوں  اس میں  سوار ہو گئے۔ منیٰ پہنچتے  پہنچتے  عصر کا وقت ہو گیا تھا۔ ڈرائیور نے  ہمیں  کافی پیچھے  اتار دیا۔ ہمارا سامان ان دو بیگوں  میں  تھا جو ہمارے  ویل چیئر والے  مقامی بھائی نے  حرم شریف میں  کہیں  رکھ دیا تھا۔ اور تلاش کرنے  کے  باوجود ہمیں  یہ بیگ نہیں  ملے۔ مزدلفہ سے  جو کنکریاں  لائے  تھے  وہ تھیلیاں  بھی ان بیگوں  میں  تھیں۔ ہمارے  لئے  ایک مسئلہ یہ بھی تھا۔ اور بڑا مسئلہ تورمی کرنا تھا۔ ہم حیران و پریشان کھڑے  تھے  کہ ایک نوجوان پاکستانی احرام میں  ملبوس نظر آیا۔ اسے  اپنا مسئلہ بتایا۔ تھوڑی سی منت سماجت بھی کی کہ بھائی ہم دونوں  میاں  بیوی معذور ہیں۔ مہربانی کر کے  ہماری طرف سے  رمی کر دو۔ اس نے  بتایا کہ ابھی تک اس نے  حلق نہیں  کروایا اور عصر کی نماز بھی نہیں  پڑھی۔ کنکریوں  کے  متعلق اس نے  مشورہ دیا کہ یہیں  سے  کنکر چن لیں۔ ہم نے  کنکر چننے  شروع کئے  تو وہ لڑکا کہنے  لگا کہ میں  آپ کی طرف سے  رمی کر دیتا ہوں۔ اللّٰہ اس نوجوان کا بھلا کرے  اس نے  ہمارا یہ مسئلہ حل کر دیا۔ اب عصر تنگ  ہو رہی تھی ہم نے  وہیں  نماز ادا کی۔ اب ہمیں  اپنے  خیمے  کارستہ معلوم نہ وہاں  پہنچنے  تک کا کوئی وسیلہ۔ شام ہو گئی۔ کوئی واقف آشنا نہیں  جس سے  مشورہ کیا جائے۔ مجبوراً حرم شریف واپسی کا خیال آیا۔ کہ بھولے  بھٹکوں  کی یہی آماجگاہ اور جائے  پناہ ہے۔ 

مسجدِ حرام

	مسجدِ حرام جس کے  وسط میں  کعبۃ اللّٰہ ہے  جدید اسلامی طرزِ تعمیر کا حسین ترین نمونہ ہے۔ اس مسجد کے  وسط میں  کعبہ شریف ہے۔ کعبہ شریف کے  ارد گرد کا علاقہ گولائی کی صورت میں  مطاف کہلاتا ہے۔ یہ گول میدان طواف کے  لئے  وقف ہے  مطاف کے  باہر مسجد کا احاطہ شروع ہو جاتا ہے۔ مسجد کعبہ شریف سے  چند سیڑھیاں  بلند ہے۔ مسجد کی ساری عمارت بڑے  بڑے  ستونوں  پر استادہ ہے۔ چھت بلند ہے۔ اور جدید ترین فانوسوں  سے  مزین ہے۔ فرش پر بہترین قسم کا سنگِ مرمر استعمال کیا گیا ہے۔ ستونوں  کی زیبائش بھی سنگِ مرمر سے  کی گئی ہے۔ زیادہ تر سنگِ سفید استعمال کیا گیا ہے۔ نیچے  تہ خانہ اور اوپر غالباً دو منزلیں  ہیں۔ اوپر کی منزلوں  میں  طواف کرنے  کے  لئے  گول راستے  بنائے  گئے  ہیں۔ ہم نے  طوافِ زیارت دوسری منزل پہ کیا تھا۔ سعی ہم نے  نیچے  کی منزل میں  کی تھی مگر سنا ہے  اوپر کی منزلوں  میں  بھی طواف کی طرح سعی کرنے  کا انتظام موجود ہے۔ تمام مسجدوسیع رقبہ پر پھیلی ہوئی ہے۔ ہماری رہائش گاہ باب فہد کی جانب تھی۔ ہمارا آنا جانا زیادہ تر اس طرف تھا۔ باب الفہد سے  با ب المروہ تک کافی فاصلہ بن جاتا ہے۔ باب الصفا سے  باب المروہ تک کی لمبائی میں  باہر کافی وسیع صحن ہے۔ یہ صحن بھی سنگِ مرمر کی سلوں  سے  سجا ہوا ہے۔ اس صحن کے  باہر لوہے  کا کافی بلند جنگلا بنا ہوا ہے۔ جنگلے  سے  چند میٹر دور حضورﷺ کا مولد شریف ہے۔ حضورﷺ کی ولادت شریف اسی جگہ ہوئی تھی۔ حکومت نے  اس جگہ لائبریری بنا دی ہے۔ ہم نے  اس مکان کی زیارت کی ہے۔ میں  لائبریری دیکھنا چاہتا تھا۔ مگر دروازے  کو تالا لگا ہوا تھا۔ دروازے  سے  ملحقہ دیوار پر عربی،اردو اور انگلش میں  کچھ اس طرح کی تحریر لکھی ہوئی تھی کہ اس جگہ کی زیارت مسنون نہیں۔ 
	یہاں  سے  کعبہ شریف کی طرف جائیں  توراستے  میں  حدود حرم کے  باہر زنانہ و مردانہ ٹائلٹ ہیں۔ سنا ہے  یہاں  ابوجہل کا گھر تھا۔ اللّٰہ رسولﷺ کے  منکروں  کی یادگاروں  پر بھی لعنت برستی رہتی ہے۔ اور اللّٰہ والوں  کی ایک ایک ادا کو اللّٰہ نے  شریعت بنا دیا۔ ان کے  نقشِ قدم کو زیارت گاہِ مخلوق بنا دیا۔ کعبۃ اللّٰہ کے  دروازہ کی سمت شیشے  کے  بڑے  سارے  برتن میں  جو پتھر چاندی کے  خول میں  محفوظ کیا گیا ہے  اس پتھر پر حضرتِ ابراہیمؑ کے  پائے  مبارک کے  نشانات ثبت ہیں  اللّٰہ تعالیٰ نے  اس جگہ نفل پڑھنے  کا حکم فرما دیا۔ حضرتِ ہاجرہؑ کے  نقش قدم پہ چلنے  کو سعی قرار دیا۔ 
	مکان کی اہمیت مکین کی وجہ سے  ہوتی ہے۔ مسجد حرام کی اہمیت کعبۃ اللّٰہ کی نسبت سے  ہے  اور کعبۃ اللّٰہ، اللّٰہ کا گھر ہے۔ کعبۃ اللّٰہ کو ارد گرد کے  ماحول کے  حوالے  سے  دیکھیں  تویوں  لگتا ہے  جیسے  یہ کسی پیالے  کا پیندا ہو۔ اس لئے  کہ مسجد حرام اس سے  بلند ہے  اور مسجد حرام کو فلک بوس عمارتوں  اور بلند پہاڑیوں  نے  گھیر رکھا ہے۔ اگر حرکت کے  حوالے  سے  دیکھیں  تو معلوم ہوتا ہے  کہ پوری کائنات کا مرکز و محور کعبۃ اللّٰہ ہے۔ بیت اللّٰہ سے  لے  کر بیت المعمور تک کا فاصلہ پوری کائنات کا محور ہو سکتا ہے۔ اس محور کے  گرد نہ صرف انسان اور فرشتے  بلکہ پوری کائنات گھوم رہی ہے۔ ہم جب بھی حرم شریف گئے  ہیں اسے   انسانوں  سے  آباد دیکھا ہے۔ فرشتے  وغیرہ تو ہماری بصری فریکونسی سے  مطابقت نہیں  رکھتے  ظاہری آنکھ سے  نظر نہیں  آتے۔ مگر باطن کی آنکھ یعنی روح بیت اللّٰہ اور مسجد حرام کو غیر مرئی مخلوق سے  بھری بھری محسوس کرتی ہے۔ رہی بات انسانوں  کی توہم جب بھی گئے  ہیں  ہم نے  اس گھر کو عباد ت گذاروں  سے  بھرا ہوا پایا ہے۔ 

مرکزِ اتحاد

	مسجد حرام میں  داخل ہوتے  ہی مکمل دین کا نقشہ نظر آنا شروع ہو جاتا ہے۔ جس کو دیکھو۔ گیان دھیان میں  محو ہے۔ کوئی قرآن پاک کی تلاوت کر رہا ہے،کوئی رکوع وسجود میں  مصروف ہے۔ کسی کے  ہاتھ میں  تسبیح ہے  وہ گن گن کر تسبیحات کر رہا ہے  اور کوئی دل ہی دل میں  اس کے  نام کی مالا جپ رہا ہے۔ کچھ ایسے  ہیں  کہ اللّٰہ کے  گھر کو ٹکٹکی جمائے  دیکھ رہے۔ اس گھر کو دل پہ نقش کرنے  کی کوشش کر رہے  ہیں  کہ جب نماز میں  کہیں  منہ طرف قبلہ شریف ہو تو قبلہ مجسم صورت میں  سامنے  ہو۔ اس گھر کا مالک تو بے  صورت ہے۔ اس بے  صورت کا تصور مشکل ہے۔ ہاں  اس کے  گھر کا تصور جمانے  کی کوشش ہے۔ اس گھر کے  تصور کی اہلیت پیدا ہونا بھی بڑی غنیمت ہے۔ کہتے  ہیں  کہ نماز میں  اللّٰہ کا دھیان جمانے  کی کوشش کرنا چاہئے۔ اگر یہ اہلیت نہیں  تو کم ا ز کم یہ یقین ہونا چاہئے  کہ اللّٰہ ہمیں  دیکھ رہا ہے۔ یقیناً وہ سمیع و بصیر ہے۔ مگر ہم جیسے  نا اہلوں  میں  تو یہ تصور جمانے  کی بھی اہلیت نہیں۔ بلکہ ہم تو ابھی تک اللّٰہ کے  گھر کا تصور جمانے  کے  اہل نہیں  ہوئے۔ بس دھندلی دھندلی جو تصویریں  چشم تصور میں  آ رہی ہیں  ان کا ذکر گوش گذار کرنے  کی کوشش کر رہا ہوں۔ 
	اصل میں  انسان اپنے  ترجیحی نظام کے  ہاتھوں  مجبور ہوتا ہے۔ انسان اپنے  تجربات کی روشنی میں  مشاہدہ کرتا ہے۔ عالم، عابد، صوفی،فلسفی، خواندہ،ناخواندہ،شاعر،مصور، غرضیکہ ہر کوئی منظر کو اپنے  اپنے  زاویۂ نظرسے  دیکھتا ہے۔ علامہ اقبال مسجد حرام کو دیکھتے  تویوں  فرماتے :۔ 
بندہ و صاحب و محتاج و غنی ایک ہوئے 
تیری سرکار میں  پہنچے  توسبھی ایک ہوئے 
باہر کے  ماحول میں  تو تفرقہ و نفرت کی آگ لگی ہوئی ہے  مگر حرمین شریفین میں  اتحاد بین المسلمین کا نقشہ نظر آتا ہے۔ ہم نے  دیکھا ہے  سیاسی اختلاف رکھنے  والے  ممالک کے  افراد اندرونِ حرم ایسے  ملتے  ہیں  جیسے  سالوں  سے  بچھڑے  دوست یا ماں  جائے  ملتے  ہیں۔ ہماری ملاقات تین انڈین جوڑوں  سے  ہوئی۔ اس ملاقات میں  ہمیں  دونوں  ملکوں  کی باہمی دشمنی کا شائبہ تک محسوس نہیں  ہوا۔ ایک صاحب بڑے  فخر سے  بتا رہے  تھے  کہ آج اللّٰہ کی مہربانی سے  میں  اکیلا غارِ حرا کی زیارت کر کے  آ رہا ہوں۔ حالانکہ آپ مشاہدہ کر سکتے  ہیں  کہ میں  لنگڑا آدمی ہوں  اور واپسی پر مجھے  دو آدمیوں  نے  پکڑ کر اتارا ہے۔ موصوف کی بیگم صاحبہ فرما رہی تھی کہ یہ میرے  میاں  صاحب جوانی میں پہلوانی کرتے  رہے  ہیں۔ ان کی دونوں  ٹانگیں  کشتی میں  ٹوٹ گئی تھیں  مگر اللّٰہ کے  کرم سے  انہوں  نے  اپنی ان ٹیڑھی ٹانگوں  سے  سارے  مناسک آسانی سے  ادا کئے  ہیں۔ دوسری دو جوڑیوں  نے  بھی اپنے  علاقے  اور مسلمانوں  کے  جوش و جذبہ کے  متعلق معلومات فراہم کیں  اور عامر نامی نوجوان کا ذکر پہلے  گذر چکا ہے  کہ اس نوجوان نے  طواف وسعی کے  لئے  ویل چیئر فراہم کرنے  میں  ہماری بڑی مدد کی۔ اللّٰہ اس کو خوش رکھے۔ اس کے  علاوہ انڈونیشیا،ملائشیا اور ترک بھائیوں  سے  بھی سلام دعا ہوئی۔ بیٹھتے  ہی کوئی کہتا ترکی،کوئی ملائشیا،اور کوئی انڈونیشیا۔ ہم جواب میں  کہتے  پاکستانی۔ کبھی کبھی ہم استفسار کر لیتے۔ سارے  بڑی محبت کا اظہار کرتے۔ ایسے  لگتا تھا ہم سارے  پاکستانی ہیں۔ نہیں ! بلکہ سارے  گرائیں  ہیں۔ نہیں  بلکہ ماں  جائے  بھائی ہیں۔ بھائی بھائی جن میں  زن،زر،زمین جیسی کسی بات میں  کوئی جھگڑا نہیں۔ غیر زبان ہونے  کے  باوجود سارے  محبت کی زبان بولتے  اور سمجھتے  تھے۔ رنگ اور نسل کا کوئی فرق محسوس نہیں   ہو رہا تھا۔ سب کے  دل محبت سے  لبریز اور صاف شفاف تھے۔ ایک بڑا اختلاف جو ہمارے  ہاں  کچھ زیادہ رواج پا گیا ہے  وہ فرقہ پرستی ہے۔ مگر ایمان کی پوچھیں  تومیں  نے  حرمین شریفین میں  ایک ہی فرقہ دیکھا اور وہ فرقہ ہے  مسلمان۔ میں  نے  عباداتی تنوع تو مشاہدہ کیا ہے۔ فرقہ وارانہ نفرت نہیں  دیکھی۔ 

تنوع،تفرقہ،مساوات

	کارخانۂ قدرت میں  کوئی بھی دو چیزیں  ایک سی نہیں  ہوتیں۔ دو جڑواں  بچے  آپس میں  بڑی مشابہت رکھنے  کے  باوجود ایک دوسرے  سے  مختلف ہوتے  ہیں۔ ایک ہاتھ کی انگلیاں  ایک سی نہیں  ہوتیں۔ انگلیوں  کے  نشان ایک سے  نہیں  ہوتے  بلکہ حضرت آدم ؑ سے  لے  کر آج تک پیدا ہونے  والے  کسی بھی شخص کے  نشاناتِ انگشت دوسرے  شخص سے  نہیں  ملتے۔ اگر اس قانونِ قدرت کو پیشِ نظر رکھا جائے  توجس طرح کی مساوات کا تصور ایک خاص طبقہ کے  ہاں  پایا جاتا ہے  وہ ناممکن ہے۔ دنیا میں  سارے  انسان،رنگ و صورت کے  حوالے  سے  ایک سے  ہو سکتے  ہیں  نہ مال و دولت کے  لحاظ سے  ہم مرتبہ ہو سکتے  ہیں۔ اس لئے  کہ ایسی مساوات قانونِ فطرت سے  مطابقت نہیں  رکھتی۔ اس کے  برعکس قانونِ تنوع ہے۔ اس قانون کے  مطابق کائنات میں  رنگارنگی اور حسن کاری پائی جاتی ہے۔ کائنات کا حسن اس رنگارنگی کا مرہونِ منت ہے۔ اس رنگارنگی اور حسن کاری میں  قانونِ کشش کارفرما ہے۔ تمام متنوع اشیاء ایک دوسری سے  کشش و تجاذب کی رسی میں  پروئی ہوئی ہیں۔ ان میں  محبت ہے  نفرت نہیں۔ قانونِ تنوع کے  برخلاف تفرقہ کی بدعت ہے۔ یہ بدعت  شیطانی اختراع ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ نے  اپنے  پاک کلام میں  بڑی شدت سے  تفرقہ بازی سے  منع فرمایا ہے۔ وجہ یہ ہے  کہ تفرقہ انسانوں  میں  محبت کے  بجائے  نفرت پھیلانے  کا باعث بنتا ہے۔ باہمی اخوت و بھائی چارہ کی بجائے  بھائی بھائی سے  جدا اور دوست دوست کا دشمن ہو جاتا ہے۔ تفرقہ کا باعث دو اَناؤں  کا ٹکراؤ ہے۔ ہر فرقہ اپنے  آپ کو حق پر ثابت کرنے  کے  لئے  ہر قسم کا جائز و نا جائز حربہ اختیار کرتا ہے۔ اور پھر مذہبی فرقہ پرستی۔ توبہ!توبہ!اس کی بنیاد تو قرآن و حدیث کو بنایا جاتا ہے۔ ہر فرقہ اپنے  کو ناجی اور دوسرے  کو ناری ثابت کرنے  کے  لئے  قرآن و حدیث کو گواہ بنا رہا ہے۔ سننے  میں  تو تہتر فرقوں  کی پیشین گوئی آئی تھی۔ اب ہر فرد مفتی ہے۔ ہر مسجد فرقہ ہے۔ تہتر کا عدد بازیچہ اطفا ل بن چکا ہے۔ ہر فرقہ کا دعویٰ ہے  کہ ہم نے  اللّٰہ کی رسی یعنی قرآن و حدیث کو مضبوطی سے  پکڑا ہوا ہے۔ مگر اس دعویٰ کا عملی ثبوت ہمیں  پاکستان میں  نہیں  ملتا۔ میری مسجد کے  نمازی اگر مجھے  دوسری مسجد میں  نماز پڑھتے  دیکھ لیں  تو مجھ سے  سلام لینا بھی پسند نہ کریں۔ اسی طرح دوسری مسجد کا کوئی فرد ہماری مسجد میں  دو سجدے  دے  تو اس کو اس کی مسجد والے  کافر سمجھنے  لگتے  ہیں۔ غضب خدا کا یہاں  کسی مسلمان کو کافر،مشرک،بدعتی یا گستاخ کہنا تو گناہ سمجھاہی نہیں  جاتا۔ بلکہ یہ عام فیشن ہے۔ یقین جانیں  میں  نے  حرمین شریفین میں  فتوے  لگتے  نہیں  دیکھے۔ مناظر ہ اور بحث مباحثے  نہیں  سنے۔ یہاں میں  نے  تفرقہ نہیں  تنوع دیکھا ہے۔ مساوات نہیں  عدل دیکھا ہے۔ 
	اختلافِ مسلک کے  متعلق ایک عالم کا کہنا ہے  کہ اس کے  ذریعے  اللّٰہ تعالیٰ نے  اپنے  پیارے  محبوب کی اداؤں  کی حفاظت کا اہتمام فرمایا ہے۔ ان کا کہنا ہے  تمام مسالک گلزارِ نبوت کے  پھول ہیں۔ ہر ایک کی اپنی رنگت اور اپنی مہک ہے۔ اگر اس بات کو سامنے  رکھا جائے  تو فرمانِ نبویؐ کے  مطابق اختلافِ امت باعث رحمت ہے  کہ اس طرح ہر زمانے  اور ہر دور میں  قانونِ قرآن اور فرمانِ نبوی کے  نئے  سے  نئے  رنگ سامنے  آتے   ہیں۔ قرآن و حدیث میں  قیامت تک آنے  والے  زمانوں  کے  مسائل کا حل موجود ہے۔ زمانے  کے  حالات و واقعات کے  تحت مسائل تبدیل ہوتے  رہتے  ہیں۔ ان متنوع مسائل کو سمجھنے  کے  لئے  متنوع سوچ کا ہونا ناگزیر ہے  مگر متنوع سوچ مثبت ہو تو باعثِ رحمت ہے۔ مثبت سوچ اختلافِ رائے  ہے۔ اور منفی سوچ عذاب ہے۔ تفرقہ ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ امت کو تفرقہ بازی سے  محفوظ فرمائے۔ اللّٰہ کرے  حرمین شریفین کے  اندر کا عکس بیرونِ حرمین بھی منعکس ہونے  لگے۔ 
	حرمین شریفین میں  کلمہ،نماز، روزہ، حج،زکوٰۃ پانچوں  عبادتوں  کی مشق کی جاتی ہے۔ حقوق اللّٰہ کے  علاوہ حقوقِ انسانی کی پابندی بھی کی جاتی ہے۔ پورا اسلامی معاشرہ عملی طور پر حرم شریف کے  اندر نظر آتا ہے۔ فرض نماز کے  وقت تمام حجاج کرام ایک امام کے  پیچھے  ایک مکبر کی تکبیر پر اپنے  اپنے  امام کے  بتائے  ہوئے  طریقے  کے  مطابق رکوع وسجود کرتے  ہیں۔ کسی کو ٹوکتے  روکتے  نہیں  دیکھا۔ طواف کے  دوران کوئی کسی طرح دعا مانگ رہا ہے،کوئی کسی طرح۔ اکثر زبانی تسبیحات پڑھتے  ہیں۔ کچھ کتابوں  سے  دیکھ کر۔ کوئی عربی میں  کوئی انگریزی میں۔ محرم حضرات کے  سفید پیرہن کے  علاوہ باقی کا لباس اپنی اپنی معاشرت کے  مطابق ہوتا ہے۔ انڈونیشیا، ملائشیا اور ترک بھائیوں  کو باقاعدہ گروپ کی شکل میں  طواف وسعی کرتے  دیکھا ہے۔ باقی کسی طبقہ میں ایسی یگانگت نظر نہیں  آئی۔ کوئی بیت اللّٰہ کی دیوار سے  چمٹ رہا ہے،کوئی رکنِ یمانی کو چوم رہا ہے۔ اور کوئی سادہ لوح مقامِ ابراہیمؑ کو حجرِ اسود سمجھ کر بوسہ دے  رہا ہے۔ اس موقع پر ایک بے  موقع بات یاد آ رہی ہے۔ 
	مدینہ شریف میں  ہمارے  کمرے  کے  ساتھی نے  بتایا کہ مکہ شریف میں  ہماری بلڈنگ کے  ایک ساتھی ہر روز ہمیں  بتاتے  کہ آج ہم نے  اتنی دفعہ بوسہ دیا ہے،آج اتنی دفعہ۔ تین چار روز تک توہم سنتے  رہے۔ والدہ صاحبہ کے  دل میں  حرص پیدا ہوئی کہ ہمیں  ان لوگوں  کی مدد حاصل کرنا چاہئے۔ چنانچہ ایک دن ہم نے  ان سے  کہا کہ آج ہمیں  بھی اپنے  ساتھ لے  چلیں۔ جب مطاف میں  پہنچے  تو اس خاندان کے  بزرگ نے  اپنی ایک خاتون کو  کہا کہ تو میرا پلو پکڑ لے۔ میری والدہ کو کہا کہ آپ میری بیوی کا  پلو پکڑ لیں۔ اس طرح ہم سب نے  ایک دوسرے  کے  پلو پکڑ لئے۔ بڑے  میاں  نے  بسم اللّٰہ پڑھ کر طواف شروع کیا۔ دوسرے  یا تیسرے  چکر میں  جب ہم مقام ابراہیمؑ کے  قریب سے  گذرے  تو انہوں  نے  اس کی طرف اشارہ فرمایا۔ ہمیں  کوئی سمجھ نہیں  آئی۔ چوتھے  چکر میں  مقامِ ابراہیمؑ کے  قریب سے  گذرتے  ہوئے  انہوں  نے  اور ان کے  گھر والوں  نے  جلدی جلدی بوسہ دیا۔ اور ہمیں  بھی چومنے  کا اشارہ فرمایا۔ مگر رش کی وجہ سے  ہم اس سے  آگے  نکل گئے۔ پانچویں  چکر میں  اس مقام پر رش کم تھا۔ رک کر فرمانے  لگے  کہ اب جی بھر کر جتنے  مرضی ہیں  بوسے  لے  لو۔ یہ واقع عرض کرنے  کا مقصد تفنن طبع نہیں  بلکہ یہ بتانا مقصود ہے  کہ اس طرح کے  سادہ لوگوں  پر بھی کسی کو فتویٰ لگاتے  نہیں  دیکھا۔ 
	انفاق فی سبیل اللّٰہ کی مثال بھی دورانِ طواف سامنے  آتی ہے۔ اپاہج لوگ یہاں  بھی خالق کے  نام پر مخلوق سے  مانگتے  نظر آتے  ہیں۔ ایامِ حج کے  علاوہ باقی دنوں  میں  کئی ایک حضرات روزے  سے  ہوتے  ہیں۔ اگر باہمی اخوت و بھائی چارہ کے  حوالے  سے  دیکھیں  تو تمام حاجی ایک گھر کے  افراد معلوم ہوتے  ہیں۔ حرم کے  اندر ایک تو کوئی مسئلہ نظر نہیں  آتا۔ مسئلہ پیدا ہوتا ہے  تو اللّٰہ تعالیٰ فوراً اس کا حل پیدا کر دیتا ہے۔ پھر مناسک و عبادات کی مشغولیت کی وجہ سے  چھوٹا موٹا مسئلہ مسئلہ نہیں  لگتا۔ یہاں  جوش و جذبہ عشق و جنوں  کے  درجہ تک پہنچ جاتا ہے  اور یہاں  کا دکھ بھی سکھ محسوس ہوتا ہے۔ پھر اس عشق و جنوں  کا نقد نفع ملتا ہے  وہ سارے  دکھ بھلا دیتا ہے۔ 

حج مبرور

	ہر آدمی آپ اپنا نقاد اور جج ہوتا ہے۔ اپنے  ظاہر و باطن کا صرف اپنے  آپ کو یا خدا تعالیٰ کو علم ہوتا ہے۔ مجھے  اپنے  درونِ دل کا علم ہے  کہ میں  کتنا پارسا ہوں۔ بزبان کسے 
"پاپی بھریا میں  پھراں  تے  لو کی کہن فقیراے "
(میں  تو گناہوں  سے  لتھڑا ہوں  لیکن لوگ مجھے  فقیر سمجھ رہے  ہیں)
	اس پاپی بدن کے  اندر جو پاپی دل ہے  اس کا مجھے  ادراک ہے۔ مگر یہ بات اب کی ہے۔ جب کی نہیں۔ جب میں  اور میری اہلیہ اس کالے  مجسم نور کے  گرد پروانہ وار گردش کر رہے  تھے  تو آفاقی نور ہمارے  قلوب پہ وار د  ہو رہا تھا۔ ہم بھی اس وقت پاک تھے۔ اندر سے،باہرسے،ہمارا ظاہر بیرونِ کعبہ اور باطن اندرونِ کعبہ تھا۔ بلکہ اندر کعبہ تھا۔ ......  میں  پہلے  گذارش کر چکا ہوں  کہ میری اہلیہ فالج کی مریضہ ہے۔ اس کو سنبھالنا میرے  جیسے  بوڑھے  کے  لئے  خاصہ مشکل ہے۔ خود بیٹھ سکتی ہے  نہ اٹھ سکتی ہے۔ ساتویں  چکر کے  بعد مقامِ ابراہیمؑ کے  نزدیک ہم نے  نفل نیت لئے۔ جب یہ فارغ ہوئیں  تو ایک خاتون جو ڈیوٹی پر مامور تھی آ کر اٹھانے  لگی تو ان سے  کوشش کے  باوجود اٹھا نہ گیا۔ جب میں  نے  ان کا بازو پکڑ کر اٹھانے  کی کوشش کو تو وہ محترمہ بھانپ گئیں۔ انہوں  نے  دوسرابازوپکڑکر میری بیوی کو اٹھایا اور ساتھ ہی بڑے  میٹھے  انداز سے  فرمایا:۔ 
ماماں !حج مبرور
میں  نے  خوشی سے  دل ہی دل میں  کہا۔ حج مبرور۔ حج قبول۔ میں  نے  اپنی محترمہ کو کہا حاجی صاحبہ مبارک ہو۔ آپ کو حج ان شاء اللہ قبول ہو گیا۔ کہ آج اللہ تعالیٰ نے  اپنے  گھر کی خدمتگار کی زبانی حج مبرور کی نوید سنائی ہے۔ 
	اس مستورہ کے  لباس سے  اسلامی پردہ کی بات سامنے  آ گئی ہے۔ میں  نے  ان تمام بیبیوں  کے  چہرے  تو کجا ہاتھ پاؤں  بھی نہیں  دیکھے۔ اور پھر حرم شریف کے  باہر کوئی عربی خاتون نظر آئی تو وہ بھی اسی طرح مستور تھی جس طرح ہمیں  خوش خبری سنانے  والی مستورہ۔ مگر اس کے  برعکس وہ خواتین جو حج کر رہی تھیں  ان کے  چہرے  ننگے  تھے۔ مگر یہ ننگے  ہونے  کے  باوجود عریاں  نہیں  تھے۔ ان چہروں  پر ایک نورانی نقاب تھا جس نے  ان کی عصمت کی حفاظت کر رکھی تھی۔ حرمِ کعبہ میں  تومستورات عام حالات میں  اپنے  محرموں  کے  ساتھ ہوتی ہیں۔ مگر نماز کے  اوقات میں  عورتوں  کے  لئے  علیحدہ علیحدہ جگہیں   ہیں۔ نماز سے  پندرہ بیس منٹ پہلے  ہی صلوٰۃ صلوٰۃ کے  جملے  سے  عورتوں  کو مردوں  سے  علیحدہ علیحدہ کرنے  کی صدا لگائی جاتی ہے۔ اور مسجدِ نبوی میں  تو مردوں  اور عورتوں  کی نماز کے  لئے  بالکل علیحدہ علیحدہ گیٹ اور راستے  بنے  ہوئے  ہیں۔ 

پاکستان پاکستان

	مکہ شریف میں  ہمیں  کوئی زیادہ اجنبیت محسوس نہیں  ہوئی خاص کر مسجدِ حرام میں۔ اس لئے  کہ یہاں  کا صفائی وسقائی کا تقریباً ساراعملہ پاکستانی ہے۔ پھر بازار کی مختلف بولیوں  میں  اردو زبان نمایاں  تھی۔ فٹ پاتھ پہ سٹال لگانے  والے  عشرہ ریال کے  ساتھ دس ریال اور خمسہ ریال کے  ساتھ پانچ ریال کی آوازیں  بھی لگا رہے  تھے۔ ہم خریداری سے  حتی الوسع احتراز کرتے  رہے  لیکن ضرورتاً کچھ خریدنا پڑ جاتا تواردوسے  بخوبی کام جاتا۔ بلکہ حلق کرانے  کے  لئے  تو اردو کی بھی ضرورت نہیں  پڑی۔ اپنی پنجابی سے  کام چل گیا۔ باقی دوکاندار بھی ضرورت کی حد تک اردو سمجھ جاتے  ہیں۔ عربی کی اتنی زیادہ ضرورت نہیں  پڑتی۔ حرم شریف کے  صحن میں  توپاکستانیوں  کا میلہ سالگا ہوتا ہے۔ مختلف ٹولیوں  میں  بیٹھے  ہوتے  ہیں۔ پورے  کے  پورے  گھرانے۔ ان میں  زیادہ تر وہ حجاج کرام ہوتے  ہیں  جن کے  عزیزو اقارب حجازِ مقدس میں  ملازمت یا کاروبار کر رہے  ہیں۔ ان میں  سے  کچھ سرکاری طور پر اور کچھ غیر سرکاری طور پر آئے  ہوئے ہیں۔ ان کے  لئے  تو حرم شریف گویا اپنا گھر ہے۔ جب بھی جائیں  انہیں  بستر لگائے  دیکھیں  گے۔ جب سے  اللّٰہ تعالیٰ نے  روزی کے  وسائل بڑھائے  ہیں۔ حجاج کرام کی تعداد بھی بڑھ گئی ہے۔ یہ ٹھیک ہے  کہ حج میں  بڑی مشقت اور محنت ہے۔ اس لئے  حج جوانی میں  کرنا چاہئے۔ مگر کیا کیا جائے  حج کے  لئے  پیسوں  کی ضرورت ہے  جب بھی ہو جائیں۔ سوبڑھاپے  اور جوانی کی کوئی شرط نہیں۔ صرف قبولیت کی بات ہے۔ جب مولا کو منظور ہوتا ہے  بلا لیتا ہے۔ ہم پاکستانیوں  کے  لئے  اللّٰہ تعالیٰ نے  اب باہر کی روزی کا دروازہ کھولا ہے۔ اس نے  یہ وسیلہ ہمارے  حج کا سبب بنا دیا۔ اور شکر ہے  بجائے  لہو و لعب پر خرچ کرنے  کے  ہماراپیسہ اللّٰہ کے  راستے  میں  خرچ  ہو رہا ہے۔ اور اب تو اللّٰہ کی مہربانی سے  حج کرنا ہماری معاشرت کا حصہ بنتا جا رہا ہے۔ اب تو انڈیا والے  بھی کافی تعداد میں  حج پر آ رہے  ہیں  حالانکہ وہاں  بھی جوانی میں  حج کرنے  کا رواج نہ تھا۔ ہاں  انڈونیشیا اور ملائشیا والوں  میں  جوانی کے  عالم میں  حج کرنے  کی روایت عرصہ سے  چلی آ رہی ہے۔ سنا ہے  کہ حج کرنا  ان کی شادی کی شرائط میں  سے  سمجھا جاتا ہے۔ بڑے  پیارے  لوگ ہیں۔ قرآن پاک سے  عشق رکھتے  ہیں۔ میں  نے  ایک دوساتھیوں  کو قرآن پڑھتے  سنا۔ بہت پیارا تلفظ تھا۔ ان میں  بڑی یگانگت اور ہم رنگی پائی جاتی ہے۔ تقریباً سب کا ایک سالباس ہوتا ہے۔ یہ لوگ اپنے  لباس سے  پہچانے  جاتے  ہیں۔ اس کے  برعکس ہمارا اور انڈیا والوں کا وہی پرانا حال ہے۔ اپنا اپنالباس۔ اپنا اپنا گروپ یا خاندانی قبیلہ۔ اجتماعیت بہت کم نظر آتی ہے۔ ہمارا تو خیر کوئی گروپ یا گروپ لیڈر نہ تھا۔ باقاعدہ تربیت حاصل کرنے  والوں  میں  بھی بہت کم اجتماعیت نظر آتی ہے۔ معلوم ہوتا ہے  ہماری طرح انڈیا میں  بھی قومیت کا تصور کمزور ہے۔ ہماری رہائش باب الفھد کی طرف تھی۔ ادھرپاکستان، انڈیا اور انڈونیشیا ملائشیا کے  حجاج کرام رہائش پذیر تھے۔ ہمارا رخ باب الفہد سے  باب المروۃ تک کا تھا۔ ترک بھائیوں  کی رہائش گاہیں  اس طرف معلوم ہوتی تھیں  کہ وہ ادھر سے  ہی آتے  جاتے  تھے۔ مسجد حرام کی شکل ایک مستطیل کی سی ہے  یہ رخ جس کا ذکر  ہو رہا ہے  یہ لمبائی کا رخ ہے  ہمیں  صرف اس رخ کی زیارت ہوئی بقیہ تین رخوں  کا نظارہ نہیں  ہوا۔ ہاں  ایک روز مسجد عائشہ سے  واپسی پر اس رخ کی پچھلی سمت کے  دروازے  سے  داخل ہوئے  تھے  مگر ادھر کی تفصیلات معلوم نہیں۔ 

مجھے  معلوم نہیں 

	حج سے  واپسی پر ایک دوست ملے۔ وہ گذشتہ سال اس سعادت سے  فیض یاب ہو چکے  تھے۔ باہمی تبادلہ خیال کے  دوران تعمیر مسجد کا ذکر آ گیا۔ وہ تفصیلات بتانے  لگے۔ کبھی کبھی مجھ سے  استفسار کرتے  تو میں  خاموش زبان سے  یوں گویا ہوتا
مَا قصۂ سکندر و دارا نہ خواندہ ایم
از ما بجز حکایتِ مہرو وفا مپرس
(ہم نے  شاہ سکندر یا دارا کے  قصے  نہیں  پڑھے۔ ہم سے  سوائے  مہر و محبت کی حکایتوں  کے  اور کچھ نہ پوچھئے)
	حقیقت ہے  کہ مجھے  فنِ تعمیر کا علم نہیں۔ اور پھر مناسک اور اہلیہ کی نگہداشت کی ذمہ داری نے  سیروتفریح کی اجازت نہیں  دی۔ میں  حرم شریف کے  دروازے  گن سکا نہ ستونوں  کی قطاروں  کی جیومیٹری معلوم کر سکا۔ حرم شریف میں  میرا کام طواف کرنا،سعی کرنا، یا ٹکٹکی باندھ کر زیارتِ کعبہ میں  محو رہنا تھا۔ آنکھیں  اگر بھٹک جاتیں  تو چھت سے  لگے  ہوئے  فانوسوں  میں  الجھ جاتیں یاکسی کبوتر یا چڑیا کے  مشاہدے  میں  گم ہو جاتیں جو کہ مسجد شریف کی چھت کے  اندر گھونسلہ بنائے  ہوئے  ہیں۔ اس منظر سے  ایک واقع یاد آ رہا ہے۔ 
	ایک صحابیؓ  کا باغ بہت گھنا تھا، پھل دار تھا۔ ایک روز محوِ  نماز تھے۔ ایک چڑیا اُڑتی ہوئی آئی،توجہ اس کی طرف لگ گئی،باغ اتنا گھنا تھا کہ چڑیا کو نکلنے  کا راستہ نہ مل سکا۔ صحابیؓ نماز کے  بجائے  اس الجھاؤ میں  الجھ گئے۔ اب یاد نہیں  رہا کہ کتنی رکعت ادا ہوئیں  اور کتنی چھوٹ گئیں۔ معاً نماز کا خیال آیا۔ اس بھول کے  کفارہ میں  آ پ نے  سارا باغ اللّٰہ کی راہ میں  صدقہ کر دیا...... ہم کیا بتائیں  ہماری نگاہیں  کہاں  کہاں  الجھی ہوئی ہیں؟

جب اور اب

	اس وقت میں  اپنی بیٹھک میں  تکیہ لگائے  بیٹھا ہوں۔ سامنے  دیوار پر مسجدِ نبویؐ کی قد آدم تصویر آویزاں  ہے۔ مسجدالحرام اور مسجدِ نبوی دونوں  کا اندرونی منظر میرے  پردہ تصور پر روشن ہے۔ میں  ستونوں، روشنیوں، فانوسوں  اور منبر و محراب کی زیبائش میں  الجھا ہوا ہوں۔ یہ تصویر بھی بڑی دلپذیر ہے  مگر مجھے  حضورﷺ کے  دستِ مبارک سے  تعمیر ہونے  والی مسجد کی زیارت کی تمنا ہے۔ وہی مسجد جو سادہ پتھروں  سے  تعمیر کردہ سادہ ساکوٹھا تھا۔ جس کی چھت کھجور کی ٹہنیوں  سے  تعمیر کی گئی تھی۔ اور جس روز حضورﷺ کو شبِ قدر کی زیارت کرائی گئی تھی اس روز اس کی چھت اتنی ٹپک رہی تھی کہ اندر کیچڑ ہو گیا تھا۔ حضورﷺ نے  اس کیچڑ والی زمین پر سجدہ مبارک فرمایا تھا۔ روشنی کا حال یہ تھا کہ نوسال بعد مسجد میں  چراغ جلایا گیا۔ پہلے  کھجور کی ٹہنیاں  جلا کر روشنی کی جاتی تھی...... میں  الجھا ہوا ہوں  جب اور اَب میں۔ جب اور اب میں  کتنا فرق ہے۔ وقت کے  ساتھ ساتھ ضرورتیں  تبدیل ہوتی ہیں۔ انہیں  پورا کرنے  کے  وسائل بھی اپنانا پڑتے  ہیں۔ مگر ضرورت،وقت اور وسائل میں  کیاتناسب ہونا چاہئے۔ اہلِ علم کو اس کا علم ہو گا۔ میں  توسنت،شریعت اور نظریۂ ضرورت جیسی اصطلاحوں  میں  الجھا ہوا ہوں۔ علامہ اقبال نے  کہا تھا کہ:۔ 
میں  ناخوش و بیزار ہوں  مرمر کی سلوں  سے 
میرے  لئے  مٹی کا حرم اور بنا دو
	آج کے  سہولت پسند مسلمان کے  لئے  موسم کی شدت سہارنا اور سفر کی مشقت برداشت کرنا بہت مشکل ہے۔ شائد اسی لئے  اللّٰہ تعالیٰ نے  خادمین حرمین شریفین کے  لئے  زمین کے  خزانوں  کے  منہ کھول دئیے  ہیں،اور وہ حجاج کرام کی سہولت کے  لئے  اللّٰہ کے  دئیے  ہوئے  وسائل کو فراخ دلی سے  استعمال کر رہے  ہیں۔ تو نظریہ ضرورت کے  تحت آج کا منظر مجھے  برحق معلوم ہوتا ہے۔ 
	حرم شریف کے  صحن کاسنگِ مرمر گرمیوں  میں  بھی سکوں  بخش ہوتا ہے۔ ائر کنڈیشن سسٹم کا کیا کہنا۔ اندر بھی گرمی سردی کی شدت کا احساس نہیں  ہوتا۔ جا بجا زم زم کی سبیلیں  لگی ہوئی ہیں۔ ٹھنڈے  اور عام زم زم کے  کولر ہر وقت بھرے  رہتے  ہیں۔ صفائی کا انتظام اتنا اچھا ہے  کہ گرد کا ذرہ تک نظر نہیں  آتا۔ ہر وقت صفائی کا عملہ مصروف کار رہتا ہے۔ صفائی کرنے  والی موٹر نما مشینوں  کا نام کاپٹر ہے۔ میں  انہیں  حرم کا  کبوتر کہتا ہوں۔ ہاں  تو حرم شریف کے  صحن سے  ملحقہ جنگلے  کے  باہر کبوتروں  کو دانہ ڈالنے  کی جگہیں  بنی ہوتی ہیں۔ ان جگہوں  پر دانہ فروخت کرنے  والے  مرد عورتیں  ایک ایک یا پانچ پانچ ریال کے  دانوں  کے  پیکٹ بیچ رہے  ہوتے  ہیں۔ عقیدت مند ان کبوتروں  سے  بڑی محبت کرتے  ہیں۔ ہم جب بھی حرم شریف جاتے  ان کے  آگے  دانہ ڈال کر تھوڑی دیر کے  لئے  ان کی زیارت سے  دل خوش کر لیتے۔ دل میں  یہی تصور ہے  کہ یہ کبوتر حضورﷺ کے  زمانے  کے  کبوتروں  کی اولاد ہیں۔ پرندوں کے  حوالے  سے  اس وقت کعبۃ اللّٰہ کے  اردگرد طواف کرتے  ہوئے  ابابیل بھی میرے  تصور میں  دکھائی دے  رہے  ہیں۔ میں  سوچ رہا ہوں  اللّٰہ تعالیٰ نے  ہر دور کے  ابرہہ سے  اپنے  گھر کی حفاظت کے  لئے  چھوٹے  چھوٹے  پرندوں  کی فوج ہر وقت مستعد رکھی ہوئی ہے۔ اسے  مسجدِ حرام کے  گرد اونچی اونچی عمارتوں  کے  حصار اور بادشاہوں  کے  انتظامات کی ضرورت نہیں۔ اس نے  مچھروں  سے  نمرود کی فوج کو مروایا،فرعون کوسمندرمیں  ڈبویا،عاد و ثمود کو برباد کیا،کسی اسلحے  سے  نہیں، ظاہری وسیلہ سے  نہیں، اپنے  حکم سے۔ سو وہ آج بھی اپنے  گھر کی حفاظت کر رہا ہے۔ ہمیں  اس کے  گھر کی نہیں  اپنے  آپ کی فکر کرنی چاہئے  کہ ہم نے  رب کو رب نہیں  بلکہ سبب کو رب بنا رکھا ہے۔ اللّٰہ معاف کرے۔ 

بیرونِ حرم

	 اندرونِ حرم تو حاجی پکا ٹھکا مومن ہوتا ہے۔ مگر حرم سے  نکلتے  ہی بازار کی بھیڑ میں  گم ہو جاتا ہے۔ حرم سے  نکلتے  ہی آنکھوں  میں  چمکتے  نور نظارے  گل ہو جاتے  ہیں۔ روشن دل بجھ جاتا ہے۔ بے  نور ہو جاتا ہے۔ حضورﷺ کے  فرمان کا مفہوم ہے  کہ سب سے  بہتر جگہ مسجد اور سب سے  بری جگہ بازار ہے۔ اس کا تجربہ حرم شریف سے  باہر نکلتے  ہی محسوس ہونے  لگتا ہے۔ تبلیغ والے  کہتے  ہیں  نظروں  کی حفاظت کرنا بہت ضروری ہے۔ اس لئے  کہ نظریں  شیطان کے  تیروں  میں  سے  ایک تیر ہے۔ نظر جس منظر پر پڑتی ہے  اس کا عکس لے  لیتی ہے۔ اس کے  علاوہ لایعنی سے  بچنے  کی بھی تاکید کی جاتی ہے۔ بلکہ ایک صاحب نے  تو یہاں  تک فرمایا ہے کہ لایعنی سے  اس طرح بچنا ہے  جیسے  سانپ اور بچھو سے۔ ان دونوں  باتوں  کا احساس بڑی شدت سے  ہوا۔ حرم شریف سے  نکلتے  ہی وہ سب نظارے  نگاہوں  کو گمراہ کرنے  کے  منتظر ہوتے  ہیں  جن سے  بچنے  کی تاکید کی جاتی ہے۔ معیشت و معاشرت اور دنیوی زیب و زینت قدم قدم پر دیدہ و دل کو دیوانہ کرنے  کی منتظر ہوتی ہے۔ وہ دنیا جس سے  اللّٰہ کا پیارا نبیؐ اور آپ کے  پیارے  پناہ مانگتے  تھے  وہ پوری آب و تاب سے  بیرونِ حرم قدم قدم ورغلانے  کو استادہ ہے۔ فلک بوس عمارتیں،عمارتوں  کے  اندر کی زیبائش و آرائش اور سامانِ سہولت،اس کے  علاوہ بازار کی چمک دمک،دوکانوں  میں  سجایئ زیوروں،کپڑوں،برتنوں  کے  علاوہ بچوں  کے  بہلاوے  کا ساراساماں، ایمان بگاڑنے  کا سامان ہے۔ یہ ٹھیک ہے  ضرورت کی چیزوں  کی خرید و فروخت نا جائز نہیں۔ مگر خرید و فروخت میں  الجھنا توسراسرلایعنی میں  الجھنا ہے۔ آدمی اصل مقصد سے  ہٹ کر فضولیات میں  وقت ضائع کر دیتا ہے۔ شیطان نے  اگرچہ اس مرکزِ اسلام کو پوری طرح ملوث کرنے  کی کوشش کی ہے۔ مگر یہ پوری طرح کامیاب نہیں  ہو سکا۔ میں  نے  مستورات کو سودا بیچتے  تو دیکھا ہے  مگر کسی اشتہار پر کسی خاتون کی تصویر نہیں  دیکھی۔ سودابیچنے  والی اکثر مستورات بھی پردے  میں  ہوتی ہیں۔ ہاں  کچھ غیر ملکی عورتیں  بے  برقعہ بھی گھڑیاں  وغیرہ بیچتی نظر آ جاتی ہیں۔ 
	اکثر حجاج کرام زیادہ وقت حرم شریف میں  گذارتے  ہیں۔ وہاں  وہ شیطان کی شیطنت سے  محفوظ رہتے  ہیں  مگر جب بازار یا بلڈنگ میں  آتے  ہیں  تو لایعنی اور لغویات میں  مصروف ہو جاتے  ہیں۔ وہی سیاسی، غیرسیاسی باتیں،مذہبی مباحثے،فضول ٹیلیفون،گپ شپ وغیرہ ایسے  مشاغل ہیں  جو بلڈنگوں  میں  موضوع گفتگو ہوتے  ہیں۔ اور آج کل اکثر گفتگوؤں  میں  کام کی باتیں  کم اور نکمی باتیں  زیادہ ہوتی ہیں۔ لایعنی ہی لایعنی۔ بلکہ غور کیا جائے  تو لایعنی سے  بھی بڑا گناہ کیا جاتا ہے۔ شائد ہی کوئی موضوع ہو جس میں  کسی فرد یا فرقے  کی غیبت نہ ہو۔ اور ہمیں  یہ خبر ہی نہیں  کہ غیبت کتنا بڑا گناہ ہے۔ اس کے  متعلق تو فرمایا گیا ہے  کہ غیبت کرنا گویا مردہ بھائی کا گوشت کھانا ہے۔ ایک دفعہ کچھ صحابہ ؓ سے  حضورﷺ نے  فرمایا کہ خلال کر لو۔ انہوں  نے  عرض کیا حضورﷺ ہم نے  گوشت تو کھایا نہیں  خلال کیوں  کریں۔ فرمایا ابھی تم اپنے  بھائی کی غیبت کر رہے  تھے۔ ایک حدیث کا مفہوم ہے  کہ قبر کا عذاب پیشاب کی بے  احتیاطی اور غیبت کی وجہ سے  ہوتا ہے۔ ... مگر غیبت ایسامیٹھا گناہ ہے  کہ ہرکس وناکس اس زہر کو چکھے  بغیر نہیں  رہتا۔ دوست احباب، عزیز و اقارب سب ہماری تنقید کا موضوع ہوتے  ہیں۔ سیاسی رقیب تو ہماری تنقید کا ہدفِ خاص ہوتے  ہیں۔ 
	اس دورِ پُر آشوب میں  بیٹا باپ سے  باپ بیٹے  سے  نالاں  ہے۔ دوست کا دوستپر اعتماد نہیں۔ گورنمنٹ عوام سے  اور عوام گورنمنٹ سے  نالاں  ہیں۔ ہماری بلڈنگ میں  ایک صاحب دمہ کے  مریض تھے۔ دو دن اپنوں  سے  بچھڑ گئے۔ بیماری زیادہ ہو گئی۔ اسی بیماری کی حالت میں  خالقِ حقیقی سے  جا ملے۔ ہم سب کو بہت افسوس ہوا۔ لوگوں  کے  کہنے  کے  مطابق پاکستان کمیشن کے  عملہ نے  بڑی بے  حسی کا مظاہرہ کیا۔ اس مرحوم کے  علاج معالجے  کی طرف خاص توجہ نہیں  دی گئی وغیرہ وغیرہ۔ ایک روز میں  بھی اس شغل میں  مصروف تھا کہ معاً خیال آیا کہ بجائے  پاکستان کی گورنمنٹ یا  ڈاکٹروں  کی غیبت کرنے  کے  بجائے کیوں  نہ ان کے  لئے  دعا کریں۔ یا اللّٰہ ہماری ساری قوم کو گورنمنٹ سمیت اپنی اپنی ذمہ داریاں  کماحقہ ادا کرنے  کی توفیق دے۔ 

عربی روایت کی جھلک

تاریخ میں  آتا ہے  کہ جب حضرت رِبْعِی رستم سے  مذاکرات کر کے  واپس ہوئے  تورستم نے  اپنی قوم کے  سرداروں  کو اکٹھا کر کے  کہا ’’کیا تم نے  اس آدمی کی گفتگو سے  زیادہ وزنی اور دو ٹوک بات دیکھی ہے ؟‘‘انہوں  نے  کہا اللّٰہ کی پناہ اس بات سے  کہ تم اس کی کسی چیز کی طرف مائل ہو جاؤ اور اپنا دین چھوڑ کر (نعوذ باللہ)اس کتے  کے  دین کو اختیار کر لو۔ کیا تم نے  اس کے  کپڑے  دیکھے۔ رستم نے  کہا تمہارا ناس ہو کپڑوں  کو مت دیکھو۔ سمجھداری اور طرزِگفتگواورسیرت کو دیکھو۔ عرب کے  لوگ کپڑے  اور کھانے  کا خاص اہتمام نہیں  کرتے  ہیں۔ ہاں  خاندانی صفات کی بڑی حفاظت کرتے  ہیں۔  (حیاۃ  الصحابہؓ،حصہ اول)
	رستم کا نام نہ صرف تاریخ بلکہ ادب میں  بھی بہت معروف ہے۔ بہادری کے  حوالے  سے  یہ نام علامت واستعارہ کے  طور پر عام استعمال ہوتا ہے۔ مذکورہ حوالہ سے  اس کی فراست و دانش کا اندازہ بھی ہوتا ہے۔ صحابہ ؓ کے  مذاکرات سے  اس کا دل اسلام کی طرف مائل ہو گیا تھا۔ مگر سرداروں  اور اہلکاروں  کی مخالفت اور اپنی سرداری کے  غرور کی وجہ سے  مسلمان نہیں  ہوا اور اس کفر کی حالت میں  مسلمانوں  سے  لڑتے  ہوئے  واصلِ جہنم ہوا۔ یہ شخص جنگی مخالف ہونے  کے  باوجود یہ کہہ رہا ہے  کہ عرب خاندانی صفات کی بڑی حفاظت کرتے  ہیں۔ یہ بات کافی حد تک مبنی بہ صداقت ہے۔ گو آجکل پورا عالم اسلام مغربی تہذیب کی یلغار کی زد میں  ہے۔ بلکہ عملی طور پر پوری دنیا میں  یہود و نصاریٰ کا ورلڈ آرڈر یا عالمی نظام نافذ ہو چکا ہے۔ مگر اس کے  باوجود مکہ، مدینہ میں  کہیں  کہیں  عربی معاشرت کی طلب اور جھلک نظر آ جاتی ہے۔ عربی لباس آج بھی عربوں  کو محبوب ہے۔ ان کی دیکھا دیکھی غیرملکی حاجی بھی لمبا ساچوغہ پہننے  میں  بڑی مسرت محسوس کرتے  ہیں۔ 
	ہمارے  ایک پیارے  بھی اس سال حج کی سعادت سے  بہرہ ور ہوئے  ہیں۔ آپ کا مزاج قدرے  جدت پسند ہے۔ وہ کہتے  ہیں  کہ مجھے  عربی لباس سے  عجیب قسم کی چڑ تھی۔ میں  نے  خواب میں  حضورﷺ پُر نور کی اقتداء میں  نماز پڑھنے  والوں  کو عربی لباس میں  ملبوس دیکھا تو اٹھتے  ہی توبہ کی اور بازار جا کر عربی چوغہ خریدا اور اسے  زیبِ تن کر کے  اللّٰہ سے  توبہ کی۔ یہ چوغہ میرے  لئے  خاص سوغات کی حیثیت رکھتا ہے  کہ یہ جس خواب کی دین ہے  وہ خواب میری سوچوں  کا سرمایہ ہے۔ ہماری عرب حضرات سے  کوئی خاص ملاقات نہیں  ہوئی۔ حرم شریف کے  مقامی خدمتگار یا بنک کے  اہلکار دیکھنے  کا موقع ملا ہے۔ ماشاء اللّٰہ یہ سارے  کے  سارے  اپنا محبوب لباس زیبِ تن کئے  ہوئے  تھے۔ 
	عربوں  کی سخاوت کے  بڑے  قصے  سنے  تھے۔ اس سفرِ مبارک میں  اس حقیقت کی بھی تائید ہوئی۔ مکہ، مدینہ دونوں  شہروں  بلکہ شہروں  کی شاہراہوں  پر جا بجا عرب سخیوں  کی سبیلیں  حجاج کرام کے  ا کرام کے  لئے  لگی ہوئی تھیں۔ ایک دن ہم عمرہ کا احرام باندھ کر باہر نکلے  تو ایک دوکاندار نے  دو دودھ کے  پیکٹ ہماری طرف بڑھائے۔ خیال ہوا شائد یہ صاحب دودھ بیچنا چاہتے  ہیں  مگر انہوں  نے  پیکٹ پکڑتے  ہوئے  کہا" سبیل" میرے  دل میں  خیال آیا کہ ہم کوئی مانگت فقیر ہیں۔ معاً خیال آیا۔ یہ تو مکہ کی خیرات ہے۔ اللّٰہ کے  گھر کا  بھنڈارہ ہے۔ میں  نے  بسم اللّٰہ کر کے  دونوں  پیکٹ لے  لئے۔ اسی طرح کئی لوگ گاڑیوں پر سامانِ ا کرام لادے  چوکوں  پر کھڑے  ہوتے  ہیں۔ بڑے  بڑے  ڈبوں  میں  بسکٹ دودھ پانی وغیرہ پیک کر کے  حاجیوں  کو ہدیہ کرتے  ہیں۔ پھر خادم حرمین شریفین کی گاڑیاں  تو عرفات کے  علاوہ مکہ، مدینہ کے  چورا ہوں  پر لنگر تقسیم کرنے  کے  لئے  حاجیوں  کی منتظر رہتی ہیں۔ 
	 عرب جو بات کر دیں  وہ آخری بات ہوتی ہے۔ نماز سے  چند منٹ قبل عورتوں  کو علیحدہ کرنے  کے  لئے  کچھ اصحاب ہاتھ میں  مصلے  لئے  کھڑے  ہوتے  ہیں۔ یہ حضرات کوئی عذر نہیں  سنتے  بس ایک ہی صدا ہوتی ہے  صلوٰۃ صلوٰۃ۔ عورتوں  کو عورتوں  کی مخصوص جگہ کی طرف اشارہ کر کے  بھیج دیتے  ہیں۔ مردوں  کے  ساتھ ملنے  نہیں  دیتے۔ عرب معاشرت میں  ابھی پردے  کی روایت زندہ نظر آتی ہے۔ بچیاں  تک مکمل پردے  میں  ہوتی ہیں۔ مسجدِ نبویؐ میں  تو پردے  کا بہت سخت اہتمام ہے۔ یہاں  عرب خواتین کو مکمل پردے  میں  ملبوس دیکھا ہے۔ یہ مستورات بچوں  سمیت نماز کے  لئے  مسجدتک آتی ہیں۔ مرد باہر کھڑے  رہ جاتے  ہیں  اور یہ بچوں  سمیت اندر نماز سے  فارغ ہو کر اسی طرح باپردہ اپنے  اپنے  محرموں  کے  ساتھ واپس ہو جاتی ہیں۔ 
	حقیقت میں  تو دیہات معاشرت کے  عکاس ہوتے  ہیں۔ ہمیں  دیہات جانے  کا موقع نہیں  ملا۔ دل میں  تمنا ہے  کہ اللّٰہ پھر اپنے  گھر اور نبیؐ کے  در کی زیارت کرائے  اور حضورﷺ پر نور اور آپؐ کے  صحابہ ؓ کی معاشرت کی جھلک دیکھنے  کے  لئے  مکہ،مدینہ کے  مضافات کی زیارت بھی کرا دے۔ 

نفلی عمرہ

	ایامِ حج میں  حجاج کرام کو مناسکِ حج کے  علاوہ کسی اور طرف متوجہ ہونے  کی فرصت نہیں  ملتی۔ اس لئے  ہمیں  مکہ معظمہ کے  مقاماتِ مقدسہ کی زیارت کا موقع نہیں  ملا۔ ہمارا ارادہ حجِ تمتع کا تھا۔ اس حج میں  عمرہ کے  بعد احرام کھولنے  کی سہولت ہوتی ہے۔ حج کا احرام باندھنے  تک آدمی احرام کی پابندیوں  سے  آزاد ہو جاتا ہے۔ قدرے  فراغت ہوتی ہے۔ اس فراغت میں  زیارت وغیرہ کی جا سکتی ہیں۔ مگر ہمارے  لئے  فراغت صرف ایک دو روز کی تھی۔ 
	مناسکِ حج سے  فراغت کے  بعد اہلیہ کی طبیعت کچھ سنبھل چکی تھی اور میری تھکن بھی ختم ہو چکی تھی۔ حجاج کرام بڑے  جوش و جذبہ سے  عمرے  اور طواف کر رہے  تھے۔ جوان اور با ہمت حضرات دن میں  کئی کئی طواف اور عمرے  کرتے۔ بعض پانچوں  نمازیں  حرم شریف میں  ادا کرتے۔ ہم بھی دیکھا دیکھی زیادہ وقت حرم شریف میں  گذارنے  کی کوشش کرتے۔ مگر بشری تقاضا جات کی وجہ سے  ہم زیادہ دیر حرم شریف میں  نہیں  رہ سکتے  تھے۔ بوڑھے  آدمی کے  لئے  رفع حاجت بہت بڑا مسئلہ ہوتا ہے۔ پیشاب زیادہ دیر روکنا مشکل ہوتا ہے۔ اور ٹائیلٹ حرم شریف کے  باہر ہیں۔ وہاں  تک جاتے  جاتے  کافی وقت لگ جاتا ہے۔ پھر ہمیں  متبادل جگہوں  کا بھی علم نہیں تھا۔ اس لئے  ہم بمشکل ظہر سے  عصر یا مغرب سے  عشاء تک حرم شریف میں  مقیم رہتے۔ الحمد للّٰہ کسی روز فجر کی نماز بھی حرم شریف میں  نصیب ہو جاتی تھی۔ اس کے  علاوہ اللّٰہ تعالیٰ کے  فضل سے  چار عمرے  بھی کئے۔ ان عمروں  کے  دوران مکہ شریف کے  بازاروں  اور شاہراہوں  کی زیارت نصیب ہوئی۔ 
	نفلی عمرہ کے  لئے  مسجدِ عائشہؓ (مسجدِ تنعیم)سے  احرام باندھ کر طوافِ کعبہ اور سعی کے  بعد حلق یا قصر کرانا ہوتا ہے۔ ہم دونوں  میاں  بیوی نے  اپنی رہائش گاہ سے  غسل وغیرہ کر کے  احرام باندھ لیا۔ ہماری رہائش گاہ بیت عائشہ بنتِ سعد بن ابی وقاص والے  چوک سے  ملحقہ گلی میں  واقع تھی۔ بیت عائشہ سے  ملحقہ مسجد سے  سیدھی سڑک چوک شارع کعبہ کو جاتی ہے۔ ہم اپنی بلڈنگ سے  نکل کر چوک پر پہنچے  تو ایک صاحب نے  ہمیں  دو ڈبے  دودھ کے  ہدیہ کئے۔ چوک کے  قریب بسوں  ویگنوں  کا سٹاپ ہے۔ ویگنوں  والے  مسجدِ عائشہؓ کی آواز لگا رہے  تھے۔ دو دو ریال کرایہ تھا۔ یہاں  سے  مسجدِ عائشہ چند کلومیٹر کے  فاصلے  پر ہے۔ رستے  میں  شارع مدینہ اور جدہ کے  بورڈ نظر آئے۔ شارع مدینہ کو دیکھ کر مدینہ شریف کے  تصور سے  دل میں  مسرت کی لہر دوڑنے  لگی۔ مکہ شریف کی سڑکیں  صاف و شفاف اور وسیع ہیں۔ دو رویہ سڑکوں  کے  درمیان کہیں  کہیں  کھجور وغیرہ کے  درخت بھی نظر آ جاتے  ہیں۔ سڑکوں  کے  دونوں  جانب اونچی اونچی عمارتیں  اور عمارتوں  کی اوٹ سے  جھانکتی فلک بوس پہاڑیاں  دعوت نظارہ دے  رہی ہیں۔ 
	مسجدِ عائشہؓ پہنچے  تو مسجد کے  باہر ایک صاحب کیمرہ پکڑے  حجاج کرام کو تصویر بنوانے  کی دعوت دے  رہے  تھے۔ ہمارے  دل میں  بھی ایک یادگاری تصویر بنوانے  کا خیال آیا مگر شرعی ممانعت کی وجہ سے  ہم اپنا شوق پورا نہ کر سکے۔ اب خیال آتا ہے  کہ وہاں  تو بہت سارے  علماء بھی ہوتے  ہیں۔ اگر واقعی فوٹو حرام ہو تو کم از کم حدود حرم میں  تو فوٹو گرافی کی ممانعت ہونا چاہئے۔ مگر وہاں  کوئی ممانعت نہیں۔ میں  نے  عام فوٹوگرافی اس کے  علاوہ مکہ میں  کسی اور جگہ نہیں  دیکھی۔ ہاں  مسجدِ نبویؐ کے  صحن میں  ایک صاحب کو مسجد کی فوٹو لیتے  مشاہدہ کیا ہے۔ فوٹو کی حلت و حرمت کا مسئلہ تو علماء کا موضوع ہے۔ عامۃ الناس نے  تو علماء کی ماننی ہے۔ ہمارے  ایک دوست کہتے  ہیں  کہ ایک کیمرہ مین نے  اسی مسجد میں  زبردستی میری تصویر اتاری مگر جیسے  ہی اس نے  ٹریگر دبایا  میرا دل نورانیت سے  خالی ہو گیا۔ خیر یہ تو اپنے  اپنے  ایمان کی بات ہے۔ حج تو ایک اجتماعی عمل ہے۔ اور مسجدِ عائشہؓ میں  بھی اجتماعیت نظر آتی ہے۔ ہم نے  مسجد میں  پہنچ کر دو نفل تحیۃ المسجد اور دو نفل احرام و عمرہ کے  ادا کئے۔ یہاں  بھی ایک چھوٹا سا بازار ہے۔ ضروریات کی تمام چیزیں  یہاں  دستیاب ہیں۔ غسل اور وضو استنجا کے  لئے  عورتوں  اور مردوں  کے  علیحدہ علیحدہ حمام موجود ہیں۔ مسجد کے  باہر حرم شریف جانے  کے  لئے  ہر وقت سواریاں  موجود رہتی ہیں۔ 
	مسجد سے  باہر نکلے  تو حرم!حرم!کی صدائیں  بلند  ہو رہی تھیں۔ یہ کوئی اجنبی منظر نہیں۔ پاکستانی اڈوں  کی طرح ہر گاڑی والا اس کوشش میں  ہوتا ہے  کہ پہلے  میری گاڑی بھر جائے۔ اگرچہ تمام ڈرائیوروں  نے  عربی لباس زیبِ تن کیا ہوتا ہے۔ مگر ان میں  سے  کئی ایک پاکستانی ہوتے  ہیں۔ اگر پاکستانی نہیں  تو کم از کم اردو سمجھنے  والے  ہوتے  ہیں۔ زبان کا مسئلہ پیدا نہیں  ہوتا۔ اس مسجد کا نام مسجدِ تنعیم بھی ہے۔ یہ حدودِ حرم کی سرحد پر ہے۔ سڑک پر حدودِ حرم کا بورڈ لگا ہوا ہے۔ یہاں  سے  حرم تک واپسی کا کرایہ بھی دو دو ریال ہے۔ گاڑی میں  سوار ہوئے  تو حجاج کرام نے  تلبیہ کی تلاوت شروع کر دی۔ تین بار تلبیہ کے  الفاظ دہرانا تو ضروری ہوتا ہے۔ حج کے  دنوں  میں  تو سب سے  بڑا وظیفہ یہی ہوتا ہے۔ مگر عمرہ میں  لوگ عام طور پر سنت پوری کرنے  کی ہی کوشش کرتے  ہیں۔ عمرہ میں  حج جیسا جوش و جذبہ دیکھنے  میں  نہیں  آتا۔ لوگ تھکے  تھکے  سے  لگتے  ہیں۔ حرم شریف پہنچ کر، طواف و سعی سے  فارغ ہو کر ڈیرے  کی طرف روانہ ہوئے  تو صحن حرم میں  دو تین بھائیوں  نے  ٹنڈ کرنے  کی دعوت دی۔ مگر سابقہ تجربہ کی بنا پر ہم معذرت ہی کرتے  رہے۔ پہلے  عمرہ کے  وقت کرنسی کی ویلیو کا احساس نہیں  تھا۔ جب سعی سے  فارغ ہو کر مروۃ سے  ملحقہ سیلون میں  گیا تو انہوں  نے  حلق کرنے  کے  دس ریال مانگے۔ میں  نے  بخوشی دے  دئیے۔ بعد میں  حساب کیا تو یہ پاکستانی ایک سو ساٹھ روپے  بنتے  تھے۔ سو آئندہ کے  لئے  اس فضول خرچی سے  توبہ کر لی۔ سیفٹی، بلیڈ،قینچی اپنے  پاس تھی سو ہم نے  اپنی مدد آپ کے  تحت حلق و قصر کا فریضہ خود ادا کر لیا کرتے  تھے۔ 

اپنی مدد آپ

	بیمار آدمی کا نہ صرف بدن بلکہ اس کا مزاج بھی بیمار ہوتا ہے۔ جو چیز صحت مند کو مرغوب ہوتی ہے  بعض مریضوں  کو وہ ناپسند ہوتی ہے۔ یہی معاملہ ہمارے  ساتھ تھا۔ ہماری بلڈنگ میں  ہمارا کوئی مشترکہ سلسلہ تو تھا نہیں۔ سب کے  کھانے  پینے  کا انفرادی انتظام تھا۔ ہماری بلڈنگ کے  قریب ایک سادہ سا ہوٹل تھا۔ بوقت ضرورت  حاجی صاحبان وہاں  جا کر کھانا کھا آتے  یا لے  آتے  اور دوچار ساتھی مل کر کھا لیتے۔ ہوٹل کا عملہ اور مالک لاہوری تھے۔ سالن روٹی پاکستانی نوعیت کا ہوتا۔ مگر اس میں  کچھ مقامی رنگ بھی ہوتا۔ دال سبزی وغیرہ روٹی سمیت چار ریال کی دیتے۔ سالن میں  تیل کی تری ضرورت سے  زیادہ ہوتی۔ روٹی کا سائز اتنا بڑا کہ دو نوجوانوں  کو تین روٹیاں  کفایت کر جاتیں۔ روٹی کا سائز بڑا مگر کوالٹی پاکستانی۔ باریک آٹے  کی میدے  کی طرح، اگر ٹھنڈی ہو جائے  تو ہمارے  جیسے  بے  دانت بوڑھے  کے  لئے  اس کا چبانا یا نگلنا مشکل ہو۔ ہم دو روز مجبوراً ہوٹل کا کھانا کھاتے  رہے۔ ہماری اہلیہ کی عجیب عادت ہے  ہر چیز کو کھانے  سے  پہلے  سونگھنا اور چکھنا ضروری سمجھتی ہیں۔ ہوٹل والے  سالن یا چاول وغیرہ پلاسٹک کے  ڈبوں  میں  پیک کر کے  دیتے  ہیں۔ ڈبہ کھولتے  ہی انہیں  ابکائی ہونے  لگتی۔ چند دن وہ پیٹ بھر کر کھانا نہیں  کھا سکیں۔ میں  نے  بسکٹ،بند،ڈبل روٹی کھلانے  کی کوشش کی تو اس نے  کھانے  سے  انکار کر دیا۔ گھر میں  بھی وہ یہ چیزیں  نہیں  کھاتیں۔ گھر تو خیر بچے  انہیں  سنبھالتے  تھے۔ مجھے  کوئی  پروا نہیں  تھی۔ اب پردیس میں  یہ بوڑھی بچی میرے  لئے  بہت بڑا مسئلہ بنی ہوئی تھی۔ بڑی سوچ بچار کے  بعد ایک ہی حل سوجھا کہ خود کھانا پکانے  کا انتظام کرتے  ہیں۔ بلڈنگ میں  گیس کا چولہا موجود تھا۔ صرف چند برتنوں  کی ضرورت تھی۔ میں  نے  چوکیدار سے  مشورہ کیا۔ اس نے  پینتالیس ریال میں  ایک دیگچہ اور نمک مرچ وغیرہ لا دیا۔ 
	کوکنگ کا سامان آ گیا مگر پکائے  کون۔ میرا خیال تھا کہ محترمہ کچھ تعاون فرمائیں  گی۔ مگر ان کا تعاون صرف مشورہ اور نمک مرچ ڈالنے  کی حد تک تھا۔ اور میرا اس سلسلے  میں  کوئی خاص تجربہ نہیں۔ چھڑے  پن کا تجربہ بہت پرانا ہو چکا ہے۔ اور تبلیغ میں  ہم اُس وقت لگے  جب سیکھنے  کی اہلیت کمزور پڑ چکی تھی۔ اب تبلیغ پہ جاتے  ہیں  تو جوان حضرات بزرگ سمجھ کر ہمیں  خدمت کا موقع ہی نہیں  دیتے۔ پھر بھی جو باتیں  زبانی کلامی سیکھی ہیں  وہ کام آ رہی ہیں۔ 

آموختہ آید بکار

	بعض دفعہ بچپن کی سیکھی ہوئی باتیں  بڑھاپے  میں  آ کر بہت کام دیتی ہیں۔ بچپن میں  ہم مٹی،سرکنڈوں،دھاگوں  اور ڈنڈوں  سے  کئی قسم کے  کھیل کھیلتے  رہے  ہیں۔ ان کھیلوں  میں  سیکھے  ہوئے  کئی گُر کئی جگہوں  پر کام آئے  ہیں۔ اس حوالے  سیبچیوں  کو دیکھیں  تو گڈی گڈے  کا کھیل ان کے  گرہستی بننے  کا پیش خیمہ ہوتا ہے۔ مطلب یہ ہے  ہنر جو بھی ہو کبھی نہ کبھی کام آ جاتا ہے۔ تبلیغ میں  ہمارا زیادہ وقت نہیں  لگا۔ سو ہم تبلیغی نہیں  بن سکے  مگر اس ماحول سے  جو تھوڑا سا سیکھا ہے  وہ زندگی کے  ہر موڑ پر کام آ رہا ہے۔ 
	کہتے  ہیں  اللّٰہ کے  راستے  میں  نکلنے  سے  اللّٰہ تعالیٰ دو بڑے  انعامات سے  نوازتا ہے۔ اپنے  علم سے  علم عطا فرماتا ہے  اور اپنے  حلم سے  حلم عطا فرماتا ہے۔ 
	تبلیغ اصل میں  ایک تربیتی نظام ہے۔ اس نظام سے  اختلاف رکھنے  والے  بھی اس امر کے  معترف ہیں۔ اس نظام میں  چھ نمبر کلمہ،نماز،علم و ذکر، ا کرام مسلم،تصحیح نیت اور دعوت و تبلیغ ابتدائی مگر بنیادی اسباق ہیں۔ یہ چھ باتیں  مسلمانوں  کے  تمام مکاتب فکر کی مشترکہ باتیں  ہیں۔ ان میں  کوئی اختلاف نہیں۔ اور تبلیغ کا مقصد بھی یہی ہے  کہ ان آسان سے  بنیادی اصولوں  کو آسان انداز سے  مسلمانوں  تک پہنچانے  کی کوشش کی جائے۔ اس طرح کہ پوری امت میں  محبت اور اخوت کی فضا پیدا ہو جائے۔ اور فرقہ فرقہ بکھرے  ہوئے  فرقے  ایک وحدت کی شکل اختیار کر لیں۔ ان مقاصد کے  حصول کے  لئے  ہجرت و نصرت کی سنت کے  مطابق گھر سے  نکل کر محض اللّٰہ کی رضا کے  لئے  قریہ بہ قریہ گھوم کر کلمے  کی صدا لگانی یہ اندازِ تبلیغ ہے۔ یہ انداز کافی حد تک حج سے  مماثلت رکھتا ہے۔ 
	حاجی جب گھر سے  نکلتا ہے  تو اس کے  پیشِ نظر صرف اللّٰہ کے  حکم اور نبیؐ کا طریقہ ہوتا ہے۔ گھر سے  نکلتے  ہی مخلوق کی نفی اور خالق کا اثبات محسوس ہونے  لگتا ہے۔ اور یہ احساس مرحلہ بہ مرحلہ ترقی کرتا رہتا ہے۔ جس طرح سفرِ حج میں  تکلیف و مشقت لازمی ہے  اس طرح تبلیغ میں  ایسے  مرحلے  آتے  ہیں۔ دیکھا جائے  تو تبلیغ اصل میں  حج اور دوسرے  ارکانِ اسلام کی اہمیت و فضیلت بتانے  کا ایک ذریعہ ہے۔ حضورﷺ کے  حج مبارک کی روشنی میں  دیکھا جائے  تو حج کا مقصد مناسکِ حج سے  فراغت کے  بعد اللّٰہ اور اللّٰہ کے  رسولؐ کے  پیغام کو پوری دنیا تک پہنچانا ضروری ہے۔ جیسا کہ حجۃ الوداع کے  خطاب میں  حضورﷺ نے  تمام حاضرین کو مخاطب کرتے  ہوئے  فرمایا تھا:۔ 
"سنوجولوگ یہاں  موجود ہیں  انہیں  چاہئے  کہ یہ احکام اور باتیں  ان لوگوں  کو بتا دیں  جو یہاں  نہیں  ہیں۔ ہو سکتا ہے  کہ کوئی غیر موجود تم سے  زیادہ سمجھنے  اور محفوظ رکھنے  والا ہو"
 	حضورﷺ کے  اس ارشاد کی روشنی میں  دیکھا جائے  تو حج سے  واپس آنے  والوں  کو دین اسلام کو پورے  عالم میں  پھیلانے  کی پوری پوری کوشش کرنی چاہئے۔ اور اسلام کیا ہے ؟سیدھے  سادھے  لفظوں  میں  کہا جا سکتا ہے  کہ "اللّٰہ کے  حکموں  کو حضرت محمدﷺ کے  طریقے  کے  مطابق ماننا اسلام ہے "تفصیلات میں  جائیں  تو یہ مختصر جملہ پوری زندگی پر محیط نظر آتا ہے۔ اپنی ساری زندگی کو اللّٰہ اور اللّٰہ کے  نبیؐ کے  سپرد کرنا پڑتا ہے۔ 
	دین کا تقاضا تو یہ ہے  کہ ہر کام کرتے  وقت اللّٰہ کے  حکم اور نبیؐ کی سنت کو پیشِ نظر رکھا جائے۔ اور ہر کام میں  اللّٰہ کو راضی کرنا مقصود ہو۔ یہ اس صورت میں  ہو سکتا ہے  جب یہ یقین ہو کہ اللّٰہ دیکھ رہا ہے،اللّٰہ سن رہا ہے،اللّٰہ ہمارے  ساتھ ہے، وہ ہمارے  ہر عمل سے  باخبر ہے۔ اس کے  ساتھ ساتھ اللّٰہ اور اس کے  وعدوں  پر پکا یقین ہو۔ نویدوں  اور وعیدوں  یعنی اعمال کے  فضائل کاپورا پورا استحضار اور یقین ہو۔ اور جب یقین ہو گا تو عمل کرنے  کا شوق پیدا ہو گا۔ اور یہ ذوق و شوق ہی ہے  جو کچھ کرنے  پر ابھارتا ہے۔ یقین جتنا پختہ ہو گا اتنا شوق پختہ ہو گا۔ اور جتنا شوق زیادہ ہو گا اتنا عمل میں  جان کھپانے  کا جذبہ پیدا ہو گا۔ اور ظاہر ہے  کہ ہر کام میں  کچھ نہ کچھ زحمت و مشقت اٹھانا پڑتی ہے۔ اور اہلِ عشق و محبت کے  ہاں  تو اصل ثمرہ لذتِ مشقت ہے۔ اس بات کو تبلیغ کی لغت میں  نفس کا مجاہدہ کہا جاتا ہے۔ حج کرنے  والوں  کو اس امر کا خوب تجربہ ہے۔ حج میں  واقعی مشقت اٹھانا پڑتی ہے۔ اگر نفس کے  مجاہدہ کا تجربہ ہو تو یہ مشقت زیادہ شاق نہیں  گذرتی۔ ہم نے  بھی جو تھوڑا بہت سبق یاد کیا تھا دورانِ حج بہت کام آیا۔ 
	حاجی کیمپ میں  داخل ہوتے  ہی میں  نے  اپنی اہلیہ کی برین واشنگ شروع کر دی تھی۔ یہ ترغیبی عمل نہ صرف میرے  مفلوج ساتھی بلکہ میرے  لئے  بھی بہت ضروری تھا۔ میں  نے  شروع ہی سے  مخلوق کی نفی اور خالق کی قدرت و قوت اور اس کے  فضل و کرم کا تذکرہ کرنا شروع کر دیا۔ اللّٰہ سے  ہونے  اور غیر سے  اللّٰہ کے  حکم کے  بغیر کچھ نہ ہونے  کی بات بات بے  بات دہراتا رہتا۔ جہاں  موقع ملتا حضورﷺ کی سنتوں  کی فضیلت ضرور بتاتا۔ کبھی تلبیہ اور تلبیہ کے  معانی بتاتا۔ کبھی موقع محل کی دعاؤں  کے  حوالے  سے  اللّٰہ کی مدد،مہربانی، رحمت،کرم، بڑائی اور قدرت وغیرہ کا تذکرہ چھیڑ دیتا۔ موقع ملتا تو صحابہ ؓ کے  مناقب سنانا شروع کر دیتا۔ اس ترغیبی عمل کا نتیجہ یہ نکلا کہ دورانِ سفر اللّٰہ کے  فضل و کرم سے  باوجود شدید محنت و مشقت کے  یک گونہ اطمینان نصیب رہا۔ 
	مخلوق سے  بے  رغبتی پیدا کرنے  کے  لئے  میں  نے  ارادہ کر لیا کہ کسی سے  سوال نہیں  کرنا۔ نہ صرف زبان بلکہ دل سے  بھی کسی سے  کوئی غرض نہیں  رکھنی۔ تبلیغ والے  اسے  اشراف کہتے  ہیں۔ اس کے  ساتھ ساتھ یہ بھی تلقین کی جاتی ہے  کہ اسراف یعنی فضول خرچی نہیں  کرنی۔ اور بغیر اجازت کسی کی چیز استعمال نہیں  کرنی۔ 
	مخلوق سے  کسی قسم کی مدد واستعانت کی امید رکھنا ایک طرح کا شرک ہے  اور فضول خرچی شیطانی وصف ہے۔ ان باتوں  کا تعلق تو ممنوعات سے  ہے۔ کرنے  کے  کاموں  میں  زیادہ زور اللّٰہ رسولؐ کے  پیغام کی ترسیل و تبلیغ پر دیا جاتا ہے۔ اور یہ کام باہمی تعلیم و تعلم یعنی سیکھنے  سکھانے  کے  اصول کے  تحت کیا جاتا ہے۔ اللّٰہ کا دھیان تو گویا چوبیس گھنٹے  کا کام ہے۔ اور دھیان جمانے  کی لئے  ذکرو عبادت کا خصوصی اہتمام ضروری ہے۔ اور ان سارے  اعمال میں  اخلاص نیت کا ہونا نہایت ضروری ہے۔ خدمتِ خلق کا جذبہ تالیفِ قلب کے  لئے  نہایت ضروری ہے۔ اور حکماء کے  قول کے  مطابق کم کھانا، کم سونا،کم بولنا روحانی تربیت کے  لئے  نہایت ضروری ہے۔ یہ چند باتیں  جو میں  نے  اپنے  تربیتی سفروں  میں  سیکھی تھیں  بیگم سے  گاہے  بگاہے  ان کا مذاکرہ کرتا رہتا تھا۔ اس کا یہ فائدہ ہوا کہ بہت سے  مشکل مرحلے  آسانی سے  طے  ہونے  لگے۔ اللّٰہ کی مہربانی سے  سارے  سفر میں  کوئی بات ہمارے  لئے  باعث نزاع نہیں  ہوئی۔ حالانکہ یہاں  والوں  کو یہی گمان تھا کہ کہیں  دونوں  میاں  بیوی آپس میں  لڑتے  نہ رہیں۔ یہ ان کی خام خیالی تھی۔ انہیں  فکر تھی کہ ابو خود بیمار ہیں  امی کی تیمار داری اور نگہداشت کیسے  کریں  گے۔ مگر انہیں  یہ معلوم نہیں  کہ اللّٰہ تعالیٰ مسبب الاسباب ہے۔ تنازع اس وقت پیدا ہوتا ہے  جب مفادات میں  الجھاؤ یا  ٹکراؤ ہو۔ اور ہم میں  تو اللّٰہ کی مہربانی سے  پوری ہم آہنگی تھی۔ ہمارے  مفادات ومسائل سب سانجھے  تھے۔ میرے  ترغیبی عمل نے  بھی سفر کو مبارک اور خوشگوار بنانے  میں  اہم کردار ادا کیا۔ 

نوکر حاجن دا

	ایک زمانہ میں  "نوکر وہٹی دا "بڑا مشہور تھا۔ یہ پنجابی جملہ زن مریدی کے  طعنہ کے  طور پر دیا جاتا تھا۔ میں  نے  اس طعنہ کو اپنا ماٹو بنا لیا۔ مذاق مذاق میں  "نوکر وہٹی دا"کے  بجائے  میں  نے  اپنے  آپ کو"نوکر حاجن دا"کہنا شروع کر دیا۔ نہیں  !نہیں !بلکہ عملی طور پر میری پوزیشن نوکر کی سی تھی۔ کھانا پکانا،کھانا کھلانا اور کپڑے  دھونا تو میری خاص ڈیوٹی تھی۔ اس کے  علاوہ عام ذمہ داریاں  عام تھیں۔ اٹھانا،بٹھانا،وضو کرانا،ورزش کرانا،دوائی کھلانا وغیرہ یہ عام ذمہ داریاں  تھیں۔ سچ پوچھیں  تو یہ سب کچھ ثواب کے  لالچ میں   ہو رہا تھا۔ ثواب کا لالچ نہ ہوتا تومیں  قطعاً حاجن کا نوکر نہ بنتا۔ ہو سکتا ہے  اس کی گذشتہ خدمات کا احساس بھی کبھی ہو جاتا ہو۔ ہاں  اس کی بیماری اور لاچاری پر ترس تو ضرور آتا تھا۔ دل میں  آتا تھا کہ گھر میں  تو بیچاری کے  کئی خدمتگار تھے  یہاں  اپنے  آپ کو بے  یار و مددگار نہ سمجھنے  لگے۔ تفصیلاً کیا عرض کروں۔ اس وقت کے  جذبات واحساسات پوری طرح یاد بھی نہیں۔ اس وقت کی سوچ تو یہی ہے  کہ عمر بھر وہ بیوی کی حیثیت سے  میری خدمت کرتی رہی ہے۔ اللّٰہ نے  چند دنوں  کے  لئے  مجھے  خاوند کی حیثیت سے  اس کا حق ادا کرنے  کی توفیق دی۔ اللّٰہ کا شکر ہے  کہ میں  نے  اللّٰہ کے  حکم اور نبیؐ کے  طریقے  کے  مطابق اس کا کچھ حق ادا کرنے  کی کوشش کی۔ میں  اپنے  آپ کو نوکر وہٹی دا یا نوکر حاجن دا کہتے  ہوئے  شرم نہیں  فخرمحسوس کرتا ہوں  کہ حضورﷺ نے  عورتوں  کے  حقوق پورا کرنے  کی بہت تاکید فرمائی ہے۔ جیسا کہ حجۃ الوداع کے  خطبہ سے  معلوم ہوتا ہے۔ سیرتِ نبویؐ کے  مطالعے  سے  یہ حقیقت کھل کر سامنے  آ جاتی ہے  کہ عائلی زندگی کو خوشگوار بنانے  کے  لئے  ازواجِ مطہرات کو خوش رکھنے  کی پوری پوری کوشش فرمائی۔ 

بکھری بکھری یادیں 

	آج اپریل ۲۰۰۵؁ء کی غالباً آٹھویں  ہے۔ حج سے  واپس آئے  تقریباً ڈیڑھ ماہ گذر چکا ہے۔ اب تک جو کچھ عرض کیا ہے۔ وہ مناسکِ حج کی ترتیب کے  حساب سے  مرتب تھا۔ اس لئے  اسے  یاد کرنے  کے  لئے  دماغ پر زیادہ زور نہیں  دینا پڑا۔ اب مناسکِ حج کے  اعمال و احوال یاد رکھنا مجھے  بہت محبوب ہے  کہ میری زندگی کے  قیمتی ترین وہی لمحات ہیں  جو مکہ، مدینہ کی فضاؤں  میں  گذرے  ہیں۔ اعمال و احوال سے  ہٹ کر کسی اور طرف متوجہ ہونے  کی ہمیں  فرصت نہیں  ملی۔ مگر ان اعمال کے  دوران بعض قابلِ ذکر اور مفید قسم کی واردات کا تجربہ بھی ہوا ہے۔ ان کا ذکر بھی قارئین کے  لئے  یقیناً خوشگوار ہو گا۔ 
	یہ تو عام مشاہدہ و تجربہ ہے  کہ ہر حاجی کے  دوست احباب اور عزیز و اقارب دعاؤں  کی خاص درخواست کرتے  ہیں۔ ان کی درخواستیں  بوقت دعا یاد آ جاتی ہیں۔ مگر کچھ ایسے  بھولے  دوست احباب یا رشتے  دار ہوتے  ہیں  جن سے  بچھڑے  مدتیں  گذر جاتی ہیں۔ ان سے  ملاقات نہیں  ہوتی۔ بلکہ کئی ایسے  بھی ہوتے  ہیں  جن کا نام تک آدمی بھول چکا ہوتا ہے۔ بوقت دعا ان کی یاد عجیب حیرانی اور مسرت کا باعث بنتی ہے۔ 

ایصالِ ثواب

	میرے  ایک خالہ زاد بھائی تھے۔ سداکے  کنوارے،نہ بیوی نہ بچے،درویش منش انسان تھے۔ عمر میں  ہم سے  بڑے  تھے۔ اتنے  بڑے  کہ میرے  بڑے  بھائی صاحب کو بھی کھلاتے  رہے  ہیں۔ مگر یہ باتیں  اس وقت تک کی ہیں  جب تک ہم گاؤں  میں  اکٹھے  تھے۔ ملازمت کے  سلسلے  میں  ہم شہر آ گئے  تو ملاقاتیں  کم ہو گئیں۔ کبھی کبھار ملاقات ہو جاتی تو معمولی سی سلام دعا ہو جاتی۔ انہیں  فوت ہوئے  بارہ،چودہ سال تو ہو ہی گئے  ہوں گے۔ اس دوران انہیں  یاد کرنے  کا کوئی خاص موقع نہیں  آیا۔ قدرت خدا کی ایک روز ہم میاں  بیوی زیارتِ کعبہ میں  محو تھے  کہ یکدم مجھے  اپنی مرحومہ بیٹی کا خیال آ گیا۔ وہ میرے  مرحوم خالہ زاد کو ماماں  پپو،چاچا پپو کہا کرتی تھی۔ میں  نے  بیوی سے  پوچھا روبی لالے  پپوکو چاچا پپو کہتی تھی یا ماما پپو،اس نے  بتایا ماما پپو۔ اصل میں  میری بڑی بھابی صاحبہ کے  چچا لگتے  تھے۔ اس وجہ میرے  بھتیجے  بھتیجیاں  انہیں  ماموں  کہتے  تھے۔ اور ان کی دیکھا دیکھی میرے  بچے  بھی انہیں ماماں  پپو کہتے  تھے۔ مرحوم کا نام تومحمدحسین تھا مگر بچپن میں  انہیں  لاڈ سے  پپو کہا جاتا تھا۔ اور یہ لفظ آخر تک ان کے  نام کا بدل رہا۔ اس نام کے  تذکرہ سے  گویا ماضی کے  دریچے  کھل گئے۔ بہت سے  بھولے  بسرے  چہرے  آنکھوں  کے  سامنے  لہرانے  لگے۔ ہر چہرہ ملتجی تھا کہ ہمارے  لئے  بھی اللّٰہ کے  حضور ہاتھ پھیلا کر مغفرت کی درخواست کر دیں۔ سومیں  نے  اپنی اہلیہ سے  کہا کہ حاجی صاحبہ اپنے  تمام مرحوم عزیز و اقارب کی مغفرت کے  لئے  خصوصی دعا فرمائیں۔ ہم کافی دیر تک مرحومین کے  لئے  دعائیں  کرتے  رہے۔ معاً مجھے  خیال آیا کہ بھائی محمد حسین (پپو) کے  لئے  طواف کرنا چاہیے۔ سواللّٰہ کی مہربانی سے  اسی روز میں  نے  اس کے  ایصال ثواب کے  لئے  طواف کیا اسی حوالے  سے  ایک اور واقعہ یاد آ رہا ہے۔ 
	ایک روز ہم طواف سے  فارغ ہو کر واپسی کے  ارادہ سے  باب فہد کی طرف آ رہے  تھے۔ میری اہلیہ کی ایک خاتون پر اچانک نظر پڑ گئی۔ اس نے  مجھے  اس طرف متوجہ کیا تو میں  دیکھ کر حیران رہ گیا کہ وہ خاتون بالکل میری مرحومہ بھابی کی طرح بڑے  خشوع و خضوع سے  محوِ دعا ہے۔ شکل و صورت اور اندازسے  بالکل بھابی کے  مشابہ تھی۔ مگر اتنی مشابہت کے  باوجود وہ ہمارے  لئے  غیر تھی۔ ہم اس سے  تعارف نہیں  کر سکے۔ میری اہلیہ کہنے  لگی آج بھابی کے  ایصالِ ثواب کے  لئے  طواف کرینگے۔ میں  نے  کہا صرف میری نہیں  تمہاری مرحومہ بھابی کے  لئے  بھی۔ چنانچہ اگلے  روز میری اہلیہ نے  میری بھابی اور میں  نے  اس کی بھابی کے  ایصالِ ثواب کے  لئے  طواف کیا۔ 
	نفلی عمرہ کرتے  وقت مسجدِ عائشہؓ میں  ایک عالم سے  ملاقات ہوئی۔ اس نے  بتایا کہ اپنی صحت کے  حساب سے  جتنے  عمرے  آدمی کر سکتا ہے  کرے۔ ان کی کوئی تعداد متعین نہیں۔ پھر اگر کسی کو ایصالِ ثواب کرنا ہو تو عمرہ کرنے  والے  کے  اپنے  ثواب میں  کوئی کمی نہیں  آئے گی۔ سومیری اہلیہ نے  میرے  والدین اور میں  نے  اس کے  والدین کے  لئے  ایک ایک عمرہ کیا۔ ایصالِ ثواب کے  عمروں  اور طواف سے  جو خوشی ملی ہے  بیان سے  باہر ہے۔ 
	اپنوں  کو یاد کرنا تو ایک فطری امر ہے۔ میں  ارادتاً غیر معروف غیروں  کے  لئے  بھی دعاگو رہا ہوں۔ بچپن کے  دوست جو دنیا سے  رخصت ہو چکے  ہیں۔ ملازمت کے  زمانے  کے  ساتھی چپراسی سے  لے  کر پرنسپل صاحب تک تمام کے  لئے  دعائے  مغفرت کرنا میرا خاص معمول تھا۔ اس کے  علاوہ غلبۂ اسلام،مسلمانوں  کے  باہمی اتحاد اور عملی طور پر دنیا میں  دین کے  نفاذ کی دعائیں  تو عام دعائیں  ہیں۔ پھر کچھ دعائیں  اور سلام امانت ہوتے  ہیں۔ ان امانتوں  کی ادائے گی بھی ضروری ہوتی ہے۔ اس موقع پر مجھے  اپنی بے  بسی اور بے  کسی یاد آ رہی ہے  قارئین سے  گذارش ہے  اپنی دعاؤں  میں  اس فقیر کو بھی یاد فرما لیا کریں۔ اور جب کبھی دربار خدا اور دیارِ محبوبِ خدا میں  حاضری ہو تو میری مغفرت کے  لئے  خصوصی دعا فرمانا۔ 
حضورﷺ کے  حضور سلام عرض کرنا۔ 

مزہ تو جب ہے 

نشہ پلا کے  گرانا توسب کو آتا ہے 
مزہ تو جب ہے  کہ گرتے  کو تھام لے  ساقی
	یہ ایک عام ساشعرہے،بچپن میں  کہیں  سے  سن کر یاد کر لیا تھا۔ اس وقت کے  تاثر کا علم نہیں  مگر جب مکہ شہر میں  پہلی دفعہ گرا تو دل کی گہرائی سے  ہوک اٹھی
"مزہ تو جب ہے  کہ گرتے  کو تھام لے  ساقی"
	مکہ شریف آمد کا دوسرایا تیسراروزتھا۔ میں  تنہا نمازِ مغرب کے  بعد شارع جبلِ کعبہ کے  راستے  واپس ڈیرے  پر آ رہا تھا۔ یہ راستہ چڑھائی والا راستہ ہے۔ دوسرے  صاف راستہ کا مجھے  علم نہیں  تھا۔ جب میں  چڑھائی چڑھ چکا تو کافی تھک چکا تھا۔ میں  دائیں  فٹ پاتھ پر آہستہ آہستہ چل رہا تھا کہ ایک دم میرا پاؤں  پھسل گیا۔ میں  دھڑام سے  سڑک پر آ گرا۔ اس وقت کوئی خاص چوٹ تو نہیں  لگی۔ مگر اندر ہل گیا۔ تنہائی اور بے  بسی کا شدیداحساس ہوا۔ دل میں  خیال ہوا۔ اے  اللّٰہ تیرے  شہر میں  بھی میں  پردیسی ہوں !دل میں  اس خیال کا آنا تھا کہ پیچھے  سے  ایک اجنبی آدمی نے  سہارادے  کر مجھے  اوپر اٹھا کر دلاسہ دیا۔ یہ اٹھانے  والا مجھے  اٹھا کر دلاسہ دے  کر چلا گیا۔ میں  پھر تنہا رہ گیا۔ 
	تنہائی ایک طرح سے  نعمت ہے  کہ آدمی ہجوم سے  کٹ کر اپنے  قریب آ جاتا ہے۔ میں  مکہ کی شارع کعبہ پر لنگڑاتا چل رہا ہوں۔ میراسڑک پر گرنا کوئی بڑا حادثہ نہیں  مگر اس معمولی سے  واقعہ نے  دل کے  اندر ایک ہل چل سی مچا دی۔ عجیب قسم کی سوچیں، اور کیفیتیں  پیدا  ہو رہی تھیں۔ سوالات و اشکالات کا سلسلہ چل رہا تھا۔ کبھی اپنے  سے  کبھی زمانے  سے  کبھی اللّٰہ سے  مکالمہ  ہو رہا تھا کہ ایک واقعہ یاد آ گیا۔ 

قبول!قبول!حج قبول

	ایک صحابی کی اہلیہؓ نے  ایک روز بغیر کوئی وجہ بتائے  طلاق کا تقاضا کر دیا۔ صحابیؓ نے  وجہ پوچھی تو وجہ بتانے  سے  انکار کر دیا۔ اس روز تو بات آئی گئی ہو گئی۔ چند روز بعد پھر وہی طلاق کا تقاضا شروع ہو گیا۔ آپؓ وجہ پوچھتے  مگر اہلیہ بتانے  سے  گریز کرتی۔ ایک روز دونوں  میاں  بیوی نے  یہ مقدمہ حضورﷺ کے  حضور پیش کرنے  کا فیصلہ کر لیا۔ چنانچہ دونوں  میاں  بیوی حضورﷺ سے  فیصلہ کرانے  کے  لئے  گھر سے  نکلے۔ مگر ابھی تھوڑی دور ہی گئے  تھے  کہ صحابیؓ کو ٹھوکر لگی اور وہ گر پڑے۔ ظاہر ہے  گرنے  سے  کوئی چوٹ وغیرہ بھی آئی ہو گی۔ اہلیہ نے  اٹھایا اور گھر واپس جانے  کا تقاضا کیا۔ صحابیؓ نے  کہا کہ ہم تو حضورﷺ کے  پاس مقدمہ لے  کر جا رہے  ہیں۔ واپس کیسے  جائیں۔ اہلیہ نے  کہا کہ اب فیصلہ ہو چکا۔ میں  طلاق کا تقاضا واپس لیتی ہوں۔ صحابیؓ نے  وجہ پوچھی تو فرمانے  لگیں  کہ ہماری شادی کو کافی عرصہ ہو گیا ہے۔ اس دوران میں  نے  آپ کو کسی آزمائش میں  مبتلا ہوتے  نہیں  دیکھا۔ اس لئے  مجھے  آپ کے  ایمان پر شک ہونے  لگا۔ اب آپ گرے  ہیں  تو مجھے  آپ کے  ایمان پر شک نہیں  رہا۔ اللّٰہ تعالیٰ اہلِ ایمان کو مصائب و آلام کے  ذریعے  آزماتا ہے۔ یہ گرنا آپ کی آزمائش تھی۔ اس واقعہ کے  یاد آنے  سے  بہت تسکین ہوئی۔ مگر
"ابھی عشق کے  امتحاں  اور بھی ہیں "
	محبوب کی گلی میں  گرنے  کی لذت اور ہے  اور اس کے  در پہ گرنے  کا تجربہ اور ہے۔ اور دَر پر گرنے  کا تجربہ اتنا شدید تھا کہ آج تک اس کا دردمحسوس  ہو رہا ہے۔ 
	ایک روز ہم چاشت کے  وقت طواف کی نیت سے  حرم شریف پہنچے۔ مسجد میں  داخل ہونے  سے  پہلے  کعبے  کے  کبوتروں  کے  آگے  کچھ دانہ ڈالنا ہمارا معمول تھا۔ کبوتروں  کی جگہ مسجد کے  جنگلے  کے  باہر ہے۔ دانہ ڈال کر صحن مسجد میں  داخل ہونے  لگے  تو وہاں  صفائی کا عملہ مصروف کار تھا۔ صفائی کے  لئے  چھوٹی چھوڑی گاڑیوں  کی شکل کی مشینیں  استعمال ہوتی ہیں۔ ان پر Coptor کا لفظ لکھا ہے۔ میں  انہیں  کعبہ کے  کبوتر کہتا ہوں۔ ان مشینوں  کے  نیچے  فوم سالگا ہوتا ہے۔ صفائی کا عملہ عام قسم کے  برتنوں  سے  پانی ڈالتا جاتا ہے۔ پیچھے  سے  دوسرے  ساتھی بڑی چابکدستی سے  وائپر لگاتے  جاتے  ہیں  اور آخر میں  کاپڑ پانی وغیرہ خشک کرتے  جاتے  ہیں۔ حرم شریف کے  صحن میں  بھی ماربل لگا ہوا ہے۔ اس فرش پر جب پانی کا چھڑکاؤ کیا جاتا ہے  توزبردست پھسلن ہو جاتی ہے۔ تو جس وقت ہم صحنِ مسجد میں  داخل  ہو رہے  تھے۔ صفائی کا کام جاری تھا۔ مسجد کے  داخلہ والے  جنگلے  پر بھی چھڑکاؤ کیا ہوا تھا۔ میں  نے   اہلیہ کو پھسلن سے  بچنے  کی تاکید کی۔ مگر اس کی فکر کرتے  کرتے  خود پھسل گیا۔ ایساپھسلاکہ بائیں  ٹانگ پھر گئی۔ بائیاں  گھٹنا پہلے  بھی درد کرتا تھا۔ پھسلنے  سے  مزیدسوج گیا۔ ایک آدمی نے  مجھے  بڑی مشکل سے  اٹھایا۔ اللّٰہ اسے  جزائے  خیر دے۔ اس گرنے  نے  میرے  اندر کو  ہلا کر رکھ دیا۔ اس وقت میرے  دل میں  اپنے  میزبان کے  بارے  میں  کچھ شکوہ و شکایت بھی پیدا  ہو رہی تھی۔ دل کہہ رہا تھا۔ گھر بلا کر تو ایسانہیں  کرتے !پھر مہمانوں  کے  ساتھ!اے  گرانے  والے  کیا میں  تیرا مہمان نہیں ؟ کیا یہ تیرا گھر نہیں ؟اس کے  ساتھ ساتھ یہ آواز بھی آ رہی تھی۔ ہاں !یہ میرا گھر ہے۔ اور میرے  گھر میں  آنے  والوں  کو دل صاف کر کے  آنا چاہئے۔ میری قدرت اور کبریائی کا یقین ہونا چاہئے۔ میں  خالق و مالک و مختار ہوں۔ میرے  دربار میں پوری مخلوق کی نفی کر کے  آنا ہے۔ اس سوچ کے  ساتھ مجھے  اپنے  گذشتہ عمرہ کی کیفیات یاد آ گئیں۔ اس عمرہ سے  میں  بہت خوش تھا کہ مجھے  کوئی خاص مشقت نہیں  اٹھانا پڑی۔ خوشی کے  ساتھ ساتھ یک گونہ فخر بھی تھا۔ میں  سوچ رہا تھا۔ ’’ابھی تومیں  جوان ہوں ‘‘۔ اب ہر روز عمرہ کروں گا۔ شائد میں  نے  ان شاء اللہ نہیں  کہا تھا۔ اور اللّٰہ کو میری یہ حالت پسند نہیں  آئی۔ اس نے  مجھے  احساس دلانے  کے  لئے  کہ طاقت و توانائی کا سرچشمہ میری ذات ہے۔ میں  چا ہوں  تو ہدایت و عبادت کی توفیق دوں، نہ چا ہوں  توسب کچھ سلب کر لوں۔ اس تجربہ سے  اللّٰہ سے  ہونے  اور اللّٰہ کے  امر کے  بغیر غیر سے  کچھ نہ ہونے  کا یقین پختہ ہو گیا۔ یقیناً یہ گرانا میرا یقین بنانے  کے  لئے  تھا کہ جب بھی گھٹنے  میں  ٹیس اٹھتی ہے  زباں  پکار اٹھتی ہے 
"اللّٰہ سے  ہوتا ہے  اللّٰہ کے  غیر سے  نہیں  ہوتا"

زیارتِ مکہ

	عقیدت و محبت سے  کسی چیز یا شخصیت کو دیکھنا زیارت ہے۔ زیارت محض چشمِ ظاہر کے  مشاہدہ کا نام نہیں  اس میں چشمِ باطن کا متاثر ہونا بھی شامل ہے۔ چشمِ ظاہر کا مشاہدہ ایک مادی تجربہ ہے  مگر چشمِ باطن کا مشاہدہ روحانی واردات ہے۔ عام مشاہدہ سے  دماغ اور روحانی مشاہدہ سے  دل متاثر ہوتا ہے۔ اس حوالے  سے  سوچا جائے  تو زیارت کا مقصد محض معلومات حاصل کرنا نہیں  بلکہ روحانی تسکین حاصل کرنا ہے۔ اور روحانی تسکین کے  لئے  اللّٰہ کا ذکر ضروری ہے۔ پھر ذکر سے  مراد محض یاددہانی یا تکرارِ لفظی و معنوی نہیں  بلکہ عشق و محبت کے  جذبے  کے  ساتھ واصل باللّٰہ ہونے  کی خواہش کو پورا کرنے  کے  عمل کو ذکر کہا جا سکتا ہے۔ سومکہ و مدینہ کی زیارت کا مقصد آثارِ نبوت کے  مشاہدہ سے  اللّٰہ کی معرفت حاصل کرنا ہے۔ میرے  نہاں  خانۂ دل میں  کچھ اسی طرح کے  جذبات تھے۔ میری روح قدم قدم پر حضورﷺ کے  نقوش پا کی متلاشی رہی ہے۔ مگر کیا کریں  آثارِ نبوتؐ پر وقت کی دبیز تہ جم چکی ہے۔ زمانہ نبوت کا مکہ مدینہ فلک بوس عمارتوں  کی اوٹ میں  اوجھل ہو چکا ہے۔ دور جدید کے  ملمع نے  عہدِ قدیم کی حقیقت و اصلیت کو ڈھانپ رکھا ہے۔ کتابوں  والا مکہ،مدینہ سنگِ مرمر کی تہوں  میں  مستور ہو چکا ہے۔ میں  سوچتا ہوں  کہ حرمین شریفین میں  لگے  ہوئے  مرمر کے  ذریعے  اللّٰہ تعالیٰ نے  اپنے  پیاروں  کے  نقوش ہائے  پا کا تحفظ فرمایا ہے۔ اگر یہ نہ سوچوں  تو میرے  پاس دماغ میں  پیدا ہونے  والے  بہت سے  اشکالات وسوالات کا کوئی جواز باقی نہیں  رہتا۔ میں  خیرالقرون کی تلاش میں  ہوں  جس کا منبع و مخزن مکہ مدینہ ہے۔ 
	دین اسلام کو دین حنیف بھی کہا جاتا۔ شریعتِ محمدیؐ ایک طرح سے  شریعتِ خلیلؑ کا تسلسل ہے۔ حج کے  حوالے  سے  دیکھا جائے  تومناسکِ حج خاندانِ خلیلؑ کے  اعمال و افعال کی نقل ہیں۔ کعبہ و متعلقاتِ کعبہ کا تعلق خلیلؑ و خانوادۂ خلیلؑ کے  آثار و نوادرات سے  ہے۔ خود کعبہ جو کہ اللّٰہ کا گھر ہے، اس کی تعمیر حضرت ابراہیمؑ اور ان کے  فرزندِ ارجمند حضرت اسماعیلؑ نے  اپنے  دستِ مبارک سے  فرمائی تھی۔ تعمیر ابراہیمی کے  بعد مختلف ادوار میں  کعبۃ اللّٰہ کی تعمیر و مرمت ہوتی رہی۔ بہت سی تبدیلیوں  کے  باوجود آج تک مقامِ ابراہیمؑ کی صورت میں  اللّٰہ تعالیٰ نے  حضرت ابراہیمؑ کے  پائے  مبارک کے  نقوش کو بطور معجزہ محفوظ فرما رکھا ہے۔ 
	مقامِ ابراہیمؑ پر طواف کرنے  کے  بعد دو نفل ادا کئے  جاتے  ہیں۔ اس کا حکم قرآن پاک میں  آیا ہے۔ اس مقام پر ایک پتھر کو محفوظ کیا ہوا ہے۔ یہ وہ پتھر ہے  جس پر کھڑے  ہو کر حضرت ابراہیمؑ کعبۃ اللّٰہ کی تعمیر فرماتے  رہے  ہیں۔ قدرتِ خداوندی سے  حضرت ابراہیمؑ کے  نقوشِ پا اس پتھر پہ کندہ ہو گئے۔ اللّٰہ تعالیٰ نے  اپنے  پیارے  خلیل کے  نقوش پاکو آج تک محفوظ رکھا ہوا ہے۔ پھر اس خول کو بھی پیتل کے  جالی دار خول میں  محفوظ کیا ہوا ہے۔ اس خول کے  بالکل قریب کھڑے  ہو کر دیکھیں  تو نقشِ کفِ پائے  خلیل کی زیارت ہوتی ہے۔ یہ تو ظاہرہ نقشہ ہے۔ معنوی طور پر دیکھا جائے  تو نقوشِ خلیل کی زیارت کا مقصد کردارِ خلیل کی یاددہانی ہے۔ 
	خانوادۂ خلیلؑ کے  دور کی اہم یادگار سعی ہاجرہؑ ہے۔ اس یادگار کے  پسِ منظر میں  شریعتِ ابراہیمی کا پورا نقشہ پوشیدہ ہے۔ شریعت کیا ہے ؟ اللّٰہ کی، اللّٰہ کے  رسول کے  طریقے  کے  مطابق ماننا۔ حضرت ابراہیمؑ ایک خاندان کے  سربراہ ہیں۔ ان کے  خاندان میں  ایک بیوی اور بیٹا دو  افراد ہیں۔ حضرت ابراہیمؑ سربراہِ خاندان ہونے  کے  ساتھ ساتھ اللّٰہ کے  پیغمبر بھی ہیں۔ اس چھوٹے  سے  کنبے  کی معاشرت اصل میں  ابراہیمی شریعت کا خلاصہ ہے۔ پیغمبر نے  ہر معاملے  میں  اللّٰہ کی مانی۔ بیوی نے  امتی اور بیوی ہونے  کے  ناتے  اللّٰہ کے  حکم کے  آگے  پیغمبرؑ(جو کہ خاوند بھی ہے)کے  طریقے  کے  مطابق سرِ تسلیم خم کر دیا۔ اور بیٹے  نے  بیٹا اور امتی ہونے  کے  ناتے  اللّٰہ کے  حکم کو نبیؑ کے  طریقے  کے  مطابق مان کر شریعت ابراہیمی کے  تقاضے  پورے  کئے۔ 
	حضرت ہاجرہؑ کے  حوالے  سے  صفا و مروہ  دو مقامات زیارت گاہِ خاص و عام ہیں۔ آجکل سعی کا ساراراستہ بہترین قسم کے  مرمر تلے  مستور ہے۔ صفا پہاڑی ایک ٹیلے  کی صورت چند میٹر بلند ہے۔ اس پہاڑی کے  پتھر کی رنگت سیاہ ہے۔ حج کے  دنوں  میں  یہ پہاڑی حاجیوں  سے  ڈھکی رہتی ہے۔ لوگ اس پہاڑی پر بیٹھ کر تلاوت و اذکار میں  مصروف رہتے  ہیں۔ اہلیہ نے  ایک دفعہ اس پر چڑھنے  کی کوشش کی مگر پھسلن کی وجہ سے  پاؤں  پھسل گیا۔ اوپر نہیں  چڑھ سکیں۔ دوسری پہاڑی مروہ ہے۔ دونوں  پہاڑیوں  کے  درمیان آدھ پون کلو میٹر کا فاصلہ ہو گا۔ مروہ تقریباً  برابر پتھر ہے۔ اس پتھر کا رنگ بھی سیاہ ہے۔ ایسے  لگتا ہے  جیسے  کوئی کیمیائی مادہ ڈال کر اس پتھر کے  نوکیلے  پن کو دور کیا گیا ہے۔ 
	سعی کا عمل سنتِ ہاجرہؑ کی یاد دہانی ہے۔ حضرتِ ہاجرہؑ کی سعی محض دوڑ نہیں  تھی۔ اس دوڑ کے  وقت جو اضطراب، کرب اور تعلق باللّٰہ حضرتِ ہاجرہؑ کے  سینے  میں  تھا۔ وہی اس عمل سے  مطلوب ہے۔ بظاہر معلوم ہوتا ہے  کہ وہ اسبابِ ظاہری کی تلاش میں  بھا گ دوڑ رہی تھیں۔ مگر حقیقت میں  ان کا رابطہ مسبب الاسباب سے  تھا۔ اس باہمی رابطہ کا نتیجہ تھا کہ مسبب الاسباب نے  معجزانہ طور پر ان کے  لئے  سامانِ حیات کا بندوبست فرما دیا۔ معصوم اسماعیل کی ایڑیوں  کی رگڑسے  چشمہ جاری فرما دیا۔ 
	چشمہ زمزم کی زیارت نہیں  ہو سکی کہ یہ تہہ خانہ میں ہے۔ ہم وہاں  تک تو نہیں  جا سکے مگر تقریباً چالیس دن اس مبارک چشمہ کے  پانی کے  علاوہ دوسراپانی نہیں  پیا۔ یہ چشمہ اللّٰہ تعالیٰ کا ایسامعجزہ ہے  جس سے  کافر بھی انکار نہیں  کر سکتا۔ ہزاروں  سالوں  سے  ہزاروں  گیلن پانی اس چشمہ فیض سے  حاصل  ہو رہا ہے۔ مسجدالحرام کے  علاوہ مسجدِ نبویؐ کے  اندر بھی ہر وقت آبِ زمزم کے  کولر موجود رہتے  ہیں۔ یوں  معلوم ہوتا ہے  کہ اس چشمہ فیض کی تہ میں  پانی کا چشمہ نہیں  کوئی وسیع سمندر ہے۔ جس کا پانی قیامت تک ختم نہیں  ہو سکتا۔ زمزم کی فراوانی کو حجازِ مقدس کے  دوسرے  مقامات کے  حوالے  سے  دیکھیں  تو پانی پیٹرول سے  مہنگا ہے۔ ہم نے  ایک لٹر پانی کی بوتل ایک ریال (پاکستانی سولہ روپے)میں  بکتے  دیکھی ہے۔ 

بیرونِ حرم

 	 عہدِ اسلام کی تاریخ نہ صرف کعبہ بلکہ مکہ مکرمہ کی گلی کوچوں، شاہراہوں  اور پہاڑوں  میں  بکھری پڑی ہے۔ حضورﷺ کے  تبلیغی سفر کو دیکھیں  تو مکہ کے  مضافات بھی اس تاریخی تناظر میں  نظر آتے  ہیں۔ دین اسلام کا اصل ماخذ قرآن و حدیث ہے۔ قرآن کا زیادہ تر حصہ مکہ و مدینہ میں  نازل ہوا۔ سوقرآن فہمی کے  لئے  اس ماحول کا جاننا ضروری ہے  جس ماحول میں  قرآن پاک نازل ہوا ہے۔ نزولِ قرآن کے  زمانہ سے  پہلے  کے  مکی تمدن کا علم بھی قرآن فہمی کے  لئے  ضروری ہے۔ خاص طور پر حضورﷺ کی بعثت سے  پہلے  کے  چالیس سالوں  کا مطالعہ بھی تفہیمِ دین کے  لئے  ضروری ہے۔ شرعی طور پر تو بعثت سے  رحلت تک کے  زمانے  کو اہمیت دی جاتی ہے۔ مگر معرفت کے  لئے  حضورﷺ کی حیاتِ مبارکہ کا ایک ایک لمحہ زمانوں  کی رہنمائی کا ضامن ہے۔ سوحضورﷺ کی ساعتِ ولادت اور جائے  ولادت کا علم ہونا بھی اضافۂ ایمان کا باعث ہے۔ 

جائے  ولادت__ مولد الرسولﷺ

	حضورﷺ کی جائے  پیدائش جسے  مولد الرسولﷺ کہا جاتا ہے  بوقبیس پہاڑی کے  دامن میں  واقع ہے۔ یہ جگہ حضورﷺ کے  والدِ گرامی حضرت عبداللّٰہ کا مکان تھا۔ آجکل اس مکان کے  نشانات نظر نہیں  آتے۔ بلکہ اس جگہ جدید طرز کی ایک عمارت تعمیر کر دی گئی ہے۔ جس میں  کتب خانہ قائم ہے۔ اس عمارت تک پہنچنے  کا آسان طریقہ یہ ہے  کہ صفا کی پہاڑی کے  قریب کسی بھی دروازے  سے  باہر آئیں  اور محل کی دیوار کے  ساتھ ساتھ چلتے  جائیں۔ تقریباً ایک فرلانگ کے  فاصلے  پر سیدھے  ہاتھ کو میدان میں  یہ مکان آپ کو نظر آئے  گا۔ مجھے  مولد الرسولﷺ کی زیارت کا بہت شوق تھا۔ یہ توسنا تھا کہ اب اس عمارت کو لائبریری میں  تبدیل کر دیا گیا ہے۔ خیال تھا لائبریری میں  محفوظ نوادرات یا کتب وغیرہ تو ہوں  گی ان کی زیارت ہو جائے گی۔ مگر لائبریری کو تالا لگا ہوا تھا۔ سوہماری ادھوری خواہش بھی پوری نہ ہو سکی...... اس وقت تسکین قلب کی خاطر ولادت باسعادت کے  متعلق چند سطریں نظرِ قارئین کر رہا ہوں :۔ 

ساعتِ ولادت__ ولادت باسعادت

ہوئی پہلوئے  آمنہ سے  ہویدا
دعائے  خلیلؑ اور نوید مسیحا
وہ نور جو سینۂ لامکاں  میں  مستور تھا نو ربیع الاول سنۃ ایک عام الفیل یوم دو شنبہ کو صبح کے  وقت شعبِ بنی ہاشم کے  اندر حضرت عبداللّٰہ کے  مکان میں  ظہور پذیر ہوا۔ اس وقت نوشیروان کی تخت نشینی کا چالیسواں  سال تھا اور ۲۰یا ۲۲اپریل،۵۷۱ء؁ کی تاریخ تھی۔ سلمان صاحب سلمان منصورپوری ؒ اور محمود پاشا فلکی کی تحقیق یہی ہے۔ 
ابنِ سعد کی روایت ہے  کہ رسول اللّٰہﷺ کی والدہ نے  فرمایا:۔ جب آپؐ کی ولادت ہوئی تو میرے  جسم سے  ایک نور نکلا جس سے  ملک شام کے  محل روشن ہو گئے۔ امام احمد نے  حضرت عرباض بن ساریہ سے  بھی تقریبااًسی  مضمون کی ایک روایت نقل فرمائی ہے۔ 
بعض روایتوں  میں  بتایا گیا ہے  کہ ولادت کے  وقت بعض واقعات نبوت کے  پیش خیمہ کے  طور پر ظہور پذیر ہوئے۔ یعنی ایوانِ کسریٰ کے  چودہ کنگرے  گر گئے۔ مجوس کا آتش کدہ ٹھنڈا ہو گیا۔ بحیرہ ساوہ خشک ہو گیا اور اس کے  گرجے  منہدم ہو گئے۔ یہ بیہقی کی روایت ہے۔ لیکن غزالی نے  اسے  درست تسلیم نہیں  کیا ہے۔ (الرحیق المختوم)
	حضورﷺ کے  ظہور پُر نور کے  تذکرہ سے  ماضی کے  دریچوں  میں  سے  نورانی یادوں  کی کرنیں  چھن چھن کے  آنا شروع ہو جاتی ہیں۔ ان نورانی یادوں  سے  دل منور ہو جاتا ہے۔ عجیب قسم کی معصومیت اور پاکیزگی محسوس ہوتی ہے۔ عقلِ عیار کے  حصار سے  نکل کر انسان محبت کے  گلزار میں  داخل ہو جاتا ہے۔ میرا جی چاہتا ہے  کوئی حضورﷺ کے  بچپن کی پیاری پیاری بھولی بھالی باتیں  بتائے۔ مگر کیا کیا جائے  میری اس خواہش کو اکثریت اہمیت نہیں  دیتی۔ میرے  لئے  بلوغت اور معصومیت دونوں  اہم ہیں۔ جس سیدھے  سادھے  معصومانہ اور پاکیزہ ماحول میں  اللّٰہ تعالیٰ نے  نبوت کی تربیت فرمائی ہے  میں  اس ماحول کے  احوال جاننا چاہتا ہوں۔ میرے  لئے  اعلان نبوت سے  پہلے  کی نبوی زندگی بہت اہم ہے۔ مگر کیا کروں  مجھے  اس پہلی زندگی کے  آثار مولدِ رسولﷺ کے  آس پاس بھی نہیں  ملے۔ 

دیکھا نہیں  !مگر

	مؤلدِ الرسولﷺ کے  دروازے  کے  سامنے  چند سیڑھیاں  چڑھ کر ایک دو رویہ سڑک آ جاتی ہے۔ یہاں  ایک قسم کا اڈہ ہے  کہ زیارات کے  لئے  یہاں  سے  سواریاں  مل جاتی ہیں۔ منیٰ آنے  جانے  کے  لئے  ہم اس اڈہ سے  سواری لیتے  رہے  ہیں۔ ایک دن زیارات کے  ارادہ سے  اس مقام پر آئے  تو ایک مقامی بھائی زیارہ!زیارہ!کی آواز لگا رہا تھا۔ کرایہ پوچھاتودس ریال بتایا۔ تقریباً آدھا گھنٹہ انتظار کیا مگر کوئی دوسراساتھی نہ ملا۔ اہلیہ کی ناسازی طبع کے  پیشِ نظرواپس ڈیرے  پر آنا پڑا۔ محترمہ پہاڑی دیکھنے  کا بڑا تقاضا کرتی تھیں۔ میرا خیال تھا کہ غارِ حرا یا  جبلِ ثور کا تقاضا ہے۔ مگر تفصیلاً پوچھنے  پر معلوم ہوا کہ انہیں  صفا پر چڑھنے  کا شوق ہے۔ میں  نے  شوق پورا کرنے  کی کوشش کی مگر ان کا پاؤں  پھسل گیا۔ اوپر نہیں  چڑھ سکیں۔ بہرحال ان کی خواہش کافی حد تک پوری ہو گئی۔ میں  نے  حرم شریف کے  مشہور مقامات کی زیارت کر لی تھی اب مجھے  حرم شریف سے  باہر کی زیارات کا شوق تھا۔ مگر نہ معلوم محترمہ باہر جانے  سے  کیوں  کتراتی تھیں۔ میرے  خیال میں  بیماری کی وجہ سے  مشقت کے  سفر سے  کتراتی تھیں۔ میں  دو تین دفعہ انہیں  اڈے  تک لے  گیا۔ لیکن ایک تومناسب کرائے  کی سواری نہیں  ملی۔ دوسرے  ان کا اصرار تھا کہ کوئی پاکستانی بھی ساتھ ہونا چاہئے۔ یا کم از کم ڈرائیور پاکستانی ہو۔ مگر ایساکوئی جوڑ نہ جڑسکا۔ سوہم حرم سے  باہر کی زیارات نہیں  کر سکے۔ منیٰ، عرفات یا مزدلفہ تومناسک کے  دوران آدمی دیکھ لیتا ہے۔ اس سفر میں  بھی میں  کئی مقامات نہیں  دیکھ سکا۔ قارئین کی دلچسپی کے  پیشِ نظر کتابوں  سے  ان کا مختصر تذکرہ نقل کر دیتا ہوں۔ 

جَنَّت الْمُعَلّیٰ

	مکہ شریف کا مشہور اور تاریخی قبرستان ہے۔ یہاں  تابعین، اولیاء اور بزرگوں  کی قبریں  ہیں۔ یہاں  نبی ا کرمﷺ کی پہلی بیوی ام المومنین حضرت خدیجۃ الکبریؓ بھی آرام فرما ہیں۔ یہاں  حضورﷺ کے  اجداد کی قبریں  ہیں۔ حضرت اسما ء بنتِ ابوبکر صدیقؓ،حضرت عبدالرحمن بن ابو بکرؓ، حضورﷺ کے  دادا جناب عبدالمطلب اور چچا محترم جناب ابوطالب، حضرت عبداللّٰہ بن زبیرؓ، حضرت فضیل بن عباسؓ،حضرت عبداللّٰہ بن عمرؓ اور حضورﷺ کے  صاحبزادگان قاسمؓ،طاہرؓ اور طیبؓ کے  مزارات بھی اس قبرستان میں  ہیں۔ یہ قبرستان شارعِ غزہ پر مسجد جن کے  قریب ہے۔ یہی سڑک آگے  جا کر منیٰ کو جاتی ہے۔ 

جبلِ ثور

	مکہ مکرمہ سے  تقریباً چھ میل دور وہ پہاڑی"جبلِ ثور"ہے  جس کے  ایک غار میں  رسولِ ا کرمﷺ نے  ہجرت کے  موقع پر حضرت ابوبکر صدیقؓ کے  ساتھ قیام فرمایا تھا۔ 

مسجد عائشہؓ

	یہ مسجد تنعیم میں  ہے  جہاں  سے  عمرہ کے  لئے  احرام باندھتے  ہیں۔ یہ مسجد حرم کی حدود سے  باہر  تقریباً آٹھ کلو میٹر دور مدینہ روڈ پر واقع ہے۔ حضورﷺ نے  ام المومنین کو یہاں  سے  احرام باندھنے  کا فرمایا تھا۔ ان کی نسبت سے  اس مسجد کا نام مسجدِ عائشہؓ  مشہور ہوا ہے۔ 

مسجد الرایۃ

	مسجدِ جن کے  قریب ہی سیدھے  ہاتھ کو مسجد الرایۃ ہے۔ رایۃ کے  معنی عربی میں  جھنڈے  کے  ہیں۔ یہ وہ جگہ ہے  جہاں  رسولِ ﷺ پاک نے  فتح مکہ کے  موقع پر اپنا جھنڈا نصب فرمایا تھا۔ 

مسجدِ جِنّ

	یہ مسجد سوقِ معلیٰ میں  جنت المعلیٰ کے  قبرستان کے  قریب ہے۔ اس کا نام مسجدِ بیعت اور مسجد حرس بھی ہے۔ یہیں  نبی کریمﷺ نے  جنوں  سے  بیعت لی تھی۔ 

غارِ حرا

	مکہ معظمہ سے  تقریباً تین میل کے  فاصلے  پر جبل النور میں واقع ہے۔ یہ تقریباً دو ہزار فٹ بلند ہے۔ اس کی چوٹی پر مقدس غار واقع ہے  جو غارِ حرا کے  نام سے  موسوم ہے۔ ہدایت الٰہی کا نور یہیں  سے  ساری کائنات میں  پھیلا۔ یہیں  حضورﷺ منصبِ رسالت پر فائز ہوئے۔ 
	میں  نے  موجودہ سفر میں  ان مقاماتِ مقدسہ کی زیارت نہیں  کی۔ اب ان کے  تذکرہ سے  ایک تو ان کی زیارت کا شوق دوبالا ہو گیا ہے  دوسرے  حضورِ پاکﷺ کی مکی زندگی کے  بہت سے  بھولے  ہوئے  ابواب وا ہو گئے  ہیں۔ 

حضورﷺ کی مکی زندگی کی جھلکیاں 

	حضورﷺ کی حیاتِ مقدس کا زیادہ تر حصہ مکہ مکرمہ میں  گذرا ہے۔ اس مقدس سرزمین میں  حضورﷺ کی ولادت باسعادت ہوئی۔ اس شہر کے  گلی کوچوں  میں  چل پھر کر آپ جوان ہوئے۔ یہیں  آپ کے  سپرد ساری انسانیت کو دوزخ سے  بچا کر جنت میں  لے  جانے  کی فکر عطا ہوئی۔ یہ شہر جو کہ آپ کی جنم بھومی ہے  ایک وقت آپ کے  لئے  بالکل بیگانہ ہو گیا۔ اس ارضِ مقدس میں  حضورﷺ نے  تقریباً ترپن(۵۳)برس گذارے  ہیں۔ یہاں  کا ایک ایک لمحہ زندگیوں  میں  انقلاب برپا کرنے  کے  لئے  تحرک اور تپش کا درجہ رکھتا ہے۔ اہلِ علم نے  حضورؐ کی زندگی کے  ایک ایک لمحے  کو ریکارڈ کرنے  کی بے  مثال کوششیں  کیں  ہیں۔ ا یمان کی تازگی کے  لئے  حیات النبیﷺ کی چند جھلکیاں  دکھانے  کی کوشش کر رہا ہوں۔ 
	جیسا کہ پہلے  لکھا جا چکا ہے  کہ حضورﷺ۹،ربیع الاول   ۱    ؁ عام الفیل یوم دو شنبہ کی صبح کو حضرت عبداللّٰہ بن عبدالمطلب کے  گھر پیدا ہوئے۔ آپؐ کے  والد گرامی ولادتِ پاک سے  پہلے  وفات پا چکے  تھے۔ چنانچہ آپؐ کی پرورش کی ساری ذمہ داری آپؐ کی والدہ محترمہ حضرت آمنہ کے  ذمہ تھی۔ آپؐ کے  دادا جان نے  باپ کی کمی محسوس نہیں ہونے  دی۔ آپؐ کے  ابتدائی ایام قبیلہ بنو سعد میں  گذرے۔ حضرت حلیمہ سعدیہ جو کہ آپ کی دایہ ہیں  انہوں  نے  آپؐ کو اپنا دودھ پلایا۔ بنو سعد کے  ہاں  حضورﷺ کے  شق الصدر کا واقعہ پیش آیا۔ حضرت حلیمہ اس واقعہ سے  ڈر گئیں۔ اور حضورؐ کو حضرت آمنہ کو واپس کر گئیں۔ مگر قدرت خدا کی کہ والدِ گرامی کی قبر کی زیارت سے  واپس آتے  ہوئے  آپؐ کی والدہ ماجدہ بھی دارِ فانی سے  رخصت ہو گئیں۔ اب آپؐ کی ساری ذمہ داری بوڑھے  دادا کے  سرپر آ گئی۔ جب آپؐ کی عمر مبارک آٹھ سال دو ماہ کی ہوئی تو وہ بھی معصوم پوتے  کو اپنے  بیٹے  حضرت ابوطالب کے  سپرد کر کے  اللّٰہ کو پیارے  ہو گئے۔ حضرت ابوطالب نے  مرتے  دم تک تقریباً چالیس برس تک حضورﷺ کی سرپرستی فرمائی۔ ایک دفعہ آپؐ اپنے  چچا ابوطالب کے  ہمراہ تجارت کے  سلسلے  میں  ملک شام کے  سفر پر نکلے  تو بحیرہ نامی راہب نے  حضورﷺ کو دیکھ کر اندازہ کر لیا کہ آپؐ ہی پیغمبر آخر الزماں  ہیں۔ چنانچہ اس نے  آپؐ کو یہودیوں  کی دشمنی سے  بچانے  کے  لئے  حضرت ابوطالب کو مشورہ دیا کہ انہیں  واپس مکہ بھیج دیں۔ آپؐ نے  ۱۵سال کی عمر میں  جنگ فجار میں  حصہ لیا۔ 
	آپؐ ایک معاہدے  میں  شریک ہوئے  جسے  حلف الفضول کے  نام سے  یاد کیا جاتا ہے۔ اس معاہدہ کے  مطابق چند شرفائے  قریش نے  یہ عہد کیا کہ مکہ میں  جو بھی مظلوم نظر آئے  گا خواہ مکے  کا رہنے  والا ہو یا کہیں  اور کا،یہ سب اس کی مدد اور حمایت کے  لئے  اٹھ کھڑے  ہوں  گے۔ اور اس کا حق دلوا کر رہیں  گے۔ اس اجتماع میں  آپؐ بھی شریک تھے۔ آپؐ کو اس معاہدہ کی شرکت پر بڑا فخر تھا۔ اس واقعہ سے  اپنا ایک شعر یاد آ گیا ہے 
یہ آرزو ہے  کوئی ہم نوا ملے  تو حضورﷺ
میں  اپنے  عہد کا حلف الفضول نقش کروں 
	قریشِ مکہ کا پیشہ تجارت تھا۔ جب حضورﷺ کی عمر ۲۵برس کی ہوئی تو حضرتِ خدیجہؓ کا مال لے  کر ملک شام تشریف لے  گئے۔ حضرتِ خدیجہؓ کو جب آپؐ کے  اخلاق حسنہ اور خوش معاملگی کا علم ہوا تو نکاح کی خواہش ظاہر فرمائی سو ملک شام سے  واپسی کے  دو مہینے  بعد بیس اونٹوں  کے  مہر پر حضورﷺ نے  حضرت خدیجہؓ سے  نکاح فرمایا۔ تقریباً اسی عرصے  میں  تعمیر کعبہ کا واقعہ پیش آتا ہے۔ جب ہجرِ اسود کی تنصیب کا تنازعہ پیدا ہوا ابوامیہ مخزومی کی تجویز کے  مطابق حضورﷺ مسجدِ حرام کے  دروازے  سے  پہلے  داخل ہوئے  اور تنصیب حجرِ اسود کا اعزاز آپؐ کو نصیب ہوا۔ 
	جب آپؐ کی عمر چالیس برس ہوئی تو اللّٰہ تعالیٰ نے  آپؐ کو منصب رسالت پر فائز فرمایا۔ الرحیق المختوم کے  مطابق یہ واقعہ رمضان المبارک کی ۲۱ تاریخ کو دو شنبہ کی رات کو پیش آیا۔ اس روز اگست کی دس تاریخ تھی اور ۶۱۰ء ؁ تھا۔ قمری حساب سے  نبی ؐ کی عمر چالیس سال چھ مہینے  بارہ دن اور شمسی حساب سے  ۳۹ سال تین مہینے  ۲۲دن تھی۔ 
	منصبِ رسالتؐ ملتے  ہی حضورﷺ کو تبلیغِ دین کا حکم بھی سنا دیا گیا۔ سورۃ مدثر کی روشنی میں  مضامین دعوت کا خلاصہ ان الفاظ میں  بیان کیا گیا ہے۔ 
"توحید، یوم آخرت پر ایمان،تزکیہ نفس کا اہتمام،اللّٰہ کے  آگے  خود سپردگی اور اطاعتِ رسولؐ ۔ حکمِ تبلیغ کے  ملتے  ہی حضورﷺ نے  پہلے  خفیہ پھر اعلانیہ اللّٰہ تعالیٰ کی وحدانیت اور اپنی رسالت کی دعوت دینا شروع کر دی۔ تین سال تک تبلیغ کا کام خفیہ اور انفرادی رہا۔ اس دوران اہلِ ایمان کی ایک مختصر سی جماعت تیار ہو گئی۔ جو اخوت و تعاون پر قائم تھی اور اللّٰہ کا پیغام بقدرِ استطاعت پہنچا رہی تھی۔ 
	جب مخلص جانثاروں  کی ایک مختصرسی جماعت تیار ہو گئی تو آپؐ نے  اپنے  نزدیک ترین قرابت داروں کے  سامنے  اللّٰہ کے  حکم کے  تحت کھلم کھلا اعلانِ نبوت کر دیا۔ آپؐ نے   اپنی برادری کے  پینتالیس آدمیوں  کو اللّٰہ کی توحید اور رسالت پہ ایمان لانے  کی دعوت دی۔ اس موقع پر سوائے  حضرت ابوطالب کے  کسی نے  بھی حضورﷺ کی حوصلہ افزائی نہیں  کی۔ جب حضورﷺ کو حضرت ابوطالب کی طرف سے  اس امر کا اطمینان ہو گیا کہ وہ تبلیغِ دین میں  مدد فرماویں  گے  تو آپؐ نے  کوہ صفا پر چڑھ کر اہلِ مکہ کو دعوتِ عام دی۔ مگر اس موقع پر بھی انہوں  نے  کوئی حوصلہ افزا ردِ عمل پیش نہیں  کیا۔ بلکہ ابولہب وغیرہ نے  آپؐ کی توہین کی۔ اس لعین کی گستاخی پر اللّٰہ تعالیٰ نے  سورۃ لہب نازل فرمائی۔ 
	اعلانِ صفا سے  کفارِ مکہ پر یہ حقیقت واضح ہو گئی کہ محمدﷺ کی بات ماننے  سے  ان کے  دنیاوی مفادات کو زبردست نقصان پہنچے  گا۔ ان کی سرداری اور چودھراہٹ ختم ہو جائے گی۔ پھر ان کی بت پرستی اور شرک کی وجہ سے  ان کے  اعتقادی نظام کو گمراہی کہا جا رہا تھا۔ ان متکبر سرداروں  کو اپنی منوانے  کی عادت تھی یہ اللّٰہ اور اس کے  رسولﷺ کی کیسے  مان سکتے  تھے۔ سو انہوں  نے  کھلم کھلا حضورﷺ کی  مخالفت شروع کر دی  پہلے  تو انہوں  نے  اتمامِ حجت کے  طور پر حضرت ابو طالب کو کہا اپنے  بھتیجے  کو اپنے  اشن سے  روک دیں۔ مگر جب وہ حضور کی مدد سے  دست بردار نہ ہوئے  تو انہوں  نے  حضورﷺ اور حضورﷺ کے  متبعین کو رسوا کرنا شروع کر دیا۔ وہ مقدس ہستی جس کو بالاجماع تمام مکہ والے  صادق و امین کہتے  تھے  اب اس پر (نعوذ باللہ)شاعر، مجنون اور کاذب ہونے  کے  الزامات لگائے  جا رہے  تھے۔ حضورﷺ جہاں  حق بیان فرماتے۔ جھٹلانے  والے  وہیں  آ جاتے۔ ہنسی، استہزاء،ٹھٹھا اور تکذیب تو عام معمول تھا۔ حضورؐ کو جسمانی اذیت پہچانے  سے  بھی دریغ نہ کیا جاتا۔ حضورﷺ اور بیہودہ گالیوں  کا نشانہ بنایا جاتا۔ ناروا تہمتوں  اور مختلف قسم کے  سیاسی حربوں  کے  ذریعے  حضورؐ کو اپنے  مشن سے  باز رکھنے  کی کوشش کی جاتی۔ حضورﷺ کو ہر قسم کے  دنیاوی لالچ کے  ذریعے  اپنے  مشن سے  دستبردار ہونے  کی ترغیب دی گئی۔ مگر آپؐ نے  فرمایا کہ اگر میرے  ایک ہاتھ پر چاند اور دوسرے  ہاتھ پر سورج رکھ دیا جائے  تب بھی میں  اپنے  مشن سے  نہیں  ہٹ سکتا۔ آپ ﷺ کو یہ پیشکش بھی کی گئی کہ کچھ اپنی منواؤ اور کچھ ہماری مانو،کچھ لو کچھ دو کا فلسفہ صرف آج کا نہیں  پرانا ہے۔ ان کم عقلوں  کو عقل نہ تھی کہ دینِ خداوندی حضورؐ کی ذاتی سوچ نہیں  بلکہ یہ حکمِ خداوندی ہے۔ اس میں  حضورؐ اپنے  طور پر کوئی تخفیف و ترمیم نہیں  کر سکتے۔ کفار کی سیاسی چالیں  اور نفسیاتی حربے  جب کار گر ثابت نہ ہوئے  تو انہوں  نے  حضورﷺ کو (نعوذ باللہ)شہید کرنے  کا منصوبہ بنا لیا۔ ایک رات کفار نے  اپنے  ناپاک منصوبے  کے  مطابق حضورﷺ کے  گھر کو چاروں  طرف سے  گھیر لیا۔ حضورؐ نے  مٹھی بھر مٹی ان پر پھینکی لمحہ بھر کے  لئے  وہ اندھے  ہو گئے۔ حضورﷺ اللّٰہ کی حفاظت میں  سورۃ یٰسین کی تلاوت کرتے  ہوئے  کفار کا حصار توڑ کر سوئے  مدینہ رخصت ہوئے۔ 

آئینہ نبوت__ قرآن

	مکہ مکرمہ میں  ہمارے  قیام کا دورانیہ ختم ہونے  کو ہے۔ اس وقت میں  ضرور ت کے  موضوع پر سوچ رہا ہوں۔ میں  سوچ رہا ہوں  کہ اس سفرِ سعید کا مقصد کیا تھا۔ یہ تو ظاہر ہے  کہ اللّٰہ کے  حکم کے  مطابق ہر صاحب استطاعت پر حج فرض ہے۔ فرض کے  علاوہ حج کر ناسنت بھی ہے۔ اور اللّٰہ کے  حکم کو سنت کے  مطابق ماننا دین ہے۔ سوحج کرنے  سے الحمد اللّٰہ ایک فرض ادا ہو گیا۔ اب اس عمل کے  اجر و ثواب کی کیا قیمت ہے ؟ وہ اللّٰہ ہی جانتا ہے۔ اللّٰہ کے  نبیؐ کے  فرمان کا مفہوم ہے  کہ حج کرنے  کے  بعد آدمی ایسے  ہوتا ہے  جیسے  ابھی اس نے  بطنِ مادر سے  جنم لیا ہے۔ یعنی فریضہ حج کی ادائے گی سے  گناہگار سے  گناہگار بھی معصوم بچے  کی طرح پاک صاف ہو جاتا ہے۔ اس پر یقین ہے۔ باقی رہا اجر و ثواب کے  درجے  کا تو یہ درجہ معلوم نہیں۔ یہ اطمینان ہے  کہ حاضری لگ گئی ہے۔ اور یہ حاضری بھی محض اس کے  کرم سے  ہے۔ کہتے  ہیں  اللّٰہ تعالیٰ جسے  قبول فرماتے  ہیں  اسے  ہی بلاتے  ہیں  سو قبولیت کا یقین ہے۔ مگر اس یقین کے  باوجود عجیب عجیب سی سوچیں  ذہن میں  پیدا  ہو رہی ہیں۔ سب سے  بڑی سوچ تو یہ ہے  کہ میں  مکہ سے  کیا لے  جا رہا ہوں ؟
	ایک عالم نے  فرمایا تھا کہ"مکہ کا زمزم اور حضورﷺ کی مکی زندگی اصل سوغاتیں  ہیں۔ سوان سوغاتوں  کے  حصول کی کوشش اصل مقصدِ حج ہے "۔ میں  سوچ رہا ہوں  کہ زمزم کے  دوکنستر توہم لے  آئے  ہیں۔ کیا حضورﷺ کی مکی زندگی کی نورانیت بھی نصیب ہوئی یا نہیں۔ میرے  پاس اس کا کوئی واضح جواب نہیں۔ سوچ دھندلائی اور یاد پتھرائی ہوئی ہے  شاید میں  پتھر تھا۔ روح پتھر تھی۔ نظر پتھر تھی..... یا منظر۔ نہیں  !نہیں !میں  ہی پتھر تھا۔ روح پتھر تھی، نظر پتھر تھی۔ پتھر نہ ہوتی تو پتھروں  میں  کیوں  الجھتی۔ ستونوں،مناروں،فانوسوں  میں  الجھنے  کی بجائے  ان کی نسبت کی طرف متوجہ ہوتی۔ سطحی اور سرسری دیکھنے  کے  بجائے  منظر کی تہ میں  اترنے  کی کوشش کرتی۔ یہ منظر کوئی عام منظر نہیں  تھا۔ کعبہ،منیٰ،عرفات، مزدلفہ۔ کوئی سیرگاہ تو نہ تھی۔ عبرت گاہ تھی۔ جنت کی رہگذر تھی۔ ان منزلوں  پر حضورﷺ کی مبارک زندگی کے  آثار نظر آتے  ہیں۔ ہم جیسے  بے  بصروں  کو بھی نور نظارے  ہوتے  ہیں۔ مگر یہ نظارے  صرف حجۃ الوداع کے  چند ایام کی جھلک ہیں۔ حضورؐ کی بقیہ ترپن سالہ مکی زندگی کے  آثار تک میری رسائی نہیں  ہو سکی۔ اس کی ایک وجہ تو یہ ہے  انقلابات زمانہ نے  بہت سے  آثار کو تبدیل کر دیا ہے یا مٹا دیا ہے۔ مجھے  عہدِ نبویؐ کی تلاش ہے۔ مجھے  اس عہد کے  تہذیب وتمدن سے  عشق ہے  اور یہ عشق سیرتِ رسول ؐ اور حکایاتِ صحابہؓ اور اہلِ بیت کی روایات سے  پیدا ہوا ہے۔ میری سرشت میں  روایت پسندی رچی بسی ہے۔ میں  اپنی سرشت کے  ہاتھوں  مجبور ہوں۔ میں  اس روایت کو جو قرآن و حدیث میں  محفوظ ہے  اسے  عملی صورت میں  دیکھنا چاہتا ہوں  جہاں  اس روایت نے  جنم لیا تھا۔ میں  اپنی کم نظری کی وجہ سے  وہاں  کا پوری طرح مشاہدہ نہیں  کر سکا۔ بہرحال مجھے  جہاں  جہاں  ماضی کی جھلک دکھائی دی ہے  میں  نے  وقتاً فوقتاً اس کا تذکرہ کر دیا ہے۔ اگر میں  یہ کہوں  کہ حضورﷺ کی مکی زندگی نظر نہیں  آتی تو یہ میری کم نظری ہے۔ حضورؐ کی پوری زندگی کو اللّٰہ تعالیٰ نے  قرآن و حدیث کی صورت میں  پوری طرح محفوظ کر رکھا ہے۔ مادی ماخذوں  تک رسائی حاصل کرنے  کے  لئے  ہزاروں  لاکھوں  خرچ کرنے  پڑتے  ہیں۔ میلوں  سفر کی صعوبتیں  برداشت کرنا پڑتی ہیں۔ لیکن قرآن پاک ہرمسلمان کے  گھر میں  موجو دہے۔ اگر تھوڑی سی محنت و مشقت اٹھا کر اس کو سمجھنے  کی کوشش کی جائے  تو حضورﷺ کی پوری زندگی کی زیارت ہو سکتی ہے۔ 
"نیست ممکن جز بقرآن زیستن"

طوافِ وداع__الوداعی مصروفیات

	ہمیں  سرزمین مکہ میں  اندازاًتیس دن ہونے  والے  ہیں۔ ہم پاکستان سے  پندرہ جنوری کو روانہ ہوئے  تھے۔ سرکاری پروگرام کے  مطابق حجازِ مقدس میں  ہمارا قیام چالیس روز کا تھا۔ ان چالیس ایام میں  ایک مہینہ مکہ مکرمہ اور دس دن مدینہ منورہ کے  قیام کے  ہیں۔ مدینہ منورہ میں  مسجدِ نبوی کی چالیس نمازیں  ضروری ہوتی ہیں۔ ان کے  لئے  آٹھ روز کافی ہوتے  ہیں۔ مگر دو دن مدینہ آنے  پھر مدینہ سے  واپس پاکستان آنے  میں  لگ جاتے  ہیں۔ مکہ میں  سوائے  طوافِ وداع کے  ہم تمام مناسک ادا کر چکے  تھے۔ تیرہ فروری کو مکتب والوں  نے  چودہ کی ظہر کو تیاری کا نوٹس لگا دیا۔ اب مکہ سے  روانگی کی باتیں  شروع ہو گئیں۔ مکہ چھوڑنے  سے  پہلے  طوافِ وداع ضروری ہوتا ہے۔ طوافِ وداع حج کا آخری واجب ہے۔ اکثر حجاج کرام نے  چودہ کو طواف وداع کا پروگرام بنایا۔ مگر ہم نے  حفظِ ماتقدم کے  پیشِ نظر تیرہ کو یہ واجب ادا کرنے  کا پروگرام بنایا۔ 
	طوافِ وداع میں  صرف بیت اللّٰہ کے  سات چکر لگانے  ہوتے  ہیں۔ اس میں  احرام کی بھی پابندی نہیں  ہوتی۔ رمل بھی نہیں  ہوتا۔ طواف کے  بعد دو نفل پڑھ کر زمزم پئیں  دعا کریں۔ بس طوافِ وداع ادا ہو گیا۔ مگر اس وداعی طواف کے  وقت اندر کی عجیب کیفیت ہوتی ہے۔ مہینہ بھرکی مصاحبت سے  مکی ماحول سے  انسیت پیدا ہو جاتی ہے۔ پھر کعبۃ اللّٰہ سے  بچھڑنے  کا احساس دل میں  عجیب قسم کی افسردگی پیدا کر دیتا ہے۔ ایک طرف یہ کیفیت ہوتی ہے  اور دوسری طرف گھر کی کشش کھینچ رہی ہوتی ہے۔ دوران حج تومناسک کی مصروفیت کی وجہ سے  گھر بار بال بچوں  کا اتنا خیال نہیں  آتا۔ مگر مکہ چھوڑتے  وقت بال بچوں  اور عزیز و اقارب کی فرمائشیں  یاد آنا شروع ہو جاتی ہیں۔ حجاج کرام غیر ملکی مصنوعات مکی سوغاتیں  سمجھ کر خریدنے  میں  مصروف ہو جاتے  ہیں۔ ٹیلیفونی رابطے  بڑھ جاتے  ہیں۔ روحانی رابطے  کمزور پڑ جاتے  ہیں۔ کئی حجاج تسبیحوں،رومالوں، جائے  نمازوں  اور ٹوپیوں  کو مکی سوغاتیں  سمجھ کر اپنے  احباب کو ہدیہ کرنے  کے  لئے  خرید فرما رہے  ہیں۔ کچھ کپڑے، زیور،گھڑیاں وغیرہ خریدنے  میں  مصروف ہیں۔ ان حضرات کا خیال ہے  کہ یہ چیزیں  مکہ،مدینہ میں  سستی ہیں۔ حالانکہ پنڈی کے  بازار میں  جائیں  تو یہ سب چیزیں  اس سے  بھی سستی مل سکتی ہیں۔ لیکن ایک رواج سابن گیا ہے  کہ حج سے  واپسی پر ریال ختم کر کے  آنا ہیں۔ اور کم از کم اتنا مال ضرور لے  کر آنا ہے  جتنے  کی حکومت نے  اجازت دے  رکھی ہے۔ 
	ہمارے  پاس ریال بھی تھے۔ وقت بھی تھا۔ ترغیب بھی تھی۔ مگر بوجھ اٹھانے  کی ہمت نہ تھی۔ اپنی کم ہمتی کی تشفی کے  لئے  ہم اپنے  آپ کو سمجھاتے  رہے۔ یہ حج ہے  تجارت نہیں۔ اس کے  باوجود تبرک کے  بہانے  تسبیحاں، ٹوپیاں  اور رومال ہم نے  بھی خرید لئے۔ کچن کا سامان پہلے  خرید رکھا تھا۔ سواحتیاط کے  باوجود ہمارے  سامان میں  بھی ایک تھیلے  کا اضافہ ہو گیا۔ 
	ایامِ حج میں  خرید و فروخت کی ممانعت تو نہیں۔ مگر اس میں  زیادہ انہماک حج کی نورانیت ختم کرنے  کا باعث بنتا ہے۔ ہم نے  اپنی معذوری کی وجہ سے  اس طرف بہت کم توجہ دی ہے۔ مگر بازار سے  گذرتے  وقت ہم حرم کی نورانیت کو بحال نہیں  رکھ سکے۔ 

سوئے  مدینہ

	طوافِ وداع سے  واپس ہو کر ہم میاں  بیوی صفا و مروہ اور مسجد کے  درمیان کی چھوٹی سی دیوار پر آرام کر رہے  تھے۔ ہمارے  سامنے  ایک خاتون نوافل پڑھ رہی تھی۔ آدھ پون گھنٹے  کے  بعد نوافل سے  فارغ ہوئی تو میری اہلیہ سے  تعارف کرنے  لگی۔ میری اہلیہ نے  بتایا کہ کل ان شاء اللّٰہ ہم لوگ مدینہ منورہ کو روانہ ہو جائیں  گے۔ یہ سن کر موصوفہ نے  دیگر ہدایات کے  ساتھ ساتھ خصوصی طور پر تاکید فرمائی کہ مدینہ شریف میں  درود شریف کا خصوصی اہتمام رکھنا۔ بہتر تو یہی ہے  کہ گاڑی میں  بیٹھتے  ہی درود شریف شروع کر دیا جائے۔ 
کم از کم ایک لاکھ مرتبہ ہو جانا چاہئے۔ سب سے  افضل تو درودِ ابراہیمیؑ ہے  اور چھوٹا درود بھی باعثِ برکت ہے۔ اس محترمہ کی گفتگو سے  مکہ چھوڑنے  کے  خیال سے  جو خلا پیدا  ہو رہا تھا وہ پورا ہو گیا۔ 
	مکہ شریف میں  قدرتِ خداوندی کے  جلالی اور مدینہ منورہ میں  جمالی نظارے  ہیں۔ سو قدرتِ کا ملہ کے  نظارے  کے  لئے  مکہ،مدینہ دونوں  دیاروں  کی زیارت ضروری ہے۔ مکہ میں  اللّٰہ کا گھر ہے  اور مدینہ میں  اللّٰہ کا محبوب ہے۔ اللّٰہ کا محبوب نہ صرف اللّٰہ بلکہ اللّٰہ والوں  کا بھی محبوب و مقصود ہے۔ اللّٰہ کے  حکم کے  مطابق اللّٰہ کے  محبوب کی محبت اصلِ ایمان ہے۔ اس محبت کا معیار صحابہ کرامؓ کا معیار ہے۔ " میرے  ماں  باپ آپؐ پر قربان"یہ حضورﷺ کے  عاشقوں  کا تکیہ کلام تھا۔ عشقِ رسولؐ کا تقاضا ہے  کہ اپنی جان سے  بڑھ کر حضور۰ﷺ سے  محبت ہو۔ اگر ایسانہیں  تو ایمان کامل نہیں۔ سوسفرِ مدینہ میں  عشقِ رسولﷺ اصل زادِ سفر ہے۔ اور یہ متاعِ گراں  مایہ کسی بازار سے  نہیں  ملتی۔ اس کے  حصول کاآسان ترین ذریعہ درود شریف ہے۔ درود شریف پڑھتے  وقت حضورﷺ کے  احسانات کا استحضار بہت ضروری ہے۔ حضورؐ نے  ہماری نجات کے  لئے  کتنے  کتنے  دکھ اٹھائے  ہیں  ان کا خیال کرنا دل میں  محبتِ رسول پیدا کرنے  کا ذریعہ بنتا ہے۔ 
	میں  نے  خاتونِ محترمہ کی باتوں  سے  متاثر ہو کر اس وقت درود کا ورد شروع کر دیا۔ اب میرے  سامنے  کعبہ اور تصور میں  روضہ رسولؐ تھا... وہ روضہ رسولﷺ جس کی تصویروں  میں  زیارت ہوتی تھی اب اللّٰہ کے  فضل سے  ظاہر کی آنکھوں  سے  اس منبع نورِ بصیرت کو دیکھنے  کا موقع مل رہا تھا۔ میں  ذہنی طور پر مکہ و مدینہ کے  مکانی بُعد کو ختم کرنے  کی کوشش کر رہا تھا۔ میں  مدینہ جانے  کا خواہش مند تھا۔ مگر مکہ چھوڑنے  کو بھی جی نہیں  چاہ رہا تھا۔ عجیب تذبذب اور کشمکش کا عالم تھا۔ اس کشمکش میں  الجھتے  ہوئے  جب رہائش گاہ پر پہنچے  تو حاجی حضرات اپنا سامان وغیرہ پیک کر رہے  تھے۔ جوش و خروش سے  مدینہ منورہ روانگی کی تیاریاں   ہو رہی تھیں۔ اس گہماگہمی میں  میرے  اندر کی کشمکش کم ہو گئی۔ ہم میاں  بیوی بھی اپنا سامان پیک کرنے  میں  مصروف ہو گئے۔ ہمارے  سامان میں  کیا تھا۔ تین چھوٹے  چھوٹے  بیگ اور دو زمزم کے  کین۔ مگر یہ بیگ اور کین بھی تو وزن تھا۔ نہ صرف کندھے  کا بلکہ سرکا۔ یہ بوجھ گھر واپسی تک ہمارے  لئے  دردِ سر بنا رہا ہے ...پتہ نہیں  جن کے  بڑے  بیگ اور بوجھ ہوتے  ہیں  ان کا کیا حال ہوتا ہے۔ 
	ہمارے  مکتب والوں  نے  چودہ فروری کی ظہر کو تیار رہنے  کا نوٹس لگایا تھا۔ ہمارے  کچھ ساتھی تیرہ کو طوافِ وداع کر آئے  تھے۔ اور باقی حجاج کرام نے  چودہ کی ظہر سے  پہلے  طواف وداع کیا۔ ظہر تک تقریباً سارے  حجاج کرام طواف سے  فارغ ہو چکے  تھے  اور سامان بھی پیک کر چکے  تھے۔ بلکہ کئی حضرات توسامان کمروں  سے  نکال کر باہر رکھ چکے  تھے ... پتہ نہیں  ایسے  موقعوں  پر زیادہ جلدی کیوں  ہوتی ہے۔ حالانکہ گاڑی والوں  نے  توسب کو لے  کر جانا ہوتا ہے۔ یہ ان کا فرض یا مجبوری ہوتی ہے۔ نماز ظہر کے  بعد گاڑی آئی تو ایک طرح کی بھگدڑسی مچ گئی۔ حاجی حضرات دوڑ دوڑ کر سامان گاڑی تک لانے  لگے۔ سب کی کوشش تھی کہ ہماراسامان پہلے  لوڈ کر لیا جائے  اور سب سے  پہلے  سیٹوں  پر قبضہ کر لیا جائے۔ ہم ذہنی طور پر تو اس بدنظمی میں  برابر کے  شریک تھے  مگر جسمانی مجبوری کی وجہ سے  زیادہ متحرک نہیں  تھے۔ میں  نے  بڑی مشکل سے  اپنا سامان کمرے  سے  نکال کر باہر دروازے  پر رکھا۔ اس کے  بعد اللّٰہ بھلا کرے  جمال کا (یہ ہماری عمارت کا چوکیدار تھا)اس نے  ہمارا سارا سامان لوڈ کرایا۔ اس نے  بیٹوں  کی طرح ہماری خدمت کی ہے۔ ہم اس کی خدمت کا اجر نہیں  دے  سکتے۔ ہم نے  زبردستی اس کو دس ریال دئیے۔ اگرچہ وہ لینے  سے  انکاری تھا مگر ہماری ضد کی وجہ سے  اس نے  ہمارا ہدیہ قبول کیا... 

بندۂ مزدور کے  اوقات

	یہاں  پاکستان میں  عرب ریاستوں  میں  مزدوری کرنے  والوں  کے  متعلق بڑی خوش فہمیاں  پائی جاتی ہیں۔ دوسرے  ممالک کا تو مجھے  پتہ نہیں  سعودی عرب کے  مزدوروں  کو دیکھ کر ترس بھی آتا ہے  اور تعجب بھی ہوتا ہے۔ جمال سے  پہلے  ہماری بلڈنگ میں  ا کرم نامی جوان چوکیدار تھا۔ یہ بھی بڑی محبت والا خدمت گذار لڑکا ہے۔ سیالکوٹ کا رہنے  والا ہے۔ عام طور پر رنگ کا کام کرتا ہے۔ اس سے  تھوڑی سی غلطی ہو گئی جس کی سزاکے  طور پر پاکستان کی انتظامیہ نے  اس کی جگہ جمال کو بھیج دیا۔ جمال سرحد کے  کسی علاقے  کا رہنے  والا ہے۔ پکا نمازی اور تابعدار قسم کا آدمی ہے۔ ان دونوں  کے  پاس اکثرپاکستانی مزدور آیا کرتے  تھے۔ ان کی گفتگو اور حالات سے  معلوم ہوتا تھا کہ یہاں  بھی یہ بیچارے  مہاجن ذہنیت کے  شکار ہیں۔ ان کی تنخواہ یا مزدوری تیس یا چالیس ریال ہوتی ہے۔ تعمیراتی سلسلوں  کے  ٹھیکے  جن حضرات نے  لئے  ہوتے  ہیں  وہ ان سے  ایساہی سلوک کرتے  ہیں  جیسے  پاکستانی ٹھیکیدار مزدوروں  کے  ساتھ کرتے  ہیں۔ یہ حالت صرف پاکستانی مزدوروں  ہی کی نہیں  بلکہ دیگر مزدور بھی کس مپرسی کی حالت میں  ہیں۔ 
	جس گاڑی میں  ہم سوار ہوئے  اس میں  واضح طور پر لکھا تھا کہ کسی کو ٹپ یا بخششیں  نہ دیں۔ گاڑی پہ سامان لوڈ کرانے  والوں  کو حاجیوں  نے  بقدرِ توفیق کچھ نہ کچھ ہدیہ کیا۔ مگر ڈرائیور کو کچھ نہیں  دیا۔ گاڑی جب مکہ سے  باہر نکلی تو کچھ حجاج کرام نے  ڈرائیور کے  لئے  نذرانہ اکٹھا کرنے  کی تجویز پیش کی۔ میرے  سمیت ایک آدھ حاجی نے  اس تجویز کی مخالفت کی۔ ہمارا کہنا تھا کہ بھائی یہ ایک طرح کی رشوت ہے۔ اور رشوت دے  کر ہم حج کا ثواب ضائع نہیں  کرنا چاہتے۔ پتہ نہیں  ڈرائیور کو ہماری باتوں  کی سمجھ آئی یا نہیں۔ وہ بڑے  آرام سے  گاڑی چلا رہا تھا۔ اتنے  آرام سے  کہ پیچھے  سے  آنے  والی گاڑیاں  بڑی سرعت سے  ہمیں  کراس کر رہی تھیں۔ حاجی حضرات بڑی جلدی اور غصے  میں  تھے۔ مجھے  میری اہلیہ نے  خاموش رہنے  کا مشورہ دیا۔ سوہم دونوں  خاموشی سے  درود شریف پڑھتے  رہے۔ ڈرائیور کے  لئے  چندہ ہوا یا نہیں  ہمیں  اس کا علم نہیں۔ اس کے  علاوہ جب ہم مدینہ منورہ سے  جدہ کے  لئے  سامان لوڈ کرا رہے  تھے  تو مزدوروں  کو مجبوراً ہدیہ کرنا پڑا۔ وہ مزدوری نہیں  بخشش مانگ رہے  تھے۔ یہ بخشش کا لفظ جب میں  نے  جدہ ائر پورٹ کے  لوڈنگ سٹاف کی زبانی سنا تو مجبوراً کہنا پڑا:۔ 
تو خالق و مالک ہے  مگر تیرے  جہاں  میں 
ہیں  تلخ بہت بندۂ مزدور کے  اوقات	(اقبال)

سنبھل اے  دل

	کسی نے  کیا  خوب کہا ہے "با خدا دیوانہ باش وبا محمد ہوشیار"یہ اس لئے  کہ اللّٰہ تو خالق و مالک اور غفور و رحیم ہے۔ اس کے  سامنے  آدمی اس طرح ننگا ہے  جیسے  نوزائیدہ بچہ۔ بچوں  پر شریعت لاگو نہیں۔ اور حضورﷺ تو صاحب شریعت ہیں۔ اور صاحبِ شریعت کے  حضور حاضری کا تقاضا ہے  کہ با شریعت ہو کر حاضر ہوا جائے۔ اور اس حاضری کے  لئے  سیرتِ صحابہ کو نمونہ بنانا چاہئے۔ صحابہ کرامؓ جب حضورﷺ کی محفل میں  حاضر ہوتے  تھے  توایسے  معلوم ہوتا تھاجیسے  بے  جان بت ہوں۔ اگر ان کے  سروں  پر پرندے  بیٹھ جاتے  تو انہیں  خبر تک نہ ہوتی۔ اللّٰہ تعالیٰ نے  حکماً حضورﷺسے  اونچی آواز میں  بولنا منع فرمایا ہے۔ آپؐ کو عامۃ الناس کے  لہجے  میں  مخاطب کرنا سخت گستاخی ہے۔ جب حضورﷺ کے  سامنے  اونچی آواز سے  بولنے  کی ممانعت آئی تو ایک صحابی جو قدرتی طور پر بلند آواز تھے  انہوں  نے  اپنے  آپ کو گھر میں  محبوس فرما لیا۔ صحابہ کرام کو اللّٰہ کے  نبیؐ سے  بے  انتہا عشق تھا۔ ایسا عشق کہ حضورﷺ کے  اشارہ ابرو پر پروانہ وار قربان ہونے  کو ہر صحابی ہر وقت تیار رہتا تھا۔ "ہمارے  ماں  باپ آپ پر قربان"یہ توہر صحابی کا تکیہ کلام تھا۔ صحابہ کرام کے  بعد تابعین و تبع تابعین کا بھی یہی معمول رہا ہے۔ بلکہ اکثر روایات کے  مطابق کئی عشاق اس خدشہ سے  کہ کہیں  حضورﷺ کے  نقش پا پر قدم نہ آ جائے  زیارتِ روضہ اقدس نہیں  کر سکے۔ اور کئی ایسے  تھے  جنہوں  نے  جب تک مدینہ میں  رہے  جوتا نہیں  پہنا۔ ننگے  پاؤ ں  حج و زیارت کی روایات تو آج تک پائی جاتی ہیں۔ ان تمام روایات میں  عشق نبیؐ کی کیفیت ہوش کی ہے  جوش کی نہیں۔ یہاں  دیوانگی نہیں  فرزانگی کی ضرورت ہے۔ اور فرزانگی کیا ہے ؟شریعت کی پابندی اور پاسداری۔ ان آداب کی روشنی میں  جب اپنے  آپ کو دیکھتا ہوں  تو مجھے  سے  روسیاہ کو محبوب خدا کے  دربار کی حاضری محض اللّٰہ تعالیٰ کا خصوصی کرم ہے 
میں  کہاں اور کہاں  یہ مقام اللّٰہ!اللّٰہ!
	اس وقت مدینہ روانگی کی تفصیلات اور اس وقت کے  تاثرات یاد نہیں۔ کچھ دھندلے  دھندلے  تصورات ہیں۔ ان تصورات میں  لمحہ موجود کے  خیالات کی آمیزش سے  جو تصویر تشکیل پا رہی ہے  وہ پیش کرنے  کی کوشش کر رہا ہوں۔ 
	نماز عصر سے  چند لمحے  پیشتر ہماری بس مدینہ منورہ کے  لئے  روانہ ہوئی۔ مکتب کا دفتر رستے  میں  تھا۔ تھوڑی دیر کے  لئے  دفتر کے  سامنے  توقف کیا۔ نمازِ عصر ادا کی۔ مکتب والوں  نے  زادِ سفر کے  طور پر ہر حاجی کو ایک ایک پراٹھا ہدیہ کیا۔ نماز سے  فراغت کے  فوراً بعد بس روانہ ہو گئی۔ یہ وہی مسجد ہے  جو ہماری رہائش گاہ کے  قریب واقع تھی۔ بہت سی نمازیں  ہم نے  یہاں  ادا کیں  تھیں۔ اس مسجد سے  کافی انس تھا۔ سویہاں  سے  روانہ ہوتے  دل کو ایک دھچکا سالگا۔ گاڑی جیسے  جیسے  مدینہ کی طرف جا رہی تھی مکہ چھوٹنے  کا صدمہ بڑھتا جا رہا تھا۔ مگر یہ مکہ تو حضورﷺ نے  بھی چھوڑا تھا۔ مجبوراً یا خوش دلی سے ....اللّٰہ کی رضا کے  لئے۔ مکہ حضورﷺ کو بہت پیارا تھا۔ ہجرت کے  وقت حضورﷺ مڑ مڑ کر مکے  کو دیکھتے  تھے۔ مگر اللّٰہ کا حکم ہجرت کا تھا۔ ہجرت کیا ہے ؟
	ایک جگہ سے  دوسرے  جگہ کی طرف کوچ کرنا۔ چھوڑنا!جگہ کو چھوڑنا۔ مکان کو چھوڑنا۔ مکینوں  کو چھوڑنا۔ پیار کو چھوڑنا، پیاروں  کو چھوڑنا۔ 

کیوں  چھوڑنا؟

	صرف اللّٰہ کی رضا کے  لئے  اس خیال سے  مکہ چھوڑنے  کا صدمہ کم ہوا اور ہجرت کے  تصور سے  مدینہ جانے  کا شوق بڑھنے  لگا۔ دل میں  بجائے  اضطراب کے  یک گونہ اطمینان محسوس  ہو رہا تھا۔ اس لئے  کہ مکہ ہمیں  مدینہ شریف کی طرف وداع کر رہا تھا۔ یوں  محسوس  ہو رہا تھا کہ جیسے  کعبہ حکم دے  رہا ہے  کہ ہم نے  اپنے  نبی کی مدینہ کے  لئے  تشکیل کی تھی اب اس کی اتباع کے  لئے  تمہاری تشکیل کی جا رہی ہے۔ نبیؐ کی تشکیل رب کعبہ کے  تعارف کے  لئے  تھی اور تمہاری تشکیل بھی معرفتِ الٰہی کے  لئے  ہے۔ نبیؐ کو کلمہ دے  کر مدینہ بھیجا تھا۔ نبی نے  کلمہ پھیلانے  کا حق ادا کر دیا۔ اب کلمے  کو ساری دنیا میں  پھیلانا۔ سارے  انسانوں  تک پہنچانا تمہارا فرض ہے۔ 

آغوشِ فطرت

	مکہ شریف کی سوغاتوں  میں  سے  دوسوغاتیں  خالص مکی سوغاتیں  ہیں۔ ایک آبِ زمزم اور دوسراکلمہ۔ یہ دونوں  سوغاتیں  حرم شریف سے  حاصل ہوتی ہیں۔ باہر سے  نہیں۔ باہر توسڑکیں  ہیں،عمارتیں  ہیں،بازار ہیں۔ (اور بازار میں  تو چیزیں  ہوتی ہیں  کلمہ نہیں  ہوتا۔)
	جب گاڑی کشادہ سڑکوں،بلند عمارتوں  اور پُر کشش بازاروں  سے  نکل کر کہساروں  اور ریگزاروں  میں  داخل ہوتی ہے  فطرت اپنے  پورے  مفاہیم سمیت روشن ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ میں  کثرت کے  جنگل سے  نکل کر وحدت کی وسعت میں  داخل ہو جاتا ہوں۔ میرے  دائیں  بائیں  چٹیل میدان اور ویران پہاڑ ہیں۔ ان پہاڑوں  پر سبزہ ہے  نہ کوئی شجر۔ کوئی چشمہ پھوٹتا نظر آتا ہے  نہ کوئی دریا۔ ہر طرف ایستادہ پتھروں  کے  ٹیلے  اور پہاڑ ہیں  یا ان پہاڑوں  کے  پہلو میں  پھیلے  ہوئے  ریت کے  وسیع میدان۔ یہ ہموار اور صاف میدان کثرت و تنوع کی آلائش سے  پاک اور صاف ہیں۔ گویا نیچے  زمین کا فرش اور اوپر آسمان کا سائبان ہے۔ باقی!باقی کچھ نہیں۔ کوئی کثرت نہیں۔ تعداد معدود اور قیود ناپید۔ گویا ایک ایساجہان ہے  جو نا پیدا کنا رہے۔ چاروں  طرف وسعت ہی وسعت ہے،کشادگی ہی کشادگی ہے۔ کوئی گھٹن نہیں، کوئی حبس نہیں،کوئی قید نہیں۔ آزادی ہی آزادی ہے۔ چاروں  طرف فطر ت سواگت کے  لئے  بازو پھیلائے  منتظر ہے۔ مگر انسان اب فطرت کے  اس محبوب رویے  سے  بیزار ہے۔ غیر فطری زندگی ہماری فطرت بن چکی ہے۔ ہمارے  لئے  پہاڑی اور صحرائی زندگی عذاب ہے۔ مگر کیا کیا جائے  اسلامی تہذیب نے  تو گہوارہ فطرت میں  تربیت پائی ہے۔ میں  ماضی حال کے  مقابلہ و موازنہ میں  مصروف ہوں  کہ ایک پرکشش آواز اپنی طرف متوجہ کر لیتی ہے۔ ٹیپ ریکارڈ پر کوئی عالم عربی میں  بیان فرما رہے  تھے۔ میں  نے  توجہ سے  سننے  کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ تقریر کا موضوع سیرتِ رسولِ مقبول ہے۔ 
	مقرر حضورﷺ کی ولادتِ باسعادت اور پرورش کی تفصیلات بتا رہے  تھے۔ اس تقریر سے  اندازہ ہوا کہ حضورﷺ کا بچپن فطری ماحول میں  گذرا ہے۔ پھر اس وقت کے  مکہ کی معاشرت کا مطالعہ کریں  تو وہ بھی نہایت سادہ معلوم ہوتی ہے۔ اس کے  علاوہ حضورﷺ کی بقیہ زندگی کا مطالعہ کیا جائے  تو یہ حقیقت کھل کر سامنے  آ جاتی ہے  کہ دین اسلام فطری دین ہے  اسلام کا مزاج سادہ ہے  اس کا تصنع،بناوٹ اور تکلفات سے  کوئی تعلق نہیں۔ علامہ اقبال نے  فرمایا تھا:۔ 
فطرت کے  مقاصد کی کرتا ہے  نگہبانی
یا بندۂ صحرائی یا مردِ کہستانی
	بیشک اسلام دین فطرت اور مسلمان فطرت آشنا فطرت پسند ہے۔ حفیظ جالندھری نے  کہا تھا:۔ 
نہ اس میں  گھاس اگتی ہے  نہ اس میں  پھول کھلتے  ہیں 
مگر اس سرزمیں سے  آسماں  بھی جھک کے  ملتے  ہیں 
	واقعی سرزمینِ حجاز بے  آب و گیاہسرزمین ہے۔ مگر پیغمبروں  کے  سلسلہکو دیکھیں  تو اکثر کی تربیت اس فطری ماحول میں  ہوئی ہے۔ یہ نکتہ آج کے  مفکرین کے  لئے  دعوتِ فکر ہے۔ 

جانب بطحا

نسیما جانبِ بطحا گذر کن
ز احوالم محمدؐ را خبر کن
(اے  بادِ نسیم لِللہ مدینہ شریف جا کر حضورﷺ کو میرے  احوال کی خبر کرنا)
مولانا جامی مشہور صوفی شاعر ہیں۔ آپ نہ صرف صاحب قال بلکہ صاحبِ حال ہیں۔ علم و فضل کے  لحاظ سے  ان کا مرتبہ بہت بلند ہے۔ خاص طور پر فارسی شاعری میں  ان کا بہت نام ہے۔ یہ صاحب بادِ نسیم کو عرضِ احوال کا پیغام دے  رہے  ہیں  اور ہماری قسمت کے  کیا کہنے  ہمارے   پاس علم و فضل،زہد و تقویٰ اور عشق و محبت جیسی کوئی سوغات نہیں پھر بھی قدم بوسی ء رسول ﷺ کے  لئے  جا رہے  ہیں۔ 
"یہ بڑے  کرم کے   ہیں فیصلے  یہ بڑے  نصیب کی بات ہے "
ایک اور شاعر نے  کہا تھا:۔ 
پیام بر نہ میسر ہو ا تو خوب ہوا
زبانِ غیر سے  کیا شرحِ آرزو کرتے 
	الحمد للّٰہ کسی واسطے  وسیلے  کی ضرورت نہیں  پڑی۔ اللّٰہ نے  بالمشافہ ملاقات کا موقع دیا ہے  اور اپنی زبان سے  حالِ دل کہنے  کی سبیل بنائی ہے۔ مگرسوچتا ہوں  کس منہ سے  حضورﷺ کا سامنا کروں  گا۔ اور کس زبان سے  حالِ دل کہوں  گا۔ میرا دل لذتِ عشق سے  ناآشنا اور وسواس سے  آلودہ ہے۔ نگاہ آدابِ زیارت سے  اور زبان آدابِ تکلم سے  ناآشنا ہے۔ عجب تذبذب کی کیفیت ہے۔ 
میں  جو سربسجدہ ہوا کبھی تو زمین سے  آنے  لگی صدا
تیرا دل توہے  صنم آشنا تجھے  کیا ملے  گا نماز میں 	(اقبال)
	واقعی میرا دل تو صنم کدہ ہے۔ اس میں  دنیا کی محبت بھری ہوئی ہے۔ خواہشیں،تمنائیں  اور محبتیں  وغیرہ،پتہ نہیں  کیا کیا غلاظتیں  اندر بھری ہوئی ہیں۔ کعبۃ اللّٰہ میں  اگرچہ صفائی ہوئی ہے۔ مگر ابھی تک صنم خانۂ دل میں  کئی لات و منات سجے  ہوئے  ہیں۔ 
	کہتے  ہیں  انسان کے  دو بڑے  دشمن ہیں۔ ایک شیطان دوسرانفس۔ شیطان ہمیں  نظر نہیں  آتا اور نفس سے  بھی ہم نظریں  چراتے  رہتے  ہیں۔ مگر جب مرحلہ خود احتسابی کا آتا ہے  تو دونوں  نظر آتے  ہیں۔ شیطان کی کوشش ہوتی ہے  کہ انسان کو راہ سے  گمراہ کر دے۔ اس کی توجہ اللّٰہ سے  ہٹا کر مخلوق میں  لگا دے۔۔۔۔ یہ مخلوق پرستی ہی تو شرک ہے۔ معنوی لحاظ سے  شرک کی دوقسمیں  ہیں۔ جلی و خفی۔ شرکِ جلی کا احساس و ادراک آسانی سے  ہو جاتا ہے  اس کا تعلق خارج سے  یا غیر سے  ہے۔ مگر شرکِ خفی کا تعلق اپنی ذات سے  ہے۔ اس کا احساس تک نہیں  ہوتا۔ آدمی اپنے  سوا ساری مخلوق کی نفی کر سکتا ہے  مگر اپنی اَنا کو ختم کرنا بہت ہی مشکل ہے۔ آدمی اپنی فہم وفراست، علم و فضل اور ذہانت کو بت ہی نہیں  سمجھتا،حالانکہ وہ چیزیں  جنہیں  انسان نورِ بصیرت خیال کرتا ہے  وہ سدّ راہ ہیں۔ ایمان کی کمی کی صورت میں  آدمی ان پر بھروسہ کر کے  دھوکا کھا جاتا ہے،گمراہ ہو جاتا ہے۔ اگر ان صلاحیتوں اور اہلیتوں  کو خدا کی دین سمجھ کر ان سے  کام لیا جائے  تو یہ نور نظر ہیں  اور اگر ان کو ذاتی صفات سمجھ کر ان پربھروسا کیا جائے  تو یہ سدِراہ ہیں۔ آدمی دلائل و استدلال کی بھول بھلیوں  میں  پھنس جاتا ہے۔ کیا؟کیوں ؟کیسے  کے  چکر سے  نہیں  نکل سکتا۔ اور یہ اشکال وسوالات اہلیت تسلیم و رضا سے  عاری ہیں۔ یہ تشکیک و شبہات میں  الجھے  ہوئے  معمے  ہیں۔ ان میں  ایمان و ایقان کی سادگی اور راستی نہیں۔ اور راستی اور سچائی توانسان کی فطری ضرورت ہے۔ 
کبھی اے  حقیقتِ منتظر نظر آ لباسِ مجاز میں 
کہ ہزاروں  سجدے  تڑپ رہے  ہیں  مری جبینِ نیاز میں 	(اقبال)

بے  جسم سے  صاحبِ جسم کی طرف

	بہت سی باتیں  ایسی ہیں  جنہیں  نثر میں  بیان نہیں  کیا جا سکتا۔ خاص طور پر جذبات وحسیات کی عکاسی نثری اسلوب میں  کرنا مشکل ہوتی ہے۔ اس کے  لئے  مجبوراً شعر کے  سانچے  کی ضرورت پڑتی ہے۔ وہ حقیقت منتظر جس کی ہر انسان کو فطری طور پر تلاش ہے  وہ کسی جسم یا شکل و صورت کا نام نہیں۔ وہ ایک نام ہے  جو تمام ناموں، شکلوں  اور جسموں  کا خالق ہے۔ اس بے  جسم اسم کا نظارہ نظر نہیں  کر سکتی۔ اس کا ادراک ذہن نہیں  کر سکتا۔ یہ ذات احاطۂ ادراک سے  ماوراء ہے۔ یہ حدود میں  محدود اور قیود میں  قید نہیں۔ یہ وراء الوریٰ ہے۔ یہ قیدِ زمان و مکان سے  آزاد ہے۔ اس کا کوئی مقام ہے  نہ مکان..... ہاں  !اگر قیام ہے  توسینہ صفاء میں۔ قلبِ مصفا میں، اور قلبِ مصفا اور سینہ صفا کیا ہیں ؟یہ بھی اصطلاحات ہیں  یا استعارے۔ سوحقیقت منتظر یعنی اللّٰہ تعالیٰ کی زیارت  و وصال کی بات کے  لئے  استعارے  کا سہارالینا مجبوری ہے۔ 
	استعارہ  وہ  اشارہ ہے  جو حواسِ کی استعداد کے  مطابق ہو۔ آدمی غیر مادی کو مادی اور غیر محسوس کو قابلِ احساس کے  حوالے  سے  محسوس کرنے  کا عادی ہے۔ حقیقت کو مجاز کے  آئینے  میں  دیکھنے  کا تقاضا ایک فطری بات ہے۔ اس لئے  اقبال حقیقت منتظر کو لباسِ مجاز میں  دیکھنے  کی آرزو کر رہا ہے۔ 
	 ذاتِ باری تعالیٰ کے  متعلق کہتے  ہیں  کہ وہ ذات و صفات دونوں  لحاظ سے  بے  مثل و بے  مثال ہے۔ اس کی ذات کی شناخت اس کی صفات سے  ہے۔ اور صفات میں  اس کی صفتِ تخلیق اس لحاظ سے  اہم ہے  کہ عملِ تخلیق میں  ربوبیت و رحمت کے  علاوہ دیگر صفات بھی موجود ہیں۔ عمل تخلیق جلال و جمال کا مرکب ہے۔ سواس عمل سے  ذاتِ باری تعالیٰ کی جلال و جمال ہر دوقسم کی صفات کا اظہار ہوتا ہے۔ یہ اظہار ہی اس کا تعارف اور معرفت ہے۔ 
	مکہ میں  اللّٰہ کی جلالی و جمالی ہر  دو صفات کا مشاہدہ  و تجربہ ہو چکا تھا۔ مگر یہ مشاہدہ تشنہ اور تجربہ نا پختہ تھا۔ گھر سے  اپنے  در تک وہ سائے  کی طرح ساتھ ساتھ رہا۔ جلال میں  ہوتا تو بیمار کر دیتا، لاچار کر دیتا۔ پھر جمال کی صورت میں  صحت دے  دیتا۔ کبھی دکھ دیتا،کبھی سکھ دیتا،کبھی گدگدی کرتا، کبھی چٹکی بھرتا۔ کبھی گراتا کبھی سنبھالتا،جدا کرتا پھر ملا دیتا۔ مگر اس ہجر و وصال کے  لمحوں  میں  بھی وہ متصل رہا۔ جو کچھ بھی ہوتا وہی کرتا محسوس ہوتا، کبھی وہ خوداحساس دلاتا، کبھی ہم اس کو چھونے  کی کوشش کرتے۔ عجیب کھیل تھا۔ منیٰ میں، عرفات میں،مزدلفہ میں، طواف میں، سعی میں  ہم اس کو چھونے  کی کوشش میں  رہے  ہیں۔ اس کوشش میں  کبھی اسے  پا لیتے، کبھی کھو دیتے۔ عجیب آنکھ مچولی کا کھیل تھا۔ 
	حج کی آنکھ مچولی میں  ہم نے  مکان کے  حوالے  سے  مکین کا طواف کیا۔ یہ مکان اللّٰہ کا گھر ہے۔ اور گھر اس کو بڑا محبوب ہے۔ یہ گھر بے  شک پتھر گارے  کی تعمیر ہے  مگر یہ تعمیر دوسری تعمیروں  سے  افضل ہے  کہ اس کو اس نے  اپنا گھر بتایا ہے۔ اس گھر سے  بڑھ کر اسے  اپنے  محبوب کا گھر زیادہ پیارا ہے۔ اور محبوب کے  حوالے  سے  محبوب کا شہر زیادہ پیارا ہے یثرب ...... اور خود محبوب کتنا پیارا ہے۔ اس کی کوئی حد نہیں  کوئی حساب نہیں۔ اللّٰہ کا محبوب اللّٰہ کی صفتِ تخلیق کا اعلیٰ ترین شاہکار ہے۔ یہ شاہکار اللّٰہ کی صفاتِ جلال و جمال کا مرقع ہے۔ اور یہ مرقع کوئی خیالی خاکہ یا تصوراتی تصویر نہیں۔ ایک جسم ہے۔ جسم جس کوچھوسکیں، جس سے  مل سکیں،گلے  لگا سکیں، باتیں  کر سکیں، جسے  سن سکیں،جسے  سنا سکیں،جس کے  حسن کو ظاہری آنکھ سے  دیکھ سکیں۔ جس کے  پسینے  کی خوشبوسونگھ سکیں۔ محسوس کر سکیں۔ ہاں  ہم حواس کے  عادیوں  کو حواس کے  ذریعے  محسوس کرنے  کی عادت ہے۔ ہم قوانینِ مجاز کے  عادی حقیقت کو مجاز کے  حوالے  سے  دیکھ سکتے  ہیں۔ اور مجاز کے  لبادہ میں  حقیقت کا عکس حضرت محمد ؐ کی ذاتِ با برکات میں  بدرجہ اتم دکھائی دیتا ہے۔ سوہمیں  حسرت ہے  اس قدرت کے  شاہکار کے  کی بجائے  مدینۃ النبی ﷺ ہو گیا۔ 
	مدینہ شریف وہ مبارک بستی ہے  جس کی فضیلت میں  بہت سی احادیث مروی ہیں۔ یہی نہیں  بلکہ حضورﷺ کی ابدی رہائش گاہ کی نسبت سے  بعض علماء مدینہ النبیؐ کو مکۃ المکرمہ سے  بھی افضل کہتے  ہیں۔ مکہ شریف کی طرح مدینہ شریف بھی حرم ہے۔ 
	حضرت انسؓ حضورﷺ کی یہ دعا نقل کرتے  ہیں  کہ اے  اللّٰہ جتنی برکتیں  آپ نے  مکہ میں  رکھی ہیں ان سے  دگنی برکتیں  مدینہ منورہ میں  عطا فرما۔ حضرت سعدؓ نے  حضورﷺ کا ارشاد نقل کیا ہے  کہ جو کوئی بھی مدینہ کے  رہنے  والوں  کے  ساتھ مکر کرے گا وہ ایسا گھل جائے گاجیسا پانی میں نمک گھل جاتا ہے۔ 
	مدینہ شریف کی مٹی خاکِ شفا ہے۔ اس کے  متعلق فضائل حج میں  لکھا ہے  کہ حضرتِ عائشہؓ فرماتی ہیں  کہ حضورﷺ مریض کے  لئے  فرمایا کرتے  تھے :۔ 
بِسْمِ اللّٰہِتُرْبَۃ اَرْضِنَا بِرِیْقَۃِ بَعْضِناَ یَشْفِیْ سَقِیْمَنَا
اللّٰہ کے  نام کے  ساتھ ہماری زمین کی مٹی ہم میں  سے  بعض آدمیوں  کے  لب کے  ساتھ مل کر ہمارے  بیمار کو شفا دیتی ہے۔ 
	مدینہ کی موت،مبارک موت ہے۔ اس سلسلے  میں  "حضرت ابنِ عمرؓ حضورﷺ کا ارشاد نقل کرتے  ہیں  جو شخص اس کی طاقت رکھتا ہو کہ مدینہ طیبہ میں  مرے  چاہئے  کہ وہیں  مرے۔ اس لئے  کہ میں  اس شخص کا سفارشی ہوں گاجو مدینہ میں  مرے گا۔ دوسری حدیث میں  ہے  کہ میں  اس کا گواہ ہوں گا"اس سلسلہ میں  حضرت عمرؓ کی دعا مشہور ہے  کہ"اے  اللّٰہ مجھے  اپنے  راستہ میں  شہادت عطا فرما اور اپنے  رسولؐ کے  شہر میں  موت عطا فرما"۔ 
	ریاض الجنہ کے  دروازہ پر یہ حدیث عربی میں  لکھی ہوئی ہے۔ 
جو جگہ میرے  گھر یعنی میری قبر اور میرے  منبر کے  درمیان ہے  وہ جنت کے  باغوں  میں  سے  ایک باغ ہے  اور میرا منبر میرے  حوض پر ہے۔ 
اس حدیث کے  ساتھ ایک اور حدیث لکھی ہوئی ہے  جس کا ترجمہ ہے :۔ 
بیشک ایمان مدینہ کی طرف ایسا کھنچ کر آتا ہے  جیسا کہ سانپ اپنے  سوراخ کی طرف آ جاتا ہے۔ 
	مسجدِ نبویؐ کا چپہ چپہ جنت نظیر اور باعثِ برکت ہے۔ حضوراقدس کا ارشاد ہے  کہ:۔ 
جو شخص میری مسجد میں  چالیس نمازیں  ایسی طرح پڑھے  کہ ایک نماز بھی اس کی مسجد سے  فوت نہ ہو تو اس کے  لئے  آگ سے  برأت لکھی جاتی ہے  اور وہ شخص نفاق سے  بری ہے۔ 
	 اسی حدیث کی روشنی میں  مسجدِ نبویؐ میں  چالیس نمازیں  با جماعت پڑھنے  کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ کعبۃ اللّٰہ کے  بعد مسجدِ نبوی ؐ میں  نماز پڑھنے  کا ثواب دوسرے  نمبر پر ہے۔ ایک روایت کے  مطابق عام نماز کی نسبت ہزار گنا اور دوسری کے  مطابق پچاس ہزار گنا زیادہ ثواب ہوتا ہے۔ 
	مسجدِ نبویؐ کے  آٹھ ستونوں  کی فضیلتیں  بھی احادیث میں  وارد ہوتی ہیں۔ ان کے  علاوہ مسجد کا چپہ چپہ باعثِ برکت ہے  کہ اس سرزمین کو حضورﷺ کی قدم بوسی کا شرف حاصل ہے۔ اس سے  ہٹ کر دیکھیں  تو مدینہ منورہ کا کون ساحصہ ایسا ہو گا جہاں  حضورﷺ یا صحابہ کرامؓ جیسی بابرکت ہستیوں  کے  قدم نہ پڑے  ہوں گے۔ اس لئے  یہاں  کی ہر جگہ بابرکت ہے۔ اس بابرکت شہر کے  وہی آداب ہیں  جو مکہ شریف کے  اس لئے  کہ ان دونوں  شہروں  کو حرمین شریفین کہا جاتا ہے۔ 

مینارِ نور___ نظارہ نور

جب مسجدِ نبویؐ کے  مینار نظر آئے 
اللّٰہ کی رحمت کے  آثار نظر آئے 
	غروب آفتاب تک میری نگاہیں  دائیں بائیں  کے  نظاروں  میں  محور ہیں  مگر غروب آفتاب کے  ساتھ باہر کے  نظارے  غائب ہو گئے  اور اندر کی دنیا روشن ہو گئی۔ اب تصوراتی مدینہ جو کتابوں  میں  پڑھا تھا یا تصویروں  میں  دیکھا تھا۔ پردۂ ذہن پر فلم کی طرح روشن ہونے  لگا۔ ہجرتِ مکہ سے  لے  کر سفرِ آخرت تک کا زمانہ قرطاسِ ذہن پہ جگمگانے  لگا۔ راستے  میں  مختلف مقامات پرا کرام بھی ہوا۔ مغرب اور عشاء کی نمازیں راستہ میں ادا کیں۔ اور رات کے  دو اڑھائی بجے  مدینۃ الحجاج میں  پہنچے۔ سفر کی طوالت کی وجہ سے  حجاج کرام تھک چکے  تھے۔ کچھ اونگھ رہے  تھے،کچھ سورہے  تھے  اور کچھ ذکر و اذکار میں  مصروف تھے۔ ذاکرین کے  چہروں  پہ تھکن یا اکتاہٹ کے  بجائے  تسکین  و اطمینان کے  آثار نمایاں  تھے۔ 
	مدینۃ الحجاج کی کاغذی کاروائی کے  بعد بس مدینہ النبی ؐ کی طرف روانہ ہوئی تو نگاہیں  خواب کے  سراب سے  نکل کر حقیقت کے  نظاروں  سے  لطف اندوز ہونے  لگیں۔ مسجدِ نبویؐ کے  میناروں  پر نظر پڑتے  ہی نگاہیں  روشن اور دل منور ہو گئے۔ صلٰوۃ وسلام کی صدائیں  بلند ہونے  لگیں۔ ان صداؤں  میں  دبی دبی سسکیاں  اور ہچکیاں  بھی شامل تھیں۔ پلکوں  پر لرزاں اشکوں  میں  ستاروں  کی سی چمک دکھائی دے  رہی تھی۔ نگاہیں کہکشاں اورسینے  گلستاں تھے۔ روحیں  عجیب طرح کا اطمینان محسوس کر رہی تھیں۔ عجیب اطمینان تھا۔ اضطراب بھی تھا، ٹھہراؤ بھی۔ جذبات مچل رہے  تھے،مگر نگاہیں  میناروں  پر جمی ہوئی تھیں۔ سواروں  کی یہ حالت تھی اور سواری یعنی گاڑی اپنے  معمول کے  مطابق مدینہ کی شاہراہوں  پر رواں  کشاں  کشاں  مسجدِ نبویؐ کی طرف جا رہی تھی۔ 
	مدینہ شریف کی سڑکین اور بازار بجلی کے  قمقموں  سے  اور حجاج کرام کے  دل عقیدت و محبت سے  منور تھے۔ گویا ظاہر و باہر نور ہی نور تھا۔ ہر سو طور ہی طور تھا۔ اس کیفیت کو چند منٹ گذرے  ہوں  گے  کہ ایک جھٹکے  کے  ساتھ گاڑی رک گئی۔ ہماری موجودہ منزل آ گئی۔ یہ منزل بھی عجیب منزل تھی۔ عین منزل پہ آ کر ہم منزل کا  تصور تک بھول گئے۔ سب ساتھی اپنا اپنا سامان اتارنے، سنبھالنے  اور کمروں  تک لے  جانے  میں  مصروف ہو گئے۔ درود وسلام اور ذکر و فکر کا سلسلہ یکدم ملتوی ہو گیا۔ نورانی نظاروں  کے  قرب کے  باوجود کچھ دیر کے  لئے  ہم لوگ اندھیروں  میں  ڈوب گئے۔ وقتی دھندوں  کی مشغولی کی وجہ سے  ازلی مسرتوں  سے  محروم ہو گئے۔ مگر یہ محرومی وقتی محرومی تھی۔ مسجدِ نبویؐ ہماری رہائش گاہ کے  قریب تھی۔ سوسامان وغیرہ سنبھالنے  کے  بعد حاجی حضرات مسجدِ نبویؐ کی زیارت کے  لئے  چلے  گئے۔ 
محل چڑھایا ای سانیاں 
خس خس جتنا قدر نئیں  میرا خالق نوں  وڈیایاں 
میں گلیاں  دا روڑا کوڑا کرم کمایا ای سائیاں 
(میں  تو اتنا بے  قدر و قیمت ہوں  کہ خس و خاشاک سی بھی میری قدر نہیں۔ ساری تعریفیں  تو خالقِ حقیقی کو روا ہیں  میری حیثیت تو گلیوں  کے  روڑے  اور کوڑے  کی سی ہے۔ یہ تو میرے  سائیں  مولا کریم کی کرم نوازی ہے  جس نے  مجھ فقیر پر اتنا کرم فرمایا ہے)
	ہم نے  کمرے  کی کھڑکی کھول کر باہر کا نظارہ کیا تو جگمگاتا مدینۃ النبیﷺ نورِ نظر بنا ہوا تھا۔ مغرب کی جانب نظر کی تومسجد نبوی ﷺ کے  منار جگمگ کر رہے  تھے۔ اس موقع پر ہم دونوں  کے  منہ سے  بے  ساختہ نکل "میں  گلیاں دا روڑا کوڑا محل چڑھایا ای سائیاں "
اب کے  یہی کیفیت تھی۔ ہم جیسے  ناکارہ و بے  سہارالوگوں  کو اللّٰہ تعالیٰ نے  خاک سے  اٹھا کر محل پہ بٹھا دیا تھا یہ اس کا خصوصی کرم ہے۔ 
جسے  چاہا اپنا بنا لیا جسے  چاہا در پہ بلا لیا
یہ بڑے  کرم کے  ہیں  فیصلے  یہ بڑے  نصیب کی بات ہے 

مسجدِ نبوی ﷺ 

	مدینہ منورہ میں  ہماری رہائش کا انتظام ایک ہوٹل میں  کیا گیا تھا۔ اس ہوٹل کا نام"فندق برکۃ الاندلس"ہے۔ ہمارا کمرہ گیارہویں  منزل پر تھا۔ یہ کمرہ چار بستروں  پر مشتمل تھا۔ ضرورت کی تمام اشیاء یہاں  موجود تھیں۔ ہمارے  ساتھ چار ساتھی تھے۔ ان میں دو خواتین اور دو مرد تھے۔ تین کا تعلق ایک ہی گھرانے  سے  تھا۔ ان میں  ایک میاں  بیوی اور ان کا بیٹا تھا۔ چوتھی ایک خاتون تھی۔ ان لوگوں  نے  ہمارے  ساتھ بہت تعاون کیا ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ انہیں  ہر حال میں  خوش و خرم رکھے۔ دونوں  جہانوں  میں  کامیاب فرمائے۔ آمین!
	مسجدِ نبویؐ ہمارے  ہوٹل سے  چند قدم کے  فاصلے  پر تھی۔ ہمارے  راستے  میں  صرف ایک بلڈنگ پڑتی تھی۔ اس کا نام معلوم نہیں۔ اس کے  سامنے  دو ہوٹل ہیں۔ ایک کا نام فندق اندلس اور دوسرے  کا فندق ایلافِ طیبہ ہے۔ یہ عمارتیں  تقریباً مسجدِ نبویؐ  کے  گیٹ کے  بالمقابل ہیں۔ ہمارے  چاروں  ساتھی سامان رکھتے  ہی حرم شریف (مسجدِ نبویؐ )چلے  گئے۔ نو وارد ہونے  کی وجہ سے  ہمیں  ابھی تک حرم شریف کے  راستہ کا علم نہیں  تھا۔ پھر اہلیہ کی بیماری میرے  لئے  ایک مستقل مجبوری تھی۔ ہم ساتھیوں  کے  ساتھ نہ جا سکے۔ مگر جب تہجد کی اذان ہوئی تو مجھ سے  رہا نہ گیا۔ میں  نے  اہلیہ کو کہا کہ آپ بیماری کی وجہ سے  معذور ہیں۔ آپ کمرے  میں  ہی نوافل اور نماز ادا کریں۔ میں  حرم شریف جا کر نماز پڑھوں  گا۔ میں  اس کی نیم خاموشی کو نیم رضا سمجھ کر حرم شریف چلا گیا۔ 
	مسجد میں  داخل ہوتے  ہی کیفیت بدل گئی۔ گذشتہ ڈیڑھ دو گھنٹے  میں  جو بے  کیفی سی پیدا ہو گئی تھی یکدم رفع ہو گئی۔ مسجدِ نبوی کے  میناروں  کو پہلی نظر دیکھنے  والی کیفیت دوبارہ طاری ہو گئی۔ اب تویوں  محسوس  ہو رہا تھا کہ میں  نور کے  سمندر میں  غوطہ زن ہوں۔ پہلے  صرف نظر شرف زیارت سے  مشرف ہوئی تھی۔ اب پوری ذات نور میں  نہا رہی تھی۔ پہلے  منظر کا مشاہدہ تھا۔ اب ناظر منظر کا حصہ تھا۔ میرے  مولا نے  اتنا اتنا عطا فرمایا کہ بتایا نہیں  جا سکتا۔ بیشک میرے  داتا نے  اوقات سے  بڑھ کر عطا فرمایا۔ 
جسے  چاہا در پہ بلا لیا جسے  چاہا اپنا بنا لیا
یہ بڑے  کرم کے  ہیں  فیصلے  یہ بڑے  نصیب کی بات ہے 
	مسجدِ نبویؐ کو ظاہر کی نظر سے  دیکھیں  تو یہ بھی سنگ و خشت سے  تعمیر کردہ ایک مسجد ہے۔ اس حوالے  سے  اس کی تخصیص یہ ہے  کہ یہ مسجد فنِ تعمیر کا بہترین نمونہ ہے۔ اس مبارک مسجد کو ظاہر کی نظر سے  دیکھنے  سے  بھی یک گونہ فرحت ہوتی ہے۔ مگر جیساکہ پہلے  عرض کیا جا چکا ہے  مکان کی اہمیت اس کے  مکین کی نسبت سے  ہوتی ہے۔ اس لئے  مسجدِ نبویؐ کو اللّٰہ کے  نبیؐ حضرت محمدﷺ کے  حوالے  سے  دیکھنے  کی ضرورت ہے۔ جب اس نظر سے  دیکھیں  تو معرفت کا دروازہ  وا ہو جاتا ہے۔ آدمی لمحۂ حاضر کی گرفت سے  آزاد ہو کر خیرالقرون میں  پہنچ جاتا ہے۔ اللّٰہ کے  محبوب اور محبوب کے  محبوبوں  کے  حوالے  سے  نقطہ نظر بدل جاتا ہے۔ مسجدِ نبویؐ کا چپہ چپہ چومنے  کو جی چاہتا ہے  کہ اس سرزمین پر محبوب خدا کے  نقوشِ پا ثبت ہیں۔ حضورﷺ کے  صحابہ کرامؓ،اہلِ بیت اطہار کے  آثاراس خاک پاک میں  محفوظ ہیں،یہ مسجدمدرسہ نبوت تھا۔ یہ مسجد صحابہ  کرامؓ کی تربیت گاہ تھی۔ یہ مسجد اسلام کا مرکز اور سلطنتِ اسلامیہ کا دارالسلطنت تھی، یہیں  مختلف ممالک کے  وفود آتے،یہیں  حضورﷺ کی کچہری لگتی،یہیں  فیصلے  ہوتے، اسی مسجد کے  پہلو میں  اہلِ بیت کے  حجرات تھے۔ اس وقت آپؐ جہاں  آرام فرما ہیں  یہ حضرت عائشہؓ کا حجرہ مبارک تھا۔ حضورﷺ کے  پہلو میں  حضرت ابوبکر صدیقؓ جن کا لقب یار غار ہے  اور حضرت عمر فاروقؓ مدفون ہیں۔ حدیث مبارک کی رو سے  یہاں  سے  حضورﷺ کے  منبر شریف تک کی زمین جنت کے  باغات میں  سے  ایک باغ ہے۔ حضورﷺ کے  پائے  مبارک کی طرف وہ چبوترہ ہے  جسے  صفہ کے  نام سے  یاد کیا جاتا ہے۔ یہ صفہ اصحابِ صفہ کی رہائش گاہ اور مکتب تھا جدید زبان میں  اسے  صحابہ کا ہاسٹل یا کلاس روم کہا جا سکتا ہے۔ ان حضرات کا اپنا گھر گھاٹ کوئی نہیں  تھا۔ یہ اللّٰہ کے  نبی ﷺ کے  مستقل مہمان تھے۔ 
	مسجدِ نبویؐ وہی مسجد ہے  جسے  حضورﷺ نے  اپنے  ساتھیوں  کی مدد سے  خود تعمیر فرمایا تھا۔ یہ وہی مسجد ہے  جس کی چھت کھجور کی ٹہنیوں  اور تنوں  سے  تعمیر کی گئی تھی۔ یہ وہی مسجد ہے  جس میں  کھجور کی ٹہنیاں  جلا کر روشنی کا انتظام کیا جاتا تھا اور اس مدھم روشنی میں  دنیا کو منور کرنے  کی سوچیں  سوچی جاتیں،ظلمت مٹانے  کے  منصوبے  پر ورش پاتے  تھے۔ 
اس مسجد سے  حضورﷺ اور صحابہ کرامؓ کے  رتجگوں  اور مشقتوں  کی داستانیں  وابستہ ہیں۔ 
	مسجدِ نبویؐ کا موجودہ نقشہ جدید فنِ تعمیر کا بے  مثال نمونہ ہے۔ زائرین کی سہولت و آرام کے  تمام انتظامات موجود ہیں۔ تمام متبرک مقامات کے  تحفظ کا بھی معقول انتظام کیا گیا ہے۔ مسجد میں  سب سے  اہم مقام تو روضہ رسولؐ ہے۔ 

روضہ رسولﷺ (مقصورہ شریف)

روضہ اقدس کا طول سولہ میٹر یا تقریباً باون فٹ اور عرض تقریباً انچاس فٹ ہے۔ چاروں  گوشوں  میں  سنگِ مرمر کے  بڑے  بڑے  ستون ہیں  جن کی بلندی چھت تک ہے۔ ۹۸۰ھ؁ میں  سلطان سلیم ثانی نے  روضہ اقدس کا قابلِ رشک گنبد بنوایاجسے  رنگین پتھروں  ور زردوزی سے  مزین کیا گیا۔ 
۱۲۳۳ھ؁ میں  سلطان محمود نے  گنبد نبویؐ کو ازسرِ نو تعمیر کرایا۔ پہلے  گنبد کا رنگ سفید تھا۔ مگر ۱۲۵۵ھ؁ میں  اس گنبد پر سبزرنگ کرایا گیا جب ہی سے  اسے  گنبدِ خضراء کے  نام سے  یاد کیا جاتا ہے۔، یہی وہ گنبدِ خضراء ہے  جسے  عاشقانِ رسولؐ اپنے  خوابوں  میں  دیکھتے  ہیں  اور قسمت والے  جب وہاں  تک پہنچ جاتے  ہیں  تو اس کی تجلیاں  ان کے  دلوں  میں  نور،ان کی آنکھوں  میں  ایمان کی روشنی اور ان کی روح میں  سرور پیدا کر دیتی ہیں۔ 
	مسجدِ نبویؐ کی موجودہ توسیع خادم الحرمین الشریفین شاہ فہد بن عبدالعزیز کے  موجودہ عہد میں  مکمل ہوئی۔ اس توسیع کے  بعد مسجدِ نبوی ؐ کا کل رقبہ اٹھانوے  ہزار پانچ سو مربع میٹر کے  برابر ہے۔ جو کہ پچھلی تعمیر سے  تقریباً پانچ گنا زیادہ ہے۔ اس کے  علاوہ اب چھت پر بھی نماز پڑھنے  کے  لئے  سڑسٹھ ہزار مربع میٹر کی اضافی جگہ موجود ہے۔ اب مسجد میں  عام دنوں  میں  چھ لاکھ پچاس ہزار نمازی بآسانی نماز ادا کر سکتے  ہیں۔ (کتاب الحج مسلم کمرشل بینک)
	دوسری اہم جگہ ریاض الجنۃ ہے۔ مسجدِ نبویؐ میں  باب جبریلؑ میں  داخل ہوتے  وقت بائیں  ہاتھ ایک حجرہ ہے۔ یہ حضرت بی بی فاطمہؓ کا گھر تھا۔ یہاں  سے  آگے  بائیں  ہاتھ پر مسجدِ نبویؐ کا جو حصہ ہے  یہ ریاض الجنۃ ہے۔ اسی جگہ کے  متعلق فرمانِ رسولؐ ہے  کہ"جو جگہ میرے  گھر اور منبر کے  درمیان ہے  وہ جنت کے  باغوں  میں  سے  ایک باغ ہے "
	ریاض الجنۃ میں  حضورﷺ کا مصلیٰ بھی ہے  جہاں  آپؐ کھڑے  ہو کر امامت فرمایا کرتے  تھے۔ اس جگہ ایک خوبصورت محراب بنی ہوئی ہے  جس پر خوبصورت طلائی کام کیا ہوا ہے۔ دونوں  جانب سرخ سنگِ مرمر کے  بے مثال ستون بنے  ہوئے  ہیں۔ محراب کے  اوپر وہ آیت لکھی ہوئی ہے  جس میں  درود شریف پڑھنے  کا حکم دیا گیا ہے۔ 
اللّٰہ تعالیٰ اور فرشتے  نبیؐ پر درود وسلام بھیجتے  ہیں،اس لئے  اے  ایمان والو تم بھی آپؐ پر درودوسلام بھیجو(الاحزاب،۵۶)
	ریاض الجنہ کے  وہ سات ستون جنہیں  سنگِ مرمر کے  کام اور سنہری مینا کاری سے  نمایاں  کر دیا گیا ہے  خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔ یہ ستون روضہ انور کی مغربی دیوار کے  ساتھ سفید رنگ کے  ذریعے  ممتاز کئے  ہوئے  ہیں۔ یہ خاص ستون ہیں  اور ان کی درمیانی جگہ جنت کا ٹکڑا ہے۔ 
ستونِ حَنَّانہ:۔ یہ محراب النبیؐ کے  قریب ہے۔ اس جگہ کھجور کا وہ تنا تھا جس سے  ٹیک لگا کر حضورﷺ منبر بننے  سے  پہلے  خطبہ پڑھا کرتے  تھے۔ جب منبر شریف تیار ہوا اور حضورﷺؒؒ خطبہ کے  لئے  اس پر تشریف فرما ہوئے  تو تنے  سے  بہت زورسے  رونے  کی آواز آئی۔ حضورﷺ اس کے  پاس آئے  اور اس پر دستِ مبارک رکھا جس سے  اس کا رونا بند ہوا۔ 
ستونِ عائشہؓ:۔ ایک مرتبہ حضورﷺ نے  ارشاد فرمایا"میری مسجد میں  ایک ایسی جگہ ہے  کہ اگر لوگوں  کو وہاں  نماز پڑھنے  کی فضیلت کا علم ہو جائے  تو وہ قرعہ اندازی کرنے  لگیں "اس جگہ کی نشاندہی حضرت عائشہؓ نے  فرمائی تھی اب وہاں  ستون عائشہؓ بنا دیا گیا ہے۔ 
ستونِ ابولبابۃؓ:۔ ایک صحابی حضرت ابولبابہؓ سے  غزوہ بنو قریظہ کے  وقت ایک غلطی ہو گئی تھی۔ جب انہیں  اپنی اس غلطی کا احساس ہوا تو انہوں  نے  مسجدِ نبویؐ کے  ایک ستون سے  خود کو باندھ لیا۔ اور کہا کہ جب تک میری توبہ قبول نہیں  ہوتی اپنے  آپ کو نہیں  کھولوں  گا۔ ایک شب حضورﷺ اُم سلمہؓ کے  مکان پر تھے  کہ تہجد کے  وقت ابوالبابہؓ کی توبہ قبول ہوئی۔ اس توبہ کے  حوالے  سے  اس ستون کو اسطوانۃ التوبہ بھی کہتے  ہیں۔ 
ستونِ سریر:۔ اس جگہ نبی ا کرمؐ اعتکاف فرماتے  تھے  اور رات کو یہیں  آپؐ کے  لئے  بستر بچھایا جاتا تھا۔ 
ستونِ وفود:۔ اس جگہ نبی ا کرم ؐ باہر سے  آنے  والے  وفودسے  ملاقات فرماتے  تھے۔ 
ستونِ حرس:۔ اس کو اسطوانۃ علی بھی کہتے  ہیں۔ اس مقام پر حضرت علیؓ اکثر نماز پڑھا کرتے  تھے  اور اس جگہ بیٹھ کرسرکارِ دو عالم کی پاسبانی کیا کرتے  تھے۔ 
ستونِ تہجد:۔ نبی کریمؐ یہاں  تہجد کی نماز ادا فرمایا کرتے  تھے۔ 
اسطوانہ جبرائیل:۔ حضرت جبرائیل ؑ کے  آنے  کی یہ خاص جگہ تھی۔ یہ ستون اس وقت حجرہ شریف کی تعمیر کے  اندر آ گیا ہے۔ 
صفہ:۔ ستونوں  کے  علاوہ وہ صفہ بھی خاص اہمیت کا حامل ہے  جو اہلِ صفہ کی ایک طرح سے  رہائش گاہ تھی۔ یہ مسجدِ نبویؐ کے  شمالی مشرقی کنارے  مسجد سے  ملا ہوا ایک چبوترہ تھا۔ یہ جگہ اس وقت باب جبرائیلؓ سے  اندر داخل ہوتے  وقت مقصورہ شریف کے  شمال میں  محرابِ تہجد کے  بالکل سامنے  دو فٹ اونچے  پیتل کی کٹہرے  میں  گھری ہوئی ہے۔ اس کی لمبائی چوڑائی چالیس ضربِ چالیس فٹ ہے۔ 
گنبدِ خضراء:۔ روضہ اقدس کے  اوپر گنبدِ خضراء ہے  جس کی زیارت کرنے کی سعادت ہر مسلمان کے  دل کی تمنا اور آرزو ہے۔ 

آدابِ زیارت

ادب گہہ ایست زیر آسمان از عرش نازک تر
نفس گم کردہ می آید جنید و با یزید ایں  جا 
(زیرِ آسمان ایک ایسی جائے  ادب ہے  جو عرش معلیٰ سے  بھی نازک ہے۔ یہاں  جنید بغدادی اور بایزید بسطامی جیسے  جلیل القدر، عالی مرتبت اولیاء بھی خود فراموشی کی حالت میں  حاضر ہوتے  ہیں۔)
	بارگاہِ رسالت مآبؐ میں  حاضری کے  وقت حضورﷺ کے  مرتبہ و فضیلت کا خیال رکھنا نہایت ضروری ہے۔ یہاں  وفورِ محبت و عقیدت کے  باوجود اپنے  آپ کو حدودِ ادب میں  قید کرنے  کی ضرورت ہے۔ یہاں  جوش کی نہیں  ہوش کی ضرورت ہے۔ 
	مسجدِ نبویؐ کی اہمیت و فضیلت خانہ خدا اور آستانہ نبوتؐ ہونے  کی وجہ سے  دیگر مساجد کی نسبت بہت زیادہ ہے۔ حضورﷺ کا ارشاد ہے :۔ 
میری مسجد میں  ایک نماز پڑھنا دوسری مسجدوں  میں  ایک ہزار نماز نمازیں  پڑھنے  سے  افضل ہے  سوائے  مسجد حرام کے  کہ وہاں  نماز پڑھنا میری مسجد میں  سونمازیں  پڑھنے  سے  افضل ہے "
	مسجدِ نبویؐ میں  داخلے  کے  بھی وہی آداب ہیں  جو دوسری مساجد میں  داخل ہونے  کے  ہیں۔ داخل ہوتے  وقت پہلے  دایاں  قدم مسجد میں رکھا جائے۔ ساتھ ہی اعتکاف کی نیت کر لی جائے۔ مسجد میں  داخل ہو کر تحیۃ المسجد کی نیت سے  دو نفل ادا کئے  جائیں۔ 
	مسجدِ نبویؐ کی تعمیر نو فنِ تعمیر کا ایک حسین شاہکار ہے۔ نہایت دیدہ زیب فانوسوں  کے  ذریعے روشنی کا انتظام کیا گیا ہے۔ اذان کے  وقت ساؤنڈ سسٹم کے  ذریعہ آواز روح کی گہرائیوں  میں  اترتی ہوئی محسوس ہوتی ہے  اور یوں  محسوس ہوتا ہے  کہ ہمارا دل و دماغ، روح سب پاک وصاف ہو گئے  ہوں۔ ایک عجیب لذت کا احساس دل و دماغ کو کشادگی بخشتا ہے۔ خوش قسمت ہیں  وہ لوگ جنہیں  حاضری کی توفیق عطا ہوتی ہے۔ اس نعمت عظمیٰ کا جتنا شکر ادا کیا جائے  کم ہے۔ سومسجد میں  درود شریف پڑھتے  ہوئے  داخل ہونا چاہئے  اور داخل ہونے  سے  پہلے  کچھ صدقہ کر نا بھی باعثِ ثواب ہے۔ زائر کے  لئے  ضروری ہے  کہ پنجگانہ نماز با جماعت کا اہتمام کرے  اور تکبیر اولیٰ کا خاص خیال رکھے  اور اگلی صف کے  ثواب کو مدِ نظر رکھتے  ہوئے  مسجد میں  بر وقت پہنچنے  کا اہتمام کرے۔ نماز کے  علاوہ ذکر اور تسبیحات کا خاص خیال رکھے۔ اذکار میں  درود شریف، استغفار اور دعاؤں  کا خاص اہتمام کر ے  نفل نمازوں  کا بھی خاص اہتمام کرے۔ جن امور کی عام مساجد میں  ممانعت ہے  ان کا یہاں  خاص خیال رکھا جائے۔ 

فضائلِ درود

صفدؔر یہی ہے  ایک وسیلہ نجات کا 
پڑھتے  رہو درود کہ محشر میں  کام دے      (جبینِ نعت)
	مسجدِ نبویؐ کا خصوصی ذکر درود شریف ہے۔ احادیث میں  درود شریف کے  بہت سے  فضائل وارد ہوئے  ہیں۔ اور قرآن پاک میں  تو اللّٰہ تعالیٰ نے  درود شریف پڑھنے  کا حکم دیا ہے۔ ارشادِ خداوندی ہے :۔ 
ان اللہ وملٰئکتہ یصلون علی النبی،یایھا الذین اٰ منو صلوا علیہ وسلموا تسلیما(پارہ۲۲رکوع ۳)
بیشک اللّٰہ تعالیٰ اور اس کے  فرشتے  رحمت بھیجتے  ہیں  ان پیغمبرؐ پر۔ اے  ایمان والو تم بھی آپؐ پر رحمت بھیجا کرو اور خوب سلام بھیجا کرو۔ (بیان القرآن)
	درود شریف ایسامبارک وظیفہ ہے  جس میں  خود خداوند تعالیٰ،اس کے  فرشتے  اور مومنین شامل ہیں۔ اللّٰہ تعالیٰ کے  درود اور فرشتوں  اور انسانوں  کے  درود میں  بہت فرق ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ کے  درود کا مفہوم حضورﷺ کے  درجات بلند کرنا ہے۔ اور فرشتوں  اور مومنین کے  درود کا مفہوم اللّٰہ سے  حضورﷺ کی بلندی درجات کی درخواست کرنا ہے۔ حضورﷺ کے  نہ صرف امت بلکہ پوری انسانیت پہ اتنے  احسانات ہیں  جن کی انتہا نہیں۔ آپؐ رحمت اللعالمین ہیں۔ نہ صرف انسان بلکہ پوری مخلوق آپؐ کی مرہونِ منت ہے۔ آپؐ اپنے  پرائے،دوست دشمن، مسلم غیر مسلم سب کے  لئے  رحمت تھے۔ بلکہ آپﷺ تو آئے  ہی کفار کو آتش دوزخ سے  بچانے  کے  لئے۔ آپ ﷺ کو قیامت تک آنے  والے  انسانوں  کی فکر تھی۔ آپؐ نے  اپنے  جانی اور ایمانی دشمنوں  کے  لئے  خدا جانے  کتنی دعائیں  مانگی،کتنے  دکھ سہے، کتنی مصیبتیں  اٹھائیں۔ کہتے  ہیں  اپنے  سب سے  بڑے  دشمن ابوجہل کو آپ نے  بیسوں  بار دعوت دی، اس کے  باوجود کہ آپ کو اذیت پہنچانے  میں  یہ لعین سب سے  آگے  تھا۔ یہاں  تک سنا ہے  کہ ایک دفعہ سخت باد و باراں  کا سماں  تھا۔ حضورﷺ کو ایک دم ابوجہل کا خیال آیا۔ آپؐ اسی وقت اس کے  گھر پہنچے۔ دروازے  پہ دستک دی۔ ابوجہل نے  بیوی سے  کہا کہ اس وقت جو آیا ہے  کوئی سخت غرض مند ہے۔  میں  اس کی ہر غرض پوری کروں گا۔ باہر آیا تو دیکھا سامنے  داعیِ حق کھڑا تھا۔ پوچھا بھتیجے  کیسے  آئے ؟فرمایا چچا کلمہ پڑھ لو فلاح پا  جاؤ گے۔ اس بدنصیب کے  نصیب میں  فلاح نہیں  تھی سواس نے  انکار کر دیا۔ یہی نہیں  آپؐ نے  تو اپنے  پیارے  چچا امیر حمزہؓ کے  قاتل وحشی اور ان کا کلیجہ چبانے  والی ہندہ کو بھی دوزخ سے  بچا لیا۔ آپؐ کے  سفرِ طائف کا قصہ سن کر سنگدل سے  سنگدل انسان کا دل درد سے  بھر آتا ہے۔ روایات کے  مطابق جتنا صدمہ آپؐ کو  اہلِ طائف کے  رویے  سے  ہوا  اتنا غزوہ احد کی تکالیف سے  بھی نہیں  ہوا۔ مگر آپؐ نے  اہلِ طائف اور مکہ کے  کفار کے  لئے  بھی دعا  کی اے  اللّٰہ! انہیں  ہدایت دے۔ یہ مجھے  نہیں  پہچانتے۔ حضورﷺ غریبوں، مسکینوں،یتیموں، بیواؤں، بے  نواؤں اور بے  کسوں  کے  ملجا و ماویٰ تھے۔ آپؐ ساری عمر امت کے  غم میں ہلکان ہوتے  رہے۔ غارِ حراسے  لیکر قبر اطہر تک کا سفرپوری انسانیت کی فکر میں  مصیبتیں  اٹھانے  اور مشقتیں  جھیلنے  کی داستان ہے۔ آپؐ کو آخری وقت بھی امت کے  مظلوم ترین طبقے  یعنی غلاموں  کی فکر تھی۔ آخری وقت بھی امت کی بخشش کے  لئے  اللّٰہ سے  دعا گو تھے  اور آخرت میں  بھی امت کی بخشش کے  لئے  اللّٰہ کے  حضور سجدہ ریز ہو کر دعا فرمائیں  گے۔ آپؐ کے  احسانات کا کوئی شمار نہیں۔ آپؐ کی حیات مبارک کا ایک ایک لمحہ فلاح انسانیت کے  لئے  وقف تھا۔ سودرود شریف پڑھتے  وقت آپؐ کے  احسانات کا استحضار بہت ضروری ہے۔ آپؐ کے  احسانات کے  علاوہ آپؐ کے  دیگر اوصافِ حمیدہ اور سراپا کا تصور بھی اطمینان قلب کی زیادتی کا باعث ہے۔ 

صورت وسیرت

حسنِ یوسف،دمِ عیسیٰ،یدِ بیضا داری
آنچہ خوباں  ہمہ دارند تو تنہا داری
(آپ ایسے  ہمہ اوصاف ہیں  کہ حسینانِ عالم میں  جتنی خوبیاں  پائی جاتی ہیں  وہ اس ایک ذات میں  موجود ہیں۔ یہاں  تک کہ حضرت یوسفؑ کا حسن اور معجزات عیسیٰ وموسیٰ حضورﷺ کی ذاتِ واحدہ میں  موجود ہیں)
	حضرت عائشہ صدیقہؓ کے  فرمان کا مفہوم ہے  کہ مصر کی عورتوں  نے  تویوسفؑ کو دیکھ کر اپنی انگلیاں  کاٹ لی تھیں  اگر میرے  محبوب حضورﷺ کو دیکھ لیتیں  تو کلیجے  کاٹ لیتیں۔ 
ایک بار آپؐ حضرت عائشہؓ کے  پاس تشریف فرما تھے۔ پسینہ مبارک آیا تو چہرہ کی دھاریاں  چمک اٹھیں۔ یہ کیفیت دیکھ کر حضرت عائشہؓ نے  ابو کبیر ہذلی کا شعر پڑھا
واذا نظرت الی اسرۃ وجھہ	برقت کبرق العارض المتھلل
جب ان کے  چہرے  کی دھاریاں  دیکھو تو وہ یوں  چمکتی ہیں  جیسے  روشن بادل چمک رہا ہو
حضرت ابوبکر صدیقؓ آپؐ کو دیکھ کر یہ شعر پڑھتے :۔ 
امین مصطفی مالخیرید عو	کضوء البدرَزَایَلہ الظلام
"آپؐ امین ہیں، چنیدہ اور برگزیدہ ہیں،خیر کی دعوت دیتے  ہیں  گویا 

ماہِ کامل کی روشنی 

حضرت عمرؓ زُہَیر کا یہ شعر پڑھتے  جو ہر م بن سنان کے  بارے  میں  کہا گیا تھا:
لو کنت من شی سوی البشر	   وکنت المضیء لِلَیْلَۃِ الْبَدر
اگر آپؐ بشر کے  سوا کچھ اور چیز سے  ہوتے  تو آپؐ ہی چودھویں  کی رات کو روشن کرتے "
حضرت جابر بن سمرہؓ کا بیان ہے  کہ میں  نے  ایک بار چاندنی رات میں  آپؐ کو دیکھا آپؐ پر سرخ جوڑا تھا۔ میں  رسول اللّٰہﷺ کو دیکھتا اور چاند کو دیکھتا۔ آخر(اس نتیجہ پر پہنچا)آپؐ چاند سے  زیادہ خوبصورت ہیں        (الرحیق المختوم)
اسی تناظر میں  اردو شاعر کہتا ہے 
کل چودھویں  کی رات تھی شب بھر رہا چرچا ترا
کچھ نے  کہا یہ چاند ہے  میں نے  کہا چہرہ ترا
حضرت علیؓ کی ایک روایت میں  ہے  کہ آپؐ کا سربڑا تھا، جوڑوں  کی ہڈیاں  بھاری بھاری تھیں۔ سینے  پر بالوں  کی لمبی لکیر تھی۔ جب آپؐ چلتے  تو قدرے  جھک کر چلتے۔ گویا کسی ڈھلوان سے  اتر رہے  ہیں۔ 
	ہجرت کے  وقت رسول اللّٰہﷺ اُمِّ مَعْبَد خُزَاعِیَہ کے  خیمے  سے  گذرے  تو اس نے  آپؐ کی روانگی کے  بعد اپنے  شوہر سے  آپؐ کے  حلیہ مبارک کا جو نقشہ کھینچا وہ یہ تھا۔ 
حلیہ مبارک:۔ چمکتا رنگ،تاب ناک چہرہ،خوبصورت ساخت،نہ توندلے  پن کا عیب نہ گنجے  پن کی خامی، جمالِ جہاں  تاب کے ساتھ ڈھلا ہوا پیکر، سُرمگیں  آنکھیں،لمبی پلکیں،بھاری آواز، لمبی گردن،
سفید وسیاہ آنکھیں،سیاہ سرمگیں  پلکیں،باریک اور باہم ملے  ہوئے  ابرو،چمکدار کالے  بال،خاموش ہوں  توبا وقار،گفتگو کریں  تو پُر کشش،دور سے  دیکھنے  میں  سب سے  تابناک اور پُر جمال،قریب سے  سب سے  خوبصورت اور شیریں،گفتگو میں  چاشنی،بات واضح اور دو ٹوک، نہ مختصر نہ فضول،انداز ایسا کہ گویا لڑی سے  موتی جھڑ رہے  ہیں۔ 
درمیانہ قد،نہ ناٹا کہ نگاہ میں  نہ جچے، نہ لمبا کہ ناگوار لگے۔ دو شاخوں  کے  درمیان ایسی شاخ کی طرح ہیں  جو سب سے  زیادہ تازہ و خوش منظر ہے،رفقاء آپؐ کے  گرد حلقہ بنائے  ہوئے، کچھ فرمائیں  تو توجہ سے  سنتے  ہیں، کوئی حکم دیں  تو لپک کر بجا لاتے  ہیں۔ مطاع مکرم، نہ ترش رو نہ لغو گو۔ 
حضرت علیؓ حضورﷺ کی صورت وسیرت کے  متعلق یوں  فرماتے  ہیں :۔ 
آپؐ نہ لمبے  تڑنگے  تھے  نہ ناٹے  کھوٹے،لوگوں  کے  حساب سے  درمیانہ قد کے  تھے۔ بال زیادہ تر گھنگریالے  تھے  نہ بالکل کھڑے  کھڑے  بلکہ دونوں  کے  بیچ بیچ کی کیفیت تھی۔ رخسار نہ بہت زیادہ پر گوشت تھا،نہ ٹھوڑی چھوٹی اور پیشانی پست،چہرہ کسی قدر گولائی لئے  ہوا تھا۔ رنگ گورا گلابی، آنکھیں  سرخی مائل،پلکیں  لمبی،جوڑوں  اور مونڈھوں  کی ہڈیاں  بڑی بڑی، سینہ پر ناف تک بالوں  کی ہلکی سی لکیر،بقیہ جسم بال سے  خالی،ہاتھ اور پاؤں  کی انگلیاں  پُر گوشت،چلتے  تو ذرا جھٹکے  سے  پاؤں  اٹھاتے  اور یوں  چلتے  گویا کسی ڈھلوان پر چل رہے  ہیں۔ جب کسی طرف ملتفت ہوتے  تو پورے  وجود کے  ساتھ ملتفت ہوتے۔ دونوں  کندھوں  کے  درمیان مہرِ نبوتؐ تھی۔ آپؐ سارے  انبیاء کے  خاتم تھے۔ سب سے  زیادہ سخی دست اور سب سے  بڑھ کر جرأت مند،سب سے  زیادہ صادق اللہجہ اور سب سے  بڑھ کر عہد و پیمان کے  پابندِ وفا۔ سب سے  زیادہ نرم طبیعت اور سب سے  شریف ساتھی۔ جو آپؐ کو اچانک دیکھتا ہیبت زدہ ہو جاتا۔ جو جان پہچان کے  ساتھ ملتا محبوب رکھتا۔ آپؐ کا وصف بیان کرنے  والا یہی کہہ سکتا ہے۔ کہ میں  نے  آپؐ سے  پہلے  اور آپؐ کے  بعد آپؐ جیسانہیں  دیکھا۔ 
آفاقہا گردیدہ ام مہرِ بتاں  ورزیدہ ام
بسیارخوباں  دیدہ ام لیکن تو چیزے  دیگری
(میں  نے  زمین وآسمان بلکہ سارے  جہاں  کی سیروسیاحت کی ہے۔ صنم پرستی کا شغل بھی دیکھا۔ غرضیکہ بہت سارے  خوبصورت اور خوبصورتیاں  دیکھیں  مگر آپؐ کا حسن تو کوئی اور ہی چیز ہے۔ کوئی کہاں  آپؐ کی ہمسری کر سکتا ہے)
	اصل موضوع چل رہا ہے  فضائلِ درود۔ جب تک اس ہستی کے  مقام و مرتبہ کا احساس نہ ہو جس پر درود بھیجا جا رہا ہے  اس وقت تک وہ کیفیت نصیب نہیں  ہوتی جو اس عظیم وظیفہ کا خاصہ ہے۔ حضورﷺ کے  مقام و مرتبہ کے  استحضار کے  علاوہ دل میں  اس بات کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے  کہ حضورﷺ پر درود بھیجنا اللّٰہ کا حکم ہے۔ نہ صرف اللّٰہ کا حکم بلکہ خود حضورﷺ کی سنت بھی ہے۔ 

درود و صلوۃ کا طریقہ

	حدیث میں  ہے  کہ جب آیت صلوٰہ نازل ہوئی تو صحابہؓ نے  عرض کیایارسول اللّٰہﷺ سلام کا طریقہ تو ہمیں  معلوم ہو چکا یعنی التحیات میں  جو پڑھا جاتا ہے  "السلام علیک ایھا النبی و رحمۃ اللہ وبرکاتہٗ"صلوہ کا طریقہ بھی ارشاد فرما دیجئے۔ 
 	آپؐ نے  درودِ ابراہیمی ارشاد فرمایا۔ اللّٰہ تعالیٰ نے  مومنین کو حکم دیا تھا کہ تم بھی نبیؐ پر درود بھیجو نبیؐ نے  اس کا طریقہ بتا دیا کہ تمہارا بھیجنا یہی ہے  کہ تم اللّٰہ ہی سے  درخواست کرو کہ وہ اپنی بیش از بیش رحمتیں  نازل فرمائے  وہ ہم عاجز و نا چیز بندوں  کی طرف منسوب کر دی جائیں  گویا ہم نے  بھیجی ہیں۔ 
غالب ثنائے  خواجہ بہ یزداں  گذاشتیم
کاں  ذاتِ پاک مرتبہ دانِ محمدﷺ است
	حضورﷺ نے  جو درود شریف تعلیم فرمایا اس کو درودِ ابراہیمی کے  نام سے  موسوم کیا جاتا ہے۔ یہ وہی درود ہے  جو نماز میں  پڑھا جاتا ہے۔ 

فضیلتیں۔۔۔ نوازشیں 

	انسان فطری طور پر مفاد پرست ہے۔ ہر عمل کو نفع نقصان کی ترازو میں  تولتا ہے۔ نہ صرف دنیوی بلکہ دینی معاملات میں  بھی اس کی نظر فوائد پر رہتی ہے۔ روزہ،نماز، حج،زکوٰۃ ہر عمل کے  وقت انسان کے  لاشعور میں  یہسوچ چھپی ہوتی ہے  کہ اس عمل کے  کرنے  سے  ہمیں  کیا ملے  گا۔ اللّٰہ تعالیٰ توانسانی فطرت کا خالق ہے۔ اور اللّٰہ کا نبیؐ انسانی نفسیات کا نبض شناس ہے  اس لئے  اللّٰہ اور اس کے  رسولؐ نے  احکام کے  ساتھ ساتھ ان کے  فضائل کی نشاندہی بھی فرما دی ہے۔ درود شریف کے  متعلق فرمانِ رسولؐ ہے :۔ 
	"جو شخص مجھ پر ایک دفعہ درود بھیجے  اللّٰہ تعالیٰ اس پر دس صلوٰۃ بھیجتے  ہیں "
	دوسری حدیث میں  ہے :۔ 
جس آدمی کے  سامنے  میرا تذکرہ آوے  اس کو چاہئے  کہ مجھ پر درود بھیجے  اور جو مجھ پر ایک دفعہ درود بھیجے  گا اللّٰہ تعالیٰ اس پر دس دفعہ درود بھیجے  گا،اس کی دس خطائیں  معاف کرے گا۔ اور اس کے  دس درجے  بلند کرے گا۔ 
ایک اور حدیث میں  ہے :۔ 
"بلا شک قیامت میں  لوگوں  میں  سے  سب سے  زیادہ مجھ سے  قریب وہ شخص ہو گاجو سب سے  زیادہ مجھ پر درود بھیجے "
	ابنِ مسعودؓ  حضورﷺ کا ارشاد نقل کرتے  ہیں :۔ 
کہ اللّٰہ تعالیٰ کے  بہت سے  فرشتے  ایسے  ہیں  جو (زمین میں)پھرتے  رہتے  ہیں  اور میری امت کی طرف سے  مجھے  سلام پہنچاتے  ہیں۔ ایک فرشتہ میری قبر پہ مقرر کر رکھا ہے  جس کو ساری مخلوق کی باتیں  سننے  کی اہلیت عطا فرما رکھی ہے۔ پس جو شخص بھی قیامت تک مجھ پر درود بھیجتا رہے گا وہ فرشتہ اس کا اور اس کے  باپ کا نام لے  کر درود پہنچاتا ہے  کہ فلاں  شخص جو  فلاں  کا بیٹا ہے  آپؐ پر درود بھیجتا ہے۔ 
حضرت ابو ہریرہؓ حضورﷺ کا ارشاد نقل کرتے  ہیں :۔ 
کہ جو شخص میرے  اوپر میری قبر کے  قریب درود بھیجتا ہے  میں  اس کو خود سنتا ہوں  اور جو دور سے  مجھ پر درود بھیجتا ہے  وہ مجھ کو پہنچا دیا جاتا ہے۔ 
حضرت ابوالدرداؓ نے  حضورﷺ کا ارشاد نقل کیا ہے  :۔ 
کہ جو شخص صبح اور شام مجھ پر دس دس مرتبہ درود بھیجے  اس کو قیامت کے  دن میری شفاعت پہنچ کر رہے  گی۔ 
حضرت عائشہؓ نے  حضورﷺ کا ارشاد نقل کیا ہے   :۔ 
کہ جو شخص مجھ پر درود بھیجتا ہے  تو ایک فرشتہ اس درود شریف کو لے  جا کر اللّٰہ تعالیٰ کی پاک بارگاہ میں  پیش کرتا ہے۔ وہاں  سے  ارشاد عالی ہوتا ہے  کہ اس درود کو میرے  بندہ کی قبر کے  پاس لے  جاؤ۔ یہ اس کے  لئے  استغفار کرے  گا اور اس کی وجہ سے  اس کی آنکھ ٹھنڈی ہو گی۔ 

معمولاتِ مدینہ

	مکہ شریف میں  آدمی مناسکِ حج و عمرہ کی وجہ سے  بہت تھک جاتا ہے۔ اس کے  علاوہ روحانی طور پر مکہ معظمہ کا ماحول جلالی اور مدینہ منورہ کا جمالی ہے۔ یہاں  پہنچ کر آغوش مادر کا ساسکھ محسوس ہوتا ہے۔ ایک تو یہاں  سوائے  ذکر و عبادت کے  اور کوئی مشقت نہیں۔ دوسرے  یہ رحمت اللعالمین کی بارگاہ ہے۔ یہاں  رحمت ہی رحمت ہے۔ یہاں ہماری
دو ہی مصروفیات تھیں  مسجدِ نبویؐ کی حاضری یا ضروریاتِ بشری کے  لئے  رہائش گاہ کا قیام۔ انکے  علاوہ مقاماتِ مقدسہ کی زیارت۔ 
	مسجدِ نبوی ؐ کے  معاملات میں  پہلا عمل تو نماز با جماعت کا ہے۔ یہاں  کی ایک نماز کا ثواب دیگر مساجد کی نسبت ہزار گنا زیادہ ہے۔ پھر یہاں  حدیث کی روسے  چالیس نمازیں  با جماعت پڑھنے  کا اجر و ثواب آگ اور نفاق سے  برأت ہے۔ فرائض کے  علاوہ نوافل اور دیگر اور اد و تسبیحات کا ثواب بھی احاطہ مسجد میں  کعبۃ اللّٰہ کے  علاوہ بقیہ مقامات کی نسبت زیادہ ہے۔ اس لئے  ہر حاجی یا زائر کی یہی کوشش ہوتی ہے  کہ زیادہ سے  زیادہ وقت حرم پاک یعنی مسجدِ نبوی میں  گذارا جائے۔ اس کے  علاوہ سب سے  بڑی نعمت تو روضہ رسولؐ کی زیارت ہے۔ اور روضہ مبارک بھی اسی مسجد میں  ہے۔ 
	 اہلیہ کی معذوری کی وجہ سے  پہلے  دو روز تو میں  زیارت نہیں  کر سکا۔ حج کی برکت سے  ان کی صحت کافی حد تک بہتر ہو چکی تھی مگر ابھی تک خود اٹھنے  بیٹھنے  سے  معذور تھیں۔ ہمارے  ساتھ کوئی معاون بھی نہیں  تھا۔ انہیں  اٹھانے  بٹھانے  کا فریضہ میرے  ذمہ تھا۔ 
	ہم اذان سے  چند منٹ پہلے  وضو وغیرہ کر کے  حرم شریف کی طرف چل دیتے۔ میں  انہیں  صحنِ مسجد میں  بٹھا کر اندر چلا جاتا اور نماز سے  فارغ ہو کر واپس آ جاتا۔ پھر کافی دیر تک کسی دیوار کے  سائے  میں  بیٹھ کر ذکر وغیرہ کرتے  رہتے  اور مسجدِ نبویؐ اور زائرین کی زیارت کرتے  رہتے۔ 
	حرمِ کعبہ اور حرمِ نبویؐ میں  ایک لطیف سافرق محسوس ہوتا ہے۔ حرم کعبہ کے  اندر بچوں  اور بچوں  والی عورتوں  کو داخل ہوتے  ہوئے  نہیں  دیکھا۔ ہاں  وہ بچے  جنہیں  مناسکِ حج کے  سلسلے  میں  والدین اپنے  کندھوں  پر سوار کر کے  یاکسی اور انداز میں  ساتھ لے  جاتے  ہیں  ان کا معاملہ دوسرا ہے۔ سات آٹھ سال کے  بچے  تو احرام میں  ملبوس طواف وسعی کرتے  بڑے  پیارے  لگتے  ہیں۔ مناسک کے  علاوہ صحن کعبہ میں  کسی بچے  کو کھیلتے  نہیں  دیکھا بلکہ کہیں  کسی بورڈ پر صحن حرم میں  بچوں  کے  کھیلنے  کی ممانعت بھی لکھی ہوئی ہے  اس کے  برعکس مسجدِ نبوی کے  صحن میں  بچوں  کوسکیٹنگ کرتے  اور شور مچاتے  ہوئے  بھی دیکھا ہے۔ یہاں  مقامی مستورات بچوں  سمیت نماز کے  لئے  تشریف لاتی ہیں۔ دودھ پیتے  بچوں  کو ریڑھیوں  پر بٹھائے  مسجد کے  اندر تشریف لے  جاتی ہیں۔ اس نظارے  کو دیکھ کر محسوس ہوتا ہے  کہ مسجدِ نبویؐ کا رویہ ماں  کی مامتا کا سا ہے۔ 
	باب العمرؓ ابن الخطاب ہمیں  قریب پڑتا تھا۔ میں  اہلیہ کو باہر صحن میں  بٹھا کر اندر چلا جاتا اور واپسی پر انہیں  اندر کے  منظر اور کیفیت کی کارگذاری سناتا۔ کارگزاری سننے  سے  ان کے  چہرے  پر مایوسی کے  آثار نمودار ہونے  لگتے۔ مگر کیا کیا جائے  تنہا یہ اندر جا نہیں  سکتیں۔ تیسرے  یا چوتھے  دن میں  نے  کہا کہ میں  باہر کھڑے  ہو کر دیکھتا رہتا ہوں  آپ کھڑی کھڑی مسجدکے  دروازے  سے  اندر کا نظارہ کر کے  آ جائیں۔ چنانچہ حوصلہ کر کے  یہ مستورات کے  دروازے  سے  مسجد کے  منظر کو جھانک کر واپس آ گئیں۔ اس دن ان کے  چہرے  پر عجیب قسم کی چمک تھی۔ بہت خوش تھیں۔ مگر اصل مقصد ابھی پورا نہیں  ہوا۔ اصل مقصد تو روضہ رسولﷺ کی زیارت ہے۔ سواس کا ابھی کوئی سبب نظر نہیں  آ رہا۔ 

اعجازِ ایمان و یقین

 "مینوں  سوہنے  نے  بلایامیں  مدینے  چلی آں "
	جب سے  امید لگی تھی یہی مصرعہ میری اہلیہ کے  وردِ زبان تھا۔ بیماری کے  ابتدائی ایام میں  بھی تتلاتی زبان اور لرزتے  ہونٹوں پر یہ الفاظ تھے۔ جب کوئی کہتا کہ بیماری کی وجہ سے  آپ کو اس دفعہ حج پہ نہیں  جانا چاہئے  تو تڑپ کر کہتی کیوں ؟’’اکھاں  مل مل کے  تے  ایہہ دن نصیب ہویا اے۔ میں  ضرور جانواں  دی‘‘(انتظار بسیار کے  بعد یہ دن نصیب ہوا ہے  میں  تو ضرور جاؤں گی)نہ جانے  محترمہ کے  دل میں  کتنی قوت اور ایمان کی کیا کیفیت تھی کہ اللّٰہ نے  آج اسے  اس کی منزل کے  بالکل قریب کر دیا تھا۔ مگر آج بھی قرب تھا،وصل نہیں  تھا۔ تمنا روضہ رسولﷺ کی زیارت کی تھی اور وہ ابھی تک نہیں  ہو سکی۔ شائد ابھی :۔ 
نالہ ہے  ترا بلبل شوریدہ ذرا خام ابھی
اپنے  سینے  میں  اسے  اور ذرا تھام ابھی(اقبال)
	محترمہ مسجد کا نظارہ کر کے  آئیں  تو آنکھوں  میں  عجیب طرح کی چمک اور چہرے  پر طمانیت تھی۔ وہ مجھے  ایک روشنی کے  مینار کے  سائے  میں  اپنے  تاثرات سنا رہی تھی اور ساتھ ہی ساتھ زیارتِ روضہ کے  لئے  دعائیں  کر رہی تھی۔ اور دعا  و التجا کے  متعلق اقبال نے  کہا ہے :۔ 
دل سے  جو بات نکلتی ہے  اثر رکھتی ہے 
پر نہیں  طاقتِ پرواز مگر رکھتی ہے 
	واقعی جب انسان دل کی گہرائیوں  سے  اللّٰہ کو پکارتا ہے  تو وہ دستگیری فرماتا ہے۔ مدینہ شریف میں  غالباً یہ ہمارا پانچواں  دن تھا۔ دورانِ گفتگو محترمہ نے  اٹھنے  کی کوشش کی۔ میں  نے  سہارا دینے  کے  لئے  بازو پکڑا تو بڑے  جذباتی انداز میں  ہاتھ کو جھٹک دیا۔ کہنے  لگیں "چھوڑ دیں  ان شاء اللہ خود اٹھوں  گی"میں  مذاق سے  ہنسنے  لگا۔ مگر محترمہ ہاتھ پاؤں  آگے  پیچھے  مار کر خود اٹھ گئیں۔ میں  حیران و ششدر رہ گیا۔ واہ خدایا!تیری شان!بیشک تو مردوں  کو زندہ کرنے  والا ہے۔ میں  تیری شان کے  قربان!تو کتنا رحیم ہے !کتنا کریم ہے !بیشک توسمیع و بصیر ہے۔ بے  نواؤں،بے  کسوں  کا تو ہی سہارا ہے۔ 
	بیشک ایک فالج زدہ مفلوج شخصیت کا اتنی جلدی صحت مند ہو جانا اعجازِ ربانی ہے۔ مگر یہ اعجاز کسی خاص کے  ساتھ مخصوص نہیں، عام ہے۔ ہمارے  ایک مہربان (سید فیاض بخاری)بھی اسی سال سعادتِ حج سے  بہرہ مند ہوئے  ہیں  انہوں  نے  بتایا کہ ہمارے  گروپ کے  ایک ساتھی کی مکہ شریف میں  فالج کی سی کیفیت پیدا ہو گئی۔ اس نے  اللّٰہ تعالیٰ کو مخاطب کرتے  ہوئے  عرض کی:۔ 
"اے  میرے  رب میں  تیرے  گھر دونوں  ٹانگوں  سے  چل کر آیا ہوں۔ اب یہاں  سے  لولا لنگڑا ہو کر نہیں  جاؤں گا"
	راوی کہتے  ہیں  کہ ہمارے  دل میں  خیال آیا کہ اس فقیر نے  تو اللّٰہ تعالیٰ کی غیرت کو چیلنج کر دیا ہے۔ قدرت خدا کی اس شخص نے  معذوری کے  باوجود سارے  مناسکِ حج پورے  کئے  اور اللّٰہ تعالیٰ نے  واپسی سے  پہلے  اسے  صحت مند کر دیا۔ اسی طرح کا واقعہ ایک دوسرے  ساتھی کے  ساتھ مدینہ منورہ میں  پیش آیا۔ یہاں  اس نے  حضورﷺ کے  حضور عرض کی:۔ 
"اے  پاک رسولﷺمیں  آپ کے  دربار میں  چلتے  پاؤں  آیا ہوں۔ اب بڑی شرمساری کی بات ہے  اگر میں  یہاں  سے  لولا ہو کر واپس جاؤں "
	اللّٰہ تعالیٰ نے  اسے  بھی شفا عطا فرمائی۔ یہی نہیں  ہمارے  ایک دوسرے  ساتھی شیخ عبد الغفور صاحب سناتے  ہیں  کہ’’ ان کے   ایک عزیز بھی اسی سال حج کی سعادت سے  سرفراز ہوئے  ہیں۔ وہ اپنے  ساتھیوں  سے  بچھڑ گئے۔ اس صدمہ سے  دل کی تکلیف شروع ہو گئی۔ وہ حرم شریف آ گئے  اور آبِ زمزم پینا شروع کر دیا۔ اللّٰہ نے  افاقہ دیا  تو غارِ ثور کی زیارت کو چل دیئے۔ راستے  میں  تکلیف زیادہ ہو گئی۔ مگر اللّٰہ تعالیٰ نے  جلد ہی سنبھالا دیا۔ گھر والے  بھی مل گئے  اور صحت بھی ہو گئی۔ ‘‘ان صاحب سے  چند روز پہلے  مسجد میں  ملاقات ہوئی۔ تفصیلات کا موقع نہیں  ملا۔ چہرے  سے  اچھے  خاصے  صحت مند دکھائی دے  رہے  تھے۔ بعض لوگوں  کے  دل میں  ایسی باتیں  سن کر اشکال پیدا ہوتے  ہیں  کہ یہ واقعات نہیں  من گھڑت قصے  ہیں۔ مگر یہ قصے  نہیں  حقائق ہیں۔ میں  اپنی سرگذشت میں  مبالغے  سے  بچنے  کی کوشش کر رہا ہوں۔ میں  اپنی اہلیہ کے  متعلق جو کچھ عرض کر رہا ہوں  بالکل حقیقت ہے۔ یہ میرا ذاتی تجربہ و مشاہدہ ہے  سو مجھے  اس سفر کی معجزاتی کیفیات کے  بارے  میں  کوئی اشکال نہیں۔ میں  سمجھتا ہوں  کہ میری اہلیہ کا بغیر سہارے  کے  مسجدِ نبوی میں  خود بخود اٹھنامسجدکی برکت اور اللّٰہ کی رحمت ہے۔ اس مہربان اللّٰہ نے  ہماری ساری حسرتیں  پوری کی ہیں۔ ہمیں  حضورﷺ کے  دربار کی حاضری بھی نصیب ہوئی اور وہاں  اللّٰہ کے  حضور سجدہ شکر ادا کرنے  کا موقع بھی ملا۔ 

حضورﷺ کے  دربار میں  

	اب میری اہلیہ باقاعدگی سے  مسجد کے  اندر جا کر نماز ادا کرتی۔ میں  نماز سے  فارغ ہو کر آتا تو مقرر کردہ جگہ پر اکھٹے  ہو جاتے۔ میں  تو تین چار دفعہ روضہ مبارک پر حاضری دے  چکا تھا مگر ان کے  لئے  ابھی کسی ایسی خاتون کا سبب نہیں  بن رہا تھا جو انہیں  ساتھ لے  جا کر زیارت کرا لائے۔ ان کے  لئے  چلنا اگرچہ مشکل نہیں  تھا مگر بیماری کی وجہ سے  ایک ساتھی کی ضرورت تھی۔ انہیں  راستے  کی بھی خبر نہیں  تھی۔ مسجد کے  اندر ایک سے  ستون اور راستے  ہیں۔ سادہ آدمی راستہ بھول جاتا ہے۔ 
	ایک دن میں  عشا ء کی نماز پڑھ کر مستورات کے  گیٹ پر ان کی انتظار کر رہا تھا کہ ایک صاحب مجھے  مخاطب کر کے  پوچھنے  لگے  ’’بھائی صاحب آپ کہاں  کے  ہیں۔ ‘‘میں  انتظار کی محویت کی وجہ سے  ان کی طرف توجہ نہ دے  سکا۔ میری کیفیت یہ تھی:۔ 
آہٹ پہ کان در پہ نظر دل میں  اضطراب
پوچھے  تو کوئی ان سے  مزہ انتظار کا
مجھے  یہ فکر تھی کہیں  مسجد کے  اندر راستہ نہ بھول گئی ہو۔ کہیں  کسی کے  دھکے  سے  گر نہ گئی ہو۔ کچھ اس طرح کی سوچ اور فکر تھی کہ میں  اپنے  مخاطب کی طرف توجہ نہ دے  سکا۔ جب تیسری یا چوتھی دفعہ انہوں  نے  مجھے  پکارا تو میں  نے  بے  توجہی سے  کہاپاکستان سے۔ مگر اس وقت بھی میری نظر مسجد کے  دروازے  پر جمی ہوئی تھی۔ جب انہوں  نے  میرے  انہماک کی کیفیت دیکھی تو قریب آ کر پوچھنے  لگے  کس کی انتظار ہے ؟میں  نے  کہا بیوی کی۔ میں  نے  اختصار سے بتایا کہ وہ معذور ہیں۔ کہیں  گر نہ پڑیں۔ بھول نہ جائیں۔ انہوں  نے  تسلی دی یہاں  فکر نہ کریں۔ یہ حضورﷺ کا دربار ہے۔ اللّٰہ محافظ ہے  فکر نہ کریں۔ اس دوران محترمہ لڑکھڑاتے  لڑکھڑاتے  آتی نظر آئیں  توتسلی ہوئی۔ ہم دونوں  گیٹ کے  سامنے  بیٹھ گئے۔ باہمی تعارف و تبادلہ خیال ہوا۔ موصوف نے  بتایا کہ ہم ملتان کے  رہنے  والے  ہیں، عرصہ دراز سے  مدینہ منورہ میں  رہ رہے  ہیں۔ میں  نے  کہا کہ ابھی تک میری اہلیہ روضہ مبارک کی زیارت نہیں  کر سکی۔ انہوں  نے  کہا یہ تو کوئی مسئلہ نہیں  کل آپ آٹھ بجے  صبح یہیں  میرا انتظار کریں  آپ کو زیارت کرا دی جائے گی۔ ہماری گفتگو کے  دوران ان کی اہلیہ اور بیٹیاں   بھی آ گئیں۔ ہماری بیگم کو ان کی بیگم اور بیٹیوں  نے  تسلی دی ہم بہت خوش تھے  کہ اللّٰہ نے  زیارتِ روضہ کا سبب بھی بنا دیا۔ 

سبب سبب ہے  رب نہیں 

	بیشک اللّٰہ تعالیٰ نے  نظامِ کائنات کو اسباب کے  ساتھ جوڑ رکھا ہے۔ بلکہ اہلِ نظر تو مافوق الفطرت واقعات کو بھی اسباب کا نتیجہ خیال کرتے  ہیں۔ ان کا کہنا ہے  کہ مافوق الفطرت کے  پیچھے  بھی فطری قوانین کا ر فرما ہیں۔ فطری اور مافوق الفطری میں  فرق صرف اتنا ہے  کہ جنہیں  ہم فطری کہتے  ہیں  ان کے  اسباب کو ہم حواسِ خمسہ سے  محسوس کر سکتے  ہیں  اور مافوق الفطرت کے  محرکات کا ادراک ہمارے  احاطۂ احساس میں  نہیں۔ سو ہر دو طرح کے  واقعات و حادثات کسی نہ کسی سبب کا نتیجہ ہوتے  ہیں۔ یہ اسباب و نتائج اصل میں  انسان کی آزمائش ہیں۔ ان کے  ذریعے  اللّٰہ تعالیٰ بندوں  کو آزمانا چاہتا ہے  کہ وہ اسباب پر تکیہ کرتے  ہیں  یا اسباب کے  خالق یعنی رب پر بھروسہ کرتے  ہیں۔ اسی لئے  وہ اکثر سلسلہ اسباب کو منقطع کر کے  انسان کو غیر متوقع صورت حالات سے  دوچار کر دیتا ہے۔ اس امر کا تجربہ اکثر ہوتا رہتا ہے۔ ہمارا تازہ تجربہ بھی اس سلسلہ کی ایک کڑی ہے۔ 
	ملتان کے  بھائی صاحب نے  ہمیں  صبح آٹھ بجے  انتظار کرنے  کو کہا تھا۔ ہم بڑے  خوش تھے۔ ہم دل میں  ان کے  بڑے  شکر گذار تھے۔ مگر اس شکر گذاری میں  ہم مسبب الاسباب کو بھول گئے۔ ہمیں  خیال ہی نہیں  رہا کہ کرنے  والا تو اللّٰہ ہے۔ وہ سبب کے  ذریعے  کرے  یا بے  سبب کرے۔ ہمیں  تو اس کی طرف متوجہ رہنا چاہئے۔ ہماری یہ بھول محض بھول نہیں  بلکہ گناہ تھا۔ اور گناہ کی سزا ہوتی ہے۔ سواس کی سزاملی۔ وہ اسطرح کہ ہم صبح کی نماز پڑھ کر حرم شریف میں  ہی رک گئے۔ حرم شریف میں  داخل ہوتے  ہوئے  دائیں  ہاتھ ایک عمارت ہے۔ یہاں  سے  باہر کے  لوگ آبِ زمزم لے  کر جاتے  ہیں۔ دھوپ ذرا زیادہ ہوئی توہم اس عمارت کے  سائے  میں  بیٹھ گئے۔ اب انتظار شروع ہو گئی۔ کہتے  ہیں  انتظار کی گھڑیاں  لمبی ہوتی ہیں۔ ان گھڑیوں  کی لمبائی بقدرِ اشتیاق و ضرورت ہوتی ہے۔ ہمارا شوق اپنے  نقطہ عروج پر تھا۔ سوایک ایک لمحہ صدی معلوم  ہو رہا تھا۔ ہماری نظریں  گیٹ پر لگی ہوئی تھیں۔ موصوف نے  کہا تھا کہ میں  اپنی گاڑی میں  اپنی بیٹیوں  کو لے  آؤں گا۔ سو ہم ہر آنے والی گاڑی کی طرف متوجہ ہو جاتے۔ یاد رہے  یہاں  عام گاڑیوں  کی آمدورفت نہیں۔ صرف عملے  کی گاڑیوں  کو شائد اجازت ہو۔ اور موصوف کی گفتگو سے  اندازہ ہوا تھا کہ وہ مسجدکے  خدمتگاروں  میں  سے  ہیں۔ اس لئے  ان کی گاڑی ادھر آ سکتی تھی۔ اس صورتحال میں  صرف گنتی کی چند گاڑیاں  ہمارے  سامنے  سے  گذریں  مگر کسی میں  بھی ہمارا مطلوب موصوف نہ تھا۔ آٹھ بجے  تک تو کوئی زیادہ پریشانی نہیں  تھی کہ وعدہ آٹھ بجے  کا تھا۔ مگر جب گھڑی کی سوئیاں  آٹھ کی حد سے  گذرنے  لگیں  تو انتظار کی گھڑیاں  مزید طویل ہونے  لگیں۔ ہوتے  ہوتے  نو بج گئے۔ ہماری حاجن صاحبہ انتظار کرتے  کرتے  اکتا گئیں۔ کچھ ناراضی کا اظہار کرنے  لگیں۔ میں  نے  کہا بدگمانی اچھی نہیں۔ بھائی جان کو کوئی ضروری کام پڑ گیا ہو گا۔ اور واقعتاً بات بھی یہی تھی۔ دوسرے  روز ان سے  ملاقات ہوئی تو انہوں  نے  اپنی مجبوری بتائی۔ میں  تو پہلے  ہی مطمئن تھا۔ اہلیہ محترمہ نے  بھی معاف فرما دیا۔ 
	ساڑھے  نو بجے  تک انتظار کرتے  کرتے  جب انتہائی اکتا گئے  تو اللّٰہ تعالیٰ نے  دل میں  ڈالا کہ اپنے  طور پر کوشش کرنی چاہئے۔ میں  نے  اہلیہ سے  کہا چلیں  مستورات کے  باب کی طرف چلتے  ہیں۔ ہو سکتا ہے  اللّٰہ تعالیٰ کوئی اور سبب پیدا کر دے۔ محترمہ میری تجویز پر مستعد ہو گئیں۔ ہم دونوں  میاں  بیوی آہستہ آہستہ مستورات کے  دروازے  کی طرف رواں  ہوئے۔ ہم راستے  میں  دائیں  بائیں  دیکھتے  جا رہے  تھے  کہ کوئی پاکستانی خاتون مل جائے  تو اس کی منت خوشامد کر کے  زیارت کے  لئے  اس کی مدد حاصل کی جائے۔ مگر راستے  میں  کوئی سبب نہیں  بنا۔ 
	ہم مستورات کے  دروازے  کے  سامنے  روشنی کے  مینار کے  پاس جا کر کھڑے  ہو گئے۔ مستورات زیارت کے  لئے  جا رہی تھیں۔ ہم زیارت کر کے  جانے  والوں  کو حسرت بھری اور آنے  والیوں  کو لالچ بھری نظروں  سے  دیکھ رہے  تھے۔ لالچ یہی تھا کہ کوئی اللّٰہ کی ولیہ میری اہلیہ کو روضہ رسولﷺ کی زیارت کرا دے۔ مگر ان آنے  جانے  والیوں  کو شرم کے  مارے  ہم کہہ نہیں  سکے۔ جہاں  ہم کھڑے  تھے  وہاں  ایک پاکستانی کنبہ کے  سربراہ کو سلام کیا اور اپنامسئلہ بتایا۔ انہوں  نے  اپنی بیٹی کو اشارہ کیا۔ بیٹی نے  آمادگی کا اظہار کیا اور بڑی محبت اور عقیدت سے  میری اہلیہ کا ہاتھ پکڑ کر اندر لے  گئی۔ بڑا پیارا گھرانہ ہے۔ اللّٰہ انہیں  خوش رکھے۔ تھوڑی بہت گفتگو سے  معلوم ہوا کہ موصوف گذشتہ بیس سال سے  جدہ میں  انجینئر کی حیثیت سے  کام کر رہے  ہیں۔ اور اہل و عیال بھی ساتھ رکھے  ہوئے  ہیں۔ ان کا بیٹا تقریباً تیرہ سال کا ہے۔ یہ حافظِ قرآن تھا۔ بہت پیارا اور سعادتمندبیٹا ہے۔ جب میں  نے  بتایا کہ ہمارا چھوٹا بیٹا بھی حافظ ہے  تو وہ بہت خوش ہوئے۔ موصوف کی اہلیہ بھی ساتھ تھیں  بہت نیک خاتون ہیں۔ ان کے  علاوہ دو بیٹیاں  بھی ان کے  ساتھ تھیں۔ ایک بیٹی میری اہلیہ کو زیارت کرانے  کے  لئے  اندر گئی ہوئی تھی۔ 
	ہماری بیگم صاحبہ جب اندر سے  باہر آئیں  تو چہرہ کھل رہا تھا۔ بہت خوش تھیں۔ صدیقی صاحب کی بیٹی کو بڑی دعائیں  دے  رہی تھیں۔ مجھے  بتایا کہ بیٹی نے  بڑے  اہتمام کے  ساتھ زیارت کرائی ہے۔ میں  نے  حضورﷺ کے  منبر شریف کے  پاس نوافل پڑھے  ہیں۔ صدیقی صاحب اس روز واپس جدہ جا رہے  تھے۔ اس لئے  ہم زیادہ تعارف نہیں  کر سکے۔ اللّٰہ تعالیٰ ان کو بمعہ اہل و عیال خوش و خرم رکھے۔ اور دونوں  جہانوں کی کامیابی نصیب فرمائے۔ اس زیارت سے  ایک دن پہلے  ہمارے  مکہ کے  ساتھیوں  میں  سے  ایک خاتون نے  زیارت کرانے  کا وعدہ کیا تھا مگر ہم نے  ملتان والے  بھائی کے  وعدہ کی وجہ سے  ان کا شکریہ کر دیا تھا۔ ہم زیارت سے  واپس آ رہے  تھے  تو اس بہن سے  ملاقات ہو گئی اس نے  اگلے  دن زیارت کرانے  کا وعدہ کیا چنانچہ اگلے  روز انہوں  نے  بڑی محبت سے  زیارت کرائی۔ ہمارے  لئے  یہ مرحلہ خاصا مشکل تھا۔ مگر جو مشکل پیدا کرتا ہے  مشکل کشا بھی وہی ہے۔ وہ مسبب الاسباب ہے۔ سوہرحال میں  اس پہ بھروسہ کرنا لازم ہے۔ سبب کو سبب سمجھناچاہئے  اسے  رب نہیں  سمجھنا چاہئے۔ 

زہے  مقدر

کبھی تو دل میں  خدایا مثالِ نور آئیں 
وہ جن سے  حسنِ نہاں  کا ہوا ظہور آئیں 
نزول دل پہ ہو ان کا یا خواب میں  آئیں 
کسی وسیلے  سے  آئیں  مگر ضرور آئیں 
مثالِ طور ہے  امید کی کرن روشن
غریب خانے  میں  شاید کبھی حضورﷺ آئیں 
ہر ایک شاخ سے  پھوٹے  گی صد ہزار بہار
خزاں  رسیدہ چمن میں  اگر حضورﷺ آئیں 
بھٹک رہی ہے  اندھیروں  میں  کب سے  خلقِ خدا
صدائیں  دیتا ہے  انسان کا شعور آئیں 
درودِ پاک سے  ماحول مشک بار ہے  آج
رچابسا ہے  فضا میں  عجب سرور آئیں 
حضورؐ رقص کناں  ہے  شکستگی دل کی
عجیب کیف میں  صفدر ؔ ہے  چور چور آئیں 

حرفِ حقیر

تیرے  حرمِ پاک کی حاضری،یہ قرابتیں  یہ زیارتیں 
میرے  ایک حرفِ حقیر پہ یہ نوازشیں  یہ عنایتیں 
	مذکورہ نعت فروری۱۹۸۰ء؁ کی ہے۔ اللّٰہ تبارک و تعالیٰ نے  اس کے  انعام کے  طور پر ایک مبارک خواب دکھایا تھا۔ یہ خواب میری زندگی کا سرمایا ہے۔ آج اس خواب کو تقریباً۱۵ برس گذر چکے  ہیں۔ اس خواب کی تعبیر میرے  خواب و خیال میں  بھی نہ تھی۔ کہ میرے  مولا نے  ایک دم اسباب پیدا فرما دئیے۔ آج وہ خواب مجسم صورت میں  میرے  سامنے  ہے۔ تقریباً آٹھ روز تک مغرب کی نماز باب السلام میں  پڑھنے  کی سعادت نصیب ہوئی ہے۔ 
	نمازِ مغرب کے  بعد ہم نے  ایک روشنی کے  ستون کے  پاس اکٹھے  ہونے  کا معمول بنا رکھا تھا۔ میں  اہلیہ کو احاطۂ حرم میں  داخل کر کے  خود زیارت کی نیت سے  روضہ اقدس کی طرف چلا جاتا۔ میری یہی کوشش ہوتی کہ باب السلام کے  اندر یا باہر پہلی صف میں  جگہ مل جائے۔ اس لئے  کہ یہاں  سے  اندر جانا آسان تھا۔ زائرین کا معمول تھا کہ امام صاحب کے  سلام پھیرتے  ہی اٹھ کھڑے  ہوتے۔ اور صفوں  کو چیرتے  نمازیوں  کو پھلانگتے  روضہ مبارک تک پہنچنے  کی کوشش کرتے۔ لوگوں  کی دیکھا دیکھی مجھے  بھی یہی طرزِ عمل اختیار کرنا پڑا۔ اپنے  اس عمل کو جائز ثابت کرنے  کے  لئے  دل میں  خیال آتا کہ محبت اور جنگ میں  سب کچھ جائز ہے۔ مگر جائز تو صرف وہی جائز ہے  جسے  اللّٰہ اور رسولﷺ جائز کہیں۔ اللّٰہ اور اس کے  رسولﷺ نے محبت اور جنگ دونوں  کے  آداب بتائے  ہیں۔ ان میں  بھی ا کرام آدمی کی بڑی تاکید ہے۔ زائرین ایک دوسرے  کا ا کرام کرتے  ہیں  مگر اس جگہ ذوقِ دیدار کی وجہ سے  معمولی سی بے  ا کرامی ہو جاتی ہے، اللّٰہ معاف کرے !
	باب السلام کے  اندر تقریباً چار صفوں  کی فراخی ہے۔ اس سے  آگے  چند قدم کے  فاصلے  پر قبلہ رخ راستہ اور فراخ ہو جاتا ہے۔ تقریباً آٹھ صفوں  کی فراخی ہو گی۔ پہلے  روز ہجوم کی زیادتی کی وجہ سے  میں  نے  سیدھا جانا مناسب نہیں  جانا۔ قبلہ کی جانب ہجوم قدرے  کم تھا بلکہ قبلہ کی دیوار کے  ساتھ کچھ حضرات بیٹھے  تلاوتِ کلام اللّٰہ میں  مصروف تھے۔ میں  دوسرے  حضرات کے  پیچھے  پیچھے  درود شریف پڑھتے  پڑھتے  دور سے  مواجہ مبارک کی زیارت کرتا ہوا باب البقیع کے  راستے  باہر نکل گیا۔ یہ پہلے  روز کی زیارت ایک قسم کی مطالعاتی یا مشاہداتی زیارت تھی۔ اس زیارت سے  پتہ چلا کہ باب السلام سے  داخل ہوتے  ہوئے  بائیں  ہاتھ کے  جنگلے  کے  ساتھ ساتھ رہنا زیادہ مناسب ہے۔ دوسرے  اس زیارت سے  تشنگی میں  اضافہ ہو گیا۔ اس کے  علاوہ دل میں  کچھ ایسے  اشکالات اور سوالات پیدا ہونے  لگے  جو خواب و خیال میں  بھی نہ تھے۔ 

وسواس کا جال

	انسان کے  دو بڑے  دشمن ہیں  نفس اور شیطان۔ اور یہ دونوں  دشمن ہر وقت آدمی کے  ساتھ ہوتے  ہیں۔ آدمی کو ہمہ وقت ان سے  ہوشیار رہنا چاہئے۔ شیطان کا کام دلوں  میں  وسواس پیدا کرنے  سے  شروع ہوتا ہے،اور یہ کام وہ اپنے  کارندوں  کے  ذریعے  کرواتا ہے۔ اور کارندے  اس کے  جنات اور انسان ہیں۔ وسواس کی بھی کئی شکلیں  ہیں۔ وسوسہ اصل میں  حقائق کو شک کی نظر سے  دیکھنے  کے  رویے  کا نام ہے۔ شک ایمان اور یقین کی اہلیت کو دیمک کی طرح چاٹتا رہتا ہے۔ شک یقین کی ضد ہے۔ کیا؟کیوں ؟کیسے ؟جیسے  جال ہمہ وقت بنتا رہتا ہے۔ یہ نہیں  دیکھتا کہ یہ حکم خداوندی ہے  یا فرمانِ نبویؐ ہے۔ یہ ہر بات کو عقل کی کسوٹی پہ پرکھتا اور اپنے  عقائد و نظریات کی روشنی میں  سوچتا ہے۔ شکی آدمی جب اپنے  عقائد کو دین اور حقائق کو بے  دینی سمجھنے  لگتا ہے  تو یہ وسوسہ ہے۔ اس وسوسے  ہی نے :۔ 
"ٹکڑے  ٹکڑے  کر دیا ہے  نوعِ انسان کو" 
اللّٰہ تعالیٰ کا واضح حکم ہے  کہ اللّٰہ کی رسی کو مضبوطی سے  تھام لو اور آپس میں  تفرقہ نہ ڈالو۔ مگر وسواس کی بنا پر مسلمان سینکڑوں  فرقوں  میں  بٹ چکے  ہیں۔ دین نے  تو اخوت و بھائی چارہ کے  رشتہ میں  امت کو متحد رہنے  کی تاکید فرمائی تھی مگر امت نے  ایک حدیث کو بہانہ بنا کر تہتر کے  بجائے  بے  شمار فرقے  بنا لئے۔ یہ فرقے  صرف شرعی اختلافات کی بنا پر نہیں  بلکہ بنیادی عقائد کے  اختلاف کی بنا پر بنے  ہوئے  ہیں۔ المیہ تو یہ ہے  کہ اللّٰہ اور اللّٰہ کے  رسولﷺ کے  بارے  میں  ایسے  ایسے  وسواس پیدا ہو چکے  ہیں  کہ العیاذ باللہ۔ نعوذ باللہ بعض دفعہ ایسے  لگتا ہے  کہ اللّٰہ اور اللّٰہ کے  رسولؐ کے  مابین مقابلہ کرایا جا رہا ہے۔ دین کو ایک کھیل بنا دیا گیا ہے۔ اور یہ سارا کھیل قرآن و حدیث کے  نام پر کھیلا جا رہا ہے۔ 
	میں  نے  کسی غیر مسلم کو اپنے  مذہبی اکابرین کی شخصیتوں  کے  بارے  میں  بحث و مباحثہ یا مناظرہ کرتے  نہیں  دیکھا۔ صرف ایک مسلمان ہیں  جو اپنے  اکابرین کو تختۂ مشق بنائے  ہوئے  ہیں۔ ایک فرقہ ایک شخصیت کو افضل اور دوسری کو کمتر ثابت کرنے  کی کوشش کر رہا ہے۔ کوئی دوسرے  کو کمتر اور اپنے  کو برتر ثابت کرنے  کی کوشش کر رہا ہے۔ عام صالحین کو تو چھوڑیں  امت اس وقت اللّٰہ کے  رسولؐ کی شخصیت و مرتبہ کے  متعلق وسواس میں  مبتلا کر دی گئی ہے۔ اس صورتحال کی وضاحت کی ضرورت نہیں  کہ احوال سب کے  سامنے  ہیں۔ وہ بات جسے  اہلِ علم مسئلہ کہیں  وہ یقیناً مسئلہ ہے۔ مگر ہر مسئلہ کا ایک خاص حلقہ ہوتا ہے۔ بعض ایسے  نازک مسائل ہوتے  ہیں  جنہیں  صرف علماء کی حدود تک محدود رہنا چاہئے۔ جیسے  میاں  محمد بخش نے  کہا تھا
"خاصاں  دی گل عاماں  اگے  نئیں  مناسب کرنی"
خواص کے  مسائل عامۃ الناس میں  لانے  مناسب نہیں۔ اس سے  بڑی خرابیاں  پیدا ہوتی ہیں۔ چھوٹے  ذہن بڑی باتیں  نہیں  سمجھ سکتے۔ یہ نازک مسائل کی نزاکتوں  سے  آگاہ نہیں  ہوتے۔ اس لئے  ہم جیسے  کم علم آدمی شک و شبہات اور وسواس کے  جال میں  پھنس جاتے  ہیں۔ عام حالات میں  اس حالت کا احساس نہیں  ہوتا۔ مگر جب مخصوص صورتِ حال سامنے  آتی ہے  تو آدمی کو سمجھ نہیں  آتی کہ کیا کیا جائے۔ عجیب تذبذب کی کیفیت ہوتی ہے۔ دورانِ حج  کئی مقامات پر ایسی صورتحال پیش آئی مگر احوال کا تعلق اعمال سے  تھا۔ سو وہاں  کوئی زیادہ الجھاؤ نہ تھا۔ اور یہاں  یعنی روضہ رسول کی زیارت کے  وقت مسئلہ اعمال کا نہیں  عقائد کا تھا۔ اور عقائد میں  توحید اور سنت دو بنیادی عقائد ہیں۔ آج ان عقائد میں  عجیب قسم کے  الجھاؤ پیدا کر دیئے  گئے  ہیں۔ 
	عام مسلمان اس الجھاؤ کے  لئے  علماء کو موردِ الزام ٹھہراتے  ہیں۔ مگر کیا علماء کو ذمہ دار ٹھہرانے  سے  عام مسلمان بری الذمہ ہو جاتا ہے۔ نہیں !ہر گز نہیں !دین سیکھنا سکھانا ہرمسلمان کا فرض ہے۔ یہ کوئی پیشہ نہیں، فریضہ ہے۔ ہر مسلمان کا فرض ہے  کہ وہ خود قرآن اور حدیث پڑھنے  پڑھانے  اور سمجھنے  سمجھانے  کی کوشش کرے۔ جتنی محنت ہم دنیوی علوم کے  حصول کے  لئے  کرتے  ہیں  اگر اس کا دسواں  حصہ بھی دین فہمی کے  لئے  وقف کریں  تو سارے  الجھاؤ ختم ہو جاتے  ہیں۔ توحید ورسالت کے  الجھاؤ بھی سلجھ جاتے  ہیں۔ آدمی مقامِ خدا اور شانِ رسولؐ سے  آگاہ ہو تو ہر قسم کے  غلو اور افراط و تفریط سے  بچ جاتا ہے۔ بہرحال دوسروں  کا تو علم نہیں  مجھے  میری کم علمی نے  زیارتِ روضہ مبارک کے  وقت سوچ کے  الجھاؤ نے  چکرا دیا تھا۔ 

محبت اور پرستش

	روضہ رسولؐ کی حاضری کے  وقت محبت اور پرستش کے  فرق کو ملحوظِ خاطر رکھنا نہایت ضروری ہے۔ محبت اور محبت کے  اظہار کے  آداب ہیں  اور پرستش کے  بھی اپنے  انداز ہیں۔ حبِ رسول ؐ کا تقاضا ہے  کہ جان مال بلکہ ماں  باپ سے  بڑھ کر حضورﷺ سے  محبت کی جائے۔ حضورؐ سے  محبت کرنے  کے  آداب خدا تعالیٰ نے  قرآنِ پاک میں  بھی واضح الفاظ میں  بیان فرمائے  ہیں۔ پھر صحابہ کرامؓ نے  عملی طور پر حبِ رسولؐ کا نمونہ پیش کیا ہے۔ ان عاشقانِ رسولؐ نے  حضورﷺ کے  اشارہ ابرو پر جانوں  کے  نذرانے  پیش کئے۔ صحابہ  نے  حبِ رسولؐ کا نمونہ پیش کیا اور رسولِ پاکؐ نے  اللّٰہ کی عبادت کے  انداز سکھائے۔  سو زیارتِ روضہ کے  وقت آثارِ صحابہؓ کا علم ہونا ضروری ہے۔ یہاں  بڑا امتحان یہ ہے  کہ زائر محبت و عقیدت کے  آداب چھوڑ کر عبادت کے  انداز اختیار نہ کرے۔ یہاں  اس امر کی بہت احتیاط کرنا پڑتی ہے۔ مگر اس کا مطلب یہ بھی نہیں  کہ آدمی احتیاط کے  بہانے  اللّٰہ کے  محبوب کی محبت سے  محروم ہو جائے۔ عشقِ نبیؐ کے  تقاضے  پورے  کرنا بھی ضروری ہیں  کہ یہ بھی عبادتِ خداوندی کا جزو ہیں۔ 
	شرعی مسائل سے  ہٹ کر سوچا جائے  توانسان جس چیز یا شخصیت سے  محبت کرتا ہے  وہ بوقتِ تفکر مفکر کے  لئے  مستحضر ہوتی ہیں۔ شاعر جب محبوب کی شان میں  تفکر کرتا ہے  تو اس کے  تصور میں  محبوب کی تصویر موجود ہوتی ہے۔ میلوں  دور بیٹھے  عزیزوں  اور سالوں  بچھڑے  محبوبوں  کا جب ذکر ہوتا ہے  تو ان کے  سراپے گویا مشہود و موجود ہوتے  ہیں۔ 
دل کے  آئینے  میں  ہے  تصویر یار
جب ذرا گردن جھکائی دیکھ لی
	یہ چند جملے  میں  شاعری کے  حوالے  سے  عرض کر رہا ہوں۔ ذوق شعر کی وجہ سے  روضہ رسولؐ پہ حاضر ہو کر میں  حضورﷺ کے  سراپا کے  تصور سے  تغافل نہیں  برت سکتا۔ میں  حضورﷺ کے  حضور حاضری کے  وقت انہیں  غیر حاضر نہیں  کہہ سکتا۔ میری حالت اس وقت امیر خسرو کے  شعر کی تصویر ہے۔ 
خدا خود میرِ محفل بود اندر لامکان خسروؔ
محمدﷺ شمع محفل بود شب جائے  کہ من بودم
میں  حضورﷺ کے  دربار کے  سامنے  سے  گذرتے  ہوئے  کچھ اس طرح کے  کلمات کہہ رہا ہوں :۔ 
	اے  !اللّٰہ مجھے  مسئلے  کا علم نہیں۔ مگر فلاں  نے  حضورﷺ کو سلام عرض کیا تھا۔ 
میرے  پاس یہ امانت ہے۔ یہ امانت میں  نے  تیرے  سپرد کر دی ہے۔ مجھے  سلام کے  آداب کا علم نہیں  سو جس طرح تو چاہتا ہے  حضورﷺ کو میری طرف سے  سلام پہنچا دے۔ اے !اللّٰہ مجھے  صلواۃ وسلام کے  طریقے  معلوم نہیں۔ تو بتا دے۔ تو سکھا دے۔ میری کیفیتیں  حضورﷺ کو پہنچا دے۔ میری تمنائیں  پوری کر دے۔ اللّٰہ مجھے  زیارت کرا دے۔ قبر شریف کی۔ صاحبِ قبر کی... میرے  اللّٰہ اتنا قریب لا کر مجھے  حضور ﷺ سے  دور نہ رکھ ! اے  اللّٰہ! میں  دیکھنا چاہتا ہوں۔ اندرسے  دیکھنا چاہتا ہوں۔ اے  اللّٰہ میں  مکالمہ کرنا چاہتا ہوں،آپ سے  آپ،کے  حبیب سے، میں  حضورﷺ کے  سامنے  آپ کو دکھڑے  سناناچاہتا ہوں۔ 
حضورﷺ کو اپنی درخواست کا گواہ بنانا چاہتا ہوں۔ اے  اللّٰہ!اے  اللّٰہ!۔۔۔ 
اسی وارفتگی میں زباں  سے  درود و سلام کا چشمہ ابلنے  لگتا ہے 
السلام علیک یا رسول اللہ،السلام علیک یا سید المرسلین،السلام علیک یا خاتم المرسلین،السلام علیک یا خاتم النبیین،السلام علیک یا نبی الرحمۃ،السلام علیک یا ھادی الامۃ،السلام علیک و علیٰ اھلِ بیتک الذین ازھب اللہ عنھم الرجس و طھرھم تطھیراً،و علیٰ ازواجک الطاہرات امھات المؤمنین،و جزاک اللہ عنا افضل ماجازی رسولاً عن امتہ۔ 
.... یا اللہ!یارسول اللہ!کہتے  کہتے  باب البقیع سے  باہر نکل آیا۔ 
	باب البقیع سے  نکلتے  ہوئے  جنت البقیع پر  نظر پڑی تو بے  ساختہ زبان سے  السلام علیکم یا اہل القبور کے  الفاظ نکل گئے۔ مسئلہ حل ہو گیا۔ الجھاؤ سلجھ گیا۔ میں  نے  روضہ مبارک کی طرف منہ کر کے  عرض کیا۔ 
الصلوٰۃ والسلام علیک یا رسو ل اللہ 

جنت کی ضیافت

	پہلی زیارت تو ایک قسم کی تجرباتی کوشش تھی۔ اس ابتدائی تجربہ کے  بعد معمول یہ تھا کہ میں  مغرب کی اذان سے  پہلے  باب السلام یا اس کے  قریب کی کسی صف میں  بیٹھ جاتا۔ امام صاحب کے  سلام پھیرتے  ہی روضے  کا رخ کر لیتا۔ روضے  کی جانب والے  پیتل کے  جنگلے  کے  ساتھ ساتھ آہستہ آہستہ چلتے  ریاض الجنۃ تک پہنچ جاتا۔ اللّٰہ کی مہربانی سے  ریاض الجنۃ میں  نماز پڑھنے  کی سعادت نصیب ہوئی اور دسویں  محرم کو اسی جنت کے  باغ میں  اللّٰہ تبارک و تعالیٰ نے  ضیافت بھی کرا دی۔ 
	نویں  اور دسویں  محرم کو نفلی روزہ ہوتا ہے۔ ہمیں اس کا علم نہیں  تھا۔ دسویں  محرم کو میں  اذان سے  پہلے  ریاض الجنۃ تک پہنچ گیا۔ کوشش کے  باوجود ریاض الجنۃ کے  اندر جگہ نہیں  ملی۔ دروازہ کے  سامنے  بھی خاصی بھیڑ تھی۔ مجبوراً مجھے  دروازے  میں  بیٹھنا پڑا۔ اس سے  پہلے  مجھے  روزے  کا علم نہیں  تھا مگر جیسے  ہی افطار کا وقت ہوا روزہ داروں  نے  کھجوریں  وغیرہ نکال کر افطار کرنا شروع کر دیا۔ مجھے  بڑی شرمندگی  ہو رہی تھی کہ میں  نے  روزہ کیوں  نہیں  رکھا۔ حالانکہ یہاں  روزہ رکھنے  کا ثواب بھی عام روزوں  سے  ہزار گنا زیادہ ہو گا۔ میں  اپنی شرمندگی چھپانے  کی کوشش کر رہا تھا کہ آگے  کی دوسریصف سے  ایک صاحب نے  مجھے  کھجوریں  پیش کیں  میں  نے  اشارے  سے  بتانے  کی کوشش کی کہ میرا روزہ نہیں۔ پھر شوگر کی وجہ سے  کھجور کھانے  سے  پرہیز بھی ہے۔ موصوف کو شاید میرا اشارہ سمجھ نہیں  آیا اور آیا بھی تو انہوں  نے  ثواب کی نیت سے  زبردستی کھجوریں  پکڑا دیں۔ ان کی دیکھا دیکھی قریب بیٹھے  روزہ دار نے  دو اور کھجوریں  دے  دیں۔ تبرک کے  خیال سے  انکار نہ کر سکا۔ میں  ریاض الجنۃ کے  دروازے  میں  بیٹھا تھا۔ شائد اللّٰہ کو مجھ پر ترس آ گیا کہ یہ فقیر میرے  محبوب کے  در پہ بیٹھا ہے  سواس کا ا کرام کرنا چاہئے .... کتنا کریم ہے  میرا مولا۔ اس نے  مجھ جیسے  گناہ گار کو اس مادی عالم اور زندگی میں  جنت کے  دسترخوان پہ بٹھا کر جنت کا کھانا کھلایا۔ آج اگر کوئی سوال کرے  کہ کسی نے  جیتے  جی جنت کا کھانا کھایا ہے  تو یہ فقیر با یقین کہے  گا کہ میں  نے  جنت کا کھانا کھایا ہے۔ 

مدینے  کی دہی میٹھی

	حدیثِ پاک کی روسے  حضورﷺ کے  منبرمقدس اور حجرہ مبارک کے  درمیان کی جگہ جنت کے  باغوں  میں  سے  ایک باغ ہے۔ حضورﷺ کے  فرمان پر ایمان لانا اس طرح ضروری ہے  جس طرح آیاتِ قرآن پر ایمان لانا لازمۂ ایمان ہے۔ یہ حدیث ریاض الجنۃ کے  دروازے  پر اپنے  اصل عربی متن میں  لکھی ہوئی ہے۔ اس کا مطلب متفقہ علیہ ہے۔ تمام مسلمانوں  کا ایمان ہے  کہ یہ قطعہ زمین جنت کا باغ ہے۔ اور میں  اس وقت اس جنت کی چوکھٹ پہ بیٹھا ہوا ہوں۔ دروازے  کے  باہر سے  روزہ دار مجھ بے  روزے  کا ا کرام کر رہے  ہیں  اور اندر والے  مجھ سے  بے  نیاز پر تکلف افطاری میں  مصروف ہیں۔ میں  ابھی باہر کی طرف متوجہ ہوں  کہ اندر سے  ایک روزہ دار میرا بازو پکڑ کر کھجوریں  پیش کرتا ہے۔ میں اس سے  کھجوریں  لے  لیتا ہوں۔ اس کی دیکھا دیکھی ساتھ والے  صاحب دہی کا ڈبہ مجھے  پیش کرتے  ہیں۔ میں ہچکچاتے  ہوئے  کہتا ہوں  کہ کھٹا تو نہیں۔ اس ایک جملے  سے  ایسے  محسوس ہوا کہ میرا اندر نورانیت سے  خالی ہو گیا ہے۔ میں کبیرہ کا مرتکب ہو گیا ہوں۔ اس احساس کی وجہ ایک واقعہ ہے  جو بھائی عطی الرحمن نے  پاکستان سے  رخصتی سے  چند روز پہلے  سنایا تھا۔ 
	بھائی عطی الرحمن نے  بتایا کہ ایک صاحب نے  خواب میں  حضورﷺ کی زیارت کی۔ حضورﷺ بڑی ناراضگی کے  انداز میں  فرما رہے  تھے  کہ تو کہتا ہے  مدینے  کی دہی کھٹی ہے۔ تو نکل جا میرے  شہر سے۔ خواب دیکھنے  والا بہت پریشان ہوا۔ ایک مفتی صاحب سے  تعبیر پوچھی تو انہوں  نے  فرمایا کہ بھائی تعبیر تو واضح ہے۔ تمہیں  شہر بدری کا حکم ہوا ہے۔ سوفوراًمدینہ شریف سے  نکل جاؤ۔ 
	مجھے  یہ خواب والا قصہ یاد آیا تو ہچکیاں  بندھ گئیں۔ بے  ساختہ میرے  لبوں  پر یہ جملہ جاری ہو گیا۔ مدینہ کی دہی میٹھی!مدینہ کی دہی میٹھی!میں  نے  دہی پیش کرنے  والے  کے  ہاتھ سے  ڈبہ چھین لیا اور تمام دہی چٹ کر گیا۔ ان کے  ساتھ والے  ساتھی حلوہ تناول فرما رہے  تھے۔ میرے  آنسوؤں  سے  متاثر ہو کر انہوں  نے  حلوہ پیش کیا۔ میں  شوگر کا خیال کئے  بغیر حلوہ کھا گیا۔ ایک صاحب نے  قہوہ پیش کیا۔ میں  نے  کہا کہ دو گھونٹ خود پی لیں۔ اس لئے  کہ میں  نے  سنا ہے  مومن کا جوٹھا شفا ہے  اور میں  بیمار ہوں۔ میں  یہ قہوہ بھی کڑوا گھونٹ سمجھ کر پی گیا۔ ساتھیوں  نے  میرے  رونے  کی وجہ پوچھی تومیں  نے  مذکورہ قصہ سنایا وہ بھی بہت متاثر ہوئے۔ 

اندر کا منظر

رقیباں  گوش بر آواز و او در ناز و من ترساں 
سخن گفتن چہ مشکل بود شب جائے  کہ من بودم
	مجرد کیفیتوں کو علمی زبان میں  بیان کرنا مشکل ہے۔ سوان کے  اظہار و بیان کے  لئے  تلمیح واستعارہ سے  کام لینا پڑتا ہے۔ وارداتِ عشق کے  بیاں  کے  لئے  نثر کی نسبت شعر کی زبان زیادہ معاون ہے۔ مگر اکثر مقامات پر شاعری بھی ساتھ نہیں  دیتی۔ سوبہت سی باتیں  ان کہی رہ جاتی ہیں۔ عشق کی واردات جذباتی اور عقیدت کے  معاملات روحانی ہیں۔ دونوں  کا تعلق اندر سے  ہے۔ اور اندر کیا ہے ؟
ایہہ تن تیرا حجرہ رب دا ایتھے  مار فقیرا چہاتی ہُو
شوق دا دیوا بال انہیرے  تینوں  لبھ جائے  وست کھڑاتی ہُو
(اے  سالک تیرا دل خانہ خدا ہے۔ ضرورت گھر کے  اندر جھانکنے  کی ہے۔ جب تو جذبہ شوق کی روشنی میں  دیکھے  گا تو تجھے  گمشدہ چیز مل جائے گی۔)
	سو حقائقِ ازلی و ابدی کے  ادراک کے  لئے  جذبۂ شوق کی ضرورت ہے۔ جب خدا اور محبوبِ خدا کے  وصال کا جذبہ پیدا ہو گاتوسینہ روشن ہو جائے گا۔ دل کی مثال ایک آئینہ کی سی ہے۔ جس چیز کی طلب ہو وہ اس آئینے  میں  منعکس ہوتی ہے۔ اور مطلوب کے  علاوہ غیر مطلوب سے  سینے  پاک کرنا پڑتے  ہیں۔ اگر زیارتِ رسولﷺ کی طلب ہو تو درودِ پاک کے  ذریعہ سینے  کو پاک کرنے  کی کوشش کرنی چاہئے۔ حضورﷺ کی صورت وسیرت کے  مختلف پہلوؤں  کو خیال کر کے  دل میں  جمانے  کی کوشش کرنی چاہئے۔ اور یہ اس صورت میں  ہو سکتا ہے  کہ خدا اور محبوب خدا کے  سواساری محبتوں  سے  دل کو پاک کیا جائے۔ خواہش ہو تو زیارت کی طلب ہو تو وصال کی،اس کے  علاوہ اپنی تمنائیں،آرزوئیں، خواہشیں  سب کچھ قربان کرنا ہوں  گی۔ اور یہ کام کوئی آسان کام نہیں۔ اس کے  لئے  عشاق اپنی زندگیاں  قربان کر دیتے  ہیں مگر زیارت مقدر والوں  کو ہوتی ہے۔ بہر حال طلبِ صادق کے  ساتھ ساتھ مشقت ضروری ہے۔ 
	محبت کا ایک اصول یہ بھی ہے  کہ طالب و مطلوب میں  ہم آہنگی ہونی چاہئے۔ ایسی ہم آہنگی کہ
من تو شدم تومن شدی من تن شدم تو جاں  شدی
تا کس نہ گوید بعد ازیں  من دیگرم تو دیگریٍٍ	(خسرو)
(ہم دونوں  میں  ایسی ہم آہنگی ہونی چاہئے۔ گویا میں  تو ہو جاؤں  اور تومیں  ہو جائے۔ وہ اس طرح کہ تو میرے  تن بدن میں  روح کی طرح سرایت کر جائے  یہ آہنگ ایسا ہم رنگ ہونا چاہئے  کہ دیکھنے  والے  یہ نہ کہیں  کہ میں  اور ہوں  اور تو اور ہے)
	ایک حدیث کا مفہوم ہے  کہ اطاعتِ خداوندی سے  انسان ایسے  مرتبے  پر پہنچ جاتا ہے  کہ اللّٰہ تعالیٰ اس کا ہاتھ بن جاتا ہے  جس سے  وہ کام کرتا ہے  اور پاؤں  بن جاتا ہے  جس سے  وہ چلتا ہے  اور کان بن جاتا ہے  جس سے  وہ سنتا ہے ......
	علامہ اقبال نے  جو کہا ہے  کہ"ہاتھ ہے  اللّٰہ کا بندۂ مومن کا ہاتھ" یہ اسی مفہوم میں  ہے۔ اور جب وہ یہ کہتا ہے :۔ 
خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے  پہلے 
خدا بندے  سے  خود پوچھے  بتا تیری رضا کیا ہے 
	تو اس کا بھی یہی مفہوم کہ جب آدمی اپنی خواہشات کو رضائے  الٰہی کے  تابع کر لیتا ہے  تو اللّٰہ کی رضا اور بندے  کی منشا ء میں  ہم آہنگی پیدا ہو جاتی ہے۔ یہ ہم آہنگی اصل میں  وصال ہے۔ اور وصال میرے  جیسے  گناہ گاروں  کے  نصیبوں  میں  کہاں۔ میں  تو زیارت چاہتا ہوں۔ گو میرے  جیسے  گندے  کو یہ سوچنا بھی زیب نہیں  دیتا۔ مگر کیا کروں۔ دل توسب میں  ہوتا ہے۔ میرے  سینے  میں  بھی دل ہے۔ اور دل میں  زیارتِ رسولؐ کی طلب بھی ہے۔ اور یہ طلب اب بھی ہے  اور جب بھی تھی۔ جب سے  مراد وہ مبارک شام ہے  جب ان گناہگار آنکھوں  کو روضہ شریف کی جالیوں  سے  اندر جھانکنے  کی سعادت نصیب ہوتی تھی۔ 

اندر تو کلمہ ہی ہے 

	یہ مدینہ شریف سے  رخصتی سے  ایک دن پہلے  کا واقعہ ہے۔ میں  نے  ارادہ کیا کہ آج ان شاء اللّٰہ اندر سے  دیکھوں  گا۔ اندر ہی اندر اللّٰہ سے  دعائیں  بھی کرتا رہا۔ میرا معمول تھا کہ سلام پھیرتے  ہی زیارت روضہ کے  لئے  اٹھ کھڑا ہوتا۔ مگر آج میں  نے  سنتیں  پڑھنا لازمی سمجھا کہ یہ چار سجدے  صاحبِ روضہ کا محبوب وظیفہ تھا سوسنتوں  سے  فارغ ہو کرآہستہ آہستہ جنگلے  کے  ساتھ ساتھ چلنے  لگا۔ ہجوم آج بھی بہت تھا۔ ہجوم کی وجہ سے  مجھے  مجبوراً جنگلے  سے  ہٹ کر تیسری یا چوتھی قطار میں  آنا پڑا۔ میں  بڑی عاجزی،عقیدت اور محبت سے  درودوسلام پڑھ رہا تھا اور دل ہی دل میں  دعائیں  کر رہا تھا۔ ہجوم آہستہ آہستہ آگے  سرک رہا تھا۔ کوشش کے  باوجود میں  جنگلے  کے  قریب نہیں  آ سکا۔ ہاں  اتنا ہوا کہ روضہ شریف کی جالیوں  کے  قریب دوسری قطار میں  پہنچ گیا۔ اب بھی میرے  اور جالیوں  کے  درمیان ایک قطار آڑ بنی ہوتی تھی۔ میں  ایڑیاں  اٹھا اٹھا کر اور کبھی پہلو بدل بدل کر جالیوں  کے  اندر جھانکتا۔ اندر سبز رنگ کا غلاف نظر آتا۔ اور اس غلاف پر لکھے  ہوئے  کلمات سے  اندازہ ہوتا یہ کلمہ طیبہ ہے۔ قدرت خدا کی جب مواجہ مبارک کے  قریب پہنچا تو جنگلے  سے  چمٹے  ہوئے  ایک جوان نے  مجھے  کھینچ کر اپنے  آگے  کر لیا۔ شکل و صورت سے  یہ جوان چینی یا جاپانی نظر آتا تھا۔ جو کوئی بھی ہو۔ میرے  لئے  تو فرشتہ تھا۔ اللّٰہ اسے  اس نیکی کا اجر دے  میں  نے  حضرت عمرِ خطابؓ کے  روضہ کے  سوراخ سے  جھانک کر دیکھا تو واقعی اندر کلمہ لکھا ہوا تھا۔ پھر حضرت ابو بکر صدیقؓ کے  مواجہ سے  جھانک کر دیکھا تو کلمہ ہی تھا۔ پھر جب حضورﷺ کے  پُر نور چہرہ  انور دیکھنے  کی کوشش کی تو وہاں  بھی لکھا ہوا تھا
"لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ"
کلمہ پڑھتے  ہی دل مطمئن ہو گیا۔ شکوک و اشکال رفع ہو گئے۔ الجھاؤ سلجھ گئے۔ سو
 	دوستو!بزرگو! بھائیو!
	اندر کلمہ ہی ہے۔ 
	کلمہ جو کہ دین کی بنیاد ہے۔ اس کلمے  کو سمجھنا سوچنا،برتنا اور پھیلانا گویا زیارتِ رسولﷺ ہے۔ کلمہ عمل میں  لانے  سے  حضورﷺ سے  ہم آہنگی پیدا ہوتی ہے۔ 

کلمہ

	حدیث شریف کا مفہوم ہے  کہ اسلام کی مثال ایک خیمہ کی سی ہے۔ جو پانچ ستونوں  پر کھڑا ہے۔ کلمہ، نماز،روزہ،حج،زکوٰۃ۔ ان پانچوں  میں  کلمہ کی حیثیت درمیانی لکڑی کی ہے۔ اگر یہ لکڑی نہ ہو تو خیمہ کھڑا نہیں  ہو سکتا جبکہ بقیہ چاروں  میں  سے  کوئی ایک ناقص ہو تو خیمہ کھڑا رہے  گا۔ اگرچہ وہ طرف جس کی لکڑی نہیں  وہ گری رہے  گی۔ 
	اس حدیث سے  کلمہ کی اہمیت کا پتہ چلتا ہے  کہ دین میں  اس کی اہمیت  مرکزی ہے۔ یہ کلمہ اگرچہ گنتی کے  چند عربی الفاظ پر مشتمل ہے۔ مگر گہری نظر سے  دیکھا جائے  تو ایسے  لگتا ہے  جیسے  کوزے  میں  سمندر بند کر دیا گیا ہے۔ 
	کلمہ کے  دو حصے  ہیں۔ پہلے  حصے  کا تعلق توحید سے  اور دوسرے  کا رسالت سے  ہے۔ کلمہ کا معنی یہ کیا جاتا ہے  کہ’’ اللّٰہ کے  سوا کوئی عبادت کے  لائق نہیں  اور حضرت محمدﷺ اللّٰہ کے  رسول ہیں۔ ‘‘ علمائے  کرام اس کلمے  کو توحید ورسالت کے  حوالے  سے  صوفیا ء اور فلاسفہ نفی اثبات کے  حوالے  سے  دیکھتے  ہیں اور تبلیغ والے  اس کا مفہوم ان الفاظ میں  بیان کرتے  ہیں  کہ"اللّٰہ سے  ہوتا ہے۔ اللّٰہ کے  غیر سے  اللّٰہ کے  حکم کے  بغیر کچھ نہیں  ہوتا۔ اور دونوں  جہانوں  کی کامیابی حضورﷺ کے  نورانی طریقوں  میں  اور دونوں  جہانوں  کی ناکامی غیروں  کے  طریقوں  میں  ہے۔ "اس مفہوم کا تقاضا یہ ہے  کہ ان الفاظ کو بار بار بولا اور سنا جائے۔ ہمارا ہر عمل اس کلمے  کے  مطابق ہو، ہم سراپاکلمہ بن جائیں۔ 
	کلمہ کا بنیادی مقصد اللّٰہ تعالیٰ کا تعارف ہے۔ اور تعارف کا طریقہ انبیاءؑ کی وساطت سے  معلوم ہوتا ہے۔ اگر اس واسطہ کو درمیان سے  ہٹا دیا جائے  تو معرفتِ الٰہی ناممکن ہے۔ یہی وجہ ہے  کہ اللّٰہ تعالیٰ نے  ہر نبی کے  نام کے  ساتھ اپنے  نام کو منسلک کیا ہے۔ چنانچہ حضرت آدمؑ کی امت کے  لئے  لا الہ الا اللہ کے  ساتھ آدمؑ صفی اللّٰہ، نوحؑ کی امت کے  لئے  نوح نجی اللہ،حضرت موسیٰؑ کی امت کے  لئے  موسیٰ کلیم اللہ اور حضرت عیسیٰؑ کی امت کے  لئے  عیسیٰ روح اللہ کا لاحقہ لازمی قرار دیا ہے۔ اسی طرح حضرت محمدﷺ کی امت کے  لئے   محمد رسول اللہ کا لقب لا الہ الا اللہ کے  ساتھ ٹھہرایا۔ اگر محمد رسول اللّٰہ نہ کہا جائے  تو کلمہ نامکمل ہے۔ بلکہ یہ مسلمانوں  کا کلمہ ہی نہیں۔ 
	لا الہ الا اللہ کی پہچان محمد رسول اللہ نے  کرائی ہے۔ اگر رسالت یا صاحبِ رسالت کی پہچان نہیں  ہو گی تو توحید باری تعالیٰ کی معرفت بھی حاصل نہیں  ہو گی۔ حضرت محمدﷺ کی رسالت اللّٰہ تعالیٰ تک رسائی کا راستہ ہے۔ جو اس راستہ سے  ہٹ گیا گمراہ ہو گیا۔ حضورﷺ معبود و عابد کے  درمیان کا واسطہ ہیں  اگر اس واسطہ سے  رابطہ نہیں  تو اللّٰہ تعالیٰ سے  رابطہ پیدا نہیں  ہو سکتا۔ 
	اللّٰہ تعالیٰ کی ذاتِ پاک بے  جسم اسم ہے  جس کا احساس و ادراک حواسِ خمسہ کے  بس کی بات نہیں۔ اس ذات پاک کا مقام قلب مومن ہے۔ اور قلب میں  بھی وہ صفات کے  حوالے  سے  جلوہ گر ہوتا ہے۔ اللّٰہ کی ذاتِ پاک کی ایک صفت تخلیق ہے۔ اس صفت کے  حوالے  سے  دیکھیں  توانسان اس کی تخلیق کا بہترین نمونہ ہے۔ پھر انسانوں  میں  بھی حضرت محمدﷺ تخلیقِ خداوندی کا شاہکار ہیں۔ 
	تخلیق اپنے  خالق کا آئینہ ہوتی ہے۔ کائنات کا ذرہ ذرہ اپنے  خالق کی ذات و صفات کی عکاسی کر رہا ہے۔ ہر چیز اللّٰہ تعالیٰ کی کسی نہ کسی صفت کی مظہر ہے۔ مگر یہ اظہار جزوی اظہار ہے۔ صرف ایک اور صرف ایک مبارک ذات ہے  کہ جس میں  ذاتِ باری تعالیٰ کی تمام صفات کا عکس بدرجہ اتم موجود ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ نے  انسان کو اپنی سیرت پہ پیدا فرمایا ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ کی اس قدر ت کا اظہار اللّٰہ کے  محبوب حضرت محمدﷺ کی سیرت و صورت میں  نظر آتا ہے۔ حضورﷺ اللّٰہ تعالیٰ کی جلالی و جمالی ہر دو صفات کا مظہر ہیں۔ سو صاحبِ جمال و جلال کے  نظارہ کے  لئے  اس کے  مظہرِ کمال کا نظارہ گویا صاحبِ جلال و جمال کا نظارہ ہے۔ شائد اسی تناظر میں  میاں  محمد بخش نے  کہا تھا
جنہاں  اکھیاں  ساجن تکیا اوہ اکھیاں  تک لیاں 
توں  ملیاتے  ساجن ملیا ہُن آساں  لگ پیاں 
(جو آنکھیں  زیارتِ محبوبؐ سے  بہرہ مند ہوئی ہیں  ان کی زیارت سے  امید بندھ گئی ہے  ان شاء اللہ ہمیں  بھی زیارتِ محبوب نصیب ہو گی۔)
	اللّٰہ تعالیٰ کی کلی معرفت صرف حضورﷺ کو ہوئی ہے۔ پھر حضورﷺ نے  اپنے  پیاروں  کو اپنے  مولیٰ کی پہچان کرائی۔ حضورﷺ کے  پیارے  حقیقت میں  اپنے  خالق و مالک اللّٰہ تعالیٰ کے  شیدائی تھے  مگر اللّٰہ تعالیٰ ورا الوریٰ ہے۔ اس تک انسانی آنکھ کی رسائی نہیں۔ سوصحابہ کرامؓ حضورؐ پُر نور کے چہرہ انور کی زیارت سے  آنکھیں  ٹھنڈی کر لیتے  کہ حضورﷺ قدرتِ خداوندی کا مکمل مظہر اور کامل نمونہ ہیں۔ 

زیارت و اطاعت

	حضورﷺ کی زیارت آنکھوں  کانور اور دل کا سرور ہے۔ حضورﷺ کی اطاعت اللّٰہ کی اطاعت ہے۔ اور یہ اطاعت عام ہے۔ تمام مسلمانوں  کے  لئے  فرض ہے۔ ہر مسلمان کو حضرت محمد ؐ کی اطاعت کرنی چاہئے۔ اگر کسی کا اطاعتِ رسولؐ کی فرضیت پر ایمان نہیں  تو وہ مسلمان ہی نہیں۔ اطاعتِ محمدؐ بڑی نعمت ہے۔ مگر اطاعتِ رسولؐ سے  صرف مسلمان بنتا ہے  صحابی نہیں  بنتا۔ صحابی صرف وہ ہے  جو اطاعتِ محمدؐ کے  ساتھ ساتھ زیارت محمدﷺ سے  بھی مشرف ہوا ہے۔ اور ایسے  خوش قسمت تقریباً سوالاکھ بتائے  جاتے  ہیں۔ سوچا جائے  تو عہدِ رسالتؐ میں  ان مبارک ہستیوں  کے  علاوہ بھی لاکھوں  مسلمان تھے  وہ صحابی کیوں  نہیں۔ صرف اس لئے  کہ انہوں  نے  صورتِرسولؐ کی زیارت نہیں  کی۔ حضرتِ اویس قرنی کا عشق رسول مثالی ہے  کہ جب جنگ احد میں  حضورﷺ کے  دندانِ مبارک شہید ہونے  کی خبر سنی تو انہوں  نے  اپنے  سارے  دانت نکال دئیے۔ احادیث میں  ان کے  بڑے  فضائل و مناقب ہیں  مگر صرف ظاہری طور پر وہ حضورﷺ کے  سراپاکا نظارہ نہیں  کر سکے  اس لئے  انہیں  صحابی کے  بجائے  تابعی کہا جاتا ہے۔ اصحابی کے  متعلق علماء کا کہنا ہے  کہ انبیاء ورسل کے  بعد ساری مخلوق میں  مرتبہ کے  لحاظ سے  اصحابی بلند مرتبہ ہے۔ اس سے  آپ کے  سراپا مبارک کی اہمیت معلوم ہوتی ہے۔ پھر اگر منصب کے  حوالے  سے  دیکھا جائے  تو اس سراپا کو اللّٰہ تبارک و تعالیٰ نے  منصبِ رسالتؐ پہ فائز فرمایا ہے۔ اور اس منصب کا مرتبہ انسانی تصور و ادراک سے  ماورا ہے۔ 
	حضورﷺ کی خاتم یعنی انگوٹھی جو مہر کے  طور پر استعمال ہوتی تھی اگر اس کا عکس دیکھیں  تو اس پر اللّٰہ اوپر، نیچے  رسولؐ اور نیچے  محمدؐ لکھا ہوا ہے۔ اس ترتیب سے  منصب کا مرتبہ سراپا سے  بلند نظر آتا ہے۔ اور اللّٰہ تعالیٰ کا مقام و مرتبہ محمدؐ اور رسول یعنی منصبِ رسالتؐ اور صاحبِ منصب سے  بھی بلند تر ہے۔ 
	یہ انگوٹھی کا نقش آثارِ نبوت کا ایک ایسانشان ہے  جس سے  بہت سے  اسرار کا انکشاف ہوتا ہے۔ موجودہ موضوع کی مناسبت سے  اس مہر کی تحریر سے  معلوم ہوتا ہے  کہ رسول، اللّٰہ اور بندہ کا درمیانی واسطہ ہیں۔ سواس واسطہ کی وساطت سے  اللّٰہ اور بندہ دونوں  کی پہچان ہوتی ہے۔ 
	اس وقت حضورﷺ پُر نور بھی ہماری نگاہوں  سے  مستور ہیں۔ اور اللّٰہ تعالیٰ توہے  ہی وراء الوریٰ۔ ہماری ظاہری آنکھ ان دونوں  ہستیوں  کی زیارت کی اہلیت نہیں  رکھتی۔ سودونوں  کی زیارت کا ذریعہ رسالت ہے۔ اور رسالت کیا ہے ؟اللّٰہ کا حکم بوساطتِ رسولِؐ مقبول۔ اور یہ حکم ہی ہے  جس کو امر بالمعروف اور نہی عنِ المنکر کی اصطلاحات سے  موسوم کیا جاتا ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ نے  جو کرنے  کو کہا ہے  وہ امر بالمعروف اور جس کے  کرنے  سے  منع فرمایا ہے  وہ نہی عن المنکر ہے۔ سو جس نے  اللّٰہ کی مان لی اس نے  اللّٰہ کی زیارت کر لی۔ اللّٰہ کا حکم رسول ؐ کی زبان سے  صادر ہوتا ہے۔ سوجس نے  حضورﷺ کی مانی اس نے  اللّٰہ اور رسولؐ دونوں  کی مانی۔ سودونوں  کی زیارت ہو گئی۔ 

یقین سے  ماننا زیارت ہے 

	غالباً حضرت علیؓ کا قول مبارک ہے  کہ میں  بن دیکھے  خدا کی عبادت نہیں  کرتا۔ بلکہ دیگر اصحابہؓ بھی کہتے  تھے  کہ اگر جنت اور دوزخ مجسم صورت میں  ہمارے  سامنے  آ جائیں  تو ہمارے  ایمان میں  ذرا برابر کمی ہو گی نہ زیادتی۔ ان حضرات کے  ایمان کی یہ کیفیت تھی کہ جب نماز کے  لئے  کھڑے  ہوتے  تو انہیں  دنیا و ما فیہا کی خبر نہ ہوتی۔ ان کی نماز واقعی اخلاص کی نماز تھی۔ ان کے  رکوع وسجود حضورِ خداوندی میں  حاضری کا کامل نمونہ تھے۔ ان کی نماز واقعی معراج المومنین تھی۔ نماز کے  علاوہ باقی اعمال میں  بھی ان کے  ایمان کی یہی کیفیت تھی کہ خلوت و جلوت میں  ان کا یقین تھا کہ اللّٰہ ہمیں  دیکھ رہا ہے، ہماری سن رہا ہے  اور وہ ہمارے  ساتھ ہے۔ ہماری ایک ایک حرکت سے  باخبر ہے۔ 
	حقیقت تو ہر حال میں  حقیقت ہے۔ کوئی اسے  تسلیم کرے  یا نہ کرے  حقیقت میں  کوئی فرق نہیں پڑتا۔ نقصان ہے  تو انکارِ حقیقت کرنے  والے  کا۔ انکارِ حقیقت سے  حقیقت ناقص نہیں  ہو جاتی۔ اللّٰہ کی الوہیت اور رسولﷺ کی رسالتؐ سب سے  بڑے  حقائق ہیں۔ ان کا انکار وہی کرتے  ہیں  جن کی سماعت و بصارت پہ پردے  اور دلوں  پہ مہریں  لگی ہوئی ہیں۔ صاحب نظر تو مجاز میں بھی حقائق کو تلاش کر لیتے  ہیں۔ بے  بصیرت لوگ مجاز میں  اس قدر گم ہیں  کہ اسے  ہی حقیقت سمجھ رہے  ہیں۔ دنیا اور دنیا میں  جو کچھ ہے،سب مجاز ہے۔ 
	مجاز خود حقیقت نہیں  حقیقت کی طرف راہنمائی کرتا ہے۔ اگر آدمی اسی کا ہو کر رہ جائے  تو یہ مجاز خدا کی حیثیت اختیار کر لیتا ہے۔ آدمی اس کی پرستش کو عبادتِ خدا سمجھنے  لگتا ہے۔ اور یہ رویہ ہی اصل میں  شرک ہے۔ مجاز اصل میں  اشارہ ہے  اصل کی جانب۔ سواصل کی طرف رجوع کرنا توحیدی رویہ ہے۔ اصل صرف اور صرف ذاتِ باری تعالیٰ ہے۔ جو واحد ہے،احد ہے،اکیلی ہے۔ ہر لحاظ سے  یکتا و یگانہ۔ اس کا نامِ نامی اللّٰہ ہے۔ اس کا کوئی ثانی اور شریک نہیں۔ کوئی اس سانہیں  اور وہ کسی سانہیں  وہ بے  مثل ہے  اور بے مثال ہے۔ وہ ویسا ہے ؟جیسا اس کے  رسولؐ نے  بتایا ہے۔ رسولؐ کے  علاوہ کوئی اس کا مخبر اور پیغمبر نہیں۔ سو وہ وہی ہے  جو اس کے  رسولؐ کی خبر ہے۔ سورسولؐ کی خبر کو ماننا ہی معرفت ہے۔ اللّٰہ کو پہچاننا ہے  تورسول ؐ کی خبر کی نظر سے  پہچاننا ہے۔ رسول ؐ کی خبر کے  علاوہ سب خبریں  جھوٹ ہیں۔ باطل ہیں۔ سوکلمے  کی تفہیم کے  لئے  سب سے  پہلے  مخبرِ صادق کے  علاوہ باقی منابع اور مراجع کی نفی کرنا ضروری ہے۔ باقی تمام ذرائع اخبار باطل ہیں، جھوٹے  ہیں۔ اس جھوٹ کی نفی کرنا ضروری ہے ...مگر یہ کیسے  ہو؟ہم آج کی تازہ خبر کے  خوگر چودہ سوسال پرانی خبر پہ کیسے  یقین کریں۔ مشکل ہے ! بہت مشکل !ہم علوم جدیدہ کو علوم قدیمہ پرکیسے  قربان کریں۔ ہم پیچھے  نہیں  آگے  جانا چاہتے  ہیں۔ ہم ترقی کرنا چاہتے  ہیں ... بس یہ ترقی کا لفظ ہماری خواہشوں، تمناؤں، آرزوؤں،آدرشوں  اور سوچوں  کا محور ہے۔ ہماری ساری زندگی اس محور کے  گرد گھوم رہی ہے۔ ہم اس محور کی گرفت سے  آزاد نہیں  ہو سکتے۔ اس لئے  کہ ترقی کرنا انسان کی فطری خواہش ہے۔ مگر سوچنا یہ ہے  کہ ترقی کیا ہے ؟

کامیابی کیا ہے ؟

	ایک مسلمان کی حیثیت سے  سوچیں  تو حضورﷺ کا زمانہ مبارک ہر لحاظ سے  ترقی یافتہ زمانہ ہے۔ آپ کے  زمانہ مبارک کو خیرُ القرون کہا گیا ہے۔ اس لئے  کہ یہ زمانہ ہر لحاظ سے  خیر تھا۔ سیاسی،معاشی، معاشرتی، ہر لحاظ سے  یہ زمانہ سارے  زمانوں  کے  لئے  ایک نمونہ ہے۔ معاشرتِ مدینہ کو دیکھیں  تو یہ شہر جنت کا نمونہ ہے۔ ہر کسی کا جان و مال اور عزت و حرمت محفوظ ہے۔ رحمت اللعالمین کے  سایہ رحمت میں  پورا ماحول سکھ چین اور راحت و آرام کی زندگی بسرکر رہا ہے۔ اس مبارک ماحول کا موجودہ ماحول سے  موازنہ کیا جائے  توسکھ، چین،راحت و آرام اور اطمینان کی لغت میں  بہت اختلاف نظر آتا ہے۔ اُس دور کے  اطمینان اور اِس دور کے  اطمینان میں  نہ صرف فرق بلکہ کئی حوالوں  سے  تضاد پایا جاتا ہے۔ اس وقت کا اطمینان سادگی اور آج کا سکھ چین تکلف و پرکاری ہے۔ اس وقت کی ترقی اللّٰہ کی غلامی اور مخلوق سے  آزادی تھی۔ جب کہ آج کا رویہ اس سے  بہت مختلف ہے۔ آج کی ترقی مال و دولت اور منصب و مرتبہ کو سمجھا جاتا ہے۔ آج کا انسان مادے  کا غلام بن کر رہ گیا ہے  جبکہ اس وقت کا انسان مادے  کا آقا تھا۔ مسلمان ضرورت کی حد تک حصولِ مادہ کی کوشش کرتا تھا۔ بلکہ جہاں  ترجیحات کا مسئلہ پیش آتا وہاں  اپنی ذاتی ضروریات کو دوسروں  کی ضروریات پر قربان کر دیتا۔ مسلمان نے  سبب کو رب نہیں  بنایا تھا۔ وہ دنیا کے  شیدائی نہیں  آخرت کی کامیابی کے  تمنائی تھے۔ وہ فانی دنیا کی ترقی کو ترقی اور وقتی کامیابی کو کامیابی نہ جانتے  تھے۔ ان کا یقین تھا کہ جو دوزخ سے  بچ کر جنت میں  داخل ہو گیا صرف وہی کامیاب ہے۔ سوان کا مقصودِ محنت آخرت اور ہمارا مقصودِ محنت دنیا ہے۔ جب تک ہم اس دنیا کی نفی نہیں  کرتے  اس وقت تک ہم ترقی نہیں  کر سکتے  نہ ہی کامیاب ہو سکتے  ہیں۔ 
	دنیا اور جو کچھ دنیا میں  ہے  اس کی نفی کرنا لا الہ کا  مقصود ہے۔ دل میں  یہ یقین ہو کہ دنیا اور اسبابِ دنیا سے  کامیابی نہیں، ترقی نہیں  بلکہ دنیا اور اسبابِ دنیا کا اپنا وجود بھی کوئی حیثیت نہیں  رکھتا۔ جو ہمیں  نظر آ رہا ہے  یا جو ہماری آنکھوں  سے  اوجھل ہے  یہ سب کچھ اللّٰہ کے  حکم اور ارادہ سے  ہے۔ سوہونا اور نہ ہونا سب کچھ اللّٰہ کے  امر سے  ہے۔ نہ صرف آج کا بلکہ گذشتہ اور آنے  والے  کل کا ہونا صرف اور صرف اللّٰہ کے  حکم اور ارادہ سے  ہے۔ بس اللّٰہ کی ذات حقیقی ذات ہے  اور اللّٰہ کی صفات حقیقی صفات ہیں۔ اور مقصودِ مومن اللّٰہ کی معرفت کرنا اور کرانا ہے۔ 
	اللّٰہ کی معرفت اللّٰہ کی صفات سے  ہے۔ اور صفاتِ الٰہی کا مظہر حضرت محمدﷺ کی ذاتِ والا صفات ہے۔ سوحضورﷺ کی معرفت اصل میں  معرفت الٰہی کا ذریعہ ہے۔ اور حضورﷺ کی معرفت حضورؐ کی رسالت سے  ہے۔ اور رسالت کی پہچان حضورؐ کے  آثار سے  ہے۔ اور آثار میں  قرآن و حدیث اور اوامر و نواہی ہیں۔ سواوامرونواہی کو اس یقین کے  ساتھ ماننا اور ان پر عمل کرنا کہ اللّٰہ ہمیں  دیکھ رہا ہے، ہماری سن رہا ہے  اور وہ ہمارے  ساتھ ہے۔ یہ اصل معرفت ہے۔ 

کلمے  کا مقصد

	ہمارا اصل موضوع حج ہے۔ اور اس مرحلہ پر ہم اعمالِ حج سے  فارغ ہو چکے  ہیں۔ اس وقت اس سفرِ سعید کا خلاصہ بیان کیا جا رہا ہے۔ اس سفر کے  تجربات و واردات گذشتہ صفحات میں  عرض کی جا چکی ہیں۔ گذشتہ صفحات میں "شریعت؟طریقِ پیغمبراں "کے  عنوان سے  میں  نے  عرض کیا ہے  کہ شریعت اصل میں  اللّٰہ کے  پیغمبروں  کے  اعمال کی نقل ہے۔ اس سوچ کے  مطابق شریعتِ محمدی اصل میں  اللّٰہ تعالیٰ کے  آخری نبیؐ کی اداؤں  کی نقل ہے  اور حضورﷺ کی اداؤں  کی نقل کرنا ہی کلمہ کا مقصد ہے۔ 
	ایک نعت میں  شریعتِ محمدیؐ پر عمل پیرا ہونے  کی تمنا کی تھی۔ یہ نعت نذرِ قارئین ہے۔ 
نعت
تری حدیثیں،طریقے،اصول نقش کروں 
میں  اپنے  ہاتھوں  پہ  سیرت کے  پھول نقش کروں 
لہو کے  رنگ سے،اشکوں  کی روشنائی سے  
تری کتاب کی شانِ نزول نقش کروں 
شفق شفق ترے  جلوؤں   کی چاندنی بھر دوں 
افق افق ترے  قدموں  کی  دھول نقش کروں 
یہ آرزو  ہے  کوئی ہم نوا ملے  تو  حضورﷺ 
میں  اپنے  عہد کا حلف الفضول نقش کروں 
یہ انتہائے   ہنر ہے  کہ شیشۂ  دل پر
  جو کر  سکوں  تو جمالِ رسول نقش کروں 
جبین نعت پہ قوسِ قزح کے  رنگوں  سے 
حسنؓ، حسینؓ و علیؓ اور بتولؓ نقش کروں 
بناؤں زائچے  جب انقلاب کے  صفدؔر
ہر ایک نقش میں  عکسِ رسول ؑ نقش کروں 		(جبینِ نعت)
	تبلیغ والے  محمدرسولؐ اللہ کا مفہوم ان الفاظ میں  بتاتے  ہیں  کہ "دونوں  جہانوں  کی کامیابی حضرت محمدﷺ کے  نورانی طریقوں  میں  اور دونوں  جہانوں  کی ناکامی غیروں  کے  طریقوں  میں  ہے "یہ جملہ بظاہر بہت سادہ مگر مفہوم کے  لحاظ سے  پوری شریعت کے  مفہوم کو اپنے  اندر لئے  ہوئے  ہے۔ اس جملے  میں  ہمارے  مسائل اور مسائل کے  حل کا کلیہ موجود ہے۔ ہمارے  مسائل کے  اسباب میں  سب سے  بڑاسبب غیروں  کی نقالی ہے۔ اس نقالی کی وجہ سے  ہم حضورﷺ کے  طریقوں  کو بھول گئے  ہیں۔ بلکہ آج کل اکثر اعمال کو جو کہ سنت کے  سراسرخلاف ہیں  دین سمجھ رہے  ہیں۔ اگر ہم صبح سے  لے  کر رات تک کے  اعمال کا جائزہ لیں  تو ہمیں  اپنی حالت مشکوک نظر آئے گی۔ بیشک کسی روز اپنے  روزمرہ معمولات کی ڈائری لکھ کر اس کا شریعت کی روشنی میں  جائزہ لیں  آپ کو اپنی دینی حالت کا پتہ چل جائے  گا۔ پوری زندگی کے  بجائے  صرف نمونہ کے  طور پر اپنے  تعلیمی نظام کو ایک نظر دیکھ لیں  تو ہمیں اپنی دینی حیثیت کا علم ہو جائے گا۔ 

معذرت کے  ساتھ

	جومسجد مسلمانوں  اور اسلام کا مرکز ہے۔ صبح سویرے  مسجد کو جانے  والوں  اور مسجد سے  منہ پھیرنے  والوں  یا غفلت برتنے  والوں  کا مشاہدہ کریں۔ ڈائری پر لکھتے  جائیں۔ 
کتنے  سورہے  ہیں  کتنے  بازار کو جا رہے  ہیں۔ کتنے  سیر کر رہے  ہیں،کتنے  سکول کالج یا یونیورسٹی جا رہے  ہیں۔ اب مشاہدے  کو صرف سکول کالج جانے  والوں  تک محدود کر دیں۔ 
اب ان جانے  والوں  کے  ظاہر کا مشاہدہ کریں  تو ان کا لباس اور صورت اپنوں  کے  نہیں  غیروں  کے  مشابہ ہے۔ اب ان کے   بستوں میں  جو کچھ بند ہے  اسے  کھولیں  تو اس میں  قرآن نظر آتا ہے  نہ حدیث۔ اور جہاں  قرآن و حدیث نہیں  وہاں  کیا ہو گا؟اسے  آپ علم کہہ لیں  تو آپ کی مرضی، میں  اسے  علم نہیں  کہہ سکتا۔ میں  یہ کڑوا جملہ صرف طوالت سے  بچنے  کے  لئے  کہہ رہا ہوں۔ میری رائے  سے  اکثریت کو اختلاف ہو گا۔ مگر اختلاف کرنے  والوں  سے  صرف اتنی گذارش ہے  خدارا اپنے  نظامِ تعلیم کا قرآن اور حدیث کی روشنی میں  جائزہ لیں۔ 
	غزوہ بدر کے  قیدیوں  کی رہائی کے  لئے  ایک شرط یہ تھی کہ جو قیدی دس دس مسلمان بچوں  کو پڑھنا لکھنا سکھادے  اسے  رہا کر دیا جائے گا۔ اس سلسلے  میں  ہم یہ بھول جاتے  ہیں  کہ علم اور خواندگی میں  زمین آسمان کا فرق ہے۔ علم صرف وہی علم ہے  جو قرآن و حدیث کے  ذریعے  ہم تک پہنچا ہے۔ ایک اور حدیث اس سلسلے  میں  نقل کی جاتی ہے  کہ علم حاصل کرنے  کے  لئے  چین جانا پڑے  تو جاؤ۔ ایک حدیث کا مفہوم ہے  کہ حکمت مومن کی گمشدہ میراث ہے  جہاں  پائے  وہ اس کا زیادہ حقدار ہے۔ ان حوالہ جات کو بنیاد بنا کر غیروں  کے  فلسفہ و فکر کو علم کے  نام پر من و عن اپنا لینا المیہ نہیں  تو اور کیا ہے۔ کیا علم و حکمت قرآن و حدیث میں  نہیں ؟کیا قرآن و حدیث میں  قیامت تک کے  مسائل کا حل موجود نہیں ؟کیوں  نہیں۔ تمام علوم کا ماخذ قرآن ہے۔ اور ان علوم کی تفسیرحدیث ہے۔ تمام علوم کی مبادیات قرآن میں  دے  دی گئی ہیں۔ اب قرآنی بنیادوں  پر حدیث کی روشنی میں  فلاحی معاشرہ کی عمارت تعمیر کرنا مسلمانوں  کا فرض ہے  اور یہ اس صورت میں  ہو سکتا ہے  جب ہم علم کے  نام پر پھیلائی جانے  والی جہالت کی مکمل نفی کر کے  قرآن و حدیث کو اپنی فکر و عمل کا محور و مرکز بنائیں  گے۔ میرے  خیال میں  آج کی زبان میں  کلمے  کا یہی مقصد ہو سکتا ہے۔ 
	درس وتدریس کا ایک ذریعہ لفظ ہے۔ لفظ کا سیکھنا سکھانا ہنر ہے،علم نہیں۔ تعلیمی اصطلاح میں  اسے  خواندگی کہا جاتا ہے۔ اس وقت اہم مناصب پر وہی لوگ متعین ہیں  جنہیں  پڑھا لکھا کہا جا رہا ہے۔ اگر کسی محکمے  کی کارکردگی اچھی ہے  تو اس کا کریڈٹ اس پڑھے  لکھے  طبقے  کو جاتا ہے  اور اگر اس معاشرے  میں  کرپشن ہے  تو اس کا ذمہ دار بھی یہ تعلیم یافتہ طبقہ ہے۔ نچلا طبقہ اگر کوئی برائی کر رہا ہے  تو وہ اعلیٰ طبقہ کے  مفادات کے  تحفظ کے  لئے  کر رہا ہے۔ نچلا طبقہ تو اعلیٰ طبقہ کا آلۂ کار ہے۔ اصل ذمہ دار کرنے  والا نہیں  برائی کرانے  والا ہے۔ اب کون سامحکمہ قرآن و حدیث کی روشنی میں  جائز ہے  اور کونسانا جائز ہے۔ یہ ایک دوسرامسئلہ ہے۔ اکثر یہ کہا جاتا ہے  کہ برائی ریڈیو،ٹیلیویژن کے  ذریعے  پھیلائی جا رہی ہے۔ یہ ٹیلیویژن یا دوسرے  آلات تو بے  جان چیزیں  ہیں  یہ خود تو برائی نہیں  پھیلا رہے۔ برائی تو وہ پھیلا رہے  ہیں  جنہیں  آرٹسٹ کہا جاتا ہے۔ یہ آرٹسٹ بھی توکسی لکھاری کے  سکرپٹ کو تمثیل کی صورت پیش کر رہے  ہیں۔ ان کے  علاوہ بھی جتنے  آڈیو ویڈیو ذرائع ہیں  ان کو کنٹرول کرنے  والے  تعلیم یافتہ لوگ ہیں۔ سوکہنا پڑتا ہے  کہ آج کا معاشرہ جیسابھی ہے  وہ نام نہاد تعلیم کی پیداوار ہے۔ اور اس پیداوار کی اصل کھیتی سکول،کالج اور یونیورسٹی ہے۔ میں  اس کھیتی کو یکدم اجاڑنے  کا مشورہ تو نہیں  دیتا صرف اتنی گذارش ہے  کہ ذراسنجیدگی سے  قرآن اور حدیث کی روشنی میں  اس نظام کا جائزہ لیں۔ تعلیم اور دین میں  ربط کی ضرورت ہے۔ تعلیم آجکل دین سے  قطعی غیر متعلق ہے۔ 

مفتی کا کہنا

	ہمارے  ہی دور کے  ایک ممتاز لکھاری ممتاز مفتی کے  نام سے  مشہور ہیں۔ ابھی چند سال پہلے  ان کا انتقال ہوا ہے۔ بڑے  اعلیٰ پائے  کے  ادیب تھے۔ چند ایک محافل میں  انہیں  سنا ہے۔ جب پڑھنا شروع کرتے  تو یکدم خاموشی چھا جاتی۔ مفتی صاحب کے  پڑھنے  کا انداز ساحرانہ تھا۔ انہوں  نے  اپنے  حج کے  تاثرات رپورتاژ کی صورت میں  لکھے  ہیں۔ ان کی کتاب کا نام ہے "لبیک" جب میں  نے  اپنی یادداشتیں  محفوظ کرنے  کا ارادہ ظاہر کیاتودوستوں  نے  لبیک پڑھنے  کا مشورہ دیا۔ مفتی صاحب تو ماہر ادیب تھے  انہوں  نے  افسانوی رنگ میں  اپنے  سفر کی تصویر کشی کی ہے۔ سنا ہے  ان کی کچھ باتوں  سے  لوگوں  نے  اختلاف کیا ہے۔ مجھے  ان باتوں  کا علم نہیں۔ اور پھر اختلاف کرنا توانسانی حق ہے۔ مگر جہاں  اتفاق کی گنجائش ہو وہاں  اتفاق بھی کرنا چاہئے۔ 
	"لبیک"کے  دیباچے  سے  معلوم ہوتا ہے  کہ مفتی صاحب نے  ۱۹۶۸ء؁ میں  حج کیا۔ ان کی کتاب سے  آج سے  سینتیس سال پرانی تہذیب کا کچھ اندازہ ہوتا ہے۔ اس وقت کی معاشرت آج کے  مقابلے  میں  دیہاتی قسم کی معلوم ہوتی ہے۔ آج تو ہمارے  گاؤں  میں  بھی ایک طرح کے  محلات ہیں  جب کہ اس زمانے  میں  مدینہ شریف کے  اعلیٰ قسم کے  ہوٹل بھی چار منزلہ تھے۔ مفتی صاحب"انگریز کی بو" کے  عنوان کے  تحت لکھتے  ہیں  :۔ 
	کمرے  کی ہر چیز سے  انگریز کی بو آ رہی تھی۔ ہر چیز پر اس کی چھاپ لگی ہوئی تھی،اس زمانے  کے  انگریز کی جب سلطنت برطانیہ پر سورج کبھی غروب نہیں  ہوتا تھا۔ 
	مکہ معظمہ میں  انگریز کی بو!لیکن وہ بواس قدر واضح تھی کہ مجھے  شک پڑنے  لگا کہ ہم مکہ معظمہ کی بجائے  کسی اور شہر میں  آورد ہوئے  ہیں۔ 
	یہ تحریر۱۹۶۸ء؁ کی ہے۔ مفتی صاحب اگر آج زندہ ہوتے  تو آج کے  ہوٹل کو دیکھ کر انہیں  تعجب نہ ہوتا حالانکہ جس ہوٹل میں  میرے  جیسا ایک عام آدمی آٹھ نو دن گذار کر آیا ہے  وہ پندرہ منزلہ عمارت تھی جس میں  وہ ساری سہولتیں  تھیں  جن کی آج کے  حاجی کو ضرورت پڑتی ہے۔ ... یہ مفتی بھی عجیب دقیانوس تھا۔ یہ دقیانوس آج ہوتا تو وہ اس بو کو خوشبو کہتا کہ آج کی لغت میں  بو،بدبو نہیں  خوشبو ہے۔ 
	ناواقف قارئین کی اطلاع کے  لئے  عرض ہے  کہ ممتاز مفتی علمی لحاظ سے  مفتی نہ تھے۔  مفتی ان کا ادبی نام ہے۔ وہ صرف ادیب تھے۔ عالم نہیں۔ وہ "میری طرف دیکھو"کے  عنوان سے  لکھتے  ہیں :۔ 
   میں  نے  چلا کر ہجوم کو مخاطب کیا"۔ بھائیو!جمرہ وہ نہیں  ہے۔ میں  ہوں۔ میں،مجھے  کنکر مارو، مجھے،اس بیجان کو کنکریاں  مارنے  سے  کچھ حاصل نہیں  ہو گا۔ میں  نے  بنی نوع انسان کو بہکایا ہے۔ میں  نے  لوگوں  کے  دلوں  میں  وسوسے  پیدا کئے  ہیں۔ میں  نے  کفر و الحاد کا بیچ بویا ہے۔ 	
"میری طرف دیکھو۔ میں  دانشور ہوں،میں  نے  شک کو علم کی بنیاد قرار دیا ہے۔ "
	"میری طرف دیکھو،میں  ادیب ہوں،میں  نے  نئی اور انوکھی بے  ادبیوں  پر جدید ادب کی تعمیر کی ہے۔ "
	"میں  فلسفی ہوں، میں  نے  چون و چرا کے  خوبصورت ٹائلوں  سے  ایوانِ فلسفہ کی تعمیر کی ہے۔ "
	"میں  سائنسی انداز کا مفکر ہوں  اور میں  نے  فکر کو سِکولر ازم کی حدوں  سے  باہر نکالنے  پر پابندی لگا رکھی ہے۔ "
	"میں  پڑھا لکھا فرد ہوں،میں  نے  کفر کو تہذیب کی بنیاد قرار دے  رکھا ہے  اور ایمان کو جہالت کی نشانی۔ "
"بھائیو!مجھے  کنکریاں  مارو، میں  جمرہ ہوں، مجھ سے 
ڈرو نہیں  کہ میں  تم میں  سے  ہوں "۔ 
	ا س ا قتباس سے  آپ کو اندازہ ہو گیا ہو گا کہ جن معلومات کو علم اور جس رویے  کو ہم دانش کہہ رہے  ہیں  اس کی حقیقت کیا ہے۔ 
	حج کے  بعد وطن واپسی پر خریداری کرنا ایک عام ریت ہے۔ اس موقع پر خرید و فروخت کی شرعی طور پر ممانعت بھی کوئی نہیں۔ خریدنے  والے  اس موقع پر کچھ خریداری عقیدت کی نظر سے  کرتے  ہیں  اور کچھ چیزیں  سستی سمجھ کر خریدتے  ہیں۔ اور کچھ تجارت کی نیت سیخریدتے  ہیں۔ عقیدت کی نیت سے  تسبیحاں، مصلے  وغیرہ خریدتے  ہیں  اور سستی سمجھ کر ہر وہ چیز خریدتے  ہیں  جو ان کے  خیال میں  سستی ہوتی ہے  اور اسے  خریدنے  کے  ان کے  پاس پیسے  بھی ہوتے  ہیں۔ ان خریداروں  کے  متعلق مفتی صاحب لکھتے  ہیں :۔ 
یہاں  کوئی چیز مدینہ منورہ کی نہیں،یہاں  کوئی چیزسعودی عرب کی بنی ہوئی نہیں۔ یہاں  کوئی ایسی چیز نہیں  جو کسی اسلامی ملک کی بنی ہوئی ہو۔ 
	"تم نے  اپنا پیٹ کاٹ کاٹ کر تبرکاتِ مدینہ خریدنے  کے  لئے  پیسے  جوڑے  ہیں  اور اب وہ پیسے  یورپ کی بنی ہوئی مصنوعات پر خرچ کر رہے  ہو۔ ایسی چیزوں  کو خرید کر تم ہر سال کروڑوں  روپے  مغربی سرمایہ داروں  کی تجوریوں  میں  بھر دیتے  ہو۔ یہاں  مدینہ منورہ کا صرف ایک تحفہ ہے۔ خاک پاک۔ 
	مرکز کے  مولوی صاحب نے  فرمایا تھا کہ غیر جس چیز کو رواج دینا چاہتے  ہیں  وہ مکہ، مدینہ پہنچا دیتے  ہیں۔ میں  اس جملے  کو صرف تہذیبی پہلوسے  سمجھا تھا کہ اپنے  تہذیب و تمدن کو براستہ مکہ، مدینہ مسلم ممالک میں  بھیجتے  ہیں۔ مگر مفتی صاحب کے  مذکورہ اقتباس سے  پتہ چلتا ہے  کہ معاشی اور تجارتی لحاظ سے  بھی فائدہ غیروں  کو  ہو رہا ہے۔ باقی رہا عقیدت کا معاملہ تومسلمان کا اصل سرمایہ تو عقیدت ہے۔ اس کی عقیدت کی تسکین کے  لئے  وہ نقلی موتیوں  کی تسبیحاں  اور قبلہ نما مصلے  نہ خریدے  تو کیا کرے۔ مفتی صاحب کی تحریر سے  پتہ چلتا ہے  کہ خاکِ شفا کی ٹکیاں  بھی اصل خاکِ شفا نہیں۔ پھر یہ ۱۹۶۸ء؁ کی بات ہے  آج تو نقلی خاکِ شفا بھی میسر نہیں۔ اس وقت کی نقلی خاکِ شفا کم از کم مکہ،مدینہ کے  گلی بازاروں  کی خاک تھی۔ اب تو فضا میں  اڑتے  ہوئے  تعمیراتی ملبے کے  ذرات کے  سوا کہیں  مٹی یعنی خاک نظر نہیں  آتی۔ آج کا زائر کس چیز کو آنکھوں  کا سرمہ بنائے ؟کس نظارے  سے  آنکھوں  کو ٹھنڈا کرے ؟ کتابوں  میں  لکھے  ہوئے  نظارے  جن کو دیکھنے  کی تمنا لے  کر زائرین مکہ،مدینہ آتے  ہیں  وہ دن بدن مٹتے  جا رہے  ہیں۔ ان مٹتے  نظاروں  کی جگہ جدید مناظر منظرِ عام پر آ رہے  ہیں۔ ان مناظر کو دیکھنا زائر کی مجبوری ہے۔ زائر کا مکہ مدینہ اور اس کے  مناظر سے  چاہے  وہ کتنے  بدلے  ہوئے  ہوں  محبت کرنا اور عقیدت رکھنا ایک ضرورت ہے۔ اس لئے  کہ انقلابات زمانہ کے  باوجود مکہ، مدینہ کی فضا وہی ہے۔ ہوا وہی ہے۔ پہاڑ وہی ہیں۔ صحرا وہی ہیں۔ یہی نہیں یہ زمین وہی ہے۔ حدود اربعہ وہی ہے۔ وہی جو جناب رسالت مآبؐ کے  دور میں  تھا۔ ہاں  !ہاں !مکہ وہی ہے !مدینہ وہی ہے۔ وہی مکہ جہاں  حضورﷺ کا بچپن اور جوانی گذری،یہ وہی مکہ ہے  جہاں  غارِ حرا ہے۔ ہاں  وہی غارجس کے  افق سے  آفتابِ ہدایت طلوع ہوا تھا۔ ہاں ! ہاں ! غارِ حرا آج بھی موجود ہے۔ ... اور مدینہ بھی وہی مدینہ ہے  جہاں  خلاصۂ کائنات، محبوب خدا کی آرام گاہ ہے۔ یہیں  حضورﷺ کے  حجرات، صحابہؓ کے  گھر اور مسجدِ نبویؐ ہے۔ بیشک ان مقدس مقامات کو تعمیر جدید نے  اپنے  غلاف سے  ڈھانپ لیا ہے  مگر اس کے  آثار و نشانات تو اسی سرزمین میں  ہیں۔ ممتاز مفتی کی"لبیک"پڑھنے  سے  پتہ چلتا ہے  کہ موصوف کو مکہ،مدینہ سے  ایسی ہی عقیدت و محبت ہے  جیسی ایک مسلمان کو ہونی چاہئے۔ وہ بھی ایک زائر ہے۔ ہماری طرح ایک زائر۔ ہم میں  اور اس میں  فرق ہے  تو صرف نقطۂ نظر کا۔ مفتی ایک دانشور ہے  جو تنقیدی ذہن بھی رکھتا ہے۔ اسے  اصل و نقل کی تمیز ہے۔ اور وہ اصل کا متلاشی ہے۔ وہ اصلی مکے،مدینے  اور زیارات کی زیارت کا متمنی ہے۔ جب اسے  اصل نظر نہیں  آتی تو وہ نقل سے  مطمئن نہیں  ہوتا۔ اور ایسا ہونا بھی چاہئے۔ اگر آدمی نقل سے  مطمئن ہو جائے  ت واصل کی تمنا ختم ہو جاتی ہے۔ اور مکہ، مدینہ کی اصل زیارت کی تمنا اصل میں  دینِ خالص کی تمنا ہے۔ 

آثارِ مقدسہ

	ایک صاحب نے  اونٹوں  کی مینگنیاں  دیکھ کر اندازہ لگا لیا تھا کہ یہ مدینہ کے  اونٹوں  کی مینگنیاں  ہیں۔ اس کے  علاوہ معتبر روایات سے  معلوم ہوتا ہے  کہ مکہ کے  کھوجی حضورﷺ اور حضرت ابوبکر صدیقؓ کے  نشاناتِ پا کا کھوج لگاتے  لگاتے  غارِ ثور تک پہنچ گئے  تھے۔ آج کل آثار قدیمہ باقاعدہ علم کی ایک شاخ بن چکی ہے۔ اس علم کے  ذریعے  مٹی ہوئی تہذیبوں  کی تاریخ معلوم کرنے  کی کوشش کی جاتی ہے۔ اصل میں  اس علم کی اساس علامات و نشانات کے  ذریعے  اصل کا سراغ لگانا ہے۔ 
	اس وقت پوری دنیا میں  دین متین کا مکمل نمونہ نظر نہیں  آتا۔ ایک سرزمین حجاز ہے  جہاں  اس کے  آثار موجود ہیں  گو مکمل طور پر وہاں  بھی نظر نہیں  آتے۔ وقت کے  ساتھ ساتھ روز بروز یہ آثار بھی سیمنٹ سریا اور مرمر تلے  دفن  ہو رہے  ہیں۔ ان آثار کو زمانے  کی خورد برد سے  بچانا بہت ضروری ہے۔ اس لئے  کہ یہ آثار اس ماحول کی نشاندہی کرتے  ہیں  جس میں  دین متین کی تکمیل و ترقی ہوئی۔ 
	دین متین ایک عملی دین ہے۔ اور عمل کے  لئے  ایک ماحول ہوتا ہے۔ ماحول میں  نہ صرف مقام بلکہ مقیم بھی ہوتا ہے۔ مقام کا خاص حدود اربعہ اور مقیم کی خاص شکل و صورت اور صفات ہوتی ہیں۔ اس وقت چودہ سوسالہ مقیم ہمارے  سامنے  نہیں۔ ضرورت اس کی صورت کی زیارت کی ہے۔ اس کا مقام یا مکان دیکھ لیں  تو اس کی یک گونہ زیارت ہو جاتی ہے۔ اگر مکان و مقام بھی مٹ گیا تو کس کی زیارت ہو گی ؟
سو زائرینِ کرام روضہ رسول ؐ کی زیارت ایمان کی نگاہ سے  ہوتی ہے۔ جس کی بنیاد کلمہ ہے۔ سوجتنی محنت کلمہ سمجھنے  اور اس پر عمل کرنے  پر کی جائے گی اسی نسبت سے  حضورﷺ کا قرب نصیب ہو گا۔ 

 گم شدہ بہشت کی تلاش

آثار و نقشِ کوئے  پیمبرؐ تراشتا
میں  گم شدہ بہشت کے  منظر تراشتا	  (جبینِ نعت)
	 کہنے، سنانے  یا لکھنے  والا اپنے  فن میں لاشعوری طور پر اپنی ذات کو ظاہر کرنے  پر مجبور ہوتا ہے۔ مضمون کوئی بھی ہو اس میں  مضمون نگار کی ذاتی سوچ ضرور شامل ہوتی ہے۔ اور پھر کہنے  والا اپنی سرگذشت سنا رہا ہو تو اس میں کسی قسم کے  اشکال کی گنجائش نہیں  ہوتی۔ یہ فقیر اپنی سرگذشت لکھ رہا ہے۔ قاری کی پسند یا ناپسند کی رعایت رکھنے  کے  باوجود اپنی بات کہنے  پر مجبور ہوں۔ 
	میں  لفظ کو محض تفننِ طبع کا ذریعہ نہیں  سمجھتا۔ میں ادب برائے  ادب کا نہیں  بلکہ ’’ادب برائے  تبلیغ ‘‘کا قائل ہوں  اور تبلیغ سے  مراد تبلیغ دینِ اسلام ہے۔ اس سلسلے  میں  میری سوچ کا محور و مرکز توحید و وحدت اور منبع قرآنِ پاک ہے۔ میری خواہش اور تمنا تو یہ ہے 
اعجازِ فنِ تو یہ ہے  کہ گونگے  حروف سے 
میں  صوتِ جبرائیلؑ کے  پیکر تراشتا    (جبینِ نعت)
	میرے  دل میں  آثارِ مقدسہ کی زیارت کی حسرت کا مقصد اصل میں  قرآن فہمی ہے۔ میں  آثار کے  ذریعے  ان حالات و واقعات تک پہنچنا چاہتا ہوں  جن کا قرآنِ پاک میں  ذکر ہے۔ پھر ان حالات و واقعات کی روشنی میں  اپنی روش درست کرنے  کی کوشش کرتا ہوں۔ مدنی معاشرہ میرے  خوابوں  کی تعبیر اور میری خواہشوں  کی تکمیل ہے۔ میں  تکلف و تصنع کی زندگی سے  بیزار ہوں۔ میری روح دورِ نبوتؐ کے  سیدھے  سادیفطری ماحول کی متلاشی ہے۔ میں  خیر القرون کے  ماحول کو اپنی گمشدہ جنت سمجھتا ہوں  اور اس ایمان کی روشنی میں  مکہ مدینہ کے  چپہ چپہ کی زیارت کی طلب رکھتا ہوں۔ 

جنت کی رہگذر

	"جنت کی رہگذر"میرے  تبلیغی سفر کی روداد ہے۔ اس وقت زیارات کے  تذکرے  کے  لئے  بھی یہی عنوان مناسب معلوم  ہو رہا ہے۔ اس لئے  کہ مکہ، مدینہ کے  آثار ہر عنوان سے  جنت کی طرف رہنمائی کرتے  ہیں۔ یہاں  کے  گلی کوچے،سڑکیں بازار،باغات،پہاڑ،ہوا وغیرہ سب ماضی کے  پردے  میں  پوشیدہ عہدِ نبویؐ کی یادگار ہیں۔ ان گلی کوچوں  میں  حضورﷺ کے  نقوشِ پا مدفون ہیں۔ ان سڑکوں  اور بازاروں  سے  حضورﷺ کے  یاروں  اور پیاروں  کی یادیں  وابستہ ہیں۔ ان پہاڑوں  اور صحراؤں  کی را ہوں  پہ گذرتے  ہوئے  شہسواروں کے  گھوڑوں  کے  ٹاپوں  کے  نشانات ثبت ہیں۔ اہلِ نظر کے  لئے  یہ راہیں  ہی نہیں  بلکہ مدینہ منورہ کا چپہ چپہ جنت ہے۔ سواس جنت کی سیر کی تمنا ہر زائر کے  دل میں  ہوتی ہے۔ 
	اپنی بیماری اور کمزوری کی وجہ سے  ہم مکہ کے  مقاماتِ مقدسہ کی زیارت نہیں  کر سکے۔ اس کی وجہ سے  دل میں  عجیب طرح کا احساسِ محرومی تھا۔ ہم مکہ معظمہ میں  تنہا تھے  اور یہاں  مدینہ منورہ میں  بھی تنہا تھے۔ ہمارے  کمرے  والوں  نے  ہماری بہت خدمت کی مگر اعمال کے  سلسلے  میں  جس طرح ہم زیادہ سے  زیادہ ثواب کمانے  کے  تمنائی تھے  اس طرح دوسرے  بھی ثواب کے  لالچی تھے۔ ہمارے  کمرے  والوں  کے  واقف مدینہ منورہ میں  مقیم تھے۔ انہوں  نے  انہیں  تمام مقاماتِ مقدسہ کی زیارت کرائی۔ اللّٰہ تعالیٰ مسبب الاسباب ہے  اس نے  مسجدِ نبویؐ ،روضہ رسول ؐ اور اس سے  ملحقہ زیارات کے  اسباب تو بنا دئیے۔ 
	مسجدِ نبویؐ سے  ملحقہ قبرستان ہے  جس میں  ہزاروں  صحابہؓ اور اہلِ بیتِ اطہار کی قبور ہیں۔ یہ قبرستان روضہ رسولؐ کے  باب البقیع کے  بالکل سامنے  ہے۔ ایک روز ہم وہاں  پہنچے  تو لوگ ایک اونچی دیوار کے  گیٹ پر کھڑے  دعا میں  مصروف تھے۔ ایک دو عربی دعائیں  پڑھ رہے  تھے  اور حاضرین ان کی دعاؤں  پر آمین کہہ رہے  تھے۔ ہم بھی ان کے  ساتھ شریک دعا ہو گئے۔ ان کی دعاؤں  میں  بہت سے  صحابہؓ کے  نام آئے۔ اہلِ بیت کے  نام بھی آئے۔ یہ نام سن کر دل میں  اشتیاق زیارت زیادہ ہو گیا۔ مگر کیا کرتے  اونچی دیوار راستہ روکے  کھڑی تھی۔ اور دیوار کا دروازہ بند تھا۔ ہم اس بند دروازے  کے  پیچھے  بند تاریخ کی زیارت کی حسرت لے  کر لوٹنے  لگے  تو دعا کرنے  والے  نے  حق دعا طلب کرنا شروع کر دیا۔ ہم نے  ان کی خدمت کرنا مناسب نہیں  سمجھا۔ ہم نے  مسجدِ نبویؐ کے  احاطہ میں  کبوتر نہیں  دیکھے  یہاں  کبوتر بھی تھے  اور کبوتروں  کا دانہ بیچنے  والے  بھی۔ ہم نے  چند پوٹلیاں  دانوں  کی خرید کر ان کبوتروں  کے  آگے  ڈال دیں۔ دل میں  ایک کھٹکا سا تھا کہ ہم نے  دعا کرانے  والوں  کی خدمت نہیں  کی اب کبوتروں  کی خدمت کر کے  دل مطمئن ہو گیا۔ مسجدِ نبویؐ کا یہ رخ ہم نے  پہلی مرتبہ دیکھا تھا چنانچہ واپسی پر ہم اس رخ کا نظارہ کرتے  ہوئے  رہائش گاہ کو واپس آ گئے۔ 

دیگر زیارتیں 

	ہم مسجدِ نبویؐ اور جنت البقیع کی زیارت کے  بعد بیرونِ مسجد مقامات مقدسہ کی زیارت کا سوچ رہے  تھے  کہ ایک روز دوپاکستانی ہمارے  کمرے  کا دروازہ کھٹکھٹا کے  اندر تشریف لائے۔ انہوں  نے  فرمایا کہ صبح ساڑھے  سات بجے  ہم زیارات کے  لئے  جا رہے  ہیں۔ جو حضرات جانا چاہیں  ساڑھے  سات بجے  نیچے  ہوٹل کے  سامنے  آ جائیں۔ ہم نے  انہیں  اپنے  نام لکھوا دئیے۔ 
	دوسرے  دن ہم میاں  بیوی پورے  ساڑھے  سات بجے  نیچے  آئے۔ ایک ہائی ایس گاڑی ہوٹل کے  سامنے  کھڑی تھی۔ اس کے  اسٹیئرنگ پر عربی لباس میں  ملبوس ایک صاحب بیٹھے  تھے۔ گاڑی کے  باہر ایک صاحب تسبیح پکڑے  ہوئے  کھڑے  تھے۔ ہمیں  شک ہوا کہ یہی گاڑی زیارت کرانے  والی ہو گی۔ تسبیح والے  بھائی سے  پوچھنے  پر ہمارے  شک کی تصدیق ہو گئی۔ انہوں  نے  کہا گاڑی میں  تشریف رکھیں  باقی حضرات بھی آ رہے  ہیں۔ تقریباً آدھے  گھنٹے  کے  بعد سات اور زائر آ گئے۔ مزید آدھا گھنٹہ انتظار کرنے  کے  باوجود اور کوئی حاجی نہیں  آیا۔ اصل میں  رات کو نام لکھوانے  والے  کافی حاجی لیت و  لعل سے  کام لے  رہے  تھے۔ گاڑی میں  بیٹھے  حضرات بیٹھے  بیٹھے  تنگ پڑ گئے۔ جمعہ کا روز تھا۔ نماز جمعہ حرم شریف میں  ادا کرنا ضروری تھا۔ ایک ساتھی اسی عذر کی وجہ سے  اتر کر دوسرے  لوگوں  کے  ساتھ چلے  گئے۔ جمعہ کی جلدی اور حجاج کرام کے  اصرار کی وجہ سے  زیارت کرانے  والوں  کو مجبوراً چلنا پڑا۔ 
	زیارت کرانے  والے  وہی صاحب تھے  جو رات کو ہمیں  اطلاع کرنے  آئے  تھے۔ انہوں  نے  کاروباری انداز میں  اپنا تعارف کرانا شروع کیا کہ ہم تمام مقدس مقامات کی زیارت کراتے  ہیں۔ ان کی اہمیت وپسِ منظر بھی مستند حوالوں  سے  بتاتے  ہیں۔ زیارت کے  لئے  مناسب وقت دیتے  ہیں  اور اس کے  عوض صرف پندرہ ریال لیتے  ہیں  یہ ساری معلومات وہ گاڑی میں  لگے  ہوئے  مائیک کے  ذریعے  بتا رہے  تھے۔ 
	گاڑی زیارات کے  لئے  روانہ ہوئی تو موصوف نے  تلاوتِ کلامِ پاک سے  کلام شروع کیا۔ موصوف کی قراء ت بہت پیاری تھی۔ ان کی باتیں  اور راستے  یاد نہیں۔ بہت سی معلومات جو ان کی زبانی معلوم ہوئیں  وہ بھی یاد نہیں۔ بعد میں  احساس ہوا کہ نوٹ بک ساتھ ہونی چاہئے۔ یہ خیال پہلے  بھی آیا تھا۔ مگر ایک تو اعمال اور اہلیہ کی خدمت سے  فرصت نہیں  ملتی تھی دوسرے  میں  ڈائری لکھنے  کے  بجائے  پورے  حج کو اپنے  اندر جذب کرنا چاہتا تھا۔ 
	گاڑی ایک چوک سے  گذری تو موصوف نے  کہا کہ یہاں  وہ کنواں  ہے  جو حضرتِ عثمان غنیؓ نے  خرید کر مسلمانوں  کے  لئے  وقف فرمایا تھا۔ یہ کنواں  ایک زرخیز باغ میں  ہے۔ مگر باغ میں  داخلے  کی اجازت نہیں۔ چنانچہ اس باغ کو باہر سے  دیکھتے  ہوئے  ہم آگے  نکل گئے۔ یہاں  سے  آگے  کو ہِ احد پرجا کر موصوف نے  ہمیں  اس پہاڑ کے  متعلق کچھ معلومات فراہم کیں  اور فرمایا کہ پندرہ منٹ تک زیارت کر کے  واپس آ جائیں۔ 

اُحد کی گود میں 

	احد وہ پاک زمین ہے  جس میں  حضورﷺ کے  سترجانثارمحوِ استراحت ہیں۔ غزوہ احد کا معرکہ یہاں  ہی ہوا۔ یہ وہ مقام ہے  جہاں  مسلمانوں  کا سخت امتحان ہوا۔ اس امتحان کے  متعلق بہت سی آیاتِ قرآنی نازل ہوئیں۔ اس وقت میرے  ہاتھ میں  سیرت کی دو کتابیں  ہیں۔ ان کتابوں  کے  مندرجات کو میں  زیارت احد کی روشنی میں  دیکھنے  کی کوشش کر رہا ہوں  میرے  لئے  احد کے  نظارے  سے  قرآن کی تفہیم آسان ہو گئی ہے۔ حدیث کی تفسیرواضح  ہو رہی ہے۔ میں  احد کے  ماحول میں  غزوہ احد کے  کتابی حوالوں  کو دیکھ کر عبرت و نصیحت کے  علاوہ ایمان و ایقان کے  نور سے  سرشار  ہو رہا ہوں۔ 
	احد کی گود میں  سونے  والے  شہیدوں  کی قبور کے  اردگرد چاردیواری بنا دی گئی ہے۔ قبور کی زیارت کے  لئے  دروازوں  کے  علاوہ دیواروں  میں  سوراخ ہیں،جن سے  ان مبارک قبور کی زیارت ہو سکتی ہے۔ دروازے  بند ہونے  کی وجہ سے  ہم اندر نہیں  جا سکے۔ اس زیارت نوریاں  و خاکیاں  کے  آگے  کھلا میدان ہے۔ جہاں  گاڑیاں کھڑی ہوتی ہیں۔ یہاں  ریڑھیوں  والے  کھجوریں  اور دوسرے  تبرکات لئے  کھڑے  ہوتے  ہیں۔ زائرین اپنی اپنی پسند کے  تبرکات خرید فرماتے  ہیں۔ ہم نے  ایک ریڑھی والے  سے  کھجور کا ریٹ پوچھا۔ اس سے  ہمارا بھاؤ نہ بنا۔ دوسرے  کے  پاس چلے  گئے  اس کے  پاس کالے  رنگ کی کھجوریں  تھیں۔ اس نے  بتایا کہ انہیں  کلمہ کھجور کہتے  ہیں۔ کلمہ کے  لفظ سے  مسلمان کو قدرتی عقیدت ہے۔ سوہم نے  وہ ساری کھجوریں  چار ریال میں  خرید لیں۔ کوئی سواکلو وزن ہو گا۔ اس کے  ساتھ ایک لڑکا کچی کھجوریں  ایک بڑی بالٹی میں  رکھے  بیچ رہا تھا۔ یہ کھجوریں  زیادہ میٹھی نہیں  ہوتیں۔ شوگر کی وجہ سے  میں  دوسری کھجوریں  کھانے  سے  پرہیز کرتا ہوں۔ شوق پورا کرنے  کے  لئے  کچی مل جائیں  تو شوق پورا کر لیتا ہوں۔ ہم نے  اس لڑکے  سے  پورا گچھا خرید لیا۔ خیال تھا کہ رہائش گاہ پر جا کر یہ گچھا فریج میں  رکھ دیں  گے۔ اور گھر جاتے  ہوئے  نکال لیں  گے۔ ایک آدھ دن میں  خراب نہیں  ہو گا۔ ہم نے  چند کھجوریں  کھڑے  کھڑے  چکھیں۔ بڑا مزہ آیا۔ اس مزے  میں  روحانی خوشی بھی شامل تھی۔ اس یقین کی وجہ سے  کہ یہ کھجوریں  مدینہ شریف کے  باغ کی ہیں۔ وقت تنگ ہونے  کی وجہ سے  ہم دوسری اشیاء کی طرف توجہ نہیں  دے  سکے۔ جلدی جلدی اس تاریخی درے  کو دیکھنے  کے  لئے  چھوٹی سی پہاڑی پر چڑھے۔ اب یہ درہ ایک عام ساکشادہ راستہ معلوم ہوتا ہے۔ دائیں  بائیں  کی پہاڑیوں  کی بلندی بہت کم رہ گئی ہے۔ یہاں  سے  ہم نے  شہداء کی قبور کی طرف دیکھا تو تمام قبور کی ایک نظر میں  زیارت ہو گئی۔ اس نظارہ سے  میری زبان سے  بے  ساختہ یہ شعر جاری ہو گیا
بنا کر دنند خوش رسمے  بخاک و خون غلطیدن
خدا رحمت کندایں  عاشقانِ پاک طینت را

غزوہ احد ایک نظر

تازہ خواہی داشتن گرداغ ہائے  سینہ را
گاہے  گاہے  باز خواں  ایں  قصہ پارینہ را
	تاریخ قوموں  کے   صدیوں کے  تجربے  کا نام ہے۔ ہر قوم کی تاریخ اس کے  لئے  عظیم سرمایہ ہے۔ مسلمانوں  کی تاریخ جو ان کے  لئے  نمونہ ہے  وہ احادیث کے  اوراق میں  محفوظ ہے۔ اس تاریخ کا وہ باب جس کا تعلق حضورﷺ کی حیاتِ طیبہ سے  ہے  وہ سب سے  زیادہ اہم ہے۔ مسلمانوں  کو اس حصہ پر خصوصی توجہ دینی چاہئے۔ اس وقت ہمارا یہ موضوع نہیں  مگر احد کے  حوالے  سے  غزوہ احد کے  چند اشارے  پیش کرنا ضروری ہیں۔ 
	جنگِ بدر میں  اہلِ مکہ کو سخت شکست وہزیمتکاسامنا کرنا پڑا۔ اس شکست کا بدلہ لینے  کے  لئے  انہوں  نے  متفقہ فیصلہ کیا کہ مسلمانوں  سے  ایک بھرپور جنگ لڑ کر اپنا کلیجہ ٹھنڈا کیا جائے۔ سو وہ شوال  ۳  ھ؁ کو پوری تیاری کے  ساتھ مدینہ منورہ کی طرف روانہ ہوئے۔ کفارِ مکہ کی فوج تین ہزار افراد پر مشتمل تھی۔ اس کے  علاوہ تین ہزار اونٹ دوسوگھوڑے  بار برداری کے  لئے  ان کے  ساتھ تھے۔ دیگر سامانِ حرب کے  علاوہ حفاظتی ہتھیاروں  میں  سات سوزرہیں  بھی تھیں۔ اس پورے  لشکر کا سپہ سالار ابوسفیان تھا۔ 
	حضرت عباسؓ نے  ایک قاصد کے  ذریعے  اہلِ مکہ کے  ارادہ اور تیاری کی تفصیلات سے  حضورﷺ کو آگاہ کیا تو آپؐ نے  فوری طور پر انصار و مہاجرین کے  قائدین سے  مشورہ کیا۔ اور ہنگامی صورت حال کے  پیشِ نظر حفاظتی اور دفاعی انتظامات شروع کر دئے۔ اسی اثنا میں  کفارِ مکہ کے  لشکر نے  کوہ احد کے  قریب عینین کے  مقام پر آ کر پڑاؤ ڈال دیا۔ 
	حضورﷺ نے  لشکرِ کفار کی آمد کی خبر سن کر اپنی مجلسِ شوریٰ منعقد فرمائی اور مشیروں  کو اپنا ایک خواب سنا کر ان سے  مشورہ لینا شروع کیا۔ آپ کی ذاتی رائے  تھی کہ شہر کے  اندر قلعہ بند ہو کر مقابلہ کیا جائے۔ مگر کچھ صحابہؓ کرام جو بدر میں  شرکت نہیں  کر سکے  انہوں  نے  میدانِ جنگ میں  اپنے  حوصلے  دکھانے  اور تمنائیں  پوری کرنے  پر اصرار کیا۔ ان حضرات کے  اصرار پر حضورﷺ نے  مدینہ سے  باہر دشمن کا مقابلہ کرنے  کا فیصلہ فرمایا۔ 
	اسلامی لشکر ایک ہزار مردانِ جنگی پر مشتمل تھا۔ جن میں  ایک سو زرہ پوش اور پچاس سوار تھے۔ آپؐ نے  اس لشکر کو تین دستوں  میں  تقسیم کر کے  مہاجرین کے  دستے  کا پرچم حضرت مصعبؓ بن عمیراوس کا اُسَید بن حضیرؓ کو اور خزرج کا حبابؓ بن منذر کو عنایت فرمایا۔ شیخان کے  مقام پر حضورﷺ نے  لشکر کا معائنہ فرمایا تو بہت سے  صحابہ کو چھوٹا ہونے  یا نا اہل ہونے  کی وجہ سے  واپس کر دیا۔ آپؐ نے  مغرب اور عشاء کی نماز کے  بعد یہیں  رات بسر فرمائی۔ 
	مقامِ"شوط"پہنچ کر آپ ؐ نے  نماز فجر ادا فرمائی۔ یہاں  سے  رئیس المنافقین عبداللّٰہ بن ابی کوئی تین سوافراد لے  کر واپس ہو گیا۔ اس کی اس منافقانہ چال سے  لشکرِ اسلام میں  اضطرابی کیفیت پیدا ہو گئی۔ بلکہ بنو حارثہ اور بنوسلمہ بھی واپسی کی سوچ رہے  تھے  مگر اللّٰہ تعالیٰ نے  ان کی دستگیری فرمائی اور یہ کفار کے  مقابلہ کے  لئے  جم گئے۔ 
	منافقین کی واپسی کے  بعد حضورﷺ نے  سات سوجانثاروں  کو لے  کر احد پہاڑ کی گھاٹی میں  نزول فرمایا۔ اور اپنے  لشکر کی صف بندی شروع کر دی۔ اور جنگی حکمتِ عملی کے  طور پر پچاس تیر اندازوں  کا ایک دستہ حضرت عبد اللّٰہؓ بن جبیر کی سرکر دگی میں جبلِ  رماۃ پر متعین فرما دیا اور تاکید فرمائی کہ میرے  حکم کے  بغیر کسی حال میں  بھی اس درہ کو نہیں  چھوڑنا۔ باقی لشکر کے  میمنہ پر حضرت مندرؓ بن عمرو،میسرہ پر حضرت زبیرؓ بن عوام کو مقرر فرمایا۔ 
	۷، شوال  ۳  ھ؁ یوم سنیچر کی صبح کو آپؐ نے  لشکر کی تنظیم و ترتیب کے  بعد صحابہؓ کو پامردی اور ثابت قدمی کی ترغیب دی اور اپنی تلوار حضرت ابو دجانہؓ کو خصوصی طور پر عنایت فرمائی۔ ادھر مکی لشکر کا سپہ سالار بھی اپنی فوج کو غیرت و حمیت کے  نام پر ترغیب دے  رہا تھا۔ جنگ شروع ہونے  سے  پہلے  ابوسفیان نے  انصار کے  پاس یہ پیغام بھیجا کہ آپ لو گ ہمارے  اور ہمارے  چچیرے  بھائی (محمدؐ )کے  بیچ سے  ہٹ جائیں  تو ہمارا رخ بھی آپ کی طرف نہ ہو گا۔ مگر انصار نے  کفار کو سخت جواب دیا۔ اس کے  بعد کفار نے  ابوعامر فاسق کو جو کہ جاہلیت میں  قبیلہ اوس کا سردار تھا، انصار کے  بہکانے  کے  لئے  بھیجا۔ لوگوں  نے  اسے  کہا اوفاسق!اللّٰہ تیری آنکھ کو خوشی نصیب نہ کرے۔ اس طرح قریش کی جانب سے  اہلِ ایمان کی صفوں  میں  پھوٹ ڈالنے  کی دوسری کوشش بھی ناکام ہوئی۔ 
	جنگ شروع ہوئی تو قریش کے  علم بردار طلحہ ؓ بن ابی طلحہ نے  مبارزت کی دعوت دی۔ یہ شخص اونٹ پر سوار تھا۔ حضرت زبیر شیر کی طرح جست لگا کر اونٹ پر جا چڑھے  اور اسے  اونٹ سے  گرا کر ذبح کر دیا۔ اس کے  بعد ہر طرف جنگ کے  شعلے  بھڑکنے  لگے۔ طلحہ کے  بعد جس نے  بھی پرچم ہاتھ میں  لیامسلمانوں  کے  ہاتھوں  قتل ہوا۔ اس معرکہ میں  صرف بنو عبدالدار کے  دس افراد جو کہ کفار کے  علم بردار تھے  مارے  گئے  آخر میں  ایک غلام نے  پرچم سنبھالا۔ لکھا ہے  کہ یہ غلام(صواب)بڑی بہادری اور پامردی سے  لڑا آخر یہ بھی مسلمانوں  کے  ہاتھوں  مارا گیا۔ اس کے  بعد کسی کو جھنڈا اٹھانے  کی ہمت نہ ہوئی۔ 
	مسلمان میدانِ جنگ کے  ہر محاذ پر چھائے  ہوئے  تھے۔ اسلام کے  شیدائیوں  نے  کفار کی صفوں  کو تتر بتر کر دیا تھا۔ حضرت ابو دجانہؓ صفوں  پر صفیں  درہم برہم کرتے  ہوئے  قریشی عورتوں  کی کمانڈر تک جا پہنچے۔ دیگر صحابہ کرام بھی برابر دادِ شجاعت دے  رہے  تھے۔ حمزہ شیر کی طرح بے  نظیر مار دھاڑ کے  ساتھ قلبِ لشکر کی طرف بڑھے  اور چڑھے  جا رہے  تھے۔ کوئی ان کے  سامنے  ٹھہر نہیں  رہا تھا۔ مگر وحشی بن حرب نے (جو کہ بعد میں  مسلمان ہو گئے  تھے)چھپ کر ان کی طرف نیزہ پھینکا جس سے  یہ شہید ہو گئے۔ حضرت حنظلۃ الغسیل جن کی نئی نئی شادی ہوئی تھی وہ بھی دادِ شجاعت دیتے  ہوئے  شہید ہو گئے۔ ان کے  علاوہ حضرت ابوبکرؓ و عمرؓ،علیؓ و زبیرؓ،مصعبؓ بن عمیر،طلحہؓ بن عبید اللّٰہ،عبداللّٰہؓ بن جحش،سعدؓبن معاذ،سعدؓ بن عبادہ،سعدؓبن ربیع اور نضر بن انس وغیرہ نے  ایسی پامردی و جانبازی سے  لڑائی لڑی کہ مشرکین کے  چھکے  چھوٹ گئے۔ اور مسلمانوں  کا پلہ بھاری رہا۔ کچھ دیر تک اسی طرح شدید جنگ ہوتی رہی۔ اسلامی لشکر رفتارِ جنگ پر پوری طرح بھاری رہا۔ بالآخر مشرکین کی صفوں  میں  کھلبلی مچ گئی اور وہ مسلمانوں  کے  بھاری حملوں  کی تاب نہ لا کر پسپا ہونے  پر مجبور ہو گئے۔ ابن اسحاق کے  مطابق بلاشبہ ان کو شکستِ فاش ہوئی۔ 
	صحیح بخاری میں  حضرت برائؓ بن عازب کی روایت ہے  کہ جب مشرکین سے  ہماری ٹکر ہوئی تو مشرکین میں  بھگدڑ مچ گئی یہاں  تک میں  نے  عورتوں  کو دیکھا کہ پنڈلیوں  سے  کپڑے  اٹھائے  پہاڑ میں  تیزی سے  بھاگ رہی تھیں۔ ان کی پازیبیں  دکھائی پڑ رہی تھیں۔ اس عالم میں  مسلمان مشرکین پر تلوار چلاتے  مال سمیٹتے  ہوئے  ان کا تعاقب کر رہے  تھے  درہ پر متعین  تیر اندازوں نے  دشمن کی فوج کو درہ کے  راستہ حملہ کرنے  سے  بڑی جوانمردی سے  روکے  رکھا۔ مگر جب انہوں  نے  دشمن کو میدانِ جنگ سے  بھاگتے  اور مسلمانوں  کو مالِ غنیمت سمیٹتے  دیکھا تو وہ بھی درہ چھوڑ کر مال سمیٹنے  میں  شامل ہو گئے۔ خالد بن ولید نے  کہ ابھی مسلمان نہیں  ہوئے  تھے  موقع غنیمت جان کر مسلمانوں  کی پشت پر ہو کر درہ پر متعین دس جانثاروں  کو شہید کر دیا۔ یہ صورتحال دیکھ کر مشرکین کے  حوصلے  بلند ہو گئے۔ بنو حارث کی ایک عورت عمرہ بنت علقمہ نے  لپک کر زمین پر پڑا ہوا مشرکین کا جھنڈا اٹھا لیا۔ اب دوبارہ گھمسان کی لڑائی شروع ہو گئی۔ کفار نے  آگے  پیچھے  دونوں  اطراف سے  مسلمانوں  کو گھیر لیا۔ 
	حضورﷺ نے  خالد بن ولید کے  شہسواروں  کو دیکھتے  ہی نہایت بلند آواز سے  صحابہ کرامؓ کو پکارا۔ یہ آواز سن کر مشرکین کا ایک دستہ مسلمانوں  سے  پہلے  آپؐ کے  پاس پہنچ گیا اور باقی شہسواروں  نے  تیزی کے  ساتھ مسلمانوں  کا گھیراؤ کر لیا۔ اس اچانک تبدیلی سے  مسلمانوں  کا ایک گروہ تو ہوش کھو بیٹھا۔ ایک اور گرو ہ پیچھے  کی طرف پلٹا تو مشرکین کے  ساتھ مخلوط ہو گیا۔ اس دوران ایک پکارنے  والے  کی پکار سنائی پڑی کہ محمدؐ قتل کر دئیے  گئے  ہیں۔ اس سے  رہاسہا ہوش بھی جاتا رہا کچھ نے  لڑائی سے  ہاتھ روک لیا۔ کچھ ابوسفیان سے  امان کی سوچنے  لگے۔ اس کے  باوجود بعض جاں نثارانِ محمد ؐ و دینِ محمدؐ پر جان قربان کر رہے  تھے۔ حضورﷺ کفار کے  گھیرے  میں  گھرے  ہوئے  تھے۔ آپؐ کے  پاس صرف نو صحابہؓ تھے۔ ان میں  سے  سات جو کہ انصار میں  سے  تھے  شمع رسالت پہ قربان ہو گئے۔ اسی موقع پر آپؐ کے  دندان مبارک شہید ہوئے  اور خود کی کڑیاں  چہرہ مبارک میں  گھس گئیں۔ ایسے  موقع پر بھی آپؐ نے  اللّٰہ تعالیٰ سے  دعا کی "اے  اللّٰہ میری قوم کو بخش دے۔ وہ نہیں  جانتی۔ ‘‘
	اس نازک ترین لمحے  میں  اللّٰہ تعالیٰ نے  آپؐ کی خصوصی حفاظت کے  لئے  دوایسے  آدمیوں  کو مقرر کیا جو سفید کپڑے  پہنے  ہوئے  تھے  اور انہیں  پہلے  کبھی نہیں  دیکھا گیا ایک روایت کے  مطابق یہ دونوں  حضرت جبرائیلؑ اور میکائیلؑ تھے۔ 
	صحابہؓ نے  حضورﷺ کی آواز سنی تو اس آواز کی طر ف لپکے۔ مگر ان کے  پہنچنے  سے  پہلے  آپ ؐ زخمی ہو چکے  تھے۔ اس وقت تک حضرت سعد بن ابی وقاصؓ اور طلحہؓ بن عبید اللّٰہ تنہا مشرکین کا مقابلہ کرتے  رہے۔ دیگر صحابہ نے  آتے  ہی حضورﷺ کے  گرد اپنے  جسموں  اور ہتھیاروں  سے  ایک باڑ تیار کر دی۔ جیسے  جیسے  حضورﷺ کے  گرد صحابہ کی تعداد زیادہ  ہو رہی تھی ایسے  ہی مشرکین کا دباؤ بھی بڑھ رہا تھا۔ اس جگہ صحابہ کرامؓ نے  مثالی جانبازی  کا مظاہرہ کیا۔ حضرت ابو طلحہؓ نے  اپنے  آپ کو حضورﷺ کے  آگے  سپر بنا لیا۔ حضرت ابو دجانہؓ نبیؐ کے  آگے  کھڑے  ہو گئے  اور اپنی پیٹھ کو آپؐ کے  لئے  ڈھال بنا دیا۔ خواتین میں  سے  ام عمارہ بھی حضورﷺ کا دفاع کرتے  ہوئے  شدید زخمی ہوئیں۔ حضرت مصعبؓ بن عمیر نے  آخری دم تک پر چم گرنے  نہیں  دیا۔ یہ حضورﷺ کے  ہم شکل تھے  ان کی شہادت سے  مشرکین سمجھے  کہ ہم نے  حضورﷺ کو شہید کر دیا ہے۔ حضرت مصعبؓ بن عمیر کی شہادت کے  بعد حضورﷺ نے  جھنڈا حضرت علیؓ کو دیا انہوں  نے  جم کر لڑائی کی آخر زبردست مقابلے  کے  بعدمسلمان مشرکین کے  نرغے  سے  نکل کر اپنے  کیمپ میں  واپس آنے  میں  کامیاب ہو گئے  جب حضورﷺ گھاٹی کے  اندر اپنی قیادت گاہ میں  پہنچے  تو کفار نے  آخری حملہ کیا مگر صحابہ کرام نے  تیر اندازی کے  ذریعے  ان کے  منہ پھیر دئیے۔ 
	اس غزوہ میں  ستر مسلمان شہید ہوئے۔ بائیس یا تئیس مشرک مارے  گئے۔ اس میں  اللّٰہ کی بڑی حکمتیں  اور مسلمانوں  کے  لئے  عبرتیں  ہیں۔ اس غزوہ میں صحابہؓ کی کچھ بشری کمزوریاں  نظر آتی ہیں  تو ان کی جانثاری اور جوانمردی کے  کارنامے  بھی بے مثال ہیں۔ ایسے  ہی مثالی لوگوں  کے  لئے  شاعر نے  کہا ہے۔ 
جو رکے  تو کوہِ گراں  تھے  ہم جو چلے  تو جاں  سے  گذر گئے 
رہِ یار ہم نے  قدم قدم تجھے  یاد گار بنا دیا

غزوہ خندق کی یادگار

	غزواتِ نبیؐ میں  غزوہ خندق بھی دینی لحاظ سے  بڑی اہمیت رکھتا ہے۔ اس کے  بارے  میں  بھی قرآن پاک کی بہت سی آیتیں  نازل ہوئی ہیں۔ عسکری نقطہ نظر سے  دیکھیں  تو یہ ایک دفاعی جنگ ہے۔ اس میں  بھی مسلمانوں  کی عالیٰ ہمتی کی بے مثال مثالیں  موجود ہیں۔ 
	اس غزوہ کے  اصل محرک یہود ہیں۔ بنو نضیر کے  بیس سردار اور رہنما مکے  میں  قریش کے  پاس حاضر ہوئے  اور انہیں  رسول اللّٰہ کے  خلاف آمادہ جنگ کرتے  ہوئے  انہیں  مدد کا یقین دلایا۔ اس کے  بعد یہود کا وفد بنو غطفان کے  پاس گیا اور انہیں  بھی آمادہ جنگ کیا۔ ان کے  علاوہ دیگر کئی قبائل کو بھی اس جنگ میں  شامل ہونے  پر آمادہ کر لیا۔ ان سب کی تعداد دس ہزار بتائی جاتی ہے۔ ان کا سپہ سالار ابوسفیان تھا۔ 
	مدینے  کے  مخبرین نے  دشمنانِ اسلام کے  پروگرام کی اطلاع جب حضورﷺ کو دی تو آپؐ نے  مجلسِ شوریٰ منعقد فرمائی۔ اس مجلس میں  مدینہ کے  اندر رہ کر دفاعی جنگ کا فیصلہ کیا گیا اور حضرت سلمانؓ فارسی کے  مشورہ کے  مطابق جس راستے  سے  دشمن کے  حملہ اور ہونے  کا خدشہ تھا اس کو خندق کے  ذریعے  روکنے  کی تجویز منظور کی گئی۔ چنانچہ حضورِ پاکﷺ نے  دس دس صحابہؓ کو چالیس چالیس ہاتھ خندق کھودنے  کا کام سپردکیا۔ چنانچہ صحابہؓ نے  یہ کام انتہائی بھوک پیاس کے  عالم میں  دشمن کے  آنے  سے  پہلے  ختم کر لیا۔ اس معرکہ میں  بھی حضورﷺ کے  ہاتھوں  بہت سے  معجزات رونما ہوئے  اور صحابہؓ کی جانثاری کی بھی بہت سی مثالی سامنے  آئیں۔ اسی معرکہ میں  صحابہؓ نے  بھوک بہلانے  کے  لئے  پیٹ پر پتھر باندھے  تھے۔ حضرت جابرؓ بن عبداللّٰہ نے  ایک بکری کا بچہ ذبح کیا اور ایک صاع جو کے  آٹے  کی روٹیاں  پکا کر حضورﷺ کی ضیافت کی۔ یہ کھانا خندق کے  تقریباً ایک ہزار صحابہؓ نے  سیر ہو کر کھایا۔ اس کے  باوجود سالن اور آٹے  میں  کمی واقع نہ ہوئی۔ اسی طرح نعمان بن بشیر کی بہن دو مٹھی کھجوریں  لے  کر آئیں۔ اہلِ خندق انہیں  کھاتے  گئے  اور وہ بڑھتی گئیں۔ یہاں  تک کہ سارے سیر ہو گئے  اور کھجوریں  کپڑے  کے  کناروں  سے  باہر گر رہی تھیں۔ اسی موقعہ پر حضورﷺ نے  ایک ناقابلِ شکست چٹان توڑتے  وقت شام، فارس، مدائن اور یمن کی فتح کی بشارت دی۔ 
	کفارِ مکہ کی فوج جب وارد ہوئی تو وہ اپنے  سامنے  خندق کی رکاوٹ دیکھ کر غیظ و غضب سے  چکرا گئے۔ انہیں  مسلمانوں  سے  دو دو ہاتھ کرنے کی حسرت تھی مگر مدینہ میں  داخل ہونے  کا راستہ نہیں  مل رہا تھا۔ بڑی تگ  و دو کے  بعد عمرو بن عبدِ ود، عکرمہ بن ابی جہل اور ضرار بن خطاب وغیرہ چند ساتھیوں  سمیت خندق عبور کرنے  میں  کامیاب ہو گئے۔ حضرت علیؓ نے  چند ساتھیوں  سمیت ان کا مقابلہ کیا۔ عمرو بن عبدِ ود جو کہ بڑا بہادر اور شہ زور سمجھا جاتا تھا حضرت علیؓ کے  ہاتھوں  جہنم رسید ہوا۔ اس کے  باقی ساتھی جان بچا کر بھاگ گئے۔ خندق کی وجہ سے  دونوں  فوجوں  کی دوبدو مڈھ بھیڑ تو نہیں  ہوئی البتہ دونوں  طرف سے  تیروں  سے  زبردست مقابلہ ہوا۔ اس مقابلہ میں  حضورِ پاکﷺ اور صحابہ کرامؓ کی کئی نمازیں  قضا ہو گئیں۔ آپؐ کو نماز قضا ہونے  کا اس قدر ملال تھا کہ آپ نے  مشرکین پر بد دعا کی۔ 
	تیر اندازی میں  چھ مسلمان شہید ہوئے  اور دس مشرک مارے  گئے۔ ان دس میں  ایک یا دو تلوار سے  قتل کئے  گئے۔ اسی تیری اندازی کے  دوران حضرت سعدؓ بن معاذ کے  ایسا تیر لگاجس سے  ان کے  بازو کی شہ رگ کٹ گئی۔ اس موقعہ پر انہوں  نے  دعا کی تھی کہ "اے  اللّٰہ مجھے  موت نہ دے  یہاں  تک کہ بنو قریظہ کے  معاملے  میں  میری آنکھوں  کو ٹھنڈک حاصل ہو۔ اللّٰہ نے  ان کی یہ دعا پوری فرمائی۔ 
	بنوقریظہ یہود کا ایک قبیلہ تھا جو ابھی تک مدینہ منورہ میں  مقیم تھا۔ بنو نضیر کے  مجرمِ اکبر حُیَیْ ابن اخطب نے  انہیں  مسلمانوں  کی مخالفت پر مائل کر لیا۔ کعب بن اسد نے  جو کہ قریظہ کا سردار تھا اس لعین کی ترغیب سے  رسولؐ اللّٰہ سے  کیا ہوا عہد توڑ دیا اور مسلمانوں  کے  ساتھ طے  کی ہوئی ذمہ داریوں  سے  بری ہو کر ان کے  خلاف مشرکین کی جانب سے  جنگ میں  شریک ہو گیا۔ 
	یہود کی عہد شکنی کی خبر رسول اللّٰہ کو پہنچی تو آپ نے  فوراً تحقیق کی طرف توجہ فرمائی۔ تحقیق سے  اس خبر کی تصدیق ہوئی۔ اس وقت مسلمان نہایت نازک صورتِ حال سے  دو چار تھے۔ آگے  مشرکین کا لشکرِ جرار اور پیچھے  یہود مکار۔ اس موقع پر منافقین کے  نفاق نے  بھی سرنکالا۔ چنانچہ وہ گھروں  کے  غیر محفوظ ہونے  کے  بہانے  واپسی کی اجازت مانگنے  لگے۔ نوبت یہاں  تک پہنچ چکی تھی کہ بنوسلمہ بھی پسپائی کی سوچ رہے  تھے۔ قرآن پاک میں  ان لوگوں  کی منافقت کا بڑی وضاحت سے  بیان فرمایا ہے۔ اس نازک صورتِ حال میں  اللّٰہ تعالیٰ نے  مسلمانوں  کی نصرت کا انتظام فرما دیا۔ بنو غطفان کے  نعیم بن مسعود کو اللّٰہ تعالیٰ نے  اس نازک گھڑی میں  نصرتِ اسلام کی سعادت نصیب فرمائی۔ انہوں  نے  حضورﷺ سے  عرض کیا کہ اللّٰہ کے  رسولؐ میں  مسلمان ہو گیا ہوں۔ میری قوم کو میرے  اسلام کا علم نہیں  لہذا آپﷺ مجھے  کوئی حکم فرمائیں۔ آپﷺ نے  فرمایا تم فقط ایک آدمی ہو۔ البتہ جس قدر ممکن ہو ان میں  پھوٹ ڈالو اور ان کی حوصلہ شکنی کرو۔ حضرت نعیم نے  بڑی حکمت اور ہوشیاری سے  بنو قریظہ اور قریش میں  پھوٹ ڈالنے  کا فریضہ سرانجام دیا۔ دونوں  فریق ایک دوسرے  سے  بد ظن ہو گئے۔ اس دوران مسلمان اللّٰہ سے  دعا کر رہے  تھے۔ اللّٰہ نے  ان کی دعائیں  قبول فرمائی اور دشمنانِ اسلام پرتند و تیز ہواؤں  کا طوفان بھیج دیا۔ جس سے  ان کے  خیمے  اکھڑ گئے۔ ہانڈیاں  الٹ گئیں  طنابوں  کی کھونٹیاں  اکھڑ گئیں۔ اس کے  ساتھ ہی اللّٰہ تعالیٰ نے  فرشتوں  کا لشکر بھیج دیا جس نے  انہیں  ہلا ڈالا اور ان کے  دلوں  میں  خوف اور رعب ڈال دیا۔ چنانچہ اللّٰہ نے  دشمن کو کسی خیر کے  حصول کا موقع دئیے  بغیر اس کے  غیظ و غضب سمیت واپس کر دیا۔ 
	یہ غزوہ صحیح ترین قول کے  مطابق شوال   ۵ھ؁میں  پیش آیا۔ اس کو جنگ خندق کے  علاوہ جنگِ احزاب کے  نام سے  بھی یاد کیا جاتا ہے  کہ اس میں  بہت سے  قبیلوں  نے  مسلمانوں  کے  خلاف متحد ہو کر مدینہ منورہ پر حملہ کیا تھا۔ 
	ہمارے  گائیڈ کو کچھ زیادہ جلدی تھی۔ اس لئے  اس نے  ہمیں  نہ تو احد کی جی بھرکر زیارت کرنے  دی نہ مقام خندق پہ رکنے  دیا۔ اس کی بھی مجبوری تھی کہ نمازِ جمعہ کا وقت قریب آ رہا تھا۔ بہرحال مقام خندق پہ چند منٹ رک کر اس نے  تھوڑا ساتعارف کرایا۔ 
	مقام خندق پر ہمیں  خندق کی کوئی نشانی نظر نہیں  آئی۔ اس وقت یہ خندق بھر دی گئی ہے۔ گائیڈ نے  انگلی کے  اشارے  سے  لکیر کھینچ کر اس کی نشاندہی کی تھی مگر ہمیں  اس کی بھی سمجھ نہیں  آئی۔ اس کے  علاوہ جو جو کچھ دیکھا تھا اس کی صرف دھندلی سی یاد ہے۔ یہاں  خوبصورت درخت تھے  اور مساجد۔ 

یادگار مساجد

	مسجدنہ صرف مذہبی بلکہ معاشرتی لحاظ سے  مسلمانوں  کا مرکز ہے۔ یہ اسلامی تہذیب و تمدن کی تربیت گاہ ہے۔ اس تربیت گاہ سے  مسلمان کی محبت و عقیدت ایک فطری امر ہے۔ اسی عقیدت کی وجہ سے  ہر اہم مقام پر یادگار کے  طور پرمسجد تعمیر کرنا ایک پرانی روایت ہے۔ اس روایت کے  تحت حضورﷺ اور صحابہ کرامؓ سے  نسبت رکھنے  والے  اہم مقامات پر مساجد تعمیر کی گئی ہیں۔ مدینہ منورہ کی چند مساجد کے  احوال درج ذیل ہیں :۔ 
مسجدِ غمامہ:۔ مسجدِ نبویؐ کے  باب السلام سے  باہر آئیں  تو جنوب مغربی جانب تقریباً پندرہ سوفٹ کے  فاصلے  پر مسجدِ غمامہ واقع ہے۔ حضورﷺ نے  یہاں  دو  ہجری میں  پہلی دفعہ عیدین کی نمازیں  ادا فرمائیں۔ اور نویں  صدی ہجری تک عیدین کی نماز یہاں  ہی پڑھی جاتی رہیں۔ اس کو مسجدِ مصلے ّٰ بھی کہتے  ہیں۔ آپؐ نے  اس جگہ نمازِاستسقاء بھی پڑھائی تھی اسی وقت بادل نمودار ہوئے  اور بارش شروع ہو گئی، اس لئے  اس کو مسجدِ غمامہ(بادل)بھی کہتے  ہیں۔ 
مسجدِ ابوبکرؓ صدیق:۔ مسجدِ غمامہ کے  قریب شمال میں  مسجدابوبکرؓ صدیق ہے۔ ملا علی قاری کہتے  ہیں  حضرت ابوبکرؓ صدیق نے  وہاں  کچھ نمازیں  پڑھی تھیں۔ 
مسجدِ عمر فاروقؓ:۔ یہ مسجد بھی مسجدِ غمامہ کے  قریب ہے۔ 
مسجدِ علیؓ:۔ یہ مسجدغمامہ کے  قریب ہے، یہاں  پر حضرت علیؓ نے  نمازِ عید اداکی تھی۔ 
مسجدِ قبا:۔ مدینہ منورہ سے  تین میل کے  فاصلے  پر جو آبادی ہے  اسے  قبا کہتے  ہیں۔ ہجرتِ مدینہ کے  زمانے  میں  یہاں  انصار کے  بہت سے  خاندان آباد تھے۔ اس وقت عمر بن عوفؓ کے  خاندان کے  سربراہ کلثوم بن الہدم تھے۔ حضورﷺ نے  ان کے  ہاں  چار دن قبا میں  قیام فرمایا اور وہیں  اپنے  دستِ مبارک سے  مسجدِ قبا کی بنیاد رکھی۔ اسلام کی تاریخ میں  سب سے  پہلے  یہی مسجد تعمیر ہوئی تھی۔ مسجد قبا میں  دو نفل نماز پڑھنے  کا ثواب ایک عمرہ کے  برابر ہے۔ یہ حدیث مسجد کے  محراب پر عربی رسم الخط میں  لکھی ہوئی ہے۔ 
مسجدِ قبلتین:۔ یہ مسجدِ نبویؐ سے  تقریباً تین میل کے  فاصلے  پر ہے۔ یہ مسجد تاریخ اسلام کے  ایک اہم واقع کی علامت ہے۔ ابتداء میں  مسلمان نماز بیت المقدس کی طرف رخ کر کے  پڑھتے  تھے۔ حضورﷺ جب تک مکہ میں  تشریف فرما رہے  یہی دستور رہا مگر آپ نمازیں  اسطرح ادا کرتے  تھے  کہ بیت اللّٰہ بھی سامنے  رہے۔ اور مدنی زندگی کے  ابتدائی دنوں  میں  مکمل طور پر بیت المقدس ہی قبلہ تھا اور تقریباً سولہ سترہ مہینے  آپ نے  بیت المقدس کی طرف منہ کر کے  نمازیں  پڑھیں۔ بیت المقدس مسلمانوں  کے  لئے  اس لئے  بھی مقدس تھا کہ یہاں  سے  نبی کریمؐ معراج کے  لئے  تشریف لے  گئے  تھے۔ لیکن اس تمام عرصہ میں  حضورﷺ کی یہ دلی تمنا رہی کہ مسلمان حضرت ابراہیمؑ کے  تعمیر کردہ خانہ کعبہ کی طرف رخ کر کے  نماز ادا کریں۔ حضورﷺ بار باراس تمنا میں  آسمان کی طرف دیکھتے  تھے۔ بالآخر ایک روز عین نماز کی حالت میں  یہ آیت نازل ہوئی:۔ 
ترجمہ:۔ یہ تمہارے  منھ کا بار بارآسمان کی طرف دیکھنا ہم دیکھ رہے  ہیں۔ لو ہم اسی قبلے  کی طرف تمہیں  پھیرے  دیتے  ہیں۔ جسے  تم پسند کرتے  ہو۔ مسجدِ حرام (خانہ کعبہ)کی طرف رخ پھیر دو۔ اب جہاں  کہیں  تم ہو اسی کی طرف منھ کر کے  نماز پڑھا کرو۔ (البقرہ،۱۴۴)
	یہ حکم رجب یا شعبان  ۲ ھ؁ میں  نازل ہوا تھا۔ حضورﷺ بشرؓ بن برا کے  ہاں  بنوسلمہ تشریف لے  گئے۔ وہاں  ظہر کی نماز کا وقت ہوا۔ آپؐ بنوسلمہ کی مسجد میں  نماز کی امامت کرانے  کھڑے  ہوئے  دو رکعتیں  پڑھا چکے  تھے  کہ تیسری رکعت میں  یکایک وحی کے  ذریعے  تحویل قبلہ کی آیت نازل ہوئی اور اسی وقت آپ کی اقتدا میں  جماعت کے  تمام لوگ بیت المقدس سے  کعبے  کے  رخ پھر گئے۔ 
	بیت المقدس مدینہ منورہ سے  عین شمال میں  واقع ہے  اور کعبۃ اللّٰہ جنوب میں۔ نماز با جماعت پڑھاتے  ہوئے  قبلہ تبدیل کرنے  میں  لامحالہ آپؐ کو چل کر مقتدیوں  کے  پیچھے  آنا ہو گا۔ اور مقتدیوں  کو صرف رخ ہی نہ بدلنا پڑا ہو گا کچھ نہ کچھ انہیں  بھی چل کر اپنی صفیں  درست کرنا پڑی ہوں  گی۔ اسی طرح ایک نماز کی دو رکعتیں  بیت المقدس کی طرف اور دو رکعتیں  کعبۃ اللّٰہ کی جانب ادا فرمائی گئیں۔ اسی لئے  اس مسجد کو قبلتین یعنی دو قبلوں  والی مسجد کہتے  ہیں۔ 
مسجد جمعہ:۔ مسجدِ قباسے  کچھ فاصلہ پر مدینہ منورہ کے  راستے  میں  قبیلہ بنوسالم آباد تھا۔ حضورﷺ جب ہجرت کے  موقع پر قبا کی بستی سے  مدینہ منورہ روانہ ہوئے  تھے  تو جمعہ کا روز تھا۔ ابھی آپؐ قبیلہ بنوسالم بن عوف میں  پہنچے  تھے  کہ جمعہ کی نماز کا وقت ہو گیا۔ اس مقام پر آپؐ نے  نماز جمعہ ادا فرمائی۔ مدینہ منورہ میں  یہ آپؐ کا سب سے  پہلا جمعہ تھا۔ اس جگہ جہاں  آپؐ نے  جمعہ کی نماز پڑھائی تھی اب مسجد بنا دی گئی ہے۔ 
	ہم نے  مذکورہ مساجد میں  سے  دومساجد یعنی مسجد قبلتین اور مسجدِ قبا میں  نوافل پڑھنے  کی سعادت حاصل کی ہے۔ مجھے  کھجوروں  کے  باغ دیکھنے  کا بڑا شوق تھا۔ گاڑی میں  چلتے  ہوئے  کہیں  کہیں  چھوٹے  چھوٹے  باغ نظر آئے۔ مگر ان کے  پاس جا کر ان کی زیارت کرنے  کی حسرت پوری نہیں  ہو سکی۔ راستے  میں  غالباً مسجد قباسے  پہلے  چند منٹوں  کے  لئے  گاڑی رکی۔ گائیڈ نے  بتایا کہ یہاں  کھجوریں  پیک کرنے  کی فیکٹری ہے۔ جس کسی کو کھجوریں  لینی ہوں  لے  لیں۔ ہم نے  یہاں  سے  آدھ کلو عجوہ کھجور کا پیکٹ پچیس ریال میں  خریدا۔ تقریباً ڈیڑھ کلوکادوسراپیکٹ بھی پچیس ریال میں  خریدا۔ اس قسم کا نام یاد نہیں۔ 
	راستے  میں  ایک چھوٹاساباغ نظر آیا۔ یہاں  آبشاروں  کی صورت پانی کی دھاریں  گر رہی تھیں۔ انہیں  دیکھ کر بڑی فرحت محسوس ہوئی۔ غالباً یہ مصنوعی نظام تھا۔ راستے  کے  کنارے  ایک مقام ہے  جس کے  متعلق بتایا گیا کہ یہاں  کی مٹی خاکِ شفا ہے۔ مگر یہاں  جانا ممنوع ہے۔ اسی راستے  پر سڑک سے  ہٹ کر ایک دیوار کی طر ف اشارہ کرتے  ہوئے  گائیڈ نے  بتایا کہ یہ حضرت سلمان فارسی کا گھر ہے۔ مگر میری نظر کے  سامنے  ایک پتھروں  کی بنی ہوئی لمبی دیوار تھی۔ اور حضرت سلمان فارسی کا گھر کہیں  اس دیوار میں  گھرا ہوا تھا۔ میں  گھرے  ہوئے  گھر کی زیارت نہیں  کر سکا۔ 
	جن مساجد کی ہم نے  زیارت کی ہے  بیشک وہ جدید فنِ تعمیر کا بہترین نمونہ ہیں  مگر میں  ان کو جدت یا فنِ تعمیر کے  حوالے  سے  نہیں  بلکہ ان حوالوں  سے  دیکھنے  کا خواہشمند تھا جن حوالوں  کی یاد میں  یہ یادگاریں  تعمیر کی گئی ہیں۔ میں  قدم قدم پر رک کر مدینہ شریف کے  ذرے  ذرے  کی زیارت کرنا چاہتا تھا۔ میں  مساجد میں  مراقبہ کرنا چاہتا تھا۔ میں  لمحہ موجود کی گرفت سے  آزاد ہو کر اپنے  حسین ترین ماضی کی آزاد فضاؤں  میں  سانس لینا چاہتا تھا۔ مگر لمحہ موجود کی گرفت سے  آزاد ہونا کوئی آسان کام نہیں۔ ہمارا موجودہ لمحہ ہمارے  گائیڈ کی مرضی کے  تابع تھا۔ اسے  واپسی کی جلدی تھی۔ سوہمیں  تشنہ تمناؤں  سمیت واپس آنا پڑا۔ واپسی پربھی موصوف اپنی کاروباری دیانت کی یقین دہانی کراتے  رہے۔ اپنی مزدوری پندرہ پندرہ ریال وصول کرنے  کے  بعد انہوں  نے  بتایا کہ ہمارے  پاس ایک خاص تیل بھی ہے۔ جو ایک خاص پہاڑی بوٹی سے  تیار کیا جاتا ہے۔ اس بوٹی کا نام یاد نہیں۔ اس کے  خواص بتانے  کے  ساتھ ساتھ انہوں  نے  سرمہ شفا کا ذکر بھی کیا کہ اس وقت میرے  پاس یہ سرمہ بھی ہے۔ انہوں  نے  دونوں  کی قیمت بتائی مگر کسی نے  ان کی یہ چیزیں  نہیں  خریدیں۔ گاڑی سے  اترتے  وقت اندازہ ہوا کہ گاڑی اور گائیڈکاساتھی دونوں  کرائے  کے  تھے۔ اس لئے  کہ ہم سے  وصول کردہ رقم میں  سے  کچھ ریال اس نے  ڈرائیور کو اور کچھ اپنے  ساتھی کو دے  دیئے۔ آج کا دن ان کے  لئے  مزدوری کے  لحاظ سے  نا مبارک تھا۔ کہ انہیں  کوئی بچت نہیں  ہوئی۔ وجہ اس کی یہ ہوئی کہ جن حضرات نے  بکنگ کرائی تھی ان میں  سے  کافی حضرات تشریف نہیں  لائے۔ ہمیں  ان کی دہاڑی نہ لگنے  کی وجہ سے  قدرے  افسوس ہوا۔ مگر ہم سوائے  دعا کے  کیا کر سکتے  تھے۔ سواس وقت بھی دعا کی اور اب بھی دعا ہے۔ 

الوداع کیسے  کہوں 

رسم دنیا ہی سہی لیکن بتا میں  کیا کروں 
دل نہ چاہے  تو تجھے  میں  الوداع کیسے  کہوں       (سندیسہ)
	آج اپریل کی چودہ تاریخ ہے۔ پندرہ جنوری سے  آج تک میرا روحانی رابطہ مکہ،مدینہ سے  رہا ہے۔ چوبیس فروری کو جسمانی طور پر ہم سرزمین حجاز سے  سرزمین پاکستان میں  واپس آئے  تھے۔ چند روز تک اس سفر سعید کے  زبانی تذکرے  ہوتے  رہے۔ پھر گیارہ مارچ کو اس سفر سعید کو محفوظ کرنے  کی خاطر لکھنا شروع کیا۔ جسمانی سفر میں  میری اہلیہ میری ہمسفر تھی اور اس تحریری یا روحانی سفر میں میرا قلم میراہمسفر رہا ہے۔ میں  اور میراہمسفر ابھی مدینہ منورہ کے  نورانی ماحول میں  ہیں۔ اس ماحول سے  نکلنے  کو جی نہیں  چاہتا۔ اس کی وجہ یہ ہے  کہ فکری طور پر بھی اس ماحول سے  جدائی کے  آثار نظر آ رہے  ہیں۔ 
	جب کوئی نعمت چھن جاتی ہے  اس کی قدر معلوم ہوتی ہے۔ مکہ،مدینہ میں  رہتے  ہوئے  ہمیں  ان مقدس شہروں  کی اتنی قدر نہیں  تھی جتنی اب محسوس  ہو رہی ہے۔ اس کی ایک اور وجہ بھی ہے۔ وہ یہ کہ رودادِ سفر لکھتے  وقت چشمِ تصور نے  مکہ،مدینہ کے  ان مناظر کا نظارہ کیا  جو چشمِ ظاہر سے  ممکن نہیں۔ حقیقت میں  ان نظاروں  کی منظر کشی میرے  قلم کے  بس میں  نہیں۔ مگر کیا کیا جائے  مجبوری ہے۔ 

مجبوری

وقت کی مجبوریوں  کا عذر کیوں  کر مان لوں 
تومراسایہ ہے  میں  تجھ سے  جداکیسے  رہوں 
تو مرے  ماضی کا حصہ ہے  مری پہچان ہے 
ہو مرے  بس میں  تومیں تجھ کو کہیں  جانے  نہ دوں 
	کائنات کی ہر ایک چیز تقدیر کی زنجیر میں  اسیر ہے۔ قدرت کا ایک قانون ہے  جسے  سائنس کی زبان میں  جمود کہا جاتا ہے۔ اس قانون کے  مطابق ہر چیز اپنی حالت کو ہر حالت میں  برقرار رکھنا چاہتی ہے۔ مگر طبیعت کی اس کیفیت کے  برخلاف بیشماردوسری طبیعتیں  برسرِ پیکار رہتی ہیں، جو ہر قرار کو بے  قراری میں  تبدیل کرنے  کے  درپے  رہتی ہیں۔ اس خیال کو علامہ اقبال نے  ان الفاظ میں  بیان فرمایا ہے۔ 
"ثبات ایک تغیر کو ہے  زمانے "
	سوتغیر جمود کا تضاد ہے۔ اور یہ تضاد ہی ہے  جو احساس و ادراک کا محرک ہے۔ ہجر و وصال کی کیفیتوں  میں  یہی حکمت مضمر نظر آتی ہے۔ اگر ملنے  کے  بعد بچھڑنا نہ ہو تو ملنے  کا احساس نہ ہو۔ 
بھانویں  ہجر تے  بھانویں  وصال ہو وے  وکھو وکھ دونواں  دیاں  لذتاں  نیں 
میرے  سوہنیا جاتوں  ہزار واری، آ جا پیاریا تے  لکھ وار آ جا 
(کیفیت ہجر اور کیفِ وصال دونوں  کی جدا جدا لذتیں  ہیں۔ سو ان واردات کا بار بار تجربہ کرنے  کی تمنا ہے۔)
	فطرتِ جمود کی وجہ سے  مکہ،مدینہ کی سوچوں  اور خیالات کا دامن چھوڑنے  کو جی نہیں  چاہتا۔ لیکن میرا چاہنا قدرت کی چاہت کے  تحت ہے۔ میری ہی نہیں  پوری مخلوق خالق کی چاہت کے  تحت مجبور و بے  بس ہے۔ میں  تو چاہتا ہوں :۔ 
ہو اگر ممکن تومیں  اس ساعتِ موجود کو
ایک نقطے  پر ہمیشہ کے  لئے  روکے  رکھوں     (سندیسہ)
لیکن رکنا ممکن نہیں  کہ یہ منشائے ربانی کے  خلاف ہے۔ سومیں  اپنی منشاء کو رب کی منشاء کے  سپرد کرتا ہوں۔ وہ اس فقیر سے  جو کام لینا چاہے  لے۔ 
میں  دتی ہتھ واگ بلوچے  جدھرچلاوے  چلاں        (میاں  محمد بخش)
میں  نے  اپنی باگ ڈور اپنے  مالک کے  ہاتھ دے  دی ہے  جدھر چلائے  گا چلا جاؤں  گا۔ صرف اس مالک و خالق سے  دعا ہے  کہ وہ ان سہانی یادوں  کے  تناظر میں  مستقبل کے  نظارہ کی توفیق عطا فرمائے۔ 

نوٹس__ کوچ نقارہ

جسم ہے  دھوکا مجھے  تجسیم سے  الفت نہیں 
ٹوٹ سکتا ہے  کسی لمحہ نگاہوں  کا فسوں 
ہم نشیں  یوں  تو بظاہر رابطہ کٹ جائے گا
کٹ نہیں  سکتاکسی صورت مگر ربطِ دروں 
ممکنہ خدشات میں  امید کا پہلو بھی ہے 
آنے  والے  وقت کا صفدرؔ میں  کیوں  نوحہ لکھوں          (سندیسہ)
	۴۔ اکتوبر ۱۹۸۰ء؁ کو ہمارے  سکول کے  چھ ساتھیوں  کی بیک وقت مختلف مقامات پر ٹرانسفر ہو گئی۔ اس موقعہ پر کہے  ہوئے  شعر اس وقت کی کیفیت کی کچھ عکاسی کرتے  ہیں۔ اصل نظارہ چشمِ باطن کا نظارہ ہے۔ چشم ظاہر کے  نظارے  کو ظاہر کی نظر سے  دیکھنا محض نظارہ ہے  اور اس نظارے  کو چشمِ باطن سے  دیکھنا زیارت ہے۔ اور یہی زیارت ہے  جسے  اہلِ نظر معرفت کہتے  ہیں۔ اور معرفت کے  لئے  بصارت کی نہیں  بصیرت کی ضرورت ہے۔ معرفت کی زیارت کھلی آنکھوں  سے  بھی ممکن ہے  اور بند آنکھوں  سے  بھی۔ معرفت ایک مستقل رابطہ ہے  جو ہجر و وصال ہر حال میں  برقرار رہتا ہے۔ معرفت ہر حال میں  حال  ہے۔ اس کے  راستے  میں  زمان و مکان کے  فاصلے  کوئی معنی نہیں  رکھتے۔ مگر یہ حال بڑی ریاضت و مشقت سے  نصیب ہوتا ہے۔ سالوں  کے  مراقبہ سے  تصور اپنے  مقصود و مطلوب پہ مرتکز ہوتا ہے۔ اور یہ ارتکازِ توجہ یا گیان دھیان ہی زیارت و معرفت کا ذریعہ ہے۔ 
	مکہ،مدینہ کی ظاہری آنکھ سے  زیارت آنکھوں  کی ٹھنڈک اور دلوں  کا سکون ہے۔ اور چشمِ تصور سے  مقامات مقدسہ کا نظارہ بھی تسکین و اطمینان کا ذریعہ ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ کا کرم ہے  کہ اس نے  پہلے  چشمِ ظاہر سے  پھر چشمِ باطن سے  اپنے  گھر اور پیارے  نبیؐ کے  در کی زیارت نصیب کی۔ اڑتیس روز تک ہم جسمانی اور روحانی طور پر نورانی ماحول میں  سرشار رہے  مگر ۲۲،فروری ۲۰۰۵ء؁ کی عشاء کو روانگی کا نوٹس پڑھ کر دل دھک سے  رہ گیا۔ نوٹس میں  پندرہ جنوری کی پرواز کے  حجاج کرام کو تئیس فروری کی ظہر تک واپسی کے  لئے  تیار ہونے  کی ہدایت کی گئی تھی۔ 
	واپسی کے  اعلان کے  ساتھ ہی حجاج کرام کی توجہ مسجدِ نبویؐ کے  بجائے  بازار کی طرف مبذول ہو گئی۔ حجاج کرام بچے  ہوئے  ریال خرچ کرنے  کی فکر میں  مصروف ہو گئے۔ ہمارے  پاس ریال تو تھے  مگر بوجھ اٹھانے  کی سکت نہیں  تھی۔ دوسروں  کی دیکھا دیکھی زیور،کپڑا، یا  الیکڑانک کا سامان خریدنے  کو دل تو ہمارا بھی چاہتا تھا مگر ہماری کمزوری ہماری مجبوری تھی۔ اس مجبوری کی وجہ سے  ہم اپنا بوجھ بڑھانے  سے  بچ گئے۔ ہم نے  صرف چند کلو کھجوریں  خریدنے  پر اکتفا کیا۔ اس احتیاط کے  باوجود تین بیگ اور دو گیلن گھرواپسی تک ہمارے  لئے  دردِ سر بنے  رہے۔ 
	ہمارے  کمرے  کے  ساتھی بہت مہربان تھے۔ ان کا بیٹاسعودیہ کے  کسی شہر میں  ملازمت کرتا ہے۔ وہ بھی والدین کے  ساتھ حج کر رہا تھا۔ اس کے  دوساتھی جو کہ مدینہ منورہ میں  مقیم ہیں انہوں  نے  بھی ہماری بڑی خدمت کی۔ وہ جہاں  کہیں  بھی ہیں  اللّٰہ انہیں  خوش رکھے۔ انہوں  نے  سامان پیک کرنے  سے  لوڈ کرانے  تک ہماری بڑی مدد کی۔ 

واپسی

	تئیس فروری کو وطن واپسی کے  لئے  نمازِ ظہر کے  بعد ہمارا قافلہ جدہ کے  لئے  روانہ ہوا۔ اس وقت عجیب کیفیت تھی۔ گھر واپس ہونے  کی خوشی تھی اور مکہ، مدینہ سے  جدا ہونے  کا غم بھی۔ ہم نے  مسجد نبوی کے  بیرونی حصہ کی صرف ایک دفعہ زیارت کی تھی وہ بھی اس دن جس دن جنت البقیع کی زیارت کے  لئے  گئے  تھے۔ جنت البقیع کی زیارت اس روز نصیب نہیں ہو سکی۔ اس دن جنت البقیع کا دروازہ اور دیواریں  دیکھی تھیں  یہاں  کے  مبارک مقیمین کے  مقبروں  یا مقبروں  کے  نشانات کی زیارت نہیں  ہوئی تھی۔ مسجدِ نبویؐ کو بھی پوری طرح نہیں  دیکھا تھا۔ اس وجہ سے  دل میں  شدید قسم کی تشنگی پائی جاتی تھی۔ اللّٰہ تعالیٰ نے  ہماری اس تشنگی کی تسکین کا سبب عین اسی وقت بنا دیاجس وقت ہم ادھوری حسرتیں  لئے  وطن واپس آ رہے  تھے۔ 
	ہماری بلڈنگ کی اوپر والی منزلوں  سے  مسجدِ نبویؐ کے  مینار نظر آتے  تھے  نیچے  سڑک سے  نظر نہیں  آتے  تھے۔ گاڑی روانہ ہوئی تو مینار نظر نہیں  آئے  مگر جیسے  ہی گاڑی نے  چند میٹر آگے  جا کرموڑمڑاتومسجدِ نبویؐ کے  مینار نظر آنے  لگے۔ چند قدم پر مینا ردوسری عمارتوں  کی اوٹ میں  اوجھل ہو گئے۔ چند میٹر آگے  بڑھنے  پر پھر مینار نظر آنے  لگے۔ گاڑی کا روٹ ہی کچھ اس طرح کا تھا کہ مدینہ شریف چھوڑتے  ہم نے  مکمل مسجدِ نبویؐ کی زیارت کر لی۔ یہی نہیں  بلکہ چلتے  چلتے  جنت البقیع کا نظارہ بھی کر لیا۔ اس نظارہ سے  اضطراب قلب میں  قدرے  ٹھہراؤ کی کیفیت پیدا ہو گئی۔ مگر جیسے  ہی ہم حدود مدینہ سے  باہر ہوئے  اس ٹھہراؤ میں  ایک او الجھاؤ پیدا ہو گیا۔ 

بھریا ان کا جانئے ........ 

	میاں  محمد بخش جن کے  بہت سے  اشعار اس تحریر میں  آ رہے  ہیں۔ ان کی ایک تمثیل کا مصرعہ ہے :۔ 
"بھریا انکا جانیئے  جن کا توڑ چڑھے "
	تمثیل کا آغاز اس طرح ہوتا ہے  کہ چند سہیلیاں  پانی بھرنے  کے  لئے  پنگھٹ پہ جاتی ہیں۔ ان میں  کئی ایسی ہیں  جنہوں  نے  گھڑے  بھرکرسروں  پہ رکھ لئے  ہیں  اور کچھ ایسی بدقسمت ہیں  کہ وہ خالی گھڑے  لے  کر لوٹ رہی ہیں۔ اب جنہوں  نے  بھرے  گھڑے  سروں  پہ رکھے  ہیں  وہ بڑی احتیاط سے  پھونک پھونک کر قدم رکھ رہی ہیں  اس ڈر سے  کہ کہیں  پاؤں  پھسل نہ جائے  اور پانی گر نہ جائے۔ اور نتیجہ کے  طور پر کہتے  ہیں  کہ کمائی صرف انہی کی ہے  جو پانی سمیت صحیح وسالم گھر لوٹتی ہیں۔ 
	نیکی کمانا مشکل ہے۔ مگر محض نیکی کمانا مقصود نہیں۔ نیکی کو بچانا اصل کمائی ہے۔ میاں  صاحب اس تمثیل کے  ذریعے  یہی سمجھا رہے  ہیں  کہ اعمالِ صالح کی حفاظت بہت ضرور ی ہے۔ اس لئے  کہ قدم قدم پہ شیطان کے  ہاتھوں  لٹنے  کا خدشہ ہے۔ شیطان جو کہ انسان کا ازلی دشمن ہے۔ وہ اس تاک میں  رہتا ہے  کہ کسی نہ کسی طرح اسے  گمراہ کرے۔ اگر انسان نے  خوش قسمتی سے  کوئی نیکی کمائی ہے  تو وہ اس نیکی کو برباد کرنے  کی پر زور کوشش کرتا ہے۔ بعض دفعہ تو اس کی کوشش سے  اچھے  بھلے  نیکو کار دوزخی ہو جاتے  ہیں۔ حضورﷺ کے  فرمان کا مفہوم ہے  کہ کنگال وہ ہے  جس کے  نامہ اعمال میں  بہت ساری نیکیاں  ہوں۔ مگر ان نیکیوں  کے  برعکساگر اس نے  کسی کا حق کھا لیا یا دبا لیا ہو تو قیامت کے  دن اس کی نیکیاں  اس کو دلائی جائیں  گی۔ جب نیکیاں  ختم ہو جائی گی تو حقدار کی برائیاں  اس کے  اعمال نامے  میں  ڈال دی جائیں  گی۔ اللّٰہ تعالیٰ ایسی اذیت سے  ہر مسلمان کو بچائے۔ 
	مدینہ النبیؐ سے  مدینہ الحجاج تک حجاج کرام کا مزاج کافی حد تک حاجیانہ تھا۔ مگر مدنی حدود سے  نکلتے  ہی حج کے  اثرات زائل ہونا شروع ہو گئے۔ عورتوں  اور مردوں  میں  جو شرعی پردے  کا حجاب تھا آہستہ آہستہ بے  نقاب ہونے  لگا۔ ہلکا پھلکا مذاق شروع ہو گیا۔ ایک خاتون جو ذرا اونچی آواز میں  بول رہی تھی اس کا پینڈو انداز دوسری کو ناگوار گذراتو اس نے  جملہ کسا:۔ 
" صدقے  جانواں  کتھوں ایں ؟(قربان جاؤں  کہاں  کی ہو؟)"
عیسیٰ خیل(مسؤلہ نے  جواب دیا)
عطاء اللّٰہ نیازی تینڈاکی لگیندا اے ؟(عطاء اللّٰہ نیازی سے  تمہارا کیا رشتہ ہے)
	عطاء اللّٰہ عیسیٰ خیلوی ایک عوامی موسیقار ہے۔ اس کی ازدواجی زندگی پر تبصرے  شروع ہو گئے ...... معاً میرے  دل سے  آواز آئی۔ آ گیا!دشمن آ گیا!انسان کا ازلی دشمن شیطان آ گیا۔ میں  نے  فوراً جیب سے  تسبیح نکالی استغفار اور لاحول کا ورد شروع کر دیا۔ اہلیہ کو بھی استغفار کا مشورہ دیا۔ اس نے  بھی تسبیح شروع کر دی۔ اب پتہ چلا کہ تبلیغ والے  واپسی پر استغفار کی کیوں  تلقین کرتے  ہیں۔ ہنسی مذاق جاری رہا۔ شیطان اپنا کام کرتا رہا۔ وہ لوٹتا رہا اور حجاج کرام لٹتے  رہے۔ اللّٰہ جانے  کون اس ڈاکو کی دست برد سے  محفوظ رہا۔ 

جدہ سے  پنڈی

	مدینہ منورہ سے  جدہ کافی دور ہے۔ ہم نے  عصر، مغرب اور عشاء کی نماز راستے  میں  ادا کی۔ تقریباً نو دس بجے  جدہ ائرپورٹ پہنچے۔ میرے  لئے  سامان سنبھالنا مشکل تھا۔ اللّٰہ تعالیٰ نے  ایک نوجوان جوڑے  کو ہماری مدد کے  لے  بھیج دیا۔ نوجوان نے  تبلیغیوں  کی سی پگڑی باندھی ہوئی تھی اس نے  مجھ سے  بیگ اور کنستر چھین لئے۔ اور ہمیں  ساتھ لئے  اسی جگہ لے  گیا جہاں  جدہ آمد کے  وقت ہم نے  ناشتہ کیا تھا۔ 
	جدہ ائر پورٹ عجیب قسم کا ائر پورٹ ہے۔ بڑی بڑی دیو ہیکل قسم کی چھتریوں  کے  نیچے  عام قسم کے  دفاتر ہیں۔ یہ چھتریاں  اتنی بڑی ہیں  کہ بڑے  سے  بڑا جہاز بھی اس میں  بآسانی سماسکتا ہے۔ میں  نے  اپنے  مددگار جوان سے  زیادہ تعارف نہیں  کیا۔ صرف اتنا معلوم ہوا کہ وہ جہلم کے  کسی نواحی دیہات کے  رہنے  والے  ہیں۔ وہ پہلے  بھی حج کی سعادت حاصل کر چکے  تھے۔ ان کے  پاس چار پانچ کنستر آبِ زمزم کے  تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم رمضان شریف میں  افطاری زمزم سے  کراتے  ہیں۔ ان کے  پاس اپنا بھی کافی سامان تھا اس کے  باوجود انہوں  نے  ہماری بہت مدد کی ہے۔ جدہ ائر پورٹ پر وزن کرانے  سے  لے  کر اسلام آباد ائرپورٹ پر سامان وصول کرنے  تک کے  تمام مراحل پر انہوں  نے  ہم سے  بہت تعاون کیا۔ اللّٰہ تعالیٰ انہیں  جزائے  خیر عطا فرمائے۔ 
	تئیس اور چوبیس فروری کی رات ہم نے  جاگ کر گذاری۔ رات کو زیادہ جاگنے  کی وجہ سے  مجھے  نزلہ زکام ہو جاتا ہے۔ مگر اللّٰہ کا کرم ہے  کہ اس رت جگے  کی وجہ سے  مجھے  کوئی عارضہ لاحق نہیں  ہوا۔ تاہم تھکن اتنی زیادہ تھی کہ واپسی کے  پندرہ بیس روز تک گھر سے  نکلا نہیں  گیا۔ ہماری فلائٹ کا وقت غالباً پانچ بجے  صبح تھا۔ اتنا یاد ہے  کہ ہم نے  صبح کی نماز جدہ ائر پورٹ پر ادا کی تھی۔ 
	نماز پڑھنے  تک ہم چیکنگ کے  تمام مراحل طے  کر چکے  تھے۔ اب جہاز تک جانے  کے  لئے  ہمیں  کوئی خاص تردد نہیں  کرنا پڑا۔ ایسے  معلوم ہواجیسے  ہم ایک کمرے  سے  ملحقہ دوسرے  کمرے  میں  داخل ہوئے  ہیں۔ جہاز میں  داخلے  سے  پہلے  سعودی حکومت کے  اہلکاروں  نے  ایک مترجم قرآن پاک اور کتابوں  کا سیٹ ہر حاجی کو ہدیہ دیا۔ 
	جہاز کا عملہ پاکستانی اور جہاز کسی دوسرے  ملک کا تھا۔ اس دفعہ سیٹوں  کی الاٹمنٹ اس لحاظ سے  غیر مناسب تھی کہ ان میں  محرم یا غیر محرم کا لحاظ نہیں  رکھا گیا تھا۔ میری اور میری اہلیہ کی سیٹ علیحدہ علیحدہ تھی۔ اس طرح بہت سی دوسری جوڑیوں  کی سیٹیں  بھی اکٹھی نہیں  تھیں۔ بہرحال جہاز کے  عملے  نے  بڑی خوش اسلوبی سے  اس غلطی کا ازالہ کیا۔ 
	جدہ آمد کے  وقت رات کا سماں  تھا۔ ہمیں  ستاروں  یا کہیں  کہیں  زمین پہ جگمگاتی روشنیوں  کے  اور کچھ نظر نہیں  آیا۔ اور اب واپسی میں  دن کا سفر تھا۔ ہماری سیٹ جہاز کے  پر کے  اوپر تھی۔ اس وجہ سے  ہم بالکل نیچے  نہیں  دیکھ سکتے  تھے۔ مگر آگے  کا منظر بخوبی نظر آتا تھا۔ جہاز کے  زمین چھوڑنے  اور فضا میں  جانے  تک مجھے  کوئی پریشانی نہیں  ہوئی۔ مگر جوں  ہی جہاز بادلوں  میں  داخل ہوا ایسے  لگاجیسے  ہم کسی گڑھے  میں  گر گئے  ہیں۔ میرا دل دھک سے  رہ گیا۔ میری پشت درد سے  بھر گئی۔ آیت الکرسی کا ورد شروع کر دیا۔ جہاز لمحہ بہ لمحہ اوپر کو اٹھ رہا تھا۔ اٹھتے  اٹھتے  اتنا اوپر چلا گیا کہ بادل ہم سے  نیچے  رہ گئے۔ ذکر کی وجہ سے  کچھ خوف دور ہوا تو باہر کا نظارہ کرنے  کو جی چاہنے  لگا۔ جہاز کے  نیچے  بادل ایسے  لگ رہے  تھے  جیسے  نیچے  سمندر میں  برف کے  بڑے  بڑے  سفید تودے  تیر رہے ہوں۔ دائیں  بائیں  کے  بادل ایسے  معلوم ہوتے  تھے  جیسے  برف کے  بڑے  بڑے  پہاڑ ہوں۔ اس نظارے  کے  باوجود دل میں  خوف بدستور موجود تھا۔ اسی کیفیت میں  رفع حاجت کی ضرورت محسوس ہوئی۔ توجہ تقاضا کی طرف ہوئی تو خوف مزید کم ہو گیا۔ اتنے  میں  جہاز کا عملہ ناشتہ لے  کر آ گیا۔ اب توجہ اس طرف ہو گئی۔ عملے  کے  ایک ملازم نے  باہر جھانک کر بتایا کہ اب ہم کراچی پر پرواز کر رہے  ہیں۔ جہاز آہستہ آہستہ زمین کی طرف آ رہا تھا۔ بادل چھٹ چکے  تھے  خوف کی بجائے  زمین کے  نظارہ سے  یک گونہ فرحت محسوس ہو رہی تھی۔ اسلام آباد کی حدود میں  داخل ہو کر جہاز فضا میں  چکر لگانے  لگا اس جہازی طواف سے  پم نے  اسلام آباد اور اس کے  مضافات کا فضائی نظارہ کیا۔ تھوڑی دیر میں  زمین کی کشش نے  ہم حاجیوں  کو اپنی لپیٹ میں  لے  لیا۔ پھر۔۔۔ 

پھر ہم زمین پر آ رہے 

مشرف گرچہ شدجامی ز لطفش
خدایا ایں  کرم بارِ دگر کُن
۴۔ مئی  ۲۰۰۵ء؁



	      وَعَلَّمَ آدمَ الاَسْمَآء کُلَّھا	 
    اور اللہ نے  آدم ؑ کو تمام اسماء تعلیم فرما دیئے 	

کتابیات

فضائلِ درود
الدلیل المختار فی الحج و زیارۃ۔ الدکتورمسعد محمد الدیب
الرحیق المختوم۔ صفی الرحمٰن مبارکپوری
 انوارِ حرمین۔ وزارتِ مذہبی امور
کتاب الحج۔ مسلم کمرشل بینک
حج مبارک رفیق الحرمین ۔ الائیڈ بینک آف پاکستان
رفیقِ حج۔ مولانا محمد الیاس قادری
لبیک۔ ممتاز مفتی
جبین نعت۔ صفدر قریشی

٭٭٭
تشکر: مصنف جنہوں نے فائل فراہم کی اور اجازت مرحمت کی
ان پیج سے تبدیلی، تدوین اور ای بک کی تشکیل اعجاز عبید
