﻿





جاگے ہوئے تھے خواب





نصیر احمد ناصر


ترتیب: اعجاز عبید









کسی دن چلیں گے 


کسی دن چلیں گے 
...کراچی
سمندر میں آنکھیں بہا کر
اسے دیکھنے کی تمنا کریں گے 
جو بچپن میں گھر سے چلا تھا
کہ شپ یارڈ دیکھوں گا
بحری جہازوں میں دنیا کے چکر لگاؤں گا
پیسے بناؤں گا
لیکن فلیٹوں، پلازوں کی دنیا میں 
بجری اٹھاتے اٹھاتے 
کسی ریت کے ڈھیر میں کھو گیا ہے ۔
کسی دن چلیں گے 
سمندر کنارے 
اسے پھینکنے کے لیے 
شہر کے زیر تعمیر سارے مکانوں کا کچرا
مرے دل میں بھرتا چلا جا رہا ہے ۔
٭٭٭




تاریخ ٹسوے بہائے گی


تم سر بام آ کر اٹھایا ہوا ہاتھ اپنا ہلا کر
 چمک دار آنکھوں سے اپنی مجھے 
رخصتی کا اگر اذن دیتیں تو میں 
دشمنوں کے لیے موت بن کر نکلتا
تمہارے فقط اک اشارے سے کشتوں کے پشتے لگاتا چلا جاتا
تم دیکھتیں 
کس طرح میں زمانے کی سرحد ذرا دیر میں پار کرتا
ہر اک سمت سے وار کرتا
محبت کی تاریخ تبدیل کرتا
نئی رزم بوطیقا تشکیل دیتا
میں لشکر کا سب سے بہادر سپاہی تھا
میرے لیے ایک آنسو بہت تھا
مگر تم نے اشکوں کی برسات کر کے 
مجھے اس قدر غم زدہ کر دیا ہے 
کہ لگتا ہے یدھ ہار جاؤں گا میں 
لوٹ کر اب نہ آؤں گا میں 
٭٭٭



روشنی تیرے جنم یگ پر ایک نظم


تیری اقلیم محبت میں رکا ہے 
اک مسافر بے ارادہ، بے مجال
تجھ کو چھو کر
اصل ہونے کی تمنا میں نڈھال
خواب کے اندر بکھرتے خواب کا زخمی ملال
راکھ پر آنکھیں بناتی
انگلیوں کا بے بصر اندھا کمال
دم بدم رنگت بدلتے موسموں کے درمیاں 
پھول کھلتی، دھول ملتی خواہشوں کا اندمال
بے عبادت بے دعا ارض و سما کے روبرو
ایک تابیدہ تیقن کو مجسم دیکھنے کی جستجو
لا حاصلی، کار زیاں، امر محال
رینگتی صدیوں، تھکی عمروں کے بوجھل بوجھ میں 
تلملاتے ماہ و سال
گرد آلودہ مسافت ہمسفر مفقود ہے 
راستہ بے سمت ہے مسدود ہے 
اذن سفر کا کیا سوال
اے مرے عکس جمال
آگہی محدود ہے، تیری ارادت لا زوال
تو ہمیشہ کے لئے ہے، میں ذرا سا لمحہ بھر کا اک خیال
٭٭٭



دیکھ سکتے ہو تو دیکھو۔۔


دیکھ سکتے ہو تو دیکھو غور سے 
ویرانیاں تاریخ کی
مقدونیہ کی سمت جاتے راستوں پر دھول اڑتی ہے 
مقدر کے سکندر جا چکے ہیں 
قونیہ کی میخ کے چاروں طرف کنڈل بنائے 
گھومتے قدموں کی چاپیں 
اب کسی بے وقت لمحے کی صدائے جاں گزا ہیں 
اب کسی درویش کی ایڑی میں دم باقی نہیں 
روشن لکیریں بجھ چکی ہیں 
محو ہوتے جا ر ہے ہیں رقص کے سب سلسلے 
بغداد پر چیلیں جھپٹتی ہیں 
دمشقی دھات کے 
پھل دار ہتھیاروں کی دھاریں کند ہیں 
دیکھ سکتے ہو تو دیکھو
اب تمھارے خواب کی گہرائیوں میں 
دل دھڑکنے کی بجائے 
بس بھری آنکھوں کے جنگل پھیلتے جاتے ہیں 
کورنتھی ستونوں سے بنی کہنہ عمارت میں 
نئی دنیا کے دھاری دار سانپوں کا بسیرا ہے 
طلسمی غار میں 
خفیہ خزانے کے پرانے آہنی صندوقچوں میں 
سرخ سکوں کی جگہ ڈالر بھرے ہیں 
دیکھ سکتے ہو تو دیکھو غور سے
٭٭٭



کئی دن سے آنکھوں میں آنسو نہیں تھے 


یہاں کوئی نم دار آنکھوں سے چھن بھر بھی دیکھے 
تو لگتا ہے بارش سی ہونے لگی ہے 
گھنے بادلوں میں سمندر ہمکنے لگا ہے 
مجھے تم بتاؤ
کہ چپ چاپ جیون کی ہر سمت بہتے ہوئے پانیوں کو
کہاں تک چھپاؤں گا میں 
ان کہی داستانیں کہاں تک سناؤں گا میں 
زندگی کے زمیں دوز رستوں پہ کب تک چلوں گا
ابد خیز خوابوں کو دیکھوں گا کب تک
تمھارے گھنے سبز نادیدہ باغوں کی چھاؤں میں کب تک جلوں گا
تمھاری محبت کے چہرے پہ آنکھیں نہیں ہیں 
یہ صدیوں پرانے اندھیرے کے خستہ مکانوں کے پیچھے، درختوں کے نیچے 
جہاں ہم ذرا دیر باتوں کے چھینٹے اڑاتے ہوئے آ گئے ہیں 
یہاں چند سائے ہمارے لئے روشنی لا ر ہے ہیں 
پرندے ہمارے لئے گا ر ہے ہیں 
یہ لمحے جو بوڑھے زمانوں کے بچے ہیں 
چھپ کر ہمیں دیکھنے آ گئے ہیں 
مگر تم بتاؤ
کہ عمریں کہاں تک ہمارے لئے سانس لیتی رہیں گی
کسی دن کہیں گی
چلو اب بہت جی لیا ہے 
ڈرائیور اٹھاؤ یہ سامان سارا
چلو پورٹیکو میں گاڑی کھڑی ہے 
مجھے تم بتاؤ میں لفظوں کے کیپسول کھا کھا کے کب تک جیوں گا
یہ نظموں کا سیرپ بھی کب تک پیوں گا
یہ ملبوس انفاس کامل ہی اب پھٹ چکا ہے 
اسے اور کتنا سیوں گا۔۔
٭٭٭



تاریخ سے باہر ایک آدمی


دنوں کے گرد آلودہ جھروکے سے 
میں اس کو دیکھتا ہوں 
چھت کے اوپر
تار پر پھیلے ہوئے کپڑوں کے پیچھے 
بے صدا پرچھائیوں کے ڈھیر میں تبدیل ہوتے 
اور نیچے، اجنبی گلیوں میں 
قدموں سے لپٹتی دھول ہے 
تاریخ چلتی ہے 
دھمک سے کہنہ دیواریں لرزتی ہیں 
گزرتا وقت سنگ و خشت سے آنکھیں رگڑتا ہے 
دنوں کے گرد آلودہ جھروکے سے 
کوئی لمحہ، پلستر کا کوئی ٹکڑا اکھڑتا ہے 
بدک کر اسپ شاہی بھاگ اٹھتا ہے 
دریچوں اور دیواروں کی درزوں سے 
کئی چیخیں نکلتی ہیں 
منڈیریں کانپ جاتی ہیں 
دنوں کے گرد آلودہ جھروکے سے 
میں اس کو دیکھتا ہوں 
سر جھکائے بے خبر چلتے ہوئے 
لشکر کے بیچوں بیچ
بوسیدہ قبا پہنے 
غلاموں کے ہجوم نا مشخص میں ۔
دنوں کے گرد آلودہ جھروکے سے 
میں اس کو دیکھتا ہوں 
تارکولی راستوں پر
دھوپ سے بچنے کی خاطر
ٹین کے چھجوں کے نیچے 
یا کبھی شاموں کے کم گہرے اندھیرے میں 
کتابوں کی دکانوں پر
٭٭٭





نظم کے لئے نظم


پوچھتی ہے 
نظم کیا ہے 
نظم اس کی خوبصورت ناک ہے 
تربوز کی قاشوں سے دونوں ہونٹ اس کے نظم ہیں 
آنکھوں میں پھیلا صاف ستھرا آسماں بھی نظم ہے 
گہرے سلیٹی بادلوں جیسے گھنیرے بال اس کے 
اور پیشانی افق سی نظم ہے 
نظم بچوں کی شرارت
نظم بوڑھی عورتوں کی گفتگو ہے 
نظم اچھے دوستوں کے ساتھ گزری شام ہے 
نظم ویٹنگ لاؤنج میں بیٹھی مسافر لڑکیوں کے ہاتھ کا سامان ہے 
پارکوں میں سیر کرتے، کھیلتے، پکنک مناتے 
لوگ سارے نظم کے کر دار ہیں 
نظم سینی ٹوریم کی سیڑھیوں پر زندگی کی دھوپ ہے 
نظم عریاں پوسٹر ہے 
نظم جپسی گرل ہے 
نظم ونڈر لینڈ ہے 
نظم نیلی جھیل ہے 
آبی پرندے کی چٹانوں سے پھسلتی چیخ ہے 
نظم واٹر فال ہے 
نظم چاروں موسموں کی سمفنی ہے 
نظم اجلی بارشوں کا گیت ہے 
نظم کبڑی رین بو ہے 
بوسنیا کے سارے بچے نظم کے الفاظ ہیں 
اجتماعی آبرو ریزی سے پہلے عورتیں بھی نظم کی تمہید تھیں 
اب مکمل نظم ہیں 
ٹارچر چیمبر میں قیدی کی گھٹی سی چیخ بھی تو نظم ہے 
کشمیر کی برفاب وادی میں لہو کی آگ بھی
اب نظم بنتی جا رہی ہے 
بھوک سے مرتا ہوا صومالیہ بھی نظم ہے 
پیس کیپنگ سولجر کی لاش کا تابوت زندہ نظم ہے 
پوچھتی ہے نظم کیا ہے 
کیا بتاؤں میں کہ اس کی نظم لکھتی انگلیاں بھی نظم ہیں 
نظم اس کے ہاتھ کی تحریر ہے 
نظم اس کی خوبرو تصویر ہے 
نظم اس کی براؤن سینڈل
نظم اس کے پاؤں کی تقدیر ہے 
جانتی ہے 
کاسنی کپڑوں میں بالکل نظم لگتی ہے مجھے وہ
پھر بھی مجھ سے پوچھتی ہے 
نظم کیا ہے
٭٭٭




فاتح دشمن کے سامنے نغمۂ جاں گزا


یہاں کچھ پھول میرے ہیں 
انہیں اشجار پر لکھ دو
یہاں کچھ خواب میرے ہیں 
انہیں دیوار پر لکھ دو
یہاں کچھ گیت میرے ہیں 
انہیں تلوار پر لکھ دو
یہاں کچھ لوگ میرے ہیں 
انہیں بھی دار پر لکھ دو 
٭٭٭



امیگریشن (Emigration)


ہمیں اب سانس لینے کے لئے بھی
دور کے دیسوں کی جانب ہجرتیں کرنی ہیں 
اپنے دیس کی مٹی
فضائیں، کھیت، جنگل، شہر، دریا، تھل
ہوا داری سے عاری ہو چکے ہیں 
ارتقا، تہذیب
نسلوں خاندانوں کی کفالت
اقتصادی بہتری کے خواب
آنکھوں کے افق اوزون سے خالی
پرندوں، تتلیوں، پودوں کی پامالی
دلوں میں قحط جذبوں کا
زبوں حالی
پرانا دور پھر سے لوٹ آیا ہے 
تلاش رزق میں نکلے ہوئے 
انسان صدیوں کے تصادم سے گزر کر
اجنبی خطوں میں خوشحالی کے پیچھے بھاگتے ہیں 
تیسرے درجے کے شہری ہیں 
مگر خوش ہیں 
ترقی یافتہ ملکوں کی قومیت بڑا اعزاز ہے 
اپنے وطن میں صاف ستھری زندگی ناساز ہے 
آلودگی ماحول کی، اندر دلوں میں اور ذہنوں میں 
سرایت کر چکی ہے 
جسم زندہ ہیں ہمارے روح لیکن مر چکی ہے 
چابتیں مشروط ہیں زر سے 
زوال زیست کے آثار پختہ ہیں 
محبت اب بڑا کمزور رشتہ ہے 
٭٭٭



تصویر کے آنسو

کہو تم کہاں ہو
مرے دل کے سورج کہاں ہو
یہاں شب کی وحشت
ہر اک ٹی وی چینل پہ منظر کشا ہے 
کہیں کوئی کتا کسی لاش کو کھا رہا ہے 
کہیں کوئی قیدی برہنہ کھڑا ہے 
کہیں کوئی خودکش دھماکہ ہوا ہے 
ذرا دیر پہلے 
جہاں روشنی کا پڑاؤ تھا اور زندگی تھی
وہاں اب اندھیرے کا ڈسکو ہے، مرگ دعا ہے 
الاؤ بجھا ہے 
کوئی رو رہا ہے 
مگر خواب زار تمنا میں آنکھیں نہیں ہیں 
پرندہ سر شاخ کچنار سن ہو گیا ہے 
٭٭٭




مرگ پیچ


مجھ کو اپنی موت کی دستک نے پاگل کر دیا ہے 
دوڑتا پھرتا ہوں سارے کام نپٹانے کی جلدی ہے ۔ ۔ ۔ ۔ 
پہاڑوں اور جھیلوں کی خموشی سے قدیمی گیت سننے ہیں، 
پرانے داستانی بھید لینے ہیں 
درختوں سے نمو کاری کی بابت پوچھنا ہے 
نت نئی شکلیں بناتے بادلوں کو دیکھنا ہے 
خوش نوا اچھے پرندوں سے 
اُڑن پھل کا پتا معلوم کرنا ہے 
عروسی بیل کے پھولوں کو چھونا ہے 
در و دیوار سے باتیں بھی کرنی ہیں 
ابھی کتنے ملاقی منتظر ہیں 
ایک لمبی لسٹ ہے آنکھوں میں نادیدہ نظاروں کی
فشار خون بڑھتا جا رہا ہے 
اب کسی لمحے رگیں پھٹنے کا خطرہ ہے 
مگر مصروف ہوں، 
سب کام نپٹانے کی جلدی ہے ۔ ۔ ۔ ۔
 سمندر نے بلایا ہے 
جزیرے اور ساحل بھی
کئی قرنوں سے مجھ کو یاد کرتے ہیں 
مچھیرے گیت گاتے، بستیوں کو لوٹتے 
مجھ کو بہت ہی ہانٹ کرتے ہیں 
کسی دن جاؤں گا ملنے ۔ ۔ ۔ ۔ 
خزانوں کو اگلنے کے لیے 
بے تاب ہیں رقبے 
طلسمی سرزمینوں کے سفر کے راستے معلوم ہیں 
نقشے پرانے کاٹھ کے صندوق میں محفوظ ہیں 
سب دیو بانی بھی سمجھتا ہوں 
مگر مصروف ہوں ۔ ۔ ۔ ۔
بچوں کے کتنے کام باقی ہیں 
کتابیں، کاپیاں، اسکول کے کپڑے، 
 نئے بستے کھلونے، بیٹ، ریکٹ اور بہت سی ان کہی چیزیں 
خریدوں گا تو خوش ہوں گے 
مگر مصروف ہوں، 
سب کام نپٹانے کی جلدی ہے ۔ ۔ ۔ ۔ 
رگوں میں خون کی رفتار بڑھتی جا رہی ہے 
زندگی پر اک جنون مرگ طاری ہے 
بہت مصروف ہوں 
سر پٹ لکھے جاتا ہوں نظمیں 
مجھ کو اپنی موت کی دستک نے پاگل کر دیا ہے 
٭٭٭





لائٹ ہاؤس


بتا میری آنکھوں کی ازلوں میں ٹھہرے ہوئے نم 
تجھے کن زمانوں کی نیندوں نے گھیرا ہوا ہے 
کسی درد کی سرزمیں پر
خدا بارشیں رو رہا ہے 
کہیں ایک آنسو مرا 
اس کی پلکوں پہ کیوں رک گیا ہے بتا ساحلوں کی ہوا
کون سے شہر میں وہ مرا راستہ دیکھتی ہے 
وہ جس نے سمندر کے بھیگے سفر میں کہا تھا
محبت جزیرہ ہے، دکھ بادباں ہے 
بتا مجھ کو اسم رہائی
میں رسم جدائی ادا کر کے 
سنگیں ستونوں کی لمبی قطاروں میں اس سے ملوں گا
اسے بازوؤں میں سمو کر
فقط ایک بوسے کے بدلے 
زمینوں کی ساری مسافت اسے سونپ دوں گا
بتا روشنی کے نشاں 
پانیوں میں چھپی سر بریدہ چٹانوں کی آبی شبیہیں 
ابد کے کناروں پہ سوئی ہوئی بوڑھی صدیوں کی تجرید ہیں 
یا کسی داستانی سفر میں 
جہازوں کے چپو چلاتے 
غلاموں کی بے عکس چیخوں کی تجسیم ہیں 
وقت کی آخری حد پہ اڑتے طلسمی پرندے 
بتا وہ کہاں ہے 
جسے یاد کر کے 
عتیقی صداؤں کے مستول دل میں اترنے لگے ہیں 
بتا اے زمینی ستارے 
مسافر ترے خواب کیوں دیکھتے ہیں
٭٭٭


کھڑکیاں 

کھڑکیاں منظر دکھاتی ہیں 
دلوں کی ہوں، دماغوں کی کہ آنکھوں کی
وہ باہر کی طرف کھلتی ہوں یا اندر کی جانب
روشنی اس پار کی اس پار لاتی ہیں 
کھڑکیاں باتیں بھی کرتی ہیں 
لبوں کے قفل ابجد کھولتی ہیں 
کھڑکیوں پہ رات جب تاریکیوں کے جال بنتی ہے 
تو عمریں درد کی پاتال سے سرگوشیوں میں بولتی ہیں 
کھڑکیاں خاموش رہتی ہیں 
زباں بندی کے دن، بے داد کی راتیں، ستم کے دور سہتی ہیں 
کھڑکیاں صدیوں کے خوابوں کی کہانی ہیں 
فصیلوں،  آنگنوں،  اجڑے مکانوں کی گواہی ہیں 
ازل سے وقت کے جبری تسلسل میں 
تھکن سے چرچراتے زنگ آلودہ زمانوں کی گواہی ہیں 
کھڑکیاں عورت کا دل رکھتی ہیں 
خوشبو، دھوپ، بارش، چاند کی کرنیں 
ہوا کے ایک جھونکے سے 
بدن کے موسموں پر کھول دیتی ہیں 
اڑا کر کاغذی پیکر
انوکھی خواہشوں میں زندگی کو رول دیتی ہیں 
کھڑکیوں کے سامنے جب تتلیاں پرواز کرتی ہیں 
تو شیشوں سے لگی آنکھوں میں یادوں کی
دوپہریں بھیگ جاتی ہیں 
سفید و سرخ پھولوں سے لدی بیلیں 
انہیں جب ڈھانپ لیتی ہیں 
تو شامیں خوبصورت اجنبی لوگوں کا رستہ دیکھتی ہیں 
مٹھیوں میں جگنوؤں کا لمس بھرتی ہیں 
کھڑکیاں اکثر کھلی رہنے کی ضد کرتی ہیں 
نیلا آسماں، بادل، پرندے، دیکھ کر حیران ہوتی ہیں 
ہمیشہ بند رکھنے سے 
انہیں کمروں کی، دیواروں کی سانسیں ٹوٹنے کا خوف رہتا ہے 
مکینوں کے چلے جانے پہ ڈرتی ہیں 
انہیں بھی زندگی ویران لگتی ہے، اداسی کاٹنے کو دوڑتی ہے 
کھڑکیاں انسان ہوتی ہیں 
٭٭٭

﻿
سٹی ہائٹس

زمیں نے خواب دیکھا تھا
مجھے پیدا کرے گی، پرورش میری کرے گی
موسموں کی سختیاں، تبدیلیاں برداشت کرنے کا
ہوا سے عہد باندھا تھا
مری خاطر غصیلے بادلوں سے، بارشوں سے دوستی کی تھی
زمیں ماں ہے 
ہر اک ماں کی طرح
تخلیق سے پہلے ہی بچوں کے لئے 
سرسبز خوابوں کی ردائیں بنتی رہتی ہے 
خود اپنی کوکھ کے شاداب ریشوں سے 
کئی رنگوں کے مخمل، ریشمی موزے، سوئیٹر، ٹوپیاں، کپڑے 
گھنی گہری منا جاتیں، دعائیں بنتی رہتی ہے 
زمیں نے خواب دیکھا تھا، یہ سوچا تھا
جواں ہو کر
میں جب پھولوں پھلوں گا تو
مری خوشبو سے مہکیں گے تنفس موسموں کے 
ذائقے میرے پھلوں کے نام سے منسوب ہوں گے 
شاخچوں پر دھوپ چمکے گی
پرندے آشیانوں سے نکل کر گیت گائیں گے 
پروں کو گدگدائیں گے 
محبت کرنے والے خوبرو جوڑے 
مری چھاؤں میں بیٹھیں گے 
ہمیشہ ساتھ رہنے کے ہرے وعدے 
سلگتے سرخ ہونٹوں کی زمینوں پر اگائیں گے 
مرے بھورے تنے پر
پیار سے اک دوسرے کا نام لکھیں گے 
مرے بیجوں سے دھرتی پر
نئے جنگل اگیں گے، پھیل جائیں گے 
زمیں ماں ہے، زمیں کا خواب تھا لیکن
زمیں زادوں کی آنکھوں میں 
فلک بوسی کا سپنا ہے جسے تعبیر ہونا ہے 
یہاں اب پارک کے بدلے پلازا اک نیا تعمیر ہونا ہے 
زمیں مجبور ہے 
دکھ سے مجھے کٹتے ہوئے چپ چاپ تکتی ہے 
٭٭٭




پانی میں گم خواب


خواب اور خواہش میں 
فاصلہ نہیں ہوتا
عکس اور پانی کے 
درمیان آنکھوں میں 
آئنہ نہیں ہوتا
سوچ کی لکیروں سے 
شکل کیا بناؤ گے 
درد کی مثلث میں 
زاویہ نہیں ہوتا
بے شمار نسلوں کے 
خواب ایک سے لیکن
نیند اور جگراتا
ایک سا نہیں ہوتا
جوہری نظاموں میں 
نام بھول جاتے ہیں 
کوڈ یاد رہتے ہیں 
ایٹمی دھماکوں سے 
تابکار نسلوں کے 
خواب ٹوٹ جاتے ہیں 
شہر ڈوب جاتے ہیں 
مرکزے بکھرتے ہیں 
دائرے سمٹتے ہیں 
رقص کے تماشے میں 
ارض و شمس ہوتے ہیں 
اور خدا نہیں ہوتا
صد ہزار سالوں میں 
ایک نور لمحے کا
ٹوٹ کر بکھر جانا
حادثہ تو ہوتا ہے 
واقعہ نہیں ہوتا
ہسٹری تسلسل ہے 
ایک بار ٹوٹے تو
دور بیں نگاہیں بھی
تھک کے ہار جاتی ہیں 
گمشدہ زمینوں سے 
منقطع زمانوں سے 
رابطہ نہیں ہوتا
ننھے منے بچوں کے 
نوبہار ہاتھوں میں 
پھول کون دیکھے گا
آنے والی صدیوں میں 
تیری میری آنکھوں کے 
خواب کون دیکھے گا
زیر آب چیزوں کا
کچھ پتہ نہیں ہوتا
٭٭٭




لال پلکا


لال پلکا اڑ کے آیا ہے 
بہت ہی دور سے 
پیغام لایا ہے 
سرائے نور سے 
غٹ غوں، غٹر غوں 
کھول کر دیکھوں 
لکھا ہے کیا خط تقدیر میں 
کتنے یگوں کی قید ہے 
کتنی رہائی ہے 
مقدم کون سا دن
کون سی لیلیٰ شب تاخیر ہے 
غم کی خبر ہے یا خوشی کی
نقش حب ہے یا دم تعزیر ہے 
مہر کس نے ثبت کی ہے 
کس کی خاتم کا نشاں ہے کس طلائی ہاتھ کی تحریر ہے 
حاشیے میں کیا رقم ہے 
کیا نوشتہ ہے مرا اس عالم تقصیر میں 
زخمی پروں سے 
ھشت منظر پار کرتا، راس چگتا
لال پلکا اڑ کے آیا ہے 
بہت ہی دور سے ۔
٭٭٭




روشنی، تمھارے لئے ایک اداس نظم


اداسی مجھے لکھ رہی ہے 
خطوں میں، کتابوں میں 
ٹیبل پہ بکھرے ہوئے کاغذوں میں ۔۔
خدا قید میں ہے 
تمھیں یاد ہے کچھ
رہائی کی تاریخ کیا ہے ۔۔
زمیں ایک آنسو ہے مٹی میں گوندھا ہوا
وقت کی بند مٹھی میں کچھ بھی نہیں ہے 
فقط جسم کی خاک ہے 
نارسائی کا دکھ ہے 
اداسی ہے،’’لا‘‘ ہے 
کسی دن اسے کھول کر دیکھنا
بھربھری ریت سارے خلا پاٹ دے گی
خدا خود سے آزاد ہو گا۔۔
مجھے یاد ہے 
میرے ہونے کی خواہش میں 
ماں نے فقط آنسوؤں کو دعاؤں میں شامل کیا تھا
مگر میں نے پھر بھی
خوشی اس کی آنکھوں سے بہتی ہوئی دیکھ لی تھی۔۔
ڈرو مت
محبت کے اوقات خود کار بٹنوں کے زیر اثر ہیں 
تمھارا جنم روشنی ہے 
مرا خواب گہری، گھنی رات میں راستہ بھولتا جا رہا ہے 
٭٭٭



بے آغاز عمروں کا سفر

بے آغاز عمروں کا سفر
یہ خواب ہی تو ہیں 
جو دروازوں کے پار سے دکھائی دیتے ہیں 
اور ہوا میں اڑتے ذروں کی طرح
آنکھوں میں گھس آتے ہیں 
بے پٹ کی کھڑکیاں 
کاغذوں اور گتوں سے بند کرتے کرتے 
عمریں پھڑپھڑانے لگتی ہیں 
نیند کے موسم بے اعتبار ہوتے ہیں 
جاگنے سے پہلے 
وقت ضرور دیکھ لینا
کبھی کھبی سوتے میں کلائی کی گھڑی رک بھی جاتی ہے 
اور دیکھو
سائیڈ ٹیبل پہ رکھی ڈائری میں 
خواب لکھتے ہوئے 
رو مت پڑنا
ورنہ بچے تم پر ہنسیں گے 
اور بیوی قابل رحم نظروں سے تمھاری طرف دیکھے گی
سب سے چھوٹی بیٹی تو ضرور پوچھے گی
پاپا کیا ہوا 
پاپا کیا ہوا 
تو تم اسے کون سا خواب سناؤ گے 
کیسے بتا پاؤ گے 
کہ پہلے پہل گاؤں سے شہر آتے ہوئے 
مال گاڑی کے ڈبے 
تمھیں قطار میں رکھی ہوئی
ماچس کی ڈبیوں جیسے کیوں لگے تھے 
کیسے سمجھاؤ گے 
کہ آنکھوں کے پیچھے 
اندھیرے کی کوئی واضح تصویر نہیں ہوتی
یہ تو تیز روشنی میں بھی نظر نہیں آتا
اسے دیکھنا ہو تو
بلی کی طرح چھلانگ لگا کر
رات کے عظیم ڈھیر میں گھس جاؤ
صبح تک سارے خواب
ادھڑی ہوئی سفید روئی میں بدل جائیں گے 
اور کیسے کہو گے 
کہ گالیوں کے شور
اور آنسوؤں کی بے آواز کنمناہٹ میں 
زندگی کرتے ہوئے 
باخ اور بیتھوون کی دھنیں سننے کی
اذیت کسی کے ساتھ شیئر نہیں کی جا سکتی
وقت تو ویسے بھی
ایک ازلی بہرے پن میں مبتلا ہے 
اور راستے بس راستے ہوتے ہیں 
چلتے رہو
چلتے رہو تمام عمر ۔
اب بچپن کتنا مختلف ہے 
زندگی ایک معمولی کمپیوٹر ڈسک میں محفوظ
رسٹ واچ چلتی ر ہے یا رک جائے 
سب کچھ فقط ایک کلک کے ساتھ
شروع ہوتا ہے اور ختم ہو جاتا ہے 
٭٭٭


بلیو مون


لمبی پلکیں، آنکھیں گہری
زلفیں تاریکی کا دھارا
رات کے دل میں چندن سلگا
ہار گیا جی لکڑہارا
راس پہ آئے برج منارے 
چمکا خوب لہو کا پارا
ملن ملاپ، فراق وچھوڑا
سال و سن کا کھیل ہے سارا
چندر جوت جگائے من میں 
کبھی کبھی کا میل نیارا
نیلے چاند کا جادو پھیلا
مور چکور نے پنکھ پسارا
نیلی جھیل پہاڑ کنارے 
نیلا حوض، مکان، اسارا
نیلی چھت پر نیلے پنچھی
نیلا تھال، گلوب، غبارا
پورنماس کا جوگ ملا ہے 
ایک مہینے میں دوبارا
وصل وصال کے بیچ نہ آئے 
صبح کا سورج، شام کا تارا
آج میں تجھ کو کامل دیکھوں 
تو بھی مجھ کو دیکھے سارا﻿
٭٭٭



ابعادیت
﻿
ایک ہی جانب چلتے چلتے 
کتنی عمریں بیت گئی ہیں 
دس جہتوں میں کون چلے گا
بھر بھر کرتی جسم کی مٹی
اس آوے میں کون جلے گا
کوئی محدب، کوئی مجوف
کس چہرے میں عکس ڈھلے گا
کھڑکی کے اس پار کا منظر
یک سمتی کا بہلاوا ہے 
اندر آؤ، غور سے دیکھو
اتنی جہتوں کا پھیلاؤ
دیواروں کا پہناوا ہے 
اب اس خواب کی چنتا کیسی
آنکھیں جس کو دیکھ چکی ہیں 
اس جیون کا اقلیدس کیا
سانسیں جس کو ریکھ چکی ہیں
٭٭٭




بک مارک  (Book Mark)


جہاں اس نے پڑھتے ہوئے مجھ کو چھوڑا تھا
اب تک وہیں ہوں 
کسی نے کتاب محبت پلٹ کر نہ دیکھی
زمانہ کہیں کا کہیں جا چکا ہے 
مگر میں ادھوری کہانی میں اٹکا ہوا
منتظر ہوں کہ وہ آئے 
آ کر کتاب محبت کے اوراق پلٹے 
کہانی کو آگے بڑھائے ۔۔
اسے زندگی میں بہت آگے جانے کی خواہش تھی
شہرت، گلیمر سے بھرپور
اونچے سہانے دنوں کی تمنا تھی
عمر گریزاں کی مصروفیت میں 
اسے پھر سے پڑھنے کی فرصت کہاں تھی
کتابوں کو الماریوں میں سجا کر
اسے بھول جانے کی عادت تھی ویسے بھی
وہ جانتی تھی
پرانی کتابوں سے ملتا ہی کیا ہے 
فقط چند سوک ہے ہوے پھول
بے لمس پتے، مری تتلیاں 
لفظ دیمک کے کھائے ہوئے 
خط بطور نشانی چھپائے ہوئے 
نام کچھ دوستوں کے ۔
جہاں اس نے پڑھتے ہوئے مجھ کو چھوڑا تھا
اب تک وہیں ہوں 
کہ میں بھی فقط اک نشانی ہوں 
گزرے تعلق کی بھولی کہانی ہوں 
یادوں کی بوسیدگی کی علامت ہوں 
آدھی محبت کی پاکیزگی کی ندامت ہوں میں بھی
مقدس صحیفے میں رکھا ہوا
مور کا پنکھ ہوں 
لذت اشک میرا مقدر نہیں ہے
٭٭٭



ان فوکس (In Focus)


تم کس خواب کے چوبارے پر
آنکھیں لے کر آ بیٹھے ہو
برجی برجی شست لگائے 
کس منظر کو دیدار کے عدسے پہناتے ہو
کس کے آنے کی آس لگا بیٹھے ہو
رستہ ایک دکھاوا ہے 
مٹی کا پچھتاوا ہے 
قدموں کا الجھاؤ، خواہش کا گھاؤ ہے 
پچھم، پورب، دکھن، پربت
بے سمتی کا ٹکراؤ ہے 
بہتر ہے بس سامنے دیکھو۔۔
نیندوں کے دریا میں 
سورج کی ناؤ بہتی ہے 
ہلکی دھوپ کی چادر اوڑھے 
شام کنارے پر بیٹھی ہے 
حد نظر تک اور بظاہر نیلا شانت سبھاؤ ہے 
کافی کی مہک ہے، خنکی ہے، رچاوٹ ہے، رچاؤ ہے ۔۔
تم کو کس نے روکا ہے 
فوکس کر کے بے شک دیکھو
بستی کی چاروں جانب
ایک طلسمی دھوکا ہے 
حسن، ادائیں، رقص، میوزک
وصل کا در، دید جھروکا ہے 
کھیل تماشے، فلم ڈرامے، ہیری پوٹر کی دنیا
حیرت افزا چیزیں ہیں 
ساز و برگ انوکھا ہے 
شاپنگ مال، پلازے، ہوٹل
منرل واٹر، لیموں پانی
کھیر، ٹرائفل، گاجر حلوہ، گرما گرم پلاؤ ہے 
جو کچھ کھانا ہے کھاؤ
لینز گھماؤ اور گنجان نگر کے وسط میں جاؤ
رینگتے کیڑوں اور جرثوموں جیسی مخلوق خدا ہے 
گلیوں اور مکانوں کا
دالانوں، ارمانوں کا لامتناہی پھیلاؤ ہے 
سبزی منڈی، آٹو رکشے 
جلسہ گاہیں، لیڈر، تقریریں، نعرے، وعدے، فتوے 
پیٹ کا دوزخ خالی ہے 
آٹے دال کا بھاؤ ہے 
آتی پاتی کھیلتے لڑکے 
برقع پوش جواں پیکر
کہنہ سال انسانی ڈھانچے 
برسوں سے زیر مرمت
سڑکوں پر فینائل جیسی بدبو کا چھڑکاؤ ہے 
ہمت ہے تو آگے آؤ
کیمرہ لاؤ اور فلماؤ
ابھی ابھی بارود پھٹا ہے 
لاشوں کا اک ڈھیر لگا ہے 
آتش بازی کا شو ہے، رنگوں کا الاؤ ہے 
تم کس خواب کے چوبارے پر
آنکھیں لے کر آ بیٹھے ہو
٭٭٭




چندھا


اگر کوئی اچانک روشنی کر دے 
تو کیا تم دیکھ پاؤ گے 
وہ سب چیزیں جو تاریکی کے گہرے اسودی
محلول میں گم ہیں ۔سراپا زندگی کا
موت کا چہرا
اداسی کا بدن
آواز کے لب
درد کے ڈمپل
خوشی کے مرمریں پاؤں 
محبت کی حنائی انگلیاں 
آفاق زلفوں کے 
خدا کا سرمدی سایہ۔
اگر کوئی اچانک روشنی کر دے 
تو کیا تم دیکھ پاؤ گے 
ابد کی دھند میں لپٹی
ازل سے منتظر
آنکھیں کسی کی
٭٭٭




بہت دور ایک گاؤں 


بہت دور گاؤں ہے میرا
جہاں میرے بچپن کے جگنو
ابھی تک گھنے پیپلوں پر چمکتے ہیں 
میری زباں سے گرے توتلے لفظ اب بھی
کئی سال سے غیر آباد گھر کی
پرانی، جھکی، آخری سانس لیتی ہوئی
سیڑھیوں پر پڑے ہیں 
کہ جیسے خموشی کے سینے میں خنجر گڑے ہیں 
بہت دور گاؤں ہے میرا
جہاں شام ہوتے ہی تاریکیاں پھیل جاتی ہیں 
آٹے کی چکی کی تک تک
پرندوں کی ڈاریں 
کہیں دور جاتی ہوئی
گھنٹیوں کی صدائیں 
سبھی ایک خاموش لے میں بدل کر
سیہ رات کی جھیل میں ڈوبتی ہیں 
بہت دور گاؤں ہے میرا
جہاں لالٹینوں کی مدھم لرزتی ہوئی روشنی میں 
سبق یاد کرتے ہوئے 
میں نے اچھے دنوں کے کئی خواب دیکھے 
بہت دور گاؤں ہے میرا
جہاں میری پہلی محبت کی پرچھائیاں ہیں 
اداسی میں ڈوبے ہوئے راستے 
کھیت، اسکول، جوہڑ
درختوں کے جھرمٹ
پراسرار تنہائیاں ہیں 
بہت دور گاؤں ہے میرا
جہاں چاند راتوں میں خاموش گلیوں سے 
بوڑھے درختوں کی شاخوں سے 
سوئے ہوئے آنگنوں سے گزر کر
ہوا اب بھی آتی ہے 
چپکے سے مجھ کو بلاتی ہے 
لیکن نہ پا کر مجھے لوٹ جاتی ہے 
عادت ہوا کی ابھی تک وہی ہے 
کہ فطرت ہوا کی ابھی تک وہی ہے 
مگر زندگی نے مجھے روند ڈالا ہے 
شہروں کی بے راستہ بھیڑ میں
٭٭٭



بچھڑے ہوؤں کے لئے ایک نظم


خواب سمندر میں کھو جاتے ہیں 
اور آنکھیں صحراؤں میں 
دور سفر پر جانے والوں کی یادیں 
دل کی الماری میں رکھی رہ جاتی ہیں 
جب تنہائی آنکھوں میں 
اور پتے صحنوں میں 
آنکھ مچولی کھیلیں تو
دوپہریں کتنی چھوٹی ہو جاتی ہیں 
بچھڑے ہوؤں سے کون کہے 
سرما کی پہلی بارش میں 
ریستورانوں کی رونق بڑھ جاتی ہے
٭٭٭


دسمبر کی نظمیں 
دسمبر کی آخری نظم

جب دسمبر کی ہاری ہوئی
آخری شام کی
زرد ٹھٹھری ہوئی سسکیاں 
رات کی بے کراں منجمد گود میں 
چھپ کے سو جائیں گی
نیلگوں آسماں سے 
نئی خواہشوں کے صحیفے لئے 
جنوری کی سحر
مسکراتی ہوئی آئے گی
اور ماضی کی دیمک زدہ لاش پر
برف جم جائے گی
سوچتا ہوں کبھی زندگی
سالہا سال کی گردشوں کا صلہ پائے گی
٭٭٭


دکھی لفظوں کی اک نظم

کھلے دریچوں کے پاس بیلوں پہ شام اتری تو اس نے سوچا
کبھی دسمبر کی دھوپ جیسا وہ مہرباں جو کہیں نہیں ہے 
ہوا کے ہونٹوں پہ گیت لکھتا تو بالکونی میں پھول کھلتے 
جو لوگ آنکھوں کے خواب لے کر سمندروں میں اتر گئے تھے 
وہ جانتے تھے کہ ریگ ساحل محبتوں کی امیں نہیں ہے 
جو لوگ رستوں میں پھر نہ ملنے کا عہد کر کے بچھڑ گئے تھے 
کسے خبر ہے کہ وہ ہواؤں کے گیت بن کر، تھکے پرندوں، 
بکھرتے پتوں کے میت بن کر اداس راہوں میں گونجتے ہیں 
انہی خیالوں میں گم وہ کمرے سے آئی باہر تو اس نے دیکھا
ہوا کے جھونکے برآمدے میں ستوں بن کر کھڑے تھے لیکن
دکھوں کی بیلا نے ان کے اوپر عجیب لفظوں میں لکھ دئے تھے 
گئی رتوں کے سوالنامے جنہیں وہ پڑھ کے بہت ہی روئی۔
٭٭٭



دسمبر اب مت آنا

دیکھ دسمبر
اب مت آنا
دیکھ دسمبر
میرے اندر کتنے صحرا پھیل چکے ہیں 
تنہائی کی ریت نے میرے 
سارے دریا پاٹ دیئے ہیں 
اب میں ہوں 
اور مرے بنجر پن کی بوجھل تا ہے 
دیکھ دسمبر
تیری برفاب شبوں میں 
تیری بے خواب شبوں میں 
خواب سویئٹر کون بنے گا
روح کے اندر گرتی برفیں کون چنے گا
دیکھ دسمبر
اپنے دکھ کی برف پہن کر
دھوپ دیاروں تک مت جانا
میرے پیاروں تک مت جانا
دیکھ دسمبر
اب مت آنا
اب مت آنا
٭٭٭



نغمۂ بیابانی


ہوا روز قصبے کی کہنہ حویلی کا در کھولتی ہے 
زمانے کی بوسیدگی سے 
کوئی روح آزاد ہو کر
مجھے اوڑھ لیتی ہے 
اپنے علاقے سے نکلا ہوا اجنبی میں 
مرا جسم بارانی رستوں، زمینوں میں خود رو
جڑی بوٹیوں کی طرح پھیلتا پھولتا
نیم شاداب کھیتوں کی بے آبیوں سے گزر کر
کسی تیز برساتی نالے میں گرتا ہے 
سیرابیوں کی کہانی کئی موڑ مڑتی ہے 
دریا کی طغیانیوں میں 
کئی رس کی باتیں ہیں، گھاتیں ہیں 
جنگل ہیں، بیلے ہیں، صدیوں پرانے کٹاؤ ہیں 
گھاؤ ہیں، گہرے بہاؤ ہیں 
اپنے بہاؤ میں خود ڈوبنے کی تمنا عجب ہے 
ہوا جانتی ہے 
ہوا جانتی ہے 
مرے سنگ یادوں کا میلہ ہے، عمروں کی وارفتگی ہے 
جواں سال لمحوں کی رونق ہے، بوڑھے زمانوں کی افسردگی ہے 
ارادوں سے لبریز دن کی مشقت ہے 
خوابوں سے معمور شب کی سیاہی ہے 
نیچر کی بے پایاں دولت ہے 
سورج کا سونا ہے، تاروں کی چاندی ہے 
بے انت پھیلا ہوا آسماں ہے 
افق کے کنارے پہ روٹی نما چاند ہے 
لالٹینوں کی کم روشنی ہے 
الاؤ ہیں 
خانہ بدوشوں کے ڈیرے ہیں 
ناقہ سواروں کی پرچھائیاں ہیں 
ہوا جانتی ہے 
ہوا جانتی ہے 
مرے دل سے لپٹی ہوئی ایک وعدے کی رسی ہے 
آنکھوں میں ٹوٹا ہوا ایک عہد محبت ہے 
خوابوں کی مٹی ہے 
بے موسمی بارشوں کی نمی ہے 
مجھے کیا کمی ہے 
ہوا جانتی ہے 
پرانا میوزک سناتی، اداسی کو ڈی کوڈ کرتی
ہوا وائلن کی طرح
مجھ سے میرے قدیمی دکھوں کی زباں بولتی ہے 
ہوا روز قصبے کی کہنہ حویلی کا در کھولتی ہے
٭٭٭





کوئی تیز نیلا بہاؤ مجھے کاٹتا ہے 



تمھیں میں بتاؤں 
مری ساری چیزیں سمندر کے دل میں پڑی ہیں 
مرے سب خزانوں 
مری ساری بھیدوں بھری زندگی کا محافظ
یہ بوڑھا مجاور, سمندر
بڑا صبر والا، بڑی عمر والا ہے 
صدیوں سے دنیا کا سارا نمک اپنے اندر سموئے ہوئے ہے 
مرے بادبانوں کے مستول ٹوٹے 
مرے زنگ خوردہ دخانی جہازوں، مری آبدوزوں کو ڈوبے زمانہ ہوا ہے 
مگر ساحلوں پر ابھی تک
کئی لوگ لہروں سے میرا پتہ پوچھتے ہیں 
کئی عورتیں اپنے نا کردہ وعدوں کی چاندی، سیہ پوش جسموں کا سونا
ہواؤں کے بے شکل بے سایہ معبد کے بوڑھے پجاری کے 
قدموں پہ رکھتی ہیں 
میرے لئے زندگی کی دعا مانگتی ہیں 
میں اپنے ہی بے عکس دکھ کے 
بہت گہرے پانی سے لرزاں و ترساں 
کہیں دور ویران تٹ پر محبت کی لا حاصلی میں 
کسی یوگ شکتی کی خواہش لئے چل رہا ہوں 
مرے دل میں رستے بہت ہیں 
کوئی چلنا چاہے تو چلتا رہے عمر بھر
منزلوں کی تمنا عبث ہے 
مگر ایک خواب حقیقت کی پاداش میں جی رہا ہوں 
صداقت کا سیرم بھی اتنا لیا ہے کہ سچ بولتے بولتے تھک گیا ہوں 
یہ دنیا مری ریگ غم سے سنہری طلا چھانتی ہے 
مرے خاک زاروں، مرے آسمانوں کو حیرت بھری آنکھ سے دیکھتی ہے 
مرے بادلوں کی بدلتی ہوئی خواب شکلوں میں 
اپنی نمی خور گیلی شبیہوں کی بے ہیئتی جوڑتی ہے 
میں اپنے کناروں میں لبریز اتنا ہوں، 
آنکھیں چھلکنے کو بس اک جھلک مانگتی ہیں 
جھلک ایک غم کی۔ جسے میں نے پہلے، کبھی پہلے دیکھا نہ ہو
غم کا چہرہ مگر کس نے دیکھا۔ بجز میرے ۔۔
خوابوں کے چلنے کی آواز بھی
درد آمیز راتوں کے گاڑ ہے اندھیرے میں 
میرے علاوہ کسی کو سنائی نہیں دی
میں تنہا ہی روتا رہا ہوں 
مری بند ہوتی وریدوں میں اب ایک کاغذ کی کشتی رواں ہے 
جسے میں نے اپنے لئے اور تمہارے لئے احتیاطاً بنایا تھا
(لائف بوٹس ہر شپ میں ہوتی ہیں)
لیکن تمہیں بھی پتہ ہے 
کہ قرنوں پرانی گزرگاہ ہستی کے آبی سفر میں 
بہت کچھ ہی دھندلا گیا ہے 
وہ جس کا طلسمی کھچاؤ
یہاں لے کے آیا تھا ہم کو
وہ ٹاپو قریب آ گیا ہے 
مگر وہ کہاں ہے ۔۔ کہاں ہے 
جسے حاصل وقت مانا گیا تھا، وہ لمحہ کہاں ہے
 زمانہ مجھے اپنی بے رحم آنکھوں سے کیوں دیکھتا ہے 
میں خود خواب ہوں، میری تعبیر بھی خواب سی ہے 
کوئی میرے دل کی حقیقت کہاں جانتا ہے 
چٹانی کنارا ہوں اپنے سمندر کا خود ہی
کوئی تیز نیلا بہاؤ مجھے کاٹتا ہے 
تمہیں اپنے خوابوں کی سچائیوں پر یقیں ہے 
بتاؤ! مری زندگی کا ستارہ کہاں ٹوٹتا ہے
٭٭٭



مجذوب خواہش کا خمیازہ


تباشیری دنوں میں وہ
خود اپنے روپ کا بہروپ لگتا ہے 
پڑا رہتا ہے چپ اوڑھے 
اسے جو بھوک لگتی ہے 
تو یادوں کے سڑے سوک ہے نوالے توڑتا
اور پھانک لیتا ہے 
تباسی خواہشوں کو چاٹتا ہے 
سانس لیتا ہے 
تو یوں لگتا ہے جیسے اس کے سینے میں 
سمندر بھاپ بن کر اڑ رہا ہو
دھوپ لگتی ہے 
تو تن کی لوستی تپتی زمیں پر
شب کی چادر تان لیتا ہے 
وہ گہری نیند میں بھی جاگنے کا ورد کرتا، 
خواب جپتا ہے 
انوکھے، بد مزہ سے خواب
پلکوں کے گھنے جنگل میں 
ٹپ ٹپ بارشوں کا راگ سنتا ہے 
اچانک دھوپ میں لت پت کوئی منظر گزرتا ہے 
تو آنکھیں میچ لیتا ہے ۔۔
سبھی کہتے ہیں 
ایسا تو نہیں تھا وہ
مگر اس نے 
کسی مجذوب عورت کی طرف
شہوت بھری نظروں سے دیکھا تھا
٭٭٭


اگر اس خواب کی وحشت سے بچنا ہے 

اگر اس خواب کی وحشت سے بچنا ہے 
تو آنکھوں پر سیہ پردے گرا کر
رات کی تمثیل دیکھو
روشنی سکرین پر پھیلی اذیت ہے 
محبت بے یقینی کا لبادہ ہے 
اسے اوڑھا
تو ساری عمر اپنی بے لباسی کا
تماشا دیکھنا ہو گا
برہنہ خواب کا منظر بڑا دلدوز ہوتا ہے 
ذرا سا ذائقہ تقشیر ہو تے ہی
تلذذ آشنا بھوکی زبانوں سے 
لہو کی رال ٹپکے گی
اگر اس خواب کی وحشت سے بچنا ہے 
تو آنکھوں پر سیہ پردے گرا کر
رات کی تمثیل دیکھو
صبح کی تاویل دیکھو
٭٭٭

ساگر دیوتا

کہو تم کہاں ہو 
مرکب صداؤں کے ریلے میں 
تم کو پکاروں کہ خود کو صدا دوں 
عجب نم زدہ سلوٹوں میں گھری زندگی ہے 
زمیں ایک آبی عمل سے گزر کر
مدور ہو ئی ہے 
چٹانوں کے نیچے بھی، اندر بھی
خوابیدہ بل دار آبی چٹانیں 
شب ارتقا کی عجب داستانیں 
بدن کی پہاڑی میں خفتہ
نمک اور چونے کی کانیں 
نمی چاٹتے ریگ زاروں کی سوکھی زبانیں 
سیہ سنگ آہن ربا اور سنگ ستارہ
جزیرے، ڈھلانیں 
حجر اور جل کھور مٹی کے تودے 
خراطین، پھل، پھول، پودے 
پتاور، سماروغ، تالوس
جل ناگ، سیلا
شکن دار اصداف، سرطان، کچھوے 
سمک اور بگلے ۔۔
مگر تم کہاں ہو 
تمہیں ڈھونڈتے ہیں مرے خواب کب سے 
میں صدیوں کے ساحل پہ تنہا
تمہارے جنم روپ، ساروپ کا منتظر ہوں 
مجھے پھر سے وہ زندگی دو
جسے میں نے اپنے بدن سے جدا کر دیا تھا
زمینوں، زمانوں کی خواہش سے آگے 
فقط ایک آبی ردا کر دیا تھا
٭٭٭



جنم کا گیت 

اگلے جنم میں 
ہم تم مل کر
ان رستوں سے گزریں گے 
جن پر چلنے کی خواہش
دریا پار اترتے ہی
پانی میں بہہ جاتی ہے 
اگلے جنم میں 
ہم تم دونوں 
ایک محبت کی بے موسم بارش میں 
جل تھل جل تھل بھیگیں گے 
اور خدا کے ہونٹوں سے 
نغمہ بن کر پھوٹیں گے 
اگلے جنم میں 
لشکر بن کر
اس شہر میں اتریں گے 
جس شہر کی گلیوں میں 
طوق ندامت پہنے 
زخمی روحوں اور قیدی جسموں کا بوجھ اٹھائے 
ہم نے کسی پچھلے جنم کا
جیون بھوگا ہے 
اگلے جنم میں 
مرنے سے پہلے ہم
زندہ رہنے، دکھ سہنے کی جنگ لڑیں گے 
٭٭٭


مجھے تم دور لگتے ہو

سنو، بلیک ہول جیسے آدمی!
مجھے تم دور لگتے ہو
افق کی آخری قوسوں کے بیچوں بیچ
اک موہوم سے فلکی جسیمے کی طرح
خاموش اور تاریک
اپنی ہی کشش کے دائمی قیدی
کسی بھی دوسرے ذی روح کے 
احساس سے عاری
بہت بھاری!!‬
٭٭٭



میرے بچے پوچھتے ہیں 


میرے بچے پوچھتے ہیں 
پاپا! جب تم چھوٹے تھے 
ریل کی پٹڑی پر چلنا کیسا لگتا تھا
تتلیوں اور پرندوں سے 
باتیں کرنا اچھا لگتا تھا
میرے آنسو اندر کی جانب گرتے ہیں 
اور مری خاموشی ان کو
بادلوں اور پہاڑوں جیسی لگتی ہے ۔۔
٭٭٭


ایک پرندہ نظم


پرندے آ
مرے ہونٹوں کی شاخوں پر
مرے الفاظ پیلے ہو چکے ہیں 
آ، انہیں شاداب ہونے کی بشارت دے !
پرندے آ
مری آنکھوں کے پنجروں میں 
مرے سب خواب نیلے ہو چکے ہیں 
آ، انہیں اب دفن کرنے کی اجازت دے !
پرندے آ
مرے آنگن کے گملوں میں 
مسلسل بارشوں سے پھول گیلے ہو چکے ہیں 
آ، انہیں اپنے پروں کی نرم نرمیلی تمازت دے !
پرندے آ
مرے بچوں کی بانہوں میں 
ادھوری خواہشوں کے جال میں الجھے
یہ ننھے ذائقے کڑوے کسیلے ہو چکے ہیں 
آ، انہیں حیرت بھری معصوم سی کوئی شرارت دے !
پرندے آ
مری غزلوں، مری نظموں کے لفظوں میں 
یہ کچے پھل رسیلے ہو چکے ہیں 
آ، انہیں اب ٹوٹ گرنے کی سعادت دے !‬
٭٭٭


علی زریون کی نذر


جب ہجر کا سورج آگ
برساتا ہو!
جب کوئی رنگ نا آنکھوں 
کو بھاتا ہو 
جب من مچل مچل جاتا ہو 
جب بات بے بات
آنکھوں میں 
ساون آتا ہو 
جب دل
مرا نام دہراتا ہو
بس!
تم مری یاد کی
چھاؤں میں آ جانا
مرے سینے پہ سر رکھ کر
قطرہ قطرہ
کر کہ اپنا سارا دکھ
بہا دینا
اور جان!
مری آنکھوں میں 
خود کو دیکھ کر
مسکرا دینا!...
٭٭٭





تو قرنوں کی اساطیری محبت ہے 


تو قرنوں کی اساطیری محبت ہے 
قدیمی معبدوں کے غم زدہ اسرار
تیرے جسم کے حیرت کدے سے جھانکتے ہیں 
اپنی جانب کھینچتے، آواز دیتے ہیں 
مسافر تیری آنکھوں میں 
سفر کے خواب رکھتے ہیں تو رستہ بھول جاتے ہیں 
ہڑپہ، موہنجوداڑو، ٹیکسلا، 
یونان کے دانشکدوں اور نیل کے صحراؤں میں 
گزرے زمانوں اور آنے والی عمروں میں 
تو ہر تہزیب کا حصہ ہے 
تو ہر دور کا قصہ ہے 
صدیوں کی امانت ہے 
زمیں پر پیار کی پہلی بشارت ہے 
خدا کا گیت ہے 
ہر عہد کی عورت ہے تو۔ لیکن
تجھے کس عہد میں ڈھونڈوں ۔!!‬
٭٭٭



محبت زندگی کا آخری ہتھیار ہے 

محبت جسم کے بستر پہ سوتی ہے 
دکھی عورت خدا کا روپ ہوتی ہے 
جو راتیں جاگتی ہے، نیند روتی ہے 
تکونی خواہشیں 
تکمیل کے کن زاویوں کو ڈھونڈتی ہیں 
روشنی کا لمس بوسوں کی عبادت ہے 
سلگتی ریت کی پابستگی
چھاؤں میں چلنے سے کیں بہتر ہے 
مخروطی اذیت کائناتی دائرے تصلیب کرتی ہے 
کبھی لفظوں کے ملبے سے بھی سامان سفر ملتا ہے 
میری جاں ! کہانی ٹوٹ کر مربوط ہوتی ہے 
محبت زندگی کا آخری ہتھیار ہے 
لڑتے ہوئے مرنا بہت آسان ہوتا ہے !‬
محبت
محبت جب بھی ہوتی ہے 
ستارہ وار ہوتی ہے 
بساط وقت سے باہر
ابد کے پار ہوتی ہے 
محبت جب بھی ہنستی ہے 
کہیں بجلی چمکتی ہے 
کہیں بادل برستے ہیں 
ہوا نظمیں سناتی ہے 
زمیں پر پھول کھلتے ہیں 
پرندے لوٹ آتے ہیں 
محبت جب بھی روتی ہے 
سمندر پھیل جاتے ہیں 
کنارے ڈوب جاتے ہیں 
محبت جب بھی سوتی ہے 
کسی عورت کے بستر میں 
بڑی گہری گھنی نیندیں 
بدن پر اوڑھ لیتی ہے 
محبت جب بھی مرتی ہے 
ابد کی موت مرتی ہے ۔‬
٭٭٭


محبت ایک لمحہ ہے 

جسے مل جائے اس کا دل
زمینی خواہشوں کے بوجھ سے آزاد ہو کر
سر خوشی کا گیت گائے 
اور نیلے آسماں کی جاودانی نیند اس کی
جاگتی آنکھوں کی جھیلوں میں اتر آئے ۔‬
٭٭٭


آنکھیں 


ہم ستارہ!
ہم ستارہ!
دید کی گہرائیوں میں 
کون سی آنکھیں رکھی ہیں 
دل کی آنکھیں 
یا کسی سپنوں بھرے چہرے پہ چپکی
چھوٹی چھوٹی خوبصورت
گڑیا جیسی گول آنکھیں ۔۔
ہم ستارہ!
ہم ستارہ!
رات کی آنکھیں بھی ہوتی ہیں 
مگر دن کے اجالے میں 
دکھائی ہی نہیں دیتیں 
سنا تم نے 
کسی آواز کی کرنیں دہائی ہی نہیں دیتیں 
جو زندہ ہیں 
انہیں یادوں میں آنے کے لئے 
مرنا پڑے گا
زندگی کی چھوٹی چھوٹی
دکھ بھری خوشیاں 
مگر ہم کو رہائی ہی نہیں دیتیں 
ذرا جلدی چلو۔ اب وقت کم ہے 
کاغذوں کے ڈھیر میں گم
روشنی کا دم گھٹے گا
کچھ ہمیں اس کے لئے کرنا پڑے گا!
ہم ستارہ!
ہم ستارہ!
دن کی آنکھیں کس قدر ویران ہیں 
بادل بہت نیچے اتر آئے ہیں 
چاہو تو پکڑ لو ہاتھ سے 
سورج ابھی گزرے گا
بھاری تیز قدموں سے لڑھکتا بھاگتا
پتوں بھرے فٹ پاتھ سے 
کھڑکی کھلی ہے 
دیکھنا مت!
دیکھنا مشکل ہے 
اپنی آنکھ کی بینائیوں میں 
ہم ستارہ!
ہم ستارہ!
کون سی آنکھیں رکھی ہیں 
دید کی گہرائیوں میں ۔!!
٭٭٭




کلابہ ٹوٹنے کی دیر ہے 


ابھی تکلے پہ دھاگہ گھومتا ہے 
ابھی کر لے سکھی باتیں 
طلسم خواب کی گھاتیں 
ابھی دوچار ہی راتوں کا قصہ ہیں 
دیئے کی ٹمٹماتی لو میں کوئی آنکھ
چہرے پڑھ رہی ہے 
زندگی کی سمت
مرگ ناگہانی بڑھ رہی ہے 
ریشمی کپڑے لپیٹے جا چکے ہیں 
آسماں کا سر خمیدہ ہے 
کلابہ ٹوٹنے کی دیر ہے 
چرخہ رکے گا
زور سے گھومے گا
پھر تاریخ کا پہیہ
زمیں پوشاک بدلے گی
نئی تقویم لکھنے کے لئے کاتب
سیاہی میں ستارے گھولتا ہے 
٭٭٭



سفید بادل

سفید بادل عجیب شکلیں بنا رہے ہیں 
وہ ریچھ دیکھو
وہ ہاتھیوں کی کئی قطاریں 
وہ بوڑھا بابا کوئی کھڑا ہے 
وہ جیسے بچے کئی غباروں سے کھیلتے ہوں 
سفید بادل ہوا کے جھولے پہ جھولتے ہیں 
کبھی سمٹتے ہیں رنج و غم سے 
کبھی خوشی سے یہ پھولتے ہیں 
عجب دوگیتی میں ہیں معلق
نہ آسماں کو نہ اس زمیں کو یہ بھولتے ہیں 
سفید بادل ازل سے یونہی بھٹک رہے ہیں 
سنا رہے ہیں عجیب قصے 
عظیم کہنہ عمارتوں میں 
قدیم روحوں کا اک جہاں تھا
بس ایک سیال روشنی تھی
بس ایک منظر دھواں دھواں تھا
رکا ہوا سا کئی زمانوں کا کارواں تھا
سفید بادل سیاہ دھبوں میں ڈھل رہے ہیں 
افق پہ سوچوں کے کتنے طوفاں مچل رہے ہیں 
زمیں کے اوپر، زمیں کے نیچے 
ہزارہا روگ پل رہے ہیں 
سفید بادل دلوں کے اندر اتر رہے ہیں 
رگوں میں بہتے پلازما میں اچھل رہے ہیں 
٭٭٭



سفر مجھ کو صدائیں دے رہا ہے 

مجھے اذن سفر دے مہرباں عورت
میں عمروں کا تھکا ہارا مسافر ہوں ۔
تری چھتنار چھاؤں میں 
چلا آیا ہوں پل بھر کے لئے 
اگلا سفر مجھ کو صدائیں دے رہا ہے 
راستے پھر سے مجھے آواز دیتے ہیں 
مجھے اپنے دکھوں کی بے کرانی سے 
نجات کرب کا اک پل۔۔
فقط اک پل عنایت کر
میں اپنی عمر کی ساری اداسی
ڈھیر کر دوں گا ترے شفاف قدموں میں 
مجھے اپنی محبت کے سمندر سے 
فقط دوچار اشکوں کی رطوبت دے 
کہیں سے ٹوٹ کر بکھری ہوئی
اپنی کہانی میں 
مجھے اک لفظ لکھنے کی سعادت دے 
مجھے وہ خواب چننے کی اجازت دے 
جو بن دیکھے 
تری آنکھوں میں بکھرے ہیں 
میں اپنا جسم اوڑھے کب سے بیٹھا ہوں 
مجھے پہچان، مجھ کو آشنائی دے 
مجھے قید بدن سے اب رہائی دے 
مجھے لمبی جدائی دے 
مجھے اس ہجر لمحے کی بشارت دے 
جو ملتا ہے ابد کے اس کنارے سے 
کسی روشن ستارے سے 
زمینی خواہشوں سے ماورا کر دے 
مجھے اپنے دکھوں کی انتہا کر دے 
مرے اگلے سفر کی ابتدا کر دے 
مجھے زاد سفر دے کر
خود اپنے ہاتھ سے رخصت بھی کر
انجان دیسوں کی طرف
ان منزلوں کی سمت
جن سے راستے کترا کے چلتے ہیں 
مجھے جلدی ہے، جانا ہے 
ترے ہر درد کا تریاق لانا ہے 
فشار وقت سے پہلے 
مجھے واپس بھی آنا ہے 
سفر آغاز کرنے دے مجھے اے مہرباں عورت
٭٭٭


فریم میں قید منظر

بند دروازے
دریچے نیم وا
لڑکھڑاتی ڈولتی اندھی ہوا
دائرہ در دائرہ مڑتی سڑک
گہرے تجسس کی دھنک
تا کراں۔۔۔۔۔آنکھوں میں نیلی دستکوں کی کہکشاں
رنگوں کی بارش میں سلگتے، بھیگتے چوبی مکاں
بادلوں کے سائباں
فاصلوں کے بادباں
پیش منظر
میں۔۔۔۔۔۔۔ مرے قدموں تلے دلدل زمیں
سر پہ پتھر آسماں
اور پس منظر میں پھیلی
سرمئی تنہائیاں!!
٭٭٭




دیوار قہقہہ

دیکھو دیکھو
اوپر سے نیچے تک دیکھو
آگے سے پیچھے تک دیکھو
جنگل اور پہاڑ سے لے کر
گھر کے باغیچے تک دیکھو
چڑیا، باز، ہما اور ققنس
ہر پنچھی کی بینائی سے
حد فلک کی پہنائی سے
اڑتے غالیچے تک دیکھو
شہروں میں، دیہات میں دیکھو
دن میں دیکھو، رات میں دیکھو
رستوں کے اطراف میں دیکھو
گدلے میں، شفاف میں دیکھو
اندر دیکھو، باہر دیکھو
پوشیدہ یا ظاہر دیکھو
دنیا کی اوقات میں دیکھو
اپنی اپنی ذات میں دیکھو
دیکھو دیکھو
اس نادید کو ہر سو دیکھو
کچھ بھی نظر نہ آئے جب تو
اک تجرید کو ہر سو دیکھو
اور دیکھتے دیکھتے خوب ہنسو!!!




دیکھ سکتے ہو تو دیکھو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔


دیکھ سکتے ہو تو دیکھو غور سے
ویرانیاں تاریخ کی ۔۔۔۔۔۔۔
مقدونیہ کی سمت جاتے راستوں پر دھول اڑتی ہے
مقدر کے سکندر جا چکے ہیں
قونیہ کی میخ کے چاروں طرف کنڈل بنائے
گھومتے قدموں کی چاپیں
اب کسی بے وقت لمحے کی صدائے جاں گزا ہیں
اب کسی درویش کی ایڑی میں دم باقی نہیں
روشن لکیریں بجھ چکی ہیں
محو ہوتے جا رہے ہیں
رقص کے سب سلسلے
بغداد پر چیلیں جھپٹتی ہیں
دمشقی دھات کے
پھل دار ہتھیاروں کی دھاریں کند ہیں ۔۔۔۔۔۔۔
 
دیکھ سکتے ہو تو دیکھو
اب تمھارے خواب کی گہرائیوں میں
دل دھڑکنے کے بجائے
بس بھری آنکھوں کے جنگل پھیلتے جاتے ہیں
کورنتھی ستونوں سے بنی کہنہ عمارت میں
نئی دنیا کے دھاری دار سانپوں کا بسیرا ہے
طلسمی غار میں
خفیہ خزانے کے پرانے آہنی صندوقچوں میں
سرخ سکوں کی جگہ ڈالر بھرے ہیں
دیکھ سکتے ہو تو دیکھو ۔۔۔۔۔۔۔۔


مرگ آساں


مجھے تم بلاؤ
تو میں تم سے ملنے بھی آؤں
تھکن کا لبادہ اتاروں
تمہیں جی بھر کے دیکھوں
بڑے خوبصورت سے لفظوں میں، رنگوں میں ڈھالوں، سنواروں
مناظر میں آنکھیں گھماؤں، ہوا کو پکاروں، افق در افق بادلوں کو صدا دوں
کہ تم کو نیا کوئی ملبوس پہنائیں
روز ازل سے ملی سرد سنگین عریانیوں کو چھپائیں
 
یہی زندگی ہے
جسے ہم زمانے کی اتھلی تہوں میں
بہت گہرا کر کے سدا بھوگتے ہیں
سدا روگتے ہیں
اگر ہم اسے بھی کسی یار دلدار کے آگے ہاریں
بہت سادگی سے زمیں پر گزاریں
کسی آسماں کو نہ سر میں جگہ دیں، نہ اتنا ابھاریں
تو کتنی بھلی، خوب رو سی لگے
زندگی سے بھری زندگی
سرسری زندگی
 
ایک دیکھے نہ دیکھے ہوئے خواب کہنہ سے باہر  
قدیمی حقیقت کے پتھ پر
کبھی تم بلاؤ تو میں لان کے سارے پھولوں کو اس کی خبر دوں
گھنی سبز بیلوں کے اندر چھپے
خشک پتوں کو یکبارگی گدگدا کر ہلاؤں، گراؤں
جنہیں خود لگایا تھا، جن پر ابھی بور آیا تھا
ان سارے پودوں کو اک غم زدہ سی مسرت سے دیکھوں
ہری گھاس کو چوم لوں، اوس میں آنسوؤں کو ملاؤں
نباتاتی معصوم کیڑوں مکوڑوں کو چھیڑوں
ذرا دیر کھیلوں
 
پرندوں کو دانہ کھلاتے بتاؤں
کہ میں جا رہا ہوں
اسے دیکھنے، چپ چپاتے، بتائے بنا دوستوں کو
جسے دیکھنے کی تمنا میں
اس زندگی کو گزارا
کبھی بے وفا نے بلایا نہ پوچھا
مگر اب، سنو، عین جینے کی رت میں  
کسی جان لیوا، اجل خیز ساعت کی آواز آنے لگی ہے
 مجھے روکنا مت
مری اصلی محبوبہ مجھ کو بلانے لگی ہے
جسے سوچتے سوچتے عمر پایاں لگا دی
وہ دیکھو، مجھے خود گلے سے لگانے لگی ہے
٭٭٭

گدھے پر سواری کا اپنا مزہ ہے

گدھے پر سواری کا اپنا مزہ ہے
نہ گر شہسواری کے، میدان ماری کے
آنے ضروری
نہ کاٹھی، لگامیں نہ کسنے کی حاجت
نہ چرمی کھڑاؤں، نہ چوپاؤں کے نیچے لوہے کے حلقے
نہ اسپیڈ اتنی کہ گرنے کا خطرہ
نہ قربت فلک کی
نہ مٹی سے دوری
سر راہ، کھیتوں میں، گلیوں میں
ہر سمت جانے کی آزادگی، گھاس خوری
نہ منزل کی جلدی، نہ رکنے کی عجلت
نہ شرقی نہ غربی
نہ اسپ فرنگی نہ عربی
مگر چال دلکی
عجب شان درویشی، پیغمبرانہ صبوری
مسیحی، زبوری
نہ شہزادگی کی تمنا نہ شہزادیوں کی محبت، رقابت
نہ ملکہ کی وصلت نہ ڈر بادشہ کا
کنیزوں غلاموں کی سازش
نہ جلاد شاہی کی تلوار سر پر
نہ گردن زنی، نیزہ بازی نہ پولو
نہ دربار و سرکار کی جی حضوری ۔۔۔۔۔۔۔
فلاطونی دانش نری خر دماغی ہے
انسانی فطرت ہمیشہ سے باغی ہے
خرکار صدیوں کی حکمت قدیمی
نمک اور کاٹن کا بزنس پرانا
بڑوں، بوڑھوں، بچوں کو ازبر کہانی
مگر ندی نالوں میں آب رواں کی کمی ہے
نئی مارکیٹوں میں پانی کا دھندا نیا ہے
بنفشے کا سیرپ نہ شربت بزوری ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
علی بابا چالیس چوروں کے قصے میں
دینار و درہم کے انبار
ہیرے جواہر کے مٹکے
بجز ایک خروار کچھ بھی نہیں ہے
زر و مال کی خیرگی، دیدہ کوری
وہ یک چشم دجال آئے نہ آئے
ہے قرب قیامت کی ہر شرط پوری
صدا ڈھینچوں ڈھینچوں کی مسحور کن ہے
ازل سے ابد تک نمایاں یہی ایک دھن ہے
بظاہر سبک رو زمانے کی رفتار نوری
نہ دم آدمی کی نہ خرطوم، 
بندر نہ بوزہ
نہیں کچھ مکمل یہاں پر
ہر اک شے ہے آدھی ادھوری
سراسر عبوری
فقط اک تمسخر کی طفلانہ خواہش
خود اپنے تماشے کی لذت بھری بے نیازی، 
شرارت بھری ناصبوری
گدھے پر سواری کا اپنا مزہ ہے
مرے یار احمق فتوری!!
٭٭٭


ابھی اک خواب باقی ہے


ابھی جگنو نہیں روٹھے
ابھی آنسو نہیں ٹوٹے
ابھی سورج نہیں جاگا
ابھی تارے نہیں ڈوبے
ابھی مہتاب باقی ہے
ابھی اک خواب باقی ہے
 
ابھی منزل نہیں آئی
ابھی رستہ نہیں ٹھہرا
ابھی جنگل نہیں گزرا
ابھی دریا نہیں اترا
ابھی گرداب باقی ہے
ابھی اک خواب باقی ہے
 
ابھی طوفاں نہیں ٹھہرا
ابھی آنکھوں میں جل تھل ہے
ابھی سینے میں ہلچل ہے
ابھی کھڑکی میں بارش ہے
ابھی کمرے میں بادل ہے
ابھی برفاب باقی ہے
ابھی اک خواب باقی ہے
 
ابھی قصہ ادھورا ہے
ابھی پوری کہانی ہے
ابھی سارا بڑھاپا ہے
ابھی آدھی جوانی ہے
ابھی اس پار جانا ہے
ابھی جھیلوں میں پانی ہے
ابھی رستے میں دلدل ہے
ابھی پایاب باقی ہے
ابھی اک خواب باقی ہے
ابھی اک خواب باقی ہے
٭٭٭



گلاس ہاؤس
 
 
یہاں رات آتی ہے لیکن
کوئی خواب لاتی نہیں ہے
یہاں دھوپ چڑھتی ہے لیکن
کسی کو جگاتی نہیں ہے
یہاں پھول کھلتے ہیں لیکن
ہوا گیت گاتی نہیں ہے۔
٭٭٭


اجنبی، کس خواب کی دنیا سے آئے ہو


اجنبی! کس خواب کی دنیا سے آئے ہو
تھکے لگتے ہو
آنکھوں میں کئی صدیوں کی نیندیں جاگتی ہیں
فاصلوں کی گرد پلکوں پر جمی ہے
اجنبی! کیسی مسافت سے گزر کر آ رہے ہو
کون سے دیسوں کے قصے
درد کی خاموش لے میں گا رہے ہو
دور سے نزدیک آتے جا رہے ہو
اجنبی آؤ!
کسی اگلے سفر کی رات سے پہلے
ذرا آرام کر لو
پھر سنیں گے داستاں تم سے انوکھی سرزمینوں کی
ہوا میں تیرتے رنگیں مکانوں کی، مکینوں کی
پڑاؤ اک جنم کا ہے
الاؤ تیز ہونے دو
محبت خیز ہونے دو
شناسا خواہشوں کی خوشبوئیں جلنے لگی ہیں
اجنبیت ۔۔۔۔۔۔ قربتوں کے لمس میں سرشار
گم گشتہ زمانے ڈھونڈتی ہے
زندگی دکھ درد بھی قرنوں پرانے ڈھونڈتی ہے۔
٭٭٭




ایک عورت کی خواب گاہ میں



ایک عورت کی خواب گاہ میں
روشنی اور اندھیرا
باہم آمیز ہو جاتے ہیں
 
ایک عورت کی خواب گاہ میں
ایک مرد کے سوا
سب کچھ ہوتا ہے
 
ایک عورت کی خواب گاہ میں
کھلی کھڑکی سے
بارش در آتی ہے
اور ہوا پردوں کو چھیڑتی ہے
 
ایک عورت کی خواب گاہ میں
رات بیت جاتی ہے
لیکن سورج طلوع نہیں ہوتا
اور صبح کا انتظار طویل ہو جاتا ہے۔
٭٭٭

ساحلی عورتوں کے نام

سمندر تمہارے اندر ہے
اور تمہاری آنکھیں
وہ کھڑکیاں ہیں
جہاں سے تم نظارہ کر سکتی ہو
اپنے ساحلوں کا
اور دیکھ سکتی ہو
اپنی کشتیاں
مستولوں سے لپٹے بادبان
چٹانوں سے ٹکراتی لہروں کی غضب ناکیاں
اور اتھلے پانیوں میں
دم توڑتی وہیل مچھلیاں
بے شمار آبی پرندے
اور ایک جزیرہ
سیاحوں سے بھرا ہوا ۔۔۔۔۔۔۔۔
٭٭٭

مفرور

دیکھو، میرے دل میں راستے تلاش مت کرو
تمہیں کیا معلوم
کہ میں کتنی دور سے چل کر آیا ہوں
اور ابھی کتنی دور جانا ہے
زمین چاروں طرف سے رات کے خلا میں ڈوبی ہوئی ہے
اور وہ
ایک اک ستارے میں مجھے ڈھونڈتے پھر رہے ہیں
تمہاری پناہ گاہ کی روشنی
انہیں اس طرف کھینچ لائے گی
اور مجھے کیمو فلاژ کرنے کی پاداش میں
وہ تمہاری آتما نذر آتش کر دیں گے
اور گوشت مال غنیمت کی طرح بانٹ لیں گے
میں ایک بار پھر قید دوام میں ڈال دیا جاؤں گا
دیکھو، وقت کم ہے
آنکھیں صدیوں تک خوابوں کی متحمل نہیں ہو سکتیں
جسم سرحدیں پار کرتے ہوئے
خار دار تاروں میں الجھ جاتے ہیں
اور ہاتھ تار عنکبوت کی طرح
کھڑکیوں کے شیشوں سے چپکے رہ جاتے ہیں
سنو، ہوا کے کان سرگوشیوں سے بھرے ہوئے ہیں
اور وہ آتشیں ہتھیاروں کے ساتھ
جنگلوں اور پہاڑوں کو فتح کرتے ہوئے
خشکی کے آخری سرے تک آ پہنچے ہیں
اس سے پہلے کہ سمندر بھی ان کی دسترس میں آ جائیں
مجھے نکل جانے دو
ان جزیروں کی طرف
جہاں کبھی وحشی قبائل آباد تھے
مگر اب تیل تلاش کرنے والی کمپنیوں کی رہائش گاہیں ہیں
وہاں پام کے گھنے درخت
طلوع آفتاب تک مجھے چھپائے رکھیں گے۔
٭٭٭



کئی دن سے آنکھوں میں آنسو نہیں تھے


یہاں کوئی نم دار آنکھوں سے چھن بھر بھی دیکھے
تو لگتا ہے بارش سی ہونے لگی ہے
گھنے بادلوں میں سمندر ہمکنے لگا ہے
مجھے تم بتاؤ
کہ چپ چاپ جیون کی ہر سمت بہتے ہوئے پانیوں کو
کہاں تک چھپاؤں گا میں
ان کہی داستانیں کہاں تک سناؤں گا میں
زندگی کے زمیں دوز رستوں پہ کب تک چلوں گا
ابد خیز خوابوں کو دیکھوں گا کب تک
تمہارے گھنے سبز نادیدہ باغوں کی چھاؤں میں کب تک جلوں گا
تمہاری محبت کے چہرے پہ آنکھیں نہیں ہیں
یہ صدیوں پرانے اندھیرے کے خستہ مکانوں کے پیچھے، درختوں کے نیچے
جہاں ہم ذرا دیر باتوں کے چھینٹے اڑاتے ہوئے آ گئے ہیں
یہاں چند سائے ہمارے لیے روشنی لا رہے ہیں
پرندے ہمارے لیے گا رہے ہیں
یہ لمحے جو بوڑھے زمانوں کے بچے ہیں
چھپ کر ہمیں دیکھنے آ گئے ہیں
مگر تم بتاؤ
کہ عمریں کہاں تک ہمارے لیے سانس لیتی رہیں گی
کسی دن کہیں گی
چلو اب بہت جی لیا ہے
ڈرائیور اٹھاؤ یہ سامان سارا
چلو پورٹیکو میں گاڑی کھڑی ہے
مجھے تم بتاؤ میں لفظوں کے کیپسول کھا کھا کے کب تک جیوں  گا
یہ نظموں کا سیرپ بھی کب تک پیوں گا
یہ ملبوس انفاس کامل ہی اب پھٹ چکا ہے
اسے اور کتنا سیوں گا
مجھے تم بتاؤ ۔۔۔۔۔
٭٭٭

تم تو ہم سے ملنے آئے تھے
(جاوید انور کی یاد میں)
 
تم تو ہم سے ملنے آئے تھے، جاوید انور
اور وہ نظم سنانے
جو تم نے کبھی لکھنی تھی
ارض و فضا سے دور کسی گم گشت خلا میں
ایک ستارے کی صورت
اک وقفے کی پہنائی میں
ہونے اور نہ ہونے کے بیچ کہیں
بے سار زمانوں کی تنہائی میں
 
نظم جو تم نے لکھنی تھی
کشتی اور ملاح کے دل میں
آب رواں کی جھلمل میں
دور بہت دور کہیں
اس پار کنارے کی صورت
سطروں، لفظوں کے بغیر  
رمز اشارے کی صورت
جانے کس مرگ آسا کو بتا کر بھی چھپانا تھی
نہ سنا کر بھی سنانا تھی
 
بن لکھی اور سنائی
نظم سنا کر کتنے خوش تھے
تم، جیسے ہم سب بچے ہوں
اور تمہاری نظم کا راز نہ سمجھے ہوں
کاش ہماری آنکھوں میں
کاغذ کی کشتی جیسی بھیگی اک نظم بھی تم پڑھ لیتے
ہم کو بھی معلوم تھا یارا
بن لکھی اور سنائی نظم کہاں سے آتی ہے
اور کہاں گم ہو جاتی ہے
ہم بھی اک دیہاتی رات کی عریاں ویرانی میں
چاند اور تاروں کا اصلی چہرہ دیکھ چکے ہیں
ہم بھی اس تلخ نگوڑے میلے گدلے جیون کا
اجلا بچپن دیکھ چکے ہیں
 
کاش ملے بن تم ملتے
ہم سے، 
اور دلوں کے جنگل میں ان دیکھے پھول کی صورت
دائم کھلتے
تم نا ملتے، تم سے ملنے کی بس آشا ہوتی
پھوٹ پھوٹ کے یوں نظم نہ روتی
٭٭٭ 


صلاح الدین پرویز! میں تمہیں ڈھونڈنے کہاں جاؤں گا


صلاح الدین
تمہیں جنگل کی تلاش تھی
تمہارا جنگل تو میں ڈھونڈ لوں گا
تمہارا جنگل تمہارا شاوک تھا
یہیں کہیں ہو گا
تمہارے ہی شبدوں کے بھیتر
شتابدیوں، آتماؤں اور کالبدوں کی بھیڑ میں
نرتکیوں، ناریوں کی اوٹ میں
چولیوں، ہم جولیوں کی الوتا میں منہ بسورتا  
کون و مکان کی بیضوی گولائیوں میں
کہیں پھسلتا ہوا
کسی پارک میں
خدا کا جھولا جھلاتا
ازل اور ابد کے سی سا کے دونوں طرف خود ہی بیٹھا ہوا
تخلیقی تنہائیوں میں
کھویا ہوا
رویا ہوا
یا تمہاری کسی محبوبہ کے دودھیا سینے پر سر رکھ کر
آدھا جاگا، آدھا سویا ہوا
یا تم سے کبھی نہ مل سکنے والی کسی سانولی  سلونی عورت کی
غیر مرئی کوکھ میں
بویا ہوا
روشنی کا بیج
جو ابھی اگ پڑے گا
دیکھتے ہی دیکھتے آسمان ستاروں سے ٹمٹمانے لگے گا
اور زمین لالٹینوں سے
چاروں طرف رات کا آرکسٹرا بج اٹھے گا
اندھیرے کی آواز اور بھی پراسرار، اور بھی رومان پرور ہو جائے گی
اور موسیقی تیز بارش کی طرح
ہر جماد و ذی روح کو جل تھل جل تھل کر دے گی
تمہارا جنگل، تمہارا شاوک تھا
بانسری بجاتا ہوا  
گوپیوں سے بھر جائے گا
لیکن صلاح الدین! تم کہاں ہو گے
میں تمھیں ڈھونڈنے کہاں جاؤں گا
تم اب جنگل نہیں رہے، درخت بھی نہیں رہے
کہ اپنی شاخیں
دریچوں جیسی لڑکیوں کے دلوں اور روحوں کی بالکونیوں تک پھیلا سکو
خلا بھی نہیں رہے کہ آسمان کو فل کر سکو
آتما بھی نہیں رہے کہ پرماتما کو خط لکھ سکو
سمندر بھی نہیں کہ کسی ساحل سے ٹکرانے، سوری، ملنے آ سکو
بادل بھی نہیں کہ کسی استری کی پیاسی گھاٹیوں میں اتر سکو
سایہ بھی نہیں رہے کہ کسی جسم کا روپ دھار لو
یاد ہے ایک بار میں نے کہا تھا
"نظم کے درخت کا سایہ نہیں ہوتا"
اور تم پہلی بار
بس حیرت اور خاموشی سے مجھے دیکھتے رہ گئے تھے
کیونکہ اس وقت تم 
کسی گھنی گہری نظم کی نروات چھاؤں میں تھے
ورنہ تم تو
ہر اچھی بات اور اچھی نظم کا حساب فوراً ہی برابر کر دیتے تھے
 
صلاح الدین
تم انتم یدھ میں
اتنی آسانی سے پسپا کیوں ہو گئے
جانتا ہوں تم لڑنا نہیں چاہتے تھے
پھر ہر یدھ میں ہیرو کیوں بن جاتے تھے
مجھے دیکھو، میں بھی لڑنا نہیں چاہتا
لیکن مسلسل حالت جنگ میں ہوں
اور لگاتار پسپا ہو رہا ہوں
کیونکہ میں اپنے علاوہ کسی پر حاوی نہیں ہو سکتا
لیکن تم۔۔۔۔۔۔
سمجھ گیا
تمہاری کوئی محبوبہ تم سے ناراض تھی
اور تم اس کے ہاتھ میں دل رکھے بغیر شہر پناہ سے نکل آئے تھے
تم تو جیسے برقی رتھ پر سوار تھے
کائنات کی حد پار کرتے ہوئے بھی مڑ کر نہ دیکھا
کہ رجزیہ اشعار پڑھنے والیاں کب کی خاموش ہو چکی تھیں
اتنا بھی نہ سوچا
کہ تمہاری محبوبائیں اور تمہاری نظمیں ایک دوسری ہی کی کایا کلپ ہیں
جنھیں جدا جدا کرنے کے لیے
نئی سیمیا، نئے کیموس کی ضرورت ہے
انہیں ایک ساتھ چھوڑ دینا
کہاں کی اذیت ناکی ہے
اب وہیں رکو، جہاں تک پسپا ہو چکے ہو
اس سے آگے موت تمہارا پیچھا نہیں کرے گی
رکو جب تک کہ جنگ ختم نہ ہو جائے
لیکن یار، جنگیں اور نظمیں ختم کہاں ہوتی ہیں
یہ تو چلتی رہتی ہیں
جب تک کہ وقت ہتھیار نہ ڈال دے
تم بھی اب رکو اور انتظار کرو
جب تک کہ تمہاری ساری محبوبائیں
اپنا اپنا انتظار نہ تج دیں
اور میں، تمہارا جنگل ڈھونڈ کر
تمہارے پاس نہ آ جاؤں
پھر ہم مل کر
وہاں چلیں گے
جہاں کوئی یدھ ہے نہ شترتا
جیت ہے نہ شکست
پسپائی ہے نہ پیش قدمی
صرف ایک ملکوتی حسن ہے، تمہارے پسندیدہ خواب کی ابدیت ہے
آسمانی آبناؤں پر بنے ہوئے نیلگوں راستے ہیں
جن پر ہم باتیں کرتے، نظمیں سنتے سناتے
جو گرز پہنے بنا، ملگجی پاؤں اٹھائے بغیر, دائمی واک پر نکل جائیں گے
٭٭٭


کہانی جو کبھی ختم نہیں ہو گی


کہانی کار
تم ایک سایہ ہو
جو کبھی نہیں ڈھلتا
ایک بادل کی طرح ہو
جو برس کر پھر بارش بن جاتا ہے
دلوں کے دروازوں پر
حزنیہ آرکسٹرا کے ساتھ بجنے والی
ایک مسلسل دستک ہو
اور آنکھوں کی کھڑکیوں میں بھرا ہوا منظر ہو
جو کبھی معدوم نہیں ہوتا
موت نے تمہیں چھوا ضرور ہے
لیکن چکھا نہیں
چکھ ہی نہیں سکتی
وہ اتنی کور ذائقہ ہے
کہ صرف جسموں کو کھاتی ہے
وہ تم جیسی خوبصورت روحوں کی چاٹ سے ناآشنا ہے
تم وہ ذائقہ ہو
جسے صرف لفظوں نے چکھا ہے
اور کاغذوں نے محسوس کیا ہے
ہم کتابی کیڑے
زندگی بھر تمہیں پڑھتے رہیں گے۔۔۔۔۔۔
٭٭٭


رات زندگی سے قدیم ہے


یہ سچ کی وہی فصل ہے
جو مٹی کی نمو سے اٹھی
اور آسمان تک پھیل گئی
تب ہم بہت دور تک چلے تھے
اور بہت دیر تک جاگتے رہے تھے
اور باتوں کے بے انت سلسلے
ہمارے درمیان بچھی مسافت سے طویل تھے
اور جب ہم نے پاؤں اٹھانا سیکھ لیا
تو ہمیں دھکیل دیا گیا
ابدیت کے بے آغاز راستوں کی طرف
اور تم نہیں جانتے تھے
کہ رات زندگی سے قدیم ہے
اور تمھاری ہری بھری شاداب فصلیں
میری روح کو غذا
اور بدن کو روشنی فراہم نہیں کر سکتیں
تم نے بارہا مجھے پکارا
اور میں خاموش رہا
کہ خاموشی میں عافیت تھی
سروں اور ہاتھوں کی فصلیں کاٹنے والے
قلم کی تراش
اور موقلم کی خراش سے نابلد ہوتے ہیں
مٹی راستہ بننے سے پہلے
رنگوں کا بلیدان مانگتی ہے
لکڑیوں کا گٹھا اٹھائے
ریوڑ ہانکتے ہوئے
دانش اپنے آپ میں تنہا ہوتی ہے
تنہا اور بے امان ۔۔۔۔۔۔۔
میں ان کھیتوں میں بارہا بویا اور کاٹا گیا ہوں
میں دھرتی کا بیج ہوں
یا کائنات کا دل، 
تمہاری آواز مجھے نمو کے سفر پر اکساتی رہے گی
اور پھر ایک دن ہم اتر جائیں گے
ان دریاؤں کے پار
جہاں راستے ہیں نہ مسافر
دھوپ ہے نہ شام
بس ایک خواب جیسی دھند ہے
اور پہاڑ جیسی رات
جس کے آخری سرے پر
(اور رات کا آخری سرا ہوتا ہی کب ہے)
ایک کچی دیوار پر پوتا ہوا وقت ہے
اور کوسوں دور
کئی راستوں کو رگیدتی ہوئی
ایک سڑک ہے
طویل اور بے نشان ۔۔۔۔۔۔
کیا ہم اپنے قدموں سے بنائے ہوئے راستوں
اور اپنے ہاتھوں سے لگائے ہوئے
درختوں کو بھول سکتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
٭٭٭

دکھ


دکھ کسی بچے کی بنائی ہوئی تصویر ہے
زندگی کے ٹریسنگ پیپر پر
دکھ کبھی سیدھی کبھی آڑی ترچھی
لکیریں بناتا ہے
کبھی مخروطی، کبھی چوکور
کبھی اسپائرل
کبھی دائروں میں پھیلتا ہوا
اپنے ہی بے انت میں گم ہو جاتا ہے
کچھ لوگ سمجھتے ہیں
کہ محبت دکھ کو جنم دیتی ہے
لیکن محبت تو وہاں سے شروع ہوتی ہے
جہاں دکھ کی انتہا
پتہ نہیں دکھ چھوٹا ہے یا محبت بڑی
میں تو اتنا جانتا ہوں
کتنا بے مایہ ہے وہ شخص
جس کے پاس ایک عورت کی محبت بھی نہ ہو
حالانکہ دکھ عورت ہے نہ محبت
دکھ تو ان دونوں کو
بیک سمے ملاتا اور جدا کرتا ہے
جس طرح وقت ازل اور ابد کو
تو کیا دکھ ایک مثلث ہے
یا دو سطروں کے بیچ
بے راس دوری کی ہمیشگی ۔۔۔۔۔۔
٭٭٭


بہت دور ایک گاؤں

بہت دور گاؤں ہے میرا
جہاں میرے بچپن کے جگنو
ابھی تک گھنے پیپلوں پر چمکتے ہیں
میری زباں سے گرے توتلے لفظ اب بھی
کئی سال سے غیر آباد گھر کی
پرانی، جھکی، آخری سانس لیتی ہوئی
سیڑھیوں پر پڑے ہیں
کہ جیسے خموشی کے سینے میں خنجر گڑے ہیں
 
بہت دور گاؤں ہے میرا
جہاں شام ہوتے ہی تاریکیاں پھیل جاتی ہیں
آٹے کی چکی کی تک تک
پرندوں کی ڈاریں
کہیں دور جاتی ہوئی
گھنٹیوں کی صدائیں
سبھی ایک خاموش لے میں بدل کر
سیہ رات کی جھیل میں ڈوبتی ہیں
 
بہت دور گاؤں ہے میرا
جہاں لالٹینوں کی مدھم لرزتی ہوئی روشنی میں
سبق یاد کرتے ہوئے
میں نے اچھے دنوں کے کئی خواب دیکھے
 
بہت دور گاؤں ہے میرا
جہاں میری پہلی محبت کی پرچھائیاں ہیں
اداسی میں ڈوبے ہوئے راستے
کھیت، اسکول، جوہڑ
درختوں کے جھرمٹ
پراسرار تنہائیاں ہیں
 
بہت دور گاؤں ہے میرا
جہاں چاند راتوں میں خاموش گلیوں سے
بوڑھے درختوں کی شاخوں سے
سوئے ہوئے آنگنوں سے گزر کر
ہوا اب بھی آتی ہے
چپکے سے مجھ کو بلاتی ہے
لیکن نہ پا کر مجھے لوٹ جاتی ہے
عادت ہوا کی ابھی تک وہی ہے
کہ فطرت ہوا کی ابھی تک وہی ہے
مگر زندگی نے مجھے روند ڈالا ہے
شہروں کی بے راستہ بھیڑ میں۔۔۔۔۔۔۔۔
٭٭٭


محبت جب بھی ہوتی ہے

محبت جب بھی ہوتی ہے
ستارہ وار ہوتی ہے
بساط وقت سے باہر
ابد کے پار ہوتی ہے
محبت جب بھی ہنستی ہے
کہیں بجلی چمکتی ہے
کہیں بادل برستے ہیں
ہوا نظمیں سناتی ہے
زمیں پر پھول کھلتے ہیں
پرندے لوٹ آتے ہیں
محبت جب بھی روتی ہے
سمندر پھیل جاتے ہیں
کنارے ڈوب جاتے ہیں
محبت جب بھی سوتی ہے
کسی عورت کے بستر میں
بڑی گہری گھنی نیندیں
بدن پر اوڑھ لیتی ہے
محبت جب بھی مرتی ہے
ابد کی موت مرتی ہے ۔۔۔۔۔۔
٭٭٭


ماخذ:
http://www.facebook.com/profile.php?id=100001544169182&sk=notes
تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید
