﻿


بیادِ فراز


ترتیب و تنظیم: محمد بلال اعظم
ڈیزائننگ:  محمد صہیب اعظم، عاطف سعید






جو حرف حق تھا وہی جا بجا کہا سو کہا
بلا سے شہر میں میرا لہو بہا سو بہا
شکست و فتح مرا مسئلہ نہیں ہے فرازؔ
میں زندگی سے نبرد آزما رہا سو رہا










 احمد فراز ایک نظر میں


اصل نام: سید احمد شاہ
قلمی نام: احمد فراز
والد: سید محمد شاہ برق
والدہ: سیدہ امیر جان
بھائی بہن:سید محمود شاہ، سید حامد شاہ،سید مسعود کوثر، افتخار ناہید(بہن)
اولاد: سعدی فراز، شبلی فراز، سرمد فراز
پیدائش: ۱۲ جنوری ۱۹۳۱
تعلیم: ایم اے اردو۔ ایم اے فارسی
درس گاہیں:
اسلامیہ ہائی سکول کوہاٹ، ایڈورڈ کالج پشاور، پشاور یونیورسٹی
پیشہ:
اردو شاعر، لیکچرار
شعری زندگی کا آغاز:
سکول کے زمانے میں نویں دسویں سے ہوا
شعری زندگی کا دور:
1950-2008
موضوعات:
عشق، تحریکِ مزاحمت
ادبی تحریک:
پروگریسو رائٹرز موومنٹ،  ڈیموکریٹک موومنٹ
پہلا شعر:
جب کہ سب کے واسطے لائے ہیں کپڑے سیل سے
لائے ہیں میرے لیے قیدی کا کمبل جیل سے
پہلی غزل:
رُک جائیے کہ رات بڑی مختصر سی ہے
سن لیجیے کہ رات بڑی مختصر سی ہے
پہلی نظم: انتباہ
تصانیف:
تنہا تنہا۔۔۔۔۔۱۹۵۸
درد آشوب۔۔۔۔۔۔۔۱۹۶۶
نایافت۔۔۔۔۔۔۔۔۔۱۹۷۰
شب خون۔۔۔۔۔۔۔۔۱۹۷۱
میرے خواب ریزہ ریزہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۱۹۷۲
جاناں جاناں۔۔۔۔۔۔۔۱۹۷۶
بے آواز گلی کوچوں میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۱۹۸۲
نابینا شہر میں آئینہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۱۹۸۴
سب آوازیں میری ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۱۹۸۵
پس انداز موسم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۱۹۸۹
بودلک (ڈرامہ منظوم)۔۔۔۔۔۔۔۔۱۹۹۴
خوابِ گل پریشاں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۱۹۹۴
غزل بہانہ کروں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۱۹۹۹
شہرِ سخن آراستہ ہے(کلیات)۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۲۰۰۴
اے عشق جنوں پیشہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۲۰۰۷
قومی ایوارڈ:
آدم جی ادبی ایوارڈ۔۔۔۔۔۔۔۱۹۶۶
اباسین ایوارڈ برائے ادب۔۔۔۔۔۔۔۔۱۹۷۰
دھنک ایوارڈ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۱۹۷۱
ڈاکٹر محمد اقبال ایوارڈ (اکادمی ادبیات)۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۱۹۹۰
نقوش ایوارڈ برائے ادب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۱۹۹۲۔۹۳
ستارہ امتیاز برائے ادب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۱۹۹۴
کمالِ فن ایوارڈ ( اکادمی ادبیات پاکستان)۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۲۰۰۰
ہلالِ امتیاز برائے ادب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۲۰۰۴
بین الاقوامی ایوارڈ:
فراق انٹرنیشنل ایوارڈ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۱۹۸۲
بین الاقوامی ایوارڈ برائے زبان و ادب ٹورنٹو اکادمی ادبیات۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۱۹۹۱
جے این ٹاٹا ایوارڈ جمشید نگر برائے امن اور انسانی حقوق۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۱۹۹۲
۲۰۰۰میلینیم میڈل آف آنرز یو ایس اے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۱۹۹۹
پہلا کیفی اعظمی ایوارڈ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۲۰۰۲
ای ٹی وی کمالِ فن ایوارڈ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۲۰۰۴
تراجم:
فراز کی شاعری کے تراجم انگریزی، فرانسیسی، ہندی۔ یوگوسلاوی، سویڈش، روسی، جرمن اور پنجابی میں ہو چکے ہیں
سرکاری خدمات:
لیکچرر پشاور یونیورسٹی ۱۹۶۱۔۷۱
ڈایئریکٹر پاکستان نیشنل سینٹر ۱۹۷۱تا ۱۹۷۶
ڈائریکٹر جنرل۔ پاکستان اکیڈمی آف لیٹرز ۱۹۷۶تا ۱۹۷۸
چیئر مین پاکستان اکیڈمی آف لیٹرز ۱۹۸۹تا ۹۰
چیف ایگزیکٹو لوک ورثہ ۱۹۹۱ تا ۹۳
مینیجنگ ڈائریکٹر نیشنل بک فاونڈیشن ۱۹۹۴ تا ۲۰۰۵
ریکارڈنگ: اثاثہ (ویڈیو کیسٹ) دوبئی، محاصرہ (لانگ پلے)لندن، یہ میری نظمیں یہ میری غزلیں (ای ایم آئی ) پاکستان، شاہکار غزلیں (کیسٹ)
پی ایچ ڈی مقالے:
احمد فراز کی غزل۔ جامعہ ملیہ یونیورسٹی دہلی۔
 احمد فراز فن اور شخصیت۔ اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور پاکستان
ڈاکٹریٹ کی ڈگری:
آپ کی نمایاں خدمات کے اعتراف میں یونیورسٹی آف کراچی نے ۱۵ فروری ۱۹۹۵ کو ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری عطا کی
فیلو شپ:
آپ کی ادبی خدمات کے اعتراف میں اکادمی ادبیات پاکستان نے آپ کو آنریری فیلو شپ عطا کی





تیرا نام فراز


ہر ایک دل میں دھڑکتا ہے تیرا نام فراز
ہر ایک لب پہ مہکتی ہے شاعری تیری
احمد فراز ۱۹۳۱ میں کوہاٹ میں پیدا ہوئے۔ فراز کے بچپن میں خاکسار تحریک کا اثر برِ صغیر پر چھایا ہوا تھا۔ پشاور کی سڑکوں پر نوعمر خاکساروں کا ایک دستہ پریڈ کرتے نظر آتا، جس کی قیادت احمد شاہ ایک نرالی شان سے کرتے نظر آتے۔ ان کے والد آغا محمد شاہ برق فارسی اور اردو میں شعر کہتے تھے۔ پشاور کی قدیمی ادبی انجمن بزمِ سخن پشاور کے سیکریٹری تھے۔ پشاور میں طرحی مشاعرے بڑے تواتر کے ساتھ ہوتے۔ انہوں نے شرر برقی کے قلمی نام سے ان طرحی مشاعروں میں حصہ لینا شروع کیا۔ صوبہ سرحد میں ترقی پسند مصنفین تحریک کی پشاور شاخ کے سیکریٹری بننے پر انہوں نے اپنا قلمی نام احمد فراز رکھ لیا جو ان کی ابدی شناخت بنا۔
فارغ بخاری صاحب نے ۱۹۴۸ میں ایک ماہنامہ سنگِ میل کے نام سے جاری کیا۔ سنگِ میل کے سرحد نمبر میں احمد فراز صاحب نے لختئ کے موضوع پر نظم لکھی جو ایک یاد گار ہے۔ ان کا کلام ادبی سفر کی شروعات سے ہی احباب کے دلوں میں گھر کر گیا تھا۔ فارغ بخاری صاحب کی رہائش گاہ پر پشاور کی ایک ادبی تنظیم دائرہ ادبیہ کی محفلیں ہوا کرتی تھیں جن میں فراز بھی باقاعدگی سے شرکت کرتے تھے۔ ایسی ہی ایک محفل میں ان کا تعارف جناب زیڈ اے بخاری سے ہوا۔ بخاری صاحب فراز سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے اور ان کو کراچی ریڈیو پر آنے کی دعوت دی۔ کراچی کی ادبی محفلوں اور بخاری صاحب کی حوصلہ افزائی نے ان کی صلاحیتوں کو مزید نکھار بخشا اور ان کی فکر و نظر کا دائرہ وسیع ہو گیا۔
کراچی سے وہ ریڈیو پاکستان پشاور کے پروڈیوسر کی حیثیت سے واپس آئے۔ انہوں نے اپنا تعلیمی سلسلہ دوبارہ شروع کیا اردو اور فارسی میں ایم اے کے بعد پشاور یونیورسٹی میں لیکچرار مقرر ہو گئے۔ تدریس کے شعبے سے دس سال منسلک رہے پھر نیشنل سینٹر اکادمی ادبیات، اکیڈمی آف لیٹرز، لوک ورثہ اور نیشنل بک فاونڈیشن جیسے اداروں سے وابستہ رہے۔ پاکستان میں آمریت کے زمانوں میں وہ معتوب بھی ٹھہرے ،پابند سلاسل بھی رہے اور جلا وطن بھی رہے۔ جلاوطنی کے دور میں لندن کے ادبی حلقے میں بھی ان کو نمایاں حیثیت حاصل رہی۔
احمد فراز کے کلام میں رومانوی رنگ غالب ہے تاہم ان کی غزل میں نو کلاسیکی رنگ نمایاں ہے۔ انہوں نے مزاحمتی شاعری میں بھی ایک مقام پیدا کیا ہے ان کا کچھ کلام جدید شاعری کے زمرے میں شمار کیا جا سکتا ہے۔ فیض احمد فیض کے برعکس ان کی شاعری مغربی زبانوں کی شاعری کی بجائے اردو اور فارسی کی خوشبو سے آراستہ ہے۔ ان کی غزلیں سودا،  میر مصحفی،  آتش اور مرزا غالب کے اسالیب کی پابند ہیں۔ لیکن انہوں نے اساتذہ کی پیروی کرتے ہوئے اپنا جداگانہ تشخص برقرار رکھا۔
ان کی غزلیات سے کچھ اشعار ملاحظہ کیجیے

تم ہو ناخوش تو یہاں کون ہے خوش پھر بھی فراز
لوگ رہتے ہیں اسی شہرِ دل آزار کے بیچ

رات کیا سوئے کہ باقی عمر کی نیند اڑ گئی
خواب کیا دیکھا دھڑکا لگ گیا تعبیر کا

ہم کو اس شہر میں تعمیر کا سودا ہے جہاں
لوگ معمار کو چن دیتے ہیں دیوار کے ساتھ

آ فصیلِ شہر سے دیکھیں غنیمِ شہر کو
شہر جلتا ہو تو تجھ کو بام پر دیکھے گا کون

اب تو ہمیں بھی ترکِ مراسم کا دکھ نہیں
پر دل یہ چاہتا ہے کہ آغاز تو  کرے

احمد فراز کو ایک عرصے تک کبھی نوجوانوں کا شاعر قرار دیا جاتا رہا اور کبھی لڑکیوں کا پسندیدہ۔ اُن کی شاعری پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ ان کی تمام عمر محبتوں میں گزری ہے۔ "تنہا تنہا" سے لے کر "جاناں جاناں" تک محبت کے ٹوٹتے اور شروع ہوتے سلسلے نظر آتے ہیں۔ وہ اپنی رومان پرست طبیعت کے بارے میں کہتے ہیں
" میں مانتا ہوں رومانس میری شخصیت کا ایک حصہ ہے اور میری شاعری میں اس کا غلبہ ہے لیکن زیادہ موضوعات ہیں کہاں۔ کیا آپ مجھے محبت کے علاوہ کوئی موضوع بتا سکتے ہیں۔ ہر شاعر عہدِ قدیم سے لیکر آج تک محبت کے موضوعات پر اپنے تجربات کی روشنی میں لکھ رہا ہے،  لیکن یہ موضوع پھر بھی نیا ہے"۔

ذکرِ جاناں سے جو شہرِ سخن آراستہ ہے
جس طرف جائیے اک انجمن آراستہ ہے

میں نے اس جانِ بہاراں کو بہت یاد کیا
جب کوئی پھول مری شاخِ ہنر سے نکلا

فراز کا محبوب اردو شاعری کے روایتی محبوب سے کافی مختلف نظر آتا ہے۔ وہ دیو مالائی حسن کا مالک ہے نہ ستم پیشہ ہے اور نہ تیغ انداز ہے

ہر حسن سادہ لوح نہ دل میں اتر سکا
کچھ تو مزاجِ یار میں گہرائیاں بھی ہوں

بہت سے ہاتھ ہیں دامانِ دل کو کھینچنے والے
جمالِ یار ترے بانکپن کی آزمائش ہے

قامت کو تیرے سرو و صنوبر نہیں کہا
جیسا بھی تو تھا اس سے بڑھ کر نہیں کہا

اس کی آنکھوں کو کبھی غور سے دیکھا ہے فراز
رونے والوں کی طرح جاگنے والوں جیسی

سکوت میں بھی اس کے اک ادائے دلنواز تھی
وہ یارِ کم سخن کئی حکایتیں سنا گیا

الفاظ تھے کہ جگنو آواز کے سفر میں
جیسے کہ جنگلوں میں بن جائے راستہ سا

اے مصورِ حسنِ جاناں عکسِ جاناں میں کہاں
کب تری تصویر میں وہ ہو بہو آ جائے

فراز کی شاعری میں مزاحمتی رنگ اپنے معاصرین کے مقابلے میں زیادہ روشن نظر آتا ہے۔ فیض احمد فیض کے بعد حبیب جالب اور احمد فراز کو مزاحمتی شاعری کا نمائندہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ تاہم جالب کے برعکس ان کا حرفِ مزاحمت عریاں نہیں ہوتا۔ احتجاج میں بھی لہجے کی نرمی برقرار رکھنا ان کا ہی امتیاز ہے۔ ان کے اشعار میں کڑی سے کڑی بات بھی ذہن پر بوجھ نہیں بنتی۔

نہیں کہ درد نے پتھر بنا دیا ہے مجھے
نہ یہ کہ آتشِ احساس سرد ہے میری

گواہ ہیں مرے احباب میرے شعر سبھی
کہ منزلِ رسن و دار گرد ہے میری

ایسا سناٹا کہ جیسے ہو سکوتِ صحرا
ایسی تاریکی کہ آنکھوں نے دہائی دی ہے

جانے زنداں  سے اُدھر کون سے منظر ہوں گے
مجھ کو دیوار ہی دیوار دکھائی دی ہے

فضا بے ابر شاخیں بے ثمر ہیں
پرندوں سے شجر محروم تر ہیں

کوئی موسم قرینے کا نہ آیا
ہواؤں کے سخن نا معتبر ہیں

لوگ الہام کو بھی الحاد سمجھتے ہیں
جو دل پہ وجدان اُتارے مت لکھو

احتیاط اہلِ محبت کہ اسی شہر میں لوگ
گل بدست آتے ہیں اور پا بہ رسن جاتے ہیں

فراز اپنا مقدر سنگساری
ہم ہی اس عہد کے آئینہ گر ہیں

فراز نے اپنی شاعری سے متعلق ایک نظم "یہ میری نظمیں یہ میری غزلیں" لکھی ہے، اس سے کچھ سطور ملاحظہ کیجیے

مجھے خبر تھی کہ تیرے آنچل میں
درد کی ریت چھانتا ہوں

مگر ہر اک بار تجھ کو چھو کر
یہ ریت رنگِ حنا بنی ہے

یہ زخم گلزار بن گئے ہیں
یہ آہِ سوزاں گھٹا بنی ہے

یہ درد موجِ صبا ہوا ہے
یہ آگ دل کی صدا بنی ہے

اور اب یہ ساری متاعِ ہستی
یہ پھول یہ زخم سب ترے ہیں

یہ دکھ کے نوحے یہ سکھ کے نغمے
جو کل مرے تھے وہ اب ترے ہیں

مزاحمتی شاعری میں فراز کا شمار ان کی نظم " پیشہ ور قاتلو" کے منظرِ عام پر آنے سے ہونے لگا تھا۔ یہ نظم آزادانہ دستیاب نہ تھی۔ اس نظم کے کچھ ٹکڑے ملاحظہ کیجیے

تم نے دیکھے ہیں جمہور کے قافلے
ان کے ہاتھوں میں پرچم بغاوت کے ہیں
بیڑیوں کی جمی خون کی پپڑیاں
کہہ رہی ہیں منظر قیامت کے ہیں
کل تمہارے لیے پیار سینوں میں تھا
اب جو شعلے ہیں وہ نفرت کے ہیں
۔۔۔۔۔
آج شاعر پہ بھی قرض مٹی کا ہے
اب قلم میں لہو ہے سیاہی نہیں
آج تم آئینہ ہو مرے سامنے
پیشہ ور قاتلو تم سپاہی نہیں
اب سبھی بے ضمیروں کے سر چاہئیں
اب فقط مسئلہ ِ تاجِ شاہی نہیں

ضیاء الحق کے دور میں فراز کی سرکشی اور مزاحمت عروج پر تھی۔ آمریت کے زمانے میں ان کی نظم "محاصرہ" عصرِ حاضر کا ترانہ بن گئی۔ مزاحمتی ادب کی تاریخ میں یہ نظم ایک امتیازی حیثیت کی حامل رہے گی۔ محاصرہ کی اختتامی سطور کچھ یوں ہیں

میرا قلم نہیں اوزار اس نقب زن کا
جو اپنے گھر کی ہی چھت میں شگاف ڈالتا ہے
 
میرا قلم نہیں اس دزدِ نیم شب کا رفیق
جو بے چراغ گھروں پر کمند اچھالتا ہے
 
میرا قلم نہیں تسبیح اس مبلغ کی
جو بندگی کا بھی ہر دم حساب رکھتا ہے
 
میرا قلم نہیں میزان ایسے عادل کی
جو اپنے چہرے پہ دوہرا نقاب رکھتا ہے
 
میرا قلم تو امانت ہے میرے لوگوں کی
میرا قلم تو عدالت میرے ضمیر کی ہے
 
اسی لیے تو جو لکھا تپاکِ جاں سے لکھا
جبھی تو لوچ کماں کا، زبان تیر کی ہے
 
میں کٹ گروں یا سلامت رہوں، یقیں ہے مجھے
کہ یہ حصارِ ستم کوئی تو گرائے گا
 
تمام عمر کی ایذا نصیبیوں کی قسم
میرے قلم کا سفر رائیگاں نہ جائے گا

احمد فراز کو ہم سے بچھڑے ہوئے ایک برس ہو گیا ہے مگر وہ ہمارے درمیان ہمیشہ رہیں گے اہلِ سخن کے دربار میں وہ کسی شہزادے کی طرح متمکن رہیں گے کیونکہ انہوں نے اپنے قلم کو ہمیشہ سرخرو رکھا

قلم سرخرو ہے
کہ اس نے لکھا تھا
وہ بازو
جو پتھر سے ہیرے تراشیں
مگر بے نشاں اُن کے گھر
وہی کوہکن
جن کے تیشے پہاڑوں کے دل چیر ڈالیں
مگر خسروانِ جہاں ان کی شیریں چرا لیں
وہی جن کے جسموں کے پیوند
اہلِ ہوس کی قبا میں لگے تھے
وہی سادہ دل
جن کی نظریں فلک پر جمی تھیں
تو لب منعموں کی ثنا میں لگے تھے
اب ان کی ثنا چار سو ہے

ماخذ: 
http://www.aalmiakhbar.com/index.php?mod=article&cat=yadraftagan&article=8012






فراز  کے نام


محمد اویس قرنی

اب اگر تمہارے بارے میں نہ لکھوں تو کس کے بارے میں لکھوں۔ جب بھی تم ہی نے قلم اٹھایا تھا، جب غنیم کے لشکر تمہارے گرد محاصرہ تنگ کیے ہوئے تھے اور جب ہنروروں نے اپنے ہنر کا سودا کیا، تب بھی تم امید لطف میں کجکلاہوں کے درباروں میں جانے کے بجائے اپنے ضمیر کا فیصلہ اپنے قلم کی عدالت میں لے گئے۔ تم نے اس بھوکی مخلوق کی آزادی کے جشن میں ان کے ہاتھوں میں کشکول اور ان کے سینوں پر غیروں کی بندوق دیکھ کر انقلاب کا نعرہ بلند لگایا۔ تم نے اس محصور شہر میں اپنی آواز کو گداگری نہیں سکھائی اور جب ہر چہرہ دو دو ٹکڑوں اور دہرے نقابوں میں تقسیم ہونے لگا اور زندگی کی تصویر جلتے جلتے بالکل کالی ہو گئی تو ایک دن وہ بھی آیا جب تم اس ملک کو چھوڑ کر جلاوطن ہو گئے دیار غیر میں بھی تم بس ایک قلم کی حرمت کو اپنا اثاثہ بنائے رکھا۔
یاد ہے ایک دن جب موسم بدلیوں سے ڈھکا ہو ا تھا میں نے تم سے تمہارے رونے کی بابت پوچھا تھا اور تمہارا جواب تھا۔۔۔
’’میں بہت رویا‘‘
یقیناً جلاوطنی کے ایسے ہی لمحوں میں تمہاری اکیلی راتیں بہت روئی ہوں گی۔ تم نے شاید ایسی ہی ایک اکیلی رات میں کہا تھا۔
روم کا حسن بہت دامن دل کھینچتا ہے
اے مرے شہر پشاور تیری یاد آئی بہت
تم نے دنیا دیکھی تم ملکوں ملکوں گھومے لیکن پلے پڑھے تو اسی شہر کے گود میں تھے۔ یہ رشتے تم کب چھوڑ سکتے تھے لیکن جب تم جسموں کو پنجروں،  روحوں کو زنجیروں اور کلائیوں کو ہتھکڑیوں کے زخموں میں جکڑا ہوا پایا تو تمہاری آواز روح کے نہاں خانوں سے نکلی اور سبھی محکوم اور مظلوم ستم نصیبوں کی آواز بن گئی جن کی آنکھوں کے خوابوں کو بھوک کا عفریت چاٹ چکا تھا تم نے افریقہ کے جلاوطن شاعروں کے ہاتھوں میں ہاتھ دے کر انسانی توقیر کے لیے آواز اُٹھائی۔ تم نے ایمسٹر ڈیم میں اذیتوں کے سائے میں لپٹے تاریک وطن سیاہ فام حریت پسندوں کے ساتھ انسان کی تکریم کے ترانوں کو نیا آہنگ بخشا اور بوڑھے نیلسن کے کاندھے پر اپنی آواز کے ہاتھ رکھ کر انہیں حوصلہ دیا کہ یہی درد کی امانت شاید تمہیں بھی وراثت میں ملی تھی۔۔۔
یہ سچ ہے کہ ہر بھٹکی ہوئی روح کو ایک نہ ایک دن وطن کی مٹی واپس بلا لیتی ہے لیکن یہاں آ کر بھی تم نے آمریت کی مہربانیوں کے دھبوں سے اپنے دامن کو صاف رکھا تم نے اپنے زخموں کی نمائش کا بازار نہیں لگایا اور یہی وجہ تھی کہ تم نے عمر بھی کی کٹھنائیوں اور ناآسودگیوں کا سودا کرنے سے انکار کر دیا اس لیے آج ایک تم ہی ہو جو یقین کے ساتھ کہہ سکتے ہو۔
میں کٹ گروں کہ سلامت رہوں یقیں ہے مجھے
کہ یہ حصار ستم کوئی تو گرائے گا
تمام عمر کی ایذا نصیبیوں کی قسم
میرے قلم کا سفر رائگاں نہ جائے گا




انٹرویو


وقت کی کتاب سے گزرتے ہوئے ہر پنے پر کئی سوالات سے نمٹنا ہوتا ہے ،کئی مقامات پر الجھنا ہوتا ہے،  یہ سوالات بعض اوقات بڑے ہی تلخ ہوتے ہیں ایسا ہی ایک سوال اس وقت میرے من میں ایک الجھاوے کی صورت میں پڑا ہے کہ کیا اکیسویں صدی کا کوئی ضمیر ہے اور اگر کوئی عالمی ضمیر ہے تو آپ اس کو کس زاویہ نظر سے دیکھتے ہیں ؟
احمد فراز :۔ اکیسویں صدی میں بھی وہی کچھ ہو رہا ہے جو پانچویں اور چھٹی صدی میں ہوتا تھا یعنی جس کی لاٹھی اس کی بھینس سو امریکہ اس وقت ہولی سولی دنیا کے ضمیر کا مالک ہے اس کا اختیار ہے جدھر چاہے حالات کا رخ موڑ دے تو ضمیر کہاں ہے ؟ ایسے معاملوں میں ضمیر نہیں ہوتا وِِل ہوتی ہے جس میں یہ دیکھا جاتا ہے کہ مجھے کیا چاہیے اور اس کے لئے مجھے کیا کرنا ہے؟  تو کیا اکیسویں صدی اور کیا بیسویں صدی۔ ہاں البتہ ہم کہہ سکتے ہیں کہ پہلے کچھ ایسے نظام ابھر ے تھے خصوصاً بیسویں صدی کے ابتدائی عشروں میں جس سے زندگی نے بہت کچھ لیا تھا۔ کمیونزم کے نقصانات جو بھی تھے لیکن اس کے ٹوٹنے سے ان قوموں کو بہت نقصان پہنچا جن کے لئے یہی ایک آس تھی اور جب مزدوروں کسانوں پر ظلم ہوتے تو وہ روشنی کے لئے کسی پر اگریسیومومنٹ کی طرف دیکھتے اور اب تو لوگوں کے پاس امید کی آخری شمع بھی نہ رہی اس لئے اس وقت ہر طرف ایک گہری مایوسی پھیل چکی ہے۔
٭ تو کیا اس راکھ میں امید کی کوئی چنگاری نہیں ہے ؟
احمد فراز :۔ انسان ہمیشہ سے امید کا دامن تھام کر آگے بڑھا ہے اور اس وقت بھی ایسا ہی ہے سو ایک امید بھی ہے کہ شاید خود ایسی قوتیں پھر تازہ ہوں جو وقت کا دھارا موڑ دے۔ یہ پتہ نہیں کہ یہ لیبارٹری کہاں سے کام کرنا شروع کر دے یہ لیبارٹری کہیں سے بھی اسٹیبلش ہو کر اپنا کام شروع کرسکتی ہے تو ہوسکتا ہے ایسی کوئی صورت نکل آئے کہ حبس کا دم ہی ٹوٹ جائے۔
٭ مستقبل قریب میں تو ہمیں اس قسم کے کوئی آثار نظر نہیں آرہے ؟
احمد فراز:۔ ہمیشہ یہی ہوتا ہے کہ کچھ عرصے تک تو کچھ بھی نہیں ہوتا۔ لول بی فور سٹروم والی کیفیت ہوتی ہے۔طوفان کس وقت آتا ہے اس کا کچھ پتہ نہیں ہمارے دور میں تو حالات دگرگوں ہی رہے ممکن ہے آنے والی نسلوں کو زمانے کے اوراق پر کچھ نئے نقوش مل سکیں۔
٭ یہ جو ہمارا ذہنی، معاشی اور سیاسی بحران ہے اس کی بنیادی وجہ کیا ہوسکتی ہے ؟
احمد فراز:۔ تقسیم ہند کے بعد دیکھئے تو سرحد کے دونوں جانب ایک اور سفر شروع ہوتا ہے لیکن انڈیا کی لیڈر شپ پھیلی ہوئی تھی۔ وہاں ساری بات صرف ایک شخص پر مرکوز نہیں تھی۔ گاندھی جی قوم کے لئے ایک سیمبل کے روپ میں سامنے آئے، اسی طرح نہرو تھے اور گورنمنٹ میں جو نچلی سطح کے اختیارات تھے ان میں بھی ایسے بہت سارے لوگ تھے جو کام کرنے والے تھے اور جنہوں نے اس مٹی کے لئے قربانیاں دیں ہمارے ہاں تو پہلے دن سے ہی جاگیرداروں اور نوابوں کے نخرے شروع ہو گئے نواب زادہ لیاقت علی خان سے شروع کیجئے اور آج تک اندازہ لگاتے جایئے کہ اس ملک میں کیا کچھ نہیں ہوا۔ دوسری بات یہ کہ یہاں کسی سسٹم کو منظور نہیں ہونے دیا گیا ،انٹروڈیوس ہی نہیں کیا گیا یہاں کانسٹی ٹیوشن بہت بعد میں آیا اور پھر اس کانسٹی ٹیوشن کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ بھی آپ کے سامنے ہے۔
ابھی تک یہاں زمینداری ختم نہیں ہوئی تو یہ تمام چیزیں اور یہ تمام بیماریاں سٹیٹ کے تشخص کو ختم کر دیتی ہیں دوسرے یہ کہ اگر کانسٹی ٹیوشن بنا بھی ہے تو اس پر عمل کس نے کیا تو وہی بات ہے کہ جس کے پاس طاقت ہے وہی سب کچھ ہے اور یہاں سب سے بڑی بد قسمتی یہ رہی کہ چالیس پینتالیس سال ہو گئے۔ فوج مفت میں اقتدار کے مزے لوٹ رہی ہے۔ ٹیکس آپ دیتے ہیں میں دیتا ہوں پیسہ ہم سے لے کر بندوق خریدتے جاتے ہیں تو پ اور جہاز لئے جاتے ہیں آگے جا کر دشمن کے سا منے تو ہتھیار ڈال دیتے ہیں لیکن ہمارے جیسے لوگوں (فرنٹیئر، بلوچستان اور ملحقہ علاقوں ) کو بمباری کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔
اس وقت جو تھوڑی بہت امید پیدا ہوئی ہے وہ یہ کہ وکیل سرجوڑ کر بیٹھنے کے بعد ایک تحریک کی صورت میں اٹھے ہیں اور اب یہ ایک ہمہ گیر تحریک بن رہی ہے خدا کرے کہ موسم اور دوسری چیزیں راستے میں حائل نہ ہوں تو یقیناً یہ سلسلہ آگے جا کر رنگ لا سکتا ہے۔
٭ اب کچھ بھی ہو جائے عدلیہ پر تو ضرب لگی ہے نا ؟
احمد فراز:۔موجودہ دور کی بنیاد توڑ پھوڑ پر ہے اور عدلیہ کے تو دونوں ستون ان لوگوں نے بالکل کرا دیئے تھے یعنی مقننہ اور انتظامیہ تو ان کی جیب میں تھیں۔ اب یہ جو حال ہی میں کبھی کبھی عدلیہ میں کوئی آواز اٹھتی تھی تو اقتدار کے ایوانوں میں خوف کے سائے پھیل جاتے اور پھر یہ سوچا گیا کہ مستقبل میں عدلیہ کی طرف سے ایسے فیصلے ضرور آسکتے ہیں جو حکومت کو ناگوار گزریں یوں انہوں نے جج ہی کو تختہ مشق بنانے کا فیصلہ کیا تاکہ
’’وہ شاخ ہی نہ رہے جس پہ آشیانہ ہے‘‘
ایک اور بدقسمتی یہ کہ ہمارے ہاں تو لوگ قطار اور انتظار میں کھڑے رہتے ہیں ایک شخص کو اصولوں کی پاسداری کے جرم میں ہٹا دیا جاتا ہے وہ بے چارا جان دیتا ہے اور دوسرا سلوٹ کر کے اس کی جگہ لیتے ہوئے کھڑا ہو جاتا ہے۔ دیکھئے کسی قوم کا کردار صرف اسی قوت بنتا ہے جس میں ہر شخص نہ سہی لیکن کچھ لوگ تو ایسے نکلیں جن کا ضمیر زندہ ہو جو حاکم وقت کے بے جا احکامات کے جواب میں یہ کہنے کی جرات کرسکتا ہو کہ دس از ناٹ یور جاب جو یہ بھی جانتا ہو کہ آج میرے ساتھی کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے کل میرے ساتھ بھی یہی کچھ ہوسکتا ہے لیکن اس کے برعکس یہاں سوچا جاتا ہے کہ کس طرح جمپ کر کے آگے آ جائیں۔
٭ کیا وجہ ہے کہ کئی عشروں سے صرف اسی خطہ یعنی قبائل اور بلوچستان کے ساتھ یہاں کے لوگوں کو بھی ٹارگٹ بنایا گیا ہے ؟
احمد فراز :۔ یہ ایک افسوسناک امر ہے جس کا جتنا بھی ماتم کیا جائے کم ہے امریکہ (جو کہتا ہے کہ ہم بھیڑ بکریوں کی طرح انسان بھی خریدتے ہیں ) سے سب زیادہ پیسے فوجیوں نے لئے۔ ہمارے پیسوں سے ہتھیار لئے جاتے ہیں جن کو بعد میں اپنے ہی لوگوں پر آزمایا جاتا ہے اپنا سرمایہ باہر کراتے ہیں جبکہ ہم لوگ تو ہیں ہی گئے گزرے۔ بھیڑ بکریوں کی طرح جہاں کسی نے چاہا بیچ دیا جہاں چاہا مار دیا جہاں چاہا کسی کے حوالے کر دیا۔آپ نے اگر ملا ضعیف کی کتاب پڑھی جو طالبان کے سفیر تھے اور جس کو پاکستان نے پکڑ کر امریکہ کے حوالے کر دیا۔ ان کی کتاب پڑھئے تو رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں اس کتاب میں وہ ایک جگہ لکھتے ہیں کہ مجھے اس کا دکھ نہیں کہ امریکہ نے میرے ساتھ کیا سلوک کیا گھاؤ تو اپنے لوگوں نے لگائے ہیں اور خصوصاً ان پاکستانی فوجیوں نے جو تماشبین بنے تھے تو اب بھی یہی صورتحال ہے پہلے لغاری ایمل کانسی کو ان کے حوالے کر رہا تھا تو اب مشرف کے دور میں کتنے لوگ کیسے کیسے طریقوں سے غائب کر دیئے گئے اس کے اختیار میں نہیں تھا ورنہ یہ تو اسامہ اور ملا عمر کو بھی امریکہ کو دے کر مال کھرا کر لیتے کہنے کا مقصد یہ ہے کہ انسانوں کے سروں کی قیمتیں لگانے کا کاروبار آج پہلے سے بھی بڑھ کر ہو رہا ہے۔
٭ ماضی میں دیکھا جائے تو یہاں جس دور میں مارشل لا ءجرنیلی بندوبست نہیں تھا اس میں بھی آرمڈ فورسز کا اثر جمہوری اداروں پر مسلط رہا۔
احمد فراز :۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ
لرزے ہے موج مے تیری رفتار دیکھ کر
شروع میں جب آپ کسی چیز کو ہلا دیں تو وہ کچھ وقت تک ہلتی رہتی ہے ۔اس کا یہ مومینٹم تھوڑا بہت ضرور رہتا ہے ۔اسی طرح فوج ابتدا ء ہی سے ہمارے اداروں میں اس طرح گھس چکی ہے کہ لوگ ادارے اور وزرائے اعظم تک ان سے ڈرنے لگے کہ پتہ نہیں اندر سے کس وقت کیا ہوتا ہے اور لوگوں کا یہ خوف بجا بھی ہے جب تک اس ملک کی فضاء صاف نہیں ہوگی اور فوج اقتدار چھوڑ کر اپنے اصل مقام کو نہیں پہچانے گی اس وقت تک معاملات ابتر ہوتے جائیں گے اور میرے خیال میں یہ ملک اس حالت میں بھی نہیں رہے گا جیسا کہ اب ہے بلکہ اس کی شکست و ریخت کا پیمانہ وسیع تر ہوتا چلا جائے گا۔بلوچستان اور صوبہ سرحد کے ان وزیری لوگوں نے اس ملک کی بقاء کے لئے لڑائیاں لڑی ہیں۔ میں 1949ء میں کشمیر میں تھا میں نے سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھا آج اگر پاکستان آزاد کشمیر کا نام لے رہا ہے تو یہ انہی قبائل کی مرہون منت ہے میں نے مشاہدہ کیا کہ ہمارا اپرہیڈ قبائل کے بندوق کی وجہ سے تھا اور پھر جب فوج نے یہ اختیارات اپنے ہاتھ میں لئے تو پھر پیچھے ہی ہٹتے گئے اور بالآخر سیز فائر پر بات ختم کر دی۔
٭ اور اب انہی لوگوں کو اس خطے سے متنفر کیا جا رہا ہے ؟
احمد فراز:۔ یہی باجوڑ کے لوگ تھے جنہوں نے قوم کی عزت اور ناموس کے لئے بندوق اٹھائی تھی اور آج ان کے بچوں کو ہوائی جہازوں سے نشانہ بنا کر آگ اور دھوئیں میں جھونکا جا رہا ہے ادھر بلوچستان میں بگٹی پہلا آدمی تھا جو وہاں سے وطن کا پہلا سپاہی بنا تھا اور اس بگٹی کا حشر بھی لوگوں نے دیکھ لیا تو بے حسی کی ایک ایسی ہوا چل پڑی ہے کہ کسی کو یہ احساس ہی نہیں کہ یہ سب کیا ہو رہا ہے ؟ ان حالات کو دیکھتے ہوئے مجھے مستقبل بہت تاریک نظر آ رہا ہے۔
٭ بگٹی صاحب کے انتقال پر آپ نے وہاں کی انتظامیہ کے حوالے سے جو اشعار لکھے تھے کیا وہ ہمارے ساتھ شیئر کریں گے ؟
اے چوبدار میر سپاہ ستم گراں
صد حیف خون یوسف کنعاں فروختی
فرزند خانوادہ نشتر بدی ولے
پندار خویش و دین بزرگاں فروختی
تف بر تواے حریف قباو کلائے زر
خود رافروختی وچہ ارزاں فروختی
٭ سائنس کا شعبہ ہو، ادب کا یا پریس اور میڈیا کا اس وقت تقریباً تمام بڑی شخصیتیں اور بڑے ادارے معتوب و محبوس ہیں۔ کیا آپ کسی ادارے کو آزاد پاتے ہیں ؟
احمد فراز:۔ دراصل 71ء کے حالات کو بہت جلدی بھلا دیا گیا۔ جس قسم کے حالات ہیں ان میں یہ لاوا پھوٹے گا اور پھوٹ رہا ہے جرنیلوں کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے ملک خانہ جنگی کی طرف جا رہا ہے اور جنگ تو ہوگی لیکن عوا اور فو ج کے درمیان۔عالمی منڈی میں طریقہ کار یہ ہوتا ہے کہ دو ایک جرنیلوں کو خریدار جاتا ہے تاکہ ڈھائی تین سو لوگوں پر مشتمل پارلیمنٹ کو ان کے ذریعے خریدا جاسکے۔
٭ تو کیا لوگ اسی طرح ظلم سہتے رہیں گے ؟
احمد فراز:۔ جب تک کوئی بڑی تحریک نہیں چلے گی اسی طرح ہوتا رہے گا تحریک سے مراد محض مومنٹ نہیں تحریک وہ ہے جس میں مستقل طور پر اپنی دھرتی سے ہمدردی اور محبت کا حوالہ موجود رہتا ہو۔ پہلے زمانے میں تو پیغمبر رہنمائی کیلئے آیا کرتے تھے پھر دیگر مصلحین آئے اس کے بعد مختلف صدیوں میں حالات نے انقلابی شخصیات کو جنما۔ ان قافلوں میں شعراء بھی شامل رہے اور دانشور طبقہ بھی بیسویں صدی کی سیاست میں ذرا ماؤزے تنگ کے کردار کو دیکھئے 1947ءمیں تقسیم ہند کا عمل ہوتا ہے یہاں لوگ آزادی کی خوشیوں میں مگن ہیں اور ماوزے تنگ شنگھائی میں لڑائی لڑ رہے ہیں۔لیکن دیکھئے آج چائنہ کس مقام پر کھڑا ہے۔
٭ مذاہب عالم کو دیکھتے ہوئے اگر میں آپ سے مذہب کے حوالے سے کوئی سوال پوچھوں تو ؟
احمد فراز :۔ انسان کی زندگی میں مذہب کا بہت بڑا رول ہے غور سے دیکھئے تو اکثر مذاہب کے بنیادی اصولوں میں بہت ساری باتیں مشترک نکلیں گی مثلاً کون سامذہب کہتا ہے کہ جھوٹ اچھی چیز ہے دنیا کے سارے مذاہب سچائی کی تلقین کرتے ہیں دیانتداری کی بات کرتے ہیں آپ خدا کو مانتے ہیں ٹھیک ہے اس سے اچھی بات اور کیا ہوسکتی ہے کیونکہ اب تو آپ کو سمجھدار ہونا چاہیے یہ نہ ہو کہ خدا کا نام لے کر دھوکہ دہی سے کام لیا جائے لیکن دیکھا جائے تو دنیا میں کسی بھی ملک میں ہمارے لوگ جاتے ہیں تو فراڈ،  اور قانون شکنی میں پکڑے جاتے ہیں یہ اس لئے کہ ہم نے کیر یکٹر کی تعمیر نہیں کی صرف دو چار کالجز یا یونیورسٹیوں کے بنانے سے قومیں نہیں بنتیں اس کے لئے سسٹم ہوتا ہے جیسے گھر ایک تربیت گاہ ہے اسی طرح ملک بھی ایک ماں کی گود جیسا ہوتا ہے جہاں سے آدمی سیکھنا شروع کرتا ہے۔
٭ تقسیم ہند کے وقت بہت سارے لکھنے والوں کی ایسی تحریریں سامنے آئیں جیسے وہ اس عمل سے خوش نہیں تھے جیسے فیض صاحب، انتظار حسین، ناصر کاظمی،  سعادت حسن منٹو وغیرہ آپ کو ایسا لگتا ہے ؟
احمد فراز :۔ ان کی بات اپنی جگہ درست ہے کیونکہ ان لوگوں نے اس پورے سانحے کو اپنی آنکھوں سے دیکھا لیکن جو لوگ یہاں تھے مثلاً میں پٹھان ہوں اس علاقے کا ہوں اور میں کہتا ہوں کہ میرا علاقہ تو نہیں بانٹا گیا تو ہم کس طرح کہہ سکتے ہیں اس پوری صورتحال کے بارے میں لیکن ہم دوسروں کو الزام ضرور دیتے ہیں ہم جو اپنی اچھائی اور برائی پر کبھی نہیں سوچتے تو باہر والوں پر الزام کیوں دھریں ایک تو یہ کہ خدارا دوسروں کو الزام نہ دو۔اپنے آپ کو بلیم کریں۔طاقتور دوسرا نہیں ہوتا آپ کمزور ہوتے ہیں اگر آپ کا کردار اونچا ہے تو خاموشی سے اپنے کردار کو آگے لے جائیں میں نے پہلے بھی بتایا کہ چائنہ نے آزادی کے بعد خاموشی کے ساتھ اپنا سفر جاری رکھا نہ کسی ملک سے لڑائی کی خواہش ظاہر کی اور نہ کہیں فوج بھیجنے کے جنون میں مبتلا ہوئے وہ اپنا کام اور اپنے مقاصد کا حصول کرتا رہا لیکن ہم نے کیا کیا یہ جو کمزور آدمی ہوتا ہے یہ بڑھکیں بہت مارتا ہے اور یہی حال ہمارا بھی ہے نتیجہ آج سب کے سامنے ہے پاکستان جیتے گا اور ٹیم ہار رہی ہوتی ہے پاکستان جیتے گا اور ہار کے کاغذوں پر سائن ہو رہے ہیں تو یہ بڑھکیں چھوڑ دیں اس سے کچھ نہیں بنے گا خاموشی سے بیٹھ کر ہم کوئی تعمیری کام کیوں نہ کریں یہ وژن ہونا چاہیے کہ 2020 ء تک مجھے کیا کرنا ہے اور کیا بننا ہے اور 2020 اور پچیس کے درمیان کون سے نئے راستوں کا سفر اختیار کرنا ہے یہ ہوگا تو بات بنے گی ؟
٭ جس وقت ایک خاص قسم کی مزاحمتی شاعری ہو رہی تھی اس دور میں بہت سے لوگ جیلوں میں ڈالے گئے اور کچھ لوگوں پر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
احمد فراز :۔ کچھ لوگ جلا وطن ہو گئے، جیلوں میں ڈالے گئے کسی نے کوڑے کھائے۔ وہ بھی آمریت ہی کا دور تھا تو جب ہمیں کراچی سے آرڈر ملا کہ سندھ بدر کر دیئے گئے ہیں تو میں ہوٹل میں تھا پولیس نے آ کے آرڈر دیا اور صبح مجھے ساتھ بٹھا یا تو میں اس وقت سوچ رہا تھا کہ جب اپنے ملک میں ایک کمرے سے دوسرے کمر ے تک جانے پر پابندی ہو جائے وہاں کل کو کچھ بھی ہوسکتا ہے تو وہ وقت تھا جب میں نے سوچا کہ اس ملک کو چھوڑ دوں اور میری طرح اور بھی بہت سے دکھی لوگ تھے ایسے بہت سے غریب الوطن لوگ ہوں گے جنہوں نے ان حالات میں ایسا ہی سوچا ہوگا آپ نے مزاحمتی شاعری کی بات چھیڑی تو اب وہ مزاحمتی شاعری بھی نہ رہی اور یہ تو ہم دوچار پاگل لوگ تھے جنہوں نے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چلئے یہ ایک لمبا قصہ ہے۔
٭ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ لفظ ان محسوسات کو پورے طور پر ادا کرنے پر قادر ہوتا ہے جو ہمارے من میں ہوتے ہیں یا ان کیفیات کو گرفت میں نہیں لایا جاسکتاجن کی وجہ سے ہم بار بار تشبیہات،  استعارات، اسلوبیات اور ڈکشن کے جال بچھاتے ہیں۔
احمد فراز :۔ہر لفظ کے مختلف شیڈز ہوتے ہیں اور ہر زمانے میں وہ اپنے کنٹکسٹ بدلتے رہتے ہیں مقتل، قاتل اور بسمل وہی لفظ ہیں لیکن غالب کے ہاں ان کے معنی کچھ اور ہو جاتے ہیں اور فیض ان کو الگ رنگوں میں باندھ رہے ہیں۔ یہ تمام چیزیں حالات کے زیر اثر ہوتی ہیں اور بڑا شاعر وہی ہے جو حالات کے مطابق الفاظ میں نئے معنی پیدا کرتا ہے اور وہی اس کے تلازمات بن جاتے ہیں وہی اس کی تشبیہ اور استعارات بن جاتے ہیں۔ پھر یہ کہ شاعری میں جو تجربے ہوتے ہیں وہ بری چیز نہیں ہے لیکن میں سمجھتا ہوں کہ ان تجربوں سے زیادہ اپنے مقصد پر نظر رکھنی چاہیے۔
’’آنکھ طائر کی نشیمن پر رہے پرواز میں ‘‘
سعادت حسن منٹو نے ایک طرح لکھا تو کرشن چندر نے ایک اور انداز اپنایا لیکن دونوں نے بنیادی طو ر پر معاشرتی برائیوں پر قلم اٹھایا تھا۔ بہر حال ہر شخص کا اپنا نظریہ ہوتا ہے اپنا سٹائل ہوتا ہے اپنی سوچ اور اپنا تجربہ، اپنی کٹمنٹ اور قابلیت ہوتی ہے اور تمام چیزیں اس کی فکر کے مرکزی نکتے کی تشکیل میں مدد فراہم کرتے ہیں۔
٭ آپ نے لفظوں، تراکیب یا موضوعات کے باب میں غالب کی جدت پسندی کا حوالہ دیا جن کو بعد میں آنے والے آگے لے گئے یہ بحث بڑی دلچسپ ہے کیونکہ غالب کے ہاں ہمیں بہت ساری ایسی چیزیں مل جاتی ہیں جو بعد میں دوسروں کے ہاں پھیلی ہوئی شکل میں نظر آتی ہے جیسے فیض صاحب نے لکھا، اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا، مجھ سے پہلی سی محبت مرے محبوب نہ مانگ ،لیکن ترقی پسند تحریک سے بہت پہلے انیسویں صدی میں غالب غزل کے ایک شعر میں مکمل طور پر ایک باغی کے روپ میں نظر آتے ہیں۔
تیری وفا سے کیا ہو تلافی کہ دہر میں
تیرے سوا بھی ہم یہ بہت سے ستم ہوئے
اور یا پھر
کب تک خیال طرہ لیلیٰ کرے کوئی
احمد فراز :۔آپ کی بات درست ہے غالب تو وہ شاعر ہے جنہیں صدیاں تلاش کرتی ہیں وہ کل بھی غالب تھا اور آج بھی غالب ہے بعض لو گ اپنے علاقوں میں اپنی زندگی ہی میں مر جاتے ہیں سانس چلتی رہتی ہے لیکن کوئی ان کو پوچھتا تک نہیں اور یہ لوگ ختم ہو جاتے ہیں یہ جو بڑا شاعر ہوتا ہے اس کا فیصلہ وقت کرتا ہے کیونکہ ٹائم از دی ٹیسٹ آف کریٹویٹی تو غالب کی کریٹویٹی اتنی زیادہ تھی کہ انہیں اندازہ تھا اور ان کا ماننا تھا کہ میرا چمن تو ابھی بنا ہی نہیں ابھی پتہ نہیں کتنا آگے چل کر ہم غالب کو صحیح معنوں میں دریافت کریں گے۔
٭ کیا اقبال بھی ان سے انسپائریشن لے رہا ہے ؟
احمد فراز :۔ اقبال بھی بہت بڑا شاعر ہے ان میں پویٹک سنسبلٹی بہت زیادہ تھی۔ یہ الگ بات ہے کہ انہوں نے ماضی کو زیادہ لیا اور غالب نے مستقبل کو لیکن اقبال ماضی کے ساتھ ایک صحت مند تعلق رکھتا ہے اور اس دور کے حالات کو دیکھتے ہوئے اس نے ماضی کی عظمت کو یاد کر کے ٹھیک ہی کیا۔
٭ غالب نے کہا تھا
لازم نہیں کہ خضر کی ہم پیروی کریں
مانا کہ ایک بزرگ ہمیں ہمسفر ملے
اقبال نے بعد میں آ کر کہا
رستہ بھی ڈھونڈ خضر کا سودا بھی چھوڑ دے
غالب کا خیال تھا کہ
دیر نہیں، حرم نہیں، در نہیں آستاں نہیں
بیٹھے ہیں رہگزر پہ ہم کوئی ہمیں اٹھائے کیوں
اقبال کہتے ہیں
تنگ آ کے میں نے آخر دیر و حرم کو چھوڑا
واعظ کا وعظ چھوڑا، چھوڑے تیرے افسانے
احمد فراز :۔ہوتا یہی ہے کہ شعرا ءکا قبیلہ دراصل ایک ہی فیزسے تعلق رکھتا ہے غالب اقبال کے فیز میں بھی آیا اور اقبال غالب کے ہاں۔ یہ کیفیتیں آتی رہتی ہیں۔ اپنی اپنی وژن اور طاقت ہوتی ہے اس میں شک نہیں کہ غالب کو ہر ایک نے تسلیم کیا لیکن عبدالقادر بیدل کو دیکھئے تو وہ سب سے بڑا شاعر نظر آئے گا بس یہ کہ وہ اپنی خالص شاعری کے استعاروں میں گم رہا۔ پٹنہ میں ایک نشست کے دوران میں نے بیدل کے حوالے سے کہا تھا کہ ہماری سو کالڈ آزادی پر بہت سارے شاعروں نے نظمیں لکھیں فیض صاحب، قاسمی صاحب،  اختر الایمان اور دوسرے شعراءاورسبھی کا مقصد تھا کہ جس صبح کی ہمیں تلاش تھی وہ ابھی نہیں آئی بیدل کہتا ہے
شب رفت، سحرنہ شد، شب آمد
اب اردو کی وہ ساری نظمیں ترازو کے ایک پلڑے میں رکھیں اور دوسری طرف یہ ایک لائن رکھ دیں چونکہ فارسی کا اب وہ چلن نہیں رہا اس لئے بیدل کی وہ توقیر نہیں ہوئی جس کے وہ مستحق تھے۔
٭ ایک دور طالبعلمی کا بھی ہوتا ہے آپ نے جامعہ پشاور کے شعبہ اردو میں بھی زندگی کے کچھ لمحے گزارے اس دور میں کچھ اپنے بارے میں سوچا تھا کہ آگے جا کر کیا کرنا ہے ؟
احمد فراز :۔ ایک سٹوڈنٹ کی حیثیت سے کہوں تو شروع ہی سے ہم باغی تھے کبھی کبھی استادوں سے بھی لڑ پڑتے تھے وہ کہتے تھے یہ سبق یوں ہے ہم کہتے یوں نہیں یوں ہے تو کلاس سے نکال دیئے جاتے تھے۔ میرے کسی کلاس فیلو سے پوچھئے تو وہ آپ کو بتائے گا کہ زمانہ طالب علمی میں کیا کیا تماشے ہوئے لیکن میں خوش ہوں کہ میں نے شعبہ اردو میں پڑھا۔ ایک باغ میں مختلف پھول ہوتے ہیں شاخیں ہوتی ہیں وہی ہوا آتی ہے وہی پانی ہے لیکن ہر پھول اپنے رنگ رکھتا ہے اور کبھی کبھی صحراؤں میں بھی آپ کو گل لالہ نظر آ جاتا ہے۔
کم سو چا لیکن کچھ تو کیا کم پڑھا مگر کچھ تو پڑھا اگر افسوس ہے تو یہ کہ زندگی کو ہم نے ضائع بھی بہت کیا اس کی بجائے اگر پڑھتے تو۔۔۔۔۔ لیکن لگتا ہے اگر پڑھتے تو ممکن ہے اور زیادہ خراب ہو جاتے۔
میرا خیال تھا کہ پائلٹ بنوں گا ا اور جہاز اڑاؤں گا۔
٭ ایک شاعر کے تخیل کی کرشمہ سازیاں اڑن کھٹولوں سے آگے ہوتی ہے تخیل کے آسمانوں پر کمندیں ڈالتے ہوئے بھی آپ نے زمین زادوں سے رشتہ جوڑے رکھا یہی آپ کی رفعت ہے اور اسی نے آپ کو سرفرازی عطا کی۔ ایک آخری سوال اسے دل پشوری ہی سمجھ لیجئے۔
’’مجھ سے پہلے اس گلی میں میرے افسانے گئے‘‘ ’’کتنی حقیقت کتنا فسانہ ‘‘ اگر افسانہ ہے تو یہ افسانہ کب تک رہے ؟
احمد فراز :۔ یار میں نے تو کچھ نہیں کہا اگر افسانہ ہے تو بننے دو افسانے کو یہ شگفتہ افسانے تو ہر دور میں بنتے رہتے ہیں۔
گویا خلقت شہر تو
احمد فراز :۔ کہنے کو فسانے مانگے۔۔
٭٭٭ 
 (لنک: http://aahng.wordpress.com/2009/09/03/345/)






احمد فرازؔ ۔  مشاہیر کی نظر میں


فراز سے بہت سے لوگ دراصل اس لئے خفا ہیں جن میں میں بھی شامل رہا کہ یہ آتش فشاں کیوں ہے ایش ٹرے کیوں نہیں۔ موم بتی کیوں نہیں۔ اس کے بعض نظریات سے نظریاتی بنیادوں پر اختلاف بھی ہو تو کم از کم اس بات کا اعتراف کرنا پڑے گا کہ وہ اپنے مقام پر بڑی استقامت کیساتھ کھڑا رہا اور بولنے کے وقت خاموش نہیں رہا۔ ایسے لوگوں کو اختلافات کے باوجود۔۔۔۔۔۔ احترام کا خراج دینا پڑتا ہے۔
سید ضمیر جعفری
٭٭٭

احمد فراز کی شاعری اُردو میں ایک نئی اور انفرادی آواز کی حیثیت رکھتی ہے۔  ان کے وجدان کی اور جمالیاتی شعور کی ایک خاص شخصیت ہے جو نہایت دل کش خدوخال سے مزین ہے۔  ان کے سوچنے کا انداز نہایت حساس اور پُر خلوص ہے۔  ان کی شاعری کو صرف کلاسیکی یا صرف رومانی شاعری نہیں کہا جاسکتا ہے بلکہ دور حاضر کو لطیف ذہنی رد عمل کاسچا نمونہ کہا جاسکتا ہے۔  وہ صداقت کے نئے مقامات سے اپنی باتیں کہتے ہیں اور یہ باتیں دعوتِ فکر دیتی ہوئی حد درجہ دلکش و دل نشیں ہیں۔ ان کا کلام اُردو شاعری کے نئے موڑ کے کئی نازک زاویوں کی لچک اور تھرتھراہٹیں اپنے اندر رکھتا ہے اور خیال کی ترتیب و تہذیب کا سامان بھی ان میں موجود ہے۔ 
فراقؔ گورکھپوری 
٭٭٭

فراز ؔ کے کلام میں خیال اور جذبے کا قالب اور شعر اور لباس الگ الگ دکھائی نہیں دیتے۔  آپس میں پیوست ہیں۔  شاعر کو یہ بات تب نصیب ہوتی ہے جب اس کا جذبہ اور اس کا فن دونوں یکساں پر خلوص اور سچے ہوں۔  یہ خلوص،  گداز اور سچائی احمد فرازؔ کے کلام کی امتیازی خصوصیات ہیں۔  اسی خلو ص کی وجہ سے یہ حدیث دل کے علاوہ زندگی کے وسیع تر حقانیت کا بیان بھی ویسی ہی خوبی اور لگن سے کرتے ہیں۔  بیک وقت غم جاناں اور غم دوراں کی وسیع دنیا سے آگہی اور اس کی موثر تفسیر مشکل کام ہے۔  احمد فرازؔ اس کام میں بہت حد تک کامیاب ہیں۔ 

فیض صاحب،  احمد فراز کے پہلے مجموعۂ کلام"تنہا تنہا" کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کچھ اس طرح کرتے ہیں:
احمد فراز کا پہلا مجموعہ کلام "تنہا تنہا" شاعری ہے، شعر کی تلاش نہیں ہے۔ ان کے کلام میں خیال اور جذبے کا قالب اور شعر اور لباس الگ الگ دکھائی نہیں دیتے۔ آپس میں پیوست ہیں۔ شاعر کو یہ بات تب نصیب ہوتی ہے، جب اس کا جذبہ اور اس کا فن دونوں یکساں، پُر خلوص اور سچے ہیں۔ یہی خلوص، گداز اور سچائی احمد فراز کے کلام کی امتیازی خصوصیات ہیں۔  اسی خلوص کی وجہ سے یہ حدیثِ دل کے علاوہ زندگی کی وسیع تر حقائق کا بیان بھی ویسی ہی خوبی اور لگن سے کرتے ہیں۔ بیک وقت غمِ جاناں اور غمِ دوراں کی وسیع دنیاؤں سے آگہی اور اس کی موثر تفسیر مشکل کام ہے۔ احمد فراز اس کام میں بہت حد تک کامیاب ہیں۔
فیض احمد فیض
٭٭٭

فرازؔ اپنے وطن کے مظلوموں کے ساتھ ہیں انہی کی طرح تڑپتے ہیں مگر روتے نہیں بلکہ ان زنجیروں کو توڑتے،  ٹکڑے ہوئے ہیں۔  ان کا شعر نہ صرف یہ کہ اعلیٰ ادبی معیار کا ہے بلکہ ایک شعلہ ہے جو دل سے زبان تک لپکتا ہوا معلوم ہے۔  یہ آئے فیض اور ن۔  م راشد کے بعد مگر اساتذۂ سخن میں شمار ہوتے ہیں۔  ایک اچھا شاعر اپنے بعد آنے والوں کو راہ دکھاتا اور متاثر کرتا ہے۔  فرازؔ کا شمار اب ان میں ہے۔ 
مجروح سلطان پوری
٭٭٭

احمد فرازؔ پاکستان کے ا ن معدودے چند فن کاروں میں سے ایک ہیں جو اُردو شاعری کے مستقبل کے امین ہیں اور جن کے بارے میں نہایت اعتماد کے ساتھ کہا جاسکتا ہے کہ ان کا فن مسلسل ارتقا ء پذیر رہے گا اور وہ اردو شاعری کی فنی روایات کو نہ صرف آگے بڑھائیں گے بلکہ ان روایات میں خوبصورت اضافے بھی کریں گے۔  خاص طور سے احمد فرازؔ کے سلسلے میں یہ دعویٰ اس لئے کیا جا سکتا ہے کہ اُنھوں نے قدیم و جدید کے نہایت حسین و دلآویز مرکب پر کامیاب تجربہ کئے ہیں۔  ان کے کلام کا یہی وہ رخ ہے جس کی وجہ سے اُنھوں نے اُردو شعراء کی صف اول میں جگہ حاصل کر لی ہے۔ 
احمد ندیم قاسمی
٭٭٭

احمد فرازؔ اُردو کے ان جواں فکر شاعروں میں سے ہیں جنھوں نے غنائیہ شاعروں کی گرتی ہوئی دیوار کو قدیم روایات اور جدید تقاضوں کے دلکش رنگ اور آہنگ سے قابل قدر سہارا دیا ہے۔  فرازؔ کی عشقیہ شاعری میں قرب محبوب سے زیادہ ہنگام جدائی کے مرقعے ملتے ہیں اور یہ بات فرازؔ تک ہی محدود نہیں اُردو غزل کا بیشتر سرمایہ فراق کی طویل گھڑیاں گننے اور ہجر کی صعوبتوں کو برداشت کرنے کے مراحل سے بھرا ہوا ہے۔ فرازؔ کو بھی دنیائے محبت کی اس بے آب و گیاہ اور بے رنگ و نور وادی سے حسب معمول گزرنا پڑا ہے۔  لیکن اس کے ذہن نے جس طرح اس کے اثرات کو قبول کیا اس میں مریضانہ فریاد کی جگہ درد مندانہ رد عمل ملتا ہے اور وہ اس تنگ و تاریک گوشے میں بھی زندگی کی جھلک دکھاتا ہے۔ 
قیوم نظرؔ
٭٭٭

احمد فرازؔ کا خاکہ لکھتے ہوئے ڈرتا ہوں کہ کہیں کوئی گڑبڑ نہ ہو جائے دراصل بعض شخصیتیں ایسی ہوتی ہیں کہ ان کے معاملے میں کتنی ہی احتیاط کیوں نہ برتی جائے، کہیں کچھ گڑ بڑ ضرور ہو جاتی ہے،  کہ اگر گڑ بڑ نہ ہو تو ان کے شایانِ شان خاکہ لکھا ہی نہیں جاسکتا۔  فرازؔ کی شخصیت بھی کچھ ایسی ہی ہے۔  اس بھلے آدمی کی زندگی کی ورق گردانی کیجئے تو قدم قدم پر خطرے کا نشان نظر آئے گا،  ہوش مندی سے اس نے کبھی کوئی کام کیا ہی نہیں اور سچ تو یہ ہے کہ اگر وہ دوسروں کی طرح زیادہ ہوش مند ہوتا تو اتنا بڑا شاعر نہ بن سکتا !
فارغ بخاری 
٭٭٭

فرازؔ کی شاعری غم دوراں اور غم جاناں کا ایک حسین سنگم ہے۔  ان کی غزلیں اس تمام کر ب و الم کی غمازی کرتی ہیں جس سے ایک حساس اور رومانٹک شاعر کو دو چار ہونا پڑتا ہے۔  ان کی نظمیں غم دوراں کی بھر پور تر جمانی کرتی ہیں اور ان کی کہی ہوئی بات ’’ جو سنتا ہے اسی کی داستان معلوم ہوتی ہے ‘‘۔
کنور مہندرسنگھ بیدی سحر ؔ
٭٭٭

احمد فرازؔ کی آگہی اور ذہانت اپنے عہد کے نت نئے تقاضوں سے پوری طرح باخبر رہی ہے۔  انھوں نے ظلم و جبر اور استحصال کی سفاک طاقتوں کے مقابلے میں اپنے وطن کے اور ساری دنیا کے دبے کچلے انسانوں کی طرف داری کا عہد کیا ہے اور اس ستم کیش کوچہ میں مجاہدانہ بانکپن سے آگے بڑھتے ہوئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کیا۔
قلم کی ناموس اور انسان کی حرمت کا تحفظ ہی احمد فرازؔ کی شاعری کا دستور العمل رہا ہے لیکن اپنے شعری لہجہ کے امتیازات کو پانے کے لیے انھیں بڑی ریاضت کرنا پڑی ہے۔ غزل ہو یا نظم شعری پیکروں کی نرمی اور سبک روی ان کے یہاں تازگی اور تاثر کی ایک نئی فضاء پیدا کرتی ہے۔  
ڈاکٹر قمر رئیس 
٭٭٭

فراز کے حب الوطنی کے ایک مظاہرے پر مجھے محسوس ہوا کہ وہ تو مجھ سے بھی زیادہ محب الوطن ہے۔ یہ نومبر 1993 کی بات ہے ہم لوگ اسلام آباد کے ایک ادبی اجتماع میں کشمیر کے مسئلہ ہر ایک قرارداد کی حمایت میں اہل قلم کے دستخط حاصل کر رہے تھے۔ قرارداد میں مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی مذمت کرتے ہوئے ہندوستان سے مجلس اقوام متحدہ کی قرارداد کے مطابق اس مسئلے کے تصفیے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
فراز کے بارے میں بعض دوست متذبذب تھے۔ میں کاغذ لے کر فراز کے پاس گیا تو اس نے مجھے کھا جانے والی نظروں سے دیکھا۔ تقریباً چنگھاڑتے ہوئے بولا۔۔۔ 
"یہ کیا لکھ لائے ہو بابا۔  قراردادوں سے کچھ نہیں ‌ہوگا،  میں دستخط نہیں کرتا"
میں سمجھا وہی ہوا جس کا اندیشہ تھا مگر پھر جب یہ کہتے ہوئے سنا
"یہ قرارداد بڑی بے جان ہے۔ لہجہ معذرت خواہانہ ہے۔ ہمیں‌ کشمیر کے معاملے میں پوری قوت کے ساتھ "اسرٹ" Assert کرنا ہوگا"
تو اس کے جذبات کی شدت کا اندازہ ہوا۔ وہیں ایک صاحب نے بتایا کہ فراز نے اس مسئلے پر بمبئی میں زی ٹی وی پروگرام "سرحد" میں اپنے مدمقابل ہندوستان کے وکیلوں(سنیل دت،  کلدیپ نیئر،  کرتار سنگھ دگل اور عارف محمد خان ) کو کھری کھری سنائیں، یہ "لال پیلا انٹرویو"۔۔ دیکھنے سننے سے تعلق رکھتا ہے۔۔۔ کہنا یہ ہے کہ ہم لوگ ایک دوسرے کی حب الوطنی کے بارے میں سوئے ظن کرنے میں بڑی عجلت سے کام لیتے ہیں اور اس عمل میں لذت بھی محسوس کرتے ہیں۔
ضمیر جعفری صاحب مزید کہتے ہیں کہ
فراز سے بہت سے لوگ دراصل اس لئے خفا ہیں جن میں میں بھی شامل رہا کہ یہ آتش فشاں کیوں ہے ایش ٹرے کیوں نہیں۔ موم بتی کیوں نہیں۔ اس کے بعض نظریات سے نظریاتی بنیادوں پر اختلاف بھی ہو تو کم از کم اس بات کا اعتراف کرنا پڑے گا کہ وہ اپنے مقام پر بڑی استقامت کیساتھ کھڑا رہا اور بولنے کے وقت خاموش نہیں رہا۔ ایسے لوگوں کو اختلافات کے باوجود۔۔۔۔۔۔ احترام کا خراج دینا پڑتا ہے۔
سید ضمیر جعفری
٭٭٭

مجھے کچھ کہنا ہے لیکن۔۔۔۔لیکن کچھ کہنے کے لئے الفاظ کا قحط ہے۔ بس اس خالی جگہ کے ذریعے اظہارِ غم۔۔۔۔ 




احمد فراز اردو شاعری میں جو خلا چھوڑ گئے ہیں،  کیا وہ خلا کبھی پر ہو سکے گا؟ اس سوال کا جواب کیا یہی صدی دے سکے گی؟؟
استادِ محترم اعجاز عبید صاحب
٭٭٭

ایک وقت تھا کہ فراز اگرچہ میرے پسندیدہ ترین شعراء میں شامل تھا مگر میں اس کی شخصیت کے حوالے سے کچھ غلط فہمیوں میں مبتلا تھا۔1980ء کی دہائی کے ابتدائی دنوں میں پاک ہند مشاعروں میں شرکت کے لئے میں اور فراز بھارت گئے تو وہاں تقریباً دو ہفتے اکٹھے گزرے اور یوں فراز کی شخصیت کی مختلف پرتیں زیادہ واضح ہو کر سامنے آئیں۔ اس شاعر خوش نوا کے ساتھ بہت طویل نشستیں ہوئیں اور یوں مختلف مسائل پر اس کا نقطہ نظر سامنے آیا تو میں نے محسوس کیا کہ اس کی عوام دوستی اور وطن دوستی کا نظریہ مجھ سے مختلف تو ضرور تھا مگر اس میں کوئی کھوٹ نہیں تھا، چنانچہ کئی محفلوں میں اس نے کشمیر کی جدوجہد آزادی کی بھرپور حمایت کی۔ ایک ٹی وی پروگرام میں تو وہ ایک بھارتی وزیر سے باقاعدہ الجھ پڑا۔ اس کے بعد چند برس پیشتر اس نے شدید بارش کے دوران اسلام آباد میں مقیم شاعروں اور دانشوروں کے ساتھ پیدل مارچ کرتے ہوئے بھارتی سفارت خانے میں آزادی کشمیر کے حوالے سے ایک یادداشت بھی پیش کی۔ فراز بیسیوں دفعہ بھارت گیا مگر اس نے کسی ایک موقع پر بھی انڈین میڈیا کا وہ ’’اکھنڈ بھارتی دانہ‘‘ نہیں چگا جو وہ اکثر پاکستانی مہمانوں کے سامنے ڈالتے ہیں اور چند بے غیرت قسم کے پاکستانی وہ دانہ چگنے بھی لگتے ہیں۔
ایک اور جگہ عطاء الحق قاسمی صاحب لکھتے ہیں کہ:
جہاں تک فراز کی شاعری کا تعلق ہے اسے پڑھتے ہوئے حافظ و خیام کی یاد آتی ہے۔
عطا الحق قاسمی
٭٭٭

اس قدر مسلسل تھیں شدتیں جدائی کی
آج میں نے پہلی بار اس سے بے وفائی کی
فراز صاحب کی یہ راست گوئی ان کے کلام کی اہم شناخت بن گئی ہے۔ ان کی شاعری میں غمِ جاناں اور غمِ دوراں کا بڑا خوبصورت امتزاج ہے۔ اس خوبصورت اور دلکش امتزاج میں فراز صاحب کی شاعرانہ چابکدستی کا پورا پورا مظاہرہ ہوتا ہے۔  ساتھ ساتھ میں انہیں زبان و بیان پر بھی قدرت حاصل ہے۔ شاعری کی مختلف صنفوں میں وہ طبع آزمائی کرتے ہیں۔ انہیں غزل اور نظم دونوں پر یکساں قدرت حاصل ہے۔
خمار بارہ بنکوی
٭٭٭

وہ بے حد سر پھرا آدمی ہے اچھا ہے تو بہت اچھا ضد میں آگیا توساری بساط الٹ دیتا ہے وہ وقت کو سلام نہیں کرتا اس لئے کج کلاہوں کی آنکھ سے آنکھ ملا کر بات کرتا ہے۔
رحیم گل
٭٭٭
Ahmed Faraz is the people’s poet. He speaks in the metaphors of prophecy and vision that transcend rhetoric and narrow nationalism. He is truly an international poet, a pan humanist of the rarest sort. Rare because his poems are all love poems, even when the decry, denounce, lament, or accuse.
Mary McAnally
Tulsa, Oklahama, USA

٭٭٭



The living Legend
Who is in this day and age listens to poets or to the lyricism they stir within us$ but when Ahmed Faraz writes a new poem and recites it, it is news in Pakistan and often in India too. Such is the power of that living legend. Pakistan’s most respected and idolized poet, whose Urdu verse is popular and appreciated in India.
The Washington Post 
July 1, 1998
٭٭٭
People’s Post
Pakistan may not have a nuclear weapon, but they do have Ahmed Faraz. And India can’t produce one, no matter how hard it tries.
India Today
May 1998
٭٭٭

(مرتب: سمت آن لائن جریدہ، محمد بلال اعظم)




ایسا کہاں سے لاؤں کہ تجھ سا کہیں جسے


ہمارے درمیان سے ایک اور بڑا شاعر اٹھ گیا،  چونکہ ہمارے ہاں شجر کاری کا رواج نہیں،  چنانچہ کسی برگد کے کٹ جانے اور کسی بڑے آدمی کے اٹھ جانے کے بعد اس کی جگہ لینے والا کوئی نہیں ہوتا، احمد فراز جیسا شاعر بھی اب ہمارے درمیان کوئی نہیں۔ احمد فراز نے فیض اور حبیب جالب دونوں کی کمی پورا کرنے کی کوشش کی تھی مگر فراز کی کمی کون پورا کرے گا کہ وہ صرف اعلیٰ درجے کا شاعر ہی نہیں فوجی آمروں سے ٹکرا جانے والا ایک بہادر آدمی بھی تھا۔
جہاں تک فراز کی شاعری کا تعلق ہے اسے پڑھتے ہوئے حافظ و خیام کی یاد آتی ہے۔ وہی لطافت ا ور وہی سرمتی،شاعری لفظوں کے انتخاب کا نام ہے اور اس کے علاوہ لطف سخن اس کی پہلی شرط ہے۔ فراز کی شعری تربیت میں فارسی لٹریچر نے اہم کردار ادا کیا تھا۔ اس کے علاوہ اردو کا کلاسیکی ادب اور انگریزی شاعروں کے کلام پر بھی اس کی گہری نظر تھی۔ یہ چیزیں اس کی شاعری کے لئے کھاد کا کام دیتی تھیں لیکن اصل کمال اس کا اپنا تھا۔ وہ اگلے ہوئے نوالے نہیں چبا سکتا تھا۔ ہماری کلاسیکی شاعر ی کا محبوب ایک قصائی اور اس کا نخچیر ایک میمنے کی صورت نظر آتا ہے۔ اس میمنے نے گردن جھکائی ہوئی ہے اور قصائی قسم کا محبوب اس کے ’’چھوڈے ‘‘ اتارتا چلا جاتا ہے۔ یہ محبوب بے وفا ہے اور اس کا عاشق بے ا نا ہے۔ وہ محبوب کی طرف سے ملی ہوئی ذلت کو ناکافی سمجھتے ہوئے ’’ہل من مزید‘‘ کے نعرے لگاتا ہے جبکہ فراز کی شاعری میں عاشق محبوب کے تھلے لگا ہوا نظر نہیں آتا بلکہ وہ اپنی تمام تر وارفتگی کے باوجود اس معشوق میں عاشقی تلاش کرتا دکھائی دیتا ہے۔ سوز و ساز میں ڈوبی ہوئی فراز کی عاشقانہ غزلیں اردو غزل کی روایت سے ہٹ کر بھی ہیں اور اس کی دین یعنی بہترین کرافٹنگ کا اعلیٰ ترین نمونہ بھی ہیں۔ آپ فراز کی غزل میں سے کوئی ا یک لفظ بھی ادھر ادھر نہیں کر سکتے۔ ان میں جو لفظ بھی جہاں آیا ہے نگینے کی طرح آیا ہے۔ فراز کی تقلید میں بہت سے دوسرے شعراء نے بھی رومانی غزلیں کہنے کی کوشش کی مگر چونکہ وہ فراز نہیں تھے لہٰذا اس طرح کے شعری مجموعوں کو آپ کسی ایسے فراز کی شاعری قرار دے سکتے ہیں جو کسی نشیب میں رہتا ہو۔ فراز کے متعلق اس خیال سے کہ وہ صرف رومانی شاعر ہے اتفاق کرنا بہت مشکل ہے اس کی نظر زندگی کے تمام شعبوں پر ہے وہ شاعری برائے شاعری نہیں کرتا بلکہ اپنے اس ہنر سے وہ اس سے بھی بہتر کام لیتا ہے۔ اس کی اس نوع کی شاعری اس کے اپنے اس شعر کی تفسیر ہے۔
شکوۂ ظلمت شب سے تو کہیں بہتر تھا
اپنے حصے کی کوئی شمع جلاتے جاتے
چنانچہ اس شاعر بے بدل نے اپنے حصے کی کئی شمعیں جلائیں اور یوں معاشرے کو اپنے حصار میں لئے ہوئے اندھیروں کے خلاف اعلان جنگ کیا۔ وہ شاعری کے علاوہ اپنے تند و تیز جملوں سے اس اسٹیبلشمنٹ کے بھی پسینے چھڑا دیتا تھا جس کے کچھ ارکان اس کی شاعری کے مداح ہونے کی وجہ سے ذاتی سطح پر اس کے دوست بھی تھے بلکہ اس پر کوئی برا وقت آنے والا ہوتا تھا وہ درپردہ اس کی مدد بھی کرتے تھے لیکن جب وہ اپنی آئی پر آتا تھا تو پھر کسی کی پرواہ نہیں کرتا تھا۔ فراز سے زیادہ بذلہ سنج شاعر بھی میں نے کوئی نہیں دیکھا۔ اس کے جملے قہقہہ آور ہوتے تھے۔ وہ بات پر بات پیدا کرنے میں یکتا تھا۔ اس کی صحبت میں گزرا ہوا وقت انسان رختِ سفر کی طرح ہر جگہ اپنے ساتھ لئے پھرتا تھا۔ فراز ہر کھرے آدمی کی طرح بے حد منہ پھٹ تھا۔ وہ اگر کسی کو ناپسند کرتا تھا تو اپنی ناپسندیدگی کا اظہار اس کے منہ پر کرتا تھا اور اکثر اوقات برسرِ محفل بھی کر دیتا تھا۔ ایسا کرتے ہوئے بعض اوقات وہ بہت پست قامت لوگوں سے بھی الجھ پڑتا تھا۔ ایسے لوگ جو کہ ٹخنوں کے برابر بھی نہیں آتے تھے۔ میں فراز سے کہتا تھا کہ آپ اپنے برابر کے لوگوں کے ساتھ چونچیں لڑایا کریں جب آپ ان کو دو قسم کے لوگوں کے منہ آتے ہیں تو یہ کسی کے کاندھے پر بیٹھ کر آپ پر حملہ آور ہوتے ہیں اور پھر خود کو عالم چنا سمجھنے لگتے ہیں،  مگر فراز اپنی طبیعت سے مجبور تھا۔ دو چار بار مشورہ دینے کے بعد میں نے محسوس کیا کہ ایسے معاملات میں فراز کو مشورہ دینے کا کوئی فائدہ نہیں۔
میں نے پوری زندگی میں فراز سے زیادہ مقبولیت کسی شاعر کی نہیں دیکھی۔ خصوصاً حسیناؤں میں اس کی ’’مانگ‘‘ بہت زیادہ تھی۔ میں نے دس برس قبل کینیڈا میں اشفاق حسین کے مشاعرے کے بعد ایک ایسا منظر دیکھا کہ فراز پر غصہ آنے لگا۔ دو خواتین ہاتھ دھو کر اس کے پیچھے پڑ گئی تھیں مگر موصوف انہیں پلا نہیں پھڑا رہے تھے اور نہ ہی اپنی دلچسپ گفتگو سے کسی مستحق دوست کی طرف انہیں ملتفت ہونے دیتے تھے۔ اس روز مجھے شک گزرا کہ سوشلزم پر فراز کا ایمان مکمل نہیں ہے ورنہ سوشلزم میں تو ملکیت کی بجائے مساوی تقسیم پر زور دیا جاتا ہے۔ فراز کی شاعری اور شخصیت کے حوالے سے یہ ایک ادھورا کالم ہے کیونکہ تھوڑی دیر پہلے شبلی فراز سے میری فون پر بات ہوئی ہے۔ آج شام چھ بجے میں نے فراز کے ہزاروں مداحوں کے ساتھ اسے اسلام آباد سے عدم آباد کی طرف الوداع کہنا ہے۔ لاہور سے اسلام آباد کا بذریعہ کار سفر ساڑھے چار گھنٹے کا ہے۔ سو میں اس وقت روانگی کے مرحلے میں ہوں۔ مجھے یہ افتخار حاصل ہے کہ فراز لاہور آتے تھے تو کبھی کبھار میرے گھر پربھی دو ایک دن گزارتے تھے۔ سو میں اس وقت انہیں اپنے گھر میں چلتا پھرتا دیکھ رہا ہوں،  مگر دو چار گھنٹوں کے بعد جب اسلام آباد میں فراز سے ملاقات ہو گی تو یہ بلبل ہزار داستان خاموشی سے کفن اوڑھے لیٹا ہو گا۔ اب رہتی دنیا تک صرف اس کی شاعری ہم سے باتیں کرے گی۔
(کالم، جنگ، کراچی)
عطاء الحق قاسمی






احمد فرازؔ: شعری تہذیب کا خوبصورت آئینہ


احمد فرازؔ ان معدودے چند شعرا میں شمار کئے جاتے ہیں جن کے ہاں بھرپور انفرادیت اور اثر اندازی کی خصوصیات ملتی ہیں۔ اردو شعری ادب کی علویت عالمی سطح پر دیگر اعلیٰ زبانوں کے متوازی قائم ہو چکی ہے اور اس کو اس مقام پر لے جانے میں ہر دور کے مخصوص شعرا کی کاوشیں شامل ہیں۔ موجودہ دور کے شعرا کے اس مخصوص زمرے میں احمد فرازؔ کا ہونا بہت ضروری ہے۔  احمد فرازؔ نے اپنی نظموں اور غزلوں کے ذریعے بہت سی ان ابعاد کا احاطہ کیا ہے جن کو چھوتے ہوئے بھی بہت سوں نے بھرپور لمس کا احساس پیدا نہیں کیا۔ احمد فرازؔ نے لفظ و خیال کے درمیان کی دوریوں کو اس طرح پاٹنے کا عمل کیا ہے کہ دونوں بیک وقت ایک ہی جامہ کے دو نام لگتے ہیں۔ احمد فرازؔ نے اپنے تصور کو ابھارنے میں لفظوں کو بہت کفایت سے برتا ہے اور ان کے ہاں الفاظ کی بے جا مردنی نہیں ملتی نہ ہی وہ الفاظ کے ذریعہ تصور کو زخمی ہونے دیتے ہیں۔ بہ الفاظ دیگر لفظ و خیال کی صحت کی ضرورت کو احمد فرازؔ جتنی اہمیت دیتے ہیں وہ کسی اور کے ہاں نہیں دکھائی دیتی۔ احمد فرازؔ صالح روایت کے بہت زیادہ پاسدار ہیں مگر روایت ان کے ہاں قدامت پرستی نہیں ہے بلکہ جدیدیت کو بھی جگہ دینے والا ایک شستہ و شگفتہ مزاج ہے جس سے تازگی کی حلاوت اور زندگی کی تمازت برقرار رکھی جاسکتی ہے۔  ان کی ہر غزل کا دامن انوکھے خیالات و مضامین کا گلدستہ دکھائی دیتا ہے۔  احمد فرازؔ کا ہر شعر ناگفتہ خیال کا احساس دلاتا ہے۔  عام خیالات کو پامال کرنے کا ہی وہ عام روش سے اچانک پھلانگ لگا کر دوسری نئی روش پر خود آمادہ کر لیتے ہیں۔ وہ ہر منظر کو نئے زاویہ سے دیکھنے کے عادی ہیں۔ وہ وہاں جا کر کھڑے ہوتے ہیں جہاں تمام تماشائی نہیں ہوتے۔  اسی لیے ان کا ہر شعری تجربہ دیگر زاویہ سے معانیہ کی بات بن جاتا ہے۔  احمد فرازؔ کے اس زاویۂ فکر کے بہترین غماز مندرجہ ذیل اشعار ضرور ہیں۔ یہاں عام روش سے گریز کے عمل کے ساتھ ساتھ بھرپور روایتی پاسداری اور تازگی و شگفتگی اظہار دکھائی دیتی ہے۔ 
جن کو پیراہن توقیر و شرف بخشا ہے 
وہ برہنہ ہیں انہیں خلعتِ رسوائی دے 
وہ ہوس ہو یا وفا ہو بات محرومی کی ہے 
لوگ تو پھل پھول دیکھیں گے شجر دیکھے گا کون
اب اور کوئی علاج غم کا
اب زہر شراب ہو چکا ہے 
اب اس کے ہجر میں روئیں نہ وصل میں خوش ہوں
وہ دوست ہو بھی تو سمجھوکہ دوستانہ گیا
پھر بو رہا ہوں آج انہیں ساحلوں پہ پھول
پھر جیسے موج میں یہ سمندر نہ آئے گا
اب اپنا دل بھی شہر خموشاں سے کم نہیں
سن ہو گئے ہیں کان صدا پر دھرے دھرے 
ان کے سبھی شعر ایک ایسا شعری تجربہ ہیں جہاں شاعر پوری حسیت اور لطافت کو برقرار رکھتے ہوئے جدید روشنی کی تلاش میں سنہری وادیوں کی سیر کرتا دکھائی دیتا ہے۔  وہ تاریکی سے تیر چلانے کا روادار نہیں ہے۔  ہر بات بھرپور اجالے میں کہی جاتی ہے۔  ان کے ہاں شدّت و شکایت جیسی متضاد باتیں نہیں ملتیں۔ کہیں کہیں وہ کسی بات سے مجروح ہوتے بھی ہیں تو اپنے زخم کو چھپانے کے لیے وہاں پھول ڈال دیتے ہیں اور کہیں انہیں پھولوں کے درمیان کسی کے زخم کو تلاشنا بھی کیفیات کو تلاشنے میں بہت دلچسپی لیتے دکھائی دیتے ہیں۔ ان کے یہ اشعار اس ضمن میں ضرور اثر انداز ہیں۔
اے ہم نفسو کچھ تو کہو عہد ستم کی
اک حرف سے ممکن ہے حکایت نکل آئے 

دیکھنا سب رقصِ بسمل میں مگن ہو جائیں گے 
جس طرف سے تیر آئے گا ادھر دیکھے گا کون
احمد فرازؔ کے اندر ایک قوی اور حسّاس شاعر ضرور ہے مگر ساتھ ہی ساتھ وہ انسان کی بہت سی کمزوریوں سے بری نہیں ہیں۔ فنی گرفت کے باوجود انسانی نحیف حسیّت کے باعث وہ کہیں ٹوٹتے اور بکھرتے بھی لگتے ہیں۔ ان کے اس انتشار میں بھی ان کی شعری جمالیت سالم اور صحت مند ہی ملتی ہے۔  شاعر ان کیفیات کو اپنے طور پر پورے والہانہ انداز سے اجاگر کرتا ہے۔ 
ڈوبنے والا تھا اور ساحل پہ چہروں کا ہجوم
پل کی مہلت تھی میں کس کو آنکھ بھر کر دیکھتا

وہ منظر اضطراب تجھے کس طرح بھُلائیں
اب یہ عذاب کیسے طبیعت بحال ہو

اگلی محبتوں نے وہ نا مرادیاں دیں
تازہ رفاقتوں سے دل تھا ڈرا ڈرا سا

اس کی محفل نہ سہی ہجر کا صحرا ہی سہی
خواب و خوشبو کی طرح آؤ بکھر جائیں کہیں

تیری نظروں میں مرے درد کی قیمت کیا تھی
میرے دامن نے تو آنسو کو گہر جانا ہے 

صرف چہرے ہی اگر کرب کے آئینے ہیں
کیوں نہ پھر دل کا لہو آنکھ میں بھرکر آیا

یہ بھی اک شیوۂ رفاقت ہے 
جانے والے کو راستہ ہی دے 

تو لاکھ فرازؔ اپنی شکستوں کو چھپائے 
یہ چُپ تو ترے کرب کا اظہار کرے ہے 
احمد فرازؔ جتنے اچھے غزل کے شاعر ہیں اتنے ہی اچھے نظم کے شاعر بھی ہیں۔ غزلوں سے ہٹ کر نظموں میں آتے وقت ہمیں ایک ہی شاعر کا دوسرا روپ بھی سامنے اُجاگر ہوتا ہوا دکھائی دیتا ہے غزل کہتے وقت شاعر جس ’’ کالیڈسکوپ‘‘ میں تصوراتی دنیا سے حقیقی دنیا میں عود کر آتا ہے اور سامنے کے منظر کی شناخت کا براہ راست عمل شروع کر دیتا ہے۔  ہاں غزل کی سیر میں اس نے جن لفظیات کی تتلیاں جمع کی تھیں ان میں سے بعض کو نظم کی فضا میں کھول کر آزاد کر دینے کے عمل سے باز نہیں آتا۔ انکی نظموں میں بھی غزل کی جمالیت اور اظہار کی رنگت بھی غزل سے مستعار لی ہوئی لگتی ہے۔  ان کی نظموں میں ’’کون سی نظم بہت زیادہ متاثر کرتی ہے اور کون سی کم‘‘ والا سوال نہیں اٹھتا۔ ہر نگینہ اپنی جگہ بہتر تراشا ہے۔  ان کی نظموں میں جدید نظم گوئی کی بھرپور نمائندگی دکھائی دیتی ہے۔  وہ جدید ادب کے چلن اور بانکپن سے آگاہی رکھتے ہیں۔ ان کی بعض نظموں میں روایت سے دست کشی کا عمل بھی نظر آتا ہیں۔ ان کے ہاں نظم کے فارم کو بدلتے وقت اس طرح کا احساس اجاگر ہوتا ہے ایسے موقعوں پر بھی ان کے ہاں ارکان کو توڑنے کا کہیں عمل نہیں دکھائی دیتا۔ انکی ہر نظم اظہار کی بہترین سیاّلیت سے آراستہ ہے۔  خیال کا تواتر لفظی پیچیدگیوں سے کہیں مجروح نہیں ہوتا۔ ان کی نظموں کی یہ سطریں اسی خیال کی تائید کرتی ہیں:
تمہارے نظموں کے نرم پودے 
نئی رتوں کی شدید لُو سے جھلس گئے ہیں
گلاب کے سرخ سرخ پھولوں کو
کاسنی سانپ ڈس گئے ہیں
وہ گفتگوؤں کی آبجوئیں
سکوت کے ریگ راز میں دفن ہو گئی ہیں
(کہا نہیں تھا)

خاک و خوں کے اس گلابے سے 
میں اپنے بھاری بوٹوں کو نکالوں کس طرح
یہ مری بندوق میرے دوش پر اک بوجھ ہے 
(میں ترا قاتل ہوں)
اس طرح احمد فرازؔ برصغیر ہندو پاک کی شعری تہذیب کا ایک خوب صورت باب ہیں۔ جس کو مبصّر و نقّاد مزید معتبر بنانے میں ہمیشہ اور ہر دور میں جڑے رہیں گے۔ 






احمد فراز کے بارے میں اردو محفل اور  پاکستانی پوائنٹ کے ممبرز کے تاثرات
	
ترے ہوتے ہوئے محفل میں جلاتے ہیں چراغ
ہم بھی کیا سادہ ہیں سورج کو دکھاتے ہیں چراغ
ہم بھی اور کچھ نہیں کہتے کہ احمد فراز کے بارے میں کچھ بھی کہنا سورج کو چراغ دکھانے کے مترادف ہی ہے۔
محمد احمد
٭٭٭
احمد فراز دنیائے شاعری کے ایک گوہر کمیاب رہے ہیں۔ ان کا کلام اس بات کا قلم دید گواہ ہے کہ انکو غزل اور نظم دونوں پر بہت گہری دستگاہ حاصل تھی اور کوئی انکی غزل کو انکی نظم پر یا انکی نظم کو انکی غزل پر مثقال برابر فوقیت نہیں دے سکتا کہ دونوں کی قیمت پر انہوں نے زمانے سے نام اور لوگوں سے دل کمایا ہے۔
مہدی نقوی حجاز
٭٭٭
ایک شاعر جب اپنی وارداتِ قلبی بیان کرتا ہے تو اس یقین کے ساتھ کہ اسکا ایک ایک لفظ سچ ہے،  آفاقی حقیقت ہے اور اٹل اور آخری سچائی ہے اور ہوتا بھی ایسے ہی ہے کہ کسی انسان کے اوپر جو گزرتی ہے وہی اس کے لئے حقیقت ہے،  فراز کی اپنی زندگی اپنے اس شعر کے مصداق ہی گزری اور کیا آفاقی اور اٹل سچائی ہے اس شعر میں :
میں زندگی سے نبرد آزما رہا ہوں فراز
میں جانتا تھا یہی راہ اک بچاؤ کی تھی
فراز کی شاعری انسانی جذبوں کی شاعری ہے وہ انسانی جذبے جو سچے بھی ہیں اور آفاقی بھی ہیں،  فراز بلاشبہ اس عہد کے انتہائی قد آور شاعر تھے۔ فراز کی زندگی کا ایک پہلو انکی پاکستان میں آمریت کے خلاف جدوجہد ہے،  اس جدوجہد میں انہوں نے کئی مشکلات بھی اٹھائیں لیکن اصول کی بات کرتے ہی رہے۔ شروع شروع میں انکی شاعری کی نوجوان نسل میں مقبولیت دیکھ کر ان کی شاعری پر بے شمار اعتراضات بھی ہوئے،  انہیں ‘اسکول کالج کا شاعر’ اور ‘نابالغ’ شاعر بھی کہا گیا۔ مرحوم جوش ملیح آبادی نے بھی انکی شاعری پر اعتراضات کیے اور اب بھی انگلینڈ میں مقیم ‘دریدہ دہن’ شاعر اور نقاد ساقی فاروقی انکی شاعری پر بہت اعتراضات کرتے ہیں لیکن کلام کی مقبولیت ایک خدا داد چیز ہے اور فراز کے کلام کو اللہ تعالیٰ نے بہت مقبولیت دی۔ انکی شاعری کا مقام تو آنے والا زمانے کا نقاد ہی طے کرے گا۔
محمد وارث
٭٭٭

فراز کے کلام کی تعریف نہ کرنا تو بخل ہے کہ بے شک عصرِ حاضر کے عظیم شاعر ہیں۔ فراز صاحب اچھوتی تراکیب و مضامین کا جس طرز پر اہتمام کرتے ہیں یہ اُنہی کا خاصہ ہے۔
رشتہ کوئی تو اس سے تعلق کا چاہیے
جلوہ نہیں تو حسرتِ دیدار ہی سہی
خوش ہوں کہ ذکرِ یار میں گزرا تمام وقت
ناصح سے بحث ہی سہی تکرار ہی سہی
فاتح الدین بشیر
٭٭٭
فراز مملکتِ اردو ادب کے واحد شاعر تھے جنہوں نے اپنی زندگی میں بے پایاں عالمگیر شہرت حاصل کی، فراز کے اسالیبِ شعری کی خاص بات زندگیوں پر براہِ راست اثر پذیری، بلاواسطہ اور آلودگیِ نشیب سے مبّرا سچائی، غزل کی نغمگی، کیفیات و جذبات و وجدان کا کھرا پن،  ندرتِ خیال،دل موہ لینے والی رومانوی و خواب آور کسک، گمان کے ہلکورے لیتے کٹورے، یقین کے ہمالے اور تصنّع کی آلائشوں سے پاک جمالیاتی شاعرانہ اظہار ہے۔
فراز، فیض احمد فیض اور ساحر لدھیانوی کی طرح اپنے عام قارئین اور ادبی فہم رکھنے والوں کے دلوں میں یکساں دھڑکتے تھے، جب وہ ترقی پسندی کی تحریک میں پوری طرح منہمک تھے تو ان کے شعری اظہار میں قدرتی سماجی سیاسی شعور بھی ضو فشاں نظر آنے لگا، پاکستان جیسے معاشرے کے تناظر میں جہاں عوام و اقدار قتل ہوتا ہے وہاں ترقی پسندی اور سیاسی بصیرت پر مبنی اسلوب اپنی نفی کر دینے کے مترادف ہے فراز دل جمعی سے اپنا اسلوب نکھارتے رہے اور استحصالی طبقے کیلئے آواز بلند کرتے رہے، اب ان کی شاعری میں (اداریاتی استعماروں کے خلاف)’’ اینٹی اسٹیبلشمنٹ‘‘ رویہ پروان چڑھ رہا تھا، فراز معاشرتی المیہ پر ’’اسٹیبلشمنٹ‘‘ سے ہمیشہ کا بیر رکھتے تھے، فراز، فیض کی طرح شعری اظہار کے تناظر میں اپنے اسلوب پر سختی سے کاربند رہے اور اظہار کو نعرے بازی سے پاک رکھتے ہوئے کیفیات کے مدھر سروں کو تاثرات کا جامہ پہناتے رہے، وہ فلسفہ اور منطقی پیرائے میں توازن کے فن سے بخوبی واقف تھے۔
شریفہ سوراٹھیا
٭٭٭






احمد فراز کا خاکہ

محمد اویس

آپ مجھے پڑھ رہے ہیں،  بہت نوازش۔  میں آپ کی ہمت کی داد دیتا ہوں اور احسان مند بھی ہوں۔ 
شاید آپ بھی ان چند گنے چنے مخلصانِ عزیز میں سے ایک ہیں جن جو فدوی کو خاکہ نگار سمجھتے ہیں،  مگر میں آپ کو یہ راز کی بات پہلے ہی بتا دوں،  کہ مجھے خود بھی اس بات پر یقین نہیں۔  آج کل تو ماشاءاللہ ٹیکنالوجی عروج کی حدود کو چھو رہی ہے،  کوئی بھی بے سرا دو چار الٹے سیدھے مصرعے پڑھ کے "گلوکار" ہو جاتا ہے۔  اور اپنے تئیں مہدی حسن، نصرت فتح علی خان سمجھنے لگتا ہے، ایک زمانہ تھا جب یہ سب لوح محفوظ کی زینت تھا، اور لائیو گلوکاری لوگوں کی حسِ سماعت اور برداشت کیلئے رحمت یا زحمت بنا کرتی تھی۔
جن کمزوریوں پر آج کل ٹیکنالوجی کی مدد سے پردہ ڈالا جاتا ہے،  انہی پر پرانے ٹیکنالوجی لیس زمانے میں طبلہ نواز اور سارنگی نوازوں کی مدد سے پردہ ڈالا جاتا تھا۔  جہاں گلوکار کا فن کانپا تو طبلہ نواز ذرا جوش سے طبلے کو طمانچے رسید کرنے لگا۔  یہی حال اس خاکسار کے ساتھ بھی ہے،  میں اتنا اچھا لکھاری ہوں نہیں، جتنا سمجھ لیا گیا ہوں،  یہ تو اللہ جزا دے ان میری خاکہ نگاری کا طبلہ بجانے والوں کو،  جو میری تحریر کی خامیوں اور کمزوریوں کو اپنی دادو تحسین کی تھاپ سے اوجھل رکھتے ہیں۔
تاریخ سے دلچسپی رکھنے والوں کا ایک مشہور جملہ ہے "تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے "۔  اب تک میں اس کو مفروضہ ہی سمجھتا تھا شاید،  لیکن آج کے بعد میں اس بات پر ایمان لایا۔ شانِ نزول اس ایمان آوری کی یوں ہے کہ
مرزا غالبؔ سے یار لوگوں نے فرمائش کر دی کہ ایک مرثیہ لکھیں،آپ ماشاءاللہ استادوں کے استاد ہیں،  آپ کیلئے بھلا یہ کب مشکل ہے۔
استاد بہت سٹپٹائے بہتیری معذرت کی، جان چھڑانے کو کئی بہانے بنائے،  مگر دوست داری والی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھ کے مجبور کر دئیے گئے۔ 
استاد جی کی ایمانداری میں کوئی شک نہیں اس لیے مانا جا سکتا ہے کہ قبلہ غالبؔ نے جگر کاوی تو کی ہوگی مگر چونکہ اس میدان کے جنگجو نہ تھے اس لیے ابتدائیہ لکھ کے ہی معذرت کر لی۔  یہ کہہ کے کہ جس فن کو دبیر اور انیس جیسے استادانِ فن کمال تک پہنچا چکے ہوں وہاں میں کیا ہاتھ پیر ماروں۔  (آف دی ریکارڈ یہ بھی بتاتا چلوں کہ وہ جو چند اشعار ابتدائیہ کے طور استاد جی لکھے تھے،  جب محفل میں پڑھے گئے تو حاضرین اپنے آنسو اور اپنی دھاڑیں روک نہ پائے،  حتی ٰ کہ مفتی صدر الدین آزردہؔ صاحب بھی اشک بار دیکھے گئے۔ دروغ بر گردن مولانا الطاف حسین حالی)

اب جو تاریخ نے خود کو دہرایا تو یار لوگوں نے چھوٹے غالبؔ سے فرمائش کر ڈالی احمد فراز پر خاکہ لکھنے کی۔ اگر میرے بال نہ گر رہے ہوتے تو میں یقیناً سر پیٹ لیتا مگر وائے ری قسمت یہ بہار کا موسم بھی نہیں بھادوں کا مہینہ ہے کہ گریباں ہی چاک کر کے دل ِ ناداں کو بہلاتا۔  جان چھڑانے کی کوشش تو بہت کی مگر تاب لائے ہی بنی غالبؔ کیونکہ واقعہ سخت تھا اور جان عزیز۔اس لیے اب آپ کی خوش ذوقی کی آزمائش کا روپ دھارے حاضر ہوں،  کیا خوب کہا ہے کسی دانا نے :۔ پاس کر،  یا برداشت کر۔
اگر آپ پاکستان میں رہتے ہیں،  اور ماشاءاللہ جیسا بھی کوئی ایک ادھ موبائل بھی جیب میں رکھتے ہیں۔  تو آپ کو فراز کے مشہور ہونے یا مقبول ہونے یا بدنامی میں نمبر ون ہونے میں کوئی شک شبہ نہیں رہ گیا ہوگا۔یہ عوامی مقبولیت یا بدنامی میرے خیال میں کسی کی کوشش کا حاصل نہیں،  یہ تو عوام کی مرضی ہے جسے سر پہ بٹھا لے،  یا جسے نظر سے گرا دے۔  تاریخ میں اس کی کئی مثالیں موجود ہیں۔ 
ادبی مقبولیت کی مثال:۔ مرزا غالبؔ کو ہم دیوانوں نے چاہے جتنا بھی ادب کے سنگھاسن پہ بٹھا رکھا ہو، مگر ایک کڑوا سچ یہ ہے کہ اپنے وقت میں وہ محض ایک مہمل گو کے طور پر رسوا تھے۔اور عوام کے سر پر استاد ذوق ؔ کا جادو چڑھ کر بولتا تھا۔ 
سیاسی مقبولیت کی مثال:۔ مہاتما گاندھی نے جتنے بھی بہروپ دھارے،  اور نہرو بھی اپنی تمام تر سیاسی چالبازیوں سمیت قائد اعظم نہ کہلا سکے۔  اس کے علاوہ دنیا میں کئی نامور شخصیات کو قائد اعظم مشہور کرنے کی کوششیں کی جاتی رہی ہیں،  مثلاً سعودی عرب کے بانی،  اور کمال اتاترک کے نام کے ساتھ بھی قائد اعظم کا سابقہ لگانے کی بہت کوششیں ہوئیں، مگر اللہ جسے چاہے عزت دے۔  محمد علی جناح ؒ پر یہ لفظ ایسا فٹ آیا اور اتنی خوبصورتی سے جچا کہ اب یہ قیامت تک ان کے نام کا حصہ ہو کے رہ گیا ہے۔اب دنیا میں لیڈر آتے رہیں یا جاتے رہیں،  قائد اعظم کوئی اور نہیں ہو سکتا۔
اکثر شاعر اول تو اپنی زندگی میں مشہور ہی نہیں ہوتے،  اکثر جو مشہور ہوتے ہیں تو اخیر عمر میں۔  لیکن ذوق، داغ دہلوی،  وصی شاہ کی طرح سنا ہے احمد فراز بھی اپنی جوانی سے ہی مشہور و مقبول ہیں۔  لیکن داغ اور وصی شاہ والی لسٹ میں لکھنے کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ ان کی شاعری بھی اسی قبیل کی ہے۔
مقبولیت کے حوالے سے جیسا کہ ان کا اپنا ایک شعر بھی ہے :

اور فراز چاہئیں کتنی محبتیں تجھے
ماؤں نے تیرے نام پر بچوں کا نام رکھ دیا

کم ہی ایسا ہوتا ہے کہ لوگ کسی شاعر کے نام پر اپنے بچوں کے نام رکھیں۔  حالانکہ صدام حسین،  اسامہ وغیرہ لوگ بہت شوق سے رکھتے ہیں،  مگر شاعر کے نام پر بچوں کے نام رکھنے کی مثال میرے سامنے صرف شیخ سعدیؒ اور مولانا رومؒ کی ہے۔ اس کے بعد احمد فراز ہی وہ شاعر ہیں جن کے نام پر لوگوں نے اپنے بچوں کے نام رکھے۔ دور کیوں جائیے،  میرا اپنا ایک کزن ہے سید فراز بخاری۔ ان کی والدہ محترمہ خود روایت فرماتی ہیں :۔ احمد فراز میرے فیوریٹ شاعر تھے، اس لیے میں نے اپنے پہلے بیٹے کا نام ان کے نام پر فراز رکھا۔  یہ تو تھی ایک سامنے کی مثال،  اسی طرح اور بھی کئی مثالیں ہوں گی۔
لیکن جیسا کہ نظام قدرت ہے،  ہر عروج کو زوال ہے۔  احمد فراز نے اپنی زندگی میں ہی مقبولیت کے عروج کو چھوا،  اور پھر اپنی زندگی میں اپنی ساری زندگی کی کمائی عزت کا بھاجی فالودہ ہوتے دیکھا۔ چند افواہ پرستوں کے بقول اس کا سبب شانِ رسالتﷺ میں کہے گئے کچھ گستاخانہ الفاظ ہیں۔  مجھے اس بات کی کوئی خبر نہیں کہ یہ بات سچ بھی ہے یا ہمیشہ کی طرح افواہ۔  میرے اندر بھی ایک غلام ِ رسولﷺ رہتا ہے،  مگر میرے سامنے سیرتِ رسول اللہ ﷺ کا وہ روشن واقعہ ہے،  جو میں نے اپنی دینیات کی کتاب میں تب پڑھا تھا جب میں دوسری جماعت کا طالب علم تھا۔ 
"ایک بار رات گئے مدینہ منورہ میں کسی نے یہ افواہ اڑا دی کہ کفارِ مکہ نے حملہ کر دیا ہے۔  اس سے شہر میں افراتفری اور بھگدڑ مچ گئی۔  رسول اللہ ﷺ تک یہ بات پہنچی تو آپ ﷺ اسی وقت گھوڑے کی ننگی پیٹھ پر بیٹھ کر شہر سے باہر کی طرف تشریف لے گئے،  اور کافی دور تک جا کر دیکھا،  اور پھر واپس آ کر سب کو اطلاع دی کہ یہ افواہ جھوٹی ہے،  مدینہ منورہ کی حدود میں تو کیا دور دور تک کوئی لشکر نہیں ہے۔"
اس واقعے سے جہاں مجھے حضرت رسول اللہ ﷺ کی شجاعت اور بہادری کے بارے میں معلوم ہوا کہ کس طرح آپ ﷺ نے اکیلے ہی جا کر اس خبر کی تحقیق کیلئے شہر سے باہر چکر لگایا۔  وہیں مجھے اس واقعے سے ایک پیارا سا سبق حاصل ہوا۔  کہ کوئی بھی اطلاع یا افواہ سن کر اس پر رد عمل ظاہر کرنے کی بجائے پہلے اس کی تحقیق کر لی جائے۔  اور مجھے اپنے پیارے رسول ﷺ کی سنتوں سے بے حد پیار ہے۔ کیا آپ کو بھی ہے؟ اگر ہاں تو پھر آپ بھی بلا تحقیق کسی خبر پر یقین نہیں کرتے ہونگے۔  جزاک اللہ۔ 
اگر احمد فراز نے ایسی کوئی گستاخانہ بات کی تھی تو میں ان سے بیزاری کا اعلان کرتا ہوں۔  لیکن اگر یہ صرف ایک گپ اور افواہ ہے تو میں کیوں کسی افواہ کو آگے پھیلانے اور بہتان کا گناہ اپنے سر لوں۔ موقع بھی ہے دستور بھی ہے، احمد فراز کی کہی نعت شریف پیشِ خدمت ہے

مرے رسول کہ نسبت تجھے اجالوں سے
میں تیرا ذکر کروں صبح کے حوالوں سے

نہ میری نعت کی محتاج ذات ہے تیری
نہ تیری مدح ہے ممکن مرے خیالوں سے

تُو روشنی کا پیمبر ہے اور مری تاریخ
بھری پڑی ہے شبِ ظلم کی مثالوں سے

ترا پیام محبت تھا اور میرے یہاں
دل و دماغ ہیں پُر نفرتوں کے جالوں سے

یہ افتخار ہے تیرا کہ میرے عرش مقام
تو ہمکلام رہا ہے زمین والوں سے

میں بے بساط سا شاعر ہوں پر کرم تیرا
کہ با شرف ہوں قبا و کلاہ والوں سے

میں ان کی شاعری پر بھی کوئی تبصرہ کرنے سے قاصر ہوں کیونکہ نہ تو میں اردو ادب کا طالب علم ہو ں، نہ ہی خود ساختہ نقاد، نہ ہی میں نے ان کی "تنہا تنہا " کے علاوہ کوئی کتاب پڑھی ہے۔  اس لیے اس معاملے میں مجھے معاف رکھیں گے۔ البتہ ڈاکٹر انیس ناگی کا فراز کے بارے میں کہا ایک قول نقل کرتا ہوں :۔
اگر ایم اے اردو کا طالب کہے کہ میرا پسندیدہ شاعر احمد فراز ہے تو اسے کلاس سے باہر نکال دینا چاہیے"
ایوارڈز کی ایک لمبی لسٹ ہے جو فراز کو ان کے فن کے اعتراف میں دئیے گئے۔اور اس بات کا ذکر بھی دلچسپی سے خالی نہ ہوگا کہ فراز کی شاعری کے تراجم انگریزی، فرانسیسی، ہندی۔ یوگوسلاوی، سویڈش، روسی، جرمن اور پنجابی میں ہو چکے ہیں۔
٭٭٭




انتخابِ فراز

غزل

ایک دیوانہ یہ کہتے ہوئے ہنستا جاتا
کاش منزل سے بھی آگے کوئی رستا جاتا

اے مِرے ابر گریزاں مری آنکھوں کی طرح
گر برسنا ہی تجھے تھا تو برستا جاتا

آج تک یاد ہے اظہارِ محبت کا وہ پل
کہ مری بات کی لکنت پہ وہ ہنستا جاتا

اتنے محدود کرم سے تو تغافل بہتر
گر ترستا ہی مجھے تھا تو ترستا جاتا
٭٭٭



اے میرے سارے لوگو!


اب مرے دوسرے بازو پہ وہ شمشیر ہے جو
اس سے پہلے بھی مرا نصف بدن کاٹ چکی
اسی بندوق کی نالی ہے مری سمت کہ جو
اس سے پہلے مری شہ رگ کا لہو چاٹ چکی

پھر وہی آگ در آئی ہے مری گلیوں میں
پھر مرے شہر میں بارُود کی بُو پھیلی ہے
پھر سے "تُو کون ہے میں کون ہوں" آپس میں سوال
پھر وہی سوچ میانِ من و تُو پھیلی ہے

مری بستی سے پرے بھی مرے دشمن ہوں گے
پر یہاں کب کوئی اغیار کا لشکر اترا
آشنا ہاتھ ہی اکثر مری جانب لپکے
میرے سینے میں سدا  اپنا ہی خنجر اترا

پھر وہی خوف کی دیوار تذبذب کی فضا
پھر ہوئیں  عام وہی اہلِ ریا کی باتیں
نعرۂ حُبِّ وطن مالِ تجارت کی طرح
جنسِ ارزاں کی طرح دینِ خدا کی باتیں

اس سے پہلے بھی تو ایسی ہی گھڑی آئی تھی
صبحِ وحشت کی طرح شامِ غریباں کی طرح
اس سے پہلے بھی تو پیمانِ وفا ٹوٹے تھے
شیشۂ دل کی طرح آئینۂ جاں کی طرح

پھر کہاں ہیں احمریں ہونٹوں پہ دعاؤں کے دیے
پھر کہاں شبنمیں چہروں پہ رفاقت کی ردا
صندلیں پاؤں سے مستانہ روی روٹھ گئی
مرمریں ہاتھوں پہ جل بُجھ گیا انگارِ حنا

دل نشیں آنکھوں میں فرقت زدہ کاجل رویا
شاخِ بازو کے لئے زلف کا بادل رویا
مثلِ پیراہنِ گل پھر سے بدن چاک ہوئے
جیسے اپنوں کی کمانوں میں ہوں اغیار کے تیر
اس سے پہلے بھی ہوا چاند محبت کا دونیم
نوکِ دشنہ سے کھچی تھی مری دھرتی  پہ لکیر

آج ایسا نہیں ، ایسا نہیں ہونے دینا
اے مرے سوختہ جانو مرے پیارے لوگو
اب کے گر زلزلے آئے تو قیامت ہوگی
میرے دلگیر مرے درد کے مارے لوگو
کیسی غاصب کسی ظالم کسی قاتل کے لیے
خود کو تقسیم نہ کرنا مرے سارے لوگو
٭٭٭



غزل

سکوتِ شامِ خزاں ہے قریب آ جاؤ
بڑا اُداس سماں ہے قریب آ جاؤ

نہ تم کو خود پہ بھروسا نہ ہم کو زعمِ وفا
نہ اعتبارِ جہاں ہے قریب آ جاؤ

رہِ طلب میں کسی کو کسی کا دھیان نہیں
ہجومِ ہم سفراں ہے قریب آ جاؤ

جو دشتِ عشق میں بچھڑے وہ عمر بھر نہ ملے
یہاں دھُواں ہی دھُواں ہے قریب آ جاؤ

یہ آندھیاں ہیں تو شہرِ وفا کی خیر نہیں
زمانہ خاک فشاں ہے قریب آ جاؤ

فقیہِ شہر کی مجلس نہیں کہ دُور رہو
یہ بزمِ پیرِ مغاں ہے قریب آ جاؤ

فرازؔ دُور کے سورج غروب سمجھے گئے
یہ دَورِ کم نظراں ہے قریب آ جاؤ
٭٭٭





پیشہ ور قاتلو، تم سپاہی نہیں


میں نے اب تک تمھارے قصیدے لکھے
اور آج اپنے نغموں سے شرمندہ ہوں
اپنے شعروں کی حرمت سے ہوں منفعل
اپنے فن کے تقاضوں سے شرمندہ ہوں
اپنے دل گیر پیاروں سےشرمندہ ہوں
جب کبھی مری دل ذرہ خاک پر
سایہ غیر یا دست دشمن پڑا
جب بھی قاتل مقابل صف آرا ہوئے
سرحدوں پر میری جب کبھی رن پڑا
میرا خون جگر تھا کہ حرف ہنر
نذر میں نے کیا مجھ سے جو بن پڑا
آنسوؤں سے تمھیں الوداعیں کہیں
رزم گاہوں نے جب بھی پکارا تمھیں
تم ظفر مند تو خیر کیا لوٹتے
ہار نے بھی نہ جی سے اتارا تمھیں
تم نے جاں کے عوض آبرو بیچ دی
ہم نے پھر بھی کیا ہے گوارا تمھیں
سینہ چاکان مشرق بھی اپنے ہی تھے
جن کا خوں منہ پہ ملنے کو تم آئے تھے
مامتاؤں کی تقدیس کو لوٹنے
یا بغاوت کچلنے کو تم آئے تھے
ان کی تقدیر تم کیا بدلتے مگر
ان کی نسلیں بدلنے کو تم آئے تھے
اس کا انجام جو کچھ ہوا سو ہوا
شب گئی خواب تم سے پریشاں گئے
کس جلال و رعونت سے وارد ہوئے
کس خجالت سے تم سوئے زنداں گئے
تیغ در دست و کف در وہاں آئے تھے
طوق در گردن و پابجولاں گئے
جیسے برطانوی راج میں گورکھے
وحشتوں کے چلن عام ان کے بھی تھے
جیسے سفاک گورے تھے ویت نام میں
حق پرستوں پہ الزام ان کے بھی تھے
تم بھی آج ان سے کچھ مختلف تو نہیں
رائفلیں وردیاں نام ان کے بھی تھے
پھر بھی میں نے تمھیں بے خطا ہی کہا
خلقت شہر کی دل دہی کے لیئے
گو میرے شعر زخموں کے مرہم نہ تھے
پھر بھی ایک سعی چارہ گری کیلئے
اپنے بے آس لوگوں کے جی کیلئے
یاد ہوں گے تمھیں پھر وہ ایام بھی
تم اسیری سے جب لوٹ کر آئے تھے
ہم دریدہ جگر راستوں میں کھڑے
اپنے دل اپنی آنکھوں میں بھر لائے تھے
اپنی تحقیر کی تلخیاں بھول کر
تم پہ توقیر کے پھول برسائے تھے
جن کے جبڑوں کو اپنوں کا خوں لگ گیا
ظلم کی سب حدیں پاٹنے آ گئے
مرگ بنگال کے بعد بولان میں
شہریوں کے گلے کاٹنے آ گئے
آج سرحد سے پنجاب و مہران تک
تم نے مقتل سجائے ہیں کیوں غازیو
اتنی غارتگری کس کی ایما پہ ہے
کس کے آگے ہو تم سر نگوں غازیو
کس شہنشاہ عالی کا فرمان ہے
کس کی خاطر ہے یہ کشت و خوں غازیو
کیا خبر تھی کہ اے شپرک زادگاں
تم ملامت بنو گے شب تار کی
کل بھی غا صب کے تم تخت پردار تھے
آج بھی پاسداری ہے دربار کی
ایک آمر کی دستار کے واسطے
سب کی شہ رگ پہ ہے نوک تلوار کی
تم نے دیکھے ہیں جمہور کے قافلے
ان کے ہاتھوں میں پرچم بغاوت کے ہیں
پپڑیوں پر جمی پپڑیاں خون کی
کہ رہی ہیں یہ منظر قیامت کے ہیں
کل تمھارے لیئے پیار سینوں میں تھا
اب جو شعلے اٹھے ہیں وہ نفرت کے ہیں
آج شاعر پہ بھی قرض مٹی کا ہے
اب قلم میں لہو ہے سیاہی نہیں
خون اترا تمھارا تو ثابت ہوا
پیشہ ور قاتلو، تم سپاہی نہیں
اب سبھی بے ضمیروں کے سر چاہیئے
اب فقط مسئلہ تاج شاہی نہیں
٭٭٭




غزل

نہ کوئی تازہ رفاقت نہ یارِ دیرینہ
وہ قحطِ عشق کہ دشوار ہو گیا جینا

مرے چراغ تو سورج کے ہم نسَب نکلے
غلط تھا اب کے تری آندھیوں کا تخمینہ

یہ زخم کھائیو سر پر بپاسِ دستِ سبُو
وہ سنگِ محتسب آیا، بچائیو مینا

تمھیں بھی ہجر کا دکھ ہے نہ قُرب کی خواہش
سنو کہ بھول چکے ہم بھی عہدِ پارینہ

یہی کہا تھا مری آنکھ دیکھ سکتی ہے
تو مجھ پہ ٹوٹ پڑا سارا شہر نابینا

چلو کہ بادہ گساروں کو سنگسار کریں
چلو کہ ٹھہرا ہے کارِ ثواب خوں پینا

اس ایک شخص کی سج دھج غضب کی تھی کہ فراز
میں دیکھتا تھا، اسے دیکھتا تھا آئینہ
٭٭٭

فائل کے لئے تشکر: محمد بلال اعظم
تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید
