﻿



پاکستانی اُردو افسانے میں پنجابی دیہات کا  ایک نمایاں کردار:جاگیردار

لیاقت علی
لیکچرار، شعبۂ اُردو و اقبالیات، دی اسلامیہ یونیورسٹی، بہاولپور
ڈاکٹر قاضی عبدالرحمن عابد
ایسوسی ایٹ پروفیسر، شعبۂ اُردو، بہاء  الدین زکریا یونیورسٹی، ملتان






فکشن میں کردار سازی کی بحث اتنی ہی قدیم ہے جس قدر خود فکشن کی روایت۔ کرداروں کی پیش کش، تشکیل اور ضرورت کے مباحث ہمیشہ اہمیت کے حامل رہے ہیں۔ مغربی تنقید کی قدیم روایت میں جھانکیں تو ارسطونے المیہ پر بحث کرتے ہوئے جب اُس کے عناصرِ ترکیبی گنوائے تو پلاٹ کے بعد دوسرا اہم عنصر ’’کردار‘‘ کو ہی گردانا۔ ۱ آج کے عہدِ جدید میں اُردو فکشن کے نمایاں نقاد شمس الرحمن فاروقی بھی کردار نگاری کے ضمن میں کرداروں کی بے چہرگی اور عدم شناخت کو ہدفِ  تنقید بناتے دکھائی دیتے ہیں۔ ۲جدید افسانے کے ایک اور اہم ناقد محمد حمید شاہد تو یہ سوال بھی اُٹھاتے ہیں کہ کیا کرداروں کے منصب پر محض انسان ہی فائز ہو سکتے ہیں ؟
’’میں ، ’وہ‘، ’تیرا‘، ’لنگڑا آدمی‘، ’الف‘، ’ب‘ وغیرہ تو کرداروں کی فہرست میں شامل ہیں مگر پھول، درخت اور جڑیں ، کتے، بھیڑ بکریاں اور سٹور، حتیٰ کہ وقت اور لا وقت، خیال اور جذبے کا کرداروں کی حیثیت سے مطالعہ کیا جانا اہم نہ سمجھا گیا۔ ‘‘۳
اس کے علاوہ کرداروں کے ساتھ مصنف کی وابستگی اور اُس کی تشکیل میں معروضیت اپنی جگہ اہم سوال رہے ہیں۔ کرداروں کی سماجی حیثیت کے تعین میں انہیں خیر و شر کا نمائندہ بناتے ہوئے بسا اوقات مصنف اپنی منشا قاری پر مسلط کر دیتا ہے اور ایسی صورتِ حال میں بقول سہیل بخاری ’’قاری کی توجہ کہانی سے ہٹ کر مصنف کی طرف مبذول ہو جاتی ہے۔ ‘‘۴  کردار نگاری کے ضمن میں کئی طرح کے تصورات سامنے آتے ہیں۔ کرداروں کی شناخت یا تعین میں درجہ بندی کے کئی معیارات ہیں۔ بعض اوقات صفات کی بنیاد پر کردار کا تعین ہوتا ہے(مثبت اور منفی) تو بعض اوقات پیشوں کے اعتبار سے (موچی، نائی، ڈاکٹر، اُستادوغیرہ)۔ اِسی طرح بعض اوقات یہ تقسیم رشتوں اور منصب کو پیشِ نظر رکھ کر کی جاتی ہے (ماں ، باپ، حکیم، شاعر، ماموں وغیرہ وغیرہ) اور بعض اوقات طبقات کی بنیاد پر (مفلس، بادشاہ، جاگیردار، کمی)۔ 
زیرِ مطالعہ کردار دراصل ایک طبقے کی نمائندگی کرنے والا کردار ہے جسے برصغیر پاک و ہند میں انگریز راج کی پیداوار قرار دیا جا سکتا ہے۔ یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ ایشیا اور افریقہ میں نوآبادیاتی نظام کے قیام، رسوخ اور عمل داری میں وہاں کے مقامی طبقہ اعلیٰ کا کردار بے حد اہمیت کا حامل رہا ہے اور شاید یہ بہت بڑی اور اہم وجہ ہے کہ اقوامِ یورپ ان وسیع رقبوں اور بڑی بڑی آبادیوں پر اپنے چند سپاہیوں اور منتظمین کی مدد سے کامیابی کے ساتھ حکومتی کرتی رہی ہے۔ رونلڈ راسبنس کے مطابق:
نو آبادیاتی انتظامیہ کے ذمے اہم ترین کام مقامی با اثر افراد کا کھوج لگانا اور ان کی حمایت کا حصول ہوتا تھا اور یہی نو آبادیاتی حکومتوں کی کامیابی کا اہم ترین راز بھی تھا۔ اس حمایت کے عوض نوآبادیاتی حکومتوں نے با اثر افراد کر ہر ممکن معاونت ودستگیری کی نیز  تمام تر حکومتی پالیسیاں انہی کے کمرشل اور زرعی مفادات کو پیش نظر رکھتے ہوئے مرتب کی گئیں کیونکہ امن عامہ کے قیام کے لئے ان افراد کی حمایت استعماری قوتوں کے لئے اشد ضروری تھی۔ ۵
یہ بات ہماری توجہ کا ایک بہت اہم امر کی جانب مبذول کراتی ہے اور اور ہم اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اس خطہ میں انگریز راج کن بنیادوں پر قائم ہوا اور پھر نمو پا کر ایک مضبوط درخت بن گیا اور اس سامراجی درخت کی پرورش و پرداخت میں ہندوستانی اشرافیہ نے کوئی کسر باقی نہ اُٹھا رکھی۔ اس کے نتیجہ میں غلامی کا طوق تقریباً ایک صدی پر محیط ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ کچھ مفاد پرست عناصر نے ذاتی فائدے اور مالی وسیاسی معاونت کے عوض انگریز سرکار کے ساتھ گٹھ جوڑ کیا اور خطے کی آزادی وسالمیت کی قیمت وصول کی۔ اس اشرافیہ کے ساتھ ساتھ ہمارے سامنے ہندوستانی آبادی کی ایک بہت بڑی تعداد آتی ہے جو اس حد تک بھی با شعور نہیں کہ اُن چہروں کو شناخت کر سکے جو اُن کے درمیان کالی بھیڑوں کا کام کر رہے تھے بلکہ وہ ان لوگوں کی مرضی و منشا پر چلتے تھے اور اس طبقے کے وسیلہ سے اپنی زندگی کی راہ متعین کرتے تھے۔ یہی وہ بڑی وجہ ہے جس نے برطانوی حکومت کو مجبور کیا کہ وہ عوامی معاونت اور امن عامہ کے لئے اُن کے نمائندوں کی خرید کا انتظام کریں۔ نوآبادیاتی نظام کے قیام کے تھوڑے عرصہ بعد ان کے حامیوں کی صف میں مختلف قبیلوں کے سرداروں اور مذہبی لیڈروں کے علاوہ مقامی افسران اور کاروباری طبقہ کے افراد بھی شامل ہو گئے اور اس کی ایک بڑی وجہ اِن کے روزگار کا اُن کے ساتھ وابستہ ہونا تھا۔ برطانوی حکومت اور ان کے درمیان طے پانے والے اس رسمی تعلق نے بعد ازاں اداروں کی شکل اختیار کر لی۔ اسی طرح بقول آئن تالبوٹ:
انتظامی مشینری قائم کرتے وقت مغلوں اور سکھوں کی طرح انگریزوں نے بھی اس اہم حقیقت کو ملحوظ خاطر رکھا کہ زمیندار طبقے کے تعاون کے بغیر انتظامی امور کی انجام دہی بہت مشکل امر ہو گا البتہ اپنے پیش رو اصحابِ اقتدار کے برعکس انگریزوں نے اقتصادی اصلاحات بھی متعارف کروائیں جس کے نتیجہ میں شہری متوسط طبقے نے جنم لیا، جن کے مفادات روایتی مقتدر طبقات سے متضاد تھے۔ یہیں سے دو (ایک دوسرے کی مخالف) سیاسی روایات کا وجود عمل میں آیا جنہیں شہری و دیہی سیاسی روایات کا نام دیا گیا۔ ۶
گو تالبوٹ کا بیان خالص سیاسی پنجاب کے حوالے سے ہے اور اس میں صوبہ میں تشکیل پاتی اور مروّج ہوتی سیاسی صورتحال کا نقشہ کھینچا گیا ہے لیکن اس کی روشنی میں ہم پنجاب کے دو طبقات، شہری طبقہ اور دیہی اشرافیہ کے درمیان موجود اختلاف کو سمجھ سکتے ہیں جس پر پورے پنجاب کا مزاج متعین ہو رہا ہے اور آگے چل کر یہی مخصوص مزاج رسم و رواج، عقائد و نظریات اور ادبی نقطۂ نظر کے تعین اور ترویج کا باعث رہا ہو گا۔ اس سارے منظر نامے میں پنجاب کا دیہی کردار اس کی بدامنی سے عبارت ہنگامہ خیز تاریخی جدل کے نتیجے میں تشکیل پایا ہے۔ 
جاگیردار کا یہ کردار فکشن میں اپنی مختلف شکلوں میں موجود ہے۔ کہیں یہ ملک ہے، کہیں راجہ، کہیں چودھری، کہیں نمبردار یا ذیلدار، کہیں نواب تو کہیں خان صاحب اورسردار۔ لیکن مجموعی طور پر یہ جاگیردار کی ہی مختلف شکلیں ہیں جو جنوبی، وسطی یا شمالی پنجاب کے جغرافیائی فرق اور زمین کے ملکیتی تصور اور تھوڑے تھوڑے ثقافتی اورلسانی فرق کی وجہ سے وجود میں آئی ہیں۔ 
اُردو افسانے پر نظر دوڑائیں تو اِس کردار کی پیش کش بالعموم اُن افسانہ نگاروں کے ہاں زیادہ دکھائی دیتی ہے جن کا پنجاب کے دیہی سماج سے بالواسطہ یا بلاواسطہ تعلق رہا ہے۔ یوں اُن کا باریک بین مشاہدہ اور تجربہ اِس کردار کے خد و خال کے تعین میں معاونت کرتا دکھائی دیتا ہے۔ فکشن میں یہ کردار بالعموم جن نمائندہ صفات کا حامل دکھایا گیا ہے وہ درج ذیل ہیں :
۱)	نام نہاد عزت اور غیرت کا علمبردار جو طاقت کو ہی حقیقی جوہر تسلیم کرتا ہے۔ 
۲)	اپنی بڑائی اور تسلط قائم رکھنے کے لئے ہر نوع کے حربے کو جائز ہی نہیں اپنا استحقاق تصور کرتا ہے۔ 
۳)	اپنے اور مزارعین یا کسانوں کے درمیان ایک واضح حدِ فاصل رکھنے کا قائل ہے اور برابری کا معیار خاندانی جاہ و حشمت کے اِسی تصور سے مشروط رکھتا ہے جو ملکیتی جاگیر کی توسیع سے تشکیل پاتا ہے۔ 
۴)	ذرائع پیداوار پر اپنا تسلّط مضبوط رکھنا چاہتا ہے۔ 
۵)	طبقاتی تفاوت میں محض خاندان اور نسل ہی نہیں جنسی تفریق کو بھی پیشِ نظر رکھتا ہے اور عورت کو ایک خدمت گزار یا شہوت مٹانے والی چیز کے طور پر دیکھنا چاہتا ہے۔ یہاں تک کہ اپنے خاندان کو بھی کسی نوع کی آزادی دینے کا قائل نہیں ہے۔ 
۶)	نچلے طبقے کے افراد اُس کے نزدیک قابلِ عزت ہو ہی نہیں سکتے۔ 
۷)	محنت کشوں اور کسانوں کو اپنا تابع فرماں رکھنے کے لئے اُنہیں مختلف قانونی پیچیدگیوں کا شکار رکھتا ہے۔ 
۸)	مقامی پولیس اور کچہری کے معاملات کو بھی مختلف حیلوں سے اپنے قابومیں رکھنا چاہتا ہے۔ 
۹)	رفاء عامہ کے منصوبوں اور شرحِ خواندگی میں اضافے کو اپنی حاکمیت کی کمزوری مانتے ہوئے حتیٰ المقدور کوشش کرتا ہے کہ اُس کے علاقے کے مکینوں تک اِن کی رسائی نہ ہو۔ 
۱۰)	مذہبی عقائد کو من چاہی تعبیر دے کر اپنے حق میں استعمال کروانا چاہتا ہے۔ 
۱۱)	اپنے علاقے کے مکینوں کو ایسا مجبورِ محض دیکھنا چاہتا ہے جو برابری کے کسی بھی تصور کو نہ صرف سماجی بلکہ مذہبی روگردانی تصور کریں۔ 
۱۲)	نمک حلالی کا ایسا تصور رکھتا ہے جو غلامی کو فطری امر سمجھ کر قبول کرنے پر آمادہ رکھے۔ 
۱۳)	سیاسی گٹھ جوڑ سے اقتدار کے اعلیٰ ایوانوں تک رسائی کے راستے کسی بھی طرح ہموار رکھنا چاہتا ہے۔ 
یہ وہ بنیادی خد و خال ہیں جو اُردو افسانے میں موجود جاگیردار کے کردار میں بالعموم تلاش کئے جا سکتے ہیں۔ علاقے کی سماجی بہبود یا عام آدمی کی حاجت میں اُس کی حاجت روائی کا تصور بھی خال خال دیکھا جا سکتا ہے(قاسمی صاحب کے افسانے الحمدللہ کا چودھری) مگر مجموعی طور پر اِس کردار کی صفات اوپر بیان کردہ نکات ہی سے تشکیل پاتی ہیں۔ اِن صفات کے تناظر میں دیکھا جائے تو اُردو کے جن افسانہ نگاروں کے ہاں جاگیردار کا یہ کردار تواتر کے ساتھ پیش کیا گیا ہے اُن میں احمد ندیم قاسمی، شوکت صدیقی، منشا یاد، غلام الثقلین نقوی اور طاہرہ اقبال وغیرہ وغیرہ اہم ہیں۔ احمد ندیم قاسمی کے ہاں جاگیردار کا کردار سب سے زیادہ تواتر کے ساتھ تخلیقی تجربہ بنتا دکھائی دیتا ہے۔ بقول ڈاکٹر انوار احمد:
جدید پاکستان کا بیشتر حصہ پنجاب اور پنجاب کا اکثریتی حصہ دیہی معاشرت کا امین ہے۔ اِس لئے اگر اُردو کے ایک بھی ایسے افسانہ نگار کا نام لیا جائے جس کی تخلیقات میں پاکستانیوں کی کثیر تعداد مٹی اور پسینے کی مہک، خواب اور تعبیر کا تضاد، روایت اور جدت کی کشا کش لئے موجود ہے تو بلاشبہ وہ نام ندیم کا ہی ہو گا۔ ۷
قاسمی صاحب نے تواتر کے ساتھ پنجابی دیہات کو اپنا موضوع بنایا اور اِس حوالے سے اُن تمام تر امکانات کو افسانوں میں ڈھالا جو پنجابی دیہات کے حقیقی تشخص کو اُجاگر کرسکتے ہیں۔ قاسمی صاحب کا اپنا تعلق شمالی پنجاب کے ایک ایسے دیہات سے رہا ہے جہاں اُنہوں نے غریب گھرانے میں آنکھ کھولی۔ یوں اُن کا مشاہدہ اور تجربہ دیہات سے متعلق سنی سنائی دانش یا مطالعے کی بدولت نہیں ، اپنے تجربات پر مشتمل ہے۔ یوں بھی وہ اِس نقطۂ نظر کے قائل رہے ہیں کہ عصری شعور حقیقی تجربات و مشاہدات کے بغیر تخلیقی تجربہ نہیں بننا چاہیے۔ 
جس شخص نے چوپالوں میں بیٹھ کر غریب کسانوں کے ساتھ حقّے کے کش لگائے ہوں اور چرواہوں کے ہمراہ دور افتادہ گھاٹیوں اور ویران میدانوں میں گھومتا پھرا ہو۔ وہ ٹھنڈی سڑک کے آس پاس بکھرے ہوئے بنگلوں کی اندرونی زندگی کے متعلق کیا خاک لکھے گا۔ اور جو شخص گونجتے ہوئے ایوانوں میں نرم و گداز صوفوں پر بیٹھنے کا عادی ہو اور کانٹا چھری کے بغیر پیٹ بھرنا اجیرن ہو جائے وہ ننگ دھڑنگ دہقانوں کی پھٹی ہوئی ایڑھیوں ، کھردری انگلیوں اور پھڑ پھڑاتے ہوئے چیتھڑوں کا تجزیہ کیسے کرسکے گا؟۸
قاسمی صاحب کے اِس نقطۂ نظر کو اگرچہ ڈاکٹر انوار احمد نے ’’باغ و بہار‘‘ کے دیباچے میں ثقافتی زعم کے ساتھ گونجنے والے میر امن کے لہجے سے مماثل قرار دیا ہے۹ تاہم اُن کا یہ زعم پرولتاری طبقے سے شعوری طور پر جڑنے کی خواہش سے بھی تعبیر کیا جا سکتا ہے جو اُن کی کہانیوں کا بنیادی تخلیقی تجربہ بھی ہے اور عصری شعور کا واضح ثبوت بھی۔ 
’’جوتا‘‘ قاسمی صاحب کا ایسا افسانہ ہے جہاں ایک نوجوان موچی نادر جاگیر دار کے لئے تِلّے والا جوتا تیار کرتا ہے لیکن اِسی دوران اُس کی شادی طے ہوتی ہے تو سسرال والوں کی جانب سے یہ شرط بھی رکھی جاتی ہے کہ وہ ایک خوب صورت تِلّے والا جوتا تیار کر کے یہ کہہ کر پہنے کہ یہ اُسے سسرال والوں نے دیا ہے۔ نادر اور اُس کی ماں اِس شادی کو سج دھج سے رچانے کی متمنی ہیں اور راجہ صاحب کے لئے تیار کیا گیا جوتا انہیں پیش کرتے ہوئے ڈرتے ڈرتے نادر اس خواہش کا اظہار کرتا ہے کہ اگر اُسے وہی جوتا عاریتاً مل جائے تو وہ شادی والے دن پہننے کے بعد راجہ صاحب کو واپس کر دے گا۔ یہاں واضح رہے کہ یہ جوتا اُسی کی محنت سے تیار کیا گیا ہے اور اُجرت بھی نہیں لی گئی کیونکہ دیہاتوں میں اِن پیشوں سے وابستہ افراد کو اُجرت سالانہ غلّے کی مقدور بھر مقدار کی شکل میں دی جاتی ہے اور اس کے عوض سارا سال اُن سے خدمت لی جاتی ہے۔ راجہ صاحب اُس کی اِس فرمائش پر یوں بھِنّا اُٹھتے ہیں گویا کوئی انہونی بات کر دی گئی ہو۔ ایسے وقت میں راجہ صاحب کے مکالمے اُسی طبقاتی احساسِ برتری کی علامت بنتے دکھائی دیتے ہیں جو برادری ازم اور ذات پات کے ساتھ جڑا ہوا ہے:
’’میرا جوتا میرے پاؤں اور اِن کمیّوں کے سروں کے لئے ہوتا ہے۔ ‘‘۱۰
یعنی تم میرا جوتا پہنو گے؟۔۔۔ یہ موچی چھوکرا میرا جوتا اپنے پاؤں میں پہننا چاہتا ہے یارو۔ کہتا ہے میری شادی ہو رہی ہے۔ ذرا پہن لینے دو ٹھاٹھ رہ جائے۔ بد ذات۔ ۱۱
نادر خاندانی نمک حلالی (جو اپنی جگہ غلامی کو قبول کر لینے کا ایک تصور ہے) بھی راجہ صاحب کو یاد دلاتا ہے جسے راجہ صاحب بے اعتنائی اور احساسِ برتری سے ٹال جاتے ہیں :
’’میرے باپ نے تو آپ کے اور بڑے راجہ جی کے قدموں میں عمر گزار دی۔ نادر نے کہا۔ ہاں اچھا مٹا ہوا کمین تھا۔ راجہ نے کہا۔ ‘‘۱۲
’’توبہ میری ‘‘ کا مرکزی کردار ایک محنت کش نوجوان ہے اور لاچار بوڑھے و الدین کا اکلوتا کفیل بھی ہے۔ اسی افسانے میں اِن محنت کشوں کی کسمپرسی اور لگان دینے کی مجبوری بھی دیکھیں :
’’ملک جی کے آگے بوڑھے نے ہاتھ جوڑے کہ بالشت بھر زمین پر اُگتا تو خاک نہیں لگان کہاں سے ادا کروں۔ لیکن انہوں نے یہی رَٹ لگائے رکھی کہ صاحب بہادر کے سامنے پیش کر دوں گا وہ حوالات میں بند کر کے نکال لیں گے پیسے تیری گڑی ہوئی تجوری سے۔ ‘‘۱۳
یہ وہ احساسِ ذلت اور مجبوری ہے جس کا شکار جاگیر دار اپنے مزارعین کو رکھتے ہیں اور ساتھ ساتھ انہیں حوالات یا کچہری کا خوف بھی دلاتے رہتے ہیں۔ اِسی طرح ’’چوری‘‘ اُن کا ایسا افسانہ ہے جس میں جاگیر دار کے پر تشدّد اور ہتک آمیز رویے کو دکھایا گیا ہے۔ اِس افسانے میں جاگیردار کے تشدد کی ایک جھلک دیکھیے:
’’اب اُس کی پیٹھ پر سردار کا پتلا چابک شڑاپ شڑاپ پڑ رہا تھا۔ نکال ورنہ تیری مشکیں کس کر اُلٹا لٹکا کر مرچوں کا دھواں دوں گا، مرچوں کا۔ ‘‘۱۴
’’ہر جملے پر اُس کی پیٹھ پر ایک ایسا چابک پڑتا تھا کہ اُس کی جلد سر سے پاؤں تک طنبورے کے تاروں کی طرح لرز کر رہ جاتی تھی۔ ‘‘۱۵
’’کانی آنکھ‘‘ کا چودھری نو رنگ اگرچہ ایک شیخی بکھیرنے والا ایسا شخص ہے جو اپنی ایک آنکھ ضائع ہونے کے وہ تمام اسباب مختلف لوگوں کو بتاتا رہتا ہے جن میں اُس کی جواں مردی کا پہلو نمایاں ہو۔ تاہم اپنے موضوع سے قطعِ نظر جاگیر دار کے جس تصور کو قاسمی صاحب نمایاں کر رہے ہیں اُس کی ایک جھلک اِس اقتباس میں دیکھیے:
’’چودھری نیا نیا جوان ہو رہا تھا۔ نیلی پگڑی پر ابرق چھڑک کر جب طرہ جماتا تھا سر پر اور لٹھے کے تہمد کو کھڑ کھڑا تا، زریں جوتے کو چر چراتا، جب گلیوں میں فوں فاں کرتا گزرتا تو لوگ جل جاتے پر کیا کرتے! چودھری تھا کوئی اُلٹی بات کر دیتے تو دوسرے دن پُلسا دھمکتی۔ ‘‘۱۶
یہاں چودھری کے کردار کی ظاہری ٹھاٹ کے ساتھ ساتھ اُس کے ساتھ جڑا وہ احساس بھی موجود ہے جو طاقت کے ذریعے دوسروں کو اپنا مطیع بنائے رکھنے کا قائل ہے۔ ایسے میں پولیس کا کردار بھی نمایاں ہو رہا ہے جو ایسے علاقوں میں اِن ناخواندہ لوگوں کو ڈرانے دھمکانے اور تشدّد سے ایسے جاگیر داروں کا تابع فرماں رکھنے کا فریضہ بخوبی سرانجام دیتی ہے۔ پولیس کے ہاتھوں تشدّد کا شکار ہونے یا کسی مصیبت میں پھنسنے کا یہی تصور اُن کی کہانی’’سونے کا ہار‘‘ میں بھی دیکھی جا سکتی ہے۔ کہانی بنیادی طور پر معاشی مجبوری کی کوکھ سے جنم لینے والی اُس بے بسی کو ظاہر کر رہی ہے جو انسان سے اُس کی خود داری چھین کر مجبورِ محض بنا دیتی ہے۔ 
جاگیردار کے تصور کو ایک زندہ اور متحرک کردار میں ڈھالتا قاسمی صاحب کا افسانہ ’’لارنس آف تھیلبیا‘‘اِس موضوع پر ایک نمائندہ افسانہ ہے۔ افسانے میں جاگیردارانہ سماج میں موجود جبر کی فضا کی عمدہ عکاسی کی گئی ہے۔ افسانے میں اس بات کی نشان دہی بھی بخوبی کی گئی ہے کہ جاگیر کا زعم ایسی ذہنیت کو جنم دیتا ہے جسے بظاہر حاصل کی جانے والی سندی تعلیم اور شعور بھی تبدیل نہیں کرسکتے۔ افسانے کا آغاز ہی ہمیں جاگیردار کے کردار سے یوں متعارف کرواتا ہے:
’’پلنگ اتنا چوڑا تھا کہ اُس پر جو کھیس بچھا تھا وہ چار کھیسوں کے برابر تھا۔ اس کے وسط میں پلَشّ کے ایک گاؤ تکیے کے سہارے بڑے ملک صاحب کے جسم کا ڈھیر پڑا تھا۔ ‘‘۱۷
افسانے کا متکلم دراصل قاسمی صاحب کے نظریات کا نمائندہ ہے جو اپنے ایک ہم جماعت جاگیردار دوست کے ساتھ دعوت پر اُس کا گاؤں دیکھنے آیا ہوا ہے۔ وہ گاؤں کی روزمرہ زندگی اور جاگیردارانہ سماج کے جبر کو دیکھتا اور کڑھتا ہی نہیں مذمت بھی کرتا ہے مگر اُس کا دوست بظاہر تعلیم یافتہ مگر اپنی حاکمانہ ذہنیت کے بدولت اِن تمام معمولات کو فطری تقاضا اور جائزہ تصور کرتا ہے۔ متکلم اِس جبر کی صورتحال سے پہلی بار اُس وقت متعارف ہوتا ہے جب بڑے ملک صاحب کی جانب سے ایک شریف النفس اور وضع دار جولاہے سکین (محمدمسکین)پر تشدّد دیکھتا ہے:
’’دھم دھم کی آواز سے ہم چونکے۔ دیکھا تو دو آدمیوں نے ایک اور آدمی کو پکڑ کر بڑے ملک صاحب کے سامنے جھکا رکھا تھا اور ملک صاحب اُس کی پیٹھ پر مکّوں کا مینہ برسا رہے تھے اور ساتھ ہی ایسی گالیاں بھی دیتے جاتے تھے جو صرف ملک صاحب ہی کسی کو دے سکتے ہیں۔ ‘‘۱۸
 افسانے کا متکلم اِس موقع پر خاموش نہیں رہ سکتا اور بظاہر تعلیم یافتہ دوست سے یہ کہتا ہے:
’’خدا بخش تمہیں شرم نہیں آتی کہ تم پڑھے لکھے آدمی ہو۔ ‘‘۱۹
لیکن خدا بخش کا جواب بھی دیکھیے جو اُس ذہنی رویے کا عکاس ہے جو اپنی توقیر اور نچلے طبقے کی تذلیل اپنا وراثتی حق تصور کرتا ہے:’’کیا کریں یار اِن لوگوں سے یہی سلوک کیا جائے تو سیدھے رہتے ہیں۔ ‘‘۲۰
یہ وہی ذہنیت ہے جو اِس معاشرے کے دیہی سماج ہی کا حصہ نہیں بلکہ بہت سے پڑھے لکھے دانشوروں کے یہاں بھی موجودہ جو اِس ملک کی نیم خواندہ (کہ جسے ایک شعوری کاوش سے نیم خواندہ رکھا گیا) اور اپنے حقوق سے ناواقف عوام کو جمہوری اقدار اور اظہار کی آزادی دینے کی بجائے طاقت کے بل بوتے پر کچل دینے کا خواہاں رہتا ہے۔ 
قاسمی صاحب کے اِسی افسانے ہی نہیں بیشتر کہانیوں میں طبقاتی برتری کا یہ احساس اِس حد تک غالب دکھائی دیتا ہے کہ یہ طبقہ نچلے طبقے کے افراد کو اُن کا پورا نام دینا بھی اپنی توہین خیال کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ افسانے میں ’خدا بخش‘، ’بخشو ‘ اور ’محمد مسکین ‘، ’سکین‘ میں بدل گیا ہے لیکن افسانے کا متکلم ایک با شعور اور مزاحمت کرنے والا نوجوان ہے جو خاموش تماشائی نہیں بننا چاہتا۔ اُس کا یہی سماجی شعور ہے جو اُسے بڑے ملک کے مضبوط پایوں والے پلنگ کو دیکھ کر یہ تبصرہ کرنے پر مجبور کرتا ہے:
’’میں سمجھا یہ پائے نہیں بلکہ پلنگ کے ہر کونے کے نیچے ایک سکین کھڑا ہے۔۔۔ اور خدا بخش! میں نے یہ بھی سوچاہے کہ اگر یہ چاروں سکین پلنگ کے چاروں گوشوں کے نیچے سے نکل جائیں تو پلنگ زمین پرا رہے۔ ‘‘۲۱
افسانے کے اختتام میں متکلم کے غصے پر بھی اُس کے جاگیردار دوست کی مسکراہٹ اپنی جگہ معنی خیز ہے:
’’لعنت ! میں نے کہا تمہاری ذہنیت تو آدم خوروں کی سی ہے۔ مگر خدا بخش ہنستا رہا اور میری طرف یوں دیکھتا رہا جیسے میں بیمار ہوں اور وہ میری دل آزاری نہیں کرنا چاہتا۔ ‘‘۲۲
مزاحمت اور ایک نئی صبحِ اُمید کا خواب قاسمی صاحب کے افسانے ’’جب بادل اُمڈے‘‘ میں بھی دیکھا جا سکتا ہے جو زمانی اعتبار سے قیامِ پاکستان کے فوری بعد کی ایسی کہانی ہے جہاں مصنف جاگیردارانہ سماج میں مزاحمت کو ایک انقلاب کی صورت دیکھ رہا ہے۔ ایک ایسا انقلاب جو اُس نظام کو تہہ و بالا کرنے والا اور کسان کو روایتی تابع فرمانی اور مظلومیت سے نکال کر مقابلہ کرنے اور حوصلہ دینے کا متمنی ہے۔ اگرچہ قاسمی صاحب کے اِس ترقی پسندانہ آدرش نے کہانی کو غیر فطری بھی بنا دیا ہے تاہم یہ اُس تاریخی شعور کو ضرور واضح کر رہا ہے جو اُس کردار کی ارتقائی شکل کی خبر دیتا ہے۔ 
قیامِ پاکستان سے قبل یونینسٹ پارٹی کے پلیٹ فارم سے اِس طبقے نے جس انداز امیں ثمرات سمیٹے اور پھر قیامِ پاکستان کے بعدجس انداز میں مسلم لیگ کے ساتھ کھڑے ہو کر اِس ملک کی نظریاتی سرحدوں کے محافظ کہلوائے وہ سب اپنی جگہ تلخ حقیقت ہے جسے اِس مختصر سی کہانی میں دیکھا جا سکتا ہے۔ چوپال میں بیٹھے اِس جاگیردار کی کچھ اور جھلکیاں بھی دیکھیے جو نہ صرف اس کردار بلکہ ہماری قومی تاریخ کو بھی واضح کر رہی ہیں :
’’صاحب! اب کے جاگیردار کی گرج میں طنز تھا۔ صاحب کی ماں کا۔۔۔ صاحب جاچکا  جہاں سے آیا تھا۔ اب یہ صاحب واب یہاں نہیں چلے گا۔ اب ہم پاکستان میں ہیں۔ اپنا ملک، اپنا راج، اپنا سکّہ۔ یہاں اب صاحب کی جگہ ملک اور چودھری اور میاں کا حکم چلتا ہے۔ ‘‘۲۳
انگریز کی غلامی اور چاپلوسی کے بعد حاصل کی جانے والی وسیع جاگیروں کے بعد اُسے دی جانے والی یہ گالی اور طاقت کے سرچشمے کی یہ نئی صورتیں ملک، چودھری یا میاں دراصل پاکستان میں طبقاتی معاشرے کی بنیاد کی نشانیاں ہیں۔ اِس طرح یہ طبقہ یہ بھی بخوبی جانتا ہے کہ وہ پہلے بھی سرکار کا حصہ تھا اور اب بھی ہے:
’’خضر حیات کے زمانے میں ہم نے لیگیوں کے بیسیوں جھنڈے پھاڑے تو سرکار نے ہمیں ایک مربع زمین دے دی۔ اب لیگ کا راج ہے تو مربع اُسی طرح ہمارے پاس رہا اور لیگی اپنے پرانے گھروں میں پرانے جھنڈوں پر سے گرد جھاڑتے رہ گئے اور کھانڈ کا ڈپو بھی ہمیں مل گیا۔ سرکار جب بھی ہماری تھی اب بھی ہماری ہے۔ ‘‘۲۴
یہ ہماری قومی تاریخ کی وہ تلخ حقیقت ہے جس نے آج تک عام آدمی کو ایک مخصوص طبقے کے ہاتھوں یرغمال بنایا ہوا ہے۔ تاہم اس افسانے میں اس نظام سے مفاہمت اور اِسے قبول کرنے کی بجائے مزاحمت دکھائی دیتی ہے۔ اس مہاجر کسان کے یہ جملے نہایت اہم اور آج بھی اتنے ہی معنی خیز ہیں جتنے کہ قیامِ پاکستان کے فوری بعد تھے:
’’مجھے معلوم نہ تھا کہ پاکستان بھی اپنے اندر آپ ایسے پھوڑے چھپائے بیٹھا ہے، اور جاگیردار جی اگر پاکستان کو زندہ رہنا ہے تو اُسے یہ پھوڑے کاٹ کر پھینکنا پڑیں گے۔ ‘‘۲۵
یہ ہے وہ نقطۂ نظر جو قاسمی صاحب جاگیردارانہ نظام کے متعلق رکھتے ہیں۔ وہ اِسے ایسا ہی ناسور سمجھتے ہیں جسے کاٹ کر پھینک دینا ہی پاکستان کی بقاء کا ضامن ہے۔ 
قاسمی صاحب کے شہرہ آفاق افسانے ’’الحمد للہ‘‘ جو بنیادی طور پر تو معاشی جکڑ بندیوں میں بندھے مولوی ابوالبرکات کے سمجھوتوں اور وضع داری کی کہانی ہے لیکن ساتھ ساتھ چودھری فتح داد کی صورت جاگیردار کے ایک مختلف تصور کی نشاندہی بھی کر رہی ہے۔ میری تحقیق کے مطابق یہ قاسمی صاحب کا واحد افسانہ ہے جہاں جاگیردار کا تصور ایک حاجت روا اور اخلاقی تقاضوں کو نبھانے والا ہے۔ افسانے کا مجموعی مزاج قاسمی صاحب کے ترقی پسندانہ نظریات کی توسیعی شکل ہے جہاں نظامِ معیشت ہی اقدار کو متعین کرتا ہے۔ چودھری فتح داد کے کردار میں یہ صفات ممکن ہے قاسمی صاحب نے افسانے کے المناک انجام کو قرین قیاس بنانے کے لئے مجتمع کر دی ہوں تاہم یہ بھی اُن کا کمالِ فن ہے کہ کہیں بھی یہ کردار ایک مثالی یا مصنوعی کردار نہیں بنا۔ کہانی کا تانا بانا اور درپیش واقعات اِس کردار کو ایک حقیقی کردار کے طور پر قاری سے متعارف کرواتے دکھائی دیتے ہیں۔ چودھری کے اِس کردار کی چند جھلکیاں دیکھیں :
’’چودھری فتح داد نے گرم چادر کے نیچے سے ایک پوٹلی نکالی۔ یہ میری بیٹی کو دیجیے گا۔ ‘‘۲۶
’’دُعاؤں کے بعد مولوی ابل کا ذہن چودھری فتح داد کی طرف منتقل ہو جاتا۔ آج کتنے برسوں سے اس خدا ترس انسان نے اِس گھر میں ہر شام کو وظیفہ بھجوایا تھا۔ اور کتنی پابندی سے ہر فصل پر مولوی ابل کو پوشاک پہنائی تھی اور لطف کی بات یہ ہے کہ دوسروں کی طرح ڈھنڈورا نہیں پیٹا تھا۔ ‘‘۲۷
احمد ندیم قاسمی کے بعد شوکت صدیقی بھی ایسے افسانہ نگار ہیں جن کے ہاں جاگیردار کے کردار کی مختلف جہتیں سامنے آتی ہیں۔ بقول ڈاکٹر انوار احمد:
’’وہ (شوکت صدیقی) ہماری اجتماعی زندگی کا بے رحم مفسر، مبصر اور ناقد ہے۔ اُس نے جہاں نچلے طبقے پر ڈھائے جانے والے مظالم کی کہانی لکھی ہے وہاں متوسط طبقے سے اُبھرنے والی ترقی پسند قیادت کے تضادات کو بھی نمایاں کیا، اُس نے جہاں سرکاری کرندوں کی لوٹ کھسوٹ کا نقشہ کھینچا ہے، وہاں انسان دوست دانشوروں کی سہولت پسندی کے نتائج پر بھی نظر رکھی ہے۔ ‘‘۲۸
اِسی طرح ڈاکٹر افضال بٹ بھی شوکت صدیقی کے سماجی شعور کو کچھ یوں بیان کرتے ہیں :
’’انہوں نے زندگی کے سماجی شعور کو ادب کی فنی اور فکری اقدار سے جوڑنے کی کوشش کی ہے۔ وہ ایک ایسے سماجی ڈھانچے کا نقشہ ہمارے سامنے لاتے ہیں جو ظلم، استحصال، عدم مساوات جیسی سماجی برائیوں کا مجموعہ ہے۔ ‘‘۲۹
شوکت صدیقی کے دو افسانوں ’’چاند کا داغ‘‘ اور ’’خان بہادر‘‘ میں جاگیردار کے کردار کا سماجی مطالعہ کیا جا سکتا ہے۔ ’’چاند کا داغ‘‘ ایک ظالم اور عیاش جاگیر دار مردان شاہ کی کہانی ہے۔ کہانی اگرچہ ڈرامائی اور نیم فلمی انداز میں بیان ہوئی ہے تاہم جاگیر دار کے متعلق شوکت صدیقی کے واضح تصور کو ضرور بیان کر رہی ہے جو اِس کردار کی صفّات کے ذریعے ایک ظالم، سفّاک اور عیاش شخص کے طور پر ہم سے متعارف ہو رہا ہے۔ 
’’مردان شاہ کے نوکروں چاکروں نے گوٹھ کے ایک ایک گھر کی تلاشی لی۔ جن لوگوں سے اللہ اُبھایا کا میل جول تھا، انہیں ڈرایا دھمکایا گیا۔ جوتے لگائے گئے۔ ہاتھ پاؤں باندھ کر اُلٹا لٹکایا گیا۔ ‘‘۳۰
تشدد اور ظلم کے منتقل ہوتے حکم ناموں کے اِن مناظر کے بعد مردان شاہ کے ہاتھوں براہِ راست تشدد کا نشانہ بنتی ایک بے بس عورت کا احوال بھی پڑھیے:
’’اُس نے بائیں ہاتھ سے نوری کے بال پکڑے اور زور سے اس طرح جھٹکا دیا کہ اُس کا چہرہ سامنےا گیا۔ وہ زخمی پرندے کی طرح دونوں کارندوں کی گرفت میں پھڑ پھڑانے لگی۔ مردان شاہ نے لوہے کا دہکتا ہوا سرخ سرخ ٹکڑا نوری کے رخسار پر زور سے جما دیا۔۔۔ اِس دفعہ مردان شاہ نے نوری کو اس طرح داغا کہ لوہے کا دہکتا ہوا سرخ سرخ ٹکڑا اس کے نرم اُجلے سینے کے بیچوں بیچ جم گیا۔ ‘‘۳۱
یہ وہ چند جھلکیاں تھیں جو جاگیردارانہ سماج کے جبر کو واضح کر رہی تھیں کہ کیسے یہ نظام عام آدمی سے اُس کے حق کا شعور ہی نہیں مزاحمت کے امکانات بھی چھین لینا چاہتا ہے۔ 
اِسی طرح ’’خان بہادر‘‘ انگریز عہد کے مراعات یافتہ اُس جاگیر دار کی کہانی ہے جو تقسیم کے بعد اپنے ملک میں تو حاکمیت کے احساس کے ساتھ رہنا چاہتا ہے لیکن انگریز سرمایہ کاروں سے اب بھی اپنی زمین پر کھاد فیکٹری کے منصوبے کی منظوری کی خاطر ایک خاندانی چاپلوس اور غلام دکھائی دیتا ہے۔ اِس سرمایہ دار کو کھانے پر بلواتا ہے اور اپنے نجی نوادرات سے متعارف کرواتا ہے اور انگریز حکومت کے لئے اپنے خاندان کی قربانیوں کا ذکر کرتا ہے۔ عہدِ  غلامی کے اِن حقیقی اور فرضی قصّوں سے وہ پھر سے مفاد حاصل کرنے کا خواہاں ہے اور اِس معاشرے میں عزت اور اصولوں کی عظیم روایتوں کے اِس امین کے پاس باپ دادا کے ایسے ایسے قصّے موجود ہیں جو عزتِ نفس کی پامالی اور چاپلوسی کی حیران کن مثالیں ہیں :
’’بالکل خون کے دھبّے ہیں۔ خان بہادر نے سینہ تان کر مطلع کیا۔ اِس تلوار سے میرے دادا نے۱۸۵۷ء کے غدر میں بارہ سو سے زائد باغیوں کو ہلاک کیا تھا۔ ‘‘۳۲
اور پھر داد کی وفا داری پر یقین پختہ کرنے کے لئے کہتا ہے:
’’اس خط میں انہوں نے کمپنی بہادر کی حکومت سے اپنی وفاداری کے عہد کے ساتھ ساتھ یہ یقین دلایا تھا کہ باغی ان کی لاش سے گزر کر ہی قلعے میں داخل ہوسکتے ہیں۔ ‘‘۳۳
پنجاب کے دیہی سماج اور جاگیردارانہ نظام کی عکاسی کے حوالے سے ایک اور اہم افسانہ نگار غلام الثقلین نقوی بھی ہیں۔ وہ خود دیہات میں پیدا ہوئے سو اُن کی کہانیوں میں دیہی معاشرت کا گہرا مشاہدہ دکھائی دیتا ہے۔ اُن کے یہاں گاؤں کا ایک مثالی تصور موجود ہے اور اِس کی پیش کش میں وہ جزئیات نگاری کا خصوصی خیال رکھتے ہیں جس میں بسا اوقات بے جا طوالت کا احساس بھی ہوتا ہے۔ بقول ڈاکٹر اے۔ بی۔ اشرف:
’’دراصل نقوی کے یہاں ایک ضابطۂ اخلاق ہے۔ احترامِ آدمیت کو وہ آدمیت کی معراج سمجھتے ہیں۔ کسی طبقے کا انسان ہو نقوی اُس سے محبت کرتے ہیں۔ ‘‘۳۴
یہ بات اپنی جگہ بحث طلب ہے کہ افسانہ نگار انسانی جبلت کو بعینہٖ حقیقت نگاری کے قالب میں ڈھال کر قاری تک پہنچاتا ہے یا اُسے ایک اخلاقی نظام کا پابند بنا کر پیش کرتا ہے۔ خیر و شر کی ازلی قوتوں کے تصادم میں افسانہ نگار ایک غیر جانب دار مبصر کی حیثیت سے اپنا تبصرہ نشر کرتا ہے یا کسی ایک فریق کی دانستا ً برتری کو ثابت کرتا ہے؟ تاہم نقوی کے یہاں صورتِ حال خود کو خیر کے کرداروں کے ساتھ جوڑنے کی دکھائی دیتی ہے۔ ڈاکٹر انور سدید کے مطابق:
’’غلام الثقلین نقوی کے افسانوں میں ایسے لمحے بار بار آتے ہیں جب شر کی قوتیں نیکی پر غالب آنے کی پوری کوشش کرتی ہیں اور اُس وقت جب خدا کی خدائی لرزہ بر اندام ہونے کا خطرہ پیدا ہو جاتا ہے تو ایک ظاہری جذبہ انسان کے باطن سے اُبھرتا ہے اور صورتِ واقعہ یکسر تبدیل ہو جاتا ہے۔ ‘‘۳۵
غلام الثقلین نقوی کے جن افسانوں میں جاگیر دار کے کردار کی مختلف صورتیں دیکھی جا سکتی ہیں اُن میں گل بانو، شیرا نمبر دار، ڈاچی والیا موڑ مہاروے، ماسی حاجن اور چوہا چور اور تیکھا موڑ اہم ہیں۔ اُن کے یہاں وسیع و عریض رقبے کے مالک جاگیر دار کے کردار کی بجائے بالعموم چھوٹے زمینداروں کے کردار نمایاں ہیں۔ 
 ’’شیرا نمبردار‘‘ اُن کا ایک نمائندہ افسانہ ہے جس کا مرکزی کردار شیرا اوسط درجے کا زمیندار ہے۔ شیرے کے کردار میں پنجابی جاگیردار کی روایتی رعونت دکھائی نہیں دیتی۔ یہاں تک کہ شیرے کی جوانی کا جو نقشہ مصنف نے کھینچا ہے وہاں بھی وہ ایک  پُر اطمینان اور وضع دار شخص دکھائی دیتا ہے جس میں خوب صورتی اور جاذبیت کے باوجود رعونت نہیں ہے:
’’بابا شیرے جوانی میں بڑے کلے ٹھلے کا گھبرو تھا۔ اب بھی اُس کی چال میں بانکپن تھا۔ اور آنکھوں میں چمک چوں کر عمر کے ساتھ ساتھ وقار کا اضافہ بھی ہو گیا تھا اِس لئے اب وہ اکڑ کر نہ چلتا۔ سر پربڑا سا پگڑ، لٹھّے کا دھلا ہوا سفید تہمد، سردیوں میں کھیس کی بُکل، گرمیوں میں کندھے پر ململ کا صافہ، چہرے پر اطمینان کی جھلک، گزری ہوئی زندگی گویا طمانیت کی ایک مستقل مسکراہٹ بن کر اَنگ اَنگ میںر چ گئی تھی۔ ‘‘۳۶
’’بابا شیرا مطمئن قلب لے کر گاؤں میں پھرتا، دولت اور عزت کی زیادتی نے اُس کے پندار کو انگیخت نہ کیا تھا۔ وہ پہلے سے بھی زیادہ عاجز اور نرم دل ہو گیا تھا۔ دوسروں کی مصیبت پر سب سے پہلے ہمدردی کا تحفہ لے کر پہنچتا۔ ‘‘۳۷
’’ماسی حاجن اور چوہا چور ‘‘ دیہی سماج کا ایک اور اہم کردار ’’چور‘‘ پر لکھا گیا افسانہ ہے جو دو چوروں کی کہانی ہے۔ مصنف کے مطابق چوروں کی بھی اپنی اخلاقیات ہوتی ہیں اور اِن دونوں میں سے ایک کردار اِن اخلاقیات پر عمل کرنے والا جب کہ دوسرا اِن سے منحرف ہے۔ اِس افسانے سے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے مصنف خود بھی دیہی سماج کے اُس روایتی تفاخر کا اسیر ہے جہاں طبقاتی برتری اخلاقی برائیوں پر غالبا جاتی ہے اور مجرموں کے بھی شجرے دیکھ کر حفظِ  مراتب طے کئے جاتے ہیں :
’’بھتیجے وہ صرف چور ہے۔ چودھری نہیں۔ ‘‘۳۸
’’چودھری کریم کی یہ منطق فوراً میری سمجھ میںا گئی۔ وہ چور ضرور تھا لیکن رَکھ رَکھاؤ کا قائل، وضع دار قسم کا طرّہ اونچا رکھ کر چوری کرنے والا چور۔۔۔ صرف اُسے لوٹتا جو لوٹے جانے کے قابل ہو۔ پھر سخی بھی تھا۔ چوہا چور۔ دو چار کھیتوں کا مالک تھا۔ اپنے چھوٹے بھائی سے مل کر ایک مشترکہ کنویں پر زراعت بھی کی لیکن چودھری کبھی نہ بن پایا دن کو نہ رات کو۔ ‘‘۳۹
چوروں کے درمیان یہ تقابل دراصل مصنف کے اُس شعور کا عکاس ہے جہاں وہ طبقاتی معاشرے میں عزت و مرتبے کے اُن معیارات کا اسیر دکھائی دے رہا ہے جو غلام ذہن کی پیداوار ہیں۔ 
’’تیکھا موڑ‘‘ غلام الثقلین نقوی کا ایک اور افسانہ جو جاگیردار کے کردار کو پیش کر رہا ہے۔ افسانہ چودھری کرم دین اور نچلے طبقے کے فرد سمّوں کی دوستی اور ایک طبقاتی معاشرے میں معاشی یا طبقاتی تفاوت سے جنم لینے والے مراسم کی نوعیت کو موضوع بناتا ہے۔ اُن کا افسانہ ’’ڈاچی والیا موڑ مہار وے‘‘ جاگیردار کے اسی روایتی شعور کا عکاس ہے جو طاقت اور عدم انصاف کا نمائندہ ہے۔ افسانے میں جاگیردار کا فیصلہ بھی ملاحظہ فرمائیں :
’’میں نے آج تک اپنی پناہ میں آئے ہوئے لوگوں کو واپس نہیں کیا۔ میں مریاں کو لوٹا نہیں سکتا۔ شیدا پوریو! تم خوش ہو جاؤ میں نے تمہاری مریاں کو اپنے محل کے قابل سمجھ لیا ہے اور جھوک کمال کے لوگو! تم مطمئن رہو اب تمہیں شیدا پور والے آنکھ اُٹھا کر نہیں دیکھ سکتے۔ میں نے تمہیں اُن کے خونی انتقام سے بچا لیا ہے۔ زمیندار نے قہقہہ لگایا اور اُس کا قہقہہ بجلی کی چمک تھا کہ مجمع کو چاٹ کر رکھ گیا۔ ‘‘۴۰
جاگیر دار کا یہ وہی تصور ہے جو عمومی طور پر اُردو کے افسانوی ادب میں پیش کیا گیا ہے۔ تاہم یہ تصور مجموعی طور پر غلام الثقلین نقوی کے افسانوں پر حاوی نہیں ہے۔ 
غلام الثقلین نقوی کے ساتھ ساتھ جس اور اہم افسانہ نگار کے یہاں پنجاب کے دیہی سماج کی عمدہ عکاسی دکھائی دیتی ہے وہ منشا یاد ہیں۔ اپنے نظریۂ فن کو وہ اِن لفظوں میں بیان کرتے ہیں :
’’میرے اندر اذیت کی چکی لگی ہوئی ہے جو دکھوں کا آٹاپیستی رہتی ہے۔ مجھے اچھے، خوبصورت، خوشحال اور بے فکرے لوگوں کی زندگیوں کا لطف نہیں اٹھانے دیتی۔ گرے پڑے مفلوک الحال اور بے توقیر لوگ ہی میرے اندر حلول کرتے رہے۔ ‘‘۴۱
دیہات کی پیش کش میں بھی منشاد یاد کے یہاں روایتی جاگیردارانہ جبر سے زیادہ نچلے طبقے کے محنت کشوں کے روز و شب کا بیان نظر آتا ہے جو بالواسطہ اِس طبقاتی نظام کی چکی میں پسے ہوئے ہیں۔ بقول اسلم سراج  الدین:
’’جاگیر داری اب ایک کیفیتِ ذہنی بھی ہے، ایک روّیہ بھی اور مائنڈ سیٹ بھی۔ جاگیرداریت منشا یاد کے فکشن کا قابل محسوس پس منظر ہے۔ ‘‘۴۲
 اُن کے جن افسانوں میں جاگیردار کے کردار یا تصور کو دیکھا جا سکتا ہے اُن میں راستے بند ہیں ، کچی پکی قبریں ، بانجھ ہوا میں سانس، خواب دَر خواب، دھند کے پیچھے، بلاوا، زائد المیعاد نیکی، مائی فٹ، پانی میں گھرا ہوا پانی، ماس اور مٹی، شجرِ بے سایہ، چیزیں اپنے تعلق سے پہچانی جاتی ہیں اور ساجھے کا کھیت نمایاں ہیں۔۔۔ اِن افسانوں میں جاگیردار کہیں مرکزی کردار کی صورت موجود ہے تو کہیں ماحول کے جبر کو واضح کرنے کے لئے اُس کے تصور سے مدد لی گئی ہے۔ 
’’راستے بند ہیں ‘‘میلے میں آئے ہوئے اُسے نچلے طبقے کے مفلوک الحال فرد کی کہانی ہے جو روزانہ کھانوں ، پھلوں یا مشروبات کے ذائقے سے ناواقف ہی۔ افسانے کا موضوع اگرچہ طبقاتی معاشرے میں عام آدمی کا استحصال ہے جو اپنی معمولی خواہشات بھی پوری نہیں کرسکتا تاہم افسانے میں دیہی جاگیر دار کا وہ تصور بھی متشکل ہو رہا ہے جو متکلم کی صورت منشا یاد کے تصور کا عکاس ہے:
’’الٰہی بخش نمبردار کا لڑکا عاشق ہے جو اپنے یار دوستوں کے نہیں اپنے یکے پر آیا ہے اور اُس کے ڈیرے پر ہر وقت مجرا ہوتا رہتا ہے اور شراب کی بوتلیں خالی ہوتی رہتی ہیں۔ طوائفیں سروں پر رکھے اور دانتوں میں پکڑے ہوئے نوٹ چُن چُن کر تھک جاتی ہیں۔ ‘‘۴۳
’’کچی پکی قبریں ‘‘بھی بنیادی طور پر طبقاتی تفریق کو موضوع بنانے والی کہانی ہے۔ کہانی کا مرکزی کردار کوڈو ایک غریب گورکن ہے جو یہ بخوبی جانتا ہے کہ طبقاتی فرق محض زندہ انسانوں کے رہن سہن ہی کو الگ الگ نہیں کرتا بلکہ قبرستانوں میں بھی اِس فرق کو ملحوظِ خاطر رکھا جاتا ہے:
’’بڑے لوگوں کی قبریں پختہ اور بڑی ہیں۔ غریب اور نادار لوگوں کی قبریں کچی اور بے نشان ہیں۔ زمینداروں اور چودھریوں کی پختہ قبریں اُن کی حویلیوں کی طرح اچھی اور بلند جگہوں پر ہیں … مزارعوں اور کمی کمینوں کی قبریں نم آلود اور نشیبی جگہوں پر ہیں۔ ‘‘۴۴
یہ وہ فرق ہے جو دیہی سماج میں جاگیر دار اور کسان کو حویلیوں اور جھونپڑیوں میں ہی نہیں بانٹتا قبروں کی تقسیم میں بھی کچی اور پکی قبروں میں بانٹتا ہے۔ افسانے میں نچلے طبقے کے نمائندے کوڈو کا ردِ عمل چونکا دینے والا اور ایک بے بس  آدمی کی توقیر حاصل کرنے کی اُس سعی کا اظہار ہے جو پڑھنے والے کو چونکا دیتی ہے۔ وہ اپنے ماں باپ کی قبریں کھود کر اُن کی باقیات چودھری فضل دین اور نمبر دارنی روشن بی بی کی قبروں میں ڈال دیتا ہے اور اب یہ سوچ کر مطمئن ہو جاتا ہے کہ اس کے ماں باپ کی قبروں پر بھی ہر جمعرات فاتحہ خوانی ہو گی اور اگر بتیاں اور دیے جلائے جائیں گے:
’’کوڈو فقیرا۔ فکر نہ کر بدبختا۔ کون کھود کر دیکھتا ہے اور دیکھ بھی لے تو کون پہچان سکتا ہے۔ امیر اور فقیر سب کی کھوپڑیاں اور ہڈیاں ایک جیسی ہوتی ہیں۔ ‘‘۴۵
کوڈو کا یہ ردِ عمل مزاحمت اور عزت کی شدید ترین خواہش کا اظہار ہے جو عام آدمی میں اس طبقاتی نظام کے خلاف موجود ہے۔ 
افسانہ ’’بانجھ ہوا میں سانس‘‘ ایک علامتی کہانی ہے جس میں بستی کے لوگوں پر ہوا تنگ کر دی گئی ہے اور انہیں اب آکسیجن سلنڈرز کے ذریعے سانس لینا پڑ رہا ہے۔ لیکن یہ سلنڈر حسبِ  روایت طاقت وروں کی ملکیت ہیں جو جاگیردار طبقہ ہے:
’’چھوٹا ملک رازدارانہ لہجے میں کہتا ہے۔ اُن لوگوں کے لئے جو تابع دار ہیں اور وہ جو اِس کا وعدہ کریں اور اِس پر قائم رہیں پریشانی کی کوئی بات نہیں۔ ‘‘۴۶
افسانہ ’’مائی فٹ‘‘ بھی جاگیر دار کے کردار کے اُس تصور کو اپنے قاری تک منتقل کر رہا ہے جو طاقت کے بل بوتے پر اپنی عزت کا خواہاں ہے۔ افسانے کا متکلم اپنی پڑھی لکھی اور با شعور بیوی کو گاؤں کی سیر کے لئے لایا ہوا ہے جو جاگیردار کے اس تصور سے سمجھوتے پر راضی نہیں :
’’عجیب بات ہے کہ ایک شخص دوسروں کے ساتھ بیٹھنا پسند نہیں کرتا محض اِس لئے کہ کاغذوں میں اُس کے نام اُس کی ضرورت سے زیادہ اراضی لکھی ہوئی ہے۔ مگر اُسے معلوم ہونا چاہیے وہ کس دور میں رہتا ہے۔ ‘‘۴۷
’’میں جانتی ہوں یہ لوگ دیہات کو پسماندہ دیکھنا چاہتے ہیں۔ سکول نہیں بناتے، سڑکیں نہیں بننے دیتے۔ پکی سڑک کے ساتھ علم و آگہی کی روشنی پھیلتی ہے جس سے اُن کے اصلی چہرے بے نقاب ہوتے ہیں۔ ‘‘۴۸
مندرجہ بالا اقتباسات میں متکلم کی بیوی کی زبان کے پسِ پردہ دراصل مصنف کے شعور کو تلاش کیا جا سکتا ہے۔ 
’’دھند کے پیچھے ‘‘اُن کا ایک اور اہم افسانہ ہے جس میں جاگیردار کے اُس تصور کو پیش کیا گیا ہے جہاں وہ دیہات سے نکل کر اب شہری سماج کا ایک حصہ ہے لیکن اُس کے یہاں نچلے طبقے سے نفرت اور نام نہاد عزت کا تصور یہاں بھی منصب اور جائیداد سے جڑا ہوا ہے۔ 
’’بلارا‘‘ منشا یاد کا ایسا افسانہ ہے جو دیہی احساسِ تفاخر کے معتبر ذرائع کو موضوع بناتا ہے۔ اہلِ دیہات اور خصوصاً وہاں کے نسبتاً چھوٹے زمینداروں کے یہاں زمین، دولت، گاڑیاں یا دیگر مراعات کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی قابلِ فخر ہے کہ اُن کا کوئی بھتیجا یا بیٹا شہر میں کسی سرکاری منصب پر موجود ہے۔ یہ افسانہ بنیادی طور پر زوال پذیر جاگیردارانہ سماج کی کہانی ہے جہاں اب بڑی جاگیروں اور بے پناہ مال و دولت والے جاگیر داروں کی بجائے نمبردار جیسے اوسط درجے کے زمیندار ہیں مگر اپنی ٹھاٹھ اور مرتبے کو منوانے کے لئے انہیں اِس طرح کے کمزور سہاروں کی ضرورت ہے۔ 
افسانہ ’’ساجھے کا کھیت‘‘ میں جاگیردارانہ سماج میں عزت اور وضع داری سے زندگی گزارنے کی بجائے جس انداز میں نچلے طبقے کو اخلاقی گراوٹ پر مجبور کر دیا جاتا ہے کی عمدہ عکاسی کی گئی ہے۔ افسانے کے آخر میں موجو کی بیوی اور چودھری کے مکالمے اس سماج کی اُس سفّاکی کو ظاہر کر رہے ہیں جو اخلاقی اور سماجی طور پر گرے ہوئے لوگوں کو پیدا کرنے کا ذمہ دار ہے:
’’تمہیں یاد ہے چودھری تم میرے ساتھ کیا سلوک کرتے تھے۔ کیسی کیسی غلیظ خواہشیں اور کیسے رکھتے تھے مجھے جیسے میں عورت نہیں کتیا تھی۔ چودھری میں بھی کسی کی بیٹی تھی مگر تم نے اور تمہارے جیسوں نے میرے ساتھ جو سلوک کیا وہ تمہیں معلوم ہے۔ میں تو بڑی معصوم اور پاک تھی۔ صرف کمزور اور غریب تھی۔ گھر سے اُپلوں کے لئے گوبر جمع کرنے نکلی تھی تم لوگوں کے ہتھے چڑھ گئی اور مجھے گوبر سے بھی بدتر چیز بنا دیا گیا۔ تمہیں منجھلی کا نام لیتے ہوئے شرم آنی چاہیے وہ تمہاری بیٹی ہے۔ بڑی ساتھ والے گاؤں کے ذیلدار کی اور چھوٹی کا مجھے خود صحیح اندازہ نہیں تمہاری ہے یا کس کی۔ مگر دیکھو میں نے تم چودھریوں ، ذیلداروں کی بیٹیوں کو کتنے اچھے طریقے سے رکھا ہوا ہے۔ ‘‘۴۹
یہ ہے وہ سفّاک سماجی حقیقت جو مصنف کے شعور سے کہانی کے پلاٹ میں منعکس ہوتی دکھائی دیتی ہے۔ زمینداروں ، جاگیرداروں اور ذیلداروں کے ہاتھوں نچلے طبقے کی عورتوں کا جنسی استحصال اور پھر اپنی ہی ناجائز اولادوں کی آبرو ریزی اپنی جگہ ایک المیہ ہے جسے منشا یاد نے عمدگی سے بیان کیا ہے۔ 
پریم چند سے منشا یاد تک دیہی معاشرت کی عکاسی کرنے والے مرد افسانہ نگاروں کی ایک پوری کھیپ دکھائی دیتی ہے تاہم جس خاتون افسانہ نگار کے یہاں پنجاب کی دیہی معاشرت اور جاگیردارانہ سماج کی عکاسی تواتر کے ساتھ کی گئی ہے وہ طاہرہ اقبال ہیں۔ طاہر ہ اقبال کو احمد ندیم قاسمی کی فکری روایت کا ایک تسلسل قرار دیا جا سکتا ہے تاہم یہ نسبت اُن کے یہاں کسی نیم پختہ اور مقلدِ محض کا پتہ نہیں دیتی بلکہ اُن کا اپنا تجربہ اور مشاہدہ اِس خطے کی زرخیز ثقافت اور علاقائی زبان کے مزاج اور محاورے میں ڈھل کر ایک بیدار شعور کا پتہ دے رہا ہے۔ بقول ڈاکٹر انوار احمد:
’’علاقوں سے نسبت کا دعویٰ اور بات ہے۔ تین چار نمائشی حوالوں کی تکرار بھی وہ زندہ فضا نہیں بنا سکتی جو طاہرہ اقبال کے افسانوں میں محسوس ہوتی ہے۔ اور یہ جڑی بوٹیوں کے نام کسی سیّانے کے بتائے ہوئے نہیں ، افسانہ نگار کی حسّیات میں پیوست ہیں اور اپنی دھرتی کی بُو باس سے اُس کے لگاؤ کو ظاہر کرتی ہے۔ یہ اور بات کہ وہ اسے کوئی جمال آفریں منظر نہیں بناتی، دکھ درد اور محرومی کے منظر نامے کا تاثر بڑھانے کے لئے ایک بامعنی عقبی پردے میں تبدیل کر دیتی ہیں۔ ‘‘ ۵۰ 
 اُن کی جن کہانیوں میں اِس کردار کو پیش کیا گیا ہے اُن میں ریخت، ملیچھ، سوہنی، گندا کیڑا، کھندے، انتخاب، چرواہا اور عزت اہم ہیں۔ طاہرہ اقبال کے افسانوں کے ساتھ ساتھ اُن کے ناولٹ بھی اِس موضوع کی عمدہ عکاسی کرتے ہیں۔ 
طاہرہ اقبال کا افسانہ ’’ریخت‘‘ اُن کے دوسرے افسانوی مجموعے کا عنوان ہی نہیں ایک افسانہ بھی ہے جو جاگیردار کے اُس تصور کو نمایاں کر رہا ہے جو مصنفہ کے ذہن میں موجود ہے۔ افسانے میں زوال پذیر جاگیردارانہ نظام کی چند جھلکیاں دیکھیں :
’’دینو ماچھی کمی کمین، ڈھور ڈنگروں سے ذرا اوپر کی مخلوق، مزاروں تک کے ہاتھوں سے بے عزت ہونے والا۔ ‘‘۵۱
اس اقتباس میں نچلی ذات کے افراد کے تعارف میں ترتیب پانے والی زبان کو دیکھا جا سکتا ہے جو اِن کے لئے حقارت اور نفرت کو بھی واضح کرتی نظر آتی ہے۔ اِسی طرح ملک گام کا تعارف دیکھیں :
’’دراصل ملک گام بنا جاگیر کا نواب تھا۔ نسل در نسل تقسیم کے بعد آباؤ اجداد کی بڑی جاگیروں سے اُس تک ایک مختصر سا قطعۂ ارضی بھی منتقل ہوسکا۔ اس کے پاس نہ تو دولت اور جاگیر سے پخت کی ہوئی طاقت اور اقتدار موجود تھا اور نہ ہی روایات و اقدار سے ترکیب پائی ہوئی تقویت۔ ‘‘۵۲
اِس اقتباس میں جاگیرداری کے اُس زوال کو بھی دیکھا جا سکتا ہے جو نسل در نسل زمین کی تقسیم کے بعد دیکھنے میںا رہی ہے اور اب یہ نئے جاگیر دار محض وہ نشانیاں ہیں جو اسلاف کی طاقت اور نام نہاد شان و شوکت کے قصیدہ خواں اور وارث ہیں۔ جاگیردار طبقے کے یہاں محنت کش طبقے کو حاصل مقدور بھر زندگی کے وسائل بھی جس نوع کی عنایت اور بخشش کا احساس لئے ہوئے ہیں اُس کی مثال دیکھیں :
’’باشاہو! ان کمّیوں کے نخرے۔ یہ ترکھانوں کا ٹبر جس احاطے میں بیٹھے ہیں وہ پردادا جی نے دادا جی کی پیدائش پر بخشش میں دیا تھا۔ کمّیوں کے ہر خاندان کو دو، دو بیگھہ زمین دی، جس جس احاطے میں بیٹھے تھے اُس کا مالک بنا دیا۔ پر ہوئے نا وہی نچلی ذات کے۔ ‘‘۵۳
مادی وسائل میں عدم مساوات کے نتیجے میں کم حیثیت طبقے سے نفرت کا یہ احساس دیہی سماج میں راسخ ہے اور نچلی ذات سے تعلق اپنی جگہ ایک ہزیمت ہی نہیں گالی کا درجہ رکھتا ہے۔ افسانے میں ملک صاحب کا یہ مختصر سا مکالمہ بھی دیکھیے جو جاگیردارانہ ذہنیت کو واضح کر رہا ہے:
’’جدی پشتی رعیت ہیں۔ باشاہو! اپنی جدی پشتی رعیت۔ ‘‘۵۴
یہ وہ راسخ احساسِ برتری ہے جو یہ طبقہ اپنا استحقاق سمجھتا ہے اور مقابل طبقے کو غلام دَر غلام رکھنے کا قائل ہے۔ 
افسانہ ’’گندا کیڑا‘‘ جاگیردارانہ سماج کی اُس سفّاکی کو موضوع بنا رہا ہے جہاں نچلے طبقے کی عورتیں جاگیرداروں کے لئے عیاشی کا سامان ہیں جنہیں استعمال کے بعد پھینکنے کا ملال بھی موجود نہیں ہے۔ 
افسانہ ’’کھندے‘‘ کا موضوع بھی جاگیردارانہ سماج میں نچلے طبقے کی ذاتوں کو استعمال کی شے اور اُن کی تذلیل کو استحقاق سمجھتا ہے۔ عارفے مراثی جیسے بہت سے کردار نچلے طبقے کے نمائندہ ہیں جن کی ذلت سے ہی جاگیردار کی حاکمیت کا پتا ملتا ہے:
’’ملک نے گھڑ گھڑ گھڑک پورے زور سے حقّہ گر گڑا کر چاندی کی نَے اُگل کر دھول میں تھوکا۔ ’’عارفے عارفے میراثی۔ ‘‘، ’’جی بادشاہ جی ‘‘عارفہ جیپ کے ٹائر سے اُکھڑ کر سامنے ڈھیر ہو گیا۔ ‘‘۵۵
’’ملک کی بھویں ترچھی ہو گئیں۔ شکاری کتوں کی باگیں ڈھیلی پڑ گئیں۔ باہر تڑپتی زبانیں ، اُٹھے ہوئے کان، سڈول کمر، جگمگاتی جلد میں سانس لیتی تڑپتی نسیں ، گلے میں بندھی گھنگھریوں کی چھنکار اور قدموں کی دگڑ دگڑ میں عارفے کی چیخیں لپٹ گئیں۔ ’’مر گیا نہیں بچتا۔ حلقا ہو کے مرساں۔ ‘‘۵۶
مندرجہ بالا دونوں اقتباسات میں نظر آنے والے دونوں مناظر جاگیردار کے خوف اور حاکمیت کے احساس کو عیاں کر رہے ہیں۔ 
’’انتخاب ‘‘ طاہرہ اقبال کا ایسا افسانہ جو دیہی سماج میں الیکشن سے پہلے اور بعد کے اُن مناظر کو اپنی حقیقی صورت میں سامنے لا رہا ہے جو نام نہاد جمہوریت کے پسِ پردہ اُن عوامل کی نشان دہی کرتا ہے جہاں حق رائے دہی فرد کا معاملہ نہیں برادری یا جاگیر داروں کی منشا سے مشروط ہو جاتا ہے:
’’بھائیو ! گاؤں کا چلن بدل گیا ہے۔ لوگ بے لحاظ اور خود سر ہو چکے ہیں۔ ہر گاؤں میں مڈل اور ہائی سکول کھل رہے ہیں۔ ہر تحصیل ہیڈ کوارٹر میں کالج بن گئے ہیں۔ کمی کمین کے لڑکے پڑھ لکھ کر کلرک اور وکیل بن رہے ہیں۔ اب تو دو، دو ایکڑ والے بھی ہم سے توقع رکھتے ہیں کہ ہم خود جاکر اُن سے ووٹ مانگیں۔ ‘‘۵۷
اقتباس میں اُس جاگیردارانہ ذہنیت کی عمدہ عکاسی ملتی ہے جو تعلیم کو اپنے لئے ایک بڑا حریف خیال کرتی اور  راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ گردانتی ہے۔ پھر نچلے طبقے کے افراد کے لئے یہ حقارت آمیز لہجے اور لغّت بھی دیہی سماج کا ایسا معمول ہے جس سے خود اِس کا شکار طبقہ بھی سمجھوتہ کر چکا ہے:
’’ہمارے پرکھوں سے الیکشن کے چند اصول طے ہیں … عورتوں کے ووٹ کبھی نہیں ڈلے اب کے بار بھی نہیں ڈالے جائیں گے۔ کمیوں کے ووٹ آدھے آدھے تقسیم ہوں گے۔ گاؤں میں کل پچیس ووٹ کمیوں کے ہیں۔ بڑے ووٹوں میں تیرہ آپ کی طرف جائیں گے اور بارہ ہماری طرف اور چھوٹے ووٹوں میں تیرہ ہماری طرف اور بارہ آپ کی طرف۔ اپنے اپنے مزارعوں اور ٹھیکے داروں کے ووٹ پکے ہیں۔ انہیں توڑنے کی کوشش لڑائی کا آغاز سمجھا جائے گا۔ ‘‘۵۸
افسانہ ’’چرواہا‘‘ گاؤں کے اُس مفلس اور کمزور چرواہے کی کہانی ہے۔ اس چرواہے کے کردار میں نچلے طبقے کے اُس بے توقیر فرد کی ایسی صفات موجود ہیں جو اُس کی ذلت کو ایک طبقے کا مشغلہ بنا دیتی ہیں :
’’وہ اتنا بے وقعت اور حقیر تھا کہ بے وقعتی اور حقارت از خود اُس سے شرماتی تھی۔ گویا اُس کی ذات تشدد پر اُکسانے والا خود بڑا محرک تھی۔ ذلیل کرو، ذلیل کرو کا چلتا پھرتا اشتہار۔ پتہ نہیں ایسے انسان خدا پیدا کر کے لوگوں کو گناہ گار بننے کا موقع کیوں فراہم کرتا ہے جنہیں دیکھ کر خواہ مخواہ ہاتھوں میں کھجلی ہونے لگے اور زبان نئی نئی گالیوں کا اختراع کرنے لگے۔ ‘‘۵۹
افسانے میں جاگیردار کے تشدد کی ایک جھلک دیکھیں :
’’وہ بیرونی دروازے کی جانب بھاگا۔ لیکن انہوں نے بڑھ کر بالوں سے کھینچ لیا اور زمین سے دو فٹ اوپر اُٹھا کر پختہ دیوار پر پٹخا۔ سر سے مٹھی بھر بال نکل کر فضا میں اُڑنے لگے اور خون کی دھاری دیوار پر چلتی ہوئی قطرہ قطرہ فرش پر ٹپکنے لگی۔ چودھری نے بڑھ کر شکاری بوٹ والا پاؤں کنپٹی پر دھر دیا اور سر کو یوں مسلنے لگا جیسے کسی ٹاٹ پر بوٹ صاف کر رہا ہو۔ اُس کے منہ اور ناک سے خون کے لوتھڑے اُبل کر سنگِ  مر مر کے شفاف فرش کو آلودہ کر گئے۔ ‘‘۶۰
جاگیر دار کے کردار کا ایک اور تصور طاہرہ اقبال کے افسانے ’’عزت‘‘ میں دیکھا جا سکتا ہے جہاں چودھری عزت کا معیار جنسی برتری میں پوشیدہ سمجھتا ہے۔ افسانے میں جاگیر دارانہ سماج کے اُسی نام نہاد عزت کے معیار کو موضوع بنایا گیا ہے جہاں چودھری اپنے نابالغ سکول جانے والے بیٹے کی نہ صرف شادی کرتا ہے بلکہ یہ خواہش بھی رکھتا ہے کہ وہ جنسی طور پر ایک بھرپور اور بر تر مرد کا کردار ادا کرے۔ اُس کے نزدیک مرد ہونے یا برتر ہونے کا معیار ہی اِس برتری میں پوشیدہ ہے:
’’نذیراں بی بی! مرد کبھی عورت سے چھوٹا ہوا ہے؟ اِدھر جوانی کا سال لگا اُدھر وہ اپنی ماں سے بھی بڑا ہو گیا۔ جتنی اونچی گردن اُٹھا کے بیٹے کو دیکھتی ہے اتنا ہی ڈرتی ہے۔ ایک یہ قاسو ہے سسرا جو اپنی رَن سے بھی چھوٹا ہو گیا ہے۔ بے غیرت مجھے تو اپنا نطفہ ہی نہیں معلوم پڑتا۔ کسی کھسرے کا جنا ہے تو نے۔ ‘‘ ۶۱
’’کہتا ہے لڑکے مذاق اُڑاتے ہیں کہ تیری ابھی سے شادی ہو گئی۔ کیوں شادی مرد کے بچے کی نہیں ہوتی۔ تو کیا کھسروں کی ہوتی ہے؟‘‘۶۲
’’بارہ تیرہ سال کا لڑکا بالغ ہو جاتا ہے۔ یہ ہے ہی زنخا۔ ورنہ بالو جیسی عورت سامنے ہو تو آٹھ سال کا لڑکا بھی ایک جھٹکے میں جوان ہو جائے۔ ‘‘۶۳
افسانے میں جاگیردارانہ ذہنیت کی کئی جھلکیاں دیکھی جا سکتی ہیں جہاں تعلیم ایک غیر ضروری چیز ہے۔ اصل قوت علم کی نہیں جائیداد کی ہے:
’’نہ تو نے دو ہزار کا چپڑاسی بننا ہے تو تین ہزار کا کلرک لگنا ہے، اِن کتابوں میں تو ڈھونڈ تا کیا ہے۔ ڈھائی مربعے کا اکیلا وارث۔ ڈیڑھ پکا مربع ایک گھوڑی پال۔ مربعے بھی سونے کے بھرے تھال۔ تو یہ کتابیں چھوڑتا کیوں نہیں۔ ‘‘۶۴
یہ وہ روایتی جاگیردار ذہن ہے جو شعور کا معیار علم کی بجائے زمین کو سمجھتا ہے اور اِس کے حصول کے لئے ہر طرح کے اخلاقی، سماجی تقاضوں کو بالائے طاق رکھنے سے بھی گریز نہیں کرتا۔ مجموعی طور پر ہم کہہ سکتے ہیں کہ طاہرہ اقبال کے یہاں وسطی پنجاب کے اُس زوال پذیر جاگیردارانہ سماج کی عمدہ عکاسی کی گئی ہے جو اب وسیع جاگیردار کے مالک نہیں لیکن اُن کے ہاں تفاخر اور برتری کے سارے ذرائع طاقت اور زمین سے جڑے ہوئے ہیں۔ 
ڈاکٹر سلیم اختر کا افسانہ ’’گندا خون ‘‘ بھی جاگیر دارانہ سماج کی عمدہ عکاسی کر رہا ہے۔ افسانہ اپنے موضوع اور بیان کے اعتبار سے اگرچہ قاسمی صاحب کے افسانے ’’لارنس آف تھیلیبیا ‘‘ سے بعض مماثلتیں رکھتا ہے لیکن لارنس اور تھیلیبیا جاگیردارانہ سماج کی اُس سفّاکی کا بیان ہے جو جاگیردار کو ایک مقتدر اور طاقت ور کردار کے طور پر سامنے متعارف کروا رہا ہے۔ 
 ناظم خان کے دادا اور بڑے خان صاحب کا یہ تعارف اُس کردار کے تشخص کا بیان ہے:
’’اُن کے مزاج میں بھی وہی طنطنہ تھا جو اُس جاگیردار کے مزاج میں پایا جاتا ہے جو ایک سیکنڈ کے تردّد کے بغیر اپنے مزارع کے پچاس جوتے لگوا سکتا ہو۔ انہیں اپنی اعلیٰ نسبی پر بڑا فخر تھا اور انہوں نے بھی اپنے آباء کی مانند ہزار جتن سے خون کی ہر طرح کی آمیزش سے محفوظ رکھا تھا۔ ‘‘۶۵
اصول کی یہ بات اور اصول پسندی کا یہ دعویٰ اپنے اندر وہ کڑا طنز لئے ہوئے ہے جو اِس کردار کی ذہنیت کے حوالے سے مصنف کے شعور کا نتیجہ ہے۔ اگرچہ اصول کی بات سے فوراً قاسمی صاحب کے افسانے ’’اصول کی بات‘‘ کی طرف دھیان بھی جاتا ہے۔ 
انوار احمد ۷۰ کی دہائی میں ضیائی مارشل لاء کے خلاف علامتی کہانی کاروں میں ایک اہم نام ہیں۔ اُن کی کہانیوں کا اختصاصی پہلو اُن کا اختصار ہے۔ وہ کہانی کو ضمنی موضوعات یا مختلف مظاہر اور واقعات کی مدد سے طول دینے کی بجائے نظموں کے کڑے انتخاب کے قائل ہیں۔ اِسی لئے وہ اپنے موضوع کو کم سے کم الفاظ میں افسانے میں ڈھالنے کے متمنی نظر آتے ہیں۔ اُن کی کہانیوں میں واقعے کے طلسم سے زیادہ جملے کی کاٹ اثر رکھتی ہے۔ اُن کے جملوں  میں جبر کی اُس فضا کے ساتھ ساتھ ہمارے سماج میں موجود طبقاتی تفاوت اور استحصالی قوتوں کے خلاف بھی کڑا طنز دکھائی دیتا ہے۔ ’’گونگی غراہٹ‘‘ بھی اُن کا ایسا ہی افسانہ ہے جس کا متکلم ایک جاگیردار حاجی خواجہ کا ملازم ہے اور افسانے میں حاجی خواجہ کے روز و شب کی روداد ایک ایسے راوی کی حیثیت سے بیان کر رہا ہے جو حاجی صاحب کا تابع فرماں بھی ہے اور وظیفہ خوار بھی۔ تاہم متکلم کے پیچھے دراصل افسانہ نگار کا وہ سماجی شعور بول رہا ہے جو بخوبی جانتا ہے کہ حاجی خواجہ ایسے کرداروں کے روز و شب کیسے گزارتے ہیں اور کس کس انداز میں نچلے طبقے کا استحصال کرتے ہیں :
’’حاجی خواجہ جھوم جھوم کر موٹر چلا رہے تھے اور میں پچھلی نشست پر بیٹھا دن بھر میں خالی ہونے والی بوتلوں اور پائمال عزتوں کا حساب کر رہا تھا۔ ‘‘۶۶
’’وہ دریا دل بھی ہے اور مہربان بھی، شہر کی کئی طوائفوں اور صحافیوں کے اس نے وظیفے مقرر کر رکھے ہیں۔ ‘‘۶۷
’’حاجی خواجہ بے پنا ہ پیتا اور کھاتا ہے۔ بدیسی شراب کی پیٹیاں دنوں میں ختم ہو جاتی ہیں۔ ‘‘۶۸
’’حاجی خواجہ کی چاروں بیویاں گھر کے نوجوان ملازموں کو حقارت کی بجائے محبت سے دیکھتی ہیں اور راتوں کو اُن کے یہ کردار کپڑوں کی میلی جیبوں میں معطر اور اُجلے نوٹ ٹھونستی رہتی ہیں۔ ‘‘۶۹
مندرجہ بالااقتباسات حاجی خواجہ کے اندر اُس جاگیر دار کا تصور واضح کر رہے ہیں جو شہروں میںا کر اب سرمایہ دار کی حیثیت سے بھی اپنے رویوں میں اُسی ذہنیت کی عکاسی کر رہا ہے جو ایک جاگیردار کی ہوسکتی ہے۔ 
ڈاکٹر عبدالرشید تبسم کی کہانیاں ’’دہقان زادے‘‘ جاگیردارانہ سوچ و مزاج سے ہم آہنگ روایت کا ایک ایسا بیان قرار ایا جا سکتا ہے جو اپنے اندر تجسّس، سادگی، دلچسپی اور خیر و شر کی موجودگی کے باعث داستانوی رنگ لئے ہوئے ہیں۔ ’’دوست دشمن‘‘ ایک ایسی ہی سادہ بیانیہ کی حامل کہانی ہے کہ جو جاگیردارانہ نظام اور رسوم ورواج کے ساتھ سوچ کے حوالے سے بھی ہمیں آگاہی فراہم کرتی ہے:
’’میں زمیندار ہوں۔ میرا گاؤں میرے باپ دادا کی میراث ہے۔ یہ گاؤں میرے اجداد کے قبضے میں پہلے پہل کب اور کیسے آیا؟ اس کا مجھے علم نہیں۔ میں صرف اتنا جانتا ہوں کہ یہ گاؤں پہلے میرے باپ کے پاس تھا، اب اِس کا مالک میں ہوں۔ جب میں مر جاؤں گا تو میری اولاد اِس کی مالک ہو گی۔ میرے گاؤں کے لوگ مجھے ’’سرکار‘‘ کہہ کر پکارتے ہیں۔ میرا ادنیٰ سا اشارہ اِن کی قسمت کا فیصلہ کرسکتا ہے۔ ‘‘۷۰
ذرا جاگیردارانہ ظلم کو جواز فراہم کرنے والے طنز کو ملاحظہ فرمائیں :
’’ہرطبقہ کے لوگ دوسرے لوگوں کو اپنے سے نیچا دیکھنا چاہتے ہیں۔ یہی بات اگر ہم میں بھی موجود ہے تو محلِ اعتراض نہیں۔ ہم زمیندار اپنی کسی خاص آسامی کو فارغ البال ہوتے دیکھیں تو اُسے اعتدال پر لے آتے ہیں۔ ہمارے خاص آدمی اُس کے یہاں چوری کر کے اُسے نانِ شبینہ کو محتاج کر دیتے ہیں۔۔۔۔۔ آسامی لٹ لٹا کر ہمارے نام کی دہائی دیتی ہے۔ ہم سے فریاد کرتی ہے، ہم اُسی کی نقدی میں سے چند سکے خیرات کے طور پر اُسے واپس دے کر اُس کی آئندہ سات پشتوں پر احسان کر دیتے ہیں۔ ہماری دریا دِلی ضرب المثل بن جاتی ہے۔ ہم فرشتۂ رحمت تصور کئے جاتے ہیں۔ علاقے میں ہماری داد و دہشت کی دھاک بیٹھ جاتی ہے۔ ‘‘۷۱
ایم۔ صادق قریشی کا شمار اُردو کے اُن افسانہ نگاروں میں ہوتا ہے جو فنی اعتبار سے بہت پختہ کہانی کار نہیں کہلائے جا سکتے۔ زراعت کے پیشے سے وابستہ، صحافی اور زرعی موضوعات پر مضامین لکھنے والے صادق قریشی نے دیہی سماج پر بہت سی کہانیاں لکھی ہیں۔ ان کا ایک افسانہ ’’کیما تیلی ‘‘ماقبل تقسیم پنجابی دیہات کی کہانی ہے جس میں فنی پختگی تو شاید اُس سطح کی نہیں جیسی ایک خلاق افسانہ نگار کے ہاں ہوسکتی تھی مگر چودھری، مولوی یا طبقاتی معاشرے کی جھلکیاں ضرور دیکھی جا سکتی ہیں۔ 
یہ جاگیردار کا وہ مجموعی تاثر ہے جو اُردو افسانے میں دیکھا جا سکتا ہے۔ تاہم اس کے علاوہ بھی بعض افسانوں میں جاگیردار کے یہ کردار موجود ہیں جن میں رشید امجد کے ’افسانے مکھن کے بال، (کاغذ کی فصیل )، ’ آدھے دائروں کا نوحہ، (کاغذ کی فصیل )، غلام الثقلین نقوی کے افسانے ’سید نگر کا چودھری، (بند گلی ) اور مسعود اشعر کے افسانے ’مجھے چہرہ دکھا‘  میں دیکھے جا سکتے ہیں۔ لیکن مجموعی طور پر جاگیردار کا تصور طاقت اور ظلم کے ساتھ مشروط ہے جو اُردو افسانے میں جا بجا نظر آتا ہے۔ 




حوالہ جات

۱۔ 	سجاد باقر رضوی، ’’مغرب کے تنقیدی اصول‘‘، کتابیات، لاہور، طبع اوّل، ۱۹۶۶ء، ص۶۳
۲۔ 	شمس الرحمن فاروقی، ’’افسانے کی حمایت میں ‘‘، مکتبہ جامعہ نئی دہلی، لمیٹڈ، مئی ۱۹۸۲ء، ص۴۴، ۴۶
۳۔ 	محمد حمید شاہد، ’’ اُردو افسانہ، صورت ومعنی‘‘، نیشنل بک فاؤنڈیشن، اسلام آباد، ۲۰۰۶ء، ص۴۰، ۴۱
۴۔ 	سہیل بخاری، ڈاکٹر، ’’ناول نگاری‘‘، مکتبہ میری لائبریری، لاہور، ۱۹۶۶ء، ص۲۶
۵۔ 	آئن تالبوٹ، ’’تاریخ پنجاب‘‘، مترجم :پروفیسرطاہر کامران، تخلیقات، لاہور، ۲۰۰۶ء، ص۱۲
۶۔ 	ایضاً، ص ۲۶
 ۷۔ 	انوار احمد، ڈاکٹر، ’’اُردو افسانہ ایک صدی کا قصّہ‘‘، بار دوم، مثال پبلی کیشنز، فیصل آباد، ۲۰۱۰ء، ص۳۱۱
۸۔ 	احمد ندیم قاسمی، (دیباچہ)’’طلوع و غروب‘‘، اساطیر، لاہور، ۱۹۹۵ء، ص۹
۹۔ 	انوار احمد، ڈاکٹر، ’’اُردو افسانہ ایک صدی کا قصّہ‘‘، ص۲۷۵
۱۰۔ 	احمد ندیم قاسمی، ’’بازارِ حیات‘‘، ۱۹۹۱ء، ص۱۲۸
۱۱۔ 	ایضاً، ص۱۲۷
۱۲۔ 	ایضاً، ص۱۲۶، ۱۲۷
۱۳۔ 	احمد ندیم قاسمی، ’’بگولے ‘‘	ص۳۸، ۳۹
۱۴۔ 	ایضاً، ص۱۳۵		۱۵۔ 	ایضاً، ص۱۳۶			
۱۶۔ 	احمد ندیم قاسمی، ’’سیلاب و گرداب‘‘، ۱۹۹۵ء، ص
۱۷۔ 	احمد ندیم قاسمی، ’’کپاس کا پھول‘‘، اساطیر، لاہور، ۱۹۹۵ء، ص۲۴۱
۱۸۔ 	احمد ندیم قاسمی، ’’کپاس کا پھول‘‘، ص۲۴۲
۱۹۔ 	ایضاً، ص۲۴۲، ۲۴۳	
۲۰۔ 	ایضاً، ص۲۴۳
۲۱۔ 	ایضاً، ص۲۴۴
۲۲۔ 	ایضاً، ص۲۴۸		
۲۳۔ 	احمد ندیم قاسمی، ’’دَر و دیوار‘‘، بار دوم، مطبع مظفر پرنٹرز، لاہور، ۱۹۹۶ء، ص۵۴
۲۴۔ 	ایضاً، ص۵۵
۲۵۔ 	ایضاً، ص۵۶
۶۶۔ 	احمد ندیم قاسمی، ’’سناٹا‘‘، اساطیر، لاہور، ۱۹۹۶ء، ص۱۳۲
۲۷۔ 	ایضاً، ص۱۳۹
۲۸۔ 	 انوار احمد، ڈاکٹر، ’’اُردوافسانہ ایک صدی کا قصّہ‘‘، ص۴۳۱
۲۹۔ 	محمد افضال بٹ، ڈاکٹر، ’’اُردو ناول میں سماجی شعور‘‘، پورب اکادمی، اسلام آباد، ۲۰۰۹ء، ص۲۰۶
۳۰۔ 	شوکت صدیقی، ’’راتوں کا شہر‘‘، کتاب پبلی کیشنز، کراچی، ۲۰۰۷ء، ص۸۶
۳۱۔ 	ایضاً، ص۹۰
۳۲۔ 	ایضاً، ص۱۱۵
۳۳۔ 	ایضاً، ص۱۱۶، ۱۱۷
۳۴۔ 	اے۔ بی۔ اشرف، ڈاکٹر، ’’کچھ نئے اور پرانے افسانہ نگار‘‘، سنگِ میل پبلی کیشنز، لاہور، سن ندارد، ص۹۰
۳۵۔ 	انور سدید، ڈاکٹر، ’’اُردو افسانے میں دیہات کی پیش کش‘‘، ص۹۷
۳۶۔ 	غلام الثقلین نقوی، ’’غلام الثقلین نقوی کے پچیس منتخب افسانے‘‘، سجاد نقوی (مرتب)، کاغذی پیرہن، لاہور، ۲۰۰۶ء، ص۵۱
۳۷۔ 	ایضاً، ص۶۳
۳۸۔ 	ایضاً، ص۲۳۶	
۳۹۔ 	ایضاً، ص۲۳۷	
۴۰۔ 	ایضاً، ص۱۵۶	
۴۱۔ 	محمد منشا یاد، (پیش لفظ)’’کہانی اور میں ‘‘، مشمولہ ’’خلا اندر خلا‘‘، بار اوّل، مطبوعاتِ حرمت، راول پنڈی، ۱۹۸۳ء، ص۱۰
۴۲۔ 	اسلم سراج  الدین، ’’محمد منشا یاد شخصیت اور فن‘‘، اکادمی ادبیات، اسلام آباد، ۲۰۱۰ء، ص۱۸۰
۴۳۔ 	محمد منشا یاد، ’’ماس اور مٹی‘‘، ماڈرن بک ڈپو آب پارہ، اسلام آباد، ۱۹۸۰ء، ص۱۳
۴۴۔ 	ایضاً، ص۲۰
۴۵۔ 	ایضاً، ص۲۵
۴۶۔ 	ایضاً، ص۹۹
۴۷۔ 	ایضاً، ص۹۲
۴۸۔ 	ایضاً، ص۹۲
۴۹۔ 	اقبال آفاقی ڈاکٹر (مرتب)، ’’منشا یاد کے منتخب افسانے ‘‘ مثال پبلشرز فیصل آباد ۲۰۰۸ء ص۱۹۱
۵۰۔ 	انوار احمد، ڈاکٹر، ’’اُردو افسانہ ایک صدی کا قصّہ ‘‘ ص ۵۵۱
۵۱۔ 	طاہرہ اقبال ’’ریخت‘‘ دوست پبلی کیشنز لاہور، ۲۰۰۳ء، ص ۲۲
۵۲۔ 	ایضاً، ص۲۳
۵۳۔ 	طاہرہ اقبال ’’ریخت‘‘  دوست پبلی کیشنز لاہور، ۲۰۰۳ء، ص۲۶
۵۴۔ 	ایضاً، ص۲۶
۵۵۔ 	ایضاً، ص۸۴
۵۶۔ 	ایضاً، ص۸۵
۵۷۔ 	ایضاً، ص۹۲
۵۸۔ 	ایضاً، ص۹۳
۵۹۔ 	ایضاً، ص۱۲۰
۶۰۔ 	ایضاً، ص۱۲۲
۶۱۔ 	طاہرہ اقبال، ’’گنجی بار‘‘ دوست پبلی کیشنز، اسلام آباد / لاہور / کراچی، ۲۰۰۸ء، ص ۵۱
۶۲۔ 	ایضاً، ص۴۹
۶۳۔ 	ایضاً، ص۴۷
۶۴۔ 	ایضاً، ص۵۸
۶۵۔ 	سلیم اختر، ڈاکٹر، ’’نرگس اور کیکٹس ‘‘ (مجموعہ افسانے / ناولٹ) سنگِ میل پبلی کیشنز لاہور، ۲۰۰۴ء، ص ۵۶۱
۶۶۔ 	انوار احمد، ’’ ایک ہی کہانی ‘‘، سنگِ  میل پبلی کیشنز لاہور، ۱۹۹۶ء، ص ۳۴
۶۷۔ 	ایضاً، ص۳۵
۶۸۔ 	ایضاً، ص۳۷
۶۹۔ 	ایضاً، ص۳۸
۷۰۔ 	عبدالرشید تبسّم، ڈاکٹر، ’’دہکان زادے ‘‘ مطبوعہ پاکستان پرنٹنگ ورکس، لاہور، ۱۹۸۰ء، ص ۳۷
۷۱۔ 	ایضاً، ص۳۷، ۳۸
٭٭٭

ماخوذ از مجلہ ’معیار‘ اسلام آباد، شمارہ ۹
٭٭٭

تشکر: سید زبیر اشرف ، جن کے توسط سے فائل کا حصول ہوا
تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید