﻿




پلکوں کی منڈیروں پر





ضیا ضمیر
جمع و ترتیب اور اردو روپ: اعجاز عبید










عجب لڑکی ہے وہ لڑکی



عجب لڑکی ہے وہ لڑکی 
ہمیشہ روٹھ جاتی ہے 
کہا کرتی ہے یہ مجھ سے 
سنو جانوں محبت خوب کہتے ہو 
مگر یہ کیسی ضد ہے 
زباں سے کچھ نہیں کہتے
مجھے لگتا ہے جیسے تم
پذیرائی کے دو جملے زباں پر رکھنے بھر سے ہی 
پریشاں ہو سے جاتے ہو 
یا پھر اکتا سے جاتے ہو 
مجھے معلوم ہے یہ بھی 
تمہاری بولتی آنکھیں 
گزرتے ہر نئے پل میں 
محبت کے نئے معنی بتاتی ہیں 
مجھے یہ بھی بتاتی ہیں
کہ میرا جسم جب ان کی 
شعاعوں میں تپا کرتا ہے تب تب 
یہ کندن ہوتا جاتا ہے 
مگر جانوں
تمہاری مخملی آواز کا لے کر سہارا
محبت کے وہ میٹھے لفظ جب بھی 
بدن پر میرے گرتے ہیں 
مجھے لگتا ہے کچھ ایسے 
خدا نے چھو کے میری روح پھر پاکیزہ کر دی ہو 
تو میرے پیارے جانوں
زباں پر وقفے وقفے سے 
محبت کے وہ میٹھے لفظ رکھو 
کہ مجھ کو وقفے وقفے پر 
یوں ہی پاکیزہ ہونے کی 
بڑی حسرت سی رہتی ہے۔۔۔
عجب لڑکی ہے وہ لڑکی
٭٭٭





کافی کا مگ


رات گھنی ہو چکی ہے کافی 
دھند بھی کافی گھنی گھنی ہے 
لیمپ پوسٹ کہرے میں لپٹا خاموشی سے اونگھ رہا ہے 
تنہا پہلی منزل سے وہ جھانک رہی ہے کھڑکی سے 
کافی کا مگ بھرا ہوا ہے 
اس کی خاطر 
جس کو اب تک آ جانا تھا 
آٹھ بجے تک کہا تھا اس نے 
آٹھ بجے تک آ جائے گا
بارہ بجنے والے ہیں
کھڑکی سے وہ ٹیک لگائے سوچ رہی ہے 
کیوں نہیں آیا ہے وہ اب تک 
موبائل بھی بند کیا ہے 
کمرے میں اور ذہن میں اس کے 
دھند بڑھی جاتی ہے ہر پل 
اس نے کہا تھا بات کرے گا
آج اپنے گھر والوں سے وہ 
جانے بات ہوئی کیا ہوگی 
گھر والوں نے کہا کیا ہوگا 
کافی چوتھی بار بنی ہے 
وہ کافی کا دیوانہ ہے 
رات کا ایک بجا چاہتا ہے 
کھڑکی سے وہ ٹیک لگائے
دیکھ رہی ہے دھند میں لپٹی گلی کو اپنی 
میسیج کی آواز سے کمرہ دہل گیا ہے 
میسیج اس نے ہی بھیجا ہے 
"سوری جاناں۔۔۔
گھر والوں نے ایک نہ مانی 
اب ہم دونوں مل نہیں سکتے 
میری راہ نہ تکنا آگے"
اس نے کھڑکی بند کی ہے 
اور کافی کے مگ کو دیکھا ہے 
کافی میں اب بھاپ نہیں ہے ۔
٭٭٭



ماہئے

1۔
ایسی تنہائی ہے 
جب سے گئے ہو تم 
جاں پر بن آئی ہے 

2۔
اس کے بدن کی خوشبو 
کیا بتلاؤں میں 
کیا کرتی ہے جادو 

3۔
آنگن میں پیپل ہے 
جس پر چڑیوں کا 
رہتا کولاہل ہے 

4۔
ماں نے لوری گائی 
پل میں رات ہوئی 
نندیا رانی آئی 

5۔
آنسو جیسا بہنا 
کتنا مشکل ہے 
ان آنکھوں میں رہنا
٭٭٭







انا کی چادر اتار پھینکے محبتوں کے چلن میں آئے 
کبھی تو خود کو بیان کرنے تو یار میری شرن میں آئے 

کبھی تو آئے وہ ایک لمحہ کہ فرق کوئی رہے نہ ہم میں 
ترے گلابی بدن کی خوشبو کبھی تو میرے بدن میں آئے

چہک اٹھے تو لگے کہ جیسے چٹک رہیں ہوں ہزار کلیاں 
اگر چھپے تو وہ صرف ایسے کہ چاند جیسے گہن میں آئے 

ٹھہر نہ جائے گلاب میں ہی، سمٹ نہ جائے حجاب میں ہی
وہ میری سانسوں کی سیڑھیوں سے اتر کے میرے بدن میں آئے 

میری سی حسرت، ملن کی چاہت کبھی تو رخ سے عیاں ہو تیرے
محبتوں کی کوئی عبارت تری جبیں کی شکن میں آئے 

مزا تو جب ہے ہمارا جذبہ تیرے گماں کو یقین کر دے 
مزا تو جب ہے تری تمازت ہمارے بھی تن بدن میں آئے
٭٭٭




اب تو آتے ہیں سبھی دل کو دکھانے والے 
جانے کس راہ گئے ناز اٹھانے والے 

کیا گزرتی ہے کسی پر یہ کہاں سوچتے ہیں 
کتنے بیدرد ہیں یہ روٹھ کے جانے والے 

درد ان کا کہ جو ٖفٹ پاتھ پہ کرتے ہیں بسر 
کیا سمجھ پائیں گے یہ راج گھرانے والے 

عشق میں پہلے تو بیمار بنا دیتے ہیں 
پھر پلٹتے ہی نہیں روگ لگانے والے 

پار کرتا نہیں اب آگ کا دریا کوئی 
تھے کوئی اور جو تھے ڈوب کے جانے والے

لاکھ تعویذ بنے لاکھ دوائیں بھی ہوئیں
مگر آئے ہی نہیں جو نہ تھے آنے والے 

تو بھی ملتا ہے تو مطلب سے ہی اب ملتا ہے
لگ گئے تجھ کو بھی سب روگ زمانے والے

اب وہ بے لوث محبت کہاں ملتی ہے ضیاء 
لوگ ملتے ہی نہیں اب وہ پرانے والے
٭٭٭




عشق سے تیرے مرے ذہن کے جگنو جاگے
لفظ پیکر میں ڈھلے سوچ کے پہلو جاگے

دیکھیئے کھلتا ہے اب کون سے احساس کا پھول
دیکھیئے روح میں اب کونسی خوشبو جاگے 

جانے کب میرے تھکے جسم کی جاگے قسمت 
جانے کب یار ترے لمس کا جادو جاگے 

سوچتا ہوں میں یہی جاگتے تنہا جاناں
رت جگا کیسا ہو گر ساتھ میرے تو جاگے 

چاند تاروں نے تکا تیرا سراپا شب بھر 
دیکھنے بھر کو تجھے رات میں جگنو جاگے 

وہ سمندر کے سفر پر جو مرے ساتھ چلا 
لہریں اٹھلا کے اٹھیں نیند سے ٹاپو جاگے 

تو بھی پلکوں پہ ستاروں کو سجائے شب بھر 
میری ہی طرح مرے یار کبھی تو جاگے 

سوچتا ہوگا ضیاء وہ گل و گلزار بدن 
اب کے چھونے سے اسے کون سی خوشبو جاگے
٭٭٭







اس پہیلی کا کوئی تو ہی بتا حل جاناں 
پار ہوتا ہی نہیں یادوں کا جنگل جاناں 

نیند آتی ہے کہاں خواب اترتے ہیں کہاں 
آنکھیں رہتی ہیں تری یاد میں جل تھل جاناں 

پچھلے موسم میں ترا جسم چھوا تھا ہم نے 
اب بھی لگتا ہے کہ ہاتھوں میں ہے مخمل جاناں 

میری سانسوں کو ذرا پھر سے معطر کر دے 
اپنی سانسوں کا ذرا بھیج دے صندل جاناں 

منزلوں تک تجھے چلنے کو کہا ہے کس نے 
بات دوچار قدم کی ہے، ذرا چل جاناں 

خواب پلکوں کی منڈیروں پہ پڑے ہیں بےحال 
راہ تعبیر کی تکتے ہیں یہ پل پل جاناں
٭٭٭







کسی کو کیا پتہ جو محفلوں کی جان ہوتا ہے 
کبھی ہوتا ہے جب تنہا تو کتنی دیر روتا ہے 

یہ دنیا ہے یہاں ہوتی ہے آسانی بھی مشکل بھی 
برا بھی خوب ہوتا ہے یہاں اچھا بھی ہوتا ہے 

تیری یادوں کے بادل سے گزر ہوتا ہے جب اس کا 
اداسی کا پرندہ مجھ سے مل کر خوب روتا ہے 

کسی کو رشتے پھولوں کی طرح مہکائے رکھتے ہیں
کوئی رشتوں کا بھاری بوجھ ساری عمر ڈھوتا ہے 

بڑھے گی عمر جب اس کی تب اسکا حال پوچھیں گے 
ابھی تو چھوٹا بچہ ہے، سکوں کی نیند سوتا ہے 

ضیاء کیا شوق ہے چیزیں پرانی جمع کرنے کا 
ذرا سا دل ہے دنیا بھر کی یادوں کو سنجوتا ہے
٭٭٭



کچھ لوگ یہاں منزلیں پانے کے لئے تھے 
ہم جیسے فقط خاک اڑانے کے لئے تھے 

تم نے جو کتابوں کے حوالے کئے جاناں
وہ پھول تو بالوں میں سجانے کے لئے تھے

ایک عمر گزر نے پہ کھلا راز یہ ہم پر 
ہم لوگ کسی اور زمانے کے لئے تھے 

میں جانے کہاں رکھ کے انہیں بھول گیا ہوں 
وہ شعر جو بس تم کو سنانے کے لئے تھے 

کچھ خواہشیں بس دل کو دکھانے کے لئے تھیں
کچھ خواب فقط نیند اڑانے کے لئے تھے
٭٭٭





زرد پتے تھے، ہمیں اور کیا کر جانا تھا 
تیز آندھی تھی مقابل سو بکھر جانا تھا 

وہ بھی جب ترکِ تعلق پہ پشیمان نہ تھا 
تم کو بھی چاہئیے یہ تھا کہ مکر جانا تھا 

کیوں بھلا کچے مکانوں کا تمہیں آیا خیال 
تم تو دریا تھے، تمہیں تیز گزر جانا تھا

ہم کہ ہیں قافلہ سالاروں کے مارے ہوئے لوگ 
آج بھی یہ نہیں معلوم کدھر جانا تھا 

عشق میں سوچ سمجھ کر نہیں چلتے سائیں
جس طرف اس نے بلایا تھا ادھر جانا تھا

کیا خبر تھی کہ یہاں تیری ضرورت ہوگی 
ہم نے تو بس در و دیوار کو گھر جانا تھا 

ایسی حسرت تھی سفر کی کہ ضیاء منزل کو 
ہم نے منزل نہیں جانا تھا، سفر جانا تھا
٭٭٭





زندگی سے تھکی تھکی ہو کیا
تم بھی بے وجہ جی رہی ہو کیا 

میں تو مرجھا گیا ہوں اب کے برس 
تم کہیں اب بھی کھل رہی ہو کیا 

تم کو چھوکر چمکنے لگتا ہوں 
تم کوئی نور کی بنی ہو کیا 

اس کی خوشبو نہیں ہے پہلے سی 
شہر سے اپنے جا چکی ہو کیا 

دیکھ کر تم کو کھلنے لگتے ہیں 
تم گلوں سے بھی بولتی ہو کیا 

آج یہ شام بھیگتی کیوں ہے 
تم کہیں چھپ کے رو رہی ہو کیا 

سوچتا ہوں تو سوچتا یہ ہوں 
تم مجھے اب بھی سوچتی ہو کیا
٭٭٭





تو امیر شہر ہے، تو محترم اپنی جگہ
ٹھیک ہیں جیسے بھی ہیں ہم اہل غم اپنی جگہ 

تیری بخشش سے نہیں بڑھ کر زمانے کی عطا 
اور بھی ہیں غم کئی پر تیرا غم اپنی جگہ

تیری خاطر مسکرانا فرض ہے ہم پر مگر 
قہقہے اپنی جگہ آنکھوں کا نم اپنی جگہ 

عشق میں ہر ایک منزل ہم نے طے کر لی مگر 
پہلے پہلے پیار کا پہلا قدم اپنی جگہ

یہ تو سچ ہے ہمسفر اب تیرا کوئی اور ہے 
تو ہے میرے ساتھ اب بھی یہ بھرم اپنی جگہ 

یار تو تو جانے کب کا چھوڑ بیٹھا ہے ہمیں 
تیری یادیں ہیں مگر ثابت قدم اپنی جگہ 

ہم نے یہ مانا بہت کچھ ہیں عنایاتِ جہاں 
اے ضیاءاس کی مگر چشمِ کرم اپنی جگہ
٭٭٭




شعر ہو کیسے بے نظیر کوئی 
اب نہ ‘غالب’ ہے اور نہ ‘میر’ کوئی 

جس طرح ہم نے تجھ سے پیار کیا 
مل نہیں پائے گی نظیر کوئی 

کتنی دنیا میں نفرتیں ہیں خدا
بھیج دے پیار کا سفیر کوئی

ہار کر لوٹنے سے بہتر ہے
مجھ کو لگ جائے تیرا تیر کوئی 

ہاتھ دیکھوں تو یہ دعا ہے میری
نام کی ہو ترے لکیر کوئی 

گھر میں کچھ بھی نہیں تو کیا دوں گا 
در پہ آیا اگر فقیر کوئی 

حسن کس ہاتھ پر کرے بیعت
عشق جیسا نہیں ہے پیر کوئی 

سنتے ہیں اچھے شعر کہتا ہے 
شہر میں ہے ضیاء ضمیر کوئی
٭٭٭




دشمن جاں ہے مگر جان سے پیارا بھی ہے 
ایسا اس دنیا میں اک شخص ہمارا بھی ہے 

جاگتی آنکھوں نے دیکھے ہیں ترے خواب اے جاں 
اور نیندوں میں تیرا نام پکارا بھی ہے 

وہ برا وقت کہ جب ساتھ نہ ہو سایہ بھی 
بارہا ہم نے اسے ہنس کے گزارا بھی ہے 

جس نے منجدھار میں چھوڑا اسے معلوم نہیں
ڈوبنے والے کو تنکے کا سہارا بھی ہے 

ہم نے ہر جبر ترا ہنس کے سر آنکھوں پہ لیا 
زندگی تجھ پہ یہ احسان ہمارا بھی ہے 

مت لٹا دینا زمانے پہ ہی ساری خیرات 
منتظر ہاتھ میں کشکول ہمارا بھی ہے 

نام سن کر میرا اس لب پہ تبسم ہے ضیاء 
اور پلکوں پہ اتر آیا ستارہ بھی ہے
٭٭٭





رنگ تتلی کے کھلے رت بھی سہانی آئی 
آ بھی جا یار کہ پھولوں پہ جوانی آئی 

اب کہیں جا کے کھلے ضبط کے معنی ہم پر 
اب کہیں جا کے ہمیں بات چھپانی آئی 

جانے کیا بات ہوئی اب کے برس یار ہمیں 
یاد بےساختہ ہر بات پرانی آئی 

آج پھر چاند پہ پریوں کا لگا ہے میلہ 
آج نانی کی پھر ایک یاد کہانی آئی 

آج پھر ذکر چھڑا گزرے ہوئے لمحوں کا 
آج سانسوں میں پھر اک خوشبو پرانی آئی 

آج پھر ٹوٹتے دیکھا کوئی رشتہ ہم نے 
آج بھولی ہوئی پھر یاد کہانی آئی 

ہو گیا پھر ترے آنے کا یقیں سا ہم کو 
لے کے خوشبو تری پھر رات کی رانی آئی
٭٭٭




روٹھ جائیں نہ کہیں ہم کو منا لے دنیا 
ہاں کہ پاگل ہیں تیرے چاہنے والے دنیا 

جن کو خود تھامنے والے ہی لگا دیں ٹھوکر 
ایسے گرتوں کو بھلا کون سنبھالے دنیا 

یہ مسافت کا جنوں ختم کہاں پر ہوگا 
لے کے جائیں گے کہاں پاؤں کے چھالے دنیا 

ہم کو آئے ہیں بلاوے نئی دنیاؤں سے 
تیری خوشیاں ترے غم تیرے حوالے دنیا 

لاکھ کوشش کی کہ یادوں کو مٹایا جائے
صاف ہوتے ہی نہیں ذہن کے جالے دنیا

تو امیروں کے یہاں چاندنی کرتی ہے مگر 
کر غریبوں کے یہاں بھی تو اجالے دنیا 

ہم تو سچ بولیں گے سچ بولیں گے سچ بولیں گے 
لاکھ دے ہم کو ضیاء زہر کے پیالے دنیا
٭٭٭


نا اہل کو مسند سے اٹھا کیوں نہ دیا جائے
یہ تخت کسی روز ہلا کیوں نہ دیا جائے

موقع ہے تو پھر کیوں نہیں لی جائیں دوائیں
مزدور کا حق اس کو دلا کیوں نہ دیا جائے

سنتے ہیں کہ اس شوخ کی یہ راہ گزر ہے 
اس راہ پہ پلکوں کو بچھا کیوں نہ دیا جائے

یہ لوگ جو ٖفٹ پاتھ پہ غم گین پڑے ہیں 
ان درد کے ماروں کو ہنسا کیوں نہ دیا جائے

جب اور کسی دل میں مکیں ہو گیا وہ شخص 
اس شخص کو پھر دل سے بھلا کیوں نہ دیا جائے 

لفظوں کو برتنے کا ہنر جس سے ملا ہے 
وہ زخم زمانے کو دکھا کیوں نہ دیا جائے		٭٭٭




دیکھی نہیں سنی نہیں ایسی وفا کہ یار بس
وعدے پہ میرے شخص وہ ایسے جیا کہ یار بس

چاہیں رفاقتیں اگر اس سے تمام عمر کی 
صندلی ہاتھ، ہاتھ پر ایسے رکھا کہ یار بس 

ذہن میں یوں ہی آ گیا تیرا خیال ایک شب 
تاروں سے سارا آسماں ایسا سجا کہ یار بس 

میں نے ذرا سی دیر ہی دیکھا تھا یار کو ابھی 
جانے وہ کیوں سمٹ گیا، کہنے لگا کہ یار بس 

ایک نظر کی بات تھی جس نے تباہ کر دیا 
ناز تھا جس پہ دل وہی ایسا لٹا کہ یار بس 

ہونے کو اور بھی بہت ہم سے جدا ہوئے مگر 
تو جو ذرا جدا ہوا دل وہ دکھا کہ یار بس 

راہِ حیات جب کبھی لگنے لگی بہت کٹھن 
تھام کے ہاتھ وہ مرا ایسے چلا کہ یار بس 

اس نے کہا سنو ضیاء سج دھج کے کچھ رہا کرو 
مجھ کو نہ جانے کیا ہوا ایسا سجا کہ یار بس
٭٭٭





بہار جو کہ ادھر ہے، ذرا ادھر آئے
ہم اس کی راہ میں بیٹھے ہیں وہ نظر آئے 

نہ جانے کیوں جو سرِ راہ ساتھ چھوڑ گیا 
پھر آرزو ہے وہی بن کے ہمسفر آئے

خود ان کے مرتبے ان کے لئے عذاب بنے 
تھے جن پہ تاج وہ نیزوں پہ چڑھ کے سر آئے 

اداسیوں کا جنہیں نام دے رہے ہیں لوگ 
یہ میرے چہرے پہ کیسے نقوش ابھر آئے 

افق میں ڈوبتے دیکھا جو زرد سورج کو 
اداس لوٹ کے پنچھی زمین پر آئے 

دوائیں کرتے ہیں اب پاؤں میں پڑے چھالے 
سفر تمام ہو از جلد اور گھر آئے 

عجب تو یہ ہے تعارف تلک نہ تھا جن سے 
تصورات میں وہ لوگ عمر بھر آئے
٭٭٭





بات کہوں میں یار سن گر تو دے ادھیکار 
بن تیرے جیون مجھے لگتا ہے بیکار 

تجھ پر یوں پتھراؤ ہے سن اے میرے یار 
میں ٹھہرا کانٹوں بھرا تو ٹھہرا پھل دار 

میں میرا تو شیام ہے میرا سچا پیار 
خود پر مٹنے دے مجھے اتنا کر اپکار 

لب اس کے خاموش تھے چپ تھا میرا یار 
آنکھوں آنکھوں کر گیا لیکن سب اظہار 

تیرے ہر سکھ کا بنوں جیون بھر آدھار
اتنا مجھ کو مان دے اتنا دے ادھیکار 

تجھ سا جب ہے رحم دل اسکا پالن ہار 
پھر کیوں رہتا ہے دکھی مالک یہ سنسار 

ممتا ماں کی مل گئی ملا پتا کا پیار 
سب کچھ تو نے دے دیا رب تیرا آبھار
٭٭٭


ماخذ: کوتا کوش، ہندی سے
رسم الخط کی تبدیلی بذریعہ
http://uh.learnpunjabi.org/default.aspx
تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید
