﻿


بلّور





مخدوم محی الدین


جمع و ترتیب: اعجاز عبید









نیا چین



انساں کی آرزو نے انساں کی جستجو نے
گرتی ہوئی زمیں کو آکاش میں اچھالا 
وہ موڑ آ گیا ہے مشرق کی زندگی میں
ہر گام پر سویرا، ہر سو نیا اجالا 
٭٭٭




بھاگ متی 


پیار سے آنکھ بھر آتی ہے کنول کھلتے ہیں
جب کبھی لب پہ تیرا نامِ وفا آتا ہے

دشت کی رات میں بارات یہیں سے نکلی
راگ کی رنگ کی برسات یہیں سے نکلی
انقلابات کی ہر بات یہیں سے نکلی
گنگناتی ہوئی ہر رات یہیں سے نکلی

گھن کی گھنگھور گھٹائیں ہیں نہ ہن کے بادل
سونے چاندی کے گلی کوچے نہ ہیروں کے محل 
آج بھی جسم کے انبار ہے بازاروں میں
خواجۂ شہر ہے یوسف کے خریداروں میں

شہر باقی ہے محبت کا نشاں باقی ہے
دلبری باقی ہے دلداری جاں باقی ہے
سرِ فہرستِ نگارانِ جہاں باقی ہے
تو نہیں ہے تری چشمِ نگراں باقی ہے
٭٭٭




ماسکو کے ہوائی اڈے پر اترتے ہوئے

ہند کی دکھیاری جنتا کا سلام لے لے
پیام لے لے
میرے ساتھ ماسکو
سات نومبر کی جیوتی سے ہم نے رستہ پایا
ہم نے اپنا خون بہا کر تجھ سے ہاتھ ملایا
جگت کی جنتا سے مل جل کر جیون گیت بنایا
تیرے نام سے تیرے کام سے ہر سو دیپ جلایا
ہند کی دکھیاری جنتا کا سلام لے لے
پیام لے لے
میرے ساتھی ماسکو
٭٭٭




احساس کی رات 



‎ مجھے ڈر ہے کہیں سرد نہ ہو جائے یہ احساس کی رات
نرغ طوفانِ حوادث کے، ہوس کی یلغار 
یہ دھماکے، یہ بگولے، سرِ راہ
جسم کا، جان کا، پیمانِ وفا کیا ہوگا ؟
تیرا کیا ہوگا میرے تارِ نفس 
تیرا کیا ہوگا ایہ مضرابِ جنوں 
یہ دہکتے ہوئے رخسار
یہ مہکتے ہوئے لب
یہ دھڑکتا ہوا دل
شفق زیست کی پیشانی کا رنگیں قشقہ 
کیا ہوگا
اڑ نہ جائے کہیں یہ رنگِ جبیں 
مٹ نہ جائے کہیں یہ نقشِ وفا
چپ نہ ہو جائے یہ بجتا ہوا ساز
شمعیں اب کون جلائے گا، سرِ شام گزر گاہوں میں
دہر میں مہر و وفا کچھ بھی نہیں
سجدہ کچھ بھی نہیں، نقشِ کفٕ پا کچھ بھی نہیں
میرے دل اور دھڑک
شاخ گل
اور مہک، اور مہک، اور مہک
٭٭٭





ابھی نہ رات کے گیسو کھلے نہ دل مہکا
کہو نسیم سحر سے، ٹھہر ٹھہر کے چلے

ملے تو بچھڑے ہوئے میکدے کے در پہ ملے
نہ آج چاند ہی ڈوبے، نہ آج رات ڈھلے 
٭٭٭


وصال 

دھنک ٹوٹ کر سیج بنی
جھومر چمکا
سناٹے چونکے
آدھی رات کی آنکھ کھلی
برہ کی آنچ کی نیلی لو
نے بنتی ہے
لے بنتی ہے
شہنائی جلتی روتی تھی
اب سر نیوڑائے
لال پپوٹے بند کئے بیٹھی ہے
نرم گرم ہاتھوں کی مہندی
ایک نیا سنگیت سناتی
دل کے کواڑ پر رک کر کوئی راتوں میں دستک دیتا تھا
دل کے کواڑ پر رک کر وہ دستک دیتا تھا
پر کھلتے ہیں
آنکھ سے آنکھ دلوں سے
دل ملتے ہیں
گھونگھٹ میں جھومر چھپتا ہے
گھونگھٹ میں مکھڑے چھپتے ہیں
دولت خاں کی ڈیوڑھی کے کھنڈروں میں
بوڑھا ناگ روتا ہے
گونگے سناٹے بول اٹھے
گھونگھٹ، مکھڑے، جھومر، پائل
چمک، دمک جھنکار امر ہے
پیار امر ہے
پیار امر ہے
پیار کی رات کی آنکھ امڑ آتی ہے
اور دو پھول
تنور بدن 
شبنم پی کر سو جاتے ہیں
٭٭٭





ہم دونوں


کماری اندرا دھنراجگیر جی کی نظم "Both of us" کا آزاد ترجمہ


رات ہے، باتیں ہیں، سرگوشی ہے
تو ہے، میں ہوں
اپنے گوندھے ہوئے غم کے بندھن
شب کے سناٹے میں
جاگ اٹھتے ہیں، تڑپ جاتے ہیں، چلاتے ہیں
دامِ افسون و طلسمات میں پھنس جاتا ہے دل
جسم اور جان کو کھا جاتا ہے غم
نیشِ غم اور دلِ زار میں پیکار چلی جاتی ہے
گرم گرم آنسو ڈھلک جاتے ہیں، رخساروں پر
زندگی یادوں کا مینار بنا لیتی ہے
جو اڑاتا ہے جہاں میں ابدیت کا مذاق
دیکھتے دیکھتے چپ چاپ بکھر جاتی ہے تاروں بھری رات
چاند چھپ جاتا ہے
رات ہے، باتیں ہے، سرگوشی ہے
تو ہے، میں ہوں
ان پرندوں کی طرح سرگوشی
جو دبی سانس مے گاتے ہیں بچھڑنے کے لئے
گیت تاروں بھری راتوں میں جسے ہم نے بنا
دھیمی آواز میں سرگوشی کے انداز میں گایا ہوا گیت
ہاتھ تھرائے، جدائی کی گھڑی آ پہنچی
ہاتھ میں لے لئے میں نے تیرے ہاتھ
تاکے ان ہاتھوں کو پہچانوں
ان ہاتھوں سے محبت کر لوں
جسم اور جان کے رشتوں کے بکھر جانے تک
جاوداں شعلۂ جوالہ کی اک چنگاری
میں نے لے لی ہے تیرے ہونٹوں سے
میں جہاں بھی رہوں جس جا بھی رہوں
اپنی آنکھیں تو افق زاروں میں ملتی ہی رہیں گی کہیں دور
اور دل چپکے سے مل جائیں گے دل ہی دل میں
میرے سیلابِ تخیل میں تری یاد اے دوست
اس طرح تیرے گی
صبح دم تیرتا پھرتا ہے کسی جھیل میں جیسے کوئی ہنس
ان ہواؤں میں ترے گیت
وہ بکھرے ہوئے گیت
گونج اٹھیں گے مرے کانوں میں
مرے ہمدم
مرے دوست
٭٭٭



گگارن


مبارک تجھے او زمیں کے مسافر
زمین و زماں کی حدیں توڑ کر
آسمانوں پہ جانا
ہواؤں سے آگے، خلاؤں سے آگے
مہ و کہکشاں کی فضاؤں سے آگے
مبارک ستاروں کی چلمن ہٹانا
سرِزلفِ ناہید کو چھو کے آنا
دلِ ابن آدم کی دھڑکن سنانا
مبارک تجھے او زمیں کے مسافر
زمین و زماں کی حدیں توڑ کر
آسمانوں پہ جانا
٭٭٭




قطعہ


یہ رقص، رقص شرر ہی سہی مگر اے دوست
دلوں کے ساز پہ رقصِ شرر غنیمت ہے
قریب آؤ ذرا اور بھی قریب آؤ
کہ راہ کا سفر مختصر غنیمت ہے 
٭٭٭





چپ نہ رہو

‎ 
لوممبا کے قتل پر

شب کی تاریکی میں اک اور ستارہ ٹوٹا
طوق توڑے گئے، ٹوٹی زنجیر
جگمگانے لگا ترشے ہوئے ہیرے کی طرح
آدمیت کا ضمیر
پھر اندھیرے میں کسی ہاتھ میں خنجر چمکا
شب کے سناٹے میں پھر خون کے دریا چمکے
صبح دم جب میرے دروازے سے گزری ہے صبا
اپنے چہرے پہ ملے خونِ سحر گزری ہے
خیر ہو مجلسِ اقوام کی سلطانی
خیر ہو حق کی صداقت کی جہانبانی کی
اور اونچی ہوئی صحرا میں امیدوں کی صلیب
اور اک قطرۂ خوں چشمِ سحر سے ٹپکا
جب تلک دہر میں قاتل کا نشاں باقی ہے
تم مٹاتے ہی چلے جاؤ نشاں قاتل کے
روز ہو جشن شہیدانِ وفا چپ نہ رہو
بار بار آتی ہے مقتل سے صدا چپ نہ رہو، چپ نہ رہو
٭٭٭





بلور


منور خموشی کے بلور چھنکے
کرن مرمریں فرش پر چھن سے ٹوٹی
کلی چٹکی، آواز کے پھول مہکے
رنگوں کی سروں کی کوئی کہکشاں
کھلکھلاتی ہوئی گود میں آ پڑی ہے
خموشی کے گہرے سمندر کی تہہ سے
کسی جل پری نے مجھے جیسے آواز دی ہو
اندھیرے کے پردے ہلے، ساز چونکے
کئی نور کی انگلیاں جگمگائیں
شفق در شفق، رنگ در رنگ
عارض کا حیرت کدہ سامنے ہے
وہ ہنستا ہوا میکدہ سامنے ہے
چھنک سامنے ہے
کسی کو یہ قصہ سناؤں تو کیسے ؟
قدم اور آگے بڑھاؤں تو کیسے ؟
٭٭٭




فریاد



کوئی کسی کو بتاتا نہیں کہ کیا کھویا
کسی کو یاد نہیں ہے کہ دل پہ کیا گزری
دلوں میں بند ہیں تلخابۂ حیات کے خُم 
کوئی زبان سے کہتا نہیں کہ غم کیا ہے !!
ہر ایک زخم کے اندر ہے زخم، درد میں درد
کسی کی آنکھ میں کانٹے، کسی کی آنکھ میں پھول
کہیں گلاب، کہیں کیوڑے کی بستی ہے
یہ سرزمین اک اک بوند کو ترستی ہے
٭٭٭




نیا سال



کروڑوں برس کی پرانی
کہن سال دنیا
یہ دنیا بھی کیا مسخری ہے
نئے سال کی شال اوڑھے
بصد طنز، ہم سب سے یہ کہہ رہی ہے
کہ میں تو "نئی" ہوں
ہنسی آ رہی ہے
٭٭٭




سب کا خواب



وہ شب مے وہ شب مہتاب، میری ہی نہ تھی
وہ تو سب کا خواب تھا
وہ جو میرا خواب کہلاتا تھا، میرا ہی نہ تھا
وہ تو سب کا خواب تھا
سایۂ گیسو میں بس جانے کے ارماں دل میں تھے
میرے دل میں ہی نہ تھے
وہ تو سب کا خواب تھا
لاکھ دل ہوتے تھے لیکن
جب دھڑکتے تھے تو اک دل کی طرح
جب مچلتے تھے تو اک دل کی طرح
جب اچھلتے تھے تو اک دل کی طرح
جب مہک اٹھتے تو دنیا کا مہک اٹھتا تھا دل
وولگا کا، یانگسی کا، نیل کا، گنگا کا دل
آپ میں اک گرمی احساس ہوتی تھی
نہیں معلوم وہ کیا ہو گئی
چاندنی سی میرے دل کے پاس ہوتی تھی
نہیں معلوم وہ کیا ہو گئی
٭٭٭





نہرو


ہزار رنگ ملے، اک سبو کی گردش میں
ہزار پیرہن آئے گئے زمانے میں
مگر وہ صندل و گل کا غبار، مشتِ بہار 
ہوا ہے وادیِ جنت نشاں میں آوارہ
ازل کے ہاتھ سے چھوٹا ہوا حیات کا تیر
وہ شش جہت کا اسیر 
نکل گیا ہے بہت دور جستجو بن کر
٭٭٭





خواہشیں



خواہشیں
لال، پیلی، ہری، چادریں اوڑھ کر
تھرتھراتی، تھرکتی ہوئی جاگ اٹھیں
جاگ اٹھی دل کی اندر سبھا
دل کی نیلم پری، جاگ اٹھی
دل کی پکھراج
لیتی ہے انگڑائیاں جام میں
جام میں تیرے ماتھے کا سایہ گرا
گھل گیا
چاندنی گھل گئی
تیرے ہونٹوں کی لالی
تری نرمیاں گھل گئیں
رات کی، ان کہی، ان سنی داستاں
گھل گئی جام میں
خواہشیں
لال، پیلی، ہری، چادریں اوڑھ کر
تھرتھراتی، تھرکتی ہوئی جاگ اٹھیں
٭٭٭




لختِ جگر 


محبت کو تم لاکھ پھینک آؤ گہرے کوئیں میں
مگر ایک آواز پیچھا کرے گی
کبھی چاندنی رات کا گیت بن کر
کبھی گھپ اندھیرے کی پگلی ہنسی بن کے
پیچھا کرے گی
مگر ایک آواز پیچھا کرے گی
وہ آواز
ناخواستہ طفلک بے پدر
ایک دن
سولیوں کے سہارے
بنی نوعِ انساں کی حادی بنی
پھر خدا بن گئی
کوئی ماں کئی سال پہلے
زمانے کے ڈر سے
سرِ رہگزر
اپنا لختِ جگر چھوڑ آئی
وہ ناخواستہ طفلک بے پدر 
ایک دن سولیوں کے سہارے
بنی نوعِ انساں کا حادی بنی
پھر خدا بن گئی
٭٭٭


وعدۂ فردا 

راہ میں سرو ملے
راہ میں شمشاد ملے
سب گرفتار چمن
شام گلمرگ ملی
صبح پہلگام ملی
راہ میں ملتے رہے، لالہ ونسرین وسمن 
گنگناتے ہوئے پھولوں کے بدن ملتے رہے
دل کی افسردہ کلی 
ایسی وادی میں بھی آ کر نہ کھلی
دل کے خوش ہونے کا سامان
گل و لالہ نہ نسرین وسمن
جھاڑیاں درد کی
دکھ کے جنگل
ندیاں
جن میں بہا کرتے ہیں دل کے ناسور
کوہِ غم
ناگ کی مانند
سیہ پھن کھولے
ہر گزر گاہ کو کھا جاتے ہیں
رات ہی رات ہے، سناٹا ہی سناٹا ہے
کوئی ساحل بھی نہیں
کوئی کنارہ بھی نہیں
کوئی جگنو بھی نہیں
کوئی ستارہ بھی نہیں
میری اس وعدۂ فردا کے، او خوش پر طائر 
یہ اندھیرا ہی تری راہگزر
اس فضا میں کوئی دروازہ نہ دہلیز نہ در
تیری پرواز ہی بن جاتی ہے سامان سفر
دامن کوہ میں کوئی نظر آئی ہے
تیرے خواب کی زرین سحر
٭٭٭




سناٹا


کوئی دھڑکن
نہ کوئی چاپ
نہ سنچل
نہ کوئی موج
نہ ہلچل
نہ کسی سانس کی گرمی
نہ بدن
ایسے سناٹے میں اک آدھ تو پتّہ کھڑکے
کوئی پگھلا ہوا موتی
کوئی آنسو
کوئی دل
کچھ بھی نہیں
کتنی سنسان ہے یہ راہگزر
کوئی رخسار تو چمکے، کوئی بجلی تو گرے
٭٭٭




طور 

یہیں کی تھی محبت کے سبق کی ابتدا میں نے
یہیں کی جرأتِ اظہارِ حرفِ مدعا میں نے 
یہیں دیکھے تھے عشوے ناز و  اندازِ حیا میں نے
یہیں پہلے سنی تھی دل دھڑکنے کی صدا میں نے
یہیں کھیتوں میں پانی کے کنارے یاد ہے اب بھی

دلوں میں ازدہامِ آرزو لب بند رہتے تھے
نظر سے گفتگو ہوتی تھی دم الفت کا بھرتے تھے
نہ ماتھے پر شکن ہوتی، نہ جب تیور بدلتے تھے
خدا بھی مسکرا دیتا تھا جب ہم پیار کرتے تھے 
یہیں کھیتوں میں پانی کے کنارے یاد ہے اب بھی

وہ کیا آتا کہ گویا دور میں جامِ شراب آتا
وہ کیا آتا رنگیلی راگنی رنگی رباب آتا
مجھے رنگینیوں میں رنگنے وہ رنگیں سحاب آتا
لبوں کی مے پلانے جھومتا مستِ شباب آتا
یہیں کھیتوں میں پانی کے کنارے یاد ہے اب بھی


ہوا کے بوجھ سے جب ہر قدم پر لغزشیں ہوتیں
فضا میں منتشر رنگیں بدن کی لرزشیں ہوتیں
ربابِ دل کے تاروں میں مسلسل جنبشیں ہوتیں
خفائے راز کی پر لطف باہم کوششیں ہوتیں
یہیں کھیتوں میں پانی کے کنارے یاد ہے اب بھی

بہے جاتے تھے بیٹھے عشق کے زریں سفینے میں
تمناؤں کا طوفاں کروٹیں لیتا تھا سینے میں
جو چھو لیتا تھا میں اسکو وہ نہا جاتا پسینے میں
مے دو آتشہ کے سے مزے آتے تھے جینے میں
یہیں کھیتوں میں پانی کے کنارے یاد ہے اب بھی

بلائے  فکرِ فردا ہم سے کوسوں دور ہوتی تھی
سرور سرمدی سے زندگی معمور ہوتی تھی
ہماری خلوتِ معصوم رشکِ طور ہوتی تھی
ملک جھولا جھلاتے تھے غزل خواں حور ہوتی تھی
یہیں کھیتوں میں پانی کے کنارے یاد ہے اب بھی

نہ اب وہ کھیت باقی ہیں نہ وہ آب رواں باقی
مگر اس عیش رفتہ کا ہے اک دھندلا نشاں باقی
٭٭٭


مستقبل 

چلا آ رہا ہے چلا آ رہا ہے
چلا آ رہا ہے چلا آ رہا ہے

دھڑکتے دلوں کی صدا آ رہی ہے
اندھیرے میں آوازِ پا آ رہی ہے
بلاتا ہے کوئی ندا آ رہی ہے

چلا آ رہا ہے چلا آ رہا ہے
چلا آ رہا ہے چلا آ رہا ہے

نہ سلطانیِ تیرگی ہے نہ جاری
نہ تخت سلیماں نہ سرمایہ داری
غریبوں کی چیخیں نہ شاہی سواری

چلا آ رہا ہے چلا آ رہا ہے
چلا آ رہا ہے چلا آ رہا ہے

اڑاتا ہوا پرچمِ زندگانی
سناتا ہوا عہدِ نو کی کہانی
جلو میں ظفر مندیاں شادمانی 

چلا آ رہا ہے چلا آ رہا ہے
چلا آ رہا ہے چلا آ رہا ہے

سفینہ مساوات کا کھے رہا ہے
جوانوں سے قربانیاں لے رہا ہے
غلاموں کو آزادیاں دے رہا ہے

چلا آ رہا ہے چلا آ رہا ہے
چلا آ رہا ہے چلا آ رہا ہے
٭٭٭





سحر سے رات کی سرگوشیاں بہار کی بات
جہاں میں عام ہوئی چشمِ انتظار کی بات

دلوں کی تشنگی جتنی، دلوں کا غم جتنا
اسی قدر ہے زمانے میں حسنِ یار کی بات

جہاں بھی بیٹھے ہیں جس جا بھی رات مے پی ہے
انہیں کی آنکھوں کے قصے انہیں کے پیار کی بات

چمن کی آنکھ بھر آئی، کلی کا دل دھڑکا
لبوں پہ آئی ہے جب بھی کسی قرار کی بات 

یہ زرد زرد اجالے یہ رات رات کا درد
یہی تو رہ گئی اب جانِ بےقرار کی بات

تمام عمر چلی ہے، تمام عمر چلے
الٰہی ختم نہ ہو یارِ غمگسار کی بات
٭٭٭


یہ کون آتا ہے تنہائیوں میں جام لئے
جلو میں چاندنی راتوں کا اہتمام لئے

چٹک رہی ہے کسی یاد کی کلی دل میں
نظر میں رقصِ بہاراں کی صبح و شام لئے

ہجوم بادہ و گل میں ہجوم یاراں میں
کسی نگاہ نے جھک کر مرے سلام لئے

کسی خیال کی خوشبو کسی بدن کی مہک
در قفس پہ کھڑی ہے صبا پیام لئے

مہک مہک کے جگاتی رہی نسیم سحر 
لبوں پہ یارِ مسیحا نفس کا نام لئے

بجا رہا تھا کہیں دور کوئی شہنائی
اٹھا ہوں، آنکھوں میں اک خوابِ ناتمام لئے		٭٭٭





جانِ غزل



اے دلِ نارسا آج اتنا مچل
مست آنکھوں کی جھیلوں میں کھلنے لگے آنسوؤں کے کنول
مل گیا راہ میں اجنبی موڑ پر کوئی جانِ غزل
آج تو یاد آئیں نہ دنیا کے غم
آج دل کھول کر مسکرا چشمِ نم 
آج چھٹکی ہے رخسار کی چاندنی
چھٹ گئیں بدلیاں، کھل گئے پیچ و  خم 
کتنا بھاری تھا یہ زندگی کا سفر
میری جانِ غزل
خوابِ فردا کی دیوار کی چھانو میں
دو گھڑی بیٹھ کر
عشرتِ حال کی مے پئیں
راستے منتظر، گل بداماں ہے ہر رہگزر
دل کی سنسان گلیوں میں کچھ دیر، کچھ دور تک
آج تو ساتھ چل
٭٭٭





پیار کی چاندنی


‎ ‎

ہدیۂ اشکِ خوں لے کے آیا ہوں میں
خوں بہائے وفا دل کی سوغات کیا

جیب و داماں کی اڑنے لگیں دھجیاں
جرم کیا، جرمِ غم کی مکافات کیا

عشق کی مشعلیں، عشق کے ولولے
ہمسفر، صبح کیا، شام کیا، رات کیا

چشمِ اہل ہوس مسکراتی ہے گر
چشمِ اہل ہوس مسکراتی رہے

ابن آدم کو سولی چڑھاتے رہو
زندگانی سرٕ دار گاتی رہے

یاد یاراں میں اک جامِ غم اور دو
رات کی تیرگی سوز گاتی رہے

دل بڑھاتی رہے ہاتھ کی نرمیاں
پیار کی چاندنی جگمگاتی رہے 
٭٭٭



مسافر 


تیرے ہم راہی کھو گئے رے مسافر 
مسافر چلا چل
نہ جانے وہ کیا ہو گئے رے مسافر 
مسافر چلا چل

تری منزلیں تیری نظروں سے اوجھل مسافر 
چلا چل، چلا چل، چلا چل، چلا چل

اندھیرے میں اب ساتھ کیا دیکھتا ہے
دیا بجھ گیا ہے
بہر حال چل ، رات کیا دیکھتا ہے
دیا بجھ گیا ہے

تری منزلیں تیری نظروں سے اوجھل مسافر
چلا چل، چلا چل، چلا چل، چلا چل

سمجھ موت کی وادیوں سے گزرتا
چلا جا رہا ہے
سحر کے تعاقب میں میں گرتا ابھرتا 
چلا جا رہا ہے

تری منزلیں تیری نظروں سے اوجھل مسافر
چلا چل، چلا چل، چلا چل، چلا چل ۔ 
٭٭٭





حویلی


ایک بوسیدہ حویلی یعنی فرسودہ سماج
لے رہی ہے نزع کے عالم میں مردوں سے خراج 

اک مسلسل کرب میں ڈوبے ہوئے سب بام و  در
جس طرف دیکھو اندھیرا جس طرف دیکھو کھنڈر

مار و کزدم کا ٹھکانہ جس کی دیواروں کے چاک 
اف یہ رخنے کس قدر تاریک کتنے ہولناک

جن میں رہتے ہیں مہاجن جن میں بستے ہیں امیر
جن میں کاشی کے برہمن جن میں کعبے کے فقیر

رہزنوں کا قصرِ شوریٰ ، قاتلوں کی خوابگاہ
کھلکھلاتے ہیں جرائم جگمگاتے ہیں گناہ

جس جگہ کٹتا ہے سر انصاف کا ایمان کا
روز و شب نیلام ہوتا ہے جہاں انسان کا

زیست کو درس اجل دیتی ہے جس کی بارگاہ 
قہقہہ بن کر نکلتی ہے جہاں ہر ایک آہ

سیم و زر کا دیوتا جس جا کبھی سوتا نہیں
زندگی کو بھول کر جس جا گزر ہوتا نہیں

ہنس رہا ہے زندگی پر اس طرح ماضی کا حال
خندہ زن ہو جس طرح عصمت پہ قحبہ کا جمال

جس  کی جانب ہیں وہیں ان بے نواؤں کے گروہ
ہاں انھیں بے نان  و بے پوشش گداؤں کے گروہ

جن کے دل کچلے ہوئے جن کی تمنا پائمال 
جھانکتا ہے جن کی آنکھوں میں جہنم کا جلال

اے خدائے دو جہاں ! اے وہ جو ہر اک دل میں ہے
دیکھ تیرے ہاتھ کا شہ کار کس منزل میں ہے

جانتا ہوں موت کا ہمساز  و  ہمدم کون ہے
کون ہے پروردگارِ بزم ماتم کون ہے

کوڑھ کے دھبے چھپا سکتا نہیں ملبوسِ دیں 
بھوک کے شعلے بجھا سکتا نہیں روح الامیں

اے جواں سالِ جہان ، جانِ جہان زندگی
ساربانِ زندگی روحِ روانِ زندگی

جس کے خونِ گرم سے بزمِ چراغاں زندگی
جس کے فردوسی تنفس سے گلستاں زندگی

بجلیاں جس کی کنیزیں زلزلے جس کے سفیر 
جس کا دل خیبر شکن جس کی نظر ارجن کا تیر

ہاں وہ نغمہ چھیڑ جس سے مسکرائے زندگی
تو بجائے سازِ الفت اور گائے زندگی

آ انہیں کھنڈروں پہ آزادی کا پرچم کھول دیں
آ انہیں کھنڈروں پہ آزادی کا پرچم کھول دیں
٭٭٭


نو رس

وہ پہلا گیت بہاروں کا وہ ارماں چاند ستاروں کا
جبریلِ امیں کے ہونٹوں کے بیگائے ہوئے نغموں کی صدا
معصوم لڑکپن کے رخ پر نوخیز جوانی کا غازہ
حوروں کے بہشتی نغموں سے جو راگ بنے وہ راگ ہے وہ
جس سے کہ کلیمی ملتی ہے کچھ ایسی ہی اک آگ ہے وہ
تاروں کی محفل سے آ کر کلیوں میں سو جانے والی
روشن سورج کی کرنوں کے جھرمٹ میں کھو جانے والی
میں تجھ سے محبت کرتا ہوں یہ کہنے کی ہمت نہ ہو سکی
اظہار تمنا ہو نہ سکا اظہار کی جرأت ہو نہ سکی

آ شاعر کے من میں آ جا
آ اپنے نشیمن میں آ جا 
٭٭٭




آپ کی یاد آتی رہی رات بھر
چشمِ نم مسکراتی رہی رات بھر 

رات بھر درد کی شمع جلتی رہی
غم کی لو تھرتھراتی رہی رات بھر 

بانسری کی سریلی سہانی صدا
یاد بن بن کے آتی رہی رات بھر

یاد کے چاند دل میں اترتے رہے
چاندنی جگمگاتی رہی رات بھر

کوئی دیوانہ گلیوں میں پھرتا رہا
کوئی آواز آتی رہی رات بھر 
٭٭٭




جہانِ نو

نغمے شرر فشاں ہوں اٹھا آتشِ رباب 
مضرابِ بےخودی سے بجا سازِ انقلاب
معمارِ عہدِ نو ہو تیرا دستِ پر شباب 
باطل کی گردنوں پہ چمک، ذوالفقار بن

ایسا جہان جس کا اچھوتا نظام ہو،
ایسا جہان جس کا اخوت پیام ہو
ایسا جہان جس کی نئی صبح و شام ہو
ایسے جہان نو کا تو پروردگار بن
٭٭٭


آزادیِ وطن 


کہو ہندستاں کی جے ۔ کہو ہندستاں کی جے ۔ کہو ہندستاں کی جے

قسم ہے خون سے سینچے ہوئے رنگیں گلستاں کی
قسم ہے خونِ دہقاں کی، قسم خونِ شہیداں کی
یہ ممکن ہے کہ دنیا کے سمندر خشک ہو جائیں
یہ ممکن ہے کہ دریا بہتے بہتے تھک کے سو جائیں
جلانا چھوڑ دیں دوزخ کے انگارے یہ ممکن ہے
روانی ترک کر دے برق کے دھارے یہ ممکن ہے
زمینِ پاک اب نا پاکیوں کو ڈھو نہیں سکتی
وطن کی شمعِ آزادی کبھی گل ہو نہیں سکتی

کہو ہندستاں کی جے ۔ کہو ہندستاں کی جے ۔ کہو ہندستاں کی جے

وہ ہندی نوجواں یعنی علمبردارِ آزادی
وطن کا پاسباں وہ تیغِ  جوہر دارِ آزادی
وہ پاکیزہ شرارہ بجلیوں نے جس کو دھویا ہے
وہ انگارہ کے جس میں زیست نے خود کو سمویا ہے
وہ شمعِ زندگانی آندھیوں نے جس کو پالا ہے
ایک ایسی ناؤ طوفانوں نے خود جس کو سنبھالا ہے
وہ ٹھوکر جس سے گیتی لرزہ بر اندام رہتی ہے

کہو ہندستاں کی جے ۔ کہو ہندستاں کی جے ۔ کہو ہندستاں کی جے

وہ دھارا جسکے سینے پر عمل کی ناؤ بہتی ہے
چھپی خاموش آہیں شور محشر بن کے نکلی ہیں
دبی چنگاریاں خورشیدِ خاور بن کے نکلی ہیں
بدل دی نوجوانِ ہند نے تقدیر زنداں کی
مجاہد کی نظر سے کٹ گئی زنجیر زنداں کی

کہو ہندستاں کی جے ۔ کہو ہندستاں کی جے ۔ کہو ہندستاں کی جے		٭٭٭


تم گلستاں سے گئے ہو تو گلستاں چپ ہے
شاخ گل کھوئی ہوئی مرغِ خوش الحاں چپ ہے

افق دل پہ دکھائی نہیں دیتی ہے دھنک 
غمزدہ موسم گل، ابر بہاراں چپ ہے

عالم تشنگی بادہ گساراں مت پوچھ
میکدہ دور ہے مینائے زر افشاں چپ ہے

اور آگے نہ بڑھا قصۂ دل قصۂ غم
دھڑکنیں چپ ہے سرشکِ سر مژگاں چپ ہے

شہر میں ایک قیامت تھی قیامت نہ رہی
حشر خاموش ہوا فتنۂ دوراں چپ ہے

نہ کسی آہ کی آواز، نہ زنجیر کا شور
آج کیا ہو گیا زنداں میں کہ زنداں چپ ہے		٭٭٭




کچھ پھول سرِ صحنِ چمن کھل تو رہے ہیں
اک نور سرِ طور نظر آ تو رہا ہے

صدیوں سے صدف بند گہر بند نظربند
وہ جانِ صدف جانِ گہر آ تو رہا ہے

لب سرد، نظر سرد،بدن سرد ہے، دل سرد
وہ جانِ مسیحا نفساں آ تو رہا ہے

آنکھوں میں حیا لب پہ ہنسی آ تو رہی ہے
آغوش سحر میں کوئی شرما تو رہا ہے
٭٭٭




نیند


یہ کس پیکر کی رنگینی سمٹ کر دل میں آتی ہے
میری بے کیف تنہائی کو یوں رنگیں بناتی ہے

یہ کس کی جنبشِ مژگاں ربابِ دل کو چھوتی ہے
یہ کس کے پیرہن کی سرسراہٹ گنگناتی ہے

میری آنکھوں میں کس کی شوخیِ لب کا تصور ہے
کہ جس کے کیف سے آنکھوں میں میری نیند آتی ہے

سکوت اور شانتی کے ہر قدم پر پھول برساتی
اسیرِ کاکلِ شب گوں بنا کر مسکراتی ہے

مری آنکھوں میں گھل جاتی ہے یہ کیف نظر بن کر
مجھے قوسِ قزح کی چھاؤں میں پہروں سلاتی ہے

سحر تک وہ مجھے چمٹائے رکھتی ہے کلیجے سے
دبے پاؤں کرن خورشید کی آ کر جگاتی ہے
٭٭٭




نام حبیب 

کہا ہے مجھ سے جنگل کی ان آوارہ ہواؤں نے
جو تیری دھڑکنوں کا تحفہ میرے پاس لاتی ہیں

کہ تم کو حسن کی نا مہربانی سے شکایت ہے
تمہیں کچی کلی کی بے زبانی سے شکایت ہے
گنہ نا آشناؤں کی جوانی سے شکایت ہے

کہا ہے مجھ سے جنگل کی ان آوارہ ہواؤں نے
جو تیری دھڑکنوں کا تحفہ میرے پاس لاتی ہیں

سنا ہے ضبط کو تم دل کی سنگینی سمجھتے ہو
ادائے خوفِ رسوائی کو خود بینی سمجھتے ہو
یہ کیا سچ ہے میرے آنسو کی رنگینی سمجھتے ہو

کہا ہے مجھ سے جنگل کی ان آوارہ ہواؤں نے
جو تیری دھڑکنوں کا تحفہ میرے پاس لاتی ہیں

جنوں پرور اداؤں سے سنورنے کے ارادے ہیں
خدا کے عرشِ الفت سے اترنے کے ارادے ہیں
زمین و آسماں کو ایک کرنے کے ارادے ہیں

کہا ہے مجھ سے جنگل کی ان آوارہ ہواؤں نے
جو تیری دھڑکنوں کا تحفہ میرے پاس لاتی ہیں
٭٭٭


اب کہاں جا کے یہ سمجھائیں کہ کیا ہوتا ہے
ایک آنسو جو سرِ چشمِ وفا ہوتا ہے

اس گزر گاہ میں اس دشت میں اے جذبۂ عشق
جز تیرے کون یہاں آبلہ پا ہوتا ہے

دل کی محراب میں اک شمع جلی تھی سرِ شام
صبح دم ماتمِ اربابِ وفا ہوتا ہے

دیپ جلتے ہیں دلوں میں کہ چتا جلتی ہے
اب کی دیوالی میں دیکھیں گے کہ کیا ہوتا ہے

جب برستی ہے تری یاد کی رنگین پھوار
پھول کھلتے ہیں درِ میکدہ وا ہوتا ہے
٭٭٭




سجدہ


پھر اسی شوخ کا خیال آیا،
پھر نظر میں وہ خوش جمال آیا

پھر تڑپنے لگا دلِ مضطر ، 
پھر برسنے لگا ہے دیدۂ تر

یاد آئیں وہ چاندنی راتیں، 
وہ ہنسی چھیڑ دل لگی باتیں

شب تاریک ہے خموشی ہے، 
کل جہاں محوِ عیش کوشی ہے

لطف سجدوں میں آ رہا ہے مجھے، 
چھپ کے کوئی بلا رہا ہے مجھے

چوڑیاں بج رہی ہیں ہاتھوں کی،
آئی آواز اس کی باتوں کی

اڑ رہا ہے غبارِ نورِ بدن،
پھیلتی جا رہی ہے بوئے دہن

موج تسنیم و کیفِ خلد بریں 
جگمگاتا بدن چمکتی جبیں

اپنے آنچل میں منھ چھپائے ہوئے،
آ رہا ہے قدم بڑھائے ہوئے

نغمے پازیب کے سناتے ہوئے 
بختِ خفتہ مرے جگاتے ہوئے

عشوہ  و ناز کا فسوں لے کر، 
ساتھ اک لشکرِ جنوں لے کر

دور سے مسکراتا آتا ہے،
بجلیاں سی گراتا آتا ہے

وہ کہ رنگیں کرن تبسم کی، 
اک مسلسل لڑی ترنم کی

پردۂ تن میں راگ پوشیدہ ،
راگ وہ جس میں آگ پوشیدہ

بانسری سی بجائے جاتا ہے، 
آگ تن میں لگائے جاتا ہے

ایک دنیائے رنگ و  بو بن کر،
خوں شدہ دل کی آرزو بن کر

نئی دلہن کی تھرتھری بن کر،
اس کے ہونٹوں کی کپکپی بن کر

میرے دل میں سما گیا کوئی،
میری ہستی پہ چھا گیا کوئی
٭٭٭




ساگر کے کنارے 



مندر میں پجاری لگے ناقوس بجانے
وہ انکے بھجن پیارے وہ گیت ان کے سہانے
تاریکیِ شب اوڑھ کے رخصت ہوا عصیاں 
تقدیس کے جاری ہوئے ہر سمت ترانے
وہ چھانو میں تاروں کی وہ کھیتوں کے کنارے 
دہقان بھی بھیروں کی لگا تان اڑانے
کوئل نے کسی کنج سے کو کو کی صدا دی
مرغانِ چمن گانے لگے صبح کے گانے
انگڑائیاں لیتا ہوا طوفان جوانی
ملتا ہوا آنکھیں اٹھا فتنوں کو جگانے
کچھ لڑکیاں آنچل کو سمیٹے ہوئے بر میں 
گگری لئے سر پر چلیں پانی کے بہانے
انگشتریِ حسن کے انمول نگینے
سر چشمِ محبت کے مسرت کے خزانے
چلتی ہیں اس انداز سے دامن کو سنبھالے
صدقے ہوئی شوخی تو بلائیں لیں ادا نے
پانی میں لگی آگ پریشان ہے مچھلی
کچھ شعلہ بدن اترے ہیں پانی میں نہانے
چہروں کو کبھی شرم سے آنچل میں چھپانا
گہہ کھیلنا پانی سے وہ جھینپ اپنی مٹانے
تالاب پہ افلاک کے گم گشتہ ستارے،
آتے ہیں صبح ہوتے ہی ساگر کے کنارے
٭٭٭





محبت کی چھاؤں 


ہم محبت کی چھاؤں میں سوتے تھے جب
خار بھی پھول معلوم ہوتے تھے جب
ابتدائے جنوں کی وہ ایک بات تھی
وہ محبت کی تاروں بھری رات تھی
دل کے تاروں سے مضراب ٹکرا گیا
آتشیں لے اٹھی کیف سا چھا گیا
حسن کا وار جو تھا وہ بھرپور تھا
جس کو دیکھا نظر بھر کے، وہ طور تھا
دل کو اک بار سب دھو گئیں بجلیاں
میری رگ رگ میں حل ہو گئیں بجلیاں
دردِ دل کا بہانہ بنی دل لگی
آنسوؤں کا فسانہ بنی دل لگی
پل کے پل میں بدلنے لگی زندگی
غم کے سانچوں میں ڈھلنے لگی زندگی
چاہ کا دن ڈھلا شام ہونے لگی
دل دھڑکنے لگا آنکھ رونے لگی
رات اور دن یوں ہی آتے جاتے رہے
حسن اور عشق تکمیل پاتے رہے
٭٭٭




دھواں


جنت خاک پہ جس رات اتر آئی تھی
بدلیاں رحمتِ یزداں کی جہاں چھائی تھی
عشرت و عیش کی جس جا کہ فراوانی تھی
جس جگہ جلوہ فگن روحِ جہانبانی تھی

ہاں، وہیں میرے دلِ زار نے یہ بھی دیکھا
ہاں، مری چشمِ گنہگار نے یہ بھی دیکھا
خونِ دہقاں میں عمارت کے سفینے تھے رواں
ہر طرف اہل کی جلتی ہوئی میت کا دھواں
٭٭٭




مشرق 

جہل ، فاقہ، بھیک، بیماری نجاست کا مکان
زندگانی، تازگی، عقل و فراست کا مکان

وہم زائیدہ خداؤں کی روایت کا غلام
پرورش پاتا رہا ہے جس میں صدیوں کا جذام

جھڑ چکے ہیں دست و بازو جس کے اس مشرق کو دیکھ،
کھیلتی ہے سانس سینے میں مریضِ دق کو دیکھ

ایک ننگی نعش بے گورو کفن ٹھٹھری ہوئی
مغربی چیلوں کا لقمہ خون میں لتھڑی ہوئی

ایک قبرستان جس میں ہوں نہ ہاں کچھ بھی نہیں
اک بھٹکتی راہ ہے جس کا مکاں کوئی نہیں

پیکر ماضی کا اک بیرنگ اور بے روح خول
ایک مرگِ بے قیامت ایک بے آواز ڈھول

اک مسلسل رات جس کی صبح ہوتی ہی نہیں
خوابِ اصحابِ کہف کو پالنے والی زمیں

اس زمینِ موت پروردہ کو ڈھایا جائے گا
اک نئی دنیا نیا آدم بنایا جائے گا
٭٭٭





پھول کھلتے ہی رہے، کلیاں چٹکتی ہی رہیں
دل دھڑک جائے تو حاصل ؟ آنکھ بھر آئی تو کیا

شام سلگاتی چلی آتی ہے زخموں کے چراغ
کوئی جام آیا تو کیا، کوئی گھٹا چھائی تو کیا

کاکلیں لہرائیں، راتیں مہکیں، پیراہن اڑے
ایک ان کی یاد ایسی تھی، نہیں آئی تو کیا

دوریاں بڑھتی بھی ہیں، گھٹتی بھی ہیں، مٹتی بھی ہیں
ساعتیں آئیں، یہی ساعت نہیں آئی تو کیا
٭٭٭



تیلنگن 

پھرنے والی کھیت کی میڑوں پہ بل کھاتی ہوئی
نرم و شیریں قہقہوں کے پھول برساتی ہوئی
کنگنوں سے کھیلتی اوروں سے شرماتی ہوئی
اجنبی کو دیکھ کر خاموش مت ہو گائے جا
ہاں، تیلنگن گائے جا، بانکی تیلنگن گائے جا

ارض یکسرگوش ہے خاموش ہے سب آسماں
راگ سننے رک گئے ہیں بادلوں کے کارواں
ہاں، ترانہ چھیڑ، جنگل کا میری غنچہ دہاں
اجنبی کو دیکھ کر خاموش مت ہو گائے جا
ہاں، تیلنگن گائے جا، بانکی تیلنگن گائے جا

دیکھنے آتے ہیں تارے شب میں سن کر تیرا نام
جلوے صبح و شام کے ہوتے ہیں تجھ سے ہم کلام 
دیکھ فطرت کر رہی ہے تجھ کو جھک جھک کر سلام
اجنبی کو دیکھ کر خاموش مت ہو گائے جا
ہاں، تیلنگن گائے جا، بانکی تیلنگن گائے جا

دخترِ پاکیزگی نا آشنائے سیم و زر ،
دشت کی خود رو کلی تہذیب نو سے بے خبر
تیری خس کی جھونپڑی پر جھک پڑے سب بام و در
اجنبی کو دیکھ کر خاموش مت ہو گائے جا
ہاں، تیلنگن گائے جا، بانکی تیلنگن گائے جا

لے چلا جاتا ہوں آنکھوں میں لئے تصویر کو
لے چلا جاتا ہوں پہلو میں چھپائے تیر کو
لے چلا جاتا ہوں پھیلا راگ کی تنویر کو
اجنبی کو دیکھ کر خاموش مت ہو گائے جا
ہاں، تیلنگن گائے جا، بان کی تیلنگن گائے جا
٭٭٭




باغی

رعد ہوں، برق ہوں، بیچین ہوں، پارہ ہوں میں
خودپرستار ، خود آگاہ، خود آرا ہوں میں
گردنِ ظلم کٹے جس سے وہ آرا ہوں میں
خرمنِ جور جلا دے وہ شرارہ ہوں میں
میری فریاد پر اہل دول انگشت بگوش 
لا تبر ، خون کے دریا میں نہانے دے مجھے

سرِ پر نخوتِ اربابِ زماں توڑوں گا
شور نالہ سے درِ ارض و سماں توڑوں گا
ظلم پرور ، روش اے اہل جہاں توڑوں گا
عشرت آباد امارت کا مکاں توڑوں گا
توڑ ڈالوں گا میں زنجیرِ اسیرانِ قفس 
دہر کو پنجۂ عسرت سے چھڑانے دے مجھے

برق بن کر بت ماضی کو گرانے دے مجھے
رسم کہنہ کو تہ خاک ملانے دے مجھے
تفرقے مذہب و ملت کے مٹانے دے مجھے
خوابِ فردا کو بس اب حال بنانے دے مجھے
آگ ہوں، آگ ہوں، ہاں ایک دہکتی ہوئی آگ
آگ ہوں، آگ بس، اب آگ لگانے دے مجھے
٭٭٭




آسمانی لوریاں 


روزِ روشن جا چکا، ہیں شام کی تیاریاں
اڑ رہی ہیں آسماں پر زعفرانی ساریاں
شام رخصت ہو رہی ہے رات کا منھ چوم کر
ہو رہی ہے چرخ پر تاروں میں کچھ سرگوشیاں
جلوے ہیں بیتاب پردے سے نکلنے کے لئے
بن سنور کر آ رہی ہیں آسماں کی رانیاں
نو عروسِ شب نے پہنا ہے لباسِ فاخرہ 
آسمانی پیرہن میں کہکشانی دھاریاں
کارچوبی شامیانے میں رچی بزمِ نشاط
ساز نے انگڑائی لی بجنے لگی ہیں تالیاں
لاجوردی فرش پر ہے مشتری زہرا کا رقص
نیل تن کرشن کے پہلو میں مچلتی گوپیاں
دست و  پا  کی نرم و  خوش آہنگ ہلکی جنبشیں 
یا فضا میں ناچتی ہیں گنگناتی بجلیاں
سرمدی نغمات سے ساری فضا معمور ہے
نطقِ ربِ ذوالمنن ہیں رات کی خاموشیاں
نیند سی آنکھوں میں آتی ہے جھکا جاتا ہے سر
سن رہا تھا دیر سے میں آسمانی لوریاں
٭٭٭






امان مرحوم کے نام

عشق کے شعلوں کو بھڑکاؤ کہ کچھ رات کٹے
دل کے انگارے کو دہکاؤ کہ کچھ رات کٹے

ہجر میں ملنے شب ماہ کے غم آئے ہیں
چارہ سازوں کو بھی بلواؤ کہ کچھ رات کٹے

کوئی جلتا ہی نہیں، کوئی پگھلتا ہی نہیں
موم بن جاؤ، پگھل جاؤ، کہ کچھ رات کٹے

چشم و رخسار کے اذکار کو جاری رکھو
پیار کے نغمے کو دوہراؤ کہ کچھ رات کٹے

آج ہو جانے دو ہر ایک کو بد مست و خراب
آج ایک ایک کو پلواؤ کہ کچھ رات کٹے

کوہِ غم اور گراں اور گراں اور گراں
غمزدو تیشے کو چمکاؤ کہ کچھ رات کٹے
٭٭٭




میں



تھک کے رہ جاتے ہیں استدلال کے جس جا قدم
ٹوٹ جاتا ہے پہنچ کر جس جگہ منطق کا دم

خوابِ عقل و ہوش کی مجہول تعبیروں سے دور
فلسفی کی کس طرح اور کیوں کی زنجیروں سے دور

میرے رہنے کا جہان جاودانی اور ہے
دل کی دنیائے نہاں کی زندگانی اور ہے

خود تراشیدہ بتِ ناز آفریں میرا وجود
میری ذاتِ پاک مسجودِ جہانِ ہست و  بود

دوسرا کوئی نہیں رہتا، جہاں رہتا ہوں میں،
اپنے سیلابِ خودی میں آپ ہی بہتا ہوں میں

میرے سجدے کے لئے ہی وقف ہے میری جبیں 
میری اقلیمِ انا میں دوسرا کوئی نہیں
٭٭٭




شاعر

کچھ قوس قزح سے رنگت لی کچھ نور چرایا تاروں سے
بجلی سے تڑپ کو مانگ لیا کچھ کیف اڑایا بہاروں سے
پھولوں سے مہک شاخوں سے لچک اور منڈووں سے ٹھنڈا سایہ
جنگل کی کنواری کلیوں نے دے ڈالا اپنا سرمایہ
بدمست جوانی سے چھینیں کچھ بے فکری، کچھ الھڑ پن
پھر حسنِ جنوں پرور نے دی آشفتہ سری دل کی دھڑکن
بکھری ہوئی رنگیں کرنوں کی آنکھوں سے چن کر لاتا ہوں
فطرت کے پریشاں نغموں سے اک اپنا گیت بناتا ہوں
فردوسِ خیالی میں بیٹھا اک بت کو تراشا کرتا ہوں
پھر اپنے دل کی دھڑکن کو پتھر کے دل میں بھرتا ہوں
٭٭٭



پچھلے پہر کے چاند سے 
‎

لذتِ آغوشِ شب سے تھک گیا ہے ماہتاب
رات کی رانی نے اس سے چھین لی روحِ شباب

لڑکھڑاتا اونگھتا ہے جانبِ مغرب رواں 
زرد چہرے پر عیاں لب ہائے لیلیٰ کے نشاں

رند شب بیدار ، جا سو جا، سیاہی اوڑھ کر
خوابِ شیریں کے مزے لے پہلوئے شب چھوڑ کر

موت تیری، زندگیِ مہر کا پیغام ہے
مرمریں دستِ سحر میں دیکھ رنگیں جام ہے
٭٭٭





برسات


ان مست ہواؤں کا یہ برسات کا موسم
تنہائی میں بیکار گزر جائے، ستم ہے

شغلِ مے و محبوب کا رنگین زمانہ
کالج کی خرافات میں کٹ جائے، ستم ہے

آغازِ جوانی کے گناہوں کا تقدس 
اور دفتر بے معنی میں دب جائے، ستم ہے

جس پیکرِ لذت سے عبارت ہے مسرت 
وہ ہمدم دیرینہ بچھڑ جائے، ستم ہے

نو خواستہ محبوب کا منھ چومنے والے
اس رت میں یہ بے بال و پری ، ہائے ستم ہے
٭٭٭



دراز ہے شب غم، سوز وساز ساتھ رہے
مسافرو ! مئے مینا گداز ساتھ رہے

قدم قدم پہ اندھیروں کا سامنا ہے یہاں
سفر کٹھن ہے دمِ شعلہ ساز ساتھ رہے

یہ کوہ کیا ہے یہ دشتِ الم فضا کیا ہے
جو اک تیری نگہِ دل نواز ساتھ رہے

کوئی رہے نہ رہے ایک آہ ایک آنسو
بصد خلوص بصد امتیاز ساتھ رہے

یہ میکدہ ہے، نہیں سیرِ دیر سیرِ حرم
نظر عفیف دلِ پاک باز ساتھ رہے
٭٭٭



اسی چمن میں چلیں جشن یادِ یار کریں
دلوں کو چاک، گریباں کو تار تار کریں

شمیمِ پیرہنِ یار کیا نثار کریں
تجھی کو دل سے لگا لیں تجھی کو پیار کریں

سناتی پھرتی ہیں آنکھیں کہانیاں کیا کیا
اب اور کیا کہیں کس کس کو سوگوار کریں

اٹھو کے فرصتِ دیوانگی غنیمت ہے
قفس کو لے کے اڑیں گل کو ہمکنار کریں

کمانِ ابروئے خوباں کا بانکپن ہے غزل
تمام رات غزل گائیں دیدِ یار کریں
٭٭٭




روشن ہے بزمِ شعلہ رخاں دیکھتے چلیں
اس میں وہ ایک نورِ جہاں دیکھتے چلیں

وا ہو رہی ہے میکدۂ نیم شب کی آنکھ
انگڑائی لے رہا ہے جہاں دیکھتے چلیں

سرگوشیوں کی رات ہے رخسارلب کی رات
اب ہو رہی ہے رات جواں دیکھتے چلیں

دل میں اتر کے سیرِ دلِ رہرواں کریں
آہوں میں ڈھل کے ضبطِ فغاں دیکھتے چلیں

کیسے ہیں خانقاہ میں ارباب خانقاہ 
کس حال میں ہے پیرِ مغاں دیکھتے چلیں

ماضی کی یادگار سہی، یاد دل تو ہے
طرزِ نشاطِ نوحہ گراں دیکھتے چلیں

سب وسوسے ہیں گرد رہِ کارواں کے ساتھ
آگے ہے مشعلوں کا دھواں دیکھتے چلیں

آنچل سے اڑ رہے ہیں فضاؤں میں دور دور
شائد وہیں ہو جان بتاں دیکھتے چلیں

آ ہی گئے ہیں رقص گہِ گل رخاں میں ہم
کچھ رنگ و  بو کا سیلِ رواں دیکھتے چلیں
٭٭٭






وہ جو چھپ جاتے تھے کعبوں میں،صنم خانوں میں
ان کو لا لا کے بٹھایا گیا دیوانوں میں

فصل گل ہوتی تھی کیا جشن جنوں ہوتا تھا
آج کچھ بھی نہیں ہوتا ہے گلستانوں میں

آج تو تلخئ دوراں بھی بہت ہلکی ہے
گھول دو ہجر کی راتوں کو بھی پیمانوں میں

آج تک طنزِ محبت کا اثر باقی ہے
قہقہے گونجتے پھرتے ہیں بیابانوں میں

وصل ہے ان کی ادا ہجر ہے ان کا انداز
کون سا رنگ بھروں عشق کے افسانوں میں

شہر میں دھوم ہے اک شعلہ نوا کی مخدوم
تذکرے رستوں میں، چرچے ہیں پری خانوں میں
٭٭٭



اسی ادا سے اسی بانکپن کے ساتھ آؤ
پھر ایک بار اسی انجمن کے ساتھ آؤ

ہم اپنے ایک دل بے خطا کے ساتھ آئیں
تم اپنے محشرِ دار و  رسن کے ساتھ آؤ
٭٭٭



لمحۂ رخصت 

کچھ سننے کی خواہش کانوں کی، کچھ کہنے کا ارماں آنکھوں میں،
گردن میں حمائل ہونے کی بیتاب تمنا بانہوں میں
مشتاق نگاہوں کی زد سے نظروں کا حیا سے جھک جانا
اک شوق ِ ہم آغوشی پنہاں  ان نیچی بھیگی پلکوں میں
شانے پہ پریشاں ہونے کو بے چین سیہ کاکل کی گھٹا
پیشانی میں طوفاں سجدوں کا، لب بوسی کی خواہش ہونٹوں میں
وارفتہ نگاہوں سے پیدا ہے ایک ادائے زلیخائی 
انداز تغافل تیور سے رسوائی کا ساماں آنکھوں میں
فرقت کی بھیانک راتوں کا رنگین تصور میں آنا
افشائے حقیقت کے ڈر سے ہنس دینے کی کوشش ہونٹوں میں
آنسو کا ڈھلک کر رہ جانا خوں گشتہ دلوں کی نذرانہ
تکمیلِ وفا کا افسانہ کہہ جانا آنکھوں آنکھوں میں
٭٭٭




جوانی

بیدار ہوئیں مہر ِ جوانی کی شعاعیں 
پڑنے لگیں عالم کی اسی سمت نگاہیں
خوابیدہ تھے جذبات بدلنے لگے کروٹ
روئے شررِ طور سے ہٹنے لگا گھونگھٹ
بھرنے لگے بازو تو ہوئے بندِ قبا تنگ
چڑھنے لگا طفلی پہ جوانی کا نیا رنگ
ساغر کی کھنک بن گئی اس شوخ کی آواز
بربط کو ہوئی گدگدی یا جاگ اٹھے ساز
اعضاء میں لچک ہے تو ہے اک لوچ کمر میں
اعصاب میں پارہ ہے تو بجلی ہے نظر میں
آنے لگی ہر بات پہ رک رک کے ہنسی اب
رنگین تموج کے گرانبار ہوئے لب
وہ دیکھ بدلتے ہوئے پہلو کوئی اٹھا
وہ دیکھ بگاڑے ہوئے گیسو کوئی اٹھا
وہ دیکھ کہ کس گل کی مہک پھیلی ہے ہر سوں
وہ دیکھ کہ کون رواں بجتے ہیں گھونگھرو
کمبخت اجل تھی یہ جوانی کی قبا میں
ٹکڑے ہیں کسی دل کے بھی نقشِ کف پا میں
٭٭٭


ساز آہستہ ذرا گردشِ جام آہستہ
جانے کیا آئے نگاہوں کا پیام آہستہ

چاند اترا کہ اتر آئے ستارے دل میں
خواب میں ہونٹوں پہ آیا ترا نام آہستہ

کوئے جاناں میں قدم پڑتے ہیں ہلکے ہلکے
آشیانے کی طرف طائرِ بام آہستہ

ان کے پہلو کے مہکتے ہوئے شاداں جھونکے 
یوں چلے جیسے شرابی کا خرام آہستہ

اور بھی بیٹھے ہیں اے دل ذرا آہستہ دھڑک
بزم ہے پہلو بہ پہلو، ہے کلام آہستہ

یہ تمنا ہے کہ اڑتی ہوئی منزل کا غبار
صبح کے پردے میں یا آ گئی شام آہستہ		٭٭٭



پھر بلا بھیجا ہے پھولوں نے گلستانوں سے
تم بھی آ جاؤ کہ باتیں کریں پیمانوں سے

رت پلٹ آئے گی، اک آپ کے آ جانے سے
کتنے افسانے ہیں، سننے ہیں جو دیوانوں سے

تحفۂ برگ گل و بادِ بہاراں لے کر
قافلے عشق کے نکلے ہیں بیابانوں سے

بدلہ بدلہ سا نظر آتا ہے دنیا کا چلن
آپ کے ملنے سے، ہم جیسے پریشانوں سے

ہم تو کھلتے ہوئے غنچوں کا تبسم ہیں ندیم 
مسکراتے ہوئے ٹکراتے ہیں طوفانوں سے
٭٭٭




انتساب

ہم کو بے مایگی ضبط دکھانا ہی پڑا
دل کی باتوں کو ترے سامنے لانا ہی پڑا

میں جو خلوت میں بھی ڈرتا تھا سنانے کے لئے
سرِ بازار وہی گیت سنانا ہی پڑا

کھینچ لایا تجھے پردے سے میرا ذوق نیاز 
میرے پردے میں تجھے جلوہ دکھانا ہی پڑا

تھرتھراتے ہوئے ہاتھوں سے دھڑکتے دل سے
تیرے رخ سے ترے آنچل کو ہٹانا ہی پڑا
٭٭٭




ستالن 


نوے سالہ بوڑھے تاتاری شاعر جمبول جابر کی نظم کا آزاد ترجمہ

صفِ اعدا کے مقابل ہے ہمارا رہبر 
مادر روس کی آنکھوں کا درخشاں تارا
جس کی تابانی سے ضامن ہے زمیں
وہ زمیں اور وہ وطن
جسکی آزادی کامل ہے شہیدوں کا لہو
جسکی بنیادوں میں جمہور کا عرق
ان کی محنت کا عقوبت کا محبت کا خمیر
وہ زمیں
اس کا جلال
اس کا حشم
کیا میں اس رزم کا خاموش تماشائی بنوں
کیا میں جنت کو جہنم کے حوالے کر دوں
کیا مجاہد نہ بنوں ؟
کیا میں تلوار اٹھاؤں نہ وطن کی خاطر
میرے پیارے میرے فردوس بدن کی خاطر
ایسے ہنگامِ قیامت میں میرا نغمۂ شوق
کیا میرے ہم وطنوں کے دل میں
زندگی اور مسرت بن کر
نہ سما جائے گا ؟


قرۃ العین ! میری جانِ عزیز
او میرے فرزندو !
برق پا وہ میرا رہوار کہاں ہے لانا
تشنۂ خوں میری تلوار کہاں ہے لانا
میرے نغمے تو وہاں گونجیں گے
ہے میرا قافلہ سالار جہاں ستالن


وہ میرا ملک جواں
وہ میرا بادۂ احمر کا جواں سال سبو
میری نوخیز مسرت کا جہاں
وہ میرا سروِ رواں ملک جواں
ولد الجرم خطاکار درندوں نے جہاں
اپنے ناپاک ارادوں سے قدم رکھا ہے
ایک نوخیز کلی ایک نوآشاز وشر
وہ مرا ملک جواں
سچ کہا ہے کہ ’زمیں کے کیڑے
اپنی بے وقت اجل سے ڈر کر
تھرتھراتے ہوئے سہمے ہوئے گھبرائے ہوئے
نکل آئے ہیں بلوں سے باہر‘
اپنے فولاد سے روزن کے دہن بند کرو
اور فاشسٹ شغالوں سے کہو
نغمۂ اول و آخر ہے یہی

قرۃ العین ! میری جانِ عزیز
او میرے فرزندو !
برق پا وہ میرا رہوار کہاں ہے لانا
تشنۂ  خوں مری تلوار کہاں ہے لانا
میرے نغمے تو وہاں گونجیں گے
ہے میرا قافلہ سالار جہاں ستالن

یہی محشر ہے دو عالم کا تصادم ہے یہی
ایک پرانا عالم
ایک نیا
ایک مرتی ہوئی بڑھیا کا لنگڑتا ہوا پاؤں
ایک ڈھلتی ہوئی چھاؤں
دوسرا ایک ابھرتے ہوئے سینے کا شباب
تیز اور تند شراب
پیٹ سے رینگنے والے یہ نجس اور ناپاک
سوسمار
دورِ وحشت کے درندے
موذی
دہنِ آز و ہلاکت کا شکنجہ لے کر
مرے شاہی کے خلاف
رات دن ہیں کہ چلے آتے ہیں
نہیں جائیں گے کبھی رائیگاں میرے نغمے
اور مرے ہم وطنوں کے نغمے
مرے شاہین تو منصوری مظفر ہی رہیں گے دوئیم
سوسماران خزنداں  درگور
میرا شاہین، میرا ستالن
میرے شاہین بچے، جن کا ابھی نام نہیں
سرخ رو اور سرافراز فضاؤں میں بلند
ہاں میرے ہم وطنو
جاؤ اور اپنے سمندوں کو تو مہمیز کرو
سرخ فوجوں میں ملو
جوئے پر جوش بنو، برق کا سیلاب بنو اور بہو
اک دہکتے ہوئے پگھلے ہوئے لوہے کا سمندر بن کر
غضب آلود بھنور بن جاؤ
اور فاشسٹ خنازیر کو
فی النار کرو
میرے بلخاش کہاں ہے وہ مسِ سرخ تیرا
اس سے کہنا سرِ دشمن پہ گرے شل بن کر
بحر اخضر کے او ماہی گرو ۔ غوطہ زنو
اپنا ذخیرہ لاؤ
اور قربانِ وطن کر ڈالو
معدنوں سے کہو اور کھیتوں کو آواز تو دو
لائیں وہ اپنے سن وسال کا حاصل لائیں
اور قربان وطن کر ڈالیں
یہ ہیں رہوار، یہ پشمینا ہیں، یہ خرمن ہیں
میرے محبوب وطن
سب کے سب تیرے ہیں سب تیرے ہے
استالن نے میداں میں بلایا ہے ہمیں
کسب اور جہد کا پیغام سنایا ہے ہمیں
خطۂ قدس سے دشمن کو نکالو باہر
کزاخستان !
وطن !
اپنی طاقت کو سمیٹے ہوئے اٹھ
خیز با صد حشم و جاہ و  جلال
بہزاراں جبروت
ایک جان ایک جسد
پھونک دے دشمنِ ناپاک کی خاکستر کو
٭٭٭





اپنا شہر 


یہ شہر اپنا
عجب شہر ہے کہ
راتوں میں 
سڑک پہ چلیے تو
سرگوشیاں سی کرتا ہے

وہ لا کے زخم دکھاتا ہے
رازِ دل کی طرح
دریچے بند
گلی چپ
نڈھال دیواریں
کوڑھا مہریں بلب
گھروں میں میتیں ٹھہری ہوئی ہیں برسوں سے
کرائے پر
٭٭٭




اک شخص تھا 



اک شخص تھا زمانہ تھا کہ دیوانہ بنا
اک افسانہ تھا افسانے سے افسانہ بنا

اک پری چہرہ کہ جس چہرے سے آئنہ بنا
دل کے آئنہ در آئنہ پری خانہ بنا

کیمی شب میں نکل آتا ہے گاہے گاہے
ایک آہو کبھی اپنا کبھی بیگانہ بنا

ہے چراغاں ہی چراغاں سرِ ارض سرِ جام
رنگ صد جلوہ جانا نہ صنم خانہ بنا

ایک جھونکا تیرے پہلو کا مہکتی ہوئی یاد
ایک لمحہ تیری دل داری کا کیا کیا نہ بنا
٭٭٭





جانے والے سپاہی سے پوچھو 



جانے والے سپاہی سے پوچھو وہ کہاں جا رہا ہے 

کون دکھیا ہے جو گا رہی ہے
بھوکھے بچوں کو بہلا رہی ہے
لاش جلنے کی بو آ رہی ہے 
زندگی ہے کہ چلا رہی ہے 

کتنے سہمے ہوئے ہیں نظارے 
کیسے ڈر ڈر کے چلتے ہیں تارے 
کیا جوانی کا خون ہو رہا ہے 
سرخ ہیں آنچلوں کے کنارے 

گر رہا ہے سیاہی کا ڈیرا 
ہو رہا ہے مری جاں سویرا 
او وطن چھوڑ کر جانے والے
کھل گیا انقلابی پھریرا
٭٭٭



پر 



گھر کے ہر ذرے سے ناسور کی بو آتی ہے
قبر کی عود کی کافور کی بو آتی ہے
ہم اسیروں کی بھی اک عمر بسر ہوتی ہے
نہ تو موت آتی ہے ہمدم نہ سحر ہوتی ہے
٭٭٭



پشیمانی


اے خوشا وہ دن کے جب تجھ سے ملاقاتیں نہ تھیں
ایسے مشکل دن نہ تھے ایسی کٹھن راتیں نہ تھیں

جب دلِ نادان یوں بے طرح بھر آتا نہ تھا
آتشِ غم تیز کرنے والی برساتیں نہ تھیں

شب کے سناٹے میں چپکے چپکے رو لینا نہ تھا
آنکھ میں آنسو نہ تھے لب پر مناجاتیں نہ تھیں

جب حریمِ دل میں روشن ہی نہ تھے غم کے چراغ
چاندنی راتیں تھیں، ایسی چاندنی راتیں نہ تھیں
٭٭٭




تلنگانہ


‎ دیارِ ہند کا وہ راہبر تلنگانہ
بنا رہا ہے نئی اک سحر تلنگانہ
بلا رہا ہے بسمتِ دگر تلنگانہ
وہ انقلاب کا پیغامبر تلنگانہ

امامِ تشنہ لباں خضرِ راہِ آب حیات
اندھیری رات کے سینے میں مشعلوں کی برأت
میرا ثبات مری کائنات میری حیات
سلام مہر ِ بغاوت، سلام ماہِ نجات

سیاہ رات جرائم پناہ ظلم بدوش
سیاہ رات میں بدکار مست اور مدہوش
سیاہ رات میں مقتول عصمتوں کا خروش
سیاہ رات میں باغی عوام برق بدوش

اٹھے ہیں تیغ بکف یوں بصد ہزار جلال
وہ کوہ وہ دشت کے فرزند کھیتیوں کے لال
چمک رہی ہے درانتی اچھل رہے ہیں کدال
بنائے قصرِ عمارت شکستہ  و پامال

لرز لرز کے گرے سقف و بامِ زر داری
ہے پاش پاش نظامِ ہلاکو و زاری
پڑی ہے فرق مبارک پہ ضربتِ کاری
حضورِ آصف سابع پہ ہے غشی طاری

بدل رہی ہے یہ رنج و عذاب کی دنیا
ابھر رہی ہے نئے آفتاب کی دنیا
نئے عوام، نئی آب و تاب کی دنیا
وہ رنگ و نور کی محفل شباب کی دنیا

سلام سرخ شہیدوں کی سرزمین سلام
سلام عزم بلند، آہنی یقین سلام
مجاہدوں کی چمکتی ہوئی جبین سلام
دیارِ ہند کی محبوب ارض چین سلام
٭٭٭




تماشائی


ادھر آ اے مرے ناداں تماشائی ادھر آ
نہیں ہیں ہم میں کوئی آلِ قیصر آلِ اسمانی
نہیں ہے گنج ِ قاروں، تختِ جم، تختِ سلیمانی
نہ ہم سے طغرل و سنجر، نہ ہم میں ظلِ سبحانی
خدا سویا ہوا ہے، جل رہی ہے شمعِ شیطانی
نہیں رکھتے ہیں کچھ بھی، نورِ عرفانی تو رکھتے ہیں
محل رکھتے نہیں ہیں، جورِ طغیانی تو رکھتے ہیں
ادھر آ اے میرے ناداں تماشائی ادھر آ
٭٭٭




بنگال


ایک ہو کر دشمنوں پر وار کر سکتے ہیں ہم
خون کا بھرپور دریا پار کر سکتے ہیں ہم
کانگریس کو، لیگ کو بیدار کر سکتے ہیں ہم
زندگی سے ہند کو سرشار کر سکتے ہیں ہم

وہ درِ ہندوستاں وہ سحرو نغمے کا دیار
دیدنی ہے آج اس کی ناتوانی کی بہار
بھوک کا بیماریوں کا بم کے گولوں کا شکار
پیٹھ میں جاپان کا خنجر تو سر پر سودخوار
ایک ہو کر دشمنوں پر وار کر سکتے ہیں ہم
خون کا بھرپور دریا پار کر سکتے ہیں ہم
کانگریس کو لیگ کو بیدار کر سکتے ہیں ہم
زندگی سے ہند کو سرشار کر سکتے ہیں ہم

قبر کے روزن سے اپنا سر نکالا موت نے
بے سہارا جان کر مارا ہے بھالا موت نے
خاندانوں کو بنا ڈالا نوالہ موت نے
شیر خواروں کو چبا کر تھوک ڈالا موت نے
ایک ہو کر دشمنوں پر وار کر سکتے ہیں ہم
خون کا بھرپور دریا پار کر سکتے ہیں ہم
کانگریس کو، لیگ کو بیدار کر سکتے ہیں ہم
زندگی سے ہند کو سرشار کر سکتے ہیں ہم

امتِ مرحوم ہو یا ملتِ زنار دار 
انکے فاقوں کی نہ گنتی ہے نہ لاشوں کا شمار
مرد و  زن شیخو  برہمن سب قطار اندر قطار
آہ سوکھی چھاتیوں کی چیخ بچوں کی پکار
ایک ہو کر دشمنوں پر وار کر سکتے ہیں ہم
خون کا بھرپور دریا پار کر سکتے ہیں ہم
کانگریس کو لیگ کو بیدار کر سکتے ہیں ہم
زندگی سے ہند کو سرشار کر سکتے ہیں ہم

آج اپنا گھر عدو کی رہگزر ہی کیوں نہ ہو
ہم بڑھے جائیں گے رستہ پرخطر ہی کیوں نہ ہو
ہم لڑے جائیں گے دشمن بد گہر  ہی کیوں نہ ہو
اپنی وردی خاک خوں میں تر بتر ہی کیوں نہ ہو
ایک ہو کر دشمنوں پر وار کر سکتے ہیں ہم
خون کا بھرپور دریا پار کر سکتے ہیں ہم
کانگریس کو، لیگ کو بیدار کر سکتے ہیں ہم
زندگی سے ہند کو سرشار کر سکتے ہیں ہم
٭٭٭





جاں بازان کیور


ملابار کے چار کمیونسٹ کسانوں کے لئے، جنہیں اپریل  میں پھانسی دے دی گئی


السّلام، السّلام
السّلام اے سرخ جانبازان کیور السّلام

ہاں، بڑھے گا زندگی کا کاروان تیز گام 
السّلام !
لیں گے ہم لیں گے شہیدوں کے لہو کا انتقام 
السّلام !
عہد کرتے ہیں مٹا دیں گے یہ سولی کا نظام 
السّلام !
آلِ لینن آلِ ستالن کا زندہ ہے نام 
السّلام !
ہاں، بڑھے گا زندگی کا کاروان تیز گام

السّلام، السّلام !
السّلام، اے سرخ جانبازان کیور، السّلام
٭٭٭





ستارے



جاؤ جاؤ چھپ جاؤ ستارو
جاؤ جاؤ تم چھپ جاؤ

رات رات بھر جاگ جاگ کر
کس کو گیت سناتے ہو
چپ چپ رہ کر جھلمل، جھلمل
کس بھاشا میں گاتے ہو

جاؤ جاؤ چھپ جاؤ ستارو
جاؤ جاؤ تم چھپ جاؤ

رات اندھیری کالی کالی
کس سج دھج سے آئی ہے
میرا کیا ہے میں سودائی
تاروں کی رسوائی ہے

جاؤ جاؤ چھپ جاؤ ستارو
جاؤ جاؤ تم چھپ جاؤ

ہم جس نگری میں رہتے ہیں
وہ نگری کیا دیکھو گے
غم جس بستی میں بستے ہیں
وہ بستی کیا دیکھو گے

جاؤ جاؤ چھپ جاؤ ستارو
جاؤ جاؤ تم چھپ جاؤ

آپ تن آساں، راج دلارے
میں وحشی طوفان بدوش
میری دنیا جدلِ مسلسل
آپ کی دنیا سیلِ خموش

جاؤ جاؤ چھپ جاؤ ستارو
جاؤ جاؤ تم چھپ جاؤ

جھوم جھوم کر گرج گرج کر
بادل بن کر چھانا ہے
دھرتی کے پیاسے ہونٹوں میں
امرت رس برسانا ہے

جاؤ جاؤ چھپ جاؤ ستارو
جاؤ جاؤ تم چھپ جاؤ
٭٭٭




اندھیرا

رات کے ہاتھ میں اک کاسۂ دریوزہ گری
یہ چمکتے ہوئے تارے یہ دمکتا ہوا چاند
بھیک کے نور میں مانگے کے اجالے میں مگن
وہی ملبوسِ عروسی ہے یہی ان کا کفن
اس اندھیرے میں وہ مرتے ہوئے جسموں کی کراہ
وہ عزازیل کے کتوں کی کمین گاہ 
"وہ تہذیب کے زخم"
خندقیں
باڑ کے تار
باڑ کے تاروں میں الجھے ہوئے انسانوں کے جسم
اور انسانوں کے جسموں پہ وہ بیٹھے ہوئے گدھ
وہ تڑکتے ہوئے سر
میتیں ہاتھ کٹی پاؤں کٹی
لاش کے ڈھانچے کے اس پار سے اس پار تلک
سرد ہوا
نوحہ و  نالہ  و  فریاد کناں
شب کے سناٹے میں رونے کی صدا
کبھی بچوں کی کبھی ماؤں کی
چاند کے تاروں کے ماتم کی صدا
رات کے ماتھے پر آزردہ ستاروں کا ہجوم
صرف خورشیدِ درخشاں کے نکلنے تک ہے
رات کے پاس اندھیرے کے سوا کچھ بھی نہیں
رات کے پاس اندھیرے کے سوا کچھ بھی نہیں
٭٭٭
ماخذ: کوتا کوش ڈاٹ آرگ (ہندی)
ہندی رسم الخط سے ٹرانسلٹریشن بذریعہ
http://uh.learnpunjabi.org/default.aspx
تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید
