﻿     

اردو انشائیہ اور بیسویں صدی کے اہم انشائیہ نگار
ایک تجزیاتی مطالعہ


ڈاکٹر ہاجرہ بانو
نگراں
ڈاکٹر بیگ اختر مرزا
ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر مرہٹواڑہ یونیورسٹی، اورنگ آباد، ۴۳۱۰۰۱
ریاست مہاراشٹر
 ۲۰۱۱ء


تبویب


پیش لفظ	3
اردو میں انشائیہ نگاروں کا منی انسائکلوپیڈیا	10
ہاجرہ بانو کے انشائیے	15
باب اول : انشائیہ کے خد و خال	17
باب دوم: انشائیہ ایک منفرد اسلوب نگارش	60
باب سوم: انشائیہ کی اہمیت و افادیت	128
باب چہارم: انشائیہ بیسویں صدی میں	150
باب پنجم: انشائیہ پاکستان میں	293
باب ششم: انشائیہ نگاری۔ مغرب میں	345
ماحصل	358
کتب	361
رسائل	365





پیش لفظ 

نام سے اللہ کے کرتی ہوں آغازِ بیان
جو بڑا ہی رحم والا ہے نہایت مہربان

	ویسے تو اردو ادب اپنے کہکشاں میں اصناف کے کئی ستارے سمیٹے ہوئے ہے، انہیں میں سے ایک صنف ہے انشائیہ نگاری۔ 
	لفظ ’’انشاء ‘‘ کے لغوی معنی تو عبارت کے ہیں۔ لیکن جیسے جیسے ہم اس لفظ کی گہرائی و گیرائی میں اترتے جاتے ہیں تو یہ صرف عبارت کا مفہوم نہیں دیتا بلکہ ان حسین ترین اور امنگ بھرے جذبات کو جنم دیتا ہے جو ذہن و دل کے نہاں خانوں میں سلگتے ہوئے دنیوی مسائل سے الجھ کر سرد خانوں میں محفوظ ہو چکے ہیں۔ ویسے تو انشائیہ کی تعریف مختلف ادباء کے پاس علیحدہ علیحدہ رنگ رکھتی ہے۔ مغربی مصنف و انشائیہ نگار بیکن انشائیہ کی تعریف کرتے ہوئے کہتا ہے کہ:
	’’نثری اصناف میں انشائیہ ایک ایسی مختصر تحریر کا نام ہے جس میں بغیر کسی تجسس اور کھوج کے حقیقت کا اظہار ہو۔ ‘‘
	یہ بات سو فیصدی دل کو چھو جاتی ہے جب ہم انشائیہ کو ادب لطیف کے سانچے میں ڈھلا دیکھتے ہیں تو ذہن پر دباؤ کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی۔ فرانسیسی مصنف و انشائیہ نگار مونتین جو کہ مغربی انشائیہ کا بانی ہے۔ اس صنف کو انسانی شخصیت کے اظہار کا لازمی جز قرار دیتا ہے۔ جب ہم دوسرے مصنفوں کی تحریریں پڑھتے ہیں تو ان مصنفوں کو ایک قد آور رہنما کی شکل میں دیکھتے ہیں۔ لیکن جب ہم کوئی انشائیہ پڑھتے ہیں تو ہم اس انشائیہ نگار کو اپنا جگری دوست تصور کرتے ہیں اور ہر انسان کی جبلت ایک دوستی کا حصار چاہتی ہے۔ اس لیے میں مونتین کی اس بات سے پوری طرح اتفاق کرتی ہوں کہ یہ صنف شخصیت کے اظہار کا لازمی جز ہے۔ بالکل اسی سے قریب جانسن انشائیہ کو ’’ذہن کی ترنگ‘‘ کا نام دیتے ہیں۔ مختلف مصنفوں کے نزدیک انشائیہ سماجی زندگی کے کسی موضوع پر مصنف کی ایک ایسی گپ بازی ہے جس میں آپ بیتی اور جگ بیتی کی دھوپ چھاؤں ہوتی ہے۔ 
	بقول مغربی مصنف رابرٹ ’’انشائیہ نگار سے ہم صرف اتنا چاہتے ہیں کہ وہ اپنی طرز تحریر سے ہمیں خوش کرے اور جس موضوع پر وہ لکھ رہا ہے اس پر اختصار کے ساتھ کسی قدر نئی روشنی ڈال دے اور بس۔ ‘‘
	اس قول سے یہ بات صاف ظاہر ہے کہ قاری انشائیہ نگار پر اپنا حق سمجھتا ہے اور اس کے قلم سے وہی لکھوانا چاہتا ہے جو اسے خوش بھی کرے اور نئی روشنی بھی دے یعنی حقیقت کو عیاں بھی کرے جو کڑوی بھی ہوسکتی ہے۔ ظاہر سی بات ہے اس کا مطلب وہی ہوا کہ قاری انشائیہ نگار کو نہایت ہی قریبی دوست کا درجہ دیتا ہے تب ہی تو اس کی تحریر سے اسطرح کی امید کرتا ہے جبکہ وہ دوسری اصناف میں اس طرح کی امیدیں نہیں رکھ سکتا اور یہی جذبہ انشائیہ نگاری کی صنف کو دوسری اصناف سے بلند کرتا ہے۔ عبدالماجد دریابادی جو کہ مولانا ابوالکلام آزاد کو ایک بہترین انشائیہ نگار کا درجہ دیتے ہیں انشائیہ کی تعریف کچھ اس طرح کرتے ہیں :
	’’انشائیہ وہ ہے جس میں بجائے مغز و مضمون کے اصل توجہ حسن عبارت پر ہو۔ ‘‘
	یعنی انشائیہ نگار اپنے مقصد و موضوع کے ساتھ ساتھ حسن عبارت کا بھی خیال رکھتا ہے اور یہی انشائیہ کی تعریف ہے۔ انشائیہ کا مادہ ’’نشاء‘‘ (نَشَ ءَ) ہے جس کے لغوی معنی پیدا کرنا ہے۔ اس کی تعریف یہ بھی ہوسکتی ہے کہ کسی حسین عبارت کے ذریعہ خیال کی تازگی، تنومندی اور شگفتگی کے ساتھ نئی بات پیدا کرنا۔ لیکن اس نئی بات میں اس کی منفرد خصوصیت اس صنف کی غیر سالمیت ہے۔ جو اس صنف کے موضوع میں نمایاں طور پر نظر آتی ہے۔ 
	لیکن ان متنوع آراء کے باوجود یہ انتہائی خوبصورت صنف ہے اور مختصر تعریف میں کائنات کے بسیط افلاک سمیٹے ہوئے ہے۔ 
	بچپن سے ہی تخلیق کے جراثیم مجھ میں تھے۔ اس لیے اخبارات میں اور کسی خاص موقع جات کے لیے میں کچھ نہ کچھ تحریر کرتی رہتی تھی۔ لیکن اس پر کسی نے سنجیدگی سے غور نہیں کیا۔ شاید اس لیے بھی کہ میری تحریر میری عمر سے میل نہیں کھاتی تھی۔ مجھ میں بھی اپنی تحریروں کو کسی مخصوص صنف کے ساتھ جوڑنے کی صلاحیت نہیں تھی۔ وقت گزرتا گیا۔ تعلیمی زینے کی آخری سیڑھی پر اللہ رب العزت کی عنایت کی بدولت میں نے قدم رکھا۔ گائیڈنس کے معشوقانہ ناز نخروں کی داستانیں سن سن کر دل کانپ جاتا تھا۔ اسی دوران محترم مرزا اختر بیگ صاحب سے ملاقات ہوئی تو ان کی علمی قابلیت اور مخلصانہ مزاج کو دیکھتے ہوئے فوراً پی۔ ایچ۔ ڈی کے لیے اپنا رجسٹریشن کروا لیا۔ انہوں نے بھی حوصلہ بڑھایا اور میرے موضوع سے اتفاق کیا۔ وہ موضوع تھا ’’اردو انشائیہ اور بیسویں صدی کے چند اہم انشائیہ نگار‘‘ محترم بیگ صاحب نے فرمایا کہ انشائیہ کی صنف اور کئی انشائیہ نگاروں کو ابھی تک مکمل طرح سے منظر عام پر نہیں لایا گیا اور اس موضوع پر کام کرنے کی کافی گنجائش ہے۔ دوسری طرف میں نے سوچا کہ نجانے کیوں یہ عنوان میرے مزاج سے کافی حد تک مطابقت رکھتا ہے۔ نتیجتاً میرے مزاج اور خدا کے بھروسے سے میرے تحقیقی کام کا بابرکت آغاز ہو گیا۔ دوران تحقیق مجھ پر یہ انکشاف ہوا کہ بچپن میں لکھی گئی میری ٹوٹی پھوٹی تحریریں خود انشائیہ تھیں یعنی میں خود ایک نا پختہ انشائیہ نگار ہوں۔ میرا شوق و تجسس بڑھتا گیا اور میرے تحقیقی کام کے منازل طئے ہوتے گئے جن پر میرے گائیڈ کی بڑی باریک بینی سے نظر تھی۔ 
	میں نے اس صنف کی وسیع و بسیط کائنات میں سے چند ستارے اپنے لیے بٹور لیے اور اس طرح چھ ابواب کی تشکیل دے دی۔ 
	باب اول:  انشائیہ کے خد و خال
	اس باب میں میں نے انشائیہ کے خد و خال کی وضاحت کرنے کی کوشش کی۔ ساتھ ہی مغربی ادب کے بنیادی انشائیہ نگاروں کی بابت بھی مختصراً تحریر کرنے کی کوشش کی۔ مشرقی ادیبوں میں محمد حسین آزاد، سرسید احمد خاں، مولانا الطاف حسین حالی وغیرہ کی تحریروں میں بھی انشائیے کی شگفتگی جھلکتی ہے یہ بات بھی مختصراً بتانے کی کوشش کی۔ 
	اس باب میں یہ بھی وضاحت کی گئی ہے کہ انشائیہ عہد بہ عہد کس طرح منظر عام پر آتا چلا گیا۔ انشائیے کی بدلتی ہوئی ہیئت اور ساتھ ہی ان ادوار کے انشائیہ نگاروں کی تخلیقات کے نقوش کوضبط تحریر لانے کی کوشش کی گئی ہے۔ 
	انشائیہ:
	 الف) سب رس میں انشائیہ کے عناصر 
	 ب) نیرنگ خیال کے حوالے سے
	اس باب کے دو ضمنی ابواب بنائے ہیں۔ ’’الف: سب رس میں انشائیہ کے عناصر‘‘ میں ملا وجہی کے حالات اور ان کی مایہ ناز تصنیف پر سیر حاصل مواد لکھا گیا۔ ’’ب: نیرنگ خیال کے حوالے سے‘‘ میں محمد حسین آزاد کی کلاسیکی تحریر میں انشائیہ کے بہترین نقوش کی عکاسی اور انہیں بہترین انشائیہ نگار کا بخشا گیا شرف، دونوں کو سامنے لانے کی کوشش کی گئی۔ 
	باب دوم:  انشائیہ ایک منفرد اسلوب نگارش
	اس باب میں انشائیہ نگاری کو اردو ادب کی دوسری اصناف جیسے مضمون، مقالہ اور طنز و مزاح سے مختلف بتایا گیا۔ انشائیہ نگاری کی آزاد روی کے باوجود متعین کیے گئے اصول و ضوابط کی بھی عکاسی کی گئی۔ 
	باب سوم:  انشائیہ کی اہمیت و افادیت
	جیسا کہ ہر صنف اپنا مقام رکھتی ہے اور اپنی ضرورت اور اہمیت منوا کر رہتی ہے۔ اسی طرح انشائیہ کی بھی اہمیت و انفرادیت سے انکار نہیں۔ جب جب ادب بوجھل ہوتا جائے گا اور حالات کی چکی میں انسان پستا جائے گا اور اس کا جینا دوبھر ہو گا وہ کسی ناصح کی نہیں ہمدرد دوست کی ضرورت محسوس کرے گا۔ تب تب صنف انشائیہ کی ضرورت ہو گی۔ اس بات کی اس باب میں حتی الامکان بتانے کی کوشش کی گئی ہے۔ 
	 باب چہارم:انشائیہ بیسویں صدی میں۔ 
	اس باب کو میں نے اہم انشائیہ نگاروں کی تخلیقات سے مزین کیا ہے۔ میں نے اپنی بساط بھر  انشائیہ نگاروں کی تخلیقات معہ تعارف اکٹھا کرنے کی کوشش کی اور یہ بات واضح ہوتی ہے کہ آج بھی اس صنف کی مقبولیت اور شہرت میں کوئی کمی نہیں واقع ہوئی ہے۔ ہوسکتا ہے اس ضمن میں کئی انشائیہ نگاروں پر میری نظر نہیں پڑی ہو۔ یا پھر ان کی تخلیقات تک میری رسائی نہ ہوسکی ہو۔ اس میں میری کوشش کی کمی ہوسکتی ہے۔ اس ضمن میں معافی کی خواستگار ہوں۔ 
	 باب پنجم:  انشائیہ پاکستان میں 
	اس باب میں پڑوسی ملک پاکستان کا احاطہ کرنا میں نے اس لیے بھی ضروری گردانا کہ بھارت کے مقابلے میں پاکستان نے اس صنف کو زیادہ جلا بخشی ہے اور اس میں دن رات اضافہ ہی ہو رہا ہے۔ اس کی وجہ شاید وہاں کے سیاسی، معاشی اور سماجی حالات رہے ہوں یا کوئی اور بات لیکن مجھے انشائیہ نگاری کے لیے پاکستان کی زمین زرخیز ہی محسوس ہوئی۔ اس لیے اس باب میں وہاں کے انشائیہ نگاروں کی تخلیقات کو میں نے اپنے تحقیقی کام میں شامل کرنا ضروری سمجھا۔ 
	باب ششم:  انشائیہ نگاری مغرب میں۔ 
	انشائیہ نے جس خمیر سے اپنا وجود بنایا اسی سرزمین کے چند انشائیہ نگاروں کے کوائف میں نے مختصراً تحریر کیے۔ 
	اس تحقیقی کام کو پورا کرنے کے لیے میں نے ہر ممکن کوشش کی ہے۔ جہاں تک میری رسائی ہوسکتی تھی میں نے اس میں کسی قسم کی کوئی کوتاہی نہیں کی۔ لیکن علم کا سمندر بہت گہرا ہے۔ ہوسکتا ہے اس میں بہت ساری خامیاں رہ گئی ہوں یا ایسے نکار ہوں جن پر میری نظر نہ پڑسکی ہو۔ پھر بھی اللہ رب العزت کی مہربانی سے میں نے اتنی کوشش کی اور اپنی تحریر و تحقیق پر میں مطمئن ہوں۔ 
	میں شکر گزار ہوں اللہ تعالیٰ کی جس نے میرے لیے تحقیق کی راہوں کو آسان بنایا اور دشوار حالات میں بھی اپنی رحمت کا سایہ مجھ یتیم پر بنائے رکھا۔ ان حالات، اوقات اور اسباب کا بھی شکریہ ادا کرتی چلوں جنہوں نے میرے عزم کو دیکھتے ہوئے اپنے بند دروازے کھول دئیے۔ میں ممنون و مشکور ہوں ان افراد کی جو اردو ادب کی خدمت میں دامے درمے اور سخنے پیش پیش رہتے ہیں۔ ان کی گفتگو نے میرا حوصلہ بڑھایا۔ وہ مجھے اکثر کہتے رہتے۔ 
نہ ہو حالات سے مایوس دنیا خود بسا اپنی
دلوں میں حوصلہ اور حوصلوں میں جان پیدا کر
٭٭٭



اردو میں انشائیہ نگاروں کا منی انسائکلوپیڈیا

حقانی القاسمی

جامعات میں انہی موضوعات پر تحقیقی اور تنقیدی مقالات لکھے جاتے ہیں جن پر پہلے سے ہی کتابوں کی کثرت ہوتی ہے۔ ان موضوعات کو مس نہیں کیا جاتا جن میں محنت اور ریاضت کی ضرورت پڑتی ہے تحقیق میں تن آسانی اور سہل پسندی کی روش اس قدر عام ہو گئی ہے کہ اب ہر تحقیقی مقالے کو اہل ہنر شک و شبہ کی نظر سے دیکھنے لگے ہیں۔ زوال تحقیق پر جامعات کے دانشوروں نے بھی مہر تصدیق ثبت کر دی ہے ایسے میں اگر کوئی ایسا تحقیقی مقالہ نظر کے سامنے آئے جو دیگر جامعاتی مقالوں سے مختلف ہو تو یقیناً خوشی ہوتی ہے کہ اب بھی محدود سطح پر ہی سہی تحقیق کا معیار قائم ہے۔ 
ڈاکٹر ہاجرہ بانو کی تحقیق ’’اردو انشائیہ اور بیسویں صدی کے اہم انشائیہ نگار‘‘ کا شمار بھی اسی استثنائی زمرے میں کیا جا سکتا ہے کہ یہ مقالہ معیاری بھی ہے اور مختلف بھی۔ یہ ایک ایسے موضوع پر ہے جس کے تعلق سے تحقیق اور تنقید کی رفتار ذرا مدھم رہی ہے اورویسے بھی انشائیہ کے تعلق سے ابھی تک لوگوں کے ذہنوں میں تصورات واضح نہیں ہیں۔ انشائیہ کی بابت بہت سی غلط فہمیاں لوگوں کے ذہنوں میں ہیں ان کے لیے یہ طے کر پانا بہت مشکل ہوتا ہے کہ انشائیہ کی تعریف کیا ہے اور اس کے حدود اربعہ کیا ہیں۔ اس کتاب میں پہلی بار انشائیہ کے صنفی خد و خال کا تعین کیا گیا ہے اور اس کے اجزائے افاعیل و ترکیبی عناصر کے حوالے سے گفتگو کی گئی ہے۔ مضمون، مزاح اور مقالے سے انشائیہ کو ممیز کیا گیا ہے۔ عموماً بیشتر افراد انشائیہ مضمون اور مزاح میں فرق نہیں کر پاتے لیکن ہاجرہ نے انشائیہ کی مکمل تعریف کرتے ہوئے فرق کو واضح کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’’مضمون میں مواد کی پیشکش میں ایک منطقی ربط ہوتا ہے برخلاف اس کے انشائیے میں موضوع سے ربط و تعلق تو ہوتا ہے لیکن اس میں کوئی منطقی ربط نہیں ہوتا بلکہ کئی ضمنی باتوں کے سہارے انشائیہ نگار اپنا ما فی الضمیر ادا کرتا چلا جاتا ہے۔ مضمون میں اپنا سارا زور بات کو عالمانہ انداز سے کہنے پر ہوتا ہے اور اس کا بنیادی مقصد معلومات فراہم کرنا ہوتا ہے۔ جبکہ انشائیہ میں معلومات سے زیادہ تاثرات کی اہمیت ہوتی ہے۔ یہ تاثرات انشائیہ نگار کی ذہنی ترنگ کے تابع ہوتے ہیں۔ اس لیے کہ انشائیہ نگار واقعات سے زیادہ واقعات کے رد عمل پر توجہ دیتا ہے اور اشاروں اشاروں میں اپنا مدعا بیان کر دیتا ہے۔ مضمون میں انداز بیان بالکل سیدھا سادھا ہوتا ہے۔ جبکہ انشائیہ میں سارا زور انداز بیان پر ہوتا ہے اس کا اسلوب شگفتہ اور شاعرانہ ہوتا ہے۔ ‘‘  انشائیہ سے ملتے جلتے اور بھی اصناف کے امتیازات کو انہوں نے منطقی اور معروضی انداز میں واضح کیا ہے۔ ان کے واضح کردہ امتیازات کی روشنی میں بہت سارے وہ نام جو انشائیہ کی فہرست میں شامل تھے وہ اب خارج ہو جائیں گے۔ 
ڈاکٹر ہاجرہ بانو کی یہ کتاب 6ابواب پر مشتمل ہے اور یہ تمام ابواب اس بات کا ثبوت ہیں کہ مصنفہ نے ابواب کی تقسیم بہت ہی منطقی انداز سے کی ہے۔ ممتاز شاعر بشر نواز نے اس سمت اشا رہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’اچھے مقالے میں ابواب کی تقسیم بنیادی اور اہم مرحلہ ہوتا ہے اور اسی سے مقالہ نگار کے ذہنی آفاق کی نشانیاں روشن ہوتی ہیں۔ ہاجرہ بانو کے ابواب کی ترتیب کچھ یوں ہے: (1) انشائیہ کے خد و خال (2) انشائیہ ایک منفرد اسلوب نگارش (3) انشائیہ کی اہمیت و افادیت (4) انشائیہ بیسویں صدی میں (5) انشائیہ پاکستان میں اور (6) انشائیہ نگاری مغرب میں۔ ‘‘ کتاب کے 3ابواب انشائیے کی سمتوں کو واضح اور اس کی معنویت اور افادیت کو روشن کرتے ہیں تو باقی 3ابواب ایسے ہیں جو بیسویں صدی میں انشائیہ کی صورت حال اور انشائیہ نگاروں کے داخلی احساسات سے روشناس کراتے ہیں۔ چوتھا باب جو بیسویں صدی میں انشائیہ پر محیط ہے اس میں مصنفہ نے ہندوستان کے 105انشائیہ نگاروں کے حوالے سے مربوط مبسوط تنقیدی گفتگو کی ہے اور ان کی تحریروں کے نمونوں سے اپنے بیان کو مدلل بھی کیا ہے۔ شوکت تھانوی، کنہیا لال کپور، کرشن چندر، فرقت کاکوروی، یوسف ناظم، مجتبیٰ حسین، ابن انشاء، دلیپ سنگھ، معین اعجاز، احمد جمال پاشا، وجاہت علی سندیلوی، تمنا مظفرپوری، فیاض احمد فیضی یہ نام تو معروف ہیں ہی ان کے علاوہ کچھ ایسی شخصیات کی انشائیہ نگاری کے نمونے دیے گئے ہیں جن کو ایک بڑا طبقہ انشائیہ نگار کی حیثیت سے نہیں جانتا ہے۔ اس کتاب میں خواتین انشائیہ نگاروں کی بھی شمولیت ہے جن میں پروفیسر خورشید جہاں، ثریا صولت حسین، اختر بانو ناز، انیس سلطانہ، فاطمہ تاج، حلیمہ فردوس، نسیمہ تراب الحسن، شاہدہ صدیقی کے نام قابل ذکر ہیں۔ ان خواتین کے علاوہ  عابد معز، انوار انصاری، ایلاف خیری، پرویز ید اللہ مہدی، سید طالب حسین زیدی، یوسف امتیاز، شکیل شاہجہاں، علیم خان فلکی، رشید الدین، محمد باقر، انیس صدیقی، مقبول فاروقی، واجد ندیم، رؤف خوشتر، سلیم مقصود، سید نصرت، نعیم جاوید وغیرہ بھی بحیثیت انشائیہ نگار شامل ہیں۔ 
پانچواں باب پاکستان کے انشائیہ نگاروں پر محیط ہے۔ اس میں انہوں نے جن انشائیہ نگاروں کے حوالے سے گفتگو کی ہے ان میں وزیر آغا، مشفق خواجہ، ایس ایم معین قریشی، مشتاق احمد، جمیل آذر، انور سدید، اکبر حمیدی، منیزہ جمال، سلیم آغا قزلباش، انجم نیازی، ناصر عباس نیر، جاوید حیدر جوئیہ، رعنا تقی، پروین طارق، شاہد شیدائی، شفیع ہمدم، حنیف بابا وغیرہ کے نام اہم ہیں۔ ہند و پاک کے ان تمام انشائیہ نگاروں کے تعلق سے مصنفہ نے اپنا تاثر بھی لکھا ہے اور یہ شاید اردو میں پہلی کتاب ہے جس میں دونوں ملکوں کے اتنے انشائیہ نگاروں سے ایک ساتھ ملاقات ہو جاتی ہے۔ برصغیر کے نمائندہ افسانہ  نگاروں سے تعارف کی پہلی صورت اسی کتاب سے سامنے آئی ہے ورنہ انشائیہ پر لکھی گئی بیشتر کتابیں صرف چند ناموں تک محدود ہوتی ہیں۔ یہ اس کتاب کا امتیاز ہے کہ اس میں دونوں ملکوں کے ایسے فنکاروں سے مکمل طور پر متعارف کرایا گیا ہے جنہوں نے انشائیہ کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ 
کتاب کا چھٹا باب مغرب میں انشائیہ نگاری پر محیط ہے جس میں ڈاکٹر ہاجرہ بانو نے یہ واضح کیا ہے کہ انشائیہ کی جنم بھومی فرانس ہے۔ ڈاکٹر آدم شیخ کی کتاب کے حوالے سے انہوں نے لکھا ہے کہ ’انشائیہ نگاری کا آغاز فرانس میں مونتین Montaigne سے ہوا۔ جسے عام طور پر اس صنف کا موجد اور باوا آدم کہا جاتا ہے۔ انگلستان میں یہ سلسلہ سرفرانسس بیکن سے شروع ہوتا ہے۔ مونتین کے ساتھ ساتھ انشائیہ نگاری کے میدان میں بیکن کی حیثیت آج بھی ایک اہم متوازی رویہ کی ہے۔ چارلز اسمتھ نے مونتین کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے لکھا ہے کہ بڑے سے بڑا انشائیہ نگار بھی مونتین کے اثرات سے نہیں بچ سکتا۔ یہی بات بیکن کے بارے میں بلا خوف تردید کہی جا سکتی ہے۔ مغرب کا کوئی بھی ایسا انشائیہ نگار نہیں ہے جو بیکن کے اثرات سے یکسر آزاد ہو۔ خواہ وہ خود چارلز لیمب ہی کیوں نہ ہو۔ ‘ ڈاکٹر ہاجرہ بانو نے مونتین، فرانسس بیکن، وان برگ، گارڈنر، ای وی لوکس، ہیلری بیلک، رابرٹ لینڈ، چسٹرٹن، ولیم سامرسٹ، مان تھامس، میکس بیرلوم، جارج آرویل پر بھی روشنی ڈالی ہے اور اس طرح انگریزی اور اردو کے انشائیہ نگاروں کے فکری اور اسلوبی رجحانات اور امتیازات سے واقف کرایا ہے اور یہ واضح کیا ہے کہ انشائیہ کا مستقبل بہت روشن ہے۔ مجھے ڈاکٹر ہاجرہ بانو کی اس بات سے مکمل تو نہیں مگر جزوی اتفاق ہے کہ ’’آج داستان، ناول، مضامین میں وہ کشش باقی نہیں ہے آج کا انسان کم وقت میں زیادہ پڑھنا اور جاننا چاہتا ہے اور اس کے لیے انشائیہ سے بہتر کوئی دوسری صنف ہوہی نہیں سکتی۔ ‘‘
ڈاکٹر ہاجرہ بانو کا یہ مقالہ یقیناً دانش گاہوں میں اور عام قاری کی نظروں میں اعتبار کا درجہ حاصل کرے گا کہ یہ پہلی ایسی کتاب ہے جس میں انشائیہ کے صنفی خد و خال اس کے تلازمات، متعلقات اور فنی فکری سیاسی سماجی سروکار پر مکمل گفتگو کی گئی ہے۔ انشائیہ کے ضمن میں اس کتاب کی حیثیت حوالہ جاتی ہو گی کیونکہ مصنفہ نے ایک ایک سطر بڑی محنت اور ریاضت سے تحریر کی ہے۔ انشائیہ سے مصنفہ کے مراسم بھی بہت مضبوط ہیں اس لیے وہ انشائیہ کے مکمل چہرے رنگ روپ سے آگاہ ہیں اور اس کے رموز واسرار سے بھی واقف۔ یہ کتاب ان کے مطالعہ اور تخلیقی تجربہ سے اور بھی نکھر گئی ہے۔ بشر نواز کی یہ بشارت بہت معنی خیز ہے کہ ’’یہ مقالہ نہ صرف عام جامعاتی مقالوں سے مختلف اور منفرد ہے بلکہ اردو میں انشائیہ نگاروں کے بارے میں بھی ایک سنگ نشان ثابت ہوتا ہے۔ ‘‘ ایک بزرگ شاعر جو گہری تنقیدی بصیرت رکھتا ہے اگر ایسی بات کہے تو اسے مسترد کرنے کا کوئی جواز سمجھ میں نہیں آتا۔ یقیناً ہاجرہ بانو کی یہ کتاب تحقیقی مقالات کی بھیڑ میں اپنے امتیازات کی وجہ سے منفرد قرار پائے گی۔ مصنفہ کی محنت کو مبارک باد کہ وہ اسی طرح اپنی تحقیق کی جولانیاں دکھاتی رہیں اور ان کی تحریر کی طغیانی سے دنیا کسب نور کرتی رہے۔ 


ہاجرہ بانو کے انشائیے

بشر نواز 
اورنگ آباد

انشائیہ یوں تو اردو کی قدیم ترین صنف ہے لیکن آج ہم جن تحریروں کو انشائیہ کے زمرے میں شامل کرتے ہیں وہ قدرے مختلف ہیں۔ یہ کہنا تو غلط ہو گا انشائیہ مغرب سے درآمد کی ہوئی صنف ہے لیکن اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا موجودہ انشائیہ ’’لائٹ ایسے‘‘ سے متاثر ہے۔ وجہی کی سب رس سے مولانا ابو الکلام آزاد کے غبار خاطر تک کئی ایسے ہلکے پھلکے اور دلچسپ مضامین لکھے جاتے رہے جن میں انشائیہ کے کچھ عناصر تو موجود ہیں لیکن وہ صحیح معنی میں انشائیے نہیں ہیں۔ خیر یہ ایک بہت لمبی بحث ہے جس میں اختلاف کی کافی گنجائشیں پیدا ہوسکتی ہیں۔ 
	آزادی کے بعد فنی طور پر انشائیہ نگاری کے کچھ حدود مقرر کرنے کی کوشش کی گئی۔ اس سلسلے میں پاکستان میں نسبتاً زیادہ کام ہوا ہے۔ وزیر آغا اور ان کے ساتھیوں نے خود بھی انشائیے لکھے اور مختلف رسائل خصوصاً ’’اوراق‘‘ کے لئے انشائیے لکھنے پر نئے قلمکاروں کو ترغیب بھی دی۔ اور رفتہ رفتہ ایک خاص اسلوب میں مختلف موضوعات لکھی جانے والی تحریریں انشائیہ کہلائیں۔ 
	ہاجرہ بانو کو اورنگ آباد کی نئی انشائیہ نگار خاتون کہا جا سکتا ہے کہ ان کی تقریباً تمام تحریریں انشائیے کی تعریف پر پوری اترتی ہیں۔ وہ موضوعات بھی ایسے تلاش کرتی ہیں جن آج کی زندگی کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کر لینے کی گنجائش ہو۔ اور اسلوب بھی ایسا تلاش کرتی ہیں جس میں تبسم زیر لب، ہلکے سے طنز، بیشتر حقیقت اور حسب ضرورت شعریت سے بھی کام لیتی ہیں۔ اس اعتبار سے ان کے مضامین نہ صرف انشائیے بلکہ اچھے اور منفرد انداز کے انشائیے کہلانے کے مستحق ہیں۔ 
	کنگ فشر۔ آب حیات۔ دائرہ دھنک۔ جشن چراغاں۔ کھیل کھیل میں۔ فائر فوکس۔ بسیار خوری میرے اس دعوے کو ثابت کرنے کے لئے کافی ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ وہ اور بہتر سے بہتر تحریری پیش کرتی رہیں گی۔ 


	
باب اول : انشائیہ کے خد و خال

	ادب کی تاریخ میں صنف انشائیہ کے خد و خال واضح طور پر نہیں ملتے۔ لیکن جس وقت مغرب میں مونٹین اور بیکن فرانس میں باقاعدگی کے ساتھ انگریزی انشائیے لکھ رہے تھے اسی وقت ملا اسد اللہ وجہی نے عہد قطب شاہیہ میں ’’سب رس‘‘ جیسا شاہکار پیش کیا۔ وہ دور صوفیانہ تحریریں، اقوال، ملفوظات، داستانیں اور مثنوی کا دور تھا۔ ہم سب رس کو انشائیہ کے طور پر اس لیے تسلیم کرتے ہیں کہ اس میں انشائیہ کی زیادہ تر خصوصیات پائی جاتی ہیں۔ یا دوسرے معنوں میں اسطرح بھی کہا جا سکتا ہے کہ سب رس کے اُسلوب کی جدت، شگفتگی اور سادگی، ذات و کائنات کا انکشاف، لفظوں کی غنائیت اور موسیقیت سب اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ یہ انشائیہ ہے۔ اور ایسا انشائیہ جس کی بنیاد سولہویں صدی میں رکھی گئی اور آنے والے ادباء اور انشائیہ نگاروں کو ایک سمت عطا کی گئی۔ ہم بخوبی اس بات کا اندازہ کرسکتے ہیں کہ انشائیہ کی صنف سولہویں صدی میں اپنے خوش رنگ پیرہن کے ساتھ موجود تھی۔ لیکن یہ بات الگ ہے کہ اسے باقاعدہ طور پر ’’انشائیہ‘‘ کا نام نہیں دیا گیا تھا۔ ملا وجہی نے بھی ’’سب رس‘‘ کے بعد ایسی کوئی تصنیف اردو ادب کو نہیں دی۔ 
	سترہویں صدی میں اردو زبان پر ایک طرح سے گہن لگ گیا تھا۔ اگر اردو نظر بھی آئی تو بازاروں اور عوامی جگہوں پر اپنا دم توڑتی نظر آئی۔ اس کی وجہ اس وقت کے سماجی، معاشی اور سیاسی حالات تھے۔ اس بات میں دو رائیں نہیں ہوسکتیں کہ ہر زبان کے فروغ اور پستی میں سیاسی، سماجی اور معاشی حالات بہت اثر انداز ہوتے ہیں۔ اس لیے جب زبان ہی مر رہی تھی تو انشائیہ کہاں سے پرورش پاتا۔ ان حالات پر تبصرہ کرتے ہوئے سید صفی مرتضی رقمطراز ہیں :
	’’اول تو یہ (اردو) بازاروں میں پھرتی رہی اور صرف عوام سے سابقہ رہا۔ پھر بزم شعراء میں دخیل ہوئی۔ نغمہ و موسیقی کی تانیں اسے لے اڑیں۔ ایک طرف خانقاہوں کی مقدس فضا میں سجی و سجادہ سے دست بوس تھی تو دوسری طرف درباروں میں راش و رنگ کی ندیم۔ شاعری پر قابو پا لینے کے بعد نثر کے میدان میں قدم رکھا تو داستانوں، فقہ و تصوف کے رسالوں میں نظر آنے لگی۔ جیسا ماحول پایا اسی سے ساز کرنے لگی جیسا اس وقت کا مزاج تھا اور جو اس کی دلچسپیاں تھیں ان ہی میں یہ بھی شریک تھی۔ اس وقت نہ علمی ماحول تھا اور نہ اس ماحول کو بدلنے کی کوشش کے آثار کسی طرف سے ظاہر ہو رہے تھے۔ پھر اردو زبان ہی کیا کرتی اور مضمون نگاری اس میں کہاں سے شروع ہوتی۔ ‘‘ 
	اٹھارویں صدی کے اوائل سے ہی دلی کی رونق ختم ہو چکی تھی۔ اورنگ زیب کی وفات کے بعد ہر طرف حالات قابو سے باہر ہو گئے تھے۔ ہر طرف خانہ جنگی کا طوفان امنڈ رہا تھا۔ تہذیب و تمدن کے پردے تار تار ہو رہے تھے۔ ہندوستانی اپنا کلچر اور ثقافت اپنے ہی قدموں تلے روند رہے تھے۔ ان تمام حالات میں ادبی حلقہ اپنا سر کہاں سے اٹھا پاتا تھا۔ نظم و نثر کی خوبصورت ترنگیں خون خرابہ میں معدوم ہو چکی تھیں۔ اورنگ زیب کے بعد کے حکمران اپنی حکومت اور اقتدار بچانے کی کوشش میں لگے رہے۔ آئے دن ان کا مقابلہ راجپوت، جاٹ، سکھ اور روہیلوں سے ہونے لگا۔ یہ لوگ بھی چاہتے تھے کہ جتنی جلد ممکن ہوسکے اورنگ زیب کے بعد ان کے جانشینوں کو بھی ختم کر دیا جائے اور مغل حکومت کو پوری طرح نیست و نابود کر دیا جائے۔ اس لیے مغل حکمرانوں نے اپنی تمام تر توجہ ان بغاوتوں اور لڑائیوں کا سامنا کرنے میں صرف کر دی اور ادب کی طرف سے مکمل طور پر چشم پوشی اختیار کی۔ 
	دلی کی بدقسمتی کہیے کہ وہ خانہ جنگیوں کی مار سہہ کر سنبھل بھی نہ پائی تھی کہ نادر شاہ نے حملہ کر دیا اور رہی سہی کسر بھی پوری کر دی۔ دلی کا برباد ہونا گویا پورے ہندوستان کا برباد ہونا تھا۔ کیونکہ ہندوستان کا دل دلی ہی کو سمجھا جاتا تھا اور آج بھی سمجھا جاتا ہے۔ نادر شاہی حملے میں مرہٹہ طاقتیں زوال پذیر ہونے لگیں۔ اسی دوران جنگ بکسر شروع ہو گئی جس نے دلی کے ساتھ ساتھ پورے ہندوستان کی کمر توڑ دی۔ اس طرح انگریزی سامراجیت اپنے قدم جمانا شروع کر چکی تھی اور ہندوستان کے ان ابتر حالات کو انہوں نے اپنے لیے خوش آئند تصور کیا۔ اس پوری خانہ جنگی اور بگڑے حالات کا انگریزوں نے پورا پورا فائدہ اٹھایا۔ 
	ان حالات میں لکھنؤ کے والیان عیش پرستی میں مشغول رہے۔ ان کی اس عیاشی اور لاپرواہی میں اردو ادب بھی نظر انداز رہا یا یوں کہا جائے تو غلط نہ ہو گا کہ اس عہد میں صنف شاعری نے تو ادب میں چار چاند لگائے اور عیاش پرست نوابوں کو جنسی اور ذہنی آسودگی فراہم کی۔ اس عہد میں واسوخت اور ریختی جیسی اصناف پورے عروج پر تھیں۔ ساتھ میں نثر پر بھی توجہ دی گئی اور فن بلاغت، عروض و قواعد کو اہمیت بخشی گئی۔ اردو زبان کی لسانی کیفیات اور اصلاحات پر بھی کام ہوا۔ 
	ایسے منتشر حالات میں رجب علی بیگ نے ’’فسانۂ عجائب‘‘ جیسی داستان رقم کی۔ یہ ایک شاہکار ضرور تھی۔ لیکن اس میں ملا وجہی کے انشائیوں کی خصوصیات حسن، سادگی اور بے ساختگی موجود نہ تھی۔ اس کے برعکس وہ تصنع اور ملمع کاری سے پر تھی۔ رجب علی بیگ نے اپنا سارا زور صنائع و بدائع پر صرف کیا۔ اس دور میں انشائیہ نظر نہیں آتا۔ دوسرے معنوں میں حالات نے ادیبوں کی فکر و نظر کو انشائیہ لکھنے پر متحرک نہیں کیا۔ ذہنی و معاشی انتشار کا شکار ہوئے لوگ انشائیہ کی شگفتہ تحریر لکھنے سے قاصر تھے۔ اس دور میں میرؔ کے ’’نوحہ دلی‘‘ اور داغؔ کے ’’شہر آشوب‘‘ ہی مل سکتے تھے۔ گو ادباء کے ذہنوں میں تخیل کی حسین پریاں تو گشت کر رہی تھیں لیکن ان کے پر کٹے ہوئے تھے۔ الفاظ تو تھے لیکن ان میں موسیقی کی ترنگ نہیں تھی۔ 
	ایسے پژمردہ ماحول میں تمام لوگ مذہب اور تصوف کی آغوش میں پناہ لینا چاہتے تھے۔ یہاں تک کہ مرزا غالب نے بھی اپنے غموں کو بھلانے کے لیے ’’خود پر‘‘ بھی طنز کی تلوار چلائی اور اپنے فرسودہ و شکستہ دل کو ہنسانے کی کوشش کی۔ ان کے کئی خطوط میں انشائیہ کی جھلک ضرور دیکھنے کو ملتی ہے۔ 
	بہر کیف ملا وجہی کے بعد انشائیہ نے اپنا تشخص تو کروا لیا تھا مگر انفرادی طور پر اپنا وجود پیش نہ کرسکا۔ 
	عطا حسین خان تحسین کی کتاب ’’نو طرز مرصع‘‘ کی عبارت کو ہم انشائیہ کا درجہ نہیں قرار دے سکتے اگرچہ کہ اس میں خود نوشت کے بہترین نمونے ہیں مگر انداز بیان بناوٹ اور تصنع سے پر ہے جو انشائیہ کے اسلوب کے منافی ہے۔ 
	اب ہم یہ دیکھیں گے کہ انیسویں صدی میں انگریزوں کے اثرات سے اردو ادب میں کس طرح تبدیلیاں واقع ہوئیں اور اردو ادب نے مغربی اثرات کو اپنے اندر سمولینے کے بعد اپنی نئی شکل و صورت میں کس طرح عوام و خواص کو متاثر کیا۔ 
	جب ایسٹ انڈیا کمپنی نے ہندوستان میں اپنی جڑوں کو مضبوط کرنا شروع کیا اور بڑھتے بڑھتے ایک تناور درخت کا روپ اختیار کر لیا تو اس نے نہ صرف ہندوستان کی معاشی حالت کو کھوکھلا کیا بلکہ اس سونے کی چڑیا کے بال و پر نوچ نوچ کر ختم کرنے کی کوشش کی۔ ساتھ ہی ہندوستانی گنگا جمنی تہذیب کو کچلنے کی کوشش بھی کی۔ اپنی آسانی اور یہاں پر اپنے کاروبار کو وسیع کرنے کے لیے انہوں نے انگریزی زبان و تعلیم کو عام کرنا شروع کیا۔ لیکن جیسا کہ کہا جاتا ہے کہ سکے کے دو رخ ہوتے ہیں ہر بات کے دو پہلو ہوتے ہیں اسی طرح انگریزی ادب کے عام ہونے سے جہاں اردو اور دیگر زبانوں کو نقصان پہنچا وہیں دوسری طرف اردو ادب میں کئی نئی اصناف کا اضافہ ہوا۔ مثلاً سانیٹ، ناول، افسانہ، آزاد نظم، نظم معریٰ وغیرہ وغیرہ مضمون نگاری کی نہج کو سنجیدگی سے لیا گیا اور اس میں کچھ ترمیم کر کے ’’انشائیہ‘‘ کو منظر عام پر لایا گیا اور یہیں سے اس نے اپنے وجود کو شناخت دلانے میں کامیابی حاصل کی۔ 
	اس تعلق سے سید صفی مرتضیٰ کہتے ہیں کہ:
	’’غدر کے بعد ہندوستان میں دو ایسی قوموں کا اتصال ہوا جو اپنے رنگ کی طرح اپنے کلچر، اپنی زبان، اپنی روایات اور اپنے عقائد میں ایک دوسرے سے مختلف تھیں۔ ایک طرف ہندوستانی تھے جن کی قوت عمل کو عیش و عشرت نے چوس لیا تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ عقل و خرد کے سوتے خشک ہو رہے تھے اور حکمت و تدبر کی جولانی نے فرار کی شکل اختیار کر لی تھی۔ دوسری طرف ایک نئی قوم تھی جو فاتحانہ انداز سے داخل ہوئی تھی۔ انہوں نے یہ میدان عقل و دانش سے جیتا تھا۔ وہ سیاست کی ماہر، علم و فنون میں آگے اور سائنس میں منفرد تھی۔ ایسی دو قومیں ہندوستان میں ایک دوسرے کے سامنے کھڑی تھیں۔ بڑھتے ہوئے حوصلے شکستہ ہمتوں کے متقابل تھے۔ ہندوستانیوں کے احساس کمتری کا یہ منظر بڑا بھیانک اور تاریک تھا۔ پریس کو قدرے آزادی مل گئی تھی اور اخبارات نکل رہے تھے۔ ایسے عالم میں سرسید نے انگلستان سے واپس آ کررسالہ ’’تہذیب الاخلاق‘‘ جاری کیا جس کا پہلا نمبر ۲۴ دسمبر ۱۸۷۰ء میں نکلا۔ اس رسالے نے اردو زبان کی ترقی میں اہم خدمت انجام دی اور مضمون نگاری کی بنیاد ڈالی۔ ‘‘
	اسی لیے کئی نے سرسید کو ہی انشائیہ کا بانی قرار دیا۔ لیکن یہ بات بالکل غلط ہے کیونکہ سرسید کے مزاج اور طریقہ تحریر میں انشائیہ کی پری ہرگز قید نہیں ہوسکتی تھی۔ یہ بات اور ہے کہ ان کے مضامین پر کبھی کبھی اس نے اپنی حسین جھلک ضرور دکھائی ہے۔ سرسید احمد خاں نے اپنی ادبی تخلیقوں کے ذریعہ سماجی اصلاح کی کوشش کی جس میں مذہبی رجحان بھی پایا جاتا ہے۔ ان کے دل میں قوم کی ترقی کا درد موجود تھا۔ وہ ہر حال میں اپنی قوم کو انگریزوں کے برابر ترقی کرتے دیکھنا چاہ رہے تھے۔ وقت کے بدلتے تیور کو وہ اچھی طرح سے بھانپ چکے تھے۔ اس لیے انہوں نے انگریزی طریقہ تعلیم کو ضروری سمجھا۔ لیکن اس وقت کے مذہبی خیالات رکھنے والوں نے انہیں ’’کافر‘‘ قرار دیا۔ جس کا سرسید کو بہت افسوس ہوا۔ انہیں ایسے لوگوں کو مذہبی انداز فکر اپنا کر ہی جواب دینا تھا۔ ظاہر سی بات ہے کہ ایسے سماجی مصلح کی تحریروں میں ہم انشائیہ کی تازگی، شگفتگی، حسن اور ظرافت کی چٹکیاں کہاں تلاش کرسکتے ہیں ؟ 
	ہندوستان کو اس وقت انگریزی بہاؤ کے دھارے میں بہنا ضروری تھا۔ اس لیے ادبی حلقہ نے انگریزی ادب کی کئی اصناف کو مستعار لے کر اردو ادب میں انہیں داخل کیا اور انگریزوں کے مدِّ مقابل کھڑے رہنے کی کوشش کی خوش نصیبی سے یہ کوشش کافی حد تک کامیاب رہی۔ 
	سر سید نے خواجہ الطاف حسین حالی سے ’’مقدمہ شعر و شاعری‘‘ لکھوا کر اردو شاعری کا رجحان بدلا۔ وہ خود بھی یہ کرسکتے تھے لیکن شاعری میں انہیں وہ کمال اور مرتبہ حاصل نہیں تھا جو حالی کو تھا۔ لہٰذا انہوں نے نثر کے میدان میں اپنی کوشش جاری رکھی اور مغربی طرز پر مضمون نگاری میں بہترین طبع آزمائی کی۔ 
	محمد حسین آزاد نے لیپل گریفن (Lapple Garaffen) اور کرنل ہالرائڈ (Cernal Halriyed) کی قدردانی میں بہت ساری کتابیں تصنیف کی۔ ان کی کتابیں شہرت بھی حاصل کر چکی تھی۔ اسی دوران انہوں نے ’’نیرنگ خیال‘‘ لکھی جس میں چھ مضمون جانسن، تین ایڈیسن اور بقیہ دوسرے انگریزی ادیبوں کے ہیں۔ ان تمام انگریزی مضامین کا اردو میں ترجمہ کیا گیا اور آزاد نے یہ کام اتنی عمدگی سے انجام دیا کہ رہتی دنیا تک وہ قائم رہے گا۔ ان ترجموں میں آزاد نے اپنی ذہانت اور سحر بیانی سے اتنی تبدیلیاں کی ہیں کہ ان کا درجہ ترجمے سے بڑھ کر تخلیق کا ہو گیا ہے۔ جانسن اور ایڈیسن کے عمدہ اور اونچے خیالات اس پر آزاد کی ترجمانی اور الفاظ کا جادو دونوں مل کر سونے پر سہاگہ ہو گئے۔ اردو ادب میں کلاسیکل درجہ حاصل کر گئے۔ ان تحریروں میں افسانے اور انشائیے کے اولین نقوش ملتے ہیں۔ 
	۱۸۷۷ کے بعد مضمون یا انشائیوں میں طنز و ظرافت کا تڑکا لگنے لگا۔ بعض تو اس میں اتنے آگے نکل گئے کہ انشائیہ کی رنگینی سے نکل گئے ان لوگوں کے مضامین خالص طنز و مزاح کے زمرہ میں آ گئے۔ جیسے منشی سجاد حسین، احمد علی شوق، جوالا پرشاد برق، مرزا مچھو بیگ، منشی احمد علی کمنڈوی وغیرہ۔ ان کے بعد عبدالحلیم شرر کی چند تحریروں میں انشائیہ کا طرز نظر آتا ہے۔ انہوں نے اپنے رسالے ’’دلگداز‘‘ میں مختلف موضوعات پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ جیسے ’’خلوص‘‘، ’’لالہ خوردو‘‘، ’’بدمستی‘‘، ’’باغ آرزو‘‘، اچھوتا پن‘‘، ’’پاس‘‘۔ ان تمام موضوعات میں انشائیہ نگاری کے عنصر پائے جاتے ہیں۔ شررؔ اپنے ناولوں سے زیادہ اسطرح کی تحریروں میں کامیاب رہے ہیں۔ اگر وہ ناول کے میدان کے بجائے اس طرح غور کرتے تو شاید ہمیں شررؔ کی صورت میں ایک بہترین انشائیہ نگار مل سکتا تھا۔ 
	اسی دور میں انشائیہ کی طرز تحریر میں کئی رنگ شامل ہونے شروع ہوئے اور وہ عصر حاضر سے ہم آہنگ ہوتا نظر آنے لگا۔ اس میں شوخی نظر آنے لگی۔ اس کے نقوش تیکھے ہونے شروع ہوئے اور وہ وقت کے تمام تقاضوں کو پورا کرنے کی کوشش میں لگ گیا۔ 
	اسی طرح بیسویں صدی عیسوی کے دریچے وا کرتے ہوئے ہم آگے بڑھتے ہیں۔ جہاں ہم دیکھیں گے کہ اردو ادب کی دنیا میں انشائیہ نے اپنے ترقی کے مدارج کس طرح طے کیے۔ 
	زمانہ اپنی گردش کے پہیہ کی رفتار کو بڑھاتا گیا اور آہستہ آہستہ انگریزی تعلیم عام ہونے لگی اور سرسید کی محنت رنگ لانے لگی۔ لوگوں کے خیالات بدلنے شروع ہوئے۔ انگریزی کے راست اثرات اردو ادب پر پڑنے شروع ہوئے۔ ناول، افسانہ، ڈرامہ اور انشائیہ نکھرنے لگے۔ یہی وہ وقت تھا جب انشائیہ کا صحیح جنم ہوا۔ اس کی ہیئت صاف اور واضح ہونے لگی۔ اردو کے ادباء اس کے بال و پر سمجھنے لگے۔ اس کی اہمیت نظر آنے لگی۔ یہی وہ وقت تھا جب انشائیہ مضمون سے آگے نکل گیا۔ دوسری طرف ہندوستان پوری طرح سے ملکہ برطانیہ کے قبضے میں چلا گیا۔ انگریزی سامراجیت کے خلاف مختلف تحریکیں سر اٹھانے لگیں۔ یہاں صحافت کو فروغ ملا۔ اردو صحافت نے بھی جدوجہد آزادی میں ایک نمایاں کردار ادا کرنا شروع کیا۔ اردو ادباء بھی اپنی تقریروں اور تحریروں کے ذریعہ ہندوستان کے خوابیدہ ذہنوں کو بیدار کرنے میں لگ گئے۔ حالانکہ وہ کوئی سیاست دان نہیں تھے لیکن انہوں نے اپنے قلم کو اپنی تلوار بنا کر آزادی کی دیوی کی زنجیریں کاٹنا شروع کر دی۔ کیونکہ وہ اپنے تخیل کی پرواز کی طرح اپنے ملک اپنی سرزمین کو بھی آزاد دیکھنا چاہتے تھے۔ ’’الہلال‘‘ ’’زمیندار‘‘ جیسے اخبارات سامنے آئے۔ مولانا ابوالکلام آزاد اور مولانا ظفر علی خان نے اپنی تقریروں اور اپنے پر جوش خیالات کو اخبارات کے صفحات پر بکھیرنا شروع کیا اور ایک نیا صحافتی انقلاب برپا کر دیا۔ ظفر علی خاں نے معمولی مسائل کو نہایت ہی مؤثر طریقے سے انشاء پردازی کے روپ میں لوگوں کے سامنے پیش کیا۔ ابوالکلام آزاد نے اپنے خطوط ’’غبار خاطر‘‘ میں انشائیہ کا رنگ شامل کر لیا۔ غالب کی طرح ان کے خطوط بھی بہت رنگ جما گئے اور انشائیہ کی قوس قزح میں مزید رنگوں کا اضافہ ہوتا چلا گیا۔ 
	آزادی کی تحریک زور پکڑنے لگی۔ ادھر انشائیہ نگاروں کی تعداد میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔ میر ناصر علی نے ’’صلائے عام‘‘ میں بہترین انشائیہ کے نمونے پیش کیے۔ اور انہیں ’’خیالات پریشاں ‘‘ کا نام دیا۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ عنوان کی طرح اس میں انشائیہ کی خصوصیت بھی پنہاں ہے یعنی انشائیہ بے ربطی اور منتشر خیالی بھی چاہتا ہے۔ مہدی افادی، خواجہ حسن نظامی، مولانا عبدالماجد دریا بادی، نیاز فتح پوری، سجاد انصاری کی بہترین تحریریں دیکھ کر یہ گمان ہونے لگتا ہے کہ انشائیہ کا مسکن فرانس یا برطانیہ نہ ہو کر صرف اور صرف ہندوستان ہی ہے۔ 
	اتنا سب کچھ ہونے کے بعد بھی انشائیہ کی شبیہ ہمارے سامنے مکمل طور پر سامنے نہیں آئی تھی۔ آزادی کے بعد وزیر آغا نے اسے واضح کیا۔ ملک کو اس کے صحیح نام اور تعارف کے ساتھ اس کی خصوصیات کو پیش کیا۔ وزیر آغا سے پہلے اس صنف کا باقاعدہ نام نہیں تھا۔ اپنی کتاب ’’انشائیہ کے خد و خال‘‘ میں وزیر آغا کہتے ہیں :
	’’میں نے ۱۹۵۰ء سے ۱۹۶۰ء تک کے عرصہ میں ادب لطیف میں متعدد پرسنل ایسے تحریر کیے تھے جنہیں لائٹ ایسے، انشائے لطیف، لطیف پا رہ، مضمون لطیف وغیرہ ناموں کے تحت شائع کیا گیا۔ مگر چونکہ ایسے کے لفظ نے خود مغرب میں بہت ساری غلط فہمیوں کو جنم دیا تھا جنہیں ہمارے انگریزی پڑھانے والوں نے وراثت میں حاصل کیا تھا۔ لہٰذا میں چاہتا تھا کہ پرسنل یا لائٹ ایسے کے لیے کوئی نیا اور منفرد اردو نام تجویز کیا جائے۔ ان ہی دنوں میں نے بھارت کے کسی رسالے میں ’’انشائیہ‘‘ کا لفظ پڑھا اور مجھے اچھا لگا کہ میں نے مرزا ادیب صاحب سے جو ان دنوں ’’ادب لطیف‘‘ کے مدیر تھے۔ اس نام کو پرسنل ایسے کے لیے مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی جسے انہوں نے فوراً قبول کر لیا۔ بعد ازاں مجھے معلوم ہوا کہ مجھ سے پہلے ڈاکٹر سید حسنین ’’انشائیہ‘‘ کا لفظ لائٹ ایسے کے معنوں میں استعمال کر چکے تھے۔ مگر جن لائٹ ایسوں کے لیے انہوں نے یہ لفظ استعمال کیا تھا وہ سرے سے لائٹ ایسے تھے ہی نہیں۔ ‘‘ 
	اس طرح وزیر آغا نے اس صنف کے نام کے ساتھ ساتھ اس کی فنی خصوصیات بھی پیش کیں۔ وزیر آغا نے جب یہ نام پیش کیا تو سید حسنین کی طرف سے کوئی جواب نہیں آیا۔ لیکن اگر ہم پھر سے ماضی کے اوراق الٹیں تو آزاد کے ’’نیرنگ خیال‘‘ میں کئی جگہ لفظ ’’انشاء پردازی‘‘ نظر آتا ہے۔ تو یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ انشاء پردازی کا مخفف ’’انشائیہ‘‘ کرنے کا کام وزیر آغا نے کیا۔ ہاں اس میں کوئی دو رائیں نہیں ہیں کہ اس صنف کی خصوصیات اور اصول و ضوابط انہوں نے ہی پیش کیے ہیں اور اس کے فروغ کا تمام سہرا ان ہی کے سر جاتا ہے۔ اس اعتبار سے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ وزیر آغا انشائیہ کے موجد نہ ہوتے ہوئے اس کے بنیاد گزار ضرور ہیں۔ 
	وزیر آغا کے بعد بیسویں صدی کی چھٹی ساتویں اور آٹھویں نویں دہائی میں کئی قابل ذکر انشائیہ نگار منظر عام پر آئے۔ پاکستان میں انور سدید، غلام جیلانی اصغر، داؤد رہبر، جمیل آذر، مشتاق قمر، سلیم آغا قزلباش، انجم انصار وغیرہ وغیرہ۔ ہندوستان میں یوسف ناظم، ڈاکٹر وجاہت علی سندیلوی، پروفیسر شفیقہ فرحت، رام لعل نابھوی، فکر تونسوی، مرزا عظیم بیگ چغتائی، پطرس، کنھیا لال کپور، شوکت تھانوی، بھارت چند کھنہ اور مسیح انجم وغیرہ ہیں۔ 
	جس طرح ایک کوزہ گر کچی مٹی کو اپنے پہیے پر رکھ کر گھماتا ہے اور اس کی فنکارانہ انگلیاں اس مٹی کے بے ہیئت گولے کو خوبصورت صراحی میں تبدیل کر دیتی ہیں بالکل اسی طرح انشائیہ کے خد و خال گردش دوراں کے پہیے میں خود کو حوالے کرتے گئے اور مختلف انشائیہ نگاروں کے قلم اس کے نوک پلک درست کرتے گئے اور انشائیہ نکھرتا گیا۔ اب ہم اپنے اگلے باب میں انشائیہ میں ہونے والی تبدیلیوں کو بتدریج دیکھیں گے۔ 
	انشائیہ کی ابتدا کرنے والے مغرب کے مشہور ادیب تھے۔ جن میں مونٹین کا نام سرفہرست ہے۔ لیکن اس کے علاوہ ڈرائیڈن، رسکن اور برکن ہیڈ بھی اس سے تعلق رکھتے ہیں۔ لیکن اس وقت انشائیہ کی الگ و منفرد شناخت نہیں تھی۔ کیونکہ یہ دوسری اصناف کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چل رہا تھا۔ شروعات میں اسے انگریزی ایسے کی شکل ہی سمجھا جاتا رہا۔ کسی نے نثری ٹکڑا کہا۔ کسی نے گفتگو کہا۔ آہستہ آہستہ یہ اپنی ہیئت تبدیل کرتا گیا۔ لیکن اسے اس کام کے لیے کئی سال لگے۔ اس وقت بیکن کے مقابلے میں دکن میں ایک ایسا انسان تھا جس کی روشن فکر و نظر پورے مغرب کی ذہانت کا مقابلہ کرسکتی تھی۔ یہ ہمارے لیے بڑی خوش قسمتی تھی۔ یہاں اس بات کا ذکر کرنا ضروری ہو گا کہ سیاسی حالات کے تحت ہی سہی ایک بہترین انشائیہ کا مجموعہ دنیا کے سامنے آیا اور رفتہ رفتہ اس کی شکل میں خوبصورت تبدیلیاں کر کے آج ہر پہلو سے تراشیدہ یہ حسین و چمکدار نگینہ ہمارے پاس ہے۔ جتنی ترقی انشائیہ نے مغرب میں کی اتنی ہی ترقی برصغیر میں کی ہے۔ 
	’’دکن کا بیکن‘‘۔ جی ہاں۔ میں نے ملا وجہی کے لیے یہی نام تجویز کیا ہے۔ جس نے ’’سب رس‘‘ کی صورت میں ہمیں انشائیہ جیسی تصنیف سے روشناس کرایا۔ 
	سب رس کا قصہ ہو بہو ’’حسن و دل‘‘ کی نقل ہے۔ قصہ حسن و دل ’’دستور عشاق‘‘ کی تلخیص ہے۔ دستور عشاق اور سب رس میں واقعات کے ضمن میں بہت سارے اختلافات پائے جاتے ہیں جو ہمیں واقعہ کو بیان کرنے میں نظر آتے ہیں۔ واقعات کے مجموعی قالب پر اس کا کوئی اثر نہیں دکھائی دیتا۔ فتاحیؔ کا اندازِ بیان حکیمانہ ہے جبکہ ملا وجہیؔ نے اختصار سے کام لیا ہے۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ ملا وجہیؔ اختصار کی صورت میں ایک نئی صنف ایجاد کر گئے جو انشائیہ کہلائی۔ اب ہم یہ دیکھیں گے کہ ملا وجہی نے کون کون سی جگہ اپنے قصہ کو مختصر کیا ہے۔ کن نئی فکروں کو اس میں واضح کیا ہے۔ 
	۱)  حسن و دل کی شادی کا ذکر اور شادی کے مناظر کا تفصیلی بیان سب رس میں نہیں ہے۔ 
	۲)  شادی کی تقریب میں امراء کی جانب سے ہونے والی دعوتیں سب رس میں نظر نہیں آتیں۔ 
	۳)  گلشن رخسار میں خضرؑ سے ملاقات کو وجہی نے چند سطروں میں ختم کر دیا۔ 
	۴)  سب رس میں قصہ کا خاتمہ مبہم انداز میں ہے۔ تمثیل کا تشنہ پن باقی رہتا ہے۔ 
	۵)  سب رس میں صنائع و بدائع نظر نہیں آتے۔ قصہ فوراً آگے بڑھتا ہے۔ عجائب و غرائب سے کنا رہ کیا ہے۔ 
	۶)  سب رس نے عقل کا ملک سیستان بتایا ہے جبکہ فتاحی نے یونان بتایا ہے۔ 
	۷)  نظر اور حسن کے مکالمے سب رس میں نہیں ہیں۔ 
	۸)  ہمت کو دیکھتے ہی عشق کا اسے گلے لگا لینا یہ ایک فطری بات دیکھنے میں آتی ہے۔ 
	۹)  سب رس کا طریقہ کار غیر حکیمانہ ہے۔ 
	۱۰)  وجہی نے حمد و نعت کے بعد حضرت علی کی خصوصی منقبت کی ہے۔ مناجات نہیں ہیں کتاب کی عظمت اور اپنی صلاحیتوں کی تعریف میں انوکھا پن ہے۔ 
	مندرجہ بالا تمام نکات کو بغور دیکھنے اور مشاہدہ کرنے کے بعد یہ بات صاف سمجھ میں آتی ہے کہ وجہی تصنیف میں ایک جدت طرازی لانا چاہتے تھے۔ چاہے اس کا پلاٹ کہیں سے بھی ماخوذ کیا گیا ہو۔ انشائیہ کی تحریر ان کی جدت طرازی سے میل رکھتی ہے۔ ملا وجہی نے جدت طرازی کی جستجو میں ایک نئی تصنیف اور نئی صنف کی بنیاد ڈال دی اور ’’انشائیہ‘‘ کا نام اسے بعد میں ملا۔ طویل واقعات کو بھی یوں چٹکی بجاتے ہی ختم کر دیا گیا کہ ماہر ناقدین بھی حیرت میں پڑ گئے۔ حسب ذیل اقتباس دیکھئے:
	’’نظر کوں نظر سوں دیکھا۔ غمزہ نیں پہچانیا۔ کوئی بیگانہ کر جانیا۔ ہڑبڑا اٹھیا۔ اپنا لہو آپی گھٹیا ہو۔ اس پر اچایا کہ تو کون ہے۔ کیوں اس باغ میں آیا۔ غمزہ ست غصہ تو ہمدست نظر کوں مارنے خاطر نظر کی انکھیاں باندیا۔ تن کپڑے کے اتاریا منگتا تھا کہ مارے ولے نین ماریا۔ کچھ دل میں بچاریا۔ نہن پن میں نظر ہور غمزہ کی ماں نے کچھ فکر کی تھی۔ دونوں کو دو لعل دی تھی۔ بازو کون باندنے۔ مہر محبت سوں ناندنے۔ دنیا کو کیا پتیانا ہے کہ ایک وقت ہے زمانہ ہے۔ کچھ ہوئے تو ایکس کون ایک پچھانے۔ ایک کون ایک جانے۔ غمزے نے نظر کے بازو کا دو لعل پچھانیا۔ جانیا کہ یو تو اپنا بھائی ہے اپس میں ہو راس میں کیا جدائی ہے۔ بہوت رویا۔ گلے لایا۔ بہت عذر خواہی کیا۔ 
	منظر اعظمی بھی ملا وجہی کے اختصار کی صلاحیت کو مانتے ہوئے اعتراف کرتے ہیں کہ:
	’’انگشتری کے واقعہ میں وجہی اس عجلت سے قصے کو آگے بڑھاتا ہے کہ یقین کرنے کو جی نہیں چاہتا کہ اس نے دستور عشاق دیکھی ہو گی۔ ‘‘  
	گاگر میں ساگر کو ڈبونے کی صلاحیت اور تفصیل سے احتراز کرنے کو منظر اعظمی بھی مانتے ہیں یہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ ملا وجہی نے دستور عشاق کی نقل نہیں کی ہے۔ 
	’’ہر قدم پر حسب حال اختصار و اطناب سے کام لیا گیا ہے۔ اس سے اس شبہ کو واقعی تقویت پہنچتی ہے کہ وجہی نے دستور عشاق نہیں دیکھی تھی ورنہ پند و نصائح کے غیر ضروری انبار کے بجائے واقعات کی ضروری تفصیل سے سب رس کو زیادہ مربوط، زیادہ فطری اور زیادہ دلکش بناتا۔ ‘‘
	اپنے اختصار نویسی کو تسلیم کرتے ہوئے خود ملا وجہی قطب مشتری میں کہتے ہیں 
جو بے ربط بولے تو بتیاں پچیس
بھلا ہے جو اک بیت بولے سلیس 
	دستور عشاق اور سب رس کے چند اور مناظر پر نظر ڈالتے ہیں۔ حسن نے دل کے فراق میں غزل گائی، ملاوجہی نے عشق و عاشقی پر جب تقریر کی اس تقریر میں خود شناسی، روح و جسم، معراج نبوی، نماز خشوع قلب، توحید و رسالت، موتوا قبل ان تموتوا، ورد لا الہ، ضرب الا اللہ، قل الروح من امر ربی، نفس و ہوا، سلوک و طریقت، انا الحق و انا العشق، بشریت اور الہیت مادر ذات و صفات، پند و نصائح، غرض کائنات کے تمام امور کو اس میں سمیٹ ڈالا۔ اس سے ظاہر ہے کہ ملا وجہی گفتگو کے انداز میں اس قصہ کو بیان کرنا چاہتے تھے اور نئی نہج اختیار کرنا چاہتے تھے۔ اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ انہوں نے عشق میں کھو جانا ہی مناسب نہیں سمجھا اور بادشاہوں کو بھی اس کی تلقین کی اور عشق کی عظمت بھی دکھائی۔ اس سے ملا وجہی کی شخصیت کا پتہ چلتا ہے کہ وہ رنگین مزاج نہیں تھے۔ رنگین مزاج شخص ایک رنگین مزاج تحریر نہیں لکھ سکتا۔ سب رس میں انہوں نے دل کو ہیرو بنا دیا ہے۔ دل بہ اصطلاح صوفیاء قلب عشق کے بل پر حسن حقیقی کی آماجگاہ ہے۔ دل نور خداوندی کی جلوہ گاہ بھی ہے اور عشق کا منبع بھی۔ 
	بقول درد:
ارض و سماء کہاں تیری وسعت کو پا سکے
میرا ہی دل ہے وہ کہ جہاں تو سما سکے
	غالباً اس عشق کی عظمت کے بیان میں ناقدین نے انہیں رنگین مزاج اور کئی عورتوں سے تعلق رکھنے والا سمجھا ہو گا۔ جہاں عورتوں کا خصوصاً بیوی، سوتن کا ذکر ہے وہاں ملا وجہی کی نفسیات کا قائل ہونا پڑے گا۔ انہوں نے عورت کی عظمت کا ہر جگہ اعتراف کیا ہے۔ اسے کائنات کی حسین ترین احساس میں شمار کیا ہے ایسا شخص صرف حسن پرست نہیں ہوسکتا۔ ملا وجہی نے عورت کو ذی عقل بتایا ہے جو اسے مغربی مصنفین کی اور ارسطو و بقراط کی صنف میں کھڑا کرسکتا ہے۔ اس کے حسن کے ساتھ نفسیات کا بھی خیال رکھا ہے۔ 
	منظر اعظمی بھی یہی سمجھتے ہیں اور انہوں نے بالکل صحیح کہا ہے:
	’’وجہی کثرت ازدواج کو معاشرے کی خرابی سمجھتا ہے۔ وہ سوکن کے جلاپے کی دلچسپ تصویر کھینچتا ہے۔ عورت کو وہ پاک دامن اور اپنے مرد کی محبت کی امین سمجھتا ہے۔ جو اس کے خلاف کرے اس سے خدا کی پناہ مانگتا ہے۔ ‘‘   
	ان خیالات کی روشنی میں اگر دیکھا جائے تو ملا وجہی اس دور میں ایک عظیم اور مقدس خیالات رکھنے والے درباری تھے۔ جس کے نزدیک عشق اتنا بلند درجہ رکھتا ہو وہ انسان خود کتنا قابل، عالم اور عظیم ہوسکتا ہے۔ ان کے نزدیک ’’عشق عاجز۔ عشق توانا۔ عشق دانا۔ عشق دیوانا۔ عشق اپنے رنگ میں آپس گھلنا۔ عشق ابس پر آپ بھلنا۔ عشق کے چالے کون نبھائے۔ عشق چند۔ عشق بھان۔ عشق دین۔ عشق ایمان۔ عشق حاکم۔ عشق سلطان ہے۔ ‘‘
	انشائیہ نگاری کا ایک خاص وصف یہ بھی ہے کہ کچھ باتیں اختصار سے سمجھائے اور چند باتیں اشارے دے کر سمجھائے اور کچھ باتیں تو بنا کہے کے سمجھائے مثلاً نظر سے، آنکھوں ہی آنکھوں میں۔ یہ بہت دشوار کن مرحلہ ہے۔ تصور کیجیے کہ ملا وجہی نے اس زمانے میں اس قسم کی تحریر کس طرح کی ہے جس کا لوہا بابائے اردو مولوی عبدالحق نے مانا ہے۔ کہتے ہیں :
	’’۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور آخر میں جب گلشن رخسارمیں خضرؑ سے ملاقات ہوئی تو وجہیؔ نے صرف چند سطروں میں یہ ملاقات ختم کر دی ہے۔ اور آنکھوں ہی آنکھوں میں ساری باتیں ہو جاتی ہیں اور زبان سے کسی کلمہ کے ادا کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ ‘‘ 
	وجہی کا یہی انداز گفتگو سب رس کی شان ہے۔ انشائیہ نگاری کی خصوصیات سے بھری یہ تصنیف ادبی شاہکار کا درجہ رکھتی ہے۔ کئی فرق، چند خامیاں بتاتے ہوئے ناقدین بھی مانتے ہیں۔ سب رس واقعی شاہکار ہے۔ جن خامیوں کا ذکر ناقدین نے کیا تو اس لیے کہ وہ خامیاں نہیں، ملا وجہی کا نیا طرز تحریر تھا۔ جسے وہ پہلی بار دنیا کے سامنے پیش کرنا چاہتے تھے۔ چاہے وجہ کچھ بھی رہی ہو۔ اس نئی طرز تحریر کو وہ نام تو پیش نہ کرسکے۔ جسے بعد میں ’’انشائیہ‘‘ کا نام دیا گیا۔ لیکن اس حسین تحریر کو ملا وجہی شعوری طور پر سامنے لائے۔ 
	وہ ان کی تحریر کی نئی طاقت ہی تھی جس کی وجہ سے سب رس کے کرداروں میں جان پائی جاتی ہے۔ وہ وصف کے ہاتھوں میں کٹھ پتلی نہیں ہیں۔ وہ اپنا ایک الگ وجود اور شخصیت رکھتے ہیں۔ وہ خود بنا وصف کے سہارے آگے بڑھتے نظر آتے ہیں اور مختلف کشمکش، رزم و بزم میں شامل ہوتے ہیں۔ یہاں تک کہ ان کا نام بھی ان کی شخصیت کی راہ میں حائل نہیں ہوتا۔ وہ مکمل شخصیت رکھتے ہیں۔ ان کا سراپا بھرپور ہے۔ ان میں جاذبیت اور کشش ہے۔ 
	منظر اعظمی سب رس کو ایک کامیاب تمثیل سمجھتے ہیں اپنی رائے کا اظہار کچھ اس طرح کرتے ہیں کہ:
	’’تمثیل کے لیے ضروری ہے کہ اس کی دو سطحیں ہوں۔ اس کے ظاہری کردار اور دوسرے ہم عکس باطنی کو نمائندگی کرتے ہوں۔ یعنی ظاہری کردار بھی باطنی کرداروں کی صفات کے اعتبار سے گفتگو، حرکت اور عمل کرتے ہوں۔ قصہ ایک مناسبت معنوی سے آگے بڑھتا ہو اور ان سب میں ظاہری ربط و تعلق کے علاوہ باطنی رشتہ و قرابت بھی پائی جاتی ہو۔ ’’سب رس‘‘ اس لحاظ سے اردو کی ایک خوبصورت تمثیل ہے۔ اسلوب و انداز نگارش۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بلاشبہ اس کا اپنا ہے یہی نہیں بلکہ یہ نقش اول بھی ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘ 
	سب رس کی اس تعریف کو دیکھتے ہوئے ڈاکٹر رفیعہ سلطانہ کی رائے کوئی اہمیت نہیں رکھتی جس میں انہوں نے کہا تھا:
	’’نثری قصوں میں وجہیؔ سے پہلے لکھے ہوئے نثری قصے اب نایاب ہیں لیکن وجہی کا نمو پایا ہوا آرٹ اور اس کی زبان شہادت دیتی ہے کہ یہ نقش اول نہیں ہوسکتا۔ ‘‘ 
	دوسری طرف گیان چند سمجھتے ہیں کہ ملا وجہی کا اسلوب بہت محنت طلب ہے۔ ان کی جدت طرازی سے بھی انہیں انکار نہیں لیکن انہیں اس جدت اور انشاء پردازی ملا وجہی سے بھی پہلے رہنے کی امید نظر آتی ہے۔ 
	’’وجہی نے بھی اسلوب کی طرف بیش از بیش توجہ کی ہے اور وہ جن بلندیوں پر پہونچے ہیں ان میں نقش اول کی نہیں نقش آخر کی نشانی ہے جس کی وجہ سے قیاس کیا جا سکتا ہے کہ سب رس سے پہلے اردو میں انشاء پردازی کی اور بھی کوششیں کی گئی ہوں گی۔ ‘‘ 
	گیان چند کا یہ اعتراض کہ اس کو (سب رس) پہلا انشائیہ نہ مانا جائے غلط لگتا ہے۔ کیونکہ وہ سب رس کو داستان میں بھی شمار نہیں کرتے تو جب سب رس داستان نہیں ہے، مثنوی نہیں ہے، ڈرامہ نہیں ہے، ناول نہیں ہے تو پھر کیا ہے؟ اس نئی صنف کا نام تو ہمیں دینا ہی ہو گا اور وہ یقیناً وہ نیا نام انشائیہ ہے۔ گیان چند کی اس رائے میں دیکھئے کہ اعتراض میں ہی اعتراف چھپا ہے۔ 
	’’سب رس کے حسن اور لطافت کو حسن انسانی اور عشق مجازی کی کیفیتوں کے بیان ہی میں پوشیدہ سمجھا گیا ہے۔ اسے عرفان کے مقدس حلقے میں محصور کر دینا حسن کے حضور بد مذاقی کا مظاہرہ کرنا ہے۔ اگر سب رس کا عرفانی پہلو نظر انداز کر دیا جائے تو وہ تمثیل کے بجائے داستان بن جائے گی۔ اور یہ سب رس کے لیے خسا رہ ہو گا۔ کیونکہ داستان اتنی مختصر نہیں ہوسکتی۔ ‘‘
	مشہور انشائیہ نگار جاوید وششٹ بھی کچھ اسی طرح سمجھتے ہیں :
	’’وجہی کے مختلف میلانات کو مجسم شکل میں پیش کرنے کی بجائے غیر مجسم ہی رہنے دیا ہے یعنی کہ سب رس کے کردار غیر مجسم کیفیات انسانی ہیں لیکن میرے خیال میں جو وجہی کا عیب ہے وہی اس کا ہنر بھی ہے۔ ‘‘
	اس طرح کے خیالات حامد چھپروی کے ہیں یا یوں کہا جائے تو غلط نہ ہو گا کہ جاوید وششٹ حامد چھپروی سے اتفاق رکھتے ہیں۔ 
	منظر اعظمی سب رس کے مختلف النوع ہونے کی گواہی دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ:
	’’پند و موعظت اور درس و نصیحت کے علاوہ اس میں مختلف النوع موضوعات پر وجہی کے خیالات کا احاطہ کیا جا سکتا ہے۔ ان موضوعات میں مذہبی، غیر مذہبی، سماجی، علمی، تہذیبی اور ادبی سب ہی قسم کے موضوعات شامل ہیں۔ عشق و عاشقی سے لے کر شراب و شاہد، سلوک و معرفت، معجزات و کرامات، دین و شریعت، عورت و مرد کے تعلقات اور بادشاہ اور رعیت کے روابط سب موضوعات پر اس کی ارشادات موتیوں کی طرح بکھرے ہوئے ہیں۔ ‘‘ 
	ڈاکٹر سیدہ جعفر نے ماسٹر رام چندر کو اردو کا پہلا انشائیہ نگار قرار دیا ہے لیکن یہ غلط ہے۔ نثری داستانوں میں اگر قصہ در قصہ کی طرح انشائیہ در قصہ کی بھی کوئی تکنیک تسلیم کر لی جائے تو سب رس اپنے دامن میں متعدد انشائیے لیے ہوئے ہے۔ جو خالص والہانہ انداز میں سپرد قلم کیے گئے۔ 
	نور السعید اختر کا ایک مضمون ’’شاعر‘‘ بمبئی میں چھپا تھا جس کا عنوان تھا ’’اردو کا پہلا انشائیہ نگار‘‘ جس میں انہوں نے انشائیہ کی خصوصیت پر بحث کرتے ہوئے چند رعایتوں کے ساتھ وجہی کو اردو کا سب سے پہلا انشائیہ نگار ثابت کیا ہے۔ 
	’’مولوی عبد الحق نے انہیں محض بیان سمجھا تھا۔ لیکن سچ یہ ہے کہ سب رس کے بیانیہ میں ان سے (وجہی سے) ایسے کنج پیدا ہو گئے ہیں جو بجائے خود حسین اور تسکین دہ ہیں۔ وہ ایک وسیع گلستان کی منفرد روشیں ہیں جن میں سے ہر ایک اپنی نزہت اور رنگ برنگی کی وجہ سے نظر کش ہیں۔ ان ہی میں ہمیں اردو انشائیہ نگاری کے اولین نقوش بھی ملتے ہیں۔ ‘‘  
	سب رس کے خوبصورت اسلوب اور انداز تحریر سے سب ہی واقف ہیں۔ رنگینی نثر میں تو اس کا جواب نہیں۔ 
	مولوی عبدالحق اس ضمن میں کہتے ہیں۔ 
	’’اگر اس کا یہ مطلب ہے کہ قصہ کا یہ نیا ڈھنگ اس کا نکالا ہوا ہے تو یہ صریح غلط ہے۔ لیکن اگر اس سے یہ مراد ہے کہ تحریر کا یہ اسلوب اردو زبان میں اس کی ایجاد ہے تو بے شک صحیح ہے۔ ‘‘
	آگے اسلوب کے بارے میں مولوی عبدالحق کہتے ہیں :
	’’سب رس اردو نثر کی پہلی کتاب ہے جو ادبی اعتبار سے بہت بڑا درجہ رکھتی ہے اور اس فضیلت و تقدم کو ماننا پڑتا ہے۔ ‘‘  
	ڈاکٹر گیان چند تو یہاں تک کہتے ہیں کہ نئی طرز تحریر اور رنگینیِ عبارت کا مقصد ہی انشائیہ تحریر کرنا تھا۔ 
	’’اس کا مقصود اپنی انشاء پردازانہ مہارت کی نمود ہے۔ ‘‘  
	اس بیان سے اس بات کی بھی وضاحت ہوتی ہے کہ سب رس والہانہ غیر شعوری طریقے سے نہیں لکھی گئی بلکہ شعوری طور پر ایک نیا کارنامہ انجام دینے کے مقصد سے لکھی گئی جو بعد میں بدلتے بدلتے انشائیہ بن گئی۔ 
	گیان چند جین سب رس کے مندرجہ ذیل پیرایہ بیان کے بارے میں کہتے ہیں کہ:
	’’وہ ایک پھول کو سورنگ سے باندھتا ہے۔ وہ دریا کو کوزے میں بند نہیں کرتا کوزے کے لیے دریا ہی بہا دیتا ہے۔ اس کے باوجود اس کی نثر اپنی دلکشی نہیں کھوتی۔ اس کا اسلوب مانا کہ مرصع اور مسجع ہے لیکن فسانۂ عجائب کی طرح دقیق، بوجھل اور ثقیل الفاظ سے زیر بار نہیں۔ بلکہ اس نے قافیوں، تشبیہوں اور استعاروں کے سہارے ایک آئینہ خانہ سجارکھا ہے۔ اس کا تخیل واضح اور برہین ہے۔ وہ معنی بندی اور معنی آفرینی کا قائل نہیں۔ لیکن وہ متواتر فقروں اور قافیوں کے بچھے ہوئے رنگین جال سے کسی خیال یا تصور کو لڑنے نہیں دیتا۔ مسجع اور مقفیٰ نثر خیال کے آزادانہ بہاؤ میں بلاشبہ معاونت کے بجائے رکاوٹ ہی ڈالتی ہے۔ لیکن وجہی نے جس قصہ حسن و دل کو سامنے رکھا وہ مسجع و مقفیٰ ہی تھا۔ ‘‘  
	سب رس کے چند خوبصورت اقتباس دیکھئے:
	’’کرامت کنے سو عقل نام۔ جکچھ دنیا میں ہوا سب عقل کا کام۔ عقل نے ہوا سب حلال ہوا اور حرام۔ عقل تی پکڑیا فرق خاص  ہور عام عقل تی دکھے۔ ہر ایک کا نا۔ نتیں تو کان تھا صبح ہور شام۔ شتیتہ ہورجام۔ پستہ و بادام۔ میساد و دام۔ صاحب غلام۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘  
	’’ناموس بادشاہ انوکوں دیکھج حال ملک سب چھوڑپا۔ کچھ نہ لوڑیا۔ قلندر ہوا۔ سمندر ہوا۔ فقیر ہوا۔ بے تدبیر ہوا۔ اسیر ہوا۔ غمزہ کے ہات میں سنپڑیا۔ ناموس نے عشق میں ناموس گنوایا۔ لکھیا تھا سوا پڑیا۔ ‘‘
	انتہائی برمحل الفاظ کا استعمال اس نثر کو باغ و بہار بنادیتا ہے جگہ جگہ زبان کے جواہر پارے، قرآن و حدیث کی آیات، کہاوتوں اور ضرب الامثال اس کتاب کی دلکشی کا سبب بنتے ہیں۔ ڈاکٹر گیان چند اس ضمن میں کہتے ہیں کہ:
	’’یہ نثر ہی کیا کم باغ و بہار ہے کہ اس پر جابجا وجہی نے اردو اور شعر اور بعض جگہ برج بھاشا کے دوہے بھی مستزاد کیے ہیں۔ نثر میں بھی جابجا فارسی و عربی اور اردو قول اور ضرب الامثال سے کام لیا ہے۔ غرضیکہ اسلوب ہو کہ موضوع وجہی کسی مقام پر بند نہیں ہے وہ اردو کے کسی انشاء پرداز سے پیچھے نہیں رہتے۔ اردو نثر کی ابتدائی صدیوں کے تاریکی میں ’’سب رس‘‘ روشنی کے مینار کی طرح دور تک ضو پاش اور جلوہ بار ہے۔ ‘‘  
	غرضیکہ تمام ناقدین نے بھی مانا ہے کہ وجہی ایک عظیم انسان کے ساتھ عظیم منصف بھی تھے۔ اردو ادب کے افق پر تابناک ستا رہ تھے۔ اردو انشائیہ کے موجد تھے۔ کسی صورت میں وہ مونتین اور بیکن سے کم نہیں ہیں۔ جو ہمارے لیے باعث مسرت ہے اور مشرقی ادب کے لیے باعث وقار ہے۔ 

سب رس میں انشائیہ کے عناصر

	جس طرح مغرب میں آج سے ۳۶۵ برس پہلے مونتین اپنے قلم سے انشائیہ نگاری کے گل بکھیر رہے تھے۔ اسی زمانے میں ہمارے دکن کا ایک عظیم ادیب بھی اسی روش پر اپنے قلم کو جنبش دے رہا تھا اور سب رس کو دنیا سے متعارف کروا رہا تھا۔ رس، لغوی معنی عرق۔ رقص میں جذباتی حرکاتی شکل رقص میں نورس ہوتے ہیں۔  ۱) شانتی  ۲) شرنگارا  ۳) رودرا  ۴) ویرا  ۵)اوبھاشا  ۶) ہنیا  ۷) ردھ بھوتا  ۸) کرونا  ۹) بھیانکا  ان ہی تمام نورس کو لے کر سب رس لکھی گئی۔ کہتے ہیں کہ جب ہوا چلتی ہے تو ہر جگہ یکساں اپنے لمس کے نقوش چھوڑتی ہے۔ انشائیہ نگاری بھی ہوا کی ترنگ کی طرح ہی تھی۔ یہ جب مغرب سے شروع ہوئی تو مشرق میں بھی اپنی جولانی کو منتشر کرتی چلی۔ داستان گوئی کے دور میں ایک داستان گو حاضرین کو اپنے قصے بڑے دلچسپ انداز میں بیان کرتا ہوا اردو ادب میں دبے پاؤں داخل ہو گیا۔ لیکن اس کی داستان سابقہ داستانوں کی طرح نہیں تھی اس کے برعکس اس کا قصہ بار بار ٹوئسٹ لیتا تھا۔ اس کے منظر بار بار بدلتے تھے۔ پڑھنے والوں اور سننے والوں کو اپنے ذہن کی ڈور میں کئی جھٹکے دے کر تخیل کی اڑان بھرتی نظر آتی تھی۔ الفاظ ایسے جیسے جنگل میں چھپے خرگوش کا شکار کر رہے ہوں۔ الفاظ کی کمند ایسی کہ جب خرگوش مل جائے تو اسے بھون کر کھانے کی بجائے اس کے ساتھ کھیلا جا رہا ہو۔ بسا اوقات اسلوب کی شگفتگی اور حسن نکھارنے کی کوشش میں اپنی ذلت کے عریاں ہونے کا بھی ڈر لگا ہو۔ تخیل کے سمندر میں زوردار سر اٹھاتی موجوں پر الفاظ کی کشتی اپنی زندگی کو بکھیرنے میں کامیاب نظر آتی ہے۔ محبت اور خلوص ایسا کہ پڑھنے والے کو لگے کہ ارے یہ تو میرا اپنا بھائی ہے جس سے کئی سال پہلے میں بچھڑ گیا تھا۔ اب ملاقات ہونے پر اپنے تجربات بیان کر رہا ہے اور مجھے زندگی کے نشیب و فراز سمجھا رہا ہے۔ نصائح و پند کی ایسی ہلکی چٹکیاں جو گراں بھی نہ گزرے اور ایسا لگے کہ کہنے والا وجد کے عالم میں ہمیں اپنی انگلی تھامے دشوار گزار راستوں سے سنبھال کر ہموار زمین پر لا کر چھوڑ رہا ہو۔ اس کی داستان میں کہیں کہیں لگتا ہے کہ وہ خود کلامی کر رہا ہو۔ اپنے آپ سے باتیں کرتا ہوا وہ ذہن میں بکھرے قوس قزح کے رنگ کو شگفتہ تحریر کا جامہ پہنا کر پیش کر رہا ہو۔ ‘‘
	اس سلسلے میں جاوید وششٹ کہتے ہیں کہ:
	’’ہمارے نقادوں کی آتش دل اتنی بلند نہ تھی ورنہ انہیں سب رس کے قصے میں پوشیدہ اردو انشائیہ کا شعلہ ضرور نظر آتا جو برق خرمن صد کوہ طور سے کم نہ تھا۔ ‘‘
	یعنی پہلے بیان کی گئی خصوصیات کی روشنی میں جاوید وششٹ کا یہ کہنا کہ سب رس کے قصے میں پوشیدہ اردو انشائیہ کا شعلہ بالکل صحیح ہے بالکل کئی جگہ تو ملا وجہی آج کے انشائیہ نگاروں کو بھی مات دیتے نظر آتے ہیں۔ خاص طور پر ذہنی لذت اور جذبا ت کی ترجمانی اتنی خوبی سے سب رس میں دکھائی دیتی ہے کہ ہم خود کو ایک نئی دنیا میں محسوس کرتے ہیں۔ 
	اس ضمن میں پروفیسر وی ستیاراجا نے اپنے ایک انگریزی مضمون میں (لذت) رس کی جو تشریح کی ہے اس کا حوالہ ڈاکٹر رفیعہ سلطانہ نے اپنی کتاب اردو نثر کا آغاز و ارتقاء میں دیا ہے اور اس کا اردو ترجمہ یوں پیش کیا ہے:
	’’(ذوق) رس وہ جوہر ہے جس سے ہم صناعت کے کسی نمونے کو جانچتے پرکھتے اور محظوظ ہوتے ہیں۔ یہ لذت ذہنی ہوتی ہے اور پڑھنے والے کو جذبات اور تناسب کی اس دنیا میں پہنچا دیتی ہے جہاں وہ اپنے گرد و پیش کے مادی تناظر سے بے خبر ہو کر روحانی تلذذ حاصل کرتا ہے۔ جو موکش (نفس مطمئنہ) سے مشابہ ہے۔ تعینات سے گزر کر اس کی ہستی فرد کی حیثیت سے ختم ہو جاتی ہے۔ وہ محسوسات کے مطالعہ میں ایسا کھو جاتا ہے کہ ان کا دائرہ وسیع سے وسیع ہوتے ہوتے ان آفاقی حقائق کا احاطہ کر لیتا ہے جو خود اس کی ہستی کے بنیادی عناصر ہیں اور تھوڑی دیر کے لیے وہ خود بھی جملہ حیات اور تمام کائنات کا ایک جز بن جاتا ہے۔ ‘‘  
	اس تشریح اور وضاحت کی روشنی میں یہ پتہ چلتا ہے کہ وجہی اپنی نثری خصوصیات اور صلاحیتوں سے بخوبی واقف تھے۔ اس لیے انہوں نے اپنی اس تخلیق کو ’’سب رس‘‘ کا نام دیا۔ خاص طور پر نثر میں نظم کو سمونا اور ایسی لچک پیدا کرنا کہ دونوں ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم لگیں۔ اور ادب کے فلک پر ماہ و خورشید کی طرح محسوس ہوں کہ دونوں کی خوبصورتی اور حسن بھی کائنات کی زینت بنے اور دونوں کی ضرورت بھی کائنات کو محسوس ہو۔ یہ صرف ملا وجہی کا ہی خاصہ تھا۔ 
	یہ مثالیں ملاحظہ ہوں۔ 
غرض بھوت نادر نادر باتاں بولیاں ہوں 
دریا ہو کر موتیاں رولیا ہوں 
اس دریا میں غوطہ لگائیں گے تو جاگا جاگا کہ غواصاں موتیاں پائیں گے  
	’’فرہاد ہو کر دونوں جہاں نے آزاد ہو کر دانش کے تیئے سوں پہاڑاں الٹایا تو یو شیریں پایا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جتنے کنگار کرتے ہیں گن، اسی باغ تے لیں گے پھول چن چن۔ جس کے دماغ میں پھول کی باس جاوے گی تازی ارواح تن میں آئے گی۔ ‘‘  
	وجہی کے پاس پلاٹ اور کردار بھی جاندار ہیں۔ شیریں فرہاد کے کردار رہتی دنیا تک جاندار رہیں گے اور پلاٹ تو عشق پر مبنی ہے۔ عشق کا پلاٹ کبھی بے جان ہو ہی نہیں سکتا۔ اگر اسے بے جان سمجھا جائے تو ایسا ہو گا جیسے زمین کا محور اپنی جگہ سے کھسک گیا ہو۔ یہ کائنات آدم کے عشق میں ہی تخلیق ہوئی ہے۔  ہر دور میں یہ زندہ رہے گا اور ہر دور میں اسے عزت و احترام کے ساتھ ہی تخلیق کار دیکھیں گے۔ ہر وقت ہر دور میں یہ پرانی شراب نئی بوتل پائے گی اور اپنا نشہ دوگنا کرتی جائے گی۔ اس بات کو وجہی نے بھی بخوبی سمجھا تھا۔ اس لیے وہ پرانے اور قدیم پلاٹ اور کرداروں کی بھی الفاظ کے خوبصورت موتی میں پرو کر سامنے لائے تھے اور اسی وجہ سے پھر پرانی شراب نے نشہ دوگنا کر دیا اور اردو ادب کے افق پر ’’سب رس‘‘ ایک درخشندہ ستا رہ بن کر آنکھوں کو خیرہ کرنے لگا۔ 
	وجہی کی طبیعت میں خیالات کا انوکھا پن اور جدت تھی۔ مجذوب کی بڑ نہیں تھی۔ اسی جدت کو وہ قائم رکھتے ہوئے انوکھے انداز میں پیش کرنا چاہتے تھے۔ اس دھن میں ان کا مقابلہ غواصی سے ہوتا رہا۔ کبھی وجہی نے غواصی پر طنز کیا تو کبھی غواصی نے وجہی کو اپنا نشانہ بنایا۔ 
	وجہ یہ تھی کہ دونوں بھی محمد قلی قطب شاہ کے قریب اور منظور نظر ہونا چاہتے تھے۔ یہاں پہلے وجہی بازی مار گئے۔ محمد قلی قطب شاہ کے عہد میں وجہی ملک الشعراء بن گئے۔ بعد میں عبداللہ قطب شاہ نے غواصی کو بھی اعلیٰ مرتبہ دیا۔ غواصی ملک الشعراء کے ساتھ ساتھ شاہی سفارتخانوں کے بھی اہم رکن بن گئے۔ شاعری میں مقابلہ دونوں کا برابر کا تھا۔ وجہی نے ’’قطب مشتری‘‘ جیسی شاندار مثنوی لکھی تو غواصی نے ’’سیف الملوک‘‘ و ’’بدیع الجمال‘‘ جیسی شاندار مثنوی تخلیق کر کے اردو ادب کے خزانے میں اضافہ کیا۔ لیکن جب وجہی کی جدت پسند طبیعت نے اور منتشر خیالات کو اپنی شگفتہ تحریر میں ڈھال کر ’’سب رس‘‘ کی صورت میں پیش کیا تو غواصی اس کا مقابلہ نہ کرسکے کیونکہ وہ نثر کے میدان میں مہارت نہیں رکھتے تھے۔ یہ الگ بات ہے کہ اس کا انتقام انہوں نے وجہی سے سیاسی میدان میں لیا۔ 
	عبداللہ قطب شاہ کے توسط اور قربت کی وجہ سے وجہی کو گمنامی کے اندھیرے میں ڈھکیلنے کی کوشش کی گئی۔ اس وقت کے مؤرخ ملا نظام الدین احمد نے اپنی تحریروں میں غواصی کی اہمیت کو ضروری سمجھا۔ اس میں خود اس کی اپنی بھی مفاد پرستی شامل تھی یا ہوسکتا ہے کہ بادشاہ کے اقرباء کی باتوں اور مرضی کے مطابق ہی اپنے قلم کو جنبش دینا چاہتے تھے۔ ان سیاسی حالات کو وجہی کیسے نہ بھانپ لیتے۔ بدلتے وقت اور انسانی نفسیات کا گہرائی سے مطالعہ کرنے والا ہی انشائیہ کی تحریر کرسکتا ہے۔ انہوں نے ان سیاسی حالات اور رقیبوں کی بساط کو بہت جلدی سمجھ لیا اور ’’سب رس‘‘ لکھ کر اپنے قلم اور ذہن سے ایسا جواب دیا کہ رہتی دنیا تک اپنا نام ’’پہلے انشائیہ نگار‘‘ کی صورت میں محفوظ کر لیا۔ آج غواصی کو لوگ اتنا نہیں جانتے جتنا ملا وجہی کی تحریروں سے انہیں جانتے ہیں۔ مثال ملاحظہ ہو۔ 
	’’شاید کدھیں کوئی عاشق پھرے ٹک تلجلے، ٹک چر پھرے، ٹک مستی چھرے، ٹک تر پھرے ہور سمجھے کہ ان کا عاشق کامل نے کیا بولیا ہے۔ کس کس جاگا پر کیسے کیسے بھید ان کھولیا ہے۔ ہم گلاب میں آبلوج گھولیا ہے۔ ہم مانک موتی پرو لیا ہے۔ ‘‘ 
	اس مثال سے صاف ظاہر ہے کہ وجہی نے حالات کو سمجھ کر ہی مانک موتی پرونے کی بات کہی ہے۔ مفاد پرست اور لالچی لوگوں کے درمیان رہ کر و اپنی تخلیقی قوت کو گھٹتے دیکھ کر افسردہ رہتے تھے۔ انہیں اس زمانے میں اپنی خودی اور حیثیت کو منوانے کے لیے بہت مقابلہ کرنا پڑا۔ وہ جانتے تھے کہ وہ اپنے عہد سے بہت پہلے پیدا ہو گئے ہیں اس لیے اپنے اطراف جاہلوں کی موجودگی برداشت نہیں کرسکتے تھے۔ ان کی فنکارانہ نا آسودگی انہیں بے چین رکھتی تھی۔ یہ المیہ ہر دور میں ذہین فنکاروں کے ساتھ ہوتا رہا۔ وقت اور حالات، اطراف و اکناف میں بسے لوگوں کے ذہنوں کے ساتھ نا مطابقت ایسے لوگوں کو ہر وقت اور ہر عہد میں پریشان کیے رہتی ہے یہ واقعی وہ لوگ ہوتے ہیں جو کئی سال پہلے یا صدی پہلے پیدا ہو جاتے ہیں۔ ان کی نظر وہ دیکھتی ہے جو دوسرے نہیں دیکھ پاتے۔ ان کا ذہن براق کی مانند پرواز کرتا ہے جبکہ ان کی ہمعصروں کا ذہن زمین پر کچھوے کی مانند چلتا ہے۔ نتیجتاً وہ افسردہ، پژ مردہ، شکستہ حال ہو جاتے ہیں۔ لیکن وہ یہ نہیں جانتے کہ یہی افسردگی، یہی پژمردگی، یہی شکستہ حالی فنکارانہ شاہکاروں کی تخلیق کا سبب بنتی ہے۔ 
	ایک جگہ وجہی نصیحت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ:
اگر تو ہے فہم دار، اپنی ریج نکومار
یوں بات دل میں رکھو مرداں کی یادگار

دانا ہمارا ہے ہمارا حکم اس پر چلیگا۔ دانا ہمنا رہنما
کر جانے گا ہادی ہے کر پچھانے گا
	وجہی کی باتوں میں، تحریروں میں وہ اسلوب حسن اور وہ شگفتگی نظر آتی ہے کہ جس کی کہیں نظیر نہیں ملتی۔ اگر یہ سب کچھ نہ ہوتا تو سب رس انشائیہ نہ ہو کر ایک دردناک داستان بن کر رہ جاتی۔ لیکن وجہی کی تحریروں میں پند و نصیحت کے ساتھ ساتھ اسلوب کا حسن اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ یہ انشائیہ ہی ہے جس میں قوس قزح کے کئی رنگ بھرے پڑے ہیں۔ انشائیہ نگار کی امتیامی خصوصیت یہی ہے کہ وہ قاری کو اپنا گہرا دوست سمجھتا ہے۔ اسے اس بات کی آزادی ہے کہ وہ اپنے دوست کے ساتھ اپنے غم کا مداوا کرے۔ اس کے گوش گزار اپنے تجربات کرے۔ کیا ہم اپنے دوستوں سے گفتگو کرنے کے دوران ایک ہی قسم کی باتیں کرتے ہیں ؟ یا دو دوستوں کے درمیان ہونے والی گفتگو کا موضوع ایک ہی ہوتا ہے؟ ہرگز نہیں ہے نا؟ یہ گفتگو دیوان خانے سے نکل کر محلے میں جاتی ہے وہاں سے نکل کر سماج یا معاشرہ پر چوٹ کرتے کرتے ملک کے طبعی اور سیاسی حالات پر پھبتیاں کستے کستے آخرت اور عاقبت کے اندیشوں میں گھر کر پند و نصائح کرتی ہوئی واپس ڈرائنگ روم آ جاتی ہے۔ بالکل اسی طرح وجہی نے بھی قاری کو اپنا دوست بنا کر آپ بیتی اس کے ساتھ بانٹی ہے۔ 
	وجہی نے اپنے انشائیے یا تحریر کو خوش رنگ اور تازہ پھولوں سے تشبیہ دی ہے اور خود کو اس کا موجد بھی بتایا ہے۔ یہ ان کے جدید خیال اور شگفتہ تحریر کی عکاسی ہے۔ اسی بناپر جاوید وششٹ نے کہا کہ:
	’’اردو انشائیہ انگریزی سے نہیں آیا۔ ہمارا انشائیہ کلیتاً ہمارا انشائیہ ہے۔ ‘‘
	جاوید وششٹ کی بات سے مشرقی ادبی حلقوں میں خوشی کی لہر دوڑ جانی چاہیے کہ ہمارے پاس بھی ایک ایسا نثر نگار تھا جو بین الاقوامی ذہن کے ساتھ چل سکتا تھا۔ واقعی ملا وجہی ہی انشائیے کے بانی ہیں۔ ان سے پہلے کسی نے اس قسم کی تحریر نہیں لکھی ہے۔ یہاں پر چند اعتراضات سامنے آتے ہیں۔ نور السعید اختر انہیں پہلے انشائیہ نگار تسلیم نہیں کرتے۔ ماہنامہ ادیب میں ڈاکٹر سیدہ جعفر لکھتی ہیں کہ ملا وجہی کی تحریریں انشائیہ نہیں بلکہ ’’انشائیہ نما‘‘ ہیں۔ 
	’’سب رس چونکہ ایک تمثیل تھی اس لیے وجہی کو رمزیہ اشاروں کی ذریعہ حیات انسانی کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالنے اور اپنی انشاء پردازی کے جوہر دکھانے کا اچھا موقع تھا۔ چنانچہ سب رس میں تصوف، ریا، حسن اور عقل کی تعریف میں جو عبارتیں ملتی ہیں انہیں انشائیہ نما تحریریں کہہ سکتے ہیں۔ ‘ ‘
	یہاں اگر ڈاکٹر سیدہ جعفر کی بات کو اگر تھوڑی دیر تک سچ مانا جائے تو ادب میں جتنی بھی اصناف ہیں تمام کو ’’نما‘‘ کہنا ہو گا۔ مثلاً پہلے ڈرامہ کو ’’ڈرامہ نما‘‘ پہلے ناول کو ’’ناول نما‘‘ پہلے افسانہ کو ’’افسانہ نما‘‘ پہلی داستان کو ’’داستان نما‘‘ پہلی نظم کو ’’نظم نما‘‘ پہلی غزل کو ’’غزل نما‘‘ پہلی رباعی کو ’’رباعی نما‘‘ پہلی تثلیث کو ’’تثلیث نما‘‘ پہلی قطعہ کو ’’قطعہ نما‘‘ وغیرہ وغیرہ کیونکہ کوئی بھی صنف چاہے وہ کسی بھی زبان و ادب سے تعلق رکھتی ہو وہ پوری طرح واضح ہونے میں کئی سالوں، دہائیوں کا عرصہ لگاتی ہے۔ تب کہیں جا کر ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ وہ صنف ہے جس کے نقوش ہمیں فلاں کے پاس ملتے ہیں۔ مطلب یہ کہ کسی تناور درخت کی معمولی سی جڑ کو ہی اصلی جڑ سمجھا جائے چاہے وہ کتنی ہی مڑی تڑی، پیچیدہ حالات میں ہی کیوں نہ ہو۔ 
	سب رس میں موجودہ انشائیہ کے عناصر کے رنگوں میں چند مندرجہ ذیل خصوصی رنگ نظر آتے ہیں۔ 
	کئی ماہرین رائے کے مطابق ہم یہ دیکھ چکے ہیں کہ انشائیہ کی تحریر سچائی اور صداقت کا تقاضا کرتی ہے اور جہاں سچ کی بات ہوتی ہے وہاں کسی بناوٹ یا تصنع کا گمان نہیں کیا جا سکتا۔ لاگ لپیٹ کے بغیر ہونے والی گفتگو یا تحریر میں خود بخود اپنا حسن نکھر کر سامنے آتا ہے۔ جو دیر پا بھی ثابت ہوتا ہے۔ وجہی کے انشائیوں میں باتیں یا تحریریں ایسی محسوس ہوتی ہیں جیسے وہ سامنے بیٹھے ہوئے ہم سے گفتگو کر رہے ہوں۔ گفتگو بھی ایسی جیسے وہ ہمارے بے تکلف دوست ہیں اور اپنی زندگی کے نشیب و فراز ہمیں بتا رہے ہوں۔ مندرجہ ذیل مثالوں کو دیکھئے جن میں بلا کی سادگی، حسن پایا جاتا ہے۔ 
’’اگر منگتا ہے غم کوں مارتے تو شراب پی۔ اگر منگتا ہے جفا تیرے انگے ہارے غافل خدا دیا سو مال اپنا آپے کھانا ہور اپنا ناؤں آپے جگانا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘ 
	’’اے چیز سبحان! انسان کو ہنستا نکو جان۔ اگر خدا کو پچھاننے منگتا ہے تو انسان کو پچھاننا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘
	انشائیہ کی دوسری خوبی ہم دیکھتے ہیں کہ اس کی تحریر میں کم الفاظ میں زیادہ مطلب ہو۔ ملا وجہی کے پاس یہ بات بدرجۂ اتم پائی جاتی ہے۔ ان کی تحریریں اپنے اندر بہت گہرا اور وسیع مفہوم رکھتی ہیں۔ عقل پر مبنی ان کی یہ تحریریں دیکھئے۔ 
	’’عقل نور ہے۔ عقل کی دوڑ بہوت دور ہے۔ عقل ہے تو آدمی کہواتے۔ عقل ہے تو خدا کوں پاتے۔ عقل اچھے تو تمیز کرے برا اور بھلا جانے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘ 
	جہاں وجہی نے طویل مفہوم بیان کیا ہے وہاں بھی وہ اپنے مقصد کے مرکز پر ہی کھڑے دکھائی دئیے۔ ایسا بالکل محسوس نہیں ہوتا کہ مضمون کی طوالت غیر ضروری ہے بلکہ وہ تحریریں ضروری اور جامعیت سے بھری لگتی ہیں۔ عشق کے بارے میں وجہی کے خیالات اور مضمون کے دائرے میں الفاظ کی گردش کو محسوس کیجیے۔ 
	’’عشق میانے میان آیا۔ پچھیس کاں کا اقرار۔ عشق لگے بغیر دل لگتا نہیں۔ عشق کا لذت ایسا ہے جو ہرگز دل بہلتا نہیں۔ عشق میں دکھ۔ عاشق کون اتنا سکھ۔ جاں دو جیو ہوتے ہیں راضی واں دل کی کھلتی ہے بازی۔ ‘‘  
	ایک اچھے انشائیہ نگار کی پہچان ہے اس کا گہرا مشاہدہ۔ اور یہ تب ہی ممکن ہوسکتا ہے جب اس کی نفسیاتی شناخت اعلیٰ پائے کی ہو۔ ایک ماہر نفسیات کی طرح وہ ہر فرد کی نفسیاتی جانچ اور مشاہدہ کے بعد ہی اپنی بات کہے۔ تب ہی وہ کامل انشائیہ نگار کہلا سکتا ہے۔ ملا وجہی کے پاس ہم ہر فرد کی نفسیات کی جھلک بخوبی پاتے ہیں۔ عاشق اور معشوق کی نفسیات۔، شوہر اور بیوی کی نفسیات، عورت کی نفسیات، سوتن کی نفسیات، مطلبی اور مفاد پرست لوگوں کی نفسیات، مشرک یا بے نمازی کی نفسیات وغیرہ وغیرہ۔ کمال کی بات تو یہ ہے کہ ملا وجہی اس کے ساتھ ساتھ اپنی ذات کو بھی منکشف کرتے نظر آتے ہیں۔ جب وہ اپنے تجربات کا اظہار کرتے ہیں تو محسوس ہوتا ہے کہ وہ اپنی ذات کے پر تول رہے ہیں اور ہمیں بھی اس کا نظارہ دکھا کر عیش لوٹ رہے ہیں۔ عورت پر ان کا خوبصورت نفسیاتی تجزیہ دیکھئے۔ ساتھ ہی اس میں یہ بھی محسوس ہوتا ہے کہ ان تجربات سے ملا وجہی گزرے ہوں۔ جیسا کہ تاریخ بتاتی ہے کہ ملا وجہی رنگین مزاج، حسن پرست اور شاعرانہ فطرت کے مالک تھے۔ شاہی دربار سے منسلک تھے اور کئی بیویوں کے شوہر تھے۔ 
	’’عورت عجب ہے شکر۔ ولے اس شکر میں تمام بھرے ہیں مکر۔ بولے ہیں کہ شر شیطان نے، مکر زنان تے۔ ۔ ۔ ۔ انو کون سمجھانے کسی عاقل کو نیں مل۔ ناداں ذات انو کوں تلوے میں بل سمج کرنیں کرتیاں کام۔ کھول بولے جی نیں ہوتا فام۔ ‘‘  
	ایک انشائیہ نگار بڑا گہرا وقت شناس ہوتا ہے۔ حالات پر اس کی گہری نظر بنی رہتی ہے۔ اسی لیے وہ وقت کے تقاضوں کو پورا کرنے کا اہل ہوتا ہے۔ ملا وجہی میں یہ خاصیت ہمیں ہر جگہ نظر آتی ہے۔ وہ وقت کے تقاضوں پر کھرے اترنے والے تھے۔ ان کے خود کے تجربات نے بھی انہیں وقت کے دھارے کی نبض شناس بنا دیا تھا۔ یہ ضروری بھی تھا۔ کیونکہ شاہی دربار سے تعلق رکھنے والا فرد اگر حالات پر نظر نہ رکھے تو وہ نہایت آسانی سے دشمنوں کا شکار ہوسکتا تھا۔ اس کے علاوہ ملا وجہی دربار سے منسلک ہونے کی وجہ سے دور قطب شاہی کے تمام اتار چڑھاؤ کو بھی انہوں نے اپنے انشائیوں میں جگہ دی۔ بادشاہ اور رعایا کے تعلقات، رعایا اور زمانے کے تعلقات، سماج اور مذہبی عقائد و رسومات غرض ہر چیز پر ملا وجہی نے وقت کو سمجھا اور آنے والے وقت کے تغیرات کے طور طریقوں کی طرف بھی اشارہ کیا۔ 
	جہاں انشائیہ نگار ایک دوست کی طرح ہم سے گفتگو کرتا ہے وہیں دوسری طرف وہ اپنی باتیں کرتے کرتے اپنی ہی دنیا میں کھو بھی جاتا ہے۔ اس کا یہ انداز خود کلامی دیوانے یا مجذوب کی بڑ نہیں لگتا۔ بلکہ قاری اسے پڑھنے یا سننے میں پہلے سے زیادہ منہمک ہو جاتا ہے۔ ملا وجہی بھی اپنے ذاتی تجربات، قصے اور واقعات سناتے سناتے ہیں نصیحت کرنے لگتے ہیں۔ اس وقت ہمیں محسوس ہوتا ہے کہ ارے یہ تو اپنا ہی کوئی بزرگ و خیر خواہ ہے۔ جب وہ تصوف پر گفتگو کرتے ہیں تو کسی صوفی سے کم محسوس نہیں ہوتے۔ عرفان الٰہی پر ان کا انشائیہ دیکھئے:
	’’اگر خدا کوں پچھاننے لگتا ہے تو انسان کو پچھان جند کا جسم سو بند ہے۔ بند میں جند ہے۔ جنے اپنے باپ کے بن کوں دیکھیا۔ اونے اپنے چند کون دیکھیا۔ آپس میں جائیگا تو آپس کوں دیکھے گا۔ اپنی ماہیت معلوم ہوئے گی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘ 
	وجہی کے انشائیے میں موضوع میں نئے رنگ اور جمالیاتی حسن کے خزانے نظر آتے ہیں۔ ایک طرف عشق حقیقی ہے تو اس تک پہنچنے کے لیے عشق مجازی کا خوبصورت اور حسین راستہ ہے۔ عشق کے عرفان تک پہنچنا مقصود ہو تو رند کا سہارا بھی ضروری سمجھا گیا ہے۔ عشق و محبت میں وصال اور فراق کی بھی اہمیت بتائی گئی۔ جہاں ہجر کی بات ہوئی وہاں صبر اور استقامت کے سوتے پھوٹتے دکھائی دئیے۔ صبر کے پیچھے ہی طلب اور سخاوت اپنی ہمت کے ساتھ انسانی فطرت کو بے نقاب کرتے نظر آئے۔ بادشاہ کی نوکری، چاپلوسی، سخن شناسی، مکاری، مفاد پرستی، مذہبی خیالات، خود داری، غرض یہ کہ انسان میں پنہاں تمام فطری راز خود کو بے پردہ کرتے ہیں۔ یہی خاصیت ملا وجہی کو انشائیہ نگار سمجھنے پر مجبور کرتی ہے۔ 
	مندرجہ ذیل مثال اس بات کی مزید وضاحت کرے گی جب ملا وجہی ہم سے کہتے ہیں کہ:	
	’’اگر کسی میں سخن شناسی ہور اسرار دانی ہے تو یو کتاب گنج العرش بحر المعانی ہے۔ جیتا کوئی طبیعت کے کواڑ کھولے گا۔ اس کتاب میں نین سو بات کیا بولے گا۔ جو کچھ آسمان ہو زمین میں ہے سو اس کتاب میں ہے۔ جو کچھ دینا ہو، زمین میں ہے سو اس کتاب میں ہے۔ ‘‘ 
	بہترین انشائیہ نگار اپنے قلم کی آزادی پسند کرتا ہے۔ اس کی تحریر سے کسی کی دل آزاری بھی نہیں ہوتی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ اپنی تمام گفتگو صداقت کے دائرے میں رہ کر کرتا ہے۔ جہاں حق ہوتا ہے وہاں نڈر پن اور بے باکی ضرور ہوتی ہے۔ اس لیے انشائیہ کی تحریر میں قلم کی بے باکی لازم تصور کی جاتی ہے۔ حق کا حسن اس کی تحریر سے عیاں ہونا ضروری ہے۔ اس لیے اپنی سچ بات کہنے سے انشائیہ نگار ڈرتا نہیں ہے۔ ملا وجہی کا قلم بہت آزاد اور بے باک ہے۔ کیونکہ وہ صد فیصد حق پر قائم ہے۔ ہر موضوع اور آنے والے کسی خطرہ کی پرواہ کیے بغیر وہ آگے ہی آگے بڑھتا چلا جاتا ہے۔ اور اس کے قلم کے تیر راست قاری کے سینے میں پیوست ہوتے چلے جاتے ہیں۔ کمال تو یہ ہے کہ ان تیروں سے قاری کو تکلیف نہیں ہوتی بلکہ یہ تیر اس کے سینے میں موجود فرسودہ مادہ یعنی خیالات کو نکال کر اس کا ناسور ختم کر کے بھلا چنگا محسوس کراتے ہیں۔ 
	یہاں اپنے دل کی بات کتنی بے باکی سے ملا وجہی کہہ رہے ہیں دیکھئے:
	’’عشق کے شہر میں، پرت کے نگر میں معشوق و ہیچ جو عاشق کوں پیار کرے عاشق پر اپکار کرے۔ عاشق کے دل کو گلزار کرے نہ کہ بیزار کرے۔ خوا ر کرے عشق ناپاکاں کنے شراب جاتا تو پاک ہوتا۔ پاکاں گنے آتا تو پاک ہوتا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ شراب حسن کا زینا ہے۔ مئے خانہ عشق کا مدینہ ہے۔ عاشق کی عبادت حسن دیکھنا، راگ سننا، شراب پینا ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جوں شراب کا اثر بتوں بادشاہوں کا پیار۔ ایسے پیار کوں کیا اعتبار۔ تل میں اترے تل میں چڑھے۔ ‘‘  
	جب سب رس کی تحریر پوری ہوئی تو ملا وجہی کی عمر تقریباً ۸۷ برس تھی۔ اس لیے ان کے تمام تجربات کا نچوڑ ہمیں ان کے وسیع نظریہ فکر بھی نظر آتا ہے۔ خیالات کی جدت موضوع کا تنوع اور وسیع نظریۂ فکر ہو تو انشائیہ کی تحریر سونے پر سہاگہ نظر آتی ہے۔ وہی انشائیہ کی تخیلی اڑان ہے۔ جہاں قاری کو لگتا ہے کہ وہ بھی انشائیہ نگار کے ساتھ آسمانوں کی سیر کسی طلسمی قالین پر بیٹھ کر اس کی شیریں گفتگو سن رہا ہو۔ کبھی وہ اس دنیا میں ہوتا ہے تو کبھی سمندر پر پرواز کرتا ہے تو کبھی سنگلاخ پہاڑیوں پر سے گزرتا ہے۔ ساتھ ہی وہ اپنے اندر تخیل کی ندرت، خیالات کی بلند پروازی، زندگی کے مسائل و تجربات پر خوش اسلوبی کے ساتھ سیر حاصل بحث کر کے اس کی فکر و گہرائی کو بھی سمجھتا ہے۔ یہی تمام باتیں ملا وجہی کے پاس موجود ہیں۔ ان کی تحریر میں فکر کی گہرائی غضب کی نظر آتی ہے۔ اور اپنا ذہن نہ صرف چودہ طبق بلکہ ہزاروں طبق کو روشن کرتا نظر آتا ہے۔ ذہن و دل کے دریچے کھلتے ہی چلے جاتے ہیں۔ ہر دریچہ ایک نیا ہی منظر دکھاتا ہے۔ جیسا کہ اوپر بتایا گیا کہ ملا وجہی اپنے وقت سے بہت پہلے پیدا ہوئے۔ انہوں نے اس دور میں مستقبل کی باتیں کہہ کر اپنا وسیع نظریہ فکر پیش کیا۔ 
	ان کے فکر کا انداز اور تخیل کی پرواز اس تحریر میں محسوس کیجیے:
	’’عجیب تماشے دستے ہیں۔ تماشے تماشے کا خیال ہوتا ہے۔ انسان کوں کہ عقل ہور نظر ہے اس عالم کی جز ہے۔ اس عالم نے اس عالم میں جانا۔ اس عالم نے اس عالم میں آنا۔ یو سب اپس پنچ ہے تو اپس میں دستا، بھارنیں۔ توں جانتا اچھے گا دسری ٹھارنیں۔ بھار اچھنا تو تجے کیوں دستا۔ ‘‘  
	ملا وجہی نے بہترین انشائیہ نگار کی طرح ہر چیز کو نئے نظریہ سے دیکھنے کی کوشش کی ہے۔ اس کوشش میں وہ کامیاب بھی رہے ہیں۔ نہایت عمدگی سے وہ اپنا جدید نظریہ پیش کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔ اس میں بہت ہی سلیقہ اور نکھار محسوس ہوتا ہے۔ اپنے سلیقہ پر ملا وجہی کو خود فخر ہے جو ان کی اس تحریر سے محسوس ہوتا ہے۔ 
	’’اتانوی باٹ پاڑیا۔ گاڑیا سو گنج کارڈیا کچ نیں تھا سولیا پا۔ باٹ دکھایا۔ ‘‘
	یہ بات اور ہے کہ خود پر فخر نہیں کرنا چاہیے۔ لیکن یہاں پر ملا وجہی کا فخر نہایت مناسب معلوم ہوتا ہے۔ کیونکہ اس دور میں ان نئے موضوعات پر اس طرح کی تحریریں کہیں اور نہیں ملتیں۔ یہ صرف ملا وجہی جیسے قابل اور دانا آدمی کے ہی بس کی بات تھی۔ داستانوں، حکایتوں کے تمثیلی دور میں اس طرح کی نئی انوکھی تحریر ملا وجہی کے ہی بس کی بات تھی۔ کرداروں کا نفسیاتی تجزیہ صرف وہی کرسکتے تھے۔ قاری کے لیے دو ٹوک حق بات کہنا یہ کسی ہمت والے اور جیالے کے ہی بس کی بات تھی۔ خیالات کا انوکھا پن یہ صرف وہ ہی کرسکتے تھے۔ کیونکہ وہ اس دور میں آنے والے دور کی نشانیوں کو بخوبی سمجھ سکتے تھے۔ اپنی جدت کو پیش کرنا بھی اس دور میں ہمت کا کام تھا۔ بادشاہوں کے دور میں حق کہنا بھی گویا اپنے پیروں پر کلہاڑی مارنے کے مترادف تھا۔ لیکن جس عمدگی اور سلیقے سے، اپنی خودداری اور انا کا پاس بھی رکھتے ہوئے ملا وجہی نے صداقت اور حق کی بات کہی ہے تو ایسا بالکل نہیں لگتا کہ یہ جمہوریت اور سیکولرازم کی باتیں اسی جمہوری دور میں کی جا رہی ہوں۔ 
	کردار نگاری میں وجہی نے نہایت جدت سے کام لیا ہے۔ داستان میں جس طرح جاندار اور ظہور پذیر اجسام ہی کردار کا چغہ پہنتے تھے اس کے برعکس ملا وجہی نے عشق، دل، نظر، شراب وغیرہ کو کردار بنا کر ان سے گفتگو کی ہے۔ یہ نئی سوچ و فکر انہیں مونٹین کے برابر لا کھڑا کرتی ہے۔ 
	قاری کو ذہنی سکون بھی دینا ایک انشائیہ نگار کا فرض ہے۔ ملا وجہی کے انشائیے قاری کے ذہن کو تھکے ہوئے بوجھل لمحات سے دور مسرت آفرین اور انبساطی سرور بخشتے ہوئے حسین دنیا میں لے جاتے ہیں۔ ان کی تحریر میں کسی قسم کی اکتاہٹ محسوس نہیں ہوتی۔ ہر تحریر میں مسرت و انبساط کا ٹھاٹیں مارتا سمندر نظر آتا ہے۔ جس کی موجوں پر قاری خود کو تیرتا ہوا محسوس کرتا ہے۔ تحریروں کے درمیان اصل موضوع سے وجہی کبھی نہیں ہٹتے۔ اگر ایسا بھی ہو تو جہاں اس کی ضرورت ہو تب ہی ہمیں اس نئی چیز کا احساس کراتے ہیں۔ الفاظ پر قدرت اتنی کہ وہ نئی چیز اصل موضوع سے جڑی ہوتی ہے۔ ہر تحریر پڑھنے والے کو نئی تازگی اور قوت بخشتی ہے۔ 
	ملا وجہی نے خود کی ذات کو بھی منکشف کیا ہے۔ اور نفسیات کے ماہر کی طرح دوسروں کے جذبات اور احساسات کی بھی بخوبی ترجمانی کی ہے۔ ملا وجہی یہ اس لیے کرسکے کہ وہ عمدہ و اعلیٰ پایہ کے شاعر بھی تھے۔ اس لیے ان کے انشائیوں میں داخلیت و غنائیت نظر آتی ہے۔ جو ان کے انشائیوں میں چار چاند لگاتی ہے۔ ان کی مسجع و مقفیٰ تحریر میں ایک نئی ترنگ پیدا کرتی ہے۔ سب رس کی سب سے بڑی خوبی مجھے یہی محسوس ہوتی ہیکہ ایک ادیب، شاعر، موسیقار یا آرٹسٹ کے تمام فن ہمیں سب رس میں ہی نظر آتے ہیں۔ اگر وجہی کے انشائیے ایک بہترین گلوکار سے گوائے جائیں تو بہترین لے و طرز کے ساتھ نئے نغمے وجود میں آئیں گے۔ موسیقی اور سروں کی دنیا کے سات سر کا احساس بھی ملا وجہی نے اپنی تحریر کے ذریعے کروایا ہے۔ اس مثال کو دیکھنے کے بعد ہر کوئی میری اس بات سے اتفاق کرے گا۔ 
	’’عشق عاجز۔ عشق توانا۔ عشق دانا۔ عشق و دانا۔ عشق اپنے رنگ میں آپی کھلتا۔ 
	عشق اپس پر اپی بھلتا
	عشق کے چالے کون سنبھالے 
	دوسری مثال دیکھئے۔ 
خدا کی عجب ہے شوکت ہو رشاق بچارا
انسان یاں حیران واں بی حیران  
	کہاوتوں، مقولوں اور حدیثوں و آیتوں کے استعمال میں بھی ملا وجہی نے قافیے اور ردیف کا التزام ملحوظ خاطر رکھا۔ 
	’’بے حد اس کی صفت کوں کا ہے حد۔ اللہ صمد لم یلد ولم یولد۔ ‘‘
	’’جس کے نور نے عالم نے پایا روشنی لولاک سما خلقت الافلاک کا دھنی۔ ‘‘
	’’بات یوں بی آئی کہ جانتے کا کر انجانتے کا بھائی۔ ‘‘
	’’فارسی میں یوں بولتے ہیں کہ کوڑپر داسٹے ہیں فراموشی جواب ابلہاں خاموشی۔ ‘‘
	ان کی شاعرانہ خوبیوں کی وجہ سے نثر میں بھی نظم کی سی کیفیت پیدا ہو گئی ہے۔ 
	انشائیے کی ان تحریروں کو دیکھئے یہ بالکل اشعار معلوم ہوتے ہیں۔ 
۱۔  پیرت پتلی کیوں کھڑتی۔  نانوں تی مستی کیوں چڑتی
۲۔ یو مستغنی دو محتاج۔  یو سب شوخی و دسب ناز
۳۔ باس تے پھول نے شرف پایا۔  باس تے پھول پھول کہوایا
۴۔ فتوا ٹوٹیا، حرکت بھاگی۔  دوشمنی سوتی، دوستی جاگی
	ملاوجہی کے انشائیے اپنی بیان کی گفتگو میں سب سے آگے بازی مار گئے۔ دل و دماغ کو تازگی بخشنے والی ان کی تحریر، تھکے ہوئے ذہنوں کو طاقت و توانائی بخشنے والی ان کی یہ تحریر تا دم قیامت اپنی شگفتہ بیانی کے لیے جانی اور پہچانی جائے گی۔ ہر لفظ قاری کو ایک نیا اور لطیف احساس دیتا ہے۔ یہی ایک بہترین انشائیہ نگار کی پہچان ہے۔ جو اپنے قاری کو اپنی زبان اور الفاظ کے بندھن میں ایسا جکڑلے کے اسے گراں بھی نہ لگے۔ سب رس میں یہ خوبی بدرجہ اتم موجود ہے۔ اتنے سالوں بعد آج بھی ان تحریروں میں جان ہے۔ ایسے پھولوں کی مانند جو کبھی مرجھاتے نہیں اور کبھی اپنی خوشبو کھوتے نہیں۔ خود ملا وجہی اس بات سے اتفاق کرتے ہیں۔ تب ہی تو کہتے ہیں۔ 
	’’یورنگ رنگ کے پھول سرنگ مقبول۔ سب کسے بھاتے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘
	بات سے نئی بات پیدا کرنا، کڑی سے کڑی جوڑ کر موضوع کی زنجیر بنانا یہ ایک اچھے انشائیہ نگار کی علامت ہے۔ سب رس میں یہ موجود ہے۔ ہر جگہ ملا وجہی نے ربط قائم رکھتے ہوئے بات سے نئی بات پیدا کی ہے۔ قاری کو وہ اپنی باتوں میں لگا کر دور تک کا سفر کرا لاتے ہیں اور بخیر و خوبی اسے واپس اس کے گھر بھی پہنچا آتے ہیں۔ 
	ملا وجہی خود ایک ماہر نفسیات، مؤرخ، عالم، فلسفی اور مذہب کی بہترین و گہری معلومات رکھنے والے تھے۔ وہ جتنا شاعری کرسکتے تھے اتنا ہی اس پر لکھ بھی سکتے تھے۔ جتنے مذہبی افکار اور خیالات رکھتے تھے اتنا ہی تصوف پر بھی لکھ سکتے تھے۔ جنسیات کو جتنا ضروری خیال کرتے تھے۔ بے باکانہ انداز میں اسے تحریر بھی کرسکتے تھے۔ قرآن و حدیث پر گہرا مطالعہ رکھنے کے ساتھ ہی اقوال بزرگان دین اور حکایات بھی انہیں ازبر تھیں۔ کئی زبانوں پر عبور حاصل تھا۔ کئی زبانوں کے دانشوروں کی مشہور نگارشات کا مطالعہ کر چکے تھے۔ ان کی اس قابلیت کی وجہ سے انہیں ’’ملا‘‘ کا لقب عطا کیا گیا تھا اور وہ واقعی اس کے حقدار تھے۔ ان کی تحریروں میں مختلف حوالے ان کی علمیت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ 
	انشائیہ نگار کی خاصیت اس کی روانی ہے اور یہ تب ہی ممکن ہے جب اسے زبان و بیان پر قدرت حاصل ہو۔ ملا وجہی کو زبان پر کافی عبور حاصل تھا اس سے ظاہر ہے کہ وہ لسانیات پر بھی قادر تھے۔ ان کی روانی، صاف و شفاف ندی کی طرح بل کھاتی بہتی جاتی ہے۔ ملا وجہی کی زبان جہاں صاف ستھری اور چست تھی وہیں اس میں کہاوتوں کی جھلک ایسی محسوس ہوتی ہے جیسی اندھیری رات کی خوبصورتی میں فلک پر چمکتے ستارے۔ بہت ساری سطروں میں تو انہوں نے اتنی صفائی سے الفاظ کی گرہ باندھی ہے کہ وہ خود ضرب المثل محسوس ہونے لگے ہیں۔ بقول حمیرہ جلیلی:
	’’زندگی کے وسیع تجربے کی روشنی میں ملا وجہی نے ایسے نکات بیان کیے ہیں اورایسی چست زبان استعمال کی ہے کہ جگہ جگہ ’’سب رس‘‘ کے جملے ضرب الامثال معلوم ہونے لگتے ہیں۔ ‘‘ 
	ان سطور کو پڑھنے کے بعد تو ہوسکتا ہے کہ اس دور میں یہ کئی کی زبانوں پر چڑھ بھی گئے ہوں۔ 
	’’ست ہستی بادشاہ ہو رباگ۔ یو تینوں ایک جنس کی آگ۔ ‘‘
	’’پانی میں سو چشمے پر گئے تو کیا پیاس جاتی ہے۔ ‘‘
	’’عاقل آنگے تیج جانتا۔ نادان پچھیس تی پچھانتا۔ ‘‘
	’’مشہور ہے کہ جدھر ہنڈی ڈوئی۔ ادھر سب کوئی۔ ‘‘
	سب رس جیسی طویل کتاب کے مختلف موضوعات کو یکجا کر کے انشائیہ بنا لیے گئے ہیں جو تقریباً ۴۱ ہیں۔ ہر موضوع پر ملا وجہی نے لکھا ہے۔ کسی پہلو کو انہوں نے تشنہ نہیں رکھا۔ یہاں پر تقریباً ۲۰ مختلف موضوعات دئیے جا رہے ہیں جو بہترین انشائیے کہلانے کے حقدار ہیں۔ 
	جیسا کہ میں نے شروع میں ملا وجہی کو ’’دکن کا بیکن‘‘ کہا ہے۔ سب رس کی تمام خوبیاں دیکھنے کے بعد سب اس نام سے ضرور اتفاق کریں گے۔ محمود شیروانی اپنے مضمون میں کچھ اس طرح لکھتے ہیں۔ 
	’’۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ عربی اور فارسی کی کتابوں کے ساتھ مونٹین کی فرانسیسی کتاب ’’ایسینر‘‘ کو بھی شامل کر لیا جائے تو وجہی کی انشائیہ نگاری اردو کی نمائندگی ہی نہیں کرتی بلکہ عالمی سطح پر بھی مسلم ہو جاتی ہے۔ ‘‘  
	بہرکیف ملا وجہی کی سب رس ایسے گلستان کی مانند ہے جس میں ہر رنگ و بو کے خوبصورت پھول کھلے ہوں۔ ایسا جنگل جس میں سر سبز وادی صاف و شفاف ندی اور آبشاروں کی ترنگیں ہوں۔ شاہین کے پروں پر پرواز کرتے ہوئے انسانی وجود ہوں۔ مٹی کے وہ مجسمے ہوں جن کی بناوٹ پر دل فریفتہ ہو جائے۔ چھونے سے وہ بول پڑیں۔ نغمے ایسے کہ زبان سے اترنے کا نام نہ لیں۔ جذبات کو سروں کا ساتھ ملے تو وہ حسین پری کی شکل و صورت اختیار کر لیں۔ عشق ایسا کہ ساری حدیں پار کر جائے۔ ایمان و عرفان ایسا کہ خدا کی تلاش میں سر پٹکتا ہوا انسان نظر آئے۔ جسم و روح کے رشتے ایسے کہ دونوں ریل کی پٹری کی طرح دکھائی دیں۔ ساتھ ساتھ تو چلیں مگر کبھی ملیں نہیں۔ رشتوں کے بندھن ایسے کہ مضبوط گر ہیں بھی کھل جائیں اور عقل و تصور کی تخیلاتی اڑان ایسی کہ سات سمندر پار چلی جائے۔ 
	الغرض سب رس کی نثری سادگی اور بے تکلفانہ انداز گفتگو اور اس کی رنگینی کو دیکھتے ہوئے تمام ناقدین اپنی اپنی رائے ظاہر کر کے بھی اس کی عظمت کا اعتراف کرتے نہیں تھکتے اور اسے ایک حسین تحریر اور شاہکار کا درجہ دیتے ہیں۔ اسے اسلوب کی ترقی کی اہم منزل مانتے ہیں۔ اس کی ادبی چاشنی کا اعتراف کرتے ہیں۔ نظم و نثر کا نیا ملا جلا سنگم بھی سمجھتے ہیں۔ کئی بار انہوں نے ملا وجہی کی علمیت اور قابلیت کا بھی اعتراف کیا ہے۔ اردو ادب میں تمثیل کا موجد بلاشبہ ملا وجہی ہی کو سمجھا گیا ہے۔ تمام نے اس بات کو قبول کیا کہ ملا وجہی نے شگفتگی اور سلاست کا دامن نہیں چھوڑا۔ تمام موضوعات اپنے اندر ایک دلنشین دنیا پوشیدہ کیے ہوئے ہیں۔ اس وسیع گلستان کی کئی مختلف راہیں اپنی رنگ برنگی کی وجہ سے مسافر کی دلچسپی کو برقرار رکھتی ہیں اور مسافر اس دنیا میں کھو جانا چاہتا ہے اور نہیں چاہتا ہے کہ وہ منزل مقصود تک پہنچے۔ اس طرح کی یہ تحریر کسی اور صنف میں نہیں مل سکتی۔ یہ صرف انشائیہ ہی کا میدان ہے جہاں سے قاری نکلنا نہیں چاہتا بلکہ اس کے ہموار اور ناہموار راستے پر خود کو سفر کے لیے پیش کرتا ہوا نظر آتا ہے۔ 

انشائیہ:  نیرنگ خیال کے حوالے سے

	ناقدین محمد حسین آزاد کی تصنیف نیرنگ خیال کو انشائیہ کے حوالے سے ایک سنگ میل کی حیثیت سے گردانتے ہیں یہ حقیقت ہے کہ رمزیہ اور تمثیلی رنگ کے مالک محمد حسین آزاد اردو ادب کے بڑے انشاء پردازوں میں شمار کیے جاتے ہیں۔ ان کے مضامین پر مغرب اور انگریزی ادب کے دبیز رنگ کی چادر چڑھی رہتی ہے۔ ایڈیسن اور جانسن کی عکاسی کرنے والے ان کے مضامین نہایت جاندار ہیں۔ نیرنگ خیال میں ان کے مضامین کا ترجمہ اصل سے بڑھ کر محسوس ہوتا ہے۔ جس کے تعارف میں مالک رام نے بھی اس کا اعتراف کیا ہے۔ سیدہ جعفر نے ایک نئے زاوئیے سے ان کے مضامین پر روشنی ڈالی ہے۔ لکھتی ہیں :
	’’نیرنگ خیال کے تمام انشائیے انگریزی مضامین کا چربہ معلوم ہوتے ہیں۔ آغاز آفریشن میں دنیا کا کیا رنگ تھا اور رفتہ رفتہ کیا ہو گیا۔ جانسن کے مضمون دی الگارک ہسٹری آف ریسٹ اینڈ لیبر (The Allegoric Hostory of Rest and Labour) کا اور سچ جھوٹ کا رزم نامہ (Truth Falsehead and ..................) گلشن امید کی بہار کا پرتو ہیں۔ اسی طرح نیرنگ خیال کے دوسرے مضامین ایڈیسن سے خوشہ چینی کے غماز ہیں مثلاً ’’تیسری زندگی‘‘ (Voyage of Life) ’’عظمت اور ذکاوت کے مقابلے‘‘ (An Allegory of Wit and Learning) ’’آدمی کسی حال میں خوش نہیں رہتا‘‘-  
	ان کے علاوہ اس وقت مغرب میں ایڈیسن، اسٹیل، گولڈ اسمتھ اور جانسن اپنا جادو بکھیرنے کے بعد ہندوستان میں بھی اپنا سکہ جمانے میں کامیاب رہے تھے۔ ظاہر سی بات ہے کہ آزاد بھی اپنی جادو بیانی کے لیے مشہور تھے وہ کیسے پیچھے رہتے۔ اپنی برجستگی، بے تکلفی اور تمثیلی انداز بیان سے انہوں نے پوری روانی کے ساتھ اپنے انشائیے پیش کیے تو ہندوستان کے ایڈیسن بن گئے۔ اس بات پر ’’گلشن امید کی بہار‘‘ میں ان کا یہ انداز ملاحظہ کیجیے:
	’’یکایک آنکھ لگ گئی دیکھتا ہوں کہ میں ایک باغ نو بہار میں ہوں۔ جس کی وسعت کی انتہا نہیں۔ امید کے پھیلاؤ کا کیا ٹھکانہ ہے۔ آس پاس سے لے کر جہاں تک نظر کام آتی ہے تمام عالم رنگین و شاداب ہے۔ ہر چمن رنگ و روپ کی دھوپ سے چمکتا، خوشبو مہکتا ہوا اسے لہکتا نظر آتا ہے۔ زمین فصل بہار کی طرح گلہائے گوناگوں سے بر قلموں ہو رہی ہے اور رنگارنگ کے جانور درختوں پر چہچہے بھر رہے ہیں۔ ‘‘ 
	اسی طرح آزاد کا انداز مغرب و مشرق کا حسین افق نظر آتا ہے۔ جہاں انشاء پردازی کی زمین اور تحریر کے اسلوب کے فلک کی کوئی انتہا نہیں۔ مشرق کی تشبیہات و استعارات کی دلکشی، الفاظ میں ساز کا تصور اور خیال کی سادگی میں مغربیت کی جھلک اسلوب کی جدیدیت و انفرادیت والی آزاد کی انشا پردازی ادب کا بہترین سرمایہ ہے۔ دراصل خالص انشا پردازی کی بنیاد آزاد ہی نے ڈالی ہے۔ آزاد سے پہلے بھی انشاء پردازی کا وجود ملتا ہے مگر اس انشاء پردازی کی صرف تاریخی اہمیت ہوسکتی ہے۔ اس کی ادبی اہمیت مشکوک ہے۔ اولین انشاء پرداز ہونے کا سہرا آزاد کے سر ہونے کی وجہ سے ان کی نثر میں جو رعنائی اور دلربائی ہے وہ کسی اور میں نہیں۔ آزاد عربی کے ثقیل فقروں کو استعمال کرتے ہیں اور نہ انگریزی کے بلا ضرورت لفظوں کو اپنی نثر میں جگہ دیتے ہیں بلکہ وہ فارسی کی شراب اور ہندی کا رس شامل کر کے پڑھنے والے کو ہم کیف و سرور کی موجوں میں غوطے کھانے پر مجبور کرتے ہیں۔ ان کے پاس ایک خاص قسم کی خیالی اور اجتماعی فضا پائی جاتی ہے۔ آزاد کی یہ دنیا ان کی اپنی دنیا ہے۔ وہ اسی دنیا میں سانس لیتے ہیں اور اسی دنیا میں چلتے پھرتے ہیں دراصل آزاد ملک خیالستان کے باشندے ہیں۔ بعض مقامات پر آزاد نے اپنے تخلص کو ضمیر متکلم کی جگہ پر استعمال کیا ہے۔ یہ طرز ادا بھی آزاد کے خیالستان کی ایک جھلک ہے وہ اپنے دور کے سب سے بڑے مینا کار اور مرصع نگار ہیں۔ اس وصف میں کوئی دوسرا ان کا شریک نہیں۔ زبان کی نزاکت، بیان کی لطافت، تشبیہ اور استعارے کی رنگینی اور تراکیب کی شگفتگی جس قدر آزاد کے یہاں قدم قدم پر ملتی ہے دوسرے نثر نگاروں کے یہاں ملنا مشکل ہے وہ اس انداز سے چھوٹے چھوٹے چبھتے ہوئے فقرے تراشتے ہیں کہ ان کو ’’آذر سخن‘‘ کا لقب زیب دیتا ہے۔ ’’آب حیات‘‘ میں ان کی حسین انشاء پردازی نظر آتی ہے۔ ایک بنجر زمین میں پھول کھلانا آزاد کا ہی کام ہے۔ برج بھاشا پر عربی اور فارسی زبان نے کیا اثر ڈالے؟ اس خشک موضوع پر انہوں نے ایران کی محفل سجا کر ہمارے سامنے پیش کر دیا۔ شب و شبستان مئے اور میخانہ اور گل و گلزار کے سیکڑوں جلوے ہماری نظروں کے سامنے کوند جاتے ہیں اور اس سے زیادہ لطف وہاں آ جاتا ہے جہاں بھاشا کا انشاء پرداز برسات میں اپنے باغ لگاتا ہے اور جہاں کالی گھٹائیں جھوم جھوم کر اٹھتی ہیں اور جہاں سیاہی میں سارس اور بگلوں کی سفید قطاریں بہار دکھاتی ہیں۔ آزاد کی انشاء پردازی کے یہی جوہر شعراء کے مختلف ادوار کی ادبی خصوصیت کو بیان کرتے وقت بھی نمایاں ہو جاتے ہیں۔ یوں تو ہر شخص کے منہ میں زبان ہے اور ہر شخص بات کرتا ہے مگر بات سے بات پیدا کرنا صرف آزاد ہی کا کام ہے۔ یہی باتیں دوسرے انشاء پرداز سادہ انداز میں کہہ جاتے ہیں۔ 
	’’آب حیات‘‘ پر مختلف لوگوں نے اعتراضات کیے ہیں اور آزاد کی سوجھ بوجھ اور قوت تحقیق سے انکار کیا ہے جیسے حبیب الرحمان خان شیروانی نے ’’مقدمہ نکات الشعراء‘‘ میں، مولوی عبدالحق نے ’’مقدمہ ذکر میر‘‘ میں، مرزا فرحت اللہ بیگ نے ’’انشاء‘‘ میں، حامد حسن قادری نے ’’داستان تاریخ اردو‘‘ میں اور مولانا عبد الحئی نے ’’گل رعنا‘‘ میں کیے ہیں۔ اگر یہ اعتراضات کسی بھی حد تک صحیح ہوں تو بھی آزاد مکمل انشاء پرداز ضرور ہیں ہمیں ان کی انشاء پردازی کو تسلیم کرنا ہی ہو گا۔ 
	آزاد کی انشاء پردازی کا رنگ ’’آب حیات‘‘ سے زیادہ ’’نیرنگ خیال‘‘ میں جھلکتا ہے۔ دراصل یہاں ان کی شعور اور ان کا فن معراج پر پہنچ گیا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ نیرنگ خیال میں ان کو اپنے عالم خیال کی جھلک دکھانے کا زیادہ موقع ملا ہے۔ اس کتاب کے حصہ اول میں آٹھ تمثیلی مضامین ہیں جو جانسن اور ایڈیسن کے انگریزی مضامین سے ماخوذ ہیں۔ چونکہ مضمون نگاری میں تنقیدی، تحقیقی اور تاریخی شعور کی زیادہ ضرورت نہیں پیش آتی ہے اس لیے آزاد کو اس وادی میں جولانی دکھانے کا پور موقع ملا ہے۔ 
	آزاد کی انشاء پردازی کا رنگ ’’دربار اکبری‘‘ میں بھی جھلکتا ہے۔ اس کتاب میں آزاد نے اکبر کے ذاتی حالات اور اس کے درباری امراء اور وزراء کی زندگی کے واقعات کو ایک دلچسپ انداز میں پیش کیا ہے۔ اگرچہ آزاد کا یہ دلچسپ انداز ان کی راہ میں رکاوٹ ڈالتا ہے اور ان کو ایک حقیقی مؤرخ بننے سے روکتا ہے کیونکہ تاریخ نگاری کے لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ سارے واقعات کو صداقت اور حقیقت کے ساتھ بیان کیا جائے اور تشبیہ و استعا رہ سے حتی الامکان گریز کیا جائے۔ مگر چونکہ آزاد کی طبیعت پر ہمیشہ انشاء پردازی کا رنگ غالب رہتا ہے اس لیے وہ تاریخ میں بھی افسانہ کا رنگ بھر دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ دربار اکبری میں ایک مؤرخ سے زیادہ ایک انشاء پرداز نظر آتے ہیں۔ یہی حال ’’سخن داں فارس‘‘ کا ہے۔ 
	اس کتاب میں بھی تحقیق کی بہ نسبت انشاء پردازی سے زیادہ کام لیا گیا ہے۔ آزاد کی رنگینی اور شگفتہ بیانی تحقیق کے میدان میں بھی ان کے ساتھ چلتی ہے۔ مگر ہم انہیں ایک کامل انشاء پرداز ضرور کہہ سکتے ہیں اور یہی انشاء پردازی ان کے لیے حیات ادبی کی ضامن ہے۔ 
	آج کے زمانے میں آزاد کی تحریریں سرسید اور حالی و شبلی کی زبان کی طرح ہمارا ساتھ چاہے نہ دے سکیں لیکن ادب سے لطف حاصل کرنے کے لیے ہمیں ان کی تحریر کا مطالعہ ضرور کرنا پڑے گا۔ ان کی انفرادیت اسی میں ہے کہ انہوں نے ذہنی بیداری میں زبان کے ذریعہ اہم خدمات انجام دیں۔ دیگر معاصرین کے مقابلے میں آزاد کی تخلیقات زیادہ پائیدار ہیں کیونکہ وہ ہمارے تخیل اور ذوق کے لیے باعث کشش ہیں۔ انہوں نے ماضی کے افسانوں اور واقعات کو اس طرح اجاگر کیا ہے کہ ہم انہیں واقعی اپنی آنکھوں کے سامنے رواں دواں پاتے ہیں۔ اس لیے جو باتیں آزاد کو آج جاذب توجہ بناتی ہیں کل بھی ان کو جاذب توجہ بنائے رکھیں گی۔ وہ باتیں چاہے الفاظ کے طوطا مینا بنانے کی ہی کیوں نہ ہوں وہ محض اپنی انشاء پردازی کے بل بوتے پر بھی اتنے اہم ہیں کہ اتنا اس عہد کا دوسرا کوئی اور مصنف اہم نہیں ہے۔ ادب کے فروغ میں ان کا یہ تعاون گراں مایہ ہے۔ محمد صادق نے اپنی کتاب ’’احوال و آثار‘‘ میں آزاد کی علمی قابلیت کا کئی جگہ اعتراف کیا ہے اور مستقبل میں ہمیشہ ان کے اس بیش بہا سرمایہ سے استفادہ حاصل کرنے کی بات کہی ہے۔ 
	جیسا کہ ہم نے دیکھا کہ ایک بڑی غلط فہمی یہی تھی کہ انشائیہ ایک مضمون کی طرح ہی ہوتا ہے۔ بعض نے تو ’’طرح‘‘ کی بجائے سے صاف الفاظ میں مضمون کا ہی نام دیا۔ لیکن دیکھا جائے تو دونوں اصناف ایک دوسرے سے بہت مختلف ہیں۔ اب ہم اپنے اگلے باب میں اسی فرق کو واضح کریں گے۔ 
٭٭٭




باب دوم: انشائیہ ایک منفرد اسلوب نگارش


	بیسویں صدی میں دوسری اصناف ادب کی طرح نثر میں بھی نئی سمتوں اور نئے رجحانات کا پتہ چلتا ہے۔ صدی کی ابتداء سے حال تک نثر میں مختلف تجربے کیے گئے ہیں۔ چنانچہ تنقید و تاریخ، سیرت و خود نوشت کے علاوہ فن انشائیہ نگاری میں بھی ایسے نمونے ملتے ہیں جو انگریزی نثر میں بھی نئے اضافے ہیں۔ جمہوریت کے فروغ اور نئی نسل کے تقاضوں نے ادب میں خاص اور نثر میں بالخصوص سادگی کی طرف جو میلان عام کر دیا ہے وہ کسی اور دور میں اس حد تک ممکن نہیں تھا۔ انگریزی ادب کی موجودہ صورت حال پر ایک طائرانہ نظر ڈالی جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ موجودہ انگریزی نثر میں ہمیں بیکن کی بلیغ اور لیمب کی قدیم نثر کم ملتی ہے۔ آج انگریزی نثر بول چال کی زبان سے جس قدر قریب ہے ویسا پہلے نہیں تھا۔ سترہویں اور اٹھارویں صدی میں براؤن، ملٹن اور جانسن جیسے ادیب عام بول چال کی زبان سے مادر اللغات استعمال کرتے اور بے کیف عبارت صحافیوں کے حصے میں رہتی لیکن آج صحافی رنگین اور با محاورہ عبارت سے زیادہ مانوس ہیں اور ادیب و انشاء پرداز سادہ مگر دلنشین عبارت لکھتے ہیں۔ یہ امر بھی کچھ کم دلچسپ نہیں کہ بیشتر انگریز ادیب صحافت کے راستے سے ادب میں داخل ہوئے اور اسی بناء پر ان کی ادبیت میں بھی صحافت کو بیشتر دخل رہا ہے۔ 
	بقول پروفیسر سید محمد حسنین کہ انشائیہ نگار اسیر موضوع نہیں۔ یہ اس کی منفرد شان ہے کیونکہ:
	He can catch hold of anything and can make something out of nothing.
	چلتی پھرتی زندگی کی ہر بات، ہر ادا اور ہر کیفیت اس کی زد میں آسکتی ہے۔ اپنی افتاد طبع اور شگفتہ کاری سے وہ بے بات کی بات میں ’’کچھ بات‘‘ پیدا کرسکتا ہے۔ 
	یہ ایک حقیقت ہے کہ زندگی کی تصویر ادب ہے اور ادیب زندگی کے سارے حقائق کی ترجمانی کا کام کرتا ہے۔ انشائیہ نگار بھی اپنی زندگی کے حقائق اور کیفیات کو بھٹکتی ہوئی زندگی میں پورا عکس دینے کی کوشش کرتا ہے۔ اپنا ما فی الضمیر وہ کوئی دوسری صنف میں اتنے بہتر طور پر بیان نہیں کرسکتا جتنا انشائیہ نگاری میں۔ کیونکہ انشائیہ نگاری میں شخصی تجربات، تاثرات اور ذاتی رجحانات اور ان کی رد عمل کی مؤثر اور دلکش مرقع کشی کی جاتی ہے۔ انشائیہ میں ادیب اپنی پوری آزادی اور بے تکلفی کے ساتھ اپنے تاثرات، تجربات اور احساسات بیان کرتا چلا جاتا ہے کیونکہ انشائیہ ادبی اصول و قوانین سے بڑی حد تک بے نیاز صنف ہے۔ بقول مشتاق قمر
	’’انشائیہ نگاری داخلی ابال کا خارجی اظہار ہے اور بیجا مقصدیت کے بوجھ سے آزاد ہے۔ ‘‘
مشتاق قمر
	انشائیہ کی تحریر ہر شعبے اور زندگی کے ہر موڑ سے تعلق رکھتی ہے اسے کوئی روک ٹوک نہیں ہے۔ وہ مکمل طور پر آزاد ہے۔ 
	تمام اصناف ادب میں انشائیہ کا ایک منفرد مقام ہے جس طرح ہم حیوان کی ایک قسم ہیں لیکن بالکل مخصوص اور منفرد قسم۔ قدرت کی اس عظیم کائنات میں ہمارا مرتبہ اور مقام انسان یعنی اشرف المخلوقات کا ہے یعنی دوسرے معنوں میں دوسرے تمام حیوانات سے برتر بالکل اسی طرح انشائیہ بھی دوسری تمام اصناف میں اپنی انفرادیت رکھتا ہے اس کی انفرادیت کی جڑیں ادب لطیف سے ملتی ہیں۔ اس لیے ہی اس کے دامن میں لطافت کے ساتھ ساری کڑواہٹ کو قاری کے سامنے پیش کرنے کی گنجائش ہے۔ جو دوسری اصناف سخن میں مشکل سے ہی ملتی ہے۔ ادب لطیف کو تحریر کی ایک خاص صورت یا ادب کی ایک خاص صنف خیال کیا جاتا ہے۔ بالخصوص انشائیہ کی صنف اپنے اندر کئی رنگ سمیٹے رکھتی ہے۔ ایک سمندر معلوم ہوتا ہے جسکی لہریں چڑھتی اترتی رہتی ہیں۔ اور قاری اس پر Surfingکر رہا ہوتا ہے۔ یہ لہریں اس کے دل کو ہی نہیں دماغ کو بھی ڈبکیاں کھلاتی ہیں۔ کبھی یہ لہریں لذت اضطراب بن جاتی ہیں اور کبھی تو شدید ہیجان خیز ہو جاتی ہیں۔ اس کائنات کا ہر فرد ایک مرکز سے بندھا ہے کیوں نہ ہو یہ زمین خود اپنے مرکز یعنی محور پر گردش کر رہی ہے۔ بالکل اسی طرح ادب کی دوسری تمام اصناف بھی اپنے مرکز کے گرد ہی گردش کرتی ہیں۔ لیکن انشائیہ کی تحریر مرکز سے خود کو منقطع کر کے اپنے لیے اور قاری کے لیے ایک نیا مرکز پیدا کرتی ہے اور ایک نیا ماحول اپنے اطراف جنم لینے لگتا ہے۔ یہی خاصیت نے انشائیہ کو ممتاز کر رکھا ہے۔ 
	اکبر حمیدی نے ڈاکٹر وزیر آغا کی تعریف برائے انشائیہ اپنے ایک مضمون میں لکھی کہ:
	’’انشائیہ ایک ایسی صنف نثر ہے جس میں انشائیہ نگار فکر جست کے ذریعہ بار بار ایک مدار سے دوسرے مدار کو چھوتا چلا جاتا ہے۔ ‘‘
	ہمیں بھی یہ تعریف بہت حد تک صحیح لگتی ہے۔ کیونکہ انشائیہ کی تحریر کے نئے نئے مدار(Orbit) قاری کو شروع سے آخر تک باندھے رکھنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔ اور یہ خاصہ صرف انشائیہ ہی کا رہا ہے۔ یہی اس کی کامیابی کی دلیل ہے۔ اس بات سے شاید کوئی اتفاق کرے یا نہ کرے لیکن یہ حقیقت روز روشن کی طرح واضح ہے۔ 
	ڈاکٹر سلیم اختر کی رائے کے مطابق انشائیہ کے اسلوب میں بلا کی لطافت اور شگفتگی ہوتی ہے اور قاری کے دلوں کو فرحت بخشتی ہے۔ میں اس رائے میں تھوڑا سا اضافہ اور کرنا چاہتی ہوں کہ انشائیہ کی تحریر لطافت کو شگفتگی کے ساتھ انسانی تجربات کو بھی بیان کرتی ہے اور وقت ضرورت ناصحانہ رویہ اختیار کر کے قاری کو بھی اپنی زندگی میں درپیش مسائل کو سلجھانے کے مواقع بھی فراہم کرتی ہے۔ 
	انشائیہ نے سیاسی، سماجی، نظریاتی، فلسفیاتی، کیفیاتی، جغرافیائی، تاریخی اور ادبیاتی غرض ہر میدان کے ہر گوشے کو اپنے آئینے کے پہلوؤں پر جگہ دی ہے۔ اس کی تحریر کے زاوئیے اپنے عنوان کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے فوراً بدلتے جاتے ہیں تاکہ قاری کو زیادہ سے زیادہ مواد کم سے کم الفاظ میں پڑھنے کو ملے۔ مجھے انشائیہ نگاری کی یہ منفرد اسلوب نگارش سب سے زیادہ پسند ہے۔ حالانکہ اکبر حمیدی اس بات سے اتفاق نہیں رکھتے وہ کہتے ہیں کہ 
	’’جس ماحول کا انشائیہ لکھا جائے اس کے ماحول کو تبدیل نہ کیا جائے مثال کے طور پر تاریخی انشائیہ لکھا جائے تو تاریخی مدار سے باہر نہ کیا جائے بلکہ اس کے گوشوں کی سیاحت کروائی جائے اور تاریخی ذائقے کو اول تا آخر بحال رکھا جائے۔ اسی طرح سیاسی، فلسفیانہ انشائیہ کو اس کے مخصوص ذائقے سمیت مکمل کیا جائے اور اس میں کوئی اور ذائقہ شامل نہ کیا جائے۔ ‘‘
	میرے نظریہ سے اگر ہم اکبر حمیدی کی اس بات کو تسلیم کر لیں تو انشائیہ کی تحریر کی شگفتگی، لطافت اور حسن اسلوب کو کھو دیں گے اسی بات کو پروفیسر سید محمد حسنین اپنی کتاب ’’انشائیہ اور انشائیے‘‘ میں کچھ اس طرح بیان کرتے ہیں کہ:
	’’انشائیہ میں محاضرات کا اہم مقام ہے یہ اسی قدر اہم ہے جتنی پر تکلف دسترخوان پر انواع و اقسام کی چٹنیاں۔ اس سے انشائیہ کی رنگا رنگی میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ ‘‘
	الغرض انشائیہ نگار کو اپنی تحریر میں ہر طرح کی آزادی ملنی چاہیے۔ ہر جگہ جا سکتا ہے اور سب کچھ کہہ سکتا ہے۔ یہی آزادی اسے مغرب میں ملی۔ جس کی وجہ سے اس نے وہاں بہت جلد ترقی کے منازل طے کیے۔ وہاں انشائیہ میں ایک طرح کی گفتگو ہے۔ جس میں لطف اور کشش کئی خوبیاں لیے ہوئے ہے۔ زندگی کے مسائل اور مراحل پر انشائیہ نگار کے مشاہدات اور تجربات کا دلنشین اظہار ہے۔ 
	محمد حسنین اپنی کتاب ’’انشائیہ اور انشائیے‘‘ میں انشائیہ نگاری کی  انفرادیت میں بہت خوبصورت اقتباس لکھتے ہیں :
	’’انشائیہ میں خیالات کی بے ترتیبی شرط ہے یہ بے ترتیبی مگر کسی میلا ٹھیلا کی کثرت و اژدہام نہیں۔ یہ بے ترتیبی نرسری اسکول کے ان خوش پوش بچوں کی بھاگ دوڑ پکڑ دھکڑ اور ہاہو کی وہ جولانی کیفیت اور ہیجان ہے جو گھنٹی بجتے ہی کلاس کے باہر برآمدہ یا صحن میں از خود قائم ہو جاتی ہے یا پھر رنگین و معطر ملبوسات میں ہنستے بولتے مرد و زن کا وہ شاداں و فرحاں مجمع ہے جو کسی مبارک تقریب میں نظر آتا ہے۔ ‘‘ 
	بالکل اسی طرح کی مسرت اور انکشاف کا حامل ہے وزیر آغا کا انشائیہ ’’موڑ‘‘۔ اس کا ایک خوبصورت اقتباس ملاحظہ کریں :
	’’میرے بائیں طرف وہ تمام منظر تھا جس سے میں ابھی ابھی گزر کر آیا تھا اور دائیں طرف نجانے کہاں سے ایک نیا اور پہلے سے کہیں زیادہ خوبصورت نظر ابھر آیا تھا اور ایک نگینے کی طرح شفاف چمکیلا اور دھلا دھلایا دکھائی دے رہا تھا۔ اور میں خود اس سنگم پر بیٹھا جسے اصطلاح عام میں ’’موڑ‘‘ کہتے ہیں ان دونوں مناظر سے لطف اندوز ہو رہا تھا۔ اس وقت پہلی بار مجھے موڑ کی اہمیت کا احساس ہوا اور میں مسرت اور انکشاف کی لازوال کیفیات سے چشم زدن میں گزرتا چلا گیا۔ ‘‘  
	وزیر آغا نے کتنی روانی اور بے باکی سے اپنے جذبات کے ہیجان کو قاری کے سامنے بیان کر دیا۔ وہ اپنے تجربات کو خوبصورت الفاظ دے کر انشائیہ نگاری کے تقاضوں کو پورا کرتے ہیں۔ شاید ان کی اسی خوبی کی وجہ سے انہیں انشائیہ کا باوا آدم کہا جاتا ہے۔ لیکن ڈاکٹر سلیم اختر اس بات کو نہیں مانتے۔ ان کی تصنیف ’’انشائیہ کی بنیاد‘‘ میں وہ لکھتے ہیں کہ:
	’’آج کل وزیر آغا زبردستی ہی صنف انشائیہ کے موجد بنے بیٹھے ہیں اور ان کے قصیدہ نگار بھی ان کی خوشنودی کی خاطر تاریخ ادب کے حقائق کو مسخ کرنے کی خاطر اپنے قلم سے گرد اڑا رہے ہیں۔ ‘‘
	اس طرح اور کئی جگہوں پر انہوں نے وزیر آغا کو بہترین اور اول انشائیہ نگار تسلیم کرنے سے گریز کیا۔ میں نے محسوس کیا کہ پروفیسر سید محمد حسنین بھی شاید ان سے اتفاق رائے رکھتے ہیں۔ انہوں نے اپنی کتاب ’’انشائیہ اور انشائیے‘‘ میں ڈاکٹر سلیم اختر کی تصنیف ’’انشائیہ کی بنیاد‘‘ کی دل کھول کر تعریف کی ہے اور اپنی کتاب میں جہاں انشائیہ نگاری کے ادوار کو الف ب ج میں منقسم کیا ہے وہاں دور جیم میں وزیر آغا کا بالکل بھی ذکر نہیں کیا ہے۔ اس بات سے یہ ثبوت ملتا ہے کہ وہ بھی ڈاکٹر سلیم اختر سے متفق ہیں لیکن اس بات کا کھل کر انہوں نے کبھی اظہار نہیں کیا۔ صرف کتاب کے آغاز میں ’’عرضِ حسنین‘‘ میں سرسری طور پر انہوں نے وزیر آغا کی خدمات کو ناقابل فراموش بتایا۔ 
	اسی طرح ڈاکٹر سیدہ جعفر ایک جگہ کہتی ہیں کہ:	
	’’انشائیہ وہ مخصوص قسم کی تحریر ہے جس میں شخصی تجربات، تاثرات اور ذاتی رجحانات اور ان کے رد عمل کی مؤثر اور دلکش انداز میں مرقع کشی کی جاتی ہے۔ ‘‘
	یہاں پر میں مشتاق یوسفی کے ایک انشائیہ کی تحریر کو یاد کرتی ہوں جس میں انہوں نے نہایت سادگی سے بہتر گہری بات کو پیش کیا تھا کہ:
	’’آج مجھے شیعہ نہ ہونے کا افسوس ہے۔ ‘‘
	یعنی شیعہ فرقہ ماتم کرتے کرتے اتنا ماہر ہو گیا ہے کہ جب چاہے اپنی آنکھوں میں آنسو لا سکتا ہے۔ لیکن ایک مسلک کے عقیدے اور اس کی آڑ میں فائدہ اٹھانے کی بات صرف انشائیہ نگاری کے دامن میں رہ کر ہی کہی جا سکتی ہے۔ دوسری اصناف سخن میں اگر ایسا کہا جائے تو سب کے گریبان چاک نظر آئیں گے۔ اس طرح کی تحریر صرف اور صرف انشائیہ نگاری کا ہی حصہ ہے۔ 
	جمیل آذر کی تحریر کی خوبی ان کے انشائیہ ’’شاخ زیتون‘‘ میں دیکھئے:
	’’میں علی الصبح دھندلکے کی چادر اوڑھ کر زیتون کے درختوں کے جھنڈ میں داخل ہوتا ہوں تو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بے کیف اور اکتا دینے والے ماحول سے نکل کر طور سینا کی بے کیف وادی میں سبک خرامی کرتا ہوں۔ ‘‘
	اس طرح کے الفاظ انشائیہ نگاری موتی پرونے کا کام کرتے ہیں۔ اور اپنے اختصار کے باوجود ساری کائنات کو قاری کے سامنے پیش کرتے ہیں۔ بقول جے۔ بی۔ فورٹن:
	’’انشائیہ نثر کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا ہے جس میں مصنف دنیا کے کسی موضوع کے باب میں اپنی ذات کا انکشاف کرتا ہے۔ ‘‘
	کچھ اسی طرح کا خیال محمد حسنین آزاد کے دیباچہ میں ملتا ہے جو انہوں نے ’’نیرنگ خیال‘‘ میں لکھا تھا۔ 
	’’زبان انگریزی بھی مضامین عاشقانہ قصہ و افسانہ اور مضامین خیالی سے مالامال ہے مگر کچھ اور ڈھنگ سے۔ اس کا اصل اصول یہ ہے کہ جو سرگزشت بیان کرے اس طرح ادا کرے کہ سامنے تصویر کھینچ دے اور نشتر اس کا دل پر کھٹکے۔ اسی واسطے خیالی پھول پتے اتنے ہی لگاتے ہیں جتنے اصل ٹہنیوں پر سجتے ہوں نہ کہ شاخ و شجر سب غائب ہو جائیں۔ فقط پتوں کا ڈھیر ہی رہ جائے۔ بیشک فن انشاء اور لطف زبان تفریح طبع کا سامان ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میں نے انگریزی انشاء پردازوں کے خیالات سے اکثر چراغ روشن کیا ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ انگریزی میں بڑے انشاء پرداز وہی کہلاتے ہیں جن کی چشم سخن ہر بات کے قصوں پر اشارے کرتی جائے۔ ‘‘
	انشائیہ اختصار کا دوسرا نام بھی ہے اور اردو ادب میں ایک شاعری ایک ایسی صنف ہے جس میں بھی دریا کو کوزہ میں سمویا ہوا دیکھا جا سکتا ہے۔ شاعر کا ہر شعر، ہر مصرعہ اور اس کی ہر سوچ کے کئی پہلو اس کے مصرعوں میں نظر آتے ہیں۔ بالکل اسی طرح انشائیہ کے چھوٹے نظر آنے والے جملے اپنے اندر سمندروں کی گہرائی، میدانوں اور ریگستانوں کی وسعت رکھتے ہیں۔ جگنو کی طرح نظر آنے والا لفظ اپنی بسیط تابناکی سے قاری کو روشنی کے بحر میں ڈبو کر چلا جاتا ہے۔ 
	’’انشائیہ اور انفرادی سوچ‘‘ میں جمیل آزر لکھتے ہیں۔ 
	یہ حقیقت ہے کہ ہر صنف ادب کے کچھ مبادیات و مقتضیات ہوتے ہیں جن کی بنا پر ہم اسے دوسری اصناف سے ممیز کرتے ہیں۔ مثلاً شاعری میں وزن اور آہنگ، داستان میں کہانی، ناول میں پلاٹ و کردار و کردار اور ڈرامہ اور سٹیج وغیرہ کے مقتضیات کا ہونا ضروری ہے۔ علیٰ ہذہ القیاس انشائیہ کے بھی کچھ بنیادی عناصر ہیں۔ جس طرح دیگر اصناف ادب میں سے کسی ایک کی بھی جامع و مانع تعریف نہیں ہوسکتی اسی طرح انشائیہ کی بھی قطعی تعریف مشکل ہے۔ تاہم جس طرح ہم دیگر اصناف کو دیکھتے ہی پہچان جاتے ہیں اسی طرح انشائیہ کو شناخت کرنے میں بھی بھی ہمیں کسی دقت کا سامنا نہیں ہونا چاہیے۔ لیکن پیشتر اس کے کہ انشائیہ کی تعریف کی جائے، یہ ضروری ہے کہ اس صنف ادب کے آغاز اور ارتقاء پر ایک طائرانہ نظر ڈال لی جائے۔ 
	سولھویں صدی کے ربع آخر میں مونتین (Montaigne) پہلا مفکر ادیب ہے جس نے اس صنف ادب کا آغاز بڑے ڈرامائی انداز سے کیا۔ یہ عجیب اتفاق ہے کہ جس طرح اور ادبی تحریکات کا شرف فرانس کو حاصل ہوا اس ادبی تحریک کا شرف بھی اسی کے حصہ میں آیا۔ مونتین دنیاوی کاروبار سے سبکدوش ہو کر زندگی کے آخری ایام گوشۂ عافیت میں گزار رہا تھا۔ اسے غور و فکر کے لیے وافر وقت حاصل تھا۔ یہی غور و فکر اس کی معرکہ آراء کتاب کی اشاعت کا باعث ہوا جسے وہ ایسیز (Essais) کے نام سے معنون کرتا ہے۔ وہ اپنے قارئین کو انتباہ کرتے ہوئے کہتا ہے کہ ’’اس کتاب میں میرے پیش نظر شخصی اور ذاتی زندگی کے سوا کچھ نہیں۔ میں نے ایسیز (Essais) دوستوں اور عزیزوں کی تسکین اور خوشنودی طبع کے لیے لکھے ہیں تاکہ میرے مرنے کے بعد وہ مجھے یاد رکھیں۔ ‘‘ لیکن لطف کی بات یہ ہے کہ مونتین کے ایسیز محض شخصی اور ذاتی نہیں رہتے بلکہ وہ عام لوگوں کی دلچسپی اور مسرت کا سبب بھی بنتے ہیں گویا وہ ذاتی ہونے کے با وصف غیر ذاتی ہیں۔ ان میں فلسفیانہ فکر و ضبط کی لہریں رواں دواں ہیں وہ مختلف عنوانات سے ایسے لکھتا ہے۔ مثلاً  ’’جھوٹوں پر‘‘، ’’پڑھائی پر‘‘ اور ’’سست گفتاری پر‘‘ وغیرہ پر۔ مونتین اپنی بات کا آغاز اپنی ذات سے کرتا ہے اور پھر دوسروں کی ذات تک پہنچ کر پوری کائنات کا احاطہ کر لیتا ہے تاہم وہ آخر میں اپنی ہی ذات میں مدغم ہو جاتا ہے وہ مشاہدے اور تجربے سے بات شروع کرتا ہے پھر اس میں افکار کا رنگ بھرتا ہے لیکن کچھ یوں کہ پڑھنے والا محسوس کرتا ہے کہ یہ پیرہن فکر تو اس کا اپنا ہے۔ یہی مونتین کے ایسیز کی کشش کا راز ہے۔ وہ اپنے ایک ایسے ’’گفتگو کے فن پر‘‘ میں کس بے تکلفی سے کہتا ہے کہ ’’میں ان دوستوں کی صحبت پسند کرتا ہوں وہ مجھے رگیدتے ہیں نہ کہ ان کی جو مجھ سے سہمے سہمے رہتے ہیں۔ ‘‘ یوں وہ اپنی ذات سے باہر ایک زقند سی لگاتا ہے پھر حقائق کا جائزہ لینے لگتا ہے۔ مثلاً اسی ایسے میں آگے چل کر کہتا ہے ’’پس افلاطون اپنی شہرہ آفاق کتاب ’’جمہوریت‘‘ میں بیوقوفوں اور غیر مہذب لوگوں سے بحث کرنے کو منع کرتا ہے۔ ‘‘ پہلی بات سے جو اس کی ذاتی اور نجی زندگی کے بارے میں تھی آپ اتفاق کریں نہ کریں لیکن یہ ناممکن ہے کہ آپ کو دوسری بات سے اتفاق نہ ہو۔ مونتین کے ہاں ایسے ہی خیالات کے تانے بانے بنتے چلے جاتے ہیں اور قاری فلسفیانہ باتیں پسند نہ کرتے ہوئے بھی انہیں پسند کرنے پر خود کو مجبور پاتا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ یہاں فلسفیانہ باریکیوں اور موشگافیاں چھوٹے چھوٹے جزیروں، مرغزاروں، وادیوں اور نخلستانوں میں ڈھل جاتی ہے جن کی صحت مند فضا میں وہ اس طرح اطمینان اور مسرت کا سانس لیتا ہے جس طرح کوئی بچہ اپنا کھویا ہوا کھلونا پا کر۔ 
	سولہویں صدی میں ہی مونتین کے ہمعصر بیکن (Bacon) نے انگلستان میں اس صنف سخن کو اپنایا۔ بیکن نے مونتین کے ایسیز کا بنظر غائر مطالعہ کیا تھا اور ان سے پوری طرح مستفید بھی ہوا تھا لیکن مونتین کے برعکس وہ اپنے ایسیز کو نہ تو نجی کہتا ہے اور نہ ذاتی اور شخصی۔ بلکہ وہ انہیں افکار پریشاں (Dispersed Meditations) کا نام دیتا ہے اور یہی ایک چیز ہے جو بیکن کو مونتین سے ایک حد تک قریب لے آئی ہے وگرنہ دوسری باتوں میں وہ مونتین سے قطعاً الگ نظر آتا ہے۔ بیکن کے ہاں صرف Meditations ہیں جو شخصی اور معروضی بن جاتے ہیں۔ اس کے ہاں مونتین کی سی ذاتی اور شخصی گرم جوشی نہیں ہے۔ وہ دنیاوی ترقی و کامرانی کا  راز بڑے شگفتہ انداز میں بتاتا ہے۔ اس کے برعکس مونتین دنیاوی منفعت سے بالاتر ہو کر حقیقت کا معصومانہ اظہار کرتا ہے۔ تاہم بیکن نے مونتین سے دو باتیں ضرور سیکھی ہیں۔ ایک اندازِ بیان، دوسرے غور و فکر کا گر جسے ہم فلفسیانہ انداز بھی کہہ سکتے ہیں۔ ان دونوں باتوں میں وہ مونتین کو بہت پیچھے چھوڑ جاتا ہے کیونکہ بیکن کا انداز بیان بڑا نوکیلا، ٹھوس اور جامع ہے اور فلسفیانہ چھاپ بہت گہری ہے لیکن عجیب بات یہ ہے کہ وہ چیز جو مونتین کا دھوپ چھاؤں کا سا غور و فکر اور وسیع فضا کا باعث بنی تھی، بیکن کی مقبولیت کا باعث نہ بن سکی۔ بیکن قاری سے وہ رشتہ استوار نہ کرسکا جو مونتین کا ہے۔ بیکن ایک بلند پلیٹ فارم پر کھڑا محسوس ہوتا ہے اور قاری نیچے زمین پر۔ وہ ایک معلم اخلاق یا مدرس کا روپ دھار لیتا ہے اور قاری محض ایک طالب علم بن کر رہ جاتا ہے۔ مونتین کے ہاں ایسا ہرگز نہیں ہے وہ ایک ایسا یار غار نظر آتا ہے جو ہاتھ پر ہاتھ مار کر گفتگو کرتا ہے۔ ’’اماں ‘‘، ’’سنو یار‘‘، ’’بھئی‘‘ اور ’’آپ‘‘ سے مخاطب ہوتا ہے۔ لیکن ان خوش گپیوں میں افلاطون اور ارسطو کو بھی موضوع سخن بنائے جاتا ہے پھر بھی بیکن نے ایسے کو کسی حد تک ایسے کے مقام پر ہی رکھا ہے۔ سترہویں اور اٹھارہویں صدی کے یوروپ میں نہ تو مونتین کے انداز میں ایسے لکھے گئے اور نہ بیکن کے انداز میں۔ سترہویں صدی تو بالکل بانجھ دکھائی دیتی ہے۔ البتہ ریسٹوریشن  (Restoration) کے بعد ادبی، تنقیدی، فلسفیانہ، مذہبی ایسیز ضرور وجود میں آئے لیکن ان ایسیز (Essias) کو مونتین کے ایسیز سے دور کی بھی نسبت نہیں ہے پھر اٹھارویں صدی میں ایڈیسن اور اسٹیل نظر آتے ہیں جنہوں نے پیریوڈیکل ایسیز (Periodical Essays) لکھے۔ اور اس طرح انگریزی نثر میں ایک نئے باب کا اضافہ کیا لطف کی بات یہ ہے کہ انہی پیریوڈیکل ایسیز کا اثر سرسید احمد خاں نے قبول کیا اور اردو میں اس قسم کے ایسیز تحریر کیے جنہیں آج ہم مضامین کا نام دیتے ہیں۔ ہمارے ادب میں اس قسم کے مضامین بہت مقبول ہوئے اور اب تک سرکردہ روزناموں اور ہفتہ وار رسائل و جرائد کی زینت بنتے رہتے ہیں۔ انیسویں صدی میں پرسنل ایسیز (Personal Essays) کا آغاز چارلس لیمب، ہیزلیٹ، ہنٹ اور ڈیکوینسی نے کیا۔ یہی وہ صدی ہے جس میں سولہویں صدی کے ایسیز کا کسی حد تک احیا ہوا۔ چارلس لیمب نے بڑی خوبصورت پرسنل ایسیز لکھے لیکن یہ اتنے شخصی اور ذاتی ہیں کہ آپ بیتی سی بن کر رہ گئے ہیں۔ ان میں اس غور و فکر کی بھی کمی ہے جو مونتین کے ایسیز کا امتیازی وصف ہے۔ البتہ ہیزلٹ اور ہنٹ نے ایسیز کو اسی فارم میں پیش کیا جو مونتین نے قائم کیا تھا۔ لیکن بیسویں صدی میں ایسیز کو جو عروج اور مقبولیت حاصل ہوئی وہ کسی اور دور میں نہیں ہوئی۔ میکس بیر بھوم چسٹرٹن، رابرٹ لینڈ، جان جے، جیروم کے جیروم اور ورجینیا وغیرہ۔ یہ سب ایسیز کے اسی فارم کو اپنائے ہوئے ہیں جو مونتین اور بیکن نے اپنایا تھا۔ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ان سب کی تکنیک ایک سی ہے جس طرح نئی نئی تکنیک سے ناول یا افسانے لکھے جاتے ہیں بالکل اسی طرح ان ادیبوں نے بھی نئی نئی تکنیک سے ایسیز سپرد قلم کیے اور اس صنف ادب کو اوج ثریا تک پہنچا دیا۔ 
	ہمارے ادب میں بظاہر ایسیز کا آغاز سرسید سے ہوتا ہے جیسا کہ اوپر اشارہ ہو چکا ہے۔ سرسید نے ایڈیسن اور اسٹیل سے متاثر ہو کر مضامین لکھنے کا آغاز کیا تھا اور ان کے پیش نظر صرف اخلاقی، مذہبی، اور سیاسی اصلاح تھی۔ چنانچہ ان کے زیر اثر دیگر اخبارات میں بھی مضامین کا سلسلہ چل نکلا حتیٰ کہ بات فکاہیات تک جا پہنچی۔ طنز و مزاح کی جو چھاپ سرسید کے ہاں ابھری تھی دوسرے مضمون نگاروں کے ہاں بڑی گہری ہوتی چلی گئی۔ بعض حضرات مضامین کے آغاز کو سرسید کے بجائے مرزا غالب کے مکاتیب سے منسوب کرتے ہیں۔ یہ درست ہے کہ مرزا غالب کے خطوط میں نہ صرف غیر رسمی انداز بیان ہے بلکہ طنز و مزاح، لطیفوں اور چٹکلوں کی پھلجڑیاں بھی موجود ہیں لیکن اس بات سے تو کوئی بھی انکار نہیں کرسکتا کہ وہ خطوط ہیں مضامین نہیں اور ان کی فارم بھی خطوط ہی کی ہے۔ 
	سرسید کے بعد بڑے عمدہ مضمون نگار پیدا ہوئے جن کے ہاں طنز و مزاح کی چھاپ بدرجہ اتم موجود ہے۔ مثلاً سجاد حیدر یلدرم، مرزا فرحت اللہ بیگ، عظیم بیگ چغتائی، پطرس بخاری، کنہیا لال کپور، رشید احمد صدیقی، شوکت تھانوی وغیرہ نے بہت عمدہ مضامین لکھے جن میں طنز و مزاح کی پھلجڑی ہے۔ ان سب کا مقصد ہنسنا اور ہنسانا ہے۔ البتہ سرسید کے مضامین پڑھیں تو صاف معلوم ہو گا کہ وہ بڑی گہری منصوبہ بندی کے تحت پوری قوم کی اصلاح کا بیڑہ اٹھائے ہوئے ہیں۔ وہ ایک خطیب ہے جو بڑی روانی اور مشاقی سے اخلاقی درس دیتا ہے۔ یوں کہ کبھی ہنساتا اور کبھی چٹکیاں بھر بھر تنگ کرتا ہے۔ مرزا فرحت اللہ بیگ بزرگوں کی تصویریں اس طرح پیش کرتا ہے کہ انہیں دیکھ دیکھ کر ہم ہنستے اور قہقہے لگانے لگتے ہیں۔ پطرس بخاری کبھی پیروڈی (Parody) سے اور کبھی خاکہ کشی  (Caricature) سے ہماری مسرت کی حساس رگ کو بیدار کرتے ہیں۔ لیکن ہمارے فکر کے کسی گوشے کو بیدار نہیں کرتے۔ سائیکل کی خاکہ کشی ہو یا جغرافیہ کی مضحکہ نگاری، ان سب کے پیش نظر اصل مقصد ہنسانا ہے اور اس میں قطعاً کوئی کلام نہیں کہ پطرس بخاری اس فن میں بہت کامیاب ہیں۔ شوکت تھانوی واقعہ نگاری، خاکہ طرازی سے اور لطیفے بازی سے اپنے قاری کو ہنساتے ہیں۔ وہ بھی ہماری سوچ کو مہمیز نہیں لگاتے۔ ’’میں ایک میاں ہوں ‘‘ ایک عمدہ پیروڈی (Parody) ہے اور ’’سودیشی ریل‘‘ ایک کامیاب کیری کیچور (Caricature)۔ بہرحال یہ طے ہے کہ ان بزرگوں نے اپنے مضامین میں حیرت انگیز جوہر دکھائے اور ہمارے ادب میں بہت اچھے طنزیہ و مزاحیہ مضامین تخلیق کیے۔ 
	سرسید نے ایسے کے فن کو ایڈیسن اور اسٹیل سے مستعار لیا تھا لہٰذا اس کا آغاز بھی پریوڈیکل ایسیز (Periodical Essays) سے ہوا۔ افسوس کہ سرسید اور ان کے مابعد ادیبوں میں سے کسی نے مونتین اور بیکن سے استفادہ نہیں کیا۔ اگر ان میں سے ایک بھی ان یوروپی ادیبوں کے ایسیز کی روح کو سمجھ جاتا تو کوئی وجہ نہ تھی کہ آج سے کہیں پہلے اردو ایسے منصۂ شہود پر نہ آ جاتا۔ ایک جس کا ذکر کرنا میں ضروری سمجھتا ہوں یہ ہے کہ جن ایسیز کا آغاز مونتین سے ہوا اور جو بیسویں صدی میں ایک نیا پیکر لے کر ظہور میں آئے، وہ اخلاقی، مذہبی، سیاسی، ادبی و تنقیدی ایسیز سے بالکل مختلف ہیں۔ چنانچہ حیرت کی بات ہے کہ انگریزی زبان اپنی گیرائی اور گہرائی کے با وصف ایسے کے لیے کوئی ایسا متبادل لفظ پیش نہیں کرسکی جو مونتین، بیکن، میکس بیر بھوم اور رابرٹ لینڈ کے ایسیز کی روح کو پیش کرسکے۔ لہٰذا مختلف نوعیت کے ایسیز کو ایک دوسرے سے ممیز کرنے کے لیے توصیفی کلمات (Adjective) مستعمل ہو گئے۔ مثلاًPersonal Essay, Impersonal Essay, Religious Essay, Critical Essay وغیرہ۔ لیکن مونتین کے ایسیز کو نہ تو Impersonal کہیں گے اور نہ  Personal، یہ تو صرف ایسے ہیں۔ اور یہ لفظ (Essais) جس کا معنی ہے کوشش (Attempt) خود اس کے موجد نے وضع کیا ہے۔ لیکن ہماری زبان اپنی کم عمری کے باوجود ایسے کا نہایت مناسب ترجمہ کرنے میں کامیاب ہو گئی اور اسے ’’انشائیہ‘‘ کا نام دے دیا جو نہ صرف ایسے کا صحیح متبادل ہے بلکہ ہر اعتبار سے اس مفہوم کو واضح کرتا ہے جو مونتین کے ایسیز (Essais) کا ہے۔ 
	اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ انشائیہ کا آغاز ہمارے ادب میں کب ہوا اور اس کی تعریف کیا ہے؟ اس ضمن میں پہلی گزارش یہ ہے کہ یہ کوئی ضروری نہیں کہ ہمارے ہاں ہر صنف ادب پہلے سے موجود ہو۔ اردو ادب کا ہر طالب علم اس امر سے بخوبی واقف ہے کہ ہماری زبان اپنی عمر کے اعتبار سے ابھی کمسن ہے۔ لہٰذا یہ کوئی سبکی کی بات نہیں کہ ہمارے ہاں انشائیہ کی صنف جلد وجود میں نہ آسکی۔ افسانہ ہی کو لیجیے۔ یہ بیسویں صدی میں ہمارے ادب میں نمودار ہوا اور کسی قدر اوج کمال کو جاپہنچا۔ تو پھر انشائیہ اگر جلد منصۂ شہود پر نہ آیا تو کوئی تعجب کی بات نہیں۔ انشائیہ کو خواہ مخواہ غالب کے خطوط یا سرسید کے مضامین میں تلاش کرنا میرے خیال میں ایک سعی لاحاصل کے سوا کچھ نہیں۔ انشائیہ جیسا کہ میں عرض کر چکا ہوں، یوروپ میں بھی بیسویں صدی میں ہی حیات نو لے کر وارد ہوا لیکن مونتین کے بعد یعنی سولہویں صدی سے لے کر انیسویں صدی تک اس میں کوئی قابل ذکر کام نہیں ہوا۔ دوسری بات یہ ہے کہ اگر ہمارے ہمعصروں میں سے کوئی کسی صنف کا آغاز کرتا ہے تو ہمیں اس امر کو تسلیم کرنے میں کوئی جھجک نہیں ہونی چاہیے۔ تجربہ شاہد ہے کہ ہم اکثر و بیشتر ادیب کی موت کے بعد ہی اسے وہ مقام بخشتے ہیں جس کا وہ صحیح معنوں میں حقدار ہوتا ہے۔ اس کی زندگی میں ہم اسے کوئی اہمیت دینے کو تیار نہیں ہوتے۔ اب سوال یہ ہے کہ اردو ادب میں انشائیہ کو سب سے پہلے کس نے رائج کیا؟ یہ کام زود یا بدیر کسی نقاد کو بہرحال ضرور انجام دینا ہے بعینہ جیسے نقادان ادب نے مضمون نگاری کی ابتداء کو سرسید سے، ناول نگاری کی ابتدا کو نذیر احمد سے اور ڈرامے کی ابتدا کو امانت سے منسوب کر کے ایک تحقیقی کام انجام دیا ہے۔ 
	اب کچھ انشائیہ کے امتیازی محاسن کے ضمن میں۔ انشائیہ کی خصوصیت یہ ہے کہ جیسے ہی شروع ہو قاری کو محسوس ہونے لگے کہ کسی نے ستار کے تاروں پر مضراب رکھ دی ہے۔ ستار بجتا ہے اور سامع اس کی لہروں میں گم ہو جاتا ہے۔ پر کشش لہریں کانوں کے رستے دل و دماغ پر چھا جاتی ہیں اور سامع ارضی پستیوں سے اٹھ کر سماوی بلندیوں پر پرواز کرنے لگتا ہے۔ ادھر ساز ختم ہوا، ادھر سامع واپس اپنے پیکر خاکی میں آ گیا۔ لیکن وہ پرواز جو اس نے اس عالم وجد (Ecstasy) میں کی تھی اسے ہمیشہ یاد رہتی ہے۔ وہ جب تنہائی کے لمحات میں اس کے بارے میں دوبا رہ سوچتا ہے تو بازیابی کا عمل قند مکرر کا سا لطف دیتا ہے۔ چونکہ یہ انبساط انگیز فکر کی دین ہے اس لیے اس کا اثر بھی بے پایاں ہے۔ ہم انشائیہ کی وسیع تعریف اس طرح کرسکتے ہیں کہ یہ ایک نثر پا رہ ہے جو اپنی طوالت کے اعتبار سے آدھ صفحہ سے لے کر بیس یا زیادہ سے زیادہ پچیس صفحات پر پھیلا ہوتا ہے۔ کیونکہ زیادہ طوالت اس لطیف صنف پر اسی طرح گراں گزرتی ہے جس طرح غزل میں ضرورت سے زیادہ اشعار۔ زندگی کے کسی بھی گوشے کو بطور موضوع پیش کیا جا سکتا ہے بشرطیکہ انشائیہ نگار نے اسے اپنی ذات کی گہرائیوں میں ڈوب کر محسوس کیا ہو۔ انشائیہ میں موضوعیت (Subjective) ایسے ہی ضروری ہے جیسے شعر میں وزن اور آہنگ۔ یہیں سے انشائیہ میں مصنف کی اپنی ذات شامل ہوتی ہے اور وہ ایک ایسی زقند بھرتا ہے جس کی نوعیت معروضی ہوتی ہے۔ یہ معروضی کیفیت اس کی سوچ بچار کی مرہون منت ہوتی ہے جسے بیکن ’’دھیان‘‘ (Meditation) کے نام سے یاد کرتا ہے۔ اس کے ذریعہ وہ جس شے کو چھوتا ہے اسے اپنے رنگ میں رنگ لیتا ہے اور قاری کو اپنی گرفت میں لے لیتا ہے۔ وہ اپنی معروضی اغان (Objective Flight) کے بعد پھر اپنی ذات میں اسی طرح واپس آتا ہے جس طرح پرندہ پرواز کے بعد اپنے آشیانہ میں۔ گویا انشائیہ میں شخصی اور غیر شخصی پہلوؤں کی آویزش (Criss - Cross) ہی نہیں بلکہ انضمام  (Blending) بھی ہوتا ہے۔ تاہم اس میں فلسفیانہ غور و فکر کا بوجھل پن نہیں ہونا چاہیے۔ مثلاً وزیر آغا کے انشائیہ ’’چوری سے یاری تک‘‘ میں ہندی اور غیر ہندی تہذیب کے اختلاط پر تفکر کی باریک اور تیز لہر رواں دواں ہے مگر ’’کاگا‘‘ کی آمد غیر ضروری متانت اور سنجیدگی کو ختم کر دیتی ہے۔ انشائیہ میں طنز و مزاح کی چاشنی تو مستحسن ہے مگر چھاپ غلط ہے۔ انشائیہ میں طنز و مزاح کے عناصر رچ بس جانے چاہییں یا بہ الفاظ دیگر یہ کیفیت داخلی ہو خارجی نہ ہو۔ کیونکہ غالباً اسی ایک خصوصیت سے بعض حضرات دھوکا کھا جاتے ہیں۔ بس ہلکا ہلکا زیر لب تبسم یا قلب و ذہن میں انبساط کی لہر اور کشادگی کا اس کا احساس جس طرح کسی ساز کو سن کر ہوتا ہے۔ کیونکہ مزاح یہاں صرف پس منظر (Backgroung) میں دھیمے دھیمے تال سر کا کام کرتا ہے۔ نہ کہ مقصود بالذات کوئی چیز بن کر۔ انشائیہ میں انداز بیان غیر رسمی ہونے کے با وصف جاذب اور دلفریب ہوتا ہے۔ اس صنف ادب میں نکھرا ہوا سا اسلوب، جچے تلے اور ترشے ترشائے جملے، چبھتے ہوئے برمحل اور خیال افروز الفاظ اس طرح استعمال ہوتے ہیں کہ ہر لفظ اور جملہ مصنف کی ذات کے گوشوں کو مدھم مدھم سی روشنی عطا کرتا چلاجاتا ہے۔ غیر رسمی انداز بیان کا یہ مطلب ہرگز یہ نہیں کہ زبان سپاٹ ہو یا عامیانہ الفاظ کا استعمال ہو۔ اگر گھٹیا اور گھسے پٹے الفاظ استعمال کیے گئے تو بازاری پن اور پھکڑ پن کے سوا اور کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہو گا جو انشائیہ کی روح کے سراسر منافی ہے۔ انشائیہ میں نہ تو مقالے کی ثقالت ہونی چاہیے اور نہ طنز و مزاح کی وہ کیفیت جس میں چٹکلے، لطیفے اور لفظوں کا الٹ پھیر ہوتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ لفظوں کا الٹ پھیر جسے انگریزی میں Pun کہتے ہیں انشائیہ کے مزاج سے ہرگز لگا نہیں کھاتا۔ اس کے آبگینے اتنے نازک اور لطیف ہوتے ہیں کہ تھوڑی سی ناموافق شے بھی اس پر گراں گزرتی ہے۔ انداز بیان کی اہمیت کے بارے میں ورجینیا وولف رقمطراز ہے:
 " He must know, that is the first essential, how to write."
	اپنے اس مخصوص مزاج کی بنا پر انشائیہ ایک لطیف صنف ادب ہے کیونکہ اس میں غزل کا سا ایجاز، افسانے کا سا تاثر، ناول کا سا فلسفہ حیات اور ڈرامے کے سے انتظاریہ لمحات اور ان کے پس منظر میں شگفتگی کی دھیمی دھیمی سمفنی (Symphony) ہوتی ہے اور ان سب پر مستزاد انکشاف ذات کا عمل جو خاص انشائیہ کے لیے مختص ہے۔ یہی وہ مقتضیات ہیں جن کا انشائیہ میں ہونا ضروری ہے۔ 
	اب سوچئے کہ بیسویں صدی میں انشائیہ کو فروغ کیوں حاصل ہوا۔ اس کی بہت سی وجوہ ہیں جن میں سے چند ایک کا ذکر ناگزیر ہے۔ بیسویں صدی گوناگوں مسائل اور حالات سے دوچار ہے۔ یہ دور اتنا پیچیدہ اور مرکب ہے کہ اس میں فرد سوسائٹی سے تو کٹ گیا ہے مگر زندگی سے بدستور چمٹا ہوا ہے۔ اور یہ عجیب بات ہے کہ فرد کی یہی تنہائی اسے کنج ذات میں لے جانے کا باعث بنی ہے۔ لیکن یہ پیچیدہ اور الجھا ہوا دور اسے زیادہ دیر تک گوشۂ خلوت میں نہیں رہنے دیتا۔ چنانچہ یہیں سے ذات اور غیر ذات کا تصادم شروع ہوتا ہے۔ پھر یہ دور اپنے ماسابقہ ادوار کی بہ نسبت زیادہ مہذب اور شائستہ ہے۔ چونکہ شعر انسان کے جذبے کی پیداوار ہے اور جذبہ مہذب نہیں ہوتا۔ اور نثر انسان کے اس دور کی پیداوار ہے جب اس کے جذبات کی تہذیب ہونے لگی تھی، اس لیے بیسویں صدی کے مہذب دور میں کسی ایسی صنف ادب کا پیدا ہونا جو ہماری دونوں وجدانی حالتوں کی تسکین کرتی ہو فطری اور لا ابدی امر تھا۔ انشائیہ ہماری انہی وجدانی حالتوں کی تسکین کرتا ہے کیونکہ یہ بیک وقت نثر بھی ہے اور نظم بھی۔ یہی وجہ ہے کہ انشائیہ میں رمز و ایمائیت اور امیجری اسی طرح استعمال ہوتی ہے جس طرح جدید نظم میں۔ لطف کی بات یہ ہے کہ جس طرح ہم جدید نظم کو بار بار پڑھ پڑھ کر لطف اندوز ہوتے ہیں بعینہ انشائیہ کی پرتیں بھی بار بار پڑھنے سے ہی کھلتی ہیں اور اس سے ہم مختلف سطحوں پر لطف اندوز ہوتے ہیں۔ لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ یہ دونوں اصناف ایک ہیں۔ ان دونوں اصناف میں فارم اور مواد بالکل ایک دوسرے سے مختلف ہوتا ہے اور دونوں کی پیشکش بھی مختلف ہے۔ رمز و ایمائیت اور امیجری تو صرف حربے ہیں۔ شاید ہی کوئی فنکار زندگی سے اس قدر قریب اور زندگی سے اس قدر وابستہ ہو جتنا انشائیہ نگار۔ انشائیہ نگار زندگی کے ساتھ یوں چمٹا ہوتا ہے جیسے بیل کسی درخت کے گرد لپٹی ہوتی ہے۔ وہ زندگی کے ہر پہلو اور ہر گوشے کو پیار کرتا ہے جس طرح باپ اپنے سب بچوں سے خواہ کوئی بچہ خوبصورت ہو یا بدصورت، شریف ہو یا بدمعاش۔ مثلاً وہ صرف سچائی ہی سے دلچسپی نہیں رکھتا بلکہ جھوٹ کے وجود کو بھی محبت سے برداشت کرتا ہے۔ عالی حوصلگی اور بلند ہمتی کو ہی سنگھاسن پر نہیں بٹھاتا بلکہ کم ہمتی اور پست حوصلگی کو بھی قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ خوش بختی کو ہی اونچا نہیں سمجھتا بلکہ بد بختی کو بھی سراہتا ہے۔ دیکھئے جان جے کس خوبصورتی سے ان دونوں کی تعریف کرتا ہے:
	’’خوش بختی ایک نٹ کھٹ دوشیزہ ہے جس کے لیے کسی ایک جگہ رکنا ممکن ہی نہیں۔ وہ کرسی کی پشت سے تمہارے بالوں کو انگلیوں سے چھیڑتی ہے۔ تمہارے ہونٹوں پر ایک اڑتا ہوا بوسہ ثبت کرتی ہے اور پھر شرما کر کھلکھلاتی ہوئی بھاگ جاتی ہے لیکن بد بختی بڑے وقار کے ساتھ تمہاری جانب آتی ہے۔ تمہارے بستر پر اطمینان سے بیٹھ جاتی ہے اور پھر اون کی سلائیوں سے تمہارے لیے ایک کبھی نہ ختم ہونے والا سوئٹر بننے لگتی ہے۔ ‘‘
	انشائیہ نگار کے نزدیک زندگی کے مثبت اور منفی دونوں پہلو جاذب نظر ہیں اور وہ ان دونوں کو ایک نئے زاوئیے سے پرکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس پرکھ میں اس کی ذات کا جو انکشاف ہوتا ہے وہی دراصل انشائیہ کا سب سے قیمتی عنصر ہے۔ ‘‘
	انشائیہ ہر شخص کی اپنی ذاتی سوچ پر مبنی ہوتا ہے۔ جمیل آذر اپنی کتاب ’’انشائیہ اور انفرادی سوچ‘‘ میں کہتے ہیں :
	’’ادب کی ہر صنف زمانے کے تابع ہے اور زمانہ ساکت و جامد نہیں۔ یہ ہر دم رواں پیہم دواں ہے۔ نیرنگیِ وست کے ساتھ کوئی صنف ادب دم توڑ دیتی ہے اور کوئی عالم وجود میں آ کر اپنا سکہ بٹھا لیتی ہے۔ جب دور شہنشاہیت تھا تو شعرائے کرام دربار تک رسائی حاصل کرنے کے لیے پر شکوہ قصیدے لکھا کرتے تھے اور اپنے فن کا مظاہرہ کر کے نہ صرف داد سخن پاتے بلکہ اپنا منہ موتیوں سے بھی بھر لاتے۔ لیکن وقت نے کروٹ لی اور شہنشاہیت نے اپنی بساط لپیٹی اور اس کے ساتھ ہی فن قصیدہ گوئی دنیائے ادب سے رخصت ہوا۔ اب کوئی شاعر حاکم وقت کی مدح سرائی میں قصیدہ لکھتا ہے تو اسے پسندیدگی کی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا۔ قصیدے کی طرح داستان گوئی کا رواج بھی اب نہیں۔ ایک وقت تھا زندگی ٹھہری ہوئی تھی لوگوں کے پاس وقت کی فراوانی تھی۔ رات گئے تک لوگ داستانوں سے لطف اندوز ہوتے تھے۔ اب وہ وقت ہے اور نہ داستان گوئی۔ یہ سب ٹھہرے ہوئے معاشرے کی اصناف ادب تھیں جو اب تاریخ کا قصہ پارینہ بن کر رہ گئی ہیں۔ 
	عالمی جنگ اول اور جنگ دوم کے بعد سانئس اور ٹیکنالوجی میں حیرت انگیز انقلاب آیا اور اس کے ساتھ ہی کاروان حیات کلی طور پر جدید دور میں داخل ہو گیا۔ زندگی کی رفتار بیل گاڑی اور گھوڑا گاڑی سے نکل کر ریل گاڑی اور ہوائی جہاز کے ساتھ قدم ملانے لگی۔ اس تیز رفتاری کے ساتھ وقت کی قلت اور عدیم الفرصتی کا احساس ہونے لگا، داستان کی جگہ ناول نگاری نے لی اور پھر اس کے ساتھ ہی افسانہ نگاری نے جنم لیا۔ افسانہ نگاری کے ارتقاء میں جہاں اور بہت سے عوامل ہیں وہاں وقت کی اہمیت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ تھوڑے سے وقت میں بہت کچھ بیان کرنے کے رجحان نے افسانہ نگاری کو خاصا عروج بخشا۔ یہی خوبی غزل کی ہے جو تا حال وقت کے ساتھ چل رہی ہے۔ اس صنف سخن کی مخالفت کے باوجود اس کی پذیرائی میں کوئی کمی نہیں آئی۔ یہ اپنے مخصوص اختصار، ایجاز، مزاج اور تاثر کے اعتبار سے اس برق رفتار دور کا ساتھ بطریق احسن دے رہی ہے۔ مجھے یہاں ہر صنف ادب کے بارے میں بحث کرنا مقصود نہیں ہے۔ کہنے کا مقصد صرف اتنا ہے کہ وقت اور صنف ادب کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ کوئی صنف اظہار نہ تو بے وقت جنم لیتی ہے اور نہ زندہ رہتی ہے۔ اس زاویۂ نگاہ سے دیکھا جائے تو انشائیہ اپنے زمانے کے ساتھ ہم آہنگ ہو کر معرض وجود میں آیا ہے۔ دور شہنشاہیت یا غیر جمہوری دور میں انشائیہ کے وجود میں آنے اور فروغ پانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا قطع نظر کسی انفرادی مثال کے۔ انشائیہ صرف جمہوری ماحول ہی میں پرورش پا سکتا ہے، چونکہ جمہوری ماحول میں انفرادی سوچ، انفرادی رویہ اور انفرادی مشاہدہ مطالعہ پنپتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انشائیہ (Light Essais) نے جتنا فرانس، انگلینڈ اور امریکہ میں فروغ پایا اتنا کسی اور ملک میں پھل پھول نہ سکا۔ انشائیے نے پاکستان کے عالم وجود میں آنے کے بعد اس سرزمین پر اپنا وجود تسلیم کروایا۔ وجہ یہ ہے کہ پاکستان بنیادی طور پر جمہوریت کی پیداوار ہے اور یہاں کے افراد بنیادی طور پر جمہوری اقدار کے حامل ہیں۔ 
	ہم کسی صنف کو اس کی قوم کے مزاج سے علیحدہ نہیں کرسکتے۔ چونکہ آزادی فکر ہمارے مزاج میں ہے اس لیے انشائیہ کا پاکستان میں نشو نما پانا بالکل فطری امر تھا۔ لہٰذا گزشتہ بیس سالوں میں اس صنف ادب نے حیرت انگیز ترقی کا مظاہرہ کیا۔ انشائیہ اپنے مزاج، اسلوب اور ہیئت کے اعتبار سے انفرادی سوچ کا محرک ہی نہیں بلکہ مظہر بھی ہے۔ ہمارے ہاں سوچ کا اجتماعی اسلوب ہمیشہ سے فعال رہا ہے چنانچہ محاورے اور ضرب الامثال جو ایک طرح کی (Wisdom Capsules) ہمارے ہاں زیادہ مقبول رہی ہیں۔ اس طرح ہم نے باہر سے بنے بنائے نظریات اور امثال فکر (Thought Patterns) قبول کر لیے ہیں اور ہماری سوچ کھائیوں میں چل رہی ہے۔ اس سے تقلیدی روش عام ہوئی ہے اور تخلیقی اپج کے راستے مسدود ہو گئے ہیں۔ انشائیہ کی اہمیت اور وصف خاص اس بات میں ہے کہ اس نے بنے بنائے فکری سانچہ سے ہٹ کر شخصی سطح پر سوچ کی انفرادیت کا مظاہرہ کیا۔ یوں ایک طرف تو اس نے تسلیم شدہ حب دانش (Wisdom Capsule) کو تشکک کی نظروں سے دیکھا ہے تو دوسری طرف بظاہر معمولی اور سامنے کی اشیاء اور باتوں کو نئی معنویت عطا کی ہے۔ انشائیہ ہماری فکری رویہ کو اس قدر متاثر کر رہا ہے کہ بالآخر یہ ہماری دوسری اصناف میں خون کی کمی کے عارضے کو ختم کرنے کا موجب ثابت ہو گا۔ 
	انشائیہ نگار بنیادی طور پر منفرد رویہ، منفرد مزاج اور منفرد سوچ کا حامل ہوتا ہے۔ یہ کبھی تو اشیاء اور مظاہر کو صوفی کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور کبھی فلاسفر کے سبھاؤ میں ان پر گہری نظر ڈالتا ہے۔ کبھی وہ جمالیاتی فکر میں ڈوب کر زندگی کے مختلف گوشوں میں حسن و رعنائی تلاش کرتا ہے۔ کبھی اپنے مثبت رویہ اور عارفانہ بصیرت سے زندگی کی تلخیوں، پریشانیوں اور دشوار راہوں کو آسان اور خوشگوار بنا دیتا ہے۔ انشائیہ اپنے مزاج میں سب کچھ ہوسکتا ہے مگر قنوطی ہرگز نہیں۔ قنوطی ذہن کا حامل فرد نہ تو انشائیہ کو سمجھ سکتا ہے اور نہ انشائیہ تخلیق کرسکتا ہے۔ انشائیہ کے لیے غیر متعصب ذہن ہی درکار نہیں بلکہ آزاد منش (Liberal Minded) ہونا بھی ضروری ہے۔ انشائیہ زندگی کے بندھے ٹکے نمونوں، اصولوں اور مقرر راستوں سے ہٹ کر نئے پیکروں اور تمثیلوں کو تخلیق کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب انشائیہ نگار اپنا انشائیہ تخلیق کرتا ہے تو وہ زندگی کو از سر نو تخلیق کرتا ہے۔ تخلیق کا یہ عمل دلکش بھی ہے اور حیرت انگیز بھی۔ انشائیہ میں خاص نکتہ یہ ہے کہ یہ اجتماعی بنی بنائی سوچ کے سانچے کے برعکس شخصی سطح کی سوچ کو بروئے کار لا کر مظاہر حیات کے نئے گوشے، نئے پہلو اور نئے معانی پیش کرتا ہے۔ مثلاً اگر کلیہ یہ ہے کہ عالم کی فراست (Wisdom of the Learned) انسان کا قیمتی سرمایہ ہے تو انشائیہ نگار اپنی فکری بصیرت سے عالم کی جہالت (Ignorence of the Learned) کو موضوع بنا کر تصویر کا دوسرا رخ پیش کرتا ہے۔ یاد رہے کہ وہ ہر بار مخالف رخ ہی پیش نہیں کرتا۔ بعض اوقات مروج سوچ کے سانچے کو نئے زاوئیے سے پیش کر کے اس کی دلکش توسیع کا بھی اس طور سے اہتمام کرتا ہے کہ اس میں تازگی اور نکھار ہی پیدا نہیں ہوتا بلکہ وہ زیادہ نمایاں اور ممتاز ہو جاتی ہے۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے آپ شاہراہ پر سفر کرتے کرتے اچانک شاہراہ کو چھوڑ کر ایک ضمنی راستہ (By Pass) اختیار کر لیں اور قوس میں سفر کر کے دوبارہ شاہراہ پر آ جائیں اس طور کہ دیکھنے والوں کو محسوس یہ ہو کہ ضمنی راستہ کے شامل ہو جانے سے شاہراہ مزید کشادہ ہو گئی ہے۔ انشائیہ نگار ہمیں وسعت آشنا کرتا ہے۔ وہ ایک مدار سے نکال کر ہمیں نئے مدار میں لاتا ہے۔ یہاں بے ساختہ وزیر آغا کا خوبصورت انشائیہ ’’چرواہا‘‘ یاد آ گیا جو شعور کو نئے مدار میں پہنچانے کی عمدہ مثال ہے۔ اس انشائیہ سے دو اقتباسات ملاحظہ ہوں :
	’’چرواہے کی چھڑی دراصل ہوا کا ایک جھونکا ہے اور ہوا کے جھونکے کو مٹھی میں بند کرنا ممکن نہیں۔ اسے دیکھنا بھی ممکن نہیں۔ البتہ جب وہ آپ کے بدن کو مس کرتے ہوئے گزرتا ہے تو آپ اس کے وجود سے آگاہ ہوتے ہیں۔ وجود سے ہی نہیں آپ اس کی صفات سے بھی آگاہ ہو جاتے ہیں۔ کیونکہ بنیادی طور پر ہر جھونکا ایک پیغامبر ہے۔ وہ ایک جگہ کی خوشبو دوسرے جگہ پہنچاتا ہے۔ یہی کام چرواہے کا بھی ہے۔ تمام لوک گیت چرواہوں کی زبان پر لرزتے، ایک جگہ سے دوسری جگہ سفر کرتے رہتے ہیں۔ ‘‘
	اسی انشائیے کا ایک دوسرا اقتباس بھی ملاحظہ فرمائیں :
	’’میں تو صرف ان چرواہوں کا ذکر چاہتا ہوں جو مویشیوں کے ریوڑ چرتے چراتے ایک روز انسانوں کے ریوڑ چلانے لگتے ہیں۔ تب ان کی چھڑی عصا میں بدل جاتی ہے۔ ہم پر اسم اعظم تھرکنے لگتا ہے۔ وہ انسانی ریوڑوں کو پہاڑوں کی چوٹی پر لا کر یا صحرا کے سینے میں اتار کر یا دریا کے کنارے پر بکھیر کر اس بات کا انتظار کرتے ہیں کہ یہ ریوڑ اپنے کہنگی اور یبوست کو گندی اون کی طرح اپنے جسموں سے اتار پھینکیں۔ ‘‘
	اس انشائیے کی کئی پرتیں اور تہیں ہیں۔ ہر پرت ہمیں ایک مدار سے نکال کر دوسرے مدار میں لے جاتی ہے۔ وہ چرواہے سے بات کا آغاز کرتے ہیں پھر اچانک ایک زقند کے ساتھ وہ ہمیں ان چرواہوں تک لے جاتے ہیں جو ہماری لوک ثقافت کے امین ہیں پھر وہ ہمیں ایک اور ذہنی اڑان عطا کرتے ہیں اور ان چرواہوں تک پہنچا دیتے ہیں جو ہماری روحانی اور تہذیبی اقدار کے امین ہیں اور جو خود ’’تسبیح کے دانوں کی طرح پوری کائنات میں بکھر جاتے ہیں۔ ‘‘
	یہ انشائیہ مروجہ سوچ کے مدار سے نکل کر دوسرے مدار میں پہنچنے کی خوبصورت تصویر پیش کرتا ہے۔ اس انشائیہ میں وہ موضوع کے ساتھ سفر کرتے ہیں۔ پھر گریز اور واپسی کے عمل کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ ایسا خوبصورت انشائیہ وہی شخص لکھ سکتا ہے جس کا مشاہدہ تیز، مطالعہ گہرا اور ذہن طباع ہو۔ 
	انشائیہ نگار کے فن کا مظاہرہ اس وقت بھی ہوتا ہے جب وہ اجتماعی مروجہ سوچ سے ہٹ کر اپنی انفرادی سوچ سے تصویر کا دوسرا رخ پیش کرتا ہے۔ مثال کے طور پر زندگی میں عام رویہ گالی دینے کے خلاف ہے۔ ہم اس فعل کو اپنی سماجی زندگی میں نہایت معیوب اور اخلاق سوز تصور کرتے ہیں اور ایسا تصور کرنا بھی چاہیے کیونکہ یہ ہماری تہذیبی، معاشرتی اور تمدنی زندگی کے خلاف ہے۔ لیکن جب گالی دینے کا عمل انشائیہ نگار کی انفرادی فکر کی زد میں آتا ہے تو اس کی قلب ماہئیت ہو جاتی ہے۔ وہ اسے نفسیاتی کیفیت قرار دے کر یوں پیش کرتا ہے۔ 
	’’گالی کے قومی فوائد کا ابھی میں نے ذکر نہیں کیا۔ جس طرح پردے کے کچھ قومی فوائد ہیں، مثلاً آدمی بد صورت عورتیں دیکھنے سے بچ جاتا ہے۔ اگر گالیاں عام ہو جائیں تو پاگل خانہ کی بنیاد میں خلل پیدا ہو جائے۔ مزید برآں گالی دینے سے جمہوریت کو فروغ ملتا ہے۔ آمریت صرف اسی دور میں پنپ سکتی ہے جب گالیوں کا قد غن لگا دی جائے۔ اس لیے ایک اچھے جمہوری نظام میں یہ خوبی ہوتی ہے کہ اسمبلی کی کاروائی میں نکتہ اعتراض کا آغاز اور انجام گالی پر ہوتا ہے۔ اقتصادی توازن کو برقرار رکھنے کے لیے گالی کا وجود ناگزیر ہے۔ جب مارکیٹ میں قیمتوں میں اضافے کا رجحان دیکھا جائے تو آدمی اسی تناسب سے گالیوں میں اضافہ کرتا جائے۔ ‘‘ 
	آپ نے غور فرمایا کہ گالی جیسی مکروہ چیز کو انشائیہ نگار نے اپنے منفرد زاویۂ فکر سے Psychia (دماغی امراض کے علاج) کے طور پر استعمال کیا ہے۔ یہ منفرد سوچ اور رویہ ہی کا کرشمہ ہے کہ انشائیہ نگار نے زندگی کے مروجہ سانچے سے ہٹ کر ایک نیا سانچا ہمارے سامنے پیش کیا ہے۔ غلام جیلانی اصغر کا یہ انشائیہ اپنی ہیئت اور اسلوب کے اعتبار سے نہ صرف منفرد ہے بلکہ تازگی و توانائی سے بھرپور ہے۔ 
	انشائیہ نگار کبھی اشیا، مظاہر فطرت اور افراد کو عارفانہ نظر (Mystic Vision) سے دیکھتا ہے۔ یہ رویہ بھی اس کی سوچ کے انفرادی سطح کا آئینہ دار ہوتا ہے۔ اس کی خوبصورت مثال ہمیں وزیر آغا کے انشائیہ ’’بارہویں کھلاڑی‘‘ میں ملتی ہے۔ کرکٹ کی ٹیم میں بارہواں کھلاڑی کسی آڑے وقت کے لیے وقف ہوتا ہے۔ لیکن انشائیہ نگار جب اسے عارفانہ بصیرت سے دیکھتا ہے تو اس کھلاڑی کی قلب ماہئیت کچھ اس طرح ہو جاتی ہے:
	’’بارہواں کھلاڑی ایسا ہی سچا صوفی ہے۔ وہ بیک وقت اپنی ٹیم سے منسلک بھی ہے اور جدا بھی۔ وہ میدان میں پہلی کے چاند کی طرح آتا ہے جو دوسرے ہی لمحے رخصت بھی ہو جاتا ہے۔ وہ کرکٹ کے کھیل کا نباض، مفسر، کارکن اور جاسوس ہونے کے باوجود اپنے دامن کو تر ہونے نہیں دیتا۔ ہونٹوں پر ایک عارفانہ مسکراہٹ سجائے وہ قلب مطمئنہ کا مظاہرہ کرتا ہے۔ ‘‘
	آپ نے دیکھا انشائیہ نگار کی نظر کرکٹ کی ٹیم کے اس کھلاڑی پر مرکوز ہو جاتی ہے جسے عام تماشائی کوئی خاص اہمیت نہیں دیتے لیکن انشائیہ نگار کی انفرادی نظر نے اسے ہی فوکس میں لیا۔ اس انشائیہ میں بارہواں کھلاڑی ایک کلچر ہیرو کے روپ میں جلوہ گر نظر آتا ہے۔ یہی انشائیہ نویس کا کمال ہے کہ وہ ہمیں انبوہ کثیر میں سے چند ایسے چبھتے ہوئے مناظر دکھاتا ہے کہ ایک طرف ہماری بصیرت وسعت آشنا ہو جاتی ہے تو دوسری طرف ہمیں حیرت و مسرت سے ہمکنار ہونے کا موقع مل جاتا ہے۔ 
	انفرادی سطح کی سوچ کی ایک عمدہ مثال ہمیں ڈاکٹر انور سدید کے دلکش انشائیہ ’’دسمبر‘‘ میں ملتی ہے۔ عام طور پر دسمبر کا مہینہ سردی کے آغاز کا مہینہ سمجھا جاتا ہے اور یہی اجتماعی خیال یا رائے بھی ہے۔ لیکن انشائیہ نگار اجتماعی روش سے ہٹ کر اپنی انفرادی فکر کو بروئے کار لا کر اسے مشخص (Personal) کر کے مردانہ پن کی علامت قرار دیتا ہے اور اسے نہایت تزک و احتشام سے اپنے ڈرائنگ روم میں وارد ہوتے ہوئے دکھاتا ہے۔ 
	’’دسمبر آتا ہے تو کسی مہمان کی طرح کال بیل (Call Bell) بجا کر اپنی آمد کا اعلان نہیں کرتا بلکہ ایک شریر بچے کی طرح پائیں باغ کی دیوار پھاند کر پہلے گھر کے صحن میں آتا ہے۔ پھر برآمدے میں پلاسٹک سے بنی ہوئی کرسی پر اکڑ کر بیٹھ جاتا ہے۔ میری بیوی اس کے مخصوص قدموں کی چاپ سے پہچانتی ہے۔ وہ جلدی سے آتش دان میں آگ جلا کر کرسیوں کو اس کے گرد نصف دائرے میں ڈال دیتی ہے۔ درمیان میں ایک چھوٹی سی میز رکھ دیتی ہے۔ اس میز پر بھاپ اگلتی نو بیاہتا لیڈی لپٹن، ٹی کوزی کا گھونگھٹ اوڑھے ہمہ تن اشتیاق بن منتظر ہوتی ہے۔ سامنے چاندی کی چھوٹی چھوٹی کٹوریوں میں پستہ، بادام اور کشمش آ جاتے ہیں۔ ہم سب افراد خانہ جو گزشتہ گرمیوں میں جزواً جزواً اکائیوں میں بٹ گئے تھے اب ایک دوسرے کے اتنے قریب آ جاتے ہیں جیسے کٹی ہوئی پھانکیں دوبارہ تربوز میں سما گئی ہوں۔ ‘‘
	ملاحظہ کیجیے کہ دسمبر کس طرح بے تکلف دوست کی طرح انشائیہ نگار کے برآمدے میں براجمان ہوتا ہے اور پستہ بادام، کشمش اور چائے سے لطف اندوز ہوتا ہے۔ یہ انشائیہ ہمیں کیٹس (Keats) کی شہرۂ آفاق نظم خزاں (Ode to Autumn) کی یاد دلاتا ہے۔ جس طرح کیٹس موسم خزاں کو کھیتوں میں، کھلیانوں میں، انگوروں کے رس نکلنے کے عمل میں اور شیریں پکے پھلوں میں مشخص صورت میں دکھاتا ہے اسی طرح انور موسم سرما کو دسمبر کا نام دے کر مشخص صورت میں پستہ و بادام میں چائے کے گرم گرم گھونٹ میں دہکتے کوئلوں کی تمازت و حرارت میں دکھاتا ہے۔ دسمبر کو انشائیہ نگار نے واضح طور پر اپنے ذہن میں تشکیل کیا اور اپنی رگ رگ میں محسوس کر کے اس کے حسن و رعنائی سے لطف اندوز ہی نہیں ہوا بلکہ نہایت ذوق و شوق کے ساتھ اسے صفحۂ قرطاس پر منتقل کر دیا۔ یہی انشائیہ نویس کی سوچ کا منطقی نتیجہ ہوتا ہے۔ بیجا نہ ہو گا اگر اردو انشائیہ نگاروں کے انشائیوں میں سے کچھ نمونے یہاں پیش کر دوں جس سے ایک طرف تو ان کی انفرادی سوچ کی غمازی ہوتی ہے اور دوسری طرف یہ واضح ہو جاتا ہے کہ کس طرح انشائیہ نگار موضوع کا نیا رخ پیش کرتا ہے اور وہ کس طرح مروجہ اجتماعی فکری سانچے سے ہٹ کر انفرادی فکری سانچا پیش کرتا ہے۔ 
	’’فٹ نوٹ پر حقارت کی نظر نہ ڈالیے نہ جانے کب کاگ اڑے، کب اس بوتل میں بند جن باہر آئے۔ متن کے زیر سایہ بظاہر بے ضرر سا، پاؤں سمیٹے فٹ نوٹ چھلاوے کے تمام اوصاف حسنہ رکھتا ہے۔ اس میں بلا کی قوت نمود و بالیدگی ہوتی ہے۔ بڑھتے بڑھتے وہ متن پر امر بیل کی طرح چھاجاتا ہے۔ ‘‘
	’’بے ترتیبی زندگی میں ترتیب کا شعور عطا کرتی ہے۔ میں کتنے لوگوں کو روزانہ حواس باختہ دیکھتا ہوں۔ ان کی کوئی چول بھی سیدھی نظر نہیں آتی لیکن جب ان کے گھر جائیے تو حیرت میں پڑ جائیے 
	’’پوسٹ کارڈ بہت مسکین طبیعت کا مالک ہوتا ہے لیکن کبھی کبھی اسے شرارت سوجھ جاتی ہے۔ پھر وہ سفر کرنے کی سوچتا ہے اور میز پر سے کھسک کر دوسرے تھیلے میں چلا جاتا ہے۔ ‘‘
	’’دھوتی غالباً واحد لباس ہے جس کا نہیں الٹا سیدھا۔ آپ آنکھیں موند کر خود اعتمادی سے اس کے حلقہ بگوش ہو جائیں آپ پر نہ ہی کسی کی انگلیاں اٹھ سکتی ہیں اور نہ ہی آپ کسی کا نشانہ تضحیک ہوسکتے ہیں۔ جیسا کہ کسی دوسرے لباس کو الٹا پہن کر ہونا پڑتا ہے۔ ‘‘
	’’اگر آپ کو کبھی کمبل اوڑھنے کا تجربہ ہوا ہے (اور مشرق میں یہ تجربہ ناگزیر ہے) تو آپ یقیناً مجھ سے اتفاق کریں گے کہ پہلی نظر میں بالکل غیر ارادی طور پر کمبل میں لپٹے ہوئے شخص پر ایک ایسے قلعہ بند جنرل کا گمان ہوتا ہے جس کے سپاہی عین معرکہ میں تنخواہیں وصول کرنے چلے گئے ہوں اور جو تن تنہا فصیل کا دفاع کرنے میں مشغول ہو۔ ‘‘
	’’ہر دکاندار ’مکڑی‘ کی طرح اشیاء کا جال پھیلا کر اس کے عین درمیان مجسم آنکھ بنا آنے والے کا انتظار کرتا ہے اور جب آنے والا ایک بار قریب آ جاتا ہے تو پھر اس کی چکنی چپڑی باتوں کے جال سے باہر نہیں جا سکتا۔ ‘‘
	’’دور اندیشی دراصل ہوا سے لڑنے کا نام ہے۔ اس ہوا سے جس کا رخ ابھی متعین نہیں ہوا۔ ‘‘
	’’بد صورتی آپ کو دعوت فکر دیتی ہے اور آپ کی سوچ کے لیے نئی نئی راہیں کھول دیتی ہے جبکہ خوبصورت آپ کو اپنی خوشبو کے حصار میں قید کر لیتی ہے۔ ‘‘
	’’میں عنقریب عمر کے اس اتصال پر پہنچنے والا ہوں جہاں دونوں وقت گلے ملتے ہیں۔ گویا آئندہ چند سالوں میں میں اس عالم برزخ میں پہنچ جاؤں گا جس کے ایک جانب جوانی کی جنت اور دوسری جانب بڑھاپے کا دوزخ ہو گا۔ جہاں نوجوان مجھے بزرگ سمجھ کر مجھ سے شرمائیں گے اور بزرگ مجھے نوجوان جان کر مجھ سے کترائیں گے اور میں ایک کٹی پتنگ کی طرح اس عالم رنگ و بو میں ڈولتا پھروں گا۔ ‘‘
	’’میری نگاہ سے دیکھا جائے تو ارض و سما کی ہر جاندار اور بے جان شے ایش ٹرے کا روپ دھارے ہوئے ہے یا کم از کم اس سے تعلق خاص رکھنے کی بناء پر زندہ جاوید ہو کر رہ گئی ہے۔ انسان ہی لیجیے ایک اچھی بھلی ایش ٹرے ہے جس کے ظرف میں عمر کا ہاتھ ماہ و سال کی راکھ سانس کی صورت میں گراتا رہتا ہے گویا انسان ایک چلتی پھرتی متحرک ایش ٹرے ہے جو راکھ کے دم قدم سے زندہ ہے۔ ‘‘
	انگریزی ادب تو انشائیوں سے مالامال ہے۔ وہاں تو انفرادی رویہ ہی انشائیوں کی روح ہے۔ لی ہنٹ (Leigh Hunt) اپنے معرکہ آراء انشائیہ دریچہ (Window) میں ایسی خوبصورت فکری لہریں پیش کرتا ہے کہ قاری ارضی پستیوں سے بلند ہو کر آسمانوں رفعتوں کو چھونے لگتا ہے۔ اپنے انفرادی رویہ کے تحت وہ قطرے میں کائنات کبریٰ کا مشاہدہ کرتا ہے اور دریچے کو اپنے کے لیے ایک تصویر کے فریم سے مشابہت دے کر اس میں چلتی پھرتی تصویروں کا نظا رہ کرتا ہے۔ دریچہ اس کے لیے ایک ایسا تصویری فریم ہے جس میں وہ کبھی اڑتے ہوئے پرندوں کو دیکھتا ہے، کبھی بادلوں کے بجروں کو آسمانوں پر تیرتے ہوئے دیکھتا ہے۔ مصنف کی انفرادی سوچ نے دریچہ کو اس کے لیے جہان معنی کا استعا رہ بنا دیا ہے۔ اسی طرح اے۔ پی۔ ہربرٹ (A.P. Herbert) اپنے ایک لطیف انشائیہ باتھ روم کے بارے میں (About Bathroom) میں ایسے غسل خانہ کا تصور پیش کرتا ہے کہ جس میں وہ نہ صرف نہا سکے بلکہ ورزش بھی کرسکے۔ یہی نہیں بلکہ وہ ایسی تصویریں بھی اس میں آویزاں کرنا چاہتا ہے جن میں فوجی دستوں کو خندقوں کی طرف بھاگتا ہوا، بارش میں بھیگتے قطار میں کھڑے بس کا انتظار کرتے ہوئے لوگ اور ہوائیں چلتی ہوئی برف باری کے مناظر ہوں کیونکہ اس کے نزدیک ایسے ہی غسل خانے میں غسل کرنے کا مزا آتا ہے۔ 
	انشائیہ نگار ایک ذی فہم تماشائی اور حساس دل کا مالک ہوتا ہے۔ وہ زندگی کا تماشا کھلے ذہن اور روشن آنکھ سے کرتا ہے۔ وہ روزمرہ کے معمولات میں غیر معمولی بات اور پیش پا افتادہ اشیا میں چھپا ہوا انوکھا پہلو پالیتا ہے۔ انشائیہ نگار عام لوگوں سے اس لیے مختلف ہوتا ہے کہ عام لوگ آنکھیں رکھتے ہوئے بھی آنکھ کے لینز (Lens) کو کیمرہ مین کی طرح استعمال نہیں کرتے جبکہ انشائیہ نگار اپنی آنکھ کے لینز کو کیمرہ مین کی طرح استعمال کرتا ہے اور یوں وہ زندگی کا مشاہدہ، مطالعہ، تجزیہ، ترجمانی اور عکاسی اپنی شخصی سطح کی سوچ کے مطابق کرتا چلا جاتا ہے۔ اس طرح وہ چرواہے میں پیغمبرانہ صفات کا دیدار کرتا ہے، گالی میں دافع امراض عناصر تلاش کرتا ہے۔ دسمبر کے مہینہ میں بے تکلف دوست کو جلوہ نما دیکھتا ہے۔ یوں وہ اپنی انوکھی سوچ اور حیرت و تجسس سے مملو روشن آنکھ سے زندگی کی بوقلمونی کا نظا رہ کرتا ہے۔ انشائیہ نگار روزانہ ملنے والے دوستوں میں، معمول میں آئی ہوئی اشیا میں، روزمرہ کی عادات میں، ماضی کے گزرے ہوئے حادثات و واقعات میں، حال کے خلفشار میں اور مستقبل کے سنہری خواب میں اپنی فکری بصیرت کو بروئے کار لا کر نئے دلآویز پہلو ڈھونڈ نکالتا ہے۔ اس طرح وہ ہمیں ذہنی آسودگی (Intellence Relief) عطا کرتا ہے۔ شاعری کا مزاجی قرب جذبے اور خلوص کی صداقت سے حاصل ہوتا ہے اس لیے شاعری ہمیں جذباتی آسودگی (Emotional Relief) عطا کرتی ہے۔ اور ہم اس شاعری سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں جو ہمارے جذبہ و احساس کی تسکین کرتی ہے۔ شاعری کے علی الرغم انشائیہ کی واردات زیادہ تر ذہنی ہوتی ہے۔ وہ ہمیں ذہنی آسودگی بخشتا ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ جذبات سے منقطع ہو جاتا ہے۔ ہوتا یہ ہے کہ یہاں جذبہ زیریں سطح میں چلا جاتا ہے اور بالائی سطح پر فکر کی ضو فشانی ہوتی ہے۔ یوں ہمیں انشائیہ جمالیاتی حظ پر بہم پہنچاتا ہے اور ذہنی آسودگی بھی۔ انشائیے کی اس خصوصیت کے پیش نظر ڈاکٹر جانسن نے اس کے بارے میں کہا تھا کہ یہ A Loose Sally of Mind یعنی ذہن کی آوا رہ خرامی ہے۔ ہماری فکر کو جتنی آزادی اس صنف ادب میں ملتی ہے شاید ہی کسی اور صنف اظہار میں ملتی ہو۔ ‘‘
	بہت حد تک تو یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ انشائیہ شروع ہی سے اپنی انفرادیت برقرار رکھے ہوئے ہے۔ اب ہم اس فرق کو مزید جاننے کی کوشش کریں گے۔ 

انشائیہ اور مضمون میں فرق

	اردو میں مضمون نگاری کا آغاز کرنے والوں میں سرسید احمد خان کو اردو داں طبقہ میں نہایت اہیمت حاصل ہے۔ لیکن ان کی مضمون نگاری پر مغربی اثرات کی نمایاں چھاپ تھی۔ اس دور میں مغربی ادبیات میں مضمون نگاری تین حصوں میں بٹی ہوئی تھی۔ اول تو علمی، سائنسی اور اصلاحی، دوم طنزیہ اور مزاحیہ اور سوم لائٹ ایسے (Light Essays) ان تمام میں سے سرسید نے علمی، سائنسی اور تنقیدی نظریات پیش کرنے میں کمال حاصل کیا۔ 
	’’مضمون یا انشائیہ مقالے کے مقابلے میں ایسی ہلکی پھلکی صنف ہے جس کے طریق اظہار میں زیادہ گہرائی کی بجائے خیالات کا سرسری بہاؤ ہوتا ہے۔ ‘‘
	دوسری طرف جب ہم مضمون کا احاطہ کرتے ہیں تو یہ کہہ سکتے ہیں کہ کوئی بات یا خیال جو نثر میں پیش کیا جائے تو وہ مضمون کہلاتا ہے۔ لیکن اس میں بات یا خیال کا دائرہ اتنا وسیع ہے کہ بہت ساری تحریروں کے سماجانے کی گنجائش نکلتی ہے۔ جیسے خطوط، ایڈیٹوریل، رپورٹ، شخصیت کی قلمی تصویر، شخصیت کا تعارف، واقعاتی بیان، ادبی و ثقافتی تقریب کا آنکھوں دیکھا حال، شخصیت کے حالات زندگی اور مخصوص عنوان پر خیالات کا اظہار وغیرہ وغیرہ۔ کیونکہ یہ ساری تحریریں نثر سے تعلق رکھتی ہیں۔ لیکن یہ مختلف النوع تحریریں اپنی نوعیت کے حساب سے اپنا دائرہ الگ اور نمایاں رکھتی ہیں۔ ہر مخصوص عنوان کے ساتھ ہی اس کی تحریر کا لب و لہجہ جداگانہ ہوتا ہے اور ان سب کا مرتبہ و مقام اردو ادب میں اپنی الگ اہمیت کا حامل ہے۔ یہاں ہمیں عربی لغت میں مضمون کے معنی جو نظر آتے ہیں یعنی ’’ما فی اصلاب الفحول‘‘ وہ بالکل درست معلوم ہوتا ہے جس کا مطلب ہے کہ وہ مادہ جو تخلیق کی نیرنگیوں کا مظہر ہے۔ 
	یہ تو ہوئی مضمون کی بات۔ انشائیہ، مضمون کی ایک قسم ہے، یہ کہنا سراسر غلط ہے۔ انشائیہ کی تحریر اپنی ایک انفرادیت رکھتی ہے۔ اس کی تحریر میں لطافت کے ساتھ گہرائی پائی جاتی ہے جو کہ مضمون میں نظر نہیں آتی۔ انشائیہ میں غیر سنجیدگی، رنگا رنگی، کیف انگیزی، گپ بازی، ذرا سی آوا رہ خیالی، شگفتہ بیانی، خوش طبعی، شوخی، سادگی، برجستگی، بے ربطی اور بے ترتیبی بھی ہوسکتی ہے۔ ایسا تخلیقی خیال جو اپنے مرکز سے ہٹ کر ساری کائنات کا چکر لگا کر پھر سے اپنے مرکز میں سمٹ جاتا ہے۔ دراصل وہی انشائیہ ہے۔ اور مضمون میں خیال صرف اور صرف اپنے مرکز کے اطراف ہی گھومتا رہتا ہے۔ اس لیے شروعات میں اسے مضمون ہی کی دوسری شکل کہا گیا۔ لیکن رفتہ رفتہ یہ بات واضح ہوتی چلی گئی کہ انشائیہ سرے سے ہی ایک الگ ادبی صنف ہے۔ پروفیسر غلام جیلانی اور ڈاکٹر وزیر آغا بھی دونوں کو مختلف اصناف سمجھتے ہیں۔ بحوالہ تنقید اور مجلسی تنقید میں لکھتے ہیں کہ:
	’’جس طرح مونتین کی ایک خاص وضع کی تحریروں کو دیا گیا ایسے کا نام ہر قسم کی کاروباری تحریر کے لیے استعمال ہونے لگا تھا۔ بالکل اسی طرح اردو میں انشائیے کے لفظ کو ہر قسم کے مضامین کے لیے عام طور سے استعمال کیا جانے لگا۔  لیکن حقیقت یہ ہے کہ انشائیہ مضمون سے ایک بالکل الگ شے ہے اور ساری حقیقت ان دونوں کے فرق کو گرفت میں لے سکنے کے باعث پیدا ہوئی ہے۔ ‘‘
	انیسویں صدی کی جو تحریریں تھیں وہ انشائیہ سے قریب ضرور تھیں لیکن پوری طرح سے انشائیہ نہیں کہلائی جا سکتی تھیں۔ بقول وزیر آغا:
	’’بیشتر لوگ اس بات پر متفق ہیں کہ انشائیہ ادب کی مشکل ترین اور لطیف ترین صنف ہے اور یہ صرف اس وقت نمودار ہوتی ہے جب زبان ارتقاء کے بہت سے مراحل طے کر چکی ہوتی ہے۔ ‘‘
	جناب وزیر آغا نے اپنی کتاب ’’انشائیہ کے خد و خال‘‘ میں انشائیہ اور مضمون نگاری کی روایات کو منفرد دکھانے کے لیے ایک مختصر سا شجرہ مرتب کیا ہے۔ جس سے یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہو جائے گی کہ انشائیہ اور مضمون دونوں اصناف کس حد تک مختلف ہیں۔ 
ادب

نثر 	    شاعری

داستان	 ناول 	افسانہ	ڈرامہ	سوانح عمری    سفرنامہ	انشائیہ	مضمون

طنزیہ مضمون	مزاحیہ مضمون	تنقیدی مضمون	علمی مضمون	تحقیقی مضمون
	اس شجرے کو دیکھنے کے بعد انشائیہ مضمون سے مختلف نظر آتا ہے۔ اس فرق کو اگر ایک تحریر سے مزید واضح کیا جائے تو میری نظر میں بہت بہتر ہو گا۔ 
	یہ دیکھئے:
	’’شیخ سعدی سے لے کر شیخ چلی تک تمام مفکرین کا یہ متفقہ فیصلہ ہے کہ خواب زندگی کا بہترین سرمایہ ہیں۔ ‘‘
	یہاں اس تحریر میں شیخ سعدی کا نام پڑھتے ہی قاری کے ذہن میں احترام کا جذبہ پیدا ہو گیا لیکن جیسے ہی شیخ چلی کی مضحکہ خیز مماثلت سامنے آئی سارا احترام ختم ہو گیا۔ یہ صرف کسی طنزیہ مضمون میں ہوسکتا ہے۔ اس کے برعکس انشائیہ میں اس طرح کی اگر لطیف و پرکیف مثالیں آبھی جائیں تو قاری کو اپنے جذبات کو یک لخت ختم کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ بلکہ وہ لطیف جذبات تحریر کے ساتھ ابھرتے اور بلند ہی ہوتے رہتے ہیں۔ تحریر کی اگر مثال دینا ہی ہے تو ہیزلٹ کی تحریر یہاں پر بہت ضروری ہو جاتی ہے تاکہ اس بات کو مزید واضح کرسکیں۔ 
	One of the pleasantest things in the world is going a journey but I like to go by my self. I can enjoy Society in a room but off door nature is company enough for me.   
	یہاں انشائیہ نگار نے سفر کا ذکر کیا ہے اور اسے دنیا کا سب سے زیادہ فرحت بخش عمل قرار دے کر قاری کے دل میں سیاحت کے جذبے کو متحرک کر دیا ہے۔ لیکن جب وہ دوسرے ہی لمحے سفر کے لیے ’’اکیلا‘‘ جانے کی شرط لگاتا ہے تو قاری کے جذبات اچانک تھم نہیں جاتے بلکہ ایک نئے جہان کے طلوع ہونے پر بڑی نفاست سے افق پر بکھرنے لگتے ہیں اور وہ خود کو بھی اس نئی کیفیت کے لطف میں خود کو سمو کر ایک عجیب سا لطف محسوس کرنے لگتا ہے۔ اسی لطف کو وزیر آغا ’’تخلیقی تازگی‘‘ سے تعبیر کرتے ہیں اور بعض جگہ اسی تازگی کو مزاحیہ مضمون سے خلط ملط کر دیا گیا۔ لیکن یہ بالکل الگ چیز ہے کیونکہ مزاحیہ مضمون میں تازگی صرف وقتی ہوتی ہے اور بسا اوقات یہ تازگی فکر کی تحریک کا پیش خیمہ بن جاتی ہے۔ اس لیے انشائیہ مزاج اور مزاحیہ مضمون دونوں بالکل الگ الگ شے ہیں۔ 
	انشائیہ کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ یہ خود نامکمل رہ کر مکمل لگتا ہے جبکہ مضمون میں سیر حاصل تبصرہ کرنے کے بعد ہی محسوس ہوتا ہے کہ مضمون پایہ تکمیل کو پہنچا ہے۔ دوسری خصوصی یہ ہے کہ انشائیہ میں عنوان یا موضوع کی مرکزیت اپنی جگہ قائم رہتی ہے لیکن کئی ہزار باتیں اس طرح سے لکھی جاتی ہیں جس کا موضوع سے تو کوئی تعلق نہیں لگتا لیکن ہزار کوشش کے باوجود ہم ان باتوں کو بے تعلق بھی نہیں کہہ سکتے۔ یعنی انشائیہ نگاری میں بے انتہا لچک ہوتی ہے۔ اب یہ مصنف کی صلاحیت پر منحصر ہے کہ وہ اس لچک کے پیش نظر قاری کو کہاں تک لے جا سکتا ہے۔ اس سعی میں بہت سارے پہلو تشنہ بھی رہ جاتے ہیں لیکن قاری کے لیے غور و فکر کے تمام راستے ہموار ہو جاتے ہیں۔ 
	مضمون میں کسی لچک کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی۔ اس میں تحریر ایک منظم طریقہ کار پر عمل پیرا ہوتی ہے۔ اور قاری خود کو شروع سے ہی ایک دائرہ میں مقید محسوس کرتا ہے۔ وہ تمام کیفیات مہیا کرے گا جو انشائیہ سے مخصوص ہیں۔ اس لیے وزیر آغا بہت صحیح کہتے ہیں کہ انشائیہ ’’مضمون کی شیلی‘‘ ہے ہی نہیں بلکہ بالکل الگ صنف ادب یہی حال پروفیسر جیلانی اصغر کا ہے۔ البتہ سلیم اختر، عرش صدیقی، احتشام حسین اور آدم شیخ نے بھی انشائیہ کو مضمون کے مترادف سمجھا ہے۔ 
	مغرب میں ایسے کے میدان میں فروغ پانے والے کئی مضمون نگاروں کو نثر والوں نے بھی اپنا آئیڈیل بنایا۔ جس میں سر فہرست سر سید احمد خاں ہے۔ جنہوں نے اس دور کے مونتین، لیمب اور ہیزلٹ کے ایسیز کو چھوڑ کر مضمون نگاری کے اس بہاؤ  کے دھارے کو اپنایا جس میں اصلاحی، علمی اور فلسفی رنگ شامل تھا۔ بقول وزیر آغا:
	’’کبھی تو سرسید نثر میں شعری مواد کو سمونے کی کوشش میں مضحکہ خیز نظر آنے لگے۔ لیکن پھر بھی پوری طرح خالص ایسے کی طرف مائل نہ ہوسکے۔ لیکن اس سے بالکل انکار نہیں کیا جا سکتا کہ سرسید کی تحریر کی گہرائی کا حصہ کوئی اور نہیں بن سکتا۔ ان کی تحریروں میں ہمیں انشائیہ کا کئی جگہ پر خوبصورت ٹچ ملتا ہے باوجود اس کے پھر بھی انہوں نے اپنے نثر پارے کو انشائیہ نہ کہتے ہوئے مضمون کہا اس کی وجہ یہ سمجھ میں آتی ہے کہ وہ اپنے مضمون میں راست قاری سے مخاطب ہونا چاہتے تھے اور شاید دوسری وجہ یہ تھی کہ اس دور میں مغرب میں ’’مضمون‘‘ یعنی ایسے اپنا سکہ جما رہا تھا۔ تہذیب الاخلاق میں شائع ہوئے اپنے ایک مضمون میں انہوں نے مغرب کے کئی ادیبوں اور انشاء پردازوں کا تذکرہ کیا ہے۔ اس سے ہم یہ نتیجہ بھی اخذ کرسکتے ہیں کہ سرسید احمد خاں بھی مضمون اور انشائیہ کو دو الگ الگ اصناف تسلیم کرتے تھے اور انہوں نے اس دور کے مضمون نگاری کے بہاؤ میں بہنا پسند کیا۔ لیکن فضاؤں میں ابھرتی انشائیہ کی ترنگوں سے بھی خود کو دور رکھنے میں کامیاب نہ ہوسکے۔ اس لیے ان کی کئی تحریروں میں انشائیہ کا اتنا حسین امتزاج پایا جاتا ہے جو ہمیں دوسروں کے پاس نہیں ملتا۔ سرسید اپنے مذہب کا فعال اور حیات بخش تصور رکھتے تھے ان کے نزدیک مذہب ان اخلاقی اور روحانی قدروں سے پہچانا جاتا ہے جو انسانیت کو آگے بڑھاتی ہیں اور خدمت خلق، محبت اور انصاف کو عام کرتی ہیں۔ وہ تمام مذہبی امور میں ایک وسیع، ہمہ گیر، روادارانہ اور روشن خیال نظریہ کے حامی تھے یا شاید انہیں اس دور میں اس طرح کے خیالات رکھنا ضروری تھا اور حالات کا تقاضا بھی یہی تھا۔ ‘‘
	کیونکہ ایک جگہ سرسید خود لکھتے ہیں کہ:
	’’اس زمانہ میں مثل زمانہ گزشتہ کے ایک جدید علم کلام کی حاجت ہے جس سے یا تو ہم علوم جدیدہ کے مسائل کو باطل کر دیں یا ان کو مشتبہ کر دیں یا اسلامی مسائل کو ان سے مطابق کر دکھائیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘
	یہ اس وقت کی تحریر ہے جب ایسٹ انڈیا کمپنی کے پھیلے جال میں ہندوستان کی معیشت اور مذہبیت دونوں دم توڑ رہی تھیں۔ اس لیے سرسید کی تحریروں میں ناصحانہ اور فکری عنصر زیادہ پایا جاتا ہے۔ 
	وزیر آغا کہتے ہیں :
	’’سرسید کے اندر چھپے ہوئے انشائیہ نگار نے سطح پر آنے کی سر توڑ کوشش بھی کی۔ لیکن یہ اردو انشائیہ کی بد قسمتی ہے کہ اس انشائیہ نگار کو سرسید کے اندر چھپے ہوئے ’’مصلح‘‘ نے گلا گھونٹ کر مار ڈالا۔ ‘‘
	مرزا غالب کی نثر بھی انشائیہ کا رنگ لیے ہوئے تھی اور سرسید غالب کی تحریر سے تھوڑا بہت میل ضرور رکھتے تھے۔ اس لیے سرسید کی تحریریں کبھی کبھی قاری کو وہ لطیف احساس کرانے پر مجبور کر دیتی ہیں جو ایک بہترین انشائیہ نگار کرسکتا ہے۔ 
	اسی طرح کے خیالات ’’مقالات شبلی‘‘ میں بھی نظر آتے ہیں۔ 
	’’۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ کہنا بیجا نہیں کہ اردو انشاء پردازی کا آج جو انداز ہے اور جس کے مجدد اور امام سرسید مرحوم تھے۔ اس کا سنگ بنیاد دراصل مرزا غالب نے رکھا تھا۔ سرسید کو مرزا سے جو تعلق تھا وہ ظاہر ہے اس لیے کچھ شبہ نہیں ہوسکتا کہ سرسید ضرور مرزا کی طرز سے مستفید ہوئے۔ سرسید کی انشاء پردازی کا سب سے بڑا کمال یہ ہے کہ ہر قسم کے مضامین پر کچھ نہ کچھ بلکہ بہت کچھ لکھا ہے اور جس مضمون کو لکھا ہے اس درجہ پر پہنچا دیا ہے کہ اس سے بڑھ کر ناممکن ہے فارسی اور اردو میں بڑے بڑے شعراء اور نثار گزرے ہیں لیکن ان میں ایک بھی ایسا نہ تھا جو تمام مضامین کا حق ادا کرسکتا۔ ‘‘
	انشائیہ اور مضمون میں فرق کی کئی مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔ کئی لوگوں نے محمد حسین آزاد، مولوی نذیر احمد دہلوی، حالی، مولوی ذکاء اللہ دہلوی، رتن ناتھ سرشار، وحید الدین سلیم، عبدالحلیم شرر، اور ان کے بعد نیاز فتحپوری، سجاد حیدر یلدرم، خواجہ حسن نظامی، ابوالکلام آزاد کو بھی انشائیہ نگار کہا ہے یا دوسرے معنوں میں کئی نے انہیں اس صنف میں بھی طبع آزمائی کرتے ہوئے تسلیم کیا ہے لیکن وزیر آغا کہتے ہیں کہ:
	’’ناصر علی دہلوی، سجاد انصاری، خواجہ حسن نظامی اور ابوالکلام آزاد ہی وہ ادیب تھے جن کے ہاں انشائیہ کے مخصوص مزاج اور اسلوب کی طرف پیش قدمی کے شواہد ملتے ہیں یہ وہ لوگ تھے جو انشائیہ نگار بنتے بنتے رہ گئے۔ ‘‘
	منشی پریم چند نے ’’زمانہ‘‘ دسمبر ۱۹۰۹ء کے شما رہ میں ’’گالیاں ‘‘ کے عنوان سے ایک مضمون لکھا تھا جس میں گالیوں کی کئی اقسام اور مواقع پیش کر کے انہوں نے سماج کے اس برے لفظ کی مذمت کی تھی۔ اس کا ایک اقتباس ملاحظہ فرمائیے:
	’’اس سے بڑھ کر ہمارے کمینہ پن اور نامردی کا ثبوت نہیں مل سکتا کہ جن گالیوں کو سن کر ہمارے خون میں جوش آ جانا چاہیے ان گالیوں کو ہم دودھ کی طرح پی جاتے ہیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ بھی قومی زبان کی ایک برکت ہے۔ قومی پستی دلوں کی عزت اور خود داری کا احساس مٹا کر آدمیوں کو بے غیرت اور بے شرم بنا دیتی ہے۔ غصہ میں گالی بکیں دل لگی میں گالی بکیں گالیاں بک کر زور لیاقت ہم دکھائیں گیت میں گالی ہم گائیں زندگی کا کوئی کام اس سے خالی نہیں حد تو یہ کہ ابھی تک ہمارے رہنماؤں نے اس وبا کی بیخ کنی کرنے کے لیے ’سرگرم‘ کوشش نہیں کی۔ اس امر کے اعادہ کی ضرورت نہیں کہ گالیوں کا اثر ہمارے اخلاق پر بہت خراب پڑتا ہے۔ گالیاں ہمارے نفس کو مشتعل کرتی ہیں اور خود داری اور پاس عزت کا احساس دلوں سے کم کرتی ہیں جو ہمیں دوسروں قوموں کی نگاہوں میں وقیع بنانے کے لیے ضروری ہیں۔ ‘‘
	پریم چند نے انتہائی سنجیدگی سے منطقی انداز فکر اپنا کر سماج کا جائزہ پیش کیا ہے۔ ان میں بہت ساری باتیں قاری قبل از تحریر جانتا ہے۔ ایسی تحریر انشائیہ میں کوئی جگہ نہیں پا سکتی۔ اس مضمون کے تقریباً ستر سال بعد اس موضوع پر غلام جیلانی اصغر نے ایک انشائیہ لکھا۔ اس کا اقتباس بھی دیکھتے چلیں تاکہ مضمون اور انشائیہ کا فرق محسوس کرسکیں۔ 
	’’گالی دینے کا یہ فائدہ ہے کہ آدمی گالی دے کر فارغ ہو جاتا ہے اور ذہنی طور پر ایک خوشگوار آسودگی محسوس کرتا ہے۔ اعصاب کا کھنچاؤ دور ہو جاتا ہے اور دل کی گہرائیوں میں سرور کا عالم ہوتا ہے۔ پنجاب میں جو آپ کو ہشاش بشاش مونچھیں، پر وقار پیٹ اور بڑکیں مارتے ہوئے چہرے نظر آتے ہیں تو دراصل اس کی وجہ منہ نہار کی وہ گالی ہے جس پر تمام ملا اور حکیم زور دیتے ہیں۔ گالی جتنی سقیم اور کمزور ہو گی گالی دینے والے کی شخصیت اتنی ہی گھٹی گھٹی ہو گی۔ گالی جتنی پر وقار اور پر زور ہو گی شخصیت میں اتنا ہی  وقار اور کشادگی ہو گی۔ چھوٹا آدمی ڈرتے ڈرتے چھوٹی سی گالی دیتا ہے اور پھر فوراً اپنی ذات کے ڈربے میں چھپ جاتا ہے لیکن بڑا آدمی موٹی سی گالی کی کمند پھینک کر اسے اس ڈربے سے باہر کھینچ لاتا ہے۔ گالی دینے سے جمہوریت کو فروغ ملتا ہے۔ آمریت صرف اس دور میں پنپ سکتی ہے جب گالیوں پر قدغن لگا دی جائے۔ اس لیے ایک اچھے نظام میں یہ خوبی ہوتی ہے کہ وہ اپنے اندر ہائیڈ پارک کی گنجائش رکھتا ہے۔ ‘‘
	اس طرح سے ایک ہی موضوع جب کسی سنجیدہ مضمون نگار کے پاس سے انشائیہ نگار کے پاس آیا تو اظہار کے ساتھ ساتھ خیال بھی بدل گیا اور نہایت لطیف پیرائے میں ہم قابل مذمت باتوں کو بھی ہنسی ہنسی میں نوٹس کر لیا۔ 
	نفس مضمون اور مطلب ان دونوں تحریروں میں غور سے دیکھئے۔ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہو جائے گی کہ تازگی اور شگفتہ بیانی صرف انشائیہ کی تحریر میں ہی ملتی ہے۔ 



مضمون اور انشائیہ کے امتیازات

	انشائیہ مضمون کی ہی ایک قسم ہے۔ اسی لیے ان دونوں میں زیادہ قربت پائی جاتی ہے۔ بظاہر ان دونوں میں مشابہت معلوم ہوتی ہے باوجود اس کے غور کریں تو کئی بار ایسے امتیازات ظاہر ہوتے ہیں جو مضمون اور انشائیہ میں فرق پیدا کرتے ہیں۔ مضمون کی ایک ہیئت ہوتی ہے۔ مضمون میں موضوع سے متعلق ممکنہ معلومات فراہم کی جاتی  ہیں۔ جب کہ انشائیہ میں موضوع کی کوئی قید نہیں ہوتی بلکہ انشائیہ نگار کو یہ آزادی حاصل رہتی ہے کہ موضوع سے جڑی دوسری باتوں کو بھی وہ درمیان میں قلمبند کرتا چلا جاتا ہے اور اس میں اپنے ذاتی تاثرات بھی شامل کر دیتا ہے۔ جس طرح مضمون میں ابتدائی حصہ، درمیانی حصہ اور اختتامیہ ہوتا ہے۔ اس طرح انشائیہ کو ان مختلف حصوں میں درجہ بند نہیں کیا جا سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ انشائیہ کی کوئی خاص ہیئت نہیں ہوتی اور اس کی فضا غیر رسمی ہوتی ہے۔ 
	مضمون میں مواد کی پیش کشی میں ایک منطقی ربط ہوتا ہے۔ برخلاف اس کے انشائیہ میں موضوع سے ربط و تعلق تو ہوتا ہے لیکن اس میں کوئی منطقی ربط نہیں ہوتا بلکہ کئی ضمنی باتوں کے سہارے انشائیہ نگار اپنا ما فی الضمیر ادا کرتا چلا جاتا ہے۔ 
	مضمون میں اپنا سارا زور بات کو عالمانہ انداز سے کہنے پر ہوتا ہے اور اس کا بنیادی مقصد معلومات فراہم کرنا ہوتا ہے۔ جبکہ انشائیہ میں معلومات سے زیادہ تاثرات کی اہمیت ہوتی ہے۔ یہ تاثرات انشائیہ نگار کی ذہنی ترنگ کے تابع ہوتے ہیں۔ اس لیے کہ انشائیہ نگار واقعات سے زیادہ واقعات کے رد عمل پر توجہ دیتا ہے اور اشاروں اشاروں میں اپنا مدعا بیان کر دیتا ہے۔ جبکہ موضوع مضمون سے متعلق باتیں سنجیدگی سے زیر بحث آتی ہیں اور ان کی وضاحت دلائل کے ساتھ ہوتی ہے اور انداز بیان بالکل سیدھا سادھا ہوتا ہے۔ جبکہ انشائیہ میں سارا زور انداز بیان پر ہوتا ہے۔ اس کا اسلوب شگفتہ اور شاعرانہ ہوتا ہے۔ اسی خاص اسلوب کی بنا پر انشائیہ کے موضوعات اور طرز اظہار میں نمایاں فرق ہے اور ان کے مقصد بھی جدا جدا ہیں۔ 
	مضمون جدید نثر کی ایک مقبول صنف ہے۔ خیالات کے اظہار اور ان کی ترسیل کے لیے یہ ایک مفید صنف ادب ہے۔ جس میں زندگی سے جڑے تمام موضوعات پر اظہار خیال جا سکتا ہے۔ خواہ وہ سائنسی معلومات ہوں کہ مذہبی یا پھر ادبی ہوں کہ معلوماتی ہر قسم کی معلومات اس صنف ادب کا حصہ بن سکتی ہیں۔ 
	موجودہ زمانے میں اس صنف کو غیر معمولی فروغ حاصل ہوا ہے۔ چھاپے خانے کی ایجاد نے رسالوں اور اخبارات کی اشاعت کی راہ ہموار کی۔ جس کی بنا ء پر اخبار اور رسالوں کی ضرورتوں کی تکمیل کے لیے مضمون نویسی عام ہوئی اور اس مقصد کے لیے ہر موضوع پر مضامین لکھے جانے لگے۔ عصر حاضر میں انٹرنیٹ پر ہر موضوع پر سیکڑوں مضامین پڑھنے کو مل جاتے ہیں۔ اس سے یہی بات ثابت ہوتی ہے کہ آج کی جدید ترین معلومات کا ذریعہ یہ مضامین ہی ہیں۔ 
	مضمون ایک مختصر صنف ادب ہونے کے باوجود اس میں موضوع کا احاطہ بڑی گہرائی اور گیرائی کے ساتھ کیا جاتا ہے اور موضوع کے متعلق اہم باتیں ایک تسلسل اور تنظیم کے ساتھ پیش کی جاتی ہیں۔ مضمون کی زبان سادہ اور سلیس ہوتی ہے اور انداز بیان میں علمی سنجیدگی ہوتی ہے۔ جیسے علمی مضامین، تحقیقی و تنقیدی مضامین، سائنسی و مذہبی مضامین وغیرہ۔ 
	مضمون ہی کی ایک قسم انشائیہ ہے۔ انشائیہ میں کسی موضوع پر شخصی تاثرات مشاہدات اور تجربات کو بیان کیا جاتا ہے۔ اسی لیے اسے ’’ذاتی بیشتر‘‘ کا نام بھی دیا جاتا ہے۔ انشائیے میں عبارت آرائی کو بڑی اہمیت حاصل ہوتی ہے۔ انشائیہ نگار اپنے موضوع کو بیان کرتے ہوئے خاص اسلوب اپناتا ہے جس سے کہ پڑھنے والے کو پڑھنے والے کو تحریر میں لطف ملتا ہے وہ بات سے بات پیدا کر کے خشک موضوع کو بھی دلچسپ بنا دیتا ہے۔ 
	مضمون میں ابتدا سے لے کر اختتام تک موضوع کے متعلق ایک ہی خیال کو تسلسل کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے۔ لیکن انشائیہ کے عموماً پیراگراف میں ایک نیا خیال ملتا ہے۔ یعنی انشائیہ نگار موضوع سے تعلق رکھنے والی دوسری ضمنی باتوں پر اپنے ذاتی تاثرات اور خیالات پیش کرتا ہے۔ باوجود اس منتشر خیالی کے انشائیہ میں ایک ربط ضرور معلوم ہوتا ہے انشائیہ مضمون کی ہی ایک قسم ہے لیکن دونوں میں موضوع، زبان، ترتیب، ربط اور انداز بیان میں فرق ہے۔ بنیادی طور پر انشائیہ نگار کا مقصد سوچ بچار کے لیے راستے ہموار کرنا ہوتا ہے۔ تمام ریزہ خیالی کے باوجود انشائیہ میں ابتداء سے لیکر اختتام تک ربط قائم رہتا ہے۔ انشائیہ نگار کے ذہن میں موضوع سے متعلق یا موضوع سے جڑے دوسرے ضمنی خیالات جس طرح سے آتے ہیں وہ انہیں ضبط تحریر میں لے آتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انشائیے کے مختلف پیراگراف میں عام طور پر ایک نیا خیال ملتا ہے۔ اور تقریباً ہر پیراگراف اپنی جگہ مکمل ہوتا ہے۔ اس لیے انشائیے کو ’’غزل کا فن‘‘ بھی کہا گیا ہے۔ جس طرح غزل کا ہر شعر اپنے آپ میں ایک مکمل خیال کی ترجمانی کرتا ہے اسی طرح انشائیے میں بھی یہی خصوصیت نظر آتی ہے۔ 
	’’انشائیہ‘‘ ایک ہلکی پھلکی صنف ادب ہے تاہم اس میں زندگی کے متعلق بڑی گہری باتیں بتائی جاتی ہیں اور زندگی کی ناہمواریوں کی طرف توجہ دلائی جاتی ہے۔ اس مقصد کے لیے انشائیہ نگار ایک خاص اسلوب اپناتا ہے جس میں کسی قدر طنز کی آمیزش کے ساتھ ساتھ مزاح بھی ہوتا ہے۔ طنز کا پہلو بالکل کم ہوتا ہے اس لیے کہ انشائیہ کا ایک بنیادی مقصد مسرت بہم پہنچانا بھی ہے اور مزاح کی زیادتی سے انشائیے میں سطحیت در آتی ہے۔ انشائیہ نگار کسی موضوع پر ہلکے پھلکے انداز میں فکر و فلسفے کے دقیق نکات بیان کر جاتا ہے اور اشاروں اشاروں میں معنویت کی تہہ داریاں کھولتا ہے۔ 
	انشائیہ نگار ہو چاہے مضمون نگار۔ دونوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ اچھے اور بہترین نثر نگار ہوں۔ ساتھ ساتھ ان کا مطالعہ و مشاہدہ بھی کافی وسیع ہو اور معمولی بات کو بھی وہ اپنے زور قلم سے غیر معمولی بنانے پر عبور رکھتے ہوں۔ 
	مندرجہ ذیل تقابلی تحریر سے اس بات کا اندازہ ہو جائے گا۔ 

برائے مضمون اور مضمون نگار

	’’انسان کو تعلیم دینا درحقیقت کسی چیز کا باہر سے اس میں ڈالنا نہیں ہے بلکہ اس کے دل کی سوتوں کی کھولنا اور اندر کے سرجی چشمے کے پانی کو باہر نکالنا ہے جو صرف اندرونی قویٰ کو حرکت میں لانے اور شگفتہ و شاداب کرنے سے نکلتا ہے اور انسان کو تربیت کرنا، اس کے لیے سامان کا مہیا کرنا اور اس سے کام لینا ہے جیسے جہاز تیار ہو جانے کے بعد اس پر بوجھ لادنا اور حوض بنانے کے بعد اس میں پانی بھرنا۔ بس تربیت پانے سے تعلیم کا بھی پانا ضروری ہے۔ تربیت جتنی چاہو کرو اور اس کے دل کو تربیت کرتے کرتے منہ بھر دو مگر اس کے دل کی سرجی سوتیں نہیں کھلتیں بلکہ بالکل بند ہو جاتی ہیں۔ اندرونی قویٰ کو حرکت دئیے بغیر تربیت تو ہو جاتی ہے مگر تعلیم کبھی نہیں ہوتی۔ اس لیے ممکن ہے کہ ایک شخص کی تربیت تو بہت اچھی ہو اگر تعلیم بہت بری۔ ‘‘
	جنہوں نے انشائیہ اور مضمون کو ایک سمجھا دوسری طرف ایک گروہ ایسا بھی تھا جنہوں نے اس سے ذرا ہٹ کر سوچا اور کہا کہ یہ تو مزاح ہی ہے۔ یعنی انہوں نے انشائیہ کی شگفتگی اور مزاح کو ایک ہی پلیٹ فارم پر لا کھڑا کیا۔ ہم اپنے اگلے باب میں شگفتگی اور مزاح کو انشائیہ کے زاویۂ نگاہ سے دیکھیں گے۔ 

انشائیہ اور مزاح میں فرق

	ظرافت یا مزاح نگاری کو ادب کی ایک صنف سمجھا جاتا ہے حالانکہ یہ صنف نہیں بلکہ تحریر کی توصیف ہے۔ ہنسنا یا ہنسانا کسے پسند نہیں ہے اور جب اس کے ذریعہ اصلاحی پہلو سامنے آتا ہے تو کیا کہنا۔ اس لیے وہ سونے پر سہاگہ ہو جاتا ہے۔ 
	وزیر آغا کے نزدیک طنز و مزاح کی تحریک دینا نہایت آسان ہے۔ لیکن انشائیہ کی کیفیت کو ابھارنا بہت مشکل ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ:
	’’جو لوگ ہمہ وقت نشیب و فراز سے ماحول کو دیکھتے ہیں وہ طنزیہ یا مزاحیہ مضمون تو لکھ سکتے ہیں انشائیہ تخلیق نہیں کر پاتے۔ ‘‘
	اکثر ادیبوں نے یہ سمجھا تھا کہ طنزیہ یا مزاحیہ تحریریں ہی انشائیہ نگاری کی بہترین بنیاد ہوسکتی ہیں لیکن جب ڈاکٹر سلیم اختر کی سنہری اور روپہلی تنقیدی تحریر سامنے آئی تو یہ شک بھی دور ہو گیا۔ وہ لکھتے ہیں :
	’’انشائیہ کے اسلوب میں لطافت اور شگفتگی ہونے چاہیے۔ لطافت ایسی کہ انشائیہ متبذل نہ ہونے پائے اور شگفتگی ایسی کہ مزاح نہ ہونے کے باوجود تحریر فرحت بخش ہو۔ ‘‘
	اس طرح سے جس کسی نے بھی شگفتگی بمعنی مزاحیہ تحریر کا اخذ کیا تھا وہ آہستہ آہستہ ختم ہوتا چلا گیا۔ خود وزیر آغا نے بھی ’’شگفتگی‘‘ کی بجائے ’’اسلوب‘‘ اور ’’خیال کی تازگی‘‘ جیسے الفاظ استعمال کرنے شروع کر دئیے تھے۔ اسی لیے جنہوں نے بھی پطرس بخاری، شوکت تھانوی، کنہیا لال کپور کو انشائیہ نگار سمجھا تھا ان کی خام خیالی پر گرد و غبار بیٹھتا چلا گیا۔ ڈاکٹر انور سدید نے بھی مزاحیہ اسلوب اور شگفتگی کو مختلف گردانا ہے۔ 
	وہ لکھتے ہیں :
	’’۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ نقصان یہ ہوا کہ اسلوب کی شگفتگی کو طنز و مزاح کا مترادف تصور کر لیا گیا۔ چنانچہ انشائیہ اور طنز و مزاح کی حدود کو آپس میں گڈ مڈ ہونے کا موقع مل گیا۔ ‘‘
	وزیر آغا رقمطراز ہیں۔ 
	’’ہم لوگوں نے طنزیہ مضامین لکھنے والے حضرات کو بار بار یقین دلایا کہ طنزیہ مزاحیہ مضامین کا اپنا ایک مرتبہ اور توقیت و اہمیت ہے وہ کیوں اس بات پر مصر ہیں کہ ان کے مضامین پر ضرور ہی انشائیہ کا لیبل لگایا جائے۔ ‘‘
	اس طرح سے وزیر آغا اور ان کے ساتھیوں نے کئی ادیبوں کی مزاحیہ تحریروں کو انشائیہ تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔ یہاں تک کہ کنہیا لال کپور، پطرس، رشید احمد صدیقی اور شوکت تھانوی کو بھی کہہ دیا کہ آپ تمام کو کسی بھی صورت میں انشائیہ نگار تسلیم نہیں کیا جا سکتا اور اس اعلان کے ساتھ ہی انہوں نے مزاحیہ نگارشات کے روح رواں میں کھلبلی مچا دی۔ اگر اس وقت انور سدید ’’انشائیہ اردو ادب میں ‘‘ میں انشائیہ کی تاریخ کو پیش نہیں کرتے تو یہ سرد جنگ مزیر جاری رہ سکتی تھی۔ ان انشائیہ اور مزاحیہ دونوں کے فرق کو واضح طور پر پیش کیا گیا تو عطاء الحق قاسمی نے انشائیہ کے خلاف ایک اخباری مہم چھیڑ دی۔ بقول وزیر آغا انہوں نے ایک فقرہ کسا کہ:
	’’انشائیہ پڑھ کر میرے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ ‘‘
	اور 
	’’انشائیہ ایک تیسری جنس ہے۔ ‘‘۱
	ان سب سے برتر بقول مشتاق قمر:
	’’انشائیہ ایک ایسی حسرت کا نام ہے جو دل کے اندر موم بتی کی طرح سلگتی اور تادیر سلگتی رہتی ہے جبکہ طنز و مزاح سے پیدا ہونے والا قہقہہ فاضل اسٹیم کے اخراج کا اہتمام کرتا ہے اور قہقہہ لگانے کے بعد انسان کی حالت اس کارتوس کی سی ہو جاتی ہے جس میں سے چھرے نکل چکے ہوں۔ ‘‘
	انشائیہ کا مقصد ہنسی کو تحریک دینا نہیں بلکہ اس کا مقصد ذہن کو تازہ دم کرنا ہے۔ وہ بقدر ضرورت تبسم زیر لب کا اہتمام کرتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ تبسم کسی لطیفے کو سن کر برانگیختہ نہیں ہوتا بلکہ تحریر کے معنی کے پرتو کے اترنے پر نمودار ہوتا ہے۔ 
	وزیر آغا کہتے ہیں :
	’’انشائیہ معنی خیز مسکراہٹ سے بہرہ ور ہوتا ہے۔ یہ مسکراہٹ اصلاً ایک عارفانہ مسکراہٹ ہے جو سدھارتھ کے ہونٹوں پر اس وقت نمودار ہوتی ہے جب اس پر اچانک کائنات کا راز فاش ہو جاتا ہے اور مونا لیزا کے ہونٹوں پر اس وقت جب اسے اپنی تخلیقی حیثیت کا عرفان حاصل ہوتا ہے۔ انشائیہ نگار کو معنی خیز تبسم عطا کرنے کے اہم کام سے روک کر محض فقرہ بازوں اور لطیفہ گویوں کی صف میں لا کھڑا کرنا کفران نعمت نہیں تو اور کیا ہے؟‘‘ 
	پروفیسر حسنین اپنی کتاب ’’انشائیہ اور انشائیے‘‘ میں نہایت ہی خوبصورت انداز میں انشائیہ اور ظرافت کے حسین امتزاج کو پیش کرتے ہیں۔ 
	’’صنف انشائیہ میں ظرافت جوہر ہی نہیں جوہر اعظم ہوتا ہے۔ یہ انشائیہ نگار کی خوش گفتاری کا خمیر ہے اور اس کے فن کا جلوۂ صد رنگ دوسروں پر ہنسنا عام ہے اور آسان بھی مگر اپنے پر دوسروں کوہنسانا کھیل نہیں اس کے لیے ہمت، ضبط اور ایثار کی ضرورت پڑتی ہے۔ انشائیہ میں دوسروں کی حماقت اور اپنی خفت دونوں ظاہر ہوتی ہے۔ بیک نگاہ آنکھوں کے تنکے کے ساتھ یہاں شہتیر بھی سامنے آ جاتے ہیں۔ ‘‘
	پروفیسر حسنین نے بالکل صحیح کہا ہے کہ انشائیہ میں ظرافت جوہر اعظم ہے۔ انشائیہ میں ظرافت کی وجہ سے رنگینی ہوا ہوتی ہے اور اس کی رونق میں چار چاند لگ جاتے ہیں۔ جس کی وجہ سے قاری ایک سے دو بار اسی انشائیہ کو پڑھنا چاہتا ہے۔ لیکن اگر اس کے ساتھ ساتھ اس بات کو بھی قابل لحاظ رکھا جائے کہ طنز و مزاح اعلی اور معیاری ہو کہیں ایسا نہ ہو کہ گھٹیا طنز و مزاحیہ جملے اعلیٰ انشائیہ کی تحریر کو لے ڈوبیں۔ اسی بات کو پروفیسر حسنین کہتے ہیں۔ 
	’’میں نے کہا کہ مزاح انشائیہ کا جوہر اعظم ہے۔ پر یہ نہ بھولئے کہ اعلیٰ اور معیاری مزاح نامطابق خیالات کی آویزش سے ابھرتا ہے۔ یہ نا مطابق واقعات کے اجتماع سے پیدا نہیں کیا جاتا۔ انشائیہ لمحے بھر کے لیے ہمیں حیوان بنا دیتا ہے یہ صحیح ہے لیکن سینگ لگا کر لاتیں چلانا قابل ستائش نہیں بلکہ سینگوں کے بغیر بیل بن جانا یا بنا دینا قابل تعریف ہے۔ ‘‘
	اگر انشائیہ میں مزاح کو شامل بھی کیا جائے تو ہم پوری مزاح کو تحریر میں نہیں بدل سکتے۔ ظرافت اور ہجو ہی ہم انشائیہ میں شامل کرسکے ہیں لیکن اس کے لیے ذہن کی پختگی اور نفاست و شائستگی کا ہونا بہت ضروری ہے۔ اگر یہ اوصاف نہ دکھائی دیں تو انشائیہ میں ایسی طنز و مزاح بناوٹی معلوم ہوتی ہے۔ ظرافت اور ہجو کے رنگ بہت گہرے ہونے چاہییں۔ ایک اچھے انشائیہ نگار کے پاس قاری پر چلانے کے لیے خود کو تیر کمان سنبھالنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ وہ صرف فضا میں تیر اچھالتا ہے اور وہ تیر ہی مختلف کمانیں حاصل کر کے قاری کی آنکھوں کے ذریعہ دل و دماغ میں پیوست ہو جاتے ہیں۔ تحریر کا یہ طریقہ بالراست ہوتا ہے۔ اس ہتھیار کو وہ اپنے چٹکلوں کے ذریعے استعمال کرتا ہے۔ کبھی شخصیت کے کسی پہلو کو تنقیدی اشعار یا ناصحانہ اقوال کے ذریعہ اس طرح بیان کرتا ہے کہ وہ خوبی یا خرابی خود بخود سامنے آ جاتی ہے۔ یا پھر کبھی کھلم کھلا خود سامنے آ کر قاری کو پس پردہ کر دیتا ہے۔ ان مقاصد کو پورا کرتے کرتے وہ نصیحتیں بھی کرتا جاتا ہے اور ہجو و طنز کے تیر بھی چلاتا جاتا ہے ایسی تحریروں سے ظرافت اور ناصحانہ رنگ ٹپکنے لگتا ہے۔ کمال تو یہ ہے کہ ایسے تیر چلانے کے باوجود ہم انشائیہ نگار پر کوئی قانونی مقدمہ نہیں چلا سکتے۔ کیونکہ یہی وہ صنف ادب ہے جہاں قلمکار کو پوری آزادی دی گئی ہے۔ 
	بقول پروفیسر سید حسنین:
	’’یہ گفتار کا وہ غازی ہے جسے سات نہیں سیکڑوں خون معاف ہیں۔ یہ بزم نشاط کا وہ ساقی ہے جسے شراب میں ’’کچھ ملانے‘‘ کی اجازت ہے۔ اس کی عذر مستی باتوں کی سمیت یا سنگینی کو کافور کر دیتی ہے۔ ‘‘
	یہی وجہ ہے کہ اس طرح کی تحریریں قاری کو ناراض نہیں کرتیں اور غصہ نہیں دلاتیں نہ ہی سماجی میں کسی طرح کی خرابی یا بگاڑ کی ذمہ داری ہوتی ہیں بلکہ یہی تحریریں منتہائے کمال انشائیہ ہیں۔ اگر ان تحریروں پر سے انشائی رنگ دھو لیا جائے تو احمد جمال پاشا کے الفاظ میں ’’خون خرابہ‘‘ کی نوبت آسکتی ہے۔ جو انہوں نے ’’دو لفظ‘‘ میں بیان کیا ہے۔ ایک انشائیہ نگار کی ظرافت سماج کے لیے مثبت نظریہ رکھتی ہے کیونکہ یہ اس کے تجربات اور زندگی کے نشیب و فراز کا نچوڑ ہیں۔ اس کی نظر جھوٹ اور سچ کی تمیز بہت جلد کر کے دکھاتی ہے۔ مٹی کے ذرات میں سے طلائی ذرات کو علیحدہ کر کے دکھاتی ہے۔ کانچ کے ٹکڑوں میں شامل ہیرے کی شناخت کرتی ہے اور یہ سب نہایت آسانی سے اس لیے ممکن ہوتا ہے کہ انشائیہ نگار کے پاس اس کسوٹی کو پرکھنے کے لیے ظرافت اور مزاح کا پیمانہ ہوتا ہے۔ جس کے ذریعہ وہ ہنستے ہنساتے آسانی سے اپنا کام کر جاتا ہے۔ 
	اس میں کوئی شک نہیں کہ طنز و مزاح کی وجہ سے انشائیہ کی مقبولیت میں اضافہ ہوا ہے۔ کسی موضوع کو ہلکے پھلکے انداز میں گہری بات کہتے ہوئے آسانی کے ساتھ نکل جانا یا سماج کے بعض سلگتے ہوئے مسائل پر شبنم کی بوندیں برساتے نکل جانا یہ انشائیہ نگار کے بس میں اسی وقت ممکن ہے جب اس کے پاس طنز و مزاح کا وصف خاص ہو۔ اس لیے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ انشائیہ مکمل طرح سے طنز و مزاح سے بھرا ہوتا ہے۔ بلکہ یہ کہا جائے تو غلط نہ ہو گا کہ انشائیہ وہ مضمون ہے جس میں لطافت کے ساتھ فلسفیانہ گہرائی پوشیدہ ہے۔ 
	کسی موضوع کو زبان و بیان کے تمام اوصاف کے ساتھ دلگداز طریقے سے بیان کرنا اور سماج کے بعض اہم مسائل پر چوٹ کرنا انشائیے کا وصف خاص ہے۔ یہ مزاحیہ مضمون نہیں ہوتا اور نہ ہی فلسفیانہ اور سنجیدہ مضمون ہوتا ہے بلکہ یہ دونوں کے درمیان خوش سخنی اور خوش مزاجی کا نمونہ ہوتا ہے۔ اس میں زبان سے لطف اندوزی کا موقع تو دیا جا سکتا ہے لیکن کسی کے جذبات کو مجروح کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی ہے۔ یہی احتیاط انشائیہ کے حسن و خوبصورتی کو قائم رکھتی ہے۔ 
	جس طرح یہ بتایا گیا کہ سماج میں سلگتے ہوئے مسائل اور اس کے بگاڑ کے اسباب دیکھتے دیکھتے ان کے سدھار کے لیے اپنا قلم ہاتھ میں لے کر کھڑا ہوتا ہے۔ ایک مکمل طنز نگار سماج کے ناہموار مسائل کو ہموار بنانے کی کوشش کرتا ہے۔ اس میں کہیں کہیں وہ تکلیف بھری باتیں بھی کہہ گزرتا ہے لیکن اس کے مد نظر سماج سدھار کا عظیم مقصد ہوتا ہے اس لیے وہ اسے قابل جرم نہیں گردانتا۔ دوسرا ہوتا ہے مکمل مزاح نگار۔ جو خود ایک ناہموار مسئلہ بن کر قاری کے سامنے کھڑا ہوتا ہے اور اسے اس پرہنسنے کی ترغیب دیتا ہے اور ہنسی ہنسی میں اور خود کا مذاق اڑاتے اڑاتے وہ ان سماجی مسائل کی اصلاح کروا لیتا ہے۔ 
	لیکن انشائیہ نگار ان دونوں سے الگ ہوتا ہے، انشائیہ نگار اپنے اسلوب کو اہمیت دیکر تازگی کے ساتھ خود کے ذاتی تجربات بیان کرتے کرتے آپ کو اپنی ایک نئی دنیا میں لے جا کر وہاں کی سیر کرواتا ہے اور مسائل کا حل نکال کر بتاتا بھی ہے اور فیصلہ آپ پر چھوڑ دیتا ہے۔ 
	بقول وزیر آغا:
	’’انشائیہ مزاحیہ اور طنزیہ مضامین سے مختلف چیز ہے۔ اس کا مقصد نہ تو اصلاح و احوال ہے اور نہ وہ قہقہہ اگلوا کر اور یوں اندر کی فاضل اسٹیم کو خارج کر کے آپ کو آسودگی مہیا کرنے کا متمنی ہے۔ ‘‘
	اتنی باتیں جان لینے کے بعد سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ طنز و مزاح نگاروں نے صنف انشائیہ کا انتخاب ہی کیوں کیا۔ وہ دوسری کئی اصناف کے ذریعہ بھی اپنے مقاصد کو بروئے کار لا سکتے تھے۔ اس کا جواب ہمیں ڈاکٹر سیدہ جعفر کے اس اقتباس سے مل سکتا ہے۔ 
	’’انشائیہ چونکہ ایک آزاد اور صنفی پابندیوں سے ماورا ادبی پیکر ہے اس لیے اس میں مزاح کو پھلنے پھولنے اور بروئے کار آنے کے اچھے مواقع ہوتے ہیں۔ یہ ایک ایسا ادب پا رہ ہے جس میں بیک وقت فکر انگیزی، خیال کی رعنائی، تاثرات کی دلفریب ترجمانی، اسلوب کا نکھار اور تصور کی لطافت سب ہی عناصر سموئے ہوئے ملتے ہیں۔ ‘‘
	بیسویں صدی کی تیسری دہائی میں یعنی ترقی پسند تحریک کے آغاز میں انشائیہ کی صنف کی شمع کی لو دھیمی پڑ گئی۔ کیونکہ اس وقت کا تقاضا سامراجی طاقتوں سے مقابلہ کرنے اور جدوجہد آزادی کو بڑھانا تھا۔ جس کی وجہ سے انشائیہ نگاری کی رفتار کم ہو گئی۔ لوگ حقیقت کے سانے اتنے بے بس ہو گئے تھے کہ وہ اپنے ذہن اور دل کو انشائیے کی لطافت اور تازگی کے لیے ہم آہنگ نہ کر پائے اور یہی وقت تھا کہ جب انشائیہ پر طنز و مزاح غالب آ گیا۔ 
	انشائیہ کے خوبصورت پہلوؤں میں ایک پہلو پند و نصائح کا بھی ہے۔ جو سماج اور معاشرے کی خرابیوں اور خامیوں کی اصلاح کے لیے مؤثر تریاق کا کام کرتا ہے۔ تو ایسا لگنے لگا کہ ایسی ہی ایک صنف مقالہ نگاری ہمارے پاس تو پہلے سے ہی موجود ہے۔ تو یہ ایک طرح سے ہلکا پھلکا مقالہ ہی ہوا۔ لیکن یہ دلیل بھی انشائیہ کی کسوٹی پر کھری نہ اترسکی۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ کس طرح مقالہ اور انشائیہ الگ الگ طریقے سے اپنا رتبہ بنائے ہوئے ہیں۔ 

انشائیہ اور مقالہ میں فرق

	بقول سید محمد حسنین:
	’’مقالہ ادب کی وہ صنف ہے جس میں سنجیدگی، علمیت، متانت اور دیانت ہوتی ہے۔ مقالہ میں کسی سنجیدہ بات یا خیال پر روشنی ڈالی جاتی ہے۔ یہ حکمت و فلسفہ یا علم و دانش کے کسی پہلو یا رخ پر سیر حاصل بحث کرتا ہے۔ ‘‘
	ڈاکٹر سیدہ جعفر مقالے کی تعریف کچھ اس طرح بیان کرتی ہیں :
	’’مقالہ عام طور پر اس طویل اور بسیط مضمون کو کہتے ہیں جس میں کسی موضوع پر عالمانہ انداز میں مفصل روشنی ڈالی جائے۔ مقالہ اپنی استدلالی صلاحیت اور گہرائی کی وجہ سے ہلکے پھلکے مضامین سے خاصا مختلف ہوتا ہے۔ ‘‘
	مقالہ سنجیدہ، عالمانہ، استوار اور متوازن فکر انگیز سنجیدگی والی تحریر کا نام ہے۔ اس میں نہایت ہی بردبارانہ طریقہ سے مقالہ نگار موضوع پر روشنی ڈالنے کا کام کرتا ہے۔ جس سے نفس تحریر کا ہر گوشہ منور ہو جاتا ہے اور قاری کی معلومات میں خاطر خواہ اضافہ ہو جاتا ہے۔ اس کے برعکس انشائیہ کی تحریر میں تازگی اور غیر سنجیدگی ہوتی ہے۔ اس کی تحریر کی روشنی ہمیں ایک سمت نہیں لے جاتی بلکہ کئی اور نئی سمتوں کا اشا رہ دیتی ہے۔ ہر بات اور ہر خیال سے علمیت میں اضافہ ہوتا رہتا ہے۔ 
	ایک مقالہ نگار دراصل ادب کا وہ معلم ہوتا ہے جو صرف درس و تدریس میں حکیمانہ اور عالمانہ طریقہ اپناتا ہے۔ دانشورانہ اور مدبرانہ انداز اختیار کیے ہوئے رہتا ہے وہ قاری کو گمراہ نہیں کرتا اور کبھی راہ راست سے نہیں ہٹاتا وہ قاری کی روحانی تربیت کرتا ہے۔ کبھی کبھی اس کی اس گہری سنجیدگی سے تکان کا احساس ہوتا ہے۔ ہر طرف اعصابی تناؤ اور ذہنی انجماد کی دبیز چادر پھیلی نظر آتی ہے۔ اس کے برعکس انشائیہ نگار کی تحریر میں لطافت، تازی، گپ شپ، خوش گفتاری موجود ہوتی ہے۔ وہ اپنی ہر بات غیر سنجیدہ طریقے سے کہہ کر بھی پڑھنے والے کے دل و دماغ پر چھا جاتا ہے۔ جتنا زیادہ جانتا ہے اس سے کہیں زیادہ بتاتا ہے۔ اس کی گفتگو اس مخلص دوست کی طرح ہوتی ہے جو آپ کے ساتھ آپ کی چائے پی کر آپ پر ہی نرم چوٹیں لگاتا ہے اور آپ ان چوٹوں کو سہہ کر خود کو اور زیادہ چست و چالاک محسوس کرنے لگتے ہیں۔ 
	مقالات کے گہرے نقوش ہمیں حالی اور شبلی اور سلیم پانی پتی کے پاس ملتے ہیں۔ ان تحریروں میں صرف ہمیں سو فیصد مقالہ نظر آتا ہے۔ ان کی بلند آہنگی، علمیت، وسعت اور مضمون کے تئیں انتہائی سنجیدگی پائی جاتی ہے۔ لیکن نہایت آن بان اور شان کے ساتھ یہ تحقیقی تحریریں مقالات میں اپنی جگہ جمائے ہوئے ہیں کیونکہ حالی، شبلی اور سلیم پانی پتی کے مقالات واقعی مقالات ہیں۔ اس لیے ہم ان کی تحریروں کو اسی شان کے ساتھ دیکھتے ہیں۔ 
	شبلی کی بابت عام خیال ہے کہ شبلی کا پسندیدہ موضوع تاریخ رہا ہے۔ لیکن ان کے مقالات یہ ثابت کرتے ہیں کہ انہوں نے جس موضوع پر قلم اٹھایا اس کے ساتھ پورا پورا انصاف کیا ہے چاہے وہ صحافت ہو یا شعبہ درس و تدریس تنقید، حد تو یہ ہے کہ انہوں نے فلسفیانہ موضوعات کو بھی محیط کیا ہے۔ ان کے مقالے اس بات کا مبین ثبوت ہیں۔ ان کی تحریروں کو تجزیاتی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ بنیادی طور پر تاریخی ذہن کے مالک شبلی نعمانی نثری ادب میں نہایت اہم مقام رکھتے ہیں۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ انہیں بحیثیت مورخ جو شہرت حاصل ہوئی وہ صرف اور صرف انہیں کا حصہ تھا لیکن ان کی شخصیت میں ایک مورخ کے علاوہ بھی کئی صلاحیتیں درپردہ پنہاں تھیں۔ ان کی تاریخی تصانیف کے علاوہ ادبی، تنقیدی، تعلیمی اور مذہبی موضوعات پر کئی بہترین تحریریں اردو ادب کا سرمایہ ہیں۔ انہوں نے وقت کے تقاضے کو سمجھتے ہوئے اپنے مضامین کے ذریعہ سیاسی، سماجی اور ادبی فکر کے دائرے کو عوام کے سامنے پیش کیا۔ تاریخ میں ان کی دلچسپی نے انہیں آفاقی رجحان عطا کیا جو انہیں سرسید سے ایک قدم آگے لے گیا۔ ان کی مضامین کی خاصیت ان کی تحریر کا توازن اور موضوع کی کھری پرکھ ہے۔ ان کا معروضی انداز تحریر مضمون کی جان ہوتا ہے۔ 
	اس ضمن میں رشید حسن خان لکھتے ہیں۔ 
	’’انہوں نے قدیم و جدید کے قصے کو اپنے ذہن پر حاوی نہیں ہونے دیا۔ وہ قدیم کی عظمت کے قائل تھے لیکن اس کی کمزوریوں سے بھی باخبر تھے اور معترف بھی۔ وہ جدید کی اہمیت کو پوری طرح مانتے تھے لیکن اس سے مرعوب نہیں تھے۔ آج اس بات کا اندازہ نہیں کیا جا سکتا لیکن شبلی کے زمانے میں اس توازن کی بڑی ضرورت تھی۔ شبلی نے مذہبی مسائل اور سیاسی امور دونوں میں وہ انداز اختیار کیا جس میں توازن کا پہلو نمایاں تھا۔ ‘‘ 
	ایسی صورت میں دوسری اصناف کی طرف اپنا جھکاؤ کرنا شاید شبلی کے لیے ممکن نہ تھا۔ اس کی تحریر کی صداقت پسندی، سچ کو سچ اور جھوٹ کو جھوٹ کہنا اپنی رائے کا برملا اظہار کے لیے انہیں اس کی اجازت نہیں دیتا تھا کہ وہ ادب کی کسی دوسری اصناف میں اپنے قدم جمائے۔ اس لیے گہ مضمون نگاری ہی ان کے لیے بہتر تھی۔ 
	ڈاکٹر سلام سندیلوی نے انشائیہ اور مقالہ کے فرق کو بڑی مضبوط دلیلوں سے بیان کیا ہے۔ کہتے ہیں :
	’’انشائیہ اور مقالہ میں کافی فرق ہے۔ انشائیہ مختصر ہوتا ہے اور مقالہ کافی طویل ہوتا ہے۔ مقالہ کی تکمیل کے لیے کافی چھان بین اور تحقیق و تدقیق کی ضرورت پڑتی ہے اور اس میں کسی موضوع کے مختلف پہلوؤں سے بالتفصیل بحث کی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ اس کا انداز بیان بھی کافی سنجیدہ ہوتا ہے۔ عربی میں ’’مقالہ‘‘ سے ملتی جلتی چیز ’’مقامہ‘‘ ہے یہ بھی تحقیقی کاوش کا نتیجہ ہے۔ مثال کے لیے ’’مقامات حریری‘‘ کہہ سکتے ہیں۔ اسی طرح سے فارسی میں نظامی عروض سمرقندی کا ’’چہار مقالہ‘‘ بہت مشہور ہے۔ اس میں چار مقالات ہیں جن میں کافی کاوش، اور عرق ریزی پائی جاتی ہے۔ ان مقالات کو بھی ہم انشائیہ نہیں کہہ سکتے ہیں۔ اردو میں ’’مقالات شبلی‘‘، ’’مقالات حالی‘‘، مقالات آزاد‘‘ موجود ہیں۔ ان کو مقالات ہی کہنا چاہیے۔ انشائیہ سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ 
	انشائیہ اور مقالہ میں اسلوب کا بھی فرق ہوتا ہے۔ انشائیہ کا اسلوب بہت سلیس، شگفتہ اور نرم و نازک ہوتا ہے۔ اس کے برخلاف مقالہ میں ٹھوس اور بھاری بھرکم اندازِ بیان اختیار کیا جاتا ہے کیونکہ انشائیہ کا مقصد صرف انبساطی ہوتا ہے مگر مقالہ کا مقصد افادی ہوتا ہے۔ 
	اب ہم مقالہ نگاری کے آغاز اور ابتدائی حالات پر ایک نظر ڈالیں گے۔ ساتھ ہی یہ دیکھیں گے کہ مقالہ نگاری نے کتنے ادوار اور کس طرح طے کیے۔ 
	ہندوستان میں زبان اردو میں مقالہ نگاری کا آغاز ۱۸۴۵ء کے آس پاس ہو چکا تھا۔ مگر اس کی مقبولیت کا عہد ۱۸۵۷ء کے بعد سے شروع ہوا۔ دلی کالج کے نصاب میں مختلف مضامین شامل تھے امتحان کے پرچوں میں ایک پرچہ مقالہ نگاری سے متعلق بھی ہوا کرتا تھا اس دور کی مقالہ نگاری کا اندازہ مقالوں کے عنوانات سے ہو جاتا ہے دو چار عنوان ملاحظہ فرمائیے۔ 
	’’بالائی (شمالی) ہندوستان پر ریلوں کے جاری ہونے سے کیا اخلاقی اثر پڑے گا؟‘‘
	امتحان کے پرچوں میں مضمون نویسی کے علاوہ سالانہ مضمون نویسی کا مقابلہ بھی ہوا کرتا تھا۔ ۵۰۔ ۱۸۴۹ء کے مقابلہ کے لیے یہ موضوع تجویز کیا گیا تھا۔ 
	’’اسلامی اور انگریزی حکومتوں کے تحت آزادی رعایا کے بارے میں کیا فرق تھا؟‘‘
	اسی طرح ایک موضوع ملاحظہ فرمائیے:
	’’مختلف آزاد پیشے اور مفید کاروبار جو ہندوستانی دیسی ریاستوں میں پائے جاتے ہیں اور ہر ایک کی کامیابی کے بہترین طریقے خواہ ابتدائی تربیت کے لحاظ یا ما بعد کی مساعی کے۔ ‘‘
	۱۸۵۴ء کے سالانہ مقابلے کا بھی عنوان دیکھ لیجیے۔ 
	’’شاہی اور مخلوط قسم کی حکومت میں کون سی بہتر ہے اور اس کی فضیلت کی وجہ کیا ہے؟‘‘
	ان انگریزی اور اردو انعامی مقابلوں میں طلائی اور نقرئی تمغے دئیے جاتے۔ مفتی صدر الدین آزردہ نے بھی اردو میں بہترین مقالے کے لیے ایک طلائی تمغہ عطا کیا تھا۔ ان مقابلوں میں انعام پانے والے طلبا میں ماسٹر رام چند، موتی لال، نذیر احمد، مولوی احمد ذکاء اللہ، بھگوان داس، خواجہ ضیاء الدین خصوصیت رکھتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن میں سے بیشتر فارغ التحصیل ہونے کے بعد اسی کالج میں معلمی کے فرائض بھی انجام دیتے رہے۔ ان ہی لوگوں کی مساعی جمیلہ سے مقالہ نگاری نے فروغ پایا۔ ماسٹر رام چندر نے ’’فوائد الناظرین‘‘ اور ’’محب ہند‘‘ ایسے دو رسالے بھی نکالے تھے۔ ان میں علمی و ادبی بحثیں اور مقالے بھی چھپتے تھے۔ مذکورہ رسالے کئی سال ادبی خدمات انجام دینے کے بعد ۱۸۵۴ میں بند ہو گئے۔ اس دور کی ادبی انجمنوں نے بھی مقالہ نگاری کو رواج دینے میں ہاتھ بٹایا ہے۔ ایسی ایک انجمن دہلی سوسائٹی کے نام سے ۱۸۵۶ء میں خدمت انجام دے رہی تھی۔ اس کے روح رواں ماسٹر لال پیارے تھے۔ انجمن میں تقریروں کے علاوہ اصلاحی مقالے بھی پڑھے جاتے تھے خود ماسٹر پیارے لال سب سے اچھے مقالہ نگار تھے۔ پنجاب کے رسالہ ’’اتالیق‘‘ میں ان کے مقالے اکثر چھپتے رہے ہیں۔ اس دور کے مقالوں کے عنوانات دیکھنے سے یہ بھی واضح ہو جاتا ہے کہ ذہنوں کو بدلنے کے تصنیف و تالیف سے زیادہ مقالہ نگاری ہی مفید و مطلوب ثابت ہوئی۔ اس دور کی ایسے نگاری بھی شاید انگریزی ادب کے زیر اثر لکھی جاتی ہوں گی۔ 
	۱۸۵۷ء میں سیاسی انقلاب آیا۔ اس کے اسباب و علل کی تاریخ دفتر پار ہو چکی ہے یہ انقلاب باعث زحمت تو تھا مگر نوید رحمت بھی لایا۔ بنائے کہنے ڈھینے پر تعمیر نو کی فکر لاحق ہوئی۔ اسے زنجیر غلامی سے تعبیر کرنا بجا سہی، لیکن جنبش زنجیر بھی کہنا بیجا نہیں جب طلسم ٹوٹا اور تنزل حقیقت بن کر بھیانک صورت میں سامنے آیا تو ایک طرف مایوس لوگ مایوس تر ہو گئے اور تقدیر کو رو پیٹ کر بیٹھ رہے مگر دوسری طرف بیدار مغز بیدار تر بھی ہو گئے اور انسانیت کے پیکروں نے کمر ہمت کس لی۔ اور علم قلم لے کر میدان عمل میں جمع ہو گئے۔ ان بزرگوں کے لیے کام بہت بکھرا پڑا تھا مگر آفرین ہے ان کے حوصلوں کو کہ ہر شعبہ زندگی میں یہ لوگ رواں دوا ں تھے۔ انہوں نے اپنی نیک نیتی اور جذبہ خدمت الناس کے سبب ایک طرف عوام کے دلوں کی گہرائیوں میں پہنچ کر علم و عمل کا چراغ روشن کیا اور دوسری طرف خواص کے عقل و خرد کی بلندیوں کو بھی جالیا۔ ان کا بڑا کام سوتوں کو جگانا اور جاگتوں کو راہ بتانا تھا اس کام کے لیے ان بزرگوں نے مقالہ نگاری کو آلۂ کار بنایا۔ مقالہ نگاری سامنے کی چیز تھی دلی کالج نے پہلے ہی اس کی داغ بیل ڈال دی تھی اور واضح کر دیا تھا کہ ذہنی انقلاب برپا کرنے کے لیے مقالہ نگاری مفید مطلب ثابت ہو گی۔ 
	جہاں تک ایسے نگاری کا تعلق ہے اس دور میں ہر بزرگ نے ایک آدھ ایسے ضرور لکھا ہے۔ ان میں سرسید، مولانا آزاد، ذکاء اللہ خصوصیت رکھتے ہیں۔ اگرچہ یہ ایسیز انگریزی فارمل (رسمی) ایسیز کی کسوٹی پر پورے نہیں اترتے۔ لیکن اس قسم کے ایسیز سے اردو ایسیز انداز بیان اور اسپرٹ میں بہت مشابہت رکھتے ہیں۔ ان بزرگوں کے ایسیز نہایت مربوط، مرتب اور غور و تامل کا نتیجہ ہیں۔ حالات نے انہیں ضرورت سے زیادہ سنجیدہ بنا دیا تھا۔ لہٰذا پند و نصیحت ان کی فطرت ثانیہ بن چکی تھی۔ اسی لیے ان کے ایسیز میں بھی خشک ناصحانہ انداز پایا جاتا ہے تاہم انداز بیان کے بے ساختہ پن، لطائف، طنز و مزاح وغیرہ سے اپنے مقالوں کو ایسے کا موڈ دے دیا ہے ان کے مقالوں اور ایسیز کی یہ امتیازی خصوصیت ہے۔ 
	سرسید نے مقالوں کے علاوہ ایسیز بھی کافی تعداد میں یادگار چھوڑے ہیں۔ ان میں سے تعصب، آزادی، رائے، غلامی خصوصیت رکھتے ہیں۔ ان میں ایسے کی روح ضرور پائی جاتی ہے مگر یہ مسرت سے زیادہ معلومات بہم پہنچاتے ہیں۔ مدلل اور سنجیدہ ہونے کی وجہ سے سرسید کے ایسیز فلسفیانہ کے بجائے عالمانہ زیادہ ہیں۔ سرسید کا ایسے ’’بحث و تکرار‘‘ نہایت شگفتہ اور معیاری ہے اس کا آغاز ہی ہمارے ذہن و فکر کو اپنی طرف متوجہ کر لیتا ہے۔ ’’امید کی خوشی‘‘ سرسید کا بہترین ایسے ہے۔ 
	مولوی ذکاء اللہ اس دور کے بہترین ایسے نگار ہیں۔ ذکاء اللہ کا ایک ایسے ’’کتب کا مطالعہ‘‘ بیکن کے ایسے کا ترجمہ ہے جس کے لیے کچھ کہنا تحصیل حاصل ہے۔ لیکن ان کا ایسے ’’آگ‘‘ ان کی جدت طبع کا اعلیٰ نمونہ ہے۔ اس ایسے کے مطالعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ ذکاء اللہ نے انگریزی کے ’’ایسے نگاری‘‘ کے تتبع کی کامیاب کوشش کی ہے۔ اگرچہ ایسے میں معلومات کا دفتر بھر دیا ہے لیکن اسلوب بیان کی شگفتگی نے عالمانہ سنجیدگی کو پس پشت ڈال دیا ہے۔ اس کے بعض جملے تو بہت ہی شگفتہ ہیں۔ مثلاً ’’آگ نا مبارک اولاد ہے‘‘ یا ’’آگ ہماری دشمن جاں سوز بھی ہے اور دست دل افروز بھی‘‘ وغیرہ۔ مولانا حالی سرسید کے بہت وفادار اور دانشمند لفٹنٹ تھے۔ حالی نے کثرت سے مقالے یادگار چھوڑے ہیں ان میں دو ایک ایسیز بھی پائے جاتے ہیں۔ ’’زبان گویا‘‘ اور ’’جب زمانہ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘ قابل ذکر ہیں۔ ’’زبان گویا‘‘ میں ایسے کی روح مکمل طور پر موجود ہے اس ’’موج بزم خیر‘‘ میں تشرعیح یا استدلال کے بجائے تاثرات ہیں۔ اسی طرح محسن ملک الملک کا ایسے ’’موجودہ تعلیم و تربیت کی تشبیہ‘‘ اگر چہ تمثیلی رنگ میں ہے لیکن ایسے نگاری کی حدود میں آ جاتا ہے۔ 
	اردو ایسے نگاری میں محمد حسین آزاد بالکل الگ مقام رکھتے ہیں۔ انہیں انگریزی ایسے نگاری سے شغف تھا۔ ایسے نگاری کے بارے میں آزاد نے نیرنگ خیال کے دیباچے میں اس طرح اظہار خیال کیا ہے۔ 
	’’زبان انگریزی میں نظم کا طور کچھ اور ہی ہے مگر نثر میں بھی خیالی داستانیں یا اکثر مضامین خاص خاص مقاصد پر لکھے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ان کی وسعت خیال اور پرواز فکر اور تازگی ٔ مضامین اور طرز بیان قابل دیکھنے کے ہے۔ میں نے انگریزی انشاء پردازی کے خیالات سے اکثر چراغ روشن کیا ہے۔ بڑی بڑی کتابیں ان مطالب پر مشتمل ہیں جنہیں (ایسے) جواب مضمون کہتے ہیں۔ ان میں انواع و اقسام کی غرضیں مخلوط ہیں۔ مگر بہت سے مضامین وہ ہیں جن کی روشنی ابھی ہمارے دل و دماغ تک نہیں پہنچی بعض مضامین میں انسان کے قوائے عقلی یا حواس یا اخلاق کو لیا ہے۔ انہیں انسان یا فرشتہ یا دیو یا پری تصور کر لیا ہے۔ اور ان کے معاملات اور ترقی منزلت کو سرگزشت کے طور پر بیان کیا ہے۔ ان میں شگفتگی طبع کے علاوہ یہ غرض رکھی ہے کہ پڑھنے کو کسی صفت پسندیدہ پر رغبت اور کسی خلق بد سے تنفر ہو یا کسی حصول مطلب کے رستے میں جو نشیب و فراز ہوتے ہیں ان سے واقف ہو۔ ‘‘
	آزاد نے مشرقی مزاج کے پیش نظر ایسے نگاری میں تمثیلی رنگ اختیار کیا ہے۔ انگریزی ایسے نگاری میں تمثیلی رنگ خصوصیت اور اہمیت نہیں رکھتا۔ 
	آزاد نے اپنے ان خیالی مضامین میں انشاء پردازی کا کمال دکھایا ہے۔ ان کے اسلوب بیان کی وجہ سے ایسیز میں لطافت و دلکشی پائی جاتی ہے۔ تمثیلوں کے ذریعہ سے تاریخ، فلسفہ اخلاق وغیرہ کے اہم پہلوؤں کو پیش کیا ہے۔ 
	مولانا شبلی اس دور کے زبردست مقالہ نگار ہیں ان کے مقالے آٹھ جلدوں پر مشتمل ہیں۔ شاید ہی کوئی اہم شعبہ زندگی اور علم و ادب کی کوئی شاخ ایسی ہو گی جس پر شبلی نے مقالہ نہ لکھا ہو۔ شبلی نے اپنے شگفتہ اسلوب بیان اور متنوع موضوعات سے مقالہ نگاری کو اس دور میں زمین سے آسمان پر پہنچادیا۔ زبان کی لطافت و رنگینی اور نزاکت خیالی نے اردو نثر کا معیار بلند کر دیا۔ شبلی نے تقریباً ایک سو مقالے یادگار چھوڑے ہیں۔ مگر ان میں ایک بھی ایسے نہیں پایا جاتا۔ شبلی عالم ِتبحر تھے قلب و نظر بھی رکھتے تھے۔ ادبی ذوق و وجدان کے بھی مالک تھے۔ اگر ایسے نگاری کی طرف متوجہ ہوتے تو ان کے ایسیز اردو ادب میں ’’خاصے‘‘ کی چیز ہوتے۔ اسی دور کے ایسے نگاروں میں مہدی حسن خصوصیت رکھتے ہیں۔ مہدی حسن کے ایسیز میں انگریزی ایسے نگاری کے تمام انداز پائے جاتے ہیں۔ اگرچہ مہدی حسن نے فارمل ایسیز (مقالے) لکھے ہیں لیکن ان ادبی مقالوں کو اپنی شوخی بیان سے ایسے کا موڈ دے دیا ہے۔ یہ اتنے شگفتہ ہیں کہ بار بار پڑھنے کو جی چاہتا تھا۔ میر ناصر علی اسی دور کے آخری چراغ ہیں ان کے مقالے ’’عرس و سالگرہ‘‘ ’’خیال بہ مقابلہ زبان‘‘ ’’زندگی بھی ایک معرکہ ہے‘‘ ’’نہ ہو مرنا تو جینے کا مزا کیا‘‘ ’’چرخ شعبدہ باز‘‘ ہر حیثیت سے ایسیز کہلانے کے مستحق ہیں۔ زبان و انداز بیان کی شگفتگی اور بے ساختہ پن ان کے ایسیز کی نمایاں خصوصیت ہے۔ 
	دوسرا دور سرسید کا دور۔ یوں تو پہلی جنگ عظیم کے شروع ہونے تک پھیلا ہوا ہے۔ لیکن بیسویں صدی کے اوائل ہی میں تیسرے دور کا آغاز ہو چکا تھا۔ سرسید اور ان کے رفقائے کار نے آئندہ کے لیے زمین ہموار کر دی تھی۔ مگر چونکہ اسی وقت خواب غفلت کی گرانی سے قوم کی عقل و خرد ماؤف تھی اور دل کی دنیا میں عمل نے حرارت پیدا نہیں کی تھی اسی لیے آنکھ کھلنے پر جو آواز کانوں میں پڑی اسی پر چل پڑے۔ سرسید کی تلقین اتباع مغرب اور حالی کا مشورہ تو با زمانہ بساز رنگ لایا تھا۔ جہاں تک مسلم قوم کا تعلق ہے علی گڑھ کالج کا روشن خیال جوان کی اس بیداری کا Pattern تھا۔ اس کو دیکھ کر زمانے کے نبض شناسوں کو مایوسی ہوئی کہ قوم غفلت سے بیدار تو ہوئی مگر مغرب کے طلسم خانے میں پھنس کر رہ گئی۔ پیران طریقت کی وفا کشی نے قوم کو سیاست کے جھمیلوں سے بالکل آزاد کر دیا تھا۔ لیکن سرسید اور علمائے دین کے اختلافات نے نئی پود کو مذہب سے بھی دور کر دیا اور مذہب سے دور ہوئے تو ان کی اخلاقی اقدار بھی مضحکہ خیز ٹھہری۔ ان اختلافات اور مختلف نظریوں کے تصادم نے قوم میں بے راہ روی پیدا کر دی۔ ان حالات میں بیدار مغزوں کی نئی جماعت نے بکھرے ہوئے شیرازے کو منسلک کرنے اور صحیح روح پیدا کرنے کی جدوجہد شروع کی۔ 
	شبلی نے اسلام، اسلامی تاریخ، معاشرت، ادب وغیرہ کو صحیح طریقے پر پیش کر کے مغرب زدہ لوگوں کو مشرق کے آفتاب عالم تاب کی طرف متوجہ کیا۔ ۱۹۰۶ء میں مولانا ابوالکلام آزاد نے الہلال کے ذریعہ سیاست و مذہب کی عظمتوں کو اجاگر کر کے اسلامی حریت کا تصور پیش کیا۔ اس طرح چکبست، اکبر اور پنڈت برج موہن کیفی نے اپنی شاعری سے وطنیت و قومیت، مشرقی پاس و ضع، اتحاد و اتفاق اور مذاہب کی اقدار کو پیش کیا۔ غرض اسی دور کے بزرگوں کی کوشش سے آزادی کا تصور جڑ پکڑنے لگا اور ملک کی ایکائی کے خیال کو تقویت ملی۔ ان کاوشوں کا نتیجہ جنگ کے بعد ظاہر ہوا اور بقول سجاد انصاری:
	’’سرسید کی تلقین وفا، وقار الملک کی تعلیم خود داری سے بدل گئی۔ ‘‘ اور ’’پیر وفا کی خانقاہ سے مجاہدین اسلام کا لشکر نکلا۔ ‘‘
	مذکورہ بالا ذہنی انقلاب ادب ہی کا مرہون منت ہے اور ادب میں شاعری کے بعد مقالہ نگاری ہی کو اس خدمت کا سب سے بڑا اعزاز حاصل ہے۔ اس ذہنی انقلاب سے زندگی اور ادب کے مختلف شعبے متاثر ہوئے اس طرح مقالہ نگاری کو اتنا فروغ حاصل ہوا کہ سیکڑوں مقالہ نگار میدان میں آ گئے۔ ان مقالہ نگاروں میں یہاں صرف چند صاحب نظر مقالہ نگاروں کے ذکر پر اکتفا کیا جاتا ہے۔ اس دور کے لکھنے والوں کو دو گروہ میں اس طرح تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ 
	پہلے گروہ میں شرر، سجاد انصاری، حسن نظامی، پنڈت برج موہن کیفی، قاضی عبدالغفار، قاضی اختر جوناگڑھی، سید سلیمان ندوی، سجاد حیدر یلدرم، سلطان حیدر جوش، اسلم جیراج پوری، وحید الدین سلیم، سر عبدالقادر، حبیب الرحمان شیروانی، حافظ محمود شیرانی، چکبست، مرزا فرحت اللہ بیگ، عظمت اللہ، مرزا عظیم بیگ، ملا رموزی، دیا نرائن نگم، احسن ما رہروی، ڈاکٹر عبدالحق، ابوالکلام آزاد، عبدالمجید سالک وغیرہ شامل ہیں۔ یہ علمی و ادبی خدمات انجام دے کر اللہ کو پیارے ہو چکے ہیں۔ 
	دوسرے گروہ سے ہاشمی فرید آبادی، نیاز فتح پوری، عبدالمالک آروی، عبدالسلام ندوی، رشید احمد صدیقی وغیرہ تعلق رکھتے ہیں۔ 
	اس گروہ کے بزرگ اردو ادب کے میدان میں آنے والوں کی رہبری کی گراں قدر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ اس دور میں تقریباً ہر شعبہ ادب و زندگی سے متعلق مقالے لکھے گئے ہیں۔ جن میں تحقیقی، علمی اور ادبی تنقیدی مقالوں کی کثرت ہے۔ ڈاکٹر عبدالحق، محمود شیرانی، وحید الدین سلیم، سید سلیمان ندوی، پنڈت کیفی نے ادبی مقالوں کے علاوہ تحقیقی مقالے لکھ کر مقالہ نگاری میں وسعت پیدا کر دی۔ مسعود حسین رضوی، عبدالماجد، حبیب الرحمان شیروانی، چکبست، عبدالمجید سالک، عبدالملک آروی، سر عبدالقادر، عبدالسلام ندوی نے اپنی سوانحی مقالوں سے بھی بڑا اضافہ کیا ہے ان میں سے بعض نے (ادب) تاریخی مقالے بھی لکھے ہیں۔ مولانا ابوالکلام آزاد کے سیاسی اور مذہبی مقالے اردو میں سرمایہ ناز ہیں۔ نیاز فتح پوری کے سیاسی، مذہبی، تاریخی، ادبی تنقیدی مقالے ناقابل فراموش اضافہ ہیں۔ مرزا فرحت اللہ بیگ، ملا نوری، پطرس، رشید احمد صدیقی وغیرہ نے مزاحیہ مقالوں کی شاخ کو صرف تر و تازہ ہی نہیں رکھا بلکہ پہلے کی بہ نسبت اس کا معیار بھی بلند کر دیا۔ پطرس اور رشید احمد صدیقی ان میں بہت اونچا درجہ رکھتے ہیں۔ 
	اگر چہ مذکورہ بالا مقالہ نگاروں میں سے ہر ایک صاحب طرز ہے اور ان کے اسالیب بیان میں بھی الگ الگ رنگ پایا جاتا ہے۔ مگر زبان کے اعتبار سے استثنائے چند سلاست اور سادگی مقالوں کی مشترک خصوصیت ہے۔ لیکن ہر ایک کا طرز شگفتہ اور دل آویز ہے۔ مولانا ابوالکلام آزاد کے مقالوں میں دقیق و رنگین زبان پائی جاتی ہے اسی طرح نیاز صاحب کے مقالوں کی زبان سلیس رنگین ہے۔ دونوں مقالہ نگاروں کی طبیعتیں، عربی کی طرف زیادہ مائل پائی جاتی ہیں۔ مگر کسی جگہ الفاظ کا بے جوڑ استعمال نہیں کیا ہے۔ اس لیے دونوں حضرات زبان و بیان پر قدرت رکھتے ہیں اور ادبی ذوق کے مالک ہیں۔ 
	اس دور کے ایسے نگاروں کے متعلق عرض کرنے سے پہلے نثر میں ایک نئی صنف ادب لطیف کے متعلق اظہار خیال بیجا نہ ہو گا تاکہ ایسے نگاری اور ادب لطیف خلط ملط نہ ہو جائیں۔ اگرچہ ادب لطیف ایسے نگاری سے بہت مماثل ہے تاہم ادب لطیف کو کسی حالات میں ایسے نگاری نہیں کہہ سکتے۔ اس کی وضاحت کی اس لیے بھی ضرورت ہے کہ عام طور پر ایسے نگاری کو پہلے پہل ادب لطیف کہا جاتا تھا۔ آل احمد سرور محشر ’’خیال‘‘ کے دیباچے میں ادب لطیف پر اظہار خیال کرتے ہوئے رقمطراز ہیں۔ 
	’’انگلستان میں پیٹرPeter نے تلاش حسن کو اپنا نصب العین قرار دیا اس کا جمالیاتی احساس کے طرز میں موجود ہے۔ اس کے نصب العین کو اہمیت نہیں رہی مگر اس کا طرز اپنی رنگینی و رعنائی کی وجہ سے یادگار ہے۔ یہ حسن پرستی ہمارے شعراء کے پاس بہت عام تھی۔ چنانچہ ’’پیام یار‘‘ اور ’’فتنہ‘‘ نے اسے قیامت بنا دیا تھا۔ ادب لطیف دراصل اسی ذہنیت کی پیداوار ہے۔ یہ رنگ ٹیگور کے ترجموں سے پہلے ہی شروع ہو چکا تھا۔ شرر کے عاشقانہ و شاعرانہ مضامین اور سجاد حیدر کے ’’خیالستان‘‘ وغیرہ میں اسی کا عکس ملتا ہے۔ ‘‘
	اسی بیان کے بعد سرور صاحب نے اصغر گونڈوی کا قول اس بارے میں نقل کیا ہے:
	’’ادب لطیف کا اصل مفہوم اس طرز انشاء سے ہے جو وسعت علم احساس شعریت اور حکیمانہ نزاکت خیال کے باہمی امتزاج سے پیدا ہوتا ہے۔ ‘‘
	ادب لطیف کے متعلق سجاد حیدر کی رائے ملاحظہ فرمائیے:
	’’لائٹ لٹریچر کی چاشنی کے ذریعے سے آپ عمدہ اور اعلیٰ خیالات عوام میں رائج کرسکتے ہیں۔ ورنہ محض نصیحت اور خشک فلسفہ کا قدر دانانِ علم کے سوا اور کوئی شنوا نہ ہو گا۔ ‘‘
	مولانا خلیقی دہلوی کے مجموعہ مضامین ’’ادبستان‘‘ کے مقدمے میں اختر شیرانی مرحوم نے ادب لطیف کے متعلق اس طرح اظہار خیال کیا ہے۔ 
	’’اردو کے ادب لطیف کی بنیاد مرحوم مولانا شرر لکھنوی کے شاعرانہ مضامین سے ہوتی ہے۔ ‘‘
	اسی مقدمے میں ذرا آگے چل کر لکھتے ہیں :
	’’کس قدر حیرت انگیز بات ہے کہ اردو ادب لطیف کے دور جدید کی بنیاد ایک ایسی دور افتادہ اور اجنبی زبان کی ادبی نقوش و آثار پر رکھی جاتی ہے۔ جس سے ملک کو دور کا بھی تعلق نہیں، درحال یہ کہ ہر لحاظ سے یہ فخر بنیادی طور پر انگریزی کے حصے میں آنا چاہیے تھا۔ ‘‘
	مذکورہ بالا بیانات سے پہلی بات یہ واضح ہوتی ہے کہ سرور صاحب اور مرحوم اختر ادب لطیف کو ایک جدید صنف خیال کرتے ہیں جو ایسے نگاری سے مختلف ہے۔ مولانا اصغر نے ادب لطیف کی جو تعریف بیان کی ہے وہ دراصل ایسے نگاری کی جامع تعریف ہے۔ سجاد حیدر نے بھی ایسے کا مفہوم بیان کیا ہے اور اس کو ادب لطیف کہا ہے۔ دوسری بات یہ واضح ہو جاتی ہے کہ ادب لطیف کو سب سے پہلے اردو میں روشناس کرانے کا سہرہ شرر کے سر ہے۔ اور شرر کے ایسیز کو ادب لطیف کا نام دیا گیا ہے۔ 
	ا س مقالے کے ابتدائی حصے میں ہم نے دیکھ لیا ہے کہ ایسے نگاری انگریزی ادب سے اردو میں منتقل ہو کر آتی ہے اور شرر اس کے موجد نہیں ہیں بلکہ اس کی ایک درمیانی کڑی ہیں۔ جنہوں نے اپنے زمانے میں اس صنف کو فروغ بخشا۔ شرر، سجاد حیدر، سلطان حیدر جوش وغیرہ کے ایسیز کو ادب لطیف کا نام دینے میں کوئی مضائقہ نہیں۔ مگر جس قسم کا ادب لطیف ان ماہرین فن نے ادب کو دیا اگر ایسا ادب لطیف پیدا ہوتا رہتا تو ایک بات تھی لیکن اسی دور میں ٹیگور کے ترجموں کی وجہ سے اردو میں ٹیگوریت داخل ہو گئی۔ یہ خصوصاً نوجوانوں میں بہت مقبول ہوا اور ہر کس و ناکس نے اس پر ہاتھ صاف کرنا شروع کیا۔ چند ماہرین فن تو اس طرز کو خوب نباہ گئے مگر عموماً ادب لطیف مصنوعی زبان و بیان کی وجہ سے اپنے محاسن کھو بیٹھا اور اس طرح ایسے نگاری سے الگ ایک صنف بن گیا۔ اسی ادب لطیف میں عبارت آرائی اور لفظوں کی ٹھونس ٹھانس کے علاوہ عورت بھی اس کا جزو لاینفک بن گئی۔ ادب کی اس بگڑی ہوئی شکل کو دیکھ کر علامہ اقبال نے کہا تھا کہ:
	’’اس پر عورت سوار ہے۔ ‘‘
	ادب لطیف کے تصنع نے لکھنے اور پڑھنے والے دونوں فریقوں کو تھکا دیا اور اسی طرح اس قسم کے ادب کا رواج کم ہو گیا۔ 
	ادب لطیف کی تاریخ میں شرر کو اس کا امام ااور سجاد حیدر، نیاز فتح پوری اور خلیقی دہلوی وغیرہ کو اس قصر ادب کے ستون تصور کیا جاتا ہے۔ مگر ان چاروں حضرات کے کارنامے ادب لطیف (بحیثیت صنف) سے زیادہ ایسے نگاری سے قریب ہیں۔ ان لوگوں نے عموماً انگریزی کے طرز پر ماہرین فن کی طرح ایسیز لکھے ہیں۔ ان کے علاوہ حجاب اسماعیل، چودھری افضل حق، گوردھن داس، ملک محمد باقر، نسیم رضوانی وغیرہ نے بھی اس صنف کو نوازا ہے۔ ان کے کارناموں میں زیادہ ادب لطیف ہے۔ مگر خال خال ایسے کے طرز کے مضامین بھی ملتے ہیں۔ 
	اسی دور کے ایسے نگاروں میں شرر کا نام سرفہرست ہے۔ شرر کو انگریزی ادب سے استفادے کا موقع ملا تھا۔ اگلے وقتوں ے بزرگوں کے کارنامے بھی ان کے سامنے تھے۔ شرر نے علمی ادبی مقالے بھی لکھے ہیں مگر ان کے ایسیز اور مقالوں کے طرز ادا میں فرق پایا جاتا ہے۔ 
	اگرچہ ان کا عالمانہ و ناصحانہ انداز ایسیز میں بھی ملتا ہے مگر اسلوب بیان کے بے ساختہ پن اور شگفتگی نے ایسے کی روح قائم کر رکھی ہے۔ شرر کے ایسیز کے مطالعے سے اہم بات یہ واضح ہوتی ہے کہ انہوں نے اپنے تجربوں اور مشاہدوں کی روشنی میں اپنے تاثرات کو علم برداشتہ لکھا ہے۔ شرر نے درس عبرت دینے کے لیے عموماً مناظر قدرت کا سہارا لیا ہے۔ شرر کے ایسیز ’’آدھی رات‘‘ ’’لالہ خوردو‘‘ ’’پھول، باغ، نسیم سحر، ایک چھوٹے ذرے کی سرگزشت، بزم قدرت‘‘ اس بیان کی تصدیق کرتے ہیں۔ آرزو، غریب کا جھونپڑا، ہم تم اور وہ بھی ان کے قابل ذکر ایسیز ہیں۔ ’’نسیم سحر‘‘ میں خداپرستوں پر لطیف طنز کیا گیا ہے کہ یہ لوگ جس خدائے کارساز کی عبادت کے لیے بے تاب رہتے ہیں اس کے کرشموں کو دیکھنے کی بھی تکلیف گوارا نہیں کرتے۔ اس ایسے کا آغاز بہت پیارا ہے۔ ’’لالہ خورد‘‘ میں فطرت کی کرشمہ سازیاں بیان کرنے کے علاوہ فلسفیانہ انداز میں درس اخلاق اور مقصد حیات بیان کیا گیا ہے۔ اسی طرح آرزو، یاس، غریب کا جھونپڑا وغیرہ میں حیات انسانی پر لطیف تنقید ہے۔ ’’ایک ذرے کی سرگزشت‘‘ میں انوکھے انداز میں عمل کی تلقین کی گئی ہے۔ اس ایسے میں تاریخ کے دفتر سمودئیے گئے ہیں۔ مگر شرر نے اپنے شاعرانہ انداز سے اس میں بھاری پن پیدا نہیں ہونے دیا۔ ’’ہم تم اور وہ‘‘ میں صوفیوں کے ’’ھو حق‘‘ کے نعروں کی تشریح کی گئی ہے، انانیت اور دوئی کو بھی خوش اسلوبی سے سمجھایا گیا ہے۔ غرض شرر کے ایسیز اپنی خصوصیات کی وجہ سے بہت بلند درجہ رکھتے ہیں۔ 
	حسن نظامی اردو کے صاحب طرز ادیب ہیں۔ کئی تصانیف اور مضامین ان سے یادگار ہیں۔ ان کے مضامین کا مجموعہ ’’سی پا رہ دل‘‘ میں ان کے بہترین ایسیز شامل ہیں۔ ان کے ایسیز کی فہرست طویل ہے۔ ان میں سے مکھی، الو، دیا سلائی، لیمپ، زلف کا ماجرا، لالٹین، اوس وغیرہ نہایت شگفتہ اور بلند درجہ ایسیز ہیں۔ حسن نظامی نے حقیر موضوعات پر اعلیٰ درجے کے ایسیز لکھ کر اس بات کو ثابت کر دیا ہے کہ ایسے نگار کے لیے کائنات کی شے موضوع کا کام دے سکتی ہے اور موضوع اچھا یا برا نہیں ہوا کرتا۔ بلکہ موضوع کا برتنے والا اسے اچھا اور برا بنا دیتا ہے۔ حسن نظامی نے علم اشیاء کے مقابلے میں مشاہدۂ اشیاء سے زیادہ کام لیا ہے۔ ان کے ایسیز میں ہلکا فلسفیانہ رنگ اور زبان و انداز بیان کی شگفتگی مزہ دے جاتی ہے۔ اگرچہ ان کے ایسیز بہت مختصر ہیں مگر ایسے نگاری کے معیار پر پورے اترتے ہیں۔ 
	سلطان حیدر جوش بھی اس دور کے بہترین ایسے نگاروں میں اپنا خاص مقام رکھتے ہیں۔ جوش کے لیے بے شمار مضامین یادگار ہیں جن میں سے گیا رہ ایسیز کا ایک مجموعہ ’’جوش فکر‘‘ کے نام سے مشہور ہے۔ اس مجموعہ میں طلسم ازدواج، مسٹر ابلیس، جنون ترقی، خانہ جنگی، لیڈر انگریزی ایسیز سے کسی طرح کم نہیں ہیں۔ طلسم ازدواج میں نہایت اہم اور عالمگیر مسئلہ حیات پیش کیا گیا ہے۔ ’’مسٹر ابلیس‘‘ میں انسانی شیطنت کا پردہ شگفتہ انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ ’’جنون ترقی‘‘ میں موجودہ سائنس کے خطروں سے آگاہ کیا گیا ہے۔ طنز جوش کے ایسیز کی نمایاں خصوصیت ہے۔ ایسے ’’لیڈر‘‘ ان کے طنز کی بہترین مثال ہے۔ اس میں نام نہاد لیڈر کی ریاکاری کی طرف اشارہ ہے۔ جوش کو زبان پر قدرت حاصل تھی۔ ان کے بعض جملے تو بہت ہی شگفتہ اور چبھتے ہوئے ہوتے ہیں۔ مثلاً لیڈر میں ایک جگہ لکھتے ہیں :
	’’علم الاعداد کی عینک سے صاف نظر آتا ہے کہ گزشتہ دس سال کی قلیل مدت نے لیڈر کی افزائش تعداد کے ساتھ وہی کام کیا ہے جو موسم برسات حشرات الارض کے ساتھ کرتا ہے یا امداد جنگ نے خطابات کے ساتھ کیا۔ ‘‘
	جوش نے اپنے ایسے ’’خانہ جنگی‘‘ میں اتحاد کی تلقین کی ہے جو اس زمانہ کا اہم مسئلہ تھا۔ ’’خواب و خیال‘‘ اور ’’عالم ارواح‘‘ بھی جوش کے اچھے ایسیز ہیں۔ جوش کے ایسیز بھی ان کے تجربے اور مشاہدہ کا نچوڑ ہیں۔ انداز بیان کا بے ساختہ پن ایسیز کی نمایاں خصوصیت ہے۔ غرض جوش نے حیات انسانی کے مسائل پر بہترین ایسیز اردو ادب کو دئیے ہیں۔ 
	سجاد حیدر یلدرم نے جس طرح ترکی ادب سے استفادہ کر کے اردو ادب کو مالا مال کیا، اسی طرح انگریزی ایسے نگاری کی صحیح اسپرٹ کو اردو ایسیز میں رائج کیا۔ ان کا مجموعہ مضامین ’’خیالستان‘‘ ہے اس میں حضرت دل کی سوانح عمری،  بھولی بسری یادیں، چاند کی کیفیت، سیل زمانہ، تاریخ، چڑیا چڑے کی کہانی، نہایت شگفتہ ایسیز ہیں۔ ادب لطیف کے متعلق ان کا خیال گزشتہ صفحوں میں آپ دیکھ چکے ہیں۔ اسی کے مطابق سجاد گہرے فلسفیانہ خیالات کو ایسے کے ذریعہ ہم تک پہنچا دیتے ہیں۔ ایسے نگاری کی اہم خصوصیت ان کے ایسیز کی جان ہے۔ سجاد اپنی کہتے کہتے اجتماعی مسائل کو بھی سمیٹ لیتے ہیں اس طرح اپنی شخصیت کے آئینے میں زمانے کے سرد و گرم کو بھی پیش کرتے جاتے ہیں۔ طرز ادا کی شگفتگی ان کے ایسیز کی مشترک خصوصیت ہے۔ نیاز صاحب بھی اس دور کے ایسے نگاروں کے عناصر خمسہ میں سے ہیں۔ نیاز صاحب کے کے مجموعہ ’’نگارستان‘‘ میں ایک رقاصہ عورت ’’برسات‘‘ اپنے چاند وغیرہ بلند درجہ کے ابر ہیں۔ نیاز صاحب نے اپنے مخصوص انداز میں فلسفیانہ رنگ کی آمیزش کے ساتھ حیات و کائنات پر تنقید کی ہے یہ اسلوب بیان کے بادشاہ ہیں۔ ان کے ایسیز میں  شعر کے کیف، شراب کے لشکر اور شباب کی مستی کے ساتھ فلسفی کی نظر بھی ہے۔ 
	مولانا خلیقی دہلوی بھی اس دور کے مخصوص ایسے نگاروں میں ہیں۔ ان کی ادبی کاوشیں ادبستان کے نام سے شائع ہوتی ہے۔ ’’ادبستان‘‘ اختر شیرانی کا مرتبہ ہے اس پر شیرانی نے بسیط مقدمہ بھی لکھا ہے  ’’ادبستان‘‘ میں بہت مختصر ادب پارے ہیں جن میں چند ایسے کہلانے کے بھی مستحق ہیں۔ خلیقی مرحوم کے خیالات عمق ہیں۔ زبان و بیان صناعی کا نمونہ ہے۔ کیف، نظر، میرا سفر، حریص رقص، درۂ موت، معیاری ایسیز میں شمار کیے جا سکتے ہیں۔ 
	ایسے نگاری کی تاریخ میں سجاد انصاری کو کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ سجاد نے اگرچہ بہت کم تعداد میں ایسیز یادگار چھوڑے ہیں۔ لیکن یہ حقیقی معنوں میں ایسیز ہیں اور اسے بلا تامل خاصے کی چیز کہا جا سکتا ہے۔ ان کے ایسیز عورت، عفت نسوانی، مسلمانان ہند اور تحریک اصلاح مذہب و اخلاق وغیرہ بہت اونچا درجہ رکھتے ہیں۔ سجاد کے ہاں بھی لطیف طنز ایسیز کی جان ہے۔ ان کا طرز تحریر نہایت شگفتہ ہے۔ مولانا اصغر کی تعریف کے مطابق سجاد کے ایسیز وسعت علم، احساس شعریت حکیمانہ نزاکت خیال کا باہمی امتزاج ہے۔ سجاد کے ایسیز مہدی حسن افادی کی یاد دلاتے ہیں۔ دونوں کے طرز فکر اور طرز ادا میں بہت کم فرق پایا جاتا ہے۔ 
	مقالہ نگاری کا موجودہ دور پچھلے پچیس تیس سال پر پھیلا ہوا ہے۔ اس دور میں ادب سے جدید طریقوں سے تنقید حیات کا کام لیا گیا ہے۔ اب ادب نہ صوفیہ کے تصورات اور حیات بعد الموت کی تشریح کے لیے مخصوص رہا۔ جس کا مفہوم ہمیشہ غلط سمجھا اور سمجھایا گیا۔ اور اس طرح کاہلوں نے زندگی کے خطروں سے راہ فرار اختیار کی تو اس میں پناہ لی اور یہ محلوں اور حویلیوں کی تکلفی طرز معاشرت کا ترجمان جس سے عوام الناس کو کوئی خاص فائدہ نہ پہنچ سکا۔ موجودہ دور میں ادب اس افراط و تفریط سے نکل کر اپنے اصلی مقام پر آیا اور صحیح خدمات انجام دینے لگا۔ اب ادب بلا تفریق مذہب و ملت اور بلا امتیاز بلند و پست حیات انسانی کی ترجمانی اور تنقید کے لیے مخصوص ہے۔ اس دور میں ادب مختلف روپ بھرتا نظر آتا ہے کہیں اس کی شان معلم کی ہے تو کسی جگہ اس کا درجہ مبلغ کا ہے۔ کہیں یہ رہبر ہے تو کسی جگہ رہزن اور چراغ رہزن، کہیں ساقی گری کرتا ہے تو کہیں محتسب کے فرائض انجام دیتا ہے۔ 
	ادب کے مذکورہ بالا روپ مختلف اصناف میں پائے جاتے ہیں مگر سب سے زیادہ مقالہ نگاری میں نظر سے گزرتے ہیں۔ اس دور انشاء اور رواداری میں جب کہ وقت قلیل اور کار جہاں دراز ہے اور زندگی معاشی نظام کی تابع ہے۔ جس کی وجہ سے ناول کی جگہ مختصر افسانے، ڈرامے کی جگہ مختصر فیچر نے لے لی ہے۔ اسی طرح مستقل تصانیف کی مقابلے میں مقالہ نگاری زندگی اور زمانے کے تقاضے پورے کر رہی ہے۔ چونکہ آج ادب حیات انسانی کی ترجمانی کر رہا ہے اس لیے ادب کی کسی بھی شاخ کا تجزیہ اور تشریح کرنے سے پہلے رفتار زمانہ کا مفصل جائزہ لینا نہایت ضروری ہے۔ مگر ہم یہاں موجودہ دور کی چند منزلوں کی نشاندہی پر اکتفا کریں گے۔ 
	یہ دور سیاسی سماجی تحریکوں کا دور ہے۔ اگلے دور میں بڑی حد تک ذہنی و فکری تربیت نے جذبہ آزادی کی حرارت سے دلوں کو گرما دیا تھا۔ اور دور تذبذب کا بھی خاتمہ ہو چکا تھا۔ لہٰذا پہلی جنگ عظیم کے ختم ہوتے ہی وطن کے جانباز صف آراء ہو گئے۔ ہندوستانیوں کے عزم راسخ کا پہلا عملی ثبوت کانگریس اور خلافت کی تحریک تھا۔ حکومت اس وقت تحریک کو تو دبا سکی لیکن یہ جذبہ حریت کسی طرح دبا نہ سکی۔ مہاتما جی کی قیادت میں مستقل اور سنجیدہ طریقے پر جنگ آزادی کا سلسلہ اس کے بعد پچیس سال تک جاری رہا جس کے ۲۲ء ار ۴۲ء اہم سنگ میل ہیں۔ اس دوران میں جذبہ آزادی صرف سیاست تک ہی محدود نہیں رہا۔ آزادی کے تصور نے جو حب الوطنی اور قومیت کا جذبہ پیدا کر دیا تھا اس نے زندگی اور ادب کے ہر شعبے کو متاثر کیا اور اس کی سب سے بڑی مہم یہ تھی کہ ہر جگہ سے غیر ملکی عنصر کو کسی نہ کسی طرح نکالا جائے۔ جاگیر داری اور سرمایہ داری موجودہ دور کے اہم مسائل تھے اور ہیں۔ یہی ہماری مفلسی کے ذمہ دار تھے اور ہیں اور بڑی حد تک مفلسی ہی ہماری محرومیوں کی ذمہ دار ہے۔ ان مسائل نے کسان اور مزدور کو موضوع سخن بنا دیا۔ کسان اور مزدور کے ساتھ کے کئی مسائل بھی سامنے آئے۔ ۳۵ء میں نئے آئین کے تحت ملک میں کانگریس وزارتیں برسراقتدار آئیں۔ ۱۹۳۶ء میں ترقی پسند مصنفین ایک دستور العمل لے کر میدان میں آئے اور ہر شعبہ زندگی میں نوائے وقت کا نعرہ بلند کیا۔ اس مکتب خیال کے لوگوں نے اہل ہند کی تمام کلفتوں کا واحد علاج اشتراکیت کو قرار دیا۔ ۳۹ء دوسری جنگ عظیم نے مفلسی اور غلامی و بے بسی کے وہ رنگ دکھلائے کہ آزادی ملک کا جذبہ پکا پھوڑا بن گیا۔ آخر ۱۹۴۷ء کا سال مژدہ آزادی تو لایا مگر تقسیم کی وجہ سے ہنگامے بھی رونما ہوئے، ہنگاموں نے سیاسی، سماجی، اخلاقی، اقتصادی مسائل پیش کر دئیے جو نہایت غور طلب تھے۔ بلکہ آج تک سلجھائے نہیں سلجھتے۔ ملک کے ان حالات نے جو چند در چند مسائل پیدا کر دئیے انہیں بڑے بڑے خانوں میں اس طرح تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ جاگیر داری اور کسان، سرمایہ داری اور مزدور، شہر و شہری، دیہات و دیہاتی، مذہب و سائنس، تخلیص اور مساوات، انسانیت اور بربریت، اشتراکیت اور جمہوریت، رجعت پسندی اور انتہا پسندی، زر اور اقتصادیات و معاشیات وغیرہ۔ غرض جس طرح ہجر و فراق کے پہلو سے سیکڑوں مضمون اور اسلوب نکل آئے ہیں اسی طرح جذبہ حریت اور انسانیت دوستی سے لیکر سیکڑوں مسائل نکل آئے ہیں۔ یہی تمام مسائل ہمارے ادب کے اہم موضوع بن گئے ہیں۔ ان سیکڑوں موضوعات نے ادب میں تو تنوع پیدا کر دیا ہے لیکن متضاد نظریوں سے مسائل کا مینارۂ بابل بن گیا ہے۔ جہاں ہزار منہ ہزار باتیں ہیں مختلف قسم کے نقوش ہمارے دل و دماغ پر اس طرح مرتسم ہوتے چلے جاتے ہیں کہ کوئی ایک صاف ستھرا نقش اوپر نہیں آتا۔ سیاست، معاشرت، وغیرہ میں اسی وجہ سے ہم ایک ہونے کی کوشش کرتے ہیں اتنے ہی نیک ہوتے جاتے ہیں۔ مختلف خانوں میں بٹتے جاتے ہیں۔ یہی حال ادب کا ہے۔ مقالہ نگاری میں یہی تنوع موضوعات کا بڑا سبب ہے۔ ان مقالات سے خاطر خواہ فائدہ پہنچا یا نہیں یہ کہنا مشکل ہے۔ لیکن آئندہ کے لیے کیا منصوبے تیار کرنے ہیں۔ ان کے اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ جہاں تک علمی و ادبی مسائل کا تعلق ہے اس شعبہ کو مقالہ نگاری سے یقینی طور پر فائدہ پہنچا ہے۔ 
	اسی دور میں مقالہ نگاری کے اعداد و شمار پیش کرنا دشوار ہے۔ ابھی اگلے وقتوں کے چند بزرگ موجود ہیں۔ ان بزرگوں نے اپنی کاوشوں کو علم و داب اور تحقیق و تنقید تک محدود رکھا ہے۔ چونکہ تحقیق و تنقید ان بزرگوں کا میدان ہے لہٰذا زبان و انداز بیان کی سلاست و سادگی اور بالغ نظری اور گہرائی ان کے مقالوں کی امتیازی شان ہے۔ قاضی عبدالوہاب اس دور میں اپنے تحقیقی و تنقیدی مقالوں کی وجہ سے خصوصیت رکھتے ہیں تحقیق و تنقید ان کی بہت اہم خدمت ہے، اس میدان میں موصوف بہت بلند درجہ رکھتے ہیں۔ تحقیق و تنقید میں قاضی صاحب قیاس آرائی اور رعایت کو گناہ سمجھتے ہیں۔ بابائے اردو کی طرح الفاظ نہایت سلیس و سادہ استعمال کرتے ہیں اور انداز بیان کے ایچ پیچ میں اپنے موضوع کو الجھنے نہیں دیتے۔ 
	موجود ہ دور کے دوسرے گروہ کے مقالہ نگاروں کی تعداد سیکڑوں تک پہنچ جاتی ہے اور علم و ادب اور حیات و کائنات کے ہر شعبے سے متعلق ہزاروں مقالے ملتے ہیں چونکہ دور حاضر تنقید کا دور ہے اس لیے انسانی فکر و نظر کا شعبہ اس سے متاثر ہے۔ لہٰذا ہر نوع کی مقالہ نگاری میں واقعیت و حقیقت سے قریب تر رہنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ تحقیق اور تنقید کے لیے اصولوں اور نظریوں کو برسرعام لانے اور اس کی ماہیت و اہمیت کو واضح کرنے میں مقالہ نگاری اس وقت بہت اہم خدمت انجام دے رہی ہے۔ سوانحی و سماجی مقالے بھی نئے اصولوں اور نفسیاتی تجزیے کی پیش نظر لکھے جاتے ہیں۔ فن و ادب پر بھی بصیرت افروز مقالے نظر آتے ہیں۔ اشتراکیت، مارکسزم ادب برائے زندگی کے نظریوں اور ان کی اقدار پر اہم مقالے اس دور کی مقالہ نگاری میں خصوصیت رکھتے ہیں۔ علمی، تاریخی، مذہبی مقالے بھی کسی طرح کم نہیں پائے جاتے۔ ان کے لیے بعض رسائل مثلاً معارف، الفرقان، ترجمان القرآن وغیرہ مخصوص ہیں اس طرح اقتصادیات و معاشیات سے متعلق بھی مقالوں کی قلت نہیں ہے۔ ان کے لیے بھی رسائل مخصوص ہیں۔ رسالہ جامعہ نے بھی اس سلسلے میں اہم خدمت انجام دی ہے ۳۸ء سے ۴۶ء تک رسالہ جامعہ کی جلدوں میں جو مقالے چھپے ہیں وہ قابل ذکر ہیں۔ ان میں سے چند عنوانات ملاحظہ فرمائیے۔ کھاد، ہندوستان اور مزدور، ہندوستان اور کسان، انگلستان، بنک قومیت کی تعمیر میں سائنس کی اہمیت، ہماری آبادی، ہمارا معاشرہ اور اس کا اثر معاش پر، دیہی مسئلہ، دیہات کا مشترک نظام وغیرہ۔ غرض موجودہ دور تنوع موضوعات اور مقالات کی بہتات کے لحاظ سے گزشتہ ادوار پر فوقیت رکھتا ہے۔ ارباب قلم کی کثرت کی وجہ سے اسالیب بیان میں بھی کثرت پائی جاتی ہے۔ ان میں بعض نے سلیس و سادہ، بعض نے سلیس و رنگین اور بعضوں نے دقیق اسلوب اختیار کر رکھا ہے۔ ان میں سے بیشتر اپنے پیش روؤں کے کسی نہ کسی اسکول سے تعلق رکھتے ہیں۔ مجموعی حیثیت سے سلاست و سادگی کی طرف طبیعتیں زیادہ مائل نظر آتی ہیں اس جگہ مختلف اسلوب پر مفصل اظہار ممکن نہیں ہے۔ 
	جہاں تک ایسے نگاری کا تعلق ہے موجودہ دور میں اس کا فقدان ہے۔ اگر چہ فنی و جمالیاتی ذوق اور مشاہدہ کے شوق کے پیش نظر اس دور کو ایسے نگاری کے ارتقاء کی اہم منزل ہونا چاہیے تھا۔ لیکن معدودے چند ارباب قلم ملتے ہیں جنہوں نے اس قسم کے ایسیز لکھے ہیں۔ ان ایسے نگاروں میں سے فکر تونسوی، کنہیا لال کپور اور مشتاق احمد یوسفی قابل ذکر ہیں۔ فکر کا ایسے ’’مسخرا‘‘ یا ’’سر کا درد‘‘ ہر حیثیت سے معیاری ہے۔ اسی طرح لال کنہیا کپور کا ایسے ’’گھر یا آیا‘‘ بہترین ایسے ہے۔ طنز و مزاح اس کی جان ہے۔ ہمایوں کی ۵۵ اور ۵۶ کی جلدوں میں بھی چند شگفتہ ایسیز پائے جاتے ہیں۔ مثلاً مشکور حسین کا ’’گزارا کیسے ہو؟‘‘ اور اقبال سلہری کا ’’سیر مریخ‘‘ اچھے ایسیز ہیں۔ مرزا ادیب نے بھی ایسیز لکھے ہیں۔ لیکن ان میں جدت یہ کی ہے کہ انہیں افسانوی رنگ دے دیا ہے۔ 
	اردو ادب کی تمام اصناف اپنے مبادیات کی بدولت ایک دوسرے سے مختلف رنگ و آہنگ رکھتی ہے۔ ان کے اپنے اپنے بنیادی عنصر ان کو ایک دوسرے سے جدا رکھنے میں کارگر ہوتے ہیں۔ اسی طرح انشائیہ کئی ایک اصناف کو چھوکر گزرتا ہے لیکن اپنی ہیئت، رنگت اور انفرادیت میں کوئی فرق نہیں آنے دیتا۔ اسی خیال کو ہم مختلف ادباء کی نظر سے دیکھیں گے۔ جس میں کئی ایک ادیب مشہور انشاء پرداز کے نام سے مشہور ہوئے۔ یعنی انشائیہ اور انشاء پردازی میں فرق معقول دلائل کے ساتھ مانا گیا۔ انشاء پردازی کی صنف بالکلیہ الگ تو نہیں کہی جا سکتی لیکن اپنی جڑیں اور شاخیں انشائیہ کے برگ و بار سے ایک طویل راستے سے گزرنے کے بعد متصل کرتی ہوئی نظر آتی ہیں۔ اب ہم دونوں اصناف کے متفرقات کو محسوس کرتے ہوئے چند انشاء پردازوں کے سنہری نمونے بھی ملاحظہ کریں گے۔ 
٭٭٭



باب سوم: انشائیہ کی اہمیت و افادیت


	انشائیہ وہ طرز تحریر ہے جس میں مغز و مضمون پر کم اور حسن عبارت پر زیادہ توجہ ہوتی ہے تو بات مکمل نہ ہو گی۔ دراصل انشائیہ کوئی منطقی تحریر نہیں ہوتی بلکہ فنکار کے سماج اور اپنی زندگی کے تعلق سے ذاتی تجزیوں کا ایک اظہار ہے۔ یہ اظہار کہیں صاف سیدھا سادہ اور کہیں بصیرت و دانائی لیے ہوئے ہوتا ہے۔ نیز انشائیہ نگار اپنے تخیل کے اظہار کے لیے ایک ایسا مخصوص انداز اپناتا ہے جس سے اس کا تخلیقی حسن مزید نمایاں ہو جاتا ہے۔ اچھا انشائیہ روح و انبساط اور نفس کو کیف بہم پہنچاتا ہے۔ یہی انشائیے کی امتیازی خصوصیت ہے۔ انشائیہ کسی بلیغ بات کو کم الفاظ میں اپنے مخصوص انداز میں بروئے کار لاتے ہوئے شادابی اور شگفتگی کے ساتھ ہم تک پہنچاتا ہے۔ جسے پڑھ کر مسرت کا احساس ہوتا ہے۔ گو اردو میں انشائیہ ابھی نقطۂ ارتقاء پر نہیں پہنچ سکا لیکن اس سلسلے میں جو کچھ ہوسکا ہے اس پر ایک طائرانہ نظر ڈالتے ہوئے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ انشائیہ اپنے عہد کے سیاسی اور سماجی شعور کا آئینہ دار ہے۔ اپنی آزاد روی میں انشائیہ نے ادب کے مختلف گوشوں یعنی تاریخی، سیاسی، سماجی، جغرافیائی اور اخلاقی وغیرہ کا بھی بخوبی احاطہ کیا ہے۔ شبلی نعمانی، مولانا الطاف حسین حالی اور سرسید احمد خاں کے کئی مضامین جو انشائیہ نگاری سے ہمکنار محسوس ہوتے ہیں، تاریخی اور سماجی حالات کی بہترین عکاسی کرتے ہیں۔ 
	نصیر احمد خاں کے مطابق اگر ہم انشائیہ کے دور پر نظر ڈالیں تو اردو ادب کے ٹیگوریت کے دور میں انشائیہ ادب لطیف یا انشائیہ لطیف کا درجہ رکھتا تھا۔ اس دور کی نثری کاوشوں میں اسلوب کی تازگی، تدبیر کاری کی نزاکت اور قلبی تاثرات کی جلوہ گری نظر آتی ہے۔ عبدالحلیم شرر، رتن ناتھ سرشار، سجاد حیدر یلدرم، عبدالقادر، حسن نظامی، فرحت اللہ بیگ، ملا واحدی، اختر تلہری، سلامت اللہ، قمر رئیس، محمد حسن، خلیقی دہلوی، نیاز فتح پوری، مہدی افادی، سجاد انصاری، عبدالماجد دریاآبادی اور احمد جمال پاشا وغیرہ ایسے نام ہیں جنہوں نے تقریباً انشائیے لکھے ہیں۔ لیکن واضح طور پر اپنی تحریروں کو کبھی انشائیے کا نام نہیں دیا۔ مولوی ذکاء اللہ نے اخلاقیات کو موضوع بنا کر انشائیہ نما کئی مضامین لکھے۔ نیاز فتح پوری نے انہیں اردو انشائیے کا موجد تک کہہ دیا اور عبدالحلیم شرر نے اپنے رسالے ’’دلگداز‘‘ میں ’’نہیں ‘‘، ’’نسیم سحر‘‘، ’’عمر رفتہ‘‘، ’’ہم تم اور وہ‘‘ اور ’’ مغرور جوتا‘‘ وغیرہ انشائیہ لکھ کر اسلوب کی رنگینی کے ساتھ سماج کے کئی مسائل کو ابھارا۔ فرحت اللہ بیگ نے اردو کے نثری اسلوب میں خوش طبعی کو فروغ دیا۔ بقول وزیر آغا ’’انشائیہ کا مسلک آزاد روی ہے۔ وہ شاہراہ پر سفر کرنے کو ناپسند کرتا ہے۔ لہٰذا بار بار شاہراہ کو ترک کر کے چھوٹی چھوٹی پگڈنڈیوں پر سفر کرتا دکھائی دیتا ہے۔ بلکہ یہ کہنا چاہیے کہ وہ اپنے عمل سے خود ہی ایک نئی پگڈنڈی تراشتا ہے۔ انشائیہ میں کسی بھی معمولی شے کو ایک نئے زاوئیے کے ساتھ غیر معمولی بنا کر پیش کرتا ہے۔ یہاں پر اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہو گا کہ ہم انسانوں نے اپنے تحفظ کے لیے ہر طرف قاعدوں، اصولوں اور نظریوں کی دیواریں اٹھا رکھی ہیں۔ ان کی اہمیت سے انکار نہیں ہے۔ مگر انشائیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اگر آپ ان دیواروں میں روزن نہیں بنائیں گے تو تازہ ہوا کی کمی کے باعث آپ کی سانس رکنے لگے گی۔ دیکھا جائے تو انشائیہ خود ایک روزن ہے جس سے لگ کر آپ نہ صرف تازہ ہوا سے لطف اندوز ہوتے ہیں بلکہ جس کے ذریعہ آپ باہر کی وسیع و بے کنار دنیا سے بھی متعارف ہوتے ہیں۔ انشائیہ نگار خود آزاد ہوتا ہے۔ بلکہ دوسروں کو بھی آزادی حاصل کرنے کا راستہ دکھاتا ہے۔ اگر کوئی صنف ادب قید و  بند سے رہائی کا ایسا اچھا انتظام کرسکے تو اس سے زیادہ جاندار صنف اور کون ہوسکتی ہے۔ وہ صرف کائنات اکبر کی سیاحت کرنے میں کامیاب ہے بلکہ کائنات اصغر کی غواصی پر بھی قادر ہے۔ دونوں صورتوں میں اسے شے، شخصیت اور شاہراہ کی قید سے رہائی حاصل ہے۔ ‘‘
	انشائیہ جس کا زیور حسن کاری، بے تکلف انداز، غیر رسمی طریقہ کار اور تہہ داری سے مزین ہے، خواجہ حسن نظامی کے نوکِ قلم سے نکھرتا سنورتا ہے۔ خواجہ حسن نظامی نے انسان کی باریک بینی، مشاہدات کی گہرائی اور تجربات کی وسعت کو اپنے انشائیوں میں پیش کیا ہے۔ مثلاً ’’جھینگر کا جنازہ‘‘، ’’آنسو کی سرگزشت‘‘، ’’دیا سلائی‘‘، ’’الف خالی‘‘، ’’تمباکو نامہ‘‘ میں سماج کے کئی پہلوؤں کو قاری کے سامنے وقت واحد میں لا کھڑا کیا ہے۔ خلیقی دہلوی نے انسا ن کی اظہاریت کی لَے کو بہترین انداز میں اپنے انشائیوں ’’باسی ہار‘‘ اور ’’میرا ہمسفر‘‘ میں پیش کیا ہے۔ 
	مہدی افادی کی جذبات نگاری کا جواب نہیں۔ ہر قسم کے جذبات کی تدبیر کاری کا رنگ مہدی افادی کی تحریروں میں جھلکتا ہے۔ ان کے لہجہ کا بانکپن، تراکیب کی ندرت، اور استعاروں کی جلوہ گری ادب لطیف کا بہترین نمونہ ہیں۔ وہ قاری کو دعوت فکر کے گہرے سمندر میں مدعو کرتے ہیں۔ تو دوسری طرف حقیقت کا اظہار اور انسانی رد عمل کی برجستہ تصور بھی پیش کرتے ہیں۔ سجاد انصاری کے ’’محشر خیال‘‘، ’’تکون‘‘ اردو ادب میں جامع سے اختصار، بندش سے آزاد روی رسمی طریقوں سے غیر رسمی طریقوں اور فرسودہ فکر سے تازگی ٔ فکر کی طرف قلانچیں بھرتے نظر آتے ہیں۔ 
	خواجہ حسن نظامی، مہدی افادی کی طرح جاوید وششٹ، اشرف صبوحی، محمود بیگ، مہیشور دیال، ضمیر حسن دہلوی نے بھی اس صنف نثر کو سماجی حقائق کی پردہ کشی و سماج سے جڑے سلگتے موضوعات کی عکاسی اور خود کے اظہار کے لیے وسیلہ بنایا۔ مولانا ابوالکلام آزاد کی گہری سوچ، الفاظ کی بندش اور قاری کے دل میں وطن کی محبت کا جذبہ پیدا کرنے والی تحریریں اپنی مثال آپ ہیں۔ 
	پطرس بخاری کا نیا انداز تحریر اور جدید و نئے وسائل سے واقفیت کرانا، اردو ادب میں ایک نئے باب کو وا کرتا ہے۔ بائیسکل جو کہ کلی طور پر مغرب کی دین ہے مشرق کے لوگ اس سے واقف نہیں تھے۔ دھات سے بنی ایک ایسی چیز جو کہ ہوا کے دوش پر اپنے مالک کو قلیل محنت و وقت کے بدلے میں کہیں سے کہیں پہنچادیتی ہے۔ اسے دیکھنے کے بعد لوگ اس طلسماتی دنیا سے باہر آنے لگے جس میں جادوئی قالین پر بیٹھ کر کہیں بھی پہنچا جا سکتا تھا۔ اس حیرت کے مقام کو اور بائیسکل کے فوائد و نقصانات کو بھی بیان کرتے ہوئے جس طنزیہ و مزاحیہ انداز میں پطرس بخاری نے اپنی تحریر پیش کی ہے اس کا نعم البدل آج تک نہیں مل سکا۔ 
	سید عابد حسین، کرشن، چندر، فرتق کاکوروی، سید آوا رہ، اندر جیت لال، محمد حسن، جوگندرپال، مجتبیٰ حسین اور معین اعجاز نے بھی اپنے انشائیوں کے ذریعہ سماج کے کئی اچھوتے پہلوؤوں کو منظر عام پر لانے کی سعی کی ہے۔ جس میں وہ حتی الامکان کامیاب رہے ہیں۔ 
	غیر دہلی والوں میں رشید احمد صدیقی کا ذکر نہایت ضروری ہے۔ ایک انشائیہ نگارجس طرح اپنی تمام تر لطافت اور ظرافت، ویژن، دوررس نظر اور اپنی مخفی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہیں ایک بہترین سماجی تاریخ مرتب کرتا چلا جاتا ہے۔ 
	بالکل اسی طرح اسی پس منظر میں اگر رشید احمد صدیقی کے انشائیوں کو دیکھا جائے تو زیادہ تر انشائیے علی گڑھ، علی گڑھ یونیورسٹی، علی گڑھ کی زندگی کا روزمرہ رقم کرتے ہوئے علی گڑھ کی سماجی تاریخ مرتب چلے جاتے ہیں۔ 
	سید محمد حسنین جنہوں نے انشائیوں میں گہرے مشاہدے اور لطیف انداز بیان کا حسین امتزاج ملتا ہے۔ مشاہدہ اور لطیف انداز بیان کا حسین امتزاج ملتا ہے وہ موضوع کو ہی نہیں بلکہ اپنے کردار کے مختلف پہلوؤں اور انوکھے زاویوں سے قاری کے سامنے لاتے ہیں۔ ’’نشاۂ خاطر اس کی بہترین مثال ہے۔ ان کے علاوہ وحید الدین، دوستوں کی ایذا رسانی، محمد اسماعیل، وقت سرمایہ۔ سجاد حسین ’’ہولی‘‘ عبدالقادر ’’گھر سے نکل کے دیکھو‘‘ اور سلطان حیدر جوش ’’لیڈر‘‘ معاشروں کے کئی ایسے کرداروں کو سامنے لاتے ہیں جو صدیوں سے انسان کے اندر ہی چھپے بیٹھے تھے لیکن انسانوں کو اتنی فرصت ہی نہیں تھی کہ وہ خود کے اندر انہیں تلاش کرنے کی کوشش کرتا۔ 
	مرزا محمود بیگ مرحوم اردو کے صاحب طرز انشاء پرداز تھے لیکن انہیں وہ شہرت نہیں ملی جس کے وہ مستحق تھے۔ اس کی وجہ غالباً یہی رہی کہ ان کی توجہ کا اصل مرکز دلی کالج اور اس کے طالب علم رہے۔ لکھنے پڑھنے کا وقت انہیں بہت کم ملتا تھا۔ پھر بھی انہوں نے آل انڈیا ریڈیو کے اصرار آمیز تقاضوں پر بہت سے مضامین اور انشائیے لکھے۔ ان کے انشائیوں کے دو مجموعے ’’بڑی حویلی‘‘ اور ’’دلی ۱۸۵۷ء کی‘‘ کے نام سے شائع ہوئے۔ ان کے ان مجموعوں میں گفتگو کی زبان کا لطف بڑا گہرا نظر آتا ہے۔ 
	انشائیہ کا سیاپا اگر دیکھیں تو جدید تنقید میں غالباً انشائیہ وہ واحد صنف ادب ہے جس کے بارے میں بڑے نزاعی نظریات اور جذباتی مقالات لکھے جاتے ہیں۔ اس کی تعریف اور آغاز دونوں پر کافی بحث ہوتی رہی ہے۔ 
	بقول ڈاکٹر عبادت بریلوی:
	’’سرسید اردو ادب کے سب سے پہلے انشائیہ نگار ہیں۔ انہوں نے تہذیب الاخلاق نکالا اور تہذیب الاخلاق اردو کی انشائیہ نگاری میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ ‘‘
	ساتھ ہی انہوں نے سرسید احمد خان کے رفقاء کو بھی بہترین انشائیہ نگار تسلیم کیا ہے۔ مثلاً محسن ملک، وقار ملک اور حالیؔ۔ محمد حسین آزاد کی تحریر کو بھی انہوں نے انشائیہ کی تحریر مانا ہے۔ ایسی تحریر کی اردو ادب میں کئی دن سے تلاش تھی۔ اس بارے میں وہ رقمطراز ہیں :
	’’نیرنگ خیال میں آزاد کے جو مضامین شامل ہیں۔ ان میں انشائیہ کا ایک ایسا انداز نظر آتا ہے۔ جس سے اردو زبان اب تک نا آشنا تھی۔ ‘‘
	پروفیسر سلیم اختر کے مطابق ڈاکٹر وزیر آغا انشائیہ کے باوا آدم نہیں ہیں۔ بلکہ ان سے پہلے بھی کئی لوگوں نے بہترین انشائیے تحریر کیے ہیں۔ اردو ادب کی مختصر ترین تاریخ میں نہایت واضح الفاظ میں انہوں نے ڈاکٹر وزیر آغا کو پہلا انشائیہ نگار یا بہترین انشائیہ نگار ماننے سے انکار کر دیا۔ 
	ڈاکٹر وزیر آغا نے اپنے جملہ ذرائع ابلاغ استعمال کرتے ہوئے انشائیہ کی بحث کو یوں الجھا دیا اور مختلف انشائیہ نگاروں (جیسے مشکور حسین یاد) کی یوں کردار کشی کی کہ انشائیہ کی اصطلاح کو ایجاد کرنے کا تاج اپنے سر پر سجانے کا موقع مل جائے۔ حالانکہ تحقیق سے لفظ انشائیہ اور انشائیہ نگاری کی قدامت واضح ہو جاتی ہے۔ اس ضمن میں مشرف احمد کی فراہم کردہ معلومات کی رو سے ’’انتخاب مخزن‘‘ میں مندرجہ ذیل ادباء کے انشائیہ شائع ہوئے ہیں۔ ’’رموز حیات‘‘ اور ’’چھونا منع ہے‘‘ (قاری سرفراز حسین عزمی دہلوی) ’’ٹوپی‘‘ اور ’’دستار‘‘ (شیخ محمد اکرم) ’’سوچنا‘‘ (خواجہ محمد اسحاق۔ ہمایوں فروری ۱۹۴۴) ’’اگر موت نہ ہوتی‘‘ (محمد عبدالقادر فاروقی۔ ہمایوں مارچ ۱۹۴۴ئ) ۱شرف احمد اس ضمن میں مزید لکھتے ہیں۔ 
	’’عبد الحلیم شرر کے رسالے ’’دلگداز‘‘ میں ان کے بہت سے انشائیے ہیں۔ شرر کے بعض انشائیوں کے نام یہ ہیں۔ ’’شادی و غم‘‘، ’’سوگواری‘‘، ’’سادگی‘‘ (مضامین شرر جلد ۷) عبدالحلیم شرر کے مضامین شرر جو شاعرانہ و عاشقانہ کہہ کر پیش کیے گئے ہیں۔ ان میں بیشتر انشائیے ہیں اس جلد میں ایک انشائیہ ’’خود نمائی‘‘ ہے جس کے بارے میں حاشیہ میں یہ بات درج ہے۔ 
	’’یہ مضمون انگریزی کے جادو بیان ایڈیسن کے ایک مضمون سے ماخوذ ہے۔ ‘‘ ص ۷۹۸
	اس کے علاوہ ایک اور انشائیہ ’’ہماری خود پرستیاں و خود نمائیاں ‘‘ بھی ہے۔ جس کے بارے میں یہ عبارت درج ہے کہ ’’یہ مضمون اگرچہ اپنا بنالیا گیا ہے مگر گولڈ اسمتھ سے ماخوذ ہے۔ ‘‘ ص ۷۷۵
	ڈاکٹر سلیم اختر واضح طور پر لکھتے ہیں کہ 
	’’جس زمانے میں ۱۹۵۷ء میں ڈاکٹر وزیر آغا کی تحریریں ’’ادب لطیف‘‘ میں نثر لطیف، لطیف پا رہ یا خیالیے کے عنوان تلے چھپتی تھیں اور وہ ہنوز لفظ انشائیہ سے ناآشنا تھے تو اس سے کہیں پہلے ۱۹۴۴ء میں سید علی اکبر قاصد کے انشائیوں کا مجموعہ ’’ترنگ‘‘ پٹنہ سے شائع ہو چکا تھا۔ اس کا تعارف کلیم الدین احمد اور دیباچہ اختر اورینوی نے لکھا تھا۔ ۱۰۲ صفحات پر مشتمل یہ کتاب انشائیوں پر مشتمل ہے۔ 
	اختر اورینوی نے اپنے دیباچے کا آغاز ان سطور سے کیا ہے۔ 
	’’اردو ادب میں انشائیوں (Essays) اور خاکوں کی بڑی کمی ہے۔ کبھی کبھار کوئی اچھا سا انشائیہ پرچوں میں نکل آتا ہے تو دو گھڑی کے لیے جی بہل جاتا ہے۔ ‘‘
	(یہ دیباچہ ’’انشائیہ نگاری‘‘ کے عنوان سے ’’مہر نیم روز‘‘ کراچی کے اختر اورینوی نمبر ۱۹۷۷ میں طبع ہو چکا ہے اور مشرف احمد نے اس کی نشاندہی ڈاکٹر سلیم اختر کو کی تھی)
	زندگی ہر لمحہ تغیر و تبدل سے ہمکنار ہوتی رہتی ہے۔ زندگی میں ہونے والی رد و قبول کی کشمکش سے تحریریں بھی دو چار ہوتی ہیں۔ ادب زندگی کی حقیقی ترجمانی کرتا ہے اسی لیے بدلتے ہوئے زمانے کے ساتھ اپنے تقاضوں میں بھی بدلاؤ لاتا رہتا ہے اور تخلیق کار اپنے عہد کے درپیش مسائل سے آنکھیں چرا کر حقیقت نگاری نہیں کرسکتا اس لیے ہر دور میں پیش کیے گئے انشائیے اپنی شناخت کو قائم رکھنے کی تگ و دو میں لگے رہے اور اپنے اپنے دور کو اپنے آئینے میں منعکس کر کے قاری کے ذہن و جذبات سے جڑے رہے۔ اب ہم صدی بہ صدی بتدریج انشائیہ اور انشائیہ نگاری کی بدلتی ہوئی سوچ اور تغیر کو دیکھیں گے۔ ساتھ ہی صنف انشائیہ کی سنورتی ہوئی ہیئت پر بھی ایک طائرانہ نظر ڈالیں گے۔ 
	انشائیہ نے مختلف صدیوں اور دہائیوں میں کس طرح اپنے بال و پر سنوارے اور انشائیہ نگاروں کی رائے بتدریج کس طرح بدلتی گئی اس بات کا جائزہ اگست ۱۹۸۹ء میں نصیر احمد خاں نے اپنی کتاب ’’اردو انشائیہ‘‘ میں نہایت خوبصورتی کے ساتھ پیش کیا ہے۔ 
	بیکن ’’انشائیہ‘‘ کی تعریف کرتے ہوئے کہتا ہے کہ نثری اصناف میں انشائیہ ایک ایسی مختصر تحریر کا نام ہے جس میں بغیر کسی تجسس اور کھوج کے حقیقت کا اظہار ہو۔ مونتین شخصیت کے اظہار کو انشائیہ کا اہم جزو قرار دیتا ہے۔ جانسن کے خیال میں انشائیہ ذہن کی ایک ترنگ ہے۔ انشائیہ کے بارے میں ایک رائے یہ بھی ہے کہ انشائیہ ہماری سماجی زندگی کے کسی موضوع پر قلمکار کی ایک گپ ہے جس میں آپ بیتی اور جگ بیتی کی دھوپ چھاؤں ہوتی ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ انشائیہ میں ایک مرکزی بات سے کچھ ضمنی باتیں پھوٹ کر اپنا تانا بانا تیار کرتی ہیں۔ اس میں رمزیت ہوتی ہے۔ اختصار اور تہہ داری ہوتی ہے اور زبان و بیان میں کاٹ و بانکپن ہوتا ہے۔ وزیر آغا انشائیہ کے بارے میں ذرا تفصیل سے لکھتے ہیں۔ ان کے خیال میں انشائیہ میں غیر رسمی طریق کار اور شخصی رد عمل لازمی ہے۔ مسرت بہم پہنچانا انشائیے کا بنیادی کام ہے۔ عدم تکمیل اس کی ایک اہم خصوصیت ہے۔ موضوع کی مرکزیت کے علاوہ اس میں ضمنی باتیں بھی ہوتی ہیں۔ مضمون یا مقالہ کے مقابلے میں اس کا ڈھانچہ کہیں زیادہ لچکیلا ہوتا ہے۔ اس میں مرکزی خیال کے با وصف دلائل کا کوئی منضبط سلسلہ قائم نہیں کیا جاتا۔ وہ دعوت فکر دیتا ہے۔ اختصار اس کا ایک بنیادی وصف ہے۔ انشائیہ کا موضوع اور نقطۂ نظر انوکھا ہوتا ہے۔ جو قاری کی زندگی کی یکسانیت اور ٹھہراؤ سے اوپر اٹھا کر ماحول کا از سرنو جائزہ لینے پر مائل کرتا ہے۔ انشائیہ نگار کوئی نتیجہ اخذ نہیں کرتا اور نہ ہی کوئی مشورہ دیتا ہے بلکہ وہ مخصوص انداز سے کسی موضوع پر سوچنے کی ترغیب دیتا ہے اور بس۔ 
	ان تعریفوں سے ہم جس نتیجہ پر پہنچتے ہیں وہ یہ ہے کہ انشائیہ نثری اظہار کی ایک ایسی صنف ہے جس میں حقیقت کا اظہار شخصی رد عمل، عدم تکمیل، رمزیت و اشاریت، غیر منطقی ربط، اختصار، دعوت فکر، مسرت بہم پہنچانے کی صلاحیت، زبان و بیان میں بانکپن اور مرکزی بات سے کچھ ضمنی باتوں کا ذکر جیسی خصوصیات پائی جاتی ہوں۔ 
	گو کہ اردو کی اصناف نثر میں انشائیہ مضمون کے زیادہ قریب ہے۔ یہ قربت ان کی الگ الگ شناخت کو مشکل بنا دیتی ہے۔ لیکن ان دونوں کی تعریفوں کو مد نظر رکھ کر اگر ہم غور کریں تو یہ الجھن دور ہوسکتی ہے۔ مضمون کی فضا رسمی ہوتی ہے جہاں ہر بات، ہر جملہ اور ہر پیراگراف مرکزی خیال کی منطقی وضاحت کرتا ہے۔ جبکہ انشائیہ غیر رسمی ماحول میں لکھا جاتا ہے۔ اس میں محض تاثرات ہوتے ہیں جو ذہنی ترنگ کے تابع ہوتے ہیں۔ مضمون میں موضوع پر سنجیدگی سے بحث ہوتی ہے۔ اس میں صراحت اور وضاحت کی بنیاد دلائل پر ہوتی ہے۔ جبکہ انشائیہ میں داخلیت کی کارفرمائی ملتی ہے۔ ایجاز و اختصار اور رمز و اشاریت انشائیہ کا حسن اور حقائق کا اظہار، موضوع کی طرف شخصی رد عمل اور عدم تکمیل انشائیہ کے فنی اجزاء ہیں۔ مضمون اور مقالے میں بات کو عالمانہ انداز سے کہنے اور معلومات فراہم کرنے پر خاصا زور ہوتا ہے۔ اس میں زیادہ تر علم و حکمت کی باتیں ہوتی ہیں۔ انشائیہ میں خاص زور انداز بیان پر ہوتا ہے۔ اس میں واقعات سے زیادہ واقعات کے رد عمل سے سروکار ہوتا ہے۔ مضمون کے موضوعات محدود ہوتے ہیں جبکہ انشائیہ میں کسی بھی موضوع پر قلم اٹھایا جا سکتا ہے۔ انشائیہ نگار اپنی تحریر میں ذات کا انکشاف کرتا ہے۔ اس کی تحریر میں داخلی کیفیات کا بیان ہوتا ہے۔ اس کے برعکس مضمون میں خارجی باتوں کا ذکر ہوتا ہے۔ انشائیہ میں مصنف اپنے تجربات اور مشاہدات پیش کرتا ہے جن کا مقصد اصلاح یا اپنے مشن کی تبلیغ کرنا نہیں ہوتا۔ رابرٹ کے قول کے مطابق:
	’’انشائیہ نگار سے ہم صرف اتنا چاہتے ہیں کہ اپنی طرز تحریر سے ہمیں خوش کر دے اور جس موضوع پر وہ لکھ رہا ہے اس پر اختصار کے ساتھ کسی قدر نئی روشنی ڈال دے اور بس۔ ‘‘
	یوں تو اردو میں انشائیے کی عمر سوا سو سال سے بھی زیادہ ہے لیکن بحیثیت ایک منفرد نثری صنف اردو انشائیے اپنے تمام فنی محاسن کے ساتھ بیسویں صدی کی شروع کی دہائیوں میں ابھر کر سامنے آتا ہے۔ ا س دور میں شعوری اور غیر شعوری طور پر ان گنت انشائیے لکھے گئے جو کبھی مضمون، پرسنل ایسے یا لائٹ ایسے کی حیثیت سے گردانے گئے تو کبھی انشائیہ لطیف کے اہم ادبی شہ پاروں کے طور پر انہیں پہچانا گیا۔ 
	’’دلی کا یادگار مشاعرہ‘‘، ’’نذیر احمد کی کہانی کچھ ان کی کچھ میری زبانی‘‘ اور ’’پھول والوں کی سیر‘‘ ان میں معیاری انشائیے کے عناصر غالب ہیں۔ سجاد یلدرم کی ’’خیالستان‘‘ میں جو انشائیے، انشائے لطیف اور مختصر افسانوں کا مجموعہ ہے۔ ’’مجھے میرے دوستوں سے بچاؤ‘‘ ’’حضرت دل کی سوانح عمری‘‘ وغیرہ اپنے عہد کے معیار کے مطابق اردو کے بہترین انشائیے ہیں۔ جذباتی نثر کے علاوہ ان کی نثر کے بنیادی اوصاف میں حسن کاری، بے تکلف انداز، غیر رسمی طریق کار اور تہہ داری اہم ہیں۔ 
	بیسویں صدی کی تیسری دہائی میں ترقی پسند تحریک کے شروع ہونے سے انشائیہ کی صنف کو ایک زبردست جھٹکا لگا۔ یہ تحریک ادب میں ایک انقلابی حیثیت رکھتی تھی۔ ترقی پسند تحریک سے وابستہ دانشوروں، ادیبوں اور شاعروں نے موجودہ اقتصادی نظام، معاشرتی اقدار، تہذیبی روئیے اور سیاسی جبر و ستم کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرتے ہوئے ایک با مقصد اور روشن زندگی کا خواب دیکھا۔ انہوں نے اپنے تخلیقی افکار و اعمال کا رخ سماجی زندگی کو بہتر بنانے، سامراجی طاقتوں کو کچلنے اور جدوجہد آزادی جیسے اغراض کی طرف کر لیا۔ نتیجتاً رومانیت، ٹیگوریت یا انشائیے لطیف کی لویں مدھم پڑنے لگیں جس سے انشائیہ بھی متاثر ہوا۔ دراصل ہمارے ادبی مقاصد انشائیہ کے فنی مقاصد کے برعکس تھے۔ ہم اپنی محبوس زندگی پر رد عمل ظاہر کرنے لگے تھے۔ مختلف سیاسی، سماجی اور ادبی تحریکوں کے زیر اثر ذہنی ترنگ کے بجائے حقائق کو حقیقت ہی کی کسوٹی پر پرکھنے پر زور دیا جانے لگا۔ اس لیے اس دور میں انشائیہ کی صنف کی اہمیت اور مقبولیت کم ہو گئی اور اس کے اسلوب پر طنز و مزاح کا غلبہ بڑھ گیا۔ اس سلسلے میں رشید احمد صدیقی، پطرس بخاری اور کرشن چندر وغیرہ کے نام قابل ذکر ہیں۔ جن کے انشائیوں میں طنز و مزاح کا اسلوب غالب ہے۔ 
	رشید احمد صدیقی کی انفرادیت ان کی آشفتہ بیانی میں ہے۔ ان کا اسلوب طنز و مزاح کی شائستگی و شگفتگی سے عبارت ہے۔ معاشرے کی سچی اور بے لاگ تنقید کے عناصر ان کی تحریروں میں اتنے حاوی ہیں کہ ان کے یہاں انشائیہ کا فن مجروح ہو گیا ہے۔ انہیں بڑی سی بڑی بات کو انتہائی جامعیت اور اختصار کے ساتھ کہنے پر قدرت حاصل ہے۔ ان کی رمز شناسی اور بالغ النظری سے بھی انکار ممکن نہیں۔ ان کے مشہور انشائیوں میں ’’چارپائی اور کلچر‘‘، ’’الیکشن‘‘ اور ’’سفر‘‘ وغیرہ اہم ہیں۔ پطرس بخاری کی خوش طبعی ان کو مزاح نگار بنا دیتی ہے۔ ان کی ظرافت کا فن لفظی الٹ پھیر کے بجائے واقعات میں ہے۔ وہ موضوع کو شخصی زاوئیے سے ضرور دیکھتے ہیں لیکن ان کے یہاں انشائیت کی کمی ہے۔ ’’سویرے جو کل آنکھ میری کھلی‘‘ ’’کتے‘‘ اور ’’بچے‘‘ وغیرہ ایسی تحریریں ہیں جن میں پطرس بظاہر ایک مزاح نگار نظر آتے ہیں تاہم ان میں ایک انشائیہ نگار بھی چھپا ہوا ہے جو ذات کو منکشف کر کے تحریر میں ایک خاص تاثر قائم کرتا ہے۔ کرشن چندر بنیادی طور پر فکشن کے آدمی ہیں اس لیے ان کی تحریریں پلاٹ و کردار اور ماحول کے گرد گھومتی ہیں۔ ’’ہوائی قلعے‘‘ کے اکثر مضامین میں ان خصوصیات کے فطری امتزاج کو فنی کمال سے برتا گیا ہے۔ انہیں معمولی سے معمولی موضوع پر بڑی چابکدستی سے اظہار خیال کرنے کا فن آتا ہے۔ طنز و مزاح میں ڈوبی ہوئی یہ تحریریں ان کے اسلوب کو ایک نیا لہجہ اور نیا آہنگ بخشتی ہیں۔ ’’ہوائی قلعے‘‘، ’’فلسفیات‘‘، ’’باون ہاتھی‘‘ اور ’’مانگے کی کتاب‘‘ وغیرہ مضامین میں انشائیے کے رنگ بکھرے ہوئے ہیں۔ اس سلسلے کی ایک کڑی احمد جامہ پاشا بھی ہیں۔ ا ن کی تحریروں میں طنز و مزاح کی وجہ سے شگفتگی لطافت اور شوخی آ گئی ہے۔ انہوں نے اپنے انشائیوں کے موضوعات کو مختلف زاویوں سے دیکھا ہے اور اپنی ذات کا لمس عطا کیا ہے۔ وہ موضوع کے مرکزی نقطے کو پکڑ کر نہیں بیٹھ جاتے بلکہ وہاں سے اپنے اطراف میں آزاد روی سے دیکھتے ہیں اور منفی حقائق کا پتہ لگاتے ہیں۔ ’’ہجرت‘‘، ’’ناپسندیدہ لوگ‘‘ اور ’’بلیوں کے سلسلے میں ‘‘ ان کے اہم انشائیے ہیں۔ 	
	اس دور میں ایسے لوگ بھی مل جاتے ہیں جنہوں نے اردو انشائیے کی روایت کو قائم رکھا۔ مثلاً سید محمد حسنین جن کے انشائیوں میں گہرے مشاہدے اور لطیف انداز بیان کا حسین امتزاج ملتا ہے۔ وہ موضوع کو ہی نہیں بلکہ اپنے کردار کے مختلف پہلوؤں کو انوکھے زاویوں سے قاری کے سامنے لاتے ہیں۔ انہیں انشائیے کے مزاج کو سمجھنے اور اسے تخلیقی پیکر میں ڈھالنے کا سلیقہ آتا ہے۔ اس اعتبار سے ’’نشاط فاطر‘‘ کے انشائیے بہت خوب ہیں۔ اس کے علاوہ وحید الدین سلیم (دوستوں کی ایذا رسانی) محمد اسماعیل (وقت سرمایہ ہے) سجاد حسین (ہولی) عبدالقادر (گھر سے نکل کر دیکھو) اور سلطان حیدر جوش (لیڈر) وغیرہ کے انشائیے ہمارے اس جائزے میں قابل قبول بھی ہیں اور قابل ستائش بھی۔ 
	اگر کسی صنف ادب کے عقب میں کوئی مضبوط روایت متحرک حالت میں موجود نہ ہو اور وہ جدید دور کی حسیت سے غافل ہو جائے اور نسل نو اسے ذریعہ اظہار بنانے پر مائل دکھائی نہ دے تو ایسی صنف ادب نہ تو زندہ رہ سکتی ہے اور نہ ہی پھل پھول سکتی ہے۔ صنف انشائیہ اس لحاظ سے خوش قسمت ہے کہ ڈاکٹر وزیر آغا نے بالخصوص اور ڈاکٹر انور سدید اور ڈاکٹر بشیر سیفی نے بالعموم اس کی شعریات پر قابل قدر تنقیدی کام کیا اور مختلف حلقوں کی جانب سے اڑائی جانے والی گرد کو صاف کر کے اس کے خد و خال واضح کیے۔ علاوہ ازیں وزیر آغا، مشتاق قمر، جمیل آزر، غلام جیلانی اصغر، انور سدید، اکبر حمیدی اور سلیم آغا قزلباش نے اول درجے کے انشائیے پیش کر کے اس صنف ادب کو استحکام بخشا اور یہ سلسلہ تا حال جاری ہے۔ 
	سال ۲۰۰۱ء میں ان بزرگ انشائیہ نگاروں کے انشائیے بھی سامنے آئے جو انشائیے کو اردو میں متعارف کرانے، اسے ایک تحریک بنا کر ادبی حلقوں میں متعارف کرانے اور اس مقبول عام بنانے تک کے مراحل میں ہمہ دم کوشاں رہے اور نسل نو کے نمائندہ لکھاریوں کے انشائیے بھی پڑھنے کو ملے جنہوں نے نہ صرف صنف انشائیہ کی روح کو سمجھا ہے بلکہ اسے معاصر فکری، علمی اور ادبی دھارے سے ہم آہنگ کر کے اس کی نئی جہت بھی روشن کی ہیں۔ 
	دسمبر ۲۰۰۲ء انشائیے کے ضمن میں ہونے والا سب سے اہم کام ’’گلبن‘‘ احمد آباد کا انشائیہ نمبر ہے۔ اس انشائیہ نمبر سے قبل علی گڑھ سے ایک انشائیہ نمبر شائع ہو چکا ہے۔ ۱۹۸۵ء میں ’’اردو زبان‘‘ سرگودھا نے بھی انشائیہ نمبر چھاپا جب کہ اس سے پہلے مارچ، اپریل، مئی، ۱۹۸۵ء میں ’’اوراق‘‘ کے ایک ضخیم انشائیہ نمبر کی اشاعت بھی اہمیت کی حامل ہے۔ جو انشائیے کی ترویج میں اس مجلے کے کلیدی کردار کی دلیل ہے۔ ’’گلبن‘‘ کا انشائیہ نمبر کا ایک امتیاز یہ ہے کہ اس میں الگ الگ پاکستانی اور ہندوستانی انشائیوں کے حصے شامل کیے گئے ہیں۔ پاکستانی حصے کو نوجوان انشائیہ منور عثمانی نے جب کہ ہندوستانی حصے کو رؤف خیر نے مرتب کیا ہے۔ اس انشائیہ نمبر میں صنف انشائیہ سے متعلق تنقیدی مضامین اور منتخب مطبوعہ اور غیر مطبوعہ انشائیے شامل کیے گئے ہیں۔ 
	مذکورہ انشائیہ نمبر ان دنوں شائع ہوا جب پورا احمد آباد شدید زلزلے کی لپیٹ میں آنے کے بعد مشکلات کا شکار تھا۔ یہ نامساعد حالات ’’گلبن‘‘ کی اشاعت میں تاخیر کا سبب بھی بنے اور شاید اسی وجہ سے انشائیہ نمبر کی ضخامت میں بھی کمی کر دی گئی۔ اس کے باوجود انشائیہ نمبر کئی پہلوؤں سے اہم دستاویز ہے۔ 
	اس نمبر میں ظفر ہاشمی کے ادارے کے بعد رؤف خیر کا ’’حرف خیرؔ‘‘ شائع ہوا۔ ’’حرفِ خیرؔ‘‘ میں گو رؤف خیر نے انشائیے کے خد و خال کی وضاحت کرنے کی کوشش کی ہے مگر ان کی تحریر میں انشائیہ ایک باقاعدہ صنف ادب کے طور پر زیر بحث نہیں آیا۔ ایک روئیے کے طور پر ابھرا ہے۔ انہوں نے بہت سے مزاح نگاروں اور دیگر مضمون نگاروں کی تحریروں کو بھی انشائیہ قرار دیا ہے جو درست نہیں۔ یہی حال ہندوستانی انشائیوں کا بھی ہے جو مزاح سے مغلوب ہیں۔ تنقیدی مضامین میں وزیر آغا کا مضمون ’’انشائیہ نگاری‘‘ منور عثمانی کا ’’اسیر و سفر اور انشائیہ‘‘ اور ڈاکٹر سیدہ جعفر کا ’’انشائیہ نگاری‘‘ شامل ہیں۔ 
	’’انشائیہ اور انشائیہ نگاری‘‘ میں ڈاکٹر وزیر آغا نے صنف انشائیہ کا مکمل تعارف پیش کیا۔ ایک الگ صنف ادب کے طور پر اس کا مقام متعین کیا اور طنزیہ و مزاحیہ مضامین اور دیگر ادبی و غیر ادبی مضامین سے اس کی  الگ شناخت واضح کی۔ وہ انشائیے کی تاریخ کو بھی زیر بحث لائے ہیں اور انہوں نے اس کی موجودہ صورتحال اور نمائندہ انشائیہ نگاروں کا ذکر بھی تفصیلاً کیا ہے۔ منور عثمانی کا مضمون ’’سیر و سفر اور انشائیہ‘‘ جو پاکستان سے شائع ہونے والے ان کے مرتب کردہ انتخاب انشائیہ ’’سفر راستہ بتاتا ہے‘‘ میں بطور پیش لفظ بھی شائع ہو چکا ہے اور جس کا ذکر گزشتہ برس کے جائزے میں آچکا ہے۔ ایک اہم مضمون ہے۔ سیدہ جعفر نے اپنے مضمون میں مزاح نگاروں ملا رموزی، فرحت اللہ بیگ، پطرس بخاری، رشید احمد صدیقی اور احمد جمال پاشا کو انشائیہ نگار قرار دیا ہے۔ جس سے احساس ہوتا ہے کہ مضمون نگار، مزاح اور انشائیہ کے نازک فرق کو گرفت میں نہیں لے سکیں۔ 
	دوسرے حصے میں ہندوستان کے تعلق رکھنے والے انشائیہ نگاروں کی مطبوعہ و غیر مطبوعہ تحریریں شامل کی گئی ہیں جن میں مزاح کا عنصر نمایاں ہے اور جو انشائیے کے معیار پر پورا نہیں اترتا۔ مذکورہ تحریروں میں مزاح کی فراوانی کا ذکر خود مدیر منتظم نے اپنے اداریئے میں بھی کیا ہے۔ ہندوستانی گوشے میں یوسف ناظم، ناوک حمزہ پوری، محمد حمید عادل، محمد بدیع الزماں، خورشید جہاں، شرون کمار ورما، فضل حسنین، مناظر حسین عاشق ہرگانوی، ڈکار رحمت یوسف زئی، محسن انصاری، ثریا صولت حسین، انور انصاری، اختر بانو ناز، غلام محمد انصاری اور ایلاف خیری کی تخلیقات شامل ہیں۔ 
	تیسرا اور چوتھا حصہ دونوں پاکستانی گوشے ہیں۔ تیسرے حصے میں پاکستانی انشائیہ نگاروں کے مطبوعہ انشائیوں سے انتخاب پیش کیا گیا ہے۔ ان انشائیوں میں وزیر آغا کا ’’چالیسویں سالگرہ‘‘ مشتاق احمد کا ’’حسرت دید‘‘ جمیل آذر کا ’’شاخ زیتون‘‘ انور سدید کا ’’مچھر کی مدافعت میں ‘‘ اکبر حمیدی کا ’’تتلی کے تعاقب میں ‘‘ سلیم آغا قزلباش کا ’’گلی‘‘ حامد برگی کا ’’نیکوکار خطاکار‘‘ حیدر قریشی کا ’’نقاب‘‘ جان کاشمیری کا ’’لاگ شیٹ‘‘ انجم نیازی کا ’’صفر‘‘ ناصر عباس نیر کا ’’معنی‘‘ جاوید حیدر جوئیہ کا ’’جبر و اختیار‘‘ مختار پارس کا ’’دروازہ‘‘ عطیہ خان کا ’’عمر دراز‘‘ انجم انصار کا ’’بھول‘‘ رعنا تقی کا ’’ماسک‘‘ پروین طارق کا ’’لاؤنج‘‘ اور ’’آنگن‘‘ اور منور عثمانی کا ’’قائل کرنا‘‘ شامل ہیں۔ جبکہ غیر مطبوعہ انشائیوں کے گوشے میں شاید شیدائی، قاضی اعجاز محور، بصیر رضا، شفیع ہمدم، اور حنیف باوا کے علاوہ بیشتر انہیں قلمکاروں کے انشائیے شامل ہیں جن کی تخلیقات مطبوعہ انشائیوں کے انتخاب میں شامل ہیں۔ 
	سال ۲۰۰۱ء میں ’’اوراق‘‘ تعطل کا شکار رہا اور انشائیے کے قارئین نے اس کی کمی کو بطور خاص محسوس کیا اور با رہا یہ سوال اٹھایا گیا اب کون سا ابی پرچہ انشائیے کو اس کے درست تنقیدی شعور کے ساتھ شائع کرے گا۔ اس برس بعض ادبی رسائل نے انشائیے کی ترویج اور اشاعت میں گہری دلچسپی لی۔ بہت سے رسائل تو انشائیے اور دیگر ہلکے پھلکے مضامین میں فرق روا نہیں رکھ سکے تاہم بعض تجربہ کار انشائیہ نگاروں کی تخلیقات ’’کاغذی پیرہن‘‘، ’’صریر‘‘، ’’ادبیات‘‘، ’’تسطیر‘‘، ’’سخنور‘‘ اور ’’ماہِ نو‘‘ میں شائع ہوئیں۔ 
	 وزیر آغا کا انشائیہ ’’آنکھیں ‘‘ ایک تہہ دار انشائیہ ہے اس میں انشائیہ نگار نے یہ خیال ظاہر کیا ہے کہ مطلق اندھیرا ایک بے معنی بات ہے۔ کیونکہ بصارت کا چراغ گل ہوتے ہی بصیرت کی قندیل روشن ہو جاتی ہے۔ یہ بصیرت دراصل اندھیرے کی روشنی ہے۔ اندھیرے کی روشنی ایک نور ہے اور اس نیم روشن فضا کو جنم دیتی ہے جو تخلیقی عمل سے عبارت ہے اور صوفیانہ تجربے کے لیے بھی اسی فضا کی ضرورت ہوتی ہے۔ زیر نظر انشائیہ محبت کے تجربے میں آنکھوں کے کردار کو روشن کرتا ہے اور اس پوری کائنات کو آنکھ قرار دیتے ہوئے اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ آنکھ خود ناظر بھی ہے اور ہر ایک منظر کے اندر بھی اسی آنکھ کا نور موجزن ہے۔ 
	 انور سدید نے صنف انشائیہ کے آغاز سے اب تک اس کے خد و خال واضح کرنے کے لیے متعدد تنقیدی مضامین تحریر کیے اور عمدہ انشائیے تخلیق کیے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ تخلیقی اور تنقیدی سطح پر انشائیے کو پروان چڑھانے میں ان کی مساعی کو فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ زیر نظر انشائیے ’’درمیان کی دیوار‘‘میں معانی پرت در پرت موجود ہیں اور درمیان کی دیوار مرئی اور غیر مرئی روپ میں سامنے آتی ہے۔ دیوار کا مرئی روپ وہ ہے جب دیوار گھروں کے درمیان حائل ہوتی ہے اور غیر مرئی روپ وہ ہے جب اس دکھائی نہ دینے دیوار نے دلوں کو تقسیم کیا ہے۔ اس انشائیے میں انشائیہ نگار نے لوگوں کے عدم برداشت کے روئیے کو بھی نشان زد کیا ہے اور ساتھ ہی زندگی کی اس بے اطمینانی تیز رفتاری اور انتشار کا احساس بھی دلایا ہے جس کے باعث انسان کا رشتہ نہ صرف اردگرد سے بلکہ خود اپنے آپ سے بھی منقطع ہو گیا ہے اور انسان بالکل تنہا رہ گیا ہے۔ انور سدید نے اپنے اس انشائیہ میں شہری اور دیہی زندگی کا فرق بھی نمایاں کیا ہے ان کے خیال میں شہر جب اپنی حدود سے تجاوز کر کے بے پناہ وسعت اختیار کر جاتے ہیں ان کے اندر اجنبیت کا زہر پھیل جاتا ہے۔ جو آہستہ آہستہ انسان کی زندگی کو چاٹ لیتا ہے جبکہ گاؤں میں نہ صرف لوگ بلکہ نباتات و جمادات بھی انسان کی حیات کا جزو بن جاتے ہیں۔ گویا شہروں کی بھیڑ انسان کو تنہائی سے دوچار کرتی ہے اور گاؤں کی خاموشی اسے اپنی آغوش میں سمیٹتی اور اس کے زخموں کا مرہم بنتی ہے۔ گاؤں سے انشائیہ نگار کی محبت دیکھ کر یہی احساس ہوتا ہے کہ ان کے نزدیک گاؤں کی طرف مراجعت کا عمل خود اپنے ’’اصل‘‘ کی طرف لوٹنے کے عمل کے مترادف ہے۔ 
	انشائیہ جمیل آذر کا ’’تانگہ کلچر‘‘ انشائیہ کی تخلیق اور اسے قبول عام کی سند دلانے میں ان کی مساعی قابل ذکر ہی نہیں قابل قدر بھی ہے۔ ان کا انشائیہ ’’تانگہ کلچر‘‘ جو بھارت میں ’’گلبن‘‘ کے انشائیہ نمبر اور پاکستان میں سالنامہ ’’صریر‘‘ جون ۲۰۰۱ء میں شائع ہوا، عمدہ تخلیق ہے۔ اس میں مصنف کی روایت سے محبت عیاں ہے اور ’’تانگہ کلچر‘‘ ہماری تہذیب و ثقافت کی شناخت بن کر سامنے آیا ہے۔ یہ انشائیہ ہمیں نہ صرف روایت کے مختلف پہلوؤں سے روشناس کراتا ہے بلکہ روایت کو زندہ رکھنے کی ترغیب بھی دیتا ہے۔ مصنف کے خیال میں تانگہ کلچر ہماری حرمت کی نشانی ہے اور یہ ہمیں عزت نفس کی خوشبو عطا کرتا ہے جبکہ دور جدید ہماری ثقافت کی علمبردار ہر شے کو اپنے اندر گم کر لینے کے درپے ہے اور ہمیں خودی اور خود داری دونوں سے محروم کرنا چاہتا ہے۔ انہوں نے دور جدید اور اس کے تقاضوں سے اختلاف کرتے ہوئے اسے مکمل طور پر رد کرنے سے گریز کیا ہے۔ جس سے انشائیہ میں توازن پیدا ہو گیا ہے۔ جمیل آذر نے کوچوان کے کردار کے ذریعہ یہ احساس دلایا ہے کہ روایت کے پاسبان قانون کے احترام سے عاری اور حکمت و دانائی سے خالی ہیں اور روایت کے زوال کا اصل سبب بھی روایت کے ان نام لیواؤں کے غیر ذمہ دارانہ روئیے ہیں۔ 
	اہم انشائیہ نگاروں میں ایک نام اکبر حمیدی کا بھی ہے۔ اکبر حمیدی کئی برسوں سے اول درجے کے انشائیے تخلیق کر رہے ہیں اور انہوں نے اسلوب اور موضوعات کی سطحوں پر انشائی ادب کو بہت وسعت عطا ہے۔ ان کا انشائیہ ’’نام بنام‘‘ ادبیات شما رہ ۵۴ میں، ’’پہاڑ مجھے بلاتا ہے‘‘ ماہِ نو جون میں، ’’وال کلاک کے پیچھے‘‘ گلبن کے انشائیہ نمبر میں اور ’’زیرو پوائنٹ‘‘ کاغذی پیرہن شما رہ ۳ میں شائع ہوا۔ یہ سب انشائیے اپنی اپنی جگہ بھرپور ہیں تاہم ’’زیرو پوائنٹ‘‘ بطور خاص قابل ذکر انشائیہ ہے کہ اس کی زیریں لہروں میں موجودہ گہری معنویت نہ صرف قاری کو چونکاتی ہے بلکہ اسے فکری ترفع بھی عطا کرتی ہے۔ زیر نظر انشائیے میں زیرو پوائنٹ انسان کی ’’تخلیقی ذات‘‘ کا استعا رہ بن کر ابھرا ہے۔ ’’تخلیقی ذات‘‘ جو انسان کو زندگی کے دکھوں کے مقابل کھڑا ہونے کی جرأت عطا کرتی اور دکھوں کو جمالیاتی تجربہ بنا کر ان کی تر زہر ناکی کا خاتمہ کر ڈالتی ہے۔ نیز اس تخلیقی ذات کی دریافت اور اس کے ساتھ گہرا تعلق انسان کو اردگرد سے مناسب فاصلے پر رکھتا اور اپنے اندر کے دیار کی سیاحت کی ترغیب دیتا ہے۔ یوں یہ انشائیہ دریافت کے جذبے، ایک جائے اماں کی خواہش اور زندگی سے تخلیقی سطح پر رشتہ قائم کرنے کی کوشش سے نمو پذیر ہوا ہے۔ اس انشائیے میں ’’زیرو پوائنٹ‘‘ ایک سنگم کی شکل میں بھی نمودار ہوا ہے جس سے بیک وقت بے شمار راستے پھوٹتے ہیں اور سنگم پر کھڑا انسان کسی بھی بہتر راستے کا انتخاب کرسکتا ہے۔ گویا اس سنگم پر موجودگی انسان کو اختیار اور شعور عطا کرتی ہے۔ 
	سلیم آغا قزلباش کا تازہ انشائیہ ’’تھکن‘‘ بھی پرکشش انشائیہ ہے جو ’’کاغذی پیرہن‘‘ شما رہ ۴ میں شائع ہوا۔ اس پرکشش انشائیے نے قارئین کے لیے مکمل تسکین کا سامان فراہم کیا ہے۔ زیر نظر انشائیے میں مصنف نے تھکن کو ایسی تمثیلی کیفیت قرار دیا ہے جس میں مبتلا ہو کر انسان دنیاوی آلائشوں کی قید با مشقت سے رہائی پالیتا ہے اور سلوک کی کسی افضل منزل پر پہنچا ہوا دکھائی دینے لگتا ہے۔ نیز تھکن کی آغوشِ راحت میں سمٹنے کے بعد انسان بظاہر نیم جاں دکھائی دینے کے باوجود اندر سے توانا اور پوری طرح زندہ ہوتا ہے۔ انشائیہ نگار نے تھکن کے ذریعہ مشرقی تہذیب اور مغربی تہذیب کے مزاجوں کا فرق بھی واضح کر دیا ہے۔ ان کے خیال میں مغربی تہذیب تھکن کو اپنی تیز رفتاری میں خلل اندازی کا مرتکب گردانتی ہے۔ یہ مختلف حیلے بہانے کر کے تھکن سے دور بھاگنے کی کوشش کرتی ہے۔ نتیجتاً تھکن کے حصول کی فطری خواہش کو دبانے سے یہ کفران نعمت کی مرتکب ہوتی ہے اور سزا کے طور پر منشیات کے ذریعے مصنوعی تھکن طاری کرنے کی کوشش میں روحانی بانجھ پن کا شکار ہو جاتی ہے۔ اس کے برعکس مشرقی تہذیب تھکن کو کیف آفریں خیال کرتے ہوئے اس کی تلاش میں سرگرداں رہتی ہے۔ یہ تھکن کو اس کی حقیقی شکل میں قبول کرتی ہے جس کے باعث تھکن اسے اپنے اندر کی تمام برکات سے نواز کر روحانی سطح پر ارفع ترین مقام سے نواز دیتی ہے۔ 
	ناصر عباس نیر بھی ۲۰۰۱ء کے نہایت اہم انشائیہ نگار ہیں۔ ان کے انشائیوں میں ایک گہری بصیرت موجزن دکھائی دیتی ہے جو زندگی کے بنیادی سولاات پر مسلسل غور و فکر کے ذریعے میں جنم لیتی ہے۔ ناصر عباس نیر بلند پایہ نقاد بھی ہیں اور اپنی تنقیدی بصیرت کو تخلیقی سطح پر برتنے کے ہنر سے بہرہ مند بھی۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے بعض انشائیوں میں تنقیدی تھیوری بھی خالص تخلیقی رنگ میں اپنی جھلک دکھاتی ہے۔ 
	انشائیے کی اہمیت و افادیت کے پیش نظر مذکورہ بالا تحریر صرف اس قدر اضافے کی متقاضی ہے کہ انشائیہ وہ صنف نثر ہے جو ترقی کے مدارج تیزی سے طے کر رہی ہے نیز اپنے اندر وسعت اور جامعیت اختیار کرتے ہوئے تنقیدی اشارات کی تفہیم پر بھی قادر ہوتی جا رہی ہے۔ 
	المختصر انشائیہ ہی اردو ادب میں ایسی صنف کہلانے کی حقدار ہے جس نے ادب کے مختلف گوشوں یعنی تاریخی، سیاسی، سماجی، جغرافیائی، سائنسی اور اخلاقی وغیرہ کا بخوبی احاطہ کیا ہے۔ مندرجہ بالا مختلف گوشوں کے گلستان میں سیکڑوں انشائیہ نگاروں نے اپنے گلوں کے رنگ بکھیرے ہیں۔ ملا وجہی، محمد حسین آزاد، شبلی نعمانی، مولانا الطاف حسین حالی، سرسید احمد خاں، مولانا ابوالکلام آزاد، ماسٹر رام چندر، عبدالماجد دریا بادی، میر ناصر علی، عبدالحلیم شرر، سجاد حیدر یلدرم، نیاز فتحپوری، مہدی افادی، خواجہ حسن نظامی، وزیر آغا، مشتاق احمد یوسفی، داؤد رہبر، جاوید صدیقی، رشید احمد صدیقی، احمد جمال پاشا، ظفر صدیقی، مشکور حسین یاد، محمود اختر، اقبال انجم، جمیل آذر، انور سدید، آدم شیخ، فرحت اللہ بیگ، شرف صبوحی، یوسف بخاری، خواجہ محمد شفیع، آصف علی، مرزا محمود بیگ، مہیشور دیال، جاوید وششٹ، ضمیر حسن دہلوی، سجاد انصاری، پطرس بخاری، فکر تونسوی، کنہیا لال کپور، سید عابد حسین، کرشن چندر، فرقت کاکوروی، محمد حسنین، سید آوا رہ، اندر جیت لال، محمد حسن، جوگندر پال، مجتبیٰ حسین، یوسف ناظم، معین اعجاز، وحید الدین سلیم، محمد اسماعیل، سجاد حسین، عبدالقادر، سلطان حیدر جوش، خلیقی دہلوی، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انشائیہ کا گل و گلزار کتنا مہکدار ہے۔ ان سب نے زندگی کے کسی پہلو کو پیش کرنے میں کوئی کسرباقی نہیں رکھی۔ 
	یوں تو اردو میں انشائیے کی عمر سوا سو سال سے بھی زیادہ ہے لیکن بحیثیت ایک منفرد نثری صنف اردو انشائیہ اپنے تمام فنی محاسن کے ساتھ بیسویں صدی کی شروع کی دہائیوں میں ابھر کر سامنے آتا ہے۔ اسی دور میں شعوری اور غیر شعوری طور پر ان گنت انشائیے لکھے گئے جو کبھی مضمون، پرسنل ایسے یا لائٹ ایسے کی حیثیت سے گردانے گئے تو کبھی انشائیے لطیف کے اہم ادبی شہ پاروں کے طور پر بھی انہیں پہچانا گیا۔ 
	انشائیہ نگاروں نے قاری کے ذہن و دل میں اتر کر اسے مختلف پہلوؤں پر منفرد زاویہ نگاہ سے دیکھنے پر مجبور کیا۔ اور ان کی تحریریں پڑھ کر واقعی ایسا محسوس ہوتا ہے کہ آج بھی زندگی کی ہزاروں رہ گزر ایسی ہیں جن پر تو ہم نے قدم رکھا بھی نہیں اور یہی راستے ہماری منزل مقصود کا نشان ہوسکتے ہیں۔ یہاں انشائیہ نگار قاری کا بہترین رہنما ثابت ہوتا ہے اور یہی مرکزیت تمام اصناف ادب میں وہ بلند و بالا مقام عطا کرتی ہے جو دوسرے نثر نگاروں کو نصیب نہیں ہے۔ یہیں سے انشائیہ نگاری کی سطروں کی اہمیت و افادیت خود کو ایک مسلم حیثیت سے ہمکنار کراتی ہے۔ انشائیہ نگاروں کی ہر دور کی کھیپ سماج کی بہترین دوست ثابت ہوئی ہے۔ اس لیے انشائیہ ازل سے سب کی پسندیدہ اور مقبول صنف رہی ہے۔ زندگی کے بوجھل لمحات کے سمندر کی لہروں میں ہر کوئی ڈبکیاں لگاتا ہے۔ کوئی یہ ہرگز نہیں کہہ سکتا ہے مہد سے لحد تک خوشیوں نے صرف اسی کے نہاں خانوں میں ڈیرہ جمائے رکھا۔ مسائل سے گزرنا اور دشواریوں کے ساتھ خوشیاں تلاشنے کا کام آدم سے لے کر چلا آ رہا ہے۔ اسی کو صنف انشائیہ بھر پور معنی دے کر الفاظ کے پیکر میں ڈھال کر قارئین کو باصرہ نواز بناتا ہے یہی وہ بنیادی جواز ہے جس کی بناء پر انشائیہ نگاری کی اہمیت و افادیت انسانی زندگی کے ذہن و دل کے کینوس پر قوس قزح بکھیرتی ہے اور چنندہ حریفوں کے دل کو بھی راز دارانہ طریقے سے فتح کر کے آگے ہی آگے بڑھتی چلی جاتی ہے۔ 
	انشائیہ کی اہمیت اس لیے بھی روشن ہے کہ یہی وہ نثری اظہار کی ایک ایسی صنف ہے جس میں حقیقت کا اظہار شخصی رد عمل، عدم تکمیل، رمزیت و اشاریت، غیر منطقی ربط، اختصار، دعوت، فکر، مسرت بہم پہنچانے کی صلاحیت، زبان و بیان میں بانکپن اور مرکزی بات سے کچھ ضمنی باتوں کا ذکر کر کے مسائل کا حل، زندگی کی یکسانیت اور ٹھہراؤ سے اوپر اٹھ کر ماحول کا از سرنو جائزہ لینے کی صلاحیت، غمگین دلوں کی شگفتگی کا سامان اور خشک خیالات کے گہرے گھٹا ٹوپ اندھیرے میں جگنوؤں کی سی سبز روشنی کا مستحکم عصا، سطحیت پر سے دعوت فکر کے عمیق ساگر کے غوطے، یہ ساری بنیادیں انشائیہ نگار اور قاری کے درمیان رابطے کے پل کا کام کرتی ہیں اور یہی پل اسے دوسری اصناف کی اہمیت میں سرفہرست رکھتا ہے۔ سماجی حقائق کی پردہ کشی اور پوشی جتنے بہترین انداز میں انشائیہ نگاری نے کی ہے اتنی کسی اور نثر نگار نے نہیں کی۔ طنز و مزاح کے تیر صرف انشائیے کے میدان میں قارئین ہنستے مسکراتے جھیل جاتے ہیں۔ کیونکہ یہ زہر ہلاہل میں بجھے نہیں ہوتے۔ بلکہ پھولوں کی پنکھڑی سے بنے اور خوشبو سے معطر ہوتے ہیں۔ بنا کسی درد اور تکلیف کے قارئین کے ذہن و دل کی جراحی کا عمل صرف انشائیہ نگار ہی کرسکتا ہے۔ اس لیے وہ دیگر نثر نگاروں سے بالاتر ہے کیونکہ انہوں نے انشائیہ کی روح کو سمجھ کر اسں میں اتر کر اسے معاصر فکری، علمی اور ادبی دھارے سے ہم آہنگ کر کے ہزاروں نئی جہت بھی روشن کی ہیں۔ 
	ہر قدیم نسل کا دکھ یہ ہوتا ہے کہ دور جدید ہماری تہذیب اور ثقافت کی علمبردار ہر شئے کو اپنے اندر گم کر لینے کے درپے ہے اور ہمیں خودی اور خود داری دونوں سے محروم کرنا چاہتا ہے لیکن انشائیہ نے دور جدید سے ہم آہنگ ہو کر قدیم روایات کو مکمل طور پر رد کرنے سے گریز کیا ہے جس سے جہاں انشائیہ میں ایک حسین توازن پیدا ہو گیا وہیں بیک وقت دونوں نسلوں کے لبوں پر مسکراہٹ بھی نظر آنے لگی۔ یہ ایک نہایت عظیم معرکہ ہے جسے دوسری اصناف سر کرنے سے قاصر رہیں اور اسی سے انشائیہ نگاری کی اہمیت میں روز افزوں اضافہ ہوتا گیا۔ 
	انشائیہ جتنا عام فہم نظر آتا ہے اتنا ہوتا نہیں ہے۔ ہر انشائیہ کی تحریر کے الفاظ اپنے اندر گہری بصیرت موجزن رکھتے ہیں اور یہی بصیرت و غور و فکر زندگی کے بنیادی سوالات کا حل طشت از بام کرتی ہے۔ 
	کئی انشائیہ نگاروں کے نزدیک اپنی تنقیدی بصیرت کو تخلیقی سطح پر برتنے کا خوبصورت انداز ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے انشائیہ نگاروں کی تحریروں میں تنقیدی تھیوری بھی خالص تخلیقی رنگ میں اپنی جھلک دکھاتا ہے۔ انشائیے کی اہمیت و افادیت کے پیش نظر وہ تمام مہارتیں و نکات قابل تحسین ہیں جو دامے، درمے اور سخنے استعمال کی جاتی ہیں اور جس کی بنا پر صنف انشائیہ ترقی کے مدارج تیزی سے طے کر رہا ہے نیز اپنے اندر وسعت اور جامعیت اختیار کرتے ہوئے تنقیدی اشارات کی تفہیم پر بھی قادر ہوتا جا رہا ہے۔ 
	آج انسانی شعور پختگی اختیار کر گیا ہے۔ عوام کا معیار زندگی بھی بلند ہو گیا ہے۔ فہم و فراست نے بھی چند زینے مزید طے کر لیے ہیں۔ اسی لیے انشائیے کے درپردہ اشارے و کنایے ہر خاص و عام کے قابل فہم ہو گئے ہیں۔ وہ ان سے لطف اندوز ہونے لگے ہیں اور خود کو دانشوروں کی صف میں شمار کرنے لگے ہیں۔ کم وقت اور کم صفحات میں انشائیہ کا فہم و ادراک انہیں کم خرچ بالا نشین محسوس ہوتا ہے اس لیے انشائیہ روز بروز مقبول ہوتا جا رہا ہے اور اس کی اہمیت و ضرورت زیادہ سے زیادہ محسوس کی جا رہی ہے۔ سیکڑوں نئے چہرے اپنی تحریروں کے ذریعے نئے زاویہ انداز پیش کرنے لگے ہیں۔ دو یا تین انشائیے ہر ماہ رسائل کی زینت بنتے رہتے ہیں۔ روزنامے انشائیوں کے ذریعے سماج کے سلگتے ہوئے مسائل پیش کرنے میں جٹے ہوئے ہیں۔ حیدر آباد کے ماہنامے شگوفہ نے تو ہر ماہ ایک گوشہ انشائیے کے لیے مختص کر دیا ہے۔ انشائیے کی اہمیت اس سے بڑھ کر اور کیا ہوسکتی ہے۔ 
انشائیے نے زمین نثر کو زرخیز کر دیا
جو نخل بو دیا اسے گلریز کر دیا
٭٭٭




 باب چہارم: انشائیہ بیسویں صدی میں 


	بیسویں صدی آتے آتے انشائیہ نے ترقی کے کئی زینے طئے کر لیے تھے۔ اس دور میں انشائیہ نگاری کے موضوعات کو اخلاقی، سماجی، سیاسی اور خصوصاً دہلی کی تہذیب کے گرد گھومتے دیکھا گیا۔ مختلف انشائیہ نگاروں نے صوفیانہ انداز فکر اپنایا تو کسی نے فلسفیانہ نقطۂ نظر سے اس کے بال و پر سنوارے۔ بعض نے جمالیاتی حس کی کارکردگی سے اپنے انشائیوں کے برگ و بار کو تراش کر خوبصورت بنایا۔ چند ایسے بھی ملے جنہوں نے ایک مصلح کا انداز اپناتے ہوئے حالات حاضرہ کا جائزہ اپنی تیسری آنکھ سے لیا اور تنقید و تبصرہ گوئی بھی جاری رہی۔ اکثر انشائیوں میں انداز بیان خوش طبعی کا تابع ہوتا نظر آیا۔ جس سے عبارت میں شگفتگی اور لطافت میں کئی گنا اضافہ ہوتا گیا۔ کئی انشائیوں میں طنز کے نشتر اتنے شدید ہیں کہ مارے تکلیف کے منہ سے آہ نکل گئی لیکن درد کا احساس کم ہونے پر وہی ’آہ‘  ’واہ‘ میں تبدیل ہو گئی۔ بہتوں کا طرز بیان استعاراتی ہے جس سے معنی و مطالب کے نت نئے پیرائے سامنے آتے ہیں۔ غرض یہ کہ بیسویں صدی کے تمام انشائیوں کے اسلوب کو اطلاعی، صراحتی اور تخلیقی کہا جا سکتا ہے۔ 
	اس باب میں ہم نے چنندہ انشائیہ نگاروں کو شامل تحریر کیا ہے اور ان کے منتخب شدہ انشائیوں کو بطور نمونہ پیش کیا جاتا ہے تاکہ ان کے تعارف و تحریر کی روشنی میں انشائیے کے خد و خال مزید واضح ہو جائیں۔ انشائیے کے یہ نمونے کہیں ذہنی آزاد ترنگ و بے ربطی کے آئینہ دار ہیں تو کہیں اپنی ذات و صفات کا اظہار بھی۔ ان انشائیوں میں حکمت و دانائی کے گوہر جہاں پوشیدہ ہیں تودوسری طرف طنز مزاح کے وہ نشتر بھی جو راست دانائی و بینائی کے در وا کرتے ہیں۔ مختصراً ہمارے انشائیہ نگاروں کی یہ بیش قیمت تحریریں اس صنف کی اہمیت، افادیت سے روشناس کرتی ہیں اور انشائیہ کے خد و خال کو مزید واضح کرتی ہیں۔ 
٭٭٭



نمبر شمار
بیسویں صدی کے چند اہم انشائیہ نگار
مقام پیدائش
تاریخ پیدائش
تاریخ وفات
۱
شوکت تھانوی
ببندرابن
۲ فروری ۱۹۰۴ء
۴ مئی ۱۹۶۳ء
۲
کنہیا لال کپور
لائل پور 
۲۷ جون ۱۹۱۰ء 
۱۹۸۵ء
۳
کرشن چندر
لاہور، پاکستان
۲۳ نومبر ۱۹۱۴ 
۱۹۷۷ء
۴
فکر تونسوی  
تونسہ، پنجاب
۹ اکتوبر ۱۹۱۸ء 
۱۲ ستمبر ۱۹۸۶ء
۵
جاوید وششٹ      
ہریانہ
۱۹۲۰ء 
۱۹۹۴ء
۶
مہیشور دیال 



۷
سید ضمیر حسن دہلوی     
نوئیڈا، دہلی
۴ مارچ ۱۹۳۶ء
۔ 
۸
یوسف ناظم   
جالنہ 
۱۹۲۱ء
۲۰۰۹ء
۹
مشتاق احمد یوسفی  
ٹونک، راجستھان
 ۴ اگست ۱۹۲۳
۔ 
۱۰
فرقت کاکوری
کاکوروی، لکھنؤ
۱۹۱۴ء
۱۹۷۳ء
۱۱
سید آوا رہ
ما رہلہ ایٹا، یوپی
۱۸۹۲ء
۱۹۸۷ء
۱۲
محمد حسن
مراد آباد، یوپی
یکم جولائی ۱۹۲۶ء
۲۰۰۹ء
۱۳
اندر جیت لال
پنجاب
۱۹۲۶ء
۱۹۹۰ء
۱۴
آدم شیخ

۱۹۰۹ء
۔ 
۱۵
جوگندر پال   
 سیالکوٹ، پنجاب
۱۹۲۵
۔ 
۱۶
حسنین محمد اسلم عظیم آبادی    
بہار
۲ اکتوبر ۱۹۲۰۔ ۱۹۲۵
۱۰  اکتوبر ۱۹۹۹
۱۷
ابن انشاء  
جالندھر
۱۹۲۶ء/۱۹۲۷ء
۱۹۷۸
۱۸
مجتبیٰ حسین
پنچولی، گلبرگہ، کرناٹک
۱۹۳۶ء
-
۱۹
سید عابد حسین   
بھوٹان
 ۲۵ جولائی ۱۸۹۶ء
۱۹۷۸ء
۲۰
پروفیسر خورشید جہاں 
جھارکھنڈ

۲۰۰۵ء
۲۱
 ثریا صولت حسین 
ناگپور
۲۶ اکتوبر
۔ 
۲۲
دلیپ سنگھ 
گوجرانوالہ، پاکستان
۱۹۳۲ء
۸ اگست ۱۹۹۴ء
۲۳
معین اعجاز 
غازی پور
۵ جون ۱۹۴۴ء
۔ 
۲۴
عابد معز  
حیدر آباد 

۔ 
۲۵
احمد جمال پاشا 



۲۶
 رضا نقوی ماہی


۔ 
۲۷
عبدالرحیم نشتر


۔ 
۲۸
عظیم اقبال


۔ 
۲۹
اقبال مجید اللہ


۔ 
۳۰
ڈاکٹر طارق


۔ 
۳۱
ناوک حمزہ پوری 
اورنگ آباد، بہار
۲۱ اپریل ۱۹۳۳ء
۔ 
۳۲
حمید عادل


۔ 
۳۳
محمد بدیع الزماں 


۔ 
۳۴
شرون کمار ورما


۔ 
۳۵
فضل حسنین


۔ 
۳۶
ڈاکٹر مناظر عاشق ہرگانوی
بھاگلپور بہار
یکم جولائی ۱۹۴۸ء 
۔ 
۳۷
محسن انصاری


۔ 
۳۸
انوار انصاری
رانچی، بہار

۔ 
۳۹
اختر بانو ناز 
بیڑ

۔ 
۴۰
غلام محمد انصاری


۔ 
۴۱
ایلاف خیری


۔ 
۴۲
مانک ٹالہ 
ممبئی
۲۱ ستمبر ۱۹۲۴ء
۔ 
۴۳
وجاہت علی سندیلوی 


۔ 
۴۴
پرویز ید اللہ مہدی
حیدرآباد۔ حالِ مقیم۔ شکاگو۔ امریکہ 

۔ 
۴۵
 سید طالب حسین زیدی  
حیدرآباد

۔ 
۴۶
بابو آر کے
 اچل پور 

۔ 
۴۷
ڈاکٹر اعجاز علی ارشد 
پٹنہ، بہار
یکم جنوری ۱۹۵۴ء
۔ 
۴۸
ڈاکٹر محمد کوثر اعظم  
پٹنہ، بہار

۔ 
۴۹
مرزا کھونچ 
ببیتا، بہار

۔ 
۵۰
دلشاد رضوی  
حیدرآباد

۔ 
۵۱
مختار احمد منو 
گل بڑودہ 

۔ 
۵۲
ڈاکٹر حبیب ضیاء  


۔ 
۵۳
سید رحیم الدین توفیق 


۔ 
۵۴
ڈاکٹر سید عباس متقی 
حیدرآباد 

۔ 
۵۵
یوسف امتیاز 
ٹورنٹو کینیڈا

۔ 
۵۶
انیس سلطانہ 
مدھیہ پردیش

۔ 
۵۷
شیخ سلیم
حیدر آباد

۔ 
۵۸
فیاض احمد فیضی 


۔ 
۵۹
شاہد رشید
امراوتی

۔ 
۶۰
نعیم زبیری
حیدرآباد

۔ 
۶۱
سید مکرم نیاز 


۔ 
۶۲
ضامن علی حسرت 
نظام آباد

۔ 
۶۳
شکیل شاہجہاں  
کامٹی

۔ 
۶۴
فاطمہ تاج 
حیدرآباد

۔ 
۶۵
علیم خاں فلکی 
حیدرآباد

۔ 
۶۶
فیض احمد انصاری 
اکولہ

۔ 
۶۷
تمنا مظفر پوری
مظفر پور

۔ 
۶۸
ڈاکٹر حلیمہ فردوس 
بنگلور

۔ 
۶۹
فیروز حیدر 
حیدرآباد

۔ 
۷۰
جہاں قدر چغتائی 
بھوپال

۔ 
۷۱
عاتق شاہ  

۱۹۳۳ء
۱۹۹۹ء
۷۲
ممتاز مہدی 
حیدرآباد

۔ 
۷۳
رزاق اثر شاہ آبادی 
شاہ آباد

۔ 
۷۴
منظور الامین 
حیدرآباد

۔ 
۷۵
حامد لطیف حامد


۔ 
۷۶
محمد اظہر حیات 
ناگپور

۔ 
۷۷
سید محمود حسینی 
حیدرآباد

۔ 
۷۸
جمیل صدیقی بدایونی 
بدایون

۔ 
۷۹
محمد برہان حسین 


۔ 
۸۰
ڈاکٹر راہی قریشی 
گلبرگہ

۔ 
۸۱
مسیح انجم


۔ 
۸۲
رشید الدین  
حیدرآباد 

۔ 
۸۳
محمد باقر 
ریاض، سعودی عرب

۔ 
۸۴
وحید اشرف 


۔ 
۸۵
سنجر ہلال بھارتی 


۔ 
۸۶
انیس صدیقی
حیدرآباد 

۔ 
۸۷
ڈاکٹر سید فضل اللہ مکرم 
جگتیال اے پی

۔ 
۸۸
محمد عظیم الدین  
گلبرگہ

۔ 
۸۹
منظور عثمانی
دہلی

۔ 
۹۰
محمد عمران اعظمی


۔ 
۹۱
اسد رضا
دہلی
۲ جنوری ۱۹۵۲ء 
۔ 
۹۲
نسیمہ تراب الحسن
حیدرآباد

۔ 
۹۳
سکندر حمید عرفان 
کھنڈوہ، مدھیہ پردیش

۔ 
۹۴
ڈاکٹر شاہدہ صدیقی 
سونے بھادرا، اتر پردیش 

۔ 
۹۵
طالب زیدی 
میرٹھ، اتر پردیش 

۔ 
۹۶
انجم عثمانی 
دہلی
۱۹۵۲ء
۔ 
۹۷
پروفیسر مقبول فاروقی 
حیدر آباد

۔ 
۹۸
واجد ندیم
حیدرآباد۔ حالِ مقیم۔ شگاگو، امریکہ

۔ 
۹۹
رؤف خوشتر


۔ 
۱۰۰
سلیم مقصود
حیدرآباد۔ حالِ مقیم: جدہ

۔ 
۱۰۱
سید نصرت 
حیدرآباد۔ حالِ مقیم۔ ابو ظبی

۔ 
۱۰۲
شاہین نظر
گیا، بہار

۔ 
۱۰۳
نعیم جاوید
حیدرآباد

۔ 
۱۰۴
ڈاکٹر مرزا کلیم اللہ بیگ


۔ 
۱۰۵
ہاجرہ بانو  
اورنگ آباد، مہاراشٹرا
۲۰ جون
۔ 
٭٭٭




۱۔ شوکت تھانوی

	شوکت تھانوی ۲/ فروری ۱۹۰۴ء کو بند ابن ضلع متھرا میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے بحیثیت طنز و مزاح اپنی ادبی خدمات کا آغاز کیا۔ ان کے انشائیوں نے بہت مقبولیت پائی۔ شوکت تھانوی نے تقریباً ۶۰ سے زائد کتابیں تصنیف کیں۔ سودیشی ریل، موج تبسم، امید بتبسم، شیشی محل، قاضی جی وغیرہ ان کے بہترین مضامین اور انشائیے ہیں۔ ان کا انتقال ۴/ مئی ۱۹۶۷ء کو لاہور پاکستان میں ہوا۔ 
	شوکت تھانوی کو انشائیہ نگار کے طور پر کم اور مزاح نگار کے طور پر زیادہ جانا پہچانا جاتا ہے۔ ان کے قلم میں بلا کی روانی تھی۔ روزمرہ کی باتوں اور آئے دن کے پیش آنے والے واقعات کو اس طرح بیان کرتے تھے کہ پڑھنے والا لوٹ پوٹ ہو جاتا تھا۔ اپنے واقعات میں ایسے دلچسپ نکتے پیدا کرتے تھے کہ بے اختیار لبوں پر ہنسی آ جاتی۔ ظرافت کے ساتھ شوخی کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھتے تھے۔ ان کی تحریروں کی سب سے بڑی خاصیت یہ تھی کہ اتنی مزاح و ظرافت کے باوجود کبھی کوئی ایسی بات یا فقرہ نہیں کہتے تھے کہ جس سے تہذیبی بد اخلاقی نظر آئے۔ شوکت تھانوی کا شمار ان لکھنے والوں میں ہوتا ہے جن کو فطری طور پر مزاح نگاری کی حس ملی ہو۔ ان کے پلاٹ پیچیدہ نہیں ہوتے تھے۔ روزمرہ کی زندگی کی معمولی باتوں پر تنقید کرتے تھے۔ موجودہ حالات اور رسم و رواج پر تبصرہ کرتے تھے۔ ان کے انداز بیان کی دلکشی کی مدار ان کی بے ساختگی اور سادہ لوحی ہے۔ وہ ایسی تصویریں پیش کرتے ہیں کہ سنجیدگی سے پڑھنے والوں کے لب پر بھی تبسم آ جاتا ہے۔ 
	مندرجہ ذیل اقتباس میں ان کی شگفتگیِ تحریر کا نمونہ دیکھئے جو ان کے انشائیہ ’’بابو‘‘ سے لیا گیا ہے۔ 
	’’بابو ہندوستان کی اس مخلوق کو کہتے ہیں جو دفاتر میں فائلوں کی چہار دیواری کے درمیان ناک کی پھنگی پر عینک لگائے ہوئے کاغذ سیاہ کرتی نظر آئے اور اس کے متعلق دیکھنے والے کو نہایت آسانی کے ساتھ اندازہ ہوسکے کہ سائنس داں نے اپنے کمال سے ٹائپ کی طرح خط شکست لکھنے کی یہ انسانی صورت والی مشین ایجاد کی ہے جو پان بھی کھاتی ہے اور عینک بھی لگاتی ہے۔ کبھی کبھی بات بھی کرتی ہے اور اکثر گھورتی بھی ہے۔ 
	عام انسانوں کی طرح بابو کی زندگی میں مختلف قسم کے مد و جزر بہت کم ہوتے ہیں۔ اس کی دنیا کے صرف دو کرے ہوتے ہیں۔ گھر اور دفتر، دفتر اور گھر، اور یہ دونوں کرے ایک دوسرے کے لازم اور ملزوم بھی بن کر رہ جاتے ہیں یعنی بابو کا گھر دفتر کے سہارے قائم رہتا ہے اور دفتر گھر کی وجہ سے ہوتا ہے۔ اگر بابو کو گھر کی فکر نہ ہوتی تو دفتر کی ہرگز پروا نہ کرے اور اگر دفتر نہ ہو تو گھر کا خدا ہی حافظ ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘
	۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ دفتر سے واپسی پر بابو جی کا حلیہ دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ بغل میں اور چھتری سر پر کسی بے ڈھنگے زاویہ سے رکھی ہوئی ٹوپی، ہاتھ میں رومال، باچھوں سے بہتا ہوا پان اور چہرہ پر دن بھر کی خستگی کے تمام نقوش نمایاں۔ مگر دماغ پر زور دے دے کر یہی سوچتے جاتے ہیں کہ ببوائن نے دو پیسہ کے چقندروں اور ایک پیسہ کے پانوں کے علاوہ اور کیا کہا تھا کہ لیتے آنا۔ اس لیے کہ خیال یہ بھی ہے کہ اگر وہ چیز یاد نہ آئی تو گھر پہنچ کر پھر بازار آنا پڑے گا۔ مختصر یہ کہ شام کے قریب بابو جی لدے پھندے گھر پہنچتے اور گھر پہنچ کر پھر گھریلو افکار میں مبتلا ہو جاتے ہیں کہ اب کی ہرگز مکان دار کو کرایہ اس وقت تک نہیں دوں گا جب تک کہ چھت نہ بنوا دے۔ تمام چھت ٹپکتی ہے اور اگر اس نے واقعی چھت بنوا دی تو کیا کرایہ دینا ہی پڑے گا؟ حالانکہ اگر اس مہینہ کرایہ نہ لیتا تو اچھا تھا اس لیے کہ جوتا بالکل پھٹ گیا ہے اور ببوائن اپنے بھائی کے لڑکے کے مونڈن میں بھی جانا چاہتی ہے، اس کا خرچ الگ ہے لہٰذا ان تمام باتوں پر ایک ناریل پی کر غور کرنا چاہیے اور اگر کچھ سمجھ میں نہ آئے تو روٹی کھا کر سورہنا چاہیے۔

۲۔ کنہیا لال کپور

	کنہیا لال کپور ۲۷ جون ۱۹۱۰ء بمقام چک ضلع لائل پور پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم اپنے آبائی گاؤں میں ہی حاصل کی۔ ۱۹۳۴ء میں گورنمنٹ کالج لاہور سے ایم۔ اے۔ کی ڈگری حاصل کی۔ گورنمنٹ کالج لاہور میں ایم۔ اے کے دوران انہیں سید احمد شاہ بخاری پطرس کے شاگرد ہونے کی سعادت حاصل ہوئی۔ تعلیم کی تکمیل کے بعد درس و تدریس کو بطور پیشہ اپنایا اور لکچرر کے عہدے سے ملازمت شروع کی۔ موگا گورنمنٹ کالج کے پرنسپل کی حیثیت سے وظیفے سے سبکدوش ہوئے۔ کنہیا لال کپور نے ۱۹۳۶ء سے لکھنا شروع کیا یہ وہ زمانہ تھا جب کہ اردو میں ترقی پسند تحریک اور اس کے متوازی حلقۂ ارباب ذوق کی سرگرمیاں عام ہوتی جا رہی تھیں۔ اپنے حلقۂ احباب میں ترقی پسندوں اور اربابِ ذوق کے ارکان کے باوجود کپور نہ تو ترقی پسند تحریک سے وابستہ رہے اور نہ حلقۂ ارباب ذوق سے۔ وہ ترقی پسندوں کے ساتھ بھی رہے اور انہوں نے حلقہ ارباب ذوق کے جلسوں میں اپنے مضامین بھی پڑھے اور پھر ہر دو کے ادبی کارناموں اور موقف کو اپنے طنز کا نشانہ بھی بنایا۔ کنہیا لال کپور کی دوربین نگاہیں زندگی کے ہر مخصوص شعبے پڑتی ہیں۔ سیاسی، معاشرتی، علمی، ادبی خرابیوں کو نہایت حسین اور مزاحیہ انداز میں منظر عام پر لاتے ہیں۔ ان کی تحریر کے تخیل میں فلسفیانہ گہرائی نہیں پائی جاتی۔ وہ کسی جماعت کے نظریہ سے متاثر ہو کر نہیں لکھتے بلکہ ہر بات اور ہر مسئلہ کو اپنے طور پر سمجھتے ہیں اور سماج یا فرد کی خرابیوں کو بے لوث ہو کر پیش کر دیتے ہیں۔ سماج کے کئی کرداروں کی حماقتوں کو بڑی سنجیدگی سے متعارف کراتے ہیں۔ باوجود متانت کے واقعات اور حالات کچھ ایسے سلیقہ سے سامنے لاتے ہیں کہ پڑھنے والا زیر لب مسکراہٹ پر مجبور ہو جاتا ہے۔ وہ اپنی تحریر میں خود ہنستے ہوئے نظر نہیں آتے بلکہ دوسروں کی کمزوریوں کا ماتم کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ لیکن اسلوب بیان کی شوخی اور بے باکی فضا میں ایسی لہر دوڑاتی ہے جو قاری کو بار بار گدگداتی اور چھیڑتی ہوئی چلی جاتی ہے۔ ان کی وسیع النظری نے ان کی تحریروں میں تنوع پیدا کر دیا ہے۔ معمولی باتوں میں بھی وہ نکات پیدا کرنے کی کامیاب کوشش کرتے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ اس میں وہ گہرائی لانے میں کامیاب نہیں ہوئے ہیں۔ مگر دل آویزی سے یہ مقامات خالی نہیں ہیں۔ روزمرہ کی باتوں کو پیش کر کے اصلاحی نقطہ نظر پیدا کرتے ہیں۔ 
	کنہیا لال کپور کی زبان ٹکسالی اردو کا نمونہ ہے۔ ادبیت ان کی تحریر کی اول خاصیت ہے۔ جملوں میں جامعیت اور روانی جہاں کہیں ہم آہنگ ہو گئی ہے مقام ادب کا بہترین حصہ بن گیا ہے۔ ان کی تحریروں میں ذہنی کشمکش نہیں ہے۔ اس لیے صاف تحریریں نظر آتی ہیں اور مفہوم سمجھنے میں کوئی دقت نہیں ہوتی وہ اپنا مقصد واضح کرنے کے لیے تشبیہ اور استعارے کا سہارا نہیں تلاش کرتے بلکہ جو کچھ بھی کہنا ہوتا ہے صاف اور برجستہ کہہ جاتے ہیں۔ روزمرہ کی باتوں کو نمایاں کر کے ہمارے سامنے پیش کرتے ہیں جنہیں ہم معمولی سمجھ کر نظر انداز کر جاتے ہیں۔ ’’سنگ وحشت‘‘، ’’چنگ و رباب‘‘، ’’نوکر نشتر‘‘ اور ’’شیشہ و تیشہ‘‘ ان کے چار مجموعے ہیں۔ 
	کنہیا لال کپور کی تحریروں کے خد و خال صنف انشائیہ سے بہت قریب معلوم ہوتے ہیں۔ ان کے پاس مزاح زیادہ اور طنز کم ملتا ہے۔ بقول وزیر آغا:
	’’کنہیا لال کپور طنز کے ایک بہترین سرجن اور عمل جراحی کے ماہر ہیں۔ ‘‘
	یہ قول سو فیصدی صحیح لگتا ہے کیونکہ کپور جو زندگی کی ناہمواریوں اور سماج کے غیر ضروری جوش کو محسوس کرتے ہیں یا دیکھتے ہیں ان پر اپنے نشتر اتنے آہستہ چلاتے ہیں کہ زخم کا فاسد مادہ نکل کر قاری اور معاشرہ کو صحتمند کر دیتا ہے۔ ان کے پاس اس عمل کے لیے ایک فطری نفاست موجود ہے۔ ان کی ان جاندار تحریروں میں وہ ایڈیسن کے برابر دکھائی دیتے ہیں۔ اگر ان کی تحریروں سے طنز و مزاح کو نکال دیا جائے تو ان کے مضامین بہترین انشائیہ کہلانے کے مستحق ہوسکتے ہیں کیونکہ ان کی لطیف گفتگو میں علمی اور فکری مسئلوں کا بوجھل پہاڑ موجود نہیں ہے۔ روزمرہ کی انسانی زندگی کے موضوعات پر وہ بے ساختگی اور شگفتگی کے ساتھ بہترین انداز میں بڑے بڑے راز کا پردہ فاش کرتے چلے جاتے ہیں۔ جیسے مثلاً ’’چائے بنانا‘‘ اور ’’فلسفۂ قناعت‘‘ ان کے ان دونوں مضامین میں اس بات کی جھلک بخوبی نظر آتی ہے۔ بعض نقادوں نے ان کے مضامین میں پختگی کا فقدان بتایا ہے۔ 
	کپور کی علمی خدمات کا اعتراف ابن اسماعیل نے بھی کیا ہے۔ 
	’’کپور کے فن کا بھرپور جائزہ لیا جائے تو معلوم ہو گا کہ کپور بنیادی طور پر ایک تحریف نگار تھے۔ انہوں نے نظم و نثر دونوں میں ’’تحریف‘‘ کو اپنے صحیح اور مکمل ڈھانچے کے ساتھ برتا اور اردو ادب میں تحریف نگاری کو روشن اور صحتمند سمت بخشی۔ ‘‘
	عورت کی عظمت کا اقرار ہر کوئی کرتا ہے لیکن د ل سے اس کی عظمت کو تسلیم نہیں کرتا۔ ہر عورت کو عزت دینا ہر ایک کے بس کی بات نہیں۔ ہزار بار اگر وہ عورت کی آزادی پر تقریریں جھاڑ لے لیکن گھر آ کر اپنی بیوی، بیٹی اور بہو کی روشن خیالی کو چھوٹے دیدوں سے ہی دیکھتا ہے۔ عورت کی اس کی مجبوری میں اٹھائے گئے کسی بھی اقدامات کو صرف ایک آنکھ سے دیکھتا ہے۔ اپنی دوسری آنکھ کھولنے کی زحمت نہیں کرتا۔ ان سب باتوں سے پرے کنہیا لال کپور عورت کی عظمت اور بزرگی کو دل کی گہرائیوں سے تسلیم کرتے نظر آتے ہیں۔ ان کی وسیع النظری کی ایک مثال ان کے انشائیے ’’اپنے وطن میں سب کچھ ہے پیارے‘‘ میں ملاحظہ کیجیے:
	’’اپنے وطن میں ہر اکیلی نوجوان لڑکی شک کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہے۔ اگر وہ اکیلی سیر کو جا رہی ہے تو شکار پھانسنے کے لیے جا رہی ہے۔ اگر وہ اکیلی سفر کر رہی ہے تو ضرور حسن فروش ہے۔ اگر وہ تن تنہا سکونت پذیر ہے تو ہم اس پر گھناؤنے سے گھناؤنا الزام لگانے میں حق بجانب ہیں۔ اگر وہ کسی ایسے آدمی سے بات چیت کر رہی ہے جو اس کا باپ یا بھائی نہیں تو ضرور اس سے اظہار محبت کر رہی ہے۔ اگر وہ شادی نہیں کرنا چاہتی ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ رنگین مزاج ہے۔ اگر وہ اندھیرے میں کہیں جا رہی ہے تو ضرور اپنے عاشق کے گھر جا رہی ہے اور اگر وہ تاریکی میں کہیں سے آ رہی ہے تو اپنے آشنا کے گھر سے آ رہی ہے۔ چونکہ اپنے وطن میں سوائے طوائف کے ہر ایک عورت غلام ہے اس لیے ہر آزاد خیال عورت پر ہمیں طوائف کا شبہ ہوتا ہے۔ ‘‘
	سکے کے دو رخ دکھاتے ہوئے کھوکھلے مذہبی نیتاؤں پر کپور صاحب کی اس کراری چوٹ کو ملاحظہ فرمائیے:
	’’ہمارے مذہبی جنون اور جہالت کی یہ حالت ہے کہ ہم جاہل سے جاہل مولویوں اور پنڈتوں کے ہاتھوں میں کٹھ پتلی بننے کو تیار ہیں وہ جس طرح ہمیں نچاتے ہیں ہم ناچتے ہیں۔ نہ صرف ناچتے ہیں بلکہ ان کے اشاروں پر ناچنے میں فخر محسوس کرتے ہیں۔ کیونکہ مسجد کے سامنے ہندوؤں نے باجا بجایا ہے اس لیے وہ برے ہیں حالانکہ ابھی ابھی انگریزی پلٹن کا بینڈ قیامت برپا کرتا ہوا مسجد کے سامنے سے گزرا تھا ابھی جس وقت مولوی صاحب نہایت انہماک کے ساتھ نماز ادا کر رہے تھے۔ کیونکہ اس مسلمان نے گائے ذبح کی ہے اس لیے اس کی گردن اڑا دو حالانکہ ہر روز انگریزی چھاؤنیوں میں فوجیوں کے لیے ہزاروں گائیں ذبح کی جاتی ہیں۔ اپنے وطن میں مذہبی پیشوا ہمیشہ مزے میں اور مذہب ہمیشہ خطرے میں ہوتا ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘



۳۔ کرشن چندر

	کرشن چندر ۲۳ نومبر ۱۹۱۴ کو لاہور پاکستان میں پیدا ہوئے۔ پونچھ (جموں کشمیر) میں وقت گزرا۔ ان کے والد مہاراجہ پونچھ کے فیملی ڈاکٹر تھے۔ ۱۹۳۰ء میں فورمین کرسچن کالج (Forman Christian College) میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ وہیں سے لکھنے کی شروعات کی جس میں ’’تقسیم کا درد‘‘ شامل تھا۔ صنف افسانہ نگاری میں انہوں نے اپنا نام روشن کیا۔ انگلش اور ہندی زبان میں بھی اپنی تحریر کے جوہر دکھائے۔ کرشن چندر نے بیس سے زائد ناول لکھے، تیس مختصر افسانے اور کئی ریڈیائی ڈرامے لکھے۔ کئی مشہور فلموں کی اسکرپٹ میں اپنے جوہر دکھانے کے بعد ان فلموں کو ہٹ کرانے کے سہرا بھی ان کی تحریر کے سر جاتا ہے۔ ’’ایک گدھے کی سرگزشت‘‘ تو اتنی مشہور ہوئی کہ اٹھا رہ ہندوستانی زبانوں میں اس کا ترجمہ کیا گیا اور کئی بین الاقوامی زبانوں میں بھی یہ کتاب منظر عام پر رہی۔ ان داتا، دھرتی کے لال، ان کی کہانیوں پر مبنی فلمیں تھیں جنہیں چیتن آنند نے ۱۹۴۸ء میں ڈائرکٹ کیا تھا۔ ۱۹۷۰ء کی ہٹ فلم ’’شرافت‘‘ بھی انہیں کی تھی۔ اپنی تحریر کی دیوانگی کا یہ عالم تھا کہ دن رات اسی میں غرق رہتے تھے۔ دوران تحریر ہی ان کا انتقال میز پر ہو گیا۔ اس وقت وہ ’’ادب برائے بطخ‘‘ لکھ رہے تھے جس کی پہلی سطر کچھ اس طرح سے تھی کہ ’’نورانی کو بچپن ہی سے پالتو جانوروں کا شوق تھا۔ کبوتر، بندر، رنگ برنگی چڑیاں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘ لیکن اس سطر کے ختم ہونے سے پہلے ہی قلبی دورے سے ان کا انتقال ہو گیا۔ وہ منحوس تاریخ ۸ مارچ ۱۹۷۷ء کی تھی۔ اور مقام ممبئی تھا۔ ان کی تحریر کا نمونہ اس انشائیے میں ملاحظہ کیجیے۔ 
	’’۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ رونا کیوں اس قدر ناپسندیدہ فعل سمجھا جاتا ہے؟ آخر اس کی کیا وجہ ہے کہ ہر شریف انسان اسے برا سمجھتا ہے اور بزدلی کی نشانی۔ درآنحالیکہ رونا ایک فطری عمل ہے بلکہ انسان کا سب سے پہلا فطری فعل اور اکثر حالتوں میں سب سے آخری بھی۔ گانا بیشک ایک اچھی چیز ہے لیکن رونا اس سے ہزار درجہ بہتر۔ بچپن میں ہم گاتے کم تھے اور روتے بہت۔ بچپن میں جب ہم روتے تھے تو اکثر بار بار پچکارنے پر بھی چپ نہ ہوتے تھے بلکہ کئی لوگ پچکارتے بھی نہ تھے۔ وہ کہتے تھے اچھا ہے خوب روؤ۔ رونا بچوں کے لیے مفید ہے لیکن اب عجیب حالت ہے۔ اگر کوئی شخص جذبات سے مغلوب ہو کر آب دیدہ ہو جائے تو لوگ اسے بزدل، زنانہ مزاج، پست ہمت کہہ دیتے ہیں۔ اگر کسی بیچارے کی آنکھوں سے دو چار آنسو ٹپک پڑیں یا ایک آدھ ہلکی سی چیخ بھی منہ سے نکل پڑے تو اسے ہیجڑا کہہ دینے میں کوئی تامل نہیں ہوتا! آخر بات کیا ہے۔ ایک چیز جو بچوں کے لیے مفید ہے، ان آدمیوں کے لیے جو اب بچے نہیں ہیں کیسے مضر ثابت ہوسکتی ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘


۴۔ فکر تونسوی

	فکر تونسوی۹ اکتوبر ۱۹۱۸ء کو تونسہ مغربی پنجاب میں پیدا ہوئے۔ ان کی شخصیت تحریر سے بہت مناسبت رکھتی تھی۔ معمولی سے معمولی بات اور بڑے سے بڑے مسئلہ کو چٹکیوں میں بیان کرنے کا ہنر رکھتے تھے۔ ان کے اندر کا فنکار بہت بڑی کائنات کا مالک تھا۔ وہ ایک ادیب، شاعر، سوانح نگار، مزاح نگار، انشائیہ نگار اور بہترین خاکہ نگار تھے۔ انہوں نے کئی ناول، ڈائری اور کئی سفرنامے بھی لکھے۔ ان کی تحریر میں شگفتگی اور گہرائی غضب کی تھی۔ قاری ان کی تحریروں میں ڈوب کر ان کی شخصیت میں ایک ہمدرد دوست تلاش کرتا تھا۔ ایک اچھے صحافی اور انشائیہ نگار کی یہی شناخت ہوتی ہے۔ 
	فکر تونسوی کی تصانیف میں ہیولے (نظمیں )، چھٹا دریا (ڈائری)، ساتواں شاستر (طنزیہ)، خد و خال (ادیبوں کے خاکے)، ماوسی تنگ (سوانح)، بیس ہزار چراغ (سفر نامہ)، پنجاب کو سلام (ناول) تیر نیم کش (طنزیہ) پیاز کے چھلکے (انشائیہ اور طنزیہ) قابل ذکر ہیں۔ 
	مندرجہ ذیل انشائیہ ’’ایک جیب کترے کی شکایت‘‘ سے ان کی طنزیہ شگفتگی تحریر عیاں ہوتی ہے۔ 
	’’۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جب میں تمہاری جیب کاٹ کر خون کے آنسو رو رہا ہوں تو ستیش چندر کو بھی تمہاری وساطت سے نوکری کیوں ملے۔ کیونکہ تم دھوکے باز ہو اپنے بٹوے کی طرح تم سے کسی کو فیض نہیں پہنچ سکتا۔ نہ مجھے پہنچا نہ ستیش چندر کو پہنچے گا۔ اب ستیش چندر سے کہنا ’’بے وقوف! اس سوشلزم کے چکر سے نکلو۔ دفتر روزگار سے امیدیں مت باندھو۔ بلکہ جیب کترے بن جاؤ۔ لیکن احتیاط کرنا کہ جیب کاٹتے وقت یہ ضرور پوچھ لینا کہ تمہارا نام فکر تونسوی تو نہیں ہے۔ 
	جب تم لڑکی کا اور میں تمہارا پیچھا کر رہا تھا تو میرا خیال تھا کہ تم خوش پوش ہو۔ ٹیرا لین کی پتلون اور قمیص پہنے ہو۔ چپل پر کریم پالش بھی کیے ہوئے ہو تو تمہارے بٹوے میں ضرور کوئی مال ہو گا۔ اور پھر آج کل جیب میں کرنسی نوٹ نہ ہوں تو کوئی لڑکی کا پیچھا نہیں کرتا کیونکہ میں گریجویٹ ہوں۔ جانتا ہوں کہ آج کل عشق بھی منڈی کی ایک جنس بن گئی ہے۔ کریلے خرید لو۔ عشق خرید لو۔ آج کل کا عشق دل سے نہیں کیا جاتا۔ کرنسی نوٹ سے کیا جاتا ہے۔ 
	لیکن آہ۔ میری تھیوری غلط نکلی۔ تم تو عاشق نہیں صرف رائٹر نکلے۔ نجانے کیا بات ہے کہ آج کل ساری تھیوریاں غلط ہو رہی ہیں۔ خوش لباس انسانوں نے اندر سے پھوکٹ پرزے نکل رہے ہیں۔ عاشقوں کے اندر سے غزل کا ایک آدھ بے وزن شعر نکل آتا ہے۔ تمہاری ڈائری بھی تو اسی طرح ایک وزن شعر ہی تھی۔ میں کہتا ہوں۔ اندر سے بھکاری ہو تو باہر لباس سے بھی بھکاری کیوں نہیں بن جاتے۔ تاہم ہم جیب کترے دھوکا نہ کھائیں۔ اگر ہم شرفاء کی جیبیں نہ کاٹیں تو پھر کہاں سے کھائیں۔ آج کل کا رواج تو یہی ہے کہ شرفاء کماتے ہیں۔ جیب کترے کھاتے ہیں۔ اس لیے اگر تم اپنے آپ کو شرفاء میں شمار کرنا چاہتے ہو تو جیب میں ضرور کچھ نہ کچھ رکھا کرو۔ ورنہ میں سمجھوں گا کہ تم بھی شرفاء کے بھیس میں جیب کترے ہو۔ 
	میں نے جب تمہارا بٹوا ٹٹولا۔ ہائے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کن کن تمناؤں سے کانپتے ہاتھوں کے ساتھ تمہارا بٹوا کھولا تھا۔ لیکن جب اس میں سے کرنسی نوٹوں کی بجائے کھوٹے سکے یعنی ٹیلی فون نمبر نکلے تو مجھے جتنی فحش گالیاں یاد تھیں تمہاری خدمت میں عرض کر دیں۔ گالیاں ختم ہو گئیں مگر غصہ ختم نہیں ہوا تو میں نے تمہاری ہی ڈائری میں سے لے کر ایک ممبر پارلیمنٹ کو فون کیا اور کہا:
	’’یو شٹ اپ۔ مسٹر ایم پی!‘‘
	وہ بولا۔ ’’اس ذرہ نوازی کی وجہ؟‘‘
	میں نے کہا ’’کیوں کہ تم فکر تونسوی کے دوست ہو۔ کیا تم اسے اتنی بھی شرم نہیں دلا سکتے کہ جیب میں کرنسی نوٹ ضرور رکھا کرے۔ دیکھتے نہیں مہنگائی اتنی ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘

۵۔ جاوید وششٹ

	جاوید وششٹ ۱۹۲۰ء ایک مشہور انشائیہ نگار ہیں۔ وہ ہار میں موتی پرونے کے مترادف اپنے انشائیہ میں الفاظ کو منتخب کرنے کا ہنر جانتے ہیں۔ مندرجہ ذیل انشائیہ ان کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ 
	’’۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جب لوگوں نے خانقاہ کے روزن در سے جھانک کر دیکھا کہ صوفی ایک ’’فتنہ خانقاہ‘‘ کے ساتھ جسے دیکھ کر ’’اک شیخ کے تو ہاتھ سے تسبیح گر گئی‘ خلوت میں محو اختلاط ہے تو صوفی رسوا ہو گیا اور خانقاہ بدنام۔ 
	جب محبت پر پہرے لگ جاتے ہیں تو روزن در کا استعمال کچھ اور بڑھ جاتا ہے۔ 
	روزن در سے رقیب نے جھانکا تو دیا بجھا کر روزن در کو اندھا کر دیا گیا مگر دیوار کے کان تو بہرے نہیں تھے۔ آخر رقیب نے پازیب کے گھنگھرو کی جھنکار سن ہی لی۔ اب تو اس کا کلیجہ منہ کو آنے لگا اور لگا انگاروں پر لوٹنے اور آخر وہ جل بھن کر کباب ہو گیا۔ 
جل گیا رشک کے مارے پس دیوار رقیب
وصل میں جب ترے پازیب کا گھنگھرو چھنکا
	محتسب نے ایک زمانے میں روزن در سے جھانک جھانک کر رندوں کو بڑا پریشان کیا تھا۔ رند بے چارے رنگے ہاتھوں پکڑے جاتے تو کچھ دے دلا کر محتسب کا منہ جھلس دیتے تھے لیکن کبھی کبھی ایسا ہوتا تھا محتسب ان کے شیشہ دل کو توڑ کر چور چور کر دیتا تھا تو وہ بھی بگڑ بیٹھتے تھے اور اکڑ کر کہتے تھے کہ:
ہم نے اللہ کے کہنے سے تو چھوڑی نہ شراب
محتسب ہوش کی لے، تیری حقیقت کیا ہے


۶۔ مہیشور دیال

	مہیشور دیال کا نام اردو ادب کے افق پر زیادہ تو نہیں چمکا۔ لیکن جتنا بھی ہے وہ آسمان میں آفتاب کا درجہ رکھتا ہے۔ مندرجہ ذیل انشائیہ ان کی بہترین اردو تحریر کا نمونہ ہے۔ 
	’’۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جنم اشٹمی کرشن کنہیا کے جنم دن کا تہوار ہے اور اس وقت بھی بڑی دھوم دھام سے منایا جاتا تھا۔ اس روز ہندوؤں کے بازار اور دکانیں کھلی رہتی تھیں مگر حلوائیوں کی دکانیں کھلی رہتی تھیں۔ برلا مندر تو نئی دلی کے ساتھ بہت بعد میں بنا ہے مگر پرانی دلی کے سب ہی چھوٹے بڑے مندر اس موقع پر خوب ہی سجائے جاتے تھے اور عمدہ عمدہ جھانکیاں بنائی جاتی تھیں جن میں کرشن جی کے بچپن کے مختلف منظر پیش کیے جاتے تھے۔ چاندنی چوک میں گوری شنکر کا مندر بہت سجتا تھا۔ دلی میں ان دنوں ہر گلی کوچے میں کوئی نہ کوئی چھوٹا بڑا مندر ہوتا تھا اور یہ مندر ایک سے ایک بڑھ کر سجائے جاتے تھے۔ جاس سجاوٹ میں بستی اور محلے کے سب لڑکے بالے اور بڑے بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے اور سجاوٹ کی یہ تیاریاں ہفتوں پہلے شروع ہو جاتی تھیں۔ اس کے علاوہ جنم اشٹمی کے موقع پر لوگ اپنے اپنے گھروں میں بھی ایک چھوٹا سا مندر بنا لیتے اور لڑکے اپنی الگ سجاوٹ کر کے گھر کے اندر یا باہر اپنا مندر بنا لیتے۔ لڑکوں کو بھی یہ لالچ ہوتا کہ جب گلی محلے کے لوگ دیکھنے آئیں گے تو ان کے مندر میں بھی ایک ایک دو دو پیسے چڑھائیں گے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 
	۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہفت تماشا کے مصنف کے مطابق بعضے مسلمان بھی جنم اشٹمی کے دن کنس کا مجسمہ بنا کر اس کے پیٹ کو چاک کرتے تھے۔ اس میں شہد پہلے سے بھر دیتے تھے اور اسے اس کا خون سمجھ کر پیتے تھے۔ بہت سے مسلمان چلتی پھرتی جھانکیوں کو بھی بازاروں اور سڑکوں پر دیکھتے تھے اور کرشن جی اور رادھا کا بڑے احترام سے ذکر کرتے تھے۔ 

۷۔ سید ضمیر حسن دہلوی

	سید ضمیر حسن دہلوی کی زبان سادہ اور خوبصورت ہے۔ اسی لیے وہ اپنی بات نہایت آسانی سے کہہ جاتے ہیں۔ مندرجہ ذیل انشائیہ اسکی خوبصورت مثال ہے۔ ملاحظہ کیجیے۔ 
	’’۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پیدا ہوتے ہی ہمیں جو شہد چٹایا گیا وہ خالص چینی او ر سکرین کا مرکب تھا۔ بس اسی وقت سے ہماری غذا میں ملاوٹ کا رواج ہو گیا آج ہماری عمر بائیس سال کی ہے اور خدا جھوٹ نہ بلوائے تو منوں دودھ پیا ہو گا، منوں گھی کھایا ہو گا۔ البتہ جس اصلی گھی اور دودھ کی باتیں بزرگ لوگ چٹخارے لے لے کر سناتے ہیں اس سے نہ ہم آشنا نہ ہماری زبان ہمیشہ گریس کا بنا سو فی صدی خالص گھی کھایا اور مشین سے بنا تازہ دودھ پیا۔ اس پر بھی خدا کا لاکھ لاکھ شکر ادا کیا۔ جب بھوک لگتی ہے ہم روٹی کھاتے ہیں۔ یہ روٹی کہاں سے آئی، امریکہ نے بھجوائی۔ یقین کیجیے جس وقت یہ خیال آتا ہے حلق میں نوالہ پھنسنے لگتا ہے۔ ہماری غیرت و حمیت خود داری سب کچھ سفید گیہوں کی خشک روٹی میں الجھ کر رہ جاتی ہے جسے ہم پانی کے ایک گلاس سے بہ مشکل نگل پاتے ہیں۔ ہماری سیر تفریح کیا ہے ایک قسم کا فریب ہے جو ہم کھاتے آئے ہیں اور مسلسل کھاتے رہیں گے۔ نہ کوئی میلا ٹھیلا نہ رنگین اور پر لطف محفلیں، نہ چاندنی رات میں شغل ناؤ نوش۔ ایک لے دے کر سینما ہے جہاں دو گھڑی بیٹھ کر ہم اپنے مردہ قلب پر زندگی کے چھینٹے دے لیتے ہیں، سالہا سال کی دہرائی ہوائی کہانیاں پھر دہراتے ہیں اور کسی حسین تصور کے ساتھ تیرہ و تاریک ہال سے نکل کر زندگی کی ظلمت اور تیرگی میں تیرنے لگتے ہیں۔ ہمارا حلیہ دیکھئے۔ آپ خود کہہ دیں گے کہ ہم پر ضرور کچھ بپتا پڑی ہے۔ ‘‘۱
۔۔۔۔۔۔۔
۱ ۔ بیچارے نوجوان۔ سید ضمیر حسن دہلوی۔ اردو انشائیہ۔ نصیر احمد خان۔

۸ ۔ یوسف ناظم

	یوسف ناظم ایک سچے مزاح نگار ہیں۔ ایک الگ ہی شان و بان کی حامل ان کی مزاحیہ تحریریں اردو ادب کا سرمایہ ہیں۔ ان کی تحریروں میں الگ ہی طرح کی لطافت اور پاکیزگی نظر آتی ہے۔ یوسف ناظم کی انفرادیت اس بات میں مضمر ہے کہ وہ خیالی اور واقعہ سے ہی نہیں بلکہ جملوں کی تراش خراش، اور جملوں کے باہمی تضاد سے مزاح پیدا کرنے میں بے نظیر ہیں۔ ان کا اسلوب اردو ادب میں قطعی نیا اور منفرد محسوس ہوتا ہے۔ ان کی تحریروں میں مزاح کا اچھوتا پن ان کے ہر مضمون کی ہر سطر کے ہر لفظ میں رگوں میں دوڑے خون کی طرح گردش کرتا نظر آتا ہے۔ ان کے الفاظ کی برجستگی، بے ساختگی اور رکھ رکھاؤ ان کے فن کی شناخت ہے۔ یہ اقتباس اس بات کی تصدیق کرے گا۔ 
	’’وجد صاحب ۱۹۱۲ء میں پیدا ہوئے۔ یہ واقعہ اتنا سخت تھا کہ دوسال کے اندر ہی جنگ چھڑ گئی۔ ‘‘۱
	الفاظ کی برجستگی کا ایک نمونہ اور ملاحظہ کیجیے:
	’’اچھا ادیب وہ ہوتا ہے جو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کر دے۔ دودھ وہ خود پی لے اور پانی پڑھنے والوں کی خدمت میں پیش کر دے۔ ‘‘۲
	ان کا مندرجہ ذیل انشائیہ ’’جنون لطیفہ‘‘ نہایت خوبصورت ہے۔ عام باتوں اور معمولی چیزوں سے مزاح پیدا کرنا اور بے اصولیوں پر طنز کرنا ان کی امتیازی خصوصیات ہیں۔ لطیفہ سنا کر ہنسانا اتنا مشکل نہیں جتنا خود لطیفہ گوئی پر مضمون لکھ کر ہنسانا۔ لیکن یوسف ناظم نے یہاں اس موضوع کو بہترین انشائیے میں تبدیل کر کے شگفتگی پیدا کر دی ہے۔ ملاحظہ کیجیے:
	’’اچھی خاصی جمی جمائی محفل کو اگر برخاست کروانا ہو یا کسی جلسے میں بھگدڑ مچانی ہو تو گھسے پٹے لطیفے سنانے کا نسخہ آزمانا چاہیے۔ گھسے پٹے لطیفے جن کو سن کر ہنسی نہیں رونا آتا ہے۔ اشک آور گیس کا کام کرتے ہیں۔ جیسے ہر شخص کو خطرہ ہو کہ اگر وہ سر پر پاؤں رکھ کر نہ بھاگا تو لطیفوں سے مفت میں مارا جائے گا! لطیفہ گوئی کا یہ پہلو بڑا خوفناک ہے!
	لطیفے کانچ کے سامان کی طرح ہوتے ہیں۔ یہ لحاف یا رضائی نہیں کہ سردیاں آئیں اور پرانے لحاف اور رضائیاں باہر نکل آئیں۔ یہ تو کراکری ہے جو ہمیشہ بدلنی پڑتی ہے۔ لطیفہ پرانا ہو کر تو نوحہ بن جاتا ہے۔ یوں ملا نصیر الدین کے لطیفوں کی بات الگ ہے۔ وہ لطیفے خود ان کی کاشت کیے ہوئے ہیں ورنہ لطیفے ہی ایسی چیز ہیں جو کسی کی ملکیت نہیں ہوتے۔ یہ پالی اور ہوا کی طرح ہوتے ہیں اور ان پر سب کا قبضہ ہوتا ہے۔ کوئی نہیں کہہ سکتا کہ یہ لطیفہ میرا ہے اور اسے کوئی نہ برتے یا جب بھی برتے پہلے اور آخر میں میرا نام لے جیسا کہ ریڈیو اسٹیشن سے گیت لکھنے والے کا نام نشر ہوتا ہے۔ لطیفے ان پابندیوں سے آزاد ہوتے ہیں۔ ہر شخص کو اختیار ہے کہ لطیفہ کہے اور دوسروں کو سنا کر سننے والے سے زیادہ خوش ہو۔ جملہ دو لطیفے یاد رکھے اور ہر محفل میں وہی لطیفے سنا کر خود قہقہہ لگائے اور اس بات کی قطعی پروا نہ کرے کہ آثار قدیمہ کی طرح کا لطیفہ سن کر دوسروں کی طبیعت خراب ہو جائے گی۔ 
	لطیفے نسوار کی طرح ہر شخص کو بانٹے بھی نہیں جا سکتے۔ کیونکہ یہ سونگھنے کی نہیں سمجھنے کی چیز ہوا کرتے ہیں۔ باس سونگھ کر تو ہر شخص چھینک سکتا ہے لیکن لطیفہ سن کر ہنسنا ہر شخص کے بس کی بات نہیں ہے۔ ‘‘۳
۔۔۔۔
۱۔کہنے جاتے تو ہیں پر یہ دیکھئے کیا کہتے ہیں۔ یوسف ناظم
۲۔آئینے میں۔ یوسف ناظم
۳۔جنون لطیفہ۔ یوسف ناظم

۹۔ مشتاق احمد یوسفی

	مشتاق احمد یوسفی ٹونک (راجستھان) میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد ریاست ٹونک کے پولیٹیکل سیکرٹری، جے پور میونسپلٹی کے چیئر مین، اسٹیٹ مسلم لیگ کے صدر اور اسمبلی میں حزب اختلاف کے لیڈر رہ چکے ہیں۔ مشتاق احمد یوسفی نے تیسری جماعت تک ٹونک میں تعلیم پائی۔ بعد ازاں جے پور، آگرہ اور علی گڑھ میں تعلیم کا سلسلہ جاری رہا۔ ۱۵/ جون ۱۹۴۶ء کو ان کی شادی ادریس فاطمہ سے ہوئی۔ علی گڑھ یونیورسٹی سے فلسفہ میں ایم۔ اے۔ کیا۔ ان کے والد نے اسمبلی میں پاکستان کی حمایت میں تقریر کی۔ جس کی وجہ سے انہیں ہندوستان چھوڑنا پڑا۔ ۳۱/ دسمبر ۱۹۴۹ء کو کراچی پہنچے۔ جنوری ۱۹۵۰ء میں دی مسلم کمرشیل بینک (The Muslim Commercial Bank)میں ملازم ہوئے۔ ۲۶ جون ۱۹۵۰ء کو ان کے والد کا انتقال ہو گیا۔ ۱۹۵۳ء میں وہ ترقی کر کے بینک کے چیف اکاؤنٹینٹ بنے۔ جنوری ۱۹۷۹ء میں وہ ایک بین الاقوامی مالیاتی ادارے میں  BCCI میں ملازم ہو کر لندن گئے اور گیا رہ سال بعد وطن واپس ہوئے۔ جب وہ اسکول میں تھے تو انہوں نے تب سے ہی مضامین لکھنا شروع کر دئیے تھے۔ مزاحیہ مضامین کا پہلا مجموعہ چراغ تلے ۱۹۶۱ء میں شائع ہوا۔ دوسرے مجموعے حاکم بہ دہن کی اشاعت ۱۹۶۹ء میں ہوئی۔ ۱۹۷۶ء میں ان کی تصنیف ’’زرگزشت ‘‘منظر عام پر آئی جو ایک طرح سے ان کی سوانح عمری ہے۔ اس کے چودہ برس بعد ان کی معرکۃ الآراء تصنیف ’’آب گم‘‘ شائع ہوئی۔ جس میں ناول کی تکنیک کو کام میں لایا گیا ہے۔ 
	ان کی تخلیقات کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ ان کا مطالعہ وسیع اور بہت گہرا ہے اور وہ وسیع النظر، وسیع القلب، بلند حوصلہ، باریک بین، شائستہ، ہمدرد، زندہ دل، خوش گفتار، شگفتہ بیان اور سبک مزاج واقع ہوئے ہیں۔ باتوں باتوں میں بڑے پتے کی بات یوں کہہ جاتے ہیں کہ پڑھنے والوں کو بعض وقت یہ پتہ ہی نہیں چلتا کہ اس میں ایسی اور کتنے پتے کی باتیں کہی گئی ہیں۔ یوسفی کو انسانی نفسیات کا گہرا مشاہدہ ہے۔ وہ انسانی نفسیات کو اس طرح واضح کرتے ہیں کہ انبساط کی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے اور پھر یہی انبساط اور مسکراہٹ قاری کو غور و فکر کی دعوت دیتے ہیں۔ حقائق کا پردہ فاش کرنے میں ان کے جملے کلیدی حصہ ادا کرتے ہیں۔ ان کی تحریر کا ہر جملہ بے مثل اور بے ساختہ ہوتا ہے وہ جملے بازی اور زبان و بیان کے بازی گر ہیں۔ ان کے جملوں میں جو معنویت ملتی ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ موقع و محل کی مناسبت سے موزوں بات کہہ جاتے ہیں۔ یوسفی کی تصانیف کے مطالعہ سے اس بات کی تصدیق ہو جاتی ہے کہ وہ نہ صرف تعلیم یافتہ ہیں بلکہ ان کی معلومات عامہ اور ادبیات کا مطالعہ وسیع ہے۔ فارسی، اردو اور انگریزی کا بڑی وسعت اور گہرائی کے ساتھ مطالعہ کیا ہے اس کے علاوہ قومی اور بین الاقوامی تاریخ اور سیاست پر بھی ان کی گہری نظر ہے ان کے مطالعہ کی یہ وسعت ان کی تحریر کا طرہ امتیاز ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جب تک قاری کا مطالعہ بھی گہرا اور وسیع نہ ہو یوسفی کی تحریر سے مکمل طور پر لطف اندوز نہیں ہوسکتا چونکہ وہ اپنی بات کی وضاحت کے لیے یا اس میں شدت پیدا کرنے کے لیے کسی نہ کسی شاعر، ادیب اور مفکر کا حوالہ یا قول اس برجستگی اور روانی سے دیتے ہیں کہ جب تک قاری بھی ان کا ہم رکاب نہ ہو وہ اس جملے کی معنویت کو بھی پا سکتا۔ ان کے صرف ایک جملے میں اتنی گہرائی اور گیرائی ہوتی ہے کہ وہ غزل کا شعر معلوم ہوتا ہے۔ 
	مشتاق احمد یوسفی نے جدید عہد کے اہم ظرافت نگار کی حیثیت سے اپنی پہچان بنائی۔ طنز و مزاح، شگفتگی و ظرافت ان کے اسلوب کی خصوصیت ہے۔ مقبول عام مصرعوں میں رد و بدل لفظی تحریف سے لطف پیدا کرنے میں انہیں ملکہ حاصل ہے۔ 
	اگر یہ کہا جائے کہ ایک فنکار ہے جس میں لفظوں کا فنکارانہ استعمال کرنے کی قدرت ہو، کرداروں کی نفسیات پر مضبوط گرفت ہو اور ژرف نگاہی اور حساسیت ہو تو وہ کوئی اور نہیں صرف اور صرف مشتاق احمد یوسفی ہی ہوں گے۔ بیسویں صدی کے نصف آخر میں جن ادیبوں نے اردو ادب کے افق پر خود کو تابندہ کیا وہیں مشتاق احمد یوسفی کا نام بھی سرفہرست ہے۔ انہوں نے طنز و مزاح کو نئے لب و لہجے اور معنویت سے روشناس کرایا۔ اپنی منفرد انداز تحریر سے اپنے فن میں امتیازی شان اور انفرادیت کے نقوش چھوڑ دئیے ہیں۔ ان کے طنز میں بلا کی تیزی اور گہری کاٹ ہے۔ ساتھ ہی مزاج کی شگفتگی اس پر مرہم کا کام بھی کرتی ہے۔ ان کی ایسی تحریریں ان کی فنکارانہ پختگی کا ثبوت دیتی ہیں۔ ان کی ایسی زندہ دل قاری کو تفریح طبع بناتی ہے لیکن ان سب کے ساتھ ساتھ تعمیر و اصلاح کا جذبہ بھی ابھارتی ہے۔ اسی لیے جہاں وہ مسکراہٹ بکھیرتے ہیں وہیں دوسری طرف ذہنوں کو لمحہ فکریہ بھی عطا کرتے ہیں۔ 
	مشتاق احمد یوسفی کا مغربی ماحول، ادب اور معاشرے کا مطالعہ و مشاہدہ کافی گہرا ہے۔ جس کے واضح اثرات ہمیں ان کی تحریروں میں جا بجا ملتے ہیں۔ لیکن اس میں بھی وہ انفرادیت کا پہلو ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔ اپنے ان نئے تجربوں کی وجہ سے انہوں نے طنز کے میدان کو وسعت بخشی۔ ۔ یوسفی نے کبھی خود کو عالم و فاضل نہیں سمجھا۔ لیکن اپنے معیار کو بھی کبھی گھٹنے نہ دیا۔ کیونکہ ان کے پاس شعور و آگہی اور دوراندیشی کی بے پناہ دولت موجود ہے اور اسی دولت کو انہوں نے سب میں برابر برابر تقسیم کیا ہے۔ ان کی نظر انسانی مسائل کے باریک سے باریک پہلو تک پہنچتی ہے وہ انسان کے پوشیدہ زخم کو محسوس کر کے کچھ اس انداز سے پیش کرتے ہیں کہ ہنسی کے ساتھ ساتھ آنکھیں اشکبار ہو جاتی ہیں۔ ان کی یہی صفت انہیں عربی افسانہ نگار خلیل جبران کے برابر لا کھڑا کرتی ہے۔ ان کی تحریر میں دلکشی، بے ساختگی، روانی، الفاظ کا انتخاب، تراکیب کی ساخت اور تشبیہات و استعارات کا استعمال اور نرم و سبک الفاظ کا استعمال غنائیت و موسیقیت پیدا کرتا ہے۔ ان کا قلم جس کسی بھی چیز کو چھو جاتا ہے اس میں نئی تازگی پیدا کر دیتا ہے۔ ایک ادیب نے ان کے فن پر تبصرہ کرتے ہوئے ٹھیک ہی لکھا ہے کہ:
	’’ادنیٰ سے ادنیٰ بات کے کسی نئے پہلو یا زاویہ پر ہلکی سی روشنی ڈال کر اس کی طرف ہم کو متوجہ کر کے چونکا دینا اور خود معصومانہ انداز میں آگے بڑھ جانا یوسفی کے فن کی وہ نزاکت ہے جو انہیں کے حصے میں آتی ہے۔ ان کے تاثرات و منتخبات، ان کی زبان، ان کا اسلوب سبھی خود رستہ اور خود بالیدہ ہوتے ہیں اور ان کا قلم جس کسی چیز کو بھی چھو جاتا ہے اس میں نئی روئیدگی اور فنی بالیدگی پیدا کر دیتا ہے۔ ‘‘
	مشتاق احمد یوسفی موجودہ دور کے ان انشائیہ نگاروں میں شمار کیے جاتے ہیں جن کے انشائیے وسعت فکر، معلومات اور طنز و مزاح سے بھرے پڑے ہیں۔ ان کا انداز بیان اتنا دلکش ہوتا ہے کہ پڑھنے والا ایک بار شروع کر کے پوری تحریر پڑھ کر ہی دم لیتا ہے اپنی کتاب ’’چراغ تلے‘‘ کے مقدمے میں وہ خود رقمطراز ہیں :
	’’مجھے احساس ہے کہ اس ننھے سے چراغ سے نہ کوئی الاؤ بھڑک سکا نہ کوئی چتا دہکی۔ میں تو اتنا ہی جانتا ہوں کہ اپنی چاک دامنی پر جب اور جہاں ہنسنے کو جی چاہا ہنس دیا اور اب اگر آپ کو بھی اس ہنسی میں شامل کر لیا تو اس کو میں اپنی خوش قسمتی تصور کروں گا۔ ‘‘
	یوسفی کے انشائیوں میں قہقہوں کی پھلجڑیاں لگاتار چھوٹتی رہتی ہیں اور قاری بڑی بے تکلفی اور یگانگت کے ساتھ ان کے لگائے قہقہوں میں شامل ہو جاتا ہے۔ اور ایک الگ منفرد سرور و انبساط سے لطف اندوز ہوتا ہے۔ لیکن یہی قہقہے لگاتے ہوئے جب یوسفی کی نظر سماج کے انتشار اور کھوکھلی قدروں پر پڑتی ہے تو وہ طنز کا تیر اپنے ہاتھ میں لے کر کمان کھینچ لیتے ہیں اور یہی بات انہیں انشائیہ نگار سے طنز نگار بنا دیتی ہے۔ اس معاملہ میں خود یوسفی کہتے ہیں :
	’’طنز نگار راستے پر اترا اترا کر کرتب نہیں دکھاتے بلکہ تلواروں پر رقص کیا کرتے ہیں۔ ‘‘
	ان کے انشائیوں میں انفرادیت اور انانیت کا فقدان پایا جاتا ہے۔ لیکن ان کے انداز اور گفتگو کا لہجہ انہیں منفرد بناتا ہے۔ وہ روزمرہ کی عام باتیں، روزمرہ کے طریقے یعنی عامیانہ طریقے سے ہی کرتے ہیں۔ یہ انہیں دوسرے فنکاروں سے ممتاز کرتی ہے۔ یوسفی ایک سلجھے ہوئے اور شگفتہ مزاج والے تھے ان کے مزاج کی جھلک ان کی تحریروں میں بدرجہ اتم ملتی ہے۔ ان کے لہجے کے اتار چڑھاؤ کے حسن کی مثال کہیں اور نہیں ملتی۔ وہ صحیح معنوں میں لہجے کے الفاظ کی نہج اور مزاج کو جانتے پہچانتے ہیں۔ اس بات کی زندہ مثالیں ان کے انشائیے ’’پڑئیے گر بیمار‘‘، ’’صنف لاغر‘‘ اور ’’جنون لطیفہ‘‘ ہیں۔ 
	یوسفی کا سادہ اور دل کو لبھا دینے والا انداز ان کے انشائیہ ’’سنہ‘‘ میں ملاحظہ فرمائیے:
	’’۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ سنہ عیسوی سے کہیں زیادہ مشکل ان تاریخوں کا یاد رکھنا ہے جن کے بعد میں قبل مسیح آتا ہے۔ اس لیے کہ یہاں مؤرخین گردش ایام کو پیچھے کی طرف دوڑاتے ہیں۔ ان کو سمجھنے اور سمجھانے کے لیے ذہنی (شرشاسن) شیش آسن کرنا پڑتا ہے۔ جو اتنا ہی دشوار ہے جتنا الٹے پہاڑے سنانا۔ اس کو طالب علموں کی خوش قسمتی کہیے کہ تاریخ قبل میلاد مسیح نسبتاً مختصر اور ادھوری ہے۔ اگرچہ مؤرخین کوشاں ہیں کہ جدید تحقیق سے بے زبان بچوں کی مشکلات میں اضافہ کر دیں۔ بھولے بھالے بچوں کو جب یہ بتایا جاتا ہے کہ روم کی داغ بیل ۷۵۲ قبل مسیح میں پڑی تو وہ ننھے منے ہاتھ اٹھا کر یہ سوال کرتے ہیں کہ اس زمانے کے لوگوں کو یہ کیسے پتہ چل گیا کہ حضرت عیسیٰ کے پیدا ہونے میں ابھی ۷۵۲ سال باقی ہیں۔ ‘‘
	مندرجہ بالا اقتباس میں کتنے معصوم لگے یوسفی۔ اب آگے اسی انشائیے میں ان کی فلسفیانہ جست ملاحظہ کیجیے:
	’’حافظہ خراب ہو تو آدمی زیادہ عرصہ تک جوان رہتا ہے۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ وقت کا احساس بذات خود ایک آزار ہے جس کو اصطلاحاً بڑھاپا کہتے ہیں۔ ‘‘

۱۰۔ فرقت کاکوروی

	فرقت کاکوروی کی سادہ تحریر میں انشائیہ کی شگفتگی کا مزہ دوبالا ہو جاتا ہے۔ بڑے موضوع کو بھی سادہ لوح بن کر ادا کرتے ہیں۔ اور قاری پر اپنا گہرا تاثر چھوڑ جاتے ہیں۔ ان کی تحریر کا ایک نمونہ ملاحظہ کیجیے:
	’’آپ چاہیں مانیں یا مانیں اور اس حقیقت کو تسلیم کریں یا نہ کریں مگر موجودہ دور جمہوریت کا یہ ایک اٹل اور متفقہ فیصلہ ہے کہ علم و ادب کے تمام مدارج طے کر لینے کے بعد بھی سب سے بڑا جاہل وہ ہے جو گریجویٹ نہیں اگر اپنی جملہ جہالتو ں کے باوجود سب سے بڑا عالم وقت وہ ہے جس نے کسی یونیورسٹی سے بی۔ اے۔ کی سند حاصل کی ہے۔ بات یہ ہے کہ اب سے چالیس برس قبل بی۔ اے۔ کی ڈگری ایک ایسا کار آمد تعویذ اور ایک ایسی جادو کی پڑیا ثابت ہو چکی ہے کہ آپ نے ادھر اس کو استعمال کیا ادھر کھل جا او سمسم کی آواز کے ساتھ ملازمت کے دروازے کھل گئے اور آپ کی مٹھیاں بھر بھر کر اپنے دامن افلاس کو رشوتوں اور مقررہ تنخواہوں سے پر کرنا شروع کر دیا۔ بی۔ اے۔ کی ڈگری معیار علم، معیار قابلیت اور معیار ذہانت تصور کی جاتی تھی۔ یہی ڈگری گھر والوں اور بزرگوں سے ہر معاملہ میں مشورہ طلب کرواتی تھی اور اسی پر سوسائٹی میں عزت و ذلت کا دارومدار تھا۔ والدین نے صاحبزادے کے ہاتھ میں بی۔ اے۔ کی ڈگری دیکھی اور سمجھ گئے کہ صاحبزادے اپنی جملہ جہالتوں کے باوجود قابل ہو گئے۔ اس کے بعد اگر خاندان میں کوئی کٹھن سے کٹھن مرحلہ درپیش ہو تو سب نے آنکھ بند کر کے مشورہ دیا کہ شفاء الملک حکیم بی۔ اے۔ صاحب سے رجوع کیجیے۔ اس معاملے میں صحیح مشورہ وہی دے سکتے ہیں، کیونکہ وہ بی۔ اے۔ پاس ہیں۔ چنانچہ ان کو بلا کر سب سے پہلے ان کی بی۔ اے۔ پاس رائے دریافت کی جاتی تھی۔ وہ باوجود گھریلو اور شادی بیاہ کے معاملے نا تجربہ کار اور ناواقف ہونے کے معاملے کو آنکھیں بند کر کے اس طرح سنتے گویا سمجھ بھی رہے ہیں۔ پھر دو ایک مرتبہ مفکرانہ انداز میں سر کھجاتے اور شادی کے معاملے کو بجائے عقل سے بتانے کے علم ریاضی سے حل کر کے اگر لڑکی فلاں فلاں خاندان اور فلاں فلاں امتحان پاس ہے اور ان ان صلاحیتوں کی حامل ہے تو اس کو فلاں فلاں لڑکے کے گلے منڈھا جائے۔ تو اس سے اس کی آئندہ زندگی خو حالی اور فارغ بالی سے بسر ہو گی اور اس سے ایک ایسا مرکب بن جائے گا جو ہر کاٹے کا منتر ہو گا۔ چنانچہ ان کی اس رائے کو ایک فلسفی، ایک مفکر اور ایک نجومی کی رائے سمجھ کر قبول کر لیا جاتا اور ہر شخص واہ واہ اور سبحان اللہ کی آوازیں بلند کرتا۔ رفتار زمانہ نے اس چیز کو ایک رسم کی شکل دے دی۔ اور اب اس دور جہالت میں بھی وہ جوں کی توں سینہ بسینہ چلی آ رہی ہے۔ اور آج کل بھی بی۔ اے۔ پاس صاحبزادے کی دستار بندی اس پرانی وضع پر ہوتی ہے جس کا نتیجہ ہے کہ بی۔ اے۔ پاس لڑکیاں اور لڑکے اپنے آپ کو افلاطون وقت اور سقراطِ دورا ں سمجھتے ہیں اور بی۔ اے۔ پاس کرنے کے بعد ان کا دماغ خراب ہو جاتا ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘۱
۔۔۔۔
اور جب ہم بی۔ اے۔ پاس ہوئے۔ فرقت کاکوروی۔ آزادی کے بعد دہلی میں اردو انشائیہ۔ نصیر احمد خان

۱۱۔ سید آوارہ

	سید آوا رہ نے بھی کئی انشائیے لکھے ہیں۔ ان کی عام فہم زبان قاری کا دل موہ لیتی ہے۔ مندرجہ ذیل خوبصورت انشائیہ اس کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ 
	’’۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس رسم نے گویا اعلان کر دیا کہ صاحبزادے نام خدا جوان ہو گئے۔ چڑھتا خون، مونچھوں کی فصل دن دونی رات چوگنی ترقی کرنے لگی اور میں سوچتا رہا کہ انہیں کس سانچے میں ڈھال لوں، اور چہرے کا کینڈا بدلتے ہوئے کس فیشن کی پالوں۔ پڑوس میں ڈولی کا اڈا تھا۔ مونچھوں کے فرق سے اپنی اور ایک کہار کے چہرے کی کاٹ ملتی جلتی پائی۔ دس پندرہ دن کی لگاتار اینٹھن میں اپنی مونچھوں کا روپ بھی وہی بن گیا، میری اور للتوا کہار کی مونچھیں جڑواں بہنیں دکھائی دینے لگیں۔ وہی کڑوے تیل سے چکنائے چمکیلے بال، وہی نوکیں چھلے دار۔ 
	کچھ دن بعد ایکا ایکی ان سے جی بھر گیا۔ جانتے ہیں اب کیا کیا میں نے؟ ان چھلوں کو ریورس گیئر میں ڈال دیا۔ انگلیوں کے پورے سن پڑ گئے تب کہیں ان کے بل نکلے۔ نئے نمونے کی تلاش میں تھا جو اپنے ایک اسکول ماسٹر کی مونچھیں پسند آئیں۔ ماسٹر صاحب پڑھاتے کم تھے، کاسمیٹک کی پٹ دی ہوئی چوہیا کی دم مونچھوں کا رعب زیادہ جماتے تھے۔ یہ وضع نبھ نہ سکی۔ کاسمیٹک کی بو سے بار بار چھینکوں کی ڈاک بیٹھنے لگی۔ آچھیں ! آچھیں ! کی باڑھ چلنے لگی اور زکام نے ناک میں دم کر دیا۔ ناچار انہیں سلام کرنا پڑا۔ اب جو فیشن میں نے بدلا اس سے مونچھوں کی شکل مڈل بریکٹ جیسی بنتی تھی۔ اس کے لیے دونوں کونیں اٹھا کر کلوں پر چپکانا، اوپر سے پٹی باندھنی پڑی۔ یہ تو کسی نے جانا نہیں کہ پٹی تلے کیا بھید تھا، ہونٹ بال توڑ نکال سمجھ کر کسی نے پلٹس باندھنے کی صلاح دی تو کسی نے آپریشن کرنے کی۔ پٹی بندھتی رہی۔ کھلی تو نئے ٹھپے کی مونچھیں تیار تھیں۔ نہایت شاندار بڑے رعب داب کی۔ قیصر ولیم کی مونچھوں سے ٹکر لینے والی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘۱
۔۔۔۔۔۔
۱۔ مونچھیں۔ سید آوا رہ۔ آزادی کے بعد دہلی میں اردو انشائیہ۔ نصیر احمد خاں۔


۱۲۔ محمد حسن

	محمد حسن نے اردو ادب کو گراں قدر سرمایہ عطا کیا ہے۔ مندرجہ ذیل انشائیہ میں الفاظ کا انتخاب، میٹھا طنز اور شگفتگی اپنی مثال آپ ہیں۔ 
	’’۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ بات ہماری انفرادی زندگیوں کے لیے اسی طرح باون رتی اور پاؤ رتی کی ہے۔ اور باتوں کی طرح یہ بھی بہت بڑی حد تک اپنے اپنے عقل و شعور پر منحصر ہے۔ جب تک زندگی کے کارخانے کو اپنے ہاتھ سے اپنی پوری تازگی اور شادابی کے ساتھ چلایا جائے چلائیے۔ جب تک آپ اس کھیل میں ذرا بھی دلچسپی اور دل بستگی محسوس کرتے ہوں کام چلاتے رہیے۔ مقابلہ کیے جائیے حالات و حادثات کے مقابلے میں سینہ سپر ہو جائیے۔ سینہ تو بہرحال آپ ہی کا ہو گا لیکن سپر کسی کو بھی آپ بنا سکتے ہیں جی چاہے تو بادہ کہن اور بت نوخیز کا انتخاب کیجیے یا آرزو مندی کے جہاد کو بہرحال جب تک زندگی کرسکیں اور جب تک اپنے کو سر منزل محسوس کرسکیں کیجیے اور پھر ان گھروندوں کو مٹا کر کائنات کے اس ڈرامے کا بھی ڈراپ سین کر ڈالیے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘۱
۔۔۔۔
۱۔  نئی زندگی۔ محمد حسن۔ آزادی کے بعد دہلی میں اردو انشائیہ۔ نصیر احمد خان


۱۳۔ اندر جیت لال

	اندر جیت لال ایک بہترین ادیب ہیں۔ ان کے لکھے انشائیے نہایت ذوق و شوق سے پڑھے جاتے ہیں۔ مندرجہ ذیل انشائیہ ’’جانور سے انسان تک‘‘ ملاحظہ کیجیے۔ 
	’’انجیل مقدس میں لکھا ہے کہ خدا نے آدمی کو اپنی مثل بنایا۔ اور اس میں زندگی کی روح پھونک دی۔ ‘‘ مگر اس اشرف المخلوقات کی شکل و صورت تو دیکھنا۔ وہ کتے سے زیادہ شہوت پرست، لومڑی سے زیادہ مکار، شیر سے زیادہ خونخوار، ہاتھی سے زیادہ پیٹو، گدھے سے زیادہ بے دماغ، خچر سے زیادہ ضدی، سانپ سے زیادہ زہریلا، اونٹ سے زیادہ کینہ ور، مگر مچھ سے زیادہ نسل کش، بلی سے زیادہ چور، بکری سے زیادہ بزدل اور بچھو سے زیادہ پیش زن ہے۔ ان جانوروں میں یہ برائیاں انفرادی ہیں۔ کسی میں ہیں، کسی میں نہیں، مگر یہ اشرف المخلوقات خدا کا بیٹا سب برائیوں کو اپنے دامن میں سمیٹے ہوئے ہے۔ اور نسلاً بعد نسلاٍ اپنی اولاد کو ورثے میں دے جاتا ہے۔ خدائے کریم نے دوسرے جانوروں کے لیے نہ کوئی رسول بھیجا اور نہ کوئی پیامبر۔ ان کے گناہوں کے کفارے کے لیے نہ کوئی مصلوب ہوا نہ کوئی شفاعتی آیا۔ مگر اس لاڈلے کے لیے خدا نے نہ جانے کتنے پیغمبر بھیجے۔ یہاں تک کہ خود بھی اس نے انسانی جامے میں آنے کی زحمت گوارا کی اور اپنے ’’اکلوتے بیٹے‘‘ کو بھی دار پر کھنچوایا۔ اس اشرف المخلوقات نے دنیا کی ہر برائی کو فروغ دیا۔ زمین و آسمان کو زیر و زبر کیا اور سمندروں کو متھ کر رکھ دیا۔ اس کے ہاتھ چرند، پرند اشجار حتیٰ کہ کل ارض و سما بہ گریاں و نالاں ہے خود زمانہ بھی اس کے ہاتھوں تنگ ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘۱
۔۔۔۔
۱۔جانور سے انسان تک۔ اندر جیت لال۔ آزادی کے بعد دہلی میں اردو انشائیہ۔ نصیر احمد خاں۔

۱۴۔ ڈاکٹر آدم شیخ

	ڈاکٹر آدم شیخ انشائیے پر کئی کتابیں تصنیف کر چکے ہیں۔ اپنے انشائیوں میں فکر تونسوی اور پطرس بخاری کی یاد دلاتے ہیں۔ مندرجہ ذیل انشائیہ ان کا نہایت ہی خوبصورت انشائیہ ہے۔ 
	’’۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اپنے منہ اپنی تعریف کرنے کا اس سے زیادہ قابل تعریف اور کوئی گر نہیں ہے کہ آدمی لوک لاج کا خیال کیے بغیر تبصرہ نگاری شروع کر دے۔ بعض حضرات تو کتاب شناسی کی پگڈنڈیوں سے گزرکر ہی خود ستائی کی منزل پر پہنچ جاتے ہیں۔ ایک جدید تبصرہ نگار نے تبصروں میں اپنی قصیدہ خوانی کر کے انعام بھی حاصل کر لیا ہے۔ اس یکتائے روزگار مبصر کے تبصرے پڑھ کر قاری کو کتاب سے زیادہ کتاب شناس سے واقفیت حاصل ہوتی ہے۔ موصوف نے بزعم خود تبصرہ نگار کی پامال راہوں سے گریز کر کے اپنے لیے ایک نئی راہ نکالی جس کا خاطر خواہ نتیجہ یہ ہوا کہ ایک نیم جاں رسالہ جو بڑی مشکل سے سسک سسک کر پانچ سو کی تعداد میں نکلتا تھا ان کے تبصروں کو شائع کرنے کے بعد پانچ لاکھ کی تعداد میں نکلنے لگا اور شہر کے بیشتر لوگ ان کے پیچھے پڑ گئے (آٹو گراف کے لیے) اور تو اور دھوبی، بڑھئی، نانبائی جیسے کم خواندہ قارئین بھی سر بازار ان کی مزاج پرسی کرنے لگے۔ اس حقیقت سے انکار اس لیے ممکن نہیں ہے کہ ممدوح ہر تبصرے کے ساتھ اپنی تصویر لگوانا تبصرہ نگاری کی بنیادی ضرورت سمجھتے تھے۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘۱
۔۔۔۔
۱۔  کتاب شناسی۔ ڈاکٹر آدم شیخ۔ ماہنامہ شگوفہ اگست ۱۹۹۴ء

۱۵۔ جوگندر پال

	جوگندر پال ۱۹۲۵ء میں سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ بہت سادگی سے اپنی بات قارئین کے دل میں اتارنے کا ہنر رکھتے ہیں۔ اور دانستہ و دانستہ طریقے سے پند و نصائح کے دفتر بھی کھول لیتے ہیں۔ ان کے تحریر کا ایک نمونہ ملاحظہ کیجیے:
	’’کوئی چار پانچ دہے پہلے میرے لڑکپن کا ذکر ہے کہ بعض لوگوں کو ہماری روزمرہ کی قیام اور خوابناکی کی کیفیات بے حد کھلتی تھیں۔ اپنی گرجدار تقریروں میں وہ موقع بموقع ہمیں تیز تیز چلنے کی تلقین کرنا نہ بھولتے اور ہر دوسرے تیسرے فقرے پر اس بات پر زور دیتے کہ خدا کے لیے آنکھیں ہمیشہ کھلی رکھو، جاگتے رہے، ورنہ جہاں پڑے ہو وہیں پڑے رہ جاؤ گے۔ اور انہیں سنتے ہوئے ہم اپنے گرم جوش انہماک میں بار بار ہڑبڑا کر نعرہ بلند کرتے انقلاب زندہ باد!
	سن سن کر آخر ایک مقام آ ہی جاتا ہے کہ ہمارے پاؤں رکنے میں نہیں آتے اور اس دوران چلتے چلتے ہم اپنے ٹھکانوں سے اتنا آگے نکل آئے ہیں کہ سمتوں کا تعین کھو بیٹھے ہیں اور تھک ہار کر جب سونے کے لیے گر جاتے ہیں تو آنکھیں چوپٹ کھول کر سوتے ہیں۔ چند ہی روز ہوئے میری بیوی اسی حالت میں پڑی تھی اور اپنی دانست میں اسے اس قدر منہمک پا کر ست مولا باتیں کیا جا رہا تھا۔ مجھے نا معلوم کیا سوجھی کہ یکلخت میں بڑی ملائمت سے اس پر جھک آیا اور عین اسی وقت وہ چیخ مار کر بیٹھ گئی ’’نہیں ‘‘۔ ’’کیا ہوا ہے بھلی لوگ؟‘‘ میں شرمندہ ہو کر پرے ہٹ گیا وہ ابھی تک بوکھلائی ہوئی تھی۔ ’’میں خواب دیکھ رہی تھی کہ کوئی پرایا مرد مجھ پر جھکا چلا آ رہا ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘ ۱
۔۔۔۔
۱۔  اے ہوش مندو۔ جوگندر پال

۱۶۔ حسنین محمد اسلم عظیم آبادی

	حسنین محمد اسلم عظیم آبادی ۱۲/ اکتوبر ۱۹۲۰ء کو عظیم آباد پٹنہ بہار میں پیدا ہوئے۔ ان کی تحریر میں بلا کی شگفتگی اور لطافت پائی جاتی ہے۔ روانی بھی دیکھتے ہی بنتی ہے۔ دور قدیم کو دور جدید میں دھنک کے رنگوں کی آمیزش سے ملانے کا ہنر جانتے ہیں۔ ان کا مندرجہ ذیل انشائیہ ’’ہیرو‘‘ پڑھنے سے اس بات کی بخوبی شناخت ہو جائے گی۔ 
	’’۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کھٹے اور میٹھے آم کی طرح ہیرو بھی خالصتاً دو ہوتے ہیں۔ مثالی اور موسمی۔ اسے اپنے ملک کی خوش قسمتی کہیے کہ ہمارے پھلوں میں جتنی شکل اور سواد کے آم ملتے ہیں اتنی اقسام کے ہیرو بھی۔ مثال کے طور پر فلمی ہیرو، قومی ہیرو، کلاس کا ہیرو اور بازار کا ہیرو، محلہ کا ہیرو اور میچ کا ہیرو وغیرہ وغیرہ۔ یہ ہیرو کسی جگہ اداکاری کرتا ہے کہیں سودا بازی۔ کہیں یہ کامریڈ کہلاتا ہے کہیں رنگدار۔ کہیں سرداری کرتا ہے کہیں سواری۔ کہیں اس کا شغل پہلوانی ہوتا ہے اور کہیں عاشقی۔ جہاں زندگی کی علامت ہے وہاں ہیرو ازم کی علت۔ یہاں زندگی کا سوز و ساز ہے وہاں ہیرو ازم کی تب و تاب۔ کوئی جگہ ہیرو سے خالی نہیں۔ ہر دل میں ہیرو شپ کا جذبہ اور رجوع موجود ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔‘‘۱
۔۔۔۔
۱۔  ہیرو۔ حسنین محمد اسلم عظیم آبادی۔ انشائیہ اور انشائیہ۔ پروفیسر سید محمد حسنین 

۱۷۔ ابن انشاء

	ابن انشاء کا حقیقی نام شیر محمد خان ہے اور ابن انشاء ان کا قلمی نام ہے۔ ۱۰ جون ۱۹۲۶ء کو جالندھر کے ایک قصبہ میں پیدا ہوئے۔ کچھ ایسے حالات پیدا ہوئے کہ میٹرک کا امتحان پاس کرنے کے بعد ان کو ملازمت اختیار کرنی پڑی۔ لیکن علم کی پیاس اور لگن ہمیشہ رہی۔ اسی لیے جب بھی موقع ملا، تعلیم مکمل کرتے رہے اور اسی طرح ایم۔ اے۔ کا امتحان پاس کیا۔ 
	ابن انشاء آل انڈیا ریڈیو سے بھی وابستہ رہے۔ ملک کی تقسیم کے بعد پاکستان میں بود و باش اختیار کی اور وہاں مختلف مقامات اور مختلف عہدوں پر خدمات انجام دیتے رہے۔ ۱۹۵۰ء میں قومی اسمبلی کے مترجم مقرر ہوئے۔ یونیسکو کے تعاون سے قائم شدہ کراچی کے بک سینٹر میں ملازم ہوئے اور ترقی کر کے ڈائرکٹر جنرل کے اعلیٰ عہدے پر پہنچے۔ اسی حیثیت سے دنیا کے کئی ممالک کا سفر کیا۔ انہوں نے اپنے سفر کی روداد بہت دلچسپ اور نہایت شگفتہ انداز میں بیان کی ہے۔ ان کے کئی ایک سفر نامے اب تک شائع ہو کر بیحد مقبول ہو چکے ہیں۔ جیسے ’’دنیا گول ہے‘‘، ’’چلتے ہیں تو چین کو چلئے‘‘، ’’آوا رہ گرد کی ڈائری‘‘ اور ’’ابن بطوطہ کے تعاقب میں ‘‘ وغیرہ۔ وہ ایک اچھے شاعر بھی ہیں اور ان کے دو مجموعہ کلام شائع ہو چکے ہیں۔ ان کے انشائیوں کے بھی دو مجموعے ’’خمار گندم‘‘ اور ’’اردو کی آخری کتاب‘‘ ہیں۔ ایک کالم نگار کی حیثیت سے بھی انہیں غیر معمولی شہرت اور مقبولیت حاصل ہوئی۔ ان کے کالم پاکستان کے کئی کثیر الاشاعت روزناموں میں چھپا کرتے تھے۔ ۱۱ جنوری ۱۹۷۸ء کو لندن میں ان کا انتقال ہوا۔ 
	ابن انشاء کا اسلوب بہت شگفتہ اور مزاح کا رنگ لیے ہوتا ہے۔ ان کی انشائیہ نگاری کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ وہ خود اپنے ہی کو ہدف ملامت بنا کر لطف اور مزاح کا پہلو پیدا کرتے ہیں۔ انہوں نے بہت لکھا ہے لیکن اس کے باوجود ان کے اسلوب کی دلکشی میں کوئی فرق نہیں آیا۔ ان کا ایک خوبصورت انشائیہ ’’خطبہ صدارت حضرت ابن انشاء‘‘ کے اقتباسات ملاحظہ فرمائیے اور ان کی بہترین انشاء پردازی کا اندازہ لگائیے۔ 
	’’۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ایک زمانہ تھا ہم قطب بنے گھر میں بیٹھے رہتے تھے اور ہمارا ستا رہ گردش میں رہا کرتا تھا۔ پھر خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ ہم خود گردش میں رہنے لگے اور ہمارے ستارے نے کراچی میں بیٹھے بیٹھے آب و تاب سے چمکنا شروع کیا۔ پھر اخبار شاعر میں ’’آج کا شاعر‘‘ کے عنوان سے ہماری تصویر اور حالات چھپے۔ چونکہ حالات ہمارے کم تھے لہٰذا ان لوگو ں کو تصویر بڑی کرا کے چھاپنی پڑی اور قبول صورت، سلیقہ شعار، پابند صوم و صلوٰۃ اولادوں کے والدین نے ہماری نوکری، تنخواہ اور چال چلن کے متعلق معلومات جمع کرنی شروع کر دیں۔ یوں عیب بینوں اور نکتہ چینوں سے بھی دنیا خالی نہیں۔ کسی نے کہا یہ شاعر تو ہیں لیکن آج کے نہیں۔ کوئی بے درد بولا آج کے تو ہیں لیکن شاعر نہیں۔ ہم بد دل ہو کر اپنے عزیز دوست جمیل الدین عالی کے پاس گئے۔ انہوں نے ہماری ڈھارس بندھائی اور کہا دل میلا مت کرو۔ یہ دونوں فریق غلطی پر ہیں۔ ہم تو نہ تمہیں شاعر جانتے ہیں نہ آج کا مانتے ہیں۔ ہم نے کسمسا کر کہا۔ یہ آپ کیا فرما رہے ہیں ؟ بولے میں جھوٹ نہیں کہتا اور یہ رائے میری تھوڑی ہے سب ہی سمجھدار لوگوں کی ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘۱
۔۔۔
۱۔خطبۂ صدارت حضرت ابن انشاء۔ ابن انشاء۔ 


۱۸۔ مجتبیٰ حسین

	اردو کے ممتاز مزاح نگار اور ادیب مجتبیٰ حسین ۱۵ جولائی ۱۹۳۶ء کو سابق ریاست حیدر آباد اور موجودہ ریاست کرناٹک کے ضلع گلبرگہ کی تحصیل چنچولی میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم گھر پر حاصل کی۔ ۱۹۵۳ء میں گلبرگہ انٹر میڈیٹ کالج سے انٹرمیڈیٹ کا امتحان کامیاب کیا پھر آرٹس کالج عثمانیہ یونیورسٹی میں داخلہ لیا اور ۱۹۵۵ء میں بی۔ اے۔ کی سند حاصل کی اسی کے ساتھ ایوننگ کالج حیدر آباد سے پبلک ایڈمنسٹریشن کا ڈپلوما کورس کامیاب کیا۔ تعلیم ختم کرنے کے بعد کچھ دنوں محکمہ مال میں ملازمت کی۔ پھر یہ ملازمت چھوڑ دی اور روزنامہ سیاست سے وابستہ ہو گئے۔ جہاں ان کے بڑے بھائی محبوب حسین جگر جوائنٹ ایڈیٹر تھے۔ ۳۱ جولائی ۱۹۶۲ء کو سیاست کے کالم نگار مشہور شاعر شاہد صدیقی کا انتقال ہو گیا۔ سیاست کا یہ مزاحیہ کالم مجتبیٰ حسین کے تفویض کیا گیا اور یہیں سے ان کی مزاح نگاری کی ابتداء ہوئی۔ ابتداء میں کوہ پیما کے فرضی نام سے یہ کالم لکھتے رہے پھر اپنے اصلی نام سے پہلا مزاحیہ مضمون ’’ہم طرفدار ہیں غالب کے سخن فہم نہیں ‘‘ شائع ہوا۔ یہ مضمون بہت مقبول ہوا۔ انہیں دنوں زندہ دالان حیدر آباد کا قیام عمل میں آیا۔ مجتبیٰ حسین اس کے جنرل سیکرٹری مقرر ہوئے اور سات برس تک اس خدمت پر فائز رہے۔ ۱۹۶۲ء میں حکومت آندھرا پردیش کے محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ میں ملازم ہوئے اور ۱۹۷۲ء تک اس محکمے سے وابستہ رہے۔ نومبر ۱۹۷۲ء میں حکومت ہند نے اردو کے مسائل کا جائزہ لینے کے لیے گجرال کمیٹی تشکیل دی۔ مجتبیٰ حسین کااس کمیٹی کے شعبہ ریسرچ میں تقرر کیا گیا۔ ۱۹ ستمبر ۱۹۷۴ء میں نیشنل کونسل آف ایجوکیشنل ریسرچ اینڈ ٹریننگ کے پبلی کیشن ڈپارٹمنٹ میں شعبہ اردو کے ایڈیٹر مقرر ہوئے۔ 
	مجتبیٰ حسین نے مزاحیہ کالم نگاری میں اپنے ادبی سفر کی ابتدا کی بعد ازاں انہوں نے کئی مزاحیہ مضامین، خاکے اور سفر نامے لکھے۔ چند اہم تصنیف کی تفصیل ذیل میں درج ہے۔ 
	تکلف برطرف ۱۹۶۸ء، قطع کلام ۱۹۶۹ء، قصہ مختصر ۱۹۷۲ء، بہرحال ۱۹۷۴ء، آدمی نامہ ۱۹۸۱ء، بالآخر ۱۹۸۲ء، جاپان چلو جاپان چلو ۱۹۸۳ء، الغرض ۱۹۸۷ء، سو ہے وہ بھی آدمی ۱۹۸۷ء، چہرہ در چہرہ ۱۹۹۳ء، سفر ہمت ۱۹۹۵ء، آخر کار ۱۹۹۷ء، ہوئے ہم دوست جس کے ۱۹۹۹ء، میرا کالم ۱۹۹۹ء مجتبیٰ حسین کی بہترین تحریریں (تین جلدیں ) اور آپ کی تعریف ۲۰۰۵ئ۔ اس کے علاوہ ہندی میں پانچ مجموعے شائع ہو چکے ہیں ہندوستان کی کئی علاقائی زبانوں میں تراجم۔ ان کا سفر نامہ جاپانی، چینی زبان میں بھی شائع ہوا۔ 
	اعزازات: اڑیسہ ادیبوں کی تنظیم سرس ساہیتہ سمیتی کٹک کی جانب سے ہاسیہ رتن کا خطاب ۱۹۸۰۔ غالب انسٹی ٹیوٹ دہلی کا پہلا غالب ایوارڈ برائے طنز و مزاح ۱۹۸۴ء۔ ایوارڈ برائے تخلیقی نثر اردو اکادمی دہلی ۱۹۹۰۔ کل ہند مخدوم محی الدین ادبی ایوارڈ۔ آندھرا پردیش اردو اکادمی ۱۹۹۹۔ کل ہند کنور مہندر سنگھ بیدی ایوارڈ برائے اردو طنز و مزاح ہریانہ اردو اکادمی ۱۹۹۹۔ علاوہ ازیں ساری تصانیف و ملک کی مختلف اکادمیوں کے انعامات مل چکے ہیں۔ 
	مجتبیٰ حسین نے بے شمار شخصیتوں کے خاکے لکھے ہیں۔ انہوں نے مہور آرٹسٹ اور خطاط صادقین پر نہایت دلچسپ خاکہ تحریر کیا ہے۔ مجتبیٰ حسین نے ادب کی کئی اصناف سخن میں طبع آزمائی کی ہے۔ انہوں نے خاکے، رپورتاژ، مضمون اور کئی انشائیے لکھے ہیں۔ ان کی تحریروں میں طنز و مزاح کا مزہ بہت تیکھا ہوتا ہے۔ ان کا مزاح تہہ دار ہے ار طنز اپنے مکمل سانچے میں ڈھلا ہوا نظر آتا ہے۔ اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ وہ بنیادی طور پر طنز و مزاح نگار واقع ہوئے ہیں۔ مجتبیٰ حسین زندگی کے مسائل اور حقیقتوں کو اپنی ظرافت کا تڑکا دے کر نہایت شگفتگی کے ساتھ ہمارے سامنے پیش کرتے ہیں اور ہم انگلیاں چاٹتے رہ جاتے ہیں۔ انہیں موضوع اور سماجی مسائل کے صحیح مفہوم و تفہیم کو ابھارنے اور بات سے نئی بات پیدا کرنے کا ہنر خوب آتا ہے۔ رمزیت، الفاظ کا ٹکراؤ اور بے ساختگی و برجستگی ان کی تحریروں کے خاص رنگ ہیں۔ 
	ان کے ایک انشائیہ ’’قصہ داڑھ کے درد کا‘‘ ملاحظہ کیجیے:
	’’اور ایک دن اچانک ہماری داڑھ میں یوں درد شروع ہو گیا جیسے آسمان پر یکایک قوس قزح نکل آتی ہے اور قوس قزح کا نکل آنا تھا کہ ساتوں طبق روشن ہو گئے۔ یوں تو ہم انواع و اقسام کے ’’دردوں ‘‘ سے گزر چکے تھے۔ پیٹ کا درد، سر کا درد، کمر کا درد، دل کا درد، قوم کا درد اور اولاد کے درد سے لے کر خواجہ میر دردؔ تک ہم سبھی دردوں سے آشنا تھے لیکن داڑھ کا درد ہمارے لیے بالکل نیا تھا۔ ‘‘۱
۔۔۔۔
۱۔  قصہ داڑھ کے درد کا۔ مجتبیٰ حسین۔ 

۱۹۔ ڈاکٹر سید عابد حسین

	ڈاکٹر سید عابد حسین جامعہ ملیہ میں استاد کی حیثیت سے کئی سال تک خدمات انجام دے چکے ہیں۔ ’’مضامین عابد‘‘ ان کے بہترین مضامین کا مجموعہ ہے۔ اس کے علاوہ قومی تہذیب کا مسئلہ، بزم بے تکلف، پردہ، غفلت اور ہندوستانی مسلمان آئینہ ایام ان کی مشہور کتابیں ہیں۔ مندرجہ ذیل انشائیہ ان کی ایک خوبصورت تحریر ہے ملاحظہ کیجیے:
	’’۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ظرافت یا خوش طبعی جو انسان کو ہنسنے ہنسانے پر اکساتی ہے، قدرت کی ایک بہت بڑی نعمت ہے۔ دراصل یہ احساس تناسب کی صفت ہے اور اسے تہذیب یا کلچر کی بنیاد سمجھا جاتا ہے جس میں احساس ظرافت ہوتا ہے اس کی نظر میں ہر قسم کی بے اعتدالی، بے تکا پن، بھونڈا پن فوراً کھٹکتا ہے۔ وہ ان چیزوں پر خود ہنستا ہے اور دوسروں کو ہنساتا ہے اس طرح وہ ایک طرف الم ہستی کے بوجھ کو ہلکا کرتا ہے اور دوسری طرف لوگوں کو ان کے عیوب کی طرف توجہ دلا کر اصلاح کا موقع دیتا ہے۔ مگر شرط یہ ہے کہ ظرافت کا استعمال بے دردی سے نہیں ہمدردی سے کیا جائے۔ یہ نہ ہو کہ جس پر ہم ہنسیں اسے رلا دیں۔ اس سے تو ضد اور عداوت پیدا ہوتی ہے۔ ظرافت کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ جس کی ہنسی اڑائی جائے وہ خود بھی ہنس پڑے اور جھینپ کر کہے ’’بھئی بات تو ٹھیک ہے‘‘ یہ ہمدردی کا جذبہ اس وقت نمایاں ہوتا ہے جب ہم اپنے آپ کو اپنی ظرافت کا نشانہ بناتے ہیں۔ اپنے اوپر ہنسنے میں ہمارا اندازہ یہ ہوتا ہے کہ ہماری یہ حرکت تو واقعی بے تکی تھی مگر یوں ہم آدمی اچھے ہیں۔ یہی انداز سب کے ساتھ ہونا چاہیے۔ صحیح احساس ظرافت یا احساس تناسب رکھنے والا جانتا ہے کہ دنیا سراسر اچھا یا سراسر برا کوئی نہیں ہوتا۔ ‘‘۱
۔۔۔۔
۱۔  حضرت انسان۔ سید عابد حسین۔ 

۲۰۔ پروفیسر خورشید جہاں 

	پروفیسر خورشید جہاں جھارکھنڈ کی اہل قلم خواتین میں سے ہیں۔ ان کا ذہنی میلان انشائیہ نگاری اور تنقید نگاری کی طرف تھا۔ انہوں نے متعدد انشائیے اور کئی اہم تنقیدی و تحقیقی مضامین لکھے۔ بقول پروفیسر علیم اللہ حالی جب ہم ان کی تنقیدی تحریروں کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں اس خاکستر میں بہت سی دبی ہوئی چنگاریاں مل جاتی ہیں۔ ان کے ادبی سفر کا آغاز انشائیہ نگاری سے ہی ہوا تھا۔ پھر دھیرے دھیرے ان کا ذہن تنقید و تحقیق کی طرف مائل ہو گیا۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ جب کسی انشائیہ نگار کا ذہن تنقید کی طرف مائل ہوتا ہے تو اس کی تنقید نگار پر بھی کھلے پن کا اور کھلی فضا کا احساس ہوتا ہے۔ ان کی پی۔ ایچ۔ ڈی کا مقالہ ’’جدید اردو تنقید پر مغربی تنقید کے اثرات‘‘ کافی اہمیت اور افادیت کا حامل ہے۔ جس کے دو ایڈیشن منظر عام پر آ چکے ہیں۔ 
	پروفیسر ڈاکٹر خورشید جہاں نے کئی انشائیے لکھے۔ ان کی تحریر میں لطافت اور شگفتگی پائی جاتی ہے۔ ان کی تحریر کا ایک نمونہ ملاحظہ کیجیے۔ 
	’’۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جب شوگر کی بیماری ہاتھ دھوکر ہماری پیچھے پڑ گئی تو کچھ لوگوں نے مبارکباد دی کہ یہ امیروں کی بیماری ہے گویا آپ کو امیری کی سند مل گئی۔ کسی نے کہا یہ اٹیلیکچوئیل کی بیماری ہے۔ آپ کا شمار بھی انٹکیچولس میں ہونے لگا۔ کسی نے کہا یہ کوئی بیماری ہے ہی نہیں۔ اگر آپ پرہیز سے رہیں تو بالکل صحت مند ہیں۔ اس بیماری کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ اس کی جتنی قسمیں ہیں ان سے کہیں زیادہ اس کے معالج ہیں۔ ہمارا مطلب یہ ہے کہ آپ کو یہ روگ لگتے ہی جس شخص سے آپ کی ملاقات ہو گی وہ بطور ہمدردی ایک تیر بہدف علاج بتا دے گا۔ غرض جتنے منہ اتنی دوائیں۔ اور آپ اس پر عمل کرنے پر مجبور ہوں گے۔ کیونکہ آپ ہر قیمت پر اس سے چھٹکا رہ چاہتے ہیں۔ ڈاکٹر نے شکر کا استعمال بالکل بند کرا دیا۔ ہم پہلے بھی میٹھی چیزیں کم کھاتے تھے اس لیے شکر چھوٹنے کا غم نہیں ہوا۔ لیکن چاول، آلو وغیرہ چھوڑنا تکلیف دہ ثابت ہوا۔ اس لیے پورے طور پر انہیں نہ چھوڑسکے۔ 
	ڈاکٹروں کے مشورے کے مطابق ہم دوائیں کھاتے رہے اور شوگر بڑھتی رہی۔ جب بھی خون ٹیسٹ کروایا یہی رپورٹ آئی کہ شکر اور بڑھ گئی ہے۔ ڈاکٹر نے کہا پیدل چلئے۔ خوب ٹہلئے۔ ہم نے پیدل چلنا شروع کر دیا، میلوں پیدل چلتے چلے جاتے مگر شوگر کم نہ ہوتی۔ ڈاکٹر نے پوچھا ’’پیدل چلتی ہیں ؟‘‘ ہم نے کہا ’’ہاں خوب چلتے ہیں ‘‘۔ ’’کس وقت؟‘‘ ہم نے کہا ’’جب بھی موقع ملتا ہے۔ دوپہر شام‘‘۔ ’’آپ صبح سویرے ٹہلئے۔ تب فائدہ ہو گا۔ ‘‘ ڈاکٹر نے ’’سویرے‘‘ پر زور دے کر کہا۔ 
	اندھیرے منہ جب ساری دنیا محو خواب خرگوش کے مزے لے رہی ہوتی۔ ہم سڑکوں پر بھاگنا شروع کر دیتے جب تک لوگ سوکر اٹھتے ہم گھوم ٹہل کر واپس آ جاتے۔ پسینے میں شرابور ہانپتے کانپتے گھر میں داخل ہوئے ہی بستر پر ڈھیر ہو جاتے۔ مہینے دو مہینے بعد یہ سوچ کر خون ٹیسٹ کروایا کہ اس بار کو رپورٹ میں شوگر نارمل ہی ہو گی اور ڈاکٹر ہمیں پرہیز کم کرنے کو کہہ دے گا۔ مگر رپورٹ دیکھتے ہی دماغ بھک سے اڑ جاتا۔ شوگر گھٹنے کی بجائے اور بڑھی ہوئی ملی یا خدا کیا کریں۔ کیسے اس مرض سے چھٹکارا پائیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘۱
۔۔۔۔
۱۔  شوگر نامہ۔ پروفیسر خورشید جہاں۔ 

۲۱۔ ثریا صولت حسین

	ثریا صولت حسین کی پیدائش ۲۶ اکتوبر کو ہوئی۔ کئی بار اصرار کرنے کے باوجود انہوں نے اپنا سن پیدائش نہیں بتایا جیسے کہ ایک عام روایت رہی ہے خواتین اپنی عمر چھپایا کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں بھی اس روایت کو قائم رکھنا چاہتی ہوں۔ حال مقیم ممبئی اپنے نام کی ہی طرح جگمگاتی ہوئی شخصیت ہے۔ ان کا مقام پیدائش ناگپور مہاراشٹر ہے۔ اپنی تعلیم حیدر آباد دکن اور ناگپور میں مکمل کی۔ احمد نگر کے انگلو انڈین چاند سلطانہ ہائی اسکول میں ملازمت بھی کی۔ ثریا صولت حسین کے افسانوں، انشائیوں اور خاکوں کا مجموعہ ۱۹۸۶ء میں منظر عام پر آیا۔ اس کتاب پر انہیں مہاراشٹر اسٹیٹ اردو اکادمی اور بہار اسٹیٹ اردو اکادمی سے انعامات بھی ملے۔ ان کے علاوہ ’’ٹکڑے ٹکڑے چاند‘‘ اور ’’اشک رواں ‘‘، ’’شیشہ و سنگ‘‘ افسانوں کے اور شعری مجموعے ہیں۔ یہ بھی مہاراشٹر اردو اکادمی کی جانب سے اعزازات سے نوازے گئے۔ ان کی تحریر میں طنز کی آمیزش کے ساتھ ساتھ مزاح بھی پایا جاتا ہے۔ طنز کا پہلو کم ہی محسوس ہوتا ہے۔ کیونکہ ثریا صولت حسین اچھی طرح جانتی ہیں کہ ایک بہترین انشائیہ نگار کا بنیادی مقصد قاری کو مسرت بہم پہنچانا بھی ہے۔ وہ اپنے ہلکے پھلکے انداز میں فکر و فلسفے کے دقیق نکات بیان کرتی چلی جاتی ہیں اور اشاروں ہی اشاروں میں معنویت کی تہہ داریاں کھولتی جاتی ہیں۔ ان کی تحریر سے اس بات کا اندازہ ہوتا ہے کہ ان کا مطالعہ اور مشاہدہ دونوں بھی کافی وسیع ہیں۔ اسی لیے وہ معمولی بات کو بھی اپنے زور قلم سے غیر معمولی بنانے کی قدرت رکھتی ہیں۔ مندرجہ ذیل اقتباس ان کے انشائیے ’’نیند پری‘‘ سے لیے گئے ہیں۔ ملاحظہ کریں :
	’’بظاہر کس قدر سادہ اور معصوم سا لفظ ہے ’’نیند‘‘ دو چار جمائیاں لیں اور ہاتھ پاؤں ڈھیلے کر کے بستر پر لیٹے اور سوگئے! لیکن ہرگز نہیں دراصل نیند بے شمار ننھی منی پریوں کے ایک جمگھٹ کا نام ہے یہ پریاں بے حد شوخ، فتنہ پرور اور عشوہ طراز ہوتی ہیں۔ ان کی شکل صورت سے تو کوئی آشنا نہیں۔ کیونکہ یہ عالم غنودگی میں موندتی ہوئی آنکھوں میں پتہ نہیں کب آ دھمکتی ہیں کہ ان کے نازک قدموں کی آہٹ بھی کوئی محسوس نہیں کرسکتا البتہ ان کی فطرت سے تقریباً ہر شخص واقف ہوتا ہے۔ یہ نیند پریاں بہت ہی متضاد طبیعتوں کی مالک ہوتی ہیں۔ مہربان نامہربان، وفا شعار ستم شعار! کوئی خرگوش کی طرح تیز طرار اور چست تو کوئی کچھوے کی طرح دھیمی اور سست کوئی سنجیدگی کا مکمل مجسمہ تو کوئی شرارت کی جیتی جاگتی پتلی! ان کی فطرت میں بچپنا بھی کوٹ کوٹ کر بھرا ہوتا ہے۔ وقت بے وقت جگہ بے جگہ اور اندھیرے اجالے کی تو گویا ان کو تمیز ہی نہیں ہوتی۔ چند ذمہ دار پریوں کو چھوڑ کر باقی زیادہ تر نیند پریاں خود مختاری اور آزادی کی دلدادہ ہوتی ہیں لیکن اپنے موڈ کی غلام ہوتی ہیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘۱
۔۔۔۔۔

۱۔  نیند پری۔ ثریا صولت حسین۔ 

۲۲۔ دلیپ سنگھ

	دلیپ سنگھ کی پیدائش ۱۹۳۲ء میں بمقام ضلع گوجرانوالہ پاکستان میں ہوئی۔ لیکن آباء و اجداد نے ہندوستان ہی میں سکونت اختیار کرنا پسند کیا۔ دلیپ سنگھ وزارت خارجہ حکومت ہند میں اپنی خدمات انجام دیتے تھے۔ ساتھ ہی ریڈیو اور ٹیلی ویژن کے لیے بھی اپنی ادبی خدمات انجام دیتے تھے۔ ان کے ایک دو سیریل بھی آ چکے تھے۔ فکر تونسوی اور مجتبیٰ حسین کی حوصلہ افزائی پر مزاحیہ مضامین برائے اخبارات و ماہناموں کے لیے لکھنا شروع کیا جو کافی پسند کیے جانے لگے۔ رفتہ رفتہ انہوں نے اردو ادب کے لیے خود کو وقف کرنا شروع کیا۔ نتیجتاً ان کی کئی کتابیں منظر عام پر آئیں جیسے سارے جہاں کا درد (مضامین کا مجموعہ) ۱۹۹۰، گوشے میں قفس کے (مضامین کا مجموعہ) ۱۹۹۳ء، آوارگی کا آشنا (سفر نامہ) ۱۹۹۴ء، موم کی گڑیا (ڈرامہ)، دل دریا (ناول) جنم دن کی تلاش (مزاحیہ مضامین ہندی میں )۔ ان کی وفات ۸ / اگست ۱۹۹۴ء کو ہوئی۔ 
	ان کی تحریر میں پنجاب کے دیہات کی زندگی اور وہاں کے رسم و رواج کی مستند چھاپ ملتی ہے۔ لیکن وہ فطرتاً مزاح نگار تھے۔ ان نیچرل رائٹر اپنے یا دوسروں کے معمولی سے تجربے کو بہت شگفتہ انداز میں پیش کرنے کا سلیقہ رکھتے تھے۔ عبارت کا حسن اور مزاح کا لطف خود بخود ان کے فقروں سے فطری طور پر ابھرتا تھا۔ مندرجہ ذیل انشائیے سے اس بات کا اندازہ ہو جائے گا۔ 
	’’۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مرزا ہنسے اور کہنے لگے کہ آپ مغالطے میں ہیں۔ بادشاہت اکے زمانے میں لے دے کے کل دو شخص ہوتے تھے۔ جن کی شان میں قصیدے لکھے جا سکتے تھے۔ ایک بادشاہ سلامت خود اور دوسرے ان کے ولی عہد۔ ملکہ معظمہ کا قصیدہ بھی نہیں کہا جا سکتا تھا کیونکہ ان کا صرف حسن ہی تعریف کے لائق ہوتا تھا اور بادشاہ سمجھتا تھا کہ اس حسن کا قصیدہ کہنے کا حق صرف اسی کو تھا لیکن آج کل ایسے لوگوں کی بھرمار ہے جو اپنا قصیدہ سننے کے خواہشمند ہیں۔ میں نے پوچھا مثلاً۔ کہنے لگے ’’مثلاً وہ جن کے ہاتھوں میں انعامات تقسیم کرنے کی قوت ہے وہ جو آپ کو مشاعروں میں بلوا سکتے ہیں۔ وہ جو آپ کی کتابیں چھپوانے کا بندوبست کرسکتے ہیں۔ وہ جو آپ کی کتابیں خریدنے کا حکم صادر کرسکتے ہیں۔ وہ جو آپ کو ایک ایسے ملک میں اپنا کلام سنانے کو بھیج سکتے ہیں جہاں کوئی آپ کا شعر تو کجا آپ کی زبان بھی نہیں سمجھتا۔ وہ جب آپ کے لیے اتنا اہم کام کرسکتے ہیں تو آپ کیا اتنا بھی نہیں کرسکتے کہ ان کی شان میں ایک عدد قصیدہ ہی لکھ دیں۔ ‘‘
	مجھے یکایک احساس ہوا کہ مرزا کی بات میں وزن ہے۔ تھوڑا سا افسوس بھی ہوا کہ میرا دھیان ادب کی اس فائدہ مند صنف کی طرف کیوں نہیں گیا۔ لیکن پھر مجھے خیال آیا کہ ایسے لوگوں کی شخصیت میں کہاں ایسی صفات ہوتی ہیں جن پر قصیدے لکھے جا سکیں۔ بادشاہت کے دنوں میں قصیدہ گو شاعر کبھی بادشاہ کو لنگڑاتے ہوئے دیکھ کر یہ کہہ سکتا تھا کہ آپ کی رگوں میں یقیناً تیمور لنگ کا خون ہے۔ یا جب شاعر نے دیکھا کہ بادشاہ سلامت کی ایک آنکھ کسی حادثہ کا شکار ہو گئی ہے تو قصیدہ گو کہہ دیتا تھا کہ تیری ایک آنکھ میں ہی جلال اسقدر ہے کہ کوئی تیری نگاہ کی تاب نہیں لا سکتا۔ اگر دوسری رہتی تو خدا جانے رعایا پر کیا گزرتی۔ یا جب شاعر کو پتہ چلا کہ بادشاہ سلامت اپنے سگے بھائی کا محل ہڑپ کرنا چاہتے ہیں تو وہ کہہ اٹھتا تھا کہ آپ کی فتوحات کا جذبہ سکندر اعظم کا سا ہے۔ کسی نواب نے اپنی بیوی اور اس کی ایک باندی کے معمولی سے جھگڑے میں فیصلہ باندی کے حق میں دے دیا تو قصیدہ گو اٹھتا کہ آپ کا انصاف عدل جہانگیری کی یاد دلاتا ہے لیکن ایک سدھارن آدمی کی تعریف میں کوئی کیا کہہ سکتا ہے۔ ایسے آدمی کی قصیدہ گوئی کوئی کیا کرے جسے دیکھ کر خدائے برتر سے شکوہ کرنے کو جی چاہے کہ کچھ لوگوں کی تشکیل میں اس نے غیر ضروری عجلت سے کام لیا ہے۔‘‘۱
۔۔۔۔۔
۱۔  ایمان کی یہ ہے۔ دلیپ سنگھ۔ شگوفہ ستمبر ۱۹۹۶ء۔ دلیپ سنگھ نمبر۔ 
 
۲۳۔ معین اعجاز

	نئے انشائیہ کے دور میں ایسے ایسے برگ و بار نظر آنے لگے جنہوں نے اردو ادب میں سنہری اوراق کا اضافہ کیا ہے۔ ہم مختصر طور پر ان انشائیہ نگاروں اور ان کی خوبصورت تحریروں کا بھی جائزہ لیں گے۔ جس سے اس بات کا اندازہ ہوتا ہے کہ انشائیہ کا مستقبل کتنا درخشاں اور تابندہ ہے۔ 
	معین اعجاز آل انڈیا ریڈیو کی اردو سروس نئی دہلی سے منسلک ہیں۔ ان کی تحریر میں انشائیہ نگاری کے تمام اوصاف پائے جاتے ہیں۔ ان کے کئی انشائیے منظر عام پر آئے ہیں۔ یہاں ہم ان کا انشائیہ ’’ہماری عینک کی پہلی سالگرہ‘‘ کا ایک اقتباس ملاحظہ کرتے ہیں۔ 
	’’ہوا یہ کہ پچھلے سال اسی مہینے ہم نے یہ عینک خریدی تھی۔ اس سے پہلے عینک لگانے والے ہر شخص کو ہم شک اور ایک حد تک ہمدردی کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ کبھی کبھی تو یہ محسوس کرتے کہ عینک ہمیشہ مذاق کا موضوع بنتی جا رہی ہے۔ ہمارے اس خیال کو اپنے ایک بزرگ شاعر پنڈت آنند نرائن ملا کے ایک شعر سے مزید تقویت اور تائید حاصل ہوئی جو بقول ان کے، ان کا پہلا شعر تھا اور جو انہوں نے اسکول میں اپنے ایک ہم جماعت کے بارے میں کہا تھا:
یہ کیا اندھیر ہے یارو یہ کیا طرفہ تماشہ ہے
کہ آہو چشم نے بھی آنکھ پر عینک لگائی ہے
	لیکن عینک لگانے والا ہر شخص ’’آہو چشم‘‘ نہیں ہوتا۔ ہم سنتے آئے تھے کہ عینک وہی لوگ لگاتے ہیں جن کی بینائی کمزور ہو جاتی ہے۔ لیکن اس بات کا یقین کبھی نہیں آیا تھا۔ جب بھی ہم نے کسی کی عینک کا مذاق اڑایا اس نے مسکرا کر یہی کہا ’’گھبراؤ نہیں ! آج ہم کل تمہاری باری ہے۔ ‘‘ لیکن اپنی ’’مجوزہ باری‘‘ سے ہم قطعی بے نیاز تھے کیونکہ ہم سمجھتے تھے کہ جن آنکھوں سے آج سب کچھ صاف دکھائی دیتا ہے ان سے کل بھلا دھندلا اور کم کیوں دکھائی دے گا؟ اس بے نیازی کی سزا ہمیں اس وقت ملی جب ہم نے اپنی عمر عزیز کے تقریباً چالیس سال پورے کر لیے۔ اچانک ہمیں یہ محسوس ہوا کہ اخبارات اور کتابوں کے حرف ہم سے آنکھ مچولی کرنے لگے ہیں۔ اس آنکھ مچولی میں کبھی ہم اخبار آنکھوں کے قریب لاتے اور کبھی کچھ دور لے جاتے۔ کبھی کبھی تو آنکھوں سے لگا بھی لیتے تھے۔ اس موقع پر آنکھوں سے لگانے کا محاورہ ایک قطعی نئے مفہوم کے ساتھ ہمارے سامنے جلوہ گر ہوا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘۱
۔۔۔۔۔
۱۔ ہماری عینک کی پہلی سالگرہ۔ معین اعجاز۔ 

۲۴۔ عابد معز

	ماہنامہ ’’شگوفہ‘‘ کے مطابق عابد معز کا تعارف کچھ اس طرح ہے :
	’’عابد معز پیشے کے اعتبار سے ڈاکٹر ہیں اور نبض شناس ڈاکٹر، ان کی ’’نبض شناسی‘‘ تخلیقی سفر میں بڑی کام آئی۔ کیونکہ ذہانت و فطانت کے ساتھ مزاح نگار نبض شناس ہو تو اس کے مزاح میں گہرائی اور طنز میں گیرائی پیدا ہوتی ہے۔ عابد معز مسلسل لکھ رہے ہیں۔ ان کی پہلی کتاب ’’واہ حیدر آباد‘‘ حیدر آباد شہر کے مختلف سماجی اور معاشرتی پہلوؤں پر لکھی گئی۔ یہ اپنے طرز کی واحد کتاب ہے۔ پھر انشائیوں کا مجموعہ ’’سگ گزیدہ‘‘ شائع ہوا جس کے بعد وہ پابندی کے ساتھ لکھتے اور چھپتے رہے۔ اخباروں کے کالم بھی لکھے جن میں بیشتر موضوع کی اہمیت کے پیش نظر اور خاص ٹریٹمنٹ کے نتیجہ میں موقتی اہمیت کے حامل نہیں بلکہ کسی بھی دور کے قاری کو متاثر کرسکتے ہیں۔ ڈاکٹر معز کی سائنٹفک نگاہ نے زندگی کے عام معمولات کو جدید نکتہ نگاہ عطا کرتے ہوئے اس کے مضحک پہلوؤں کو اجاگر کیا ہے۔ باتیں روزمرہ کی ہیں لیکن حقیقت پسندی اور واقعیت پسندی کے تناظر میں مزاح کو انگیز کرنے والے نئے نئے دلچسپ منظر ان کی تحریروں میں نظر آتے ہیں۔ عابد معز نے مشرق وسطیٰ میں طنز و مزاح کے فروغ کے لیے بے مثال کارنامے انجام دئیے ہیں۔ ماہنامہ شگوفہ کی اوورسیز کمیٹی کے وہ کنوینر ہیں۔ ریاض اور جدہ میں مقامی اور بین الاقوامی سطح پر طنز و مزاح کی تقاریب کے انعقاد میں وہ بنیادی اور اہم حصہ لے چکے ہیں۔ ‘‘۱
	عابد معز بھی الفاظ پر قدرت رکھتے ہیں اور قاری کو کئی آسمانوں کی سیر کروا کر زمین پر لا پٹختے ہیں۔ ماہنامہ ’’شگوفہ‘‘ نے ان کے مضامین اور انشائیوں پر مبنی ’’عابد معز‘‘ نمبر نکالا۔ یہ نمبر ۲۰۰۸ء ماہ نومبر میں شائع ہوا تھا۔ ان کے انشائیے ’’فارغ البال‘‘ میں ان کی شگفتہ تحریر کی جھلک دیکھئے۔ 
	’’۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ لوگ یونہی راتوں رات فارغ البال نہیں ہو جاتے! یہ ایک درد بھری داستان ہے۔ ہر فارغ البال شخص کا سر ماضی میں سرسبز و شاداب ہوا کرتا ہے۔ اس نے بھی کبھی بالوں میں تیل ڈالا، کنگھی کی اور بالوں کو مختلف فلمی ستاروں کی طرح سجایا ہو گا۔ باد صبا اس کے بالوں سے اٹکھیلیاں کر چکی ہو گی۔ بال ماتھے پر گرائے ہوں گے۔ محبوبہ نے اپنی انگلیوں سے اس کے بال بھی سنوارے ہوں گے۔ 
	زندگی کے کسی موڑ پر گدھے کے سر سے غائب ہونے والے سینگ کی مانند سر سے بال ایسے اڑنے لگتے ہیں جیسے پہلے کبھی تھے ہی نہیں۔ نئی نویلی دلہن صبح اٹھ کر جس طرح کان کا بالا بستر میں تلاش کرتی ہے ایسے ہی یہ حضرت، داغِ مفارقت دئیے گئے بالوں کو تکیہ سے جمع کرتے ہیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جوں جوں بال گرتے جاتے ہیں تشویش بڑھتی جاتی ہے۔ بال گرنے کی وجہ پانی کا کھارا یا کڑوا ہونا سمجھی جاتی ہے تو کبھی تیل، کریم، صابن یا شیمپو کی خرابی قرار پاتی ہے۔ ‘‘۲
۔۔۔۔۔
۱۔  ماہنامہ شگوفہ خلیج نمبر۔ جون ۲۰۰۴ء
۲۔  فارغ البال۔ عابد معز۔ عابد معز نمبر۔ شگوفہ ماہ نومبر ۲۰۰۸ء

۲۵۔ احمد جمال پاشا

	احمد جمال پاشا اردو کے مزاح نگاروں میں ہندوستان اور پاکستان دونوں ملکوں میں ایک ممتاز مقام رکھتے تھے۔ آخر میں وہ کچھ بجھ سے گئے تھے۔ لیکن اپنے بہترین دور میں انہوں نے اردو کے طنزیہ اور مزاحیہ ادب میں قابل قدر اضافے کیے۔ مندرجہ ذیل مضمون مرحوم نے انتقال سے چند روز پہلے ماہنامہ ایوان اردو دہلی کو ارسال کیا تھا۔ ادا رہ لکھتا ہے کہ عجب نہیں کہ یہ ان کی آخری تحریر ہو:
	’’۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ زمانہ طالب علمی میں جب ہمیں شاعروں سے کوئی شکوہ نہ تھا، ایک ایسے ہاسٹل میں ہمارا داخلہ ہو گیا جو ہاسٹل کم اور شعرستان زیادہ تھا۔ مالک ہاسٹل، بیرے، چپراسی، دھوبی اور رہنے والے ایک سرے سے شاعر تھے۔ جو صاحب ہاسٹل چلاتے تھے، صاحب دیوان تھے۔ ذرہؔ تخلص فرماتے۔ ہمارے ہپی بالوں پر دھوکہ کھا گئے اور شاعر سمجھ کر ہاسٹل میں داخلہ منظور کر لیا۔ جیسا کہ عرض کیا جاچکا ہے، ہاسٹل ضرور ذرہؔ کا تھا۔ لیکن ہمہ خانہ آفتاب تھا۔ اس میں غیر شاعر کا گزر نہ تھا۔ ہمارے روم پارٹنر شبابؔ کافری شاگرد کافر عدم آبادی تھے۔ شاعری سے جو وقت بچتا احباب کی ٹوپیاں چرانے میں گزار دیتے۔ دراصل ان کے والد کی ٹوپیوں کی دکان تھی۔ اس لیے ہر نئی ٹوپی کے آدھے دام مل جاتے۔ مزے میں گزارا ہو جاتا بلکہ پس انداز کر کے ایک آدھ مشاعرہ بھی اسی رقم سے کر ڈالتے۔ روزانہ کئی ٹوپیاں پارکر دیتے۔ جس دوست کو ریل پر پہنچانے جاتے ادھر ریل چلی اور انہوں نے اس کی ٹوپی اچک لی۔ ٹوپی اتارنے کو پگڑی اچھالنا کہتے۔ خیر شبابؔ صاحب تو مجسم شاعر تھے۔ برابر والے کمرے میں نحیف صاحب رہتے۔ پیشے کے اعتبار سے پہلوان تھے۔ بزور بازو کلام سناتے۔ تیسرے کمرے میں نخیچر صاحب رہتے زیادہ تر نثر میں کلام سناتے۔ ہم سے خفا رہتے۔ ادھر انہوں نے نظم سنائی اور ہم نے اس کی نثر کر دی۔ ایک دن انہوں نے ایک نظم سنائی ہم نے اسی روانی سے حکیم لقمان کی ’’سارس اور لومڑی‘‘ والی کہانی سنادی اس کے بعد انہوں نے ہمارے کمرے میں اپنا داخلہ بند کر دیا۔ چوتھے کمرے میں صلیب ؔ صاحب رہتے تھے جو دیکھنے میں اس قدر مہیب نظر آتے کہ یقین تھا کہ ضرور کسی دن ہمیں مصلوب کر دیں گے۔ صلیبؔ صاحب بے حد پڑھے لکھے مگر سوائے شاعر کے سب کچھ تھے۔ بھیڑ میں تنہائی اندر کے آدمی اور رقیق اشیاء جیسے پگھلتے ہوئے احساسات، بہتے ہوئے خیالات اور جمتے ہوئے جذبات پر الجبرا جومیٹری قسم کے اشعار سناتے۔ پانچویں کمرے میں گنہگاؔر توبہ پوری رہا کرتے جن پر مذہب کے شدید دورے پڑا کرتے۔ شعر پڑھتے تو معلوم ہوتا کہ خطائیں بخشوا رہے ہیں انہیں کے برابر چھٹے کمرے میں پہیا ؔ غریب آبادی رہتے اس شدت سے بھوک پیاس کا ذکر کرتے کہ بھوکے تک بھاگ کھڑے ہوتے۔ کبھی وہ ریل کا پہیا جام کرتے کبھی ہوائی جہاز کا غرض ان کی شاعری بالکل جام تھی۔ ساتویں کمرے میں نقادؔ دہلوی رہا کرتے۔ بڑے نستعلیق، شین قاف اور نک سنک سے درست ہر طرحی غزل میں قفس کی تیلیوں اور صیاد کا ذکر کچھ اس انداز سے کرتے کہ ڈر لگتا کہیں شعر خوانی کے دوران پھڑپھڑا کر دم نہ توڑ دیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘۱
۔۔۔
۱۔  ماہنامہ ایوان اردو۔ دہلی۔ ماہ جولائی ۱۹۸۹ء 

۲۶۔ رضا نقوی ماہی

	رضا نقوی ایک ابھرتے ہوئے انشائیہ نگار ہیں۔ انہوں نے کئی مضامین بھی لکھے اور ان کی تحریر میں کہیں کہیں پطرس بخاری کی جھلک دیکھنے کو ملتی ہے لیکن افسوس ہے کہ ان کے زیادہ مضامین و انشائیہ منظر عام پر نہیں آئے۔ 
	مندرجہ ذیل انشائیہ طرحی مشاعروں پر لکھا گیا ہے جو ماہ جولائی ۱۹۸۹ء میں ماہنامہ ایوان ِ اردو دہلی میں شائع ہوا تھا۔ 
	’’۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بہرکیف ان طرحی مشاعروں سے اتنا فائدہ تو ضرور ہوا کہ لغت مرتب کرنے والوں کی آمدنی میں اضافے کی صورت نکل گئی۔ غزل کی قبائے تنگ کے لیے ہر قسم کے قافیے اور کہاں ملتے؟ دوسرے یہ کہ شعراء میں جذبۂ تقابل و تسابق کی وجہ سے مشاعروں میں گہما گہمی، سامین کی دلچسپی کا سبب بھی بنی۔ شعراء کے ساتھ ساتھ سامعین بھی مختلف ٹولیوں میں بٹ گئے۔ کبھی ایطائے جلی اور ایطائے خفی کی بحثیں ہیں تو کبھی شتر گرے پر گرفت، کبھی کسی لفظ کے گرنے پر اعتراض تو کبھی تقطیع کی گردان، یہ سب مناظر جنہیں عرف عام میں شاعرانہ چشمک کہتے ہیں اور کہاں دیکھنے کو ملتے ہیں۔ یہ اور بات ہے کہ بعض اوقات یہ چشمکیں میدان کارزار کا نمونہ پیش کرتیں۔ کبھی مصرعے لڑ جاتے، کبھی اشعار لڑ جاتے اور کبھی کبھی یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ غزلیں بھی لڑ جاتیں۔ کبھی یہ بھی ہوا کہ آپس میں شعراء لڑ جاتے۔ 
	۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اب دوسرے مشاعرے کا حال سنیے۔ ایک مشاعرے میں حضرت جگر مراد آبادی کی غزل سے ایک نوجوان شاعر کی پوری غزل لڑ گئی۔ جب سر محفل جگر صاحب نے ٹوکا کہ یہ تو میری غزل پڑھی جا رہی ہے جو دہلی ریڈیو سے ایک ماہ قبل نشر کی جاچکی ہے تو نوجوان شاعر نے ابروؤں پر بل ڈال کے کہا کہ خاموش رہیے، آپ مجھے درمیان میں ٹوک کر میری توہین کر رہے ہیں۔ اس کے بعد پوری غزل ترنم سے سنائی اور یہ کہتا ہوا مشاعرہ گاہ سے واک آؤٹ کر گیا کہ آج کل کے پرانے شعراء نئے شاعروں کے منہ آتے ہیں اور یہ نہیں چاہتے کہ ان کے چراغ کے مقابل دوسروں کا چراغ جلے۔ اصل واقعہ یہ تھا کہ نوجوان شاعر کے ایک دوست نے ریڈیو پر جگر کی غزل سنی تھی۔ جس کے تقریباً کل اشعار انہیں یاد تھے۔ اس غزل کو لکھ کر نوجوان شاعر کو یہ کہتے ہوئے دے دیا تھا کہ تازہ غزل ہے ذرا جم کر مشاعرے میں پڑھنا۔ جب دوسرے دن بے چارے شاعر کو اصل حقیقت معلوم ہوئی تو پھر کی تھا اپنے دوست کے گھر جا کر زبانی تکرار کے بعد دھینگا مشتی پر اتر آیا۔‘‘۱
 ۔۔۔۔
۱۔ ماہنامہ ایوان اردو۔ دہلی۔ ۱۹۹۰ء

۲۷۔ عبدالرحیم نشترؔ

	عبدالرحیم نشترؔ نے کئی انشائیے لکھے ہیں۔ مندرجہ ذیل اقتباس ان کے انشائیہ ’’دال‘‘ سے لیا گیا ہے۔ جو ماہنامہ ایوان اردو دہلی ماہ نومبر ۱۹۸۹ء میں سے لیا گیا ہے۔ 
	’’دال غریبوں کی من پسند خوراک ہے اسے روٹی یا چاول کے ساتھ کھایا جاتا ہے لیکن جس دن روٹی یا چاول ندارد ہو تو صرف دال بھی کھائی جا سکتی ہے(اگر موجود ہو!) ویسے حقیقت یہ ہے کہ دال کھانے سے زیادہ پینے کی چیز ہے۔ دالوں میں دال توہر کی دال۔ جو اپنی مٹھاس اور لذت کی وجہ سے بے حد مقبول اور غریبوں کا من بھاتا کھانا ہے۔ توہر کی دال کے بغیر نہ چاول مزا دیتا ہے اور نہ ہی روٹی۔ بچے تو دال کے بغیر نوالہ بھی نہیں اٹھاتے مگر جب سے دال کے داموں نے آسمان چھوٹا شروع کیا ہے بچوں کیا بوڑھوں کو بھی وہ دکھائی نہیں دیتی۔ پہلے دال کو گوشت پر ترجیح دی جاتی تھی۔ اب گوشت کو دال پر ترجیح دی جاتی ہے۔ ویسے بعض لوگ گوشت تو گوشت گھر کی مرغی کو بھی دال کے برابر ہی سمجھتے ہیں۔ آخر دال بھی تو گلانی پڑتی ہے اور یہ تو سب ہی جانتے ہیں کہ دال ہر جگہ گلا نہیں کرتی۔ لیکن وہ جو خدا کے فضل سے ہوشیار بندے ہوتے ہیں وہ کہیں بھی اپنی دال گلا لیتے ہیں اور دال روٹی کھا کر پر بھو کے گن گاتے ہیں۔ پہلے یوں تھا کہ دال گلانے کے لیے گھر کی فضا کافی تھی۔ مگر اب یہ گھریلو فضا سڑکوں پر، بازاروں میں، گلیوں میں، تھیٹروں میں، سرکاری اسپتالوں اور سٹی بسوں تک میں در آتی ہے۔ چاہے آپ خریدیں، اچک لیں، یا چپکے سے دبا لیں۔ بس تھوڑا سا حوصلہ ضروری ہے، دال گلتے دیر نہیں لگتی۔ بہت سے نوجوان گلاتے گلاتے بگھار بھی لیتے ہیں اور نہیں جانتے کہ بگھارنے کے دائمی حقوق بحق نسواں محفوظ ہیں۔ چنانچہ اس بھول کی پاداش میں تا عمر بگھار چلتا رہتا ہے اور انجام کار دال پتلی ہو جاتی ہے اور اتر جاتی ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘۱
۔۔۔۔۔
۱۔   دال۔ ماہنامہ ایوان اردو دہلی۔ نومبر۱۹۸۹ء


۲۸۔ عظیم اقبال

	عظیم اقبال نے بھی کئی انشائیے لکھے ہیں۔ ان کی روانی اور سلاست ادب میں ایک اعلیٰ مقام رکھتی ہے۔ ان کی تحریر کا یہ شگفتہ نمونہ ملاحظہ کیجیے:
	’’ویسے تو داڑھی کو مردانگی کی علامت سمجھا جاتا ہے اور کچھ لوگوں کے چہرے پر یہ پھبتی بھی خوب ہے۔ لیکن ہر زمانے میں ہر ملک میں داڑھی کے دشمن موجود رہے ہیں جو داڑھی اور داڑھی والوں کی مخالفت کرتے رہے ہیں۔ جہاں تک داڑھی کی تاریخ کا سوال ہے انگریزی اور فرانسیسی ادب میں تو داڑھی پر متعدد کتابیں لکھی گئیں۔ لیکن ہندوستان میں داڑھی کے بارے میں کوئی کتاب نہیں ہے۔ ہندوستان کے زیادہ تر مسلم حکمراں داڑھی والے تھے۔ اس بات کی شہادت موجود ہے کہ پہلی بار شاہ آباد میں ہمایوں کی داڑھی پر استرے کا استعمال کیا گیا۔ مسلمانوں کے لیے یہ جشن کا موقع تھا۔ کیونکہ بادشاہ کبھی داڑھی بناتے ہی نہ تھے۔ اکبر نے جب داڑھی نہ رکھنے کا فیصلہ کیا۔ تب ہی سے داڑھی نہ رکھنے کا بھی چلن عام ہو گیا۔ داڑھی کے دشمن ہر زمانے میں رہے ہیں۔ سکندر اعظم داڑھی نہیں رکھتا تھا اور اس کا کوئی سپاہی داڑھی نہیں رکھ سکتا تھا وہ نہیں چاہتا تھا کہ اس کا کوئی سپاہی دشمنوں کے ہاتھوں میں پڑ کر اپنی داڑھی نچوائے۔ اس کی فوج میں متعدد حجام تھے جو پوری فوج کی داڑھی بنایا کرتے تھے۔ روم کا ایک شہنشاہ بھی داڑھی کے خلاف تھا۔ اس نے پوری ریاست میں کسی بھی فرد کے داڑھی بڑھانے پر پابندی لگا رکھی تھی۔ کہا جاتا ہے کہ داڑھی سے چڑنے کی وجہ یہ تھی کہ اس کا باورچی داڑھی والا تھا اور اس وجہ سے اکثر اس کے کھانے میں داڑھی کے بال نکلا کرتے تھے۔ کسی بات پر ایک بار کھانا کھاتے وقت شہنشاہ اتنا ناراض ہوا کہ اس نے فوراً باورچی کو بلوایا اور اس کی داڑھی میں آگ لگا دی۔ بعد میں اسے ملک بدر کر دیا۔ جب شاہ داؤد نے داڑھی کی یہ رسوائی دیکھی تو انہیں بہت برا لگا اور انہوں نے حناط کے خلاف جنگ چھیڑ دی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘۱
۔۔۔
۱۔   داڑھی۔ عظیم اقبال۔ ماہنامہ ایوان اردو دہلی۔ ماہ جون ۱۹۸۹ء
 
۲۹۔ اقبال مجید اللہ

	اقبال مجید اللہ نے کئی مضامین لکھے ہیں۔ چند ایک انشائیے بھی لکھے جنہیں مختلف رسالوں نے جگہ دی ہے۔ مندرجہ ذیل انشائیے میں مضمون کا انداز زیادہ محسوس ہوتا ہے۔ 
	’’۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہمارے ایک قریبی دوست جنہیں ہم نہایت عزیز رکھتے ہیں جو اپنے مزاج کے اعتبار سے اپنے حلقہ احباب میں شمشیر بے نیامی کے نام سے جانے جاتے ہیں کہ گراں قدر مشوروں کا بڑا دخل ہے۔ شمشیر بے نیامی کے ہر  مشورہ کا ہم اپنی زندگی اور بالخصوص ادب کے معاملات میں نہ صرف احترام کرتے ہیں بلکہ مقدور بھر اس پر عمل پیرا ہونے کی کوشش بھی کرتے ہیں۔ چونکہ ان سے ہمارا رشتہ کافی پرانا ہے اور وہ ہمارے بچپن اور لڑکپن کے ساتھی ہیں اور اسی وجہ سے ہم ان کی کوئی بھی بات ٹال نہیں سکتے اور اس بات کا انہیں بھی بخوبی احساس ہے۔ شمشیر بے نیامی ہماری اس عادت سے بخوبی واقف ہیں کہ ہمیں مطالعہ کا بے حد شوق ہے اور ہم اپنا زیادہ وقت اسی کی نذر کرتے ہیں۔ اپنے اس شوق کو پورا کرنے کی خاطر ہم نے کثیر تعداد میں کتابیں اور رسائل جمع کر رکھے ہیں اور اپنے چھوٹے سے کمرہ میں ان کا انبار لگا رکھا ہے۔ ان کتابوں سے ہمارا چالیس سال کا تعلق ہے۔ یہ کتابیں زندگی میں بہترین رفیق ثابت ہوئی ہیں اور ہم نے ان سے بہت کچھ سیکھا ہے۔ شمشیر اس حقیقت سے بھی واقف ہیں انہیں کتابوں کو لے کر اکثر شریک حیات سے ہماری ٹھنی رہتی ہے جنہیں اب ان کتابوں کا کوئی مصرف نہیں سمجھ آتا وہ ان کتابوں سے ہمارا جو جذباتی لگاؤ ہے اس کا انہیں خاطر خواہ احساس نہیں بلکہ وہ اس ڈھنگ سے سوچتی ہیں کہ کیسے ان کتابوں کو ہٹا کر دوسری ضروری اشیاء رکھنے کے لیے جگہ بنائی جائے اور کیونکر ان کتابوں کے انبار سے چھٹکا رہ حاصل کیا جا سکے۔ اس بار نئے سال کے شروع میں شمشیر بے نیامی نے یہ مخلصانہ مشورہ دیا کہ تم عمیق مطالعے اور کتب بینی کے بجائے لکھنے کی طرف توجہ دو اور اپنی صلاحیتیں ں جو کچھ باقی رہ گئی ہیں اس کے لیے استعمال کرو۔ اپنی اس رائے کو اور زیادہ مستحکم بنانے کے لیے انہوں نے یہ دلیل پیش کی کہ ہماری ادبی تاریخ میں سنجیدہ قاری کی نہ کوئی شناخت ہوتی ہے اور نہ ہی اسے کسی عنوان سے یاد رکھا جاتا ہے۔ زیادہ سے زیادہ اسے اس حیثیت سے جانا جاتا ہے یا اس کا تعارف ادبی حلقوں میں اس طرح کروایا جاتا ہے کہ یہ ادب کے سنجیدہ قاری ہیں اور ادب و شاعری پر ان کی گہری نظر ہے۔ برخلاف اس کے اگر تمہاری کوئی تحریر خواہ وہ کسی بھی معیار کی ہو کسی رسالہ یا اخبار میں شائع ہو جاتی ہے تو اس کے ہزاروں پڑھنے والے تمہارے نام سے واقف ہو جاتے ہیں اور تمہارا شمار بحیثیت ایک تخلیقی فنکار کیا جانے لگتا ہے تم یہ بخوبی جانتے ہو کہ سنجیدہ قاری اور تخلیقی فنکار میں کیا فرق ہوتا ہے۔ شمشیر بے نیامی کے اس گراں قدر مشورہ کو سن کر تھوڑی دیر کے لیے ہم بھی ایک عجیب سی کیفیت سے دوچار ہو گئے جسے لفظوں میں بیان کرنے سے ہم قاصر ہیں ‘‘۱
۔۔۔۔
۱۔   بس ذرا انتظار کیجیے۔ اقبال مجید اللہ۔ ماہنامہ بیباک۔ مارچ ۲۰۱۰ء


۳۰۔ ڈاکٹر طارق کفایت

	ڈاکٹر طارق کفایت نئے لکھنے والوں میں ایک نئے ابھرتے انشائیہ نگار ہیں۔ ان کی تحریروں میں شگفتگی، لطافت اور روانی پائی جاتی ہے۔ ان کا یہ خوبصورت انشائیہ ’’ادب سے راہ فرار‘‘ ملاحظہ کیجیے اور دیکھئے کہ آج بھی ان کی تحریر میں کتنی شگفتگی پائی جاتی ہے:
	’’۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اپنے فالج زدہ ذہن کے ساتھ ہی ہم نے اردو اکادمی کے ممبر سے فوراً سے پیشتر اپنا ہاتھ چھڑایا اور پوچھا ’’یہ اردو اکادمی کیا بلا ہے بھائی؟‘‘ ارے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اردو اکیڈمی کا ممبر اچھنبے میں آ گیا۔ کہنے لگا۔ آپ کیسے اردو شالا کے مکھیہ ادھیاپک (اردو اسکول کے صدر مدرس) بن گئے۔ یہ نہیں جانتے کہ اردو اکیڈمی کیا ہوتی ہے۔ ہمارا پا رہ اتنا چڑھ گیا کہ ہم نے آؤ دیکھا نہ تاؤ۔ یکدم اولے برسانے والے بادل کی طرح برس پڑے۔ ’’آپ کیسے اردو اکیڈمی کے ممبر بن گئے یہ جانتے کہ ادیب کسے کہتے ہیں۔ ادب سے آپ کا واسطہ کیا ہے۔ کیا آپ نے اردو ادب کے لیے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘
	’’ابے او۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ادب سے بات کر۔ ‘‘ ممبر آف اردو اکیڈمی اپنی اوقات پر آ گیا۔ اور ہماری طرف شہادت کی انگلی اٹھا کر ہمیں اپنی اوقات اس انداز سے دکھانے لگا کہ ہم گھبرا کر کہہ اٹھے۔ ’’بے شک آپ کے سوا کوئی اردو اکادمی کا ممبر نہیں بن سکتا۔ میں شہادت دیتا ہوں کہ آپ ہی اردو اکادمی کے ممبر ہیں۔ آپ کے سوا کوئی بھی اردو اکادمی کی ممبر شپ کے لائق ہو ہی نہیں سکتا۔ ‘‘
	اتنا کہہ کر ادیب نے ’’ادب‘‘ سے سر جھکا کر نہیں جان بچا کر راہ فرار اختیار کی۔ ‘‘۱
۔۔۔۔
۱۔   ادب سے راہ فرار۔ محمد طارق۔ ماہنامہ شگوفہ مئی ۲۰۱۰ء

۳۱۔ ناوک حمزہ پوری

		ناوک حمزہ پوری کی تحریر شگفتگی کا آئینہ ہوتی ہے۔ مختلف موضوعات پر اپنا قلم اٹھاتے ہیں۔ مندرجہ ذیل اقتباس ملاحظہ کیجیے:
	’’بیشتر لوگ یہی کہتے سنے جاتے ہیں کہ روزگار آج کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ فی الواقع یہ صحیح نہیں۔ روزگار کا حصول کوئی مسئلہ نہ کل تھا نہ آج ہے۔ سب سے بڑا مسئلہ اگر واقعی کچھ ہے تو وہ عقل کی کمی کا ہے۔ عقل ہو تو ہمارے آس پاس روزگار کے بہتیرے مواقع ہیں۔ مشکل یہ ہے کہ ہم خود تو کچھ کرتے نہیں سرکار کے بھروسے بیٹھے ہیں۔ یہ ٹھیک ہے کہ ہر پارٹی چناؤ سے پہلے یہ وعدہ کرتی ہے کہ وہ روزگار کے مواقع پیدا کرے گی۔ لیکن جیسے ہی کسی پارٹی کی یا مختلف و متعدد پارٹیوں کی ملی جلی سرکار شپتھ گرہن کر لیتی ہے اسی لمحے چناؤ سے پہلے کئے گئے اس کے تمام وعدوں کو گرہن لگ جاتا ہے۔ اب یہ قصور تو آپ کی عقل کا ہے نا کہ آپ نے شپتھ پر تو بھروسہ کر لیا گرہن کا مفہوم ہی نہیں سمجھا۔ 
	۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تو میرے عزیز! کہنا یہ چاہتا ہوں کہ آپ ’’جی کے‘‘ کی موٹی موٹی کتابوں میں سر کاہے کو کھپا رہے ہیں ؟ یہ کتابیں اسی لیے بنائی گئی ہیں، یہ امتحانات اسی لیے لئے جاتے ہیں کہ آپ کو پیدا شدہ مواقع سے بھی محروم رکھا جائے۔ اور پھر یہ سوچئے تو اس ملک میں جہاں وزیر اعظم کے لیے جی کے کا کوئی نصاب مقرر ہے اور نہ وزیر اعلیٰ کے لیے، تو وہاں کلرکی کی نوکری کے لیے جینے کی کیا تک ہے؟۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘ ۱
۔۔۔۔
۱۔   کیرئیر گائیڈنس۔ ناوک حمزہ پوری۔ 

۳۲۔ حمید عادل

	حمید عادل نے کئی انشائیے لکھے اور ہمیشہ حالات حاضرہ کو مد نظر رکھا۔ ان کی تحریروں نے کئی سچے واقعات کی گہرائیوں کو قارئین کے سامنے پیش کیا۔ مندرجہ ذیل انشائیہ وزیر اعظم مرحوم نرسمہا راؤ کو مد نظر رکھ کر لکھا گیا۔ ان کی تحریر میں بلا کی ظرافت اور نشتریت پائی جاتی ہے۔ 
	’’زو کی ایک شیرنی کی کھال ادھیڑنے کے دل دہلا دینے والے واقعے کو کچھ ہی دن گزرے تھے کہ ملک میں ایک اور شیر کی کھال ادھیڑنے کا واقعہ پیش آیا۔ مگر اس بار یہ شیر کسی زو کا بے قصور و بے زبان شیر نہیں تھا۔ بلکہ یہ ایک بے زبان اور قصور وار سیاسی شیر تھا۔ جی ہاں ! ہمارا اشا رہ نرسمہا راؤ جی کی طرف ہی ہے۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں ’’نرسمہا‘‘ کے معنی شیر کے ہیں اور یہ سیاسی شیر آدم خور کی طرح ’’اقتدار خور‘‘ بن چکا تھا۔ چنانچہ اس سنگین جرم کے تحت اس شیر کی کھال بر سر عام ادھیڑ دی گئی اور شیرنی ساکھی کی طرح اس شیر کی بھی سیاسی موت واقع ہو گئی۔ 
	یقیناً سیاست میں کب کس کا منہ کالا ہونے والا ہے اور کب کس کے گھر اجالا ہونے والا ہے کچھ کہا نہیں جا سکتا ہے۔ دوستو ایک وقت تھا ہمارے بزرگ سیاست داں محترم عزت مآب وی پی نرسمہا راؤ جی ہندوستان پر راج کیا کرتے تھے۔ ان کے اشارے پر پاٹی ورکرس سر دھڑ کی بازی لگانے تیار ہو جاتے تھے۔ ان کی کار کے آگے پیچھے ان کے چمچے شہد کی مکھیوں کی طرح بھنبھنایا کرتے تھے۔ اور خود راؤ صاحب اپنے مخصوص انداز بیاں کے ذریعہ جس میں وہ بار بار اپنے ہونٹوں پر زبان پھیر پھیر کر تقریر کیا کرتے تھے، آج اس قدر ذلیل و رسوا ہو چکے ہیں کہ ان کی بولتی بند ہو چکی ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔‘‘۱
۔۔۔۔۔
۱۔   ایک اور شیر کی کھال ادھیڑی گئی! حمید عادل

۳۳۔ محمد بدیع الزماں

	محمد بدیع الزماں زبان پر بہت عبور رکھتے ہیں۔ الفاظ کی مناسب جماوٹ اتنی خوبصورتی سے کرتے ہیں کہ لگتا ہے مانو کسی مالے میں موتی خود بخود پرونے کے لیے چلے آ رہے ہیں۔ کبھی کبھی تو ان کی تحریر محمد حسین آزاد کی نیرنگ خیال سے میل کھاتی ہے۔ مندرجہ ذیل انشائیہ میں انہوں نے غزل کی تاریخ اتنے انوکھے انداز سے بیان کی ہے کہ لگتا ہی نہیں کہ وہ غزل کسی صنف ادب کی پوری معلومات دے رہے ہیں۔ ان کی تحریر کی خوش اسلوبی اور روانی بھی ملاحظہ کیجیے:
	’’بندہ نواز مجھے غزل کہتے ہیں۔ میں ذہن ملی کی آئینہ دار ہوں۔ میں عالم رنگ و بو میں پروان چڑھی۔ عطر سہاگ و حنا تن بدن میں بسا، خو خصلت میں رچا، بانکی، ترچھی، البیلی، کج، کلاہ، دلربا، عشوہ گر، غمزہ تراش، میرے ہر بول میں کہروے کا رنگ، ہر قول میں جھمکے کی تال، پکھواج کی گمک، طبلہ کی گونج، طاؤس مورچھل، سازنگی کے رنگ، تان پورہ کے ھنگ، دھن کی پکی، ٹھاٹ کی پوری، قول کی جان، ترانہ کا ایمان، چمکاریوں سے یہ آہو چشم لڑائے، محفل کی رونق، بزم کی زینت، ہر دلعزیز، تیکھی چتون، اونکھیاادا، نظریں منہ سے بولے میری توصیف میں تو یہ سب ہی کے کہے ہوئے ہیں۔ 
	۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مجھ میں ایک انداز دلیری اور طرز دلربائی ہے۔ اس انداز دلبری او طرز دلربائی سے میں نے ہر دور میں دلوں کو لبھایا ہے۔ ہر فرد پر ان کے اثرات یکساں ہوا کیے ہیں۔ عوام و خواص، غریب و امیر سب کے دامن دل کو ہم نے ایک مخصوص انداز میں اپنی طرف کھینچا ہے۔ صوفیوں کی محفلوں میں میں نے ہنگامے برپا کیے۔ رندوں اور قلندروں کو میں نے اپنا گرویدہ بنایا۔ زاہدوں اور پاکبازوں کے دلوں میں بھی میں محل نشیں ہوئی ہوں۔ یہ سب صرف میری تاثیر اور ہمہ گیری کی وجہ سے ممکن ہوسکا۔ ایک ایسی ہمہ گیری جو قومی ذہانت و فطانت کے ہاتھوں میں وجود میں آتی ہے۔ ‘‘۱
۔۔۔۔
۱۔   غزل کی کہانی۔ غزل کی زبانی۔ محمد بدیع الزماں 

۳۴۔ شرون کمار ورما

	شرون کمار ورما اپنی تحریر کی سلاست سے جانے پہچانے جاتے ہیں۔ مندرجہ ذیل تحریر میں انہوں نے کھچڑی جیسے روزمرہ کے کھانے کو اس طرح بیان کیا کہ اس کی لذت دوگنی ہو گئی اور پڑھنے والے انگلیاں چاٹتے رہ گئے۔ 
	’’کھچڑی وہ چیز ہے جو کہیں نہ کہیں کسی نہ کسی صورت میں پکتی رہتی ہے لیکن ضروری نہیں کہ کھائی بھی جائے۔ کچھ کھچڑیاں صرف پکائی جاتی ہیں کھائی نہیں جاتی۔ یہ تاریخ میں محفوظ ہو جاتی ہیں۔ 
	کھچڑی کسی کے فائدے کے لیے پکائی جائے یا کسی کے خلاف، ہانڈی میں پکے یا ذہن میں، بس پکتی رہتی ہے۔ کوئی سماج، کوئی معاشرہ ایسا نہیں جہا ں کھچڑی نہ پکتی ہو۔ جسمانی خاص طور پر عارضہ شکم میں وید، حکیم اور ڈاکٹر کھچڑی تجویز کرتے ہیں۔ ذہنی طور پر بیمار معاشرے میں تو یہ ہر وقت پکتی رہتی ہے۔ پکانے والے خود ہی یہ نسخہ تجویز کرتے ہیں۔ ذہنوں میں پکنے والی کھچڑی سے کبھی کسی کو فائدہ یا افاقہ نہیں ہوا۔ یہ دراصل دوسروں کو نقصان پہنچانے اور ذہنی تلذذ کے لیے پکائی جاتی ہے۔ اکثر پکانے والے خود ہی اس کی زد میں آ جاتے ہیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘۱
۔۔۔۔
۲۔  کھچڑی۔ شرون کمار ورما۔ 

۳۵۔ فضل حسنین

	فضل حسنین نے کئی انشائیے لکھے۔ ذیل کے انشائیہ میں انہوں نے ادبی حلقوں میں صرف نام کمانے کی غرض سے آئے حضرات کا دل کھول کر مذاق اڑایا ہے۔ ساتھ ہی سیمینار منعقد کرانے والوں اور اس میں شرکت کرنے والوں کی بھی ٹانگ کھینچی ہے۔ ظرافت اور طنز کے تیر و نشتر نے ان کے اس انشائیے کو بہت حسین بنا دیا ہے۔ ملاحظہ کیجیے:
	’’۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ادبی سیمینار یا سمپوزیم کے انعقاد کے سلسلے میں سب سے بڑا مسئلہ موضوع کے انتخاب کا ہوتا ہے کیونکہ ماہرین سیمینار کا عقیدہ ہے کہ عنوان جس قدر خشک ہو گا سیمینار کی کامیابی کے امکانات اسی قدر روشن ہوں گے۔ یہی وجہ ہے کہ سیمینار کا موضوع منتخب کرتے وقت ماہرین ادب اپنی تمام تر لیاقت صرف کر دیتے ہیں۔ خدا خدا کر کے جب یہ منزل سر ہو جاتی ہے تو ایسے مقالہ نگاروں اور مقررین کی تلاش شروع ہوتی ہے جو خشک سے خشک تقریر کرنے میں مہارت رکھتے ہوں۔ چونکہ خالصتاً خشک قسم کی تقریر کرنا اتنا آسان بھی نہیں اس لیے ان مخصوص مقررین کے دستیاب نہ ہو پانے کی صورت میں اکثر سیمینار ملتوی ہوتے رہتے ہیں۔ کیونکہ اس معاملے میں اگر ذرا بھی چوک ہوئی اور کسی مقرر نے مغالطے میں ذرا بھی دلچسپ قسم کی تقریر کر دی تو سمجھئے کہ بس سیمینار گیا اور منتظمین کی نا اہلی کا بھانڈا پھوٹا۔ اس کام کے لیے عموماً اعلیٰ درسگاہوں کے اساتذہ کی خدمات لی جاتی ہیں جو ایک ہی طرح کا کورس بیس تیس برس تک مسلسل پڑھاتے رہنے کے باعث کسی موضوع پر ایک ہی تقریر بار بار دہرانے میں ذرا سی قباحت محسوس نہیں کرتے۔ جس طرح مشاعروں کے لیے شعراء کو مدعو کرنے میں گروہ بندی کا خاص خیال رکھا جاتا ہے اسی طرح اس کام میں بھی اب اس پہلو پر بھی خصوصی توجہ دی جانے لگی ہے۔ ان محفلوں کا تعلق بھی بہرحال ادب سے ہی ہوتا ہے۔ ان محفلوں کے مقررین کے لیے دوسری بات جس کا لحاظ رکھنا اشد ضروری ہے وہ یہ کہ ان میں ایک دوسرے کی نفی کرنے کا فن باہم عروج پر ہونا چاہیے۔ ورنہ اگر ان کا پیش رو کسی مخالفت کے بغیر صاف بچ کر نکل گیا تو پھر سیمینار اور سمپوزیم کا مقصد ہی کیا رہ جائے گا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘۱
۔۔۔۔۔
۱۔  محفل خواب۔ فضل حسنین

۳۶۔ ڈاکٹر مناظر عاشق ہرگانوی

	ڈاکٹر مناظر عاشق ہرگانوی اپنی تحریر میں لطافت پر عبوریت رکھتے ہیں۔ مندرجہ ذیل انشائیہ میں انہوں نے بالوں کے جھڑنے کی پریشانی کو نہایت خوبصورت پیرایہ میں پیش کیا ہے۔ قارئین کے لبوں پر بے اختیار مسکراہٹ آ جاتی ہے۔ کیونکہ تقریباً ہر دو سرا شخص اس مسئلہ سے پریشان ہے۔ ملاحظہ کیجیے:
	’’گزشتہ دو ڈھائی سال سے میرے سر کے بالوں نے اپنے مادر وطن یا جنم بھومی کے خلاف بغاوت شروع کر دی ہے وہ آہست آہستہ ناطہ توڑ رہے ہیں۔ 
	شروع شروع میں جھڑتے ہوئے بالوں سے ہو رہے گیپ کو ڈھکنے کی کوشش کرتا رہا۔ لیکن جلد ہی میں سمجھ گیا کہ چاند سا مکھڑا چھپانا تو آسان ہے مگر چاند سا سر چھپانا مشکل ہے۔ اپنے بالوں کا جھڑنا شروع ہونے کے بعد یہ راز کھلا کہ بال بڑھاؤ ی بال اگاؤ تیل والے ہمیشہ یہ دعا کرتے رہتے ہیں کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کے بال جھڑیں۔ 
	میں نے یہ بھی محسوس کیا ہے کہ جب سے میرے بالوں میں جھڑنے کا مقابلہ شروع ہوا ہے میرے جاننے والے کرانہ اسٹور کے مالک بہت خوش نظر آنے لگے ہیں۔ انہیں اپنی دکان کی الماریوں میں رکھے بال بڑھاؤ تیلوں کا مستقبل تابناک نظر آنے لگا ہے۔ لیکن بال بڑھانے کے ایسے طریقے کے جنجال میں اب تک میں پھنسا نہیں ہوں۔ بالوں کی ایسی ہی خوراک کے اشتہار میں میں نے ایک نصیحت بھی پڑھی تھی۔ ’’اپنے بالوں میں زور سے کنگھی کیجیے۔ اگر آپ کی کنگھی میں بال آ جائیں تو سمجھ جائیے کہ آپ کے بال جھڑ رہے ہیں۔ ‘‘ میں سمجھتا ہوں کہ اس طریقے کے بعد ان ہی لوگوں کے بال نہیں جھڑیں گے جن کے بالوں کی جڑ میں سیمنٹ جما ہوا ہے۔ ایسا کون مائی کا لال ہو گا جو سر کے بالوں میں پوری قوت اور طاقت سے کنگھی کرے اور کنگھی میں ایک بال نہ آئے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘۱
۔۔۔۔
۱۔   داستان بال جھڑنے کی۔ مناظر عاشق ہرگانوی


۳۷۔ محسن انصاری

	محسن انصاری اپنے انشائیوں میں پند و نصیحت کے سہارے چلتے ہیں۔ ان کی زبان مں ے سلاست اور روانی پائی جاتی ہے۔ شگفتگی اور لطافت کے احساسات کم نظر آتے ہیں۔ حسب ذیل اقتباس ان کے ایک انشائیہ ’’پھول‘‘ سے لیا گیا ہے۔ جس میں کہیں کہیں مولانا الطاف حسین حالی اور سرسید احمد خان کی تحریروں کی جھلک دکھائی دیتی ہے۔ 
	’’اے ننھے پھول میں تیری لطافت کے قربان۔ تیری بھینی بھینی مہک سے میرا دل مست ہو جاتا ہے۔ تیرا رنگ دیکھ کر میری نظر کی زندگی ہو جاتی ہے۔ کتنی حیرت ہوتی ہے کہ تو لکڑی کے سینے سے پھوٹتا ہے۔ زمین سے پیدا ہوتا ہے۔ سوچتا ہوں کہ سب سے پہلا وہ کون سا پھول ہو گا وہ کرۂ زمین پر کھلا ہو گا۔ ہوائیں اس کی پاک خوشبو کو اپنے دامن میں لے کر اطراف و اکناف عالم میں پھیلا آئی ہوں گی۔ آہ کیا وقت ہو گا جب ہوا کے پیارے ہاتھ زمین کے پہلے پھول کو توڑنے کے لیے بڑھے ہوں گے۔ انسان نے اپنی ضروریات کے موافق ایجادات کیں۔ اپنا طرز معاشرت بدلا۔ پرانے اوزار موقوف کیے نئے آلات سے کام لیا۔ تہذیب کا معیار درجہ بدرجہ اونچا ہوتا گیا۔ تفریحات و  تعیشات بڑھتے رہے۔ مگر اے پھول تو ہر زمانے اور ہر ملک میں اسی عزت کا مستحق رہا۔ جو آج تیری ہے۔ تو ہمیشہ اسی نگاہ سے دیکھا گیا جس نگاہ سے آج کا شاعر تجھے دیکھتا ہے۔ تیرے دامن پر کوئی دھبہ نہیں لگا۔ تیری رعنائی میں کوئی فرق نہیں آیا۔ تو ہمیشہ اسی طرح حسین، نازک، شاداب اور رنگین رہا۔ کسی تہذیب اور کسی معاشرے نے تیرے وجود کو بیکار نہیں ٹھہرایا۔ ترا پیام مسرت لازوال ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘۱
۔۔۔۔
۱۔   پھول۔ محسن انصاری

۳۸۔ انوار انصاری

	انوار انصاری (رائچی بہار) کی تحریر سبک رفتاری، شگفتگی، روانی اور تحریر کی گہرائی لیے ہوئے ہے۔ ان کے انشائیے پڑھنے سے ایسا لگتا ہے کہ انشائیہ نگار کی خوش مزاجی اور شگفتہ طبعی اس کے باطن سے نکل کر ساری کائنات میں پھیل گئی ہے۔ ان کی تحریر کی لطافت اور شگفتگی ایک الگ ہی مزہ دیتی ہے۔ ’’بچ کے رہیے۔ خود سے‘‘ کا ایک اقتباس ملاحظہ کیجیے:
	’’جس طرح جھوٹ بولنے کے لیے عقل کی ضرورت ہوتی ہے اسی طرح خوشگوار زندگی گزارنے کے لیے بچ بچ کر رہنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ سچ پوچھا جائے تو آج کا دور ہی بچ کر رہنے کا ہے۔ چنانچہ یہی وجہ ہے کہ گھر میں باپ بیٹے سے بچ کر رہتا ہے، بیوی شوہر سے بچ کر رہتی ہے، اور پیچ و خم کے درمیان زندگی گزارتی ہے۔ پڑوسی اپنے پڑوسی سے بچ کر رہنے میں ہی اپنی عافیت سمجھتا ہے۔ ڈاکٹر مریض، وکیل موکل، استاد شاگرد، مالک مکان کرایہ دار، وزیر امیر، عاشق معشوق سبھی اس کوشش میں مصروف رہتے ہیں کہ بچ بچ کر چلاجائے اور پھونک پھونک کر قدم بڑھایا جائے تاکہ وہ ایک دوسرے کے دام میں گرفتار نہ ہوسکیں۔ دور حاضر میں جہاں الکٹرانک اور سائنسی ترقی نے انسانوں کو بے پناہ سہولتیں فراہم کی ہیں وہیں صاحب عقل لوگوں کے لیے خود سے بچ کر رہنے کی تلقین و ہدایت بھی کی گئی ہے۔ اب انسان کو دوسروں سے زیادہ ڈر نہیں، بلکہ خود اپنے آپ ہی سے اس کو خطرہ زیادہ ہے۔ اگر انسان خود سے نہ بچے اور اپنے آپ کی حفاظت نہ کرے تو اس کا جینا دشوار ہے۔ اگر زندہ رہنا ہے تو دوسروں کی غلطیوں پر نگاہ نہ ڈالیے بلکہ خود اپنے گریبان میں منہ ڈال کر دیکھئے اور خود ہی سے بچ بچ کر رہیے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘۱
۔۔۔۔
۱۔   بچ کر رہیے۔ خود سے۔ انوار انصاری۔ ماہنامہ شگوفہ۔ اگست ۱۹۸۹ء

۳۹۔ اختر بانو ناز

	اختر بانو بیڑ سے لکھتی ہیں۔ انہوں نے بہت کم انشائیے لکھے۔ ان کی تحریر میں شگفتگی کم اور طنز زیادہ ملتا ہے۔ مندرجہ ذیل اقتباس ان کے انشائیہ ’’کون جیتا ہے تیری زلف کے سر ہونے تک‘‘ سے لیا گیا ہے۔ 
	’’آہ کو ایک عمر درکار ہوتی ہے بار آور ہونے کے لیے۔ اس بات سے اگر سبھی اتفاق کرتے ہیں تو بے چارے غالبؔ (وہ بھی غالب خستہ) پر ہی کیوں حرف آئے۔ یہ بات الگ ہے کہ دشنام طرازی غالبؔ کا شیوہ نہ ہوتے ہوئے بھی انہوں نے دل پر پتھر رکھ کر کہہ دیا تھا۔ ع: گالیاں کھاکے بے مزہ نہ ہوا۔ یوں تو ’’زلف‘‘ نشانہ ستم ہر شاعر کے لیے ضرور بنی لیکن ہم فی الحال غالب ؔکے محبوب کی زلفوں میں الجھے ہوئے ہیں اس لیے ع: کوئی بتلاؤ کہ ہم بتلائیں کیا۔ اجنتا آرٹ کا تصور ہمارے ذہن سے محو نہیں ہو پاتا جیسے غالبؔ کا یہ شعر ہمارے شعور کے کینو س سے چپک گیا۔ 
بھرم کھل جائے ظالم تیری قامت کی درازی کا
اگر اس طرہ پر پیچ و خم کے پیچ و خم نکلے
	بس ہمہ وقت ہماری نظروں کے سانے اجنتا آرٹ کی وہ حسینہ رقصاں رہتی ہے جس نے اپنے سر پر نہ جانے کتنا اونچا جوڑا باندھا ہو گا؟ غور و فکر کا مرحلہ ہے کہ وہ زلفیں کتنی دراز ہوں گی کہ اس طرہ پر پیچ و خم کے اگر سارے پیچ و خم کھل جائیں تو محبوب کے قد میں زبردست کمی واقع ہو گی۔ یہاں غور طلب مسئلہ یہ ہے کہ غالب کا محبوب حسین تو ہے ہی (اس کے حسن کرشمہ ساز پر بھلا کس کافر کو شبہ کی گنجائش ہے) مگر اس نے اپنے قد کو ’’دراز‘‘ کر دکھانے کے لیے کتنی ہنر مندی سے طرہ پر پیچ و خم باندھا۔ آج کل کی پستہ قد حسینائیں اپنا قد دراز دکھانے کے لیے پینسل ہیل سینڈل پہنتی ہیں لیکن ان میں وہ ذہانت و فطانت کہاں جو غالبؔ کے محبوب میں ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘۱
۔۔۔۔
۱۔   کون جیتا ہے تیری زلف کے سر ہونے تک۔ اختر بانو ناز

۴۰۔ غلام محمد انصاری

	غلام محمد انصاری نے ہمیشہ سماج کے سلگتے مسائل پر اپنے انشائیے تحریر کیے ہیں۔ ان کی تحریر میں طنز و ظرافت کے ساتھ شگفتگی بھی پائی جاتی ہے۔ مندرجہ ذیل اقتباس میں ان کی تحریر میں جھلکتا طنز اور لطافت محسوس کیجیے جو ان کے انشائیے ’’بھیک مانگنا۔ ایک فن‘‘ سے لیا گیا ہے۔ 
	’’۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ انسان نے جہاں زندگی کی کئی جہتیں طے کیں کئی قلعے فتح کیے۔ کئی منازل کو شرمندہ تعبیر کیا وہیں بھیک مانگنے والا انسان ہی رہا۔ دنیا میں زندہ رہنا جتنا آسان ہے اتنا ہی مشکل ثابت ہوا ہے۔ زندہ رہنے کے لیے انسان نے مختلف پیشے اور طریقے اختیار کیے۔ بھیک مانگنا بھی ان ہی مجبوریوں میں سے ایک رہا۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اس دھندے میں پیسے لگانے کی سابقہ طور سے ضرورت نہیں ہوا کرتی۔ زندہ رہنا انسان کی ایک مجبوری ہے اور جب بات مجبوریوں کی آ جائے تو انسان اس کے اشاروں پہ ناچتا دکھائی دیتا ہے۔ کوئی با وقار تجارت، پیشہ ہو یا پھر بھیک مانگنا ہو۔ تینوں صورتوں میں انسان زندگی کی مجبوریوں سے دوچار دکھائی دیتا ہے۔ اور یہی مجبوریاں اس کے لیے ’’قدم بڑھاؤ‘‘ کا کردار ادا کرتی ہیں۔ 
	جس طرح ایک اہل ہنر اپنے فن کا استاد ہوتا ہے بالکل اسی طرح بھکاری بھی اپنے فن میں انتہائی درجے کی استادانہ صلاحیتیں رکھتا ہے۔ نہ صرف یہ کہ وہ مختلف انداز کی آوازیں لگاتا ہے بلکہ مختلف اوقات اور نوعیتوں کے تعلق سے وہ مختلف کلمے بھی رٹے رہتا ہے اور جس طرح ایک شاطر تاجر اس بات کا خیال رکھتا ہے کہ گاہک سے پیسہ کس طرح چھینا جا سکتا ہے بالکل اسی طرح ایک بھکاری سماج میں اپنا رول ادا کرتا ہے اور جب بات اس کی انا کی آ جائے تو انتہائی کنجوس آدمی کا بٹوہ بھی خالی کرانے کی طاقت رکھتا ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘۱
۔۔۔۔۔۔
۱۔   بھیک مانگنا۔ ایک فن۔  غلام محمد انصاری

۴۱۔ ایلاف خیری

	ایلاف خیری اپنی خوش مزاج تحریر کے ذریعہ قارئین کے چہرے پر مسکراہٹ لانے کے ہر ممکن جتن کرتے ہیں۔ آج فریج ہر گھر کی ضرورت ہے۔ لیکن فریج کی خریدی پر مشتمل تجربات کو جس دلچسپی کے ساتھ ایلاف خیری نے بیان کیا ہے یہ صرف ان ہی کا خاصہ ہے۔ ملاحظہ کیجیے۔ 
	’’۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ دیر گئی رات ایک پڑوسن صاحبہ تشریف لائیں۔ بتایا کہ وہ اپنے بھائی کی شادی سے لوٹی ہیں دعوت میں مرغ بہت بچ گیا تھا وہ ایک بڑی ڈش لے آئی ہیں اور یہ کہ ہم امانتاً اس مرغ کو اپنے فریج کی پناہ گاہ میں آرام فرمانے کا موقع دیں۔ وقتاً فوقتاً وہ اس مرغ سے استفادہ کرتی رہیں اور ہم اپنی ایمانداری سے مجبور یوں اس مرغ کی کسمپرسی کا حشر دیکھتے رہے۔ ایک صاحبہ ایک دعوت ولیمہ سے لوٹیں تو کھیر کی ایک بڑی ڈش لے کر آئیں اور حکم دیا کہ امانتاً اسے اپنے فریج کی زینت بنا لیں۔ یہ بڑی ٹیڑھی کھیر تھی ہم بری نظر کے قائل تو نہیں پھر بھی دعا کرتے رہے کہ اللہ کرے انہیں یہ کھیر پچ جائے۔ ابھی ہم فریج کے اندرونی مسائل سے ہی دوچار تھے کہ فریج کی کمپنی سے نوٹس ملا کہ ہم نے چونکہ فریج کی باقی اقساط ادا نہیں کیں لہٰذا دس تاریخ سے پہلے یہ رقم ادا کر دی جائے ورنہ فریج واپس لے لیا جائے گا اور عدالتی کاروائی کی جائے گی۔ اور ہم بہت پچھتائے فریج خرید کے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘۱
۔۔۔۔۔
۱۔  بہت پچھتائے فریج خرید کے۔ ایلاف خیری۔ 

۴۲۔ مانک ٹالہ

	مانک ٹالہ نے ممبئی شہر سے اپنے انشائیوں کی پھلجڑیاں چھوڑ رکھی ہیں۔ ان کی تحریر کی شگفتگی لاجواب ہے۔ وہ ساتھ ہی ظرافت اور طنز کا میدان بخوبی سنبھالے رکھتے ہیں۔ ’’مالکی اوتار‘‘ ان کا ایک بہترین انشائیہ ہے۔ اس کا اقتباس ملاحظہ فرمائیے:
	’’۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میں ادھر آنے سے پہلے کیلاش پربت بھی گیا تھا۔ گنگوتری پر پاروتی میا اپنی ساڑھی دھو رہی تھیں اور گنگنا رہی تھیں۔ ’’جے جے شیو شنکر۔ کانٹا لگے نہ کنکر‘‘ تو میں اپنی ہنسی روک نہ سکا اور کھلکھلا کر بولا۔ ’’میا آج آپ پتی بھکتی کے رس میں اتنی مگن ہیں کہ اس بے کار و ناکا رہ وجود کے آنے کا آپ کو پتہ بھی نہ چلا۔ ‘‘ میری بات سن کر پاروتی میا کے چہرے پر حیا کی سرخی دوڑ گئی، شرما کر بولیں۔ ’’ارے نہیں نارد مہاراج۔ یہ پھکتی بھجن نہیں ہے بلکہ کسی فلم کا گانا ہے۔ برسوں پہلے آپ کے بھولے شنکر ضد کر کے مجھے اس پربت سے نیچے اتار کر ایک بڑے سے نگر میں لے گئے تھے۔ ہم دونوں نے گنواروں کا بھیس بدل لیا تھا اور ’’نندی بیل‘‘ (شیو جی کی سواری) کو ٹوٹی پھوٹی سائیکل کے روپ میں ڈھال دیا گیا تھا۔ (نوٹ: نارد منی کے مکالموں کا تسلسل ہی ہے) اس پر سوار ہو کر پہنچے اور بلیک میں ٹکٹ خرید کر سینما ہال میں داخل ہوئے۔ وہاں ہیرو ہیروئن فلم کے پردے پر بھانگ پی کر یہ گانا گا رہے تھے اور ڈانس بھی کر رہے تھے۔ اسی دن سے تمہارے بھولے شنکر تانڈو برت بھول گئے ہیں۔ ‘‘۱
۔۔۔۔۔
۱۔   کالکی اوتار۔ مانک ٹالہ (ممبئی) شگوفہ۔ اپریل ۱۹۹۷ء۔ 

۴۳۔ وجاہت علی سندیلوی

	وجاہت علی سندیلوی کی تحریر سادہ اور پرکشش ہے۔ قاری کا ذہن وہ پوری طر ح قابو میں رکھتے ہیں۔ ان کے انشائیوں میں دلچسپی پوری طرح برقرار رہتی ہے۔ ان کے درج ذیل انشائیے ’’ہم کو مکان مل گیا‘‘ میں ان کی تحریر کی شگفتگی ملاحظہ کیجیے:
	’’۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پھر کیا تھا اونگھتے کو ٹھیلتے کا بہانہ۔ مہینوں کالج میں لکھائی پڑھائی بند رہی۔ ٹیچر گھر میں سوئے اور خوابوں میں انہوں نے پرنسپل کے لیے مکان ڈھونڈا۔ لڑکوں نے گلی گلی، گلی ڈنڈا اور کرکٹ کھیلی اور اگر کسی نے ٹوکا کہ کیا شور مچا رکھا ہے تو انہوں نے فوراً سوال کا جواب سوال ہی سے دیا ’’کیا آپ ہمارے پرنسپل صاحب کو اپنا مکان کرائے پر اٹھا سکتے ہیں ؟‘‘
	پرنسپل کو مکان نہ ملنا تھا نہ ملا۔ انتظار کے اس زمانے میں وہ باری باری ہر ٹیچر کے یہاں ٹھہر رہے تھے۔ جب میری باری آئی تو انہیں میرا مکان کچھ ایسا پسند آیا کہ انہوں نے دوڑ دھوپ کر کے وقت سے پروموشن دلوا کر مجھے لکھنؤ بھجوا دیا۔ میں شہر پہنچ کر بے گھر ہو گیا۔ اور پرنسپل میرے خالی کیے ہوئے مکان میں براجمان ہو کر گھر والے بن بیٹھے۔ مالک مکان جو پہلے میری بیوی کو بہن جی کہتا اب ان کی بیوی کو بوا جی کہہ کر اپنے کالج میں پڑھنے والے لڑکوں کا مستقبل روشن کرنے لگا۔ ۔ ‘۱
۔۔۔۔
۱۔   ہم کو مکان مل گیا۔ وجاہت علی سندیلوی۔ ماہنامہ شگوفہ جون ۱۹۹۶ء

۴۴۔ پرویز ید اللہ مہدی

	پرویز ید اللہ مہدی زبان کی سادگی اور انشائیوں کی تحریر کی روانی کے لیے خاصے پہچانے جاتے ہیں۔ ان کی یہ خوبصورت تحریر ملاحظہ فرمائیے:
	’’شادی سے پہلے ہمیں راتوں میں اٹھ اٹھ کر لکھنے کی عادت تھی۔ جس طرح کچھ لوگوں کو نیند میں چلنے کی بیماری ہوتی ہے۔ شادی کے ابتدائی زمانے میں چونکہ ہر نوبیاہتا جوڑے کا ازدواجی ٹائم ٹیبل امنگوں کی راتوں اور مرادوں کے دونوں سے مزین ہوتا ہے لہٰذا دور ہنی مون کے دوران ہم اس بیماری سے پوری طرح محفوظ رہے لیکن جیسے ہی ٹائم ٹیبل بدلا۔ یعنی رات کے آنچل سے امنگوں اور دن کے دامن سے مرادوں نے اپنا رخت سفر باندھا ہمارے پرانے مرض نے ڈبل نمونیا کی طرح پلٹ کر یلغار کر دی۔ تاہم دو چار راتوں تک تو ہم محض اس خیال سے کہ کہیں بیگم صاحبہ کی میٹھی نیند میں خلل نہ پڑے لیکن جب مرض شدت برداشت سے باہر ہو گیا تو ایک رات ہم نے اندھیرے ہی میں ٹٹول کر کاغذ قلم سنبھال لیا مگر لکھنے کے لیے صرف روشنائی کی نہیں روشنی کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ چنانچہ بڑی احتیاط سے لائٹ کا سوئچ آن کیا۔ ادھر کمرے میں چمک سے روشنی ہوئی اور ادھر پٹ سے بیگم صاحبہ کی آنکھ کھل گئی۔ پہلے تو حیرت سے ہمیں دیکھتی رہیں۔ پھر جھنجھلا کر بولیں۔ ’’اتنی رات گئے یہ الوؤں کی طرح کاغذ قلم ہاتھ میں لیے کیا کر رہے ہیں آپ؟‘‘
	ہم نے فوراً تصحیح کی ’’کاغذ قلم الوؤں کے ہاتھ میں نہیں بیگم، شاعروں اور ادیبوں کے ہاتھ میں ہوتا ہے !‘‘ منہ بنا کر بولیں ’’ہوتا ہو گا! ہم تو بس اتنا جانتے ہیں کہ شاعر، ادیب اور الو تینوں رات میں جاگتے اور دن میں سوتے ہیں، چلئے لائٹ آف کر کے سوجائیے!۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘۱
۔۔۔۔۔
۱۔   صلائے عام ہے مظلوم شوہروں کے لیے۔ پرویز ید اللہ مہدی۔ شگوفہ جون ۱۹۹۴ء

۴۵۔ سید طالب حسین زیدی

	سید طالب حسین زیدی نے حیدر آباد کی سرزمین سے کئی انشائیے لکھے۔ ان کی شگفتہ تحریر میں ان کے الفاظ کسی مالے کے پروئے ہوئے موتی معلوم ہوتے ہیں۔ اپنی طرز تحریر میں وہ اپنی ثقافت، کلچر کا بھی پورا پورا خیال رکھتے ہیں۔ ان کا مندرجہ ذیل انشائیہ ’’نور بی کا جوائیں ‘‘ ملاحظہ فرمائیں۔ 
	’’کوئی چالیس برس ادھر کا واقعہ ہے۔ رمضان کا مہینہ تھا کہ مسجد میں عشاء کی نماز کے بعد مصری قاری عبدالباسط، عبدالصمد کی قرأت کلام پاک کی محفل تھی۔ ہم اور ہمارے ایک دوست بھی قرأت سننے کی سعادت حاصل کرنے کے لیے مسجد میں موجود تھے۔ ٹھیک نو بجے قاری صاحب منبر پر تشریف لے آئے۔ جلو میں حیدر آباد کے ایک مشہور صاحب سجادہ بزرگ بھی ’’چپکے‘‘ ہوئے تھے اور ’’میں کون؟ تو خواہ مخواہ‘‘ کے مصداق قاری صاحب کے بازو ہی منبر پر جلوہ گر ہو گئے۔ قاری صاحب کے بیٹھتے ہی لوگوں نے گلپوشی شروع کر دی اور قاری صاحب جیسے ہی ان کے گلے میں ہار ڈالا جاتا اس کو نکال کر بازو بیٹھے ہوئے پیر و مرشد کے گلے میں معنی خیز مسکراہٹ کے ساتھ ڈال دیتے اور وہ بلا کسی تکلف اور ہچکچاہٹ کے پھول پہن کر لوگوں کی طرف ’’مرس‘‘ ’’مرس‘‘ کر دیکھتے جاتے۔ موصوف کی یہ حرکت لوگوں کو کھٹک رہی تھی اور ہمارے دوست کو کچھ زیادہ ہی کھٹکی۔ جل بھن کر کہنے لگے۔ ’’کیسا بیٹھا ہے دیکھو۔ نو ر بی کا جوائیں !۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘۱
۔۔۔۔۔
۲۔  نور بی کا جوائیں۔ سید طالب حسین زیدی۔ شگوفہ جون ۱۹۹۶ء

۴۶۔ بابو آر کے

	بابو آر کے اچل پور سے اپنی تحریروں کے ذریعہ انشائیہ نگاری کی رونق بڑھاتے چلے آ رہے ہیں۔ ان کی تحریر کی لطافت سے پڑھنے والوں کے ذہنوں کی ترنگوں میں ایک نیا جوش امڈتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ ساتھ ہی ان کی ظرافت سے مزین چٹکیاں سونے پر سہاگہ کا کام انجام دیتی ہیں۔ شادی پر مبنی ان کا ایک انشائیہ ملاحظہ فرمائیے:
	’’شادی کا خیال آتے ہی کلیجہ منہ کو آنے لگتا ہے۔ ہائے!وہ بھی کیا دن تھے اپنی نیند سونا اپنی نیند جاگنا۔ آدھوکا لینا نہ مادھو کا لینا۔ رات میں کبھی بھی گھر لوٹو کسی کے بھونکنے کا خوف نہ کاٹنے کا ڈر۔ ہم تو اس دن کو روتے ہیں جس دن ہماری شادی کا تذکرہ گھر میں چھڑا۔ جس دن ہمارے گھر کی بڑی بوڑھیوں کو ہمارے کمزور وجود میں گبرو جوان دکھائی دیا۔ اور ہمارے انگ انگ سے انہوں نے جوانی ٹپکتی دیکھی۔ یہاں تک کہ ہمارے دھان پان سے ہاتھ پاؤں انہیں کڑیل بھی لگے۔ الغرض ہماری ان تمام کارگزاریوں کے جواب میں ہمارے ہاتھ پیلے کرنے کی سزا تجویز ہوئی۔ ہماری سونی پسلی کو ادھر ادھر لے جا کر اس کو جوڑ ڈھونڈا گیا۔ پسلی کے جوڑے کے ساتھ ساتھ جوڑے گھوڑے اور جہیز کے ایٹم بھی دیکھے گئے۔ لینا دینا کھرا کھرا دو ٹوک طے ہو جانے کے بعد شادیانے بجے، منہ میٹھے ہوئے اور اعلان ہوا کہ ہمارا رشتہ پکا ہو گیا گویا یہ منادی تھی کہ ہم نیلام ہو گئے۔ ‘‘۱
۔۔۔۔۔
۱۔   شادی نامہ۔ بابو آر کے۔ شگوفہ جون ۱۹۹۶


۴۷۔ ڈاکٹر اعجاز علی ارشد 

	ڈاکٹر اعجاز علی ارشد۔ بی این کالج پٹنہ، بہار کے صدر شعبہ اردو ہیں۔ 
	مندرجہ ذیل انشائیہ ’’دعوت اور عداوت‘‘ نہایت ہی خوبصورت انشائیہ ہے۔ 
	’’دعوت اور عداوت دونوں ہی کی تاریخ بہت پرانی ہے۔ دنیا میں ہونے والی پہلی دعوت کا تو پتہ نہیں مگر پہلی عداوت کا حال معلوم ہے جو آدم کے بیٹوں ہابیل اور قابیل کے درمیان ہوئی تھی۔ ممکن ہے پہلی دعوت بھی اسی زمانے میں ہوئی ہو چونکہ ان دونوں کا رشتہ بہت گہرا ہے۔ یہ دکھ کی بات ہے کہ اب تک کوئی ریسرچ اسکالر اس موضوع پر تحقیق کر کے پی ایچ ڈی کی ڈگری حال نہیں کرسکا مگر یہ خوشی کی بات ہے کہ آدم کے بیٹے تب سے اب تک ہر زمانے کے دعوت اور عداوت دونوں سے اپنا رشتہ قائم کیے ہوئے ہیں۔ ۔ ‘‘۱
۔۔۔۔۔
۱۔   دعوت اور عداوت۔ ڈاکٹر اعجاز علی ارشد۔ ماہنامہ شگوفہ مارچ ۱۹۹۶

۴۸۔ ڈاکٹر محمد کوثر اعظم

	ڈاکٹر محمد کوثر اعظم پٹنہ سے انشائیہ کے میدان میں اپنا مقام بنائے ہوئے ہیں۔ ان کی تحریر میں بلا کی تازگی پائی جاتی ہے۔ وہی نئی بیخ سے معاشرہ کو ازسر نو صحتمند کرنے کا ہنر رکھتے ہیں۔ ان کے انشائیہ لطیف ترین کروٹوں اور کیفیتوں سے ہمکنار ہوتے ہیں۔ ’’وائیفوبیا اور لویریا‘‘ ان کا بہترین انشائیہ ہے۔ ملاحظہ فرمائیے:
	’’وائیفوبیا کے مریض کی خاص علامتوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اسے تنہا نیند نہیں آتی اگر آ بھی گئی تو نیند کی حالت میں بار بار چونک جاتا ہے اور بڑبڑانے لگتا ہے اکثر نیندکی حالت میں بستر پر کچھ ٹٹولتا ہے۔ بار بار تکیہ کو سینے سے لگاتا ہے۔ عجیب و غریب حرکتیں کرتا ہے۔ ویسے وہ دیکھنے میں چست و درست نظر آتا ہے لیکن اندر سے کھوکھلا ہوتا ہے۔ اسے بھوک کم لگتی ہے خود کم کھاتا ہے لیکن بیگم کو زیادہ کھلاتا ہے۔ ہمت اور حوصلے کے معاملے میں وہ ہارے ہوئے جواری کی طرح ہوتا ہے۔ قوت فیصلہ اور سوچنے سمجھنے کی صلاحیت اس بیماری کی وجہ سے رفتہ رفتہ کم ہوتی جاتی ہے اور وہ صد فیصد زن مرید ہو جاتا ہے (آپ مرید کی زندگی سے اچھی طرح واقف ہیں )۔ 
	وائیفوبیا سے ملتا جلتا ایک مرض ’’لویریا‘‘ یا عاشقی بھی ہے جس نے لیلی مجنوں، ہیر رانجھا اور رومیو جویلیٹ کے علاوہ نہ جانے آج تک کتنے گھروں کو اس چنگاری سے خاکستر کر دیا ہے۔ خود غالبؔ نے اپنی زبان میں اس مرض کی سنگینی سے متعلق کہا تھا کہ : لگائے نہ لگے اور بجھائے نہ بنے۔ ۔۔‘‘۱
۔۔۔۔
۱۔   وائیفوبیا اور لویریا۔ ڈاکٹر محمد کوثر اعظم۔ شگوفہ جون ۱۹۹۶ء

۴۹۔ مرزا کھونچ

	مرزا کھونچ ببیتا بہار سے انشائیہ نگاری کے میدان میں سالوں سے گل گزار بکھیر رہے ہیں۔ ان کا انشائیہ مرکز کے چاروں طرف پوری دنیا کی سیر کرا دیتا ہے۔ وہ بھاری بھرکم الفاظ استعمال نہیں کرتے، نہایت ہی سادہ زبان میں اپنی بات کہہ جاتے ہیں جو اپنا اثر چھوڑ جاتی ہے۔ ان کے ایک انشائیہ کا اقتباس ملاحظہ کیجیے جو ’’ڈاگ لینڈ‘‘ سے اخذ کیا گیا ہے۔ 
	’’۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بھائیو اور بہنو ہم نے آپ کو ایک خاص مقصد عظیم کے تحت یہاں بلایا ہے۔ آج ہمارے وجود کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے اور ہماری انفرادی شناخت پر ضرب لگنے لگی ہے۔ اب ہماری صورت کتے کی طرح رہ گئی ہے مگر خصلت انسانوں جیسی ہوتی جا رہی ہے۔ کبھی ہم زمانے کو وفاداری کا درس دیا کرتے تھے مگر کتنی شرم کی بات ہے کہ ہمارے اندر سے وفاداری ختم ہوتی جا رہی ہے۔ چور جب چوری کر کے چمپت ہو جاتے ہیں تو ہم مالک کو بھونک بھونک کر جگاتے ہیں تاکہ چور کا دھندا بھی چلے اور مالک کی نظروں میں بھی ہم سرخرو رہیں۔ یہ دوغلی پالیسی ہماری وفاداری پر بدنما داغ ہے۔ یہ عادت ہم نے انسانوں سے سیکھی ہے۔ خربوزے کو دیکھ کر خربوزہ رنگ پکڑتا ہے مگر یہاں تو انسان کو دیکھ کر کتا رنگ پکڑ رہا ہے۔ جو ہماری سراسر توہین ہے۔ انسانوں کی طرح ہم بھی کمیشن کھا کر بے موقع بھونکنے لگے ہیں اور موقع پر دم دبائے دبکے پڑے رہنے لگے ہیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘ ۱
۔۔۔۔
۱۔  ڈاگ لینڈ۔ مرزا کھونچ۔ ماہنامہ شگوفہ مئی ۱۹۹۵ء

۵۰۔ دلشاد رضوی

	دلشاد رضوی حیدر آباد سے نہایت ہی شگفتگی کے ساتھ اپنے انشائیے تحریر کرتے آ رہے ہیں۔ ان کی زبان سادہ اور پرکشش ہوتی ہے۔ حالات حاضرہ پر بھی ان کی نظر ہوتی ہے جسے وہ بڑی عمدگی کے ساتھ اپنے انشائیوں میں سمیٹتے ہیں۔ انہوں نے پالتو جانوروں پر بھی انشائیے لکھے اور انہیں ادب میں غیر معمولی مقام عطا کیا۔ مندرجہ ذیل اقتباس ان کے انشائیے ’’کہاں گئے وہ دن‘‘ سے لیا گیا ہے۔ جس میں انہوں نے بکرے کو غیر معمولی شہرت عطا کی۔ 
	’’۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس بار بقر عید میں ہم نے جب چار ہزار روپے نقد خرچ کیے اور اوسط قسم کے دو عدد بکروں کی قربانی دی تو گزرے ہوئے دن انہیں آنکھوں میں پھر گئے وہ تب بھی تھیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اب ان پر چشمہ لگا ہے جو پہلے نہیں تھا۔ ویسے تو بیتا ہوا وقت اور گزرا ہوا انسان بھلا کہاں واپس آتا ہے لیکن بالفرض محال اگر والد مرحوم اتفاقاً کبھی لوٹ آئیں تو اور کچھ نہ سہی لیکن قیمتوں کی ان نیرنگیوں کو دیکھ کر انہیں ملک عدم سے واپسی کا غم ضرور ستائے گا۔ لیکن ہم بہت ہمت والے ہیں اگر ایسا نہ ہوتا تو اب تک بھلا جیتے کیسے رہتے۔ یہ اور بات ہے کہ شاعر ہونے کے ناطے اناپ شناپ مصرعے گنگناتے رہتے ہیں ’’یاد ماضی عذاب ہے یا رب‘‘ وغیرہ وغیرہ لیکن اس کی پرواہ ہم نے کبھی نہیں کی کہ ایک سو دس روپے فی کلو کے حساب سے گوشت کیسے کھائیں۔ چنانچہ پابندی سے منگواتے اور ڈٹ کر کھاتے ہیں۔ البتہ ٹائم ٹیبل میں معمولی سی تبدیلی کر لی ہے وہ آپ مہربانی کر کے کسی غیر کو نہ بتائیں۔ ہم کرتے یہ ہیں کہ ہر آٹھویں دن آدھا کلو گوشت منگوا کر اپنے فریج میں رکھ لیتے ہیں اور روزانہ بلا ناغہ چکھ لیا کرتے ہیں تاکہ کوئی ہم پر خالص ویجیٹرین ہونے کا لیبل نہ چسپاں کر دے۔ ہاں البتہ یہ ضرور سوچتے ہیں کہ کہاں گئے وہ دن!‘‘۱
۔۔۔۔۔
۱۔   کہاں گئے وہ دن۔ دلشاد رضوی۔ شگوفہ جون ۱۹۹۶ء

۵۱۔ مختار احمد منو

	    مختار احمد منو گلبرگہ سے انشائیہ نگاری کے میدان میں اپنے جوہر دکھائے جا رہے ہیں۔ ان کے انشائیے وقتاً فوقتاً مختلف رسائل اور اخبارات میں شائع ہوتے رہتے ہیں۔ ان کی زبان صاف اور سیدھی ہوتی ہے۔ زبان کی شگفتگی اور سلاست قابل داد ہے۔ ان کا مندرجہ ذیل اقتباس ان کے انشائیے ’’شناختی کارڈ‘‘ سے لیا گیا ہے۔ 
	’’شناختی کارڈ کی اجرائی کو ضروری قرار دینے پر ہم سابق الیکشن کمشنر ٹی این سیشن کو یاد رکھیں گے۔ ویسے بھی سیٹن کو ان کے اپنے عجیب و غریب احکامات، حرکات و بیانات پر بھی یاد رکھا جا سکتا ہے۔ فی الحال ہم ان کے شناختی کارڈ کے ضروری قرار دینے پر ہی اکتفا کریں گے۔ سیاسی لیڈر سیشن کے اس غیر متوقع اور سخت گیر موقف پر کہ شناختی کارڈ کے بغیر انتخابات نہیں ہوں گے۔ حیران و پریشا ہیں اس لیے کہ انتخابات میں لیڈروں کی کامیابی کا انحصار زیادہ تر بوگس ووٹنگ پر ہی ہوتا ہے۔ بوگس ووٹنگ ہمہ اقسام سے کی اور کروائی جاتی ہے۔ ہم نے ایک ایسے لیڈر کو بھی دیکھا ہے جو زندوں کے تو کجا مرحومین کے ووٹ بی اپنے حق میں استعمال کرتے ہیں۔ ورکرس گروپ میٹنگوں میں خاص طور پر یہ ہدایت کرتے ہیں کہ ایک ووٹ بھی ضائع نہ ہونے پائے۔ خاص طور پر دان کے ووٹ سے بھرپور استفادہ کریں۔ یہاں دان کے ووٹ سے مراد سرگواشی ووٹ یعنی کہ مرحومین کا ووٹ ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘۱
۔۔۔۔۔
۱۔   شناختی کارڈ۔ مختار احمد منو۔ شگوفہ اپریل ۱۹۹۷ء

۵۲۔ ڈاکٹر حبیب ضیاء

	ڈاکٹر حبیب ضیاء کی تحریر نہایت شگفتہ ہوتی ہے۔ باتوں ہی باتوں میں مانو پھلجڑیاں چھوٹتی ہوئی محسوس ہوتی ہیں۔ قاری کو پوری طرح باندھ کر رکھنے کی صلاحیت ان کے پاس بدرجہ اتم موجود ہے۔ مندرجہ ذیل اقتباس ان کے انشائیہ ’’ڈینگ بازی‘‘ سے لیا گیا ہے۔ ملاحظہ کیجیے:
	’’ایک ہندوستانی گھرانہ جس کی مادری زبان اردو ہے۔ انگریزی زبان اس کی بہت بڑی اور بری کمزوری ہے۔ اس گھر کے ہر فرد کے بارے میں یہ بات مشہور ہے کہ وہ انگریزی کا ماہر ہے۔ اس گھر کا ایک لڑکا دسویں جماعت کامیاب ہے۔ انہیں کی زبانی سنا کہ انگریزی میں اس کی قابلیت اتنی زیادہ بڑھی ہوئی ہے کہ وہ بی۔ اے۔ کے بچوں کو ٹیوشن پڑھا سکتا ہے۔ ماں باپ شاکی ہیں کہ ہندوستان میں اس کی قدر نہیں اس لیے امریکہ کے لیے پر تول رہا ہے۔ 
	اس خبط اور ڈینگ بازی نے انہیں کہیں کا نہیں رکھا۔ لڑکی کی شادی کی بات چل رہی تھی لڑکے بارے میں دریافت کرنے پر پتہ چلا کہ شرابی اور جواری ہے۔ ہم نے مشورہ دیا کہ لڑکی کی زندگی اور اس کے مستقبل کا معاملہ ہے ایسے لڑکے سے رشتہ ہرگز طے نہ کریں۔ والدہ صاحبہ نے کہا۔ ہاں ہم نے معلومات لے لی ہیں۔ لڑکا واقعی شرابی ہے۔ کبھی کبھی جوا بھی کھیل لیتا ہے۔ لیکن اس کی انگریزی بہت اچھی ہے۔ ایسے لڑکے ملتے کہاں ہیں۔ بہرحال دھوم دھام سے ڈیڑھ لاکھ روپے میں اس لڑکے کو خرید لیا گیا۔ معلوم ہوا کہ لڑکی کے والدین بہت خوش ہیں کہ ان کی لڑکی مار اور گالیاں دونوں انگریزی میں کھا رہی ہے۔ انہیں اس بات کا بھی اطمینان ہے کہ اس جوڑے کی اولاد انگریزوں کے بھی کان کاٹے گی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘۱
۔۔۔۔
۱۔   ڈینگ بازی۔ ڈاکٹر حبیب ضیاء۔ ماہنامہ شگوفہ سالنامہ جنوری فروری۔ ۱۹۹۶ء

۵۳۔ سید رحیم الدین توفیق

	سید رحیم الدین توفیق اپنی زندہ دل تحریر سے اپنے وطن کی خامیوں اور خوبیوں کو ایک انوکھے انداز سے اپنے انشائیے میں پیش کرتے ہیں۔ یہ انشائیہ نہایت خوبصورت انشائیہ ہے۔ 
	’’نظام عالموں اور دانشوروں کے بڑے قدردان تھے ان کی علم دوستی کی شہرت سن کر ہندوستان کے گوشے گوشے سے شاعر دانشور اور علما کھنچے کھنچے چلے آتے اور نظام کے دربار سے وابستہ ہو جاتے۔ جہاں ان کی قدردانی بھی ہوتی اور سرپرستی بھی۔ اس محبتوں کے شہر نے باہر سے آنے والے ہر دانشور، عالم اور شاعر کا فراخدلی اور کھلی باہوں سے استقبال کیا اور وہ اس کے ایسے گرویدہ ہوئے کہ یہیں کے ہو کر رہ گئے۔ آج کل اعلیٰ دماغ اپنی ناقدری سے دل برداشتہ ہو کر غیر ملکوں کی راہ لے رہے ہیں اور نااہل سفارشی ٹٹو ملک کو تباہی کے دہانے پر لے جا رہے ہیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘۱
۔۔۔۔۔
۱۔   حیدر آباد مرحوم۔ سید رحیم الدین توفیق۔ ماہنامہ شگوفہ نومبر ۱۹۹۴ء

۵۴۔ ڈاکٹر سید عباس متقی

	ڈاکٹر سید عباس متقی حیدر آباد کی سرزمین سے انشائیہ نگاری کے ادب میں اضافہ کر رہے ہیں۔ بات بات میں چٹکلے لینا ان کی پہچان ہے۔ اس کی شگفتہ پھلجڑیوں کی بدولت وہ شوکت تھانوی کی تحریر کے قریب دکھائی دیتے ہیں۔ مندرجہ ذیل اقتباس ان کے انشائیہ ’’بستر‘‘ سے لیا گیا ہے۔ 
	’’غریبوں کا بسترکوئی لائق ذکر شے ہے نہ اس کا سر نہ پاؤں۔ کبھی یہاں پڑ گئے کبھی وہاں۔ گرما تو ان کے بستر پر زیادہ مہربان نہیں ہوتا لیکن برسات اور جاڑوں کے موسم ان پر نہایت مہربان ہوتے ہیں۔ کچھ اس انداز سے ان کا مزاج پوچھتے ہیں کہ حکومت کو ان کا مزاج پوچھنے کی نوبت ہی نہیں آتی۔ ان کا بستر ان کے دستر کا بھی آئینہ دار ہوتا ہے۔ نہ دستر پر گوشت نہ بستر پر پوست محض ہڈیاں ہیں کہ چٹختی رہتی ہیں اور چیخ چیخ کر قومی ترانہ سناتی ہیں۔ مائیں اپنے نونہالوں کو اپنے سینے سے چپکائے برسات بتا دیتی ہیں تو باپ ٹپکوں کے طفیل جاگ جاگ کر ساری گزار دیتا ہے۔ ‘‘۱
۔۔۔۔۔۔۔
۱۔   بستر۔ ڈاکٹر ید عباس متقی۔ ماہنامہ شگوفہ سالنامہ جنوری ۱۹۹۶

۵۵۔ یوسف امتیاز

	یوسف امتیاز کی نظر آج کل کے حالات پر زیادہ رہتی ہے۔ وہ خود ٹورنٹو کینیڈا میں مقیم ہیں لیکن ہندوستان کے حالات کو اپنی گرفت میں لیے ہوئے ہیں۔ اور اکثر و بیشتر یہاں کے رسائل و اخبارات میں چھپتے رہتے ہیں۔ ان کی تحریر نہایت خوبصورت ہے۔ مندرجہ ذیل انشائیہ اس کی مثال ہے۔ 
	’’۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اونگھنا ایک صحت مند علامت ہے۔ یہ کوئی افیون کی گولی نہیں ہے اور نہ گانجہ کا سرور کہ دنیا و مافیہا کی خبر ہی نہیں ہوتی جس کو مئے سے نشاط غرض نہیں ہے اور یک گونہ بے خودی کی تلا ش ہے اس کے لیے اونگھنے سے بہتر سستا اور کامیاب نسخہ اور کیا ہوسکتا ہے۔ جیسے انسان سو برس سو کر اٹھا ہو پھر محبوب کے سینے پر سر رکھ کر سارے خلاؤں اور آسمانوں کی سیر ہو جاتی ہے۔ موجودہ خلائی جہاز بھی ایسی سیر کروانے سے محروم ہیں۔ اس کے لیے نہ فرصت کے دن کی ضرورت ہے اور نہ چار کی۔ ‘‘۱
۔۔۔۔۔۔
۱۔   اللہ کرے زور اونگھائی اور زیادہ۔ یوسف امتیاز۔ ٹورنٹو کینیڈا۔ ماہنامہ شگوفہ اگست ۱۹۹۶ء


۵۶۔ انیس سلطانہ

	انیس سلطانہ مدھیہ پردیش سے اپنے انشائیوں کا جادو بکھیرتی ہیں۔ مندرجہ ذیل انشائیہ ان کا خوبصورت انشائیہ ہے:
	’’اڑائے کچھ ورق لالے نے، کچھ نرگس نے کچھ گل نے
	آج پھر انجمن آراء اپنا محاسبہ کرنے بیٹھی تھیں، کیا کھویا، کیا پایا۔ پتہ چلا جو کچھ پایا تھا وہ تو سرد خانے میں پڑا ہے لیکن جو کھویا ہے اس کی کہانیاں دوست دشمن سب کی زبان پر ہیں۔ 
	عرصہ سے وہ خود بیمار تھیں۔ زندگی سے تو خیر پرانا یارانا تھا، لیکن صحت کو ان سے سداکا بیر۔ بری بھلی گزر ہوہی رہی تھی کہ ان کے مجازی خدا (جو خیر سے ریٹائر بھی ہو چکے ہیں۔ پڑھنے پڑھانے، نیز لکھنے لکھانے کو شغل بیکاراں سمجھتے ہیں ) سخت بیمار ہو گئے۔ ادھر خود انجمن آراء کی ٹیڑھی ترچھی چالیں (کہ ٹانگ کے فریکچر کے بعد یہی کچھ بچ رہا تھا) اور ادھر جناب کے صاحب، صاحب فراش۔ لکھیں تو کیا اور یکسوئی ہو تو کیسے۔ 
	اپنے کو بہلاتی رہیں۔ پہلے بھی کون سا اچھا لکھتی تھیں، اب تو انداز میں کچھ اور اکھڑ پن آ گیا ہے۔ جملے بنانے سنوارنے کی کوشش کرتیں کہ ان کی توجہ ادھر سے ہٹا لی جاتی۔ بھلا کس حکیم نے کہا ہے کہ وہ ضرور لکھیں ؟ آج کل پڑھتا ہی کون ہے؟ لو بھلا اردو، اردو کرتے ان کی ساری عمر گزر گئی، بچوں کو جب تک وہ بچے تھے (واقعی) انہوں نے اردو لکھنا بھی سکھایا اور پڑھنا بھی، لیکن اب وہ سب یا تو سماچار سنتے یا نیوز ٹریک۔ خبروں سے کسی کو سرکسی کو سروکار نہ تھا!۔ ۔ ۔ ‘‘۱
۔۔۔۔۔۔
۱۔   کیا کھویا کیا پایا؟ انیس سلطانہ۔ ماہنامہ شگوفہ اگست ۱۹۹۴ء

۵۷۔ شیخ سلیم

	شیخ سلیم حیدر آباد سے انشائیہ نگاری میں کئی سالوں سے طبع آزمائی کر رہے ہیں۔ ن کی تحریر میں سادگی اور روانی پائی جاتی ہے۔ ساتھ ہی طنز و ظرافت کا میدان بھی ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ مندرجہ ذیل اقتباس اسی سے اخذ کیا گیا ہے۔ 
	’’ایک روز ایسے ہی ماہر نفسیات فقیر سے سابقہ پڑا۔ ہم تو خیرات دے کر دل ہی دل میں بڑے نازاں تھے اور اس کا رنگ ہمارے چہرے سے چھلکنے لگا تھا جسے دیکھ کر فقیر نہایت تدبر اور دانشمندانہ لہجے میں ہم سے کہنے لگا کہ آپ مجھے خیرات دے کر اتنا خوش نہ ہوں اور نہ یہ سمجھیں کہ آپ نے مجھ پر کوئی احسان کیا ہے بلکہ میں نے ہی آپ پر احسان عظیم کیا ہے۔ ہم نے نہایت تعجب سے اس سے پوچھا کیسے؟ فقیر نے ناصحانہ انداز میں کہا کہ اگر ہم لوگ خیرات لینے سے انکار کر دیں تو پھر تمہارے پاس ثواب حاصل کرنے کے کون سے وسیلے رہ جائیں گے۔ ہم تو یہ جواب سن کر نہایت خجل ہوئے اور اپنی کم علمی و کم مائیگی پر شرمندہ بھی کیونکہ ہم نے تو بہت سارے وسیلوں کے متعلق معلوم کر رکھا تھا مگر فقیر کے بتائے ہوئے وسیلے کی طرف کبھی ذہن گیا ہی نہیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔‘‘۱
۔۔۔۔۔
۱۔   ناز اٹھانے کو ہم رہ گئے فقیروں کے۔ شیخ سلیم۔ ماہنامہ شگوفہ سالنامہ جنوری ۱۹۹۶ء


۵۸۔ فیاض احمد فیضی

	فیاض احمد فیضی کے انشائیے سادہ تحریر کے ساتھ ظرافت اور شگفتگی کے فوارے چھوڑتے رہتے ہیں۔ ان کی تحریر میں بلا کی سادگی پائی جاتی ہے۔ ایسا لگتا ہے مانو کوئی بہت پرانا دوست ہم سے گفتگو کر رہا ہو۔ ان کے انشائیے ’’برسات کے مزے‘‘ کا مندرجہ ذیل اقتباس ملاحظہ کیجیے:
	’’۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ادھر بادل گرجے، بجلی چمکی اور برش کی پہلی پھوار پڑی، برسات کے لاتعداد مزے ایک کے بعد ایک آسمان سے اترنے لگے۔ سب سے پہلا فائدہ تو یہ ہوتا ہے کہ شہر میں غزل، قوالی، مشاعرہ اور کلاسیکی موسیقی کے پروگرام جو موسم گرما میں شبا ب پر ہوتے ہیں، بارش شروع ہوتے ہی ایکدم سے تھم جاتے ہیں۔ گائیکوں، شاعروں، اور قوالوں کو قرار آ جاتا ہے اور وہ بھری برسات میں گھر میں بند ہو کر نئی تخلیقات میں مصروف ہو جاتے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ فنکاروں کے بچوں کی تاریخ پیدائش اکثر مارچ، اپریل، اور مئی کے مہینوں کی ہوتی ہے۔ لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہ نکالا جائے کہ جو بچے مارچ، اپریل اور مئی کے مہینوں میں پیدا ہوتے ہیں ان کے والدین محض فنکار ہی ہوتے ہیں۔ 
	۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پرانے زمانے میں جب حسن قدرتی ہوا کرتا تھا بھیگی ہوئی عورت جہاں قلوپطرہ نظر آنے لگتی تھی وہیں بھیگا ہوا مرد راتوں کا مشہور پرندہ معلوم ہوتا تھا۔ آج کل میک اپ کے بوجھ تلے دبی خواتین کا چہروں کا اچھا خاصہ حصہ بھیگنے کے بعد دھل کر بہہ جاتا ہے اور وہ حسن بیمار اور کبھی صرف بیمار دکھائی دیتی ہیں مرد البتہ آج بھی بھیگنے کے بعد اسی مشہور پرندے کی طرح دکھائی دیتے ہیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘۱
۔۔۔۔۔
۱۔   برسات کے مزے۔ فیاض احمد فیضی۔ بمبئی۔ ماہنامہ شگوفہ اگست ۱۹۸۹ء

۵۹۔ شاہد رشید

	شاہد رشید (امراوتی) کی تحریر میں وہ چاشنی ہے جس کی وجہ سے قاری بار بار ان کے انشائیوں کو پڑھنا چاہتا ہے۔ سیدھے سادے الفاظ کو وہ بڑی خوبی کے ساتھ سطروں میں پروتے ہیں۔ اور آہستگی سے بڑی گہری بات کہہ جاتے ہیں۔ ان کی خوبصورت تحریر کا یہ نمونہ ملاحظہ کریں جو ان کے انشائیے ’’خیر خواہان قوم‘‘ سے لیا گیا ہے۔ 
	’’ایک علم شناس بزرگ نے مجھ سے کہا۔ ’’میاں ہمارے زمانے میں درسگاہوں سے بچے انسان بن کر نکلا کرتے تھے۔ آج باپ انسان کا بچہ لا کر چھوڑتا ہے لیکن دانش گاہوں سے بندر باہر نکلتے ہیں۔ ‘‘ پتہ نہیں مذکورہ بزرگ کی بات میں کتنی سچائی ہے لیکن یہ بات ببانگ دہل کہی جا سکتی ہے کہ اسکولوں اور کالجوں میں بچہ بجز علم کے عملی زندگی کا ہر ہنر سیکھتا ہے۔ مثلاً چاپلوسی، خود غرضی، رشوت خوری، ناانصافی، غرض کہ ہر وہ کام جو بچہ اپنے استادوں کو کرتے ہوئے دیکھتا ہے خود اختیار کرتا ہے۔ کہتے ہیں کہ بچہ آدمی کا باپ ہوتا ہے اس لیے ہر وہ چیز جس کا مشاہدہ کرتا ہے ضرور بالضرور اپنے تجربے میں لاتا ہے۔ ہمارے ایک دوست کا بچہ کاغذ کا سگریٹ بنا کر پی رہا تھا۔ اس کی ماں نے اس سے کہا۔ ’’بیٹا بری بات ہے۔ سگریٹ نہیں پیتے۔ ‘‘ اس نے کہا ’’لیکن ابو تو پیتے ہیں ‘‘ ماں نے سمجھایا ’’بیٹا وہ بڑے ہیں۔ ‘‘ بچے نے کاغذ پھینکتے ہوئے کہا  ’’اچھا تو جب میں بھی بڑا ہو جاؤں گا تو سگریٹ پیوں گا۔ ‘‘۱
۔۔۔۔۔۔
۱۔   خیر خواہان قوم۔ شاہد رشید۔ امراوتی۔ ماہنامہ شگوفہ اپریل ۱۹۹۵ء

۶۰۔ نعیم زبیری

	نعیم زبیری حیدر آباد سے اپنی انشائیہ نگاری کی پھلجڑیاں چھوڑنے کے لیے مشہور ہیں۔ ان کے طرز تحریر میں کہیں کہیں کنہیا لال کپور کا شائبہ پایا جاتا ہے۔ مزاح کے ساتھ ساتھ اپنے نشتر لگانے سے بھی نہیں چوکتے۔ مندرجہ ذیل اقتباس ان کے انشائیے ’’یا اللہ مجھے شلوار سے بچا‘‘ سے لیا گیا ہے۔ 
	’’۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مجھے حیرانی یہ تھی کہ دھان پان شخصیت کے مالک عبد الغفور یہ شلوار پہنتے کیسے ہوں گے اور پھر اسے پہن کر کھڑے کیسے رہتے ہوں گے۔ ایک دوست نے میری مشکل آسان کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے کہا کمر بند کو پہلے دو دوستوں کی مدد سے ایک پینل درمیان میں رکھ کر کسا جاتا ہو گا اور وہ سیڑھیوں پر کھڑے ہو کر اس سوراخ میں کود پڑتے ہوں گے جو پینل کھینچ لینے کے بعد بچ رہتا ہو گا۔ اور پھر وہ قدم آدم قمیص جو کندھوں سے شروع ہو کر ٹخنوں تک جھولتی رہتی ہے اس طرح پہنی جاتی ہو گی کہ وہ اسے فرش پر بچھا دیتے ہوں گے اور وہ دامنوں کے درمیان گھس کر رینگتے رینگتے گریباں تک پہنچ جاتے ہوں گے۔ میں نے ان سے ڈرتے ڈرتے پوچھ لیا کہ ’’بھائی آپ یہ اتنا تکلیف دہ پہناوا کیوں استعمال کرتے ہیں ‘‘ تو انہوں نے میری طرف ایک نہایت قہر آلود نگاہ ڈل کے کہا ’’میری مرضی‘‘ مجھے اس طرح منہ کی کھا کر چپ ہو جانا چاہیے تھا لیکن جنرل نالج کی متلاشی طبیعت کو کیا کیا جائے۔ میں نے پھر پوچھ لیا۔ ’’رات میں آپ سوتے بھی یہی چیز پہن کر ہیں۔ ‘‘ ’’جی ہاں ‘‘ انہوں نے نہایت پر وقار انداز میں جواب دیا۔ میرے تصور میں بستر پر سوتے ہوئے عبدالغفور کچھ اس طرح ابھرے کے نیفے کی ہزاروں چنتوں کے ابھار میں سے کمر سے اوپر کا دھڑ نکل کر بستر پر لٹکا ہوا ہے اور تقریباً شر ش شاسن کا سا سماں ہے۔ ۔۔۔‘‘۱
۔۔۔۔۔
۱ ۔   یا اللہ مجھے شلوار سے بچا۔ محمد نعیم زبیری۔ ماہنامہ شگوفہ دسمبر ۱۹۹۴ء

۶۱۔ سید مکرم نیاز

	سید مکرم نیاز ایک بہترین انشائیہ نگار سمجھے جاتے ہیں۔ ان کے انشائیوں میں ایک گہری فکر پائی جاتی ہے۔ مندرجہ ذیل اقتباس ان کے انشائیے ’’کتاب کی واپسی‘‘ سے لیا گیا ہے۔ 
	’’روایت ہے جدید زمانے کی کہ شیطان کے ایک ماہانہ اجلاس میں بہترین ’’کارکن‘‘ کا ایوارڈ دئیے جانے کا فیصلہ ہو رہا تھا۔ معتقدین اپنے اپنے کارنامے بیان کر رہے تھے کہ کس طرح انہوں نے اپنے شاگردوں کی تعداد میں اضافہ کیا اور تا حال کیے جا رہے ہیں۔ آخر میں جب سب سے کم عمر مرید کی باری آئی تو وہ چند لمحے شرماتا رہا پھر مدھم لہجے میں سر جھکا کر بولا ’’میں نے اس تمام عرصے میں صرف ایک شاگرد بنایا۔ ‘‘ اجلاس میں اچانک خاموشی چھا گئی اور تمام شرکاء حیرت زدہ ہو کر اس نوآموز معتقد کو گھورنے لگے جس نے ہچکچاتے ہوئے دو با رہ اپنی زبان یوں کھولی ’’اور میں نے اپنے شاگرد کو کتاب لے کر نہ لوٹانے کا عادی بنا ڈالا۔ ‘‘ شیطان اعظم کے تالیاں پیٹنے کی آواز آئی اور اسی نو عمر مرید کو ’’بیسٹ ورکر‘‘ کا حقدار قرار دیا گیا۔ اجلاس میں دائیں بازو کی بنچوں سے حزب مخالف نے اعتراض کیا کہ یہ کون سا عظیم کام ہوا؟ ہوسکتا ہے کتاب لے کر نہ لوٹانا شاگرد کی اپنی مجبوری رہی ہو یعنی غریبی یا مفلسی کے سبب وہ کتاب خریدنے کی استطاعت نہ رکھتا ہو۔ جواباً شیطان نے فرمایا ’’نادار یا مالدار طالب علم اگر با ذوق اور با مروت ہو اور حصول علم کی سچی لگن رکھتا ہو تو وہ کبھی علم کا ذریعہ اپنے پاس روکے نہیں رکھتا۔ مانا کہ تم سب دریا کا بہاؤ غلط سمت میں موڑتے رہے مگر میرے اس نوخیز چیلے نے کمال یہ کیا کہ دریا کے درمیان ڈیم تعمیر کر ڈالا۔ اس وضاحت نے شاید سبھی کو مطمئن کر دیا۔ ۔ ۔ ‘‘۱
۔۔۔۔۔
۱۔   کتاب کی واپسی۔ سید مکرم نیاز۔ ماہنامہ شگوفہ دسمبر ۱۹۹۴ء

۶۲۔ ضامن علی حسرت

	ضامن علی حسرت نظام آباد سے اپنی انشائیہ کی تحریروں کے ذریعہ گل بوٹے کھلاتے رہتے ہیں۔ ان کی تحریروں میں ایک الگ ہی دلکشی نظر آتی ہے۔ وہ قاری کا تجسس بھی پوری طرح برقرار رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مندرجہ ذیل انشائیہ ’’کرایہ دار‘‘ کا اقتباس پڑھنے سے آپ بخوبی اندازہ لگا لیں گے۔ 
	’’آج کل مکاندار متذکرہ بالا صدمات کے بالکل برعکس ہوتا ہے۔ آج کا مکاندار اپنے کرایہ دار سے ٹھیک ویسا ہی سلوک روا رکھتا ہے جس طرح ایک روایتی ساس اپنی معصوم بہو سے۔ آج مکاندار کو صرف اور صرف کرایہ سے غرض ہوتی ہے۔ اپنا ایک ذاتی مکان ہو یہ ہر شخص کا ایک سنہرا خواب ہوتا ہے لیکن صاحب ہمارے لیے ذاتی مکان صرف خواب ہی رہا۔ خواب کی تعبیر نہ بن سکا۔ اسے حالات کی ستم ظرفی کہیے یا گردش ایام کی فتنہ پردازی کہ پچھلے پچیس سال سے ہمیں ایک سعادت مند کرایہ دار کا کردار نبھانا پڑ رہا ہے۔ اس کا سبب اس کے سوا کچھ نہیں رہا کہ ہمارا تعلق سماج کے مڈل کلاس سے رہا ہے اور یہ مڈل کلاس بھی عجیب شے ہے۔ اس میں آدمی ایک شوپیس بن کر رہ جاتا ہے۔ زندگی میں اگر ہم نے کوئی کارنامہ انجام دیا ہے تو صرف یہ کہ لباس کی طرح کرایہ کے مکانوں کو تبدیل کرتے آ رہے ہیں اور اس وقت ہم گیارہویں مکان میں بحیثیت کرایہ فار مقیم ہیں یعنی اس سے قبل ہم ۱۰ عدد مکان تبدیل کر چکے ہیں۔ صاحب مکان چھوڑنا اور نئے مکان سے تعلق جوڑنا ہماری ہابی نہیں بلکہ مجبوری ہے۔ جس کی کئی وجوہات ہیں۔ مثلاً کسی مکاندار کو ہم پسند نہیں آتے۔ کسی مکاندار کو ہم سے یہ شکایت رہتی ہے کہ ہم بجلی اور پانی کو پانی کی طرح خرچ کرتے ہیں یا پھر مکاندار کی بکریوں کا ٹھیک طرح سے دھیان نہیں رکھ پاتے۔ ۔۔‘‘۱
۔۔۔۔۔۔
۱۔   کرایہ دار۔ ضامن علی حسرت۔ ماہنامہ شگوفہ دسمبر ۱۹۹۴ء


۶۳۔ شکیل شاہجہاں

	شکیل شاہجہاں کامٹی سے اپنے انشائیے تحریر کرتے رہتے ہیں اور زمانہ قدیم کو جدید سے ملانے میں کمال رکھتے ہیں۔ ان کی یہ تحریر میں سادگی اور شوخی پائی جاتی ہے اور یہی ان کی خاصیت ہے۔ مندرجہ ذیل اقتباس ان کے انشائیے ’’چھتری‘‘ سے لیا گیا ہے۔ 
	’’۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بارش کے موسم میں برسات کے پہلے ہلے کے بعد بہت سے لوگ مکان کی چھت پر نظر آتے ہیں۔ ٹپکا سدھارنے کے لیے۔ بہت سے لوگ بازار جاتے ہوئے نظر آتے ہیں چھتری خریدنے کے لیے۔ ایسے لوگ دور اندیش نہیں ہوتے ہیں کیونکہ چھتری کے سہارے ٹپکتے ہوئے مکان میں بھی زندگی گزاری جا سکتی ہے۔ بالکل اسی طرح جیسے لوگ بارش کے مومس میں اسٹیٹ ٹرانسپورٹ کی بسوں میں چھتری کھول کر سفر کرتے ہیں۔ آخر کب تک اور کہاں تک ٹپکا سدھارتے رہیں گے۔ کیا سرکاری، کیا نیم سرکاری اور کیا غیر سرکاری ہر جگہ ٹپکا ہی ٹپکا ہے۔ کہیں بارش کا پانی ٹپک رہا ہے کہیں غریبوں کے آنسو ٹپک رہے ہیں کہیں مزدوروں کا پسینہ ٹپک رہا ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘۱
۔۔۔۔۔۔
۱۔   چھتری۔ شکیل شاہجہاں۔ ماہنامہ شگوفہ اکتوبر ۱۹۹۶ء

۶۴۔ فاطمہ تاج

	فاطمہ تاج  نے حیدر آباد سے انشائیہ نگاری کا مورچہ سنبھالا ہوا ہے اور ان کی تحریر میں روانی اور سلاست ہے۔ مندرجہ ذیل اقتباس ان کے خوبصورت انشائیہ ’’گفتگو قسطوں میں ‘‘ سے لیا گیا ہے۔ 
	’’۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بچپن سے ہمیں یہی تربیت دی گئی کہ کسی کی بھی گفتگو چوری چھپے سننا انتہائی غیر اخلاقی حرکت ہے۔ لیکن ہمیں یہ نہیں سمجھایا گیا کہ ٹیلی فون پر اگر دوسری لائن مل جائے تو ہمیں کیا کرنا چاہیے۔ فون پر دوسروں کی گفتگو ہم نے با رہا سنی ہے لیکن صرف چند واقعات ہی ہم آپ کو سنائیں گے۔ ہوا یہ کہ ہم نے اپنی کسی دوست کا نمبر ڈائل کیا اور پھر۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہیلو جان! کیسی ہو تم؟ مردانہ آواز نے ہمیں اچھال ہی دیا۔ ٹھیک ہوں۔ نسوانی آواز کے جواب نے ہماری فطری دلچسپی بڑھا دی۔ ہم یہ سمجھے کہ ہماری دوست جس کا نمبر ہم نے ملایا تھا شاہد وہ اپنے ’’وہ‘‘ سے بات کر رہی ہے۔ لیکن فلمی مکالموں کا سیلاب زوروں پر تھا۔ ’’ایک عرصہ سے دلی مراد پوری ہونے کی کوئی صورت نہ تھی حالانکہ کب سے میں تمہارے بارے میں سوچا کرتا تھا۔ ‘‘ جی۔ ۔ ۔ ۔ وہ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ نسوانی آواز میں پس و پیش تھا۔ اب ہمیں یقین ہو گیا کہ کسی فلم اسٹوڈیو کی لائن سے ہمارے فون کی لائن مل گئی ہے۔ ہم یہ گفتگو مزید سننا چاہتے تھے مگر رابطہ خود ہی منقطع ہو کر ٹوں۔ ۔ ۔ ۔ ٹوں کی آواز ہمارے کانوں کو جھنجھوڑنے لگی۔ ہم نے اس بار دوسری دوست کا نمبر ملایا۔ ’’کیا کر رہے ہیں آپ؟‘‘ بڑی پاٹ دار آواز میں کوئی محترمہ کسی سے محو گفتگو تھیں۔ آج آفس کا حساب کتاب ہو رہا ہے۔ بڑی مصروفیت ہے کوئی ضروری بات ہو تو کہو۔ سنجیدہ لہجہ بتا رہا تھا کہ حضرات واقعتاً بہت مصروف ہیں۔ ’’آپ کو میرا خیال ہے نہ بچوں کا۔ آج چھوٹو کی سالگرہ ہے۔ بھول گئے کیا؟‘‘۱
۔۔۔۔۔۔
۱۔   گفتگو قسطوں میں۔ فاطمہ تاج حیدر آباد۔ ماہنامہ شگوفہ اکتوبر ۱۹۹۶ء

۶۵۔ علیم فلکی

	ماہنامہ شگوفہ کے مطابق (۱) ان کا تعارف کچھ اس طرح ہے کہ حیدر آباد دکن محلہ فلک نما کی پیداوار ہیں اس لیے برانڈ نیم فلکی رکھا ہے۔ اس کی وجہ اور بھی ہے ناموں کے شارٹیج کی وجہ سے ہر محلے میں دو علیم تین کلیم اور چار نعیم صاحب عام طور پر ہوتے ہیں اس لیے لوگ اپنی سہولت کے لیے ٹخلو نعیم بھائی، پٹیلے نعیم بھائی وغیرہ کے القابات کا اضافہ کر دیتے ہیں۔ جس کی وجہ سے انہیں اکثر سسرالیوں کے سامنے شرمندگی ہوتی ہے۔ اس کے تدارک کے لیے خود کو فلکی کہلوانا پسند کیا۔ دو چار سال میں ایک دو لاکھ روپے کما کر وطن لوٹ جانے کے ارادے سے ۲۶ سال پہلے سعودی عرب آئے تھے۔ عمر اور قد میں بیوی سے بڑے ہیں۔ پیشہ تجارت۔ سنجیدہ ہوں تو مزاحیہ مضامین لکھتے ہیں اور مزاحیہ موڈ میں ہوں تو سنجیدہ، سیاسی اور سماجی موضوعات پر لکھتے ہیں۔ قارئین کو عنقریب اپنی دو کتابیں منظر عام پر لانے کی دھمکی دے چکے ہیں۔ سیاست، منصف، شگوفہ، اردو نیوز، اردو میگزین اور دیگر کئی اخبارات و رسائل کو اکثر آلودہ کرتے رہتے ہیں۔ عثمانیہ یونیورسٹی سے گریجویشن کیا پھر مارکٹنگ پھر میریج کونسلنگ سے ڈپلوما کور س کیے۔ مختلف علمی ادبی و سماجی فروغ میں مصروف اداروں اور انجمنوں سے وابستہ۔ صرف اپنے شعر کہنے کی ضد میں کوئی دیوان اب تک مکمل نہیں کرسکے۔ کچھ کرنے کی تگ و دو میں ہر وقت مصروف رہتے ہیں۔ امید ہے کہ ان کی تعزیت پر کہنے والے مقررین کو بہت کچھ مواد ہاتھ آئے گا۔ 
	علیم خان فلکی حال مقیم جدہ۔ اپنے انشائیوں کی وجہ سے جانے پہچانے جاتے ہیں۔ ان کا انداز تحریر بڑا انوکھا اور دلچسپ ہے۔ اپنے عنوان اور موضوع کو کہا ں سے کہا ں لے جاتے ہیں۔ مندرجہ ذیل اقتباس ان کے انشائیے ’’قصہ بیوی کا‘‘ سے لیا گیا ہے۔ 
	’’بیویوں سے انتقام لینے کے واقعات تو بے شمار سنے تھے لیکن جو واقعہ ’’اردو نیوز‘‘ کے ذریعہ ہم تک پہنچا وہ نہ صر ف انوکھا بلکہ تمام شوہروں کے لیے سبق آموز اور بیویوں کے لیے عبرت ناک ہے۔ وہ یہ کہ امریکہ میں ایک شخص نے دوا خانے پر مقدمہ دائر کر دیا صرف اس لیے کہ ڈاکٹروں نے اس کی بیوی کا جو کئی ماہ سے کوما (Coma) میں تھی لائف سپورٹ سسٹم منقطع کر دیا تھا۔ شوہر چاہتا تھا کہ اس کی بیوی سکون کی موت مرے۔ اس واقعہ نے ہر سمجھدار شوہر کی آنکھیں کھول دیں۔ نئی حکمت عملی کے دروازے کھول دئیے۔ واقعی بیویوں کے لیے اس سے سے دردناک سزا اور کیا ہوسکتی ہے کہ وہ سکون سے موت آنے تک زندہ رہیں۔ شوہر صبر و تحمل کے ہتھیار سے ہمیشہ ان کو اذیت میں مبتلا رکھے جہاں بے چاری نے بات بے بات پر چلانا شروع کیا شوہر نے ’’خاموشی‘‘ کی گولی داغ دی۔ ادھر محترمہ نے طعنے تشنے شکایتوں کے دہانے کھولے شوہر نے میدان خالی کر دیا اور باہر کی راہ لے لی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘۲
۔۔۔۔۔
۱۔   ماہنامہ شگوفہ خلیج نمبر۔ جون ۲۰۰۴
۲۔   قصہ بیوی کا۔ علیم خاں فلکی جدہ۔ ماہنامہ شگوفہ اکتوبر ۱۹۹۶ء
 
۶۶۔ فیض احمد انصاری

	فیض احمد انصاری آکولہ سے اپنی انشائیہ نگاری کی پھلجڑیا ں چھوڑتے رہتے ہیں۔ ان کا انداز بیان نہایت دلکش اور اچھوتا ہوتا ہے۔ تحریر سادہ لیکن بامعنی ہوتی ہے۔ مندرجہ ذیل اقتباس ان کے انشائیہ ’’کان‘‘ سے لیا گیا ہے۔ ملاحظہ کیجیے:
	’’کان تو تقریباً جانداروں کو ہوتے ہی ہیں۔ لیکن کچھ جاندار ایسے بھی ہیں جنہیں کان کی جگہ سوراخ ہوتے ہیں جن سے وہ سن سکتے ہیں۔ کان والوں کے کانوں کی الگ الگ بناوٹ ہوتی ہے۔ چھوٹے کان والوں کے بارے میں ایسا خیال کیا جاتا ہے کہ ان کی عمریں کم ہوتی ہیں۔ اسی طرح بڑے کان والوں کے بارے میں مشہور ہے کہ ان کی عمریں زیادہ ہوتی ہیں۔ یہ بات کہاں تک صحیح ہے یہ تو بولنے والے اور سننے والے ہی جانیں۔ مگر اللہ نے تو سب کی عمر مخصوص کر دی، مطلب یہ کہ اوپر والے کا ویزا آیا کہ بس چلے۔ پھر بھی میں کہوں گا کان بھی اللہ ہی نے بنائے ہیں۔ شاید اس لیے بڑے کان والے زیادہ ہی عمر پاتے ہیں۔ مثلاً گاندھی جی کی ہی مثال لے لیجیے، اور مرار جی دیسائی کو دیکھ لیجیے، یا پھر مدر ٹریسا کو۔ اس طرح کے کچھ ایسے کان والے بھی ہوتے ہیں جن کی قوت سماعت بہت تیز ہوتی ہے۔ فوراً ہی بات سن لیتے ہیں چاہے بات کرنے والا کتنی ہی کم آواز میں بات کیوں نہ کر رہا ہو۔ اسی طرح چند ہوتے ہیں کچے کان کے۔ جو بات سنی اسے سچ سمجھ لیا اور اس کا افسانہ بنا دیا اور بنا تحقیق کے فیصلہ بھی کر لیا۔ ایسے لوگ بعد میں ضرور پشیمان ہوتے ہیں اور نظروں سے گر جاتے ہیں۔ چند ہوتے ہیں پکے کان کے۔ یہ لوگ کبھی کوئی بات بتاتے نہیں۔ ایسے اپنے پیٹ کا پانی بھی نہیں ہلنے دیتے۔ بعض لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو سنتے کچھ ہیں اور اس پر لگائی بجھائی کر کے بیان کرتے پھرتے ہیں۔۔۔۔۔‘‘۱
۔۔۔۔۔۔
۱۔   کان۔ فیض احمد انصاری۔ شگوفہ مئی ۱۹۹۶ء

۶۷۔ تمنا مظفر پوری

	تمنا مظفر پوری نے شاعری کے علاوہ چند انشائیے بھی لکھے ہیں۔ ان کی زبان سادہ اور مفہوم والی ہوتی ہے۔ انداز بیان جداگانہ ہے۔ مندرجہ ذیل انشائیہ کا اقتباس ان کے ’’مشورہ لینے والے‘‘ سے اخذ کیا گیا ہے۔ 
	’’۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کبھی کبھی مشورہ لینے کے لیے ایسے لوگ بھی میرے پاس آ جاتے ہیں جو ذہنی طور پر بیمار ہوتے ہیں۔ ان میں سے ایک نسیم صاحب بھی ہیں۔ جب ملیں گے تو اپنے کو ایک بڑے اور اہل ثروت ہونے کا اظہار کریں گے۔ ان کے گھر میں سبزی بھی نہیں بنی ہو گی مگر وہ مرغ کی بات کریں گے۔ ایک ماہ میں چھ انڈے خریدیں گے اور جس دن خریدنے بازار جائیں گے وہ کوشش کریں گے کہ ان کے انڈے محلے والے دیکھ لیں۔ اور اسے اتفاق کہیے کہ محلے کے لوگ دیکھ بھی لیتے ہیں کہ نسیم صاحب انڈے لے جا رہے ہیں۔ پھر وہ فرمائیں گے کہ چھ انڈے کا روزانہ خرچ ہے بڑی پریشانی ہے صاحب۔ اگر کہیں اتفاق سے نسیم صاحب آپ کو بازار کی طر ف مل گئے اور آپ مچھلی کی خریداری کر رہے ہوں تو وہ فرمائیں گے اونہہ میرے لیے آدھ کلو مچھلی سے کام نہیں چلنے کا۔ دو کلو سے کم کا خرچ نہیں ہے۔ اچھا میں کل خریدوں گا اور کل کبھی نہیں آتا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘۱
۔۔۔۔۔۔
۱۔   مشورہ لینے والے۔ تمنا مظفر پوری۔ ماہنامہ شگوفہ جولائی ۱۹۸۹ء


۶۸۔ ڈاکٹر حلیمہ فردوس

	ڈاکٹر حلیمہ فردوس بنگلور سے ادب کے مقام کو کلاسیکل دور میں لے جانے کی کوشش میں لگی ہیں۔ ان کے انشائیہ مقصد میں وسیلہ بنے ہوئے ہیں۔ ان کا تازہ انشائیہ ملاحظہ کیجیے:
	’’دعاؤں میں یاد رکھیے‘‘ یہ گزارش اکیسویں صدی کے اسی دہے کی دین ہے۔ اب اکیسویں صدی کے بارے میں کیا کہیں مفکرین نے اسے Information Explosion یعنی اطلاعاتی دھماکے کی صدی قرار دیا ہے۔ مصلحین کے نزدیک یہ اخلاقی زوال کی صدی ہے شاعروں کی نظر میں یہ بیمار صدی ہے مگر ہمارے ناقص خیال میں یہ صدی بیماروں کی صدی ہے۔ شاید آپ بھی ہمارے خیال سے متفق ہوں گے کہ بابرکت صدی میں جتنے انسان پیدا ہوئے اتنی بیماریاں ظہور پذیر ہوئی ہیں۔ کوئی شکر سے منہ میٹھا کیے بنا الحمد اللہ کہنے پر مجبور ہے۔ کوئی اپنی خون کی نالیوں کی صفائی کی غرض سے منہ اٹھائے دوڑنے میں مصروف ہے، کوئی نمک کے بنا پھیکی پھیکی غذا کھانے میں عافیت سمجھ رہا ہے اور کوئی چربی کے بیش بہا خزانے کو گھٹانے میں فکر میں مبتلا ہے۔ ان مستقل شکایتوں کے علاوہ سات سمندر پار سے نازل ہونے والی موسمی بیماریوں کا نقصان علیحدہ۔ کبھی ڈینگو تو کبھی چکن گنیا اور کبھی H1N1 جیسی جان لیوا بیماریوں نے حضرت انسان کا جینا حرام کر دیا ہے۔ بھلا ایسے میں وہ قسمت کا مارا دعاؤں کا سہارا نہ لے تو اور کیا کرے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘۱
۔۔۔۔۔۔
۱۔   دعاؤں میں یاد رکھیے۔ ڈاکٹر حلیمہ فردوس۔ ماہنامہ شگوفہ دسمبر ۲۰۱۰

۶۹۔ فیروز حیدر

	فیروز حیدر حیدر آباد سے اپنے انشائیوں کا جلوہ بکھیرتے چلے آ رہے ہیں۔ ان کی زبان میں بے ساختگی اور ایک مخلص دوست کا جذبہ موجود ہے۔ مندرجہ ذیل اقتباس ان کے انشائیے ’’ردی نامہ‘‘ سے لیا گیا ہے۔ ملاحظہ کیجیے:
	’’یقین کیجیے کہ نہ تو ہم ردی فروش ہیں اور نہ ہی پیشہ ور شاعر۔ ردی سے ہمارا تعلق اتنا ہی ہے جتنا کہ اکثر شرفاء کا ہے۔ ہم بھی ردی کو وقت ضرورت بھوک پیاس کا لڈو سمجھ کر اس پر نظر رکھتے ہیں۔ 
	کاغذ کا المیہ ردی ہے۔ گویا کہ کاغذ پیدائشی مذکر ہے لیکن ردی کا خطاب پاتے ہی اس کی جنس بدل جاتی ہے۔ بغیر کسی آپریشن کے تبدیلی جنس کے معمہ کو حل کرنے کے لیے یہ بات ضروری ہے کہ قواعد کی رو سے تذکیر و تانیث کے قاعدے لوازمات سے کماحقہ واقفیت حاصل کر لی جائے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘۱
۔۔۔۔۔
۱۔   ردی نامہ۔ فیروز حیدر ماہنامہ شگوفہ اپریل ۱۹۹۶ء


۷۰۔ جہاں قدر چغتائی

	جہاں قدر چغتائی بھوپال سے اپنے انشائیے تحریر کرتے ہیں۔ ان کا انداز نہایت دلکش ہے اور الفاظ اتنے بر وقت و مناسب استعمال کرتے ہیں کہ ان سے جملوں کا مزہ دوگنا ہو جاتا ہے۔ وہ بڑی مہارت سے موضوع کو طنز و مزاح کے ساتھ سنجیدگی کی طرف لے جاتے ہیں۔ مندرجہ ذیل اقتباس ان کے ایک انشائیے ’’قہقہہ گر‘ ‘ سے لیا گیا ہے۔ 
	’’ اس زمانے میں پچاس لڑکوں کی کلاس میں ایک ہی آوا ز سنائی دیتی تھی اور وہ صرف استاد کی آواز تھی۔ استاد نے شعر پڑھا مطلب سمجھایا اور سب شعر کا مطلب سمجھ گئے مگر ہم شاید کم فہم تھے۔ ہم نے استاد سے ہمت کر کے اتنا پوتھا جناب یہ نوحہ گر کون ہوتا ہے جس کو غالب صاحب اے ڈی سی کی طرح اپنے ساتھ رکھنا چاہتے تھے۔ استاد کو غصہ آ گیا۔ نویں جماعت میں آ گیا اتنی سی بات نہیں جانتا۔ رونے پیٹنے والے کو نوحہ گر کہتے ہیں۔ سمجھ گیا جناب کہہ کر میں اپنی جگہ پر بیٹھ گیا۔ محض اتفاق ہے کہ خود ہمارے گھر میں دو نوحہ گھر تھے۔ ہم کو خبر نہ تھی۔ دوسری طرف بے چارے غالبؔ تھے کہ ایک نوحہ گر کو ترستے رہے۔ والد کی بات پر والدہ نوحہ گری کرتی تھیں تو والدہ کی باتوں پر والد صاحب نوحہ گر بن جاتے تھے۔۔۔۔‘‘۱
۔۔۔۔۔۔
۱۔   قہقہہ گر۔ جہاں قدر چغتائی۔ ماہنامہ شگوفہ اپریل ۱۹۹۵ء
 


۷۱۔ عاتق شاہ

	عاتق شاہ کے انشائیے کے موضوعات روزمرہ کی استعمال کی چیزیں ہوتی ہیں۔ لیکن اپنے طنز و ظرافت کے نشتر اور پند و وعظ سے وہ انہیں غیر معمولی بنا دیتے ہیں۔ ان کے انشائیوں میں بلا کی شگفتگی پائی جاتی ہے۔ مندرجہ ذیل اقتباس ان کے انشائیے ’’جھاڑو‘‘ سے لیا گیا ہے۔ 
	’’جھاڑو ایسی کہ جس پر نظر پڑتے ہی زمانے بھر کا افلاس، اندر باہر کی نحوست اور ساری عمر کی کلفت دور ہو جائے۔ ایسی پکی اور مضبوط جھاڑو صرف ناریل کے درختوں کے پتوں کو چھیل چھیل کر ناکلی ہوڈی موٹی موٹی کاڑیوں یا تیلیوں کو جوڑ جوڑ کر بنائی جاتی ہے۔ اور وہ اس طرح کہ اپنی ضرورت کے مطابق کاڑیوں کے سرے کو یوں کس کر باندھا جاتا ہے کہ ایک کاڑی یا تیلی بھی الگ نہ ہونے پائے۔ اور مٹھی کی گرفت میں پوری طرح اس کا سرا آ جائے۔ غسل خانوں اور بیت الخلاؤں میں یہ جھاڑو چھپاک کے ساتھ وہ وہ کارنامے انجام دیتی ہے کہ عقل حیران رہ جاتی ہے۔ گندگی اور غلاظت یوں غائب ہو جاتی ہے جیسے وہ کہیں اور کبھی تھی ہی نہیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘۱
۔۔۔۔۔۔۔
۱۔۔  جھاڑو۔ عاتق شاہ۔ ماہنامہ شگوفہ سالنامہ ۱۹۹۵ء


۷۲۔ ممتاز مہدی

	ممتاز مہدی (حیدر آباد) اپنی انفرادی تحریر کے لیے حیدر آباد میں خاصے مشہور ہیں۔ ان کی زندہ دل تحریر رسالوں کی جان ہوتی ہے۔ ان کی تحریر کی روانی کا ثبوت یہ مندرجہ ذیل انشائیہ ’’مرنا ‘‘ ہے۔ 
	’’دہلی دو درشن کے ’’ڈی ڈی ون چینل‘‘ پر ہر روز صبح ایک گھڑی دکھلائی جاتی ہے جسے ’’پالولیشن کلاک‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔ جس میں ملک میں ہر سکنڈ میں کتنے بچوں کا اضافہ ہوا یہ دکھایا جاتا ہے۔ چینلوں کی تعداد میں بھی آبادی کی طرح اضافہ ہو رہا ہے اور یہ چینل باہم مقابلہ بازی میں مرے جا رہے ہیں۔ ہمارا لطیف سا مشورہ ہے کہ DDI کے جواب میں Zee TV والے مرنے والوں کی گھڑی ’’کلاک آف ڈیتھ‘‘ کسی مقررہ وقت پر بتلائیں اور سامعین کو مشورہ دیں کہ وہ اس کی رفتار میں تیزی لائیں اور ناظرین سے التجا کریں کہ وہ جلدی جلدی مریں چونکہ جوں جوں اس دم توڑتی دنیا کی حقیقت اور مغرور انسان کی کمزوریاں آشکار ہوتی جا رہی ہیں، انسان کے مرنے کا غم بہت ہی ہلکا پھلکا ہوتا جا رہا ہے بلکہ پسماندگان اپنی مسرت چھپانے میں ناکام ثابت ہو رہے ہیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘۱
۔۔۔۔۔۔
۱۔   مرنا۔ ممتاز مہدی۔ ماہنامہ شگوفہ مارچ ۱۹۹۶ء


۷۳۔ رزاق اثر شاہ آبادی

	رزاق اثر شاہ آبادی کے انشائیے اکثر رسالوں میں نظر آتے ہیں۔ ان کی زندہ دل تحریر قاری کی زندگی میں ایک نئی توانائی لہرا دیتی ہے۔ مندرجہ ذیل انشائیہ اس کی ایک مثال ہے۔ 
	’’۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ابھی حال ہی میں ہماری ملاقات ایک ایسے سرفروش سے ہوئی جو حالاتِ زندگی سے گھبرا کر کم اور اپنی دو عدد بیویوں اور نو عدد بچوں کی ذمہ داریوں سے تنگ آ کر گھر سے بھاگ نکلا تھا۔ اس کے بیان کے مطابق ریل گاڑی میں اس کی ملاقات ایک ایسے شخص سے ہوئی جو مختلف خیراتی اداروں کے لیے کمیشن پر چندہ وصول کرنے کا کام کرتا تھا اور خیراتی ادارے اپنی ضرورت اور مجبوری حالات کے مطابق ہراج پر اس کے پاس سے چندہ حاصل کیا کرتے تھے۔ بقول حضرت سلیمان خطیب مرحوم اس کام کے لیے گھر سے روپیہ نہیں لگانا پڑتا ہے۔ اس لیے اس کے کاروبار میں اتنی برکت ہوئی کہ چند ہی برسوں میں اس نے چندہ وصول کرنے کے لیے ملازم رکھ لیے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘۱
۔۔۔۔۔۔
۱۔   ذکر ایک چندہ فروش کا۔ رزاق شاہ اثر شاہ آبادی۔ ماہنامہ شگوفہ مارچ ۱۹۹۶ء


۷۴۔ منظور الامین

	منظور الامین حیدر آباد سے اپنے انشائیے لکھ کر اردو ادب کے خزانے میں گراں قدر اضافہ کرتے رہتے ہیں۔ ان کی تحریر ایک نئی تازگی اور توانائی بخشتی ہے۔ مندرجہ ذیل انشائیہ اس کی خوبصورت مثال ہے۔ 
’’نام منظور ہے تو فیض کے اسباب بنا
پل بنا، چاہ بنا، مسجد و تالاب بنا
	عرض یہ ہے کہ گو راقم کا نام بھی منظور ہے لیکن واضح ہو کہ شاعر نے اس خاکسار کو مخاطب کر کے یہ شعر تحریر نہیں کیا تھا۔ 
	اسی شعر سے یہ پہلو بھی نکلتا ہے کہ پل کا بنانا عوام الناس کو فیض پہنچانے کے زمرے میں آتا ہے۔ حکومتیں پل بناتی ہیں تو جنتا کو فائدہ پہنچانا تو وہ چاہتی ہی ہیں لیکن جس پارٹی کی حکومت ہوتی ہے وہ اپنی پارٹی کا Image اونچا اٹھانے کی خاطر بھی ایسا کیا کرتی ہیں کہ آنے والی نسلیں یاد رکھیں کہ فلاں پارٹی کے دور حکومت میں فلاں زرین پل بنایا گیا تھا۔ یہ بھی ایک طرح سے لفظوں کا کھیل ہے۔ لفظ ایک شکتی مثالی شے ہے لفظ کو Bridge of matter بھی کہا جاتا ہے یعنی لفظ دو روحوں کے درمیان مادے کا پل ہوتا ہے، مگر یہ ترسیل و ابلاغ کا مسئلہ ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ !‘‘۱
۔۔۔۔۔۔
۱۔   پل۔ منظور الامین۔ ماہنامہ شگوفہ اگست ۱۹۹۶ء

۷۵۔ حامد لطیف حامدؔ

	حامد لطیف حامدؔ کی زندہ دل تحریر محترم جناب یوسف ناظم کی یاد دلاتی ہیں۔ ہنسی ہنسی میں وہ بڑی باتیں کہہ جاتے ہیں۔ مندرجہ ذیل انشائیہ اس بات کی زندہ مثال ہے۔ 
	’’۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میر ہمارا کرتا، پاجامہ پہن کر سامنے آئے تو بالکل Scare Crow یعی کوا ہکنی لگ رہے تھے۔ اب بحث یہ چھڑی کہ فلم کون سی دیکھی جائے۔ ہم نے کہا ویڈیو گھر پر ہے۔ بیگم نے ہونے والی مسلسل بارش کی طرف توجہ دلائی تو میر کچھ ٹھنڈے پڑے۔ ہم نے کہا آپ فلم کا نام بتائیں۔ ہم کیسٹ منگوا لیتے ہیں۔ میر پان کے بیڑے کو تیسری بار دائیں سے بائیں کلے میں منتقل کرتے ہوئے تمباکو کی پیک کا ایک مہکتا گھونٹ نگل کر بولے۔ ’’ایک فلم کا نام ہے ’’اگر تیری شادی مجھ سے نہ ہو تو میں تیرے باپ کو جلا کر راکھ کر دوں گا‘‘۔ ’’لاحول و لا قوۃ‘‘ ہم نے کہا۔ بولے ’’یہی منگوا لو۔ کوئی گویا کہ خودبخود مسلم سوشیل کمرشیل فلم معلوم ہوتی ہے۔ ‘‘ میں نے کہا ’’یہ کسی فلم کا نام نہیں ہوسکتا۔ ‘‘
	’’یقین کرو، اس فلم کا نام یہی ہے‘‘ میر بولے ’’عرصہ ہوا، میں دو ماہ کے لیے مدراس گیا تھا۔ گویا کہ خودبخود گیا تھا۔ وہاں ایک دوست کے ہمراہ ہوٹل سے اسٹوڈیو جا رہا تھا کہ دیکھا راستے میں ایک سنیما پر گویا کہ خودبخود لوگ حال سے بے حال ٹکٹ کی کھڑکی کو ٹوٹے پڑ رہے ہیں۔ میں نے اپنے دوست سے پوچھا۔ یہ کون سی فلم ہے۔ جواب ملا ’’کہیے حضور، اب کیسے مزاج ہیں ؟میں نے سنا تھا آپ کی طبیعت کچھ دنوں سے خراب چل رہی ہے‘‘ میں نے گھبرا کر کہا۔ جناب آپ اچانک میری طبیعت کا حال کیسے پوچھنے لگے۔ میں نے تو گویا کہ خود بخود آپ سے فلم کا نام پوچھا تھا۔ وہ صاحب ہنس کر بولے۔ یقین کریں یہی ہے اس فلم کا نام۔ ‘‘۱
۔۔۔۔۔۔
۱۔   آئیے فلم دیکھیں۔ ۔ حامد لطیف حامد۔ ماہنامہ شگوفہ اگست ۱۹۹۶ء
 
۷۶۔ محمد اظہر حیات

	محمد اظہر حیات ناگپور سے اپنی شگفتگی پورے بھارت میں پھیلاتے رہتے ہیں۔ ان کے انشائیے اکثر اخبارات اور رسالوں میں نظر آتے ہیں۔ نہایت سادگی سے سماج کی برائیوں پر چوٹ کرتے ہیں۔ مندرجہ ذیل انشائیہ ان کا ایک خوبصورت انشائیہ ہے۔ 
	’’لیڈر صاحب اردو میڈیم کی تیسری جماعت میں فیل ہو گئے تھے۔ انگریزی کیا اردو بھی ٹھیک سے لکھ پڑھ نہیں سکتے تھے۔ مگر سیاسی بصیرت اور لیڈرانہ مہارت گویا ان کی گھٹی میں پڑی تھی۔ اسی لیے شہر کے ادیب و شاعر اپنی کتابوں کا اجراء ان کے دست مبارک سے کروانا باعث فخر سمجھتے۔ لیڈر صاحب معاملہ فہمی اور حاضر دماغی کی وجہ سے بھی مقبول خاص و عام ہیں۔ کئی انجمنوں اور اداروں کے صدر اور ذمہ دار بھی ہیں۔ 
	لیڈر صاحب عام طور پر سفید کتا پاجامہ ہی زیب تن کرتے ہیں۔ مگر خاص خاص موقعوں پر شیروانی اور ٹوپی کو بھی موقع فراہم کرتے ہیں (اس لباس میں وہ زیادہ پر وقار اور منفرد نظر آتے ہیں۔ ویسے شیروانی پہننے میں ایک مصلحت یہ بھی ہے کہ دعوتوں میں نظر بچا کر شیروانی کی بڑی بڑی جیبوں میں بچوں کے لیے بھی حصہ رکھ لیتے ہیں۔ ) 
	لیڈر صاحب بڑے بے باک نڈر اور منہ پھٹ ہیں۔ کسی سے نہیں ڈرتے۔ مگر اپنی بیگم کے سامنے بھیگی بلی نظر آتے ہیں۔ ایک دفعہ ٹیلی فون پر کسی شخص نے دھمکی دی اور کہا کہ میں خوب سمجھتا ہوں کہ تم کس کے اشارے پر ناچتے ہو۔ لیڈر صاحب نے عاجزانہ طور پر کہا دیکھو سیاسی معاملات میں میری بیوی کو نہ کھینچو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ !‘‘۱
۔۔۔۔۔
۱۔   محبوب لیڈر۔ محمد اظہر حیات۔ ماہنامہ شگوفہ اگست ۱۹۹۶ء

۷۷۔ سید محمود حسینی

	سید محمود حسینی نے حیدر آباد کے مزاح نگاروں میں اپنے انشائیوں کے ذریعے اپنا ایک الگ ہی مقام بنایا ہے۔ ان کی تحریر ایک انفرادی کشش رکھتی ہے۔ یہ انشائیہ اسی بات کی تصدیق کرتا ہے۔ 
	’’۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ دولہا آہستہ سے دلہن کے والد کے قریب آیا اور کہا بابا اب رسم جلوہ کا انتظام فرمائیں۔ مجھے اندر لے چلیں۔ دلہن کے والد حیران ہوئے اور کہا کہ بیٹے ابھی تو سوا آٹھ ہی بجے ہیں یہ کبھی جلوہ کا وقت ہے۔ دولہا نے کہا کہ آپ نے رقعہ میں تو وقت جلوہ ساڑھے آٹھ بجے ہی لکھا ہے۔ وقت پر نیک کام ہوہی جانا چاہیے اور وہ یہ کہہ کر چلا زنانے میں جہاں دولہے کی بہنیں پہلے سے ہی دلہن کو منڈپ میں لے آئیں تھیں۔ بس پھر کیا تھا کچھ ہی دیر میں جلوہ کی رسم بھی پایہ انجام کو پہنچی اور دولہا سب سے ملتے قدم بوسی کرتے مردانے میں واپس۔ پھر کوئی دس بجے کا وقت تھا دولہا پھر اپنے سسر کے پاس چلا آیا اور کہا کہ اب رخصتی کی تیاری کروائیں۔ دلہن کے والد نے فوراً کہا کہ میاں شادی کے رقعہ میں رخصتی کا وقت میں نے نہیں دیا ہے۔ آپ اپنی دلہن کو لے جانے میں جلدی نہ کریں۔ اب دولہا میاں کی باری تھی کہا کہ بابا میں آپ کی دختر نیک اختر کا شوہر ہوں اور اس کو لے جانا میرا بنیادی حق ہے اور آپ مجھے میرے بنیادی حق سے باز نہیں رکھ سکتے۔ دلہن کے والد نے یہ سنتے ہی ایک فلک شگاف آواز بلند کی۔ اف میرے خدا میرا داماد تو بنیاد پرست نکلا۔۔۔۔ ‘‘۱
۔۔۔۔۔۔
۱۔   بنیاد پرست۔ سید محمود حسینی۔ ماہنامہ شگوفہ ممبئی ۱۹۹۵ء

۷۸۔ جمیل صدیقی بدایونی

	جمیل صدیقی بدایونی کی تحریر بہت ہلکی پھلکی اور خوبصورت معلوم ہوتی ہے۔ سادگی میں سماج کے عناصر پر چوٹ کر جاتے ہیں۔ یہ انشائیہ ان کی ایک دلچسپ تحریر ہے۔ 
	’’۔ ۔ ۔ ۔ ۔ انسانی جسم پر پتلون بظاہر مقام اسفل السافلین پر نظر آتی ہے۔ لیکن اہل ذوق کے نزدیک اس کا مقام علین پر ہے۔ اس کی اہمیت کا اندازہ اسی سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس کیساتھ شرٹ کا ہونا ضروری ہے۔ لیکن جس باریک بینی اور تنقیدی شعور کے ساتھ پتلون کا کپڑا خریدا جاتا ہے اتنا بے چاری شرٹ کا نہیں۔ پتلون کا کپڑا قمیص سے دو گنا مہنگا ہوتا ہے اسی طرح اس کی سلائی بھی قمیص کی سلائی سے دو گنی مہنگی ہوتی ہے۔ لیکن شائقین پتلون اس مصرف بے جا کو برضا و رغبت برداشت کرتے ہیں۔ کیونکہ پتلون میں آدمی کی شخصیت ایکدم فائیو اسٹار ہو جاتی ہے۔ بوڑھا ہو یا جوان، نوعمر ہو یا بچہ حتیٰ کہ صنف نازک کو بھی جب سے اس راز کا پتہ چلا ہے انہوں نے بھی اس روگ کو بخوشی گلے لگا لیا ہے۔ اس کا سب سے مایوس کن پہلو یہ ہے کہ یہ روگ لاعلاج ہے اور جو لوگ ابھی تک اس کی لپیٹ میں نہیں آئے ہیں ان کے خون کی جانچ کرنے پر مرض پتلون کے مثبت جراثیم پائے گئے ہیں جس سے اس مرض کا ان کی اولادوں میں منتقل ہونے کا پورا پورا خطرہ ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘۱
۔۔۔۔۔۔
۱۔   پتلون۔ جمیل صدیقی بدایونی۔ ماہنامہ شگوفہ مئی ۱۹۹۵ء

۷۹۔ محمد برہان حسین

	محمد برہان حسین بہت خوبصورت انشائیے لکھتے ہیں۔ ان کی زندہ دل تحریر قاری کے ذہن و دل کو بیدار کرتی ہے۔ یہ انشائیہ اس بات کی تصدیق کرتا ہے۔ 
	’’۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پھر ایک دن مرزائن نے مرزا سے کہا کہ ادبی مجلس کی خواتین نے انکی تجویز کو قبول کر لیا ہے اور مرزا کو عورتوں کے مسائل پر لکھی گئی تحریروں پر ’’خیراتی بیگم‘‘ انعام دیا جائے گا۔ 
	مرزا نے کہا ’’ارے بھئی میں نے اپنی بعض تحریروں میں عورتوں کی بعض حرکات کا مذاق ضرور اڑایا ہے لیکن حقیقت میں کبھی کوئی تحریر میں نے خواتین کی خدمت کے خیال سے نہیں پیش کی۔ ‘‘
	مرزائن نے کہا ’’مجھے معلوم ہے میں تو تمہاری تحریریں پڑھتی ہوں اور کون پڑھتا ہے۔ خصوصیت سے ہماری ادبی مجلس خواتین کی کسی رکن نے تمہاری تحریر کو پڑھنے کی زحمت گوارا نہیں کی۔ دراصل ہماری انجمن کی خواتین اس قدر مصروف رہتی ہیں کہ انہیں پڑھنے لکھنے کا وقت ہی نہیں ملتا۔ حتیٰ کہ ان کی تقاریر بھی دوسروں سے لکھوائی جاتی ہیں اور انہی حالات کی وجہ سے جب میں نے تمہارا نام ایوارڈ کے لیے پیش کیا تو کسی نے کوئی مخالفت نہیں کی بلکہ اکثریت نے حامی بھری اور ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر تائید کی کہ واقعی تمہاری تحریروں نے ملک کی خواتین میں ایک نئی بیداری پیدا کی ہے۔ ‘‘
	مرزا نے کہا ’’مرزائن جی! جب انعام دلا رہی ہو تو اچھے نام کا دلاؤ۔ یہ کیا ’’خیراتی بیگم انعام‘‘
	مرزائن نے کہا۔ ’’لو۔ ارے تم ہی زندگی بھر کہتے رہے ہو کہ شیکسپیئر نے کہا تھا ’’گلاب کو کسی بھی نام سے پکارو۔ کیا فرق پڑتا ہے اور نام میں کیا رکھا ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘۱
۔۔۔۔۔
۱۔   انعام نے رسوا کیا مجھے۔ محمد برہان حسین۔ ماہنامہ شگوفہ سالنامہ ۱۹۹۵ء

۸۰۔ ڈاکٹر راہی قریشی

	ڈاکٹر راہی قریشی (گلبرگہ) کی خوبصورت تحریروں سے کرناٹک اور دکن کے رسالے جگمگاتے رہتے ہیں۔ ان کا مندرجہ ذیل انشائیہ ایک بہترین انشائیہ کہلائے جانے کا مستحق ہے۔ 
	’’رفتہ رفتہ احسان رائیگاں ؔ کی آمدنی گھٹنے لگی اور معاوضہ استاد بڑھنے لگا۔ جب کافی مقدار میں کلام اصلاح شدہ جمع ہو گیا تو ان کے بدخواہ پھر آن موجود ہوئے اور اس دفعہ یہ مشورہ دیا کہ کسی نہ کسی طرح ایک مجموعہ کلام شائع کر دیا جائے کیونکہ جس طرح عشق کے لیے محبوبہ ضروری ہے اسی طرح شاعر کے لیے مجموعہ لازمی ہے۔ 
	اس مشورے کے تحت احسان رائیگاں اپنی بیگم سے (حسب عادت) رجوع ہوئے اور اپنے آپ کو اس کا حقیقی زیور ثابت کر کے اس کا آخری طلائی زیور فروخت کر دیا۔ ایک با ذوق کاتب مامور کیا گیا جس کے تحت تازہ کلام اصلاح یافتہ ہو کر کاتب کی اجرت اور مجموعے کی ضخامت میں اضافے کا سبب بنا۔ تکمیل طباعت کے بعد ایک مطبع نے بادل نخواستہ ذمہ داری طباعت بایں شرط قبول کی کہ جملہ اخراجاتِ طباعت احتیاطاً پیشگی ادا کر دئیے جائیں۔ 
	غرض ان ہمت شکن حالات میں احسان رائیگاں کے پہلے مجموعہ کلام ’’متاعِ رائیگاں ‘‘ کی اشاعت عمل میں آئی۔ مصور بھی چونکہ ذوق لطیف سے عاری نہ تھا اس لیے سرورق کے ڈیزائن میں اس نے مجموعے کے نام کے لحاظ سے اڑتے ہوئے اوراق غزل کے ساتھ ساتھ کرنسی نوٹ بھی محو پرواز دکھائے تھے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘۱
۔۔۔۔۔
۱۔   تلاشِ گمشدہ۔ ڈاکٹر راہی قریشی۔ ماہنامہ شگوفہ جولائی ۱۹۸۹ء

۸۱۔ مسیح انجم

	مسیح انجم کی دور رس نگاہیں  انشائیہ نگاری میں نئے دروازے وا کرتی ہیں۔ ان کے تجربات و حادثات سے وہ قاری کو دوچار کراتے ہوئے پند و نصائح کا فرض بھی بخوبی ادا کرتے ہیں۔ 
	’’ایک عمر تک ہم اس غلط فہمی میں مبتلا رہے کہ قرض مانگنا اور دوسروں سے پیسے ادھار لینا نہایت ہی معیوب بات ہے۔ کتابوں میں قرض کی مخالفت میں بڑے بڑے دانشوروں کے اقوال پڑھ رکھے تھے جو ہمیں زبانی یاد تھے۔ 
	٭ جو شخص کسی سے قرض نہیں لیتا، وہی حقیقی بہادر ہے۔ 
	٭ عزت گنوا کر آب حیات بھی ملے تو نہیں لینا چاہیے۔ 
	٭ قرض کے فتنے سے بھوکا سوجانا (بلکہ فاقے کر کے مر جانا) بہتر ہے۔ 
	٭ قرض دوستی کی مقراض ہے ( قینچی) وغیرہ وغیرہ۔ 
	ابتدا میں یہ اقوال ہمیں بڑے بھلے لگے۔ لیکن جوں جوں ہم نے ان اقوال پر عمل کرنا شروع کیا تو پتہ چلا کہ یہ ’’اقوال زرین‘‘ نہیں بلکہ لوہے کے چنے ہیں۔ اور قرض لیے بغیر زندگی گزرنا نہایت دشوار ہے۔ آپ نے دیکھا ہو گا کہ ہمارے اکثر دانشور دوسروں کی عملی دشواریوں کا اندازہ لگائے بغیر اقوال گھڑتے رہتے ہیں۔ اب آپ ہی سوچئے کہ موجودہ دور میں جو شخص ان اقوال پر عمل کرے گا وہ اپنی خاندانی ضروریات، ضروریات سے کہیں زیادہ خواہشات اور خواہشات سے کہیں زیادہ بیوی کی فرمائشات اور فہمائشات کو کس حد تک پورا کرسکے گا۔ سچ تو یہ ہے کہ ان اقوال اور موجودہ دور کے درمیان اے بہت بڑا گیپ (Gap) ہے جو جنریشن گیپ (Generation Gap) کہلاتا ہے۔ اور جو شخص بھی اس گیپ کو پاٹنے کی کوشش کرے گا۔ وہ کھڈ میں گر جائے گا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘۱
۔۔۔۔۔۔
۱۔   قرض کی مدح میں ! مسیح انجم۔ ماہنامہ شگوفہ سالنامہ ۱۹۹۵ء

۸۲۔ رشید الدین

	رشید الدین اپنی انفرادی تحریر کے ذریعے حیدر آباد کے ادیبوں میں اپنا مقام بنائے ہوئے ہیں۔ ان کے انشائیے اکثر اخبارات اور رسالوں کی رونق بنے ہوتے ہیں۔ 
	’’۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اب جو انہیں دیکھتے ہیں تو الف کا نام بھالا نہیں آتا۔ بڑی کوفت ہوئی کہ آخر اسکول میں ٹیچر کیا پڑھاتے ہیں۔ اور خصوصاً چھوٹے بچوں کو پڑھانا کتنا کار داد ہے۔ یہ ہمیں اب معلوم ہوا۔ ایک لڑکے نے سوال کیا ’’پپا جب بی یو ٹی بٹ ہوتا ہے تو پی یو ٹی پَٹ کیوں نہیں ہوتا پُٹ کیوں ہوتا ہے‘‘ بھلا اب ہم اس بات کا کیا جواب دیتے۔ صرف اس کا کان مروڑ کر رہ گئے کہ یہ کیا غیر ضروری بکواس ہے۔ ایک بچے نے پنسل چھیلتے چھیلتے انگلی کاٹ لی۔ اسے پٹی باندھنی پڑی۔ گوشمالی بھی کرنا چاہتے تھے لیکن ڈر تھا کہ وہ کہیں رونا نہ شروع کر دے۔ اس لیے خون کے گھونٹ پی کر رہ گئے۔ ایک صاحب زادے میز پر سر رکھے خواب خرگوش کے مزے لے رہے تھے۔ انہیں پنسل مار کر جگایا۔ جس سے پنسل کے دو ٹکڑے ہو کر دو طرف گر گئے۔ نقصان ہمارا ہی ہوا۔ اب صبح دوسری پنسل لے کر دینی ہو گی۔ عجیب مصیبت ہے۔ طبیعت میں جھنجھلاہٹ پیدا ہونے لگی تھی کہ خواہ مخواہ یہ درد سر مول لیا۔ جب بچے پیدا کیے تو کیا یہ ضروری ہے کہ انہیں پڑھایا بھی جائے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘۱
۔۔۔۔۔۔
۱۔   ہم نے اپنے بچوں کو پڑھایا۔ رشید الدین۔ ماہنامہ شگوفہ جولائی ۱۹۸۹ء

۸۳۔ محمد باقر

	محمد باقر ممتاز عثمانین ہیں۔ پیشہ کے لحاظ سے انجینئر ہیں۔ ریاض کی مشہور تعمیراتی کمپنی سعود کنسلٹ میں چیف کوالٹی کنٹرول انجینئر ہیں۔ المنائی آف اوؤر سیز عثمانیس اور بیروی ممالک میں کام کرنے والے ہندوستانیوں کی انجمن کے صدر ہیں۔ علاوہ ازیں انڈیا فورم قونصل خانہ ہند جدہ کے صدر رہ چکے ہیں۔ قومی اور بین الاقوامی سیمیناروں میں ملک کی نمائندگی کر چکے ہیں۔ غیر مقیم ہندوستانی کے مسائل اور تعلیمی سرگرمیوں کے علاوہ اردو کی ترقی و فروغ کے لیے کام کر رہے ہیں۔ محمد باقر اپنے انشائیوں کے ذریعے اردو ادب کے خزانے میں اضافے کا باعث بنتے ہیں۔ ان کی تحریر کی روانی دیکھتے ہی بنتی ہے۔ اپنے مخصوص انداز سے سماج کی برائیوں پر چوٹ کرتے رہتے ہیں۔ 
	’’مختلف انجینئرنگ کمپنیاں بھی برین واش کے لیے جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کرتے ہوئے نایاب قسم کی مشینیں ایجاد کر پائیں گے اس طرح زندگی کے ہر شعبہ سے تعلق رکھنے والے اصحاب کی ترقی کے روشن امکانات پائے جاتے ہیں۔ ہماری تجویز ہے کہ ابتداً تجرباتی طور پر برین واشنگ کا کام سیاسی میدان کے تمام لیڈروں سے شروع کیا جائے جہاں سب سے پہلے ان کے برین کو واشنگ مشین میں ڈال کر دھویا جائے تاکہ بنی نوع انسان کے لیے یہ لیڈر کارآمد ثابت ہوسکیں۔ اگر اتنا کام ہو گیا تو ڈاکٹروں میں پھیلی ہوئی بے روزگاری دور کرنے کے لیے برین واش کے بجائے کوئی ایسی تجویز پیش کی جا سکے گی جسے سن کر پچھلے سو سال سے مردہ پڑا ہوا بقراط جی اٹھے گا!‘‘۱
۔۔۔۔۔۔
۱۔   برین واش۔ محمد باقر۔ ماہنامہ شگوفہ دسمبر ۱۹۹۴ء

۸۴۔ وحید اشرفؔ

		وحید اشرف کی شگفتہ تحریر قاری کا من موہ لیتی ہے اور ایک دیرپا تاثر قائم کر جاتی ہے۔ مندرجہ ذیل انشائیہ ’’تالیاں ‘‘ملاحظہ کریں :
	’’۔ ۔ ۔ ۔ ۔ شارجہ میں ایک اسٹیج پروگرام کے اختتام پر میں نے اناؤنسر کو روک لیا، جو اپنے چمچوں میں گھرے ہوئے تھے اور پوچھا آپ حضرات سامعین و ناظرین حضرات سے اتنی زیادہ تالیاں کیوں بجواتے ہیں۔ تالیوں کا اتنا شوق اور طلب کیوں ہے؟ آپ نے تو تالیوں کا لطف اور ذوق ختم کر دیا ہے۔ انہوں نے خشمگیں نظروں سے پہلے تو گھورا اور اچانک تالی بجانے لگے۔ کہنے لگے یہ خوشی و شکر کا اظہار ہے۔ آپ تالیوں کی اہمیت و افادیت سے واقف نہیں۔ ہم ہیں۔ پھر ایک بے ربط سوال مجھ سے کیا۔ یہ بتاؤ انسان پہلے آیا ہے تالی۔ تو چمچے تالی بجانے لگے۔ ایک نے کہا بھئی واہ کیا جدت ہے۔ پہلے سنتے تھے مرغی پہلے آئی یا انڈا۔ اور یہ بھی بتاؤ تالی کہاں نہیں بجائی جاتی، جواب دو، جواب۔ وہ سب میرے پیچھے یوں پڑ گئے کہ میں حواس باختہ بھاگنے لگا۔ آواز آئی تالی تو بجاتے جاؤ۔ پھر اچانک مجھے کچھ یاد آ گیا اور غیر ارادی طور پر خوشی سے تالی بجا دی۔ پیچھے مڑ کر چلایا۔ ’’تالی صرف دو جگہ نہیں بجائی جاتی۔ شکر ہے، زندہ دلان حیدر آباد اور ادبی ٹرسٹ کے مشاعروں میں۔ ‘‘۱
۔۔۔۔۔۔
۱۔   تالیاں۔ وحید اشرف۔ ماہنامہ شگوفہ دسمبر ۱۹۹۴ء

۸۵۔ سنجر ہلال بھارتی

سنجر کا انداز بیان گفتگو والا ہے۔ طرز اسلوب نہایت شگفتہ و سادہ ہے۔ سادگی سے سماج کی برائیوں پر چوٹ کر جاتے ہیں۔ ان کا مندرجہ ذیل انشائیہ ملاحظہ کیجیے:
	’’۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ ترقی پسند شاعری کیا ہوتی ہے؟‘‘ میں نے کریدا۔ 
	’’یہی کہ دنیا میں ہر آدمی برابر ہے۔ یہاں کوئی کسی سے برتر اور کمتر نہیں۔ آدمی کے پیدا ہونے کی نوعیت، تو پھر کوئی سرمایہ دار اور کوئی بیگار کیوں ؟ کوئی امیر اور کوئی غریب کیوں ؟ کوئی مجبور اور کوئی مسرور کیوں ؟ لہٰذا فاقہ مستوں کو چاہیے کہ وہ امیروں کے سینے پر چڑھ کر ان کی دولت اور مال و متاع چھین لیں۔ ساحر لدھیانوی نے کیا خوب کہا ہے۔ 
تیرگی اپنے مقدر کی مٹانے کے لیے
چھین کر چاند ستاروں سے اجالے لے لو
زندگی بھیک میں نہیں ملتی
زندگی بڑھ کے چھینی جاتی ہے
اپنا حق سنگدل زمانے سے 
چھین پاؤ تو کوئی بات بنے‘‘
	’’مگر انکل۔ ‘‘ میں نے بات کاٹتے ہوئے کہا۔ 
	’’یہ شاعر تو لوٹ مار کی ترغیب دے رہا ہے۔ شاعر تو وہی ہے جو انسان کو انسانیت، محبت، ہمدردی، اتحاد اور سچائی کا پیغام دے۔ ‘‘
	’’بھتیجے! تم نرے احمق ہو، اگر انسانیت، خلوص، ہمدردی اور محبت کی بات کرو گے تو پیچھے رہ جاؤ گے۔ وقت کے ساتھ بدلنا سیکھو۔ آدمی کو احمق بناؤ اور ترقی کرو۔ ہر قدم پر اپنا مفاد پیش نگاہ رکھو۔ انسانیت کا بورڈ لگا کر آگے کبھی نہیں بڑھ سکتے۔ ایڈوانی جی کو دیکھو! اگر وہ انسانیت اور ہمدردی کے لفڑے میں الجھے رہتے تو یہ آفاقی شہرت آج اسے نصیب نہ ہوتی۔ ‘‘۱
۔۔۔۔۔
۱۔   زندگی بڑھ کے چھینی جاتی ہے۔ سنجر ہلال بھارتی۔ ماہنامہ شگوفہ اکتوبر ۱۹۹۵ء

۸۶۔ انیس صدیقی

	انیس صدیقی (حیدر آباد) نے بہت محنت سے اپنا مقام بنایا ہوا ہے۔ ان کی سادہ تحریر میں سماج کے لیے مشکل پیغام چھپا ہوتا ہے۔ 
	’’۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ایٹم بم سے پہلے دوسری جنگ عظیم کے دوران بمباری کے خطرات سے بچنے کے لیے زیر زمین پناہ گاہیں بنائی گئی تھیں۔ اور ساتھ ہی آگ لگ جائے تو  بجھانے کے لیے پانی کے حوض بھی۔ چنانچہ آج بھی محلہ مغلپورہ کا ایک علاقہ اے آر پی حوض کے نام سے جانا جاتا ہے۔ ذوق شاعری کی تسکین کے لیے ہمیں آخری پناہ گاہ فلمی گانوں میں ملی۔ مجازؔ، ساحرؔ، اور شکیل بدایونی وغیرہ نے فلمی گانوں کا رخ تک بندی سے موڑ کر شعریت کی طرف پھیر دیا اور ان کے کلام کو جب کسی ماہر میوزک ڈائرکٹر نے اپنی دھنوں سے سنوارا تو بامعنی فلمی گانوں نے جنم لیا جن کو سن کر انسان نہ صرف سات سروں کے سحر میں ڈوب جاتا ہے بلکہ اس کے ذوق سخن کی تسکین بھی ہوتی ہے۔۔۔۔‘‘۱
۔۔۔۔۔۔
۱۔   بہت پچھتائے شعر سمجھ کے۔ انیس صدیقی۔ ماہنامہ شگوفہ اکتوبر ۱۹۹۵۔ 


۸۷۔ ڈاکٹر سید فضل اللہ مکرم

	ڈاکٹر سید فضل اللہ مکرم (جگتیال اے پی) کسی معمولی عنوان کو لے کر غیر معمولی بنا دینے کو ہنر رکھتے ہیں۔ انشائیہ نگاری میں یہ اکبر الہ آبادی کی شبیہ رکھتے ہیں۔ ان کی تحریر عام فہم ہوتی ہے۔ مندرجہ ذیل انشائیہ ان کے بہترین انشائیوں میں سے ایک ہے۔ 
	’’۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جس طرح ہر قوم میں ایک سے زائد فرد قوم کی تعمیر و تخریب میں مصروف رہتے ہیں۔ اسی طرح شاعروں میں بھی ایک گروہ موجود ہے جس نے شعوری و لاشعوری طور پر چشم یاہو کو مشق سخن کا ذریعہ بنایا ہے۔ میر و سودا سے لے کر تا حال شاعری کا ہر قسم کا جائزہ (بشمول ساختیاتی رد ساختیاتی وغیرہ) لیا جائے تو یہ دیکھنے میں آتا ہے کہ چشم یاہو کو چشم آہو سے بہتر طور پر برتا گیا ہے۔ سودا جاہ و حشمت کے شاعر تھے اور چشم یاہو کے قائل تھے۔ ان کا ایک شعر ملاحظہ ہو جو چشم یاہو کی کیفیات کا احاطہ کرتا ہے۔ 
کیفیت چشم اس کی مجھے یاد ہے سوداؔ
ساغر کو میرے ہاتھ سے لینا کہ چلا میں 
	۔ ۔ ۔ ۔ ۔ غالبؔ کے تعلق سے کیا کہا جائے وہ ہر وہ چیز قبول کر لیتے تھے جو مفت میں ملتی ہو۔ ایسے میں وہ چشم یاہو سے بے پروا کیسے ہوسکتے تھے۔ چشم یاہو کے تعلق سے لکھتے ہیں۔ 
بخشے ہے جلوۂ گل ذوق تماشا غالبؔ
چشم کو چاہیے ہر حال میں وا ہو جانا
	الغرض شعراء و ادباء کا ایک خاص طبقہ ایسا ہے جو چشم یاہو کا قائل ہے۔ ریسرچ اسکالر کے لیے یہ ایک بہترین موضوع ہے جس پر مقالہ لکھ کر یا لکھوا کر ڈاکٹریٹ کی سند حاصل کی جا سکتی ہے۔ اس کے باوجود اگر ہمارے کچھ تنگ نظر اور کوتاہ بیں شعراء و ادباء چشم یاہو کے لیے اپنے ذوق کی کھڑکیاں و دروازے بند رکھیں گے تو جی چاہے گا کہ ہم اپنی آنکھیں پھوڑ لیں اور زار زار رو کر آنسوؤں سے ہاتھ منہ دھولیں تاکہ ان لوگوں کی آنکھیں کھل جائیں۔ ‘‘۱
۔۔۔۔۔۔
۱۔   بہت پچھتائے شعر سمجھ کے۔ انیس صدیقی۔ ماہنامہ شگوفہ اکتوبر ۱۹۹۵۔ 

۸۸۔ محمد عظیم الدین

	محمد عظیم الدین (گلبرگہ) کی تحریر نہایت لطیف ہوتی ہے۔ سادگی اور عام فہمی کی وجہ سے قاری کو اپنا دوست بنانے کا ہنر رکھتے ہیں۔ 
	’’۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مرزا کی ملاقات سے پہلے ہم نے مصافحہ کی دنیا کواس قدر قریب سے نہیں دیکھا تھا۔ ہمیشہ کسی نہ کسی خاص شخص سے ملاقات کرنے اور کرانے کا ان پر ایک خبط سا سوار تھا۔ بخدا ہمیں ان مصافحوں سے کوئی اعتراض یا چڑ نہیں جو صرف مصافحے ہی ہوا کرتے ہیں۔ اس سے زیادہ اور کچھ نہیں اور ہاں وہ با تصویر مصافحے بھی ہمیں بڑے بھلے لگتے ہیں جو کہ آئے دن اخباروں یا رسائل میں دیکھنے کو ملتے ہیں۔ آپ سبھی نے ٹیلی ویژن پر بھی دیکھا ہو گا کہ جب کسی دو مختلف ملکوں کے سربراہ آپس میں ملاقات کرتے ہیں تو ان کے چہروں پر کیسی بھلی اور دلفریب مسکراہٹ کھیلتی رہتی ہے ا ور ان کا مصافحہ بھی کس قدر جامع اور طویل ہوتا ہے لیکن خاص کر وہ منظر بڑا ہی دلچسپ دکھائی دیتا ہے جب کسی ملک کا سربراہ اپنے چہرے پر مسکراہٹ سجائے ایک با وقار انداز سے ہوائی جہاز کی سیڑھیوں پر اپنے قدم رکھتا ہوا نظر آتا ہے۔ اور بعض سربراہ تو مسکراتے ہوئے اتنی تیز رفتاری سے جہاز کی سیڑھیاں پھلانگنے لگتے ہیں کہ ان کا بس چلے تو وہ ساری سیڑھیوں کو یکلخت پھاند کر سیدھے نیچے ہی کود پڑیں۔ یہاں پر ہمارا مقصد کہیں بھی سربراہ مملکت کی مسکراہٹ یا استقبالیہ پر تنقید کرنا نہیں ہے بلکہ ہم یہ بات واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ مسکراہٹ اور مصافحہ ان دونوں کا ہمیشہ سے چولی دامن کا ساتھ رہا ہے اور ہاں اگر کسی کو رنجیدہ یا کبیدہ خاطر کرنا ہی مقصود ہو تو سپاٹ چہرے کے ساتھ ایک عدد مصافحہ کافی ہو گا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘۱
۔۔۔۔۔۔
۱۔   چشم یاہو۔ فضل اللہ مکرم۔ ماہنامہ شگوفہ نومبر ۱۹۹۶ء

۸۹۔ منظور عثمانی

	منظور عثمانی دہلی سے انشائیہ نگاری کی رفتار میں اضافہ کیے ہوئے ہیں۔ الفاظ کے استعمال پر پوری قدرت رکھتے ہیں اور سماج پر طنز کے نشتر بھی چلاتے جاتے ہیں۔ مندرجہ ذیل انشائیہ ملاحظہ کیجیے:
	’’عید الاضحی بکروں اور سفید پوشوں کے سروں پر ڈیمو کلس کی تلوار کی طرح لٹکی ہوئی تھی۔ دونوں کو چھریاں دکھائی دینے لگی تھی۔ بکروں کی قیمتیں اور آوازیں آسمان کی خبر لا رہی تھیں۔ ہم جیسے ’’اجلے غریب‘‘
کبھی ان کو کبھی اپنی جیب کو دیکھتے تھے
	ہم کہ باہر پہنے اوڑھے پر اندر سے ڈھول کی طرح خالی، میر کی طرح دونوں ہاتھوں سے دستار تھامنے کی فکر میں غلطاں، تنخواہ اوسط درجے کے بکروں کی قیمت سے بھی کم، لیکن بچوں کا پیہم اصرار کہ بکرے آئیں اور فوراً سے پیشتر آئیں کیونکہ ہمارے دیوار شریک پڑوسی کے یہاں دو بربرے وہ دن پہلے سے ہی ’’ہماری غیرت کو ممیا رہے تھے‘‘ سوئے اتفاق کہ یہ بغلی ہمسائے دفتر میں ہمارے ماتحت بھی واقع ہوئے تھے۔ ہمارے ڈنکے کی چوٹ منکوحہ نے ہمیں ایڑیانے کی خاطر فرمایا ’’بھلا اپنے بچوں کی خاطر کیا کیا نہیں کرتا۔ کیا آپ اس موئے کلرکے سے بھی گئے گزرے ہو گئے۔ یوں بھی دانشمندوں کا قول ہے کہ ’’کل کرے سو اب‘‘ اب ہم ان سے کیا کہتے ’’نیک بخت اس کی طرح ہم پر فضل ربی کہاں ہے؟‘‘
	بہرحال اپنا سا منہ لے کر جیب میں وہی رقم ڈال جس کا جیسے تیسے جتن کر پائے تھے مرے مرے قدموں سے سوئے وار چلے۔ عجیب ایمان افروز نظارہ تھا۔ بکروں پر بکرا اور مومن پر مومن پڑ رہا تھا۔ ایک سے ایک طرح دار بکرا دعوت نگاہ دے رہا تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘۱
۔۔۔۔۔
۱۔   ترے ہاتھ میں مرا ہاتھ ہو۔ محمد عظیم الدین۔ ماہنامہ شگوفہ نومبر ۱۹۹۶ء

۹۰۔ محمد عمران اعظمی

	محمد عمران اعظمی کو حالات و تحریر کے ارتباط میں کمال حاصل ہے۔ اور یہی صحیح انشائیہ نگار کی پہچان ہے۔ ان کی شگفتہ تحریر والا یہ انشائیہ ملاحظہ کیجیے:
	’’زباں درازی، سخت کلامی، بد کلامی، دریدہ دہنی، فحش گوئی، دشنام طرازی، بد گوئی اور تیز گفتاری کا سیدھا سادا نام ہماری روزمرہ کی زبان میں ’’گالی‘‘ ہے۔ اس گالی کو لوگ ’’ادب عالیہ‘‘ یا ’’ملفوظات عالیہ‘‘ یا ’’مغلظات‘‘ بھی کہا کرتے ہیں۔ ہر زہ سرائی اور یاوہ گوئی تو بکواس کا نام ہے مگر کبھی کبھار ان کی سرحدیں بھی گالی سے مل جاتی ہیں۔ شرفاء عام طور سے گالی سے اجتناب کرتے ہیں لیکن نچلے طبقے کے لوگ، بی پی سے متاثر لوگ، تنک مزاج، غصہ ور اور درون خانہ قیامت برپا کرنے والی خواتین اس فن کا بر محل و بے محل استعمال کرتی ہیں۔ بالا نشینان عالم بھی جب غصے میں آتے ہیں تو وہ اپنی سطح سے نیچے گر جاتے ہیں۔ ۱۹۹۰ء کی عراق کویت جنگ کے دوران مادام تھیچر اور برادر صدام حسین کے درمیان مغلظاتی مشاعرے ہوتے تھے اور دونوں ایک دوسرے کے جواب میں اس مظلوم جانور کی عزت بڑھاتے تھے جسے ہم کتا یا کتیا کہتے ہیں۔ خوبصورت انگریز خواتین اپنے نکھٹو شوہروں کو ’’ڈرٹی سوائن‘‘ کے لقب پر افتخار سے نوازتی ہیں اور تند خو عرب بیویاں اپنے عباپوش شوہروں کو ’’کلب‘‘ (کتا) سے مخاطب کر کے بڑی مسرت اور سرشاری محسوس کرتی ہیں۔ بہت سے اردو، فارسی اور عربی شعراء نے بھی اپنی محبوباؤں کی دریدہ دہنی کو اپنے کلام میں باندھا ہے۔ اس فن دشنام طرازی کا عصری پرتو ہمیں پارلیمنٹ میں بھی نظر آتا ہے لیکن معیار ضرور اونچا رہتا ہے۔ مقامی اسمبلیوں میں یہ فن جب برپا ہوتا ہے یا کیا جاتا ہے تو معیار انتہائی پست ہو جاتا ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘۱
۔۔۔۔۔۔
۱۔   گالیاں کھا کے بے مزہ نہ ہوا۔ محمد عمران اعظمی۔ ماہنامہ شگوفہ نومبر ۲۰۱۰ء


۹۱۔ اسد رضا

	اسد رضا اردو ادب میں ایک نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ جدیدیت سے رشتہ جوڑے ہوئے ہیں کیونکہ رسالہ بزم سہارا کے چیف ایڈیٹر ہیں۔ کئی مختلف عنوانات پر وقتاً فوقتاً اپنی تحریر کی چھاپ چھوڑتے ہیں اور حالات حاضرہ پر چوٹ بھی لگاتے ہیں۔ ان کی یہ تازہ تحریر ملاحظہ کیجیے:
	’’۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کل ہم بازار سے کچھ خریدی کر رہے تھے کہ استاد سے ملاقات ہو گئی۔ ہمیں یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ وہ ایک نئی سرمئی شیروانی میں کافی جچ رہے تھے، پچکے ہوئے گال بھر گئے تھے، جیب کے ساتھ ساتھ ان کا جسم بھی بھاری لگا۔ بڑی محبت سے ہمیں گلے لگایا۔ اپنی اے اسٹار کار دکھائی اور پھر کار میں بٹھا کر ہی ہمیں شہر کے ایک مہنگے ریستوران میں چائے پلانے لے گئے۔ ہم نے کہا ’’استاد ایسا لگتا ہے کہ ملک میں اردو کی حالت چاہے جتنی خراب ہو لیکن اردو ادیبوں کا حال بہرحال اچھا ہونے لگا ہے۔ ‘‘ مسکرا کر فرمایا۔ ’’ارے جناب! آپ کا ای اصلاح شعر کا نسخہ بہت کامیاب ثابت ہوا۔ آج میں جو کچھ بھی ہوں آپ کی اور اس نسخہ کی بدولت ہی ہوں۔ ‘‘ ہم نے شرارتاً کہا:
اردو کے کاروبار نے تم کو بنا دیا
	استاد نے فوراً گرہ لگائی:
میخوار ورنہ شہر میں کچھ بھی نہیں تھے تم
	اور پھر ہماری جانب پستے والی برفی کی پلیٹ بڑھاتے ہوئے مسکرا کر نعرہ لگایا۔ ’’ای اصلاح شعر۔ ۔ ۔ ۔ ۔ زندہ باد‘‘ ہم نے برفی کا ایک ٹکڑا اٹھا کر جب منہ میں رکھ لیا تو ایسا محسوس ہوا جیسے ہم برفی نہیں ’’ای اصلاح شعر‘‘ کا مزا لے رہے ہیں۔ ‘‘۱
۔۔۔۔
۱۔   ای۔ اصلاح شعر۔ اسد رضا۔ ماہنامہ شگوفہ نومبر ۲۰۱۰ء 

۹۲۔ نسیمہ تراب الحسن

	نسیمہ تراب الحسن حیدر آباد سے اپنی شگفتگی کی پھلجڑیاں چھوڑتی رہتی ہیں۔ ان کی تحریر مرکز کے اطراف برابر گردش کرتی رہتی ہے۔ ’’غلط فہمی‘‘ ان کا یہ انشائیہ اس خیال کی تصدیق کرتا ہے۔ 
	’’۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مذہبی لوگوں کی غلط فہمی انہیں جنت کا پاسبان بنا دیتی ہے۔ عبادت الٰہی بے شک اہم اور بنیادی فرض ہے لیکن اللہ نے دوسرے جو احکامات دئیے ہیں ان کی تعمیل کا ان عبادت گزاروں کو خیال ہی نہیں رہتا۔ وہ بیوی کے ساتھ بدسلوکی، حق تلفی، ناانصافی کی سب روایتیں جائز سمجھتے ہیں۔ جب دل چاہے طلاق، دوسری پھر تیسری شادی کرنے کی سند انہیں مذہب سے حاصل رہتی ہے، بچے پیدا کرنا تو مردانگی کا ثبوت ہے لیکن بیوی بچوں کو لا وارث بنا کر در بدر کی ٹھوکریں کھانے کے لیے چھوڑنے والوں کو یہ غلط فہمی رہتی ہے کہ عبادتوں کے سہارے ہم اللہ سے اپنے گناہ معاف کروالیں گے۔ اس خوش فہمی میں مبتلا افراد چند عبادتوں کی بنیاد پر زہد و تقویٰ کا سر ٹیفکیٹ حاصل کرنے میں مگن رہتے ہیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 
	۔ ۔ ۔ ۔ غلط فہمی سے کبھی پر لطف باتیں بھی ظہور پذیر ہو جاتی ہے۔ ایک مرتبہ میں اپنے شوہر کے ساتھ پیدل آ رہی تھی۔ وہ تیز چلتے ہیں اور اکثر میں پیچھے رہ جاتی ہوں۔ لاکھ سمجھایا ذرا آہستہ چلا کیجیے اگر مجھے ٹھوکر لگی، گر پڑی تو سڑک والے اٹھائیں گے آپ کو خبر بھی نہ ہو گی مگر انہوں نے اس پر دھیان نہ دیا۔ اس دن بھی وہ آگے نکل گئے لیکن تھوڑی دیر میں واپس آ کر کہنے لگے ’’آپ سڑک پر مجھے جوتے کھلوائیں گی۔ میں اسی خیال میں تھا کہ آپ ساتھ چل رہی ہیں اور میں نے کچھ کہا تو ساتھ والی خاتون کو غلط فہمی ہوئی کہ میں انہیں چھیڑ رہا ہوں، وہ مجھ پر برس پڑیں، تب مجھے احساس ہوا کہ آپ نہیں ہیں ‘‘ اب میں ہنسنے کے سوا کیا کرتی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘۱
۔۔۔۔۔
۱۔   غلط فہمی۔ نسیمہ تراب الحسن۔ ماہنامہ شگوفہ دسمبر ۲۰۱۰ء 

۹۳۔ سکندر حمید عرفان

	سکندر حمید عرفان کھنڈوہ مدھیہ پردیش سے اپنی انشائیہ نگاری کی پھلجڑیاں بکھیرتے رہتے ہیں۔ ان کا تازہ انشائیہ ’’سفر ملاحظہ فرمائیے۔ 
	’’انسان کی زندگی کا دوسرا نام سفر ہی تو ہے۔ اپنی پیدائش سے لے کر موت کی منزل تک وہ سانسوں کے رتھ پر سوار سفر کرتا ہے۔ سانسوں کا یہ رتھ دھیمی دھیمی رفتار سے چلتا ہوا زندگی کا سفر طے کرتا ہے۔ اور اس سفر کا اختتام موت کی منزل پر ہوتا ہے۔ لوگ کہتے ہیں سانسوں کا سفر ختم ہو گیا۔ سفر کا یہ فلسفہ بھی عجیب ہے۔ سفر کا یہ سلسلہ ازل سے لے کر بدستور چلتا رہے گا۔ جب سے حضرت آدم اور بی بی حوا نے جنت سے نکل کر دنیا تک کا طویل سفر کیا تھا تب سے لے کر آج تک سفر انسان کا مقدر بن چکا ہے۔ انسان پیدائش سے جب اپنا سفر شروع کرتا ہے تب ہی سے وہ ریٹرن ٹکٹ بھی ریزرو (Reserve) کروا کر آتا ہے۔ یہ ریزرویشن انتہائی ضروری ہوتا ہے کیونکہ زندگی کا سفر جہاں سے شروع ہوتا ہے اس کا اختتام بھی وہیں پر ہوتا ہے۔ 
	دنیا ایک مسافر خانہ ہے۔ لوگ مسافر بن کر یہاں دیر دیر ٹھہرتے ہیں اور پھر اس جگہ واپس ہو جاتے ہیں جہاں سے آئے تھے۔ زندگی صرف ایک راستہ کا سیدھا سادا سفر ہے۔ اس راستہ سے ملحق کئی پگڈنڈیاں ہیں۔ خوبصورت حسین پگڈنڈیاں جنہیں ہم آسودگی، سکھ چین اور خوشی کا نام دیتے ہیں۔ کئی خاردار ٹیڑھی میڑھی پگڈنڈیاں جنہیں دکھ درد، غریبی، بدحالی، بیماری اور تکالیف سے معنون کیا جاتا ہے۔ انسان اپنے حالات کے موافق ان راستوں کا سفر اپنے حساب سے کرتا ہے۔ یوں کہیے کہ بہرحال اسے طے کرنا پڑتا ہے۔ ۔۔‘‘۱
۔۔۔۔۔
۱۔   سفر۔ سکندر حمید عرفان۔ دو ماہی گلبن لکھنؤ نومبر/دسمبر ۲۰۱۰ء

۹۴۔ ڈاکٹر شاہدہ صدیقی

	ڈاکٹر شاہدہ صدیقی سونے بہادرہ یو پی سے اپنی تحریر کی جھلکیاں پیش کرتی رہتی ہیں۔ ان کے انشائیہ اختصار میں بھی سمندر کی وسعت رکھتے ہیں۔ سماج کے فرسودہ رسومات پر چوٹ کرتے ہوئے ان کا یہ انشائیہ ملاحظہ فرمائیے۔ 
 	’’۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ دائرہ دوستی وسیع ہونے پر قرعہ اندازی بھی کرنی پڑتی ہے۔ پھر جنہیں باراتی بننے کی سعادت حاصل ہوتی ہے ان کے لیے دعوت ولیمہ کے کارڈ کے ساتھ برات میں شرکت کے لیے ننھا سا دعوت نامہ بھی منسلک کر دیا جاتا ہے۔ جس سے وہ عام مدعوئین کی فہرست میں اولین صف میں شمار کیا جاتا ہے۔ ایسے براتیوں کی تیاریاں بھی خصوصی ہوتی ہے جیسے جوتے، کپڑے، ٹائی، سوٹ، عطر وغیرہ مانگ کر یا خرید کر استعمال کرنا۔ خواتین کی تیاریوں میں مزید اہتمام شامل ہوتے ہیں جیسے میک اپ اور سجاوٹ کے مختلف لوازمات، زیورات (اصلی، نقلی)، ملبوسات، مہندی وغیرہ۔ پھر بیوٹی پارلر کے چکر یعنی جو بوڑھی کو جوان، جوان کو اور جوان، معمولی شکل کو خوبصورتی میں ڈھال دے۔ 
	اب ہم بیسویں صدی سے اکیسویں صدی میں داخل ہو چکے ہیں اس لیے ہر چیز کا معیار بدل گیا۔ لوگوں کی اہمیت بدل گئی۔ رشتوں کے معنی بدل گئے۔ ضرورتوں کے حالات بدل گئے۔ وقت کی اوقات بدل گئی۔ پہلے لوگوں کے پاس دوسروں سے ملنے کے لیے سیروں نہیں ڈھیروں وقت ہوا کرتا تھا۔ شادی اور غمی میں شرکت کرنے کے لیے دنوں نہیں ہفتوں صرف کیے جاتے۔ سلام دعا کے بہانے ایک دوسرے کے گھر آنے جانے کا تانتا لگا رہتا۔ لیکن اب تو، نہ سلام کرنے کو موقع۔ نہ دعا کرنے کی فرصت۔ ٹیلی ویژن، کمپیوٹر، کیبل، ڈش، ساری مشینوں نے انسانوں کو نظر بند کر لیا کہ ان چیزوں سے نظریں ہٹیں تو پاؤں باہر پڑیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘۱
۔۔۔۔۔۔۔۔
۱۔   براتی حاضر ہوں۔ ڈاکٹر شاہدہ صدیقی۔ ماہنامہ سہارا اکتوبر ۲۰۱۰ء

۹۵۔ طالب زیدی

	طالب زیدی میرٹھ اتر پردیش سے وقتاً فوقتاً اپنی شگفتہ تحریریں شائع کرواتے رہتے ہیں اور انشائیہ کے ادب میں اضافہ کرتے ہیں۔ ان کا یہ مندرجہ ذیل انشائیہ نہایت عمدہ ہے۔ 
	’’خدا جانے وہ کون سی ساعت سعید رہی ہو گی جب لوٹا معرض وجود میں آیا ہو گا۔ اس کے موجد کا نام اج بھی پردہ اخفاء میں ہے۔ مگر اس میں شک نہیں کہ اگر لوٹا ایجاد نہ ہوتا تو دنیائے ہست و بود میں کیا کیا بے لطفی رہتی۔ لوٹے کے ساتھ ساتھ اس کی ٹونٹی بھی کم اہمیت کی حامل نہیں بلکہ اگر یوں کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا کہ:
یہیں پر ختم ہو جاتی ہیں بحثیں کفر و ایماں کی
	اور واقعی یہ ٹونٹی ہی ہے جو اسے سائنسی ایجاد تسلیم کرنے پر مجبور کرتی ہے اور اسی کے سبب مونث کو مذکر کا درجہ عطا ہوتا ہے یعنی لٹیا سے لوٹے تک کا سفر اس کی ٹونٹی کا مرہون منت ہے۔ 
	جب قومیں زمین ہار جاتی ہیں، سلطنتیں کھو بیٹھتی ہیں تو زبان کے سہارے احساس تفاخر کو زندہ رکھتے ہوئے کہتی ہیں کہ ہمارا لوٹا ان کی لٹیا کے مقابلہ میں مذکر، اصل اور دبنگ ہے۔ اور تو اور ملبوسات میں بھی باریکیاں نکالی جاتی ہیں کہ ہمارا تہبند ان کی دھوتی بر بنائے صیغہ مذکر اولی ہے۔ شاید ایسی باتیں سن کر اقبال نے قوم کو ڈانٹ لگائی تھی:
کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں۔۔۔۔‘‘۱
۔۔۔۔۔۔
۱۔   براتی حاضر ہوں۔ ڈاکٹر شاہدہ صدیقی۔ ماہنامہ سہارا اکتوبر ۲۰۱۰ء


۹۶۔ انجم عثمانی

	انجم عثمانی کی جاندار اور شگفتہ تحریر میں بہت حد تک انشائیہ کی خصوصیات بھری ہوتی ہیں لیکن اس میں ایک نئی خوشبو بھی پائی جاتی ہے جو قاری کو ایک رپورتاژ کا بھی پتہ دیتی ہے۔ ان کا یہ تازہ انشائیہ ملاحظہ کیجیے:
	’’۔ ۔ ۔ ۔ ۔ غالب اکیڈمی ہو، دور درشن ہو یا اسی طرح کا کوئی اور بغیر چشم، بنا شہر کا آشوب، ایسی جگہوں پر کام کرنے والے کو اتنے مشاعرے سننے پڑتے ہیں کہ وہ نہ چاہتے ہوئے بھی اچھا خاصا غبی اور شقی الذہن بن جاتا ہے۔ نتیجہ میں اس کے معمولات کا ردیف و قافیہ اکثر تنگ اور خود زندگی بحر سے خارج ہونے کے اندیشے سے دوچار رہتی ہے۔ ایسے اندیشوں کے درمیان رزق حاصل کرنے والے شخص سے غلطیاں سرزد ہونے کے امکانات کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ چنانچہ توقع کے عین مطابق شگفتہ نگاری کا صحیح حکم نامہ غلط آدمی پر صادر ہو گیا۔ کہاں ہم پیدائشی افسردگی کہاں شگفتگی؟ مگر اس کو کیا کیجیے کہ فی زمانہ شگفتگی اور افسردگی کے درمیان اتنا کم فرق رہ گیا ہے کہ کسی کا خط کسی کے پتے پر بھی جا سکتا ہے۔ 
	دراصل ہر شہر اور ہر علاقے میں دو ایک لوگ ایسے ضرور ہوتے ہیں جنہیں ادبی ہنگاموں کا کبھی ضرورتاً کبھی عادتاً غلغلہ پیدا کرنا ہوتا ہے۔ یہ ٹھہرے ہوئے پانی میں کنکر پھینک کر کنارے ایسے کھڑے ہو جاتے ہیں جیسے انہوں نے کچھ کیا ہی نہ ہو۔ لہریں آپس میں سر پھوڑتی رہتی ہیں، یہ غیر متعلق سے کھڑے مسکراتے رہتے ہیں۔ اس طرح کے لوگ کسی کو ورکشاپ پر بٹھا دیتے ہیں، کسی کے پیچھے سیمینار لگا دیتے ہیں غرض کہ اتنا ادب پلاتے ہیں کہ تخلیق کی پتھری اپنے مرکز سے ہٹ کر اخراج کے مختلف راستے تلاش کرنے لگتی ہے۔ چنانچہ فی الحال ہم بھی اسی کرب میں مبتلا ہیں اور عادتاً اس کرب میں آپ کو بھی شریک کر لیا ہے۔ اب یہ آپ کی قوت برداشت اور سامعانہ نگہداشت پر منحصر ہے کہ آپ کس حد تک پتھری کو پتھر میں متبدل ہونے سے روک پاتے ہیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔‘‘۱ 
۔۔۔۔۔۔۔
۱۔   شگفتگی کی تلاش میں۔ انجم عثمانی۔ ماہنامہ شگوفہ نومبر ۲۰۱۰ء

۹۷۔ پروفیسرمقبول فاروقی

	پروفیسر مقبول فاروقی اردو ادب کے مایہ ناز ادیب ہیں۔ اکثر ان کے مضامین نظر آتے ہیں۔ مندرجہ ذیل انشائیہ ان کی خوبصورت تحریر کی زندہ  مثال ہے۔ ملاحظہ کریں۔ 
	’’۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ایک زمانہ تھا جب انگریزوں کی اقبال ویسا ہی بلند تھا جیسا آج امریکہ کا ہے۔ سنتے آئے ہیں کہ انگریزوں کی سلطنت پر کہیں سورج غروب ہی نہیں ہوتا تھا۔ آج امریکہ کا آفتاب اقبال بھی کہیں غروب ہونا نظر آتا نہیں۔ ویسے لوگ اس ’’غروب آفتاب‘‘ کا دلفریب منظر دیکھنے کے لیے بڑی بڑی بے چینی سے انتظار کر رہے ہیں۔ جہاں تک اپنی اصلی سرحدوں میں محصور ملک امریکہ کا سوال ہے تو وہاں پر ہر روز سورج غروب ہوتا ہے لیکن امریکی فوجوں پر اور اس کے میزائل بردار بحری بیڑوں پر جو کسی مہلک مرض کے جراثیم کی طرح دنیا کے گوشے گوشے میں بلکہ رگ ر ریشے میں سرایت کر گئے ہیں، سورج کیسے غروب ہوسکتا ہے؟ دراصل امریکہ کرہ ارض کے ان تمام دفینوں پر پہنچنا چاہتا ہے جہاں تک انگریز نہیں پہنچ پائے تھے۔ اس سلسلے میں امریکہ بالکل سنجیدہ ہے اور اپنی راہ میں کسی رکاوٹ کو سخت ناپسند کرتا ہے۔ جب انگریزوں کا آفتاب اقبال نصف النہار پر تھا تو اس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے دن دہاڑے انہوں نے اپنے محکوم ممالک میں لوٹ مار مچا دی اور جب سب کنگال ہو گئے اور دہائیاں دینے لگے تو واپسی کی ٹھانی اور جاتے جاتے انگریزی زبان، انگریزی لباس اور کرکٹ کا تحفہ دے کر گئے کہ لو تم بھی کیا یاد کرو گے۔ خاص طور پر انگریزی زبان اور کرکٹ کی روایت کو اس قدر مستحکم کر دیا کہ اب ان دونوں پر کہیں سورج غروب ہوتا نظر نہیں آتا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘۱
۔۔۔۔۔۔
۱۔   امریکہ کرکٹ کے میدان میں۔ پروفیسر مقبول فاروقی۔ ماہنامہ شگوفہ نومبر ۲۰۱۰ء

۹۸۔ واجد ندیم

	واجد ندیم گو کہ حیدر آباد سے تعلق رکھتے ہیں لیکن فی الحال شکاگو امریکہ میں مقیم ہیں لیکن وہاں رہ کر بھی ہندوستان کے ادبی سرمائے میں اضافہ کر رہے ہیں۔ ان کا یہ انشائیہ ملاحظہ کیجیے:
	’’مہربان کس کے نہیں ہوتے؟ آپ کے بھی ہوں گے ہمارے بھی ہیں۔ معاشرہ میں رہتے ہیں تو مختلف لوگوں سے ملنا جلنا اور اٹھنا بیٹھنا پڑتا ہے۔ ان کے خلوص اور محبت نے ہمیں ان کا گرویدہ بنالیا اور شاید ذہن کے پردہ پر ان ہی کی تصویر ہے جس نے ہم سے یہ شعر کہلوایا ہے:
ان سے مل کر آپ بھی دیکھیں ذرا
ہو گئے ہم بندہ بے دام کیوں 
	چند ایک کو تو اردو ادب اور شاعری کا بڑا شوق ہے۔ ہمارے افسانے اور مضامین پڑھتے ہیں تو تعریف کے پل باندھتے ہیں اور شاعری پر تو سر دھنتے ہیں۔ کچھ تو اسی شہر میں رہتے ہیں اور کچھ شکاگو کے باہر دوسرے شہروں میں۔ جو اسی شہر میں رہتے ہیں ان کو تو ہماری نگارشات، جو مقامی اخباروں میں شائع ہوتی ہیں پڑھنے کا موقع مل جاتا ہے۔ جو دوسرے شہروں میں رہتے ہیں ان میں ہمارے ایک ایسے مہربان ہیں جن کا تقاضا یہ رہتا ہے کہ کسی اخبار میں ہماری کوئی چیز شائع ہو تو انہیں وہ اخبار یا اس کا تراشہ بھیجا جائے۔ ایسا ہم کرتے بھی ہیں، کون نہیں چاہتا کہ لوگ ان کی تحریر پرھ کر یا ان کی شاعری پڑھ کر یا سن کر داد نہ دیں ( چاہے وہ کتنی ہی غیر معیاری کیوں نہ ہو) اپنی اولاد سبھی کو پیاری ہوتی ہے۔ آپ کہیں گے کہ یہاں اولاد کا کیا ذکر؟ کہتے ہیں کہ یہ جو نظم و نثر کی شکل میں تخلیقات ہیں وہ اولاد معنوی ہیں اور یہ اس کے خالق کو بے حد پیاری ہوتی ہیں۔ کسی کالے کلوٹے اور واجبی شکل و صورت کے بچے کو دیکھ کر آپ کہیں بہت کیوٹ Cute ہے تو اس کی ماں کا چہرہ مسرت سے کھل اٹھتا ہے۔ تو پھر ہم اپنی اولاد معنوی ( وہ چاہے کتنی ہی بھونڈی کیوں نہ ہو) کی تعریف سن کر کیو ں نہ خوشی سے پھولے سمائیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘۱
۔۔۔۔۔۔
۱۔   ہمارے بھی ہیں مہرباں کیسے کیسے۔ واجد ندیم۔ ماہنامہ شگوفہ ستمبر ٍ۲۰۱۰ء

۹۹۔ رؤف خوشتر

	رؤف خوشتر گزشتہ کئی سالوں سے ادب کے میدان کی زینت بنے ہوئے ہیں۔ ان کے انشائیے اور مضامین سادگی کے ساتھ ساتھ گہری معنویت سے بھرے ہوتے ہیں۔ ان کا تازہ انشائیہ ملاحظہ کیجیے:
	’’۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اندر کی بات یہ ہے کہ باہر ہونے کا عمل آدم اور حوا کے مشترکہ طور ثمر ممنوعہ کے چکھنے کے دن سے ہی شروع ہوا۔ اور وہ دونوں جنت سے باہر ہو گئے۔ باہر ہونے کے اس پہلے ایک روزہ میچ کا کوچ ظاہر ہے شیطان تھا جو اپنی ایک نافرمانی کی وجہ سے ہمیش ہمیشہ کے لیے جنت سے باہر ہو گیا تھا۔ وہ آج بھی جبر ی کوچ بن کر نسل آدم کو صراط مستقیم سے بھٹکا کر جنت سے باہر رکھنے کے درپے ہے۔ گویا باہر ہونا آدم اور پھر آدم کی اولاد کا مقدر ٹھہرا۔ اور اس مقدر کو مقدور بھر بروئے کار لانے کے لیے انسان کبھی بے جگری سے، کبھی بے خبری اور کبھی بے صبری میں ایسی ایسی حرکتیں کر بیٹھتا ہے کہ اس کو باہر ہونا پڑتا ہے۔ اس لیے کہ خالق نے ہابیل اور قابیل کے زمانہ سے ہی اس دنیا کا نظام مسابقتی سطح پر رکھا ہے جس میں دو میں سے ایک کو باہر ہونا پڑتا ہے۔ خواہ خوشگواری سے ہو یا ناخوشگواری سے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘۱
۔۔۔۔۔۔
۱۔    باہر ہونا۔ رؤف خوشتر۔ ماہنامہ شگوفہ ستمبر ۲۰۱۰ء

۱۰۰۔ سلیم مقصود

	سلیم مقصود کا خاندانی نام مرزا فرحت اللہ بیگ اور قلمی نام سلیم مقصود ہے۔ عثمانیہ سے ایم۔ اے مکمل کیا۔ صحافت کے پیشے سے وابستہ ہیں۔ حال مقیم جدہ سے اپنے ادب کی چنگاریاں بکھیرتے رہتے ہیں۔ ان کی تحریر سادہ اور شگفتہ ہوتی ہے۔ ان کا یہ انشائیہ ملاحظہ کیجیے:
	’’خواجہ صاحب خود کشی کے لیے سای چیزوں سے لدے پھندے تیار ہو گئے۔ انہیں دیکھ کر مشتاق احمد یوسفی کے مرزا کی یاد ذہن میں تازہ ہو گئی جو کرکٹ کا میچ دیکھنے ایسی ہی سج دھج سے جایا کرتے تھے۔ خواجہ صاحب سر سے پاؤں تک کھانے کی چیزوں میں لدے ہوئے تھے۔ ساتھ ہی چائے کا تھرماس اور ٹیپ ریکارڈر بھی رکھ لیا تھا۔ بیوی اور بچوں نے کوئی مداخلت نہیں کی۔ بلکہ بیوی نے تو آج اسی خوشی کے موقع پر صدہا قسم کے پکوان بنائے تھے۔ گھر میں عید کا سا سماں تھا۔ کسی نے خواجہ صاحب کو روکا نہیں۔ بلکہ رشتہ داروں نے انہیں گھر سے ایسے رخصت کیا جییس وہ ترقی پر ایک مقام سے دوسرے مقام کو جا رہے ہوں۔ میرے چہرے پر ہوائیاں اڑ رہی تھیں۔ میں نے ان کی بیگم سے پوچھا ’’بھئی خیر! خواجہ صاحب خود کشی کیوں  کرنا چاہتے ہیں ؟‘‘ ان کی اہلیہ نے الٹا سوال داغ دیا ’’آپ جینا کیوں چاہتے ہیں ؟‘‘
	ہم کوئی جواب نہ دے سکے۔ کیونکہ ہم جس دور میں جی رہے ہیں اس میں زندہ رہنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔ بچوں سے بھی ہم نے وہی سوال پوچھ لیا۔ جو خواجہ صاحب کی بیگم سے پوچھ چکے تھے۔ جواب ملا۔ ’’ابا یہ کوشش کوئی دس سال سے کر رہے ہیں۔ آج تک نہیں کامیابی نہیں ہوئی۔ سیدھا ریلوے لائن پر جاتے ہیں۔ اور پٹریوں کے درمیان شطرنجی بچھا کر لیٹ جاتے ہیں۔ مگر بھلا ہو ان ٹرینوں کا آج تک کوئی ٹرین وقت پر نہیں آئی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘۱
۔۔۔۔۔۔
۱۔   احتجاج۔ سلیم مقصود۔ ماہنامہ شگوفہ خلیج نمبر جون ۲۰۰۴ء

۱۰۱۔ سید نصرت

	سید نصرت کا تعلق حیدر آباد دکن کے ایک علمی و ادبی گھرانے سے ہے زندہ دالان حیدر آباد کے ادبی اجلاسوں میں مضامین سناچکے ہیں۔ مزاج میں حد درجہ شوخی و بذلہ سنجی ہے۔ پچھلے کئی سال سے ابو ظبی میں مقیم ہیں۔ 
	’’رونا ہر انسان کا پیدائشی حق ہے جسے وہ پیدا ہونے سے پہلے لے کر ملک الموت سے مصافحہ کرنے تک بے تحاشہ استعمال کرتا ہے! رونے کی بنیادی وجہ ایک نومولود کے پاس بھوک، نوجوان کے پاس شادی شدہ زندگی اور بوڑھوں کے پاس یاد ایام جوانی ہوتی ہے! بچوں کے رونے دھونے کے انداز سے ہم اس بات کا بخوبی انداز لگا سکتے ہیں کہ اس بچے کا مستقبل کیا ہو گا، چنانچہ جو بچے اوزان میں روتے ہیں، یعنی سر تال میں آواز کے اتار چڑھاؤ اور مرکبوں سے اس بات کا ثبوت فراہم کرتے ہیں کہ رونا نہ صرف ایک آرٹ ہے بلکہ دوسروں کو متوجہ کرنے کا ایک مؤثر ذریعہ بھی ہے تو سمجھ لیں کہ ایسے بچے بڑے ہو کر ضرور مترنم شاعر بننے والے ہیں یا ’’موسیقی‘‘ کے شعبے سے وابستہ ہوں گے۔ اسی طرح جو بچے دھیمے سروں اور ہلکے ہلکے احتجاجی طریقوں سے رو رو کر اپنی ماؤں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں وہ بڑے ہو کر ناول نگار یاافسانہ نگار بن جاتے ہیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘۱
۔۔۔۔۔۔۔
۱۔   یوں ہی گر روتا رہا۔ سید نصرت آرکیٹیکٹ۔ ماہنامہ شگوفہ خلیج نمبر جون ۲۰۰۴ء

۱۰۲۔ شاہین نظر

	شاہین نظر گیا بہار سے لکھتے ہیں۔ اپنا تعارف خود کچھ اس طرح بیان کرتے ہیں۔ 
	’’شاہین نظر ولد قیوم اثر (مرحوم) ساکن گیا (بہار)پیشے کے اعتبار ے ’’ورکنگ جرنلسٹ‘‘ اور مزاجاً ادیب (نان ورکنگ!) لکھنے لکھانے (موقعہ ملے تو بولنے) کا شوق خاندانی (بیماری) ہے۔ اسکول کے زمانے سے مضامین اور کہانیاں لکھ رہا ہوں۔ طبیعت مزاح کی طرف مائل ہے۔ حسرت ہے کہ شاعری بھی کروں مگر کوشش کے باوجود ایک شعر بھی موزوں نہیں ہوسکا۔ اپنے ’’غیر شاعر‘‘ ہونے کی اطلاع ہر نئے ملنے والے کو ضرور دیتا ہوں تاکہ اپنے تعلق سے اس کی پریشانی دور کرسکوں۔ تقریباً بیس سالوں سے انگریزی صحافت سے جڑا ہوں لہٰذا ٹائمز آف انڈیا، خلیج ٹائمز وغیرہ سے ہوتا ہوا سعودی گزٹ پہنچا ہوں۔ پچھلے دس سالوں سے جدہ میں مقیم ہوں اور یہاں کی علمی اور ادبی محفلوں میں شرکت (اور زیادہ تر دوسروں کو خاموشی سے سننے) کو اپنے لیے باعث سعادت سمجھتا ہوں۔ ‘‘
	ان کا یہ انشائیہ ملاحظہ کیجیے:
	’’آدمی اور گدھے میں فرق یہ ہے کہ گدھا صرف گدھا ہوتا ہے جبکہ آدمی ’’اشرف الگدھا‘‘ ہوتا ہے۔ کسی کو یہ اصطلاح ثقیل معلوم ہو تو سمجھانے کے لیے آسان اردو میں ’’سوپر گدھا‘‘ کہا جا سکتا ہے۔ آدمی کے اندر یہ صلاحیت موجود ہے کہ وہ جب چاہے گدھا بن سکتا ہے جبکہ گدھا کسی بھی حالت سے آدمی نہیں بن سکتا۔ 
	آدمی کو ذرا بھی موقع ملے تو دوسرے کو گدھا بنانے سے نہیں چوکتا۔ بے چارے گدھے کی کیا مجال کہ کسی گدھے کو آدمی بنا سکے۔ آدمی جب چاہے کسی گدھے کو اپنا باپ بنا سکتا ہے (بلکہ بنا ہی لیتا ہے) گدھا چونکہ بالکل ہی گدھا ہوتا ہے اس لیے بھی کسی آدمی کو اپنا باپ نہیں بنا پاتا۔ ۔ ۔ ‘‘۱
۔۔۔۔۔۔
۱۔   آدمی اور گدھا۔ شاہین نظر۔ ماہنامہ شگوفہ خلیج نمبر جون ۲۰۰۴ء


۱۰۳۔ نعیم جاوید

	نعیم جاوید کا تعلق حیدر آباد دکن سے ہے۔ طالب کے دور سے ہی لکھنے پڑھنے کا چسکا ہے۔ انشائیے، ڈرامے، افسانے، خاکے، تاثرات، ہر طرح کے نثری مضامین لکھتے رہے ہیں۔ مزاج میں شگفتگی ہے اور طنز و مزاح کی جانب مائل ہیں۔ بہت اچھے کمپیئرر بھی ہیں۔ جدہ کی ادبی محفلوں میں اکثر شریک رہتے ہیں۔ کبھی کوئی مضمون سنائیں گے اور کبھی تقریر یا نظامت پر اکتفا کریں گے۔ ان کی تحریریں سماجی شعور کی حامل، علامتی اور غور و فکر کا نتیجہ ہوتی ہیں۔ 
	’’۔ ۔ ۔ ۔ فرش کی صفائی کے بعد ہم نے سنجیدگی سے انڈا تلا جس سنجیدگی سے مرغی نے بھی انڈا نہیں دیا ہو گا۔ انڈے کو مٹھیوں میں بھینچ کر سیاہ Pan کے سر پر دے مارا پھر سہولت سے انڈے میں تیرتی ہوئی کافوری پیاکنگ کو انگلیوں سے چن چن کر الگ کیا۔ پھر بڑے حوصلے سے چولہا سلگایا لیکن حیرت ہوئی کہ انڈے کی زردی کا رقص اس انداز کا نہیں تھا جس انداز کا رقص بیگم کے اشارے پر کبھی انڈے اور کبھی ہم کیا کرتے تھے۔ پھر ہم نے ایک سڈول کفگیر لے کر انڈے کے پہلو کو بدلنے کی کوشش کی لیکن انڈا عجیب بدقماش تھا وہ سالم کفگیر سے چمٹ جاتا تھا۔ ہمیں احساس ہونے لگا کہ کہیں کوئی گڑبڑ ہے۔ غالباً اس میں گھی تیل کی کمی رہ گئی۔ پھر آناً فاناً پورے انڈے کی بو سارے گھر میں پھیل گئی۔ سفید چمکتا ہوا انڈا سیاہ Pan کے سینے سے چمٹ گیا۔ غالباً اسے کہتے ہیں تہذیبی انضمام وہ بھی جبری۔ اس دوران ہمیں شدید احساس ہوا کہ برہمن کو انڈے کی بو اسی لیے بری لگتی ہو گی یقیناً رواداری میں کوئی فنی کھوٹ ضرور رستا ہے جس کے نتیجے میں آپسی بدبو دور تک پھیلتی ہے۔ اب ہم نے اس تباہ حال انڈے کو زندہ پانی میں سیراب کیا۔ اس زخمی انڈے نے ہمیں تلگو اور ہندی کے برہمن اساتذہ کی یاد دلا دی۔ ۔ ۔ ‘‘۱
۔۔۔۔۔۔
۱۔   نئی نویلی گر گرہستی۔ نعیم جاوید۔ ماہنامہ شگوفہ خلیج نمبر جون ۲۰۰۴ء

۱۰۴۔ ڈاکٹر مرزا کلیم اللہ بیگ

	ڈاکٹر مرزا کلیم اللہ بیگ کی تحریر نہایت صاف و شستہ رہتی ہیں۔ انشائیہ کے تمام اوصاف ان کی تحریر میں نظر آتے ہیں۔ گاگر میں ساگر کو سمونے کا ہنر خوب جانتے ہیں۔ ان کا یہ انشائیہ ملاحظہ کیجیے:
	’’۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کرسی کبھی کسی کو اعلی مقام دیتی ہے، رتبہ دیتی ہے تو کبھی موت سے بھی دوچار کرتی ہے۔ عام طور سے آدمی کو کرسی میں آرام ملتا ہے زندگی ملتی ہے مگر مجرموں کو الیکٹرک کرسی سے موت ملتی ہے بلکہ نجات حاصل ہوتی ہے۔ ٹرین کی کرسی یا کرسیوں کی بڑی مانگ رہتی ہے۔ بغیر ریزرویشن کے کرسی چاہیے تو قلی کو رشوت دینی پڑتی ہے۔ ایک کرسی پر دو دو تین تین آدمی بیٹھتے ہیں۔ ایک بار نینی تال جانا ہوا۔ متھرا سے ہمارا ریزرویشن نہیں تھا۔ کمپارٹمنٹ لوگوں سے بھرا ہوا تھا۔ ٹی ٹی جب اس ڈبے میں آیا تو وہ ہر اس آدمی سے جس کے پاس ریزرویشن نہیں تھا ۴ روپے لیتا اور ۲ گھنٹے بیٹھنے کی اجازت دیتا۔ جیسے ہی دو گھنٹے ہو گئے وہ کہتا بھائی صاحب آپ کا وقت ہو گیا۔ آپ اٹھ جائیے۔ دوسرے بھائی صاحب کو بٹھانا ہے۔ یہ ٹی ٹی مجھے ان بروکر عورتوں کی طرح لگا جو گھنٹوں کے حساب سے عورتوں کا دھندا چلاتی ہیں یا اس مذہبی ایجنٹ (مقرر) سیوگاٹ کی طرح جو مومنٹ کے حساب سے اپنی فیس وصول کرتا ہے۔ 
	کہتے ہیں کہ اگر کوئی بڑا آدمی اپنی کرسی خالی کر دے تو کوئی دوسرا بیٹھ جاتا ہے مگر تاریخ گواہ ہے کہ رام کی کرسی ۱۴ سال تک خالی رہی۔ دسرتھ نے اس جگہ پر رام کے جوتے رکھے اور بھائی کا انتظار کرتا رہا۔ جب کہ ْ کل یہ دیکھنے میں آتا ہے کہ ایک بھائی کرسی پر بیٹھ جائے تو دوسرا بھائی اس کرسی کی ٹانگ کھینچنے میں لگا رہتا ہے۔ ‘‘۱
۔۔۔۔۔
۱۔   کرسی۔ ڈاکٹر مرزا کلیم اللہ بیگ۔ ماہنامہ شگوفہ خلیج نمبر جو ن ۲۰۰۴ء

۱۰۵۔ ہاجرہ بانو

	راقم الحروف نے انشائیہ لکھنے کا آغاز اس وقت کیا جب ذہن میں انشائیہ کا تصور اور مفہوم بھی غیر واضح تھا۔ رفتہ رفتہ اس صنف کی پہچان ہوئی اور تحریر منضبط ہوتی گئی۔ کئی مضامین اور انشائیے لکھے۔ 
	’’۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بسیار خور کئی طرح کے ہوتے ہیں۔ اول قسم کے تو وہ ہوتے ہیں جو صحیح معنوں میں سو فیصدی بسیار خور ہونے کا حق ادا کرتے ہیں۔ ان کے سامنے کسی بھی قسم کے کھانے کی پلیٹ یہ دعویٰ نہیں کرسکتی کہ اس کے ذائقے میں کسی قسم کا کوئی نقص یا مین میخ نہیں نکالا جائے گا۔ اسے صرف ہاضمہ کے عمل سے گزرنا ہے۔ اور دنیا میں آنے کے بعد آدم و حوا کے لیے اس کے تمام فرائض کی اب تکمیل ہو چکی ہے۔ مرزا صاحب اس معاملے میں ہمارے محلے کی ناک اونچی کیے ہوئے ہیں۔ وہ نہایت سرخروئی کے ساتھ ہر دعوت میں براجمان ہوتے ہیں اور پہلی صف سے آخری صف تک نہایت ہی خوش اسلوبی سے تمام مہمانوں کا ساتھ دیتے ہیں۔ ساتھ ہی غذا کے مختلف فوائد پر ان کے مفید لیکچرس سے سب کی معلومات میں اضافہ بھی کرتے ہیں۔ آخری صف میں اچھی طرح تناول طعام کے بعد لمبی سی ڈکار لیکر آسمان کی طرف بلند آواز میں ’’الحمد للہ‘‘ کچھ اس طرح کہتے ہیں کہ دعوت ہال میں موجود وہ تمام نا شکرے بندے بھی سن لیں جنہوں نے سورہ رحمن کی با غور و با ترجمہ تلاوت نہ کی ہو۔ مرزا صاحب نے یہ طریقہ شکرانہ بچپن ہی میں چڑیوں اور مرغیوں سے اپنایا تھا جسے وہ آج تک صدق دل سے بجاتے آئے ہیں۔ اس طریقہ کار کا حسن اثر یہ ہوتا ہے کہ مرزا صاحب کا شمار اللہ تعالیٰ کے نیک سیرت بندوں میں ہو جاتا ہے اور ان آنے والی دعوتوں کے رقعہ جات پر ان کا اسم بامسمم ابھرنا شروع ہو جاتا ہے جو وہاں موجود مہمانان کے گھروں میں عنقریب ہونے والی ہیں۔ 
	بسیار خوروں کی دوسری قسم ان افراد کی ہے جو صرف لذیذ کھانوں کے شوقین ہوتے ہیں۔ وہ حفظان صحت کو ملحوظ رکھنے والے گھاس پھوس جیسے کھانوں میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتے۔ ان کی شناخت کے لیے آپ کو اتنا ہی کرنا ہو گا کہ ان کے سامنے باورچی برادران کا ذکر صرف ایک بار چھیڑ دیجیے پھر دیکھئے۔ وہ کس طرح ایک سے بڑھ کر ایک باورچی کی تعریف میں زمین آسمان ایک کرتے ہیں۔ کیونکہ شہر کے تمام خوش ذائقہ باورچیوں کے دست فن سے وہ بحسن خوبی واقف ہوتے ہیں۔ ہمارے نہایت دور کے ایک چچا محترم بیگ صاحب اس زمرے میں آتے ہیں۔ وہ جہاں بھی جائیں گے تو سب سے پہلے تو ناک منہ چڑھا کر باورچی خانے کا جائزہ لیں گے پھر اس کے بعد تمام مصالحوں کی تفصیل پوچھیں گے اور پھر اپنی دانست میں خود ہی اطمینان کر لیں گے کہ باورچی نے تمام مصالحوں کو اچھی طرح بھونا اور تلا ہو گا۔ با وقت طعام اپنی پلیٹ سے صرف با مغز، با صحت اور با رونق اشیاء کو نوش فرما کر باقی کو پرے رکھ دیں گے جس طرح امریکہ اقوام متحدہ میں صرف ان مسائل پر تبادلہ خیال کرتا ہے جو صرف اس کے مفاد کے حق میں سینہ سپر ہوتے ہیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘۱
۔۔۔۔۔۔
۱۔   بسیار خوری۔ ہاجرہ بانو۔ ماہنامہ بزم سہارا دہلی ادبی میگزین۔ اکتوبر ۲۰۱۰ء



باب پنجم: انشائیہ پاکستان میں 


	تقسیم کے فوراً بعد انشائیہ نے پاکستان کے عوام و خواص کو بھی حقیقت کی دنیا کی سیر کرا دی۔ جن میں وزیر آغا، نصیر آغا، داؤد رہبر، جاوید صدیقی، ممتاز مفتی اور امجد حسین وغیرہ کے نام سر فہرست ہیں۔ 
	سماج کے سلگتے مسائل، تقسیم کے بعد کے دکھ درد، اپنوں کے بچھڑنے کا غم، زن، زر، زمین کے کھونے کا چبھتا احساس، مصیبتوں کے پہاڑ سہتے سہتے مشکور حسین یاد، مشتاق قمر، جمیل آذر، غلام جیلانی اصغر نے عوام کو ایک نئی اصلاحی تحریک میں جھونک دیا۔ یہ تمام قدیم روایات کے تابع تھے۔ دوسرے ان کے ہاں منطقی انداز بڑی حد تک پایا جاتا تھا۔ جس کی مدد سے وہ ادب کے ذریعے لوگوں کے دلوں میں مقام بنانے میں کامیاب ہوئے۔ 
	ان کے بعد نئے لکھنے والوں میں رام لعل نابھوی، محمد اسعد اللہ، حیدر قریشی، عبدالقیوم، حامد برگی، انجم نیازی، بشیر سیفی، جان کاشمیری، شمیم ترمذی، محمد اقبال انجم، خالد پرویز صدیقی، حنیف باوا، خیرالدین انصاری، پرویز عالم، طارق عباسی، رشید گوریحہ، محمد یونس بٹ، مشتاق احمد، ناصر عباس نیر، ڈاکٹر نعیم احمد، منور عثمانی، محمد بصیر رضا، جاوید اصغر، مختار پارس، صفدر رضا صفی، جاوید حیدر جوئیہ، رعنا صدیقی، اظہر ادیب، راجہ ریاض الرحمان، محمد عامر رعنا، عذرا اصغر، شفیع بلوچ، پروین طارق، یاسین یونس وغیرہ بھی قابل ذکر ہیں۔ 
	وقت کے ساتھ ساتھ اصناف کی ہیئت اور اس کے موضوعات بدلتے رہتے ہیں۔ پاکستان میں انشائیہ اپنی ایک علیحدہ شناخت بناتا ہے اور نہ صرف بناتا ہے بلکہ وہاں اس کی اپنی حیثیت منفرد اور عوام میں شرف قبولیت اس کا طرۂ امتیاز رہا ہے۔ ہم پاکستان میں اس صنف نثر کا تفصیلی جائزہ لیتے ہیں تو جو بات سامنے آتی ہے وہ یہ کہ وہاں اردو انشائیہ کو ۱۹۸۸ء میں یوں فروغ ملا کہ اس صنف کی ایک کانفرنس لودھرا میں اور ایک سیمینار اسلامیہ یونیورسٹی بھاولپور میں منعقد ہوا۔ انشائیہ کے موضوع پر ٹیلی ویژن نے ایک مذاکرہ کرایا۔ ماہنامہ اردو زبان نے انشائیہ نمبر اور اوراق نے انشائیہ کی بیلو گرافی شائع کی جو ڈاکٹر بشیر سیفی نے بڑی محنت سے مرتب کی ہے۔ ڈاکٹر شفیق احمد نے بھاولپور یونیورسٹی سے انشائیے کی ایک کتاب ’’انتخاب‘‘ شائع کی۔ محمد اقبال انجم کے انشائیوں کا مجموعہ ۲۱ دسمبر ۱۹۸۸ء میں منظر عام پر آیا۔ خیر الدین انصاری، سعید خاں، بہزاد سحر، محمد ہمایوں خان، سلیم ملک، عابد صدیقی، قمر اقبال اور علی اختر کو انشائیہ کے میدان میں ابتدائی تعارف کے بعد استحکام ملا۔ اس اجمال میں مزید یہ عرض کرنا ہے کہ اردو کے ممتاز شاعر شہزاد احمد نے ایک ’’درخت‘‘ کے عنوان سے ایک معرکے کا انشائیہ لکھا۔ ڈاکٹر وزیر آغا کی خیال انگیزی ’’پل‘‘ اور جمیل آذر کی نکتہ آفرینی ’’نیکی‘‘، ’’دریا سمندر‘‘ میں ظاہر ہوئے۔ اس سال متعدد اچھے انشائیہ لکھے گئے۔ ان میں سے اکبر حمیدی کا ضمیر کی مخالفت میں اور ’’موڑ‘‘ ارشد میر کا ’’ٹوپی‘‘ اور ’’موڈ‘‘۔ حامد برگی کا ’’عام آدمی‘‘ اور سہ پہر‘‘، انجم نیازی کا ’’فل اسٹاپ‘‘ اور ’’سوچنا‘‘ اظہر ادیب کا ’’گھڑا‘‘ محمد اسد اللہ کا ’’تیسری شادی‘‘ امجد طفیل کا ’’تنہائی‘‘ رشید احمد گوریچہ کا ’’ضرب تفریق‘‘ علی اختر کا ’’گرگٹ‘‘ خیر الدین انصاری کا ’’قاری‘‘ اس صنف کے اچھے اور نمائندہ انشائیے ہیں۔ سلیم آغا قزلباش کا ’’نام میں کیا رکھا ہے‘‘ اس موضوع کا انوکھا زاویہ ابھارتا ہے۔ سلیم آغا نے اس سال انگریزی انشائیوں کے تراجم پر مشتمل ایک کتاب مرتب کی ہے جس کا عنوان ’’مغرب کے انشائیے‘‘ ہیں۔ 	
	مزاح کا ایک بڑا مقصد ہنسی، یا مسکراہٹ پیدا کرنا ہے اور ہنسی کی تحریک کے لیے مختلف حربے استعمال کیے جاتے ہیں۔ ۱۹۸۸ء کے ادبی منظر کو دیکھیں تو پیروڈی، رعایت لفظی، ضلع جگت، پھبتی، تضحیک، بذلہ، رمز طنز اور صورت واقعہ سے مزاح پیدا کرنے اور پڑھنے والوں کو بہجت و مسرت کا سامان فراہم کرنے کی کوشش نمایاں نظر آتی ہے اور اظہار کے اس انداز کو جن لوگوں نے زیادہ استعمال کیا ان میں سید ضمیر جعفری، ارشد میر، اقبال ساغر صدیقی، محمد کبیر خاں منظر، نیاز سواتی، سرفراز شاہد، رشید احمد گوریچہ، عاصی کرنالی، سلیمان عبداللہ، مظفر بخاری، ضیاء الحق قاسمی، انور مسعود، دلاور فگار، محمد طہٰ خان، عاصی سعید، ابن الامام شیفتہ، دلیپ سنگھ اور مشفق خواجہ نصر اللہ خان کے نام بہت اہم ہیں اور یہ ۱۹۸۸ء میں قہقہہ بار نظر آتے ہیں۔ راولپنڈی کے ایک رسالہ ’’اردو بنچ‘‘ حیدر آباد پاکستان کے رسالہ ’’ظرافت‘‘ نے بھی انشائیوں کے ذریعے مسکراہٹیں بکھیری ہیں۔ 
	پاکستان میں اردو انشائیہ آج اپنے پورے جاہ و جلال کے ساتھ رخشندہ ستارے کی طرح اپنی روشنی بکھیر رہا ہے۔ حالانکہ اسے وہاں کے ادب میں اپنا مقام بنائے ہوئے صرف چالیس برس کا ہی مختصر عرصہ گزرا ہے لیکن اس کم عرصے میں ہی وہاں کے دور اندیش انشائیہ نگاروں نے اردو ادب کو ایسے نادر موتیوں سے نوازا ہے جنہیں ہم مغرب کے بہترین انشائیوں کی صف میں کھڑا کر کے فخر کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ ہم بھی بہترین انشاء پردازی کا وصف رکھتے ہیں۔ پاکستان میں انشائیہ کی کامیابی کا اہم ثبوت یہ بھی ہے کہ انشائیہ کی صنف کے خلاف بالعموم اور اردو انشائیہ کے خلاف بالخصوص ایک اخباری مہم چلائی گئی۔ جواب اردو کے بعض سرکاری ادبی جریدوں میں بھی نظر آنے لگی ہے۔ کسی بھی صنف ادب کی کامیابی کا اندازہ اس بات سے لگانا چاہیے کہ اس کے خلاف رد عمل کی شدت کس قدر ہے۔ انشائیہ اور اردو انشائیہ نے جو شدید رد عمل پیش کیا ہے وہ اب سامنے کی بات ہے۔ تاہم اس رد عمل میں مضمر یا نفرت کی زیریں لہر کا احساس ابھی زیادہ لوگوں کو نہیں ہے۔ لیکن اب وہ دن زیادہ دور نہیں ہے جب رد عمل کا یہ شخصی پہلو قاری پر عیاں ہو گا اور اگر ایسا ہوتا ہے تو حقیقت میں صنف انشائیہ نگاری کے فروغ کے راستے میں آخری رکاوٹ بھی باقی نہیں رہے گی۔ اور وہ دن دونی رات چوگنی ترقی کے منازل طے کرے گا۔ کیونکہ انشائیہ سے بڑھ کر کوئی دوسری صنف نہیں ہے جو انسان کے بکھرے ہوئے خیالات و تصورات کی بہترین تربیت کاری میں مدد کرسکے۔ جو ہجوم افکار کی سلیقہ مندانہ ترجمانی کرسکے اور ذہنی انتشار کو طمانیت اور آسودگی میں بدل دے۔ یہی اور صرف یہی وہ صنف ادب ہے جہاں بے ترتیب خیالات قوس قزح کے رنگوں میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ جو کمال فن انشائیہ ہے۔ 
	جیسا کہ ہم نے دیکھا کہ انشائیہ کے افق پر پہلے صرف وزیر آغا کا ہی نام جگمگاتا نظر آتا تھا۔ یہ تقریباً ۱۹۵۸ء کی بات ہے۔ پھر آہستہ آہستہ اس افق پر کئی اور ستارے جگمگانے لگے۔ محمد اسد اللہ کے ستارے کی چمک دوسروں سے زیادہ تھی۔ جبکہ کئی ستارے بہت جلد اپنی تابناکی بکھیر کر ماند پڑ گئے۔ مثلاً مشتاق قمر، راحت بھٹی، محمود شام، انجم انصاری، پرویز عالم وغیرہ۔ ۱۹۸۴ء انشائیہ کی شعاعیں مزید تابناکی لیے ہوئے نظر آنے لگیں۔ ان شعاعوں میں ڈاکٹر وزیر آغا سے لے کر اظہر ادیب نے اپنی کرنیں بکھیریں۔ انشائیوں کی پہلی باضابطہ کتاب ’’خیال پارے‘‘ کا نیا ایڈیشن پوری آب و تاب کے ساتھ شائع ہوا۔ اپنے خاص منتخب انشائیوں کا ایک نمائندہ مجموعہ سلیم آغا قزلباش نے مرتب کیا اور اسے مکتبہ اردو زبان سرگودہا نے زیور طبع سے آراستہ کیا۔ اس کے بعد رام لعل نابھوی نے اپنے انشائیوں کا مجموعہ ’’آم کے آم‘‘ بھارت سے شائع کیا جو بے حد مشہور اور مقبول ہوا۔ اسی دوران انشائیہ کے افق پر مزید نئے ستارے نظر آنے لگے۔ ان کی تعداد بہت زیادہ تھی۔ پرانے ستاروں میں سے غلام جیلانی اصغر نے اپنا انشائیہ ’’تسخیر کائنات‘‘ لکھ کر انشائیہ نگاری کی ایک نئی جہت کی طرف پیش قدمی کی۔ جس کے بارے میں خیر الدین انصاری نے لکھا ہے کہ:
	’’یہ ایک ایسی تحریر ہے جو ذہن کے گوشوں کو مدتوں تک منور رکھے گی۔ ‘‘
	جمیل آذر کے اظہار کی بنیادی صنف انشائیہ ہی ہے۔ انہوں نے ’’آرٹس سٹوڈنٹس‘‘ اور ’’غیر معروف شہری‘‘ کے عنوان سے دو نہایت ہی عمدہ انشائیے پیش کیے۔ سلیم آغا قزلباش نے ’’آمنا سامنا‘‘، ’’ناریل‘‘ اور ’’انگلیاں ‘‘ یہ تین خیال انگیز انشائیے لکھے۔ ان تینوں میں ’’ناریل‘‘ کو غیر معمولی شہرت اور مقبولیت حاصل ہوئی۔ اکبر حمیدی کا ستا رہ اتنی چمک و تابناکی کے ساتھ سامنے آیا کہ اب غزل ان کے اظہار کی ثانوی صنف نظر آتی ہے۔ انہوں نے ’’گولڈن چانس‘‘، ’’خزاں ‘‘، ’’چھوٹا آدمی‘‘، ’’اترن‘‘ اور ’’پرانے کپڑے‘‘ جیسے بہترین انشائیے پیش کیے اور اپنے انشائیوں کا مجموعہ بھی مرتب کر لیا۔ بشیر سیفی نے اسی موضوع پر اپنا مقالہ لکھا اور ساتھ ہی ’’پھول‘‘ اور ’’کتابیں ‘‘ لکھ کر اپنی تخلیقات بھی پیش کیں۔ تقی حسین خسرو انشائیہ کے افق کا گمشدہ ستا رہ ہیں۔ لیکن چند سال پہلے انہوں نے انشائیہ ’’فٹ پاتھ‘‘ لکھ کر اپنی کرنیں بکھیرنی شروع کر دی۔ پہلوانوں کے شہر گوجرانوالہ سے جان کاشمیری نے اپنی تخلیقات کے ذریعے اسے ’’شہر انشائیہ‘‘ بنا دیا۔ کیونکہ گزشتہ کئی سالوں سے وہاں پہلوانوں کی تعداد کم اور انشائیوں کی تعداد زیادہ نظر آنے لگی ہے۔ جان کاشمیری کا نام یہاں پر سرفہرست ہے۔ جنہوں نے ’’شادی‘‘، مسکراہٹ‘‘ اور ’’لاگ شیٹ‘‘ جیسے دلچسپ انشائیے پیش کیے۔ گوجرانوالہ کا دوسرا درخشندہ ستا رہ یونس بٹ ہے۔ انہوں نے ’’ڈرنا‘‘، ’’کالج کینٹین‘‘، ’’جیل‘‘، ’’سنسنی‘‘ اور ’’کاغذ‘‘ وغیرہ انشائیے لکھے۔ یونس بٹ نے صنف انشائیہ کو روزانہ اخبارات میں مقبول بنانے کا بیڑہ بھی اٹھا رکھا ہے۔ ان کے متعدد انشائیے اخبارات کے ادبی ایڈیشنوں میں شائع ہوئے۔ اسی شہر کے اورنگ نورنگ ستارے محمد اقبال انجم کا انشائیہ ’’برسوں کی فصل‘‘ اور ’’کتاب‘‘ جیسے انشائیے لکھ کر اپنے رنگوں میں اضافہ کیا۔ گوجرانوالہ سے ہی ممتاز مزاح نگار ارشد مہر نے ’’دھوتی‘‘ جیسا انشائیہ لکھ کر اپنی موجودگی کا احساس دلایا۔ راولپنڈی سے جمیل آذر اور مشتاق قمر جیسے بڑے ستارے اپنی چمک بکھیر ہی رہے تھے کہ ان کی کرنوں میں نئے ستارے اپنی شعاعوں کے ساتھ نمودار ہوئے جیسے بشیر سیفی، حامد برگی، اکبر حمیدی اور راجہ ریاض الرحمان۔ راجہ ریاض الرحمان نے کئی انشائیے لکھے ان میں ’’کاہلی‘‘، ’’تاش کے پتے‘‘، ’’روح کی غذا‘‘، ’’باتونیوں کے حق میں ‘‘ اور ’’بڑھاپا‘‘ کافی پسند کیے گئے۔ حامد برگی کئی سالوں سے چھپ گئے۔ ان کی کمی امجد طفیل نے پوری کر دی۔ انہوں نے ’’گرفتاری‘‘، ’’موسم‘‘ اور ’’بے تکلفی‘‘ جیسے بہترین انشائیے تخلیق کر کے انشائیے کے افق پر ستاروں کی چمک کو ماند نہیں پڑنے دیا۔ اظہر ادیب جیسا ننھا منا ستا رہ ’’خوشامد‘‘ اور نذیر احمد راہی نے ’’پیدل چلنا‘‘ لکھ کر اس نئی دنیا میں قدم رکھا۔ ان نئے ٹمٹماتے ستاروں میں انور جمال اور تصدق حسین الم بھی شامل ہیں۔ ان کا انشائیہ ’’اخبار بینی‘‘ اور ’’آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے‘‘ بہت دلچسپی سے پڑھے گئے۔ اسی دوران شمیم ترمذی جیسے دمدار ستارے نے ’’پھوار‘‘ لکھ کر اپنی دم سے کئی ستاروں کی پھوار کر دی۔ اس کے بعد ایک نہایت ہی خوبصورت انشائیہ ’’جھوٹ بولنا‘‘ لکھ کر انہوں نے اس صنف میں اپنا مقام متعین کر لیا۔ محمد اسد اللہ کا انشائیہ ’’ڈائر‘‘ اس صنف میں بھارت کی نمائندگی کرتا ہے۔ سلمان بٹ نے اس دوران اپنی مصروفیات کے باوجود کئی سنجیدہ مضامین لکھے اور ایک بہترین مضمون ’’کچھ عزت کے بارے میں ‘‘ لکھا جس میں انشائیہ کے جوہر موجود ہیں۔ انہیں موضوع منتخب کرنے کا اچھا ملکہ ہے۔ انہیں اگر تھوڑی فرصت ملے تو وہ رابرٹ لینڈ جیسا اخباری انشائیہ تخلیق کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ 
	اب ہم چند پاکستانی انشائیہ نگاروں کی تحریریں ملاحظہ کریں گے۔  
٭٭٭




نمبر شمار
بیسویں صدی کے چند اہم انشائیہ نگار
مقام پیدائش
تاریخ پیدائش
تاریخ وفات
۱
وزیر آغا
سرگودھا، پنجاب
۱۸ مئی ۱۹۲۲ء
۲۰۱۰
۲
خامہ بگوش
لاہور پاکستان
۱۹ دسمبر ۱۹۳۵ء
۲۱ فروری ۲۰۰۵ء
۳
ایس ایم معین قریشی
کراچی


۴
مشتاق احمد



۵
جمیل آذر



۶
انور سدید

۴ دسمبر ۱۹۲۸ء

۷
اکبر حمیدی

۱۹۳۶ء 

۸
اظہر حسن صدیقی



۹
ڈاکٹر محمد یونس بٹ



۱۰
منیزہ جمال



۱۱
خادم حسین مجاہد



۱۲
سلیم آغا قزلباش



۱۳
حامد برگی



۱۴
حیدر قریشی

۱۳ جنوری ۱۹۵۲ء

۱۵
جان کاشمیری



۱۶
انجم نیازی


۱۰  اکتوبر ۱۹۹۹
۱۷
ناصر عباس نیر



۱۸
جاوید حیدر جوئیہ



۱۹
عطیہ خان



۲۰
انجم انصار



۲۱
رعنا تقی



۲۲
پروین طارق



۲۳
منور عثمانی



۲۴
عبدالقیوم



۲۵
شاہد شیدائی



۲۶
قاضی اعجاز محور



۲۷
محمد بصیر رضا



۲۸
شفیع ہمدم



۲۹
حنیف باوا



۳۰
شجاع الدین غوری
کراچی







  ۱۔ وزیر آغا

	وزیر آغا ( ۱۸/مئی ۱۹۲۲ء۔ ۲۰۱۰ء ) کی مشہور تصانیف ہیں : دستک۔ اس دروازے پر۔ گھاس پر تتلیاں۔ اردو شاعری کا مزاج۔ غالب سے اقبال تک۔ صوفی اور تناظر۔ شام کی منڈیر سے۔ لکیریں اور دائرے۔ 
	وزیر آغا نے انشائیہ کے ادب میں کافی سنگ میل رکھ چھوڑے ہیں لیکن پتہ نہیں ڈاکٹر سلیم اختر ان سے اتفاق نہیں رکھتے۔ ایک جگہ وہ کہتے ہیں کہ:
	’’پاکستان میں انشائیہ کے فروغ میں ڈاکٹر وزیر آغا خاصا اہم کردار ادا کرسکتے تھے۔ لیکن ان کا Complex یہ ہے کہ وہ صرف اپنی تکنیک میں لکھے گئے انشائیوں کو ہی انشائیہ مانتے ہیں۔ کیونکہ مشتاق قمر اور جمیل آذر نے صرف ان ہی کے رنگ میں لکھا۔ اس لیے وہ تو بہت اچھے انشائیہ نگار ٹھہرے۔ جبکہ نظیر صدیقی (شہرت کی خاطر) اور مشکور حسین یاد کو وہ انشائیہ نگار ہی تسلیم نہیں کرتے۔ حالانکہ اپنے اپنے انداز میں یہ دونوں ہی صاحب اسلوب انشائیہ نگار ہیں۔ مشکور حسین یاد کی ’’جوہر اندیشہ‘‘ میں بہت اچھے انشائیے ہیں۔ وہ عجب لا ابالی انداز سے زندگی اور افراد کی کوتاہیوں کی پردہ دری کرتا ہے۔ اسے زبان پر بھی بہت عبور ہے۔ یہ بلاشبہ انشائیہ میں اہم ترین نام ہے اور اسے ہر لحاظ سے ڈاکٹر وزیر آغا پر فوقیت دی جا سکتی ہے۔ ‘‘
	وزیر آغا، نام ہی اتنا عظیم الشان لگتا ہے تو کام کیوں نہ شایان شان ہو گا۔ یوں تو ہم تعارف میں بہت ساری باتیں لکھتے ہیں لیکن وہ گھسی پٹی ہی ہوتی ہیں اور ہوں گی کیوں نہیں، کیونکہ سارے ہی ادباء کے کوائف تقریباً ایک جیسے ہی ہوتے ہیں۔ مقام پیدائش و تاریخ۔ خاندانی پس منظر اور ادبی کارنامے۔ بس یہی کچھ تو سب کے تعارف میں ہم پڑھتے اور لکھتے آئے ہیں۔ لیکن وزیر آغا کا تعارف واقعی نہایت مختلف ہے۔ انہیں انشائیہ کا باوا آدم یونہی نہیں کہا گیا۔ جب میں نے ان کی کتاب ’’شام کی منڈیر سے‘‘ پڑھی تو ان کا دیا گیا تعارف خود ان کے قلم سے پڑھا تو واقعی یہ سمجھ میں آیا کہ ان کی رگ رگ میں انشائیہ نگاری کی خصوصیات بدرجہ اتم رچی بسی ہیں۔ اسی لیے یہ شخص اتنا عظیم الشان انشائیہ نگار بنا ہے۔ میں ان کا تعارف ان کی ہی زبان میں یہاں درج کروں گی جو ان کی اسی کتاب سے اخذ کیا گیا ہے۔ 
	’’میرا سفر ۱۸ مئی ۱۹۲۲ کو شروع ہوا۔ میں ضلع سرگودھا (پنجاب) کے ایک دورافتادہ گاؤں میں رات کے پچھلے پہر نازل ہوا۔ مجھے معلوم نہیں کہ اس وقت کونسا ستا رہ کس برج میں تھی اور کیا واقعی ان ستاروں نے میری قسمت رقم کر دی تھی۔ میرے جنم پر والد صاحب نے ایک پنڈت جی سے میری پتری نکلوائی تھی جسے میری ماں نے محفوظ کر لیا تھا مگر کسی نے اس جنم پتری کو (دیوناگری لپی میں تھی) پڑھوانے کی کوشش نہ کی۔ بعد ازاں خود میں نے بھی کبھی اس بات کی ضرورت محسوس نہ کی۔ حالانکہ جوانی میں مستقبل کے بارے میں جاننے کے لیے انسان بے چین ہوتا ہے۔ یہ جنم پتری آج بھی میرے پاس موجود ہے۔ اس کے کچھ حصے دیمک نے چاٹ لیے ہیں۔ کچھ حصے کاغذ کا رنگ بدل جانے کے باعث ناقابل مطالعہ ہیں۔ مگر کچھ حصے آج بھی پڑھے جا سکتے ہیں مگر اب مجھے مستقبل میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ البتہ یہ جنم پتری مجھے میرے ماضی کے بارے میں بہت کچھ بتا سکتی ہے۔ مگر جتنا اپنے ماضی کے بارے میں خود مجھے علم ہے اتنا جنم پتری کو کیسے ہوسکتا ہے۔ اگر آج اسے پڑھوا لوں تو اسے کا مقصد بجز اس کے اور کیا ہو گا کہ پنڈت جی کو سچا یا جھوٹا ثابت کیا جا سکے۔ اس کا بھی کوئی فائدہ نہیں کیونکہ پنڈت جی کو پرلوک سدھارے اب کتنے ہی جگ بیت چکے ہیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 
	۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اپنی عمر کے پانچویں برس سے پہلے کا کوئی واقعہ میرے ذہن میں محفوظ نہیں ہے۔ میں نے پانچ سالوں پر پھیلے ہوئے اس تاریک بر اعظم میں اترنے کی ہزار کوشش کی ہے مگر مجھے کبھی کچھ دکھائی نہیں دیا۔ البتہ پانچویں برس کے تین واقعات تھوڑے تھوڑے فاصلے پر سنگ ہائے میل کی طرح ایستادہ ہیں۔ اور میں آج بھی اپنی چشم تصور میں انہیں دیکھ سکتا ہوں۔ پہلا واقعہ تو میرے چھوٹے بھائی کی پیدائش تھا۔ مجھے بتایا گیا کہ میری ماں سخت بیمار ہے میرا دل دھک سے رہ گیا۔ میں ماں کے کمرے میں جانے کے لیے ضد کرنے لگا مگر میری خالہ نے مجھے جھڑک دیا اور میں رونے لگا۔ اور روتے روتے سوگیا۔ اگلی صبح میں جاگا تو ماں موجود نہیں تھی۔ میں لپک کر گیا اور اس کمرے کے بند دروازے کو پیٹنے لگا جس کے اندر میری ماں بیمار پڑی تھی۔ تب کسی نے دروازہ کھول دیا اور میں بھاگ کر اندر چلا گیا۔ میں نے دیکھا کہ میری ماں بستر پر دراز تھی۔ اس کا رنگ پیلا پڑ گیا تھا مگر وہ مجھے دیکھ کر مسکرائی تب اس نے ہاتھ بڑھا کر مجھے اپنی طرف کھینچ لیا اور مجھے اپنے سینے سے لگا کر میری پیشانی کو چوم لیا اور مجھے جیسے قرار سا آ گیا۔ 
	دوسرا واقعہ حادثہ ہوتے ہوتے رہ گیا۔ ہوا یہ کہ ہمارے گاؤں کے ترکھان نے میرے لیے لکڑی کی ایک چھوٹی سی بیل گاڑی بنائی۔ بالکل اسی طرح کی جیسی اپاہج فقیر گلی گلی بھیک مانگنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ پھر کسی نے مجھے اس گاڑی میں بٹھا دیا اور گاڑی کے آگے ایک بچھڑا جوت دیا۔ اس کے بعد مجھے اتنا یاد ہے کہ گاڑی اڑی جا رہی تھی اور لوگ چیختے چلاتے گاڑی کے تعاقب میں بھاگ رہے تھے کیونکہ بچھڑا اپنے پیچھے بوجھ سا بندھا دیکھ کر بے قابو ہو گیا تھا اور دو لتیاں جھاڑتا اور پھنکارتا سرپٹ دوڑ رہا تھا۔ اس واقعہ کی بس اتنی سی یاد میرے ذہن میں محفوظ ہے۔ برسوں بعد مجھے میرے بڑے بھائی نے بتایا کہ اس روز میں معجزانہ طور پر بچ گیا تھا کیونکہ کسی نوجوان نے برق رفتاری سے دوڑتے ہوئے مجھے گاڑی میں سے اچک لیا تھا اور دوسرے ہی لمحے گاڑی اور بچھڑا گاؤں کے گہرے جوہڑ میں گر گئے تھے۔ تیسرا واقعہ میری شدید علالت کا تھا۔ مجھے دراصل ٹائیفائڈ ہو گیا تھا اور ان دنوں ٹائیفائڈ کا کوئی علاج نہیں تھا۔ بیمار پڑنے سے پہلے میری صحت بہت اچھی تھی۔ سرخ و سفید اور گول مٹول! گھر والے مجھے اٹھائے اٹھائے پھرتے تھے۔ لیکن ٹائیفائڈ کے بعد میری صحت بگڑتی ہی چلی گئی۔ معدے کا روگ مستقل صورت اختیار کر گیا اور میں سوکھ کر کانٹا ہو گیا۔ بعد ازاں جوانی بھی اس شاخ کو پوری طرح ہرا نہ کرسکی۔ میرے جسم کی ہڈیاں کمزور ہو گئیں۔ مجھے بتایا گیا ہے کہ میں بچپن میں بہت شرمیلا تھا۔ میرا خیال ہے کہ اس کی بڑی وجہ جسمانی کمزوری تھی۔ جسم توانا ہو تو انسان باہر کی دنیا کو فتح کر لینے کے لیے مستعد ہوتا ہے۔ ہر جوان اور صحت مند جسم کے اندر کوئی نہ کوئی سکندر اعظم ضرور موجود ہوتا ہے جو پوری دنیا کو زیر پا لانے کے خواب دیکھتا ہے اگر جسم کمزور ہو تو انسان خود میں سمٹ جاتا ہے۔ یہ ایک طرح کا فرار ہے جسے شرمیلے پن کا نام دیا جاتا ہے۔ میرے معاملے میں یہ صورتحال اسکول اور پھر کالج کے ایام تک جاری رہی۔ چنانچہ میں نے ان ایام میں اپنا کوئی دوست نہ بنایا۔ ہمیشہ خلق خدا سے دور ہی رہا۔ البتہ کالج سے فارغ ہونے کے بعد تلافی کی ایک صورت پیدا ہوئی اور میں نے متعدد دوست بنائے مگر یہ ایک الگ داستان ہے۔ بہرحال علالت کا یہ واقعہ میری یادداشت میں آج بھی محفوظ ہے۔ ‘‘
	یہ انوکھا انداز تھا خود کا تعارف پیش کرنے کا۔ لیکن اس تعارف میں انشائیہ نگاری کے وصف خاص کوٹ کوٹ کر بھرے ہیں۔ اس کی اس پوری سوانح حیات میں ہر جگہ حقیقت، شگفتگی، لطافت، تجربہ کی عکاسیت، پند و نصیحت کا پوشیدہ انداز، طنز و مزاح، وطن پرستی، قوم پرستی، ترقی یافتہ قوموں کی انوکھی سیکھ، افراد خاندان سے محبت، دوستوں سے پیار و محبت، رشتہ داروں کے بدلتے روئیے کا دکھ، وطن کی مٹی کی کشش، اردو ادب کی خدمت، سفر کے تجربات، اساتذہ کی عظمت، شاعری کا تجربہ، شریک حیات کا سکھ، بیٹی اور بیٹے کی محبت، خود کی پدرانہ محبت کی جھلکیاں، فسادات کے ہولناک مناظر، سیاسی اتار چڑھاؤ والے حالات، کتب خانوں سے رغبت، اداسی اور خوشی کی جڑوں کی کھوج، مذہب کی حقیقت پسندی، ملک کی ترقی، دیہاتی و شہری زندگی کا فرق اور تعلیم یافتہ افراد کی صحیح قابلیت کی جانچ، غرض کوئی پہلو انہوں نے اپنی کتاب میں باقی نہیں رکھا۔ کسی قسم کی تشنگی ان کی ذات سے جدا محسوس نہیں ہوتی۔ 
	آئیے ان کے انشائیوں کے چند نمونے دیکھتے ہیں :
	’’کل میری چالیسویں سالگرہ تھی۔ کرکٹ کے اس کھلاڑی کی طرح جس نے ایمپائر سے ساز باز کر کے کسی نہ کسی طرح چالیس رنز بنا لیے ہوں۔ اور اب اپنی سبز ٹوپی سر سے اٹھا کر خلق خدا سے داد وصول کر رہا ہو۔ میں نے بھی بڑے فخر سے اپنے احباب کو خط، ٹیلی فون اور اشارے کنائے سے اپنے اس عظیم کارنامے کی خبر پہنچا دی اور پھر دن بھر اس ’’داد‘‘ کو وصول کرتا رہا جو ٹیلی فون کے تاروں، کمرے کے دروازوں، خط کی لکیروں، استہزائیہ قہقہوں اور نصیحت آمیز جملوں کے ذریعے مجھ پر نازل ہوتی رہی۔ میری چالیسویں سالگرہ کی روح فرسا خبر نے میرے احباب کو گویا جھنجھوڑ کر بیدار کر دیا اور انہوں نے مجھے ایسی نظروں سے دیکھا جیسے دیکھ رہے ہوں ’’اچھا! تو تم بھی متحرک تھے۔ تمہارے انداز سے معلوم نہ ہوتا تھا۔ ‘‘ حضرت ’’ش‘‘ جو کم از کم تین بار اپنے ہاتھوں آپ ہی خودکشی کی کوشش کر چکے ہیں اور پھر بھی شاخ نازک پر بنے ہوئے آشیانے کو نا پائیدار ثابت کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکے۔ اس خبر کو سنتے ہی آگ بگولہ ہو گئے اور ایک آندھی کی طرح چنگھاڑتے ہوئے میرے کمرے میں آ دھمکے۔ کہنے لگے ’’یعنی شرم نہیں آتی تمہیں ؟ آخر اس میں فخر کی بات ہی کیا ہے؟ سمجھاؤ نا! چالیس سال یعنی چار سو اور اسی مہینے، ساڑھے چودہ ہزار دن، تین لاکھ پینتالیس ہزار گھنٹے! دو کروڑ سات لاکھ منٹ، اتنا عرصہ زندہ رہنے کے بعد کیا ابھی تمہیں مزید زندہ رہنے کی حسرت ہے!‘‘ اور میں کہ اپنی چالیسویں سالگرہ پر ابھی خود کو بالکل تازہ اور زندہ محسوس کر رہا تھا مجھے یکایک اس بات کا احساس ہوا کہ تقدیر نے دھکا دے کر مجھے شانگری لا سے باہر نکال دیا ہے۔ جیسے میرا جسم مٹھی بھر ہڈیوں میں بدل گیا ہے اور اس پر وقت کی لاتعداد جھریاں نمودار ہو گئی ہیں۔ 
	لیکن یہ کیفیت زیادہ عرصہ تک قائم نہیں رہ سکی۔ حضرت ’’ش‘‘ رخصت ہی ہوئے تھے کہ میرے عزیز ترین دوست اور بزرگ جناب ’’ص‘‘ نے ٹیلی فون پر مجھے مبارک باد دی اور کہا ’’عزیز من! چالیسویں سالگرہ مبارک ہو! اب گویا تم نے ذہنی پختگی کے دور میں اپنا پہلا قدم رکھا!‘‘ رسیور میں نے رکھ دیا اور سوچنے لگا کہ چار کتابیں، دو بچے، ایک مکان اور لا تعداد دوست پیدا کرنے کے بعد بھی اگر میں اب تک محض ذہنی نا پختگی کے دور میں تھا تو آنے والے ذہنی پختگی کے ایام میں کیا ہو گا؟ اس کا تصور کرتے ہوئے میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے اور میں نے اپنا سر دونوں ہاتھوں سے پکڑ لیا لیکن دوسرے ہی لمحے میرے ذہن میں یہ خیال آیا کہ میں نے تو ابھی زندگی میں قدم ہی نہیں رکھا (بقول حضرت ص) اس لیے ش کی بات بالکل غلط ہوئی نا! یکایک جیسے میں تقدیر کو دھکا دے کر شانگری میں دوبارہ داخل ہو گیا۔ جھریاں مٹ گئیں۔ ہڈیاں گوشت کی تہوں کو گھونگھٹ بنا کر چھپ گئیں۔ اور زندگی میرے ہربن موسے پسینہ بن کر چھلکنے لگی۔ میں نے سوچا یہ بھی اچھا ہوا کہ اس ٹیلی فون کال سے پہلے ہی حضرت ش رخصت ہو چکے تھے ورنہ آج میرے ہاتھوں میں اتنی ضرور سکت پیدا ہو گئی تھی کہ میں ان کے نازک آشیانے کو نا پائیدار ثابت کرسکتا تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 
	۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور پھر سالگرہ کا دن ختم ہو گیا اور رات ہی رات میں اس پر صدیوں کی برف جم گئی آج صورت حال یکسر مختلف ہے۔ آج میں نے ایک نئی مملکت خداداد میں اپنا پہلا قدم رکھا ہے اور میرے دوستوں کے خیالات کسی قدر نا پختہ اور غلط تھے (جناب ص متوجہ ہوں ) شاید ہم نے زندگی کے اس دور کو بچپن کی آنکھ سے دیکھا تھا اور اس لیے ہمیں اس کی ہر شئے فرسودہ، بوڑھی اور ’’کائی زدہ‘‘ نظر آتی تھی۔ ۔۔۔‘‘۱
	ایک اور اقتباس ملاحظہ فرمائیے:
	’’۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میرے ملازم کی یہ ایک نہایت بری عادت ہے کہ جیسے ہی میں کہیں باہر جاتا ہوں وہ بے جھجک میرے کمرے میں داخل ہو جاتا ہے اور آناً فاناً میرے پھیلائے ہوئے انتشار کو ترتیب اور سلجھاؤ میں بدل دیتا ہے۔ میں نے اسے کئی بار سمجھایا ہے کہ بھلے آدمی یہ کوئی قبرستان تو ہے نہیں کہ قبروں کی طرح میزیں کرسیاں اور کتابیں بھی ایک خاص ترتیب میں قطار در قطار نظر آئیں۔ لیکن نہ جانے کیوں بات اس کی سمجھ میں آتی ہی نہیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 
	۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ فطرت کا سارا حسن تو اس کی بے ترتیبی میں ہے۔ سیدھے خط تو صرف انسان خود کھینچتا ہے اور بزعم خود سمجھتا ہے کہ اس نے کوئی بڑا تیر مار لیا ہے۔ انسان کے اگائے ہوئے باغوں اور ترتیب دئیے ہوئے پارکوں کا احسن قاعدے اور اصول کا رہین منت ہے لیکن فطرت کا حسن ان باتوں کا محتاج نہیں۔ جو پاگل کر دینے والی خوبصورتی جو نشیلی کیفیت ایک خود رو جنگل میں ہے ایک صاف ستھرے بنے ٹھنے ہوئے باغیچے میں کہاں ؟ لیکن جنگ ترتیب کا محتاج نہیں۔ اس کا سارا حسن بے ترتیبی میں ہے۔ پہاڑوں کے سلسلے، دریاؤں کے پیچ و خم، سمندر کے کٹے پھٹے کنارے اور آسمان کے نیلگوں فرش پر پڑی بے پروائی سے بکھیرے ہوئے ان گنت ستارے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کوئی چیز بھی تو ترتیب کے حصار میں قید نہیں۔ انسان کی ساری عمر اشیاء کو ترتیب دینے میں بیت جاتی ہے اور ہر بار فطرت کی لازوال بے ترتیبی کا عمل بڑھ کر اس ترتیب کو ختم کر دیتا ہے اس لیے کہ ترتیب ایک خلاف فطرت عمل ہے۔ تہذیب کی گرینیڈ ٹرنک روڈ، سماج کی دائرہ در دائرہ تنظیم نقطہ نظر کی سیدھی لکیر۔ یہ سب انسان نے اپنی سوچ بچار سے ترتیب دئیے ہیں فطرت سے اخذ نہیں کیے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۲ وغیرہ۔ 
	انشائیہ ’’پگڈنڈی‘‘ کا ایک خوبصورت اقتباس ملاحظہ کیجیے:
	’’پگڈنڈی اختیار کرنے میں بڑا لطف ہے۔ آپ کے سامنے زمین کا ایک طویل و عریض خطہ ہے جس میں آپ اپنے قدموں سے ایک نئی راہ تراشتے ہیں۔ سڑک کو تو ایک دوسرے کے تعاقب میں بڑھتے ہوئے قدموں نے روند روند کر سیدھا کر دیا ہے حتیٰ کہ جب آپ ان قدموں کے نشانوں پر چلتے ہیں تو سڑک کی ہیئت میں کوئی تبدیلی رونما نہیں ہوتی۔ لیکن جب آپ پگڈنڈی اختیار کرتے ہیں تو اپنی فطری تلون مزاجی کا بین ثبوت مہیا کرتے ہیں۔ شاید اسی لیے پگڈنڈی سڑک کی طرح سیدھ نہیں ہوتی۔ اس میں انسانی مزاج کے سارے پیچ و خم نمودار ہو جاتے ہیں۔ یہ چلتی ہے، رکتی ہے، ہٹتی ہے، سیدھی ہوتی ہے اور پھر یکلخت مڑ جاتی ہے۔ درختوں سے خود بچا کر، چٹانوں سے کترا کر، کھیتوں کو چیر کر، ہر قسم کے نشیب و فراز سے ہمکنار ہوتی بڑھتی ہی چلی جاتی ہے۔ سڑک پر چلتے ہوئے آپ کو محسوس ہوتا ہے کہ آپ تنہا نہیں ہیں۔ آپ کے ساتھ ایک مشغول ہجوم ہے۔ دوست احباب، عزیز و اقارب، اپنے بیگانے سب لوگ ہمراہ ہیں۔ ترشا ترشایا ہوا راستہ ہے۔ ڈھلی ڈھلائی گھاتیں ہیں اور ضابطے کے تابع نہیں۔ آپ گویا پہلے انسان ہیں، جو ملاء اعلی سے جھگڑ کر فرشتہ پن سے مایوس ہو کر اس خطہ ارضی پر اتر آئے ہیں اور اب آپ کے سامنے نہ کوئی منزل ہے نہ نشان منزل، اوپر آسمان کی بے کنار وسعتیں ہیں۔ نیچے زمین کا فراخ سینہ ہے۔ آپ کے ہاتھ میں چھڑی اور لبوں پر سیٹی ہے اور آپ کسی ذی روح کا سہارا لیے بغیر خراماں خراماں بڑھے چلے جا رہے ہیں۔ سڑک آپ کو راستہ دکھاتی ہے، منزل کا نشان بتاتی ہے، ہمراہیوں کا سہارا دلاتی ہے لیکن پگڈنڈی کو آپ خود راستہ دکھاتے، اور خود سہارا دیتے ہیں۔ پگڈنڈی اختیار کرنے میں یہی سب سے بڑا لطف ہے!‘‘۳
	ان کی تحریر کی زندہ دلی یہاں دیکھئے جس میں انہوں نے ان کے دوست قدرت اللہ شہاب کے بارے میں ایک پرچہ میں لکھا تھا۔ 
	’’قدرت اللہ شہاب اگرچہ بڑے بڑے عہدوں پر فائز رہے مگر اپنے مخصوص مزاج کی وجہ سے ان میں عہدے داروں والی خو بو پیدا نہ ہوسکی۔ سول سروس کے اراکین انہیں ہمیشہ آؤٹ سائڈ سمجھتے رہے۔ اس صورتحال کی وجہ سے ان کی زندگی میں جو مجلسی خلا پیدا ہوا اسے انہوں نے ادب سے پر کرنے کی کوشش کی۔ ادب ان کی زندگی میں آیا تو اہل ادب سے بھی شناسائی ہوئی۔ یوں تو متعدد ادیبوں سے ان کے تعلقات تھے لیکن ممتاز مفتی، اشفاق احمد اور ابن انشاء ادب کے راستے ان کی ذاتی زندگی میں شامل ہو گئے۔ ان تینوں کی وجہ سے قدرت اللہ شہاب کی تنہائی ختم ہوئی اور شہاب کی وجہ سے ان تینوں کی بہت سی محرومیوں کا ازالہ ہوا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
۔۔۔۔۔
۱۔  میری چالیسویں سالگرہ۔ وزیر آغا۔ دو ماہی گلبن۔ انشائیہ نمبر ۲۰۰۱ء
۲۔ بے ترتیبی۔ وزیر آغا
۳۔  پگڈنڈی۔ وزیر آغا۔  

۲۔ مشفق خواجہ خامہ بگوش

	مشفق خواجہ خامہ بگوش ۱۹ دسمبر ۱۹۳۵ء کو لاہور پاکستان میں پیدا ہوئے اور ۲۱ فروری ۲۰۰۵ء کو ان کا انتقال ہوا۔ مشفق خامہ بگوش ایک دیانت دار، مہذب اور شائستہ زبان لکھنے والے قلمکار تھے۔ جن کی تحقیقی کاوشوں کو ادبی دنیا میں ایک بلند مقام حاصل ہے۔ تحقیق کے ساتھ ساتھ انہوں نے انشائیہ والی شگفتگی برقرار رکھی جس سے عام طور پر محققین محروم ہوتے ہیں اور یہ سلسلہ انہوں نے روزنامہ ’’جسارت‘‘ کراچی سے ’’سخن در سخن‘‘ کے نام سے کالم لکھنے کی ابتدا کرتے ہوئے قائم کیا اور جب مولانا اصلاح الدین احمد ’’جسارت‘‘ سے علیحدہ ہوئے اور انہوں نے ہفت روزہ ’’تکبیر‘‘ نکالنا شروع کیا تو خواجہ صاحب نے ’’تکبیر‘‘ میں مستقل کالم نگاری شروع کر دی۔ انہوں نے مجموعے لکھے ہیں۔ ۷۰ سال کی عمر میں ان کا انتقال ہوا۔ انہوں نے مولوی عبدالحق کے ساتھ انجمن ترقی اردو میں ۱۹۵۷ء سے لے کر ۱۹۷۳ء تک کام کیا۔ ’’قومی زبان‘‘ کے ایڈیٹر بھی تھے۔ تذکرہ خوش مرقع زیبا مجلس ترقی ادب آبیات مخطوطات اردو غالب اور سفیر بلگرامی اور تحقیق نامہ جیسے اردو ادب کو گراں قدر سرمایہ دیا ہے۔ 
	خامہ بگوش پاکستان میں انشائیہ نگاری کی صنف میں چار چاند لگا چکے ہیں۔ ان کی تحریر میں ایک طرح کی تراوٹ محسوس ہوتی ہے۔ قاری کو وہ ایک گہرے دوست کے روپ میں نظر آتے ہیں۔ روزمرہ کے معمولات اس طرح بیان کرتے چلے جاتے ہیں مانو طلسماتی دنیا کے واقعات بیان کر رہے ہیں۔ مندرجہ ذیل اقتباس ان کے انشائیے ’’شاعری اور ڈپریشن‘‘ سے لیا گیا ہے۔ 
	’’اگر کوئی شخص اپنی محنت اور ذاتی جدوجہد سے بے پناہ دولت کمائے اور اس دولت کو سامان عیش و عشرت کے بجائے رفاہ عامہ کے کاموں میں صرف کر دے اور خود پوری زندگی ایک شیروانی، ایک پاجامے اور کرائے کے مکان میں بسر کر دے تو ایسے شخص کو دیوانہ کہا جائے گا یا حکیم محمد سعید۔ 
	حکیم صاحب نے قوم کی جسمانی صحت کے لیے ہمدرد کی دواؤں کو اتنا عام کر دیا ہے کہ غریب سے غریب آدمی بھی ان دواؤں کے استعمال کی قدرت رکھتا ہے بلکہ بعض دوائیں تو اتنی لذیذ ہوتی ہیں کہ انہیں شوقیہ بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ انہیں شوقیہ دواؤں میں روح افزاء بھی شامل ہے جسے لوگ شربت سمجھ کر پیتے ہیں۔ اس کی تاثیر یہ ہے کہ جو اسے ایک دفعہ پی لیتا ہے وہ پھر کسی دوسرے مشروب کے قریب نہیں جاتا۔ گویا یہ دافع منشیات دوا ہے۔ جوشؔ صاحب کی مثال ہمارے سامنے ہے وہ زندگی بھر بادۂ ناب سے غم غلط کرتے رہے لیکن جو روح افزاء سے واسطہ پڑا تو پھر کسی دوسرے مشروب کو ہاتھ نہ لگایا۔ اس کا ثبوت ان کے کلام سے بھی ملتا ہے۔ اسی وقت ایک رباعی یاد آ رہی ہے۔ 
ساقی خس کو مزاج دریا دے دے 
پیاسا ہوں بہت جوہر مینا دے دے 
ہاں اس لب جاں بخش کی خوشبو کی قسم
ہمدرد کا جام روح افزا دے دے
	مختصر یہ کہ ہمدرد کی دوائیں اس کثرت سے استعمال کی جاتی ہیں کہ خدا کے فضل سے قوم کا بڑا حصہ صحتمند ہو گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب ملک کے ہر پانچویں شہری کے ہاتھ میں کلاشنکوف ہے جس کے ذریعے وہ اپنی صحتمندی کا مظاہرہ اور غیر صحتمند لوگوں کی قسمت کا فیصلہ کرتا ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔‘‘۱
۔۔۔۔۔
  ۱۔  شاعری اور ڈپریشن۔ خامہ بگوش۔ ماہنامہ شگوفہ اپریل ۱۹۹۵ء 
 
۳۔ ایس۔ ایم۔ معین قریشی

	ایس۔ ایم۔ معین قریشی کراچی پاکستان سے اپنے انشائیوں کی پھلجڑیاں چھوڑتے ہیں۔ ان کی تحریر میں تازگی اور شگفتگی پائی جاتی ہے۔ الفاظ کا انتخاب بھی بہت سوچ سمجھ کر کرتے ہیں۔ جس کی وجہ سے ایک دو پیراگراف میں ہی قاری کو اپنا دوست بنا لیتے ہیں۔ مندرجہ ذیل اقتباس ان کے انشائیے ’’کتے۔ دو ہی اچھے‘‘ سے لیا گیا ہے۔ 
	’’غالباً کتا آپ کا وہ واحد مخلص دوست ہے جسے آپ بازار سے خرید سکتے ہیں۔ اہل مغرب تو اس کے اتنے گرویدہ ہیں کہ پہلے پیار سے اس کو گود میں بٹھاتے ہیں اور پھر ایک وقت آتا ہے کہ وہ خود اس کی گود میں بیٹھنے لگتے ہیں۔ ہمارے یہاں بھی بعض ’’بیگم گزیدہ‘‘ لوگ اپنی پوری زندگی کتوں کی ناز برداری میں گزار دیتے ہیں۔ چنانچہ کچھ عرصہ قبل ایک سیاسی رہنما کے نصف درجن کتوں میں سے ایک نے انہیں داغ مفارقت دیا تو انہوں نے آنجہانی کی یاد تازہ رکھنے کے لیے ایک نامور مصور سے ۵۰ ہزار روپے میں اس کا پورٹریٹ تیار کروایا اور اسے اپنا خوابگاہ میں انتقاماً اس جگہ رکھوایا جہاں اصولاً کسی اور کی تصویر ہونی چاہیے تھی۔ اب کی زبان پہ یہی ورد ہے کہ:
نام لے لے کہ تیرا ہم تو جئے جائیں گے
لوگ یونہی ہمیں بدنام کیے جائیں گے
۔۔۔۔۔
  ۱۔  کتے دو ہی اچھے۔ ایس۔ ایم۔ معین قریشی۔ دو ماہی گلبن۔ جنوری تا اپریل: انشائیہ نمبر ۲۰۰۱ء

۴۔ مشتاق احمد

	مشتاق احمد کی تحریر میں بلا کی دلکشی پائی جاتی ہے۔ وہ قاری کو اپنے ساتھ ان کی تخیلی دنیا کی سیر کرواتے ہیں اور اسے اپنا گہرا دوست سمجھتے ہیں کہ درمیان میں کوئی فاصلہ باقی نہیں رکھتے۔ مندرجہ ذیل اقتباس ان کے انشائیے ’’حسرت دید‘‘ سے لیا گیا ہے۔ 
	’’۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میرے اور میری بینائی کے مابین تعلقات کی کشیدگی کا یہ سلسلہ بھی کئی سال تک قائم رہا۔ لیکن مجھے ایسا کبھی گمان بھی نہ ہوا کہ ایک دن میری بصارت مجھے ہمیشہ کے لیے چھوڑ جائے گی۔ میں سمجھتا تھا کہ تعلقات اگرچہ کشیدہ رہیں گے لیکن ساتھ موت تک بہرحال رہے گا۔ مگر ایک دن اچانک یہ ہوا کہ میری بصارت نے ہمیشہ کے لیے خدا حافظ کہا اور خود نہ جانے کہاں غائب ہو گئی اس دن سے آج تک میری دنیا تاریک ہے اور اس دن سے یکہ و تنہا ہوں ہر وقت ہر جگہ تنہا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 
	۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میرے پاس بہت سی کتابیں ہیں جو میں نے اپنی غربت کے باوجود جمع کی ہیں۔ ان کے لیے میں نے اپنی بہت سی خواہشوں کو اور بہت سے دوسروں شوقوں کو تیاگا ہے۔ یہ کتابیں ایک لاجواب انتخاب ہیں اور مجھے دنیا کی ہر چیز سے زیادہ عزیز ہیں۔ لیکن اب میں انہیں نہیں دیکھ سکتا۔ ان کا وجود میرے لیے اب محض تصوراتی ہے، ذہنی ہے، جسمانی لحاظ سے وہ معدوم ہو چکی ہیں۔ اب ان میں اور لکڑی کے کسی چھوٹے سے تختے میں میرے لیے کوئی فرق نہیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ‘۱
۔۔۔۔۔۔
۱۔  حسرت دید۔ مشتاق احمد۔ دو ماہی گلبن۔ جنوری تا اپریل: انشائیہ نمبر ۲۰۰۱ء

۵۔ جمیل آذر

	جمیل آذر پاکستان کے عظیم انشائیہ نگاروں میں شمار کیے جاتے ہیں۔ ان کی تحریر میں غضب کی گہرائی پائی جاتی ہے۔ الفاظ کا انتخاب بہت چن چن کر کرتے ہیں۔ معمولی الفاظ کی مدد سے بھی ایک گہری فکر کا پردہ وا کرتے چلے جاتے ہیں۔ جمیل آذر کا شمار ان لوگوں میں ہوتا ہے جنہوں نے نہ صرف انشائیہ کے لیے زمین ہموار کی بلکہ بے حد خوبصورت انشائیے لکھ کر آنے والوں کے لیے ایک درخشاں مثال بھی قائم کر دی۔ یہ انشائیے کو نثر کی دیگر اماثل اصناف سے الگ کرنے پر پوری طرح سے قادر ہیں۔ وہ فکر اور اسلوب کو انشائیے کے مقتضیات کے تابع کرنا جانتے ہیں جس کے نتیجے میں ان کے ہاں فکر اپنے بوجھل اجزاء کو تج کر عام فہم کومل اور سبک اندام ہو گئی ہے اور اسلوب ایک ایسی لفظی کیفیت کا مظاہرہ کرنے لگا ہے جو انشائیہ نگاری کے لیے اولین شرط کی حیثیت رکھتی ہے۔ انگریزی زبان اور ادب سے پوری طرح آشنا ہونے کے باعث وہ انشائیے کے مزاج سے آشنا بھی ہیں اور یوں نئی پود کو بہ آسانی راستہ دکھا سکتے ہیں۔ ان کی کتاب ’’انشائیہ اور انفرادی سوچ‘‘ میں انہوں نے انشائیہ فہمی کا حق ادا کر دیا ہے۔ وزیر آغا نے بھی ان کی انشائیہ نگاری کی تعریف کئی جگہ کی ہے۔ مندرجہ ذیل اقتباس ان کے انشائیہ ’’شاخ زیتون‘‘ سے لیا گیا ہے۔ 
	’’۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ آپ شاید یہ خیال کریں کہ میں سحر انگیز ہوں اور سیر کرنے کا عادی ہوں۔ نہیں یہ بات نہیں الحمد للہ میں نہ تو بیمار ہوں اور نہ کسی ڈاکٹر کے مفت مشورے پر عمل کرتے ہوئے صبح سویرے اٹھ کر سیر کرنے کی فضول عادت میں مبتلا ہوں۔ بھلا آج کل کے مادی اور صنعتی دور میں اور وہ بھی شہر میں رہ کر سیر کرنے کا وقت کس شریف آدمی کے پاس ہے۔ ایک سمے تھا جب واقعی لوگ صبح نور کے تڑکے اٹھ کر سیر کے لیے کسی پارک میں، کسی باغ میں، کسی نہر کے کنارے یا دریا کے ساحل پر جاتے، ورزشیں کرتے اور جسم بناتے۔ مگر آج کل تو ہم دن بھر کی مشقت جھیل کر رات کے با رہ بجے تک ٹیلی ویژن پر تھرل اور سسپنس سے بھرپور ڈرامے دیکھ کر اس قدر تھک ہار کر سوجاتے ہیں کہ صبح اٹھ کر سیر کرنا تو کجا دفتر، اسکول، کالج اور کام کاج پر پہنچنا ہی مشکل ہو جاتا ہے۔ ویسے بھی یہاں ہمارے شہروں میں پارک ویران ہیں اور باغوں کا دور دور تک نام و نشان نہیں ملتا۔ اب تو صرف سڑکیں ہی سڑکیں اور عمارتیں ہی عمارتیں ہی عمارتیں رہ گئی ہیں۔ جیسے لوگوں کو صرف ایک ہی شوق ہو گیا ہو، نہیں جنون ہو گیا ہو کہ عمارتیں بناؤ، پلازے بناؤ اور خوب روپے بناؤ۔ گویا نقطۂ پرکار حق روپیہ ہی تو ہے۔ ویسے بھی ہم اور سیر دو متضاد چیزیں ہیں۔ میرا تعلق تو دراصل زیتون کے پیڑوں کے اس جھنڈ سے ہے جن کی ناقابل تسخیر کشش مجھے بستر استراحت سے اٹھنے پر مجبور کر دیتی ہے اور میں ان کے پراسرار افسوں کے زیر اثر کشاں کشاں ان کی طرف بڑھتا چلا جاتا ہوں۔ اپنے آپ کو زیتون کے درختوں کے زیر اثر مابین پا کر میں ایک نامعلوم ہی روحانی خوشی کے لمس سے آشنا ہوتا ہوں۔ میری سوچ کی زبان ان سے ہمکلام ہوتی ہے۔ میری روح کے سرتال ان کی روح کے جل ترنگ سے ہم آہنگ ہو جاتے ہیں۔ پھر مجھے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ان کا اور میرا ساتھ بہت ہی قدیم ہے ازل سے ابد تک۔ ہماری روحیں ایک دوسرے کے ساتھ ناقابل بیان میں سرگوشی کرتی ہیں ہم ایک دوسرے کو جانتے اور پہچانتے ہیں۔ ہاں یہ وہی درخت ہے جس کا ذکر آسمانی کتابو ں میں ملتا ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘۱
۔۔۔۔۔
  ۱۔  شاخ زیتون۔ جمیل آذر۔ دو ماہی گلبن۔ جنوری تا اپریل: انشائیہ نمبر ۲۰۰۱ء

۶۔ انور سدید

	انور سدید ۱۹۲۸ء میں پاکستان میں پیدا ہوئے۔ کئی میگزین کی اشاعت میں ان کی خدمات شامل تھیں۔ بالخصوص نیرنگ خیال اور ہمایوں میں ان کے مضامین اور رہنمائی برائے ادب ہوا کرتی تھیں۔ 
	انور سدیداپنے موضوع کے ذریعے کائنات کے حقائق بیان کرنے میں ماہر ہیں۔ وہ جو بھی لکھتے ہیں سیدھے قاری کے دلوں تک پہنچ جاتے ہیں۔ ان کی زبان سادہ اور سلیس ہے۔ پڑھنے والا نہایت آسانی سے ان کے مطلب کو اخذ کر لیتا ہے۔ انور سدید قاری کے ذہن پر بار گراں نہیں ہونا چاہتے اس لیے وزیر آغا نے ان کے کئی انشائیوں کو ’’لائٹ ایسے‘‘ کا نام دیا ہے۔ مندرجہ ذیل اقتباس ان کے انشائیہ ’’مچھر کی مدافعت میں ‘‘ سے لیا گیا ہے۔ 
	’’مچھر خون پیتا ہے اس لیے بعض لوگ اسے درندہ کہتے ہیں۔ حالانکہ یہ پرندہ ہے اور ہمیشہ اپنے پروں سے اڑتا ہے۔ دوسری طرف حقیقت یہ بھی ہے کہ مچھر کی بہت سی عادتیں انسان سے ملتی جلتی ہیں۔ اس لیے اسے اشرف المخلوقات کہلانے کا حق بھی حاصل ہے۔ مثال کے طور پر انسان کی طرح مچھر بھی ہر وقت پیٹ کی ضرورتیں پوری کرنے کے لیے سرگرداں رہتا ہے۔ افزائش نسل کے اعتبار سے بھی مچھر انسان کے مماثل ہے اور یہ بھی انسان کی طرح فکر فرد سے آزاد ہو کر بکثرت تخلیق اولاد کا فریضہ انجام دیتا ہے۔ فطرت نے اس کے ہونٹوں کو خون لگا دیا ہے۔ اس لیے بالعموم شراب کے قریب بھی نہیں جاتا۔ تاہم کسی محفل میں عفت کی مل جائے تو انسان ہی کی طرح بربنائے انکسار انکار نہیں کرتا۔ بعض لوگ اسے انسان کا ازلی اور ابدی دشمن قرار دیتے ہیں اور بہت سی بیماریوں کو اس چھوٹی سی حقیر و فقیر مخلوق سے منسوب کرتے ہیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘۱
۔۔۔۔۔
  ۱۔  مچھر کی مدافعت میں۔ ڈاکٹر انور سدید۔ دو ماہی گلبن جنوری تا اپریل انشائیہ نمبر ۲۰۰۱ء 

۷۔ اکبر حمیدی

	اکبر حمیدی پاکستان کے دوسری کھیپ کے انشائیہ نگاروں میں شمار کیے جاتے ہیں۔ وہ اپنے انشائیے وزیر آغا کے رنگ میں لکھتے ہیں۔ بات سے بات پیدا کرنا ان کا خاصہ رہا ہے۔ سادہ اور دقیق الفاظ کا سنگ میل ان کے انشائیوں میں بدرجہ اتم پایا جاتا ہے۔ بات کی گہرائی اور معنویت میں وہ بازی مار لے جاتے ہیں۔ اکبر حمیدی کا غیر مطبوعہ انشائیہ ’’وال کلاک کے پیچھے‘‘ سے لیا گیا یہ اقتباس ملاحظہ کیجیے:
	’’۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس سے نفرت تو مجھے شروع سے ہی تھی۔ بھلا چھپکلی سے کون محبت کرسکتا ہے؟ خصوصاً اس صورتحال میں جب یہ بد شکل بد ہیئت مخلوق بیڈ کے عین سامنے والی کلاک کے پیچھے رہتی ہو اور اپنا رخ زیبا وقت بے وقت ظاہر بھی کرتی رہتی ہو۔ میرا خیال تھا کہ وال کلاک کا عقب اس کی عارضی قیام گاہ ثابت ہو گا اور میں جلد ہی اس مد منظر ڈرامے سے نجات حاصل کر لوں گا مگر ایسا نہیں ہوا۔ اس بد صورت مخلوق کو یہ خوبصورت جگہ شاید کچھ زیادہ ہی پسند آ گئی ہے۔ ایسے خاصے دن میں نے اس خوش گمانی میں امن و سکون سے گزارل یے تھے اور خوش گمانی کو میں نے ہمیشہ مفید خیال کیا ہے۔ لیکن جب آہستہ آہستہ خوش گمانی بد گمانی میں تبدیل ہونے لگی کہ یہ مخلوق جلدی پیچھا چھوڑنے والی نہیں ہے تو یہ نفرت غم و غصے میں تبدیل ہونے لگی اور جب غم و غصے سے بھی مجھے کچھ افاقہ نہ ہوا تب مجھے اس بدمعاش سے ڈر سا آنے لگا۔ شاید نفسیاتی طور پر ایسا ہی ہوتا ہے کہ اول اول نفرت سر اٹھاتی ہے پھر نفرت کی کوکھ سے غم و غصہ جنم لیتا ہے اور جب اس تمام دوران میں صورتحال تبدیل نہیں ہوتی تو انسان ایک انجانے سے خوف میں مبتلا ہونے لگتا ہے اسے آپ اظہار بے بسی ہی جانئے۔ ایسا بھی نہیں کہ میں کوئی بزدل شخص ہوں یا چھپکلی سے اپنے بے خوف ہونے کا دعویٰ کر کے اپنی بہادری ثابت کرنا چاہتا ہوں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘۱
۔۔۔۔۔۔
۱۔  وال کلاک کے پیچھے(غیر مطبوعہ)۔ اکبر حمیدی۔ دو ماہی گلبن انشائیہ نمبر ۲۰۰۱ء 

۸۔ اظہر حسن صدیقی

	اظہر حسن صدیقی کی تحریر میں انور سدید کی جھلک نظر آتی ہے۔ اپنی شگفتگی قائم رکھتے ہوئے سماج کی برائیوں پر چوٹ کر جاتے ہیں۔ 
	’’ہر قوم و ملک کے مختلف رسم و رواج اور عادات ہوتی ہیں جو ان کے قومی مزاج کی نشاندہی کرتی ہیں۔ ویسے یہ قطعی ضروری نہیں کہ اس ملک اور قوم کے ہر آدمی میں وہ عادات ہوں یا اس کا مزاج بھی ویسا ہی ہو۔ یہ قومی تشخص برسہا برس کے مطالعہ اور غور و فکر کے بعد جنم لیتا ہے۔ لیکن جب ایک دفعہ کسی قوم پر ایک ٹھپہ لگ جائے تو اس کو اتارنے کے لیے قومی سطح پر بڑی محنت اور منصوبہ بندی درکار ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر برسوں سے سنتے آئے ہیں کہ اسکاٹ لینڈ کے باشندے بہت کنجوس ہوتے ہیں۔ اب وہ ہوں یا نہ ہوں لیکن شہرت ایسی ہو گئی ہے جس سے مفر نہیں۔ حالانکہ اسکاٹ لینڈ والوں کا کہنا ہے کہ اس میں زیادہ دخل انگریزوں کا ہے جنہوں نے انہیں بدنام کرنے کے لیے یہ پروپیگنڈا اتنے منظم اور موثر انداز میں کیا ہے کہ آج ساری دنیا اسکاٹ لینڈ کے باسیوں کو سچ مچ کنجوس سمجھنے لگی ہے۔ اس کے برعکس چین کو دیکھئے جنہیں کافی عرصہ تک لوگ افیمی کہتے تھے مگر انہوں نے آزاد ہوتے ہی اپنی قوم کی کایا پلٹ دی اور اس قدر محنت اور ترقی کی کہ کل تک ان کو افیمی کہنے والے آج خود افیمی لگتے ہیں۔ ویسے اس میں شک نہیں کہ:
کچھ تو ہوتے میں محبت میں جنوں کے آثار
اور کچھ لوگ بھی دیوانہ بنا دیتے ہیں 
	کچھ نہ کچھ حقیقت ضرور ہوتی ہے جس سے بدخواہ پورا پورا فائدہ اٹھاتے ہیں اور قوم کے خلاف پروپیگنڈہ شروع کر دیتے ہیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘
۹۔ ڈاکٹر محمد یونس بٹ:
	ڈاکٹر محمد یونس بٹ پاکستان کے رسالوں میں اکثر اپنی تحریر سے جادو جگاتے ہیں۔ ان کی تحریر لطافت، شگفتگی اور پھلجڑیوں کے ساتھ بیش قیمتی معلومات بھی بہم پہنچاتی ہے۔ 
	’’صاحب جس بندے کو یہ پتہ ہو کہ اسے کس دن اور کس وقت مرنا ہے وہ یا تو کوئی ولی اللہ ہوتا ہے یا کوئی قاتل ڈاکو جسے یہ صحیح پتہ ہوتا ہے جبکہ شاعروں کو تو یہ بھی یاد نہیں رہتا کہ وہ کہاں کہاں مرے تھے اور کس کس پہ مرے تھے۔ ہم نے ایک ماہر اموات سے پوچھا شاعروں میں ڈیتھ ریٹ کیا ہے؟ کہا وہی جو دوسروں میں ہے ایک موت فی فرد۔ ہم نے ایک آمر کے بارے میں لکھا تھا کہ اس نے لوگوں کی فلاح و بہبود کے لیے جو کچھ کیا اس میں سب سے اہم اس کا مرنا تھا ایسے ہی ادب کی خدمت کرنے کے لیے سانگلہ حل کے شاعر نعمت سانگلوی صاحب نے پچھلے دنوں اپنی دوسری برسی منائی یہ واحد شاعر ہیں جن کی برسی ان کی زندگی میں منائی جاتی ہے۔ یہ ان کی دوسری برسی تھی حالانکہ ان کا کلام پڑھ کر لگتا ہے یہ برسی کئی برس پہلے ہی شروع ہو جانا چاہیے تھی۔ اخبار کے مطابق ان کا کلام بوروں میں بھر کر محفوظ کیا گیا ہے ہمیں یہ تو پتہ نہیں ایک بور کا کلام کتنے بوروں کو بھر سکتا ہے بہرحال کلام کو بروقت بوروں میں بھر کر لوگوں کو محفوظ کر لیا گیا ہے۔ موصوف کو ہم پہلے سے نہیں جانتے لیکن پتہ چلا ہے کہ ان میں شروع ہی سے مرحوموں والی خوبیاں پائی جاتی ہیں غربت کی وجہ سے ان کی شاعری کی کتابیں نہ چھپی۔ صاحب اگر ان کی کوئی کتاب ابھی نہیں چھپی تو پھر ان کی برسی کی کوئی وجہ ہماری سمجھ میں نہیں آئی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘۱
۔۔۔۔
۱ ۔ بیگانی شادی میں۔ اظہر حسن صدیقی۔ ماہنامہ شگوفہ جولائی ۱۹۸۹ء

۱۰۔ منیزہ جمال

	منیزہ جمال پاکستان کی ایک خوش تحریر انشائیہ نگار ہیں۔ ان کے انشائیے وقتاً فوقتاً مختلف رسالوں اور انٹرنیٹ پر پڑھنے ملتے ہیں۔ ’’پان کا پتہ‘‘ ان کا ایک خوبصورت انشائیہ ہے۔ 
	’’۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہماری جہالت اور نادانی یہیں ختم نہیں ہوتی بلکہ اس روز تو حد ہی ہو گئی جب بڑے ابا سفید اجلے کپڑے پہن کر جمعہ پڑھنے مسجد کے لیے نکلے اور جب واپس آئے تو ہائے کہہ کر ہم نے ایک زوردار چیخ ماری اور دوڑ کر ان کے قریب گئے۔ ’’یہ خون کیسا ہے بڑے ابا؟ کہیں مسجد میں بم دھماکہ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘ اور بڑے ابا نے ہنستے ہوئے ہمارے سر پہ اس طرح چپت رسید کی گویا کہہ رہے ہوں کہ بیوقوف اتنا بھی نہیں معلوم کہ پان کھانے والوں کے ساتھ ایسا اکثر ہو جاتا ہے۔ لو جاؤ تو ذرا دھو ڈالوں اس کرتے کو۔ اور ہم کرتا دھوتے ہوئے پان کی مستحکم حیثیت اور اٹل حقیقت کے فلسفے پہ غور کرتے جاتے تھے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 
	۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ گویا پان نہ صرف تہذیب و روایت کا امین ہے بلکہ ہماری ثقافت کا اظہار بھی۔ بس پان کھاتے ہوئے خیال رکھیے۔ کہیں جو اگر تمباکو  والا پان غلطی سے کھا لیا تو وہی ہو گا جو ہمارے ساتھ ہوا کہ چکرا کے جہاں کھڑے تھے وہیں بیٹھ گئے اور اس پر غضب یہ کہ کئی روز منہ پکتا رہا۔ نہ جانے کون بھلا مانس اس محفل میں چونا لگا گیا تھا۔ ۔۔‘‘۱
۔۔۔۔۔
  ۱۔  پان کا پتہ۔ منیزہ جمال (انٹرنیٹ)

۱۱۔ خادم حسین مجاہد

	خادم حسین مجاہد پاکستان سے اپنے انشائیوں کی پھلجڑیاں چھوڑتے رہتے ہیں۔ ان کے اکثر انشائیے مختلف رسالوں میں نظر آتے ہیں مندرجہ ذیل چھوٹے چھوٹے انشائیے بڑا پیغام دیتے ہیں۔ 
	’’ذرا:
	ذرا یوں تو ذرا سا لفظ ہے لیکن اس کی کارستانیاں اف توبہ۔ ہر بڑی بات پہلے ذرا سی بات ہوتی ہے اکثر لڑائیاں ذرا سی بات پر ہوتی ہیں۔ برسوں کے یارانے ذرا سی بات پر چلے جاتے ہیں۔ خودکشی تک محبوبہ کی ذرا سی بات پر ہو جاتی ہے۔ لیکن ذرا ذرا مل کر ’’بہت‘‘ ہو جاتا ہے جو لوگ ذرا ذرا سی بات پر دل لگالیتے ہیں۔ ذرا ذرا میں ان کا ذرا سا منہ نکل آتا ہے اور وہ گاتے پھرتے ہیں کہ ’’مجھے یاد ہے ذرا ذرا تمہیں یاد ہو کہ نہ ہو‘‘ لیکن اس سے دوسرے لوگوں کو ذرا بھی فرق نہیں پڑتا۔ 
	ذرا کی خطرناک صورتیں اس وقت پیدا ہوتی ہیں جب بیگم شوہر سے کہتی ہے ذرا دس ہزار روپے دے دیں مجھے شاپنگ کرنی ہے۔ یا شوہر بیوی سے کہتا ہے کہ بیگم ذرا اجازت دے دو مجھے دوسری شادی کرنی ہے۔ با اختیار جب اپنے لاڈلوں کو حوالات سے نکلوا لاتے ہیں تو فرمایا کرتے ہیں کہ چھوڑیں جی بچہ ہی تھا نا جی ذرا ایک لڑکی اغوا کر لی ذرا شغل کر لیا اور ان لوگوں نے رنگ میں بھنگ ڈال دی تو ذرا سا قتل کر دیا۔ 
	کوئی لڑکا یا لڑکی جب پہلی بار ایک دوسرے سے مخاطب ہونا چاہتے ہیں تو کہتے ہیں ذرا سنیے!بعد میں یہ ذرا کافی لمبی ہو جاتی ہے حتیٰ کے شادی کے بعد ایک فریق صرف سننے کے لیے رہ جاتا ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘۱
۔۔۔۔۔
  ۱۔  لفظی پوسٹ مارٹم۔ خادم حسین مجاہد۔ ماہنامہ شگوفہ اگست ۱۹۹۴ء

۱۲۔ سلیم آغا قزلباش

	سلیم آغا قزلباش اپنے انشائیوں میں گہری معنویت پوشیدہ رکھتے ہیں۔ قاری کو اپنے بیانیہ طریقے سے ماضی کی دنیا میں لے جاتے ہیں اور ہلکے پند وعظ کے ساتھ اسے واپس حال میں لے آتے ہیں۔ مندرجہ ذیل اقتباس ان کے انشائیہ ’’گلی‘‘ سے لیا گیا ہے۔ 
	’’ایک دن میں راستہ بھول کر موت کے کنویں میں پھیرے لگانے والے کسی موٹر سائیکل سوار کی طرح گلیوں کی گھمن گھیریوں میں کئی گھنٹوں تک چکر لگاتا رہا۔ منزل تک کیسے پہنچا اس کا مجھے قطعاً اندازہ نہ ہوسکا۔ بس اتنا اتنا یاد ہے کہ جب مایوسی برہمی سے معانقہ کرنے والی تھی تو منزل عالم غیب سے نکل کر میرے سامنے آ گئی۔ وہ ایک چھوٹی سی خستہ حال پرانی کتب کی دکان تھی جہاں سے مجھے کچھ کتابوں کا پتہ کرنا تھا۔ مطلوبہ کتابوں کو ڈھونڈنے کے لیے جو ذہنی چستی درکار تھی وہ ایک اس منزل کی تلاش میں تقریباً صرف کر چکا تھا۔ بفرض محال دکان میں کچھ تلاش کرتا بھی تو بجز مایوسی اور گرد کے میرے شاید کچھ نہ لگتا۔ سو میں نے مزید کاروائی کا پروگرام ملتوی کر دیا اور واپس آ گیا۔ مگر واپسی کا سفر جیمس بانڈ کی واپسی سے کم مشکل نہ تھا۔ جتنا گلیوں کے اندر ’’منزل خفی‘‘ تک پہنچنے میں صرف ہوا تھا اس سے دگنا وقت ’’منزل جلی‘‘ یعنی مین روڈ تک پہنچنے میں لگا۔ وہ دن میرے لیے ’’یوم گلی’‘ کے مترادف تھا۔ اور یوم چاہے کوئی بھی ہو اس کا رنگ گلی میں ہی دوبالا ہوتا ہے۔ مانا کہ آج کل گلی کا کلچر تین منزلہ رہائشی اسکیم کی طرف تیزی سے ہجرت کر رہا ہے لیکن اصلی اور ملاوٹ سے پاک کلچر ہنوز گلیوں میں ہی دستیاب ہے۔ پوش علاقہ کا بدیسی طرز بد و باش تو زبیر میں لپٹا مال ہے۔ بجہ گلی کا دیسی رہن سہن بلکہ طرز کہن سودیشی گھریلو صنعت کا نمونہ ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘۱
۔۔۔۔۔
  ۱۔  گلی۔ سلیم آغا قزلباش۔ دو ماہی گلبن جنوری تا اپریل انشائیہ نمبر ۲۰۰۱ء 


۱۳۔ حامد برگی

	حامد برگی پاکستان کے سرفہرست انشائیہ نگارو میں شمار کیے جاتے ہیں۔ ان کی تہہ در تہہ تحریر اپنا ایک منفرد مقام رکھتی ہے۔ الفاظ کی بندش قاری کو نظریں ہٹانے نہیں دیتی۔ ان کی یہی صفت انہیں وزیر آغا کے ہم پلہ بناتی ہے۔ حامد برگی کا یہ اقتباس ان کے انشائیے ’’لڑائی جھگڑا‘‘ سے لیا گیا ہے۔ 
	’’ میرے نہایت ہی قریبی عزیز اور بے تکلف دوست اپنی بیگم کے اوصاف حمیدہ بیان کرتے ہوئے جن کا حال ہی میں انتقال ہوا تھا بتایا کہ ’’مرحومہ سے میرا کبھی لڑائی جھگڑا نہیں ہوا۔ مرحومہ نے کبھی میرے آگے زبان درازی نہیں کی مرحومہ نے کبھی مجھ سے اختلاف رائے نہیں کیا۔ مرحومہ ہمیشہ جو میں چاہتا وہی کرتی تھیں وغیرہ وغیرہ۔ یہ سن کر میرے منہ سے بے ساختہ نکلا۔ ’’مرحومہ دل کی دل میں ہی لے کر چلی گئیں۔ ‘‘ میں نے سوچا واقعی جہاں محبت ہوتی ہے وہاں برابری کا احساس بھی ہوتا ہے۔ محبت کرنے والے دونوں ہی ایک دوسرے کی نظر میں یکساں اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔ اس مساوات کا تقاضا ہے کہ وہ جب غصہ میں آئیں تو یکساں اس کے اظہار کا حق رکھیں۔ میاں بیوی کے جھگڑے میں اگر میاں کو اپنی بات منوانے کا حق ہے تو بیوی کو بھی بات ماننے یا نہ ماننے کا حق ہے۔ اسی طرح میاں کو بھی بیوی کی کوئی نہ کوئی مرضی قبول کرنے کا یا رد کرنے کا حق ہے۔ رد کرنے کی صورت میں لڑائی جھگڑے کی فضا پیدا ہونا ضروری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ میں میاں بیوی کے جھگڑے کو خود اختیاری سمجھتا ہوں اور معقول قرار نہیں دیتا۔ ٹھنڈے دل سے غور کرنے پر وہ یہی سمجھتے ہیں۔ یہ اور بات کہ ان کا پندار انہیں جھکنے نہیں دیتا۔ ان کی انا آڑے آتی رہتی ہے۔ میں سمجھتا ہوں ایک اچھے پیار کرنے والے میاں بیوی میں لڑائی جھگڑا ضروری ہے۔ لڑائی جھگڑا نہ ہو تو سمجھئے وہ مثالی میاں بیوی ہی نہیں۔ میاں بیوی ہی کیا لڑائی جھگڑا ہر قسم کے انسانی تعلقات کے آئینی تقاضوں میں سے ہے۔ لڑائی جھگڑا انہیں کے مابین ہوتا ہے جن میں آپس سے پہلے سے تعلق موجود ہو۔ کوئی شخص کسی لا تعلق سے جھگڑا مول نہیں لیتا۔ میاں بیوی کے لڑائی جھگڑے میں اگر نوبت علیحدگی تک آ جائے تو یہ فرار کی راہ ہے اور فرار انتہائی بزدلانہ فعل ہے۔ لہٰذا فریقین میں جو بھی علیحدگی کا نعرہ بلند کرے اسے ہی مفرور گرداننا چاہیے اور بزدل قرار دینا چاہیے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اختلاف کی اس صورتحال کو اپنے تعلق کے نئے عہد و پیمان کے ساتھ استوار کیا جائے۔ اور جان کی بازی لگا کر بھی زندگی بھر کا عہد و وفا نبھایا جائے اس لیے کہ یکبارگی ہتھیار ڈال کر پسپا ہو جایا جائے۔ اور مزید جنگوں کے لیے نئے میدانوں کے انتخاب کا سوچا جائے۔ جنگ لڑنی ہی ہے تو اپنے دیرینہ دشمن سے کیوں نہ لڑی جائے اور پھر اسی کے ساتھ نئے عہد نامہ کی توثیق کیوں نہ ہو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘۱
۔۔۔۔۔
  ۱۔  لڑائی جھگڑا (غیر مطبوعہ) حامد برگی۔ دو ماہی گلبن انشائیہ نمبر ۲۰۰۲ء 

۱۴۔ حیدر قریشی

	حیدر قریشی کی تحریر سادہ اور سلیس ہے۔ انداز بیان نہایت دلکش اور حسین ہے۔ قاری کو ایک نئی دنیا میں لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور طلسماتی پردوں کو چاک کرنے کا ہنر رکھتے ہیں۔ مندرجہ ذیل اقتباس ان کے انشائیے ’’نقاب‘‘ سے لیا گیا ہے۔ 
	’’۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ انسانی جسم بھی ایک نقاب ہے جسے روح نے اوڑھ رکھا ہے۔ روح جسم سے نکل کر فنا نہیں ہوتی بلکہ موت کا نقاب اوڑھ کر اس میں زندگی بن کے دھڑکنے دینے والی لگتی ہے۔ زمانے کی ماہیئت پر سنجیدگی سے غور کریں تو ماضی سے مستقبل ت زمانہ نقاب اوڑھے نظر آتا ہے۔ مستقبل کے پورے مگر باریک نقاب سے ہر لحظہ جھانکتا ہوا ’’حال‘‘ پلک جھپکتے ہی ماضی کے آدھے نقاب کی اوٹ میں چلا جاتا ہے۔ اور ہم اس لمحے کو چھونے کی پوری طرح دیکھنے کی خواہش دل میں ہی لیے رہ جاتے ہیں۔ 
	ڈپلومیسی کا نقاب آج کل بہت عام ہے۔ عام زندگی سے لے کر بین الاقوامی سطح پر ہر شعبہ حیات میں اس نقاب کو بے حد پسند کیا جا رہا ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘۱
۔۔۔۔۔۔
  ۱۔  نقاب۔ حیدر قریشی۔ دو ماہی گلبن جنوری تا اپریل انشائیہ نمبر ۲۰۰۱ء 
 
۱۵۔ جان کاشمیری

	جان کاشمیری اپنے انشائیوں میں حقیقت کو زیادہ مد نظر رکھتے ہیں۔ روزمرہ کی باتیں کرتے کرتے وہ فکر کی گہرائیوں میں پہنچ جاتے ہیں۔ ان کے پاس روانی اور سلاست ہے۔ عام فہم اور دقیق الفاظ دونوں استعمال کرتے ہیں۔ باتیں کرتے کرتے نصیحت بھی کر دیتے ہیں جو قاری کو بالکل گراں نہیں گزرتی۔ مندرجہ ذیل اقتباس ان کے انشائیے ’’لاگ شیٹ‘‘ سے لیا گیا ہے۔ 
	’’کبھی کبھار انسانی کج تدبیری کی وجہ سے لاگ شیٹ روٹھ کر میکے چلی جاتی ہے جس سے اس کی نایابی کا مسئلہ پیدا ہو جاتا ہے۔ اس ہنگامی صورتحال کو قابو میں رکھنے کے لیے ایک سادہ اور بڑے کاغذ کے ٹکڑے پر لکیریں کھینچ کر اس کو الگ شیٹ کا ہمشکل بنا دیا ہے۔ لاگ شیٹ اس کو سوکن خیال کرتے ہوئے فوراً واپس لوٹ آتی ہیں پھر اصل لاگ شیٹ کو ہمیش ہمیشہ کے لیے رام کرنے کی خاطر نقلی لاگ شیٹ کا لفظ لفظ من و عن اس کے سینے میں اتار دیا جاتا ہے۔ اس طرح معمولات معلومی پر آ جاتے ہیں۔ ہر کوئی اپنے سرد و گرم جذبات میں اس پر انڈیلتا رہتا ہے کہ چوبیس گھنٹوں کے بعد اس کے ارد گرد دائرہ در دائرہ حاشیہ جنم لیتا ہے اور لاگ شیٹ اس حاشئے میں اس طرح فٹ بیٹھتی ہے کہ پہچانی ہوئی صورت بھی پہچانی نہیں جاتی۔ البتہ اس کی روح روز اول کی مانند سر مست و سرشار نظر اتی ہے۔ درحقیقت لاف شیٹ جہازی سائز کا نصف ٹکڑا ہوتا ہے جن کو واپڈا کے ارباب بست و کشاد نے بہ اہتمام خاص کالی روشنائی سے مختلف خانوں میں تقسیم رکھا ہے تاکہ بوقت ضرور عوام الناس کو چراغ تلے اندھیرے کی حقیقت سے روشناس کرایا جا سکے۔ با لفاظ دیگر لاگ شیٹ کی فکریں روشنی کے گھر میں تیرگی کے احساس کو زندہ رکھے ہوئے ہیں کہ انسان متکبر نہ ہونے پائے۔۔۔‘‘۱
۔۔۔۔۔۔
  ۱۔  لاگ شیٹ۔ جان کاشمیری۔ دو ماہی گلبن انشائیہ نمبر جنوری اپریل ۲۰۰۱ء

۱۶۔ انجم نیازی

	انجم نیازی ایک جانے مانے انشائیہ نگار ہیں۔ موضوع کا انتخاب بہت دلکش انداز میں کرتے ہیں۔ الفاظ کو موتیوں کی طرح پروتے جاتے ہیں۔ ان کے ہر جملے میں گہرا فہم پوشیدہ ہوتا ہے۔ انشائیہ ختم ہونے تک قاری کی دلچسپی برقرار رکھتے ہیں۔ ان کے انشائیے ’’صفر‘‘ سے مندرجہ ذیل اقتباس لیا گیا ہے۔ ملاحظہ کیجیے:
	’’جب کسی خط کا ایک سرا قوس سی بناتے ہوئے اس کے دوسرے سرے سے جا ملے تو عرف عام میں اسے صفر کہا جاتا ہے۔ یہ دائرہ ٹچ بٹن سے چھوٹا ہو خواہ پورے کرۂ ارض سے بڑا ہو۔ اس کی صفریت میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ گنتی کا کوئی مسئلہ اس کے بغیر حل نہیں ہوسکتا۔ اس کے بغیر نہ گنتی شروع ہوسکتی ہے نہ ختم۔ ایک کے عدد سے پہلے بھی صرف آتا ہے اور ایک سو کھرب کے آخر میں بھی صفر ہی آتا ہے۔ گنتی کی کوئی حد صفر سے آگے جاکے ختم نہیں ہوتی اور نہ کوئی حد اس سے پہلے شروع ہوتی ہے۔ کوئی طالب علم کتنا ہی ذہین کیوں نہ ہو کبھی نہ کبھی کہیں نہ کہیں صفر سے اس کی بالمشافہ ملاقات ہو کر ہی رہتی ہے۔ کبھی احساس برتری کے ساتھ اور کبھی احساس کمتری کے ساتھ! صفر کے ساتھ میری ذات کا تعلق بلکہ بے تکلفی بہت پرانی ہے۔ اسی دیرینہ تعلقات کی بنا پر میں علامہ مشرقی بنتے بنتے رہ گیا۔ میں زندگی کی ہر سطح پر کبھی شعوری طور پر اور کبھی لاشعوری طور پر صفر کے ارد گرد گھومتا رہا ہوں۔ اور صفر بھی میرے احترام میں میری ذات کا طواف کرتا رہا ہے۔ میری ذات صفر سے اور صفر میری ذات سے کئی ظاہری اور کئی باطنی مماثلتیں رکھتا ہے۔ میری ذات کا دائرہ صفر کی طرح میرے دل کو گھیرے ہوئے ہے۔ جس نے مجھے دو حصوں میں بانٹ رکھا ہے۔ ذات کے دائرہ کے اندر میرا داخل اور اس کے باہر میرا خارج ہے۔ میری ذات کے یہ دونوں ٹکڑے ناقابل تقسیم ہیں جو پہلے سے طے شدہ فاصلے برقرار رکھتے ہیں۔۔۔۔‘‘۱
۔۔۔۔۔۔
  ۱۔  صفر۔ انجم نیازی۔ دو ماہی گلبن انشائیہ نمبر جنوری اپریل ۲۰۰۱ء
 
۱۷۔ ناصر عباس نیر

	ناصر عباس نیر کی انشائیہ نگاری میں انسانی نفسیات کا کافی عمل دخل ہے۔ اور تحریر کی سلاست غضب ڈھاتی ہے۔ وہ موضوع کو ہمیشہ مد نظر رکھ کر لکھتے ہیں۔ اپنی ذات میں قاری کو اتنا الجھا کر رکھتے ہیں کہ وہ کسی اور طرف دیکھ ہی نہیں پاتا۔ مندرجہ ذیل اقتباس ان کے ایک خوبصورت انشائیہ ’’معنی’‘ سے لیا گیا ہے۔ ملاحظہ کیجیے:
	’’زوروں کی گرمی پڑ رہی تھی، خیال کا جسم بھی جلنے لگا تھا۔ تصور کا طائر آوا رہ منقار زیر پر تھا۔ مجھے کالج سے گھر پہنچنا جلتے ہوئے صحراء کو عبور کرنے کے برابر لگ رہا تھا۔ زمین آگ اور آسمان آتش فشاں تھا۔ مگر آدمی کو بعض سفر ماحول کی نا موافقت اور وسائل کی کمی کے باوجود شروع کرنے اور جاری رکھنے پڑتے ہیں۔ تاریخ گواہی دیتی ہے کہ آدمی کی اسی مجبوری سے انسان کا ارتقاء ہوا ہے۔ مگر اس وقت فلسفہ ارتقاء کی گتھی کو سلجھانے کی فکر تھی نہ سمائی۔ میں بس یہ چاہتا تھا کہ جلدی سے اور آرام سے اپنے ٹھکانے پر پہنچ جاؤں۔ انسان کے ایک لمحے میں جو اور جتنا چاہتا ہے اس کے فکر و احساس اگر اسی پر مرتکز اور قانع رہیں تو زندگی سکھ سے گزرتی ہے یا کم از کم نئے دکھ کے وار سے زندگی محفوظ رہتی ہے۔ مشکل تو یہ ہے کہ ایک لمحے کی خواہش کی تہہ میں اور نجان کتنی حسرتیں دم سادھے پڑی ہوتی ہیں جو کبھی تو اس لمحے کا دھڑن تختہ کر کے اپنے وجود کا اعلان کرتی ہیں۔ اور کبھی آنے والے لمحے کی سیج پر انگڑائی لے کر بیدار ہوتی دکھائی دیتی ہیں۔ عجب تماشا ہے میرے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا میں اگلے ہی لمحوں میں عجلت اور اطمینان سے گھر پہنچنے کی خواہش کے دام سے آزاد ہو چکا تھا۔ خیال کے جسم سے گرمی کی شدت کا خوف زائل ہو چکا تھا اور تصور کے آوا رہ پرندے نے اپنے پر کھول دئیے تھے۔ ۔۔۔‘‘۱
۔۔۔۔۔۔۔
  ۱۔  معنی۔ ناصر عباس نیر۔ دو ماہی گلبن انشائیہ نمبر جنوری اپریل ۲۰۰۱ء


۱۸۔ جاوید حیدر جوئیہ

	جاوید حیدر جوئیہ کی تحریر بڑی دلچسپ ہوتی ہے۔ چھوٹے چھوٹے واقعات سناتے ہوئے وہ اپنے انشائیہ کو خوبصورت بناتے ہوئے آگے بڑھاتے چلے جاتے ہیں۔ قاری کو اپنا جگری دوست سمجھتے ہوئے وہ ساری باتیں بتاتے ہوئے راستے پر چلتے ہیں اور نہایت مفید مشورے بھی دیتے جاتے ہیں۔ مندرجہ ذیل اقتباس ان کے ایک خوبصورت انشائیہ ’’جبر و اختیار‘‘ سے لیا گیا ہے۔ 
	’’ہمارے ہمسائے اس بلی سے تنگ آ چکے تھے جو ہر روز دیگچی میں رکھے دودھ پر ’’شب خون‘‘ مارتی۔ ایک رات گھر کے سارے لوگ ہاتھوں میں ڈنڈے اور لاٹھیاں لے کر چھپ گئے اور بلی کو آتے ہی گھیرے میں لے لیا۔ اب وہ بیچاری ایک طرف بھاگتی تو ڈنڈا برستا۔ اور دوسری جانب رخ کرتی تو لٹھ! ایک طویل کشمکش کے بعد جان کو خطرے میں دیکھا تو بلی ایک دہشتناک آواز میں غرائی اور قریبی ’’دشمن‘‘ پر اپنے تیکھے ناخنوں اور دانتوں سے یوں جھپٹی کہ مد مقابل کا چہرہ لہولہان ہو گیا۔ کسی کو دودھ یاد نہ رہا۔ بلی آناً فاناً غائب ہو گئی۔ 
	آپ اس واقعہ سے یہ نتیجہ اخذ کرسکتے ہیں کہ آزادی کی خواہش انتہائی کمزور کو بھی بہادر بنا دیتی ہے۔ میں آپ سے متفق ہوں مگر سوچنے کی بات ہے کہ آزادی کے جذبات کیونکر امڈ آتے ہیں۔ ذرا غور کیجیے کیا یہ جبر کی فضا کا نتیجہ نہیں ہوتے؟ کیا جبر کا ماحول فریق مخالف کی مخفی توانائی کو متحرک کر کے غیر معمولی افعال کی انجام دہی کا فریضہ ادا نہیں کرتا؟ کبھی کبھی تو میں سوچتا ہوں کہ اگر جبر نہ ہوتا تو آدمی زندگی کے افضل ترین منصب پر کبھی بھی فائز نہ ہوسکتا۔ بلکہ اپنی ازلی جبلت کا ادنیٰ غلام بن کر کہیں جنگلوں میں جانوروں کی معیت میں رہ رہا ہوتا اور یونہی ’’گھسٹ گھسٹ‘‘ کر فنا ہو جاتا ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘۱
۔۔۔۔۔۔
  ۱۔  جبر و اختیار۔ جاوید حیدر جوئیہ۔ دو ماہی گلبن انشائیہ نمبر جنوری اپریل ۲۰۰۱ء 

۱۹۔ عطیہ خان

	عطیہ خان ایک وسیع النظر انشائیہ نگار ہیں۔ ان کی ذہنی وسعت ان کی تحریروں میں صاف جھلکتی ہے۔ خواتین کی حوصلہ افزائی کرنے والے ان کے الفاظ ایک نئے قسم کا ولولہ پیدا کرتے ہیں۔ مندرجہ ذیل اقتباس ان کے انشائیے ’’عمر دراز‘‘ سے لیا گیا ہے۔ 
	’’جیتے رہو۔ خدا تمہاری عمر دراز کرے۔ خدا نومولود کو عمر خضر عطا کرے۔ خدا حضور کو تا قیامت زندہ رکھے۔ یہ سب دعائیں اس وقت کے لیے تھیں جب کہ زندگی اور موت کے سارے معاملات خدا کے اختیار میں تھے۔ عرصہ حیات مختصر تھا۔ دنیا کی آبادی کم تھی۔ عورتیں زندگی بھر بچے پیدا کرتیں لیکن ان میں سے صرف چند ہی بقید حیات رہتے۔ ہر بچے کے مرنے پر تعزیتی خطوں میں دعا دی جاتی تھی کہ خدا جلد ہی اس کا نعم البدل دے۔ غالبؔ سات بار باپ بنے لیکن ہر بچہ بچپن ہی میں ساتھ چھوڑ گیا۔ پھر عارف کو بیٹا بنا لیا تو وہ جوانی میں داغ مفارقت دے گیا۔ غالب یہ شکایت کر کے رہ گئے۔ 
ہاں اے فلک پیر جواں تھا ابھی عارف
کیا تیرا بگڑتا جو نہ مرتا کون دن اور
	جو خوش قسمت بچپن اور جوانی کی موت سے بچ نکلتے اور بڑھاپے تک زندہ رہتے ان کی بڑی عزت ہوتی تھی۔ گھر میں بوڑھوں کی موجودگی باعث برکت سمجھی جاتی تھی۔ مشترکہ خاندانوں میں بزرگوں سے بڑے فائدے بھی تھے۔ بچوں کی تربیت اور جوانوں کو اپنی کڑی نگرانی میں رکھ کر غلط راستے پر جانے سے بچانے کا کام یہ بزرگ اپنے ذمے لے لیتے تھے۔ گھر میں کوئی بوڑھا کھانستا کھنکھارتا تو چوروں کو گھر میں گھسنے کی ہمت نہیں ہوتی تھی۔ ‘‘۱
۔۔۔۔
  ۱۔  عمر دراز۔ عطیہ خان۔ دو ماہی گلبن انشائیہ نمبر جنوری اپریل ۲۰۰۱ء


۲۰۔ انجم انصار

	انجم انصار نہایت ہی سیدھے سادے انشائیے لکھتی ہیں۔ ان کے عام فہم اور دلکش انداز بیان کی وجہ سے وہ جانی پہچانی جاتی ہیں۔ اپنی سادگی ہی میں وہ قاری کی اصلاح بھی کر دیتی ہیں اور پتہ بھی نہیں چلتا کہ انہوں نے کب چوٹ کر دی ہے۔ مندرجہ ذیل اقتباس ان کے انشائیہ ’’بھول‘‘ سے لیا گیا ہے۔ 
	’’انسان فطرتاً بہت ہی بھولا بھالا اور معصوم سا ہے۔ شاید اسی لیے اس کے خمیر میں بھول  جانے کی عادت خوب رچی ہوئی ہے۔ یاد دل میں کسک اور ذہن میں قیامت بپا کرتی ہے مگر بھول احساس کے سبزہ زار میں غنودگی کا چھڑکاؤ کر کے طمانیت کے جذبے سے روشناس کراتی ہے۔ اور میں تو یہ بتاتی ہوں کہ بھول ایک ایسی عادت ہے جو انسان کو یکسوئی کا پیغام دیتی ہے۔ آپ اپنی تمام پریشانیوں کو بھول کر اس کائنات پر ایک نظر ڈالیں تو اس کے پر اسرار نظارے آپ کو یوں پکڑ لیں گے کہ آپ دنیا و مافیہا سے بے خبر ہو جائیں گے۔ تاریخ شاہد ہے کہ جو اقوام اپنے آباء و اجداد کے اطوار بھول جاتی ہیں وہ اپنے حال میں شاذ و نادر ہی کسی غلطی کی مرتکب ہوتی ہیں۔ انسان کو اس کی یاد کی سزا تو ہر روز ملتی ہے لیکن بھول کی اللہ تعالیٰ کے ہاں عام معافی ہے۔ اسی لیے روزے میں اگر کوئی بھول کر کچھ کھا لے تو روزہ نہیں ٹوٹتا اور نہ ہی کوئی کفارہ ادا کرنا پڑتا ہے۔ بھول ایک عطیہ خداوندی ہے۔ یہ انسان کی بدقسمتی ہو گی کہ وہ اپنے اس جوہر کو بھول جائے۔ دنیا میں بھول جانے والے عظیم انسانوں کی کبھی کمی نہیں رہی۔ کوئی وعدہ کر کے بھول جاتا ہے تو کوئی وعدہ کرنا ہی بھول جاتا ہے۔ میں تو اکثر سوچتی ہوں کہ اگر وعدے کے ساتھ بھول کا ازلی و ابدی رشتہ نہ ہوتا تو ہماری اردو شاعری کبھی کی بانجھ ہو گئی ہوتی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘۱
۔۔۔۔۔۔
  ۱۔  بھول۔ انجم انصار۔ دو ہامی گلبن جنوری اپریل انشائیہ نمبر ۲۰۰۱ء

۲۱۔ رعنا تقی

	رعنا تقی کے انشائیے بہت عام فہم اور گہری فکر والے ہوتے ہیں۔ باتوں ہی باتوں میں وہ زندگی کے تلخ حقائق بیان کر جاتی ہیں۔ ان کی زبان میں سادگی اور روانی نظر آتی ہے۔ مندرجہ ذیل اقتباس ان کے خوبصورت انشائیے ’’ماسک‘‘ سے لیا گیا ہے۔ 
	’’۔ ۔ ۔ ۔ ۔ شاید مرنے والوں کو عالم نزع میں اتنے کرب و ذہنی کشمکش کا سامنا نہیں کرنا پڑتا جتنا مجھے کسی کی تعزیت کے دوران کرنا پڑتا ہے۔ زندگی کے تمام عوامل میں سائیکل چلانے سے چپلی کباب کھانے تک۔ تعزیت کرنا میری زندگی کا سب سے ناپسندیدہ اور دشوار ترین عمل ہے۔ زندگی کی پگڈنڈی پر چلتے چلتے ہم نہ جانے کتنے مراحل طے کر جاتے ہیں کسی کو کیا ہمیں خود سن گن نہیں ہوپاتی۔ حتیٰ کہ اکثر اوقات کسی قسم کے رد عمل کا اظہار کیے بغیر ہم بعض اساتذہ کی تربیت دی گئی موسیقی کی دھنوں کو بھی بخیریت ہضم کر جاتے ہیں۔ (انسانی شکتی واقعی لائق صد تحسین ہے) لیکن تعزیت کا عمل ہمیشہ رسی پر چل کر کرتب دکھانے کے مماثل کہا گیا ہے۔ شاید اسی لیے مجھے ہنستے مسکراتے روتے یا آنسو بہاتے ہوئے گردن کا ایک خاص انداز میں ڈھلک جانے کا عمل تعزیت کے فن سے کہیں زیادہ شائستہ اور سہل و پختہ نظر آتا ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ تو شاید یہی ہے کہ پیدا ہونا چلنا پھرنا یا پھر اس دنیا کو خیر باد کہہ دینا زندگی کی کتاب کے وہ اوراق ہیں جو فطری طور پر از خود ہی پلٹتے جاتے ہیں۔ جبکہ تعزیت کرنے کا عمل اس کے برعکس ایک غیر فطری رجحان ہے۔ رجحانات فطری ہوں یا غیر فطری زندگی کے کینوس پر اپنے اپنے رنگوں کے دو شالے اوڑھنے میں کچھ وقت تو لیتے ہی ہیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘۱
۔۔۔۔۔
۱۔  ماسک۔ رعنا تقی۔ دو ماہی گلبن انشائیہ نمبر جنوری اپریل ۲۰۰۱ء

۲۲۔ پروین طارق

	پروین طارق کے انشائیے ماضی کے جھروکے سے جھانکتے ہوئے محسوس ہوتے ہیں۔ ان کی زبان سادہ اور عام فہم ہے۔ کبھی کبھار تو ایسا لگتا ہے جیسے وہ اپنی حسین یادوں سے باہر نکلنا ہی نہیں چاہتیں اور کبھی لگتا ہے کہ اپنے ماضی سے مستقبل کے دروازو ں پر دستک دے رہی ہوں۔ اور حال کو سنوارنے کا ذمہ اٹھا رہی ہوں۔ مندرجہ ذیل اقتباس ان کے انشائیے ’’لاؤنج اور آنگن‘‘ سے لیا گیا ہے۔ 
	’’ہر گزرا دن اور ہر گزری رات جب انسان کو یاد آتی ہے تو دل مسوس کر رہ جاتا ہے۔ اور اس کا بس نہیں چلتا کہ وہ وقت کی تیز ندی کو روک دے اور پھر۔ ایسا کرنا بھی تو اس کے بس میں نہیں ہے۔ انسان اپنی سی کوشش بھی کر رہا ہے کہ وقت کے بدلتے ہوئے دھارے کے ساتھ بہہ جائے۔ ہر چیز تبدیل ہو رہی ہے۔ رہن سہن، پہناوے، چال ڈھال، لب و لہجہ، سب ہی ترقی کی طرف قدم بڑھا رہے ہیں اور روز بروز بدلتے جا رہے ہیں۔ وہ گھر جس میں آنگن ہو اس میں قدیم طرز بود و باش نظر آتی ہے مگر نجانے کیوں مجھے اپنا چھوٹا سا گھر اچھا لگتا ہے جس میں ضروریات زندگی کی تمام سہولتیں موجود ہیں۔ مگر مجھے ان سب میں زیادہ عزیز اور پرسکون جگہ گھر کا آنگن لگتا ہے۔ یہ آنگن نہ تو بہت بڑا ہے اور نہ بہت چھوٹا۔ بس سمجھ لیجیے! یہی کوئی چند مربع فٹ جگہ ہو گی جس کے چاروں طرف رہنے کے کمرے ہیں۔ ایک طرف باورچی خانہ ہے۔ جہاں سارا دن چولہا جلتا رہتا ہے اور گرم گرم کھانوں کی مہک۔ آنگن میں بکھر جاتی ہے۔ اس آنگن میں میری بیٹیوں نے بڑی دلچسپی لے کر چھوٹی چھوٹی کیاریاں بنائی ہوئی ہیں اور سبھی گھر والوں کے من پسند پودے لہلہاتے رہتے ہیں اور موسم بہار میں جب پھول کھلتے ہیں تو سارا آنگن مہک جاتا ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘۱
۔۔۔۔۔
  ۱۔  لاؤنج اور آنگن۔ پروین طارق۔ دو ماہی گلبن انشائیہ نمبر ۲۰۰۱ء


۲۳۔ منور عثمانی

	منور عثمانی اختصار میں پوری بات کہنے کا ہنر رکھتے ہیں۔ اپنی تحریر کے ذریعے قاری کے ساتھ باتوں میں منہمک نظر آتے ہیں۔ موضوع کا دامن کبھی ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ مندرجہ ذیل اقتباس ان کے انشائیے ’’قائل کرنا‘‘ سے لیا گیا ہے۔ 
	’’۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یوں بھی قائل کرنے اور قائل ہو جانے کا کوئی ٹھوس منطقی جواز نہیں ہوتا حتیٰ کہ قائل کرنے یا قائل ہو جانے میں دلائل و براہین کا بھی کھلا یا خفیہ ہاتھ نہیں ہوتا۔ سچی بات تو یہ ہے کہ اس عمل میں ہماری پسندیدگی کا بڑا دخل ہوتا ہے ہم عموماً اس شخصیت سے متاثر ہو جاتے ہیں جو ہماری نظر میں کسی بھی حوالے سے پسندیدہ ہوتی ہے اور جو بیچاری ناپسندیدہ ہو وہ اپنے تمام دلائل و براہین کے باوجود اپنی بات ہمارے دل میں اتارنے سے قاصر رہتی ہے۔ گیا قائل کرنے کا تعلق منطق سے نہیں۔ جمالیات سے ہے۔ مسئلہ صرف پسندیدہ شخصیت تک محدود نہیں کوئی حلقہ یا قبیلہ بھی جب تک ہمارے جمالیاتی معیار پر پورا نہ اترے ہم اس سے متاثر نہیں ہوتے۔ (بعینہ اسی طرح وہ حلقہ یا قبیلہ بھی ہم سے متاثر نہیں ہوتا) گیا خیالاتِ عالیہ کی پذیرائی کا تعلق خیال سے ہے نہ عالیہ سے، بس ذاتی پسند سے ہے اور پسندیدگی کی بیاند جوہر نہ گوہر بس طرز و ادا ہے۔ 
	اب آپ خود بتائیے کہ قائل کرنے یا قائل ہو جانے کے عمل کو منطق یا دلائل سے جوڑنے والے بے ذوق اور بے عقل نہیں تو اور کیا ہیں ؟ اس منزل فکر پہ تو میں یہ عرض کرنے کی بھی جسارت کر رہا ہوں کہ قائل کرنے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ خود منطق اور دلائل ہیں۔ دیکھئے نا! دلائل رد عمل کو جنم دیتے ہیں۔ رد عمل کے بطن سے بحث پھوٹتی ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘۱
۔۔۔۔۔
  ۱۔  قائل کرنا۔ منور عثمانی۔ گلبن ۲۰۰۱ء

۲۴۔ عبد القیوم

	عبد القیوم کی تحریر میں انشائیہ کی ساری خوبیاں تو ہیں لیکن ان پر سنجیدگی کی تہہ نظر آتی ہے۔ لیکن میں اس ظرافت کا تڑکا لگا کر اسے بوجھل ہونے سے بچا لیتے ہیں۔ مندرجہ ذیل اقتباس ان کے غیر مطبوعہ انشائیے ’’مانگنے کا فن‘‘ سے لیا گیا ہے۔ ملاحظہ کیجیے:
	’’۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ تو ایک استثنائی مثال تھی مگر آن مانگنا ایک فن بن چکا ہے مگر میں سوچتا ہوں کہ مانگنے کی ابتداء یا کسی عاجز و مسکین بندے نے کی ہو گی جو کوشش پیہم کے باوجود دامن طلب میں مطلوبہ شے پانے میں ناکام رہا ہو گا۔ یا پھر اس کا خالق وہ شخص ہو گا جو بزور بازو اپنی طلب میں ناکام رہنے پر بیچارگی کی تصویر بن کر آنکھوں میں نمی چہرے پر مایوسی کی پرچھائیں اور آواز میں لرزشی کیفیت طاری کر کے مانگنے کے لیے گڑگڑایا ہو گا۔ چھین جھپٹ کر کھانے کی لذت سے انسان پہلے پہل آشنا ہوا تھا لیکن چھین کر کھانے میں ناکامی نے اسے مانگنے کا فن سکھایا۔ انسانی اطوار اور خصلتوں سے اس قیاس کو تقویت ملتی ہے کہ پہلے پہل ایسا ہی ہوا ہو گا۔ میں جب بھی مانگنے کے فن پر سوچتا ہوں تو میرے ذہن میں انسانی بے جا خواہشیں اور چادر باہر پاؤں پھیلانے کی عادتیں ضرورت بن کر انسان کے اخلاق و کردار کے در پہ آزار نظر آتی ہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ اگر مانگنے اور لینے دینے کا سلسلہ اس دنیا میں نہ ہوتا تو اس کی گہماگہمی اور رونق گہنا کر رہ جاتی۔ ‘‘۱
۔۔۔۔۔
۱۔  مانگنے کا فن (غیر مطبوعہ)۔ عبدالقیوم۔ دو ماہی گلبن جنوری اپریل انشائیہ نمبر ۲۰۰۱ء

۲۵۔ شاہد شیدائی

	شاہد شیدائی مرکز پر کائنات کو گھمانے کا ہنر بخوبی جانتے ہیں۔ عام فہم، آسان اور فوری دلنشین جملے بنانے میں انہیں خاصہ کمال حاصل ہے۔ ان کے انشائیے بہت پسند کیے جاتے ہیں اور وقتاً فوقتاً ہر رسالہ و اخبارات میں پڑھنے کو ملتے ہیں۔ مندرجہ ذیل اقتباس ان کے انشائیے ’’پہیہ‘‘ سے لیا گیا ہے۔ 
	’’۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مرد اور عورت کو زندگی کی گاڑی کے دو پہئے کہا گیا ہے۔ کچھ لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ زندگی کا پہیہ بڑی تیزی سے گھوم رہا ہے۔ گویا زن و مرد کے ساتھ زندگی کی شکل بھی گول ہے مگر گولائی ان کے ظاہری خال و قد میں نہیں اندر کہیں تہوں میں موجود ہے۔ پہئے میں اس طرح کی علامت کا ڈھونڈ نکالنا بھی مجھ جیسے کسی شاعر کا ہی کمال ہوسکتا ہے۔ ورنہ پہیہ تو سیدھا سادا گول سا ایک پرزہ ہے جو زیست کی گاڑی کو رواں رکھنے پر مجبور ہے۔ فائلوں کے نیچے لگ جائے تو سائلوں کی مشکلیں آسان ہو جاتی ہیں۔ حکومتوں کی اتھل پتھل میں بھی تمام تہمتیں اسی پہئے نے اپنے سر لی ہیں جبکہ کئی بار دیکھنے میں آیا ہے کہ یہی پہیہ کہ جسے پاؤں کا چکر کہیے سر پر تاج کی طرح سج جاتا ہے۔ یہ الگ بات کہ دوسرے ہی لمحے تاج پھر سے پہئے کی صورت پاؤں سے چپک جائے۔ ‘‘۱
۔۔۔۔۔۔
  ۱۔  پہیہ (غیر مطبوعہ) شاہد شیدائی۔ دو ماہی گلبن انشائیہ نمبر جنوری تا اپریل ۲۰۰۱ء


۲۶۔ قاضی اعجاز محور

	قاضی اعجاز محور اپنے انشائیوں میں وضاحت کے ساتھ اپنی باتیں پیش کرنے کے عادی ہیں۔ وہ معمولی موضوعات لے کر اپنی خوشنما تحریر قاری کے پاس پیش کرتے ہیں۔ انسانی نفسیات اور ماحول کو بھی پیش نظر رکھتے ہیں۔ مندرجہ ذیل اقتباس ان کے انشائیے ’’تبدیلی‘‘ سے لیا گیا ہے۔ 
	’’لیکچرار سے اسسٹنٹ پروفیسر کے عہدہ پر ترقی پاتے ہی جب میری تبدیلی ہو گئی، میری پروموشن کی ساری خوشی کافور ہو گئی۔ اس سے پہلے مجھے یہ اندازہ نہیں تھا کہ تبدیلی کے ایسے خوفناک اثرات بھی ہوتے ہیں۔ میں تبدیلی کو بڑے خوشگوار معنوں میں لیا کرتا تھا۔ جیسے بیمار کو تبدیلی آب و ہوا کے لیے کسی صحت افزا مقام پر جانے کے لیے کہا جاتا ہے یا پھر سخت گرمی کے موسم میں بادلوں کی آمد سے موسم میں خوشگوار تبدیلی مگر تبدیلی کی اس صورت نے مجھے ہلا کر رکھ دیا۔ کسی گھر والے نے مجھے مبارکباد تک نہ دی۔ دیتے بھی کیسے، منہ پر اڑتی ہوائیاں، آنکھوں میں اداسی، بیمار سی چال دیکھ کر ان کا میرا حال پوچھنے کی بھی ہمت نہ ہوئی۔ ترقی کے ساتھ اس تبدیلی نے مجھے تبدیل کر کے رکھ دیا۔ پھر رفتہ رفتہ یہ راز بھی کھلا کہ میں اکیلا ہی اس آفت کا شکار نہیں ہوا۔ بلکہ بہت سے ملازمین متوقع ترقی کی خبر سے خوفزدہ رہتے ہیں۔ کم ہی خوش قسمت ہوتے ہیں جو تبدیلی پر کھل اٹھتے ہیں۔ ویسے اس تبدیلی کا دوسرا رخ بھی سامنے آیا جو خاصا دلچسپ تھا۔ یعنی جب میں لیکچرار تھا تو نام کے ساتھ پروفیسر لکھا کرتا تھا۔ اب ترقی پا کر اسسٹنٹ پروفیسر ہو گیا۔ گویا یہ ترقی معکوس ٹھہری یعنی ایسی تبدیلیاں بھی ہوتی ہیں کہ ہم قدم تو آگے بڑھا رہے ہوتے ہیں لیکن لگتا یہی ہے کہ ہم پیچھے ہٹ رہے ہیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘۱
۔۔۔۔۔
  ۱۔  تبدیلی (غیر مطبوعہ)۔ قاضی اعجاز محور۔ دو ماہی گلبن انشائیہ نمبر جنوری اپریل ۲۰۰۱ء

۲۷۔ محمد بصیر رضا

	محمد بصیر رضا اپنی شگفتہ اور سنجیدہ تحریر کے امتزاج کی وجہ سے جانے پہچانے جاتے ہیں۔ ان کی خوبی یہ ہے کہ وہ قاری کو نہایت ہی اپنا سمجھ کر اپنے جذبات کو اس کے ساتھ بانٹتے جاتے ہیں۔ مندرجہ ذیل اقتباس ان کے انشائیے ’’تعاقب‘‘ سے لیا گیا ہے۔ 
	’’پہلے میں یہ سمجھتا تھا کہ میں مسلسل خوشیوں کے تعاقب میں ہوں اور میری ان تک رسائی نہیں ہو رہی لیکن اب اچانک مجھ پر یہ منکشف ہوا ہے کہ دراصل خوشیاں مجھے ڈھونڈ رہی ہیں اور میں انہیں مل نہیں رہا۔ میرے ہمیشہ خوشی کی خبر میری غیر موجودگی میں آتی ہے اور جب تک میں گھر لوٹتا ہوں تب تک میرے اہل خانہ اس خبر میں موجود مسرت کا سارا رس کشید کر چکے ہوتے ہیں اور مجھ تک یہ خبر ہزار خدشات اور وسوسوں کی بوسیدگی میں لپٹی ہوئی پہنچتی ہے۔ اس طرح مجھ تک کسی خوشی کی خبر کا پہنچنا نہ پہنچنے کے برابر ہوتا ہے بلکہ مجھے تو یوں لگتا ہے کہ میری غیر موجودگی میں کوئی اچھی خبر مجھ سے ملنے آئی تھی اور مجھے گھر میں نہ پا کر مایوس ہو کر چلی گئی اور جو ’’خوشیاں ‘‘ میرے گھر کے باہر و چہار طرف میری تلاش میں سرگرم عمل ہوتی ہیں تب میں اپنے کمرے میں بند ہو کر کسی انتہائی فضول کتاب کا بڑے انہماک سے مطالعہ کرنے میں مصروف ہوتا ہوں یا کسی بور فلم کو غیر معمولی دلچسپی سے دیکھ رہا ہوتا ہوں حتیٰ کہ جملہ مسرتیں حسب توفیق مجھے ڈھونڈ کر اور نہ پا کر کسی نامعلوم سمت میں رخصت ہو جاتی ہیں اور ان کے چلے جانے کے بعد میں بغیر کسی وجہ سے گھر سے باہر آ جاتا ہوں۔ فضا میں ان خوشیوں کی مہک ابھی تک موجود ہوتی ہے جو میرے دل کو زیاں کے شدید احساس میں مبتلا کر دیتی ہے اور میں روایتی جملہ کہہ کر اپنے آپ کو تسلی دینے کی ناکام کوشش کرتا ہوں۔ ’’میری بہتری شاید اسی میں تھی۔ ‘‘۱
۔۔۔۔۔
  ۱۔  تعاقب (غیر مطبوعہ)۔ محمد بصیر رضا۔ دو ماہی گلبن انشائیہ نمبر ۲۰۰۱ء

۲۸۔ شفیع ہمدم

	شفیع ہمدم موضوع کو باندھ کر رکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ پوری کائنات کی سیر کرنے کے بعد اپنے محور پر واپس آتے ہیں۔ آسان اور عام فہم الفاظ کا انتخاب کرتے ہیں۔ قاری کی معلومات میں ہر وقت اضافہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ اقتباس ان کے غیر مطبوعہ انشائیے ’’بلیک بورڈ‘‘ سے لیا گیا ہے۔ 
	’’۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بلیک بورڈ اور چاک کا آپس میں شمع اور پروانے کا تعلق ہے۔ چاک ایک پروانے کی مانند دیوانہ وار اس کے گرد منڈلاتا اور ایک عاشق صادق کی طرح آہستہ آہستہ اپنے وجود کو اس کے اندر ضم کرتا رہتا ہے اور آخر کار ریزہ ریزہ ہو کر اس کے قدموں میں بکھر جاتا ہے۔ 
	ایک درویش کی طر تختہ سیاہ اپنا سینہ سب کے لیے کشادہ رکھتا ہے۔ ریاضی کے دقیق سوالوں اور سائنس کے پیچیدہ فارمولوں کو بڑی خندہ پیشانی سے خوش آمدید کہتا ہے۔ اس کے سینے پر جو چاہیں نقش کرتے جائیں اس کی پیشانی پر کبھی بل نہیں پڑتے۔ گورے گورے حنائی ہاتھوں کی مخروطی اور نرم و نازک انگلیوں کا وہ جس خوشدلی سے استقبال کرتا ہے اسی شگفتہ روئی سے کالے کلوٹے ہاتھو ں کی موٹی موٹی اور بد وضع انگلیوں کا بھی خیر مقدم کرتا ہے۔ 
	مجھے تختہ سیاہ اس لیے بھی پسند ہے کہ استقلال اور استحکام کا مادہ بدرجہ اتم اس میں موجود ہے۔ یہ طالب علم کا ابتدا سے انتہا تک نہایت مستقل مزاجی سے ساتھ دیتا ہے اور اسے کبھی تنہا نہیں چھوڑتا۔ ‘۱
۔۔۔۔
  ۱۔  بلیک بورڈ (غیر مطبوعہ)۔ شفیع ہمدم۔ دو ماہی گلبن انشائیہ نمبر ۲۰۰۱ء

۲۹۔ حنیف باوا

	 حنیف باوا  کا انداز نہایت انوکھا اور دلکش ہے۔ ان کے انشائیے فوری دلوں میں گھر کر لیتے ہیں۔ گاہے ماہے ہندی زبان کے خوبصورت الفاظ ان کے انشائیوں میں سلمیٰ ستاروں کا کام کر دیتے ہیں ساتھ میں لطافت، سلاست اور شگفتگی سونے پر سہاگہ کا کام کرتی ہے۔ یہ اقتباس ان کے ایک غیر مطبوعہ انشائیے ’’ہاں ‘‘ سے لیا گیا ہے۔ 
	’’اس نے کن کہا اور آن واحد میں یہ سندر دھرتی خلق ہو گئی۔ اس کن میں ’’ہاں ‘‘ کی پوری شبیہ موجود ہے ’’ہاں ‘‘ میں ’’نہیں ‘‘ کا تھوڑا سا بھی عنصر ہوتا تو ہوسکتا تھا کہ یہ سب کچھ وجود ہی میں نہ آتا۔ بیشک ’’ہاں ‘‘ اور ’’نہیں ‘‘ نہیں بعد القطبین ہے یعنی اگر ’’ہاں ‘‘ مشرق ہے تو ’’نہیں ‘‘ کو مغرب کا نام دیا جا سکتا ہے۔ مشرق جہاں سے صبح سویرے سورج کا ظہور ہوتا ہے اس سورج کا جس کا چہرہ سرسبز شاداب پیڑوں کے جھروکوں سے ایک نوخیز بچے کی مانند دھلا دھلا سا دکھائی دیتا ہے۔ لیکن جیسے جیسے وہ مغرب کی جانب سفر کرتا ہے اس میں وہ تمام آلائشیں در آتی ہیں جو رفتہ رفتہ اس کے چہرے کو داغ دار کر دیتی ہیں۔ اس کے اندر کی یہ تبدیلی مشرق اور مغرب کے مزاج کے بعد کی عکاس ہے۔ مرق جو پیار اور محبت کا گہوارہ ہے کس قدر فطرت کے قریب ہے۔ یہاں کے تمام علوم روحانیت کی مٹھاس بانٹتے ہیں لیکن اس کا کیا کیا جائے کہ مغرب کی مادہ پرستی کی تند و تیز ہوا وہاں کی زندگی کو برہنگی کے حوالے کرنے پر ادھار کھائے بیٹھی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ ساری کرشمہ بازیاں صرف ’’ہاں ‘‘ اور ’’نہیں ‘‘ کی پیدا کردہ ہیں۔ جو دو ایسی تلواروں کے مشابہ ہیں جو ایک میان میں سمانہیں سکتیں۔ اگر ایک کا اندر آنے کو جی چاہے تو دوسری کا پاؤں دہلیز سے باہر ہو گا۔ جیسے دو متوازی خطوط کبھی ایک دوسرے کے گلے نہیں مل سکتے۔‘‘۱
۔۔۔۔۔۔
۱۔  ہاں (غیر مطبوعہ)۔ حنیف باوا۔ دو ماہی گلبن انشائیہ نمبر ۲۰۰۱ء
 
۳۰۔ شجاع الدین غوری

	شجاع الدین غوری (کراچی) روزمرہ کے عنوانات کو منتخب کر کے بڑے ہی دلکش پیرائے میں اپنی بات کہہ جاتے ہیں۔ سادگی سے زندگی کے سسٹم پر چوٹ کر جاتے ہیں۔ مندرجہ ذیل انشائیہ ملاحظہ کیجیے:
	’’۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ آپ نے آئے دن اخبارات میں شائع ہونے والی یہ خبر تو ضرور پڑھی ہو گی کہ کھانے پکانے میں دیر ہو جانے پر یا بد مزہ کھانا پکانے پر ناراض ہو کر شوہر یا تو بیوی کا سر پھاڑ دیتا ہے یا جان ہی لے بیٹھتا ہے۔ غالباً یہی وہ خوف ہے جس کی وجہ سے عورتیں شوہروں سے پوچھتی ہیں کہ ’’آج کیا پکے گا؟‘‘
	’’اجی سنتے ہو۔ ‘‘ دوسرے کمرے سے بیگم نے آواز دی۔ ’’ہر وقت لکھنا پڑھنا ایک ہی کام رہ گیا ہے۔ اگر نوجوانی میں اتنا لکھ پڑھ لیا ہوتا تو آج آپ کا نام بھی NRO (جس کے تحت زرداری جیسے ممنوعہ افراد کو الیکشن کا اہل قرار دیا گیا) میں ہوتا۔ لندن کی ایجواء روڈ پر اپنا بھی ایک گھر ہوتا۔ ہندوستانی، پاکستانی اور عربی کھانوں سے لطف اندوز ہو رہے ہوتے۔ خیر چھوڑئیے ان باتوں کو۔ آج صبح سے یہ سوچتے سوچتے میرا سر بھاری ہو گیا ہے اور کچھ نہ سہی یہ بتا کر میرے سر کا بوجھ ہلکا کریں کہ آج کیا پکے گا؟‘‘ قارئین و سامعین کرام کیا آپ اس سلسلے میں ہماری بیگم کی کچھ مدد کرسکتے ہیں ؟‘‘۱
۔۔۔۔۔۔
  ۱۔  آج کیا پکے گا؟ شجاع الدین غوری۔ شگوفہ مئی ۲۰۱۰ء
٭٭٭




باب ششم: انشائیہ نگاری۔ مغرب میں 


	انشائیہ کا تخم فرانس میں مونتین نے بویا تھا۔ اس حقیقت سے تمام ناقدوں نے اتفاق کیا ہے۔ ڈاکٹر آدم شیخ نے اپنی کتاب ’’اردو انشائیہ‘‘ میں لکھا ہے کہ:
	’’انشائیہ نگاری کا آغاز فرانس میں مونتین Montaigne سے ہوا۔ جسے عام طور پر اس صنف کا موجد اور باوا آدم کہا جاتا ہے۔ انگلستان میں یہ سلسلہ سر فرانس بیکن سے شروع ہوتا ہے۔ مونتین کے ساتھ ساتھ انشائیہ نگاری کے میدان میں بیگن کی حیثیت آج بھی ایک اہم متوازی رویہ کی حیثیت ہے۔ چارلز اسمتھ نے مونتین کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے لکھا ہے کہ بڑے سے بڑا انشائیہ نگار بھی مونتین کے اثرات سے نہیں بچ سکتا۔ یہی بات بیکن کے بارے میں بلا خود و تردید کہی جا سکتی ہے۔ مغرب کا کوئی بھی ایسا انشائیہ نگار نہیں ہے جو بیکن کے اثرات سے یکسر آزاد ہو۔ خواہ وہ خود چارلز لیمب ہی کیوں نہ ہو۔ مونتین اور بیکن دونوں عہد وسطیٰ کے اختتام یعنی سولہویں صدی کی پیداوار تھے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب مغرب میں لوگوں کو اچانک یہ احساس ہوا کہ انہیں اب قدیم داستانوں، پند ناموں اور رزم ناموں کی مزید ضرورت باقی نہیں رہ گئی۔ اس طرح اب ادب، متعلقہ ادیب کے ذاتی غم یا خوشی یا محبت یا پھر نفرت کا اظہار بن گیا۔ تاریخ اور داستانوں کو الگ رکھ دیا گیا اور فنکار مختلف مسائل پر خود اپنی بات کہنے کے لیے یعنی دوسروں لفظوں میں اظہار ذات کے لیے بے چین ہو اٹھا۔ Essay یا فرانسیسی لفظ Essais کے لغوی معنی ہوتے ہیں کوشش کرنا۔ To try یا تولنا To Wieght یہ بے چینی جو بعد میں انشائیہ کا جزو لاینفک بنی۔ انسان کی فطرت کے زیرو بم کا نتیجہ تھی جسے کوئی بھی فنی اصول یا ادبی مسلک ہمیشہ ہمیشہ کے لیے پابند نہیں بنا سکتا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘
	اس میں کوئی شک نہیں کہ جذبات کے اظہار کی نثری شکل انشائیہ ہے۔ لیکن یہ نثری شکل دوسری ادبی اصناف سے بہت مختلف تھی۔ بیکن نے بھی اپنے ایسیز کو ’’افکار پریشاں ‘‘ کا نام دیا ہے۔ یعنی Dispersed Meditation۔ مونتین نے اپنی تحریر کے ذریعے تنقید اور اخلاقیات کا درس دیا ہے۔ انگریزی ادب میں مونتین اور بیکن کا موازنہ کرتے ہوئے کہا جاتا ہے کہ:
	’’مونتین نے اپنے ایسیز آتشدان کے سامنے آرام کرسی پر لیٹے لیٹے لکھے ہیں اور بیکن نے بڑے غور و خوض کے بعد اپنے خیالات کو مرتب کر کے جیسے دفتر میں بیٹھ کر باقاعدگی سے لکھے ہیں۔ ‘‘۱
	اٹھارہویں صدی میں انشاء پردازی یا ایسیز نگاری کا عروج کا دور تھا۔ اس کی کئی وجوہات تھیں۔ پہلے تو اس صدی کے آغاز میں ہی اہل انگلستان میں سیاسی، سماجی اور اخلاقی شعور بیدار ہونا شروع ہو گیا تھا۔ کئی اخبارات نے بھی اپنی اشاعت سے جوہر دکھانے شروع کر                                                                                                                                 دئیے تھے۔ جیسے Tetlon اور Spectator۔ ان اخبارات نے بھی انشائیہ یا ایسیز کو فروغ دیا۔ اور ایڈیسن Adison اور اسٹیل Steal جیسے رائٹر مشہور ہونے شروع ہوئے۔ ایڈیسن، یبکن اور مونتین کی روایتوں کے بہترین مزاح داں اور مؤثر ترین امتزاج تھے۔ ان کی بدولت انشائیے کی دو قسمیں وجود میں آئیں۔ (۱) سنجیدہ انشائیے Serious Essays (۲) لمحاتی انشائیے Occasional Papers۔ 
	ڈاکٹر آدم شیخ ’’اردو انشائیہ‘‘ میں ان دونوں اقسام کی صراحت کچھ اس طرح کرتے ہیں۔ 
	’’پہلی قسم میں اولین فلسفہ، منطق، تاریخ اور تحقیق سے دامن بچاتے ہوئے پر تکلف اور عالمانہ انداز میں موت، دوستی، شادی اور تعلیم جیسے اہم مسائل پر اپنے ذاتی تاثرات پیش کرنا۔ جس کو ایڈیسن نے بخوبی پیش کیا ہے اور دوسری قسم میں ایڈیسن بے حد بے تکلف، پرمزاح موڈ اور نجی ترنگ میں نظر آتا ہے۔ اور لیمپ کے مداح جو اسے پہلا حقیقی انشائیہ نگار قرار دیتے ہیں دراصل یہ بھول جاتے ہیں کہ بیکن اور اس کے بعد ایڈیسن نے ہی لیمب کے لیے راستہ بنایا تھا۔ 
	سوزن کوپر نے ان ہی لوگوں کے متعلق تحریر کیا تھا کہ :
	’’انشائیہ نثر میں میں سانیٹ کا نعم البدل نہیں ہے کہ اس کی ہیئت میں کسی قسم کی تبدیلی ہی نہ ہوسکے اور جو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ایک روایتی اور جامد ڈھانچے سے بندھا رہے۔ انشائیہ ایک ایسا فنی ڈھانچہ ہے جو زبان و ادب کی تبدیلیوں کے ساتھ ساتھ خود بھی بدلتا رہتا ہے جو لوگ اس تبدیلی کو قبول نہیں کرت ان کے یہاں ناقابل برداشت یکسانیت پیدا ہو جاتی ہے۔ ‘‘
	آنے والے انشائیہ نگاروں نے بھی انشائیہ میں زندگی کی داخلیت پر زور دیا ہے۔ بیلاک Bellock نے مذہبی اور روحانی مسائل کو بھی اس صنف سے جوڑا ہے اور چسٹرٹن Chestorton نے اخلاقی اور معاشی مسائل کو اپنا موضوع تحریر بنایا۔ اس طرح یہ لوگ اپنے ذاتی عناصر کو انشائیہ کی ہیئت بدلتے بدلتے اس زندگی سے قریب کرتے گئے۔ اپنے ذاتی عناص ر کو صنف انشائیہ میں سمولینے کے بعد لطافت بیانی کی ملمع کاری نے ان کے ہنر میں چار چاند لگائے۔ 
	اب ہم چند مغربی انشائیہ نگاروں کو مختصر تعارف کی روشنی میں دیکھیں گے جن کی تحریر نے انگریزی ادب کے سرمایہ میں گراں قدر اضافہ کیا۔ 


مونتین Montaign

	فرانسیسی ادیب مونتین انگریزی اسے رائیٹنگ کا باوا آدم ہے۔ تو وہیں دوسری طرف اس کے ایسیز تمام مغربی نثر نگاروں سے مختلف ہیں۔ کسی نے اس کی نثر کو لطیف ادب سے تعبیر کیا تو کسی نے نثر کے ٹکڑے کہے۔ بہت ساروں نے تو صرف پیرائے گفتگو بھی کہا۔ ۱۵۷۱ء میں فارغ البالی کے بعد اس نے مشغلے کے طور پر جو تحریریں پیش کیں وہی بہترین مضامین کہلائے جانے لگے۔ مونتین کے مضامین میں نہ کوئی علمی ادبی نظریہ یا دعویٰ ہے اور نہ ہی یہ کوئی منظم و مرتب مضامین ہیں۔ ان میں اس نے مختلف موضوعات پر ہلکے فلسفیانہ رنگ میں اپنے تاثرات بیان کیے ہیں جن سے کوئی نہ کوئی درس اخلاق ملتا ہے اور انداز بیان کے لحاظ سے بے ساختہ پن اس کا وصف خاص ہے۔ جب مونتین کے یہ ایسیز منظر عام پر آئے تو ارباب ذوق نے انہیں بہ نظر استحسان دیکھا۔ اس طرح ایک ادیب کے قلم سے اتفاقی طور پر ’’ایسے‘‘ نے جنم لیا جو آگے چل کر ایک اہم وصف قرار پایا۔ 
	مونتین کی تحریر کی شگفتگی، اختصار اور جامعیت نے اسے انشائیہ کا درجہ دے دیا۔ 

فرانِس بیکن  Jan 1561 -  April 1626 

	فرانس بیکن اپنے زمانے کا سب سے بڑا عالم اور ذہین ادیب تھا اور فلسفہ سائنس اور ادب میں کئی حیثیتوں سے اسے انگلستان میں اولیت کا شرف حاصل رہا۔ جدید مغربی فلسفہ میں بھی بیکن کو تاریخی شہرت حاصل ہوئی۔ اگرچہ مختلف سرکاری عہدوں پر فائز رہ کر اس نے بد عنوانیاں کیں اور پوپ کے اس فقرہ ’’عاقل ترین، ذہین ترین اور کمینہ ترین‘‘ کا سزاوار بھی ٹھہرا۔ لیکن اس کی معرکہ الآراء تصانیف کے سامنے ان لغزشوں کی کوئی اہمیت نہیں۔ 
	کیمبرج میں طالب علمی کے زمانے سے ہی بیکن کو قدیم فلسفہ کی بے ثمری کا یقین ہو گیا۔ اس کا خیال تھا کہ اس کے ذریعے عالمانہ بحث کو طوالت ضرور دی جا سکتی ہے لیکن حقیقت تک رسائی ممکن نہیں۔ چنانچہ اس نے معلمین کے طریقہ کار کو چھوڑ کر استقرار Induction کو زیادہ اہمیت دی۔ اس نے اپنے نصب العین کا اعلان کچھ اس طرح کیا:
	’’مجھے حقیقت کا ذاتی ادراک ہوا جس کے لیے مجھے تحقیق و تفحص سے کام لینا پڑا۔ میں غور و فکر کی کٹھن وادیوں سے گزر کر نتائج اخذ کرتا رہا۔ میرے نزدیک جدت کی کوئی قدر نہ تھی اور نہ قدامت کے لیے کوئی خاص اہمیت۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میں نے بالآخر تمام علوم کو اپنے دائرہ میں سمیٹ لیا۔ ‘‘
	اس نظریہ کی مزید توصْح بیکن نے اپنی مشہور تصنیف Novum Onganum میں کی۔ جس میں اس نے تمام علوم کے باہمی رشتے پر زور دیا ہے۔ اس نے انسانی کمزوریوں اور علم دشمن عناصر کو طبقاتی فرقہ آرائی رجعت اور سوقیت میں تقسیم کیا ہے۔ اس کا نظریہ تحقیق فطرت کے خارجی مطالعہ اور باقاعدہ تجربے پر مبنی ہے۔ 
	The Adventure of Learning اس سلسلے کی اہم کڑی ہے۔ 
	بیکن کی بیشتر تصانیف لاطینی زبان میں ہیں لیکن ان کی اہمیت اور انگریزی ذہن پر ان کے اثرات سے کسی کو انکار نہیں۔ انگریزی ادب میں اس کا سب سے بڑا کارنامہ وہ انشائیے ہیں جن کی بدولت وہ انگریزی انشائیہ کا باوا آدم کہا جاتا ہے۔ ان انشائیوں سے ہمیں فرانسیسی مصنف مونتین کی یاد آتی ہے جس نے اپنے تجربوں اور مشاہدوں کو مختصر مضامین میں سمودیا ہے۔ لیکن جو بات مونتین کے یہاں فراوانی اور انسیت دیتی ہے وہ بیکن کے ہاں مفقود ہے۔ انگریز انشاء پرداز نے اپنے ذاتی تجربے فلسفیانہ انداز میں پیش کیے۔ ان مضامین کی خصوصیت اختصار اور جامعیت ہے۔ یہاں اس کا خطاب درباریوں اور شہزادوں سے تھا۔ اسی لیے نفس مضمون کی حد تک ہم بیکن کو اطالوی مدبر میکاولی سے زیادہ نزدیک پاتے ہیں۔ بیکن انگریزی زبان میں افادی ادب کا سب سے پہلا نمائندہ ہے۔ 

وان برگ Vanbragh  1664 - 1726

	وان نے اپنی تحریر میں طنز و مزاح کو فوقیت دی لیکن اس دور کی تہذیب اور اخلاقی اقدار کا پورا پورا خیال رکھا۔ اس کی تحریر انفرادیت کی حامل تھی۔ وہ قاری کے ذہن کی تعمیر کا کام اپنے الفاظ سے کرتا تھا۔ حالانکہ وہ پیشے سے ایک آرکیٹکٹ تھا۔ مزاح کے ذریعے اس نے اپنی ایک انمٹ چھاپ چھوڑی ہے۔ 

چارلس لیمب Charles Lamb 1775 - 1834

	لیمب کا طرز تحریر نہایت دلکش تھا۔ وہ کولرج نقاد کا ہمعصر تھا۔ لیکن اس کے مقاصد جداگانہ تھے۔ 1820 میں لکھے گئے ایسیز آف ایلیا (Essays of Elia) اس کے مشہور ایسیز ہیں۔ گو کہ اس نے دوسری اصناف سے بھی انگریزی ادب کو مالامال کیا لیکن اس کی خوبصورت اور دلکش تحریریں نثر نگاری کی جان ہیں۔ 

گارڈنرAlfred George Gardiner A.G 1865-1946 

	صحافی انشاء پردازوں میں گارڈنر کا نام صف اول میں آتا ہے۔ اس کے ابتدائی مضامین بالخصوص Prophets, Priests & Kings میں ’’نئی دنیا کی ترقیوں کا ایک درد مند احساس ملتا ہے لیکن یوروپ کی پہلی جنگ عظیم اور اس کی تباہ کاریوں نے اس کے خیال میں بڑا انقلاب پیدا کیا۔ صحافت کے میدان میں گارڈنر نے Alpha of the Plough کے نام سے ادبی مضامین لکھنا شروع کر دئیے تھے جن میں اس نے مختلف موضوعات پر طبع آزمائی کی ہے۔ یہ مضامین مختلف موقعوں پر اس کی ذہنی زندگی کی آئینہ داری کرتے ہیں۔ ان میں سے بیشتر مضامین میں شخصی رنگ نمایاں ہے۔ 
	گارڈنر کے مجموعہ مضامین میں Pebbles on the Shore اور Leans in the Wind سے اس کی شخصیت کا بخوبی اندازہ ہوسکتا ہے۔ اس کے مضامین اور موضوعات میں بڑا تنوع ہے۔ وہ ’’افواہ‘‘ اور ’’بس کا سفر‘‘ سے لے کر ’’چھانے کا اخلاق‘‘، ’’لمبے چھوٹے پیر‘‘ اور ’’ہیٹ کا فلسفہ‘‘ تک کو اپنے مضامین کا موضوع بناتا ہے۔ ان مختصر انشائیوں میں اکثر حیات و کائنات سے متعلق بلیغ اشارے بھی ملتے ہیں جو بیحد دلکش انداز میں پیش کیے گئے ہیں۔ 

ای۔ وی۔ لوکس Edward Verral Lucas , June 1868 - June 1938

	چارلس لیمب کی جانشینی کا حق اگر کسی کو پہنچتا ہے تو وہ لوکس ہے۔ اگرچہ پریس کی پابندیوں اور اخباری کالم نگاری کی وجہ سے اس کے مضامین میں لیمب کی دلنشینی نہیں ملتی۔ لیکن ایک خاص سانچے میں ڈھلے ہوئے اس کے مضامین بے حد دلچسپ ہوتے ہیں۔ اسلوب کی دلکشی کے علاوہ لوکس کے یہاں ہمدردی اور رواداری کا جذبہ بھی ملتا ہے اور یہی اس کی مقبولیت کا راز ہے۔ 
	لوکس نے زود نویسی اور بسیار نویسی دونوں میں اپنا ریکارڈ قائم کیا ہے۔ اسی لیے اسے اپنے انتخابات The Open Reed کے علاوہ Variety Love اور Honest Home میں پیش کرنا پڑا۔ لندن یونیورسٹی کی تعلیم کے بعد لوکس مختلف اخباروں میں کام کرتا رہا اور بالآخر لندن کے مشہور جریدہ ’’پنچ‘‘ کا معاون ایڈیٹر ہو گیا۔ اس نے چارلس لیمب کے خطوط اور مضامین کا مجموعہ شائع کیا اور اس کی سوانح عمری بھی لکھی۔ اس کی دوسری تصانیف میں انشائیہ مصوری اور ناول نگاری سے متعلق مضامین ہیں۔ 
	لوکس نے لیمب کے متعلق کہا تھا کہ وہ انفرادیت اور خلوص کے باعث زندہ ہے اور زندہ رہے گا۔ یہی بات اس پر بھی صادق آتی ہے مگر ان دونوں انشاء پردازوں میں بنیادی فرق ہے۔ جہاں لیمب کے یہاں تخیل کا سحر اور ماضی کو حال میں ڈھالنے کا ملکہ ملتا ہے وہاں لوکس نفاست خیالی، ادبی شعبدہ بازی اور فراح کی بناء پر ممتاز ہے۔ اس کے مضامین کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ ان سے ہماری دلچسپی کے لیے مختلف گوشے روشن ہوتے ہیں اور ہم جدھر نگاہ اٹھاتے ہیں ہمیں ایک نئی کائنات نظر آتی ہے۔ 

ہیلری بیلک  July 1870- July 1953

	بیلک کے مضامین میں ایک خاص قسم کی تازگی اور شگفتگی ہے جو ان مضامین کا جوہر ہے۔ وہ ’’حسن ارضی‘‘ کا قائل ہے اور اسی دنیا کی رنگا رنگیوں سے اپنے فن کے لیے مواد فراہم کرتا ہے۔ اس کے ہم عصر پرسیٹیلے کا انداز بالکل جداگانہ ہے۔ اس نے زندگی کے مشاہدات کو مزاحیہ انداز میں پیش کیا ہے۔ جس سے کبھی کبھی چارلس لیمب کی یاد تازہ ہو جاتی ہے۔ 

رابرٹ لینڈ

	رابرٹ لینڈ بھی معاصرین میں اپنی گوناگوں ادبی دلچسپیوں کی وجہ سے بڑی شہرت رکھتا ہے۔ مختلف عنوانات پر نثری ٹکڑے لکھنے میں اسے بڑا ملکہ حاصل ہے۔ اس کے انشائیوں میں حسن ادا کے ساتھ ناقدانہ بصیرت کا بھی پتہ چلتا ہے۔ 
	گارڈنر کی طرح رابرٹ لینڈ بھی صحافت کے راستے سے ادب میں داخل ہوا اور New Statesman قلمی تعاون کی حیثیت سے اس نے جلد ہی اپنی جگہ بنا لی۔ وہ Y.Y. کے فرضی نام سے ہفتہ وار عالمی حالات کا جائزہ لیتا رہا جس کا سلسلہ کئی ماہ تک جاری رہا۔ ان مضامین میں بیک وقت سادگی، گہرائی اور سنجیدگی اور مزاح کی خصوصیات بڑی خوبصورتی کے ساتھ ملی جلی ملتی ہیں۔ کہا جا سکتا ہے کہ لینڈ نے معمولی واقعات اور تاثرات کو ایک فن لطیف بنا دیا ہے اس لیے کہ وہ معمولی واقعات اور تاثرات کو شاعرانہ رنگ میں پیش کرنے کی قابل رشک صلاحیتیں رکھتا ہے۔ پریسٹیلے نے ایک دفعہ اس کے متعلق کہا تھا کہ ’’ہم اس کی صحبت سے خوش ہو کر اٹھتے ہیں۔ ‘‘


چسٹرٹن Gilbert Keith Chesterton 1874 - 1936

	جدید انگریزی نثر میں چسٹرٹن اپنے خاص مقام پر ہے۔ وہ اکبر الہ آبادی کی طرح قدامت اور رجعت پسندی کا علمبردار ہے۔ اگر انداز فکر اور طریقہ اظہار دونوں میں اس نے آسکر وانلڈ کے بعد آنے والی نسل سے بہت کچھ سیکھا لیکن اپنی بات کو چونکا دینے والا انداز میں کہنا اس نے نئے لکھنے والوں سے ہی حاصل کیا۔ بحیثیت انشاء پرداز کے چسٹرٹن کا فن ’’اجتماع ضدین‘‘ Paradoy ہے۔ قدیم اقدار اور روایات کی پاسداری اس کا مزاج ہے۔ اسی لیے وہ تجدید و اصلاح سے ’’گمراہ‘‘ ہونے کی بجائے روایت اور ترکہ اسلاف کے احترام کی ترغیب دیتا ہے۔ وہ چاہے آکسفورڈ یونیورسٹی پر لکھے یا جدید شاعری پر اظہار خیال کرے اس کا مخصوص لب و لہجہ ہر جگہ نمایاں ہے۔ ذیل میں ایک اقتباس اس کے مشہور مضمون ’’فرانسیسی اور انگریز‘‘ (French & English) سے ماخوذ ہے جس سے اس کی شخصیت اور فن کا کچھ اندازہ ہوسکے گا۔ 
	’’یہ تو صاف ظاہر ہے کہ بین الاقوامی (International) اور آفاقی (Cosmopolitan) کے درمیان بڑا فرق ہے۔ سارے بھلے آدمی بین الاقوامی ہوتے ہیں اور تقریباً تمام برے لوگ آفاقی۔ اگر ہمیں ’’بین الاقوامی‘‘ ہونا ہے تو پہلے National ہونا پڑے گا۔ بین الاقوامی صلح کا مقصد قوموں کے درمیان صلح ہے نہ کہ قوموں کی بربادی کے بعد کی صلح جیسے بدھ مذہب والوں کی صلح جو شخصیت کے خاتمہ کے بعد حاصل ہوتی ہے۔ اچھے یوروپین کا عہد زرین عیسائی تصور بہشت سے مشابہ ہو گا جہاں لوگ ایک دوسرے سے محبت کریں گے نہ کہ ہندوؤں کے بہشت کی طرح جہاں وہ اسی طرح رہیں گے۔ قومی کردار کے معاملہ میں یہ مشاہدہ کم دلچسپ نہیں۔ میرا خیال ہے کہ ایک شخص دوسری قوم کا دل سے جس قدر مداح ہو گا اسی قدر اس کی تقلید سے احتراز کرے گا۔ اس کو ہمیشہ اس کا احساس ہو گا کہ ان کے یہاں کچھ ناقابل تقلید عناصر ہیں۔ وہ انگریز جسے فرانس سے دلچسپی ہو گی فرانسیسی ہونے کی کوشش کرے گا لیکن جو اس کا مداح ہے وہ کٹر انگریز رہے گا۔ اس کا اندازہ فرانسیسیوں سے ہمارے تعلقات کے مطالعہ سے بآسانی ہوسکتا ہے کیونکہ فرانسیسیوں کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ ان کی برائیاں سطح پر ہوتی ہیں مگر ان کی اچھائیاں چھپی رہتی ہیں۔ کہا جا سکتا ہے کہ ان کی برائیاں ان کی اچھائیوں کا پھل ہیں۔ ‘‘

مام ولیم سامرسٹ Maugham, William Somerset 1874-1965

	ولیم سامر سٹ بیسویں صدی کا ایک اہم انگریزی ناول نگار، افسانہ نگار، ڈرامہ نگار، و انشاء پرداز تھا۔ موجودہ دور میں اس سے بہتر کہانی لکھنے والا اور دوسرا کوئی نہیں ہوا ہے۔ اس کی تحریروں میں ہلکا طنز و مزاح موجود ہے۔ بعض وقت وہ زندگی پر بڑے طنزیہ انداز میں نگاہ ڈالتا ہے اور سماجی مسائل پر بڑی وسیع نظری کا حامل ہے۔ ہیومن بانڈیج Human Bondage، ریزرس ایج Razon'a Edge وغیرہ مشہور ناول ہیں۔ 

مان تھامس Mann, Thomas 1875-1955

	تھامس مان جرمن ناول (وینس میں موت، جادوئی پہاڑ) اور انشائیہ نگار ہے۔ وہ بیسویں صدی کا جرمنی کا چوٹی کا ادیب کہلاتا تھا۔ اس کی تحریروں میں بڑی علمی وسعت ہے 1929 میں اسے لٹریچر کا نوبل انعام بھی ملا تھا۔ مان اپنی تحریروں میں نہ صرف انسانوں کی اندرونی ذہنی حالت کا تجزیہ پیش کرتا ہے بلکہ اس کا رشتہ یوروپ کی بدلتی ہوئی تہذیبی قدروں سے بھی قائم کرتا ہے۔ اس طرح اس کے مرکز توجہ دوہرے ہوتے تھے اور بعض صورتوں میں وہ رمزی طریقے بھی اختیار کرتا تھا۔ 

میکس بیرلوم

	بیرلوم نے انیسویں صدی میں آخری دہائی سے ہی نثر نگاری شروع کر دی تھی اور اس کا پہلا مجموعہ ۱۸۹۶ء میں شائع ہو چکا تھا لیکن اس کے نثری کارنامے بیسویں صدی میں ہی منظر عام پر آئے۔ ۱۹۱۱ء میں ’’زلیخا ڈابسن‘‘ لکھ کر اس نے بڑی شہرت حاصل کر لی۔ یہ تصنیف ایک ساحرہ زلیخا کی داستان محبت ہے جو آکسفورڈ یونیورسٹی کے بیشتر اساتذہ و طلباء اور ارباب کار کی خودکشی کا باعث ہوتی ہے اور پھر اس دنیا کو اجاڑ کر کیمبرج یونیورسٹی کا رخ کرتی ہے۔ 
	بیرلوم کا سب سے دلچسپ اور زندہ یادگار Christmas Garland ہے جس میں اس نے ’’پیروڈی‘‘ کے فن کو معراج پر پہنچا دیا ہے۔ اس کے یہاں یہ فن محض نقالی نہیں ’’متوازن مبالغہ آرائی‘‘ کے ذریعہ تنقید کا بہترین ذریعہ ہے۔ وہ مصنفوں پر محض رائے نہیں دیتا بلکہ انہیں نئے زاوئیے سے پیش بھی کرتا ہے۔ اس کتاب میں سترہ ابواب کے تحت بیرلوم نے اپنے معاصرین مثلاً بنسن، ویلس، کازیڈ بیسینیٹ اور شا وغیرہ کی اسلوب نگارش کا چربہ اتارا ہے۔ 
	۱۹۲۰ء میں بیرلوم کے مضامین کا دوسرا مجموعہ And elen now شائع ہوا۔ جس میں شوخی اور ظرافت اسلوب کی پختگی کے ساتھ نازک احساسات بھی ملتے ہیں۔ وقت گزرنے پر اس کے یہاں ابتدائی دور کی تصنع کی جگہ مواد میں گہرائی اور نظریات میں توازن آنے لگا۔ بیرلوم بیسویں صدی کے انشاء پردازوں میں اپنی جدت کی بدولت زیادہ ممتاز ہے اس لیے کہ جب اس کے دوسرے معاصرین انیسویں صدی کے انشاء پردازوں کی راہ پر چل رہے تھے اس وقت اس نے فن انشائیہ میں نئی راہ نکالی۔ 

آرول جارج Orwell George 1903-1950

	انگریزی کا ناول نگار اور انشاء پرداز۔ موجودہ دور کا اہم ادیب جس کی تصنیفات میں موجودہ عہد کے تمام مسائل بڑی شدت کے ساتھ پیش کیے گئے ہیں۔ آرول کا اصل نام ایرک بلیر تھا۔ ہندوستان میں پیدا ہوا۔ ابٹن میں تعلیم حاصل کی۔ 1923 سے 1927 میں انڈین امپیریل پولیس میں ملازمت کی اور برما میں رہا۔ 1927 میں نوکری چھوڑ دی۔ پہلے پیرس میں اور پھر لندن میں رہا اور غربت کی زندگی بسر کی۔ ملک کی فاشسٹ دشمن تحریکوں کے ساتھ اس کا گہرا تعلق رہا۔ 1936 میں وہ اسپین میں جمہوریت پسندوں کے ساتھ فاشسٹوں کے خلاف لڑا۔ 
	آرول کی شروع کی تصنیفات مثلاً ’’بریز ڈیز‘‘  Burmese Days، ڈاؤن اینڈ آؤٹ ان پیرس اینڈ لندن Down and Out in Paris and London وغیرہ زیادہ تر اس کے شخصی تجربات پر مبنی ہیں۔ آرول کو سب سے زیادہ مقبولیت اس کے ناول انیمل فارم (1945) سے حاصل ہوئی۔ یہ فطرت انسانی اور معاشرے کی ناہمواریوں اور کجی پر زبردست تنقید کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس کے سیاسی اہداف بھی قابل ذکر ہیں۔ اپنے ناولوں اور تحریروں میں اس نے اپنے دور کے سیاسی اور سماجی حالات کا تجزیہ کیا ہے۔ انسانی آزادی کو اس نے خاص طور پر جگہ دی ہے۔ 1949 میں شائع ہونے والا اس کا ناول ’’انیس سو چوراسی‘‘ اس کا بہت مشہور ناول ہے۔ جس میں اس نے بتایا ہے کہ اس میکانیکی سماج میں کس طرح انسان اپنی انسانیت کھوتے جا رہے ہیں۔ اس کے مضامین کے بھی کئی مجموعے شائع ہوئے ہیں۔ 	٭٭٭



ماحصل

	جس طرح لفظ انشاء کے معنی ہیں وہ اپنا تاثر بھی اسی طرح رکھتا ہے جیسے حسین ترین او ر امنگ بھرے جذبات کی تخلیق کرنا۔ جو دوڑتی بھاگتی زندگی میں کہیں نہ کہیں خود ہم نے ہی ان کا گلا گھونٹ دیا ہو۔ مختلف ادیبوں کے پا س انشائیہ کی تعریف الگ الگ الفاظ میں ہے لیکن مجھے بیکن کے الفاظ نے زیادہ متاثر کیا ہے۔ وہ یہ کہ ’’نثری اصناف میں انشائیہ ایک ایسی مختصر تحریر کا نام ہے جس میں بغیر کسی تجسس اور کھوج کے حقیقت کا اظہار ہو۔ ‘‘ انشائیہ کے بانی مونتین نے تو اس صنف کو انسانی شخصیت کے اظہار کا لازمی جزو قرار دیا ہے کیونکہ انشائیہ نگار میں قاری اپنا ایک دوست تلاش کرتا ہے۔ 
	ملا وجہی نے سب رس کے انشائیوں میں قاری کو اپنا دوست بنا کر زندگی کے نشیب و فراز سمجھائے ہیں۔ 
	محمد حسین آزاد نے نیرنگ خیال میں انشاء پردازی کی حدوں کو چھو لیا اور زبان و بیان کا نیا رنگ لوگوں کے سامنے پیش کیا۔ ان کی کلاسیکی تحریر میں انشائیہ کے بہترین نقوش کی عکاسی کی وجہ سے انہیں بہترین انشائیہ نگار کا شرف بخشا گیا۔ اسی وجہ سے طرز انشاء دوسری اصناف سے مختلف ہے۔ اس کے اصول و ضوابط اور دلکشی نے اپنی انفرادیت کے باوجود اسے ممتاز بنائے رکھا۔ جبکہ آزاد روی تو انشائیہ کا پیدائشی حق ہے۔ لیکن پھر بھی اس کی شباہت نہ مضمون میں نظر آتی ہے اور نہ ہی مقالہ، طنز و مزاح اور نہ کسی اور صنف میں۔ وقت اور حالات کی گردش میں نئے پیرہن تو اس نے اپنائے لیکن اس کی جدت کے ساتھ فن محاسن کو ہر قیمت پر بچائے رکھا۔ یہی انشائیہ نگار کا حسن اور خوبصورتی ہے۔ اور یہی بات وزیر آغا نے نہایت خوبصورتی سے بیان کی:
	’’انشائیہ معنی خیز مسکراہٹ سے بہرہ ور ہوتا ہے۔ یہ مسکراہٹ اصلاً ایک عارفانہ مسکراہٹ ہے جو سدھارتھ کے ہونٹوں پر اس وقت نمودار ہوتی ہے جب اس پر اچانک کائنات کا راز فاش ہو جاتا ہے اور مونالیزا کے ہونٹوں پر اس وقت جب اسے اپنی تخلیقی حیثیت کا عرفان حاصل ہوتا ہے۔ انشائیہ نگاری کو معنی خیز تبسم عطا کرنے کے اہم کام سے روک کر محض فرقہ بازوں اور لطیفہ گویوں کی صف میں لا کھڑا کرنا کفران نعمت نہیں تو اور کیا ہے؟‘‘
	وقت اور اصناف ادب کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ ہر صنف نے اپنے صحیح وقت میں پرورش پائی ہے۔ اسی نقطہ نظر سے دیکھیں تو انشائیہ بھی اپنے زمانے اور حالات کے ساتھ ہی ہم آہنگ ہو کر فضاؤں میں منتشر ہوا ہے۔ لیکن باوجود اس کے اس نے خود کو دوسری اصناف سے علیحدہ رکھ کر اپنی خوبصورتی کو انفرادیت کا تاج پہنا کر رکھا۔ اسی لیے مضمون، مقالہ، طنز و مزاح، افسانے، رپورٹ وغیرہ سے الگ اسی سرزمین پر اپنے وجود کو تسلیم کرایا۔ جس طرح ہم بھی جاندار ہیں مگر اس کائنات میں اشرف المخلوقات کہلانے کے حقدار صرف ہم ہی ہیں جبکہ جاندار تو بہت سارے ہیں لیکن یہ درجہ صرف انسان کو ہی ملا۔ بالکل اسی طرح ادب کے کئی زمرہ ہونے کے باوجود صرف انشائیہ ہی لطافت اور شگفتگی کے مقام تک پہنچ سکا ہے۔ 
	جیسا کہ زندگی نشیب و فراز کا دوسرا نام ہے۔ انشائیہ کی زندگی میں بھی بیسویں صدی کی تیسری دہائی میں ترقی پسند تحریک کے شروع ہونے سے انشائیہ کی صنف کو تھوڑا بہت نقصان ضرور پہنچا۔ ادب کے لیے یہ ایک انقلابی دور تھا۔ ادباء نے ظلم و ستم کے خلاف آواز بلند کرنے کے ساتھ ایک با مقصد اور روشن زندگی کا خواب دیکھا۔ اس مقصد کو پورا کرنے کے لیے انہیں اپنے تخلیقی افکار کا رخ سماجی تعمیرات کے لیے موڑ دینا پڑا۔ نتیجتاً انشائیے کی روشنی مدھم نظر آنے لگی۔ لیکن اس کے بعد بھی انشائیے کے گلوں کی خوشبو کم ہوتی ہوئی نہیں محسوس ہوئی۔ 
	اپنی آزاد روی کے باوجود انشائیے نے ادب کے مختلف گوشوں یعنی تاریخی، سیاسی، سماجی، جغرافیائی اور اخلاقی وغیرہ کا بخوبی احاطہ کیا ہے۔ شبلی نعمانی، مولانا الطاف حسین حالی اور سرسید احمد خاں کے کئی مضامین جن میں انشائیہ نگاری کی رمق موجود تھی، لوگوں کے دلوں میں گھر کر گئی۔ نصیر احمد خاں کے مطابق اگر انشائیہ کا دور دیکھا جائے تو اردو ادب کے ٹیگوریت کے دور میں انشائیہ ادب لطیف یا انشائیہ لطیف کا درجہ رکھتا تھا۔ اس کی اہمیت اور افادیت اس دور کی نثری کاوشوں میں اسلوب کی تازگی، تدبیر کاری کی نزاکت اور قلبی تاثرات کے ساتھ ہم آہنگ ہو کر جلوہ افروز ہوتی نظر آتی ہے۔ عبدالحلیم شرر، رتن ناتھ سرشار، سجاد حیدر یلدرم، عبدالقادر، خواجہ حسن نظامی، ذکاء اللہ، فرحت اللہ بیگ، ملا واحدی، اختر تلہری، سلامت اللہ، قمر رئیس، محمد حسن، خلیقی دہلوی، نیاز فتح پوری، مہدی افادی، سجاد انصاری، عبدالماجد دریابادی اور احمد جمال پاشا وغیرہ نے انشائیہ کے پودے کی پرداخت کی۔ ساتھ ہی برصغیر میں بھی ادباء نے اس کی آبیاری میں کوئی کسر باقی نہ رکھی۔ جس کے نتیجے میں کئی انشائیے اور انشائیے نمبر، سمپوزیم وغیرہ وجود میں آئے اور اس جاندار صنف کے لیے کئی نئے گوشے نمودار ہونے شروع ہوئے اور آج پورے بر صغیر میں سیکڑوں انشائیہ نگار اپنی خدمات سے اس صنف کا دامن بھر رہے ہیں۔ 
	اس میں کوئی شک نہیں کہ بہ نسبت انگریزی یا کوئی اور دوسری غیر ملکی زبانوں اور ادب کے انشائیہ نے اپنی ترقی نہیں کی۔ لیکن جو بھی ہوئی وہ بھی اردو ادب کے سرمائیے میں گراں قدر اضافے کے مماثل ہے۔ وقت کی کمی اور شعور کی پختگی یہ دو عناصر صنعتی ترقی کے سبب وجود میں آئے۔ جہاں زمین سکڑتی گئی تو انشائیہ نے مقبولیت حاصل کرنی شروع کی۔ آج داستان، ناول، مضامین میں وہ کشش باقی نہیں ہے۔ آج کا انسان کم وقت میں زیادہ پڑھنا اور جاننا چاہتا ہے اور مقصد کی برآوری کے لیے انشائیہ سے بہتر کوئی دوسری صنف ہوہی نہیں سکتی۔ اس لیے مجھے انشائیہ کا مستقبل بہت روشن نظر آتا ہے۔ 
٭٭٭

کتب


  ۱۔    اردو انشائیہ۔ سید صفی مرتضی ۱۹۶۹ء۔ ص۱۴، ۱۵، ۴۷
  ۲۔   انشائیہ کے خد و خال۔ وزیر آغا، نئی آواز، جامعہ نگر نئی دہلی۔ ۲۵۔  ص ۸۴، ۲۱
  ۳۔   سب رس۔ ملا وجہی۔  ص ۱۲، ۸، ۹
  ۴۔   سب رس کا تنقیدی جائزہ۔ منظر اعظمی۔ ص ۷۱، ۷۵، ۱۱۶، ۹۸، ۹۹، ۱۱۵
  ۵۔   قطب مشتری۔ ملا وجہی
  ۶۔   مقدمہ سب رس۔ مولوی عبدالحق۔  ص ۱۶، ۱۷
  ۷۔   اردو نثر کا آغاز و ارتقائ۔ ڈاکٹر رفیعہ سلطانہ۔  ص ۲۵۴، ۲۶۶
  ۸۔   نثری داستانیں۔ ڈاکٹر گیان چند۔  ص ۱۲۷، ۱۲۹
  ۹۔    قصہ حسن و دل۔  جاوید وششٹ۔  ص۹۱
  ۱۰۔   سب رس کی تنقیدی تدوین۔ ڈاکٹر حمیرہ جلیلی۔  ص ۷۴
  ۱۱۔    اردو مضمون نگاری کا ارتقائ۔ سیدہ جعفر۔  ص ۱۵
  ۱۲۔   نیر ٔنگ خیال۔ گلشن امید کی بہار۔ محمد حسین آزاد۔ دیباچہ
  ۱۳۔   اردو اسالیب نثر۔ ص ۳۲۰
  ۱۴۔   مقالاتِ شبلی۔ شبلی نعمانی
  ۱۵۔   انشائیہ اور انشائیہ نگاری۔ وزیر آغا
  ۱۶۔   عہد سرسید میں مضمون نگاری۔ محمد شمس اقبال۔ باب دوم ص ۱۵
  ۱۷۔   اردو کے بہترین انشائیے۔  ص ۲۱۲
  ۱۸۔   انشائیہ اور انشائیے۔ سید محمد حسنین
  ۱۹۔    تعلیم و تربیت۔ سرسید احمد خاں 
  ۲۰۔    انشائیہ اردو ادب میں۔ انور سدید
  ۲۱۔    انتخاب مضامین شبلی۔ رشید حسن خان
  ۲۲۔   ادب کا تنقیدی مطالعہ۔ ایڈیشن دوم۔ ڈاکٹر سلام سندیلوی
  ۲۳۔  اردو ایسیز۔ مقدمہ۔ مولوی ذکاء اللہ۔ عبدالحلیم شرر
  ۲۴۔   انشائیہ اور انفرادی سوچ۔ جمیل آذر۔  ص ۱۱۔ ۱
  ۲۵۔   اردو اصناف (نظم و نثر) کی تدریس۔ اومکار کول۔ مسعود سراج
         قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان۔ نئی دہلی۔ ایڈیشن جنوری۔ مارچ ۲۰۰۳ء؁
  ۲۶۔   آزادی کے بعد دہلی میں اردو انشائیہ۔ ۱۹۹۱ء؁ پروفیسر نصیر احمد خان۔ ص ۱۹
  ۲۷۔   سب رس۔ ملا وجہی۔ ڈاکٹر قمر الہدی فریدی
  ۲۸۔   ادب نما۔ فخر الاسلام اعظمی
  ۲۹۔   خطوط غالب۔ مرزا غالب
۳۰۔   نثر پارے۔ شبلی نعمانی۔ 
 ۳۱۔   ادبی شیرازے (حصۂ  نثر ) سرسید احمد خاں 
 ۳۲۔  خطوط شبلی۔ شبلی نعمانی
 ۳۳۔  آب حیات کا تنقیدی و تحقیقی مطالعہ۔ ڈاکٹر محمد صادق۔ سید سجاد
 ۳۴۔  ادبی اشارے۔ ڈاکٹر سلام سندیلوی۔ ۱۹۶۰ء؁
 ۳۵۔  اردو ادب اور مقالہ نگاری۔ نیاز فتح پوری۔ ص ۳۸۔ ۳۷
 ۳۶۔  میر امن سے عبدالحق تک۔ سید عبداللہ۔ دہلی۔ ص ۳۰، ۱۲۹
 ۳۷۔  مقاماتِ ناصری۔ کراچی۔ ۱۹۶۹ء؁۔ میر ناصر علی۔ ص ۲۹، ۳۰، ۲۳۸، ۲۳۷، ۱۴۰
 ۳۸۔  تنقید و احتساب۔ لاہور۔ 
       مضمون انشائیہ کیا ہے؟ وزیر آغا۔ ص ۲۴۲، ۲۴۱
 ۳۹۔  مولانا ابوالکلام آزاد۔ عرش ملیسانی
 ۴۰۔  افاداتِ مہدی۔ مہدی افادی (مہدی بیگم مرتب) حیدر آباد۔ ۱۹۷۵؁ء۔  ص ۷۸۔ ۷۳، ۱۶۷
 ۴۱۔  طنزیات و مضحکات۔ رشید احمد صدیقی۔ ص ۲۳۳، ۲۳۲
 ۴۲۔  محشر خیال۔ سجاد انصاری۔ دہلی ۱۹۵۸؁ء  ص ۹۵۔ ۹۳
 ۴۳۔  اردو افسانے، انشائیے اور ڈرامے۔ محمد قاسم صدیقی
        شعبہ تعلیم علی گڑھ۔ مسلم یونیورسٹی۔ ایجوکیشنل بک ہاؤس علی گڑھ
 ۴۴۔  خیالستان۔ سجاد حیدر یلدرم 
 ۴۵۔  مضامین شرر۔  عبدالحلیم شرر




رسائل

  ۱۔    مجلہ عثمانیہ۔ دکنی ادب نمبر۔ نورالسعید اختر۔ ص ۷۴
  ۲۔   شاعر۔ بمبئی۔ مئی ۱۹۷۰ء؁ اردو کا پہلا انشائیہ نگار۔ ص ۵۱
  ۳۔   سب رس۔ محمود شیروانی۔ اورینٹیل کالج میگزین نومبر ۱۹۳۴ء؁۔ ص ۳
  ۴۔   انشائیہ نثری غزل۔ آل احمد سرور۔ علی گڑھ شما رہ ۴
  ۵۔   اردو ادب۔ بشیر بدر۔ علی گڑھ شما رہ ۴۔ ص ۱۲۱
  ۶۔   نئی قدریس شما رہ ۵۔ ۴۔ ۱۹۷۲ء؁
       انشائیہ سرسید کے عہد میں۔ ڈاکٹر عبادت بریلوی 
 ۷۔   مہر نیم روز۔ کراچی، پاکستان۔ اختر اورینوی نمبر۔ ۱۹۷۷؁ء
 ۸۔   مقامات ناصری۔ ۲۴۸۔ رسالۂ ناصری شما رہ اول  ص ۲۷۔ ۱
 ۹۔    ماہنامہ شگوفہ خلیج نمبر جون ۲۰۰۴ء
۱۰۔   بزم سہارا دہلی۔ ماہ اکتوبر ۲۰۱۰ء۔ 
٭٭٭


٭٭٭٭٭
تشکر: مصنفہ  جنہوں نے فائلیں  فراہم کیں
ان پیج سےتبدیلی، تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید

