﻿


بوڑھے سورج کی چکا چوند

مسعود منور


جمع و ترتیب: اعجاز عبید








اُفق کے مغربی در سے پلٹ کر آفتاب آیا
رسول اللہؐ کے ہونٹوں پہ اسمِ بوتراب آیا

مدینہ علم کا ہیں وہؐ  علی ہے جس کا دروازہ
یہ نقطہ عرش سے چل کر سرِ بزمِ کتاب آیا

علی اور وہؐ  ہوئے ہیں نورِ واحد سے جمال آرا
سمٹ کر حلقۂ خورشید میں جوں آفتاب آیا

علی، ہاروں ہو جیسے اور وہ موسیٰ اہلِ ایماں کے
یہ نسبت صدق کی لے کر محبت کا نصاب آیا

رقم کرتا ہوں شعروں میں حدیثِ سرورِ عالمؐ 
 کہ اس  پیغام کا اُمت میں چرچا  بے حساب آیا

مرا بھائی، وصی میرا، خلافت جس کا منصب ہے
رسولوں کی صفاتِ نو بنو لے کر شتاب آیا

لبِ حرمین نے جس کو جنم لیتے ہوئے چوما
وہ رزمِ حق و باطل میں نبیؐ  کے ہم رکاب آیا

طلسمِ بابِ خیبر کون توڑے گا خُداوندا
علی، مولا علی، مولا علی، حق سے جواب آیا

امیر المومنیں،حضرت علی، ابنِ ابی طالب
یہ نام آیا، مری آنکھوں میں لے کر سیلِ آب آیا
٭٭٭


قصیدۂ حیدری

مرے مولا! کرم کرنا ، نہ مخمورِ غلو رکھنا
مگر ہر بیت کو بوئے علی سے مشکبو رکھنا

مری یہ منقبت گوئی ، عبادت ہے، ریاضت ہے
مرے شعروں کو میرے خونِ دل سے با وضو رکھنا

میں اُن کے سامنے بیٹھا ہوا باتیں کروں جیسے
مجھے مشکل کشا مولا سے محوِ گفتگو رکھنا

تصنع اور تکلف سے بچانا اس قصیدے کو
 میں جو کچھ ہوں،مجھے اظہار   میں بھی ہو بہو رکھنا

حضورِ شیرِ یزداں میں ہوا حاضر یہ دیوانہ
مری دیوانگی کیا ہے،علی کی آرزو رکھنا

مرا مسلک ہے ربا! پنجتن کے آستانے پر
مئے تکریمِ اہلِ بیت سے بھر کر سبو رکھنا

چلا ہوں سینہ زن،شبیر کی سنت ادا کرنے
تو میرے عشق کو قائم زمیں میں کو بکو رکھنا

مری توفیق ہے پلکوں سے لکھنا مدحتِ زہرا
نجف کی سمت مونہہ کر کے لگانا حیدری نعرہ
یا علی!
٭٭٭

بحضورِ شہیدِ کربلا


لبِ فرات! تری خاک سجدہ گاہِ نیاز
شبِ عراق ! ترے گیسوؤں کی عمر دراز
سرِ حسین! تری یاد عمر بھر کی نماز
غمِ بتول! ترا عشق، جسم و جاں کا فراز
٭

پیمبروں کو یہ حسرت، کہ کربلا کا قیام
نظارۂ رُخِ یزداں سا معتبر ٹھہرا
نبوتوں کو شکایت کہ کاروانِ حسین
جہانِ رشد و ہدایت کا تاجور ٹھہرا
٭

یہیں سے پیاس بقائے دوام پاتی ہے
یہیں سے صبر کو ملتے ہیں رتبہ ہائے جلیل
یہی  ہے جورو جفا کی شکست گاہ  جہاں
وفا شناس ٹھہرتے ہیں پیکرانِ جمیل
٭

حسین! تیرے عزا دار،تیرے متوالے
عقیدتوں کے گہر نذر کے کے آئے ہیں
ہجومِ سینہ زناں ، اِک جلوسِ جامہ دراں
قبول کر، ترے اپنے ہیں یا پرائے ہیں
٭

حسین! تیری صدا لا الہ الا للہ
حسین! تیری ادا لا الہ الاللہ
حسین! تیری ثنا ، لا الہ الاللہ
حسین!تیری دعا، لاالہ الاللہ
٭٭٭

بحضور شہید کربلا


لبِ فرات! تری خاک سجدہ گاہِ نیاز
شبِ عراق ! ترے گیسوؤں کی عمر دراز
سرِ حسین! تری یاد عمر بھر کی نماز
غمِ بتول! ترا عشق، جسم و جاں کا فراز
٭
پیمبروں کو یہ حسرت، کہ کربلا کا قیام
نظارۂ رُخِ یزداں سا معتبر ٹھہرا
نبوتوں کو شکایت کہ کاروانِ حسین
جہانِ رشد و ہدایت کا تاجور ٹھہرا
٭
یہیں سے پیاس بقائے دوام پاتی ہے
یہیں سے صبر کو ملتے ہیں رتبہ ہائے جلیل
یہی ہے جورو جفا کی شکست گاہ جہاں
وفا شناس ٹھہرتے ہیں پیکرانِ جمیل
٭
حسین! تیرے عزا دار،تیرے متوالے
عقیدتوں کے گہر نذر کے کے آئے ہیں
ہجومِ سینہ زناں ، اِک جلوسِ جامہ دراں
قبول کر، ترے اپنے ہیں یا پرائے ہیں
٭
حسین! تیری صدا لا الہ الا للہ
حسین! تیری ادا لا الہ الاللہ
حسین! تیری ثنا ، لا الہ الاللہ
حسین!تیری دعا، لاالہ الاللہ
٭٭٭



زرداریہ گیلانیہ پاکستان

عمر کوئی نہیں اور وقت اک جھوٹا خلیفہ ہے
تو کس کی منتظر لاہور کی بے بس ضعیفہ ہے

سُنا ! جمہوریت لائے ہیں   زر داری و گیلانی
مُبارک ہو تُمہیں  ،  یہ آج کا سچا لطیفہ ہے

سگ غربت جو دجلہ سے چلا اور سندھ تک آیا
اُسے فاقہ کشی سے روکنا  کس کا  وظیفہ ہے

وہ جب چاہیں اُسے اپنے حرم میں ڈال لیتے ہیں
ہماری بانوئے جمہور اک اندھی نحیفہ ہے

سیاست کا شجر لایا ہے کیا کیا پھل مرے گھر میں
وہ لُوٹ اور مار کی لیچی ، یہ رشوت کا شریفہ ہے

خُدا کے نام پر مسعود ، بندوں پر ستم ڈھانا
یہی آئین ہے اپنا ، یہی اپنا صحیفہ ہے
٭٭٭




جب رسولِ پاک کی بھگتی کروں
قیصرِ افلاک کو راضی کروں

علم الانساں ، وراثت ہے مری
کیوں نہ اِس اقلیم کی شاہی کروں

آنسوؤں  کی آبشاریں ہیں رواں
پیدا کشتِ آب سے روزی کروں

حل نہیں ہوتا ریاضی کا سوال
میں سے میں کو کس طرح منفی کروں

کون ہے حلاج کا ہمسر یہاں
بول کس معیار سے گنتی کروں

تھاپ پر طبلے کی گھنگرو باندھ کر
اعترافِ عشق اور مستی کروں

کون ہے جگ میں محمد آشنا
کس کو اپنے شہر کا قاضی کروں

آ تجھے ، مسعود ، بابِ علم پر
راز دارِ کشورِ علوی کروں
٭٭٭






غزل اُس کی طبیعت ہے، ادب ہے سادگی اُس کی
زرِ نخوت سے بڑھ کر قیمتی ہے عاجزی اُس کی

وہ جب تک بولتی ہے اُس کا چہرا رقص کرتا ہے
دھنک کی پینٹنگ سی منفرد ہے دل کشی اُس کی

مئے تسلیم سے لب اُس کے لالہ زار رہتے ہیں
اُسے مخمور رکھتی ہے مسلسل مے کشی اُس کی

عمر خیام کے فکرِ غنی سے جو عبارت ہو
اُسی انداز کی بے ساختہ ہے زندگی اُس کی

ستاروں میں وہ اپنے پیار کے اقرار لکھتی ہے
سما کے نُور محلوں میں ہے افشا عاشقی اُس کی

وہ شرعِ عاشقاں میں دلبری کا استعارہ ہے
بہت مسعود ہے ہر بُت کدے میں کافری اُس کی
٭٭٭






یا خلا کے آئنے میں اپنی صورت دیکھنا
یا کبھی اس آسماں کو بے ضرورت دیکھنا

حسنِ تخلیقِ جہاں کی کیا حسیں تصویر ہے
نطق کے شیشے سے تم رحمٰن سورت دیکھنا

آنکھ کیا دیکھے کہ خود اوجھل ہے اپنے آپ سے
آئینے میں آنکھ کا کینہ، کدورت دیکھنا

شہر کی گلیوں میں افسردہ مکانوں کی جگہ
دور تک پھیلے ہوئے لشکر کے یورت دیکھنا

مل کے بوڑھے جوتشی سے ہجر کی دکان پر
وصل کی شب کے لئے کوئی مہورت دیکھنا

دیکھنا چاہو اگر مسعود کو حوا رخو !
تم کتابوں میں کسی سادھو کی مورت دیکھنا
٭٭٭




مرے مولا! کرم کرنا ، نہ مخمورِ غلو رکھنا
مگر ہر بیت کو بوئے علی سے مشکبو رکھنا

مری یہ منقبت گوئی ، عبادت ہے، ریاضت ہے
مرے شعروں کو میرے خونِ دل سے با وضو رکھنا

میں اُن کے سامنے بیٹھا ہوا باتیں کروں جیسے
مجھے مشکل کشا مولا سے محوِ گفتگو رکھنا

تصنع اور تکلف سے بچانا اس قصیدے کو
میں جو کچھ ہوں،مجھے اظہار میں بھی ہو بہو رکھنا

حضورِ شیرِ یزداں میں ہوا حاضر یہ دیوانہ
مری دیوانگی کیا ہے،علی کی آرزو رکھنا

مرا مسلک ہے ربا! پنجتن کے آستانے پر
مئے تکریمِ اہلِ بیت سے بھر کر سبو رکھنا

چلا ہوں سینہ زن،شبیر کی سنت ادا کرنے
تو میرے عشق کو قائم زمیں میں کو بکو رکھنا

مری توفیق ہے پلکوں سے لکھنا مدحتِ زہرا
نجف کی سمت مونہہ کر کے لگانا حیدری نعرہ
یا علی!
٭٭٭







خُدا سے خوب ہوئیں اُس حسین کی باتیں
مری نماز تھی اُس نازنین کی باتیں

وہ دیکھتا تھا مجھے حجلۂ من و تو میں
چھپا سکا نہ میں پردہ نشین کی باتیں

یہ کائنات سمٹ کر ہوئی تھی دل جتنی
میں سُن رہا تھا فلک اور زمین کی باتیں

ہوا کے ہاتھ میں وا تھی کتابِ موسمِ گل
سنا رہی تھی گلِ یاسمین کی باتیں

ترے  لبوں کی  حلاوت   چرا کے   ہنستا   تھا    
بہت عجیب تھیں اُس ساتگین کی باتیں

وہ واردات محبت نہیں سیاست تھی
سُنی تھیں مار نے خُود آستین کی باتیں

ہوا سے کچھ نہ کہا چُپ رہا وہ سناٹا
چھپا کے رکھیں مکاں نے مکین کی باتیں

یہ آدمی ہے مشینوں کے دین پر مسعود
فلک سے اُتری تھیں شاید مشین کی باتیں
٭٭٭



تھی نافۂ خیال میں آہو سے گفتگو
عہدِ فراق میں تری خوشبو سے گفتگو

کی جستجوئے نغمۂ عرفاں میں بار بار
کوئل سے گفتگو،کبھی کو کو سے گفتگو

باتیں تھیں چشمِ مست کے کاجل سے روبرو
اور حسنِ بے حجاب کے جادو سے گفتگو

اِن انگلیوں کو رب کی قسم بھولتی نہیں
کی تھی جو شب کو یار کے گیسو سے گفتگو

کہتی رہی ہے ہجر کی اک طرفہ داستاں
سنتا رہا ہوں آنکھ کی آنسو سے گفتگو

پھرتا رہا ہوں رات میں،شہرِ صلوٰة میں
ہوتی رہی ہے قلب کے باہو سے گفتگو

مسعود،حرف و صوت کے مکتب میں عمر بھر
کرتا رہا ہو ذات کے سادھو سے گفتگو
٭٭٭



شہادت کی رات کا نوحہ


رات کے دو بجے،
تُم سبھی سو چُکے تھے
مگر وہ اکیلا
سرِ دار ، سب کے لیے
سانس کی آخری ہچکیوں تک
اندھیروں سے لڑتا رہا
وہ اکیلا کبوتر تڑپتا رہا
تیر کھا کر ہوا میں پھڑکتا رہا
اُس کی گردن میں اِک سُرخ تعویذ تھا
رات کے دو بجے،
تُم سبھی سو چکے تھے
مگر وہ ابھی جاگتا تھا
کبھی ایک کاغذ پہ کچھ لکھ کے پُرزے اُڑاتا
کبھی مُسکراتا
کبھی آسماں کی طرف دیکھتا
آسماں دار کے زرد پھندے میں اٹکا ہوا
دو پہاڑوں کی میخوں پہ لٹکا ہوا
اُس کی تقدیر پر سخت حیران تھا
رات کے دو بجے
تم سبھی سو چکے تھے
مگر وہ عدالت کی ہر جنگ ہارا ہوا
قوم کے رنج اور غم کا مارا ہوا
شب کو سقراط کی آرزو میں مِلا
پابجولاں وہ منصور ہو کے چلا
سب گناہوں کو اِک پل میں دھوتا ہوا
وہ شہادت کے فردوس کا بادشہ
سب دلوں کا وہ محبوب فرمانروا
آج بھی حکمراں ہے مرے دیس کا
جیوے ، جیوے غریبوں کا وہ رہنما
ذوالفقارِ علی
پھر تری داستاں
یاد آنے لگی
خوں رُلانے لگی
ذوالفقارِ علی ، ذوالفقارِ علی!!
٭٭٭



ترکِ وطن کی ایک نظم


شہرِ امن اماں ، اے بلادِ جناں
تو کہاں برف زاروں کے نخوت نگر
اور پنجاب کے یہ مسافر کہاں
اوسلو، اوسلو

دور مشرق سے اُترا ترے درمیاں
رانجھنوں اور ہیروں کا اِک کارواں
آ کے مِل، اہلِ دل کے قبیلے سے تو
جن کی بانہوں میں محصور ہے کہکشاں
اوسلو، اوسلو

تیری مٹی میں تن کے خزانے بہت
سنگتوں کے قرینے ، بہانے بہت
تیرے آنگن میں رانجھے نہ مرزے مگر
شہرۂ شہر غم کے فسانے بہت
تیری خلوت ، ہم آغوشیوں کی امیں
وصل کی رُت کے کافر زمانے بہت
عشق پیشہ فقیروں کی تادیب کو
چشمِ نم ناک کے تازیانے بہت
اوسلو ، اوسلو

اس نگر میں سنائی گئی تھی ہمیں
ہنرک ابسن کی لکھی ہوئی داستاں
اپنے کاندھوں پہ ہم ہیں اُٹھائے ہوئے
گُڑیا گھر کی کہانی کا کوہِ گراں
رشتوں ناتوں کا ا ب ہے تصور نیا
ہے نئی زندگی، اور تازہ جہاں
اوسلو، اوسلو

ہم نئی خاک میں فصلِ نو بو چکے
اپنے ماضی کے سب فلسفے کھو چکے
اک نئے رنگ اور روپ کی کھوج میں
اپنی سنولاہٹیں برف سے دھو چکے
جتنا رونا تھا ہم ہجر پر رو چکے
اب تو ہم اس نئے شہر کے ہو چکے
اوسلو، اوسلو
٭٭٭



محبت مر چکی ہے اور اب نفرت کا موسم ہے
خدا کی بستیوں میں درد اور دہشت کا موسم ہے

لبوں کے کنج میں بوسوں کے آلوچے ہیں پژمردہ
دلوں میں ہجر کے آزار کی شدت کا موسم ہے

درندے چھپ گئے ہیں اوڑھ کر عشاق کی کھالیں
دیارِ شوق ہے ویران،اور وحشت کا موسم ہے

سنو! کوہ قاف سے یاجوج اور ماجوج اترے ہیں
جہانِ پیش گوئی میں عجب حیرت کا موسم ہے

جنودِ طالبانی  کا  یہ  دینِ مدرسہ سوزی
یہ کس کذاب کے پیغام کی شہرت کا موسم ہے

ہوائے بے نوائی ملک بھر میں چلتی رہتی ہے
مگر باغِ حکومت میں بڑی عشرت کا موسم ہے

یہ ہیروں اور لیلاؤں کے جھرمٹ آ گئے دیکھو
نگر میں عشق کی تبلیغ اور دعوت کا موسم ہے

چلو مسعود، اس کو جلوتوں سے آشنا کر دیں
کہ اس کے آستاں پر رات کو خلوت کا موسم ہے
٭٭٭




اندیشہ ہائے عہدِ فساد


کس یقیں کا بُرا گمان ہیں یہ؟
کس شریعت کے راز دان ہیں یہ؟

کون القاعدہ کا خالق ہے؟
کِس کی ایجاد طالبان ہیں یہ؟

ملک پر برق بن کے گرتے رہے
قوم کے خون کا نشان ہیں یہ

کیپیٹل ہِل کے یہ نمائندے
بربریت کی داستان ہیں یہ

دیکھ کر ظلم ، چیختے بھی نہیں
بے بصر اور بے زبان ہیں یہ

ان سے وعدہ نہیں کوئی رب کا
بے حفاظت ہیں، بے امان ہیں یہ

آگ کی بارشوں کے گھیرے میں
دینِ اسلام کا زیان ہیں یہ

ان کے شر سے ہے خوف میں یہ زمیں
کس قیامت کا آسمان ہیں یہ

قہر کے تیر آزماتے رہے
جبر و اکراہ کی کمان ہیں یہ

زیرِ جبہ ہیں بم چھپائے ہوئے
کس طریقت کے خواجگان ہیں یہ؟

یار مسعود ، ان سے بچ کے رہو
یہ منافق ہیں ، بے ایمان ہیں یہ
٭٭٭



ناف کے نُون میں جو خاک کا در پڑتا ہے
کیا سمندر میں کوئی ویسا بھنور پڑتا ہے

آئینے بولنے لگتے ہیں زباں کوئل کی
عکس اُس شوخ کے پیکر کا اگر پڑتا ہے

میں بھی بیباک سا ہو جاتا ہوں لب ریزی میں
مجھ پہ شاید،تری صحبت کا اثر پڑتا ہے

چلتے جاتے ہیں بہم ،لمس بھری گلیوں میں
شب کے صحرا میں محبت کا سفر پڑتا ہے

کیا بتاؤں گا کسی کو میں کہاں رہتا ہوں
تیری بانہوں کی گلی میں میرا گھر پڑتا ہے

ٹوٹ جاتی ہے جہاں کبر و انا کی زنجیر
اُس افق پار ، تصوف کا نگر پڑتا ہے

مل کے جب کرتے ہیں ہم، وصل کی سازش مسعود
اس کا الزام کہاں عشق کے سر پڑتا ہے
٭٭٭




کیا دیا شیخ حرم نے جُز جہالت ، بول نا
مُلکوں ، مُلکوں کر دی رُسوا ساری اُمت بول نا

کیا فحاشی اور بدکاری کی لعنت مٹ سکی؟
کون سی اکسیر ہے تیری عبادت ، بول نا

کیا عقائد کے فسوں سے ذہن بھی بدلے گئے؟
کم ہوئی کیا حکمرانوں کی خباثت ، بول نا؟

جو تریسٹھ سال میں انصاف دے پائے نہیں
اُن ججوں کا عدل کیا ، اور کیا عدالت ، بول نا؟

جن مساجد میں ہوں رشوت  خور ، سارے مقتدی
اُن اماموں کو ہو کیا پاس امامت  ، بول نا؟

کیا کبوتر امن کے اُڑ کر بچا پائے زمیں
روک پائیں فاختائیں ، قتل و غارت ، بول نا؟

کاٹ کر توحید کو، ٹکڑے بہتر کر دیے
فرقہ بندی ہے فقیہوں کی شرارت ، بول نا؟

جو کرپشن اور رشوت کو سمجھتی ہو حلال
وہ کہاں ہوگی محمد کی جماعت ،  بول نا؟

یہ جو روٹی کے لیے مسعود، ہیں منبر نشیں
ان کے وعظوں کی نہیں ، ہم کو ضرورت ، بول نا
٭٭٭



کبھی پگڑی اُچھلتی تھی،مگر اب وِگ اُچھلتی ہے
بنا لے اپنی وِگ کا جام،گنجے! رات ڈھلتی ہے

وہ شب کی آخری سانسوں میں میخانے پہنچتے ہیں
اندھیرے میں جنابِ شیخ کی ٹم ٹم نکلتی ہے

وہ اب پُٹھے پہ اپنے، ہاتھ تک دھرنے نہیں دیتا
کہاں اُس بُت کے آگے اب کسی کی دال گلتی ہے

وہ مجھ پر اس قدر نا  مہرباں ہوگا ، نہ سوچا تھا
مری موجودگی بھی ناروے میں اُس کو کھلتی ہے

کمر کا زور ہو، تعویذ گنڈے کا سہارا ہو 
تو اس دو آتشہ سے ناگنوں کی خُو بدلتی ہے

نہیں ہے ہومیوپیتھی سے کوئی فائدہ اُس کو
فقط وہسکی سے اُس بیمار کی حالت سنبھلتی ہے

تجھے بھولی نہیں مسعود پنجابی حسینائیں
کہ جن کی مہربانی بھی الاؤ بن کے جلتی ہے
٭٭٭


فرض کر لو کہ ہم مسلماں ہیں
یوں سمجھ لو کہ ظلِ یزداں ہیں

ہم ہیں توحید اور رسالت مست
اہلِ سُنت ہیں، اہلِ قرآں ہیں

یہ نہ دیکھو کہ ہم حقیقت میں
ننگِ دیں اور ننگِ ایماں ہیں

باللساں ایک مختصر اقرار
دین کے کام کتنے آساں ہیں

جو قبائے منافقت میں چلیں
ہم وہی فخرِ بے لباساں ہیں

مسندِ عدل  سے ہمیں کیا کام
ہم تو رشوت کے شاہِ دوراں ہیں

بطل، بہتان ،بغض ، بُخل ، بِباد
سارے لیبل ہمیں پہ چسپاں ہیں

مردہ بھائی کا ماس ہم کو حلال
لحمِ خنزیر سے گریزاں ہیں

اُمتی ، صادق و امیں کے کہاں
ہم گروہِ دروغ گویاں ہیں

جس کو راس آ سکی نہ آزادی
ہم وہی اُمتِ غلاماں ہیں

فقر جن کی متاع تھی مسعود
اب وہ زرداریوں پہ نازاں ہیں		٭٭٭


سنہ ۲۰۱۰ کا آخری مراقبہ

محمد اور محبت ایک ہی ہیں
عبادت اور خدمت ایک ہی ہیں

اِ نہیں ناموں میں مت تقسیم کرنا
پیمبر اور اُمت ایک ہی ہیں

یہ تُم اور میں ، کوئی دو تو نہیں ہیں
یہ وحدت اور کثرت ایک ہی ہیں

ہے حرفِ کُن ، تری دنیا کا اک نام
عمل اور حُسنِ نیت ، ایک ہی ہیں

ہیں دو صفحات ،  اِک سادہ ورق کے
یہ ذلت اور عزت ایک ہی ہیں

خُدا کے ساتھ ہے اِبلیس کا نام
اُجالا اور ظلمت ایک ہی ہیں

اِنہیں ، اک دوسرے میں ڈھونڈ لینا
بُتانِ وصل و فرقت ایک ہی ہیں

نہیں  یہ تین سو پینسٹھ دریچے
یہ سب ابوابِ رحمت ایک ہی ہیں

مجھے معلوم ہے مسعودؔ ، یہ راز
حماقت اور حکمت ایک ہی ہیں
٭٭٭

حرفِ انکار


جس میں رشوت چلے اور کرپشن چلے
جس کے نقلی مسلمان ہوں من چلے
ایسے اسلام کو ، ایسے ایمان کو
اے مری ہم نوا ، چھوڑ دے ، چھوڑ دے

سر بلندی نہ اُمت کو دے پائے جو
جس پہ امریکیوں کا گھنا سایہ ہو
وہ جو جلسوں میں نعروں کا ہو ایک شو
جس کی ہر کیفیت ہو فقط گو مگو
ایسے الہام کو ، ایسے فیضان کو
ایسے اسلام کو ، ایسے ایمان کو
اے مرے ہم نوا ، چھوڑ دے ، چھوڑ دے

جو امامت کی وردی میں بطلان ہو
جس کے جتھے کا ہر فرد پردھان ہو
جس میں اک اک منافق ، مسلمان ہو
کوئی بندر ہو یا کوئی حیوان ہو
ایسے بدنام ٹولے کے ہر خان کو
ہر منافق کے مدقوق ایمان کو
اے مرے ہم نوا، چھوڑ دے ، چھوڑ دے

جس میں جمہوریت ہو فقط  نام کی
جس میں قینچی چلے مانے حجام کی
اور باسی ردائیں ہوں احرام کی
جس کے زمزم سے گنگا بھلی رام کی
ایسے الزام کو ، ایسے بطلان کو
ایسے اسلام کو، ایسے ایمان کو
اے مرے ہم نوا ، چھوڑ دے ، چھوڑ دے

وہ جو مسجد کو مقتل بنا کر رہے
جو بموں کے دھماکوں کو نیکی کہے
وہ جو بچوں کے ذہنوں میں نفرت بھرے
وہ جو کہتا رہا ہو ، کبھی نہ کرے
فرضی اُمت کے ایسے مسلمان کو
اُس کے اسلام کو،اُس کے ایمان کو
اے مرے ہم نوا ، چھوڑ دے ، چھوڑ دے

جھوٹا برتن ہے مُلا کے خطبات کا
وعظ اُس کا پٹارا ہے آفات کا
جاری کرتا ہے فتوا ،خُرافات کا
وہ جو واقف نہیں اپنی اوقات کا
ایسے منحوس کو ، ایسے نادان کو
اُس کے اسلام کو ، اُس کے ایمان کو
اے مرے ہم نوا ، چھوڑ دے ، چھوڑ دے
٭٭٭


شریعت سے شریت تک

نوائے حضرتِ اقبال کل شب 
یہ سرگوشی میں مجھ سے کہہ گئی ہے 

شریعت سے ہوا ہے عین معدوم 
شریعت اب شریت رہ گئی ہے

عبارت تھا عبودیت سے یہ عین 
یہ نعمت تیل بن کر بہ گئی ہے 

شریّت ، شر کی ہے اب پٹّہ داری 
خُدائی وار کیا کیا سہہ گئی ہے
٭٭٭


حکمراں کیسے کیسے


نظریہ، خواب، سبز باغ،فریب
اصل مقصد ہے زر سے بھرنا جیب

جن کے ہاتھوں میں باگ ملک کی تھی
ان کو دیتی رہی کرپشن زیب

کیسے ظالم تھے، ملک دشمن تھے
لے گئے قوم  کو وہ سوئے نشیب

اک طرف بھوک،دوسری جانب
حلوہ،چرغہ، پراٹھا اور جلیب

کب ملے نوکری، ہو کب شادی
کیا بتاؤں تجھے سویٹی ، بیب

ملک آدھا جو رہ گیا مسعود
وہ ہے زرداریوں کا خاص وسیب
٭٭٭

عوامی فرمان


کسی پاگل کو صدارت نہیں کرنے دیں گے
کسی غاصب کو حکومت نہیں کرنے دیں گے

مسندِ عدل کو ویراں نہیں ہونے دیں گے
کسی بندر کو عدالت نہیں کرنے دیں گے

منتظم، غور سے پڑھ لیں یہ عوامی فرمان
لوگ اب ان کو نظامت نہیں کرنے دیں گے

مارشل لا کا جو کتا ہے ، نہ کھلنے پائے
وردی والو ، یہ حماقت نہیں کرنے دیں گے

وہ جو رشوت پہ پلا، نارِ جہنم میں جلا
اس کو ہم دیں کی نیابت نہیں کرنے دیں گے

عیش و عشرت کرو تم ،لوگ مریں فاقوں سے
اب تمہیں ایسی رذالت نہیں کرنے دیں گے
 
ہاتھ غاصب کے گریبان تلک پہنچیں گے
احتسابوں میں رعایت نہیں کرنے دیں گے

ہو گئے ملک پہ قابض جو تشدد کے امام
ان کو ملت کی امامت نہیں کرنے دیں گے

وہ جو مکروہ قدم اترا ہے شیطان ملک
اس کو ہم گھر کی وزارت نہیں کرنے دیں گے

سب مسلمانوں کی مشترکہ امانت ہے وطن
اِس امانت میں خیانت نہیں کرنے دیں گے

وہ جو بھٹو کی جماعت تھی،وہ تاریخ ہے اب
ہم تمہیں اس کی وکالت نہیں کرنے دیں گے

تم مسلط کرو کل، لا کے بلاول ہم پر
ہم تمہیں ایسی جسارت نہیں کرنے دیں گے

چھین لیتے ہیں جو ہاتھوں سے نوالے مسعود
ان کو اب ایسی خباثت نہیں کرنے دیں گے
٭٭٭


2009 سے پہلی معذرت


نہ کوئی جشن منا پائے نہ مے پی ہم نے
ہم فقط ماتمِ غزہ و محرم میں رہے

اے نئے سال!ترا کیسے سواگت کرتے؟
کس طرح تازہ وہ دیرینہ روایت کرتے؟

نہ کوئی رقص ، نہ موسیقی نہ مطرب نہ ندیم
یوں گماں ہوتا ہے اب کوئی نہیں ربِ کریم

چیرہ  دستوں کی غلامی ہے ہماری تقدیر
اب کبھی ٹوٹ نہ پائے گی جفا کی زنجیر

ہم پہ یہ ظلم و ستم اے مرے مالک کب تک؟
ہم غریبوں کی جبینوں پہ یہ کالک کب تک؟

ماتم و غم کے سوا  اپنا سہارا کیا ہے
تیری دنیا ہے یزیدوں کی ہمارا کیا ہے
٭٭٭

پاکستان کے نام


تن کی مٹی میں تری یاد ہی بو لیتے ہیں 
اے وطن! گل نہ سہی خار پرو لیتے ہیں 

تُو، تو جاں ہے تجھے کرتے ہیں بدن میں مستور 
تُو ، تو دل ہے تجھے پہلو میں سمو لیتے ہیں 

جب ترے پاس تھے ہم زخمِ فلاکت ہی تو تھے 
اور اب دور ہیں تیرے لیے رو لیتے ہیں 

رات بھر درد کی مَے آنکھ میں کرتے ہیں کشید 
صبح، چہرا  اُسی خونناب سے دھو لیتے ہیں 

گُل کو یاد آئے گی خوشبوئے پریدہ ہم سے 
اے صبا! ہم بھی ترے ساتھ ہی ہو لیتے ہیں 

نشّۂ ہجر سوا ہوتا ہے جب شاموں کو 
اپنے لب چاند کی کرنوں میں ڈبو لیتے ہیں 

شب کٹے یا نہ کٹے اپنی بلا سے مسعود 
غم کی چادر جو ہے ہم تان کے سو لیتے ہیں
٭٭٭

ثنا خوانی
لکھ کے دوچار حرف غلمانی
ہو گئی حور نیم دیوانی

فیل لکھنے لگی ہے مچھر کو
اے قلم! ہش تری یہ نادانی

بھیڑ بابا کرے تواتر سے
خوش ہوا سن کے گرگ  میدانی
 
مونہہ  کو رکھیں کہاں سنبھال سنبھال
جس سے کرتے رہے ثنا خوانی

ہاں رُلاتی ہے رات بھر مسعود
یادِ ایامِ عیشِ لاثانی
٭٭٭


نہیں اُس بُت سے ملنا ، اب یہ طے ہے
مگر سوگند میری ، تا بہ کے ہے ؟

غمِ فرقت منایا جا رہا ہے
مرے خوابوں میں جاری رقصِ مے ہے

ترے غمزوں کا میں مارا ہوا ہوں
مجھے معلوم ہے تو کیسی شے ہے

بدن چھلنی کیے دیتا ہے میرا
تری یادوں کا حملہ پے بہ پے ہے

ترے ماتھے کے تیور ہیں غُٹر غُوں
تری چُپ میں بھی نغمے کی سی لے ہے

یہ کیسی کپکپی طاری ہے مجھ پر
جُدائی کا ابھی تک مجھ کو بھے ہے

فلک بھی اُس کا دیوانہ ہے مسعود
یہ مِٹّی ، بولتی جس بُت کی جے ہے
٭٭٭


چہ قلندرانہ گفتم


بگڑے ہوئے آوے کو سنوارے گا بھلا  کون
اس سنگِ کثافت کو اُجارے گا بھلا کون

چھلکے ہوئے گٹروں پہ تعفن ہے مسلط
اس نالی کے پانی کو نتھارے گا بھلا کون

دستک پہ لگے کان کو مایوسی ہوئی ہے
تنہائی کے صحرا سے پکارے گا بھلا کون

غُربت کے تھپیڑوں سے جو مُرجھائے ہوئے ہیں
اُن پھول سے چہروں کو نکھارے گا بھلا کون

پانی ہے ، نہ بجلی ہے نہ آرام کو بستر
مہمان سراؤں میں پدھارے گا بھلا کون

امریکہ کی شہ پر جو مسلط ہوئے ہم پر
اُن کنگلوں کو کرسی سے اُتارے گا بھلا کون

مسعود ، یہ نفرت کے اندھیرے تو سزا ہیں
ان قبر کی راتوں کو گزارے گا بھلا کون
٭٭٭





دل کا دھن ، لُوٹ لے گیا کوئی
دیکھ ، برباد پھر ہوا کوئی

ٹوٹ کر خواب کے خلاؤں سے
اک ستارا کہیں گرا کوئی

چاند ، اُس رُخ پہ آن کر اُترا
پھول ، اُس ہونٹ پر کھلا کوئی

کچھ عطا ہو درِ جمال سے آج
غمزہ ، عشوہ ، یا پھر ادا کوئی

تو نہ سُن ، کان بند رکھ اپنے
کہ رہا ہے بُرا بھلا کوئی

لوگ کہتے ہیں اہلِ مذہب کا
اک زمانے میں تھا خُدا کوئی
٭٭٭


بندگی میں خُدا نہیں پایا
تُجھ کو اپنا بنا نہیں پایا

بات چھیڑی تو تھی محبّت کی
بات آگے بڑھا نہیں پایا

ایسا بھاری تھا عشق کا پتھر
میں تو یہ بوجھ اُٹھا نہیں پایا

جو ترے ہجر کی امانت تھے
میں وہ آنسو بہا نہیں پایا

بھول جانا تو تیری عادت تھی
تو مجھے کیوں بھُلا نہیں پایا

کوئی شعلہ کہیں سے اُترا نہیں
کوئی تیلی جلا نہیں پایا

جس کا انعام وصل ہو مسعود
معجزہ وہ دکھا نہیں پایا
٭٭٭



رزق امریکہ سے ، فردوس خُدا سے مانگوں
بھیک میں سانس بھی مصنوعی ہوا سے مانگوں

بہ گئی سیلِ سیاہی میں مری قوس و قزح
رنگ اب کس کی ہتھیلی کی حنا سے مانگوں

بوڑھے سورج کی چکا چوند بھی اب ماند ہوئی
کیوں نہ اک اور ستارہ میں خلا سے مانگوں

کُہنہ آوازوں کے لہجے میں اُداسی ہے بہت
سوچتا ہوں کہ نئی بانگ ، درا سے مانگوں

نور کے سکّے جمع کرنے کی خواہش میں کبھی
صبح کی پہلی کرن ، بابِ عشاء سے مانگوں

کرّۂ ارض پہ تِل دھرنا بھی اب سہل نہیں
اک نیا خاک نگر ربِ سما سے مانگوں

جب تشدد ہی نوشتہ ہے مری قسمت کا
کیوں زرِ امن کسی تیرہ عبا سے مانگوں

بچّے بھوکے رہیں رازق کی عملداری میں
مجھ کو یہ حکم کہ میں صبر و رضا سے مانگوں

مجھ کو مسعود ، بُرا لگتا ہے ، مجبوری میں
عجز کی بھیک شہِ کبر و انا سے مانگوں
٭٭٭
ماخذ: زیادہ تر
http://www.alqamar.info/poetry/categories/شعراء-کی-فہرست-حروف-تہجی-سے/م/مسعود-منور/
سے، تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید
