﻿


بندے کو خدا کیا لکھنا



حبیب جالب









اس دیس کا رنگ انوکھا تھا اس دیس کی بات نرالی تھی
نغموں سے بھرے دریا تھے رواں گیتوں سے بھری ہریالی تھی

اس شہر سے ہم آ جائیں گے، اشکوں کے دیپ جلائیں گے 
یہ دور بھی آنے والا تھا یہ بات بھی ہونے والی تھی

وہ روشن گلیاں یاد آئیں، وہ پھول وہ کلیاں یاد آئیں 
سُندر من چلیاں یاد آئیں، ہر آنکھ مدھر متوالی تھی

کس بستی میں آ پُہنچے ہم، ہر گام پر ملتے ہیں سو غم
پھر چل اس نگری میں ہمدم ہر شام جہاں اُجیالی تھی

وہ بام و در وہ راہگذر، دل خاک بسر جاں خاک بسر
جالب وہ پریشان حالی بھی کیا خوب پریشاں حالی تھی
٭٭٭





ہم نے سنا تھا صحن چمن میں کیف کے بادل چھائے ہیں 
ہم بھی گئے تھے جی بہلانے اشک بہا کر آئے ہیں 

پھول کھلے تو دل مرجھائے شمع جلے تو جان جلے 
ایک تمہارا غم اپنا کر کتنے غم اپنائے ہیں 

ایک سلگتی یاد چمکتا درد فروزاں تنہائی
پوچھو نہ اس کے شہر سے ہم کیا کیا سوغاتیں لائے ہیں 

سوئے ہوئے جو درد تھے دل میں ‌آنسو بن کر بہہ نکلے 
رات ستاروں کی چھاؤں میں یاد وہ کیا کیا آئے ہیں 

آج بھی سورج ڈوب گیا بے نور افق کے ساگر میں 
آج بھی پھول چمن میں تجھ کو بن دیکھے مرجھائے ہیں 

ایک قیامت کا سناٹا ایک بلا کی تاریکی
ان گلیوں سے دور نہ ہنستا چاند نہ روشن سائے ہیں 

پیار کی بولی بول نہ جالب اس بستی کے لوگوں سے 
ہم نے سکھ کی کلیاں کھو کر دکھ کے کانٹے پائے ہیں 
٭٭٭



بندے کو خدا کیا لکھنا

ظلمت کو ضیاء صر صر کو صبا بندے کو خدا کیا لکھنا
پتھر کو گُہر، دیوار کو دَر، کرگس کو ہُما کیا لکھنا

اک حشر بپا ہے گھر گھر میں، دم گھُٹتا ہے گنبدِ بے دَر میں 
اک شخص کے ہاتھوں مدت سے رُسوا ہے وطن دنیا بھر میں 
اے دیدہ ورو اس ذلت سے کو قسمت کا لکھا کیا لکھنا
ظلمت کو ضیاء صر صر کو صبا بندے کو خدا کیا لکھنا

یہ اہلِ چشم یہ دارا و جَم سب نقش بر آب ہیں اے ہمدم
مٹ جائیں گے سب پروردۂ شب، اے اہلِ وفا رہ جائیں گے ہم
ہو جاں کا زیاں، پر قاتل کو معصوم ادا کیا لکھنا
ظلمت کو ضیاء صر صر کو صبا بندے کو خدا کیا لکھنا

لوگوں ہی پہ ہم نے جاں واری، کی ہم نے انہی کی غم خواری
ہوتے ہیں تو ہوں یہ ہاتھ قلم، شاعر نہ بنیں گے درباری
ابلیس نُما انسانوں کی اے دوست ثنا کیا لکھنا
ظلمت کو ضیاء صر صر کو صبا بندے کو خدا کیا لکھنا

حق بات پہ کوڑے اور زنداں، باطل کے شکنجے میں ہے یہ جاں 
انساں ہیں کہ سہمے بیٹھے ہیں، خونخوار درندے ہیں رقصاں 
اس ظلم و ستم کو لطف و کرم، اس دُکھ کو دوا کیا لکھنا
ظلمت کو ضیاء صر صر کو صبا بندے کو خدا کیا لکھنا

ہر شام یہاں شامِ ویراں، آسیب زدہ رستے گلیاں 
جس شہر کی دھُن میں نکلے تھے، وہ شہر دلِ برباد کہاں 
صحرا کو چمن، بَن کو گلشن، بادل کو رِدا کیا لکھنا
ظلمت کو ضیاء صر صر کو صبا بندے کو خدا کیا لکھنا

اے میرے وطن کے فنکارو! ظلمت پہ نہ اپنا فن وارو
یہ محل سراؤں کے باسی، قاتل ہیں سبھی اپنے یارو
ورثے میں ہمیں یہ غم ہے مِلا، اس غم کو نیا کیا لکھنا
ظلمت کو ضیاء، صَر صَر کو صبا، بندے کو خدا کیا لکھنا
٭٭٭



نہ ڈگمگائے کبھی ہم وفا کے رستے میں 
چراغ ہم نے جلائے ہوا کے رستے میں 

کسے لگائے گلے اور کہاں کہاں ٹھہرے 
ہزار غنچہ و گُل ہیں صبا کے رستے میں 

خدا کا نام کوئی لے تو چونک اٹھتے ہیں 
ملے ہیں ہم کو وہ رہبر خدا کے رستے میں 

کہیں سلاسلِ تسبیح کہیں زناّر
بچ ہے ہیں دام بہت مُدعا کے رستے میں 

ابھی وہ منزلِ فکرو نظر کہاں آئی
ہے آدمی ابھی جرم و سزا کے رستے میں 

ہیں آج بھی وہی دارو رسن وہی زنداں 
ہر اِک نگاہِ رموز آشنا کے رستے میں 

یہ نفرتوں کی فصیلیں جہالتوں کے حصار
نہ رہ سکیں گے ہماری صدا کے رستے میں 

مٹا سکے نہ کوئی سیلِ انقلاب جنہیں 
وہ نقش چھوڑے ہیں ہم نے وفا کے رستے میں 

زمانہ ایک سا جالب صدا نہیں رہتا
چلیں گے ہم بھی کبھی سر اُٹھا کے رستے میں 
٭٭٭


ضابطہ

یہ ضابطہ ہے کہ باطل کو مت کہوں باطل
یہ ضابطہ ہے کہ گرداب کو کہوں ساحل
یہ ضابطہ ہے بنوں دستو بازو ۓ قاتل
یہ ضابطہ ہے دھڑکنا بھی چھوڑ دے یہ دل

یہ ضابطہ ہے کہ غم کو نہ غم کہا جاۓ
یہ ضابطہ ہے ستم کو کرم کہا جاۓ

بیاں کروں نہ کبھی اپنی دل کی حالت کو
نہ لاؤں لب پہ کبھی شکوہ و شکایت کو
کمالِ حسن کہوں عیب کو جہالت کو
جگاؤں نہ سوئ ہوئ عدالت کو

یہ ضابطہ ہے حقیقت کو اک فسانہ کہوں 
یہ ضابطہ ہے قفس کو بھی آشیانہ کہوں 

یہ ضابطہ ہے کہوں دشت کو گلستاں زار
خزاں کے روپ کو لکھوں فروغ حسن بہار
ہر ایک دشمن جاں کو کہوں میں ہمدم و یار
جو کاٹتی ہے سرِ حق، وہ چوم لوں تلوار

خطا و جرم کہوں اپنی بے گناہی کو
سحر کا نور لکھوں رات کی سیاہی کو

جو مٹنے والے ہیں ان کے لیۓ دوام لکھوں 
ثناء  یزید کی اور شمر پر سلام لکھوں 
جو ڈس رہا ہے وطن کو نہ اس کا نام لکھوں 
سمجھ سکیں نہ جسے لوگ وہ کلام لکھوں 

دروغ گو ئ کو سچائ کا پیام کہوں 
جو راہ زن ہے اسے رہبر عوام کہوں 

میرے جنوں کو نہ پہنا سکو گے تم زنجیر
نہ ہو سکے گا کبھی تم سے میرا ذہن اسیر
جو دیکھتا ہوں جو سچ ہے کروں گا وہ تحریر
متاع ہر دو جہاں بھی نہیں بہاۓ ضمیر

نہ دے سکے گی سہارا تمہیں کو ئ تدبیر
فنا تمہارا مقدر بقا میری تقدیر

نہ گفتگو سے نہ وہ شاعری سے جاۓ گا
عصا اٹھاؤ کہ فرعون اسی سے جاۓ گا
اگر ہے فکر گریباں تو گھر میں جا بیٹھو
یہ وہ عذاب ہے دیوانگی سے جاۓ گا

بجھے چراغ، لٹیں عصمتیں، چمن اجڑ ا
یہ رنج جس نے دیۓ کب خوشی سے جاۓ گا

جیو ہماری طرح سے مرو ہماری طرح
نظام زر تو اسی سادگی سے جاۓ گا
جگا نہ شہہ کے مصاحب کو نیند سے جالب
اگر وہ جاگ اٹھا نو کری سے جاۓ گا
٭٭٭



فرنگی کا جو میں دربان ہوتا
تو جینا کس قدر آسان ہوتا

میرے بیٹے بھی امریکا میں پڑھتے 
میں ہر گرمی میں انگلستان ہوتا

مری انگلش بلا کی چست ہوتی
بلا سے جو نہ اردو دان ہوتا

جھکا کے سر کو جو ہو جاتا سر میں 
تو لیڈر بھی عظیم الشان ہوتا

زمینیں میری ہر صوبے میں ہوتیں 
میں واللہ صدر پاکستان ہوتا
٭٭٭






اور سب بھول گۓ حرف صداقت لکھنا
رہ گیا کام ہمارا ہی بغاوت لکھنا

لاکھ کہتے رہیں ظلمت کو نہ ظلمت لکھنا
ہم نے سیکھا نہیں پیارے بہ اجازت لکھنا

نہ صلے کی نہ ستائش کی تمنا ہم کو
حق میں لوگوں کے ہماری تو ہے عادت لکھنا

ہم نے جو بھول کے بھی شہہ کا قصیدہ نہ کہا
شائد آیا اسی خوبی کی بدولت لکھنا

اس سے بڑھ کر میری تحسین بھلا کیا ہو گی
پڑھ کے نا خوش ہیں میرا صاحب ثروت لکھنا

دہر کے غم سے ہوا ربط تو ہم بھول گۓ
سرو قامت کو جوانی کو قیامت لکھنا

کچھ بھی کہتے ہیں کہیں شاہ کے مصاحب جالب
رنگ اپنا یہی رکھنا اسی صورت لکھنا 
٭٭٭



عشق میں نام کر گۓ ہوں گے 
جو ترے غم میں مر کۓ ہوں گے 

اب وہ نظریں ادھر نہیں اٹھتی
ہم نظر سے اتر گۓ ہوں گۓ

کچھ فضاؤں میں انتشار سا ہے 
ان کے گیسو بکھر گۓ ہوں گے 

نور بکھرا ہے راہ گزاروں میں 
وہ ادھر سے گزر گۓ ہوں گے 

میکدے میں کہ بزم جاناں تک
اور جالب کدھر گۓ ہوں گے 
٭٭٭


نیلو 

تو کہ ناواقفِ آدابِ شہنشاہی تھی
رقص زنجیر پہن کر بھی کیا جاتا ہے 
تجھ کو انکار کی جرّات جو ہوئ تو کیونکر
سایۂ شاہ میں اسطرح جیا جاتا ہے 

اہلِ ثروت کی یہ تجویز ہے، سر کش لڑکی
تجھ کو دربار میں کوڑوں سے نچایا جائے 
ناچتے ناچتے ہو جائے جو پائل خاموش
پھر نہ تا زیست تجھے ہوش میں لایا جائے 

لوگ اس منظر جانکاہ کو جب دیکھیں گے 
اور بڑھ جائے گا کچھ سطوتِ شاہی کا جلال
تیرے انجام سے ہر شخص کو عبرت ہو گی
سر اٹھانے کا رعایا کو نہ آئے گا خیال

طبعِ شاہانہ پہ جو لوگ گِراں ہوتے ہیں 
ہاں انہیں زہر بھرا جام دیا جاتا ہے 
تو کہ ناواقفِ آدابِ شہنشاہی تھی
رقص زنجیر پہن کر بھی کیا جاتا ہے 
٭٭٭




دینا پڑے کچھ ہی ہرجانہ سچ ہی لکھتے جانا
مت گھبرانا، مت ڈر جانا سچ ہی لکھتے جانا

باطل کی منہ زور ہوا سے جو نہ کبھی بجھ پائیں 
وہ شمعیں روشن کر جانا سچ ہی لکھتے جانا

پل دو پل کے عیش کی خاطر کیا دبنا کیا جھکنا
آخر سب کو ہے مر جانا سچ ہی لکھتے جانا

لوحِ جہاں پر نام تمہارا لکھا رہے گا یونہی
جالب سچ کا دم بھر جانا سچ ہی لکھتے جانا
٭٭٭

ہم دیکھتے ہیں
نابیناؤں کے لیے کہی گئی

وہی عالم ہے جو تم دیکھتے ہو
نہیں کچھ مختلف عالم تمہارا
جلائے ہم نے پلکوں پر دیے بھی
نہ چمکا پھر بھی قسمت کا ستارہ
وہی ہے وقت کا بے نور دھارا

وہی سر پر مسلط ہے شبِ‌غم
اندھیرے ہر طرف چھائے ہوئے ہیں
نہیں ملتی خوشی کی اک کرن بھی
مہ و خورشید گہنائے ہوئے ہیں
یہ کس بستی میں ہم آئے ہوئے ہیں

شکایت ہے تمہیں آنکھوں سے اپنی
یہاں آنکھیں کہاں روشن رفیقو!!
کلی کی آنکھ نم، روتی ہے شبنم
سلگتے ہیں گلوں کے تن رفیقو!!
نظر آتے ہیں گلشن، بن رفیقو!!

جنہیں ہم شعر میں کہتے ہیں جادو
ان آنکھوں کو یہاں نم دیکھتے ہیں
لبوں پر آہ اور زلفیں پریشاں
غزل کو وقفِ ماتم دیکھتے ہیں
ستم کیا کم ہے کہ ہم دیکھتے ہیں؟؟ 
٭٭٭

سحاب


اے سحاب اے سحاب
اے ردائے آفتاب

آگ ہے برس رہی
جل رہی ہے زندگی
اور دل کی تشنگی
دیکھتی ہے تیرے خواب
اے سحاب اے سحاب

خشک خشک ہے زمیں
دور تک نمی نہیں
ہر نفس ہے آتشیں
ہر طرف ہے اک سراب
اے سحاب اے سحاب

یہ نہیں کہ غم نہیں
پھر بھی آنکھ نم نہیں
یہ ستم بھی کم نہیں
آہ میں نہیں ہے تاب
اے سحاب اے سحاب

اک خیال کہہ گیا
کتنی دور رہ گیا
آنسووں میں بہہ گیا
ہائے موسمِ شراب
٭٭٭


دستور

دیپ جس کا محلات ہی میں جلے 
چند لوگوں کی خوشیوں کو لے کر چلے 
وہ جو سائے میں ہر مصلحت کے پلے 
ایسے دستور کو، صبح بے نور کو
میں نہیں مانتا، میں نہیں مانتا

میں بھی خائف نہیں تختہ دار سے 
میں بھی منصور ہوں کہہ دو اغیار سے 
کیوں ڈراتے ہو زنداں کی دیوار سے 
ظلم کی بات کو، جہل کی رات کو
میں نہیں مانتا، میں نہیں مانتا

پھول شاخوں پہ کھلنے لگے، تم کہو
جام رندوں کو ملنے لگے، تم کہو
چاک سینوں کے سلنے لگے، تم کہو
اِس کھلے جھوٹ کو، ذہن کی لوٹ کو
میں نہیں مانتا، میں نہیں مانتا

تم نے لوٹا ہے صدیوں ہمارا سکوں 
اب نہ ہم پر چلے گا تمھارا فسوں 
چارہ گر میں تمہیں کس طرح سے کہوں 
تم نہیں چارہ گر، کوئی مانے، مگر
میں نہیں مانتا، میں نہیں مانتا
٭٭٭



یہ اور بات تیری گلی میں نہ آئیں ہم
لیکن یہ کیا کہ شہر ترا چھوڑ جائیں ہم

مدّت ہوئی ہے کوئے بتاں کی طرف گئے 
آوارگی سے دل کو کہاں تک بچائیں ہم

شاید بقیدِ زیست یہ ساعت نہ آ سکے 
تم داستانِ شوق سنو اور سنائیں ہم

بے نور ہو چکی ہے بہت شہر کی فضا
تاریک راستوں میں کہیں کھو نہ جائیں ہم

اُس کے بغیر آج بہت جی اداس ہے 
جالب چلو کہیں سے اسے ڈھونڈ لائیں ہم
٭٭٭





لوک گیتوں کا نگر یاد آیا
آج پردیس میں گھر یاد آیا

جب چلے آئے چمن زار سے ہم
التفاتِ گُلِ تر یاد آیا

تیری بیگانہ نگاہی سرِ شام
یہ ستم تابہ سحر یاد آیا

ہم زمانے کا ستم بھول گئے 
جب ترا لطفِ نظر یاد آیا

تو بھی مسرور تھا اُس شب سرِ بزم
اپنے شعروں کا اثر یاد آیا

پھر ہوا دردِ تمنّا بیدار
پھر دلِ خاک بسر یاد آیا

ہم جسے بھول چُکے تھے جالب
پھر وہی راہ گزر یاد آیا
٭٭٭





جی دیکھا ہے مر دیکھا ہے 
ہم نے سب کچھ کر دیکھا ہے 

برگِ آوارہ کی صورت
رنگِ خشک و تر دیکھا ہے 

ٹھنڈی آہیں بھرنے والو
ٹھنڈی آہیں بھر دیکھا ہے 

تیری زلفوں کا افسانہ
رات کے ہونٹوں پر دیکھا ہے 

اپنے دیوانوں کا عالم
تم نے کب آ کر دیکھا ہے 

انجم کی خاموش فضاء میں 
میں نے تمہیں اکثر دیکھا ہے 

ہم نے اس بستی میں جالب
جھوٹ کا اونچا سر دیکھا ہے 
٭٭٭


کسی سے حال دلِ زار مت کہو سائیں 
یہ وقت جیسے بھی گزرے گزار لو سائیں 

وہ اس طرح سے ہیں بچھڑے کہ مل نہیں سکتے 
وہ اب نہ آئیں گے ان کو صدا نہ دو سائیں 

تمہیں پیام دئیے ہیں صبا کے ہاتھ بہت
تمہارے شہر میں ہیں تم جو آ سکو سائیں 

نہ مال و زر کی تمنا نہ جاہ حشمت کی
ملیں گے پیار سے ہم ایسے لوگ تو سائیں 

کہیں تو کس سے کہیں اور سنے تو کون سنے 
گزر گئی ہے محبت میں ہم پہ جو سائیں 

اکیلے جاگتے رہنے سے کچھ نہیں ہو گا
تمام خواب میں ہیں تم بھی سو رہو سائیں 
٭٭٭





میرو غالب بنے یگانہ بنے 
آدمی اے خدا خدا نہ بنے 

موت کی دسترس میں کب سے ہیں 
زندگی کا کوئی بہانہ بنے 

اپنا شاید یہی تھا جرم اے دوست
با وفا بن کے بے وفا نہ بنے 

ہم پہ اک اعتراض یہ بھی ہے 
بے نوا ہو کے بے نوا نہ بنے 

یہ بھی اپنا قصور کیا کم ہے 
کسی قاتل کے ہمنوا نہ بنے 

کیا گلہ سنگدل زمانے کا
آشنا ہی جب آشنا نہ بنے 

چھوڑ کر اس گلی کو اے جالب
اک حقیقت سے ہم فسانہ بنے 
٭٭٭



شہرِ ظلمات کو ثبات نہیں 
اے نظامِ کہن کے فرزندو!
اے شبِ تار کے جگر بندو!

یہ شبِ تار جاوداں تو نہیں
یہ شبِ تار جانے والی ہے
تا بکے تیرگی کے افسانے
صبحِ نو مسکرانے والی ہے
اے شبِ تار کے جگر گوشو!
اے سحر دشمنو، ستم کوشو!
صبح کا آفتاب چمکے گا
ٹوٹ جائے گا جہل کا جادو
پھیل جائے گی ان دیاروں میں
علم و دانش کی روشنی ہر سو

اے شبِ تار کے نگہبانو!
شمعِ عہدِ‌زیاں کے پروانو!
شہرِ ظلمات کے ثناء خوانو!
شہرِ ظلمات کو ثبات نہیں
اور کچھ دیر صبح پر ہنس لو
اور کچھ دیر۔ کوئی بات نہیں !!
٭٭٭





اب تیری ضرورت بھی بہت کم ہے مری جاں
اب شوق کا کچھ اور ہی عالم ہے مری جاں

اب تذکرۂ خندۂ گل بار ہے جی پر
جاں وقفِ غمِ گریۂ شبنم ہے مری جاں

رخ پر ترے بکھری ہوئی یہ زلفِ‌سیہ تاب
تصویر پریشانیِ عالم ہے مری جاں

یہ کیا کہ تجھے بھی ہے زمانے سے شکایت
یہ کیا کہ تری آنکھ بھی پر نم ہے مری جاں

ہم سادہ دلوں پر یہ شبِ غم کا تسلط
مایوس نہ ہو اور کوئی دم ہے مری جاں

یہ تیری توجہ کاہے اعجاز کہ مجھ سے
ہر شخص ترے شہر کا برہم ہے مری جاں

اے نزہتِ مہتاب ترا غم ہے مری زیست
اے نازشِ خورشید ترا غم ہے مری جاں
٭٭٭




یہ سوچ کر نہ مائلِ فریاد ہم ہوے 
آباد کب ہوے تے کہ برباد ہم ہوے 

ہوتا ہے شاد کام یہاں کون با ضمیر
ناشاد ہم ہوے تو بہت شاد ہم ہوے 

پرویز کے جلال سے ٹکرانے ہم بھی ہیں 
یہ اور بات ہے کہ نہ فرہاد ہم ہوے 

کچھ ایسے بھا گئے ہمیں دنیا کے رنج و غم
کوے بتاں میں بھولی ہوئ یاد ہم ہوے 

جالب تمام عمر ہمیں یہ گماں رہا
اس زلف کے خیال سے آزاد ہم ہوے 
٭٭٭





بھلا بھی دے اسے جو بات ہو گئ پیارے 
نئے چراغ جلا رات ہو گئ پیارے 

تِری نگاہِ پشیماں کو کیسے دیکھوں گا
کبھی جو تجھ سے ملاقات ہو گئ پیارے 

نہ تیری یاد، نہ دنیا کا غم نہ اپنا خیال
عجیب صورتِ حالات ہو گئ پیارے 

اداس اداس ہیں شمعیں بجھے بجھے ساغر
یہ کیسی شامِ خرابات ہو گئ پیارے 

کبھی کبھی تیری یادوں کی سانولی رت میں 
بہے جو اشک تو برسات ہو گئ پیارے 

وفا کا نام نہ لے گا کوئ زمانے میں 
ہم اہلِ دل کو اگر مات ہو گئ پیارے 

تمہیں تو ناز بہت دوستوں پہ تھا جالب
الگ تھلگ سے ہو، کیا بات ہو گئ پیارے 
٭٭٭


یہ وزیرانِ کرام

کوئ ممنونِ فرنگی، کوئ ڈالر کا غلام
دھڑکنیں محکوم ان کی لب پہ آزادی کا نام
ان کو کیا معلوم کس حالت میں رہتے ہیں عوام
یہ وزیرانِ کرام

ان کو فرصت ہے بہت اونچے امیروں کے لیے 
ان کے ٹیلیفون قائم ہیں سفیروں کے لیے 
وقت ان کے پاس کب ہے ہم فقیروں کے لیے 
چھو نہیں سکتے انہیں ہم ان کا اونچا ہے مقام
یہ وزیرانِ کرام

صبح چائے ہے یہاں تو شام کھانا ہے وہاں 
کیوں نہ ہوں مغرور چلتی ہے میاں ان کی دکاں 
جب یہ چاہیں ریڈیو پر جھاڑ سکتے ہیں بیاں 
ہم ہیں پیدل، کار پر یہ کس طرح ہوں ہمکلام
یہ وزیرانِ کرام

قوم کی خاطر اسمبلی میں یہ مر جاتے بھی ہیں 
قوتِ بازو سے اپنی بات منواتے بھی ہیں 
گالیاں دیتے بھی ہیں اور گالیاں کھاتے بھی ہیں 
یہ وطن کے آبرو ہیں کیجیے ان کو سلام
یہ وزیرانِ کرام

ان کی محبوبہ وزارت، داشتائیں کرسیاں 
جان جاتی ہے تو جائے پر نہ جائیں کرسیاں 
دیکھیے یہ کب تلک یوں ہی چلائیں کرسیاں 
عارضی ان کی حکومت عارضی ان کا قیام
یہ وزیرانِ کرام
٭٭٭





مہتاب صفت لوگ یہاں خاک بسر ہیں 
ہم محو تماشائے سرِ راہ گزر ہیں 

حسرت سی برستی ہے درو بام پہ ہر سو
روتی ہوئی گلیاں ہیں سسکتے ہوئے گھر ہیں 

آئے تھے یہاں جن کے تصور کے سہارے 
وہ چاند، وہ سورج، وہ شب و روز کدھر ہیں 

سوئے ہو گھنی زلف کے سائے میں ابھی تک
اے راہ رواں کیا یہی اندازِ سفر ہیں 

وہ لوگ قدم جن کے لئے کاہکشاں نے 
وہ لوگ بھی اے ہم نفسو ہم سے بشر ہیں 

بِک جائیں جو ہر شخص کے ہاتھوں سرِ بازار
ہم یوسفِ کنعاں ہیں نہ ہم لعل و گہر ہیں 

ہم لوگ ملیں گے تو محبت سے ملیں گے 
ہم نزہتِ مہتاب ہیں ہم نورِ سحر ہیں 
٭٭٭




اس دورِ خرابی میں غمِ عشق کے مارے 
زندہ ہیں یہی، بات بڑی بات ہے پیارے 

یہ ہنستا ہوا چاند یہ پر نور ستارے 
تابندہ و پائندہ ہیں ذروں کے سہارے 

حسرت ہے کو ئ غنچہ ہمیں پیار سے دیکھے 
ارماں ہے کوئ پھول ہمیں دل سے پکارے 

ہر صبح میری صبح پہ روتی رہی شبنم
ہر رات میری رات پہ ہنستے رہے تارے 

کچھ اور بھی ہیں کام ہمیں اے غم جاناں 
کب تک کوئ الجھی ہو ئ زلفوں کو سنوارے 
٭٭٭




مولانا


بہت میں نے سُنی ہے آپ کی تقریر مولانا
مگر بدلی نہیں اب تک مری تقدیر مولانا

خدارا شُکر کی تلقین اپنے پاس ہی رکھیں 
یہ لگتی ہے مرے سینے پہ بن کے تیر مولانا

نہیں میں بول سکتا جھوٹ اس درجہ ڈھٹائی سے 
یہی ہے جُرم میرا اور یہی تقصیر مولانا

حقیقت کیا ہے یہ تو آپ جانیں یا خدا جانے 
سنا ہے جِمی کارٹر آپ کاہے پِیر مولانا

زمینیں ہوں وڈیروں کی، مشینیں ہوں لٹیروں کی
خدا نے لکھ کے دی ہے یہ تمہیں تحریر مولانا

کروڑوں کیوں نہیں مل کر فلسطیں کیلئے لڑتے 
دعا ہی سے فقط کٹتی نہیں زنجیر مولانا
٭٭٭



دل کی بات لبوں پر لا کر اب تک ہم دکھ سہتے ہیں 
ہم نے سنا تھا اس بستی میں دل والے بھی رہتے ہیں 

بیت گیا ساون کا مہینہ، موسم نے نظریں بدلیں 
لیکن ان پیاسی آنکھوں سے اب تک آنسو بہتے ہیں 

ایک ہمیں آوارہ کہنا کوئی بڑا الزام نہیں 
دنیا والے دل والوں کو اور بہت کچھ کہتے ہیں 

جن کی خاطر شہر بھی چھوڑا، جن کے لیے بدنام ہوئے 
آج وہی ہم سے بیگانے بیگانے سے رہتے ہیں 

وہ جو ابھی اس راہ گزر سے چاک گریباں گزرا تھا
اس آوارہ دیوانے کو جالب جالب کہتے ہیں 
٭٭٭



محبت کی رنگینیاں چھوڑ آئے 
ترے شہر میں اک جہاں چھوڑ آئے 

پہاڑوں کی وہ مست شاداب وادی
جہاں ہم دلِ نغمہ خواں چھوڑ آئے 

وہ سبزہ، وہ دریا، وہ پیڑوں کے سائے 
وہ گیتوں بھری بستیاں چھوڑ آئے 

حسیں پنگھٹوں کا وہ چاندی سا پانی
وہ برکھا کی رت وہ سماں چھوڑ آئے 

بہت دور ہم آ گئے اس گلی سے 
بہت دور وہ آستاں چھوڑ آئے 

بہت مہرباں تھیں وہ گلپوش راہیں 
مگر ہم انہیں مہرباں چھوڑ آئے 

بگولوں کی صورت یہاں پھر رہے ہیں 
نشیمن سرِ گلستاں چھوڑ آئے 

یہ اعجاز ہے حسنِ آوارگی کا
جہاں بھی گئے داستاں چھوڑ آئے 

چلے آئے ان راہگزاروں سے جالب
مگر ہم وہاں قلب و جاں چھوڑ آئے 
٭٭٭





وہ دیکھنے مجھے آنا تو چاہتا ہو گا
مگر زمانے کی باتوں سے ڈر گیا ہو گا

اسے تھا شوق بہت مجھ کو اچھا رکھنے کا
یہ شوق اوروں کو شاید برا لگا ہو گا

کبھی نہ حدِ ادب سے بڑ ہے تھے دیدہ و دل
وہ مجھ سے کس لیے کس بات پر خفا ہو گا

مجھے گمان ہے یہ بھی یقین کی حد تک
کسی سے بھی نہ وہ میری طرح ملا ہو گا

کبھی کبھی تو ستاروں کی چھاؤں وہ بھی
مرے خیال میں کچھ دیر جاگتا ہو گا

وہ اس کا سادہ و معصوم والہانہ پن
کسی بھی جگ میں کوئی دیوتا بھی کیا ہو گا

نہیں وہ آیا تو جالب گلہ نہ کر اس کا
نجانے کیا اسے در پیش مسئلہ ہو گا
٭٭٭



جب کوئی کلی صحن گلستاں میں کھلی ہے 
شبنم مری آنکھوں میں وہیں تیر گئی ہے 

جس کی سر افلاک بڑی دھوم مچی ہے 
آشفتہ سری ہے، مری آشفتہ سری ہے 

اپنی تو اجالوں کو ترستی ہیں نگاہیں 
سورج کہاں نکلا ہے کہاں صبح ہوئی ہے 

ہم کشمکش دیرو حرم سے ہیں بہت دور
انسان کی عظمت پہ نظر اپنی رہی ہے 

بچھڑی ہوئی راہوں سے جو گزرے ہیں کبھی ہم
ہر گام پہ کھوئی ہوئی اک یاد ملی ہے 

اک عمر سنائیں تو حکایت نہ ہو پوری
دو روز میں ہم پر جو یہاں بیت گئی ہے 

تم سادہ و معصوم ہو اور ہم ہیں گنہگار
دنیا کی نگاہوں سے کہیں بات چھپی ہے 

ہنسنے پہ نہ مجبور کرو، لوگ ہنسیں گے 
حالات کی تفسیر تو چہرے پہ لکھی ہے 

دیکھا ہے زمانے کو گلے ہم نے لگا کر
سینہ تری دنیا کا محبت سے تہی ہے 

وہ بھول گئے ہم کو، انہیں بھول گئے ہم
اے دوست، مگر دل میں خلش اب بھی وہی ہے 

مل جائیں کہیں وہ بھی تو ان کو بھی سنائیں 
جالب یہ غزل جن کے لیے ہم نے کہی ہے 
٭٭٭


میں چپ ہوں ذرا ڈوبتے خورشید سے پوچھو
کس کرب سے کس حال میں کس طور کٹا دن

لو آج بھی کم ہو نہ سکی یاس کی ظلمت
لو آج بھی بیکار گیا آس بھرا دن

یہ شہر جہاں ہم ہیں، یہاں کون ہے اپنا
یہ بات ہی کیا کم ہے یہاں بیت گیا دن

یہ کون سی بستی ہے جہاں چاند نہ سورج
کس درجہ بری رات ہے، کس درجہ برا دن

ظلمت کدہ زیست میں پھر دیکھیے کب آئے 
تیرے لب و رخسار سے شرمایا ہوا دن

اس شہر سے دور آ کے جو دن دیکھ رہے ہیں 
دشمن کو بھی ایسے تو دکھائے نہ خدا دن
٭٭٭



کبھی تو مہرباں ہو کر بلا لیں 
یہ مہوش ہم فقیروں کی دعا لیں 

نجانے پھر یہ رت آئے نہ آئے 
جواں پھولوں کی کچھ خوشبو چرا لیں 

بہت روئے زمانے کے لیے ہم
ذرا اپنے لیے آنسو بہا لیں 

ہم ان کو بھولنے والے نہیں ہیں 
سمجھتے ہیں غم دوراں کی چالیں 

ہماری بھی سنبھل جائے گی حالت
وہ پہلے اپنی زلفیں تو سنبھالیں 

نکلنے کو ہے وہ مہتاب گھر سے 
ستاروں سے کہو نظریں جھکا لیں 

ہم اپنے راستے پر چل رہے ہیں 
جناب شیخ اپنا راستہ لیں 

زمانہ تو یونہی روٹھا رہے گا
چلو جالب انہیں چل کر منا لیں 
٭٭٭




آخر کار یہ ساعت بھی قریب آ پہنچی

 

آخر کار یہ ساعت بھی قریب آ پہنچی
تو مری جان کسی اور کی ہو جائے گی
کل تلک میرا مقدر تھی تری زلف کی شام
کیا تغیر ہے اب غیر کی کہلائے گی
میرے غم خانے میں تو اب نہ کبھی آئے گی

تیری سہمی ہوئی معصوم نگاہوں کی زباں 
میری محبوب کوئی اجنبی کیا سمجھے گا
کچھ جو سمجھا بھی تو اس عین خوشی کے ہنگام
تیری خاموش نگاہی کو حیا سمجھے گا
تیرے بہتے ہوئے اشکوں کو ادا سمجھے گا

میری دم ساز زمانے سے چلی آتی ہیں 
رہنِ غم وقفِ الم سادہ دلوں کی آنکھیں 
یہ نیا ظلم نہیں پیار کے متوالوں پر
ہم نے دیکھیں یونہی نم سادہ دلوں کی آنکھیں 
اور رولیں کوئی دم سادہ دلوں کی آنکھیں 
٭٭٭





تو رنگ ہے، غبار ہیں تیری گلی کے لوگ
تُو پھول ہے، شرار ہیں تیری گلی کے لوگ

تُو رونقِ حیات ہے تُو حُسنِ کائنات
اُجڑا ہوا دیار ہیں تیری گلی کے لوگ

تُو پیکرِ وفا ہے مجسم خلوص ہے 
بدنام روزگار ہیں تیری گلی کے لوگ

روشن تیرے جمال سے ہیں مہرو ماہ بھی
لیکن نظر پہ بار ہیں تیری گلی کے لوگ

دیکھو جو غور سے تو زمیں سے بھی پست ہیں 
یوں آسماں شکار ہیں تیری گلی کے لوگ

پھر جا رہا ہوں تیرے تبسم کو لُوٹ کر
ہر چند ہوشیار ہیں تیری گلی کے لوگ

کھو جائیں گے سحر کے اُجالوں میں آخرش
شمعِ سرِ مزار ہیں تیری گلی کے لوگ
٭٭٭





جی دیکھا ہے مر دیکھا ہے 
ہم نے سب کچھ کر دیکھا ہے 

برگِ آوارہ کی صورت
رنگِ خشک و تر دیکھا ہے 

ٹھنڈی آہیں بھرنے والو
ٹھنڈی آہیں بھر دیکھا ہے 

تیری زلفوں کا افسانہ
رات کے ہونٹوں پر دیکھا ہے 

اپنے دیوانوں کا عالم
تم نے کب آ کر دیکھا ہے 

انجم کی خاموش فضا میں 
میں نے تمہیں اکثر دیکھا ہے 

ہم نے اس بستی میں جالب
جھوٹ کا اونچا سر دیکھا ہے 
٭٭٭


رُخصتی


تُو کلی نزہتوں نکہتوں میں پلی
چھوڑ کر شہرِ گل سوئے صحرا چلی

وہ سلگتا دیا تُو سحر کی کرن
سوچتا ہوں یہی، کیسے بہلے گا من
تُو کلی نزہتوں نکہتوں میں پلی
چھوڑ کر شہرِ گل سوئے صحرا چلی

تُو جہاں سے گزرتی تھی شام و سحر
اب کہاں کہکشاں وہ حسیں رہگزر
شامِ غم چھائی ہے دیکھتا ہوں جدھر
کتنی ویران ہے آج تیری گلی
تُو کلی نرہتوں نکہتوں میں پلی
چھوڑ کر شہرِ گل سوئے صحرا چلی
٭٭٭



مستقبل


تیرے لیے میں کیا کیا صدمے سہتا ہوں 
سنگینوں کے راج میں بھی سچ کہتا ہوں 
میری راہ میں مصلحتوں کے پھول بھی ہیں 
تیری خاطر کانٹے چنتا رہتا ہوں 
تُو آئے گا اسی آس پر جھُوم رہا ہے دل
دیکھ اے مستقبل

اک اک کر کے سارے ساتھی چھوڑ گئے 
مجھ سے میرے رہبر بھی منہ موڑ گئے 
سوچتا ہوں بیکار گلا ہے غیروں کا
اپنے ہی جب پیار کا ناتا توڑ گئے 
تیرے بھی دشمن ہیں میرے خوابوں کے قاتل
دیکھ اے مستقبل

جہل کے آگے سر نہ جھکایا میں نے کبھی
سِفلوں کو اپنا نہ بنایا میں نے کبھی
دولت اور عہدوں کے بل پر جو اینٹھیں 
ان لوگوں کو منہ نہ لگایا میں نے کبھی
میں نے چور کہا چوروں کو کھل کے سر محفل
دیکھ اے مستقبل
٭٭٭



میں نہیں مانتا


دیپ جس کا محلات ہی میں جلے 
چند لوگوں کی خوشیوں کو لے کر چلے 
وہ جو سائے میں ہر مصلحت کے پلے 
ایسے دستور کو، صبح بے نور کو
میں نہیں مانتا، میں نہیں مانتا

میں بھی خائف نہیں تختہ دار سے 
میں بھی منصور ہوں کہہ دو اغیار سے 
کیوں ڈراتے ہو زنداں کی دیوار سے 
ظلم کی بات کو، جہل کی رات کو
میں نہیں مانتا، میں نہیں مانتا

پھول شاخوں پہ کھلنے لگے، تم کہو
جام رندوں کو ملنے لگے، تم کہو
چاک سینوں کے سلنے لگے، تم کہو
اِس کھلے جھوٹ کو، ذہن کی لوٹ کو
میں نہیں مانتا، میں نہیں مانتا

تم نے لوٹا ہے صدیوں ہمارا سکوں 
اب نہ ہم پر چلے گا تمھارا فسوں 
چارہ گر میں تمہیں کس طرح سے کہوں 
تم نہیں چارہ گر، کوئی مانے، مگر
میں نہیں مانتا، میں نہیں مانتا
٭٭٭



کہیں آہ بن کے لب پر تیرا نام نہ آ جائے 
تجھے بے وفا کہوں میں وہ مقام آ نہ جائے 

ذرا زلف کو سنبھالو میرا دل دھڑک رہا ہے 
کوئی اور طائرِ دل تہِ دام آ نہ جائے 

جسے سُن کے ٹُوٹ جائے میرا آرزو بھرا دل
تیری انجمن سے مجھ کو وہ پیام آ نہ جائے 

وہ جو منزلوں پہ لا کر کسی ہمسفر کو لوٹیں 
انہی رہزنوں میں تیرا کہیں نام آ نہ جائے 

یہ مہ و نجوم ہنس لیں میرے آنسوؤں پہ جالب
میرا ماہتاب جب تک لبِ بام آ نہ جائے 
٭٭٭


یہ زندگی گزار رہے ہیں جو ہم یہاں 
یہ زندگی نصیب ہے لوگوں کو کم یہاں 

کوشش کے باوجود بھلائے نہ جائیں گے 
ہم پر جو دوستوں نے کئے ہیں کرم یہاں 

کہنے کو ہمسفر ہیں بہت اس دیار میں 
چلتا نہیں ہے ساتھ کوئی دو قدم یہاں 

دیوار یار ہو کہ شبستانِ شہرِ یار
دو پل کو بھی کسی کے نہ سائے میں تھم یہاں 

نظمیں اداس اداس فسانے بُجھے بُجھے
مدت سے اشکبار ہیں لوحو قلم یہاں 

اے ہم نفس یہی تو ہمارا قصور ہے 
کرتے ہیں دھڑکنوں کے فسانے رقم یہاں 
٭٭٭



وطن کو کچھ نہیں خطرہ، نظامِ زر ہے خطرے میں 
حقیقت میں جو رہزن ہے وہی رہبر ہے خطرے میں 

جو بیٹھا ہے صفِ ماتم بچھائے مرگِ ظلمت پر
وہ نوحہ گر ہے خطرے میں، وہ دانشور ہے خطرے میں 

اگر تشویش لاحق ہے تو سلطانوں کو لاحق ہے 
نہ تیرا گھر ہے خطرے میں، نہ میرا گھر ہے خطرے میں 

جہاں اقبال بھی نذرِ خطِ تنسیخ ہو جالب
وہاں تجھ کو شکایت ہے، تیرا جوہر ہے خطرے میں 
٭٭٭



یہ اُجڑے باغ ویرانے پرانے 
سناتے ہیں کچھ افسانے پرانے 

اک آہِ سرد بن کر رہ گئے ہیں 
وہ بیتے دن وہ یارانے پرانے 

جنوں کا ایک ہی عالم ہو کیونکر
نئی ہے شمع پروانے پرانے 

نئی منزل کی دُشواری مسلّم
مگر ہم بھی ہیں دیوانے پرانے 

ملے گا پیار غیروں ہی میں جالب
کہ اپنے تو ہیں بیگانے پرانے 
٭٭٭


شعر ہوتا ہے اب مہینوں میں 
زندگی ڈھل گئی مشینوں میں 

پیار کی روشنی نہیں ملتی
ان مکانوں میں ان مکینوں میں 

دیکھ کر دوستی کا ہاتھ بڑھاؤ
سانپ ہوتے ہیں آستینوں میں 

قہر کی آنکھ سے نہ دیکھ ان کو
دل دھڑکتے ہیں آبگینوں میں 

آسمانوں کی خیر ہو یا رب
اک نیا عزم ہے زمینوں میں 

وہ محبت نہیں رہی جالب
ہم سفیروں میں ہم نشینوں میں 
٭٭٭




اس نے جب ہنس کے نمسکار کیا
مجھ کو انسان سے اوتار کیا

دشتِ غربت میں دلِ ویراں نے 
یاد جمنا کو کئی بار کیا

پیار کی بات نہ پوچھو یارو
ہم نے کس کس سے نہیں پیار کیا

کتنی خوابیدہ تمناؤں کو
اس کی آواز نے بیدار کیا

ہم پجاری ہیں بتوں کے جالب
ہم نے کعبے میں بھی اقرار کیا
٭٭٭




پھر کبھی لوٹ کر نہ آئیں گے 
ہم ترا شہر چھوڑ جائیں گے 

دور افتادہ بستیوں میں کہیں 
تیری یادوں سے لو لگائیں گے 

شمع ماہ و نجوم گل کر کے 
آنسوؤں کے دیئے جلائیں گے 

آخری بار اک غزل سن لو
آخری بار ہم سنائیں گے 

صورت موج ہوا جالب
ساری دنیا کی خاک اڑائیں گے
٭٭٭





اب تیری ضرورت بھی بہت کم ہے مری جاں 
اب شوق کا کچھ اور ہی عالم ہے مری جاں 

اب تذکرۂ خندۂ گل بار ہے جی پر
جاں وقفِ غمِ گریۂ شبنم ہے مری جاں 

رخ پر ترے بکھری ہوئی یہ زلف سیہ تاب
تصویر پریشانی عالم ہے مری جاں 

یہ کیا کہ تجھے بھی ہے زمانے سے شکایت
یہ کیا کہ تری آنکھ بھی پرنم ہے مری جاں 

ہم سادہ دلوں پر یہ شب غم کا تسلط
مایوس نہ ہو اور کوئی دَم ہے مری جاں 

یہ تیری توجہ کاہے اعجاز کہ مجھ سے 
ہر شخص ترے شہر کا برہم ہے مری جاں 

اے نزہتِ مہتاب ترا غم ہے مری زیست
اے نازش خورشید ترا غم ہے مری جاں 
٭٭٭





تو رنگ ہے غبار ہیں تیری گلی کے لوگ
تو پھول ہے شرار ہیں تیری گلی کے لوگ

تو رونقِ حیات ہے تو حُسنِ کائنات
اجڑا ہوا دیار ہیں تیری گلی کے لوگ

تو پیکرِ وفا ہے مجسّم خلوص ہے 
بدنامِ روزگار ہیں تیری گلی کے لوگ

روشن تیرے جمال سے ہیں مہرو ماہ بھی
لیکن نظر پہ بار ہیں تیری گلی کے لوگ

دیکھو جو غور سے تو زمیں سے بھی پست ہیں 
یوں آسماں شکار ہیں تیری گلی کے لوگ

پھر جا رہا ہوں تیرے تبسّم کو لوُٹ کر
ہر چند ہوشیار ہیں تیری گلی کے لوگ

کھو جائیں گے سحر کے اجالوں میں آخرش
شمع سرِ مزار ہیں تیری گلی کے لوگ
٭٭٭


آج اس شہر میں کل نئے شہر میں بس اسی لہر میں 
اڑتے پتوں کے پیچھے اڑاتا رہا شوق آوارگی

اس گلی کے بہت کم نظر لوگ تھے، فتنہ گر لوگ تھے 
زخم کھاتا رہا مسکراتا رہا، شوق آوارگی

کوئی پیغام گل تک نہ پہنچا مگر پھر بھی شام و سحر
ناز باد چمن کے اٹھاتا رہا شوق آوارگی

کوئی ہنس کے ملے غنچۂ دل کھلے چاک دل کا سلے 
ہر قدم پر نگاہیں بچھاتا رہا شوق آوارگی

دشمن جاں فلک، غیر ہے یہ زمیں کوئی اپنا نہیں 
خاک سارے جہاں کی اڑاتا رہا شوق آوارگی
٭٭٭




اس شہر خرابی میں غم عشق کے مارے 
زندہ ہیں، یہی بات بڑی بات ہے پیارے 

یہ ہنستا ہوا چاند، یہ پر نور ستارے 
تابندہ و پائندہ ہیں ذروں کے سہارے 

حسرت ہے کوئی غنچہ ہمیں پیار سے دیکھے 
ارمان ہے کوئی پھول ہمیں دل سے پکارے 

ہر صبح، میری صبح پے روتی رہی شبنم
ہر رات میری رات پے ہنستے رہے تارے 

کچھ اور بھی ہیں کام ہمیں آئے غم جاناں 
کب تک کوئی الجھی ہی زلفوں کو سنوارے
٭٭٭



کافی ہاؤس

کافی ہاؤس میں دن بھر بیٹھے، کچھ دُبلے پتلے نقّاد
بحث یہی کرتے رہتے ہیں، سُست ادب کی ہے رفتار

صرف ادب کے غم میں غلطاں، چلنے پھرنے سے لاچار
چہروں سے ظاہر ہوتا ہے جیسے برسوں کے بیمار

اُردو ادب میں ڈھائی ہیں شاعر، میرؔ و غالبؔ، آدھا جوشؔ
یا اِک آدھ کسی کا مصرعہ، یا اقبالؔ کے چند اشعار

یا پھر نظم ہے ایک چوہے پر حامدؔ مدنی کا شہکار
کوئی نہیں ہے اچھا شاعر، کوئی نہیں افسانہ نگار

منٹوؔ، کرشنؔ، ندیمؔ اور بیدیؔ، ان میں جان تو ہے لیکن
عیب یہ ہے ان کے ہاتھوں میں کُند زباں کی ہے تلوار

عالیؔ، افسرؔ، انشاؔ بابو، ناصرؔ میرؔ کے برخوردار
فیضؔ نے جو اب تک لکھا ہے، کیا لکھا ہے، سب بیکار

اُن کو ادب کی صحّت کا غم، مجھ کو اُن کی صحّت کا
یہ بیچارے دکھ کے مارے، جینے سے ہیں کیوں بیزار

حُسن سے وحشت، عشق سے نفرت، اپنی ہی صورت سے پیار
خندۂ گُل پر ایک تبسّم، گریۂ شبنم سے انکار
٭٭٭




دل پر جو زخم ہیں وہ دکھائیں کسی کو کیا
اپنا شریکِ درد بنائیں کسی کو کیا

ہر شخص اپنے اپنے غموں میں ہے مبتلا
زنداں میں اپنے ساتھ رلائیں کسی کو کیا

بچھڑے ہوئے وہ یار وہ چھوڑے ہوئے دیار
رہ رہ کے ہم کو یاد جو آئیں کسی کو کیا

رونے کو اپنے حال پہ تنہائی ہے بہت
اس انجمن میں خود پہ ہنسائیں کسی کو کیا

وہ بات چھیڑ جس سے جھلکتا ہو سب کا غم
یادیں کسی کی تجھ کو ستائیں کسی کو کیا

سوئے ہوئے ہیں لوگ تو ہوں گے سکون سے
ہم جاگنے کا روگ لگائیں کسی کو کیا

جالب نہ آئے گا کوئی احوال پوچھنے
دیں شہرِ بے حساں میں صدائیں کسی کو کیا
٭٭٭

میں نے اس سے یہ کہا

میں نے اس سے یہ کہا
یہ جو دس کروڑ ہیں

جہل کا نچوڑ ہیں
ان کی فکر سو گئی

ہر امید کی کرن
ظلمتوں میں کھو گئی

یہ خبر درست ہے
ان کی موت ہو گئی

بے شعور لوگ ہیں
زندگی کا روگ ہیں

اور تیرے پاس ہے
ان کے درد کی دوا
٭٭٭

ماخذ:
http://www.urduweb.org/mehfil/showthread.php?29043-%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D9%88%DB%81-%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D9%86%DB%92-%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92-%D8%A2%D9%86%D8%A7-%D8%AA%D9%88-%DA%86%D8%A7%DB%81%D8%AA%D8%A7-%DB%81%D9%88-%DA%AF%D8%A7-%D8%AD%D8%A8%DB%8C%D8%A8-%D8%AC%D8%A7%D9%84%D8%A8&prefixid=habibِjalib
http://poetry.pakistanica.com/habib-jalib/
http://www.freeurdupoetry.com/?q=taxonomy/term/38
تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید
