﻿



جگّا ڈاکو اور جادوئی غار

(بچّوں کے لیے دل چسپ کہانیاں ) 



۔۔۔ ٭    باز نویس   ٭  ۔۔۔
ڈاکٹر محمد حسین مُشاہدؔ رضوی






پہلی بات 

	بچوں کی تعلیم و تربیت میں سبق آموز کہانیاں، نظمیں، ڈرامے اور ناول بڑے کار آمد ثابت ہوتے ہیں۔ جو کہانیاں صرف تفریح اور دل چسپی کے سامان سے آراستہ ہوتی ہیں ان سے وہ فوائد حاصل نہیں ہوتے جن کی ہمیں ضرورت ہے۔ اکیسویں صدی کے اس روبو ایج میں بچّوں کی تمام تر دل چسپیاں ٹی۔وی۔ سیریلوں اور کارٹون فلموں کی طرف بڑھتی جا رہی ہیں۔ کتب بینی سے بچوں کی یہ دوری ہمیں بڑے نقصان سے دوچار کرسکتی ہے۔ 
	اس لیے بچوں کی تفریح اور دل چسپی کے ساتھ ساتھ انھیں کچھ نہ کچھ سبق دینے کی غرض سے چند کہانیوں کو ہندی اور مراٹھی ادب سے پیش کیا جا رہا ہے۔ یہاں اس بات کو ملحوظ رکھیں کہ مترجم نے ہندی اور مراٹھی معاصر ادب سے ان کہانیوں کو لفظ بہ لفظ ترجمہ کرنے کی بجائے یوں سمجھ لیجیے کہ ان کہانیوں کو اپنے الفاظ میں دوبارہ تحریر کیا ہے۔ یہ کہانیاں اپنے اندر تفریح، دل چسپی اور سبق بھی  رکھتی ہیں جن سے بچوں کی صحیح تربیت ممکن ہے۔ 
	اس مجموعے کو رحمانی سلیم احمد صاحب نے اپنے ادارے رحمانی پبلی کیشنز سے منظر عام پر لایا ہے ناچیز ان کا ممنون ہے۔ مجھے امید ہے کہ ناچیز کی دیگر قلمی کاوشات کی طرح اہلِ نقد و نظر اسے بھی بہ نظرِ استحسان دیکھیں گے۔ 
					محمد حسین مُشاہدؔ رضوی، مالیگاؤں 

					

دوست ہو تو ایسا ہو 

	ایک جنگل میں بندروں کی ایک ٹولی رہتی تھی۔ اس ٹولی میں دو بچّے بھی تھے، جو اتنے شرارتی تھے کہ ان کے ماں باپ بھی ان سے بہت زیادہ تنگ آ گئے تھے۔
	اسی جنگل میں ایک ننھا ژراف بھی رہتا تھا۔ وہ بہت ہی سیدھا سادا اور بھولا بھالا تھا۔ ایک مرتبہ چرتے چرتے وہ جنگل کے اس حصے میں آ گیا جہاں بندروں کی یہ ٹولی درختوں سے  پتّے اور پھل فروٹ توڑ توڑ کر کھانے میں مگن تھی۔دونوں چھوٹے شرارتی بندروں نے ژراف کو دیکھا تو انھیں حیرت ہونے لگی۔ کیوں کہ ان بندروں نے کبھی ایسا کوئی بھی جانور نہیں دیکھا تھا۔ 
	بندر کے ایک بچّے نے کہا:’’ ارے! دیکھو تو کتنا عجیب و غریب جانور ہے، آؤ اسے چھیڑتے اور ستاتے ہیں۔‘‘
	دونوں بندر کودتے پھلانگتے اس درخت پر پہنچ گئے جس کے نیچے کھڑے ہو کر ژراف گھاس کھا رہا تھا۔ اس درخت کی ایک شاخ پر بیٹھ کر دونوں نے ژراف سے کہا:’’ اے لمبو! تیرا کیا نام ہے؟‘‘
	ژراف نے بڑی نرمی سے کہا:’’ مَیں ژراف ہوں، کیا مجھ سے دوستی کرو گے ؟ تم لوگوں کے نام کیا ہیں؟‘‘
	دونوں بندر شرارت سے کھلکھلا کر ہنس پڑے اور کہنے لگے کہ :’’ تجھ سے ہم کیوں دوستی کرنے لگے؟ کتنا بد صورت ہے تُو، مینا رکے جیسی گردن اور سیڑھی کے جیسے پیر۔ ہمیں نہیں کرنا ایسے بے ڈھنگے جانور سے کوئی دوستی! ‘‘ اتنا کہہ کر دونوں بندر ژراف کو چڑانے لگے۔ اتنا ہی نہیں ایک بندر نے درخت سے ایک پکا ہوا پھل توڑ کر ژراف پر پھینک مارا۔ پھل ژراف کے منہ پر لگ کر پھوٹ گیا اور اس کا رس اور گودا ژراف کے چہرے پر پھیل گیا۔ یہ دیکھ کر دونوں بندر قہقہہ مار کر ہنسنے لگے اور کود تے پھلانگتے جنگل میں دور بھاگ گئے۔
	ژراف بے چارہ روہانسا ہو کر رہ گیا اور منہ لٹکائے وہاں سے چلا گیا۔
	ایک دن دونوں شرارتی بندروں نے یہ طَے کیا کہ وہ جنگل میں خوب دور تک اکیلے گھومنے اور سیر سپاٹا کرنے کے لیے چلیں گے۔ کیوں کہ وہ لوگ اپنی ماں باپ کی ڈانٹ پھٹکار سے بے حد تنگ آ چکے تھے اور ان سے آزادی چاہتے تھے۔
	صبح صبح جب باقی بندر سورہے تھے، یہ دونوں شرارتی بندر چپکے سے نکل پڑے۔ کچھ ہی وقت میں وہ بندروں کی ٹولی سے بہت دور نکل گئے۔ جب انھیں زوروں کی بھوک لگی تو ان دونوں نے پیڑوں کی پتیاں اور پھل فروٹ کھا کر اپنی پیٹ کی آگ بجھائی۔ انھیں اس طرح گھومنے پھرنے اور موج مستی کرنے میں بڑا مزہ آ رہا تھا۔
	دوپہر ہو چلی تھی وہ دونوں گرمی سے بچنے کے لیے ایک درخت کی ہری بھری شاخوں پر جا کر بیٹھ گئے، اُس درخت کے نیچے ایک شیر آرام کر رہا تھا۔اور پیڑ کے آس پاس ایک بڑا ہرا بھرا میدان تھا اور میدان کے کنارے ایک ندی بہہ رہی تھی۔ بندراُس سہانے منظر میں ایسا کھوئے کہ انھیں اس بات کا احساس ہی نہ ہوا کہ یہاں ایک شیر بھی موجود ہے۔ لیکن جب شیر نے اُس کے چہرے پر بیٹھی ہوئی مکھیوں کو اڑانے کے لیے غرایا تو بندروں نے شیر کو دیکھ لیا۔ شیر کو دیکھتے ہی وہ بری طرح ڈر گئے۔لیکن کچھ ہی دیر بعد انھیں یہ محسوس ہوا کہ ہم درخت کے اوپر محفوظ ہیں۔ چوں کہ ان کے اندر شرارت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی اس لیے یہاں بھی انھیں شرارت سوجھنے لگی اور ان دونوں شرارتی بندروں نے آنکھوں ہی آنکھوں میں اشارا کیا اور درخت کا ایک پھل توڑ کر نیچے گرا دیا۔ پھل سیدھا شیر کی ناک پر گرا، شیر کو بہت درد ہوا۔اس نے غصے سے دہاڑتے ہوئے ادھر اُدھر دیکھا جب اس نے اوپر کی طرف دیکھا تو اس کی نظر بندروں پر پڑی۔
	بندر کھی کھی کر کے ہنس رہے تھے، لیکن وہ زیادہ دیر تک نہ ہنس سکے، کیوں کہ شیر آپے سے باہر ہو رہا تھا۔ اس نے گرج دار آواز میں دہاڑتے ہوئے کہا :’’کیا تمہیں معلوم نہیں مَیں اس جنگل کا راجا ہوں اسی وقت فوراً اس درخت سے نیچے اترو مَیں تم دونوں کو کھا کر اس گستاخی کی سزا دوں گا۔‘‘
	بندروں کو پھر ہنسی آ گئی۔ انھیں یقین تھا کہ ہم درخت پر محفوظ ہیں۔ شیر ان کو اس طرح دوبارہ ہنستے ہوئے دیکھ کر مزید غصے سے آگ بگولہ ہو گیا اور اپنے پیروں کو سمیٹ کر اسپرنگ کی طرح تیزی سے اچھلا۔ ان دونوں شرارتی بندروں نے دیکھا کہ شیر کا جبڑا کھلا ہوا ہے اور اس کے تیز نوکیلے دانت ان کی طرف ہیں اور وہ بڑی تیزی سے اچھلتے ہوئے بالکل ان کے قریب آ گیا ہے۔ دونوں بندروں کے تو ہوش ہی اڑ گئے اور ان کی ساری شرارت دھری کی دھری رہ گئی اور وہ دونوں ڈر کے مارے ایک دوسرے سے بُری طرح لپٹ گئے۔ 
	شیر نے چھلانگ تو بہت اچھی لگائی تھی لیکن وہ وہاں تک نہیں پہنچ سکا جس شاخ پر وہ دونوں بندر بیٹھے ہوئے تھے۔ شیر نے دوبارہ زبردست چھلانگ لگائی۔ بندروں کی حالت بڑی پتلی ہو گئی تھی وہ ڈر کے مارے چیخنے چلانے لگے لیکن وہاں ان کی پکار سننے والا کوئی بھی نہیں تھا۔ وہ تو اپنی ٹولی اور اپنے ماں باپ کی اجازت کے بغیر بھاگ کر آئے تھے۔ اس درخت کے آس پاس کوئی دوسرا درخت بھی نہ تھا کہ وہ چھلانگ لگا کر اس پر چلے جاتے، اور نہ ہی اس درخت پر کہ جس پر وہ دونوں بیٹھے ہوئے تھے اونچائی کی طرف کوئی مضبوط شاخ تھی جس پر جا کر وہ بیٹھ سکتے یوں سمجھ لیں کہ شرارتی اور نافرمان بندر آج بُری طرح پھنس گئے تھے۔ 
	شیر کی تیز دہاڑ اور غراہٹ سے ان کے کانوں کے پردے پھٹ رہے تھے۔ ان کا کلیجا بھی کانپ رہا تھا اور ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے تھے۔
	وہ اس حالت میں تھے کہ انھیں کچھ سجھائی نہیں دے رہا تھا کہ یکایک ان کے کانوں میں دھیمے سے آواز آئی کہ :’’ گھبراؤ مت ! مَیں تم دونوں کو یہاں سے نکال لے جاؤں گا۔ چپکے سے میری گردن کے سہارے میری پیٹھ پر اتر آؤ۔‘‘
	وہ کیا دیکھتے ہیں کہ ان کے ٹھیک اوپر درخت کے پتوں کے درمیان سے اسی ژراف کا سر نکلا ہوا تھا جس کی ان لوگوں نے ابھی کچھ دن پہلے خوب مذاق اڑائی تھی۔ بندروں نے ایک دوسرے کو شرمندگی سے دیکھا کہ آج وہی ژراف ہماری جان بچانے کے لیے تیار ہے۔اس ژراف کو اس دن کی شرارتوں اور مذاق وغیرہ کا ذرا بھی خیال نہیں ہے۔ دونوں بندروں نے اپنی نگاہیں نیچی کر لیں۔ 
	ژراف نے کہا:’’ میرے دوستو! جلدی کرو اگر شیر نے مجھے دیکھ لیا تو وہ ہم تینوں کو کھا جائے گا۔‘‘
	بندروں نے اب بلا جھجک اس کی گردن پر پھسلتے ہوئے ژراف کی پیٹھ پر سوار ہو گئے اور ژراف انھیں لیے ہوئے تیز رفتاری سے وہاں سے کھسک گیا۔
	شیر کو پہلے تو پتا نہیں چل سکا کہ کیا ماجرا ہے۔لیکن جب اس نے ژراف کی پیٹھ پر سوار ہو کر دونوں بندروں کو بھاگ نکلتے ہوئے دیکھا تو اس نے دہاڑتے ہوئے ان کا پیچھا کیا۔
	بندروں نے ان کا پیچھا کرتے ہوئے شیر کو دیکھا تو ان کی جان نکلنے لگی اور وہ بری طرح چیخنے چلانے لگے۔ شیر پوری قوت کے ساتھ بندروں کو پکڑنے کے لیے دوڑ لگا رہا تھا اور غراتے جا رہا تھا۔ ژراف نے بندروں کو سمجھایا کہ :’’ ڈرنے کی کوئی بات نہیں اب تم دونوں بالکل محفوظ ہو۔ شیر مجھے کبھی نہیں پکڑ سکتا۔‘‘
	اور سچ مچ ہوا بھی ایسا ہی کہ ژراف نے شیر کو کافی پیچھے چھوڑ دیا۔ایک محفوظ جگہ پر پہنچ کر ژراف رک گیا بندر چھلانگ لگا کر اس کی پیٹھ سے نیچے اتر گئے۔ 
	تب ژراف نے ان دونوں سے کہا :’’ اس دن تم دونوں نے میری لمبی گردن اور میری ٹانگوں کی بہت مذاق اڑائی تھی نا، آج دیکھ لیا نا کہ انھیں کی وجہ سے تم لوگوں کی جان بچ سکی ہے۔ لمبی گردن کی وجہ سے ہی مَیں تم دونوں کو دور سے دیکھ سکا اور درخت سے تم کو اتار سکا۔ اور لمبی ٹانگوں کی وجہ سے تیز دوڑ سکا۔ ‘‘
	بندر اس پر کیا کہہ سکتے تھے، دونوں نے شرم کے مارے اپنی اپنی گردنیں جھکا لیں اور خاموش رہے۔ 
	ان کی یہ حالت، خاموشی اور شرمندگی کو دیکھ کر ژراف نے ہنستے ہوئے خود کہا کہ :’’چلو! چھوڑو ان باتوں کو، بھول جاؤ پچھلے قصے کو، اب آج سے تو تم میرے دوست بن کر میرے ساتھ روزانہ کھیلو گے نا۔‘‘
	ژراف کی یہ بھلائی دیکھ کر دونوں شرارتی بندروں کی تو بولتی ہی بند ہو گئی۔ انھیں خود کی حرکتوں پر سخت غصہ آنے لگا کہ ان لوگوں نے اتنے اچھے اور پیارے ژراف کو کیوں ستایا تھا اور اس کی مذاق کیوں اڑائی تھی؟ ان دونوں نے اسی وقت ژراف سے معافی مانگی۔ ژراف نے کہا:’’ دوستو! معافی کی کوئی ضرورت نہیں۔‘‘ 
	اتنے بڑے دل والے ژراف کی یہ باتیں سن کر ان لوگوں نے فیصلہ کر لیا کہ آج کے بعد سے وہ شرارت نہیں کریں گے۔ اور بڑی نرمی اور پیار سے ان دونوں نے ژراف سے کہا کہ : ’’ ہم نے تمہیں جان بوجھ کر بہت ستایا تھا، آج سے ہم کسی کو بھی نہیں ستائیں گے، نہ کسی کو بُرا بھلا کہیں گے اور رہی تمہاری بات تو آج سے تم ہمارے سب سے اچھے دوست ہو۔ کیوں کہ دوست وہی سچاہے جو سکھ سے زیادہ دکھ میں کام آئے اور آج تم نے دکھ میں ہمارا ساتھ دے کر یہ ثابت کر دیا کہ تم ہمارے سچے دوست ہو۔ 
	دونوں بندروں کی یہ بات سن کر ژراف کو بڑی خوشی ہوئی اور وہ خوشی سے ناچنے لگا۔

						(بال سبر امنیم)



زندگی کا سبق

	ایک مرتبہ کی بات ہے جب کہ میں بہت چھوٹا تھا، میرے چاچا اور چاچی بس کے ذریعے اورنگ آباد آ رہے تھے۔ اسی دن کنڑ گھاٹ پر ایک بس کھائی میں گر گئی تھی اور  ایک بہت بڑا حادثہ ہوا تھا کئی لوگوں کی جانیں چلی گئی تھیں اور گئی لوگ بہت زیادہ زخمی ہو گئے تھے۔ چاچا اور چاچی سے ہمارا رابطہ نہیں ہو پا رہا تھا بار بار ان کو موبائل کرنے پر وہ سوئچ آف ہی بتا رہا تھا۔ میرے ابّو امّی اور پورے گھر والے بہت پریشان ہو گئے تھے۔ اسی پریشانی میں پوری رات گذر گئی ہم صبح کے اخبار کا بڑی بے چینی سے انتظار کرنے لگے۔ تاکہ حادثے کی صحیح خبر سے واقف ہوسکیں۔
	صبح جیسے ہی اخبار آیا میرے ابّو نے مرنے والوں کے ناموں کی فہرست کو بہ غور پڑھنا شروع کیا۔ اچانک میرے منھ سے یہ نکلا کہ ’’کاش! ان کا نام بھی فہرست میں ہو۔‘‘یہ سن کر گھر کے سبھی لوگ حیران رہ گئے اور مجھے دیکھنے لگے، تھوڑی دیر بعد مجھے اپنی غلطی کا احساس ہوا۔ دراصل میں یہ کہنا چاہتا تھا کہ ’’کاش ! ان کا نام اس فہرست میں نہ ہو۔‘‘ 
	اخبار میں مرنے والوں کی جو فہرست چھپی تھی اس میں چاچا اور چاچی کا نام نہیں تھا، گھر کے سبھی لوگوں نے سکون کا سانس لیا۔چاچا اور چاچی دوپہر کے بعد اورنگ آباد پہنچے اور یہ سب ماجرا سن کر وہ ہنسنے لگے۔ 
	اس واقعہ کے بعد مجھے یہ احساس ہو گیا کہ کبھی بھی کچھ بولنے سے پہلے سوچنا بے حد ضروری ہے کہ بغیر سوچے سمجھے بس اوٹ پٹانگ باتیں بگھارنے سے نقصان تو الگ ہوتا ہی ہے اور لوگوں کے نزدیک عزت اور قدر بھی گھٹ جاتی ہے۔		(کے۔ آر۔ شرما) 




بھالو اور اس کی دُم 


	ایک پجاری پڑوس کے گاؤں میں ایک امیر آدمی کے یہاں سے جنگل کے راستے  اپنے گاؤں کی طرف لوٹ رہا تھا۔ وہ امیر آدمی بڑا سخی تھا، وہ فقیروں اور پجاریوں کی بہت عزت کرتا تھا اور ان کو اشرفیوں اور قیمتی تحفے تحائف سے نوازتا تھا۔ اس امیر آدمی نے پجاری کو بھی ڈھیر ساری سونے کی اشرفیاں تحفے کے طور پر دی تھیں۔ اتنے سارے سونے کے سکّے پا کر پجاری بہت خوش ہوا۔ خوشی کے مارے وہ گنگناتے ہوئے جلدی جلدی چل رہا تھا تاکہ جنگل کا خطرناک راستہ کم وقت میں پار کرسکے۔
	اپنی دھُن میں مگن پجاری کو اچانک اس وقت شدید جھٹکا لگا جب اس نے اپنے سامنے ایک بھالو کو دیکھا۔ اب پجاری بڑی مشکل میں پھنس گیا تھا۔اسے کوئی ترکیب نہیں سوجھ رہی تھی کہ وہ اب کیا کرے؟ آخر کار وہ پیچھے کی طرف بھاگنے لگا جب بھالو نے اس کو اس طرح بھاگتے ہوئے دیکھا تو وہ بھی اس کے پیچھے بھاگنے لگا۔ دوڑتے دوڑتے پجاری بری طرح تھک گیا اس کا پاؤں کانپنے لگا۔پجاری تھکن کے مارے ایک جگہ کھڑا ہو گیا بھالو بھی اس کے پاس پہنچ گیا۔ اب دونوں آمنے سامنے تھے۔ پجاری سوچ میں پڑ گیا کہ اگر اپنی جان بچانی ہے تو اسے بھالو سے لڑنا پڑے گا۔یہ سوچ ہی رہا تھا کہ بھالو پجاری کے اوپر کود گیا۔ پجاری بھی اس سے دو بہ دو لڑنے کے لیے بالکل تیار ہو گیا، لڑتے لڑتے اچانک پجاری کے ہاتھ میں بھالو کی دُم آ گئی۔ پجاری نے پوری طاقت سے دُم کو پکڑ کر گول گول گھمانا شروع کر دیا۔ پجاری اور بھالو دونوں گھومتے رہے ایسے میں پجاری کی کمر سے بندھی ہوئی تھیلی میں سے سونے کی اشرفیاں نکل نکل کر چاروں طرف گرنے لگیں۔ پجاری کو اپنی جان بچانے کی فکر تھی اس لیے اُس کو سونے کے سکّوں کے اس طرح گرنے کا کوئی افسوس نہیں ہو رہا تھا۔ وہ بس یہی سوچ رہا تھا کہ اس مصیبت سے کسی طرح چھٹکارا ملے۔ وہ من ہی من میں سوچ رہا تھا کہ اگر اس نے بھالو کی دُم کو چھوڑ دیا تو بھالو اس کو جان سے مار ڈالے گا۔ 
	پجاری اسی سوچ میں ڈوبا رہا کہ بھالو کی دُم کو پکڑ کر اسی طرح گول گول گھماتے رہنے سے ہی اس کی جان بچ سکتی ہے۔ کچھ دیر تک یہی حالت رہی کہ ادھر سے ایک لکڑہارے کا گذر ہوا۔ چاروں طرف پھیلے ہوئے سونے کے سکّوں اور گول گول گھومتے ہوئے پجاری اور بھالو کو دیکھ کر اسے بہت تعجب ہوا، دونوں کے قریب آیا اور کھڑے ہو کر ان دونوں کو غور سے دیکھنے لگا۔ پھر اُس نے پجاری سے پوچھا :’’ پجاری جی ! یہ آپ کیا کر رہے ہیں اور چاروں طرف سونے کے سکّے کیوں بکھرے ہوئے ہیں ؟‘‘ 
	پجاری نے لکڑ ہارے کی آواز سن کراس کی طرف دیکھا۔ اس کے ذہن میں ایک ترکیب آ گئی۔ اس نے اسی طرح گول گول گھومتے ہوئے کہا : 
	’’اے لکڑ ہارے! یہ جو ہر طرف تم سونے کے سکّے بکھرے ہوئے دیکھ رہے ہو یہ بھالو کی دُم کو پکڑ کراس طرح گول گول گھمانے سے نکلے ہیں۔‘‘
	لکڑ ہارے کے دل میں لالچ آ گئی، اس نے کہا:’’ آپ کو تو کافی اشرفیاں مل گئی ہیں۔ اب ذرا مجھے بھی بھالو کی دُم پکڑا دیجیے، تاکہ مَیں بھی اُسے گھما کر کچھ سونے کے سکّے حاصل کرسکوں۔‘‘
	پجاری کچھ دیر تو یوں ہی دکھاوے کے لیے ٹالتا رہا۔ پھر اُس نے لکڑ ہارے کو بھالو کی دُم پکڑا دی اور سونے کے سکّوں کو جلدی جلدی جمع کر کے وہاں سے بھاگ گیا۔ 
	لالچی لکڑا ہاراسونے کے سکّوں کے لیے اسی طرح پریشانی کے عالم میں بھالو کی دُم پکڑ کر گول گول گھومتا رہا اسے سکّے نہ ملنے تھے نہ ملے لیکن ہاں ! جب وہ بُری طرح تھک گیا تو اس کو لالچ کی سز امل گئی یعنی بھالو نے اسے مار کر کھا لیا۔ 		(سجاتا، کے۔ بی)




بے فکر چڑیا

	ایک بار ایک ہاتھی جنگل میں گھومنے کے لیے نکلا۔ ہاتھی بہت ہی زیادہ رحم دل اور اچھی عادتوں والا تھا۔ وہ ہاتھی اپنی دُم ہلاتا، آنکھیں مٹکاتا، جھومتا، گاتا چلا جا رہا تھا۔ 
	جب وہ ندی کے پاس پہنچا تو دیکھا کہ چوہے کا ایک چھوٹا سا بچّہ پانی میں ڈوبا جا رہا ہے۔ وہ بچّہ زور زور سے بچاؤ بچاؤ بھی چلاتے جا رہا تھا۔ ہاتھی کو اس پر رحم آ گیا وہ فوراً پانی میں اترا اور چوہے کے بچّے کو اپنی سونڈ میں اٹھا کر باہر نکال لایا اور وہاں سے چلنے لگا۔
	چوہے کے بچّے نے ہاتھی کا شکریہ ادا کیا اور بائے بائے کہہ کر اپنی بِل کی طرف چل دیا۔ ایک چڑیا درخت پر بیٹھی ہوئی یہ سب دیکھ رہی تھی۔ اس کو خود اپنا انڈہ سیتنا بھاری پڑ رہا تھا وہ اسی ادھیڑ بُن میں تھی کہ کوئی صورت نکل آئے کہ میں انڈے سے اٹھ کر کہیں اڑ جاؤں۔
	وہ ہاتھی کو دیکھ کر ہنستے ہوئے اس سے بولی:’’ کہو! ہاتھی بھائی کہاں جا رہے ہو؟‘‘
	ہاتھی بولا :’’ ’’ بس بہن! ذرا جنگل کی سیر پر نکلا ہوں۔‘‘
	چڑیا بولی:’’ ہاتھی بھائی! میں نے دیکھا تم بہت رحم دل ہو، ابھی ابھی تم نے چوہے کے ایک چھوٹے سے بچّے کی جان بچائی، واقعی یہ ایک بہت اچھا کام کِیا تم نے۔ میرا بھی ایک کام کر دو گے۔‘‘
	ہاتھی نے کہا :’’ بولو بہن! کیا کام ہے؟‘‘ چڑیا بولی:’’ میں کل سے بھوکی پیاسی یہاں بیٹھی ہوں، گھونسلے کو چھوڑ کر کہیں جا نہیں سکتی، کیوں کہ گھونسلے میں میرے انڈے ہیں۔ اگر تم کچھ دیر اس کی دیکھ بھال کرو تو میں اپنے کھانے کا کچھ انتظام کر لیتی ہوں۔ میرے آنے تک تم انڈے کو سیتے رہنا۔‘‘
	ہاتھی بولا:’’ کیا پھر تم مجھے اپنے بچّے کے ساتھ کھیلنے دو گی؟‘‘ 
	’’ہاں ہاں ! کیوں نہیں ؟‘‘چڑیا کہنے لگی۔
	بچّے کو دیکھنے اور اس کے ساتھ کھیلنے کے لالچ میں بے چارا ہاتھی مان گیا۔ چڑیا نے سوچا کہ ہاتھی انڈے کو سیتا بھی رہے گا اور اس کے گھونسلے کی نگرانی بھی ہوتی رہے گی۔ اور وہ گھومتی پھرتی اور موج مستی اڑاتے رہے گی۔
	بے چارہ سیدھا سادا ہاتھی انڈے پر بیٹھا اسے سیتا رہا اور بے فکر چڑیا نہ جانے کہاں کہاں موج مستی اڑاتے پھرتی رہی۔ ہاتھی اس انتظار میں تھا کہ انڈے سے کب بچّہ نکلے اور میں اس کے ساتھ کھیلوں۔ کئی دن گذر گئے انڈے سے بچّہ بھی نہ نکلا اور چڑیا بھی نہیں آئی۔
	وہاں سے جو بھی جانور گذرتے وہ ہاتھی کا مذاق اڑاتے کہ :’’ کبھی ایسا بھی ہوا ہے کہ ہاتھی کے سینے سے انڈے سے بچّہ نکلا ہو؟‘‘ ہاتھی بے چارا سنتا اور چُپ رہ جاتا اور اسی طرح انڈے کو سیتا اور گھونسلے کی حفاظت کرتا رہا۔ لیکن کئی دن بیت جانے کے باوجود چڑیا نہیں آئی۔ 
	ایک دن سرکس والوں نے ہاتھی کو دیکھا وہ اسے پکڑ کر سرکس میں لے جانا چاہتے تھے۔ لیکن ہاتھی بچّے کے انتظار میں ٹس سے مس نہ ہوا۔ سرکس والوں نے جب یہ دیکھا تو اسے گھونسلے سمیت اٹھا کر لے گئے۔ ہاتھی انڈے پر بیٹھا ہی رہا وہ کسی بھی طرح سے کھڑا نہ ہوا۔ سرکس والوں نے لاکھ کوشش کی کہ وہ کوئی کرتب دکھائے لیکن ہاتھی بیٹھا ہی رہا۔اور وہ جو بھی کرتا بیٹھے ہی بیٹھے کرتا۔ وہ انڈے پر بیٹھے بیٹھے ہی بینڈ بجاتا اور لوگوں کو ہنساتا۔
	یہ بھی لوگوں کے لیے ایک حیرت انگیز اور دل چسپ بات بن گئی کہ ہاتھی انڈے پر بیٹھا ہوا اُسے سیت رہا ہے۔ دیکھیں بچّہ نکلتا ہے یا نہیں ؟
	ایک دن انڈہ ہِلنے لگا۔ ہاتھی گھبرا گیا کہ یہ کیا ہوا؟ انڈہ چٹکا اور ٹوٹ گیا۔ انڈے سے بچّہ باہر نکلا تو سب لوگ حیران رہ گئے کہ انڈے سے ایک چھوٹا سا خوب صورت عجیب و غریب بچّہ نکلا جو آدھا ہاتھی جیسا اور آدھا چڑیا جیسا تھا۔ یہ تو لوگوں کے لیے ایک اچھا خاصا عجوبہ ہو گیا۔ ہاتھی اور وہ بچّہ دونوں مل کر خوب کھیلتے کودتے اور سرکس میں طرح طرح کے کرتب دکھا کر لوگوں کو لطف اندوز کرتے۔ ہاتھی اور اس کے بچّے کی وجہ سے اُس سرکس کی شہرت دور دور تک پھیل گئی۔ یہاں تک کہ جنگل میں بھی اس سرکس کے اس عجیب و غریب بچّے کی خبر پہنچ گئی۔ 
	جب بے فکر چڑیا کو اس بات کا پتا چلا تو وہ بھی ایک دن سرکس دیکھنے کے لیے شہر میں آئی۔ اڑتے اڑتے جب وہ سرکس میں گھسی تو ایک نظر میں اس نے ہاتھی کو پہچان لیا۔ کھیل ختم ہونے کے بعد جہاں ہاتھی بندھا ہوا تھا وہاں جا کر چڑیا نے اس سے کہا :’’ اے بھائی ہاتھی ! مجھے پہچانا کہ نہیں ؟ میں وہی چڑیا ہوں جس کے انڈے سے یہ بچّہ نکلا ہے۔‘‘
	ہاتھی نے کہا :’’ ہاں ہاں ! تجھ جیسی بے فکر چڑیا کو کون بھول پائے گا؟ جسے خود اپنے انڈے اور بچّے کا خیال نہ ہو۔‘‘
	چڑیا نے بہانا بنایا کہ :’’ میں راستا بھٹک گئی تھی، اب بہت دنوں بعد جنگل میں پہنچی ہوں کہ مجھے تمہارے سرکس کی خبر ملی سو میں یہاں آ گئی۔ اب مجھے میرا بچّہ واپس کر دو۔‘‘
	چڑیا کی یہ بات سُن کر ہاتھی کو دکھ پہنچا کہ انڈے کے پاس چھوڑ کر یوں مجھ سے دور چلی گئی اور اب بچّے پر حق جتانے آ گئی۔ اس نے کہا کہ :’’ اس معاملے میں مَیں خود کوئی فیصلہ نہیں کروں گا بل کہ بچّے سے پوچھا جائے کہ وہ کس کے ساتھ رہے گا؟‘‘
	جب بچّے سے پوچھا گیا تو اس نے کہا:’’ اصل ماں تو میری ہاتھی ہی ہے کیوں کہ اسی  نے انڈے سے نکلتے تک میری حفاظت کی اور مجھے پالا پوسا اور بڑا کیا۔ اے چڑیا! تُو تو انڈہ دینے کے بعد اس کو سینے کی تکلیف سے نجات پانے کے بہانے ڈھونڈ رہی تھی۔ اب جا یہاں سے میں تیرے ساتھ ہر گز ہرگز نہیں جاؤں گا، بل کہ میں ہاتھی ہی کے ساتھ رہوں گا۔ ‘‘
	اتنا سُن کر ہاتھی بہت خوش ہوا جب کہ بے فکر چڑیا وہاں سے منھ لٹکائے چُپ چاپ چلی گئی۔
						(جگدیش چندر کیش)



نیلم چڑیا اور آگ


	سندر بن واقعی بہت ہی زیادہ سندر اور خوب صورت تھا۔چاروں طرف قدرت نے اپنی خوب صورتی بکھیر دی تھی۔ کل کل کرتے جھرنے، اور خوب صورت چمکیلی ہری بھری گھاس، ایسے لگتی تھی جیسے جنگل میں کسی نے قالین بچھا دی ہو۔ان مناظر کو دیکھ کر جانوروں اور پرندوں کے دل باغ باغ ہو جاتے تھے۔ ہر طرف رنگ برنگے پھول تھے۔ جن پر تتلیاں اور بھونرے منڈلاتے رہتے۔
	یہ کہانی اس زمانے کی ہے جب لوگوں کو آگ کا پتا نہ تھا۔ جیسے ہی شام ہوتی لوگ گپھاؤں میں چلے جاتے، اُس وقت لوگ پوری طرح ماحول پر منحصر رہتے تھے۔ کچی جڑیں، قند پھل فروٹ، پتے، سبزیاں اور بغیر پکے ہوئے گوشت لوگوں کی غذا تھی۔
	لاتعداد درختوں کی وجہ سے شام سے پہلے ہی جنگل میں اندھیرا چھا جاتا تھا۔ سندر بن میں ایک گہرا تالاب تھا، جس کا پانی جانوروں اور پرندوں کے پینے کے کام آتا تھا۔ اسی تالاب کے کنارے ایک پیپل کا درخت تھا جس پر نیلم چڑیا اپنا گھونسلہ بنا کر رہتی تھی۔ سبھی جانور اسی تالاب پر پانی پینے آتے تھے۔ اس لیے نیلم چڑیا سے سبھی جانوروں کی دوستی ہو گئی۔
	نیلم چڑیا کی ایک عادت سبھی جانوروں کو بہت اچھی لگتی تھی، وہ تھی اس کی دوسروں کی مدد کرنے کی عادت۔ کوئی پریشانی میں ہو وہ فوراً وہاں پہنچ جاتی تھی۔ کوئی شکاری جنگل میں آ جاتا تو وہ اڑتے ہوئے زور زور سے چیں چیں کی آوازیں بلند کرتی کہ سبھی جانور سمجھ جاتے کے کوئی خطرہ ہے۔ اور وہ اپنی حفاظت کرنے لگتے۔
	نیلم چڑیا کے گھونسلے میں بہت اندھیرا تھا اور اس کے بچّے باہر جانے کی ضد کیا کرتے تھے۔ ایسے میں اس کی ایک خواہش ہوتی تھی کہ کاش! کہیں سے روشنی کی ایک کرن آ جائے۔ 
	اُسی تالاب کے کنارے ایک بہت موٹا درخت تھا جس کی بڑی سی کھوہ میں ایک بھالو رہتا تھا۔ وہ دن بھر سوتا اور جب بھوک لگتی تو تالاب سے مچھلیاں پکڑتا۔ بھالو بہت ہی مطلبی اور خود غرَض تھا۔جنگل کے سبھی جانور اسے مطلبی بھالو کہتے تھے۔ 
	ایک دن خوب ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی۔ہلکی ہلکی بوندا باندی بھی جاری تھی۔ گھونسلے میں نیلم چڑیا کے دونوں بچّے سہمے ہوئے اپنی ماں کے انتظار میں دبک کر بیٹھے ہوئے تھے۔ وہ دونوں سخت بھوکے تھے۔ بے چینی سے ماں کو یاد کرتے ہوئے ایک دوسرے کو تسلّی دے رہے تھے۔ اُدھر بوندا باندی باندی کی وجہ سے نیلم چڑیا کے پر بھیگ گئے تھے۔ وہ بہت مشکل سے گھونسلے تک پہنچی، بچّوں کو پیار کیا انھیں کھانا دانا کھلایا، بچّے ماں سے لپٹ کر روتے ہوئے سو گئے۔
	ابھی رات کا پہلا ہی پہر گذرا تھا کہ نیلم چڑیا کو پکے ہوئے کھانے کی خوشبو آنے لگی اس نے اپنی گردن گھونسلے سے باہر نکال کر اِدھر اُدھر کا جائزہ لیا تو وہ حیران رہ گئی کہ بھالو کی کھوہ میں ڈھیر ساری لکڑیاں رکھی ہوئی ہیں اور آگ جل رہی ہے اور وہ مزے لے لے کر مچھلیاں بھون کر کھا رہا ہے۔
	نیلم چڑیا کو روشنی دیکھ کربڑی خوشی ہوئی، وہ بھالو کے پاس آئی اور اس کو روشنی اور آگ کی مبارکباد دی اور بولی :’’ بھیا بھالو! تمہارے پاس تو ڈھیر ساری لکڑیاں ہیں ایک مجھے بھی دے دو مَیں بھی اپنے گھر میں روشنی کر لوں گی اور کھانا بھی پکا لوں گی۔‘‘
	مطلبی بھالو نے نیلم چڑیا کو ڈانٹ کر وہاں سے بھگا دیا، رات بھر نیلم سو نہ سکی۔ وہ سوچتی رہی کہ ساری دنیا اندھیرے میں ڈوبی ہوئی ہے اگر بھالو تھوڑی سے آگ دیدے تو لوگوں کا بھلا ہوسکتا ہے۔ ابھی وہ یہ سوچ ہی رہی تھی کہ اسے ایسا لگا جیسے سوکھے پتّوں پر کوئی چل رہا ہے۔ اس نے گردن گھونسلے سے باہر نکال کر دیکھا تو کیا دیکھتی ہے کہ شیر بھالو کی گپھا کی طرف بڑھ رہا ہے۔ سخت سردی کا موسم تھا، درخت کی کھوہ میں آگ کی گرمی کی وجہ سے بھالو بہت گہری نیند سویا ہوا تھا۔ 
	تب ہی نیلم چڑیا نے چیں چیں کا شور مچا دیا، نیلم چڑیا کی چیخ سُن کر بھالو نیند سے جاگ گیا، اس کے شور سے بھالو ہی نہیں بل کہ دوسرے جانور بھی جاگ اٹھے۔ اور نیلم کے گھونسلے کی طرف بڑھنے لگے۔ اتنے سارے جانوروں کو دیکھ کر شیر فوراً ڈر کر وہاں سے رفو چکّر ہو گیا۔ سبھی جانوروں نے نیلم کی خوب خوب تعریف کی۔ 
	مطلبی بھالو کو جب حقیقت سمجھ میں آئی تو شرمندگی سے اس کا سر جھک گیا۔ اس نے دوسرے دن نیلم چڑیا کو کئی لکڑیاں دیں اور کہا کہ :’’ بہن ! مجھے معاف کر دو، اگر تم نہ ہوتیں تو شیر تو مجھے کب کا کھا چکا ہوتا اگر آج میں زندہ بچا ہوں تو وہ تمہاری ہوشیاری کی وجہ سے، لو یہ لکڑیاں آگ جلا کر اپنے گھر میں روشنی بھی کر لو اور کھانا بھی پکا لو۔ اور ہاں ! نیلم بہن ! تمہارا بہت بہت شکریہ۔‘‘
	نیلم چڑیا نے کہا کہ ’’ بھائی بھالو! شکریے کی کوئی بات نہیں، ایک دوسرے کی مدد کرنے ہی میں سچی خوشی کا راز پوشیدہ ہے، یہ تو میرا فرض تھا کہ میں تمہیں باخبر کروں۔ مَیں تمہارے کسی کام آسکی یہی میرے لیے بڑے اعزاز کی بات ہے۔‘‘
	بھالو بہت روہانسا ہوا اور اس دن کے بعد سے جنگل کے سبھی جانوروں کے ساتھ مِل جُل کر رہنے لگا۔ اور اپنی گپھا میں سے اس نے چند جلتی ہوئی لکڑیاں نیلم چڑیا کو دے دیں۔ نیلم نے اس لکڑی سے پہلے تو اپنے گھونسلے میں روشنی کی، کھانا پکایا اور پورے جنگل اور آس پاس کے جنگلوں میں حتیٰ کہ جہاں جہاں روشنی نہیں تھی وہاں وہاں پہنچ کر اس نے روشنی پھیلائی۔ پیار کی روشنی، ایک دوسرے کی مدد کرنے کی روشنی اور مل جل کر رہنے کی روشنی۔
						( شوبھا وِجیندر)


	

جگّا ڈاکو اور جادوئی غار

	پہاڑیوں کے بیچ مستان پور نامی ایک خوش حال ریاست تھی۔ وہاں جگّا نامی ایک ڈاکو بھی رہتا تھا۔ وہ پہاڑیوں کے پاس سے گذرنے والے مسافروں اور بیوپاریوں کو اپنا شکار بنا کر لوٹ لیتا تھا۔ جگّا کو زندہ یا مُردہ گرفتاری کروانے پر راجا نے ڈھیر سارے انعامات کا اعلان کیا تھا۔ لیکن وہ بھیس بدلنے میں بہت ماہر تھا اسی لیے آج تک آزاد گھوم رہا تھا۔
	ایک بار بھولا نام کا ایک لڑکا دو عربی گھوڑے لے کر جا رہا تھا کہ اچانک جگّا نے اس کا راستہ روک لیا اور تلوار نکال کر کڑکتے ہوئے لہجے میں بولا:’’ اے چھوکرے! اگر جان کی سلامتی چاہتا ہے تو یہ گھوڑے مجھے دیدے۔‘‘ 
	مشہور ڈاکو جگّا کو اپنے سامنے اس طرح تلوار لیے ہوئے کھڑا دیکھ کر بھولا پہلے تو بُری طرح سہم گیا لیکن پھر اپنے حواس پر قابو پاتے ہوئے پوری ہمت جٹا کر بولا:’’ سردار!ایک گھوڑا تو مَیں دے سکتا ہوں لیکن دوسرا گھوڑا مَیں کسی بھی قیمت پر نہیں دوں گا۔‘‘
	’’کیوں نہیں دو گے؟‘‘ جگّا نے ڈانٹتے ہوئے پوچھا۔ 
	’اگر دونوں گھوڑے دے دیا تو پھر مَیں دو گُنا کیسے کروں گا؟‘‘بھولا نے سہم کر کہا۔
	’’کیسا دو گُنا؟‘‘ جگّا نے جھٹ سے پوچھا۔
	’’تھوڑی دور پر ایک جادوئی غار ہے، مَیں روز اُس کے اندر ایک گھوڑا بھیجتا ہوں۔ تھوڑی دیر میں وہ دو گُنا ہو کر آ جاتا ہے۔ اُس میں سے ایک گھوڑا مَیں شہر لے جا کر بیچ دیتا ہوں۔‘‘بھولا نے جگّا کو تفصیل سے بتایا۔
	جگّا کو بھولا کی باتوں پر بھروسہ نہیں ہوا۔وہ اپنی بات پر اَڑا رہا کہ مجھے دونوں گھوڑے دیدے ورنہ مَیں تیری گردن کاٹنے سے دریغ نہیں کروں گا۔بھولا نہ مانا اس نے کہا ایک گھوڑا لے لو، دوسرا میرے پاس دو گُنا کرنے کے لیے رہنے دو۔تھوڑی دیر بعد جگّا نے کچھ سوچ کر کہا کہ :’ ’ چل چھوکرے! مجھے بھی وہ جادوئی غار دکھا دے۔‘‘
	وہاں سے ۵؍ میل دور ایک سُنسان علاقے میں پہاڑی کی ڈھلوان پر ایک غار تھا۔ بھولا نے اپنا ایک گھوڑا اس غار میں بھیج دیا۔ آدھے گھنٹے بعد جب وہ گھوڑا واپس آیا تو اس کے ساتھ ایک اور گھوڑا تھا۔
	جگّا ڈاکو کو بہت تعجب ہوا۔اُس نے پوچھا :’’اس جادوئی غار میں اگر دو گھوڑے بھیج دیے جائیں تو کیا ہو گا؟ ‘‘
	’’پتا نہیں مَیں نے کبھی یہ کوشش ہی نہیں کی مَیں ہمیشہ اس غار میں ایک ہی گھوڑا بھیجتا رہا ہوں۔ ‘‘ بھولا نے بڑے ہی بھولے پن سے جواب دیا۔
	’’چلو! آج کوشش کرتے ہیں جگّا نے جواب دیا اور اُس نے غار میں دو گھوڑے داخل کر دیے۔
	آدھے گھنٹے بعد چار گھوڑے واپس آ گئے۔ یہ دیکھ کر بھولا اپنے منہ پر طمانچے مارتے ہوئے زور زور سے چلانے لگا کہ :’’ مَیں پاگل ہوں، مَیں پاگل ہوں۔‘‘
	’’مَیں نے آج تک صرف دو گھوڑے بنائے ہیں، جب کہ اس جادوئی غار میں دو کے چار، چار کے آٹھ، آٹھ کے سولہ اور سولہ کے ۔۔۔۔۔۔ گھوڑے بن سکتے ہیں۔ ہائے ہائے! اگر پہلے اس بات کا پتا ہوتا تو مَیں تو کب کا کروڑ پتی بن چکا ہوتا۔ ‘‘بھولا اپنے بال نوچتے ہوئے بول رہا تھا۔ 
	’’کوئی بات نہیں بچّے! اب چار کے آٹھ، پھر سولہ، بتیس اور چونسٹھ گھوڑے بنا لے۔‘‘ جگّا نے ہنستے ہوئے بھولا کو سمجھایا۔ 
	یہ سُن کر بھولا کے اوپر پاگل پن کا مزید دورہ پڑ گیا۔ وہ اپنی چھاتی پیٹتے ہوئے اور زیادہ زور زور سے رونے لگا۔ ’’اب کیا ہو گیا؟‘‘ جگّا نے پوچھا۔ 
	’’جِس سادھو نے مجھے اِس غار کا پتا بتایا تھا اُس نے کہا تھا کہ اس جادوئی غار میں صرف گیارہ مرتبہ گھوڑے دو گُنے ہوسکتے ہیں۔ مَیں دس بار گھوڑے دو گُنے کر چکا ہوں اب صر ف ایک ہی موقع بچا ہے۔‘‘ یہ بات بتاتے ہوئے بھولا کی آنکھوں سے آنسو ٹپکنے لگے۔
	یہ بات سُن کر جگّا کا چہرہ بھی اُتر گیا۔ کافی دیر تک خاموش رہنے کے بعد اس نے بھولا سے کہا :’’ کوئی بات نہیں ہم اب بھی کافی پیسا کما سکتے ہیں۔ ‘‘-’’ وہ کیسے ؟‘‘بھولا نے فوراً پوچھا۔
	جگّا بھولا کو اپنا منصوبہ سمجھانے لگا، جسے سُن کر بھولا بہت خوش ہو گیا۔جگّا یہ راز کسی اور کو بتانا نہیں چاہتا تھا اور اُسے بھولا جیسے بھولے بھالے لڑکے سے کوئی ڈر نہ تھا۔ جگّا اور بھولا دونوں نے شہر جا کر جگّا کی تمام تر جمع شدہ دولت سے ڈھیر سارے گھوڑے خرید لیے اور ان گھوڑوں کو لے کر دونوں اُس جادوئی غار کے قریب آئے۔ 
	ایک ایک کر کے دونوں نے سارے گھوڑے غار میں داخل کر دیے۔ دھیرے دھیرے کئی گھنٹے گذر گئے دو گُنا ہونا تو دور کی بات جتنے گھوڑے اندر گئے تو وہ بھی واپس نہیں آئے۔ جگّا پریشان ہو اُٹھا۔
	’’چلو! اندر چل کر دیکھتے ہیں۔‘‘ بھولا نے رائے ظاہر کی۔
	دونوں غار کے اندر گھس گئے۔ وہ بہت لمبا تھا۔ چلتے چلتے دونوں کافی دور تک نکل گئے۔ لیکن گھوڑوں کا کچھ بھی پتا نہ چلا۔ اچانک ایک سرے پر انھیں روشنی دکھائی دی۔ ’’ارے ! یہ تو غار نہیں بل کہ سرنگ ہے۔‘‘جگّا روشنی دیکھ کر چونک پڑا۔
	’’اور ہم نے تمہیں پکڑنے کے لیے اِس سرنگ کا سہارا لیا ہے۔‘‘ بھولا نے ہنستے ہوئے کہا۔
اسی کے ساتھ اندھیرے میں چھپے بھولا کے گاؤں کے درجنوں نوجوان لاٹھی ڈنڈا لیے جگّا پر پِل پڑے اور اس کو زندہ گرفتار کر لیا۔ جگّا سمجھ گیا کہ جب وہ ایک یا دو گھوڑے اندر ڈالتے تھے تو بھولا کے گاؤں والے اس سے دو گُنا گھوڑے باہر نکال دیتے تھے۔
	اس طرح بھولا کی عقل مندی سے خطرناک ڈاکو جگّا گرفتار ہو گیا، لوگ اسے پکڑ کر راجا کے دربار میں لے گئے راجا نے بھولا کو خوب خوب انعام سے مالا مال کر دیا۔( ڈی۔ جی۔ سنجے )




اور چڑیاں اُڑ گئیں 


	بچّوں نے دیکھا کہ کمرے کے روشن دان سے ایک چڑیا آئی اور ٹیوب لائٹ پر بیٹھ گئی۔ پھر اُڑ کر چلی گئی۔
	دوپہر تک چار چڑیاں پھر آئیں، آ کر ٹیوب لائٹ پر بیٹھ گئیں۔ پھر باہر سے چاروں تنکا چونچ میں رکھ کر لاتیں اور باہر جاتیں۔ تین دنوں تک چڑیاں اپنا گھونسلہ بناتی رہیں۔ اور بچّے اُن کو توڑتے رہے۔ چڑیوں کے ذریعے لائے گئے گھاس پھوس اور تنکے بچّے اٹھا اٹھا کر گھر کے باہر مسلسل پھینکتے رہے۔
	کئی دنوں تک بچّوں اور چڑیوں کی یہ جنگ جاری رہی۔ چڑیاں گھاس پھوس، تنکے، ڈوری، روئی، جو بھی ملتا لا لا کر اپنا گھونسلہ بناتی رہیں۔ بچّے صبح اُس کو دیکھتے ہی توڑ تاڑ کر پھینک دیتے۔
	بچّوں نے کچھ دن بعد دیکھا کہ چڑیے کا ایک بچّہ ٹیوب لائٹ پر بیٹھنے کی کوشش کر رہا ہے۔ انھوں نے مشورہ کیا کہ کیوں نہ ہم اسٹول پر کھڑے ہو کر ٹیوب لائٹ کے اوپری حصے کی طرف بنے ہوئے اس گھونسلے کو بھی توڑ کر باہر پھینک دیں۔ 
	بچّے گھونسلہ توڑ کر پھینکنے کی بات چیت کر ہی رہے تھے کہ اُن کی ماں جو اُدھر سے گذر رہی تھیں اس نے سُن لیا اور کہنے لگی:’’ بچّو ! کیا کر رہے ہو؟‘‘ بچّے بولے:’’ ماں ماں ! دیکھو نا ایک تو چڑیوں نے ہمارے کمرے میں اپنا گھونسلہ بھی بنا لیا ہے اور اوپر سے ایک بچّہ بھی ہے جو گندگی پھیلا رہا ہے ہم اُس گھونسلے کو توڑنے کی بات کر رہے ہیں۔‘‘ 
	ماں بولی:’’ نہیں نہیں، بچّو! گھونسلہ مت توڑنا، اگر چڑیا تمہارا گھر توڑ دے تو تمہیں کیسا لگے گا؟‘‘ 
	بچّوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا پھر بولے:’’ ماں ماں ! دیکھو نا انھوں نے ہمارا کمرہ کتنا گندہ کر دیا ہے ہمارے بستر اور بیڈ پر بھی گندگی پھیلا دی ہے۔ ‘‘ 
	ماں نے پیار سے بچّوں کو دیکھا اور انھیں نرمی سے سمجھایا کہ :’’ دیکھو بچّو! جیسے مَیں تمہاری ماں ہوں، ویسے ہی چڑیاں بھی اپنے بچّوں کی ماں ہیں، اگر کوئی تمہیں پریشان کرے گا تو مجھے دکھ ہو گا اور اگر کوئی تمہاری ماں کو پریشان کرے گا تو کیا تمہیں اچھا لگے گا؟‘‘ 
	بچّے بولے:’’ نہیں نہیں ماں ! آپ کو اگر کوئی تکلیف دے گا تو ہم اسے زندہ نہیں چھوڑیں گے۔ ‘‘ 
	ماں بولی :’’بچّو! اسی طرح تم بھی چڑیوں کو مت مارو، ان کا گھونسلہ مت توڑو، وہ تو اپنے بچّوں کے بڑا ہونے کا انتظار کر رہی ہیں۔ جب ان کے بچّے اپنے پروں سے خود اُڑنے کے لائق ہو جائیں گے تو وہ یہاں سے خود بہ خود اُڑ کر کہیں اور چلے جائیں گے۔ پھر وہ آسمان کی طرف اڑتے ہوئے تمہیں بہت بھلے لگیں گے۔ ‘‘
	بچّے بولے:’’ جی امّی جان! اب ہمیں سمجھ میں آ گیا، ہم اب کبھی بھی گھونسلوں کو نہیں توڑیں گے۔ ‘‘ ماں نے خوش ہو کر بچّوں کی پیٹھ تھپتھپائی اور کہا:’ ’ شاباش! میرے لاڈلو! تم اسی طرح اچھی عادتیں اپنے اندر پیدا کرو۔
	چند دنوں بعد چڑیا کے بچّے بڑے ہو گئے اور پھر کچھ دن اور گھونسلے میں رہنے کے بعد وہاں سے اُڑ گئے۔ ماں نے یہ دیکھ کر کہا کہ :’’ دیکھو بچّو! چڑیاں اُڑ گئیں۔‘‘
	
						(سریش آنند)



خوشی 

	ہمارے ملک بھارت کے شمالی علاقے میں ایک خوب صورت اور صاف ستھرا گاؤں تھا۔ جس کا نام تارا پور تھا۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب اس گاؤں میں سورج نکلنے اور ڈوبنے کا منظر، کویل کی میٹھی آواز، پپیہے کی کوک، چڑیوں کی چہچہاہٹ، عورتوں کا مٹکا لے کر کنویں پر پانی بھرنے جانا، کسانوں کا کھیتوں کھلیانوں میں کام کرنا اور چاروں طرف ہریالی ہی ہریالی یہ سب چیزیں لوگوں کا دل کا لبھاتی تھیں ایسا لگتا تھا جیسے کسی نے دور دور تک ہری چادر بچھا دی ہو۔ 
	اُس گاؤں میں ایک لڑکی رہتی تھی جس کا نام تھا خوشی - جیسا نام ویسا ہی اس کا برتاؤ تھا۔ وہ بہت نیک، اچھی اور سیدھی سادی لڑکی تھی ہر ایک سے محبت اور نرمی سے پیش آتی، بڑوں کا کہنا مانتی، بزرگوں کا ادب اور احترام کرتی۔گھر کے کام کاج کے علاوہ پاس پڑوس کے لوگوں کا بھی کام کرواتی۔ سب ہی اس کا نام لیتے اور اس کی مثال دیتے کہ دیکھو خوشی کتنی اچھی لڑکی ہے۔ وہ اس وقت پانچویں جماعت میں پڑھ رہی تھی۔ وہ روزانہ سات بجے اسکول جاتی اور بارہ بجے گھر واپس آتی۔ لیکن آج اسے اسکول سے آنے میں دیر ہو گئی تھی اس لیے اس کے ماں باپ اور گھر کے لوگ بہت پریشان ہو گئے تھے۔ 
	خوشی جب اسکول سے گھر واپس آ رہی تھی اس نے دیکھا کہ کچھ بد معاش آدمی ایک بوڑھے اور کم زور شخص کو بُری طرح مار پیٹ کر زخمی کر کے اس کے روپیوں اور پیسوں کی تھیلی چھین کر بھاگ رہے ہیں۔ سڑک سنسان نہیں تھی لوگ آ جا رہے تھے اور خاموش تماشائی بن کر یہ ظلم دیکھ رہے تھے کسی میں ہمت نہیں ہو رہی تھی کہ وہ ان بدمعاشوں سے اس بوڑھے اور کم زور آدمی کو بچاتے۔ خوشی کو یہ سب دیکھ کر بہت افسوس ہوا۔ بدمعاش تو پیسوں کی تھیلی لے کر وہاں سے فرار ہو گئے اور وہ آدمی زخمی حالت میں وہاں تڑپ رہا تھا کوئی بھی اس کی مدد کو آگے نہیں بڑھا۔ خوشی نے اس آدمی کو اسپتال پہنچایا اور پولیس اسٹیشن فون کر کے اِس حادثے کے بارے میں اطلاع دی۔ حال آں کہ ان بدمعاشوں نے جاتے وقت یہ دھمکی دی تھی کہ اگر کسی نے اس واقعہ کی خبر پولیس کو دی تو اسے جان سے مار دیا جائے گا۔ لیکن خوشی نے اس بات کی ذرّہ بھر بھی پروا نہ کرتے ہوئے ہمت سے کام لے کر پولیس کو بتا دیا۔ 
	پولیس نے اسپتال پہنچ کر زخمی کا بیان لیا اور ان بدمعاشوں کا حلیہ پوچھا۔ اور اسپتال سے روانہ ہوئے تھوڑی ہی دیر بعد پولیس نے ان بدمعاشوں کو گرفتار کر لیا۔ خوشی ابھی تک اسپتال ہی میں تھی۔ اس کے ماں باپ کو جب اس بارے میں پتا چلا تو انھیں بہت خوشی ہوئی کہ چلو ہماری خوشی کی وجہ سے کسی کی جان بچی ہے۔ 
	پولیس انسپکٹرنے خوشی کا شکریہ ادا کیا اور اس کے ماں باپ کی خوب تعریف کی۔اور اسے لے کر کلکٹر صاحب کے پاس گئے جہاں خوشی کو بہادر بچّی کا خطاب اور سونے کا تمغا انعام میں دیا گیا اس طرح خوشی نے بہادری اور ہمت سے ایک کم زور اور بوڑھے آدمی کی مدد بھی کی، لوگوں کا دل بھی جیتا اور اپنے ماں باپ کا نام بھی روشن کیا۔ 

						( نیلیش ترپاٹھی)	



جینو چوہا بال بال بچا


	ایک چوہا تھا۔اُس کا نام جینو تھا۔ وہ بہت ہی لالچی، کاہل اور سُست تھا۔ کاہل چوہا بہت زیادہ پیٹّو بھی تھا۔ اس کا پیٹ کبھی نہیں بھرتا تھا۔
	ایک دن کی بات ہے جینو کی ماں نے کہا کہ :’’بیٹا! تم بہت زیادہ کھاتے ہو، لیکن کام کاج سے جی چراتے ہو، تم اپنے حصے کے علاوہ میرے اور تمہارے پاپا کا کھانا بھی چٹ کر جاتے ہو، یہ اچھی بات نہیں ہے آج سے تم اپنا کھانا خود تلاش کرو گے۔ ہاں ! ایک بات یاد رکھنا لالچ مت کرنا، زیادہ کھانے کے چکر میں کبھی کسی مصیبت میں مت پڑ جانا، اپنا دھیان رکھنا۔‘‘
	جینو بہت اُداس ہو گیا۔ مگر اسے جانا ہی پڑا۔ وہ کھانے کی تلاش میں نکل گیا، ابھی وہ کچھ ہی دور گیا تھا کہ اُسے راستے میں ایک گیہوں کا دانا مِلا۔ وہ خوش ہو گیا۔ اس نے گیہوں کا دانا اٹھا لیا۔ تب ہی اس کی نظر خرگوش پر پڑی، خرگوش اسے دیکھ کر ہنس رہا تھا۔
	’’تم مجھے دیکھ کر کیوں ہنس رہے ہو؟‘‘ جینو نے خرگوش سے پوچھا۔
	’’مَیں تو تمہاری بے وقوفی پر ہنس رہا ہوں، ارے! ایک کسان کی بیل گاڑی یہاں سے گذری ہے۔ تھوڑا اور آگے جاؤ تمہیں گیہوں کی بالی مل جائے گی۔ ‘‘
	خرگوش کی باتیں سن کر جینو کے منہ میں پانی بھر آیا۔ وہ جھٹ سے آگے بڑھ گیا۔ اس کی نظر گیہوں کی بالی پر پڑی۔ بالی راستے میں پڑی ہوئی تھی۔ جینو چوہے نے وہ بالی اٹھا لی اور خوشی کے مارے ناچنے لگا۔ تب ہی وہاں ایک گلہری آ گئی اس نے چوہے سے کہا:’’ ایک گیہوں کی بالی کیا ملی تم تو اچھلنے کودنے اور ناچنے گانے لگے۔ ارے! اور محنت کرو، تھوڑا آگے جاؤ تمہیں ایک بالی کی جگہ گیہوں کا پورا پَودا مل جائے گا۔‘‘ 
	چوہے کو گلہری کی بات پسند آ گئی وہ جھٹ سے آگے بڑھ گیا۔ چلتے چلتے وہ تھک گیا تھا کہ اچانک اس کی نظر گیہوں کے پودے پر پڑی۔ گیہوں کا پودا راستے میں گِرا ہوا تھا۔ پودے میں بالیاں بالیاں تھیں۔ جینو خوشی کے مارے اچھلنے کودنے لگا۔ گیہوں کے پودے کو دیکھ کر جینو نے اپنے آپ سے کہا :’’ واہ! کیا مزہ آ گیا؟ اب تو پیٹ خوب بھر ہی جائے گا۔‘‘
	بندر نے جب چوہے کو اس طرح ناچتے گاتے اور اچھلتے کودتے دیکھا تو چھلانگ مار کر اس کے قریب آیا اور کہا :’’ تم بھی یا ر بڑے بے وقوف لگتے ہو، بڑا سوچو، بڑا کام کرو، اگر تمہیں کئی دنوں کا کھانا ایک ہی جگہ مل جائے تو ؟‘‘ 
	’’ایسا! وہ جگہ کون سی ہے؟‘‘ چوہے نے بندر سے پوچھا۔
	’’بس یہاں سے صرف پچاس قدم کے فاصلے پر گیہوں کی فصل کا ایک بہت بڑا کھیت ہے وہاں چلے جاؤ اور زندگی بھر موج کرو۔‘‘بندر نے جینو کو بتایا۔
	چوہا بندر کی باتوں میں آ گیا۔ چلتے چلتے وہ کھیت میں پہنچ گیا۔ کھیت میں گیہوں کی لہلہاتی فصل کو دیکھ کر چوہے کی خوشی کا کوئی ٹھکانا نہ رہا۔ اس نے آؤ دیکھا نہ تاؤ، دوڑتا بھاگتا گیہوں کی بالیوں پر ٹوٹ پڑا۔ ابھی اس نے دوچار دانے ہی گیہوں کے کھائے تھے کہ تب ہی وہ ایک پھنکار سُن کر ڈر گیا۔ 
	ایک سانپ اپنا پھن پھیلائے ہوئے بیٹھا ہوا تھا۔چوہا ڈر کے مارے کانپنے لگا۔ اسے اپنی موت نظر آنے لگی۔ سانپ کی پھنکار سُن کر چوہے نے اپنی آنکھیں بند کر لیں۔ اچانک ایک نیولا کہیں سے دوڑتا ہوا آیا اور اس نے سانپ پر حملہ بول دیا اور اسے دبوچ کر ادھ مرا کر ڈالا۔ 
	جینو چوہا بال بال بچ گیا۔ اس نے خود سے یہ عہد کیا کہ اب وہ ماں باپ کا کہنا مانے گا اور کبھی بھی لالچ نہیں کرے گا کیوں کہ وہ ماں باپ کی نافرمانی اور لالچ کی وجہ سے ہی آج ایک بڑی مصیبت میں پھنس گیا تھا۔ لیکن یہ اس کی خوش قسمتی تھی کہ وہ بال بال بچ گیا۔ 
						( منوہر، چ۔ م۔)



	
مَیں کیا بنوں گی ؟ 

	مَیں ہوں نینا۔ مَیں چھٹی جماعت میں پڑھتی ہوں۔ ویسے تو مَیں پڑھائی میں بہت اچھی ہوں پر کھیل کود، ناچنے گانے میں تو ہمیشہ پہلے نمبر پر آتی ہوں۔ اسکول میں میری ڈھیر ساری سہیلیاں ہیں اور سبھی ٹیچر مجھے بہت پسند کرتی ہیں۔ سب کچھ بہت اچھا چل رہا تھا لیکن ایک دن مَیں بہت پریشان ہو گئی۔ 
	 کلا س میں پڑھاتے وقت ایک دن ٹیچر نے بتایا کہ راستے میں پتھریلا راستا، اونچے پہاڑ، بادلوں بھرا آسمان ملے گا۔ لیکن ہمیں ڈرنا نہیں ہے، ننگے پاؤں اُن راستوں پر بس چلتے ہی جانا ہے۔ اگر کہیں پھول یا ہریالی نظر آئے تو بھی نہیں رُکنا۔ مَیں نے اپنی سہیلیوں سے تو کچھ نہیں پوچھا لیکن مجھے بہت ڈر لگنے لگا۔ گھر پہنچ کر ممّی پاپا سے بات چیت کیے بغیر مَیں نے اسکول کا ڈریس بدلا اور اپنے کمرے میں جا کر بیڈ پر لیٹ گئی۔ تھوڑی دیر ممّی کمرے میں آئی انھوں نے پیار سے سر پر ہاتھ رکھا اور میری اُداسی کی وجہ دریافت کی۔ مَیں تو پہلے ہی سے ڈری ہوئی تھی، ممّی کے پوچھنے پر پھوٹ پھوٹ کر روتے ہوئے ممّی سے کہنے لگی کہ مَیں اکیلے کبھی بھی اسکول نہیں جاؤں گی کیوں کہ پتھریلا راستا، کالے بادل، اونچے پہاڑ مجھے روکیں گے اور مَیں ننگے پاؤں ہوں گی۔ ممّی نے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے پوچھا کہ:’’ کس نے ایسا کہا ہے؟‘‘تب مَیں نے سسکیاں لیتے ہوئے بتایا کہ:’’ اسکول میں میری کلاس ٹیچر نے سبق پڑھاتے ہوئے ایسا کہا ہے۔ ‘‘ ممّی نے اتنا سُن کر پیار سے مجھے ایک چپت لگائی اور دَھت ترے کی کہتے ہوئے بولیں کہ:’’ بیٹی! تمہاری ٹیچر نے ایسا صرف سمجھانے کے لیے کہا ہے، اصل میں ایسا کچھ نہیں ہوتا، ہماری زندگی میں سکھ دُکھ آتے جاتے رہتے ہیں ہم سکھ سے تو بہت خوش ہوتے ہیں لیکن دکھ سے کافی غم گین ہو کر حوصلہ پست کرنے لگتے ہیں۔ ہمیں ایسا لگتا ہے کہ چاروں طرف اندھیرا ہے، آگے چلنا بہت مشکل ہے۔ اس وقت ایسا لگتا ہے کہ مانو ہم ننگے پاؤں اس پہاڑی، پتھریلے راستے پر جا رہے ہیں۔اسی لیے کہتے ہیں کہ اگر ہمیں سکھ اچھے لگتے ہیں تو دکھوں سے ڈر کر نہیں بیٹھنا چاہیے۔ ان کا سامنا کرنا چاہیے۔ راستا کتنا بھی ڈراؤنا کیوں نہ ہو ہمیں بس اپنی منزل تک چلتے ہی جانا چاہیے۔ کوئی ہمیں لالچ دے گا۔ ہریالی، پھل اور پھول دکھائے گا لیکن ہمیں اپنے کام سے کام رکھتے ہوئے اپنی منزل کی طرف بڑھتے رہنا چاہیے۔ کیوں کہ لگاتار محنت اور مشقت کرتے ہوئے آگے ہی آگے بڑھتے رہنے کا نام ہی زندگی ہے۔ ‘‘ 
	ماں نے یہ سب بڑے پیار سے کہا لیکن مَیں تو زیادہ کچھ نہیں سمجھ سکی۔ ہاں ! اتنا ضرور سمجھ گئی کہ مجھے کبھی بھی دکھ سے ڈرنا نہیں ہے۔
	وقت گذرتا رہا، مَیں اپنی پڑھائی میں مگن رہی۔ اُدھر میری سبھی سہیلیوں نے سوچ لیا تھا کہ بڑی ہو کر کیا کیا بننا ہے۔ لیکن ابھی تک مَیں نے کچھ بھی نہیں سوچا تھا کہ مَیں بڑی ہو کر کیا بنوں گی کیوں کہ مجھے تو سارے کام ہی پسند ہیں۔ مَیں جب بھی کسی بڑے افسر یا آدمی کو دیکھتی تو بس سوچتی کہ مَیں ان کے جیسا بنوں گی۔ لیکن ایسا نہیں ہوسکتاکہ مَیں ہر بڑے آدمی کی طرح بن سکوں گی۔ اس لیے مَیں نے بھی سوچا کہ مجھے بھی کوئی فیصلہ کر لینا چاہیے کہ مجھے بڑے ہو کر کیا بننا ہے؟
	ثنا کے برتھ ڈے پر مَیں اُس کے گھر گئی۔ اس کے پاپا مسٹر آفاق پولیس میں بہت بڑے اور ایک ایمان دار افسر ہیں۔ اُن کی وردی دیکھ کر مَیں نے سوچ لیا کہ مَیں تو پولیس میں ہی جاؤں گی کیوں کہ ان کے تو مزے ہی مزے ہیں۔ پارٹی ختم ہونے کے بعد ثنا کے پاپا نے اپنے تجربات بتائے کہ کس طرح انھیں دیر رات یا کبھی ساری ساری رات چوروں، ڈاکوؤں اور بدمعاشوں کا پیچھا کرنا پڑتا ہے۔ ایک بار تو ان کے پاؤں میں گولی بھی لگ گئی تھی۔ بس! ان کی ایک ٹانگ کاٹنی پڑی پھر انھوں نے اپنی نقلی ٹانگ دکھائی۔ 
	مَیں تو بالکل ڈر گئی۔ مَیں نے اس وقت فیصلہ کر لیا کہ مَیں پولیس میں بالکل نہیں جاؤں گی۔ پھر کون، کب، کہاں، کیسے گولی مار دے کیا پتا ؟ 
	دوسرے روز اسکول جاتے وقت مَیں نے ایک ٹی وی نیوز رپورٹر کو دیکھا۔ وہ مائک لے کرکسی سے کچھ پوچھ رہا تھا۔ مَیں نے اسے بہت بار ٹی وی پر دیکھا ہے۔ مَیں نے من ہی من میں سوچا کہ یہ کام بہت اچھا ہے۔ ساری دنیا ٹی وی پر آنے والے کو دیکھتی ہے جانتی اور پہچانتی ہے رپورٹر کی تو بات ہی الگ ہے۔ اس لیے مَیں رپورٹر ہی بنوں گی۔ اچانک مَیں نے اس کی بات سنی کہ وہ کسی سے فون پر بات کر رہا تھا اور کہہ رہا تھا کہ مَیں پچھلے تین گھنٹوں سے نیتا جی کا انتظار کر رہا ہوں، اور میرا بھوک پیاس کے مارے بُرا حال ہے اِدھر مَیں کھانے گیا اور اُدھر نیتا جی آ گئے تو میری مٹی خراب ہو جائے گی۔ نوکری بھی جاسکتی ہے۔ مَیں نے جب اُس کی یہ حالت سُنی اور دیکھی تو مَیں ڈر گئی اور یہ فیصلہ کر لیا کہ مَیں رپورٹر ہرگز نہیں بنوں گی۔ 
	اسی ادھیڑ بُن میں مَیں اسکول کی طرف جا رہی تھی کہ مجھے سامنے سے ڈاکٹر نرگس نظر آئیں۔ مَیں نے سوچ لیا کہ مَیں بڑی ہو کر ایک اچھی ڈاکٹر بنوں گی اور مریضوں کی خوب خدمت کروں گی۔ سو مَیں نے ڈاکٹر نرگس سے بات کرنے کے ٹھان لی اُن کو سلام کیا، انھوں نے جواب دے کر پوچھا کہ، کیسی ہو؟ مَیں نے اپنے من میں جو بات سوچ رکھی تھی وہ بتائی تو انھوں نے کہا کہ دن کے علاوہ رات کو کسی بھی وقت اگر کسی مریض کو دیکھنے کا بلاوا آتا ہے تو ہمیں جانا پڑتا ہے۔ مَیں سوچنے لگی کہ رات کو مجھے گھر سے نکلتے ہوئے بہت ڈر لگے لگا۔ اس لیے مَیں ڈاکٹر نہیں بنوں گی۔ 
	یہی سب سوچتے ہوئے جب مَیں اسکول پہنچی تو سامنے سے نسرین میڈم آ رہی تھیں۔ مَیں نے سوچا، ارے! ٹیچر بننے کے بارے میں تو مَیں نے کچھ سوچا ہی نہیں ٹیچر کے تو مزے ہی مزے ہیں۔ اسکول بن سنور کر آؤ، کاپی چیک کرو، بچّوں پر غصہ اتارو، اسٹاف روم میں بیٹھ کر چائے پیو اور مزے کرو۔ 
	 لیکن کلاس میں جاتے جاتے سوچنے لگی کہ بے شک ٹیچر بننا کتنا بھی اچھا ہو۔ صبح سب سے پہلے ٹیچر کو اسکول آنا پڑتا ہے اور شام کو چھٹی کے کافی دیر بعد انھیں گھر جانا ملتا ہے۔ اور تو اور چھٹیوں کے دنوں میں بھی ان کو اسکول آنا پڑتا ہے۔ اگر کلاس میں کسی بچّے کو پڑھنا لکھنا نہیں آتا اور اس کے نمبر کم آتے ہیں تو ہیڈ مسٹریس سے ڈانٹ سننی پڑتی ہے وہ الگ۔ اگر کسی بچّے کو سزا دی یا  مار دیا تو وہ دوسری بڑی مصیبت۔ 
	نا بابا نا! مَیں نہیں بنوں گی کبھی ٹیچر۔ پھر کیا بنوں ؟ یہ سوا ل پھر سامنے آیا۔
	 آج ہمارا کام کے عملی تجربے کا پریڈ بھی ہے جس میں ہمیں شجر کاری اور باغ بانی کے طریقے سکھائے جائیں گے۔ آج کے دن ہماری اسکول میں خاص طور پر شجر کاری اور باغ بانی کے ماہر ٹیچرس دوسری بڑی اسکولوں سے مہمان بن کر آئے ہوئے ہیں جو ہماری رہِ نُمائی کریں گے۔ مجھے باغ بانی کی باتیں سُن کر بہت اچھا لگا۔ اور جب انھوں نے بتایا کہ باغ بانی کرتے ہوئے بھی باغ بانی کا بڑا افسر بنا جاسکتا ہے تو مَیں نے ٹھان لیا کہ اب کیا دقّت ہے مَیں باغ بان ہی بنوں گی اور جلد ہی ایک بڑی آفیسر بن جاؤں گی۔ گھر پہنچ کر درانتی سے پودے کے آس پاس کی زمین برابر کی اور پانی کے لیے چھوٹی سی کیاری بنانا شروع کی تو درانتی سے پودے کو اتنی زور سے دھکّا لگا کہ بے چارا پودا زمین سے اکھڑ کر خراب ہو گیا۔ لیکن میں کام میں جُٹی رہی۔ مٹّی کی کھدائی کرتے وقت نہ جانے کب درانتی سے میرے ہاتھ میں چوٹ لگ گئی مجھے سمجھ میں ہی نہ آسکا۔ مٹّی صاف کرتے ہوئے ایک کیڑے نے میری انگلی میں زور سے کاٹ لیا۔ ایک تو چلچلاتی دھو پ میں مَیں کام کر رہی تھی اوپر سے چوٹ پر چوٹ لگ رہی تھی۔ درانتی کو ایک طرف پھینک کر مَیں نے سوچا کہ مَیں باغ بان افسر نہیں بنوں گی۔ 
	نہا دھوکر جب کھانا کھانے بیٹھی تو کچن روم سے کھانے کی بہترین خوشبو آ رہی تھی۔ تب ہی مَیں نے سوچا کہ مَیں بڑی ہو کر ایک ماہر باورچن بنوں گی اور اپنا پروگرام ریڈیو، ٹی وی پر پیش کروں گی۔ یہی نہیں بل کہ مَیں پکوان کے موضوع پر ڈھیر ساری کتابیں لکھوں گی۔ یہ سوچ کر مَیں کچن میں گھس گئی۔ میری ممّی روٹی پکا رہی تھیں۔ تَوے پر روٹی سینک رہی تھیں مَیں نے اُسے پلٹنا چاہا تو میری انگلی جل گئی۔ اُدھر ممّی نے جب سبزی میں مصالحہ ڈالا تو اس کی تیز بُو سے مجھے بے ساختہ ایک کے بعد ایک چھینک آنے لگی۔ میرا بڑا بُرا حال ہو گیا مَیں پسینے میں شرابور کچن سے نکلی اور سوچ لیا کہ مَیں باورچن نہیں بنوں گی۔ 
	ممّی میرے پاس آئیں اور میرے آنسو اپنے آنچل سے پونچھتے ہوئے پوچھنے لگیں کہ مَیں کیا سوچ رہی ہوں ؟ تب مَیں نے امّی کو سب کچھ سچ سچ بتلا دیے تو امّی نے کہا کہ :’’ مَیں نے جو بہت پہلے پتھریلا راستا، کالے بادل، اونچے پہاڑ کی بات کی تھی وہ سب یہی ہیں۔‘‘ 
	’’ کوئی کام آسان نہیں ہوتا، دقّتیں، پریشانیاں اور تکالیف ہر کام میں آتی ہیں لیکن ہمیں ڈرنا اور گھبرانا نہیں چاہیے۔ اگر کچھ کرنے کی لگن اور امنگ ہے تو اس کے لیے اپنے حوصلوں کو مضبوط بنا نا بے حد ضروری ہے۔ ہر قسم کی مصیبت، پریشانی اور تکلیف سے لڑنا اور ان کو دور بھگاتے ہوئے محنت اور ہمت سے کام لینے سے ہی ہمیں کام یابی مل سکتی ہے۔ کیوں کہ ہرے بھرے باغ انھیں کو ملیں گے جو سچی لگن سے محنت کریں گے۔ جو کام سے جی چراتے ہیں وہ زندگی کے ہر موڑ پر ناکام ہو جاتے ہیں۔‘‘ ممّی نے مجھے سمجھایا۔ 
	مَیں نے ممّی کی باتیں غور سے سنیں اور مجھے اب سمجھ میں آ گیا تھا کہ مجھے بڑا ہو کر کیا بننا ہے۔ مَیں نے بہت غور کرنے کے بعد یہ طَے کر لیا کہ مجھے بڑا ہو کر ایک اچھا ڈاکٹر بننا ہے۔ غریب مریضوں کی خدمت کرنا ہے۔ مَیں اب کسی سے گھبراؤں گی نہیں اور خوب محنت اور لگن سے پڑھائی کروں گی اور کام یابی حاصل کرتے ہوئے ڈاکٹر بنوں گی۔ اپنے ماں باپ، خاندان اور گاؤں کا نام روشن کروں گی۔ اب مجھے شدت سے آنے والے کل کا انتظار تھا کہ مَیں جلدی سے اسکول پہنچ کر میری سہیلیوں کو بتاؤں کہ مَیں نے فیصلہ کر لیا ہے کہ مَیں بڑی ہو کر کیا بنوں گی؟ آج میرے اندر ایک الگ قسم کی خوشی سرایت کیے ہوئے ہے۔ 
					
						( مونیکا گپتا) 




کسان کی ڈِبیا

	ایک تھا کسان۔ بالکل سیدھا سادا۔ وہ ہمیشہ اپنی فصل گاؤں کے ساہوکار کو بیچ دیتا تھا۔ ایک بار اس کے کھیتوں میں فصل بہت اچھی ہوئی۔ کسان نے سوچا اس بار شہر جا کر فصل بیچی جائے وہاں اِس کے اچھے دام ملیں گے۔ 
	ایک دن وہ فصل کی کٹائی کر کے شہر لے کر آیا۔ واقعی میں اُسے بہت اچھی قیمت ملی۔ کسان خوشی خوشی اپنے گاؤں لوٹ پڑا۔ 
	راستے میں دو ٹھگ اُس کے پیچھے لگ گئے۔ باتوں ہی باتوں میں انھوں نے پتا لگا لیا کہ کسان پہلی بار شہر آیا ہے۔ تینوں ساتھ ساتھ چل رہے تھے۔ اچانک ایک ٹھگ اُن کا ساتھ چھوڑ کر دوسرے راستے سے جانے لگا۔ یہ دیکھ کر دوسرا ٹھگ اُس کو ڈانٹتے ہوئے کہنے لگا کہ :’’ تم کہاں جا رہے ہو، تم نے تو وعدہ کیا تھا کہ ہمیشہ میرے ساتھ رہو گے اور میری خدمت کرو گے ؟‘‘ 
	’’ مجھے نہیں رہنا تمہارے ساتھ، مَیں اپنے گھر جا رہا ہوں۔‘‘ پہلے ٹھگ نے کہا اور تیزی سے چلا گیا۔ 
	’’اگر تم مجھے چھوڑ کر جاسکتے ہو تو ضرور چلے جاؤ۔‘‘ دوسرے ٹھگ نے کہا اور زور زور سے ہنسنے لگا۔ 
	اُس کی ہنسی دیکھ کر کسان کو بہت تعجب ہوا، اس نے پوچھا :’’ آپ اس طرح کیوں ہنس رہے ہیں ؟‘‘ 
	’’ مَیں اُس کی بے وقوفی پر ہنس رہا ہوں۔ وہ سوچ ر ہا ہے کہ مجھے چھوڑ کر جاسکتا ہے۔‘‘ دوسرے ٹھگ نے کسان سے کہا اور پھر قہقہہ مار کر ہنسنے لگا۔ 
	’’ وہ تو آپ کو چھوڑ کر چلا گیا اب آپ بے کار میں ہنس رہے ہیں۔ ‘‘ کسان نے کہا۔کسان کو اس ٹھگ کی باتیں بے وقوفی لگ رہی تھیں۔ 
	ٹھگ نے کسان کی باتوں کا کوئی جواب نہیں دیا۔ وہ اُسی طرح ہنستا رہا۔ تھوڑی دیر بعد جب پہلا ٹھگ ایک موڑ پر مُڑ کر غائب ہو گیا تو تب اُس نے اپنی جیب سے ایک موبائل نکالا۔ کسان نے اب سے پہلے موبائل نہیں دیکھا تھا اور اُس کو موبائل کے بارے میں کچھ بھی پتا نہ تھا۔ ٹھگ نے موبائل اُس کے سامنے لہراتے ہوئے کہا:’’ مَیں ایک جادوگر ہوں، میری مرضی کے بغیر مجھے چھوڑ کر کوئی نہیں جاسکتا، مَیں نے اُس بدمعاش کو اِس جادوئی ڈبیا میں بند کر لیا ہے۔‘‘ 
	’’ اتنی چھوٹی سی ڈبیا میں بھلا اتنا بڑا آدمی کیسے بند ہوسکتا ہے؟‘‘ کسان سے حیرت سے پوچھا۔ 
	’’ تم دیکھنا چاہو گے اُسے ؟‘‘ 
	’’ہاں !‘‘ 
	’’ لو دیکھو!‘‘ ٹھگ نے کہا اور اس نے موبائل کا ویڈیو شروع کر دیا۔ 
	’’ ہائے! چھوڑ دو مجھے، نکالو اِس ڈبیا سے، یہاں بہت تکلیف ہو رہی ہے۔ ہائے! ۔۔۔ ۔۔۔ مَیں گھٹن کی وجہ سے مر جاؤں گا۔ میرے آقا مجھے چھوڑ دو۔ مجھ پر مہربانی کرو۔‘‘ موبائل کے اسکرین پر ایک ویڈیو کلپ چل رہی تھی جس میں پہلا ٹھگ چیخ چیخ کر رحم کی بھیک مانگ رہا تھا۔ 
	کسان نے بوتل میں قید جن کی کہانیاں تو سنی تھیں، اُس نے پہلی بار اس عجیب و غریب اور انوکھی ڈبیا میں ایک انسان کو قید اور رحم کی بھیک مانگتے دیکھا تو وہ پریشان ہو گیا۔ اسے پہلے تو یقین نہیں آ رہا تھا، لیکن سب کچھ تو سامنے تھا۔ اسے بھروسا ہو گیا کہ اُس کے سامنے کھڑا آدمی کوئی بہت بڑا جادو گر ہے۔ 
	کسان نے ٹھگ سے کہا :’’ بھائی صاحب! اِسے چھوڑ دیجیے وہ بہت رو رہا ہے۔‘‘ 
	’’اِس ڈبیا میں قید ہو جانے کے بعد کوئی باہر نہیں نکل سکتا۔‘‘ اُس ٹھگ نے کسان کہا۔ پھر کسان سے بولا:’ ’ خیر! فکر کرنے کی کوئی بات نہیں، وہ قید ہو گیا تو کیا ہوا مجھے تم مل گئے ہو۔اب تم زندگی بھر میرے ساتھ رہ کر میری خدمت کرنا۔‘‘
	ٹھگ کی یہ باتیں سُن کر کسان بُری طرح گھبرا اُٹھا۔ وہ ہاتھ جوڑتے ہوئے بولنے لگا:’’ میری بیوی اور چھوٹے چھوٹے بچّے ہیں، مجھے اُن کی دیکھ بھال کرنی ہے۔ مَیں بھلا آپ کے ساتھ کیسے رہ سکتا ہوں۔‘‘ 
	’’ اگر تم میرا کہنا نہیں ما نو گے تو مَیں تمہیں بھی اِس جادوئی ڈبیا میں بند کر دوں گا۔ ‘‘ ٹھگ نے کسان کو دھمکی دیتے ہوئے کہا۔ 
	اب تو کسان کی دال پتلی ہو گئی، وہ ٹھگ کے سامنے ہاتھ جوڑ کر گڑگڑاتے ہوئے رحم کی بھیک مانگنے لگا۔ اُسے روتا پیٹتا دیکھ کر ٹھگ نے کہا:’’ مَیں ایک شرط پر تمہیں چھوڑ سکتا ہوں۔‘‘ 
	’’آپ صرف حکم کریں، مجھے ساری شرطیں بلا چوں چرا منظور ہے۔‘‘ 
	’’ مَیں جادو کے دیوتا کا ایک بڑا مندر بنوا رہا ہوں۔ اگر تم اپنے سارے پیسے اُس مندر کے لیے دان کر دو تو مَیں تمہیں چھوڑ سکتا ہوں۔ ‘‘ ٹھگ نے اپنی شرط بتائی۔
	مرتا کیا نہ کرتا۔ کسان نے ساری رقم ٹھگ کے حوالے کر دی اور گرتا پڑتا وہاں سے بھاگ گیا۔
	اُس کے جانے کے بعد پہلا ٹھگ واپس آ گیا۔ دراصل ان دونوں ٹھگوں نے پہلے ہی سے ایک ٹھگ کی روتے چلّاتے ہوئے ایک ویڈیو کلپ تیار کر لی تھی، جسے دکھا کر ان لوگوں نے کئی دیہاتیوں اور کسانوں کو لوٹ لیا تھا۔ 
	بدحال کسان خالی ہاتھ اپنے گھر لوٹا اور اس نے اپنی ساری بپتاسنائی۔ خوش قسمتی سے اُس وقت کسان کا بھانجا موہن شہر سے آیا ہوا تھا۔ وہ اس وقت پانچویں کلاس میں پڑھتا تھا۔ اس لیے اس کو موبائل کے بارے میں معلوم تھا۔ 
	اُس نے کہا ماموں ایسی کوئی جادوئی ڈبیا نہیں ہوتی۔ لگتا ہے کسی نے آپ کو موبائل پر ویڈیو بتا کر ٹھگ لیا ہے۔ 
	وہ ایک پچھڑ اہوا علاقہ تھا، وہاں اب تک موبائل نہیں پہنچا تھا۔ کسان  موبائل کے بارے میں کچھ بھی نہیں جانتا تھا۔ پوری بات سمجھ میں آنے پر اس کی کھوپڑی گھوم گئی۔ اس نے ٹھگوں کو سبق سکھانے کا پکا ارادہ کر لیا۔
	دوسرے روز وہ پھر شہر کی طرف چل دیا۔ وہ وہاں کئی دنوں تک سڑکوں پر چکر کاٹتا رہا لیکن موبائل والا جادوگر دکھائی نہ دیا۔ ایک دن اناج کے بازار میں موبائل والا ٹھگ نظر آیا۔ کسان کو دیکھ کر وہ ٹھگ وہاں سے کھسکنے لگا۔ لیکن کسان نے لپک کر اس کاراستا روک لیا اور ہاتھ جوڑتے ہوئے بولا: ’’ جادوگر صاحب! مجھے آپ سے بہت ضروری کام ہے۔‘‘ 
	’’ مجھ سے کیا کام ہے ؟‘‘ ٹھگ نے تعجب سے پوچھا۔ 
	’’ گاؤں میں میرا ایک دشمن ہے۔ آپ چل کر اُسے اپنی ڈبیا میں بند کر لیجیے۔‘‘ کسان نے التجا کی۔ 
	’’ مَیں بھلا اُسے کیسے بند کروں ؟ ‘‘ ٹھگ نے پوچھا۔
	’’مَیں آپ کو اس کام کے لیے ڈھیر سارے روپے دوں گا۔‘‘ کسان نے یقین دلایا۔
	ٹھگ نے سمجھا یہ کسان بہت بڑا بے وقوف ہے۔ اِسے اچھی طرح سے ٹھگا جاسکتا ہے۔ کچھ سوچ کر وہ اس کے ساتھ جانے کے لیے راضی ہو گیا اور کہنے لگا کہ:’’ بھائی! میری ڈبیا میں آج کل جگہ بہت کم بچی ہے کہو تو مَیں اُس آدمی کی آتما کو اس میں قید کر لیتا ہوں کیوں کہ اس میں جس آدمی کی آتما قید ہو جاتی ہے وہ دوبارہ کسی کام کا نہیں رہ جاتا۔‘‘ 
	کسان فوراً مان گیا اور دونوں گاؤں کی طرف چل پڑے۔ ٹھگ نے سوچا مَیں اُس آدمی کی ویڈیو اتار کر کسان کو بتا کر وہاں سے فوراً نو دو گیارہ ہو جاؤں گا۔ 
	گاؤں پہنچ کر کسان نے کہا :’’ جادوگر بھیّا! میرے پاس بھی ایک بہت بڑی ڈبیا ہے، مَیں اُس میں جس کو بند کر دیتا ہوں وہ زندگی بھر اُسی میں گول گول گھومتا رہتا ہے۔ کیا آپ اُس ڈبیا کو دیکھنا چاہیں گے؟‘‘ 
	’’ہاں ہاں ! کیوں نہیں ؟‘‘ ٹھگ نے جھٹ سے کہا۔اُسے ایسا لگا جیسے کسان کوئی بہت بڑی بے وقوفی کی بات کرنے والا ہے۔ 
	کسان کے گھر کے پچھواڑے تیل نکالنے والا ایک پُرانا کولھو لگا ہوا تھا۔ وہ ٹھگ کو لے کر وہاں پہنچا۔ ایک بیل کولھو میں جُتا ہوا گول گول گھوم رہا تھا۔ کسان کا بھانجا موہن بھی وہیں کھڑا تھا۔ ٹھگ کو دیکھتے ہی موہن نے کولھو سے بَیل کو نکال دیا اور کسان سے بولا:’’ ماما! چلو اپنا جادو دکھایا جائے۔‘‘ 
	یہ سنتے ہی کسان نے ٹھگ کی گردن پکڑ لی اور اسے زبردستی کولھو سے باندھ دیا۔ پھر اُس کی پیٹھ پر ڈنڈا جَڑتے ہوئے بولا :’’ چل بیٹا! اب زندگی بھر اِسی میں گول گول گھوم۔‘‘ 
	اب تو ٹھگ کی حالت خراب ہو گئی۔ وہ بہت رویا چلّایا لیکن کسان نے اُس کی ایک نہ سُنی۔ وہ ٹھگ کی پیٹھ پر ڈنڈے پر ڈنڈا برساتا رہا۔ مجبوراً ٹھگ کو کولھو گھمانا پڑا، لیکن تین چار چکّر کاٹنے کے بعد ہی وہ لڑکھڑا کر گر پڑا۔
	’’ کسان نے اُسے دوبارہ پیٹنا شروع کر دیا۔ تب ٹھگ روتے ہوئے بولا:’’ مجھے چھوڑ دو! مَیں تمہارے سارے روپے واپس کر دوں گا۔‘‘ 
	’’ مجھے صرف اپنے نہیں بل کہ اب تک تم نے جتنے روپے لُوٹے ہیں سب چاہیے۔‘‘ کسان نے غصے سے اپنی شرط بتائی کہا۔
	’’ ٹھیک ہے میرے ساتھ شہر چلو مَیں وہاں سارے روپے دے دوں گا۔‘‘ ٹھگ نے کہا۔ 
	’’ مجھے بے وقوف سمجھتے ہو۔‘‘ کسان نے ٹھگ کی پیٹھ پر ایک اور ڈنڈا رسید کرتے ہوئے کہا کہ :’’ چلو! اپنے دوست کے نام ایک خط لکھو کہ ایک آدمی گاؤں چھوڑ کر ہمیشہ کے لیے شہر میں رہنے جا رہا ہے اور اس وقت وہ گاؤں کی اپنی پوری زمین جائداد کَوڑیوں کے دام بیچنا چاہتا ہے۔ اس لیے تم فوراً شہر کی پوری زمین جائداد بیچ کر گاؤں آ جاؤ۔ ہم گاؤں کی پوری زمین خرید لیں گے۔ بعد میں اُسے مہنگے داموں میں بیچ کر اچھا خاصا منافع کمائیں گے۔ 
	ٹھگ تو کسان کو بے وقوف سمجھ رہا تھا لیکن کسان تو اُن ٹھگوں کا بھی استاد نکلا۔ ٹھگ بہت پریشان ہو گیا۔ اُس کے پاس اب جان بچانے کا کوئی دوسرا راستا نہ تھا۔ اس لیے مرتا کیا نہ کرتا، اُسے اپنے دوست کو جھوٹا خط لکھنا ہی پڑا۔ 
	کسان نے ٹھگ کے دوسرے دوست کا مکمل پتا پوچھ کر موہن کے باپ کے ہاتھوں وہ خط شہر بھجوایا۔ اُس ٹھگ نے جیسے ہی وہ خط پڑھا اُس کی تو باچھیں کھل اُٹھیں۔ اس نے کہا :’’ دو دن ہمارے یہاں رُک جاؤ، مَیں دو دن میں سب کچھ بیچ کر تمہارے ساتھ گاؤں چلتا ہوں۔ 
	شہر میں موجود ٹھگ نے جلدی جلدی دو روز کے اندر ساری زمین اور جائداد بیچ ڈالی اور نقد رقم لے کر گاؤں پہنچا۔ 
	جیسے ہی ٹھگ نے گاؤں میں قدم رکھا کسان نے اُسے بھی دبوچ لیا اور کہا کہ چلو مَیں بھی تمہیں ایک جادو دکھاتا ہوں۔ اور اس کو پکڑ کر موبائل والے ٹھگ کی طرح کولھو میں باندھ دیا اور اُس کی خوب جم کر پٹائی کی۔ 
	اُس کے بعد اس ٹھگ سے ساری نقدی لے کر اُس میں سے اپنے پیسے نکال لیے اور بقیہ رقم گاؤں کے مکھیا کو دے دی۔ مکھیا نے دونوں ٹھگوں کو پولیس کے حوالے کر دیا اور روپے حکومت کے خزانے میں جمع کروا دیا۔ 

						( سنجیو جیسوال) 




آم کا پیڑ کیسے گرا؟

	’’ماں ! آج تو اتوار ہے۔ ہمیں پڑھنے نہیں جانا ہے۔ کیا ہم باغ میں جا کر کھیلیں ؟‘‘ سنجو نے اپنی ماں سے پوچھا۔
	’’ کیا تم نے اور اَنجو نے دانت صاف کر کے منہ ہاتھ دھو لیے ؟‘‘
	’’جی ہاں ! ماں ہم دونوں دانت صاف کر کے منہ ہاتھ دھو چکے ہیں۔‘‘
	آج صبح تو اپنے گاؤں کا موسم بڑا سہانا لگ رہا ہے۔ رات تو بڑی بھیانک تھی کیوں کہ زلزلے کے ہلکے ہلکے جھٹکے لگ رہے تھے۔ گھر کے دروازے کھڑکیاں ہِل اٹھی تھیں۔ مکان کے اس طرح ہِلنے سے چھوٹی اَنجو تو بُری طرح ڈر گئی تھی۔ 
	’’ جاؤ بچّو! جا کر باغ میں کھیلو، آدھے گھنٹے بعد مَیں آواز لگا دوں گی تم دونوں ناشتہ کرنے آ جانا۔‘‘ ماں نے اُن دونوں سے کہا۔
	’‘ماں آج ناشتے میں کیا بناؤ گی؟‘‘ 
	’ ’ بیٹی! آج ناشتے میں اُبلے چنے ہیں، ساتھ میں گائے کا دودھ بھی ہے۔‘‘
	’’ماں اپنی گوری گائے کا دودھ پینے میں بڑا مزہ آتا ہے اور گوری نے اس سال جو بچّہ دیا ہے وہ کتھئی رنگ کا کتنا خوب صورت لگتا ہے۔ اُس کے ماتھے پر سفید رنگ کا چاند جیسا نشان اور اس کا کودنا پھاندنا مجھے بہت اچھا لگتا ہے۔ ‘‘ 
	سنجو کی بات کی تائید کرتے ہوئے اَنجو نے اپنی پوپلی زبان میں کہا:’’ ماں ! مُدے بی دود اچھا لدتا ہے۔‘‘ 
	’’ تم دونوں باغ میں جا کر دھوم مستی مت کرنا، سب بچّوں کے ساتھ مِل جُل کر کھیلنا۔‘‘ ماں نے تنبیہ کی۔ 
	’’ٹھیک ہے ماں ! ہم دونوں جا رہے ہیں، بائے بائے۔‘‘ سنجو نے کہا۔
	باغ میں کئی بچّے پہلے ہی سے موجود تھے۔ جو رات کے زلزلے کے جھٹکوں میں گرے ہوئے آم کے درخت سے بات چیت کر رہے تھے۔ ان بچّوں کو کھیلنے سے زیادہ اُس گرے ہوئے آم کے درخت سے بات چیت کرنا اچھا لگ رہا تھا۔
	رمیش نے کہا:’’ آم دادا! تمہیں زمین پر گرنے سے چوٹ تو بہت آئی ہو گی۔‘‘
	آم روہانسا ہو کر بولا:’’ ہاں بچّو! مجھے چوٹ تو بہت آئی ہے۔میری کئی شاخیں ٹوٹ گئی ہیں، لیکن مَیں ہمت نہیں ہار رہا ہوں۔‘‘ 
	’’آم دادا ! تم تو بہت بہادر تھے۔ تم زلزلے کے جھٹکوں سے لڑ کیوں نہیں پائے؟‘‘ سنجو نے پوچھا۔
	’’پیارے بچّے! مَیں لڑتا کیسے ؟میرے ارد گرد کارخانے اور فیکٹریاں کھول کر ان کے زہریلے دھوئیں سے میری ہریالی کو ختم کر دیا گیا ہے اورساتھ ہی میری جڑ کے آس پاس گاؤں والوں نے پیلی مٹّی کھود کھود کر، کھوکھلا جو کر دیا ہے، اس وجہ سے میری طاقت کم ہو گئی ہے۔ اگر کسی کے پیروں کو کم زور کر دیا جائے تو وہ کیسے چلے گا اور کھڑا ہو پائے گا؟ میرے گرنے سے کئی پرندوں کے گھونسلے بھی گر گئے۔ بے چاروں کے انڈے اور کچھ کے بچّے بھی دب کر مر گئے۔ یہ سب انسانوں کی وجہ سے ہوا۔‘‘ آم دادا نے سنجوسے کہا۔
	سب بچّے ٹوٹے ہوئے گھونسلوں کو دیکھنے لگتے ہیں۔ گھونسلوں اور مرے ہوئے بچّوں کو دیکھ کر بچّے افسوس کرتے ہیں۔ 
	ان بچّوں میں سریش نام کا لڑکا عمر میں سب بڑا اور ہوشیار تھا۔ جو کہ پانچویں جماعت کا طالب علم تھا۔ وہ بولا:’’ آم دادا! میرے ماسٹر صاحب کہتے ہیں کہ اگر کسی مکان کی بنیاد کم زور کر دی جائے تو وہ جلد ہی گر جاتی ہے، اب اس بات کا مطلب سمجھ میں آیا۔‘‘
	’’ ہاں ہاں ! صحیح کہا ہے تمہارے ماسٹر صاحب نے، کسی کی بنیاد کو کم زور کرنا اچھی بات نہیں، جیسا کہ گاؤں والوں نے میرے ساتھ کیا۔‘‘ 
	سنجو نے دکھ ظاہر کرتے ہوئے کہا :’’ یہ تو ہمارے گاؤں والوں نے بہت بُرا کیا۔ ایسا ہم سب کو نہیں کرنا چاہیے تھا۔‘‘ 
	’’ہاں بچّو! تم سب سمجھ گئے ہو کہ مَیں کس طرح اور کس وجہ سے گرا ہوں۔ اب کوشش کرنا کہ میرے کسی بھائی کی ہریالی ختم نہ ہونے پائے اور نہ ہی میری جڑوں کے آس پاس جس طرح مٹّی کھودی گئی ہے میرے دوسرے درخت بھائیوں کی بنیادوں کو کم زور مت ہونے دینا اگر ایسا ہوا تو دنیا میں درخت ختم ہونے لگیں گے جس سے تازہ اور صاف ہوا ملنی مشکل ہو جائے گی۔ ‘‘ آم دادا نے بچّوں کو نصیحت کی۔
	’’ کیا ہم سب مِل کر تمہاری کوئی مدد کرسکتے ہیں، کیا تم کو ہی دوبارہ کھڑا کرسکتے ہیں ؟‘‘ سب بچّوں نے ایک ساتھ کہا۔
	’’ اب تو بڑا مشکل ہے، لیکن مَیں نے تم کو جو نصیحت کی ہے اُس پر عمل کرنا یہی میری اصل مدد ہے۔ آج کے بعد سے تم عہد کرو کہ تم کسی بھی درخت کی جڑوں کو کم زور نہیں ہونے دو گے۔‘‘ 
	آم دادا کی بات سُن کر سب بچّوں نے وعدہ کیا کہ آج سے ہم ہر درخت کی حفاظت کریں گے۔ اسی دوران سنجو اور اَنجو کی ماں نے ان کو ناشتے کے لیے پکارا اور وہ دونوں بھائی بہن ناشتہ کرنے کے لیے گھر کی طرف چل دیے۔

						( راکیش لوہیا) 



	
سادھو اور راجا

	کسی ملک میں ایک راجا رہتا تھا۔ اس کے دربار میں ایک مرتبہ ایک سادھو آیا۔ راجا نے اُس سے پوچھا:’’ سادھو مہاراج! دنیا میں رہ کر جو اپنی زندگی صحیح طریقے سے خدا کی عبادت اور لوگوں کی خدمت کر کے گذارتے ہیں وہ بڑے ہیں یا وہ جو دنیا سے دور رہ کر جنگل بیابان میں جابستے ہیں اور خدا کی عبادت کرتے ہیں وہ بڑے ہیں ؟‘‘ 
	سادھونے جواب دیا :’’ اے راجا! دونوں ہی اپنی اپنی جگہ بڑا کہلانے کا حق رکھتے ہیں۔‘‘
	راجا نے اُس کی کوئی مثال پوچھی۔ تو سادھو نے کہا :’’ ٹھیک ہے لیکن اس کے لیے آپ کو کچھ دن میرے ساتھ سفر کرنا پڑے گا۔‘‘
	راجا نے سادھو کی بات مان لی اور وہ دونوں گھومتے گھومتے ایک دن ایک ملک میں پہنچے۔ وہاں پہنچ کر دیکھا کہ ایک میدان میں کافی مجمع لگا ہو ا ہے۔ پوچھنے پر پتا چلا کہ آج اس ملک کی شہزادی کا سوئمبر ہے۔ وہاں کے راجا نے یہ منادی کروا دی تھی کہ:’’ جس کے ساتھ شہزادی کی شادی ہو گی اُسے میری موت کے بعد پوری سلطنت سونپ دی جائے گی اور وہ اس ملک کا راجا کہلائے گا۔‘‘
	شہزادی بہت زیادہ خوب صورت تھی اور وہ اپنے ہی جیسے کسی خوب صورت شہزادے سے شادی کرنا چاہتی تھی۔ یوں تو سوئمبر میں حصہ لینے کے لیے ایک سے ایک شہزادے آئے لیکن کوئی بھی شہزادی کو پسند نہ آیا۔ تب ہی وہاں ایک نوجوان سادھو آیا۔ راج کماری نے جیسے ہی اس جوان سادھو کو دیکھا اسے پسند کر بیٹھی اور اس کے گلے میں مالا ڈالنے چل پڑی لیکن وہ سادھو وہاں سے جانے لگا۔ 
	تب راجا نے نوجوان سادھو سے کہا :’’ اگر تم میری بیٹی سے شادی کر لو گے تو مَیں اسی وقت میری آدھی سلطنت تمہیں دے دوں گا اور میری موت کے بعد تم پورے ملک کے راجا کہلاؤ گے۔ ‘‘ 
	’’ مَیں نے تو دنیا کو خیر باد کہہ دیا ہے اب مجھے شادی بیاہ اور دنیا سے کوئی مطلب نہیں۔‘‘ اتنا کہہ کر سادھو وہاں سے چل پڑا۔ 
	نوجوان سادھو کو جاتے ہوئے دیکھ کر شہزادی بھی اس کے پیچھے پیچھے چل پڑی۔ یہ سب منظر راجا اور سادھو دونوں غور سے دیکھ رہے تھے۔ اچانک جنگل میں جا کر وہ نوجوان سادھو کہیں غائب ہو گیا۔شہزادی ایک درخت کے نیچے بیٹھ گئی۔ 
	اسی درخت پر ایک چڑیا اور چڑا اپنے تین بچّوں کے ساتھ رہتے تھے۔ سردی کا موسم تھا۔ چڑا نے چڑیا سے کہا:’’ یہ ہمارے مہمان ہیں، ہمیں ان کی خاطر مدارات کرنی چاہیے۔ انھیں ٹھنڈ لگ رہی ہے۔ مَیں ایک جلتی ہوئی لکڑی لے کر آتی ہوں۔‘‘ یہ کہہ کر چڑا وہاں سے اڑ گیا اور کچھ دیر بعد کہیں سے ایک جلتی ہوئی لکڑی لے کر آیا۔ چڑے نے اُس لکڑی کو نیچے گرا دیا اُس کے بعد دونوں نے اس میں اور لکڑیاں ڈال کر اُسے جلا دیا۔ 
	اُس کے بعد چڑیا نے چڑے سے کہا :’’ انھیں بھوک لگی ہو گی، لیکن ہمارے پاس تو کچھ بھی نہیں ہے۔ جب کہ یہ ہمارے مہمان ہیں اب ہم کیا کریں ؟‘‘ یہ سُن کر چڑا اُسی آگ میں کود پڑا اور بھون گیا۔ 
	چڑیا نے سوچا کہ مَیں اپنے خاوند کی محنت کو ضائع نہیں جانے دوں گی۔ یہ لوگ تین افراد ہیں۔ جب کہ پرندہ ایک ہی۔ چڑیا بھی آگ میں کود پڑی۔ 
	سادھو نے راجا سے کہا :’’ دیکھا آپ نے - اگر آپ کو دنیا ترک کرنا ہے تو اُس نوجوان سادھو کی طرح بنو جس کے لیے اس شہزادی نے محل اور سلطنت چھوڑ دی ہے اور اگر دنیا میں رہ کر کچھ اچھا کام بھی کرنا ہے تو چڑیا اور چڑے کی طرح بنو کہ ان لوگوں نے دوسروں کے لیے اپنی جان قربان کر دی۔ 					( سمن چودھری)  




فرض اور عادت 

	ایک بار ایک سنت ندی میں نہا رہے تھے۔ تب ہی اچانک انھیں ایک بچھو کک پانی میں بہتا ہوا دکھائی دیا۔ انھوں نے جھٹ سے اسے اپنی ہتھیلی پر اٹھایا اور کنارے پر رکھ دیا۔ لیکن جیسا کہ بچھووں کی عادت ہوتی ہے۔ اُس بچھو نے سنت کو ڈنک مار دیا۔ سنت نے اس کی پروا نہیں کی۔ اور وہ پھر سے نہانے میں مصروف ہو گئے۔ دوبارہ بچھو کو پانی کی لہریں بہا کر ندی میں لے آئیں۔ یہ دیکھ کر سنت نے اُسے ہتھیلی پر اٹھا کر کنارے رکھ دیا۔ اِس بار بھی بچھو نے اُس کی جان بچانے والے سنت کو ڈنک مار دیا۔ بار بار یہی ہوتا رہا۔ بچھو بار بار پانی کے ساتھ بہہ کر آتا اور سادھو بار بار اس کی حفاظت کرتے اور اس کی جان بچاتے۔ لیکن بچھو کے ڈنک مارنے پر انھیں افسوس ہوتا۔ 
	اسی ندی میں ایک نوجوان بھی نہا رہا تھا جو کہ یہ منظر بڑی حیرت سے دیکھ رہا تھا۔ اُس سے نا رہ گیا تو اس نے پوچھا :’’ سادھو مہاراج! آپ بار بار اس بچھو کی جان بچانے کی کوشش کر رہے ہیں اور بچھو اتنا بے وفا ہے کہ وہ بار بار آپ کو ڈنک مار رہا ہے۔ یہ کیسی تعجب کی بات ہے؟‘‘ 
	اِس پر سنت نے کہا :’’ مَیں ایک سنت اور عالم ہوں میرا فرض ہے کہ مَیں ہر ایک کے ساتھ نیکی کا برتاؤ کروں چاہے وہ انسان ہو یا حیوان - سو مَیں اپنا فرض ادا کر رہا ہوں۔بچھو کی عادت ہے ڈنک مارنا سو وہ اپنی عادت پر عمل کر رہا ہے۔اُسے یہ نہیں سمجھتاکہ کون اُس کی جان بچا رہا ہے اور کون اُس کو نقصان پہنچا رہا ہے وہ تو ہر ایک کو ہی ڈنک مارتا ہے، ہم دونوں ہی اپنا اپنا کام برابر کر رہے ہیں اِس میں تعجب کی کوئی بات نہیں۔ ‘‘ یہ سُن کر وہ نوجوان بہت خوش ہوا اُسے سنت کی باتیں اچھی لگیں وہ ان کا شاگرد بن گیا۔
 			( سمیت مشرا)




دل چسپ سفر 

	اسکول میں جب بھی گرمی کی چھٹیاں ملتی ہیں تو ہم کہیں نہ کہیں گھومنے اور سیر و تفریح کے لیے جاتے ہیں۔ پچھلے سال جب چھٹی ملی تو ممّی پاپا نے کہا کہ اس سال ہم فیض پور جائیں گے۔ فیض پور ایک تاریخی گاؤں ہونے کے ساتھ گھنے جنگل سے گھرا ہوا ہے۔ 
	میری تو باچھیں کھل گئیں۔ مَیں نے زور  و شور سے سفر پر جانے کے لیے اپنی تیاری شروع کر دی۔ ممّی پاپا، میرے چھوٹے بھائی اور دونوں بہنوں کی تیاریاں چل رہی تھیں۔ ہم نے اپنا اپنا سامان اپنی اپنی بیگ میں رکھا، کھانے پینے کی چیزیں،  بسکٹ، ٹافیاں، چاکلیٹ اور چوڑے وغیرہ بھی لے لیے۔ چوں کہ ہمیں اگلے دن صبح سویرے اٹھ کر سفر پر جانا تھا۔ اس لیے آج ہم سب رات کا کھانا کھانے کے بعد جلدی سے سوگئے۔ لیکن میری آنکھوں سے تو نیند اُڑی ہوئی تھی، میرا جی چاہتا تھا کہ جلدی سے صبح ہو جائے اور مَیں اُڑ کر فیض پور پہنچ جاؤں۔ 
	اگلے دن ہم صبح جلدی اٹھے اور نہا دھوکر تیار ہونے لگے۔ ممّی پاپا، دادی، میری دونوں بہنیں اور چھوٹا بھائی، ہم سب رکشا کے ذریعہ بس اسٹینڈ پہنچے اور وہاں سے فیض پور جانے والی بس پکڑی۔ 
	اِس سفر کے دوران ہم کافی خوش تھے۔ ہم نے کئی قسم کے جانور دیکھے، پیڑ پودوں کو دیکھا، پہاڑ، ندی، جھرنے، تالاب اور آب شار بھی دیکھے۔ ساتھ میں ہم سب بچّے بس میں خوب انجوائے بھی کر رہے تھے۔ 
	ہم گھنے جنگل کے کنارے سڑک سے گذر رہے تھے کہ تب ہی اچانک ہماری بس خراب ہو گئی۔ کئی مسافروں کا تو ڈر کے مارے بُرا حال ہو گیا۔لیکن ہمیں تو مزہ مل رہا تھا کہ اب اب بس کو درست کرنے میں کافی وقت لگ جائے گا۔ اور ہم سامنے کے جنگل کی سیر کر لیں گے۔ یہ سوچ کر ہم فوراً بس سے باہر کود پڑے۔ بس ڈرائیور نے کہا کہ بس کو درست کرنے میں ایک دو گھنٹے لگ سکتے ہیں۔ 
	جنگل میں گھومنے کا شوق تو ہمیں بچپن ہی سے رحمانی پبلی کیشنز سے چھپی ہوئی کہانیوں  کی کتابیں پڑھ پڑھ کر ہو گیا تھا آج بڑا اچھا موقع ملا تھا جنگل کی سیر کرنے کا۔ 
	جب پاپا سے اجازت چاہی تو انھوں نے منع کر دیا کہ جنگل میں شیر چیتے اور دوسرے خطرناک جانور رہتے ہیں، ممکن ہے تم لوگوں کو نقصان پہنچا دیں۔ ہم بچّے بڑوں کا کہنا کہاں مانتے ہیں ؟ سو پاپا کی بات کو سنی اَن سنی کر کے نکل پڑے جنگل کی سیر کو۔ 
	جنگل میں گھومتے گھومتے ہمیں پتا ہی نہ چلا کہ ہم کہاں آ گئے۔ ہمیں بہت ڈر لگنے لگا۔ اور ایک بچّہ ہم کو ڈرانے کے لیے شیر کی آوازیں نکالنے لگا۔ جب ہم اور زیادہ ڈرنے لگے تو وہ ہمیں دیکھ کر زور زور سے ہنسنے لگا۔ ہم سمجھ گئے کہ وہ ہمیں ڈرا رہا ہے۔ 
	تب ہی اچانک مَیں نے ایک شیر کو دیکھا جو وہاں سے کافی فاصلے پر کھڑا ہماری ہی طرف دیکھ رہا تھا۔ مَیں نے جیسے ہی سب کو شیر کے بارے میں بتایا تو سب بچّے ڈر کے مارے بُری طرح اِدھر اُدھر بھاگنے لگے۔ وہاں روڈ پر ممّی پاپا ہمیں تلاش کر رہے تھے اور ہم بھی جنگل سے کسی طرح باہر نکلنے کا راستا ڈھونڈ رہے تھے۔ 
	جیسے تیسے کر کے ہمیں راستا سمجھ میں آیا دور سے ہی ہمیں ممّی پاپا گھبرائی ہوئی حالت میں ملے۔ ہم ان کو لپٹ کر رونے لگے۔ ہمیں اس بات کا پورا احساس ہو گیا کہ بڑوں کا کہنا نہ ماننے سے مصیبت کھڑی ہو جاتی ہے، وہ تو آج ہم خدا کے فضل سے بچ گئے ورنہ شیر ہم کو دیکھ لیتا تو ہم اپنے ممّی پاپا سے بھی نہ مل پاتے اور نہ ہی فیض پور کی سیر کر پاتے۔ 
	ابھی ہم ممّی پاپاسے اپنے کیے کی معافی مانگ ہی رہے تھے کہ بس کا ڈرائیور آیا اور بولا بس ٹھیک ہو چکی ہے۔ یہ سُن کر ہم سب بس کی طرف چل پڑے فیض پور جانے کے لیے۔
     ( کماری سپنا)



نافرمان چُن مُن 

	گوپال کے کھیت میں ایک مرغی تھی جس کا نام مُن مُن مرغی تھا۔ اس کا ایک چوزہ تھا۔ جسے گوپال کے گھر والے چُن مُن کے نام سے پکارتے تھے۔ چُن مُن تھا بڑا شرارتی اور نافرمان۔ جب دیکھو تب کسی نہ کسی کو ستاتا اور پریشان کرتا۔ اس کی ماں مُن مُن مرغی ہمیشہ اسے نصیحت کرتی لیکن وہ ایک کان سے سنتا دوسرے کان سے اڑا دیتا۔ 
	چُن مُن کو کھانے پینے کا بہت شوق تھا۔ ہمیشہ پیٹ سے زیادہ کھاتا اور پھر تکلیف میں مبتلا ہو جاتا۔ ماں اسے سمجھاتی کہ زیادہ کھانا نقصان دہ ہے۔ وہ اپنے چھوٹے منہ کا بھی خیال نہیں کرتا اور کبھی کبھی اپنے منہ سے بڑی چیزوں پر بھی بری طرح جھپٹ پڑتا۔ 
	ایک مرتبہ گوپال کے کھیت میں مٹر اور چنے کی فصل جب پک کر تیار ہوئی تو اس کے پاپا نے دانوں کو الگ کرنے کے لیے مشین منگوائی۔ دانے نکلنا شروع ہوئے تو چُن مُن کے منہ سے رال ٹپکنے لگی اور اس نے مٹر کا ایک دانا چگنے کی کوشش کی دانا چکنا ہونے کی وجہ سے چونچ میں تو چلا گیا لیکن منہ چھوٹا ہونے کی وجہ سے وہ اندر جانے کی بجائے پھنس گیا۔ 
	اب تو بے چاری بڑی پریشان ہو گئی اسے بہت زور کی بھوک اور پیاس لگی تھی۔ اس کی ماں اپنی سہیلی کے یہاں گئی ہوئی تھی وہ رونے لگی مگر آواز نہیں نکل پا رہی تھی اس لیے کسی کو سمجھ میں نہ آیا۔اب وہ اپنے کیے پر پچھتا رہی تھی۔ اسے ماں کی نافرمانی کی سزا مِل رہی تھی۔ یکایک اس کی ماں کی آواز آئی۔ وہ ماں کو منہ سے کچھ بول نہ سکی۔ ماں نے اپنے شرارتی چُن مُن کو اس طرح خاموش بیٹھے دیکھا تو تعجب میں پڑ گئی۔ جب قریب آئی تو اس کی آنکھوں سے ٹپ ٹپ گرتے آنسو دیکھ کر ماں کو اس پر بہت پیار آیا۔ 
	ماں نے اس سے پوچھا :’’ چُن مُن بیٹے! تمہیں کیا ہوا ہے؟‘‘ 
	چُن مُن کے منہ میں تو مٹر کا دانا پھنسا ہوا تھا وہ کیا بول پاتا ؟ بس بغیر آواز کے روتا رہا۔ ماں کو کچھ سمجھ میں نہ آیا۔ چُن مُن اشارے سے بکھری ہوئی مٹر کی طرف اشارا کر کے ماں کو سمجھانے کی کوشش کرتے ہوئے مسلسل بے آواز روئے جا رہا تھا۔ 
	کافی دیر بعد ماں کو سمجھ میں آیا کہ چُن مُن نے مٹر کا دانا کھانے کی کوشش کی ہو گی اور وہ اس کے منہ میں پھنس گیا ہو گا اسی لیے وہ بول نہیں پا رہا ہے۔ ماں سوچنے لگی کہ اب کیا کِیا جائے۔ کیوں کہ اس کی چونچ اتنی لمبی نہیں ہے کہ وہ اپنے چُن مُن کے منہ سے مٹر کا دانا کھینچ کر نکال سکے۔
	آخراُس کو اپنے دوست بگلے کی یاد آئی۔ مُن مُن مرغی اسے ڈھونڈنے نکلی۔ بگلا اسے کھیت میں نظر آ گیا۔ وہ تیزی سے بگلے کی طرف بھاگتے ہوئے گئی اس سے پہلے کہ بگلا کہیں اڑ کر نہ چلا جائے۔ بگلے کے پاس پہنچ کر اس نے چُن مُن کی حرکت بتائی اور اس سے مدد کے لیے کہا۔ 
	بگلے نے کہا:’’ مُن مُن بہن! مجھے خوشی ہو گی کہ مَیں تمہاری مدد کروں گی۔‘‘ 
	دونوں اڑتے دوڑتے چُن مُن کے پاس پہنچے۔ بگلے نے اپنی لمبی چونچ کی مدد سے چُن مُن کے منہ میں پھنسے ہوئے مٹر کے دانے کوکھینچ کر نکال لیا۔ اس طرح کافی دیر تک ماں کی نافرمانی اور لالچ کی سزا جھیلنے کے بعد چُن مُن کو چین کا سانس لینا نصیب ہوا۔ 
	اب یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ چُن مُن نے نافرمانی، بدمعاشی، شرارت اور دوسری بُری عادتوں سے توبہ کر لی۔			
							( نامعلوم) 



ہری اور پری 


	سندر بن میں ایک لڑکا رہتا تھا اس کا نام ہری تھا۔ وہ جنگل میں بالکل اکیلا رہتا تھا۔ کیوں کہ اس کے ماں باپ انتقال کر چکے تھے اور اس دنیا میں اس کا کوئی دوسرا رشتے دار نہیں تھا۔ وہ جنگل میں جنگلی جانوروں اور پرندوں کے ساتھ کھیلتا یہاں تک کہ اُن کی بولیاں بھی سمجھ لیتا تھا۔ 
	وہ لکڑیاں کاٹ کر گاؤں میں لے جاتا اور وہاں اسے بیچ کر اپنے کھانے دانے کا انتظام کرتا۔ ایک دن وہ لکڑیاں کاٹ کر واپس آ رہا تھا کہ راستے میں اُس نے ایک خوب صورت بکری کا بچّہ شدید زخمی حالت میں پڑا دکھائی دیا۔ بکری کی کیفیت ایسی نہ تھی کہ وہ از خود چل پھر سکے۔ ہری اسے اٹھا کر اپنے گھر لے آیا۔ اس کے زخموں کو پانی سے دھو کر صاف کیا اور جنگلی جڑی بوٹی پیس کر اس کا لیپ لگا دیا۔ وہ کئی روز تک اسی طرح اس کی دیکھ بھال کرتا رہا۔ ہری کی کوششوں سے چند ہفتے بعد بکری کے بچّے کے زخم بھر گئے اور وہ تندرست ہو کر چلنے پھرنے کے قابل بن گئی۔ 
	’’ مَیں ایک پری ہوں۔ تم نے میری زندگی بچائی ہے۔ مَیں تمہیں ضرور کوئی انعام دوں گی۔ ‘‘ بکری نے کہا۔ 
	ہری کو حیرت بھی ہوئی اور خوشی بھی کہ اس نے کسی کی مدد کی ہے اور وہ بکری نہیں بل کہ ایک پری ہے۔ پری ہری کے ساتھ ہی اس کے گھر میں رہنے لگی۔ اب ہری تنہا نہیں تھا بل کہ اس کے ساتھ ایک پری بھی تھی۔ ایک روز اس نے پری سے کہا :’’ اے پری !مجھے نئے کپڑے لادو نا۔‘‘ 
	ابھی ہری کی بات پوری بھی نہ ہوئی تھی کہ پری نے اس کے لیے بہت خوب صورت اور دل کش کپڑے حاضر کر دیے۔ ہری نے کپڑا لے لیا اور پری کا بہت شکریہ ادا کیا۔ 
	ہری اپنی سب باتیں اس کو کہتا اس کے ماں باپ کے بارے میں بتاتا اور پری کوسندر بن کی کچھ دل چسپ کہانیاں سناتا۔ پری غور سے اس کی باتیں سنتی اور اس کی کہانیوں سے لطف اٹھاتی۔  
	ایک رات سندر بن میں اچانک موسلادھار بارش ہوئی جس کی وجہ سے ہری کی گھاس پھوس کی جھونپڑی ڈھے گئی۔ وہ بہت دکھی ہو گیا۔ پری نے جب ہری کو اداس دیکھا تو اس سے پوچھا کہ : ’ ’ پیارے ہری ! تم کیوں اُداس ہو؟‘ ‘
	ہری نے کہا :’’ دیکھو نا! ہماری جھونپڑی کیسے برباد ہو گئی۔ مَیں چاہتا ہوں تم ایک اچھا گھر بنا دو تاکہ ہم آرام و سکون سے رہ سکیں۔‘‘ فوراً پری نے ایک اچھا اور بڑا گھر بنا دیا۔ ہری اور پری اس گھر میں ہنسی خوشی رہنے لگے۔ 
	ایک روز ہری اور پری سندر بن کی سیر و تفریح کے لیے نکلے تو کیا دیکھتے ہیں کہ ایک شکاری اپنی بندوق ہرن پر تانے ہوئے کھڑا ہے۔ بکری( پری) نے ہری سے کہا :’’ ہری ہری ! یہی وہ شکاری ہے جس نے اس روز مجھے زخمی کیا تھا۔‘‘ 
	ہری نے پری سے التجا کی کہ :’’ مہربانی کر کے ہرن کی مدد کرو اور اس دن کا بدلہ بھی لے لو۔‘‘ پری نے کہا :’’ بدلہ لینا اچھی بات نہیں لیکن اس طرح جانوروں کی جان لینے والے کو ختم کرنا میرا فرض ہے سو مَیں اسے پورا کروں گی۔‘‘ 
	پری نے اپنی زبان میں چند جملے تیز آواز میں پڑھے اُسی وقت شکاری زمین پر گر کر ڈھیر ہو گیا۔ پری نے ہری سے کہا :’’ اگر کوئی بھی شکاری جنگل میں آیا اور جانوروں کا شکار کرنے کی کوشش کی تو اس کا انجام بھی اسی شکاری کی طرح ہو گا۔ اب ہمیں چوکنّا رہنا چاہیے۔‘‘ 
	کچھ دنوں کے بعد ایک شکاری اور آیا اس کی بھی حالت پہلے شکاری کی طرح ہو گئی ایک کے بعد ایک کئی شکاری جب پُر اسرارحالت میں مرنے لگے تو سندر بن میں کسی شکاری کے آنے کی ہمت نہ ہوئی۔ اب سندر بن میں بکری پری، ہری اور تمام جانور اور پرندے سکون سے رہنے لگے۔ 
							( نامعلوم) 




حق بات کا انعام


	دولت آباد ملک میں ایک بادشاہ حکومت کرتا تھا۔ وہ بڑا رحم دل اور رعایا پرور تھا۔ جو بھی اس کی پاس آتا وہ اسے ضرور کچھ نہ کچھ دے کر رخصت کرتا۔ اگر کسی کو کوئی پریشانی ہوتی تو راجا خود اُس کو حل کرنے کی کوشش کرتا۔ غریبوں اور مجبوروں کا بہت خیال رکھتا۔ یہی وجہ ہے کہ دولت آباد ملک کے لوگ اپنے بادشاہ سے بہت خوش تھے اور اس سے بے انتہا پیار کرتے تھے۔وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ بادشاہ کے سر میں غرورسمانے لگا۔ اور وہ اپنی جھوٹی تعریف سُن کر خوش ہونے لگا۔ 
	جب یہ خبر عام ہوئی تو ایک دن بادشاہ کے محل میں ایک لالچی اور خوشا مدی فقیر آیا۔ اُس فقیر نے بادشاہ کے محل میں جا کر بادشاہ کی جھوٹی تعریفیں کرتے ہوئے صدا لگانا شروع کی کہ:   ’’ ہمارا بادشاہ بڑا سخی ہے جو کوئی نہ دے پائے وہ راجا دے۔‘‘ بادشاہ کو یہ بات سُن کر بڑی خوشی ہوئی۔ اس نے فقیر کو ایک پپیتا انعام میں دے کر اسے رخصت کیا۔ فقیر نے پپیتا لیا اور منہ لٹکائے واپس ہو گیا اسے اِس انعام سے ذرا بھی خوشی نہیں ہوئی۔ 
	پہلے فقیر کے جاتے ہی دوسرا فقیر محل میں داخل ہوا اور اُس نے حق بات کی صدا لگانا شروع کی کہ :’’ جو اللہ دے وہ کوئی نہ دے پائے نہ ہی ہمارے بادشاہ۔‘‘ فقیر کی یہ بات بادشاہ کو ناگوار گذری۔ لیکن چوں کہ وہ عام رعایا میں سخی اور رحم دل مشہور تھا اس لیے محل میں آئے ہوئے فقیر کو خالی ہاتھ واپس لوٹانا اس نے مناسب نہ جاناسواُس نے اس فقیر کو دو سونے کے سکّے دیے اور محل سے رخصت کر دیا۔ دوسرا فقیر دو سونے کے سکّے پا کر بہت خوش ہوا۔ 
	اتفاق سے دونوں فقیروں کی بازار میں ملاقات ہو گئی۔ پہلا فقیر بہت زیادہ دکھی نظر آ رہا تھا۔ دوسرے فقیر نے اُس سے پوچھا : ’’دوست! تم اتنے دکھی کیوں دکھائی دے رہے ہو۔ ‘‘
	پہلے فقیر نے جواب دیا :’’ مَیں بادشاہ کے محل میں گیا تھا اور اس کی تعریف بھی کی اور اس نے انعام میں مجھے صرف ایک پپیتا دیا ہے جو میرے کسی کام کا نہیں۔‘‘
	دوسرے فقیر نے کہا:’’  مَیں بھی بادشاہ کے محل میں گیا تھا اور مَیں نے ایک صحیح اور سچی بات کہی تھی، وہ سُن کر بادشاہ نے مجھے دو سونے کے سکّے انعام دیے جنہیں پا کر مجھے بہت خوشی ہوئی۔ ‘‘ 
	پہلے فقیر نے دوسرے فقیر سے کہا :’’ کیا تمہیں پپیتا پسند ہے؟ ‘‘ دوسرا فقیر جسے دولت سے محبت نہیں تھی اور نہ ہی وہ لالچی تھا کہنے لگا کہ :’’ ہاں ! مجھے پپیتا پسند ہے۔‘‘ پہلا فقیر یہ سُن کر کہتا ہے :’’ تو تم یہ پپیتا خرید لو۔‘‘ دوسرا فقیر دونوں سونے کے سکّوں کے بدلے میں وہ پپیتا خرید لیتا ہے۔ پہلا فقیر سونے کا سکّہ پا کر بہت خوش ہوتا ہے اور وہاں سے چلا جاتا ہے۔
	پہلا فقیر جب اپنے گھر لوٹتا ہے اور پپیتا کاٹتا ہے تو اس میں سے ہیرے جواہرات نکلتے ہیں وہ سمجھ جاتا ہے کہ مجھے بادشاہ کے سامنے حق بات کہنے کا انعام مِلا ہے۔ 
	جب کہ دوسرالالچی اور خوشامدی فقیر چند ہی دن میں پورے پیسے اڑا کر دوبارہ بادشاہ کے محل میں بھیک مانگنے جاتا ہے۔ جیسے ہی بادشاہ اُس کو دیکھتا ہے تو پوچھتا ہے کہ :’’ اے فقیر مَیں نے تو تیری بات سُن کر خوشی میں تجھے ہیرے جواہرات سے بھرا ہوا پپیتا انعام میں دیا تھا، کیا ہوا کہ تُو پھر سے بھیک مانگنے لگا؟‘‘ 
	پہلے فقیر نے دوسرے فقیر سے ملنے اور دوسکّوں کے بدلے میں پپیتا بیچنے کی بات بتائی۔ یہ سُن کر بادشاہ کو بڑا تعجب ہوا اس نے دوسرے فقیر کو محل میں طلب کیا اور پوچھا کہ :’’ پپیتا کاٹنے پر اُس میں سے کیا نکلا؟‘‘ دوسرے فقیر نے سب کچھ سچ سچ بتلا دیا اور یہ بھی کہا کہ :’’ مَیں نے یہ پپیتا اس لیے پہلے فقیر کو واپس نہیں کیا کہ مَیں نے سن رکھا تھا بادشاہوں کے سامنے حق بات کہنے پر اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو انعام سے نوازتا ہے۔ اس لیے مَیں سمجھ گیا کہ پپیتے کے ذریعے مجھ کو اللہ تعالیٰ نے انعام عطا کیا ہے۔ ‘‘ یہ سُن کر بادشاہ کی آنکھ کھل گئی اور وہ دوبارہ پہلے جیسا نرم دل اور تواضع والا بادشاہ بن گیا اور لالچی فقیر کو اس نے جِلا وطن کر دیا۔
              ( نامعلوم) 


    

اماوس کی رات 

	رات کے ایک بج رہے تھے۔ اماوس کی رات تھی۔ ماسٹر صاحب کو آج پڑھاتے پڑھاتے دیر ہو گئی تھی۔اُن کا گھر بہت دور تھا۔ انھیں دوسرے گاؤں جانا تھا۔ ماسٹر صاحب کو اپنے گاؤں جانے کے لیے دو راستے تھے۔ ایک سیدھا اور دوسرا جنگل کی طرف سے تھا۔ جنگل کا راستا قریب کا تھا صرف ایک گھنٹے میں وہ اپنے گاؤں پہنچ سکتے تھے جب کہ سیدھا را ستا کافی لمبا تھا اس راستے سے انھیں گھر پہنچتے پہنچتے ڈھائی سے تین گھنٹے لگ سکتے تھے۔ 
	ماسٹر صاحب نے جنگلی راستے کے بارے میں بھوت پریت کے بہت سارے ڈراؤ نے قصے سُن رکھے تھے۔ لیکن پڑھے لکھے ہونے کی وجہ سے ان کا ایسی باتوں پر یقین نہ تھا۔ اس لیے انھوں نے اپنے گھر جانے کے لیے جنگل ہی کا راستا چنا۔ اندھیرا اور جنگل دونوں ہی بہت گھنے تھے۔ ماسٹر صاحب کے ہاتھوں میں ایک ٹارچ اور کچھ کتابیں تھیں۔ وہ بہادری کے ساتھ آگے بڑھ رہے تھے۔ اب تک صرف آدھا راستا ہی طَے ہوا تھا کہ اچانک انھیں کسی کے رونے کی آواز سنائی دی، وہ آواز کی سمت بڑھے کہ دیکھیں کون رو رہا ہے؟ ماسٹر صاحب نے دیکھا کہ ایک بچّی سر جھکائے رو رہی ہے۔ ماسٹر صاحب نے اس سے کچھ پوچھنا چاہا جیسے ہی اس نے سر اٹھایا تو وہ یہ دیکھ کر بُری طرح ڈر گئے کہ اس کے چہرے پر نہ تو آنکھیں تھیں نہ ناک، نہ کان اور نہ منہ۔ 
	ڈر کے مارے ماسٹر صاحب کا بُرا حال ہو گیا ان کے ہاتھوں سے ٹارچ گر گئی اور کتابیں بھی اِدھر اُدھر بکھر گئیں۔ا ور وہ وہاں سے بھاگے اور بھاگتے بھاگتے کسی نہ کسی طرح اس جنگل سے نکلے۔ 
	جنگل سے جیسے ہی سڑک پر آئے تو دیکھا کہ ایک چوکیدار بیٹھا تھا۔ وہاں گہرا اندھیرا چھایا ہوا تھا۔ جس کی وجہ سے اُس کا چہرہ صاف طور پر نظر نہیں آ رہا تھا۔ ماسٹر صاحب نے سوچا چلو خدا کا شکر ہے کوئی تو مِلا جو انسان ہے۔ انھیں تھوڑا سکون محسوس ہوا۔ اور انھوں نے اس چوکیدار سے جنگل میں پیش آیا واقعہ سنایا۔
	چوکیدار نے کہا :’ صاحب !اماوس کی رات کو اِس وقت جو بھی یہاں ملتا ہے وہ مرا ہوا ملتا ہے۔ اور آج تک اس جنگل سے کوئی بھی زندہ اور صحیح سلامت اپنے گھر نہیں پہنچا ہے۔ ‘‘ 
	ماسٹر صاحب نے یہ سُن کر کہا:’’ یہ تو پھر خدا کا شکر ہے کہ مَیں زندہ بچ کر آ گیا لیکن تم اِس جگہ پر کیا کر رہے ہو؟‘‘ 
	چوکیدار نے کہا :’’ جو کوئی جنگل سے زندہ بچ کر آتا ہے تو مَیں یہاں پر اُس کا کام تمام کر دیتا ہوں۔ ‘‘ اتنا کہہ کر چوکیدار نے سر اٹھایا تو ماسٹر صاحب نے دیکھا کہ اس کے بھی نہ آنکھیں تھیں نہ ناک، نہ کان اور نہ منہ۔ ڈر کے مارے ماسٹر صاحب نے بلند آواز میں مدد کے لیے پکارنا شروع کیا۔ 
	تب ہی مرغ نے بانگ دی۔ ماسٹر صاحب بستر سے ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھے اور انھیں یہ سوچ کر خوشی ہوئی کہ وہ سب صرف ایک خواب تھا۔ 
					(سمیتا پاٹل)


رِنکو کی ضد

	رِنکو نے اسکول سے آتے ہی بستہ ایک طرف پھینکا اور ماں کے گلے میں جھولتے ہوئے بولا:’’ ماں ماں ! مجھے کل اسکول میں کلر پیٹی لے کر جانا ہے ہم اسکول میں ڈرائنگ بنائیں گے۔ ‘‘
	’’اچھا! ٹھیک ہے مَیں لے دوں گی۔‘‘ کہہ کر ماں گھر کے کاموں میں لگ گئی۔ 
	لیکن رِنکو کو کہاں چین پڑتا۔ اگلے پانچ منٹ میں اس نے تین بار ماں کو یاد کرا دیا۔ ہار کر ماں نے ہاتھ کا کام چھوڑا۔ اور رِنکو کو ساتھ لے کر بازار کی طرف چل پڑیں۔ اسٹیشنری کی دکان سے کلر پیٹی خرید کر رِنکو کے حوالے کر دیں۔ رِنکو کلر پیٹی پا کر بہت خوش ہوا۔ اچھلتا کودتا وہ گھر کی طرف آ رہا تھا کہ اس نے ایک دکان کے آگے رنگ برنگی سائیکل دیکھی، وہ وہیں ٹھٹک کر کھڑا ہو گیا۔ ’’ ماں ! مجھے یہ سائیکل لینا ہے۔ دیکھو نا! کتنی سندر ہے ؟‘‘ 
	ماں نے دیکھا، سچ مچ سائیکل بہت سندر تھی۔ لیکن ماں جانتی تھیں کہ یہ سائیکل خریدنا ان کے بس کی بات نہیں۔پاپا کی تنخواہ سے جیسے تیسے گھر کا خرچ چلا رہی تھیں۔ پھر بھی رِنکو کی پڑھائی، کھانے اور اس کی دوسری ضروریات میں وہ کوئی بھی کٹوتی نہیں کرتی تھیں۔ ماں نے رِنکو کو ٹالنے کی بہت کوشش کی۔ لیکن ضدی رِنکو کہاں مانتا؟ وہ تو ضد پر اڑ گیا۔ زور زور سے رونے لگا اور وہیں زمین پر لوٹنے لگا۔ آس پاس کے لوگ اُسے دیکھنے لگے۔ لوگوں کو انھیں یوں گھورتا دیکھا تو ماں کو بہت شرم محسوس ہوئی۔ رِنکو کو وہیں زمیں پر چھوڑ کر وہ دکان کے اندر گھس گئیں۔ رِنکو نے سوچا ماں سائیکل خریدنے کے لیے دکان میں گھسی ہیں۔ وہ بھی اٹھ کر اپنے کپڑے جھاڑتا ماں کے پیچھے پیچھے دکان میں گھس گیا۔ ماں نے دکان دار سے سائیکل کے دام پوچھے۔ 
	دکان دار نے بتایا :’’ ایک ہزار روپے۔‘‘ 
	دام سُن کر ماں نے تھوک نگلتے ہوئے بڑے دکھ سے کہا:’’ اچھا!‘‘ 
	ماں نے رِنکو سے کہا :’’ ابھی مَیں اِتنے پیسے لے کر نہیں آئی ہوں جب پاپا آفس سے گھر آئیں گے تو تم اُن کے ساتھ آ کر سائیکل خرید لینا۔‘‘ 
	رِنکو نے جھٹ ہامی بھر لی اور دونوں گھر لوٹ آئے۔ شام کو جب رِنکو کے پاپا آفس سے لوٹے تو ماں نے اُن کو ساری بات بتائی۔ رِنکو کی اس طرح کی بے جا ضد سے اس کے پاپا کو بہت دکھ ہوا۔ پاپا نے رِنکو کو اپنے پاس بلایا اور اس کو پیار سے سمجھانے لگے۔ پاپا بولے:’’ دیکھو بیٹا! جتنی چادر ہو اتنا ہی پاؤں پھیلانا چاہیے۔اپنی حیثیت سے بڑھ کر کوئی کام نہیں کرنا چاہیے۔ ہم تمہیں اچھے اسکول میں پڑھوا رہے ہیں۔ تمہاری پڑھائی کے لیے ہم کبھی کوئی کمی نہیں کرتے۔ تمہارے لیے دودھ، پھل فروٹ،  بسکٹ، ٹافی، اور اچھے اچھے چاکلیٹ لاتے ہیں۔ اب تمہیں بھی فضول کی ضد چھوڑ کر محنت سے پڑھائی کرنا چاہیے۔ تمہارے لیے اتنی مہنگی سائیکل خریدنا ہمارے بس کی بات نہیں۔ تمہیں ایسی ضد نہیں کرنا چاہیے۔‘‘
	لیکن رِنکو کے کان پر جوں تک نہ رینگی۔ اُس نے سائیکل لینے کی ضد نہ چھوڑی اور زور زور سے دھاڑیں مار مار کر رونے لگا۔ اُسے اِس طرح ضد کرتے ہوئے دیکھ کر پاپا نے کہا:’’ ٹھیک ہے! مَیں کل اپنے آفس سے قرض لے آؤں گا اور تمہیں سائیکل دلا دوں گا۔ پھر دھیرے دھیرے میری تنخواہ میں سے پیسے کٹ جائیں گے۔‘‘ 
	دوسرے دن پاپا نے رِنکو کو سائیکل دلا دی۔ رِنکو بہت خوش ہو گیا اُسے اگلے دن کا انتظار تھا۔ جب وہ اسکول جا کر اپنے سارے دوستوں کو اپنی نئی سائیکل کے بارے میں بتائے گا اور اپنی سائیکل دکھانے کے لیے گھر لے کر آئے گا۔ 
	دوسرے دن اسکول جانے سے پہلے رِنکو پاپا کے ساتھ ناشتہ کرنے بیٹھا۔ پاپا نے ماں کو آواز لگائی:’’ بھئی! جلدی دودھ لے کر آؤ رِنکو کو دیر ہو جائے گی۔ ‘‘
	ماں ایک کپ دودھ لے آئی۔ ماں نے بتایا:’’ مَیں نے آدھا دودھ بند کروا دیا ہے۔ رِنکو کی سائیکل کے لیے آفس سے جو قرض لیا گیا ہے اُس کے پیسے کٹنے کی وجہ سے اب تنخواہ کم ملے گی اس لیے گھر کا خرچ چلانا مشکل ہو جائے گا۔ مجھے بچت کر کے ہی گھر چلانا پڑے گا۔‘‘ 
	پاپا نے کہا :’’ تم نے ٹھیک کیا۔یہ ایک کپ دودھ تم رِنکو کو دے دو، آج سے میرا دودھ بند، اب مَیں بغیر دودھ پیے ہی آفس چلا جایا کروں گا۔‘‘ یہ کہہ کر پاپا نے آدھا ناشتہ کیا اور اُٹھ گئے۔ رِنکو کو یہ دیکھ کر بہت دکھ ہوا۔ 
	شام کو کھیل کود کر آنے کے بعد رِنکو ماں کے ساتھ بیٹھ کر پھل اور دودھ سے ہلکا پھلکا ناشتہ کرتا تھا۔ اُس دن ماں نے رِنکو کو کھانے کے لیے صرف ایک کیلا ہی دیا۔ کیلا ہاتھ میں لے کر رِنکو نے ماں سے کہا:’’ ماں ! بس ایک ہی کیلا اور دودھ ؟‘‘ ماں نے جواب دیا:’’ بیٹا ! آج ایک ہی کیلا کھا لو اور دودھ تو مَیں نے کم لینا شروع کر دیا ہے، اس لیے دودھ صرف صبح ملے گا۔تھوڑے دنوں کی بات ہے۔ قرض ادا ہو جانے کے بعد اب دوبارہ پہلے جیسا کھانا پینا شروع کر دیں گے۔ 
	اچانک رِنکو کو خیال آیا کہ ماں کچھ بھی نہیں کھا رہی ہے۔ رِنکو بولا:’’ ماں ! آپ کچھ نہیں کھائیں گی؟‘‘ 
	اپنی نم آنکھیں چھپاتے ہوئے ماں نے چہرہ دوسری طرف پھیر لیا اور دھیرے سے کہا:’’ مجھے بھوک نہیں ہے، رِنکو تم کھالو۔‘‘ یہ کہہ کر ماں گھر کے کام میں جٹ گئی۔ 
	پاپا کو رات میں کتاب پڑھتے پڑھتے سونے کی عادت تھی۔ اُس رات رِنکو نے دیکھا کہ پاپا کے کمرے کی لائٹ بند ہو گئی۔ رِنکوسوچنے لگا پاپا آج اتنی جلدی کیسے سوگئے ؟ اُن کی طبیعت تو ٹھیک ہے نا؟ وہ آہستہ آہستہ دبے پاؤں پاپا کے کمرے کی طرف گیا، اُس نے دھیرے سے آواز لگائی :’’ پاپا!کیا مَیں اندر آؤں ؟‘‘ 
	اٹھ کر بیٹھتے ہوئے پاپا بولے :’’ ہاں ہاں بیٹا آ جاؤ۔‘‘ اندر داخل ہوتے ہوئے رِنکو بولا:’’ آج آپ ہمیں کہانی نہیں سنائیں گے؟ اور آج آپ کچھ پڑھ بھی نہیں رہے ہیں ؟ آپ نے لائٹ اتنی جلدی کیوں بجھا دی پاپا؟
	پاپا نے دھیرے سے جواب دیا :’’ بیٹے ! کوئی خاص بات نہیں۔‘‘ یہ سُن کر رِنکو کو اطمینان نہ ہوا اور پھر ضد کرنے لگا کہ :’’ پاپا صحیح صحیح بتائیے نا کیا مسئلہ ہے؟‘‘تو اُس کے پاپا نے کہا: ’’ چوں کہ مَیں نے سائیکل لانے کے لیے قرض لیے ہیں اور اِس مہینے سے میری تنخواہ میں سے پیسے کٹنے شروع ہو جائیں گے، اِس مہینے بجلی کا بِل کم آئے اس لیے مَیں نے لائٹ جلدی سے بجھا دی۔‘‘ 
	رِنکو کو احساس ہو گیا کہ میری بے جا ضد کی وجہ سے ممی پاپا دونوں بہت زیادہ پریشان ہو گئے ہیں۔ ’’ اوہو! پاپا ‘‘ کہہ کر رِنکو اپنے پاپا کے گلے لگ گیا اور سسک سسک کر رونے لگا۔پاپا نے جب رِنکو کو روتے دیکھا تو اُس کی پیٹھ پر پیار سے ہاتھ پھیرتے ہوئے پوچھا :’’ بیٹے ! تمہیں کیا ہو گیا ہے، تم کیوں رو رہے ہو؟‘‘ 
	سسکتے ہوئے رِنکو بولا:’’ میری بے جا ضد کی سب کو اتنی بڑی سزا کہ گھر کے سب لوگوں کا سکون برباد ہو جائے، پاپا! مجھے معاف کر دو نا۔ مجھے نہیں چاہیے سائیکل، پاپا!  پلیز اسے کل واپس کر دیں۔ مَیں اب آیندہ سے کبھی کوئی ضد نہیں کروں گا۔ 
	رِنکو کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے پاپا بولے :’’ رو مت بیٹا! صبح کا بھولا اگر شام کو گھر لوٹ آئے تو اُسے بھولا نہیں کہتے۔ 
						( رینو چوہان) 


 
جھوٹ کی سزا

	یہ ضرور کسی ڈائن کا کام ہے۔ جنگل کے اوجھا نامی لکڑ بھگّے نے آنکھیں گول گول گھما کر کہا۔’’یہ جو آج کل ایک کے بعد ایک بچّے مرتے جا رہے ہیں، ضرور اس میں اُسی کا ہاتھ ہے وہ ڈائن ہے۔ اب اُس کی نظر تیرے بچّے پر ہے۔‘‘
	’’ تو ہمارا کیا ہو گا؟ ‘‘براؤنی بھالو لگا رونے۔’’ہمارے دو بچّے ہوئے ایک تو پہلے ہی خدا کو پیارا ہو گیا۔ خدا جانے اسے کون سی بیماری لگی ہے۔ ‘‘
	بنٹی لومڑی مانو سسکنے لگی :’’ بابا! کہیں یہ اُس سنہری ہرن کے کرتوت تو نہیں ؟ اتنے بڑے کھیت اور کٹیا کی اکیلی مالکن بنی بیٹھی ہے۔‘‘ 
	 سنہری ہرن تھی تو اکیلی اس کا کوئی بھی نہ تھا مگر کھیتوں پر راج تھا تو اسی کا۔ جیسے ہی بنٹی لومڑی نے ہرن کی بات کی، تو مانو اوجھا لکڑ بھگّا اسی موقع کی تلاش میں تھا۔اس نے کہا :’’ ارے ! وہی تو ڈائن ہے اگر اس کانٹے کو راستے سے ہٹا دیا جائے تو کتنا اچھا ہو گا ؟ پھر سارے کھیتوں پر ہمارا حکم چلے گا۔ ‘‘ لکڑ بھگّے نے براؤنی بھالو کو اکساتے ہوئے مزید کہا کہ : ’’ ابھی اور اسی وقت جنگل کے راجا شیر سنگھ کے پاس چلو۔ وہ پنچایت بلائے مَیں سب کے سامنے اس بات کا اقرار کروں گا کہ سنہری ہرن ڈائن ہے اور اس کی نظر تمہارے بیٹے پر ہے۔ وہ آنکھوں آنکھوں ہی سے بچّے کا خون چوس رہی ہے۔‘‘ 
	براؤنی بھالو ان کے جھانسے میں آ گیا:’’ ابھی چلو بابا! شیر سنگھ کے پاس۔‘‘ 
	پنچایت میں اوجھا لکڑ بھگّے اور بنٹی لومڑی نے سنہری ہرن کے خلاف گواہی دی۔ شیر سنگھ نے فیصلہ سنا دیا کہ :’’ سنہری ہرن ڈائن ہے، اس لیے آج رات جنگل کے تمام جانور میدان میں جمع ہو جائیں تاکہ اسے درخت سے باندھ کر زندہ جلا دیا جائے۔‘‘ 
	سنہری ہرن بہت روئی لیکن پتھر دل والے شیر سنگھ، بنٹی لومڑی، اوجھا لکڑ بھگّے کے دل نہ پگھلے۔ بل کہ بنٹی لومڑی اور اوجھا لکڑ بھگّے تو جیسے اسی بات کا انتظار کر رہے تھے کہ کب راجا شیر سنگھ فیصلہ سنائے اور کب وہ سنہری ہرن کو دبوچ لیں ؟ چناں چہ جیسے ہی راجا نے فیصلہ سنایا وہ دونوں دوڑے اور سنہری ہرن کو پکڑ کر درخت سے باندھنے لگے۔ 
	ہرن کا کوئی بھی نہ تھا، وہ بالکل اکیلی تھی۔ جنگل کے کسی جانور میں یہ ہمت نہیں ہوئی کہ وہ راجا شیر سنگھ کے فیصلے کے خلاف زبان کھولیں۔ لیکن کھوکھو بندر اور میکو خرگوش نے دل میں یہ ٹھان لی کہ بدمعاشوں کو ہم ضرور سبق سکھائیں گے۔ کیوں کہ انھیں یہ پتا تھا کہ یہ سب بنٹی لومڑی اور اوجھا لکڑ بھگّے کی سازش ہے۔ 
	سنہری ہرن کو درخت سے باندھ کر بنٹی لومڑی، اوجھا لکڑ بھگّا اور اس کے دوسرے بدمعاش ساتھی درخت کے قریب ہی بیٹھ کر موج مستی کرتے ہوئے بے چاری سنہری ہرن کا مذاق اڑا رہے تھے اور خوب کھا پی کر ناچتے گاتے ہوئے جشن منا رہے تھے۔ جب شام ہوئی اور اندھیرا پھیلنے لگا تو ایک ایک کر کے دوسرے جنگلی جانور میدان میں درخت کے ارد گرد جمع ہونے لگے۔ اندھیرے کا فائدہ اٹھا کر کھوکھو بندر درخت پر چھلانگ مار کر بیٹھ گیا۔ جب سب جانور راجا شیر سنگھ کے آنے کی خبر سُن کر اس کے استقبال میں مصروف ہو گئے تو کھوکھو بندر نے سنہری ہرن کو درخت سے کھول دیا اور اس سے کہا کہ :’’سنہری ہرن ! جنگل میں جھیل کے پاس جھاڑی میں بھاگ کر چھپ جاؤ کل ہم تم سے ملیں گے۔‘‘
	اِدھر جیسے ہی سنہری ہرن کو کھوکھو نے کھولا تو وہ چوکڑیاں بھرتے ہوئے وہاں سے بھاگ کھڑی ہوئی۔ میکو خرگوش چند لکڑیاں اور گھاس پھوس اور چند ہڈیوں کے ٹکڑے لیے پہلے ہی سے تیار تھا، کھوکھو بندر اور میکو خرگوش دونوں نے آگ جلادی اور اوجھا لکڑ بھگّے کو دھوکا دینے کے لیے ہڈیاں بکھیر دیں۔ 
	سب جانور گھبرانے لگے۔ شیر راجا نے جب یہ دیکھا تو کہا :’’ گھبرانے کی کوئی بات نہیں ڈائن کو اس کے کیے کی سزا مل گئی، آگ لگ گئی اور وہ اس میں جل کر مر گئی۔‘‘ 
	اتنا سُن کر بنٹی لومڑی اور اوجھا لکڑ بھگّے نے نعرہ مارتے ہوئے کہا کہ :’’ چلو اب اس کے کھیت اور کٹیا پر ہمارا قبضہ ہو جائے گا۔‘‘ 
	لیکن یہ کیا براؤنی کے گھر سے خبر آئی کہ اُس کا دوسرا بچّہ بھی مرگیا۔ تمام لوگ حیران رہ گئے کہ سنہری ہرن جو کہ ڈائن تھی وہ تو مر گئی پھر براؤنی کا بچّہ کیسے مرا؟ 
	جنگل سے لگ کر ایک کارخانہ تھا جہاں سے زہریلا دھواں اور خراب پانی نکل کر جنگل کے چشمے میں مل جاتا تھا۔ اسی پانی کو جنگلی جانوروں کے بچّے پی لیتے تھے وہی ان کے مرنے کا سبب تھا۔ میکو خرگوش اور کھوکھو بندر براؤنی بھالو کو تسلی دینے لگے :’’ دیکھا تم نے تمہارے بھولے پن کا  فائدہ اٹھا کر ان لوگوں نے ایک بے گناہ ہرن پر غلط الزام بھی لگایا اور اس کی جان بھی لے لی، بے چاری سنہری ہرن کتنی سندر اور خوب صورت تھی۔ یہ سب بنٹی لومڑی اور اوجھا لکڑ بھگّے کی سازش ہے وہ لومڑی کے کھیتوں اور کٹیا پر قبضہ جمانا چاہتے ہیں۔‘‘ 
	میکو خرگوش کے دماغ میں ایک ترکیب آئی۔ اُسی رات سنہری ہرن کے کھیت میں بیٹھے بنٹی لومڑی اور اوجھا لکڑ بھگّا جشن منا رہے تھے۔ اچانک بنٹی لومڑی بُری طرح ڈر کر چلّانے لگی:’’ لکڑ بھگّا بابا! بھوت ۔۔۔ بھوت۔۔۔بچاؤ۔۔۔ بچاؤ !!‘ ‘
	ان دونوں نے دیکھا کہ ایک سفید رنگ کی ہرن اُسی زمین پر یہاں سے وہاں بے تحاشہ دوڑ رہی ہے اور اُس کی سینگ پر آگ جل رہی ہے۔ 
	میکو خرگوش اور کھوکھو بندر ایک جگہ چھپ کر سارا ماجرا دیکھ رہے تھے۔ میکو خرگوش کے مشورے پر کھوکھو بندر نے سنہری ہرن کے جسم پر سفید رنگ پوت دیا تھا اور اس کے دونوں سینگوں پر موم بتّی جلا کر لگا دی تھی اور اسے کہا تھا کہ جا کر تمہارے کھیت پر ان لوگوں سے تھورا فاصلے پر بے تحاشہ اِدھر اُدھر دوڑ لگاؤ۔ 
	اوجھا لکڑ بھگّے کی ساری اوجھائی ہو گئی پھُر ۔۔۔ لگا چلّانے :’’ ارے باپ رے۔۔۔ ارے باپ رے ۔۔۔ کوئی ہے جو ہمیں اِس بھوت سے نجات دلائے ۔۔۔ بچاؤ بچاؤ۔‘‘ 
	بنٹی لومڑی نے جب اوجھا لکڑ بھگّے کی یہ حالت دیکھی تو وہ لگی دھاڑیں مار مار کر رونے۔ 
	میکو خرگوش، کھوکھو بندر اور ان کے دوست نیٖل گائے، مور، طوطا، بارہ سنگھاوغیرہ لگے زور زور سے چھپ کر چلّانے کہ :’’ سنہری ہرن کی آتما زمین پر لوٹ آئی ہے ۔۔۔ اپنی موت کا بدلہ لینے۔۔۔ جھوٹوں کا پردہ فاش کرنے۔۔۔ اور بدمعاشوں کو سزادینے ۔۔۔ بنٹی لومڑی اور اوجھا لکڑ بھگّے کا خون چوسنے ۔۔۔ ‘‘ 
	بنٹی لومڑی اور اوجھا لکڑ بھگّے نے جب یہ آواز سُنی تو ڈر کے مارے بے ہوش ہو گئے۔ میکو خرگوش اور کھوکھو بندر کے ساتھیوں نے دونوں کو رسیوں سے جکڑ لیا اور راجا شیر سنگھ کے دربار میں لے گئے اور وہاں ان لوگوں کے دھوکے اور جھوٹ کی قلعی کھول دی۔ 
	راجا شیر سنگھ کو جب اصلیت کا پتا چلا تو اس نے فیصلہ سنایا کہ:’’ آج رات بنٹی لومڑی اور اوجھا لکڑ بھگّے کو درخت سے باندھ کر زندہ جلایا جائے گا۔‘‘
	براؤنی بھالو روتے ہوئے آگے بڑھا اور سنہری ہرن سے معافی مانگنے لگا۔ سنہری ہرن نے اسے معاف کر دیا اور میکو خرگوش اور کھوکھو بندر کے گلے لگ کر رونے لگی۔ اور کہتی جاتی کہ:’’  مَیں تم لوگوں کا شکریہ کیسے ادا کروں کہ تمہاری عقل مندی سے میری جان بچ گئی، اور جھوٹے اور مکار لوگوں کو ان کے کیے کی سزا مل گئی۔ 
		
						( نامعلوم)




بِٹّی

	سات سال کی ننھی سی انشا لال رنگ کا فراک پہنے اِدھر اُدھر اِٹھلاتی پھر رہی تھی۔ وہ دوڑ دوڑ کر کیاریوں کے پاس تتلیاں پکڑنے کی کوشش کر رہی تھی، لیکن شوخ و چنچل تتلیاں تھیں کہ اُس کے ہاتھ ہی نہیں لگ رہی تھیں۔ وہ سوچ رہی تھی کہ کسی طرح کوئی تتلی ایک بار ہاتھ میں آ جائے، تو انھیں خوب پیار کروں گی۔ دیر تک ان کے ساتھ کھیلوں، پیار بھری باتیں کروں اور پھر اڑا دوں۔ ننھے دل نے سوچا کاش! مَیں بھی اِن جیسی ہی ہوتی دور دراز ملکوں کی سیر کرتی، آسمان میں اڑتی۔ہائے! کتنے نرم و نازک سے چمکیلے، خوب صورت اور رنگ برنگے پروں والی ہیں یہ تتلیاں، وہ دل ہی دل میں کہتی۔ کچھ دیر تک وہ تتلیوں کے ساتھ بھاگتے بھاگتے تھک گئی تو آ کر اپنے پیارے طوطے میاں کے پنجرے کے پاس بیٹھ گئی۔ چمکارتے ہوئے بولی:’’ کیا بات ہے طوطے میاں ؟تم کیوں اُداس ہو؟ کیا تمہارے ممّی پاپا بھی تمہیں اکیلا چھوڑ کر کہیں چلے گئے ہیں ؟ مَیں بھی تمہاری طرح بہت بور ہو جاتی ہوں، آخر مَیں بھی کب تک بوڑھی ممانی کے ساتھ کھیلوں۔‘‘ 
	انشا کی بات طوطے میاں کی سمجھ میں آئی یا نہیں انھوں نے پنجرے سے ٹیں ٹیں ٹیں بِٹّی بِٹّی پکارا، جیسے انشا کی تکلیف انھیں سمجھ میں آ گئی ہو۔ انشا مسکرا اُٹھی۔ وہ بھاگ کر کچن روم میں گئی اور ڈھیر ساری ہری لال مرچیں لا کر پنجرے میں ڈال دی اور بولی:’’ کھالو طوطے میاں ! تمہاری بِٹّی تمہارے لیے یہ مرچیں لائی ہے۔‘‘  طوطے میاں خوشی خوشی اپنی تیز چونچ سے مرچیں کتر کتر کر کھانے لگے۔ یہ دیکھ کر انشا کو بڑا اچھا لگا۔
	انشا کو بھی اس وقت بھوک لگ رہی تھی۔ لیکن اُس کا کھانے کو من نہیں کر رہا تھا۔ اُسے یاد آیا نوشین جو روز اپنی ممّی کے ہاتھ سے کھانا کھاتی ہے۔انھیں کے پاس سوتی ہے۔ اُس کے پاپا اُسے گھمانے لے جاتے ہیں، لیکن میرے ممّی پاپا کے پاس تو میرے لیے وقت ہی نہیں ہے۔ کئی بار جی میں آتا ہے کہ مَیں ضد کر کے اپنی بات پوری کراؤں، لیکن اپنے ممّی پاپا سے مَیں بولنے کی ہمت ہی نہیں کر پاتی۔ 
	ننھی انشا ڈھیروں سوال اپنے دل میں لیے گھومتی رہتی۔ ایک بوڑھی ممانی ہی تھی جو اُس کے دکھ تکلیف کا خیال رکھتی تھی۔ اُس کے ممّی پاپا ممانی کواس کام کی تنخواہ دیتے تھے۔
	آج انشا کو تیز بخار تھا۔ پورا بدن بخار سے تپ رہا تھا۔ روتے روتے اُس کے آنسو گالوں پر ڈھلک کر آ گئے اور ایک لکیر چھوڑ گئے۔ ممانی چاروں طرف میم صاحب ! میم صاحب! کی پکار لگا رہی تھی، ڈاکٹر کا موبائل نمبر یا فون نمبر انھیں پتا نہ تھا۔ اچانک کال بیل بجی۔ ممانی نے دوڑ کر دروازہ کھولا۔ انشا کے ممّی پاپا دونوں دروازے پر کھڑے تھے۔ ممانی نے روتے روتے گھبرا کر انشا کا سارا حال کہہ سنایا۔ ممّی پاپا دونوں بھاگ کر انشا کے پاس پہنچے۔ وہ بے حال پڑی تھی۔ ساتھ ہی بولے جا رہی تھی : ’’ ممّی پاپا! آپ لوگ مجھے پیار کیوں نہیں کرتے؟ مجھے کیوں اپنے ساتھ گھمانے نہیں لے جاتے؟ مجھے کیوں نہیں اپنے ساتھ کھلاتے اور اپنے پاس سلاتے؟‘‘ 
	ننھی انشا کی یہ سب باتیں سن کر ممّی پاپا کو بہت شرمندگی ہوئی۔ پاپا نے ڈاکٹر کو فون کر کے بلایا۔ ممّی نے اُسے گود میں لٹا لیا۔ ڈاکٹر آیا دوا دی۔ تھوڑی دیر میں انشا کا بخار اتر گیا۔ جب اُس کی آنکھیں کھلیں تو اُس نے اپنے آپ کو ممّی کی گود میں پایا۔ اُسے بہت خوشی ہوئی وہ ماں کے گلے لگ گئی۔
	اُس کے پاپا نے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا کہ ہم لوگ اب ساتھ میں گھومنے جائیں گے۔ آج سے انشا ہمارے ساتھ ہی سوئے گی۔ انشا کا خوشی کے مارے بُرا حال تھا۔ وہ ماں کی گود سے اتر کر طوطے میاں کے پنجرے کے پاس گئی۔ اُس نے پنجرے کی کھڑکی کھول دی۔ طوطے میاں ٹیں ٹیں ٹیں کرتے بلندی کی طرف اڑ چلے اور دور سے بِٹّی بِٹّی پکارتے رہے۔ انشا کھلکھلا کر ہنس پڑی، ممّی پاپا نے اسے گلے سے لگا لیا۔
 			( آر۔ سیفی)


	
پِنکی اور آدم خور شیر

	وڑ گاؤں نام کے ایک گاؤں میں ایک لڑکی رہتی تھی۔ اس کا نام پِنکی تھا وہ بہت نیک تھی۔ ہر ایک کے کام آتی دوسروں کی مدد کرتی۔ جانوروں، پرندوں اور درختوں سے اُسے بہت پیار تھا۔اُس گاؤں کے پاس سے ایک ندی بہتی تھی، جس کا نام پوسی ندی تھا۔ پِنکی کو اِس ندی سے بڑا لگاؤ تھا۔ جب اسکول جاتی تو ندی کے کنارے کنارے چلتی ہوئی ندی کی کل کل بہتی موجوں، اُس میں اچھلتی کودتی مچھلیوں اور سفید سفید بگلوں کو دیکھ کر خوب خوش ہوتی۔ ندی کے دونوں جانب پھل دار درخت ماحول کی خوب صورتی اور ہریالی کو بڑھا رہے تھے۔ کبھی کبھی پِنکی ان درختوں کے پھلوں کو توڑ کر کھا بھی لیتی تھی۔ اسکول سے واپسی کے وقت وہ ندی کے سنسان کنارے پر کسی درخت کی کھوہ میں اپنا بستہ رکھ دیتی اور ندی کے صاف و شفاف اور ٹھنڈے پانی سے ہاتھ منہ دھوتی۔ اور اپنے خیالوں میں مگن ہو جاتی۔
	ایک دن اسکول سے لوٹتے ہوئے روز کی طرح وہ ندی کے کنارے آہستہ آہستہ چل رہی تھی کہ اچانک اُس کو ہلکی سی آواز سنائی دی :’ ’ پِنکی ! مجھے بچاؤ۔‘‘اُس نے اِدھر اُدھر دیکھا ندی کے کنارے کافی دور تک بڑھتی چلی گئی۔ اُس نے دیکھا کہ ایک مچھلی ایک شاخ پرپھنسی ہوئی تھی۔ اُسی نے اسے آواز دی تھی۔ ندی میں کود پھاند کرتے ہوئے شاید و ہ شاخ میں پھنس گئی تھی۔ 
	پِنکی نے فوراً مچھلی کو شاخ سے چھڑا کر اُسے دوبارہ پانی میں ڈال دیا۔ پانی میں پہنچتے ہی مچھلی ایک سندر اور خوب صورت پری میں بدل گئی۔ بالکل کہانیوں والی جل پری کی طرح دل کش۔ اُس نے پِنکی سے کہا:’’ بیٹی! تم نے میری جان بچائی ہے۔ اس کے بدلے میں مَیں تمہیں ایک طلسمی بول سکھادوں گی۔‘‘ اور اُس نے پِنکی کو طلسمی بول سکھا دیا کہ پِنکی اگرکسی کو دیکھ کر یہ کہہ گی کہ:’’ چپک جاؤ۔‘‘ تو فوراً اُس جاندار کے ہاتھ پاؤں سب چپک جائیں گے۔ اور وہ جب ہی کھلیں گے جب پِنکی کہہ گی کہ :’’ کھل جاؤ۔‘‘ اِس کے بعد پری غائب ہو گئی، اور پِنکی بھی اپنے گھر کی طرف چل پڑی۔
	راستے میں اُسے ایک بگلا دکھائی دیا۔ جو ایک مینڈک کو پکڑنے ہی والا تھا۔ پِنکی نے سوچا کہ پری نے جو طلسمی بول سکھایا ہے اُسے آزمانا چاہیے۔ تب ہی تو یہ معلوم ہوسکے گا کہ اُس پری نے صحیح کہا ہے یا نہیں ؟ پِنکی نے بگلے کو دیکھ کر کہا کہ :’’ چپک جاؤ۔‘‘ فوراً ہی بگلے کی چونچ، پیر اور پرایسے چپک گئے کہ وہ ساکت ہو گیا۔ اس موقع کا فائدہ اٹھا کر مینڈک وہاں سے بھاگ کھڑا ہوا۔ پری کے ذریعے سیکھے گئے طلسمی بول کو اس طرح کام کرتے دیکھ کر پِنکی بہت خوش ہوئی۔ اُس نے ’’کھل جاؤ‘‘ کہہ کر بگلے کی چونچ، پیر اور پر کو کھلوا دیا۔ اور آگے بڑھ گئی۔ 
	آگے چل کر اُسے ایک کوا ملا جو کہ ایک گلہری کو کھانے جا رہا تھا۔پِنکی نے فوراً اُسے دیکھ کر کہا :’’ چپک جاؤ۔‘‘ کوے کے پیر اور پر آپس میں چپک گئے۔ گلہری وہاں سے بھاگ گئی۔ دوبارہ پِنکی نے کہا کہ :’’ کھل جاؤ۔‘‘ کوا آزاد ہو گیا۔ اس طرح پِنکی نے مینڈک اور گلہری کی جان بچا کر طلسمی بول کا تجربہ کیا۔ 
	گاؤں میں پِنکی جیسے ہی داخل ہوئی تو اُس نے دیکھا کہ کالو کتّا شمّو کی بھوری بلّی کو پکڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔ فوراً پِنکی نے کہا:’’ چپک جاؤ۔‘‘ کتا وہیں چپک کر رہ گیا۔ جب بلّی وہاں سے بھاگ گئی تو دوبارہ پِنکی نے کہا:’’’کھل جاؤ۔‘‘ کتّا آزاد ہو گیا۔ 
	اس طرح پِنکی نے پری کے ذریعہ بتائے گئے طلسمی بول سے کئی بے زبان جانوروں اور پرندوں کی جان بچائی۔ اسے ایسا کرتے ہوئے بہت زیادہ خوشی حاصل ہو رہی تھی۔ دھیرے دھیرے گاؤں میں پِنکی کے اس طلسمی بول کی خبر عام ہو گئی تو لوگ اُس سے ڈرنے لگے۔ لیکن پِنکی بہت اچھی لڑکی تھی۔ا ُس نے اپنے اس طلسمی بول کا غلط فائدہ نہیں اٹھایا۔ 
	ایک دن اُس کے گاؤں کے پاس کے جنگل میں آدم خور شیر آ گیا۔اُس شیر نے آس پاس کے کئی آدمیوں کو مار کر کھا لیا تھا۔ اور خوب دہشت مچا رکھی تھی۔ پِنکی کے گاؤں کے کچھ لوگ بھی اُس آدم خور شیر کا شکار ہو چکے تھے۔ آس پاس کے گاؤں اور وڑگاؤں کے لوگوں نے پِنکی سے کہا کہ وہ اُس شیر کو پکڑنے میں ہماری مدد کرے۔ 
	پِنکی تو تھی ہی سیدھی سادی اُس نے کہا چلو ابھی پکڑتے ہیں۔ یہ سُن کر گاؤں کے شکاری اور چند جوان پِنکی کو لیے کر جنگل کی طرف چل پڑے۔ بہت تلاش کرنے پر آخر ایک جگہ شیر کے قدموں کے نشانات دکھائی دیے۔ ساتھ ہی تازہ خون کے دھبّے بھی دکھائی دئیے ایسا لگتا تھا کہ شیر نے پھر کسی آدمی کو شکار کیا ہے۔ تب ہی اچانک ایک جھاڑی کے پیچھے سے ان لوگوں کی طرف شیر دہاڑتے ہوئے لپکا۔ اُسی وقت پِنکی نے فوراً اُس شیر کی طرف دیکھ کہا کہ :’’ چپک جاؤ۔‘‘ بس پھر کیا تھا شیر کی ابھی چھلانگ بھی پوری نہیں ہو پائی تھی وہ ہوا ہی میں تھا کہ اس کے پیر اور جبڑے آپس میں چپک گئے۔ اور وہ دھڑام سے زمین پر گر پڑا۔ 
	یہ دیکھ کر گاؤں سے آئے ہوئے تمام لوگ آگے بڑھے اور شیر کو مارنے کی کوشش کرنے لگے۔ پِنکی نے کہا کہ شیر اس وقت چپکا ہوا ہے کسی کو کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتا اس لیے اُسے رسیوں سے جکڑ کر قید کر لیا جائے اور وڑگاؤں لے جا کر سب کو بتا دیا جائے تاکہ اِس آدم خور شیر کا ڈر سب لوگوں کے دل سے نکل جائے۔ 
	جب گاؤں کے تمام لوگوں نے شیر کو دیکھ لیا تو پِنکی نے چڑیا گھر فون کیا کہ وہ پنجرہ لے کر آئیں اور شیر کو لے جائیں۔ چڑیا گھر کے ملازمین پنجرہ لے کر آئے اور شیر کو اس میں قید کر لیا۔ تب پِنکی نے کہا :’’ کھل جاؤ۔‘‘ شیر کھل گیا مگر اُس نے اپنے آپ کو چڑیا گھر کے ملازمین کی قید میں دیکھ کر بہت دہاڑا، چلایا۔ لیکن اب وہ قید میں تھا، جلدی سے پنجرہ جیپ میں رکھ کر اسے چڑیا گھر بھیج دیا گیا۔ 
	سب لوگوں نے پِنکی کی دوسروں کی مدد کرنے کی عادت کی تعریف کرتے ہوئے اسے شاباشی دی۔ حکومت نے اُسے اچھے بچّے کا خطاب اور سونے کا تمغا انعام میں دیا۔ 
						( نامعلوم)

	
تم کون ہو؟

	ایک بار راجا بھوج اور اس کے وزیرِ اعظم ماگھ جنگل میں شکار کھیلنے گئے۔ شکار کھیلتے کھیلتے جنگل میں دونوں بھٹک گئے۔ بھٹکتے ہوئے وہ چلے جا رہے تھے کہ جنگل کے اندر انھیں ایک جھونپڑی دکھائی دی۔ اُس گھنے جنگل میں ایک جھونپڑی دیکھ کر ان دونوں کی ڈھارس بند ھ گئی کہ چلو جنگل سے نکلنے کا راستا اس جھونپڑی کے مکینوں سے معلوم ہوسکتا ہے۔ جب وہ دونوں جھونپڑی کے قریب پہنچے تو گھوڑوں کی ٹاپ سُن کر جھونپڑی سے ایک بوڑھی عورت باہر نکلی۔
	راجا نے بڑھیا سے پوچھا:’’ ماں ! یہ راستا کہا جائے گا؟‘‘ 
	بڑھیا نے کہا:’’ یہ راستا تو یہیں رہے گا۔ اِس کے اوپر چلنے ولا ہی آگے یا پیچھے کہیں جائے گا۔ لیکن تم کون ہو؟‘‘ 
	’’ہم تو مسافر ہیں۔‘‘اِس بار وزیرِ اعظم ماگھ بولے۔ 
	’’ مسافر تو دو ہی ہیں ایک سورج دوسرا چاند۔ تم کون ہو۔‘‘ بڑھیا نے تسلی سے پوچھا۔
	’’ماں ! ہم تو مہمان ہیں۔‘‘ راجا بھوج نے بات بدلتے ہوئے کہا۔ 
	’’ مہمان تو دو ہی ہیں۔ ایک دولت اور دوسری جوانی، تم کون ہو؟‘‘ بڑھیا نے پھر ایک سوال داغ دیا۔
	اِس بار دونوں ہی بڑھیا کا سوال سُن کر حیرت زدہ رہ گئے۔ تھوڑی دیر توقف کے بعد دونوں نے ایک ساتھ کہا کہ:’’ ہم تو ایک دوسرے کے کام آنے والے لوگ ہیں۔ ‘‘ 
	’’ دوسروں کے کام آنے والے تو دو ہی ہیں ایک عورت، اور دوسرے زمین، تم کیسے ایک دوسرے کے کام آتے ہو، تم کون ہو؟‘‘ اِس بار بڑھیا مسکراتے ہوئے بولی۔ 
	’’ ارے مائی! ہم دونوں تو سادھو ہیں۔‘‘ اب کی راجا بھوج نے جھلاتے ہوئے کہا تو وزیرِ اعظم ماگھ نے ان کا ہاتھ دبایا اور اشارے سے کہا کہ غصہ مت کرو۔ 
	بڑھیا نے جب راجا کو اس طرح جھلاتے ہوئے دیکھا تو اسے بڑا لطف محسوس ہوا۔ اُس نے پھر کہنا شروع کیا کہ:’’ سادھو تو دو ہی ہیں ایک سچائی اور دوسرے بہادری۔ تم کون ہو؟‘‘ 
	ماگھ وزیر نے کہا:’’ بوڑھی ماں ! ہم پردیسی ہیں ؟‘‘ 
	یہ سُن کر بڑھیا کی مسکراہٹ میں اضافہ ہوا اور اس نے کہا: ’’ پردیسی دو ہی ہوتے ہیں ایک جان اور دوسرے درخت کے پتے۔ تم کون ہو؟‘‘ 
	اب راجا بھوج اور وزیرِ اعظم ماگھ کو بڑھیا کی باتیں سُن کر جھلاہٹ نہیں ہوئی بل کہ ان کو بڑھیا کی حاضر جوابی بہت پسند آئی۔ اس کے بعد راجا، وزیرِ اعظم اور بڑھیا کے درمیان اور بھی ایسے کئی سوال و جواب ہوئے۔ آخر میں راجا بھوج اور وزیرِ اعظم ماگھ نے ہار مان لی اور کہا کہ :’’ مائی! یہ اس ملک کے راجا اور مَیں اُن کا وزیر ہوں۔ ہم دونوں شکار کھیلتے ہوئے راستا بھٹک گئے ہیں ہم کو محل واپس جانا ہے۔ ‘‘ بڑھیا یہ سُن کر بہت خوش ہوئی اُس نے دونوں کو دودھ پلایا اور خوب آؤ بھگت کی۔ اور انھیں راستا سمجھانے لگی تو راجا بھوج نے کہا کہ تم بھی ہمارے ساتھ محل چلو گی اور آج سے ہماری کابینہ کی مشیرِ خاص رہو گی۔ اس طرح بڑھیا کی رہِ نمائی میں راجا بھوج اور وزیرِ اعظم ماگھ گھنے جنگل سے اپنے محل واپس لوٹے۔ 

			(نانی ماں سے سُنی ہوئی کہانی پر منحصر تفریحی کہانی۔ سنگیتا سیٹھی)




جادوگر بن گیا بندر 

	اسلم، اکرم، نشا اور لالو چاروں آپس میں بہت گہرے دوست تھے۔وہ سب مل جل کر رہتے تھے۔ ایک دن ان کے شہر میں ایک جادوگر آیا۔ اس جادوگر نے اپنے تھیلے سے ایک چھوٹا سا بندر نکالا۔ اس چھوٹے سے بندر کے بچّے نے جادوگر کے کہنے پر خوب اچھا کرتب دکھلایا۔ اُس کے بعد جادوگر نے پھر سے بندر کو تھیلے میں بند کر دیا۔ اسلم، اکرم، نشا اور لالو نے دیکھا کہ بندر جب باہر تھا تو ایسا لگ رہا تھا کہ وہ بہت زیادہ اُداس ہے اور اس نے جو بھی کرتب بتائے جیسے وہ جادوگر کے ڈر سے زبردستی کر رہا ہو۔ 
	لالو نے تھیلے کے قریب جا کر پوچھا:’’ بندر بندر ! تم اتنے اُداس کیوں ہو؟‘‘ اس پر بندر نے خاموشی سے کہا:’’ اس طرح رسّیوں سے بندھے ہوئے تھیلے میں رہ کر بھلا کوئی خوش رہ سکتا ہے؟‘‘ سب بچّوں کی آنکھوں میں بندر کی اُداسی اور اس طرح اس کا قید میں رہنا دیکھ کر آنسو بھر آئے۔ جادوگر لوگوں سے کرتب دکھانے کا پیسہ جمع کرنے میں مصروف تھا۔ لالو نے موقع غنیمت جان کر تھیلے کی رسّی کھول دی۔ اس طرح بندر آزاد ہو گیا۔ اور وہاں سے چھلانگ لگاتا ہوا دور جنگل کی طرف بھاگ کھڑا ہوا۔ 
	جب جادوگر نے یہ ماجرا دیکھا تو وہ غصے سے آگ بگولہ ہو گیا۔ اُس نے اپنی جادو کی چھڑی اٹھائی اور لالو کے سر پر لگائی دیکھتے ہی دیکھتے لالو بندر میں بدل گیا۔ 
	سب بچّوں نے جب اپنے ایک دوست کو بندر بنا ہوا دیکھا تو وہ بھی آپے سے باہر ہو گئے۔ اور بدلہ لینے کے ساتھ ساتھ لالو کو اِس جادو سے نجات دلانے کے لیے مشورہ کرنے لگے۔ اسلم جو اُن چاروں میں بڑا اور عقل مند تھا اس نے کہا جادوگر کو سبق سکھانے کے لیے طاقت نہیں بل کہ عقل سے کام لینا پڑے گا۔ 
	انھوں نے روتے ہوئے جادوگر سے التجا کی کہ وہ ہمارے دوست لالو کو دوبارہ انسان میں بدل دو۔ لیکن ظالم جادوگر زور زور سے قہقہہ مار کر ہنستے ہوئے کہنے لگا کہ :’’ جب تک تم لوگ میرا بندر واپس نہیں کرو گے مَیں تب تک تمہارے دوست کو بھی واپس نہیں کروں گا۔‘‘ 
	اسلم، اکرم اور نشا جنگل کی طرف روانہ ہوئے۔ جیسے ہی وہ جنگل میں پہنچے تو انھیں وہ بندر دکھائی دیا۔ بندر کے بچّے نے ان لوگوں کو پہچان لیا اور اپنے ماں باپ سے سارا ماجرا کہہ سنایا کہ اِن بچّوں نے اس کو جادوگر کی قید سے چھڑایا ہے۔ بندر نے پوچھا :’’ دوستو! تم چار تھے، جس نے مجھے قید سے آزاد کیا تھا وہ کہاں ہے؟‘‘ 
	تب تینوں نے کہا کہ :’’ جادوگر نے اُسے اپنی جادو ئی چھڑی سے بندر بنا دیا ہے اور کہا ہے کہ جب تک ہم تمہیں پکڑ کر اس کے حوالے نہیں کریں گے تب تک وہ لالو کو دو بارہ انسان میں نہیں بدلے گا۔‘‘ 
	یہ باتیں سُن کر بندر کے ماں باپ نے کہا :’’ گھبرانے کی کوئی بات نہیں، چلو ہم راج کماری مورنی کے پاس چلتے ہیں وہ ضرور اس کا کوئی حل بتائیں گی۔‘‘ 
	وہ سب راج کماری مورنی کے گھر پہنچے اور سارا ماجرا کہہ سنایا۔ مورنی نے کہا :’’ بچّو! مجھے بہت خوشی ہوئی کہ تم نے ہمارے جنگل کے ایک جانور کو ظالم جادوگر کی قید سے آزاد کرایا۔ مَیں تمہیں ایک طلسمی پنکھ دیتی ہوں، اس پنکھ کی یہ خاصیت ہے کہ یہ جس کے ہاتھ میں ہوتا ہے اُس پر کوئی بھی جادو اثر نہیں کرتا۔ ‘‘ یہ کہتے ہوئے راج کماری مورنی نے طلسمی پنکھ اسلم کو دیتے ہوئے کہا کہ :’’ بہادر بچّے! یہ پنکھ اپنے پاس رکھنا اور اس جادوگر سے جادوئی چھڑی چھین کر اُس کے سر پر لگا دینا بس وہ فوراً بندر بن جائے گا اور پھر تمہارے دوست لالو جسے جادوگر نے بندر بنا دیا ہے اس کے سر پر لگا دینا وہ دوبارہ انسان میں بدل جائے گا۔‘‘ 
	بچّوں نے راج کماری مورنی کا شکریہ ادا کیا اور اپنے گاؤں کی طرف روانہ ہوئے۔ ابھی شام ہونے میں کافی دیر تھی۔ بچّوں نے فوراً جادوگر کے پڑاؤ کی طرف رُخ کیا اور کہا کہ ہمارے دوست لالو کو انسان میں بدل دو ورنہ ہم سے مقابلے کے لیے تیار ہو جاؤ۔ جادوگر نے غصے سے کہا جب تک تم میرا بندر واپس نہیں کر دیتے مَیں تمہارے دوست کو بندر ہی بنائے رکھوں گا۔ بچّوں نے اشاروں ہی اشاروں میں کچھ بات کی اور تھوڑا دور ہٹ گئے۔
	تھوڑی دیربعداسلم نے راج کماری مورنی کا دیا ہواطلسمی پنکھ ہاتھوں میں لے کر جادوگر کو مقابلے کے لیے للکارا۔ جادوگر نے اپنی جادوئی چھڑی اس کے سر پر لگائی، لیکن اسلم پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوا۔ جادوگر نے جب اپنی جادوئی چھڑی کا وار خالی دیکھا تو مزید غصے سے لال پیلا ہو گیا اب وہ بجائے اسلم کے اکر م اور نشا کی طرف بڑھنے لگا۔ 
	اسلم نے بڑی پھرتی سے اسے زور کا دھکا دے کر گرا دیا۔اس کی چھڑی دور بالکل اکرم کے پیروں کے پاس جا گری۔ اکرم نے جلدی سے چھڑی اٹھائی اور اسلم کو دے دی۔ جادوگر تیزی سے اسلم کو مارنے اور اس سے جادوئی چھڑی چھیننے کے لیے جھپٹا۔اس سے پہلے کہ وہ اسلم کو کچھ نقصان پہنچاتا۔ پیچھے سے اکرم اور نشا نے ایسی زور کی لات رسید کی کہ اسے دن میں تارے نظر آنے لگے۔ وہ بُری طرح بوکھلا اٹھا۔ تب ہی اسلم تیزی سے آگے بڑھا اور جادوگر کے سر پر جادوئی چھڑی لگا دی، دیکھتے ہی دیکھتے جادوگر بندر بن گیا۔ تینوں نے زور زور سے تالی بجائی اور اپنی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے بندر بن گئے جادوگر کو رسیوں سے بُری طرح جکڑ لیا۔ 
	پھر اسلم نے بندر بنے لالو کے سر پر جیسے ہی چھڑی لگائی، لالو پھر سے ان کے سامنے موجود تھا۔ سب ہی بچّے لالو سے گلے ملے اور زور زور سے کھلکھلا کرہنس پڑے۔ 
	بندر بنے جادوگر کو ایک درخت سے باندھ دیا اور دوسرے دن جنگل میں اسے گھسیٹتے ہوئے لے گئے جہاں جنگلی جانوروں نے اُس کی خوب پٹائی کی، آخر میں بچّوں نے جادوئی چھڑی کو آگ میں ڈال کر جلا دیا۔ 
						( آلوک گپتا)


 

نانی ماں نے جان بچائی

	بہت پہلے کی بات ہے کہ ایک گاؤں میں ایک بوڑھی عورت اور اس کی عقل مند، شوخ اور چنچل نواسی ایک ساتھ رہتے تھے۔بوڑھی عورت کو سب گاؤں والے نانی ماں کہتے تھے اور اس کی نواسی کو شیتل کہہ کر پکارتے تھے۔ نانی ماں کی بیٹی اور داماد ایک حادثے میں اپنی جان گنوا بیٹھے تھے، تب ہی سے اُن کی نواسی شیتل اُن کے پاس رہ رہی تھی۔ وہ دونوں اپنا پیٹ پالنے اور گھر چلانے کے لیے دن بھرسخت محنت مزدوری کرتے اور شام کو روکھا سوکھا کھا پی کر سوجاتے تھے۔ سب ہی گاؤں والے اُن کی محنت، خوش مزاجی اور  عقل مندی کی تعریف کیا کرتے تھے۔ خاص طور پر شیتل کی باتوں اور اس کی عادتوں کا تو سبھی گن گاتے تھے۔
	نانی ماں کے بیٹے، بہوئیں، پوتے اور پوتیاں قریب کے ایک بڑے شہر میں رہتے تھے۔ انھیں ماں کا کوئی بھی خیال نہ تھا۔ لیکن ماں تو آخر ماں ہوتی ہے۔ اس سال گرمیوں کے دن تھے نانی ماں کو اپنے بیٹوں، بہووں اور پوتے پوتیوں کی یاد ستانے لگی۔ اس نے اپنی نواسی شیتل کو جب یہ بات بتائی تو اُس نے کہا :’’ نانی ماں ! چلو مَیں تیاری کروا دیتی ہوں کل ہی یہاں سے روانہ ہو جانا اور تمہارا جتنا دن چاہے ماموں ممانی کے گھر رہ کر واپس آ جانا۔‘‘ 
	نانی ماں نے یہ سُن کر کہا :’’ بیٹی! تم نہیں چلو گی؟‘‘ عقل مند اور خوش مزاج شیتل نے کہا :’’ نانی ماں جن بیٹوں کو ماں کا خیال نہیں ان کے پاس جا کر مَیں کیا کروں گی مَیں تو اُن کی بھانجی ہوں۔ کہیں میری ممانیوں کو میرا جانا پسند نہ آئے۔ نانی ماں تم چلی جانا۔‘‘ 
	نانی ماں نے اپنی پیاری نواسی کی اس عقل مندی والی باتوں پر بیٹوں سے ملنے کا ارادہ ترک کرنا چاہا لیکن شیتل نے انھیں منع کر دیا۔
	 اس طرح دوسرے روز صبح نانی ماں جب روانہ ہونے لگی تو شیتل نے کہا:’’ جنگل میں بھیڑیا ہے ذرا سنبھل کر جانا۔‘‘ نانی ماں نے ہاں ہاں ! کہتے ہوئے سامان کی پوٹلی سر پر رکھی اور وہاں سے روانہ ہو گئی۔جب نانی ماں جانے لگی تو شیتل انھیں دور تک چھوڑنے آئی۔ 
	ابھی وہ جنگل میں تھوڑی ہی دور گئی تھی کہ ایک خوف ناک بھیڑیا اس کے سامنے آ گیا اور بولا:’’ بڑھیا بڑھیا ! مَیں تجھے کھا جاؤں گا۔‘‘ نانی ماں ڈر گئی اور روتے ہوئے بولی:’’ بیٹا!مَیں اپنے بیٹے سے ملنے شہر جا رہی ہوں، مجھے جانے دے جب مَیں واپس آؤں گی تو مجھے کھا لینا۔ ‘‘ 
	نانی ماں کے رونے پر بھیڑیا مان گیا۔ اور کہا:’’ تو جب واپس آئے گی تو مَیں تجھے ضرور کھاؤں گا۔‘‘ ۔۔۔ ’’ ٹھیک ہے۔‘‘ کہہ کر نانی ماں وہاں سے چل پڑی شہر کی طرف۔ 
	بیٹے کے گھر پہنچ کر وہ بہت خوش ہوئی۔ بیٹوں اور بہووں نے جب ماں کو دیکھا تو پوچھا ماں کب تم آئے اور کب جاؤ گی؟‘‘نانی ماں نے کہا:’’ بیٹا ! ابھی تو آئی ہوں اور جانے کے بارے میں پوچھنے لگے۔‘‘نانی ماں کو دکھ ہوا اس نے کہا :’’ آج رہ کر کل ہی چلی جاؤں گی۔‘‘ 
	پوتے پوتیوں نے جب یہ سنا تو کہا کہ :’’ ہم اس طرح دادی ماں کو جانے نہیں دیں گے بل کہ دادی ماں اب ہمارے ہی یہاں رہیں گی۔ ‘‘ نانی ماں کو پوتے پوتیوں ک ایہ رویہ بہت پسند آیا اُس نے ان کو دل سے دعائیں دیں۔ وہ جب تک وہاں رہیں ان کو کہانیاں سناتیں اور وہ اپنی دادی کی خوب آؤ بھگت کرتے۔اس طرح ایک ہفتہ گذر گیا۔ 
	نانی ماں کو ایسا لگا کہ اس کا یہاں رہنا اپنے بیٹوں اور بہووں کو ناگوار گذر رہا ہے تو اس نے دوسرے ہی روز اپنے گاؤں جانے کا فیصلہ کر لیا۔  
	 نانی ماں اپنے گاؤں جانے کے لیے جب تیار ہوئیں تو انھوں نے اپنے پوتوں اور پوتیوں سے جنگل میں بھیڑیے کے ملنے کی بات کہی تو ان بچّوں نے کہا: ’’ دادی ماں ! پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں۔تم اپنے پیٹ پر راکھ اور کانچ کے ٹکڑوں سے بھری ہوئی ایک بوری باندھ لینا اور جب بھیڑیے سے سامنا ہو تو اپنا پیٹ سامنے کر دینا۔‘‘
	نانی ماں نے اپنے پوتوں اور پوتیوں کا کہنا مانا اور اپنے پیٹ کر راکھ اور کانچ کے ٹکڑوں سے بھری ہوئی بوری باندھ لی اور جنگل کے راستے اپنے گاؤں کو روانہ ہو گئی۔ نانی ماں کے پوتے اور پوتی اپنی دادی کو دور تک چھوڑنے کے لیے آئے، ان کے آنسو نکل رہے تھے، جب تک نانی ماں ان کی نظروں سے اوجھل نہیں ہو گئی تب تک وہ سب شہر کی سڑک کے کنارے ہاتھ ہلاتے کھڑے رہے۔ 
	جب نانی ماں جنگل میں پہنچی تو پہلے بھیڑیے ہی سے سامنا ہو گیا جیسے بھیڑیا نانی ماں کا انتظار ہی کر رہا تھا۔ بھیڑیا سامنے آیا اور بولا:’’ بڑھیا ! اب تو ہی بتا مَیں تجھے پہلے کہاں سے کھاؤں ؟‘‘ 
	نانی ماں بولی:’’ بیٹے! منہ تو میرا پتلا ہے۔۔۔ ہاتھ میرے ہڈی ہیں ۔۔۔ پاؤں میرے گلے ہوئے ہیں ۔۔۔ موٹا اور تگڑا صرف میرا پیٹ ہی ہے، اس لیے تُو پہلے اسی کو کھا۔‘‘ بھیڑیے نے دیکھا سچ مچ نانی ماں کی توند بہت موٹی، تگڑی اور تازی لگ رہی تھی۔ فوراً وہ لپکا اور نانی ماں کے بیٹ پر اپنے نوکیلے دانت گاڑ دیے۔ لیکن یہ کیا ؟ جیسے ہی اُس نے دانت گاڑے نانی ماں کے پیٹ پر بندی ہوئی راکھ اور کانچ کے ٹکڑوں سے بھری بوری پھٹ گئی اور اس کی راکھ اور کانچ اُڑ کر بھیڑیے کی آنکھوں میں گھس گئی۔ اس طرح بھیڑیے کی آنکھ میں خوب زور کا درد ہونے لگا۔ وہ کراہتے ہوئے اِدھر اُدھر بھاگنے لگا۔ بھیڑیے کی اس حالت کو دیکھ کر نانی ماں نے اپنے پوتے پوتیوں کی ذہانت کی داد دی اور ان کو دعائیں دیتے تو ہوئے جلدی جلدی جان بچا کر جنگل پار کرنے لگی۔ اور شام تک اپنے گھر پہنچ گئی۔ جہاں شیتل اس کے لیے بے تاب دروازے پر ہی بیٹھی تھی، وہ اٹھی اور نانی ماں کی بانہوں میں جھولنے لگی۔ 

						 	( نامعلوم)



تین دوست 

	چیں چو بلی اور توتو کتا مل کر کھیل رہے تھے۔ چیں چو نے توتو کو دھکا مارا۔ توتو گر پڑا۔ چیں چو تالی بجانے لگی۔ ’’ گرا دیا، ۔۔۔ گرا دیا ۔۔۔‘‘
	تو تو اٹھ گیا۔ اس پر تھوڑی مٹّی لگ گئی تھی۔ اس نے مٹّی جھاڑی اور چیں چو سے بولا:’’ مَیں گراؤں تو کہنا مت کہ گرا دیا۔‘‘ ایسا دھکا ماروں گا کہ تم لڑھکتی چلی جاؤ گی۔‘‘ 
	’’ تم گرا ہی نہیں سکتے۔‘‘ چیں چو ہنسنے لگی۔ 
	’’اچھا۔‘‘۔۔۔۔۔۔’’ہاں !‘‘ 
	’’ تو تیار ہو جاؤ۔‘‘۔۔۔۔۔۔چیں چو پنجے گڑا کر کھڑی ہو گئی۔ 
	توتو جانتا تھا کہ چیں چو پنجے گڑا کر کھڑی ہو جائے گی اور وہ اسے گرا نہیں پائے گا۔ پھر بھی وہ اس کے پاس آیا اور دھکا مارا۔ چیں چو ذرا سی ڈگمگا کر رہ گئی۔ 
	تم میں تو بہت طاقت ہے۔ مَیں سچ مچ تم کو نہیں گرا پایا۔‘‘ توتو بولا۔
	’’مَیں نے تو پہلے ہی کہہ دیا تھا۔‘‘ اتنا کہہ کر چیں چو آرام سے کھڑی ہو گئی۔ توتو ہوشیاری سے یہ سب دیکھ رہا تھا۔ وہ ذرا سا پیچھے ہٹا اور تیزی سے آ کر ایک دھکا مارا۔ چیں چو زور سے لڑھک کر زمین پر گر گئی۔ اب تالی بجانے کی باری توتو کی تھی وہ زور زور سے ہنسنے لگا۔ 
	چیں چو اور تو تو دونوں بہت کھلنڈرے تھے وہ دونوں اس وقت مذاق ہی تو کر رہے تھے۔ چیں چو کھڑی ہو گئی۔ اس نے بھی اپنے جسم پر لگی دھول مٹّی جھاڑی اور بولی :’’ ایسادھکا دینے سے کیا ہوتا ہے ؟ ذرا پہلے ہی بول کر دیتے تو سمجھ میں آتا مجھے نہیں گرا سکتے تھے۔‘‘ 
	توتو کچھ نہیں بولا اور ہنستا رہا۔ 
	اس کے بعد توتو کہیں سے گیند اٹھا لایا۔ دونوں کچھ دیر گیند سے کھیلتے رہے۔
	شام ہو رہی تھی۔ توتو بولا:’’ چیں چو! اب مَیں گھر جاؤں گا۔ آج تو کھیلتے کھیلتے تھک گیا ہوں۔ ماں انتظار کر رہی ہو گی۔ آج وہ کچھ دیر بعد مجھے کہیں گھمانے لے جائیں گی۔‘‘ 
	’’ تو جلدی جاؤ!‘‘ چیں چو بولی۔ ’ مَیں بھی تھک گئی ہوں۔لیکن کل مجھے ضرور بتانا کہ تم  کہاں گھومنے گئے تھے۔ ‘‘ وہ پھر بولی۔ ’’ کل میری ماں مجھے کچھ نئی چیز کھانے کو دینے والی ہیں مگر مجھے بتایا نہیں ہے۔ دیکھیں کیا دیتی ہیں ؟ ‘‘ 
	تو تو اپنے گھر چل دیا اور چیں چو اپنے گھر۔ دونوں کو الگ الگ سمت جانا تھا۔ 
	جب چیں چو اپنے گھر جا رہی تھی۔ راستے میں پھدکو بندر ملا۔ وہ درخت کی ایک شاخ پر بیٹھا تھا۔ چیں چوکو دیکھتے ہی شاخ پر سے بولا:’’ کھو کھو۔۔۔ کھوکھو۔‘‘ 
	چیں چوں سمجھ گئی کہ یہ پھدکو بندر ہے۔ 
	’’ ارے بھئی! کیا حال ہے؟ نیچے تو آؤ۔ ‘‘ چیں چو بولی۔ ’’ کچھ کہنا ہے کیا؟‘‘ 
	’’ کہنا تو ہے لیکن نہیں کہوں گا۔ آج کل تو تم توتو کے ساتھ زیادہ کھیلتی ہو۔ مَیں تو درخت کی شاخ پر اکیلا بیٹھا رہتا ہوں، تم کو تو میرا خیال ہی نہیں رہتا۔‘‘ پھدکو نے شکایت کی۔
	’’ تو تم بھی کھیلا کرو ہمارے ساتھ، بڑے برگد کے پاس آ جایا کرو۔ وہیں توتو آتا ہے ہم تینوں مل جُل کر کھیلا کریں گے۔ ‘‘ چیں چو نے دوستا نہ انداز میں کہا۔ 
	’’ہاہا۔۔۔ ہاہا۔۔۔ ہاہا ‘‘ پھدکو زور سے ہنسا اور کہنے لگا: ’’ مَیں تو - توتو کے ساتھ نہیں کھیلوں گا۔ نہ جانے کب وہ مجھے کاٹ لے ؟ جب وہ بھونکتا ہے تو ایسا لگتا ہے جیسے بادل گرج رہا ہو۔ مجھے تو اُس سے بہت ڈر لگتا ہے۔‘‘ 
	’’ تم بے کار میں توتو سے ڈر رہے ہو۔‘‘ چیں چو بولی۔ 
	’’ مَیں بے کار میں نہیں ڈر رہا ہوں۔ بل کہ صحیح معنوں میں ڈر رہا ہوں۔‘‘ پھدکو نے کہا۔اور پھر سرگوشی کے انداز میں چیں چو کو بولنے لگا کہ :’’ مَیں تو کہوں گا کہ اب تم بھی اُس کے ساتھ کھیلنا چھوڑ دو۔ نہیں تو وہ کسی دن تمہیں بھی ضرور دھوکا دے گا۔ اور تمہارے دونوں کان کاٹ کر کھا جائے گایا تمہاری دم چبا جائے گا۔ وہ بہت دھوکے باز ہے۔ ‘‘ 
	’’ یہ سب سراسر غلط ہے۔‘‘ چیں چو بولی۔ 
	’’ غلط بات نہیں ہے۔ ‘‘ پھدکو نے بات کاٹی اور آگے بولا:’’ کیا بلی اور کتے کی کبھی دوستی رہ سکتی ہے۔ بلی کتے کو دیکھ کر ہمیشہ ڈرتی رہی ہے۔ کوئی وجہ ہو گی تب ہی تو بلی کتے سے ڈرتی ہے۔ مَیں نے تمہاری بھلائی کے لیے یہ نصیحت کی ہے اب تمہاری مرضی تمہیں اس کے ساتھ کھیلنا ہے کھیلو یا مت کھیلو۔ لیکن یاد رکھنا وہ ضرور کسی دن تمہیں دھوکا دے گا۔‘‘ پھدکو نے پھر سے یہ بات دہرائی کہ :’’وہ تمہارے دونوں کان کاٹ کر کھا جائے گایا تمہاری دم چبا جائے گا۔ وہ بہت دھوکے باز ہے۔ ‘‘
	’’ یہ بات تو ٹھیک ہے کہ بلی اور کتے کی کبھی نہیں نبھتی لیکن یہ سب کے ساتھ ٹھیک نہیں ہے، ہم دونوں ایک دوسرے کے بہت اچھے دوست ہیں۔‘‘ چیں چو نے پھدکو سے کہا۔ 
	’’اچھا! دوسری مثال بھی سنو۔‘‘ پھدکو بولا:’’ شیر اور ہرن میں کبھی دوستی نہیں سنی گئی۔ جب بھی شیر ہرن کو دیکھتا ہے، وہ اس کو مارنے دوڑتا ہے۔ اگر پکڑ لیتا ہے تو وہ ہرن کو مار ہی ڈالتا ہے۔ اس لیے شیر ہرن کو دیکھ کر بھاگتی ہے۔ اسی طرح بلی اور کتے کا معاملہ ہے۔‘‘ 
	’’ مَیں تمہاری اس بات سے اختلاف نہیں کرتی۔‘‘ چیں چو نے کہا۔اور بولی :’’ بل کہ مَیں ایک مثال اور دیتی ہوں، وہ بھی کسی دوسرے کی نہیں خود اپنی یعنی بلی اور چوہے کی۔ بلی چوہے کی دشمن ہے، وہ جہاں کہیں چوہے کو دیکھتی ہے اس کو مار ڈالتی ہے۔ لیکن کہیں بلی اور چوہے کی دوستی ہوئی ہے؟ میری اور توتو کی دوستی کی بات الگ ہے۔‘‘ 
	’’ مَیں نے جو سمجھا وہ تمہیں بتا دیا۔‘‘ پھدکو بولا۔’’ تم میری اچھی دوست ہو۔اس لیے تم کو بتا دیا، نصیحت کر دی، اب تمہاری مرضی تم میری بات مانو یا نہ مانو،  لیکن یاد رکھنا وہ ضرور کسی دن تمہیں دھوکا دے گا۔‘‘ پھدکو نے پر سے یہ بات دہرائی کہ :’’وہ تمہارے دونوں کان کاٹ کر کھا جائے گایا تمہاری دم چبا جائے گا۔ وہ بہت دھوکے باز ہے۔ ‘‘
	چیں چو کو پھدکو کی یہ باتیں اچھی نہیں لگیں۔ یہ تو کسی کی برائی بیان کرنا ہوا، غیبت کرنا ہوا۔ برائی اور غیبت تو دشمن کی بھی نہیں کرنی چاہیے۔ غیبت کرنا یا کسی کی دوستی کو توڑنا یا کسی میں جھگڑا لگوا دینا اچھی بات نہیں ہے بل کہ یہ تو سب سے بڑا دھوکا ہے۔ اُس نے یہ باتیں پھدکو سے نہ کہی بل کہ من ہی من میں سوچتے ہوئے چپ چاپ اپنے گھر کی طرف بڑھ گئی۔ 
	چیں چو اور توتو ہمیشہ کی طرح کھیلتے رہے، ہنستے بولتے، گاتے رہے۔ چیں چو روز پھدکو کو کھیلنے کے لیے بلاتی رہی لیکن وہ بار بار بلانے کے باوجود بھی کبھی ان کے ساتھ کھیلنے کے لیے نہیں آیا۔ وہ یہی کہتا رہا کہ توتو اُسے کاٹ لے گا، وہ مجھے پسند نہیں ہے۔ بل کہ وہ چیں چو سے اکثر کہتا کہ :’’ وہ کسی دن تمہیں دھوکا دے سکتا ہے وہ تمہارے دونوں کان کاٹ کر کھا جائے گایا تمہاری دم چبا جائے گا۔ وہ بہت دھوکے باز ہے۔ ‘‘
	وقت گذرتا رہا کہ ایک دن جھاڑی کے قریب سے چند لڑکے جا رہے تھے۔ ان کے ہاتھوں میں غلیلیں تھیں، وہ صورت شکل سے ہی بڑے شرارتی لگ رہے تھے۔ چیں چو اور توتو جہاں کھیل رہے تھے وہ لڑکے وہیں سے گذرے تھے۔ اُن میں سے ایک نے کہا:’’ میرا نشانہ ایسا پکا ہے کہ جس کو غلیل ماروں وہ بچ ہی نہیں سکتا۔ مَیں اڑتے ہوئے پرندے کا بھی نشانہ لگا سکتا ہوں۔‘‘
	’’ تو چلیں بندر کو غلیل ماریں۔‘‘ ایک لڑکے نے کہا۔’’ وہ دیکھو ! بندر شاخ پر بیٹھا ہے۔‘‘ 
	’’ ہاں دیکھیں ! کس کا نشانہ صحیح بیٹھتا ہے؟‘‘ ایک دوسرے لڑکے نے کہا۔ 
	اُن لڑکوں کی باتیں چیں چو نے بھی سنا اور توتو نے بھی۔ توتو بولا:’’ چیں چو! تم یہیں رہو۔ مَیں اِن لڑکوں کے ساتھ ساتھ جاتا ہوں۔ یہ جیسے ہی غلیل چلانے جائیں گے۔ مَیں اتنی زور سے بھونکوں گا کہ یہ ڈر کر بھاگ جائیں گے۔ اپنی بھوں بھوں سے مَیں انھیں ایسا ڈراؤں گا کہ پھر کبھی بھی وہ ادھر آنے کی ہمت نہیں کریں گے۔‘‘ 
	’’ ٹھیک ہے، لیکن مَیں بھی آتی ہوں۔ تم جا کر اُن لڑکوں کو ڈراؤ۔‘‘ چیں چو نے کہا۔
	لڑکے جلدی سے درخت کے پاس پہنچے۔ ایک لڑکے نے کہا :’’دیکھو میرا نشانہ کتنا صحیح ہے مَیں غلیل چلاؤں گا تو میرا ڈھیلا سیدھا بندر کے سر پر لگے گا۔ ‘‘ 
	توتو کے قریب آ کر چیں چو بھی کھڑی ہو گئی۔ پھدکو بندر درخت پر سے دیکھ رہا تھا کہ ایک لڑکا اس کو غلیل مارنے والا ہے۔ اُس نے سوچ لیا کہ جیسے ہی وہ لڑکا غلیل چلائے گا وہ چھلانگ لگا کر دوسری شاخ پر چلا جائے گا۔
	لڑکے نے جیسے ہی غلیل سے نشانہ لگایا۔ توتو نے ایسی زور سے بھوں بھوں بھونکا کہ وہ بُری طرح ڈر گئے اور غلیل وہیں پھینک کر نو دو گیارہ ہو گئے۔ پھدکو نے دیکھا کہ لڑکے ڈر کر وہاں سے بھاگ گئے اور اس نے یہ بھی دیکھا کہ ان کو توتو نے ڈرا کر بھگایا ہے۔
	اب پھدکو بڑا شرمندہ ہوا۔ کہیں ڈھیلا اسے لگ جاتا تو؟ توتو نے شرارتی لڑکوں کو بھگا کر اُس پر کتنا بڑا احسان کیا ہے۔ 
	پھدکو شاخ سے کود کر نیچے آیا اور توتو سے بولا:’’ بھیا! مجھے معاف کر دینا۔‘‘ 
	’’کس بات کے لیے ؟‘‘ توتو نے انجان بن کر پوچھا۔ ’’ کیا چیں چو دیدی نے تمہیں کچھ نہیں بتایا؟‘‘ پھدکو نے کہا۔ 
	’’ نہیں مجھے تو کچھ نہیں معلوم۔‘‘ توتو بولا اور چیں چو سے پوچھا:’’ کیا بات ہے چیں چو؟‘‘
	’’ کچھ نہیں کوئی بات نہیں ہے۔‘‘ چیں چو بولی۔ وہ توتو کو کچھ بتانا نہیں چاہتی تھی کہ کہیں پھدکو اور توتو میں دراڑ پڑ جائے۔ 
	اب پھدکو خود ہی بولا :’’ مَیں نے ایک دن چیں چو سے کہا تھا کہ توتو تمہیں کسی دن دھوکا دے گا، اُس کا ساتھ چھوڑ دو۔‘‘ 
	توتو ہنسا :’’ بس اتنی سی بات، اس کے لیے معافی مت مانگو۔ تمہارے دل میں شک تھاسو وہ آج دور ہو گیا۔ ہم تینوں ایک دوسرے کے دوست ہیں۔ 
	توتو کتے نے  نے پھدکو بندر کا ہاتھ پکڑ لیا۔ پھدکو بندر کا ہاتھ چیں چو بلی نے پکڑ لیا اور تینوں کہتے جا رہے تھے ہم تینوں دوست ہیں۔ 		(سی۔ ر۔ پرساد)	

٭٭٭
مصنف کے فائل فراہمی کے لئے تشکر کے ساتھ
ان پیج سے تبدیلی، تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید
