﻿

تری چاہت کا کچا رنگ


زرقا مفتی


جمع و ترتیب: اعجاز عبید







ہر چاک اب جگر کا سلا دینا چاہیئے
پُر خار حسرتوں کو جلا دینا چاہئیے

جب عشق کا نصاب ہی تبدیل ہو گیا
تو نام بھی وفا کا مٹا دینا چاہیئے

ہر شخص ہے غلام یہاں اپنے نفس کا
اخلاص کی روش کو بھُلا دینا چاہیئے

برباد ہو چکا ہے مرے دل کا یہ چمن
خوابوں کی تتلیوں کو اُڑا دینا چاہیئے

مانوس ہو چکے ہیں اندھیروں سے اس قدر
تاروں کو اور قمر کو بجھا دینا چاہیئے

اس دیس میں ٹھکانے کے دن بیت ہی گئے
موسم ہے ہجرتوں کا بتا دینا چاہیئے

پندار کی شکست نے بے حال کر دیا
اپنی انا کے بُت کو گرا دینا چاہیئے

آواز اب ضمیر کی سنتا نہیں کوئی
احساس کی چُبھن کو مٹا دینا چاہیئے

ایمان کا ترازو گناہوں سے لد چکا
اب حشر ہی خُدا کو اُٹھا دینا چاہیئے

ہم بوجھ زندگی کا اُٹھائیں گے کب تلک
اب دار پہ جبیں کو جھکا دینا چاہیئے
٭٭٭




حیات اپنا رستہ بدلتی رہی
ادھر عمر چپکے سے ڈھلتی رہی

خود اپنا ہی تابوت سر پر لئے
میں تنہا تھی، تنہا ہی چلتی رہی

وہ لمحوں میں کیوں اجنبی بن گیا
جسے کہہ کے ہمدم بہلتی رہی

وہ آوارہ بادل اُسے کیا خبر
کڑی دھوپ میں میں جو جلتی رہی

جو وعدوں کو تیرے بھلانا پڑا
مری زندگی ہاتھ ملتی رہی

کبھی کوئی پل تو مرے نام کر
تمنا یہ دل ہی میں پلتی رہی

وہ ساحل بنا مجھ کو تکتا رہا
میں لہروں کی صورت مچلتی رہی
٭٭٭



تری چاہت کا کچا رنگ


تری چاہت کا کچا رنگ
دھنک رنگوں میں اُترا تھا
مرے بے داغ آنچل پر
خوشی کے پر لگا کر میں
چلی تھی آسماں چھونے
مگر موسم کی سختی میں
کسی بادِ مخالف نے
مرے پر نوچ ہی ڈالے
مرے آنچل سے چھوٹا ہے
تری چاہت کا کچا رنگ


تری چاہت کا کچا رنگ
مری آنکھوں میں اُترا تھا
ستاروں سی چمک لے کر
گلابی رنگ کے سپنے
دکھا کے چار دن مجھ کو
اُڑا کر لے گیا نیندیں
تری چاہت کا کچا رنگ


تری چاہت کا کچا رنگ
مرے چہرے پہ اُترا تھا
گلوں کی شوخیاں لے کر
جبیں تھی چاند سی روشن
 تبسم تھا لبوں پہ بھی
بہت اترا رہی تھی میں
یونہی شرما رہی تھی میں
کوئی رہزن کوئی دُشمن
چُرا کر لے گیا خوشیاں
مجھے بس دے گیا ہے وہ
خزاں کا زرد پیلا رنگ
مرے چہرے سے اُترا ہے
تری چاہت کا کچا رنگ


تری چاہت کا کچا رنگ
مرے دل پر بھی اُترا تھا
سنہری تھے ترے وعدے
ترے خوش کن ارادے تھے
ترا لہجہ تری باتیں
ترے ہی غم تری خوشیاں
مجھے بس یاد تھا تو ہی
میں خود کو بھول بیٹھی تھی
 مگر تو نے غضب کیسا
مرے اس دل پہ ڈھایا ہے
مجھے دل سے بھلایا ہے
غموں کے سرمئی سائے
مرے دل پہ یوں چھائے ہیں
مرے دل سے بھی اُترا ہے
تری چاہت کا کچا رنگ
٭٭٭




محبت مر ہی جائے گی!

مجھے تم سے یہ کہنا ہے
مرے معصوم سے دل کو
لگا ہر دم یہ دھڑکا ہے
محبت مر ہی جائے گی

چلو یہ مان لیتی ہوں
کہ میں ہی اس کی مجرم ہوں
محبت میں نے ہی کی تھی
تمہیں اس کی ضرورت تھی
جلا کر اپنے خوابوں کو
تمہارا گھر کیا روشن
تمہاری ہر تمنا کو
بٹھایا دل کی مسند پر
تمہارے دل کے گلشن کو
سجایا خونِ دل دے کر
تمہاری راہ کے کانٹے
سبھی تو چُن لئے میں نے
بہاریں سونپ کر تم کو
کیا ویران اس دل کو

مگر پھر بھی یہ لگتا ہے
محبت مر ہی جائے گی
میں ہی نادان تھی مانا
اُمیدیں میں نے باندھیں تھیں
تمہارے جو بھی وعدے تھے
 اُنہیں سچ مان بیٹھی تھی
ہرا رکّھوں بتا کیسے
وفا کے اس شجر کو میں
کہ ساری حسرتوں کا خوں
میں اس کو دان کر بیٹھی
صدا اس کی ذرا سُن لو
دلِ ناکام کہتا ہے

محبت جی نہیں سکتی
کسی ٹوٹے ہوئے دل میں
کسی بنجر سی کھیتی میں
کسی بے آب صحرا میں
کسی ویران گلشن میں
 محبت مر ہی جائے گی!
٭٭٭




ترے سخن نے کہاں سے یہ دلکشی پائی
سکوت میں بھی ترے ہم نے نغمگی پائی

کلام ہم سے بھی کرتے گلاب لہجے میں
سماعتوں میں نہاں آرزو یہی پائی

ترے مزاج کے موسم بدلتے ہیں پل پل
تری وفا میں ادائے ستم گری پائی

نظر زمانے کی اک پل میں کھا گئی اس کو
کبھی کبھار ذرا سی بھی گر خوشی پائی

بھٹک رہے تھے خرد تیری پیروی میں ہم
جنوں کی راہ چلے ہیں، تو آگہی پائی

خراج لے رہی ہے زندگی بھی سانسوں سے
حریمِ ذات میں یہ کیسی بے بسی پائی

حریف جذبے ہویدا ہیں اپنے چہرے پر
ہنسی لبوں پہ سجی، آنکھ نے نمی پائی

نکل کے خلد سے آ تو گئے زمیں پر ہم
امن ملا نہ کہیں، نہ ہی آشتی پائی

چمن میں سوگ ہے کس کا؟ کہ ہم نے اس دفعہ
بہار میں بھی خزاں کی سی ابتری پائی
٭٭٭



پل بھر رُکی بہار خزاں میں بدل گئی
چاہت کی چاندنی بھی اماوس میں ڈھل گئی

تتلی بنی میں اُڑتی رہی تیز دھوپ میں
خواہش کے پر جلے تو مری روح جل گئی

سہمی ہوئی ہیں خوف سے کلیاں چمن میں کیوں
کیا پھر کسی گلاب کو لے کر اجل گئی

اب دشتِ آرزو میں ہے بے برگ ہر شجر
اس موسمِ فراق میں ہر شاخ جل گئی

لا کر مرے قریب تجھے دور کر دیا
تقدیر مرے ساتھ کوئی چال چل گئی

انجان اس قدر تو مرے حال سے ہوا
جو رہ گئی تھی دل میں محبت نکل گئی

پھر تیری ہر خطا کو فراموش کر دیا
تیرے نئے بہانے سے پل میں بہل گئی

شرطیں تری اصول ترے مان کر سبھی
میں موم کی طرح ترے سانچے میں ڈھل گئی
٭٭٭



کڑی دھوپ میں سائباں کوئی تو ہو
کوئی ہم نشیں، مہرباں کوئی تو ہو

غموں کے فسانے،خوشی کے ترانے
سنائیں کسے راز داں کوئی تو ہو

کہاں سے ملے گی دوا دردِ دل کی
کوئی چارہ گر ، آستاں کوئی تو ہو

رُتوں کے بدلتے ہی لوٹیں گے پنچھی
چمن میں بچا آشیاں کوئی تو ہو

لگا لیں گلے موت کو بھی خوشی سے
جو مرنے پہ چشمِ رواں کوئی تو ہو

بھٹکتے پھریں گے کہاں تک جنوں میں
نئی منزلوں کا نشاں کوئی تو ہو

کہاں لے چلے وقت کے ہم کو دھارے
جہا ں جا رکیں گے وہاں کوئی تو ہو

نگاہیں اُٹھائیں مگر کس کی جانب
 زمیں پر جھکا آسماں کوئی تو ہو
٭٭٭




نہیں ہوں قید یہاں یہ مدار اپنا ہے
قفس نہیں ہے فقط یہ حصار اپنا ہے

عنایتوں پہ تری انحصار اپنا ہے
وفا شعاروں میں تیرے شمار اپنا ہے

انا اٹل ہے تری دل کٹھور ہے تیرا
ہمیں بھی جان سے بڑھ کر وقار اپنا ہے

تمہارے اذن کی محتاج میری ہر خواہش
تمہاری خو پہ کہاں اختیار اپنا ہے

یہ رشتۂ دل و جاں برقرار ہے کیسے؟
جگر لہو ہے تو دل بھی فگار اپنا ہے

ہمارے شہر میں رونق ترے ہی دم سے تھی
ترے ہی جانے سے اُجڑا دیار اپنا ہے

مری اُداس نگاہیں ٹکی ہیں چوکھٹ پر
وبالِ جان بنا انتظار اپنا ہے

تمہیں بتائیں گے جو دل میں ہم نے ٹھانی ہے
فلک پہ چاند بھی تو راز دار اپنا ہے
٭٭٭



گلاب

برسوں کی رفاقت میں
حسرت ہی رہی مجھ کو
تم کام سے جب لوٹو
ہونٹوں پہ تبسم ہو
اک پھول ہو ہاتھوں میں
نہ تم نے کبھی ہمدم
وہ بات کہی مجھ سے
جس بات کو سننے کو
بے تاب میں رہتی تھی
معلوم تھا مجھ کو یہ
اظہار سے ڈرتے ہو
میں سوچتی رہتی تھی
برسوں کی مسافت میں
تھک جاتے ہیں کیا جذبے
مٹ جاتی ہے چاہت بھی

پر آج اچانک تم
دو پھول لیے آئے
حیران سی بیٹھی ہوں
یہ سوچ رہی ہوں میں
 کیسا یہ کرشمہ ہے؟
کیسی یہ محبت ہے؟
٭٭٭



سوز جب دل میں نہیں آہ بھی دلگیر نہیں
کیا عجب ہے کہ ترے نالوں میں تاثیر نہیں

جانتی ہوں ترے دل میں مری تصویر نہیں
تیری نظروں میں مرے جذبوں کی توقیر نہیں

سوچ پہروں میں ہے گو پاؤں میں زنجیر نہیں
بے بسی اپنی مگر لائقِ تشہیر نہیں

دل پہ ناکام اُمیدوں کے اندھیرے چھائے
بجھ گئی آرزو اور آس کی تنویر نہیں

غمِ فرقت میں تری یاد کے پہرے کے تلے
قیدِ تنہائی سے بڑھ کر کوئی تعزیر نہیں

جس حسیں شہر کو خوابوں سے تھا آباد کیا
اب مرے نام وہاں کوئی بھی جاگیر نہیں

کیوں خطا کار ہوئے رہِ اُلفت پہ جو چلے
کیا محبت سے بڑی دہر میں تقصیر نہیں

بخوشی موت کے پہلو میں بھی سو جاتے مگر
موت بیماریِ دل کے لئے اکسیر نہیں

ظلم کی چکی میں ہم پستے رہیں صدیوں تک
لوحِ محفوظ پہ ایسی کوئی تحریر نہیں
٭٭٭




کیا ہوا تیرا شرف تیری خلافت کیا ہوئی؟
رشک تھا جس پر فرشتوں کو ولایت کیا ہوئی؟

کیا ہوئی نسبت سلف سے اور عقیدت کیا ہوئی؟
ناز تھا ملت کو جس پر وہ فراست کیا ہوئی؟

وہ پرانی وضعداری اور مروت کیا ہوئی؟
پاس رشتوں کا گیا سچی محبت کیا ہوئی؟

دل بدلتے ہی اچانک اجنبی کیوں ہو گئے؟
ساتھ چھوٹا عمر بھر کا وہ رفاقت کیا ہوئی؟

روٹھی ہیں جب سے بہاریں یہ چمن مہکا نہیں
پھول کی خوشبو کلی کی وہ نزاکت کیا ہوئی؟

دامنِ شب میں گناہوں کے سوا کچھ بھی نہیں
وہ دعائے نیم شب اور وہ عبادت کیا ہوئی؟

عیش میں ڈوبا ہے دل اور عقل پر چھائی ہوس
ہوش کر غافل تری چشمِ بصیرت کیا ہوئی؟

رنگ و بو کے سیل میں کیوں بہہ گئی تہذیب بھی
سو گئی غیرت تمھاری اور حمیت کیا ہوئی؟

زاغ پہنے مور کے پر ذات اپنی بھول کر
تن تو بدلا من نہ بدلا پھر ذکاوت کیا ہوئی؟
٭٭٭



ہم بھکاری نہیں ہم بھکاری نہیں

ہم بھکاری نہیں ہم بھکاری نہیں
ہاتھ پھیلے ہیں جو وہ سوالی نہیں
گھر میں آٹا نہیں چینی ملتی نہیں
جیب میں بھی بچی ریزگاری نہیں

ٹھنڈے کمروں میں بیٹھے ہیں لیڈر سبھی
اپنے دھندوں سے ان کو تو فرصت نہیں
روٹی کپڑے کے وعدے ہوا ہو گئے
یہ حکومت ہماری عوامی نہیں

سستے بازار کی ان قطاروں میں اب
دھکے کھاتے ہیں جو وہ بھکاری نہیں
جیب کاٹی ہے ان کی حکومت نے ہی
کچھ بلوں نے ڈسا کچھ گرانی ہوئی
مہربانی ہے کچھ آئی ایم ایف کی
فکر ان کی نہیں ہے کسی کو یہاں
لیڈروں نے رچائے نئے کھیل ہیں
مفت افطار دے کر بنے نیک ہیں
جانتے ہیں سبھی ان کی نیت بری
گھر سے نکلی نہیں تھیں جو مائیں کبھی
آج خیرات لینے گئی تھی کہیں
موت دھوکے سے ان کو وہاں لے گئی
کہ جہاں سے کوئی لوٹتا ہی نہیں
اے خدا تیری رحمت ہے سب کے لیے
جتنے محتاج ہیں ان کو کر دے غنی
٭٭٭



ہم سے تھے سب ہی خفا سو چلے آئے گھر سے
کیسے بھولیں گے وہ آزار جو پائے گھر سے

روک لیتی ہے انا چار قدم چلتے ہی
یوں نہ لوٹیں گے منانے کوئی آئے گھر سے

دلِ ناکام کو تو اب بھی یہی حسرت ہے
کوئی اس کے لئے آنسو ہی بہائے گھر سے

اس ستم گر نے مجھے زخم دیا ہے ایسے
وار کرتی ہو بلا جیسے پرائے گھر سے

جسے ملنے کی تمنا میں رُکی ہیں سانسیں
وائے حسرت کوئی اُس کو تو بلائے گھر سے

ہر طرف شور ہے ماتم کی صدا آتی ہے
کب ٹلیں گے یہ سیہ موت کے سائے گھر سے

آگ نفرت کی ترا گھر بھی جلا سکتی ہے
دوسروں کو جو جلاتی  نظر آئے گھر سے

حادثوں سے نہیں محفوظ خدا کا گھر بھی
پھر بھی دو چار نمازی نکل آئے گھر سے

دوڑ مادے کی اگر یوں نہ تھکائے ہم کو
بے سکونی کی وبا بھی چلی جائے گھر سے

ڈگریاں بکنے لگیں زر کے عوض مکتب میں
علم کا جو بھی خریدار ہے آئے گھر سے
٭٭٭



مری آرزو رہی بے ثمر، میں نے حسرتوں کو جلا دیا
جو ملا تھا مجھ کو نصیب سے اُسے میں نے خود ہی گنوا دیا

چلی جس طرف تھیں رکاوٹیں، ہیں بہت کٹھن یہ مسافتیں
ہیں قدم قدم نئے امتحاں، مجھے زندگی نے تھکا دیا

مرے دل کے تو ہی قریب تھا، ترے غم بھی مجھ کو عزیز تھے
تری ہمرہی کے غرور میں، میں نے اس جہاں کو بھلا دیا

میں نے دیکھے خواب ادھار کے، جو ترے وجود پہ بار تھے
بڑی سہل تھی تری زندگی، اسے کیوں عذاب بنا دیا

دل مضطرب کو تلاش تھی، تری چاہتوں کی پیاس تھی
تو نے ہاتھ مجھ سے چھڑا لیا، مرے ہر بھرم کو مٹا دیا

وہ جو رشتے دل کے قریب تھے وہی آج ہم سے بگڑ گئے
جو چھپی تھیں دل میں کدورتیں، اُنہیں فاصلوں نے بڑھا دیا

کہیں ظلم کی ہے زیادتی ، کہیں خوف اور ہراس ہے
یہ محبتوں کی زمین تھی اسے کارزار بنا دیا
٭٭٭


اے خُدا تو نے کہا تھا 

اے خُدا تو نے کہا تھا
تا قیامت سرکشوں کو
بے اماں کرتا رہے گا

یہ وہ سر کش ہیں جنہیں تو نے چنا تھا
کہ جو اپنی بر تری کے زعم میں
پیغمبروں کو قتل کر دیتے تھے
جو تیری رضا پر راضی نہ تھے

اے خدا تو جانتا ہے
ارضِ اقدس پر نئے فرعون
 مظلوموں کے خوں سے
اک نئی تاریخ لکھنے میں مگن ہیں
بستیاں تھیں کل جہاں اب مقبرے  ہیں
پھول سے نازک
  فرشتوں جیسے بچے مر رہے ہیں

 اے خدا تیرا کہا ہے
ظلم کی رسی دراز ہو گی
مگر مہلت تمام ہوگی
ترا کہنا بجا ہے
پر غزہ کے باسیوں پر
وقت مشکل ہے بڑا
 تو ہی بتا اب
 صبر کب تک یہ کریں
یوں بے گناہ  مرتے رہیں

اے خدا  سچ کر دکھا اپنا کہا تُو۔۔۔۔۔۔
٭٭٭



گلشن مرا ویران ہے
 ہر اک شجر بے جان ہے
 
پنچھی اُڑانیں بھر چکے
آنے لگا طوفان ہے
 
سایہ ہی اپنے ساتھ ہے
ہر اک ڈگر ویران ہے
 
بے نام ہے میری طرح
قصہ بلا عنوان ہے
 
ظالم میرے حالات سے
تو ہی ذرا انجان ہے
 
جھوٹے بہانے مت بنا
جھوٹا ترا پیمان ہے
 
تجھ کو بھلا تو دوں مگر
 کیا بھولنا آسان ہے

 دل کی تباہی دیکھ کر
 یہ عقل بھی حیران ہے

ملنا ہے اب تو موت سے
باقی یہی ارمان ہے
٭٭٭



چاہتیں ہیں فقط فسانوں میں
تلخیاں گھل گئیں زبانوں میں

جھوٹ ہی تھا ترے بیانوں میں
میں بہلتی رہی بہانوں میں

تم مجھے چھوڑ کر ابھی جو گئے
ڈھونڈنا پھر مجھے زمانوں میں

دل کی ترغیب پر اُٹھے نہ قدم
ذہن اُلجھا رہا گمانوں میں

کھو گئی ہے خوشی نہ جانے کہاں
دکھ ہی دکھ ہے سبھی ترانوں میں

خوف کے پہرے ہیں دلوں پر اور
سانپ وحشت کے ہیں گمانوں میں

ہو گئی سرد آگ جذبوں کی
بے حسی بڑھ گئی جوانوں میں

سادگی میں عداوتیں نہ تھیں
سانجھ دکھ سکھ کی تھی گھرانوں میں

عیش دُنیا کے سب میسر ہیں
پر سکوں ہی نہیں مکانوں میں
٭٭٭






حنا کا رنگ ہتھیلی سے تو جدا نہ ہوا
وہ میرے ساتھ رہا پر کبھی مرا نہ ہوا

خزاں نصیب رہے ہم گلوں کی رُت میں بھی
بہار آئی پر اپنا چمن ہرا نہ ہوا

زمانے بھر کی جفاؤں کا شکوہ کر نہ سکے
تری جفا کا بھی ہم سے کبھی گلہ نہ ہوا

ہمیں یقیں تھا تمہاری تمام باتوں پر
تمہارا ایک بھی وعدہ مگر وفا نہ ہوا

میں جی ہی لیتی تری یاد کے سہارے پر
ترے بغیر بھی جینے کا حوصلہ نہ ہوا

ندامتوں کا تو ہر آن مینہ برستا رہا
شجر وفا کا  جو سوکھا تو پھر ہرا نہ ہوا
٭٭٭




دُنیا کو ملا چین ، مجھے رنج ملا ہے
ہر اشکِ تمنا کا لہو رنگ ہوا ہے

آلام کی کثرت کا گلہ جب بھی کیا ہے
اعمال کے نامے میں ہوئی درج خطا ہے

فردا کے دلاسے پہ فقط میں ہی رہوں کیوں
امروز کی راحت پہ بھی کچھ حق تو مرا ہے

یہ لوگ کسی حال میں خوش ہو نہیں سکتے
بے فیض زمانے سے کنارا ہی بھلا ہے

یاجوج و ماجوج ہیں یا کوئی بلا ہے
دُنیا میں کیا پھیلی یہ قیامت کی وبا ہے

ابلیس کی مانند تکبّر میں رہا ہے
انسان تو ہر دور میں فرعون بنا ہے

یہ ظلم یہ بیداد نئی بات نہیں ہے
ان اہلِ حشم کا تو وطیرہ یہ رہا ہے

کیا فرض نیابت کا نبھائے گا خُدایا
تشکیل کو آدم کی یہ انسان چلا ہے

ایمان کو چھوڑا ہے وسواس میں گھِر کر
اوہام کی دُنیا میں یوں غرقاب ہوا ہے

ق

معمور ترے نور سے یہ کون و مکاں ہیں
ان چاند ستاروں میں تری ہی تو ضیا ہے

عرفان کی ضو دے کے مجھے شمس بنا دے
پتھر کو ضیا دے کے قمر تو نے کیا ہے
٭٭٭

ماخذ: مختلف ویب سائٹوں سے ترتیب دیا گیا
تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید
