﻿



بیان: منظر، پس منظر



ڈاکٹر مشتاق احمد


زیر اہتمام
جہانِ اردو، رحم گنج، دربھنگہ۔ 846004 بہار (انڈیا) 



 انتساب

امی مرحومہ
سیف النساء
کے 
نام
کہ جن کی تربیت میں کہانیوں کے فہمو ادراک کی 
سعادت حاصل ہوئی



دو لفظ

ڈاکٹر مشتاق احمد

ذوقی ہی کیوں ؟

1986 میں ڈاکٹر محمد حسن نے عصری ادب میں، نورتنوں کی فہرست میں ذوقی کو پہلے نمبر پر رکھا تھا۔ یہ وہ دور تھا جب زمینی سچّائیوں کو بیان کرنے کے ہنر میں ذوقی اپنے عصر کے تمام افسانہ نگاروں سے کافی آگے نکل گئے تھے۔ 1986 میں ذوقی کی عمر بمشکل 24 سال کی رہی ہو گی۔ ایک 24 سالہ نوجوان کے فن پاروں کو دیکھتے ہوئے اگر اردو کے ممتاز ناقد ڈاکٹر محمد حسن نے اس وقت انہیں پہلے پائیدان پر جگہ دی تھی، تو یہ سمجھنا مشکل نہیں ہے کہ ڈاکٹر صاحب نے بہت عرصہ پہلے ہی ذوقی کے اندر کے عظیم افسانہ نگار کو محسوس کر لیا تھا۔ مجھے یاد ہے اسی زمانے میں عصری ادب میں ہی ذوقی کی ایک نمائندہ کہانی ’’سور باڑی‘‘ شائع ہوئی تھی۔ جو ان کے پہلے افسانوی مجموعے ’’بھوکا ایتھوپیا‘‘ کے انتخاب میں شامل ہے۔ یہ کہانی ’’بنجامن مولوایئز‘‘ کے نام تھی، جس کا قتل کر دیا گیا تھا۔ ذوقی نے ’’سوّر باڑی‘‘ کے حوالے سے ایک ایسے شاہکار کو جنم دیا تھا جہاں ہم بنجامن کی آتما کو ترپتے ہوئے محسوس کر سکتے تھے۔ 
در اصل اسی زمانے سے ذوقی میری پہلی پسند بنتے چلے گئے۔ کہانی کی بناوٹ، کہانی پن پر مضبوط گرفت، گہری فکر، رواں دواں مکالمے ۔۔۔ذوقی کی تحریر کا ہر رنگ ایسا ہے جیسے کسی بڑے فن کار کو پڑھ رہے ہوں۔ یہ وہی زمانہ تھا جب ذوقی حقیقت پسندی کی سنگلاخ سرزمین پر تخلیقی عمل کا پرچم اٹھائے آگے ہی آگے بڑھتے ہی جا رہے تھے۔ شاید اسی لیے اپنے پہلے مجموعے ’’بھوکا ایتھوپیا‘‘ میں ذوقی نے لکھا ۔۔۔’’سوچتا ہوں انہیں کیا جواب دوں ؟‘‘ کبھی کبھی لگتا ہے کسی نظریاتی تبدیلی کا خواہاں ہے میرے اندر کا تخلیق کار۔ کچھ نیا چاہتا ہے   اور اس نئے کے لیے بھٹکتا رہتا ہے۔ اس نظریاتی تبدیلی سے زندگی کے کتنے ہی موڑ پر لکھنے کے زاویئے بدلے۔ اس طرف چلو، نہیں اس طرف۔ ’نیلام گھر‘ بھی پڑاؤ تھا۔ ’’عقاب کی آنکھیں ‘‘ بھی۔ ’’شہر چپ ہے ‘‘ بھی ’’لمحۂ  آئندہ‘‘ بھی۔ یہ ناول بھی 80ء سے پہلے کے ہیں۔ اور کسی نئے نظریاتی تصور کو الگ الگ ان میں بہ آسانی محسوس کیا جا سکتا ہے۔ میں ابھی ٹھہرا نہیں ہوں، بھٹکنے کی حالت میں ہوں، سوچتا ہوں چھوٹی چھوٹی حقیقتیں زندگی کا روپ کیوں نہیں لے سکتیں۔ پھر کوئی سا، بہت عام سا واقعہ کہانی کیوں نہیں ہو سکتا۔ کوئی کہانی مجھے پسند آتی ہے تو دوست پوچھتے ہیں۔ یہ کیا لکھ دیا؟ کیسے کہوں کہ یہ کیوں لکھا۔ چیخوف کا کردار اگر اپنے چھینکنے پر شرمندہ ہو سکتا ہے   اور چھینک اس وقت کے پورے روسی نظام کو لے کر زبردست کہانی بن سکتی ہے تو پھر عام زندگی میں ہونے والا بہت ہی عام سا واقعہ کہانی کیوں نہیں بن سکتا۔‘‘ 
 ’’بھوکا ایتھوپیا‘‘ کی تمام کہانیوں میں ان چھوٹی چھوٹی حقیقتوں کا عکس بہ آسانی تلاش کیا جا سکتا ہے۔ اس وقت کی زیادہ تر کہانیوں میں ذوقی پر ترقی پسندانہ رنگ غالب تھا۔ لیکن یہ رنگ کئی معاملوں میں دوسرے ترقی پسند افسانہ نگاروں سے مختلف بھی تھا کیوں کہ ذوقی ہر بار ان کہانیوں کے بطون سے کوئی نہ کوئی راستہ تلاش کرتے ہوئے چل رہے تھے۔ مثال کے لیے ’’بھوکا ایتھوپیا‘‘ میں مہا شیوتاؔ   اور ’’اتپلیندوؔ‘‘ کے کردار کا جائزہ لیجئے، ’’اتپلیندو‘‘ نکسلائٹ مومنٹ سے جڑ گیا ہے۔ گھوش بابو سرکاری ملازمت کرتے ہیں۔ ان کے اندر اپنے باغی بیٹے کو لے کر ایک طرح کی کشمکش چلتی رہتی ہے۔ آخر کار اتپلندو پولس کی گولی کا نشانہ بن جاتا ہے۔ گھوش بابو ایک خواب کے دوران اپنا احتجاج درج کرنا چاہتے ہیں۔ 
 ’’کھٹ کھٹ ۔۔۔میں آزاد۔۔۔کھٹ کھٹ۔۔۔ہونا چاہتا ہوں ۔۔۔کھٹ کھٹ ۔۔۔ہاتھ پیر منہ پورے وجود کے ساتھ آزاد۔۔۔کھٹ کھٹ ۔۔۔میں اس نوکری سے ۔۔۔۔ 
اچانک سوتے میں ان کے ہاتھ ٹائپ رائٹر مشین پر چلنے لگتے ہیں۔‘‘ 
یہ ’’بھوکا ایتھوپیا‘‘ کا کلائمکس ہے۔ جہاں ایک بوڑھا وجود اپنے بیٹے کے مارے جانے کے بعد خواب میں اپنا رئزائنیشن ٹائپ کر رہا ہے۔ در اصل ذوقی ہمارے سماج کی اسی ننپُسکتا کو بے نقاب کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ 
ذوقی کی ایک   اور بڑی کہانی ہے ۔۔۔’’بچھو گھاٹی‘‘ کہانی کی شروعات ہی   دل چسپ ہے۔ ’’بہت پہلے اس نے مجھ سے کہا تھا۔ تمہاری کہانیوں میں میرا بچہ کیوں دکھتا ہے۔ میرے بچے کی بھوک کیوں نظر آتی ہے۔‘‘ 
ہم خواب دیکھتے ہیں۔ خواب پورا کبھی ہو جاتا ہے۔ پھر ایک طرح کی تشنگی رہ جاتی ہے۔ دیپیکا   اور آشوتوش کے ساتھ یہی ہوا تھا۔ شاید اسی لیے دیپیکا نے اپنی طرف سے ایک آواز اٹھائی۔ 
 ’’ہر جگہ میں تمہارے خیالات سے اتفاق نہیں کرتی۔ پتہ نہیں کیوں لگتا ہے جب تمہارے پاس کہنے کو کچھ نہیں رہ جاتا ہے۔ تب اچانک تم سوئے ہوئے طبقے کے کسی آدمی پر پتھر چلا دیتے ہو   اور کہانی ختم ہو جاتی ہے۔‘‘ 
دیکھا جائے تو بچھو گھاٹی ذوقی کی اپنی زندگی کی سرگزشت لگتی ہے۔ دیپیکاؔ جیسی پتنی کے حوصلے   اور مضبوطی کے سہارے آشوتوش اپنی جنگ میں کامیاب ہو جاتا  ہے۔ جواب اس وقت ملتا ہے، جب آشوتوش اپنی میگزین سے استعفیٰ دے کر اپنے مضبوط ہونے کا پہلا پتھر اچھالتا ہے۔ ذرا یہ مکالمے دیکھیے :
 ’’تمہاری کہانیوں میں میرا بچہ کیوں دکھتا ہے۔ میرے بچے کی بھوک کیوں نظر آتی ہے ؟‘‘ 
 ’’اس لیے کہ میں بھوک دیکھ رہا تھا۔ مٹی میں سنے چہرے کی بھوک، اب یہ بھوک نظر نہیں آئے گی۔‘‘ 
یعنی کہ تم خود کو جوڑ کر لکھتے ہو۔۔۔اپنے بچے کو، اپنے بچے کی بھوک کو محسوس کرتے ہوئے ۔۔۔اپنے دائرے سے باہر۔‘‘ 
ذوقی کی کہانیوں میں اینٹی کلائمکس کی فضا محض چونکانے کے لیے نہیں ہوتی بلکہ یہ فکر کی ایک گہری لکیر کہیں دور تک چھوڑتی ہوئی چلی جاتی ہے۔ 
مجھے یاد ہے ہم اس زمانے میں ذوقی کی کہانیاں پڑھنے کے لیے کیسے بے چین رہتے تھے۔ اس لیے میں بسیار نویسی کے کسی بھی الزام کو نہیں مانتا۔ بڑا فن کار جب اپنے عہد کے مسائل پر غور کرے گا تو وہ لکھے گا ہی، میں یہ بات پورے یقین   اور دعوے کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ ذوقی کے یہاں جتنے ڈائمنشن ہیں، وہ کسی دوسرے ادیب کے پاس نہیں۔ ذوقی کا کمپٹیشن در اصل ان کی اپنی کہانیوں سے ہی ہے۔ ہر نئی کہانی فکر   اور اسلوب کی سطح پر دوسری کہانیوں سے بہت آگے نکل جاتی ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ ذوقی اپنی ہر کہانی میں ہمیں چونکاتے ہیں، دراصل ان کی کہانیوں کی مجموعی فضا میں اتنی اندیکھی دنیائیں قید ہیں جس کا حساب لگانا مشکل ہے۔ 
کامریڈ، صفدر ہاشمی کی ہتیا کو لے کر ذوقی نے ایک کہانی لکھی۔ ’’میں ہارا نہیں ہوں کامریڈ‘‘ کہانی کا ایک چھوٹا سا اقتباس ملاحظہ فرمائیے۔ 
 ’’مجھے لگتا ہے یا تو میں مورکھ (بیوقوف) بن رہا ہوں یا بنایا جا رہا ہوں۔ یہ لڑائی غلط مورچہ لے رہی ہے۔ اب لگتا ہے کہ یہ پوری کارروائی نشاط کی موت کو کیش کئے جانے کے لئے ہو رہی ہے۔ دراصل انقلاب کی مشعل چند غلط بورژوا سوچ والے پونجی پتی ہاتھوں میں چلی گئی ہے   اور وہ اس کا راجنی تک استعمال بھی کر رہے ہیں۔ دراصل نشاطؔ کی موت کا سوگ نہیں منایا جا رہا، جشن منایا جا رہا ہے ۔۔۔وقت کے پنوں پر اب صرف ونئے کے لوٹنے کی داستان درج ہے، میں دیکھ رہا ہوں وہ چپ چاپ میرے پاس آکر کھڑا ہو گیا ہے ۔۔۔ساتھی۔۔۔اب واپس لوٹنا چاہتا ہوں ساتھی۔ ان سب نے تھکا دیا ہے مجھے ۔۔۔چھ۔۔۔سال کچھ مہینے ۔۔۔ ان مہینوں میں صرف ایک خوشگوار لمحہ کے تصور میں میرا استحصال ہوا ہے۔ ساتھی، گاؤں یاد آ رہا ہے۔ یاد آ رہی ہے وہاں کی مٹی۔۔۔ساتھی مجھے گاؤں بلا رہا ہے ۔۔۔ ‘‘ 
مجھے ہنسی آتی ہے جب اردو کہانیوں میں گاؤں کے ذکر نہ آنے پر ایک مبہم سی بحث شروع ہو جاتی ہے۔ شاید گاؤں نئے افسانہ نگاروں میں سب سے زیادہ ذوقی کے یہاں دیکھنے کو ملتا ہے۔ ’’چوپال کا قصہ‘‘، ’’ڈائناسور‘‘، ’’ایک گاؤں ابھی بھی شہر میں ہے ‘‘ وغیرہ بہت سی کہانیاں ایسی ہیں جہاں گاؤں اپنے پورے تصور کے ساتھ موجود ہے۔ گاؤں کے علاوہ کہانیوں میں ذوقی کا سب سے محبوب موضوع ہندوستان کی تقسیم رہا ہے۔ ’’غلام بخش‘‘ سے لے کر ’’مسلمان‘‘، ’’ذنح‘‘، ’’بیان‘‘، ’’مہاندی‘‘، ’’ہندستانی‘‘، ’’دہشت کیوں ہے ‘‘، ’’تحفظ‘‘ جیسی کہانیاں   اور ناول دیکھ لیجئے۔ یہ تمام کہانیاں   اور ناول دراصل تقسیم کے بطون سے جنمے ہیں، تقسیم کے بعد کا ہندوستان بھی ذوقی کا پسندیدہ موضوع رہا ہے۔ چاہے وہ بابری مسجد کی شہادت ہو یا گجرات کا المیہ۔ ذوقی کا قلم کبھی تھکتا نہیں ہے۔ وہ ایسے ہر المیہ کو فنی چابک دستی کے ساتھ صفحہ قرطاس پر لے آتے ہیں۔ یاد آیا ہندی میں بابری مسجد شہادت پر ان کا ایک ڈرامہ ’’گڈ بائے راجنیتی‘‘ بھی مشہور ہوا تھا۔ پچھلے سال یعنی 2004ء میں گجرات المیہ پر ذوقی کا ایک افسانوی مجموعہ ’’لیبارٹری‘‘ بھی زیر بحث رہا تھا۔ لیبارٹری میں ذوقی نے اپنے ایسے افسانوں کو جگہ دی تھی جو گجرات المیہ کی نہ صرف سچی تصویر سامنے رکھتے ہیں بلکہ آپ کو جھنجھوڑ کر بھی رکھ دیتے ہیں۔ ذوقی نے گجرات کے المیہ پر نظمیں بھی لکھیں، یہاں تک کہ ان کے حالیہ ناول ’’پوکے مان کی دنیا‘‘ میں بھی بیسٹ بیکری کانڈ   اور ظاہرہ شیخ کی تصویر کے کئی پہلو بہ آسانی دیکھے جا سکتے ہیں۔ 
 ’’بھوکا ایتھوپیا‘‘ کے بعد ’’منڈی‘‘ ذوقی کی ادبی اڑان کا دوسرا پڑاؤ تھا۔ اس کے بعد غلام بخش، ’’صدی کو الوداع کہتے ہوئے ‘‘، ’’لینڈ اسکیپ کے گھوڑے ‘‘ تک، فن   اور فکر کے لحاظ سے ذوقی نے جو شہرت حاصل کی ہے وہ مشکل سے ملتی ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ یہ سب کچھ ذوقی کو بہت آسانی سے مل گیا ہے۔ اس کے لئے ان کی برسوں کی ادبی مشقت شامل رہی ہے۔ وہ صحیح معنوں میں ایسے جینوئن فنکار ہیں جو صرف اپنے ملک ہی نہیں بلکہ عالمی مسائل کے بارے میں بھی غور و فکر کرتے رہتے ہیں۔ ذوقی کو جب کبھی محسوس ہوتا ہے کہ اپنی بات پر زور دار طریقے سے بیان کرنے کے لئے انہیں صحافت کا سہارا بھی لینا ہو گا تو وہ ایک اچھے صحافی کی طرح مضامین کے انبار لگا دیتے ہیں۔ 
 ’’بھوکا ایتھوپیا‘‘ سے شروع ہونے والا سفر ’’لینڈ اسکیپ کے گھوڑے ‘‘   اور ’’پوکے مان کی دنیا‘‘ تک پہنچ کر ارتقاء کا اتنا لمبا سفر طے کرتا ہے جس پر لکھنے کے لئے چند صفحات کافی نہیں ہوں گے۔ اس لئے کہ ذوقی کا قلم اب بھی رواں ہے۔ جہاں ہمارے کئی فنکار تھک ہار کر سال میں دو ایک کہانیوں پر، وہ بھی کمزور کہانیوں پر اکتفا کرتے ہیں وہیں ذوقی کا قلم ہر برس اتنی شاہکار کہانیاں اردو ادب کو سونپ دیتا ہے کہ حیرت ہوتی ہے۔ یہاں یہ بھی بتانا ضروری ہے کہ ہر بار، ذوقی کی کہانیوں کے حوالہ سے ہم ایک نئے ذوقی کو دریافت کرتے ہیں۔ ’’بھوکا ایتھوپیا‘‘ کا ذوقی مختلف تھا۔ ’’منڈی‘‘ کا، ’’غلام بخش‘‘ کا   اور ’’صدی کو الوداع کہتے ہوئے ‘‘ کا ذوقی اس سے بھی مختلف۔۔۔بلا مبالغہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ ذوقی کی کہانیوں میں اتنے Shades ہیں کہ ہندوستان کی دیگر زبانوں میں بھی اس کی نظیر مشکل سے ملے گی۔ 
میلکم کاؤلے نے ہیمنگوے کی تکنیک کے بارے میں لکھا ہے : 
 ’’ہیمنگوے اپنا ناول اس طرح لکھتے ہیں جس طرح لوگ کسی نا معلوم علاقے کی دریافت کے لئے مہم پر نکلتے ہیں۔ ان کو منزل مقصود کا تھوڑا بہت اندازہ ہوتا ہے لیکن وہ تبدیل ہو سکتی ہے۔ جس سمت میں انہیں جانا ہے اس کے بارے میں وہ جانتے ہیں لیکن وہ یہ نہیں جانتے کہ وہ کتنی دور تک سفر کریں گے یا دن بھر کے سفر کے اختتام پر وہ کیا دریافت کریں گے۔‘‘ 
یہی بات ذوقی پر بھی صادق آتی ہے۔ ذوقی ہر بار ہمیں نا معلوم علاقوں   اور نئی نئی دنیاؤں میں لے جاتے ہیں۔ ان دنوں انہوں نے اپنی کہانیوں میں زبردست فنٹاسی کو داخل کرنے کی کوشش کی ہے۔ ’’فریج میں عورت‘‘ اس کی خوب صورت ترین مثال ہے۔ عام طور پر ہمارے ادیب ایک دلت کردار کو لا کر اس پر ناول لکھ کر دلت ادیب بننے کا سوانگ رچتے ہیں۔ ’’سور باڑی‘‘ سے لے کر ’’پو کے مان کی دنیا‘‘ تک ذوقی کی کہانیوں میں یہ دلت بطور فیشن داخل نہیں ہوئے ہیں۔ بلکہ ذوقی سنجیدگی سے دلت و مرش پر نہ صرف غور کرتے ہیں بلکہ ان کی الجھی ہوئی دنیا کو بھی پہچاننے کی کوشش کرتے ہیں۔ پوکے مان کی پوری کہانی ایک دلت لڑکی کے بلاتکار سے شروع ہوتی ہے۔ جو بعد میں بازار   اور ہماری سیاست کا حصہ بن جاتی ہے۔ ’’ذبح‘‘ ناول کے زیادہ ترکردار  دلت ہیں۔ ذوقی گہرائی سے مسائل کا احاطہ کرتے ہوئے سمندر کے اندر جا کر سیپیاں چن لانے کا فن جانتے ہیں   اور یہی بات انہیں اپنے ہم عصروں میں ممتاز کرتی ہے۔ 
ہیمنگوے نے ’’سہ پہر کی موت‘‘ میں لکھا ہے :
 ’’اگر ایک نثرنگار اسے اچھی طرح جانتا ہے جس کے بارے میں وہ لکھ رہا ہے تو وہ ایسی چیزیں جنہیں وہ جانتا ہے قلم انداز کر سکتا ہے   اور اگر اس نے سچائی سے لکھا ہے تو قاری کو ان غیر مذکورہ چیزوں کا احساس اسی شدت سے ہو گا جیسے مصنف نے ان کو بیان کیا ہو۔ برف کی چٹان کی حرکت کا وقار اس پر ہے کہ اس کا صرف آٹھواں حصہ پانی کے اوپر ہوتا ہے۔ لیکن اگر لکھنے والا چیزوں کو اس لیے نظر انداز کرتا ہے کہ وہ ان کو نہیں جانتا تو وہ اپنی تحریر میں کھوکھلی جگہیں پیدا کرتا ہے۔‘‘ 
ذوقی نے ہمیشہ ہر بار انہی سچائیوں کو اپنے قلم سے کیمرے میں قید کیا جسے وہ لکھ سکتے تھے۔ وہ دوسرے افسانہ نگاروں کی طرح لندن   اور پیرس کے قہوہ گھر نہیں گئے۔ کیونکہ ذوقی اپنی کہانیوں میں ایک نقلی دنیا آباد کرنے کے خلاف ہیں یعنی ایک ایسی دنیا جس کے بارے میں وہ جانتے بھی نہیں ہیں۔ اپنے ایک مضمون میں ذوقی نے اس بات کی وضاحت کچھ یوں کی ہے :
 ’’میں جانتا ہوں کہ میں کیا لکھ رہا ہوں۔ اور یہی چیز مجھے مطمئن کرتی ہے۔ افسوس ہماری نسل کے بہت سے افسانہ نگار ایسے ہیں جنہیں پتہ ہی نہیں کہ وہ کیا لکھ رہے ہیں   اور کیوں ؟‘‘ 
یہی مطمئن کرنے کا احساس ذوقی کو ایک بڑے فنکار کے طور پر سامنے لاتا ہے کیوں کہ ذوقی جانتے ہیں کہ وہ کیا لکھ رہے ہیں۔ اور اسی لیے ایک معمولی قاری کو بھی ذوقی کی فکر تک رسائی حاصل کرنے میں دشواری پیش نہیں آتی۔ ذوقی کا سب سے بڑا کمال ان کی کہانیوں کی Readability ہے۔ یہ بات ذوقی کے نقاد بھی تسلیم کرتے ہیں کہ ذوقی میں پڑھوا لینے کی قوت اپنے ہم عصروں میں سب سے زیادہ ہے۔ بات ہیمنگوے کی ہو رہی تھی۔ مجھے احساس ہے کہ شاید ہیمنگوے ہی وہ واحد ناول نگار ہیں جو ذوقی کے آئیڈیل رہے ہیں۔ کیوں کہ ذوقی نے کئی ایک مقام پر ہیمنگوے کا حوالہ بھی دیا ہے۔ ان کے مضمون سے ایک اقتباس ملاحظہ فرمائیے جس سے ذوقی کی فکر   اور ہیمنگوے کے لیے ان کی محبت سامنے آتی ہے :
 ’’دلّی کی پاگل بھیڑ بھری سڑکوں پر ہیمنگوے The old man پیر تسمہ پا کی طرح مجھ پر سوار تھا۔ دلی کی پریشان حال زندگی   اور لڑتے رہنے کا جذبہ__ 85ء سے 95ء تک کے بیچ میری کہانیوں پر ترقی پسندانہ رنگ غالب رہا۔ میں سوچتا تھا نثر، غریبی کے بد حال جسم کی طرح ہونی چاہیے۔ Glamourless __نثر کی زبان عصمت کی کہانیوں کی طرح رواں دواں نہیں ہو سکتی۔ میں نے اپنا تجزیہ کیا   اور ایک نئی روش اپنائی، نئی ڈگر پر چلا۔ 
بھوکا ایتھوپیا۔ بچھو گھاٹی، مرگ نینی نے کہا، میں ہارا نہیں ہوں کامریڈ، ہجرت، مت رو سالک رام، فنی لینڈ، پربت، مہاندی، تحفظ، تحریکیں، کان بند ہے، جلا وطن، ہندوستانی، دہشت کیوں ہے، کتنا وش، سور باڑی، تناؤ وغیرہ۔ 
میری کہانیاں تقسیم کے بطن سے جنمی تھیں۔ گو آزادی کے پندرہ برس بعد میرا جنم ہوا۔ لیکن میرے ہوش سنبھالنے تک یہ زخم تازہ تھا۔ بوڑھے بزرگ کے ہونٹوں پر تقسیم کا درد زندہ تھا   اور کراہتا تھا۔ غلامی، میرے لیے ایک اذیت ناک تصور تھا   اور آزادی کے بعد کے فسادات میرے نزدیک انتہائی بے رحم/ آزادی کی خوں بھری سوغات کی مانند تھے۔‘‘ 
 ’’میں اپنی زمین نہیں چھوڑ سکتا تھا۔‘‘ 
میں اپنے مسائل کو نظر انداز کر کے قلم نہیں اٹھا سکتا تھا۔ 
فساد، ہندو، مسلمان، اردو   اور پاکستان میں کئی چیزیں مشترک تھیں۔ مجھے ڈر لگتا تھا جب خوف کی چنگاریاں بند کمرے میں سہما سہما چہرہ دکھایا کرتی تھیں۔ میں سوچتا تھا کیوں ہوتا ہے ایسا۔ 
گاندھی جی کا قتل ہوتا ہے۔ مسلمان اپنے اپنے گھروں میں چھپ جاتے ہیں۔ کسی مسلمان نے مارا ہو، تو ۔۔۔ ۔۔۔ ؟
خدا نخواستہ قاتل کوئی مسلمان ہوا تو؟
اندرا گاندھی کی ہتیا ہوتی ہے ۔۔۔مسلمان اپنے اپنے گھروں میں چھپ جاتے ہیں۔ 
راجیو گاندھی کی ہتیا ہوتی ہے ۔۔۔مسلمان اپنے اپنے گھروں میں چھپ جاتے ہیں۔ 
کیوں ؟ کیوں ؟
100 کروڑ آبادی والی جمہوریت میں 25 کروڑ کی یہ آبادی اقلیت کہلاتی ہے ؟
کیوں ؟
میں ترقی پسندی کے راستہ پر اسی لیے چلا کہ میں ان سوالوں سے بچ بچا کر نہیں گذر سکتا۔ میرے اندر کا تخلیق کار ان سوالوں کو نظر انداز نہیں کر سکتا۔‘‘ 
ذوقی صحیح معنوں میں ہمارے عہد کے دانشور فکشن نگار ہیں۔ وہ مسلسل غور و فکر کے عمل سے گزرتے رہے ہیں۔ ان کے یہاں پیچیدگی نہیں ہے۔ الجھاؤ نہیں ہے۔ تکنیک   اور اسلوب کی سطح پر وہ اپنی ہر کہانیوں میں ایک نئے پائدان پر ہوتے ہیں۔ ذوقی کی کہانیاں بولتی ہیں، بلکہ میں تو یہاں تک کہوں گا کہ چیختی ہیں   اور اپنا احتجاج درج کراتی ہیں۔ یہ اردو زبان کی خوش نصیبی ہے کہ ذوقی کے روپ میں ہمیں ایک بڑا فنکار   اور دانشور مل گیا ہے۔ ذوقی صرف میرے پسندیدہ یا محبوب فنکار نہیں بلکہ ہندوستان سے پاکستان   اور ہندی زبان تک ان کی مقبولیت بڑھتی   اور پھیلتی جا رہی ہے۔ 

بیان: ایک آواز، ایک احتجاج
بیان 6  دسمبر کے نام ہے ___ کہانی بابری مسجد شہادت کے ارد گرد گھومتی ہے ___ ملک کے حاشیے پر ابھرنے والے سیاسی ہیرو اس ناول کے کردار ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ یہ سارے کردار بظاہر سرکس کے جوکر نظر آتے ہیں مگر اندر سے انتہائی خطرناک   اور مصنف کے نزدیک غدّارِ وطن ___ ایک طرف مصنف نے جہاں بابری مسجد حادثہ کے سیاسی اماموں کی بخیہ گری کی ہے، وہیں بابری مسجد ایکشن کمیٹی کے ممبران بھی اس ناول میں ننگے نظر آتے ہیں۔ ناول میں چند بھاجپائی کردار ہیں جو ملکانی، سکندر بخت، اٹل بہاری باجپائی   اور اڈوانی سے ملتے جلتے ہیں ___ ڈاکٹر نویندو کے کرار میں اشوک سنگھل کی جھلک نظر آتی ہے ___
پہلی بار کسی اردو ادیب نے اس طرح کے موضوع پر یلغار کی ہے   اور بتایا ہے کہ ملک میں ہونے والے دنگے اگر اسی طرح ہوتے رہے، فرقہ پرست طاقتیں ’اُبھرتی رہیں، کانگریس   اور بھاجپا رنگ   اور چولے بدل بدل کر عوام کو لبھاتی رہیں   اور عوام ان کے بہکاوے میں آتی رہی تو نہ اس ملک میں مسلمان بچیں گے، نہ وہ ہندو، جو سیکولر خیالات رکھتے ہیں ___
کہانی ایک بزرگ ہندو بالمکند شرما جوشؔ کے ارد گرد گھومتی ہے ___ بالمکندشرما جوش مشترکہ تہذیب کی ترجمانی کرنے والا شخص ہے ___مگر رتھ یاتراؤں کی فضا میں یہ شخص دھیرے دھیرے ختم ہو رہا ہے ___
بیان کا موازنہ تسلیمہ نسرین کے متنازعہ ناول ’’لجّا‘‘ سے بھی کیا گیا ہے ___ لجّا کا پس منظر بھی بابری مسجد ہے ___ ’’بیان‘‘   اور ’’لجّا‘‘ میں فرق یہ ہے کہ لجّا بنگلہ دیش میں مسلمانوں کے غیض و غضب کا شکار ہوئے ہندوؤں کی کہانی ہے۔ یعنی وہ اقلیتی طبقہ، بابری مسجد کی آڑ لے کر کٹّر پنتھی ملاؤں کے ظلم کا شکار ہوا ___ لجّا کی کہانی ایسے ہندوؤں کے ارد گرد گھومتی ہے ___جبکہ بیان ہندستانی مسلمان کی کہانی ہے جن کی تمام تر وفاداریوں کے باوجود جن پر شک کیا جاتا ہے۔ ہندوستان میں مسلمان اقلیت میں ہیں۔ بنگلہ دیش میں ہندو___ بیان ہندوستان کے سیکولر کردار پر سوالیہ نشان کھڑا کرتا ہے ___ 
ناول نگار مشرف عالم ذوقی اردو   اور ہندی دونوں زبانوں میں لکھتے ہیں۔ اس سے پہلے اڈوانی کی رتھ یاتراؤں کو لے کر ان کا ناول ’’مسلمان‘‘ ہندی میں شایع ہو چکا ہے۔ 
اس ناول کے کچھ اقتباسات حاضر ہیں :
 ’’وہ دن دور نہیں جب بازار میں مول کرنے جاؤ گے تو پوچھا جائے گا، کس کی تھالی چاہیے ہندو کی تھالی یا مسلمان کی تھالی___‘‘ 
چودھری برکت حسین آنکھوں میں جگہ گھیرتے ہیں ۔۔۔اب تم بھی خطرے میں ہو بالمکند شرما جوش؟ کیونکہ تمہارے نام کے ساتھ جوش لگا ہے ___  آدھے مسلمان۔‘ 
 ’میاں ایسا ہوا تو ازار بند کھول کر ۔۔۔ ‘ 
 ’کھولو گے تب بھی فرق نہیں پڑے گا جوش میاں ___  کیونکہ اب ہمارے بعد تم ہو۔ تم جیسے سیکولر سوچنے والے ___  اب وہ چن چن کر تمہیں ختم کریں گے ___  تم جہاں کہیں بھی ہو گے، تمہیں تلاش کریں گے   اور ختم کر دیں گے۔ 
اُس دن جمعہ تھا۔ جمعہ تھا، یہی بڑی بات تھی___  جمعہ کا مطلب مسلمانوں کا دن___  سات دنوں میں پانچ دن ہندوؤں کا، جمعہ جمعرات مسلمانوں کا___  جمعہ کا مطلب کرتا پائجامہ، جمعہ کا مطلب ٹوپیاں، جمعہ مطلب مسجدوں کی طرف بڑھتے ٹوپی پہنے قدم۔۔۔جمعہ مطلب مسجدوں کی طرف جانے والے راستوں میں ہلچل___    اور بدلتے وقت کے ساتھ جمعہ کا مطلب، تناؤ کی فضا، دہشت کا رنگ، وحشت کی ترنگ   اور سڑکوں پر پولس ٹکڑیوں کا جماؤڑا۔۔۔ 
سب ایک ہے، آپ کو تو پتہ ہی ہے ۔۔۔آر۔ ایس۔ ایس، بھاجپا، وشو ہندو پریشد   اور بجرنگ دل، سب ایک ہی چیز ہیں۔ قاعدے قانون   اور صحیح پرشکچھن کے لیے آرایس ایس ہے، لڑنے مرنے کٹنے یعنی فوج کا کام کرتی ہے بجرنگ دل، راجنیتک استعمال کے لیے ہے بھاجپا۔۔۔، 
ملکانی نے آگے بڑھ کر صوفے کے کنارے میز پر رکھا ہوا ٹیپ آن کر دیا۔ یہ ٹیپ اُس نے اجودھیا سے خریدا تھا۔ سیتا رسوئی کے پاس والی دکان سے۔ کمرے میں ٹیپ بجنے لگا۔ مندر وہیں بنے گا۔۔۔ 
جئے شری رام۔۔۔ٹھہر کر ملکانی بولا ___ سنکیت اچھے مل رہے ہیں ۔۔۔ہم پر جتنا انکش یا پرتینبدھ لگایا جا رہا ہے، اسکا لابھ ہم کو مل رہا ہے ___ مسلمان بھی کانگریس کے خلاف ہو گئے ہیں ___ جن سنگھ کے بعد اب تک کے اتہاس میں یہ پہلی بار ہے جب ہم اتنی جن چتینا عام ہندوؤں میں جگا پانے میں کامیاب رہے ہیں   اور یہی ہماری سب سے بڑی سفلتا ہے۔ جب جن سنگھ تھی، تب یاد ہو گا، ہم نے گؤ ہتیا روکنے کا ابھیان چلایا تھا۔۔۔پرنتو اتنا بڑا سمرتھن ہمارے حصے میں پہلی بار آیا ہے   اور یہ سمرتھن ہمیں اوشیہ پ   اور مارگ تک لے جائے گی۔‘ 
ایسے لوگ جو سیکولر سیکولر چلاتے ہیں   اور دھرم نریپکچھتا کی باتیں کرتے ہیں۔ ایسے لوگ ہمارے لیے گھاتک ثابت ہو سکتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو چاہیے کہ اپنا رویّہ اسپشٹ کریں۔ مستقبل میں آ کر پارٹی ان سے خطرہ محسوس کرتی ہے تو ہمیں ایسے لوگوں کے وردھ بھی اٹھنا ہو گا۔ 
علیم بخت نے کہا ___ میں اپنے بارے میں سوچتا ہوں کہ اگر اس ملک کی 80 فیصد آبادی ہندو نہ ہوتی تو میرا کیا ہوتا۔ اگر یہ ملک ہندوؤں کا نہ ہوتا تو علیم بخت کا وہی حشر ہوتا جو پاکستان میں کسی رام لعل کا ہوتا ہے۔ 
1947 میں پاکستان کا اسلامی راشٹر گھوشت ہونا جائز تھا تو ہندوستان کا ہندو راشٹر گھوشت ہونا ناجائز کیوں ! لیکن اس وقت بھی ہندستان ہندو راشٹر نہیں بنا___ 80 فیصد جنتا کے ہندو ہوتے ہوئے یہ قربانی ہندو جتنا ہی دے سکتی ہے ___
اس میں شک نہیں کہ یہ ناول غیر معمولی نوعیت کا حامل ہے ___ آزادی کے بعد سامنے آنے والے گنتی کے دو ایک بڑے ناولوں میں بہ آسانی اس ناول کو رکھا جا سکتا ہے ___ ’بیان ایک مطالعہ‘ کی بازگشت بہت دنوں سے سنائی دے رہے تھی۔ میں نے ذوقی سے اس سلسلے میں بات کی، اور خواہش ظاہر کی کہ کیوں نہ اس ناول پر شایع ہونے والے مضامین کا ایک انتخاب لایا جائے۔ کیونکہ مجھ سے پہلے یہ کام ایم قمر علیگ انجام دینے والے تھے۔ ذوقی کی پریشانی یہ تھی کہ ان میں سے بہت سے مضامین یا تو غائب ہو گئے۔ یا پھر تلاش بسیار کے بعد بھی نہیں ملے۔ ذوقی کے مطابق بہت سا میٹر کمپیوٹر کی میموری میں تھا لیکن کمپیوٹر کے ہینگ ہو جانے کی وجہ سے یہ آخری راستہ بھی بند ہو گیا۔ پھر اُنہی مضامین پر قناعت کرنا پڑا جو بمشکل ادھر اُدھر سے کسی صورت جمع کیے گئے ___
میں ذوقی اسٹائیل کا شروع سے مداح رہا ہوں ___ بیان   اور مسلمان سے لے کر ان کے تازہ ناول ’’پوکے مان کی دنیا‘‘ تک، نہ صرف میں نے سنجیدگی سے مطالعہ کیا ہے بلکہ یہ بھی خواہش ہے کہ آنے والے چند برسوں میں ان پر الگ الگ کتابیں قارئین کے سامنے پیش کر سکوں۔ در اصل موجودہ دور میں ذوقی کی موجودگی اردو ادب کے سمندر میں کسی چٹّان کی مانند ہے۔ ذوقی نہ کسی سے متاثر ہوتے ہیں نہ مرعوب___ اُن کا اپنا انداز، اپنا رنگو آہنگ ہے۔ کہانی کہنے کے ہنر میں اُن کا کوئی ثانی نہیں ___ بلا شکو شبہ آج ذوقی کے قلم سے جو کہانیاں جنم لے رہی ہیں، اُنہیں کسی بھی عالمی معیار کے سامنے رکھا جا سکتا ہے ___
٭٭٭



بیان اور ذوقی
ایک مکالمہ

ڈاکٹر مشتاق احمد

گفتگو بیان سے شروع ہوئی لیکن اردو ادب کے مختلف گوشوں تک پھیلتی چلی گئی___ اتنا غصہ، اتنی آگ؟ شاید اس مکالمہ سے قبل میں اس نئے ذوقی سے واقف ہی نہیں تھا۔ ذوقی نے بتایا، کالج کے دنوں میں جب وہ آ رہ میں تھے، کہانی سوڑ باڑی پڑھ کر ڈاکٹر محمد حسن کا ایک خط ملا تھا۔ ’اپنے اندر کی چنگاری کو بجھنے مت دینا‘۔ ۴۳ سال کی عمر ہو جانے کے باوجود ذوقی نے یہ چنگاری اب تک بجھنے نہیں دی ہے۔ اس گفتگو میں ذوقی کھل کر بولے   اور خوب بولے ___    اور ان میں کچھ باتیں ایسی بھی ہیں، جس کا اظہار ذوقی نے شاید پہلی بار اس بات چیت میں کیا ہے۔ 
مشتاق احمد :  آپ کا تعارف یا آپ کی کتابوں کے بارے میں کسی کو بھی بتانے کی ضرورت نہیں ہے۔ تو کیوں نہ سیدھے، بات بیان سے ہی شروع کی جائے۔ 
ذوقی :  آپ بات کہیں سے بھی شروع کریں گے، ذوقی کی بات آئے گی تو ’’بیان‘‘ کا تذکرہ ہو گا ہی___
مشتاق احمد :  تو کیوں نہ ’’بیان‘‘ کے پس منظر کے بارے میں کچھ بات کر لی جائے ___
ذوقی :  منظر   اور پس منظر کے بارے میں، میں نہیں جانتا۔ آنکھیں کھولیں تو بہار میں دنگے بھڑک رہے تھے۔ اس زمانے میں دنگے ہونا کوئی بڑی بات نہیں تھی۔ میں جین اسکول آ رہ میں پڑھتا تھا۔ وہاں کے بچے، مسلمانوں کے بارے میں جو رائے رکھتے تھے، اس سے تکلیف ہوتی تھی۔ پیچھے مڑ کر دیکھتا ہوں تو جیسے صدیاں گزر گئیں معلوم ہوتی ہیں۔ لیکن لگتا ہے، آزادی کے بعد نفرت کا کہرا چھٹا نہیں ہے۔ وہ دلوں میں گھر کر گیا ہے۔ بابری مسجد تو ۱۹۹۲ء میں شہید ہوئی۔ گجرات کا زخم تو حالیہ ہے ___ لیکن آ رہ شہر میں برسوں پہلے میں کیا دیکھ رہا تھا، جس نے بعد میں مجھ سے نہ جانے کتنی کہانیاں   اور ’’مسلمان‘‘ جیسا ناول بھی لکھنے پر مجبور کیا۔ دوستی   اور محبت کی رسم نبھاتے ہوئے بھی لگتا تھا، گھر   اور باہر کی دنیا دو مختلف دنیائیں ہیں۔ آدمی ایک ہوتا ہے۔ لیکن گھر میں زبان مختلف   اور باہر کی زبان مختلف ہوتی ہے۔ آدمی اتنا دوغلہ ہوتا ہے کیا___؟ باہر کا ترقی پسند گھر کے دروازے پر پہنچتے ہی ہندو   اور مسلمان بن جاتا تو خود پر رونا آتا۔ سچّائیاں کیوں نہیں لکھتے ہو تم؟ بولو___ جھوٹ لکھتے ہو۔ اس لیے کہ جھوٹ لکھنے پر مجبور ہو۔ اور تو   اور جب نوکری کرنے لگ جاؤ گے تو سرکاری پابندیوں کی قید میں وہی لکھنے پر مجبور ہو گے جو حکومت چاہتی ہے۔ بچپن میں ہی طے کر لیا تھا___ سرکاری نوکری نہیں کرنی ہے مجھے ___ اتنا غصہ، اتنی آگ تھی کہ پریشان رہتا تھا۔ جھوٹ برداشت نہیں کر سکتا تھا___ نوجوانی کے زمانے میں منٹو، اقبال مجید کے بعد والی نسل کی کہانیاں پڑھتا تو رونا آتا تھا۔ وہ زمین کہاں ہے ؟ جھوٹ لکھتے ہیں سب کے سب___ اس لیے کہ سچ لکھ ہی نہیں سکتے۔ پھر ایسی کہانیاں لکھنے سے فائدہ___ بچپن میں طے کر لیا تھا کہ جو کچھ یہ آنکھیں دیکھ رہی ہیں، اس سچ سے منہ چھپانے کی کوشش نہیں کروں گا۔ مشتاق صاحب، اسی لیے میری شروعات کی کہانیاں دیکھ لیجئے، ان میں بہار کے دنگے ہیں۔ ہنگامے ہیں۔ دہشت ہے   اور سماج   اور سیاست کا ننگا سچ ہے ___ آزادی کے ۱۵ برس بعد ۱۹۶۲ء میں، میرا جنم ہوا۔ کتابوں   اور بڑے بزرگوار کے منہ سے غلامی کی جو کہانیاں سنیں   اور پڑھیں، اس کا بھی اثر تھا۔ اور پھر آ رہ کے گلی کوچوں، جین اسکول   اور وہاں سے گھر کی چہار دیواری تک واپس آتے ہوئے میں جس سچ سے آپ گزر رہا تھا، اسے لکھنا میرے لیے ضروری ہو گیا تھا۔ ایک خاص بات بتاؤں۔ ۱۹۸۳ء مظفر پور میں امی کا انتقال ہوا۔ میں اس زمانے میں کالج، شاید گریجویشن کے دوسرے سال میں تھا۔ امّی جیسی ہستی الوداع کی گھاٹیوں میں ہمیشہ کے لئے گم ہو گئی تھیں   اور میں ___ دنگے کی کہانی لکھ رہا تھا۔ مجھے تسلّی مل رہی تھی۔ امّی، اچھا کیا، جو تم یہ شہر، یہ دنیا چھوڑ کر چلی گئی۔ یہ رہنے والوں کی جگہ ہی نہیں ہے ___ میں مانتا ہوں۔ یہ نفرت اس ملک کا سچ نہیں ہے۔ اچھے لوگ بھی ہیں ___ مگر بچپن سے جوانی تک واقعات کی لڑیوں نے مجھے اتنا توڑا، اتنا تقسیم کیا کہ میں نے اپنی کہانیوں کا ’فلک‘ محدود کر لیا۔ غلامی، ہجرت، تقسیم   اور تقسیم کے بعد ملک میں ہونے والے فرقہ وارانہ دنگے۔ میری کہانیاں یہیں سے شروع   اور یہیں پر ختم ہو جاتی تھیں۔ میں ذکی انور کی شہادت کو بھی نہیں بھول پایا۔ بھاگلپور، ملیانہ، بھیونڈی کے فسادات کو بھی نہیں۔ ۱۹۸۵ء میں، میں دلّی چلا آیا___ ۱۹۸۹ء میں پاکستان کو لے کر پراکسی وار، کی شروعات ہو چکی تھی۔ اڈوانی جی کی رتھ یاتراؤں نے نفرت کو اپنی انتہا پر پہنچا دیا تھا۔ اب لگتا ہے، گجرات ہو، یا پھر پروین توگڑیا جسے زہر میں ڈوبے ہوئے لوگ، یہ سب تو اڈوانی کی پیداوار ہیں۔ ان سب کا مجرم تو اڈوانی ہے۔ مودی تو اسی نقش پا کے پیچھے چلا، جہاں اڈوانی کھڑے تھے۔ اڈوانی کی خوبی یہ تھی کہ ایک سیکولر ملک میں جہاں جن سنگھ، جیسی فاشسٹ تنظیم یا پارٹی کو بھی پھلنے پھولنے کا موقع نہیں ملا، اُس نے زہریلے دماغ دیئے۔ زہر کے بیج بوئے۔ اور جب یہ پودا تھوڑا بڑا ہوا تو اپنی نگرانی میں اس پودے کو سینچا۔ بڑا کیا___ یہ ملک کی خوش نصیبی ہے کہ بی جے پی چھ برسوں میں سمٹ گئی یا کھو گئی___   اور خدا نہ کرے یہ دوبارہ واپس آئے۔ کیونکہ اگر یہ دوبارہ واپس آتی ہے تو یہ اس بار یہ اپنا کھلا کھیل فرخ آبادی،  کھیلنے پر مجبور ہو گی۔ اور مسلمانوں کے لیے اس ملک میں چین سے جینا مشکل ہو جائے گا۔ سچ یہ ہے کہ میں جب آج کے حالات پر غور کرتا ہوں توماضی میں تقسیم کے ہولناک واقعات میرا راستہ روک لیتے ہیں۔ 
   اور سچ یہ ہے ملک کی تقسیم کی تاریخ کو، بعد کی نسلیں بھی فراموش کرنے میں ناکام رہیں۔ گویا یہ اپنے آپ میں ایسا زخم تھا جس کا ذکر آتے ہی مسلمانوں کے لئے ایک عجیب سی نفرت کا جذبہ پیدا ہوتا تھا___ جن سنگھ   اور جن سنگھ سے پیدا ہوئی ہندوتو۔ شاکھاؤں نے اسی نفرت بھرے تصور کو پروان چڑھایا۔ اور لوگوں کو بھڑکایا۔۔۔دراصل یہ وہی فلسفہ تھا، جو خون آلودہ تقسیم کی کوکھ سے پیدا ہوا تھا۔۔۔شاید یہ سچ بھی جلد ہضم نہیں ہو سکا کہ بٹوارے سے پیدا ہوا ایک ملک تو اپنے کلچر   اور تہذیب کو لے کر ’’جمہوریت‘‘   اور سیکولرزم کا دعویٰ ٹھوکتا رہا___ وہیں دوسرے ملک نے جمہوریہ اسلام کا ’’ٹھپّہ‘‘ لگا کر رہی سہی وفاداری   اور دوستی کی دیوار پر آخری کیل ٹھونک دی___ یہی نہیں جب اس جمہوریہ اسلام کہنے جانے والے ملک سے بنگلہ دیش الگ ہوا۔۔۔تب اس دوسرے ملک پر بھی اسلامی ملک کا ٹھپّہ برقرار رہا___
پچھلے 57 برسوں میں وشو ہندو پریشد، ہندو مہا سبھا، یا شیوسینا جیسی جماعتوں کے گلے سے اسلام کی ہڈّی نہیں نکلی ہے۔ آزادی کی بعد کی تاریخ میں پڑوسی ملک کے تعلق سے جب کبھی مذہبی آزادی کو لے کر کلنک،  جیسا کوئی بھی حادثہ سامنے آیا ہے، اسے فوراً اسلام سے یا مسلمانوں سے جوڑ کر دیکھا گیا ہے ۔۔۔نتیجے کے طور پہ نفرت کی آندھی کم ہونے کے بجائے بڑھتی چلی گئی ہے۔ 
آزادی کے بعد جن سنگھ کی مسلسل شکست نے مسلمانوں   اور سیکولرازم کے خلاف نیا مورچہ کھولنا شروع کیا۔ جن سنگھ کے نئے اوتار بھاجپا نے جن سنگھ سے سبق لیتے ہوئے نئے طریقے سے کام کرنا شروع کر دیا۔ کام مشکل تھا، لیکن ٹھوس   اور کامیاب نتیجہ دینے والا۔ اور جس رتھ کے مہارتھی اٹل بہاری، شری اڈانی   اور مرلی جی جیسے دانشور ہوں، وہاں ’صبر،  انتظار  اور راج کرو‘  کے نظریئے خود ہی کام کرنے لگتے ہیں۔ رتھ یاترا، بابری مسجد یا متنازعہ ڈھانچے کے گرائے جانے کے بعد سے ہی نئے ہندو سمی کرن، بننے شروع ہو گئے تھے ۔۔۔انہیں سمی کرنوں ،  سے کٹیار، توگڑیا   اور مودی جیسے تیز دھار والے بے لگام شمشیروں کی تخلیق ہوئی تھی۔ اب یہ ایسے بے لگام گھوڑے بن چکے ہیں، جن کی آواز اگر روکی نہیں گئی تو ملک کو ایک بار پھر سخت مصیبت سے گزرنا پڑ سکتا ہے۔ اسی لیے میں کہتا ہوں کہ کوشش کیجئے کہ یہ حکومت بنی رہے   اور ہماری غلطیاں بی جے پی کی واپسی نہ کرادیں۔ 
مشتاق احمد :  بیان پر جلد ہی ہم واپس لوٹیں گے۔ ظاہر ہے اس گھناؤنی سیاست نے ہندستان کے تمام مسلمانوں کا دل دکھایا ہے۔ تقسیم کے بعد بابری مسجد شہادت کی داستان یا پھر گودھرا کانڈ کے بعد ہونے والے فسادات کو ہی دیکھ لیجئے۔ 
ذوقی:  تقسیم ایک پڑاؤ تھا۔۔۔اب ایک اہم پڑاؤ گودھرا بن گیا ہے۔ مسلمان آنے والے وقت میں بھی اس پڑاؤ سے گزرے بغیر آگے نہیں جا سکتے ۔۔۔مہیش مانجریکر کی حالیہ فلم ’’پران جائے پرشان نہ جائے ‘‘ میں ایک مسلم غریب کردار ایک ہندو کے منہ سے بار بار پاکستانی کہے جانے پر چیختا ہے ۔۔۔’سالے ۔۔۔ورلڈ ٹریڈٹ اور میں ہوائی جہاز گھستا ہے تب بھی یہاں آکر ہم سے پوچھتے ہو جیسے ہم نے ہی گھسایا ہے۔‘‘ 
اصلیت یہی ہے کہ آپ اقلیت میں ہوتے تو جانتے کہ اقلیت ہونا کیا ہوتا ہے۔ تقسیم کے بعد سے لے کراب تک میں نے پتہ نہیں اپنے کتنے مضامین میں اس لفظ اقلیت کے خلاف اپنا احتجاج درج کرایا ہے۔ مجھے شروع سے ہی اقلیتی کمیشن جیسے اداروں سے خدا واسطے کا بیر رہا ہے۔ میری اپنی منطق تھی کہ ہندستان میں مسلمان کی آبادی ۲۰ کروڑ سے کم نہیں  اور اتنی بڑی آبادی اقلیت نہیں ہو سکتی۔ اسے دوسری بڑی اکثریت کا نام دینا چاہئے۔ مجھے احساس تھا کہ محض دوسری بڑی اکثریت کے اعلان کے انجکشن سے ہمارے بہت سارے مسائل حل ہو سکتے ہیں۔ لیکن شاید میں غلطی پر تھا۔ 
گودھرا کانڈ کے بعد جیسے ساری حقیقتیں بدل گئیں۔ مودی کا ہندوتو چمکا۔۔۔گجرات ہندوتو کی پہلی لیبارٹری بنا۔۔۔وی ایچ پی، بجرنگ دل جیسی ہندو تنظیموں کی نفرتیں کھل کر سامنے آئیں ۔۔۔توگڑیا کا ترشول گھر گھر پہنچا۔۔۔ملک میں اس سے پہلے بھی فساد ہوتے رہے لیکن نفرت کی ایسی کہانی کا جنم پہلی بار ہوا تھا۔۔۔کیا تاریخ خود کو دھرا رہی تھی؟ تہذیبوں کی تاریخیں بدلی تھیں ۔۔۔نئی دنیا میں مہذب ہونے کا ایک ہی مطلب تھا۔۔۔طاقتور ہونا___ ہم نے یہ بھی جانا کہ اصول، قاعدے قانون اقلیتوں کے پاس نہیں ہوتے ___ طاقتوروں کے پاس ہوتے ہیں۔ ہزاروں چشم دید گواہوں کے باوجود مودی یا توگڑیا پر کوئی پوٹا کوئی قانون نافذ نہیں ہوتا۔ لیکن اب حالات بدلے ہیں۔ کتنوں دنوں تک بدلے رہیں گے۔ کوئی نہیں جانتا___ لیکن ایک بات ہے مشتاق صاحب کبھی کبھی لگتا ہے ___ بی جے پی کو تھوڑے دنوں تک  اور رہنا چاہئے تھا۔ 
مشاق احمد :  کیوں ؟
ذوقی:  اردو والوں کے چہروں کا ماسک اترتا۔ پہلے بھی اُتر چکا تھا۔ قاضی عبیدالرحمن ہاشمی سے علی احمد فاطمی تک___ میں زور دے کر کہتا ہوں اگر بی جے پی دوبارہ برسر اقتدار آگئی ہو تی تو شاید اردو والے سارے ہی سینگ کٹا کر بی جے پی میں شامل ہو گئے ہوتے۔ مگر اس آندھی میں، یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں، پانچ فیصدی ہندی والے ہی ہوتے جو اپنی جنگ بی جے پی کے خلاف جاری رکھتے۔ 
مشتاق احمد :  چلیے تسلیم___ غلامی، تقسیم   اور دنگوں پر ڈھیر ساری کہانیاں لکھنے کے باوجود آخر آپ کو وہ درجہ کیوں نہیں دیا گیا، جو منٹو کو دیا گیا؟ 
ذوقی:  درجہ آسانی سے نہیں مل جاتا۔ منٹو اس معاملے میں خوش قسمت تھے۔ اس کی زندگی میں ۔۔۔خوش قسمتی کی لاٹری نکل چکی تھی۔ قصور ہمارے نقادوں کا ہے، جنہوں نے اپنی تساہل پسندانہ طبیعت کی وجہ سے منٹو سے آگے جھانکنے کی ضرورت بھی محسوس نہیں کی۔ وہی چار بڑے۔ منٹو، عصمت، کرشن، بیدی___ لیکن ایک زمانہ آتا ہے جب اچانک تبدیلی   اور خوشگوار انقلاب کے تھپیڑے چلتے ہیں۔ اور پھر اچانک آپ تک لوگوں کی نگاہ جاتی ہے ___ مجھے لگتا ہے۔ آج نہیں کل، کل نہیں پرسوں، میرے مرنے کے بعد ہی سہی۔ کم سے کم یہ دن ضرور آئیں گے کہ منٹو کی کہانیوں سے الگ میری کہانیوں پر بھی توجہ کی جائے گی___ وہ کہانیاں جو غلام بخش سے شروع ہو کر احمد آباد ۳۰۲ میل تک پھیلتی چلی گئی ہیں۔ 
مشتاق احمد :  لیکن بیان کے بعد آپ کے یہاں زبردست تبدیلی بھی دیکھنے کو ملی۔ جیسے آپ ماڈرن سینسی بیلیٹی کی بات کرنے لگے۔ آپ کی کہانیوں میں دلت سے لے کر ایلٹ کلاس کے لوگ بھی جگہ بنانے لگے۔ کیا یہ بکھراؤ ہے یا کہانی کو نئے اُفق میں دیکھنے کی کوشش۔ 
ذوقی :  بیشک صحیح کہا آپ نے۔ مگر خدارا، دشمنوں کی زبان نہ بولیے۔ ذوقی کے یہاں جتنے یا ڈائمنشن ہیں۔ کس کے یہاں ہیں۔ میں عبد الصمد یا شوکت حیات کے بعد کی نسل سے تعلق رکھتا ہوں۔ اگر آ رہ جیسی چھوٹی جگہ میں مجھے پبلشر مل گئے ہوتے تو سب سے پہلا ناول اس نسل میں، عبد الصمد سے پہلے میرا آگیا ہوتا۔ ۱۹۸۰ء تک میں یہ ناول لکھ چکا تھا۔ لمحۂ  آئندہ، شہر چپ ہے، نیلام گھر   اور عقاب کی آنکھیں۔ میں ہمیشہ نئے موضوعات کی تلاش میں رہا۔ دلت سے ایلٹ کلاس تک__ آپ اسے ویرائیٹی کیوں نہیں کہتے کہ جتنی ویرائٹی ذوقی کے یہاں ہے۔ کسی میں نہیں۔ ناول کی بات کریں تو بیان کے بعد ذبح، پوکے مان کی دنیا   اور اب ’پروفیسر ایس کی کی عجیب داستان وایا سونامی‘ تک___ میں لفظوں کا غلام نہیں۔ زبان سے کھیلتا ہوں میں۔ لوگ جلتے ہیں   اور میرے بارے میں زبان زبان کی افواہیں پھیلاتے ہیں یا پھر بسیار نویس کہہ کر میرے قارئین کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ حساب لگائیے تو سن ۲۰۰۰ء سے ۲۰۰۵ء تک مشکل سے دس کہانیاں   اور دو ناول یعنی ایک سال میں دو کہانیوں کا حساب بس۔ کیا یہ بسیار نویسی ہے ___ کیا ذوقی اپنے آپ کو ریپیٹ کرتا ہے۔ پچھلے سال صرف دو نئی کہانی لکھی۔ وارن ہسٹنگس کی ٹوپی   اور ڈرا کیولا۔ اس سال ایک نئی کہانی شروع کی ہے۔ امام بخاری کی نیپکین۔ کہانی بھی ناول کی طرح کئی نشست میں لکھتا ہوں۔ ہاں، میرا اُفق اتنا بڑا ہے کہ فاطمیوں   اور قاسمیوں کے ہاتھ نہیں آئے گا۔ علی گڑھ کے نقاد، ہاں یہ نام زیادہ موزوں ہے (ہنسی)۔ علی گڑھ والے، شافع قدوائی کو چھوڑ دیجئے۔ کہاں پڑھتے ہیں۔ علی گڑھ کی سنتے رہیں ، علی گڑھ پر لکھتے ہیں۔ ہندستان میں اردو کی نمائندگی نہیں کرتے۔ صرف علی گڑھ کی نمائندگی کرتے ہیں۔ اور پھر آپ کیوں سوچتے ہیں کہ ہر ایرہ  غیرہ آپ کا نام لیتا رہے۔ میرے لیے قارئین کی محبت سب سے زیادہ اہم ہے۔ اور وہ میرے حصے میں شروع سے رہی ہے۔ 
مشتاق احمد :  ابھی حال میں گجرات کے موضوع پر آپ کی کتاب ’’لیبارٹری‘‘ شائع ہوئی۔ مگر ہندی میں ___ اردو میں کیوں نہیں ؟ دیکھا تو جائے تو اس نوعیت کی کتابیں بیان کا ہی Extension لگتی ہیں۔ 
ذوقی:  بجا فرمایا۔ لیبارٹری کو ہندی میں پبلشر مل گئے۔ اردو میں نہیں ___ آپ کیوں چاہتے ہیں کہ اردو کا مصنف صرف اپنی جیب سے پیسے لگاتار ہے   اور لوگوں کو اپنے ڈاک خرچ پر کتابیں بھیجتا رہے۔ اتنا سرمایہ نہیں ہے میرے پاس۔ خواہش تھی کہ لیبارٹری بھی اردو میں شائع ہو سکے۔ نہیں ہو سکی۔ میں ٹھہر ٹھہر کر در اصل اسی موضوع پر، آ جاتا ہوں۔ بی جے پی کے دورِ اقتدار میں بھلا فرقہ واریت سے الگ، کسی موضوع پر سوچا ہی کیسے جا سکتا تھا؟   اور جہاں گجرات، مودی کا ہندوتو، اور ترشول پورے بھارت میں چمک رہا ہو تو آپ بھلا ایک مصنف کی حیثیت سے ایسے Issues کو Ignore کیسے کر سکتے ہیں۔ جابر حسین نے گجرات پر نظمیں شائع کیں تو ان کی کتاب میں میری ۳۰ نظمیں گجرات پر ایک ساتھ شامل تھیں ___ یہ نظمیں پسند کی گئیں۔ اس لیے یہ طے کرنا مشکل نہیں ہے کہ اردو میں زیادہ کون جاگ رہا ہے ___ باقی سوئے ہوئے لوگوں کو ہمارے عہد کے دانشور جتنا چاہیں، تاڑ پر چڑھانے کی کوشش کر لیں، کوئی فائدہ نہیں۔ 
سوال: بیان کو لے کر زبان کی بات چھڑی   اور خوب چھڑی۔ آج بھی جب آپ پر بات ہوتی ہے تو زبان کا ذکر آ جاتا ہے۔ 
ذوقی :  میرے بھائی، جب آپ کو کچھ نہیں کہنے کے لیے ملے گا تو زبان کا ذکر ہی سہی۔ ان کے ترکش میں اس کے سوا کوئی تیر نہیں ہے   اور سنیے آپ___ جب بیان منظر عام پر آیا تو مجھے گجراتی   اور ہندی کے بڑے ادیب عابد سورتی کا خط ملا۔ تعجب کا اظہار تھا کہ اردو میں ایسی کہانیاں، ایسی جادوئی زبان بھی ملتی ہے۔ میرا موازنہ ہنری ملر سے کیا گیا___ بھوپال سے اقبال مسعود صاحب دلی شریف لائے فون پر بات ہوئی۔ ملنے کی خواہش ظاہر کی   اور کہا۔ بیان پڑھنے سے پہلے ڈرایا گیا کہ کس کو پڑھ رہے ہو، ڈراؤنی زبان لکھنے والے کو___ اب ناول پڑھ لیا ہے۔ تو کہہ سکتا ہوں یہ لہجہ، یہ رنگ یہ زبان کسی دوسرے کے پاس نہیں ___ ایسی ہزاروں مثالیں ہیں۔ اب وہ لوگ بھی جو زبان زبان چلاتے تھے۔ میری کہانیوں، کہانیوں میں در آئی فکر کے عاشق ہو چکے ہیں۔ کب تک زبان کی شکایت لے کر مجھے کنارے کرنے کی کوشش کریں گے۔ ذوقی اپنی دنیا کا بادشاہ ہے۔ اسے کسی نقاد کی ضرورت نہیں۔ ذوقی کے لیے قارئین کی محبت کافی ہے۔ بیان کا ذکر آیا تو ایک خاص بات بتاتا چلوں۔ زبان کی بات بھی پہلی بار یہیں سے شروع ہوئی___ زندگی کا سب سے زیادہ دل دکھا دینے والا واقعہ__ میرے ایک دوست ہیں۔ نام لینے کی ضرورت نہیں۔ میرے دکھ سکھ کے حصے دار۔ میں شاید سب سے زیادہ بھروسہ ان پر کرتا تھا۔ بیان کے ریلیز فنکشن کی ذمہ داری ان پر سونپی گئی۔ انہوں نے نظامت کے لئے اپنے دوست سراج اجملی کا نام لیا۔ اور بیان فنکشن میں جو ہوا، وہ ایک نہ بھولنے والا حادثہ ہے۔ میری کتاب کا فنکشن تھا۔ مجھے سامعین کے بیچ بیٹھنا پڑا۔ ایسے لوگوں کو شروع میں بلوایا گیا۔ جنہوں نے بیان   اور میرے خلاف بولنے کی تمام حدیں پار کرنی شروع کر دیں۔ تھیٹر کو مقبولیت دینے والے حبیب تنویر سے رہا نہیں گیا تو انہوں نے دریافت کیا، کیا یہ پروگرام بیان کی مخالفت میں کیا جا رہا ہے۔ پھر باری آئی مشہور شاعر شجاع خاور کی۔ جب وہ بھی خلاف بول کر جانے لگے تو آخر میں، میں ڈائس پر آیا۔ انہیں روکا کہ اُنہیں جانے کی ضرورت نہیں۔ کیونکہ ابھی ان کی بات ختم ہوئی ہے۔ میری بات ادھوری ہے۔ پھر میں خوب بولا۔ جی بھر کر بولا۔ اور اس کے ایک ہفتہ کے اندر ہی سننے کو ملا کہ موصوف کو پارالائسز ہو گیا ہے۔ مجھے افسوس ہوا کہ ایک اچھے شاعر کے اندر کس قدر گمراہ کرنے والے خیالات تھے۔ یہ وہ وقت تھا جب شجاع لگاتار پارٹیاں بدل رہے تھے۔ بی جے پی کی حمایت میں ان کا بولنا تو سمجھ میں آ رہا تھا مگر دوستوں کی کرم فرمائی مجھے حیرت میں ڈال رہی تھی۔ اس کے بعد سنیے۔ قومی آواز میں کسی مظہر صاحب کا ایک مضمون شائع ہوا۔ غلط بیان۔ بیان کے بارے میں غلط فہمیاں یہیں سے شروع ہوئیں۔ تب میرے وہ دوست تاج انکلیو میں، میرے آمنے سامنے رہتے تھے۔ میں قومی آواز نہیں خریدتا تھا۔ وہ قومی آواز لے کر آئے۔ بولے ___ یار یہ مظہر کون ہے ؟ میں صرف جے۔ ان یو والے مظہر کو جانتا تھا۔ اس کے دو دنوں بعد ہی معلوم ہوا۔ میرے دوست، سراج، سہیل وحید   اور مظہر تو گہرے دوستوں میں ہیں۔ پھر ایک دن اپنے اسی دوست کے گھر مجھے اتفاق سے اپنی کتاب بیان بھی مل گئی۔ کتاب پر پنسل سے جہاں جہاں نشان لگایا گیا تھا۔ وہی باتیں کتاب میں تھیں۔ میری سمجھ میں نہیں آیا کہ فکشن یا ناول پڑھنے کا یہ کون سا انداز ہے۔ ظاہر ہے یہ ساری سازش جان بوجھ کر رچی گئی تھی۔ پھر ایک دن اردو سرکاری رسالہ آجکل کے دفتر کی سیڑھیوں پر مجھے سہیل وحید ایک خاصے صحت مند آدمی کے ساتھ نظر آیا، جس نے مجھے دیکھ کر چھپنے کی کوشش کی۔ یہ آدمی مظہر تھا۔ میں نے سہیل   اور اپنے دوست دونوں سے کہا۔ جو آدمی مجھے دیکھ کر آنکھیں ملاتے ہوئے گھبراتا ہو، وہ مجھ پر نہیں لکھ سکتا۔ بتاؤ یہ شخص کتنے میں بکا ہے ؟ تو صاحب، یہ دلّی ہے دلّی___ بیان کے سلسلے میں سازش تو انہوں نے کی مگر کیا ہوا___ بیان سے پہلے  ہندستان کی سیاست پر، خاص کر مسلمانوں کی سیاست پر اس انداز سے عملاً کس نے سوچا   اور لکھا تھا___ ؟خوشی اس بات کی ہے کہ بیان کے خلاف جس قدر لکھا یا بولا گیا، بیان کی اس سے کہیں زیادہ تعریف ہوئی۔ 
مشتاق احمد:  میرے خیال میں یہ وہ باتیں ہیں، جو اس سے پہلے کبھی سامنے نہیں آئی تھیں۔ حقیقت یہ ہے کہ آپ ایک جینوئن رائٹر ہیں ___ لیکن کیا آپ کو ایسا نہیں لگتا ہے کہ آپ کے ساتھ دوسرے لوگ بھی ہیں جو جینوئن کہلانے کا حق رکھتے ہیں۔ ایسے میں، یہ کیسے سمجھا جائے کہ کون جینوئن ہے   اور کون نہیں ؟
ذوقی :  یہ دلیل گمراہ کن ہے کہ یہ کیسے پتہ چلے گا کہ جینوئن کون ہے ؟ کون نہیں ہے ؟ اچھے ادیب کو اس کا عرفان ہوتا رہتا ہے۔ یہ   اور بات ہے کہ اس کے خلاف یا حق میں فیصلہ صادر کرنے والا وقت ہوتا ہے۔ میں نے کبھی خود کے لئے نہیں لکھا۔ نہ اپنی ذات یا روح کی تسکین کے لئے۔ میرے سامنے ہمیشہ میرا عہد رہا ہے۔ تغیرات رہے ہیں۔ ’’باپ‘‘، ’’بیٹا‘‘، ’’دادا   اور پوتا‘‘ ایک صدی کو الووداع کہتے ہوئے ‘‘، ’’بارش میں ایک لڑکی‘‘، ’’نہیں آپ اس شہر کا مذاق نہیں اڑا سکتے۔‘‘ ’’مرد‘‘، ’’کاتیائن بہنیں ‘‘ میں نئے نئے کردارکا خالق ہوں۔ نئی نئی دنیائیں آباد کرتا ہوں ___ اپنی کہانیوں میں۔ میں صرف لکھتا نہیں ہوں۔ کہانیوں کو اپنی فکر سے گزارتا ہوں۔ راستہ دیتا ہوں ___ کبھی خود راستہ بنتا ہوں۔ میں زندگی کو نئی صبح، نیا آسمان، نئی دنیا   اور نئے خیال دینے آیا ہوں   اور یہ سب میرے سامنے الفاظ کے چمکتے ستارے نہیں ہیں۔ میں براہ راست عوام سے مخاطب ہوتا ہوں   اور اس کے لئے تنگ گلیاں، ٹیڑھے میڑھے راستہ چنتا ہوں ___ کبھی اُجلی نورانی راتیں مجھ پر مہربان ہوتی ہیں   اور کبھی میں سڑے گلے چہروں میں جیتا ہوں۔ میں ڈرائنگ روم میں بند ہو کر نہیں لکھ سکتا۔ مجھے محض جذباتی ہونے سے چڑ ہے۔ انسانوں کے لئے امڈی ہوئی ہمدردیاں مجھے پسند نہیں۔ جیسے مجھ میں صرف ایک ہندستان نہیں بستا __ ایک ملک سے بے پناہ محبت یا قربان ہو جانے کا خیال دوسرے ملک کے لئے نفرت یا دشمنی کا سبب بن جاتا ہے۔ جیسے میں محض کرۂ  ارض کے ایک خطہ سے، ایک انسان سے محبت نہیں کر سکتا   اور بقول ہیمنگ وے ’’ساحل سے ایک ’ڈھیلا‘ بھی سمندر بہالے جاتا ہے تو دھرتی کم ہو جاتی ہے ___ ایک بھی آدمی مرتا ہے تو انسانی برادری میں کمی آ جاتی ہے۔‘‘ میرے لیے یہ مکمل کائنات کسی صحیفہ یا آیت جیسی ہے جسے مجھے پڑھنے یا سمجھنے کا حق حاصل ہے۔ مجھے یقین ہے کہ اچھا ادیب کشف سے گزرتا ہے، نئے خیال وضع کرتا ہے   اور اپنی نئی دنیائیں اپنے پڑھنے والوں کو سونپ دیتا ہے۔ میں یہ نئی بستیاں، سو کروڑ کی آبادی والے اس ملک کے صرف پانچ سو، یا ہزار لوگوں تک پہنچا کر مطمئن نہیں ہو سکتا۔ اور یقیناً وہ لوگ بھی مطمئن نہیں ہو سکتے جو اچھا ادب خلق کر رہے ہوں۔ اور جو اپنی بسائی ہوئی دنیائیں یا نئی بستیاں ایک زمانے کو دکھانے کا ارادہ کر چکے ہوں۔ 
شاید اسی لیے، میں نے اپنے لیے اردو کے علاوہ ایک دوسری زبان کا سہارا لیا۔ ہندی کا___ ہندی میں میری کہانیوں کے ترجمے نہیں چھپتے۔ مجھے ہندی میں اب اردو افسانہ نگار کے طور پر نہیں پہچانا جاتا___ میں ہندی میں ہندی افسانہ نگار کی حیثیت سے ہوں، اردو میں اردو افسانہ نگار کی حیثیت سے۔ ممکن ہے کہ میرے دوست اب اس بات کو بھی اٹھانے کی کوشش کریں کہ ارے ذوقی تو ہندی کا آدمی ہے۔ لیکن جو آدمی مسلسل بیسیوں برس سے اردو میں لکھتا رہا۔ اور آج بھی لکھ رہا ہے، کیا صرف ان کے کہنے سے میرے قارئین گمراہ ہو جائیں گے۔ قطعی نہیں۔ صرف ہندی نہیں۔ میں تو کہتا ہوں۔ جس میں صلاحیت ہے۔ اسے اپنی تخلیق کو اب انگریزی زبان میں لانے پر غور کرنا چاہئے۔ کیونکہ جب تک ہم اپنی کہانیوں کا دائرہ نہیں بڑھاتے ہیں۔ اردو کی مخصوص شناخت عالمی سطح پر طے  نہیں ہو سکتی۔ 
مشتاق احمد:  یوں تو آپ نے لکھنا ۸۰ء سے کافی پہلے ہی شروع کر دیا تھا۔ لیکن آپ کی شناخت ۸۰ کے کافی بعد سامنے آئی۔ کیا اپنی شروعاتی کہانیوں کے بارے میں کچھ روشنی ڈالنا پسند کریں گے ؟
ذوقی:  ۸۰ء کے آس پاس کا عہد مجھے الجھنوں میں مبتلا کرنے کے لئے کافی تھا، کیونکہ میں جو لکھنا چاہتا تھا، وہ اس عہد کے لئے موزوں نہیں تھا جو نہیں لکھنا چاہتا تھا، رسائل میں چھپنے کے لئے، وہ لکھنے پر مجبور تھا___ جدیدیت کی آندھی میں، سچ پوچھئے تو میں بھی بہتا چلا گیا تھا___
دابۃ الارض، فاختائیں، اعرف نفسک بنفسک، پیر تسمہ پا، اب قید ہے، اشغلا کی بند مٹھّیاں، پتھّر یگ، فاصلے کے درمیان جلتی ہوئی ایک لالٹین، فاختاؤں کا شہر، وغیرہ___ افسانوی مجموعہ منڈی میں، میں نے ان میں کچھ کہانیاں شامل تو کیں، لیکن اس بات کا بھی اظہار کیا ہے   ؎
 ’’یہ وہ کہانیاں ہیں، جنہیں میں نے ردّ کیا‘‘ 
دلّی یعنی مہا نگر___ چھوٹے سے قصباتی شہر میں رہ کر، اس شہر کا تصور کر پانا بھی مشکل تھا___ مجھے اس شہر سے بہت کچھ سیکھنے کو ملا۔ ہجرت کیا ہوتی ہے۔ اپنے گھر کا سکھ کیا ہوتا ہے۔ یہاں تو در در کی ٹھوکریں تھیں   اور خالی ہاتھ تھے ___ دلّی دل والوں کی دلّی نہیں تھی، تنگ دل لوگوں کی دلّی بن کر رہ گئی تھی بے شمار خطرات، ذہنی یا تنائیں، پریشانیاں ___ بہت ممکن ہے، میں ہار گیا ہوتا، مگر، میں نے جو کچھ پڑھا تھا، اب وہی میرے کام آ رہا تھا___ کہتے ہیں، ایک زندگی وہ ہوتی ہے، جسے اپنے طور پر جینے کی کوشش کرتے ہیں ___ ایک زندگی وہ ہوتی ہے، جو آپ کا مطالعہ، آپ کا Vision آپ کو سونپتا ہے ___ الکزینڈر پشکن، نکولائی گوگول، فیودر دوستوفسکی، لیوتالستائے، میخائل شولو خوف، میکسم گورکی، ترگنیف___ روسی ادب کا میں مداح تھا۔ اور یہ لوگ میرے لئے مشعل راہ___ ان سب کے یہاں زندگی سے لڑنے کی جسارت موجود تھی۔ خاص کر آ رہ چھوڑنے سے قبل، ایک بہت بعد کے روسی مصنف کی کتاب میں نے پڑھی تھی۔ بورس پولو، کتاب کا نام تھا___ The story of a real man ایک فوجی جس کا پاؤں کاٹ ڈالا جاتا ہے۔ اور جو اپنے ول پ   اور سے اپنی خود اعتمادی دوبارہ بحال کرنے میں کامیاب ہوتا ہے ___ مجھے ہیمنگ وے کے The old man and the sea سے محبت تھی___ ہیمنگ وے کی کہانیوں کے مرد آہن مجھ میں نیا جوش، نیا دم خم بھرتے تھے۔ مجھے ہنری ملر کے موبی ڈک سے پیار تھا___ وکٹر ہیوگو، کفکا، ورجیناؤلف، البیر کامو، یہ سارے میرے اپنے تھے۔ خاص کر Les-miserable کا پادری   اور The Plague کا Dr. Riox میرا آئیڈیل تھا۔ ٹھیک اسی طرح کرائم اینڈ پنشمنٹ کا رسکلانیکود، گور کی مدر کا پاویل ولا سوف   اور ترگنیف کی the father and the son کے باپ بیٹے مجھے بے حد پیارے تھے۔ گوگول کی کتاب Deal Soul مجھے ذہنی عذاب میں مبتلا کرتی تھی۔ وہیں گبریل گارشیا مارکیز کا ادب مجھے ایک نئی دشا میں لے جانے کی تیاری کر رہا تھا___ عجیب بات یہ تھی کہ مجھے الیکزینڈر سولنسٹین سے بھی اسی قدر محبت تھی۔ گلاگ آرکیپلاگو   اور کینسر وارڈ دونوں مجھے پریشان کر رہے تھے۔ نیتھنیئل ہینیٹیے کی The Scarlet Letter بھی مجھے پسند تھی۔ جارج آرویل کی Animal Farm   اور ۱۹۸۴ء مجھے نئی فکر سے روشناس کرا رہے تھے ___ میں سال بیلو کو بھی پڑھنا چاہتا تھا، ولیم گولڈنگ   اور گراہم گرمین کو بھی___ اردو میں قرۃ العین حیدر کے یہاں مجھے تصنع کی جھلک ملتی تھی۔ منٹو مجھے چونکاتا تھا، لیکن فکری اعتبار سے زیادہ بلند نہیں لگتا تھا۔ عصمت مجھے راس نہیں آئیں __ راجندر سنگھ بیدی کی کہانیاں ہر بار زیادہ سے زیادہ قربت کا احساس دلا رہی تھیں۔ اور کرشن کی نثر کسی جادو کی طرح مجھ پر سوار تھی___ مجھے اردو کی داستانوں نے لبھایا تھا   اور مجھے لکھنا سکھایا تھا۔ مجھے پنچ تنتر بھی پسند تھی   اور The magic mountain بھی۔ طلسم ہوش ربا کا تو میں شیدائی تھا___ دلّی کی پاگل بھیڑ بھری سڑکوں پر ہیمنگ وے کا The old man تسمہ پا کی طرح مجھ پر سوار تھا___ دلّی کی پریشان حال زندگی   اور لڑتے رہنے کا جذبہ، ۸۵ء سے ۹۵ء تک کے بیچ میری کہانیوں پر ترقی پسندانہ رنگ غالب رہا___ میں سوچتا تھا نثر، غریبی کے بدحال جسم کی طرح ہونی چاہئے۔ Glamour less نثر کو کی زبان عصمت کی کہانیوں کی طرح رواں دواں نہیں ہو سکتی۔ میں نے اپنا تجزیہ کیا   اور ایک نئی روش اپنائی، نئی ڈگر پر چلا۔ 
میں ترقی پسندی کے راستے پر اسی لئے چلا کہ میں ان سوالوں سے بچ بچا کر نہیں گزر سکتا تھا۔ میرے اندر کا تخلیق کار ان سوالوں کو نظر انداز نہیں کر سکتا تھا۔ اور میں صرف شوقیہ ادیب نہیں بننا چاہتا تھا___ میں، کسی ایک قاتل لمحے سے بھی کہانی چرا سکتا تھا___
مشتاق احمد :  ذوقی صاحب، آپ کا بیحد شکریہ ___ اردو کہانی یا ناول کی تاریخ میں آپ آج ایک نا قابل فراموش ادیب کی حیثیت سے ہمارے سامنے ہیں۔ یقیناً منٹو   اور بیدی کے بعد کا ادبی سفرنامہ جب بھی لکھا جائے گا، ذوقی کی کتابوں کے دفتر کھلیں گے  اور نئی نئی باتیں سامنے آئیں گی۔ آپ نے اپنی کہانیوں یا ناولوں کے کردار پر بھی بہت محنت کی ہے۔ خصوصاً پوکے مان کی دنیا کا سنیل کمار کے رائے   اور بیان کا بالمکند شرما جوش۔ آخر میں ایک سوال۔ بالمکند شرما جوش، بیان کا یہ کردار کیا کوئی فرضی کردار ہے یا۔۔۔ ؟
ذوقی :  بالکل نہیں ___ آ رہ کے چھوٹے سے شہر میں اس کردار کو میں نے دیونندن سہائے پارسا آروی   اور جین صاحب کی شکل میں اتنی بار دیکھا ہے کہ جب بیان لکھنے کا وقت آیا تو یہ دونوں کردار مجھ پر حاوی ہو کر ایک زندہ کردار میں بول گئے۔ یعنی بالمکند شرما جوش___ کردار نگاری ایک مشکل فن ہے   اور یہ ریاضت چاہتی ہے ___ بہر کیف، آنے والے دنوں میں، میں آپ کو ایک   اور نہ بھولنے والا کردار دینے والا ہوں۔ پروفیسر ایس ___میرے ناول ’پروفیسر ایس کی عجیب داستان وایا سونامی‘ کا انتظار کیجئے۔ 
مشتاق احمد :  ذوقی بھائی آپ کا ایک بار پھر بہت بہت شکریہ!
٭٭٭

 و ملا کہ موصوف کو پار و گداٗ۔ کی تشکیل: اعجاز عبیدماخذات سے بھی ہو سکتی ہیں۔                                                   
ایک خط ذوقی کے نام

ڈاکٹر محمد حسن

ذوقی : کیسے لکھ پائے تم
اتنا دل دوز المیہ
بغیر خون کے آنسوؤں کے 

سچ یہ ہے کہ ذوقی، تم نے ایک عظیم ناول لکھا ہے۔ بیان:   اور خون جگر سے لکھا ہے ہر لفظ کثرت استعمال سے گونگا ہو جاتا ہے۔ میرے لفظوں کا بھی یہی حال ہے کہ وہ اس دھڑکتے ہوئے ناول کی کیفیات کو بیان کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ صرف آنکھ میں تیرتے آنسو ہی اس کام کو انجام دے سکتے ہیں۔ اقبال نے داغ پر نظم لکھی تھی جس میں یہ خیال ظاہر کیا تھا کہ جس طرح سعدی۔ بغداد کی تباہی پر   اور ابن بدروں قرطبہ کی بربادی پر فریادی ہوئے تھے اسی طرح جہان آباد کی تہذیب کا ماتم داغ کے نصیب میں تھے۔ تقسیم ہند   اور اس سے پیدا شدہ تباہی پر بہت کچھ لکھا گیا مگر ۶  دسمبر کی تباہی اس سے مختلف بھی تھی   اور اس سے کہیں زیادہ بھیانک بھی کہ اس نے ہمیشہ کے لیے بال مکند شرما جوش جیسے انسان نما فرشتوں شاعر۔ ’’پایا تھا آسماں نے جسے خاک چھان کر‘‘ کیسی عظیم تہذیب جس کی تعمیر میں صدیوں تک ہندو مسلمان سب شریک رہے   اور اس کا کیسا عبرت ناک انجام ۔۔۔جس پر جان دینے کے لیے اکیلے بالمکند شرما جوش قتل ہونے کے لیے منا   اور اس المیہ کو رقم کرنے والے تم ۔۔۔ 
اس زندہ المیہ کوناول کی حیثیت سے دیکھنا یا اس پر کچھ لکھنا بھی ستم ہے ۔۔۔یوں بھی ابھی ہم اس سے پوری طرح گزرے کہاں ہیں، گزر رہے ہیں۔ بقول فیض   ؎
اماں کیسی کہ موج خوں ابھی سر سے نہیں گزری
گزر جائے تو شاید بازوئے قاتل ٹھہر جائے 
تمدن کی ہر ادا تہذیب کی ہر روش اس قتل عام کی زد میں ہے۔ محسوس سب کرتے ہیں لیکن لفظ سب کو نہیں ملتے کہ دردو داغو جستجو آرزو کا یہ کارواں   اور اس کا یہ سر بازار قتل برداشت ہو بھی جائے تو بیان نہیں ہوتا۔۔۔(پھر کیا تعجب ہے کہ بال مکند شرما جوش کو بھی آخری بیان کے لیے لفظ نہ ملے ہوں ) تم نے بڑی ہنر مندی سے اس آخری بیان کو سر بہ مہر ہی رکھا ہے ۔۔۔مگر اب اس کی امید بھی فضول ہے کہ کوئی آبلہ پا ہمارے بعد بھی ان منزلوں میں بھٹکنے کے لیے کبھی آئے گا۔ 
تمہارے اس ناول کو ناول کی طرح پڑھنے   اور پرکھنے کے لیے ابھی کچھ   اور وقت   اور کچھ   اور فاصلہ درکار ہے۔ ابھی تو ایک ایساکاری زخم ہے جس سے رہ رہ کر خون ابلتا ہے، اسے میں احتجاج نہیں کہوں گا۔ اسے میں دور حاضر کی گواہی بھی نہیں کہوں گا۔ یہ ناول ان اصطلاحوں سے کہیں بڑا ہے   اور ان دو متوازی واقعات کے سلسلے پر قایم ہے جو منا کے قتل   اور بال مکند شرما جوش کی موت سے عبارت ہے ۔۔۔بلکہ یوں کہوں ان دونوں کے ساتھ ایک عظیم تہذیب کے قتل سے عبارت ہے۔ تم نے اسے بڑے اہتمام   اور احتیاط سے بیان کر دیا ہے۔ کیسے لکھ پائے تم ایسا دلدوز المیہ بغیر خون کے آنسوؤں کے ۔۔۔! تعجب ہے ! یہی غیر حاضر بلکہ شاید غیر موجود ’بیان‘ ہی سب سے بڑی فرد جرم ہے، جو ایک عظیم تہذیب کے قاتلوں پر عائد ہوتی ہے ۔۔۔مگر سوال یہ ہے کہ سزا وہ دے جس کے ہاتھ خون سے پاک ہوں   اور پہلا پتھر وہ مارے جس نے زندگی میں کبھی کوئی گناہ نہیں کیا ہو۔ بے گناہ اب بھی بہت ہی مگر وہ صرف قتل ہونے کے منتظر ہیں ۔۔۔ایک تمہارے ہاتھ میں قلم ہے اس کی عزت کرو جو ایسے درد مند لمحوں کی کہانی اس قدر دلدوزی   اور دلدوز انداز میں لکھ سکے۔ یہ بال مکند شرما جوش ایک پوری تہذیب کا نام ہے جو غروب تو ہوتی ہے، مکمل طور پر کبھی مٹتی نہیں کہ انہیں سے تو انسانیت کی رمق زندہ رہتی ہے۔ بالکل اسی طرح جیسے ظالموں کے تذکرے   اور ۶ دسمبر کی یادیں۔ 
اس ناول کا محاکمہ دیر طلب ہے جب تک وقت ان زخموں کو بھر نہیں دیتا یہ کام شاید ممکن نہ ہو گا۔ 
٭٭٭



مشرف عالم ذوقی کا ناول ’’بیان‘‘ 


انور عظیم

اگر ذوقی کی طرف میرا ادبی رویہ بد ذوقی کا ہو تو میں یوں بھی شروع کر سکتا ہوں  ؎
 ’’یہ مسائل تصوف یہ ترا بیان غالب‘‘ 
کوئی ضروری نہیں ہے کہ تصوف کا متن حسب حال ہو۔ اور نہ یہ ضروری ہے کہ میں جو بھی بات کہوں گا، با معنیٰ کہوں گا، خدا کی قسم، با معنیٰ بات کہنا ہر شخص بلکہ ہر کسو ناکس کے بس کا روگ نہیں۔ اپنے بس کا تو بالکل نہیں۔ عمارت کی بنیاد ہی اگر ٹیڑھی اینٹ پر رکھی گئی ہو تو آگے چل کر اس عمارت کے گنبد، میناروں   اور محرابوں کا جو حشر ہو گا، اس کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ 
میں ہر کتاب کو خواہ وہ جزدان میں رکھی ہو، یا طاقِ نسیاں میں چھپی رہی ہو جب پڑھتا ہوں تو پہلے اس کی گرد جھاڑتا ہوں۔ اس کے  اوراق کی سلوٹوں   اور جھریوں کو ہموار کرتا ہوں۔ تب جا کر پڑھنے کی نوبت آتی ہے۔ یہی ذوقی کے بیان کے ساتھ ہوا۔ 
 ’دھرم سنسد میں لیے گئے پہلے اہم فیصلے پر ۔۔۔اپنی وجے کی مہر لگا چکی ہے۔ رام جنم بھومی وجے کے بعد اب کائنی متھرا کی باری ہے۔ یہ رتھ چلتا رہے گا، اُس سمٹے تک، جب تک ہم شتابدی پرانی داستا (غلامی) اس وستر (لباس) کو اتار  نہیں پھینکتے ۔۔۔ 
 ’’کام بہت سے کرنے ہیں۔ سمئے کم ہے ہمارے پاس۔ شیگھر (جلدی) پرکاشت کرنے کے لیے پبلشر بھی ہیں۔ ہم نے آدھونک اتہاس (جدید تواریخ) کی روپ ریکھا تیار کر لی ہے۔ سال بھر میں اتنی کتابیں بازار میں آ جائیں گی کہ لوگ پرانے اتہاس کو بھول جائیں گے۔‘‘ 
یہ بیان نہیں، وقت کی مہر ہے۔ وارداتِ دلو شعور کی دستاویز۔ ہمارے زمانے میں اس طرح کی جولاں، بے ساختہ، صاف نثر لکھنے والے، ریا کار احساسِ حرمت سے آزاد   اور بے مروت کردار نگاری پر قادر فسانہ ساز بہت کم ہیں۔ یہ فسانہ سازی سے زیادہ اپنے آپ کو، اپنے باطن کو برہنہ   اور شفاف کر دینے والی فسوں سازی ہے۔ یاد آیا، ہاں یاد آیا، میں فسانہ سازی میں زبان کو بہت اہمیت دیتا ہوں۔ اور اکڑ کر کہتا ہوں، فکشن کی اپنی زبان ہوتی ہے۔ اب معلوم ہوا کہ یہ بھی جدیدیوں کے لسانی رویے کے خلاف ایک قسم کا کلیشا ہے۔ اور یہ سچ ہے کہ افسانوی تعمیر میں تخلیقی زبان کی ریڑھ کاری اپنی اہم جگہ رکھتی ہے۔ لیکن جمالیاتی اظہار میں سماجی   اور فنی اظہار میں زبان کی حیثیت قادر مطلق کی نہیں ہے۔ اس کی حیثیت فسانہ ساز کے ہاتھ میں قلعی گر کے فن کی ہے۔ 
میں بڑی واجبی بات کہہ رہا ہوں جو کلاسیکی معنوں میں افسانہ شکن ثابت ہو سکتی ہے۔ اور خلاقی کی نفی۔ ذوقی کے سلسلے میں کئی بار میں ان کی زبان کے ’’گھامڑ پن‘‘ کے ذکر سے دوچار ہوا ہوں۔ اس وقت میں جس سطح پر ان کے بیان کا جائزہ لے رہا ہوں، وہ بجائے خود خلاقی کی سند بن گیا ہے   اور اس میں زبان کی حیثیت ثانوی ہے۔ یہ بھی ایک ادا ہے جو فکشن لکھنے والے کو اپنے معافی کے قید وبند سے بلند کر دیتی ہے۔ 
میں ایک ہی سانس میں اپنی اصلاح کرنا چاہتا ہوں۔ یہ ذوقی نہیں، بلکہ بالمکند شرما جوش کا بیان ہے جو وہ مرنے سے پہلے دینا چاہتے تھے۔ اہم بات ’’بیان‘‘ ہے۔ ایک خود شکستہ   اور زمانے کی طہارت سے گریزاں ’’بیان‘‘ ۔۔۔مگر گریزاں بھی نہیں۔ بس کفن میں گانٹھ باندھنے کی آخری کوشش۔۔۔ 
ہر فکشن نگار اپنے تجربات کے اظہار   اور پیکر تراشی میں تخلیقی عمل کے جانے کیسے کیسے چیلنج کا سامنا کرتا ہے۔ تب جا کر وہ اپنے مشاہدے کو اس مردانگی سے پڑھنے والے تک پہنچاتا ہے۔ بیان میں عبارتو الفاظ شروع میں ہی ہاتھ پھیلا کر میرا راستہ روک لیتے ہیں۔ میرا کہہ کر میں نے صرف اپنے رد عمل کی ذمہ داری لی ہے۔ یہ میرا   اور مصنف کا براہ راست معاملہ ہے۔ جس کو اپنا سر عزیز ہو، وہ بیچ میں نہ آئے۔ 
بیان دروازے کی طرح کھلتا ہے۔ جہاں باہر کی دنیا دھندلی   اور خوابناک  رہے   اور بالمکند شرما جوش، جہاں ہیں، وہیں زمین میں گڑ جاتے ہیں۔ اور مصنف کی پیکر تراشی   اور رنگ آمیزی جاری رہتی ہے۔ 
 ’’آنکھوں کے آگے جیسے ہزاروں وحشی قبائل تانڈو کر رہے تھے ۔۔۔ 
مار ڈالیں گے۔ تمہیں بھی مار ڈالیں گے ۔۔۔ 
سب کو مار ڈالیں گے ۔۔۔مارو۔۔۔ 
۔۔۔جیسے وحشی ہو رہی عوام پر، 
بے قابو ہوتی ریلی پر پولس آنسو گیس کا استعمال کرتی ہے اسی طرح یہاں۔ آنکھوں کے آگے، سب کچھ اندھیرا اندھیرا سا ہے ۔۔۔سامنے والا آدمی کبھی ۔۔۔ 
پھر جیسے سارا منظر صاف ہے۔ 
برکت بھائی پان بہت کھاتے ہیں   اور پان کھاتے ہوئے لحاظ نہیں رکھتے کہ پان کا ’’تھوکا‘‘ کہاں گرے گا۔ قمیص پر، سفید شلوار پر یا قمیص پر گرے تو چلو کوئی بات نہیں۔ گھر ہے، بچے ہیں۔ ڈرائی کلینرس کی دنیا بھر کی دکانیں ہیں۔ مگر دیواروں پر، وہ بھی دوسروں کی دیواروں پر۔ دوسرا پتہ نہیں کیا سوچ لے ۔۔۔ 
یہی تو اچھا لگتا ہے بڑھاپے میں۔ بوڑھا آدمی عام احساس سے کٹ جاتا ہے۔ عیب جوئی   اور بڑی سوچوں سے۔ کوئی کیا کہے گا، کہ کھٹکے سے ۔۔۔ 
آج۔۔۔ہو۔۔۔ 
جوش بھائی، جنگ ہو گی۔ دیکھ لینا جنگ ہو گی۔ ابھی اینٹھو مت زیادہ جوش بھائی، وہ دن دور نہیں جب بازار میں مول کرنے جاؤ گے تو پوچھا جائے گا۔ کس کی تھالی چاہیے۔ ہندو کی تھالی یا مسلمان کی تھالی۔۔۔ 
کیوں صاحب، اس نثر میں کون سا ’’ساہی‘‘ چھپا ہوا ہے۔ گول مول سا ساہی۔ اس کے پروں کے کانٹوں کے قلم بنا کرتے تھے۔ زمانہ قدیم میں، جب انسان لکھنا پڑھنا سیکھ رہا تھا۔ بات یہ صدیوں پرانی ہے۔ جب انسان از منہ وسطیٰ کی تہذیب سے آراستہ ہوئی تھی۔ 
یہاں میں بالمکند شرما جوش کی یادوں سے، جس کو مصنف نے ’’یاروں ‘‘ کی شق میں رکھا ہے   اور اس کی پہچان اتیت کی گونج میں ہے۔ جس کی ’’پنکتیاں ‘‘ مور کی طرح ناچتی ہیں، جنگلوں کی سر سبز و شاداب ویرانیوں میں۔ 
 ’’ایک پاگل اتیت ہے 
ایک ہم ہیں 
   اور ایک ہے پانی سے بھری ٹھنڈی صراحی
ایک کھلا کھلا باغیچہ ہے 
ہریالی ہے 
   اور ٹھنڈی ہوا کے جھونکے ہیں 
کچھ بچے ہیں، میرے بچوں جیسے، میرے بچوں کے چہروں جیسے 
ہاتھوں میں جامن ہے، کن منی بیر ہیں 
   اور شرارتیں ہیں 
شرارتیں جن کے دائرے نہیں ہوتے 
   اور جن کی تہذیب نہیں ہوتی
ایک ہم ہیں 
   اور ایک اتیت ہے ۔۔۔ ‘‘ 
کاش ان الفاظ کے سوتے میرے دل سے پھوٹتے۔ خزاں بھی۔ سردیاں بھی۔ لو بھی لپٹیں بھی، برشگال بھی، بہار بھی، سب ایک ساتھ، مور ناچتے ہیں، پھواریں پڑتیں   اور گلہریاں ایک شاخ سے دوسری شاخ پر بھا گئیں   اور قدرت خود اپنا صدیوں پرانا جشن مناتی۔ 
ایک بات یاد رکھنے کی ہے کہ مشرف افسانہ مجسم نہیں ہیں۔ وہ افسانہ زندگی کی پلکوں سے چنتا ہے۔ یہ کہنا بھی غلط ہو گا کہ اس کے یہاں افسانہ نگاری کا اہتمام نہیں ہے۔ اردو کو ایک بہت بڑا ٹیلنٹ ملا ہے۔ کھرا کھرا کھیل فرخ آباد قسم کا۔ اس لیے جو لوگ اس کی فنکاری میں کرشن چندر کی رومانی تکرار دیکھتے ہیں تو وہ در اصل کوئی نئی بات کہنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یا دور کی کوڑی لاتے ہیں۔ کرشن چندر   اور ذوقی میں کچھ بھی مشترک نہیں ہے۔ سوائے صد رنگ اردو نثر کے ایک رنگ کے انتخاب کے۔ 
بیان ایک ایسے فنکار کی پختگی ہے جس کا کینوس بہت پیچیدہ ہے۔ فکشن نگار اپنی پیچیدگی   اور اپنے وجود سے اپنے اظہار کا جواز حاصل کر رہا ہے   اور اس کی مٹھیاں صدف سے بھری ہوئی ہیں۔ ریت بھیگی ہوئی ہے۔ تلاطم کے   اور بپھڑنے کا انتظار ہے۔ تب، کم کم سہی، افسانے بہہ کر ساحل پر آئیں گے۔ 
   اور وہ دن انسانیت کے جشن کا ہو گا۔۔۔ 
٭٭٭




بیان : ایک تجزیہ

اویس احمد دوراں 

مشرف عالم ذوقی ایک سفّاک  اور بے رحم سرجن کا نام ہے جس نے ایک ایسے عہد کا آپریشن کیا ہے جس کا تعلق 6  دسمبر 1996ٍء سے ہے۔ یہ وہ 6 دسمبر 1992 ہے جو ہندوستان کی تاریخ کا ایک بھیانک   اور تاریک باب ہے۔ تاریخ کا اتنا بڑا المیہ آر ایس ایس، شیو سینا   اور کانگریس جیسی دوغلی سیاست کرنے والی پارٹیوں کے اقلیت کُش کردار   اور ڈکٹیٹرانہ طرز فکرو عمل کا آئینہ دار ہے۔ اس المیہ نے مسلمانوں کو خواب غفلت سے جھنجھوڑ کر بیدار کر دیا۔ ان کو پہلی بار اس بات کا بھر پور ادراک ہوا کہ وہ ہندوستان کی اقلیت نہیں بلکہ دوسری بڑی اکثریت ہیں   اور یہ کہ وہ اپنا بھرپور ڈیفنس بھی کر سکتے ہیں۔ چنانچہ ایودھیا کے سانحہ نے ممبئی میں جب آگ   اور دھوئیں کا کھیل رچا کر مسلم اقلیت کو احساس کمتری میں مبتلا کرنا چاہا تو مسلمانوں نے بھی اینٹ کا جواب پتھر سے دے کر اپنے دشمنوں پر یہ واضح کر دیا کہ مسلمان غلام ابن غلام ابن غلام نہیں ہیں   اور یہ کہ اب وہ ڈر   اور خوف کی فضا میں رہ کر زبردست کی لاٹھی کو سلام کرنا اپنی توہین سمجھتے ہیں۔ ایودھیا کے سانحہ کے وقت دلّی کے تخت پر فرقہ پرستوں کا مکمل قبضہ تھا۔ شری نرسمہا راؤ جن کی سیاسی موت ہو گئی انہوں نے اپنے عمل سے ظاہر کر دیا کہ وہ آر ایس ایس کے خاندان سے تعلق رکھنے والے ایک ایسے گھناؤنے   اور دوغلے کردار کے حامل وزیر اعظم ہیں جن کے سامنے مسلمانوں کی حیثیت گاجر   اور مولی سے زیادہ نہیں ہے۔ اس ظالم وزیر اعظم نے طرح طرح کے سیاسی پینترے بدلے۔ جب ان کو یہ خبر دی گئی کہ بابری مسجد شہید کی جا رہی ہے تو وہ ظالم یہ جواب دیتا رہا کہ ایسا نہیں ہو گا۔ وہ نہیں نہیں کرتا رہا   اور اڈوانی، کلیان سنگھ، واجپائی، اُما   اور دیگر شیو سینکوں نے بابری مسجد کو فوج   اور پولس کی مدد سے آن واحد میں شہید کر کے ساری دنیا کے بیدار مغز دانشوروں کے ضمیر کو اس طرح چھلنی کر ڈالا جس طرح سربیٹیرس لونمبا کو امریکن امپیر یلزم کے اشارہ پر کرنل موبوٹو نے۔ شاید 1962 میں فنا کے گھاٹ اتار دیا تھا۔ ساحر لدھیانوی کی مشہور نظم ’’خون پھر خون ہے گرتا ہے تو جم جاتا ہے ‘‘   اور راقم الحروف کی نظم ’’میں لوممبا ہوں ‘‘ اسی سانحۂ  عظیم کی آئینہ دار ہے۔ میری نظم ماہنامہ ’’شاعر‘‘ (ممبئی) میں نمایاں طور پر شایع ہوئی   اور سارے عالم انسانیت کے ضمیرکو جگا گئی۔ مجھ کو اچھی طرح یاد ہے کہ آنجہانی پنڈت جواہر لال نہرو نے بھی درد بھری اپیل کی تھی کہ سربیٹرس لوممبا کو قتل نہیں کیا جائے۔ سوویت یونین کے صدر خرو شبجیف نے (اسی مردود کی غلط پالیسی نے سوویت یونین کے عظیم نظام حیات میں پہلی سیندھ ماری۔ گور با چیف   اور یلتسن جیسے روباہ خرو شبجیف کی ٹراٹسکی والی پالیسی جو سوویت اقتدار کی دشمن تھی معرض وجود میں آئی) لو ممبا کے لیے اسپیشل ہوائی جہاز بھیجا تاکہ اس عظیم مقتول کو بحفاظت تمام سوویت یونین لے آیا جائے مگر قبل اس کے کہ وہ جٹ افریقہ کی سرزمین پر اترے ظالم موبو تو نے سر بیٹرس لوممبا کا قصہ تمام کر کے دنیا پر یہ ثابت کر دیا کہ امریکن امپیریلزم جو چاہے گا وہی ہو گا۔ مجھ کو اسماعیل میرٹھی کا ایک شعر یاد آ رہا ہے جو سانحہ کربلا کی یاد دلاتا ہے۔ حسینؓ اتمام حجت کے لیے یزیدی لشکر کے قریب اپنے 6 ماہ کے لاڈلے   اور شیر خوار بچہ علی اصغر کو گود میں لے کر ابن زیاد ملعون و مردود کے سامنے آ کر کھڑے ہو گئے   اور پیاسے علی اصغر کے لیے پانی کی چند بوندیں یہ کہہ کر طلب کیں کہ یزید کا حریف   اور دشمن میں ہوں۔ ٹھیک ہے مجھ کو پانی مت دو۔ مگر یہ بچہ؟ یہ پیاسا ننھا بچہ ؟ اس نے کیا بگاڑا ہے ؟ ابھی نواسۂ  رسول یہ کہہ ہی رہے تھے کہ کوفیوں نے ابن زیاد کے حکم سے علی اصغرؓ  معصوم کے حلقوم کو تیروں سے جھید ڈالا۔ حضرت امام عالی مقام جو پیکر صبرو ر ضا تھے اپنے ننھے بچہ کی تڑپتی ہوئی لاش کو اپنے خیمہ میں لائے جہاں ننھے اصغرؓ کی مقدس لاش کو دیکھ کر حضرت زینبؓ   اور شہر بانو سر برہنہ ہو گئیں۔ اسماعیل میرٹھی کا شعر اسی پس منظر کی طرف اشارہ کرتا ہے   ؎
بگڑتی ہے جس وقت ظالم کی نیت
نہیں کام آتی دلیل   اور حجت
تو یہ ہے کہ ظالم کی نیت بگڑ چکی تھی۔ بابری مسجد جو ہمارے پرکھوں کی نشانی تھی اس کو مسمار کرنے کے لیے آر ایس ایس، شیو سینا   اور کانگریس تینوں ذہنی طور پر تیار ہو چکی تھیں۔ سوائے بائیں بازو کی پارٹیوں کے ہندوستان کی کسی دوسری سیاسی پارٹی کو بابری مسجد کی شہادت کا صدمہ   اور قلق نہیں تھا۔ تمام سیکولر پارٹیاں بے نقاب ہو چکی تھیں۔ وہ 6  دسمبر 1992 کو اپنی بے اثری کا تماشہ اسی طرح دیکھ رہی تھیں جس طرح شری کر پوری ٹھاکر   اور رامانند تیواری اردو کے سوال پر جب رانچی میں ہندو مسلم فسادات کے شعلے بھڑکے   اور مسلمانوں کا جمشید پور، راوڑ کیلا   اور رانچی میں قتل عام ہوا تو وہ دکھانے کے لیے کفِ افسوس ملنے لگے۔ گھڑیالی آنسو بہانے والوں میں یہ لوگ سر فہرست تھے۔ ان لوگوں نے مسلمانوں کو ووٹ بینک اسی طرح سمجھا جس طرح کانگریس ڈرا دھمکا کر مسلمانوں کو اپنا ووٹ بینک آزادی کے قبل سے لے کر 6  دسمبر 1992 تک سمجھتی آ رہی تھی۔ آج بھی مجھ کو جب 6  دسمبر 1992 یاد آتا ہے تو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے کوئی میرے دل کو چٹکیوں سے مسل رہا ہے۔ میں نے اسی سانحہ کے بعد مندرجہ ذیل قطعہ بند اشعار کہہ کر اپنے دل کی ڈھارس بندھانے کی کوشش کی تھی۔ 
اک ٹیس اٹھی دل میں، پلکوں سے لہو ٹپکا
تو میرے گلستاں سے جس روز ہوئی غائب
اے بابری مسجد تو پرکھوں کی نشانی تھی
میرے دل پر خوں سے تو پہلے نہ تھی غائب
سی۔ پی۔ آئی (ایم) کے جنرل سکریٹری کامریڈ ہرکشن سنگھ سرجیت نے ہم جنوادی لیکھک سنگھ والوں کا سیاسی کلاس لیتے ہوئے اے کے جی بھون میں بابری مسجد کی شہادت سے قبل ہی کہا تھا کہ کانگریس کے پچاس فیصد ایم پی چاہتے ہیں کہ بابری مسجد جو کل شہید ہو وہ آج ہی شہید کر دی جائے۔ سی۔ پی۔ آئی (ایم) کے لیڈر کامریڈ ای ایم ایس نمبودری پاد نے وشون اتھ پرتاپ سنگھ کو مشورہ دیا تھا کہ بابری مسجد کو آپ نہ تو ہندوؤں کے حوالہ کیجئے   اور نہ مسلمانوں کے حوالہ کیجئے بلکہ اس کو قومی یادگار بنا دیجئے۔ وہاں ایک ایسا اسپتال قائم کر دیجئے جہاں غریبوں کو سستا علاج میسر آ  سکے۔ مگر نقار خانہ میں طوطی کی آواز کون سنتا؟ میری ہی پارٹی کے دیگر لیڈروں نے وی پی سنگھ کو مخلصانہ مشورہ دیا تھا کہ آپ منڈل   اور کمنڈل کے چکر کو چھوڑ کر عوام میں آئیں   اور ان سے کہیں کہ آپ ہندوستان کے غریب عوام کو روٹی مہیا کرنی چاہتے ہیں لیکن اڈوانی جی   اور دیگر آر ایس ایس والے رتھ یاترا کی دھمکی دے کر مجھ کو اپنے ملک کے غریب و نادار عوام کے لیے روٹی مہیا کرنے نہیں دیتے۔ اگر وی پی سنگھ میری پارٹی کی بات مان لیتے تو بابری مسجد شہید نہیں ہوتی۔ اگر مفتی محمد سعید ہمارے کامریڈ جیوتی باسو کی بات مان کر شری جگ موہن کو کشمیر کا گورنر بنا کر نہیں بھیجتے تو کشمیر میں آتش چنار نہیں بھڑکتی۔ وہاں کی مسلم خواتین کی بے عزتیو اجتماعی عصمت دری نہیں ہوتی۔ وہاں کے جوانوں کو رائفلوں کی گولیوں سے بھونا نہیں جاتا۔ راقم الحروف نے اسی پس منظر میں مندرجۂ  ذیل شعر کہا تھا   ؎
گلستانوں میں گولی چل رہے ہیں 
ہزاروں پھول مارے جا رہے ہیں 
مشرف عالم ذوقی کا ’’بیان‘‘ جو موجودہ عہد کے تاریخی المیہ کا سب سے پہلا دستاویزی و اجتہادی ناول ہے اس کا مطالعہ راقم الحروف کے اسی سیاسی پس منظر میں کرنا چاہئے۔ ایسا ناول وہی ادیب لکھ سکتا ہے جس کے سینہ میں ایمان کی روشنی ہے، جو بے باک کردار کا حامل ہے، جو جانتا ہے کہ ایک ادیب کو کیا لکھنا چاہئے۔ میں نے تین یا چار سال قبل ’’بیان‘‘ پڑھا   اور دل مسوس کر رہ گیا۔ ارے ! یہ ناول ہے ؟ یہ بارود کا ڈھیر ہے۔ یہ زبردست احتجاج ہے۔ یہ مسلمانوں کے لیے جو زخم خوردہ ہیں (پہلے تھے اب نہیں ہیں۔ دوراں ) مرہم کا پھاہا ہے۔ اس کے بعد اردو ادب کی احتجاجی لے   اور بھی تیز ہو گئی۔ آج اردو ادب پہلے کی طرح سینہ کوبی کرنے والا ادب نہیں ہے۔ اب یہ بے حد بیباک   اور سفاک ہو گیا ہے۔ اس کا چلن میری منشا کے عین مطابق باغیانہ ہو گیا ہے۔ 
میں اردو شاعری میں باغیانہ روش   اور تیور دیکھنا پسند کرتا ہوں۔ ہاں ! ہاں !! میں باغی شاعر ہوں۔ میں بے قرار روح کا مالک ہوں۔ میں ہندوستان کی سڑکوں پر پیدل گھومتا پھر رہا ہوں۔ میں ایک لمحہ کے لیے بھی بیٹھنا پسند نہیں کرتا ہوں۔ میں مظلوموں   اور محکوموں کو صف بند کرنا چاہتا ہوں۔ اسی لیے مجھ کو وہ شاعری   اور وہ ناول پسند ہیں جو آگ ہیں۔ بارود ہیں، جن کا لہجہ سفاکو بے باک ہے۔ آج قاتل آمنے سامنے کھڑا ہے۔ ہم زیادہ دنوں تک اپنے قاتلوں کو برداشت نہیں کریں گے۔ ہم محکوم بن کر نہیں رہیں گے۔ ہم اپنے وطن میں سر جھکا کر چلنے کی رسم کو ملیا میٹ کرنے کا عزمو ارادہ لے کر چلے ہیں۔ ہمارا عزم اس لیے بھی پورا ہو گا   اور ضرور پورا ہو گا کہ ہمارے ہاتھوں میں سرخ پرچم ہے۔ یہ وہ پرچم ہے جو مزدوروں کے خون سے شکاگو کی سرزمین پر تر بتر ہوا۔ یہ وہ پرچم ہے جس کے مقدر میں ہندوستان پر حکمرانی کرنا لکھا جا چکا ہے۔ اس پرچم کو دنیا کی کوئی طاقت اس لیے سر نگوں نہیں کر سکتی کہ اس کی پشت پر مزدوروں   اور کسانوں کی عظیم طاقت ہے۔ یہ بھوکے   اور ننگے مزدورو کسان جو کروڑوں کی تعداد میں ہیں شکست ان کا حقدار نہیں بن سکتی کہ ان کی پشت پر خدائے وحدہٗ لا شریک کی طاقت ہے   اور یہ وہ طاقت ہے جس کو نہ تو نمرود کی خدائی شکست دے سکی   اور نہ فرعون و ہامان کی طاغوتی طاقتیں چیلنج کر سکیں۔ 
مشرف عالم ذوقی قابل مبارک باد ہیں کہ انہوں نے اتنا عظیم ناول لکھ کر اپنے عہد کے نوجوانوں کو خوابِ خرگوش سے بیدار کر دیا۔ ذوقی صاحب کی تحریر زنانہ تحریر نہیں مردانہ تحریر ہے۔ میں اگرچہ نرم دل شاعر ہوں اس کے باوجود ہر ایسی تحریر کا عاشقو دلدادہ ہوں جو میدان کارزار میں شمشیر بکف ہونا   اور مردانہ وار لڑنا سکھاتی ہو۔ یہ بہانے کا دور نہیں ہے۔ 
بالمکند شرما جوش جیسے حق پسند لوگوں کی تلاش   اور ان کے ساتھ مل کر قاتلوں کے ساتھ دو دو ہاتھ کر لینے کا دور ہے۔ کیا مزدور طبقہ جو سب سے عظیمو متحد طبقہ ہے وہ اپنے نیچرل ساتھی کسانوں   اور انصاف پسندو بیدار مغز دانشوروں کے ہوتے ہوئے اپنے طبقاتی دشمن سے دو دو ہاتھ کرنے میں شرمائے گا؟ ہچکچائے گا؟ پیچھے ہٹے گا؟ پسپا ہو گا؟ نہیں ! نہیں !! ایسا ہرگز نہیں ہو گا!! مجھ کو اس کا اٹوٹ یقین ہے۔ 
اردو کے مشہور شاعر خواجہ حیدر علی آتش صوفی منش شاعر تھے۔ وہ بے حد  اور بیباک تھے۔ ان کا لہجہ رائج تھا۔ مگر آتش نے اس نسوانی لہجہ کو جو لکھنوی نزاکت سے مزین تھا یہ کہہ کر بھر پور چیلنج کیا:
سن تو سہی جہاں میں ہے تیرا فسانہ کیا 
 کہتی ہے تجھ کو خلق خدا غائبانہ کیا
طبلو علم ہی پاس ہے اپنے نہ ملکو مال
ہم سے خلاف ہو کے کرے گا زمانہ کیا
   اور ذوق سفر کی تلقین  ؎
سفر ہے شرط مسافر نواز بہتیرے 
ہزا رہا شجر سایہ دار راہ میں ہے 
آج اردو ادب کو آتش کے جیسے للکار والے شاعر کی ضرورت ہے جو امریکی سامراج کے چیلنجز کو قبول کر کے ان کا بھرپور جواب دے۔ ذوقی صاحب آپ کا ادب ان چیلنجز کا ادب ہے جو ہمارے سامنے ہیں۔ موجودہ نسل آپ کے عظیم ناول ’’بیان‘‘ کو جھوم جھوم کر پڑھے گی   اور اس سے ایک نئی قسم کی انسپائریشن حاصل کرے گی۔ میں نے چند سال بیشتر اپنی ایک غزل میں مندرجہ ذیل شعر جب شامل کیا تھا تو اس وقت میرے اندر غمو غصہ کی آگ تیز تھی   اور آگ اس لیے تیز تھی کہ میں اکیلا ہی ایسا شاعر تھا جو یوں محسوس کر رہا تھا   ؎
آزردۂ  ملول ہے لیکن میں کیا کروں ؟
موجودہ نسل میرا کہا مانتی نہیں 
مگر ٹھیک اس شعر کے بعد ذوقی کا ناول ’’بیان‘‘ سامنے آگیا   اور میرا سر افتخار بلند ہو گیا۔ مجروح کے شعر کی بیساختہ یاد آ گئی۔ 
میں اکیلا ہی چلا تھا جانب منزل مگر
لوگ ساتھ آتے گئے   اور کارواں بنتا گیا
   اور اب ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ میں اپنی راہ کا تنہا مسافر نہیں ہوں۔ میرے قافلۂ  حیات میں ذوقی جیسے انقلابی و سرفروش ادیب بھی شامل ہیں۔ اور تب میں نے اپنی غزل کا مندرجۂ  ذیل شعر چند سال بیشتر سیوان جاتے ہوئے بس میں کہا   ؎
پرچم کئی کروڑ لئے اپنے دیس میں 
دیکھو نکل رہی ہیں غریبوں کی بستیاں 
ہمارے پڑھے لکھے جغادری قسم کے نقاد میرا یہ تجزیہ پڑھ کر بے حد خفا ہوں گے۔ مگر ان کی چینِ جبیں   اور خفگی کی پرواہ مجھ کو نہ تو پہلے تھی   اور نہ اب ہے۔ 
 مشرف عالم ذوقی کا ناول ’’بیان‘‘ آر۔ ایس۔ ایس کے مظالم کا کھلا ہوا، خم ٹھونکتا ہوا چیلنج ہے۔ جو تقریباً دو سو انسٹھ (259) صفحات پر بڑے سلیقہ سے منعکس ہوا ہے۔ اس کے مختلف ابواب ہیں مثلاً ’’ورتمان‘‘ ’’اتیت‘‘ وغیرہ۔ بالمکند شرما جوش مٹتے ہوئے جاگیر دار گھرانے کی آخری چشمو چراغ ہیں۔ میں ایسے کردار کا احترام کرتا ہوں۔ سی۔ پی۔ آئی (ایم) کے رہنما بھی سی۔ پی۔ آئی   اور دیگر بائیں بازوؤں کی سیاسی پارٹیوں کے ساتھ قابل احترام ہیں کہ انہوں نے اقتدار سنبھالتے ہی فرقہ واریت پر آناً فاناً قابو پا لیا۔ 
٭٭٭



لاجواب : بیان

انور سدید

ایک   اور ناول جو 1996 کے اوائل میں میری نظر سے گزرا   اور بھارت  سے چھپ کر آیا وہ مشرف عالم ذوقی کا ’’بیان‘‘ ہے۔ اسے پڑھ کر مجھے پیام آفاقی کا ناول ’’مکان‘‘ بے اختیار یاد آیا جس میں زندگی کی ایک مشکل کو آفاقی وسعت دے کر پورے بھارتی معاشرے کو محیط کر لیا گیا ہے۔ ’’بیان‘‘ بھی ایک ایسا ہی ناول ہے جس میں بابری مسجد کی شہادت سے پیدا ہونے والے سانحات  اور انسانی زندگی پر اس سانحے کے سیاسی، تہذیبی   اور روحانی اثرات کا بڑی فنکاری سے احاطہ کیا گیا ہے۔ اس ناول کے تاثر کی گرہ میں بالمکند شرما جوش بندھے ہوئے ہیں، جو حالاتِ زمانہ کے ناظر بھی ہیں   اور منظور بھی، وہ واقعات کے تماشائی بھی ہیں   اور خود تماشہ بھی ہیں، ان کے اس کردار سے ہی المیہ جاگتا ہے   اور دو دنیاؤں کو جنم دیتا ہے۔ ایک دنیا باہر بکھری ہوئی ہے   اور اس پر انسانی خون کا رنگ جما ہوا ہے۔ یہ خون مسلسل بہہ رہا ہے، اس خون کا رنگ مزید گہرا ہوتا جا رہا ہے   اور ایسے دھبّوں کی صورت اختیار کرتا جا رہا ہے جو دھوئے نہیں جا سکتے۔ دوسری دنیا بالمکند شرما جوش کے باطن میں آباد ہے   اور اسکے سارے نظارے شیریں ہیں۔ بال مکند شرما جوش در حقیقت اس شیریں دنیا ہی کا باسی ہے۔ اور اب بیرونی دنیا کے تضادات کا سامنا کر رہا ہے جو فرقوں، قبیلوں، لسانی گرد ہوں   اور مذاہب میں بٹی ہوئی ہے   اور انسان کو انسان کے قتل پر اکسا رہی ہے۔ اس ناول کی موضوعاتی ضرورت پوری کرتا ہے   اور ثانیاً بالمکند شرما جوش کے کردار کو اس کے فطری حوالوں سے ابھارتا ہے۔ بلا شبہ یہ ناول نظریاتی ہے۔ اس کا کینوس زیادہ وسیع نہیں، اس کا مطالعہ کرنے والے اس کے بارے میں فیصلہ کرتے وقت شاید اپنے تعصبات   اور نظریات سے الگ نہ ہو سکیں لیکن میں اسے اردو کا ایک عمدہ ناول تصور کرتا ہوں۔ مشرف عالم ذوقی نے ایک اہم واقعے کو اس ناول میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے محفوظ کر دیا ہے۔ اس کے آئینے میں ہم بر صغر کی وارداتوں کے متعدد عکس دیکھ سکتے ہیں ،  یہ ناول شرمندگی کا احساس پیدا کرتا ہے لیکن شرمندگی ذاتی نہیں بلکہ قومی ہے۔ اور شاید اس سے بین الاقوامی شرمندگی کا زاویہ بھی ابھرتا ہے۔ 
٭٭٭




مشرف عالم ذوقی کا ’بیان‘ : ایک تجزیہ

عبید قمر

مشرف عالم ذوقی زود نویس ہیں۔ انہوں نے ڈھیروں افسانے لکھے ہیں۔ ان کے کئی ناول بھی منظر عام پر آ چکے ہیں۔ ان کی نگارشات نے ادب میں اعتبار کا درجہ حاصل کر لیا ہے۔ آج کا ادب عصری زندگی کے شعور سے پیدا ہوتا ہے۔ ایسی زندگی جو گزاری گئی ہو اوڑھی نہ گئی ہو۔ مشرف عالم ذوقی فکشن میں زندگی کو لکھنے کے فن سے بخوبی واقف ہیں۔ وہ کافی بولڈ   اور لاؤڈ مانے جاتے ہیں۔ حقیقت نگاری ان کا خاص وصف ہے۔ حقیقت نگاری پل صراط پر چلنے کا عمل ہے کہ اک ذرا چوکے   اور دوسری دنیا،  یعنی ادب کی دنیا سے صحافت کی دنیا میں جا پہنچے۔ اب دیکھیے کہ ناول کا نام ہے ’بیان‘   اور انتساب 6  دسمبر کے نام! یوں لگتا ہے جیسے 6  دسمبر کے سانحہ عظیم کی روداد صحافتی انداز میں بیان کی گئی ہو گی۔ لیکن ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔ بلکہ 6  دسمبر سے اب تک کے خونچکاں ماحول   اور بھیانک پس منظر میں سیکولرزم کے گلا گھوٹے جانے کا نوحہ بن جاتا ہے یہ ناول!
 ’’لگتا ہے روایت سے کاٹے جانے کا مطلب ہے ،  کچھ ختم ہوا ہے۔ کچھ ختم ہوا ہے۔ کچھ بربریت ختم کیا گیا ہے   اور اس ختم کئے جانے کے عمل میں برسوں لگے ہوں ۔۔۔کبھی لگتا ہے میرا قتل کیا جا چکا ہے۔‘‘ 
روایت کے امین   اور سیکولرزم کے علمبردار بوڑھے پنڈت بالمکند شرما جوش سوچ رہے ہیں  اور اندر ہی اندر لرزاں ہیں۔ 
   اور پھر ان کے ساتھی برکت حسین کے یہ جملے ۔۔۔کیونکہ اب ہمارے بعد تم ہو۔۔۔تم جیسے سیکولر سوچنے والے۔ اب وہ چن چن کر تمہیں ختم کریں گے۔ تم جہاں کہیں بھی ہو گے تمہیں تلاش کریں گے   اور ختم کر دیں گے۔‘‘ 
ناول کے آغاز سے ہی ایک ہیبت ناک فضا قاری کو اپنے شکنجے میں جکڑ لیتی ہے۔ قاری اختتام تک ماحول کی ہولناکی میں ڈوبتا ابھرتا رہتا ہے۔ حقیقت نگاری ایسی کہ معلوم سے نا معلوم کی تلاش کا نام ہے ادب،  کے مقولے کا اسے صحیح ادراک ہوتا ہے۔ 
 ’’یہ سب۔۔۔ ؟ آنکھوں کے آگے جیسے ہزاروں وحشی قبائلی تانڈو کر رہے تھے ۔۔۔مار ڈالیں گے، تمہیں بھی مار ڈالیں گے ۔۔۔مارو۔۔۔ ‘‘ 
ناول کے دو اہم کردار ہیں پرانی تہذیب کے پروردہ دو بوڑھے، پنڈت بالمکند شرما جوش جو اردو میں شاعری کرتے ہیں   اور میاں برکت حسین۔ دونوں دوست خاندانی تعلقات   اور پرانی روایات کی آخری کڑی ہیں۔ دونوں کی مختصر سی فیملی ہے۔ 
جوش صاحب کی بیوی کا انتقال ہو چکا ہے۔ ان کے دو بیٹے انیل   اور نریندر   اور ان کی بیویاں ہیں، ایک معصوم سی پوتی مالو ہے جو ان کے چھوٹے بیٹے کی بچی ہے۔ برکت حسین کی بے زبان بیوی کے علاوہ ایک بیٹا منا، بہو   اور ایک ان کی شیر خوار پوتی نشّی ہے۔ دونوں بوڑھے اپنی اولاد سے نالاں   اور ان کے کردارو افعال سے ہراساں ہیں۔ انہیں جنریشن گیپ کا احساس ہوتا ہے۔ 
 ’’کبھی کبھی لگتا ہے میاں ___ کیا ہم   اور ہمارے بچوں کے درمیان سینکڑوں برسوں کا فاصلہ ہے کیا سوچو اس پر لگتا ہے نا۔‘‘ 
 ’’بچوں   اور ہماری بولیوں میں آسمان زمین کا فرق،  ان کی ہماری تہذیب میں زمین آسمان کا فرق۔ ان کے ہمارے خیالات میں زمین آسمان کا‘‘ بچوں کے شعور کی آنکھیں کھولتے ہی دونوں بوڑھوں کو احساس ہوتا ہے جیسے انہیں بوڑھا درخت سمجھ کر لوگ وقت سے پہلے جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے ذریعے ہوں۔ گھر کے باہر   اور اندر تمام ان کے خلاف سازشیں رچی جا رہی ہوں۔ حال انہیں کاٹنے کو دوڑتا تو ان کا ذہن ماضی کی پناہ گاہ تلاش کرتا۔ لیکن انہیں وہاں بھی وقتی سکون میسر نہ ہو پاتا۔ انہیں محسوس ہوتا جیسے ان کے ماضی کا اثاثہ ان کی پونجی بھی لوگوں نے تہس نہس کر دی ہے۔ اندر   اور باہر ہر چہار طرف سے ان پر یلغار ہو رہی ہے۔ یہاں تک کہ ان کے سارے جذبوں ___ اخوت   اور رواداری، شرافت   اور سچائی، روایت   اور سیکولرزم کے بھی لوگ ہاتھ دھوکر پیچھے پڑ گئے ہیں۔ سکون و اطمینان کی فائلیں تو کب کی اڑ چکیں۔ دن رات مارو، پکڑو کا شور، بم   اور گولی کی دہشتناک آوازیں۔ فضا میں ہیلی کاپٹر کی گھڑ گھڑاہٹ   اور سڑک پر رائفل بردار پولس کی دھم دھم___ جیسے ایک کبھی نہ ختم ہونے والی جنگ شروع ہو چکی ہے۔ جیسے ملک کو خانہ جنگی کے جہنم میں جھونک دیا گیا ہو۔ وہ اندر ہی اندر ٹوٹ جاتے ہیں۔ گوشہ نشینی بھی ان کے لیے جائے اماں نہیں بن پاتی۔ 
شرما جی کا بڑا لڑکا انیل کانگریسی ہے تو چھوٹا بیٹا نریندر بھاجپا کا ورکر۔ 6  دسمبر کے سانحہ کے بعد مسلم جو کانگریس کا ووٹ بنک سمجھے جاتے تھے اس سے بد ظن ہو گئے ہیں۔ وہ اپنی ساکھ کھوتی جا رہی ہے   اور بھاجپا اس سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہتی ہے۔ وہ فرقہ واریت کو بڑھاوا دے رہی ہے۔ یہاں تک کہ دنگا کرانا بھی اس کا ایک روٹین ورک ہے۔ یوں شرما جی کے گھر میں بھی آپس میں سرد جنگ جاری ہے۔ 
 ’’جوش صاحب نظر اٹھاتے ہیں۔ یہ کتابیں دیکھ رہے ہو۔ قلم کاغذ دوات۔ اب کچھ بھی چھونے کی۔ اٹھانے کی خواہش نہیں ہوتی۔ باہر شور ہے۔ اپنے ہی بچے نظر پھیرے ہوئے لگتے ہیں۔ دوسروں کو کیا کہوں۔ باہر دھواں ہے۔ جنگ کے جراثیم گھلے ہیں۔ کس سے کہوں کس سے فریاد کروں، اور یہاں میرے یہاں، پرکھوں کی میراث یہ گھر___ یہ گھر بھی ٹوٹنے کو لگتا ہے۔‘‘ 
ذوقی کے یہاں مکالمے ہی سب کچھ ہیں۔ ان کا مکالموں سے ہی ان کے کردار اپنے شعور،  اپنی نفسیات   اور اپنے ماحول کی بھرپور عکاسی کرتے ہیں۔ چھوٹے سے چھوٹا ضمنی کردار بھی قاری کے ذہن پر اپنا ایک نقش ثبت کر جاتا ہے۔ جوش صاحب کا بڑا لڑکا انیل جو کانگریسی ہے وہ کچھ کھلا ذہن رکھتا ہے۔ اب دیکھئے کہ اس کے چند جملے ہی اس کے اندر کے انسان کی بھرپور نمائندگی کرتے ہیں۔ وہ برکت حسین سے محو گفتگو ہے ___ ’’اس کا مطلب تم بھی سمجھتے ہو کہ یہ پارو میں آ سکتے ہیں ؟‘‘ 
تب سمجھئے ۔۔۔انیل نے پوری گمبھیرتا سے کہا۔ تب آپ ہی نہیں ہم بھی سر کمچھت نہیں ___ یعنی سچ بولنے والے۔ اور تب وشواش رکھئے یہ دیش ٹوٹ جائے گا۔‘‘ 
اس کا چھوٹا بھائی نریندر جو بھاجپا کا خاص ممبر ہے۔ وہ ایک سبھا میں تقریر کر رہا ہے۔ اس کے زہر بھرے الفاظ صاف گواہی دے رہے ہیں کہ وہ بربریت کی سرحد بھی پار کر لے گا___
 ’’ادھر وشو میں اسلامی مہا سنگٹھن بنانے کی یوجنا چل رہی ہے   اور ادھر ہندو ایک مندر نہیں بنا پایا ہے۔ ایک ڈھانچہ ٹوٹتا ہے تواسے اپنوں کے منہ سے شرم شرم جیسے شبد سننے کو ملتے ہیں ۔۔۔اسلامی مہا سنگٹھن کے ابھرنے کا مطلب ہو گا۔۔۔پورے وشو کی واسنا، غلامی خطرہ جتنا بڑا ہے، ہم اسے اتنا آنک نہیں پا رہے ہیں ___‘‘ 
دوسری طرف برکت حسین کا لڑکا منا ہے جو عجیب گومگو کے عالم میں زندگی گذار رہا ہے۔ جسے کوئی میاں جی کہتا ہے تو وہ بھڑک اٹھتا ہے۔ اسے محسوس ہوتا ہے جیسے یہاں وہ دو نمبر کا شہری بنا دیا گیا ہے۔ لیکن اس قعر مذلت سے نکلتا بھی اس کے بس کا روگ نہیں۔ ذرا باپ بیٹے کی گفتگو ملاحظہ فرمائیے ___
 ’’اسے ہم کو گالی دے دیں۔ سو جوتے مار لیں، سہہ جائیں گے۔ مگر مذہب کوسنا کمینوں کا حوصلہ بڑھتا رہے گا۔ اب چوڑی پہن کر گھر میں ڈھکے رہنے کا وقت نہیں ہے ابا۔ میں تو صاف لڑائی کر لیتا ہوں۔ 
کیوں لڑائی کرتا ہے۔ کیا فائدہ۔ 
فائدہ وائدہ میں نہیں جانتا ابا۔ آخر ان کا کیا فائدہ ہے کہ وہ ہمارے خلاف بولتے ہیں۔ کیا ان کے بولنے سے مسلمان چلے جائیں گے اس ملک سے۔‘‘ 
اب ظاہر ہے کہ ایسے جذباتی ذہن رکھنے والے شخص کی قوت فیصلہ تو کمزور ہو گی ہی۔ آگے اسی کمزوری کے سبب منا بھاجپا جوائن کر لیتا ہے   اور مروا دیا جاتا ہے۔ لیکن برکت حسین بھی یہ سوچنے پر مجبور ہیں ___
 ’’وہ جپ ہو گئے۔ لگا، ماحول کے زہر نے ایک آگ منا کے اندر بھی بھر دی ہے   اور وہ واقعات کی سر بھری ہوا کا مقابلہ کرتے ہوئے زہریلا ہو گیا۔ زہریلے جملے ہی چھوڑتا ہے۔ وہ مدتوں سے برسوں سے ،  یہی سب دیکھتے ہوئے بڑا ہوا ہے   اور اب دیکھنے   اور برداشت کرنے کی حد سے باہر نکل کر خطرناک ہو چکا ہے ۔۔۔ ‘‘ 
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر آزادی کے بعد کی پروردہ نسل اتنی جذباتی،  ایسی حیوان صفت   اور اس قدر فرقہ پرست ذہنیت کی حامل کیوں کر ہو گئی۔ ذوقی پہلے کی پیڑھی کو بھی نہیں بخشتے۔ ان کا کہنا ہے کہ سب کچھ اسی نسل کا کیا دھرا نہیں بلکہ اس سے پہلے کی پیڑھی بھی مورد الزام ہے۔ جوش صاحب کو ان کی اولاد کے ذہنی رویے نے تنہا   اور اکیلا ضرور کر دیا ہے۔ لیکن ان کے اندر کہیں یہ سوچ بھی ابھرتی ہے۔ ’’تم اپنے بچوں پر الزام کی بارش بھی نہیں کر سکتے ۔۔۔ایک خون میں ڈوبی ہوئی آزادی تم نے انہیں ورثے میں دی___ یعنی آزادی تو دی مگر لہولہان___ وہ ایک آزاد ملک میں پروان چڑھے ،  لیکن سرحدوں پر پھیلے ہوئے خون خشک ہو جانے کے بعد بھی اپنی نفرت اپنا غبار اپنا میلا پن چھوڑ لیے ۔۔۔ ‘‘ 
پھر نریندر   اور منا کی بیٹیاں مانو  اور نشی ہیں۔ یہ نسل جو ابھی آنکھیں کھول رہی ہے۔ اس کا ماحول اس کی دنیا   اور اس کا مستقبل ___ دیکھئے سہمے سہمے سے برکت حسین کیا سوچتے ہیں ___
 ’’وہ نشی کو دیکھتے ہیں ۔۔۔ایک نسل   اور بڑی ہو رہی ہے۔ اسی دنگے   اور فساد کی فضا میں ___ اسی خونی تانڈو میں ___ اسی تناؤ   اور وحشت کے تعلق سے درمیان۔۔۔اسی مذہبی خلفشار میں ۔۔۔یہ بچے ابھی سے کرفیو دیکھ رہے ہیں ۔۔۔آسمان پر پھیلتا دھواں دیکھ رہے ہیں۔ کمرے میں پھیلی گھٹن دیکھ رہے ہیں ۔۔۔ ‘‘ 
نریندر کی بیٹی مالو پانچ چھ سال کی معصوم بچی ہے۔ وہ اپنے ددّو جوش صاحب سے ایک دن پوچھ بیٹھتی ہے کہ آپ مسلمان ہیں کیا؟ وجہ صرف یہ ہے کہ اردو پڑھتے لکھتے ہیں۔ وہ بھی پوچھتے ہیں کہ مسلمان کیسے ہوتیں ___ اب ذرا جواب سنئے   اور اس کے ذہن پر ماحول کی زہر ناکی کے اثرات کا اندازہ لگائیے ۔۔۔ 
 ’’وہ بدمعاش ہوتے ہیں۔ ذرا سی بات میں قتل کرنے سے نہیں چوکتے۔ جہاں مسلمان زیادہ ہوتے ہیں وہاں جانے کا نہیں ہوتا۔ نہیں تو تلوار دکھا کر بولتے ہیں مسلمان ہو جا‘‘ 
اچھا یہ سب کہاں سے سیکھا؟
سیکھا کہاں سے ___ ڈیڈی بتاتے ہیں۔ کبھی کبھی ماں بولتی ہے۔ ہوتے ہیں نا خراب؟
ظاہر ہے مالو کا باپ اگر بھاجپائی ہے تو ماں بھی مسلمانوں سے چھوا چھوت کی حد تک نفرت کرتی رہی ہے۔ ایک بار مالو اچانک بہت بیمار پڑ جاتی ہے۔ اس کا چچا انیل ڈاکٹر کے یہاں لے جانے سے مکر جاتا ہے۔ ایسے میں منا نہ صرف اسے اسپتال میں بھرتی کرواتا ہے بلکہ دونوں میاں بیوی رات بھر جاگ کر اس کی تیمار داری کرتے ہیں۔ عورتیں جو زود حس ہوتی ہیں ان پر ماحول کا فوری اثر ہوتا ہے۔ مالو کی ماں کی آنکھیں کھل جاتی ہیں۔ منا نے اس کی مالو کی جان بچائی ہے وہ نہ صرف منا کی قدر گرنے لگتی ہے بلکہ چھوا چھوت بھول کر وہ اس کے گھر کھانے پینے بھی لگتی ہے۔ وہ نریندر کو بھی سمجھاتی ہے کہ اس گندی سیاست   اور نفرت کے کھیل سے باز آ جائے۔ لیکن نریندر تو حیوانیت کی سرحد میں داخل ہو چکا تھا۔ بھلا اس پر ان سب باتوں کا کیا اثر ہوتا۔ اب اس پس منظر میں یہ روح فرسا مکالمے غور فرمائے جس میں نریندر کی شخصیت کھل کر سامنے آتی ہے ___
 ’’منا نہیں آیا___ منا ابھی دروازے ہی پر تھا کہ ڈاکٹر نویندو کی آواز بھرائی۔ وہ ٹھٹھک کر کھڑا ہو گیا۔ 
نریندر کی برف جلی ٹھٹھری آواز گونجی___ جب تک ہمارے کام کا ہے۔ کام ہے۔ نہیں ہو گا تو اسے بھی فساد میں مروا دیں گے۔ 
ڈاکٹر نویندونے کہا ___ چھوٹے شہر میں یہی تو مصیبت ہے۔ ہماری پارٹی کو لوگوں نے مسلمانوں کا دشمن تصور کر لیا ہے۔ 
دشمن تو ہے ہی،  نریندر نے ٹھہاکہ لگایا___ ہم جو چال چلتے ہیں الٹ پلٹ کر بیان دیتے ہوں۔ مگر جیت کی ابتدا تو نہیں کے سینے پر مونگ دل کرتی ہے اتنے سارے لوگ مسلمانوں کے ورودھ تو ہمارے حصے میں جٹے ہیں ۔۔۔ ‘‘ 
منّا کا حال یہ ہے کہ جب اس نے بھاجپا جوائن کیا ہے۔ جیسے اس کی شخصیت ہی بدل گئی ہے۔ مسلمان اسے غلط نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ گھر میں وہ اجنبی کی طرح خموش خموش رہنے لگا ہے۔ اپنے بچپن کے دوست سلیمان کے استفسار پر بھاجپا جوائن کرنے کی توضیح میں وہ کیا کچھ اندیشہ ظاہر کرتا ہے ___
 ’’وہ ۔۔۔تم اس کی اس قدر مخالفت پر اترتے رہے ، پھر کیا ہو گا سلیمان میاں۔ تم ان کے خلاف بولتے رہے، بولنا بند نہیں کیا، تو کیا حکومت میں آنے کے بعد یہ تمہیں زندہ چھوڑیں گے   اور یہ نہیں ملک چھوڑنے کے لیے بے بس کر دیں گے ۔۔۔ 
تم زیادہ سے زیادہ یہی ہو گا، اپلاؤ گے، غلط حرکتیں کرو گے یا زیادہ سے زیادہ آتنک وادی بنو گے ___ مجھے لگتا ہے یہ لوگ یہی چاہتے ہیں۔ تم لوگ اپنے ہوش گنوا دو، آتنک پر اتر آؤ تاکہ یہ تمہارا دمن کر سکیں۔ تم پاگل ہو جاؤ تاکہ انہیں پاگل کتّوں کے شوٹ کرنے کا اچھا سا بہانہ مل جائے ۔۔۔ ‘‘ 
لیکن جلد ہی منا کو اپنی غلطی کا احساس ہونے لگتا ہے۔ ذرا سی حکم عدولی پر بھاجپا والے اسے دھمکانے لگے ہیں۔ اسے محسوس ہوتا ہے جیسے وہ کسی گینگ میں شامل ہو گیا ہے۔ اس سے باہر نکلنے پر جان کا خطرہ لاحق ہے۔ اس طرح دہشت زدہ منّا آج کے مسلم نوجوان کی عجیب شرمناک تصویریں ابھارتا ہے۔ ذوقی نے بے باک قلم سے آج کے گھناؤنے سیاسی ماحول کا بھی بخیہ ادھیڑ کر رکھ دیا ہے۔ خوشامدی جاوید چپراسی کے طور پر کانگریس آفس میں چائے پلایا کرتا تھا۔ لیکن ایک سال کے اندر ہی اسے کار سے آتے جاتے دیکھ کر انیل حیرت زدہ رہ جاتا ہے۔ بھاجپا کے ممبر انیل کنٹھ نیتا کے نام سے مشہور ہیں۔ دوبارہ بی اے فیل ہوئے تو نیتا گیری کے دھندے میں لگ گئے۔ پہلے رولنگ پارٹی جوائن کی۔ پھر دل بدلو بن کر بھاجپا میں چلے آئے۔ جیپ رکھتے ہیں۔ تقریر کرنا آتا نہیں مگر رٹے رٹائے طوطوں کی طرح اٹک اٹک کر شروع ہو جاتے ہیں۔ یعنی آج کی سیاست میں کامیابی کے دو ہی حربے ہیں۔ تلوا چاٹنے کے فن میں ماہر ہونا یا پھر طاقت   اور روپئے کا جائزو ناجائز استعمال ! آج مذہب کو بھی سیاسی ہتھکنڈے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ غلط موقع پر غلط ڈھنگ سے اسکی تشریح بیان کی جاتی ہے ___ 
 ’’ملکانی مسکرائے ___ منا کو مروا دو۔۔۔ ‘‘ 
 ’لیکن نیتا___‘ 
ملکانی سرک گئے۔ تم اسے ہتیا کہتے ہو___ دھرم کے کام میں ہتیا، اپرادھ جیسے شبد نہیں ہوتے۔ یہ دھرم کا کام ہے۔ پارٹی کا تو ہے ہی۔ پارٹی سے بڑھ کر دھرم کا ہے ___   اور دھرم نے ستیہ کے لیے کئے گئے یدھ کو کبھی غلط نہیں کہا۔۔۔ ‘‘ 
ان کرداروں کے علاوہ پانچ بے روزگار مسلم نوجوان ہیں۔ جنہیں جوش صاحب نے پانچ پاپی کا نام دے رکھا ہے۔ یہ سب شاعر ہیں۔ ان کا تعارف مصنف نے اس طرح کرایا ہے ___ ان پانچوں میں کوئی انفرادیت نہیں تھی۔ جو ان کی خاص شناخت بن سکتی ہو۔ نہ ان کا ڈیل ڈول، نہ ان کا لہجہ ___ یہ پانچوں کسی بھی مسلمان محلے یا گھروں میں مل جائیں گے ۔۔۔جو بے روزگار ہوں   اور جنہیں شاعری کا شوق ہو گیا ہو___   اور جن کی ایک عدد محبوبہ ہو___‘‘ آج کے ہندوستان میں اپنی شناخت کھوتی ہوئی مسلم قوم کی ذہنی ابتری   اور زبوں حالی کے نمائندہ یہ پانچ کردار بھی فراموش نہیں کئے جا سکتے ہیں۔ اس طرح ہم دیکھتے ہیں کہ یہ چھوٹے چھوٹے کردار بھی قاری کے ذہن پر اپنا ایک نقش چھوڑ جاتے ہیں۔ یہ ناول نگار کی بہت بڑی کامیابی ہے۔ جہاں تک زبان و بیان کی بات ہے تو ذوقی اپنا ایک الگ اسلوب بنانے میں کامیاب ہیں۔ اسے مکالماتی اسلوب بھی کہا جا سکتا ہے۔ ہاں کہیں کہیں عام بول چال کے الفاظ جملے کی روانی میں خلل پیدا کرتے ہیں۔ جیسے یہ جملے دیکھئے ___
 ’’اب چوڑی پہن کر گھر میں ڈھکے رہنے کا وقت نہیں رہا___‘‘ 
ایک موقع ملے تو آدمی کہاں سے کہاں اٹھ آتا ہے۔ 
 ’نریندر زور سے چونکا۔ 
پورے ناول میں ایک پیرا ایسا ہے جسے پڑھ کر ہم سوچنے لگتے ہیں کہ کاش کہانی کے اختتام کا اعلان مصنف نے خود نہ کیا ہوتا۔ 
 ’’کہانی ختم ہو گئی۔ اب تھوڑے بہت واقعات بچے ہیں ، جنہیں آپ تک پہنچانا میں اپنا فرض سمجھتا ہوں۔ منا کو جس آدمی نے مارا، کوئی ضروری نہیں کہ اس آدمی کے بارے میں بھی آپ کو جانکاری دی جائے۔ مگر جناب وہ آدمی ہے ہی ایسا کہ میرا دل چاہ رہا ہے۔ مختصر میں اس کے بارے میں بھی بتاتا چلوں۔ 
یوں ناول کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ شروع کرنے کے بعد قاری بغیر اسے ختم کئے اپنے سے الگ نہیں کر سکتا۔ پنڈت بالمکند شرما جوش بیان دینا چاہتے ہیں۔ مرتے وقت کاغذ کے ایک ٹکڑے پر کچھ کچھ چھوڑا لیکن وہ گم ہو گیا۔ کمال یہ ہے کہ ناول ختم کرنے کے بعد بھی یہ تجسس برقرار رہتا ہے کہ بیان کیا تھا۔ 
ظاہر ہے ادب صحیح صورت حال کو دریافت کرتا ہے۔ اس کا مداوا نہیں پیش کرتا۔ 
٭٭٭





مشرف عالم ذوقی کے ناول ’بیان‘ کا تہذیبی تجزیہ

ڈاکٹر سید معصوم رضا

ادب زندگی کا آئینہ دار ہے۔ ہر وہ ادب جو زندگی کی معنویت   اور ماہیت کو برقرار رکھے وہی سچّا ادب ہے۔ کوئی بھی ادب اپنے سماج سے الگ نہیں ہوتا۔ سماج کے نظم و ضبط، حالات و نظریات، سیاسی و تہذیبی عروج و زوال، انسانی حیات کے نشیب و فراز عوامی تحریکات   اور انسانی زندگی کے عظیم حادثات و واقعات سے ادب کی وابستگی لازمی ہے۔ یہ تمام چیزیں ادب کے لیے ضروری ہیں۔ کوئی بھی ادب سماجی زندگی ہی سے وابستہ ہوتا ہے اسی لیے ادب زندگی کا بہترین ترجمان بھی ہوتا ہے   اور اس میں زندگی کے تمام شعبوں کی عکاسی بھی ہوتی ہے۔ ادب میں اپنے دور کے تقاضوں   اور زندگی کے تمام مسائل کو پورا کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے جس کی مثال اردو ادب میں   اور بالخصوص اردو ناول میں جا بجا ملتی ہے لیکن 1947 کا واقعہ ہندوستان کی تاریخ کا ایک عظیم حادثہ ہے۔ اردو ادب میں اس کی حیثیت بسنگِ میل ہے۔ اس سال نہ صرف ہندوستان کی تاریخ کے صفحات بدل گئے بلکہ ہندوستانی تہذیب، معاشرہ، دلو دماغ   اور اندازِ فکر کو نئی جہت عطا ہوئی۔ ہندوستان کی غلامی کا دور ختم ہوا   اور آزادی نصیب ہوئی۔ لیکن اس کی نوعیت تبدیل ہو چکی تھی جس سے ملک میں جو تبدیلی رونما ہوئی اس کے اثرات نے اندازِ فکر، طرز عمل، احساسات شعور   اور تخیل سب کو تبدیل کر دیا۔ سالہا سال کی تہذیبی روایت تبدیل ہو گئی۔ پرانی قدروں نے دم توڑ دیا   اور نئی قدروں نے ان کی جگہ لے لی۔ ملک مختلف سطحوں پر منقسم ہو گیا۔ مذہب کی بنیاد پر انسانوں نے ہجرت کرنی شروع کر دی۔ اس منتقلی نے سارے معاشرے میں زہر گھول دیا۔ نفرت کی آگ پھیل گئی۔ لوگ مذہب کو ڈھال بنا کر خون   اور آگ کی ہولی کھیلنے لگے۔ غیر انسانی حرکات و سکنات نے ذہنوں کو جھنجھوڑ دیا۔ انسان انسان کے خون کا پیاسا ہو گیا۔ صدیوں پرانے ہمسائے ڈرے سہمے، عدم تحفظ کی وجہ سے گروہ بند ہو کر ہجرت کرنے پر مجبور ہو گئے۔ تہذیبی تضاد  اور مذہبی تعصب نے انسانیت کا خون کر دیا۔ ادب نے بھی ان دل سوز واقعات و حادثات کی ترجمانی کی۔ تقسیمِ ہند کے بعد کافی عرصے تک تقسیم ہند سے متعلق موضوعات پر براہِ راست یا بالواسطہ اردو ناول منظر عام پر آتے رہے لیکن ان سب سے زیادہ جو ناول منظر عام پر آئے اسے ہنگامی ادب یا فساداتی ادب کے زمرے میں رکھ کر اسے پست معیاری قرار دے دیا گیا۔ چند ناول ہی ایسے تھے جنہیں ابدی حیثیت حاصل ہو سکی   اور رفتہ رفتہ ناول کے موضوعات میں تبدیلی پیدا ہوتی گئی۔ موضوع کے ساتھ ساتھ ناول میں ہیئت کے بہت سے تجربے ہوئے۔ اسلوب کے اعتبار سے بہت سے ناول علامتی انداز میں لکھے گئے جس میں قصے کو ثانوی حیثیت حاصل تھی لیکن اس میں سب سے مختلف بیسویں صدی کے آخری دہائی میں مشرف عالم ذوقی نے ’’بیان‘‘ لکھ کر ہمیں جس انداز میں حقیقت سے آشنا کرایا ہے وہ ان کی انفرادی کوشش   اور کمالِ فن کا بہترین امتزاج ہے۔ موضوع کے اعتبار سے ’’بیان‘‘ انفرادی حیثیت کا حامل ہے کیوں کہ اس میں معاشرے کی بدلتی ذہنیت   اور نسلی خلیج کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ ناول شروع سے آخر تک بالمکند شرما جوش   اور چودھری برکت حسین کی خاندانی راہو رسم کے ارد گرد گھومتا ہوا اختتام تک پہنچتا ہے۔ گاہے بہ گاہے مذہبی تعصب، فرقہ وارانہ ذہنیت، سیاسی داؤ پیچ  اور نئی و پرانی قدروں کے تضاد کو بھی بخوبی پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ ناول کا پس منظر 1947 کے بعد کے آزاد ہندوستان کے بدلتے ماحول کو بنایا گیا ہے جو 1947 سے 1992 تک کے سیاسی   اور مذہبی داؤ پیچ کے سبب ہر عہد  اور حالات کے تقاضوں کو بخوبی پورا کرتا ہے۔ زبان و بیان کے اعتبار سے بھی یہ ناول مخلوط زبان کی ترجمانی کرتا ہے۔ ناول کے تمام کردار کے حرکات و سکنات، بول چال  اور جذبۂ  فکر کو اس کے کردار کے سماجی پس منظر میں ہی پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ ناول میں فرقہ واریت کے رویّہ کی اصل سیچویشن کو کرداروں کے حوالے سے بیان کر کے ناول کو الفاظ کے قالب میں ڈھالنے کی کوشش کی گئی ہے۔ پس منظر میں فرقہ واریت کی ہی جلوہ سامانی ہے۔ 
بلا شبہ ہندوستان جیسے بڑے ملک میں جہاں مختلف مذاہب کے لوگ قیام پذیر ہیں سیاسی سطح پر مختلف دشواریوں کا باعث میں ہو سکتے ہیں۔ سیاست کے داؤ پیچ میں یہاں کے بے گناہ  اور معصوم عوام کو گمراہ کر کے ان کا مذہبی طور پر جذباتی استحصال کیا جاتا ہے جس سے معاشرے میں کشیدگی   اور نفرت کے ماحول نے ہمیشہ کے لیے جڑ پکڑ لی۔ اس سے فرقہ پرست طاقتوں کی حوصلہ افزائی ہوئی۔ انہوں نے وقتاً فوقتاً ہندوستان کے مختلف علاقوں میں سر اٹھایا   اور تعصب کا ماحول گرم ہوا۔ اس کے پس پردہ ہندوستان میں ہوس اقتدار کی تسکین کا عمل جاری رہا   اور پورے ملک کا ماحول بدلا بدلا سا لگنے لگا۔ عوام ڈری، سہمی، خوفزدہ   اور حقیقت سے نا آشنا ملک میں کھیلی جانے والی خون کی ہولی کی خاموش تماشائی بن گئی۔ 
ہندوستان میں اب فرقہ واریت کا بول بالا ہے۔ فرقہ وارانہ ذہنیت والے نوجوانوں کی کمی نہیں۔ یہاں ہر ہندو خود کو کٹر ثابت کرنے پر آمادہ ہے  اور ہندوستانی تہذیب کو ہندو توکی نئی اصطلاح میں برتنے کی منظم کوشش کی جا رہی ہے۔ یہ سلسلہ تقسیم ہند سے تا حال قائم ہے جس سے ہندوستان میں فرقہ وارانہ فسادات نے سر ابھارے، مذہبی تعصب   اور کشیدگی کا ماحول گرم رہتا ہے   اور اس کے پس پردہ ہندوستان میں سیاست کے کھیل کھیلے جاتے ہیں۔ ہندوستان کے بنیادی مسائل بھوک، غربت، جہالت   اور بیماری وغیرہ کو نظر انداز کر کے فرقہ واریت کی حوصلہ افزائی ہونے لگی جس سے ہندوستان کی سالہا سال قدیم تہذیبی روایت نفرت کی آگ کی لپیٹ میں آ گئی   اور رفتہ رفتہ ریشہ ریشہ ہو کر بے اثر ہوتی چلی گئی۔ ہندوستان میں فرقہ وارانہ تناؤ کی شروعات انگریزوں نے ’’پھوٹ ڈالو   اور حکومت کرو‘‘ کی پالیسی کے ذریعہ کر دی تھی جس سے ہندوؤں   اور مسلمانوں کے بیچ مذہبی بھید بھاؤ کی شروعات ہوئی جو رفتہ رفتہ نفرت، لڑائی جھگڑے   اور قتل غارتگری تک پہنچ گئی۔ یہ سلسلہ آزادی کے بعد لگاتار چلتا رہا   اور مسلمانوں کو ہر فساد کے بعد گہرے نقصان   اور پریشانی سے گزرنا پڑا۔ فسادات کی ہیبت تو چند مہینوں کے بعد ختم ہو جاتی تھی لیکن فرقہ وارانہ ذہنیت کا سلسلہ کبھی بھی ختم نہیں ہوا جو بنیادی طور پر اس ملک کی تہذیب   اور کلچر کے لیے بہت ہی نقصان دہ ہے۔ ایسے ہی موضوعات کو مشرف عالم ذوقی نے اپنے ناول ’’بیان‘‘ میں تفصیلی طور پر پیش کرنے کی عمدہ کوشش کی ہے   اور کافی حد تک وہ کامیاب ہوئے ہیں۔ ناول موضوع، زبان و بیان   اور پس منظر ہر اعتبار سے چست درست ہے۔ زبان و بیان پر انہیں اتنی قدرت حاصل ہے کہ ذوقی نے جیسا دیس ویسا بھیس والی مثل سچ کر دکھائی ہے۔ اردو ناول میں ہندی   اور دیوناگری الفاظ کا برجستہ استعمال ناول میں چار چاند لگا دیتا ہے۔ زبان کے اعتبار سے یہ ناول مکمل ہندوستانی رنگ میں رنگا ہوا ہے۔ ہر کردار اپنی زبان   اور عمل سے مکمل ہے۔ کوئی بھی سیچویشن ہو خواہ کتنے ہی کردار یکجا کیوں نہ ہوں لیکن مکالمے میں کوئی جھول نہیں ہے۔ کردار حقیقی رنگ میں سرگرم نظر آتے ہیں۔ ذوقی نے ناول کو چھوٹے چھوٹے ذیلی عنوان کے قصوں کے ذریعے ایک لڑی میں پرونے کی کوشش کی ہے   اور ہر ذیلی عنوان معنوی اعتبار سے بھی ناول کا ایک جز معلوم ہوتا ہے جس سے نیا پن کا احساس نہیں ہوتا بلکہ بطور کڑی کے ایک کہانی کے بعد دوسری کہانی بے حد موزوں ہے۔ ناول کا پورا پس منظر فرقہ وارانہ ذہنیت، ہندو مسلمان کی نفرت   اور تشدد کی سیاست   اور قدیم و جدید تہذیب کے ٹکراؤ سے بھرا پڑا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ نسل خلیج   اور ہندوستان کے بنیادی مسائل پر بھی گاہے بہ گاہے بڑی فلسفیانہ بحث کی گئی ہے جو بالواسطہ ہلکا ہلکا طنز بھی ہے   اور انسانی ذہن کو بیدار کرنے کے لیے سمجھ دار کا اشارہ بھی ہے جو بظاہر تو ناول کا ایک سین یا ایک جز ہے لیکن اس کے پس پردہ ہندوستانی معاشرے کی حقیقی تصویر کی جھلک صاف صاف دکھائی دیتی ہے۔ کسی بھی بات کو مدلّل پیش کیا جائے تو بات بخوبی واضح ہو جاتی ہے اس لیے وضاحت کے طور پر ناول کے چند اقتباسات کا سہارا لے کر اپنی بات کو واضح کرتا چلوں تو بہتر ہو گا۔ بالمکند شرما جوش غلام ہندوستان کی پیداوار ہیں جب ہندو گھرانے میں بھی اردو فارسی کی تعلیم حاصل کرنا معیوب نہیں سمجھا جاتا تھا بلکہ تمیز و تہذیب   اور آداب و اطوار کے اعتبار سے اس بات پر فخر محسوس کیا جاتا تھا۔ ہر وہ خاندان جہاں اردو فارسی کا چلن عام تھا مہذب   اور تعلیم یافتہ سمجھا جاتا تھا۔ ایسی ہی تہذیب کی ترجمانی اس ناول میں جوش صاحب کر رہے ہیں جن کا طرز زندگی تو ہندوستانی ہے لیکن آزاد ہندوستان میں انہیں مسلم تہذیب کا ترجمان قرار دے دیا جاتا ہے   اور ان کی اس حیثیت کو متعین کرنے میں ان کے دو لڑکے، بہو ویں، بیوی   اور پوتی کے کردار کو ضمنی طور پر اس ناول میں شامل کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ چودھری برکت حسین کے خاندان کو بطور مسلم خاندان پیش کیا گیا ہے جو معاشرے کی نا انصافیوں سے تنگ ہے۔ پولس سرکار کی گندی سیاست کی پیروی میں مسلمانوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک کرنے میں کوئی بھی کسر نہیں اٹھا رکھتی۔ طعن و تشنہ   اور طنز کا نشانہ بھی بے چارے بے گناہ معصوم مسلمان ہی بنتے ہیں۔ دور حاضر کی تمام سچائیوں سے   اور بالخصوص سیاسی رنگ سے یہ ناول بھرا پڑا ہے۔ پورے ناول میں تہذیبی اقدار کے تبدیلی کا ذکر بالمکند شرما جوش تا زندگی وقتاً فوقتاً کرتے رہتے ہیں   اور ان کا تبصرہ بظاہر تو ایک ہلکا پھلکا طنز معلوم ہوتا ہے لیکن اس پر سنجیدگی سے غور کرنے پر یہ احساس ہوتا ہے کہ ہاں واقعی ہندوستانیوں نے ماڈرن بننے کے چکر میں بہت کچھ کھو دیا ہے جس کی واپسی اب ممکن نہیں   اور یہی بنیادی وجہ ہے جس نے ہم لوگوں کا چین آرام چھین لیا ہے   اور ہمیں مختلف خانوں میں منقسم کر کے ایک دوسرے کا دشمن بنا دیا ہے جبکہ یہ سب ہماری گمراہی کا نتیجہ ہے۔ ملاحظہ ہو یہ اقتباس ___
اب وہ زمانہ کہاں ۔۔۔نہ گھوڑے رہے نہ گھوڑے پالنے والے ۔۔۔یہ سب خاندانی لوگ ہیں ۔۔۔لیکن اب وہ خاندانی لوگ رہے کہاں ۔۔۔سب زر داروں کی قبیل کے ہیں تجارتی زبان سیکھ گئے۔ تجارتی زبان ۔۔۔کل کے تاجر بھی آداب   اور اخلاق کا سبق سیکھے ہوئے تھے۔ زمانہ کتنا بدل گیا۔۔۔بدلے ہوئے زمانہ سے نالاں ہوتے ہیں جوش صاحب۔‘‘ص ۲۲۔ ۲۳
بدلتے ماحول میں ہر انسان دولت کا پجاری ہو چکا ہے۔ ہوس اقتدار   اور دولت کی لالچ نے اسے اتنا بدل دیا ہے کہ وہ بڑے چھوٹے، مرد عورت   اور رشتے ناطے سب کچھ بھول چکا ہے۔ نہ تمیز نہ تہذیب بلکہ اب تو مغربی تہذیب کی پیروی میں کیا سے کیا ہو گیا جس کا ذکر چودھری برکت حسین بالمکند شرما جوش سے بڑی حسرت سے کرتے ہیں۔ ملاحظہ ہو یہ اقتباس___
 ’’سب سنسکار کا فرق ہے ۔۔۔ہم تھے تو سنسکار بھی تھے ۔۔۔  اور جب سنسکار سیکھتے تھے تو اونچ نیچ بھی سیکھتے تھے ۔۔۔ادب   اور تہذیب بھی سیکھتے تھے۔ نئے بچے اڑن کھٹولے پر سوار ہیں۔ نئی نئی چیزیں ۔۔۔ریڈیو وغیرہ تو پرانے پڑ گئے میاں ۔۔۔اب کیبل ہے، اسٹار ہے ۔۔۔زی۔ ٹی۔ وی ہے ۔۔۔اے۔ ٹی۔ این ہے ۔۔۔ہم تو بس بچوں سے سنتے رہتے ہیں ۔۔۔پاپ میوزک ہے ۔۔۔تم ہی کہو بالمکند۔ کل کو ہم گھر میں ذرا زور سے بول سکتے تھے ،  چیخ سکتے تھے ،  تہذیب کو بالائے طاق رکھ سکتے تھے ۔۔۔تمہیں ایک واقعہ سناؤں ۔۔۔ایک بار چھوٹا تھا۔ چھوٹا کیا عمر ہو گی سترہ اٹھارہ کی۔۔۔آج کے بچے تو اس عمر میں الف سے ی تک سب سیکھ جاتے ہیں، کیا نہیں جانتے   اور ہم۔۔۔گبدو رہتے تھے ۔۔۔بدھو ۔۔۔بے وقوف۔۔۔ہم صرف پڑھنا جانتے تھے۔ نماز کا وقت ہو گیا تو وضو بناؤ۔ نماز میں دیر نہیں ہو۔ پڑھنے کا وقت ہوا تو پڑھنے بیٹھ جاؤ۔ ہر کام اصول سے ذمہ داری سے ۔۔۔سترہ سال کی عمر کم نہیں ہوتی بالمکند ابّا نے بلایا تو سہمے سہمے ان کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔۔۔جی ابّا جان۔‘‘ 
جہاں پہلے کے زمانے میں ہر کام کے لیے کچھ اصول وضع کر دیئے گئے تھے   اور ہر انسان اپنے رشتے کی مناسبت سے تمیز و تہذیب کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنی زندگی بسر کرتا تھا۔ مرد   اور عورت کا فرق ہر مذہب   اور ہر سماج میں تھا۔ بے پردگی، عریانیت   اور بد تہذیبی یا بد کلامی کی اجازت کہیں نہیں تھی۔ تہذیبی اعتبار سے سب کے سب ایک تھے۔ گھر کے رہن سہن میں بھی تقریباً یکسانیت تھی۔ کھلے کھلے کشادہ مکانات ہوتے تھے جہاں عورتوں کے لیے زنان خانہ، مردوں کے لیے بیٹھک یا پھر دیوانِ عام   اور دیوانِ خاص وغیرہ کا اہتمام ہر مکان میں ہوتا تھا اس لیے آج کی طرح بیہودگی   اور عریانیت کا نام و نشان نہ تھا ملاحظہ ہو یہ اقتباس___
 ’’وقت نے کتنی جلدی سارے دستور ہی ختم کر دیئے۔ تب دیوانِ خاص   اور دیوانِ عام کا رواج تھا۔ ہندو ہو یا مسلمان، تہذیب پر سب جان چھڑکتے تھے۔ مردانہ   اور زنانہ ڈیرے الگ الگ ہوتے تھے۔ یہ نہیں کہ منہ گھسیٹرا   اور اندر باہر ایک کر لیا۔ زنانہ ڈیرے میں جانے کا مطلب ہوتا تھا کہ پہلے خبر کرواتے تھے اندر سے اجازت ملتی تھی، تب مؤدب ہو کر اخلاق کے نمونے پیش کئے جاتے۔‘‘ 
لیکن رفتہ رفتہ بدلتے ماحول میں انسان اکیلا ہوتا گیا۔ والدین کو صرف خاندان کی زینت کے طور پر گھر میں بٹھا دیا گیا۔ بطور مجبوری والدین کی اطاعت بھی کی جاتی لیکن غلطی سے بھی اگر والدین نے کوئی صحیح بات بھی کہنے کی کوشش کی تو اسے یہ کہہ کر نظر انداز کر دیا جاتا کہ یہ بڑھاپے کا اثر ہے یا پھر الزیزس کے مریض ہیں۔ ایسی حالت میں حساس بزرگوں کی حالتِ زار کا اندازہ لگانا ممکن نہیں۔ وہ خون کے آنسو دل ہی دل میں روتے ہوئے ساری نا انصافیوں کو صرف اس لیے تسلیم کر لیتے کہ وہ بوڑھے ہو چکے ہیں   اور اب ان کا چل چلاؤ کا زمانہ ہے، ان کے پیر قبر میں لٹکے ہوئے ہیں اس لیے انہیں نہ کسی کو سمجھانے کا کوئی حق ہے  اور نہ کوئی رائے دینے کی ضرورت،  بلکہ وہ تو نئی نسل پر ایک بوجھ بن کر زندہ ہیں جسے نئی نسل بحالت مجبوری ڈھو رہی ہے۔ والدین   اور اولاد کے بیچ بڑھتی دوریاں نئی تہذیب کی دین ہے۔ نئی تہذیب میں مادیت پرستی ہے جس کی وجہ سے ہی والدین کو اولادیں ایک اثاثہ سمجھ کر برداشت کرتی ہیں یا پھر انہیں اپنی موروثی جائداد کا حق دار بننے کی دھن ہوتی ہے لیکن بزرگوں کے دلوں پر اس موروثی جائداد یا مکان کے بٹوارے کا خیال آتے ہی کیا گذرتی ہے اس کا اندازہ بالمکند شرما جوش کے اس درد بھرے لہجے سے صاف جھلکتا ہے۔ ملاحظہ ہو یہ اقتباس___
 ’’اب تم جان گئے ہو گے۔ میرے دو ہی بچے ہیں لیکن ایک مشرق ہے تو دوسرا مغرب۔ میں جانتا ہوں مشرق   اور مغرب کو ملانے کی کارروائی بے سود ہے میاں اس لیے اب تھک کر بیٹھ گیا ہوں۔ ان کی باتیں سنتا ہوں، ان کی آپسی جھڑپ دیکھتا ہوں، ان کے درمیان بڑھتی دوریاں دیکھتا ہوں۔ پھر خیال آتا ہے اس گھر کا۔۔۔پرکھوں کی میراث کا۔۔۔تو اس گھر میں ایک دراڑ دکھتی ہے۔ ایک خلیج نظر آتی ہے۔ گھر درمیان سے بٹا نظر آتا ہے۔ یہ محض خیال نہیں ہے برکت حسین۔ یہ آنے والے کل کی سچائی ہے۔ وہ مجھ سے بولتے نہیں ہیں۔ ابھی ظاہر نہیں کرتے مگر جب میرے پاس آتے ہیں تو میں ان کے ہونٹوں پر تھرکتی ہوئی خاموشی میں اس سچ کو پہچان لیتا ہوں۔ در اصل وہ بٹوارے کے خواہش مند ہیں۔‘‘ 
یوں تو ہر دور اپنے جدید ہونے کے ساتھ ساتھ اپنی گذشتہ روایات کو ماضی کے آئینے میں دیکھنے کا عادی ہوتا ہے۔ ہر انسان ماضی کو اپنے یاد داشت میں محفوظ رکھتا ہے۔ ماضی کو تحت الشعور میں قید کر کے رکھنے والے اپنے آپ کو سب سے دھنی مانتے ہیں   اور جب بھی انہیں اکیلا پن محسوس ہوتا ہے یا وہ کسی الجھن پریشانی   اور بے چینی میں ہوتے ہیں تو وہ اپنے تحت الشعور میں اپنے ماضی کے دریچے کھول لیتے ہیں   اور پھر وہ تخیل کی اس دنیا میں بغیر پرکے پرواز کرنے لگتے ہیں   اور ایسا کرنے سے انسان نفسیاتی طور پر اپنے آپ کو ہشاش بشاش یا خوش و خرم محسوس کرتا ہے۔ بالمکند شرما جوش بھی اپنی زندگی کی اس بے ترغیبی سے بہت بد ظن ہیں۔ وہ کبھی اپنے اتیت کا ذکر کرتے ہیں   اور کبھی اپنے دور کی تہذیب کی دہائی دیتے ہیں۔ ملاحظہ ہوں یہ دونوں اقتباس___
 ’’میرے سامنے صرف ایک اتیت ہے۔‘‘ 
ایک اتیت جہاں جا سکتا ہوں میں ،  جہاں جانا مشکل نہیں کہ راستے میں آنسوؤں کی ایک ندی پڑتی ہے ۔۔۔یادوں کا ایک گہرا دریا ہے ۔۔۔جسے عبور کرنا آسان نہیں ___
میرے سامنے صرف ایک اتیت ہے ۔۔۔ 
لیکن یہ اتیت مجھے میری جان سے پیارا ہے ۔۔۔مجھے میری سب سے عزیز ترین شئے سے بھی زیادہ عزیز ہے ۔۔۔یہ اتیت بُرا بھی ہے ۔۔۔اس اتیت میں میرے کھٹّے میٹھے قصے تو ہیں ۔۔۔میری شرارتیں تو ہیں ۔۔۔مگر اس کے علاوہ ایک بدنما غلامی بھی ہے ۔۔۔ 
میرے سامنے صرف ایک اتیت ہے ۔۔۔ ‘‘ 
 ’’بالمکند شرما خاندان، تہذیب   اور اخلاق کی اس کھونٹ سے بندھے تھے جہاں سب سے بڑی چیز ہوتی ہے عزت جس کے لیے جان لی بھی جاتی ہے   اور گنوائی بھی___ کل تو سارا کھیل عزت کا تھا۔ بیاہ، شادی، زندگی کی ڈور سے بندھی ہر رسم، ہر رواج پر عزت کا قبضہ تھا۔ زندگی میں   اور ہوتا کیا ہے، پایا کیا ہے۔ ایک مجبور انسان۔ بس عزت ہی نا؟   اور بچے اس عزت کا جنازہ نکال دیں تو۔۔۔ 
ایسے نا شکریے بچوں کو یہ دل کیسے قبول کر لے ___؟‘‘ 
بالمکند شرما جوش جس تہذیب کے پروردہ ہیں   اور انہوں نے اپنے آباء و اجداد   اور ورثاء کی جن روایت کو اپنی زندگی میں تعویذ کی حیثیت عطا کی ہے اسے وہ کسی بھی قیمت پر برباد ہوتا ہوا نہیں دیکھ سکتے   اور نہ ہی ان تہذیبی رواداری کے اجزاء کو منتشر ہوتے ہوئے دیکھ سکتے ہیں اس لیے انہیں ہمیشہ یہ غم کھائے جا رہا ہے کہ آخر یہ کیسا دور آگیا جب ہم ایک دوسرے سے اتنی نفرت کرنے لگے کہ ہم ایک دوسرے کو اپنے آپ سے بالکل الگ تصور کرنے لگے جب کہ ان کے سامنے وہ منظر اکثر گھومنے لگتا ہے کہ ہندو   اور مسلمان کی تفریق کے بغیر چودھری برکت حسین   اور بالمکند شرما جوش نے ایک جیسی تہذیبی رواداری کو اپنایا۔ دونوں نے مذہب جدا تھے لیکن دونوں کے آداب و اطوار   اور عادات میں کوئی فرق نہیں تھا۔ دونوں کی تعلیم و تربیت   اور بول چال کی زبان میں کوئی فرق نہیں تھا لیکن جب انہیں اپنے ہی گھر میں مذہب   اور زبان کے فرق کا احساس ہوتا ہے تو وہ بے بسو مجبور ہو کر حسرت بھری نگاہ سے اپنے ماضی کی یادوں کو اپنے سینے سے لگائے تمام نا انصافیوں   اور زیادتیوں کو بدلتے زمانے کے ساتھ ساتھ بادل ناخواستہ قبول تو کر لیتے ہیں لیکن کبھی بھی اس نئے دور کی تائید نہیں کرتے بلکہ ہمیشہ نئی تہذیب، نئی تعلیم   اور نئے کلچر یا نئی ذہنیت پر جی بھر کر تنقید ہی کرتے رہتے ہیں۔ ملاحظہ ہوں یہ اقتباسات___
 ’’انیل ان کی پہلی سنتان تھی۔ انیل تھوڑا تھوڑا بڑا ہوا تو خیال آیا،  کسی اچھے مولوی صاحب کو بلا کر آموختہ شروع کرایا جائے کہ آخر وہ بھی تو آموختہ کے بعد ہی اصل پڑھائی کی طرف لوٹے تھے۔ لیکن بدلتی ہوئی ہوا کا پہلا احساس اس دن ہوا جب پتنی   اور سسرالی لوگ مخالفت پر اتر آئے۔‘‘ 
 ’’یہ کیا بچے کو اردو پڑھواؤ گے ؟‘‘ 
 ’’کیوں ؟‘‘ 
مخالفت کی آنکھیں تو اس کیوں کا جواب ان کی آنکھوں میں گھور رہی تھیں ۔۔۔ 
 ’’کیوں برائی کیا ہے ؟‘‘ 
 ’’یہ مسلمانوں کی زبان ہمارے بچے کو نہیں پڑھائی جائے گی۔‘‘ 
 ’’کیا کہہ رہے ہو؟‘‘ 
وہ ایک دم سے چونک گئے ۔۔۔آواز اندر ہی اٹک کر دم توڑ گئی۔۔۔پتا جی نے انہیں پڑھایا تو کیا ان کا دھرم پریورتن ہو گیا۔۔۔یہ سوچ ۔۔۔یہ نئی ہوا۔۔۔وہ بس چہرہ دیکھ رہے تھے ۔۔۔زبان جیسے پتھرا گئی۔۔۔ 
پتنی انیل کا ہاتھ پکڑے کھڑی تھی۔۔۔ 
وہ بہت کمزور لہجے میں بولے ___ ’’زبان پر کسی کا حق تھوڑا ہے !‘‘ 
 ’’ہے کیسے نہیں ؟‘‘۔ پتنی کا چہرہ سنجیدہ تھا۔ اردو میں پڑھا کر مولوی بنانا ہے کیا___ بچے کو بھوکا مارنا ہے۔ وقت بدل گیا ہے۔ اب کوئی اپنے بچوں کو اردو نہیں پڑھاتا۔ ہم بھی نہیں پڑھائیں گے۔‘‘ 
 ’’بچوں کو کیوں بگاڑ رہے ہیں آپ؟ سنانا ہے تو شلوک سنائیے، گیتا سنائیے، ہنومان چالیسا سنائیے ۔۔۔ ‘‘ 
 ’’یہ عورت___ اسی لیے یہ عورت جو ان کی پتنی تھی،  کبھی اس عورت سے وہ دل کا ٹانکا نہیں جوڑ سکتے۔ سات پھیرے لیے تھے ۔۔۔بس یہ پھیرے تھے کہ وہ ساتھ نبھائے جا رہے تھے ۔۔۔مگر اندر سے ۔۔۔زندگی کے اس ناٹک میں وہ ہر طرح کی اداکاری کرنے پر مجبور تھے۔‘‘ 
یار برکت حسین ___ نئے بچوں سے پوچھو تو غالب و اقبال کے نام پر بغلیں جھانکیں۔ کون ہیں یہ ؟ میری پوتی مالو پوچھتی ہے ۔۔۔ددّو۔۔۔آپ مسلمان ہیں ۔۔۔کیا آپ اردو پڑھتے ہیں ۔۔۔اردو مسلمان ___ بچے بھی پوچھتے ہیں مجھ سے۔ آخر مسلمانوں سے کیا ہمدردی ہے مجھے۔ کیوں ان کا پکچھ لیتا ہوں ___ ان کے بارے میں برا کیوں سننا نہیں چاہتا۔ اس کا الٹا جواب بھی ہو سکتا ہے کہ میاں ہمدردی نہیں ہونے کی وجہ کیا ہے   اور ان کے بارے میں برا کیوں سننا چاہوں گا___ میاں جب برسوں سے، مدتوں سے رہنا سہنا ایک ساتھ ایک طرح سے ہوا ہے تو پھر ان سے خود کو کاٹنے کی بات کیسے سوچوں برکت حسین___ اب تو ہم تم جسم کے ایک ٹکڑے ہی لگتے ہیں۔ تمہیں تکلیف ہوتی ہے تو دل پر چوٹ پہنچتی ہے۔ بچے اس درد کو نہیں سمجھتے۔ بچے اردو   اور مسلمان جانتے ہیں۔ بچے نیا اتہاس   اور نیا سبق جانتے ہیں ___ کل تو سارے کام اردو میں ہوتے تھے۔ ابّا حضور کی قابلیت تو فارسی میں بھی دیکھتے بنتی تھی۔ اس سچ کو ہم جھٹلا دیں کہ میاں زبان کی چاشنی دیکھنی ہو تو اردو کے دامن میں اتر کر دیکھو۔ نہیں برکت حسین میاں بچے اپنے زمانے کے اتار چڑھاؤ کو زبان جانتے ہیں۔ ہمارے تمہارے درد کو نہیں سمجھتے۔‘‘ 
نئی نسل نے جس ہندوستان کو بہت نزدیک سے دیکھا ہے وہ اسی کی پیروی میں مصروف ہیں۔ غلام ہندوستان   اور انگریزوں کی صعوبتوں سے یہ نئی نسل بالکل بے بہرہ ہے۔ اسے غلام ہندوستان یا قدیم ہندوستان کی مذہبی رواداری   اور تہذیب و تمدن سے براہ راست کوئی واسطہ نہ تھا بلکہ ان کے لیے تو یہ ساری کتابی باتیں تھیں   اور انہوں نے جس آزاد ہندوستان کو دیکھا وہ نفرت کی آگ میں جل رہا تھا۔ آزادی کی نئی صبح لہو لہان خون میں غلطاں تھی   اور ہر انسان مذہب کی تفریق سے ڈرا سہما یا پھر مذہبی کٹّر پن کا مقلد نظر آتا ہے اس لیے ہم جس نئی نسل کو قصور وار ٹھہرا رہے ہیں ان کا کوئی قصور نہیں بلکہ انہوں نے فرقہ وارانہ ذہنیت میں ہی آنکھیں کھولیں، ہوش سنبھالا   اور پرورش پائی اس لیے ماحول سے متاثر ہونا بھی واجب ہے۔ ملاحظہ ہو یہ اقتباس___
 ’’نہیں میاں۔ باپ صرف اپنے بچوں کو پڑھا لکھا کر اپنی ذمہ داری سے مُکت نہیں ہوتا___؟ بچے ایک نیا ہندوستان چاہتے ہیں   اور یہ ہندوستان تمہارے سترنگی تصور والے ہندوستان سے جدا ہے ___ تم اپنے بچوں پر الزام کی بارش بھی نہیں کر سکتے۔ یہ ہندوستان انہوں نے ان خواب رنگوں سے تعمیر کیا ہے، جس کی زمین تم نے فراہم کی ہے ___ ایک خون میں ڈوبی ہوئی آزادی تم نے انہیں ورثے میں دی___ یعنی آزادی تو دی مگر لہولہان___ وہ ایک آزاد ملک میں پروان چڑھے، لیکن سرحدوں پر پھیلے ہوئے خون خشک ہو جانے کے بعد بھی اپنی نفرت،  اپنا غبار،  اپنا میلاپن چھوڑ گئے۔ ادھر وقت گزرتا رہا   اور یہ نفرت، یہ غبار آزادی کی پرانی ہوتی داستان کے ساتھ ان کے احساس کا ایک جزو بنتا گیا۔ 
تقسیم ہند کے بعد ملک کا ماحول جس تیزی سے بدلا اس کا اندازہ ان لوگوں کو نہیں تھا جنہوں نے غلام ہندوستان کے مہذب   اور متمدن سماج میں آنکھ کھولی تھی۔ آزادی کے بعد سماج میں ترقی کے نام پر جو کچھ بھی ہوا اس سے سماج کے ہر طبقہ   اور ہر نسل کے لوگ متاثر ہوئے۔ ہر انسان زندگی کی حقیقتوں سے آشنا ہوا   اور سوچنے پر مجبور ہوا کہ کیا ہم جس سماج کا تصور اپنے ذہن میں رکھتے ہیں یہ وہی سماج ہے۔ ملاحظہ ہو یہ اقتباس___
 ’’نعمان شوق نے ٹھنڈی سانس بھری___ انسانیت مر رہی ہے ، قتل ہو رہی ہے صاحب۔ کاروبار ہو رہا ہے انسانی جسموں کا۔ سب سے ارزاں ہو گیا ہے انسان کا بدن___ چاہو تو سٹّے میں لگاؤ۔۔۔چاہوں تو بلڈوزر کے مفاد کا نشانہ بنا دو۔ جو بچ جائیں ان کے لیے مندر   اور مسجد تو ہیں ہی۔ جان سستی ہو گئی ہے۔ انسان کو مرنا ہے وہ چاہے جیسے مرے۔ ان سے بھی بچ نکلا تو قدرتی آفات ہیں، سیلاب ہے ۔۔۔طوفان ہے ۔۔۔زلزلہ ہے ۔۔۔  اور ۔۔۔ ‘‘ص ۱۴۹
اگر سماج کے دوسرے رخ کو دیکھیں تو یہ احساس ہوتا ہے کہ تقسیم کے بعد کی فرقہ وارانہ ذہنیت نے زندگی کی تمام اقدار کو تبدیل کر دیا یہاں تک کہ دن تعین اب مذہب کے اعتبار سے ہو گیا یا پھر یہ کہیں کہ مذہب کو سیاست سے جوڑنے کے بعد ملک میں جو فضا پروان چڑھی اس کا تصور کچھ ایسا ہو سکتا ہے۔ ملاحظہ ہو یہ اقتباس___
 ’’اس دن جمعہ تھا   اور جمعہ تھا یہی بڑی بات تھی۔ جمعہ کا مطلب مسلمانوں کا دن۔ ہندوؤں نے اسے اس طرح بانٹا تھا، سات دنوں میں پانچ دن ہندوؤں کا، جمعہ جمعرات مسلمانوں کا، جمعہ کا مطلب کرتا پائجامہ، جمعہ کا مطلب ٹوپیاں، جمعہ کا مطلب مسجدوں کی طرف بڑھتے ٹوپی پہنے قدم، جمعہ کا مطلب مسجدوں کی طرف جانے والے راستوں میں ہلچل۔۔۔  اور بدلتے وقت میں جمعہ کا مطلب تناؤ کی فضا، دہشت کا رنگ، وحشت کی ترنگ   اور ادھر اُدھر دکانوں   اور سڑکوں پر پولس ٹکڑیوں کا جماوڑا۔‘‘ص ۴۱
سماج کے دیگر مسائل کی طرف اگر نظر اٹھائیں تو یہ اندازہ ہو گا کہ آزاد ہندوستان میں لوگوں کو سکون اطمینان کم   اور پریشانی زیادہ ہے۔ ہر انسان اپنے اپنے طور پر پریشان حال ہے۔ تعلیم یافتہ نوجوان پڑھ لکھ کر بے روزگار در، در کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں   اور اسے ہر ہر قدم پر نئے نئے تجربات سے دوچار ہونا پڑتا ہے۔ ملاحظہ ہو یہ اقتباس___
 ’’حبیب تنویر ڈانٹتا ہے ___ سالے محنت نہیں کرتے۔ سرکاری اسکولوں میں پڑھ پڑھ کر سمجھتے ہو سرکاری نوکری بھی مل جائے گی۔ میاں اس کے لیے کانونٹ   اور انگریزی اسکولوں میں پڑھنا پڑتا ہے۔ 
نوکری؟
محبوبہ سے زیادہ ایک حسین خواب تھا ان کے لیے 
یہ خواب تڑپاتا تھا،  چھیلتا تھا  اور پریشان کرتا تھا___‘‘ص ۱۴۳
رفتہ۔ رفتہ ہندوستانی سماج میں فرقہ پرستی نے جڑ پکر لی، سیاست نے اقتدار کی لالچ میں نفرت پھیلانی شروع کر دی۔ سیاسی جماعتوں نے سماج کی تصویر بدل کر رکھ دی۔ معاشرے کو مذہبی تعصب کے ایسے سبق پڑھائے کہ ہر آدمی اپنے اپنے اعتبار سے فرقہ پرستی کا شکار ہو گیا۔ مذہب   اور سیاست کے اختلاط نے پورے ملک میں نفرت کا ماحول تیار کر دیا جس سے آئے دن دنگے، فساد، لوٹ مار، قتلو خون   اور کشیدگی نے سماج کی صورت ہی بدل ڈالی۔ عوام کا ذہن بدل ڈالا، نوجوانوں میں بغاوت   اور نفرت کی آگ بھڑکنے لگی۔ ہر نوجوان اپنی تہذیبی وراثت کو ایک روایتی ڈھکوسلہ تصور کرتا   اور اپنی نئی فلاسفی سے اس مادی دنیا میں اپنا سکہ جمانے کی کوشش کرتا۔ سماج میں اپنی پہچان بنانے اپنا تشخص قائم کرنے کے لیے وہ سیاست کے نئے نئے حربے استعمال کرتا۔ سیاسی ہتھکنڈے میں شریف   اور نیک انسانوں کو بڑا نقصان اٹھانا پڑتا   اور موقع پرست سیاستداں اس کا فائدہ اٹھاتے، استحصال کرتے   اور پھر رحم و کرم کے نام پر وہ کچھ کر دکھاتے۔ ملاحظہ ہو یہ اقتباس___
 ’’ہوش سنبھالا تو چودھری برکت حسین کے خوانوادے میں ___ ہوش کے نوالے لیتے لیتے یہی تو جانا تھا کہ ایک لمبے عرصے تک مسلمانوں نے یہاں حکومت کی تھی۔ بابر بھی ایک بادشاہ تھا، ہلاکو بھی، نادر شاہ بھی۔۔۔ اور نگ زیب بھی۔۔۔ہندوؤں سے جزیہ لیا جاتا تھا۔ اسلام کا بڑا نام تھا۔ جو گھر میں سنتا___ ابّا کے منہ سے یا اردو کتابوں میں اسکول جا کر معلوم ہوتا کہ میاں منّا تم تو سب کھچ غلط جانتے ہو۔ تم جن کی بہادری کے قصے رٹتے رہے ہو وہ لوگ بہادر نہیں تھے ___ نادر شاہ تمہارے ملک کے خزانے خالی کرنے آیا تھا،اور نگ زیب  اور بابر نے مندر توڑے ___ گھر باہر، پر یبھاشائیں، تعریف سب بدلتی رہیں۔ص ۱۱۱
سیاست گندی ہوتی گئی   اور لوگوں نے شرم و حیا کا دامن بڑی آسانی سے چھوڑ دیا   اور تہذیب کا مذاق اس طرح سے اڑایا گیا کہ خود معاشرہ شرمسار ہو گیا۔ تمام مذہبی رواداری کی پریبھاشائیں بدل گئیں۔ لوگ واہیات و خرافات پر زیادہ سوچنے لگے بلکہ اپنی تنگ نظری کا مظاہرہ بڑے ہی خوبصورت انداز میں کرنے لگے۔ نفرت و تعصب نے معاشرے کو اس طرح بدل دیا کہ ہر انسان دوسرے مذہب کے لوگوں کو اپنا دشمن تصور کرنے لگا   اور ساری بھائی چارگی اختلاط و اشتراک۔ مشترکہ تہذیب ہندوستانی ماحول میں خام خیالی لگنے لگی۔ مساوات کی تمام باتیں کتابی درس ہی معلوم ہونے لگیں۔ عملی طور پر جو زہر معاشرے میں گھولا جا رہا تھا وہ ایک نہ ایک دن رنگ ضرور لائے گا۔ ملاحظہ ہو موجودہ سیاست کی ایک جھلک___
 ’’اسلام والے جہاں رہتے ہیں، وہ اسلام کے اصولوں میں ہی بندھے رہتے ہیں   اور ’’بٹوک‘‘ سا ہندو بے چارہ کوری دھرم نرپیکچھتا کے پیچھے اپنا ہندو منتر گنوا رہا ہوتا ہے۔ ادھر وشو میں اسلامی مہا سنگٹھن بنانے کی یوجنا چل رہی ہے ۔۔۔  اور ادھر ہندو ایک مندر نہیں بنا پا رہا ہے ___ ایک ڈھانچہ ٹوٹتا ہے تو اسے اپنوں کے منہ سے شرم شرم جیسے شبد سننے کو ملتے ہیں۔‘‘ص ۱۲۴
دوسری جگہ ایک  اور بحث ہے وہ بھی ملاحظہ ہو___
 ’’تمہیں راج نیتی کی سمجھ ہی نہیں ہے۔ اب کانگریس کا زمانہ نہیں ہے چاروں طرف بھاجپا کی طوطی بول رہی ہے۔ دیکھنا کل نریندر کا پلّہ کتنا بھاری ہو گا، دھرم بھی ملے گا، پنیہ   اور پیسہ بھی جبکہ تمہارے حصے میں کچھ بھی نہیں ہو گا___ تم دھرم سے بھی جاؤ گے ،  دھن سے بھی   اور جاگیر سے بھی___‘‘ 
انیل چونک کر بولا۔ ’’باقی باتیں ٹھیک ہیں لیکن دل بدلو سدھانت کو میں نہیں مانتا۔ اب چاہے کانگریس رہے چاہے جائے ___ ایک بار جو لیبل لگ گیا سو لگ گیا___‘‘ ص۱۲۸
جہاں مسلمانوں نے کٹّر پرستی کی حمایت کی ہے وہیں ہندوؤں نے بھی اپنے نئے ذہن کے نوجوانوں کو پوری طرح سے پڑھا لکھا کر صاف گوئی پر آمادہ کر دیا۔ ہندو گھروں میں تعلیم پر توجہ کم تھی لیکن مسلمانوں کے خلاف انہیں بھی کچھ عجیب انداز میں بھڑکایا جاتا ہے تاکہ وہ ایک دوسرے کے قریب نہ آ سکیں۔ ملاحظہ ہو یہ اقتباس___
 ’’اس نے میرے مالو کی جان بچائی ہے۔ بس اتنا جانتی ہوں   اور اتنا جاننے سے کئی   اور باتیں بھی صاف ہو گئی ہیں۔‘‘ 
 ’’جیسے ؟‘‘ 
 ’’جیسے مسلمان برے نہیں ہوتے۔ ہماری امّاں بھی مسلمانوں کو برا کہتی تھیں۔ ڈرتی تھیں۔ سب من کا میل ہے نریندر___ بچپن سے بھیتر بٹھایا گیا ڈر۔ کیوں اب بھائی صاحب کو ہی لو___‘‘ 
بھائی صاحب___ نریندر کو غصہ آگیا۔ 
اوما اپنی دھن میں کہتی گئی۔ ’’بچپن میں کیسی کیسی باتیں سنتی تھی۔ میاں جی کے محلے میں جاؤ تو مار دیتے ہیں۔ شیروانی   اور کرتے کے اندر چاقو   اور چھرا چھپا کر رکھتے ہیں۔ نہاتے نہیں ہیں۔ تلوار کے زور پر مسلمان بناتے ہیں۔ ہمارے مندروں کو توڑتے ہیں۔‘‘ ص۲۳۶
یہ فضا جو آزادی کے بعد تیار ہوئی اس نے پورے ملک کو نقصان پہنچایا لیکن سیاست دانوں کو اس سے فائدہ ہوا ایسی ہی تمام سیاسی حقیقتوں کی عکاسی مشرف عالم ذوقی نے اس ناول میں کی ہے جس کے بارے میں مجموعی طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ ’’بیان‘‘ میں آزادی کے بعد کے مکمل ہندوستان کو اس کی اصل عملی شکل میں آباد رکھا ہے جہاں نئی   اور پرانی نسل کا کرب بھی ہے   اور جدید دور کی لعنتوں   اور جدید تہذیب کی عکاسی بھی۔ لیکن ان سب سے الگ اس ناول کی سب سے اہم خصوصیت یہ ہے کہ اس میں آزادی کی نئی صبح سے لے کر بابری مسجد کے شہید ہونے کے قبل تک کی فرقہ وارانہ ذہنیت   اور سیاسی ماحول کو بڑے ہی خوبصورت انداز میں چھوٹے چھوٹے ذیلی عنوانات کے ذریعہ ایک لڑکی میں پرو کر ناول کی شکل عطا کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ یہ ناول اسلوب کے اعتبار سے کہیں رپورتاژ لگتا ہے تو کہیں انشا پردازی کے کمالات پر پہنچ جاتا ہے جس سے انشائیہ نگاری کا بھی احساس ہوتا ہے۔ موضوع کے اعتبار سے یہ ناول انفرادی حیثیت کا حامل ہے کیوں کہ سیاست،  مذہب،  فرقہ پرستی،  مذہبی تعصب   اور فرقہ وارانہ ذہنیت وغیرہ موضوعات کو بڑی باریکی سے غیر جانبدارانہ انداز میں پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ زبان و بیان کے اعتبار سے بھی یہ ناول ہندوستانی رنگ میں رنگا ہوا ہے کیوں کہ اس میں ہندوستانی زبان کو اردو اسلوب میں پیش کر کے تاریخی حیثیت عطا کی گئی ہے۔ زبان ہندوستانی معاشرے کے لیے بالکل مناسب ہے۔ بالمکند شرما کے دونوں لڑکوں کو کانگریسی   اور بھاجپائی لیڈر کے روپ میں پیش کر کے ہندوستان کی سیاست کو صاف صاف اجاگر کر دیا ہے ساتھ ہی ساتھ ہندوستانی مسلمانوں کی حالت زار کو بھی چودھری برکت حسین   اور ان کے لڑکے منّا کے کردار میں پیش کیا ہے۔ منّا نئی نسل کا مسلمان ہے جو بھاجپا کی ظاہری ہمدردی سے متاثر ہو کر ان کا حمایتی بن جاتا ہے لیکن ان کی باطنی زندگی کو دیکھ کر وہ ہمیشہ غم زدہ رہتا ہے  اور وہ چاہ کر بھی اپنی اس غلط راہ سے واپس نہ آ سکا۔ یہ آج کی ہندوستانی سیاست کی ایک کڑوی حقیقت ہے۔ یہاں کی پولس، حکومت   اور مذہبی اکثریت کے لوگ سب کے سب مسلمانوں کے ساتھ ظلم و زیادتی کرنا اپنا فرض اولین سمجھتے ہیں جس کی وجہ سے یہاں کی حکومت کے جانبدارانہ رول سے جو نفرت، تعصب   اور فرقہ وارانہ فساد جنم لیتا ہے اس کا سلسلہ اب کبھی نہ ختم ہونے والا ایک افسانہ بن چکا ہے۔ سنسنی خیز موضوع پر بڑے ہی متوازن انداز میں ناول بند کر کے مشرف عالم ذوقی نے ادب کو سماج کا آئینہ بنانے کی بہترین کو شش کی ہے۔ 
٭٭٭



رپورٹنگ یا بیان؟

محبوب الرحمن فاروقی

مشرف عالم ذوقی کا ناول اس مرتے ہوئے آدمی سے جڑا ہوا ہے جو مرنے سے پہلے کچھ بیان دینا چاہتا تھا لیکن موت نے جسے اتنی مہلت نہ دی۔ وہ کیا بیان دینا چاہتا تھا یہ قاری کے صوابدید پر چھوڑ دیا گیا ہے لیکن بیان کی نوعیت کیا ہو سکتی تھی اس کے بارے میں ناول میں پوری تفصیل مل جاتی ہے۔ وہ آدمی بالمکند شرما جوش جو اردو کلچر (مشترکہ کلچر) کی پیداوار ہے جو خود بہت اچھا شاعر ہے   اور جس کی زندگی کے لیے سب سے عزیز قدریں جنہیں وہ آخر تک اپنے سینے سے لگائے رہا وہی قدریں تھیں جسے 19ویں صدی کے آخر   اور بیسویں صدی کے نصف دہائی تک کھانے پینے شہری زندگی میں رہنے والے لوگوں نے اپنے سینہ سے لگائے رکھا۔ یہ قدریں ایسے ٹوٹتی ہیں بکھرتی ہیں ختم ہوتی ہیں   اور انہیں اپنے سینے سے لگائے رکھنے والوں کا آخر میں کیا حشر ہوتا ہے یہی اس ناول کا بنیادی موضوع ہے۔ اقدار کے ختم ہونے   اور ہندوستان کی سیکولرزم کی بنیادوں کو ہلا دینے والا 6  دسمبر 1992 کا واقعہ،  اس سے پہلے پیدا ہونے والے حالات،    اور اس کے بعد کی سیاسی   اور سماجی حالات کا تانا بانا بن کر رہی ناول کا ڈھانچہ کھڑا کیا ہے۔ در اصل یہ ناول بھی ان کے ہندی ناول ’مسلمان‘ کی ایک کڑھی ہے جس میں فرقہ وارانہ فسادات کیوں ہوتے ہیں ،  ان کا اثر اقلیتی فرقے پر کیا پڑتا ہے ،  ان کی سوچ   اور فکر کس طرح متاثر ہوتی ہے کس طرح وہ اپنے خول میں سمٹتے جاتے ہیں۔ انہیں جس ہمت   اور حوصلہ کے ساتھ ذوقی نے پیش کیا ہے وہ ہمت   اور حوصلہ اردو کے ادیبوں میں ابھی ناپید ہے۔ ذوقی کی ہمت کی داد دینی پڑتی ہے کہ وہ جس پارٹی   اور جن نیتاؤں کو اس کا ذمہ دار سمجھتے ہیں ان کا نام لینے میں انہیں ذرا بھی ہچکچاہٹ نہیں ہوتی۔ اس کا یہ اردو کا پہلا ناول ہے جس میں ناول نگار انجام سے بے پروا ہو کر بغیر کسی خوف   اور ڈر کے   اور بغیر کسی جھجھک کے ملزموں کو بے نقاب کرتا ہے۔ ناول میں بہت سی ضمنی باتیں   اور ضمنی کردار بھی ہیں جو پلاٹ کو آگے بڑھانے میں مدد کرتی ہیں۔ 
یہ ایک بحث طلب موضوع ہو سکتا ہے کہ کیا جنہیں ذوقی حالات کا ذمہ دار سمجھتے ہیں وہی اصل ملزم ہیں یا ان کے پس پشت کسی   اور کا بھی ہاتھ ہے۔ ناول میں ان مسائل کو چھوڑ کر بظاہر نظر آنے والے حرکات افعال   اور سازشوں کو بے نقاب کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا مصنف کا کام صرف سماج کی عکاسی ہے ؟ کیا یہ عکاسی بیانیہ انداز میں ہی ممکن ہے   اور کیا اس بیانیہ انداز کو اپنانے کے لیے اگر ضرورت سمجھے تو ساری فنی خوبیوں کو بھی بالائے طاق رکھ سکتا ہے۔ اخباروں کی رپورٹنگ ناول کا موضوع ہو سکتے ہیں لیکن کیا صرف رپورٹنگ پیش کر دینے سے ہی وہ تحریر ناول کا درجہ لے سکتی ہے ؟ یا کیا ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ذوقی نے اس کے ذریعہ ایک سیاسی ناول کی داغ بیل ڈالی ہے   اور کیا سیاسی واقعات کو بیان کر دینا ہی کافی سمجھا جائے۔ سیاسی واقعات روز بروز بدلتے رہتے ہیں۔ ایسے میں ایسے کسی ناول کی افادیت کیا رہ جائے گی؟ یا کسی تخلیق کار کے لیے یہ بھی مناسب ہے کہ فوری طور پر پیدا ہونے والے تاثرات کا ہی وہ اظہار کرے۔ یہ وہ سوالات ہیں جو ناول پڑھنے کے بعد قاری کے ذہن میں ضرور پیدا ہوں گے لیکن یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ 6  دسمبر ہندوستان کی سیکولر تاریخ وہ سیاہ دھبّہ ہے جسے بھلانا آسان نہیں   اور جب 6  دسمبر کا تذکرہ ہو گا تو ناممکن ہے کہ اس ناول کا تصور ذہن میں نہ ابھرے۔ 
٭٭٭



مشرف عالم ذوقی کے ناول ’بیان‘ کا مختصر جائزہ

تاج پیامی

 ’’بیان‘‘ ایک پیچیدہ ناول ہے۔ اس کے جائزہ سے پہلے اردو زبان کی تشکیل، ہندو مسلم تہذیب پھر فرقہ وارانہ فساد پر روشنی ڈالنا ضروری ہے۔ مشرف عالم ذوقی بسیار نگار ہیں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ بسیار نگاری کا منفی اثر ان کی تحریروں پر پڑتا ہو۔ کم عمری میں ان کے کئی ناول   اور کئی افسانوں کے مجموعے شائع ہو کر مقبول خاص و عام ہو چکے ہیں۔ بیان ان کا ناول ۶  دسمبر کے نام ہے۔ جب بابری مسجد تخریب کاروں نے منہدم کر دی تھی۔ مسجد منہدم نہیں کی گئی بلکہ ہندو مسلم تہذیب کی علامت منہدم کر دی گئی۔ 
ہندوؤں   اور مسلمانوں نے مل کر صدیوں کے بعد ہندو مسلم تہذیب کو جنم دیا تھا جسے گنگا جمنی تہذیب کہتے ہیں۔ مسلمان ہندوستان میں وارد ہوئے بادشاہ کی حیثیت یا صوفیائے کرام کی حیثیت سے مگر ان کی زبان عربی یا فارسی تھی   اور ہندوستان کی مذہبی   اور ثقافتی زبان سنسکرت تھی۔ عوام پر اکرت بولا کرتے یا ان سے نکلی ہوئی زبانیں یا ان کی اپبھرنش زبانیں۔ لشکر میں مسلمان بھی ہوتے   اور ہندو بھی   اور مختلف ملکوں   اور علاقوں کے مختلف بولیاں بولنے والے بھی۔ ان کے درمیان   اور بازار میں سودا سلف کے لیے بھی ایک رابطہ کی زبان کی ضرورت شدت سے محسوس کی گئی۔ پھر صوفیائے کرام کو اخلاقی   اور روحانی تعلیم کے لیے عوام سے واسطہ رہتا اس لیے عربی فارسی ترکی سنسکرت، پراکرت   اور عوامی بولیاں سے ماخوذ ایک ایسی زبان وجود میں آئی جیسے ہندوی، ہندی یا بعد میں اردو کے نام سے جانا گیا۔ 
عربی   اور فارسی حروف کے علاوہ اس زبان میں مختلف مقامی زبان کے حروف بھی شامل کئے گئے۔ مثلاً ت، ڈ، ڑ، کے علاوہ بھ، پھ، ٹھ، ڈھ، جھ، چھ، کھ، گھ وغیرہ۔ 
زمانہ   اور وقت کے لیے : اب، جب، کب، ابھی، کبھی، آج کل، پرسوں، ترت، پھر، سویرے۔ 
مکان یا جگہ کے لیے حروف: یہاں، یہیں، وہاں، وہیں، کہاں، کہیں، جہاں، آگے، پیچھے، اوپر، نیچے۔ 
سمت: ادھر، ادھر، کدھر، جدھر
طور طریقہ : یوں، کیوں، کیسے، جیسے وغیرہ
تعداد: ایک، دو، تین، چار، پانچ وغیرہ   اور اتنا، جتنا، کتنا وغیرہ
ایجاب و انکار:  ہاں، نہیں، تو، وغیرہ
حروف ربط : کا، کی، کے، ساتھ، نے، کو، سے، میں، تک، پر، آگے 
حروف عطف:  اور، کہ، یا، نہ، خواہ، چاہے، پر، لیکن، بلکہ، جو، اس لیے وغیرہ
حروف تخصیص: ہی، تو، بھی، پر
حروف خجائیہ: اے، ارے، اجی، ہا ہا ہا وغیرہ۔ 
اردو کے سارے افعال مثلاً کھانا، پینا، آنا، جانا، سونا کے ساتھ ہی معاون افعال بولیوں سے اردو میں در آئی مثلاً ہے، ہیں، تھی، تھے، تھیں، وغیرہ
صفت : اچھا، برا، کالا، گورا، لمبا، ناٹا، چھوٹا، بڑا لا، پیلا وغیرہ
مختلف اسماء : جو مختلف پیشہ   اور رشتہ سے متعلق ہیں   اور جانوروں، سمت   اور دن کے نام وہ سب ہندوستانی زبان سے حاصل کیے ہیں۔ مثلاً سونار، لوہار، لکڑ ہارا، بڑھی، گھوڑا، گائے، بکری لڑکا، لڑکی، بیٹا، بیٹی، ساس، سسر، بہو، دادا، نانا، نانی، بھائی، بہن وغیرہ۔ اتر، دکھن، پچھم، پورب۔ اتوار، سوموار وغیرہ۔ عربی   اور فارسی حروف، صفت   اور اسما کے ساتھ ہی مذکورہ ہندوستانی زبانوں کے حروف، صفت   اور اسماء کو شامل کر کے اردو زبان کی تشکیل کی گئی۔ چونکہ مسلم حکمرانوں کی زبان فارسی تھی اس لیے اردو کا رسم الخط بھی فارسی رسم الخط کے مطابق قائم کیا گیا۔ اردو زبان کی تشکیل صرف ہندوستان میں ممکن تھی۔ شاہ جہاں کے دور میں اس کا نام اردو رکھا گیا۔ ۱۸۳۱ء میں اسے سرکاری زبان کا درجہ حاصل ہوا۔ اور اسے ہندو مسلمان دونوں نے گلے لگایا۔ کیونکہ اس زبان میں وہ بہ آسانی اپنے خیالات   اور جذبات کی ترجمانی کر سکتے تھے۔ سنسکرت زبان میں اعلی پایہ کا ادب تخلیق ہو چکا تھا۔ رامائن   اور مہا بھارت کے علاوہ کالی داس کے ڈرامے بہت مشہور تھے۔ مگر سنسکرت زبان   اور ادب سے عوام کا کوئی رابطہ نہیں تھا۔ پراکرت   اور اس سے نکلی ہوئی زبان   اور بولیوں میں معیاری ادب تخلیق نہیں ہوتا تھا۔ اردو کے ذریعہ عوام و خواص دونوں کو عربی   اور فارسی زبان و ادب کا بیش بہا ذخیرہ دستیاب ہوا جسے بنیادی بنا کر ہندو مسلمان دونوں نے مقامی رنگ کے ساتھ لازوال ادبی   اور ثقافتی کارنامے انجام دیئے۔ 
ہندوستان میں کئی تہذیبوں   اور تمدن نے جنم لیے مگر وہ دیر پا ثابت نہیں ہوئے۔ ہندو مسلم اتحاد سے جس تمدن   اور تہذیب نے فروغ حاصل کیا وہ آج بھی قائم   اور دائم ہے کیوں کہ اسی ہندو مسلم تہذیب کی آغوش میں موسیقی، مصوری، فن تعمیر، صنم سازی، ادب و شاعری نے پرورش پائی۔ ہندو مسلم تہذیب کی بنیاد محمد بن قاسم سے پہلے ہی شروع ہو چکی تھی۔ عرب تاجر ہندوستان کے دکھنی پچھمی کنارے پر اپنا قدم جما چکے تھے۔ پٹھانوں   اور مغلوں کے دور حکومت میں یہ تہذیب پروان چڑھی۔ اسی دور میں مسلمان سنسکرت ادب سے واقف ہوئے   اور ہندو فارسی   اور عربی ادب سے روشناس ہوئے   اور اسی دور میں امیر خسروؒ، کبیر داس، قلی قطب شاہ، ملّا وجہیؔ، نظیرؔ، ملک محمد جائسی، میرؔو غالبؔ پیدا ہوئے۔ اس سلسلے میں، میں یہاں علی میاں کا ایک اقتباس پیش کرنا چاہوں گا۔ 
 ’’ہندوستان میں اسلامی عقائد   اور تعلیمات اس سلسلہ کے فیض، تصوف کے پیدا کیے ہوئے دردو محبت   اور وسعت نظر ہندوستان کے خمیر کی آشنا پرستی   اور وفا شعاری، رنگو آہنگ سے اثر پذیری، تر کو کی مہم جوئی و سپہ گری، افغانوں کی شجاعت و شہامت، مغلوں کے ذوق جمال و قوت ارادی، عجم کے حسن طبیعت   اور عرب کے سوز دروں، سب مل کر ایک خاص تہذیب   اور ایک خاص ثقافت وجود میں آئی۔ اس تہذیب و ثقافت میں شکوہ بھی ہے تواضع بھی حلاوت بھی ہے   اور رواداری بھی، اس کے قلم میں علوم شریعت و حکمت بھی ہے   اور نفاست و ذوق لطیف بھی۔ اس کی دلچسپی کے میدان قلع بھی ہیں   اور کتب خانے بھی مدرسے بھی ہیں خانقاہیں بھی۔ تحقیق کے حلقے بھی ہیں   اور مشاعرے بھی۔‘‘ 
   اور اسی ہندو مسلم تہذیب کے پروردہ ناول ’’بیان‘‘ کے بالمکند جوش   اور برکت حسین ہیں۔ دونوں ایک دوسرے کے پرب تیوہار، خوشی   اور غم میں شریک ہوتے۔ ان کے رہنے سہنے، کھانے پینے میں یکسانیت ہوتی دونوں کے لباس   اور مکان ایک طرح کے ہوتے، ہندو مسلمان دونوں کے شرفاء کے لڑکے بازاروں میں نہیں گھومتے   اور نہ رذیلوں سے ملنا ملانا رکھتے۔ اور دونوں کی لڑکیاں بلا وجہ   اور بے پردہ باہر نہیں نکلتیں۔ ہندو مسلم اتحاد سے جو تہذیب جود میں آتی تھی وہ روا داری   اور محبت پر استوار تھی۔ اس میں مردوں کا وقار قائم تھا   اور عورتوں کی عزت سلامت تھی۔ 
لیکن انگریزوں نے ہندوستان آکر سب سے پہلے اس تہذیب کو پارہ پارہ کیا۔ ہندو مسلم میں رواداری کی جگہ تعصب   اور محبت کی جگہ نفرت پیدا کی۔ ان کا پہلا جملہ زبان پر ہوا۔ ۱۸۰۰ء میں فورٹ ولیم کالج قائم کر کے اردو   اور ہندی کے الگ الگ شعبے قائم کئے گئے۔ اور پہلی بار ۱۹۰۱ء میں بنگال کی تقسیم نے ہندو مسلمانوں کے درمیان میں بھی تقسیم کی بنیاد ڈال دی۔ پھر بھی انگریزوں نے آزادی حاصل کرنے کے لیے ہندو مسلمان کانگریس کے جھنڈے تلے جدو جہد کرتے رہے۔ جیل جاتے رہے   اور قربانیاں دیتے رہے۔ لیکن انگریزوں کی لڑاؤ   اور حکومت کرو کی سیاست کار گر ثابت ہوئی۔ اگر ہندو سیاست داں فراخ دلی سے کام لیتے   اور مسلمان سیاست داں فراست کو بروئے کار لاتے تو ۱۹۰۶ء میں مسلم لیگ کی بنیاد نہیں پڑتی۔ جناح جیسا کٹر کانگریسی بھی نہرو رپورٹ سے ناراض ہو کر مسلم لیگ میں شامل ہو گیا۔ اسی درمیان میں آر یہ سماج، سدھی سنگٹھن جیسی فرقہ پرست جماعتیں وجود میں آئیں   اور ہندو مسلمانوں کے درمیان میں نفرت کی دیواریں کھڑی کر دیں۔ جگہ جگہ فسادات ہونے لگے نفرت   اور بڑھی۔ پھر بھی جناح صاحب نے ۱۶۔ ۱۹۱۵ء میں مسلم لیگ   اور کانگریس کو یکجا کرنے کی کوشش کی   اور یہ کوشش Lucknow pact کی شکل میں ظاہر ہوئی لیکن کچھ لوگوں کو یہ سمجھوتہ پسند نہیں آیا۔ آخرکار یہی جناح لکھنؤ میں ۱۹۴۶ء میں Direct Action کی بات کرنے لگے جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہندو مسلمانوں کے درمیان فرقہ وارانہ فساد پھوٹ پڑا۔ India Today کے شمارہ 100 People who shaped India میں جناح صاحب پر Stanly wolpert کا مضمون شایع ہوا ہے۔ لکھتے ہیں :
" When Mountbatten first met with Gandhi in April 1947, asking his advice as to what could be done to help restore order, Gandhi urged him to appoint Jinnah Prime Minister (the job Nehru then held) . the viceroy, unfortunately never extended that offer agreeing instead with Nehru, who advised him that poor old Gandhi had been "out touch" with Delhi much too long to be taken seriously. Mountbatten decided to opt for Pakistan, as Krishna Menon and Nehru had advised."
الغرض ۱۴  اگست ۱۹۴۷ء کو پاکستان بن گیا   اور ۱۵  اگست ۱۹۴۷ء کو ہندوستان آزاد ہوا۔ لیکن ہندوؤں کے ذہن میں یہ بات بیٹھ گئی کہ پاکستان مسلمانوں نے بنوایا۔ وہ اسے اسلامی راشٹر گھوشت کرتے ہیں تو ہندوستان کو بھی ہندو راشٹر گھوشت ہونا چاہئے۔ آزادی کے بعد بھی فساد پھوٹ پڑا۔ بنگال بہار   اور پنجاب زیادہ تر اس کی لپیٹ میں آئے۔ لٹے پٹے پنجابی سندھی ہندوستان میں وارد ہوئے   اور تباہ حال مسلمان پاکستان چلے گئے۔ ہندوؤں کا ایک بڑا طبقہ حقیقت حال سے بے خبر ملک کے بٹوارہ کا ذمہ دار مسلمانوں کو سمجھنے لگا۔ انتہا پسند تنظیم آر ایس ایس کا سر پھر اسدش نتھو رام گوڈ سے نے راشٹر پتا مہاتما گاندھی ہی کو گولی کا نشانہ بنا دیا۔ آر ایس ایس پر پابندی لگا دی گئی۔ اس کا سیاسی بازو جن سنگھ بھی اپنے فرقہ پرست نظریہ کے سبب ختم ہو گیا۔ تب بھارتیہ جنتا پارٹی کے نام سے ایک نئی پارٹی وجود میں آئی   اور اس نے اقتدار پر قبضہ کرنے کے لیے ’’ہندو تو‘‘ کو بڑھاوا دیا   اور ہندوستان کی کئی مسجدوں   اور عید گاہ کے بارے میں کہا کہ یہ پہلے مندر تھے۔ یہ بات سراسر غلط ہے کیونکہ نا جائز زمین پر بنی ہوئی مسجد میں عبادت جائز نہیں ہوتی۔ بہر کیف آر ایس ایس، بجرنگ دل، شیو سینا   اور بھاجپا کے لیڈروں کی شہہ پر ۶  دسمبر ۱۹۹۲ء کو بابری مسجد منہدم کر دی گئی۔ 
ناول ’’بیان‘‘ اسی لسانی، تہذیبی   اور سیاسی پس منظر میں لکھا گیا ہے۔ مشرف عالم ذوقی کا کمال یہ ہے کہ بیان کو صرف بیان تک محدود نہیں رکھا گیا، اسے ادب پارہ بنا دیا۔ اس میں کردار کے باہری افعال کے ساتھ ہی ان کی داخلی زندگی کو بھی بحسن و خوبی پیش کیا گیا ہے۔ بالمکند شرما   اور چودھری برکت حسین ان معدودے چند لوگوں میں سے ہیں جو گنگا جمنی تہذیب کو گلے لگائے ہوتے ہیں۔ بالمکند شرما جوش اردو کو اپنی زبان سمجھتے ہیں اس میں شاعری کرتے ہیں   اور مشاعروں میں شریک ہوتے ہیں۔ 
بالمکدن شرما کا بڑا لڑکا انیل کانگریسی ہے   اور چھوٹا نریندر بھاجپائی ہے۔ انیل کی بیوی کا نام تلسی ہے   اور اوما یہب تہناش بشاش ب                                                                                                                 نریندر کی بیوی ہے۔ اوما کی ایک لڑکی مالو ہے۔ دونوں بھائیوں کے درمیان سیاسی نظریہ کے سبب اختلاف تو تھا ہی جائداد کے بٹوارہ کو لے کر بھی گہرا اختلاف پیدا ہو جاتا ہے۔ 
برکت حسین کا اکلوتا لڑکا تنویر حسین ہے جو بجلی آفس میں کلرک ہے۔ برکت حسین کی بیوی کا نام جمیلہ ہے   اور بہو کا نام شمیم ہے۔ مصنف نے ان کرداروں کی بھی زندگی   اور اندرونی کش مکش کو بڑے فنکارانہ انداز میں پیش کیا ہے۔ شوہر دوراہے پر کھڑا ہے ’’ایمان مجھے رو کے ہے تو کھینچے ہے مجھے کفر‘‘ کی کشمکش میں مبتلا ہے۔ شہر میں بار بار فسادات پھوٹ پڑتے ہیں۔ دکان   اور مکان جلائے جاتے ہیں لوگ مارے بھی جاتے ہیں۔ ایک روز رات میں تنویر حسین غائب ہو جاتا ہے۔ ایسے موقع پر باپ کی پریشانی، ماں کے کرب   اور بیوی کے ذہن تناؤ کو بڑی چابک دستی سے نہیں کیا گیا ہے۔ باپ کا پریشانی میں باہر نکل کر ٹہلنا، ماں کا دعائیں مانگنا   اور بیوی کی گریہ و زاری بالکل فطری عمل ہے۔ ایسی حقیقی عکاسی کہیں دوسری جگہ نظر نہیں آتی۔ 
بالمکند شرما کی پوتی مالو بیمار پڑتی ہے۔ تنویر حسین اسے ہسپتال لے جاتا ہے   اور رات رات بھر جاگ کر اس کی تیمار داری کرتا ہے۔ انیل   اور اس کی بیوی حیرت انگریز طور پر بیگانگی کا برتاؤ کرتے ہیں۔ اوما جو مسلمانوں کے بارے میں اچھا خیال نہیں رکھتی تھی اس کی قلب ماہیت ہوتی ہے   اور اب وہ اٹھتے بیٹھتے منا بھیا (تنویر حسین) کا تعریفی جملوں کے ساتھ نام لیتی ہے   اور اس کا بھاجپائی شوہر نریجندر حیران ہوتا ہے۔ ایک دن تنویر حسین آئے دن کے فسادات سے عاجز آخر خود بھی بھاجپا کا ممبر بن جاتا ہے۔ بالمکندر شرما   اور برکت حسین کو یہ بات ایک مشاعرہ میں معلوم ہوتی ہے کہ نریندر   اور منا، تنویر حسین) بھاجپا سرگرم رکن ہیں، دونوں کو اس خبر سے سکتہ لگ جاتا ہے۔ بالمکند شرما ہندو مسلم تہذیب کے مسمار کیے جانے سے ’’پریشان‘‘ ہو جاتے ہیں وہ اپنے لڑکوں کے طور طریقوں سے پہلے ہی نالاں تھے انہیں بھولنے کی بیماری (الزیمرس) ہو جاتی ہے۔ بعض انسان پر کبھی کبھی ایسا بھی وقت آتا ہے جب وہ چاہتا ہے کہ اسے ماضی کی یاد نہ آئے کیونکہ:
یاد ماضی عذاب ہے یارب!
چھین لے مجھ سے حافظہ یارب!
   اور پھر وہ خود کو بھی بھول جاتا ہے۔ مشرف عالم ذوقی نے بالمکند شرما جوش کی پیکر تراشی میں خاصی محنت کی ہے   اور اس کردار کو لا  زوال بنا دیا ہے۔ 
تنویر حسین عرف منا بھاجپا کے جلسوں میں شریک ہوتا ہے۔ وہاں مسلمانوں کے خلاف دلخراش تقریریں ہوتی ہیں، اس کا دل مجروح ہو جاتا ہے۔ اس کے دوست بھی اسے اچھی نگاہ سے نہیں دیکھتے۔ وہ بھاجپا سے الگ ہو جاتا ہے، بھاجپا کے بڑے بڑے لیڈر تنویر حسین سے ناراض ہو جاتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ تنویر حسین ان کی اندرونی سیاست سے آگاہ ہو گیا ہے۔ اسے زندہ نہیں رہنا چاہئے   اور وہ اسے ایک غنڈہ کو روپے دے کر مروا دیتے ہیں۔ اپنے اکلوتے بیٹے کی موت کا غم برکت حسین کو ہونا فطری ہے لیکن انہیں اپنے دل کے کسی گوشے میں یہ احساس بھی ہے کہ وہ بدنامی کے کرب سے آزاد ہو گئے۔ مگر ان کے دوست بالمکند شرما اس غم کو برداشت نہ کر سکے   اور بیان دینے سے پہلے ہی مر گئے۔ 
مشرف عالم ذوقی نے ’’بیان‘‘ میں بھاجپائیوں کے فکرو نظریہ اقدام و عمل کو بہت وضاحت   اور جرأت مندی سے پیش کیا ہے۔ بھاجپائیوں کو یہ بات ناگوار گزر سکتی ہے۔ لیکن اس ناول کے فن کا تقاضا تھا کہ ان کے نظریہ کو وضاحت کے ساتھ پیش کیا جائے کیونکہ انہیں لوگوں نے بابری مسجد کو مسمار کیا تھا۔ یہ کوئی معمولی واقعہ نہیں۔ یہ صرف مسلمانوں کے لیے ہی نہیں بلکہ سارے ہندوستان کے لیے سیاہ دن تھا۔ لیکن افسوس کا مقام یہ ہے کہ یہاں کے بڑے بڑے لیڈروں نے خوشی کے جوش میں تالیاں بجائیں   اور آج صاحب اقتدار بنے بیٹھے ہیں۔ 
بیان میں بالمکند شرما کا بیان مخفی رہ گیا۔ وہ اپنے لڑکوں کو پہلے ہی عاق کر چکے تھے۔ لیکن یہ بات عام نہیں ہو سکی تھی اس لیے وہ ان کی جائداد پر قابض ہو گئے۔ شاید وہ یہی بیان دے کر یہ بات عام کرنا چاہتے تھے کہ اپنے لڑکوں سے ان کی حرکتوں   اور نظریوں کے سبب اختلاف کرتے ہیں کیونکہ انہیں لوگوں کے ذریعہ ہندو مسلم تہذیب کی عبارت منہدم کر دی گئی۔ اس لیے وہ انہیں عاق کرتے ہیں   اور اپنی جائداد سے محروم کرتے ہیں۔ 
٭٭٭



بیان   اور فرقہ پرستی: ایک تجزیہ

کفیل آزر

مشرف عالم ذوقی کا نام صرف میرے لیے ہی نہیں بلکہ ان تمام قارئین کے لیے بھی نیا نہیں ہے جو اچھے افسانے  اور ناول پڑھتے ہیں۔ ذوقی کے بیشتر افسانے میں نے ہندو پاک کے تقریباً سبھی ادبی رسائل میں پڑھے ہیں   اور متاثر ہوا ہوں کیونکہ ذوقی نے ہمیشہ بے باکی، اور نڈر تا سے دیش، سماج، معاشرے، تہذیب و تمدن   اور انسانیت کے بنتے بگڑتے نقوش کو نہ صرف اپنی تیز آنکھوں سے دیکھا ہے، مشاہدہ کیا ہے بلکہ اس کرب کو دل میں اتار لیا ہے   اور پھر ان کے قلم نے اپنے موضوع کے ساتھ بھر پور طریقے سے انصاف بھی کیا ہے۔ ذوقی کا لہجہ، ان کا انداز بیان۔ کم الفاظ میں بہت بڑی بات کہنے کا فن مانگے کا اجالا نہیں بلکہ یہ ان کی بصارت   اور بصیرت کا واضح ثبوت ہے۔ ذوقی بہت پہلے ان قدموں کی آہٹ جان لیتے ہیں۔ تجھے اے زندگی ہم دور سے پہچان لیتے ہیں ‘‘ کا وصف رکھتے ہیں۔ جناب ڈاکٹر قمر رئیس صاحب کی رائے سے مجھے مکمل اتفاق ہے کہ اس دور میں جتنی بڑی کہانیاں ذوقی کے قلم سے نکلی ہیں دوسرے قلمکاروں کے یہاں اس کا فقدان ہے یا جناب ڈاکٹر محمد حسن صاحب کے الفاظ میں ذوقی بڑے اہم موضوعات پر بڑے پن کی کہانیاں لکھ رہے ہیں۔ اور اردو میں ایسا کوئی بھی نہیں ہے۔ میں نے ذوقی کے اس ناول کو صرف پڑھا نہیں ہے بلکہ محسوس بھی کیا ہے۔ دل کی آنکھوں سے اس نئے لہجے، اسلوب، اور انداز بیان کو ایک لفظ میں پوری روداد میں سمو دینا یا ایک جملے میں معنی   اور مفاہیم کی دنیا بسا دینا اس طرح کہ وہ لفظ یا وہ جملہ نکال دو تو سب کچھ بے معنی ہو جائے گا۔ بڑے ادیب یا شاعر کی پہچان عمر یا بہت زیادہ لکھنے سے نہیں ہوتی۔ اکثر یوں ہوتا ہے کہ کسی افسانہ نگار کو پہلا   اور ایک ہی افسانہ ہزاروں افسانوں کو بے اثر کر دیتا ہے۔ یا کسی مقصدی شاعر کا ایک شعر اکثر بڑے بڑے استاد شعراء کے دماغ کی چولیں ہلا دیتا ہے۔ میں یہ یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ تخلیق وہی بڑی ہوتی ہے جو قاری کے دل میں اتر جائے۔ آسانی سے سمجھ میں آ جائے۔ علامتیں اتنی ٹیڑھی میڑھی نہ ہوں کہ وہ سر سے گزر جائیں یا خود تخلیق کار جب انہیں دیکھے تو اسے سوچنا پڑے کہ یہ کیا ہے۔ تخلیق وہی بڑی ہوتی ہے جس کے ساتھ قاری خود کو محسوس کرے۔ اسے اپنی روح میں اتار لے۔ اس کی خوشیاں   اور غم۔ اندھیرے اجالے، دردو الم سب اپنے معلوم ہوں۔ ایک دور آیا تھا جب جدید ادب کے نام پر بہت سی بے ہودگیاں ہوئیں۔ لیکن چونکہ ان کا تعلق زندگی، زمین، سماج، معاشرے   اور فرد کی اچھائی برائی سے نہیں تھا وہ اسی لیے ایسی تخلیقات لوگوں کی توجہ کی مستحق نہ ہو کر کچھ ہی دن میں اپنی موت آپ مر گئیں۔ 
ذوقی مجھے اس لیے پسند ہیں کہ اب تک ان کے کسی بھی افسانے جو میں نے پڑھے ہیں سے لے کر بیان تک کہیں مصلحت پسندی، خود نمائی، شہرت کا بیضہ، ٹرافی یا تمغہ پانے کی تمنا نہیں نظر آتی۔ ان کے کردار زمینی کردار ہوتے ہیں جیتے جاگتے چلتے پھرتے جنہیں ہم   اور آپ دیکھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں مگر وہ ان کی نفسیات پڑھ کر کہانی کا موضوع بنا لیتے ہیں۔ 
ذوقی کے قلم نے ہمیشہ روز مرہ پیش آنے والے واقعات، حادثات کا گہرائی سے مشاہدہ کیا   اور جس طرح محسوس کیا اسی سچائی سے کاغذ پر اتار دیا۔ ان کا لہجہ، اسلوب انداز بیان بالکل نیا ہے کہیں کہیں علامتیں بھی ہیں مگر ابہام کہیں نہیں۔ یہی خوبی انہیں ان کے ہم عصروں میں ممیز و ممتاز کرتی ہے۔ ان کے افسانوں کے کردار فرضی نہیں ہوتے۔ موضوعات، واقعات گھڑے ہوئے نہیں ہوتے۔ وہ حقیقت پسند ہیں   اور انجام سے بے پروا۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو وہ کبھی ’’بیان‘‘ جیسا بولڈ ناول نہیں لکھتے۔ بیان ایک طرح سے سیاست سے جڑا ہوا ناول ہے۔ بابری مسجد کے انہدام یا شہادت کا مرثیہ ہے۔ بدلتی ہوئی سماجی قدریں۔ معاشرہ تہذیب و تمدن، زبان، نفرت، فرقہ پرستی، ذات پات کے فاصلے، پرانی تہذیب و روایات، وضع داری، نیک نیتی، آپس کا بھائی چارہ، عید بھی سب کی دیوالی بھی، مگر اب۔۔۔اب تو نہ جانے اس آزادی کو کس کی نظر لگ گئی کہ ہم غلاموں سے بھی بد تر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ ہم جو آج ہندوستان کی دوسری بڑی اکثریت ہیں۔ ہماری زبان جو آزادی سے پہلے سب کی زبان تھی   اور آج پوری دنیا میں پڑھی، بولی   اور سمجھی جا رہی ہے وہ پلک جھپکتے ہی مسلمان ہو گئی۔ آج ہم اپنے روایتی لباس پہنتے ہوئے ڈرتے ہیں کہ ہجوم میں کس کے چہرے پر یہ نہیں لکھا کہ وہ کس پارٹی سے تعلق رکھتا ہے۔ یا تو یہ میری کم مائیگی ہے یا حقیقت کہ میں نے بابری مسجد کی شہادت پر کسی کا افسانہ نہیں پڑھا۔ البتہ کچھ مشاعرے باز شاعروں نے جاہل مسلمانوں کے جذبات بھڑکانے والے شعر کہہ کر نعرہ تکبیر ضرور لگوا دیا   اور اگلے مشاعرے میں اپنی قیمت بڑھوا لی۔ خلوص   اور مذہب کا احترام یہاں بھی نہیں ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب ہم خود اپنے آپ کو امیدوں کے اندھیروں میں بھٹکنے کے لیے چھوڑ دیں گے تو حق کہاں سے ملے گا۔ حق آج کل مانگا نہیں جاتا چھینا جاتا ہے مگر آج جو حالات ہیں انہوں نے مسلمانوں کو اتنا بے بس   اور مجبور کر دیا ہے وہ بھول ہی گئے کہ ہم نے   اور ہمارے اجداد نے بھی اس ملک کو آزاد کرانے کے لیے اپنی بیویوں کو بیوہ، اپنے بچوں کو یتیم   اور اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کو بے آسرا کیا ہے۔ کیا اس قربانی کی کوئی قیمت کوئی صلہ نہیں ہو گا۔ آج ہندوستان کے مسلمانوں کو پاکستانی ہونے کا طعنہ دیا جاتا ہے۔ اردو کو پاکستان کی زبان کہہ کر در بدری پہ مجبور کیا جا رہا ہے۔ آج مسلمانوں کو صرف دو وقت کی روٹی کمانے کی فکر کے علاوہ کوئی فکر نہیں ہے۔ آزادی ملے ہوئے پچاس سالوں میں ہمارے سینے سے لگ کر اس طرح پیٹھ میں خنجر گھونپا گیا کہ ہم اپنی پہچان اپنے رسم و رواج اپنی روایات، اپنی تہذیب سب کچھ بھول گئے۔ آج ہمارے بچے ہندوستان کی سب سے خوبصورت زبان سے ناواقف ہیں۔ افسوس ہوتا ہے جب چند پڑھے لکھے   اور شاعروں یا ادیبوں کو اپنے بچوں کو ہندی میں خط لکھنا پڑتا ہے کہ اب یہی ان کی مادری زبان ہو گئی ہے۔ مگر پچاس سال میں ہم ہندی کو اس قابل نہیں بنا سکے کہ وہ رابطہ کی زبان بن سکے۔ اب بھی ہم انگریزوں کے غلام ہیں۔ لباس میں، زبان میں، یہ کتنا بڑا المیہ ہے کہ ہمارے ملک کے بننے والے پرائم منسٹر تک ہندی نہیں جانتے۔ اس لیے کہ اب ہم بھارتی نہیں ہیں۔ پنجابی ہیں، مراٹھی ہیں، گجراتی ہیں، یعنی اب تہذیب، روایات رسم و رواج   اور زبان صوبوں میں بٹ گئے ہیں۔ ہم ہندوستانی اپنے بچوں کو کانوینٹ میں اس لیے پڑھاتے ہیں کہ وہاں انگریزی میڈیم ہے۔ جیسے انگریزی پڑھنے والا ہی پڑھا لکھا ہوتا ہے۔ اسی کے لیے نوکریاں ہوتی ہیں۔ ہم اپنی زبانوں کو انگریزی سے کم تر سمجھتے ہیں۔ 
قابل مبارکباد ہیں ذوقی کہ انہوں نے محسوس کیا، کہ پچاس سال سے ہمیں دھوکہ دیتا ہوا یہ کھوکھلا سیکولرزم اب زیادہ دن کا مہمان نہیں نظر آ رہا ہے۔ اب اس کی جگہ ’’ہندوتو‘‘ کی حکومت ہو گی۔ آج کے تعلیم یافتہ دور میں بھی پڑھے لکھے لوگ آپسی میل ملاپ محبت   اور بھائی چارگی کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں۔ پھر جاہلوں کی سوچ کا اندازہ آپ لگا سکتے ہیں   اور آنے والا وقت شاید اس سے بھی زیادہ بھیانک   اور فرقہ پرست ہو گا۔ پتہ نہیں پھر ہمارا وجود باقی رہے گا بھی یا نہیں ایسے حالات میں ذوقی نے انجام سے بے پروا ہو کر ایک مجاہد کی طرح ہاتھ میں قلم کی تلوار پکڑ کر فرقہ پرست   اور دھوکے باز پارٹیوں کے نام لے کر ان کے چہروں سے جھوٹ کا خول اتارا ہے۔ ان کی اصلیت کو بے نقاب کیا ہے۔ اور اپنا انجام میرے خیال سے خدا پر چھوڑ دیا ہے۔ کاش یہ جرأت ہمارے   اور ادیب و شعرا اپنا فرض سمجھ کر دل میں پیدا کر لیں تو پھر قلم کی تلوار فرقہ پرستی، تعصب، دھرم و مذہب کے بیچ انسانی خون کی لکیر کھینچنے والوں کے منہ پر طمانچہ مار کر اپنا حق چھین لیں گے۔ عوام کو بیدار کریں گے۔ کیونکہ اسلام پیدا ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد۔ اس بات سے میری مراد قطعاً یہ نہیں ہے کہ ذوقی نے کوئی اسلامی ناول، نسیم حجازی یا مولانا صادق سردھنوی بن کر لکھ دیا ہے۔ بلکہ انہوں نے آج کے حالات کا صحیح آئینہ لوگوں کو دکھایا ہے۔ راستے   اور منزل کی نشاندہی کی ہے تاکہ کچھ مائی کے لال اپنے ایمان کی انگلی پکڑ کر بے عزتی کی زندگی کے گندے پانی کو آسانی سے پار کر کے اپنے سر پر عزت کا تاج رکھ لیں۔ یہ ذمہ داری زیادہ تر ادیبوں   اور شاعروں پر آتی ہے کیوں کہ ’’سر فروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے ‘‘ نے ہندوستانیوں کے خون میں جوش کی مشعلیں روشن کی تھیں   اور ایک ایسی قوم کو اس ملک سے نکالا تھا جس نے تقریباً دو سو سال ہمیں غلام بنائے رکھا۔ 
آج ہندوستان میں جو کچھ ہو رہا ہے یا جو کچھ ہونے کی امیدیں ہیں انہیں اچھی طرح پہچان لیا گیا ہے۔ اسی لیے یہ ناول اتنا المناک، درد بھرا، اور سچائیوں سے پر ہے یہ ناول بالمکند جوش کے بیان سے شروع ہوتا ہے وہ بیان جو وہ زندگی بھر نہیں دے پائے۔ اور سورگواسی ہو گئے۔ جوش   اور برکت حسین اس تہذیب، سماج، معاشرہ، زبان، رسم و رواج، بھائی چارے کی علامت ہیں جو اب اپنا جنازہ خود اپنے کاندھوں پر اٹھائے ماتم کناں ہیں کہ یہ کیا ہو گیا، کیا ہو رہا ہے۔ یہ محبت کے پیڑ میں پھلوں کے بجائے کانٹے کہاں سے پیدا ہو گئے۔ 
۴۷ء کے بھیانک فساد کے المیے پر ترقی پسند افسانہ نگاروں نے بہت کربناک   اور حقیقت پر مبنی کہانیاں لکھیں۔ ایک ٹرین پاکستان سے لاشوں کو لادے لا رہی ہے تو دوسری ٹرین ہندوستان سے زندگی سے چھٹکارہ دلا کر پاکستان جا رہی ہے۔ معاشرے میں پھر انقلاب آیا۔ سماجی قدریں بدلیں، پرانی روایتیں رد کر دی گئیں۔ آپسی بھائی چارہ فرقہ پرستی میں بدل گیا۔ ذات پات   اور اونچ نیچ کے جھگڑے زور پکڑ گئے   اور دھرم و مذہب زندگی یا موت کا پروانہ بن گئے۔ آئے دن فساد ہونے لگے۔ مسلمانوں کو ان کے حق سے غیر محسوس طور پر محروم کیا جانے لگا۔ پولیس   اور سرکاری عملہ بھی متعصب ہو گیا۔ تب مشرف عالم ذوقی کا جنم ہوا۔ اور انہوں نے بیان دے دیا۔ اس بیان کے مرکزی کردار جوش، اور برکت حسین کے علاوہ بھاجپا   اور کانگریس بھی ہیں۔ یہ ناول اپنے آپ میں ایک بھر پور المیہ ہے۔ مرثیہ ہے اس بد نصیب ملک کا جو بھارت کہلاتا ہے۔ ذوقی نے کہیں کہیں ایسے لفظ جملے استعمال کیے ہیں کہ بے ساختہ یا تو دل بھر آتا ہے یا اس تباہی پر غصہ آتا ہے۔ ڈر لگتا ہے۔ مستقبل کا عفریت اپنے خطرناک دانت نکالے سب کچھ مٹا دینے کے ارادے سے دلوں کو خوف و ذلت کا لبادہ اوڑھنے پر مجبور کر دیتا ہے۔ اس ناول کا پہلا باب ہے۔ ڈراؤنا خواب، اس میں جوش   اور برکت حسین اپنے ماضی کو کھوج رہے ہیں۔ کبھی نا امید ہوتے ہیں کبھی پر امید۔ برکت حسین ابھی تک مسلمانوں کی اس روایت کا احترام کر رہے ہیں کہ پان کھا کر اگال دان ہوتے ہوئے پیک زمین یا دیوار پر تھوکیں گے۔ بالمکند جوش اردو   اور فارسی کے عالم ہونے کے ساتھ ساتھ شاعر بھی ہیں۔ اور برکت حسین ان کے عزیز ترین دوست، سخن فہم، شاعری کے دلدادہ، جوش کی یہ خصوصیت کتنی پیاری لگتی ہے کہ وہ مشاعرے میں جانے سے پہلے دیوان حافظ سے فال نکالتے ہیں کہ آج کامیابی ملے گی یا نہیں۔ ان کا لباس رہن سہن، رسم و رواج، زبان، تہذیب و تمدن بالکل مسلمانوں جیسا ہے، اس لیے کہ وہ ہندو مسلمان کے فلسفے سے بے نیاز ہیں۔ یوں وہ اپنے مذہب کی پابندیاں بھی قبول کرتے ہیں۔ 
ہندوستان   اور پاکستان کی دو جنگیں بھی ان دو کو الگ نہیں کر سکیں بلکہ دونوں مل بیٹھ کر اس نادانی کا حل تلاش کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ 
برکت حسین کے یہ مکالمے۔ ’وقت کو گالی مت دو جوش بھائی۔ ہم ہی خراب ہو گئے ہیں۔ ایک دوسرے کے عیب ڈھونڈتے ہیں۔ سامنے آؤ تو گلے ملتے ہیں   اور پیٹھ پیچھے ایک دوسرے کو گالیاں دیتے ہیں ایک دوسرے کو چھرا بھونکتے ہیں ‘۔ کتنی سچائی ہے اس مکالمے میں۔ یا برکت حسین کا یہ مکالمہ ’ابھی اینٹھو مت زیادہ جوش بھائی۔ ایک دن وہ آئے گا جب بازار میں مول کرنے جاؤ گے تو پوچھا جائے گا کس کی تھالی چاہیے۔ ہندو کی تھالی یا مسلمان کی تھالی یہ کتنا بڑا المیہ ہے تھالیاں بھی ہندو مسلمان ہو گئیں۔ 
 ’’انہیں اپنی مسکراہٹ کسی بری خبر کی طرح ٹوٹتی ہوئی لگی، کتنا نیا پن ہے اس لہجے میں۔ ’اپنی ہی آواز نہیں پہچان پائے جوش صاحب۔‘ اپنا بوڑھا جیسے اپنی ہی ناراضگی کی سولی پر چڑھ گیا۔ 
جوش صاحب کی پوتی ان سے پوچھتی ہے آپ مسلمان ہیں کیا۔ بہت ضد کرنے   اور ڈانٹنے پر وہ جواب دیتی ہے۔ ’آپ اردو جو پڑھتے ہیں ‘ ابھی سے بچوں کے ذہن کو پراگندہ کیے جانے کا المیہ۔ بچی مسلمانوں کی برائی میں ان کے نہ نہانے  اور کپڑے نہ بدلنے کا ذکر کرتی ہے۔ 
 ’جانوروں کو مارتے ہیں ۔ بد معاش ہوتے ہیں، قتل کرنے سے نہیں چوکتے،  ’سیکھا کہاں سے‘  ’ڈیڈی بتاتے ہیں۔ کبھی کبھی ماں بھی بولتی ہے ‘ بتائیے یہ تعلیم نا بالغ کمسن   اور معصوم بچوں کے ذہنوں کو کیا بنائے گی کیا سکھائے گی۔‘ تجارتی زبان سیکھ گئے ،  آج کل کی بے ایمانی   اور منافع زیادہ سے زیادہ کمانے کے لیے جھوٹ کا سہارا لینے والے کس طرح سماج کو دیمک کی طرح چاٹ رہے ہیں۔ ایک ہی جملے میں اتنے معنی ہیں۔ یہ جملہ جوش صاحب نے ادا کیا ہے کیوں کہ انہوں نے وہ دور دیکھا ہے جب تجارت ایمانداری سے ہوتی تھی۔ ’پھول آپ کا استقبال کریں گے ‘ مگر اب اولاد نے سارے پھولوں کو روند کر کچل کر فالتو زمین کار آمد کر لی۔ دکانیں بنا کر کرائے پر اٹھا دیں۔ برکت حسین خفا تو ہوئے۔ تھوڑے دنوں تک ناراض بھی رہے۔ ’پھر وقت کی آواز سن کر چپ ہو گئے۔ یہی ان کی مرضی،  صرف ایک پیڑھی کے فرق نے ان کی دلی خوشیاں   اور گھر کی رونق چھین لی   اور انہوں نے بے بسی سے اپنی مجبوری کا تماشہ دیکھا۔ یہ جملے بہت چھوٹے چھوٹے ہیں مگر حالات کی مجبوری پر کس طرح نوحہ کناں ہیں۔،  خوشبو کا کیا کرنا ہے، ابا، کتنا بڑا طنز تھا۔ ظاہر ہے خوشبو نہ پیٹ بھر سکتی ہے نہ روز روز کی بڑھتی ہوئی ضرورتوں کو پورا کر سکتی ہے۔ 
 ’’اب تو سینکڑوں برس کا فاصلہ ہے ، کبھی کبھی لگتا ہے میاں ‘‘، ’’سارا دن بس شطرنج لے کر بیٹھ گئے اسی میں تو تباہ ہوئے مسلمان، کتنی سچائی ہے اس جملے میں۔ اب مات ہی مات ہے ہمارے لیے۔ ہاتھوں سے پیادے گرا دیئے۔‘‘ 
آواز لرز گئی۔ ’’تم کیا ہراؤ گے میاں ! اب تو ہم لگاتار ہار رہے ہیں۔ ہر محاذ پر۔ ہمارے لیے ہار ہی ہار لکھی ہے۔‘‘ 
یہ حقیقت بیانی کتنی خوبصورتی سے لکھی ہے۔ سب جیسے کل کی بات ہے   اور کل بہت زیادہ پرانا نہیں لگتا بس جیسے ابھی ابھی پاس سے گزرا ہے ۔۔۔کوئی گزرا تو با ادب ہو گئے ہاتھ پیشانی تک جا کر سلام بن جاتے۔ کتنے حسین جملوں میں مٹی ہوئی تہذیب کا مرثیہ بیان کیا ہے   اور ہاتھ پیشانی تک جا کر سلام بن جاتے ،  کتنا اچھوتا انداز ہے مجھے یہاں اظہر عنایتی کا شعر یاد آ رہا ہے اس میں بھی یہی المیہ ہے۔ 
راستو! کیا ہوئے وہ لوگ جو آتے جاتے 
میرے آداب پہ کہتے تھے کہ جیتے رہیے 
اب تم بھی خطرے میں ہو بالمکند۔ کیوں ؟ تمہارے نام کے ساتھ ’جوش‘ لگا ہے آدھے مسلمان، میاں ایسا ہوا تو ازاربند کھول کر۔۔۔  اور حقیقت میں یہ ہوا ہے۔ دو انسان اپنی بے چارگی پر طنز کرنے کے علاوہ   اور کر بھی کیا سکتے ہیں۔ اب اس پیرا گراف کی سچائی دیکھیے   اور ان انسانوں کی دور بینی سے وہ منظر دیکھے جو ہو رہا ہے   اور ہونے والا بھی ہے۔ 
کھولو گے تب بھی فرق نہیں پڑے گا انہیں۔ تب بھی فرق نہیں پڑے گا جوش میاں کیونکہ اب ہمارے بعد تم ہو۔ تم جیسے سیکولر سوچنے والے۔ اب وہ چن چن کر تمہیں ختم کریں گے۔ تم جہاں کہیں بھی ہو گے تمہیں تلاش کریں گے   اور ختم کر دیں گے ‘۔ یعنی گلے صرف مسلمانوں کے نہیں کٹیں گے بلکہ اس ملک کے سیکولرزم کے ٹکڑے کر کے ان کی چتا جلا دی جائے گی۔ اور پھر صرف ہندو تو ہو گا۔‘ کتنی با معنی ہے یہ علامتی   اور اس کا احساس۔ 
بالمکند جوش   اور برکت حسین اپنے ماضی کی رواداری، آپسی بھائی چارے، ایک دوسرے پر اعتماد   اور اعتبار، کے مسکراتے ہوئے چہرے پر فرقہ پرستی کی سیاہی پوت کر اسے کریہہ المنظر بناتا تھا۔ مراد خون کے رشتوں کا بٹوارہ دیکھ کر جیسے ان سے ان کی واراثت چھین رہی ہو۔ اس احساس سے غمگین، اداس، اور پریشان ہو کر اس کا حل ڈھونڈنے کے بجائے دل میں چھپے ہوئے غم کو آنکھوں کا راستہ دکھا دیتے ہیں۔ اور وہ صرف اتنا ہی سوچ سکتے ہیں کہ اب بابری مسجد کو شہید کرنے والوں کی بھیڑ میں اپنے دونوں بیٹوں انل   اور نریندر کو بھی دیکھتے ہیں، محسوس کرتے ہیں   اور پھر نہ جانے کتنے انل   اور نریندر ان کے ساتھ شامل ہو کر عہد رفتہ کی ایک مقدس نشانی کو زمین بوس کر دیتے ہیں۔ جوش یہی خواب دیکھتے ہیں   اور ڈر جاتے ہیں۔ بابری مسجد کے سانحہ پر اس سے خوبصورت، جامع، اور حقیقت پر مبنی تحریر ابھی تک نہیں پڑھی۔ جس میں سب کچھ ہے لیکن ایسی علامتوں میں جو اپنے قاری کی آنکھوں میں سوئیاں چبھوئی ہیں۔ نئے لب و لہجے میں لگتا نہیں کہ اس کا اختتام کیا ہو گا۔ خاص طور سے ہندوؤں کی اس تہذیب پر جب بالمکند جوش جیسے لوگ اپنے دوست برکت حسین پر سگے بھائی کو قربان کر دینا عزت   اور  شان سمجھتے تھے۔ مگر آج۔۔۔آج ان کی اولاد کا کردار کتنا بھیانک ہو گیا ہے۔ بابری مسجد کی شہادت کے بعد سب سے زیادہ خطرناک فساد بمبئی میں ہوا تھا۔ ’’یہاں ضروری سمجھتا ہوں کہ مضمون سے ذرا الگ ہٹ کر  میں کچھ اپنی بات کر لوں۔ میں وہیں تھا۔ میں نے اپنی آنکھوں سے مسلمانوں پر پولس   اور پی اے سی کی گولیاں برستی دیکھیں۔ آنسو گیس نے مجھے بھی تکلیف پہنچائی۔ بم پھٹے۔ عورتیں   اور بچے روتے چیختے ادھر سے ادھر اپنی جانیں بچانے کی فکر میں تھے۔ پولس اسٹیشن کے سامنے بمبئی کے ایک مقتدر صحافی کے گھر کو شیو سینکوں نے آگ لگائی   اور پولس تماشائی بنی رہی۔ پولس نے گھر میں روٹی بناتے ہوئے بنگلہ دیشی جوان لڑکوں کو سڑک پر زبردستی بھگا کر گولیوں سے بھون ڈالا۔ اور اسے ’کاؤنٹر فائرنگ‘ کا نام دے دیا۔ مسلم علاقوں میں عورتیں   اور مرد رات رات بھر جاگ کر پہرہ دیتے تھے۔ اس پر بھی پابندی لگ گئی۔ اور اس کے بعد مہاراشٹر کے کاغذی شیر بال ٹھاکرے نے اپنے اخبار سامنا میں ان شیو سینکوں کو بدھائی دی   اور کندھے پھلا کر لکھا کہ مجھے ان شیو سینکوں پر گرو ہے جنہوں نے ڈھانچہ گرا دیا۔ اور ہندو دھرم کی آبرو بچا لی۔ بمبئی میں ساری آگ بال ٹھاکرے نے لگائی تھی۔ لیکن اب جب کورٹ نے ۴۹ مجرم لوگوں کو بابری مسجد شہید کرنے کا مجرم پا کر انہیں نوٹس دیا تو وہ کاغذی شیر بوکھلا گیا   اور سفید جھوٹ بولنے لگا کہ میں نے ایسا نہ کہا نہ لکھا۔ کسی کے پاس ثبوت ہو تو پیش کرے۔ اب اس سے کوئی پوچھے کہ جہاں لوگ اپنے سانسوں کو ٹوٹنے سے بچانے کی کوشش کر رہے تھے وہ ثبوت کہاں سے اکٹھا کرتے۔ اس وقت بی جے پی۔ وشو ہندو پریشد، بجرنگ دل، راشٹریہ سوئم سیوک دل کے لوگوں نے بھی زبان بند کر لی تھی۔ کرسی   اور اقتدار کے لالچ میں چاہے انہوں نے کوئی جرم کیا ہو مگر آخر کار ان کے اندر بھی ایک انسان ہے جس کا ضمیر بھی ہے   اور وہ انسانوں کے خون کی ہولی سے تکلیف محسوس کر کے کراہنا بھی بھول گئے تھے مگر یہ کاغذی شیر ایک لمحہ اپنی زبان بند نہیں رکھ سکا۔ 
 ’’فلاں مندر سے اعلان ہوا مسلمانوں کو نماز نہیں پڑھنے دی جائے گی۔ رائٹ ہو تو پولس   اور ہندوؤں کی دوستی دیکھنے میں آتی ہے۔‘‘ جس ملک کا انتظامیہ بھی متعصب   اور فرقہ پرست ہو جائے وہاں کس طرح گزر ہو سکتی ہے۔ یہ تو مسلمانوں کی ہمت و جرأت ہے کہ وہ یہاں رہ رہے ہیں۔ 
نیل کنٹھ کے بارے میں جوش کی یہ سوچ کہ انہیں لوگوں نے تو کرتے   اور پائجامے کی عزت اتار  لی‘‘ کرتے   اور پائجامے کی عزت اتارنا، کتنا شدید کرب، سچائی   اور طنز ہے۔ میرا خیال ہے کہ جناح صاحب نے پاکستان بنوا کر اچھا نہیں کیا۔ پنڈت جی کا بھی ہاتھ تھا اس بٹوارے میں، کیونکہ پاکستان ہندوستان کے مسلمانوں کے لیے زبردست طمانچہ بن گیا ہے۔ جو مسلمان پاکستان جا کر بغلیں بجا رہے تھے وہ اب تک وہاں مہاجر ہیں۔ پاکستان سے آئے ہوئے شرنارتھی اب ہندوستان میں شرنارتھی نہیں رہے۔ ہندوستانی ہیں   اور یقیناً پاکستان میں رہنے کے مقابلے میں یہاں زیادہ خوشحال زندگی گزار رہے ہیں۔ مسلمانوں کو اب ہندوستان میں حقارت کی نظر سے دیکھا جاتا ہے جب کہ ہندوستان جمہوری ملک ہے۔ یہاں مسلمان ’میاں بھائی‘ ہو گئے ہیں۔ 
برکت حسین سے منا کے بارے میں انسپکٹر پوچھتا ہے۔ آپ کیا چاہتے ہیں۔ برکت حسین کو پھر رونا آیا آپ پوچھ رہے ہیں میں کیا چاہوں گا میرا بیٹا غائب ہے۔ ایک بوڑھا باپ ایسے میں کیا چاہ سکتا ہے۔ موت کتنی آسان ہو گئی ہے۔ موت سب سے آسان ہو گئی ہے۔ واقعی   اور اب تو جھوٹ بھی سچا نہیں ملتا۔ 
 ’’سچائی یہ ہے کہ ہندو کبھی ہنسک نہیں ہو سکتا۔ ہندو اہنسا کا ہی دوسرا نام ہے۔‘‘ فرقہ پرستوں پر کتنا گہرا طنز ہے۔ ’’برکت حسین اس کے چہرے کے زخمی اتار چڑھاؤ کو دیکھ رہے تھے ‘‘ کیا زبان ہے سبحان اللہ۔ ’’ساڑھے بارہ بجے   اور ڈیڑھ بجے کے درمیان واقعات نے دنگوں کا لباس پہن لیا ’’دنگوں کا لباس‘‘ کیا استعارہ ہے۔ جوش کا جملہ برکت حسین سے۔ ’’یہ ہو رہا ہے بھائی کہ اب تم سے نظریں ملاتے ہوئے بھی شرم آ رہی ہے۔ یہ سب میاں بالمکند جوش۔ تم ایک مرتی ہوئی تہذیب کا تماشہ دیکھنے کے لیے زندہ ہو۔ اپنے گھر میں ہی کس پر ادھیکار ہے تمہارا۔ اپنے بچوں پر۔۔۔ ؟‘‘ 
 ’’ایک گھٹی ہوئی سانس چھوڑتے ہیں وہ۔۔۔میرے بچے کہاں ہیں۔ یہ تو بھاجپائی ہیں یا کانگریسی‘‘ بدلتی قدروں   اور مٹتی تہذیب کا کتنا المناک حادثہ ہے یہ جیسے ’’اس جھوٹ کو غلط نہیں کہا گیا ہے جو سچ کے درشن کرنا چاہتا ہو   اور ویکتی کو نرک سے مکتی دلاتا ہے۔ ایسا جھوٹ ہزار سچ پر بھاری ہے۔‘‘ ایک جھوٹ کو مذہب کا لباس پہنا کر کتنے غلط کاموں کے لیے استعمال کرنے کا المیہ ۔۔۔منچ کے ایک کونے میں خاموش خاموش تحسین بھی بیٹھا تھا۔ ایک مسلمان کے اندرونی جذبات کی کشمکش کے لیے خوبصورت جملے۔ تحسین بھاجپا میں شامل ہو گیا ہے۔ اور یہ آخری جملہ ’’   اور ایک بار پھر دھیرے دھیرے شہر کی فضا بارودی رنگ اختیار کرنے لگی تھی۔‘‘ باؤ جی حق نہیں ماریں گے۔ باپ کی موت کا انتظار یا مرنے سے پہلے ہی جائیداد کے بٹوارے کا لالچ۔ میرے ایک دوست ٹنڈن صاحب نے ایک سچا واقعہ سنایا تھا کہ ان کے کسی دوست کا سورگواس ہو گیا۔ وہ بھی انتم سنسکار میں شریک ہونے کے لیے شمشان پہنچے۔ دو چار لوگ   اور بھی تھے۔ مرنے والے کے دو بیٹے بھی ارتھی ابھی نہیں آئی تھی   اور بیٹے جائداد کا بٹوارہ کر رہے تھے۔ بالمکند جوش کی باتوں میں کتنی المناکی چھپی ہے۔ ’’نعتیہ کلام وہ بھی ایک ہندو کی زبان سے ؟،  بوڑھا آدمی اپنی خواہشوں کا غلام ہوتا ہے۔ کتنے پیوند لگیں گے اس گھر کو، کاش سب ہندو بالمکند جوش  اور سب مسلمان برکت حسین ہو جائیں تو اس دیش کی مانگ کبھی خون سے نہیں بھری جائے گی۔ لیکن بدلتے وقت نے پرانی قدروں کو کس حد تک زخمی کیا تھا جسے وہ دیکھ رہے تھے، محسوس کر رہے تھے کہ وقت کی گردش کا انداز بدلا تھا۔ سورج کا نکلنا ڈوبنا، صبح شام رات کا ہونا۔ موسم کا بدلنا۔ سب میں ایک نمایاں فرق آیا تھا۔ ایک سچے   اور اچھے شاعر کی   اور عظیم انسان کی سوچ اس سے زیادہ کیا ہو سکتی ہے کہ وہ روزمرہ کے دستور میں بھی فرق محسوس کرنے لگا تھا۔ آزادی سے پہلے کا ہندوستان جو غیروں کا غلام تھا   اور اپنی اس بے بسی کو محسوس کر کے آمدنی کی فکر میں لگا ہوا تھا۔ اس لڑائی میں نہ کوئی ہندو تھا نہ مسلمان۔ سب ایک تھے۔ تعصب   اور فرقہ پرستی نام کی کوئی چیز نہیں تھی۔ مہذب   اور دھرم کے جھگڑے نہیں تھے۔ بابری مسجد کی شہادت   اور رام للہ کی جائے پیدائش کا شاید اس وقت کے ہندو پنڈتوں کو بھی پتہ نہیں تھا کہ اس کی کیا تاریخ ہے۔ اب اچانک ہی اتنی بہت سی معلومات کہاں سے آ گئیں ؟ نوابوں   اور زمینداروں کے حالات کی بہت صحیح عکاسی کی ہے ذوقی نے۔ 
 ’’ایک نام بالمکند گھر کے لیے رہ گیا تھا۔ دوسرا ’جوش‘ والا حصہ ان کے لیے محفوظ تھا۔ جینے کے نام پر کچھ تسلی بچا کر رکھنے کے لیے۔ ’یہ جوش بھی چھن جاتا تو بھلا جینے کے لیے کیا رہ جاتا؟ نام کے دو ٹکڑے ہونا علامت ہے۔ تہذیب و تمدن کے ٹکڑے، خون کے رشتوں کے ٹکڑے۔ انسانیت۔ مذہب  اور دھرم کے ٹکڑے۔ مادر وطن کے ٹکڑے۔ نام کے دو ٹکڑوں میں کتنی با معنی اشاریت   اور غم انگیز کہانیاں پوشیدہ ہیں۔ جوش کہتے ہیں۔ ’ٹھیک کہتے ہو، میرے لڑکے بھی یہی کہتے ہیں اردو آپ کی نہیں مسلمانوں کی زبان ہے، تم بھی یہی کہتے ہو، کسی سنتوش کو کیوں لیا گیا، جوش صاحب ایسی غلط سوچ رکھ کر اپنی زبان کو ختم کرانے والے نادان مسلمانوں پر کیا بھرپور طنز کرتے ہیں۔ کیونکہ ہم جیسے کم علموں نے اردو کو صرف اپنے باپ دادا کی جاگیر سمجھ لیا ہے۔ زبان تو سب کی ہوتی ہے۔ کسی ایک مخصوص فرقے کی نہیں۔ فرق صرف رسم الخط کا ہے جو اس معاشرہ، تہذیب و تمدن کا آئینہ دار ہے۔ جوش، اردو تو ہماری زبان تھی ہی نہیں ۔۔۔یہ ہماری بے وقوفی تھی۔ یہ تو ۔۔۔تمہاری جاگیر تھی۔‘‘ 
 ’’منا کمرے میں آگیا۔ ابا جو پوسٹر  اور اشتہارات ہاتھوں میں لیے کسی سنگ کی طرح کھڑے تھے، یہ سب آپ کو کہاں سے ملا؟ سوال اس کا نہیں ہے یہ کہاں سے ملا۔ یہ ہے کیا، یہ وہی ہے جو آپ سمجھ رہے ہیں، آگے کچھ مت پوچھئے گا۔ ایک جملے نے ساری کہانی کہہ دی کہ منا بھاجپائی ہو گیا ہے۔ صفحہ ۱۹۷ پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے، ’یہ سناٹے تو آزادی کے بعد جیسے ملک کا نصیب بن گئے ‘ صفحہ نمبر ۲۲۰   اور ۲۰۱ خوبصورت تشبیہات۔ استعاروں سچائیوں، اور ایمانداری کی عمدہ مثال ہیں۔ 
مناّ کی ذہنی کشمکش، اس کے سامنے بھاجپائی ننگے ہو چکے تھے   اور منا ان کے خوفناک ارادے بھانپ چکا تھا۔ اب اس کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ کیا کرے۔ ساتھ دے تو بھی موت، چھوڑ دے تو بھی موت۔ 
 ’’ملکانی نے انسانی جان کی قیمت کیڑے مکوڑوں سے بھی کم کر دی، صرف اقتدار کے لیے۔ سب کے ہونٹوں پر منا کا نام ایسے سجا تھا جیسے فرشتوں یا بھگوان کا بجتا ہے۔ فرقہ پرست   اور متعصب لوگ بھی کہیں نہ کہیں انسان ہوتے ہیں   اور جب ان کے اندر کا انسان جاگتا ہے تو وہ منا کے بارے میں سوچ کر تکلیف محسوس کرتے ہیں۔‘‘ 
آنکھیں کھلنے کے لیے ایک دن   اور ایک یگ کیا ایک پل کافی ہے۔ اوما جو کٹر فرقہ پرست تھی منا کی انسانیت   اور محبت دیکھ کر سگے بھائیوں سے زیادہ اسے ماننے لگی۔ 
باؤ جی (جوش) نے ایسے دیکھا۔ جیسے وہ ان کی موت کا سودا کرنے آیا ہو۔ ملکانی جو بہت زیادہ متعصب تھا   اور منا کی بغاوت کے لیے اس نے موت کی سزا تجویز کی تھی۔ لیکن منا کے قتل کے بعد اس کے اندر چھپے ہوئے انسان نے اس کے ضمیر کو جھنجھوڑا۔ اس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ بولا ’’ارے بھائی تھا تو ہمارا وہ۔ جگری یار میں بدل گیا تھا۔ میں اسے بیٹوں کی طرح چاہنے لگا تھا۔ مگر اقتدار کی ہوس نے باپ کو جانور بنا دیا۔ 
برکت حسین منا کی تعزیت کو آئے ہوئے بھاجپائیوں کا جھوٹ سنتے سنتے پریشان ہو گئے   اور بولے ’لوگو! اب مجھ سے کیا چاہتے ہو، مجھے جو کھونا تھا وہ تو میں نے کھو دیا۔ اپنا یقین، اپنی وفاداری، اور اپنا بیٹا یہ محلے کے مسلمان بھی مجھے ہی گناہ گار سمجھتے ہیں۔ دیکھو کوئی نہیں آیا۔‘‘ اس درد کو وہی انسان سمجھ سکتا ہے جس کے سینے میں ایماندار دل ہو، یا جن بوڑھے کاندھوں نے اپنے جوان بیٹے کا جنازہ یا ارتھی اٹھائی ہو‘۔ مسلمان تک کاندھا دینے نہیں آئے۔ کیا فضا بنا دی اس سیاست نے۔ اقتدار کی ہوس نے۔ کرسی کے لالچ نے۔ وہ ساری فرقہ پرست پارٹیاں جو انسانوں کے خون کی ہولی کھیل رہی ہیں ان میں کہیں نہ کہیں ملکانی جیسے جانور انسان بن جاتے ہیں   اور پچھتاتے ہیں۔ کاش یہ ساری فرقہ پرست پارٹیاں اقتدار کی ہوس سے اوپر اٹھ کر ملکانی کی طرح اپنے اندر کے چھپے ہوئے انسان کو باہر نکال لیں۔ اور یہ سوچ لیں کہ ہم مسلمانوں کا نہیں انسانوں کا خون بہا رہے ہیں۔ 
بہار جو اردو کا چوتھا اسکول ہے، جہاں شادؔ عظیم آبادی، سہیل عظیم آباد، غیاث احمد گدی، الیاس احمد گدی، عبد اللہ کمال پیدا ہوئے ہیں، وہیں اس فہرست میں اب مشرف عالم ذوقی کا نام بھی شامل ہو گیا ہے۔ بیان سچ مچ ایک ایسا ناول ہے جس پر صرف اردو زبان کو نہیں بلکہ سارے ہندوستان کو فخر کرنا چاہیے کہ مجموعی طور پر ایک بولڈ بیان ہے۔ 
آج اس عہد میں جہاں ارون دھتی رائے کی ’’د گاڈ آف اسمال تھنگس‘‘   اور وکرم سیٹھ کی اے سیو ٹیبل بوائے، جیسے معمولی درجہ کے ناول شہرت   اور مقبولیت کے منازل طے کر رہے ہیں، خواہش ہوتی ہے کہ کاش ذوقی کا یہ بیان انگریزی زبان میں بھی شائع ہوا ہوتا   اور انگریزی کو اولیت دینے والے یہ جان سکتے کہ اردو زبان میں کیسی انوکھی   اور عمدہ چیزیں تحریر ہو رہی ہیں۔ 
٭٭٭


بیان: بیسویں صدی کا المیہ

رام پرکاش راہی

اردو میں مصنف کا یہ تیسرا مکمل ناول ہے۔ ایک جانے مانے کہانی کار کی حیثیت سے ناول نگاری کی طرف۔ محویت کے ساتھ رجوع، تخلیقیت کا تقاضا ہونے کے ناطے ایک فطری عمل ہو جاتا ہے۔ اس کے علاوہ عصریت آشنائی کے التزامات کو بھی سر آنکھوں پر لینا پڑتا ہے۔ لہٰذا یہ کوشش جو منفرد بھی ہے   اور منظم بھی۔ 
مصنف نے اسے ۶  دسمبر کے نام منسوب کیا ہے۔ کچھ قارئین کو اس سے عصبیت کی بو بھی آسکتی ہے لیکن ایسی بات ہرگز نہیں ہے۔ اس نے ملک کی صورت حال کو خالص فنکارانہ روا داری کی نگاہ سے دیکھا   اور اس کی ترجمانی کی ہے۔ البتہ جس تلخ حقیقت نے اسے یہ ناول لکھنے کی تحریک دی ہے اس کے لیے کم از کم ہدیہ انتساب تو ضروری ہو جاتا ہے۔ 
ناول کے آغاز میں اس کے عنوان۔ بیان۔ کے نیچے مصنف کے یہ الفاظ خاص طور سے قابلِ ذکرو اعتنا ہیں :
 ’’بالمکند شرما جوش مرنے سے پہلے بیان دینا چاہتے تھے ‘‘ 
ان الفاظ کی لغوی معنویت تو صریحاً سامنے آ جاتی ہے۔ لیکن وہ ’’بیان‘‘ کیا ہو سکتا ہے ،  اس کا احساس قاری کے ذہن میں ایک ایسا سوالیہ نشان اجاگر کر دیتا ہے جس کے زیر اثر وہ ناول کو مسلسل دلچسپی کے ساتھ پڑھتا ہی چلا جائے گا۔ اس کی محویت کچھ ایسی ہی رہے گی جیسے وہ الفریڈ ہچ کاک کی کوئی suspense movie دیکھ رہا ہو۔ 
بین السطور میں جائیں تو اس حقیقت سے قطع نظر نہیں ہو سکتا کہ بنیادی طور سے یہ ایک سماجی ناول ہے   اور ایک ایسے ملے جلے سماج سے تعلق رکھتا ہے جو دو مختلف مذاہب کی بہترین انسانی اقدار کی تعلیم و تعمیل سے مرتب ہوا ہے۔ البتہ ان اقدار کے تارو پود میں سیاسی در اندازیاں حتی الوسع اپنے اپنے طور سے گل کھلانے سے باز نہیں آتیں۔ 
اس صورت حال کی Genesis کی طرف بھی جانا ضروری ہو جاتا ہے۔ کسی فلسفی نے کہا تھا کہ وہ ملک بڑا خوش نصیب،  خوشحال   اور خوش و خرم ہو گا جس کی کوئی تاریخ نہیں ہوتی اگرچہ عملی طور سے اس صورتِ حال کا دستیاب ہونا نا ممکن لگتا ہے لیکن اُس فلسفی کی اس بات کے نفسیاتی واجبات قابل غور ہیں۔ آخر نفسیاتی رویے ہی تو زندگی کے روشن   اور تاریک پہلوؤں کا تعین کرتے ہیں۔ 
ہندوستان کی تاریخ نہ صرف طویل ہے بلکہ آریوں ، ہندوؤں، مسلمانوں   اور انگریزوں کے مختلف ادوارِ حکومت پر مشتمل ہے۔ ’بیان‘ کا منظر نامہ ماضی کی جن تلخ حقیقتوں کے پس منظر کی بدولت اجاگر ہوتا ہے وہ انگریزی سامراج کی دین ہیں۔ انگریز یہاں بر سر اقتدار رہے صرف اسی حکمتِ عملی کے بیخ و بن پر یعنی ’’پھوڑو   اور راج کرو‘‘ اسی حکمتِ عملی نے دو قومی نظریے کو راہ دی، ملک تقسیم ہو گیا۔ تقسیم کے کرتا دھرتا چلے گئے۔ اپنی حکمتِ عملی کی انمٹ پرچھائیاں چھوڑ گئے۔ 
اِن انمٹ پرچھائیوں کے عفریت نے مذہبی تعصبات   اور فرقہ واریت کو جنم دیا۔ چنانچہ پرانے ملے جلے سماج کا انحطاط   اور سر اٹھاتے ہوئے نئے سماج کا در آنا اسی conflice کے دو دھڑے ہیں جس پر اس ناول کا ڈھانچہ کھڑا کیا گیا ہے۔ 
ناول کا پلاٹ پرانی   اور صالح اقدارِ انسانی کے اعتبار سے پنڈت بالمکند شرما جوش   اور چودھری برکت حسین   اور بدلتے ہوئے سماج میں گرتی ہوئی اخلاقی اقدار کے پیش منظر کی رو سے ،  ان دو حضرات کے اہلو عیال کے گرد گھومتا ہے۔ جوش جی اردو کے شاعر ہیں   اور برکت صاحب اردو کے پرستار۔ لہٰذا اردو ہی ان کی وہ قدرِ مشترک ہے سے وہ ذیلی اقدار پھوٹتی ہیں جن سے چینی روایت کے مطابق۔ انسان کے شائستہ ہونے کی نشاندہی ہوتی ہے یعنی شطرنج کھیل   اور شعرو شاعری سے لطف اٹھانا۔ ان دو کنبوں کے عزیزان گرامی چلتی ہواؤں کے نرغہ میں آ کر اپنی اپنی مصلحتوں کا دم بھرتے ہیں   اور ایسی سیاسی تنظیموں کی در پردہ کارستانیوں میں ملوث ہو جاتے ہیں جنکا ان کے والدین کو پورا پورا علم ہی نہیں ہوتا۔ یہ تنظیمیں ملک کی دو بڑی سیاسی پارٹیوں سے متعلق رکھتی ہیں جو اپنے الگ الگ فلسفۂ  خیال کی پیروی میں شک و شبہ کی جذباتی رو میں آ کر ملک کے کچھ خاص علاقوں میں دنگے فساد کرتی  اور کرواتی رہتی ہیں۔ دونوں کی کوشش اپنا الوّ سیدھا کرنے کے لیے سماج کے تخریبی عناصر کو آلۂ  کار بناتی رہتی ہیں۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ یہی تخریبی عناصر کسی حد تک مختارو مجاز بھی ہو جاتے ہیں۔ چودھری برکت حسین کا بیٹا تنویرؔ عرف منّا، بالمکند شرما جوش کے بیٹوں   اور ان کے احباب کی صحبت میں پڑ کر بھاجپا کا کارکن ہوتے ہوئے بھی دہشت گردوں کی کارستانی کا شکار ہو جاتا ہے   اور یہ پتہ بھی نہیں چلتا کہ کس نے اس کا خاتمہ کیا۔ دونوں گھروں میں ایسے ناساز گار واقعات بھی رو پذیر ہوتے ہیں جن کے پیشِ نظر ادھر منّا   اور اس کی اہلیہ   اور اُدھر جوش صاحب کے بیٹے   اور بہو کے مزاج میں خاندانی خون کی نفسیات اپنا ہمدردانہ رنگ دکھا کر باہمی بھائی چارے   اور غیر معمولی خلوص و محبت کو راہ دیتی ہے۔ 
بالمکند شرما جوش کی عمر گزیدگی   اور حالات کی افراتفری اس میں ایسی بیماریوں کو رونما کر دیتی ہے جن سے وہ محض ایک dumb show ہو کر رہ جاتا ہے۔ موت آ جاتی ہے مگر وہ کاغذ کا پرزہ تلف ہو جاتا ہے جس میں شاید وہ بیان درج تھا جو وہ مرنے سے پہلے دینا چاہتا تھا۔ گویا ’بیان‘ تو اختتام پذیر ہو جاتا ہے لیکن متوقع بیان صیغہ خفا میں ہی رہ جاتا ہے۔ 
مشرف عالم ذوقی نے جہاں بالمکند شرما جوش   اور چودھری برکت حسین کے رہنے سہنے، چال ڈھال، ذوقو شوق   اور میل جول کے ساتھ ان کی مزاجی شائستگی کی مکمل تصویر کھینچی ہے ، وہاں اس نے ان کے اہل و عیال کی گونا گوں خرافاتوں   اور فکرو عمل کے تانے بانے بھی بڑی فنکاری کے ساتھ تشکیل دیئے ہیں۔ ناول کے تمام کرداروں کے لیے میدانِ عمل   اور گوشہ ہائے فکر و نظر تراشنے میں بھی اس نے اپنے انداز میں رچی بستی تخلیقیت سے کام لیا ہے۔ ماحول و مواقع کی صاف صاف پیش کش قدم قدم پر ملتی ہے۔ 
ناول میں بہت سے واقعاتی   اور مخدوش نوعیت کے مقامات و مراحل بھی در آتے ہیں جو اپنے خوف و ہراس کی شدت سے رونگٹے کھڑے کر دیتے ہیں۔ ان سے مضر   اور عافیت کی صورت نکالنے کے لیے مشرف عالم ذوقی نے ’’پانچ پاپیوں ‘‘ کا ایک ٹولہ بھی تخلیق کیا ہے۔ یہ سب حضرات اپنے اپنے رنگ کے شاعر ہیں جو گاہے گاہے نہ صرف شعری نشستوں سے catharsis کے وقفے اجاگر کرتے رہتے ہیں بلکہ اپنی بے کاری کو ’’بے گار بھلی‘‘ کی خوش فہمیوں سے التوا میں ڈالتے رہتے ہیں  اور ایک مزاحیہ سی فضا بھی پیدا ہو جاتی ہے۔ 
اس ناول میں انداز تحریر دو طرفہ ہوتے ہوئے بھی انفرادیت کا جادو جگاتا ہے وہ ماحول جہاں اردو دانی حاوی ہے وہاں خالص رواں دواں اردو سے کام لیا گیا ہے   اور جہاں فضا میں ہندی کا پلڑا بھاری ہے وہاں ہندی آمیزی کو بروئے کار لایا گیا ہے۔ گویا ’بیان‘ کے بیانیہ میں وہ تمام Readability ہے جس اس طرح کے ناول کی روح تسلیم کی گئی ہے۔ 
٭٭٭


 ’بیان‘ میرے مطالعے میں 

شاہد کلیم

اردو ادب میں ناول کا باب باقاعدہ پریم چند سے کھلتا ہے۔ ان سے پہلے جو ناول معرض وجود میں آئے وہ زبان و بیان یا طرز نگارش تک ہی سمٹ کر رہ گئے، ان کا کینوس محدود ہو کر رہ گیا۔ پریم چند کے بعد سجاد ظہیر، عزیز احمد، کرشن چندر، عصمت چغتائی، قرۃ العین حیدر، سہیل عظیم آبادی   اور راجندر سنگھ بیدی وغیرہ نے نئی حسیت   اور عصری بصیرت کے ساتھ ناول کے تانے بانے کو بنا۔ سجاد ظہیر کا ناول ’لندن کی ایک رات‘ اپنے طرز کا انوکھا   اور تجربے کے اعتبار سے اردو ادب کا پہلا ناول ہے۔ یہ ناول عام اسلوب و اظہار کے پرائے سے مختلف   اور منفرد حیثیت کا حامل ہے۔ مواد   اور الفاظ کے تخلیقی استعمال کے علاوہ اس میں علامتی اظہار و بیان کی روپ ریکھا موجود ہے۔ اس طرز تحریر کی دوسری مثال عزیز احمد   اور قرۃ العین حیدر کے ہاں ملتی ہے۔ ان فنکاروں کے علاوہ بیشتر فنکاروں کے ناول میں پریم چند کی طرح صاف   اور سادہ انداز بیان کا نمونہ ملتا ہے مگر ان فنکاروں کی آنکھیں زندگی کی حقیقتوں کو نہایت گہرائی سے دیکھتی ہیں   اور ان کے ناولوں میں حقائق زیست کی پرتیں بہ آسانی کھلتی جاتی ہیں۔ لہٰذا عمومیت کے سبب یہ بات عام کر دی گئی ہے کہ اردو ادب میں ناول کا اندوختہ کوئی اچھا خاصا نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ اردو ادب میں اچھے ناول کا وجود ہی نہیں۔ یہ حقیقت قابلِ انکار نہیں کہ زیادہ تر خراب عامیانہ   اور سطحی قسم کے ناولوں کے درمیان بہت سارے اچھے ناول بھی اپنے وجود کی چمک دمک کھو چکے ہیں   اور چند ناول ہی قابلِ ذکر رہ گئے اس کی خاص وجہ یہ ہے کہ ناول نگاری کی طرف ہمارے فن کاروں نے انہماک کے ساتھ توجہ نہیں کی۔ لیکن ۱۹۷۰ء کے بعد اردو ادب میں ایک بڑا انقلاب برپا ہو، اور کثرت سے اچھے ناول منظر عام پر آئے جن میں شفق کا ’’کانچ کا بازی گر‘‘، عبد الصمد کا ’’دو گز زمین‘‘ پیغام آفاقی کا ’’مکان‘‘ الیاس احمد گدی کا ’’فائر ایریا‘‘ حسین الحق کا ’’فرات‘‘   اور غضنفر کا ’’پانی‘‘ خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔ 
مشرف عالم ذوقی افسانہ نگار بھی ہیں   اور ناول نگار بھی۔ عام طور پر ان کے افسانوں کا حجم بڑا ہوتا ہے لہٰذا میرا خیال ہے کہ وہ بنیادی طور پر ناول، نگار کا ہی مزاج رکھتے ہیں۔ اب تک انہوں نے دنیائے ادب کو افسانوں کے چار مجموعے بھوکا ایتھوپیا، منڈی، غلام بخش   اور ’’لینڈ اسکیپ کے گھوڑے ‘‘ ناولوں میں ’’شہر چپ ہے ‘‘، نیلام گھر، ذبح   اور ’بیان‘ دیئے ہیں۔ اگرچہ نیلام گھر ان کی ابتدائی عمر کا حاصل ہے لیکن ’’بیان‘‘ ان کے پختہ شعور کا غماز بن کر سامنے آیا ہے۔ 
ناول واقعات   اور جذبات کا آئینہ دار ہوتا ہے۔ ناول کا رشتہ براہ راست انسانی زندگی کی حقیقتوں سے ہے۔ ہنری جیمس نے اپنے مضمون "The Art of Fiction" میں اسی نکتے کی طرف اشارہ کیا ہے۔ 
"The only reason for the existence of Novel is that it does attempt to represent life"
ایک اچھے ناول کی سب سے بڑی صفت یہ ہے کہ وہ انسانی زندگی کے نشیب و فراز کو اس انداز سے پیش کرتا ہے کہ تمام تصویریں تاثراتی ہو جاتی ہیں۔ ناول نگار کا خاص کام یہ ہے کہ وہ انسانی اعمال کو سماجی اصولو ضوابط   اور ممنوعات کی روشنی میں اس طرح پیش کرے کہ ان کے مطالعے کی روشنی میں قاری اچھائی   اور برائی کے درمیان روشن   اور واضح لکیریں کھینچ سکے۔ مطلب یہ ہے کہ اچھے ناول سماجی خرابیوں کو روشنی میں لاتے ہیں   اور اپنے قاری کو بہتر راہ دکھاتے ہیں۔ مشرف کا ناول ’بیان‘ ایک ایسا آئینہ ہے جس میں ماضی، حال   اور مستقبل تینوں زمانے کی تصویریں روشن ہوتی ہیں۔ مشترکہ تہذیبوں کا زوال، سیاسی فریب، مذہب و ملت کے نام پر انسانیت کا خون۔ سرکاری مشینری کی کوتاہی، جنریشن گیپ   اور نئی نسل کی بے راہ روی، یہی سب باتیں اس ناول کے خاص موضوعات ہیں۔ بہ الفاظ دیگر یہ ناول اپنے ملک کی موجودہ صورت حال کا بگڑا ہوا نقشہ پیش کرتا ہے۔ یہ بگڑتا ہوا نقشہ فساد  میں بہنے والے خون سے تیار ہوتا ہے۔ فساد کے موضوع پر یوں تو بہت سارے ناول لکھے گئے ہیں لیکن اس ناول کی اہمیت اس لیے بڑھ گئی ہے کہ اس میں وہ کون سے محرکات ہیں جو فساد کا سبب بنتے ہیں ،  انہیں پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے نیز فرقہ وارانہ ہم آہنگی، سیکولرزم   اور رشتۂ  انسانیت کی بحالی پر زور دیا گیا ہے۔ 
اس ناول میں فضول   اور غیر متحرک کرداروں کی بھیڑ نہیں ہے۔ بال مکند شرما   اور برکت حسین اس ناول کے دو اہم کردار ہیں جو ایک دوسرے کے جگری دوست ہیں۔ مذہب ان کی دوستی کی راہ میں کبھی حائل نہ ہوا۔ بال مکند شرما ایک شاعر بھی ہیں۔ مشاعرے میں نعت پاک پڑھتے ہیں   اور خراج تحسین بھی لیتے ہیں۔ یہ سب باتیں گنگا جمنی تہذیب کو شدو مد کے ساتھ پیش کرتی ہیں۔ لیکن جو کچھ کل تھا وہ آج نہیں رہا، سب کچھ بدل چکا ہے۔ نئی نسلوں پر سیاسی رنگ چڑھ چکا ہے۔ مذہب کے نام پر بھید بھاؤ نے جنم لے لیا ہے۔ بالمکند شرما   اور برکت حسین جب آپس میں ملتے ہیں تو نئی نسلوں کو برا بھلا کہتے ہیں۔ شرما جی کے دو بیٹے ہیں جو جائیداد کے بٹوارے کو ضروری سمجھتے ہیں لیکن شرما جی اپنی پرانی وراثت کو ٹوٹ کر بکھرنے دینا نہیں چاہتے۔ در اصل انہوں نے منقسم ہندوستان کو دیکھا ہے جس کے برے نتائج ان کے سامنے ہیں۔ اس ناول میں اوما جو شرما جی کی بہو ہے مسلمانوں سے نفرت کرتی ہے اس کے ذہن میں یہ بات بیٹھ گئی ہے کہ مسلمان لوگ ہی اردو پڑھتے ہیں۔ لہٰذا وہ شرما جی سے سوال کرتی ہے۔ 
 ’’کیا آپ مسلمان ہیں ؟ اردو جو پڑھتے ہیں۔‘‘ 
اس نے سن رکھا ہے۔ 
 ’’مسلمان مہینوں نہیں نہاتے۔ گھر کو گندا رکھتے ہیں۔ جانوروں کو مارتے ہیں۔ تلوار دکھا کر مسلمان بناتے ہیں۔‘‘ 
غلط افواہیں پھیلا کر اسے غلط فہمیوں کے شکنجے میں جکڑ دیا گیا ہے۔ لیکن اس کی یہ غلط فہمیاں اس وقت دور ہوتی ہیں جب اس کی لڑکی مالو بیمار پڑتی ہے تو اسے علاج کے لیے برکت حسین کا لڑکا منا ڈاکٹر کے پاس لے جاتا ہے جبکہ اس کا اپنا چچا اس حالت میں اسے چھوڑ کر چلا جاتا ہے۔ اس واقعے کے بعد اوما کے مزاج میں تبدیلی آتی ہے۔ دشمنی دوستی میں بدل جاتی ہے وہ سوچتی ہے کہ بھید بھاؤ   اور نفرت و کراہت یہ سب چیزیں گندی سیاست کے ہی بطن سے جنم لیتی ہیں وہ اپنے شوہر سے کہتی ہے کہ وہ راجنیتی چھوڑ دے۔ 
منا (تنویر حسین) بجلی آفس میں کلرک ہے۔ لیکن قلیل آمدنی کے سبب مالی مشکلات میں پھنسا رہتا ہے۔ ایک دن وہ کرفیو کے دوران گھر سے غائب ہو جاتا ہے۔ برکت صاحب بے حد پریشان ہوتے ہیں وہ تھانے میں ایف آئی آر درج کرانا چاہتے ہیں لیکن مایوسی ان کے ہاتھ آتی ہے۔ انہیں صرف تھانے سے بلاوا آتا ہے۔ چلیے لاش کی پہچان کرنی ہے۔ اس خاص وقت پر بیگم برکت حسین دل میں خراش پیدا کر دینے والی بات کہتی ہیں۔ 
 ’’زندہ لوگوں کی کھوج نہیں کرواتے مردود، مردوں کی پہچان کرواتے ہیں۔‘‘ 
منا چند روز کے بعد جب واپس اپنے گھر آتا ہے تو برکت حسین کو راحت نصیب ہوتی ہے لیکن منا سے وہ ساری روداد سننے کے لیے بے تاب ہیں   اور ایک روز جب پوسٹر   اور کچھ کاغذات اس کے سرہانے سے برآمد ہوتے ہیں توبلبلا اٹھتے ہیں   اور منا سے کہتے ہیں کہ بلوائیوں میں تم بھی ہو۔ منا نے در اصل اپنی مالی مشکلوں سے نجات حاصل کرنے کے لیے سیاسی لوگوں کے فریب میں آ کر بھاجپا جوائن کر لیا تھا لیکن مالی تعاون ملنے کے باوجود وہ کبھی چین سے نہیں رہا۔ پارٹی والے مسلمانوں کے خلاف اسے تقریر کرنے پر مجبور کرتے ہیں   اور منا کو جب یہ احساس ہوتا ہے کہ وہ انہی قوم کے دامن پر ایک بد نما داغ بن گیا ہے تو وہ پارٹی سے الگ ہو جاتا ہے لیکن ملکانی کے اشارے پر ایک روز منا کا قتل ہو جاتا ہے   اور سارے شہر میں فساد کی لہر دوڑ جاتی ہے۔ منا کی موت کی خبر شرما جی کے لیے جان گسل ثابت ہوتی ہے یہاں تک کہ وہ قریب المرگ ہو جاتے ہیں۔ ان کے بچے ان کو الزیمرس کا شکار بتاتے ہیں۔ شرما جی بہرحال اپنا بیان دینا چاہتے ہیں مگر ان کی زبان کام نہیں کر رہی ہے۔ لہٰذا ان کا بیان ایک چھوٹے سے پرزے (چٹ) پر منتقل ہو جاتا ہے۔ شرما جی کیا بیان دینا چاہتے ہیں وہ مخفی ہے۔ ناول میں جگہ بہ جگہ بیان کے سلسلے میں جو ذکر آتا ہے وہ قاری کو حیرت و استعجاب میں ڈال دیتا ہے   اور اس کے اندر تلاش و جستجو کا جذبہ پیدا کرتا ہے۔ اس طرح قاری کا ناول سے شغف بڑھتا جاتا ہے۔ 
مشرف عالم ذوقی نے یہاں نہایت فنکارانہ چابک دستی سے کام لیا ہے۔ شرما جی کیا بیان دینا چاہتے ہیں پورے ناول کے تناظر میں خود بخود عیاں ہے اگر مشرف اس بیان کو واضح کر دیتے تو ناول کی روح پر یقیناً ضرب پڑتی۔ لہٰذا انہوں نے شرما جی کے بیان کو پوشیدہ رکھ کر قاری کے اندر تجسس کی کیفیت پیدا کر دی ہے   اور قاری کسی طرح کی بوریت کا احساس کیے بغیر ناول کے نقطۂ  اختتام تک پہنچ جاتا ہے۔ ایک اچھے ناول کی یہ بھی خصوصیت ہے کہ وہ خود کو پڑھ والے۔ اور یہ خصوصیت ’’بیان‘‘ میں موجود ہے۔ 
اس ناول میں سیاسی سطح پر چار پانچ کیرکٹر آئے ہیں، ملکانی، نیل کنٹھ، امرجیت   اور سدھیندرو وغیرہ جن کے سوچنے   اور سمجھنے کا انداز   اور عمل دونوں ہی فرقہ واریت پر دال ہیں۔ وہ دھرم   اور پارٹی کے نام پر فساد کی چنگاری کو ہوا دے کر کشیدگی کا ماحول پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں جیسے ملکانی کہتا ہے۔ 
 ’’۱۹۴۷ میں پاکستان کا اسلامی راشٹر گھوشت ہو جانا جائز تھا تو ہندوستان کا ہندو راشٹر گھوشت ہونا ناجائز کیوں ہے۔‘‘ 
یہ بیان واقعی دو دلوں کے درمیان دراڑیں پیدا کرنے والا ہے۔ مشرف نے یہاں دکھتی رگ پر ہاتھ رکھا ہے   اور ہوس کے ناخن لینے کی تلقین کی ہے کہ اس طرح کی فضا کی تعمیر سے بالآحر نقصان ہمارا ہے۔ وہ اس گنگا جمنی تہذیب کا پھول کھلانا چاہتے ہیں جس کی خوشبو ہمارے مشام جاں کو معطر کر سکے۔ وہ سرکاری مشینری کی کوتاہیوں کی طرف بھی اشارہ کرتے ہیں اس لیے کہ یہ بنیاد کی حیثیت رکھتی ہے۔ 
ناول میں موضوع کو اہمیت حاصل ہے لیکن اس سے کہیں زیادہ اسے پیش کرنے کے طریقے کو اہمیت حاصل ہے۔ مشرف کے یہاں موضوع بھی ہے   اور اسے پیش کرنے کا طریقہ بھی۔ خاص بات یہ ہے کہ انہوں نے اس ناول میں ایک نہایت ہی Burning Topic کو پیش کیا ہے۔ واقعات میں تسلسل ہے کہیں بھی بے ربطی کا احساس نہیں ہوتا۔ زبان نہایت صاف ستھری   اور طرز اظہار بیانیہ ہے۔ بر محل   اور خوبصورت مکالموں نے ناول میں نہ صرف دلچسپی کی فضا قائم کی ہے بلکہ یہ جزئیات نگاری کی بھی اچھی مثال بن گئے ہیں۔ 
کوئی فنکار اسی وقت کامیاب سمجھا جاتا ہے جب وہ اپنی تخلیق کی نادرہ کاری   اور نیرنگی سے اپنے قاری کو حیرت و مسرت کی بے کنار دینا سے روشناس کرانے میں کامیاب ہوتا ہے۔ مشرف کے یہاں یہ خوبی موجود ہے مجموعی طور پر اظہارو اسلوب  اور مواد کے اعتبار سے یہ ایک کامیاب ناول ہے   اور ایک کامیاب ناول دماغی کاوش   اور عمیق مشاہدات و تجربات کے نتیجے میں ہی معرض وجود میں آتا ہے۔ مجھے یہ کہنے میں کوئی تامل نہیں کہ مشرف نے ہر قسم کے تجربات و مشاہدات سے گزر کر اس ناول کے تانے بانے بنے ہیں۔ 
٭٭٭



گنگا جمنی تہذیب کا استعارہ

علقمہ شبلی

مشرف عالم ذوقی نوجوان قلم کار ہیں۔ اس کم عمری ہی میں انہوں نے قارئین ہی کو نہیں چونکایا بلکہ اہل قلم حضرات کو بھی اپنی طرف متوجہ کر لیا ہے۔ زیرِ نظر ناول ’بیان‘ سے پہلے بھی ان کے کئی   اور ناول   اور سیکڑوں کہانیاں شائع ہو چکی ہیں۔ یہ اپنے تخلیق سفر میں تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں   اور فکشن کی دنیا کو نئے امکانات سے آشنا کر رہے ہیں۔ 
 ’بیان‘ کا انتساب ۶  دسمبر سے ہے۔ ۶  دسمبر ایک ایسی سیاہ تاریخ ہے جس نے ہماری ثقافتی بنیادیں ہلا کر رکھ دیں۔ ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب   اور اتحادو اتفاق کی روایت کو خاک میں ملا دیا۔ ہماری پیشانی پر کلنک کا ٹیکہ لگ گیا   اور ہمارا سر شرم و ندامت سے جھک گیا۔ یہ ناول اسی ۶  دسمبر کے دل دوز واقعے کے ارد گرد گھومتا ہے   اور فرقہ وارانہ فسادات کے اسباب و علل   اور اسکے نتائج و اثرات کی تصویر کشی کرتا ہے۔ 
بالمکند شرما جوش اس ناول کے کلیدی کردار ہیں ان کا تعلق اس نسل سے ہے جس نے ہماری مشترکہ تہذیب کی تشکیل کی تھی   اور جسے وہ قدریں عزیز تھیں جن سے بیسویں صدی کے نصف اول تک زندگی عبارت تھی   اور ہندوستان کے مختلف فرقوں کے لوگ ایک لڑی میں پروئے نظر آتے تھے۔ یہ ایک اچھے شاعر بھی ہیں۔ برکت حسین سے ان کی ڈانٹ کاٹی دوستی ہے۔ ان کے ساتھ شاعری کی محفلیں جمتی ہیں۔ غالبؔ و اقبال کے دیوان اُلٹے پلٹے جاتے ہیں   اور شطرنج کی بازی بھی ہوتی ہے کہ یہ سب شرافت و نجابت کی نشانیاں تھیں   اور جب یہ پرانی قدریں، جنہیں یہ نسل سینے سے لگائے تھی۔ ٹوٹتی پھوٹتی   اور بکھرتی ہیں تو جوش   اور برکت جیسے لوگ بے دست و پا ہو جاتے ہیں۔ 
 ’’لوگو! اب مجھ سے کیا چاہتے ہو__ مجھے جو کھونا تھا وہ تو میں نے کھو دیا۔ اپنا یقین، اپنی وفاداری   اور اپنی بٹیا۔‘‘ 
 (برکت حسین‘ صف ۲۴۷) 
 ’’میں اچھی طرح سمجھتا ہوں۔ تم لوگ کوئی سازش کر رہے ہو اس بڈھے کے لیے۔ لاؤ میرا قلم، مجھے کچھ لکھنا ہے ___ تم ہمارے بیٹے نہیں ہو ___ عاق کرتا ہوں میں تم دونوں کو ___ پوچھتے ہو کیا لکھنا ہے۔ ارے قلم لاؤ میاں ___ مجھے بیان دینا ہے۔‘‘ 
 (بال مکند شرما جوش صف ۲۵۱) 
جوش موت سے پہلے اپنا بیان قلم بند کرنا چاہتے تھے۔ لیکن اس کا موقع نہ ہوا۔ وہ اپنا بیان نہ دے سکے۔ لیکن زیر نظر ناول اس پورے بیان کی تفصیل ہے   اور قاری کو اسے سمجھنے میں دقت نہیں ہوتی۔ 
ناول میں کچھ   اور ضمنی کردار ہیں جو پلاٹ کو آگے بڑھانے میں معاون ہوتے ہیں۔ سب سے قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ ذوقی بے باک قلم کار ہیں۔ سچ کو بے کم و کاست بیان کرنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔ سیاسی جماعتوں   اور اشخاص کے نام لینے میں بھی جھجھک محسوس نہیں کرتے۔ ان کا یہ ناول بیانیہ ہے۔ انہوں نے زندگی کی سچائیوں کو وضاحت کے ساتھ بیان کیا ہے۔ ابلاغ و ترسیل کوئی مسئلہ نہیں۔ ناول کی زبان   اور فن کے تعلق سے ذہنوں میں یہ سوال ابھرتا ہے کہ اخبار کی رپورٹنگ   اور ناول میں کچھ فرق ہونا چاہئے یا نہیں۔ کیا ہم اخبار کی براہِ راست رپورٹ کو ناول کا درجہ دے سکتے ہیں۔ اگر ذوقی ان باتوں پر غور کر سکیں تو ان کا قلم مزید کامرانیوں سے ہم کنار ہو سکتا ہے۔ 
کتاب کی پیش کش میں حسن ہے۔ طباعت روشن   اور کاغذ عمدہ ہے۔ توقع ہے کہ اہلِ ذوق اس کا خیر مقدم کریں گے۔ 
٭٭٭


شاندار بیان 

آصف علی

اردو میں تخلیقی سطح پر زوال کے آثار نمایاں ہیں   اور شعور بھی انتشار کا شکار ہے ہرچند کہ زمانے کی رفتار کے ساتھ اردو تخلیقات کی اشاعت بڑھی ہے تاہم ایسی تخلیق کبھی اتفاقاً ہی معرض وجود میں آتی ہے جس سے معاشرت   اور تہذیب کی لمحہ لمحہ متبدل ادوار کی نشان دی ہوتی ہو فرقہ وارانہ فسادات، قتل و غارت گری،  بربریت   اور مٹتی ہوئی ہندوستانی تہذیب کے تعلق سے اردو میں ایک دو نہیں ہزار ہا کہانیاں لکھی جاچکی ہیں لیکن مشرف عالم ذوقی کا ناول ’’بیان‘‘ ہمارے عہد کا وہ زندہ استعارہ ہے جو آنے والی نسلوں کے لئے بھی ایک مثال ثابت ہو گا۔ 
کہانی کا تانا بانا بن لینا یا تکنیکی مہارتوں کا فنکارانہ استعمال کر لینا صرف سنے سنائے پلاٹ کو اعلیٰ ناول نہیں بنا سکتا۔ ذوقی کے ناول ’’بیان‘‘ کو بالاستیعاب پڑھنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ ناول پر ان کی گرفت مضبوط تجربہ   اور مشاہدہ وسیع   اور انسانی رشتوں کی پیچیدگیوں کا بخوبی علم ہے۔ انہوں نے تقسیم ہند سے لے کر بمبئی کی نسل کشی کی بربریت کے عام اہم واقعات کے پس پردہ مذہب کے نام پر سیاسی اقتدار حاصل کرنے کی کوشش میں ہوئے عوام کے استحصال   اور ان کے کرب و الم کو اتنے قریب سے دیکھا ہے کہ وہ ان کی زندگی کا اٹوٹ حصہ بن گئے ہیں۔ بال مکند شرما جوش   اور برکت حسین صرف دو کردار نہیں بلکہ دو تہذیب ہیں جو اول تا آخر مٹتی ہوئی مشترکہ تہذیب   اور بڑھتی ہوئی بربریت پر اشکبار ہوتی رہتی ہے۔ انہوں نے جذبوں   اور تاثرات کی نازک لہروں کو چھوکر محسوس کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ’’بیان‘‘ قاری کو پورے طور پر ایک مقناطیسی عمل کے تحت گھیرے رکھتا ہے   اور اسے اپنے رنج و غم میں پوری طرح شریک کر لیتا ہے۔ 
 ’’بیان‘‘ میں مشرف عالم ذوقی کا مستحصل طبقے سے روحانی   اور دردمندانہ انسلاک ناول کی فضا کو وہی دھیمی آنچ دیتا ہے جو فنکار قاری میں ابھارنا چاہتا ہے زندگی کے المیوں   اور مسائل کی سچی عکاسی   اور بے باک تجزیہ   اور ساتھ ہی ساتھ انسانی رشتوں کی پیچیدگیوں کا جو فنکارانہ اظہار ان کے ناول میں ہے وہ شاید اتنی شدت سے عہد حاضر کے کسی بھی ناول میں نہیں۔ تجزیات کی وسعت   اور مشاہدات کا تنوع اس بات کا بین ثبوت ہیں کہ انہوں نے انسانوں   اور انسان کی تہہ در تہہ نفسیات   اور لاشعور کیفیات کا بہت گہرائی   اور سنجیدگی سے مطالعہ کیا ہے۔ ذوقی موضوعاتی کہانیاں لکھنے نیز اس میں تاثر بھرنے کا ہنر بخوبی جانتے ہیں۔ وہ صرف الفاظ کی بازی گری نہیں کرتے   اور نہ ہی فرسودہ مضامین کی لکیر پیٹتے ہیں۔ بلکہ سیاسی اتھل اتھل تہذیبی انتشار   اور اس سے جڑے مسائل کو آسان ہندوستانی زبان   اور اصطلاحوں میں بیان کرتے چلے جاتے ہیں۔ بیان پر زبان ہندی ہوتے ہوئے بھی کلیتاً کامیاب ہے۔ 
مجموعی طور پر اس نوعیت ناول ابھی اردو زبان میں ناپید ہے۔ ذوقی کے اس ناول کا اردو زبان میں زبردست استقبال ہونا چاہئے۔ 
٭٭٭




مشرف عالم ذوقی کا ناول بیان -ایک جائزہ 

ابوالکلام عارف 

نئی نسل کے ادیبوں میں مشرف عالم ذوقی کی حیثیت ایک منفرد ادیب کی ہے۔ وہ بنیادی طور پر فکشن کے آدمی ہیں۔ ان کے کئی افسانوی مجموعے مثلاً بھوکا ایتھوپیا،  فرشتے بھی مرتے ہیں ،  علام بخش   اور منڈی منظر عام پر آ چکے ہیں۔ اسی طرح ناولوں میں مسلمان،  نیلام گھر،  شہر چپ ہے ،  سب سازندے ،  بیان   اور ذبح بھی شائع ہو چکے ہیں جن میں حقیقت نگاری بھی ہے   اور فنکاری بھی۔ انسانی زندگی   اور سماج کے نئے مسائل بھی ہیں   اور بدلتی ہوئی زندگی کی تصویریں بھی   اور سب سے بڑھ کر ان کا اسلوب نیا   اور اچھوتا ہے۔ یہاں ان کے ایک ناول ’’بیان‘‘ کا جائزہ پیش کیا جا رہا ہے جس کا موضوع بڑا اہم ہے۔ 
برصغیر لگ بھگ ایک صدی تک برطانوی سامراج کے زیر تسلط رہا۔ اس دور میں ہندوستانیوں کو جن مصائب   اور مشکلات سے گزرنا پڑا،  ہم سب ان سے واقف ہیں۔ اگرچہ 1947ء میں انگریزوں کے جابرانہ حکومت سے نجات مل گئی   اور ملک آزاد ہو گیا لیکن تقسیم ہند نے ایک نیا مسئلہ کھڑا کر دیا۔ نتیجتاً ہندو پاک میں قومیت کے نام پر خون خرابے کی نئی داستان کا آغاز ہوا   اور حب الوطنی کے تصورات کی جگہ مذہبی تعصبات نے لے لی،    اور اس طرح فرقہ واریت کا جنم ہوا۔ فرقہ واریت کی لو کو تیز کرنے میں سیاست کا بہت اہم رول رہا ہے۔ یہ نئی سیاست جسے صرف اقتدار کی ہوس ہے ،  دو بڑی قوموں کے بیچ نفرت کے بیج بو کر اپنی مطلب براری کے سامان پیدا کرتی ہیں۔ مظلوم انسانیت کی کراہ سیاست کے آقا کو اپنی ہوس   اور نمائش کے آگے سنائی نہیں دیتی۔ ذوقی کا ناول ’’بیان‘‘ اسی پس منظر میں فنی سطح پر اظہار ہے۔ اس ناول میں تہذیبوں کے زوال،  انسانیت کی خونچکاں داستان،  نئی   اور پرانی تہذیبوں میں تصادم   اور پرانی تہذیبوں کا گل ہوتا ہوا چراغ،  موجودہ دور کی سیاسی چال،  اقتدار کی ہوس،  نیتاؤں کا کردار،  سماجی کارکنوں کی گھناؤنی تصویریں ،  شبہات   اور کشمکش میں مبتلا عوام   اور مسلم معاشرے کی موجودہ صورت حال غرض کہ بہت کچھ اس ناول میں ہے جو اپنی تمام تر سچائیوں کے ساتھ جلوہ گر ہے۔ 
اگرچہ اس ناول کا موضوع آج کی سیاسی   اور سماجی زندگی ہے لیکن اس کی جڑیں بہت دور تک پیوست ہیں۔ جب ہم اس موضوع کے سیاق و سباق میں بغور جھانکتے ہیں تو ہماری نگاہیں وہ سب کچھ دیکھ لیتی ہیں جو منبع   اور مرجع ہے۔ تہذیبی قدروں کا،    اور جہاں سے تہذیبی قدروں کا سوتا پھوٹتا ہے۔ بالآخر ہم اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ رشتے ناطے ،  بھائی چارہ،  یقین و اعتماد   اور خلوص و محبت ہی جب باقی نہیں تو ایک مسجد کا انہدام بھی باعث حیرت نہیں ہو سکتا۔ 
اس ناول کے مرکزی کردار بالمکند شرما جوش کو اگرچہ ماضی سے کچھ شکایتیں بھی ہیں لیکن ماضی انہیں پھر بھی عزیز ہے۔ یہی سبب ہے کہ جب وہ قلم   اور کاغذ لے کر لکھنے بیٹھتے ہیں تو ان کے سامنے ان کا ماضی ہاتھ باندھ کر کھڑا ہو جاتا ہے۔ یہ اقتباس دیکھیں۔ 
-1  ’’میرے سامنے صرف ایک ماضی ہے ۔۔۔  اور یہ ماضی مجھے میری جان سے پیارا ہے ۔۔۔مجھے میری سب سے عزیز ترین شئے سے بھی زیادہ عزیز ہے ۔۔۔یہ ماضی برا بھی ہے ۔۔۔اس ماضی میں میرے کھٹے میٹھے قصے تو ہیں ۔۔۔میری شرارتیں تو ہیں ۔۔۔مگر اس کے علاوہ ایک بدنما غلامی بھی ہے۔‘‘ 
-2  ’’مجھے تو ایک سندر،  سلونا ماضی چاہئے تھا وہ ماضی جسے میں جب چاہوں جادو گر کے ڈبے کی طرح اپنی مٹھیوں میں اگا لوں ۔۔۔میں جب چاہوں تنہائی کے سروں میں پالوں ،  جب چاہوں آنکھوں میں بسا لوں ،  کلیجے سے لگا لوں۔‘‘ 
مذکورہ اقتباسات ہمیں اس جہان کی سیر کراتے ہیں جہاں انتشار کا گزر نہیں ،  جہاں تعصب   اور تنگ نظری کا عمل دخل نہیں ،  جہاں تعصب   اور تنگ نظری کا عمل دخل نہیں ،  جہاں بے مروتی   اور خود غرضی نہیں ،  جہاں تہذیبوں   اور قدروں کا انہدام نہیں  اور جہاں عیاری   اور مکاری نہیں بلکہ جہاں انسانیت   اور صرف انسانیت کی رسم و راہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شرما جوش کو اپنا ماضی بہت یاد آتا ہے   اور وہ اسی کی طرف لوٹ جانا چاہتے ہیں لیکن وہاں لوٹنا اب ان کے لیے ممکن نہیں   اور موجودہ تہذیب و معاشرت ان کے لیے حرز جان ہے۔ بالآخر موت ہی ان کے لیے گوشہ عافیت بنتی ہے۔ 
اس ناول میں دور حاضر کے اس سیاسی نظام کی عکاسی کی گئی ہے جس سے آج ہم سب بر سرِ پیکار ہیں۔ آج کے متعصب   اور مریضانہ سیاست کے ذیل میں اس ناول کے ایک کردار ملکانی کی زبانی سنئے۔ 
 ’’یہیں پر تو ہمیں ایک تیر سے دو شکار کرنے ہیں۔ سیاست میں سب چلتا ہے۔ ہمیں خلاف میں بھی بولنا ہے   اور مسلمانوں کو پھسلائے بھی رکھنا ہے۔ یعنی دونوں طرح کی خبریں میدان میں اتارنے ہیں تاکہ ان کی اندرونی اتھل پتھل میں ہمارے لیے ایک سافٹ کارنر بھی بن جائے۔‘‘ 
ہمارے بعض ناقد   اور قاری کو اعتراض ہے کہ ذوقی نے نہ صرف بی جے پی   اور کانگریس کے نام لے کر واقعات بیان کئے ہیں بلکہ کہیں کہیں ان کے لیڈر ان تک کے نام بھی لے لیے ہیں۔ حالانکہ یہ حقیقت سب کو معلوم ہے کہ وہی سیاستی جماعتیں اپنے مفاد کی خاطر ملک   اور سماج میں انتشار پیدا کرتی ہیں۔ بھلا ایک حقیقت پسند ناول نگار اسے کہاں تک نظر انداز کر سکتا ہے۔ ذوقی کچھ مصلحت کوش ادیبوں کی طرح اپنے چہرے پر دوہرا نقاب نہیں لگاتے۔ وہ سماجی   اور سیاسی نا انصافیوں سے سمجھوتہ کرنے کے لیے ہرگز تیار نہیں۔ ہندوستان کے موجودہ دور سے متعلق جن حقائق کا بیان اس ناول میں ہوا ہے وہ ابھی تک کسی دوسرے ناول میں دکھائی نہیں دیتا۔ 
ذوقی پر ایک دوسرا الزام بھی عائد کیا جاتا ہے کہ جاوید نظر لکھتے ہیں کہ۔۔۔’’فن کے اعتبار سے یہ ناول بالکل سپاٹ سا ہے۔ ساری باتیں بالکل صاف   اور واضح ہیں۔ ذوقی نے واقعات کو من و عن پیش کر دیا ہے جس کے سبب ناول پیدا نہیں ہو پایا ہے۔‘‘ (ادبی رسالہ : نیا سفر شمارہ : 10-9 جنوری تا جون 98ء) 
یہاں یہ واضح کر دینا مناسب ہو گا کہ ناول کا فن ایک بیانیہ   اور اظہاری فن ہمیشہ سے رہا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ جدیدیوں کو اظہاریت کبھی راس نہیں آئی کیوں کہ ان کے سارے کھیل کا راز علامت،  ابہام   اور اشاریت میں پوشیدہ ہے۔ دوسری بات یہ کہ ادب سماج کا آئینہ ہے   اور اگر یہ بات ادب میں نہیں آتی تو ادب کی افادیت ختم ہو جاتی ہے۔ دیکھنے کی بات یہ ہے کہ انسانی زندگی   اور سماج میں جو کچھ ہو رہا ہے ،  اسے کہاں تک ناول نگار اپنے ناول میں سچائی کے ساتھ پیش کیا ہے۔ زمانہ تغیر پذیر ہے اس لیے یہ بھی دیکھنا ہے کہ ناول نگار اپنے ناولوں میں بدلتی ہوئی زندگی کی تصویریں ،  ممکنات   اور اس میں زندہ رہنے والوں کی خواہشات کو کس فنکارانہ ڈھنگ سے پیش کیا ہے   اور وہ حقائق کے عناصر کو جس حد تک برت سکا ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ کوئی بھی اچھی تخلیق   اور ادب اپنے وقت،  اپنے مسائل   اور اپنی ثقافت سے کٹ کر نہ تو زندہ رہ سکتا ہے   اور نہ ہی بقائے دوام کا درجہ حاصل کر سکتا ہے۔ اس لیے یہ کہنا کہ ادب میں صرف آرٹ کا جادو جگانا ہی اچھی تخلیق کی پہچان ہے ،  غیر مناسب سی بات ہو گی۔ حالانکہ ذوقی نے اس ناول میں مسائل کے ساتھ ساتھ فن  اور آرٹ کو بھی جگہ دی ہے۔ 
تیزی سے بدلتی ہوئی معاشرت و تہذیب کے سبب بالمکند شرما جوش بہت خوف زدہ ہیں   اور متفکر بھی ہیں لیکن ان کے فکر مندر رہنے سے کیا ہوتا ہے ،  زمانہ   اور وقت کے ساتھ سب کچھ بدل جاتا ہے۔ وہ کس کس کو ماضی کی معاشرت   اور تہذیب کا درس دیتے پھیریں گے جبکہ اپنے ہی گھر میں وہ اجنبی کی طرح جی رہے ہیں۔ ان کے دونوں لڑکے انل   اور نریندر ان کی شریک حیات بھی جنہیں وہ اپنا سب کچھ سمجھتے تھے ،  ان کی خبر گیری نہیں کرتے۔ اگر کوئی قربت کا اظہار کرتا بھی ہے تو اس میں مفاد شامل ہوتا ہے۔ ان کے دونوں بیٹوں میں ایک کانگریس   اور دوسرا بی جے پی پارٹی جوائن کر چکے ہیں ،  جس کے سبب ان کا ضمیر مردہ ہو چلا ہے۔ محبت،  ہمدردی،  دیانت داری   اور وفاداری اب ان میں باقی نہیں ہے۔ شرما جوش یہ سب دیکھ کر کڑھ سکتے ہیں ،  آنسو بہا سکتے ہیں   اور بے بسی کو شدت سے محسوس کر سکتے ہیں لیکن معاشرے کے نئے سیلاب کو روک نہیں سکتے۔ ناول نگار نے یہاں شرما جوش کی زبانی کتنی سچی   اور حقیقی بات کہلوائی ہے :۔ 
-1 ’’یہ دنیا جیسی ہے ویسی ہی رہے گی۔۔۔بالمکند شرما جوش۔ تمہارے کہنے سے نہیں بدلے گی   اور اس دنیا میں تم جیسوں کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔ 
-2 ’’یہ سب ۔۔۔یہاں بالمکند شرما جوش۔۔۔تم ایک مرتی ہوئی صدی کا تماشا دیکھنے کے لیے زندہ ہو۔ اپنے گھر میں ہی کسی پر حق ہے تمہارا؟ اپنے بچوں پر۔۔۔ ؟‘‘ 
-3 ’’میرے بچے کہاں ہیں ۔۔۔یہ تو بھاجپائی ہیں یا کانگریسی؟ یہ میرے بچے نہیں ہیں۔‘‘ 
بالمکند شرما جوش کی حیثیت اس ناول میں مرکزی کردار ہے ،  جو ناول کے آغاز سے لے کر انجام تک پورے شد و مد کے ساتھ چھایا ہوا رہتا ہے۔ شرما جوش پرانی تہذیب کی علامت ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ہمیشہ اپنے پرانے وقتوں کو یاد کرتے ہیں   اور اس کا ماتم کرتے ہیں۔ نئی تہذیب نئے معاشرے   اور نئے ماحول سے وہ خوف زدہ ہیں۔ انہیں ہر گھڑی گولی،  بارود،  توپ   اور میزائل کی آواز سنائی پڑتی ہے   اور فضا دھواں دھواں سا لگتا ہے۔ اسی کشمکش میں وہ ’’الزیمرس‘‘  کا شکار ہو کر مر جاتے ہیں   اور اپنا بیان ایک چٹ پر اردو میں لکھ چھوڑتے ہیں جسے ان کی اولاد ضائع کر دیتی ہے۔ لیکن قاری اس بات سے آگاہ ہو جاتا ہے کہ وہ کیا بیان دینا چاہتے تھے۔ ناول نگار نے بھی یہاں ’’بیان‘‘ کو پردہ خفا میں رکھ کر اپنی فنکاری کا ثبوت پیش کیا ہے۔ 
چودھری برکت حسین بھی پرانی تہذیب کے دلدادہ ہیں۔ برکت حسین   اور شرما جوش آپس میں گہرے دوست ہیں۔ اگرچہ برکت حسین نئی تہذیب سے کچھ حد تک سمجھوتہ کر لیتے ہیں لیکن مذہبی تعصبات کے سبب دو قوموں کے مابین بڑھتی ہوئی منافرت انتشار   اور بے اطمینانی کو دیکھ کر مستقبل میں ہونے والے خطرات کو زمانہ حال میں محسوس کر لیتے ہیں۔ برکت حسین کا یہ مکالمہ ملاحظہ کریں۔ 
 ’’ابھی اینٹھو مت زیادہ جوش بھائی! وہ دن دور نہیں ،  جب بازار میں مول کرنے جاؤ گے تو پوچھا جائے گا۔ کس کی تھالی چاہئے ۔۔۔ہندو کی تھالی یا مسلمان کی تھالی۔‘‘ 
اس ناول میں ایک اہم کردار تنویر حسین کا ہے جنہیں غیر ملکی تصور کیا جاتا ہے   اور غدار کہا جاتا ہے۔ اتنا ہی نہیں بلکہ بات بات میں انہیں ’’میاں ‘‘ کے طعنے بھی دیئے جاتے ہیں۔ انہیں حالات میں وہ بی جے پی پارٹی جوائن کرنے پر مجبور ہوتا ہے   اور اسی پارٹی کی سازش کے ہاتھوں اس کا قتل بھی ہو جاتا ہے۔ ناول نگار نے تنویر حسین کے قتل کے واقعے کو بڑی خوب صورتی سے پیش کیا ہے۔ انل   اور نریندر دونوں نئی سیاست کے شکار ہو چکے ہیں۔ سیاست میں کیا کیا چال بازیاں ہوتی ہیں   اور کن کن ہتھکنڈوں کا استعمال ہوتا ہے ،  ان سے یہ دونوں بخوبی واقف ہیں۔ ڈاکٹر یویندو،  نیل کنٹھ،  امر جیت   اور سد میندو رائے سیاسی حربے استعمال کر کے فرقہ واریت کو بڑھاوا دینے میں اہم رول ادا کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ اس ناول میں پانچ پاپی کے نام سے تعلیم یافتہ بے روزگاروں کا کردار پیش کیا گیا ہے جو دور حاضر کا ایک اہم مسئلہ ہے   اور جس کا شکار آج کا نوجوان طبقہ ہے۔ 
ناول کی تخلیق میں عمیق مطالعے   اور مشاہدے کی ضرورت ہوتی ہے لیکن یہ ہر ناول نگار کے بس کا روگ نہیں۔ ناول ایک سمندر ہے جس کے جلو میں بے شمار موجیں اٹھتی ہیں ،  جو کچھ کر گزرنے کے لیے بے چین رہتی ہیں۔ ناول لکھنے کے موضوعات دریافت نہیں کیے جاتے بلکہ زمانہ   اور وقت کے ساتھ ساتھ موضوعات خود بخود دریافت ہو جاتے ہیں۔ آج بڑے پیمانے پر سنجیدہ قسم کے سماجی   اور معاشرتی ناول لکھے جا رہے ہیں۔ ساتھ ہی قدیم صحت مند اقدار   اور نئی فیشن زدہ اقدار کے درمیان تصادم   اور تکرار کو بھی ناول کا موضوع بنایا جا رہا ہے۔ مشرف عالم ذوقی نے ایک مضمون میں لکھا ہے کہ :
 ’’میں یہ نہیں کہتا کہ قدیم صحت اقدار کی یاد   اور نئے اقدار سے ان کا تصادم و ٹکراؤ ناول کے موضوعات نہیں بننے چاہیے۔ مگر پیارے ! اس سے آگے بھی دنیا ہے وسیع دنیا،  جہاں تباہی ہے ،  جنگیں ہیں ،  کمپیوٹر ہے ،  کلوننگ ہے ،  میزائل،  راکٹ لانچرس   اور ریموٹ کنٹرول کے اس عہد میں ادب کا دامن جس قدر وسیع ہونا چاہئے ،  ابھی ہمارا اردو ادب اس کا احاطہ نہیں کر پا رہا ہے۔ ہماری داستانیں ،  مثنویاں ،  قصے کہانیوں کے مقابلے میں ہم سے زیادہ بلند تھیں ،  کم از کم وہاں اڑن طشتریوں کا تصور تو ہوتا تھا‘‘۔ ’’بیان‘‘ بلا شبہ ایک ایسا ہی ناول ہے جس میں کچھ یادیں بھی ہیں ،  نئی   اور پرانی نسل کی کشمکش   اور ٹکراؤ بھی ہے۔ میزائل،  توپ   اور بارود کا گھن گرج بھی ہے   اور مذہب کے نام پر سیاسی جماعتوں کی شاطرانہ چالیں بھی،  پولس کا وحشیانہ برتاؤ بھی ہے   اور شکستہ تہذیبی قدروں کا ماتم بھی۔ اس کے علاوہ بھی بہت کچھ ہے جسے عصری صداقت کا نام دیا جا سکتا ہے۔ 
ادیبوں کی گروہ بندیوں کے حصار کو توڑ کر غیر جانبدارانہ طور پر دیکھا جائے تو ’’بیان‘‘ بہت ہی حقیقی   اور ایک نئے انداز سے لکھا ہوا کامیاب ناول ہے۔ پچھلے پندرہ بیس برسوں میں اگرچہ بہت سے اچھے ناول لکھے گئے لیکن ذوقی کے اس ناول کو ایک خاص اہمیت حاصل ہے ،  کیونکہ سیاسی موضوعات کو فکشن میں اس جرأت مندی کے ساتھ دوسرے ناول نگاروں نے نہیں پیش کیا ہے۔ 
٭٭٭



’بیان‘ کا بیان: مشرف عالم ذوقی

انجلا ہمیش (پاکستان) 

دائم  آباد رہے گی دنیا
ہم نہ ہوں گے کوئی ہم سا ہو گا
ناصر کاظمی مرحوم تو اس آس کے ساتھ دنیا سے رخصت ہوئے کہ ’’ہم نے ہوں گے تو کوئی ہم سا ہو گا ’’مشرف عالم ذوقی کے ناول ’’بیان‘‘ کا مرکزی کردار بالمکند شرما جوش اس یاس کے ساتھ دنیا سے رخصت ہوئے کہ ان کے بعد کوئی بھی ایسا نہیں ہو گا جو ان کی شخصیت کے حوالے سے ان کو یاد رکھے کیونکہ وہ ایسے دور میں گھرے ہوئے ہیں جہاں اعلیٰ قدریں غیر موثر ہو چکی ہیں۔ زمانہ بہت تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے   اور آج کے دور کا انسان زمانے کی رفتار کو شدت سے محسوس کر رہا ہے اس کا کاروباری ذہن یہ سوچ رہا ہے کہ پھولوں کی خوشبو کی زیادہ طلسم ہے یا جوتوں   اور چپلوں کا کاروبار   اور جب وہ اس نتیجے پر پہنچتا ہے جوتوں   اور چپلوں کے کاروبار میں اس کا مستقبل محفوظ ہے تب اسے پھولوں کو ضائع کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں ہوتی۔ زمانے کی یہ رفتار   اور آج کے انسان کی کاروباری سوچ ہی موضوع ہے مشرف عالم ذوقی کے ناول ’’بیان‘‘ کا۔ یہ ناول زمانۂ  حال سے شروع ہوتا ہے   اور ماضی پر ختم ہو جاتا ہے۔ ’’حال‘‘ کے حوالے سے ناول کے چار باب ہیں۔ قبل اس کے کہ ان چار ابواب کے حوالے سے کچھ کہا جائے، میں سمجھتی ہوں کہ جوزف براڈسکی کی A tune for Bosnia جس کا مصنف نے ناول شروع کرنے سے پہلے حوالہ دیا ہے تذکرہ ناگزیر ہے۔ یہ نظم بوسینا کے حوالے سے تحریر کی گئی ہے۔ مگر میرے خیال میں جس بے حسی کا ذکر جوزف نے اپنی نظم میں کیا ہے جیسے اس کی یہ لائن ’’جب تم اپنی ٹائی درست کرتے ہو۔۔۔لوگ مڑ رہے ہیں مضحکہ خیز ناموں والے شہر گولیوں سے چھلنی ہو رہے ہیں۔، شعلوں میں جھلس رہے ہیں۔ نہ کسی ایک جگہ کی بے حسی کا قصہ نہیں بلکہ ہر جگہ کا معاشرہ کچھ ایسا ہی ہے۔ ایک ہی شہر ہوتا ہے جہاں ایک طبقہ بھوکا مر رہا ہوتا ہے   اور دوسرا طبقہ عیاشیوں میں مگن ہوتا ہے۔ مشرف عالم ذوقی کے ناول ’’بیان‘‘ کا معاشرہ بھی ایسا ہی ہے۔ اور ایسے معاشرے میں بالمکند شرما جوش جیسے حساس آدمی کا زندگی بسر کرنا انتہائی اذیت ناک   اور تکلیف دہ ہے ،  وہ اپنے ہی گھر میں شدید اجنبیت کا شکار ہیں۔ جب وہ زمانہ جدید کی چال چلن کو دیکھتے ہیں تب ان کو اپنا زمانہ بہت شدت سے یاد آتا ہے جب اٹھنے بیٹھنے   اور چلنے پھرنے کے آداب سکھائے جاتے تھے ،  جب شریف گھر کی عورتیں باہر نکلتیں تب پردے کا خاص اہتمام کیا جاتا مگر زمانۂ  جدید میں تو یہ تمام اخلاقیات فرسودگی کے زمرے میں تبدیل ہو گئیں۔ شرما جی کو تو ایسا لگتا تھا کہ جیسے کوئی ڈراؤنا خواب ان پر حاوی ہو گیا ہو ان کو ہر طرف میزائل، توپیں، بارود   اور خون میں لت پت لاشیں نظر آتیں جنونی و انتہا پسند لوگ مذہبی مقامات کو نیست و نابود کرتے ان جنونی و انتہا پسند لوگوں میں شرما جی کو اپنے بیٹے بھی نظر آتے   اور تب وہ اپنی بے بسی کو شدت سے محسوس کرتے۔ ان کو ایسا لگتا ہے جیسے وہ اس ڈراؤنے خواب سے کبھی بھی نجات حاصل نہیں کر پائیں گے۔ کبھی کبھی تو وہ یہ محسوس کرتے ہیں فضا کتنی گھنونی ہو چکی تھی نفرت کی بدبو سے بھری ہوئی محض نظریاتی اختلافات کی بنا پر خون کے رشتے ایک دوسرے کے دشمن ہو گئے تھے۔ شرما جی اس صورت حال کو دیکھتے تب ان کا جی چاہتا کہ وہ اپنے ماضی میں پہنچ جائیں جب نہ دکھ تھا نہ پریشانی   اور پھر کچھ ایسا ہی ہوا کہ وہ الزیمرس نام کی ایسی بیماری میں مبتلا ہو گئے جس میں زمانۂ  حال کے سامنے مناظر بالکل دھندلا جاتے   اور اس کی جگہ ماضی کے مناظر سامنے آ جاتے جیسے ناول کی یہ چند لائین۔ کمرہ اچانک اوجھل اوجھل سا دکھنے لگتا ہے ۔۔۔سب کچھ مدھم مدھم۔۔۔کسی کو پکارنا چاہتے ہیں ۔۔۔آواز لگانا چاہتے ہیں ۔۔۔ٹھہر جاتے ہیں ۔۔۔دھواں دھواں سا منظر ۔۔۔مشاعرہ چل رہا ہے ۔۔۔بالمکند شرما جوش کا نام پکارا جاتا ہے۔ وہ شیروانی درست کرتے ہیں۔ چم چماتی شیروانی   اور چہچہاتا سفید رنگ۔ چہرے مہرے سے ہمیشہ کشمیری لگے ۔۔۔جوش صاحب کلام پڑھنا چاہتے ہیں ۔۔۔لیکن ۔۔۔نعتیہ کلام کی فرمائش ہونے لگتی ہے ۔۔۔’’یہ ماضی کے لمحات شرما جی کے سامنے نظر کیوں آ جاتے ہیں ؟ شاید ان کا صحیح ہے کہ جب موت نزدیک ہوتی ہے تو انسان اپنے ماضی کی طرف لوٹتا ہے کہ جاتے جاتے وہ تمام لمحات اس کو صدائیں دیتے ہیں جسکو وہ زمانے کی رفتار میں کھویا تھا۔ قبل اس کے شرما جی کے ماضی کو دریافت کیا جائے اس خوبصورت نظم کی چند سطروں کا حوالا دینا ضروری سمجھتی ہیں، جو ماضی کے حوالے تحریر کی گئی۔ 
ایک پاگل اتیت ہے 
ایک ہم ہیں 
   اور شرارتیں ہیں 
شرارتیں جن کے دائرے نہیں ہوتے 
   اور جن کی تہذیب نہیں ہوتی
بالمکند شرما جوش کے پاگل ماضی کا وہ خاندان جس کی اعلیٰ ظرفی کی مثالیں دیں جاتی تھیں جہاں اکثر و بیشتر مشاعروں کی محفلیں جمتی تھیں جس میں بڑے بڑے اہل علم و اہل دانش شریک ہوتے تھے ایسا مہذب   اور شریف خاندان جہاں تعصب   اور تنگ نظری کا نام و نشان بھی نہ تھا   اور اسی وجہ سے بالمکند شرما
٭٭ بور                                                                                                                         جوش کا دل بھی محبت   اور خلوص سے بھرا ہوا تھا۔ وہ جو حفیظ ہوشیار پوری کا ایک شعر ہے کہ :۔ 
محبت کرنے والے کم نہ ہوں گے 
تیری محفل میں لیکن ہم نہ ہوں گے 
شرما جی کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا ان کے بعد تو گویا یہ ساری قدریں دم توڑ چکی تھیں سب سے زیادہ دکھ تو ان کو اپنی پتنی کی طرف سے ملا جس عورت کو                                                                                                                                ان کا دوست و غم خوار ہونا چاہئے۔ خلاف اسکے وہ ہر لمحہ اپنے رویوں سے ان کو قتل کرتی بیوی بچوں کے اس رویے سے شرما جی ختم ہو جاتے اگر چودھری برکت حسین جسے جگری دوست کا ساتھ نہ ہوتا، جنہوں نے شرما جی کو قدم قدم پر سہارا دیا چودھری برکت حسین اس ناول کا ایسا کردار ہیں جو بالمکند شرما جوش کے ہم خیال تھے جن کے نزدیک ان کا دور یعنی ماضی ہر لحاظ سے خوبصورت تھا   اور زمانہ جدید کا ہر رویہ ان کے نزدیک انتہائی بد صورت تھا۔ یہی وجہ تھی وہ   اور شرما جی ایک دوسرے کے گہرے دوست تھے۔ چلتے چلتے کچھ   اور الفاظ اس ناول کی نظر کرنا چاہوں گی۔ بنیادی طور پر ’’بیان‘‘ میں جو خیال پیش کیا گیا یعنی معاشرے میں پائے جانے والی بے چینی اس کو   اور مصنفین بھی قلم بند کر چکے ہیں بات تو صرف انداز بیاں کی ہے   اور مشرف عالم ذوقی کے حوالے سے یہ کہنا کچھ غلط نہ ہو گا کہ :
کہتے ہیں کہ غالب کا ہے اندازِ بیاں  اور 
٭٭٭



ناول ’بیان‘ ایک جائزہ

مجیب احمد خاں 

 ’’بیان‘‘ نام سنتے ہی کچھ حیرت سی ہو جاتی ہے۔ بیان تو بہت سے سنے۔ لوگوں کے بیان   اور عدالت کے بیان۔۔۔مگر ایسا بیان پہلے کبھی نہیں سنایا پڑھا۔ یہ مشرف عالم ذوقی کا ایک غیر معمولی ’’بیان‘‘ ہے۔ یہ رونگٹے کھڑے کر دینے والا، دل کو لرزا دینے والا، آنکھیں کھول دینے والا   اور جذبات کو جھنجھوڑ دینے والا ایک شاہکار ناول ہے۔ اس کی مثالیں پیش ہیں :
 ’’اب تم بھی خطرے میں ہو مالمکند شرما جوش ؔ‘‘ 
 ’’کیوں ___؟‘‘ 
 ’’تمہارے نام کے ساتھ جوش لگا ہے ۔۔۔آدھے مسلمان ۔۔۔ ‘‘ 
وہ ہنسنا چاہتے ہیں۔ 
 ’’میاں ایسا ہوا تو ازار بند کھول کر۔۔۔ ‘‘ 
 ’’کھولو گے تب بھی فرق نہیں پڑے گا انہیں ‘‘۔ برکت حسین پن ڈبے سے پان نکالتے ہیں۔ تب بھی فرق نہیں پڑے گا جوش میاں ___ کیوں کہ اب ہمارے بعد تم ۔۔۔تم جیسے سیکولر سوچنے والے ۔۔۔اب وہ چن چن کر تمہیں ختم کر دیں گے ۔۔۔،ص 35) 
 ’’۱۹۴۷ء میں پاکستان کا اسلامی راشٹر گھوشت ہو جانا جائز تھا تو ہندوستان کا ہندو راشٹر گھوشت ہونا ناجائز کیوں ہے۔ لیکن اس وقت بھی ہندوستان ہندو راشٹر نہیں بنا۔ ۸۰ فیصد جنتا کے ہندو ہوتے ہوئے یہ قربانی ہندو جنتا ہی دے سکتی ہے۔ اور وہ لوگ جو اس ملک کے بٹوارے کے ذمہ دار ہیں، سیاست کی باگ ڈور ان کے ہاتھوں میں نہیں دی جا سکتی۔ سچائی یہ ہے کہ ہندو کبھی ہنسک نہیں ہو سکتا ہندو اہنسا کا ہی دوسرا نام ہے۔‘‘ (ص : ۷۱) 
ناول ’’بیان‘‘ کی کہانی بابری مسجد کی شہادت کے بعد ہونے والے فرقہ وارانہ فسادات کے ارد گرد گھومتی ہے۔ اس میں واقعات بڑی خوبصورتی سے رونما ہوتے ہیں کہ ان کی شبیہ آنکھوں کے سامنے آ جاتی ہے۔ اور یہ واقعات حقیقی رو سے گذرتے ہوئے کہانی کو عروج   اور اختتام کی منزل پر پہنچاتے ہیں۔ 
اس ناول کا پلاٹ اکہرا،  سادہ   اور مربوط و مسلسل ہے۔ اس کے پلاٹ میں رکاوٹ نظر نہیں آتی۔ اس لیے اس کی برجستگی   اور چستی کا احساس ہوتا ہے۔ اور خلاء کا احساس پیدا نہیں ہوتا۔ حالانکہ بحثیں طویل ہیں مگر معنی خیزی   اور اثر انگیزی سے پر ہیں۔ یہ پلاٹ میں اس قدر چسپاں ہیں کہ اگر ان کو خارج کر دیا جائے تو خلاء پیدا ہو جائے گا۔ تاہم مجھے پلاٹ سازی میں ادبی و فنی نقطۂ  نظر سے کوئی نقص نظر نہیں آتا۔ ناول نگار کو پلاٹ سازی پر عبور حاصل ہے۔ مثالیں پیش ہیں :
 ’’جانتا ہوں۔‘‘ نریندر دھیرے بولا۔ ’’دھرم سنسد   اور مارگ،  درشک منڈل دونوں ہی وشو ہندو پریشد کے سنگٹن ہیں۔ دھرم سنسد اہم مسئلوں پر مارگ درشک منڈل کو صلاح دیتی ہے۔ اس کے بعد مارگ درشک منڈل اسے منظور کر کے وشو ہندو پریشد کو سونپتا ہے۔ 
 ’’ملکانی دوبارہ مسکرائے ۔۔۔ ‘‘ اب جان گئے ہو گے کہ مارگ درشک منڈل کا ایک بڑا کام پورا ہو چکا ہے۔ دھرم سنسد میں لئے گئے پہلے اہم فیصلے پر آر ایس ایس اپنی وجئے کی مہر لگا چکی ہے۔ رام جنم بھومی وجئے کے بعد اب کاشی   اور متھرا کی باری ہے۔ یہ رتھ چلتا رہے گا، اس سمئے تک جب تک ہم شتابدی پرانی داستان کے اس وستر (لباس) کو اتار نہیں پھینکتے ہیں۔‘‘ 
 ’’اسلام والے جہاں رہتے ہیں، وہ اسلام کے اصولوں میں ہی بندھے رہتے ہیں۔ اور ’بٹوک‘ ہندو بے چارہ کوئی دھرم نرپیکچھتا کے پیچھے اپنا ہندو منتر گنوا رہا ہوتا ہے۔ اُدھر وشو میں اسلامی مہا سنگٹھن بنانے کی یوجنا چل رہی ہے   اور اِدھر ہندو ایک مندر نہیں بنا پا رہا ہے۔ ایک ڈھانچہ ٹوٹتا ہے تو اسے اپنوں کے منہ سے شرم جیسے شبد سننے کو ملتے ہیں۔ 
ذرا غور کیجئے۔ مٹھی بھر مغل شاسک آتے ہیں   اور ہندو روندتے چلے جاتے ہیں۔ انہیں جبراً مسلمان بنا جاتا ہے۔ اسلامی مہا سنگٹھن کے ابھرنے کا مطلب ہو گا۔۔۔پورے وشو کی داستا، غلامی۔ خطرہ جتنا بڑا ہے، ہم اسے اتنا آنک نہیں پار ہے ہیں۔‘‘ 
کردار ناول کی جان ہوتے ہیں۔ اس لیے ناول کی شہرت کا باعث بھی بنتے ہیں۔ آج بھی یہ لافانی کردار ___ ہوریؔ، خوجیؔ   اور چچا چھکن ہمارے ذہنوں پر حاوی ہیں۔ اس ناول کے کردار ہماری زندگی سے لیے گئے ہیں ان کی زندگی تکلف   اور تصنع سے بے نیاز ہے۔ ان کے سارے مسائل معاشرتی زندگی سے مشابہ ہیں۔ وہ معاشرے کی جیتی جاگتی   اور چلتی پھرتی تصویریں ہیں۔ ان کے نشیب و فراز، حرکات و سکنات   اور بیان و زبان میں معاشرے کی صاف جھلک نظر آتی ہے۔ وہ کرداروں کو موقع کے لحاظ سے استعمال کرتے ہیں۔ ان کے یہاں اچھے، برے، مہذب، غیر مہذب، تعلیم یافتہ کردار ہیں۔ 
اس ناول میں کرداروں کی تعداد اچھی خاصی ہے۔ مگر اس کے اہم کردار___ بالمکند شرما جوشؔ، چودھری برکت حسین تحسین حسین عرف منّا، انیل، نریندر، ملکانی، ڈاکٹر نریندر، امیر جیت، نیل کنٹھ، فیض سقراطی، احمد ربانی، تنویر حبیب، نازاں خیال، باقر مرزا   اور نسوانی کردار مالو، اوما، تلسی، جمیلہ   اور شمیم عرف شمّی وغیرہ ہیں۔ اس ناول کا سب سے متحرک کردار بالمکند شرما جوش ہیں۔ یہ ایک فلسفی، شاعر، حساسی، فرشتہ صفت   اور سیکولر مزاج انسان ہیں۔ وہ تعمیر پسند ہیں   اور خون خرابہ سے نفرت کرتے ہیں۔ اور ہندو مسلم روایت کا مشترک نمونہ ہیں ان کے دلو دماغ کو فسادات نے تار تار کر دیا ہے۔ جو انسان قدیم روایت کی پاس داری کرتا ہو، جسے وطن سے محبت ہو   اور انسانی دوستی رگ رگ میں سماتی ہو، اس کی زندگی اس زہریلی   اور آتش فشاں فضا میں کیسے خوش رہ سکتی ہے۔ انہیں حالات کی وجہ سے وہ بھولنے کی بیماری میں مبتلا ہو گئے   اور خبطی بھی ہو گئے۔ چونکہ وہ حساسی انسان ہیں اس لیے فرقہ وارانہ فساد سے خوف و ہراس   اور وحشت طاری ہو جاتی ہے   اور فساد کے ہولناک منظر کی تاب نہ لا کر ان کی موت ہو جاتی ہے۔ ان کو مرنے سے قبل اپنی موت کا احساس ہو گیا تھا   اور وہ مایوس تھے کیونکہ ان کے سارے خواب پاش پاش ہو گئے تھے۔ ایک مثال پیش ہے ___
بہت کچھ سوچتا ہوں۔ یہ بھی ۔۔۔کہ میں جا رہا ہوں۔ اور میرا کوئی وارث نہیں ہے ___ جو میری میراث، میری وراثت سنبھالتا___ جو مجھ سے جڑی روایتیں میرے بعد بھی جاری رکھتا۔۔۔میرے بعد کوئی نہیں ہے۔ یہ حق بات مجھے کھائے جا رہی ہے ۔۔۔ 
 ’’بالمکند کسی گہری سوچ میں ڈوب جاتے ہیں ___‘‘ (ص: ۲۰۳) 
ایک   اور مثال دیکھئے ___
 ’’انیل چلا گیا___ اندر باہر کمزوری کی ایک لہر چل پڑی ہے ۔۔۔جیسے سمندر میں جوار بھاٹا آتا ہے۔ لہریں شور مچاتی ہیں ۔۔۔ویسا ہی جوار بھاٹا۔۔۔بچے اب گھر توڑنے میں لگے ہیں ۔۔۔
بٹوارا چاہتے ہیں ۔۔۔کتنے پیوند لگیں گے۔ 
اس گھر کو ۔۔۔؟ کتنے پیوند ۔۔۔ 
۔۔۔ٹی وی آن کرتے ہیں ۔۔۔  اور ۔۔۔وہی ریلیاں، بند، آندولن، ہڑتالیں۔ 
۔۔۔ اور موت ۔۔۔اَن گنت موت۔۔۔ان گنت۔۔۔سانچے، حادثے ۔۔۔وقت کے حاشیے پر کوئی آتنک وادی کھڑا ہے ۔۔۔ہاتھ میں اسلحہ لیے ۔۔۔وہ چیخ رہا ہے ۔۔۔  اور گولیاں برسا رہا ہے ۔۔۔ 
نہیں ۔۔۔ 
وہ زور سے چیخ مارتے ہیں ۔۔۔بچے ۔۔۔بہو۔۔۔دوڑے دوڑے آتے ہیں ۔۔۔مگر۔۔۔مگر۔۔۔یہ سب کون ہیں ۔۔۔سب کے چہرے ۔۔۔بس دھواں دھواں ۔۔۔جھل مل جھل مل کر رہے ہیں ۔۔۔ 
کون ہو تم لوگ۔۔۔وہ پہچان نہیں پا رہے ہیں ۔۔۔بچے پریشان ہیں ۔۔۔وہ خوفزدہ سے بچوں کی طرف دیکھے جا رہے ہیں ۔۔۔	 (ص: ۱۳۶) 
انیل   اور نریندر جوش کے بیٹے ہیں۔ انیل کی بیوی تلسی   اور نریندر کی بیوی اوما ہے۔ مالو نریندر کی بیٹی ہے۔ انیل کانگریسی   اور نریندر بھاجپائی ہے۔ دونوں کے راستے جدا جدا ہیں۔ اس لیے گھر کی فضا خوشگوار نہیں ہے۔ حالاں کہ جوش کو اپنے بیٹوں میں بڑھتی نفرت   اور گھر کے بٹنے   اور پرانی روایت کے ٹوٹنے کا دلی افسوس ہے۔ اس لیے ان کی زندگی سسکتی نظر آتی ہے۔ اوما   اور تلسی میں بھی آپسی تناؤ رہتا ہے۔ مالو بچّی ہے مگر گھر کی فضا سے متاثر ہے   اور غلط فہمیوں کا شکار ہونے لگی ہے۔ وہ اپنے ددّو (جوش) سے کہتی ہے تم اردو پڑھتے ہو کیا مسلمان ہو۔ مسلمان گندے ہوتے ہیں۔ ایک مثال پیش ہے۔ 
 ’’وہ بدمعاش ہوتے ہیں۔ ذرا سی بات میں قتل کرنے سے نہیں چوکتے۔ جہاں زیادہ ہوتے ہیں ،  وہاں جانے کا نہیں ہوتا۔ نہیں تو تلوار دکھا کربولتے ہیں مسلمان بن جاؤ۔‘‘ 
 ’’اچھا ۔۔۔یہ سب کہاں سے سیکھا۔‘‘ 
 ’’سیکھا کہاں سے۔ ڈیڈی بتاتے ہیں۔ کبھی کبھی ماں بولتی ہے ،  وہی سنتی ہوں ہوتے ہیں نا خراب؟‘‘ 	 (ص: ۱۹) 
بچے تو معصوم ہوتے ہیں۔ یہ ہماری ذمہ داری   اور فرض بنتا ہے کہ ہم اپنے بچوں کو صحیح راستہ دکھائیں تاکہ ___وہ مستقبل میں کامیابی کی منزل طے کر سکیں۔ اس کے برعکس ان کا راستہ غلط ہو گا تو وہ پریشانیوں میں مبتلا ہو سکتے ہیں۔ اس نقطۂ  نظر کو سامنے رکھتے ہوئے جوش نہایت سنجیدگی سے مالو کو سمجھاتے ہیں۔ مثال پیش ہے ___
 ’’تو ایک بات غور سے سن لو بیٹی۔ ابھی جو کچھ سن رہی ہو، وہ کوئی بات سچ نہیں ہے کسی بات پر وشواس مت کرنا۔ اس سے تمہاری پڑھائی پر اثر پڑے گا۔ تمہارے کل پر۔ آنے والے کل پر۔ کل تمہارے پاس ان باتوں پر سوچنے وچارنے کے لیے کافی وقت ہو گا۔ بس کل غور کرنا ان پر   اور ان پر غور کرنے کے لیے کسی دوسرے کا سہارا مت لینا۔ اپنے صحیح دماغ کا فیصلہ ہی سننا ہے ایسی کوئی بھی بات کہیئے۔ تو پھر ناراض ہو جاؤں گا۔ میں کچھ نہیں بولوں گا۔ 
 ’’اچھا ددّو۔‘‘ 
مالو خوش ہو گئی۔‘‘ 
برکت حسین ایک باعزت انسان ہیں۔ پرانی تہذیب کے قائل ہیں۔ شہر میں ہونے والے فساد سے فکر مند ہیں۔ جوش کے دوست ہونے والے فساد سے فکر مند ہیں۔ جوش کے دوست ہیں   اور ایک ہی محلے میں رہتے ہیں۔ دونوں حضرات ہم خیال ہیں   اور ایک دوسرے کے دکھ درد کو سمجھتے ہیں۔ اور آپس میں گفتگو کر کے دل کا غبار نکالتے ہیں۔ مثال پیش ہے ___
آواز کمزور پڑجاتی ہے۔ ’’کیا کہوں ۔۔۔اپنا آپ نکالنے والا بھی تو کوئی ہو___ درد بانٹنے والا___ تم آ جاتے ہو تو دل کی بھڑاس نکالنے کا موقع مل جاتا ہے برکت حسین___ کیا کیا دیکھ رہا ہوں۔ بالائی منزل پر جاتا ہوں تو آسمان پر دھواں ہی دھواں نظر آتا ہے۔ شفق کی سرخی ایسے دکھتی ہے جیسے انسانوں کا خون مل دیا گیا ہو۔ اور ۔۔۔سب کچھ ختم ہوتا نظر آتا ہے ___ سب کچھ ___ (ص: ۱۲۹) برکت حسین سے ملاقات نہ ہونے پر جوش بے چین ہو جاتے ہیں ، دیکھتے ___کئی  دن ہو گئے۔ برکت حسین نہیں آئے ___ بھائی برکت حسین۔ اب تو یہ پردہ اٹھا چاہتا ہے ___ آخری دیدار نہیں کرو گے میاں ۔۔۔بس اب ستاؤ نہیں میاں۔ آ جاؤ___ نہیں آتے۔ جاؤ مت آؤ___ یہ آندھیاں توسبھی چراغ گل کئے دے رہی ہیں ___ اب تم کہاں آؤ گے میاں۔ اب ہم بھی چلے ___ اب یہاں سے جی روٹھ گیا میاں۔ 	 (ص: ۲۴) 
تحسین حسین، برکت حسین کا بیٹا ہے۔ وہ بجلی آفس میں کلرک ہے۔ سیدھا سادہ انسان ہے۔ فساد کی وحشت نے اسے بھی بھاجپائی بنا دیا مگر اس کا دل مسلمانوں کے خلاف سازش کو گوارہ نہیں کر سکا۔ اس لیے ۔۔۔بھاجپا سے کنارہ کشی اختیار کرنا چاہتا تھا۔ مگر بھاجپائیوں نے اس کے قتل کی اس طرح سازش تیار کی کہ اس کی ذمہ داری مسلمان پر عائد ہوتا کہ ایک بھاجپائی کے قتل کے بہانے پارٹی کو فساد کرانے کا اچھا موقع مل جائے۔ تحسین حسین نے بھاجپا جس خوف سے جوائن کی تھی اس کی مثال پیش ہے۔ 
___ تم کیوں نہیں سوچتے کہ کل یہ پارٹی حکومت میں بھی آسکتی ہے۔ تم اس کی اس قدر مخالفت پر اتر رہے، پھر کیا ہو گا سلیمان میاں تم ان کے خلاف بولتے رہے۔ بولنا بند نہیں کیا تو کیا حکومت میں آنے کے بعد یہ تمہیں زندہ چھوڑ دیں گے۔ ارے یہ تمہیں ملک چھوڑنے پر بے بس کر دیں گے ___ یہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر تم پر پابندی عاید کریں گے۔ اذان لاؤڈ سپیکر سے مت دو۔ اتنی بڑی تعداد میں مسجد مت جاؤ۔ نماز مت پڑھو۔ تم کیا سمجھتے ہو۔ عرب ممالک ___ ___وہ اسلامی ممالک جن پر تم فخر کرتے ہو تمہاری مدد کو آ جائیں گے یہ؟ تم زیادہ سے زیادہ یہی ہو گا، اپلاؤ گے، غلط حرکتیں کرو گے یا زیادہ سے زیادہ آتنک وادی بنو گے ___ مجھے لگتا ہے یہ لوگ یہی چاہتے ہیں۔ تم لوگ اپنے ہوش گنوا دو، آتنک پر اتر آؤ تاکہ یہ تمہارا دمن کر سکیں۔ تم پاگل ہو جاؤ تاکہ انہیں پاگل کتّوں کو شوٹ کرنے کا اچھا سا بہانہ مل جائے ___‘‘ (ص: ۱۱۴) 
ملکانی، ڈاکٹر نریندر، امرجیت   اور نیل کنٹھ وغیرہ بھاجپا کے سرگرم رکن ہیں۔ یہ لوگ نہایت شاطر، خطرناک  اور موقع پرست ہیں۔ یہ ملک کے سب سے بڑے دشمن ہیں۔ ان لوگوں کا مقصد فساد کرانا   اور دہشت پھیلانا ہے۔ اس کے لیے یہ ہر طرح تیار رہتے ہیں۔ یہ لوگ اس ناول میں ولین کا کردار ادا کرتے ہیں، ان میں خامیاں ہی خامیاں ہیں ___
فیض سقراطی، احمد ربانی، تنویر حبیب، نازاں خیال   اور باقر مرزا وغیرہ بقول جوش ’’پانچ پاپی‘‘ ہیں۔ در اصل یہ پانچ پاپی بے روزگاری کی علامت ہے۔ ان کے لیے بے روزگاری کا مسئلہ ایک محبوبہ سے زیادہ حسین خواب ہے۔ یہ لوگ بے روزگار ضرور ہیں مگر کوئی غلط پیشہ اختیار نہیں کرتے ہیں۔ ان کو ادب   اور شعرو شاعری سے دلچسپی ہے۔ قہوا خانوں میں بیٹھ کر دنیا کے تمام مسئلوں پر بحثیں کرتے ہیں   اور آخر میں اپنی بے روزگاری کی بحثوں سے اکتا جاتے ہیں تو اپنی اپنی تصوراتی محبوباؤں کے لطیف خیال میں کھو جاتے ہیں۔ وہ اپنی بے روزگاری پر خوب خوب طنز کرتے ہیں۔ مثال پیش ہے ___
اس نے پیٹ پر ہاتھ مارا۔ یہ روٹی کھوجتا ہے۔ اور روٹی نوکری۔ مسئلہ صرف ایک ہے حکومت نے اس سے بچنے کے لیے عام آدمی کو مندر مسجد میں الجھا دیا ہے۔ 
 ’’کوشش کر کے دیکھ لی۔ سالے بوڑھے ہو جائیں گے۔ شادی بھی نہیں ہو گی۔‘‘ 
نازاں خیال طنز سے مسکرایا___ مندر مسجد کرتے جاؤ۔ پیٹ کا حال سنے نہ کبیرا___ نوکری گئی بھاڑ میں، روتا جائے بنجارہ___ (ص: ۲۱۰) 
___ ’’بھائیو۔ ہم اس آزاد ملک کے آزاد شہری ہیں۔ نوکری توغلامی کی چیز ہے۔ نوکری غلام کرتے ہیں۔ ہمیں یہ سوچ کر خوش ہونا چاہیے کہ آزادی ملک کے آزاد شہری کی بھومیکا ہم سے زیادہ ایمانداری سے کوئی نہیں نبھا رہا ہے۔ اس لیے کہ ہم آزاد ہیں   اور نوکری نہیں کر رہے ہیں ___ ہم حکومت پر کوئی بوجھ نہیں ہیں۔ ہمارے یہاں کوئی ٹیکس بقایا نہیں ہے ___ ہم گریجوٹیں   اور پی۔ ایف کے بارے کچھ نہیں جانتے ___‘‘ 
جمیلہ برکت حسین کی بیوی   اور شمیم بہو ہے۔ جمیلہ پرانی تہذیب کی حامی ہیں   اور شمیم عرف شمّی کم تعلیم یافتہ ہے۔ اس کی زبان و بیان سے دیہاتی رنگ صاف جھلکتا ہے۔ اس کی ایک چھوٹی بیٹی بھی ہے۔ مختصر یہ ہے کہ اس ناول میں نسوانی کرداروں میں وہ ساری خوبیاں پنہاں ہیں جو معاشرے کی عکاسی کرنے کے لیے ضروری سمجھی جاتی ہیں ___
جذبات و احساسات کی عکاسی کرنا مشکل فن ہے۔ کیونکہ ہر شخص انفرادی نقطۂ  نظر سے رکھتا ہے۔ جس سے ایک اعلیٰ سوسائٹی کافرو بلند خیالات کا اظہار کرتا ہے مگر اس کے برعکس ایک ادنی انسان کی سوچو فکر میں کمتری کا احساس ہوتا ہے۔ ادیب کو اپنے جذبات کی عکاسی کرنا ہی مشکل ہوتی ہے تو دوسروں کے جذباتی کی عکاسی کرنا مشکل ترین فن ہے۔ تاہم ذوقیؔ نے اس ناول میں جذبات احساسات کے ایسے شہہ پارے پیش کئے ہیں کہ وہ اپنے دل کی آواز معلوم ہوتی ہے   اور زندگی حرارت آمیز ہو جاتی ہے۔ 
ہمارے ملک میں بابری مسجد کی شہادت کے بعد ہونے والے فرقہ وارانہ فسادات نے مسلمانوں کے جذبات کو بری طرح سے مجروح کیا۔ اب وہ محسوس کرتے ہیں کہ میری جان و مال   اور عزت و آبرو خطرے میں ہے۔ یہ خطرے میں ہے۔ سہمے ہوئے مسلمانوں کے دلوں کی آواز ہے ___
 ’’زمانہ خراب ہے، مسلمانوں کے سر پر تلوار لٹک رہی ہے۔‘‘ (ص: ۱۴۸) 
خوف زدہ منّا کے جذبات  و احساسات دیکھیے ___
 ’’اسے اپنی ہی آواز گھٹتی ہوئی لگی۔۔۔فساد۔۔۔چھوٹے چھوٹے بے قصور بچوں کی اموات ۔۔۔لاشیں ہی لاشیں ۔۔۔عورتوں، کم سن لڑکیوں کے ساتھ زنا بالجبر۔۔۔جھلسے ہوئے گھر۔۔۔چیخیں ۔۔۔گھروں سے اٹھتا ہوا دھواں ۔۔۔چاروں طرف خون کے اڑتے ہوئے چھینٹے ۔۔۔ اور ۔۔۔چھوٹے چھوٹے بچّے ۔۔۔وہ تصور کے پردے پر چھوٹے چھوٹے بچوں کو دیکھ رہا تھا۔۔۔نشی ابھی چھوٹی ہے ۔۔۔چھوٹی سی سی بچی۔۔۔ ‘‘ (ص: ۱۸۴) 
جوش کے خواب و خیال   اور یادیں باد سموم کی تپش سے خاک میں مل گئیں ہیں۔ ان کے ہر جملے میں با مقصد طنز ہے ان کی گفتگو بے معنی نہیں ہوتی۔ موصوف نے ان کی جذبات کی خوبصورت عکاسی کی ہے مثال پیش ہے ___ ۔۔۔’’وہ خواب دیکھتے ہیں کہ ایک ڈھانچہ ہے ۔۔۔نہیں مسجد ہے ۔۔۔ایک ڈھانچہ ہے ۔۔۔نہیں ۔۔۔وہ اس بحث میں نہیں پڑنا چاہتے ۔۔۔لیکن کچھ لوگ ۔۔۔نہیں ڈھیر سے لوگ ۔۔۔نہیں ۔۔۔اسنکھ لوگ۔۔۔خوفناک خوفناک شکلوں والے ۔۔۔مل کر توڑ رہے ہیں ۔۔۔ اور ۔۔۔ان میں، ان توڑنے والوں میں انیل   اور نریندر بھی ہیں۔ اس کے بیٹے ۔۔۔بس آنکھیں بند کرتے ہی پھر وہ یہی خواب دیکھتے ہیں   اور ڈر جاتے ہیں۔ (ص:۲۶) 
نریندر تو بھاجپائی ہے ہی مگر انیل بھی مسجد توڑنے میں شامل ہے۔ حالانکہ وہ کانگریسی ہے۔ در اصل جوش اپنے خواب میں بھی حقیقت کہنے سے باز نہیں آئے۔ کیونکہ یہ بات سب جانتے ہیں کہ بابری مسجد کی شہادت میں کانگریس کی شہہ بھی رہی ہے۔ 
ناول کے لیے اچھی منظر نگاری ہونا ضروری ہے۔ اور اچھی منظر نگاری کے لیے مطالعہ   اور مشاہدہ تیز ہونا ضروری ہے۔ اس کے بغیر کامیاب منظر نگاری نہیں کی جا سکتی۔ ناول میں منظر اس طرح پیش کئے جائیں کہ ان کی اصل تصویر آنکھوں کے سامنے آ جائے۔ اس ناول میں فساد   اور اس سے پیدا ہونے والے ہولناک ماحول   اور فضا کی بہترین تصویر ملتیں ہیں۔ اس کی وضاحت مثالوں سے ہو جائے گی___
 ’’۔۔۔دروازہ بند تھا۔ کرفیو کے بعد کا سناٹا کتنا ظالم ہوتا ہے ۔۔۔جیسے ہوائیں مقتل گاہ میں شور کر رہی ہیں ۔۔۔جیسے کسی قبرستان کا ہولناک سناٹا ہو۔۔۔چمگاڈریں   اور سؤروں کی منحوس آوازیں گونج رہی ہیں ۔۔۔شاخوں سے الّو بلو رہے ہوں ۔۔۔درخت ہلتے ہوں   اور ایک وحشت ناک سناٹگی۔ اندر تک تیزاب الٹ دیتی ہو۔۔۔ 
صبح ہوئی دروازہ کھولیں ۔۔۔ 
 ’’منّا نہیں آیا، کیوں نہیں آیا؟‘‘ 	 (ص: ۴۹) 
 ’’جیسے ایک گرم صبح ہوتی ہے، جیسے آگ برساتا ہوا سورج کا گولہ ہوتا ہے ۔۔۔زمین تپتی ہے ۔۔۔جھلستی ہے ۔۔۔  اور جیسے میں جھلستی تپتی گرم زمین پر بارش کی ایک بوند ٹپک جاتی ہے ۔۔۔جیسے ہلکی سی بارش ہوتی ہے ۔۔۔  اور ماحول میں حبس پھیل جاتی ہے ۔۔۔ ‘‘ (ص: ۱۵۴) 
اس ناول میں بحثیں طویل ہیں مگر معنی خیزی  اور اثر انگیزی سے پرہیں۔ ان میں نہاں یا عیاں طور پر مقصد ضرور پوشیدہ ہے۔ یہ بحثیں شیریں طنز سے بھی بھری ہوئی ہیں۔ فرقہ وارانہ فسادات کا سیاسی رہنما کے اشاروں پر ہوتے ہیں۔ مگر معصوم عوام اس کا نشانہ بنتی ہے۔ عصمت دری،  خون خرابہ، کرفیو، تلاشیاں   اور زیادتیاں غرض کہ مظلوم عوام پر خوب ظلم کیے جاتے ہیں۔ 
اس ناول میں قدیم و جدید تہذیب کی کشمکش صاف نظر آتی ہے۔ قدیم تہذیب پر جدید تہذیب حاوی ہوتی جا رہی ہے۔ اس لیے پرانی قدریں بھی پامال ہو رہی ہیں۔ نئی تہذیب نے انسان کو دولت پرست بنا دیا۔ اس لیے معاشرے کا خاکہ بدترین ہوتا جا رہا ہے۔ جوش پرانی تہذیب کے روح رواں ہیں مگر اپنی تہذیب کو پاش پاش ہوتے دیکھ رہے ہیں۔ ان کی یادیں قدیم تہذیب کا حصہ ہے۔ ایک مثال پیش ہے ___
 ’’لیکن یہ اتیت مجھے میری جان سے پیارا ہے ۔۔۔مجھے میری سب سے عزیز ترین شئے سے بھی زیادہ عزیز ہے ۔۔۔یہ اتیت برا بھی ہے ۔۔۔اس اتیت میں میرے کھٹے میٹھے قصے تو ہیں ۔۔۔میری شرارتیں تھیں ۔۔۔مگر اس کے علاوہ ایک بدنما غلامی بھی ہے ۔۔۔میرے سامنے صرف ایک اتیت ہے ۔۔۔ ‘‘ 	 (ص: ۱۵۵) 
فرقہ پرست ضمیر فروش مسلمانوں کو اپنی پارٹی میں شامل کر کے، مسلمانوں کے خلاف زہر اُگل واتے ہیں اس مثال کی پیش ہے ___
 ’’میں اپنے بارے میں سوچتا ہوں کہ اگر اس ملک کی ۸۰ فی صد آبادی ہندو نہ ہوتی تو میرا کیا ہوتا۔ اگر یہ ملک ہندوؤں کا نہ ہوتا تو علیم بخت کا وہی حشر ہوتا، جو پاکستان میں کسی رام لعل کا ہوتا ہے۔ جہاں رام لعل اپنے حقوق کی باتیں نہیں کر سکتا، اپنی آواز نہیں اٹھا سکتا، اپنے کو رام لعل تک نہیں کہہ سکتا۔‘‘ (ص: ۷۱) 
اتنا ہی نہیں ان فرقہ پرست طاقتوں نے منصوبہ بند طریقے سے ہندوستان کی ادب و تاریخ کو بدل کر اپنی غلط باتوں کو صحیح ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس کی مثال پیش ہے ___
 ’’کام بہت سے کرتے ہیں۔ سمے کم ہے۔ ہمارے پاس شیگھر (جلد) پرکاشت کرنے کے لیے پبلشر بھی ہیں ہم نے آدھونک اتہاس کی روپ ریکھا تیار کر لی ہے مہینے دو مہینے یا سال بھر میں اتنی کتابیں بازار میں آ جائیں کہ لوگ پرانے اتہاس کو بھول جائیں گے۔‘‘ 
اس کے لیے کچھ نئے اتہاس گڑھنے بھی تو پڑیں گے۔‘‘   (ص: ۱۲۱) 
بابری مسجد کی شہادت کے بعد ان کی نظریں متھرا   اور بنارس کی مسجدوں پر ہیں۔ ان فرقہ پرست طاقتوں کے حوصلے بلند ہیں۔ یہ پورا ناول ہی اس کی مثال ہے۔ تاہم ایک مثال پیش ہے ___
 ’’اب سنو‘‘۔ ملکانی کی آواز ہوا کے دوش پر لہرا رہی تھی۔۔۔ہم ہر کونے سے اٹھیں گے ۔۔۔ہم چاروں وشا سے اٹھیں گے۔ ہم ندی جل، سمندر، پہاڑ، چٹان، چاروں   اور سے جٹیں گے ۔۔۔ہم جٹیں گے ہم چپّے چپّے پر پھیلیں گے ۔۔۔  اور وجئی رہیں گے۔‘‘  (ص: ۱۲۱) 
اس ناول میں کئی راز فاش کیے ہیں ؟ کہ فساد کون کرتا ہے ؟ کیوں کراتا ہے ؟ کس کس طرح سے کراتا ہے۔ انکے کیا مقاصد ہوتے ہیں۔ ان سب کی وضاحت مدلل بحثوں سے کی گئی ہے۔ 
اس ناول کا موضوع بہت اہم ہے۔ کیونکہ اس میں ہندوستان کے ایک اہم مسئلہ پر سنجیدگی سے بحث کی گئی ہے۔ فرقہ وارانہ فسادات صرف مسلمانوں کا المیہ نہیں پورے ہندوستان کی سالمیت   اور امن و اماں کا ہے۔ اگر یہی صورت حال رہی تو ہندوستان کی بین الاقوامی سیکولر حیثیت ختم ہو جائے گی   اور ملک میں خانہ جنگی کے امکانات بڑھ جائیں گے۔ جس سے متحد ہندوستان کے اتحاد   اور سالمیت کو ایک بڑا خطرہ پیدا ہو جائے گا۔ فرقہ وارانہ فسادات امن و امان کو پاش پاش کرتے ہیں۔ تاہم ملک کو مستحکم بنانے کے لیے امن و امان کا قائم ہونا لازمی ہے۔ 
یہ ایک فطری بات ہے کہ ہر انسان خوشگوار زندگی گذارنا پسند کرتا ہے   اور اپنے بچوں کو تحفے میں خوشیاں ہی خوشیاں دینا چاہتا ہے۔ مگر چند نا سمجھ انسان اپنے بچوں کی زندگی زہر آلود بنا دیتے ہیں۔ در اصل والدین کی سب سے بڑی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے بچوں کو حقو انصاف کا راستہ دکھائیں۔ بچے معصوم ہوتے ہیں۔ انہیں اچھے   اور برے کی تمیز نہیں ہوتی۔ وہ معاشرے میں جو دیکھتے ہیں سنتے ہیں، اسی پر عمل کرتے ہیں۔ چونکہ نریندر بھاجپائی ہے   اور گھر میں بھی وہ مسلمانوں کے خلاف زہر اگلتا رہتا ہے۔ اس لیے اس کی بیٹی مالو بھی ویسا ہی سوچتی   اور بولتی ہے۔ مگر یہاں تو اسکو جوش نے سنبھال لیا ہے۔ اگر مستقبل میں جوش جیسے انسان ناپید ہو گئے تو ان بچوں کی زندگی میں سوائے تلخیاں   اور پریشانیاں ہی ہوں گی۔ مستقبل میں ہم ایسی غلطیوں سے باز رہیں، اس ناول کا یہ ایک اہم پیغام ہے۔ 
اس ناول میں بے روزگاری کے مسئلے کو بھی پیش کیا گیا ہے۔ بے روزگاری انسان کو غلط راستوں پر چلنے کے لیے مجبور کر دیتی ہے۔ ’’پانچ پاپی‘‘ بے روزگار کی علامت ہیں مگر وہ کوئی غلط کام نہیں کرتے صرف اپنا وقت گذارنے کے لیے قہوہ خانوں میں بیٹھ کر ادب   اور شعرو شاعری پر گفتگو کرتے ہیں   اور جب تھک جاتے ہیں تو اپنی اپنی تصوراتی محبوباؤں کے خیال میں ڈوب جاتے ہیں یا مشاعروں میں ہوٹنگ وغیرہ سے دل بہلاتے ہیں۔ در اصل ناول نگار بے روزگاری کی طرف سرکار کی توجہ مبذول کرانا چاہتا ہے مگر وہ بے روزگاروں کو غلط راستوں سے باز رکھنا چاہتا ہے۔ 
اس ناول میں قدیم و جدید تہذیب کی کشمکش کو مؤثر پیرائے میں پیش کیا ہے۔ تاہم جدید تہذیب پر خوب خوب طنز کیا ہے۔ جدید تہذیب نے انسانیت کے پرخچے اڑا کر رکھ دیئے ہیں۔ کوئی کسی کا پرسانِ حال نہیں ہے   اور نہ چھوٹے   اور بڑے کا ادب ہے بے شرمی   اور بے حیائی عروج پر ہے۔ یہ در اصل قدیم تہذیب کے برعکس ہے۔ اس ناول میں اس کی طرف اشارہ کیا ہے کہ انسان اپنی تہذیبی قدروں کی پاس داری کرے   اور ترقی کے لیے اپنی تہذیب کو پامال نہ کرے بلکہ اس پر عمل کرتے ہوئے بھی ترقی کی جا سکتی ہے۔ 
 ’’بیان‘‘ عشقیہ نہیں بلکہ سنجیدہ ناول ہے۔ یہ ناول وطن پرستی، انسان دوستی، تعمیر پسندی   اور خون خرابہ سے نفرت کا پیغام دیتا ہے اس لحاظ سے اس ناول کی اہمیت و افادیت میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ یہ ناول نگار کی جرأت مندی   اور بے باکی قابلِ ستائش ہے یہ شاہکار ناول با ذوق قاری ضرور پڑھیں گے   اور پسند بھی کریں گے۔ ان کی ناول نگاری میں روشن امکانات پوشیدہ ہیں۔ 
زبان و بیان میں سادگی، سلاست   اور روانی بدرجۂ  اتم موجود ہے۔ حالانکہ زبان پر علاقائیت کے اثرات نمایاں ہیں۔ ہندی الفاظ کا کثرت سے استعمال کیا گیا ہے جس کی وجہ سے کچھ پیچیدگی پیدا ہو جاتی ہے۔ اور قاری اس کے معنیٰ میں الجھ کر رہ جاتا ہے۔ کتابت کی بھی کچھ غلطیاں ہیں۔ مگر زبان و ادب میں دلکشی، اثر انگیزی   اور معنیٰ خیزی اپنا جلوہ خوب خوب دکھاتی ہے۔ 
سرورق دیکھتے ہیں کرفیو کا احساس ہو جاتا ہے   اور پس ورق پر ممتاز ادیب پروفیسر قمر رئیس   اور محمد حسن نے اظہار خیال کر کے اس ناول کی قدر و منزلت میں   اور بھی اضافہ کر دیا ہے۔ اس کے علاوہ ناشر انیس امروہوی نے بھی اظہار خیال کیا ہے۔ مختصر میں یہ ناول ادبی و فنی خوبیوں سے معمور ہے۔ 
٭٭٭



کیسا بیان___؟

جاوید نظر

مشرف عالم ذوقی کا ناول ’’بیان‘‘ ۱۹۹۵ء میں منظر عام پر آیا۔ اس ناول کا پلاٹ ۶  دسمبر ۱۹۹۲ء کے حادثہ کے بعد ملک میں رونما ہونے والے واقعات   اور سیاسی و سماجی طور پر ہونے والی تبدیلیوں پر مبنی ہے۔ ناول نگار نے دو خاندان (چودھری برکت حسین   اور بالمکند شرما جوش)   اور ان کے افراد کے ذریعہ ناول کا تانا بانا بنا ہے۔ بیچ میں کانگریس، بی۔ جے۔ پی، آر ایس۔ ایس   اور پولس کے رول کو بھی شامل کیا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ ٹوٹتی ہوئی تہذیبی قدروں کا ماتم بھی ہے۔ جس کی علامت چودھری برکت حسین وبالمکند شرما ہیں۔ جن کے سینے میں اپنی پرانی روایت   اور تہذیبیں موجود ہیں   اور نئے زمانے کی برائیوں   اور بدلتی ہوئی قدروں سے وہ کسی قدر رنجیدہ   اور فکر مند بھی ہیں۔ خاص طور سے بابری مسجد کے سانحے کے بعد جس تیزی سے معاشرت کا زوال ظاہری و روحانی سطح پر ہوا ہے اس کی مثال میں اس ناول کو پیش کیا جا سکتا ہے۔ 
ناول کا آغاز نئی   اور پرانی نسل کی کش مکش سے ہوتا ہے، اور یہ تصادم شروع سے لے کر آخر تک قائم رہتا ہے۔ دو فکروں کا ٹکراؤ   اور دو خیالات کا ٹکراؤ   اور یہ ٹکراؤ عمر کی سطح پر، تہذیب کی سطح پر   اور مذہب کی سطح پر ہمیشہ قائم رہتا ہے۔ نئی نسل اپنے انداز سے سوچتی ہے   اور پرانی پیڑھی اپنی تہذیب کو گلے لگائے ہوئے ہے   اور اندر ہی اندر کڑھتی رہتی ہے۔ اور پھر یہ ناول وقت کے اس عہد میں چلا جاتا ہے جو ۶ دسمبر ۹۲ء کے بعد سے شروع ہوتا ہے جہاں مذہب کے نام پر سیاست کی جاتی ہے سماج میں نفرت پھیلائی جاتی ہے   اور پورا معاشرہ مذہب کے خانوں میں تقسیم ہو جاتا ہے۔ یہاں تک کہ برکت حسین کہتے ہیں۔ 
 ’’ابھی اینٹھو مت زیادہ جوش بھائی۔۔۔وہ دن آئے گا جب بازارمیں مول کرنے جاؤ گے تو پوچھا جائے گا۔ کس کی تھالی چاہیے ۔۔۔ہندو کی تھالی یا ۔۔۔مسلمان کی تھالی ۔۔۔ ‘‘ 
میاں بیوی کے رشتے، بھائی بھائی کے تعلق، باپ۔ بیٹے، دادا۔ پوتی کے مکالمات کے حوالے سے چھوٹے۔ چھوٹے گھریلو واقعات کے ذریعہ بھی اس تصادم کو پیش کیا گیا ہے۔ 
نئی نسل کی نمائندگی تنویر حسین، نریندر   اور انیل کرتے ہیں۔ تنویرحسین مسلم نوجوان، نریندر بھارتیہ جنتا پارٹی   اور انیل کانگریس کے کردار کی علامت ہیں۔ ان نوجوانوں کے خیالات کے ذریعہ ان کی پارٹیوں کے نظر یہ کو بہت آسانی کے ساتھ محسوس کیا جا سکتا ہے۔ ان کے اندر مذہب کا جوش ہے جو سیاسی پارٹیوں کے ذریعہ پیدا کیا گیا ہے۔ جبکہ ان کے نہاں خانوں میں پرانی تہذیبی روح موجود ہے۔ لیکن سیاست   اور ماحول کے اثر سے وہ بری طرح مجروح ہے۔ اس کا اندازہ اس واقع سے ہوتا ہے کہ نریندر کی بیٹی مالو کے بیمار ہونے پر تنویر حسین   اور اس کی بیوی دن رات ایک کر کے اس کا علاج کرواتے ہیں۔ اور تنویر حسین کے قتل کے پروگرام بنانے پرنریندر کے دل میں بے چینی کی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔ اور وہ انکار کرنا چاہتا ہے لیکن پھر سیاست سے مجبور ہو کر وہ یہ قدم اٹھا لیتا ہے۔ 
ناول نگار نے مسلم نوجوانوں کی کیفیات کو تنویر حسین عرف منّا کے کردارکے ذریعہ پیش کیا ہے۔ ایک طرف وہ ہندوستان کے باشندے ہیں   اور اسے اپنا وطن مانتے ہیں تو دوسری طرف انہیں غدار   اور پاکستانی جیسے الفاظ سے نوازا جاتا ہے   اور انہیں غیر ملکی تصور کیا جاتا ہے۔ بات بات میں اسے ’’میاں ‘ کے طعنے دیئے جاتے ہیں۔ ان حالات سے گھبرا کر کبھی وہ غیر ممالک جانے کا ارادہ کرتا ہے تو کبھی بی جے پی جوائن کر لیتا ہے۔ 
اس کے ساتھ ساتھ ایک نسل   اور پروان چڑھ رہی ہے جسے عرف عام میں تعلیم یافتہ بے روزگار طبقہ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ نسل تعلیم حاصل کرنے کے بعد بے روزگار ہے۔ اور نوکری کی تلاش میں ادھر اُدھر بھٹک رہی ہے۔ اس کے سامنے زندگی کا وسیع میدان ہے   اور جدو جہد کا راستہ۔ تمام مورچوں پر ناکامی کے بعداپنے دلو دماغ کو بہلانے کے لیے یہ شاعری ادب   اور فنون لطیفہ کا سہارا لیتی ہے   اور تخیل کے سہارے زندگی بسر کر رہی ہے۔ اس نسل کی نمائندگی ’’پانچ پاپی‘‘ کرتے ہیں جو سماج کے مختلف طبقات سے تعلق رکھتے ہیں   اور زندگی کی انہیں پریشانیوں میں گرفتار ہیں۔ 
 ’’بیان‘‘ کے ذریعہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے اصول کارکردگی، کانگریس کے رویہ   اور ان سب کے ساتھ عوام کی پریشانیوں کو بہت خوبصورتی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔ سیاسی جماعتیں طرح سے دنگے کرواتی ہیں   اور اس کے پیچھے سیاست دانوں کا کیا مقصد ہوتا ہے ناول میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ بند کمروں میں کس طرح پلاننگ ہوتی ہے، سیاست کی چال کس طرح چلی جاتی ہے   اور فسادات کے بعد عوام کی ہمدردی کیسے حاصل کی جاتی ہے غرض یہ کہ سیاست کی تمام مکروہ چال سے یہ ناول پردہ اٹھاتا ہے۔ 
بالمکند شرما جوش   اور چودھری برکت حسین ہمیشہ اپنے پرانے وقتوں کو یاد کرتے ہیں   اور اس کا ماتم کرتے ہیں۔ برکت حسین کچھ حد تک تو سمجھوتہ کر لیتے ہیں لیکن بالمکند شرما سمجھوتہ نہیں کر پاتے   اور ’’الزیمرس‘‘ کا شکار ہو کر آخر کار مرجاتے ہیں۔ اور ان کی اولاد ان کے بیان کو جو انہوں نے اردو میں لکھا تھا ضایع کر دیتے ہیں۔ اور وہ پانچ پاپی افسوس کرتے ہوئے اپنے گھر واپس آ جاتے ہیں۔ یہیں پرناول کا اختتام ہو جاتا ہے۔ یعنی پرانی تہذیب کا خاتمہ، نئی نسل جو سیاست کا شکار ہے اس کا اقتدار   اور تعلیم یافتہ بے روزگار نوجوانوں کا طبقہ اپنے مسائل کے ساتھ اسی طرح زندہ رہتا ہے۔ 
موضوع کے اعتبار سے یہ ناول اپنے اندر کئی سطحیں رکھتا ہے۔ نسلوں، تہذیبوں   اور مذہبوں کا تصادم وغیرہ۔ ناول کا کینوس بہت مختصر ہے   اور زمان و مکان کے لحاظ سے یہ ایک شرم کے دو محلوں   اور چند مہینوں کے واقعات پر محیط ہے۔ 
فن کے اعتبار سے یہ ناول بالکل سپاٹ سا ہے۔ ساری باتیں بالکل صاف   اور واضح ہیں۔ ادیب کے لیے صاف گو ہونا ضروری ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ واقعات کے حقائق میں تحریف نہ کرے۔ یہاں ناول نگار نے بالکل سیدھے طور پر کانگریس   اور بی جے پی کے نام لے کر واقعات بیان کئے ہیں۔ اور کہیں کہیں تو ان کے لیڈران کے نام تک لے لیے ہیں۔ تنویر حسین عرف منّا کے قتل کے واقعہ کو بہت خوبصورتی سے پیش کیا ہے، لیکن اس کے فوراً بعد اس کی تفصیل دے کر واقعے کو سپاٹ بنا دیا ہے۔ یہاں تک کہ بالمکند شرما جوش جو بیان دینا چاہتے ہیں اس کا ذکر وہ اتنی بار کرتے ہیں کہ قاری کو آسانی سے ان کے بیان کے متعلق علم ہو جاتا ہے۔ اس طرح ناول میں حقیقت پسندی تو آ جاتی ہے لیکن ناول پن نہیں پیدا ہو پاتا، جس کی وجہ سے ناول کا فن مجروح ہوتا ہوا نظر آتا ہے۔ 
ان تمام تجزیہ کے بعد کہا جا سکتا ہے کہ ’بیان‘ موضوع کے اعتبار سے قاری کو متاثر تو ضرور کرتا ہے۔ پھر بھی پڑھتے وقت قاری اپنے آپ کو جذباتی طور سے اس ناول سے وابستہ کر لیتا ہے کیونکہ یہ تمام حالات اس کے اپنے عہد کے ہیں   اور ان تمام واقعات سے وہ بہ نفس نفیس شب و روز گذرتا ہے۔ 
٭٭٭



 ’’بیان‘‘ ایک تجزیہ

نارنگ ساقی

پچھلے دنوں مشرف عالم ذوقی کے تازہ ترین ناول ’’بیان‘‘ کی رسم اجراء میں شمولیت کا موقع ملا۔ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ جہاں ناول کے بارے میں تقریر کرنے والوں کی فہرست طویل تھی وہاں سامعین کی تعداد بھی اچھی خاصی تھی۔ مقررین نے ’’بیان‘‘ پر کھل کر اپنی رائے کا اظہار کیا جب حبیب تنویر مائک پر آئے تو اس جملے سے انہوں نے تقریر شروع کی ’’میں تو سمجھتا تھا کہ اس نوجوان کو ناول لکھنے پر آپ لوگ مبارک باد دیں گے لیکن آپ تو پتھر برسا رہے ہیں۔ اس پر ہمیں بھی ناول پڑھنے کا اشتیاق پیدا ہوا   اور ہم نے فوراً اردو والوں کی روایت سے انحراف کرتے ہوئے ناول خرید کر پڑھنے کا فیصلہ کیا۔ 
 ’’بیان‘‘ کا پہلا باب پڑھنے سے قاری کو احساس ہوتا ہے کہ ذوقی ان قدروں کی کہانی لکھ رہے ہیں جو دن بدن ٹوٹ رہی ہیں۔ ان دوستیوں کا نوحہ لکھ رہے ہیں جو کبھی تھیں، اس تہذیب، اس تمدن کی کہانی کہنے والے ہیں جس پر ہمارے سماج کی کبھی بنیاد تھی لیکن صنعتی ترقی کے اس دور میں مٹ رہی ہیں۔ یہ بجائے خود بڑا دلچسپ موضوع ہے۔ جسے ذوقی نے پہلے باب میں اٹھایا ہے لیکن جیسے جیسے قاری آگے بڑھتا ہے تو اسے احساس ہونے لگتا ہے کہ ناول نگار اسے ان گلیوں میں لے جا رہا ہے جس کا اس ناول کے بنیادی موضوع سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ 
سچ پوچھئے تو اس میں ذوقی کا بھی قصور نہیں ہے اس کے پاس ایک عمدہ پلاٹ تھا لیکن اسے لکھتے ہوئے ذوقی کے ذہن میں کچھ بڑے نقادوں کی آراء میں سے کچھ جملے ابھر آئے۔ پروفیسر قمر رئیس صاحب نے ان کی کہانیوں کے بارے میں کہا تھا ’’وہ موضوعاتی کہانیاں لکھنے میں ماہر ہیں۔ ڈاکٹر محمد حسن صاحب نے ان کی کہانیوں پر کبھی رائے دیتے ہوئے لکھا تھا‘‘ ذوقی بڑے اہم موضوعات پر بڑے پن کی کہانیاں لکھ رہے ہیں۔ ’’یقیناً یہ آراء حق پر مبنی ہیں۔ لیکن ’’بیان‘‘ لکھتے ہوئے ذوقی کو اچانک خیال آیا کہ اگر میں نے ان قدروں کی کہانی لکھ دی جو ہمارے اس دور میں ٹوٹ رہی ہیں تو شاید مندرجہ بالا آراء کی نفی ہو جائے گی کیوں کہ ان کے ناول کا موضوع آج کے دور کا اہم موضوع نہیں ہو گا۔ چنانچہ انہوں نے ایک اچھی بھلی کہانی میں بابری مسجد کی شہادت کو زبردستی جوڑنے کی کوشش کی۔ اس زبردستی کے باوجود جب انہیں یقین نہ ہوا کہ وہ موضوعاتی کہانی لکھ رہے ہیں تو انہوں نے ثبوت بہم پہنچانے کے لیے ناول کو چھ دسمبر کے نام منسوب کر دیا۔ یہی نہیں کتاب کی رسم اجراء کے لیے تاریخ بھی چھ دسمبر ہی طے کی۔ 
ایسا نہیں کہ چھ دسمبر کے افسوسناک موقع پر ناول لکھا نہیں جا سکتا، یقیناً لکھا جا سکتا ہے بشرطیکہ ذوقی اپنی کہانی کا تانا بانا اس واقعہ کو مد نظر رکھ کر ان کا اصل موضوع تو بالمکند شرما جوش   اور برکت بھائی کی دوستی ہے جو مشترکہ تہذیب کی ترجمانی کرتے ہیں   اور بابری مسجد کے شہید ہو جانے کے باوجود ان کی دوستی ٹوٹتی یا پھر ان کی اولاد کا رویہ ہے جو اپنے والدین سے محبت   اور آستی کا سبق لینے کی بجائے اقتصادی حالت سدھارنے میں کوشاں ہے   اور اسی کوشش میں وہ دوسرے مذاہب کے لوگوں کو ڈنک مارنے کے ساتھ خود اپنے سگے بھائیوں کو نقصان پہنچانے میں بھی پیچھے نہیں رہتی۔ ذوقی صاحب کو شاید یہ احساس نہیں کہ بد قسمتی سے ہم ایسے دور میں رہ کر جہاں لوگ اپنی ترقی کی راہ ہموار کرنے   اور اپنی اقتصادی حالت کو بہتر بنانے میں اخلاقی قدروں کو روندتے ہوئے آگے بڑھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ چھ دسمبر انہوں نے زبردستی ناول پر لاد دیا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ناول نہ تو موضوعاتی   اور نہ ہی گرتی ہوئی قدروں کا نوحہ بن سکا۔ 
ذوقی صاحب کا کہانی کہنے کا انداز نہایت سادہ   اور بیانیہ ہے انہوں نے الفاظ   اور فلسفیانہ بحث سے گریز کیا ہے تاکہ ناول میں قاری کی دلچسپی برقرار رہے لیکن ناول میں کچھ ایسے واقعات ہیں جن سے قاری ایک عجیب سی الجھن کا شکار ہو کر ذکر رہ جاتا ہے۔ ذوقی نے ایک چٹ کا ذکر کیا ہے جس پر بالمکند شرما جوشی نے اپنا بیان قلم بند کیا تھا لیکن ان کے مرنے کے بعد وہ چٹ نہیں ملتی۔ یوں لگتا ہے جیسے جوشی صاحب کے ذریعہ کوئی بیان دینا چاہتے تھے لیکن بعد میں ارادہ بدل لیا۔ 
اسی طرح منا کا کردار بھی الجھن میں ڈالتا ہے ایک حادثے میں زخمی ہونے کے بعد اسے کچھ لوگ سڑک سے اٹھا کر لے جاتے ہیں   اور بہت سے اس کا علاج کرتے ہیں جب پتہ چلتا ہے کہ وہ لوگ بھاجپائی ہیں تو وہ پریشان ہو جاتا ہے مگر ان کے حسن سلوک سے اس قدر متاثر ہوتا ہے کہ ان کی پارٹی میں شامل ہونے کی درخواست کرتا ہے اس کے کاریہ کرتا بھی اس کی شمولیت سے بہت خوش ہوتے ہیں لیکن جب وہ ان کے راستے پر چلنے سے کتراتا ہے تو اس قتل کروا دیا جاتا ہے۔ ذوقی سمجھا نہیں پائے کہ اس آدمی کی شمولیت یا اخراج سے پارٹی کو کیا فائدہ یا نقصان پہنچ سکتا تھا   اور اس کا قتل کیوں ضروری ہو گیا؟
بار بار ذوقی صاحب نے اپنے کرداروں سے کہلوایا ہے کہ اردو مسلمانوں کی زبان ہے یا اسے صرف مسلمان بولتے ہیں یہاں تک کہ ایک جگہ تو برکت حسین جیسے مثبت کردار سے بھی یہ جملہ کہلواتے ہیں ’’بالمکند میاں تم سچ کہتے ہو ہم اردو بولتے ہیں اس لیے ہم اس ملک کے تیسرے درجہ کے شہری ہیں حالانکہ سارے ناول میں نہ تو اردو کے نام پر کوئی دنگا فساد ہوا،  نہ ہی اردو کی وجہ سے مسلمانوں سے کہیں گھٹیا سلوک کی مثال ملتی ہے   اور نہ ہی اردو کے نام پر کہیں مسلمانوں کا استحصال کیا گیا ہے اس سے ذوقی صاحب کیا اجاگر کرنا چاہتے ہیں قاری سمجھ نہیں پاتا۔ 
اسی سلسلے میں ایک   اور واقعہ کا ذکر غیر ضروری نہیں ہو گا کہ بالمکند شرما جوش پان کھانے کے بعد کہیں بھی تھوک دیتے تھے ایک بار جب انہوں نے برکت بھائی کے گھر میں اس کی طرف ایسے دیکھا جیسے پان دان طلب کر رہے ہوں تو برکت حسین کہتے ہیں ’’آج تمہیں پاندان کی ضرورت کیوں آن پڑی‘‘ ویسے ہی کرو نہ جیسے کرتے رہے ہو، دیوار کو رنگین بنا دو۔‘‘ یہ پڑھتے ہوئے احساس ہوا کہ خدا کا شکر ہے کہ اس طرح کی پرانی تہذیب مٹ گئی ورنہ جوش صاحب کے پیروکار کسی دیوار کو صاف ستھری نہ رہنے دیتے۔ 
ذوقی صاحب نے پانچ پاپیوں کو اعلیٰ اقدار کے نمونوں کے طور پر پیش کیا ہے لیکن قاری کو احساس ہوتا ہے کہ لوگ ہماری زندگی میں رنگ کیسے بھریں گے کہ ان کی اپنی زندگی کا مقصد تو صرف شراب پینا، شعری نشستوں میں شمولیت کرنا   اور مفت کی روٹیاں توڑنا ہے   اور یہ مثبت قدریں نہیں ہیں۔ 
ذوقی صاحب کے بیان میں دو خوبصورت   اور مکمل کرداروں کی تصویر کشی کی گئی ہے۔ ایک بالمکند شرما جوش   اور دوسرے برکت بھائی۔ لیکن یہ دونوں کردار بھی اس ’’موضوعاتی‘‘ ناول کے بوجھ تلے دب کر رہ گئے ہیں۔ بڑے ناقدین کی آراء سے کئی قلم کار صحیح راہ کا تعین کر لیتے ہیں لیکن ذوقی انہیں آراء کی وجہ سے ’’بیان‘‘ میں ایک اچھی بھلی ڈگر پر چلتے ہوئے غلط روی کا شکار ہو گئے۔ 

ذوقی کا جواب

 ’’تخلیق‘‘ کا تازہ شمارہ نظر سے گذرا۔ ساقی نارنگ کا ’’بیان‘‘ پر تجزیہ دیکھا۔ ان کی نیت   اور ایمانداری پر شبہ نہیں۔ پھر بھی کئی باتیں اپنی طرف سے کہنے کی اجازت چاہتا ہوں۔ مجھے لگتا ہے، نارنگ صاحب ’’بیان‘‘ کی تہہ میں اتر نہیں سکے۔ بیان میں میں نے ایک مشکل یا آپ کہہ سکتے ہیں ایسے موضوع کا انتخاب کیا ہے جس سے گزرنا کارِ دشوار تھا  اور مجھے یقین تھا کہ اس سفر میں مجھے داد کم   اور پتھر زیادہ پڑیں گے۔ میں ۲۴  مارچ ۱۹۶۲ء میں پیدا ہوا تب بھی فسادات ہو رہے تھے ۔۔۔تھوڑا بڑا ہوا تو ہندو پاک جنگ کی فضا قائم تھی۔۔۔اندر کے تخلیق کار نے قلم اٹھایا تو موضوعات کی تلاش میں۔ ہجرت، تقسیم کا المیہ، غلامی   اور فساد کے دائرے میں ایسا قید ہوا کہ میری زیادہ تر کہانیوں کے محرک یہی موضوعات ثابت ہوئے۔ اس سے پہلے کہ بیان پر کچھ باتیں کروں بہتر سمجھتا ہوں کہ اپنی دوسری کتابوں کا بھی ذکر چھیڑوں۔ 
مسلمان ۱۹۹۲ء میں چھپی۔ یہ ناول بھی اڈوانی کی رتھ یاتراؤں سے نکلا تھا۔ میں نے پیش لفظ میں لکھا: وہ فارس سے آئے تھے / وہ کابل سے آئے تھے / مگر وہ ملک کی تقسیم کے ذمہ دار نہیں تھے / وہ غدار نہیں تھے / جسم چھپانے کے لیے انہیں بھی ضرورت پڑتی تھی/ دو کپڑوں کی/ انہیں بھی بھوک لگتی تھی/ تیز دھوپ میں ان کا بدن بھی جھلستا تھا/ وہ سردی بھی کھاتے تھے /   اور بارش کا سہانا موسم بھی انہیں پسند تھا/ مگر وہ غدار نہیں تھے / محبت کرنا بھی جانتے تھے   اور نفرت بھی/ وہ عقیدت مند بھی تھے /   اور لادین بھی/ وہ پانچوں وقت کی نماز بھی پڑھتے تھے / وہ سچ بھی بولتے تھے   اور جھوٹ بھی/ اس لیے کہ وہ انسان تھے / ان کی شکل ان کے اندر سب کچھ عام انسانوں جیسے تھے / مگر وہ غدار نہیں تھے / انہیں بھی موت آئی تھی، ان کے بھی بچے تھے / بچے ہنستے تھے، کھیلتے تھے، لڑتے تھے، جھگڑتے تھے / غصے میں آلوک یارنجن کو پیٹ دیتے تھے / پھر دوستی کر لیتے تھے / مگر وہ غدار نہیں تھے / وہ سارے جیسے تھے / وہ تمہارے جیسے تھے / ان کے جسم میں خون کا بہاؤ بھی/ ایک جیسا تھا/ وہ فارس سے آئے تھے / وہ دنیا بھر سے آئے تھے / مگر وہ غدار نہیں تھے۔ 
ٹامس مان نے لکھا تھا ’’ہمارے بعد میں انسان کی قسمت کی تشریح اب سیاسی پس منظر میں بھی کی جائے گی۔‘‘ 
بدنام زمانہ ادیب رشدی کو بھی کہنا پڑا۔ ’’ادیب کا ایک کام اس بات کو بھی کہنا ہے جو کہی نہیں جا سکتی کہ اس بات کا اظہار بھی ہے جس کا اظہار نہیں کیا جا سکتا   اور پیچیدہ ترین سوالات کو اجاگر کرنا بھی ہے۔ 
نادین گاڈیمر نے اپنے ایک خطبے میں کہا___ ’’ادب سیاست کے مقدرات کے حصار میں ہی تخلیق پذیر ہوتا ہے۔ 
بریخت ہوں یا پراؤست، یہ بات تقریباً سبھوں نے مانی کہ اپنے عہدے سے نہ آنکھیں موندی جا سکتی   اور نہ ادب سے سیاست کو الگ رکھا جا سکتا ہے۔ 
سچ تو یہ ہے کہ میں نے بھی وہی کیا___ میں اپنی ذات  اور اپنے مسائل سے الگ نہ ہو سکا___ آزادی کے بعد کا ماحول جس میں میں نے سانس لیا وہی میرے لیے تخلیق کا زینہ ثابت ہوئے۔ مسلمان میں مجھے یہ بھی لکھنے کا جبر جھیلنا پڑا۔ فیوؤل سسٹم کی ساری کڑیاں ٹوٹ کر بکھرنے کے باوجود بھی آج کے مہذب سماج میں مسلمان کے لیے جھوٹے گلاس کو کوڑے دان میں پھینکنے کی روایت برقرار ہے۔ آگے یہ بھی لکھا۔ مسلمان صرف سید شہاب الدین تو نہیں، امام بخاری تو نہیں۔ 
 ’’مسلمان‘‘ کے دو حصے تھے۔ پہلا حصہ غلامی کے آخری دنوں سے ۱۹۸۶ء تک   اور دوسرا ۱۹۸۶ء سے ۱۹۹۰ء تک یعنی وہ دور جب اڈوانی کے رتھ یاترائیں پورے ملک میں فرقہ وارانہ فساد کرائے چل رہی تھیں۔ مسلمان کے بعد اس کے ایکسٹیشن کے طور پر میں نے بیان کی بنیاد ڈالی۔ میں نے ایک سیکولر کردار کا انتخاب کیا۔ بالمکند شرما جوش یعنی مشترکہ کلچر کا ترجمان ایک ایسا کردار جو رتھ یاتراؤں کے درمیان دھیرے دھیرے یا تو مرتا جا رہا ہے یا ختم ہوتا جا رہا ہے۔ میں نے زور اس بات پر دیا کہ ایسے کردار کی کھوج ضروری ہے۔ اس کردار کے المیہ کو پیش کرنے کے لیے بھی میں نے بابری مسجد کا سانحہ اٹھایا   اور پوری ذمہ داری کے ساتھ اسے ناول کے روپ میں قلمبند کیا۔ مجھے حیرت ہے کہ نارنگ صاحب اس کی چھوٹی چھوٹی باتوں کو بھی نہیں سمجھ سکے۔ در اصل ایسے تمام لوگوں کو ہندوستان میں لکھے جانے والے انتہائی کمزور ناولوں کو پڑھنے کی عادت پڑ گئی ہے بیان آج کے عہد کا استعارہ ہے۔ نوجوان نسل کی طرف سے ملنے والی داد میرے لیے اہم ہے جس نے بیان کا پر تپاک خیر مقدم کیا ہے۔ ہاں افسوس اس بات کا رہا کہ زیادہ تر لوگوں نے اس وجہ سے بھی اسے قبول کرنے سے انکار کیا کہ اس میں یہاں کی ایک مذہبی پارٹی کا صرف مذاق اڑایا گیا بلکہ اس کی اسٹرا بیٹی کو نمایاں طور پر قارئین کے سامنے رکھنے کی سعی بھی کی گئی ہے جو لوگوں کو پسند نہیں آئی۔ اردو میں آزادی کے بعد ایسا ناول نہیں لکھا گیا۔ ناقدین کی آراء میرے لیے زیادہ معنی نہیں رکھتیں۔ میں اپنی تخلیقی ذمہ داری جانتا ہوں   اور اسے نبھانے کا فن مجھے آتا ہے ___ بیان پر جو داد/ بے داد مجھے مل رہی ہے وہ اتنی دلچسپ ہے کہ اس پر الگ سے ایک مضمون لکھنے کا ارادہ ہے۔ اس وقت جو باتیں ذہن میں آئیں وہ آپ کو لکھ ڈالیں۔ باقی پھر کبھی۔ 
آپ کا ذوقی (مشرف عالم ذوقی۔ دہلی) 
تخلیق (پاکستان۔ اکتوبر ۹۶) 
٭٭٭



 ’’بیان‘‘ ایک مطالعہ

احمد صغیر

۱۹۸۰ء کے بعد اردو ناول کی دنیا میں اچانک تیزی آگئی۔ اس سے قبل قرۃ العین حیدر،  انتظار حسین وغیرہ کے علاوہ نئی نسل شش و پنج میں تھی کہ ان قد   اور ناول نگاروں کے سامنے اپنا ناول لے کر کس طرح سامنے آئیں۔ اس سے پیشتر افسانہ نگار ہمت اکٹھا نہیں کرپا رہے تھے کہ ناول کی طرف بھی رجوع کیا جائے۔ مزید بر آں ۱۹۶۰ء کی جدیدیت نے بھی اردو ناول کو سامنے آنے میں بہت بڑی رکاوٹ بنی ہوئی تھی کیونکہ ناول میں علامت،  ابہام   اور استعارے سے بہت زیادہ کام نہیں لیا جا سکتا تھا   اور ۶۰ء کے بعد کے افسانہ نگار یا ۷۰ء کے بعد کے افسانہ نگار بیانیہ کی طرف لوٹنا نہیں چاہتے تھے   اور اس بات کو شدت سے محسوس کر رہے تھے کہ ناول میں بیانیہ عنصر ہونا لازمی ہے۔ اس کے بغیر عام قاری کی دلچسپی ناول کی طرف نہیں ہو گی۔ اور اردو افسانے کی طرح ناول بھی قاری سے کٹ کر رہ جائے گا۔ ان جدیدیوں کی مشکل نویں دہائی کے افسانہ نگاروں نے آسان کر دی۔ جب ۱۹۸۰ء کے بعد ابھرنے والے افسانہ نگاروں نے بیانیہ   اور جدیدیت کے بین بین راستہ نکالا   اور ایک بار پھر سے افسانے کا رشتہ قاری سے جوڑ دیا تو ان سے پہلے کے افسانہ نگاروں کی ہمّت میں اضافہ ہوا   اور تب وہ ناول کی طرف راغب ہوئے۔ جس کے نتیجے میں عبد الصمد کا ناول ’’دو گز زمین‘‘ پیغام آفاقی کا ناول ’’مکان‘‘   اور غضنفر کا ناول ’’پانی‘‘ منظرِ عام پر آیا۔ دو تین سال کے وقفے میں اچانک تین ناولوں کا منظر عام پر آنا اردو ناول کی دنیا میں ہنگامہ برپا کر دیتا ہے بنیادی طور پر یہ تینوں ناول نگار افسانہ نگاری کی حیثیت سے مشہور تھے  اور ناول میں ان کی اولین کوششیں تھیں بہر حال اردو ناقدوں نے ان ناولوں کو ہاتھوں ہاتھ لیا   اور کچھ خامیوں کے باوجود ان کی پذیرائی بھی ہوئی۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ اردو میں ناولوں کی بے حد کمی تھی   اور نئے ناول نگاروں کی حوصلہ افزائی بھی کرنی تھی تاکہ دوسرے افسانہ نگار بھی اس طرف توجہ کر سکیں   اور اسی حوصلہ افزائی کے نتیجے میں ’’دو گز زمین‘‘ کو ساہتیہ اکادمی ایوارڈ بھی مل گیا۔ اس کے بعد حسین الحق کے دو ناول ’’بولو مت چپ رہو‘‘   اور ’’فرات‘‘ منظرِ عام پر آئے لیکن یہ دو ناول قارئین پر کچھ خاص اثر نہ چھوڑ سکے۔ البتہ صلاح الدین پرویز کا ناول ’’آئیڈنٹی کارڈ‘‘ نے ساہتیہ اکادمی ایوارڈ حاصل کر کے ناول کے قارئین کو اپنی طرف زیادہ متوجہ کیا لیکن ’’آئیڈنٹی کارڈ‘‘   اور ’’گیان سنگھ شاطر‘‘ متنازعہ بھی بنے رہے۔ اس کے برعکس بہت خاموشی کے ساتھ الیاس احمد گدّی کا ناول ’’فائیر ایریا‘‘ منظرِ عام پر آ کر اپنی اہمیت منوا لیتا ہے   اور اردو ناولوں میں ایک اہم اضافہ بن جاتا ہے   اور پھر نئے ناولوں کی کھیپ شروع ہو جاتی ہے۔ غضنفر کے کئی ناول، انور خان کا ایک ناول، شموئل احمد کا ندی، علی امام نقوی کا ناول ’’تین بتّی کے رما‘‘ جوگندر پال کا ’’ناریہ‘‘ صلاح الدین پرویز کا ’’نمرتا‘‘ عبد الصمد کا ’’مہاتما‘‘   اور ’’خوابوں کا سویرا‘‘ سید محمد اشرف کا ’’نمبردار کا نیلا ’’   اور مشرف عالم ذوقی کے کئی ناول منظر عام پر آئے ہیں لیکن ذوقی کا ناول ’’بیان‘‘ ناول کے قارئین کو اپنی طرف زیادہ متوجہ کرتا ہے۔ یہاں اس مضمون میں ’’بیان‘‘ پر ہی میں تفصیلی گفتگو کروں گا___
مشرف عالم ذوقی ۱۹۸۰ء کے بعد ابھرنے والے افسانہ نگار   اور ناول نگار ہیں۔ اب تک ان کے چار افسانوی مجموعے   اور چھ ناول منظرِ عام پر آ چکے ہیں لیکن ان میں ’’بیان‘‘ زیادہ موضوع بحث بن گیا ہے۔ 
 ’’بیان‘‘ کا موضوع ’’چھ دسمبر‘‘ ہے۔ چھ دسمبر جو ہندوستانی تاریخ کا سب سے بدنما دن کہا جاتا ہے   اور کہا جائے گا۔ جس دن جمہوریت کو بالائے طاق رکھ کر شدت پسند عناصر نے قدیم ترین بابری مسجد کو شہید کر کے وہاں رام للّا کی مورتی نصب کر دی۔ بابری مسجد کا شہید ہونا ایک المیہ تو کہا جا سکتا ہے لیکن اس کے نتیجے میں پورے ملک میں ہوئے فساد کو کبھی فراموش نہیں کیا جائے گا جس میں نہ جانے کتنے بے گناہ لوگوں کی جانیں مفت میں ضائع ہو گئیں   اور اس کے بعد جس طرح فرقہ پرستی کا جال پورے ملک میں پھیلا اُسے بھی بھلایا نہیں جا سکتا۔ 
 ’’بیان‘‘ کا کینوس مختصر ہونے کے باوجود جامع ہے۔ بالمکند شرما جوش جو اس ناول کا ایک اہم کردار ہے مشترکہ تہذیب کا علمبردار ہے ان کا بیٹا انل کانگریس پارٹی کا ممبر ہے تو دوسرا نریندر بھاجپا کا دونوں بیٹے   اور بہوؤں کی مسلم دشمنی شباب پر ہے کیونکہ ان کی تربیت بالمکند جوش کے ہاتھوں نہ ہو کر ان کی بیوی کے ہاتھوں ہوئی ہے۔ وہ ایک روایت پسند عورت تھی۔ بالمکند شرما جوش کے ایک مسلم دوست چودھری برکت حسین بھی ہیں جو مٹتی تہذیب کا رونا ہر وقت روتے رہتے ہیں۔ ان کا ایک بیٹا تنویر عرف منّا ہے جسے بعد میں تحسین بھی لکھا گیا ہے۔ شاید یہ پروف کی غلطی ہے، وہ زمانہ پرست ہے   اور پریکٹیکل لائف جینا چاہتا ہے۔ منّا کہتا ہے :۔ 
 ’’خوشبو سونگھنے سے اللہ میاں پیسے تھوڑے ہی برسا دیں گے ۔۔۔ارے پریکٹیکل بیٹے۔ ابّا میاں ! پریکٹیکل۔ سب سے ضروری چیز آج کے زمانے میں پیسہ کمانا ہے۔‘‘ 
منّا کی بیوی شمیم   اور ایک چھوٹی سی بیٹی نشی ہے۔ منّا بجلی کے شعبے میں ملازم ہے۔ پانچ پاپیوں کا بھی کردار ہے جو بے روزگار نوجوان ہیں   اور شاعری سے شغف فرماتے ہیں۔ اس کے علاوہ ملکانی،  سودھیندورائے ،  ڈاکٹر نویندو،  نیل کنٹھ وغیرہ کے کردار ہیں جو نہ صرف بھاجپا کے لیڈر یا ممبر ہیں بلکہ شہر کی فضا کو بگاڑنے میں پیش پیش رہتے ہیں۔ ان ہی کی وجہ سے منّا کا قتل بھی ہوتا ہے   اور بڑے پیمانے پر شہر میں فساد بھی برپا ہوتا ہے۔ 
پورا ناول بالمکند شرما جوش کے ارد گرد گھومتا رہتا ہے۔ اگر بالمکند شرما جوش کو اس ناول کا ہیرو کہا جائے تو بیجا نہ ہو گا۔ باقی کردار ان کے ارد گرد گھومتے رہتے ہیں   اور کوئی بھی کردار مکمل طور پر اُبھر کر سامنے نہیں آتا ہے۔ ایک بہت اہم کردار منّا کا تھا جو ناول کا حقیقی ہیرو ثابت ہو سکتا تھا لیکن اس کی ذہنی کشمکش   اور بھاجپائیوں کے جال میں پھنس کر جان گنوا دینا اُس کردار کو کمزور کرتا ہے۔ انل کا کردار آج کی کانگریس پارٹی کی صحیح تصویر پیش کرتا ہے جو صرف اپنا فائدہ دیکھتا ہے   اور اپنی پتنی تلسی کا کہنا مان کر گھر کا بٹوارا چاہتا ہے۔ گھر کے بٹوارے کا حامی نریندر بھی ہے لیکن بالمکند کے سامنے کسی کی زبان ٹھیک سے نہیں کھل پائی ہے۔ نریندر کی پتنی اوما کا کردار دیرپا اثر چھوڑتا ہے۔ پہلے مسلمانوں سے نفرت   اور برکت حسین کی آمد پر اسکی ناگواری صاف جھلکتی ہے لیکن جب اس کی بیٹی مالو بے حد بیمار پڑتی ہے تو منّا   اور اس کی بیوی شمیم اسپتال میں اس کی تیمارداری کر کے اس کی جان بچا لیتے ہیں۔ وہ اسی وقت سے ان لوگوں کی گرویدہ ہو جاتی ہے   اور نہ صرف ان کے گھر آنے جانے لگتی ہے بلکہ ان کے گھر کا کھانا بھی کھانے لگتی ہے   اور ایک دن اپنے شوہر نریندر سے کہتی ہے : 
 ’’سیاست چھوڑ کیوں نہیں دیتے۔ بزنس میں دل لگاؤ یا جس میں تمہارا دل لگے ۔۔۔ ‘‘ 
 ’’پر یہ یقین ہوا ہے کہ جو سیاست فرق پیدا کرتی ہے وہ غلط ہے جو نفرت سکھاتی ہو وہ غلط ہے، جو بھید بھاؤ   اور ذات پات پھیلاتی ہو وہ غلط ہے۔‘‘ 
 ’’تمہاری جگہ کوئی دوسرا باپ ہوتا تو وہ بھائی صاحب (منّا) کا شکریہ ادا کرنے ضرور جاتا   اور ایک تم ہو یہاں بیٹھے ناراض ہو رہے ہو۔‘‘ 
در اصل یہ مکالمے اوما کی تبدیلی کے غماز ہیں کہ انسانیت کی ایک چھوٹی سی کوشش اس کی ساری دقیانوسیت، قدامت پرستی   اور فرقہ پرستی کی دیوار گرا دیتی ہے۔ در اصل یہی جذبہ   اور یہ تبدیلی ذوقی ہر انسان میں دیکھنا چاہتا ہے۔ اس کردار کے ساتھ ذوقی نے بھرپور انصاف کیا ہے۔ 
ناول ’’بیان‘‘ کا بنیادی موضوع چھ دسمبر   اور اس کے بعد رونما ہونے والا فساد ہے۔ ذوقی نے مشترکہ کلچر کو سامنے رکھ کر ناول کا تانا بانا بُنا ہے۔ مشترکہ کلچر جو روز بروز مٹ رہا ہے اس کا آخری نمائندہ بالمکند شرما جوش ہے جن کے آباء و اجداد جاگیردار ہوتے ہوئے بھی فارسی   اور اردو کے دلدادہ تھے   اور شعر شاعری کی محفلیں ان کے گھروں میں ہوتی تھیں۔ اس مشترکہ تہذیب کے آخری چراغ بالمکند شرما چاہتے ہیں کہ اس مشترکہ تہذیب کو ان کی اولادیں بھی آگے بڑھائیں لیکن ان کی اولادیں ابن الوقت ثابت ہوتی ہیں   اور اس لیے کبھی کبھی بالمکند جوش کو انل   اور نریندر کو اپنی اولادیں ہونے پر شبہ ہے لیکن انل   اور نریندر ان باتوں سے بے نیاز اپنی دنیا میں مگن رہتے ہیں  اور اپنے طور پر زندگی جینا چاہتے ہیں۔ انہیں اس کی فکر نہیں کہ ان کے پتا بالمکند یا دوسرے لوگ ان کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں۔ بالمکند کی دلی خواہش تھی کہ انل   اور نریندر میری طرح اردو پڑھتے ،  شعرو شاعری کرتے   اور مسلمانوں کی آمدو رفت باقی رہتی لیکن نریندر   اور انل اس کے سخت مخالف تھے۔ نریندر تو ہر مسلمان کے آنے پر پابندی لگا دیتا مگر ساری جائیداد چونکہ بالمکند کے ہاتھ میں تھی اس لیے خون کا گھونٹ پی کر رہ جاتا ہے۔ 
اس ناول میں سب سے کمزور کردار انل   اور تلسی کا ہے۔ انل کو صرف باؤ جی کی جائیداد حاصل کرنے کے لیے اکساتی رہتی ہے۔ بالمکند کے ساتھ ان کی ہمدردی محض جائیداد تک ہی محدود رہتی ہے۔ سب سے غیر فطری تو وہاں پر لگتا ہے جب اوما کی بیٹی مالو سخت بیمار پڑتی ہے   اور تلسی گھر میں ہوتے ہوئے بھی اس کی کوئی مدد نہیں کرتی جبکہ منّا   اور شمیم باہر سے آ کر اس کی مدد کرتے ہیں جو غیر بھی ہیں   اور دوسرے مذہب سے بھی تعلق رکھتے ہیں۔ عورت لاکھ بری ہو،  لاکھ دشمن ہو لاکھ سنگ دل ہو لیکن مصیبت کے وقت اس کا دل پگھل جاتا ہے   اور وہ بھی جب کوئی ننھی سی بچی زندگی   اور موت سے لڑ رہی ہو۔ 
پانچ پاپیوں کا کردار آج کے بے روزگار مسلم نوجوانوں کی نمائندگی کرتا ہے۔ ان کی فکر ان کے طور طریقے ،  ان کے سوچنے کا انداز،    اور آوارہ گردی بالکل فطری   اور واجب ہے۔ آج کے مسلم نوجوانوں کی جو حالت ہے وہ ان میں صاف جھلکتی ہے۔ ذوقی اگر چاہتے تو ان کرداروں سے کوئی اہم کام لے سکتے تھے لیکن انہیں بھی بالمکند شرما کے ارد گرد گھما کر رہ گئے۔ ایک دو جگہ ایسا لگتا ہے کہ یہ کردار حرکت میں آئیں گے   اور ناول کو کوئی نیا موڑ دیں گے لیکن ایسا کچھ نہیں ہوتا ہے۔ 
میں نے اوپر ہی کہا ہے کہ ناول ’’بیان‘‘ چھ دسمبر نے فساد   اور مشترکہ تہذیب کا غماز ہے اس لیے بالمکند سے اتنا ہی کام لیا گیا ہے جتنا ذوقی کو ضرورت تھی۔ بالمکند کا کردار اہم کردار ہے جو بیک وقت دو زندگی جی رہا ہے۔ ایک جو اس کا اثاثہ ہے   اور ایک جو اس کی اولادیں یا سماج اُسے جینے پر مجبور کر رہی ہیں۔ یہاں ایک سوال ناول نگار قاری کے لیے چھوڑتا ہے کہ چونکہ بالمکند کے پاس جائیداد ہے اس لیے اس کے سارے نخرے ان کے بیٹے   اور بہوئیں برداشت کر رہی ہیں لیکن جو باپ بیٹے کا دست نگر ہوتا ہے اس کا حال کیا ہو گا   اور کس طرح وہ اپنی شکست قبول کر لیتا ہو گا۔ بالمکند اپنے گھر میں اپنے ملک میں   اور اپنے اندر لر رہا ہے   اور جیتے جی گھر کا بٹوارہ نہیں ہونے دیتا ہے۔ گھر کا بٹوارہ در اصل ملک کے بٹوارے کی علامت کے طور پر ذوقی نے پیش کیا ہے۔ ذوقی کہنا چاہتے ہیں کہ اگر ایک آدمی بھی بالمکند کی طرح مشترکہ کلچر کا علمبردار ہو گا ملک کو بٹنے نہیں دے گا۔‘‘ 
کانگریس   اور بھاجپا کی پالیسی کو ذوقی نے بخوبی سمجھا ہے   اور اس لیے ایک ہی گھر میں کانگریس   اور بھاجپا کا ممبر رکھ کر دونوں کی ذہنیت کو قاری کے سامنے پیش کیا ہے کہ یہی وہ ناسور ہیں جو ملک کو توڑ رہے   اور مزید توڑنا چاہتے ہیں۔ 
اس ناول کی ایک خوبی یہ ہے کہ ذوقی کہیں بھی خوف زدہ نظر نہیں آتا ہے۔ سیاسی مسئلہ اٹھائے ہوئے اکثر فنکار یا تو بیچ کا راستہ اختیار کرتے ہیں یا اُس سے گریز کرتے ہیں لیکن ذوقی نے جو بھی بات کہی ہے دونوں کہی ہے جس سے ان کے نظریے   اور فکر کا پتہ چلتا ہے ایک مکالمہ دیکھیے :
 ’’یہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر تم پر پابندی عاید کریں گے۔ اذان لاؤڈ اسپیکر سے مت دو۔ اتنی بڑی تعداد میں مسجد مت جاؤ۔ نماز مت پڑھو۔ تم کیا سمجھتے ہو عرب ممالک۔۔۔وہ اسلامی ممالک جن پر تم فخر کرتے ہو تمہاری مدد کو آ جائیں گے ؟ انہوں نے ایران،  عراق کی مدد کی؟ ___ صمالیہ کی مدد کی۔۔۔تمہاری کیوں مدد کرنے آئیں گے یہ ۔۔۔زیادہ سے زیادہ یہی ہو گا اپلاؤ گے ۔۔۔مجھے لگتا ہے یہ لوگ یہی چاہتے ہیں تم لوگ اپنے ہوش گنوا دو۔ آتنک پر اُتر آؤ۔ تاکہ یہ تمہارا استحصال کر سکیں۔ تم پاگل ہو جاؤ تاکہ پاگل کتوں کو شوٹ کرنے کا اچھا سا بہانہ مل جائے۔‘‘ 
یہ مکالمے آج کی موجودہ صورت حال کی عکاسی کرتے ہیں۔ آج یہی بھاجپا   اور آر۔ ایس۔ ایس کر رہی ہے۔ ذوقی کے یہ مکالمے بالکل حقیقت پر مبنی ہیں   اور بھاجپا، آر ایس ایس یا بجرنگ دل جیسے ادارے کو بخوبی سمجھ کر ہی یہ مکالمے لکھے ہیں۔ لیکن دوسری طرف مسلمانوں کے نظریات کو بھی واضح کیا ہے ایک دوسرا مکالمہ دیکھئے :۔ 
 ’’اب اپنے جوش صاحب کو دیکھئے۔ یہاں مشاعرے میں آتے ہیں۔ نعت پڑھتے ہیں   اور وہاں ان کا لڑکا سبھائیں بلواتا ہے۔ مسلمانوں کے خلاف بولتا پھرتا ہے ۔۔۔ہے ۔۔۔کیا نازک زمانہ ہے۔ تلوار بھی چلاؤ   اور مرہم پٹّی بھی کرو۔ ارے میں کہتا ہوں سب بے کار۔ شعر شاعری میل ملاپ کی باتیں ۔۔۔آخر تم۔۔۔ ‘‘ 
اس مکالمے سے مسلمانوں کی ذہنیت کا اندازہ بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ اس کے بیٹے کی وجہ سے اس کا سیکولر باپ بھی مشکوک ہو رہا ہے۔ اُسے بھی شک کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔ مسلمانوں کے بدلتے مزاج   اور ان کی سوچ کو ذوقی نے پوری طرح اُبھارا ہے۔ اس طرح دونوں فرقے میں توازن برقرار رکھا ہے کہ اس طرح کی سوچ کے لوگ دونوں طرف ہیں جو مشترکہ کلچر کی راہ میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ 
ایک مکالمہ   اور ملاحظہ فرمائیے :
 ’’جوش صاحب ٹھہر ٹھہر کر بولے ___ بچو ! بُرا مت ماننا۔ تمہیں ایک شکایت یہ بھی ہے نا کہ سنتوش کمار کیوں کامیاب ہوا،  تم کیوں نہیں ہوئے۔ کوئی سلیمان بھائی کیوں نہیں ہوا۔۔۔ان کے چہرے پر ایک طنزیہ ہنسی تھی___ ٹھیک کہتے ہو___‘ میرے لڑکے بھی یہی کہتے ہیں ۔۔۔اردو آپ کی زبان نہیں ۔۔۔مسلمانوں کی زبان ہے۔ تم بھی یہی کہتے ہو۔ کسی سنتوش کمار کو کیوں لیا گیا۔۔۔کسی مسلمان کو کیوں نہیں لیا گیا۔‘‘ 
ہمارے سماج کی یہی سچّی تصویر ہے۔ ہماری سوچ محدود ہو گئی ہے۔ ذات پات   اور فرقے میں ہر معاملے کو دیکھنے   اور پرکھنے کی کوشش سے انسان کو اپنی سطح سے کتنا گرا دیا ہے اس کا اندازہ اس مکالمے سے لگایا جا سکتا ہے۔ 
میرا ماننا ہے کہ پہلی بار کسی ناول نگار نے کسی سیاسی پارٹی یا فرقہ پرست جماعت کو اس طرح نشانہ بنایا ہے   اور بے نقاب کیا ہے۔ یہ نئی نسل کی ہی ہمت ہے جو اس قدر بے با کانہ انداز میں قلم اٹھا سکتا ہے۔ ایک اقتباس ملاحظہ فرمائیے :
 ’’وہ ٹھہرتے ہیں ۔۔۔پھر لکھتے ہیں ۔۔۔میں دیکھ رہا ہوں ۔۔۔وہ پھیل رہے ہیں ۔۔۔یہ چاروں طرف پھیل رہے ہیں   اور کیا دن وہ آسمان،  زمین،  چٹان،  نالے ،  سمندر سب کو ڈھک لیں گے۔ وہ ہر جگہ حاوی ہو جائیں گے وہ۔ صرف وہ رہیں گے   اور ۔۔۔سب کچھ ختم ہو جائے گا۔۔۔کوؤں   اور گدھوں کی حکومت رہ جائے گی بس۔ سوچتا ہوں تو جیسے خود پر افسوس آتا ہے کچھ‘‘ 
اس ناول کا بغور مطالعہ کیا جائے تو اندازہ ہو گا کہ بالمکند شرما جوش جو بیان دینا چاہتے تھے وہ ناول میں جگہ جگہ موجود رہے یا پھر بالکل ہی نہیں ہے۔ ناول نگار نے بیان کو واضح نہ کر کے قاری کے لیے ایک سوال چھوڑ دیا ہے کہ وہ کون سا بیان دینا چاہتے تھے ؟ لیکن ناول میں جگہ جگہ بالمکند میں مختلف بیانات دیکر ایک طرح سے اپنا بیان واضح کر رہا ہے ___ پانچ پاپیوں کے سامنے ایک دن وہ بیان دیتے ہیں کہ ان کو یہ لگتا ہے کہ اولادیں ان کی نہیں ہیں۔ دوسری جگہ وہ سب کے سامنے کہتے ہیں کہ ’’میں جیتے جی گھر کا بٹوارہ نہیں ہونے دوں گا۔‘‘   اور پھر تیرے اندر ہی اندر ایک سیکولر انسان کا مرنا۔ 
یہ وہ بیان ہیں جو بالمکند شرما نے مختلف موقعوں پر دیئے ہیں یا خود کلامی کے انداز میں کہا ہے۔ ان بیانات کے بعد پھر کوئی بیان دینے کی ضرورت باقی نہیں رہ جاتی۔ 
ناول ’’بیان‘‘ کا اسلوب سادہ   اور سپاٹ ہے جس کی وجہ سے قاری کو متاثر کرتا ہے   اور باندھ کر دیکھتا ہے خود کلامی کا حصہ کچھ  اور کم ہوتا تو زیادہ اچھا ہوتا۔ 
٭٭٭


’بیان‘ ایک قابلِ ذکر ناول 

منظر مظفر پوری

ہم عصر ہندوستانی معاشرہ گرچہ متعدد مسائل سے دوچار ہے۔ لیکن فرقہ واریت   اور دو نسلوں کے درمیان حائل نظریاتی اختلافات، یہ دو سنگین مسئلے ملک کی جمہوری و تہذیبی فضا پر آتش فشاں سے کم نہیں ہیں۔ 
 ’’بیان‘‘ انہیں سلگتے موضوعات پر لکھا گیا ایک فکر انگیز ناول ہے۔ ۲۵۹ صفحات پر مشتمل یہ کتاب حال ہی میں تخلیق کار پبلشرز نئی دہلی نے شائع کی ہے۔ 
مشرف عالم ذوقی جو مذکورہ ناول کے مصنف ہیں، دنیا کے ادب میں بحیثیت افسانہ ناول نگار محتاج تعارف نہیں ہیں۔ بقول ڈاکٹر محمد حسن ذوقی بڑے اہم موضوعات پر بڑے پن کی کہانیاں لکھ رہے ہیں۔ اردو میں ایسا کوئی نہیں۔‘‘ 
ناول کو معتبر بنانے میں مصنف کے نہ صرف ذاتی تجربات و مشاہدات نے مدد کی ہے بلکہ اس کے منفرد اسلوب، منطقی سوچ، تجرباتی فکر   اور تعصب سے پاک ذہن کا بھی اس میں اہم دخل ہے ناول کے سارے کردار حقیقی ہیں۔ ان کرداروں کے مسائل ان کی پریشانیاں   اور ان کے افکارو حرکات سے وقوع پذیر ہونے والے واقعات و حادثات مصنوعی نہ ہونے کے باعث ہمیں اپنی طرف متوجہ کرانے میں کامیاب ہیں۔ 
ناول کے مرکزی کردار چودھری برکت حسین   اور بالمکند شرما جوش، دونوں ایک دوسرے کے قلبی دوست ہیں۔ زندگی کے ہر نشیب و فراز پر دونوں نے ایک دوسرے کے کندھے سے کندھا ملا کر مصائب و آلام کا سامنا کیا ہے۔ ایثارو مروت کا وہ جذبہ   اور اخوت و ملت کا سرور آج بھی دونوں کے دلوں میں ترو تازہ ہے۔ لیکن اپنی سیکولر فکرو افعال کے تئیں لوگوں کے دلوں میں در آئیں۔ حقارتوں کو محسوس کر کے چودھری برکت حسین   اور بالمکند جوش بے حد رنجیدہ رہنے لگے ہیں۔ جانے کس کی نظر لگ گئی ہے اس ملک کو۔ جھگڑا تو پہلے بھی ہوا ہے۔ گولیاں بھی چلی ہیں۔ جان و مال کی زبردست تباہی بھی ہوئی ہے۔ اور ان سب کے پیچھے جو مقصد کار فرما تھا، وہ تھا حصول آزادی، یا اس سے زیادہ تقسیم ملک، لیکن اب جو جھگڑا فساد ہو رہا ہے   اور جان و مال کی جو زبردست تباہی ہو رہی ہے تو صرف دلوں کے بٹوارے کے لیے تاکہ ملک کی جمہوریت کا شیرازہ بکھر جائے۔ سیکولر ذہن منتشر ہو کر فرقہ پرست بن جائے   اور پھر وہ سب کچھ ہونے لگے جو مفاد پرستوں کا نصب العین ہے۔ سیکولر تہذیب کی زندہ مثال چودھری برکت حسین   اور بالمکند جوش جیسے لوگوں کے لیے اب اس ملک میں کوئی عزت رہی نہ کوئی گنجائش۔ 
ناول کے مندرجہ ذیل اقتباسات انہیں المیات کی آئینہ داری کرتے ہیں۔ 
 ’’یار برکت حسین نئے بچوں سے پوچھو تو غالبؔ اقبال کے نام پر بغلیں جھانکیں۔ کون ہیں یہ ؟ میری پوتی مالو پوچھتی ہے ۔۔۔ددو۔۔۔آپ مسلمان ہیں کیا۔۔۔آپ اردو پڑھتے ہیں ۔۔۔اردو۔ مسلمان۔ بچے بھی پوچھتے ہیں مجھ سے۔ آخر مسلمانوں سے کیا ہمدردی ہے مجھے۔ کیوں ان کا کچھ لیتا ہوں۔ ان کے بارے میں برا کیوں سننا نہیں چاہتا۔ اس کا الٹا جواب بھی ہو سکتا ہے کہ میاں ہمدردی نہیں ہونے کی وجہ کیا ہے   اور ان کے بارے میں برا کیوں سننا چاہوں گا۔ میاں، جب برسوں سے ،  مدتوں سے رہنا سہنا ایک ساتھ ایک طرح سے ہوا ہے تو پھر ان سے خود کو کاٹنے کی بات کیسے سوچوں برکت حسین۔ اب تو ہم تم جسم کے ایک ٹکڑے ہی لگتے ہو۔ تمہیں تکلیف ہوتی ہے تو دل پر چوٹ پہنچتی ہے۔ بچے اس درد کو نہیں سمجھتے۔ بچے اردو   اور مسلمان جانتے ہیں۔ بچے نیا اتہاس  اور نیا سبق چاہتے ہیں۔‘‘ 
 ’’ہم اردو بولتے ہیں۔ اس لیے ہم اس ملک کے تیسرے درجے کے شہری ہیں۔ انہیں حق حاصل ہے کہ ہمیں خوفزدہ کر کے ہمارے گھر کی تلاشی لے سکتے ہیں۔ قانون قاعدے، اب ہمارے لیے نہیں رہے جوش میاں ۔۔۔لگتا ہے ۔۔۔دھیرے دھیرے مسلمانوں کے لیے تہذیب   اور سیکولر تہذیب کے طور طریقے سب اٹھتے جا رہے ہیں۔‘‘ 
ناول کا دوسرا موضوع ہے نظریاتی اختلافات جو دو نسلوں کے تہذیبی و ادبی رشتے کی بے حرمتی کے ذمہ دار ہیں   اور یہ نظریاتی اختلافات کہیں   اور ہے نہیں بلکہ فرقہ پرستی کے بطن سے پیدا ہوا ہے۔ مثلاً ایک ہی گھر کا ایک فرد اگر خوف ملت کا پروردہ ہے تو دوسرا فرقہ پرستی کا دلدادہ۔ یہاں پر ایک بات کی وضاحت ضروری سمجھتا ہوں کہ یہ نظریاتی اختلافات صرف فرقہ پرستی کی ہی دین نہیں ہیں بلکہ اس کی ذمہ دار Modernity بھی ہے۔ اسی موڈرنٹی نئے تہذیب کی تعریف میں انقلاب پیدا کیا ہے۔ ناول کے چند اقتباسات ملاحظہ فرمائیے۔ 
 ’’نئے بچے اڑن کھٹولے پر سوار ہیں۔ نئی نئی چیزیں ۔۔۔ریڈیو وغیرہ تو پرانے پڑ گئے ہیں میاں ۔۔۔اب کیبل ہے، اسٹار ہے، زی ٹی وی ہے، اے۔ ٹی۔ این ہم بس بچوں سے سنتے رہتے ہیں۔ پاپ میوزک ہے۔ تم کہو بالمکند، کل کو ہم ذرا زور سے بول سکتے تھے۔ چیخ سکتے تھے، تہذیب کو بالائے طاق رکھ سکتے تھے۔‘‘ 
 ’’یہ سب ۔۔۔یہاں بالمکند شرما جوش ۔۔۔تم ایک مرتی ہوئی صدی کا تماشہ دیکھنے کے لیے زندہ ہو۔ اپنے گھر میں ہی کس پر ادھیکار ہے تمہارا؟ اپنے بچوں پر۔۔۔ ؟
ایک گھٹی ہوئی سانس چھوڑتے ہیں وہ۔۔۔ 
میرے بچے کہاں ہیں ۔۔۔یہ تو بھاجپائی ہیں یا کانگریسی۔ یہ میرے بچے نہیں ہیں۔‘‘ 
یہ بچے کیا سمجھتے ہیں اپنے آپ کو۔۔۔ہر برے کام  اور برائی کو کیسے کیسے ناموں سے تسلی   اور پنیہ قرار دیتے ہیں۔ پھر اس دلیل کے ذریعہ اپنا ہی گھر توڑنے میں لگ جاتے ہیں ۔۔۔ 
لیکن یہ بچے ان کے بچے کہاں ہیں ۔۔۔یہ تو بھاجپائی ہیں ۔۔۔یا  گانگریسی۔۔۔یہ ان کے بچے کہاں ہیں۔‘‘ 
 ’’کبھی کبھی پرانے ساز چھیڑ کر رلا دیتے ہو تم بھی۔ آخر کیا سننا چاہتے ہو تم۔ کیوں یہ گلے شکوے کر بیٹھ جاتے ہو۔۔۔تم اخلاق   اور تہذیب کی ان نسلوں کی آخری کڑی ہو۔ سمجھے آخری کڑی۔ اس کے بعد اس ملک کا خدا حافظ۔ ہم نہیں ہوں گے، اور یہی سوچ کر دہشت ہوتی ہے کہ یہ ملک کن لوگوں کے ہاتھوں میں چلا جائے گا۔ یہ پرانی تہذیب کن لوگوں کے پاس رکھیں گے۔ ہماری خون محنت سے سینچی گئی آزادی کا کیا ہو گا۔‘‘ 
سیکولر سوچ رکھنے والا خواہ مسلمان ہو یا ہندو، عدم تحفظ کا خطرہ دونوں کے لیے یکساں ہے۔ ناول کا مندرجہ ذیل اقتباس اس سچائی کا ترجمان کرتا ہے۔ 
 ’’اب تم بھی خطرے میں ہو بالمکند شرما جوش‘‘ 
 ’’کیوں ؟‘‘ 
تمہارے نام کے ساتھ ’جوش‘ لگا ہے ۔۔۔آدھے سد میں ‘‘ 
سننا چاہتے ہیں۔ ’’میاں ایسا ہوا تو ازار بند کرنے کو۔۔۔ 
چودھری / برکت حسین زور دار قہقہہ لگاتے ہیں۔ اور پھر قہقہہ لگاتے ٹھہر جاتے۔ بالمکند شرما چپ ہو گئے ہیں۔ آنکھوں میں شاید بیٹے اتہاس کے کانٹے چبھ گئے ہیں۔ 
کھولو گے تب بھی فرق نہیں پڑے گا۔ برکت حسین پن ڈبے سے پان نکالتے ہیں۔ ’’تب بھی فرق نہیں پڑے گا جوش بہادر۔ کیوں کہ اب ہمارے بعد تم ہو۔۔۔تم جیسے سیکولر سوچنے والے۔ اب وہ چن چن کر تمہیں ختم کریں گے۔ تم جہاں کہیں بھی ہو گے تمہیں تلاش کر دیں گے۔ 
نیل کنٹھ سیاسی،  سوجھ بوجھ رکھنے والا ناول کا ایک تیز طرار کردار ہے۔ اسی کی زبانی ایک چھوٹا سا اقتباس ملاحظہ فرمائیں دہشت گرد زمانوں کی سیاسی گٹھ جوڑ کا پردہ فاش کرتا ہے۔ 
ایک ڈنڈے سے آپ سارے جانور کو تو ہانک نہیں سکتے۔ نہیں سکتے نا۔ سو کئی لوگ ہوتے ہیں   اور جانور بھی الگ الگ مزاج کے  اور سمجھانا پڑتا ہے سبکو۔ یہ تو جانوروں کی بات ٹھہری   اور یہ بات دیش کی ہے۔‘‘ 
 ’’پہیلیاں کیوں بجھاتے ہیں نیل کنٹھ صاحب‘‘ 
 ’’تو صاف صاف سنئے۔ اب آپ تل ہی گئے ہیں تو۔۔۔، مونچھ اینٹھتے ہیں نیل کنٹھ پھسپھسانے والے انداز میں گویا ہوتے ہیں۔ ’’سب ایک ہے۔ آپ کو تو پتہ ہی ہے۔ آر ایس ایس، بھاجپا، وشو ہندو پریشد   اور بجرنگ دل ایک ہی چیز ہیں۔ قاعدے قانون   اور سہی پرشکھچن کے لیے آر ایس ایس ہے۔ لڑنے مرنے کے لیے فوج کا کام کرتی ہے۔ بجرنگ دل   اور راج نیتک استعمال کے لئے ہے بھاجپا۔‘‘ 
   اور یہ اقتباس فرقہ پرست ذہن کی شطرنجی چالوں کا ترجمان ہے۔ 
امرجیت نے کہا۔ ’’مسلمان بھائی ہماری پارٹی جوائن کرنا چاہیں توان کے لیے ہمارے دروازے کھلے ہیں۔‘‘ 
نیل کنٹھ نے بولنا چاہا۔ ’’لیکن ہمارا کھل کر مسلمانوں کے لیے ورودھ بھرے شبد بولنا؟ کوئی دھرم ورودھی پارٹی کو کیسے اپنا سکتا ہے ؟‘‘ 
 ’’یہیں پر تو ہمیں ایک تیر سے دو شکار کرتے ہیں ‘‘ ملکانی سنجیدہ ہوئے۔ ’’راج نیتی میں سب چلتا ہے۔ ہمیں ورودھ میں بھی بولنا ہے   اور مسلمانوں کو پھسلائے بھی رکھنا ہے۔ یعنی دونوں طرح کے سما چار میدان میں اتارنے ہیں تاکہ ان کی بھیتری اتھل پتھل میں ہمارے لیے ایک soft corner بھی بن جائے۔‘‘ 
دنگوں   اور فساد کی فضا میں سانس لینے والی معصوم ذہنیت بھی اب مسموم ہو چلی ہے۔ اب تو چھوٹے چھوٹے بچے بھی بے جھجھک فرقہ پرستی کی باتیں کرنے لگے ہیں۔ 
 ’’اچھا ایک بات پوچھوں ددّو؟‘‘ بخار کے بعد صحت مندی کے آثار نے مالو کو کھلا دیا تھا۔ ’’یہ دنگے کیوں ہوتے ہیں ددّو۔۔۔دنگوں میں لوگ ایک دوسرے کو جان سے مار دیتے ہیں۔ مندر توڑ دیتے ہیں۔‘‘ 
 ’’چپ!‘‘ 
 ’’اچھا یہ مسلمان لوگ مندر توڑتے ہیں نا‘‘ 
 ’’چپ۔‘‘ وہ زور سے ڈکارے۔ ’’یہ کون سکھاتا ہے الٹی سیدھی تجھے ؟‘‘ 
 ’’پاپا کے دوست آتے ہیں۔ میں سب سنتی ہوں۔‘‘ 
ناول کا ایک نمایاں کردار منا، اقلیتی فرقے سے تعلق رکھنا ہے۔ اخوت وحدت کا ڈھنڈورا پیٹنے   اور سیکولرزم کے نعرے لگانے والے سیاسی مذہبی رہنماؤں کے ناپاک ارادوں کو بھانپ چکا ہے۔ اس لیے اپنی جان و مال کی بقا کے لیے اب ایسے مکروہ عناصر کی تقلید میں رہنے کے بجائے اسے اپنے شعور کا مقلد بن کر جینا زیادہ بہتر لگتا ہے۔ لیکن عافیت کسی میں نہیں ہے۔ مندرجہ ذیل اقتباس اسی تذبذب کی نذر ہے۔ 
 ’’کمرہ ہنستا ہے ۔۔۔بجلی آفس کی کلر کی کے لینڈ اب نیتا گری کا نمبر ہے۔ بہت بڑا خواب لے کر جی رہے ہو۔۔۔مسلمانوں کی نمائندگی کی بات کر رہے ہو۔ ان مسلم نیتاؤں سے جی بھر گیا کیا۔‘‘ 
 ’’ہاں سب سے جی بھر گیا۔ وہ خود مرنے کے لیے سامنے نہیں آتے۔ ہمیں مر جاتے ہیں۔ ہمیں سامنے کرتے ہیں۔ ہم پر گولیاں چلواتے ہیں۔ سب کو دیکھا لیا۔‘‘ 
 ’’اس لیے اب خود نیتا بننا چاہتے ہیں۔ میں صرف برے دن سے واپسی چاہتا ہوں، جو خبریں بن رہی ہیں ان سے نجات چاہتا ہوں، اور اس کے لیے ضروری ہے کہ ۔۔۔کل میری بچی بڑی ہو گی۔۔۔کیا وہ محفوظ ہو گی؟ کون محفوظ ہو گا؟ میں تو صرف اپنی شرکت چاہتا ہوں کہ وہ سمجھیں کہ ہم کیڑے مکوڑے نہیں ہیں۔ نہیں ہم ان میں بھی شامل ہیں۔‘‘ 
 ’’لیکن اس شرکت سے تمہیں کیا فائدہ ملے گا۔ سارا ذلیل ہونے سے بچ جاؤ گے ؟ کوئی آدمی ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔
ناول نگار نے ہندوستان کی اقلیت ۔۔۔ ۔۔۔جہاں پولس کی زیادتیوں   اور ان کی غیر جانب دارانہ رجحان پر تنقیدی نگاہ ڈالی ہے، وہیں اس اقلیتی کردار کے جذبات کو بھی قلم بند کیا ہے جس کے ساتھ پولس نے انانیت سوز حرکتیں کیں   اور اس کے کنبے کو ذلیلو خوار کیا ہے۔ 
 ’چودھری برکت حسین کے منہ میں جیسے تالا لگ گیا تھا۔ اُسی بے عزتی۔ پولس والا کس درجہ بد تمیزی سے ان کے ساتھ پیش آ رہا تھا۔ انگریزوں کا زمانہ ہوتا تو چلو کوئی بات ہوتی ___غیر میں ___ ظلم کر رہے ہیں۔ غلامی ہے   اور غلامی کی زنجیروں کو توڑنے کے لیے پاپڑ بھی بیلنے پڑتے ہیں۔ گولیاں بھی کھانی پڑتی ہیں   اور گالیاں بھی۔۔۔مگر یہاں ۔۔۔اپنے ہی وطن واسیوں سے یہ ذلت۔ یہ ذلت ان کے لیے ناقابلِ برداشت ہو رہی تھی۔ 
زبان کے استعمال سے مکالموں میں بڑا فرق پڑتا ہے۔ لہٰذا اس بات کا پورا خیال رکھنا چاہئے کہ زبان کردار کے معیار۔ مزاج کے مطابق ہو۔ کیونکہ کردار ماحول کے مطابق ہی زبان بولتا ہے۔ مصنف نے پورے ناول میں اس نقطہ کو ملحوظ خاطر رکھا ہے۔ پیش ہے ناول کا ایک   اور اقتباس مذکورہ بالا قول کا غماز ہونے کے علاوہ سیاسی اعتبار سے فکر انگیز بھی ہے۔ 
 ’’ملکانی مسکراتے ہیں ۔۔۔کام بہت کرنے ہیں ۔۔۔سمے کم ہے ۔۔۔ہمارے پاس شیگھر (جلد) پرکاشت کرنے کے لیے پبلشر بھی ہیں۔ ہم نے آدھونک، اتہاس کی روپ ریکھا تیار کر لی ہے۔ یہ مہینے دو مہینے یا سال بھر ساری کتابیں بازار میں آ جائیں گی کہ لوگ پرانے اتہاس کو بھول جائیں گے۔‘‘ 
کتھا سنو۔ ’’مسکراتے ہیں ملکانی___ ستیہ کی کھوج کے لیے کبھی کبھی ایسا کرنا پڑتا ہے۔ داس کو مکتی دلوانے کے لیے کبھی کبھی جھوٹ کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ اس لیے ہماری دھارمک کتابوں میں اس جھوٹ کو غلط نہیں کیا گیا ہے۔ 
یہ ناول ہر اہل نظر کو دعوت فکر دیتا ہے ___ موضوع کے انتخاب   اور پیش کش میں، مصنف نے دیانت داری   اور جرأت کا ثبوت دیا ہے۔ 
بلاشبہ یہ ناول مستقبل میں ایک تاریخی دستاویز کا درجہ پائے گا۔ 
٭٭٭



غلط بیان

ڈاکٹر مظہر احمد

موضوعاتی کہانیاں   اور ناول لکھنے والے نوجوان ادیب ’’مشرف عالم ذوقی‘‘ کا تازہ ترین ناول ’’بیان‘‘ ہمارے ایک کرم فرما نے یہ کہہ کر دیا کہ ہم نہ صرف اسے پڑھیں بلکہ ممکن ہو تو اپنے خیالات کا اظہار تحریری شکل میں کریں۔ ہمارے یہ دوست خود بھی علم و ادب سے وابستہ ہونے کے ناطے اچھا ادبی ذوق رکھتے ہیں۔ در اصل وہ چاہتے یہ تھے کہ ہم اس ناول کی رسمِ اجرا سے پہلے اپنا مضمون مکمل کر لیں تاکہ ۶  دسمبر ۱۹۹۵ٍء کی شام کو دہلی کے ایک بڑے ’’ادبی ہال‘‘ میں ناول نگار کو خراج عقیدت پیش کیا جا سکے۔ انہوں نے اس پروگرام کا دعوت نامہ بھی ہمیں دیا۔ ہمیں یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ اردو کے علاوہ ہندی کے ادیب   اور دانشور   اور صحافی حضرات بھی اس ناول پر اظہار خیال فرمانے والے ہیں۔ ظاہر ہے کہ ہم رعب میں آگئے   اور ناول کے بارے میں کم از کم یہ رائے تو ہم نے اسی وقت قائم کر لی کہ یقیناً یہ ایک اہم   اور منفرد ناول ہے۔ 
کسی بھی ادب پارے کا میڈیم اسکی زبان ہے۔ مولانا ابو الکلام آزاد کی فکر کے ہم حامی ہوں یا منکر، ان کی گج گامتی (بقول مشتاق احمد یوسفی) تحریر کے دلدادہ ضرور ہوں گے۔ یہی خوبی محمد حسین آزاد کی زبان کی بھی ہے۔ با محاورہ زبان ہی در اصل کسی ادب پارے کی کامیابی کی ضامن ہے۔ رشید احمد صدیقی   اور مشتاق احمد یوسفی کا طنزو مزاح اس لیے معتبر ہے کہ ان کی تخلیقات میں زبان اپنی مکمل تخلیقی قوت کے ساتھ ابھری ہے۔ ہم صرف نثر کا ہی حوالہ دیں گے کہ بات نثر کی ہے۔ کرشن چندر کے ناولو افسانے، چاہے تخیل کی اڑان ہی کیوں نہ ہوں اپنی زبان   اور اس کی بے پناہ قوت و کشش کی بدولت ہی دائمی شہرت کے حامل ہیں۔ گیان پیٹھ انعام سے سرفراز قرۃ العین حیدر کی زبان ان کے بیانیہ کا جوہر ہے۔ سحر انگریز مگر با محاورہ   اور صحیح زبان کے نمونے ہی انکی ادبی زندگی کی بقا کے ضامن ہیں   اور یہ تو صفِ اول کے نثرنگار ہوئے۔ اور ان کا   اور ’’ذوقی‘‘ کا کیا مقابلہ میرے درجے کے نثر نگار کے یہاں بھی زبان و بیان کے معاملے میں ایک معیاری طور قائم رہتا ہے۔ مگر مشرف عالم ذوقی کے ناول ’’بیان‘‘ کے سرسری مطالعے ہی سے اندازہ ہو جاتا ہے، سرسری سے مراد یہ کہ آپ ناول نہ پڑھیں بلکہ محض ورق گردانی کر لیں تو ہمارے مقصد کو بآسانی پا سکتے ہیں ) کہ زبان و بیان کے معاملے میں وہ اچھے خاصے کنگال واقع ہوئے ہیں۔ ہم نے ایک ’’اغلاط نامہ‘‘ ان کے ’’بیان‘‘ کا تیار کر لیا ہے   اور اسی میں سے چند مثالیں پیش کرنا چاہتے ہیں۔ 
ذوقی صاحب نے محاورے کے ساتھ جو سلوک روا رکھا ہے اس کی چند مثالیں : 
-1  اردو کا ایک بہت ہی عام فہم محاورہ ہے بھس میں چنگاری ڈالنا، سب جانتے ہیں ذوقی صاحب فرماتے ہیں۔ ’’ایسے موقعوں پر افواہیں تو اڑتی ہی ہیں   اور صرف اڑتی نہیں بلکہ چنگاری میں بھس کا کام بھی کرتی ہیں۔‘‘ اب چنگاری میں بھس کیسے جاتا ہے یہ ترکیب بھی ناول نگار ہی بتا دیں۔ 
-2 ایک محاورہ خود ایجاد فرمایا ہے ملاحظہ ہو: 
 ’’گھر کے بڑے بوڑھے تو ناک پر بال گرنے تک کو گوارا نہیں کرتے ‘‘ خیال رہے اصل محاورہ ہے۔ ناک پر مکھی نہ بیٹھنے دینا۔ 
-3 ہوش کے ناخن لینا انتہائی عام محاورہ ہے۔ بیان کی ’’غلط بیانی‘‘ نے اس کی مٹی پلید کر دی ہے۔ 
 ’’ہوش کے نوالے لیتے لیتے یہی تو جانا تھا۔‘‘ 
-4 ما تھا ٹھنکا ’’بقول صاحب بیان۔ ’’انیل کا ماتھا ٹھن سے ہوا۔ (اہل نظر،  لفظ انل کے املا پربھی غور فرما لیں ) 
-5 ہوائیاں اڑنا ’’بقول ذوقی ’’اس کے چہرے پر ہوائیاں چھوٹنے لگی تھیں۔‘‘ (تنہائیاں چھوٹنے کے اصل معنی آتش بازی۔۔۔ ۔۔۔ 
-6 ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔رہے (بد قسمتی سے ) اس لیے ہم یہ مان لیتے ہیں کہ ذوقی صاحب کے روز مرہ میں یہ محاورے نہ رہتے ہوں مگر لغات بھی تو ہیں   اور پھر کیا ہی اچھا ہوتا کہ وہ اردو والوں کی صحبت (صحیح) میں رہتے تو شاید زبان کے ساتھ یہ سلوک نہ کرتے۔ زبان و بیان کی دوسری لغزشوں پر بھی نظر ڈالیے :
-1 ’’راکٹ لانچرس‘‘ چھوٹنے لگے ‘‘ راکٹ چھوٹتے ہیں۔ لانچر نہیں   اور اس پر طرّہ یہ کہ زبان انگریزی پر بھی کماحقہٗ قابو رکھتے ہیں   اور جلسے میں اردو والوں کو اس کا طعنہ دے چکے ہیں کہ وہ سب کنویں کے مینڈک ہیں   اور دیگر زبانوں سے نابلد۔ 
-2 ’سناٹگی کا احساس دلا رہے تھے ‘‘ اس سے پہلے ہم ’’سناٹی جگہ‘‘ پر ماتم کر چکے ہیں۔ 
-3 ’’ممکن ہے تب خرّاٹے بھی بجتے ہوں۔‘‘ خراٹے کے لیے بجنے کا فعل۔ 
-4 ’’آنگن میں چاپاکل تھا۔‘‘ کیا معنی؟
-5 ’’منہ گھسیٹرا‘‘ غیر شائستہ۔ 
-6 زخمی کو ایمبولینس میں کر کے اسپتال بھیج دیا گیا۔‘‘ 
-7 ’’شمیم کے ٹسوے چو گئے۔ شمیم نہ ہوئی کسی غریب کی چھت ہو گئی۔ 
-8 ’’شمیم کی پھر رلائی چھوٹ گئی‘‘ 
-9 ’’مگر منا کا دماغ بھک سے تھا‘‘ 
-10 ’’اب چوڑی پہن کر گھر میں ڈھکے رہنے کا وقت نہیں ہے۔‘‘ گھر میں ڈھکنا۔ 
-11 ’’سب یک مشت بولے ‘‘ یک مشت کیسے بولا جاتا ہے۔ یہ صاحب کتاب بتائیں یہاں بطور جملہ معترضہ ایک   اور واقعہ سن لیں۔ الٰہ آباد کے ایک نوجوان (اب خاص ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔(رپورتاژ لکھنے کی official ذمہ داری ان ہی کے سپرد ہے ) میں ایک جملہ تحریر فرماتے ہیں۔ ’’ہاں لوگوں سے لبالب بھرا ہوا تھا۔ اس پر ایک صاحب نے ردِ عمل کے طور پر کہا کہ یہ تو وہی بات ہوئی کہ جمنا پانی سے سے کھچاکھچ بھری ہوئی ہے (ان دنوں جمنا طغیانی پر تھی) ایک مشت بولے اس سے بھی کئی درجے بلند چیز ہوئی۔ 
-12   منّا بار بار اس خیال کی سطح پر تھا کہ کرفیو کیا ہوتا ہے۔ 
-13 ’’آواز لگا کر جیب سے پن ڈبہ نکالا‘‘ پان کی ڈبیہ کے لیے پن ڈبّہ۔ انتہائی کریہہ  الصوت۔ 
-14 ’’چیزیں پھکاتی رہیں۔‘‘ برائے کرم معنی بتائیں۔ 
-15  ایک ہندو جھونٹرے کی ہتّیا ہوئی تھی۔‘‘، جھونٹرا غالباً لڑکے کے معنی میں !
-16 ویکتی نرک سے مکتی دلاتا ہے۔ اصل لفظ ہے موصوف دلاتا ہے۔‘‘ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ 
-17 غصے سے اُپھنتے ہوئے۔ اُپھننا کیا معنی۔ 
-18 ’’منّا نے سر ڈلا دیا۔‘‘ یہاں ایک بچّے کی موت کا سین ہے۔ سر ڈالنا سامنے کا بیان ہے مگر واہ ری غلط بیانی۔ 
-19 ’’پیدا ہوا تو مداری دکھانے والے کے ساتھ‘‘ ’’مداری دکھانے والا‘‘ ماشاء اللہ۔ 
-20 ’’کمرے میں چونا گردانی ہوئی تھی۔‘‘ چونا گردانی بمعنی سفیدی۔ 
ان تمام اغلاط کے علاوہ (یہ صرف ایک انتخاب ہے ورنہ کتاب کے ہر صفحہ کی ہر سطر پر ایک غلطی ضرور ہو گی) تذکیر و تانیث کی بے شمار غلطیاں ہیں۔ اور مقامی (ایک خاص مقام سے مراد ہے ) لب و لہجے کی تو اتنی بھرمار ہے کہ یہ ناول پہلی نظر میں ایک ایسی تخلیق لگتی ہے کہ جو اصلاً اسی بولی میں لکھا گیا تھا۔ اور محض رسم الخط کی مجبوری کی وجہ سے ’’اردو‘‘ پر لاد دیا گیا۔ چند مثالیں   اور پیش ہیں۔ 
-1 ’’ہمارے لیے ہار ہی ہار لکھا ہے ‘‘ ہار بمعنی ’’مالا‘‘ نہیں ہلکہ ’’ہار جانا‘‘ 
-2  ’’سموہ (بھیڑ) تالیاں بجا کر ابھینندن کر رہی تھی۔‘‘ سموہ کی رعایت سے کر رہا تھا۔ کا محل تھا۔ 
-3 کیا بڑھؤ سچ مچ خبطا گئے ہیں۔ 
-4 پاکستان میں کون سا مار کاٹ کم ہے۔ 
-5 جمعہ نماز بعد۔ 
-6 اسکول میں کبھی اچھا رزلٹ نہیں کیا۔ وغیرہ وغیرہ۔ 
اس عبرت ناک ناول کے مصنف بزعمِ خود موجودہ ادبی بساط کے انتہائی بلند خانے پر متمکن ہیں۔ معاف کیجئے گا ہم نے ’’بزعمِ خود‘‘ کہا۔ در اصل ذوقی صاحب ایک انعام و سند یافتہ۔۔۔ رائٹر ہیں۔ ابھی حال ہی میں ایک ادبی تحریک کے علمبرداروں نے انہیں سراہا ہے ۔۔۔ ۔۔۔  اور اب اس ’’غلط بیانی‘‘ کے بعد انہیں اپنے فیصلے پر افسوس ہو رہا ہو۔ مگر اب کیا ہو سکتا ہے۔ چڑیاں تو کھیت چُگ چکی ہیں سنا گیا ہے کہ ’’بیان‘‘ کے تعلق سے منعقد اس فنکشن میں (جن کا ذکر ہم نے ابتدائی سطور میں کیا) بڑے بڑے پروفیسروں، سرکاری ملازمین   اور تخلیق کاروں نے شرکت کی   اور سب نے ذوقی صاحب کے اس ’’عظیم کارنامے ‘‘ کو سراہا   اور انہیں مبارک باد پیش کی۔ اور اُن ہی میں سے کچھ نے محفل   اور تعلقات کی پاسداری کرتے ہوئے ناول کے بجائے فرقہ واریت   اور عصری۔ ادبی منظر نامے پر ہی اپنی توجہ مرکوز کی (خیر یہ ان کی مجبوری رہی ہو گی) غالباً اول الذکر وہ احباب ہوں گے جنہوں نے ناول پڑھا ہی نہیں   اور آخر الذکر وہ لوگ جو اس ناول کے مطالعے کی زحمت اٹھا چکے ہوں گے۔ ’خدا لگتی بات ایک مقامی اہل زبان شاعر نے کی کہ در اصل یہ اردو رسم الخط میں لکھا گیا ہندی ناول ہے۔ یہاں ’’ہندی‘‘ کہہ کر انہوں نے تکلف سے کام لیا ہے۔ 
اب رہی ناول کے موضوع کی بات تو ہم صرف یہ کہنا چاہتے ہیں کہ فرقہ پرستی   اور ہندو مسلم فساد پر اتنا کچھ لکھا جا چکا ہے کہ اس درجے کی تخلیق کی نہ ضرورت تھی   اور نہ اس سے کوئی سماجی اصلاح ہی ممکن ہے   اور ہاں ایک دائیں بازوں کی انتہا پسند پارٹی کے ایک رکن نے تو یہ مطالبہ بھی کیا ہے کہ اس ناول پر پابندی عائد کی جائے کہ اس میں ’’پارٹی‘‘ کے چند بڑے لیڈروں کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ یہ کام مصنف کے ہی کسی دوست کا ہو   اور شہرت ان داموں ملے تو واقعی بہت سستی ہے  اور اب آخری بات۔ 
تخلیق کار پبلی کیشن کے روحِ رواں انیس امروہوی صاحب نے اس کتاب کی اشاعت کے ساتھ ساتھ زاہدہ حنا کے افسانوں کا ایک مجموعہ بھی شائع کیا ہے۔ ’’راہ میں اجل ہے ‘‘ کے عنوان سے یہ کتاب ہر جگہ دستیاب ہے۔ ہم انیس صاحب کی ظرافت کی داد دیں گے کہ انہوں نے دونوں کتابوں کو تقریباً ایک ساتھ شائع کیا۔ زاہدہ حنا کی زبان   اور ان کا اسلوب ان کے فن کی اہم خصوصیت ہے   اور ’’بیان‘‘ کی غلط بیانی آپ ملاحظہ فرما چکے ہیں۔ ایسی بلندی ایسی پستی۔، اور ہاں آج کل کے تازہ شمارے میں مشرف عالم ذوقی زاہدہ حنا کی متذکرہ کتاب پر تبصرہ کرتے ہوئے ان کے فن کی داد بھی دے چکے ہیں ) 
٭٭٭


غیر معمولی بیان

مشتاق احمد نوری

مشرف عالم ذوقی کا ’’بیان‘‘ ایک ایسا ناول ہے جو آج کے دور میں سیکولرزم کی موت کا بیان کرتا ہے۔ ذوقی کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ کچھ چھپاتے نہیں۔ سچ کو سچ کی طرح کہنے کا ہنر انہیں خوب آتا ہے۔ 
آزادی کے بعد سے فرقہ واریت کا زہر ہندوستانی سماج کے رگ و ریشے میں اس طرح پیوست ہو گیا ہے کہ اس سے نجات پانا ایک امر محال لگ رہا ہے۔ ایسا محسوس ہونے لگا کہ سیکولرزم کا جنازہ تو کب کا نکل چکا ہے   اور ہم لاش کے زندہ ہونے کے معجزہ کا انتظار کر رہے ہیں۔ 
آزادی کے بعد کی نسل اس جرم کی سزا بھوگنے کے لیے مجبور کی جا رہی ہے جو اس نے کیا ہی نہیں۔ آج ہندوستان میں ہندو   اور مسلمان کے درمیان نفرت کی جو خلیج حائل ہو گئی ہے اس کا ذمہ دار کون ہے ؟ نفرت کی کاشت کرنے والوں کی پہچان کرنی ہو تو پھر اس بات کا اندازہ ہو گا کہ ہم کہاں ہیں   اور کس طرح کھلونے دے کر بہلائے جا رہے ہیں۔ 
 ’بیان‘ میں بالمکند جوش   اور برکت حسین جیسے مثالی کردار آج بھی ہمارے سماج میں کہیں نہ کہیں مل جائیں گے۔ ذوقی نے اس ناول کا خمیر کہیں باہر سے ادھار نہیں لایا ہے بلکہ اسی ہندوستانی سماج سے تیار کیا ہے۔ یہ وہ کردار ہیں جو ناول میں ایک مثبت انداز فکر کی پہچان کراتے ہیں۔ ان کا فکری رویہ ہمارے سماج کی پہچان ہونی چاہیے۔ لیکن فرقہ واریت کا عفریت ان کرداروں کو ختم کرنا چاہتا ہے پھر بھی یہ کردار اپنی پہچان نہیں کھوتے۔ 
مشرف عالم ذوقی ایک بے حد بولڈ فنکار کا نام ہے یہی وجہ ہے کہ ان کے کرداروں کا لہجہ دھیما نہیں ہوتا۔ ہر فنکار اپنی شخصیت کی چھاپ اپنے کرداروں میں بات کرتے ہیں اس کے برعکس عبد الصمد کے ناول ’’مہا ساگر‘‘ کے کردار دھیمے لہجے میں گفتگو کرتے ہیں۔ وہاں کرداروں کے یہاں ایک تہہ داری ملتی ہے   اور یہ تہہ داری ’’مہا ساگر‘‘ کے خالق عبد الصمد کا خاصہ رہا ہے۔ 
 ’بیان‘   اور ’مہا ساگر‘ کی زمین کم و بیش ایک ہی ہے۔ فسادات پر مبنی پلاٹ   اور دو دوستوں کی محبت، پھر فرقہ واریت کا زہر   اور پورے ماحول کا زہر آلود ہو جانا۔ لیکن دونوں ناول کا ٹریٹ منٹ جدا جدا ہے دونوں ناول میں ان کے خالق کا اپنا لہجہ بولتا ہے۔ 
ہمارے فنکاروں کی مجبوری یہ ہے کہ ہم براہ راست گفتگو کرنے سے کتراتے ہیں۔ کبھی کبھی تو گھبراتے بھی ہیں لیکن ذوقی کی کیفیت الگ ہے وہ جس طرح سوچتے ہیں اس سے بھی ایگریسو انداز میں لکھ جاتے ہیں۔ بیان در اصل ذوقی کا اپنا بیان ہے جو وہ نڈر ہو کر دے گئے اب آپ لفظ کا مزاج پھانپتے ہیں۔ 
 ’بیان‘ میں کرداروں کو جو زبان ذوقی نے عطا کی ہے   اور جس نہج سے ان کرداروں کو پروان چڑھایا ہے وہ صرف ذوقی ہی کر سکتے تھے۔ صاف گوئی، بے باکی اب تو ذوقی کی پہچان بن گئی ہے۔ آپ ذوقی کی تحریر سے اس کا نام غائب کر دیں تو بھی اس کی تحریر پکار کر کہے گی کہ میں ذوقی کی تحریر ہوں۔ جس فنکار کی تحریر اُس کی پہچان بن جائے اسے آپ آگے، بہت آگے بڑھنے سے روک نہیں سکتے۔ 
برکت حسین   اور بالمکند جوش کے کردار کو تراشنے   اور نکھارے میں ذوقی نے بہت محنت کی ہے۔ یہ دونوں کردار فرقہ واریت کی بھٹی میں اس طرح تپ کر کندن بن کر سامنے آیا ہے کہ سیکولرزم کی پہچان بن گیا ہے۔ ایسا کردار تراشنے والا فنکار وہ ہوتا ہے جو سماج کو آئینہ کے روبرو کرنے کا ہنر جانتا ہو۔ 
ناول میں انل   اور نریندر بھی اسی سماج کے کردار ہیں جس میں برکت   اور جوش رہتے ہیں لیکن ان دونوں کی پہچان الگ ہے۔ آج کے سماج میں نہ جانے کس کس موڑ پر نریندر   اور انل گھات لگائے مل جائیں گے آپ کہاں کہاں سے بچتے پھریں گے۔ 
بابری مسجد کا سانحہ ہندستانی تاریخ کا ایک ایسا سیاہ باب ہے جس نے ہندوستان کی قسمت پر ہی سیاہی پوت دی۔ پورے ملک کی فضا نہ صرف زہر آلود ہوئی بلکہ ایک ساتھ رہنے والے دوست بھی ایک دوسرے کو شک کی نگاہوں سے دیکھنے لگے فسادات   اور پولس فائرنگ کے سلسلے میں ملک کے چہرے کو اس طرح داغدار کر دیا کہ سیکولرزم کی روح نہ جانے کہاں غائب ہو گئی۔۔۔اس عظیم حادثے کو سب نے اپنے کلیجے کا روگ بنایا۔ فنکاروں نے نظمیں کہیں   اور کہانیاں بھی لکھیں لیکن ذوقی نے قلم کے بجائے تیشہ اٹھا لیا   اور یہ سوچ کر آگے بڑھے کہ  ؎
 ’’تیشہ اٹھا لیا ہے تو اب جو بھی زد میں آئے 
اس راستے میں تیری عمارت بھی آئے گی‘‘ 
بیان میں آج کی سیاسی جماعتوں کے اندر کی تصویر بھی ابھر کر سامنے اجاتی ہے   اور ان کا گھنونا چہرہ قابلِ نفرت بن کر انہیں ننگا کر جاتا ہے۔ بیان میں ہمارے ہندوستانی سماج کے اندر کی جذباتی کشمکش بھی ہے   اور اندر کی چھٹپٹاہٹ بھی اس میں احساس کی کسک بھی ہے   اور اندر کی کھری سچائی بھی سامنے آ جاتی ہے۔ 
برکت حسین جیسا مسلمان ہے تو بالمکند جوش جیسا ہندو بھی۔ در اصل یہ دونوں اپنے فرقوں کی اصل پہچان بن کر ابھرے ہیں۔ ذوقی ایسے ہی کرداروں کو اپنے ناول سے باہر اپنے ملک میں چلتے پھرتے دیکھنے کے متمنی ہیں۔ 
ذوقی نے کائنات کا درد اپنی ذات میں انڈیل لیا ہے اس لیے کہیں کہیں ان کا لہجہ بہت تلخ   اور کھردرا ہو جاتا ہے۔ ذوقی اپنے جذبات کے سیل رواں پر قابو پوری طرح نہیں پا سکے۔ حالانکہ اس باندھ کو روک کر رکھنا بھی ضروری ہے بہتر تو یہ ہوتا ہے کہ آپ باندھ سے باہر اتنا ہی پانی جانے دیں جتنے کی ضرورت ہو۔ اگر آپ باندھ توڑ دیں گے تو سیلاب آ جائے گا   اور پھر بہت سی ایسی نشانیاں بھی سیلاب کی نذر ہو جائیں گی جن کا باقی رہنا ضروری ہے۔ 
بہر حال ذوقی کا ’بیان‘ آج کے دور میں ایک خوش گوار جھونکا ہے جو اس بات کا احساس کرا جاتا ہے کہ سچ کو سچ کی طرح کھردرے انداز میں بولنے والے فنکار ابھی زندہ ہیں۔ 
٭٭٭



سماج   اور سیاست میں فرقہ واریت کا رنگ

ششی کانت

کیا فرقہ واریت   اور جدیدیت کے درمیان کوئی رشتہ ہے ؟ ہندستان میں فرقہ واریت کی شروعات   اور اس کے بڑھتے جانے کے نتائج کے تئیں سوچتے ہوئے دل میں یہ سوال بار بار ابھرتا ہے۔ ہندستانی سماج   اور سیاست میں فرقہ واریت کی جڑ آخر کہاں ہے ؟ انیسویں صدی میں تہذیبی بیداری سے نکلے ہندو ترقّی   اور بیسویں صدی میں ہندو مہا سبھا، مسلم لیگ، بھارتیہ جن سنگھ، آر ایس ایس، بھارتیہ جنتا پارٹی، وشو ہندو پریشد، بجرنگ دل جیسے کٹّر ہندو فرقہ وارانہ تنظیموں میں سیاسی جماعتوں کے ابھرنے   اور حکومت میں بھاجپا کے آنے کی تبدیلی اگر چھ دسمبر ۱۹۹۲   اور حالیہ گجرات کے روپ میں ہوئی ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آج ہمارے سامنے جو گھپ اندھیرا چھایا ہوا ہے، یہ روایتی ہے ؟ بیشک نہیں، یہ دوسری   اور نقلی روایت ہے۔ ہماری پہلی   اور اصلی روایت   اور ہمارا ماضی گنگا جمنی تہذیب کا ہے، کبیر، سُر، جائسی، میر   اور غالب وغیرہ کا ہے۔ صرف ہندی نہیں بلکہ اردو   اور فارسی کا ہے۔ اتنا ہی نہیں، ہماری کئی روایتیں ایک دوسری (ہندو   اور مسلم) تہذیب کے میل جول سے بنی ہے۔ ہم مل جل کر ساتھ ساتھ رہتے آئے ہیں، اور نہ صرف رہتے آئے ہیں بلکہ ایک دوسرے کے دکھ درد بانٹتے رہے ہیں۔ لیکن ماضی کی اس گنگا جمنی تہذیب، مشترکہ روایت   اور اُس سے بنی مذہبی فرائض کو ہماری اگلی نسلیں اُس روپ میں اپنا نہیں سکیں۔ فرقہ وارانہ خیال رکھنے والے   اور فرقہ واریت کی سیاست کرنے والوں کا رشتہ پہلی روایت نہیں بلکہ دوسری روایت سے ہے۔ یہی ’بنیاد‘ ہے ___مشرف عالم ذوقی کی ہندی   اور اردو میں شائع شدہ ناولٹ ’بیان‘ کا___
ذوقی چالیس کی عمر کی نئی نسل کے مصنفوں میں سب سے زیادہ لکھنے   اور چھپنے والے مصنف ہیں۔ مسلمان، نیلام گھر، شہر چپ ہے، سب سازندے، ذبح   اور بیان___ چھ ناول   اور بھوکا ایتھوپیا، فرشتے بھی مرتے ہیں، غلام بخش   اور منڈی___ چار افسانوی مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔ ’بیان‘ موجودہ   اور ماضی دو حصوں یا مختلف عنوانوں میں تقسیم ہے۔ یہ نہ صرف ایک نئے ناولٹ فن کی تخلیق کرتے ہیں، بلکہ اس کی ’ناولٹی‘ کو بھی متاثر کرتے ہیں۔ 
 ’اُس وقت تم گلاس میں اسکاچ انڈیلتے ہو/ کاکروچ مارتے ہو یا/ اپنی گھڑی دیکھتے ہو/ لوگ مر رہے ہیں ۔۔۔ ‘ 
بوسنیا کی دہشت ناک حالات پر لکھی گئی۔ نوبل انعام حاصل کرنے والے شاعر جوزف براڈسکی کے اس شعر کو پڑھنے کے بعد قارئین ناول کے پہلے حصہ ’موجودہ‘ کو پڑھنا شروع کرتے ہیں۔ گنگا جمنی تہذیب میں عقیدت رکھنے والے، ہندو ہو کر اردو فارسی پڑھنے لکھنے والے، شعرو شاعری کرنے والے مسلم دوستوں کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے والے ناول کے کردار بال مکند شرما جوش لگاتار برباد ہوتی روایت، بدلتے جیون کی قیمت، بھاجپا جیسی فرقہ پرست پارٹیوں کا سامنے آنا، ان کے کارکنان   اور نیتاؤں کے ذریعہ کئے جا رہے ہیں دنگے، فساد وغیرہ سے زخمی ہو کر ہر لمحہ، ہر گھنٹے   اور ہر روز مرتے جاتے ہیں، لیکن نئے اوتاروں کا انتخاب کر رہے ہیں، ان کے دونوں بیٹے نریندر (بھاجپائی)   اور انل (کانگریسی) نہیں جانتے کہ وہ کیوں مر رہے ہیں۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو جوش کی گھٹ گھٹ کر ہونے والی موت کا حوالہ، ناول کے پہلے صفحہ پر درج جوزف کے اُس نظم کو نیا معنی صادر کرتا ہے۔ 
موجودہ ہندستان میں فرقہ واریت جیسی گمبھیر حالت کو ناول نگار ذوقی نے جس طرح ’موجودہ‘   اور ’ماضی‘ یعنی جدیدیت   اور روایت کی متصادم شکل میں دکھلانے کی کوشش کی ہے۔ یہ ایک ایسی کتاب ہے جو سطح خیال کو مضبوط بناتا ہے، بلکہ اِسے (فرقہ واریت کو) سیاسی کم، تہذیبی حالت کے روپ میں افتتاح کرتا ہے۔ موجودہ   اور ماضی کا یہ تصادم در اصل ناولٹ کی زمین پر نئی   اور پرانی نسل کا تصادم ہے۔ 
 ’بیان‘ کی دو بزرگ کردار بال مکند شرما جوش   اور برکت حسین اگر پرانی نسل کی نمائندگی کرتے ہیں تو برکت حسین کا بیٹا تحسین حسین عرف منا   اور بالمکند شرما جوش کے دو بیٹے نریندر   اور انل، سدھیندورائے، نیل کنٹھ، ڈاکٹر نویندو، ملکانی وغیرہ نئی نسل کے۔ بھاجپا جیسی فرقہ پرست پارٹی میں آگے آگے نریندر   اور کانگریس حمایتی انل صرف سطح خیالی کی زمین پر جوش صاحب کو پریشان نہیں کرتے بلکہ گھریلو سطح پر اُن کی آپسی رنجش، ان کے حرص، ان کی آرزو مندی وغیرہ بھی اُنہیں ستاتی ہے۔ اتنا ہی نہیں، ان کی پریشانی تب   اور بڑھ جاتی ہے جب نریندر ان کے ذاتی (خیالوں کے ) معاملے میں بھی دخل اندازی کرنا چاہتا ہے۔ جس سے زخمی ہو کر وہ (جوش صاحب) آخر کار الزیمرس (بھولنے کی بیماری) میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ جوش صاحب کے ’حافظہ‘ کا اس طرح غائب ہو جانا در اصل ماضی، تاریخ   اور روایت کا برباد ہو جانا یا کر دیا جانا ہی ہے   اور اپنے اِس دہشت ناک حالات سے مزاحمت کرتے ہوئے جوش صاحب کا آخری بیان بھی کچھ یہی ہے، جس میں وہ ماضی، تاریخ، روایت   اور گنگا جمنی تہذیب سے کٹے اپنے دونوں بیٹے کو اپنی اولاد ماننے سے انکار کر دیتے ہیں۔ 
ناول میں جوش صاحب کے دوست برکت حسین کا درد بھی کچھ اسی طرح کا ہے۔ اُن کا بیٹا تحسین حسین عرف منّا آج کے جوان نسل کی نمائندگی کرتا ہے، جو پہلے بھاجپا کی فرقہ وارانہ حکمت عملیوں کی مخالفت کرتا ہے، بعد میں بھاجپا میں ہی شامل ہو جاتا ہے   اور دوبارہ الگ ہونے پر اُنہیں لوگوں کے ہاتھوں مارا جاتا ہے۔ بھاجپائی نریندر کی بہن مالو کی جان بچانے کے باوجود،  یہ سچ مچ مضحکہ خیز حالات ہیں۔ 
بھاجپا کو فرقہ پرست حکمت عملیوں   اور بھاجپا لیڈروں   اور اُن کے کارکنان کے کریکٹر کو سامنے لانے کے لیے ذوقی نریندر (جو نریندر مودی کی یاد دلاتا ہے ) سدھیندو رائے، نیل کنٹھ، ڈاکٹر نویندو   اور ملکانی سے کرداروں کی تخلیق کرتے ہیں۔ جو پارٹی کا ٹکٹ لینے   اور حکومت پر قابض ہونے کے لیے ہمیشہ دنگے، فساد، آگ زنی۔ قتل، عصمت دری کروانے کی سازش کرتے رہتے ہیں۔ اپنے ذاتی مفاد کو پایۂ  تکمیل تک پہنچانے کے لیے طرح طرح کی افواہیں پھیلاتے ہیں   اور طرح طرح کی اُلٹی سیدھی کرتوتیں کرتے ہیں۔ کل ملا کر کہا جائے تو مشرف عالم ذوقی کی یہ ناولٹ تخلیق آج کے ہندوستانی سماج   اور سیاست میں فرقہ پرست عناصر کی قلعی کھولتی ہیں۔ 
٭٭٭


ہندستانی مسلمانوں کا بیان

اسد رضا

 ’بیان‘ اردو و ہندی کے اُبھرتے ہوئے مصنف مشرف عالم ذوقی کا ایک ناول ہے۔ جس میں ناول نگار نے آزادی کے بعد آئے سماجی، سیاسی   اور تہذیبی تبدیلیوں، بدلتے رشتوں، بڑھتی فرقہ واریت   اور خود غرضی   اور گھٹتی انسانیت   اور دہشت ناک حالات کی قلبی عکاسی   اور الفاظ کے موازنہ سے کیا ہے۔ 
اس ناول کے کردار دو حصوں میں تقسیم ہونے لگتے ہیں، ایک وہ کردار جو گنگا جمنی ہندستانی تہذیب   اور رشتوں کی علامت ہے۔ مثلاً پنڈت بال مکند شرما ’جوش‘   اور چودھری برکت حسین لیکن کچھ کردار جیسے بال مکند شرما کا بیٹا انل   اور برکت حسین کا بیٹا منّا جو نئی تہذیب کے نمائندے ہیں۔ 
اس ناول میں سیاست کی عکاسی بھی ہے۔ بھاجپا، کانگریس   اور ترقی پسند تنظیموں سے جڑے لوگ بھی ہیں۔ کچھ چبھتی ہوئی سچّائیاں بھی ہیں۔ مثال کے طور پر فرقہ وارانہ فساد کے وقت ہندوؤں  اور مسلمانوں کی ذہنیت کا تجزیہ کرتے ہوئے ناول نگار کہتا ہے، جن محلوں میں مسلمانوں کی تعداد زیادہ تھی وہ علاقے پاکستانی علاقے قرار دیئے جا رہے تھے   اور جہاں ہندو اکثریت میں تھے وہ آر ایس ایس کا علاقہ قرار دیا گیا تھا۔ 
فرقہ وارانہ فساد میں جھوٹی افواہیں کیسے پھیلتی ہیں، اس کی تفصیل قلم بند کرتے ہوئے ذوقی لکھتے ہیں ___ جو بھاگ کر گھر وغیرہ چھوڑ کر پناہ لینے کے بہانے عزیز رشتہ داروں کے یہاں چھپتے ہیں، وہ اپنے ساتھ جھوٹی خبروں   اور افواہوں کی پوٹلیاں بھی لاتے ہیں، فلاں مندر میں اعلان ہوا ہے، مسلمانوں کو نماز نہیں پڑھنے دیا جائے گا، ہندو علاقے میں افواہیں پھیلانے والے کہتے ہیں، مسلح لڑکے انڈر ویئر میں بم چھپائے گھوم رہے ہیں ؟‘ 
بیان میں جہاں کچھ فرقہ پرست لوگوں کو ہندوئی   اور رام جنم بھومی کی طرفداری میں بولتے ہوئے دکھایا گیا ہے وہیں دو بھاجپائی سدھیندرو رائے   اور ڈاکٹر نویندو فساد میں گھائل ایک مسلمان منّا، کی جان بچاتے ہیں   اور منّا بھاجپا میں شامل ہونے کی تجویز ان کے سامنے رکھتا ہے۔ یہ تجویز مسلمانوں کی بدلتی ہوئی سوچ کی علامت ہے۔ ناول کا ہیرو پنڈت بال مکند شرما آخر میں مر جاتا ہے لیکن بڑھتی ہوئی فرقہ واریت   اور قدروں کے خاتمہ کا دکھ بھی اپنے ساتھ لے جاتے ہیں۔ ناول کی کہانی سچائی کے قریب ہے   اور موجودہ ہندستانی سماج کا آئینہ ہے۔ مشرف عالم ذوقی نے ایک ترقی پذیر مصنف کی طرح اپنے اس ناول میں کسی مذہب، ذات یا فرقہ کی طرفداری نہیں کی بلکہ سبھی کی کمیوں  اور اچھائیوں کو بیان کیا ہے۔ 
 ’بیان‘ میں اشتمالیت کے ’درشن‘ ہوتے ہیں لیکن مصنف نے یہ ’درشن‘ تقریر کے ذریعے نہیں بلکہ مکالمے   اور چھوٹے چھوٹے جملوں کے ذریعے کرایا ہے۔ مثال کے طور پر بال مکند شرما   اور چودھری برکت حسین کے مختصر مکالمے کی کسک کو دیکھئے۔ چودھری برکت حسین آنکھوں میں جگہ گھیرتے ہیں ۔۔۔اب تم بھی خطرے میں ہو بال مکند شرما جوش۔‘ 
 ’کیوں ؟‘ 
 ’تمہارے نام کے ساتھ ’جوش‘ لگا ہے ۔۔۔آدھے مسلمان۔ فرقہ وارانہ فساد کے دوران ہونے والے واقعے کی جیتی جاگتی تفصیل بھی ناول نگار نے صاف الفاظ میں کیا ہے۔ ایک ایسا ہی منظر پیش خدمت ہے۔ 
 ’’قرب و جوار کے گھروں سے رونے، چیخنے چلّانے   اور ماتم کرنے کی آواز بھی اب بھگدڑ کا حصہ بن گئی تھی۔۔۔پی اے سی جوانوں کی بوٹ سڑکوں کو روند رہی تھی۔ اِدھر اُدھر پی اے سی کے گروہ پھیلے ہوئے تھے۔ مسجد کے قریب آ کر ایس پی کی جیپ رُکی___‘ 
ناول نگار کے کچھ اردو الفاظ کا ترجمہ ہندی میں بھی دیا ہے لیکن کہیں کہیں ترجمہ غلط بھی ہے جیسے ’تجارتی‘ کا ترجمہ ’ویاپاری‘ کیا گیا ہے جبکہ سہی ترجمہ ’ویا پارک‘ ہے۔ 
کتاب کی زبان اردو ملی جلی ہندی ہے لیکن کہیں کہیں اردو کے مشکل لفظ بغیر ہندی میں معنی بتائے استعمال کئے گئے ہیں۔ کتاب میں پروف   اور زبان کی بھی کچھ غلطیاں ہیں۔ کتاب کا کور خوبصورت، رنگین   اور علامتی ہے۔ امید ہے کہ زمانۂ  ہندی اِس کا استقبال کرے گا۔ 
٭٭٭


آج کے حالات کی عکاسی

دیبین

یہ ناول ہندستان کے آج کے سماجی   اور سیاسی منظر نامہ کا آنکھوں دیکھا حال ہے۔ اس میں آج کے ٹوٹتے ہوئے خاندانوں، ٹوٹتے سماج   اور ٹوٹنے کے خطروں سے مقابلہ کر رہے ملک کی تصویر دکھانے کے ساتھ ساتھ ٹوٹنے کے وجہوں کا بے باک تجزیہ بھی کیا گیا ہے۔ حالانکہ مصنف نے ایک خاص سیاسی پارٹی کو نشانہ بنایا ہے لیکن اس سے کہانی پر بہت فرق نہیں پڑا ہے۔ 
ناول کے اہم کردار بال مکند شرما ’جوش‘ ہندستانی تہذیب   اور ادب کے علامتی آدمی ہیں۔ اردو کے عالم ہونے کے ساتھ ساتھ جوش صاحب ایک عظیم شاعر بھی ہیں۔ آج کے بدلے ہوئے سماجی ماحول سے ’جوش‘ صاحب فکر مند   اور پریشان ہیں۔ ان کی پریشانی اُس وقت   اور بڑھ جاتی ہے جب اُنہیں لگتا ہے کہ اُردو پڑھنے   اور لکھنے کی وجہ سے اُن کی اپنی اولاد بھی اُنہیں دوسرے لوگوں کی طرح مسلمان سمجھتی ہے۔ جوش صاحب کو اصلی حیرانی تب ہوتی ہے جب ان کی پوتی مالو ان سے پوچھتی ہے کہ، ’’ددّو کیا آپ مسلمان ہیں ؟‘‘ جوش صاحب کے لیے آج سارا ہندستان حیرت گاہ کے روپ میں بدلتا جا رہا ہے۔ ملک میں کہیں فرقہ وارانہ فساد ہوتا ہے۔ کرفیو لگتا ہے تو اُنہیں حیرت ہوتی ہے ۔۔۔فساد نہیں ہوتا ہے تو بھی اُنہیں حیرت ہوتی ہے ۔۔۔ریل گاڑی وقت پر آ جائے تو حیرت ہوتی ہے۔ وقت پر نہ آئے تو بھی حیرت ہوتی ہے۔ انہیں لگتا ہے کہ دو بیٹے ہونے کے باوجود اُن کا کوئی وارث نہیں ہے، جو ان کے مرنے کے بعد اُن کے خیالوں   اور تہذیب و ادب کی نمائندگی کرے۔ 
کتاب میں ہندو   اور مسلم کٹّر لوگوں کی جم کر خبر لی گئی ہے۔ مسلمانوں میں کٹّر پن پنپنے   اور اُن کے پچھڑنے کی وجہوں پر تبصرہ   اور تجزیہ بھی کیا گیا ہے۔ اور مسلمان لیڈر شپ پر بھی طنز کئے گئے ہیں۔ فساد   اور دنگے کرانے میں خود غرض نیتاؤں کا کتنا ہاتھ ہوتا ہے   اور ممبئی کے دنگے کے پیچھے کیا بلڈرس مافیا کا ہاتھ بھی تھا؟ ان سوالات پر کتاب میں اچھی بحث ملتی ہے۔ 
جن ہندی قارئین نے ذوقی کا ناول ’مسلمان‘ پڑھا ہے۔ اُنہیں بیان پڑھ کر بے حد سکون مل سکتا ہے۔ کتاب کی خواندگی غضب کی ہے۔ 
٭٭٭



ذوقی کا بیان

شمیم اختر

 ’’اردو ادب میں شاید یہ پہلا سیاسی ناول ہے   اور مجھے امید ہے کہ یہ ناول اردو ادب میں ایک الگ مقام بنا لے گا کیونکہ اس ناول کی سب سے بڑی خاصیت یہ ہے کہ اسکو جذبات   اور حقیقت کی بنیاد پر لکھا گیا ہے۔‘‘ 
مذکورہ باتیں مشہور زمانہ صحافیہ محترمہ سیما مصطفی نے ۶  دسمبر کو غالب اکادمی میں نوجوان ناول نگار مشرف عالمی ذوقی کے نئے ناول ’’بیان‘‘ پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہتی ہیں سیما مصطفی نے یہ بھی کہا کہ اس ناول کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ ذوقی صاحب نے بغیر کسی الجھاؤ کے ایمانداری کے ساتھ اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔ 
ناول کے اجراء کے ساتھ فرقہ واریت پر بھی ایک سیشن رکھا گیا تھا جس کی صدارت جناب بی این پانڈے جی نے کی، انہوں نے کہا کہ ’’نئی نسل میں فرقہ واریت کا زہر پھیلانے کی وجہ ہم لوگوں کی لاپرواہی ہے کیونکہ آزادی کے بعد ہم نے خود کو ترقی کے میدان میں کچھ اس طرح مشغول کر لیا ہے کہ نئی نسل کو سیکولر تعلیم سے دور رکھا جو آہستہ آہستہ آر ایس ایس   اور جماعت اسلامی کے اصولوں کو اپناتی گئی، جبکہ ہندوؤں کو اسلام، مسلمانوں   اور قرآن کے خلاف غلط بتایا گیا۔ گمراہ کیا گیا ہے۔‘‘ 
مشہور ادیب جو گندر پال نے ذوقی کی تصنیف   اور ناول ’’بیان‘‘ پر اپنی رائے ظاہر کرتے ہوئے کیا ’’ذوقی کے اندر کو لمبس جیسی بے چینی ہے جو کسی نئی منزل کی تلاش کے لیے ضروری ہے۔ جبکہ ناول ’’بیان‘‘ میں انہوں نے اپنے جذبات   اور تجربے کا بہت بے باکی سے اظہار کیا ہے۔ جس کے لیے یقیناً ہمت کی ضرورت ہوتی۔ 
ریٹائرڈ پولس افسر   اور شاعر شجاع خ   اور نے ’’بیان‘‘ پر سخت تنقید کی   اور کہا کہ ’مصنف نے صرف ایک سیاسی پارٹی کو نشانہ بنایا ہے، جو ایمانداری نہیں ہے، انہوں نے کہا کہ فرقہ واریت کے خلاف ناکامی کی وجہ سرکاری افسر شاہی نظام ہے جو عوام کے نمائندہ کے وجود کو قبول نہیں کرتا ہے۔ مشہور ہندی افسانہ نگار   اور ’’ہنس‘‘ کے مدیر راجندر یادو نے کہا کہ ذوقی کا قلم شروع سے ہی بولڈ رہا ہے، ذوقی میں ایک طرح کی بے خوفی ہے، بیان کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اُسے اردو ہندی کے علاوہ دوسری زبانوں میں بھی آنا چاہئے، ابھی ایسے گمبھیر موضوعات پر لکھنے کی زیادہ ضرورت ہے۔ 
تھئیٹر ایکٹیوسٹ حبیب تنویر نے بھی بیان کو قابل تحسین کوشش بتاتے ہوئے کہا کہ مصنفوں سے اب اُن کی زمینیں چھوٹنے لگی ہیں، بیان، بہت کچھ یاد دلانے کا حوصلہ کیا ہے۔ 
ذوقی کے اس ناول کا اردو کے ادبی حلقہ میں بے چینی سے انتظار تھا، کہا جا رہا ہے کہ تسلیمہ کی ’’عزت‘‘ اگر بنگلہ دیشی ہندوؤں کی کہانی ہے تو ’’بیان‘‘ ہندستانی مسلمانوں کی بیان کی کہانی ایک بزرگ ہندو بال مکند شرما جوش کے ارد گرد گھومتی ہے جو ملی جُلی تہذیب کی نمائندگی کرتی ہے، لیکن رتھ یاتراؤں کا ماحول اس آدمی کو آہستہ آہستہ ختم کرنے لگتا ہے۔ یہ ناول ۶ دسمبر کے نام ہے، جو ایک سنجیدہ   اور جذباتی موضوع ہونے کی وجہ سے سیاسی سطح پر اچھا خاصہ واویلا کھڑا کر سکتا ہے۔ ناول میں کئی کردار بھاجپا کے بڑے نیتاؤں مثلاً اڈوانی، ملکانی، سکندر بخت   اور عارف بیگ سے ملتے جلتے ہیں۔ اردو حلقوں میں اس کتاب پر بھیانک ردّ عمل شروع ہو چکا ہے۔ دیکھنا ہے ذوقی کے ’’بیان‘‘ کا بیان بھی سیاسی سطح پر کتنی اُتھل پتھل مچا پاتا ہے۔ 
٭٭٭


بیان کے بعد۔۔۔ ایک خط اپنے عزیز ’ذوقی‘ کے نام

راکیش کمار سنگھ

ذوقی ۔۔۔میرے دوست
		کامیابی مبارک ہو!
 ’جن پتھ‘ کی طرف سے تمہارا نیا ناول ’بیان‘ ملا۔ برائے تبصرہ! میرے، تمہارے درمیان جو رشتہ ہے، ہم وطن (آ رہ/ ہندستان) ہونے کا، اس کی روح میں اپنوں کے درمیان تبصرہ کی رسم مناسب نہیں سمجھتا۔ تم جتنے بہتر ادیب ہو اُس سے کہیں بہتر انسان ہو، اِسے مجھ سے بہتر تمہاری دلّی کے لوگ جان سکتے ہیں بھلا؟ وہ ’’فنی لینڈ‘‘، ’’حیران مت ہوسنگی مترا‘‘   اور ’’مرگ نینی کہا‘‘ کے افسانہ نگار یا ’’ذبح‘‘، ’’شہر چپ ہے ‘‘   اور ’’مسلمان‘‘ کے ناول نگار مشرف عالم ذوقی کو جانتے ہوں گے مگر مجھے تو صرف اس نام کی دُم ذوقی کو جاننے کا فخر حاصل ہے ۔۔۔بہر حال بات تمہارے ’’بیان‘‘ کی ہو رہی تھی۔ 
 ’’بیان‘‘ کے لیے تم نے بڑا نازک موضوع چنا ہے۔ پتلے کانچ کی دیوار جیسا۔ بیحد ڈیلی کیٹ   اور تلوار کی دھار پر چلنے جیسا کام۔۔۔مگر کیا ترقی پسند ہونا تخلیق کار ہونے کی بنیادی شرط ہوتی ہے  اور مصنف کا لازمی مقدر ہوتا ہے، موجودہ حالات سے مقابلہ کرنا   اور بہتر کل کی فکر سے دو چار ہونا۔ 
کتاب، بال مکند شرما ’جوش‘ نام کے ایک انسان سے شروع ہوتی ہے __ نیک خواہشات سینے میں چھپائے ’جوش‘ کی موت پر یہ افسانہ ختم ہو جاتا ہے۔ اس درمیان بھارتیہ جنتا پارٹی کی کاروائیاں ہیں۔ منصوبے ہیں۔ فساد کے خوفناک مناظر ہیں۔ اجودھیا کے واقعات ہیں۔ اس آگ، راکھ، خون   اور دھوئیں کے درمیان ’جوش‘  اور منّا کے کردار بڑے پیارے بن پڑے ہیں۔ منّا کی موت پر آنکھیں پرنم ہو آئیں۔ ایک راز کی بات۔۔۔، اگر مجھے ’’جوش‘‘ میں ’’ذوقی‘‘ دیکھنے لگتا ہے تو کیا یہ محض میری آنکھوں کا دھوکہ ہے ؟ ویسے کردار سب تمہارے ہیں۔ جیسے پیش کرو، تمہیں آزادی ہے، مجھے کیا؟ ۔۔۔مگر ’’جوش‘‘ کو دوچار اشعار بھی تو کہنے دیتے۔ 
چونکہ بیان کا سبجیکٹ بے حد جلتا ہوا ہے، اس میں ہوائی قصہ زیرو   اور خیالات کے طوفاں زیادہ ہیں، اس لیے مجھے ’’تمس‘‘ (بھیشم ساہنی)، ’’کالا جل‘‘ (شانی)، ’’آدھا گاؤں ‘‘ (راہی معصوم رضا) سوکھا برگد (منظور احتشام)، جھینی جھینی بینی چدریا (عبدل بسم اللہ)   اور آگ کا دریا (قرۃ العین حیدر) جیسے کلاسکس فطری طور پر یاد آنے لگے۔ ان تخلیق کاروں نے تنی رسّی پر سے ماہر بازیگروں کی طرح گزر لینے کا کرتب کر دکھایا تھا مگر ’بیان‘ میں تم ان کی دہلیز کو چھوتے چھوتے رہ گئے۔ تمہیں سہارے کی ضرورت پڑ گئی دوست! 
تمہاری سوچ کا مرکز ہے چھ دسمبر! وہ طوفانی سہ پہر جس سے لبریز ہے نیندیں اڑانے والا تمہارا یہ ’بیان‘ __ یقیناً ’’وہ صرف ایک مذہبی یا محض سیاست سے لبریز حادثہ بھر نہیں تھا بلکہ ایک خطرناک تہذیبی واقعہ بھی تھا۔ اس واقعے پر لکھتے وقت روح افزا غور و فکر کی بھی ضرورت تھی کیونکہ حقیقتاً جیسا نظر آتا ہے، ضروری نہیں کہ ویسا ہی ہو بھی۔ سچائی کافی تک کھلی   اور بے حد پیچیدہ چیز ہے۔ کسی حقیقت کا یک گونہ سبق ٹکڑے ٹکڑے حقائق کا کولاژ بھلے بن جائے اُسے پوری طرح سے ’پروجیکٹ‘ نہیں کر سکتا۔ اس کے لیے ضرورت ہوتی ہے۔ ’سچائی‘ کے غیر جانب دار پوسٹ مارٹم کی۔ 
یوں ناول کی کئی خوبیاں تو اس کے پہلے ایڈیشن کے کور   اور دیگر وسائل میں ہی پڑھ چکا ہوں مگر دوستی کے تقاضے سے کر رہا ہوں کہ اس شعلہ سبجیکٹ پر لکھتے ہوئے اس ناول کے کینواس کو ایودھیا سے باہر بھی۔۔۔پورے ہندستان پر پھیلانا تھا۔ ہندو، مسلمان رشتوں پر غور و فکر ضروری ہے ۔۔۔پہلے تو یہی تشریح کرنے کی ضرورت ہے کہ وہ لہر جس میں غوطہ لگانے کا تذکرہ بار بار مسلمانوں سے کیا جاتا ہے ۔۔۔خاص کر چناؤ کے وقت   اور بھی بلند آواز میں __ کس سیاسی پارٹی کے دفتر، کمروں   اور گلیاروں سے ہو کر بہتی یا گزرتی ہے ؟ کیا مسلمان اپنا ووٹ نہیں دیتے۔ دستور اساسی کی قدر نہیں کرتے ؟ اُنہیں صدر جمہوریہ، حاکم اعلیٰ (گورنر)، وزیر اعظم   اور وزیر اعلیٰ بننے کے مواقع حاصل نہیں ہیں ؟ کیا اُنہوں نے ’’سارے جہاں سے اچھا ہندستان ہمارا‘‘ سے نا اتفاقی ظاہر کی ہے کبھی؟ تو پھر نا اتفاقی کے شوشے کیوں ہیں ؟
بابری مسجد کے منہدم کرنے کے فوری وجوہات کم اہم نہیں ہے۔ اس واقعہ کے بطن میں دبے ماضی کی جانچ___ تب شاید ’بیان‘ محض ایک واقعہ نہیں ۔۔۔ایک صرف بیان نہیں بلکہ ایک دستاویز بھی بن سکتا تھا___ چلو آج اسی سلسلے میں فرقہ واریت کے گھنونے ’’راکچھس‘‘ کے جنم   اور اس کی ’’جنم کنڈلی‘‘ بھی دیکھیں۔ 
خلافت تحریک کو ’’سینٹی مینٹل نانسنس‘‘ (جذباتی بکواس)   اور اسہیوگ (عدم تعاون) تحریک کو ’’ماس ہسٹریا‘‘ کا لیڈر ماننے والے قائد اعظم تک ایک مسلم کے روپ میں اپنی پہچان کو خط کشی کئے جانے پر بے قرار ہو اٹھے تھے ؟ کیوں __؟ ۱۹۱۵ء کی ’’گرجر سبھا‘‘ میں ہزاروں موت کی گھٹن برداشت کی تھی جناح نے ؟ در اصل سیاست کے ’’چھدم‘‘   اور فرقہ پرست نظریہ نے ہی اُنہیں نورو جی، تلک، گوکھلے   اور لالہ لاجپت رائے جیسے ان لوگوں سے الگ کاٹ ڈالا تھا جس کے ساتھ وہ تحریک جنگ آزادی میں کندھے سے کندھا ملا کر لڑے تھے __ کیا یہ وہ سچ نہیں تھا میرے عزیز دوست، جس کی شاخیں تقسیم   اور اندر ہی اندر اجودھیا تک پھیلتی گئیں ۔۔۔ ؟
ایک ناول تاریخی حقائق پر پڑے گمراہی کے پردے بھی چیر سکتا ہے بشرطیکہ اُس میں اپنی تاریخ   اور آج کی دھڑکنیں ہوں۔ مندر توڑ کر مسجد بنانے کے سلسلے (صفحہ ۱۰۱) میں بابر کی سمر قند ہندستان تک کا سفر   اور اُس کے اخلاق   اور اُس کے تخلیقی مزاج کے لیے ’’پرم کُلی کا دِسیو‘‘ (روس) کے انوٹھے ناول ’’بابر‘‘ کو بھی دیکھتے تو چھ دسمبر کی وہ شام کچھ   اور قصور وار کی طرح نمایاں ہو جاتی۔ 
 ’’بیان‘‘ میں مذہب   اور سیاست کی نازیبا حرکت   اور فرقہ واریت کو صاف صاف بیان کرنے کی کافی گنجائشیں تھیں مگر___ ’’ایک تھی بابری مسجد‘‘ میں اُٹھائے گئے محمد جمیل اختر کے کئی سوال اچھوتے   اور جواب سے محروم ہی رہ گئے ہیں __ مسجد کا تالہ کھلوانے کا حکم دینے والے موجودہ جج محترم کرشن موہن پانڈے سے لے کر ضلع مجسٹریٹ رویندر ناتھ شریواستو تک کے مشکوک، کردار ’بیان‘ میں غیر اہم ہیں۔ 
تم نے قابل تعریف بے باکی سے بھاجپا، آر ایس ایس، وشو ہندو پریشد   اور بجرنگ دل کے نام تو بے جھجھک لے ڈالے ہیں۔ اچھا کیا۔ لیکن چھدم، مذہب آزادی کی نقابوں کے پیچھے تب کے سلے ہونٹوں والے چہرے چھپے ہی کیوں چھوڑ دیئے __ جن کے ہونٹوں کے تالے سن اٹھانوے کے عام چناؤ کی قبل شاموں پر بھی ٹوٹے ہیں۔ سرِ عام معافی مانگی جا رہی ہے۔ تم نے اُن کے بھی نام گن ڈالے ہوتے ۔۔۔ان کے دفتروں میں بھی جا کر اُن کا بھی بیان لکھا ہوتا کہ اُن پاٹنرس کی پالٹکس کیا تھی۔۔۔تو شاید ’’اردو ٹائمس‘‘ کا یہ بیان نہیں آتا کہ ’’بیان میں ایک خاص سیاسی پارٹی کو نشانہ بنایا گیا ہے ___‘‘ کیونکہ تب تم فرقہ واریت کے کوڑھ بھرے ’دانو‘ سے مقابلہ کرتے نظر آتے میرے دوست، نہ کہ صرف بھاجپا کے ہنمان سے کشتی کرتے۔ 
تمہارا ’بیان‘ ترش انداز میں کئی تلخ   اور موزوں سوالات اُٹھاتے ہیں۔ کئی واجب افکار۔۔۔مگر وجوہات کی تہہ تک پہنچنا بھی تو ضروری ہے۔ ہمالیہ سے بحر ہند تک ہندستانی مسلمانوں کو کبھی دوئم درجے کا شہری نہیں مانا گیا ہے۔ اُنہیں بھی تمام حقوق حاصل ہیں۔ کچھ وہمیوں کو چھوڑ دو تو! ہاں میں یہاں رضا مند ہوں کہ مسلمانوں کو عام ہندستانی نہیں سمجھا گیا۔ صرف خود غرضیوں کو پورا کرنے کے لیے ’’بہتر شہری‘‘ کا درجہ دے کر تمام سیاسی پارٹیاں اُنہیں ’’استعمال‘‘ کرتی رہی ہیں۔ شاید آگے بھی کرتی رہیں کیونکہ صرف بالخصوص فرقہ پرست/ غیر فرقہ پرست۔ پارٹیاں ہی نہیں سیاست میں (آزاد بھی) سبھی باون گز کے ہوتے ہیں۔ 
تمہارا ایک کردار کہتا ہے کہ ’’اگر بھاجپا حکومت میں آ گئی تو مسلمان زندہ نہیں رہیں گے، ملک چھوڑنے کو بے بس ہو جائیں گے ‘‘ (صفحہ ۹۳)۔ وہ غلط بیانی کرتا ہے ___ ہم ابھی زندہ ہیں دوست۔ در اصل اِسی خوف نے دونوں قوموں کے درمیان کئی غلط فہمیوں کی دیوار کھڑی کر دی ہے جس کا فائدہ سیاست دانوں اٹھاتے آئے ہیں۔ منّا ۔۔۔ ! (کردار)۔ کتاب کے  اوراق سے باہر نکالو۔ آؤ مل، بیٹھ کر غور کریں ___ کیونکہ سوچنے کے لیے کوئی ’’منگل گرہ‘‘ سے نہیں اُترے گا___ کہ کیا سیاسی پارٹیاں بھی اس بات سے خوفزدہ نہیں رہتیں کہ جرمنی کے اتحاد جیسا کوئی حادثہ (ان کے مطابق) یہاں ہندستان میں بھی ہو گیا تو۔۔۔ہندو مسلمانوں نے مل کر اپنے درمیان کی تمام غلط فہمیوں کی دیواریں منہدم کر ڈالیں ۔۔۔تو اُن کا کیا ہو گا؟
مسلم پرسنل لا، جین پرسنل لا، بدھشٹ پرسنل لا، ہندو کوڈ بل۔۔۔اب اتنا نا کافی ہو چکا ہے، تو ایک ہی قوم کے درمیان کئی کئی دیواریں، خانے خانچے ۔۔۔ ؟  تقسیم کرنے والی لکیریں ۔۔۔گھاس کی جڑ (گراس روٹ) ۔۔۔ملائی دار پرت (کریمی لیٹر) مگر سب کی تعریف اپنے فائدے کے مطابق ۔۔۔گڈ مڈ! ملک کی ایکتا   اور اِسے نہیں ٹوٹنے کی یہی صورت ہے تو پھر ٹکڑے ٹکڑے دکھانا کسے کہیں گے ؟ کیا مسلم (یا کسی دوسرے کے لیے بھی) کو مطمئن کرنا   اور قانون کے ذریعہ دیئے گئے مخصوص حقوق کی وجہ سے ہندوؤں (یا کسی دوسرے کے لیے بھی) کو مطمئن کرنا   اور قانون کے ذریعہ دیئے گئے مخصوص حقوق کی وجہ سے ہندوؤں (یا کسی خاص طبقہ) میں وغیرہ حفاظتی کا احساس پیدا ہوا ہے۔ یا کوئی وجہ بھی ہو سکتی ہے ؟ اگر مذہب نے سیاسی اصرار کے برعکس سماجی اصرار   اور تقسیم کی پریشانیوں کو سمیٹا ہوتا تو کچھ حد تک نتائج سے بھی بچا جا سکتا تھا۔ بابری مسجد کے سائے میں ان سوالوں سے بھی نجات پا لینا ضروری ہے کیونکہ اس یوٹوپیا میں جینا خطرناک بھی ہو سکتا ہے کہ، خدا نہ کرے۔ 
تم نے ایسے سڑتے ’جوہڑ‘ میں چھلانگ لگانے کی ہمت کی ہے بلکہ اُس میں غوطہ زن ہونے کی بھی کوشش سے باز نہیں آئے مگراصل سطح تک پہنچتے تمہاری سانسیں جواب دینے لگی ہیں۔ مانتا ہوں کہ صرف بودھک پتنگے ہی نہیں اڑائی تم نے بلکہ ناول میں فرقہ واریت پر بہت سارے تجزیئے بھی ہیں۔ کسی مخصوص فرقہ واریت کے پیرو کار نہیں ہو تم۔۔۔خوب جانتا ہوں میں۔ تم نے نہ صرف دونوں کو لعنتیں بھیجی بلکہ بخاریوں شہاب الدین کو بھی نہیں بخشا، مگر مذہب   اور سیاست کے اس میل میں غیر ہندو فرقہ پرستی کا بھی ویسے ہی جم کر مخالفت کرنی چاہئے تھی تمہیں۔ سیدھی تلوار سے ہی۔ ہندوؤں کی سیاست کو ’’متھتے ‘‘ ہوئے جب تم مسلم فرقہ واریت   اور سیاست کی اندرونی مخالفت تک اُترنے لگے تو اس کی گہرائی کے دباؤ نے تمہیں اوپر اُچھال دیا۔ تمہیں سطح پر چھپ چھپاتا دیکھ میں چیخ کر تمہیں آواز دینا چاہتا ہوں۔ واسطہ دیتا ہوں تمہیں ’جن پتھ‘ (شمارہ ۶۔ ۵) پر کھڑے ہو کر کہی (لکھی) گئی تمہاری اُس تقریر کا۔۔۔’’بابری مسجد منہدم کرنے کا حادثہ کانگریس کی دونوں ہاتھ سے تالی بجانے والی چال سے زیادہ نہیں تھی، مسلمان سمجھ چکے ہیں۔ اس لیے کانگریس کے خلاف اُن کا غصہ بھاجپا سے کہیں زیادہ ہے۔ راؤ حکومت کی گول مول پالیسی ہی زیادہ جوابدہ ہے۔ ’’قتلو غارت کے شور میں مجھے تمہاری یہ آواز ’’بیان‘‘ میں سنائی نہیں دے رہی۔ 
مجھے پوچھنا ہے تم سے کہ بھوک، بے روزگاری، دہشت گردی، علیحدگی پسند گھوٹالے، بھرشٹا چار، مہنگائی، چناوی لاٹھیوں کی مار، غلامی کے خطروں سے بھی زیادہ خطرناک   اور کشیدہ حالات، ہندو مسلم کشیدگی ہی کیوں ہے ۔۔۔کیونکہ وہ (سیاستداں ) ایسا ہی چاہتے ہیں ؟ ہندستان کے تقسیم کا وہ خوفناک واقعہ کیوں ایک گزرا ہوا حادثہ محسوس ہوتا ہے (صفحہ ۱۱۲) ؟   اور اجودھیا کا واقعہ اس دہشت ناک موت کے درد سے زیادہ خطرناک ٹریجڈی؟ کیا ہم ’’ٹُچّے الزیمرس‘‘ (بھولنے کی بیماری) کے ماروں کے لیے یہ واقعہ تقسیم کی طرح ہی ایک گزرا ہوا حادثہ بھر بن کر تو نہیں رہ جائے گا میرے ہم خیال دوست۔ 
دوسری بات۔۔۔آدھے مسلمان ’’جوش‘‘ (بقول برکت بھائی/ صفحہ ۲۹) کے بعد کیا کوئی ہندو پولس والا یا نرم دل ہندو نیتا اس پورے باب میں ایسا نہیں ملا جو چھ دسمبر کی تشویش سے لبریز   اور شرمسار تھا؟ کیوں منّا کا قاتل بھی ’’مسلمان لگنے والا‘‘ (بھاجپائی ہی؟) چمولا ہی تھا؟ اگر کوئی صاف دل تنویر ہے بھی تو ہو ’’برگلایا گیا‘‘ مسلمان کیوں ہے ؟ کیوں ’’ملک کے حاشیے پر سب سے بڑا ولن مذہب ہے ‘‘ ۔۔۔یوں ۔۔۔’’ہمیں کسی کے عقیدے سے نہیں کھیلنا چاہئے۔‘‘ کہنے والا صرف اس لیے ایسا کہنے کی ہمت جٹا پاتا ہے کیونکہ اس کا بیٹا بھی ایک بھاجپائی ہے ؟
صرف ایک پارٹی پورے ’’بیان‘‘ پر سوار ہے جو خاموش رہے، باپو کے تینوں بندروں کی نمائندگی کرتی ہے۔ ان کی تاریخ لکھنے کی ذمہ داری کس پر چھوڑ دی تم نے ؟ وقت پر۔۔۔؟ ہا۔۔۔ہا۔۔۔ہا۔۔۔! اب یہ مت کہہ دینا کہ ’’اپنی دنیا میں اپنی طرح سے جینا کسی مذہب میں گناہ نہیں ہے (صفحہ ۸۵) ہے میرے دوست ۔۔۔گناہ ہے۔ دوسروں کی جذبات کی قدر کئے بغیر جیتے جانا گناہ ہے۔ بس اپنی آسانی کے مطابق۔۔۔اپنے لئے جئے جانا بھی کوئی جینا ہے ؟ جو یہ نہیں جانتے کہ وہ کیا کر رہے ہیں اُن سے کہیں زیادہ خطا وار ہیں، وہ خاموش لوگ خوب جانتے ہیں کہ لوگ کیا کئے جا رہے ہیں ___ پھر بھی معصوم خاموشی کے ساتھ تاکتے رہتے ہیں۔ اب۔۔۔چھوڑو۔۔۔بہت ہو چکا ہے۔ مسئلہ بدلیں ۔۔۔ ! ویسے بھی تمہارے چست مکالمے، تمہاری حسین زبان کے جلوے   اور جلال کا میں ہمیشہ قائل رہا ہوں۔ مناسب الفاظ کا انتخاب، ان کی تراش، اُنہیں پیش کرنے کی نفاست   اور سجاوٹ۔۔۔  اور پھر الفاظ کا تیز رفتار بہاؤ۔۔۔ ! تمہارا یہ دلفریب انداز بیاں ۔۔۔دوست تم کرشن چندر، منٹو، بیدی کی بیٹن (دوڑ کی چھڑ) تھامے آگے بھاگنے لگے ہو کیا؟
آج کے حالات کی تڑپ ’’بیان‘‘ میں بھی موجود ہے۔ بڑا سیڈسٹ ہوں میں کہ تمہاری یہ تڑپ بھی مجھے سکون ہی دیتی ہے۔ شاید یہ دوستی نبھانے والی بات سمجھی جائے، لیکن مجھے لگتا ہے تم میں آسمان میں سوراخ بھی کر ڈالنے کی قوت ہے۔ تمہارے اسی حوصلہ کا تو میں شیدائی ہوں۔ 
ذوقی۔۔۔! میں قومی آواز (دلّی) کی اِس بات کا قطعی حامی نہیں کہ ’’یہ غلط بیان ہے۔‘‘ بس کچھ ادھورے پن کا احساس اس لیے ہوا کیونکہ کئی چہرے چھپے ہی رہ گئے۔ سامنے کھڑے دشمن کی پہچان تو کوئی گدھا بھی کر سکتا ہے تمہیں تو میرے یار زمین دوز بارودی سرنگیں ہی زیادہ تلاش کرنی تھیں۔ مجھے ’’اخبار نو‘‘ (دلّی) کی طرح یہ بھی قطعی نہیں لگتا کہ اس کتاب پر کسی طرح کی پابندی لگانے کی ضرورت ہے بلکہ اِسے تو مجھے زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانا   اور پڑھا جانا چاہئے تاکہ لوگ ’’کالا جل- تمس- آدھا گاؤں ‘‘ کی گہرائیوں   اور تمہارے بیان کی سچائیوں سے بھی روبرو ہو سکیں۔ 
یہ سب لکھتے ہوئے مجھے بھی کچھ اچھا نہیں لگا میرے یار مگر سچ کو سچ نہ کہوں ۔۔۔دوست سے صاف سیدھی سچّی باتیں نہ کروں تو کیا کہوں ۔۔۔  اور کس سے۔ میں صرف تمہاری تعریف کر تمہیں دھوکہ دوں ؟ نا۔۔۔یہ دوستی کا تقاضہ نہیں۔ میں دوستی کا قاتل نہیں۔ تمہارے احساس گلو خلاصی کو میں با احترام تسلیم کرتا ہوں ۔۔۔اپنی بات ظاہر کرنے کے خطرے اٹھائے ہیں تم نے ۔۔۔مجھے بھی اُٹھانے ہی پڑیں گے۔ 
خط واہیات کی حد تک طویل ہو گیا، شاید بہت طویل عرصے کے بعد لکھنے کی وجہ سے، لیکن اگر میرے اس خط کا کوئی اکلوتا لفظ بھی تمہیں ناگوار گزرا ہو۔۔۔ ! دوستی کے عقیدے کو تکلیف پہنچی ہو تومیں خطا وار ہوں تمہارا۔ جو چور کی سزا۔۔۔وہ میری۔ پہلے تو میں خود پر پیشگی لعنت بھیجتا ہوں۔ ملنے پر تم بھی میری جو لعنت ٍو ملامت کرنے کو آزاد ہو، جانتا ہوں میں۔ یہ جانتے ہو تم بھی ۔۔۔ !
۔۔۔  اور سب خیریت! تمہارا قلم کبھی تمہیں بوڑھا ہونے کی اجازت نہ دے پھر ہم تمہیں لکھے بغیر جینے کہاں دیں گے ؟
امید ہے کہ بقر عید پر ملاقات ہو گی۔ آنا ضرور۔ کیا ہے کہ ہماری تمام نیک خواہشات کے باوجود اس لفظ ’’غیر فرقہ واریت‘‘ سے بو آنے لگی ہے۔ شاید اس لیے کہ اس لفظ کے منہ پر ہی لگے خون (غیر) سے پرائے پن کی بو آتی ہے۔ شاید اس لیے کہ اِس کا ’’ایجاد ہی ایک فرقہ پرست نظریئے کے تحت کیا گیا تھا (سنبھو/ پرویشانک/ صفحہ ۱۵/۱۱)۔ اس دفعہ میں، تم، مدھو جی، متھیلیشور جی، نرین جی، اننت، شین، صغیر سب مل بیٹھ کر تلاش کریں گے۔ اس کے برابر وزن کا کوئی دوسرا لفظ! ہم تو ہیں ہی بُنکر__ کمہار، الفاظ کے ) مل کر چلائیں گے چاک___   اور گڑھیں گے کوئی اک نیا ’’غیر‘‘ عاری لفظ ! ۔۔۔بُنیں گے اس سے بھی حسین لفظ۔۔۔ !
بھابھی جان کو آداب۔۔۔ ! بیٹے کے لیے ہزار بو سے ۔۔۔واپسی ڈاک سے رسید چاہئے یا پھر رکھ دینا اسے بھابھی جان کی ہتھیلی پر ہی۔ اُف ۔۔۔! اُن کی خوبصورت انگلیوں کا جادو۔۔۔ ! آہ ۔۔۔! وہ عید کی لذیذ سوئیاں ۔۔۔خط ارسال کرنا۔ 
تمہارا عزیز
راکیش کمار سنگھ
٭٭٭


ماضی   اور حال کا مکمل ’بیان‘ !

جے سنگھ

تاریخ میں چھ دسمبر جس روپ میں درج ہوا ہے اُسے اس دور کے تمام تخلیق کاروں نے اپنی تخلیقات کے ذریعے بیان کیا ہے۔ شاعر، مصنف، افسانہ نگار، ناول نگار، صحافی   اور ایک سنجیدہ انسان کے لیے کسی درد ناکو اندوہناک واقعے کو یوں بھی بھلا دینا بے حد مشکل ہوتا ہے۔ مشرف عالم ذوقی کے ناول ’’بیان‘‘ کو بھی یونہی بھلا دینا ممکن نہیں لگتا۔ بیان ہندو مسلم تہذیب   اور دونوں کے وجود کو بغیر کسی مکر و فریب   اور بغض کے تجزیہ کرتا ہے   اور ماضی سے آج تک سماجی ڈھانچہ کو جن قدروں نے جمع کر رکھا ہے اس کی تصنیفی نظریئے سے جائزہ لیتا ہے۔ 
ماضی   اور حال کے درمیان بڑھتی دوریاں، رشتوں میں آئی روحانی تکلیف، ادنیٰ سیاسی آرزو مندی   اور اُن کی وجہ سے مذہب کے نام پر آپس میں لڑا دینے والے کچھ شرارتی عناصر کس طرح دیکھتے دیکھتے نسل در نسل چلی آ رہی محبت   اور بھائی چارے کو کھا جاتے ہیں۔ یہ ’’بیان‘‘ پڑھ کر محسوس کیا جا سکتا ہے۔ ’’بیان‘‘ کے جو کردار ہیں وہ ہمارے ہی درمیان کے ہیں۔ ہم ہی میں سے ہیں۔ وہ چاہے بال مکند شرما جوش ہو، برکت میاں ہو۔ نریندر مودی ہو، بجلی آفس میں بابو منّا ہو، مقامی نیتا ڈاکٹر نویندو، نیل کنٹھ، امر جیت، ملکانی ہو یا پھر پانچ گناہگاروں کے نام سے مشہور بے روزگار امن پسند   اور شاعر فیض سکراتی، احمد ربّانی، نا جا خیال ایم اے، حبیب تنویر   اور باقر مرزا ہوں۔ سبھی اس ملک، سماج   اور شہر کے ہیں۔ سب کی اپنی اپنی دنیائیں ہیں۔ اپنے اپنے سپنے ہیں   اور اپنا اپنا وجود !
مشرف عالم ذوقی کے ’بیان‘ کے خاص کردار ہیں بالمکند شرما جوش۔ جوش صاحب کے دو بیٹے ہیں جن میں بڑا بیٹا نریندر کانگریسی نیتا ہے۔ نریندر کی بیٹی مالو ہے جو دادا کوبڑی پیاری لگتی ہے۔ وہ بھی دادا کو دادو کہہ کر پکارتی ہے۔ جوش صاحب نے دنیا کو بدلتے دیکھا ہے۔ اپنی آنکھوں سے ملک کو ٹوٹتے، بکھرتے دیکھا ہے۔ اپنے پرایوں کو دیکھا ہے۔ فساد کی دہشت ناک تصویر آج بھی بزرگ ہو چلے شاعر بال مکند شرما جوش میں کپکپی پیدا کر جاتی ہے۔ ماضی کی یہ ناخوش گوار یادیں اُن کے حال میں تعاقب کرتی ہیں۔ ہر طرف اُنہیں ناگزیر حالت نظر آتی ہے۔ دھواں دھواں شہر   اور اپنے عزیز برکت بھائی!
برکت بھائی بھی اِسی شہر کے باشندے ہیں۔ گھر میں بیٹا منّا ہے۔ اُسکی بیوی ہے   اور پیارا سا ایک بچہ۔ 
جوش   اور برکت میاں بچپن کے خاص دوست! ساتھ ساتھ تعلیم حاصل کی۔ ساری دنیا کے رشتے ناطے ڈگمگا گئے لیکن وقت کی تیز ہوائیں اُن کی دوستی کو نہیں گھٹا سکی۔ سارا شہر جانتا ہے۔ لیکن ماضی کی اس بنیاد کو اُن کے ہی بیٹے نہیں سنبھال سکے۔ دھرم   اور مذہب کی جفا جو ہوا نے سارے وجود کو جھنجھوڑ دیا۔ 
شہر میں پھر دنگا ہو گیا۔ کئی جانیں جاچکی ہیں۔ کرفیو لگا دیا ہے۔ افواہوں کی دنیا آباد ہے۔ جوش   اور برکت کی دنیا میں بس یادیں ہیں ___ ’وقت ہی خراب ہے۔‘ 
 ’نہیں وقت کو گالی مت دو جوش بھائی! ہم ہی خراب ہو گئے ہیں، ہم ہی ایک دوسرے کے عیب تلاش کرتے ہیں۔ سامنے سے آؤ تو گلے ملتے ہیں   اور پیچھے پیچھے ایک دوسرے کو گالیاں دیتے ہیں۔ ایک دوسرے کو چھرا بھونکتے ہیں ۔۔۔بدل گیا ہے۔ جوش بھائی۔۔۔سب کچھ بدل گیا ہے ۔۔۔ ‘ تبدیلی کا درد بال مکند شرما جوش   اور برکت میاں کے دلوں میں ہی نہیں ہے۔ اُن کی اگلی نسل نریندر   اور منّا کے دلوں میں بھی ہے۔ ان دلوں میں دوریاں نیل کنٹھ، ڈاکٹر، ملکانی جیسے لوگوں نے بنائی ہیں۔ اس کے لیے منصوبے بنے، دنگے فساد کرائے گئے۔ لوگوں کو ڈرایا دھمکایا گیا۔ تب جا کر یہ منظر پیدا کرنے میں کامیاب ہو سکے یہ طاقتیں ’چلو تم بھی منہ میٹھا کرو۔‘ مگر کس خوشی میں ؟‘ ’ارے دیکھتے ہیں، ہماری پارٹی بس کامیابی کی تاریخ لکھنے ہی والی ہے۔‘ ناول کے کردار آج کی کامیابی کی بات نہیں کرتے اُن کے مستقبل پر بھی نظر ہے۔ ’ہمارے اصل ہتھیار ہوں گے بچے   اور عورتیں ۔۔۔عورتوں سے گھر گرہستی چلتی ہے۔ بچوں کا دماغ نازک ہوتا ہے   اور جلد سچ کو قبول کرنے کا قوت رکھتا ہے۔ عورتوں   اور بچوں کو اپنی طرف کرنے کا مطلب ہے ایسے لوگوں کو خود اپنے قابو میں کرنا۔۔۔  اور وہ ہم کریں گے۔‘ 
 ’بیان‘۔ پریوار میں حاوی ہوتی مطلب پرستی کی بد سگالی کو بھی بخوبی بیان کرتا ہے۔ جوش ابھی ہارے نہیں لیکن اُن کی بہو کو ابھی سے فکر ہے۔ ’اب بھی کچھ نہیں بگڑا ہے۔ بابو جی کو تیار کیجئے کہ وہ اپنی زندگی میں ہی وصیت نامہ تیار کرا لیں۔ آنکھوں کے سامنے وصیت تیار ہو گی تو بابو جی حق نہیں مار سکیں گے۔، ادھر برکت میاں بھی انہیں الجھنوں سے دوچار ہیں۔ ان دونوں کی بات چھوڑو۔ نئی نسل بھی تو  بھوک، بیکاری   اور نا انصافی جیسی پریشان کن حالات کے دائرے میں ہیں۔ پانچ گنہگاروں (یہی کرتے تھے بال مکند شرما جوش اُنہیں ) کی اس جماعت میں پہنچنے پر پتہ چلا ہے کہ دور کون سا ہے۔ فنتاسی بھی دنیا   اور اصل زندگی کے درمیان کے خالی پن کو کچھ اس طرح محسوس کیا جا سکتا ہے ۔۔۔فیض سکراتی کے تصور میں زہرہ تو احمد ربّانی کی نادرہ نازاں خیال ایم اے کی محبوبہ حنا تھی تو حبیب تنویر کی کوشلیا۔ ان محبوباؤں کے نام پر گھنٹوں ہنسی مذاق ہوتے مگر سچائی میں یہ لڑکیاں تھیں کہاں ؟ کہاں رہتی تھیں ؟ ان کے ماں باپ کون تھے ؟ سارے دن تو آواروں کی طرح وہ ایک دوسرے کے ساتھ چسپاں ہوتے تھے پھر یہ اپنی محبوباؤں سے ملتے ملاتے کب تھے۔ یہ کوئی نہیں پوچھتا تھا۔۔۔اُن میں سے کوئی بھی ایک دوسرے سے اس بارے میں جاننا نہیں چاہتا تھا___ اس لیے کہ اس جاننے   اور نہیں جاننے سے بڑا بھی ایک سوال تھا جو اکثر گوشت نوچنے والے گدھ کی طرح اُنہیں نوچتا تھا۔۔۔’کہ خوابوں تک جانے والے راستوں کو پکڑنے کے لیے جو چیز ہوتی ہے۔ وہ کہاں سے لاؤ گے تم؟‘   اور ۔۔۔ہم سب نالی   اور کیچڑ میں لوٹتے ہوئے سور ہیں بس۔ باسٹرڈ۔ ہم عشق کے لائق بھی نہیں ۔۔۔نہ یہ کہ ہمیں چاہا جائے۔ نہ ہمیں یہ حق کہ ہم کسی کو چاہیں ۔۔۔ ‘ یہ دکھی جذبہ یوں ہی نہیں اِن کرداروں میں۔ ان کے درمیان متعدد سیاسی، سماجی   اور معاشی وجوہات ہیں جس کی طرف ناول نگار نے اشارہ بھی کیا ہے۔ 
مشرف عالم ذوقی کا ناول ’’بیان‘‘ بے شک و شبہ حال کی تلخ سچائی ہے۔ کم کرداروں کے ذریعے اُنہوں نے ’’بیان‘‘ کو طویل ہونے سے بچایا ہے۔ بیان کی سب سے بڑی خاصیت ہے اس کا لب وہ لہجہ   اور زبان شروع سے ہی اپنے مخصوص لہجے سے ناول دلچسپ بن جاتا ہے۔ چھ دسمبر کا واقعہ بھی سبھی کے ذہن میں آج بھی موجود ہے لیکن ذوقی نے اپنے کرداروں کے ذریعے ’بیان‘ میں اِسے ہمیشہ کے لیے درج کر دیا ہے۔ 
٭٭٭



بیان ایک زبردست المیہ

ڈاکٹر پُشکر

یہ بات اب کسی سے پوشیدہ نہیں ہے کہ آزادی کا ناجائز فائدہ اٹھانے والے لوگ ہمارے سماج میں عام شریف آدمی سے زیادہ طاقتور ہو گئے ہیں۔ فساد کی پشت میں جو لوگ ہیں وہ آرام سے سینہ تانے وزراء کی کوٹھیوں، ایر کنڈیشنڈ ہوٹلوں میں عیش کرتے ہیں   اور عام آدمی کو سارا دن محنت مشقت کر کے دو جون روٹی کا انتظام کرنا ہے۔ ووٹ ایک بھدّا مذاق بن گیا ہے۔ منہ کھولنا ایک مصیبت مول لینا ہے۔ سچ کو پردے میں رکھنا ہے   اور جو جیسا چل رہا ہے اُسے سہتے رہنا ایک مجبوری بن گئی ہے۔ بُرائی اچھائی پر حاوی ہوتی جا رہی ہے   اور ایک دہشت بھرا ماحول فضا میں برقرار ہے۔ لوگوں کے آپسی رسوخ ’ہاتھ وان لیوا دیئی، کے ہو گئے ہیں۔ اپنا ہاتھی مجھے دے دو میں تمہیں اپنا کتّا دے تو رہا ہوں۔ 
نریندر کے بیان کو دیکھئے ___ ’’شاید یہ اِس وقت کا سچ ہے   اور تمہارے لیے مناسب بادشاہ اپنے صوبے کو بچانے کے لیے جنگ چھیڑتا ہے   اور جنگ میں مارا کون جاتا ہے ؟ صوبے کے عوام، بادشاہ کے سپاہی، راجہ کے سپہ سالار۔۔۔ایک بات یاد رکھو ہم بادشاہ نہیں ہیں ۔۔۔سپہ سالار بھی نہیں ۔۔۔ہم عوام ہیں مورچے پر شہید ہونے والے سپاہی۔‘‘ (صفحہ ۲۰۰) 
ذوقی صاحب کے ’بیان‘ میں ایک بے چینی دیکھنے کو ملتی ہے جو عام آدمی کی تڑپ سے جڑی ہے۔ اس تخلیق کی سب سے بڑی خاصیت اس کی حقیقت بیانی ہے۔ ہندو ہو یا مسلمان، یہاں سبھی یکساں پریشان ہیں۔ فرقہ واریت کو وہ صاف طور پر ننگا کرتے ہیں۔ 
بال مکند شرما نے کہا___ یار برکت حسین۔ نئے بچّے سے پوچھو تو غالب   اور اقبال کے نام پر بغلیں جھانکے۔ کون ہیں یہ؟ میری پوتی مالو پوچھتی ہے ۔۔۔ددّو۔۔۔آپ مسلمان ہیں کیا۔۔۔آپ اردو پڑھتے ہیں ۔۔۔اردو۔۔۔مسلمان۔۔۔بچّے بھی پوچھتے ہیں مجھ سے۔ آخر مسلمانوں سے کیا ہمدردی ہے مجھے۔ کیوں اُن کی طرفداری کرتا ہوں ___ اُن کے بارے میں بُرا کیوں نہیں سننا چاہتا۔ اس کا الٹا جواب بھی ہو سکتا ہے کہ میاں ہمدردی نہیں ہونے کی وجہ کیا ہے   اور اُن کے بارے میں بُرا کیوں سننا چاہوں گا۔۔۔میاں جب برسوں سے، مدّتوں سے رہنا سہنا ایک ساتھ ایک طرح سے ہوا ہے تو پھر اُن سے خود کو کاٹنے کی بات کیسے سوچوں برکت حسین ۔۔۔اب تو ہم تم جسم کے ایک ٹکڑے ہی لگتے ہو۔ تمہیں تکلیف ہوتی ہے تو میرے دل پر چوٹ پہنچتی ہے۔ بچّے اس درد کو نہیں سمجھتے۔ بچّے اردو   اور مسلمان جانتے ہیں ۔۔۔بچّے نئی تاریخ   اور سبق جانتے ہیں۔ کل تو سارے کام اردو میں ہوتے تھے ۔۔۔ 
۔۔۔برکت حسین آہ کھینچتے ہیں ۔۔۔بال مکند شرما ’’جوش‘‘ میاں ۔۔۔تم سچ کہتے ہو۔۔۔ہم اردو بولتے ہیں۔ اس لیے ہم ملک کے تیسرے درجے کے شہری ہیں۔ اُنہیں حق حاصل ہے کہ ہمیں خوفزدہ کر کے ہمارے گھر کی تلاشی لے سکتے ہیں۔ قانون و قاعدے اب ہمارے لیے نہیں رہے جوش میاں ۔۔۔لگتا ہے ۔۔۔آہستہ آہستہ مسلمانوں کے لیے ملک کی تہذیب کے طور طریقے سب اُٹھتے جا رہے ہیں۔ 
حقیقی طور پر منّا   اور بال مکند کے دو کردار اس ناول میں ایسے ہیں جو کسی بھی حالت میں بھلائے نہیں جا سکتے۔ ایسے کردار ہر گلی، محلّوں میں موجود ہیں۔ ان کی کوئی بھی نہ سنتا ہے   اور نہ ہی پرواہ کرتا ہے۔ وہ پریشان   اور خستہ حال نظر آتے ہیں، گھٹتے ہوئے جیتے ہیں   اور آخر میں بے موت مارے جاتے ہیں۔ 
اب کوئی اپنے بچّوں کو اردو نہیں پڑھاتا___ ہم بھی نہیں پڑھائیں گے۔ 
بس آسان سا فیصلہ ۔۔۔حکم صادر ہو گیا۔ لیکن وہ خود جیسے اجنبی خیالوں والی پگڈنڈی پر سوار ہو گئے ۔۔۔وہ نرمی۔۔۔وہ شائستگی، وہ حُسن، وہ نزاکت ارے جو چاشنی اردو میں ہے ۔۔۔وہ ۔۔۔لیکن وہ کس سے کہتے ۔۔۔(صفحہ ۱۳۲) 
نتیجہ یہ ہے کہ ہر آدمی پریکٹیکل ہو گیا۔ جذبہ، انسانیت، دیانت داری، آپسی میل جول سب ختم۔ علی الصباح اُٹھو   اور بھاگو، سارا دن بیل کی طرح کام کرو، شام کو گھر آؤ، کھاؤ، بستر پر مر جاؤ۔ پھر صبح وہی آمد رفت، بھاگ دوڑ، پیسہ بنانے کی مشین، انسان نہیں، روبوٹ، حکومت کوّوں   اور گدھوں کی، اور محنت کش، سیدھا شریف پڑھا لکھا   اور مہذب شہری انسان۔ 
یہ ناول بے حد سلجھا ہوا، سنجیدہ کوشش ہے اچھائی کو سامنے لانے کا۔ حقیقت کے سطح پر سیاست ایک ایسا کھیل ہے جو کبھی آج تک تو اچھائی کو اجاگر نہیں کر سکا ہے۔ آگے اللہ جانے۔ یہاں تو محافظ ہی نقصان پہنچانے کے فراق میں ہیں۔ کانگریس کی حکومت میں جتنے غبن (گھوٹالے ) ہوئے ہیں، اُتنے تو ملی جلی پارٹیوں کی سرکار میں بھی نہیں ہوئے۔ کون کہتا ہے کہ دنگوں   اور چھ دسمبر کا واقعہ میں کانگریس کا ہاتھ نہیں تھا۔ اصلیت بے پردہ تو ہے مگر دیکھنے والے جان بوجھ کر اُسے دیکھتے نہیں۔ کیونکہ ایسا کرنے سے ان کے آپس کی پوشیدہ خود غرضی متاثر ہوتی ہیں۔ 
جو بھی ہو، مصنف کو نہ کوئی آج تک روک پایا ہے نہ آئندہ روک پائے گا۔ بے باک قلم کا استعمال ہمیشہ ہوتا آیا   اور آئندہ بھی ہو گا۔ 
مصنف کو میری طرف سے بہت ساری نیک خواہشات   اور کامیاب کوشش پر مبارک باد۔ 
٭٭٭


A Lette to Zauqui

Abid Surti

My dear Zauqui
Last night I completed your bookd 'Byan". First, let me tell you that 'Bayan" is one of the finest books of the decade. After years I have read an Urdu book that runs like juicy fiction. It is a rare achievement for work of literature in any language. The characters of Bal Mukund and Munna are unforgettable. In fact they are so true to life that one can easily identify them. For example, in my friend Mr. Jagmohan Mattu here in Bombay, I can see your Bal Mukund alive and kicking (From tomorrow he is going to begin leading your book) . Your style of writing reminds me of Henry Miller, the controversial author of 'Tropic of Cancer' and 'Tropic of Capricorn'. Your short, terse sentences sprinkled with a satirical humor penetrate deep into the reader's heart. Here are a few lines which felt illustrated this point admirably.

1۔وہ کسی بندوق کی گولی کی طرح پیدا ہوتے ہی جسم میں داغ دی جاتی تھی۔
2۔آنکھوں میں شاید بیتے اتہاس کے کانٹے چبھ گئے ہیں
3۔تنہا کمرہ، خاموش کمرہ۔۔۔ کبھی کبھی کمرہ بولتا ہے۔

This entire paragraph was touching.
There is so much to say I wish I was in Delhi and in front of you. By chance if you happen to visit Bombay do inform me. I wish you all the success, all the way.
Always.
Abid Surti
٭٭٭


Bayaan: A Saga of the past versus the present

Dr. M. Q. Khan

Bayan is a novel by Musharraf Alam Zauqi already well kown for his first novel "Nilamghar" and his anthology of Urdu short stories titled "Bhooka Ethopia".
His present novel Bayaan is divided into two parts, Vartaman (Present) and Ateet (Past) . In the very first sub-chapter of Vartaman, "Daraona khab (Nightmare) " there is an atmosphere of horror and dread as felt by Bal Mukund Sharma Josh, the main character of this novel. He wonders why the streets were deserted, shops closed and helicopters flying in the sky. In the mean while Chaudhury Barkat Hussain, the next central character of the novel appears on the screen of his eyes who predicts, "There will be war".
Both are the epitome of the past culture and style of life. They seem tired of the prevailing situation and specially the thoughts and activities of the younger generations. Balmukund Sharma Josh curses time but Chaudhury Barkat Hussain tries to rectify him saying," Don't abuse time. In fact we are at fault. We are after finding holes in other's coat. When face to face, we embrace each other, but never stop from back biting--- Everything has changed."
Balmukund Sharma Josh peeps into the eyes of Barkat Hussain and with a grin of smile asks, " Tell me the truth, have you too?"
"No. What of that, if I've not changed. Our children have completely changed, who is there to heed to you?"
And things came bared during his talks with his grand-daughter, Malu.
"May I ask you a thing, daddu?" asked Malu"
"Yes, You may," replied Balmukund Sharma Josh
"Are you a Muslim?" Malu posed the question.
He got startled as if some one had attacked him from the behind and turned towards her keeping his books aside, "Why do you ask this?"
"You read Urdu," replied Malu with all her innocence"
Josh was taken aback and stared at her face. He tried to overcome his shock and with a chuckle asked, "Yer, you are right, I'm a Muslim, what's wrong with Muslims, do you know?"
"Oh, they are totally nasty people. They do not take bath, do they"?
" And any thing more that you know about them," Josh poked her.
"They keep their houses dirty, kill animals and--- They are very wicked. They kill men on trifles. It is not proper to pass through those places where they are in majority. They show swords and tell hindus to convert to their religion," went on Mala.
"Where did you learn all this?" asked Josh.
" Where did else? My daddy points out all this and sometimes mummy too.
Are they not wicked?" Malu tried to convince her daddu.
After this episode Mr. Zauqi gives a picture of Chaudhury Barkat Hussain's background who was but a residue of the old Feudalism and still likes to remain in that very dreamland. As a result he has differences with his son. Chaudhury Barkat Hussain wanted to keep extra garden which his son turned into shop and Chaudhury had to rein his Sentiments since he had no answer to this question." What does the sweet smell give to you, abba? By smelling sweet smell God will Not send you shors of money. Be practical. Money is the most important thing." Balmukund Sharma Josh and chaudhury Barkat Hussain realised and confessed that they were left hundred years back. One day Barkat Hussain seeing the state of affairs reigning all around expressed his fore-bodings to Josh" Now you too are in danger, Josh Saheb."
" Why, what makes you so suspect of me after all?"
"Their is Josh at the end of your name--- You are half Muslim". He further explained," It won't make any difference to them what you are. You are an advocate of secularism, and you will be intolerable to them who want to divide people on religion basis".
These words echo in his ears and he closes his eyes to get rid of it but there is sound of shootings of guns, explosions of bombs... and he has a nightmare... there is a structure... no it is mosque... a structure.... whatsoever it might have been, he could not come to any conclusion and finds a rowdy crowd of dismal looking visages mounting and destroying that structure... and among them his sons Anil and Narendra were also there.... his eyes open.. which he tries to shut as he is dreaded and quite upset. And thus ends the sub-chapter nightmare.
Zauqi's sojourn in "Shahar-e-Ashob" the city of uproar or tumult gives an authentic picture of the police search to unearth the hidden arms and ammunitions. It generally follows some disturbance and in this case it was after the disturbance in the Chowk. Whatsoever might have been the reason but a police inspector reported that the stone pelting began from the Shahi Mosques some terrorist had used a hand grenade also. It subsided as no untoward event took place. of course, it had made the atmosphere tense, heaping allegations to each other.
Zauqi has given a very convincing picture of the situation prevailing after such occurrences. Where Muslim population was in the majority they were called Pakistan and where Hindus were in the majority that locality was called the citadel of the R.S.S.
As a result of the panic Muslims living in mohallas of Hindu majority try to shift to some place of safety and can be seen as follows:
Caravan of burqua clad Muslim women cowering and panting with luggage, attache cases, other odds tied in bundles, holding the arms of small children, hiding their grown up daughters was seen going to other places where their relatives lived. Zauqi is not oblivions of the fact, "Fleeing from their house and hearth, they brought bundles of baseless information and rumours to vitiate the the atmosphere,"
"From a certain temple, it was announced that Muslims won't be allowed to perform their prayer (Namaz) ".
"Muslims who will be seen performing prayer will be killed".
"Four youths have disappeared from Slaimpur, and they were all Muslims.
"Were the corpses traced?"
"The corpses must have been disposed of don't you see the police in collusion with the hindus?
"What task of Salimpur, Muslim youths are missing from many mohallas."
" In Sharifabad the police raped Muslim girl, hid her deadbody inside a bush..... so on so forth..."
But this sort of tumour and hearsay are the talk of the day in so called R.S.S.locality too.
"Muslay، a derogatory term for Muslims) brats are roaming about hiding bombs inside their under wears."
"Oh, they have good practice of chopping off goats every day."
"These bastards talk tall. The moment they get chance, they never hesitate in killing a Hindu."
"They have massacered two Hindus in Akbarpur".
"A girl from the chamartola (aseparate mohalla of untouchables) is missing."
These are quite common features in a town of mixed population. of course a Friday is earmarked for grater hollocaust. The Shahi Mosque was surrounded by Police to create an atmosphere of fear and dread. By chance there was hot exchange of talks and it resulted into showers of blows. and people began shouting and fleeing helter-skelter. The role played by the police enraged Muslims to the extreme of their thinking to mount an attack on the police itself because the police had resorted to lathi-charge and tear gas. As a result curfew was imposed.
Munna (Tanweer Hussain or as later called Tahseen Hussain) , the son of chaudhury Barkat Hussain, did not return till the dawn and the whole family was plunged in utter gloom and consternation.
Here Mr. Zauqi introduces Nilkanth a modern day leader he is a young man of thirty five, B.A. failed, having dense moustaches,  clad in white kurta and paijama and bandi (vice-coat) , roams about in ajeep, is called a Neta Jee. He knows the art of talking and his main occupation is to organise meetings, Band, processions, stopping movements of trains and all other automobiles, lying down on the railway track. He is an active member of the B.J.P. who adores the photos of Murli Manohar Joshi, L.K.Advani, and Bajpaye. He befriends very soon because it is essential to scale the ladder of politics and win an election. He is over sure of winning the next election, which to his estimate was to take place very soon. When people say you are in the R.S.S., BJP. Vishwa Hindu Prishad and Bajrangdal are one thing. R.S.S. is for the rules and regulations and proper training, for fighting like the army is the Bajrangdal and for political affairs there is the B.J.P. he is of the view that had the mian Bhailived in their limits, thought this country as their own country there would have been no question of communal riots.
When Munna did not return that day Barkat Hussain went to the nearest police post to get and F.I.R. registered the police inspector did not take any interest and knowing that he was from Khaimpur, he said, "Why do wonder? I have received reports that the Muslims of Alipur, Khaimpur, and most of the Muslim mohallas are terrorists. Had your son been killed his dead body would have reached here...."
Barkat Hussain went to Balmukund Sharma Josh and informed him of this catastrphe. Josh was in aspate of anger and began chastising Nerendra for all this since his B.J.P. was poisoning the people.
On the other hand Nilkanth was over Joyed and was distributing sweets, "Don't you see, my party is going to write the annals of victory. There was exchange of Jai Shri Ram and Nalkani switched on the tape kept on the table. And it began blaring " The temple will be built there. The temple will be built there....?
The members of the B.J.P. assembled to asses the effects and after reactions of the people after the roit and they were fully satisfied. Amar Jeet read the speech of their leader Aleem Bakht,.
" I think about myself that if hindus were not the eighty percent of the population of this country what would have been to me? Had this country not been of Hindus the condition of Aleem Bakht would have been the same as that of a Ram Lal in Pakistan where Ram Lal can not raise his voice or talk of his rights, nor can call himself Ram Lal.
"If it was right for Pakistan in 1947 to declare itself an Islamic country, why is it imorper for India to proclaim itself. Hindu nation? 
It is a fact that a Hindu can never be violent. Hindu is the next name of non-violence."
As a political strategy Nalkani, Amerjeet and others propagate of secularism and full protection to Muslims Sudhendu informed them that of Munna (Tanweer Hussain or Tahseen Hussain) was much impressed by their treatment and services and had opted to join B.J.P. They had found Munna lying on the road and brought him to the clinic and treated him, on the night of the curfew.
One month passed after the riot of the Friday and the town was returning to normalcy. Nalkani suggests his colleagues that recurring riots alone can serve their purpose. Only by this they can create the Vote Bank.
Munna at times felt he was mere a puppet in their hands. besides, all his friends and acquaintances condemned him because he will have to speak and act against the interests of Muslims. Munna tried to drive his point to his friend Suleman, "Why don't you think that the B.J.P. can come into power tomorrow. If you are bent oh opposing, have you ever thought of its consequences?"
Munna frightens them that they will impose restriction on their way of prayer, No Islamic country will ever come to help them. In fact, the forebodings expressed by Munna is a common feelings among Muslims all over India.
Balmukund Sharma Josh Seeing the situation lost no only his mental poise but also his memory. And on the other side Nalkani advises Narendra to know of the divine books of Muslims. of course some of them have doubt about the strategy that would help them in winning the next election. Nalkai explains, "After the victory of the birth place of Ram, we have Mathura and Kashi. This chariot will goon and on until we put off centuries old garment of infamy and slavery." To achieve this end they will write a new history effacing every thing old because people should have their own history, fortified truths to establish lies. They argue with the peope that the Government calls them communal because they have awakened the innocent Hindus from the slumber, whereas the Government pampers Muslims as they are their Vote Bank. They called a meeting and pointed the people that Muslims all over the world and particularly in Asia were organising to become a great power. He cites example of soviet Russia.
As a result the atmosphere is so hostile that Balmukund Sharma Josh a well known poet of natiya kalam (praise of prophet Mohammad) is taunted only because he was a Hindu. In this moshaira Zauqi introducted five poets : Faiz Soqrati, Ahmad Rabbani, Nazan Kheyal, Baqar Mehdi and Habib Tanweer, whose craze is to compose poems in praise of their imaginary beloved, though they re unemployed. Mr. Zauqi has rightly said that such youths can be traced in any Muslim mohalla or family.
The riot of Akberpura opened the eyes of Munna and he now wanted to avoid any B.J.P. worker. Tha party members could not tolerate it and he was killed by a hired man and to make thisa point of their own favour the assassin was in the garb of amulla lungi-- kurta and a cap. They said that as he had joined B.J.P. he was killed by Muslim. They come to condole as no Muslim turns up on this occasion.
Zauqi has tried his best to point out that it is misunderstanding that stands in the way otherwise Munna or Barkat Hussain too can be near and dear to so an orthodox a woman like Uma the wife of Narendra.
In spite of all pressure Balmukund Sharma did not give his statement nor did he write his will because it was against his culture and upbringing. In the end he dies one night.
This noel sbows how the values of the past has fallen down and anew present of material gains by fair or foul is the sole motive of life.
Mr. Zauqi in delineating characters and in dealing with the events has shown superb mastery so far the details are concerned. He has well diagnosal the reason behind the Hindu_Muslim conflict.
Zauqi's dealing of B.J.P. may appear some what exaggerated and seen with jaundiced eyes to those who have not seen their strategy with their eyes, but in most of the Northern parts of India, the strategy and the way they adopt to win powerise incomplete tune with this novel.
However, a reader feels something lacking that is in dealing with the subject, the Novelist seems so pre-occupied that the characters do not develope to the size that make home in the minds of the readers. So far the style is concerned, Zauqi has been all along inclined to use Hindi words where he could have used Urdu words wilk at least injury to his expression. We have great expectations from Mr. Zauqi as he has a vast world of experience and keen observation to see through things which an ordinary man sees but does not feel so intensively and Mr. Zauqi does and this very trait of Zauqi will help him in scaling great heights one day.

Dr. M.Q. Khan



ایک زبردست بیان

ڈاکٹر رابعہ مشتاق

بچپن سے ہی ناول پڑھنے کی شوقین تھی۔ جب بھی وقت ملتا اے آر خاتون، زبیدہ خاتون کے ناول اٹھا لیتی ___ شمیم، اور ’انور‘ تو بار بار پڑھنے کا اتفاق ہوا تھا۔ رضیہ بٹ، ایم اسلم کے ناول بھی مجھے اچھے لگتے تھے۔ جیسے جیسے دلو دماغ نے باشعور ہونا شروع کیا، رومانی کتابوں سے دل گھبرانے لگا۔ اس زمانے میں آگ کا دریا کا بڑا شور تھا۔ آگ کا دریا کئی نشست میں پڑھنے کی کوشش کی۔ قرۃ العین حیدر آپا کے لفظوں کا جادو تو مجھ پر سر چڑھ کر بولا۔ مگر سمجھتی کیا خاک۔ واجدہ تبسم کے ناول تفریح کا سامان تو پیدا کرتے تھے مگر ادب کی تشنگی برقرار رہی۔ ہاں ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔اس زمانے میں حیات اللہ انصاری کا ناول ’’لہو کے پھول‘‘ بھی پڑھنے کی کوشش کی۔ مگر پہلے حصہ سے آگے نہیں بڑھ پائی۔ میں ہی مجرم۔ میں ہی قصور وار۔ ہاں علی پور کا ایلی، خدا کی بستی   اور اداس نسلیں کی فضا مجھے بہت راس آئی۔ ان ناولوں کی اپنی دنیا  تھی   اور ان میں غضب کی پڑھوا لینے کی صلاحیت ۔۔۔ 
زیادہ دنوں کی بات نہیں ہے۔ پانچ چھ سال پہلے کی بات ہے۔ مشرف صاحب کا ناول بیان کا ذکر سن رکھا تھا۔ ان کے بارے میں بہت طرح کی باتیں مشہور تھیں۔ ایک تو یہ کہ وہ ایسی جناتی زبان لکھتے ہیں جن میں اردو کا عنصر بہت کم رہتا ہے۔ کتاب کے بارے میں بہت کچھ سن چکی تھی۔ اس لیے پڑھنے سے روح کانپتی تھی۔ لیکن ایک رات ڈرتے ڈرتے کتاب ہاتھ میں لے کر آخر کو پڑھنا شروع ہی کر دیا   اور یہ کیا۔ بس پڑھتی چلی گئی۔ صبح میں پھر کسی کام میں دل نہیں لگا۔ بس جی چاہتا تھا۔ کسی طرح یہ ناول پورا پڑھ جاؤں۔ دوسرے دن دوپہر تک میں جناتی زبان میں لکھے جانے والے ناول کو پورا پورا پڑھ چکی تھی۔ میں حیرت میں تھی۔ ۔۔۔مشرف صاحب نے بالکل ہمارے دل کی بات کو لکھنے کی جرأت کیسے کی ہو گی۔ شمیم   اور انور سے شروع ہونے والے ناولوں کے اس لمبے سفر نے یہاں تک آتے آتے مجھے ایک نئے نشہ سے دوچار کر دیا تھا۔ تو حقیقت بیانی ایسی بھی ہو تی ہے۔ دلوں کے راز ایسے بھی جانے جاتے ہیں۔ بالکل سامنے کی آنکھوں دیکھی دنیا__ وہی دنیا جسے دیکھتے دیکھتے میں بڑی ہوئی۔ دنگے   اور فساد کی دنیا۔ نفرتوں کی دنیا، پھر اسی نفرت نے ایک دن ملک کو دو حصوں میں تقسیم کیا تھا۔ اسی نفرت نے بابری مسجد شہید کی۔ اسی نفرت نے گجرات میں ایک دردناک کہانی قلمبند کی۔ حقیقت یہ ہے کہ میں شروع تا آخر اس ناول کے سحر پر گرفتار رہی   اور سوچتی رہی کہ آخر مشرف صاحب نے ایسا کون سا گناہ کیا تھا جو لوگ اتنی ساری باتیں بناتے پھرتے تھے۔ بیان تو حقیقت میں ہمارے زمانے کا ایک سچ ہے۔ جس کے دل کھول کر پذیرائی ہونی چاہئے۔ 
لیکن جیسا میں سوچتی تھی، شاید اسی انداز سے، بہت سے لوگ بھی سوچ رہے تھے۔ حقیقت میں بیان کو جس قدر دبانے کی کوشش کی گئی، بیان کے زبردست بیان نے لوگوں پر جادو کرنا شروع کر دیا۔ اور آج عالم یہ ہے کہ اردو کے نئے ناولوں کا تذکرہ ہوتا ہے تو بیان کا ذکر سب سے پہلے آتا ہے۔ 
بیان پر بھلا میں کیا کہوں۔ جبکہ اتنے سارے لوگ پہلے سے ہی اس کے بارے میں اپنے اپنے فیصلہ دے چکے ہیں۔ لیجئے، کچھ آپ بھی ملاحظہ کیجئے۔ 
 ’’بیان میرے لیے ایک یادگار ناول ہے۔ میں نے اتنا خوبصورت اردو فکشن برسوں میں نہیں پڑھا ہے۔ ایسی عمدہ تخلیق کسی بھی زبان کے لئے فخر کرنے جیسی بات ہے۔ ذوقی کے بیان میں مجھے ٹراپک آف کینسر   اور ٹراپک آف کیپریکون کے مصنف ہنری ملر کا اندازہ نظر آتا ہے۔ یہ ایک کبھی کبھار لکھی جانے والی تخلیق ہے۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔عابد سورتی
بیان ایک یاد گار ناول ہے ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔وشونبھرناتھ پانڈے (تاریخ نگار) 
ذوقی کے اندر کولمبس جیسی بے چینی ہے، جو کسی نئی منزل کی تلاش یا دریافت کے لیے ضروری ہے۔ ناول کی سب سے بڑی خوبی اس کی زبان   اور حقیقت بیانی ہے۔۔۔۔ جو گندر پال
اس کی زبان ہی اس ناول کی کامیابی کی ضمانت ہے۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔بلراج کومل
فرقہ واریت کے خلاف ایک حوصلہ افزا قدم ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ڈاکٹر قمر رئیس
یہ بیان نہیں، وقت کی مہر ہے۔ ایک اہم دستاویز، بیان دروازے کی طرح کھلتا ہے جہاں باہر کی دنیا دھندلی   اور خون میں ڈوبی ہوئی ہے۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔انور عظیم
بیان عمدہ ناول ہے۔ اس میں عصری گونج، کچھ اس شدت کے ساتھ موجود ہے کہ اچھے اچھوں کی نیندیں اڑ جائیں ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ علی امام نقوی
 ’لجّا‘ اگر بنگلہ دیشی ’ہندوؤں ‘ کی کہانی ہے تو بیان ہندستانی مسلمانوں کی۔ ۔۔۔عوام
۶  دسمبر ہندستان کی سیکولر تاریخ کا وہ سیاہ دھبّہ ہے، جسے بھلانا آسان نہیں۔ اور جب جب ۶  دسمبر کا تذکرہ ہو گا، تو بیان کی یاد آئے گی۔ ۔۔۔ ۔۔۔آج کل
مشرف عالم ذوقی نے ایک اہم واقعے کو ہمیشہ کے لئے اپنے اس ناول میں محفوظ کر لیا ہے ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔انور سدید (پاکستان) 
بیان جیسا ناول اردو میں نا پید ہے۔ مشرف عالم ذوقی کا ’بیان‘ ہمارے عہدہ کا زندہ ’استعارہ‘ ہے ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔نئی دنیا
بیان اردو کا پہلا مکمل سیاسی ناول ہے۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔سیما مصطفی
بیان کا منظر نامہ ماضی کی جن کڑوی سچائیوں کی بدولت سامنے آتا ہے، وہ انگریزی سامراج کی دین ہے ۔۔۔ ۔۔۔رام پرکاش راہی
بیان سلگتے موضوع پر لکھا گیا ایک فکر انگیز ناول ہے۔ ۔۔۔ ۔۔۔سہیل
بیان ایک انتہائی سنجیدہ ناول ہے۔ ۔۔۔ ۔۔۔آہنگ
ذوقی بے باک قلم کار ہیں۔ سیاسی جماعتوں   اور لوگوں کے نام گنوانے میں بھی ان کو جھجھک نہیں۔ ۔۔۔ ۔۔۔علقمہ شبلی
یہ غلط بیان ہے۔ ۔۔۔ ۔۔۔قومی آواز‘ دہلی
۔۔۔ایسے نازک وقت میں ’بیان‘ بھاجپا کانگریس کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ ۔۔۔ ۔۔۔خبردار جدید، دہلی
کچھ طبقے کی طرف سے سٹینک ورسیس   اور ’لجّا‘ کی طرح بیان پر بھی پابندی لگانے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ ۔۔۔ ۔۔۔اخبار نو، دہلی
بیان میں ایک خاص سیاسی پارٹی کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ ۔۔۔اردو ٹائمس، بمبئی
بیان بہت ہی بولڈ  اور لاؤڈ ہے۔ ذوقی اپنے زمانے کے کرشن بھی ہیں   اور منٹو بھی۔۔۔ ۔۔۔عبید قمر
بیان ہندستان کے تاریک سیاسی دور کے، انسانی کشمکش کی پہلی بولتی تصویر ہے۔۔۔۔ نعمان شوق
آخر میں میں صرف اتنا کہنا چاہوں گی کہ بیان محض ایک ناول نہیں ہے۔ یہ ہماری، آپ کی سب کی آواز ہے۔ مشرف صاحب نے ہمارے دلوں کی بے چینی کا سراغ پا لیا ہے۔ ان کا قلم حساس   اور جذباتی ہے۔ لیکن نشتریت سے پُر__ زبان   اور مکالموں پر اُن کی گرفت گہری ہے۔ بیان در اصل ہمارے وقت کا ایک ایسا آئینہ ہے، بقول شخصے، جو جیسا ہو گا، ویسی ہی تصویر نظر آئے گی۔ 
٭٭٭

تشکر: ’بیان‘ کے مصنف مشرف عالم ذوقی، جن سے فائل فراہم ہوئی
ان پیج سے تبدیلی، تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید
