﻿

پسر کا داغ

انیس کا ایک مرثیہ





میر ببر علی انیس
جمع و ترتیب: حسان خان






دشمن کو بھی خدا نہ دکھائے پسر کا داغ

دشمن کو بھی خدا نہ دکھائے پسر کا داغ
دل کو فگار کرتا ہے، لختِ جگر کا داغ
آنکھوں کا نور کھوتا ہے، نورِ نظر کا داغ
مرنا جوان بیٹے کا ہے، عمر بھر کا داغ
یہ حال ابنِ فاطمہ کے دل سے پوچھیے
زخمِ جگر کے درد کو، گھائل سے پوچھیے

جب برچھی کھا کے گُم ہوا، اکبر سا نونہال
فرزندِ فاطمہ کا کہوں کس زباں سے حال
لرزہ تھا جسمِ پاک میں خورشید کی مثال
چلّاتے تھے، شہید ہوا، ہائے میرا لال
تھامے ہوئے کلیجے کو، گھبرائے پھرتے تھے
اک اک قدم پہ، ٹھوکریں کھا کھا کے گرتے تھے

آنکھوں میں اشک، لب پہ فغاں اور دل میں درد
ہاتھوں میں رعشہ، چہر‎ۂ اقدس کا رنگ زرد
صدمے سے ہاتھ پاؤں کبھی گرم، گاہ سرد
مثلِ کماں خمیدہ مگر گیسوؤں پہ گرد
دیکھی جو کوئی لاش تو گھبرا کے گر پڑے
جلدی کبھی چلے، کبھی غش کھا کے گر پڑے

ہر دم پکارتے تھے کہ، اکبر کدھر گئے؟
اے نورِ چشمِ بانوئے بے پر، کدھر گئے؟
مرتا ہے باپ اے مرے دلبر کدھر گئے؟
آواز دو، شبیہِ پیمبر کدھر گئے؟
اے میرے شیر کیا کسی جنگل میں چھپ رہے
اے میرے چاند کون سے بادل میں چھپ رہے

اکبر ہماری آنکھوں میں اب تیور آتے ہیں
ہاتھوں کو تھام لو کہ قدم تھرتھراتے ہیں
کھوئے گئے ہیں خود کہ نہیں تم کو پاتے ہیں
کیا جانیں اضطراب میں کس سمت جاتے ہیں
اکبر سنبھال لو کہ نہایت ضعیف ہیں
بیٹا ابھی جوان ہو تم، ہم نحیف ہیں

اے میرے لمبے گیسوؤں والے ترے نثار
اے باپ کے ضعیفی کے پالے، ترے نثار
کھائے جگر پہ زخم کے بھالے ترے نثار
بابا کو پاس اپنے بلا لے، ترے نثار
فرزندِ فاطمہ کی نحیفی پہ رحم کر
اے نوجواں، پدر کی ضعیفی پہ رحم کر

بیٹا پکار لو، کہ بہت بے قرار ہوں
بے کس ہوں، بے وطن ہوں، غریب الدیار ہوں
اہلِ ستم تو ہنستے ہیں، میں اشکبار ہوں
آفت میں مبتلا ہوں، بلا سے دوچار ہوں
بولو پدر سے، تشنہ دہانی کا واسطہ
صورت دکھا دو اپنی جوانی کا واسطہ

صدقے پدر تڑپتے ہو کس نخل کے تلے؟
باغِ جہاں میں، آہ نہ پھولے نہ تم پھلے
ناشاد، نامراد ہی اس دہر سے چلے
رو رو کے کیوں نہ دستِ تاسّف پدر ملے
اک داغ تیرے خلق سے جانے کا رہ گیا
ارمان ماں کو بیاہ رچانے کا رہ گیا

بیٹا ہماری آنکھوں میں عالم سیاہ ہے
اے نورِ عین، باپ کی حالت تباہ ہے
دم چڑھ گیا ہے، خالقِ عالم گواہ ہے
جائیں کدھر کہ لشکرِ کیں سدِّ راہ ہے
طاقت جو تھی بدن میں، وہ سب بھائی لے گئے
اب تم ہماری آنکھوں کی بینائی لے گئے

جی چاہتا ہے، پھر تمہیں اک بار دیکھ لوں
محبوبِ حق کا آخری دیدار دیکھ لوں
منہ پر لٹکتے گیسوئے خمدار دیکھ لوں
ڈوبے لہو میں چاند سے رخسار دیکھ لوں
اکبر گلے سے لپٹو تو، بابا کو کل پڑے
اب ہے یقیں کہ منہ سے کلیجہ نکل پڑے

آئی کسی طرف سے نہ اکبر کی جب صدا
اعدا کو تب پکارے شہنشاہِ کربلا
سبطِ نبی کے حال پہ، اب رحم کی ہے جا
بتلاؤ کس طرف ہے مرا لالِ مہ لقا؟
برچھی ستم کی کھا کے وہ پیارا کدھر گیا؟
اے فوجِ شام، چاند ہمارا کدھر گیا؟

اے ظالمو! کہاں ہے مرا نوجواں پسر
اُس کی تلاش میں، میں پھرا ہوں کدھر کدھر
اب مضطرب بہت ہوں، سنبھلتا نہیں جگر
یوسف مرا مجھے نہیں آتا کہیں نظر
کیا قتل کر کے چاہ میں، لاشہ گرا دیا؟
کیا زیرِ خاک، میرے قمر کو چھپا دیا؟

ہے تم میں کوئی صاحبِ اولاد یا نہیں
دردِ دلِ حسین سے آگاہ، کیا نہیں
اس وقت ہوش سبطِ نبی کے بجا نہیں
یہ حال ہے کہ آنکھوں سے کچھ سوجھتا نہیں
اکبر جو مل گئے تو ٹھہر جائے گا حسین
ورنہ تڑپ کے خاک پہ مر جائے گا حسین

کہتے تھے اہلِ ظلم کہ یا سیدِ امم
حضرت کے نورِ چشم سے، واقف نہیں ہیں ہم
اک نوجواں تو آیا تھا، با شوکت و حشم
چھاتی پہ اس جری کے لگا نیزۂ ستم
دو بار گرتے گرتے وہ غازی سنبھل گیا
گھوڑا کسی طرف اسے لے کے نکل گیا

سچ ہے عجب حَسین تھا وہ غیرتِ چمن
سنبل سے گیسو، پھول سا منہ، چاند سا بدن
شیریں زباں، شگفتہ مزاج، اور کم سخن
کیا کیا لڑا ہے لاکھوں سے تنہا، وہ صف شکن
چرچے اُسی کے حُسن کے لشکر میں ہوتے ہیں
یاں کے بھی لوگ اس کی جوانی پہ روتے ہیں

آغاز تھیں مسیں، ابھی تھا عالمِ شباب
گویا زمیں پہ چرخ سے اترا تھا آفتاب
پیاسا تھا تین روز کا وہ آسماں جناب
غیرت یہ تھی کہ پینے کو ہم سے نہ مانگا آب
سوکھے تھے ہونٹ، پیاس کی کچھ انتہا نہ تھی
لیکن طلب سے اس کی زباں آشنا نہ تھی

برچھی ستم کی ہو گئی سینے کے وار پار
رہوار سے جدا نہ ہوا پر وہ شہسوار
گھیرے تھے چار سمت سے زخمی کو نیزہ دار
برسا رہے تھے تیر کماں دار دس ہزار
مانندِ شیر جھومتا تھا قاشِ زین پر
بوندیں ٹپک رہی تھیں لہو کی زمین پر

برچھی کے ساتھ چھِد کے نکل آیا تھا جگر
مانندِ گل تھی تن کی قبا خوں میں تر بہ تر
تلوار ایک ہاتھ میں، اک ہاتھ میں سپر
گہ فوج پر نظر تھی، کبھی زخم پر نظر
بیٹھا گلے پہ تیر، تو دم اس کا رک گیا
ہاتھوں سے دل کو تھام کے، گھوڑے پہ جھک گیا

چلّائے شاہِ دیں کہ وہی میرا لال تھا
وہ یوسفِ حسین، عدیم المثال تھا
آیا زوال اُس پہ جو بدرِ کمال تھا
باغِ محمدی کا وہ تازہ نہال تھا
یہ داغِ دل حُسین کو، پہلے پہل ملا
برچھی سے اُس کو مار کے کیا تم کو پھل ملا

ناسور اس الم سے کلیجے میں پڑ گیا
میں لُٹ گیا، تباہ ہوا، گھر اجڑ گیا
کیا نوجواں ضعیفی میں مجھ سے بچھڑ گیا
سبطِ نبی کی زیست کا نقشہ بگڑ گیا
صدقے کرو پدر کو اب اُس نورِ عین پر
تلوار لا کے پھیر دو حلقِ حُسین پر

جنگل سے آئی اتنے میں اکبر کی یہ صدا
اب جاں بہ لب ہوں آئیے یا شاہِ کربلا
ہے عنقریب کوچ، سوئے گلشنِ بقا
حسرت یہ ہے کہ دیکھ لوں دیدار آپ کا
آلودہ خوں بھرا ہوا چہرہ ہے گرد سے
بسمل سا لوٹتا ہوں کلیجے کے درد سے

سن کے صدا پکارے شہنشاہِ نامدار
ہم شکلِ مصطفیٰ، تری آواز کے نثار
دوڑے گئے، جو لاش پہ نالاں و بے قرار
دیکھا کہ غش پڑا ہے زمیں پر وہ گلعذار
دیکھا لہو پسر کا تو دل تھرتھرا گیا
آنکھوں کے نیچے شہ کے اندھیرا سا آگیا

لاشِ پسر سے دوڑ کے لپٹے امامِ پاک
کانپی زمیں، تڑپ کے جو کی، آہِ دردناک
چلّاتے تھے کہ غم سے کلیجہ ہے چاک چاک
اے لال، تیرے بعد ہے، اس زندگی پہ خاک
میں دیکھتا ہوں، پاؤں زمیں پر رگڑتے ہو
اٹھارہویں برس میں پدر سے بچھڑتے ہو

تقدیر جب کہ تجھ سے جواں کو جدا کرے
پھر یہ ضعیف باپ بھلا جی کے کیا کرے
دکھ میں کسی کو یوں نہ فلک مبتلا کرے
اب جلد موت آئے ہماری خدا کرے
بدلے عصا کے، ہاتھ میں بیٹے کا ہاتھ ہو
ہے آرزو، جہاں سے سفر ہو تو ساتھ ہو

اکبر نے جب کہ غش میں سنی زاریِ پدر
دیکھا لہو بھری ہوئی آنکھوں کو کھول کر
زخمِ جگر دکھا کے کہا یوں بہ چشمِ تر
اب کوئی دم میں گلشنِ ہستی سے ہے سفر
اب والدہ سے تا بہ قیامت فراق ہے
مادر کے دیکھنے کا بہت اشتیاق ہے

شہ نے کہا، کھڑی ہے وہ ڈیوڑھی پہ کھولے بال
آؤ میں لے چلوں تمہیں، اے میرے نونہال
فرزند کو جو لے کے چلا فاطمہ کا لال
رستے ہی میں ہوا علی اکبر کا انتقال
چلّائے شاہِ دیں کہ جہاں سے گذر گئے
مادر کو دیکھنے بھی نہ پائے کہ مر گئے

ڈیوڑھی پہ لاش لائے پسر کی جو شاہِ دیں
باہر نکل کے بیبیاں، سر پیٹنے لگیں
زینب کو یوں پکارا، وہ زہرا کا نازنیں
دوڑو بہن کہ قتل ہوا اکبرِ حزیں
دولہا بنے ہیں خون کی مہندی لگائے ہیں
سہرا تمہیں دکھانے کو مقتل سے لائے ہیں

خیمے میں ہائے ہائے کا اک غل ہوا بپا
نکلی درِ خیام سے زینب برہنہ پا
ہاتھوں سے کوکھ پکڑے ہوئے ماں بہ صد بکا
چلّاتی تھی، ارے مرے بچے کو کیا ہوا؟
کس کا جواں پسر تھا کہ بابا سے چھُٹ گیا؟
یہ کس کی کوکھ اجڑ گئی، گھر کس کا لٹ گیا؟

خیمے میں لا کے شہ نے لٹائی پسر کی لاش
غل پڑ گیا کہ اکبرِ غازی کی آئی لاش
اس نوجواں پسر کی جو بانو نے پائی لاش
پھیلا کے ہاتھ چھاتی سے جلدی لگائی لاش
کہتی تھی ماں نثار ہو، آنکھیں تو وا کرو
اِن خوں میں ڈوبی زلفوں پہ مجھ کو فدا کرو

اماں نثار، کس کی نظر تجھ کو کھا گئی
اٹھارہویں برس میں تجھے موت آ گئی
جنت کے بوستاں کی فضا تجھ کو بھا گئی
یاں سے سواری جانبِ ملکِ بقا گئی
واری گئے نہ قبر میں اماں کو گاڑ کے
جنت میں جا بسے مری بستی اجاڑ کے

میری امید کچھ نہ بر آئی، ہزار حیف
تم نے دلہن نہ مجھ کو دکھائی، ہزار حیف
چھاتی پہ برچھی ظلم کی کھائی، ہزار حیف
پانی کی ایک بوند نہ پائی، ہزار حیف
بابا پہ صدقے ہو گئے ایذا قبول کی
اب تک لیے ہو منہ میں انگوٹھی رسول کی

بابا کے سامنے تمہیں مرنے کی تھی ہوس
نہ کچھ پھوپھی کا زور چلا، اور نہ میرا بس
دی جان تم نے پانی کی خاطر ترس ترس
ہے ہے یہ کیسا آیا تھا اٹھارواں برس
بے جان کس نے کر دیا بانو کی جان کو
کس کی نظر لگی مرے کڑیل جوان کو

اے لال تجھ پہ کیسی مصیبت گذر گئی؟
وہ حُسن کیا ہوا، وہ جوانی کدھر گئی؟
اڑ اڑ کے ریت، نرگسی آنکھوں میں بھر گئی
اکبر تمہاری پالنے والی نہ مر گئی
چین آئے گا نہ دن کو، نہ راتوں کو سوؤں گی
جب تک جیوں گی، تیری جوانی کو روؤں گی

ہے ہے نہ تیرا بیاہ رچانا ہوا نصیب
ہے ہے دلہن نہ بیاہ کے لانا ہوا نصیب
پوتے کو گود میں نہ کھلانا ہوا نصیب
شادی کے بدلے خاک اڑانا ہوا نصیب
ندی لہو کی چاند سی چھاتی سے بہہ گئی
بہنوں کی نیگ لینے کی حسرت ہی رہ گئی

باتیں تمہارے بیاہ کی جب لوگ لاتے تھے
بہنیں بلاتی تھیں، تو نہ تم پاس آتے تھے
سن کر دلہن کا ذکر نہ آنکھیں‌ اٹھاتے تھے
کیا مسکرا کے شرم سے گردن جھکاتے تھے
بن بیاہے اٹھ گئے مرے پیارے جہان سے
ناشاد و نامراد سدھارے جہان سے

ہنس ہنس کے اب یہ ماں کسے دولہا بنائے گی؟
واری جواب دو، دلہن اب کس کی آئے گی؟
اب سالی کس کے ہاتھ میں مہندی لگائے گی؟
ماں بیاہنے کو دھوم سے، اب کس کی جائے گی؟
بستی مری اجڑ گئی، ویرانہ ہو گیا
شادی کہاں کی، گھر تو عزا خانہ ہو گیا

یہ بین کر کے غش ہوئی بانوئے نیک نام
اٹھ اٹھ کے پیٹنے لگیں سب بیبیاں تمام
لاشِ پسر کو لے گئے مقتل میں پھر امام
بس اے انیس آگے نہیں طاقتِ کلام
کس کو جوانیِ علی اکبر کا غم نہیں
گو بند مختصر ہیں پہ رونے کو کم نہیں
 

ہم صورتِ محبوبِ خدا تھے علی اکبر
شوکت میں شہِ عقدہ کشا تھے علی اکبر
شپیر کی پیری کے عصا تھے علی اکبر
اور بانو کی آنکھوں کی ضیا تھے علی اکبر
جلوہ رخِ پر نور پہ تھا نورِ نبی کا
روشن تھا گھر اس ماہ سے زہرا و علی کا

محبوبِ دلِ خلق ہے شپیر کا جانی
سب ایک زباں تھے کہ یہ ہے یوسفِ ثانی
جن لوگوں نے دیکھی تھی محمد کی جوانی
کہتے تھے زہے خامۂ قدرت کی روانی
ایسا تو حسیں غرب سے تا شرق نہیں ہے
احمد میں اور اس میں سرِ مو فرق نہیں ہے

کیا حُسن ہے دیکھو تو رخِ پاک کی توقیر
نے ماہ میں یہ ضو ہے نہ یہ مہر میں تنویر
نازاں نہ ہو کیونکر قلمِ صانعِ تقدیر
کھینچی ہے محمد سے شہنشاہ کی تصویر
جن و ملک و حور میں افسانہ ہے اس کا
نورِ رخِ خورشید بھی پروانہ ہے اس کا

اس طرح کا محبوب پسر جس کو خدا دے
کیونکر وہ پدر بیٹے کو مرنے کی رضا دے
کس طرح سے ماں دولتِ اولاد لٹا دے
یہ آگ جو بھڑکے تو کلیجے کو جلا دے
فرزندِ جواں کوئی بشر کھو نہیں سکتا
یہ صبر بجز ابنِ علی ہو نہیں سکتا

اٹھارہ برس رنج اٹھا کر جسے پالیں
کس طرح سے داغ اس کی جوانی کا اٹھا لیں
بس ہووے تو آپ اس کے عوض برچھیاں کھا لیں
ناچار ہیں کس طرح کلیجے کو سنبھالیں
واں رحم دلِ فوجِ جفا جو میں نہیں ہے
یاں دل کا یہ عالم ہے کہ قابو میں نہیں ہے

فرزند کا منہ دیکھ کے فرماتے ہیں سرور
عباس نہیں مر گئے ہم مر گئے اکبر
دشمن کو بھی یہ داغ دکھائے نہ مقدر
پہونچا گئے بھائی کو لبِ گور برادر
بابا کے عوض عترتِ حیدر کو سنبھالو
ہم مرنے کو جاتے ہیں تم اب گھر کو سنبھالو

کہتا ہے پسر آپ سے کیونکر نہ جدا ہوں
حضرت پہ تصدق ہوں سب اور میں نہ فدا ہوں
مشہور ہوں ہم صورتِ محبوبِ خدا ہوں
رخصت مجھے دیجئے کہ شریکِ شہدا ہوں
گھر جانے کو فرمائیے اس دم نہ پسر سے
جب آپ نہ ہوں گھر میں تو کیا کام ہے گھر سے

شہ نے کہا کس طرح کہوں مرنے کو جاؤ
میں آنکھوں سے دیکھا کروں تم برچھیاں کھاؤ
اے لال رضا مرنے کی مادر سے تو لاؤ
زینب کو تو راضی کرو آنسو نہ بہاؤ
پوچھا بھی ہے دونوں سے جو مرنے کو چلے ہو
رخصت تمہیں دے کون کہ نازوں کے پلے ہو

یہ سُن کے گئے خیمے میں روتے ہوئے اکبر
ناموسِ رسولِ عربی ہو گئے مضطر
رنگ اڑ گیا بیتاب ہوئی شاہ کی خواہر
بانو نے کہا خیر تو ہے اے مرے دلبر
کیا ظلم ہوا ایسا جو یوں روتے ہو بیٹا
ان آنکھوں کے ماں صدقے ہو کیوں روتے ہو بیٹا

اکبر نے کہا روؤں نہ کیونکر غضب آیا
اب اٹھتا ہے سر پر سے مرے باپ کا سایا
سر دینے کو جاتا ہے ید اللہ کا جایا
کیں منتیں پر اذنِ وغا میں نے نہ پایا
فرماتے ہیں میداں کی اجازت نہ ملے گی
بے مرضیِ مادر تجھے رخصت نہ ملے گی

ماں سمجھی کہ میری ہی طرف ہے یہ اشارا
پردے میں طلب کرتا ہے رخصت مرا پیارا
بھیجوں تو مجھے بے اجل اس داغ نے مارا
روکوں تو جدائی نہیں حضرت کی گوارا
کیونکر کوئی کوہِ غمِ جاں کاہ اٹھائے
ان دونوں سے پہلے مجھے اللہ اٹھائے

یہ ذکر تھا جو خیمے میں آئے شہِ عالم
بس دوڑ کے قدموں پہ گری بانوئے پر غم
شہ نے کہا باقی کوئی مونس ہے نہ ہمدم
روکو نہ کہ اب جاتے ہیں مرنے کے لیے ہم
ہم شکلِ نبی بعد مرے تھامے گا گھر کو
میں چھوڑ چلا ہوں علی اکبر سے پسر کو

ہے شادیِ اکبر کا نہایت تمہیں ارماں
جاؤ جو وطن میں تو کرو بیاہ کا ساماں
نوشاہ بنے گا جو مرے بعد یہ ذی شاں
ہوئیں گے نہ ہم، روح مگر ہوئے گی قرباں
جس وقت قدم مسندِ شاہی پہ دھریں گے
اکبر بھی یقیں ہے کہ ہمیں یاد کریں گے

اس لال کی جس وقت دلہن بیاہ کے لانا
بانو یہ رہے یاد ہمیں بھول نہ جانا
میری بھی طرف سے اُسے چھاتی سے لگانا
پوتا ہو تو مرقد پہ ہمارے اُسے لانا
جب آن کے وہ گھٹنیوں تربت پہ چلے گا
ان چھوٹے سے تلوؤں سے حُسین آنکھیں ملے گا

یہ سن کے جگر ہو گیا اکبر کا دو پارا
مادر سے کیا جوڑ کے ہاتھوں کو اشارا
رخصت مجھے بابا سے دلا دیجئے خدارا
ان باتوں کے سننے کا مجھے اب نہیں یارا
جس طرح ہو اس کام میں کد کیجئے اماں
فرزند کی مشکل میں مدد کیجئے اماں

ماں کانپ گئی بیبیاں رونے لگیں ساری
اکبر کے بھی، زینب کے بھی آنسو ہوئے جاری
بانو نے کہا شہ سے یہ لونڈی گئی واری
اکبر نہیں جینے کے جدائی میں تمہاری
رخصت انہیں کیوں دیتے نہیں سوچتے کیا ہو
کچھ ان کی ہے تقصیر کہ لونڈی سے خفا ہو

تم رہتے سلامت تو میں بیاہ ان کا رچاتی
اور باندھ کے سہرا انہیں نوشاہ بناتی
کس چاہ سے چھوٹی سی دلہن بیاہ کے لاتی
واللہ اب اس ذکر سے شق ہوتی ہے چھاتی
وہ کیجے جو مقصد ہے مرے راحتِ جاں کا
جب آپ نہ ہوں کیسی خوشی، بیاہ کہاں کا

اب تو یہ خوشی ہے کہ یہ کام آپ کے آئیں
حضرت کی حفاظت کریں اور برچھیاں کھائیں
صاحب کے پسینے پہ لہو اپنا گرائیں
لو بخش چکی دودھ بھی سر دینے کو جائیں
رو رو کے کئی بار مرے پاؤں پکڑے تھے
یہ دیر سے مرنے پہ کمر باندھے کھڑے تھے

یہ سنتے ہی قدموں پہ گرے اکبرِ ذی جاہ
چھاتی سے لگا بیٹے کو فرمانے لگے شاہ
بابا پہ ہے دشوار جدائی تری واللہ
خیر اب یہی مرضی ہے تو میدان کی لو راہ
عرصہ نہیں کچھ زیست سے گھبراتے ہیں ہم بھی
تم آگے چلو پیچھے چلے آتے ہیں ہم بھی

یہ کہہ کے جو فرزند سے روئے شہِ مظلوم
خیمے میں جواں بیٹے کی رخصت کی ہوئی دھوم
کہنے لگے ہم شکلِ نبی شہ کے قدم چوم
رکھیے گا دمِ نزع نہ دیدار سے محروم
ماں بولی ہمیں شکل دکھاؤ گے نہ اکبر
صدقے گئی کیا گھر میں پھر آؤ گے نہ اکبر

گھبرا کے کہا بیٹے کے دامن کو پکڑ کر
پھر آنے کا وعدہ تو کرو اے مرے دلبر
بانو سے یہ کہنے لگے رو کر علی اکبر
مہلت جو اجل دے گی تو پھر آئیں گے مادر
دانستہ عزیزوں کو بھلاتا نہیں کوئی
واں جانا ہے جس جا سے پھر آتا نہیں کوئی

شہ روتے رہے بانو بھی کرتی رہی زاری
میدان میں پہونچی علی اکبر کی سواری
مقتل کی زمیں حسن سے روشن ہوئی ساری
اک نور جو چمکا متحیر ہوئے ناری
ثابت ہوا سب کو رخِ روشن کی چمک سے
خورشید زمیں پر اتر آیا ہے فلک سے

میداں میں یہ غل تھا کہ صدا شاہ کی آئی
اب دلبرِ زہرا کا بھتیجا ہے نہ بھائی
باقی تھا یہ بیٹا تو ہوئی اُس سے جدائی
یارو مجھے دیتا نہیں آنکھوں سے دکھائی
ہم شکلِ پیمبر ہے یہ دلبند ہے میرا
اٹھارہ برس کا یہی فرزند ہے میرا

اے ظالمو! یہ ہے مری پیری کا سہارا
مر جاؤں گا میں جیتے جی گر اس کو بھی مارا
بانو کا بھی پیارا ہے یہ میرا بھی ہے پیارا
تصویر ہے اُس کی جو پیمبر ہے تمہارا
قدموں پہ گرو اس کے اگر پاسِ ادب ہے
احمد کی نشانی کا مٹانا تو غضب ہے

ہو صاحبِ اولاد تو نیزے نہ سنبھالو
زخمی مرا دل ہوتا ہے تیغیں نہ نکالو
بیٹوں کی قسم ہے تمہیں اے برچھیوں والو
اس داغ سے بابا کے کلیجے کو بچا لو
بیکس ہے تمہیں اور تو کیا دیوے گا شبیر
بچ جائے گا اکبر تو دعا دیوے گا شبیر

یہ ذکر تھا رن میں جو قیامت ہوئی برپا
ہر سمت سے اکبر پہ کیا فوج نے نرغا
تلواریں چمکنے لگیں مینہ تیروں کا برسا
اکبر نے بھی لے نامِ علی تیغ کو کھینچا
غل تھا کہ کبھی ایسی لڑائی نہیں دیکھی
یہ تیغ کی برش یہ صفائی نہیں دیکھی

لاکھوں میں عجب شان سے لڑتا تھا وہ صفدر
دو چار ہی حملوں میں صفیں ہو گئیں بے سر
گھوڑوں سے اتر لاشوں میں چھپتے تھے ستمگر
اک برق گری جس پہ پڑی ضربتِ اکبر
بیٹے کی صدا جس گھڑی سن پاتے تھے شبیر
سجدے کے لیے خاک پہ جھک جاتے تھے شبیر

تا دیر تو سنتے رہے تلواروں کی جھنکار
تکتے تھے پر اکبر نہ نظر آتا تھا زنہار
لشکر میں ستمگاروں کے یہ غل ہوا اک بار
برچھی علی اکبر کے کلیجے سے ہوئی پار
لو سیدِ مظلوم کے دلدار کو مارا
مارا اسے کیا احمدِ مختار کو مارا

یہ سنتے ہی گھبرا کے گرے خاک پہ شبیر
واں چھاتی پہ برچھی لگی یاں دل پہ لگا تیر
اٹھے جو سنبھل کر تو یہ کرنے لگے تقریر
تقدیر میں تھا داغِ پسر، واہ ری تقدیر
یاں لٹ گئے آباد ہم آئے تھے وطن سے
بیٹے کو اسی واسطے لائے تھے وطن سے

تنہا ہوئے آخر نہ رہا کوئی ہمارا
فریاد کہ اکبر کو ستمگاروں نے مارا
پیری میں کیا جسم کی قوت نے کنارا
تھا جس کا سہارا وہی دنیا سے سدھارا
مشکل میں مدد باپ کی کرتا علی اکبر
ہم جیتے کوئی دن جو نہ مرتا علی اکبر

یہ کہتے ہوئے آئے عجب حال سے رن میں
لغزش جو قدم میں تھی تو رعشہ تھا بدن میں
آنکھوں میں بھرے اشک، زباں خشک دہن میں
جوں شیر ترائی میں کبھی اور کبھی بن میں
پایا نہ کسی جا پہ جو اُس رشکِ قمر کو
گھبرائے ہوئے ڈھونڈھتے پھرتے تھے پسر کو

اتنے میں یہ پُر درد صدا دور سے آئی
اے قبلۂ کونین بڑی دیر لگائی
بیٹے نے انی برچھی کی چھاتی پہ ہے کھائی
مل لیجئے آ کر کہ ہے درپیش جدائی
غش طاری ہے آنکھوں کو بھی کھولا نہیں جاتا
یہ درد ہے سینے میں کہ بولا نہیں جاتا

آوازِ پسر سنتے ہی دوڑے شہِ ذی شاں
دیکھا کہ ہے فرزندِ جواں خون میں غلطاں
لاشے سے لپٹ کر کہا بابا ترے قرباں
کیا حال ہے کھایا ہے کہاں زخم مری جاں
رخ زرد ہے سر تا بہ قدم خوں میں بھرے ہو
مجھ سے تو کہو چھاتی پہ کیوں ہاتھ دھرے ہو

یہ سنتے ہی دم میں علی اکبر کے دم آیا
بابا کی طرف پیار سے ہاتھوں کو بڑھایا
مجروحِ سناں سینے کو بیٹے کے جو پایا
سر پیٹ کے چلّایا کہ فریاد خدایا
دل بندِ محمد کے جگر بند کو مارا
اٹھارہ برس کے مرے فرزند کو مارا

اکبر نے کہا صبر کرو اے شہِ عالم
ہم آپ کی آغوش میں مہماں ہیں کوئی دم
بندے کو تو کچھ مرگِ جوانی کا نہیں غم
افسوس کہ حضرت رہے بے مونس و ہمدم
دشمن ہے ہر اک دشمنِ دیں آپ کی جاں کا
تنہائی ہے اور سامنا دو لاکھ جواں کا

یہ کہتے ہی تیور علی اکبر نے پھرائے
ہمراہ دمِ سرد کے آنسو نکل آئے
سر پیٹ کے شبیر سخن لب پہ یہ لائے
آغوش سے بابا کی چلے بانو کے جائے
کیا بولتے دنیا سے سفر کر گئے اکبر
سوکھی ہوئی دکھلا کے زباں مر گئے اکبر

اس درد سے روتے تھے پسر کو شہِ والا
افلاک کو جنبش تھی زمیں تھی تہ و بالا
لکھا ہے کہ جب مر گیا وہ گیسوؤں والا
تقدیر نے اک بی بی کو خیمے سے نکالا
تھا نور سے چہرے کے گماں بنتِ نبی کا
رفتار میں انداز تھا رفتارِ علی کا

تھے بال تو بکھرے ہوئے اور جسم میں رعشا
اشک آنکھوں میں اور صدموں سے فق چاند سا چہرہ
چلاتی تھی پکڑے ہوئے ہاتھوں سے کلیجا
مارا گیا اٹھارہ برس کا مرا بیٹا
شادی بھی ہوئی تھی نہ مرے ماہ لقا کی
میں لٹ گئی اس بن میں دہائی ہے خدا کی

ہے ہے مرے پیارے مرے جانی علی اکبر
ہے ہے مرے نانا کی نشانی علی اکبر
ہے ہے نہ میسر ہوا پانی علی اکبر
برباد ہوئی تیری جوانی علی اکبر
بن بیاہے تم اس دارِ فنا سے گئے واری
پانی نہ ملا خلق سے پیاسے گئے واری

زینب کی صدا سن کے اٹھے سیدِ ابرار
خیمے میں اسے لے گئے با دیدۂ خونبار
یہ جائے خموشی ہے انیسِ جگر افگار
حق سے یہ دعا مانگ کہ اے ایزدِ غفار
بر لا مری امید کو سرور کا تصدق
اکبر کا تصدق، علی اصغر کا تصدق
 
دربار میں‌ جب کٹ کے یتیموں کے سر آئے
ڈوبے ہوئے دو چاند لہو میں نظر آئے
غل پڑ گیا مسلم کے یہ لختِ جگر آئے
غربت زدہ و بے وطن و بے پدر آئے
شمشیرِ ستم چل گئی ان نوحہ گروں پر
کیا بیکسی و یاس برستی ہے سروں پر

یہ اُس کے پسر ہیں کہ جو تھا مسلمِ بے پر
یہ اس کے پسر ہیں کیا جس کو تہِ خنجر
سر کاٹ لیا لاش پھری گلیوں میں در در
اب تک نہ ہوا گور و کفن جس کو میسر
بابا کو انہیں کے تہِ شمشیر کیا ہے
پاؤں میں رسن باندھ کے تشہیر کیا ہے

حاکم سے یہ تب کہنے لگا حارثِ بد کام
سر بچوں کے لایا ہوں ملے خلعت و انعام
پہچان لے مسلم کے پسر ہیں یہی گلفام
یہ وہ ہیں جو زندان سے بھاگے تھے سرِ شام
میں ڈھونڈتا پھرتا تھا نہ ہاتھ آتے تھے دونوں
پاتے تھے جدھر راہ نکل جاتے تھے دونوں

حاکم نے کہا تو نے کہاں پھر انہیں پایا
تاریکئ شب میں نظر آتا نہیں سایا
وہ جوڑ کے ہاتھوں کو سخن لب پہ یہ لایا
زوجہ نے مری تھا انہیں حجرے میں چھپایا
میں کہتا تھا دل میں کہ کہاں جا کے چھپے ہیں
اس کی نہ خبر تھی مرے گھر آ کے چھپے ہیں

از بس کہ تھکا تھا مجھے نیند آ گئی اُس دم
کیا دیکھتا ہوں عالمِ رویا میں بہ صد غم
اک حجرے میں دو طفل نظر آتے ہیں باہم
سر پیٹ کے کہتے ہیں وہ با دیدۂ پُر نم
آئے ہیں کہاں ہم درِ زنداں سے نکل کے
معلوم ہوا پڑ گئے پھندے میں اجل کے

چلّائے جو وہ ہائے پدر کہہ کے دل افگار
بے ہوش تھا یا آنکھ مری کھل گئی اک بار
خوش ہو گیا میں طالعِ خفتہ ہوئے بیدار
بستر سے اٹھا ہاتھ میں کھینچے ہوئے تلوار
اک حجرے میں مسلم کے وہ پیارے نظر آئے
بالائے زمیں عرش کے تارے نظر آئے

پکڑا جب انہیں میں نے تو کرتے تھے یہ فریاد
مہماں ترے گھر آئے ہیں ہم بیکس و ناشاد
بِن باپ کے ہیں ہم پہ ترس کر ستم ایجاد
لے منتیں کرتے ہیں تری چھوڑ دے جلّاد
کر رحم کہ معصوم ہیں دکھ پائے ہیں ظالم
ہم چھپنے کو دامن میں ترے آئے ہیں ظالم

بے سر نہ ہمیں کر تجھے داور کی قسم ہے
تیوری نہ چڑھا تجھ کو پیمبر کی قسم ہے
بس ظلم کو کم کر تجھے حیدر کی قسم ہے
کر رحم تجھے فاطمہ اطہر کی قسم ہے
دہشت سے تری سینوں میں دل ہلتے ہیں ظالم
اب ڈھیلی رسن کر دے گلے چھلتے ہیں ظالم

میں نے کہا تم دونوں کے بابا کا ہے کیا نام
رو کر کہا کہتے ہیں انہیں مسلمِ ناکام
بے جرم و ستم اُن کے گلے پر چلی صمصام
ہم جب سے چھٹے باپ سے ہم کو نہیں آرام
آگاہ ہو مسلم کے ہمیں لختِ جگر ہیں
مارا ہے دغا سے جسے ہم اُس کے پسر ہیں

یہ سنتے ہی غصہ مجھے معصوموں پہ آیا
حجرے سے انہیں کھینچتا دالان میں لایا
ان دونوں نے جو ظلم نہ دیکھا وہ دکھایا
مجرم کی طرح باندھ دیا رحم نہ آیا
باہر انہیں لے آیا جو زلفوں کو پکڑ کر
استادہ کیا چوب سے رسی میں جکڑ کر

جب لے کے چلا گھر سے اُنہیں قتل کی خاطر
زوجہ نے یہ کہہ کر مرے پاؤں پہ رکھا سر
مہماں مرے گھر آئے ہیں یہ دونوں مسافر
لے اِن کے عوض کاٹ لے سر ہے مرا حاضر
تقصیر جو کچھ ان سے ہوئی ہو وہ بحل کر
ہے ہے مجھے مہمانوں کے آگے نہ خجل کر

للہ تو معصوموں کے اب چھوڑ دے بازو
کیوں کھینچتا ہے بچوں کے پکڑے ہوئے گیسو
تلوار کو کر میان میں ڈرتے ہیں یہ گل رو
قربان میں چپ ہیں یہ بھرے آنکھوں میں آنسو
کس یاس سے ہے ہے مرا منہ تکتے ہیں دونوں
دہشت سے تری کچھ نہیں کہہ سکتے ہیں دونوں

یہ کہہ کے جو بچوں کو چھڑانے لگی اک بار
جھنجلا کے میں بولا تجھے کیا ان سے سروکار
جا دور ہو کہنا ترا مانوں گا نہ زنہار
میں قتل کروں گا یہ ہیں حاکم کے گنہگار
اب حلق سے معصوموں کے شمشیر ملے گی
سر اُن کے دکھاؤں گا تو جاگیر ملے گی

سمجھانا نہ ہرگز وہ مرا دھیان میں لائی
جھنجلا کے اسے ضربِ ستم میں نے لگائی
اک وار میں ساعد سے گری کٹ کے کلائی
چلّا کے لگی دینے پیمبر کی دُہائی
ہے ہے مرے آقا مری امداد کو پہونچو!
اے شاہِ غریباں مری فریاد کو پہونچو!

مظلوموں کی لے لے کے بلائیں یہ پکاری
اب تم سے جدا ہوتی ہے لونڈی یہ تمہاری
شکوہ نہ مرا کیجیو زہرا سے میں واری
کس طرح بچاؤں مجھے تلوار ہے ماری
مجبور ہیں طاقت نہیں اٹھنے کی زمیں سے
اللہ بچاوے تمہیں اس دشمنِ دیں سے

جب مار چکا اُس کو تو معصوموں کو کھینچا
پکڑے ہوئے زلفیں انہیں دربار میں لایا
رو کر کہا بچوں نے ہمیں قتل نہ کرنا
مارے گا جو ہم کو ترے کیا ہاتھ لگے گا
بیکس ہیں مسافر ہیں اور آوارہ وطن ہیں
یہ کیا ہے سزا کم کہ گرفتارِ رسن ہیں

کر رحم ستمگار غریبی پہ ہماری
دیوے گا صلہ اس کا تجھے ایزدِ باری
لے آنکھیں نہ دکھلا نہیں اب کرنے کے زاری
چل کر سرِ بازار ہمیں بیچ لے ناری
بچ جائیں گے ہم خلعت و زر پائے گا ظالم
گر قتل کیا ہم کو تو پچھتائے گا ظالم

گر یاں نہ بِکیں ہم تو مدینے ہمیں لے جا
دلوائیں گے ہم تجھ کو زر و مال بہت سا
مادر نے گرفتارِ رسن جب ہمیں دیکھا
جو مانگے گا تو تجھ کو وہی دیویں گے دلوا
پاویں گی جو ہم کو ترے قدموں پہ گریں گی
کس طرح محبت سے ترے گرد پھریں گی

ہے قتل ہی منظور اگر تجھ کو ستمگار
ہم دونوں کی مادر کو دکھا دے ہمیں اک بار
باقی نہ دلوں میں رہے تا حسرتِ دیدار
پھر شوق سے سر کر دے تہِ خنجرِ خونخوار
ہم بندگیِ رب کریں تو ہم پہ جفا کر
اک ہاتھ میں سر دونوں کے تن پر سے جدا کر

پھر آگے بڑھا ہاتھ میں کھینچے ہوئے تلوار
پہلو میں برادر کے ہوا غش وہ دل افگار
میں چھاتی پہ اس طفل کی جا کر ہوا اسوار
جب حلق پہ بچے کے رکھا خنجرِ خونخوار
اک حشر بپا ہو گیا خنجر کے چلے پر
بھائی نے گلا رکھ دیا بھائی کے گلے پر

اک بی بی کھلے سر نظر آئی مجھے اُس آں
میں نے کہا تو کون ہے بولی بہ صد افغاں
میں مادرِ شبیر ہوں اے دشمنِ ایماں
بچوں کو مرے کر نہ تہِ خنجرِ برّاں
دکھ دے نہ مرے دل کو میں دکھ پائی ہوں ظالم
ان لاشوں پہ رونے کے لیے آئی ہوں ظالم

ہرگز نہ سنا پھیر دیا خنجرِ خونخوار
سر کاٹ لیا رہ گئی روتی وہ دل افگار
اور دونوں‌ کے تن پھینک دیے نہر میں اک بار
دریا کی ترائی سے ہوئے ہاتھ نمودار
سر پیٹتے ہاتھوں سے پیمبر نظر آئے
آغوش میں مسلم کے وہ دلبر نظر آئے

یہ کہہ کے دکھانے لگا ان بیکسوں کے سر
مظلومی پہ معصوموں کی رویا وہ ستمگر
پھر کہنے لگا حاکمِ اظلم سے یہ ہنس کر
کیا دیر ہے منگوا دے ہمیں خلعتِ پُر زر
جو کام کیا میں نے وہ ہوتا نہ کسی سے
کچھ کم نہیں یہ قتلِ حسین ابنِ علی سے

یہ سنتے ہی حاکم کا جگر ہو گیا پانی
بولا ارے یہ کیا کیا او ظلم کے بانی
بے سر کیے کیوں مسلمِ مظلوم کے جانی
جو میں نے کہا تھا وہ مری بات نہ مانی
کب میں نے کہا تھا تجھے سر لائیو ظالم
مل جائیں تو قیدی انہیں کر لائیو ظالم

معصوموں کو مارا تجھے کچھ رحم نہ آیا
مہمانوں کو اے دشمنِ دیں تو نے ستایا
کس جرم پہ بچوں کو تہِ تیغ بٹھایا
جیتا تو نہ لایا تو اُنہیں مار کے لایا
کس واسطے محتاجوں کو ناداروں کو مارا
تقصیر تھی کیا جو وطن آواروں کو مارا

یہ ظلم کوئی کرتا ہے او ظالمِ بد خو
رسی میں کسے ہائے غضب دونوں کے بازو
آگے مرے سر لایا ہے پکڑے ہوئے گیسو
مارا انہیں کیا صاحبِ اولاد نہ تھا تو
نازاں ہے کہ اب منصب و جاگیر ملے گی
ظالم تری گردن سے بھی شمشیر ملے گی

یہ کہہ کے اشارہ کیا ظالم نے جو اک بار
اک شخص نے بس دوڑ کے ماری اسے تلوار
سر اُڑ گیا یاں سے گیا ناری طرفِ نار
بس روک لے خامے کو انیسِ جگر افگار
ہے وقتِ مناجات دعا مانگ خدا سے
محفوظ رہوں خلق میں مَیں رنج و بلا سے
٭٭٭



٭٭٭
ماخذ:
http://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%AF%D8%B4%D9%85%D9%86-%DA%A9%D9%88-%D8%A8%DA%BE%DB%8C-%D8%AE%D8%AF%D8%A7-%D9%86%DB%81-%D8%AF%DA%A9%DA%BE%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D9%BE%D8%B3%D8%B1-%DA%A9%D8%A7-%D8%AF%D8%A7%D8%BA-%D9%85%DB%8C%D8%B1-%D8%A7%D9%86%DB%8C%D8%B3-%D9%85%D8%B1%D8%AB%DB%8C%DB%81.60827/
ٹائپنگ: حسان خان
تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید