﻿


جمعہ: احکام۔ آداب اور فضائل


تحریر: خالد ابو صالح
مراجعہ: محمد صالح المنجد
ترجمہ: مبصر الرحمن قاسمی





ابتدائیہ
 
بسم اللہ الرحمن الرحیم 
الحمد للہ رب العالمین، والصلاة والسلام علی خطیب الأنبیاء والمرسلین أما بعد: 
پیارے مسلم بھائی: اللہ تعالیٰ نے اس امت کو بے شمار امتیازات اور فضائلِ جلیلہ  سے مخصوص کیا، جن میں سے ایک یوم جمعہ کا امت کے لیے خاص کرنا ہے،جب کہ اس دن سے اللہ تعالیٰ نے یہود و نصاریٰ کو محروم رکھا،حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے، فرماتے ہیں نبی کریمﷺ  نے ارشاد فرمایا:’’ اللہ تعالیٰ نے ہم سے پہلے والوں کو جمعہ کے دن سے محروم رکھا،یہود کے لیے ہفتہ کا دن اور نصاریٰ کے لیے اتوار کا دن تھا، پھر اللہ تعالیٰ نے ہمیں برپا کیا اور جمعہ کے دن کی ہمیں ہدایت فرمائی اور جمعہ ہفتہ اور اتوار بنائے،اسی طرح یہ اقوام روز قیامت تک ہمارے تابع رہے گی،دنیا والوں میں ہم آخری ہیں اور قیامت کے دن اولین میں ہوں گے، اور تمام مخلوقات سے قبل اولین کا فیصلہ کیا جائے گا‘‘ [رواہ مسلم] 


عبادت کا دن

حافظ ابن کثیرؒ فرماتے ہیں: (جمعہ کو جمعہ اس لیے کہا گیا کیوں کہ یہ لفظ جَعَک سے مشتق ہے، اس دن مسلمان ہفتے میں ایک مرتبہ جمع ہوتے تھے۔

اللہ تعالیٰ نے اس دن اپنی بندگی کے لیے جمع ہونے کا حکم دیا: ارشاد باری تعالیٰ ہے:  

یا أَیہَا الَّذِینَ آَمَنُوا إِذَا نُودِی لِلصَّلَاةِ مِنْ یوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا إِلَی ذِکْرِ اللَّہِ [الجمعة: 9]،

(مومنو! جب جمعے کے دن نماز کے لیے اذان دی جائے گی تو اللہ کے ذکر کی طرف لپکو) آیت میں سعی سے مراد تیزی سے چلنا نہیں ہے بلکہ جمعہ کے لیے جلد نکلنے کا اہتمام کرنا ہے، یاد رہے کہ نماز کے لیے بھاگتے ہوئے جانے سے روکا گیا۔
ٍ
حسن فرماتے ہیں: ’’اللہ کی قسم سعی سے مراد بھاگتے ہوئے جانا نہیں ہے، بلکہ نماز کے لیے  وقار وسکینت اور دل کی  نیت اور خشوع و خضوع کے ساتھ جانے کا حکم دیا گیا‘‘ [تفسیر ابن کثیر 4/385/386] 

ابن قیمؒ فرماتے ہیں: (جمعہ کا دن عبادت کا دن ہے، اِس کا دنوں میں ایسا مقام ہے جیسا کہ مہینوں میں ماہِ رمضان کا، اور اس دن مقبولیت کی گھڑی کا وہی درجہ ہے جیسا کہ رمضان میں شبِ قدر کا)۔  [زاد المعاد 1/398] 


جمعہ کے دن کے فضائل

1-دنوں میں بہترین دن: حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ نبی کریمﷺ  نے فرمایا: ’’جس دن میں سورج طلوع ہوتا ہے اس میں سب سے بہترین جمعہ کا دن ہے،اسی دن میں حضرت آدم پیدا ہوئے، اسی دن جنت میں داخل کیئے گئے، اور اسی دن اس سے نکالے گئے اور قیامت قائم نہیں ہوگی مگر جمعہ کے دن‘‘ [مسلم] 

2-فضائلِ جمعہ میں نمازِ  جمعہ کے بھی فضائل شامل ہیں، کیونکہ نماز اسلام کے فرائض اور مسلمانوں کے جمع ہونے کا سب سے بڑا ذریعہ ہے، جس نے نماز کی ادائیگی میں غفلت برتی اللہ تعالیٰ اس کے قلب پر مہر لگا دیتے ہیں جیسا کہ مسلم شریف کی روایت میں مذکور ہے۔ 

3-جمعہ کے دن ایک گھڑی ہوتی ہے اس میں دعا قبول کی جاتی ہے،حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے: نبی کریمﷺ  نے فرمایا: اس میں ایک گھڑی ایسی ہے، جس میں کوئی مسلمان نماز پڑھے، اور اللہ تعالیٰ سے کچھ مانگے تو اللہ تعالیٰ اس کو عنایت فرما دیتا ہے ۔[متفق علیہ] 

ابن قیمؒ نے قبولیت دعا کی گھڑی کے تعیین کے سلسلے میں اختلاف کو ذکر کرنے کے بعد حدیثِ رسول کی روشنی میں ذیل کے دو قول کو ترجیح دی ہیں۔

اول: وہ گھڑی خطبہ شروع ہونے سے لے کر نماز کے ختم ہونے تک کا درمیانی وقت ہے۔ [مسلم] 

دوم: جمعہ کے دن عصر کی نماز کے بعد غروب آفتاب تک، اور یہی قول راجح ہے۔ [زاد المعاد 1/389، 390] 

4- جمعہ کے دن کا صدقہ دیگر ایام کے صدقوں سے بہتر ہے۔

ابن قیمؒ فرماتے ہیں: (ہفتے  کے دیگر دنوں کے مقابلے جمعہ کے دن کے صدقہ کا ویسا ہی مقام ہے جیسا کہ سارے مہینوں میں رمضان کا مقام و مرتبہ ہے۔) حضرت کعب کی حدیث میں ہے: ’’جمعہ کے دن صدقہ دیگر ایام کے مقابلے (ثواب کے اعتبار سے) عظیم ہے۔ [موقوف صحیح ولہ حکم الرفع] 

5- یہ وہ دن ہے جس دن اللہ تعالیٰ اپنے مومنین بندوں کے لیے جنت میں تجلی فرمائیں گے، انس بن مالک ؓ اللہ تعالیٰ کے فرمان وَلَدَینَا مَزِیدٌ [ق:35]  کے بارے میں فرماتے ہیں: اس سے مراد اللہ تعالیٰ کا ہر جمعہ تجلی فرمانا ہے۔ 

6-جمعہ کا دن ہفتہ میں بار بار آنے والی عید ہے، حضرت عباس ؓ سے مروی کہ نبی کریمﷺ  نے فرمایا: ’’یہ عید کا دن ہے،جسے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے لیے طے کیا ہے، لہٰذا جسے جمعہ ملے وہ اس دن غسل کرے‘‘[ابن ماجہ وہو فی صحیح الترغیب 1/298] 

7-یہ وہ دن ہے جس میں گناہوں کی معافی ہوتی ہے: سلمان سے مروی ہے: نبی کریمﷺ  نے ارشاد فرمایا: جو شخص جمعہ کے دن غسل کرے اور خوب اچھی طرح سے پاکی حاصل کرے اور تیل استعمال کرے یا گھر میں جو خوشبو میسر ہو استعمال کرے پھر نماز جمعہ کے لیے نکلے اور مسجد میں پہنچ کر دو آدمیوں کے درمیان نہ گھسے، پھر جتنی ہو سکے نفل نماز پڑھے اور جب امام خطبہ شروع کرے تو خاموش سنتا رہے تو اس کے اس جمعہ سے لے کر دوسرے جمعہ تک سارے گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں۔ [البخاری] 

8-جمعہ کے لیے چل کر جانے والے کے ہر قدم پر ایک برس کے روزے رکھنے اور قیام کرنے کا ثواب ملتا ہے، حضرت اوس بن اوس سے مروی ہے کہ نبی کریمﷺ  نے ارشاد فرمایا:جس نے جمعہ کے دن اچھی طرح غسل کیا، اور مسجد اول وقت پہنچ کر خطبہ اولی میں شریک رہا، اور امام سے قریب بیٹھ کر خاموشی سے خطبہ سنا، اس کے لیے ہر قدم پر ایک سال کے روزوں اور قیام کا ثواب ہے، اور یہ اللہ تعالیٰ کے لیے بہت آسان ہے۔ [احمد  و اصحاب السنن و صحیحہ ابن خزیمة] 

اللہ اکبر!! جمعہ کے لیے جانے پر ہر قدم کے بدلے ایک سال کے روزے اور قیام کا ثواب؟! 

تو ان نعمتوں کو پانے والے کہاں ہے؟! ان عظیم لمحات کو گنوانے والے کہاں ہے؟! 

ذَلِکَ فَضْلُ اللَّہِ یؤْتِیہِ مَنْ یشَاءُ وَاللَّہُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیمِ [الحدید:21] 

(یہ اللہ کا فضل ہے جسے چاہے عطا فرمائے۔اور اللہ بڑے فضل کا مالک ہے)

9- ہفتے کے پورے دنوں میں جہنم کو تپایا جاتا ہے مگر جمعہ کے دن اس عظیم دن کے اکرام و شرف میں یہ عمل بند رہتا ہے[دیکھیے: زاد المعاد 1/387] 

10-جمعہ کے دن یا رات میں فوت ہونا حُسن خاتمہ کی علامت ہے، کیونکہ جمعہ کے دن مرنے والا قبر کے عذاب اور فرشتوں کے سوالات سے محفوظ رہتا ہے، حضرت ابن  عمرو ؓ سے مروی ہے نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا:’’جو مسلمان جمعہ کے دن یا رات میں فوت ہوتا ہے اللہ تعالیٰ اُسےقبر کی آزمائش سے بچا دیتے ہیں‘‘۔ [احمد والترمذی وصححہ الالبانی] 


جمعہ احکام اور آداب

پیارے مسلم بھائی: 

ہر مسلمان پر واجب ہے کہ وہ جمعہ کے دن کی تعظیم کرے، اس دن کے فضائل کو غنیمت جانے اور اس دن ہر قسم کی عبادتوں کے ذریعے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرے، یومِ جمعہ کے کچھ آداب اور احکام ہیں، جن سے آراستہ ہونا ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے۔ 

ابن قیمؒ فرماتے ہیں: (نبی کریمﷺ  کا طریقہ کار یہ تھا کہ آپﷺ  دیگر ایام کے مقابلے مخصوص عبادتوں کے ذریعے جمعہ کے دن کی تعظیم و تکریم کرتے تھے،علماء کرام کے درمیان یہ اختلاف ہے کہ آیا جمعہ کا دن افضل ہے یا عرفہ کا دن۔ [زاد المعاد 1/375] 

دیکھیے- پیارے بھائی – کتنے جمعہ مہمان کی طرح گذر گئے، اور آپ نے کوئی توجہ بھی نہیں دی، بلکہ بہت سے لوگوں کا تو یہ حال ہے کہ  وہ جمعہ کے دن  اس لیے انتظار کرتے ہیں تاکہ اس میں نافرمانیِ رب اور معاصی الٰہی کریں۔


احکام و آداب

1-مستحب ہے کہ امام جمعہ کی فجر میں مکمل سورہ سجدہ اور سورہ دھر پڑھے،جیسا کہ آپﷺ  کا طریقہ تھا، اور کسی ایک سورت پر اکتفاء نہ کرے، جیسا کہ بعض ائمہ کا معمول ہے۔

2-جمعہ کے دن کثرت سے درود پڑھنا مستحب ہے۔ حضرت اوس بن اوس ؓ سے مروی ہے، نبی کریمﷺ  نے ارشاد فرمایا: ’’تمہارے دنوں میں افضل ترین دن جمعہ ہے،اسی روز آدم کی تخلیق ہوئی، اسی دن ان کی روح قبض کی گئی اور اسی دن صور پھونکا جائے گا، اور اسی میں بے ہوشی طاری ہو گی، لہذا مجھ پر اس دن کثرت سے درود پڑھو، کیونکہ تمہارا درود مجھ پر پیش کیا جاتا ہے‘‘ [احمد و اصحاب السنن و صححہ النووی وحسنہ المنذری] 

3- نمازِ جمعہ ہر آزاد مکلف مقیم مرد پر فرض ہے، لہٰذا کسی مسافر، کسی عورت یا غلام پر جمعہ واجب نہیں ہے، ہاں ان میں سے کوئی اگر جمعہ میں شریک ہو جائے تو ان کی نمازِ جمعہ درست ہے، بیماری یا خوف وغیرہ جیسے عذر کی وجہ سے نماز جمعہ ساقط ہو جاتی ہے۔ [الشرح الممتع 5/7-24] 

4-جمعہ کے دن غسل کرنا نبی کریمﷺ  کی سنت ہے۔ آپﷺ  کا فرمان ہے: ’’جب تم میں سے کوئی جمعہ کے لیے آئے  تو چاہیے کہ غسل کرے‘‘ [متفق علیہ] 

5-خوشبو کا استعمال کرنا، مسواک کرنا اور اچھا لباس زیبِ تن کرنا، جمعہ کے آداب میں شامل ہے، حضرت ابو ایوب ؓ فرماتے ہیں میں نے نبی کریمﷺ  کو فرماتے ہوئے سنا: ’’جس نے جمعہ کے دن غسل کیا،اگر خوشبو ہو تو استعمال کیا، بہترین کپڑے پہنے، پھر اطمینان کے ساتھ مسجد کی جانب نکلا، اگر موقع ملے تو دو رکعت پڑھی، کسی کو تکلیف نہیں دی، پھر امام کے خطبہ ختم کرنے تک خاموش رہا، (اس کا یہ عمل) دوسرے جمعہ تک گناہوں کا کفارہ ہے‘‘۔ [احمد وصححہ ابن خزیمة] 

ابوسعید خدری ؓ سے مروی ہے، نبی کریمﷺ  نے ارشاد فرمایا: ’’جمعہ کے دن غسل کرنا ہر بالغ پر ضروری ہے، اسی طرح مسواک کرنا اور اگر قدرت ہو تو خوشبو کا استعمال کرنا‘‘ [مسلم] 

6-نمازِ جمعہ کے لیے جلدی جانا مستحب ہے، لیکن  آج اس سنت کا جنازہ نکل رہا ہے، اللہ تعالیٰ اس سنت کو زندہ کرنے والوں کی زندگی میں برکت دے۔ 

اور آپﷺ  کا ارشاد گرامی ہے: ’’ جب جمعہ کا دن ہوتا ہے تو مسجد کے ہر دروازے پر فرشتے کھڑے ہو کر پہلے آنے والے کو پہلے لکھتے ہیں، سب سے پہلے آنے والا شخص اس کی طرح ہے جس نے اونٹ قربان کیا ہو، اوراس کے بعد اس کی طرح جس نے گائے قربان کی اور اس کے بعد جس نے مینڈھا قربان کیا ہے، پھر وہ جس نے مرغی قربان کی ہو پھر وہ جس نے انڈا قربان کیا ہو، اور جب امام نکلے اور منبر پر بیٹھ جائے تو وہ اپنے رجسٹر لپیٹ کر ذکر سننے آ جاتے ہیں‘‘[متفق علیہ]  

بھائیو: 
خیر کے کاموں میں سبقت کرنے والے کہاں ہیں ؟!
نمازوں کے لیے پہلے جانے والے کہاں ہیں ؟!
عزم و ہمت اور پامردی والے لوگ کہاں چلے گئے ؟! 

7-جمعہ کے دن مستحب ہے کہ امام کے خطبے کے لیے آنے تک لوگ نفل نمازوں، ذکر اور تلاوت قرآن میں مصروف رہیں۔

8-خطبہ کے دوران خاموش رہنا اور بغور خطبہ سننا واجب ہے، حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے، نبی کریمﷺ  نے ارشاد فرمایا: ’’اگر تم نے جمعہ کے دن امام کے خطبہ کے دوران اپنے ساتھی سے کہا: خاموش رہو، تو تم نے غلطی کی‘‘ [متفق علیہ] اور احمد کی روایت میں اس طرح ہے: «’’اور جس نے غلطی کی اس( جمعہ  کے اجر و ثواب) میں اس کا کوئی حصہ نہیں ہے‘‘۔

اور ابوداؤد کی روایت میں ہے: «اور جس نے غلطی یا خطا کی؛ تو وہ (جمعہ کے ثواب سے محروم ہو جاتا ہے) ظہر کا اجر پاتا ہے۔ [صححہ ابن خزیمة] 

9-جمعہ کے دن سورۂ کہف کی تلاوت مستحب ہے، حضرت ابوسعید خدری سے مروی ہے نبی کریمﷺ  نے ارشاد فرمایا: ’’جس نے جمعہ کے دن سورۂ کہف پڑھی تو اس جمعہ سے دوسرے جمعہ تک اس کے لیے نور کو روشن کر دیا جاتا ہے‘‘۔[الحاکم و البیہقی و صححہ الالبانی] 

10- جمعہ کے دن وقتِ جمعہ کے دخول کے بعد جس پر جمعہ واجب ہو جائے اس کے لیے جمعہ سے پہلے سفر کرنا جائز نہیں ہے۔ [زاد المعاد 1/382] 

11-بطور خاص جمعہ کے دن کو روزہ کے لیے خاص کرنا اور اس کی رات کو قیام کے لیے خاص کرنا مکروہ ہے، حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے نبی کریمﷺ  نے ارشاد فرمایا: ’’جمعہ کی رات کو قیام کے لیے خاص نہ کرو، اور دنوں میں جمعہ کے دن کو روزے کے لیے  خاص نہ کرو، مگر یہ کہ کوئی سلسلہ وار  روزے رکھ رہا ہو‘‘۔ [مسلم] 

12-جو شخص جمعہ کے دن روزہ رکھنے کا خواہاں ہو اسے چاہیے کہ وہ جمعہ سے پہلے والے دن (جمعرات) یا بعد والے دن(ہفتہ) کو رکھے؛ حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے، نبی کریمﷺ  نے ارشاد فرمایا: تم میں سے کوئی جمعہ کے دن ہرگز روزہ نہ رکھے،مگر یہ کہ اس سے پہلے والے ایک دن(بھی) رکھے یا بعد والے ایک دن‘‘۔ [متفق علیہ واللفظ للبخاری] 

13-جمعہ کی سنتیں: حدیث میں آیا ہے کہ ’’نبی کریمﷺ  جمعہ کے بعد دو رکعت پڑھتے تھے‘‘ [متفق علیہ] اسی طرح یہ بھی وارد ہے کہ آپﷺ  نے جمعہ کے بعد نماز پڑھنے والوں کو چار رکعت پڑھنے کا حکم دیا‘‘[مسلم] 

اسحاق کہتے ہیں: اگر جمعہ کی (سنتیں) مسجد میں پڑھے تو چار پڑھے، اور اگر گھر میں پڑھے تو دو رکعت پڑھے۔ ابوبکر الاثرم کہتے ہیں: یہ دونوں بھی جائز ہے۔ [الحدائق لابن الجوزی 2/183] 

14-اس شخص کے لیے مستحب ہے جو مسجد میں اُس وقت داخل ہو جب امام خطبہ دے رہا ہو کہ بیٹھنے سے پہلے دو  مختصر رکعتیں پڑھ لے؛ حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے مروی ہے: نبی کریمﷺ  خطبۂ جمعہ دے رہے تھے، سلیک الغطفانی آئے، اور بیٹھ گئے، تو آپﷺ  نے ارشاد فرمایا: ’’ جب تم میں سے کوئی جمعہ کے دن مسجد آئے اور امام خطبہ دے رہا ہو تو چاہیے کہ بیٹھنے سے پہلے دو رکعت پڑھ لے‘‘۔ [مسلم] 

15-جمعہ کے دن مستحب ہے کہ امام نمازِ جمعہ میں سورہ ٔ جمعہ اور سورہ ٔ منافقون، یا سورۂ  اعلی اور غاشیہ پڑھے، نبی کریمﷺ  یہ سورتیں پڑھا کرتے تھے‘‘۔ [مسلم] 



جمعہ اور ہماری غلطیاں

ا-نمازیوں کی غلطیاں 

1-بعض لوگ نمازِ جمعہ کاہلی اور سستی کی وجہ سے چھوڑ دیتے ہیں، حالانکہ نبی کریمﷺ  کا فرمان ہے: ’’خبردار! لوگ جمعہ چھوڑنے سے رُک جائیں یا پھر اللہ تعالیٰ اُن کے دلوں پر مہر لگا دے گا، پھر یہ لوگ غافلین میں سے ہو جائیں گے‘‘۔ [مسلم] 

2-بعض لوگ نمازِ جمعہ کے لیے آتے وقت جمعہ کی نیت کے استحضار کا خیال نہیں رکھتے، اور عام معمول کے مطابق مسجد پہنچ جاتے ہیں، حالانکہ جمعہ اور دیگر عبادات کی درستگی کے لیے نیت کا ہونا شرط ہے۔آپﷺ  کا ارشاد گرامی ہے: ’’اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے‘‘۔ [البخاری] 

3-جمعہ کی رات میں دیر تک شب بیداری کرنا، اور نمازِ فجر کے وقت سوتے رہنا، جس کی وجہ سے جمعہ کے دن کا آغاز ہی کبیرہ گناہ سے ہوتا ہے، حالانکہ فرمان نبویﷺ  ہے: ’’اللہ تعالیٰ کے نزدیک نمازوں میں افضل ترین نماز جمعہ کے دن کی با جماعت فجر کی نماز ہے‘‘[الصحیحة 1566] 

4-خطبہ جمعہ میں شریک ہونے میں غفلت اور سستی سے کام لینا،بعض لوگ خطبہ کے دوران مسجد پہنچتے ہیں اور بعض کا تو یہ حال ہوتا ہے اس وقت مسجد پہنچتے ہیں جب جمعہ کی نماز شروع ہو جاتی ہے۔

5-جمعہ کا غسل چھوڑنا، خوشبو کا استعمال نہ کرنا، مسواک کا اہتمام نہ کرنا اسی طرح جمعہ کے دن اچھے کپڑے زیب تن نہ کرنا۔

6-اذان جمعہ کے بعد خرید و فروخت کرنا؛ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

یا أَیہَا الَّذِینَ آَمَنُوا إِذَا نُودِی لِلصَّلَاةِ مِنْ یوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا إِلَی ذِکْرِ اللَّہِ وَذَرُوا الْبَیعَ ذَلِکُمْ خَیرٌ لَکُمْ إِنْ کُنْتُمْ تَعْلَمُونَ  [الجمعة:9]

 (مومنو! جب جمعے کے دن نماز کے لیے اذان دی جائے گی تو اللہ کے ذکر کی طرف لپکو اور خرید و فروخت ترک کر دو، اگر سمجھو تو یہ تمہارے حق میں بہتر ہے۔)

ابن عباسؓ فرماتے ہیں: ’’اذان جمعہ کے بعد خرید و فروخت حرام ہے ‘‘

7-بعض افراد نافرمانی کے کاموں کو جمعہ کے دن عبادت سمجھ کر کرتے ہیں، جیسے بعض لوگ کمالِ نظافت خیال کرتے ہوئے داڑھی کاٹتے ہیں۔ 

8-بعض لوگ اگلی صفوں کے پُر ہونے سے پہلے ہی مسجد کے آخری حصے میں بیٹھ جاتے ہیں، بلکہ بعض لوگ تو مسجد کے اندرونی حصے میں جگہ ہونے کے باوجود بیرونی حصے میں ہی بیٹھتے ہیں۔

9-کسی شخص کو اس کی جگہ سے ہٹا کر اس جگہ پر خود بیٹھنا: حضرت جابر ؓ سے مروی ہے نبی کریمﷺ  نے ارشاد فرمایا: ’’جمعہ کے دن کوئی شخص اپنے بھائی کو اس کی جگہ سے ہرگز نہ اٹھائے،کہ اس جگہ پر خود بیٹھے، بلکہ کہے: جگہ کشادہ کرو ‘‘ [مسلم] 

10-گردنوں کو پھلانگنا اور دو کے درمیان تفریق کرنا اور بیٹھے ہوئے لوگوں پر تنگی کرنا۔ ’’ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کا خطبہ ارشاد فرما رہے تھے کہ ایک شخص لوگوں کی گردنیں پھلانگتا ہوا آیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا: ’’بیٹھ جا تو نے تکلیف دی اور تاخیر کی‘‘  [صحیح الترغیب و الترہیب و صحیح ابن ماجة] 

11-باتوں یا تلاوت کے ذریعے آواز بلند نہ کرے، کہ نمازیوں اور دیگر تلاوت کرنے والوں کو دشواری کا سامنا  نہ ہو۔ 

12-بغیر عذر کے اذان کے بعد مسجد سے نکلنا۔

13-خطبہ کے دوران خطیب کی جانب توجہ نہ دینا۔ 

14-دونوں خطبوں کے درمیان دو رکعت کا پڑھنا، ہاں دونوں خطبوں کے دوران کے وقفے میں دعا اور استغفار پڑھنا مشروع ہے۔ لیکن  نماز پڑھنا درست نہیں ہے۔

15- نماز کے دوران کثرت سے حرکت کرنا، اور امام کا سلام پھیرتے ہی مسجد سے نکلنا، اور نماز کے بعد کے اذکار چھوڑ کر مسجد کے دروازوں پر بھیڑ کرنا۔

ب-خطباء اور واعظین کی غلطیاں

1-خطبہ کا طویل کرنا اور نماز کا مختصر کرنا، حضرت عمارہ سے مروی ہے، وہ فرماتے ہیں نبی کریمﷺ  نے ارشاد فرمایا: ’’آدمی کا نماز کو طویل کرنا اور خطبہ کو مختصر کرنا اس کے فقیہ ہونے کی علامت ہے، تو نماز کو طویل کرو اور خطبہ کو مختصر، اور بیشک تقریر جادو کا اثر رکھتی ہے‘‘ [مسلم] 

2-خطبہ کے لیے مناسب موضوع کا انتخاب نہ کرنا اور اسی طرح مناسب تیاری نہ کرنا، اور ایسے موضوعات پر تقریر کرنا جس کی لوگوں کو کوئی خاص ضرورت نہ ہو۔ 

3-بہت سے  واعظین اور خطباء لغوی  غلطیوں کی جانب توجہ نہیں دیتے۔ 

4-بعض خطباء موضوع اور ضعیف احادیث اور بغیر سوچے سمجھے غلط اقوال نقل کرتے ہیں۔

5- بعض خطباء دوسرے خطبہ میں صرف دعا پر اکتفاء کرتے ہیں اور اسی کے عادی ہیں۔ 

6-خطبہ کے دوران قرآن کی کسی بھی آیت کا پیش نہ کرنا، یہ انداز نبی کریمﷺ  کے طریقے کے خلاف ہے، حضرت حارثہ بنت نعمان فرماتی ہیں: میں نے سورۂ ق وَالْقُرْآَنِ الْمَجِیدِ  زبانی یاد نہیں کیا مگر ہر جمعہ آپﷺ  سے خطبوں میں سن سن کر۔ [مسلم] 

7-بعض خطباء کا خطبہ کے دوران جوش و ولولہ کا اظہار نہ کرنا،حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے مروی ہے، وہ فرماتے ہیں: نبی کریمﷺ   جب خطبہ ارشاد فرماتے تھے، تو آپ کی آنکھیں سرخ ہو جاتی تھیں، آواز بلند ہو جاتا تھا،اور آپ کا غصہ شدید ہو جاتا تھا ایسا لگتا تھا کہ آپ کسی لشکر کو آگاہ فرما رہے ہیں ‘‘ [مسلم] 

وصلی اللہ وسلم وبارک علی نبینا محمد وعلی آلہ وصحبہ وسلم 
٭٭٭
ماخذ:
http://wwwwathakkerinfo/flyers/viewphp?id=1791
تشکر: مترجم جنہوں نے یونی کوڈ فائل فراہم کی
تدوین اور ای بک کی تشکیل اعجاز عبید
