﻿



جسم و جاں کے تمام رشتے 


عبید اللہ علیم





کوائف

تاریخ پیدائش 12جون 1939
بھوپال انڈیا

تعلیم گورنمنٹ ہائی اسکول لیاقت آباد کراچی سے میٹرک
اردو کالج کراچی سے انٹراسلامیہ کالج سےبی اے، ایم اے اردو (کراچی یونیورسٹی )

کراچی ٹیلویژن میں پروڈیوسر کی حیثیت سے ملازمت

کتابیں

چاند چہرہ ستارہ آنکھیں

ویران سرائے کا دیا
میں جو بولا ( نثر )
یہ زندگی ہے ہماری

تاریخ وفات 1998




ایک میں بھی ہوں کُلہ داروں کے بیچ
میرؔ صاحب کے پرستاروں کے بیچ

روشنی آدھی اِدھر، آدھی اُدھر
اک دیا رکھا ہے دیواروں کے بیچ

میں اکیلی آنکھ تھا کیا دیکھتا
آئینہ خانے تھے نظاروں کے بیچ

ہے یقیں مجھ کو کہ سیارے پہ ہوں 
آدمی رہتے ہیں سیاروں کے بیچ

کھا گیا انساں کو آشوبِ معاش
آ گئے ہیں شہر بازاروں کے بیچ

میں فقیر ابنِ فقیر ابنِ فقیر
اور اسکندر ہوں سرداروں کے بیچ

اپنی ویرانی کے گوہر رولتا
رقص میں ہوں اور بازاروں کے بیچ

کوئی اس کافر کو اس لمحے سنے 
گفتگو کرتا ہے جب یاروں کے بیچ

اہلِ دل کے درمیاں تھے میرؔ تم
اب سخن ہے شعبدہ کاروں کے بیچ

آنکھ والے کو نظر آئے علیمؔ
اک محمد مصطفے ٰ ساروں کے بیچ




وحشت اُسی سے پھر بھی وہی یار دیکھنا
پاگل کو جیسے چاند کا دیدار دیکھنا

اس ہجرتی کو کام ہوا ہے کہ رات دن
بس وہ چراغ اور وہ دیوار دیکھنا

پاؤں میں گھومتی ہے زمیں آسماں تلک
اس طفلِ شیر خوار کی رفتار دیکھنا

یا رب کوئی ستارۂ امّید پھر طلوع
کیا ہو گئے زمین کے آثار دیکھنا

لگتا ہے جیسے کوئی ولی ہے ظہور میں 
اب شام کو کہیں کوئی مے خوار دیکھنا

اس وحشتی کا حال عجب ہے کہ اس طرف
جانا بھی اور جانبِ پندار دیکھنا

دیکھا تھا خواب شاعرِ مومن نے اس لیے 
تعبیر میں ملا ہمیں تلوار دیکھنا

جو دل کو ہے خبر کہیں ملتی نہیں خبر
ہر صبح اک عذاب ہے اخبار دیکھنا

میں نے سنا ہے قربِ قیامت کا ہے نشاں 
بے قامتی پہ جُبّہ و دستار دیکھنا

صدیاں گزر رہی ہیں مگر روشنی وہی
یہ سر ہے یا چراغ سرِ دار دیکھنا

اس قافلے نے دیکھ لیا کربلا کا دن
اب رہ گیا ہے شام کا بازار دیکھنا

دو چار کے سوا یہاں لکھتا غزل ہے کون
یہ کون ہیں یہ کس کے طرفدار دیکھنا


دُکھے دلوں کو سلام میرا

دُکھے ہوئے دل ہیں میرا مذہب مرا عقیدہ
دُکھے ہوئے دل
مرا حرم ہیں ،مرے کلیسا، مرے شوالے 
دُکھے ہوئے دل
چراغ میرے ،گلاب میرے 
دُکھے ہوئے دل
کہ روشنی بھی ہیں اور خوشبو بھی زندگی کی،
دُکھے ہوئے دل
کہ زندگی کا عظیم سچ ہیں 
دُکھے ہوئے دل جہاں کہیں ہیں 
دُکھے ہوئے دل مرا ہی دل ہیں 
دُکھے دلوں کو سلام میرا


باعثِ ننگ نہیں صرفِ غمِ جاں ہونا
میری قیمت ہے ترے شہر میں ارزاں ہونا

یہ اندھیرے تو سمٹ جائیں گے اک دن اے دوست
یاد آئے گا تجھے مجھ سے گریزاں ہونا

تم مجھے دیکھ کے اس درجہ پریشاں مت ہو
میرے جی کا تو بہلنا ہے پریشاں ہونا

کیسے جیتے ہیں جنھیں طاقتِ اظہار نہیں 
اپنے تو درد کا درماں ہے غزل خواں ہونا

مہرباں لوگ مرا نام جو چاہے رکھ لیں 
ان کے منہ سے تو مجھے ننگ ہے انساں ہونا

نہ رہا شکوۂ بے مہریِ ایّام کہ اب
اپنی حالت پہ مجھے آ گیا حیراں ہونا

کوئی بتلائے یہ تکمیلِ وفا ہے کہ نہیں 
اشک بن کر کسی مژگاں پہ نمایاں ہونا

اُس نے پوچھا ہے بڑے پیار سے کیسے ہو علیمؔ
اے غمِ عشق! ذرا اور فروزاں ہونا




مٹّی تھا میں خمیر ترے ناز سے اٹھا
پھر ہفت آسماں مری پرواز سے اٹھا

انسان ہو، کسی بھی صدی کا، کہیں کا ہو
یہ جب اٹھا ضمیر کی آؤاز سے اٹھا

صبحِ چمن میں ایک یہی آفتاب تھا
اس آدمی کی لاش کو اعزاز سے اٹھا

سو کرتَبوں سے لکّھا گیا ایک ایک لفظ
لیکن یہ جب اٹھا کسی اعجاز سے اٹھا

اے شہسوارِ حُسن! یہ دل ہے یہ میرا دل
یہ تیری سر زمیں ہے ، قدم ناز سے اٹھا!

میں پوچھ لوں کہ کیا ہے مرا جبر و اختیار
یا رب! یہ مسئلہ کبھی آغاز سے اٹھا

وہ ابر شبنمی تھا کہ نہلا گیا وجود
میں خواب دیکھتا ہوا الفاظ سے اٹھا

شاعر کی آنکھ کا وہ ستارہ ہوا علیم
قامت میں جو قیامتی انداز سے اٹھا




وہ زمین غالب کی لکھوں جس میں ہے تکرار دوست
میں بھی کھینچوں قامت جاناں یہ ہے اسرار دوست

دیکھ کر قد قیامت سوچ کر زلفیں دراز
اپنی ہی رفتار کے نشے میں ہے رفتار دوست

ہاتھ اٹھے ہوں دعا کو اس طرح اس کا بدن
قتل عاشق کو بہت ہے قامت تلوار دوست

ہائے وہ کاجل بھری آنکھیں وہ ان کا دیکھنا
ہائے وہ نور حیا سے آتشیں رخسار دوست

جیسے ہم آغوشیِ جاں کے زمانے ہوں قریب
ان دنوں ایسے نظر آتے ہیں کچھ آثار دوست

اک محبت سے محبت ہی جنم لیتی رہی
ہم نے اس کو یار جانا جس کو دیکھا یار دوست

روح و تن نے ہر نفس اک آنکھ چاہی تب کھلا
دیکھنا آساں ہے مشکل ہے بہت دیدار دوست

سب سخن کے جام بھرتے ہیں اسی سرکار سے 
جس پہ اب جتنا کھلے میخانۂ گفتار دوست

بس یوں ہی موجیں بھریں یہ طائران خدوخال
بس یوں ہے دیکھا کریں ہم گلشن گلزار دوست




ایسی تیز ہو ا اور ایسی رات نہیں دیکھی
لیکن ہم نے مو لا جیسی ذات نہیں دیکھی

اس کی شا ن عجیب کا منظر دیکھنے والا ہے 
اک ایسا خو رشید کہ جس نے رات نہیں دیکھی

بستر پر مو جو د رہے اور سیر ہفت افلاک
ایسی کسی پر رحمت کی بر سات نہیں دیکھی

اس کی آل وہی جو اس کے نقش قدم پر جائے 
صرف ذات کی ہم نے آل سادات نہیں دیکھی

ایک شجر ہے جسکی شاخیں پھیلتی جا تی ہیں 
کسی شجر میں ہم نے ایسی بات نہیں دیکھی

اک دریائے رحمت ہے جو بہتا جاتا ہے 
یہ شان برکات کسی کے سات نہیں دیکھی

شا ہو ں کی تاریخ بھی ہم نے دیکھی ہے لیکن
اس کے در کے گداؤں والی بات نہیں دیکھی

اس کے نا م پہ ماریں کھانا اب اعز ا ز ہما را
اور کسی کی یہ عزت اوقات نہیں دیکھی

صدیو ں کی اس دھو پ چھا ؤ ں میں کو ئی ہمیں بتلائے 
پو ری ہو تی کو نسی اس کی بات نہیں دیکھی

اہل زمیں نے کو نسا ہم پر ظلم نہیں ڈھا یا
کون سی نصرت ہم نے اس کے ہات نہیں دیکھی




ان دنوں روح کا عالم ہے عجب
جیسے جو حسن ہے میرا ہے وہ سب

جیسے اک خواب میں نکلا ہوا دن
جیسے اک وصل میں جاگی ہوئی شب

دل پہ کھلتا ہے اسی موسِم میں 
غم کسے کہتے ہیں اور کیا ہے طرب

جس سے ہو جائے جہاں ہو جائے 
ہے محبت ہی محبت کا سبب

جاں فزا ہے جو عطا کرتے رہو
بوسۂ لب کی طرح بوسۂ لب

پہلے اک ناز بھرا ربط و گریز
اس نے پھر بخش دیا سب کا سب

تم سا کیا ہو گا یہاں خواب کوئی
مجھ سا کیا ہو گا کوئی خواب طلب

کاش تعبیر میں تم ہی نکلو
جب کوئی خواب ہو تعبیر طلب

اس کے عشّاق جہاں بھی دیکھو
ایک ہی نشّے میں ڈوبے ہوئے سب

سلسلے اس سے جو مل جائیں تو ٹھیک
ورنہ جھوٹے ہیں یہ سب نام و نسب

لوگ موجود ہیں اب بھی جن کے 
منہ سے جو بات نکل جائے ادب

سایۂ زلف میں مر جاؤں علیم
کھینچ لے گر نہ مجھے سایۂ رب



دُکھے ہوئے ہیں ہمیں اور اب دُکھاؤ نہیں 
جو ہو گئے ہو فسانہ تو یاد آؤ نہیں 

خیال و خواب میں پرچھائیاں سی ناچتی ہیں 
اب اس طرح تو مری روح میں سماؤ نہیں 

زمیں کے لوگ تو کیا ‘دو دلوں کی چاہت میں 
خدا بھی ہو تو اسے درمیان لاؤ نہیں 

تمہارا سَر نہیں طِفلانِ رہ گزر کے لئیے 
دیارِسنگ میں گھر سے نکل کے جاؤ نہیں 

سوائے اپنے کسی کے بھی ہو نہیں سکتے 
ہم اور لوگ ہیں لوگو ہمیں ستاؤ نہیں 

ہمارے عہد میں یہ رسمِ عاشقی ٹھہری
فقیر بن کے رہو اور صدا لگاؤ نہیں 

وہی لکھو جو لہو کی زباں سے ملتا ہے 
سخن کو پردہِ الفاظ میں چھپاؤ نہیں 

سپرد کر ہی دیا آتشِ ہنر کے تو پھر
تمام خاک ہی ہو جاؤ کچھ بچاؤ نہیں 



دعا دعا وہ چہرہ

حیا حیا وہ آنکھیں 
صبا صبا وہ زلفیں 
چلے لہو گردش میں 
رہے آنکھ میں دل میں 
بسے مرے خوابوں میں 
جلے اکیلے پن میں 
ملے ہر اک محفل میں 
دعا دعا وہ چہرہ

کبھی کسی چلمن کے پیچھے 
کبھی درخت کے نیچے 
کبھی وہ ہاتھ پکڑتے 
کبھی ہوا سے ڈرتے 
کبھی وہ بارش اندر
کبھی وہ موج سمندر
کبھی وہ سورج ڈھلتے 
کبھی وہ چاند نکلتے 
کبھی خیال کی رو میں 
کبھی چراغ کی لو میں 
دعا دعا وہ چہرہ

کبھی بال سکھائے آنگن میں 
کبھی مانگ نکالے درپن میں 
کبھی چلے پون کے پاؤں میں 
کبھی ہنسے دھوپ میں چھاؤں میں 
کبھی پاگل پاگل نینوں میں 
کبھی چھاگل چھاگل سینوں میں 
کبھی پھولوں پھول وہ تھالی میں 
کبھی دئیوں بھری دیوالی میں 
کبھی سجا ہوا آئینے میں 
کبھی دعا بنا وہ زینے میں 
کبھی اپنے آپ سے جنگوں میں 
کبھی جیون موج ترنگوں میں 
کبھی نغمہ نور فضاؤں میں 
کبھی مولا حضور دعاؤں میں 
کبھی رکے ہوئے کسی لمحے میں 
کبھی دکھے ہوئے کسی چہرے میں 
وہی چہرہ بولتا رہتا ہوں 
وہی آنکھیں سوچتا رہتا ہوں 
وہی زلفیں دیکھتا رہتا ہوں 
دعا دعا وہ چہرہ
حیا حیا وہ آنکھیں 
صبا صبا وہ زلفیں 




ہجر کرتے یا کوئی وصل گزارا کرتے 
ہم بہرحال بسر خواب تمھارا کرتے 

ایک ایسی بھی گھڑی عشق میں آئی تھی کہ ہم
خاک کو ہاتھ لگاتے تو ستارا کرتے 

اب تو مل جاؤ ہمیں تم کہ تمھاری خاطر
اتنی دور آ گئے دنیا سے کنارا کرتے 

محو ِ آرائش ِ رُخ ہے وہ قیامت سر ِ بام
آنکھ اگر آئینہ ہوتی تو نظارا کرتے 

ایک چہرے میں تو ممکن نہیں اتنے چہرے 
کس سے کرتے جو کوئی عشق دوبارا کرتے 

جب ہے یہ خانہ ء دل آپکی خلوت کے لئے 
پھر کوئی آئے یہاں ، کیسے گوارا کرتے 

کون رکھتا ہے اندھیرے میں دیا آنکھ میں خواب
تیری جانب ہی ترے لوگ اشارا کرتے 

ظرف ِ آئینہ کہاں اور ترا حسن کہاں 
ہم ترے چہرے سے آئینہ سنوارا کرتے 



جب لفظ کبھی ادب لکھو گے 
یہ لفظ میرا نسب لکھو گے 

لکھا تھا کبھی یہ شعر تم نے 
اب دو سرا شعر کب لکھو گے 

جتنا بھی قریب جاؤ گے تم
انسا ں کو عجب عجب لکھو گے 

ہر لمحہ یہا ں ہے ایک ہو نا
کس بات کا کیا سبب لکھو گے 

انسا ں کا ہو گا ہا تھ اس میں 
اللہ کا جو غضب لکھو گے 

جب را ت کو نیند ہی نہ آئے 
پھر رات کو کیسے شب لکھو گے 

بچے کے بھی دل سے پو چھ لینا
کیا ہے وہ جسے طرب لکھو گے 

صدیو ں میں وہ لفظ ہے تمھارا
اک لفظ جو اپنا اب لکھو گے 

میں اپنے وجود کا ہو ں شاعر
جو لفظ لکھو ں گا سب لکھو گے 



اک نظارہ ہو ں آنسو سے گہر ہو نے تک
اک تماشا ہو ں میں شعلے سے شرر ہو نے تک

تو ہے وہ رنگ کہ آنکھو ں سے نہ اوجھل ہو گا
میں ہو ں وہ خواب کہ گز رو ں گا سحر ہو نے تک

لکھتے ہیں پر یہ نہیں جانتے لکھنے والے 
نغمہ اندو ہ سماعت ہے اثر ہو نے تک

تو کہیں بھی رہے زندہ ہے لہو میں میر ے 
میں سنواروں گا تجھے خاک بسر ہونے تک

ہائے وہ شمع جو اب دور کہیں جلتی ہے 
میرے پہلو میں بھی پگھلی ہے سحر ہو نے تک



یاد

کبھی کبھی کوئی یاد
کوئی بہت پرانی یاد
دل کے دروازے پر
ایسے دستک دیتی ہے 
شام کو جیسے تارا نکلے 
صبح کو جیسے پھول
جیسے دھیرے دھیرے زمیں پر
روشنیوں کا نزول
جیسے روح کی پیاس بجھانے 
اترے کوئی رسول
جیسے روتے روتے اچانک
ہنس دے کوئی ملول
کبھی کبھی کوئی یاد کوئی بہت پرانی یاد
.دل کے دروازے پر ایسے دستک دیتی ہے 


چہرے 

کچھ چہرے ایسے ہوتے ہیں 
پل بھر کو آنکھ میں آتے ہیں 
اور برسوں دل میں رہتے ہیں 

چھاؤں چھاؤں جیسے چہرے 
سچے خوابوں جیسے چہرے 
ننھے بچوں جیسے چہرے 

چہرے موم کی گڑیوں جیسے 
اوس نہائی پریوں جیسے 
شاخ پہ بیٹھی چڑیوں جیسے 


اپنا احوال سنا کر لے جائے 
جب مجھے چاہے منا کر لے جائے 

میں نہ جاؤں جو وہاں تو مجھ کو
میری تنہائی اٹھا کر لے جائے 

وہ مجھے بھول گیا ہے شاید
یاد آ جاؤں تو آ کر لے جائے 

ہوں خفا اس سے مگر اتنا نہیں 
خود نہ جاؤں گا بلا کر لے جائے 

خالی ہاتھوں کو ملے گی خوشبو
جب ہوا چاہے چرا کر لے جائے 

در خزانے کا کہیں بند نہیں 
یہ خزانہ کوئی آ کر لے جائے 

دھوپ میں بیٹھوں تو ساتھی میرا
اپنے سائے میں اٹھا کر لے جائے 

تجھ کو بھی کوچۂ عشاقاں میں 
اپنے مولا سے دعا کر، لے جائے 

کوئی قاتل نہیں گزرا ایسا
جس کو تاریخ بچا کر لے جائے 

اک دیا ایسا بھی دیکھا میں نے 
ظلمتِ شب کو ہٹا کر لے جائے 

کون محبوب ہوا ہے ایسا
اپنے عاشق کو بُلا کر لے جائے 

پھر سے آ جائے کوئی چپکے سے 
کہیں باتوں میں لگا کر لے جائے 


اس کے ہمراہ چلا جاتا ہوں 
جو مرے دل کو دکھا کر لے جائے 

کوئی عیسیٰ مرے معبود کہ جو
تیرے مردوں کو جِلا کر لے جائے 

ایسی دیوانگی و حیرانی
آئینہ کوئی دکھا کر لے جائے 

سامنے سب کے پڑی ہے دنیا
ذات میں جو بھی سما کر لے جائے 

ایسے ملتا نہیں مٹّی کو دوام
بس خدا جس کو بنا کر لے جائے 

ہو سخنور کوئی ایسا پیدا
جو سخن میرا چرا کر لے جائے 



ہنسو تو رنگ ہوں چہرے کا، روؤ تو چشمِ نم میں ہوں 
تم مجھ کو محسوس کرو تو ہر موسم میں ہوں 

چاہا تھا جسے وہ مل بھی گیا پر خواب بھرے ہیں آنکھوں میں 
اے میرے لہو کی لہر بتا اب کون سے میں عالم میں ہوں ‌

لوگ محبت کرنے والے دیکھیں گے تصویر اپنی
ایک شعاعِ آؤارہ ہوں آئینۂ شبنم میں ہوں 

اُس لمحے تو گردش خوں نے میری یہ محسوس کیا
جیسے سر پہ زمین اٹھائے اک رقصِ پیہم میں ہوں 

یار مرا زنجیریں پہنے آیا ہے بازاروں میں ‌
میں ‌کی تماشا دیکھنے والے لوگوں کے ماتم میں ہوں ‌

جو لکھے وہ خواب مرے اب آنکھوں آنکھوں زندہ ہیں ‌
جواب تک نہیں لکھ پایا میں ، آن خوابوں ‌کے گم میں ہوں 




جو مہرباں کوئی چہرہ نظر بھی آتا ہے 
تو دل میں گزرے زمانوں کا ڈر بھی آتا ہے 

ہرے بھرے مرے خوابوں کو روندنے والو
خدائے زندہ زمیں پر اتر بھی آتا ہے 

وہ پیاس ہے کہ دعا بن گیا ہے میرا وجود
کب آئے گا جو کوئی ابرِ تر بھی آتا ہے 

کبھی جو عشق تھا اب مَکر ہو گیا میرا
سمجھ سکے نہ کوئی یہ ہنر بھی آتا ہے 

ابھی چلا بھی نہ تھا اور رک گئے پاؤں 
یہ سوچ کر کہ مرا ہمسفر بھی آتا ہے 

ملے گا اور مرے سارے زخم بھر دے گا
سنا تھا راہ میں ایسا شجر بھی آتا ہے 

یہ میرا عہد یہ میری دکھی ہوئی آؤاز
میں آ گیا جو کوئی نوحہ گر بھی آتا ہے 

کوئی چرا کے مجھے کیسے چھپ سکے کہ علیم
لہو کا رنگ مرے حرف پر بھی آتا ہے 




اِک شخص سماں بدل گیا ہے 
مٹی کا جہاں بدل گیا ہے 

بندہ وہ خُدا نہیں تھا لیکن
ہر جسم میں جاں بدل گیا ہے 

وہ آخری آدمی خُدا کا
سب لفظ و بیاں بدل گیا ہے 

پاؤں میں تھی آدمی کے کب سے 
زنجیرِ گراں بدل گیا ہے 

ہر نام و نسب کے دور میں وہ
سب نام و نشاں بدل گیا ہے 

کہتے ہیں شہید کربلا کے 
مفہومِ زیاں بدل گیا ہے 

ہر زندہ چراغ ہے اُسی کا
وہ نُور کہاں بدل گیا ہے 

پروانے کہاں یہ سُننے والے 
اب دور میاں بدل گیا ہے 

آواز یہ اُس مکاں سے آئی
وہ شخص مکاں بدل گیا ہے 

نیچے سے زمیں نِکل گئی ہے 
اُوپر سے زماں بدل گیا ہے 

کِس خلوتِ خاص میں گیا وہ
کپڑے بھی یہاں بدل گیا ہے 



اور سب زندگی پہ تہمت ہے 
زندگی آپ اپنی لذت ہے 

میرے اور میرے اس خدا کے بیچ
ہے اگر لفظ تو 'محبت' ہے 

اک سوال اور اک سوال کے بعد
انتہا حیرتوں کی حیرت ہے 

عہد شیطان کا خدا کے ساتھ
سرکشی ہے مگر عبادت ہے 

بھید جانے کوئی مگر کیسے 
یار کو یار سے جو نسبت ہے 

خواب میں ایک شکل تھی میرے 
تُو تو اُس سے بھی خوبصورت ہے 

پہلے مجھ کو تھی اور اب تیری
میری تنہائی کو ضرورت ہے 

گھٹتا بڑھتا رہا مرا سایہ
ساتھ چلنے میں کتنی زحمت ہے 

زندگی کو مری ضرورت تھی
زندگی اب مری ضرورت ہے 

لکھنے والے ہی جان سکتے ہیں 
لفظ لکھنے میں جو قیامت ہے 

تھی کبھی شاعری کمال مرا
شاعری اب مری کرامت ہے 


عجیب تھی وہ عجب طرح چاہتا تھا میں 
وہ بات کرتی تھی اور خواب دیکھتا تھا میں 

وصال کا ہوکہ اس کے فراق کا موسم
وہ لذتیں تھیں کہ اندر سے ٹوٹتا تھا میں 

چڑھا ہوا تھا وہ نشہ کے کم نہ ہوتا تھا
ہزار بار ابھرتا تھا ڈوبتا تھا میں 

بدن کا کھیل تھیں اس کی محبتیں لیکن
جو بھید جسم کا تھا جاں سے کھولتا تھا میں 

پھر اس طرح کبھی سویا نہ اس طرح جاگا
کہ نیند روح میں تھی اور جاگتا تھا میں 

کہاں شکست ہوئی اور کہاں صلہ پایا
کسی کا عشق کسی سے نباہتا تھا میں 





اب تو یوں خانۂ تنہائی میں محبُوب آئے 
جیسے مجذوب کے گھر دوسرا مجذوب آئے 

اس سے کہنے کو گئے تھے کہ محبت ہے بہت
اس کو دیکھا تو شکستہ دل و محجوب آئے 

آگے کیا ہو یہ سخن آج تو یوں ہے جیسے 
اپنے نام اپنا ہی لکھا ہوا مکتوب آئے 

ایک دربار کی تصویر میں کچھ اہل قلم
وقت کی آنکھ نے دیکھا کے بہت خوب آئے 

دکھ سے پھر جاگ اٹھی آنکھ ستارے کی طرح
اور سب خواب ترے نام سے منسوب آئے 

ہم نے دل نذر کیا اہل محبت کے حضور
ان نے قامت یہ بڑھایا ہے کے مصلوب آئے 

میں تری خاک سے لپٹا ہوا اے عرض وطن
ان ہی عشاق میں شامل ہوں جو معتوب آئے 




آئیڈیل

میری آنکھوں میں کوئی چہرہ، چراغِ آرزو
وہ مرا آئینہ جس سے خود جھلک جاؤں کبھی
ایسا موسم، جیسے مے پی کر چھلک جاؤں کبھی
یا کوئی ہے خواب
جو دیکھا تھا لیکن پھر مجھے 
یاد کرنے پر بھی یاد آیا نہ تھا
دل یہ کہتا ہے وہی ہو بہو
اور سامنے پایا نہ تھا
گفتگو اس سے ہے اور ہے روبرو
خواب ہو جائے نہ لیکن گفگو
میری آنکھوں میں کوئی چہرہ، چراغِ آرزو


صاحب مہر وفا ارض و سما کیوں چپ ہے
ہم پہ تو وقت کے پہرے ہیں خدا کیوں چپ ہے

بے سبب غم میں سلگنا مری عادت ہی سہی
ساز خاموش ہے کیوں شعلہ نوا کیوں چپ ہے

پھول تو سہم گئے دست کرم سے دمِ صبح
گنگناتی ہوئی آوارہ صبا کیوں چپ ہے

ختم ہو گا نہ کبھی سلسلہ اہل وفا
سوچ اسے داورِ مقتل یہ فضا کیوں چپ ہے 

مجھ پہ طاری ہے رہ ِ عشق کی آسودہ تھکن
تجھ پہ کیا گزری مرے چاند بتا کیوں چپ ہے 

جاننے والے تو سب جان گئے ہوں گے علیم
ایک مدت سے ترا ذہن رسا کیوں چپ ہے 


ملتا جُلتا تھا حال میر کے ساتھ
میں بھی زندہ رہا ضمیر کے ساتھ

ایک نمرود کی خدائی میں 
زندگی تھی عجب فقیر کے ساتھ

آنکھ مظلوم کی خدا کی طرف
ظلم اک ظلمتِ کثیر کے ساتھ

جرم ہے اب مری محبت بھی
اپنے اس قادر و قدیر کے ساتھ

اس نے تنہا کبھی نہیں چھوڑا
وہ بھی زنداں میں ہے اسیر کے ساتھ

کس میں طاقت وفا کرے ایسی
اپنے بھیجے ہوئے سفیر کے ساتھ

سلسلہ وار ہے وہی چہرہ
عالم اصغر و کبیر کے ساتھ

آنے والا ہے اب حساب کا دن
ہونے والا ہے کچھ شریر کے ساتھ

تیرے پیچھے ہے جو قضا کی طرح
کب تلک جنگ ایسے تیر کے ساتھ

شب دعاؤں میں تر بتر میری
صبح اک خوابِ دل پذیر کے ساتھ

اہلِ دل کیوں نہ مانتے آخر
حرف روشن تھا اس حقیر کے ساتھ


چہرہ ہوا میں اور میری تصویر ہوئے سب
میں لفظ ہوا مجھ میں ہی زنجیر ہوئے سب

بُنیاد بھی میری درو دیوار بھی میرے 
تعمیر ہوا میں کہ یہ تعمیر ہوئے سب

بتلاؤ تو یہ آب و ہوا آئی کہاں سے 
کہنے کو تو تم لہجہ و تاثیر ہوئے سب

ویسے ہی لکھو گے تو میرا نام ہی ہو گا
جو لفظ لکھے وہ میری جاگیر ہوئے سب

مرتے ہیں مگر موت سے پہلے نہیں مرتے 
یہ واقعہ ایسا ہے کہ دلگیر ہوئے سب

وہ اہلِ قلم سائیہ رحمت کی طرح تھے 
ہم اتنے گھٹے اپنی ہی تعزیر ہوئے سب

اُس لفظ کے مانند جو کُھلتا ہی چلا جائے 
یہ ذات و زماں مجھ سے ہی تحریر ہوئے سب



دُکھ

رائیگاں جانے کا دُکھ
ہر نیا لمحہ گئے لمحے کا دُکھ
جو گزشتہ ہے وہ آئندہ نہیں 
اور آئندہ کبھی پایا نہیں 
کچھ اگر پایا فقط تو رائیگاں جانے کا دُکھ




آئینہ

میں آئینہ ہوں 
اور ہر آنے والے کو وُہی چہرہ دکھاتا ہوں 
جو میرے سامنے لائے 
مگر اب تھک گیا ہوں 
چاہتا ہوں 
کوئی مجھ کو اس طرح دیکھے 
چُور ہو جاؤں 


وہ رات بے پناہ تھی اور میں غریب تھا
وہ جس نے یہ چراغ جلایا عجیب تھا

وہ روشنی کہ آنکھ اُٹھائی نہیں گئی
کل مجھ سے میرا چاند بہت ہی قریب تھا

دیکھا مجھے تو طبع رواں ہو گئی میری
وہ مُسکرا دیا تو میں شاعر ادیب تھا

رکھتا نہ کیوں میں رُوح و بدن اُس کے سامنے 
وہ یُوں بھی تھا طبیب وہ یُوں بھی طبیب تھا

ہر سلسلہ تھا اُس کا خُدا سے ملا ہوا
چُپ ہو کہ لب کُشا ہوا بلا کا خطیب تھا

موجِ نشاط و سیلِ غمِ جاں تھے ایک ساتھ
گلشن میں نغمہ سنج عجب عندلیب تھا

میں بھی رہا ہوں خلوتِ جاناں میں ایک شام
یہ خواب ہے یا واقعی میں خوش نصیب تھا

حرفِ دُعا و دستِ سخاوت کے باب میں 
خود میرا تجربہ ہے وہ بے حد نجیب تھا

دیکھا ہے اُس خلوت و جلوت میں بار ہا
وہ آدمی بہت ہی عجیب و غریب تھا

لکّھو تمام عمر مگر پھر بھی تم علیم
اُس کو دِکھا نہ پاؤ وہ ایسا حبیب تھا



چاند جب دیکھا سمندر کے کنارے ہم نے 
اور پھیلا دئیے کچھ اپنے کنارے ہم نے 

اِک عجب شور مچاتی ہوئی تنہائی کے ساتھ
خود میں دُہرائے سمندر کے اشارے ہم نے 

اتنے شفّاف کہ تھے رُوح و بدن آئینہ
اصل کے اصل میں دیکھے تھے نظارے ہم نے 

رات کیا ٹُوٹ کے آئی تھی کہ اُس دامن سے 
جھولیوں بھرلیے آنکھوں میں ستارے ہم نے 

لَوٹ آنے سے ڈریں اور نہ لوٹیں تو دُکھیں 
وہ زمانے جو تیرے ساتھ گُزارے ہم نے 

کُھلتا جاتا ہے کہ یہ جلوہ گری کِس کی ہے 
آئینے سامنے رکھے ہیں ہمارے ہم نے 



اب تو اس طرح مری آنکھوں میں خواب آتے ہیں 
جس طرح آئینے چہروں کو ترس جاتے ہیں 

احتیاط اہل محبت کہ اسی شہر میں لوگ
گل بدست آتے ہیں اور پایہ رسن جاتے ہیں 

جیسے تجدید تعلق کی بھی رُت ہو کوئی
زخم بھرتے ہیں تو احباب بھی آ جاتے ہیں 

ساقیا ! تو نے تو میخانے کا یہ حال کیا
بادہ کش محتسب شہر کے گن گاتے ہیں 

طعنۂ نشہ نہ دو سب کو کہ کچھ سوختہ جاں 
شدتِ تشنہ لبی سے بھی بہک جاتے ہیں 

ہر کڑی رات کے بعد ایسی قیامت گزری
صبح کا ذکر بھی آئے تو لرز جاتے ہیں 


جو اُس نے کیا اُسے صلہ دے 
مولا مجھے صبر کی جزا دے 

یا میرے دیے کی لو بڑھا دے 
یا رات کو صُبح سے ملا دے 

سچ ہوں تو مجھے امر بنا دے 
جھوٹا ہوں تو نقش سب مٹا دے 

یہ قوم عجیب ہو گئی ہے 
اس قوم کو خوئے انبیا دے 

اُترے گا نہ کوئی آسماں سے 
اک آس میں دل مگر صدا دے 

بچوں کی طرح یہ لفظ میرے 
معبود، انھیں بولنا سکھا دے 

اک میرا وجود سُن رہا ہے 
الہام جو رات کی ہوا دے 

مجھ سے مرا کوئی ملنے والا
بچھڑا تو نہیں مگر ملا دے 

چہرہ مجھے اپنا دیکھنے کو
اب دستِ ہوس میں آئینہ دے 

جس شخص نے عمرِ ہجر کاٹی
اس شخص کو ایک رات کیا دے 

دُکھتا ہے بدن کہ پھر ملے وہ
مل جائے تو روح کو دُکھا دے 

کیا چیز ہے خواہشِ بدن بھی
ہر بار نیا ہی ذائقہ دے 

چھونے میں یہ ڈر کہ مر نہ جاؤں 
چھو لوں تو وہ زندگی سِوا دے 



ہم دیوانوں کی قسمت میں لکھے ہیں یاں قہر بہت
کوچہ کوچہ سنگ بہت اور زنداں زنداں زہر بہت

جب تک ہم مانوس نہیں تھے درد کی ماری دنیا سے 
عارض عارض رنگ بہت تھے آنکھوں آنکھوں سحر بہت

ہم تو جہاں والوں کی خاطر جان سے گزرے جاتے ہیں 
پھر ستم کیا ہے کہ ہمیں پر تنگ ہوا ہے دہر بہت

اپنے دیس کے لوگوں کا کچھ حال عجب ہی دیکھا ہے 
سوئیں تو طوفان بھی کم اور جاگ اٹھیں تو لہر بہت

رات آئی تو گھر گھر وحشی سایوں کی تقسیم ہوئی
دن نکلا تو جبر کی دھوپ میں جلتا ہے یہ شہر بہت

ساری عمر تماشا ٹھہری ہجر و وصال کی راہوں کا
جس سے ہم نے پیار کیا وہ نکلا ہے بے مہر بہت


چہرے 

کچھ چہرے ایسے ہوتے ہیں 
پل بھر کو آنکھ میں آتے ہیں 
اور برسوں دل میں رہتے ہیں 

چھاؤں چھاؤں جیسے چہرے 
سچے خوابوں جیسے چہرے 
ننھے بچوں جیسے چہرے 

چہرے موم کی گڑیوں جیسے 
اوس نہائی پریوں جیسے 
شاخ پہ بیٹھی چڑیوں جیسے 




قید ہی شر ط ہے اگر یہ بھی مر ی سز ا کرو
وصل کی قید دو مجھے ہجر سے اب رہا کر و

بات کسی سے بھی کرو بات کسی کی بھی سنو
بیٹھ کے کاغذوں پہ تم نام وہی لکھا کر و

یار ہما را ایلیا ہم سے اٹھا لیا گیا
بیٹھے اب اپنی ذات میں ایلیا ایلیا کر و



دوستو ،خون شہیداں کا اثر تو دیکھو
کاسہ سر لیے آئ ہے سحر تو دیکھو

درد کی دولت کمیاب میرے پاس بہت
ظرف کی داد تو دو میرا جگر تو دیکھو

منزل شوق گریزاں ہے گریزاں ہی سہی
راہ گم گشتہ مسافر کا سفر تو دیکھو

اور چاند کا دشت بھی آباد کبھی کر لینا
پہلے دنیا کے یہ اجڑے ہوۓ گھر تو دیکھو

فخر ہم پیشہ گہ دیدہ وراں جانے دو
داغ ہم پیشہ گہ ننگ ہنر تو دیکھو



ہر آؤاز زمستانی ہے ، ہر جذبہ زندانی ہے 
کوچۂ یار سے دار و رسَن تک ایک سی ہی ویرانی ہے 

کتنے کوہِ گراں کاٹے تب صبحِ طرب کی دید ہوئی
اور یہ صبحِ طرب بھی یارو کہتے ہیں بیگانی ہے 

جتنے آگ کے دریا ہیں سب پار ہمیں کو کرنا ہیں 
دنیا کس کے ساتھ آئی ہے ، دنیا تو دیوانی ہے 

لمحہ لمحہ خواب دکھائے اور سو سو تعبیر کرے 
لذّت کم آزار بہت ہے جس کا نام جوانی ہے 

دل کہتا ہے وہ کچھ بھی ہو اس کی یاد جگائے رکھ
عقل یہ کہتی ہے کہ توہّم پر جینا نادانی ہے 

تیرے پیار سے پہلے کب تھا دل میں ایسا سوز و گداز
تجھ سے پیار کیا تو ہم نے اپنی قیمت جانی ہے 

آپ بھی کیسے شہر میں آ کر شاعر کہلائے ہیں علیم
درد جہاں کمیاب بہت ہے ، نغموں کی ارزانی ہے 


گزرو نہ اس طرح کہ تماشا نہیں ہوں میں 
سمجھو کہ اب ہوں اور دوبارہ نہیں ہوں میں 

اک طبع رنگ رنگ تھی سو نذرِ گُل ہوئی
اب یہ کہ ساتھ اپنے بھی رہتا نہیں ہوں میں 

ہو دیدۂ ہنر دلِ درد آشنا کی خیر!
کب لذّتِ خیال میں دریا نہیں ہوں میں 

تم نے بھی میرے ساتھ اٹھائے ہیں دکھ بہت
خوش ہوں کہ راہِ شوق میں تنہا نہیں ہوں میں 

پیچھے نہ بھاگ وقت کی اے ناشناس دھوپ
سایوں کے درمیان ہوں ، سایہ نہیں ہوں میں 

جو کچھ بھی ہوں میں اپنی ہی صورت میں ہوں علیمؔ
غالبؔ نہیں ہوں ، میرؔ و یگانہؔ نہیں ہوں میں 



جو مہرباں کوئی چہرہ نظر بھی آتا ہے 
تو دل میں گُزرے زمانوں کا ڈر بھی آتا ہے 

ہرے بھرے مرے خوابوں کو روندنے والو
خدائے زندہ زمیں پر اُتر بھی آتا ہے 

وہ پیاس ہے کہ دعا بن گیا ہے میرا وُجود
کب آئے گا جو کوئی ابرِ تر بھی آتا ہے 

کبھی جو عشق تھا اب مَکر ہو گیا میرا
سمجھ سکے نہ کوئی یہ ہُنر بھی آتا ہے 

ابھی چلا بھی نہ تھا اور رُک گئے پاؤں 
یہ سوچ کر کہ مرا ہمسفر بھی آتا ہے 

ملے گا اور مِرے سارے زخم بھر دے گا
سُنا تھا راہ میں ایسا شجر بھی آتا ہے 

یہ میرا عہد یہ میری دُکھی ہوئی آؤاز
میں آ گیا جو کوئی نوحہ گر بھی آتا ہے 

کوئی چُرا کے مجھے کیسے چھُپ سکے کہ علیمؔ
لہو کا رنگ مرے حرف پر بھی آتا ہے 



لکھنے ہیں ابھی مرثیہ ہائے دل و جاں اور
کچھ زخم مجھے اے مرے مرہم نظراں اور

اتنا ہی کہ بس نغمہ سرایانِ جہاں ہیں 
ملتا نہیں کچھ اس کے سوا اپنا نشاں اور

کھینچے ہے مری طبعِ سخن اپنی ہی جانب
اور گردشِ دوراں ہے کہ دکھلائے سماں اور

کچھ نذر ہوئے وقت کی بے رحم ہوا کے 
کچھ خواب ابھی میرے لہو میں ہیں رواں اور

ہر لحظہ میں آزادیِ جاں کا تھا طلب گار
ہر گام پڑی پاؤں میں زنجیرِ گراں اور

کس طرح سے اچھا ہو وہ بیمار کہ جس کو
دُکھ اور ہو، دیتے ہوں دوا چارہ گراں اور


جب اپنا سُر پاتال ہوا
تب وحیِ نفَس انزال ہوا

اک اصل کے خواب میں کھو جانا
یہ وصل ہوا کہ وصال ہوا

تھا دکھ اپنی پیدائش کا
جو لذت میں انزال ہوا

کن ہاتھوں کی تعمیر تھا میں 
کن قدموں سے پامال ہوا

بن عشق اسے کیونکر جانوں 
جو عشق سراپا حال ہوا

اس وقت کا کوئی انت نہیں 
یہ وقت تو ماہ و سال ہوا

وہی ایک خلش نہ ملنے کی
ہمیں ملتے دسواں سال ہوا

ہر اچھی بات پہ یاد آیا
اک شخص عجیب مثال ہوا

ہر آن تجلی ایک نئی
لکھ جانا میرا کمال ہوا

کس بات کو کیا کہتا تھا میں 
تم کیا سمجھے یہ ملال ہوا

تم کیسی باتیں کرتے ہو
اے یار صغیر ملال ہوا

کل رات سمندر لہروں پر
دیوانوں کا دھمّال ہوا

اک رانجھا شہر کراچی میں 
اک رانجھا جھنگ سیال ہوا





زمین جب بھی ہوئی کربلا ہمارے لئے 
تو آسمان سے اترا خدا ہمارے لئے 

انھیں ‌غرور کہ رکھتے ہیں طاقت و کثرت
ہمیں یہ ناز بہت ہے خدا ہمارے لئے 

تمہارے نام پہ جس آگ میں جلائے گئے 
وہ آگ پھول ہے وہ کیمیا ہمارے لئے 

بس ایک لو میں اسی کے گرد گھومتے ہیں 
جلا رکھا ہے جو اس نے دیا ہمارے لئے 

وہ جس پہ رات ستارے لئے اترتی ہے 
وہ ایک شخص دعا ہی دعا ہمارے لئے 

وہ نور نور دمکتا ہوا سا اک چہرہ
وہ آئینوں میں ‌حیاہی حیا ہمارے لئے 

درود پڑھتے ہوئے اس کی دید کو نکلیں 
تو صبح پھول بچھائے صبا ہمارے لئے 

عجب کیفیت جذب و حال رکھتی ہے 
تمہارے شہر کی آب و ہوا ہمارے لئے 

دئیے جلائے ہوئے ساتھ ساتھ رہتی ہے 
تمہاری یاد تمہاری دعا ہمارے لئے 

زمین ہے نہ زماں نیند ہے نہ بیداری
وہ چھاؤں چھاؤں سا اک سلسلہ ہمارے لئے 

سخن وروں میں کہیں ایک ہم بھی تھے لیکن
سخن کا اور ہی تھا ذائقہ ہمارے لئے ‬




ہم نے کھلنے نہ دیا بے سر و سامانی کو
کہاں لے جائیں مگر شہر کی ویرانی کو

صرف گفتار سے زخموں کا رفو چاہتے ہیں 
یہ سیاست ہے تو پھر کیا کہیں نادانی کو

کوئی تقسیم نئی کر کے چلا جاتا ہے 
جو بھی آتا ہے مرے گھر کی نگہبانی کو

اب کہاں جاؤں کہ گھر میں بھی ہوں دشمن اپنا
اور باہر مرا دشمن ہے نگہبانی کو

بے حسی وہ ہے کہ کرتا نہیں انساں محسوس
اپنی ہی روح میں ‌آئی ہوئی طغیانی کو

آج بھی اس کو فراز آج بھی عالی ہے وہی
وہی سجدہ جو کرے وقت کی سلطانی کو

آج یوسف پہ اگر وقت یہ لائے ہو تو کیا
کل تمھیں تخت بھی دو گے اسی زندانی کو

صبح کھلنے کی ہو یا شام بکھر جانے کی
ہم نے خوشبو ہی کیا اپنی پریشانی کو

و ہ بھی ہر آن نیا میری محبت بھی نئی
جلوۂ حسن کشش ہے مری حیرانی کو

کوزۂ حرف میں لایا ہوں تمھاری خاطر
روح پر اترے ہوئے ایک عجب پانی کو




پہلا شاعر میر ہوا اور اس کے بعد ہوں میں 
پہلے وہ تقدیر ہوا اور اس کے بعد ہوں میں 

ایک اکیلا میں چاہوں تو کیسے رہائی ہو
پہلے وہ زنجیر ہوا اور اس کے بعد ہوں میں 

اس کا چہرہ دیکھ رہے تھے آئینہ اور میں 
پہلے وہ تصویر ہوا اور اس کے بعد ہوں میں 

صرف انا ہی لکھواتی ہے ذات کی ہر سچائی
میں پہلے تحریر ہوا اور اس کے بعد ہوں میں 

آگے آگے بھاگنے کا ہے ایک سبب یہ بھی
پہلے پیدا تیر ہوا اور اس کے بعد ہوں میں 

حسن کو اک شمشیر بناتے میں نے عمر بِتائی
تب قامت شمشیر ہوا اور اس کے بعد ہوں میں 

سات سمندر سے گہری ہے شاعر کی گہرائی
کہتے ہیں اک میر ہوا اور اس کے بعد ہوں میں 

مجھ سے ‌آگے جانے والی میری ہی تنہائی
اس سے وہ تعمیر ہوا اور اس کے بعد ہوں میں 

بات بڑے ہی دکھ کی لیکن کتنی سچی اچھی
پہلے آیا میر ہوا اور اس کے بعد ہوں میں 

جس کا ماننے والا ہوں وہ خوب ہے جاننے والا
لیکن کیا تشہیر ہوا اور اس کے بعد ہوں میں ‬


سچ

میں بھی اک جھوٹ ہوں 
تم بھی اک جھوٹ ہو
اور سچ!
اپنے ہی درمیاں ہے 
جسے 
میں نہیں جانتا
تم نہیں جانتے ‬



تھی جو محبتوں میں نزاکت نہیں رہی
کیا عشق کیجئے کہ روایت نہیں رہی

کہتے تھے ہم کہ جی نہ سکیں گے ترے بغیر
یہ کیا ہوا کہ تجھ سے محبت نہیں رہی

رسوائیوں سے بڑھ تو گیا زندگی کا بوجھ
پر یہ ہوا کہ خود سے ندامت نہیں رہی

کھنچتی تھی جس سے حرف میں اک صورتِ خیال
وہ خواب دیکھتی ہوئی وحشت نہیں رہی

اے موسمِ حیات و زمانہ کے شکوہ سنج
کیا صبر آ گیا کہ شکایت نہیں رہی

کیا نذر دیں جو کوئی نئی آرزو کریں 
دل میں تو ٹوٹنے کی بھی ہمت نہیں رہی

جس سمت جایئے وہیں ملتے ہیں اپنے لوگ
اس کی گلی ہی کوئے ملامت نہیں رہی





جہاں بیٹھے ، صدائے غیب آئی
یہ سایہ بھی اُسی دیوار کا ہے 

وصالِ یار سے پہلے محبت
خود اپنی ذات کا اک راستا ہے 

سلامت آئینے میں ایک چہرہ
شکستہ ہو تو کتنے دیکھتا ہے 

رکھو سجدے میں سر اور بھول جاؤ
کہ وقتِ عصر ہے اور کربلا ہے 

یہ کیسے شعر تم لکھنے لگے ہو
عبید اﷲ تمہیں کیا ہو گیا ہے 



عشوہ و غمزہ و رم بھول گئے 
تیری ہر بات کو ہم بھول گئے 

لوگ دیتے ہیں جسے پیار کا نام
ایک دھوکہ تھا کہ ہم بھول گئے 

جن کو دعویٰ تھا مسیحائی کا
اپنا ہی دیدۂ نم بھول گئے 

یوں ہی الزام ہے دیوانوں پر
کب ہوئے تھے جو کرم بھول گئے 

جانے کیوں لوگ ہنسا کرتے ہیں 
جانے ہم کونسا غم بھول گئے 

اب تو جینے دو زمانے وا لو
اب تو اس زُلف کے خَم بھول گئے 

زندگی نے جو سکھایا تھا علیم
زندگی کے لئے ہم بھول گئے ‬



محبت بھی کچھ ایسی

مجھے خود سے محبت ہے 
محبت بھی کچھ ایسی
جو کسی صحرا کو بارش سے 
کہ بارش جس قدر بھی ٹوٹ کر برسے 
ذرا پل بھر کو پیاسی ریت کے لب بھیگ جاتے ہیں 
مگر بس اک ذرا پل بھر
مجھے خود سے محبت ہے 
محبت بھی کچھ ایسی
جو پرندو ں کو فضاؤں سے گلوں کو خوشبوؤں سے 
منظروں کو لہلہاتے موسموں سے 
جس میں چھونے ، جذب رکھنے اور گلے مل کے ہمیشہ مسکرانے کے 
لیے چاہتوں اور خواہشوں کی سب حدوں کو پار کر جائے 
مجھے خود سے محبت ہے مگر
اتنی جتنی میرے سودائی کو مجھ سے 
وہ اپنے رات اور دن، دھوپ چھاؤں ، ساحلوں ، دریا کناروں کو
فقط اک میرے نقطے میں سمیٹے 
اور میری چاہتوں میں 
آنکھ سے دل، روح سے وجدان کی ہر کیفیت میں ڈوبتا، روتا، ابھرتا
مسکراتا ذات اور معروض کے سارے حوالوں سے کبھی کا کٹ چکا ہے 
اور مجھے اس سے محبت ہے 
محبت بھی کچھ ایسی
جو کسی صحرا کو بارش سے ‬
اے خامہ سیلِ خواب میں چل آپ کے لیے 



ہر شعر ماورائے سخن ہو کچھ اس طرح
اے دل تو لفظ لفظ میں ڈھل آپ کے لیے 

اپنے معاملے میں حساب اسکا اور ہے 
سو بار اے زباں سنبھل آپ کے لیے 

مرتا ہوں آرزو میں کہ اے کاش لکھ سکوں 
جیسے ہیں آپ ایسی غزل آپ کے لیے 

مانگے ہے جیسے سجدوں میں دل آج آپ کو
تڑپے سوا یہ آج سے کل آپ کے لیے 

اس ظرف کائنات پہ کتنے کھلیں گے آپ
جب اس کا ایک دور ہو پل آپ کے لیے 

اس دشتِ بے اماں سے نکل آپ کے لیے 
اے روح کائنات بدل آپ کے لیے .....


محبت

میں جسم و جاں کے تمام رشتوں سے چاہتا ہوں
نہیں سمجھتا ایسا کیوں ہے
نہ خال و خد کا جمال اُس میں ، نہ زندگی کا کمال کوئی
جو کوئی اُس میں ہنر بھی ہو گا
تو مجھ کو اُس کی خبر نہیں
نہ جانے پھر کیوں
میں وقت کے دائروں سے باہر کسی تصور میں اڑ رہا ہوں
خیال میں ، خواب و خلوت ِ ذات و جلوت ِ بزم میں شب و روز
مرا لہو اپنی گردشوں میں اُسی کی تسبیح پڑھ رہا ہے
جو میری چاہت سے بے خبر ہے

کبھی کبھی وہ نظر چرا کر قریب سے میرے یوں بھی گزرا
کہ جیسے وہ باخبر ہے
میری محبتوں سے
دل و نظر کی حکایتیں سن رکھی ہیں اُس نے
مری ہی صورت
وہ وقت کے دائروں سے باہر کسی کے تصور میں اڑ رہا ہے
خیال میں خواب و خلوت ِ ذات و جلوت ِ بزم میں شب و روز
وہ جسم و جاں کے تمام رشتوں سے چاہتا ہے
مگر نہیں جانتا یہ وہ بھی
کہ ایسا کیوں ہے
میں سوچتا ہوں، وہ سوچتا ہے
کبھی ملے ہم تو آئینوں کے تمام باطن عیاں کریں گے
حقیقتو ں کا سفر کریں گے


دل گزارو کہ جاں نثار کرو
دور صدیوں کا یہ غبار کرو

کوئی مذہب نہیں ہے خوشبو کا
عام یہ مژدہ بہار کرو

زنگی ایک بار ملتی ہے
دوستو زندگی سے پیار کرو

زلف کی چھاؤں ہو کہ دار کی دھوپ
زندگی ہو جہاں قرار کرو

جو ابھی قرض ہیں دل و جاں پر
ان شکستوں کا بھی شمار کرو

رات کہتی ہے سو رہو چپ چاپ
دل یہ کہتا ہے انتظار کرو

اور کیا ہے تمہارے پاس
تحفۂ شعر نذر ِ یار کرو


پا بہ زنجیر سہی زمزمہ خواں ہیں ہم لوگ
محفل ِ وقت تری روحِ رواں ہیں ہم لوگ

دوش پر بار شب ِ غم لیے گل کی مانند
کون سمجھے کہ محبت کی زباں ہیں ہم لوگ

خوب پایا ہے صلہ تیری پر ستاری کا
دیکھ اے صبح ِ طرب آج کہاں ہیں ہم لوگ

اک متاع ِ دل و جاں پاس تھی سو ہار چکے
ہائے یہ وقت کہ اب خود پہ گراں ہیں ہم لوگ

نکہت ِ گل کی طرح ناز سے چلنے والو
ہم بھی کہتے تھے کہ آسودہ جاں ہیں ہم لوگ

کوئی بتلائے کہ کیسے یہ خبر عام کریں
ڈھونڈتی ہے جسے دنیا وہ نشاں ہیں ہم لوگ

قمست شب زدگاں جاگ ہی جائے گی علیم
جرسِ قافلہ خوش خبراں ہیں ہم لوگ


ایک ایسی بھی ہوا آئے گی
جو ہر اک زخم کو بھر جائے گی

یہ کنارے سے لپیٹی ہوئی موج
کبھی طوفاں بھی اٹھا لائے گی

پھول میں ہو کہ ہوا میں خوشبو
نور ہے نور ہی برسائے گی

اور یہ عشق و ہوس کی دنیا
تشنگی کے سوا کیا پائے گی

پھول بھی شاخ سے گر جائیں گے
شاخ بھی دھوپ سے مرجھائے گی

ہے سمٹتے ہوئے سائے کی صدا
اٹھ یہ دیوار بھی گر جائے گی

کوئی احساس اگر ہے تو کہو
بات لفظوں سے نہ بن پائے گی


اب نہ اُس سمت نظر جائے گی
جیسے گزرے گی گزر جائے گی

صورت ِ زلف یہ تلوار سی رات
جیسے دل ہی میں اتر جائے گی

ہم پہ اب جو بھی قیامت گزرے
تیری دنیا تو سنور جائے گی

دور تک ہم ہی نظر آئیں گے
جس طرف بھی وہ نظر جائے گی

اس بدلتی ہوئی رفتار کے ساتھ
زنگی جانے کدھر جائے گی

اور کچھ دن میں جنوں کی اپنے
شہر در شہر خبر جائے گی

لمحہ لمحہ جو سمیٹی ہے وہ عمر
ایک لمحے میں بکھر جائے گی



چاند سا دل ہو چاندنی سا گداز
ورنہ کیا نغمہ ساز و نغمہ نواز

سننے والو اسے بھی سن لینا
صورت ِ زخم بھی ہے اک آؤاز

جس کو دیکھو وہ دل شکستہ ہے
کون ہے اس جہاں کا آئینہ ساز

قید کی عمر ایسی راس آئی
سو رہی بازوں ہی میں پرواز

جس نے بخشے ہیں غم اُسی کے لیے
کر رہا ہوں دعائے عمر ِ دراز




کچھ تو بتاؤ شاعر ِ بیدار کیا ہوا
کس کی تلاش ہے تمہیں اور کون کھو گیا

آنکھوں میں روشنی بھی ہے ویرانیاں بھی ہیں
اک چاند ساتھ ساتھ ہے اک چاند گہنا گیا

تم ہم سفر ہوئے تو ہوئی زندگی عزیز
مجھ میں تو زندگی کا کوئی حوصلہ نہ تھا

تم ہی کہو کہ ہو سکے گا مرا علاج
اگلی محبتوں کے مرے زخم آشنا

جھانکا ہے میں نے خلوت ِ جاں میں نگار ِ جاں
کوئی نہیں ہے کوئی نہیں ہے ترے سوا

وہ اور تھا کوئی جسے دیکھا ہے بزم میں
گر مجھے ڈھونڈنا ہے مری خلوتوں میں آ

اے مرے خواب آ مری آنکھوں کو رنگ دے
اے میری روشنی تو مجھے راستا دکھا

اب آ بھی جا کہ صبح سے پہلے ہی بجھ نہ جاؤں
اے میرے آفتاب بہت تیز ہے ہوا

یا رب عطا ہو زخم کوئی شعر آفریں
اک عمر ہو گئی کہ مرا دل نہیں دکھا

وہ دور آگیا ہے کہ اب صاحبان ِ درد
جو خواب دیکھتے ہیں وہی خواب نارسا

دامن بنے تو رنگ ہوا دسترس سے دور
موج ِ ہوا ہوئے تو ہے خوشبو گریز پا

آنکھوں میں کچھ نہیں ہے بجز خاک ِ رہ گزر
سینے میں کچھ نہیں ہے، بجز نالہ و نوا

پہچان لو ہمیں کہ تمہاری صدا ہیں ہم
سن لو کہ پھر نہ آئیں گے ہم سے غزل سرا



نیا عشق

اے میرے لہو کی لہر ِ تازہ
تو موسم ابر و باد و بادہ
چہرہ وہی خواب سا دکھا جا
باتیں وہ شراب سی سنا جا
مل کر بچھڑ سکیں کھبی ہم
اک بار تو اس طرح ملا جا
جو میرے اور اُس کے درمیاں ہے
ڈھا جا وہ فصیلِ ہجر ڈھا جا
اے میرے لہو کی لہر ِ تازہ
تو موسم ِ ابر و باد و بادہ




عذاب آئے تھے ایسے پھر نہ گھر سے گئے
وہ زندہ لوگ مرے گھر کے جیسے مر سے گئے

ہزار طرح کے صدمے اٹھانے والے لوگ
نہ جانے کیا ہوا اک آن میں بکھر سے گئے

بچھڑنے والوں کا دکھ ہو تو سوچ لینا یہی
کہ اک نوائے پریشاں تھے رہ گزر سے گئے

ہزار راہ چلے پھر وہ رہ گزر آئی
کہ اک سفر مین رہے اور ہر سفر سے گئے

کبھی وہ جسم ہوا کبھی وہ روح تمام
اُسی کے خواب تھے آنکھوں میں ہم جدھر سے گئے

یہ حال ہو گیا آخر تری محبت میں
کہ چاہتے ہیں تجھے اور تری خبر سے گئے

مر اہی رنگ تھے تو کیوں نہ بس رہے مجھ میں
مرا ہی خواب تھے تو کیوں مری نظر سے گئے

جو زخم زخم زباں بھی ہے اور نمو بھی ہے
تو پھر یہ وہم ہے کیسا کہ ہم ہنر سے گئے



مرثیہ


اداس یادوں کی مضمحل رات بیت بھی جا
کہ میری آنکھوں میں اب لہو ہے نہ خواب کوئی
میں سب دئیے طاق ِ آرزو کے بجھا چکا ہوں
تو ہی بتا اب
کہ مرگ ِ مہتاب و خون ِ انجم پہ نذر کیا دوں
نہ میرا ماضی نہ میرا فردا
بکھر گئی جو زلف کب کی سنور چکی ہے
اور آنے والی سحر بھی آ کر گزر چکی ہے
اداس یادوں کی مضمحل رات بیت بھی جا


تین شعر

بوٹا بوٹا دھوپ جلا ہے شجر شجر بے سایا ہے
گھر اپنا صحرا تو نہیں ہے لیکن صحرا جیسا ہے

کچھ نہیں سیکھا ہم نے جنوں سے ہاں مگر اتنا سیکھا ہے
اتنی اس کی عزت کی جو عشق میں جتنا رسوا ہے

ترک تعلق ایک قیامت پر سش ِ یاراں اور عذاب
کیا بتلائیں ہجر زدہ دل کیسے کیسے دکھتا ہے


جو دیکھو تو کہاں ماتم نہیں ہے
مگر دنیا کی رونق کم نہیں ہے

میں روتا ہوں کہ زخم ِ آرزو کو
دعا دیتا ہوا موسم نہیں ہے

نئی آنکھیں نئے ہیں خواب ہیں میرے
مجھے یہ بھی سزا کچھ کم نہیں ہے

ہوں خود اپنی طبعیت سے پریشاں
مزاج ِ دہر تو برہم نہیں ہے

ہوا کہ دوش پہ جلتا دیا ہوں
جو بجھ جاؤں تو کوئی غم نہیں ہے

تو پھر میں کیا مری عرض ِ ہنر کیا
صداقت ہی اگر پرچم نہیں ہے

مجھے کچھ زخم ایسے بھی ملے ہیں
کہ جن کا وقت بھی مرہم نہیں ہے


تھی جو محبتوں میں نزاکت نہیں رہی
کیا عشق کیجئے کہ روایت نہیں رہی

کہتے تھے ہم کہ جی نہ سکیں گے ترے بغیر
یہ کیا ہوا کہ تجھ سے محبت نہیں رہی

رسوائیوں سے بڑھ تو گیا زندگی کا بوجھ
پر یہ ہوا کہ خود سے ندامت نہیں رہی

کھنچی تھی جس سے حرف میں اک صورت ِ خیال
وہ خواب دیکھتی ہوئی وحشت نہیں رہی

اے موسم ِ حیات و زمانہ کے شکوہ سنج
کیا صبر آگیا کہ شکایت نہیں رہی

کیا نذر دیں جو کوئی نئی آرزو کریں
دل میں تو ٹوٹنے کی بھی ہمت نہیں رہی

جس سمت جائیے وہیں ملتے ہیں اپنے لوگ
اُس کی گلی ہی کوئے ملامت نہیں رہی




حادثہ گراں گزرا آپ سے تصادم کا
زنگی پہ گماں ہوتا ہے اب گماں جہنم کا

روپ موسم ِ گل اور خزاں نے دھارے ہیں
ایک میری آہوں کا اک ترے تبسم کا

لوگ اپنے دل کی بات ڈھونڈتے ہیں نغموں میں
صرف ایک بہانہ ہے سازکا ترنم کا

ہم سے سادہ لوگ اکثر آ گئے دھوکے میں
کتنا دل نشیں لہجہ ہے ترے تکلم کا

تیری یاد تیرا غم اور شب کا سناٹا
زخم دل ی صورت ہے روپ ماہ و انجم کا

کیوں علیم ہر لمحہ کھوئے کھوئے رہتے ہو
کس سے دل ہی دل میں ہے سلسہ تکلم کا



ابھی نہ کوئی پیمبر نہ میں کوئی اوتار
اے مری روشنی طبع مجھ کو اور سنوار

نشاط ِ رنج ہو رنج ِ نشاط ہو کچھ ہو
حیات رقص ہے وحشت کا اور دائرہ وار

اُسی کا نام محبت ہوا زمانے میں
وہ اک نشہ کہ سیکھا نہیں ہے جس نے اتار

میں اعتراف ِ شکست بہار کر لوں گا
ذرا اڑے تو سہی بوئے زلف ِ عنبر یار

رہ وفا میں چلو پھر سے اجنبی بن جائیں
کہ ڈھل رہا ہے پرانی محبتوں کا خمار

اس ایک قطرہ خوں کا ہے نام شعر علیم
جو دل میں ہو تو خزاں اور ٹپک پڑے تو بہار


ساتھی سے


میں خود ہی اپنی بہار سے روٹھنے لگوں گر
تو تم مجھے روٹھنے نہ دینا
جو وار لمحے کا ہو وہ سہنا
یہ سوچ لینا
کہ ایک لمحہ گریز کا
کیسے
محبتوں کی اک عمر پامال کر کے گزر رہا ہے



ہنسو تو رنگ ہوں چہرے کا روؤ تو چشم ِ نم میں ہوں
تم مجھ کو محسوس کرو تو ہر موسم میں ہوں

چاہا تھا جسے وہ مل بھی گیا پر خواب بھرے ہیں آنکھوں میں
اے میرے لہو کی لہر بتا اب کون سے میں عالم میں ہوں

لوگ محبت کرنے والے دیکھیں گے تصویر اپنی
ایک شعاع ِ آؤارہ ہوں آئینہ شبنم میں ہوں

اُس لمحے تو گردش ِ خوں نے میری یہ محسوس کیا
جیسے سر پہ زمیں اٹھائے اک رقص پیہم میں ہوں

یار مرا زنجیریں پہنے آیا ہے بازاروں میں
میں کہ تماشا دیکھنے والے لوگوں کے ماتم میں ہوں

جو لکھے وہ خواب مرے اب آنکھوں آنکھوں میں زندہ ہیں
جواب تک نہیں لکھ پایا میں اُن خوابوں کے غم میں ہوں



عجیب تھی وہ عجب طرح چاہتا تھا میں
وہ بات کرتی تھی اور خواب دیکھتا تھا میں

وصال کا ہو کہ اُس کے فراق کا موسم
وہ لذتیں تھیں کہ اندر سے ٹوٹتا تھا میں

بدن کا کھیل تھیں اُس کی محبتیں لیکن
جو بھید جسم کے تھے جاں سے کھولتا تھا میں

پھر اس طرح کبھی سویا نہ اس طرح جاگا
کہ روح نیند میں تھی اور جاگتا تھا میں

کہاں شکست ہوئی اور کہاں صلہ پایا
کسی کا عشق کسی سے نباہتا تھا میں

میں اہل زر کے مقابل میں تھا فقط شاعر
مگر میں جیت گیا لفظ ہارتا تھا میں



ایک نظم

جتنی دیر ملوں میں اُس سے
اتنی دیر تو یوں لگتا ہے
سمے سے لے کرانت سمے تک
سارا جیون میرے پاس



سخن میں سہل نہیں جاں نکال کر رکھنا
یہ زندگی ہے ہماری سنبھال کر رکھنا

کھلا کہ عشق نہیں ہے کچھ اور اس کے سوا
رضائے یار جوہو اپنا حال کر رکھنا

اُسی کا کام ہے اس دکھ بھرے زمانے میں
محبتوں سے مجھے مالا مال کر رکھنا

بس ایک کیفیت دل میں بولتے رہنا
بس اک نشے میں خود کو نہال کر رکھنا

گزرنا حسن کی نظارگی سے پل بھر کو
پھر اُس کو ذائقہ لازوال کر رکھنا

بس ایک قامت زیبا کے خواب میں رہنا
بس اک شخص کو حد ِ مثال رکھنا

کسی کے بس میں نہیں تھا کسی کے بس میں نہیں
بلندیوں کو سدا پائمال کر رکھنا


تو اپنی آؤاز میں گم ہے، میں اپنی آؤاز میں چپ
دونوں بیچ کھڑی ہے دنیا آئینۂ الفاظ میں چپ

اول اول بول رہے تھے خواب بھری حیرانی میں
پھر ہم دونوں چلے گئے پاتال سے گہرے راز میں چپ

خواب سرائے ذات میں زندہ ایک تو صورت ایسی ہے
جیسے کوئی دیوی بیٹھی ہو حجرۂ راز و نیاز میں چپ

اب کوئی چھو کے کیوں نہیں آتا ادھر کا جیون انگ
جانتے ہیں پر کیا بتلائیں، لگ گئی کیوں پرواز میں چپ

پھر یہ کھیل تماشا سارا کس کے لئے اور کیوں صاحب
جب اس کا انجام بھی چپ ہے، جب اس کے آغاز میں چپ

نیند بھری آنکھوں سے چوما، دیے نے سورج کو، اور پھر
جیسے شام کو اب نہیں جلنا، کھینچ لی اس انداز میں چپ

غیب سمے کے گیان میں پاگل کتنی تان لگائے گا
جتنے سُر ہیں ساز سے باہر، اس سے زیادہ ساز میں چپ




پاؤ گے کہاں پناہ لوٹ آؤ
گھر ہو گیا ہے تباہ لوٹ آؤ

میری نہیں گر تو اپنی خاطر
لوٹ آؤ دل و نگاہ لوٹ آؤ

تم چاہ میں جس کی مر رہے ہو
اس میں تو نہیں ہے چاہ لوٹ آؤ

تم جب سے گئے ہو چاند میرے
راتیں ہوئی ہیں سیاہ لوٹ آؤ

تم مل کے بچھڑ گئے ہو جس سے
تکتا ہے تمہاری راہ لوٹ آؤ

کیا ہو گئی زندگی تمہاری
اب اے مرے کج کلاہ لوٹ آؤ

بچھڑے ہوؤں کا پھر سے ملنا
ایسا بھی نہیں ہے گناہ لوٹ آؤ
٭٭٭

ماخذ: انٹر نیٹ کی اردو فورمس بطور خاص اردو ویب محفل سے
تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید
