﻿



میں پردہ کروں گی

لڑکیوں کے لئے نظمیں 


شاہین اقبال اثرؔ




	



میں پردہ کروں گی


نہ ہر کھیت میں بے محابا چروں گی
نہ ہرگز زمانے کا اب دم بھروں گی
زمانے کے خالق سے میں اب ڈروں گی

سو حکمِ خدا پر جیوں گی مروں گی
میں اب غیر محرم سے پردہ کروں گی

مجھے میرے مولیٰ نے عصمت عطا کی
کہ اسلام نے مجھ کو عظمت عطا کی
مجھے میرے رب نے یہ ہمت عطا کی

نہ اہلِ زمانہ سے اب میں ڈروں گی
میں اب غیر محرم سے پردہ کروں گی

رضا صرف مولیٰ کی مطلوب ہے اب
مری زندگانی بہت خوب ہے اب
مجھے چاردیواری محبوب ہے اب

میں سڑکوں میں بازار میں کیوں پھروں گی
میں اب غیر محرم سے پردہ کروں گی

گو تخمِ عمل لاکھ بوتی ہوں یارب
مگر عمرِ رفتہ پہ روتی ہوں یارب
کہ خود ہی سے شرمندہ ہوتی ہوں یارب

کہ کیا منہ دکھاؤں گی جب میں مروں گی
میں اب غیر محرم سے پردہ کروں گی
٭٭٭




چار دیواری میں تھی محبوس بے پردہ نہ تھی
جب بچاری آشنائے رونقِ دنیا نہ تھی
اب حقیقت ہے مگر پہلے فقط افسانہ تھی
رشکِ گلشن ہو گئی ہے جو کبھی ویرانہ تھی

 ’’حامدہ چمکی نہ تھی انگلش سے جب بیگانہ تھی
اب ہے شمعِ انجمن پہلے چراغِ خانہ تھیٍ‘‘ 

مرد کے شانہ بہ شانہ دوبدو چلتی ہے وہ
مونگ خود ہزبینڈ کے سینے پہ اب دلتی ہے وہ
عہدِ نو ہے ، ہر نئے سانچے میں اب ڈھلتی ہے وہ
کالجو اسکول میں آفس میں اب پلتی ہے وہ

 ’’حامدہ چمکی نہ تھی انگلش سے جب بیگانہ تھی
اب ہے شمعِ انجمن پہلے چراغِ خانہ تھیٍ‘‘ 

رات بھر پڑھتی ہے وہ بیداریاں کرتی ہے وہ
صبح کو کالج کی بھی تیاریاں کرتی ہے وہ
دن کو اپنے دوست سے گلکاریاں کرتی ہے وہ
شام کو اسٹیج پر فنکاریاں کرتی ہے وہ

 ’’حامدہ چمکی نہ تھی انگلش سے جب بیگانہ تھی
اب ہے شمعِ انجمن پہلے چراغِ خانہ تھیٍ‘‘ 

مغربیت کا نشہ سر سے اترتا بھی نہیں 
مشرقیت کا کوئی اب پاس رکھتا بھی نہیں 
کھڑکی دروازوں میں اب باریک پردہ بھی نہیں 
پہلے برقع تھا مکمل اب دوپٹہ بھی نہیں 

 ’’حامدہ چمکی نہ تھی انگلش سے جب بیگانہ تھی
اب ہے شمعِ انجمن پہلے چراغِ خانہ تھی‘‘ 

پہلے ناکارہ تھی لیکن وہ بڑی قابل ہے اب
پہلے گھر کی آبرو تھی رونقِ محفل ہے اب
من چلوں کے حلقۂ احباب میں شامل ہے اب
اس کا پردے میں چھپے رہنا بہت مشکل ہے اب

 ’’حامدہ چمکی نہ تھی انگلش سے جب بیگانہ تھی
اب ہے شمعِ انجمن پہلے چراغِ خانہ تھی‘‘ 

باپ سے بھائی سے ماں سے کب بھلا ڈرتی ہے وہ
بے محابا کوچہو بازار میں پھرتی ہے وہ
بنتِ حوّا تو کسی رخ سے نہیں لگتی ہے وہ
اس زمانے کی ترقی یافتہ لڑکی ہے وہ

 ’’حامدہ چمکی نہ تھی انگلش سے جب بیگانہ تھی
اب ہے شمعِ انجمن پہلے چراغِ خانہ تھیٍ‘‘ 

جب فلیٹوں سے نکل کر زلف لہراتی ہے وہ
نوجوانوں کیا، ضعیفوں تک کو بہکاتی ہے وہ
حسن کے کرتب سرِ بازار دکھلاتی ہے وہ
عشق کی منڈی میں ہاتھوں ہاتھ لی جاتی ہے وہ

 ’’حامدہ چمکی نہ تھی انگلش سے جب بیگانہ تھی
اب ہے شمعِ انجمن پہلے چراغِ خانہ تھیٍ‘‘ 

بد نظر خوش ہو رہے ہیں یہ تماشا دیکھ کر
آشیانہ عفتِ مریم کا جلتا دیکھ کر
حرمتِ مسلم متاعِ دیں کو لٹتا دیکھ کر
رو دیئے ہم شرم و غیرت کا جنازہ دیکھ کر

 ’’حامدہ چمکی نہ تھی انگلش سے جب بیگانہ تھی
اب ہے شمعِ انجمن پہلے چراغِ خانہ تھیٍ‘‘ 
٭٭٭



دیدار اپنا سب کو کرانا عجیب ہے 
چہرے سے اپنے پردہ اٹھانا عجیب ہے 

بے پردگی سے فائدہ کیا ہے بتائیں بھی
یہ مفت میں گناہ کمانا عجیب ہے 

یہ دیکھیں خود کہ میرا عمل ہے خراب کیوں 
یوں مت کہیں کہ آج زمانہ عجیب ہے 

بگڑے ہوئے معاشرے میں اے مری بہن
بن ٹھن کے تیرا سامنے آنا عجیب ہے 

پہلے ہی بھائیوں نے بڑھائی ہوئی ہے زلف
بہنو تمھارا بال کٹانا عجیب ہے 

زلفیں تمھاری باعثِ تزئینِ حسن ہیں 
زلفوں سے اپنی جان چھڑانا عجیب ہے 

عورت کے لغوی معنی ہیں چھُپنے کی چیز جب
مستور کا نہ خود کو چھپانا عجیب ہے 

اسبابِ بد نگاہی تری بے حجابیاں 
شیطاں کا خود کو تیر بنانا عجیب ہے 

پھوپھا و خالو دیورو جیٹھ اور ماموں زاد
ان سب کا تیرے سامنے آنا عجیب ہے 

خوش دامنوں سے لڑنا جھگڑنا بھی ہے برا
اور شوہروں کے دل کو دُکھانا عجیب ہے 

گھر میں تو خستہ حال ہی رکھتی ہیں خود کو پر
باہر نکلتے وقت سجانا عجیب ہے 

قبل از نکاح ایسی ملاقات ہے حرام
منگیتروں سے ملنا ملانا عجیب ہے 

شادی ہے ایک سنتِ نبوی کی اتباع
تصویر، مووی، گانا، بجانا عجیب ہے 

پردہ اگر کریں تو کہیں لوگ دقیانوس
حیلہ ترا غریب، بہانہ عجیب ہے 

بد گوئی، جھوٹ، غیبتو چغلی، شکایتیں 
بے کار اپنا وقت گنوانا عجیب ہے 

پہلے تو دن کو گھر سے نکلتی نہیں تھی وہ
لیکن یہ آج کل کی شبانہ عجیب ہے 

تیری پکار بارِ سماعت نہ ہو اثرؔ
سوئے ہوؤں کو تیرا جگانا عجیب ہے 
٭٭٭



اللہ نے جو بخشی ہے نعمت زبان کی
کرتے رہیں ہمیشہ حفاظت زبان کی

فتنے یہ کیسے کیسے اٹھائے اک آن میں 
میں کیا بتاؤں کیسی ہے آفت زبان کی

ہم تو وہاں بھی اس کو چلاتے ہیں بے دریغ
ہوتی نہیں جہاں پہ ضرورت زبان کی

جو اہلِ دل ہیں اہلِ نظر ہیں جہان میں 
کرتے ہیں پاسداری نہایت زبان کی

سوچے ذرا کہ دے گا وہاں کس طرح جواب
رکھتا نہیں یہاں جو رعایت زبان کی

ہشیار باش! آپ کی یہ ملکیت نہیں 
رکھیئے سنبھال کر یہ امانت زبان کی

قینچی کی مثل اس کو چلائیں نہ رات دن
زحمت بنے نہ حشر میں نعمت زبان کی

تیغ و تبر سے گہرا ہے لفظ و بیاں کا زخم
نشتر سے تیز تر ہے جراحت زبان کی

جس نے زبان روک لی، وہ پا گیا نجات
کم بولنا، ہے اصل کرامت زبان کی

ہم چلتے پھرتے ذکر سے بس تر رکھیں اسے 
آسان کس قدر ہے عبادت زبان کی

محفوظ پھر وہ رہ نہیں سکتا بلاؤں سے 
کرتا نہیں اثرؔ جو حفاظت زبان کی
٭٭٭



بن کے والد کی نظر کا نور رہنا چاہیئے 
آپ عورت ہیں تو پھر مستور رہنا چاہیئے 

گلیوں بازاروں میں ہرگز مت کریں خوشیاں تلاش
چار دیواری ہی میں مسرور رہنا چاہیئے 

لفظِ عورت کا ہے مطلب چھپنے والی چیز جب
پھر سراپا ستر کو مستور رہنا چاہیئے 

خاطرِ عفت یہ بد خلقی عبادت ہے جناب
لاکھ کہتا ہے کوئی مغرور، رہنا چاہیئے 

آپ کی عفت کا ضامن ہے یہ قانونِ حجاب
آپ کو اسلام کا مشکور رہنا چاہیئے 

ویڈیو، تصویر، گانے ، اختلاطِ مردو زن
ایسی تقریبات ہی سے دور رہنا چاہیئے 

کیوں غلامانِ جہانِ عارضی کا خوف ہو
عشقِ آقاﷺ سے ہمیں مجبور رہنا چاہیئے 

حرفِ لم یطمس پہ دنیا میں بھی ممکن ہے عمل
آپ کو جنت کی بن کر حور رہنا چاہیئے 

دولتِ قربِ خداوندی نہ چھن جائے اثرؔ
جائے عصیاں سے ہمیشہ دور رہنا چاہیئے 
٭٭٭





حق تعالیٰ کی رضا مقصود ہو ہر بات میں 
جذبۂ حسنِ عمل ایسا ہو مستورات میں 

ہونہارانِ وطن کی آپ ہی معمار ہیں 
تربیت بچوں کی ہے اب آپ ہی کے ہات میں 

ٹی وی، وی سی آر، کیبل، ڈش ہے انٹرنیٹ بھی ہے 
لازمی ہے جہدِ تقویٰ ہم پر ان حالات میں 

دائمی ذلت کا خدشہ بھی نہیں باقی رہا
ہم کچھ ایسے کھو گئے ہیں عارضی لذات میں 

اپنی خصلت بھی ہے کم کیا سانپ بچھو سے کوئی
کس طرح کیڑے نکالیں دوسروں کی ذات میں 

کم سے کم اب اپنے گھر میں تو ہو اسلامی نفاذ
قدرتِ اصلاحِ عالم گر نہیں ہے ہات میں 

جھوٹ چغلی غیبت و بہتان سے پرہیز ہو
اس کا استحضار رکھیں اپنی ہر ہر بات میں 
٭٭٭



چراغ دیکھ کے توہینِ آفتاب نہ کر
تُو اپنی زیست کو محوِ فریبِ خواب نہ کر

حیا کا یوں نہ جنازہ اٹھا سرِ بازار
جبینِ غیرتِ آدم کو آب آب نہ کر

کبھی یہ سوچ تجھے بھی حساب دینا ہے 
فقط تُو رات دن اوروں کا احتساب نہ کر

خدا کے خوف کے دعوے میں ہے اگر صادق
تُو میری مان معاصی کا ارتکاب نہ کر

بنے نہ باعثِ رسوائی یہ سرِ محشر
حجاب کرنے میں میری بہن حجاب نہ کر
٭٭٭



آنکھیں اگر ہیں پاک تو از خود جھکا کریں 
دل صاف ہے تو چہرے کا پردہ کیا کریں 

عشقِ رسولِ پاکﷺ کا دعویٰ بجا مگر
جب بات ہے ، کہ حکمِ خدا پر چلا کریں 

روحانیت کے حق میں یہی وجہِ مرگ ہے 
امراضِ معصیت کی کوئی تو دوا کریں 

میں کیا کہوں کہ لگتا ہے کتنا مجھے عجیب
حوا کی بیٹیوں سے یہ کہنا، حیا کریں 

محبوب ہے زیادہ اگر رب کی دوستی
غافل سہیلیوں سے بھی کم کم ملا کریں 

جنت نظیر ہو گی یہ دنیائے بے ثبات
شوہر کی جانو دل سے جو خدمت کیا کریں 

ٹی ویو وی سی آر کے چکر کو چھوڑ کر
اب اہتمامِ ذکرو تلاوت کیا کریں 

اعذار گو ہزارہا حائل رہیں مگر
اپنی کوئی نماز نہ ہرگز قضا کریں 

غیبت سے چغلیوں سے تو بہتر ہے اے اثرؔ
خاموش بیٹھیں آپ، یا ذکرِ خدا کریں 
٭٭٭



نہیں ان کو ادراک خود بھی وہ کیا ہیں 
برائی سے بچنے کا اک راستہ ہیں 
بڑی نیک سیرت ہیں اور پارسا ہیں 
جو سچ پوچھئے تو خدا کی عطا ہیں 
مری مائیں بہنیں سراپا حیا ہیں 

اگر ان کو نرمی سے سمجھائے کوئی
گہر گر نصیحت کے بکھرائے کوئی
مسائل شریعت کے بتلائے کوئی
اطاعت کا پیکر بحکمِ خدا ہیں 
مری مائیں بہنیں سراپا حیا ہیں 

نقاب اپنے سر سے نہ سرکائیں ہرگز
نہ رخ غیر محرم کو دکھلائیں ہرگز
اگر منع کر دو نہیں جائیں ہرگز
چراغِ مروت ہیں اہلِ وفا ہیں 
مری مائیں بہنیں سراپا حیا ہیں 

اگر پاک اور صاف گھر کی فضا ہے 
بنی تربیت کی یہی تو بِنا ہے 
کہ بچوں کا اوّل یہی مدرسہ ہے 
سو بچوں کے حق میں وہی رہنما ہیں 
مری مائیں بہنیں سراپا حیا ہیں 
٭٭٭



جبکہ اولاد کو جگ میں لاتی ہے ماں 
آہ کتنی مشقت اٹھاتی ہے ماں 

شِیر جس کو بتاتے ہیں اہلِ جہاں 
خون اپنے جگر کا پلاتی ہے ماں 

گیلے بستر پہ سوتی وہ خود مگر
سوکھے بستر پہ تجھ کو سلاتی ہے ماں 

خود ٹھٹر جائے سردی میں دیگر یہ بات
تجھ کو لیکن رضائی اُڑھاتی ہے ماں 

نیند آتی نہیں جب تجھے خوف سے 
گود میں لے کے لوری سناتی ہے ماں 

نظرِ بد لگ نہ جائے کہیں غیر کی
اپنے آنچل میں تجھ کو چھپاتی ہے ماں 

شیر خواری میں جب چلنا آتا نہیں 
تجھ کو انگلی پکڑ کر چلاتی ہے ماں 

چلتے چلتے اگر گِر پڑا تو کہیں 
بڑھ کے آغوش میں پھر اٹھاتی ہے ماں 

چھپ کے دیوار کو تو کریدے اگر
مٹی کھانے سے تجھ کو بچاتی ہے ماں 

خصلتِ بد کی اصلاح کرتی ہے اور
اچھی عادات تجھ کو سکھاتی ہے ماں 

جیسے اس میں ہو خود اس کا ذاتی مفاد
ناز اولاد کے یوں اٹھاتی ہے ماں 

دوڑی آتی تھی ماں ، جب بلاتا تھا تو
تو نہیں آتا ہے ، جب بلاتی ہے ماں 

تو ہی دیتا ہے طعنے اسے روز و شب
اپنے احسان کو کب جتاتی ہے ماں 

پھول جیسے ملے ہوں برائے سنگھار
زخم کھا کر بھی یوں مسکراتی ہے ماں 

جبکہ کرتی ہے اولاد گستاخیاں 
صرف چپکے سے آنسو بہاتی ہے ماں 

جان کا روگ بنتے ہیں جب اس کے چاند
اپنی پلکوں پہ تارے سجاتی ہے ماں 

لاکھ اس کو ستاتی ہے اولاد سب
پھر بھی کب بددعا لب پہ لاتی ہے ماں 

اس کو کرتا ہے تو ماسیوں کے سپرد
جب ضعیفی کی منزل کو پاتی ہے ماں 


جب توجہ سے محروم ہوتی ہے وہ
ہو کے مایوس دنیا سے جاتی ہے ماں 

تھک کے آسودہ ہو جاتی ہے قبر میں 
راحتِ دائمی ایسے پاتی ہے ماں 

جیتے جی قدر کر لو اثرؔ ماں کی تم
جا کے واپس نہیں جگ میں آتی ہے ماں 
٭٭٭
ماخذ:
http://www.bazm.org/category/baabunnissa
تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید
