﻿

بغیچہ

بچوں کی نظمیں


شاہین اقبال اثرؔ






دعا برائے وطن

محفوظ رکھ تو بغض و عداوت کے خار سے
اس کو بچا غرض کے، ہوس کے شرار سے

شاداب رکھ تو اس کو ہمیشہ بہار سے
یارب مرے وطن کو بچا انتشار سے

تو اس کے باسیوں کو عطا اب امان کر
اس کے بڑوں کو، چھوٹوں پہ اب مہربان کر

رہبر کہ رہرووں سے کریں بات، پیار سے
یارب مرے وطن کو بچا انتشار سے

بن جائے کُل جہاں کی ضرورت مرا وطن
روشن ہو آفتاب کی صورت مرا وطن

جل جائے اس کا جسم نہ اپنے شرار سے
یارب مرے وطن کو بچا انتشار سے

خوشحال یہ رہے سدا، حالِ زبوں نہ ہو
پرچم مرے وطن کا کبھی سرنگوں نہ ہو

دنیا میں سربلند رہے افتخار سے
یارب مرے وطن کو بچا انتشار سے

اعدائے خارجی کی نظر سے امان دے
اعدائے داخلی کے بھی شر سے امان دے

مامون ہو یہ گردشِ لیل ونہار سے
یارب مرے وطن کو بچا انتشار سے
٭٭٭


ہکلی نظم

اَ اَ آدمی عَ عجیب ہے
دَ دَ دوست ہے رَ رقیب ہے

کَ کبھی کرے دَ دَ دشمنی
کَ کبھی تو وہ حَ حبیب ہے

رَ رَ روشنی کَ کَ کیجئے
تَ تَ تیرگی مَ مہیب ہے

دَ دَ دِل لگے نَ نہ پڑھنے میں
اَ اَ امتحاں قَ قریب ہے

مَ مَ میں مریض تت تو مرا
ڈَ ڈَ ڈاکٹر طَ طبیب ہے

جَ جَ جو ملا جَ جسے ملا
اَ اَ اپنا اپنا نصیب ہے

دَ دَ دنیا میں پَ پریشاں حال
اَ امیر ہے غَ غریب ہے

جَ جَ جونپوری وَ وہی اثرؔ
ش ش شاعر و اَ ادیب ہے
٭٭٭


توتلی نظم ترجمے کے ساتھ

بُلا تام تلنا بُلی بات اے
بھلا تام تلنا بھلی بات اے

دلا توتلا تل میں تلتا اوں بات
تمد آئی تم تو ملی بات اے

ملی بات میں تاتنی اے ادیب
بوئت توب یہ آپ تی بات اے

نہ تولوں دا ہلدد میں اُلدو تی تان
دناب ایتا تلنا بلی بات اے

دلت بات تلنا ہے اے عادت دلت
تئی بات اے یہ تئی بات اے

دباں پل دو میں اپنی لاتا نئیں
ملے دل میں ایتی تئی بات اے

لتھی توتلی ندم تم نے دو آد
اتلؔ یہ تو بلتل نئی بات اے
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 


برا کام کرنا بری بات ہے
بھلا کام کرنا بھلی بات ہے
ذرا توتلا کر میں کرتا ہوں بات
سمجھ آئی تم کو مری بات ہے
مری بات میں چاشنی ہے عجیب
بہت خوب یہ آپ کی بات ہے
نہ توڑوں گا ہرگز میں اردو کی ٹانگ
جناب ایسا کرنا بری بات ہے
غلط بات کرنا ہے عادت غلط
صحیح بات کرنا صحیح بات ہے
زباں پر جو اپنی میں لاتا نہیں
مرے دل میں ایسی کئی بات ہے
لکھی توتلی نظم تم نے جو آج
اثرؔ یہ تو بالکل نئی بات ہے
٭٭٭

بقر عید آئی، گائے لائیں گے
گائے لائیں گے گوشت کھائیں گے

گوشت کھائیں گے اور کھلائیں گے
یوں غریبوں کے کام آئیں گے

مثلِ دلہن اسے سجائیں گے
گلی کوچوں میں پھر گھمائیں گے

یا تو لیٹیں گے یا لٹائیں گے
ہم بھی اب زور آزمائیں گے

کیا قساوت ہے ہم میں کم کوئی؟
ہم قصائی کو کیوں بلائیں گے

پیچھا سوزوکی کا کریں گے اور
اب کرائے کو ہم بچائیں گے

گائے منڈی سے لالوکھیت تلک
اس کو پیدل چلا کے لائیں گے

بھیڑ بکروں کی بھیڑ میں بھی ہم
بیل گائے کے گیت گائیں گے
٭٭٭

اچھے بچے تو ٹی وی نہیں دیکھتے

ہو جو گندی وہ سی ڈی نہیں دیکھتے
فحش چیزیں کبھی بھی نہیں دیکھتے
اہلِ دل بدتمیزی نہیں دیکھتے
اچھے بچے تو ٹی وی نہیں دیکھتے

دیکھنے میں بظاہر اجالا ہے یہ
اس کے باطن میں جھانکو تو کالا ہے یہ
در حقیت گناہوں کا آلا ہے یہ
اچھے بچے تو ٹی وی نہیں دیکھتے

فحش چیزیں دکھاتا ہے انسان کو
اور کمزور کرتا ہے ایمان کو
ورغلاتا ہے ہر اک مسلمان کو
اچھے بچے تو ٹی وی نہیں دیکھتے

سچ ہے سانپوں کا کوئی پٹارہ ہے یہ
نفس و شیطاں کے ماروں کا مارا ہے یہ
دشمنانِ شریعت کا پیارا ہے یہ
اچھے بچے تو ٹی وی نہیں دیکھتے

مشورہ ہے مرا آپ کو، دیکھئے
ہے جو خود پر لگی چھاپ کو دیکھئے
دیکھنا ہے تو ماں باپ کو دیکھئے
اچھے بچے تو ٹی وی نہیں دیکھتے

کعبۃ اللہ کو سبز گنبد کو دیکھ
جلوۂ حق کو نورِ محمدﷺ کو دیکھ
راہِ سنت کو فرمانِ احمد کو دیکھ
اچھے بچے تو ٹی وی نہیں دیکھتے

اب برائی سے للہ رک جایئے
اچھی باتوں کو دنیا میں پھیلائیے
اچھے بچوں کو یہ بات بتلایئے
اچھے بچے تو ٹی وی نہیں دیکھتے		٭٭٭


تگڑا چور

ہم نے کل رات ایک پکڑا چور
چور دراصل تھا وہ تگڑا چور

آیا قابو میں سخت مشکل سے
ہم نے پکڑا تو اور اکڑا چور

چور دیکھا تھا ایسا پہلی بار
کرے دربان سے جو جھگڑا چور

بکرے دنبے نہیں چراتا تھا
بلکہ مشہور تھا وہ بچھڑا چور
٭٭٭



چندا ماموں

ستم یوں نہ فرمایئے چندا ماموں
بعجلت نکل آیئے چندا ماموں

خفا ہوں گے ورنہ یہ بھانجے زمیں پر
بس اب جلوہ دکھلایئے چندا ماموں

مری پیاری امی کے بھائی ہیں جب آپ
مرے گھر بھی آ جایئے چندا ماموں

بنا آپ کی دید کے عید کیا ہو
ذرا خود ہی بتلایئے چندا ماموں

کبھی آپ سے میں نہ مانگوں گا چندہ
بلا خوف آ جایئے چندا ماموں

سعودی عرب میں تو دیکھے گئے آپ
یہاں بھی نظر آیئے چندا ماموں

تکیں آپ کی راہیں میری نگاہیں
قدم رنجہ فرمایئے چندا ماموں

نہ کیجے قیام آپ بے شک زمیں پر
سویاں تو کھا جایئے چندا ماموں
٭٭٭


مت اکرم، عمران بنو تم
اب ٹیپو سلطان بنو تم

بن جاؤ اسکول مانیٹر
ٹیم کے مت کپتان بنو تم

جاگو جاگو آنکھیں کھولو
مت سونے کی کان بنو تم

فرمانبرداری اپناؤ
کیونکر نافرمان بنو تم

چھوٹوں پر فرماؤ شفقت
اچھے بھائی جان بنو تم

کھیل میں لگ کر قدر نہ کھو اب
عالم عالیشان بنو تم

انسانوں کو اُنس ہو تم سے
اب ایسے انسان بنو تم

دین کے یوں بن جاؤ محافظ
حفاظِ قرآن بنو تم
٭٭٭


کرو مت کسی سے بھی نفرت کی باتیں
زمانے میں پھیلاؤ الفت کی باتیں

شرافت کے کاموں کی ترغیب دو تم
نہ ہرگز سکھاؤ شرارت کی باتیں

نہ مایوسیوں کا کبھی تذکرہ ہو
ہوں ہمت کی باتیں ہوں جرات کی باتیں

نہ اغیار کے مقتدی اب بنو تم
کرو کل جہاں کی امامت کی باتیں

نہ ہو کوڑا کرکٹ سے تم کو لگاؤ
یہ ہیں درحقیقت حماقت کی باتیں

اِدھر کا فسانہ اُدھر کا ترانہ
نہ چھیڑو مجالس میں غفلت کی باتیں

نہ اس کی برائی نہ اس کی برائی
نہ چغلی کا چرچہ نہ غیبت کی باتیں

نہ ٹی وی کے قصے نہ لہو لعب کے
ہوں دوزخ کی باتیں ہوں جنت کی باتیں

دعا ہے خدا سے، مؤثر ہوں تم پر
اثرؔ نے جو کی ہیں نصیحت کی باتیں
٭٭٭


علم

علم اک لازوال دولت ہے
علم اک بے مثال نعمت ہے

علم راحت ہے علم رفعت ہے
علم عظمت ہے علم شوکت ہے

علم کی پیاس وجہِ صحت ہے
اور فقدانِ علم، علت ہے

علم قابل بنائے انساں کو
علم ہی معدنِ لیاقت ہے

علم کھولے جواہرِ انساں
علم ہی آلۂ فطانت ہے

جس کو پینے سے جی نہیں بھرتا
علم ایسا لذیر شربت ہے

علم ہے بس، حدیث و قرآں کا
اس سے ہٹ کر تو فن ہے، صنعت ہے

علم دونوں جہاں میں کام آئے
علم دارین کی سعادت ہے

عالمِ با عمل کا کیا کہنا
اہلِ دنیا کے حق میں نعمت ہے
٭٭٭

تم اس بچے کو چھوٹا مت سمجھنا

تم اس بچے کو چھوٹا مت سمجھنا
ہدف پر لگتے ہیں اس کے نشانے
ہیں اس کی دسترس میں کل زمانے
ذہانت اس کو بخشی ہے خدا نے
تم اس بچے کو چھوٹا مت سمجھنا
کھرے سکے کو کھوٹا مت سمجھنا

کبھی تعلیم سے ہرگز نہ بھاگے
ہے پڑھنے لکھنے میں یہ سب سے آگے
کہ روزِ امتحاں شب بھر یہ جاگے
تم اس بچے کو چھوٹا مت سمجھنا
کھرے سکے کو کھوٹا مت سمجھنا

ہے اس کا ورد بیداری کی باتیں
کرے عقبیٰ کی تیاری کی باتیں
یہ کرتا ہے سمجھداری کی باتیں
تم اس بچے کو چھوٹا مت سمجھنا
کھرے سکے کو کھوٹا مت سمجھنا

یہ رشکِ لؤلؤ و مرجاں بنے گا
یقیناً عالمِ قرآں بنے گا
بڑا ہو کر بڑا انساں بنے گا
تم اس بچے کو چھوٹا مت سمجھنا
کھرے سکے کو کھوٹا مت سمجھنا
٭٭٭

سب کاہلی، سستی کو مٹا دیتے ہیں ابا
انسان کو انسان بنا دیتے ہیں ابا

ورزش کروں پھر فجر پڑھوں، مدرسے جاؤں
یوں صبح سویرے ہی جگا دیتے ہیں ابا

کرتے ہیں بہت پیار سے ہر ایک نصیحت
غصے میں چھڑی صرف دکھا دیتے ہیں ابا

ناغے کے وہ قائل نہیں چھٹی سے ہے نفرت
معمول کا پابند بنا دیتے ہیں ابا

نفرت کے جہاں خار نظر آتے ہیں، فوراَ
الفت کے وہیں پھول کھلا دیتے ہیں ابا

جب کسل اور سستی کا مرض ہوتا ہے لاحق
تب عزم اور ہمت کی دوا دیتے ہیں ابا

مایوس جب ہوتا ہوں میں تعلیم کے دوراں
پھر حوصلہ بھی میرا بڑھا دیتے ہیں ابا
٭٭٭


مری امی

اسلام کے احکام بتائیں مری امی
اغیار کے فیشن سے بچائیں مری امی

ہرگز نہ قضا فجر کی مجھ سے ہو جماعت
یوں مجھ کو علیٰ الصبح جگائیں مری امی

افسانہ و قصہ نہ کہانی نہ ہی لوری
قرآن و احادیث سنائیں مری امی

اخلاق سے کردار سے اور پیار سے مجھ کو
پابند نمازوں کا بنائیں مری امی

قرآن کی تجوید سے ہو جاؤں جو فارغ
پھر یاد کراتی ہیں دعائیں مری امی

سرکارِ دوعالمﷺ سے محبت کا سبق دیں
سنت کے طریقے بھی سکھائیں مری امی

میں حافظ و عالم بھی بنوں عارفِ حق بھی
دیتی ہیں بہر روز دعائیں مری امی

کھیلوں کی اجازت ہے مگر عصر تا مغرب
اوقات گنوانے سے بچائیں مری امی

رکھتی ہیں معاصی کی بلاؤں سے مجھے دور
لیتی ہیں مگر میری بلائیں مری امی

ممکن ہی نہیں بچے بگڑ جائیں ذرا بھی
سب آپ کی جیسی ہوں جو مائیں مری امی
٭٭٭

یہ سزا ہے

استاد نے کہا ہے
لالچ بری بلا ہے

کرتا نہیں ترقی
لالچ میں جو پھنسا ہے

کیوں دیکھتے ہو ٹک ٹک
کیا لالچی پنا ہے

جس نے بھی کی ہے لالچ
کھڈے میں وہ گرا ہے

کرتے ہیں لوگ نفرت
لالچ کی یہ سزا ہے

محنت کرو اثرؔ تم
لالچ میں کیا رکھا ہے
٭٭٭


آپس میں کب ہاتھا پائی کرتے ہیں
اچھے بچے خوب پڑھائی کرتے ہیں

اچھے بچے آپس میں ہیں شیر و شکر
گندے بچے ہیں جو لڑائی کرتے ہیں

جانتے ہیں غیبت ہے کتنا سخت گناہ
پیچھے کسی کے کب وہ برائی کرتے ہیں

پڑھنے میں پیچھے ہے آگے کھیلنے میں
جب ہی تو استاد پٹائی کرتے ہیں

کرتے ہیں جو اماں ابا کی خدمت
وہ بچے عقبیٰ کی کمائی کرتے ہیں
٭٭٭

وہ جو اچھوں کے ساتھ رہتا ہے

اپنی دھن میں مگن وہ رہتا ہے
سیلِ دنیا میں کب وہ بہتا ہے
ڈانٹ ہنس کر بڑوں کی سہتا ہے
وہ جو اچھوں کے ساتھ رہتا ہے
اس کو ہر ایک اچھا کہتا ہے

بات شیطاں کی مانتا ہی نہیں
ویڈیو گیم جانتا ہی نہیں
خاک در در کی چھانتا ہی نہیں
وہ جو اچھوں کے ساتھ رہتا ہے
اس کو ہر ایک اچھا کہتا ہے

گندے بچوں میں وہ نہیں جاتا
دیر سے گھر کبھی نہیں آتا
مار استاد سے نہیں کھاتا
وہ جو اچھوں کے ساتھ رہتا ہے
اس کو ہر ایک اچھا کہتا ہے

سب نمازیں پڑھے جماعت سے
اُنس ایسا ہوا عبادت سے
واسطہ ہی نہیں شرارت سے
وہ جو اچھوں کے ساتھ رہتا ہے
اس کو ہر ایک اچھا کہتا ہے
٭٭٭

جو سوتا ہے وہ کھوتا ہے

جو کھیلوں سے گھبراتا ہے
جو پڑھتا اور پڑھاتا ہے
وہ اچھے نمبر لاتا ہے
جو سوتا ہے وہ کھوتا ہے
جو جاگتا ہے وہ پاتا ہے

جو گندہ بچہ ہوتا ہے
وہ صبح کو اٹھ کر روتا ہے
منہ ہاتھ تلک نہیں دھوتا ہے
جو سوتا ہے وہ کھوتا ہے
جو جاگتا ہے وہ پاتا ہے

جو صبح سویرے اٹھ جائے
اور کر کے وضو مسجد آئے
وہ کیوں نہ بھلا صحت پائے
جو سوتا ہے وہ کھوتا ہے
جو جاگتا ہے وہ پاتا ہے

جو پڑھ کے عشاء سو جاتا ہے
نہیں قیمتی وقت گنواتا ہے
وہ اپنی منزل پاتا ہے
جو سوتا ہے وہ کھوتا ہے
جو جاگتا ہے وہ پاتا ہے

ماں باپ کی خدمت کرتا ہے
استاد کی عزت کرتا ہے
یوں حاصل رفعت کرتا ہے
جو سوتا ہے وہ کھوتا ہے
جو جاگتا ہے وہ پاتا ہے
٭٭٭

عبد الباسط کتنا پیارا بچہ ہے


روزانہ وہ صبح سویرے اٹھتا ہے
منہ دھوتا ہے اور دانتوں کو ملتا ہے
امی ابو کا بھی کہنا سنتا ہے
پڑھنے لکھنے میں بھی سب سے اچھا ہے
دھن کا پکا، اپنے قول کا سچا ہے
عبد الباسط کتنا پیارا بچہ ہے

کھیل کے میدانوں میں جیسا تیسا ہے
معمولات میں مت پوچھیں وہ کیسا ہے
پابندیِ وقت کا خوگر ایسا ہے
بیجا وقت گنوانے سے وہ بچتا ہے
دھن کا پکا، اپنے قول کا سچا ہے
عبد الباسط کتنا پیارا بچہ ہے

امی ابو اس سے محبت کرتے ہیں
اس پر خود استاد بھی شفقت کرتے ہیں
طالبِ علم بھی اس کی عزت کرتے ہیں
وہ کیونکہ جی جان لگا کر پڑھتا ہے
دھن کا پکا، اپنے قول کا سچا ہے
عبد الباسط کتنا پیارا بچہ ہے

قول و فعل سے لگتا ہے پکا مومن
سیدھا سادھا بھولا بھالا ہے لیکن
احمق کوئی اس کو بنا دے ناممکن
ذہنِ حاضر، عقلِ کامل رکھتا ہے
دھن کا پکا، اپنے قول کا سچا ہے
عبد الباسط کتنا پیارا بچہ ہے

اس کی کتابت جیسے کوئی پھول کھلے
اس کی خطابت سے مٹ جائیں شکوے گلے
اس کی فطانت سے لوگوں کو درس ملے
دل کی گہرائی سے باتیں کرتا ہے
دھن کا پکا، اپنے قول کا سچا ہے
عبد الباسط کتنا پیارا بچہ ہے
٭٭٭


میں اب اپنے ابا کو ابا کہوں گا

میں کیا کیا بتاؤں کہ کیا کیا کہوں گا
انہیں رب کی رحمت سراپا کہوں گا
انہیں تا قیامت میں اچھا کہوں گا
نہ فادر نہ ڈیڈی نہ پاپا کہوں گا
میں اب اپنے ابا کو ابا کہوں گا

کہوں آنٹی اب میں چاچی کو کیونکر
پکاروں میں ناموں سے باجی کو کیونکر
کہوں ماما، ممی ، میں امی کو کیونکر
میں اچھی روایت پہ چلتا رہوں گا
میں اب اپنے ابا کو ابا کہوں گا

میں چاچا کو انکل نہ بولوں گا ہرگز
نہ اغیار کا مال مولوں گا ہرگز
خلافِ ادب لب نہ کھولوں گا ہرگز
جو اس راہ میں ہو مشقت سہوں گا
میں اب اپنے ابا کو ابا کہوں گا

کزن کیوں کہوں رشتہ داروں کو آخر
میں اک نام کیوں دوں ہزاروں کو آخر
نہ کیوں روکوں جدت کے ماروں کو آخر
میں اپنی سی کوشش تو کرتا رہوں گا
میں اب اپنے ابا کو ابا کہوں گا

اثرؔ خیر و برکت بھی اس میں چھپی ہے
ہماری روایت بھی اس میں چھپی ہے
سعادت محبت بھی اس میں چھپی ہے
میں اغیار کی سمت مائل نہ ہوں گا
میں اب اپنے ابا کو ابا کہوں گا
٭٭٭

آدمی

سمجھتا ہے دنیا کو گھر آدمی
ہے انجام سے بے خبر آدمی

مجھے ڈر ہے اس کی تباہی کا اب
خدا سے ہوا ہے نڈر آدمی

گریزاں ہے سونے کے خالق سے اب
بنا ہے پرستارِ زر آدمی

وہ فکرِ زمانہ سے بے فکر ہو
اسی فکر میں گم ہے ہر آدمی

نصیحت تو کرتا ہے قرآں اسے
نہیں باز آتا مگر آدمی

یہی آدمیت کی پہچان ہے
نہ دے آدمی کو ضرر آدمی

بڑا قرب مولیٰ کا پاتا ہے جب
جھکاتا ہے سجدے میں سر آدمی

جو خود اپنے عیبوں پہ رکھے نظر
ہے دراصل وہ با ہنر آدمی

جبھی اس میں موجود ہے شر اثرؔ
کہ ہے درحقیقت بشر آدمی
٭٭٭

اچھے بچے

دینِ حق کا دم ہیں بھرتے
ایک اللہ سے ہیں وہ ڈرتے

خالقِ عالم پر ہیں مرتے
اچھے بچے ضد نہیں کرتے

من بھاتی تجویز کی خاطر
چھوٹی موٹی چیز کی خاطر

خود کہیئے کیونکر وہ بپھرتے
اچھے بچے ضد نہیں کرتے

پڑھتے، لکھتے، اٹھتے، سوتے
آتے، جاتے، روتے، دھوتے

کھاتے، پیتے، چڑھتے، اترتے
اچھے بچے ضد نہیں کرتے

خواہش کی تکمیل نہ ہو گر
شور مچاتے کب ہیں رو کر

صبر کی وادی سے ہیں گزرتے
اچھے بچے ضد نہیں کرتے

رکھتے ہیں لہجے میں نرمی
جانتے کب ہیں وہ ہٹ دھرمی

مستقبل میں، ہیں وہ سنورتے
اچھے بچے ضد نہیں کرتے

عجلت وہ کب دکھلاتے ہیں
صبر کا میٹھا پھل کھاتے ہیں

گھاس اثرؔ وہ کب ہیں چرتے
اچھے بچے ضد نہیں کرتے
٭٭٭


میں بتاؤں مسئلے کا حل فری
کیجئے بچوں کو مت انکل فری

آپ نے بچوں کو گر مدعو کیا
مچ نہ جائے جھنگ میں دنگل فری

وقت لگتا ہے اشاعت میں اثرؔ
صبر کا ملتا نہیں ہے پھل فری

ناظمِ اعلیٰ نے یہ فرما دیا
شہر کو بنوائیں گے سگنل فری

ان سے کہہ دو کام میں لگتی ہے رقم
یوں تو ہو جاتی ہے بے شک گل فری

ٹیکسی والے سے اس نے جب کہا
تو کلفٹن تک مجھے لے چل فری

اس نے فوارََ آؤ دیکھا اور نہ تاؤ
جھاڑ دی پہنی ہوئی چپل فری

جس طرف دیکھو دھماکے قتل و خوں
بن گیا ہے ملک یہ مقتل فری
٭٭٭


منے میاں نے روزہ رکھا

وقتِ سحر وہ از خود جاگے
منہ دھونے کو اٹھ کر بھاگے
کھانے پینے میں تھے آگے
منے میاں نے روزہ رکھا
بسکٹ کھایا پاپڑ چکھا

دن چڑھتے ہی دھوپ جو چھائی
کھائی فوراََ دودھ ملائی
مقصد تھا بس روزہ کشائی
منے میاں نے روزہ رکھا
بسکٹ کھایا پاپڑ چکھا

چیونگم بھی تا دیر چبائے
روٹی سالن سب کچھ کھائے
پانی پینے سے گھبرائے
منے میاں نے روزہ رکھا
بسکٹ کھایا پاپڑ چکھا

بھولا پن خود اِس سے عیاں ہے
پوچھا ہم نے روزہ کہاں ہے
بولے وہ بکسے میں نہاں ہے
منے میاں نے روزہ رکھا
بسکٹ کھایا پاپڑ چکھا

سوئے نہیں وہ دن بھر جاگے
کھیلے کودے دوڑے بھاگے
افطاری میں سب سے آگے
منے میاں نے روزہ رکھا
بسکٹ کھایا پاپڑ چکھا

امی ابو تو شاداں تھے
باہر والے سب حیراں تھے
منے میاں پھر منے میاں تھے
منے میاں نے روزہ رکھا
بسکٹ کھایا پاپڑ چکھا
٭٭٭

میاں گڈو

میاں گڈو بھی عجب کام اثرؔ کرتے ہیں
روزہ رکھتے نہیں افطار مگر کرتے ہیں

کب اٹھیں گے مرے گھر والے برائے سحری
اسی لالچ میں تو وہ شب سے سحر کرتے ہیں

وقتِ افطار بصد شوق وہ بے تابی سے
کھانے پینے ہی کی اشیا پہ نظر کرتے ہیں

سحری، ناشتا، لنچ اور ڈنر اور افطار
یہی کرتے ہیں، کوئی کام اگر کرتے ہیں

ہے یہی وجہ میاں گڈو بنے ہیں لڈو
جو ہیں حلوائی بڑی ان کی قدر کرتے ہیں

میاں گڈو تو ہوئے چکنے گھڑے کی مانند
شعر اثرؔ آپ کے کب ان پہ اثر کرتے ہیں
٭٭٭


ایک بھاری بھرکم شخصیت کی شان میں قصیدہ

کئی فِٹ پر براجمان ہے تو
کیا کوئی گوشت کی دکان ہے تو

تجھ کو دیکھا تو بڑھ گیا ایماں
رب کی قدرت کی ایک شان ہے تو

تیری تعریف ہو بیا کیونکر
سچ ہے ناقابلِ بیان ہے تو

آب و گل کا کوئی ذخیرہ ہے
پانی مٹی کا اک مکان ہے تو

تجھ کو تشبیہ کس سے دے شاعر
صرف ٹیلہ نہیں چٹان ہے تو

بال بچوں کی تجھ کو حاجت کیا
خود اکیلا ہی خاندان ہے تو

آسماں تجھ سے مانگتا ہے پناہ
اور زمیں پر وبالِ جان ہے تو

وہ کرے گا مہینے بھر فاقہ
جس کے گھر میں بھی میہمان ہے تو
٭٭٭


گزارش

ہرگز نہ مجھ سے اپنی عداوت نکالیئے
پگڑی نہ میری برسرِ بازار اچھالیئے
ہے ڈوبنے کو میری صحافت سنبھالیئے
ردی کی ٹوکری میں مرا خط نہ ڈالیئے

میں جانتا ہوں لکھنا نہیں آتا ہے مجھے
مجھ میں جو اک ادیب ہے اکساتا ہے مجھے
اب آپ اس ادیب کو ہرگز نہ ٹالیئے
ردی کی ٹوکری میں مرا خط نہ ڈالیئے

شائع ہو میرا خط یہ مجھے اشتیاق ہے
ردی کی ٹوکری کا ستم مجھ پہ شاق ہے
ردی کی ٹوکری ہی کو باہر نکالیئے
ردی کی ٹوکری میں مرا خط نہ ڈالیئے

کرتا ہوں میں بھی بچوں کے اسلام کا ادب
پر میں نہ چھپ سکا تو ہے کس کام کا ادب
اپنے ادب کو آپ ہی انکل سنبھالیئے
ردی کی ٹوکری میں مرا خط نہ ڈالیئے

اب تک میں لکھ چکا ہوں کوئی سو پچاس خط
لیکن ہمیشہ توڑتا ہے میری آس خط
کم ہوں گے ساری دنیا میں مجھ سے مَلالیئے
ردی کی ٹوکری میں مرا خط نہ ڈالیئے

واضح جھلک رہا ہے اگر سچ پنا تو کیا
تحریر میں ہے میری اگر بچپنا تو کیا
آغوش میں ادب کی اسے آپ پالیئے
ردی کی ٹوکری میں مرا خط نہ ڈالیئے

گر جیب خرچ کی ہے ضرورت تو بولیئے
بھر دوں گا سوٹ کیس ذرا لب تو کھولیئے
اوروں کی اشاعت کے بھلا دام کیا لئے
ردی کی ٹوکری میں مرا خط نہ ڈالیئے

اب ساری باتیں چھوڑ دیں اتنا بتائیں آپ
جب مجھ سے کر رہے ہیں مسلسل جفائیں آپ
جائے کہاں ادیب امیدِ وفا لئے
ردی کی ٹوکری میں مرا خط نہ ڈالیئے
٭٭٭

ردی کی ٹوکری

اہلِ قلم بناتی ہے ردی کی ٹوکری
لکھنے کا فن سکھاتی ہے ردی کی ٹوکری

تھکتے نہیں ہیں طالبِ صادق بفیضِ شوق
ذوقِ طلب بڑھاتی ہے ردی کی ٹوکری

نو مشق خود کو جبکہ سمجھنے لگے ادیب
خوش فہمی سے بچاتی ہے ردی کی ٹوکری

خطاطی بین کرتی ہے جب اپنے حال پر
اس وقت مسکراتی ہے ردی کی ٹوکری

بھرتا نہیں ہے پیٹ، بڑی اعلیٰ ظرف ہے
لاکھوں خطوط کھاتی ہے ردی کی ٹوکری

ننھے سے اک رسالے پہ پڑ جائے بار جب
بڑھ کر اسے اٹھاتی ہے ردی کی ٹوکری

جب اول فول نثر ہو، بے وزن نظم ہو
ایسے میں کام آتی ہے ردی کی ٹوکری

اہلِ قلم کے، شرم سے ہوتے ہیں، سر قلم
آئینہ جب دکھاتی ہے، ردی کی ٹوکری

جز حضرتِ مدیر کے خود سوچئیے اثرؔ
دنیا میں کس کو بھاتی ہے ردی کی ٹوکری
٭٭٭


روتا ہے منا

فروخت اصطبل کر کے سوتا ہے منا
جونہی جاگتا ہے تو روتا ہے منا

ہمیں وجہ اس کی یہ آئی سمجھ میں
کہ اشکوں سے منہ اپنا دھوتا ہے منا

جبھی ناز و نخرے دکھاتا ہے اتنے
دراصل اپنے گھر میں کلوتا ہے منا

ہے وزن اس کے کپڑوں کا، اس سے زیادہ
مگر گرم کپڑوں کو ڈھوتا ہے منا

بہاتا ہے دریا وہ بے فکر ہو کر
یونہی اپنے بستر کو دھوتا ہے منا

جسامت ضخامت میں ہے مائیکرو سا
کہ تھوڑی جگہ میں سموتا ہے منا

جبھی دادا گیری دکھاتا ہے اکثر
بہرحال دادا کا پوتا ہے منا

سبھی ماشاء اللہ کہتے ہیں دل سے
اثرؔ جوں ہی تیار ہوتا ہے منا
٭٭٭


گڈو

مرے گھر میں جس وقت آتا ہے گڈو
مرے گھر کی رونق بڑھاتا ہے گڈو

کبھی ہم اٹھاتے ہیں گڈو کو سر پر
کبھی گھر کو سر پر اٹھاتا ہے گڈو

یہی اس کا مسلک ہے جاگو جگاؤ
جبھی سارے ہی گھر کو جگاتا ہے گڈو

جو چیز اس کی خاطر کوئی مول لائے
تو لمحوں میں اس کو اڑاتا ہے گڈو

کہا اس کے اسکول کے ماسٹر نے
کہ پڑھتا نہیں ہے پڑھاتا ہے گڈو

شرارت کوئی اس نے کی ہے یقیناً
نہیں بے سبب مسکراتا ہے گڈو

پٹائی تو کرتا ہے وہ دوسروں کی
مگر خود ہی آنسو بہاتا ہے گڈو

یہی ایک خامی ہے اس میں ابھی تک
کہ چھپ چھپ کے گڈی اڑتا ہے گڈو

اثرؔ بھولا بھالا ہے شاطر نہیں ہے
جبھی بھائی بہنوں کو بھاتا ہے گڈو
٭٭٭

سیب کھانا چاہیئے

اس طرح اب خود کو طاقتور بنانا چاہیئے
صبحِ دم ہر روز اٹھ کر سیب کھانا چاہیئے

قول اک دانا کا ہے آسیب سے بچنا ہے تو
سیب کھانا چاہیئے بس سیب کھانا چاہیئے

سیب کھانا قوتِ دل کا ہے باعث دوستو
سیب کھا کر خود کو اہلِ دل بنانا چاہیئے

بات یہ منعم علیہم کو بتا دیتے ہیں ہم
شکرِ منعم کو نہ ہرگز بھول جانا چاہیئے

سیب کھانا ہے سبب عیش و طرب کا، اس لئے
سیب کھا کر سب غموں کو بھول جانا چاہیئے

گو مقوی ہے مگر ہے سیب بھی آخر سبب
درحقیقت لو مسبب سے لگانا چاہیئے
٭٭٭


فوقی نے اک چوزہ پالا

فوقی نے اک چوزہ پالا
چوں چوں چوں چوں کرنے والا

اس کی خاطر ڈربہ بنایا
باجرہ پھر بازار سے لایا

پھر چوزے کو دانہ ڈالا
بے ناغہ، روزانہ ڈالا

چوزہ جوں جوں بڑھتا جاتا
ماشاء اللہ پڑھتا جاتا

بڑھنے پر معلوم ہوا یہ
عقدہ آخرکار کھلا یہ

چوزہ کب تھا وہ چوزی تھی
مرغا کب تھا وہ مرغی تھی

ویڈنس ڈے اور سنڈے منڈے
دیتی تھی اکثر وہ انڈے

جمع کئے فوقی نے انڈے
کھائے اس کی خاطر ڈنڈے

پھر مرغی کو اس پہ بٹھایا
اکّس کے دن کے بعد اٹھایا

نکلے اس میں سے چھ چوزے
پیارے پیارے ننھے منے

مرغی کے وہ گھر میں رہتے
امی جان کے پر میں رہتے

لیکن دنیا ہے یہ فانی
اس کی ہر شئے آنی جانی

چوزوں پر بھی آئی فنا جب
اک اک کر کے مرنے لگ سب

چوزوں سے محروم ہے فوقی
آج بہت مغموم ہے فوقی
٭٭٭


پہلے تو تولئے
تول کر بولئے

کیجئے بات سچ
جھوٹ مت بولئے

بولنا ہی ہے گر
سوچ کر بولئے

فجر میں اٹھ گئے
شب ہوئی سو لئے

کیجئے نیکیاں
مت گنہ مولئے

ہر مخاطب ہو خوش
یوں گہر رولئے
٭٭٭

لالچ بری بلا ہے

استاد نے کہا ہے
لالچ بری بلا ہے

کرتا نہیں ترقی
لالچ میں جو پھنسا ہے

کیوں دیکھتے ہو ٹک ٹک
کیا لالچی پنا ہے

جس نے بھی کی ہے لالچ
کھڈے میں وہ گرا ہے

کرتے ہیں لوگ نفرت
لالچ کی یہ سزا ہے

محنت کرو اثرؔ تم
لالچ میں کیا رکھا ہے
٭٭٭

برق رفتار ہے پیارا رکشہ
سب کی آنکھوں کا ہے تارہ رکشہ

موت کے دھیان کی توفیق ملے
جب بھی ہو تیرا نظارہ رکشہ

بیچ سڑکوں کے دوڑنا ہے کام
لے بھلا کیسے کنارہ رکشہ

مرنے والے نے وصیت کی تھی
میرے سینے پہ ہے پیارا رکشہ

واہ ظالم وہ ٹرک کا ٹائر
آہ مظلوم بچارہ رکشہ

کیسے ظالم ہیں، نیو ماڈل کو
لوگ کہتے ہیں کھٹارہ رکشہ

ویگن و بس کی ہوئی جب ہڑتال
ہر مسافر یہ پکارا رکشہ

چار پہیوں کا نہیں ہے محتاج
تین ٹانگوں پہ گزارا رکشہ

رہروِ شوق کو زخمی کر کے
اپنی منزل کو سدھارا رکشہ

تیری آہ و فغاں سے دل چھلنی
جاں گسل ہے ترا نعرہ رکشہ
٭٭٭


وہ موٹا اس لئے ڈرتا بہت ہے
کہ غصہ آ پ کا پتلا بہت ہے

یہ بکرا اس لئے دبلا بہت ہے
کہ مہنگائی کا غم کھاتا بہت ہے

کہا کنجوس نے مرنا ہے بہتر
کہ زندہ رہنے میں خرچا بہت ہے

وہ کیا قابل ہے الو سے زیادہ
کہ مہنگا الو کا پٹھا بہت ہے

مریضِ بد نگاہی کی دوا کیا
علاج اس کے لئے جوتا بہت ہے

یہ مانا سانڈ ہے آزاد و خود سر
مگر ہر ایک سے پٹتا بہت ہے

ہوئے سستی کے سوتے اس سے جاری
وہ سوتو رات دن سوتا بہت ہے

وہ تیرے حال پر ہنستا ہے احمق
تو جس کی یاد میں روتا بہت ہے

لپٹ جاتے ہیں شعر از خود زباں سے
مرے اشعار میں شیرہ بہت ہے
٭٭٭

ایک تھا لڑکا سوکھا سڑا

سر میں تھا خناس بڑا
اس سے لڑا اور اُس سے لڑا
ایک تھا لڑکا سوکھا سڑا

اِس سے چھینا اک بسکٹ
اُس سے لیا پورا پیکٹ
جس سے چاہا اس سے اڑا
ایک تھا لڑکا سوکھا سڑا

جو بھی اس کو سمجھاتا
اس کی سمجھ میں کب آتا
جیسے کوئی چکنا گھڑا
ایک تھا لڑکا سوکھا سڑا

شوخی یوں دکھلاتا تھا
بلڈنگ پر چڑھ جاتا تھا
پِھسلا نیچے آن پڑا
ایک تھا لڑکا سوکھا سڑا

اس کے سر پر چوٹ لگی
اس دن اس نے توبہ کی
آیا جوں ہی وقت کڑا
ایک تھا لڑکا سوکھا سڑا
٭٭٭


میں انگلش کو اوائڈ کر رہا ہوں
جبھی اردو کو سائڈ کر رہا ہوں

مرے فادر نے دی مجھ کو ٹرینگ
میں اپنے سن کو گائڈ کر رہا ہوں

میں ڈیڈی اور ماما میں مسلسل
محبت کو ڈیوائڈ کر رہا ہوں

ہماری نیشنل لنگویج ہے اردو
جبھی اردو کو ہائڈ کر رہا ہوں

میں ہوں ان۔نون راہوں کا مسافر
مگر اوروں کو گائڈ کر رہا ہوں

نہ ٹچ کر پائے کوئی بیٹس مین اب
جبھی میں بال وائڈ کر رہا ہوں	٭٭٭



ہکلی نظم

پھ پھ پھول بن کے کھلا کرو
مَ مَ مسکرا کے ملا کرو

تَ تَ تم بہت نَ نَ نیک ہو
مَ مرے لئے دَ دعا کرو

نَ نَ نعمتوں پہ ہَ ہر گھڑی
شَ شَ شکر رب کا ادا کرو

بَ بَ بات ہو جو کوئی بری
ہَ ہُ ہونٹ کو سَ سیا کرو

یَ یَ یاد رکھیں تَ تمھیں سبھی
کَ کَ کام وہ کَ کیا کرو

تَ تَ تم ابھی بَ بَ بچے ہو
چَ چَ چائے کم پَ پیا کرو

فَ فَ فائدہ اَ اِسی میں ہے
دَ دَ دودھ دودھ پیا کرو
٭٭٭



آٹھوں پہر اسے تو ضرورت ہے چائے کی
چھٹتی نہیں ہے، جس کو بھی عادت ہے چائے کی

سرگرم ہُوں جو اپنے مشن میں، مَیں ہر نفس
دراصل مخفی اس میں بھی حدت ہے چائے کی

لگتا ہے بعض وقت دسمبر جو ماہِ جون
اس میں بھی کارفرما کرامت ہے چائے کی

جب چائنا کی اولڈ پروڈکٹ چائے ہے
دو سینچریز قبل ولادت ہے چائے کی

ہم اک برس میں پیتے ہیں اربوں روپے کی چائے
یعنی کہ ساری قوم کو چاہت ہے چائے کی

اس کی دوا نہیں ہے مسیحا کے پاس بھی
ناقابلِ علاج یہ علت ہے چائے کی

چائے نہیں ملے تو سبھی اونگھتے رہیں
ہم جاگتے ہیں یہ بھی عنایت ہے چائے کی

پیتے ہیں اس کو اولیاء اللہ بھی اثرؔ
سچ پوچھئے تو یہ بھی سعادت ہے چائے کی
٭٭٭


چودہ اگست کے موقع پر

دہر میں پھیلائیں ہم تنویر پاکستان کی
آیئے مل کر کریں تعمیر پاکستان کی

یا الٰہی بھیج ایسا مردِ مومن مردِ حق
جو بدل دے یک قلم تقدیر پاکستان کی

جس میں ہو اسلام بھی انصاف بھی اقدار بھی
دہر کو دکھلائیں وہ تصویر پاکستان کی

روز و شب محنت کریں محنت کریں محنت کریں
یوں بڑھائیں عزت و توقیر پاکستان کی

کون ہے جو اس طرف میلی نظر سے دیکھ لے
حیثیت ہے اب تو عالمگیر پاکستان کی

پرتھوی و اگنی پر نازاں نہ ہوں سردار جی
غوری و شاہین ہے شمشیر پاکستان کی

خواب جو دیکھا حکیم الامتِ خوش فکر نے
کاش ہو جائے وہی تعبیر پاکستان کی

یوں ہی کب کشمیر پر ہم حق جماتے ہیں جناب
واقعی جاگیر ہے کشمیر پاکستان کی

دشمنانِ دین خوش فہمی کی باتیں چھوڑ دیں
غیر ممکن ہے اثرؔ تسخیر پاکستان کی
٭٭٭

یومِ دفاع کے موقع پر

نہیں مانندِ دشمن، جاں بچانا جانتے ہیں ہم
وطن کی عاشقی میں جاں سے جانا جانتے ہیں ہم

سروں کے سامنے سر کو اٹھانا جانتے ہیں ہم
سرِ میدانِ حق سر کو سجانا جانتے ہیں ہم

حصولِ جنت الفردوسِ لامحدود کی خاطر
متاعِ دارِ فانی کو لٹانا جانتے ہیں ہم

بجھا سکتے نہیں اعدائے دیں، اسلام کی شمع
کہ خوں دے کر بھی یہ شمع جلانا جانتے ہیں ہم

اگر تم تجربے کرتے ہو آئے دن تو مت بھولو
کہ تم سے بڑھ کے میزائل بنانا جانتے ہیں ہم

مسلسل دوش دینا اور مچانا خوب واویلا
ہے ہمسائے کا یہ حربہ پرانا جانتے ہیں ہم

بھلا ان دھمکیوں سے دھونس سے مرعوب کیوں ہوتے
کہ زیرِ تیغ بھی جب مسکرانا جانتے ہیں ہم

ہمارے آب پر قبضہ جمائے کب سے بیٹھا ہے
ہے تیرا ظرف مشہورِ زمانہ جانتے ہیں ہم

اگر ہے شوق طاقت آزمائی کا، مقابل آ
مزہ تجھ کو بھی جنگوں کا چکھانا جانتے ہیں ہم

ہے مثلِ فیل تیرا جسم لیکن دل ہے گیدڑ سا
کہ سن پینسٹھ میں تیرا مات کھانا جانتے ہیں ہم
٭٭٭

آیا اثرؔ پھر موسم سرما
نظم سے اپنی بزم کو گرما

سخت ہوئے ہیں مثلِ پتھر
اشک بہا کے دل کو نرما

ذاتِ خدائے پاک ہے بے شک
جگ میں ہر سو جلوہ فرما

گرچہ گرانی باطل پر ہو
حق گوئی سے تو مت شرما

نالائق گو ہم ہیں یارب
فضل و کرم تو اپنا فرما

آم نہیں تو کام چلا لے
کھا کے اثرؔ توُ سردا گرما
٭٭٭


خاص لوگوں کو بتانا چاہیئے
خاص نمبر خاص آنا چاہیئے

جو چھپے ماچس کی ڈبیہ پر فقط
ان لطیفوں کو بھلانا چاہیئے

جن لطیفوں سے جبیں ہو پُر شکن
جان اب ان سے چھڑانا چاہیئے

صرف پھیکی مسکراہٹ کی بجائے
کھُل کھُلا کر کِھلکِھلانا چاہیئے

اشتیاق احمد چچا کے خامہ سے
اشتیاق اپنا بڑھانا چاہیئے

پیارے پیارے آم کے اشعار سے
خاص نمبر کو سجانا چاہیئے

خاص نمبر شائع ہو جانے کے بعد
آم نمبر بھی تو آنا چاہیئے

آم نمبر جب چھپے تو، آم کا
ٹوکرا بھی ساتھ آنا چاہیئے

ٹوکرے پر یاد آیا، ٹوکرا
اب تو ردّی کا ہٹانا چاہیئے

جو اشاعت کے نہ ہوں قابل خطوط
ان کو دریا میں بہانا چاہیئے

پھر کہیں گے بچے ایڈیٹر کو تو
خط بہانے کا بہانہ چاہیئے

خط پہ یاد آیا کہ ہر ہفتے ہمیں
خود ہی اپنا خط بنانا چاہیئے

یاں بنانا سے نہیں کیلا مراد
کب اکیلا کیلا کھانا چاہیئے

ذکر جب کھانے کا آیا بھول سے
پھر تو کھانا یاد آنا چاہیئے

یاد آنے پر ہمیں یاد آ گیا
یادِ ماضی بھول جانا چاہیئے

حال کو تبدیل کر کے دوستو
اپنا مستقبل سجانا چاہیئے

اصل مستقبل تو عقبیٰ ہے اثرؔ
دارِ عقبیٰ کو سجانا چاہیئے
٭٭٭

جو اک بار اے دوست جاتی ہے بجلی
بڑی منتوں سے پھر آتی ہے بجلی

سرِ شام ہی سے یہ رہتی ہے غائب
علی الصبح جلوہ دکھاتی ہے بجلی

شکایت ہے بچوں کو یہ واپڈا سے
کہ بچوں کو شب میں ڈراتی ہے بجلی

سبھی دیکھتے ہیں بصد شوق اس کو
کہ صورت دکھانے کو آتی ہے بجلی

بڑی زاہدانہ روش کی ہے حامل
کہ گرمی میں شب بھر جگاتی ہے بجلی

جو پڑھتے نہیں فجر بھی ان کو اکثر
تہجد کا عادی بناتی ہے بجلی

وہاں لوڈشیڈنگ سے محروم ہیں سب
جہاں پر کہ کنڈے سے آتی ہے بجلی

جبھی خون انساں کا کرتی ہے پانی
کہ پانی میں ہر دم نہاتی ہے بجلی

سو میٹر بھی ہے برق رفتار اتنا
زباں صارفیں کو چڑاتی ہے بجلی

میں پھر بھی نہیں ہوتا آپے سے باہر
مرے ظرف کو آزماتی ہے بجلی

جلاتی نہیں بلب و سیور ولیکن
دلِ صارفیں کو جلاتی ہے بجلی

اثرؔ شعر لکھنے جو بیٹھا، تو جا کر
مرے حال پر مسکراتی ہے بجلی
٭٭٭


کہانی الگ ہے فسانہ الگ ہے
حقیقت ہے بچوں کی دنیا الگ ہے

بڑوں کا جو غم ہے وہ ہے مختلف سا
پر اطفال کا رونا گانا الگ ہے

ہے فکر و نظر میں بھی خاصا تفاوت
کہ خواہش جدا ہے تمنا الگ ہے

بڑوں کی خوشی کا ہے معیار دوجا
مگر چھوٹے بچوں کا ہنسنا الگ ہے

مقاصد ہیں دیگر مفاسد ہیں دیگر
مشاغل جدا ہیں تماشہ الگ ہے

ہے بچوں کی منزل تو لہو لعب ہی
بڑوں کا بہرحال رستہ الگ ہے

وہ خوابوں میں بھی دیکھیں بلی و چوزے
تو گویا کہ بچوں کا سپنا الگ ہے

نہیں شاعروں کا ہے فقدان لیکن
اثرؔ کا اک انداز اپنا الگ ہے
٭٭٭


دوستو عادتِ خام ہے کاہلی
جب ہی دنیا میں بدنام ہے کاہلی

زندہ دل چست رہتے ہیں ہر کام میں
مردہ ذہنوں کا پیغام ہے کاہلی

خوئے تحریک ہے صبحِ نو کی مثال
اور ڈھلتی ہوئی شام ہے کاہلی

جاگتے اور جگاتے تو ہوتے نہ سست
خوابِ غفلت کا انجام ہے کاہلی

کل تو پھرتی تھی یہ منہ چھپائے ہوئے
آج ظاہر سرِ عام ہے کاہلی

دینداروں کے حق میں تو سچ پوچھئے
اک زبردست دشنام ہے کاہلی		٭٭٭

جدھر دیکھو نہاں پانی جہاں دیکھو عیاں پانی
اِدھر پانی اُدھر پانی یہاں پانی وہاں پانی

ادھر بارش کی من مانی ادھر دریا کی طغیانی
نکالے اب زمیں پانی انڈیلے آسماں پانی

اگر راضی رہے مولیٰ، فوائد آب کے بے تھاہ
اگر ناراض ہو رب تو بنے وجہِ زیاں پانی

شکستہ بند ہیں سارے بشر بے بس ہیں بے چارے
بحکمِ آسمانی یوں زمیں سے ہے رواں پانی

ترستے ہیں در و دیوار کو خوراک کو انساں
گزرتا ہے کئی گاؤں کو کر کے بے اماں پانی

خود اپنی بے بسی بے ضاعتی کے معترف ہیں ہم
ہمارے ظرف کا کیوں لے رہا ہے امتحاں پانی

بحقِ سَروَرِ عالمﷺ اثرؔ کی یہ گزارش ہے
خدا کے واسطے بندوں پہ ہو جا مہرباں پانی
٭٭٭

بر کے آگے بحر بھی اب مات ہے
ہر طرف برسات ہی برسات ہے

یوں چھپے ہیں ابر میں سورج میاں
دن میں بھی لگتا ہے جیسے رات ہے

بادلوں کی گھن گرج ہے خوفناک
موت خود جیسے لگائے گھات ہے

اپنے ہی اعمالِ بد کی ہے سزا
بے سبب کب گردشِ حالات ہے

ہم ہی اپنی ذات پر کرتے ہیں ظلم
مہرباں بے شک خدا کی ذات ہے

یاس کیوں آئے ہمارے پاس جب
ساتھ صابر کے خدا کی ذات ہے

ہو اجل سے کس لئے خائف اثرؔ
بندہ مومن کی یہ سوغات ہے
٭٭٭


چائے پی اور نہ ڈٹ کے کھانا کھا
دست آئیں تو بس بنانا کھا

گر ہو گرمی سے بطن گرم تو پھر
لال تربوز ایک دانا کھا

گر مسوڑوں میں ہوں پڑے چھالے
مرچ کو چھوڑ، ساگودانہ کھا

زود خوری ہے باعثِ امراض
پیٹ بھر کر کبھی نہ کھانا کھا

جب کہ نزلہ زکام ہو جائے
ٹھنڈی ٹھنڈی غذا، ہوا نا کھا

جب تجھے موسمی بخار آئے
حَبِ کونین اے فلانہ کھا

روح مردار ہو گی جیتے جی
قوم و ملت کا مت خزانہ کھا

گر ہے پینا تو اپنے آنسو پی
گر ہے کھانا، غمِ زمانہ کھا

حق تعالیٰ کو منہ دکھانا ہے
حق کسی کا نہ مجرمانہ کھا
٭٭٭

روشن کریں جہاں کو

دیکھیں غمِ نہاں کو
سمجھیں مرے بیاں کو
مہکائیں گلستاں کو
روشن کریں جہاں کو

حق کے فدائی بن کر
اب بھائی بھائی بن کر
دیں امن بے اماں کو
روشن کریں جہاں کو

تعلیم عام کر کے
تاریخی کام کر کے
چمکائیں آشیاں کو
روشن کریں جہاں کو

باقی ہے حکمِ رب بھی
ہے حق زمیں پہ اب بھی
بتلائیں آسماں کو
روشن کریں جہاں کو

پھیلائیں درسگاہیں
دکھلائیں حق کی راہیں
ہر طفل اور جواں کو
روشن کریں جہاں کو

غیبت حرام سب پر
لائیں نہ جھوٹ لب پر
قابو کریں زباں کو
روشن کریں جہاں کو

ٹی وی کیبل سے بچ کر
تبلیغِ حق و سچ کر
قربان کر کے جاں کو
روشن کریں جہاں کو

انسان دھنس رہا ہے
شیطان ہنس رہا ہے
جاتے ہیں ہم کہاں کو
روشن کریں جہاں کو

دھرتی کا پیار بن کر
بادِ بہار بن کر
آنے نہ دیں خزاں کو
روشن کریں جہاں کو

ہاں کفر تیرگی ہے
ایمان روشنی ہے
سمجھائیں بے ایماں کو
روشن کریں جہاں کو

ظلمت رہے نہ باقی
کر دیں مثال ساقی
سیراب تشنگاں کو
روشن کریں جہاں کو
٭٭٭

میری انکلش بہت ویک ہے
اور اردو بھی کب ٹھیک ہے

بھاری بھرکم ہے اس کا وجود
لیکن آواز باریک ہے

دل کی آنکھوں کو وا کیجئے
آئی سائڈ اگر ویک ہے

میرے پوئم جو مقبول ہیں
میرے مولیٰ کی یہ بھیک ہے

اہلِ جنت بنیں سب، یہی
اہلِ ایماں کی تحریک ہے

راہِ سنت پہ ہُوں گامزن
منزلِ خلد نزدیک ہے

جو گناہوں میں گزرے اثرؔ
ایسی نائٹ ہی تاریک ہے
٭٭٭


گر بھلائی ہو مرغوب خدمت کرو
ہو گے دنیا میں محبوب خدمت کرو

دین و دنیا میں ہونا ہے گر کامیاب
اپنے ماں باپ کی خوب خدمت کرو

کرنا خدمت دلیلِ سعادت ہے دوست
لینا خدمت ہے معیوب خدمت کرو

تم نے شاید کبھی پی کے دیکھا نہیں
کتنا شیریں ہے مشروب خدمت کرو

حق تعالیٰ سے مانگو یہ توفیق تم
یاں یہ نعمت ہے موہوب خدمت کرو

ساری دنیا کے بن جاؤ خادم اثرؔ
گر محبت ہے مطلوب خدمت کرو	٭٭٭

بس اسی پر ان سے فائٹ ہو گئی
ان سے اونچی میری کائٹ ہو گئی

دن میں بھی جب آف لائٹ ہو گئی
یوں لگا جیسے کہ نائٹ ہو گئی

سب نے میرا فاتحہ تک پڑھ لیا
لیٹ کچھ اتنی فلائٹ ہو گئی

گر نہیں کھاتا ہے تو اوپر کا مال
کس لئے وردی یہ ٹائٹ ہو گئی

الٹا لٹکایا گیا اتنا اسے
آٹھ فِٹ چھ انچ ہائٹ ہو گئی

فیس پاؤڈر کا ہے شاید کمال
ان کی رنگت اتنی وائٹ ہو گئی

ہو گیا مانندِ ماؤنٹین وہ
مِیٹ سے حاصل جو مائٹ ہو گئی
٭٭٭


جان اگر جاتی ہے جائے
اپنے وطن پر آنچ نہ آئے

پرچم اپنا یوں لہرائے
دیکھ کے دشمن جل جل جائے

ایٹم بم دن رات بنائے
اپنی طاقت پر اترائے

مادی قوت کام نہ آئے
قوتِ ایماں رنگ دکھائے

ہم بیٹھے ہیں گھات لگائے
جس میں جرات ہو وہ آئے

آئے اگر وہ مدِ مقابل
اپنے منہ کی خود ہی کھائے

خود غرضی ہے اس کی مسلّم
ہمسائے کا حق جو دبائے

واٹر وار کا جو ہے داعی
چُلّو بھر میں ڈوب نہ جائے

مومن موت کو رکھے محبوب
کافر مرنے سے گھبرائے

جارح قوم کی ریت یہی ہے
اپنے کئے پر خود پچھتائے
٭٭٭


کمرے سے باہر نکلنا آ گیا
جب سے عکاشہ کو چلنا آ گیا

چلتے چلتے دوڑنے بھی لگ گئے
گرتے گرتے اب سنبھلنا آ گیا

پہلے تو مشکل تھا بسکٹ توڑنا
اب تو روٹی بھی نگلنا آ گیا

گود میں آنے سے کترانے لگے
جب سے پاؤں پاؤں چلنا آ گیا

کودنا آیا انہیں قالین پر
سنگِ مرمر پر پھسلنا آ گیا

ناک میں دم کر دیا گھر والوں کے
اس قدر ان کو اچھلنا آ گیا

ناز نخرے روٹھنے کے ساتھ ساتھ
اب تو تیور بھی بدلنا آ گیا

سامنے امی کے ضدّی بن گئے
ابو کے آگے پگھلنا آ گیا
٭٭٭


مدرسہ جانا ہو تو ہوتے نہیں بیدار وہ
اور چھٹی ہو تو قبل از فجر ہی تیار وہ

مدرسہ سے آ کے ہو جاتے ہیں وہ یکدم فریش
مدرسہ جانے سے پہلے رہتے ہیں بیزار وہ

مدرسہ جانے سے پہلے سست کاہل اور نحیف
مدرسہ سے آ کے ہوتے ہیں سبک رفتار وہ

مدرسہ تو جبر کر کے ان کو پہنچاتے ہیں سب
شوق سے جاتے ہیں لیکن پارک اور بازار وہ

رہتے ہیں دورانِ تعلیمات پت جھڑ کی طرح
جب ہوں تعطیلات تو یکسر گل و گلزار وہ

دیکھ کر قرآن کو اڑنے لگے چہرے کا رنگ
کمپیوٹر جب مقابل ہو تو ہوں سرشار وہ

مدرسہ کا جب کریں ناغہ تو صحت مند ہوں
مدرسہ کا نام سن کر پھر پڑیں بیمار وہ

گر خوشی سے جاتے تو رہتے وہ خود بھی مست و شاد
مدرسہ جاتے تو ہیں ہی چار یا ناچار وہ

سبقی و منزل کا دوہرانا انہیں بارِ گراں
جب ہی تو استاد سے کھاتے ہیں جا کر مار وہ

گر بنا رکھا یہی دستور تو خود سوچیئے
کس طرح باندھیں گے سر پر علم کی دستار وہ

کوئی ان کی کیا مدد کر پائے گا اس حال میں
خود ہی ہیں اپنی ترقی کے لئے دیوار وہ

کاش ان کا یہ مزاجِ خام ہو تبدیل اب
منزلِ علم و عمل کا کر لیں بیڑا پار وہ

ورنہ پچھتائیں گے اپنی کاہلی پر ایک دن
اور اثرؔ پائیں گے خود کو بے بس و لاچار وہ
٭٭٭

میں موٹا سا اک بچہ ہوں آرام کروں گا پڑے پڑے

کیوں لکھوں پڑھوں گا میں آخر کیوں کام کروں گا بڑے بڑے
کیوں اچھلوں گا کیوں کودوں گا کیوں جاب کروں گا کھڑے کھڑے
مت مجھ کو نصیحت فرماؤ اب جاؤ اِدھر سے اڑے اڑے
میں موٹا سا اک بچہ ہوں آرام کروں گا پڑے پڑے

جتنے بھی پڑھاکو بچے میں سب کو سُست بناؤں گا
محنت کے مشقت کے سارے اسباق حذف کرواؤں گا
سب سوتے سوتے گزریں گے ابواب ہیں جتنے کڑے کڑے
میں موٹا سا اک بچہ ہوں آرام کروں گا پڑے پڑے

بس میرے نیچے گدّا ہے بس میرے اوپر چادر ہے
یہ چلنا پھرنا اور ہلنا سب میری لغت سے باہر ہے
کیوں اٹھ کر چینی ڈھونڈوں گا گُڑ کھاؤں گا میں گڑے گڑے
میں موٹا سا اک بچہ ہوں آرام کروں گا پڑے پڑے

الزام کسی کو دوں کیونکر جب سوچ ہی میری کھوٹی ہے
مانوں گا کسی کا کیوں کہنا جب عقل بھی میری موٹی ہے
اک روز بڑا ہو جاؤں میں اپنی ضد پر اڑے اڑے
میں موٹا سا اک بچہ ہوں آرام کروں گا پڑے پڑے

کیوں بھاگم دوڑ مچائیں گے کیوں کھینچے اور گھسیٹیں گے
کیوں غصہ ہوں گے یاروں پر کیوں ماریں گے کیوں پیٹیں گے
گر میرے جیسے ہو جائیں سب مل جائیں گے لڑے لڑے
میں موٹا سا اک بچہ ہوں آرام کروں گا پڑے پڑے

جو منہ میں ڈالو کھا لوں گا پر ہاتھ بڑھاؤں گا کیونکر
اب تازہ پھولوں کی چاہت میں، میں باغ میں جاؤں گا کیونکر
آرام طلب ہوں اس درجہ پھل کھا لوں گا میں سڑے سڑے
میں موٹا سا اک بچہ ہوں آرام کروں گا پڑے پڑے
٭٭٭


آیا آیا موسم سرما
نظم سے اپنی بزم کو گرما

سخت ہوئے ہیں مثلِ پتھر
اشک بہا کے دل کو نرما

ذاتِ خدائے پاک ہے بے شک
جگ میں ہر سو جلوہ فرما

گرچہ گرانی باطل پر ہو
حق گوئی سے تو مت شرما

نالائق گو ہم ہیں یارب
فضل و کرم تو اپنا فرما

سرد بخار آیا ہے تجھ کو
دیکھ لگا کر میٹر تھرما

آم نہیں تو کام چلا لے
کھا کے اثرؔ  تُو سردا گرما
٭٭٭

ماخذ:
http://www.bazm.org/category/bachoonkinazmain
تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید
