﻿

جمہوریت کی کہانی



عظیم احمد

تشکر: القلم لائبریری





پیش لفظ


ابتدا سے لے کر آج تک انسان خود کو منضبط کرنے، کسی نظم ، کسی تنظیم کے تحت لانے کی کوشش میں مصروف ہے۔ تاریخ عالم کے روزِ اول سے یہ کوشش مختلف النوع رنگوں اور صورتوں میں جلوہ گر ہوتی رہی ہے۔ مذہبی نظام، عمرانی نظام اور سیاسی نظام اسی کوشش کے مختلف حصے ہیں۔ مذہب کا رخ سامنے آیا تو لوگوں نے بتوں کی پوجا کی، مظاہر قدرت کی پرستش کی، حیوانات اور نباتات کی عبادت کی، پیغمبروں پر ایمان لائے اور اَن دیکھے خدا پر اعتقاد استوار کیا۔ معاشرت کا رخ سامنے آیا تو چھوٹی چھوٹی بستیوں سے عظیم الشان تہذیبوں نے جنم لیا اور وسیع و ہمہ گیر معاشرے سامنے آئے اور جب سیاست کا رخ سامنے آیا تو سربراہی، سرداری، حکمرانی، بادشاہت اور شہنشاہیت کے روپ سامنے آئے۔
آج علوم کی فراوانی ہے اور معلومات کی بہتات۔ بہت سی آسانیاں پیدا ہو چکی ہیں لیکن جوں جوں یہ آسانیاں پیدا ہوتی جا رہی ہیں ، انسان کی زندگی اتنی ہی پیچیدہ اور کٹھن ہوتی جا رہی ہے۔ آج کسی سے بھی پوچھ لیجئے کہ کیا وہ اپنے طرزِ زندگی، اپنی بود و باش، روزگار، اہل و عیال اور بہ حیثیت مجموعی اپنی زندگی سے مطمئن ہے؟ ننانوے فیصد افراد کا جواب نفی میں ہوگا۔ اس کی سادہ سی وجہ یہ ہے کہ معاشرے پھیل رہے ہیں ، ملک بڑھ رہے ہیں ، آبادی میں اضافہ ہو رہا ہے اور جوں جوں یہ سب ہو رہا ہے، خود کو منظم کرنے اور انسانی زندگی کے ہر پہلو کا احاطہ کرنے والے نظامِ حکومت کے تحت لانے کی ضرورت بڑھتی جا رہی ہے اور جوں جوں اس ضرورت کی شدت میں اضافہ ہو رہا ہے توں توں انسان اپنی تخلیق کردہ قیاس آرائیوں ، خود ساختہ نظریوں اور خود تشکیل کردہ مفروضوں کی دھند میں بھٹک میں منزلِ حقیقی سے دور ہوتا جا رہا ہے۔
اس میں قصور ان علوم کا نہیں ، جو انسان کو خدا کی طرف سے بخشے گئے ہیں نہ ہی اس ماحول کا ہے جو دست قدرت نے اشرف المخلوقات کے رہن سہن کے لئے تخلیق کیا ہے۔ قصور اس فطرت کا بھی نہیں جو خدائے بزرگ و برتر نے انسان کو ودیعت کی ہے۔ قصور خود انسان کا اپنا ہے۔ ہماری زندگی میں آج جتنی بھی پیچیدگیاں اور دشواریاں نظر آ رہی ہیں ، ان میں سے ہر ایک کی ذمہ داری خود ہمارے سر پر عائد ہوتی ہے۔ یہ گرہیں ہمارے اپنے ہاتھوں کی لگائی ہوئی ہیں ، انہیں کھولنا بھی ہمیں خود ہی ہوگا۔
اس کتاب کا خصوصی موضوع آج کے دور کا مقبول ترین نظامِ حکومت یعنی جمہوریت ہے۔ بات کو آگے بڑھانے سے پیشتر بہتر ہوگا کہ ایک نگاہ اس علم پر ڈال لی جائے جس کے تحت دنیا میں آج تک رائج ہونے والے تمام نظام ہائے حکومت کا مطالعہ اور تجزیہ کیا جاتا ہے اور موجودہ نظاموں کو بہتر اور ہمہ گیر بنانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اصطلاح میں اس نظام کو سیاسیات (Political Science) کہا جاتا ہے۔
سیاسیات ایک ایسا تعلیمی نظام ہے جس کے تحت نظامِ حکومت کا مربوط مطالعہ کیا جاتا ہے۔ یہ مضمون سیاسی حکومتوں کی اصل، ان کی ساخت، طریق ہائے عمل اور اداروں کا احاطہ کرتا ہے۔ ان طریق ہائے کار کا جائزہ لیتا ہے جن کے تحت حکومتیں اپنی سیاسی سماجی مشکلات کی دریافت کرتی ہیں اور ان کے حل تلاش کرتی ہیں اور ان افراد اور گروہوں کے ربط باہمی کا تجزیہ کرتا ہے جو حکومتوں کو تشکیل دیتے ہیں ، انہیں برقرار رکھتے ہیں اور انہیں بدلتے ہیں۔ 
ایک انفرادی علم کی حیثیت سے سیاسیات کا آغاز 19 ویں صدی کے اواخر میں ہوا۔ اس دور میں سامنے آنے والی ماہرین سیاسیات کی نسل کے مباحث کا بنیادی نکتہ یہ تھا کہ نظام ہائے حکومت کی حقیقی تفہیم حقیقی سیاسی عمل کے مطالعے سے ہی حاصل کی جا سکتی ہے اور ضروری ہے کہ اس مطالعے کے نہایت احتیاط اور غور و خوض سے ترتیب دیئے گئے طریق ہائے کار استعمال ہوں جن کے تحت حقائق کا مشاہدہ، تجمیع، تنظیم اور وضاحت کی جا سکے۔ بہت سے ماہرین یہ سوچ رکھتے تھے کہ اگر وہ توضیحی نظریات کو تشکیل دینے میں کامیاب ہو جائیں تو سیاست اور حکومت کا مطالعہ لیبارٹری سائنس کی طرح ایک ترقی یافتہ سائنسی کاوش کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔ ان دانشوروں نے عمرانیات اور نفسیات کے ماہروں کے ساتھ مل کر کام کرنا شروع کیا۔ ماہرین عمرانیات سے انہوں نے عوام کے سیاسی رویوں کی تجمیع اور تجزیئے کے لئے اعداد و شمار اکٹھے کرنے کے طریقے حاصل کئے۔ ماہرین نفسیات سے انہوں نے مختلف تعاریف، تجاویز اور تصورات وصول کئے تاکہ مختلف انسانی رویوں کی تفہیم حاصل کی جا سکے۔ ان سب عوامل نے مل کر سیاسیات کو وہ رنگ و روپ عطا کی جو آج ہمارے سامنے ہے۔ آج سیاسیات میں حقائق کی تجمیع و تشریح کے لئے سائنسی طریقہ کار ہی استعمال کیا جاتا ہے۔ عوامی رائے حاصل کرنے کے سروے، حاصل ہونے والی آراء کا تجزیہ، شماریارتی تکنیکیں اور سیاسی ڈیٹا حاصل کرنے اور اس کا تجزیہ کرنے کے دیگر طریق ہائے کار انہی عمرانی علوم کی دین ہیں جنہیں آج کے ماہرین سیاسیات بڑی خوبی سے استعمال کر رہے ہیں۔ بعض ماہرین سیاسیات انسانی سرگرمیوں کے ہمہ گیر نمونے تیار کرنے میں کامیابی حاصل کر چکے ہیں جن سے نوعِ انسانی کے سیاسی روئیوں کو سمجھنا اور بھی آسان ہو گیا ہے۔ جدید ٹیکنالوجی خصوصاً کمپیوٹر کے ظہور کے بعد ان کا کام پہلے سے کہیں زیادہ تیز رفتار اور بہتر ہو گیا ہے۔ حکومتی اور عوامی پالیسیوں کا تجزیہ جسے پہلے سیاسیات کا ایک حصہ تصور کیا جاتا تھا، اب ایک علیحدہ علم کی حیثیت حاصل کر چکا ہے جس کے ذریعے عوامی مسائل کے حل تلاش کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ غرضیکہ ڈھائی ہزار سال پہلے منصۂ شہود پر آنے والے اس علم نے آج میدانِ سیاست و حکومت کے ہر شعبے کا احاطہ کر لیا ہے اور اس کی بہتری میں اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔
٭٭٭


 
جمہوریت کیا ہے؟

جمہوریت، عربی کے لفظ جمہور سے نکلا ہے جس کے لغوی معنی ریت کا ڈھیر کے ہیں۔ اصطلاحاً جمہور سے مراد افراد کا ایک وسیع گروہ ہے جس میں عوام و خواص سب شامل ہوتے ہیں۔ اردو میں یہ اصطلاح انگریزی کی اصطلاح Democracy (ڈیماکریسی) کے توسط سے آئی ہے جو بذاتِ خود یونانی زبان کے لفظ ڈیموکراٹیا سے نکلا ہے۔ ڈیمو کراٹیا کی اصطلاح دو لفظوں کے ملنے سے وجود میں آئی ہے۔ ڈیموس (Demos) یعنی عوام اور کراٹیا (Kratia) یعنی حکومت۔ گویا ڈیماکریسی کے معنی ہوئے عوام کی حکومت۔
جمہوریت یا ڈیماکریسی کی حقیقی تعریف کیا ہے، اس کا حتمی تعین آج تک نہیں کیا جا سکا اور شاید کبھی نہ کیا جا سکے۔ لغت اٹھا کر دیکھیں تو اس کی کئی تشریحات نظر آتی ہیں۔ مثلاً اوکسفرڈ کی ڈکشنری کا کہنا ہے:
1۔	عوام کی حکومت۔ ایک طرزِ حکومت جس میں تمام اختیارات عوام کے ہاتھ میں ہوتے ہیں اور وہ ان کا استعمال براہِ راست یا منتخب نمائندگان کے ذریعے کرتے ہیں۔ معاشرے کی ایک شکل جس میں رنگ نسل زبان اور مذہب سے قطع نظر، سب کے لئے مساوی حقوق فراہم کئے جاتے ہیں اور اقلیتوں کے ساتھ روداری کا برتاؤ کیا جاتا ہے۔ 
2۔	ایک ایسی ریاست یا کمیونٹی جس میں حکومت کی عنان عوام یا عوامی نمائندوں کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔ 
3۔	عوام کی وہ جماعت جسے وراثت میں کوئی امتیاز یا مراعات حاصل نہیں ہوتیں۔ عام لوگ۔ 
دوسری طرف امریکن ہیری ٹیج ڈکشنری کی پیش کردہ تعریفات کچھ یوں ہیں :
1۔	عوام کی حکومت جس میں حکومت کا اختیار براہِ راست عوام کے یا ان کے منتخب کردہ نمائندوں کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔
2۔	ایسی سماجی یا سیاسی وحدت جو اس نظام کے تحت کام کر رہی ہو۔
3۔	عام لوگ بطور بنیادی ذریعۂ سیاسی قوت۔
4۔	اکثریت کی حکومت۔
5۔	ایک کمیونٹی میں کسی فرد کے لئے سماجی مساوات اور احترام کے اصول۔ 
اور مریم وبسٹر ڈکشنری کے مطابق جمہوریت کے معنی ہیں :
1۔	حکومت بذریعہ عوام خصوصاً حکمرانی بذریعہ اکثریت۔
2۔	ایک ایسی حکومت جس میں اقتدارِ اعلیٰ عوام کے ہاتھ میں ہو اور جسے وہ بلاواسطہ یا نمائندگی کے ایک نظام کے ذریعے بالواسطہ بروئے کار لائیں۔ 
3۔	ایک سیاسی وحدت جس میں جمہوری حکومت قائم ہو۔
4۔	عوام خصوصاً سیاسی اختیار کے سرچشمے کی حیثیت سے۔
5۔	وراثتی یا آمرانہ طبقاتی امتیازات یا مراعات کا عدم وجود۔
گویا کم از کم لغوی معنوں میں جمہوریت کی تمام تعاریف کم و بیش ایک جیسی ہی ہیں۔ عمومی سطح پر آ کر دیکھا جائے تو جمہوری حکومت سے مراد ایک ایسی حکومت ہے جو شخصی حکومت کی ضد ہو۔ جس میں کوئی ایک شخص مطلق العنان نہ ہو بلکہ رعایا کے تمام طبقات سے تعلق رکھنے والے افراد شریک حکومت ہوں۔ یہ حکومت کلی طور پر خودمختار نہیں ہوتی۔ اسے دیہاتی پنچایت یا جرگے کی ایک وسیع اور ترقی یافتہ شکل بھی قرار دیا جا سکتا ہے۔ زمانۂ حال کی اصطلاح میں جمہوری حکومت ایک ایسی حکومت کو کہتے ہیں جس میں حکومتی امور اکثریتی رائے کو مد نظر رکھتے ہوئے چلائے جائیں اور جس میں عوام کے منتخب کئے ہوئے نمائندے ایک مقررہ مدت تک اپنے فرائض انجام دینے کے بعد ایک مرتبہ پھر عوام کے سامنے اپنی خدمات کے گوشوارے لے کر پہنچیں اور ان کے استناد اور مضبوطی کی بنیاد پر ایک مرتبہ پھر انتخاب کی جنگ جیتنے کی کوشش کریں۔  
جمہوریت کا ایک عمومی تعارف ضبط تحریر میں لایا جائے تو وہ کچھ یوں ہوگا:
ایک سیاسی نظام جس میں ایک ملک کے عوام اپنی پسند کے کسی بھی طرزِ حکومت کے تحت نظامِ حکومت چلاتے ہیں۔ جدید جمہوری حکومتوں میں ، زیادہ تر اقتدارِ اعلیٰ عوام کے منتخب کردہ نمائندوں کے ایک گروہ کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔ ان نمائندوں کو عوام ووٹ کے ذریعے مقررہ مدت پوری کرنے سے پہلے بدل بھی سکتے ہیں اور کم از کم اصولی طور پر یہ نمائندے اپنے منتخب کنندگان کے سامنے جوابدہ ہوتے ہیں۔ کئی جمہوری حکومتوں میں ، سربراہِ مملکت اور مقننہ دونوں عوام کے ووٹوں سے منتخب ہو کر برسراقتدار آتے ہیں۔ برطانیہ اور ناروے جیسی آئینی بادشاہتوں میں صرف مقننہ عوام کی منتخب کردہ ہوتی ہے اور کابینہ اور وزیر اعظم کا انتخاب انہی میں سے کیا جاتا ہے۔
بنیادی طور پر جمہوریت کی تین اقسام ہوتی ہیں۔ 

بلاواسطہ جمہوریت

یعنی ایک ایسی جمہوریت جس میں ہر شہری کو اختیار حاصل ہوتا ہے کہ وہ سیاسی فیصلے کرنے کے عمل میں براہِ راست حصہ لے سکے۔ یہ جمہوریت اکثریتی رائے کے اصول کے تحت کام کرتی ہے۔

نمائندگانی جمہوریت

 یعنی ایک ایسی جمہوریت جس میں ریاست کے شہری ذاتی طور پر حق فرمانروائی استعمال کرنے کے بجائے اپنے منتخب کردہ نمائندوں کو آگے بھیجتے ہیں اور انہیں اپنی جگہ سیاسی فیصلے کرنے اور کاروبارِ حکومت چلانے کا اختیار دیتے ہیں۔ یہ نمائندے ان کے سامنے جواب دہ ہوتے ہیں۔ 

آئینی جمہوریت

یہ نمائندگانی جمہوریت کی ہی ایک ترقی یافتہ شکل ہے۔ اس طرزِ حکومت میں عوام کے منتخب کئے ہوئے نمائندوں کے تمام فیصلے ایک مخصوص آئین کی حدود و قیود کے پابند ہوتے ہیں اور اکثریت کی کوئی بھی رائے جو اس آئین کے مقرر کردہ معیارات سے بالاتر ہونے کی کوشش کرے، قابل قبول نہیں سمجھی جاتی۔ یہ آئین ریاست کے تمام شہریوں کی ضروریات اور مفادات کو مد نظر رکھتے ہوئے تشکیل دیا جاتا ہے اور ریاست کے شہری اس کے تحت مخصوص انفرادی و اجتماعی حقوق ازقسم آزادیِ تقریر و آزادیِ مذہب سے مستفید ہوتے ہیں۔ اس جمہوریت کو روشن خیال جمہوریت (Liberal Democracy) کا نام بھی دیا جاتا ہے۔
٭٭٭


 
طرزِ حکمرانی کی ایک مختصر تاریخ

قلمبند تاریخ کا مطالعہ کرنے سے ہمارا واسطہ سب سے پہلے جس نظامِ حکومت سے پڑتا ہے، وہ بادشاہی ہے۔ ایک مخصوص رقبے پر ایک فردِ واحد کی حکومت، موروثی، تا حیات اور مطلق۔ جس کا ہر قول ایک ناقابل تنسیخ قانون ہے اور جس کا ہر فعل ناقابل اعتراض ہے۔ اس کی راجدھانی میں بسنے والے تمام انسان اس کی رعایا ہیں ، اور اس کے اشارۂ ابرو کے غلام۔ وہ جو کہے گا، وہی ہوگا، وہ جو کرے وہی درست تصور کیا جائے گا۔ وہ چاہے تو بے گناہ کو پھانسی چڑھا دے اور چاہے تو سزائے موت کے قیدی کو رہا کر کے خلعت سے سرفراز کرے۔ چاہے تو سب کو اپنے من چاہے خدا کی عبادت کرنے پر لگا دے اور چاہے تو خود خدا بن کر سب کو اپنے سامنے سجدے کرنے پر مجبور کر دے۔ وہ کسی کے سامنے جواب دہ نہیں اور کوئی دنیاوی قانون اس پر لاگو نہیں ہوتا۔ اس کا اپنا بنایا ہوا بھی نہیں۔ 
آج کے روشن خیال اور تعلیم یافتہ معاشرے میں ایسے طرزِ حکومت کا تصور بھی بڑا عجیب بلکہ کسی قدر خوفناک معلوم ہوتا ہے لیکن بادشاہت کے زیر فرمانروائی زندگی بسر کرنے والوں کے لئے یہ حکومت نہ تو عجیب تھی اور نہ خوفناک کیونکہ وہ اسے ذہنی طور پر قبول کر چکے تھے۔ قبول کیوں کر چکے تھے؟ یہ ایک تشریح طلب سوال ہے جس کا جواب دینے کے لئے ضروری ہے کہ معلوم تاریخ کی ابتدائی بادشاہتوں اور ان کے زیر فرمان معاشروں کے تاریخی سیاق و سباق کا جائزہ لیا جائے تاکہ معلوم ہو سکے کہ عام لوگوں نے بادشاہتوں کو کیوں قبول کیا اور پھر انہیں مسترد کیوں کر دیا۔
جب تک انسانی آبادی کم رہی، کوئی باضابطہ نظامِ حکومت سامنے نہ آ سکا بلکہ یوں کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ سرے سے کوئی نظامِ حکومت موجود ہی نہ تھا۔ حکمران اور رعایا کی تفریق اس وقت اگر پائی جاتی تھی تو صرف خاندانوں کے درمیان۔ قبیلوں اور دیہاتوں جیسے بڑے سماجی گروہوں میں خاندان کسی نہ کسی حد تک آپس میں مربوط تھے، جہاں ہر خاندان کا سربراہ اپنی ایک علیحدہ حیثیت اور قوت رکھتا تھا۔ قبیلوں کے سردار، اگر تھے، تو بے حد محدود اختیارات کے مالک تھے اور کئی قبیلے ایسے بھی تھے جو بغیر سردار کے ہی گزارا کر رہے تھے۔ دنیا کے پسماندہ ترین خطوں میں ہمیں آج بھی یہ صورتِ حال دیکھنے کو مل سکتی ہے۔ 
صورتِ حال اس وقت تبدیل ہونا شروع ہوئی جب فن زراعت سامنے آیا اور درجہ بدرجہ ترقی کی منازل طے کرنے لگا۔ سمر کی سرزمین (موجودہ عراق) میں نظامِ آبپاشی کی ایجاد نے اس امر کو لازم بنا دیا کہ ذرائع آبپاشی کے انتظام و انصرام کے لئے کوئی وسیع نظام تیار کیا جائے۔ دجلہ اور عرفات کے دریاؤں پر تصرف حاصل کرنے اور ان سے پوری طرح مستفید ہونے کے لئے ضروری تھا کہ ان کے پانی کی تقسیم کا انتظام کسی مرکزی حکومت کے ہاتھ میں ہو تاکہ زیریں علاقوں کو بھی اتنا ہی پانی فراہم ہو سکے جتنا کہ بالائی علاقوں کو۔ اسی ضرورت کے تحت کیلنڈر بھی تیار کیا گیا تاکہ موسم بہار میں آنے والے سیلابوں کے اوقات کا تعین کر کے ان سے پورا پورا فائدہ اٹھایا جا سکے۔ جوں جوں یہ مہارتیں ارتقاء پذیر ہوئیں ، ان کے ساتھ ساتھ معاشرہ بھی ارتقائی منازل طے کرنے لگا۔ مفروضہ قائم کیا جا سکتا ہے کہ سمر میں ہی ابتدائی شہر وجود میں آئے اور ان شہروں کے سربراہ ابتدائی بادشاہوں کے روپ میں سامنے آئے اگرچہ ان شہروں کی حیثیت رقبے میں کسی قدر بڑے اور کسی قدر زیادہ سہولیات رکھنے والے دیہاتوں سے اور ان کے بادشاہوں کی حیثیت گاؤں کے مکھیا سے بڑھ کر نہ تھی۔ رفتہ رفتہ یہ ’’سربراہ ‘‘ اور یہ ’’شہر‘‘ شاہی خواص حاصل کرتے گئے اور آگے چل کر مکمل سلطنتوں اور بادشاہوں کے روپ میں سامنے آئے اور یوں بادشاہت کا آغاز ہوا۔ ایک کی حکمرانی سب پر۔ یہیں سے سلطنت کے دوسرے شعبوں نے ترقی پائی۔ مزدور طبقہ، مذہبی طبقہ، زرعی طبقہ، جنگجو طبقہ اور سرکاری امور انجام دینے والا طبقہ۔ غرض ایک سلطنت کے تمام کلیدی اجزاء کی ابتداء یہیں سے ہوئی۔ جوں جوں حکومتی تنظیم میں گہرائی اور گیرائی پیدا ہوئی توں توں مذہب کی اہمیت اور وسعت میں بھی اضافہ ہوا کیونکہ مذہب نہ صرف عوام کی فطری ضروریات کی تسکین کرتا تھا بلکہ حکمران طبقے کو اس کے جائز ناجائز اقدامات کے جواز بھی فراہم کرتا تھا۔ 
ان چھوٹی چھوٹی سلطنتوں میں پانی کی تقسیم کے مسئلے پر لڑائیاں ہوئیں اور ان کی دولت و ثروت نے دیگر ایسے قبائل کو ان پر حملہ آور ہونے کی ترغیب دی جو ان کے مقابلے میں کم ترقی یافتہ لیکن زیادہ سخت جان تھے۔ جنگوں کا آغاز ہوا اور فوجی قوت، مذہبی قوت کی طرح، کسی بھی حکومت کے لئے ایک اہم لازمہ بن گئی۔
بادشاہت کی طول طویل تاریخ، واقعات کے اسی تسلسل سے عبارت ہے۔ جب کبھی بادشاہ اپنی فوجی ذمہ داریوں سے غافل ہوئے، ان کے تاج سروں سے پھسلنے لگے۔ سمر میں ہونے والی جنگوں نے بادشاہت کے ایک اور لازمے کو بھی ابھار کرپیش کیا، اور وہ تھا توسیع پسندی۔ توسیع پسندی کی ابتداء ہوس ملک گیری کے بجائے اپنے ملک کی سرحدوں کا تعین ان کا دفاع کرنے کی ضرورت سے پیدا ہوئی اور سرحدوں کی حفاظت کرنے والی افواج کے اخراجات کابوجھ اٹھانے کے لئے جن نئے وسائل کی ضرورت تھی، وہ نئی نئی فتوحات کے ذریعے حاصل کئے گئے خواہ یہ فتوحات نئی زمینوں کے حصول کی شکل میں ہوتیں یا مغلوبین کے مال و متاع کی لوٹ مار کی شکل میں۔ 
چار پانچ ہزار سالوں تک بادشاہت اور اس کے ساتھ ساتھ تہذیب کی تاریخ اسی اصول پر چلتی رہی۔ تجارتی بنیادوں پر استوار ہونے والے تعاق ت کی بدولت تمدنی اثرات مصر اور ہندوستان تک جا پہنچے اور اس کے بعد دنیا میں جہاں جہاں بھی سماجی نظم و ضبط قائم ہوا، اس کے دفاع کا مسئلہ بھی ساتھ ہی ساتھ اٹھ کھڑا ہوا۔ جوں جوں تہذیب پھیل رہی تھی، بادشاہتیں قائم ہو رہی تھیں اور اس کے ساتھ ساتھ فوجی ضروریات میں بھی اضافہ ہوتا جا رہا تھا۔ ان سلطنتوں کو زیادہ تر خطرات ان جنگلی قبائل سے لاحق تھے جو وسط یورپ اور ایشیاء کے نیم بنجر میدانوں میں دندناتے پھرتے تھے۔ چراگاہوں کے حقوق کے تنازعے پر آپس میں لڑ لڑ کے یہ قبائل فن حرب و ضرب میں اس قدر طاق ہو چکے تھے کہ مہذب سلطنتوں کی مہذب افواج کا ان کے سامنے ٹکنا دشوار ہو جاتا تھا۔ 
یہ قبائل تہذیب اور بادشاہتوں کے لئے اتنا بڑا خطرہ کبھی نہ بن سکے کہ انہیں بیخ و بن سے ہی اکھاڑ پھینکتے۔ اس کی بڑی وجہ یہ تھی کہ عموماً تہذیبوں کو تاراج کرنے کے بعد یہ قبائل خود بھی شہروں میں بس جاتے اور رفتہ رفتہ شہری زندگی کے اتنے خوگر ہو جاتے کہ خود ایک نئی تہذیب کو جنم دینے کا سبب بن جاتے۔ 
یہ امر قابل غور ہے کہ اس زمانے میں خواہ قبائل سے جنگ ہوتی یا نہ ہوتی، تاریخ اپنے آپ کو دہراتی رہتی۔ اکثر سلطنتوں میں چھوٹے موٹے تنازعات پر خانہ جنگی پھوٹ پڑتی اور بنی بنائی حکومتیں گر جاتیں۔ نتیجتاً ضرورت محسوس ہوئی کہ نظامِ حکومت کو مزید مضبوط اور طاقتور بنایا جائے۔ اپنی حکومت کو مضبوط بنانے کے لئے بادشاہ دولت حاصل کرنے کی فکر کرتے اور دولت حاصل کرنے کا طریقہ وہی تھا جو اوپر بیان ہو چکا ہے یعنی نئی زمینوں اور زیادہ سے زیادہ مال و متاع کا حصول۔ ان بڑی سلطنتوں کے انتظام و انصرام کے لئے جن افراد کو مقرر کیا جاتا، ان کے گروہ نے آگے چل کر آج کے دور میں بیوروکریسی کے نام سے جانے والے طبقے کی شکل اختیار کر لی۔ یہ طبقہ رفتہ رفتہ اتنا طاقتور ہو گیا کہ بذاتِ خود حکومت پر قابض ہو گیا۔ یہاں سے نوکر شاہی کی اصطلاح وجود میں آئی اور جوں جوں تہذیب کا دائرہ پھیلتا گیا، نوکر شاہی کا دائرہ بھی وسیع اور مضبوط ہوتا گیا۔
سمر اور بابل کو آشوریوں نے فتح کر لیا۔ آشوریا کو مڈیا والوں نے مار گرایا۔ مڈیا اور فارس کی سلطنت کو مقدونیہ کے سکندر اعظم نے زیر نگیں کیا اور سکندر کے بعد وجود میں آنے والی مقدونی ریاستوں کو روم والوں نے فتح کر لیا۔ بعد ازاں روم کی سلطنت اسلامی خلافت کے سامنے سرنگوں ہو گئی۔ فاتح آتے اور جاتے رہے۔ رعایا کی زندگی میں ان کے آنے جانے سے کوئی خاص تبدیلی رونما نہ ہوتی تاوقتیکہ کوئی جنگ عین ان کے سروں پر نازل نہ ہو جاتی۔
اس دوران وقتاً فوقتاً نئے تجربے کئے جاتے رہے کیونکہ کوئی بھی بادشاہت تمام تر رعایا پر براہِ راست حکمرانی کرنے کے وسائل کی حامل کبھی نہ ہو سکی۔ جب تک مقامی حکومتیں اور آبادیاں جزیہ ادا کرتی رہتیں ، مرکزی حکومت ان کے زیادہ تر داخلی معاملات میں دخل اندازی کرنے کی ضرورت محسوس نہ کرتی۔ بعض اوقات جزیئے کی ادائیگی بند بھی کر دی جاتی تو شاہی مرکز سے دور کسی مقام پر چڑھائی کے لئے فوجی مہم کی تیاری کرنے میں وقت، پیسے اور توانائی کا جو صرفہ ہوتا وہ اکثر مرکزی حکومت کو کسی طرح کی کارروائی کرنے سے روکے رکھتا لہٰذا عمومی حالات میں سرحدی علاقوں کے مکینوں کو اپنی زندگی اپنے انداز میں گزارنے کی خاصی آزادی حاصل ہوتی تھی۔
بحیرۂ روم کا جغرافیہ کچھ اس قسم کا ہے کہ اس کے ساحل پر واقع ہر چھوٹے موٹے گاؤں کے لئے ضروری تھا کہ وہ خشکی یا سمندر کی طرف سے ہونے والے ہر حملے کے خلاف اپنا دفاع کرنے کے قابل ہو کیونکہ بیرونی امداد کا یہاں تک پہنچنا آسان نہ تھا۔ یہاں زندہ رہنے کے لئے ہر فرد کو اپنی آبادی پر جسمانی اور معاشی حوالے سے کامل انحصار کرنا پڑتا تھا۔ ان چھوٹی چھوٹی بستیوں سے وہ شہر وجود میں آئے جو آگے چل کر یونانی شہری ریاستوں کے نام سے تاریخ عالم میں معروف ہوئے۔ ان شہری ریاستوں کو اپنے باشندوں کی وفاداری اور افرادی قوت پر کامل اختیار حاصل تھا اور باشندے بھی خود پر ریاست کے اس حق کو تسلیم کرتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ ارسطو (جو خود بھی ایسی ہی ایک چھوٹی سی ریاست کا رہنے والا تھا) نے انسان کو ایک ’’سیاسی جانور‘‘ قرار دیا۔
ساحلی پہاڑی سلسلوں کی بدولت ان ریاستوں میں سے کسی کے لئے بھی ممکن نہ تھا کہ ایک وقت میں چند مربع میل سے زیادہ رقبے پر قابض رہ سکیں۔ اس جغرافیائی کیفیت کی بدولت ایک عرصے تک یہاں کوئی سلطنت ایسی نہ ابھر سکی جو ان تمام شہروں کو ایک لڑی میں پرو کر مربوط کر دیتی اور ایک وفاق کا حصہ بنا دیتی۔ اگر ان میں سے چند شہری ریاستیں شاہی رتبہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو بھی سکیں تو اس کی بڑی وجہ یہ تھی کہ یہ ریاستیں سمندری راستوں کے ذریعے کامیابی سے تجارت کر رہی تھیں۔ مثال کے طور پر ایتھنز کی ریاست زیتون کا تیل، چاندی اور ظروف برآمد کرتی تھی۔ اس تجارت کی بدولت ایتھنز نے ایک زبردست بحری فوج بنانے اور اپنے شہر کے گرد بلند فصیلیں کھڑی کرنے میں کامیابی حاصل کی۔ 480 قبل مسیح میں ایتھنز کی افواج نے ایران کو شکست دے کر یونانی سمندر میں ایک چھوٹی سی سلطنت قائم کر لی۔ ایتھنز کی سب سے بڑی حریف ریاست سپارٹا تھی جس کے ساتھ ایک طویل عرصے تک ان کی لڑائیاں چلتی رہیں۔ بالآخر 404 قبل مسیح میں سپارٹا نے ایتھنز کو شکست سے دوچار کر کے اس مخاصمت کا خاتمہ کر دیا۔
سپارٹا سے شکست کھانے کے بعد بھی ایتھنز نے اپنی خودمختاری برقرار رکھی اور ارتقائی منازل طے کرتی رہی۔ 338 قبل مسیح میں سکندر اعظم کا باپ، مقدونیہ کا شاہ فلپ اس پر حملہ آور ہوا اور ایتھنز کو اپنی سلطنت کا حصہ بنا لیا۔ قصہ مختصر، مقدونیہ کا حصہ بننے تک کے اس تمام عرصے کے دوران ایتھنز کو اتنا وقت اور فرصت مل گئی کہ اپنی حدود کے اندر مختلف طرز ہائے حکومت کو آزما سکے۔ نہ صرف تاریخ عالم کی پہلی کامیاب جمہوریت بلکہ سیاسی سوچ کے ابتدائی تجربات بھی اسی دور کی مرہونِ منت ہیں۔ 
ایتھنز والوں کو نوکر شاہیاں کھڑی کرنے کا کوئی شوق نہ تھا اور وہ یہ بھی بخوبی جانتے تھے کہ تمام بادشاہتیں بالآخر شکست و ریخت کی شکار ہو کر نوکر شاہی کا ہی روپ دھار جاتی ہیں۔ نوکر شاہی کے اصول و ضوابط، یونان کے شہریت کے تصورات سے میل نہیں کھاتے تھے۔ ریاست کا دفاع کرنے کے لئے ضروری تھا کہ ہر بالغ مرد ضرورت پڑنے پر آمادۂ جنگ ہونے کے لئے تیار رہے۔ اس کے بدلے میں اسے ایک خاص عزت و احترام اور ذاتی خودمختاری سے نوازا جاتا تھا۔ بہ الفاظِ دیگر، وہ آزاد ہوتا تھا۔ اس آزادی کی حفاظت کے لئے حکومت کا قیام ضروری تھا کیونکہ یونانیوں کو انتشار قطعی پسند نہ تھا۔
بادشاہت اور نوکر شاہی کو پہلے ہی رد کیا جا چکا تھا لہٰذا مسئلے کا حل صرف یہی نکل سکتا تھا کہ ریاست کے تمام شہریوں کو حکومتی اختیارات میں شریک کر لیا جائے۔ سوال یہ ہے کہ یونانی آزادی کی حفاظت چند افراد کی حکومت نے زیادہ بہتر طور پر کی یا اکثریت کی حکومت نے؟ بہ حیثیت مجموعی اس دور کے عظیم ناموں نے حکومت اشرافیہ (Aristocracy) کے حق میں اپنا ووٹ دیا ہے۔ افلاطون کا خیال تھا کہ سیاست کا مقصد، ’’اچھائی‘‘ کا حصول ہے اور بہت کم لوگ اس عمل کو سمجھ سکتے ہیں جس کے ذریعے اچھائی حاصل کی جا سکتی ہے۔ اس کے نزدیک یہ چند منتخب لوگ حکومت کرنے کے اہل تھے۔ اس کے شاگرد ارسطو کے نزدیک عقل و دانش کی نمو و پرداخت سب سے بڑی انسانی خوبی تھی اور اس کا یقین تھا کہ منتخب افراد کے ایک طبقے کو ہمیشہ کے لئے اس کام پر مامور کر دیا جانا چاہئے کہ وہ ہمیشہ اپنے عقل و شعور کی آبیاری کرتے رہیں۔ ریاست کے بقیہ افراد کی ذمہ داری ہوگی کہ ان کے اخراجات کا بوجھ اٹھائیں۔ اس کے بدلے میں یہ چند منتخب افراد اپنے قیمتی وقت کے چند لمحے قربان کر کے کاروبارِ حکومت چلانے کی ذمہ داری اٹھا لیں گے اور مادی خواہشات سے پاک اور علم و دانش سے پُر ہونے کے سبب وہ اس کام کو سب سے زیادہ کامیابی سے انجام دے سکیں گے۔ ارسطو کا یہ نظریۂ حکومت چند سری حکومت (Oligarchy) کہلاتا ہے۔ بہرحال، یہ نظریہ اس وقت کے یونان میں کامیاب نہ ہو سکا اور جمہوریت پسند غالب آ گئے۔ اگر تمام شہری ریاستوں میں نہ سہی تو ایتھنز اور اس کی اتحادی ریاستوں میں ضرور جمہوریت کا بول بالا ہو گیا۔ فوجی ذمہ داریاں نبھانے کے عوض میں ایتھنز کے تمام باشندوں کو کاروبارِ حکومت میں حصے سونپ دیئے گئے۔
اس صورتِ حال کے غیر معمولی نتائج نکلے۔ مفاد پرست لیڈروں کے بہکاوے میں آ کر لوگ گمراہ ہونے لگے۔ ان میں اتنی عدم برداشت در آئی کہ انہوں نے افلاطون کے استاد سقراط کو بھی مقدمہ چلا کر سزائے موت سنا دی اور وقت کے سب سے روشن دماغ کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ ایک دوسرے کے ذاتی امتیازات کے حوالے سے وہ رشک و حسد کے جذبات کے شکار ہونے لگے۔ فارس، سپارٹا اور مقدونیہ کے خلاف تین بڑی جنگیں جو انہیں لڑنا پڑیں ، ان میں سے دو وہ ہار گئے۔ اس کے علاوہ تمام شہری ریاستوں میں ایتھنز کے عظیم تر اور سب سے برتر ہونے کے عقیدے کے زیر اثر انہوں نے غلاموں کی بیگار کو اپنی معاشرت کا جزوِ اعظم بنا ڈالا، شاہانہ بیرون ملک مہم جوئیوں کے دلدادہ ہو گئے اور ایسے کسی بھی فرد کو ایتھنز کا شہری تسلیم کرنے سے انکار کر دیا جو پیدائشی طور پر وہاں کا باشندہ نہ ہو، خواہ اس نے ایتھنز کی فلاح و بہبود کے لئے کتنی ہی خدمات انجام کیوں نہ دی ہوں۔ ارسطو جیسا دانشمند اور قابل قدر فرد بھی اس قانون کی زد سے محفوظ نہ رہ سکا۔ 
ایتھنز کی جمہوریت کی بنیادیں کمزور اور نازک تھیں۔ مندرجہ صدر تمام حقائق کا ایک ہی نتیجہ نکالا جا سکتا ہے، اور وہ یہ کہ ایتھنز والے اپنے ماضی کی روایات سے نجات حاصل نہ کر سکے لیکن اس کے باوجود ایتھنز نے جو کامیابیاں حاصل کیں ، وہ غیر معمولی اور قابل ستائش تھیں۔ اس کے بعد شاید کسی اور شہری ریاست نے ایسی کامیاب جمہوری روایات کا اجراء نہیں کیا۔ روزِ آخر تک یہ شہر نہایت کامیابی اور اطمینان بخش انداز میں عوامی رائے اور عوامی قانون کے تحت چلتا رہا اور کہا جا سکتا ہے کہ اگر شاہِ مقدونیہ جیسی زبردست طاقت اس پر حملہ آور نہ ہوتی تو یہ اپنی جمہوری روایات کو اور بھی آگے لے جاتا اور تب شاید جدید جمہوریت اور قدیم جمہوریت کے مابین دو ہزار سالوں کی خلیج حائل نہ ہوتی۔
ایتھنز اپنی جمہوریت سے محروم ہو کر ایک مرتبہ پھر بادشاہت کی گود میں جا سویا لیکن جمہوری روایات بیدار رہیں اور انہوں نے دو غیریونانی ریاستوں قرطاجنہ اور روما میں قدم جمانا شروع کر دیئے۔ یہ ریاستیں ایک طویل عرصے سے خودمختاری حاصل کرنے کی کوشش کر رہی تھیں اور 202 قبل مسیح میں زاما کے مقام پر قرطاجنہ کے مشہور جرنیل ہینی بل کی شکست کے بعد روم، بحیرۂ روم کے خطے کی سب سے طاقتور ریاست بن کر سامنے آ گیا۔
سلطنت روما کے قیام کے بعد یونانی مورخوں کو یہ مسئلہ درپیش ہوا کہ روم کے طرزِ حکومت کو کس عنوان سے معنون کیا جائے۔ اس مسئلے کا کوئی حل ان کے پاس نہ تھا۔ یونانی مورخ پولی بیئس، جس نے سلطنت روما کے عروج کی داستان قلمبند کی ہے، لکھتا ہے کہ سلطنت روما کا آئین اس لئے اتنا کامیاب ثابت ہوا کیونکہ یہ بادشاہت، حکومت اشرافیہ اور جمہوریت کا ایک دانشمندانہ امتزاج تھا۔ اس کے برعکس رومیوں نے جو اپنی اصل میں بڑے قدامت پرست اور عملی لوگ تھے، ایسی الجھنوں میں پڑنے کے بجائے اپنے طرزِ حکومت کو Res Publica کا نام دیا۔ ریز پبلکا یعنی عوامی چیز۔ یہاں سے سیاسیات کو ایک نئی اصطلاح سے آشنائی حاصل ہوئی۔ Republic یعنی عوامی جمہوریہ۔ 
اگرچہ موجودہ دور میں جمہوریہ (Democracy) اور عوامی جمہوریہ (Republic) کو ایک دوسرے کے ہم معنی الفاظ سمجھا جاتا ہے لیکن اپنی اصل میں یہ ایک دوسرے سے کافی مختلف ہیں۔ دونوں نظام ہائے سلطنت میں حکومت کرنے کا اختیار منتخب نمائندوں کے ہاتھ میں ہی دیا جاتا ہے تاہم عوامی جمہوریہ (Republic) میں ان منتخب نمائندوں سے توقع رکھی جاتی ہے کہ وہ سلطنت کی ضروریات اور مفادات کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنی عقل و دانش کو بروئے کار لائیں اور بہتر سے بہتر فیصلہ کرنے کی کوشش کریں جبکہ جمہوریہ (Democracy) میں منتخب نمائندے اپنی فہم اور شعور کو مد نظر رکھنے کے بجائے اپنے حلقہ ہائے انتخاب کے باشندوں کی آراء اور نظریات کو زیادہ فوقیت دیتے ہیں اور یوں ایک طرح سے اپنی عقل کو اپنے منتخب کنندگان کی خواہشات کے تابع کر دیتے ہیں۔ 
رومیوں نے اپنی قائم کردہ سلطنت کو ری پبلک یعنی عوامی جمہوریہ کا نام دیا۔ اس تصور کے تحت شہری ریاست سے وابستہ حب الوطنی نکتہ عروج کو پہنچ گئی۔ رومی اپنی روایات سے گہری وابستگی رکھتے تھے اور یہ سب روایات انہیں ایک ہی درس دیتی تھیں۔ اپنے ملک، اپنی قوم سے مکمل وفاداری۔ رومیوں کے روم کے ساتھ وفاداری بار بار حربی آزمائشوں سے گزری۔ روم کی سات پہاڑیوں پر اپنی حفاظت کے لئے کھڑے ہونے مزدوروں نے کمال ثابت قدمی کے ساتھ ہر حملہ آور کا مقابلہ کیا، ہر شکست کے بعد نئے عزم کے ساتھ اٹھے، اپنی تمام غلطیوں سے سبق سیکھے، اور وقتاً فوقتاً سامنے آنے والی نت نئی تبدیلیوں سے عہدہ برآ ہونے کے لئے اپنے سیاسی اداروں میں ترامیم کیں چاہے اس کے لئے انہیں اپنے دل پر کتنا ہی جبر کیوں نہ کرنا پڑا۔ اس اعتبار سے پولی بیئس کا کہا واقعی درست تھا کہ روم میں عوام، اشرافیہ اور امراء، جنہوں نے بادشاہوں کی جگہ حکومت کی گدی سنبھالی تھی، سب کے سب اقتدار و اختیار میں شریک تھے۔ یہاں اقتدار کا فیصلہ انتخابات میں ہوتا تھا اور دنیا کی پہلی باقاعدہ سیاسی جماعتیں یہیں وجود میں آئیں۔ سلطنت روم کے سنہرے دنوں میں ان انتخابات کے نتائج کو ہر جگہ کھلے دل سے قبول کیا جاتا تھا اور ان کا احترام کیا جاتا تھا۔ یہاں اقلیت (ایوانِ بالا) اور اکثریت (ایوانِ زیریں یعنی عوام) کے درمیان مثالی افہام و تفہیم اور یگانگت پائی جاتی تھی۔
ایتھنز کی جمہوریت کی طرح یہ نظامِ حکومت بھی حیران کن حد تک طویل عرصے کے لئے بڑی کامیابی سے چلتا رہا۔ جہاں ایتھنز نے اپنی وراثت میں یہ ثبوت چھوڑا کہ سیاست کو منطقی اصولوں کے مطابق سمجھا جا سکتا ہے اور اس پر بحث کی جا سکتی ہے اور درست صورتِ حالات میں جمہوریت کامیاب ہو سکتی۔ وہاں روم نے یہ ثابت کیا کہ اقتدار کے لئے مسابقت کا سیاسی عمل اور پالیسی پر عوامی مباحث بجائے خود نہایت قدر و وقعت کے حامل ہیں۔ 
یہ کوئی حیران کن بات نہیں کہ دنیا کو سلطنت روما کے سیاسی اداروں نے اتنا متاثر نہیں کیا جتنا کہ اس کی فوجی قوت نے، اگرچہ دونوں نہایت گہرے رشتے میں بندھے ہوئے تھے۔ وجہ سیدھی سادی ہے۔ روم نے پہلے اپنی حفاظت کے لئے ہتھیار اٹھائے اور آنے والے حملہ آوروں کو مار بھگایا۔ اس کے بعد اس کی فوجی طاقت میں جہاں اضافہ ہوا، وہاں اس کے پڑوسیوں کی قوت میں کمی ہونے لگی۔ جب رومیوں نے سب کو اپنے سامنے کمزور دیکھا تو سب پر حکمران ہونے کا مقصد لے کر گھر سے نکل پڑے۔ ورجل کے الفاظ میں ان کا نعرہ تھا: ’’مفتوحوں کو بخش دو اور مغروروں کو تاراج کر دو۔‘‘ قصہ مختصر، روم کی فوجی قوت نے اسے فوجی مہم جوئیوں پر اکسایا۔ پہلی صدی قبل مسیح کے ظہور تک، رومیوں نے اپنی بری اور بحری قوت کے بل بوتے پر، بحیرۂ روم کا خطہ اور اس سے متصل تمام علاقے فتح کر لئے۔ سلطنت وسیع ہوئی تو ذمہ داری کا بوجھ بھی بڑھا۔ جب بوجھ میں مزید اضافہ ہوا تو اس کے اثرات بھی محسوس ہونے لگے۔ اب رومی فوجوں میں وہ شہری شامل نہ رہے تھے جو اپنے روزگار کے کام وقتی طور پر چھوڑ کر مادرِ وطن کی حفاظت کے لئے ہتھیار بکف ہو جاتے تھے۔ اب ان میں تربیت یافتہ پیشہ ور فوجی شامل تھے جن کی وفاداریاں ریاست کے ساتھ کم اور اپنے جرنیلوں کے ساتھ زیادہ گہری تھیں۔ جب ان جرنیلوں نے اپنی بیرونی فتوحات کو جواز بنا کر اندرونِ خانہ اقتدار حاصل کرنے کی کوشش کی تو روم خانہ جنگی کی لپیٹ میں آ گیا۔ آبادی میں مسلسل اضافہ ہو رہا تھا لیکن معاشی وسائل اس رفتار سے بڑھائے نہیں جا رہے تھے لہٰذا غربت و فلاکت کے سائے پھیلنے لگے۔ جن اشرافیہ کو صوبوں کی عملداریاں سونپی گئی تھیں ، انہوں نے اپنی ذمہ داریوں کو محض اپنے خزانے بھرنے کے ٹھیکرے سمجھ لیا۔ ری پبلک ایسے مسائل کو حل کرنے میں ناکام رہی اور بالآخر سیزر آگسٹس نے اپنی بادشاہت کا اعلان کر کے عوامی جمہوریہ کا خاتمہ کر دیا اور یوں یہ خوشگوار داستان ایک افسوس ناک انجام پر ختم ہوئی۔
آگسٹس کی قوت کا راز اگرچہ افواج پر اس کے کنٹرول میں مضمر تھا لیکن وہ بذاتِ خود اتنا اچھا جرنیل نہ تھا، جتنا اچھا سیاستدان تھا۔ وہ بہت اچھی طرح جانتا تھا کہ خالی خولی سیاسی قوت نہ صرف مہنگی ہے بلکہ غیرمستحکم بھی۔ اس نے عاقبت اندیشی سے کام لیتے ہوئے فوجوں میں مناسب حد تک تخفیف کر دی، اور جس انقلابی دھڑے نے اسے حکمران بنانے میں اعانت کی تھی، اسے ایک قابل احترام حکمران طبقہ بنانے پر اپنی توانائیاں مرکوز کر دیں۔ اس نے اگرچہ عوامی جمہوریہ کو بحال کرنے کا دعویٰ کیا لیکن اس بحالی کو حقیقی معنوں میں عملی جامہ کبھی نہ پہنا سکا۔ ریاست کا تحفظ، جنگ اور امن کے امور، حکومت کے زیادہ تر معاملات اس نے اپنے ہاتھ میں رکھے اور ایوانِ بالا کے کرنے کو خاطرخواہ کام باقی نہ رہا۔ آگسٹس نے کبھی آزادانہ انتخابات منعقد کروانے یا عوامی حکومت کے ذرائع کو متحرک کرنے کی کوشش نہ کی۔ اس نے عوام کو رتھوں کی دوڑ، جنگجوؤں کے مقابلے اور مفت روزگار کی رنگینیوں میں الجھا کر خوش رکھا اور اس کے ساتھ اپنی حکومت کو جائز قرار دلوانے کی پوری کوشش کرتا رہا۔ ابتدائے تاریخ کے بادشاہوں کی طرح اس نے مذہب کو بھی اپنی اعانت کے لئے طلب کر لیا، اگرچہ سلطنت روم کا مذہب بھی اتنا ہی جمہوری تھا، جتنا کہ اس کا آئین۔ اس کے بعد آنے والے بادشاہوں نے خود اپنی الوہیت کو عوامی اعتقاد کا حصہ بنا دیا۔
چار صدیوں تک روم میں تبدیلیوں کا ایک تسلسل جاری رہا اور ہر گزرنے والے عہد کے ساتھ روم بتدریج مشرق کی نوکر شاہیوں جیسی شکل اختیار کرتا گیا۔ رومی قوم پرستی، رومی روایت پرستی اور رومی قانون ایک وراثت بن کر آنے والی نسلوں کے لئے زندہ رہے۔ اگر اس دور میں کسی نے آگسٹس کی آئینی ڈرامہ بازیوں پر یقین نہ بھی کیا ہو تو بھی آنے والے ادوار میں اس کی ’’آئینی شہنشاہیت‘‘ کی روایت زندہ و پائندہ رہی۔
شہری ریاستوں کا دور بالآخر ختم ہو رہا تھا اور شہنشاہ کیراکلا رومی شہریت، سلطنت روم کے تمام باشندوں کے لئے عام کر دی تھی لیکن اس کا مقصد صرف اتنا تھا کہ وہ اپنی رعایا پر زیادہ بھاری محاصل کا نفاذ کر سکے۔ شاہی انتظامیہ کے تقاضے شہروں کو دیوالیہ کرنے لگے، خوشحالی اپنے پر سمیٹنے لگی، وحشی اقوام کے حملوں سے سلطنت روم کی بنیادیں لرزنے لگیں اور بالآخر 410ء میں وزی گاتھ قبائل نے روم کو فتح کر کے اس عظیم الشان فرمانروائی کا باب بند کر دیا۔
قبل از مسیح کے دور کی جمہوری سلطنتوں میں عوامی حکمرانی کا ایک اہم کردار شامل رہا ہے۔ کلاسیکی یونان اور روم کی شہری ریاستوں کی جمہوری حکومتوں کو اگرچہ جمہوریت کی ایک ابتدائی شکل قرار دیا جا سکتا ہے لیکن اپنی اصل میں یہ جمہوریتیں موجودہ دور کی جمہوری حکومتوں سے مختلف تھیں۔ جمہوریت کے بنیادی تصور کا آغاز یقیناً یہیں سے ہوا لیکن یہ کہنا غلط ہوگا کہ انہی جمہوریتوں نے موجودہ دور کی جمہوریتوں کو براہِ راست جنم دیا کیونکہ یونان اور روم کی شہری جمہوریتوں اور موجودہ دور کی جدید جمہوریتوں کے درمیان کم و بیش دو ہزار سالوں کا طویل زمانی فاصلہ حائل ہے۔
یونان کی شہری جمہوریتیں اپنی اصل میں بلاواسطہ جمہوریتیں تھیں اور ان میں تمام شہریوں کو براہِ راست کاروبارِ حکومت میں حصہ لینے اور رائے دینے کا حق حاصل تھا۔ چونکہ رقبے اور حجم کے اعتبار سے یہ ریاستیں بہت چھوٹی چھوٹی تھیں لہٰذا یہاں منتخب نمائندوں کی حکومت کا نہ کوئی تصور تھا اور نہ ضرورت۔ بہ حیثیت جمہوری حکومت ان کے قابل عمل ہونے کی بڑی وجہ بھی یہی تھی کہ ان میں سے کسی بھی ریاست کی آبادی دس ہزار نفوس سے تقریباً ہمیشہ ہی کم ہوتی تھی اور ان میں سے بھی خواتین اور غلاموں کو رائے شماری کے عمل میں حصہ لینے کا حقدار تصور نہ کیا جاتا تھا بلکہ ایتھنز میں ، جو کہ ان شہری جمہوریتوں میں عظیم ترین تھی، رائے دینے کا حق صرف انہی افراد کو حاصل تھا جن کی پیدائش و پرورش ایتھنز میں ہی وقوع پذیر ہوئی ہو۔ رائے دہندگان کی مختصر تعداد کی وجہ سے ہر مستحق شہری کا فیصلے کرنے اور کاروبارِ حکومت چلانے کے عمل میں حصہ لینا بڑی حد تک ممکن تھا۔ شہریوں کو مختلف حکومتی عہدے تفویض کئے جاتے تھے۔ ان میں سے بعض عہدوں کے حصول کے لئے باقاعدہ انتخاب لڑا جاتا تھا جبکہ بعض عہدے ذاتی پسند اور اہلیت کی بنیاد پر تقسیم کئے جاتے تھے۔ اختیارات کی تقسیم کا کوئی تصور موجود نہ تھا اور تمام حکومتی عہدیداروں ، اجتماعِ عوام (Popular Assembly) کے سامنے جواب دہ تھے۔ یہ اجتماعِ عوام حکومتی، آئینی اور قانونی غرض تمام سطحوں پر فیصلے کرنے اور انہیں بروئے عمل لانے کے اختیارات رکھتا تھا۔ روم کی جمہوریتیں بھی یونانی جمہوریتوں سے مختلف نہ تھیں البتہ اتنا ضرور تھا کہ بعض مواقع پر رومی، غیر رومیوں کو بھی اپنی شہریت سے نواز دیا کرتے تھے۔ یونان کی جمہوری ریاستیں تاریخ کے ایک مختصر سے دور کی تشکیل کرتی ہیں ، اور جیسا کہ پہلے ذکر ہوا، موجودہ دور کی جدید آئینی جمہوری حکومتوں پر ان کا کوئی براہِ راست اثر نہیں۔ 
پانچویں صدی قبل مسیح میں یونان کے مشہور فلسفی زینو نے فلسفہ جبریت پیش کیا۔ اس فلسفے کے تحت حقیقی خوشی کا حصول اسی وقت ممکن ہے جب زندگی کے تمام نشیب و فراز کو کسی ظاہری و باطنی جذبے سے متاثر ہوئے بغیر قبول کیا جائے اور اپنے اعمال کے کسی صلے کی توقع نہ رکھی جائے۔ بعد ازاں یہودی اور مسیحی مذاہب کا ظہور ہوا جن میں غیر مراعات یافتہ طبقے کے حقوق اور سب کی برابری پر زور دیا گیا تھا۔ ان نظریات سے جدید جمہوری نظریئے کے ظہور اور نشوونما میں خاصی مدد ملی۔
رومی جمہوریہ کا اختتام سلطنت کی بادشاہی پر ہوا۔ اٹلی، جرمنی اور فلانڈرز کی آزاد شہری ریاستوں نے جمہوری روایت کو زندہ رکھا اور ازمنۂ وسطیٰ میں چند ایک جمہوری اصولوں کو کاروبارِ سلطنت کا حصہ بنائے رکھا۔ لامحدود حکومتی اختیارات کو مذہبی، فطری اور روایتی قوانین کی بندشوں میں مقید کر کے محدود بنانے کا عمل جاری رہا اور آہستہ آہستہ جاگیرداری نظام کی بنیادیں کمزور پڑتی گئیں۔ بادشاہوں نے مطلق العنانی کا وطیرہ ترک کر کے اپنے فیصلوں اور افعال خصوصاً محاصل کے نفاذ کے لئے عوامی تائید و حمایت حاصل کرنے کا دستور اپنایا۔ انگلستانی بادشاہوں میں مختلف مفاداتی گروہوں کو شامل مشورہ کرنے کی روایت دوسرے ممالک کے مقابلے میں کہیں زیادہ طاقتور نظر آتی ہے اور اس کا ثبوت ہمیں میگنا کارٹا کی شکل میں ملتا ہے جسے 1215ء میں شاہ جان نے پابند تحریر کیا۔ اس معروف دستاویز کے تحت نظامِ حکومت میں جاگیرداروں اور آزاد شہریوں کے حقوق اور آزادیوں کو تسلیم کیا گیا اور اسے انگلستان میں شہری اور سیاسی آزادی کی بنیاد تصور کیا جاتا ہے۔
جوں جوں جاگیرداری نظام شکست و ریخت سے دوچار ہوا، ایک دولتمند متوسط طبقے کا ظہور ہونے لگا جس کے پاس اتنا فالتو پیسہ اور وقت موجود تھا کہ امورِ حکومت میں حصہ لینے کے متعلق سوچ سکے۔ اس کا ایک نتیجہ قدیم یونانی اور رومی اصولوں پر مبنی جذبۂ آزادی کی حیاتِ نو کی صورت میں نکلا۔ نشاۃ ثانیہ کے دوران جب حقوقِ انسانی کی شکل و صورت نکھر اور نتھر کر سامنے آئی تو مساوی سیاسی اور عمرانی حقوق کا تصور پہلے سے زیادہ واضح ہوا اور بعد ازاں جب مذہبی آزادی حاصل کرنے کی جدوجہد کا آغاز ہوا تو یہ مساوی حقوق حاصل کرنے کی تحاریک پہلے سے زیادہ زورآور اور موثر ہو گئیں۔ 
بادشاہت کے خلاف پہلی کامیاب بغاوت 1642ء میں انگلستان میں سامنے آئی جس کے نتیجے میں چارلس اول کو تختہ دار پر چڑھنا پڑا۔ انگلستان سے اٹھنے والی اس نئی لہر نے یورپ کی دیگر حکومتوں کو بھی متاثر کیا اور بتدریج جمہوریت پورے مغربی یورپ میں قدم جماتی گئی۔ 
جمہوریت کے فروغ اور اس کی نمو میں ان مفکرین و مصلحین کا بہت بڑا ہاتھ ہے جو صدیوں کے مذہبی و سیاسی جبر و استبداد کے خلاف ردِ عمل اور نشاۃ ثانیہ کے مثبت اثرات کے نتیجے میں ابھر کر سامنے آ رہے تھے۔ ان میں فرانسیسی فلاسفہ مونٹیسکیو اور روسو اور امریکی قائدین تھامس جیفرسن اور جیمز میڈیسن کے نام خصوصی طور پر قابل ذکر ہیں۔ 
19 ویں صدی کے اختتام پذیر ہونے سے پہلے مغربی یورپ کی تمام اہم بادشاہتوں کو آئینی حدود و قیود کی بیڑیاں پہنائی جا چکی تھیں اور تخت نشین کے اختیارات کا نمایاں حصہ عوام کو منتقل کیا جا چکا تھا۔ ان میں سے کئی ریاستوں میں برطانوی پارلیمنٹ کی طرز پر عوامی نمائندوں پر مشتمل قانون ساز مجالس بنائی جا چکی تھیں۔ یہی وجہ ہے کہ برطانوی پارلیمنٹ کو ’’پارلیمانوں کی ماں ‘‘ قرار دیا جاتا ہے اور تاریخ دان برطانوی جمہوریت کو دنیا بھر میں جمہوری حکومتوں کے قیام کے سلسلے میں اہم ترین عمل انگیز قرار دیتے ہیں اگرچہ اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ انقلابِ فرانس نے بھی دنیا بھر میں جمہوری روایتوں کو پروان چڑھانے میں نمایاں اور شاید ناگزیر کردار ادا کیا۔ بعد ازاں ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں جمہوری اداروں کی کامیابی نے کئی اقوام پر جمہوریت کے دروازے کھول دیئے۔
برطانیہ کا میگنا کارٹا، انقلابِ فرانس کا نقیب بننے والا ’’فرد اور شہری کے حقوق کا اعلامیہ‘‘ اور شمالی امریکی ریاستوں کی برطانوی تسلط سے ’’آزادی کا اعلان‘‘ سنانے والی دستاویز کا مسودہ، تین ایسی تاریخی دستاویزات ہیں جنہوں نے جغرافیائی حد بندیوں کی صورت بدلتے ہوئے ایک نئی تاریخ ہی رقم کر ڈالی۔ آج کے دور میں چاروں طرف بجتا ہوا جمہوری ڈنکا اور اس کو بجانے والی حکومتیں اسی تاریخ کا تازہ ترین حصہ ہیں۔ 

آج کی جمہوریت

جدید جمہوریہ کی مرکزی خصوصیات میں شخصی آزادی کو نمایاں اہمیت حاصل ہے جس کے تحت ریاست کے شہریوں کو اپنی زندگی خود بنانے اور اپنے معاملات کو آئین و قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے سلجھانے کی ذمہ داری سوپنی جاتی ہے اور آزادی فراہم کی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ قانون کی نگاہوں میں سب کی برابری، سب کے لئے تعلیم اور سب کے لئے حق رائے دہی جدید جمہوریہ کی اہم خصوصیات میں شامل ہیں۔ جمہوریت سے متعلقہ تمام تاریخی دستاویزات میں ان حقوق کی ضمانت فراہم کی گئی ہے۔ ریاست ہائے متحدہ امریکہ کا اعلانِ آزادی جو شہریوں کو زندگی، آزادی اور حصولِ مسرت کا حق فراہم کرتا ہے۔ انسان اور شہری کے حقوق کا فرانسیسی اعلان جو شہری آزادی اور قانون کی نگاہ میں سب کی برابری کی ضمانت مہیا کرتا ہے اور میثاقِ اوقیانوس (Atlantic Charter) جس کے تحت چار بنیادی آزادیوں کی ترتیب و تشکیل کی گئی۔
موجودہ دور میں چند گنی چنی مثالوں کے علاوہ، دنیا کے تقریباً ہر آزاد ملک میں طرزِ حکومت کے طور پر جمہوریت ہی کسی نہ کسی شکل میں رائج ہے۔ ایسے ممالک میں بھی جہاں کی حکومتیں عملاً جمہوریت پر کاربند نہیں ، حکومتی ذرائع کی طرف سے نظامِ حکومت کے طور پر جمہوریت کا نام ہی لیا جاتا ہے۔ اگرچہ جمہوریت کے متعلق وسیع پیمانے پر پھیلے ہوئے تصورات کم و بیش ایک سے ہی ہیں لیکن عمل اور نتائج کے اعتبار سے اس کی شکلیں مختلف جگہوں پٖر مختلف ہیں۔ آج کے دور میں کوئی بھی ریاست، خواہ وہاں یک جماعتی نظام رائج ہو یا کثیر جماعتی، کمیونزم کا دور دورہ ہو یا آمریت کا، ظاہراً جمہوریت کا لبادہ ہی اوڑھے ہوئے نظر آتی ہے۔ انیسویں صدی کے بعد سے اس نظامِ حکومت کو جو قبولِ عام حاصل ہوا ہے، اس کی مثال دورِ جدید میں اور کہیں نظر نہیں آتی۔
یہ جمہوریت کا مختصر ترین عمومی تعارف تھا۔ عموم سے گریز کرتے ہوئے تخصیص کی سطح پر اتر کر جائزہ لیا جائے تو ہمیں جمہوریت کی بہت سی ترقی یافتہ، پسماندہ، سنوری ہوئی اور بگڑی ہوئی شکلیں مختلف ناموں اور مختلف عنوانات کے تحت دنیا کے مختلف حصوں میں رائج نظر آتی ہیں۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ دو صدیوں کی کوششوں اور کاوشوں کے باوجود آج تک دانشورانِ عالم جمہوریت کسی جامع اور مفصل تشریح پر متفق نہیں ہو سکے۔ مختلف طبقہ ہائے فکر جمہوریت کے متعلق اپنی آرائ، اپنے خدشات اور اپنے تحفظات رکھتے ہیں۔ جمہوریت کے متعلق ہر زمانے کے مفکرین کی آراء پر نگاہ ڈالی جائے تو متنوع اور متضاد نظریات کا ایک رنگارنگ تسلسل نظر آتا ہے جن میں سے ہر ایک اپنی جگہ کسی نہ کسی ٹھوس بنیاد پر استوار ہے۔ مثال کے طور پر مشہور یونانی فلسفی افلاطون اپنی شہرۂ آفاق تصنیف ’’جمہوریہ‘‘ میں جمہوریت کے بارے میں لکھتا ہے:
’’جمہوریت ایک پُر کشش طرزِ حکمرانی ہے جو رنگارنگی اور انتشار سے مملو ہے اور مساوی اور عدم مساوی، دونوں کو ایک طرح کی مساوات فراہم کرتا ہے۔‘‘ 
آگے چل کر وہ کہتا ہے:
’’تب جمہوریت کی چند خصوصیات یہ ہوں گی… یہ ممکنہ طور پر ایک قابل قبول، لا قانون، رنگارنگ دولت مشترکہ ہوگی، جو سب سے مساوی سلوک کرے گی بے شک وہ مساوی ہوں یا نہ ہوں۔ ‘‘ 
اور اس کی تمام بحث کا ماحصل یہ ہے کہ:
’’جمہوریت بتدریج آمریت میں بدل جاتی ہے۔‘‘ 
اس کے برعکس ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے 39ویں صدر جمی کارٹر نے 2 جون 1978ء کے روز بھارتی پارلیمنٹ کے سامنے تقریر کرتے ہوئے کہا:
’’جمہوریت، بجائے خود زندگی کے تجربے کی طرح کا ایک تجربہ ہے۔ ہمیشہ بدلتی ہوئی، لامتناہی رنگ لئے، بعض اوقات شور انگیز اور نہایت قابل قدر کیونکہ یہ دشواریوں کی آزمودہ ہے۔‘‘
روسی انقلاب کا بانی ولادیمیر الیچ لینن اپنی کتاب ’’جمہوریت اور ریاست‘‘ میں جمہوری ریاست کے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے تحریر کرتا ہے:
’’جمہوری ریاست ایک ایسی ریاست ہوتی ہے جہاں اقلیت کا اکثریت کے تابع ہونا تسلیم کیا جاتا ہے۔‘‘ 
گویا جمہوریت پسند جسے اپنی خوبی تصور کرتے ہیں ، لینن کی نگاہ میں وہ ایک عیب ہے اور وہ جمہوریت میں اکثریت کی رائے کو اقلیت کی رائے پر فوقیت دینے کی انسانی انفرادیت اور رائے کی آزادی پر قدغن تصور کرتا ہے۔ اسی طرح مشہور امریکی مصنف رابرٹ ہائن لائن ایک جگہ لکھتا ہے:
’’جمہوریت کامیاب نہیں ہو سکتی۔ دنیا میں تین ہی چیزیں ہیں۔ ریاضی دان، مزدور اور جانور…… لہٰذا جمہوریت جس کی بنیاد اس نظریئے پر رکھی گئی ہے کہ ریاضی دان اور مزدور برابر ہیں ، کبھی کامیاب نہیں ہو سکتی۔‘‘ 
جمہوری عمل کے متعلق برطانوی مذہبی قائد ولیم رالف انگ ایک جگہ کہتے ہیں :
’’جمہوریت، محض ایک تجرباتی طرزِ حکومت ہے اور اس کی ایک نمایاں خامی یہ ہے کہ اس میں آراء کو تولنے کے بجائے ان کی گنتی کی جاتی ہے۔‘‘ 
کچھ ایسے ہی خیالات کا اظہار اس سے کچھ عرصہ قبل شاعرِ مشرق علامہ اقبال نے ان الفاظ میں کیا تھا:
جمہوریت اک طرزِ حکومت ہے کہ جس میں 
بندوں کو گنا کرتے ہیں ، تولا نہیں کرتے
اسی طرح سابق برطانوی وزیر اعظم لارڈ کلیمنٹ ایٹلی نے 14 جون 1957ء کو اوکسفرڈ میں تقریر کرتے ہوئے کہا۔ 
’’جمہوریت کے معنی ہیں حکومت بذریعہ گفت و شنید، لیکن یہ اسی صورت میں موثر ثابت ہو سکتی ہے اگر آپ لوگوں کو بولنے سے روک سکیں۔ ‘‘ 
ان الفاظ کاکیا مطلب نکالا جا سکتا ہے؟ کیا یہی کہ جب جمہوریت میں عوام کو بولنے کی آزادی دی جاتی ہے تو وہ اتنا شور و غوغا برپا کرتے ہیں کہ منطق اور شعور کی آوازیں اس بے سروپا ہنگام میں دب کر رہ جاتی ہیں یا یہ کہ عوام کو یہ شعور اور تمیز نہیں کہ کس موضوع پر کب بولنا چاہئے اور کب خاموش ہو جانا چاہئے؟ ان الفاظ کو مد نگاہ رکھا جائے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جیسے جمہوریت عوام کو آزادیِ اظہار اور آزادیِ عمل کا شعور دینے کے بجائے ان پر عائد تمام اخلاقی و معاشرتی پابندیاں ہٹا دیتی ہے اور انہیں اجازت دے دیتی ہے کہ وہ جب اور جہاں چاہیں ، شور مچاتے اور ٹانگ اڑاتے پھریں … اور پھر یہ بھی غور فرمایئے کہ یہ الفاظ اس ملک کے وزیر اعظم کی طرف سے کہے جا رہے ہیں جسے مادرِ جمہوریت قرار دیا جاتا ہے۔ بات صرف یہیں پر ختم نہیں ہو جاتی بلکہ کئی دیگر برطانوی مفکرین بھی جمہوریت کے متعلق اسی طرح کے شبہات اور مخالف نظریات کے حامل نظر آتے ہیں مثلاًسترہویں صدی کے عظیم برطانوی شاعر اور ڈرامہ نگار جان ڈرائیڈن کا کہنا ہے:
’’اور نہ ہی عوام کا فیصلہ ہمیشہ سچا ہوتا ہے۔ اکثریت بھی ویسے ہی فاش غلطی کی مرتکب ہو سکتی ہے جیسے کہ اقلیت۔‘‘
اسی طرح مشہور برطانوی مورخ لارڈ ایکٹن اپنی کتاب ’’تاریخ آزادی‘‘ میں لکھتے ہیں :
’’جمہوریت کی سب سے بڑی خامی، اکثریت کی آمریت ہے۔‘‘ 
اور اس سے بھی بڑھ برطانوی سیاستدان کرس پیٹن کا یہ بیان کہ:
’’جمہوریت میں ہر ایک کو نمائندگی کا حق حاصل ہوتا ہے، بشمول احمقوں کے۔‘‘ 
ان سب آراء کو مد نظر رکھا جائے تو جمہوریت عوام کے لئے مفید ثابت ہونے کے بجائے نقصان دہ نظر آتی ہے اور شاید اسی لئے مشہور شاعر اور ڈرامہ نگار آسکر وائلڈ نے اپنے مخصوص طنزیہ اور کسی قدر بد تمیزانہ انداز میں جمہوریت کا مفہوم کچھ یوں بیان کیا تھا کہ:
’’جمہوریت کا مطلب محض اتنا ہے کہ عوام کی ٹھکائی، عوام کے ہاتھوں ، عوام کے لئے۔‘‘ 
یہ آراء بڑے سیدھے سادے طریقے سے ہمیں یہ اطلاع دیتی ہیں کہ عامۃ الناس اپنی عقلی و شعوری سطح کے حوالے سے اس قابل نہیں کہ انہیں خود پر حکمرانی کرنے کے لئے کھلا چھوڑ دیا جائے۔ ضروری ہے کہ ایسے علماء و فضلاء کا ایک گروہ ہمیشہ عوام کی نگرانی کرتا رہے اور انہیں کبھی بھی صراطِ مستقیم سے بھٹکنے نہ دے۔ شاید اسی نظریئے کی بناء پر متحدہ سوویت یونین اور دیگر کئی ممالک میں یک جماعتی سیاسی نظام کا نفاذ کیا گیا اور یوں اشراف کا ایک گروہ عوام کے سروں پر بٹھا دیا گیا جس کا کام عوام کی بہبود کے لئے فیصلے کرنا، اور انہیں ملکی ترقی کی راہ پر گامزن رکھنا تھا۔ یہ نظام کس حد تک کامیاب اور کس حد تک ناکام ہوا، یہ ایک الگ بحث ہے اور اس کی نوعیت جمہوری تھی یا آمرانہ، یہ بھی ایک الگ عنوان ہے لیکن یہ بات قابل غور ہے کہ بظاہر یہ نظام بھی لبادہ جمہوریت کا ہی اوڑھے ہوا تھا۔ سابق روسی صدر میخائل گوربا چوف یو ایس ایس آر کی کمیونسٹ پارٹی کی 27 ویں پارٹی کانگریس کے نام اپنی رپورٹ میں لکھتے ہیں :
’’جمہوریت صحت افزاء اور خالص ہوا ہے جس کے بغیر کوئی اشتراکی عوامی تنظیم ایک خالص زندگی نہیں گزار سکتی۔‘‘ 
گوربا چوف کے اپنے افعال اگرچہ ان کے اقوال پر دلالت کرتے ہوئے نظر آتے ہیں لیکن یہ بھی سوچا جا سکتا ہے کہ اگر کئی عشروں پر محیط سرد جنگ، دنیا بھر میں کمیونسٹ تحاریک اور کمیونسٹ حکومتوں کی خفیہ امداد اور اونٹ کی کمر پر آخری تنکا ثابت ہونے والی افغان سوویت جنگ نے اگر روسی معیشت کو منہدم نہ کر دیا ہوتا تو کیا گوربا چوف وہ تمام اقدامات کرتے جن کی بناء پر انہیں 1990ء کا نوبل امن انعام ملا، سوویت یونین تحلیل ہوا، کئی آزاد نئی ریاستیں وجود میں آئیں ، افغانستان کو(چاہے ایک مختصر سے عرصے کے لئے ہی سہی) آزادی نصیب ہوئی اور سرد جنگ کا خاتمہ ہوا؟ اس سوال کا جواب دینے کے لئے بڑے ٹھنڈے دل سے غور و فکر کرنے اور ان تمام پالیسیوں کا گہرا جائزہ لینے کی ضرورت ہے جو متحدہ سوویت یونین نے اپنے عروج کے ایام میں اپنائے رکھیں۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو گوربا چوف کے بجائے میانمر کی مشہورِ زمانہ سیاستدان اور حقوقِ انسانی کی مبلغہ آنگ سان سوکی کی یہ رائے زیادہ مخلصانہ اور قریب از حقیقت نظر آتی ہے:
’’ترقی کے لئے جمہوریت، عوام کو حقیقی معنوں میں اختیار کی تفویض، ناگزیر ہے۔‘‘
یا پھر جنوبی افریقہ کے نجات دہندہ نیلسن منڈیلا کی یہ حدیث دل جو انہوں نے اپنی کتاب ’’جدوجہد میری زندگی ہے‘‘ میں بیان کی:
اپنی رہائی کے بعد سے میرے اس یقین میں بتدریج پختگی آئی ہے کہ ہمارے ملک کے عام مرد اور عورتیں حقیقی معنوں میں تاریخ کے بنانے والے ہیں۔ مستقبل کے متعلق ہر فیصلے میں ان کی شمولیت حقیقی جمہوریت اور آزادی کی واحد ضمانت ہے۔‘‘
یہ ان لوگوں کے بیان ہیں جنہوں نے اپنی زندگی ایسی حکومتوں کے خلاف جدوجہد کرتے ہوئے گزاری ہے جو غیر جمہوری ہوتے ہوئے بھی جمہوریت کا لبادہ اوڑھے ہوئے تھیں اور ان کی جنگ آج بھی جاری ہے۔
جمہوریت کو کامیاب بنانے کے لئے ضروری ہے کہ اس کے اصول و ضوابط پر اعتماد کیا جائے اور اس کے اوصافِ حمیدہ و غیر حمیدہ کو شک کی نگاہ سے دیکھنے کے بجائے صبر و تحمل سے ان کا تجزیہ کیا جائے۔ شاید امریکیوں نے یہ سبق دنیا کی دیگر جمہوری حکومتوں سے بہت پہلے سیکھ لیا تھا اور شاید اسی لئے وہاں کے قائدین میں جمہوریت پر اعتماد دوسروں کے مقابلے میں کہیں زیادہ مضبوط اور گہرا نظر آتا ہے۔ عظیم امریکی صدر ابراہام لنکن کی تشریحات و آراء اس ضمن میں نہایت قابل قدر حیثیت رکھتی ہیں۔ اس کے الفاظ اگرچہ ملمع کاری سے پاک اور سادگی سے مملو ہیں لیکن ان کی دیانت اور خلوص پہلی نگاہ میں ہی پڑھنے والے کے دل پر ایک گہرا اثر چھوڑتے ہیں اور اس سے کچھ اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ جن لوگوں نے خود اس عظیم ہستی کے منہ سے ان الفاظ کو سنا ہوگا اور جن لوگوں نے اسے اپنا مثالیہ بنا کر اس کے اقوال کو مشعل راہ بنایا ہوگا، ان کے قلب و ذہن پر ان کے کتنے گہرے اثرات مرتب ہوئے ہوں گے۔ 4 مارچ 1861ء کو اپنے پہلے ہی خطبہ صدارت میں انہوں نے واشگاف الفاظ میں یہ واضح کر دیا:
’’یہ ملک اپنے اداروں سمیت ان عوام کی ملکیت ہے جو اس میں بستے ہیں۔ جب کبھی وہ موجودہ حکومت سے تنگ آ جائیں تو وہ اسے تبدیل کرنے کے لئے اپنا آئینی اختیار استعمال کر سکتے ہیں یا اسے توڑنے یا گرانے کے لئے اپنا انقلابی اختیار بروئے کار لا سکتے ہیں۔ ‘‘ 
16 اکتوبر 1854ء کو انہوں نے اپنی ایک تقریر میں کہا:
’’کسی انسان میں اتنی قابلیت نہیں کہ وہ کسی دوسرے انسان کی مرضی کے بغیر اس پر حکومت کر سکے۔‘‘ 
جمہوریت کے متعلق اپنا تصور بیان کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں :
’’چونکہ میں کسی کا غلام نہیں بنوں گا، اس لئے میں کسی کا آقا بھی نہیں بنوں گا۔ یہ میرا تصورِ جمہوریت ہے۔‘‘ 
اور پھر سب سے مختصر اور سب سے موثر، 19 مئی 1856ء کو کی جانے والی تقریر میں شامل یہ الفاظ:
’’ووٹ، گولی سے زیادہ طاقتور ہے۔‘‘
لنکن کے نقش قدم پر چلتے ہوئے امریکہ کے 36 ویں صدر لنڈن بی جانسن نے 6 اگست 1965ء کو اپنی ایک تقریر میں کہا:
ناانصافی کو ختم کرنے اور ان مہیب دیواروں کو، جو انسانوں کو صرف اس لئے مقید رکھتی ہیں کہ وہ دوسرے انسانوں سے مختلف ہیں ، منہدم کرنے کے لئے انسان نے جو سب سے طاقتور ہتھیار آج تک ایجاد کیا ہے، وہ ووٹ ہے۔‘‘ 
بات محض طبقہ سیاست کے عمائدین تک محدود نہیں رہتی، بلکہ نظامِ حکومت کے دیگر اہم شعبوں میں بھی ہمیں اس کا اثر نظر آتا ہے لہٰذا مشہور امریکی ماہر دینیات رینولڈ نیبور اپنی کتاب ’’اولادِ نور و اولادِ ظلمت‘‘ میں لکھتے ہیں :
’’انسان میں پائی جانے والی منصفی کی اہلیت کی بدولت جمہوریت کا ظہور ممکن ہے لیکن انسان میں پائے جانے والے ناانصافی کی رجحان کی وجہ سے جمہوریت کا قیام ازبس ضروری ہے۔‘‘
یہ فرض نہیں کیا جانا چاہئے کہ امریکہ میں جمہوری روایات کی یہ پاسداری اور جمہوریت پر یہ اعتماد ہمیشہ سے موجود رہا ہے۔ ابتداً وہاں بھی جمہوریت کے متعلق تحفظات موجود تھے اور جب دوسرے صدرِ امریکہ جان ایڈمز نے مندرجہ ذیل الفاظ کہے تو غالباً وہ انہی تحفظات کا اظہار کسی قدر زیادہ شدت سے کر رہے تھے:
’’یاد رکھئے کہ جمہوریت کبھی دیرپا ثابت نہیں ہوتی۔ یہ جلد ہی اپنے آپ کو نچوڑ کر، ضائع کر کے، قتل کر دیتی ہے۔ آج تک کوئی ایسی جمہوریت ظہور پذیر نہیں ہوئی جس نے خودکشی نہ کر لی ہو۔‘‘ 
جمہوریت کے متعلق افراد کی آراء کے منفی حصے کو مندرجہ ذیل دو اقوال میں مجتمع کیا جا سکتا ہے۔ آسٹریائی طنز نگار کارل کراز ایک جگہ لکھتے ہیں :
’’جمہوریت کے معنی ہیں ہر ایک کا غلام بننے کا موقع۔‘‘ 
اور اسی طرح نارویجن ڈرامہ نگار ہنرک ابسن کا کہنا ہے کہ:
’’اکثریت کبھی درست نہیں ہوتی۔ میں کہتا ہوں کبھی نہیں۔ یہ ایک ایسا جھوٹ ہے جس کے خلاف کوئی بھی آزاد اور با شعور آدمی آواز اٹھائے بغیر نہیں رہے گا۔ آبادی کا بڑا حصہ کس قسم کے لوگوں پر مشتمل ہوتا ہے… عقلمندوں پر یا بے وقوفوں پر؟ میرے خیال میں ہم اس پر اتفاق کر سکتے ہیں کہ (یہ بڑا حصہ) بے وقوفوں پر (مشتمل ہوتا ہے)، چاہے آپ دنیا میں کہیں بھی چلے جائیں ، بیوقوف ہی غالب اکثریت میں ہوتے ہیں۔ ‘‘ 
غالباً جمہوریت پر اعتراض کرنے والوں کے سب سے بڑے اعتراض یہی ہیں کہ جمہوریت میں شخصی انفرادیت کا احترام اس پیمانے پر نہیں کیا جاتا جس پیمانے پر کیا جانا چاہئے اور یہ کہ جمہوریت میں ووٹ دینے والوں کے عقلی معیار کو مد نگاہ رکھنے کے بجائے ووٹوں کی گنتی کو کامیابی و ناکامی یا قبولیت و عدم قبولیت کا معیار بنایا جاتا ہے جو نہ صرف یہ کہ غلط ہے بلکہ بعض صورتوں میں صریحاً ناانصافی بھی ہے۔
میں ان اعتراضات سے خاصی حد تک اتفاق کرتا ہوں لیکن میرے لئے جمہوریت کے مثبت پہلو اجاگر کرنے والوں کی آراء بھی قابل احترام ہیں اور سیدھے سبھاؤ ان میں سے کسی ایک کو چھوڑ کر کسی ایک کا انتخاب کر لینا میرے نزدیک دانشمندی کی علامت نہ ہوگا۔ اس موضوع پر کوئی رائے دینے سے بہتر یہ ہوگا کہ ہم جمہوری حکومتوں کا مطالعہ کریں ، تاریخ کی روشنی میں ان کی کارکردگی کا تجزیہ کریں اور اس کے بعد اپنے عقل و شعور کی روشنی میں فیصلہ کریں کہ جمہوریت کہاں کامیاب نظر آتی ہے اور کہاں ناکام؟ اس کی ناکامی کی وجوہات اور کامیابی کے اسباب کیا ہیں۔ اس باب میں کوئی حتمی فیصلہ کرنے کا اس سے بہتر طریقہ اور کوئی نہیں۔ 
٭٭٭


 
جمہوریت کے اصول و صفات اور اس کے مظاہر


جیسا کہ پہلے ذکر ہوا، ڈیموکریسی یعنی جمہوریت دو یونانی الفاظ کا مرکب ہے جن کا مجموعی مفہوم ہے، عوام کی حکومت، یعنی جمہوریہ میں عوام کو مقننہ اور حکومت پر بالادستی حاصل ہوتی ہے۔ اگرچہ اس حوالے سے قائم ہونے والی جمہوری حکومت میں چند لطیف سے فرق بغور جائزہ لینے سے نظر آ جاتے ہیں لیکن بعض اصول اور اوصاف تمام حقیقی جمہوری حکومتوں میں مشترک نظر آتے ہیں ، اور انہیں دیگر نظام ہائے حکومت سے ممیز کرتے ہیں۔ یہ اوصاف اور اصول حسب ذیل ہیں :
٭	جمہوریہ ایک ایسی حکومت ہے جس میں تمام شہری اختیارات کے استعمال اور مدنی فرائض کی ادائیگی میں ، براہِ راست یا آزادانہ طریق انتخاب سے چنے گئے اپنے نمائندوں کے ذریعے برابر کا حصہ لیتے ہیں۔ 
٭	جمہوریہ ایسے اصولوں اور ضابطوں پر استوار ہوتی ہے جو انسانی آزادی کا نہ صرف تحفظ کرتے ہیں بلکہ اسے ایک پختہ روایت کی شکل دے دیتے ہیں۔ 
٭	جمہوریہ کی بنیاد اکثریت کی حکمرانی کے اصول پر رکھی جاتی ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ اقلیت اور فرد کے حقوق کو بھی ملحوظِ خاطر رکھا جاتا ہے۔ ہر جمہوری حکومت جہاں اکثریت کی رائے کا احترام کرتی ہے، وہیں پورے جوش و خروس سے افراد اور اقلیتوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ بھی کرتی ہے۔
٭	جمہوریہ میں ایک فردِ واحد یا ادارے کو تمام اختیارات اور اقتدار کا مرکز بننے کی اجازت نہیں دی جاتی بلکہ علاقائی اور مقامی سطحوں پر اقتدار کو تقسیم کر کے اس کی مرکزیت ختم کر دی جاتی ہے، اور اس بات کا خیال رکھا جاتا ہے کہ ذیلی سطح پر استوار ہونے والی ایسی حکومتیں عوامی مسائل کے حل میں فعال ہونے کے ساتھ ساتھ ہر ممکن حد تک عوام کی آسان رسائی میں بھی ہوں۔ 
٭	جمہوری حکومتوں کو اس حقیقت کا گہرا شعور ہوتا ہے کہ آزادیِ تقریر اور آزادیِ مذہب جیسے بنیادی انسانی حقوق کا تحفظ، ہر ایک کو مساوی قانونی تحفظ کی فراہمی، اور معاشرے کی سیاسی، معاشی اور ثقافتی زندگی میں سب کو پورا پورا حصہ لینے اور اپنا کردار ادا کرنے کے مواقع فراہم کرنا ان کے مرکزی فرائض میں شامل ہے۔ 
٭	جمہوری حکومتوں کے تحت آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کا انعقاد باقاعدگی سے ہوتا رہتا ہے، جس میں رنگ و نسل کے امتیاز کے بغیر ملک کا ہر شہری پوری آزادی سے حصہ لیتا ہے۔ جمہوری حکومت کے انتخابات شخصی آمریت کے علمبرداروں کی طرف سے منعقد کرائے جانے والے انتخابات کی طرح اپنی غیر منصفانہ و غیر قانونی حکومت کو قانونی جواز فراہم کرنے کا بہانہ نہیں ہوتے، بلکہ عوام کی حمایت حاصل کرنے کی صحت مندانہ اور مستند مسابقت ہوتے ہیں۔ 
٭	جمہوری حکومت اپنے بنائے ہوئے قانون کی پابندی سب سے پہلے کرتی ہے اور اس امر کو یقینی بناتی ہے کہ تمام شہریوں کے جان و مال اور بنیادی حقوق کو قانونی تحفظ مساوی بنیادوں پر میسر رہے۔
٭	جمہوری حکومتوں میں تنوع کو بنیادی عنصر کی حیثیت حاصل ہوتی ہے کیونکہ ہر جمہوری حکومت اپنے ملک کی منفرد سیاسی، سماجی اور ثقافتی زندگی کی آئینہ دار ہوتی ہے۔ جمہوری حکومت کو بے لچک اور جمود کے شکار ضابطوں کے بجائے بنیادی اصولوں پر ایستادہ کیا جاتا ہے جو سادہ ہونے کے سبب نہایت وسیع تناظر کے حامل ہوتے ہیں۔ 
٭	جمہوریہ کے شہری کی کہانی صرف حقوق کے حصول پر ہی ختم نہیں ہوتی بلکہ اس پر فرائض بھی عائد کئے جاتے ہیں ، اور اس کا سب سے اہم فریضہ سیاسی نظام میں حصہ لینا ہے جو آگے چل کر اس کے حقوق اور آزادیوں کا تحفظ کرتا ہے۔
٭	جمہوری معاشرے اعتدال، برداشت، تعاون اور سمجھوتے کے اصولوں پر پورا یقین رکھتے ہیں۔ انہیں علم ہوتا ہے کہ کسی مسئلے پر اتفاقِ رائے حاصل کرنے کے لئے سمجھوتہ کرنا ناگزیر ہوتا ہے اور یہ بھی کہ اتفاقِ رائے کا حصول ہمیشہ ممکن نہیں ہوتا اور اختلافِ رائے کو خندہ پیشانی سے برداشت کیا جانا چاہئے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ انتہاپسندی، اختلاف کو برداشت نہیں کر سکتی لہٰذا جمہوری معاشروں میں اعتدال پسندی کو خصوصاً فروغ دیا جاتا ہے اور باہمی تعاون کی فضا پیدا کر کے ماحول کو اتفاقِ رائے کے لئے سازگار بنایا جاتا ہے۔
یہ تھا جمہوریت کے ان چیدہ و چنیدہ اوصاف کا مجمل بیان جن کا مشاہدہ کسی بھی حقیقی جمہوری معاشرے کی ساخت و افعال میں کیا جا سکتا ہے۔ مجھے نہایت عاجزی کے ساتھ اعتراف ہے کہ عمر عزیز کا غالب حصہ سیاست کے دشت کی سیاحی میں گزارنے اور اس کے تلخ و شیریں ذائقوں سے مقدور بھر تلخ و شاد کام ہونے کے باوجود میں آج بھی سیاسی نظریہ سازی کے میدان میں ایک مبتدی سے بڑھ کر کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔ مجھے کسی نئے سیاسی اسلوب اور فکر کا بانی ہونے کا دعویٰ کرنے کا بھی یارا نہیں ، کیونکہ ایسا کوئی کارنامہ میری ذات سے ظاہر نہیں ہوا، لیکن مذکورہ صدر فہرست کو میں پورے اعتماد کے ساتھ، اگر مکمل نہیں ، تو مستند ضرور قرار دے سکتا ہوں کیونکہ یہ محض میرے زورِ عقل و قلم کا حاصل نہیں ، بلکہ اس کے عقب میں ان اقوام کے مجموعی تجربے کا نچوڑ کارفرما ہے جو گذشتہ کئی صدیوں سے جمہوریت کو اس کے ہر رنگ میں پرکھتی اور برتتی چلی آ رہی ہیں۔ ان کی صداقت اور پختگی کی آزمائش آپ اپنے طور پر کسی بھی سطح پر کر سکتے ہیں۔ آزما دیکھئے، حقیقت خودبخود منکشف ہو جائے گی۔
جمہوریت کے مظاہر کو واضح کرنے کے لئے ہم دو بڑی جمہوری حکومتوں کا جائزہ لیں گے یعنی برطانیہ اور امریکہ۔ ان میں اولیت برطانیہ کو حاصل ہے کیونکہ یونانی شہری ریاستوں کے بعد جمہوریت کا نیا جنم حقیقی معنوں میں یہیں ہوا، اور یہیں سے اس کے اثرات پوری دنیا میں پھیلے۔ اس کی تاریخ کا بنظر غائر جائزہ لینے سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ جمہوریت کا ظہور یہاں کن حالات میں اور کن اسباب و عوامل کے تحت ہوا، اور کیا وجہ ہے کہ ایک طویل عرصے سے یہاں جمہوری روایات کا تسلسل اتنے استقلال اور پختگی سے جاری ہے، اور یہ کیسے ممکن ہوا کہ بادشاہت اور جمہوریت جیسے دو باہم متصادم نظام ہائے حکومت نے اس ملک میں پہلی دفعہ ایک ایسا سمجھوتہ کر لیا جو آج تک بڑی سہولت اور کامیابی سے چل رہا ہے اور شیر اور بکری کے ایک گھاٹ پر پانی پینے والی ضرب المثل کو مسلسل حقیقت کا روپ دے رہا ہے۔
ریاست ہائے متحدہ امریکہ کا ذکر اس لئے ضروری ہے کیونکہ اس وقت اسے دنیا کی طاقتور ترین جمہوری حکومت کا مقام حاصل ہے۔ امریکہ والوں نے بنیادی جمہوری روایات اگرچہ برطانیہ سے ہی حاصل کیں لیکن ان کی اختیار کردہ جمہوریت اپنی نوعیت میں برطانوی جمہوریت سے بہت حد تک مختلف اور دوسری جمہوریتوں سے کئی لحاظ سے منفرد ہے۔ ویسے بھی، جیسا کہ مندرجہ بالا فہرست میں متذکر ہو چکا، ہر جمہوری حکومت اپنے ملک کی منفرد سیاسی، سماجی اور ثقافتی زندگی کے اثرات کی بدولت، دوسری جمہوریتوں سے ممیز ہوتی ہے، اور جمہوری تنوع کو سمجھنے کے لئے امریکی جمہوریت سے بہتر مثال اس وقت اور کوئی نہیں۔ 

برطانیہ

برطانیہ متعدد چھوٹے بڑے جزیروں پر مشتمل شمال مغربی یورپ کی ایک آئینی بادشاہت ہے جس کے سب سے بڑے جزیرے کو عرفِ عام برطانیہ عظمیٰ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ انگلینڈ یا انگلستان، برطانیہ عظمیٰ کا سب سے بڑا اور سب سے گنجان آباد حصہ ہے جو اس کے جنوبی اور مشرقی حصے کو تشکیل دیتا ہے۔ مغرب میں ویلز اور شمال میں سکاٹ لینڈ آتے ہیں جبکہ شمالی آئرلینڈ، جو کہ جزائر برطانیہ کا دوسرا بڑا جزیرہ ہے، آئرلینڈ کے شمال مشرقی کونے پر ایستادہ ہے۔ لندن اس کا دارالحکومت ہے جو انگلستان کے جنوب مشرقی سرے پر واقع ہے۔
اس سلطنت کے نام کے متعلق ایک بات خصوصاً قابل ذکر ہے، وہ یہ کہ اکثر لوگ اس کا ذکر کرتے ہوئے، اس کے مختلف ناموں کو آپس میں خلط ملط کر دیتے ہیں۔ متحدہ سلطنت (یونائیٹڈ کنگڈم)، یو کے اور برطانیہ اس پورے ملک کو بیان کرنے کے لئے درست نام ہیں لیکن عموماً اب اس کے لئے برطانیہ عظمیٰ کی اصطلاح مستعمل نہیں رہی کیونکہ اب برطانیہ عظمیٰ کا مطلب صرف وہی جزیرہ لیا جاتا ہے جس کا سرکاری نام برطانیہ عظمیٰ ہے۔ اس میں شمالی آئرلینڈ شامل نہیں۔ اسی طرح اس کے لئے رسمی طور پر انگلستان یا انگلینڈ کا لفظ استعمال کرنا بھی درست نہیں کیونکہ انگلستان اس سلطنت کا صرف ایک حصہ ہے۔ اس کے علاوہ اس سلطنت کے کسی بھی حصے سے تعلق رکھنے والے فرد کو اگر ہم برطانوی کہہ کر پکاریں تو درست ہوگا، مگر ہم ان سب کو انگریز کہہ کر نہیں پکار سکتے کیونکہ انگریز صرف وہی کہلائیں گے جن کا تعلق انگلستان سے ہوگا، جبکہ سکاٹ لینڈ سے تعلق رکھنے والوں کو سکاٹش، آئرلینڈ سے تعلق رکھنے والوں کو آئرش اور ویلز سے تعلق رکھنے والوں کو ویلش کہہ کر پکارا جائے گا۔
جسامت کے اعتبار سے برطانیہ ایک چھوٹی سی ریاست ہے۔ اس کا رقبہ محض 244110 مربع کلومیٹر ہے اور آبادی چھ کروڑ سے زائد (جو کہ اس کے رقبے کے لحاظ سے بہت گنجان ہے)، لیکن اس چھوٹی سی ریاست نے ایک وقت میں روئے زمین کی سب سے بڑی سلطنت کو قائم کیا جس کی حدود اس قدر وسیع تھیں کہ سورج کو ان پر ڈھلنے کا موقع بھی نصیب نہ ہوتا تھا۔ ایک وقت میں دنیا کے چوتھائی حصے پر پھیلی ہوئی یہ سلطنت گو اب سکڑ سمٹ کر اپنی کئی سابقہ نو آبادیوں سے بھی مختصر ہو گئی ہے لیکن اس کے باوجود، آج بھی، اسے دنیا کی طاقتوں میں ایک اہم اور نمایاں مقام حاصل ہے۔ اس کی معیشت نہایت مضبوط ہے، فنونِ لطیفہ، سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدانوں میں اس کی حیثیت امتیازی ہے اور اقوامِ متحدہ کے پانچ بڑوں میں اس کا شمار ہوتا ہے۔ اس کے تاریخی نشیب و فراز اور ثقافت نے دنیا کے کئی حصوں پر گہرے اثرات مرتب کئے ہیں اور اس کی زبان کو دنیا کی مقبول ترین ثانوی زبان ہونے کا درجہ حاصل ہے۔ جن خطوں سے اس قوم کو نکلنا پڑا، وہاں یہ اپنی کئی روایات، رسوم اور آداب (اور بعض جگہوں پر خونریز تنازعے) چھوڑ آئی اور ان حوالوں سے اس کے سابقہ محکوم، آج بھی اس کے دور کو یاد رکھے ہوئے ہیں۔ اپنی سابقہ نو آبادیوں کے انتظام و انصرام کے لئے جو قوانین، ادارے اور عہدے اس نے بنائے، ان میں سے کئی ایک آج بھی ان کے مجموعہ ہائے قوانین، حکومت اور انتظامیہ کا حصہ ہیں۔ دنیا کے بعض ایسے حصے بھی جہاں ، برطانیہ کے قدم نہ پہنچ سکے، اس کا تیار کردہ پارلیمانی نظامِ حکومت اپنائے ہوئے ہیں۔ اس قوم نے دنیا کے پہلے صنعتی انقلاب کو جنم دیا اور پہلا ایسا معاشرہ قائم کیا جس میں متوسط طبقے کو فوقیت حاصل ہوئی اور اسی نے سب سے پہلے اپنی نصف سے زائد آبادی کی رہائش کے لئے شہر تعمیر کئے۔ اس کے شعراء، ادباء اور مصوروں نے دنیائے ادب و فن کو نت نئے رجحانات و امکانات سے متعارف کرایا اور کئی نئی روایتوں کو جنم دیا اور بلوغ تک پہنچایا۔
برطانیہ اس مقام تک کیسے پہنچا، اس کی داستان طویل بھی ہے اور لذیذ بھی، مگر اس کے تفصیلی بیان کی یہاں گنجائش نہیں۔ زیر نظر موضوع تک محدود رہتے ہوئے یہاں صرف اتنا جائزہ لیا جائے گا کہ برطانیہ میں جمہوریت کیسے ظاہر ہوئی، پھلی پھولی اور اس مقام تک پہنچی جہاں آج ہم اسے دیکھ رہے ہیں ، وہ پارلیمنٹ کیسے وجود میں آئی جسے آج دنیا بھر میں ’’پارلیمانوں کی ماں ‘‘ کے نام سے جانا جاتا ہے، اور یہ کیسے ممکن ہوا کہ مطلق العنان بادشاہی نے عوامی حکومت کے سامنے سر جھکا کر، اپنے اختیارات سے دستبردار ہو کر اور اپنے لئے ایک بالکل مختلف نوعیت کا کردار چن کر، جمہوریت کے ساتھ بقائے باہمی کے اصول پر گزران کرنے کا مرحلہ عبور کیا؟
لیکن ان سب سوالوں کے جواب ڈھونڈنے سے پہلے برطانیہ کے متعلق چند اہم بنیادی حقائق پر نگاہ ڈالتے چلیں۔ 
مملکت کا سرکاری نام ’’برطانیہ عظمیٰ اور شمالی آئرلینڈ کی متحدہ سلطنت‘‘ ہے۔ اس کا دارالحکومت لندن ہے۔ آبادی اور رقبے کا تذکرہ پہلے ہو چکا ہے۔ آبادی میں اضافے کی شرح 0.29 فیصد سالانہ ہے۔ اس کے باشندوں میں سے 89 فیصد شہری علاقوں میں آباد ہیں جبکہ بقیہ کا تعلق دیہاتی حصے سے ہے۔ آبادی کے لحاظ سے اس کے بڑے شہروں میں لندن (آبادی 72 لاکھ)، برمنگھم (آبادی تقریباً دس لاکھ)، لیڈز (آبادی سات لاکھ) ، گلاسگو (آبادی تقریباً چھ لاکھ) اور شیفیلڈ (آبادی پانچ لاکھ) شامل ہیں۔ نسلی اعتبار سے دیکھا جائے تو اس کی 94 فیصد آبادی سفید فام ہے، دو فیصد ہندوستانی، ایک فیصد پاکستانی اور بقیہ تین فیصد کا تعلق سیاہ فام یا دیگر طبقات سے ہے۔ رابطے اور ابلاغ کی مرکزی زبان انگریزی ہے لیکن مخصوص حصوں میں ویلش اور سکاٹش زبانیں بھی بولی جاتی ہیں۔ مذہبی حوالے سے اس کی 45 فیصد آبادی اینگلی کن مسیحی عقیدے سے تعلق رکھتی ہے۔ دس فیصد رومن کیتھولک اور نو فیصد کا تعلق پروٹسٹنٹ فرقے کے دیگر مسالک سے ہے۔ 2 فیصد لوگ مسلمان ہیں اور دو فیصد کا تعلق ہندو، سکھ اور یہودی مذاہب سے ہے۔ 20 فیصد لوگ دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والوں میں شامل ہیں اور 12 فیصد ایسے ہیں جو سرے سے کسی مذہب پر یقین ہی نہیں رکھتے۔
یہاں اوسط عمر 78 برس ہے۔ خواتین کی اوسط عمر کا اندازہ 81 برس کے قریب اور مردوں کا 76 برس کے لگ بھگ لگایا گیا ہے۔ اندازاً ہر 548 افراد کے لئے ایک ڈاکٹر اور 241 افراد کے لئے ہسپتال کا ایک بستر دستیاب ہے۔ 
شرح خواندگی 99 فیصد ہے۔ تعلیم پر جی این پی کا 4.4 فیصد حصہ خرچ کیا جاتا ہے اور 12 سال کی عمر تک کے ہر بچے کے لئے تعلیم حاصل کرنا لازم ہے۔ پرائمری سکول کی سطح پر ہر طالب علم کے لئے ایک استاد دستیاب ہوتا ہے۔ 
نظامِ حکومت کے طور پر یہاں آئینی بادشاہت رائج ہے۔ شاہی حکمران کو سربراہِ مملکت کی حیثیت حاصل ہوتی ہے البتہ مرکزی عامل کا عہدہ وزیر اعظم کے پاس ہوتا ہے۔ اٹھارہ سال کا ہندسہ عبور کر جانے والے ہر فرد کو ووٹ ڈالنے کا حق حاصل ہے۔ 
برطانیہ کی مسلح افواج 2 لاکھ سے زائد افراد پر مشتمل ہے۔ جی ڈی پی کا 2.4 فیصد دفاعی اخراجات پر سالانہ خرچ کیا جاتا ہے۔
2002ء میں اس کا جی ڈی پی 16 کھرب ڈالر کا تھا اور فی کس آمدن 26 ہزار ڈالر سالانہ سے زائد تھی۔ جی ڈی پی کا ایک فیصد حصہ زراعت، جنگلات اور ماہی گیری سے وصول ہوتا ہے، 26.4 فیصد صنعت سے اور بقیہ سروسز سے حاصل ہوتا ہے۔ 2002ء کے تخمینے کے مطابق یہاں تقریباً تین کروڑ لوگ برسرروزگار ہیں جن کا 1.4 فیصد حصہ زراعت، جنگلات، ماہی گیری، 24.9 فیصد صنعت اور 73.4 فیصد سروسز کے شعبے میں کام کر رہا ہے۔ اندازاً 5 فیصد سے زائد لوگ بے روزگاروں کے زمرے میں شمار کئے جا سکتے ہیں۔ 1999ء میں ان کے قومی بجٹ کا کل ریونیو سوا پانچ کھرب ڈالر سے کچھ زائد اور کل اخراجات اس رقم سے کچھ کم رہے۔ پاؤنڈ ان کے روپے کی اکائی ہے جس میں 100پینس شامل ہوتے ہیں۔ 
ان کی زرعی پیداوار میں گندم، آلو، جو، مویشی اور مختلف سبزیاں اور پھل شامل ہیں۔ معدنیات کے حوالے سے یہاں کوئلے، پٹرولیم، قدرتی گیس، چونے کے پتھر اور فلزیاتی لوہے کے لئے کان کنی کی جاتی ہے۔ صنعتی پیداوار میں غذائی مصنوعات، نقل و حمل کا اسباب، غیر برقی مشینری، کیمیاوی مصنوعات، دھاتیں اور دھات سے بنی ہوئی اشیاء شامل ہیں۔ قابل ذکر برآمدات میں گاڑیاں اور دیگر سامانِ نقل و حمل، صنعتی مشینری، پٹرولیم اور پٹرولیم کی مصنوعات، برقی مشینری، دفتری استعمال کی مشینیں اور کمپیوٹر، توانائی کی پیداوار کے لئے استعمال ہونے والی مشینری، نامیاتی کیمیاوی مادے اور فولاد شامل ہیں جبکہ درآمدات میں گاڑیاں اور ان کے پرزے، غذائی مصنوعات، دفتری استعمال کی مشینیں اور کمپیوٹر، برقی مشینری، پٹرولیم اور پٹرولیم کی مصنوعات، ملبوسات اور ان کے لوازمات، صنعتی مشینری، پارچہ بافی کی مصنوعات، کاغذ اور کاغذ کی مصنوعات اور توانائی کی پیداوار میں استعمال ہونے والی مشینری شامل ہیں ، گویا ہر ترقی یافتہ ملک کی طرح ان کی درآمدات اور برآمدات میں کچھ زیادہ فرق نہیں پایا جاتا۔
اس چھوٹے سے جائزے کے بعد،آیئے ایک دفعہ پھر اپنے حقیقی موضوع کی طرف چلتے ہیں۔ جیسا کہ پہلے ذکر ہوا، برطانیہ ایک آئینی بادشاہت ہے یعنی سربراہِ مملکت کی حیثیت بادشاہ (یا ملکہ) کو حاصل ہے مگر اس کے اختیارات محدود ہوتے ہیں۔ اس کی جمہوری حکومت کی بنیاد ایک ایسے آئین پر رکھی گئی ہے جو مختلف تاریخی دستاویزات، قوانین اور رسوم کا مجموعہ ہے۔ پارلیمنٹ دار الامراء، دار العوام اور شاہی حکمران پر مشتمل ہوتی ہے۔ دار العوام کو دار الامراء کے مقابلے میں کہیں زیادہ اہمیت اور رسوخ حاصل ہے۔ اس نظامِ حکومت میں وزیر اعظم کو مرکزی عامل کی حیثیت حاصل ہوتی ہے جسے دار العوام سے منتخب کیا جاتا ہے۔ حکومت میں کابینہ کے وزراء (جن میں سے زیادہ تر دار العوام کے رکن ہوتے ہیں )، حکومتی شعبے جن میں سے ہر ایک اپنے مقررہ وزیر کو جوابدہ ہوتا ہے، مقامی حکام اور عوامی کارپوریشنیں شامل ہوتی ہیں۔ دار العوام کے ارکان انتظامِ حکومت اور قانون سازی، دونوں شعبوں میں یکساں شریک ہوتے ہیں لہٰذا یہاں اختیارات کی تقسیم کا وہ تصور موجود نہیں جو ہمیں امریکہ میں نظر آتا ہے۔
برطانیہ کا آئین مختلف دستاویزات پر مشتمل ہے۔ اس کے تحریری حصوں میں میگنا کارٹا (1215ء)، درخواست برائے حق (1628ء) اور حقوق کا بل (1689ء) کے نام قابل ذکر ہیں۔ اس کے علاوہ اس میں پارلیمنٹ کے بنائے ہوئے تمام قوانین، برطانوی عدالتوں میں ہونے والے فیصلوں کی نظائر اور بے شمار رسوم و رواج بھی شامل ہیں۔ دار العوام کے ارکان، جو کہ جمہوری طریق پر منتخب ہو کر آتے ہیں ، اکثریتی ووٹ کے ذریعے ان قوانین میں ترامیم اور تبدیلیاں کر سکتے ہیں۔ نئے قوانین کی منظوری اور نئے عدالتی فیصلوں کی تحریر کے بدولت برطانوی آئین مسلسل ارتقاء پذیر رہتا ہے۔ پارلیمنٹ کے منظور کئے ہوئے تمام قوانین کو آئینی تصور کیا جاتا ہے، اور کسی نئے قانون سے پرانے قانون کے منسوخ ہو جانے کی صورت میں آئین میں ترمیم یا تبدیلی رونما ہو جاتی ہے۔ ایسی کسی تبدیلی کے لئے شاہی حکمران کی منظوری لی جاتی ہے لیکن اس منظوری کی حیثیت محض رسمی ہوتی ہے۔
برطانوی حکومت کے مرکزی حصوں کا اجمالی جائزہ حسب ذیل ہے:
شاہی حکمران، جسے مفروضاً بے پناہ اختیارات حاصل ہوتے ہیں لیکن حقیقتاً ان اختیارات کی حدیں خاصی سمٹی ہوئی ہوتی ہیں اور شاہی حکمران کو وزراء کے بتائے ہوئے راستوں پر چلنا پڑتا ہے۔ بادشاہت جانشینی کے اصول پر چلتی ہے اور ہر بادشاہ کے مرنے پر اس کا بڑا بیٹا تخت پر بیٹھتا ہے۔ بیٹا نہ ہونے کی صورت میں یہ اعزاز بڑی بیٹی کے حصے میں آتا ہے۔ ایسی ملکہ کے شوہر کو ’’شریک شہزادے‘‘ کا خطاب ضرور ملتا ہے لیکن اضافی مراعات یا اختیارات کے نام پر کوئی چیز اس کے حصے میں نہیں آتی۔ فروری 1952ء سے برطانیہ کے تخت پر ملکہ الزبتھ دوم کا راج ہے اور ان کی ولی عہدی کا منصب ان کے بڑے بیٹے شہزادہ چارلس کے پاس ہے۔ 1701ء میں منظور ہونے والے سیٹلمنٹ ایکٹ کی رو سے برطانوی شاہی حکمران کے لئے پروٹسٹنٹ عقیدے کا حامل ہونا لازم ہے۔ شاہی حکمران کے نابالغ یا کسی لحاظ سے فرائض حکمرانی انجام دینے سے قاصر ہونے کی صورت میں اس کے قائم مقام کے طور پر ایک ’’ریجنٹ‘‘ امورِ حکومت سرانجام دیتا ہے۔
سربراہِ مملکت ہونے کی حیثیت سے، شاہی حکمران رسماً پارلیمنٹ کا اجلاس بلاتا اور برخواست کرتا ہے۔ عدلیہ، مسلح افواج، اقوام کی دولت مشترکہ کی رسمی سربراہی اور انگلستانی کلیسا کی حکومت اعلیٰ بھی اسی کے پاس ہوتی ہے۔ بہرحال، یہ عہدے محض نام کے ہیں اور کام جمہوری طور پر منتخب حکومت ہی کرتی ہے جس کا سربراہ وزیر اعظم ہوتا ہے۔ شاہی حکمران کا سب سے بڑا کام مختلف کاغذات پر دستخط کرنا، افتتاحی فیتے کاٹنا، ’’سر‘‘ کے خطاب عطا کرنا، فلاحی کاموں میں حصہ لینا اور عامۃ الناس کو نئے نئے رجحانات دینا ہوتا ہے البتہ اسے قومی اہمیت کے معاملات پر مشاورت کے عمل میں حصہ لینے اور اہم سرکاری دستاویزات کا مطالعہ کرنے کا حق حاصل ہوتا ہے۔ گذشتہ 280 سال سے کسی قانون کی تیاری یا نفاذ کے لئے بادشاہ سے شاہی اجازت لینا بھی ترک کر دیا گیا ہے۔ اب ہر قانون کے لئے یہ اجازت، بغیر کوئی کوشش کئے، خودبخود موجود ہو جاتی ہے۔ برطانیہ کے ایک جمہوری ملک ہونے کی بدولت، اگر عوام کی اکثریت چاہے تو اپنے بادشاہ کو معزول بھی کر سکتی ہے۔ ویسے آج بھی بادشاہت کو برطانوی عوام کے مقبول و محبوب ادارے کی حیثیت حاصل ہے، اور کبھی کسی طبقے کی طرف سے اسے ختم کرنے کا مطالبہ نہیں کیا گیا۔
کاروبارِ حکومت کا مرکزی کرتا دھرتا وزیر اعظم ہوتا ہے۔ دار العوام میں سب سے زیادہ نشستیں حاصل کرنے والی پارٹی کے سربراہ کو اس عہدے کے لئے منتخب کیا جاتا ہے۔ بعض اوقات جب کوئی ایک بڑی پارٹی اکثریت حاصل نہ کر سکے تو وہ چھوٹی چھوٹی پارٹیوں کے ساتھ اتحاد بنا کر حکومت بنا لیتی ہے اور پھر یہ اتحاد بڑی پارٹی کے سربراہ کو متفقہ طور پر وزیر اعظم چن لیتا ہے۔ وزیر اعظم کابینہ کا سربراہ ہوتا ہے اور کابینہ کے ارکان کا انتخاب اسی کی صوابدید پر ہوتا ہے۔ کابینہ کے ذریعے اور بادشاہ کے نام پر وزیر اعظم ان تمام اختیارات کا استعمال کرتا ہے جو کہنے کو بادشاہ کے مگر حقیقتاً اس کی ملکیت ہوتے ہیں۔ وزیر اعظم کا تعلق ہمیشہ دار العوام سے ہوتا ہے اور اگر دار الامراء کا کوئی رکن اس عہدے کا امیدوار بننا چاہے تو اس کے لئے ضروری ہے کہ پہلے وہ اپنی دار الامراء کی نشست سے استعفیٰ دے کر انتخاب کے ذریعے دار العوام کی رکنیت حاصل کرے۔
کابینہ کی بنیاد اٹھارہویں صدی عیسوی میں حکومت کے کلیدی وزراء کے مابین ہونے والے غیررسمی اجلاسوں کے ذریعے پڑی۔ ارتقائی مراحل طے کرتے ہوئے انیسویں صدی میں وزراء کی یہ مجلس ایک موثر ادارے کے روپ میں سامنے آئی اور شاہی حکمران کے عاملانہ اختیارات کی مالک بن گئی۔
برطانوی کابینہ میں کم و بیش بیس ارکان ہوتے ہیں جن سب کا رکن پارلیمنٹ ہونا ضروری ہوتا ہے۔ یہ لوگ دار العوام کی اکثریتی جماعت کے سرکردہ لیڈر ہوتے ہیں ، کبھی کبھار دار الامراء کا کوئی رکن بھی ان میں شامل ہو جاتا ہے۔ کسی مخصوص شعبے مثلاً دفاع وغیرہ کی سربراہی کرنے والے وزراء کو سیکرٹری آف سٹیٹ کہا جاتا ہے۔ وزیر اعظم کے پاس خزانے کے پہلے امیر اور مدنی خدمات کی وزارت کا قلمدان ہوتا ہے۔ سیکرٹریز آف سٹیٹ کے علاوہ کابینہ میں بے محکمہ وزیر بھی شامل ہوتے ہیں جو مختلف کلیدی عہدوں کی ذمہ داریاں سنبھالتے ہیں۔ دیگر وزراء جن کے پاس کوئی مخصوص قلمدان نہیں ہوتا، حالات کے تقاضے کے تحت مختلف ذمہ داریوں پر مامور کئے جاتے ہیں۔ وزیر اعظم کے پاس کابینہ کے ارکان کو ایک عہدے سے دوسرے پر لگانے یا کابینہ سے برخواست کر دینے کا اختیار موجود رہتا ہے۔ کابینہ کی رکنیت منسوخ ہو جانے کی صورت میں بھی سابقہ وزیر کی پارلیمانی رکنیت برقرار رہتی ہے۔
اجتماعی ذمہ داری اور وزارتی ذمہ داری کابینہ کے دو بنیادی ضوابط ہیں۔ اجتماعی ذمہ داری کا مفہوم یہ کہ کابینہ کے تمام وزراء ہر معاملے پر متفق علیہ ہو کر عمل کرتے ہیں بھلے کسی معاملے میں ان کی ذاتی آراء ایک دوسرے سے مختلف ہی کیوں نہ ہوں۔ اگر کوئی فیصلہ کسی رکن کابینہ کے نزدیک ناقابل قبول ہو تو توقع رکھی جاتی ہے کہ وہ اپنا اختلاف ظاہر کرنے کے لئے اپنی رکنیت سے استعفیٰ دے دے گا۔ وزارتی ذمہ داری سے مراد یہ ہے کہ ہر وزیر اپنے محکمے کی کارکردگی کا ذمہ دار اور اس کے لئے پارلیمنٹ کے سامنے جوابدہ ہے۔ ان وزراء کی شعبہ جاتی پالیسیوں کا حکومت کی مجموعی پالیسی سے ہم آہنگ ہونا لازم ہوتا ہے۔ محکمے کی پالیسی یا انتظام کے حوالے سے کسی ناکامی کی ذمہ داری متعلقہ وزیر کو ہی اٹھانا پڑتی ہے۔
پرائیوی کونسل ازمنۂ وسطیٰ کے ادارے شاہی کونسل کی آخری نشانی ہے۔ یہ ایک رسمی ادارہ ہوتا ہے جس کے 450 ارکان ہوتے ہیں۔ اس میں کابینہ کے موجودہ اور سابقہ تمام ارکان کے علاوہ برطانیہ اور دولت مشترکہ کی اہم عوامی شخصیات شامل ہوتی ہیں۔ اسے مختلف کمیٹیوں میں تقسیم کیا گیا ہے اور ہر کمیٹی کے ذمے کوئی نہ کوئی مخصوص فریضہ لگایا گیا ہے۔ بہرحال، ان فرائض میں سے قابل ذکر اہمیت کے حامل چند ایک ہی ہیں۔ 
برطانیہ میں مقننہ کا درجہ پارلیمنٹ کو حاصل ہے۔ پارلیمنٹ کے تین حصے ہوتے ہیں۔ تاجِ شاہی، دار الامراء اور دار العوام۔ صدیوں کے بتدریج ارتقائی عمل کے نتیجے میں رفتہ رفتہ شاہی حکمران کے اختیارات دار الامراء کو منتقل ہوئے اور دار الامراء سے دار العوام کے قبضے میں آ گئے۔ پارلیمنٹ کی جڑیں ان بڑے بڑے اجلاسوں میں تلاش کی جا سکتی ہیں جو ازمنۂ وسطیٰ میں شاہی حکمران کی طرف سے بلائے جاتے تھے۔ حکمرانوں کے نزدیک ان اجلاسوں کا مقصد اپنے بندگانِ عالی کے مشورے حاصل کرنا، سلطنت کے متعلق معلومات کا تبادلہ کرنا اور درخواستیں وصول کرنا ہوتا تھا۔ بہ الفاظِ دیگر، پارلیمنٹ درحقیقت ایک شاہی حکمران کی، اپنے اقدامات و احکامات کے لئے، اپنے اطاعت گزاروں کی تصدیق اور رضامندی حاصل کرنے کی خواہش کے زیر اثر وجود میں آئی۔ آہستہ آہستہ اس کے رسوخ میں اضافہ ہوتا گیا۔ اس میں شریک ہونے والوں میں رتبے کے حساب سے جو تقسیم ہوئی اس نے آگے چل کر دالامراء اور دار العوام کا روپ دھار لیا۔ مختلف مراحل طے کرتی ہوئی، پندرھویں صدی کے اوائل تک، اس نے وہ صورت اپنا لی جو آج ہمارے لئے قابل شناخت ہے۔ اس نے قوانین اور محصولات کی منظوری اور نفاذ کے کام بھی سنبھال لئے۔ پارلیمنٹ کے دونوں حصوں اور شاہی حکمران کے درمیان جو طول طویل مناقشے ہوئے ان کا انجام پارلیمنٹ کی مضبوطی اور تخت کی کمزوری کی صورت میں سامنے آیا۔ تخت کو تسخیر کرنے کے بعد یہ دونوں حصے ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہوئے اور اپنا ایک علیحدہ مناقشہ چھیڑ کر بیٹھ گئے جو بیسویں صدی میں دار العوام کی بالادستی پر منتج ہوا۔ اب دار الامراء کو قانون سازی کے عمل میں حصہ لینے کی زحمت نہیں دی جاتی، صرف اتنی اجازت ہے کہ اگر ہو سکے تو مختلف جواز گھڑ کر مختلف قوانین کی تیاری اور نفاذ کے عمل میں ایک خاص مدت تک روڑے اٹکا لیں۔ بہرحال، ان کے کام کا مرکزی حصہ دار العوام کے تیار کئے ہوئے قوانین کے مختلف نکات پر بحث مباحث کرنا ہوتا ہے اور عموماً یہ قوانین بغیر روک ٹوک کے منظور کر لئے جاتے ہیں۔ چونکہ اس کے ارکان عوام کے منتخب کردہ نہیں ہوتے، لہٰذا انہیں منتخب عوامی نمائندگان جیسے اختیارات بھی نہیں دیئے جاتے۔ ایک جدید جمہوریہ کے شہری ہونے کے ناتے یہ صرف رائے دے سکتے ہیں ، حکم صادر نہیں کر سکتے۔
یہ ادارہ شاہی اعزاز یافتہ افراد اور مذہبی سرکردگان پر مشتمل ہوتا ہے۔ 1999ء میں دار العوام ایکٹ کے ذریعے اس کے 650 ارکان کو ان کی نشستوں سے محروم کر کے ادارے کا حجم آدھا کر دیا گیا۔ تب سے ان کی اہمیت کچھ اور بھی ماند پڑ گئی ہے۔ ستم بالائے ستم یہ کہ انہیں حقیقی اختیارات سے تقریباً محروم کر دینے کے بعد بھی برطانوی عوام کا ایک قابل ذکر طبقہ ایسا ہے جس کے نزدیک اس ادارے کو سرے سے ختم کر کے اس کی جگہ کسی منتخب ادارے کو لانا زیادہ قابل ترجیح ہے۔
دار الامراء کے ارکان کو قانون سازی کے ضمن میں مختلف تجاویز پیش کرنے کا حق حاصل ہوتا ہے البتہ مالی معاملات سے متعلق قانون سازی ان سے پرے رکھی جاتی ہے۔ یہ منظوری کے لئے پیش کئے گئے قوانین میں ترامیم بھی تجویز کر سکتے ہیں ، اور قانون منظور کرنے سے پہلے ان تجاویز پر غور کرنا دار العوام کے ارکان کا فرض ہوتا ہے۔ اپنی سفارشات کے بل پر یہ کسی قانون کا نفاذ ایک سال تک رکوا سکتے ہیں لیکن مالی امور سے متعلق قوانین کو ایک ماہ سے زیادہ روکے رکھنا ان کے بس سے باہر ہوتا ہے کیونکہ یہ منظور کریں نہ کریں ، تیس دن کے بعد ایسے قوانین آئینی طور پر نافذ العمل ہو جاتے ہیں۔ ایسے قوانین سے ہٹ کر دوسرے قوانین کو بھی اگر دار العوام مسلسل دو مرتبہ منظور کر لے تو دار الامراء اسے نامنظور کرنے کے اختیار سے محروم ہو جاتا ہے۔ صرف پارلیمنٹ کی مدتِ اقتدار بڑھانے کا سوال ایسا ہے جس کے متعلق کسی قانون کی تیاری کے لئے دونوں حصوں کی منظوری ضروری ہے… اور یہ امتیاز یقیناً درست بھی ہے۔
حقیقی اختیار و اقتدار دار العوام کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔ اس کے ارکان عوام کے ووٹوں سے منتخب ہو کر آتے ہیں۔ شاہی اعزاز یافتہ افراد، انگلینڈ، سکاٹ لینڈ، آئر لینڈ یا رومن کیتھولک کلیسا کے عہدیداران، ایک سال سے زیادہ کی قید کے سزا یافتگان اور دیوالیہ ہونے کے بعد اپنے قرض نہ چکا پانے والے اس کے انتخاب میں حصہ لینے کے حقدار نہیں ہوتے۔
پارلیمنٹ کا انتخاب تقریباً ہر پانچ سال بعد ہوتا ہے جس سے پہلے وزیر اعظم کے کہنے پر بادشاہ پارلیمنٹ کو تحلیل کر کے عام انتخابات کا اعلان کر دیتا ہے۔ پورے برطانیہ کے لئے قانون سازی کا کام پارلیمنٹ ہی سنبھالتی ہے اور اس میں انگلستان، سکاٹ لینڈ، ویلز اور شمالی آئرلینڈ کے نمائندے شامل ہوتے ہیں۔ 
پارلیمنٹ کی مدتِ اقتدار پانچ سال تک ہوتی ہے بشرطیکہ اس دوران وزیر اعظم اسے تحلیل نہ کر دے۔ اگرچہ رسمی طور پر پارلیمنٹ کو شاہی حکمران ہی تحلیل کرتا ہے لیکن صرف اس وقت جب وزیر اعظم اس کے لئے درخواست کرے۔ تحلیل کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ کوئی ایسا بڑا مسئلہ جسے وزیر اعظم کے نزدیک عوام کی عدالت میں لے جانا ضروری ہو، پارلیمنٹ کے تحلیل کئے جانے کی وجہ بن سکتا ہے۔ وزیر اعظم اس صورت میں بھی پارلیمنٹ کو ختم کر سکتا ہے جبکہ برسراقتدار جماعت (یعنی اس کی اپنی جماعت) کو عوام کی زبردست حمایت حاصل ہو۔ ایسے موقعے پر پارلیمنٹ کو ختم کر کے عام انتخابات کا انعقاد کرانے کی صورت میں برسراقتدار پارٹی کو دار العوام میں پہلے سے زیادہ نشستیں حاصل ہونے اور اپنی مدتِ اقتدار میں اضافے کی توقع ہوتی ہے۔ اگر کسی اہم قانون کی منظوری کے ضمن میں حکمران پارٹی کو شکست ہو جائے تو بھی پارلیمنٹ تحلیل کی جا سکتی ہے کیونکہ جب پارلیمنٹ کی اکثریت ایسے کسی قانون کے خلاف ووٹ دے تو اسے وزیر اعظم اور اس کی حکومت کے خلاف عدم اعتماد کا ووٹ تصور کیا جاتا ہے۔ عدم اعتماد کی حقیقی رائے شماری کرنے کی نوبت بہت کم پیش آتی ہے جیسا کہ 1979ء لیبر پارٹی کے وزیر اعظم جیمز کیلاہان کے خلاف اس وقت کی گئی تھی جب یونین ورکرز نے اپنی تنخواہوں میں اضافے کو محدود کرنے کے قانون کے خلاف ہڑتال شروع کر دی تھی۔ اس رائے شماری کے نتیجے میں لیبر پارٹی کی حکومت ختم ہو گئی اور مارگریٹ تھیچر کی کنزرویٹو حکومت کا آغاز ہوا جس نے برطانیہ کی پہلی خاتون وزیر اعظم کے طور پر 1990ء تک حکومت کی۔
قانون سازی کے عمل کا آغاز کابینہ کی طرف سے ہوتا ہے۔ زیادہ تر قانون سازی کا تعلق پورے ملک کو کنٹرول کرنے والے عمومی قوانین (Common Law) سے ہوتا ہے۔ ارکانِ پارلیمنٹ انفرادی طور پر ایک خاص علاقے یا عوامی زندگی کے حصے سے تعلق رکھنے قوانین کی تجاویز پیش کر سکتے ہیں۔ محکمہ جاتی وزیر عموماً اپنے محکمے سے تعلق رکھنے والے قوانین کی تجاویز پیش کرتے ہیں۔ ایسی تجاویز کو حکومتی تجاویز کہا جاتا ہے۔ کسی تجویز کے منظور ہو کر قانون بن جانے کی صورت میں اسے شاہی رضامندی کا پروانہ مل جاتا ہے۔ قانون سازی کے ضمن میں کابینہ کا زیادہ تر کام اس خصوصی مقصد کے لئے تیار کی گئی مجالس انجام دیتی ہیں جو پیش کئے گئے قانون کے مختلف پہلوؤں پر بحث کر کے رپورٹیں تیار کرتیں اور قانون کو حتمی شکل دینے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ 
قانون سازی کی ہر تجاویز کو دار الامراء اور دار العوام میں تین تین بار پڑھا جاتا ہے۔ پہلی مرتبہ اس پر کوئی بحث نہیں کی جاتی۔ دوسری مرتبہ پڑھے جانے کے بعد اس کے عمومی اصولوں پر بحث کی جاتی ہے، اس کے بعد اسے مکمل مطالعے، مباحثے اور ترمیم کے لئے ایک مجلس کے حوالے کر دیا جاتا ہے۔ تیسری مرتبہ اسے مکمل اور حتمی صورت میں ایوان کے حوالے کر دیا جاتا ہے اور رائے شماری کی جاتی ہے۔
اگر تیسری مرتبہ میں تجویز منظور ہو جائے تو اسے دار الامراء میں بھیج دیا جاتا ہے جہاں یہ پھر سابقہ عمل سے گزرتا ہے۔ دار الامراء سے منظوری حاصل ہونے کے بعد اسے شاہی حکمران کے حضور بھیج دیا جاتا ہے تاکہ باقاعدہ قانون بننے سے پہلے اس پر شاہی آمادگی کی مہر لگ سکے۔ اگر کسی ایوان میں بھی اس میں کسی ترمیم کی تجویز پیش کر دی جائے تو بادشاہ کے پاس بھیجے جانے سے پہلے اس ترمیم کا فیصلہ کرنا ضروری ہوتا ہے۔ بہرحال، دار الامراء اور شاہی حکمران اس ضمن میں کتنے کچھ اثرانداز ہو سکتے ہیں ، اس کا تذکرہ گذشتہ سطور میں کیا جا چکا ہے۔
کسی بھی جمہوریہ کے سیاسی نظام میں سیاسی جماعتوں کو بنیادی اہمیت حاصل ہوتی ہے۔ سیاسی جماعتیں ملک میں پائے جانے والے مختلف سیاسی رویوں کی عکاسی کرتی ہیں اور مختلف طبقات کے آدرشوں ، امنگوں اور افکار کی نمائندہ ہوتی ہیں۔ سیاسی نظام کے استحکام کے لئے مضبوط سیاسی جماعتوں کی موجودگی ازبس ضروری ہے، لیکن اگر بڑی جماعتوں کے کمزور یا غیر موجود ہونے کی صورت میں ڈیڑھ ڈیڑھ اینٹ کی سیاسی جماعتیں کونے کونے سے کھڑی ہونا شروع ہو جائیں تو پھر حالات بگڑ بھی سکتے ہیں۔ اگرچہ سیاسی جماعتوں کا کم ہونا کسی ملک کے سیاسی استحکام کی ضمانت نہیں مگر بہت زیادہ سیاسی جماعتیں یقیناً بگاڑ کی نشاندہی کرتی ہیں۔ سیاسی طور پر مستحکم زیادہ تر ممالک میں دو یا تین بڑی سیاسی پارٹیاں دیکھنے میں آتی ہیں ، ان کے علاوہ چھوٹی پارٹیاں بھی موجود ہوتی ہیں لیکن ان کا ووٹ بنک اور رسوخ اس قابل نہیں ہوتا کہ ملکی نظام اور حالات پر کوئی اہم اثر ڈال سکے۔
برطانوی سیاسی پارٹیوں کی تاریخ کا آغاز سترہویں صدی عیسوی سے ہوتا ہے جب 1688ء کے شورش زدہ انگلستان میں وِگ پارٹی اور ٹوری پارٹی دو بڑی جماعتوں کی حیثیت سے منظر عام پر آئیں۔ وِگ پارٹی کا منشور ایک مضبوط پارلیمنٹ کا قیام تھا اور اس کے حامیوں میں تاجر طبقہ اور روایتی کلیسا سے برگشتہ پروٹسٹنٹ شامل تھے۔ ٹوری پارٹی کے حامیوں کا تعلق طبقہ اشرافیہ سے تھا اور یہ پارٹی بادشاہ اور کلیسائے انگلستان کے دفاع کی علمبردار تھی۔ انیسویں صدی میں وِگ پارٹی نے معاشرتی اصلاح میں دلچسپی رکھنے والی دیگر جماعتوں سے انضمام کر کے لبرل پارٹی تشکیل دی جبکہ ٹوریوں نے کنزرویٹو (قدامت پسند) پارٹی کا نام اپنا لیا تاکہ رائے دہندگان کے زیادہ وسیع حصے پر اثرانداز ہو سکیں۔ آج بھی اس جماعت کے لئے کنزرویٹو اور ٹوری دونوں نام استعمال کئے جاتے ہیں اور اسے برطانیہ کے سیاسی نظام میں امتیازی مقام حاصل ہے۔
بیسویں صدی کے آغاز میں لیبر پارٹی کا قیام عمل میں آیا اور یہ جماعت تیزی سے مقبولیت کے مراحل طے کر کے کنزرویٹو پارٹی کے سب سے بڑے حریف کے مقام پر آ براجمان ہوئی۔ دوسری طرف لبرل پارٹی ارتقائی منازل طے کرتی ہوئی لبرل ڈیموکریٹ پارٹی کے نام سے برطانیہ کی تیسری مقبول ترین جماعت کی حیثیت اختیار کر گئی۔
اپنے اوائل سے ہی لیبر پارٹی اپنی روایتی مالی اور انتخابی حمایت ٹریڈ یونینز سے حاصل کرتی رہی ہے۔ اس کا میلان سوشلزم کی طرف ہے اور یہ اہم صنعتوں پر حکومتی کنٹرول اور دولت کے زیادہ مساوی تقسیم کی علمبردار ہے۔ دوسری جنگ عظیم کے اختتام کے بعد لیبر پارٹی کی حکومت نے کئی صنعتوں کو نیشنلائز کر لیا اور فلاحی ریاست کی بنیاد رکھی جس میں لوگوں کو سوشل سیکیورٹی، بے روزگاری کی انشورنس اور نیشنل ہیلتھ سروس فراہم کی گئی۔ بعد میں آنے والی کنزرویٹو پارٹی کی حکومتوں نے صنعتوں کو ڈی نیشنلائز کر دیا لیکن نیشنل ہیلتھ سروس اور فلاحی ریاست کے تحت فراہم کی جانے والی بنیادی سہولتوں کو برقرار رکھا۔ موجودہ وقت میں ٹریڈ یونینز کی عوامی مقبولیت اور لیبر پارٹی میں ان کا اثر و رسوخ ماند پڑ گیا ہے اور لیبر پارٹی کا رجحان سیاسی مرکز کی طرف منتقل ہو گیا ہے۔ 1995ء میں اس کی قیادت نے سوشلزم اور صنعتوں کی نیشنلائزیشن کے منشور سے دستبردار ہونے کا اعلان کر دیا۔
کنزرویٹو پارٹی ذاتی تجارت اور حکومتی دخل اندازی کم سے کم رکھنے کے نظریئے کی حامل ہے۔ ان کے نزدیک مخلوط معیشت (تجارتوں کی نجی ملکیت اور حکومت کا کچھ نہ کچھ کنٹرول) اور آزاد منڈی کا قیام زیادہ قابل قبول ہے۔ یہی وجہ ہے کہ برطانیہ کا تاجر طبقہ کنزرویٹو پارٹی کا پر جوش حمایتی رہا ہے۔ 
برطانیہ کی چھوٹی جماعتوں میں سے اہم ترین لبرل ڈیمو کریٹ پارٹی ہے جسے 1988ء میں لبرل پارٹی کی باقیات اور سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کے مرکزی حصے کے ادغام سے وجود میں لایا گیا۔ دیگر جماعتوں میں سکاٹش نیشنلسٹ پارٹی، پلیڈ کمرو (ویلز کی قوم پرست پارٹی جو ویلز کے لئے خودمختار حکومت کا مطالبہ کرتی ہے) اور شمالی آئر لینڈ کی جماعتیں ، شن فین، السٹر یونینسٹ پارٹی، ڈیموکریٹک یونینسٹ پارٹی اور سوشل ڈیموکریٹک اینڈ لیبر پارٹی شامل ہیں۔ شن فین کے دو ارکان 1997ء میں پارلیمنٹ کے رکن منتخب ہوئے تھے لیکن انہوں نے ملکہ سے وفاداری کا حلف اٹھانے سے انکار کر دیا جس کے نتیجے میں انہیں اپنی نشستیں سنبھالنے سے روک دیا گیا۔
مئی 1997ء میں ہونے والے انتخابات میں لیبر پارٹی نے بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی۔ پارلیمنٹ کی 659 نشستوں میں سے 418 اس کے حصے میں آئیں جبکہ کنزرویٹو پارٹی کو صرف 165 نشستیں مل سکیں۔ لبرل ڈیموکریٹ پارٹی نے 46 نشستیں جیت کر پارلیمنٹ میں اپنی نشستوں کی تعداد دگنی کر لی۔ لیبر پارٹی کی غالب اکثریت 2001ء کے عام انتخابات میں بھی قائم رہی اور اس نے 413 نشستیں جیتیں۔ کنزرویٹو پارٹی کو 166 نشستیں ملیں جبکہ لبرل ڈیموکریٹ پارٹی نے 6 مزید نشستیں جیت کر اپنی نشستوں کی کل تعداد 62 تک پہنچا دی۔
برطانیہ کی سیاسی پارٹیوں کے ایک مختصر سے جائزے کے بعد ہم اس کے نظامِ حکومت کے آخری اہم حصے یعنی عدلیہ کی طرف بڑھتے ہیں۔ تخت شاہی، کابینہ اور پارلیمنٹ کے بعد برطانوی نظامِ حکومت کا چوتھا اہم ستون عدلیہ ہے۔ برطانیہ کی عدلیہ کی تاریخ نہایت طویل ہے۔ اس کے عدالتی نظام کو پوری دنیا میں ایک معیار تسلیم کر کے اپنانے کی کوشش کی گئی ہے اور اس کے کئی کلیدی اصول، ازقسم پنچایتی مقدمہ، حصولِ انصاف پر ہر کسی کا حق، غیر قانونی حراست (حبس بیجا) سے تحفظ، استغاثہ اور دفاع پر مشتمل مقدمے کا نظام اور یہ مفروضہ کہ جرم ثابت ہونے سے پہلے ہر کوئی بے گناہ ہے، کئی ملکوں کے عدالتی نظام کا حصہ ہیں۔ 
برطانیہ کی عدلیہ ابتداء اینگلوسیکسن دور (چھٹی صدی عیسوی تا گیارہویں صدی عیسوی) میں اس وقت ہوئی جب بادشاہ نے تمام اطاعت گزاروں کو انصاف فراہم کرنے کے لئے مقامی عدالتیں قائم کیں اور مقدموں کی سماعت کرنے کا اختیار شاہی منصفوں کو عطا کیا گیا۔ موجودہ برطانوی عدالتی نظام کی بنیاد عمومی قوانین پر رکھی گئی ہے جس کی اپنی نیو روایت اور گذشتہ قانونی مقدمات کے فیصلوں یعنی نظائر میں گڑی ہے۔ عمومی قوانین کی داغ بیل بارہویں صدی عیسوی میں ان روایات اور ضوابط کی بدولت پڑی جو عام لوگوں نے بتدریج خود ہی وضع کر لئے تھے۔ وقت کے ساتھ ساتھ نظائر کی شمولیت سے اس کے ارتقاء کا عمل جاری رہا، اور وقتاً فوقتاً ہونے والی قانون سازی سے قطع نظر، برطانوی قانون کی عمارت اسی پر استوار ہوئی۔ انگلینڈ اور ویلز میں عدالتی نظام کی سربراہی لارڈ چانسلر کے پاس ہوتی ہے۔ سکاٹ لینڈ اور شمالی آئرلینڈ میں علیحدہ عدالتی نظام موجود ہیں۔ 
برطانیہ میں درجہ بدرجہ کئی عدالتیں موجود ہیں البتہ عدالتی کارروائیاں صرف دو قسم کی ہیں ، دیوانی اور فوجداری۔ یعنی افراد، تنظیموں یا اداروں کے درمیان ہونے والے جھگڑوں کا فیصلہ، اور ایسے افعال کا فیصلہ جو قانونِ ریاست کے تحت مستوجب سزا ہیں۔ ہر دو طرح کے مقدمات میں اپیل کی آخری عدالت دار الامراء ہے جہاں امرائے قانون اپیلوں کی سماعت کرتے ہیں۔ 
جہاں تک مقامی حکومتوں کا سوال ہے، برطانیہ میں مرکزی حکومت اور مقامی حکومت کے مابین اختیارات کی آئینی تقسیم کا کوئی وجود نہیں۔ مقامی حکومت مختلف قصبات اور اضلاع میں کونسلوں یا اتھارٹیوں کی صورت میں وجود میں آ سکتی ہے۔ مقامی کونسلیں ، مرکزی حکومت کے ساختہ قوانین اور پالیسیوں کی تابع ہوتی ہیں۔ ان کی بنیادی ذمہ داریوں میں پولیس، آگ بجھانے کی سروس، سڑکیں ، ٹریفک، رہائشی سہولیات، تعمیرات سے متعلقہ قوانین، لائبریریز، ماحولیاتی مسائل اور ایسے سکول شامل ہوتے ہیں جن کے اخراجات مرکزی حکومت براہِ راست ادا کرتی ہے۔
ملک کی دفاعی پالیسی کی ذمہ داری وزیر اعظم کے سر ہوتی ہے اور وہ پوری کابینہ، سیکرٹری دفاع، اور کابینہ کی ڈیفنس اور اوورسیز پالیسی کی کمیٹیوں کے ساتھ مل کر اس ضمن میں کام کرتا ہے۔ دفاع کی ہائی کمان کا مشترکہ ادارہ ڈیفنس کونسل کو کہا جا سکتا ہے جس کی سربراہی سیکرٹری دفاع کے پاس ہوتی ہے اور بری، بحری اور فضائی افواج کے سربراہوں کے علاوہ دیگر اہم حکومتی قائدین اس میں شامل ہوتے ہیں۔ 
یہ تھا برطانیہ کے موجودہ نظامِ حکومت کا مختصر سا بیان۔ اب ہمیں دیکھنا یہ ہے کہ برطانیہ کن تاریخی نشیب و فراز سے گزر کر اس مقام تک پہنچا اور اس سفر میں اس کی خارجی اور داخلی ہیئت و ساخت میں کیا کیا تبدیلیاں رونما ہوئیں۔ 
برطانیہ کی تاریخ یوں تو نہایت طویل اور دلچسپ ہے لیکن اس کا مکمل بیان ہمارے موضوع اور گنجائش کے دامن میں نہیں سمٹ سکتا۔ سوال یہ ہے کہ بات کہاں سے شروع کی جائے کہ کوئی ضروری نکتہ چھوڑے بغیر ہم اپنے مطلوبہ مقام تک پہنچ سکیں اور برطانیہ کی جمہوری تاریخ کی ایک مکمل تصویر آپ کے سامنے کھنچ جائے۔ 
سب سے پہلے یہ جان لیجئے کہ وہ سیاسی تبدیلیاں جنہوں نے جزائر برطانیہ کو ان کی موجودہ شکل سے نوازا، ان کا آغاز 1536ء میں ویلز اور انگلستان کے ادغام سے ہوا، 1707ء میں سکاٹ لینڈ اور انگلینڈ کی پارلیمانوں نے ’’ایکٹ آف یونین‘‘ منظور کر کے ان دونوں سلطنتوں کو ایک کر دیا، اور 1800ء میں آئرلینڈ بھی ایسے ہی ایک ایکٹ کے ذریعے اس سلطنت کا حصہ بن گیا جس کا نام ’’برطانیہ عظمیٰ اور آئر لینڈ کی سلطنت متحدہ‘‘ رکھا گیا۔ چار الگ الگ قوموں کے انضمام سے وجود میں آنے والی یہ سلطنت آج بھی چار بڑے ثقافتی خطوں میں منقسم ہے۔ 1922ء میں آئرلینڈ، ماسوائے شمالی آئرلینڈ کی چھ کاؤنٹیوں کے، متحدہ سلطنت سے علیحدہ ہو گیا۔ تب اس سلطنت کا نام بدل کر ’’برطانیہ عظمیٰ اور شمالی آئرلینڈ کی متحدہ سلطنت‘‘ رکھ دیا گیا۔
برطانیہ میں آج جو پارلیمانی جمہوریت رائج ہے اور جس یً دنیا کے کئی ممالک کے نظامِ حکومت پر گہرے اثرات ڈالے ہیں ، اس کا بیج برطانوی تاریخ کے ایک ایسے دور میں بویا گیا جو اپنی شورشوں اور ہنگامہ آرائیوں کے طفیل تاریخ دانوں کی خصوصی توجہ کا مرکز رہا ہے۔ بہ حیثیت مجموعی اس دور کو ’’انقلابِ برطانیہ‘‘ کا نام دیا جاتا ہے جو 1640ء سے 1660ء تک جاری رہا۔ اس انقلاب کا سبب بننے والے حالات و عوامل کی جڑیں سولہویں صدی تک پھیلی ہوئی ہیں۔ سولہویں صدی میں بادشاہت اور برطانوی پارلیمنٹ کے درمیان سیاسی اقتدار کی چپقلش کا آغاز ہوا۔ اس دور میں ایک بنیادی تبدیلی یہ رونما ہوئی کہ مفکرین نے ان نظریات و تصورات کو ہدفِ تنقید بنانا شروع کر دیا جو برطانوی شاہی تخت کو سنبھالے ہوئے تھے۔ سولہویں صدی کے آغاز کے انگلستان پر اس طبقہ اشرافیہ کی حکومت تھی جس کے ارکان کا خیال تھا کہ وہ زمین پر خدا کے نائب ہیں ، انہیں عوام پر حکمرانی کرنے کا حق خدا کی طرف سے دیا گیا ہے اور معاشرے کی سیاسی و سماجی تقسیم کسی انسان کی نہیں بلکہ خدا کی بنائی ہوئی ہے، اسے ایسے ہی چلتے رہنا چاہئے۔
ویسے پارلیمنٹ 1265ء میں وجود میں آ چکی تھی۔ ابتداً اس کی حیثیت ایک ادارے کے بجائے ایک تقریب کی سی تھی جس میں مختلف اضلاع کے نمائندوں کو سرکاری طور پر ایک جگہ بلایا جاتا تھا۔ اس سے پہلے ایسے اجتماع کو جاگیرداری کونسل کہا جاتا تھا۔ پارلیمنٹ اسی کونسل کی ترقی یافتہ اور بڑی شکل تھی۔ ہنری سوم کے بیٹے ایڈورڈ اول نے حقیقی معنوں میں پارلیمنٹ کو ترقی دی اور اپنے مقاصد کے لئے استعمال کیا۔ چودھویں صدی میں پارلیمنٹ کو دار الامراء اور دار العوام میں تقسیم کر دیا گیا اور محصولات کے نفاذ اور قوانین کی تیاری میں اس کا عمل دخل بڑھنے لگا۔ 1337ء میں ایڈورڈ سوم نے فرانس کے خلاف ’’صد سالہ جنگ‘‘ کا آغاز کیا۔ انجام کار یہ جنگ ناکامی سے دوچار ہوئی لیکن اس کے اخراجات پورے کرنے کے لئے ایڈورڈ سوم نے جب ٹیکس لگانے کی کوشش کی تو پارلیمنٹ کو سودے بازی کرنے اور کچھ حقوق و مراعات حاصل کرنے کا موقع مل گیا۔ 
اس سے پہلے 1332ء میں ہندوستان میں طاعون کی وبا کا آغاز ہو چکا تھا۔ ہندوستان سے یہ وبا چین تک پہنچی اور 1343ء میں جب ’’سنہرے غول‘‘ کے منگولوں نے جزیرہ نما کریمیا میں ایک تجارتی قصبے کا محاصرہ کر رکھا تھا، ان میں بھی یہ وبا پھیل گئی۔ محصور شہر سے نکل بھاگنے والے یورپی تاجروں کے ذریعے ہلاکت کی یہ سیاہ پیامبر یورپ تک بھی آ پہنچی۔ 1349ء میں اس کا دائرۂ اثر پھیلتا ہوا انگلستان کی سرحدوں میں داخل ہو گیا، اور جب تک یہ بھیانک بلا ٹلتی، انگلستان کی کم و بیش نصف آبادی اس کی بھینٹ چڑھ چکی تھی۔
اس غیر متوقع اور انتہائی شدید آفت کی بدولت  انگلستان میں محنت کشوں کا کال پڑ گیا۔ ملک کی ڈانواں ڈول معیشت کو سنبھالا دینے کے لئے جب بادشاہ نے کام کرنے والوں کے معاوضے منجمد کرنے کی کوشش کی تو مزدور پیشہ طبقے میں بے چینی پھیل گئی۔ اس سے پہلے تک انگلستان میں مزارعے ایک طرح سے زمیندار کے غلام ہوا کرتے تھے۔ زمیندار اگر زمین بیچتا تو اس کے ساتھ اس پر کام کرنے والوں کا بھی سودا کر لیتا۔ ان لوگوں کو اپنے زمیندار کی مرضی کے بغیر شادی کرنے اور پیشہ بدلنے کا اختیار نہ تھا اور اس سے اجازت لئے بغیر وہ گاؤں تو کیا، اپنا قطعہ اراضی تک چھوڑ کر نہیں جا سکتے تھے۔ مندرجہ بالا شاہی اقدام کے نتیجے میں پیدا ہونے والی بدامنی کی بدولت جاگیردارانہ ناانصافیوں کے خلاف ایک تحریک شروع ہوئی جس کے ثمرات اگلی صدی میں اس نظام کے خاتمے کی صورت میں سامنے آئے۔
سولہویں صدی میں ٹیوڈر حکمرانوں نے طبقہ شاہی، طبقہ اشراف اور طبقہ تاجران کے درمیان ربط ضبط بڑھانے اور تعاون کو مزید فروغ دینے میں نمایاں کامیابی حاصل کی۔ اگرچہ ٹیوڈور بھی بادشاہوں کے حق ربانی یعنی اس نظریئے پر یقین رکھتے تھے کہ بادشاہوں کو حکمرانی کرنے کا حق براہِ راست خداوند کی طرف سے حاصل ہوتا ہے، لیکن سلطنت کے اعلیٰ طبقے کو اپنے اختیارات میں کسی حد تک شریک کر لینے میں انہیں بہت زیادہ جھجک مانع نہ ہوئی۔ اس سے پہلے کی بادشاہی تاریخ میں ہمیں ایسی کوئی مثال نظر نہیں آتی۔ ویسے اختیارات کی تقسیم کے عمل کا حقیقی معنوں میں آغاز تو میگنا کارٹا کی تحریر کے ساتھ ہو چکا تھا جس میں بادشاہ کے لئے لازم قرار دیا گیا تھا کہ وہ محصول لگانے سے اپنے امراء کے ساتھ مشورہ کرے۔
1558ء میں شاہ ہنری ہشتم اور ملکہ این بولین کی بیٹی الزبتھ اول تخت نشین ہوئی۔ الزبتھ ٹیوڈور حکمرانوں کے سلسلے کی آخری کڑی تھی۔ اپنے طویل اور کامیاب دورِ حکومت کے دوران اس نے پارلیمنٹ کے ساتھ نہایت عمدہ تعلقات استوار کئے اور ہر اہم معاملے پر ان سے مشاورت کا عمل جاری رکھا۔ چودھویں صدی میں پارلیمنٹ دار الامراء (طبقہ اشراف کے نمائندے) اور دار العوام (دولتمند تاجر طبقے کے نمائندے) کے خانوں میں بٹ چکی تھی۔ پارلیمنٹ کے تعاون کے ساتھ ٹیوڈور حکمرانوں نے ایک ملا جلا آئین بھی مرتب کر لیا جس میں حکومتی سرگرمیوں کے حوالے سے رسمی اور غیررسمی قوانین شامل تھے۔ برطانوی آئین کے ارتقاء کا عمل شروع ہو چکا تھا اور اسے پارلیمنٹ کے منظور کردہ قوانین، عدلیہ کے فیصلوں ، مقننہ کے بنائے ہوئے قوانین اور باہمی رضامندی کے تحت مرتب کئے جانے والے ضوابط کی مدد سے آگے بڑھتے رہنا تھا۔ ٹیوڈور حکمرانوں کی سرپرستی میں پروان چڑھنے والے آئین کے تحت اقتدار و اختیار میں بادشاہ کے ساتھ ساتھ اشرافیہ اور تاجر طبقے کو بھی حصہ مل گیا۔ 
1603ء میں الزبتھ کی وفات کے بعد جیمس اول سٹورٹ خاندان کے پہلے حکمران کی حیثیت سے انگلستان کے تخت پر بیٹھا۔ سٹورٹ خاندان 1371ء سے سکاٹ لینڈ پر حکمران تھا اور چونکہ الزبتھ نے ساری عمر شادی نہ کی تھی، اس لئے اس کے بعد تخت پر بیٹھنے کے لئے ٹیوڈور خاندان میں سے کوئی وارث سامنے نہ آ سکا۔ جیمس اول الزبتھ کی کزن میری ملکہ سکاٹ لینڈ کا بیٹا تھا اور تخت پر بیٹھنے کے بعد اس نے سکاٹ لینڈ اور انگلستان کی بادشاہتوں کو یکجا کر دیا۔ اس یکجائی کے ساتھ جہاں سلطنت انگلستان کی سرحدوں کی وسعت میں اضافہ ہوا، وہیں ایک صدی پر محیط ہونے والی ایک چپقلش کا بھی آغاز ہو گیا۔
اس عرصے میں سخت گیر پروٹسنٹ طبقہ یعنی پیوریٹان (Puritan) انگلستانی کلیسا سے بیزار ہو چکا تھا۔ ان کے نزدیک اب بھی اس کلیسا میں کیتھولک اثرات بہت زیادہ غالب تھے۔ اس کے علاوہ بادشاہ اور پارلیمنٹ کے درمیان بھی ایک مناقشہ چھڑ چکا تھا جس کی وجہ یہ تھی کہ پارلیمنٹ اپنے لئے خودمختار حقوق کا تقاضا کر رہی تھی جبکہ بادشاہ اپنے حق ربانی پر اڑا بیٹھا تھا۔ 1625ء میں جیمس اول کے انتقال اور اس کے بیٹے چارلس اول کے تخت پر بیٹھنے تک یہ جھگڑا چلتا رہا۔ بالآخر 1628ء میں پارلیمنٹ، چارلس اول سے ’’درخواست حقوق‘‘ پر دستخط کروانے اور اس کے اختیارات محدود کرنے میں کامیاب ہو گئی۔ چارلس نے پارلیمنٹ سے مدد حاصل کئے بغیر بھی حکومت چلانے کی کوشش کی لیکن جب سلطنت میں انتشار پھیلنے لگا تو مجبور ہو کر 1640ء میں اس نے ایک دفعہ پھر پارلیمنٹ کو طلب کر لیا۔ اس پارلیمنٹ کو ’’خطویل پارلیمنٹ‘‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ سلطنت میں پیدا شدہ بحران سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہوئے پارلیمنٹ عنانِ اقتدار پر قبضہ کرنے کی کوشش کی لیکن چند اہم نکات پر اختلافات پیدا ہو جانے کے سبب کامیاب نہ ہو سکی۔ پارلیمنٹ میں موجود پیوریٹان طبقے نے ہتھیار اٹھانے کا اعلان کر دیا اور 1642ء میں خانہ جنگیوں کے ایک سلسلے کا آغاز ہوا جو 1649ء میں پیوریٹان افواج کے سربراہ آلیور کرامویل کے ہاتھوں چارلس اول کی شکست پر ختم ہوا۔ آلیور کرامویل نے چارلس اول کو سزائے موت سنا کر انگلستان کو ’’دولت مشترکہ‘‘ بنانے کا اعلان کر دیا۔
1649ء اور 1651ء کے درمیانی عرصے میں کرامویل نے آئرلینڈ اور سکاٹ لینڈ میں اٹھنے والی شورشوں کو فرو کیا اور انہیں بھی دولت مشترکہ میں شامل کرکے اپنی سلطنت مستحکم کر لی تاہم 1658ء میں اس کی موت کے ساتھ ہی اس کی بنائی ہوئی سلطنت زمین بوس ہو گئی۔ تب ایک مرتبہ پھر طویل پارلیمنٹ کو مجتمع کیا گیا اور چارلس اول کے بڑے بیٹے چارلس دوم کو، جو فرانس میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہا تھا، واپس بلا کر تخت پر بٹھا دیا گیا۔
چارلس دوم نے نظم و ضبط بحال کرنے کی کوشش کی مگر حکمرانی کا تنازعہ ہنوز باقی تھا۔ اس وقت تک پارلیمنٹ دو حصوں میں بٹ چکی تھی۔ ایک حصے کا مطالبہ تھا کہ چارلس دوم کے بھائی جیمس دوم کو اس کے رومن کیتھولک عقیدے کی وجہ سے حق جانشینی سے محروم کر دیا جائے جبکہ دوسرا حصہ اس مطالبے کی مخالفت میں تھا (بعد ازاں یہی دونوں حصے آگے چل کر وِگ پارٹی اور ٹوری پارٹی کا روپ دھار گئے)۔ اس تنازعے کا کوئی فیصلہ نہ ہو سکا اور 1685ء میں اپنی موت تک چارلس اول پارلیمنٹ کی اعانت کے بغیر ہی حکومت کرتا رہا۔ اس کی موت کے بعد تخت جیمس دوم کو مل گیا اور 1688ء میں اس کے مخالفوں نے چارلس اول کی بڑی بیٹی میری کے شوہر اور ولندیز کے صوبہ دار ولیم کو دعوت دے دی کہ وہ آ کر اپنی اہلیہ کے حق وراثت کو وصول کرے۔ ان کی نگاہ میں میری اور ولیم پروٹسٹنٹ عقیدے کے حامل ہونے کی بدولت انگلستان کے تخت کے حقیقی وارث تھے۔ 
ولیم کی آمد کے ساتھ ہی جیمس سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر بھاگ نکلا۔ 1689ء میں پارلیمنٹ نے ولیم اور میری کو مشترکہ طور پر انگلستان کا تاج پہنا دیا، اس شرط پر کہ وہ مسودۂ قانونِ حقوق کی تصدیق کریں جس میں جیمس کی زیادتیوں کا تذکرہ اور مذمت کی گئی تھی۔ ایک اور قانون کے تحت پروٹسٹنٹ عقیدے کے مخالفین کو بھی مذہبی رسوم ادا کرنے کی اجازت دے دی گئی۔ اس طرح خون کا ایک قطرہ بہائے بغیر یہ انقلاب اپنے انجام کو پہنچ گیا۔ اس دور کے انگلستانی امراء نے اسے ’’عظیم الشان انقلاب‘‘ کا نام دیا۔
سٹورٹ خاندان کے رومن کیتھولک عناصر کی واپسی کا راستہ بند کرنے کے لئے 1701ء میں پارلیمنٹ نے سیٹلمنٹ ایکٹ منظور کیا۔ اس ایکٹ کے تحت یہ طے کیا گیا کہ اگر جیمس دوم کی چھوٹی بیٹی این لا ولد مر گئی تو تخت پروٹسٹنٹ عقیدے کے حامل ہینوور خاندان کو منتقل ہو جائے گا۔ اس اختصاص کی وجہ سے سکاٹ لینڈ اور انگلستان کا باہمی ربط ختم ہو گیا اور سکاٹش عوام میں غم و غصے کے جذبات پھیلنے لگے۔ انہیں ٹھنڈا کرنے کے لئے 1707ء میں یونین ایکٹ منظور کر کے سکاٹ لینڈ کو باقاعدہ انگلستان کا حصہ بنا لیا گیا اور یوں سلطنت برطانیہ عظمیٰ وجود میں آ گئی۔
’’عظیم الشان انقلاب‘‘ سے پہلے کی نصف صدی جس کشاکش اور بحرانی صورت کی شکار رہی تھی، اس نے انگلستان والوں کو اپنے طرزِ حکومت کے بارے میں بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر دیا۔ یہاں سے برطانوی سیاسی و سماجی فکر کے کئی دھاروں کا آغاز ہوا۔ برطانوی حکومت اور معاشرے کے متعلق نظریات وضع کرنے کے عمل میں دانشوروں نے کئی فکری دشتوں کی سیاحی کی، اخلاقیاتِ انسانی کے متعلق نئی سچائیاں آشکار کیں اور سخت گیر قیادت کے معاشرے کے لئے مفید ہونے کے عقیدے پر اعتراضات کرنے شروع کر دیئے۔
سترھویں اور اٹھارہویں صدی کے دوران چند اعتدال پسند مفکرین نے انگلستان کی عدلیہ کی تاریخ سے کسب فیض کر کے پارلیمنٹ کے لئے ایک زیادہ موثر اور زیادہ اہم کردار حاصل کرنے اور بادشاہ کی حکومت کے بجائے قانون کی حکومت قائم کرنے کی سعی شروع کر دی۔ سر ایڈورڈ کوک اور سر ولیم بلیک سٹون جیسے ماہرین قانون نے اس ضمن میں کلیدی خدمات انجام دیں۔ انہوں نے نظریہ پیش کیا کہ انگلستان کے عمومی قوانین اور پارلیمنٹ کے منظور کردہ قوانین کے اجتماع سے تشکیل پانے والا نظام مردانِ انگلستان کے حقوقِ قطعی کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔ (حقوقِ نسواں کا نہ اس وقت کوئی تصور تھا اور نہ ان کے متعلق ایسا کوئی شائبہ کسی کے گمان سے بھی گزرتا تھا)۔ اعتدال پسندوں نے یہ بحث چھیڑ دی کہ قانون کی حکمرانی کو بادشاہ کے بے لگام فرامین پر بالادستی حاصل ہے۔ تحریری اور غیر تحریری، دونوں طرح کے قوانین ایک انگلستانی کی جان، مال اور آزادی کو مقدس قرار دیتے تھے۔ اس کے علاوہ پنچایتی مقدمہ، نمائندگانی حکومت کا حق اور حبس بیجا سے تحفظ بھی انہیں حاصل تھا۔
سترہویں صدی کے ماہرین قوانین کی بدولت عمومی قوانین سٹورٹ حکمرانوں کے بے لگام اقتدار کے لئے ایک مضبوط لگام بن کر سامنے آئے۔ سر ایڈورڈ کوک نے دعویٰ کیا کہ یہ قوانین ایک قدیمی آئین کا بچ رہنے والا حصہ ہیں جو اینگلوسیکسن دورِ حکومت میں تیار کیا گیا تھا لیکن بعد ازاں حالات کی دھند میں نگاہوں سے اوجھل ہو گیا۔ کو ک کے نظریئے کے مطابق، اس آئین نے شاہی اقتدار کو قائم کرنے کے ساتھ ساتھ اس پر حد بندیاں بھی عائد کی تھیں۔ قدیمی آئین کے زیاں کے باوجود، عمومی قوانین اور منشوروں ، جن میں میگنا کارٹا بھی شامل تھا، کے ذریعے اس کے صداقتوں کی ازسرنو تصدیق ہو گئی۔
سر ایڈورڈ کوک کے کام کو سر ولیم بلیک سٹون نے آگے بڑھایا اور قانون کی حکمرانی کا سب سے بڑا مبلغ بن کر ابھرا۔ قانونِ انگلستان پر تحریر کئے گئے اس کے تبصرے برطانوی آئین کا حتمی بیان بن گئے۔ اپنی تحریروں میں بلیک سٹون نے آئینی قانون کا پہلا واضح اور نسبتاً مختصر خلاصہ پیش کیا۔ اس نے پارلیمانی حکومت کے منبع کی حیثیت سے قدیمی آئین کے تصورات کی تائید کی اور عمومی قوانین کو مطلق العنان حکمرانی کے آئینی متبادل کے طور پر پیش کیا۔
پارلیمنٹ کو زیادہ با اختیار اور موثر بنانے کی یہ جدوجہد صرف قانونی سطح تک محدود نہ تھی۔ کرامویل کو حمایت سے نوازنے والے عسکریت پسند مذہبی گروہ بھی اپنی جگہ سرگرمِ عمل تھے اور ان کے اقدامات ماہرین قانون کے اقدامات سے کہیں زیادہ انتہاپسندانہ تھے۔ کرامویل کی تشکیل کردہ فوج، جسے ’’نئی ماڈل فوج‘‘ کے نام سے جانا جاتا تھا، یقین رکھتی تھی کہ خدا نے انگلستان کو کیتھولک نواز بادشاہوں سے ’’پاک‘‘ کرنے کا فریضہ ان کے ذمے لگایا ہے۔ وہ ان بے جا مراعات کے بھی مخالف تھے جو طبقہ اشراف کو بغیر کوئی قابل ذکر کام کئے محض پیدائشی حق سمجھ کر عطا کر دی جاتی تھیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ دولتمند جاگیرداروں کے بجائے ہر صاحب جائیداد شخص کو ووٹ دینے کا حق دیا جائے۔ فوج کا ایک حصہ اس مطالبے کو یہ کہہ کر ایک قدم آگے لے گیا کہ ووٹ دینے کا حق ہر شخص کو ہونا چاہئے۔ سترہویں صدی کے سماجی حالات پیش نظر یہ حقیقی معنوں میں ایک انقلابی تجویز تھی۔ اس طبقے کا کہنا تھا کہ انگلستان میں رہنے والے غریب کی زندگی بھی امیر کے جتنی ہی اہم ہے۔ ایک اور انقلاب پسند طبقے نے مطالبہ کیا کہ جائیداد کی ملکیت میں ہر ایک کو شریک ہونا چاہئے کیونکہ بائبل کے قول کے مطابق، ابتداء میں ہر مسیحی اپنے مال و اسباب میں دوسرے مسیحی بھائیوں کو شریک کیا کرتا تھا۔
پیوریٹان طبقے کی سماجی اور طبقاتی انقلاب پسندی کے پس پردہ پروٹسٹنٹ نظامِ اخلاق کارفرما تھا۔ تاریخ قدیم سے سماجی اور سیاسی فکر کا دائرہ آسودہ حال افراد کے گرد گھومتا تھا اور محنت کشوں کو اس سے یکسر خارج سمجھا جاتا تھا۔ سیاسی قوت و اختیار ان افراد کا حق سمجھا جاتا تھا جن کے پاس عوامی فلاح کے لئے کام کرنے کو فالتو وقت موجود ہو، اور اپنا پیٹ بھرنے کے لئے صبح سے شام تک مزدوری کرنے والوں کے پلے ایسے وقت کی موجودگی خارج از امکان تھی۔ پروٹسٹنٹ طبقے نے محنت کو اخلاقی اہمیت دے کر ان مفروضات کا رخ مخالف سمت میں پلٹ دیا۔ رچرڈ بیکسٹر اور جان بنیان جیسے پیوریٹان مصنفوں نے محنت کشوں اور بیکاروں کے درمیان جاری آفاقی جدوجہد کے حوالے سے نہایت اثر انگیز اور انقلابی تحریریں تخلیق کیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پوری کائنات میں کام کرنے والے اور بیکار بیٹھ رہنے والے عناصر کے درمیان ایک کشمکش جاری ہے، دونوں ازل سے ایک دوسرے پر غالب آنے کی کوشش کر رہے ہیں اور اس جنگ میں ہماری ہمدردیاں کام کرنے والوں کے ساتھ ہونی چاہئیں۔ 
پروٹسٹنٹ طبقے کے نزدیک کام، ذاتی نجات کا ایک اہم وسیلہ تھا۔ ان کے مطابق، جب انسان کسی ایسے کام میں مصروف ہوتا ہے جسے اس کی اپنی ذات کے ساتھ ساتھ معاشرے کو بھی فائدہ پہنچے تو درحقیقت وہ خدا کی ہی خدمت کر رہا ہوتا ہے۔ ہر انسان کو ایک خاص کام کے لئے تخلیق کیا گیا ہے اور اس لئے ہر انسان ایک منفرد و یگانہ حیثیت اور وجود کا مالک ہے۔ جب انسان کسی مخصوص شعبے میں کام کرنا شروع کر دے تو پھر یہ اس کا فرض ہے کہ وہ اپنی بساط بھر محنت کرے اور بیکاری و کاہلی سے بچا رہے۔ نیکوکاروں کی پہچان ان کی محنت اور ترقی سے ہی ہوتی ہے۔ گناہ گار اپنی کاہلی اور بیکاری کی بدولت شیطان کی خدمت میں مگن ہیں اور انفرادی ذمہ داری کی آزمائش میں کامیاب ہونے کے اہل نہیں۔ حکمران طبقہ اشراف اور بادشاہت چونکہ کسی کام کی ذمہ داری نہیں لیتی، اس لئے خدا کی دشمن ہے اور ہر محنتی پیوریٹان کا فرض ہے کہ وہ انہیں اپنا دشمن تصور کر کے کیفر کردار تک پہنچائے۔
سترہویں صدی کے سیاسی اور آئینی بحران نے برطانوی سیاسی فکری تاریخ کی دو اہم ترین شخصیات، تھامس ہابز اور جان لاک، کو جنم دیا۔ تھامس ہابز نے پارلیمنٹ اور سٹورٹ بادشاہی کے حمایتی، دونوں فریقین کے دعووں کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ 1651ء میں منظر عام پر آنے والی اپنی مشہور کتاب ’’لیویاتھن‘‘ میں اس نے بادشاہی کے حامیوں کا یہ نظریہ مسترد کر دیا کہ بادشاہوں کو حکمرانی کا قطعی اور ناقابل تقسیم اختیار خداوند کی طرف سے عطا کیا گیا ہے۔ اس نے کہا کہ انسان کسی قیادت تسلیم کرنے کا فیصلہ شعوری طور پر کرتے ہیں۔ کئی عہد پیشتر، جب سب انسان آزاد اور مساوی تھے اور سیاسی حکمرانی کا تصور تک موجود نہ تھا، انسانوں نے رضاکارانہ طور پر ایک مشترکہ حکومتی قوت کو اپنا سربراہ اور حاکم بنایا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ فطرت کے حوالے سے کامل آزادی ملنے پر ہر انسان خود کو غیر محفوظ تصور کرتا تھا اور دوسرے انسانوں کی بے لگام قوت اور خود غرضانہ محرکات سے خوفزدہ رہتا تھا۔ حکومت کو اسی لئے تشکیل دیا گیا کہ وہ انسانوں کو آپے سے باہر ہو جانے سے روکے رکھے، لہٰذا حکومت انسانوں کی منطقی اور دانشمندانہ رضا کا نتیجہ ہے، نہ کہ کسی حق ربانی کا مظہر۔ انسانوں نے اپنی آزادی اپنی مرضی سے ایک نظامِ حکومت کے تابع کی۔ اس نظامِ حکومت کی بنیاد اگرچہ تلوار پر رکھی گئی تھی لیکن اس کے سوا اور کوئی چارہ بھی نہ تھا کیونکہ اس وقت کا انسان تلوار کی کاٹ کے علاوہ اور کسی خوف سے واقف بھی نہ تھا۔ حکومت انسانوں کی آزادی پر جو قدغن عائد کرتی ہے، وہ بے جواز نہیں کیونکہ بدلے میں وہ انسانوں کو تحفظ اور نظم و ضبط فراہم کرتی ہے۔
’’لیویاتھن‘‘ کے مندرجات نے بادشاہت کے حامیوں کو اس لئے برانگیختہ کیا کیونکہ اس میں بادشاہ کو حق ربانی حاصل ہونے کے تصور کی تردید کی گئی تھی اور پارلیمنٹ کے حامیوں کو اس لئے کیونکہ اس میں ایک مطلق العنان طرزِ حکومت کی حمایت کی گئی تھی۔ ہابز کا نظریہ یہ تھا کہ چونکہ عوام خود اپنے لئے ایک قائد کے متقاضی ہوتے ہیں ، اس لئے ایک مطلق العنان حکومت وجود جائز ہی نہیں ضروری بھی ہے، خواہ وہ ایک بادشاہ کے روپ میں ہو یا ایک قانون ساز ادارے کے روپ میں۔ معاشرے پر اسے ہر لحاظ سے مکمل اختیار حاصل ہونا چاہئے۔ اس اختیار کو کسی بھی لحاظ سے للکارنا، معاشرے کے امن و تحفظ کو خطرے میں ڈالنے کا سبب بن سکتا ہے، لہٰذا ایسا کوئی فعل ناجائز ہی نہیں خطرناک بھی ہے۔ اگر حکومت کے اقتدار کو تسلیم نہ کیا گیا تو انسان ایک مرتبہ پھر اس دور میں پلٹ جائے گا جب دوسرے انسانوں کے فطری تقاضے اور افعال اس کیلئے نقصان کے موجب اور معاشرے میں انتشار کا باعث ہوا کرتے تھے۔ انسانوں کی خواہشات کو لگام دینا بہت ضروری ہے اور یہ کام ایک مطلق العنان حکومت ہی کر سکتی ہے۔
پارلیمنٹ کے کئی حامیوں کے نزدیک ہابز کا مجوزہ طرزِ حکومت، جسے اس نے لیویاتھن کا نام دیا تھا، اسی مطلق العنان آمریت کا ایک روپ تھا جسے سٹورٹ بادشاہ نافذ کرنے کی کوشش کر رہے تھے، لہٰذا انہوں نے اسے مسترد کر دیا۔
1688ء کے ’’عظیم الشان انقلاب‘‘ کے بعد پارلیمنٹ نے اقتدار شاہی تخت اور مقننہ پارلیمنٹ کے درمیان تقسیم کرنے میں کامیابی حاصل کر لی اور ایک نئے دور کا آغاز ہوا، اور اس آغاز کے ساتھ جان لاک کی کتاب ’’مدنی حکومت پر دوسرا صحیفہ‘‘ سامنے آئی جس میں آئینی بحران کے اختتام کے مابعد حالات میں سامنے آنے والے سیاسی نظریات کی حقیقی تصویر پیش کی گئی۔ ہابز کی طرح لاک بھی اس نظریئے کا حامی تھا کہ مدنی حکومت ایک منطقی تخلیق ہے اور عوام نے اسے بے لگام آزادی کے مضمرات سے نجات پانے کے لئے خود قائم کیا ہے، لیکن ہابز کے مقابلے میں لاک کو انسانی فطرت کی بنیادی اچھائی پر کہیں زیادہ یقین تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ انسان میں دوسرے انسانوں کی جان، مال اور آزادی کا احترام کرنے کی فطری اہلیت اور رجحان پایا جاتا ہے۔ لاک کے تمام فلسفے کی بنیاد اسی یقین پر رکھی گئی ہے کہ انسان فطری طور پر نیک ہے اور بدی سے نفرت کرتا ہے۔
تاہم، لاک کو ان جھگڑوں سے بھی انکار نہ تھا جو مال اور ملکیت کے حوالے کھڑے ہو سکتے ہیں ، اور وہ یہ بھی تسلیم کرتا تھا کہ اگر موقع دیا جائے تو کسی انسان میں دوسرے کے حقوق غصب کرنے کی خواہش بھی ابھر سکتی ہے، اور ایسی ہی اتفاقی صورتِ حالات سے بچنے کے لئے حکومت کا نظام قیام میں لایا گیا ہے۔ 
یہاں تک اس کے نظریات میں ہابز کی واضح جھلک نظر آتی ہے لیکن آگے چل کر وہ ہابز کی راہ سے بالکل ہٹ کر یہ نظریہ پیش کرتا ہے کہ اگر حکومت اپنے محکوموں کے فطری حقوق کے تحفظ میں ناکام ہو جائے یا خود ان پر ڈاکہ ڈالنے کی کوشش کرنے لگے تو پھر عوام کو اختیار حاصل ہے کہ وہ اسے تبدیل کر دیں۔ ’’عظیم الشان انقلاب‘‘ کے ذریعے حکومت میں لائی جانے والی تبدیلی لاک کے نظریات کی پہلی مجسم تصویر ہے، اور ریاست ہائے متحدہ امریکہ کا اعلانِ آزادی تحریر کرتے ہوئے تھامس جیفرسن نے اسی کو اپنی سب سے بڑی دلیل کے طور پر پیش کیا۔
برطانوی انقلاب نے ایک اور سیاسی مکتبہ فکر کو جنم دیا جسے ’’عوامی جمہوریہ ازم یا ری پبلکن ازم‘‘ کا نام دیا گیا۔ برطانیہ میں عوامی جمہوریہ کا تصور سب سے پہلے ’’اوشیانا کی دولت مشترکہ‘‘ نامی ایک کتاب میں پیش کیا گیا تھا جس کا مصنف جیمس ہیرنگٹن تھا۔ یہ کتاب 1656ء شائع ہوئی اور مصنف نے اس میں ایک مثالی عوامی جمہوریہ کا نقشہ کھینچا تھا، ایک ایسی حکومت جو بادشاہ کی ملکیت نہیں بلکہ عوام کے معمولاتِ حیات کا ایک حصہ ہے، شہری نمائندوں کو منتخب کر کے کاروبارِ حکومت میں حصہ لیتے ہیں اور عوامی بہبود کی خاطر فوجی خدمات انجام دیتے ہیں۔ ہیرنگٹن اور اس کے ہم خیال مفکرین کا موقف تھا کہ مملکت کے شہریوں کو اپنے مجموعی معاملات خود چلانے کا موقع ملنا چاہئے کیونکہ ان کے افعال کے پس پردہ ایک عوامی جذبہ کارفرما ہوتا ہے اور وہ مجموعی بھلائی کی خاطر ذاتی بہتری کو تج دینے کے لئے زیادہ آمادہ و تیار رہتے ہیں۔ ہتھیار بندی اور سب کے تحفظ کی خاطر عوامی فوج کی تشکیل سے اسی عوامی جذبے کا اظہار ہوتا ہے اور مطلق العنان حکمرانی سے آزادی کی ضمانت فراہم ہوتی ہے۔ 
1707ء میں سکاٹ لینڈ کے ساتھ متحد ہونے کے بعد برطانوی حکومت نے ایک غیر تحریری آئین کے تحت کام کرنا شروع کر دیا تھا۔ یہ آئین 1688ء کے انقلاب کے بعد رو بہ عمل لایا گیا تھا۔ بادشاہ اور پارلیمنٹ کے درمیان پائے جانے والے اس معاہدے کے نتیجے میں جیمس دوم کے رومن کیتھولک ورثاء کے لئے برطانیہ کے تخت کا باب بند ہو گیا۔ اگرچہ وقتاً فوقتاً ان کی طرف سے اس پر قبضہ جمانے کی کوششیں ہوتی رہیں لیکن کامیابی ان سے دور رہی۔ سرکاری مذہبی ادارے کی حیثیت انگلستانی کلیسا کو ہی حاصل رہی البتہ دوسرے کلیساؤں سے تعلق رکھنے والے پروٹسٹنٹ افراد کو بھی برداشت کرنے کا حوصلہ پیدا کر لیا گیا۔
اس انقلاب کے نتیجے میں شاہی حکمران اور پارلیمنٹ کے درمیان چلنے والی اقتدار و اختیار کی کشمکش کا بھی خاتمہ ہو گیا اور پارلیمنٹ حکومت میں بالادست قوت کے طور پر ابھر کر سامنے آ گئی۔ بعد میں آنے والے بادشاہوں نے آئینی حکمرانوں کی حیثیت سے مملکت کے قوانین کے اندر محدود رہ کر حکومت کرنے کا گر سیکھ لیا۔ اٹھارہویں صدی میں بادشاہوں نے اپنی حکومت کا وسیلہ وزراء کو بنایا جو پارلیمنٹ میں بادشاہ کے لئے حامی ڈھونڈتے اور سنبھالتے تھے۔ ووٹ دینے کا حق رکھنے والے صاحب زمین افراد ہر سات سال بعد ایک نیا دار العوام منتخب کرتے تھے البتہ دار الامراء کی رکنیت مخصوص طبقات تک ہی محدود تھی۔ پارلیمنٹ قوانین منظور کرتی، خارجہ پالیسی کا انتظام سنبھالتی اور ان ٹیکسوں کی منظوری دیتی جنہیں وصول کر کے بادشاہ اپنے مصاحبوں ، فوجیوں اور شاہی خاندان کے افراد کی تنخواہیں ادا کرتا۔
اس دور کے حکمرانوں کے نزدیک وِگ پارٹی اس انقلاب کی نمائندہ تھی جس کے نتیجے میں وہ تخت نشین ہوئے تھے اور ٹوری پارٹی کو وہ جیمس دوم کے ورثاء کی حمایتی گردانتے تھے۔ نتیجتاً جارج اول اور اس کے بیٹے، جارج دوم کے ادوارِ حکومت یعنی 1714ء سے لے کر 1760ء تک حکومت میں وِگ پارٹی کو غالب اکثریت حاصل رہی، اور 20 سال تک حکومت کا انصرام وِگ پارٹی کے سربراہ سر رابرٹ والپول کے ہاتھ میں رہا۔ اس عرصے میں والپول نے وِگ پارٹی کو اتنا مضبوط بنا دیا کہ نصف صدی کے طویل عرصے تک برطانوی سیاست سے دو جماعتی نظام ہی غائب رہا۔ 
اٹھارہویں صدی کے اواخر اور انیسویں صدی کے اوائل میں ، انقلابِ فرانس کا تحفہ، نپولین بونا پارٹ ایک نئی فوجی قوت کی حیثیت سے یورپ پر نازل ہوا۔ نپولین کے ساتھ ہونے والی جنگوں کے سلسلے میں بالآخر برطانوی فتح یاب ہو گئے لیکن اس سے پہلے یہ جنگیں اپنا خراج پوری طرح وصول کر چکی تھیں۔ جب ہزاروں سابقہ فوجی لیبر مارکیٹ میں داخل ہوئے تو اس کی روزگار فراہم کرنے کی گنجائش چند ہی دنوں میں جواب دے گئی۔ اس وقت انصرامِ حکومت ٹوری پارٹی کے وزیر اعظم رابرٹ بینکس جنکنسن کے ہاتھ میں تھا۔ 1815ء میں کساد بازاری کی ایک ہولناک لہر کا آغاز ہوا۔ جنگوں کے سلسلے میں برطانیہ پر جو قرضے چڑھ چکے تھے، ان کا سود اتنا زیادہ تھا کہ حکومت کے پاس غریب محنت کشوں کی ابتلاء دور کرنے کے لئے کچھ باقی نہ بچتا تھا۔ انیسویں صدی کے اوائل میں کئی جگہوں پر پھوٹنے والے فسادات کا سبب یہی عوامل تھے۔ 
ٹوری پارٹی کے اراکین دو دہائیاں پیشتر اپنے ہمسایہ ملک فرانس میں رونما ہونے والے انقلاب کے اثرات دیکھ کر بری طرح خوفزدہ ہو چکے تھے۔ ان کے خوف کا اظہار ان اقدامات سے ہوا جو انہوں نے غریب طبقے کی طرف سے ہونے والے احتجاج کو دبانے کے لئے کئے۔ 1819ء میں پارلیمنٹ نے فسادات کے خلاف چھ قوانین منظور کئے۔ ان قوانین کے تحت پریس کی آزادی اور عوامی اجلاس منعقد کرنے کی آزادی کو محدود کر دیا گیا، اور امن عامہ میں خلل ڈالنے والے افعال کے لئے سخت سزائیں مقرر کر دی گئیں۔ اس کے علاوہ سیاسی اجتماعات اور مزدور تنظیموں کی تشکیل پر بھی پابندی عائد کر دی گئی۔
1815ء میں پارلیمنٹ نے جاگیرداروں کو فائدہ دینے کیلئے ’’غلے کے قوانین‘‘ منظور کئے تھے جن کے تحت درآمد شدہ اناج پر مختلف ٹیکس عائد کر دیئے گئے تھے۔ 1817ء میں انکم ٹیکس منسوخ کر دیا گیا تھا جس کا تمام تر فائدہ سوداگروں اور مختلف مصنوعات تیار کرنے والوں کو پہنچا۔ اسی کے ساتھ پارلیمنٹ نے ٹیکسوں کا زیادہ تر بوجھ صنعت سے متعلقہ تجارت پر منتقل کر دیا کیونکہ دار العوام میں اس شعبے کے نمائندگان کی تعداد نہایت قلیل تھی۔ چائے، بیئر، تمباکو اور چینی جیسی عام استعمال کی چیزوں پر عائد ہونے والے محصولات نے غریب طبقے میں بے چینی اور اشتعال کو بڑھاوا دیا اور جا بجا انقلابی تبدیلیوں کے حق میں آوازیں بلند ہونے لگیں۔ 
اس دور میں مشہور برطانوی فلسفی جیریمی بنتھم کے نظریات نے خصوصی طور پر مقبولیت حاصل کی۔ بنتھم نے افادیت پسندی کا فلسفہ پیش کیا تھا جس کے تحت عوام کے زیادہ سے زیادہ حصے کے لئے زیادہ سے زیادہ آسودگی کا اہتمام کرنا حکومت کا فرض ٹھہرتا تھا۔ شاعری میں نمودار ہونے والی رومانویت پسندی کی تحریک، جس کی صف اول میں ولیم ورڈزورتھ، ایس ٹی کولرج اور لارڈ بائرن جیسے شعراء شامل تھے، سماجی روایات پر فطری آزادی کی برتری کا نظریہ لے کر سامنے آئی۔ 
انیسویں صدی میں دو ایسی تاریخی پیش رفتیں رونما ہوئیں جنہوں نے برطانیہ کی سماجی اور سیاسی سوچ کا رخ بدل کر رکھ دیا۔ اس دور میں پہلی مرتبہ جمہوریت ایک حقیقی قوت کے طور پر ابھر کر سامنے آئی اور اس کے ساتھ ساتھ ایک عظیم الشان صنعتی انقلاب برپا ہوا۔ 1867ء تک برطانیہ میں تقریباً ہر طبقے کے بالغ مردوں کو ووٹ دینے کا حق مل چکا تھا۔ اسی دور میں سیاسی پارٹیوں کے ابھرنے کے عمل کا آغاز ہوا اور اخبارات کی وسیع پیمانے پر اشاعت نے عوام کے لئے سیاسی عمل میں حصہ لینا آسان بنا کر ان کی رائے کی اثر انگیزی میں بے پناہ اضافہ کر دیا۔ اسی عرصے میں برطانیہ بتدریج ایک زرعی ملک سے ایک صنعتی ملک میں تبدیل ہونے کے عمل سے گزرا اور اس کی معیشت کی عمارت کھیتوں کے بجائے کارخانوں میں جا استوار ہوئی۔ اس تبدیلی نے جہاں برطانوی معیشت کو پہلے سے کہیں زیادہ طاقتور بنا دیا، وہیں برطانوی سماجی طرزِ حیات کی روایات کا رخ ہی پلٹ دیا۔
دنیا کے دوسرے ممالک کے مقابلے میں برطانیہ میں صنعت کاری کا آغاز زیادہ جلدی اور زیادہ تیزی سے ہوا کیونکہ یہاں کے حالات صنعتوں کے قیام کے لئے موافق تھے۔ یہاں تجارت کرنا زیادہ آسان اور باسہولت تھا، ایندھن کی حیثیت سے کوئلے کے ذخائر اور گھنے جنگلات موجود تھے، فلزیاتی دھاتوں کے ذخائر بھی دستیاب تھے اور ایسے بینک بھی موجود تھے جو صنعتوں میں لگانے کے لئے سرمایہ فراہم کر سکتے تھے۔ زراعت میں ہونے والی پیش رفتوں نے بھی صنعت کاری کے عمل کو آسان بنا دیا۔ نئے زرعی طور طریقوں کی بدولت یہ ممکن ہو گیا کہ کم کاشتکار زیادہ آبادی کے لئے خاطرخواہ اناج پیدا کر سکیں لہٰذا قدرتی طور پر، برطانویوں کی توجہ زراعت سے ہٹ کر صنعت کی طرف مبذول ہو گئی جس میں ترقی کے زیادہ وسیع اور بھرپور امکانات موجود تھے۔ صنعت برطانویوں کی پہلی ترجیح بن کر دیکھتے ہی دیکھتے زراعت اور دیگر پیداواری شعبوں پر غالب آ گئی۔ صنعت بڑھی، پیسہ بڑھا، کام کرنے کے طور طریقے اور محنت کی اقدار بدلیں تو برطانوی عوام کا طرزِ زندگی بھی خودبخود تبدیل ہو گیا۔ نئے تجارتی مراکز وجود میں آ گئے، اور جہاں کبھی کسی ایک شہر کو ملک بھر کی توجہات کا مرکز ہونے کا اعزاز حاصل ہوا کرتا تھا، اب وہاں ایسے کوئی شہر سامنے آ گئے۔ صرف یہی نہیں ، بہت سے ایسے مقامات جو اپنی زرعی پیداوار کی بدولت خوشحال اور امیر سمجھے جاتے تھے، صنعت کی مسابقت اور قدرتی عناصر کی چیرہ دستیوں کی بدولت غربت کی پستی میں جا پڑے۔ 1851ء میں پہلی مرتبہ وہ وقت آیا کہ صنعتی شعبے کے کارکنوں کی تعداد زرعی شعبے کے کارکنوں سے بڑھ گئی۔ یہ صنعتی مراکز اتنی تیزی سے پھلے پھولے کہ ایک دفعہ تو مملکت برطانیہ کے قدم بھی لڑکھڑا کر رہ گئے۔ 1801ء سے لے کر 1851ء تک برطانیہ کی آبادی میں مجموعی طو ر پر سو فیصد کا اضافہ ہوا لیکن اس کے مقابلے میں لیور پول اور مانچسٹر جیسے صنعتی مراکز کی آبادی میں ایک ہزار فیصد کا اضافہ ہو گیا۔ ایسے ہی صنعتی مراکز سے حاصل ہونے والی دولت اور معاشی قوت کے بل بوتے پر برطانیہ نے سمندر پار کے ممالک میں اپنی وسیع و عریض سلطنت قائم کی۔
صنعتی انقلاب نے ایک طرف جہاں برطانوی معیشت کو غیر معمولی استحکام دیا، وہیں اس کے زیر اثر کئی ایسے مسائل بھی اٹھ کھڑے ہوئے جن سے آج تک کسی حکومت کو واسطہ نہیں پڑا تھا۔ سیاسی سطح پر صورتِ حال خاصی گمبھیر ہوتی جا رہی تھی۔ 1815ء میں نپولینی جنگیں ختم ہوئیں۔ ان جنگوں کے اخراجات پورے کرنے کے لئے حکومت نے بھاری ٹیکس نافذ کر رکھے تھے لیکن موسمی حالات کے ہاتھوں ڈانواں ڈول زرعی معیشت اب ان کا بوجھ اٹھانے کے قابل نہ رہی تھی لہٰذا اس ضمن میں لمبے چوڑے قرضے بھی اٹھا لئے گئے تھے۔ جنگیں ختم ہونے کے بعد ہزاروں فوجی سبکدوش ہو کر وطن کو واپس لوٹ آئے گویا برطانوی منڈی میں بے روزگاروں کا ایک سیلاب امڈ آیا۔ قومی قرضے پر ادا کئے جانے والے سود کی بلند شرح کی جکڑ بندی میں گرفتار حکومت برطانیہ کے خزانے میں اتنی رقم باقی نہ تھی کہ وہ غریب طبقے کی حالت بہتر بنانے کے لئے کوئی موثر قدم اٹھا سکتی۔ انیسویں صدی کے ابتدائی عشروں میں اس طبقے کی جھنجھلاہٹ اور تلخی کا اظہار جا بجا ہونے والے فسادات اور احتجاجی مظاہروں کے ذریعے ہوا۔
1812ء میں ٹوری پارٹی برسراقتدار آئی اور رابرٹ بینکس جنکنز نے وزیر اعظم کا عہدہ سنبھالا۔ ٹوری پارٹی انقلابِ فرانس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی انقلاب پسندی سے خوفزدہ تھی، لہٰذا احتجاجی مظاہروں کو بڑی سختی سے دبا دیا گیا۔ 1819ء میں پارلیمنٹ نے ’’چھ قوانین‘‘ منظور کئے جن کے تحت پریس کی آزادی محدود کر دی گئی، عوامی اجلاسوں پر کڑی حد بندیاں عائد کر دی گئیں اور امن عامہ میں بگاڑ ڈالنے کی کوشش کرنے والوں کے لئے سخت سزائیں مقرر کر دی گئیں۔ چند دیگر قوانین کے ذریعے سیاسی اجتماعات اور مزدور تنظیموں کی تشکیل پر بھی پابندی لگا دی گئی۔
اس سے پہلے 1815ء میں جاگیرداروں کے مفادات کا تحفظ کرنے کے لئے پارلیمنٹ ’’غلہ قوانین‘‘ منظور کر چکی تھی جن کے ذریعے درآمد شدہ اناج پر ٹیکس عائد کر دیئے گئے تھے۔ 1817ء میں پارلیمنٹ نے انکم ٹیکس ختم کر دیا جس کا فائدہ تاجروں اور صنعتکاروں کو پہنچا تاہم اس کے ساتھ ساتھ ٹیکسوں کا زیادہ تر بوجھ بھی اسی طبقے پر ڈال دیا گیا کیونکہ پارلیمنٹ میں اس کے نمائندوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر تھی۔ چائے، بیئر، تمباکو اور چینی جیسی عام استعمال کی اشیاء پر عائد ہونے والے ٹیکسوں سے عوام میں موجود بے اطمینانی کو مزید ہوا ملی۔
ان حالات میں سرکردہ دانشوروں کی طرف سے سیاسی اصلاحات کی آوازیں بلند ہونا شروع ہو گئیں۔ برطانوی فلسفی جیریمی بنتھم کے نظریات اس ضمن میں خصوصی طور پر اثر انگیز ثابت ہوئے۔ بنتھم نے افادیت پسندی کا فلسفہ پیش کیا جس کے مطابق حکومت کا مقصد عوام کے غالب حصے کے لئے آسودگی کا زیادہ سے زیادہ سامان مہیا کرنا ہے۔ 
اگر دیکھا جائے تو اس دور میں صرف دو شعبے ایسے ہیں جن میں حقیقی معنوں میں کوئی پیش رفت دیکھنے میں آئی۔ اول، یہ کہ 1833ء میں برطانوی نوآبادیات میں غلامی کو غیر قانونی قرار دے دیا گیا۔ دوم، 1828 میں ’’ٹیسٹ ایکٹس‘‘ کو ختم کر دیا گیا۔ ان قوانین کے تحت ایسے افراد کو حکومتی ملازمتوں اور پیشوں میں جگہ دینے اور یونیورسٹیوں میں داخل کرنے پر پابندی عائد تھی جو مذہبی اعتبار سے انگلستانی کلیسا کے رکن نہ ہوں۔ 1829ء میں آئرلینڈ میں ہونے والی طویل جدوجہد کے نتیجے میں ، حکومت نے رومن کیتھولک عیسائیوں کو عوامی عہدوں پر مقرر کرنے پر عائد پابندیاں بھی ختم کر دیں لیکن اس کا ردِ عمل ٹوری پارٹی کے اندر ہی اتنا شدید ہوا کہ پارٹی دو حصوں میں تقسیم ہو گئی۔
ان حالات میں ، 1830ء میں وِگ پارٹی کی حکومت نے چارلس گرے کی سربراہی میں اقتدار سنبھالا۔ اس حکومت نے سیاسی اصلاحات کے ایک سلسلے کے ذریعے دار العوام کے انتخابی نظام کو ازسرنو ترتیب دیا۔ اس سے پہلے ووٹ دینے کا حق صرف ان افراد کو حاصل تھا جو مخصوص اضلاع میں زمین کے معقول رقبے کے مالک ہوں۔ اس نظام کے تحت ایسے تاجروں ، صنعتکاروں اور ہنر مندوں کو ووٹ دینے کی اجازت نہ تھی جو زمیندار نہ ہوں۔ یہ نظام ازمنۂ وسطیٰ میں ترتیب دیا گیا تھا اور اس میں ایسے اضلاع شامل کئے گئے تھے جو اس وقت کے لحاظ سے خوشحال اور معاشی اہمیت کے حامل تھے لیکن تب سے اب تک حالات بہت تبدیل ہو چکے تھے۔ ان علاقوں کی معاشی حالت اب پہلے جیسی نہ رہی تھی اور اس کے باوجود پارلیمنٹ میں انہیں ضرورت سے زیادہ نمائندگی حاصل تھی۔ دوسری طرف نئے شہری و معاشی مراکز کا کوئی نمائندہ پارلیمنٹ میں موجود نہ تھا۔ 
اس عدم مساوات کو ختم کرنے کے لئے پہلا کامیاب قدم 1832ء کے ’’ریفارم بل‘‘ کی صورت میں اٹھایا گیا۔ اگرچہ اس بل میں پیش کی گئی اصلاحات بہت زیادہ شدید نوعیت کی نہ تھیں پھر بھی دار الامراء نے اسے دو مرتبہ مسترد کر دیا۔ بالآخر شاہ ولیم چہارم کو دھمکی دینا پڑی کہ اگر دار الامراء نے اس بل کو منظور نہ کیا تو وہ وِگ پارٹی کے ارکان کو اس ایوان میں نئی نشستیں دے دے گا۔ اس کے بعد طوعاً و کرہاً دار الامراء نے اس کی منظوری دے دی۔ اس قانون کے تحت ووٹ دینے کی اہلیت حاصل کرنے کے لئے ضروری زمین کے رقبے میں کمی کر دی گئی، دار العوام کی کم از کم ایک چوتھائی نشستوں کو ازسرنو تقسیم کر کے صنعتی علاقوں کو بھی نمائندگی فراہم کی گئی اور ڈھائی لاکھ سے زیادہ بالغ نوجوانوں کو ووٹ دینے والوں کی فہرست میں شامل کیا گیا لیکن آبادی کے لحاظ سے اب بھی یہ تبدیلیاں ناکافی تھیں۔ صنعتی شعبے کو زیادہ نمائندگی کی ضرورت تھی جبکہ رائے شماری کے عمل میں انگلستان کی صرف 20 فیصد آبادی کو حصہ لینے کا موقع ملتا تھا۔ سکاٹ لینڈ میں یہ شرح 12 فیصد اور آئرلینڈ میں 5 فیصد تھی۔
کئی انقلاب پسندوں میں یہ بل مایوسی کا تلخ احساس پیدا کرنے کا موجب بنا جو زیادہ بنیادی نوعیت کی تبدیلیوں کی توقع لگائے بیٹھے تھے۔ مزدور پیشہ طبقہ اب بھی اپنے نمائندوں کا انتخاب کرنے کے عمل سے باہر تھا۔ حجم کے اعتبار سے ملک کے اس سب سے بڑے طبقے کو نہایت ناکافی حقوق اور نہایت ناقص تحفظ حاصل تھا۔ حکمران او رمتوسط طبقے کے ارکان اس طبقے کی تعداد سے خوفزدہ ہو کر ہمیشہ یہ توقع لگائے رکھتے تھے کہ کسی بھی وقت اس طبقے کی بے اطمینانی متشددانہ صورت اختیار کر سکتی ہے۔ بہرحال، انہی طبقوں سے ایسے قائدین اور مصلحین سامنے آئے جنہوں نے مزدور طبقے کے حقوق کے لئے حکومتی ایوانوں میں جدوجہد کا آغاز کیا۔
1830ء کے عشرے میں دو اہم سیاسی جماعتیں منظر عام پر آئیں۔ وِگ پارٹی کے اراکین نے انقلاب پسندوں کے ایک گروہ کے ساتھ مال کر لبرل پارٹی تشکیل دی جس نے اپنی ساری توانائیاں حکومتی اصلاحات، آزاد تجارت اور ملکی آبادی کے وسیع حصے کو ووٹ کنندگان میں شامل کرنے کے لئے وقف کر دیں۔ دوسری طرف ٹوری پارٹی کی جانشین کے طور پر کنزرویٹو پارٹی سامنے آئی جس کے ارکان بادشاہت اور استعماریت پسندی کے کٹر حمایتی تھے۔
انیسویں صدی کے وسط میں سامنے آنے والی دو اہم سیاسی اصلاحی گروہ ’’انٹی کارن لاء لیگ‘‘ اور ’’چارٹسٹ‘‘ سامنے آئے۔ انٹی کارن لاء لیگ آزاد تجارت کی پُر جوش حامی تھی اور اس نے مطالبہ پیش کیا کہ درآمدی اناج پر عائد بھاری ٹیکس ختم کر دیئے جائیں۔ چارٹسٹ گروہ کی جدوجہد مزدور پیشہ طبقے کو سیاسی عمل میں شامل کرنے کے لئے تھی۔
’’غلہ قوانین‘‘ کی مخالفت کرنے والے گروہ کا تعلق متوسط طبقے کے انقلاب پسندوں سے تھا۔ ان کا موقف تھا کہ یہ قوانین صرف امیر زمینداروں کو فائدہ پہنچاتے ہیں جو اپنے منافع میں اضافے کی خاطر پورے ملک کو مہنگے داموں اناج فراہم کر رہے ہیں۔ 1845ء میں آئرلینڈ میں دس لاکھ کے قریب افراد آلو کے قحط کی بھینٹ چڑھ گئے۔ اس خوفناک آفت نے بالآخر حکومت کو ’’غلہ قوانین‘‘ کی مضرت رسانی کا قائل کر دیا اور 1846ء میں کنزرویٹو وزیر اعظم رابرٹ پیل نے ان قوانین کو ختم کر دیا۔ اگرچہ اس کے اس اقدام کے نتیجے میں کنزرویٹو پارٹی میں پھوٹ پڑ گئی مگر آزاد تجارت کے سرکردہ مبلغ کی حیثیت سے برطانیہ کا نام پوری دنیا میں نمایاں ہو گیا۔
چارٹسٹ تحریک کا مطالبہ تھا کہ مزدور طبقے کو مکمل سیاسی حقوق عطا کئے جائیں۔ میگنا کارٹا کی طرز پر اس گروہ نے ایک عوامی چارٹر پیش کیا۔ اس چارٹر کے اہم نکات میں تمام بالغ مردوں کو ووٹ دینے کا حق، آبادی کی بنیادوں پر پارلیمانی نشستوں کی ازسرنو تقسیم اور خفیہ رائے شماری کا طریقہ کار نمایاں تھے۔ چارٹسٹ تحریک نے اپنا پروگرام تین مرتبہ،1839ئ، 1842ء اور 1848ء ، میں پارلیمنٹ کے سامنے پیش کیا اور ہر مرتبہ پارلیمنٹ نے اسے نہایت قطعیت کے ساتھ مسترد کر دیا۔
لیکن آخری فتح عوام کو ہی حاصل ہوئی اور چارٹسٹ کے تقریباً تمام مطالبات رفتہ رفتہ منظور کر لئے گئے۔ 1867ء کے اصلاحات بل کے ذریعے ووٹ کنندگان کی تعداد دگنی اور پھر 1884ء کے اصلاحات بل کے ذریعے سہ گنا کر دی گئی۔ 1884ء کے بل میں یہ بھی تسلیم کر لیا گیا کہ پارلیمانی نشستوں کی تقسیم آبادی کی بنیاد پر کی جانی چاہئے۔ 1872ء میں خفیہ رائے شماری کا طریقہ کار بھی متعارف کرا دیا گیا، اور 1918ء کے انتخابات میں تمام بالغ مرد اور عورتیں انتخابی عمل میں شامل کر لئے گئے۔
1837ء برطانیہ پر ملکہ وکٹوریہ کے راج کا آغاز ہوا جو 1901ء تک جاری رہا۔ برطانوی تاریخ میں کسی اور شاہی حکمران کو اتنے طویل عرصے تک تخت نشین رہنے کا اعزاز حاصل نہیں۔ اس پورے دورانئے کو بہ حیثیت مجموعی وکٹورین عہد کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ اس عہد میں برطانوی سلطنت اپنی وسعت اور قوت کے اعتبار سے نکتہ عروج پر جا پہنچی۔ کئی غیر معمولی تبدیلیاں رونما ہوئیں جن کے مابعد اثرات نے پوری دنیا کو متاثر کیا۔
سیاسی اعتبار سے وکٹورین عہد کی سب سے بڑی خصوصیت وقت کی دو عظیم سیاسی شخصیات،لبرل پارٹی کے ولیم گلیڈ سٹون اور کنزرویٹو پارٹی کے بنجامن ڈسرائیلی،کے مابین ہونے والی مقابلہ آرائی ہے۔ سیاسی و سماجی پس منظر کے حوالے سے یہ دونوں ایک دوسرے سے بالکل مختلف تھے۔ گلیڈسٹون کا تعلق ایک تاجر خاندان سے تھا، اس نے ملک کے بہترین تعلیمی اداروں سے تعلیم حاصل کی اور پھر بڑی تیزی سے حکومتی ترقی کی منازل طے کرتا چلا گیا۔ ابتداً اس کا تعلق کنزرویٹو پارٹی سے تھا لیکن بعد ازاں ’’غلہ قوانین‘‘ کی تنسیخ کے جھگڑے پر یہ کنزرویٹو پارٹی سے علیحدہ ہو کر لبرل پارٹی میں شامل ہوا اور انجام کار اس کا لیڈر بن گیا۔
ڈسرائیلی کا باپ ایک یہودی دانشور تھا جو کسی تنازعے کے سبب اپنے مسلک سے علیحدہ ہو گیا اور اپنے بچوں کو انگلستانی کلیسا کا بپتسمہ دلا دیا۔ انگلستانی کلیسا کا رکن ہونے کے حوالے سے ڈسرائیلی کو پارلیمنٹ میں داخل ہونے کا راستہ مل گیا۔ ڈسرائیلی کو اعلیٰ تعلیمی اداروں میں شرکت کرنے کا موقع نہ ملا اور عملی زندگی کے ابتدائی ایام میں اپنی گزر اوقات کے لئے وہ ناول نگاری کیا کرتا تھا۔ سیاسی زندگی کا آغاز اس نے کنزرویٹو پارٹی سے کیا اور دمِ آخر تک اسی میں شامل رہا۔ پارٹی کے رکن کی حیثیت سے وہ دو مرتبہ وزیر خزانہ کے عہدے پر فائز ہوا۔ 1867ء کا اصلاحات بل، جس کی بدولت کنزرویٹو پارٹی کو شہری متوسط طبقے کی حمایت حاصل ہوئی، اسی نے پیش کیا تھا۔ 1868ء میں وہ ایک مختصر دورانئے کے لئے وزارتِ عظمیٰ کے عہدے پر فائز ہوا۔ اس کے بعد 1874ء سے لے کر 1880ء تک یہ عہدہ اس کے تصرف میں رہا۔ ڈسرائیلی کے عہد میں کنزرویٹو پارٹی کا رجحان بادشاہت اور کلیسا کی حمایت، زمینداری مفادات کے تحفظ اور برطانوی سلطنت کو مضبوط بنانے کی طرف مائل رہا۔ تاہم معاشرتی اصلاحات کے حوالے سے قانون سازی کے کئی اہم عناصر کو بھی اس کی حمایت حاصل رہی۔
گلیڈ سٹون کو چار مرتبہ وزیر اعظم بننے کا موقع ملا۔ پہلی مرتبہ 1868ء سے 1874ء تک، اس کے بعد 1880ء سے 1885ء تک، کچھ عرصے کے لئے 1886ء میں اور آخری مرتبہ 1892ء سے 1894ء تک۔ اس نے آزاد تجارت اور پارلیمانی و معاشرتی اصلاحات کو خصوصی توجہ سے نوازا۔ اس کے عہد حکومت میں مذہبی عصبیت کی بنیاد پر نافذ کئے جانے والے قوانین ختم کر دیئے گئے اور شخصی اہلیت کو سول سروس کی ملازمت کا معیار مقرر کیا گیا۔
وکٹوریہ کے بعد اس کا بیٹا ایڈورڈ ہفتم تخت پر بیٹھا اور 1910ء تک حکمران رہا۔ اس کا عہدہ برطانیہ میں اشرافیہ کی بالادستی کا آخری دور ثابت ہوا۔ بیسویں صدی کے آغاز میں شروع ہونے والی اصلاحی تحاریک نے اپنی توجہ ملک کی سماجی ترتیب بدلنے کی طرف مبذول کی اور طبقاتی تقسیم کو خصوصی طور پر اپنی جدوجہد کا ہدف بنا لیا۔ 1909ء میں ڈیوڈ لائیڈ جارج نے پہلا ’’عوامی بجٹ‘‘ پیش کیا جس میں فلاحی پروگراموں کے لئے فنڈز مہیا کرنے کے لئے دولتمند طبقے پر ٹیکس نافذ کئے گئے تھے۔ دار الامراء کی طرف سے اس بجٹ کی مخالفت ہونے پر ایک آئینی بحران پیدا ہو گیا جسے حسب معمول بادشاہِ وقت جارج پنجم نے دار الامراء میں ڈھائی سو نشستوں کا اضافہ کرنے کی دھمکی دے کر ختم کیا۔ اس بجٹ کی منظوری کے بعد قومی انشورنس جیسے دور رس پروگراموں کو عملی جامہ پہنانا ممکن ہو گیا جن کی بدولت خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے والے ہر خاندان کو مفت طبی سہولیات اور بے روزگاری الاؤنس کی فراہمی ہونے لگی۔
برطانیہ کی تاریخ میں بیسویں صدی کے ابتدائی دو عشرے نہایت اہمیت کے حامل ہیں۔ اس دور میں برطانیہ کو آئرش مسئلے، مزدور یونینوں کے احتجاجی اقدامات اور حقوقِ نسواں کے لئے چلائی جانے تحریک کے ساتھ ساتھ تاریخ عالم کی پہلی عالمگیر جنگ سے بھی واسطہ پڑا، اور ان سب عوامل کے زیر اثر برطانوی سیاست و معاشرت کا نقشہ ہی بدل گیا۔ 
بیسویں صدی کے اوائل میں کوئلے کی کانوں ، ریلوے اور لندن کی گودیوں میں ہونے والی ہڑتالوں نے برطانوی معیشت کو مفلوج کر کے متحدہ مزدور تحریک کی طاقت عیاں کر دی۔ حکومت کی طرف سے یونینوں کو توڑنے کے لئے ہونے والی کوششیں نہ صرف ناکام رہیں بلکہ ان کے زیر اثر گرفتاری، ملازمت سے محرومی یا برطرفی کے شکار ہونے والوں کا عزم اور بھی پختہ ہو گیا۔ مزدور طبقے کو پارلیمنٹ میں نمائندگی دلانے کے لئے لیبر پارٹی وجود میں لائی گئی جو 1906ء کے انتخاب میں 26 نشستیں حاصل کر کے لبرل پارٹی کی مخلوط حکومت کا حصہ بن گئی۔ اس کے جواب میں لبرل حکومت نے 1913ء میں ٹریڈ یونین ایکٹ منظور کیا جس کے تحت یونین کے ارکان کی طرف سے ادا کئے جانے والے ماہانہ واجبات کے سیاسی سرگرمیوں میں استعمال کو قانونی حیثیت دے دی گئی۔
اسی عرصے میں پارلیمنٹ کے تمام آئرش رکن ہوم رول حاصل کرنے کے لئے متحد ہو گئے اور دھمکی دی کہ اگر آئرلینڈ کے لئے ہوم رول کی منظوری نہ دی گئی تو وہ لبرل حکومت کی حمایت سے دستبردار ہو جائیں گے۔ اس وقت آئرلینڈ کے شہری دو حصوں میں بٹ چکے تھے۔ آئرش ری پبلکن جو آئرلینڈ کے لئے خودمختاری کا حصول چاہتے تھے، اور برٹش یونینسٹ جو برطانیہ کے ساتھ الحاق برقرار رکھنا چاہتے تھے۔ ان دونوں گروہوں کا باہمی تناؤ بالآخر آئرش انقلاب پر منتج ہوا۔ انقلاب کا آغاز 1912ء میں ہوا جب پارلیمنٹ میں تیسرے ہوم رول بل کی پیشکاری کے بعد دونوں فریقین نے خود کو جنگ کے لئے مسلح کر لیا۔ 1914ء میں جنگ عظیم اول کے چھڑ جانے کے بعد یہ خطرہ درپیش ہوا کہ برطانیہ کو ایک بیرونی جنگ کے ساتھ ساتھ خانہ جنگی سے بھی واسطہ پڑ سکتا ہے۔ خطرے کو ختم کرنے کے لئے پارلیمنٹ نے 1914ء میں ہی آئرلینڈ کے لئے ہوم رول بل پاس کر دیا البتہ اس پر عملدرآمد کو جنگ کے اختتام تک کے لئے اٹھا رکھا گیا۔
خواتین کو ووٹ دینے کا حق دینے کا معاملہ غالباً پارلیمنٹ کے لئے سب سے دشوار تھا۔ یہ پہلی تحریک تھی جس نے سول نافرمانی کو ایک سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا۔ تحریک کی کارکنوں نے اپنی جدوجہد کی طرف دنیا والوں کی توجہ مبذول کرانے کے لئے کھلم کھلا قانون شکنی شروع کر دی۔ میل باکسوں کو آگ لگا دینا، کھڑکیوں کے شیشے توڑ دینا، ٹریفک جام کر دینا اور گرفتار ہونے پر بھوک ہڑتال کر دینا ان کا معمول بن گیا۔ مظاہرین پر لاٹھیاں برسانے کی عادی لندن پولیس متوسط طبقے کی ان خواتین کے خلاف ایسے حربے استعمال کرنے پر آمادہ نہ ہو سکی، اور صورتِ حال بگڑتی چلی گئی۔ بالآخر 1918ء میں برطانوی پارلیمنٹ نے تیس سال سے زائد عمر کی خواتین خانہ اور یونیورسٹی کی گریجویشن مکمل کرنے والی خواتین کو ووٹ دینے کا حق دے دیا۔ 1928ء میں عمر کی حد گھٹا کر 21 سال کر دی گئی۔
ہوم رول کے وعدے کے باوجود، جنگ کے دوران آئرلینڈ کی صورتِ حال اس وقت مخدوش ہو گئی جب 1916ء میں آئرلینڈ کی آزادی کے حامیوں نے ڈبلن سے مسلح جدوجہد کا آغاز کر دیا۔ اگرچہ حکومت نے اس بغاوت کو سختی سے کچل دیا لیکن اس سے آئرش انقلاب کی رفتار میں اور تیزی آ گئی۔ 1918ء میں پارلیمنٹ کے آئرش ارکان نے اپنی نشستیں سنبھالنے سے انکار کر دیا اور ’’آزاد آئرش ریاست‘‘ کے قیام کا اعلان کر کے اپنی پارلیمنٹ تشکیل دے دی۔ اگرچہ برطانوی حکومت نے اس نئی حکومت کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا مگر اسے اپنے عوام کی حمایت حاصل تھی۔ برطانوی حکومت کے انکار کے ردِ عمل میں مسلح گروہوں نے مل کر آئرش ری پبلک آرمی (آئی آر اے) تشکیل دی اور برطانوی سیکیورٹی فورسز اور پروٹسٹنٹ آئرش پولیس کے خلاف کارروائیاں شروع کر دیں۔ 
جلد ہی برطانوی حکومت کو احساس ہو گیا کہ اس انقلاب کو بھاری جانی نقصان اٹھائے بغیر دبانا ممکن نہیں لہٰذا 1922ء میں ایک بل کے ذریعے فریقین نے خودمختار ’’آزاد آئرش ریاست‘‘ کو تسلیم کر لیا۔ بہرحال ایک آزاد مملکت ہوتے ہوئے بھی یہ برطانوی سلطنت کا ایک حصہ ہی رہی اور اس کے حکومتی ارکان کے لئے برطانوی بادشاہت سے وفاداری کا حلف اٹھانا لازمی رہا۔ شمالی آئرلینڈ کی چھ کاؤنٹیاں جن میں پروٹسٹنٹ غالب اکثریت میں تھے، برطانوی سلطنت میں شامل رہے۔ آئی آر اے کے ایک حصے نے اس تقسیم کو قبول کرنے سے انکار کر دیا اور اس حوالے سے کھڑا ہونے والا تنازعہ آج بھی برطانوی حکومت کے لئے دردِ سر کا باعث بنا ہوا ہے۔
ابھی برطانیہ پہلی جنگ عظیم کے ہچکولوں سے سنبھلا نہ تھا کہ دوسری جنگ عظیم کا آغاز ہو گیا۔ یہ جنگ کن حالات میں شروع ہوئی، کن مراحل سے گزری اور کس طرح ختم ہوئی، اس کی کہانی تو بہت طویل ہے جس کے بیان کا یہاں محل نہیں بہرحال اس نے برطانوی سلطنت کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا۔ اس کی پہلے والی عالمی حیثیت ہوتے ہوتے ختم ہو گئی۔ سوویت یونین اور امریکہ نئی عالمی طاقتوں کے روپ میں ابھر کر سامنے آ گئے اور برطانیہ کی حیثیت ایک اہم لیکن کم موثر بڑے کی سی رہ گئی۔
برطانیہ کی کئی نو آبادیاں پہلی جنگ عظیم کے نتیجے میں اس کے ہاتھ سے نکل گئی تھیں کیونکہ جنگ سے تباہ حال برطانوی معیشت ان کے اخراجات اٹھانے کی متحمل نہ رہی تھی۔ دوسری جنگ عظیم، پہلی سے زیادہ تباہ کن ثابت ہوئی اور برطانیہ کو اپنی کئی نو آبادیاں فوراً اور کئی بتدریج خالی کرنا پڑیں۔ سو سال پہلے کی اور اب کی برطانوی سلطنت کے حجم میں پایا جانے والا فرق ناقابل یقین تک وسیع ہے۔ اگرچہ برطانوی معیشت دو عظیم جنگیں سہنے کے باوجود، آج ایک بار پھر مستحکم اور قوی ہے مگر اس کی عالمی سیاسی حیثیت میں خاصا فرق آ چکا ہے۔ بین الاقوامی امور میں اس کی حیثیت ایک سرکردہ کھلاڑی کے بجائے نائب کی سی ہو گئی ہے۔
یہ سب باتیں اپنی جگہ مگر برطانیہ کی سیاسی و سماجی پیش رفتوں سے کسی کو انکار نہیں ہو سکتا۔ جو جمہوری روایات برطانیہ نے قائم کیں اور جن تاریخی، مذہبی، معاشی اور معاشرتی اختلافات پر قابو پا کر ایک مثالی جمہوریت کو جنم دیا، وہ قابل تعریف ہی نہیں ، قابل تقلید بھی ہیں۔ 

ریاست ہائے متحدہ امریکہ

ریاست ہائے متحدہ امریکہ یا عرفِ عام میں صرف امریکہ، بلاشبہ اس وقت دنیا کی سب سے زیادہ زبان زدِ عام قوم ہے۔ اس وقت دنیا میں اس سے زیادہ سراہا جانے والا ملک اور کوئی نہیں ، اور اس سے زیادہ نفرت انگیز ملک بھی اور کوئی نہیں۔ جہاں دوسرے ممالک اس کی امارت، صنعتی و علمی ترقی اور فوجی قوت سے مرعوب و خائف ہیں ، وہیں اس کے حکمرانوں کی غیر منصفانہ پالیسیوں کی بدولت اسے ناپسند بھی کرتے ہیں۔ اس کی خارجہ پالیسی کے بعض پہلوؤں کو تحسین کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور بعض سے حقیقی معنوں میں گھن کھائی جاتی ہے۔ اس کی معیشت کی وسعت، قوت اور اثر انگیزی کو جہاں ترقی پذیر ممالک کے لئے ایک مثال سمجھا جاتا ہے، وہیں اس کے بعض تجارتی رویوں کو قابل نفرین بھی گردانا جاتا ہے۔ اس کے عوام کی دردمندی، حقیقت پسندی اور محنت کی عادت جہاں ضرب المثل کی حیثیت اختیار کر چکی ہے، وہیں ان کی سوچ کی محدودیت، بدتمیزی کی حد کو پہنچتی ہوئی بے تکلفی اور بیرونی دنیا سے یک گونہ لاتعلقی کو ایک مضحکہ خیز عجوبہ خیال کیا جاتا ہے۔ غرضیکہ بیرونی دنیا میں امریکہ کا شخصی تاثر تضادات کا ایک چکرا دینے والا مجموعہ ہے، اور اگر دنیا کے قول اور فعل کو مد نظر رکھا جائے تو امریکہ کے بارے میں کوئی ایک رائے قائم کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ 
اس حقیقت کا کچھ اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ 1990ء کی مردم شماری میں صرف 6 فیصد امریکیوں نے اپنا نسلی نسب ’’صرف امریکی‘‘ کے طور پر درج کیا۔ بقیہ چورانوے فیصد کا تعلق ان نسلی گروہوں سے تھا جو گذشتہ دو سو سال کے دوران دنیا کے مختلف خطوں سے نقل مکانی کر کے، ایک نئی زندگی کی تلاش میں امریکہ آئے اور ہمیشہ کے لئے یہیں کے ہو کے رہ گئے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 1820ء سے لے کر اب تک ساڑھے چھ کروڑ مہاجر امریکہ کی شہریت حاصل کر چکے ہیں اور صرف 1998ء میں 6 لاکھ 60 ہزار افراد نے اس مد میں امریکی آبادی کے حجم میں اضافہ کیا۔
امریکہ کے بارے میں عالمی رویوں میں یہ تضاد کیوں پایا جاتا ہے؟ سادہ اور مختصر ترین الفاظ میں اس کا جواب یہ ہو سکتا ہے کہ لوگ امریکہ کے نظامِ زندگی کو پسند کرتے ہیں اور اس کی ’’بعض‘‘ حکومتی پالیسیوں کو ناپسند، بلکہ سخت ناپسند کرتے ہیں۔ مشہور مورخ آرنلڈ جے ٹائن بی نے اس حقیقت کا نہایت جامع خلاصہ صرف ایک فقرے میں کیا ہے کہ ’’امریکہ دوستانہ مزاج رکھنے والا ایک نہایت چھوٹے کمرے میں بیٹھا ہوا نہایت جسیم کتا ہے جو جب بھی اپنی دم ہلاتا ہے کوئی نہ کوئی کرسی الٹا دیتا ہے۔‘‘
بہرحال، امریکہ کی ساکھ اور اس کی حکمت عملی برائے زندگی اور حکمت عملی برائے غیر ممالک کے مشاہدے سے پیدا ہونے والا الجھاؤ ہمارا موضوع نہیں۔ ہمارا مطمح نظر اس کی جمہوری روایات کے جنم اور ارتقاء کا مطالعہ ہے۔ اس ضمن میں ایک نکتہ خصوصی طور پر قابل ذکر اور باعث دلچسپی ہے کہ ترقی یافتہ اقوام کی برادری میں امریکہ کو ’’چھوٹے میاں ‘‘ خیال کیا جاتا ہے کیونکہ بہ حیثیت قوم اس کی عمر محض 230 سال ہے لیکن نظامِ حکومت کے اعتبار سے یہ دنیا کی قدیم ترین ریاست ہے کیونکہ عصر حاضر میں یہ واحد ترقی یافتہ قوم ہے جو اپنے جنم کے روزِ اول سے لے کر آج تک ایک ہی نظامِ حکومت پر کاربند چلی آ رہی ہے۔ اس کے مقابلے میں دیگر اقوام کا جائزہ لیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ امریکہ سے کئی گنا طویل اور وسیع تاریخ رکھنے والوں میں سے کسی ایک کو بھی یہ اعزاز حاصل نہیں ہو سکا کہ وہ سوا دو سو سال سے زائد عرصے تک ایک ہی نظامِ حکومت کے تحت گزارا کر سکے۔ ہر ایک کو کسی نہ کسی مرحلے پر اپنے نظامِ حکومت کو وسیع پیمانے پر تبدیل کرنا پڑا۔ 
ممکن ہے کہ تاریخ کے بعض طالب علم میرے کہے سے اختلاف کرتے ہوئے نشاندہی کریں کہ امریکہ کے علاوہ دیگر اقوام بھی اس معیار پر پورا اترنے کی قابلیت رکھتی ہیں اور اس ضمن میں برطانیہ، سوئٹزرلینڈ، سویڈن اور تھائی لینڈ کے نام خصوصی طور پر پیش کئے جا سکتے ہیں۔ بادی النظر میں ان کا تجزیہ درست معلوم ہوتا ہے لیکن ذرا غور سے جائزہ لیا جائے تو کواکب کچھ کے کچھ نظر آنے لگتے ہیں۔ 
امریکہ نے آئینی جمہوریہ کی حیثیت سے اپنی زندگی کا آغاز 1789ء میں جارج واشنگٹن کے عہدۂ صدارت سنبھالنے کے ساتھ کیا۔ اس وقت کے بعد سے اب تک سوئٹزر لینڈ اپنے آئین میں ایسی انقلابی تبدیلیاں کر چکا ہے کہ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ اس کے نظامِ حکومت کی شکل ہی تبدیل ہو کر رہ گئی ہے۔ سویڈن اور تھائی لینڈ میں بادشاہت کی حیثیت پہلے سے یکسر تبدیل ہو چکی ہے جبکہ برطانیہ میں بھی، جہاں بادشاہت کی بنیادیں غالباً مضبوط ترین ہیں ، شاہی حکمران کے اختیارات و مراعات کو نہایت محدود کر کے اسے ایک تقریباً نمائشی چیز بنا دیا گیا ہے، اور اسی طرح دار الامراء کی بالاتر حیثیت ختم کر کے اسے ایک ایسا نگران بنا دیا گیا ہے جو بنیادی طور پر دار العوام کی کار گزاریوں پر نگاہ رکھنے کا کام کرتا ہے۔ لہٰذا اس وقت صرف امریکہ ہی ایک ایسا ملک ہے جو اپنے قیام سے لے کر اب تک ایک ہی نظامِ حکومت کو کامیابی سے برقرار رکھے ہوئے ہے، اور یہ کوئی معمولی بات نہیں۔ اس اعتبار سے امریکی جمہوریت کی بہترین تصویر اس کے نظامِ حکومت کے مطالعے سے ہی پیش کی جا سکتی ہے۔
امریکی نظامِ حکومت اور اس کے ارتقائی مراحل کے مطالعے سے پیشتر اس کے متعلق ضروری زمینی حقائق پیش خدمت ہیں :
ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی آبادی اس وقت 29 کروڑ سے زائد ہے اور آبادی کے لحاظ سے چین اور بھارت کے بعد یہ دنیا کا تیسرا بڑا ملک ہے۔ ایسی کثیر آبادی کا حامل ہونے کے باوجود اسے گنجان آباد نہیں کہا جا سکتا کیونکہ اس کی فی مربع کلومیٹر آبادی کی شرح صرف 32 افراد ہے۔ بڑی آبادی رکھنے کے باوجود گنجان آباد نہ ہونے کا سبب اس کا وسیع رقبہ ہے (رقبے کے لحاظ سے بھی روس اور کینیڈا کے بعد یہ دنیا کا تیسرا بڑا ملک ہے) جو کہ 98 لاکھ 26 ہزار 630 مربع کلومیٹر پر محیط ہے یعنی یہاں سے پاکستان کے برابر 12 ملک نکالے جا سکتے ہیں اور پھر بھی ایک ڈیڑھ صوبے کے لئے (یا ایک ڈیڑھ بنگلہ دیش کے لئے) جگہ بچ رہے گی۔ قابل غور امر یہ ہے کہ نسبت تناسب میں ایسا وسیع فرق صرف رقبے کے لحاظ سے ہے۔ اگر آبادی کی بات کی جائے تو بارہ گنا سے زائد بڑا امریکہ ہمیں دو پاکستان بھی فراہم نہیں کر سکتا حالانکہ یہ ہر سال لاکھوں مہاجرین کو اپنی سرزمین پر آباد ہونے کی اجازت پچھلی کئی دہائیوں سے دیتا چلا آ رہا ہے۔ بر سبیل تذکرہ، کثرتِ آبادی کی تہمت تو چین پر بھی لگائی جا سکتی ہے لیکن اس سے پہلے یہ مد نگاہ رکھنا پڑے گا کہ سوا ارب سے زائد آبادی کا حامل یہ ملک بھی رقبے میں ہم سے 12 گنا بڑا ہے، اس لئے اگر آبادی میں آٹھ نو گنا زیادہ ہو گیا ہے تو بھی ہم سے پیچھے ہے، اور یہ بھی یاد رکھئے کہ دنیا بھر میں آبادی کے لحاظ سے ہمارا نمبر ساتواں ہے لیکن رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا نام پہلے بیس ممالک میں بھی شامل نہیں۔ 
خیر خیر، یہ تو ایک جملہ معترضہ تھا۔ بات امریکی حقائق کی ہو رہی تھی۔ امریکہ کا سرکاری نام ریاست ہائے متحدہ امریکہ ہے اور اس کا دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی ہے۔ اس کی آبادی میں اضافے کی سالانہ شرح 0.92 فیصد ہے اور تخمینہ ہے کہ 2050ء تک اس کے ساکنان کی تعداد 42 کروڑ تک جا پہنچے گی۔ آبادی کا 78 فیصد حصہ شہری علاقوں میں مقیم ہے جبکہ بقیہ 22 فیصد نے دیہاتی حصے کو اپنے لئے بہتر خیال کیا ہے۔ آبادی کے لحاظ سے اس کے بڑے شہروں میں بالترتیب نیویارک (آبادی 80 لاکھ)، لاس اینجلس (آبادی 37 لاکھ)، شکاگو (آبادی 29 لاکھ)، ہوسٹن (آبادی 20 لاکھ) اور فلاڈلفیا (آبادی 15 لاکھ) شامل ہیں۔ آبادی کا 83.4 فیصد حصہ سفید فام، 12.4 فیصد حصہ سیاہ فام، 3.4 فیصد حصہ ایشیائی نژاد جبکہ 0.8 فیصد حصہ مقامی یعنی ریڈ انڈینز پر مشتمل ہے۔
یہاں رابطے اور ابلاغ کی مرکزی زبان انگریزی ہے لیکن کے علاوہ ہسپانوی، فرانسیسی، جرمن، اطالوی، چینی اور دیگر کئی زبانیں بھی سننے کو مل جاتی ہیں۔ مذہبی اعتبار سے آبادی کا 83 فیصد حصہ عیسائی ہے جن میں سے 56 فیصد پروٹسٹنٹ اور 27 فیصد رومن کیتھولک مسلک سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہودی 2 فیصد ہیں اور دیگر مذاہب کا حصہ 7 فیصد تک کا ہے جبکہ 8 فیصد ایسے ہیں جو سرے سے کسی مذہب کے قائل ہی نہیں۔ 
مجموعی طور پر یہاں اوسط عمر 77 برس ہے۔ خواتین کی اوسط عمر 80 برس جبکہ مردوں کی اوسط عمر 74برس ہے۔ نوزائیدگان میں اموات کی شرح 7 عدد فی ہزار ہے۔ ہر 253 افراد کو ایک ڈاکٹر دستیاب ہے جبکہ 826 افراد کے لئے ہسپتال کا ایک بستر موجود ہے۔ 
شرحِ خواندگی 99.5 فیصد ہے۔ جی این پی کا 4.9 فیصد حصہ تعلیم کے لئے مختص کیا جاتا ہے۔ 12 سال کی عمر تک سکول کی تعلیم حاصل کرنا لازم قرار دیا گیا ہے۔ پرائمری کی سطح پر ہر 15 طلبہ کو ایک استاد میسر ہوتا ہے۔
اس کی باقاعدہ مسلح افواج کی مجموعی تعداد 14 لاکھ 27 ہزار افراد ہے۔ 2002ء کے جی ڈی پی کا 3.3 فیصد حصہ عسکری اخراجات کے لئے وقف کیا گیا تھا۔
2001ء کے بجٹ میں ریونیو کی شرح 21 کھرب ڈالر کے قریب رہی جبکہ اخراجات کا تخمینہ 19½ کھرب ڈالر سے کچھ اوپر تک پہنچنے میں کامیاب رہا۔ 2002ء میں امریکہ کا جی ڈی پی 104 کھرب ڈالر تھا جس میں 1.6 فیصد حصہ زراعت، جنگلات اور ماہی گیری نے ڈالا، 23.1 فیصد صنعت کی طرف سے آیا اور غیر صنعتی شعبے یعنی سروسز نے 75.3 فیصد حصہ فراہم کیا۔ فی کس اوسط آمدنی 36 ہزار ڈالر رہی۔ 
امریکہ میں کام کرنے والے افراد کی تعداد 15 کروڑ کے لگ بھگ ہے جن میں دو فیصد زراعت، جنگلات اور ماہی گیری کے شعبے میں مصروف ہیں ، 22 فیصد کا تعلق صنعت سے ہے جبکہ بقیہ 75 فیصد کی کھپت سروسز میں ہوئی ہے۔ بے روزگاری کی شرح 5.8 فیصد ہے۔
زراعت کے حوالے سے یہاں کی مرکزی پیداواروں میں مویشی، دودھ کی مصنوعات، مکئی، گندم، کپاس اور کئی اقسام کے پھل اور سبزیاں شامل ہیں۔ قدرتی گیس، پٹرولیم، کوئلہ، تعمیراتی مسالہ جات، سونا، تانبہ، مختلف طرح کی مٹیاں ، لوہے کی کچ دھات، چونا، نمک، جست، میگنیشیم، پوٹاشیم کے نمکیات، سیسہ اور چاندی کان کنی کی صنعت کے نمایاں اجزاء ہیں۔ اشیاء کی تیاری کی صنعت میں کیمیکلز، سامانِ نقل و حمل، الیکٹرانک مصنوعات اور دیگر دھاتی مصنوعات نمایاں ہیں۔ مرکزی برآمدات میں مشینری، سامانِ نقل و حمل، برقی اور الیکٹرانک سامان، کیمیکلز، زرعی مصنوعات اور بنیادی دھاتی مصنوعات شامل ہیں۔ دلچسپ بات یہ کہ امریکہ کی درآمدات کی تفصیل برآمدات سے کچھ زیادہ مختلف نہیں یعنی یہاں سامانِ نقل و حمل، برقی اور الیکٹرانک مصنوعات، مشینری، خام پٹرول اور قدرتی گیس، کیمیکلز اور بنیادی دھاتی مصنوعات ہی درآمد بھی کی جاتی ہیں۔ 
اب کچھ ذکر امریکی نظامِ حکومت کا۔ امریکہ کا نظامِ حکومت وفاقی، ریاستی اور علاقائی قوانین اور اداروں کا مجموعہ ہے۔ وفاقی حکومت کا مرکز واشنگٹن ڈی سی میں ہے۔ اس کی جمہوریت نمائندگانی طرز کی ہے یعنی اس کے عوام اپنے قائدین کا انتخاب خود کر کے اپنی حکومت تشکیل دیتے ہیں۔ 
امریکی جمہوریت کی بنیاد چھ بنیادی تصورات پر رکھی گئی ہے:
1۔	عوام کو اکثریت کی حکمرانی کا اصول قبول کرنا چاہئے۔
2۔	اقلیتوں کے سیاسی حقوق کا تحفظ کیا جانا چاہئے۔
3۔	شہریوں کو حکومت براہِ قانون کے نظام پر متفق ہونا چاہئے۔
4۔	خیالات و آراء کے آزادانہ تبادلے پر کوئی قدغن عائد نہیں ہونی چاہئے۔
5۔	قانون کے سامنے سب شہریوں کو برابر ہونا چاہئے۔
6۔	حکومت کا وجود عوام کی خدمت کیلئے ہے کیونکہ اس کے اختیار کا سرچشمہ عوام ہی ہیں۔ 
ان تصورات کا عملی اطلاق ممکن بنانے کے لئے امریکی حکومت کو چار عناصر پر استوار کیا گیا ہے۔ اول، اقتدارِ اعلیٰ کا سرچشمہ عوام کی ذات میں مرتکز کر دیا گیا ہے۔ دوم، نمائندگانی حکومت کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔ سوم، اقتدار کا غلط یا بے جا استعمال روکنے کے لئے جا بجا کڑے معیارات اور کسوٹیاں مقرر کر دی گئی ہیں اور چہارم، مربوط وفاق یعنی ایک ایسا مرکز تشکیل دیا گیا ہے جہاں اختیارات مختلف حکومتی سطحوں پر تقسیم کر لئے گئے ہیں۔ 
امریکہ میں سربراہِ مملکت کی حیثیت صدر کو حاصل ہوتی ہے جسے عوام اس کے نائب سمیت براہِ راست منتخب کرتے ہیں۔ ان کے علاوہ اور کسی سرکاری عہدیدار کے انتخاب کے لئے یہ طریقہ کار عمل میں نہیں لایا جاتا۔ ان کی مدتِ اقتدار چار سال پر محیط ہوتی ہے۔ اگرچہ صدر کے اقتدار و اختیار میں کانگریس اور عدلیہ بھی شریک ہوتے ہیں ، لیکن مملکت کے سب سے طاقتور اور اہم ترین عہدیدار کی حیثیت اسے ہی حاصل ہوتی ہے۔ صدر کو کانگریس میں ووٹ دینے کا اختیار نہیں ہوتا لیکن بہت سے قوانین محض اسی کی تجویز پر مجموعہ قوانین کا حصہ بن جاتے ہیں۔ خارجہ پالیسی کے بنیادی مرتب کی حیثیت سے امریکی صدر کو بین الاقوامی امور میں دنیا کے اہم ترین قائدین کا درجہ بھی حاصل ہوتا ہے۔
صدر کا انتخاب ایک الیکٹورل کالج کرتا ہے جس میں ہر ریاست کے نمائندے شامل ہوتے ہیں۔ ہر ریاست کے نمائندوں کی تعداد اس ریاست کے سینیٹروں اور ارکانِ کانگریس کی تعداد کے برابر ہوتی ہے۔ امیدوارِ صدارت کے لئے ضروری ہے کہ وہ عوامی ووٹوں کا بڑا حصہ حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ الیکٹورل ووٹوں کا بڑا حصہ بھی حاصل کرے کیونکہ اگر وہ عوامی انتخاب میں سبقت لے جانے کے باوجود الیکٹورل ووٹوں میں پیچھے رہ جاتا ہے تو اس کی عوامی کامیابی بے معنی ہو جاتی ہے۔ 
یہ انتخابی طریق کار کسی قدر مشکوک سا ہے اور یہ خدشہ ہمیشہ موجود رہتا ہے کہ کوئی امیدوار عوامی ووٹ حاصل کر لینے کے باوجود الیکٹورل ووٹوں کی بنیاد پر صدر بننے میں ناکام ہو جائے۔ 1888ء میں ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار گروور کلیولینڈ کو اسی اصول کی بناء پر ری پبلکن امیدوار بنجامن ہیریسن کے ہاتھوں شکست سے دوچار ہونا پڑا تھا اور اس کی تازہ ترین مثال 2000ء کے الیکشن میں سامنے آئی جب ڈیموکریٹ امیدوار ایل گور، ری پبلکن امیدوار جارج ڈبلیو بش کے 50,461,080 عوامی ووٹوں کے مقابلے میں 50,994,082 عوامی ووٹ حاصل کرنے کے باوجود عہدۂ صدارت تک نہ پہنچ سکے کیونکہ الیکٹورل ووٹوں میں سے جارج بش ان کے 266 ووٹوں کے مقابلے میں 271 ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ ان انتخابی نتائج نے ایک گمبھیر تنازعہ کھڑا کر دیا جس کی تفصیل اخبارات اور ٹیلی ویژن کے توسط سے آپ تک بھی پہنچی ہوگی۔
امریکی صدر کو گوناگوں ذمہ داریوں کا بوجھ اٹھانا پڑتا ہے۔ اسے تین ہزار عہدوں کے لئے مناسب افراد کا تقرر کرنا ہوتا ہے جن میں سفرائ، وائٹ ہاؤس کا عملہ اور مختلف بورڈوں اور کمیشنوں کے چیئرمین شامل ہوتے ہیں۔ کئی حکومتی اداروں کے کام کی نگرانی بھی اس کے حصے میں آتی ہے۔ اس کے علاوہ قانون سازی اور بجٹ سازی کے عمل میں حصہ لینا اور تجاویز دینا، خارجہ پالیسی کا رخ متعین کرنا، مسلح افواج کی کمان سنبھالنا، مختلف معاہدوں پر مذاکرات اور دستخط کرنا، اور ان سب سے بڑھ کر، اپنی قوم کی ایک علامت کے طور پر دنیا بھر کے سامنے پیش ہونا، اس کے اہم فرائض میں شامل ہیں۔ 
اگرچہ سربراہِ مملکت کی حیثیت سے صدرِ امریکہ کو بے پناہ اختیارات اور قوت حاصل ہوتی ہے، پھر بھی کسی طرح کے ’’ناجائز‘‘ تجاوز سے بچنے کے لئے اس پر کئی نگران بھی مقرر ہیں۔ ویسے تو سپریم کورٹ، میڈیا اور عوامی رائے اس کی راہ کے خاصے نمایاں سپیڈ بریکر ہیں لیکن ریڈ سگنل کی حیثیت، حقیقی معنوں میں ، کانگریس کو حاصل ہوتی ہے۔ کانگریس کو اختیار حاصل ہے کہ وہ صدر کی مجوزہ کسی قومی یا بین الاقوامی مد کے لئے فنڈز مختص کرنے سے انکار کر دے، یہ اس کے نامزد کردہ سفرا اور سپریم کورٹ کے ججوں کو مسترد کرے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ کانگریس کے مرتب و منظور کردہ قوانین کو بروئے عمل لانا صدر کا فرض ہوتا ہے جس سے وہ کسی صورت روگردانی نہیں کر سکتا۔
کانگریس کو حکومت امریکہ کے مقننہ کی حیثیت حاصل ہے۔ امریکی آئین کانگریس کو دو حصوں میں تقسیم کرتا ہے۔ دار النمائندگان اور سینیٹ۔ قومی حکومت میں ان دونوں اداروں کو مشترکہ طور پر قانون سازی کے تمام اختیارات حاصل ہوتے ہیں۔ کانگریس کی بنیاد رکھنے والوں کا منشاء یہ تھا کہ تمام اختیارات و قوت کا منبع کانگریس ہی رہے اور ایک عرصے تک معاملات ایسے ہی چلتے رہے تاوقتیکہ بیسویں صدی میں صدر کی قوت میں اضافہ ہونا شروع ہوا اور کانگریس کے اختیارات کو متوازن کرنے کے لئے امریکی نظامِ حکومت میں ایک اور قوت ظاہر ہو گئی۔ 
بہرحال، اس سے پہلے بھی کانگریس کی قوت کچھ ایسی منہ زور نہ تھی۔ اسے قائم کرنے والوں نے اسے لگام دیئے رکھنے کے لئے چند حد بندیاں مقرر کر رکھی تھیں۔ امریکی آئین ایسے دس افعال کا تذکرہ صراحتاً موجود ہے جو کانگریس کے دائرۂ اختیار سے باہر ہیں مثلاًیہ کہ کانگریس قانونی تقاضے پورے کئے بغیر کسی کو محبوس نہیں کر سکتی ماسوائے ہنگامی حالات کے۔ کانگریس کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ ماضی میں ہونے والے افعال کو کوئی نیا قانون بنا کر جرم قرار دے اور پھر ان کا ارتکاب کرنے والے پر مقدمہ چلائے۔ ریاستوں کے مابین ہونے والی تجارت پر ٹیکس لگانا کانگریس کے اختیار سے باہر ہے اور قانونِ حقوق کی رو سے کانگریس فرد کے حقوق کو محدود کرنے کے لئے کوئی قدم نہیں اٹھا سکتی۔
دار النمائندگان میں کل 435 اراکین شامل ہوتے ہیں۔ ہر ریاست کے نمائندوں کی تعداد کا انحصار ریاست کی مجموعی آبادی کے حجم پر ہوتا ہے اور ان کا انتخاب ہر دو سال بعد کیا جاتا ہے۔ دار النمائندگان کے انتخابی حلقے تشکیل دیتے وقت اس بات کا خصوصی خیال رکھا گیا تھا کہ مملکت کے تمام مفادات کو کانگریس میں نمائندگی حاصل رہے۔ اس حوالے سے یہ حلقے امریکی قوم کے جغرافیائی، سماجی اور معاشی تنوع کے بہترین عکاس ہیں۔ 
کانگریس کی داخلی تنظیم کی بنیاد کئی کمیٹیوں اور ذیلی کمیٹیوں پر رکھی جاتی ہے۔ تمام نمائندے متعدد کمیٹیوں کے رکن ہوتے ہیں اور یہ کمیٹیاں کسی بھی مسودۂ قانون کو پوری کانگریس کے سامنے پیش کرنے سے پہلے اس کی اچھی طرح چھان پھٹک کرتی ہیں۔ کمیٹیوں کا کام پیش کئے جانے والے مختلف تصورات کو قانونی مسودوں کی شکل دینا ہوتا ہے۔ کمیٹیوں کے کاموں کی اہمیت کے حوالے سے ان کے چیئرمینوں کو بھی کانگریس کے اہم اور صاحب اختیار ارکان میں شمار کیا جاتا ہے لیکن سب سے زیادہ نمایاں اور با اختیار عہدہ دار النمائندگان کے سپیکر کے حصے میں آتا ہے جو ایوان کی صدارت کرتا ہے، قانونی مسودوں کو کمیٹیوں کے حوالے کرتا ہے، خصوصی کمیٹیوں کیلئے نمائندے مقرر کرتا ہے اور ایوان میں ہونے والے مباحث کے دوران کسی رکن کو بولنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ سپیکر کا انتخاب سب اراکین مل کر کرتے ہیں اور ہمیشہ یہ اعزاز اسی جماعت کے رکن کے حصے میں آتا ہے جو ایوان میں زیادہ نشستوں کی حامل ہوتی ہے۔
امریکی مقننہ کا دوسرا حصہ سینیٹ ہے۔ یہ ادارہ 100 ارکان پر مشتمل ہوتا ہے یعنی ہر ریاست سے دو دو سینیٹر منتخب ہوتے ہیں اور چھ سال کے لئے اس عہدے پر خدمات سرانجام دیتے ہیں۔ سینیٹ کے کام کرنے کا طریقہ اور اصول و ضوابط کانگریس جیسے ہی ہوتے ہیں البتہ ارکان کی تعداد کم ہونے کی وجہ سے اس کی کمیٹیوں اور ذیلی کمیٹیوں کی تعداد اسی نسبت سے کم ہوتی ہے۔
ایوانِ زیریں کے مقابلے میں سینیٹ اپنی ساخت کے اعتبار سے زیادہ مستحکم ادارہ ہے اور عوامی رائے سے کم متاثر ہوتا ہے بلکہ 1913ء میں امریکی آئین کی سترہویں ترمیم کے ظہور سے قبل سینیٹر عوامی رائے شماری کے بجائے براہِ راست ریاست کے مقننہ کے ذریعے منتخب کئے جاتے تھے۔ سینیٹ کے قیام کا ابتدائی مقصد ریاستوں ، خصوصاً کم آبادی کی حامل ریاستوں کے حقوق کا تحفظ تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ایوانِ زیریں کے برعکس نمائندوں کا تعین ریاستوں کی آبادی کی بنا پر کرنے کے بجائے ہر ریاست کو دو سینیٹر منتخب کرنے کا حق دیا جاتا ہے۔
سینیٹ کی صدارت، ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے نائب صدر کے پاس ہوتی ہے۔ فیصلہ کن ووٹ ڈال کر کسی قضئے کو نمٹانا اس کی چند مخصوص ذمہ داریوں میں غالباً اہم ترین کہی جا سکتی ہے۔ اس کے علاوہ سینیٹ کے کام اس کا عمل دخل اتنا محدود ہوتا ہے کہ اکثر اسے سینیٹ کے اجلاس میں شریک ہونے کی ضرورت ہی پیش نہیں آتی۔ زیادہ تر اوقات میں سینیٹ کی نگرانی ایک عارضی صدر کرتا ہے۔ اس عہدے کے لئے عموماً اکثریتی پارٹی کے سینئر سینیٹر کا انتخاب کیا جاتا ہے۔
کانگریس کو جہاں کئی اختیارات حاصل ہوتے ہیں ، وہیں اسے کئی ذمہ داریوں کا بوجھ بھی اٹھانا پڑتا ہے۔ اس کا ہم سب اہم فریضہ قانون سازی ہے۔ قانون سازی ایک طویل اور پیچیدہ عمل کا نام ہے اور نمائندوں کے وقت کا زیادہ تر حصہ اسی پر صرف ہوتا ہے۔ کانگریس کو پیش کئے جانے والے مسودہ ہائے قوانین میں صرف چند ایک کو ہی تمام مراحل عبور کر باقاعدہ قانون بننے کا اعزاز حاصل ہوتا ہے۔
قانون سازی کے عمل کا آغاز اس وقت ہوتا ہے جب کوئی رکن کانگریس ایوانِ زیریں یا ایوانِ بالا میں ایک مسودۂ قانون پیش کرتا ہے۔ پیش کئے جانے پر اس مسودے کو ایک نمبر دے کر متعلقہ کمیٹی کے حوالے کر دیا جاتا ہے۔ کمیٹی اس بات کا فیصلہ کرتی ہے کہ آیا ایسے کسی قانون کی ضرورت موجود ہے یا نہیں ، اور یہ کہ کیا موجودہ مسودہ اس ضرورت کو پورا کرتا ہے۔ مسودے پر بحث کی جاتی ہے، اور اگر ضرورت پڑے تو خارجی ماہرین سے بھی مشورہ کیا جاتا ہے۔ مسودے کے بغور مطالعے کے بعد کمیٹی اس کی منظوری دے کر یا اس میں ضروری ترامیم کر کے اسے ایوانِ زیریں یاسینیٹ کے حوالے کر دیتی ہے۔ اگر کمیٹی اس کی منظوری نہ دے سکے یا اس پر کوئی کارروائی نہ کئے جانے کا ووٹ دے تو یہ مسودہ منسوخ ہو جاتا ہے۔ کانگریس میں پیش کئے جانے والے زیادہ مسودہ ہائے قانون اسی مرحلے میں زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں۔ 
کمیٹی کی طرف سے منظوری دے دیئے جانے پر مسودۂ قانون کو ایوان کے کیلنڈر میں شامل کر لیا جاتا ہے اور وقت آنے پر اسے پورے ایوان کے سامنے پیش کر کے اس پر بحث کی جاتی ہے۔ اس بحث کے دوران ترامیم کی تجاویز پیش کی جا سکتی ہیں اور ان پر رائے شماری ہو سکتی ہے۔ بحث کے بعد مجموعی رائے شماری ہوتی ہے۔ اگر اکثریت مسودے کے حق میں ووٹ دے دے تو پھر اسے کانگریس کے دوسرے ایوان میں بھیج دیا جاتا ہے، جہاں اسی طریق کے مطابق اس کی چھان پھٹک کی جاتی ہے۔
اگر دونوں ایوان مسودے کو اسی شکل میں منظور کر لیں تو اسے صدر کے سامنے پیش کر دیا جاتا ہے۔ صدر کو اختیار حاصل ہے کہ وہ اس مسودے پر دستخط کر کے اسے قانون بنا دے یا ویٹو کا حق استعمال کرتے ہوئے اسے مسترد کر دے۔ تاہم عموماً ایوانِ زیریں اور بالا کے پیش کئے ہوئے مسودوں میں ترامیم کی وجہ سے تھوڑا بہت فرق آ جاتا ہے۔ اس صورت میں دونوں ایوانوں کے نمائندگان پر مشتمل ایک کانفرنس کمیٹی تیار کی جاتی ہے جو دونوں ایوانوں کے پیش کردہ مسودوں میں پائے جانے والے اختلافات پر بحث کر کے انہیں دور کرتی ہے۔ نظر ثانی شدہ مسودے کو دوبارہ ایوانِ بالا اور ایوانِ زیریں میں بھیجا جاتا ہے۔ اگر دونوں ایوان اسے منظور کر لیں تو تب اسے صدر کے پاس بھیج دیا جاتا ہے۔ اگر صدر مسودے پر دستخط کر دے تو یہ قانون کا درجہ اختیار کر جاتا ہے، لیکن اگر صدر اسے ویٹو کر دے تو پھر یہ اسی صورت میں قانون بن سکتا ہے جب دونوں ایوان اسے ایک بار پھر، کم از کم دو تہائی اکثریت کے ساتھ منظور کریں۔ 
قانون سازی کا واحد ذریعہ ہونے کے علاوہ کانگریس کو اختیار حاصل ہے کہ وفاقی پروگراموں کے لئے فنڈ فراہم کرنے، محصولات لگانے، دفاعی اخراجات فراہم کرنے، امیگریشن کو کنٹرول ، ڈاکخانے تعمیر کرنے، فوج میں کمی بیشی کرنے اور اس کے اخراجات فراہم کرنے اور اعلانِ جنگ کرنے کے متعلق بل متعارف کرائے۔ اس کے علاوہ صدرِ امریکہ سمیت تمام سرکاری عہدیداروں پر عائد الزامات کی سرکاری تصدیق کرنے اور انہیں برطرف کرنے کے اختیارات بھی کانگریس کو حاصل ہوتے ہیں۔ 
کانگریس کی ایک ذمہ داری یہ بھی ہے کہ حکومت اور اس کے اداروں مثلاً شعبہ دفاع اور شعبہ انصاف وغیرہ کی کارگزاری پر نظر رکھے، اور کسی بے ضابطگی کی رپورٹ ملنے پر تفتیش کر کے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کرے۔ اس ذمہ داری کے تحت ملنے والے اختیار کے تحت کانگریس کسی بھی سینئر عہدیدار کو سوالات کے جواب دینے کے لئے طلب کر سکتی ہے، اداروں کے حسابات کی پڑتال کروا سکتی ہے اور شہریوں کی شکایات منظر عام پر لانے کے لئے سماعتوں کا انعقاد کر سکتی ہے۔
مقننہ کے بعد نظامِ حکومت کا دوسرا اہم حصہ عدلیہ ہوتا ہے۔ امریکی عدلیہ کے اعلیٰ ترین ادارے کی حیثیت سپریم کورٹ کو حاصل ہے۔ پاکستان کی طرح امریکہ میں بھی زیریں عدالتوں کے فیصلوں سے غیر مطمئن سائل سپریم کورٹ میں اپیل دائر کر سکتے ہیں لیکن پاکستان کے برعکس امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف کوئی اپیل دائر نہیں کی جا سکتی۔ بہرحال، بہت کم مقدمات کو اس سطح تک پہنچنے کا موقع ملتا ہے۔ دیگر وفاقی ججز کی طرح سپریم کورٹ کے ججز کی نامزدگی بھی صدر کی طرف سے کی جاتی ہے جس کی تصدیق سینیٹ کرتی ہے۔
امریکی سپریم کورٹ کی اہم ترین ذمہ داری قوانین پر نظر ثانی ہوتی ہے۔ سپریم کورٹ کو یہ فیصلہ کرنے کا اختیار ہوتا ہے کہ کوئی قانون یا کوئی حکومتی فیصلہ آئین میں متعین کردہ اصول و ضوابط کے مطابق ہے یا نہیں ، اور اسے یہ اختیار بھی حاصل ہے کہ کسی قانون کے آئین سے متصادم ہونے کی صورت میں اسے منسوخ کر دے۔ ویسے نظر ثانی کا کام صرف سپریم کورٹ تک ہی محدود نہیں ہوتا۔ امریکی آئین کے تحت دوسری عدالتوں کو بھی ایسے قوانین پر خط تنسیخ پھیر دینے کا اختیار دیا گیا ہے۔
انتخابات کسی بھی جمہوری نظامِ حکومت کا بنیادی اور اہم حصہ ہوتے ہیں۔ صاف شفاف انتخابات ایک جمہوری حکومت کی پائیداری اور نیک نامی کا سبب اور اس کی مقبولیت کا ثبوت بن کر ابھرتے ہیں۔ کسی بھی ایسی حکومت کو دیانتدارانہ قرار نہیں دیا جا سکتا جو جمہوریت کا نعرہ بلند کرنے کے باوجود مشکوک نوعیت کے انتخابات کے وسیلے سے برسراقتدار آئی ہو۔ انتخابات کسی سیاسی جماعت کے لئے مسند حکومت تک پہنچنے کا زینہ ہی نہیں ، اپنی وقعت، مقبولیت اور قوت کو جانچنے کا پیمانہ بھی ہوتے ہیں۔ 
امریکی نظامِ انتخاب کی بنیاد اس اصول پر رکھی گئی ہے کہ اقتدار عوام کی ملکیت ہے۔ انتخابات وہ ذریعہ ہیں جن کے ذریعے عوام اپنی ملکیت اپنے منتخب نمائندوں کو منتقل کرتے ہیں۔ حکومتی عہدوں تک پہنچنے والوں کے لئے ووٹ دے کر عوام اپنی ملکی پالیسیوں ، پروگراموں اور اپنے مستقبل کی نئی راہوں کا انتخاب کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ انتخابات ہر نمائندے کو اپنے حلقہ انتخاب کے سامنے جوابدہ ہونے پر مجبور بھی کرتے ہیں۔ کامیابی کے بعد بھی ان نمائندوں کو اپنا رویہ ذمہ دارانہ اور اپنا طرزِ عمل دیانتدارانہ رکھنا پڑتا ہے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اس مقررہ راہ سے ہٹنے کی صورت میں ان کے حلقے کے رائے دہندگان ان سے جواب طلب کریں گے۔ اگر وہ عوامی امنگوں پر پورا نہ اتر سکے تو اگلے انتخابات میں عوام انہیں مسترد کر کے ان کی جگہ نئے نمائندے کو لے آئیں گے۔
یہ نکتہ بھی قابل ذکر و قابل غور ہے کہ انتخابات کے پورے نظام کا دارومدار عوام پر ہوتا ہے اور یہ نظام اسی صورت میں درست طور پر کام کر سکتا ہے جب عوام دلچسپی اور جوش و خروش کے ساتھ اس میں شریک ہوں۔ 
امریکہ میں انتخابات مقررہ وقت پر باقاعدگی کے ساتھ منعقد ہوتے ہیں۔ قومی صدارتی انتخاب ہر چار سال بعد ہوتے ہیں۔ کانگریس کے انتخابات ہر دو سال بعد اور ریاستی اور علاقائی انتخابات عموماً قومی انتخابات کے ساتھ منعقد کئے جاتے ہیں۔ عمومی انتخابات کے علاوہ مختلف مواقع پر ریفرنڈم بھی منعقد کرائے جاتے ہیں جن کے ذریعے عوام کو براہِ راست کسی پالیسی کی تصدیق کرنے کا موقع ملتا ہے۔
انتخابات کے انتظام کی بیشتر ذمہ داری ریاستی اور علاقائی حکومتوں پر عائد ہوتی ہے۔ ہر ریاست، شہر اور میونسپلٹی میں الیکشن بورڈ موجود ہوتے ہیں جو انتخابات کا کام سنبھالتے ہیں۔ یہ بورڈ پولنگ کے مقامات کا تعین کرتے ہیں ، ان کے لئے عملہ بھرتی کرتے ہیں اور رائے شماری میں حصہ لینے والوں کی اہلیت کی تصدیق کرتے ہیں۔ انتخاب میں حصہ لینے والے امیدواروں کے لئے اہلیت کا معیار اور انتخابات کے انعقاد کا طریقہ ریاستی قوانین متعین کرتے ہیں۔ 
سیاسی جماعتیں کسی بھی ملک کے عوام کی نمائندہ ہونے کے ساتھ ساتھ ان کی یکجائی کا پلیٹ فارم بھی ہوتی ہیں۔ کسی ایک سیاسی جماعت سے وابستگی رکھنے والے شہری رنگ، نسل، مذہب، عمر اور معاشی و سماجی پس منظر کے اعتبار سے مختلف ہوسکتے ہیں لیکن ان سب کا ایک یکساں نکتہ نظر ہوتا ہے جس کی بناء پر وہ کسی ایک جماعت کو اپنی حمایت کا مستحق ٹھہراتے ہیں۔ اس نکتہ نظر کی بنیاد ایک نظریئے پر بھی رکھی جا سکتی ہے اور ایک لیڈر پر بھی۔ سیاسی جماعتیں کسی ملک کے نظامِ انتخابات کی ریل گاڑی کو چلانے والا انجن ہوتی ہیں۔ اپنے داخلی انتخابات کے ذریعے یہ عام انتخابات کے لئے مناسب امیدوار تلاش کرتی ہیں ، حکومتی عہدوں کے لئے امیدواروں کی نامزدگی کرتی ہیں ، اور پھر ان امیدواروں کی حمایت کر کے ملک کے لئے قیادت فراہم کرتی ہیں۔ 
امریکہ کی زیادہ تر سیاسی تاریخ دو جماعتوں کے مابین ہونے والی مسابقت پر مشتمل ہے، تیسری سیاسی جماعت کا وجود کسی قابل ذکر حوالے سے کم ہی دیکھنے میں آیا ہے۔ اس کی بڑی وجہ امریکہ کا انتخابی نظام ہے جس میں سارا ثمر جیتنے والے کی جھولی میں ہی گرتا ہے۔ چونکہ یہاں متناسب نمائندگی کا کوئی نظام موجود نہیں ، اس لئے ہارنے والے کے حصے میں کچھ نہیں آتا۔ اس اعتبار سے تیسری پارٹی کو جانے والا کوئی بھی ووٹ ضائع شدہ ووٹ تصور کیا جائے گا۔
امریکہ کے بانی بنیادی طور پر سیاسی جماعتوں کے حق میں نہ تھے۔ ان کا خیال تھے کہ ایسے دھڑے رائے دہندگان کی رائے پر اثرانداز ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔ بہرحال انیسویں صدی کے آغاز تک سیاسی پارٹیاں امریکی سیاسی نظام کے اہم ترین جزو کی حیثیت اختیار کر چکی تھیں۔ 
امریکہ کی بڑی سیاسی جماعتیں دو ہیں۔ ڈیموکریٹک پارٹی جو 1828ء میں اینڈریو جیکسن کی زیرسربراہی وجود میں آئی اور ری پبلکن پارٹی، جس کی بنیاد 1854ء میں مختلف لیڈروں کے ایک اتحاد نے رکھی۔ 
انیسویں صدی میں سیاسی جماعتوں کو اتنا اثر و رسوخ حاصل تھا کہ انتخابات میں ووٹ دینے والوں کا تناسب 80 فیصد سے بھی زائد ہو جایا کرتا تھا، لیکن اب ان کی پہلے کی سی اہمیت برقرار نہیں رہی۔ امریکی آبادی کا ایک تہائی سے زائد حصہ خود کو کسی بھی جماعت سے منسلک قرار دینے کے بجائے ’’خودمختار‘‘ کہلوانا زیادہ پسند کرتا ہے۔ صدارتی انتخابات میں اگرچہ عوام کی سب سے بڑی تعداد شریک ہوتی ہے، لیکن ان میں بھی ووٹ ڈالنے کا تناسب 50 فیصد تک آ گیا ہے۔ اس کے علاوہ اب دونوں سیاسی جماعتوں نے کوئی واضح اور مضبوط موقف اپنانے کے بجائے مبہم اور معتدل موقف اپنانے کی پالیسی اختیار کر لی ہے۔ اس اقدام کا مقصد ووٹروں کے ایک بڑے حصے کو متاثر کرنا تھا لیکن اب کئی معاملات پر دونوں جماعتیں اتنی زیادہ یکساں معلوم ہوتی ہیں کہ ان میں عوام کی دلچسپی ختم ہوتی جا رہی ہے۔
میڈیا امریکی انتخابات میں ایک بڑا کردار ادا کرتا ہے لیکن اس کی بڑائی امیدوار کی مقبولیت میں اتنا حصہ نہیں ڈالتی جتنا شاید اس کے انتخابی اخراجات میں اضافہ کرنے میں ڈالتی ہے۔ آج کے امریکی انتخابات میں امیدوار اشتہار بازی پر جتنا پیسہ اب خرچ کرتے ہیں ، اس کی مثال ڈھونڈنا ناممکن ہے۔ مثال کے طور پر 1860ء میں ری پبلکن پارٹی نے ابراہام لنکن کی صدارتی مہم کے ساتھ ساتھ کانگریس اور سینیٹ کے بقیہ تمام ری پبلکن امیدواروں کی انتخابی مہم پر ایک لاکھ ڈالر خرچ کئے تھے جبکہ 1988ء میں اسی جماعت کے صدارتی امیدوار جارج بش نے صرف اپنی انتخابی مہم پر سات کروڑ ڈالر خرچ کر ڈالے۔ افراطِ زر کی شرح کو بھی مد نظر رکھا جائے تو دونوں انتخابات کے اخراجات میں بعد المشرقین حائل نظر آتا ہے۔ 1998ء کے انتخابات میں ٹیلی ویژن کے پرائم ٹائم پر 60 سیکنڈ کی ایک جھلکی چلوانے کا خرچہ ایک بار میں ایک لاکھ ڈالر پڑتا رہا۔ اس نوعیت کی اشتہاری بازی کے نتیجے میں انتخابی مہمات اب اتنی مہنگی ہو گئی ہیں کہ امیدواران اپنا زیادہ تر وقت اور توانائی ووٹروں کے سامنے اپنے نکات ہائے نظر پیش کرنے کی بجائے مہم کے لئے چندہ اکٹھا کرنے پر صرف کرتے ہیں۔ 
سیاسی جماعتوں کی اہمیت گھٹانے میں بھی میڈیا کا کردار کم جسامت کا حامل نہیں ، کیونکہ کوئی بھی امیدوار اپنی جماعت کی اعانت حاصل کئے بغیر میڈیا کے ذریعے اپنے آپ کو عوام کے سامنے پیش کر سکتا ہے۔ امیدوار اپنی مقبولیت میں اضافہ کرنے کے لئے میڈیا کا بے دریغ استعمال کر کے اپنی جماعت کی وقعت خودبخود کم کر دیتے ہیں۔ گذشتہ ادوار میں جماعتوں کے قومی اجتماع، جن میں صدارت اور نائب صدارت کے لئے امیدواروں کو نامزد کیا جاتا ہے، پورے ملک کے لئے خاصے ہیجان انگیز ثابت ہوا کرتے تھے۔ اب صدارت کے امیدوار جماعت کے قائدین کے پاس جانے کے بجائے سیاسی کاروباریوں کی طرح اپنا اپنا مال اٹھائے سیدھے عوام کے حضور پہنچ جاتے ہیں۔ اگرچہ انتخابی مہم کے اخراجات کے لئے اب بھی امیدوار ایک حد تک جماعت پر ہی تکیہ کرتے ہیں پھر بھی میڈیا کی قوت نے عوام کی توجہ کا مرکز جماعت کے بجائے امیدوار کو بنا ڈالا ہے، اور اس طرح مہم کا انتظام کرنے والی نجی تنظیمیں پیسہ اکٹھا کرنے میں قومی جماعتوں سے بھی زیادہ موثر حیثیت اختیار کر گئی ہیں۔ انفرادیت کا یہ رجحان پارٹی سسٹم کی بنیادیں کھوکھلی کرتا چلا جا رہا ہے۔
آج کی انتخابی مہمات کے اخراجات کا تخمینہ آسمان سے باتیں کرتا ہوا نظر آتا ہے، اور امیدوار اخراجات پورے کرنے کے لئے جو لائحہ عمل اپناتے ہیں ، اس سے امریکی عوام کے ایک بڑے حصے میں بے اطمینانی جنم لے رہی ہے۔ سیاستدان ان خطیر عطیات پر تکیہ کرتے ہیں جو انہیں بڑی بڑی کارپوریشنوں اور خصوصی مفادات رکھنے والے طاقتور گروہوں کی طرف سے مہیا کئے جاتے ہیں ، اور ایسے میں یہ فرض کیا جا سکتا ہے کہ بدلے میں ایسی کارپوریشنیں اور گروہ منتخب ہونے والے امیدوار سے اپنے مفادات کی پاسبانی کی توقع قائم کریں گے۔ یوں ایک حکومتی عہدیدار کی شخصی دیانتداری مشکوک ہو جاتی ہے۔ اس مسئلے کا ایک حل یہ ہو سکتا ہے کہ سیاسی امیدوار صرف عوامی عطیات پر اکتفا کریں۔ ایک اور حل یہ ہے کہ عطیات کی رقم کی ایک مخصوص حد مقرر کرنے کے بجائے، اس رقم کی ایک مخصوص حد مقرر کر دی جائے جو ایک امیدوار اپنی انتخابی مہم پر خرچ کر سکتا ہے۔ اس حوالے سے 1976ء کے ایک مقدمے میں سپریم کورٹ کی طرف سے سنایا جانے والا فیصلہ محل نظر ہے جس میں کہا گیا تھا کہ کانگریس کسی امیدوار کے انتخابی اخراجات پر حد بندی عائد نہیں کر سکتی کیونکہ سیاست پر رقم صرف کرنا آزادیِ تقریر کی ہی ایک شکل ہے جسے آئین کا تحفظ حاصل ہے۔ اب کسی امیدوار یا کسی جماعت پر اس حوالے سے کوئی پابندی عائد نہیں ، اور نہ ہی کسی دولتمند امیدوار کی طرف سے اپنی مہم کے اخراجات کے لئے رقم مختص کرنے کے حوالے سے کوئی حد مقرر ہے۔
البتہ انتخابی مہم میں دیئے جانے والے عطیات پر چند حوالوں سے حد بندیاں مقرر کر دی گئی ہیں۔ مثلاً کسی ایک انتخاب میں کسی ایک امیدوار کو کوئی ایک فرد زیادہ سے زیادہ دو ہزار ڈالر کا عطیہ دے سکتا ہے۔ کسی سیاسی ایکشن کمیٹی کو زیادہ سے زیادہ پانچ ہزار ڈالر اور کسی قومی جماعت کو زیادہ سے زیادہ 25 ہزار ڈالر کا عطیہ دیا جا سکتا ہے۔
امریکی نظامِ حکومت وفاقی طرز کا ہے جس کا مطلب ہے اس میں حکومتی اور عدالتی اختیارات قومی، ریاستی اور مقامی حکومتوں کے درمیان تقسیم کر دیئے گئے ہیں۔ اگرچہ ایسا کرنے سے حکومتی پہیہ چلنے کی رفتار خاصی سست ہو گئی اور اخراجات کا بوجھ بھی ایک حد تک بڑھ گیا لیکن فائدہ یہ ہوا کہ پچاس ریاستوں پر مشتمل اس رنگارنگ ملک کے تمام طبقات کی نمائندگی اور حصوں کا انتظام آسانی اور سہولت سے ہو سکتا ہے۔
حکومت امریکہ کو اس انداز میں ترتیب دیا گیا ہے کہ مقامی حالات کے پیش نظر ریاستی قوانین ایک دوسرے سے مختلف بھی ہو سکتے ہیں مثلاً یہ کہ مختلف ریاستوں میں گاڑیوں کی حد رفتار الگ الگ مقرر ہے۔ اس کے علاوہ ہر ریاست کو یہ حکومت بھی حاصل ہے کہ وہ اپنے حالات اور مسائل کے پیش نظر کسی وفاقی قانون کے دباؤ میں آئے بغیر اپنی صورتِ حال کے مد نظر بہتر سے بہتر قوانین اور ادارے وضع کر سکے۔ 
امریکہ کی ریاستی اور علاقائی حکومتیں اپنی اپنی جگہ چند کلیدی ذمہ داریاں نبھاتی ہیں۔  مثال کے طور پر، زیادہ تر سڑکوں کی تعمیر اور ان پر آنے والے اخراجات کا بوجھ وہ خود اٹھاتی ہیں ، سرکاری سکول چلاتی ہیں ، عوام کو پانی مہیا کرتی ہیں ، پولیس فورس اور آگ بجھانے کا حفاظتی عملہ سنبھالتی ہیں ، مقامی کاروباریوں کے مفادات کی نگرانی کرتی ہیں اور اپنے شہریوں کے لئے انتخابات کا انعقاد کراتی ہیں۔ 
حکومتیں الگ ہونے کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ یہ ریاستیں اپنی اپنی جگہ منفرد سیاسی اکائیاں ہیں کیونکہ بہت سارے معاملات میں یہ ایک دوسرے سے تعاون کے ساتھ بھی چلتی ہیں۔ بہرحال، کسی بھی ریاست کے مقامی معاملات میں حتمی فیصلہ ریاست کی حکومت ہی کرتی ہے۔ چونکہ تمام ریاستیں وفاق کے تابع ہوتی ہیں ، اس لئے ان کی حکومت پر بھی وفاق کا اختیار ہوتا ہے۔ وفاقی حکومت چاہے تو کسی ریاست کی حکومت کو تحلیل کر سکتی ہے، اسے کسی دوسری ریاست میں ضم کر سکتی ہے یا اسے مزید اختیارات بھی عطا کر سکتی ہے۔
ریاستی حکومتوں اور کانگریس کے درمیان استوار ہونے والا رشتہ امریکی آئین کے تابع ہے۔ بعض اختیارات از قسم اعلانِ جنگ یا افواج کی تجمیع صرف کانگریس سے ہی مخصوص ہیں۔ اس کے علاوہ آئین ریاستوں کو ایسے اقدامات کرنے سے بھی روکتا ہے جو قومی سالمیت کے لئے ضرر رساں ہوں مثلاً کسی دوسرے ملک کے ساتھ معاہدے کرنا، اپنی کرنسی رائج کرنا، درآمدی برآمدی محصول عائد کرنا یا بذاتِ خود جنگ کا فیصلہ کرنا۔ اس کے علاوہ باقی تقریباً تمام معاملات میں ریاستوں کو پوری خودمختاری حاصل ہے۔ اگر کسی معاملے پر عدالتی اختیارات کے تصادم کے حوالے سے ریاستوں اور کانگریسوں کے درمیان کوئی جھگڑا پیدا ہو جائے تو اس کا فیصلہ وفاقی عدالتیں کرتی ہیں۔ 
خارجہ پالیسی کسی بھی ملک کے نظامِ حکومت میں کلیدی حیثیت کی حامل ہوتی ہے۔ خارجہ پالیسی کی بناء پر ہی ایک ریاست فیصلہ کرتی ہے کہ اسے کس ملک کے ساتھ کیسے تعلقات رکھنے ہیں ، کس ریاست کے کن اقدامات کی حمایت کرنی ہے اورکن کی مخالفت، کس قوم کے ساتھ تجارتی تعلقات استوار کرنے ہیں اور کسے محض سفارتی تعلقات تک ہی محدود رکھنا ہے۔ کس کے ساتھ مخاصمت کا رویہ اپنانا ہے اور کس کے ساتھ دوستانہ تعاون کرنا ہے۔ کسی ملک کی خارجہ پالیسی اقوامِ عالم میں اس کے مقام کا تعین کرتی ہے۔ خارجہ پالیسی جتنی کامیاب ہوگی، عالمی برادری میں مملکت کا مقام اتنا ہی بلند ہوگا۔
ہر ملک اپنی خارجہ پالیسی کا تعین اپنے عوام کے بہترین مفاد میں کرتا ہے۔ امریکہ بھی اس کلئے سے مستثنیٰ نہیں۔ یہ الگ بات کہ اس کی خارجہ پالیسی بعض لوگوں کو کسی قدر سرد مہری اور خود غرضی پر مبنی ہو مگر اس کے لئے ہم امریکی پالیسی سازوں کو مجرم قرار نہیں دے سکتے۔ وہ اپنے ملک کے لئے جو بہتر سمجھتے ہیں ، کرتے ہیں۔ بالکل ویسے ہی، جیسے ہمارے پالیسی ساز اپنے ملک کے لئے جو بہتر سمجھتے ہیں کرتے ہیں۔ 
امریکی خارجہ پالیسی کا تعین کرنا حکومت چلانے والوں کی ذمہ داری ہے۔ آئین کے مطابق، صدرِ امریکہ کو مسلح افواج کی کمان کرنے اور کانگریس کی منظوری لئے بغیر معاہدے کرنے کا حق حاصل ہے۔ اس اعتبار سے بین الاقوامی امور میں امریکی اہداف کا تعاقب کرنے کے لئے صدر سے بہتر شخصیت اور کوئی نہیں ہوتی۔
ان معاملات میں صدر کو سینیٹ کی مجلس برائے خارجہ امور، خارجہ امور کی کونسل اور دیگر بارسوخ امریکی شہریوں کی مشاورت حاصل رہتی ہے اور ان کی آراء خارجہ پالیسی پر اثرانداز بھی ہوتی ہیں۔ عوامی رائے خارجہ پالیسی کے تعین میں اہم کردار ادا کرتی ہے اور ضرورت سے زیادہ طرار پالیسی سازوں کو ان کی حد میں رہنا بھی سکھاتی ہے، کیونکہ عوام کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ سربراہِ مملکت کے کسی ناپسندیدہ اقدام پر خفا ہو کر اسے عہدۂ صدارت سے اتار پھینکیں۔ 
امریکہ کی سب سے پہلی خارجہ پالیسی کی بنیاد ’’تنہائی پسندی‘‘ کے اصول پر رکھی گئی۔ تنہائی پسندی سے مراد یہ کہ بہ حیثیت مملکت امریکہ کسی ملک کے ساتھ مستقل بنیادوں پر اتحاد نہیں بنائے گا اور دوسرے ممالک کے ساتھ اپنے سیاسی تعلقات کو حتی الوسع محدود رکھے گا۔ اس اصول کا اطلاق صرف سیاسی تعلقات پر کیا گیا، تجارتی تعلقات اور سرحدوں کی توسیع کے معاملات اس سے خارج رہے۔ 
1823ء میں پانچویں صدرِ امریکہ جیمس منرو کی مشہور زمانہ پالیسی ’’منرو ڈاکٹرائن‘‘ کے سامنے آنے کے بعد اس اصول کا دائرہ پورے مغربی نصف کرے تک پھیل گیا۔ منرو ڈاکٹرائن کا لب لباب یہ تھا کہ امریکہ کسی بھی حوالے سے یورپی جنگوں میں ملوث نہ ہوگا اور نہ ہی یورپی اقوام کو اپنے رسوخ کا دائرہ براعظم شمالی و جنوبی امریکہ کے ممالک تک وسیع کرنے کی اجازت دی جائے گی۔ بیسویں صدی کے اوائل میں کچھ عرصہ کے لئے امریکہ کو اپنا یہ اصول ترک کر کے پہلی جنگ عظیم میں شامل ہونا پڑا لیکن بعد ازاں جب یورپی ممالک نے اجتماعی تحفظ کے قیام کے لئے مجلس اقوام قائم کی تو اپنی پالیسی کے مطابق امریکہ نے اس ادارے کا حصہ بننے سے انکار کر دیا، حالانکہ مجلس اقوام کے قیام میں اس وقت کے صدرِ امریکہ ووڈرو ولسن نے بنیادی کردار ادا کیا تھا۔
دوسری جنگ عظیم کے دوران 1941ء میں جاپانی فضائیہ نے پرل ہاربر پر حملہ آور ہو کر امریکہ کو بھی جنگ میں براہِ راست شامل ہونے پر مجبور کر دیا۔ جنگ کے اختتام کے بعد امریکہ نے بھی مختلف اتحادوں اور علاقائی تحفظ کی تنظیموں کے قیام میں بھرپور کردار ادا کیا۔ ایسی تنظیموں کا بنیادی منشور یہ تھا کہ کسی ایک رکن ممالک پر حملہ ہونے کی صورت میں اسے تمام ارکان پر حملہ تصور کیا جائے گا، اور اس کا مناسب اجتماعی جواب دیا جائے گا۔ ان تنظیموں میں میثاقِ شمالی اوقیانوس کی تنظیم (نیٹو)، امریکی ریاستوں کی تنظیم (او اے ایس) اور معاہدۂ جنوب مشرقی ایشیا کی تنظیم (سیٹو) شامل تھیں۔ نیٹو اور او اے ایس تو آج بھی برقرار ہیں البتہ سیٹو کا وجود ختم ہو چکا ہے۔ ان اتحادوں کا حصہ بننے کی بڑی وجہ امریکہ اور سوویت یونین کے مابین جاری سرد جنگ تھی جس کا آغاز دوسری جنگ عظیم کے فوراً بعد ہو گیا تھا۔ گویا جاپانی حملے اور سرد جنگ کے مجموعی اثرات نے امریکہ کی تنہائی پسندی کا خاتمہ کر دیا۔
دوسری جنگ عظیم کے بعد سے امریکہ عالمی سیاسی صورتِ حال میں پہلے سے زیادہ متحرک اور فعال ہو گیا۔ امریکہ اور دیگر مغربی دنیا کے سامنے اس وقت کمیونزم ایک واضح اور خطرناک دشمن کی حیثیت سے موجود تھا۔ پوری سرد جنگ کے دوران، امریکہ اور مغربی یورپ کے زیادہ تر ممالک کی خارجہ پالیسی سوویت یونین کے مدار پر ہی گھومتی رہی۔ اس راہ میں امریکہ کو کئی نشیب و فراز سے گزرنا پڑا۔ 
مارچ 1947ء میں صدرِ امریکہ ہیری ایس ٹرومین نے اعلان کیا کہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ پوری دنیا میں کمیونزم کا مقابلہ کرے گا۔ اس اعلان کو کانگریس اور امریکی عوام کی بھرپور تائید و حمایت حاصل تھی۔ ٹرومین کی اپنائی ہوئی پالیسی بعد ازاں ’’ٹرومین ڈاکٹرائن‘‘ کے نام سے مشہور ہوئی۔ اس پالیسی کا بنیادی ہدف سوویت یونین کے توسیع پسندانہ عزائم کا مقابلہ تھا۔ اس پالیسی کے تحت امریکہ کئی فوجی اتحادوں کا حصہ بنا جن میں سے اہم مندرجہ بالا سطور میں مذکور ہیں۔ اس کے علاوہ امریکہ نے دوست ممالک کو بھاری فوجی اور معاشی امداد سے بھی نوازنا شروع کر دیا۔ 
کہا جا سکتا ہے کہ ٹرومین ڈاکٹرائن نے کمیونزم کے پھیلاؤ کو روکنے میں خاصا اہم کردار ادا کیا (اگرچہ اس ضمن میں ہم دیگر عوامل کو بھی نظرانداز نہیں کر سکتے)، البتہ یہ امر مسلمہ ہے کہ امریکہ کو یہ پالیسی سستے داموں نہیں پڑی۔ اس پالیسی کے نتیجے میں امریکہ اپنی سرحدوں سے باہر ایسے فوجی اور غیر فوجی تنازعوں میں ملوث ہوا جن سے اس کی اپنی سالمیت کو کوئی فوری خطرہ درپیش نہیں تھا، اور اس پر طرہ یہ کہ ابتداء میں ایسے اکثر معرکوں میں امریکی مسلح افواج یا سفارت کاروں کو ہزیمت کی تلخی سے دوچار ہونا پڑا۔ کوریا اور ویت نام کی جنگیں اس ضمن میں خصوصاً نمایاں ہیں۔ 
ویت نام کی طویل اور ناکام جنگی مہم نے امریکہ خارجہ پالیسی اور اسے سنبھالنے کے معاملے میں صدر کی اہلیت کو امریکی عوام کی نگاہوں میں مشکوک بنا دیا۔ اس جنگ کے دوران اندازاً بیس لاکھ ویت نامی اور 57 ہزار سے زائد امریکی فوجی موت کے گھاٹ اترے۔ امریکیوں کی ایک پوری نسل کے لئے یہ جنگ آج بھی ایک بھیانک خواب کی حیثیت رکھتی ہے اور آج بھی امریکی معاشرے میں اس کے مابعد اثرات کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔ امریکی عوام کا ایک قابل ذکر طبقہ ہمیشہ کے لئے، ہر طرح کی جنگی مہم جوئی کے خلاف ہو گیا، امریکی حکومت کو کڑی تنقید سہنا پڑی اور کچھ وقت کے لئے عالمی معاملات میں امریکہ کی فعالیت کا دائرہ خاصا محدود ہو گیا۔
رونالڈ ریگن نے اپنے دورِ صدارت میں اس پالیسی کو پھر سے زندہ کرتے ہوئے اعلان کیا کہ امریکہ، دنیا پر سوویت غلبے کے خلاف مزاحمت کے ہر اول دستے میں شامل رہے گا۔ اس دور میں سوویت یونین کی افواج افغانستان میں داخل ہو چکی تھی۔ امریکہ نے سوویت افواج کے خلاف برسرپیکار افغان مجاہدین کو بھرپور امداد پہنچانا شروع کر دی، اور یوں ایک بار پھر سوویت یونین کے خلاف لڑی جانے والی ایک جنگ میں شامل ہو گیا۔ فرق صرف اتنا تھا کہ اس بار اس کی بندوق افغان مجاہدین کی کندھے پر تھی۔
افغان جنگ کی تباہ کاریوں کے نتیجے میں سوویت یونین بالآخر منتشر ہو گیا اور اس کے ساتھ ہی گذشتہ چار دہائیوں سے جاری سرد جنگ بھی اپنے انجام کو پہنچ گئی۔ ٹرومین ڈاکٹرائن جیسی پالیسیوں کی ضرورت ختم ہو گئی، ایک نئی خارجہ پالیسی مرتب کرنے کا وقت آ گیا، اور  نئی پالیسی بل کلنٹن کے دورِ صدارت میں ’’روشن خیال بین الاقوامیت‘‘ کے اصول کے روپ میں سامنے آئی۔ اس پالیسی کے اہداف میں عالمی پیمانے پر امریکہ کی فعالیت کو برقرار رکھنا، امریکی اور عالمی خوشحالی کو بڑھاوا دینے کے لئے ’’فری ٹریڈ‘‘ کی حمایت کرنا اور بین الاقوامی امن و عافیت کو یقینی بنانے کے لئے جمہوریت کے فروغ میں اعانت فراہم کرنا شامل تھے۔ 
عالمی معیشت کو سب کے لئے قابل رسائی بنانے کے ضمن میں اس پالیسی کو جزوی کامیابی نصیب ہوئی اور فری ٹریڈ کے کئی معاہدے منظر عام پر آئے۔ مذہبی و نسلی چپقلش کے شکار بوسنیا، صومالیہ، ہیٹی اور کوسوو جیسے خطوں میں قیامِ امن کو یقینی بنانے کے لئے کلنٹن حکومت نے اعلان کیا کہ پوری دنیا میں انسانیت کے حوالے سے پیدا ہونے والے بحرانوں کو ختم کرنے کے لئے امریکہ، جہاں ضروری ہوا، مداخلت کرے گا۔ اس حوالے سے امریکی حکومت کو خارجی اور داخلی محاذ پر ملے جلے ردِ عمل کا سامنا کرنا پڑا۔ لہٰذا موجودہ صدرِ امریکہ جارج ڈبلیو بش نے برسراقتدار آنے کے بعد کوشش کی کہ عالمی معاملات میں امریکی مداخلت کو گھٹا کر زیادہ توجہ قومی مفادات پر مبذول کی جائے۔ شاید اکیسویں صدی کی پہلی دہائی میں امریکی خارجہ پالیسی کا محور یہی رہتا لیکن 11 ستمبر 2001ء کو نیویارک میں ورلڈ ٹریڈ سنٹر اور واشنگٹن ڈی سی میں پنٹاگون پر دہشت گردوں کے حملے نے صورتِ حال کا نقشہ یکسر تبدیل کر دیا۔
11 ستمبر کے واقعات نے نہ صرف بش انتظامیہ اور امریکی خارجہ پالیسی پر گہرے اثرات مرتب کئے بلکہ خارجہ پالیسی کے حوالے سے امریکی عوام کا رویہ اور خارجہ پالیسی کے مرکزی نکات پر صدر کو عوام اور کانگریس کی طرف سے ملنے والی حمایت کی شرح بھی بدل کر رکھ دی۔ ان واقعات کے نتیجے میں امریکہ میں غم و غصے کی جو لہر ابھری، اس کا قدرتی نتیجہ تھا کہ امریکی رائے عامہ اس نکتے پر ہم آواز ہو گئی کہ امریکہ کو عالمی سطح پر پہلے سے کہیں زیادہ پُر زور اور جارحانہ رویہ اپنانا چاہئے، اور جب صدر بش نے ان حملوں کے ذمہ داروں کو کیفر کردار تک پہنچانے کا عزم ظاہر کیا تو رائے عامہ کا سارا وزن مسند صدارت کے پلڑے میں آ گیا۔ ارکانِ کانگریس کے پاس صدر کی حمایت کرنے کے علاوہ اور کوئی راستہ نہ رہا۔
ان عوامل کے تحت ایک نئی امریکی خارجہ پالیسی نمودار ہوئی جس کا بنیادی ہدف پوری دنیا میں ’’دہشت گردوں اور آمروں ‘‘ سے مقابلہ کرنا اور انہیں شکست دینا تھا۔ اس پالیسی کے نتیجے میں بش انتظامیہ نے جو اقدامات کئے اور ان اقدامات کے نتیجے میں عالمی صورتِ حال میں جو تبدیلیاں رونما ہوئیں ، ان کا مشاہدہ آج ہم سب کر رہے ہیں۔ 
امریکہ کی نئی خارجہ پالیسی یا عرفِ عام میں ’’بش ڈاکٹرائن‘‘ کی پہلا اور سب سے اہم نکتہ یہ ہے کہ امریکہ متوقع خطرات کو فرو کرنے کے لئے کسی بھی ملک پر پیشگی حملہ کر سکتا ہے، خواہ اس ملک کی طرف سے اسے فوری حملے کا خطرہ درپیش ہو یا نہ ہو۔ گویا امریکی فوجی حکمت عملی کی پوزیشن مدافعانہ کے بجائے جارحانہ ہوگی۔ افغانستان اور عراق پر کئے جانے والے حملے اس حکمت عملی کے نمایاں مظاہر ہیں۔ 
بش ڈاکٹرائن اپنی نوعیت میں سرد جنگ کے بعد سے اختیار کی جانے والی خارجہ پالیسیوں سے ہی نہیں ، بلکہ بش حکومت کے ابتدائی ایام کی خارجہ پالیسی سے بھی نہایت مختلف ہے البتہ سرد جنگ کے دوران اختیار کی جانے والی خارجہ پالیسی کے ساتھ کئی اعتبار سے مماثل ہے۔ سرد جنگ کی پالیسی کی طرح، بش ڈاکٹرائن کے دائرۂ کار میں پوری دنیا کو شامل کیا گیا ہے اور اس کے لئے اخلاقی جواز تراشے گئے ہیں۔ ان دونوں ادوار میں امریکی پالیسی سازوں کی توجہ کا مرکز ایک مخصوص ہدف رہا ہے، سرد جنگ کے دوران یہ ہدف سوویت یونین تھا، اور اب دہشت گرد۔ دونوں ادوار میں امریکہ کا زیادہ تر انحصار و اعتماد اپنی فوجی اہلیت پر نظر آتا ہے اور سرد جنگ کی طرح، ضرورت پڑنے پر، امریکہ یہ جنگ بھی تنہا لڑنے پر آمادہ و تیار ہونے کا دعویٰ کر رہا ہے۔
ان خصوصیات کی بدولت بش ڈاکٹرائن کو جہاں تحسین ملی ہے، وہیں اس پر تنقید بھی ہوئی ہے۔ تنقید کرنے والوں کے نزدیک یہ ڈاکٹرائن یک طرفہ نوعیت رکھتی ہے اور گلوبلائزیشن اور کثیر الجہتی کے اس دور میں ایسی کسی پالیسی کا وجود قابل قبول نہیں سمجھا جا سکتا۔ فوجی اہلیت پر بہت زیادہ انحصار بھی درست قرار نہیں دیا جا سکتا کیونکہ دہشت گردی کا مقابلہ کرنے میں سیاسی، سماجی اور معاشی اقدامات بھی فوجی اقدامات کے برابر اہمیت کے حامل ہیں۔ بعض تنقید نگاروں کے مطابق، امریکہ دوسری اقوام کو دھمکا کر اپنے مقاصد اور اہداف حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور ایسا طرزِ عمل کسی بھی طرح ایک جمہوری حکومت کو زیب نہیں دیتا۔ اس موقف کو اس وقت اور بھی تقویت مل جاتی ہے جب ہم دیکھتے ہیں کہ وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے ولے ہتھیاروں کے بہانے عراق پر حملہ آور اور قابض ہونے کے بعد ابھی تک امریکہ اور اس کے اتحادی عراق میں ایسے ہتھیاروں کی موجودگی کا حتمی ثبوت فراہم نہیں کر سکے۔ بش ڈاکٹرائن کی مخالفت ایسے ممالک کی طرف سے بھی کی جا رہی ہے جو سرد جنگ کے دوران امریکہ کے حلیفوں میں شامل تھے۔
ڈاکٹرائن کے حمایتیوں کا موقف ہے کہ موجودہ دنیا کو درپیش سب سے بڑے خطرے، دہشت گردی، کے خاتمے کے متعلق صاف اور صریح نکتہ نظر اس پالیسی کی روح کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس پالیسی کا مقصد انسانی عظمت کو دہشت گردی اور آمریت کی چیرہ دستیوں سے محفوظ رکھ کر طاقت کا ایک ایسا توازن پیدا کرنا ہے جو انسانی آزادی کے لئے فائدہ مند ہو۔ خطرے کی نوعیت کو مد نظر رکھا جائے تو امریکہ کے یک طرفہ اقدامات اور فوجی قوت پر انحصار کا جواز بھی مل جاتا ہے۔ دہشت گرد اور آمر، خصوصاً تباہ کن ہتھیاروں پر قابض ہونے کی صورت میں ، بین الاقوامی امن و استحکام کے لئے سب سے بڑا خطرہ ہیں اور اگر دوسرے ساتھ دینے پر آمادہ نہ ہوں تو پھر امریکہ کے پاس تنہا مقابلہ کرنے کے سوا اور کوئی راستہ نہیں رہتا۔ امریکہ سے مخاصمت رکھنے والی بعض قوتوں کو شکست دینے یا ڈرانے کے لئے فوجی قوت کا استعمال ضروری ہے، اس لئے امریکہ کو اپنی اس اہلیت پر بھی تکیہ کرنا ہوگا۔
خیر، یہ بحث تو ابھی چلتی رہے گی۔ قصہ مختصر یہ کہ نئی صدی کی ابتداء سے ہی امریکہ اپنی خارجہ پالیسی کے حوالے سے خارجی اور داخلی محاذ پر کئی تنازعات میں الجھا ہوا نظر آتا ہے۔ امریکی رائے عامہ اور پالیسی ساز اس صورتِ حال کو کب تک برداشت کرتے ہیں اور صدر کو کب تک کھل کھیلنے کی اجازت دیتے ہیں ، اس کا انحصار ان کی قوتِ برداشت پر ہے۔ بین الاقوامی برادری اس پالیسی کے مرکزی مقصد کی مکمل حمایت پر آمادہ ہوگی، یا امریکی قیادت کی توقعات کے بالکل برعکس کوئی اور نتیجہ سامنے آئے گا؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب آنے والا وقت دے گا، اور میرے خیال میں وہ وقت اب بہت دور نہیں۔ 
اس مختصر سے مطالعے کے آخری حصے میں ہم امریکی آئین کا جائزہ لیں گے جو میرے خیال میں امریکی جمہوریت کا اہم اور موثر ترین جزو ہے۔ 
امریکی آئین 1787ء میں ریاست پنسلوینیا کے شہر فلاڈلفیا میں منعقد ہونے والے آئینی کنونشن کے 55 مندوبین نے ترتیب دیا اور 1788ء میں تمام ریاستوں نے اس کی تصدیق کر دی۔ تھامس جیفرسن نے اس آئین کو ’’چھوٹے دیوتاؤں کی اسمبلی‘‘ کا ساختہ قرار دیا تھا، اور یہ ایک حقیقت ہے کہ دو سو سال سے زائد عرصہ پیشتر لکھے جانے والے اس آئین کو اپنانے کے بعد امریکی عوام کو کسی نئے آئین کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی۔ اس کے مرتبین کے گمان سے بھی نہ گزرا ہوگا کہ ان کی تحریر کردہ دستاویز اتنی طویل عمر پائے گی اور نہ ہی اس کے نفاذ کے وقت اسے ایک نوزائیدہ قوم کے لئے ایک مستحکم حکومت کے حصول کا بہترین وسیلہ قرار دیا گیا تھا، بلکہ سچ تو یہ ہے کہ اس وقت کے بہت سے زعماء اس کے عارضی طور پر موثر ہونے کے بارے میں بھی شبہات کے شکار تھے۔ اگر وہ لوگ آج کے امریکہ میں آئیں تو یہ دیکھ کر انہیں یقیناً حیرت ہوگی کہ ان کا متعین کردہ نظام آج بھی قائم ہے اور ابھی تک کسی طرف سے اس کے برخواست کر دیئے جانے کی آواز بلند نہیں ہوئی۔
آج بہت کم لوگوں کو یاد ہوگا کہ اس آئین کی تخلیق کے وقت ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے مجموعی حالات کیا تھے۔ اس وقت کی کنفیڈریسی کی دفعات کے تحت قومی حکومت کے پاس اتنے اختیارات نہ تھے کہ جو نو آبادیوں سے ریاستوں کی حیثیت کی اختیار کرنے والے ان علاقوں کو باندھے رکھنے کے لئے کافی ہوں۔ خطرہ پیدا ہو رہا تھا کہ یہ یونین اپنی زندگی کا آغاز کرنے سے پہلے ہی فنا کے گھاٹ اتر جائے گی۔ کنونشن کے پاس ایک مبسوط اور ہر لحاظ سے مکمل آئین کی تیاری بالاطمینان کرنے کی مہلت نہ تھی۔ حالات فوری ایکشن کا تقاضا کر رہے تھے لہٰذا لازم تھا کہ ان لوگوں کی تیار کی ہوئی دستاویز میں نظریات و مفروضات کو کم اور عملیت کو زیادہ جگہ دی جائے، اور اصولوں کے بیان پر صفحات کالے کرنے کے بجائے ایک ایسا طاقتور گوند تیار کیا جائے جو بحرانی حالات میں ان ریاستوں کا شیرازہ منتشر ہونے سے بچائے رکھے۔
ان حالات کے تحت جو آئین تیار ہو کر سامنے آیا، اسے کسی لحاظ سے مکمل قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اس وقت، اور اس کے بعد سے لے کر آج تک، اس حوالے سے اس پر تنقید ہوتی چلی آئی ہے کہ اس آئین میں ایک آزاد معاشرے کی تشکیل کے لئے ضروری دفعات کو جگہ نہیں دی گئی۔ سیاہ فام امریکیوں کی حیثیت، مقامی امریکیوں یعنی ریڈ انڈینز کی صورتِ حال، غیرقانونی طور پر ملک میں داخل ہونے والے مہاجروں ، ملزموں کے حقوق اور سیاست میں مذہب کے کردار جیسے اہم معاملات میں کسی معیار کا تعین نہ کر پانا اس کے ادھورے پن کی دلیل ہے۔ 
بہرحال، آئین کے مصنفین کے پیش نظر ایک ایسی دستاویز لکھنا نہ تھا جو آنے والے ہر زمانے اور ہر تقاضے کے لئے آخری حکم ثابت ہو۔ یہ اندازہ تو کوئی بھی نہیں لگا سکتا تھا کہ یہ آئین ارتقاء کے کن مراحل سے گزرنے کے بعد ایک مکمل آئین سمجھا جائے گا۔ ان لوگوں کا مقصد تو صرف اتنا تھا کہ آئین کی صورت میں ایک ایسا وجود تشکیل دے دیا جائے جو آنے والے وقت میں زندہ رہنے کے ساتھ ساتھ پھل پھول بھی سکے۔ اس کو سجانے سنوارنے کا کام آنے والی نسلوں پر چھوڑ دیا گیا لہٰذا یہ کام اس وقت سے لے کر آج تک جاری ہے، اور نہ جانے کب تک جاری رہے گا۔
گفتگو آگے بڑھانے سے پیشتر امریکی آئین کے مندرجات کا ایک مختصر سا جائزہ لینا ضروری ہے تاکہ موضوعِ گفتگو کے خدوخال واضح ہو سکیں۔ 
امریکی آئین کے چھ اجزاء ہیں جن میں وفاق اور ریاستی حکومتوں کے اختیارات کو واضح کیا گیا ہے۔ بعد میں کی جانے والی ترامیم کے ذریعے ان میں سے کچھ اختیارات کو وسیع کر دیا گیا اور کچھ کو محدود۔ آئین میں اختیارات کی علیحدگی کے ذریعے ان کے آمرانہ استعمال کا سدباب کر دیا گیا ہے۔ حکومت کی ہر شاخ کی اپنی ذمہ داریاں ہیں اور اسے دوسری شاخوں کے کام میں دخل انداز ہونے کی اجازت نہیں۔ قانون سازی کا کام مقننہ یعنی کانگریس کرتی ہے، حکومت قوانین کا نفاذ یقینی بناتی ہے اور عدلیہ قوانین کی تشریح کرتی ہے۔
آئین میں ’’اختیارات کی علیحدگی‘‘ کو ایک باقاعدہ اصطلاح کی حیثیت سے استعمال نہیں کیا گیا۔ پہلے تین اجزاء میں علیحدگی کا عمل ترتیب دیتے ہوئے ہر شعبہ حکومت کی ذمہ داریوں کا تعین کر دیا گیا ہے۔ پہلے جزو میں وفاقی حکومت کا اختیارِ قانون سازی کانگریس کو منتقل کر دیا گیا ہے۔ صرف کانگریس ایسے قوانین تیار کر سکتی ہے جن کی پابندی ہر ریاست کے عوام پر لازمی ہو۔ 
دوسرے جزو میں قوتِ عاملہ صدر کو عطا کر دی گئی ہے۔ صدر کو اختیار حاصل ہے کہ وہ وفاقی عہدیداروں کو نامزد کرے اور وفاقی جرائم پر قانونی کارروائی کرے۔ کسی قانون شکن پر مقدمہ چلانے کا فیصلہ کرنے کا اختیار کانگریس کے پاس نہیں۔ یہ اختیار صرف حکومت کے پاس ہے۔ کانگریس کا کوئی رکن حکومتی شعبے کا رکن نہیں بن سکتا۔ اس اعتبار سے امریکی نظام برطانوی پارلیمانی نظام سے یکسر مختلف ہے۔ برطانوی نظام میں وزیر اعظم اور دیگر ارکانِ کابینہ و حکومت کے لئے پارلیمنٹ کا رکن ہونا بھی لازم ہے۔ 
تیسرے جزو میں وفاقی عدالتی اختیار سپریم کورٹ اور کانگریس کی بنائی ہوئی دیگر وفاقی عدالتوں کو سونپ دیا گیا ہے۔ کانگریس، صدر یا حکومتی شعبے کے کسی دوسرے فرد کو کسی ملزم کو مجرم قرار دینے کا اختیار حاصل نہیں۔ یہ فیصلہ صرف جج یا جیوری کر سکتی ہے۔
آئین کے مطابق حکومتی اختیارات کو کسی ایک جگہ مجتمع کرنے کے بجائے وفاقی حکومت کے اندر، اور وفاقی حکومت اور ریاستی حکومتوں کے مابین، مزید تقسیم کر دیا گیا ہے۔ جزوِ اول کے مطابق قانون سازی کرنے والا مقننہ دو ایوانوں یعنی دار النمائندگان اور سینیٹ پر مشتمل ہے۔ اس جزو میں کانگریس کے مخصوص اختیارات از قسم ٹیکسوں کا نفاذ، فوج کی ترتیب و تہذیب، درآمدی محصولات کا نفاذ وغیرہ کی تفصیل بھی دی گئی ہے۔ ان اختیارات کے علاوہ اور کوئی قوت کانگریس کے پاس نہیں تاہم کانگریس کو یہ اختیار ضرور حاصل ہے کہ وہ آئین سے ملنے والے اختیارات کا بہتر استعمال کرنے کے لئے ضروری اور مناسب قوانین بنا سکے۔ اس طرح کانگریس کو قانون سازی کے لئے خاصی گنجائش اور آزادی حاصل ہو جاتی ہے۔
ریاستوں کو اپنے اختیارات استعمال کرنے کی کھلی چھٹی ہے ما سوائے دو استثنیات کے۔ پہلی یہ کہ چھٹے جزو میں آئین کو ’’بالاتر قانون‘‘ قرار دیا گیا ہے لہٰذا ریاستیں ایسا کوئی قانون نہیں بنا سکتیں جو کسی اعتبار سے وفاقی قوانین سے متصادم ہوتا ہو۔ دوسری یہ کہ آئین کے تحت عوام کو چند مخصوص آزادیاں اور حقوق فراہم کئے گئے ہیں۔ کسی ریاست کو اختیار حاصل نہیں کہ وہ ان آزادیوں پر اثرانداز ہو یا کسی شہری کو اس کے متعینہ حقوق دینے سے انکار کرے۔
یہ آزادیاں اور حقوق، آئین میں کی جانے والی پہلی دس اور تیرہویں ، چودہویں ، پندرہویں اور انیسویں ترامیم میں بالتفصیل بیان کر دی گئی ہیں۔ پہلی دس ترامیم کو اجتماعی طور پر ’’حقوق کا مسودۂ قانون‘‘ کہا جاتا ہے۔ ترامیم کا تفصیلی تذکرہ آئندہ سطور میں کیا جائے گا۔ 
مختلف حکومتی اختیارات کو تقسیم اور محدود کر کے آئین نے پرکھ، پڑتال اور توازن کا ایک نظام قائم کر دیا ہے جس کی بدولت حکومت کا کوئی حصہ اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرنے یا ان سے متجاوز کرنے سے قاصر ہے۔ اگر کوئی حکومتی حصہ بہت زیادہ طاقتور ہوتا ہوا نظر آئے تو دوسرے حصے اس کا راستہ روک لیں گے۔ مثال کے طور پر، اگر صدر اپنے اختیارات سے تجاوز کرتا ہے تو کانگریس اس کے مجوزہ اقدامات کے لئے پیسہ فراہم کرنے سے انکار کر سکتی ہے یا عدالتیں صدارتی اقدام کو غیر آئینی قرار دے کر منسوخ کر سکتی ہیں۔ 
امریکی آئین اگر آج تک برقرار ہے تو اس کی وجہ یہی ہے کہ اس میں امریکی ذہنیت کی عکاسی کرنے والے تمام کلیدی اجزاء موجود ہیں۔ سب سے بڑی بات یہ کہ اس سے ایک با اختیار قومی حکومت کا قیام ممکن ہوا مگر ریاستوں کو بھی بے یار و مددگار نہیں چھوڑا گیا بلکہ ایک وفاقی نظام قائم کر کے اقتدار کو ریاستوں اور وفاقی حکومت کے بیچ تقسیم کر دیا گیا اور واحد مرکزی حکومت کے قیام سے گریز کیا گیا۔ حکومت کرنے کا اختیار چند افراد کے بجائے عوام کو دیا گیا البتہ ان کے کردار کو براہِ راست رکھنے کے بجائے ایک نمائندہ حکومت کے انتخاب کے ذریعے بالواسطہ بنا دیا گیا۔ ایک ایسی حکومت جو ہر لحاظ سے آئین کی پابند ہے اور جسے عوام کے بنیادی حقوق اور آزادیوں پر اثرانداز ہونے کا اختیار حاصل نہیں۔ تمام فیصلے اور اقدامات کرنے کی ذمہ داری حکومت پر نہیں رکھی گئی بلکہ سرمایہ دارانہ نظام اور نجی معیشت کو اختیار کیا گیا اور یوں ایک آزاد حکومت کی بنیاد ڈال دی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئین میں ترامیم اور اس کی اصطلاحات میں تشریح کی گنجائش رکھی گئی تاکہ اسے ہر دور کے تقاضوں کے مطابق مناسب حد تک تبدیل کیا جا سکے۔ اس کے بنانے والوں نے اس کے اجزاء کی لمی چوڑی تشریح اور تخصیص سے گریز کر کے اس کی قوت میں اور اضافہ کر دیا۔ اگر وہ ایسا نہ کرتے تو یقیناً امریکی آئین اکیسویں صدی میں پہنچ کر بھی اٹھارہویں صدی میں ہی کھڑا نظر آتا اور بہت ممکن ہے کہ اب تک اس کی جگہ کسی اور آئین نے لے لی ہوتی۔
میرے نزدیک اس آئین کی کامیابی کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ اسے ایک مضبوط آغاز میسر آیا۔ جارج واشنگٹن، جان ایڈمز، تھامس جیفرسن، جیمس میڈیسن اور جیمس منرو جیسے صدور کی بدولت نظامِ حکومت اور آئین کو استحکام اور عوام کی بھرپور حمایت حاصل ہوتی رہی۔ کسی فوری ارتقائی رکاوٹ کا سامنا نہ ہونے کی بدولت بتدریج آئین، امریکی سیاسی زندگی کا جزوِ لازم بن گیا۔ اگر آئین کو کھل کر ارتقائی مراحل طے کرنے کا موقع نہ مل سکے تو جو صورتِ حال سامنے آتی ہے، اس کا اندازہ پاکستان کی آئینی تاریخ کے مطالعے سے بخوبی کیا جا سکتا ہے۔
امریکی آئین میں ترامیم کے حوالے سے ایک موثر اور قابل عمل طریق کار وضع کیا گیا ہے۔ اس کے مطابق کسی بھی ترمیم کے جزوِ آئین بننے کے لئے ضروری ہے کہ کانگریس کے دونوں ایوان اسے دو تہائی اکثریت سے منظور کریں یا پھر آئینی کنونشن کے ذریعے اس کا فیصلہ کیا جائے (آج تک دوسرا طریقہ استعمال کرنے کی نوبت نہیں آئی)۔ کانگریس کی منظوری کے بعد اس ترمیم کو تین چوتھائی ریاستوں کی منظوری حاصل ہونا بھی ضروری ہے۔
اس طریق کار کا استعمال آئین کی تیاری کے فوراً بعد ہی شروع کر دیا گیا تھا کیونکہ آئین کے ابتدائی مسودے میں بعض بنیادی حقوق کے تحفظ کی ضمانت نہیں دی گئی تھی۔ 1791ء میں آئین کا حصہ بننے والی پہلی دس ترامیم اسی ضمانت کی فراہمی کا ابتدائی مرحلہ تھیں۔ ان کے بعد کی جانے والی ترامیم میں سے زیادہ تر کی نوعیت معمولی ہے، لیکن بعض غایت درجہ کی اہمیت رکھتی ہیں۔ اب تک امریکی آئین میں کل 27 ترامیم کی جا چکی ہیں۔ ان ترامیم کا زمانی اعتبار سے ترتیب وار جائزہ لینے سے امریکی آئین کے ارتقائی مراحل کا بخوبی مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔ ان کی عمومی تشریح حسب ذیل ہے:-
1۔	پہلی ترمیم میں تحریر و تقریر اور پُر امن عوامی اجتماع کی آزادی فراہم کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ ہر شہری کو اپنی مرضی کا مذہب اختیار کرنے اور اس پر عمل پیرا ہونے کا حق حاصل ہوگا اور اسے کسی دوسرے مذہب کی حمایت کرنے کو نہ کہا جائے گا۔ اس کے علاوہ شہریوں کو یہ حق بھی حاصل ہے کہ وہ حکومتی پالیسیوں میں تبدیلی کرنے کا مطالبہ کر سکیں۔ 
2۔	دوسری ترمیم کے مطابق ایک باضابطہ عوامی فوج کو ریاست کے تحفظ کے لئے ضروری قرار دے کر ریاست کے تمام شہریوں کو ہتھیار رکھنے کا حق دیا گیا ہے۔ 
3۔	تیسری ترمیم میں حکومت کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ زمانۂ امن میں کسی شہری کی اجازت کے بغیر اس کے گھر میں کسی فوجی کو نہ ٹھہرائے، اور زمانۂ جنگ میں بھی ایسا مقررہ قانون کے مطابق ہو۔ چونکہ برطانوی راج میں امریکی شہریوں کو وہاں مقیم برطانوی فوجیوں کے قیام و طعام کا بندوبست کرنے پر مجبور کیا جاتا تھا لہٰذا دوبارہ ایسی کسی صورتِ حال کا ظہور روکنے کے لئے یہ ترمیم ضروری خیال کی گئی۔ بہرحال، امریکی انقلاب کے بعد سے یہ ترمیم ایک غیر متعلق سی حیثیت اختیار کر گئی ہے۔
4۔	چوتھی ترمیم میں حکومتی عہدیداران اور پولیس کو جرم کے ارتکاب کے معقول شواہد کے بغیر کسی شہری کے گھر کی تلاشی لینے یا اس کا ملکیتی اسباب قبضے میں لینے سے منع کر دیا گیا ہے۔ اب زیادہ تر حالات میں پولیس کو کسی شہری کے گھر یا جائے کاروبار کی تلاشی لینے کے لئے سرچ وارنٹ حاصل کرنا پڑتا ہے جس میں تلاشی کے مقام اور ممکنہ دریافتوں کی تفصیل درج ہوتی ہے۔
5۔	پانچویں ترمیم ایک شہری کو حکومت کے ناجائز اقدامات کے خلاف پانچ طرح کا تحفظ فراہم کرتی ہے۔ اول، یہ کہ گرینڈ جیوری کی طرف سے فردِ جرم عائد کئے بغیر کسی شخص پر کسی وفاقی جرم کے ارتکاب کے الزام میں مقدمہ نہیں چلایا جائے گا۔ دوم، کسی ایک جرم کے لئے کسی شخص پر ایک ہی دفعہ مقدمہ چلایا جا سکتا ہے۔ سوم، کسی شخص کو مقدمے میں اپنے ہی خلاف گواہی دینے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ چہارم، قانونی تقاضے پورے کئے بغیر حکومت کسی شخص کو اس کے اسباب، آزادی یا زندگی سے محروم نہیں کر سکتی، اور پنجم، حکومت کسی شخص کی جائیداد پر قابض نہیں ہو سکتی ماسوائے اس کے کہ قبضہ کسی عوامی مقصد کے لئے کیا جائے اور یہ کہ مالک کو اس کی جائیداد کی مناسب قیمت ادا کی جائے۔
6۔	چھٹی ترمیم میں کسی الزام کی زد میں آنے والے افراد کو ایک عوامی اور تیز رفتار مقدمے کا حق دیا گیا ہے۔ وفاقی مقدمات میں مدعا علیہان کا مقدمہ اس علاقے میں چلایا جائے گا جہاں جرم کا ارتکاب ہوا ہے، اور ریاستی و وفاقی ہر دو طرح کے ملزمان کو حق حاصل ہے کہ ان کے مقدمے کا فیصلہ ایک غیرجانبدار جیوری کی رائے کے مطابق کیا جائے۔ اس ترمیم کے ذریعے کسی ملزم کو اس پر لگائے گئے الزامات کی نوعیت سے آگاہ کئے بغیر اس پر مقدمہ چلانے سے حکومت کو منع کر دیا گیا ہے۔ ملزم کو حق حاصل ہے کہ وہ اپنے خلاف پیش کئے جانے والے گواہوں پر جرح کرے، اس کے علاوہ وہ اپنے حق میں گواہی دینے کے اہل افراد کو قانوناً گواہی دینے کے لئے آمادہ کر سکتا ہے اور اپنے قانونی دفاع کے لئے وکیل کی خدمات حاصل کر سکتا ہے۔
7۔	ساتویں ترمیم کے مطابق وفاقی سطح کے بعض دیوانی مقدمات کے لئے بھی فریقین کو جیوری کی خدمات حاصل کرنے کی سہولت دی گئی ہے۔ اس ترمیم کا اطلاق ریاستوں پر نہیں ہوتا۔
8۔	آٹھویں ترمیم کے ذریعے عدالتوں کو پابند کیا گیا ہے کہ اگر ملزم مقدمے میں شریک ہونے کی یقین دہانی کے طور پر ایک معقول رقم بطور زرِ ضمانت جمع کروا سکے تو مقدمے سے قبل اسے حراست سے رہا کر دیا جائے۔ کسی شخص پر جرم ثابت ہو جانے کے بعد بھی حکومت اسے غیرانسانی سزاؤں یا ناجائز حد تک زیادہ جرمانے کا نشانہ نہیں بنا سکتی، یعنی جرم کی سزا جرم کی نوعیت کے مطابق ہونی چاہئے، اس سے بڑھ کر نہیں۔ 
9۔	نویں ترمیم میں اعلان کیا گیا ہے کہ کسی بنیادی انسانی حق کا تذکرہ آئین میں نہ ہونے کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ وہ حق فسخ ہو گیا ہے۔ عدالتوں کو کسی انسانی حق کے ضمن میں آئین کی خاموشی کا یہ مطلب نہیں لینا چاہئے کہ اب یہ حق متعلقہ فرد کو نہیں دیا جا سکتا۔
10۔	دسویں ترمیم میں ایک بنیادی آئینی اصول کا تذکرہ دوبارہ کیا گیا ہے۔ وہ یہ کہ اگر آئین وفاقی حکومت کو کوئی مخصوص اختیار عطا نہیں کرتا تو پھر ریاستی حکومت اس اختیار کو استعمال کر سکتی ہے بشرطیکہ آئین میں ریاستی حکومتوں کو بھی یہ اختیار استعمال کرنے سے منع نہ کر دیا گیا ہو۔ اس ترمیم کے مطابق، لوگوں کو، وفاقی حکومت کے دائرہ اختیار سے باہر علاقوں میں ، وفاقی حکومت کی اجازت لئے بغیر کام کرنے کی کھلی اجازت ہے۔
11۔	گیارہویں ترمیم 7 فروری 1795ء کو آئین کا حصہ بنی۔ اس ترمیم کے تحت وفاقی عدالتوں میں دائر کئے جانے والے چند مخصوص قسم کے دعووں سے ریاستی حکومتوں کو مستثنیٰ قرار دے دیا گیا۔
12۔	بارہویں ترمیم سے یہ قرار پایا کہ اگر الیکٹورل کالج میں کوئی صدارتی امیدوار فتح یاب نہ ہو سکے تو پھر دار النمائندگان، ریاستوں کے حساب سے رائے شماری کر کے، صدر کا انتخاب کرے گا، اور نائب صدر کا انتخاب سینیٹ کے ذریعے کیا جائے گا۔ اس ترمیم کو 27 جولائی 1804ء کو آئین کا حصہ بنایا گیا۔
13۔	تیرہویں ترمیم کے ذریعے ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں غلامی کو غیر قانونی قرار دے دیا گیا۔ اسی طرح قرض کے بدلے میں کسی سے جبری خدمت لینے کو بھی دائرۂ قانون سے خارج کر دیا گیا۔ یہ ترمیم 6 دسمبر 1865ء کو منظور ہوئی۔
14۔	چودہویں ترمیم 9 جولائی 1868ء کو آئین کا حصہ بنی۔ اس کی پانچ شقیں ہیں۔ پہلی شق کے مطابق، ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں پیدا ہونے والا یا باہر سے آ کر یہاں کی شہریت حاصل کرنے والا ہر شخص ہر اعتبار سے امریکی شہری ہے۔ اسے تمام شہری حقوق حاصل ہوں گے اور قوانین کی تیاری اور نفاذ کے عمل میں اس بات کا خیال رکھا جائے گا کہ سب شہریوں پر اس کا اطلاق مساوی بنیادوں پر ہو۔ دوسری شق کے مطابق یہ طے پایا کہ اگر کوئی ریاست اپنے بالغ شہریوں ایک حصے کو ووٹ دینے کے حق سے محروم کرتی ہے، تو اس حصے کی جسامت کے اعتبار سے دار النمائندگان میں اس ریاست کی نمائندگی بھی گھٹا دی جائے گی۔ اس شق کے حقیقی معنوں میں استعمال کی ضرورت آج تک نہیں پڑی۔ تیسری شق کے مطابق، امریکی سول وار میں ، ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی حکومت کے خلاف جنگ میں حصہ لینے والے تمام شہریوں کے رکن کانگریس بننے پر پابندی لگا دی گئی۔ البتہ اگر کانگریس کی دو تہائی اکثریت کسی فرد پر سے یہ پابندی ہٹانے کے بارے میں فیصلہ دے تو وہ کانگریس کی رکنیت حاصل کر سکتا ہے۔ چوتھی شق کے مطابق یہ قرار پایا کہ سول وار میں حکومت مخالف دھڑے یعنی کنفیڈریسی نے جنگی اخراجات کے لئے جو قرضے اٹھائے، ان کی ادائیگی وفاقی حکومت یا ریاستوں کے ذمے نہیں ہوگی۔ پانچویں شق کے ذریعے، کانگریس کو چوتھی شق کے اطلاق کے ضمن میں ضروری قانون سازی کرنے کا اختیار دے دیا گیا۔
15۔	پندرہویں ترمیم 3 فروری 1870ء کو امریکی آئین میں شامل ہوئی۔ اس ترمیم کو انسانی حقوق کے حوالے سے امریکی تاریخ میں بڑی اہمیت حاصل ہے۔ اس کے مطابق وفاقی یا ریاستی حکومتوں کو رنگ، نسل یا دورِ سابق میں غلام ہونے کی بناء پر کسی شخص کو ووٹ دینے سے روکنے کا اختیار حاصل نہیں۔ کانگریس کو اس ترمیم کے اطلاق کے لئے ضروری قانون سازی کا اختیار حاصل تھا۔ یہ ترمیم 1870ء کی دہائی میں کچھ عرصہ کے لئے نافذ العمل رہی اور اس کے بعد اس کی ضرورت 1960ء اور اس کے بعد کے ادوار میں سیاہ فاموں ، خواتین اور دیگر اقلیتوں کے شہری حقوق کی فراہمی کے سلسلے میں پیش آئی، اور اسے بنیاد بنا کر کانگریس نے مختلف قوانین بنائے جن سے امریکی معاشرے کے تمام طبقات کی شہری حقوق تک رسائی ممکن ہو سکی۔
16۔	سولہویں ترمیم 3 فروری 1913ء کو منظور کی گئی، اور امریکی معاشی نظام کے حوالے سے اسے خصوصی اہمیت حاصل ہے۔ اس ترمیم کے ذریعے کانگریس کو انکم ٹیکس لگانے کا اختیار دیا گیا، اور اس اختیار کو مختلف ریاستوں کی آبادی کے تناسب کا پابند بنانے کے بجائے آزاد رکھا گیا۔
17۔	سترہویں ترمیم کے ذریعے ووٹروں کو اختیار دے دیا گیا کہ وہ اپنی ریاست سے سینیٹ کے لئے دو نمائندے منتخب کریں۔ اس سے پہلے یہ اختیار ریاستوں کی قانون ساز مجالس کے پاس تھا۔ انتخابات سے پہلے اگر کسی وجہ سے کسی ریاست کے سینیٹر کی جگہ خالی رہ جاتی ہے تو ریاست کے گورنر کو اختیار حاصل ہے کہ وہ اس کی جگہ کسی دوسرے فرد کو انتخابات تک کے لئے مقرر کر دے۔ یہ ترمیم 8 اپریل 1913ء کو آئین کا حصہ بنی۔
18۔	اٹھارہویں ترمیم کی منظوری کے ساتھ اس دور کا آغاز ہوا جسے امریکی تاریخ میں ’’دورِ ممانعت‘‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ 16 جنوری 1919ء کو منظور ہونے والی اس ترمیم کے ذریعے ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں شراب کی تیاری، خرید و فروخت اور درآمد پر پابندی لگا دی گئی۔ اس پابندی کے نتیجے میں جرائم پیشہ افراد کے لئے شراب کی خرید و فروخت وقت کا سب سے نفع بخش کاروبار بن گئی۔ بری طرح ناکام رہنے والی اس ترمیم کو 1933ء میں منسوخ کر دیا گیا۔
19۔	انیسویں ترمیم امریکی خواتین کے حقوق کے حوالے سے نہایت اہمیت کی حاصل ہے کیونکہ اس کے ذریعے ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں خواتین کو ووٹ دینے کا حق حاصل ہو گیا۔ یہ ترمیم 18 اگست 1920ء کو منظور کی گئی۔
20۔	بیسویں ترمیم اگرچہ چھ حصوں پر مشتمل ہے مگر اس کا حقیقی متن پہلے چار حصوں میں مل جاتا ہے۔ پہلے حصے میں یہ طے کیا گیا کہ ہر صدر اور نائب صدر کی مدتِ اقتدار کا آغاز صدارتی انتخابات کے بعد آنے والے سال میں 20 جنوری کی تاریخ سے کیا جائے گا جبکہ ارکانِ کانگریس اپنے انتخابات کے بعد 3 جنوری سے فرائض کی انجام دہی کا آغاز کریں گے۔دوسرے حصے میں یہ قرار پایا کہ کانگریس کے اجلاسوں کا آغاز 3 جنوری سے کیا جائے گا بشرطیکہ ارکانِ کانگریس مشترکہ طور پر کسی اور تاریخ کو اجلاس منعقد کرنے کا فیصلہ کر لیں۔ تیسرے حصے کے مطابق، اگر کوئی نو منتخب صدر اپنی مدتِ صدارت کا آغاز کرنے سے پہلے انتقال کر جائے تو نو منتخب نائب صدر اس کی جگہ مسند صدارت سنبھالے گا۔ اگر نئی مدتِ صدارت کے لئے کسی صدر کا انتخاب نہ کیا جائے تو نائب صدر قائم مقام صدر کی حیثیت سے، نئے صدر کے انتخاب تک، فرائض انجام دیتا رہے گا۔ اگر نئی مدتِ صدارت سے پہلے صدر اور نائب صدر، دونوں میں سے کسی کا انتخاب نہ کیا جا سکے تو پھر کانگریس فیصلہ کرے گی کہ قائم مقام صدر کے طور پر کسے مقرر کیا جائے۔ چوتھے حصے کے مطابق، کانگریس، نائب صدر کے بعد عہدۂ صدارت کے اہل افراد کے انتخاب کے طریقِ کار کے متعلق قانون سازی کر سکتی ہے۔ نائب صدر کے بعد، صدارت کا حق ایوان کے سپیکر کو ہے، اس کے بعد سینیٹ کے پریذیڈنٹ پروٹم (عارضی صدر) کو، اور اس کے بعد ایک تسلسل کے مطابق کابینہ کے عہدیداروں کو۔ یہ ترمیم 23 جنوری 1933ء کو منظور کی گئی۔
21۔	5 دسمبر 1933ء کو منظور ہونے والی اس ترمیم کے ذریعے شراب کی خرید و فروخت اور برآمد پر عائد پابندی اٹھا لی گئی البتہ ریاستوں کو شراب کے ضمن میں قانون سازی کرنے کا اختیار حاصل رہا۔
22۔	یہ ترمیم 27 فروری 1951ء کو آئین کا حصہ بنی۔ اس کے ذریعے قرار پایا کہ کوئی بھی فرد دو سے زائد مرتبہ امریکی صدارت کے عہدہ پر فائز نہ ہوگا۔ یہ ترمیم ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق رکھنے والے 32 ویں صدر فرینکلن ڈی روزویلٹ کے چار مرتبہ صدر منتخب ہونے کے ردِ عمل کے نتیجے میں سامنے آئی۔
23۔	29 مارچ 1961ء کو منظور ہونے والی اس ترمیم کے ذریعے واشنگٹن ڈی سی کے رہائشیوں کو بھی صدارتی انتخاب میں ووٹ دینے کا اہل قرار دے دیا گیا۔
24۔	سیاہ فاموں کے حقوق کے حوالے سے چوبیسویں ترمیم کو یک گونہ اہمیت حاصل ہے۔ اس سے پہلے امریکہ میں سیاہ فاموں اور سابقہ غلاموں کے لئے ضروری تھا کہ وہ ووٹ ڈالنے سے پول ٹیکس ادا کرے۔ جو سیاہ فام ٹیکس ادا نہ کر سکتا، اسے ووٹ ڈالنے سے روک دیا جاتا۔ یہ ٹیکس جنوبی ریاستوں نے پندرھویں ترمیم سے کترانے کی ایک راہ کے طور پر وضع کیا تھا۔ بعد میں کئی ریاستوں نے اس ٹیکس کو ختم کر دیا اور 23 جنوری 1964ء کو چوبیسویں ترمیم کے ذریعے صدارتی انتخابات کو بھی اس ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دے دیا گیا۔ اس ترمیم کے مطابق، کسی شخص کو پول ٹیکس ادا نہ کرنے پر ووٹ ڈالنے سے روکا نہیں جا سکتا۔ 1966ء میں اس ترمیم کا دائرہ ریاستی انتخابات تک وسیع کر کے پول ٹیکس کو مکمل طور پر غیر موثر بنا دیا گیا۔
25۔	چار حصوں پر مشتمل یہ ترمیم 10 فروری 1967ء کو آئین کا حصہ بنی۔ اس کے پہلے حصے کے مطابق، صدر کے استعفیٰ دینے کی صورت میں نائب صدر اس کی جگہ صدارت سنبھال لے گا۔ دوسرے حصے میں طے کیا گیا کہ اگر نائب صدر کی کرسی بھی خالی ہو تو صدر اپنی جگہ دوسرا صدر نامزد کرے گا جس کی تقرری کا انحصار کانگریس کے دونوں ایوانوں کی اکثریتی رائے پر ہوگا۔ تیسرے حصے میں بتایا گیا کہ نائب صدر اسی صورت میں صدر متصور ہوگا جب صدر کی طرف سے کانگریس کے قائدین کو اطلاع دی جائے کہ وہ اپنی ذمہ داریاں مزید نہیں نبھا سکتا۔ چوتھے اور آخری حصے کے مطابق، اگر نائب صدر اور ارکانِ کابینہ کی اکثریت کانگریس کے قائدین کے سامنے تصدیق کریں کہ صدر اپنی ذمہ داریاں سنبھالنے کا اہل نہیں رہا تو صدر کو اس کے اختیارات سے محروم کیا جا سکتا ہے۔ اس کے مقابلے میں صدر کانگریس کے قائدین کو اپنی اہلیت کا ثبوت دے کر دوبارہ اختیارات حاصل کر سکتا ہے۔ اگر نائب صدر اور کابینہ کی اکثریت کا بیان پھر بھی صدر کے خلاف ہی رہے تو پھر کانگریس کے دونوں ایوانوں کے دو تہائی ارکان کے ووٹ کے ذریعے صدر کو کرسی سے ہٹایا جا سکتا ہے۔
26۔	اس ترمیم کے ذریعے ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں تمام وفاقی، ریاستی اور مقامی انتخابات کے لئے ووٹ ڈالنے کی کم از کم عمر 18 سال مقرر کر دی گئی۔ اسے یکم جولائی 1971ء کو آئین میں شامل کیا گیا۔ 
27۔	آخری ترمیم 7 مئی 1992ء کو منظور ہوئی۔ اس کے مطابق انتخابات کے انعقاد کے ایام کے علاوہ ارکانِ کانگریس کی تنخواہوں میں کوئی رد و بدل نہیں کیا جا سکتا۔
امریکی آئین میں ایک مخصوص تسلسل کے ساتھ ہوتی چلی آنے والی یہ ترامیم اس کی زندگی کا ثبوت ہیں مگر آئین اپنی بقاء کے لئے ان پر انحصار نہیں کرتا۔ امریکی آئین کی بقاء کا سب سے بڑا ذریعہ وہ تشریحات ہیں جو عدلیہ کے مختلف اداروں کی طرف سے سامنے آتی رہتی ہیں۔ امریکی آئین کے مرتب کنندگان، خصوصاً جیمس میڈیسن، تاریخ اور فلسفہ سیاسی پر گہری نگاہ رکھتے تھے۔ برطانوی فلسفی جان لاک اور فرانسیسی فلسفی بیرن دی مانتسکیو جیسے دانشوروں کے پیش کردہ نظریات نے امریکی آئین پر گہرے اثرات مرتب کئے ہیں خصوصاً اختیارات کی علیحدگی کا نظریہ جسے جان لاک نے پیش کیا اور بیرن دی مانتسکیو نے آگے بڑھایا، امریکی آئین میں اپنی عملی شکل میں جلوہ گر نظر آتا ہے۔ ان کے علاوہ نو آبادیاتی دور میں منظور کئے جانے والے چارٹر بھی آئین سازوں کے لئے استفادے کا ایک بڑا ذریعہ ثابت ہوئے۔ پرانے تصورات سے مکمل نجات کو پیش نظر رکھتے ہوئے انہوں نے سب سے پہلے آئین کو ہر طرح کی قانون سازی کے اختیار بلکہ تمام حکومتی اختیارات سے بالاتر قرار دیا اور قانون کی حکمرانی کا اصول مقرر کر کے صدر سمیت تمام حکومتی عہدیداروں کو قانون کے تابع کر دیا۔ 
قانون کی نمائندہ اور اس کے نفاذ کی ذمہ دار ہونے کی حیثیت سے عدلیہ کے اداروں کو آئینی نکات کی تشریح کرنے کا اختیار حاصل ہے، اور عمومی آئینی اصطلاحات کے مفہوم میں وسعت، گہرائی اور گیرائی انہی تشریحات کے بل پر حاصل ہوتی ہے۔ امریکی آئین کے مشہور سکالر لارنس فریڈ مین کا کہنا ہے کہ ’’امریکی آئین کا سب سے ڈرامائی پہلو اس پر ہونے والی عدالتی نظر ثانی ہے۔‘‘ اور اس نظر ثانی کی مثالیں چیف جسٹس جان مارشل کے دور سے لے کر اب تک ایک تسلسل کے ساتھ نمودار ہوتی دیکھی جا سکتی ہیں۔ آئین پر عدالتی نظر ثانی کی ایک بہت بڑی مثال 1954ء میں براؤن بنام ایجوکیشنل بورڈ آف ٹوپیکا کے مقدمے کی صورت میں نظر آتی ہے۔ اس مقدمے میں عدالت نے فیصلہ دیا کہ سکولوں میں نسلی امتیاز کی بنیاد پر اختیار کئے جانے والے ’’مساوی مگر الگ الگ‘‘ تعلیم کے نظریئے کی کوئی جگہ نہیں ، اور یہ کہ کالوں اور گوروں کے لئے ’’الگ الگ تعلیمی اداروں کا اصلاً عدم مساوات کا ثبوت ہے۔‘‘ اس فیصلے کی بدولت جہاں آئین کے ایک اہم نکتے کی حتمی تشریح ہو گئی، وہاں امریکی سکولوں میں نسلی امتیاز کی پالیسی بیخ و بن سے اکھڑ گئی۔ صرف یہی نہیں ، دیگر شعبہ ہائے زندگی میں نظر آنے والے نسلی امتیاز پر بھی اس کے گہرے اور دور رس اثرات مرتب ہوئے۔ 
عدالتی تشریحات کی بدولت آئینی نکات کے مفاہیم ہر دور کے تقاضوں کے مطابق بدل جاتے ہیں اور یوں آئینی ارتقاء کا عمل جاری رہنے کے ساتھ ساتھ آئین کی عمر بھی طویل ہوتی رہتی ہے۔
آئین نے امریکی طرزِ معاشرت کے ہر شعبے پر جامع اثرات مرتب کئے ہیں۔ اس کی موجودگی اس بات کا بین ثبوت ہے کہ حکومت قانون کی پابند ہے، اختلافات سیاسی میدان میں قواعد و ضوابط کے مطابق چکائے جائیں گے اور موقف کی جنگ انتخابی میدان میں لڑی جائے گی نہ کہ گلیوں میں۔ اعلیٰ ترین سطح سے لے کر ایک عام آدمی کی زندگی تک امریکی زندگی کا کوئی پہلو ایسا نہیں جہاں ہمیں امریکی آئین کارفرما دکھائی نہ دیتا ہو۔
امریکی آئین نے وفاقی حکومت کے لئے چند حدود متعین کر رکھی ہیں جن کی پاسبانی کا کام سپریم کورٹ کو سونپا گیا ہے۔ سپریم کورٹ کو اختیار حاصل ہے کہ اگر کوئی بھی حکومتی شعبہ اپنی حد سے تجاوز کرتا ہوا دکھائی دے تو اسے وہیں روک دے اور اگر کانگریس آئین سے متصادم کوئی قانون منظور کرے، تو اسے بیک جنبش قلم منسوخ کر دے۔ اگرچہ اپنے فیصلے منوانے کے لئے عدلیہ کے پاس عسکری قوت استعمال کرنے کا اختیار نہیں ، مگر ملکی سطح پر اس کے فیصلوں کا اتنا احترام کیا جاتا ہے کہ جلد یا بدیر ہر ایک کو انہیں منظور کرنا ہی پڑتا ہے۔ لہٰذا امریکی آئین کا پہلا اور اہم ترین ماحصل یہ ہے کہ اس نے وفاقی حکومت کا کردار متعین کر کے اسے بے لگام ہونے سے روکنے کے لئے عدلیہ کو اس کے سر پر بٹھا دیا ہے۔
امریکی آئین کے وسیع ترین اور گہرے اثرات ہمیں شخصی حقوق کے حوالے سے دکھائی دیتے ہیں۔ خواہ وہ انسانی مساوات ہو، تحریر و تقریر اور مذہب کی آزادی ہو یا کسی عدالتی کارروائی کی زد میں آنے والوں کے حقوق ہوں ، کسی بھی پہلو کو نظرانداز نہیں کیا گیا۔ 
مساوات کے حوالے سے اگرچہ آئین کے حقیقی مسودے میں کوئی واضح ہدایات موجود نہ تھیں ماسوائے چوتھے جزو میں شامل ایک شق کے، جس کی رو سے ریاستی حکومتوں کو منع کیا گیا تھا کہ وہ اپنی ریاست کے شہری کے مقابلے میں دوسری ریاست کے شہری سے غیرمساوی سلوک نہ کریں۔ رنگ و نسل اور صنف کے حوالے سے امتیازی سلوک کی ممانعت کرنے والی کوئی شق آئین میں شامل نہ تھی، لیکن ضروری ترامیم کے بعد اس امر کو یقینی بنا لیا گیا کہ ریاست ہائے متحدہ کے کسی شہری سے امتیازی سلوک روا نہ رکھا جائے اور قانون و ریاست کی نگاہ میں سب کی حیثیت برابر کی ہو۔ یہ ایک الگ بات ہے کہ امریکیوں کو اپنے تعصبات سے چھٹکارا حاصل کرنے میں ایک طویل عرصہ لگا، اور آج بھی امریکی معاشرے میں اس حوالے سے غیر امتیازی سلو ک کی مثالیں دیکھنے کو مل جاتی ہیں لیکن ان کا تعلق آئین سے نہیں ، عوام کی اپنی سوچ اور طرزِ عمل سے ہے۔
امریکی آئین میں کی جانے والی پہلی ترمیم آزادیِ تحریر و تقریر کے حوالے سے تھی۔ بنیادی طور پر اس ترمیم کا مقصد کانگریس کو پریس اور عوام کی ان آزادیوں میں دخل انداز ہونے سے روکنا تھا لیکن آگے چل کر سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کے مطابق، ریاستی حکومتوں کے لئے بھی اس کی پابندی لازمی قرار دے گئی۔ سپریم کورٹ کا موقف تھا کہ چودھویں ترمیم کے مطابق کانگریس کے بنائے ہوئے قوانین کا اطلاق تم شہریوں پر مساوی طور پر ہونا چاہئے، اور اس طرح پہلی ترمیم میں دی گئی آزادی کا احترام وفاقی حکومت کے ساتھ ساتھ ریاستی حکومتوں کو بھی کرنا چاہئے۔
جب حکومت کسی کو بات کو کہنے یا چھپنے سے پہلے سنسر کر دے یا بات کہنے یا لکھنے والے کو بعد میں سزا دے، تو اسے آزادیِ تحریر و تقریر میں مداخلت تصور کیا جاتا ہے۔ امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق، کسی بھی شہری کو کوئی بات کہنے یا لکھنے سے قبل از وقت نہیں روکا جا سکتا۔ 1971ء میں جب نیویارک ٹائمز اور واشنگٹن پوسٹ نے ’’پنٹاگون پیپرز‘‘ نامی سرکاری دستاویز شائع کرنے کا اعلان کیا تو حکومتی حلقوں میں ایک طوفان اٹھ کھڑا ہوا۔ اس انتہائی خفیہ دستاویز میں ویت نام کی جنگ کے متعلق امریکی پالیسی کے دوغلے پن کے متعلق سنگین ثبوت موجود تھے۔ اس وقت کے صدرِ امریکہ رچرڈ نکسن نے عدالتی کارروائی کے ذریعے اس کی اشاعت رکوانا چاہی اور وقتی طور پر عدالت سے حکم امتناع حاصل کرنے میں کامیاب رہا لیکن بعد ازاں سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا کہ صدر یا کسی بھی قانونی عدالت کو اس دستاویز کی اشاعت روکنے کا آئینی اختیار حاصل نہیں۔ اگر حکومت کسی کو کوئی بات کہنے کے بعد سزا دینا چاہے تو سزا کا انحصار بات کی نوعیت پر ہوگا۔ عمومی سطح پر، کسی کو اپنا ما فی الضمیر تحریری یا تقریری طور پر بیان کرنے پر سزا دینا غیر آئینی ہے۔ صرف ایسی بات کرنے پر پابندی ہے جس کے سامنے آنے کی صورت میں ملکی سالمیت کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ موجود ہو۔
امریکی شہریوں نے آزادیِ تحریر و تقریر کا کیسا کیسا ناجائز استعمال کیا اور اس سے فائدہ اٹھا کر کیسی کیسی حرکات کیں ، یہ ایک الگ بحث ہے۔ اس وقت کا مشاہدہ یہ ہونا چاہئے کہ امریکی آئین کے ذریعے فراہم ہونے والی یہ سہولت امریکی زندگی میں کتنے بھرپور انداز میں نظر آ رہی ہے، اور یہ مشاہدہ امریکی ٹیلی ویژن، اخبارات، رسائل اور کتابوں کے حوالے سے بخوبی کیا جا سکتا ہے۔
امریکی آئین نے مذہب اور حکومت کے درمیان ایک حد فاصل قائم کر رکھی ہے، اور دونوں میں سے کوئی ایک دوسرے کے کام میں مداخلت نہیں کرتا بلکہ حکومت کو کسی کے مذہب میں دخل اندازی کرنے کا آئینی حق ہی سرے سے حاصل نہیں کیونکہ پہلی ترمیم میں بڑے واضح انداز میں بتا دیا گیا ہے کہ امریکہ کے ہر شہری کو اپنی مرضی کا مذہب اختیار کرنے کا حق حاصل ہے، اور اسے کسی دوسرے مذہب میں شامل ہونے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ 
اگرچہ یہ کہنا ممکن نہیں کہ مذہب کے حوالے سے امریکیوں میں کوئی تعصب نہیں پایا جاتا لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ آئین کی فراہم کردہ آزادی کی بدولت امریکہ میں ہر مذہب کے ماننے والے اپنی مذہبی روایات کی پوری طرح پاسداری کرتے ہوئے زندگی گزار سکتے ہیں اور ملکی سطح پر یہاں مذہبی حوالے سے کوئی تنازعہ دیکھنے میں نہیں آتا۔ البتہ ایسی مذہبی رسومات پر حکومت پابندی عائد کر سکتی ہے جن کی ادائیگی ملک کے عمومی قانون کی خلاف ورزی کرتی نظر آ رہی ہو۔
بل آف رائٹس یعنی امریکی آئین کی پہلی دس ترامیم میں ایسے افراد کو بھی مخصوص تحفظات دیئے گئے ہیں جن پر کسی جرم کے ارتکاب کا الزام لگایا گیا ہو۔ ان حقوق کی تفصیل آپ متذکرہ صدر ترامیم کے مطالعے سے حاصل کر سکتے ہیں۔ ان کے علاوہ عوامی اجتماع، باہمی میل جول، مذہبی کے علاوہ سیاسی و سماجی عقیدے کی آزادی اور مخصوص معاملات میں عدلیہ یا حکومت کو مداخلت کرنے کی درخواست دینے کی آزادیاں بھی آئین کی رو سے امریکی شہریوں کو حاصل ہیں۔ 
امریکی آئین اپنی عمر کی دو صدیوں کے نشیب و فراز دیکھ چکا ہے اور آج بھی ملک کے اہم ترین سماجی و سیاسی تنازعات میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔ اس کے حوالے سے بعض ایشو ایسے ہیں جنہیں آج تک کسی کروٹ نہیں بٹھایا جا سکا مثلاً وفاقی اور ریاستی حکومت کے درمیان اختیارات کی تقسیم کا توازن۔ بعض ایشو ایسے بھی ہیں جنہیں بظاہر نمٹا لیا گیا ہے لیکن ان کی آزمائش کا مرحلہ ابھی تک جاری ہے مثلاً خواتین کو اسقاطِ حمل کا قانونی حق دینے پر بحث ایک طویل عرصے سے جاری ہے۔ عدلیہ کو ایسے معاملات میں بھی آئینی نکات کی تشریح و تعبیر کرنا پڑتی ہے جو آئین بنانے والوں کے گمان سے بھی نہ گزرے ہوں گے جیسا کہ انٹرنیٹ پر پرائیویسی کے حقوق۔
بعض اوقات کوئی ایسا سیاسی مسئلہ کھڑا ہو جاتا ہے کا جن کا حل آئینی ترمیم کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ ایسا ہی ایک مسئلہ جو پچھلی دو دہائیوں سے بڑے زور و شور سے ابھر رہا ہے، انتخابی مہم کے لئے فنڈز کی فراہمی ہے۔ صدارتی اور کانگریسی انتخابات کے امیدوار اپنی مہم چلانے کے لئے بے تحاشہ پیسہ اکٹھا کرتے ہیں۔ اس سے یہ اندیشہ پیدا ہو جاتا ہے کہ منتخب ہونے والے امیدوار کل کو ان مخصوص مفادات رکھنے والے گروہوں کے زیر بار ہوں گے جنہوں نے ان کی انتخابی مہم میں زیادہ سے زیادہ پیسہ دیا ہوگا۔ 1976ء کے ایک مقدمے میں سپریم کورٹ فیصلہ دے چکی ہے کہ انتخابی مہم کے اخراجات کی کوئی حد مقرر نہیں کی جا سکتی کیونکہ ایسا کرنا پہلی ترمیم کی خلاف ورزی ہوگا۔ اس کے بعد سے اگرچہ چند عمومی حدود مقرر کرنے کی کوشش کی گئی ہے مگر انتخابی امیدوار ان سے کترانے کا کوئی نہ کوئی راستہ نکال لیتے ہیں لہٰذا مسئلہ آج تک جہاں کا تہاں کھڑا ہے۔ 
ایسے تنازعات یقیناً آئندہ بھی پیدا ہوتے رہیں گے اور دنیا کے کسی بھی آئین کے اطلاق میں مسائل کا پیدا ہونا ناگزیر ہے۔ یہ حقیقت اپنی جگہ پر بہرحال قائم رہتی ہے کہ امریکی آئین، امریکی نظامِ حکومت کی کامیابی کا سب سے بڑا ذریعہ اور امریکی استحکام کی پہلی بنیاد ہے، اور بلا خوفِ تردید اسے تاریخ کے کامیاب ترین آئینوں میں شمار کیا جا سکتا ہے۔
٭٭٭


 
کیا جمہوریت ایک کامیاب طرزِ حکومت ہے؟


معلوم تاریخ کے روزِ اول سے کسی بھی حکومت اور طرزِ حکومت کی کامیابی یا ناکامی کا پیمانہ اس آرام و آسائش، آسانی اور سہولت کو بنایا جاتا ہے جو وہ اپنے زیرسایہ زندگی بسر کرنے والوں کے لئے فراہم کرنے میں کامیاب ہوتی ہے۔ کسی بھی سلطنت، کسی بھی معاشرے اور کسی بھی تہذیب کا مطالعہ کر کے دیکھ لیجئے۔ شروع سے لے کر آخر تک ہر مورخ اس کی کامیابی اور ناکامی کو جانچنے کے لئے یہی ایک کسوٹی استعمال کرتا ہوا نظر آئے گا، خواہ اس کا تعلق عہد جدید سے ہو یا عہد قدیم سے۔ بابل کا حموربی ہو یا مصر کے فرعون، فارس کا سائرس ہو یا روم کے قیصر، یورپ کی بادشاہتیں یا اسلامی خلافتیں۔ اس اصول سے کسی کو بھی مفر نہیں۔ ہر نئی نسل پرانی نسلوں کے متعلق اپنی رائے یہیں سے قائم کرتی ہے
اس میں کوئی شک نہیں کہ عسکری کامیابیاں اپنی جگہ بڑی اہمیت رکھتی ہیں لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ وسیع ترین عسکری کامیابیوں کے بل پر ایک چند دہائیوں تک قائم رہنے والی ایک سلطنت تو تشکیل دی جا سکتی ہے لیکن صدیوں تک قائم رہنے والی تہذیبیں اور معاشرے، معاشی خوشحالی اور معاشرتی آسودہ حالی کے بل پر ہی وجود میں آتے ہیں۔ یعنی کسی بھی مملکت کے استحکام اور پائیداری میں ایک مضبوط معیشت بنیادی چٹان کا کردار ادا کرتی ہے۔ یقیناً ملکی استحکام و پائیداری کے ضمن میں اور بھی کئی ضروری عوامل گنوائے جا سکتے ہیں مثلاً عسکری استحکام، اعلیٰ نظامِ انصاف، جرائم کی روک تھام، ہر شہری کے لئے آگے بڑھنے کے یکساں مواقع اور بہتر سہولیات مگر غور کیا جائے تو ان سب عوامل کے دھارے مضبوط معیشت کے سرچشمے سے ہی پھوٹتے ہیں۔ اس ضمن میں بہت زیادہ تفصیل میں جانے کی میں چنداں ضرورت نہیں سمجھتا، غور کرنے والے قارئین پر حقیقت حال خودبخود عیاں ہو جائے گی۔ تمام کہے سنے کا لب لباب یہی ہے کہ طرزِ حکومت خواہ کوئی بھی ہو، اس کی کامیابی کے لئے شرطِ اولیں ایک ہی ہے۔ عوام کی فلاح، ان کے لئے ایک پُر امن اور معاشی دشواریوں سے پاک معاشرے کا قیام۔ اس ضمن میں شخصی یا عوامی حکومت کی کوئی قید نہیں۔ اگر ایک آمر بھی اپنی رعایا کے حق میں نیک جذبات رکھتا اور نیک کام کرتا ہے تو وہ اس جمہوری حکمران سے بدرجہا بہتر ہے جس کے عہد میں اس کی مملکت کے غریب رات کو بھوکے سوتے ہیں۔ 
لہٰذا اس امر پر بحث کا راستہ موقوف ہوا کہ عمدہ معاشی اور معاشرتی ماحول کے لئے قیام کے لئے سب سے موزوں و مناسب طرزِ حکومت کون سا ہے۔ ہمیں دیکھنا یہ ہے کہ ہمارے موضوعِ گفتگو، یعنی جمہوریت، کی پوزیشن اس معاملے میں کیا ہے اور کسی حکومت کی معاشی پالیسیاں اس حکومت اور طرزِ حکومت کے استحکام میں کیا کردار ادا کر سکتی ہیں۔ 
ہر انسان اپنے مفاد کا متلاشی ہوتا ہے اور اس کا بہترین مفاد خوشی کے حصول اور تکلیف سے نجات میں پوشیدہ ہے۔ ایک عام آدمی کے نزدیک یہ دونوں اہداف معاشی استحکام کے ذریعے ہی قابل حصول ہو سکتے ہیں۔ حکومت کا فرض ہوتا ہے کہ وہ اپنی مملکت کے عام آدمی کے لئے ایسے ذرائع فراہم کرنے کی بھرپور کوشش کرے جو اسے معاشی استحکام عطا کر سکیں۔ حکومت ہی ایسے قوانین بھی تیار کرتی ہے جو ایک شہری کی جان کے ساتھ ساتھ اس کے مال کا تحفظ بھی یقینی بناتے ہیں۔ حکومت کا فرض ہے کہ وہ معاشرے کو ایسے اصول و ضوابط کا پابند بنائے جن کے تحت کسی ایک آدمی کی تلاشِ مفاد کسی دوسرے آدمی کی حق تلفی اور تکلیف کا سبب نہ بن سکے۔ جب کسی معاشرے کا فرد اپنے مفاد کی تلاش چند اصول و ضوابط کا پابند ہو کر کرتا ہے تو اس کی تلاش نہ صرف اس کے لئے بلکہ دیگر اراکین معاشرہ کے لئے بھی نفع مند ثابت ہوتی ہے۔ حکومت ایسے قوانین بھی بنا سکتی ہے جن کے زیر اثر ایک فرد کی نفع رسانی کے بدلے میں اس کی خدمات کا اقرار حکومتی سطح پر کیا جائے اور اسے انعام و اکرام سے نوازا جائے تاکہ دوسروں کو بھی ویسے ہی انداز میں کام کرنے کی تحریک مل سکے۔ کسی حکومت کی ایسی ہی پالیسیاں اور اقدامات کسی مملکت کو ایک عام مملکت سے بڑھا کر ایک فلاحی مملکت کے درجے پر فائز کرتی ہیں۔ 
سماجی فلاح کے حوالے سے حکومت کا فرض صرف یہی نہیں کہ وہ فرد کو سہولیات، بلکہ آسائشات، پہنچانے کی کوشش کرتی رہے۔ بے شک ایسے افراد کا خیال رکھنا حکومت کا فرض ہے جو اپنی نگہداشت آپ نہیں کر سکتے مثلاً بے سہارا بوڑھے، یتیم بچے اور ذہنی و جسمانی حوالے سے معذور افراد، یا ایسے افراد جو عارضی طور پر روزگار سے محروم ہونے کے سبب نانِ شبینہ کے بھی محتاج ہو کر رہ گئے ہیں۔ ایسے افراد کا بوجھ اٹھانا حکومت کی ذمہ داری یقیناً ہے لیکن حکومت کی حقیقی ذمہ داری ایسے سازگار حالات پیدا کرنا ہے جن میں ایسے افراد کا جنم اور پرداخت ممکن ہو سکے جو اپنے علاوہ دوسروں کا بوجھ اٹھانے کے بھی قابل ہوں۔ گویا ایک حکومت کا فرض صرف اچھی زندگی فراہم کرنا نہیں ، اچھی زندگی گزارنے کے لائق شہری تیار کرنا بھی ہے۔ ایسے شہری ایک مضبوط سیاسی نظام کے تحت ہی تیار کئے جا سکتے ہیں ، اور اگر عملی سطح پر تجزیہ کیا جائے تو ایسی خوبی صرف جمہوریت میں ہی نظر آتی ہے کہ اس کے تحت نہ صرف معاشرے کے شہریوں کو ایک اچھی زندگی گزارنے کے لوازمات فراہم کئے جا سکتے ہیں بلکہ انہیں وہ اخلاقی اقدار اور شعور بھی عطا کیا جا سکتا ہے جو اس اچھی زندگی سے کماحقہ مستفید ہونے کے لئے ضروری ہیں۔ حکومت جمہور کا مطلب ہے کہ ہر شہری حکومت کا حصہ ہے، ہر شہری اپنے ملک کی سیاسی باگ ڈور سنبھالے ہوئے ہے اور امورِ حکومت چلانے میں شریک ہے۔ یہ احساس ہر شہری کو ایک مضبوط احساسِ ذمہ داری اور اس کے سیاسی شعور کو بالیدگی اور پختگی عطا کرتا ہے اور ان کیفیات کے زیر اثر ایسے افرادِ معاشرہ جنم لیتے ہیں جو اپنے حقوق و فرائض، حدود و قیود اور آزادیوں سے پوری طرح باخبر ہوتے ہیں۔ وہ نہ خود ان سے تجاوز کرتے ہیں ، اور نہ کسی اور کو تجاوز کرنے دیتے ہیں۔ یعنی ایک جمہوری معاشرے کا ہر فرد خود محتسب بھی ہو تا ہے اور ہر لمحہ احتساب کی زد میں بھی رہتا ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں جمہوریت اور دیگر نظام ہائے حکومت کے درمیان ایک بڑا فرق واضح ہو کر نظر آتا ہے۔ شخصی حکمرانی پر مبنی نظامِ حکومت کے سربراہ ایک عام آدمی کی ضروریات اور تقاضوں سے لاتعلق ہو سکتے ہیں ، اس لئے ایک ایسے نظامِ حکومت کا وجود ضروری ہے جو حکمران کو عوامی خواہشات کے تابع بنا سکے یعنی حکمران کا مفاد عوامی مفاد کے پابند ہو جائے۔ ایسا نظامِ حکومت دورِ حاضر میں ہمیں صرف جمہوریت کی شکل میں ہی فراہم ہو سکتا ہے۔
ایک جمہوری حکمران کا ہر مفاد اس کے عوام کے مفاد کے تابع ہوتا ہے۔ حکمران کو بخوبی علم ہوتا ہے کہ جتنا عرصہ وہ اقتدار پر فائز ہے، اسے اپنے عوام کے لئے ہر ممکن آسانیاں اور سہولتیں فراہم کرنا ہوں گی، اگر وہ ایسا نہیں کرے گا تو آئندہ انتخابات میں عوام اس کی جگہ نہ صرف کسی اور کو منتخب کر کے لے آئیں گے بلکہ اقتدار سے اترنے کے بعد وہ عوامی احتساب کی زد میں بھی آ سکتا ہے۔
انتخابات جمہوریت کے استحکام میں ایک کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ عوامی انتخابات کا خوف ہی ایک جمہوری حکمران کو ہر لمحہ راہِ راست پر رہنے پر آمادہ کرتا ہے اور انتخابات کے نتائج چند ہی دن میں کسی جمہوری حکومت کی کامیابی یا ناکامی کا فیصلہ کر دیتے ہیں۔ لوگ آخر ووٹ ڈالنے کیوں آتے ہیں ؟ صرف اس لئے کہ وہ ایسے نمائندے منتخب کر سکیں جو ان کی زندگی کو کسی حد تک سکھی بنا دیں۔ وگرنہ کسے پڑی ہے کہ اپنا قیمتی وقت اور عزیز آرام و سکون برباد کر کے، چلچلاتی گرمیوں یا کڑکتی سردیوں میں لمبی لمبی قطاروں میں صرف اس لئے کھڑا رہے کہ وقت آنے پر اسے اپنی رائے کا اظہار کا موقع مل سکے۔ شہری یہ تکلیف صرف اس امید پر اٹھاتے ہیں کہ اظہارِ رائے کا مناسب اور برمحل اظہار ان کی آئندہ زندگی کو پہلے سے زیادہ باسہولت اور خوشگوار بنا سکے گا۔
نئے انتخابات میں کسی حکومت کی کامیابی یا ناکامی کا بڑا انحصار اس کی معاشی پالیسیوں کی کامیابی یا ناکامی پر ہوتا ہے۔ الیکشن جب بھی جیتا جاتا ہے، معاشی ایشوز پر جیتا جاتا ہے، اور کوئی حکومت اسی وقت دوبارہ منتخب ہونے سے محروم رہتی ہے جب وہ اپنی مدتِ اقتدار میں عوام کے معاشی مسائل حل نہیں کر پاتی۔
ایک جمہوری نظام میں کسی حکومت کی معاشی پالیسیاں ، اس نظام سے وابستہ جماعتوں اور افراد، حکومت، ووٹرز اور شہریوں کے رویوں کا تعین کرتی ہیں۔ کسی حکومت کے استحکام اور مقبولیت میں جو براہِ راست کردار معاشی فیصلے ادا کرتے ہیں ، وہ غالباً کسی اور شعبے کو نصیب نہیں۔ اس کی مثالیں جمہوریت کی تاریخ میں جا بجا دیکھی جا سکتی ہیں۔ عوامی مقبولیت کے کندھوں پر سوار ہو کر ایوانِ اقتدار پر پہنچنے والے حکمران اگلے انتخابات میں صرف اس لئے نا مقبول قرار پائے کہ وہ اپنی مدتِ اقتدار میں اپنے عوام کے لئے وہ معاشی سہولیات اور آسانیاں فراہم نہیں کر سکے جن کی توقع ان سے کی جا رہی تھی۔ ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے جمی کارٹر اور برطانیہ کی مارگریٹ تھیچر کی کامیابیوں اور ناکامیوں کو اس کی تازہ اور بڑی مثالوں کے روپ میں دیکھا جا سکتا ہے۔ جمی کارٹر نے مشرقِ وسطیٰ میں قیامِ امن کے لئے جدوجہد کی، مصر اور اسرائیل کے درمیان پائی جانے والی کشیدگی کو ختم کرنے میں بنیادی کردار ادا کیا، چین کے ساتھ سفارتی تعلقات کو معمول کی سطح پر لانے میں کامیاب رہے، سوویت یونین کے ساتھ ہتھیاروں کی تخفیف کا معاہدہ کرنے میں کامیابی حاصل کی (سوویت یونین کے افغانستان پر حملے کی وجہ سے یہ بیل منڈھے نہ چڑھ سکی) اور درآمد کردہ تیل پر قومی انحصار گھٹانے کے لئے توانائی کے متبادل ذخائر کو فروغ دینے کی پالیسی اپنائی۔ اس سب کے باوجود اگلے انتخابات میں عوام نے انہیں مسترد کر کے رونالڈ ریگن کو نیا صدر چن لیا، صرف اس وجہ سے کہ کارٹر معاشی سطح پر وہ وعدے پورے کرنے میں ناکام رہے تھے جو انہوں نے عوام سے کئے تھے۔ اس کے مقابلے میں ریگن معمری کے باوجود مسلسل دو مرتبہ صدر منتخب ہوئے، صرف اس وجہ سے کہ معاشی سطح پر ان کی کامیابیاں عوام کو مطمئن کرنے میں کامیاب رہی تھیں۔ 
مارگریٹ تھیچر برطانیہ عظمیٰ کی تاریخ کی پہلی خاتون وزیر اعظم کے طور پر ایک منفرد امتیاز رکھتی ہیں۔ 1979ء میں وہ برطانیہ کے معاشی انحطاط کو ختم کرنے کا عزم لے کر اقتدار میں آئیں۔ ان کی مدتِ اقتدار میں برطانیہ نے فاک لینڈ جزائر کی جنگ میں ارجنٹائن پر فتح حاصل کی اور ان کی قیادت میں کنزرویٹو پارٹی نے 1983ء اور 1987ء کے انتخابات میں کامیابیاں حاصل کیں مگر ان کی ٹیکس پالیسیوں کی وجہ سے اٹھنے والے عوامی احتجاج نے نومبر1990ء میں انہیں عہدے کی مدت پوری کئے بغیر مستعفی ہونے پر مجبور کر دیا۔
یہ ذہن نشین رہے کہ سیاسی جماعتیں انتخابات کے دوران جو وعدے کرتی ہیں ، برسراقتدار آنے کے بعد انہیں پورا کرنے کی بھرپور کوشش کرتی ہیں مگر عموماً ان کی کوششیں بار آور نہیں ہوتیں اور بعض اوقات بار آور ہونے کے بعد بھی ان کی بار آوری عوام کو نظر نہیں آتی۔ وجہ یہ کہ یہ وعدے اتنے وسیع تناظر میں کئے گئے ہوتے ہیں کہ انہیں عملی شکل میں آتے آتے ایک زمانہ بیت جاتا ہے۔ اس کے علاوہ وعدے کرتے وقت تخصیص کا خیال نہیں رکھا جاتا اور اکثر حالات میں تخصیص لانا ممکن بھی نہیں ہوتا۔ کوئی بھی سیاسی جماعت انتخابات جیتنے کے لئے ملک میں بے روزگاری ختم کرنے کا وعدہ کر سکتی ہے، اور عین ممکن ہے کہ اپنی مدتِ اقتدار میں وہ ایسے کئی اقدامات کر گزرے جن کی بدولت بے روزگاری میں خاصی حد تک کمی واقع ہو جائے لیکن پھر بھی عوام آئندہ انتخابات میں اسے مسترد کر سکتے ہیں کیونکہ بے روزگاری کی شرح میں کمی لانے کے باوجود وہ اسے پوری طرح ختم کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اسی جماعت کی بنائی ہوئی پالیسیوں کے بل پر آگے چل کر بے روزگاری مکمل طور پر ختم ہو جائے لیکن اس کا کریڈٹ موجودہ حکومت کے حصے میں جائے گا، گذشتہ حکومت کی پالیسیوں کے حصے میں نہیں۔ انتخابات کے دوران وعدے کرنا سیاسی جماعتوں کی ضرورت ہوتی ہے، وہ ان وعدوں کو پورا کرنے میں کس حد تک کامیاب ہوتی ہیں ، اس کا انحصار ان کی مدتِ اقتدار کے علاوہ ملکی حالات اور کئی سیاسی، معاشی، عسکری اور خارجہ عوامل پر ہوتا ہے۔ جب تک یہ تمام باتیں حکمران جماعت کے حق میں نہ جائیں ، تب تک معاشی سطح پر کسی وعدے اور منصوبے کو پوری طرح عملی شکل میں لانا اگر ناممکن نہیں تو بہت مشکل ضرور ہوتا ہے۔
یہ تو ہمیں معلوم ہو گیا کہ کسی جمہوری حکومت کی کامیابی اور استحکام میں اس کی معاشی پالیسیوں کا بہت بڑا ہاتھ ہوتا ہے، اور یہ بھی کہ چونکہ جمہوری حکومت میں ، حکمران کا مفاد عوامی مفاد کے تابع ہوتا ہے، اس لئے اپنے عوام کی فلاح اور خوشحالی کے لئے اقدامات کرنا اس کا فرض ہی نہیں ، ایک طرح سے مجبوری بھی بن جاتا ہے۔ یہ بھی ہمیں نظر آتا ہے کہ شمالی امریکہ اور یورپ میں جمہوریت کی آمد کے بعد ان براعظموں نے معاشی سطح پر ترقی کی منازل بڑی تیزی سے طے کیں اور اس ترقی کے اثرات دیگر معاشرتی شعبوں پر بڑے گہرے مرتب ہوئے۔ ہم یہ بھی دیکھ سکتے ہیں کہ جنوبی امریکہ، افریقہ اور ایشیاء جیسے براعظم جہاں ابھی تک جمہوری روایات مکمل طور پر پروان نہیں چڑھ سکیں ، معاشی ترقی کے اعتبار سے یورپ اور شمالی امریکہ سے بہت پیچھے رہ گئے ہیں۔ تو کیا اس مشاہدے کی بناء پر یہ رائے قائم کر لی جائے کہ کسی ملک کی معاشی ترقی کے لئے جمہوریت کا وجود ضروری ہے؟ اس سوال کا جواب ہم آئندہ سطور میں اپنے براعظم، یعنی براعظم ایشیاء میں جمہوریت کے احوال اور ایشیائی ممالک کی معاشی کارکردگی کے حوالے سے تلاش کرنے کی کوشش کریں گے، لیکن اس سے پہلے یہ ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ بہ حیثیت مجموعی بھلے ایشیائی ممالک یورپ اور شمالی امریکہ کے ممالک سے کہیں پیچھے سہی، لیکن یہاں کے چند ممالک، خصوصاً مشرقی ایشیاء کے ممالک نے معاشی ترقی کے حوالے سے ایسی شاندار کارکردگی دکھائی ہے جو نہ صرف ترقی پذیر بلکہ ترقی یافتہ ممالک کے لئے بھی ایک قابل تقلید مثال کی حیثیت اختیار کر گئی ہے۔ جاپان، چین، ملائشیا، تائیوان اور سنگاپور جیسے ممالک کی ترقی نے عالمی بڑوں کو انگشت بدنداں کر کے رکھ دیا اور پوری دنیا ان ممالک کی حیران کن کارکردگی کو ’’مشرقی ایشیائی معجزے‘‘ کے نام سے پکارنے پر مجبور ہو گئی۔
مشرقی ایشیاء کی تمام کامیاب معیشتوں میں ایک قدر مشترک ہے، اور وہ یہ کہ جمہوری نظامِ حکومت (چین کے علاوہ) ہونے کے باوجود ان ممالک میں ایک طویل عرصے تک ایک ہی جماعت یا ایک ہی فرد منصب اقتدار پر فائز رہا۔ مثلاً جاپان میں گذشتہ چار دہائیوں سے زائد عرصے کے غالب حصے میں اقتدار لبرل ڈیموکریٹک پارٹی کے پاس رہا۔ ملائشیا میں مہاتیر محمد بیس سال سے زائد عرصے تک وزارتِ عظمیٰ کے فرائض نبھانے کے بعد اپنی مرضی سے سبکدوش ہوئے۔ تائیوان میں چیانگ کائی شیک نے اڑھائی عشروں سے زائد عرصے تک سربراہِ مملکت کی ذمہ داریاں نبھائیں ، سنگاپور میں لی کوان ییو 1959ء سے 1990ء تک وزیر اعظم رہنے کے بعد خود سبکدوش ہو کر علیحدہ ہوئے اور جنوبی کوریا میں پارک چنگ ہی 1961ء سے 1979ء تک عہدۂ صدارت پر فائز رہے۔
گویا ان ممالک نے جمہوریت کی سیاسی روایات کو مضبوط بنیادوں پر استوار کرنے کی فوری کوشش کے بجائے ایک اہل فرد کو اپنا قائد چن کر معاشی استحکام حاصل کرنے کا فارمولا اپنایا اور اس میں غایت درجہ کی کامیابی حاصل کی۔ ابتداً ان ممالک نے بھی اپنے سابقہ نوآبادیاتی حکمرانوں کے بتائے ہوئے راستے پر گامزن رہنے کی کوشش کی لیکن جلد ہی انہیں معلوم ہو گیا کہ ان کے عوام کے نزدیک جمہوری روایات تب تک کوئی معنی حاصل نہیں کر سکتیں جب تک کہ وہ انہیں معاشی مسائل اور پریشانیوں سے نجات دلا کر معاشرے کے بارے میں سوچنے اور غور و فکر کرنے کے قابل نہ بنا سکیں۔ اس حقیقت کو سمجھ لینے کے بعد انہوں نے اپنی پوری توجہ معاشی استحکام حاصل کرنے پر مرکوز کی اور بالآخر مقررہ اہداف تک پہنچنے میں کامیاب رہے۔ آج یہ ممالک اس مقام پر کھڑے ہیں کہ کسی غیر ضروری الجھن میں پڑے بغیر اپنے عوام کو جمہوری روایات کی تعلیم اور شعور سے روشناس کرا سکیں۔ مغربی جمہوریت کو ایک ہی بار بڑھ کر گلے لگانے کے بجائے، انہوں نے پہلے اس کے مضبوط معاشی پہلوؤں کو اپنایا، ان کر پرکھ کر اور اپنی ضرورتوں کے مطابق ڈھال کر استحکام حاصل کیا، اور اس کے بعد سیاسی پہلوؤں کی طرف متوجہ ہوئے۔ میرے خیال میں یہ فارمولا کسی بھی ترقی پذیر ایشیائی ملک کو ترقی یافتہ بنانے میں کامیاب ثابت ہو سکتا ہے۔
یہ حقائق اپنی جگہ، اب ہم چلتے ہیں ایشیاء کی طرف اور ایک مختصر تجزیئے میں یہ اندازہ لگانے کی کوشش کرتے ہیں کہ اس خطے کے بعض ممالک کی کامیابی اور بعض کی ناکامی کے عقب میں کون سے عوامل کارفرما ہیں ، اور ایشیاء میں جمہوریت اس وقت کہاں کھڑی ہے۔
جمہوریت کے ارتقاء کا جائزہ لیا جائے تو حیرت انگیز طور پر منکشف ہوتا ہے کہ وسعت و استحکام کے اعتبار سے اسے سب سے زیادہ کامیابی شمالی امریکہ اور یورپ میں حاصل ہوئی جو کہ سات براعظموں میں جسامت اور آبادی کے حوالے بالترتیب تیسرے اور پانچویں نمبر پر آتے ہیں جبکہ ایشیائ، افریقہ اور جنوبی امریکہ جیسے گنجان آباد اور وسیع و عریض خطوں میں اسے ایک عرصے تک وہ کامیابی حاصل نہیں ہو سکی جس کی کہ توقع کی جانی چاہئے تھی۔ آج بھی ان براعظموں کے متعدد ممالک اس سے محروم ہیں اور جمہوریہ کہلانے والے ممالک میں سے بھی کئی ایک ایسے ہیں جنہیں حقیقی جمہوریت کا حامل قرار نہیں دیا جا سکتا۔
مغربی دانشوروں کا ایک خاصا بڑا طبقہ ان خطوں کی پسماندگی اور ضرورت سے زیادہ طول کھینچ جانے والی ’’ترقی پذیری‘‘ کا سب سے بڑا سبب جمہوریت سے، جزوی یا کلی، محرومی کو قرار دیتا ہے۔ جنوبی امریکہ اور افریقہ کے معاملے میں ہم ان کے نظریئے کو بڑی حد تک درست سمجھنے پر مجبور ہیں لیکن ایشیاء تک پہنچتے پہنچتے معاملات کا رخ تبدیل ہونے لگتا ہے کیونکہ ایشیاء میں کئی ایسے ممالک موجود ہیں جو آج اپنی تیز رفتار ترقی اور صنعتی و معاشی کامیابیوں کے حوالے سے ایک دنیا کو حیران کئے ہوئے ہیں۔ ایسے ممالک جنہیں ایک وقت میں انتہائی پسماندہ اور دورِ جدید سے صدیوں پیچھے سمجھا جاتا تھا، آج اس پوزیشن میں آ چکے ہیں کہ مغرب کی صنعتی و معاشی برتری بلکہ اجارہ داری کو ہر میدان میں کامیابی سے چیلنج کر سکیں اور خود کو دنیا کے قائدین سمجھنے والوں کی نیندیں حرام کر سکیں۔ امریکی مصنف گور وِڈال (Gore Vidal) نے کچھ عرصہ قبل کہا تھا۔ ’’اب ایشیاء کا دیوہیکل عالمی قائد کی حیثیت سے اپنی باری لے رہا ہے، اور ہم سفید فام، زرد فاموں کے لئے بوجھ کی حیثیت اختیار کر گئے ہیں۔ امید رکھنی چاہئے کہ وہ ہم سے اس سے زیادہ مشفقانہ سلوک روا رکھے گا، جیسا ہم نے اس کے ساتھ روا رکھا ہے۔‘‘
آج کا ہر گزرتا لمحہ گور وِڈال کی بات کو درست ثابت کرتا نظر آ رہا ہے کیونکہ اب آہستہ آہستہ دیگر ایشیائی ممالک بھی اپنے ’’ٹائیگرز‘‘ کی سجھائی ہوئی راہ پر گامزن ہوتے دکھائی دے رہے ہیں اور بہت جلد وہ وقت آ جائے گا جب عالمی قوت کے مراکز کی فہرست میں واشنگٹن اور لندن کے ساتھ ساتھ ٹوکیو، بیجنگ اور کوالالمپور کے نام بھی شامل کئے جا سکیں گے اور دنیا کی تقدیر کا فیصلہ صرف مغربیوں کے ہاتھ میں نہیں رہے گا۔
ایشیاء میں اس وقت کل اڑتالیس ممالک ہیں جو کرۂ ارض کا تقریباً ایک تہائی حصہ گھیرے ہوئے ہیں اور دنیا کی کل آبادی کا نصف سے زائد حصہ ان میں آباد ہے۔ بحرین، بھوٹان، عمان، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ایسے ممالک ہیں جہاں اب بھی روایتی بادشاہت موجود ہے جبکہ برونائی، کمبوڈیا، جاپان، اردن، ملائشیا، نیپال اور تھائی لینڈ میں بادشاہت کو آئین کی زنجیریں پہنا کر کم یا زیادہ محدود کر دیا گیا ہے اور کویت میں بادشاہت کے ساتھ ساتھ جزوی طور پر پارلیمانی جمہوریت بھی مروج ہے یعنی ان تمام ممالک میں بادشاہت اور جمہوریت شانہ بشانہ موجود ہیں۔ چین، شمالی کوریا، لاؤس اور ویت نام کمیونسٹ ریاستیں ہیں۔ میانمر (سابقہ برما) میں فوجی حکومت برسراقتدار ہے جبکہ افعانستان اور عراق میں عبوری حکومتیں موجود ہیں جو عوامی نمائندگی کی دعوے دار ہونے کے باوجود جمہوری نہیں کہلا سکتیں۔ ایران اور پاکستان میں اسلامی جمہوری نظام بروئے عمل ہے۔ بقیہ تمام ممالک میں مغربی جمہوریت پارلیمانی یا صدارتی شکل میں رائج ہے۔
ایشیاء کے جن ممالک نے ترقی کی درخشندہ مثالیں قائم کی ہیں ، ان میں جاپان، جنوبی کوریا، چین، سنگاپور، تھائی لینڈ، تائیوان، ایران اور انڈونیشیا کے نام قابل ذکر ہیں۔ اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ چین کے علاوہ ان تمام ممالک میں مغربی جمہوریت، کسی نہ کسی روپ میں ، موجود ہے، اور اس حوالے سے مغربی دانشوروں کا نظریہ خاصی حد تک درست ثابت ہوتا ہوا نظر آتا ہے لیکن ان ممالک کے بارے میں ہم کیا کہیں گے جو ایک عرصے سے جمہوریت کے زیر سایہ رہنے کے باوجود، ابھی تک کامرانی کی منزل سے کوسوں دور ہیں ؟ اس کے جواب میں کہا جا سکتا ہے کہ ایسے ممالک میں جمہوری روایات کو ایک تسلسل کے ساتھ پنپنے اور قوت پکڑنے کا موقع نہیں مل سکا اور وقتاً فوقتاً ان کی نشوونما کے عمل میں دخل اندازی کی جاتی رہی۔ یہ بات اپنی جگہ درست ہے لیکن اسے ایک کلیہ بنا کر تمام مثالوں پر لاگو نہیں کیا جا سکتا کیونکہ ایشیاء میں ہی ایسے ممالک بھی موجود ہیں جو روزِ اول سے جمہوریت پر عمل پیرا ہیں لیکن ابھی تک خوشحالی کے عالمی معیار تک پہنچنے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ بھارت اس حقیقت کی ایک بہت بڑی مثال کے طور پر ہمارے سامنے موجود ہے۔ 
امریکہ کے سابق نائب صدر ہیوبرٹ ہمفری نے ایک مرتبہ کہا تھا۔ ’’ایشیاء لوگوں سے بھرپور ہے، ایشیاء ثقافت سے بھرپور ہے اور ایشیاء وسائل سے بھرپور ہے۔ یہ مشکلات سے بھی بھرپور ہے۔‘‘ سوال یہ ہے کہ کیا جمہوریت ایشیاء کے مسائل کا جواب بن سکتی ہے؟ کیا ایشیا کے تمام ممالک مغربی جمہوریت کے سائے تلے ترقی کی وہ منازل طے کر سکتے ہیں جو یورپ اور شمالی امریکہ کے حصے میں آئیں ؟ کیا رڈ یارڈ کپلنگ کا کہا درست ہے کہ ’’ایشیاء مغربی اطوار پر چل کر تہذیب کا چولا نہیں پہن سکتا۔ ایشیاء بہت بڑا ہے اور بہت قدیم ہے۔‘‘ 
آیئے دیکھتے ہیں کہ ایشیاء کتنا بڑا ہے اور کتنا قدیم ہے، اور یہ کہ ایشیاء کی موجودہ مشکلات کے حقیقی اسباب کیا ہیں ، اور یہ بھی کہ ان مشکلات پر قابو پانے والے ممالک میں کیا خاص بات ہے جو دوسرے ممالک میں نہیں۔ 
ایشیاء کا مجموعی رقبہ ایک کروڑ، 71 لاکھ، 39 ہزار مربع میل ہے۔ 2004ء میں لگائے جانے والے ایک تخمینے کے مطابق اس کی کل آبادی 3 ارب 86 کروڑ کے لگ بھگ تھی (اور آبادی میں اضافے کی شرح کو پیش نظر رکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ آئندہ کچھ عرصے میں ایشیائی آبادی چار ارب کا ہندسہ عبور کر جائے گی)۔
ایشیاء کے وسیع رقبے اور متنوع ارضی حقیقتوں کے سبب جغرافیائی ماہرین کو پانچ بڑے خطوں میں تقسیم کرتے ہیں۔ مشرقی ایشیاء، جس میں چین، منگولیا، شمالی کوریا، جنوبی کوریا اور جاپان شامل ہیں۔ جنوب مشرقی ایشیاء جس میں میانمر، تھائی لینڈ، کمبوڈیا، لاؤس، ویت نام، ملائشیا، سنگاپور، انڈونیشیا، برونائی اور فلپائن شامل ہیں۔ جنوبی ایشیاء جس میں بھارت، بنگلہ دیش، پاکستان، سری لنکا، مالدیپ، نیپال اور بھوٹان آتے ہیں۔ جنوب مغربی ایشیاء جس میں افغانستان، ایران، عراق، تری، قبرص، آرمینیا، آذر بائیجان، جارجیا، شام، لبنان، اسرائیل، اردن، سعودی عرب، یمن، عمان، متحدہ عرب امارات، قطر، بحرین اور کویت کو شامل کیا جاتا ہے۔ پانچویں بڑے خطے میں روس اور وسطی ایشیاء کی ریاستیں شامل ہیں جو کچھ عرصہ پہلے تک سوویت یونین کا حصہ سمجھی جاتی تھیں۔ ان ریاستوں میں قازقستان، کرغیزستان، تاجکستان، ترکمانستان اور ازبکستان شامل ہیں۔ 
ثقافتی اعتبار سے ایشیاء کو دو بڑے حصوں میں شامل کیا جا سکتا ہے۔ اول، وہ حصہ جس کی ثقافت پر ایشیائی رنگ غالب ہے۔ اس حصے میں مشرقی ایشیائ، جنوب مشرقی ایشیاء اور جنوبی ایشیاء کو شامل کیا جائے گا۔ دوسرا حصہ وہ جو ایشیائی رنگ سے ہٹ کر اپنی ایک الگ ثقافتی پہچان رکھتا ہے۔ روس، وسطی ایشیاء اور جنوب مغربی ایشیاء اس حصے میں شامل ہیں۔ بہرحال، ان دونوں حصوں کے اندر بھی ثقافتی اعتبار سے بے پناہ تنوع موجود ہے۔
جنوب مغربی ایشیاء کے زیادہ تر ممالک کے علاوہ پاکستان، بنگلہ دیش، ملائیشیا اور انڈونیشیا میں آبادی کا غالب حصہ مذہبی اعتبار سے مسلمان ہے۔ اس کے علاوہ دیگر ایشیائی ممالک میں بھی مسلمان بڑی مذہبی اقلیتوں کی حیثیت سے موجود ہیں۔ جنوب مغربی ایشیا کی غیرمسلم برادریوں میں اسرائیل کے یہودی اور لبنان کے عیسائی نمایاں حیثیت رکھتے ہیں۔ 
بھارت اور انڈونیشیا کے جزیرہ جاوا میں آبادی کا بڑا حصہ ہندومت سے تعلق رکھتا ہے جبکہ سری لنکا، میانمر، تھائی لینڈ، کمبوڈیا، جنوبی کوریا، ویت نام اور جاپان میں بدھ مت کو مرکزی مذہب کی حیثیت حاصل ہے۔ تقریباً تمام ایشیائی ممالک میں عیسائی چھوٹی یا بڑی اقلیت کی حیثیت سے موجود ہیں۔ 
ایشیاء کو سیاسی اعتبار سے غیرمستحکم کرنے والے عوامل میں مذہبی تنازعات کو ایک نمایاں مقام حاصل ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں اسرائیلی یہودیوں اور فلسطینی عربوں کے مابین جاری تنازعہ، افغانستان میں راسخ العقیدہ اور ’’اعتدال پسند‘‘ مسلمانوں میں چلنے والی چپقلش (جس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی صورتِ حال کا مشاہدہ ہم آج کر رہے ہیں )، پاکستان اور بھارت کے درمیان جموں و کشمیر کا تنازعہ، فلپائن میں مورو مسلمانوں کی جدوجہد اور انڈونیشیا میں مسلمانوں اور عیسائیوں میں ہونے والی کشمکش جو مشرقی تیمور کے قیام پر منتج ہوئی، ایشیا کے سیاسی منظر نامے پر خطرناک فلیش پوائنٹس کی حیثیت رکھتے ہیں۔ 
تعلیم کے حوالے سے ایشیاء کے حالات کچھ ایسے حوصلہ افزا نہیں۔ دنیا کی ناخواندہ آبادی کا ایک بڑا حصہ یہاں موجود ہے۔ اگرچہ جاپان، ہانگ کانگ، سنگاپور اور جنوبی کوریا میں ناخواندگی کی شرح پندرہ فیصد سے بھی کم ہے لیکن نیپال، بھوٹان، بنگلہ دیش، پاکستان اور یمن جیسے ممالک میں پچاس فیصد سے بھی زیادہ نظر آتی ہے۔ بہت سے خطوں میں عورتوں میں شرحِ خواندگی مردوں کی نسبت کم ہے اور بعض علاقوں میں یہ فرق بہت بڑا ہے۔ پرائمری تعلیم کی سطح عبور کر کے ثانوی اور اعلیٰ تعلیم کی طرف پیش قدمی کرنے والے طلبہ کی شرح یہاں تشویش ناک حد تک کم ہے۔
تہذیبی اعتبار سے ایشیاء کو دیگر تمام براعظموں پر یک گونہ تفوق حاصل ہے کہ جہاں افریقہ کو انسانی وجود کے آغاز کا مقام قرار دیا جاتا ہے، وہاں تاریخ دان حضرات ایشیاء کو انسانی تہذیب کے آغاز کا مقام قرار دیتے ہیں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ ایشیاء کبھی بھی ایک وقت میں کسی ایک تہذیب کے زیر اثر نہیں رہا۔ اس کے وسیع رقبے کی بدولت کئی تہذیبوں کو یہاں بیک وقت پیدا ہونے اور پھلنے پھولنے کا موقع ملتا رہا۔ 
یہاں کی ابتدائی معلوم تہذیبیں جنوب مغربی ایشیائ، شمال مغربی ہندوستان اور شمالی چین میں بہنے والے بڑے دریاؤں کی وادیوں میں پروان چڑھیں۔ ایک دوسرے سے مختلف ہونے کے باوجود ان تہذیبوں میں بعض اقدار مشترک تھیں مثلاً یہ کہ ان سب کی بنیاد زراعت پر رکھی گئی تھی اور آبپاشی اور سیلابوں کے تدارک کے بندوبست کے لئے انہیں ایک ترقی یافتہ سماجی اور سیاسی ڈھانچے پر انحصار کرنا پڑتا تھا۔ خانہ بدوش قبائل کے حملوں نے کاشتکاروں کو مجبور کیا کہ وہ اپنی حفاظت کے لئے فصیلوں میں گھرے ہوئے شہر تعمیر کریں اور اپنے جان و مال کے تحفظ کی خاطر طبقہ اشرافیہ کا سہارا لیں۔ 3000 قبل مسیح میں ہل کی ایجاد کے بعد زرعی پیداوار میں معتدبہ اضافہ ہوا اور مشقت میں کمی آ گئی۔ اس طرح معاشرے کے دیگر ارکان کو دیگر فنون کی طرف توجہ دینے کا موقع ملا۔ ہنر مندوں اور کاشتکاروں کی مشترکہ سعی کی بدولت ایسی مصنوعات وجود میں آنے لگیں جنہیں دوسری تہذیبوں سے تعلق رکھنے والوں کے ساتھ اشیاء کے لین دین میں استعمال کیا جا سکتا تھا۔
اسی عرصے میں میسوپوٹیمیا کے خطے سے سمر کے روپ میں ایک سلجھی ہوئی اور ترقی یافتہ تہذیب کا ظہور ہو چکا تھا۔ سمیریوں نے اپنے کھیتوں کی آبپاشی کے لئے نہری نظام کی بنیاد ڈالی، دستکاری میں کانسی اور صیقل کئے ہوئے پتھروں سے بنے اوزاروں کے استعمال کو رواج دیا، کپڑے کی تیاری شروع کی اور چاک پر برتن سازی کا آغاز کیا، انہوں نے مندر اور محل تعمیر کئے اور پہیہ دار چھکڑوں اور بادبانی کشتیوں کو ذریعہ سفر بنایا۔ انہوں نے ایسے کیلنڈر بنائے جن میں موسموں کی ٹھیک ٹھیک نشاندہی کی گئی تھی اور کیونی فارم رسم الخط ایجاد کیا جو اس وقت کی تمام اقوام کے لئے ذریعہ تحریر ٹھہرا۔ اس تہذیب کی معاشرت تحریری قوانین کی پابند تھی۔ 24 ویں صدی قبل مسیح میں اس خطے کا کنٹرول عقد خاندان کے ہاتھ میں آ گیا اور اس سرزمین کو سمر وعقد کے نام سے جانا جانے لگا۔ اگرچہ 2200 قبل مسیح میں شمال سے آنے والے حملہ آوروں نے یہ خطہ فتح کر لیا اس کے باوجود چھٹی صدی قبل مسیح تک میسوپوٹیمیا کو ہی مغربی ایشیائی تہذیب کے مرکز کی حیثیت حاصل رہی۔ بابل اور آشور کی عظیم الشان تہذیبوں نے یہیں سے جنم لیا۔ چھٹی صدی قبل مسیح میں ایران کے حملہ آوروں نے اس علاقے کو فتح کر کے اسے سلطنت فارس کا حصہ بنا دیا۔
سمیری تہذیب کے متوازی دریائے سندھ کی وادی میں موجودہ شمال مغربی بھارت اور جنوبی پاکستان کے علاقوں پر مشتمل خطے میں ایک ترقی یافتہ تہذیب نے جنم لیا اور 2300 قبل مسیح میں وادیِ سندھ اور سمر کی تہذیبوں کی مابین تجارتی روابط کا آغاز ہوا۔ اس تہذیب کے دو بڑے شہر موہن جوڈارو اور ہڑپہ تھے جن کے آثار آج بھی گئے وقتوں کی عظمت کی کہانی سناتے نظر آتے ہیں۔ ان شہروں کو بسانے والوں نے آب رسانی کی سہولت کے حامل دو منزلہ مکانوں کی قطاروں کے بیچ تیر کی طرح سیدھی گلیاں بنا کر کمالِ فن کا جو مظاہرہ کیا، اس نے آج بھی دیکھنے والوں کو حیران کر رکھا ہے۔ اس تہذیب کے باشندے بھی پہیہ دار چھکڑے استعمال کرتے تھے، زیور اور کھلونے بنانے میں انہیں خصوصی مہارت حاصل تھی اور ان کی زبان صرف بولنے کے ہی نہیں ، لکھنے کے کام بھی آتی تھی۔
1500 ق م سے 1200 ق م کے دوران وسطی ایشیاء سے آنے والے مہاجروں کے غول در غول یہاں سے گزرتے رہے۔ یہ لوگ اپنے راستے میں آنے والے شہروں کو تاراج کرتے ہوئے بالآخر شمال مشرقی ہندوستان میں وادیِ گنگا میں آ کر رکے اور یہیں ڈیرے ڈال دیئے۔ دنیا کی قدیم ترین محفوظ زبانوں میں شامل سنسکرت کی ایک ابتدائی شکل ان کے باہمی رابطے کا وسیلہ تھی۔ 
باہر سے آنے والے حملہ آوروں کا یہ سلسلہ جاری رہا۔ 900ق م سے 500 ق م تک کے دورانئے میں انہوں نے شہری ریاستیں قائم کیں جن پر مطلق العنان راجے حکمران ہوئے۔ گزر اوقات کے لئے انہوں نے بھی آبپاشی سے مستفید ہونے والا زرعی نظام اپنایا اور چاولوں کی کاشت کو خصوصی توجہ کا مرکز بنایا۔ غالباً اس کا رجحان انہوں نے جنوب مشرقی ایشیاء سے درآمد کیا تھا۔ یہ لوگ ہندو مت کے پیرو تھے اور انہوں نے ذات پات کا وہ پیچیدہ اور گنجلک نظام تشکیل دیا جس کے تحت ہندو سماج آج بھی مختلف طبقات میں بٹا ہوا نظر آتا ہے۔
3000 ق م سے 1600 ق م تک کے دورانئے میں دریائے زرد کے طاس میں چینی تہذیب نشوونما کے مراحل طے کرتی رہی۔ یہاں کے باشندوں نے ریشم کے کیڑے پالنے، ریشم کا دھاگہ بن کر اس سے کپڑا بنانے کے فن کو رواج دیا اور اس کے بل پر وسطی ایشیاء کے باشندوں سے تجارت کرتے رہے۔ اگرچہ یہ تہذیب بھی ترقی یافتہ تھی لیکن اپنی کار گزاریوں کا تحریری ریکارڈ رکھنے کی طرف اس کی توجہ خاصے عرصے بعد مبذول ہوئی۔ سولہویں صدی قبل مسیح میں شانگ خاندان کی حکومت کے دوران اس جانب توجہ دی گئی۔
آنے والے ادوار میں اس تہذیب کی وسعت اور اثر انگیزی میں اضافہ ہوتا رہا۔ گیارہویں صدی قبل مسیح میں ژاؤ خاندان نے شانگ خاندان کی جگہ لے لی۔ ژاؤ حکمرانی کے عہد میں چین نے سیاسی، سماجی اور معاشی حوالے سے نئے مراحل عبور کئے۔ اس کا رقبہ پہلے سے دگنا ہو گیا۔ ژاؤ حکمرانوں نے آہنی ہتھیاروں کے استعمال کو رواج دیا، آبپاشی کا نظام وسیع کیا، نہریں اور سڑکیں بنائیں اور ذرائع مواصلات و تجارت کو فروغ دینے کے لئے ضروری اقدامات کئے۔ اسی دور میں کنفیوشس اور لاؤزے جیسے فلسفی سامنے آئے اور سلطنت کے قوانین کو تحریری شکل میں منضبط کیا گیا۔
تہذیبوں میں وسعت پیدا ہوئی تو آپس میں ربط ضبط بھی بڑھا۔ ایک دوسرے سے آشنائی نے جہاں ذہنوں میں وسعت پیدا کی، وہیں ملکی توسیع پسندی کے رجحان کو بھی جنم دیا۔ آہستہ آہستہ ایک تہذیب کا تصور پس منظر میں چلا گیا اور ایک مملکت کا تصور ابھر کر سامنے آ گیا۔ سکندرِ اعظم اور سائرس اعظم جیسے فاتحین نے اس رجحان کو اور تقویت دی۔ مملکتیں پھیلیں تو ان میں رائج مذاہب بھی پھیلے اور چھٹی صدی عیسوی تک، سوائے اسلام کے، تقریباً تمام بڑے مذاہب، اپنے ظہور کے مقامات سے نکل کر دنیا کے دور دراز حصوں تک رسائی حاصل کر چکے تھے۔ اسلام اس دوڑ میں اس لئے شامل نہ ہو سکا کہ اس وقت تک اس کا ظہور ہی نہ ہوا تھا۔
قدیم ایشیا کی بڑی سلطنتوں میں فارس اور یونان قابل ذکر ہیں۔ سلطنت فارس کی بنیاد چھٹی صدی قبل مسیح میں سائرس اعظم نے رکھی۔ سائرس اعظم کو سکندر ذوالقرنین بھی کہا جاتا ہے اور مولانا ابوالکلام آزاد کی تحقیق کے مطابق قرآن میں مذکور بادشاہ ذوالقرنین درحقیقت یہی ہے۔ اس فاتح نے ایرانی النسل قبائل کو متحد کر کے ایک فوج تیار کی اور فتح پر فتح حاصل کر کے بحیرۂ روم سے دریائے سندھ کے علاقے کو سلطنت فارس کا حصہ بنا دیا۔ سائرس کے بعد آنے والے حکمرانوں میں سے دارا اول نے زرتشت کا مذہب اختیار کیا اور پوری سلطنت کو ایک مستحکم مرکزی حکومت کے تابع کیا۔
سائرس کی قائم کردہ سلطنت کو 330 قبل مسیح میں مقدونیہ کے سکندر اعظم نے تسخیر کیا۔ سکندر نے روئے زمین کی سب سے بڑی سلطنت کی بنیاد رکھی جس کی حدود موجودہ یونان سے لے کر بھارت تک پھیلی ہوئی تھیں۔ اس کی موت کے بعد سلطنت تین حصوں میں تقسیم ہو گئی البتہ مشرق و مغرب کی تہذیبوں کو متحد کرنے کا جو کام سکندر نے شروع کیا تھا، وہ اس کے بعد اس کے جرنیلوں کے توسط سے جاری رہا۔
سکندر کے بعد اس کی سلطنت کا ایشیائی حصہ اس کے جنرل سیلیوکس کے حصے میں آیا۔ یہ حصہ آگے چل کر کئی ٹکڑوں میں تقسیم ہو گیا۔ انہی میں سے ایک باختر کی مملکت کے روپ میں سامنے آیا جو مشرق سے مغرب اور شمال سے جنوب تک آنے جانے والے تجارتی راستوں پر محیط تھی۔ چین کا ریشم اور ہندوستان کا سوت ان راستوں سے گزر کر یونان اور روم تک پہنچتا تھا اور بدلے میں شیشہ، سونا اور دیگر تیار شدہ مصنوعات لاتا تھا۔ یونانی ثقافت کے عناصر باختر سے گزر کر پورے ایشیاء میں پھیل گئے۔ وسطی ایشیاء کے کشان قبائل کے ہاتھوں باختر کی تسخیر کے باوجود یونانی اثر انگیزی کا سلسلہ جاری رہا۔ یونانی کو پہلی صدی عیسوی میں بین الاقوامی تجارت اور سفارت کی زبان کا منصب حاصل تھا۔ اس وقت تک یونان سے اثرپذیر رومی مغربی ایشیاء میں قدم جما چکے تھے اور چوتھی صدی عیسوی میں یہاں بازنطینی سلطنت نے جنم لیا۔ اس سے پہلے 224ء میں جنوب مغربی اور سطی ایشیاء کے زیادہ تر حصے پر فارس کے ساسانیوں کی سلطنت قائم ہو چکی تھی۔ اس سلطنت کے وسیلے سے فارسی ثقافت سرزمین کے طول و عرض پر پھیل گئی۔ ان کے نسوانی ملبوسات اور آرائشی مصنوعات کی نقالی پورے ایشیاء میں کی جانے لگی اور فارسی فن تعمیر، فنونِ لطیفہ اور مذہب مشرق و مغرب پر چھا گیا۔
شمالی ہندوستان بھی فارسیوں اور بعد ازاں سکندر اعظم کے ہاتھوں فتح ہوا۔ یونانی بادشاہ اور وسط ایشیاء کے حملہ آور اس پر حکومت کرتے رہے۔ اس کے نتیجے میں ہندوستانی ثقافت نہ صرف بیرونی حکمرانوں کی ثقافت سے متاثر ہوئی بلکہ ان کی ثقافت کو متاثر بھی کرتی رہی۔ چوتھی صدی قبل مسیح میں چندر گپت موریہ اور چوتھی صدی عیسوی میں چندر گپت اول نے دو قابل ذکر حکومتیں قائم کیں۔ موخرالذکر نے وادیِ گنگا کی راجدھانیوں کو متحد کر کے ایک حکومت کے تابع کیا۔ اس خاندان کی حکومت اگرچہ بہت زیادہ عرصے تک قائم نہ رہ سکی مگر اس کے دور میں ہندوستانی فنون اور تہذیب اپنے عروج پر پہنچ گئے۔ 
ساتویں صدی عیسوی سے پندرہویں صدی عیسوی تک، ایشیاء کی تاریخ میں دو مرکزی قوتیں نمایاں اور سرگرم نظر آتی ہیں۔ اسلام کا پھیلاؤ اور منگولوں کی فتوحات۔ منگولوں نے ایشیاء کا زیادہ تر حصہ فتح کیا اور یورپ کے دروازوں تک جا پہنچے۔ ابتداً اسلام کے ساتھ ان کی مبارزت آرائی ہوئی اور ان کے ہاتھوں اسلام کو گہرے صدمات اٹھانا پڑے لیکن بعد ازاں یہی لوگ حلقہ اسلام میں داخل ہو کر دین مبین کی تقویت اور حکومت کا باعث بنے۔
ایک وقت میں ہندوستان سے لے کر ہسپانیہ تک کا علاقہ، خلافت کے زیر اہتمام، مملکت اسلامیہ کی قلمرو میں شامل تھا اور اس وقت کی مسلم ثقافت میں بازنطینی، فارسی، بابلی اور ہندوستانی عناصر کو برابر کا رسوخ حاصل تھا۔ صلیبی جنگوں کے تین سو سال پر محیط سلسلے میں مسلمان اور عیسائی ایک دوسرے کے خلاف محاذ آرا رہے۔ صلیبی جنگجو مسلم حکومت کو تو نہ ہلا سکے لیکن اسلامی ثقافت کے کئی عناصر اپنے ساتھ یورپ واپس لے گئے۔
آٹھویں صدی عیسوی میں مسلمان تاجروں نے ہندوستان کو اسلام سے روشناس کرایا۔ گیارہویں اور بارہویں صدی عیسوی میں ترک اور افغان مسلمانوں نے ہندوستان پر پے بہ پے حملے کئے اور تیرہویں صدی عیسوی کے اوائل میں سلاطین دہلی کے زیر اہتمام ہندوستان پر باقاعدہ اسلامی حکومت قائم ہو گئی۔ 1258ء میں ہلاکو خان نے عباسی خلیفہ کو شکست دے کر بغداد پر قبضہ کر لیا لیکن تب تک ہندوستان میں اسلامی حکومت کی جڑیں مضبوط ہو چکی تھیں اور اس کی وسعت میں روز بروز اضافہ ہو رہا تھا۔
ہندوستان اور اس سے ملحقہ دیگر ممالک میں تو اسلام بے حد نمایاں اور غالب رہا لیکن چینی دائرۂ اثر میں آنے والے خطوں پر اسلامی اثرات کا تناسب وہ نہیں رہا جو دنیا کے دوسرے حصوں میں دیکھا جا سکتا ہے۔ اس کی ایک وجہ تو یہ قرار دی جا سکتی ہے کہ بدھ مت ان علاقوں میں بہت پہلے سے اپنی جڑیں مضبوط کر چکا تھا۔ ایک اور وجہ تانگ خاندان کی حکومت کے دوران چینی ثقافت کی نشاۃِ ثانیہ ہے۔ تانگ خاندان کے اثرات اتنے بھرپور اور ہمہ گیر تھے کہ کسی اور ثقافت کو ان علاقوں میں اپنی جگہ بنانے کا موقع نہ مل سکا۔ 
تانگ خاندان کے بعد چین پر سانگ خاندان کی حکومت کا آغاز ہوا جسے تیرہویں صدی کے اواخر میں منگولوں نے ختم کیا۔ منگول ایشیاء کے وسیع و عریض گھاس کے میدانوں کی پیداوار تھے۔ پہلی باقاعدہ منگول حکومت کی بنیاد چنگیز خان نے رکھی جس نے مغربی اور شمالی چین اور وسطی ایشیاء کے علاقوں کو فتح کر کے وقت کی سب سے بڑی سلطنت قائم کی۔ اس کے بیٹوں اور پوتوں نے منگول سلطنت کی بنیادیں مغربی اور جنوبی ترکستان تک وسیع کیں اور ایران اور روس کو بھی فتح کر لیا۔ چنگیز خان کے پوتے قبلائی خان نے جنوبی چین کو فتح کر کے سانگ خاندان کی حکومت کو ختم کیا اور یوآن حکومت کا آغاز کیا جو چودھویں صدی کے وسط تک قائم رہی۔ منگولوں نے بین البراعظمی تجارت کو فروغ دے کر ثقافتی لین دین کا سلسلہ برقرار رکھا۔ بہرحال، کرپشن، بھاری ٹیکسوں ، قدرتی آفات اور امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتِ حال نے منگول سلطنت کو رو بہ زوال کر دیا۔ 1368ء میں چین میں منگ خاندان نے منگول حکومت کا تختہ الٹ دیا اور آنے والے عشروں میں ایشیاء کے دیگر حصوں میں بھی منگول سلطنت چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں بٹ کر غیر موثر ہو گئی۔
منگولوں کے زوال کے بعد، دیگر علاقائی قوتوں میں ایشیاء کو زیر نگیں کرنے کے حوالے سے چپقلش کا آغاز ہو گیا۔ ان قوتوں میں ترکی کے عثمانی، ہندوستان کے مغل، چین کے منگ اور چنگ اور ایران کے صفوی شامل تھے۔ اس دور کے سیاسی عدم استحکام نے خشکی کے راستے ہونے والی تجارت کو بری طرح متاثر کیا۔ اسی دور میں یورپ کی ریاستیں اپنے اندرونی انتشار پر قابو پا کر باہر کی دنیا کی طرف متوجہ ہونے لگیں۔ دنیا کے مختلف حصوں میں ان کا عمل دخل بڑھتا گیا اور نوآبادیاتی دور کا آغاز ہونے لگا۔
انیسویں صدی کے وسط میں ایشیاء میں برطانیہ اور روس کو بڑی نوآبادیاتی قوتوں کی حیثیت حاصل تھی۔ پرتگالیوں نے اگرچہ ابتداء میں کئی علاقوں کو فتح کیا لیکن زیادہ عرصے تک اپنا قبضہ برقرار نہ رکھ سکے۔ برطانویوں نے فرانسیسیوں اور مسلمان مجاہدین آزادی کو شکست دے کر پہلے ہندوستان اور پھر پورے برصغیر پر قبضہ مستحکم کر لیا۔ ہندوستان سے برطانوی برما (موجودہ میانمر) تک پہنچے اور یہاں سے آگے بڑھ کر سنگاپور، پینانگ(موجودہ جارج ٹاؤن) اور ملاکا کے اہم تجارتی مراکز پر بھی قابض ہو گئے۔ 
دوسری طرف روس نے بحر الکاہل کے جزائر پر قلعے قائم کر نے کے علاوہ اٹھارہویں صدی کے وسط میں ترکستان اور انیسویں صدی کے اوائل میں شمالی کاکیشیا پر قبضہ کر لیا جبکہ ولندیزی ایسٹ انڈیز (موجودہ انڈونیشیا) اور ہسپانوی فلپائن پر قابض ہو گئے۔ چین اگرچہ ابتداء میں یورپی چیرہ دستیوں سے کسی قدر محفوظ رہا لیکن بعد ازاں ’’محارباتِ افیون‘‘ کے نتیجے میں اسے بھی اپنے شہر غیرملکی تجارت اور باہر سے آنے والوں کی رہائش کے لئے کھولنے پڑے (اس سے پہلے بیرونِ ملک تجارت صرف کینٹن اور مکاؤ تک محدود تھی) اور ہانگ کانگ کو برطانیہ اور صوبہ امور کو روس کے حوالے کرنا پڑا۔ 
جاپان بھی غیرملکی اثرات کی زد میں آنے سے محفوظ نہ رہ سکا۔ پہلے یہاں پرتگالی اور ہسپانوی آئے اور اپنے ساتھ عیسائیت کی تبلیغ کرنے والے مشنریوں کو لائے۔ شوگن حکمرانوں نے عیسائیت کو ملکی سلامتی کے لئے خطرہ سمجھ کر اس کی تبلیغ پر پابندی لگا دی، مشنریوں کو جاپان سے نکال دیا اور عیسائیت قبول کرنے والوں کا قافیہ تنگ کرنا شروع کر دیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے ولندیزیوں کے علاوہ دیگر مغربی اقوام سے تجارت بند کر دی۔ ولندیزی اس لئے محفوظ رہے کہ وہ ’’تبلیغی ذمہ داریوں ‘‘ سے کنی کتراتے تھے اور انہوں نے عیسائیوں کی ایک بغاوت دبانے میں جاپانی حکمرانوں کی مدد بھی کی۔ دو صدیوں تک جاپان نے اس ایک واسطے کے علاوہ مغرب یورپ سے تمام روابط منقطع رکھے اور انیسویں صدی کے وسط میں پہلی مرتبہ امریکہ نے جاپان کے ساتھ سفارتی اور تجارتی تعلقات استوار کرنے میں کامیابی حاصل کی۔
بقیہ تمام ایشیاء میں سترہویں صدی سے بیسویں صدی تک نوآبادیاتی نظام اور استعماریت کا دور دورہ رہا۔ یہ دور ایشیائیوں کے لئے نئے مسائل کی آماجگاہ ثابت ہوا۔ اس سے پہلے ایشیاء حملہ آوروں کو اپنے اندر جذب کر لیا کرتا تھا لیکن تاریخ میں پہلی مرتبہ اسے ایسے قابضوں سے واسطہ پڑا جو آئے تو تجارت کرنے تھے لیکن الٹا گھر کے مالک بن بیٹھے اور اپنا ڈیرہ نہ چھوڑ کر بھی اس کی حکمرانی کا تاج سر پر سجائے بیٹھے تھے۔ 
اس لوٹ کھسوٹ کی تفصیل میں جانا کارِ لاحاصل ہوگا اور جو نوآبادیاتی حکمرانوں نے ایشیاء میں مچائی۔ ان کا عمل جو ردِ عمل ہوا، اس کا مشاہدہ بھی ماضی قریب کی تاریخ کے مطالعے سے بخوبی کیا جا سکتا ہے۔ جن ممالک کو یہ اپنی نو آبادیاں نہ بنا سکے، وہاں انہوں نے اپنے اپنے مفاد کے حلقے تلاش کر لئے اور من چاہا نفع حاصل کرتے رہے۔ چین اور ایران اس کی بڑی مثالیں ہیں۔ یہ نفع اندوزی آگے چل کر بعض صورتوں میں براہِ راست حکمرانی اور بعض صورتوں میں کسی ایک حصے پر قبضے کی شکل بھی اختیار کرتی رہی۔ 
اس میں کوئی شک نہیں کہ نوآبادیاتی حکمرانوں نے اپنے مقبوضہ علاقوں میں ریل کی پٹڑیاں اور سڑکیں بچھائیں ، نہریں کھودیں ، سکول تعمیر کئے، اور کئی دیگر صنعتوں کے فروغ میں مدد دی لیکن یہ سب ’’اسبابِ فلاح‘‘ اصلاً ان کے اپنے فائدے کے لئے تھے کیونکہ ان سے حاصل ہونے والے فائدے کا بڑا حصہ وہ اپنے گھر ارسال کر دیتے تھے۔ ایشیا کی آبادی میں اضافہ ہو رہا تھا اور اس کے وسائل غیروں کی جھولیاں بھر رہے تھے۔ یوں یہاں کے رہنے والوں کے لئے سیاسی ہی نہیں سماجی مسائل بھی کھڑے ہوتے چلے جا رہے تھے۔
ان سب عوامل کا نتیجہ یہ کہ 1939ء میں دوسری جنگ عظیم کی ابتداء ہونے تک پورے ایشیاء کے تعلیم یافتہ طبقے میں قومی اور سماجی بیداری کی ایک لہر دوڑ چکی تھی اور خودمختاری و آزادی کے مطالبے جگہ جگہ سے سنائی دینے لگے تھے۔ مختلف خطوں میں یہ لہر مختلف انداز میں نمایاں ہو کر ابھری۔ 1917ء میں روس میں بالشویکی انقلاب آنے سے پہلے 1912ء میں سن یات سن کی زیر سربراہی آنے والے انقلاب نے چنگ خاندان کی حکمرانی پر اختتامی مہر ثبت کر دی۔ یہاں سے اس عمل کا آغاز ہوا جس کے تحت آگے چل کر چین پہلے چیانگ کائی شیک اور پھر ماؤزے تنگ کی حکومت کے تحت باقاعدہ طور پر ایک عوامی جمہوریہ کی شکل اختیار کر گیا۔ تھائی لینڈ اس پورے دورانئے میں غیرملکی حکمرانی کے شکنجے سے بچا رہا۔ اس کی مرکزی وجہ یہ تھی کہ یہاں کے بادشاہوں کو اپنے اقتدار کے تحفظ سے زیادہ اپنے ملک کی آزادی عزیز تھی اور اس کے لئے وہ کوئی بھی قربانی دینے کو تیار رہتے تھے۔ بہرحال، قوم پرستی کی لہر یہاں بھی ابھری جس کے نتیجے میں اس کا سابقہ نام ’’سیام‘‘ ترک کر دیا گیا اور نیا نام تھائی لینڈ رکھا گیا جو کہ تھائی قومیت کی عکاسی کرتا تھا۔ اس سے پہلے 1932ء میں بادشاہت کو آئینی شکل دی جا چکی تھی۔
چونکہ جاپان نے بڑی تیزی سے بدلتی دنیا کے تقاضوں سے ہم آہنگی حاصل کر لی تھی، اس لئے اس کی آزادی بھی اغیار کی دستبرد سے محفوظ رہی۔ 1904ء میں ’’توسیع پسندی‘‘ کے تنازعے پر روس کے ساتھ اس کی جنگ چھڑ گئی جو 1905ء تک جاری رہی۔ اس جنگ میں جاپان کو فتح حاصل ہوئی اور عالمی سطح پر اس کے وقار میں معتدبہ اضافہ ہوا۔ 1910ء میں اس نے کوریا پر قبضہ کر لیا اور خود بھی ایک نوآبادیاتی قوت کی حیثیت اختیار کر گیا۔ پہلی جنگ عظیم میں اتحادیوں کے ساتھ دے کر اس نے بے پناہ جنگی اور مالی فوائد بھی حاصل کئے اور اپنی غیرملکی تجارت کو عروج پر بھی پہنچا دیا۔ تیز رفتار ترقی اور جنگی فتوحات  نے قومی تفخر کے جس احساس کو جنم دیا، وہ جہاں دوسری جنگ عظیم میں جاپان کے لئے تباہی کی نوید لایا، وہیں اس حوصلے کا بھی پیامبر بنا جس نے ایٹمی تباہی سے دوچار ہونے والے اس واحد ملک کو پھر سے دنیا کی بڑی قوتوں میں شامل ہونے کے قابل بنایا۔ 
ان دو ممالک کے علاوہ بقیہ ایشیاء بالواسطہ یا بلاواسطہ طور پر مغربی طاقتوں کے قبضے میں تھا، لیکن جیسا کہ کسی دانا شخص نے کہا کہ تباہ کن زلزلوں کے بھی کچھ نہ کچھ فوائد ضرور ہوتے ہیں ، سو دوسری جنگ عظیم جہاں پوری دنیا کے لئے ناقابل تصور تباہی و بربادی لے کر آئی، وہیں اپنے ضمنی اثرات کے طور پر اس نے ایشیائی ممالک کو آزادی و خودمختاری کا تحفہ بھی دیا۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ یورپی طاقتوں کو ایشیاء سے نکلنے پر مجبور کرنے میں جیسا کلیدی کردار دوسری جنگ عظیم نے ادا کیا، وہ کسی چھوٹے موٹے واقعے کے بس کا روگ نہ تھا۔
جاپان 1941ء میں دوسری جنگ عظیم میں شامل ہوا۔ بحر الکاہل اور جنوب مشرقی ایشیاء میں اس کی تیز رفتار قوتوں نے جہاں اتحادی قوتوں کو پریشان کیا، وہیں نوآبادیاتی حکمرانوں کی کمزوریاں بھی عیاں کر دیں۔ اگرچہ ہندوستان اور دیگر ایشیائی ممالک نے محوریوں کے خلاف اتحادیوں کو ہر ممکن اعانت فراہم کی لیکن اس کے ساتھ ساتھ اپنی آزادی و خودمختاری کے حوالے سے ان کی توقعات میں بھی نمایاں اضافہ ہو گیا اور سیاسی اور حربی، ہر دو طرح کے گروہوں نے اپنی سرگرمیوں میں شدت پید اکر دی۔ جنگ کے خاتمے کے بعد بعض ممالک سیاسی عمل کے ذریعے، اور بعض گوریلا کارروائیوں کے ذریعے مغربی چنگل سے نکلنے میں کامیاب ہو گئے اور 1950ء کی دہائی کے آخر تک پورے ایشیا سے نوآبادیاتی قوتوں کو دیس نکالا دے دیا گیا۔ 
نوآبادیاتی دور ختم ہوا، اور اس کے ساتھ ہی ایک نئی چپقلش کا آغاز ہو گیا اور پہلے کی طرح اب کے بار بھی چپقلش کا مرکز جزوی طور پر ایشیاء کی حدود سے باہر تھا۔ ایشیائی ابھی آزادی کی جنگ لڑ کر اپنی تکان بھی نہ اتار پائے تھے کہ ان کی سرحدوں کے اندر ایک اور جنگ لڑی جانے لگی۔ یہ جنگ تھی کمیونسٹ اور غیرکمیونسٹ ممالک کے درمیان یا یوں کہئے سوویت یونین اور ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے درمیان۔ عرفِ عام میں اسے سرد جنگ کا نام بھی دیا جاتا ہے کیونکہ اس کے مرکزی کھلاڑیوں کے درمیان کبھی کھلے معرکے کی نوبت نہیں آئی، یہ الگ بات کہ اپنی اس جنگ میں انہوں نے ایشیاء کی سرزمین کو ایک عرصہ تک جنگ کی بھٹی بنائے رکھا اور اپنے مفادات کے حصول کی خاطر ایشیائیوں کو ایشیائیوں کے ہاتھوں مرواتے رہے۔
ایشیاء کی نو آزاد ریاستوں میں کئی ایسی تھیں جنہیں اپنے نظامِ حکومت کے طور پر کمیونزم زیادہ پُر کشش اور سہولت بخش معلوم ہوا۔ اس سلسلے میں پہلی اینٹ چین نے رکھی جب 1949ء میں سوویت یونین کی اعانت کے ساتھ ماؤزے تنگ نے امریکہ کے پروردہ چیانگ کائی شیک کو شکست دے کر تائیوان منتقل ہونے پر مجبور کر دیا اور عوامی جمہوریہ چین ایک کمیونسٹ ملک کی حیثیت سے ایشیاء کے نقشے پر نمودار ہوا۔ آگے چل کر جب سوویت یونین اور چین کے مابین اختلافات کی خلیج حائل ہوئی تو امریکہ نے چین کے ساتھ سفارتی تعلقات استوار کر لئے۔ اس سے پہلے چین کی عوامی جمہوری حکومت کو اقوامِ متحدہ کی منظوری حاصل نہ تھی اور تائیوان میں چیانگ کائی شیک کی حکومت کو ہی چین کا نمائندہ تصور کیا جاتا تھا۔ 1971ء میں یہ تخصیص ختم کر دی گئی، چین کو باقاعدہ اقوامِ متحدہ کی رکنیت حاصل ہو گئی اور 1979ء میں امریکہ نے بھی عوامی جمہوری حکومت کو چین کی واحد حکومت کے طور پر تسلیم کر لیا۔
کمیونسٹ قوتوں کو ایک اور فتح اس وقت حاصل ہوئی جب ان کی پشت پناہی کے بل بوتے پر شمالی ویت نام نے امریکہ کے زیر سایہ پلنے والے جنوبی ویت نام کو شکست دے کر امریکی افواج کو وہاں سے نکال دیا۔ اسی طرح کمبوڈیا اور لاؤس بھی کمیونسٹوں کی جھولی میں جا گرے۔ بعض ممالک کا حال کوریا اور جرمنی جیسا ہوا جو ایک ہوتے ہوئے بھی سیاسی نظریئے کی بنیاد پر دو علیحدہ علیحدہ ملکوں میں تقسیم ہونے پر مجبور ہو گئے۔ دیوارِ برلن کے انہدام کے بعد جرمنی کو تو پھر سے ایک ہونے کا موقع مل گیا لیکن کوریا والوں کے لئے ابھی تک سعادت کی وہ گھڑی نہیں آئی کہ جب وہ بھی اپنے دو نیم وجود کو یکجا کر سکیں۔ 
فلپائن، ملائشیا اور انڈونیشیا جیسے ممالک میں کمیونسٹوں کو ابتدائی فتوحات کے بعد شکست سے دوچار ہونا پڑا۔ جمہوریت ان ممالک میں بھی آئی لیکن خاصا بھاری خون بہا وصول کرنے کے بعد۔ مشرقِ وسطیٰ میں عرب اسرائیل تنازعے کی بدولت ایک عرصہ تک یہ خطہ بھی سوویت امریکی تصادم کی آماجگاہ بنا رہا۔ اسی راہ پر مزید پیشقدمی کرتے ہوئے سوویت یونین نے 1979ء میں افغانستان میں بھی اپنی فوجیں داخل کر دیں تاکہ اس راستے سے ایران اور وہاں سے خلیج فارس تک پہنچنے کی راہ ہموار کی جا سکے۔ یہ الگ بات کہ یہ اقدام اس کی اپنی شکست و ریخت پر منتج ہوا۔ امریکیوں کو ویت نام کا بدلہ لینے کا موقع مل گیا اور انہوں نے سوویت یونین کو افغانستان کی دلدل میں دھنسا کر پارہ پارہ کر دیا۔
کوئی ایشیائی ملک اس تنازعے کی زد میں آنے سے محفوظ نہیں رہا۔ دونوں فریقین نے ہر ملک میں برسراقتدار آنے کی کوشش ضرور کی، اقتدار نہ مل سکا تو حزبِ اختلاف اور اگر یہ بھی نہیں تو پھر ایک موثر سیاسی قوت کے طور پر کمیونسٹ پارٹیاں تقریباً ہر ایشیائی ملک میں موجود ہیں ، ماسوا ان چند ممالک کے جو اس نظام کی ’’لادینیت‘‘ کی بدولت اس کا وجود اپنے ہاں برداشت کرنے کے روادار نہیں۔ 
یہ مختصر سا احوال پڑھنے کے بعد، میرے خیال میں ، آپ کو معمے کے پہلے حصے کا جواب بخوبی مل گیا ہوگا کہ ایشیائی مشکلات کے حقیقی اسباب کیا ہیں ؟ جو خطہ ایک عرصے تک ایسے متنوع اور پیچیدہ تنازعوں کے بھنور میں گھرا رہا ہو اور جسے ابھی تک شورشوں سے مکمل نجات حاصل نہ ہوئی ہو، اس کا ترقی پذیر ہونا بھی بہت بڑی بات ہے کجا یہ کہ اس کا ایک قابل ذکر حصہ ترقی یافتہ کہلانے کی منزل سے صرف چند قدم کے فاصلے پر کھڑا نظر آئے۔ اس امر میں یقیناً کوئی شک نہیں کیا جا سکتا کہ اگر یورپ اور شمالی امریکہ کی طرح ایشیاء کو بھی سانس لینے کا موقع نصیب ہو جاتا تو ترقی کے معاملے میں یہ ان سے بڑھ کر نہیں تو کم از کم ان کے بالمقابل ضرور ہوتا۔ جمہوریت یہاں پہنچی ضرور ہے لیکن ابھی تک یہاں کے عوام کو وہ سیاسی شعور اور پختگی ہی حاصل نہیں ہوئی جو جمہوریت کی جڑیں مضبوط کرنے اور اس کے ثمرات حاصل کرنے کے لئے ضروری ہے۔ جمہوریت ایشیاء کے مسائل کا جواب ضرور بن سکتی ہے لیکن اس منزل تک پہنچنے میں اسے ابھی کچھ وقت اور بہت سی محنت درکار ہے۔
اب چلتے ہیں معمے کے دوسرے حصے کی طرف اور ایک مختصر سا جائزہ لیتے ہیں ان ممالک کا جو جمہوری اور غیر جمہوری، ہر دو نظام ہائے حکومت کے ساتھ، ترقی کی منازل طے کرنے میں کامیاب ہوئے اور اس ملک کو بھی جو ہمیشہ سے جمہوری ہونے کے باوجود ابھی تک ترقی پذیری کی گھڑیاں گن رہا ہے۔ یہ تین ممالک ہیں ملائشیا، چین اور بھارت۔
لیکن اس سے پہلے ایک سرسری نگاہ ایشیاء کی مجموعی معاشی صورتِ حال پر ڈالتے چلیں۔ 
ایشیاء کا زیادہ تر حصہ اب بھی معاشی طور پر پسماندہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ آبادی کا بڑا حصہ زراعت سے منسلک ہونے کے باوجود اس شعبے میں زیادہ تر ممالک کی کارکردگی کو اطمینان بخش قرار نہیں دیا جا سکتا۔ صنعت کے شعبے سے نسبتاً کم افراد وابستہ ہیں جبکہ سروسز کے شعبے میں بھی ایسے پیشوں کو اجارہ داری حاصل ہے جو زیادہ محنت کے متقاضی ہونے کے باوجود نہایت کم معاوضہ فراہم کرتے ہیں۔ شہری صنعتی مراکز، دیہاتی معیشت پر ویسے صحتمند اثرات مرتب کرنے میں ناکام نظر آتے ہیں جن کی کہ ان سے توقع کی جانی چاہئے، اور مواصلات کا نظام بھی ابھی تک مضبوط اور قابل اعتماد ہونے کی سطح پر نہیں پہنچ سکا۔
سوویت یونین کے انہدام کے بعد سے روس اور وسطی ایشیا کی ریاستیں ابھی تک معاشی استحکام حاصل کرنے کی جدوجہد کر رہی ہیں۔ اس کے مقابلے میں 1980ء کی دہائی کے اواخر سے چین اور ویت نام کی معیشتوں میں بہتری کا واضح رجحان دیکھنے میں آیا ہے لیکن جنوبی ایشیاء اور جنوب مشرقی ایشیاء کے چھوٹے ممالک کی معیشتیں وسائل کی کمی، وسیع پیمانے پر پھیلی ہوئی غربت اور حکومت کی ناقص منصوبہ بندی جیسی بڑی رکاوٹوں کی بدولت ابھی تک استحکام کی منزل سے بہت دور ہیں۔ 
1990ء کی دہائی کے اواخر میں مشرقی اور جنوب مشرقی ایشیاء کے بعض ممالک کی کرنسیوں کی قیمت میں اچانک تنزلی آ جانے کی وجہ سے ان ممالک کی حکومتیں ، بینک اور تجارتی ادارے اپنے بیرونی قرضے ادا کرنے کے حوالے سے شدید مشکلات کے شکار ہوئے، اور انڈونیشیا، تھائی لینڈ اور جنوبی کوریا جیسے ممالک کو اپنے قرضے چکانے کے لئے آئی ایم ایف سے بھاری قرضے طلب کرنا پڑے۔ خوش آئند امر یہ ہے کہ یہ معاشی بحران ایشیاء میں نظر آنے والے بہتری کے رجحان کے آگے بند باندھنے میں ناکام رہا اور اب بھی بہ حیثیت مجموعی ایشیاء کی معاشی کارکردگی روز بروز ترقی کی منازل طے کرتی نظر آ رہی ہے۔ زیادہ تر تجزیہ نگاروں کے مطابق، بہتری کا یہ سلسلہ آئندہ کئی سالوں تک جاری رہنے کے قوی امکانات موجود ہیں۔ 
معیشت کے حوالے سے جاپان کو اس وقت ایک عالمی سپرپاور کی حیثیت حاصل ہے۔ ہانگ کانگ، سنگاپور، جنوبی کوریا اور تائیوان کی تیز رفتار معاشی ترقی اور ان کے عوام کے معیارِ زندگی میں نمایاں ترقی کی بدولت اکثر ماہرین معیشت ان ممالک کو ایشیاء کے ’’چار ٹائیگر‘‘ قرار دیتے ہیں اور قرائن شہادت دیتے ہیں کہ تھائی لینڈ اور ملائشیا بھی اس اعزاز کو حاصل کرنے سے کچھ زیادہ فاصلے پر نہیں۔ انڈونیشیا، چین اور ویت نام کو بھی ان کی حالیہ ترقی کی بدولت اس صف میں شامل کیا جا سکتا ہے۔ خصوصاً چین کے روشن حال اور روشن تر مستقبل کے بارے میں کسی شک و شبے کا شکار ہونا اس ملک کے جفا کش عوام سے بہت بڑی زیادتی ہوگی۔ 
ایشیاء میں دوسری جنگ عظیم کی ہولناکیاں سب سے زیادہ ان ممالک کے حصے میں آئیں جو بحر الکاہل کے ساحل کے ساتھ ساتھ واقع ہیں اور جنگ کے بعد سے معاشی ترقی کے حوالے سے سب سے زیادہ بہترین کارکردگی بھی انہی ممالک کی طرف سے دیکھنے میں آئی۔ 1970ء کی دہائی کے آغاز پر جاپانی معیشت، جسامت کے حوالے سے امریکی معیشت کے پانچویں حصے کے برابر تھی لیکن اس دہائی کے اختتام سے پہلے جاپان نے آٹو موبائل، فولاد اور الیکٹرانک مصنوعات کی تیاری کی صنعتوں میں امریکہ کو بھی پیچھے چھوڑ دیا۔ 1992ء کے پہلے دن کا سورج طلوع ہونے تک جاپان کی صنعت امریکی صنعت کے دو تہائی کے برابر حجم حاصل کر چکی تھی جبکہ اس فی کس پیداوار اور گروتھ امریکہ کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔ 
جاپان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ایشیائی ٹائیگرز نے بھی صنعت اور برآمدات کے میدان میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ 1990ء کی دہائی کے آغاز تک چاروں ٹائیگر چین اور سعودی عرب کے ساتھ دنیا کے بیس بڑے برآمد کنندگان میں شامل ہو چکے تھے۔ مجموعی طور پر دنیا کے پچاس بڑے برآمد کنندگان میں 17 ایشیائی ممالک شامل ہیں۔ 
سیاسی اعتبار سے ابھی تک ایشیاء کو خاطرخواہ استحکام حاصل نہیں ہو سکا۔ افغانستان اور عراق میں جاری جنگ، روس کے خلاف چیچن عوام کی جدوجہد، سری لنکا میں حکومت اور تامل گوریلوں کے درمیان چلنے والی لڑائی اور چین میں تبت کی طرف سے آزادی کا مطالبہ فوری حل کے متقاضی مسائل میں نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ کئی ممالک میں ابھی تک قومی آمدن کی منصفانہ تقسیم کو یقینی نہیں بنایا جا سکا۔ جنوب مغربی ایشیاء کے تیل برآمد کرنے والے ممالک اس ضمن خصوصی طور پر قابل ذکر ہیں۔ بہرحال، یہ ایسی رکاوٹیں نہیں جنہیں عبور نہ کیا جا سکے، اور کئی ممالک تو پہلے ہی انہیں تسخیر کرنے میں کامیاب ہو چکے ہیں۔ بیسویں صدی کا  زیادہ تر حصہ شمالی امریکہ اور یورپ کے ممالک کے نام رہا۔ اب بین الاقوامی امور میں ایشیاء کے رسوخ میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے اور کہا جا سکتا ہے کہ اکیسویں صدی ایشیاء کی صدی ہوگی۔

چین

1994ء میں چین میں امریکہ کے سفیر جے سٹیفن رائے نے کہا تھا کہ ’’اگر آپ افیونی جنگوں کے بعد کے ڈیڑھ سو سالوں میں چین کی تاریخ کا جائزہ لیں تو لامحالہ یہی نتیجہ اخذ کریں گے کہ گذشتہ پندرہ سال چین کی تاریخ کے بہترین پندرہ سال ہیں۔‘‘ 
اسی نکتے کو امریکی سرمایہ کار جم راجرز نے زیادہ پُرزور انداز میں اس طرح بیان کیا کہ ’’انیسویں صدی برطانیہ کی تھی، بیسویں صدی امریکہ کے نام رہی۔ اکیسویں صدی چین کی صدی ہوگی۔ جاپان کی نہیں ، چین کی۔‘‘
چین کی حالیہ معاشی فتوحات کا غائرانہ جائزہ بھی لیا جائے تو دونوں بیانات کی صداقت پر ایمان لائے بغیر چارہ نہیں رہتا، اور اس سے یہ حقیقت بھی سامنے آتی ہے کہ کسی ملک کی ترقی کا انحصار اس کے نظامِ حکومت پر نہیں بلکہ اس کے عوام کی محنت اور اس کے حکمرانوں کے خلوص پر ہوتا ہے۔ 1949ء میں چین میں کمیونسٹ حکومت کے قیام کے بعد مغربی میڈیا نے چین کے خلاف معاندانہ پروپیگنڈے کی جو مہم چلائی تھی، وقت اور چینی عوام کی جفاکشی نے اسے یکسر کھوکھلا اور بے بنیاد ثابت کر دیا ہے۔ ماؤزے تنگ نے 1958ء میں کہا تھا کہ ’’دیگر اوصاف سے قطع نظر، چین کے ساٹھ کروڑ عوام کی سب سے امتیازی خصوصیت یہ ہے کہ وہ ’’غریب اور کورے‘‘ ہیں۔ بادی النظر یہ ایک بری چیز معلوم ہوتی ہے لیکن حقیقتاً اچھی ہے۔ تبدیلی، عمل اور انقلاب کی خواہشات غربت کی کوکھ سے ہی جنم لیتی ہیں۔ کاغذ کے کورے ٹکڑے پر تازہ ترین اور خوبصورت ترین تصاویر پینٹ کی جا سکتی ہیں۔ ‘‘
چیئرمین ماؤ کے اس قول کی صداقت کا مشاہدہ آج پوری دنیا کر رہی ہے۔
چین آبادی کے لحاظ سے دنیا کا سب سے بڑا اور رقبے کے لحاظ سے چوتھا بڑا ملک ہے۔ چینی اپنے ملک کو ’’ژونگو‘‘ کہہ کر پکارتے ہیں جس کے معنی ’’مرکزی مملکت‘‘ یا ’’وسطی سلطنت‘‘ کے ہیں۔ چین کا نام اسے غیرملکیوں نے دیا جو کہ غالباً ’’چن(Qin)‘‘ کی بگڑی ہوئی شکل ہے۔ چن ایک شاہی خاندان تھا جس تیسری صدی عیسوی میں چین پر حکومت کی۔ ملک کا دارالحکومت بیجنگ ہے جسے چین کے ثقافتی، معیشتی اور مواصلاتی مرکز کی حیثیت بھی حاصل ہے۔ آبادی اور رقبے کے حوالے سے سب سے بڑا شہر شنگھائی ہے جو مرکزی چین کی سب سے اہم بندرگاہ ہونے کے علاوہ ملک کا سب سے بڑا صنعتی اور تجارتی مرکز بھی ہے۔
قدیم زمانے سے چینی تہذیب کو ایشیاء کی سرکردہ تہذیبوں میں شامل ہونے کا اعزاز حاصل رہا ہے۔ جاپان، کوریا، تبت اور ویت نام کے معاشروں نے چینی طرزِ معاشرت سے بہت کچھ اکتساب کیا اور آج بھی ان ممالک کے فنونِ لطیفہ، اکل و شرب، مادی ثقافت، فلسفے، طرزِ حکومت، ٹیکنالوجی اور تحریری زبانوں پر چینی اثرات واضح طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ کئی صدیوں تک خصوصاً ساتویں صدی عیسوی سے چودھویں صدی عیسوی کے دوران چینی تہذیب دنیا کی سب سے ترقی یافتہ تہذیب کے مقام پر فائز تھی۔ کاغذ، طباعت، گن پاؤڈر، چینی ظروف، ریشم اور قطب نما چینی تہذیب کے ہی دیئے ہوئے تحفے ہیں۔ 
یورپی طاقتوں کی مشرقی ایشیاء میں آمد نے چین کی سیاسی قوت کو بری طرح متاثر کیا۔ سولہویں صدی کے وسط میں مکاؤ چین کے ہاتھوں سے نکل کر پرتگالیوں کے قبضے میں چلا گیا اور انیسویں صدی کے وسط میں ہانگ کانگ پر برطانوی قابض ہو گئے۔ اندرونی شورشوں اور بیرونی دراندازیوں نے چینی کی شاہی حکومت کو بے حد کمزور کر دیا اور آخرکار چینی قوم پرستوں نے 1911ء میں آخری شاہی خاندان، چنگ، کی حکومت کا تختہ الٹ دیا۔ یہ چین کی تاریخ کا نازک ترین دور تھا۔ فوجی قائدین کے درمیان حصولِ اقتدار کے لئے ہونے والی کھینچاتانی، جاپانی حملے اور کمیونسٹوں اور کیومن تانگ کی قوم پرست حکومت کے درمیان ہونے والی خانہ جنگی کے دھماکوں نے چین کی بنیادیں تک ہلا کر رکھ دیں۔ 
1949ء میں کمیونسٹوں نے خانہ جنگی میں فتح حاصل کر کے عوامی جمہوریہ چین کی بنیاد رکھی۔ کیومن تانگ کے ارکان تائیوان فرار ہو گئے اور وہاں جا کر ازسرنو قوم پرست حکومت کی بنیاد رکھی جسے ایک عرصے تک تمام چین کی اصل نمائندہ حکومت تصور کیا جاتا رہا حالانکہ اس کا دائرۂ اثر صرف تائیوان اور چند نزدیکی جزیروں تک ہی محدود تھا۔ بہرحال، اب صورتِ حال بدل چکی ہے اور تائیوان اور چین کو علیحدہ علیحدہ مملکتوں کی حیثیت سے تسلیم کر لیا گیا ہے۔ 
چین کا حکومتی ڈھانچہ لینن ازم کے وضع کردہ ماڈل کے مطابق یک جماعتی حکومت کے اصول پر استوار کیا گیا ہے۔ حکومت کا انتخاب براہِ راست عوامی الیکشن کے ذریعے نہیں بلکہ حکومتی پارٹی کی طرف سے قیادت پر مسلح قبضے کے ذریعے ہوتا ہے اور کسی گروہ کے اقتدار میں رہنے کا جواز عوامی مفادات کے لئے اس کی طرف سے انجام دی گئی خدمت سے فراہم ہوتا ہے۔ عوامی جمہوریہ چین میں حکومتی جماعت کی حیثیت چائنیز کمیونسٹ پارٹی (سی سی پی) کو حاصل ہے جس نے 1949ء میں اقتدار حاصل کر کے عوامی جمہوریہ چین کی بنیاد رکھی تھی۔
سی سی پی اپنے حکومتی ارکان کے ذریعے پالیسیوں کی تیاری اور ان کے نفاذ کے پورے عمل کو کنٹرول کرتی ہے۔ نظریاتی اعتبار سے ریاستی ڈھانچے میں کو اقتدارِ اعلیٰ مقننہ یعنی نیشنل پیپلز کانگریس (این سی پی) کو حاصل ہے جس کی سربراہی وزیر اعظم کے پاس ہوتی ہے۔
1978ء میں ڈینگ زیاؤپنگ کے زیر قیادت چین میں جامع معاشی اصلاحات کے عمل کا آغاز کیا گیا اور ڈینگ کے جانشین جیانگ زیمن نے اصلاحات کا تسلسل جاری رکھا۔ ان اصلاحات کے نتیجے میں چین کی معیشت حکومتی کنٹرول کے تحت چلنے والے ’’منصوبہ بند معیشت‘‘ سے ہٹ کر ایک ’’سوشلسٹ مارکیٹ معیشت‘‘ کی شکل اختیار کر گئی۔ اس نظام کے تحت خصوصی حکومتی ادارے تشکیل دیئے گئے ہیں جو اپنے وسیع اختیارات کے بل بوتے پر مختلف معیشتی شعبہ جات کا انتظام و انصرام سنبھالتے ہیں۔ این سی پی نے سینکڑوں ایسے قوانین بنائے ہیں جن کے تحت معاشی سرگرمیوں کے لئے سازگار ماحول پیدا ہوا اور جن کے نتیجے میں این سی پی کے اپنے حجم اور دائرۂ عمل میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ حکومت کے ملکیتی کاروباری اداروں کو خاصی حد تک خودمختاری دے دی گئی اور بعض کو نجی تحویل میں بھی دے دیا گیا ہے، علاوہ ازیں پرائیویٹ اور اجتماعی کاروبار کا ایک نیا سیکٹر بھی تشکیل دیا گیا ہے جو حکومت کے براہِ راست کنٹرول سے خاصی حد تک مبرا ہے۔ مقامی حکومتوں کو اختیار ہے کہ قومی پالیسی کو اپنے زیر انتظام علاقوں کے حالات کے مطابق ڈھالیں اور اپنی سہولت کے مطابق اس میں ترامیم کر سکیں۔ حکومتی امور کے انصرام میں سی سی پی نے اپنا عمل دخل خاصی حد تک کم کر دیا ہے لیکن مرکزی پالیسی کی تشکیل کا کام اب بھی اسی کے ہاتھ میں ہے۔ اس کے علاوہ اپنے حکومتی ارکان کے ذریعے سی سی پی نے ایسی سیاسی سرگرمیوں کو بھی محدود کر رکھا ہے جن کے نتیجے پارٹی کے اہداف کے متضاد نظریات کو ابھرنے اور فروغ پانے کا موقع مل سکے۔ بہ الفاظِ دیگر، عوامی جمہوریہ چین کے نظامِ حکومت میں ایک موثر حزبِ اختلاف کے ابھرنے کی گنجائش نہایت موہوم ہے۔
چین کا پہلا آئین 1954ء میں نافذ کیا گیا۔ اس آئین نے حکومتی ڈھانچے کو تشکیل دیا اور اس کے علاوہ ایک طویل باب میں شہریوں کے حقوق اور فرائض کا تعین بھی کیا۔ بعد ازاں 1975ء اور 1978ء میں بھی نئے آئین پیش ہوئے۔ عوامی جمہوریہ چین کا موجودہ آئین 1982ء میں نافذ ہوا۔
چین میں نافذ ہونے والا ہر آئین اپنے دور کے نظریاتی تفکرات اور پالیسی ترجیحات کا آئینہ دار ہے البتہ کسی ایک کے ذریعے بھی حکومتی ڈھانچے میں کوئی بنیادی تبدیلی نہیں لائی گئی۔ تمام آئینوں میں مرکزی قوت و اختیار کے سرچشمے کی حیثیت این پی سی کو ہی حاصل رہی ہے اور حکومت اور عدلیہ کے اعلیٰ عہدیداران کی تقرری اور نگرانی کا کام اسی کے ذمے ٹھہرایا جاتا رہا ہے۔ 1982ء کے آئین میں کی جانے والی ترامیم کے ذریعے شہریوں سے سیاسی پوسٹر لگانے کا حق واپس لے لیا گیا اور نجی کاروباری اداروں کے معیشتی کردار کو قانونی جواز فراہم کیا گیا۔
ٹاؤن شپ اور کاؤنٹی کی سطح پر این سی پی کے ارکان کا انتخاب کڑی نگرانی اور محدود مسابقت کے ماحول میں کرائے جانے والے الیکشن کے ذریعے کیا جاتا ہے۔ اٹھارہ سال کی عمر کے تمام شہریوں کو ووٹ دینے کا حق حاصل ہے۔ صوبائی اور قومی سطح پر این سی پی کے ارکان کا انتخاب بالواسطہ طور پر زیریں سطح کے ارکان کی رائے شماری کے ذریعے کیا جاتا ہے۔ انتظامی قائدین کے انتخاب کے لئے این سی پی میں ان کی سطح پر کرائے جانے والے الیکشن کا سہارا لیا جاتا ہے۔ یعنی کاؤنٹی کی سربراہی کے لئے این سی پی میں کاؤنٹی کی سطح پر الیکشن ہوں گے، صوبائی گورنر کے انتخاب کے لئے صوبے کی سطح پر وزیر اعظم کے انتخاب کے لئے قومی سطح پر۔ عموماً ایسے عہدوں پر سی سی پی کے سفارش کردہ امیدواروں کو ہی تعینات کیا جاتا ہے۔
سربراہِ مملکت کی حیثیت صدر کو حاصل ہوتی ہے جس کا انتخاب این سی پی پانچ سال کی مدت کے لئے کرتی ہے۔ عمومی سطح پر صدارت کو رسمی حیثیت حاصل ہوتی ہے۔ قوتِ عاملہ سٹیٹ کونسل کو حاصل ہوتی ہے جس کی سربراہی وزیر اعظم کرتا ہے۔ وزیر اعظم کو صدر کی طرف سے نامزد کیا جاتا ہے اور این پی سی پانچ سال کی مدت کے لئے اس کا انتخاب کرتی ہے۔ سٹیٹ کونسل میں 40 وزارتوں اور قومی سطح کے کمیشنوں کے سربراہان شامل ہوتے ہیں۔ ان سربراہان کی نامزدگی وزیر اعظم کے ذریعے عمل میں آتی ہے اور انہیں بھی این پی سی پانچ سال کی مدت کے لئے منتخب کرتی ہے۔ تاہم این پی سی کی طرف سے امیدواروں کا انتخاب سی سی پی کی خواہشات کے مطابق ہی ہوتا ہے۔
ملکی سطح پر سی سی پی کو حاصل بے پناہ اثر و نفوذ کی بدولت حکومت میں قوت و اختیار کے حقیقی سرچشمے کی حیثیت پارٹی کے جنرل سیکرٹری کو حاصل ہوتی ہے۔ دوسرے با اختیار ترین فرد کی حیثیت وزیر اعظم کو حاصل ہوتی ہے۔ کسی بھی حکومتی ادارے کے اقتدار و اختیار کا بہت بڑا تعلق ادارے کے سربراہ کی شخصی حیثیت سے ہوتا ہے۔ اکثر صدرِ ریاست کا عہدہ بھی سی سی پی کے جنرل سیکرٹری کے حصے میں ہی آتا ہے اور یوں سربراہِ مملکت کی حیثیت اور حکومتی پارٹی کے سربراہ کی حیثیت سے پالیسی سازی کے اختیارات فردِ واحد کی ذات میں مرتکز ہو جاتے ہیں۔ 
این پی سی کے ارکان کا انتخاب بالواسطہ انتخابات میں صوبائی کانگریسوں کے ذریعے پانچ سال کی مدت کے لئے کیا جاتا ہے۔ یہاں بھی عموماً وہیں ارکان بار پاتے ہیں جنہیں سی سی پی کی سفارش حاصل ہوتی ہے۔ این پی سی کی جسامت کا تعین قانون کے ذریعے کیا جاتا ہے اور اس میں ایک وقت میں تین سے ساڑھے تین ہزار تک ارکان شامل رہ چکے ہیں۔ حجم میں غیر معمولی طور پر جسیم ہونے کے باوجود اس کا اجلاس سال میں صرف ایک مرتبہ ہوتا ہے، اس طرح ارکان کو منظور کئے جانے والے قوانین، حکومتی رپورٹوں اور عہدیداران کی تعیناتی و برخواستگی پر خاطرخواہ بحث کرنے کا موقع میسر نہیں آتا۔
این پی سی کا اجلاس نہ ہونے کی صورت میں اس کے اندر سے منتخب کردہ 150 ارکان کی مجلس قائمہ متعلقہ فرائض انجام دیتی ہے۔ قوانین کی منظوری، آئین کی تشریح و نفاذ اور غیرملکی حکومتوں کے ساتھ معاہدوں کی منظوری یا منسوخی جیسے معاملات میں یہ مجلس این پی سی کی نمائندگی کرتی ہے۔
چین میں عدلیہ کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی کوششوں کا آغاز بیسویں صدی کے اوائل میں ہوا لیکن انقلاب اور خانہ جنگی کی رخنہ اندازی نے اس عمل کو انجام تک پہنچنے سے پہلے ہی ختم کر دیا۔ کمیونسٹ حکومت کے برسراقتدار آنے کے ایک طویل عرصہ بعد تک بھی اس طرف کوئی خاطرخواہ توجہ نہ دی گئی تاہم 1978ء کی اصلاحات کے نتیجے میں عدلیہ کی تعمیر کا ایک طویل عرصے سے رکا ہوا عمل دوبارہ چل پڑا۔ تب سے لے کر اب تک حکومت نے سینکڑوں قوانین منظور کئے ہیں جن کا تعلق معاشی امور، جیل خانوں کے انتظام و انصرام اور وکلاء اور ججز کی سرگرمیوں سے ہے۔
چینی نظامِ قانون چار حصوں پر مشتمل ہے۔ عدالتی نظام، عوامی تحفظ کا انتظام یا پولیس، پبلک پراسیکیوٹر اور جیل خانوں اور مزدور کیمپوں کا ایک نظام۔ عوامی عدالت عظمیٰ اعلیٰ ترین عدالتی ادارے کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس عدالت کو زیریں عدالتوں کی کارروائیوں کی نگرانی کا اختیار حاصل ہے لیکن آئین کی نگرانی کا کام بہرحال این پی سی کے ہی دائرۂ اختیار میں رکھا گیا ہے۔ صوبائی، کاؤنٹی اور میونسپل کی سطح پر زیریں عدالتیں ، پبلک پراسیکیوٹر اور پولیس کے ادارے موجود ہیں۔ اس کے علاوہ پبلک اور پرائیویٹ وکلاء کی پرداخت پر بھی خصوصی توجہ دی گئی ہے جس کے نتیجے میں اس شعبے کے ارکان کی تعداد جو کہ 1980ء میں صرف 5 ہزار کے لگ بھگ تھی، اب بڑھ کر ایک لاکھ سے بھی متجاوز ہو گئی ہے۔
رسمی طور پر ججوں کا تقرر متعلقہ سطح کی عوامی کانگریسیں کرتی ہیں اور ان کی کار گزاریوں پر جواب طلبی کا اختیار رکھتی ہیں۔ تاہم حقیقتاً ججوں کا انتخاب سی سی پی کا افرادی شعبہ کرتا ہے اور ان کی نگرانی کی ذمہ داری جماعت اور وزارتِ انصاف کو سونپی جاتی ہے۔
1982ء کے آئین کے مطابق، چین میں مزدور طبقے کی اشتراکی آمریت کو طرزِ حکومت کی حیثیت حاصل ہے جس کی قیادت سی سی پی اور دیگر جماعتوں کے متحدہ محاذ کے ہاتھ میں ہے۔ عملاً قومی سیاسی سرگرمیوں کی تمام ڈوریاں سی سی پی کے ہاتھ میں ہیں کیونکہ حکومتی سطح کے تمام اہم اور موثر عہدے جماعتی ارکان کے پاس ہوتے ہیں۔ متحدہ محاذ کی پالیسی کے تحت، سی سی پی نے کئی چھوٹی چھوٹی سیاسی جماعتوں کو سرگرمِ عمل رہنے کی اجازت دے رکھی ہے۔ ان جماعتوں کے زیادہ تر ارکان کا تعلق ثقافتی، تعلیمی اور سائنسی حلقوں سے ہوتا ہے۔ حقیقی معنوں میں یہاں کسی خودمختار سیاسی جماعت کا وجود نظر نہیں آتا۔ سب سے اہم سیاسی گروہ کمیونسٹ یوتھ لیگ کو قرار دیا جا سکتا ہے جو سات کروڑ کے لگ بھگ ارکان پر مشتمل ہے۔ سی سی پی کی رکنیت حاصل کرنے کے خواہش مند نوجوانوں کی ریکروٹنگ میں یہ جماعت اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اگرچہ گذشتہ دو دہائیوں میں سی سی پی کی طرف سے سینکڑوں نئی تنظیموں کے قیام کی اجازت دی گئی ہے مگر ایسی تمام تنظیموں کو کسی نہ کسی حوالے سے حکومت یا جماعت کی اعلانیہ یا غیر اعلانیہ اعانت حاصل ہے۔
سی سی پی کے باقاعدہ ارکان کی تعداد چھ کروڑ کے لگ بھگ ہے اور اس طرح اسے دنیا کی سب سے بڑی کمیونسٹ پارٹی کی حیثیت حاصل ہے۔ اس کے ارکان میں تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد شامل ہیں لیکن زیادہ تر حکومت میں ، حکومت کے زیر اہتمام چلنے والے تعلیمی اور ثقافتی اداروں میں یا معیشت میں با اثر عہدوں کے حامل ہیں۔ اصلاحات کے عمل کا آغاز ہونے کے بعد سے سی سی پی کی کوشش رہی ہے کہ ایسے ارکان کی خدمات حاصل کی جائیں جو نسبتاً کم عمر، زیادہ تعلیم یافتہ اور تکنیکی طور پر مہارت یافتہ ہوں۔ 
1982ء کے آئین کے تحت چین کی مسلح افواج کی سربراہی سنٹرل ملٹری کمیشن کے سپرد کی گئی ہے۔ سنٹرل ملٹری کمیشن سی سی پی کا سویلین کنٹرول سے آزاد حصہ ہے۔ چینی افواج کو پیپلز لبریشن آرمی (پی ایل اے) کے نام سے پکارا جاتا ہے اور قومی فوج، بحریہ اور فضائیہ اس کے اہم حصے ہیں۔ 
گذشتہ دو دہائیوں میں پی ایل اے کی جسامت میں قابل ذکر حد تک کمی کی گئی ہے، اس کے باوجود اسے دنیا کی سب سے بڑی فوج ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ 1985ء میں اس کی تعداد انتالیس لاکھ تھی جو کہ 2002ء میں گھٹ کر اٹھائیس لاکھ تک آ گئی۔ اس میں بری فوج کے سترہ لاکھ، فضائیہ کے چار لاکھ اور بحریہ کے ڈھائی لاکھ جوان شامل ہیں۔ سی سی پی کے اعلان کے مطابق آئندہ چند سالوں میں پی ایل اے کی تعداد میں مزید پانچ لاکھ کی کمی کی جائے گی۔ 
سرد جنگ کے دور میں ایک کمیونسٹ ریاست کی حیثیت سے خارجہ پالیسی کے حوالے سے چین کا ابتدائی رجحان سوویت یونین کی طرف تھا لیکن بعد ازاں نظریاتی اختلافات، مغرب کے حوالے سے حکمت عملی پر پیدا ہونے والے تنازعات اور سرحدی مناقشات کی وجہ سے دونوں ممالک کے تعلقات میں نہ صرف یہ کہ سردمہری پیدا ہو گئی بلکہ 1969ء اور 1970ء میں ان کے مابین سرحدی تنازعات پر جنگیں بھی لڑی گئیں۔ لہٰذا سرد جنگ کے وسطی دور میں اس وقت کی دونوں سپرپاورز، سوویت یونین اور ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے ساتھ چین کے تعلقات خوشگوار نہ تھے، اور عالمی امور سے اسے الگ ہی رکھا جاتا تھا۔
فروری 1972ء میں صدرِ امریکہ رچرڈ نکسن کے دورۂ چین کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری واقع ہونا شروع ہوئی اور 1979ء تک ان کے سفارتی تعلقات معمول کی سطح پر آ گئے۔ تعلقات کی اس بہتری کے نتیجے میں تائیوان کی پہلے والی بین الاقوامی حیثیت ختم ہو گئی اور عالمی برادری نے بیجنگ کی کمیونسٹ حکومت کو چین کا نمائندہ تسلیم کر کے اس کے ساتھ سفارتی تعلقات استوار کرنا شروع کر دیئے۔ سوویت یونین کے انہدام سے کچھ عرصہ پہلے، اس کے ساتھ بھی چین کے تعلقات ازسرنو بحال ہو چکے تھے۔
اس وقت چین خودمختار ڈپلومیسی پر عمل پیرا رہتے ہوئے تمام بڑی طاقتوں کے ساتھ خوشگوار تعلقات بنائے رکھنے کا خواہشمند نظر آتا ہے لیکن بشمول امریکہ کسی ایک ملک کی عالمی بالادستی کے سخت خلاف ہے۔ اپنے وسیع رقبے، بڑی آبادی، وسط ایشیاء میں سٹریٹجک جغرافیائی پوزیشن، بڑھتی ہوئی معاشی طاقت، اقوامِ متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کی مستقل رکنیت، ویٹو پاور اور ایٹمی قوت کی بدولت آج اقوامِ عالم میں اسے ایک اہم اور موثر مقام حاصل ہے۔ 
دو ہزار سال سے زائد عرصے تک چین کی معیشت کا دارومدار زراعت پر رہا ہے۔ 206 ق م سے 220 عیسوی تک ہان خاندان کی حکومت کے دوران چینیوں نے کئی ایسے زرعی آلات اور طریقے اختراع کئے جن تک یورپ اور مشرقِ وسطیٰ والے کئی صدیوں بعد پہنچے۔ مثال کے طور پر دیگی لوہے کے بنے ہوئے ہل جن کی مدد سے سخت اور پتھریلی زمین میں بھی ہل چلانا ممکن ہو گیا۔ اگرچہ یہ ہل چوبی ہلوں کے مقابلے میں زیادہ وزنی ہوتے تھے لیکن انہیں کھینچنے میں زور کم لگانا پڑتا تھا اور یوں ایک جانور بھی انہیں لے کر چل سکتا تھا۔
ہان دور کے بعد چین میں زراعت اور معیشت کے حوالے سے ترقی کی رفتار دھیمی پڑ گئی، اور آنے والی کئی صدیوں تک چینی کاشتکاری کے لئے قدیم طریقوں پر ہی انحصار کرتے رہے۔ نتیجہ یہ کہ انیسویں صدی تک پہنچتے پہنچتے چینی زراعت کی حالت دگرگوں ہو گئی اور یورپ اور شمالی امریکہ کی صنعتی معیشتیں اسے کہیں پیچھے چھوڑ گئیں۔ 
انیسویں صدی کے وسط میں برطانیہ نے چین کو افیونی جنگوں میں شکست سے دوچار کر کے ایسے ساحلی شہر کھولنے پر مجبور کر دیا جہاں غیرملکی رہ بھی سکیں اور تجارت بھی کر سکیں۔ مغرب کا نفوذ روز بروز بڑھتا گیا۔ اس دور میں چین میں ریل کی پٹڑیاں بچھائی گئیں اور شاہراہیں تعمیر کی گئیں ، کسی حد تک صنعتی ترقی کا آغاز ہوا اور کیروسین اور بجلی جیسے توانائی کے نئے ذرائع متعارف کرائے گئے۔ بہرحال، بہ حیثیت مجموعی ان سب اقدامات کا چینی معیشت پر کوئی نمایاں اثر مرتب نہ ہو سکا۔ 1911ء میں چینی انقلابیوں نے آخری شاہی خاندان چنگ کی حکومت کا تختہ الٹ دیا اور ایک عوامی حکومت نے برسراقتدار آ کر چینی معیشت کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی کوشش شروع کر دی۔ جاپان کے خلاف جنگ اور ملک کے اندر کمیونسٹوں اور قوم پرستوں کے درمیان چلنے والی خانہ جنگی کی بدولت اس حکومت کی کوششوں کی بیل منڈھے نہ چڑھ سکی اور معیشت جس کی حالت پہلے ہی نازک تھی، بالکل ہی جامد ہو کر رہ گئی۔
1949ء میں کمیونسٹ پارٹی نے برسراقتدار آ کر ’’عوامی جمہوریہ چین‘‘ کی بنیاد رکھی۔ ابتدائی چند سالوں میں کمیونسٹ پارٹی کی توجہ جنگ سے ہونے والے نقصانات کی تلافی اور تعمیر نو پر مرکوز رہی۔ اس دوران 30 کروڑ غریب کسانوں میں زمین بھی ازسرنو تقسیم کی گئی۔ اس کے بعد 1953ء سے ’’منصوبہ بند معیشت‘‘ کا نظام متعارف کرایا گیا اور حکومت نے پیداوار کے تمام ذرائع اپنے کنٹرول میں لے لئے۔ تمام معیشتی شعبوں کو پانچ سالوں منصوبوں کی شکل میں پیداوار اور پیش رفت کے اہداف دیئے جانے لگے۔ ان منصوبوں میں سرمائے کی فراہمی، پیداواری خام مال اور دیگر ذرائع کی تخصیص تفصیل کے ساتھ دی جاتی تھی اور کامیابی کا معیار دیئے گئے اہداف کو حاصل کرنے یا ان سے بڑھ کر کارکردگی دکھانے کو مقرر کیا گیا تھا۔ اس پالیسی کے نتیجے میں مصنوعات کا معیار اور جدت ثانوی حیثیت اختیار کر گئیں اور مقدار کو اولیت حاصل ہو گئی۔ حکومت لوگوں کو روزگار فراہم کرتی تھی اور اس بات کا امکان بہت کم ہوتا تھا کہ اگر کوئی چاہے تو آگے چل کر اپنا پیشہ تبدیل کر سکے گا۔ معاوضوں اور قیمتوں پر بھی حکومتی کنٹرول ہوتا تھا اور تمام ذرائع مواصلات و رہائشی مقامات حکومت کی ملکیت ہوتے تھے۔ رہائش اور کھپت کو حکومت راشننگ کے سسٹم کے ذریعے کنٹرول کرتی تھی۔ اس سسٹم کے تحت خوراک، سوتی کپڑے اور روزمرہ کی دیگر ضروریات کے استعمال کے مخصوص کوٹے مقرر کئے گئے تھے اور کسی کو ان سے تجاوز کرنے کی اجازت نہ تھی۔ نتیجتاً کاروباری اداروں ، خاندانوں اور افراد کے لئے اپنے معاشی رویئے کا تعین کرنے کا اختیار بہت کم رہ گیا۔
پہلا پانچ سالہ منصوبہ 1953ء سے 1958ء تک بروئے عمل رہا۔ اس منصوبے میں تمام معیشتی سیکٹرز کا احاطہ کیا گیا تھا اور بھاری صنعتوں کو وسعت دینے پر خصوصی زور دیا گیا تھا۔ حکومت نے بے شمار سرکاری صنعتی یونٹ لگائے اور منصوبے کے اختتام تک چین کو ایک ٹھوس صنعتی بنیاد حاصل ہو گئی۔ زرعی شعبے میں حکومتی کنٹرول کے تحت بڑے بڑے کوآپریٹو فارم قائم کئے گئے۔ کام کرنے والوں کی محنت کے نتیجے میں زرعی پیداوار میں معتدبہ اضافہ ہوا۔ صنعتی پیداوار کی رفتار البتہ اس سے کہیں زیادہ تیز تھی۔
دوسرے پانچ سالہ منصوبے کو بھی ابتداً پہلے منصوبے کے خطوط پر ہی استوار کیا گیا لیکن آگے چل کر ماؤزے تنگ کی ہدایات کے تحت اس میں کچھ بنیادی ترامیم کی گئیں۔ ماؤزے تنگ کو تشویش لاحق ہو گئی تھی کہ زراعت میں ترقی کی رفتار صنعت کے مقابلے میں سست پڑ گئی ہے اور اس شعبے کو زیادہ توجہ درکار ہے۔ لہٰذا اس منصوبے میں زراعت کو خصوصی طور پر مرکز توجہ بنایا گیا اور اس کے ساتھ ساتھ صنعتی ترقی کی رفتار کو بھی برقرار رکھنے کا عہد کیا گیا۔ اس منصوبے کو مکمل کرنے کے لئے چلائی گئی مہم کو تاریخ میں ’’عظیم چھلانگ‘‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔
اس وقت تک چین کی خارجہ پالیسی اس مرکزی نکتے پر آ کر ٹھہر گئی تھی کہ نہ تو دوسروں کے معاملات میں دخل دیا جائے اور نہ کسی سے کوئی مدد مانگی جائے۔ اس ارادے کو عملی جامہ پہنانے کے لئے زرعی خود کفالت کا حصول ضروری تھا اور ’’عظیم چھلانگ‘‘ کا بنیادی مقصد یہی تھا۔ اس کے علاوہ اس منصوبے کے تحت چھوٹی چھوٹی بھٹیاں بھی لگائی گئیں جن میں گھٹیا درجے کے خام لوہے، سکریپ اور گھریلو استعمال کی اشیاء تک کو پگھلا کر خالص فولاد حاصل کیا جاتا تھا۔ کروڑوں مزدور اور شہری کارکن حکومتی احکامات کے تحت اپنے دوسرے کام چھوڑ کر ان فرسودہ بھٹیوں کو چلانے میں جت گئے اور چند ہی سالوں میں چین کی فولاد اور لوہے کی مجموعی پیداوار برطانیہ سے بھی آگے نکل گئی۔ بہرحال، اس کامیابی کی چین کو بھاری قیمت چکانا پڑی۔ ایک طرف افرادی قوت کا بڑا حصہ ایک ہی کام کو نمٹانے میں کھپ گیا، اور دوسری طرف ان بھٹیوں کو چلانے کا ایندھن فراہم کرنے کے لئے وسیع پیمانے پر جنگلات کی کٹائی کی گئی، جس سے قدرتی وسائل کو بھی بے پناہ نقصان پہنچا۔
زراعت کے لئے حکومت نے دور دراز علاقوں میں وسیع و عریض عوامی کمیون قائم کئے اور تمام دیہی زمین اور زرعی آلات کو اجتماعی ملکیت میں دے دیا گیا۔ 1958ء میں چین نے وسیع پیمانے پر غلے کی کاشت کی لیکن پیداوار کا زیادہ تر حصہ مواصلات اور ذخیرہ کرنے کی ناقص سہولیات کی وجہ سے ضائع ہو گیا۔ اس کے علاوہ گہرا ہل چلانے کی پالیسی اور ناسازگار موسم کے حامل علاقوں میں بھی غلے کی کاشت کے نتیجے میں ماحولیاتی حوالے سے چین کو خاصا نقصان اٹھانا پڑا۔ آبپاشی کے ناقص منصوبوں نے بھی فصلوں کو ضائع کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ اس کے علاوہ بڑے پیمانے پر درختوں اور دیگر نباتاتی حیات کی کٹائی کے نتیجے میں 1959ء اور 1960ء میں آنے والے تباہ کن سیلابوں نے چینی زراعت کو بھاری نقصانات سے دوچار کیا۔ ان سب عوامل کا نتیجہ ایک خوفناک قحط کی صورت میں نمودار ہوا جو تین سال جاری رہا اور دو کروڑ سے زائد زندگیوں کی بھینٹ لے گیا۔
ان دھچکوں سے سنبھلنے کے لئے چین کی حکومت نے معیشتی ’’ری ایڈجسٹمنٹ‘‘ کے ایک دور کا آغاز کیا اور آنے والے چند سالوں میں کئی شعبوں میں پیداوار اور ترقی کی پہلے والی سطح حاصل کر لی۔ 1966ء اور 1971ء میں تیسرے اور چوتھے پنج سالہ منصوبے کا آغاز کیا گیا۔ لیکن ملکی سیاسی حالات کی ناسازگاری کی بدولت یہ منصوبے پہلے والی کامیابی سے ہمکنار نہ ہو سکے۔ 1976ء سے شروع ہونے والے پانچویں پنج سالہ منصوبے کے لئے چینی قیادت نے فیصلہ کیا کہ تمام معیشتی محاذوں پر تیز رفتار پیش قدمی کا وطیرہ اپنایا جائے تاکہ گذشتہ دس سالوں میں ہونے والے نقصانات کا ازالہ ممکن ہو سکے۔ نمایاں ترین معیشتی تبدیلیاں اس وقت رونما ہوئیں جب 1978ء میں کمیونسٹ پارٹی نے ڈینگ زیاؤ پنگ کی زیرقیادت زراعت، صنعت، دفاع اور سائنس و ٹیکنالوجی کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے قومی ہدف کا اعلان کیا۔ اس کے بعد سے شروع ہونے والے تمام پانچ سالہ منصوبوں کا محور یہی ہدف رہا ہے۔
اس سلسلے میں 1979ء میں کی جانے والی ابتدائی اصلاحات کا مرکز غربت زدہ دیہی علاقوں کو بنایا گیا۔ حکومت نے کمیون سسٹم ختم کر کے ’’معاہدہ اور ذمہ داری‘‘ کا نظام رائج کیا۔ اس نظام کے تحت کسان گھرانے انفرادی طور پر ایک ایک قطعہ اراضی پر کام کرتے تھے۔ یہ زمین ایک اجتماعی معیشتی ادارے کی ملکیت ہوتی تھی۔ گھرانوں کو اختیار حاصل تھا کہ وہ اپنی پیداوار کھلی منڈی میں خریداروں کو ان کی من چاہی قیمت پر فروخت کر سکیں اور اس کے ساتھ ساتھ ایک مخصوص مقدار طے شدہ قیمت پر ادارے کو بھی فروخت کرتے رہیں۔ یہ نظام نہایت کامیاب ثابت ہوا کیونکہ اس کے تحت کسانوں کو پیداواری اخراجات گھٹانے اور پیداوار بڑھانے کے لئے معقول محرک فراہم ہو گیا تھا۔
1984ء میں حکومت نے معیشتی اصلاحات کا رخ شہری علاقوں کی طرف موڑا۔ حکومت کے ملکیتی کاروباری اداروں کے انتظام کاروں کو فیصلہ سازی کے وسیع اختیارات دے دیئے گئے اور تمام منافع حکومت کے حوالے کرنے کے بجائے منافعوں پر ایک ٹیکس عائد کرنے کا نظام رائج کیا گیا اور کاروباری اداروں کو نئی سرمایہ کاری کا فیصلہ خود کرنے کا اختیار دے دیا گیا۔ اس کے علاوہ حکومت نے ریاستی ملکیت کا حق محفوظ رکھتے ہوئے اجتماعی اور انفرادی ملکیت کے رجحانات کی حوصلہ افزائی بھی شروع کر دی۔
اسی دوران چین نے بیرونی دنیا کے لئے بھی اپنی منڈی کھول دی۔ معیشت کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے عمل کی رفتار تیز کرنے کے لئے حکومت نے غیرملکی سرمایہ کاری اور جدید ٹیکنالوجی کی درآمد کی حوصلہ افزائی شروع کر دی۔ 1980ء میں حکومت چین نے غیرملکی سرمایہ کاری کے لئے خصوصی زون تعمیر کئے۔ پہلے چار زون شن ژن، ژوہائی، شینڈو اور زیامن میں قائم کئے گئے اور انہیں ’’سپیشل اکانومک زو ن (SEZ)‘‘ کا نام دیا گیا۔ یہ تمام زون جنوب مشرقی چین میں تھے۔ آگے چل کر دیگر علاقوں میں مزید زون کھول دیئے گئے۔ زیادہ تر زون شہری معیشتی مراکز خصوصاً ساحلی شہروں ، دریائے یانگزی کے کنارے واقع شہروں ، صوبائی دارالحکومتوں اور سرحدی شہروں اور قصبوں میں واقع ہیں۔ 
1992ء میں چینی حکومت نے ایک سوشلسٹ مارکیٹ اکانومی قائم کرنے کے ہدف کا اعلان کیا یعنی ایک ایسی مارکیٹ اکانومی جس کی قیادت کمیونسٹ پارٹی کے ہاتھ میں ہو۔ اس تبدیلی اور دیگر معیشتی اصلاحات سے عہدہ برآ ہونے کے لئے حکومت نے معیشت میں اپنے کردار کی نوعیت تبدیل کر دی۔ ’’منصوبہ بند معیشت‘‘ کے نظام کے تحت حکومت پیداوار اور قیمتوں کے اہداف کا تعین کیا کرتی تھی لیکن مارکیٹ اکانومی کے تحت ان اوامر کا فیصلہ مصنوعات اور خدمات کی کھپت کے حوالے سے کیا جاتا ہے۔ چینی حکومت کا کام اب قوانین اور ضوابط کی تیاری اور نفاذ کے ذریعے ایک مستحکم اور مسابقت انگیز معیشتی ماحول کی تشکیل کی حد تک محدود رہ گیا ہے، اور یقیناً کسی بھی ملک کی معیشت کو مستحکم اور توانا بنانے کے لئے حکومت کی سب سے بڑی اور نازک ذمہ داری یہی ہوتی ہے۔
2002ء میں چین کی کل افرادی قوت تقریباً 77 کروڑ افراد پر مشتمل تھی جو کہ دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔ 2000ء کے اعداد و شمار کے مطابق اس افرادی قوت کا 47 فیصد زراعت، ماہی گیری اور جنگلات کے شعبے میں کام کر رہا تھا جبکہ کان کنی، صنعت اور تعمیر کے شعبے میں 18 فیصد کارکن موجود تھے۔ بقیہ افراد کا تعلق سروسز سیکٹر سے ہے جس میں بینکنگ، حکومت، مواصلات، سیاحت اور کریانہ فروشی کے شعبے شامل ہیں۔ 
چین میں بے روزگاری کی شرح 3.1 فیصد ہے جو بادی النظر اتنی زیادہ معلوم نہیں ہوتی تاہم اس حوالے سے یہ مسئلہ خاصا سنگین ہے کہ چین کے کئی صنعتی شعبوں میں ضرورت سے زیادہ افراد کام کر رہے ہیں اور کئی افراد جزوقتی ملازمتوں پر انحصار کرنے پر مجبور ہیں۔ کئی ریاستی کاروباری اداروں میں ’’ڈاؤن سائزنگ‘‘ کی وجہ سے بے روزگاری کی شرح میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اس کے علاوہ کمیونز کا زراعتی طریقہ ختم کرنے کی وجہ سے دیہاتی علاقوں میں بھی بے روزگاروں کا ایک بڑا طبقہ پیدا ہو گیا ہے۔ جب سے ان اصلاحات کا آغاز ہوا ہے، ہر موسم سرما میں کروڑوں زرعی مزدور وقتی کام کی تلاش میں شہروں کا رخ کر لیتے ہیں جس کے نتیجے میں ریلوے ٹرانسپورٹ پر بے پناہ بوجھ پڑ جاتا ہے۔ اس کے علاوہ شہری علاقوں کے لئے بھی مسائل پیدا ہوتے ہیں کیونکہ ان کے پاس نہ تو روزگار کے اتنے زیادہ مواقع موجود ہیں اور نہ ہی رہائش کی اتنی وسیع سہولیات دستیاب ہیں کہ وہ ان سب لوگوں کو سنبھال سکیں۔ قرائن سے ہویدا ہے کہ اپنی افرادی قوت کے مسائل کو حل کرنے کے لئے چین کو مزید کئی سال کی منصوبہ بندی اور محنت درکار ہوگی۔
چین کے پاس دنیا کی قابل کاشت اراضی کا سات فیصد حصہ موجود ہے اور اس زمین سے اسے دنیا کی بیس فیصد آبادی کے لئے اناج پیدا کرنا ہوتا ہے۔ اس حوالے سے گذشتہ دہائیوں میں چین کو کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا رہا ہے لیکن مسلسل محنت، جدید زرعی ذرائع کی فراہمی اور سعی و خطا سے حاصل ہونے والے اسباق کے نتیجے میں چین اپنی غذائی مشکلات پر قابو پا چکا ہے اور زرعی شعبے میں خود کفالت کی منزل سے صرف چند ہاتھ دور ہے۔
چین کا صنعتی شعبہ مصنوعات سازی، کان کنی اور تعمیر پر مشتمل ہے۔ 1980ء کی دہائی کے دوران چین کی صنعتی پیداوار میں 11.1 فیصد سالانہ کی شرح سے اضافہ ہوا جبکہ 1990ء سے 1996ء تک سالانہ اضافے کی شرح 17.3 فیصد رہی جو کہ دنیا بھر میں سب سے زیادہ ہے۔ چینی مصنوعات ساز ہوائی اور بحری جہازوں ، گاڑیوں ، مصنوعی سیاروں اور جدید زرعی آلات جیسی پیچیدہ اشیاء سے لے کر گھریلو اور کاروباری استعمال کی عام اشیاء تک، سب خود بنا رہے ہیں۔ اس شعبے میں اگرچہ ابھی بہتری کی کافی گنجائش موجود ہے لیکن چین کی موجودہ رفتار کو دیکھتے ہوئے پیش گوئی کی جا سکتی ہے کہ یہ گنجائش بہت جلد پوری ہو جائے گی۔
چین کا سروسز کا شعبہ تجارت، اشیائے خورد و نوش کی فراہمی، کریانہ فروشی، بینکنگ اور دیگر مالی خدمات، انشورنس، رئیل اسٹیٹ، سیکیورٹی، ثقافت اور صحت کے حوالے سے خدمات اور قانونی خدمات پر مشتمل ہے۔ حکومتی اصلاحات کی آمد سے قبل اس شعبے پر بھی پسماندگی کا عالم طاری تھا لیکن اب ہر حوالے سے اس میں تیز رفتاری پیش رفت دیکھنے میں آ رہی ہے، اور جب سے چینی حکومت نے غیرملکی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی شروع کی ہے، مغربی تجارتی فرمیں خصوصاً میکڈونلڈ، پیزا ہٹ اور کینٹکی فرائیڈ چکن جیسی فاسٹ فوڈ چینز دھڑادھڑ چین میں اپنی شاخیں کھول رہی ہیں۔ 
جہاں تک سیاحت کی صنعت کا سوال ہے تو 1949ء سے لے کر 1970ء کی دہائی کے وسط تک چین بیرونی دنیا کے لئے تقریباً بند تھا۔ 1979ء کی معیشتی اصلاحات کے بعد حکومت نے سیاحت کو غیرملکی زرِ مبادلہ کے حصول کے ایک اہم آلہ کے طور پر استعمال کرنا اور فروغ دینا شروع کیا۔ سیاحت کے سیکٹر نے بڑی تیزی سے ترقی کی منازل طے کی ہیں۔ حکومت نے بڑے بڑے ہوٹل تعمیر کئے ہیں ، چین کے اندر اور چین سے باہر ہوائی سفر کی سہولتوں میں اضافہ کیا ہے اور تاریخی مقامات کو سیاحوں کے لئے کھول دیا ہے۔ اب ہر سال لاکھوں سیاح یہاں کے خوبصورت قدرتی مناظر، متنوع ثقافتی اثاثوں اور اہم تاریخی مقامات کو دیکھنے کے لئے یہاں آتے ہیں۔ شمالی چین میں دیوارِ چین، بیجنگ میں شہر ممنوع، ژیان میں چن شی ہوانگدی کے مقبرے کے خاکی جنگجو، شنگھائی کے پُر ہجوم بازار اور گلیاں اور ڈن ہوانگ کی نزدیکی غاروں میں قدیم بدھ فریسکو سیاحوں کے لئے خصوصی کشش کے حامل ہیں۔ 2002ء میں پونے چار کروڑ کے لگ بھگ سیاحوں نے چین کا دورہ کیا جن میں سے زیادہ تر کا تعلق ہانگ کانگ، مکاؤ اور تائیوان سے تھا۔ اس کے علاوہ جاپان، روس، امریکہ، سنگاپور، فلپائن، تھائی لینڈ، جرمنی، کینیڈا، فرانس اور آسٹریلیا سے بھی بڑی تعداد میں سیاح یہاں آتے ہیں۔ 
توانائی اور صنعتوں کے لئے ایندھن کے حصول کا مسئلہ چین کو ہمیشہ سے درپیش رہا ہے۔ اگرچہ آج اس کا شمار برقی توانائی تیار کرنے والے ممالک کی صف اول میں ہوتا ہے لیکن اب بھی تیار کردہ بجلی ملکی ضروریات خصوصاً شہروں کی ضروریات پوری کرنے کے لئے ناکافی ٹھہرتی ہے۔ 2001ء میں چین میں پیدا کی جانے والی برقی توانائی کا 80 فیصد تھرمل بجلی گھروں سے حاصل کیا جا رہا تھا جن میں سے زیادہ تر کوئلے کو بطور ایندھن استعمال کرتے ہیں۔ 19 فیصد بجلی ہائیڈرو پاور سے حاصل کی جاتی ہے اور بقیہ ایک فیصد جوہری ذرائع سے حاصل ہوتی ہے۔ 
ریلوے چین میں مواصلات کا سب سے اہم اور سب سے زیادہ استعمال ہونے والا ذریعہ ہے۔ مسافر برداری کا 39 فیصد اور مال برداری کا 36 فیصد کام ریلوے کے ذریعے انجام پاتا ہے۔ ملک بھر کی ریلوے کی پٹریوں کی کل لمبائی 36 ہزار 400 میل ہے جو 1949ء کے مقابلے میں دوگنی ہے۔ اس کے علاوہ نئی سڑکوں کی تعمیر پر بھی خصوصی توجہ دی جا رہی ہے اور طویل مسافتوں کے لئے گاڑیوں کے استعمال کے رجحان میں اضافہ ہو رہا ہے۔ چھوٹے فاصلوں کے لئے سائیکل آج بھی ایک مقبول سواری کی حیثیت رکھتی ہے۔ آبی ذرائع مواصلات بھی خصوصی اہمیت کے حامل ہیں اور کئی علاقوں میں آبی ذرائع کو مواصلات کے بنیادی ذریعے کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ اندرون ملک سب سے مصروف آبی راستے کی حیثیت گرانڈ کینال کو حاصل ہے جو بیجنگ سے لے کر شنگھائی کے نزدیک واقع بندرگاہ ہانگ ژو تک پھیلی ہوئی ہے۔ چین ایک طویل بحری ساحل کا حامل بھی ہے اور ملک کے چند اہم ترین صنعتی شہروں کے ساحل کے نزدیک واقع ہونے کی بدولت ایک طویل عرصے سے بحری راستوں کو بھی اہم مواصلاتی ذریعے کی حیثیت حاصل ہے۔ بین الاقوامی تجارت کو آسان بنانے اور وسعت دینے کے لئے حکومت نے موجودہ بندرگاہوں کو بہتر بنانے اور نئی بندرگاہیں تعمیر کرنے پر خصوصی توجہ دی ہے۔ اس وقت چین کے ساحل پر 20 سے زائد بڑی بندرگاہیں موجود ہیں جن میں شنگھائی، چن ہوانگ داؤ، گوانگ ژو، دالیان، ننگ بو اور تیان جن خصوصی طور پر قابل ذکر ہیں۔ چین کا تجارتی بیڑا 2002ء میں 3376 جہازوں پر مشتمل تھا۔
چین کا سب سے بڑا بین الاقوامی ایئرپورٹ بیجنگ میں واقع ہے۔ دیگر اہم ایئرپورٹ شنگھائی، گوانگ ژو، صوبائی دارالحکومتوں اور دیگر بڑے شہروں میں تعمیر کئے گئے ہیں جو اندرون ملک پروازوں کا بوجھ اٹھاتے ہیں۔ چین کی قومی ہوائی سروس ایئر چائنا ہے۔ اس کے علاوہ متعدد علاقائی ایئرلائنز بھی یہاں مصروفِ عمل ہیں۔ 
قومی اور مقامی سطح چین کی غیرملکی تجارت زیادہ تر سرکاری ٹریڈنگ کارپوریشنز کے ذریعے کنٹرول کی جاتی ہے۔ حکومت کی طرف سے عائد کردہ تجارتی پابندیوں میں کسی قدر نرمی پیدا کر دینے کے بعد سے غیرملکی سرمایہ کاری اور تجارتی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ غیرملکی کمپنیوں کے ساتھ شراکت میں کام کرنے والی چینی کمپنیوں کو اپنے استعمال کیلئے ضروری سامان اور خام مال درآمد کرنے اور اپنی مصنوعات کو درآمد کرنے کی پوری اجازت ہوتی ہے۔
2002ء میں چین کی برآمدات کا کل حجم 325.6 ارب ڈالر تھا جبکہ 295.2 ارب ڈالر درآمدات پر خرچ کئے گئے۔ چین کی اہم برآمدات میں ملبوسات، جوتے، پٹرولیم اور پٹرولیم کی مصنوعات اور ٹیلی کمیونیکیشنز کا سامان شامل ہیں۔ اہم درآمدات میں مشینری، فولاد کی مصنوعات اور دیگر دھاتیں ، گاڑیاں ، زرعی کیمیاوی مادے، ربر، گندم اور بحری جہازوں کو شمار کیا جا سکتا ہے۔ چین کی برآمدی اشیاء کے اہم خریداروں میں ہانگ کانگ (جو چین کا حصہ ہونے کے باوجود اپنی علیحدہ معیشت کا حامل ہے)، امریکہ، جاپان، جنوبی کوریا، جرمنی، سنگاپور، ہالینڈ اور برطانیہ شامل ہیں اور درآمدات کے لئے زیادہ تر انحصار جاپان، تائیوان، امریکہ اور جنوبی کوریا پر کیا جاتا ہے۔
اگرچہ معاشی اصلاحات کے نتیجے میں معیشت پر حکومت کا کنٹرول پہلے سے خاصا کم ہو گیا ہے، تاہم اب بھی حکومت کا ملکیتی سیکٹر چین کی معیشت کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ چین اپنے اس نئے نظام کو سوشلسٹ مارکیٹ اکانومی کا نام دیتا ہے۔ اصلاحات کے بعد 1980ء کی دہائی میں چین کی معیشت میں 10.2 فیصد سالانہ کے حساب اور 1990ء سے لے کر 2002ء تک کے عرصے میں 9.7 فیصد سالانہ کے حساب سے گروتھ دیکھنے میں آئی جو کے دنیا کے بلند ترین شرحوں میں سے ایک ہے۔
2002ء میں چین کا جی ڈی پی 1266.1 ارب ڈالر رہا۔ اپنی معیشت کی جسامت کے حوالے سے چین اس وقت ایک قابل ذکر معاشی قوت کی حیثیت اختیار کر چکا ہے، اور بڑے وثوق سے کہا جا سکتا ہے کہ اگر چینی معیشت پر ایک بھاری بھرکم آبادی کا بوجھ نہ لدا ہوتا تو آج چینی پوری دنیا کو کہیں پیچھے چھوڑ چکے ہوتے۔ 2002ء میں چین کا فی کس جی ڈی پی 990 ڈالر تھا جبکہ اس کے مقابلے میں کینیڈا (جس کی معیشت کا حجم چین کے برابر ہے) میں یہی شرح 22780 ڈالر کی تھی۔ اتنا بڑا فرق صرف آبادی کے فرق کی وجہ سے نظر آتا ہے۔ اسی بوجھ کے ہاتھوں مجبور ہو کر چینی وزیر اعظم لی پنگ کو یہ کہنا پڑا کہ ’’اگر کوئی مغربی سیاستدان دعویٰ کرے کہ وہ عام مغربی طریقے استعمال کر کے سوا ارب چینیوں کا پیٹ بھرنے اور تن ڈھکنے کی پوزیشن میں ہے تو ہم بخوشی اسے چین کا صدر منتخب کر لیں گے۔‘‘

ملائیشیا

گذشتہ ربع صدی میں جن ایشیائی ممالک نے اپنی شاندار معاشی ترقی اور سیاسی استحکام کی روایت کے حوالے سے دنیا والوں کو حیران ہونے پر مجبور کیا، ان میں ملائیشیا کا نام صف اول میں نظر آتا ہے۔ دوسری جنگ عظیم میں جاپانیوں نے مشرقی ایشیاء میں یورپیوں کو پے در پے شکستیں دے کر اور مقبوضہ علاقوں میں اپنی حکومتیں قائم کر کے یہاں پایا جانے والا یہ تاثر ختم کیا کہ حکومت کرنا صرف یورپیوں کو آتا ہے اور یہ ذمہ داری اٹھانے کی سکت انہی میں پائی جاتی ہے۔ بر سبیل تذکرہ، دوسری جنگ عظیم کی تباہ کاریاں ایشیاء میں سب سے زیادہ اسی خطے کے حصے میں آئیں ، اور بعد ازاں انقلابی تبدیلیوں کی نمایاں ترین لہر نے بھی اسی کو اپنی گزرگاہ بنایا۔
دوسری جنگ عظیم کے بعد ایشیا نے ازسرنو اپنی جدوجہد کا آغاز کیا اور پھر چند ہی عشروں میں ، اس خطے کے ممالک کے ایک گروہ نے کھوئی ہوئی قوت و استحکام کو اس انداز سے حاصل کیا کہ دیکھنے والے انگشت بدنداں ہو کر اسے ’’معجزہ‘‘ کہنے پر مجبور ہو گئے۔ 
ان ممالک کی معاشی ترقی کے پیچھے کون سا راز پوشیدہ ہے؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا کوئی ایک سیدھا سادہ جواب کوئی مغربی ماہر معیشت پیش نہیں کر سکا۔ 1980ء کے اوائل سے شروع ہونے والا ترقی کا یہ سفر 1997ء کے کرنسی کے بحران تک بڑی آن بان سے جاری رہا۔ کیسے جاری رہا؟ اس ضمن میں تین نظریات خصوصی طور پر قابل ذکر ہیں۔ 
پہلے نظریئے کے مطابق، ان ممالک کی ترقی کا راز ان کی مضبوط حکومتوں اور دانشمندانہ حکومتی پالیسیوں میں پوشیدہ ہے۔ ان حکومتوں نے مخصوص قسم کی صنعتوں کو فروغ دیا، خصوصاً ایسی صنعتوں کو جن میں برآمدی مال پیدا کرنے کی صلاحیت نسبتاً زیادہ تھی۔ سنگاپور کو اس نظریئے کی ایک عمدہ مثال قرار دیا جا سکتا ہے۔
دوسرے نظریئے کے مطابق، معیشتوں کی ڈی ریگولیشن نے کھلی منڈیوں کو پھلنے پھولنے اور بڑھنے کا موقع دیا اور ان ممالک میں موجود پیداواری وسائل پر عائد غیر ضروری بندشیں اور پابندیاں ختم کر دیں۔ ہانگ کانگ کی معیشت اس نظریئے کی عکاسی کرتی ہوئی نظر آتی ہے۔
تیسرے نظریئے کے مطابق، ان ممالک کی کامیابی کی کلید ایشیائی اقدار کی پاسداری میں پوشیدہ ہے۔ خاندانوں کا مل جل کر کام کرنا اور مشترکہ طور پر بچت کی طرف راغب ہونا اور پھر جمع شدہ سرمائے کو ایک دوسرے کے بھروسے دوبارہ سے کاروبار میں لگا دینا۔ عموماً اس نظریئے کا اطلاق چین، تائیوان اور سنگاپور کی معیشتوں پر کیا جاتا ہے۔
ان میں سے کسی نظریئے کو غلط قرار نہیں دیا جا سکتا کیونکہ ان میں سے ہر ایک میں سچائی کا عنصر کسی نہ کسی حد تک موجود ہے۔ تاہم میرے نزدیک، اگر پہلے نظریئے کی کسوٹی پر پرکھا جائے تو زیادہ تر ممالک کی کامیابی کی حقیقی وجوہات واضح ہو جائیں گی۔ 1980ء کے عشرے کے دوران اور 1990ء کے عشرے کے زیادہ تر دورانئے میں ، جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کی معیشتیں نہایت مستحکم اور نپی تلی رفتار سے ترقی کی منازل طے کرتی رہیں۔ ان کے قدموں میں اس وقت بھی کوئی لغزش نظر نہیں آئی جب عالمی معیشتی سرگرمیاں مندے کی طرف مائل ہو رہی تھیں اور شمالی امریکہ اور یورپ کی منڈیوں میں ان کی مصنوعات ایک تسلسل کے ساتھ فروخت ہوتی رہیں۔ اس کی مرکزی وجہ معیاری برآمدی مصنوعات کی تیاری اور حکومت کی عمدہ برآمدی حکمت عملیاں تھیں۔ چین کی کامیابی کے احوال میں آپ اس کا مشاہدہ کر چکے ہیں ، اور اب ہم یہی مشاہدہ ملائیشیا کے حوالے سے کریں گے۔
ملائیشیا کا سرکاری نام ’’فیڈریشن آف ملائیشیا‘‘ ہے اور اس میں تیرہ ریاستیں اور تین وفاقی رقبہ جات شامل ہیں۔ جغرافیائی اعتبار سے اسے مغربی ملائیشیا اور مشرقی ملائیشیا میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ اس کا دارالحکومت کوالالمپور ہے۔ ملائیشیا کا کل رقبہ ایک لاکھ 27 ہزار 320 کلومیٹر ہے جبکہ آبادی تقریباً ڈھائی کروڑ۔ آبادی میں اضافے کی شرح 1.8 فیصد ہے، اس اعتبار سے اگلے بیس سالوں میں اس کی آبادی سوا تین کروڑ سے تجاوز کر جائے گی۔ آبادی کی گنجانیت کی شرح 189 فی مربع میل ہے۔ آبادی کا 64 فیصد شہروں میں آباد ہے اور بقیہ دیہی علاقہ جات میں رہائش پذیر ہے۔ آبادی کے اعتبار سے بڑے شہروں میں کوالالمپور (آبادی سوا کروڑ سے زائد)، ایپو (آبادی تقریباً ساٹھ لاکھ)، کیلانگ (آبادی تقریباً ساٹھ لاکھ)، پیتالنگ جیا (آبادی تقریباً پنتالیس لاکھ) اور جوہور بہارو (آبادی تقریباً چالیس لاکھ) شامل ہیں۔ بھاسا ملائیشیا یہاں کی سرکاری زبان ہے۔ اس کے علاوہ چینی، انگریزی، تامل اور ابان بھی وسیع پیمانے پر بولی جاتی ہیں۔ 
نسلی اعتبار سے ملائیشیا میں تین بڑے گروہ ہیں۔ ملایا اور دیگر مقامی گروہ (65 فیصد)، چینی النسل (26 فیصد) اور ہندوستانی (8 فیصد)۔ بقیہ ایک فیصد چھوٹے چھوٹے نسلی گروہوں پر مشتمل ہیں۔ مذہبی حوالے سے غالب اکثریت مسلمانوں کی ہے جو آبادی کا 48 فیصد ہیں اور اسلام کو ریاستی مذہب کی حیثیت حاصل ہے۔ 24 فیصد لوگ مقامی مذاہب سے تعلق رکھتے ہیں۔ بدھ اور ہندو مت سے تعلق رکھنے والوں کی شرح سات سات فیصد ہے۔ بقیہ چھ فیصد چھوٹے چھوٹے متفرق مذہبی گروہوں پر مشتمل ہے۔
ملائیشیا میں اوسط عمر 72 سال سے زائد ہے۔ 1520 افراد کے لئے ایک ڈاکٹر میسر ہے اور 498 افراد کے لئے ہسپتال کا ایک بستر۔ شرحِ خواندگی تقریباً 90 فیصد ہے۔ 86 فیصد سے زائد خواتین اور 93 فیصد مردوں کو خواندگان کے زمرے میں شامل کیا جا سکتا ہے۔ 2001-2002ء کے بجٹ میں جی این پی کا 8.5 فیصد تعلیم کے لئے مختص کیا گیا تھا۔ 6 سے 16 کی عمر تک کے ہر بچے کے لئے سکول کی تعلیم حاصل کرنا لازمی ہے جس کا خرچہ حکومت اٹھاتی ہے۔ اس کے بعد مزید دو سال تک مفت تعلیم کی سہولت دستیاب ہوتی ہے، جو چاہے استفادہ کر سکتا ہے۔ پرائمری کی سطح پر ہر 20 طلبہ کے لئے ایک معلم دستیاب ہوتا ہے۔
نظامِ حکومت کے طور پر یہاں وفاقی آئینی بادشاہت رائج ہے۔ سربراہِ مملکت کی حیثیت سلطان کو حاصل ہوتی ہے اور حکومت کی سربراہی وزیر اعظم کے پاس ہوتی ہے۔ مقننہ دار النمائندگان اور سینیٹ پر مشتمل ہے۔ 21 سال اور اس سے زائد عمر کے ہر فرد کو ووٹ دینے کا اختیار حاصل ہے۔ فیڈرل کورٹ آف ملائیشیا یہاں کی اعلیٰ ترین عدالت ہے۔ 
ملائیشیا کی سرحدوں کی حفاظت یہاں کی بری، بحری اور فضائی افواج کرتی ہیں۔ مسلح افواج کی کل تعداد ایک لاکھ دس ہزار ہے۔ 2003ء کے بجٹ میں جی ڈی پی کا 2.3 فیصد دفاعی اخراجات کے لئے مختص کیا گیا تھا۔
بے روزگاری کی شرح کم ہونے کی وجہ سے جہاں ملائیشیا کی معیشت کا گروتھ ریٹ بڑھا ہے، وہیں غیر ہنرمندانہ کام کرنے کے لئے افرادی قوت کی قلت بھی واقع ہو گئی ہے۔ اس قلت کے سبب غیرملکی افراد کے لئے یہاں روزگار حاصل کرنے کے وسیع مواقع پیدا ہوئے ہیں۔ ایسے شعبوں میں کام کرنے والے غیرملکی افراد کا تعلق عمومی طور پر فلپائن، انڈونیشیا، بنگلہ دیش اور پاکستان سے ہے۔ ہنرمندانہ خدمات کے لئے البتہ چین، جاپان اور بھارت سے کارکن بھرتی کئے جاتے ہیں۔ 
ملائیشیا نے 31 اگست 1957ء کے روز برطانوی تسلط سے نجات حاصل کی اور اسی سال ’’وفاقِ ملائیشیا‘‘ کا آئین نافذ العمل ہوا۔ جیسا کہ پہلے ذکر ہوا، آئین کی رو سے سربراہِ مملکت کی حیثیت سلطان کو حاصل ہے جس کا انتخاب نو (9) موروثی سلاطین کی مجلس سے کیا جاتا ہے۔ انتخاب کا کام بھی یہی مجلس سرانجام دیتی ہے۔ ہر سلطان پانچ سال کے لئے مملکت کی سربراہی کے عہدے پر فائز رہتا ہے۔ حکومتی اختیارات وزیر اعظم کے پاس ہوتے ہیں جو دار النمائندگان کی اکثریتی جماعت یا اتحاد کا لیڈر ہوتا ہے۔ وزیر اعظم کی تقرری سربراہِ مملکت کے ہاتھوں عمل میں آتی ہے۔
مقننہ دو ایوانوں پر مشتمل ہے۔ دار النمائندگان (ایوانِ زیریں ) جس میں 219 ارکان ہوتے ہیں ، اور سینیٹ (ایوانِ بالا) جس میں 70 ارکان شامل کئے جا سکتے ہیں۔ دار النمائندگان کے ارکان کا انتخاب عوامی الیکشن کے ذریعے پانچ سال کی مدت کے لئے براہِ راست کیا جاتا ہے جبکہ سینیٹرز کا انتخاب تین سال کی مدت کے لئے ہوتا ہے۔ کسی سینیٹر کو دو مرتبہ سے زائد منتخب ہونے کا اختیار حاصل نہیں۔ 13 ریاستی حلقوں میں سے دو دو سینیٹر منتخب کئے جاتے ہیں اور بقیہ کی تقرری سربراہِ مملکت کرتا ہے۔ قانون سازی کا اختیار وفاقی اور مقامی حکومتوں کو مشترکہ طور پر حاصل ہوتا ہے۔
فیڈرل کورٹ (سابقہ سپریم کورٹ) یہاں کی اعلیٰ ترین عدالت ہے۔ اس کے ماتحت دو ہائی کورٹس آتی ہیں۔ ہر ہائی کورٹ میں ایک چیف جج اور متعدد ججز شامل ہوتے ہیں جبکہ فیڈرل کورٹ چیف جسٹس، کورٹ آف اپیل کے صدر، ہائی کورٹس کے چیف ججز اور پانچ دیگر ججز پر مشتمل ہوتی ہے۔ فیڈرل اور ہائی کورٹس کے تمام ججز کی تقرری سربراہِ مملکت، وزیر اعظم اور موروثی سلطانوں کی مجلس کے مشورے سے کرتا ہے۔ زیریں عدالتوں میں سیشن کورٹس اور مجسٹریٹ کورٹس شامل ہیں۔ مسلمانوں پر اسلامی قوانین بھی لاگو ہوتے ہیں اور ریاستی سطح پر ان کے مقدمات اسلامی عدالتوں میں چلائے جا سکتے ہیں۔ 
مغربی ملائیشیا کوالالمپور اور پتراجیا کے وفاقی رقبہ جات اور 11 ریاستوں پر مشتمل ہے۔ مشرقی ملائیشیا میں دو ریاستیں شامل ہیں۔ ریاستوں کی سربراہی ملقب حکمرانوں کے پاس ہوتی ہے اور مختلف ریاستوں کے حکمرانوں کو مختلف لقب دیئے جاتے ہیں۔ حکومتی اعتبار سے ریاست کی سربراہی وزیر اعلیٰ کے پاس ہوتی ہے جو کابینہ کا سربراہ ہوتا ہے۔ ہر ریاست کا اپنا تحریری آئین اور قانون ساز اسمبلی موجود ہے جسے ان تمام امور میں قانون سازی کرنے کا اختیار حاصل ہے جنہیں وفاقی پارلیمنٹ کے لئے مخصوص نہیں کیا گیا۔
یونائیٹڈ مالیز نیشنل آرگنائزیشن (یو ایم این او) ملائیشیا کی سب سے بڑی سیاسی جماعت ہے جس نے چھوٹی چھوٹی سیاسی جماعتوں کے ساتھ مل کر ’’قومی محاذ‘‘ کے نام سے اتحاد بنا رکھا ہے۔ دیگر اہم جماعتوں میں ڈیموکریٹک ایکشن پارٹی، اسلامک پارٹی آف ملائیشیا اور نیشنل جسٹس پارٹی شامل ہیں۔ 
ملائیشی آثارِ قدیمہ کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ چالیس ہزار سال پہلے بھی یہاں انسانی آبادی موجود تھی۔ بہرحال، اس کی ابتدائی تاریخ اسرار کے دھندلکوں میں چھپی ہوئی ہے۔ کوئی دستاویزی یا تاریخی ثبوت ایسا نہیں جو اس پر خاطرخواہ روشنی ڈال سکے۔ تاہم، اتنا کہا جا سکتا ہے کہ اس خطے کے لوگوں نے پہلے پہل چین کے ساتھ تجارتی تعلقات استوار کئے۔ اس کے بعد ہندوستان سے آنے والے سوداگروں نے یہاں ہندومت کے اثرات پہنچائے جن سے یہاں کے باشندوں اور حکمرانوں کی رسوم و رواج متاثر ہوئے۔ مغربی ملائیشیا، جسے جزیرہ نما ملائیشیا بھی کہا جاتا ہے، سیاسی طور پر کسی ایک حکومت کے تلے متحد ہونے کے بجائے، چھوٹی چھوٹی سلطنتوں اور سرداریوں میں بٹا ہوا تھا اور آس پاس کے دیگر جزائر بھی کم و بیش ایسی ہی سیاسی صورتِ حال کے شکار تھے۔
1400 عیسوی کے لگ بھگ، سماٹرا کے ایک شہزادے پرمیسورا نے ملاکا کی سلطنت کی بنیاد رکھی۔ اس سلطنت کا محل وقوع اس مقام پر تھا جہاں آج ملائیشیا کی مشہور بندرگاہ اور ساحلی شہر ملاکا واقع ہیں۔ ہندوستان سے آنے والے سوداگر، جو پہلے ہندو مت کے اثرات لائے تھے، اب اسلام کے اثرات لانے کا آغاز کر چکے تھے اور کچھ ہی عرصے میں پرمیسورا نے بھی اسلام قبول کر لیا۔ ملاکا سے اسلام پورے ملائیشیائی خطے میں پھیل گیا۔ اس سلطنت کی خوشحالی اور وسعت میں روزبروز اضافہ ہوتا رہا اور خطے کے جزائر اس کے زیر اثر آتے رہے۔ بہرحال، خوشحالی اور کامرانی کا یہ دور زیادہ عرصے تک جاری نہ رہ سکا اور 1511ء میں پرتگالی حملہ آور افانسو دی البوکرکی نے اسے فتح کر لیا۔
ملاکا کی پرتگالی سلطنت کو اطمینان سے بیٹھنا نصیب نہ ہو سکا اور آس پاس کی دیگر ریاستوں سے اس کی لڑائیاں مسلسل جاری رہیں۔ 1641ء میں یہ علاقہ ولندیزیوں کے ہتھے چڑھ گیا جو اس وقت تک خطے کی بڑی تجارتی قوت کے طور پر پرتگالیوں کی جگہ لے چکے تھے۔ اپنے پیشروؤں کی طرح ولندیزیوں کو بھی ہمسایہ ریاستوں سے جنگ و جدل کا سامنا رہا اور اپنے عہد حکومت میں وہ مسلسل مصروفِ پیکار رہے۔
اٹھارہویں صدی میں برطانوی اس علاقے میں سرگرم ہونا شروع ہوئے۔ اس کی ایک وجہ تو یہ تھی کہ انہیں بھی تجارت کے لئے نئے مقامات کی تلاش تھی، دوسری اور بڑی وجہ یہ ٹھہری کہ وہ بحر ہند میں فرانسیسیوں کی بڑھتی ہوئی قوت کے آگے بند باندھنا چاہتے تھے۔ جزیرہ نما مالے کی سلطنت کیدا کا سلطان، جو سیامی بادشاہوں کے خلاف اعانت حاصل کرنے کا خواہاں تھا، ان کی مدد پر آمادہ ہوا اور اس نے 1786ء میں پینانگ کا جزیرہ ایسٹ انڈیا کمپنی کو پٹے پر دے دیا۔ کمپنی کے ایک اور عہدیدار، سر تھامس سٹامفورڈ ریفلز نے 1819ء میں ہانگ کانگ کی بنیاد رکھی۔ 1824ء میں انگلستان اور ولندیز کے درمیان طے پانے والے معاہدے کے مطابق، برطانیہ نے ملاکا کی سلطنت پر اپنا حق تسلیم کرا لیا اور بدلے میں سماٹرا اور نزدیک کے چھوٹے چھوٹے جزائر ولندیزیوں کے حوالے کر دیئے۔ یوں سنگاپور، پینانگ اور ملاکا برطانوی تسلط میں آ گئے۔
انیسویں صدی کے وسط میں جزیرہ نما مالے میں ٹن کی کان کنی کے کام کو بہت فروغ حاصل ہوا۔ چین کے باشندے اپنے گھروں کو چھوڑ چھاڑ کر ہجرت کر کے یہاں آ گئے اور کانوں میں کام کرنے لگے۔ تجارت بڑھی تو ملکیت کا احساس بھی بڑھا، اور مالے کے حکمرانوں اور چینی باشندوں کے درمیان زمین کی ملکیت کے جھگڑے شروع ہو گئے۔ برطانویوں یہ حال دیکھا تو انہیں اندیشہ ہوا کہ کہیں یہ جھگڑے تجارت کا ستیاناس نہ کر دی لہٰذا مقامی حکمرانوں کے ذریعے بالواسطہ طور پر کام کرتے ہوئے انہوں نے جزیرہ نما کی ریاستوں کا کنٹرول بھی اپنے ہاتھ میں لے لیا۔ مقامی حکمرانوں کے آپس میں جھگڑے چلتے ہی رہتے تھے۔ برطانیہ نے ان جھگڑوں کا فائدہ اٹھایا اور ڈپلومیسی کے ہتھیاروں کا سہارا لے کر ان حکمرانوں کو قائل کر لیا کہ وہ اپنی اپنی ریاستوں میں برطانیہ کے ’’ریذیڈنٹس‘‘ یا ’’مشیران‘‘ کو جگہ دے دیں۔ یہ ریذیڈنٹ اور مشیر آہستہ آہستہ پالیسی سازی کے عمل پر قابض ہو گئے اور دوسری جنگ عظیم کے آغاز تک اس پورے خطے میں برطانوی کنٹرول مستحکم ہو گیا۔ اب یہاں دو قسم کی ریاستیں موجود تھیں۔ وفاقی اور غیر وفاقی۔ غیر وفاقی وہ تھیں جن میں برطانیہ کا کنٹرول قدرے ڈھیلا تھا اور وفاقی وہ جو ہر اعتبار سے اپنے یورپی آقا کی دست نگر تھیں۔ اس نظامِ حکومت میں مقتدرِ اعلیٰ کی حیثیت برطانوی ہائی کمشنر کو حاصل ہوتی تھی۔
بورنیو میں واقع موجودہ ملائیشیائی خطہ انیسویں صدی تک برونائی کی طاقتور مسلم ریاست کے قبضے میں رہا۔ تاہم 1841ء میں ، بغاوتوں کو دبانے میں مدد کرنے کے انعام کے طور پر، برونائی کے سلطان نے ایک برطانوی مہم جو، سر جیمز بروک کو جاگیر اور ’’ساراواک کا راجہ‘‘ کا خطاب عطا کیا۔ قدم رکھنے کی جگہ ملی تو لیٹنے کی جگہ اپنے آپ بننا شروع ہو گئی۔ بروک اور اس کے جانشینوں نے اس جاگیر کو وسیع کیا۔ مشرق میں بھی برونائی اور سولو کے سلاطین نے یورپیوں کو جاگیریں عطا کیں۔ 1882ء میں برٹش نارتھ بورنیو (چارٹرڈ) کمپنی نے یورپیوں کی ملکیتی تمام زمین کو خرید لیا اور اس خطے کو شمالی برطانوی بورنیو کا نام دیا۔ 1888ء میں ساراواک اور شمالی برطانوی بورنیو کو سلطنت برطانیہ کے ممالک محروسہ کی حیثیت دے دی گئی، اور پورا خطہ ایک طرح کی برطانوی نو آبادی کی شکل اختیار کر گیا۔ اگر برطانوی اسے نو آبادی کہنے کے بجائے علاقۂ محروسہ کہتے تھے تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ نام بدلنے سے حقیقت نہیں بدل سکتی۔ ملائیشیا کے سابق وزیر اعظم ڈاکٹر مہاتیر محمد اپنی کتاب ’’ایشیاء کا مقدمہ‘‘ میں لکھتے ہیں :
’’ہمیں اپنے داخلی معاملات خود چلانے کی کسی حد تک آزادی تھی جبکہ ہمارے خارجی اور فوجی معاملات حکومت برطانیہ کے ہاتھ میں تھے۔ برطانویوں کا رویہ زیادہ آمرانہ نہ تھا حالانکہ اگر وہ چاہتے تو ہمیں شروع سے ہی نو آبادی قرار دے سکتے تھے لیکن انہوں نے ہمارے لئے ممالک محروسہ کی حیثیت منتخب کی۔ بے شک وہ داخلی اور خارجی، ہر دو امور پر قابض تھے لیکن پھر بھی وہ باقی دنیا کو یہ تاثر دینے میں کامیاب رہے تھے کہ ملایا کے رہنے والے آزاد اور با اختیار ہیں۔ ملایا کے سلطانوں کو برطانوی حکومت ملایا کے ’’حکمران‘‘ قرار دیتی تھی، حالانکہ انہیں کسی بھی سطح پر حکومت کرنے کا اختیار حاصل نہ تھا۔ حکومت برطانیہ نے ملایا میں اپنا کوئی گورنر بھی مقرر نہیں کیا تھا۔ حکومتی امور چلانے کے لئے ایک افسر کا عہدہ تھا جسے ’’برطانوی مشیر‘‘ کہا جاتا تھا۔ یہ اور بات تھی کہ اس ’’مشیر‘‘ کی بات ہی اصل قانون تھی۔ برطانوی اس نوآبادیاتی نظام کو بڑی چالاکی سے چلا رہے تھے۔ ہمیشہ ان کے قول اور فعل میں تضاد رہتا۔‘‘
ملائیشیا، خصوصاً مغربی ملائیشیا، پر نوآبادیاتی دور نے گہرے اثرات چھوڑے۔ ان اثرات کو ہر حوالے سے مثبت یقیناً نہیں کہا جا سکتا لیکن کلیتاً منفی قرار دینا بھی ممکن نہیں۔ مثال کے طور پر، برطانویوں نے بالواسطہ یا بلاواسطہ تمام ریاستوں میں شجر کاری کا نظام ترتیب دیا اور زراعت کو اقتصادی حیثیت دلائی، موجودہ دور کے نظامِ مواصلات کا ڈھانچہ ترتیب دیا، چینیوں اور ہندوستانیوں کو مزدوروں کی حیثیت سے یہاں بسا کر علاقے کو کثیر الثقافتی حیثیت دی، انگریزی زبان اور برطانوی نظامِ تعلیم کو یہاں متعارف کرایا اور جدید سیاسی اداروں کی بنیاد رکھی۔ جس کی تصدیق مہاتیر محمد بھی ان الفاظ میں کرتے ہیں کہ ’’ہمیں ان (برطانویوں ) سے ایک مربوط انتظامی نظام اور معاشی ڈھانچہ ملا۔‘‘
صورتِ حالات دوسری جنگ عظیم تک یونہی چلتی رہی۔ جیسا کہ پہلے ذکر ہوا، ایک عالم کے تباہی و بربادی کا موجب بننے والی اس آفت نے اپنے پیچھے جو اثرات چھوڑے ان کا ایک مثبت پہلو، کئی ممالک کی نوآبادیاتی تسلط سے آزادی بھی تھا۔
دوسری جنگ عظیم میں 1941ء اور 1942ء میں جاپان نے ملایا، ساراواک اور شمالی بورنیو پر قبضہ کر لیا اور 1945ء میں جنگ کے خاتمے تک یہ علاقے جاپان کے زیر تسلط رہے۔ جنگ کے اختتام سے کچھ پہلے جاپانیوں نے ان علاقوں کو تھائی لینڈ کے حوالے کر دیا۔ بقول مہاتیر محمد ’’جنگ کے بعد ملائیشیا کے عوام کی خواہش تھی کہ حکومت برطانیہ دوبارہ لوٹ آئے اور پھر جب وہ لوگ دوبارہ لوٹ کر آئے تو انہوں نے ملائیشیا کو مکمل طور پر اپنی نو آبادی قرار دے دیا جس سے لوگوں کو شدید دھچکا لگا۔ یہی بات بعد میں حکومت برطانیہ کی بہت بڑی غلطی ثابت ہوئی۔ اگر وہ لوگ اپنے پرانے ’’محروسہ‘‘ کے کردار کو ہی منتخب کرتے تو یقیناً آج ملائیشیا کی تاریخ مختلف ہوتی۔ جاپانیوں کے کئی سالہ فوجی دورِ حکومت کے بعد اب ہم لوگ نوآبادیاتی نظام کے لئے تیار نہ تھے۔‘‘
نتیجہ یہ کہ ان علاقوں میں بھی آزادی کی تحاریک شروع ہو گئیں البتہ نسلی رقابتوں کی بدولت ان تحاریک میں بہت سی پیچیدگیاں پیدا ہوئیں۔ ماضی میں برطانوی کان کنی، ربر اور دیگر صنعتوں کے لئے افرادی قوت فراہم کرنے کی غرض سے ان علاقوں میں چینیوں اور ہندوستانیوں کی آبادکاری کی حوصلہ افزائی کرتے رہے تھے، اور 1940ء کی دہائی میں صورتِ حال یہ تھی کہ مالے ریاستوں میں مالے نسل افراد کے تقریباً 50 فیصد تھے، 37 فیصد چینی النسل تھے اور 12 فیصد ہندوستانی تھے۔ ان گروہوں میں نسلی کے علاوہ مذہبی اور لسانی بنیادوں پر بھی وسیع بُعد پایا جاتا تھا۔ آزادی کی منزل سامنے نظر آنے لگی تو مالے افراد کو تشویش لاحق ہوئی کہ اقتدارِ سیاسی ان کے بجائے ’’مہاجرین‘‘ کے ہتھے نہ چڑھ جائے۔ اسی عرصہ میں ’’ملائین یونین‘‘ کے نام سے ایک سکیم پیش کی گئی جس میں زیادہ تر مہاجروں کو شہریت اور رائے شماری کے حقوق دینے اور مالے حکمرانوں کے اختیارات گھٹانے کی تجاویز شامل تھیں۔ مالے افراد نے یک زبان ہو کر اس سکیم کے خلاف احتجاج کیا اور اسے مسترد کرانے میں کامیاب رہے۔ ایسی دیگر سکیموں سے بچنے کے لئے1948ء میں جزیرہ نما کی ریاستوں نے مل کر ’’وفاقِ ملایا‘‘ کے نام سے ایک فیڈریشن تشکیل دی جس میں سلطانوں کے اختیارات برقرار رکھے گئے۔
1950ء کی دہائی میں الائنس کے نام سے ایک سیاسی جماعت ابھری جس نے تیزی سے عوامی حلقوں میں مقبولیت حاصل کر لی۔ اگرچہ اس جماعت کی قیادت کثیر النسل تھی لیکن اس میں تین جزوی جماعتوں ، یونائیٹڈ ملایاز نیشنل آرگنائزیشن، ملائین چائینز ایسوسی ایشن اور ملائین انڈین کانگریس، کے ذریعے نسلی گروہوں کو علیحدہ علیحدہ نمائندگی بھی فراہم کی گئی تھی۔ 1955ء میں منعقد ہونے والے پہلے قومی انتخابات میں الائنس نے غالب اکثریت سے کامیابی حاصل کی۔ جماعت کے قائدین نے برطانوی نمائندگان کے ساتھ مل کر ایک آئین تیار کیا جس میں ایک وفاقی ریاست، دو ایوانی پارلیمنٹ جس کا ایک ایوان منتخب شدہ اور ایک تقرر شدہ ہو، غیر مالے افراد کی بڑی تعداد کے لئے شہریت، اور مالے نسل کے افراد کے لئے خصوصی مراعات فراہم کی گئی تھیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ یہ گروہ معاشی طور پر کم آسودہ سمجھا جاتا تھا۔ آئین کے تحت سول سروس کی ملازمتوں ، وظائف اور لائسنسوں کی فراہمی میں ان افراد کو ترجیح دی جاتی تھی۔ 1957ء میں وفاقِ ملایا (جو موجودہ مغربی ملائیشیا پر مشتمل ہے) آزاد ہو گیا اور اسی سال اسے اقوامِ متحدہ کی رکنیت بھی مل گئی۔
اسی دورانئے میں حکومت کو کمیونسٹ بغاوت کا مقابلہ بھی کرنا پڑا۔ یہ بغاوت 1948ء سے شروع ہوئی۔ اس کے ارکان زیادہ تر غریب طبقے سے تعلق رکھنے والے چینی تھے جو برطانوی نوآبادیاتی حکومت کے خلاف تھے۔ 1957ء میں وفاقِ ملایا کی آزادی کے بعد بھی انہوں نے کمیونسٹ حکومت کے قیام کے لئے جنگ جاری رکھی۔ یہ چپقلش 1960ء میں 11 ہزار افراد کی جانوں کا نذرانہ لے کر ختم ہوئی۔ اس کے خاتمے کے بعد بھی کمیونسٹوں نے ہتھیار نہیں ڈالے اور مسلح جدوجہد جاری رکھی جو بالآخر 1989ء میں ختم ہوئی۔
تنکو عبدالرحمن کو وفاقِ ملایا کے پہلے وزیر اعظم کے طور پر منتخب کیا گیا تھا۔ 1961ء میں انہوں نے وفاقِ ملایا، سنگاپور، ساراواک، شمالی بورنیو (جسے بعد ازاں سباہ کا نام دیا گیا) اور برونائی کا مشترکہ وفاق بنانے کی تجویز پیش کی۔ برونائی کے علاوہ تمام ممالک 1963ء میں اس وفاق میں شامل ہو گئے البتہ سنگاپور 1965ء میں معیشتی اور سیاسی تنازعات کی بدولت وفاق سے علیحدہ ہو گیا۔
آزادی کے بعد سے نسلی تنازعات ملائیشیا کی سیاست میں ہمیشہ سے نمایاں رہے ہیں۔ 1960ء کی دہائی میں ان کا محور سیاست میں مالے نسل اور معیشت میں چینی اور ہندوستانی نسل کے افراد کا غلبہ تھا۔ 1969ء کے عام انتخابات میں الائنس کو مالے اور غیر مالے، دونوں نسلوں سے تعلق رکھنے والی جماعتوں کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔ انتخابات کے فوراً بعد کوالالمپور میں فسادات پھوٹ پڑے جن کی زد میں آ کر کم از کم 200 افراد ہلاک ہوئے۔ حکومت نے ملک میں ہنگامی حالات کا نفاذ کر کے نسلی حوالے سے حساس ایشوز کو اٹھانے پر پابندیاں لگا دیں اور 1971ء تک پارلیمنٹ کا آئندہ اجلاس ممکن نہ ہو سکا۔
ان انتخابات میں وزارتِ عظمیٰ تنکو عبدالرحمن کے قبضے سے نکل کر تن عبدالرزاق کے پاس چلی گئی تھی۔ تن عبدالرزاق نے ملائیشیا میں غربت کے خاتمے کے لئے ’’نیو اکنامک پالیسی (این ای پی)‘‘ کے نام سے ایک نئے پروگرام کا اعلان کیا۔ اس پروگرام کا خصوصی ہدف ایسے پیشوں میں مالے افراد کو جگہ دلا کر ان کی معاشی حالت کو بہتر بنانا تھا جہاں اس سے پہلے غیر مالے افراد کی اکثریت تھی۔ اس نے الائنس کو بھی وسیع کر کے ایک نئی تنظیم میں ڈھال دیا جس کا نامی قومی محاذ (National Front) رکھا گیا۔ اس مرتبہ اس میں حزبِ اختلاف کی چند جماعتیں بھی شامل کر لی گئی تھیں۔ 1974ء اور 1978ء کے انتخابات میں بھی قومی محاذ کو فیصلہ کن اکثریت سے کامیابی حاصل ہوئی۔ 1978ء کے انتخابات کے بعد نئے وزیر اعظم کی حیثیت میں داتوک حسین اون سامنے آئے۔ سیاسی منظر نامے پر اب بھی نسل پرستی کا راج تھا اور حزبِ اختلاف کے طور پر دو نئی جماعتیں ، اسلامک پارٹی آف ملائیشیا اور ڈیموکریٹک ایکشن پارٹی، قومی محاذ کے سامنے آ چکی تھیں۔ 1981ء میں حسین اون کی ریٹائرمنٹ کے بعد، ان کے نائب مہاتیر محمد نے ان کی جگہ سنبھالی اور آنے والے 22 سالوں تک ملائیشیا انہی کی زیر قیادت ترقی کے مراحل طے کرتا رہا۔
ملائیشیا آج جس مقام پر ہے، اسے یہاں تک پہنچانے میں مہاتیر محمد کی قیادت نے کلیدی کردار ادا کیا۔ مہاتیر محمد خود لکھتے ہیں:
’’اپنے نائب وزیر اعظم ہونے کے زمانے میں بھی میرے پاس ملک کی فلاح و بہبود کے لئے بہت سے منصوبے تھے، مگر میں ان میں سے بہت سی باتوں پر کسی اور کا نائب ہونے کی حیثیت سے عمل درآمد نہ کرا پاتا تھا۔ اسی لئے 1981ء میں وزیر اعظم بننے کے بعد میرے ذہن میں اولاً یہی خیال جاگزیں ہوا کہ جو کچھ میں سوچا کرتا تھا، اب اسے عملی جامہ پہنانے کا بھرپور موقع میسر آئے گا۔
’’وزیر اعظم بننے کے بعد میں نے پہلا حکم یہی دیا کہ آزادی سے اب تک کئے جانے والے تمام کاموں کا جائزہ لیا جائے۔ اس سلسلے میں تمام تر سیاسی اور دیگر حکومتی امور کے ساتھ ساتھ بیوروکریسی کی کارکردگی کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا اور جہاں مناسب تھا، وہاں بنیادی تبدیلیاں کی گئیں۔ تمام حکومتی ملازمین کے حقوق و فرائض کے چارٹ بنائے گئے جن میں اس بات کی وضاحت کی گئی تھی کہ کسے کیا کرنا ہے اور کیسے کرنا ہے۔ ہم نے انتظامی امور کی نئے سرے سے تنظیم کی اور سخت ہدایات جاری کی گئیں کہ تمام حکومتی ملازمین ملک و قوم کی فلاح و بہبود کے لئے اپنے فرائض کی انجام دہی میں کوئی کوتاہی نہ کریں۔ ذاتی طور پر میری تمام تر توجہ ملائیشیا میں ایک ایسے معاشرے کے قیام پر مرکوز تھی جس میں بسنے والی مختلف قوموں کے درمیان پائے جانے والے معاشرتی فرق کو کم کر کے اسے مستحکم بنیادوں پر استوار کیا جا سکے۔‘‘
ملائیشیا کی معاشی ترقی کا جائزہ لینے سے پہلے اس کی اب تک کی سیاسی تاریخ کے واقعات پر ایک طائرانہ نگاہ ڈالتے چلیں۔ 
1983ء میں مہاتیر حکومت اور موروثی سلاطین کے مابین آئینی نکات پر اختلافِ رائے پیدا ہو گیا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ سلطان کا مخصوص قانون سازی کو ویٹو کر دینے کا حق محدود کر دیا گیا۔ 1987ء میں چینی اور مالے گروہوں کے درمیان کشیدگی کی فضا پیدا ہوئی تو حکومت نے فوراً حزبِ اختلاف کے قائدین کو گرفتار کر لیا اور چار اخبارات کی اشاعت معطل کر دی۔ 1993ء اور 1994ء میں کی جانے والی آئینی ترامیم نے سربراہِ مملکت کے اختیارات مزید محدود کر دیئے۔ موروثی سلاطین سے یہ اختیار واپس لے لیا گیا کہ وہ خود کو یا اپنے افرادِ خانہ کو کسی جرم کے ارتکاب سے بری الذمہ قرار دے سکیں۔ اسی طرح سربراہِ مملکت کا قانون سازی کے عمل کو موخر کرنے کا اختیار بھی ختم کر دیا گیا۔ مہاتیر محمد کی قیادت میں قومی محاذ نے 1982ئ، 1986ء اور 1990ء کے انتخابات میں کامیابی حاصل کی اور 1995ء کے انتخابات میں پہلے سے کہیں زیادہ اکثریت ان کے حصے میں آئی۔ گویا جماعت کی مقبولیت میں روز بروز اضافہ ہو رہا تھا۔
1991ء میں مہاتیر نے ’’ویژن 2020ئ‘‘ کے نام سے ایک پروگرام کا آغاز کیا جس کا ہدف 2020ء تک ملائیشیا کو ترقی یافتہ صنعتی ممالک کی صف میں شامل کرانا تھا۔ ایک عرصہ تک یہ پروگرام کامیابی سے اپنا سفر طے کرتا رہا لیکن 1997ء اور 1998ء میں آنے والے کرنسی کے بحران نے یہ سلسلہ یک لخت معطل کر دیا۔ مہاتیر حکومت نے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کے حوالے سے شروع کئے گئے کئی پراجیکٹس پر کام کی رفتار کم یا بالکل ختم کر دی اور ابتدائی مراحل میں موجود بہت سے منصوبے کھٹائی میں جا پڑے۔
اگرچہ ملائیشیا پر کرنسی کے بحران کے اتنے برے اثرات مرتب نہیں ہوئے، جتنا کہ بعض دوسرے ایشیائی ممالک میں دیکھنے میں آئے لیکن عام رائے یہی ہے کہ ممکنہ طور پر ملائیشیا کو ترقی یافتہ قوم کا درجہ حاصل کرنے کا وقت 2020ء سے کچھ آگے لے جانا پڑے گا۔
اس معاشی بحران کے بعد ملائیشیا کے ممکنہ ردِ عمل کے ایشو پر مہاتیر اور ان کے وزیر مالیات انور ابراہیم کے درمیان شدید اختلافات پیدا ہو گئے۔ اس سے پہلے سمجھا جاتا کہ انور ابراہیم ہی مہاتیر کے بعد ملائیشیا کی وزارتِ عظمیٰ سنبھالیں گے لیکن ان اختلافات کے نتیجے میں ستمبر 1998ء میں مہاتیر نے انور ابراہیم کو برطرف کر دیا۔ جواباً انور ابراہیم کے حامیوں نے حکومت کے خلاف پروپیگنڈا مہم کا آغاز کرتے ہوئے ان پر کرپشن اور آمریت کے الزامات اور مظاہروں کا سلسلہ شروع کر دیا، اور ملک کے طول و عرض میں ضروری اصلاحات کے حق میں شروع ہونے والی تحریک آہستہ آہستہ زور پکڑنے لگی۔
ستمبر کے اواخر میں انور ابراہیم کو اختیارات کے غلط استعمال اور غیر اخلاقی رویئے کے الزامات کے تحت گرفتار کر لیا گیا۔ انور ابراہیم نے ان الزامات کی صحت تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے انہیں اپنے خلاف ایک سیاسی سازش کا حصہ قرار دیا۔ 1999ء اور 2000ء میں چلنے والے دو الگ الگ مقدمات میں انور ابراہیم پر اختیارات کے ناجائز استعمال اور ارتکابِ لواطت کے الزامات ثابت کر کے مجموعی طور پر 15 سال کی سزائے قید سنا دی گئی۔ 
انور ابراہیم کیس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی متنازعہ صورتِ حال کے باوجود نومبر 1999ء میں ہونے والے قانون ساز اسمبلیوں کے انتخابات میں قومی محاذ کو فیصلہ کن اکثریت سے کامیابی حاصل ہوئی اور مہاتیر محمد وزیر اعظم کی حیثیت سے اپنے عہدے پر برقرار رہے۔ تاہم جون 2002ء میں انہوں نے قائد جماعت کی حیثیت سے اپنے عہدے سے سبکدوش ہونے کا اعلان کر دیا۔ ساتھیوں کی درخواست پر انہوں نے اکتوبر 2003ء تک اس عہدے پر فائز رہنا قبول کیا تاکہ ان کے جانشین، وزیر داخلہ عبداللہ بن احمد بداوی کو فرائض منصبی سنبھالنے کے لئے مناسب وقفہ میسر آ سکے۔ 31 اکتوبر 2003ء کو مہاتیر سرکاری طور پر اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئے اور بداوی ملائیشیا کے نئے وزیر اعظم کی حیثیت سے منظر عام پر آ گئے۔
بہ حیثیت قائد بداوی کو اپنا قد کاٹھ منوانے میں زیادہ دیر نہیں لگی۔ مارچ 2004ء میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں ان کے زیر قیادت قومی محاذ نے ایک بار پھر بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی۔ دار النمائندگان کی 90 فیصد نشستوں پر ان کے امیدوار جیتے اور اس کے علاوہ ملائیشیا کی 13 میں سے 12 قانون ساز اسمبلیوں میں بھی اکثریت ان کے ہاتھ میں آ گئی۔ 
اس مختصر سے جائزے کے بعد یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ آزادی کے بعد سے ملائیشیا میں جمہوریت کا جو سفر شروع ہوا تو معدودے چند مواقع کے علاوہ اس میں کہیں کوئی بڑی رخنہ اندازی واقع نہیں ہوئی۔ اس نتیجے پر پہنچنا مشکل نہیں کہ ملائیشیا کے موجودہ معاشی استحکام میں اس کے سیاسی استحکام کا بہت بڑا ہاتھ ہے۔
ملائیشیا کے معاشی استحکام کا کچھ اندازہ مندرجہ ذیل اعداد و شمار سے لگایا جا سکتا ہے۔
2003ء میں ملائیشیا کا جی ڈی پی 103.7 ارب ڈالر رہا اور سالانہ آمدنی کی فی کس شرح 4190 ڈالر تک پہنچ گئی۔ جی ڈی پی کا 9.7 فیصد زراعت، جنگلات اور ماہی گیری کے شعبے سے حاصل ہوا۔ 48.5 فیصد صنعت سے اور 41.8 فیصد سروسز سیکٹر سے آیا۔ یہاں کی افرادی قوت ایک کروڑ 7 لاکھ 41 ہزار افراد پر مشتمل ہے جن کا 18 فیصد زراعت، جنگلات اور ماہی گیری، 32 فیصد صنعت اور 50 فیصد سروسز کے شعبے میں کام کرتا ہے۔ بے روزگاری کی شرح 3.8 فیصد ہے جو کہ امریکہ (5.8 فیصد)، برطانیہ (5.1 فیصد) اور جاپان (5.4 فیصد) سے بھی کم ہے۔ 2003ء کے بجٹ میں کل ریونیو 24.6 ارب ڈالر سے زائد رہا جبکہ اخراجات کا تخمینہ 20.8 ارب ڈالر لگایا گیا۔ ملائیشیا کا کرنسی یونٹ رنگٹ (ringgit) ہے۔ 3.80 رنگٹ ایک امریکی ڈالر کے برابر ہوتے ہیں۔ 
ایک وقت میں ملائیشیا کی معیشت کا انحصار برآمد کئے جانے والے خام مال از قسم پٹرولیم، قدرتی ربر، ٹن، پام آئل اور عمارتی لکڑی پر تھا۔ حصولِ آزادی کے بعد یہاں صنعت کے شعبے پر خصوصی توجہ دی گئی جس کی بدولت 1970ء کی دہائی سے وسط لے کر 1990ء کی دہائی کے وسط تک ملائیشیا کی معیشت دنیا بھر میں تیز رفتار ترین گروتھ ریٹ رکھنے والے معیشتوں کی فہرست میں شامل رہی۔ 1980ء کی دہائی کے اواخر میں صنعت نے سب سے زیادہ جی ڈی پی فراہم کرنے والے شعبے کی حیثیت حاصل کر لی۔ اس سے پہلے یہ مقام زراعت کے پاس تھا۔ اس کے علاوہ سروسز سیکٹر خصوصاً شعبہ سیاحت میں بھی نمایاں ترقی دیکھنے میں آئی۔
زرعی اعتبار سے یہاں کی اہم پیداواروں میں چاول، پام آئل، ربر، ککاؤ، مرچ، ناریل، انناس اور عمارتی لکڑی شامل ہیں۔ اہم معدنیات میں پٹرولیم، قدرتی گیس، باکسائٹ، خام لوہا، تانبا اور ٹن کو شمار کیا جا سکتا ہے۔ الیکٹرانک مصنوعات، چوبی مصنوعات، ریفائن کیا ہوا پٹرولیم اور گاڑیاں اہم صنعتی پیداواریں ہیں۔ اہم برآمدات میں برقی سامان، پام آئل، کیمیاوی مرکبات، پٹرولیم، مشینری، لکڑی اور لکڑی کی مصنوعات اور پارچہ جات کا شمار ہوتا ہے اور اہم درآمدات میں برقی اور الیکٹرانک مصنوعات، مشینری، آلاتِ نقل و حمل، کیمیاوی مرکبات، دھاتی مصنوعات، پٹرولیم اور لوہے اور فولاد کی مصنوعات شامل ہیں۔ 
1990ء سے 2003ء تک کے عرصے میں ملائیشیا کی معیشت کا گروتھ ریٹ اوسطاً 5.9 فیصد رہا حالانکہ اسی اثناء میں اسے 1997ء کے کرنسی کے بحران کا دھچکا بھی برداشت کرنا پڑا۔ ’’مشرقی ایشیاء کا معجزہ‘‘ ممکن بنانے میں ملائیشیا کا کردار یقیناً قابل ستائش ہے۔ اب بھی اس قوم کی رفتار کو دیکھتے ہوئے بڑی سہولت سے پیش گوئی کی جا سکتی ہے کہ آنے والی دو دہائیوں کا اختتام ملائیشیا کو دنیا کی ترقی یافتہ اقوام کی فہرست میں ایک ممتاز مقام پر فائز دیکھے گا۔ مہاتیر محمد ’’ایشیاء کا مقدمہ‘‘ کی اختتامی سطور میں اسی امید کا اظہار کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
’’اکیسویں صدی کسی ایک براعظم کی صدی نہیں ہوگی۔ اکیسویں صدی عالمی صدی ہوگی… ایشیا میں انسانی ترقی کی رفتار کو مدہم کیا جا سکتا ہے لیکن اسے ہمیشہ روکا نہیں جا سکتا۔ یورپ کی جانب سے دنیا کو اپنے زیر تسلط کرنے کی کوششیں ناکام رہیں گی۔ اسی طرح اگر کوئی اور نسل یا براعظم ایسی کوشش کرے گا تو وہ بھی ناکام رہے گا۔ یقیناً ایشیائی اقوام دنیا پر قابض نہیں ہوں گی لیکن ایشیائی عوام عالمی صدی میں اپنا جائز مقام اور حصہ ضرور حاصل کریں گے۔‘‘

بھارت

پاکستان میں جب جمہوریت کے تسلسل اور اس حوالے سے معاشی کامرانی اور استحکام کی بات ہوتی ہے، تو بہت سے لوگ، ایک پسندیدہ شغل کے طور پر بھارت کی مثال ضرور دہراتے ہیں۔ پاکستان اور بھارت میں جمہوری روایات کے تسلسل کا موازنہ کیا جاتا ہے اور بتایا جاتا ہے کہ ہمارے ساتھ آزادی حاصل کرنے والے اس ملک میں آج تک ایک دن کے لئے بھی مارشل لاء نہیں لگا اور وہاں جمہوریت کا بول بولا۔ معاشی حوالے سے بھارت کی حالیہ ترقی (چاہے اس کی شرح کتنی ہی ہے) کو بھی اب پاکستانی نظام کے خلاف ایک دلیل کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے، اور یوں پاکستان کے مقابلے میں بھارت کو ایک بہتر جمہوریت اور زیادہ مضبوط معیشت کا حامل ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
ایسی مثال دینے والے لوگ اکثر یہ حقیقت فراموش کر دیتے ہیں کہ بھارت جیسا ملک، جسے دنیا کی سب سے بڑی سیکولر جمہوریت ہونے کا اعزاز حاصل ہے، جس کی سرزمین معدنی وسائل سے مالامال ہے، جس کی افرادی قوت کا حجم دنیا بھر میں دوسرے نمبر پر ہے اور جو رقبے کے لحاظ سے دنیا کا ساتواں بڑا ملک ہے، ابھی تک ترقی کی اس منزل پر کیوں نہیں پہنچ سکا جہاں آج اس سے کہیں بعد آزاد ہونے والا ملائیشیا، انقلاب کے خونریز تھپیڑوں کو برداشت کر کے اپنے پیروں پر کھڑا ہونے والا چین، اور دوسری جنگ عظیم کا بھگتان دینے اور جوہری تباہی جیسی خوفناک آفت برداشت کرنے والا جاپان کھڑے نظر آتے ہیں۔ قریب پہنچنا تو دور کی بات، بھارت تو ابھی اس مرحلے سے بھی کالے کوسوں دور کھڑا نظر آئے گا جہاں پہنچنے والے ملک کے بارے میں ہم پیش گوئی کرتے ہیں کہ آئندہ چند دہائیوں میں اس کا نام بھی ترقی یافتہ ممالک کی فہرست میں شامل ہو جائے گا۔ پاکستان کے ساتھ اس کا موازنہ کرنے والے یہ بھول جاتے ہیں کہ معاشی حوالے سے آج سے کچھ عرصہ قبل بھارت پاکستان سے بھی پیچھے تھا اور اگر آج وہ کچھ آگے نکل گیا ہے تو اس میں پاکستان کا کوئی قصور نہیں ، یہ حالات کا پھیر ہے، تھوڑے عرصے بعد ختم ہو جائے گا اور پاکستان ایک بار پھر سے برتری حاصل کر لے گا۔
ویسے بھی بھارت کی معاشی ترقی کے افسانے، بہت بڑی حد تک افسانوں سے زیادہ اور کچھ حیثیت نہیں رکھتے۔ اس کا کچھ اندازہ اس حقیقت سے لگایا جا سکتا ہے کہ ممبئی جیسا شہر جسے بھارت کے اقتصادی ہیڈ کوارٹر کی حیثیت حاصل ہے، جہاں ٹاٹا، برلا اور امبانی جیسی صنعتوں کے صدر مقام موجود ہیں اور جسے بھارت کی معاشی ترقی کا نشان سمجھا جاتا ہے، اس کی سوا کروڑ سے زائد آبادی کا 60 فیصد حصہ جھونپڑ پٹیوں (جھونپڑیوں کی بستیوں ) کا رہائشی ہے اور یہ بستیاں پورے ممبئی میں پھیلی ہوئی ہیں ، اور یہاں لاکھوں لوگ ایسے ہیں جو اپنی راتیں فٹ پاتھ پر بسر کرتے ہیں۔ ہفت روزہ ٹائم کی 14 مارچ 2005ء کی اشاعت کے مطابق، بھارت میں غریب عوام کی تعداد دنیا بھر میں سب سے زیادہ ہے جبکہ عالمی بینک کی طرف سے 2004ء میں لگائے گئے ایک تخمینے کے مطابق بھارت کے 20 کروڑ باشندوں کی اوسطاً یومیہ آمدن ایک ڈالر سے بھی کم ہے اور 28.60 فیصد افراد خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ تعلیم کا احوال دیکھئے تو معلوم ہوگا کہ ایک ارب سے زائد آبادی کا تقریباً نصف حصہ ابھی تک ناخواندگی کے اندھیروں میں بھٹک رہا ہے جسے روشنی میں لانے کے لئے یقیناً کئی دہائیوں کی مخلصانہ محنت درکار ہوگی۔ بھارت کی معاشی یا سیاسی کامرانی کا راگ الاپنے والوں کے لئے یہ مختصر سے اعداد و شمار یقیناً قابل غور ہونے چاہئیں۔ 
بھارت میں جمہوری روایات کا تسلسل یقیناً قابل تعریف سمجھا جا سکتا ہے لیکن وہاں جمہوریت کا عالم کیا رہا، اس کا اندازہ اس کی سیاسی تاریخ کے ایک مختصر سے جائزے سے لگایا جا سکتا ہے جو آئندہ سطور میں آپ کے سامنے پیش کیا جائے گا لیکن اس سے پہلے چند بنیادی حقائق پر نگاہ ڈال لیجئے۔
بھارت کا سرکاری نام ’’جمہوریہ بھارت‘‘  اور دارالحکومت نئی دہلی ہے۔ اس کا کل رقبہ 31 لاکھ 65 ہزار 596 مربع کلومیٹر ہے اور 2005ء میں لگائے گئے تخمینے کے مطابق آبادی ایک ارب سے زائد ہے۔ آبادی میں اضافے کی شرح 1.40 فیصد سالانہ ہے۔ اس اعتبار سے آنے والے 20 سالوں میں بھارت کی آبادی سوا ارب اور 40 سالوں میں ڈیڑھ ارب سے تجاوز کر جائے گی۔ آبادی کی گنجانیت کے اعتبار سے فی مربع کلومیٹر یہاں 941 افراد آباد ہیں۔ آبادی کا 28 فیصد حصہ شہری علاقوں میں اور بقیہ دیہی علاقوں میں رہائش پذیر ہے۔ آبادی کے اعتبار سے بڑے شہروں میں کولکتہ (آبادی ایک کروڑ 32 لاکھ)، دہلی (آبادی ایک کروڑ 27 لاکھ)، ممبئی (آبادی تقریباً سوا کروڑ)، چنائی (آبادی 64 لاکھ) اور حیدر آباد (آبادی 55 لاکھ) شامل ہیں۔ 
نسلی اعتبار سے بھارت کی آبادی کو دو بڑے گروہوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ انڈو آرین (72 فیصد) اور دراوڑ (25 فیصد)، بقیہ تین فیصد متفرق چھوٹے چھوٹے گروہوں پر مشتمل ہے۔ یہاں کم از کم 24 زبانیں ایسی ہیں جنہیں بولنے والوں کی تعداد دس لاکھ سے زائد ہے۔ اس کے علاوہ اور بھی کئی چھوٹی زبانیں اور بولیاں رائج ہیں۔ سرکاری زبان کی حیثیت ہندی کو حاصل ہے جو 40 فیصد لوگوں کی مادری زبان کا درجہ رکھتی ہے۔ اس کے علاوہ آسامی، بنگالی، گجراتی، کنڑی، کشمیری، کنکنی، ملیالم، منی پوری، مراٹھی، نیپالی، اڑیہ، پنجابی، سنسکرت، سندھی، تامل، تیلگو اور اردو کو بڑی زبانوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ ہندی کے ساتھ انگریزی کو بھی سرکاری زبان کا درجہ حاصل ہے، اور سیاسی اور تجارتی حلقوں میں اسے بڑی اہمیت حاصل ہے۔
مذہب کے حوالے سے یہاں ہندو 80.5 فیصد، مسلمان 13.4 فیصد، عیسائی 2.3 فیصد، سکھ 1.9 فیصد اور بدھ 0.8 فیصد ہیں جبکہ 0.7 فیصد ایسے ہیں جو کسی مذہب سے وابستگی نہیں رکھتے اور 0.4 فیصد کا تعلق چھوٹے چھوٹے مذہبی گروہوں سے ہے۔ 
یہاں زندگی کی اوسط شرح 64.3 سال ہے۔ 2462 افراد کے لئے ایک ڈاکٹر اور 1271 افراد کے لئے ہسپتال کا ایک بستر دستیاب ہوتا ہے۔ شرحِ خواندگی 56.6 فیصد ہے۔ مردوں میں 69.5 فیصد اور خواتین میں 43 فیصد کو پڑھے لکھوں میں شمار کیا جا سکتا ہے۔ 2000ء کے بجٹ میں جی این پی کا 2.9 فیصد تعلیم کے لئے مختص کیا گیا تھا۔ 9 سال تک سکول کی تعلیم حاصل کرنا لازم ہے اور پرائمری کی سطح پر ہر 41 طالب علموں کے لئے ایک معلم دستیاب ہے۔ 
بھارت کی مسلح افواج کی کل تعداد 2003ء کے تخمینے کے مطابق 13 لاکھ 25 ہزار ہے۔ 2003ء کے بجٹ میں جی ڈی پی کا 2.6 فیصد دفاعی اخراجات کے لئے مختص کیا گیا۔
2003ء میں بھارت کا جی ڈی پی 600 ارب ڈالر سے زائد رہا جبکہ سالانہ آمدنی کا اندازہ 560 ڈالر فی کس لگایا گیا۔ جی ڈی پی کا 22.2 فیصد زراعت، جنگلات اور ماہی گیری سے وصول ہوتا ہے۔ 26.6 فیصد صنعت سے اور 51.2 سروسز سیکٹر سے آتا ہے۔ افرادی قوت 47 کروڑ سے زائد نفوس پر مشتمل ہے جن کا 67 فیصد زرعی، 13 فیصد صنعتی اور 20 فیصد سروسز سیکٹر میں کام کرتا ہے۔ 2003ء کے بجٹ کا کل ریونیو 69 ارب ڈالر کے قریب رہا اور اخراجات کا تخمینہ 95 ارب ڈالر سے زائد لگایا گیا۔
زرعی شعبے میں بھارت کی بڑی پیداواروں میں گنا، چاول، گندم، چائے، کپاس، پٹ سن، کافی، مصالحہ جات اور مویشی وغیرہ شامل ہیں۔ یہاں خام لوہے، کوئلے، باکسائٹ، مینگانیز، میکا، ڈولومائٹ، تانبا، پٹرولیم، قدرتی گیس، کرومیم، سیسہ، چونے کا پتھر، چٹانی فاسفیٹ، جست، سونے اور چاندی کے لئے کان کنی کی جاتی ہے۔ صنعتی پیداواروں میں پارچہ جات، لوہا اور فولاد، زرعی مصنوعات، مشینری، آلاتِ نقل و حمل، لوہے سے مبرا دھاتیں ، کھادیں ، ریفائنڈ پٹرولیم، کیمیاوی مادے اور کمپیوٹر سافٹ ویئر شامل ہیں۔ 
بھارت کی بڑی برآمدات میں قیمتی پتھر اور زیورات، انجینئرنگ کی مصنوعات، ملبوسات، کیمیاوی مرکبات اور ادویات، دھاگہ اور پارچہ جات، چمڑا اور چرمی مصنوعات، بحری مصنوعات، خام لوہا، چائے، سبزیاں اور پھل، پٹرولیم کی مصنوعات اور ہاتھ سے بنے ہوئے قالین شامل ہیں جبکہ درآمدات میں پٹرولیم اور پٹرولیم کی مصنوعات، برقی اور غیر برقی مشینری، قیمتی اور نیم قیمتی پتھر، غیر نامیاتی کیمیاوی مادے، لوہا اور فولاد، کھادیں ، بروزہ اور پلاسٹک وغیرہ کو شمار کیا جا سکتا ہے۔
بھارت کے رہنے والوں نے ورثے میں ایک ایسی تہذیب پائی ہے جس کا آغاز ساڑھے چار ہزار سال سے بھی پہلے ہوا تھا۔ ایک ایسی تہذیب جس میں باہر سے آنے والی اقوام اور ثقافتوں کو اپنے اندر جذب کرنے کی خاصیت بدرجہ اتم پائی جاتی ہے۔ یہاں ہزاروں زبانیں بولی جاتی ہیں ، دنیا کے تمام بڑے مذاہب کی نمائندہ اقلیتیں یہاں موجود ہیں اور یہاں کا سماجی ڈھانچہ نہایت پیچیدہ اور متنوع ہے۔ مذہب یہاں ایک اہم کردار ادا کرتا ہے اور مذہبی روایات کی جڑیں بھارتی معاشرے میں بہت گہری اتری ہوئی ہیں۔ آبادی کا غالب حصہ ہندو ہے جس میں پائے جانے والے ذات پات کے سخت گیر نظام نے بھارتی معاشرے کو دنیا کے دیگر معاشروں سے الگ، ایک نئی جہت عطا کر رکھی ہے۔ آزادی کے بعد سے ذات پات کے نظام کی گرفت کچھ ڈھیلی ضرور پڑی ہے لیکن ابھی تک ختم نہیں ہوئی اور شاید موجودہ صدی میں بھی ایسا ممکن نہ ہو سکے۔
بھارت ایک وفاقی جمہوریہ ہے۔ صدر کو سربراہِ مملکت کی حیثیت حاصل ہوتی ہے اور سربراہِ حکومت کے فرائض وزیر اعظم نبھاتا ہے۔ مقننہ دو ایوانوں پر مشتمل ہے۔ لوک سبھا (دار العوام) جس میں 545 ارکان ہوتے ہیں اور راجیہ سبھا (ریاستوں کی کونسل) جس کے 245 ارکان ہوتے ہیں۔ 18 سال اور اس سے زائد کی عمر کے ہر فرد کو ووٹ ڈالنے کا حق حاصل ہے۔ بھارت کا موجودہ آئین 26 جنوری 1950ء کو نافذ العمل ہوا اور 1975ئ، 1986ء 1992، 2000ء اور 2002ء میں اس میں ترامیم کی گئیں۔ 
بھارت میں حکومت کے اختیارات سربراہِ حکومت، پارلیمنٹ اور عدلیہ کے مابین تقسیم کئے گئے ہیں۔ ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی طرح بھارت بھی ریاستوں کی ایک یونین ہے لیکن اس کا وفاقی نظام امریکہ سے کسی قدر مختلف ہے۔ مرکزی حکومت کو ریاستی حکومتوں پر بالادستی حاصل ہوتی ہے اور اسے ریاستوں کی حدود کا تعین ازسرنو کرنے کا اختیار بھی حاصل ہے۔
بھارت میں سربراہِ مملکت یعنی صدر کا کردار بہت حد تک برطانیہ میں بادشاہ کے کردار سے مماثل ہے۔ صدر اپنے زیادہ تر اختیارات کا استعمال کابینہ کی ’’مشاورت‘‘ کے تحت کرتا ہے۔ اس کی سب سے بڑی سیاسی ذمہ داری وزیر اعظم کا انتخاب ہوتی ہے اگرچہ یہ انتخاب روایات کی ایک حدبندی کا پابند ہوتا ہے مثلاً یہ کہ پارلیمنٹ میں سب سے زیادہ نشستیں حاصل کرنے والی جماعت کے لیڈر کو ہی حکومت بنانے کا پہلا حق دیا جاتا ہے۔ صدر کا انتخاب پانچ سال کی مدت کے لئے ہوتا ہے۔ انتخاب الیکٹورل کالج کرتا ہے جس میں قومی اور ریاستی قانون ساز مجالس کے منتخب نمائندے شامل ہوتے ہیں۔ صدر کے دوبارہ انتخاب پر کوئی پابندی عائد نہیں۔ نائب صدر کا انتخاب بھی اسی طریقہ کار کے مطابق کیا جاتا ہے اور صدر کی غیرموجودگی میں صدارت کے فرائض اس کے حصے میں آ جاتے ہیں۔ 
کابینہ کی سربراہی وزیر اعظم کے پاس ہوتی ہے اور قومی سطح پر حکومت کے تمام اختیارات اس کے قبضے میں ہوتے ہیں۔ کابینہ کے ارکان کا انتخاب صدر وزیر اعظم کے مشورے سے کرتا ہے۔ کابینہ کے ہر رکن کے ذمے مرکزی حکومت کا ایک مخصوص شعبہ لگایا جاتا ہے جس کے حسن و قبح کی تمام تر ذمہ داریاں اس پر عائد ہوتی ہیں۔ آئین نے قومی اور ریاستی حکومتوں کی ذمہ داریوں میں واضح حد بندی کر رکھی ہے۔ بعض معاملات میں ان کے اختیارات اور ذمہ داریاں مشترکہ ہوتی ہیں اور بعض میں الگ الگ۔ بہرحال، انتظامیہ کی حقیقی ذمہ داریاں سول سروس نبھاتی ہے، جس کے ارکان انڈین سول سروس، انڈین پولیس سروس، انڈین فارن سروس وغیرہ کے امتحانات پاس کر کے آگے آتے ہیں۔ 
آئین کے مطابق، قانون سازی کے اختیارات پارلیمنٹ کے دو ایوانوں ، لوک سبھا اور راجیہ سبھا کو حاصل ہیں۔ لوک سبھا کے ارکان براہِ راست انتخابات کے ذریعے منتخب کئے جاتے ہیں البتہ دو ارکان کی تقرری صدرِ مملکت کے ذریعے کی جاتی ہے جو بھارت کی اینگلوانڈین اقلیت کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ہر ریاست اور وفاقی قلمرو کو اس کی آبادی کے حساب سے نشستیں الاٹ کی جاتی ہیں۔ لوک سبھا کے ارکان پانچ سال کی مدت کے لئے منتخب ہوتے ہیں۔ وزیر اعظم کے مشورے پر، یا حکومت کی تجویز کردہ قانون سازی کے بڑے پیمانے پر شکست سے دوچار ہونے پر صدر لوک سبھا کو تحلیل کر سکتا ہے۔ بھارتی آئین کا ایک جزو، جسے دس سال کے بعد ختم ہو جانا تھا لیکن جس کی میعاد میں آج تک مسلسل اضافہ کیا جاتا رہا ہے، چھوٹی ذاتوں اور قبائل کو ان کی آبادی کے حساب سے لوک سبھا میں نشستیں فراہم کرتا ہے۔
راجیہ سبھا کے ارکان کا انتخاب ریاستوں کی قانون ساز مجالس کے ارکان کرتے ہیں البتہ 12 ارکان صدر کی طرف سے تعینات کئے جاتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جنہیں ادب، فنونِ لطیفہ، سائنس یا سوشل سروسز میں خصوصی علم یا عملی تجربہ حاصل ہوتا ہے۔ منتخب شدہ ارکان چھ سال کی مدت کے لئے آتے ہیں۔ نظامِ انتخاب کے مطابق، راجیہ سبھا کا ایک تہائی حصہ ہر دو سال بعد ازسرنو منتخب کیا جاتا ہے گویا پوری راجیہ سبھا کو بیک وقت انتخابی عمل سے گزرنا نہیں پڑتا۔ آئین میں مجوزہ ترمیم کو منظور کرانے کیلئے دو تہائی اکثریت کی حمایت حاصل کرنا لازم ہے، جبکہ بعض ترامیم کیلئے نصف ریاستوں کی منظوری حاصل کرنا بھی لازمی سمجھا جاتا ہے۔
بھارت کی عدلیہ قومی عدالتوں کے ایک نظام پر مشتمل ہے جس میں سپریم کورٹ کو اعلیٰ ترین عدالت کی حیثیت حاصل ہے۔ سپریم کورٹ کے جج 65 سال کی عمر تک اپنے فرائض نبھاتے ہیں۔ سینئر ججز کی تقرری حکومت کی طرف سے ہوتی ہے البتہ ان کی آزادی و خودمختاری کو محفوظ رکھنے کے لئے کئی طرح کی ضمانتیں بھی فراہم کی جاتی ہیں۔ مثال کے طور پر یہ کہ کسی جج کو اس کے عہدے سے ہٹانے کے لئے دو تہائی پارلیمنٹ کی منظوری حاصل کرنا ضروری قرار دیا گیا ہے۔ ریاستی سطح پر ہائی کورٹ کو اعلیٰ ترین عدالت کی حیثیت حاصل ہوتی ہے، اور سپریم کورٹ کے لئے ججز کا انتخاب ہائی کورٹ کے ججز میں سے ہی کیا جاتا ہے۔
بھارت 28 ریاستوں اور 7 وفاقی قلمروؤں پر مشتمل ہے۔ ریاستی حکومت کا ڈھانچہ بھی مرکزی حکومت کی طرز پر ترتیب دیا گیا ہے۔ ہر ریاست میں ایک قانون ساز مجلس ہوتی ہے جسے ریاستی امور کو چلانے کے اختیارات حاصل ہوتے ہیں۔ دہلی اور پانڈیچری جیسی وفاقی قلمروئیں بھی اپنی قانون ساز مجالس کی حامل ہیں۔ ان تمام سیاسی اکائیوں میں سربراہ کی حیثیت گورنر کو حاصل ہوتی ہے جبکہ حکومتی اختیارات وزیر اعلیٰ کو حاصل ہوتے ہیں۔ صدرِ مملکت کی طرح گورنر کا اہم ترین فرض بھی قانون ساز مجلس کے انتخابات میں اکثریت حاصل کرنے والی جماعت کو حکومت بنانے کی دعوت دینا ہے۔
سیاسی جماعتیں بھارتی جمہوریت میں ایک اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ کئی سالوں تک کانگریس (موجودہ وقت میں کانگریس آئی) کو بھارت کی طاقتور ترین سیاسی جماعت کی حیثیت حاصل رہی، اور آزادی کے بعد سے لے کر 1990ء کی دہائی کے وسط تک بھارت کے زیادہ تر وزرائے اعظم اسی جماعت سے سامنے آئے۔ تاہم بعد ازاں کرپشن کے الزامات نے اس پارٹی کی مقبولیت کو خاصی حد تک گھٹا دیا۔
ہندو قوم پرست پارٹی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو دوسری مقبول جماعت کا درجہ حاصل ہے، بہرحال اس کی مقبولیت ایسی نہیں کہ تن تنہا حکومت بنانے کے لائق اکثریت حاصل کر سکے لہٰذا اپنے دورِ حکومت میں اسے مختلف پارٹیوں کے ساتھ اتحاد بنائے رکھنے پر مجبور ہونا پڑا۔ اسے ملنے والی سپورٹ کا بڑا مرکز ہندو متوسط طبقہ ہے جس کی جسامت میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔
دیگر اہم پارٹیوں میں جتنا دل قابل ذکر ہے۔ یہ ایک سیکولر سوشلسٹ پارٹی ہے جس کا بڑا ووٹ بنک کمتر ذاتوں اور مسلمانوں میں پایا جاتا ہے۔ بی جے پی کے حکومتی اتحاد میں جنتا دل کو نمایاں حیثیت حاصل تھی۔ کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ) کو بھی بھارت کی اہم جماعتوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ تامل ناڈو، آندھرا پردیش، پنجاب اور کئی چھوٹی ریاستوں خصوصاً شمال مشرقی بھارت میں علاقائی جماعتوں کو بھی قابل ذکر مقبولیت اور اہمیت حاصل ہے۔
بھارت کی تاریخ کا آغاز یوں تو ساڑھے چار ہزار سال پہلے سے کیا جا سکتا ہے لیکن حقیقی معنوں میں نئے بھارت کی تاریخ برطانوی تسلط سے آزادی ملنے کے بعد سے شروع ہوتی ہے۔ اس سے پہلے بھارت کی حیثیت ونسٹن چرچل کے الفاظ میں اس سے زیادہ کچھ نہیں تھی کہ ’’بھارت ایک جغرافیائی اصطلاح ہے۔ متحدہ قوم کے طور پر اس کی حیثیت وہی ہو سکتی ہے جو کہ خط استوا کو دی جائے گی۔‘‘ ایک متحدہ قوم کے روپ میں بھارت کی تاریخ کا آغاز یقیناً 15 اگست 1947ء سے ہی کیا جائے گا۔
جیسا کہ پہلے ذکر ہوا، بھارت کا آئین 26 جنوری 1950ء کو نافذ العمل ہوا۔ اس دن کو بھارت میں ’’یومِ جمہوریہ‘‘ کے طور پر منایا جاتا ہے۔ آزادی کے بعد جواہر لال نہرو بھارت کے پہلے وزیر اعظم کے طور پر سامنے آئے۔ نہرو کے زیر قیادت بھارتی حکومت نے بھارت کو تیز رفتار ترقی سے آگے بڑھانے کے لئے زرعی شعبے میں اصلاحات اور نئی صنعتیں لگانے کا آغاز کیا۔ ملکیت اراضی کے قوانین میں کی جانے والی کامیاب اصلاحات کے نتیجے میں جاگیرداری نظام ختم ہو گیا لیکن ملکیت اراضی پر حد بندیاں عائد کر کے زمین کی ازسرنو تقسیم کی کوشش ناکام رہی۔ اس کے علاوہ بڑے پیمانے ’’کوآپریٹو کاشتکاری‘‘ کو فروغ دینے کی پالیسی بھی ناکامی سے دوچار ہوئی کیونکہ دیہی علاقوں کے با اثر طبقات نے اسے قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ کانگریس پارٹی کے سپورٹرز کی حیثیت سے ان طبقات کو سیاسی طور پر خاصا اثر و رسوخ حاصل تھا۔ بہرحال زرعی پیداوار میں اضافے کا سلسلہ 1960ء کی دہائی کے اوائل تک جاری رہا۔ کاشتکاری کے لئے نئی زمینوں کی فراہمی یقینی بنائی گئی اور آبپاشی کے نئے منصوبے بھی پایۂ تکمیل کو پہنچائے گئے۔ زرعی یونیورسٹیوں بھی قائم کی گئیں جنہوں نے آگے چل کر بھارت کے زرعی شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے میں مدد دی۔ بہرحال، اسی دوران بارشوں کی کمی کے طفیل بھارت قحط کے دہانے تک آ پہنچا اور امریکہ سے آنے والی غذائی امداد کے بعد ہی اس خطرے کو ٹالنا ممکن ہو سکا۔
مرکزی حکومت کے پلاننگ کمیشن نے 1952ء میں پانچ سالہ منصوبوں کے ایک سلسلے کا آغاز کیا۔ ان منصوبوں کا بنیادی نکتہ فولاد، بھاری مشینی آلات اور بھاری برقی مشینری جیسی بنیادی صنعتوں کا قیام تھا۔ ان صنعتوں کے علاوہ انفراسٹرکچر کی تیاری یعنی ذرائع مواصلات کی تعمیر اور توانائی کی فراہمی جیسے منصوبوں میں سرمایہ کاری کو پبلک سیکٹر سے مخصوص کر دیا گیا۔ اس کے علاوہ، دیگر شعبوں کی زیادہ تر معیشتی سرگرمیوں پر پرائیویٹ اداروں کا تصرف رہا۔ البتہ کاروباری افراد کے سنبھالنے کو لائسنسوں ، ریگولیشنز اور کنٹرولز کا ایک وسیع گورکھ دھندا بھی تخلیق کر دیا گیا جس کے نتیجے میں بھارت میں کاروبار کرنا ایک خاصے مشکل مرحلے کی شکل اختیار کر گیا۔ اگرچہ یہ چیزیں کمیاب وسائل کے منصفانہ استعمال اور کارکنوں کے حقوق کے تحفظ کے نام پر سامنے لائی گئی تھیں لیکن درحقیقت انہوں نے سرمایہ کاری اور کاروباروں کے انتظام کی راہ میں طرح طرح کی رکاوٹیں کھڑی کر دیں۔ مرکزی حکومت نے غیرملکی تجارت پر بھی کڑی بندشیں عائد کر دیں اور یوں معیشت کی بہتری کا ایک اور راستہ تنگ ہو گیا۔ تاہم 1950ء کی دہائی میں اور 1960ء کی دہائی کے اوائل میں صنعتی خود کفالت حاصل کرنے کی طرف پیش رفت کا سلسلہ خاطرخواہ انداز میں جاری رہا۔ اسی دورانئے میں لسانی تنازعات نے سیاسی سطح پر مسائل کھڑے کرنا شروع کر دیئے۔ اگرچہ گاندھی نے 1920ء میں کانگریس کی تنظیم اس انداز میں کر دی تھی کہ لسانی تنوع کی بہتر انداز میں نمائندگی ہو سکے، اور تحریک آزادی کے دوران لوگوں سے صوبوں کی حد بندیاں ازسرنو ترتیب دینے کا وعدہ بھی کیا گیا تھا لیکن آزادی کے بعد نہرو نے مدراس اور ریاست حیدر آباد کے تیلگو بولنے والے علاقوں کو یکجا کرنے کے مطالبے پر خاطرخواہ توجہ نہ دی اور ان علاقوں کے عوام نے اپنی بات منوانے کے لئے تحریک کا آغاز کر دیا۔ بالآخر بات منوانے کے لئے تحریک کے سربراہ نے تا دمِ مرگ بھوک ہڑتال کر دی اور نتیجتاً متعلقہ علاقوں میں فسادات پھوٹ پڑے۔ چار و ناچار نہرو کو ان کی بات ماننے پر مجبور ہونا پڑا۔ ریاستوں کی ازسرنو تنظیم کے لئے ایک کمیشن بٹھایا گیا اور 1956ء میں بھارت کی داخلی سرحدوں کا نیا تعین لسانی اعتبار سے کیا گیا۔ 1960ء میں ریاست بمبئی کا زیادہ تر حصہ گجرات اور مہاراشٹر میں تقسیم کر دیا گیا اور بقیہ رقبہ ریاست کرناٹک میں شامل کر دیا گیا۔ اسی طرح 1966ء میں مشرقی پنجاب کا زیادہ تر رقبہ پنجاب اور ہریانہ کی ریاستوں میں بانٹ دیا گیا جس کا نتیجہ بڑے پیمانے پر عوامی احتجاج کی صورت میں نکلا۔ بہرحال، یہ تنازعہ جلد ہی ختم ہو گیا۔ نئی ریاستیں ، جن میں سے زیادہ تر شمال مشرقی بھارت میں واقع تھیں ، وجود میں آ گئیں۔ اس نئی تنظیم کے نتیجے میں بھارت کا وفاق پہلے سے زیادہ مستحکم ہو گیا۔
قومی زبان کا مسئلہ بہرحال اپنی جگہ برقرار رہا۔ آئین کی رو سے 1965ء میں انگریزی کی جگہ ہندی کو بھارت کی سرکاری زبان کے طور پر رائج کیا جانا تھا۔ بھارت کی چالیس فیصد آبادی کی زبان ہندی ہے اور اس اعتبار سے سرکاری زبان کا درجہ اسے ہی حاصل ہونا چاہئے تھا لیکن غیر ہندی طبقات خصوصاً جنوبی بھارت کی ریاست مدراس (جسے بعد میں تامل ناڈو کا نام دیا گیا)، اسے سرکاری زبردستی کا رنگ دے کر اس کے خلاف صف آراء ہو گئے۔ تنازعے کو ختم کرنے کے لئے بالآخر حکومت نے اجازت دی کہ جو ریاست چاہے، انگریزی کو ہی اپنی سرکاری زبان کے طور پر برقرار رکھ سکتی ہے۔
عالمی سطح پر اس دوران بھارت نے غیرجانبداری کی پالیسی اپنائے رکھی۔ سرد جنگ کا آغاز ہو چکا تھا لیکن بھارت نے دونوں بڑی طاقتوں ، سوویت یونین اور امریکہ، میں سے کسی کے ساتھ وفاداری کا پیمان نہ باندھا۔ کوریا میں جنگ کے آغاز کے بعد یہ پالیسی زیادہ واضح ہو کر سامنے آئی۔ اگرچہ بھارت نے شمالی کوریا کے خلاف اقوامِ متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کی طرف سے لگائی جانے والی پابندیوں کو سراہا، لیکن اپنے فوجی اقوامِ متحدہ کی امن فوج میں شامل کر کے کوریا بھیجنے سے احتراز کیا۔ 
پاکستان کے ساتھ بھارت کے تعلقات شروع دن سے ناخوشگوار رہے اور نہرو کی قیادت میں بھارتی حکومت کبھی خطے کے ماحول کو بہتر بنانے میں کامیاب نہ ہو سکی۔ ماحول تو بہتر تب بنایا جاتا جب بہتر بنانے کی نیت ہوتی۔ یہاں تو یہ حال تھا کہ جب صدر ایوب خان نے نہرو کو مشترکہ دفاع کا معاہدہ کرنے کی تجویز پیش کی تو نہرو نے فوراً پوچھا۔ ’’مشترکہ دفاع، مگر کس کے خلاف؟‘‘ ایسی سوچ کی حامل قیادت اپنے پڑوسی ملک کے ساتھ بہتر تعلقات کبھی استوار نہیں کر سکتی کیونکہ درحقیقت اس کا ایسا کرنے کا کوئی ارادہ ہی نہیں ہوتا۔
آزادی کے فوراً بعد سے ہی دونوں ممالک کے درمیان کشمیر کے تنازعے نے سر اٹھا لیا تھا۔ اقوامِ متحدہ کی سفارتی کوششیں اور نہرو اور لیاقت علی خان کے مابین ہونے والے دو طرفہ مذاکرات اس مسئلے کا حل نکالنے میں نا کامیاب رہے۔ بھارت نے اگرچہ کشمیر میں استصوابِ رائے کرانے پر رضامندی ظاہر کر دی تھی مگر، جیسا کہ دنیا جانتی ہے، آج تک اپنے اس وعدے کو ایفا نہیں کیا۔ الٹا اس کی طرف سے پاکستان سے یہ مطالبہ کیا جاتا رہا کہ وہ آزاد کشمیر سے اپنی فوجیں نکال لے۔
1950ء کی دہائی کے اواخر میں چین کے ساتھ بھارت کا سرحدی تنازعہ شروع ہو گیا۔ تنازعے کا سبب بننے والی زمین اروناچل کی شمال مشرقی سرحد اور جموں و کشمیر کے شمال مشرقی پہاڑی علاقے میں واقع تھی۔ دونوں ممالک کو اس زمین پر ملکیت رکھنے کا دعویٰ تھا۔ اس وقت تک چین کے ساتھ بھارت کے تعلقات خوشگوار تھے اور نہرو کا خیال تھا کہ دوستانہ مذاکرات کے ذریعہ یہ تنازعہ حل کر لیا جائے گا۔ لیکن ایسا ممکن نہ ہو سکا۔ نہرو نے مسئلے کے حل کے لئے کوئی جامع منصوبہ بنانے کے بجائے متنازعہ علاقے میں اپنی گشتی فوجی پارٹیاں بھیج دیں۔ 
چین نے اس اقدام کا جواب اکتوبر 1962ء میں متنازعہ علاقے پر حملے سے دیا اور مختصر سے عرصے میں وہاں موجود بھارتی فوج کو پسپا ہونے پر مجبور کر دیا۔ چند ہی دنوں میں یہ صورتِ حال پیدا ہو گئی کہ متنازعہ علاقہ ایک طرف، بھارت کے اپنے صوبے آسام کا وجود خطرے میں پڑ گیا۔ بوکھلاہٹ کے عالم میں بھارت نے مغرب، خصوصاً امریکہ سے فوجی اور سفارتی امداد طلب کی۔ امریکہ میں اس وقت صدر جان ایف کینیڈی کی حکومت تھی جس نے بھارتی درخواست پر فوری لبیک کہا اور بھارت کو اسلحے کے ڈھیر فراہم کرنا شروع کر دیئے۔ بہرحال، نومبر کے اواخر میں چین نے از خود جنگ بندی کا اعلان کر دیا البتہ چند مفتوحہ علاقوں پر اپنا قبضہ برقرار رکھا۔
اس بحران کے نتیجے میں بھارت نے اپنی افواج کی جدید خطوط پر تنظیم کرنے اور انہیں جدید اسلحے اور ساز و سامان سے لیس کرنے پر پوری توجہ مرکوز کر دی۔ اس کے علاوہ معتدل مزاج وزیر دفاع وی کے کرشنا مینن کو اکتوبر کے اواخر میں ان کے عہدے سے معزول کر دیا گیا۔ بھارت کی وسیع جنگی تیاریوں سے خبردار ہو کر پاکستان بھی مستعد ہو گیا کیونکہ پاکستان کو بخوبی علم تھا کہ اگر فوجی سطح پر بھارت کو واضح برتری مل گئی تو اپنی وسیع معیشت اور جسامت کے بل پر وہ علاقے کا چوہدری بن بیٹھے گا۔ یوں برصغیر میں ہتھیاروں کی دوڑ کا آغاز ہو گیا اور اسے حقیقی عروج ستمبر 1965ء کی جنگ کے بعد حاصل ہوا۔
جنگ ستمبر سے پہلے مئی 1964ء میں نہرو کا انتقال ہو چکا تھا اور ان کی جگہ لال بہادر شاستری وزیر اعظم کے طور پر سامنے آئے۔ اندرون و بیرونِ ملک لال بہادر شاستری کا استقبال ایک ’’کمزور‘‘ جانشین کی حیثیت سے ہوا۔ شاید اپنی کمزوری کا تاثر غلط ثابت کرنے کے لئے لال بہادر شاستری کی حکومت نے ستمبر 1965ء میں کشمیر میں پھیلنے والی شورش کا بہانہ بنا کر پاکستان کے ساتھ جنگ کا آغاز کر دیا۔ اس جنگ میں بھارت کا جو حال ہوا، اس سے ایک دنیا واقف ہے۔ تمام جنگی تیاریاں اور دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے اور بالآخر بھارت کو سوویت یونین سے درخواست کرنا پڑی کہ وہ دخل انداز ہو کر دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی کرائے۔ جنوری 1966ء میں دونوں ممالک نے تاشقند میں جنگ بندی کے معاہدے پر دستخط کئے اور دستخط کرنے کے چند ہی گھنٹوں بعد لال بہادر شاستری دل کے دورے کے شکار ہو کر وطن واپس آنے سے پہلے ہی آنجہانی ہو گئے۔ اپنی طاقت کو ثابت کرنے کی کوشش غالباً ان کے لئے کچھ زیادہ ہی طاقت رُبا ثابت ہوئی تھی۔
شاستری کی وفات کے وقت بھارت ایک سنگین معاشی بحران کے دہانے پر کھڑا تھا۔ مون سون بارشوں کی مسلسل کمی نے زرعی پیداوار کی جڑ مار رکھی تھی، دوسری طرف صنعت میں خود کفالت حاصل کرنے کی کوشش سرمایہ کاری کے خاطر خواہ وسائل حاصل نہ ہونے کے سبب ناکام ہو گئی تھی۔ ان حالات میں بھارت کو ایک ایسے رہنما کی ضرورت تھی جو پے در پے عسکری ہزیمتوں کے نفسیاتی اثرات سے قوم کو نجات دلانے کے ساتھ ساتھ معاشی بحران پر قابو پانے کی اہلیت کا بھی حامل ہو۔ یہ رہنما اسے نہرو کی بیٹی، اندرا پریادرشنی گاندھی کے روپ میں ملا۔
اندرا گاندھی 1955ء سے پارلیمنٹ کی رکن چلی آ رہی تھیں اور شاستری کی وفات کے بعد پرانے کانگریسی رہنماؤں کے ٹولے نے انہیں نئی جماعتی قائد کے طور پر منتخب کر لیا۔ یہ ٹولہ عرفِ عام میں ’’سنڈیکیٹ‘‘ کہلاتا تھا۔ سنڈیکیٹ کے اندرا گاندھی کو منتخب کرنے کی بڑی وجہ یہ خیال تھا کہ صنف نازک اور نسبتاً نئی سیاسی کھلاڑی ہونے کی بدولت اندرا گاندھی کو اپنے اشاروں پر نچانا ان کے لئے زیادہ آسان ہوگا لیکن اس کے ساتھ ساتھ انہیں اندرا گاندھی میں وہ صفات بھی نظر آ رہی تھیں جو ایک قومی لیڈر کا خاصہ ہوتی ہیں۔ 1967ء کے انتخابات میں کانگریس کو مسند اقتدار پر بٹھائے رکھنے کے لئے انہیں ایسی ہی شخصیت کی ضرورت تھی۔
لیکن اندرا گاندھی کی شخصیت کا جادو ان انتخابات میں کانگریس کے کچھ کام نہ آیا۔ کئی ریاستوں میں انہیں مکمل شکست سے دوچار ہونا پڑا اور لوک سبھا میں اس کی حیثیت ایک اقلیتی جماعت کی سی رہ گئی۔ سنڈیکیٹ کے کئی ارکان بھی اپنی نشستوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ بہرحال، اندرا گاندھی کی وزارتِ عظمیٰ برقرار رہی، کیونکہ اور کوئی جماعت یا اتحاد واضح اکثریت لے کر سامنے نہ آسکا تھا۔
انتخابات میں کانگریس کی شکست نے بھارت کو سیاسی عدم استحکام سے دوچار کر دیا۔ معاشی صورتِ حال پہلے ہی ابتر تھی جسے بہتر بنانے کے لئے اندرا گاندھی نے ملک کے بڑے بنکوں کو قومی تحویل میں لے لیا۔ اس کے علاوہ رجواڑوں کے وارثوں کو مشاہروں کی ادائیگی بھی بند کر دی گئی حالانکہ آزادی کے وقت الحاق کے معاہدوں میں ان رجواڑوں کو یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ بھارتی حکومت انہیں مشاہرے کے طور پر ایک معقول رقم پابندی سے ادا کرتی رہے گی۔ ان اقدامات کو اپنے خلوص کا ثبوت بنا کر، 1971ء کے انتخابات میں اندرا گاندھی نے غربت کو ختم کرنے کا نعرہ بلند کیا اور اس نعرے کے جھنڈے تلے، کانگریس کو ایک فیصلہ کن فتح سے ہمکنار کرا دیا۔
اس فتح سے کچھ عرصہ پہلے مشرقی پاکستان کے حالات بگاڑ کی آخری منزل کی طرف پیش قدمی شروع کر چکے تھے۔ وزیر اعظم بننے کے بعد اندرا گاندھی نے بنگلہ دیش بنانے کی خواہشمند قوتوں کی بھرپور حوصلہ افزائی کی، انہیں فوجی اور مالی امداد کے ساتھ ساتھ پناہ اور تربیت فراہم کی اور وقت آنے پر ان کی اعانت کے لئے اپنی افواج بھی مشرقی پاکستان میں داخل کر دیں۔ اپنوں کی برگشتگی اور غیروں کی جارحیت کی بدولت مشرقی پاکستان، بنگلہ دیش کا نام لے کر مغربی پاکستان سے علیحدہ ہو گیا اور ایک نئی مملکت دنیا کے نقشے پر ابھر آئی۔ بھارت کے حکمرانوں نے اپنی سیاسی تاریخ کی روایت برقرار رکھی تھی۔ اپنے پڑوسی ملک سے اچھے تعلقات استوار کرنے کے بجائے انہوں نے اس کا ایک بازو علیحدہ کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا تھا۔ بھارت کی خارجہ پالیسی آج بھی یہی ہے، اور اب بھی کوئی ہمسایہ ملک ایسا نہیں جس سے اس کے تعلقات حقیقی معنوں میں خوشگوار ہوں ، یہاں تک کہ اس کی اعانت سے وجود میں آنے والا بنگلہ دیش بھی اب اس کی سینہ زوریوں سے تنگ آ کر اس سے بیزار ہو چکا ہے۔
بہرحال، اس فتح نے (خواہ یہ کیسے بھی حالات میں حاصل کی گئی تھی) ہندوستانیوں کو ان کا کھویا ہوا اعتماد لوٹا دیا، قوم پچھلی دو شکستوں کا غم بھول گئی اور تفاخر کا ایک نیا احساس لہر بن کر ہندوستان کے ایک سے دوسرے سرے تک دوڑ گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ، اندرا گاندھی نے سبز انقلاب کے نام سے جو زرعی مہم شروع کر رکھی تھی، اس کے ثمرات بھی سامنے آنا شروع ہو گئے۔ فصلوں کی پیداوار میں اضافہ ہونے لگا، بھارت کو خوراک میں خود کفالت کی منزل حاصل ہو گئی، اور نتیجے میں 1972ء کے ریاستی انتخابات میں کانگریس کو زبردست فتح حاصل ہوئی۔ 
اندرا گاندھی نے ان فتوحات سے پورا فائدہ اٹھانے کی کوشش میں جماعت کی ازسرنو تنظیم کی تاکہ ریاستی لیڈران کی وفاداریاں بنیادی طور پر ان کی ذات کے ساتھ وابستہ ہو جائیں۔ معیشتی میدان میں مزید انقلابی رویہ اپناتے ہوئے انہوں نے 1973ء میں گندم کی تھوک تجارت کو قومی تحویل میں لے لیا۔ اسی سال تیل کے عالمی بحران اور اندرونِ ملک فصلوں کی پیداوار میں کمی کی بدولت بھارت میں افراطِ زر کی شرح خطرناک حد تک بلند ہو گئی۔ اندرا گاندھی کی مقبولیت میں تیزی سے کمی واقع ہونے لگی۔ 1974ء میں کیا جانے والا بھارت کا پہلا ایٹمی دھماکہ بھی عوام کی ان کی طرف مائل ہونے پر آمادہ نہ کر سکا۔
گرتی ہوئی معیشت کو سنبھالا دینے کے لئے اندرا گاندھی نے کڑے اقدامات کئے اور خاصی حد تک کامیابی حاصل کی۔ لیکن اسی دوران سیاسی مخالفین کی طرف سے ان پر 1971ء کے انتخابات میں دھاندلی کے الزامات عائد کئے گئے اور گاندھی کی تھوڑی بہت کامیابی، ان الزامات کی زد میں آ کر عامۃ الناس کی نگاہوں سے اوجھل ہو گئی۔ ان کی مخالفت میں اضافہ ہوتا گیا، اور بڑے بڑے سیاسی لیڈر ان کے خلاف متحد ہونے لگے۔ حالات کو اپنے ہاتھ سے نکلتا دیکھ کر اندرا گاندھی نے جون 1975ء میں پورے ملک میں ایمرجنسی نافذ کر دی۔ حزبِ اختلاف کے رہنما جیل میں ڈال دیئے گئے، پریس پر سنسر شپ عائد کر دی گئی اور بیوروکریسی کو کینڈے میں لانے کے لئے سخت انضباطی کارروائیاں عمل میں لائی گئیں۔ 
ابتداً ان اقدامات کے بہتر نتائج رونما ہوئے۔ ہندو مسلم فسادات جن میں گذشتہ دہائی میں شدت پیدا ہونے لگی تھی، یکسر ختم ہو گئے، اشیائے صرف کی قیمتیں مستحکم ہو گئیں اور حکومت بھی ایمانداری اور جذبے کے ساتھ کام کرتی ہوئی نظر آنے لگی۔ قارئین کو بخوبی یاد ہوگا کہ پاکستان میں بھی پہلے مارشل لاء کے نفاذ کے بعد ابتدا میں کچھ ایسے ہی حالات رونما ہوئے تھے۔
بہرحال، صورتِ حال زیادہ دیر اس انداز میں نہ چل سکی۔ حکومت کی کرپشن اور سخت اقدامات جلد ہی نمایاں ہو گئے۔ عوام میں بے چینی پھیلنے لگی اور جلد ہی کانگریس کے قائدین اور بیوروکریسی کی کھلی مخالفت شروع ہو گئی۔ 1976ء کے موسم خزاں میں اندرا گاندھی نے بڑی عجلت کے عالم میں آئین میں چند ترامیم کرائیں جن کے ذریعے ایمرجنسی میں لاگو گئے چند ضوابط کو مستقل حیثیت حاصل ہو گئی۔ دوسری طرف ان کے چھوٹے بیٹے سنجے گاندھی نے زبردستی نس بندی کی مہم شروع کر رکھی تھی اور اسی نوعیت کے کئی منصوبوں میں ٹانگ اڑائے بیٹھا تھا جبکہ حکومتی لیڈران احتساب کے خوف سے آزاد ہو کر اپنی من مانیاں کر رہے تھے۔
ان حالات کا نتیجہ وہی نکلا جو نکلنا چاہئے تھا۔ کھوئی ہوئی مقبولیت دوبارہ حاصل کرنے کی امید میں اندرا گاندھی نے 1977ء میں انتخابات کے انعقاد کا اعلان کیا۔ ایمرجنسی کو بدستور نافذ رکھا گیا، حزبِ اختلاف کے بیشتر لیڈران جیلوں میں ہی رہے اور جلد ہی کانگریس کی سرکردہ شخصیت، اچھوت لیڈر جگ جیون رام بھی کانگریس چھوڑ کر ان کے ساتھ شامل ہو گئے۔ ان سب نے مل کر جنتا پارٹی کے نام سے نئی جماعت بنائی اور انتخابات میں اس جماعت نے کانگریس کو کھلی شکست سے دوچار کر دیا۔ بھارت کی تاریخ میں پہلی مرتبہ کوئی اور جماعت اقتدار میں آئی اور پہلی دفعہ کانگریس کو حکومتی بنچیں چھوڑ کر حزبِ اختلاف کی نشستوں پر بیٹھنا پڑا۔ جماعت میں پیدا ہونے والے اختلافات اسے دو حصوں میں تقسیم کرنے کا موجب بن گئے اور اندرا گاندھی نے اپنے ساتھیوں سمیت کانگریس (آئی) کے نام سے نئی جماعت بنا لی۔ 
جنتا پارٹی نے مرار جی ڈیسائی کی سربراہی میں حکومت سنبھالی۔ مرارجی ڈیسائی پرانے کانگریسی تھے اور ایک وقت میں سنڈیکیٹ کے ممتاز رکن رہے تھے۔ ان کی سربراہی میں آنے والی جنتا پارٹی کی حکومت پہلے دن سے ہی ڈانواں ڈول نظر آئی اور جیسے تیسے دو سال نکالنے کے بعد بالآخر ڈھیر ہو گئی۔ 1980ء میں دوبارہ انتخابات ہوئے اور عوام نے کسی بہتری کی امید میں ایک بار پھر اندرا گاندھی کی کانگریس (آئی) کو کندھوں پر چڑھا کر اقتدار کی مسند تک پہنچا دیا۔
انتخابی فتح کے کچھ ہی عرصے بعد اندرا گاندھی کو اپنی زندگی کا سب سے بڑا صدمہ سہنا پڑا۔ ان کا بیٹا سنجے گاندھی، جسے وہ اپنے سیاسی جانشین کی حیثیت سے تربیت دے رہی تھیں ، ایک ائر کریش میں ہلاک ہو گیا۔ بڑے بیٹے راجیو گاندھی کو تب تک سیاست میں کوئی دلچسپی نہ تھی لیکن سنجے کی ناگہانی موت کے بعد اندرا گاندھی نے اسے قائل کر لیا کہ وہ ان کی سیاسی سرگرمیوں کا ایک حصہ بن جائے۔ 1980ء کے انتخابات میں کئی ریاستوں کی اسمبلیوں کا کنٹرول بھی جنتا پارٹی کے ہاتھوں سے نکل کر کانگریس (آئی) کے ہاتھ میں آ گیا تھا۔ البتہ مغربی بنگال میں ہمیشہ کی طرف کمیونسٹ پارٹی ہی فتح یاب رہی تھی۔ 
اپنے چوتھے دورِ حکومت میں اندرا گاندھی بھارتی معیشت کو پیروں پر کھڑا کرنے میں کامیاب رہیں لیکن ملک کی سیاسی صورتِ حال ان کے قابو میں نہ آ سکی۔ آسام میں مقامی باشندوں نے بنگلہ دیش سے آنے والے مسلمان مہاجروں کے خلاف قوم پرستانہ تحریک شروع کر رکھی تھی۔ دوسری طرف پنجاب میں سکھوں نے اپنی آزاد ریاست کے قیام کے لئے مسلح جدوجہد کا آغاز کر دیا تھا۔ تقسیم ہند کے وقت کانگریس کی طرف سے انہیں ایک آزاد مملکت دینے کا وعدہ کیا گیا تھا اور اسی وعدے کے پورا ہونے کی امید میں انہوں نے کانگریس کا ساتھ دیا، مشرقی پنجاب کو ہندوستان میں شامل کرایا اور ہجرت کر کے جانے والے مسلمانوں کا خون بہایا تھا۔ حصولِ اقتدار کے بعد کانگریس نے اپنا وعدہ پورا نہ کیا، اور ہر طرف سے مایوس ہو کر بالآخر سکھوں نے آزادی کی مسلح تحریک شروع کر دی۔ گویا کل تک جن کے لئے وہ دوسروں کا خون بہاتے رہے تھے، آج انہی سے برسرپیکار ہو کر ان کا اور اپنا خون بہانے لگے۔
جون 1984ء میں اندرا گاندھی کے حکم سے فوج نے سکھوں کے مقدس ترین مقام، امرتسر کے گولڈن ٹیمپل پر چڑھائی کر دی جہاں اس وقت خالصتان تحریک کا سرکردہ لیڈر سنت جرنیل سنگھ بھنڈرانوالہ چھپا بیٹھا تھا۔ لڑائی میں بھنڈرانوالہ سمیت ایک ہزار کے لگ بھگ افراد مارے گئے، اور مرکزی عمارت کے علاوہ احاطے کی تمام عمارتوں کو بھاری نقصان پہنچا۔ اپنے مقدس مقام کی بے حرمتی پر سکھ آگ بگولا ہو گئے۔ ان کا شدید ترین ردِ عمل 31 اکتوبر 1984ء کو سامنے آیا جب اندرا گاندھی کو ان کے اپنے ہی سکھ محافظوں نے گولیاں مار کر ہلاک کر دیا۔ یوں موہن داس کرم چند گاندھی کے بعد ایک اور قومی لیڈر کو پُر تشدد موت کی بھینٹ چڑھنا پڑا۔
انتخابات سر پر چڑھے بیٹھے تھے۔ کانگریس (آئی) نے بڑی عجلت کے عالم میں راجیو گاندھی کو اپنا لیڈر چن کر اندرا گاندھی کی جگہ وزیر اعظم کی کرسی پر بٹھایا اور انتخابات کے لئے تیاریاں شروع کر دیں۔ دوسری طرف اندرا گاندھی کی موت کے بعد ملک بھر میں ہندوؤں نے سکھوں کا قتل عام شروع کر دیا۔ چند ہی ہفتوں میں ہزاروں سکھوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ سکھوں کے جذبات کو ٹھنڈا کرنے کے لئے راجیو گاندھی نے فوراً ہی ریاست پنجاب کی سرحدیں وسیع کرنے کی حامی بھر لی۔ اسی سال رونما ہونے والے ایک اور المناک حادثے میں بھوپال میں کیڑے مار ادویات تیار کرنے والے پلانٹ سے لیک ہونے والی گیس کی زد میں آ کر کم از کم 3300 افراد مارے گئے اور 20 ہزار افراد بری طرح متاثر ہوئے۔
داخلی شورشوں کے باوجود، راجیو گاندھی کے زیر قیادت، کانگریس (آئی) 1984ء کے انتخابات میں اپنی تاریخ کی سب سے بڑی فتح حاصل کرنے میں کامیاب رہی۔ اندرا گاندھی کے قتل کی وجہ سے عوام کی ہمدردیاں ویسے بھی کانگریس کے ساتھ تھیں۔ دوسری طرف راجیو گاندھی کے تازہ چہرے کی صورت میں انہیں امید کی ایک جھلک نظر آئی تھی۔ یہ بعد میں پتہ چلا کہ وہ جھلک بھی محض ایک سراب ہی تھی۔
انتخابات میں فتح حاصل کرنے کے بعد راجیو گاندھی نے فوری طور پر ایک طرف آسام اور پنجاب میں قیامِ امن کے لئے متعلقہ لیڈران سے مذاکرات شروع کئے، دوسری طرف معیشت کی بہتری کے لئے اندرا گاندھی کے شروع کئے ہوئے منصوبوں کی رفتار میں بھی اضافہ کر دیا۔ تاہم اس کی سیاسی نا تجربہ کاری جلد ہی ابھر کر سامنے آ گئی۔ مسلمانوں کی خواہش کے خلاف بابری مسجد کو کھولنے کے فیصلے پر مناسب ردِ عمل ظاہر نہ کر پانے کی پاداش میں اسے مسلمانوں کی حمایت سے محروم ہونا پڑا۔ دوسری طرف ہندوؤں میں بھی قوم پرستی کی ایک نئی لہر کروٹیں لینے لگی تھی۔ پنجاب میں قیامِ امن کے لئے کیا جانے والا سات نکاتی معاہدہ اس وقت کھٹائی میں جا پڑا جب سکھ انتہاپسندوں نے معاہدہ کرنے والے اعتدال پسند لیڈر سنت ہرچند سنگھ لونگوال کو گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ 1987ء میں راجیو گاندھی نے سری لنکا میں جاری تامل گوریلا جدوجہد میں سری لنکن حکومت کی مدد کے لئے بھارتی افواج بھجوائیں۔ اگرچہ جون 1987ء میں گوریلا لیڈروں اور سری لنکن حکومت کے درمیان معاہدۂ امن طے پا گیا تھا لیکن جنگ بند نہ ہو سکی اور بھارتی فوجی اس چپقلش میں پھنس کر رہ گئے۔
سیاسی حوالے سے ملکی صورتِ حال عدم استحکام کی شکار ہو رہی تھی لیکن معیشت کے حوالے سے امکانات نہایت امید افزا دکھائی دیتے تھے۔ وجہ یہ کہ معیشت کو بھاری بیرونی قرضوں کی آکسیجن فراہم کر دی گئی تھی۔ اس کے علاوہ حکومت اپنی افواج پر بھی پانی کی طرح پیسہ بہا رہی تھی۔ 1987ء میں بھارتی افواج کی جنگی مشقوں اور نئے ہتھیاروں کی ٹسٹنگ کے نتیجے میں پاکستان اور بھارت جنگ کے دہانے پر آ پہنچے لیکن عالمی طاقتوں کی بروقت مداخلت سے بات ٹل گئی۔ اسی دوران بوفورس توپوں کی خریداری میں رشوت خوری کا سکینڈل سامنے آیا جس سے راجیو گاندھی حکومت کو شدید دھچکے کا سامنا کرنا پڑا۔ پاکستان کے ساتھ بھارتی تعلقات تو 1988ء میں راجیو گاندھی کے دورۂ پاکستان کے بعد خاصے بہتر ہو گئے البتہ بوفورس سکینڈل کی تہمت آخر دم تک ان کی ذات کے ساتھ چپکی رہی۔ پاکستان کے ساتھ تعلقات میں آنے والی بہتری بھی اس بد تری کی شکل اختیار کر گئی جب 1989ء میں بھارت نے پاکستان پر الزام لگایا کہ وہ جموں و کشمیر میں علیحدگی پسند گروہوں کو ہتھیار اور ٹریننگ فراہم کر رہا ہے۔
1989ء میں نئے عام انتخابات ہوئے اور ان انتخابات میں کرپشن کو کانگریس کے خلاف سب سے بڑے ایشو کے طور پر استعمال کیا گیا۔ ایک مرتبہ پھر کانگریس کو حکومت سے محروم ہونا پڑا اور اس مرتبہ وشوا ناتھ پرتاپ (وی پی) سنگھ کی قیادت میں مختلف پارٹیوں کے اتحاد پر مشتمل جنتا دل نے ہندوستان کی زمامِ اقتدار سنبھالی۔ وی پی سنگھ اس سے پہلے راجیو گاندھی کی حکومت میں وزیر مالیات اور وزیر دفاع کے عہدوں پر فائز رہ چکے تھے اور حکومتی عہدیداران پر لگنے والے کرپشن کے الزامات کی تحقیقات کرنے کی پاداش میں انہیں حکومت سے نکال دیا گیا تھا۔ اس مرتبہ اقتدار میں ان کی واپسی وزیر اعظم کی حیثیت سے ہوئی۔
لیکن یہ حیثیت زیادہ دیر ان کے پاس نہ رہ سکی۔ جب بی جے پی کے لال کرشن ایڈوانی کو بابری مسجد کو گرا کر رام مندر بنانے کے حق میں تحریک کا آغاز کرنے پر گرفتار کیا گیا تو بی جے پی حکومتی اتحاد سے علیحدہ ہو گئی اور چند ہی دنوں میں وی پی سنگھ کی حکومت زمین بوس ہو گئی۔ نئی حکومت نے چندر شیکھر کو اپنے سربراہ کی حیثیت سے چنا۔ یہ حکومت کانگریس کی ریشہ دوانیوں کی شکار ہو گئی جس نے آغاز میں حکومت کی حمایت کرنے کے بعد اپنے خیالات بدل لئے تھے۔ اسی دوران 1990ء میں کویت پر عراق کے حملے سے بھارت کی مالیات کو شدید دھچکا پہنچا۔ کویت اور عراق میں کام کرنے والے بھارتی تارکین وطن کی طرف سے ترسیل زر کے یک دم رک جانے سے نہ صرف ملک میں زرِ مبادلہ کا بحران پیدا ہوا بلکہ بھارتی حکومت کو ان ممالک سے اپنے آدمی نکالنے پر زرِ کثیر بھی صرف کرنا پڑا۔
مئی 1991ء میں راجیو گاندھی اپنی انتخابی مہم کے دوران سری لنکا کی ایک تامل خودکش حملہ آور کے بم کا شکار ہو گئے۔ حملہ آور خاتون کا تعلق لبریشن ٹائیگرز آف تامل ایلام نامی تنظیم سے تھا۔ راجیو گاندھی کے اس تنظیم کی ہٹ لسٹ پر آنے کی وجہ 1987ء میں ان کی حکومت کی طرف سے سری لنکا میں ’’قیامِ امن‘‘ کی غرض سے افواج بھجوانا بنی۔ اگست میں بھارتی خفیہ پولیس کی سپیشل ٹیم نے اس دھماکے کے ماسٹر مائنڈ راجہ ارومیا نیاگم کو بنگلور کے باہر واقع ایک گاؤں میں جا پکڑا لیکن راجہ اور اس کے چھ ساتھیوں نے پولیس کی حراست میں آنے سے پہلے خودکشی کر لی اور یوں بھارتی سیاسی تاریخ کا ایک اور المناک ڈرامہ اپنے انجام کو پہنچا۔
راجیو گاندھی کے قتل نے مئی میں ہونے والے انتخابات کو اتھل پتھل کر دیا۔ نتیجتاً جون میں دوبارہ ووٹ ڈالے گئے۔ راجیو گاندھی کی جگہ کانگریس کی قیادت پامولا پرتی وینکٹ (پی وی) نرسمہا راؤ کے ہاتھ میں آئی جو ایک وقت میں راجیو گاندھی کے وزیر خارجہ کی حیثیت سے کام کر چکے تھے۔ راؤ کے زیر قیادت کانگریس نے ایک مرتبہ پھر فتح حاصل کی، اگرچہ اس مرتبہ انہیں لوک سبھا میں پہلے جیسی اکثریت حاصل نہ ہو سکی۔ بہرحال، نرسمہا راؤ بھارت کے نئے وزیر اعظم بن گئے۔
جب راؤ نے اقتدار سنبھالا تو ایک خوفناک معاشی بحران نے بھارت کو دیوالیہ ہونے کی حد تک پہنچا رکھا تھا۔ راؤ نے معیشتی اصلاحات کو اپنے ایجنڈے میں سرفہرست رکھ کر کام شروع کر دیا۔ ان کی کی ہوئی اصلاحات کے نتیجے میں پرائیویٹ کاروبار میں عائد کئی بندشیں مثلاً فیکٹریوں کو بنانے یا وسیع کرنے کے لئے لائسنسوں کا حصول وغیرہ ختم ہو گئیں۔ راؤ حکومت نے غیرملکی سرمایہ کاری کی بھی حوصلہ افزائی کی اور تجارت کو فروغ دینے کے لئے محصولات کی شرح بھی گھٹا دی۔
ان اقدامات کے نتیجے میں معیشت میں واضح بہتری رونما ہوئی اور جی ڈی پی گروتھ کی طرف مائل ہوتا نظر آنے لگا۔ تجارتی سرگرمیوں میں اضافہ ہوا، پرائیویٹ سیکٹر میں ایک نیا جوش  و جذبہ دیکھنے میں آیا اور گاڑیوں سے لے کر ناشتے کے دلئے تک ہر چیز بھارت کے اندر ہی تیار ہونے لگی۔ بہرحال، حکومت کے معیشتی ایجنڈے کے دیگر نکات اتنے موثر انداز میں لاگو نہ کئے جا سکے۔ کسانوں کو فراہم کی جانے والی سب سڈی میں کوئی کمی نہ لائی جا سکی، پبلک سیکٹر کے شعبوں کی نجکاری کا عمل پھونک پھونک کر قدم رکھتے ہوئے آگے بڑھایا گیا، اور مزدوروں کی انتظام کاری کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنے والے قوانین کو تبدیل کرنے میں کوئی خاطرخواہ پیش رفت نہ کی گئی۔ ریاستوں کے درمیان ملکی اور غیرملکی سرمایہ کاری حاصل کرنے کے لئے مسابقت کا آغاز ہو گیا اور ریاستی حکومتوں نے بھی اپنے پبلک سیکٹرز کے کچھ حصوں کو پرائیویٹائز کرنے کے عمل کا آغاز کر دیا۔ 
حیران کن طور پر حکومت کی معیشتی پالیسیوں کو سیاسی حوالے سے کسی مزاحمت کا سامنا نہ کرنا پڑا۔ اس کی وجہ غالباً یہ بنی کہ اس وقت زیادہ اہم سیاسی ایشوز سیاسی جماعتوں کی توجہ اپنی طرف مبذول کرائے ہوئے تھے، اور ان میں سب سے بڑا ایشو ہندو قوم پرستی کا تھا جس کا نمایاں ترین مظہر اتر پردیش کے شہر ایودھیا میں واقع بابری مسجد کے تنازعے کی صورت میں سامنے آیا۔ اس وقت اتر پردیش میں بی جے پی کی حکومت تھی جس نے راؤ حکومت کو یقین دلایا کہ بابری مسجد کی حفاظت کے لئے مکمل انتظامات کئے جائیں گے حالانکہ اس کے اپنے ہی لیڈر انتہاپسند ہندوؤں کو 6 دسمبر کے روز ایودھیا میں جمع ہونے کی کال دے چکے تھے۔ راؤ حکومت نے اس یقین دہانی پر اعتماد کر لیا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ 6د سمبر 1992ء کو ہندو انتہا پسندوں کے جتھوں نے یلغار کر کے اسے بابری مسجد کو شہید کر دیا اور موقعے پر موجود پولیس کھڑی تماشہ دیکھتی رہی۔ پورے بھارت کے مسلمان اس سینہ زوری کے خلاف احتجاج کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے۔ مظاہرے ہوئے، پولیس کی گولیاں چلیں اور پھر ہندو مسلم فسادات شروع ہو گئے۔ ممبئی کا شہر خاص طور پر فسادات کی زد میں آیا۔ انسانی خون پانی کی طرح بہا اور ایک ارب روپے سے زائد مالیت کی املاک نذرِ آتش ہو گئی۔ مرکزی حکومت کچھ ایسی بدحواس ہوئی کہ ابتداً بالکل مفلوج ہو کر رہ گئی۔ جب ہوش آیا تو متاثرہ علاقوں میں سیکیورٹی فورسز بھیجنے کے انتظامات کئے گئے مگر تب تک ایک ہزار سے زائد افراد اپنی زندگیوں سے ہاتھ دھو چکے تھے۔
ایل کے ایڈوانی نے فسادات کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے حزبِ اختلاف کے لیڈر کی پوزیشن سے مستعفی ہونے کا اعلان کر دیا۔ بعد ازاں ، انہیں اور دیگر انتہاپسند مذہبی و سیاسی ہندو لیڈروں عامۃ الناس کو اشتعال دلانے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا۔ فسادات کی آگ پھر بھی سرد نہ ہوئی۔ حالات پر قابو پانے کی کوشش میں حکومت نے پانچ تنظیموں پر مذہبی منافرت پھیلانے کے الزام میں پابندی لگا دی جن میں سے تین ہندو اور دو مسلم تھیں۔ مسجد کی شہادت میں حصہ لینے والے بے شمار افراد گرفتار کر لئے گئے اور بے شمار گرفتاری کے خوف سے روپوش ہو گئے۔ اتر پردیش کے علاوہ تین مزید ریاستوں میں قائم بی جے پی کی حکومتیں ختم کر دی گئیں اور مرکزی حکومت نے وہاں کا کنٹرول سنبھال لیا۔
حکومتی اقدامات متاثرہ حلقوں خصوصاً مسلمانوں کو متاثر کرنے میں کامیاب نہ ہو سکے، تاہم حکومت اس ضمن میں لوک سبھا سے اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب رہی۔ چپقلش جاری رہی۔ اس کا رنگ مذہبی سے سیاسی ہو گیا جب بی جے پی نے اپنی حکومتوں کی تحلیل کے خلاف لڑنے کا اعلان کیا۔ بابری مسجد کی ازسرنو تعمیر کے حکومتی اعلان پر انتہاپسند ہندو حلقوں کی طرف سے شدید ردِ عمل سامنے آیا اور جوابی اعلان کیا گیا کہ مسجد کی دوبارہ تعمیر کی اجازت کبھی نہیں دی جائے گی۔ وہ اپنی بات کے پکے نکلے، بابری مسجد تا دمِ تحریر تشنۂ تعمیر ہے، اور اس تنازعے نے آج تک بھارتی قوم کو دو واضح دھڑوں میں تقسیم کر رکھا ہے۔
بی جے پی نے مرکزی حکومت کو انتخابات کے انعقاد پر مجبور کرنے کے لئے ہڑتالوں اور دیگر ہتھکنڈوں کے ذریعے شورش انگیزی کا آغاز کر دیا۔ دوسری طرف پاکستان کے ساتھ بھی بھارت کے تعلقات خراب ہو رہے تھے۔ مئی 1992ء میں پاکستان نے ایک سینئر بھارتی سفارت کار کو جاسوسی کے الزام میں پاکستان چھوڑنے کا حکم دیا تو جواباً بھارت نے اسی منصب کے دو پاکستان سفارت کاروں کو اپنے ملک سے نکال دیا۔ صورتِ حال جلد ہی بحرانی کیفیت اختیار کر گئی اور اس پر قابو پانے کے لئے دونوں ممالک کے وزرائے اعظم کو جکارتہ میں ہونے والی غیرجانبدار ممالک کی سربراہ کانفرنس کے دوران ایک دوسرے کے ساتھ پنتالیس منٹ کی ملاقات کرنا پڑی۔
ہندومسلم فسادات کا سلسلہ ابھی ختم نہ ہوا تھا کہ ایک اور آفت نازل ہو گئی۔ مارچ 1993ء میں ممبئی میں کئی بم دھماکے ہوئے جن سے بمبئی سٹاک ایکسچینج کی عمارت کو شدید نقصان پہنچا اور لگ بھگ تین سو افراد ہلاک ہو گئے۔ ان دھماکوں کی ذمہ داری مسلم انتہا پسند گروہوں پر ڈالی گئی تاہم اس کے نتیجے میں فسادات نہ پھوٹے جن کی کہ توقع کی جا رہی تھی البتہ مئی میں منی پور کی ریاست میں فسادات شروع ہو گئے اور صرف دو دن میں سو سے زائد افراد مارے گئے۔ ایک ایسی ریاست میں جہاں مذہبی کشیدگی کی فضا شاذ ہی پیدا ہوتی تھی، ایسے شدید اور خونریز فسادات نے سب کو حیران ہونے پر مجبور کر دیا۔ ان فسادات نے اس امر پر مہر تصدیق ثبت کر دی کہ بھارت کی سیاسی و مذہبی فضا اب پہلے جیسی ’’قابل فخر‘‘ نہیں رہی۔ حکومت نے سیاست اور مذہب کو الگ الگ رکھنے کے لئے قانون سازی کرنے کی کوشش کی جو بری طرح ناکامی سے دوچار ہوئی۔ 
حکومت کی بنیادیں لرز رہی تھیں۔ ارتعاش کو روکنے کی کوشش میں نرسمہا راؤ نے حکومت اور پارٹی میں کئی تبدیلیاں کیں۔ تبدیلیوں کی اسی لہر میں بھارت کے موجودہ وزیر اعظم من موہن سنگھ بھی وزیر مالیات بن کر منظر عام پر آئے۔ بہرحال، یہ کوششیں کامیاب نہ ہو سکیں۔ سال کے وسط میں خود وزیر اعظم کو کرپشن کے الزامات کا سامنا کرنا پڑا۔ رشوت اور دھوکہ دہی کے حوالے سے قانونی دشواریوں کے شکار ایک سٹاک بروکر ہرشد مہتا نے الزام لگایا کہ اس نے اپنے ہاتھوں وزیر اعظم کو ایک کروڑ روپے ادا کئے ہیں۔ راجیو گاندھی کے دور میں رونما ہونے والے بوفورس سکینڈل کی بازگشت بھی ابھی تک ختم نہ ہوئی تھی۔ اس نئے جھمیلے نے صورتِ حال مزید خراب کر دی اور 28 جولائی کے روز پارلیمنٹ میں وزیر اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کر دی گئی۔ نرسمہا راؤ محض چودہ ووٹوں کے فرق سے اپنی حکومت بچانے میں کامیاب ہو سکے۔ اسی دوران ریاستی انتخابات کا انعقاد ہوا اور تمام توقعات کے برعکس بی جے پی کسی بھی ریاست میں واضح اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہی۔
مگر یہ ناکامی وقتی تھی۔ بی جے پی کی مقبولیت میں روز بروز اضافہ ہو رہا تھا۔ بابری مسجد کی شہادت کے حوالے سے مسلمانوں کے دلوں میں اب بھی اس کے خلاف معاندت پائی جاتی تھی لیکن ہندوؤں کے مڈل کلاس طبقے میں اس کی جڑیں گہری اتر چکی تھیں۔ یہی طبقہ 1996ء کے انتخابات میں اس کا سب سے بڑا ووٹ بنک ثابت ہوا۔ بے شمار سکینڈلز اور اندرونی اختلافات کی مار سے بے حال کانگریس میں اتنی سکت باقی نہ رہی تھی کہ قومی منظر نامے پر نمودار ہونے والی اس نئی سیاسی قوت کا مقابلہ کر سکتی۔ ان انتخابات میں لوک سبھا میں کانگریسی اکثریت ختم ہو گئی اور نرسمہا راؤ کی پارلیمانی نشست تو برقرار رہی لیکن وزارتِ عظمیٰ ہاتھ سے نکل گئی۔ اس کے علاوہ جماعت کی صدارت سے بھی استعفیٰ دینا پڑا۔ آگے چل کر 1997ء میں انہیں کرپشن کے الزامات میں عدالتی کارروائی کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ اسی طرح کے مقدمات ان کی کابینہ کے متعدد ارکان پر بھی چلے اور دیگر سیاسی جماعتوں کے پارلیمانی ارکان بھی ان کارروائیوں کی زد میں آئے۔ صرف کمیونسٹ پارٹی واحد جماعت تھی جو کیچڑ کی چھینٹوں سے محفوظ رہنے میں کامیاب ہو سکی۔
1996ء کے انتخابات میں بی جے پی نے انتہاپسندی کا روپ چھوڑ کر ایک اعتدال پسند جماعت کے طور پر انتخابات میں حصہ لیا۔ واضح اکثریت حاصل نہ کر پانے کے باوجود بی جے پی دیگر جماعتوں کے ساتھ اتحاد بنا کر حکومت بنانے میں کامیاب رہی۔ 18 مئی 1996ء کے روز صدرِ مملکت شنکر دیال شرما نے بی جے پی کے لیڈر اٹل بہاری واجپائی سے وزارتِ عظمیٰ کا حلف لیا اور انہیں 31 مئی تک اعتماد کا ووٹ لے کر پارلیمنٹ میں اپنی اکثریت ثابت کرنے کی ڈیڈلائن دی۔ واجپائی کی وزارتِ عظمیٰ یہ بوجھ نہ اٹھا سکی اور حلف اٹھانے کے صرف تیرہ دن بعد وہ اعتماد کا ووٹ لئے بغیر ہی سبکدوش ہو گئے کیونکہ صاف نظر آ رہا تھا کہ وہ اعتماد کا ووٹ حاصل نہیں کر پائیں گے۔
واجپائی رخصت ہوئے اور جنتا دل سے تعلق رکھنے والے بائیں بازو کے دیو گوڑا جو اس سے پہلے کرناٹک کی وزارتِ اعلیٰ کے فرائض نبھاتے رہے تھے، بھارت کے وزیر اعظم بن گئے۔ انہیں وزیر اعظم بنانے میں کئی چھوٹی چھوٹی علاقائی جماعتوں کے علاوہ کانگریس کی سپورٹ کا کردار سب سے نمایاں تھا۔ تاہم یہ حکومت بھی نو ماہ ہی قائم رہ سکی۔ مارچ 1997ء میں کانگریس نے اپنی سپورٹ ختم کر کے دیو گوڑا کے استعفے کا مطالبہ کر دیا۔ اس مطالبے کے پس پردہ کانگریس کا یہ منصوبہ تھا کہ دیو گوڑا کو ہٹا کر اپنے جماعتی صدر سیتا رام کیسری کو وزارتِ عظمیٰ پر لایا جائے۔ گوڑا سے ذاتی عناد رکھنے کے علاوہ، سیتارام کیسری اپنی جماعت کو اندرونی اختلافات سے نجات دلانے اور کرپشن کے الزامات میں پولیس تحقیقات میں پھنسے ساتھیوں کی جان بھی چھڑوانا چاہتے تھے۔ مشاہدین نے کانگریس کے اقدامات کو صریحاً خود غرضانہ اور بھارت کی جمہوری روایات کے لئے ایک خطرہ قرار دیا۔ یہ مشاہدین بے خبر تھے کہ بھارت کی جمہوری روایات ہمیشہ ہی ایسے خطروں سے دوچار رہی ہیں۔ 
نئے انتخابات سے کترانے کی کوشش میں گوڑا نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا اور انہی کے سیاسی اتحاد یونائیٹڈ فرنٹ کے اندر کمار گجرال نے، کانگریس کی حمایت کے ساتھ، خالی ہونے والا منصب سنبھال لیا۔ گجرال بے داغ ریکارڈ کے مالک تھے، دو مرتبہ امورِ خارجہ کی وزارت پر فائز رہنے کے حوالے سے خارجہ پالیسی کا وسیع تجربہ رکھتے تھے اور ان کی عمومی شہرت ایک سیکولر ذہن رکھنے والے سیاستدان کی تھی۔ یہ سب باتیں ان کے حق میں جاتی تھیں لیکن میرے خیال میں ان کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ وہ لوک سبھا کے ذریعے براہِ راست منتخب ہو کر آنے کے بجائے راجیہ سبھا کے ذریعے بالواسطہ طور پر منتخب ہوئے تھے۔ ان کے پاس کوئی بڑا سیاسی حلقہ اور ووٹوں کی بنیاد نہ تھی اور اس اعتبار سے وہ یونائیٹڈ فرنٹ کے کسی لیڈر کے لئے خطرہ ثابت نہیں ہو سکتے تھے۔ اس اعتبار سے گجرال بھارتی تاریخ کے کمزور ترین وزرائے اعظم میں شمار کئے جا سکتے ہیں۔ 
بہرحال، کمزور وزیر اعظم نے اپنے اہداف کا اظہار بڑے مضبوط لہجے میں کیا۔ معیشت کی آزادی، ’’گروتھ ایک انسانی رخ کے ساتھ‘‘، کرپشن کا خاتمہ اور پڑوسی ممالک کے ساتھ بہتر تعلقات کی استواری۔ گجرال نے وزیر مالیات پی چدمبرم کے پیش کئے ہوئے بجٹ کی بھرپور حمایت کی جس میں انکم ٹیکس کی شرح کم کرنے کے علاوہ صحت اور تعلیم کے لئے زیادہ فنڈز مختص کئے گئے تھے۔ انہوں نے ممتاز سیاستدانوں کے خلاف جاری سنٹرل بیورو آف انٹیلی جنس کی تحقیقات میں دخل اندازی کرنے سے بھی انکار کر دیا۔ سابق وزیر اعظم نرسمہا راؤ بھی ان سیاستدانوں میں شامل تھے۔ مئی میں انہوں نے پاکستان کے وزیر اعظم میاں نواز شریف سے ملاقات کی تاکہ دونوں ممالک کے درمیان پائے جانے والے دیرینہ تنازعات کے حل کے لئے مذاکرات کا آغاز کیا جا سکے۔
گجرال کے ارادے مضبوط ہی سہی، ان کی کرسی یقیناً کمزور تھی۔ صرف سات ماہ برقرار رہ سکی۔ نومبر میں سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی کے قتل کے متعلق پیش کی جانے والی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ میں نشاندہی کی گئی کہ یونائیٹڈ فرنٹ کی ایک رکن جماعت، دراوڑا ممنترا کازغم (ڈی ایم کے) تامل ٹائیگرز کو ’’خاموش اعانت‘‘ فراہم کرنے میں ملوث ہو سکتی ہے۔ چونکہ رپورٹ محض ابتدائی نوعیت کی تھی، اس لئے یونائیٹڈ فرنٹ نے کانگریس کی درخواست پر ڈی ایم کے کو نکالنے سے انکار کر دیا۔ اختلاف پیدا ہوا اور کانگریس نے ایک بار پھر اپنی سپورٹ واپس لے لی۔ دسمبر تک واضح ہو گیا کہ اب حکومتی اتحاد کو برقرار رکھنا ممکن نہیں رہا لہٰذا 4 دسمبر کو صدرِ مملکت نے پارلیمنٹ کو تحلیل کر دیا اور 1998ء کے اوائل میں نئے انتخابات منعقد کرانے کا اعلان کر دیا گیا۔ یوں آزادی کی گولڈن جوبلی کا سال منتخب پارلیمنٹ کے خاتمے پر منتج ہوا۔
مارچ 1998ء میں انتخابات منعقد ہوئے۔ بی جے پی اور اس کی اتحادی علاقائی جماعتوں نے کل ووٹوں کے 35 فیصد کے ساتھ پارلیمنٹ میں اکثریت حاصل کی اور سیاسی جماعتوں کے ایک اتحاد کی حکومت برسراقتدار آ گئی۔ بی جے پی کے اٹل بہاری واجپائی نے اتحاد کے لیڈر کی حیثیت سے وزارتِ عظمیٰ کا حلف اٹھا لیا۔
اقتدار میں آنے کے صرف دو ماہ بعد بی جے پی کی حکومت نے اپنا ایک متنازعہ عہد پورا کرتے ہوئے 21 مئی 1998ء کو پانچ ایٹمی دھماکے کر کے اپنے جوہری طاقت ہونے کا اعلان کر دیا۔ دھماکوں کا بنیادی مقصد پڑوسی ممالک خصوصاً پاکستان پر اپنی طاقت کا رعب جمانا تھا۔ ایٹمی دھماکے ہوتے ہی امن اور بھائی چارے کی بات کرنے والے بھارتی لیڈروں کے لہجے بدل گئے۔ اس طرح کے بیانات آنے لگے کہ اب پاکستان کو احساس ہو جانا چاہئے کہ اس علاقے میں برتری کس کے پاس ہے۔
پاکستان نے ان بیانات کا جواب صرف ایک ہفتے بعد چھ ایٹمی دھماکے کر کے دیا اور بھارتی حکمرانوں کو نہایت واضح الفاظ میں باور کرا دیا کہ آج کے دور میں ایٹمی طاقت کے بل پر برتری کا دعویٰ کس قدر کھوکھلا اور بے حقیقت ہو سکتا ہے۔ پاکستان کی طرف سے ایسا جواب کبھی نہ آتا اگر بھارت نے پہلے دھماکے کر کے اپنی طاقت کا ایسے بے ڈھنگے انداز میں اظہار نہ کیا ہوتا۔ بھارت کی پہل کاری نے خطے میں جوہری ہتھیاروں کی دوڑ کا خطرہ پیدا کر دیا۔ نہ صرف یہ بلکہ دونوں ممالک کو مختلف ترقی یافتہ اقوام کی طرف اقتصادی پابندیوں کا تازیانہ بھی برداشت کرنا پڑا۔
بہرحال، صورتِ حال اتنی سنگین نہ ہوئی جتنی دنیا توقع کر رہی تھی۔ دونوں ممالک نے مزید ایٹمی دھماکے نہ کرنے کا اعلان کیا اور امریکہ کی تحریک پر مذاکرات کا ایک اور دور شروع کر دیا۔ اس مثبت ردِ عمل کے صلے میں دونوں پر لگی ہوئی اقتصادی پابندیاں کسی حد تک نرم ہو گئیں۔ 1999ء کے اوائل میں ، کئی مہینوں کے مذاکرات کے بعد، اٹل بہاری واجپائی اور میاں نواز شریف نے اعلانِ لاہور پر دستخط ثبت کئے جس میں دونوں ممالک نے بہتر تعلقات استوار کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔ حالات بہتر ہوتے نظر آ رہے تھے لیکن معاملات ایک مرتبہ پھر بگاڑ کی طرف مائل ہونے لگے جب اپریل میں پاکستان اور بھارت دونوں نے آگے پیچھے ایٹمی وار ہیڈ اٹھانے کی اہلیت رکھنے والے میڈیم رینج میزائلوں کے تجربات کر ڈالے۔ کشمیر کا مسئلہ گذشتہ پچاس سالوں سے زائد عرصے سے جوں کا توں موجود تھا اور 1989ء میں مجاہدین کی تحریک کا آغاز ہونے کے بعد اس میں روز بروز شدت پیدا ہوتی چلی جا رہی تھی۔ بھارت نے مجاہدین کو مالی اور فوجی امداد اور تربیت فراہم کرنے کا الزام پاکستان پر دھرنے کا وطیرہ ایک عرصے سے اپنا رکھا تھا اور دونوں ممالک کے تعلقات مستقل طور پر کشیدہ رہنے لگے تھے۔ اعلانِ لاہور بھی اس کشیدگی کو ختم کرنے میں موثر ثابت نہ ہو سکا۔
مئی 1999ء میں کشمیری مجاہدین کے ایک گروہ نے کارگل کے علاقے میں فوجی لحاظ سے غایت درجہ کی اہمیت کی حامل چوٹیوں پر قبضہ کر لیا اور مقبوضہ کشمیر میں موجود بھارتی فوج کو کمک پہنچانے کے لئے استعمال ہونے والی اہم ترین شاہراہ ان کے نشانے پر آ گئی۔ بھارت نے حسب معمول ان مجاہدین کی اعانت کا الزام پاکستان پر دھرا اور پاکستان نے ہمیشہ کی طرح اس کی تردید کی۔ بہرحال، کارگل کا معرکہ جولائی کے وسط تک جاری رہا اور ہزاروں بھارتی فوجیوں کی جان کا نذرانہ لے کر تب ختم ہوا جب شدید عالمی دباؤ کے تحت پاکستان نے مجاہدین سے واپسی کی درخواست کرنے پر رضامندی ظاہر کر دی۔ یہ ایک الگ بات ہے کہ مجاہدین کے چھوٹے چھوٹے گروہوں نے پاکستان کی درخواست کے باوجود واپس آنے سے انکار کر دیا اور جنگ کا سلسلہ کسی نہ کسی انداز میں جولائی کے آخر تک جاری رہا۔ 
کارگل کے تنازعے نے جہاں پوری دنیا کی توجہ مسئلہ کشمیر کی جانب مبذول کرائی، وہیں بھارت کو بھی مجبور کر دیا کہ وہ شدید سردی کے موسم میں بھی کارگل کی چوٹیوں پر اپنی چوکیاں آباد رکھے۔ علیحدگی پسندوں کی داخلی تحریکوں ، سیاچین کے کارزار اور کشمیر کے میدانِ جنگ کے بعد کارگل بھارتی دفاعی اخراجات پر ایک اور بوجھ بن کر سامنے آ گیا، اور یہ حقیقت بھی واضح ہو گئی کہ مسئلہ کشمیر کے حل تک دونوں ممالک کے درمیان خوشگوار تعلقات کا قیام ممکن نہیں۔ 
اس سے پہلے اپریل 1999ء میں ، اتحاد کی ایک رکن جماعت کے علیحدہ ہو جانے کی وجہ سے، بی جے پی کی حکومت پارلیمنٹ میں اپنی اکثریت سے محروم ہو چکی تھی۔ پارلیمانی بحران کو ختم کرنے کے لئے اکتوبر 1999ء میں نئے انتخابات منعقد کرائے گئے۔ ایک مرتبہ پھر بی جے پی اور اس کی اتحادی جماعتوں نے پارلیمنٹ میں واضح اکثریت حاصل کر لی اور واجپائی نے تیسری مرتبہ وزیر اعظم کی حیثیت سے حلف اٹھا لیا۔
واجپائی کی حکومت نے ان معاشی اصلاحات کا تسلسل قائم رکھا جو 1990ء کی دہائی کے وائل میں کانگریس کی حکومت نے شروع کی تھیں۔ اس کے نتیجے میں اکیسویں صدی میں داخل ہوتے وقت بھارت معیشتی لحاظ سے قابل ذکر گروتھ ریٹ حاصل کر چکا تھا۔ ریاستوں کی ملکیت کئی تجارتی شعبوں کو پرائیویٹ سیکٹر کے ہاتھ فروخت کر دیا، غیرملکی سرمایہ کاری میں معتدبہ اضافہ ہوا اور انفارمیشن ٹیکنالوجی بھارتی معیشت کا ایک اہم حصہ بن کر سامنے آئی۔ فی کس سالانہ آمدنی کی شرح میں اضافہ ہوا اور غربت کی شرح میں کمی واقع ہوئی۔ تاہم معیشت کی گروتھ کے زیادہ تر فوائد مڈل اور اپرمڈل کلاس تک محدود رہے جو کہ بی جے پی کے ووٹ بنک کی بنیاد فراہم کرنے والے طبقات تھے۔
معاشی استحکام کا سلسلہ تو جاری رہا لیکن سیاسی استحکام کے حالات اب بھی ڈانواں ڈول ہی تھے۔ کشمیر میں جاری تحریک آزادی میں پہلے سے کہیں زیادہ شدت آ گئی تھی۔ دسمبر 2001ء میں بھارتی پارلیمنٹ پر بھی حملہ ہوا جس کا الزام کشمیری مجاہدین پر لگایا گیا۔ یہ الگ بات کہ حملے میں مرنے والوں کا کسی معروف کشمیری تنظیم سے تعلق ثابت نہ کیا جا سکا۔ پاکستان پر کی جانے والی الزام تراشیوں میں پہلے سے کہیں زیادہ اضافہ ہو گیا اور بھارتی حکمرانوں کا لہجہ سنگین سے سنگین تر ہوتا چلا گیا۔ کلائمکس 2002ء کے وسط میں سامنے آیا جب بھارت نے دس لاکھ سے زائد افواج پاک بھارت سرحد پر لا کھڑی کیں۔ دیکھنے والوں کو یہ ہی معلوم ہوا کہ پاکستان اور بھارت میں ایک اور جنگ کا آغاز ہونے والا ہے۔ عالمی برادری فوراً درمیان میں کود پڑی اور صلح صفائی کی کوششیں شروع ہو گئیں۔ دو جوہری طاقتوں کا تصادم نہ ہو، اسی میں سب کی عافیت تھی۔
عافیت کے طلب گاروں کو شاید کبھی اس بات کا احساس نہ ہو سکا کہ اس مرتبہ پاک بھارت جنگ کا حقیقی خطرہ کبھی موجود ہی نہ تھا۔ الزام تراشیاں ، دھمکیاں اور سرحدوں پر فوج کا اجتماع سب ایک سیاسی شوشہ تھے۔ حقیقت یہ تھی کہ واجپائی حکومت اس وقت اندرون بھارت اپنی مقبولیت سے تیزی سے محروم ہو رہی تھی۔ ایک طرف معیشتی ترقی کے ثمرات حقیقی مستحقین تک نہ پہنچ سکے تھے اور دوسری طرف کشمیر کا مسئلہ بھارتی عوام کے اعصاب پر ایک ناقابل برداشت بوجھ کی حیثیت اختیار کرتا جا رہا تھا۔ یہ سارا کھڑاک اپنی کھوئی ہوئی مقبولیت کو دوبارہ بحال کرنے اور کشمیر میں اپنی موجودگی کا جواز فراہم کرنے کے لئے رچایا گیا تھا۔
جنگ نہیں ہونی تھی، نہ ہوئی۔ مصالحت کرانے والوں نے اپنی کوششوں کی ’’بار آوری‘‘ پر سکھ کا سانس لیا۔ مئی 2003ء میں دونوں ممالک نے سفارتی تعلقات پورے طور پر بحال کرنے پر آمادگی ظاہر کی اور تقریباً دو سال میں پہلی مرتبہ دونوں ممالک میں اعلیٰ سطحی ملاقاتوں کا سلسلہ جاری ہوا۔ چودہ سال میں پہلی مرتبہ لائن آف کنٹرول پر دو طرفہ گولہ باری کا سلسلہ ختم ہوا اور دونوں ممالک کے درمیان ہوائی سروس دوبارہ شروع ہو گئی جسے 2001ء میں بند کر دیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ تجارتی تعلقات کو مزید وسیع اور مضبوط بنانے کے لئے سفارتی کوششیں شروع ہو گئیں۔ اس وقت ان کوششوں میں ہونے والی پیش رفتیں ہم سب دیکھ رہے ہیں۔ 
واجپائی حکومت نے اپنے استحکام کے لئے جو ڈرامہ رچایا تھا، وہ اتنا پُراثر ثابت نہ ہو سکا جتنی کہ انہیں توقع تھی۔ 2004ء کے انتخابات نے ثابت کر دیا کہ بھارتی عوام اتنے بے وقوف نہیں کہ ایسے شوشوں کے اثر میں آ جائیں۔ بی جے پی ’’روشن ہندوستان‘‘ کا نعرہ لے کر انتخابی میدان میں اتری اور شکست سے دوچار ہوئی۔ فتح کانگریس کے حصے میں آئی جس نے اپنی انتخابی مہم کے لئے ایک ایسا پلیٹ فارم چنا تھا، جس میں ایک بڑے طبقے کے لئے بے پناہ کشش موجود تھی۔ جہاں بی جے پی نے اپنے دورِ حکومت میں ہونے والے معاشی ترقی کو دلیل بنا کر اپنی کامیابی ثابت کرنے کی کوشش کی تھی، وہاں کانگریس نے بھارت کے کروڑوں غریبوں کی حالت زار کی طرف توجہ دلا کر سابقہ حکومت کی ناکامی کو واضح کیا تھا۔ یہ ایک حقیقت تھی کہ کئی سالوں کی خشک سالی نے دورافتادہ علاقوں کے کسانوں کی حالت تباہ کر رکھی تھی اور بی جے پی کے دور میں ہونے والی معیشتی ترقی نے انہیں اور ان جیسے کروڑوں غریبوں کو کوئی نفع نہیں پہنچایا تھا۔ شہروں میں ترقی کے ثمرات کسی حد تک دیکھے جا سکتے تھے لیکن بھارت کے 72 فیصد عوام تو دیہاتوں کے رہائشی تھے، انہیں شہروں کی خوشحالی سے بھلا کیا علاقہ ہو سکتا تھا! قصہ مختصر یہ کہ حکومت بی جے پی کے ہاتھوں سے نکل گئی۔
پارلیمنٹ میں واضح اکثریت کانگریس کے ہاتھ بھی نہیں آئی لیکن دوسری جماعتوں کو ساتھ ملا کر وہ حکومت بنانے میں کامیاب ہو گئی۔ کمیونسٹ پارٹیوں نے حکومتی اتحاد میں شامل ہونے کی پیشکش البتہ مسترد کر دی۔ توقع کی جا رہی تھی کہ راجیو گاندھی کی اطالوی نژاد بیوہ سونیا گاندھی بھارت کی نئی وزیر اعظم کے روپ میں سامنے آئیں گی لیکن بی جے پی نے ایک غیرملک میں ان کے جنم کو بنیاد بنا کے احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ شروع کر دیا اور یوں یہ توقع پوری نہ ہو سکی۔
کانگریس کی غیر متوقع جیت یقیناً اس کے کارپردازان کے لئے بڑی خوشی کا باعث ہوئی ہوگی لیکن بھارت کی سٹاک مارکیٹ یہ صدمہ برداشت نہ کر سکی اور اس کا انڈکس بھارت کی تاریخ کا سب سے بڑا غوطہ ایک ہی دن میں کھا گیا۔ بہرحال، یہ صورتِ حال زیادہ عرصہ برقرار نہ رہی اور بھارت کی موجودہ معاشی ترقی کے محترم نقشہ ساز، راجیو گاندھی کی حکومت کے وزیر مالیات، من موہن سنگھ کے وزیر اعظم کی حیثیت سے حلف اٹھانے کے بعد سرمایہ کاروں کا اعتماد پھر سے بحال ہو گیا اور سٹاک ایکسچینج کی حالت مستحکم ہونا شروع ہو گئی۔ اس معاشی کامیابی کا سفر جاری رہا اور نتیجہ یہ نکلا کہ اگلے انتخابات میں بھی کانگریس اور اس کی اتحادی جماعتوں کو کامیابی حاصل ہوئی اور من موہن سنگھ ایک مرتبہ پھر وزیر اعظم بن گئے۔
میں کوئی لمبا چوڑا تجزیہ پیش کرنے کی کوشش نہیں کروں گا۔ حقائق آپ کے سامنے ہیں۔ دیکھنے والے آج بھی دیکھ رہے ہیں کہ بھارت کے وطیرے ابھی تک بدلے نہیں۔ ابھی تک اس کے سیاسی عدم استحکام کا وہی حال ہے۔ معیشتی ترقی کا سفر جاری ہے لیکن ابھی تک اس حوالے سے بھارت اس مقام تک نہیں پہنچ سکا، جہاں اس سے کہیں کم عرصے میں ایشیاء کے بعض دوسرے ممالک پہنچ گئے ہیں اور قرائن بتاتے ہیں کہ نئی صدی کے پہلے نصف کو عبور کرنے کے بعد بھی بھارت اس ہدف سے دور ہی رہے گا، کیونکہ نمایاں معیشتی استحکام، نمایاں سیاسی استحکام کے بغیر حاصل نہیں ہو سکتا اور بھارت ابھی تک اس امتحان میں پورا نہیں اتر سکا۔ یہ ہم دیکھ چکے ہیں کہ ایشیاء میں تو کیا دنیا بھر میں ترقی یافتہ ہونے کا درجہ انہی اقوام نے حاصل کیا جنہوں نے معیشت سے پہلے سیاسی صورتِ حال پر قابو پایا اور اسے مستحکم کیا۔ ماہرین معیشت کہتے ہیں کہ بھارت کی معیشتی ترقی اتنے طویل عرصے تک رکے رہنے کا سبب یہ ہے کہ اس نے مغرب کی جمہوری اقدار تو اپنا لیں لیکن معاشی اقدار کو اپنانے سے احتراز کیا لیکن میرے نزدیک آزادی کے پچاس سال بعد بھارت مغرب کی معاشی اقدار اپنانے میں تو شاید کامیاب ہو گیا ہے لیکن ان جمہوری اقدار کو ابھی تک فروغ دینے میں کامیاب نہیں ہو پایا جو کسی ملک کے سیاسی استحکام کی ضمانت بنتی ہیں ، اور جب تک ایسا نہیں ہوگا، اس کا پائیدار معیشتی استحکام کی منزل تک پہنچنا مشکوک ہی رہے گا۔

پاکستان

پاکستانی جمہوریت کی کہانی کا آغاز اصلاً کہاں سے ہوتا ہے، اس کے بارے میں کچھ کہنا مشکل ہے۔ کیا ہم اس کا آغاز دو قومی نظریئے کی ترتیب و تدوین اور اس کے نتیجے میں جنم لینے والی تحریک سے کریں ؟ یا پھر ہمیں ابتداء اس روز سے کرنی چاہئے جب پاکستان بہ حیثیت ایک آزاد ریاست دنیا کے نقشے پر ابھرا؟ یا پھر ہم اس کا آغاز اس وقت سے کریں جب ذوالفقار علی بھٹو پاکستان کے پہلے حقیقی عوامی لیڈر کی حیثیت سے منصہ شہود پر نمودار ہوئے اور پاکستانی سیاست کا نقشہ ہمیشہ کے لئے بدل گیا؟
زمانی حوالے سے بات کی جائے تو قصہ ان سیاسی اصلاحات و واقعات کے ذکر سے شروع کیا جانا چاہئے جنہوں نے متحدہ ہندوستان کے عوام کو حرب و ضرب کا راستہ چھوڑ کر سیاسی جدوجہد کی راہ اپنانے کی ترغیب دی اور انہیں موقع فراہم کیا کہ وہ ہتھیاروں کی بولی سے قطع نظر، ایک نئی زبان میں اپنا نکتہ نظر، اپنی ضرورتیں اور اپنے مطالبے بیان کر سکیں۔ پاکستانی جمہوریت کی کہانی کا آغاز یہاں سے کرنا یوں بھی مناسب معلوم ہوتا ہے کہ یہیں سے اس تحریک کی حقیقی معنوں میں شروعات ہوئی جس نے آگے چل کر ایک گولی چلائے بغیر، محض عوامی طاقت کے زور پر، مسلمانانِ ہند کے لئے ایک علیحدہ خطہ، ایک آزاد مملکت، حاصل کر لی۔ 
یہ سچ ہے کہ پاکستان نے اپنی زندگی کی تقریباً چھ دہائیوں کا خاصا بڑا عرصہ فوجی حکومت کے زیر فرمان گزارا۔ موجودہ حکومت سے قبل عوامی ووٹوں سے منتخب ہو کر آنے والی تمام جمہوری حکومتوں کا انجام کیا ہوا، وہ ہم سب کے سامنے ہے۔ گذشتہ 18 برسوں میں چار جمہوری حکومتیں برسراقتدار آئیں ، اور ان میں سے کسی کو اپنی مدتِ اقتدار پوری کرنے کا موقع نصیب نہ ہو سکا اور ان حکومتوں کے سربراہ اس وقت سیاسی جلاوطنی سے دوچار ہیں۔ اس سے قبل پاکستان کی پہلی منتخب جمہوری حکومت کے سربراہ کو ایک آمر کی چیرہ دستیوں کا شکار ہو کر پھانسی کے تختے پر کھڑا ہونا پڑا۔ (ملکی سیاست کے منظر نامے پر اس کے جو اثرات مرتب ہوئے، وہ ایک علیحدہ کتاب کا موضوع ہے)۔ پاکستانی سیاست میں جمہوری عمل کو کبھی تسلسل کے ساتھ جاری رہنے کا موقع نہ مل سکا۔ 1988ء میں محترمہ بے نظیر بھٹو کے اقتدار میں آنے کے بعد یہ امید بندھ چلی تھی کہ پاکستان اب ایک جمہوری دور میں داخل ہو گیا ہے اور اب فوج کا کردار ’’بادشاہ گری‘‘ کے بجائے سرحدوں کے دفاع تک محدود رہے گا لیکن 11 سال کے مختصر عرصے کے بعد چشم عالم نے ایک بار پھر پاکستان کو مارشل لاء کے زیرسایہ دیکھا۔ آئین مملکت معطل کر دیا گیا اور ایک اور فوجی حکمران نے اقتدار کی کرسی سنبھال لی۔ اس حکمران کو اقتدار سے ہٹانے اور جمہوری حکومت کو ایک بار پھر برسراقتدار لانے کے لئے عوام کو جو پاپڑ بیلنا پڑے اور جن گمبھیر نقصانات سے دوچار ہونا پڑا، وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ 
سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ پاکستان میں کبھی بھی جمہوریت کو پوری طرح قدم جمانے کا موقع نہیں مل سکا؟ عوام کی بے شعوری اس کا سبب بنی، سیاستدانوں کی نااہلی نے اسے جنم دیا یا ریاستی ڈھانچے میں پائی جانے والی کسی خامی نے بار بار ایسے حالات پیدا کئے کہ جمہوریت کے قدم ایک کے بعد دوسرے موقعے پر اکھڑتے چلے گئے؟
یہ سوال اپنی جگہ پر نہایت اہم ہے اور اگر پڑوسی ملک میں جمہوریت کے تسلسل کے تناظر میں دیکھا جائے تو اس کا جواب تلاش کرنا اور بھی اہم ہو جاتا ہے۔ دونوں ممالک نے ایک ساتھ آزادی حاصل کی اور ان میں بہت سی تہذیبی اور ثقافتی اقدار مشترک بھی ہیں ، اس کے باوجود ان کی سیاسی تاریخ ایک دوسرے سے بہت زیادہ مختلف ہے۔
اگر ایک غیرجانبدار مبصر کی حیثیت سے ایک پڑھا لکھا تجزیہ کرنے کی کوشش کی جائے تو نہایت اختصار سے کام لیتے ہوئے کم از کم چار اسباب کا تعین کیا جا سکتا ہے۔

بار بار کی رخنہ اندازی

پاکستان میں جمہوریت کے مکمل طور پر کامیاب نہ ہو سکنے کی پہلی وجہ، جمہوریت کے تسلسل میں بار بار کی جانے والی رخنہ اندازی ہے۔ جمہوریت کا عمل اگر بلا روک ٹوک جاری رہے تو ابتداء میں جزوی ناکامیوں سے دوچار ہونے کے باوجود رفتہ رفتہ ایک ایسا ماحول پیدا کر دیتا ہے جو عوام میں سیاسی شعور کو فروغ دینے اور انہی کی صفوں سے عوامی لیڈر پیدا کرنے میں مددگار ہوتا ہے۔ جمہوری عمل کے ایک تسلسل کے ساتھ جاری نہ رہ پانے کی بدولت جو حالات پیدا ہوئے، ان کا نتیجہ یہ نکلا کہ بعد میں جب جمہوریت کو کچھ عرصہ مسلسل جاری رہنے کا موقع ملا تو اسے وہ عوامی نمائندے حاصل نہ ہو سکے جو پختہ سیاسی شعور کے حامل اور اپنے حقوق و فرائض سے کماحقہ آشنا ہوتے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ پاکستان کے منتخب عوامی نمائندوں کی ایک بڑی تعداد خود اپنے حقوق کی تفصیل اور فرائض کی ترتیب سے پوری طرح آشنا نہ تھی۔ شعور کی اس کمی کی بدولت عوامی نمائندوں میں وہ اعتماد پیدا نہ ہو سکا جو اپنی مستقل جگہ بنانے اور اپنی حیثیت منوانے کے لئے ضروری ہوتا ہے۔ کوئی ایسا موثر نظام بھی موجود نہ تھا جو ان عوامی نمائندوں کی مناسب تربیت کر کے انہیں ان کے مقام سے وابستہ نزاکتوں سے پوری طرح واقف بنا سکتا۔ نا تجربہ کاری اور ناواقفیت کے اس عالم میں ان سے جو غلطیاں ہوئیں ، اس کا خمیازہ پوری قوم کو فوجی حکومتوں کی صورت میں بھگتنا پڑا، اور وہ عوامی نمائندے بھی اس طوفان کی زد سے محفوظ نہ رہے جو جاں گسل مشقت اور صبر آزما مراحل سے گزرنے کے بعد سیاسی پختگی کی منزل تک پہنچ چکے تھے۔

فوجی حکومتیں 

جمہوریت کے کامیاب نہ ہو پانے کی دوسری وجہ بھی اصلاً پہلی وجہ کا ہی ایک حصہ ہے۔ ملک میں بار بار آنے والی فوجی حکومتوں نے سیاسی عمل کو جس تعطل کا شکار بنائے رکھا، اس کی بدولت قیادت کی نشوونما کا عمل یکسر رک گیا۔ جمہوریت جب کبھی بھی بحال ہوئی، اس کی زندگی کبھی اتنی طویل ثابت نہ ہو سکی کہ نئی قیادت کو سامنے آنے کا موقع مل سکے۔ حالات کی سنگینی کا کچھ اندازہ اس حقیقت سے لگایا جا سکتا ہے کہ 1951ء میں لیاقت علی خان کے انتقال کے بعد سے 1988ء میں محترمہ بے نظیر بھٹو کے وزیر اعظم بننے تک کے 37 برسوں میں ، ذوالفقار علی بھٹو کے ماسوا، کوئی ایسا سیاسی لیڈر نظر نہیں آتا جو پورے ملک میں عوامی حمایت حاصل کر سکا ہو۔

تعلیم یافتہ طبقے کی سیاست سے بے زاری

پاکستان کی تعلیم یافتہ مڈل کلاس کا بتدریج سیاسی سرگرمیوں سے الگ تھلگ ہو جانا پاکستان میں جمہوریت کے انحطاط کے تیسرے بڑے سبب کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے۔ کسی بھی ملک کی سیاست میں اس کی تعلیم یافتہ مڈل کلاس جو اہمیت رکھتی ہے، اس کا اندازہ پڑوسی ملک کی تاریخ میں منعقد ہونے والے انتخابات کے نتائج سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔ سیاسی عمل کی راہ میں بار بار جو روڑے اٹکائے گئے، انہوں نے پاکستان کی تعلیم یافتہ مڈل کلاس کو پورے نظامِ سیاست سے بیزار ہونے پر مجبور کر دیا۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو کی آمد سے پہلے سیاست محض امراء کے ڈرائنگ رومز تک محدود تھی اور ملک کی مڈل کلاس اور نچلے طبقات کو اس سے بالکل الگ تھلگ رکھا جاتا تھا۔ ذوالفقار علی بھٹو نے ان زیریں طبقات کو سیاسی عمل میں شامل کر کے جس انقلاب کو جنم دیا، اگر اسے اپنا دورانیہ مکمل کرنے کا موقع مل جاتا تو آج پاکستانی سیاست کے حالات بالکل مختلف ہوتے۔ 1988ء کے انتخابات کے بعد ایک بار پھر ایک موقع آیا تھا کہ ملک کی مڈل کلاس کے خفتہ سیاسی شعور کو انگیخت کر کے بیدار ہونے اور قوت پکڑنے کا موقع دیا جائے لیکن صد افسوس، ایک بار پھر انہی عناصر کی بدولت، جو اس سے پہلے جمہوریت کی گاڑی کو بار بار بریک لگانے میں سرگرم رہے تھے، یہ خواب شرمندۂ تعبیر نہ ہو سکا۔ نتیجہ یہ کہ آج بھی تعلیم یافتہ و ہنرمند افراد، دانشوروں ، اقلیتوں اور خصوصاً خواتین کی ایک بڑی تعداد سیاسی عمل سے یوں لاتعلق رہتی ہے جیسے صاحبانِ اقتدار کے آنے جانے سے نہ ان کا کوئی واسطہ ہے اور نہ انہیں اس سے کوئی فرق پڑتا ہے کہ حکومت کی کرسی پر کون براجمان ہے۔ اس سوچ نے جہاں سیاسی و جمہوری شعور کے پھیلنے اور پروان چڑھنے کے عمل کی راہیں روک رکھی ہیں ، وہیں غیرسیاسی عناصر کو یہ موقع بھی فراہم کر دیا ہے کہ وہ طرح طرح کی شعبدے بازیاں دکھا کر حکومت کی باگ ڈور ہمیشہ اپنے قبضے میں رکھ سکیں۔ 

سیاستدانوں کی غلطیاں 

یہ تسلیم کئے بغیر چارہ نہیں کہ پاکستانی سیاستدانوں سے غلطیاں ہوئی ہیں۔ اس کی وجہ کیا رہی، یہ میں چند سطور پیشتر بیان کر چکا ہوں۔ لیکن یہ غلطیاں دہرائی کیوں گئیں ؟ ایسا کیوں ہوا کہ قومی منظر نامے پر نمایاں ہونے والے سیاستدان یکے بعد دیگرے انہی غلطیوں کا اعادہ کرتے رہے؟ ایسا کیوں ممکن نہ ہو سکا کہ سیاستدان اپنی گذشتہ غلطیوں سے سبق حاصل کرتے اور آئندہ ان سے گریز کرنے میں کامیاب رہتے؟ میرے نزدیک اس کی بڑی وجہ عوامی سطح پر احتساب کے شعور کی عدم موجودگی ہے۔ حکومتی سطح پر جس احتساب کا غلغلہ آج کل بلند کیا جاتا ہے، اس کی درونِ خانہ کیفیت سے ہر صاحب شعور پاکستانی واقف ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ سیاستدانوں کا احتساب ہمیشہ عوام کرتے ہیں۔ یہ عوام ہی ہوتے ہیں جو انہیں اپنے کندھوں پر سوار کر کے ایوانِ اقتدار تک پہنچاتے ہیں ، اور یہ عوام ہی ہوتے ہیں جو بعد ازاں ان کی غلطیوں پر ان سے جواب طلب کرتے ہیں۔ ہر پاکستانی رائے دہندہ کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے منتخب نمائندے کی کسی فروگذاشت پر اس کا احتساب کر سکے اور غلطی کا اعادہ کرنے پر اسے سزا بھی دے سکے۔ اسلامی تاریخ سے اس کی کئی مثالیں پیش کی جا سکتی ہیں اور دنیا کے دیگر جمہوری ممالک سے اس کی نظائر تلاش کرنا کوئی مشکل کام نہیں۔ پاکستان میں المیہ یہ ہوا کہ جب عوام نے سیاسی عمل سے لاتعلقی اختیار کی تو اس کے ساتھ اپنے نمائندوں سے بھی ناتہ توڑ لیا۔ اپنے نمائندوں کی سرگرمیوں پر نگاہ رکھنے اور ان کی کار گزاریوں کا حساب رکھنے کا کوئی نظام شہریوں کی طرف سے تشکیل نہیں دیا گیا۔ عوامی احتساب کی عدم موجودگی کا نتیجہ یہ نکلا کہ غلطیاں بار بار دہرائی گئیں ، اور ایک وقت ایسا بھی آیا کہ بلا خوف و تردد، جان بوجھ کر ایسے اقدامات کئے گئے جنہوں نے جمہوریت پر نہایت مضر اثرات مرتب کئے۔ اگر پاکستان کی جمہوریت کو ایک بار پھر سے اپنے پیروں پر کھڑا ہونا ہے تو اسے اپنے شہریوں میں احتساب کا شعور پیدا کرنا ہوگا۔ گویا بات صرف یہاں پر ختم نہیں ہوتی کہ عوامی نمائندے اپنے حقوق و فرائض کا شعور حاصل کر لیں ، بلکہ ان کا یہ فرض بھی بنتا ہے کہ وہ اپنے منتخب کنندگان میں ان کے حقوق و فرائض کا شعور پیدا کریں۔ عوام کو یہ علم ہونا چاہئے کہ سیاسی عمل میں ان کا حصہ محض اتنا نہیں کہ وہ نمائندے منتخب کریں اور بعد میں ان سے اپنے مسائل کے حل کی توقعات باندھ لیں۔ اس سے کہیں آگے بڑھ کر، یہ بھی ان کا فرض بنتا ہے کہ وہ اپنے منتخب کردہ نمائندوں کی نگرانی کریں اور انہیں راہِ راست سے بھٹکنے کی اجازت کبھی نہ دیں۔ 
ان آراء سے اختلاف کرنے کا حق آپ کو یقیناً حاصل ہے، اور یہ بھی ممکن ہے کہ آپ پاکستان میں جمہوریت کے تا حال کامیاب نہ رہ پانے کی کئی اور وجوہات بیان کر سکیں جو ان وجوہات سے زیادہ حقیقی اور ٹھوس ہوں … لیکن اتنی بات میں پورے یقین سے کہی جا سکتی ہے کہ اس المیے کی جو بھی وجوہات سامنے لائی جائیں گی، بغور تجزیہ کرنے پر ان کی جڑیں بھی انہی وجوہات سے پھوٹتی ہوئی معلوم ہوں گی جن کا ذکر کیا جا چکا ہے۔
اس مختصر سے گریز کے بعد ایک بار پھر ہم اپنے موضوع کی طرف واپس پلٹتے ہیں جسے تین حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ پہلے حصے میں سیاسی اصلاحات و واقعات کے اس عمل کا جائزہ لیا جائے گا جس نے برصغیر کے عوام کو یہ شعور دیا کہ وہ اپنے لئے آزادی کا مطالبہ کر سکیں ، اور بعد ازاں مسلمانوں کو ترغیب دی کہ وہ متحدہ ہندوستان کے بجائے، اپنے لئے ایک الگ وطن کا مطالبہ کریں۔ دوسرے حصے میں پاکستان کی آئینی تاریخ کا ایک مختصر مطالعہ کیا جائے گا، اور تیسرے اور آخری حصے میں ، موجودہ حالات کے تناظر میں پاکستانی جمہوریت کے مستقبل کے متعلق چند اندازے پیش کئے جائیں گے۔ 

آزادی سے پہلے

1857ء کی جنگ آزادی کے انجام کو پہنچنے کو بعد اس دور کا آغاز ہوا جسے برصغیر کی تاریخ میں ’’برٹش راج‘‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ سترہویں صدی میں تاجروں کی حیثیت سے برصغیر کے ساحل پر قدم رکھنے والے برطانوی انیسویں صدی میں اس کے تاجدار کیسے بن بیٹھے، یہ ایک دلچسپ اور عبرت آموز کہانی ہے جس پر بہت کچھ کہا اور لکھا جا چکا ہے۔ 1857ء کی جنگ آزادی برصغیر میں مسلمانوں کی حکومت کے چراغ کا آخری سنبھالا تھا، جس کے بعد یہ شعلہ گل ہو گیا اور غلامی کی تاریک رات ساکنانِ ہند پر محیط ہو گئی۔
برصغیر میں برٹش راج موجودہ دور کے ہندوستان، بنگلہ دیش، پاکستان اور میانمر (سابقہ برما) پر محیط تھا۔ 1947ء میں اس قلمرو کا ایک بڑا حصہ آزادی حاصل کر کے ہندوستان اور پاکستان میں تقسیم ہو گیا اور 1948ء میں میانمر نے بھی برٹش راج کا جوا اپنی گردن سے اتار پھینکا۔ آج اگر ان علاقوں کی آزادی سے قبل کی تاریخ کا حوالہ دینا ہو تو مورخ انہیں ’’برطانوی ہندوستان‘‘ کہہ کر یاد کرتے ہیں حالانکہ آزادی سے پہلے ’’برطانوی ہندوستان‘‘ کی اصطلاح صرف ان علاقوں کے لئے استعمال کی جاتی تھی جو براہِ راست حکومت برطانیہ کے دارالحکومت دہلی کے زیر انتظام تھے۔ ان علاقوں کا ایک قابل ذکر حصہ برطانیہ کے زیر اثر ہونے کے باوجود، نام کی حد تک، آزاد تھا۔ یہ علاقہ ان رجواڑوں اور ریاستوں پر مشتمل تھا جن پر ایسے راجے، مہاراجے، ٹھاکر اور نواب حکمران تھے جنہوں نے انگریزوں کے ساتھ صلح اور تعاون معاہدے کر کے اپنی گدی کو محفوظ بنا لیا تھا۔ سری لنکا بھی اس وقت برطانوی نوآبادی تھا لیکن اسے ’’برطانوی ہندوستان‘‘ کا حصہ تصور نہیں کیا جاتا تھا کیونکہ اس کا انتظام و انصرام ہندوستان کے وائسرائے کے بجائے براہِ راست ملکہ برطانیہ کے ہاتھ میں تھا۔ زمانی اعتبار سے برٹش راج کا آغاز 1858ء سے ہوا جب تاجِ برطانیہ نے برصغیر پر حکومت کی عنان ایسٹ انڈیا کمپنی کے ہاتھوں سے چھین کر اپنے قبضے میں کر لی۔ 
بات کو واضح کرنے کے لئے پس منظر کی تھوڑی سی تفصیل بیان کر دینا ضروری معلوم ہوتا ہے۔ قصہ کچھ یوں ہے کہ 31 دسمبر 1600ء کو ملکہ برطانیہ الزبتھ اول نے برٹش ایسٹ انڈیا کمپنی کو مشرق کے ساتھ تجارتی تعلقات استوار کرنے کا تجارتی اجازت نامہ عطا کیا۔ کمپنی کے جہاز پہلی مرتبہ 1608ء میں ہندوستان پہنچے اور موجودہ گجرات کے ساحل پر سورت کے مقام پر لنگر انداز ہوئے۔ چار سالوں کے بعد سوالی کی جنگ میں برطانویوں نے پرتگالیوں کو شکست سے دوچار کر کے مغل بادشاہ جہانگیر کی خوشنودی حاصل کی۔ 1615ء میں شاہ جیمس اول نے تھامس رو کو اپنا سفارت کار بنا کر جہانگیر کے دربار میں بھیجا اور مغل حکومت کے ساتھ ایک تجارتی معاہدہ طے پایا جس کی رُو سے کمپنی کو یورپ سے آنے والی اشیاء کے بدلے میں تجارتی کوٹھیاں قائم کرنے کی اجازت مل گئی۔ اس دور میں کمپنی کی تجارت سوتی اور ریشمی کپڑے، قلمی شورے، نیل اور چائے پر مشتمل تھی۔
سترہویں صدی کے وسط تک کمپنی کی تجارتی کوٹھیاں تقریباً تمام بڑے ساحلی شہروں میں قائم ہو چکی تھیں اور بمبئی (موجودہ ممبئی)، کلکتہ (موجودہ کول کتہ) اور مدراس (موجودہ چنائی) ان کی تجارت کے اہم مراکز تھے۔ 1612ء میں انہوں نے سورت میں اپنا پہلا کارخانہ بھی قائم کر لیا۔ 1670ء میں شاہ چارلس دوم نے کمپنی کو زمین حاصل کرنے، فوج رکھنے، اپنا سکہ خود ڈھالنے اور اپنے زیر انتظام علاقوں میں عدلیہ و قانون کا انتظام و انصرام کرنے کے اختیارات بھی عطا کر دیئے۔ صدی کے اواخر تک کمپنی برصغیر کی سرزمین پر ایک علیحدہ ’’ریاست‘‘ کی حیثیت اختیار کر گئی جس کے پاس قابل ذکر فوجی قوت بھی تھی اور جو تین پریذیڈنسیوں پر حکومت کر رہی تھی۔
ارضی حکومت کے حوالے سے برطانویوں کو برصغیر میں پہلی مرتبہ قدم جمانے کا موقع 1757ء میں ملا جب رابرٹ کلائیو کے زیر قیادت کمپنی کی افواج نے جنگ پلاسی میں نوابِ بنگال سراج الدولہ کی افواج کو شکست سے دوچار کیا۔ اس فتح سے جہاں ایسٹ انڈیا کمپنی کو بے پناہ مال و متاع حاصل ہوا، وہیں بنگال کی پوری تجارت پر ان کی اجارہ داری بھی قائم ہو گئی۔ بنگال ایک ہندوستانی ریاست کے بجائے حکومت برطانیہ کی محروسہ ریاست کی حیثیت اختیار کر گیا۔ بنگالی کسانوں اور ہنر مندوں کو پابند کیا گیا کہ وہ اپنی خدمات نہایت معمولی معاوضے پر فروخت کریں اور اس کے ساتھ ساتھ ان پر ٹیکسوں کا ناقابل برداشت بوجھ لاد دیا گیا۔ نتیجتاً بنگالی زراعت اور ہنر مندی کا دیوالہ بخیر و خوبی نکل گیا۔ ایک اور بھیانک نتیجہ قحط کی صورت میں نکلا جو 1769ء سے 1773ء تک جاری رہا اور ایک کروڑ بنگالیوں کی جان لے کر ٹلا۔ انسانی جانوں کا یہ بے پناہ زیاں حکومت برطانیہ کی پالیسیوں میں کوئی تبدیلی لانے میں ناکام رہا اور تقریباً ایک صدی بعد ہندوستان ایک بار پھر ایک اور خوفناک قحط کی لپیٹ میں آ گیا۔ اس مرتبہ مرنے والے کی تعداد چار کروڑ سے متجاوز ہو گئی۔
1773ء میں برطانوی پارلیمنٹ نے ریگولیٹنگ ایکٹ پاس کیا جس کے تحت کمپنی کی باگ ڈور وزیر اعظم کے ہاتھ میں آ گئی۔ اس ایکٹ کے تحت انڈیا کے گورنر جنرل کا منصب بھی وجود میں لایا گیا اور وارن ہیسٹنگز اس عہدے کا پہلا حقدار بن کر سامنے آیا۔ بعد ازاں مزید ایکٹ پاس کر کے کمپنی کے اختیارات مزید محدود کر دیئے گئے اور حکومت برطانیہ کا کنٹرول کمپنی پر مزید مستحکم ہو گیا۔
انیسویں صدی کے آغاز پر لارڈ ویلزلی نے گورنر جنرل کی حیثیت سے کمپنی کی قلمرو کو وسیع کرنے کے کام کا آغاز کیا۔ اس کی شروعات شیر میسور ٹیپو سلطان کی شکست سے ہوئی۔ میسور کی فتح کے نتیجے میں جہاں ایک وسیع و عریض علاقہ کمپنی کے ہاتھ آیا اور ہندوستان پر برطانیہ کے مکمل تسلط کی راہ ہموار ہوئی، وہیں برصغیر میں فرانسیسی اثر و رسوخ کا مکمل خاتمہ بھی ہو گیا۔ اٹھارہویں صدی کے وسط میں گورنر جنرل لارڈ ڈلہوزی نے ’’انگریز سکھ جنگوں ‘‘ میں سکھوں کو مسلسل شکستیں دے کر پنجاب کا خطہ بھی کمپنی کی حکومت میں شامل کر لیا اور اس کے ساتھ ساتھ برما پر بھی قبضہ کر لیا۔ اس کے ساتھ ساتھ اس نے ’’قطع رحمی‘‘ کے نظریئے کا سہارا لے کر کئی خودمختار شاہی ریاستوں پر بھی قبضہ کر لیا۔ اس نظریئے کی بنیاد اس اصول پر رکھی گئی تھی کہ اگر کسی شاہی ریاست کا حکمران اولادِ نرینہ کے بغیر انتقال کر جاتا ہے تو کمپنی کو اس کی ریاست پر قبضہ کر لینے کا حق حاصل ہوگا۔ 1856ء میں کمپنی نے اودھ پر بھی قبضہ کر لیا، تاہم یہ اس کی آخری توسیع گیری ثابت ہوئی۔ اس سے اگلے سال ہندوستانی عوام ’’کمپنی راج‘‘ کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے، اور اس مناقشے نے جنم لیا جسے برطانوی مورخ ’’غدر‘‘ اور برصغیر کے مورخ ’’جنگ آزادی‘‘ کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ 
10 مئی 1857ء کے روز برطانیہ کی ہندوستانی فوج کے سپاہیوں نے، جن کا تعلق مقامی ہندو مسلم آبادی سے تھا، میرٹھ میں بغاوت کر دی۔ باغی سپاہی اپنی جانوں کے نذرانے لے کر دہلی کے مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کے حضور پہنچے اور آغازِ مبارزت کی درخواست کر دی۔ جلد ہی شمالی اور وسطی ہندوستان کا بڑا حصہ جنگ کی لپیٹ میں آ گیا اور کئی مقامی رجمنٹیں اور ریاستیں اس جنگ میں شامل ہو گئیں۔ 
مزاحمت کی یہ لہر، خواہ اس کے ظاہری اسباب کچھ بھی رہے ہوں ، حقیقتاً ایسٹ انڈیا کمپنی کی مسلسل چیرہ دستیوں کے خلاف ہندوستانی عوام میں پیدا ہونے والی شدید ترین بے چینی کا مظہر تھی۔ اس سے پہلے برطانوی کئی ’’فسادات‘‘ اور ’’قبائلی‘‘ جنگوں کو دبانے یا رعایتیں دے کر فرو کرنے میں کامیاب ہو چکے تھے لیکن اس مرتبہ بات ایسے نسبتاً چھوٹے اقدامات سے قابو میں آنے والی نہیں تھی۔
1857ء کی جنگ کی دو بڑی وجوہات بیان کی جاتی ہیں۔ ان میں سے ایک توسیع پسندی کی وہ پالیسی تھی جسے گورنر جنرل لارڈ ڈلہوزی ایک عرصے سے جاری رکھے ہوئے تھا اور جس کے لئے اس نے ’’قطع رحمی‘‘ کے نظریئے کو اپنا بڑا ہتھیار بنا رکھا تھا۔ اس پالیسی کے تحت مقامی حکمران اس حق سے محروم ہو گئے تھے کہ اولادِ نرینہ نہ ہونے کی صورت میں کسی کو متبنٰی مقرر کر کے حکومت کا سلسلہ برقرار رکھ سکیں۔ ہندو ریاستوں میں یہ رسم ایک عرصے سے خصوصی طور پر رائج چلی آ رہی تھی جس کی اجازت انہیں مذہبی اور دنیاوی دونوں اعتبار سے حاصل تھی۔ اس نظریئے کے تحت قبضے میں لی جانے والی ریاستوں میں ساترا، تھانجور، سمبل، جھانسی، جیت پور، اودے پور اور بھگت جیسی بڑی ریاستیں بھی شامل تھیں۔ اس کے علاوہ کمپنی نے سینہ زوری کا مظاہرہ کرتے ہوئے 1843ء میں سندھ اور 1856ء میں اودھ کی دولتمند ریاستوں پر بھی قبضہ جما لیا تھا۔ اودھ کی ریاست خصوصی طور پر امیر ہونے کے ساتھ ساتھ ہندوستان میں مغل حکومت کی عظمت رفتہ ایک بڑی نشانی بھی تصور کی جاتی تھی۔ کمپنی کے تاجروں کی اس ہوسِ ملک گیری نے ہندوستانیوں کے جذبات بھڑکانے میں اہم کردار ادا کیا۔ سونے پر سہاگہ یہ بات ثابت ہوئی کہ ان تاجروں میں سے اکثر کا تعلق برطانیہ کے زیریں اور متوسط طبقات سے تھا جو آدابِ ملک گیری و جہانبانی سے یکسر نابلد تھے۔ ہندوستان کا طبقہ اشراف ان افراد کو حقارت کی نگاہ سے دیکھتا تھا اور ان کے غیر مہذبانہ طور اطوار ان کی عزتِ نفس کو ٹھیس پہنچانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیتے تھے۔ جنگ آزادی کا آغاز ہونے کے بعد، طبقہ اشراف کے ایسے اراکین افواجِ آزادی کے ہراول دستے میں شامل ہو گئے۔
1857ء کی آگ کو بھڑکانے کا فوری سبب یہ اطلاع بنی کہ برطانوی ہندوستان کی مقامی افواج کو جو کارتوس فراہم کئے گئے ہیں ، ان پر خنزیر اور گائے کی چربی کی تہہ چڑھی ہوئی ہے۔ ان کارتوسوں کو بندوق میں بھرنے سے قبل دانتوں سے کاٹنا پڑتا تھا اور کسی بھی ہندو یا مسلمان سپاہی کے لئے یہ ممکن نہ تھا کہ وہ ایسے کسی کارتوس کو اس انداز میں استعمال کر سکے۔ مسلمانوں کے نزدیک خنزیر حرام ہے اور ہندوؤں کے نزدیک گائے ایک مقدس جانور۔ لہٰذا دونوں اقوام کے جذبات بھڑک اٹھے۔ بات کارتوسوں کے استعمال سے انکار سے شروع ہوئی اور جلد ہی ایک مکمل جنگ کی شکل اختیار کر گئی۔
برطانوی اس شدید ردِ عمل کے لئے کسی صورت تیار نہ تھے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ پہلے ہی جھٹکے میں کئی ریاستیں ان کے ہاتھوں سے نکل کر آزادی کے سپاہیوں کے قبضے میں چلی گئیں۔ اگرچہ جنگ کا آخری نتیجہ برطانیہ کی فتح کی صورت میں نکلا لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ اگر آپس کی ناچاقیاں اور اپنوں کی ریشہ دوانیاں دامن گیر نہ ہوتیں تو اس لہر میں اتنی قوت تھی کہ ہندوستان سے برطانوی راج کو اکھاڑ پھینکتی۔ 
اس جنگ کے حوالے سے ہونے والی لڑائیوں کا سلسلہ ایک سال سے زائد عرصے تک جاری رہا۔ بے شمار ہندوستانیوں اور برطانویوں نے اس کی لپیٹ میں آ کر جانیں گنوائیں۔ بہادر شاہ ظفر کو اس تحریک کا نام نہاد قائد ہونے کا خمیازہ جلاوطنی اور اپنے خاندان کے بیشتر افراد کی موت کی صورت میں بھگتنا پڑا۔ آزادی کے بچ رہنے والے سپاہی بالآخر کوئی راہ نہ پا کر نیپال کی طرف چلے گئے اور یوں یہ سلسلہ ختم ہو گیا۔
لڑائیوں کا سلسلہ تو ختم ہو گیا لیکن یہ جنگ سیاسی حوالے سے برصغیر کی تاریخ میں ایک اہم موڑ لے کر آئی۔ مغل حکومت مکمل طور پر ختم ہو گئی۔ پورے ہندوستان میں مذہبی اور ثقافتی مراکز بند کر دیئے گئے اور بے شمار لوگ اپنی جائیدادوں سے محروم ہو گئے۔ اسی کے ساتھ ساتھ برطانوی حکومت نے ایسٹ انڈیا کمپنی کو مکمل طور پر ختم کر دیا اور کمپنی راج کی جگہ برٹش راج نے لے لی۔ ملکہ وکٹوریہ نے براہِ راست حکومت کی پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے ہندوستان کے عوام سے وعدہ کیا کہ برطانوی حکومت کے زیر انتظام ان سے مساوی بنیادوں پر برتاؤ کیا جائے گا اور ان کی حیثیت میں کوئی کمی واقع نہ ہوگی۔ بہرحال، ہندوستان کے عوام محض الفاظ پر یقین کرنے پر آمادہ نہ ہوئے۔ جنگ آزادی کے نتیجے میں بد اعتمادی کی جو فضا پیدا ہوئی تھی، وہ اب بھی دونوں طرف برقرار تھی۔
جنگ آزادی کے بعد معاشیات اور محصولات کے حوالے سے حکومت برطانیہ کی زیادہ تر پالیسیوں میں کوئی تبدیلی رونما نہ ہوئی تاہم انتظامی سطح پر کئی تبدیلیاں روشناس کرائی گئیں۔ برطانوی کابینہ میں سیکرٹری آف سٹیٹ برائے انڈیا کا عہدہ تشکیل دیا۔ گورنر جنرل یا وائسرائے کو حکومت ہند کو انتظام و انصرام چلانے کی ذمہ داری سونپی گئی اور اس کی معاونت کے لئے عاملہ اور قانون ساز مجالس تشکیل دی گئیں۔ گورنر جنرل کی ماتحتی میں صوبوں کے گورنروں کے عہدے تشکیل دیئے گئے جنہیں انڈین سول سروس کی زیریں صفوں میں شامل ضلعی اور علاقائی اہلکاروں سے کام لینے کی ذمہ داری تفویض کی گئی تھی۔ کئی دہائیوں تک انڈین سول سروس پر برطانویوں کی اجارہ داری رہی اور اسی طرح قانون و عدلیہ اور طب و جراحت جیسے شعبوں پر بھی ان کا مکمل کنٹرول رہا پھر آہستہ آہستہ ہندوستانی افراد نے بھی ان میدانوں میں قدم جمانا شروع کر دیئے۔ تاہم اس منزل تک پہنچتے پہنچتے ہندوستان کو 50 سال کا طویل عرصہ بیت گیا۔ 
1858ء میں وائسرائے ہندوستان نے اعلان کیا کہ برطانوی حکومت رجواڑوں کے ساتھ ہونے والے سابقہ معاہدوں پر قائم رہے گی۔ اس کے ساتھ ہی ’’قطع رحمی‘‘ کے نظریئے کے خاتمے کا بھی اعلان کر دیا گیا۔ ہندوستان کا 40 فیصد ارضی حصہ اور 20 سے 25 فیصد آبادی ان 562 ’’خودمختار‘‘ ریاستوں میں آباد تھی۔ ان ریاستوں کے حکمران اپنی ظاہری شان و شوکت اور لکھ لٹیوں کے لئے افسانوی شہرت رکھتے تھے تاہم اپنے عوام کی فلاح اور ان کی معاشی و معاشرتی ترقی کے لئے اقدامات کے حوالے سے ان کا پلڑا عموماً ہلکا ہی رہتا تھا۔ ذاتی سطح پر برطانوی حکام کے رویئے میں کوئی خاص تبدیلی رونما نہ ہوئی بلکہ یوں کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ ہندوستانیوں کے حوالے سے ان کے رویئے کچھ اور درشتی پیدا ہو گئی۔ خود کو ہندوستانی عوام سے ایک فاصلے پر رکھنا اور ان پر اعتماد نہ کرنا ان کا وطیرہ بن گیا۔ ان کا رویہ سب کے لئے یکساں تھا۔ کوئی خواہ کیسے ہی شریف اور معزز خاندان سے تعلق کیوں نہ رکھتا ہو اور انگریزوں کے ساتھ وفاداری کا اظہار کرنے چاہے کتنی ہی مبالغہ آرائی سے کام نہ لیتا، برطانویوں کے نزدیک کسی صورت قابل قبول نہ تھا۔ برطانویوں کے خاندان اور ان کے ملازمین چھاؤنیوں میں رہائش پذیر رہتے جو ہندوستانی آبادیوں سے ایک محتاط فاصلے پر تعمیر کی جاتی تھیں۔ برطانویوں کے لئے خصوصی کلب بنائے گئے جن میں صرف برطانویوں کو رکنیت دی جاتی تھی۔ ایسے کلب برطانویوں کے ہندوستان چھوڑ جانے کے بعد قائم رہے۔
1883ء میں نسلی حد بندیوں کو ختم کرنے کی ایک کوشش میں برطانوی حکومت نے ایک نیا بل پاس کیا جس کی رُو سے ہندوستانی ججوں کو اختیار مل گیا کہ وہ جرائم میں ملوث ہونے والے برطانویوں کے مقدمات کی سماعت کر سکیں اور سزا سنا سکیں۔ اس بل کے خلاف برطانوی حلقوں اور اخبارات میں احتجاج کا ایک طوفان اٹھ کھڑا ہوا جس کے نتیجے میں وائسرائے جارج رابنسن کو اس قانون میں وسیع تبدیلیاں کرنا پڑیں۔ اس ’’سفید فام بغاوت‘‘ نے ہندوستان کے تعلیم یافتہ اور دانشور طبقے کو ایک اہم سیاسی سبق سے آشنا کیا۔ وہ یہ کہ احتجاج وہی موثر ہوتا ہے جو ایک منظم انداز میں کیا جائے۔ منتشر احتجاج، خواہ وہ کتنے ہی وسیع پیمانے پر کیوں نہ ہو، کبھی مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوتا۔
اس دور میں ہندوستان کو کئی خوفناک قدرتی آفات کا بھی سامنا کرنا پڑا جن میں سب سے نمایاں تباہ کن قحطوں کا ایک سلسلہ تھا جن میں سے بعض تاریخ عالم کے خوفناک ترین قحط سمجھے جاتے ہیں۔ یہ قحط موسمی حالات کا شاخسانہ ہونے کے ساتھ ساتھ برطانوی حکومت کی بے ڈھب معاشی اور انتظامی پالیسیوں کا بھی نتیجہ تھے۔ 1857ء کے بعد سے حکومت برطانیہ کی پالیسی چلی آ رہی تھی کہ مقامی زرعی اراضیوں کو ضبط کر کے ان پر غیرملکی مالکوں کے باغات لگوائے جائیں ، اندرونِ ملک تجارت پر کڑی پابندیاں عائد رکھی جائیں ، برطانوی فوجی مہمات کو مالی اعانت فراہم کرنے کے لئے ہندوستان کے باشندوں پر بھاری ٹیکس لگائے جائیں ، روپے کی قدر میں مسلسل کمی کی جاتی رہے تاکہ اشیائے ضروریہ کا حصول عوام کے لئے ایک مسئلہ بنا رہے، اور ہندوستان کی اہم اجناس کا زیادہ تر حصہ برطانیہ کو برآمد کیا جاتا رہے۔ حکومت برطانیہ کی ان ناپسندیدہ پالیسیوں کو صرف ہندوستانیوں کی طرف سے نہیں بلکہ انصاف پسند برطانویوں کی طرف سے بھی احتجاج کا سامنا کرنا پڑا لیکن اس کے باوجود ایک طویل عرصے تک ان کا تسلسل جاری رہا۔ ان پالیسیوں کے پیچھے یہ سوچ کارفرما تھی کہ اگر ہندوستانیوں کو ذرا بھی موقع ملا تو یہ دوبارہ سر اٹھانے سے گریز نہ کریں گے لہٰذا ضروری ہے کہ ہر میدان میں ان کی حوصلہ شکنی بھرپور انداز میں کی جائے۔ ان پالیسیوں کے نتیجے میں جہاں ہندوستان کی تقریباً تمام مقامی صنعتیں تباہ و برباد ہو کر رہ گئیں ، وہیں یہاں کے رہنے والے قدرتی آفات کے مقابلے میں بالکل نہتے ہو کر رہ گئے۔ حکومت برطانیہ کے ’’فلاحی‘‘ اقدامات کا کچھ اندازہ اس مثال سے لگایا جا سکتا ہے کہ مسلسل قحطوں کی زد میں آنے والوں کی بحالی کا طریقہ یہ تجویز کیا گیا کہ انہیں عوامی روزگار کی سکیموں میں شامل کر لیا جائے حالانکہ ان سکیموں کے تحت جو کام ان کے حصے میں آتے تھے، وہ اتنے مشقت طلب ہوتے تھے کہ ان کے غذائی کمزوری کے مارے ہوئے اجسام ان کا بوجھ اٹھانے کے متحمل کسی صورت نہ ہو سکتے تھے۔ قحطوں کا سلسلہ حصولِ آزادی تک جاری رہا۔ دوسری جنگ عظیم کے دوران بنگال میں ایک بار پھر قحط پڑا جس کی زد میں آ کر تیس سے چالیس لاکھ ہندوستانی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
سیاسی شعور کی بیداری کے عمل کا آغاز ایک عرصہ پہلے سے ہو چکا تھا۔ ہندوستان جیسے معاشرے میں ، جہاں مذہب فرد کی زندگی میں مرکزی کردار ادا کرتا ہے، سماجی و مذہبی گروہوں کے اثر و رسوخ کو ختم کرنا کسی بھی ملکی یا غیرملکی حکومت کے لئے ممکن نہ تھا۔ آریہ سماج، برہمو سماج اور سرسید احمد خان کی چلائی ہوئی تحریک نے ہندوستان کے ہندو مسلم طبقات میں بیداری کی ایک لہر دوڑا دی تھی۔ 1885ء میں ایک برٹش سول سروس کے ایک ریٹائرڈ اہلکار اے او ہیوم کی تجویز پر 73 ہندوستانیوں کے ایک وفد نے بمبئی میں انڈین نیشنل کانگریس کی بنیاد رکھ دی۔ اس جماعت کے قیام کا بنیادی مقصد ہندوستانی عوام کو اظہارِ رائے کے لئے ایک سیاسی پلیٹ فارم مہیا کرنا تھا۔ اگرچہ اس کے ابتدائی اراکین میں زیادہ تر آسودہ حال گھرانوں کے تعلیم یافتہ افراد شامل تھے لیکن جلد ہی یہ جماعت ہندوستانی عوام کے زیریں طبقات میں مقبولیت حاصل کر گئی۔ یہاں اس بات کا ذکر برمحل ہوگا کہ انڈین نیشنل کانگریس کے قیام سے قبل ہی دادا بھائی نوروجی انڈین نیشنل ایسوسی ایشن قائم کر چکے تھے۔ انہی دادا بھائی نوروجی نے بعد ازاں لندن کے قیام کے دوران قائد اعظم محمد علی جناح کی سیاسی تربیت بھی کی۔ 
1900ء تک کانگریس اگرچہ پورے ہندوستان میں قدم جما چکی تھی لیکن اب تک مسلم عوام کی خاطرخواہ توجہ حاصل کرنے میں کامیاب نہ ہو پائی تھی۔ ہندوؤں کے مقابلے میں مسلمان اقلیت میں تھے، تعلیمی میدان میں پیچھے رہ جانے کی وجہ سے سرکاری ملازمتوں میں ان کی نمائندگی نہایت کم تھی، اس پر طرہ یہ کہ ہندو ’’مصلحین‘‘ مسلسل مسلمانوں کی تبلیغ دین، گاؤ کشی اور اردو کو عربی رسم الخط میں محفوظ رکھنے کی روایات کو ہدفِ تنقید بناتے رہتے تھے۔ سرسید احمد خان نے مسلمانوں میں تعلیمی شعور پیدا کرنے کے لئے ایک تحریک کا آغاز کیا جو 1875ء میں علی گڑھ کے ایم اے او کالج کے قیام کی صورت میں عروج کو پہنچ گئی۔ اس ادارے کے قیام کا بنیادی مقصد مسلمان نوجوانوں کو اسلامی تعلیمات کے ساتھ ساتھ جدید مغربی تعلیمات سے روشناس کرانا تھا۔ 1921ء میں اس کالج نے یونیورسٹی کا مرتبہ حاصل کر لیا اور اس کا نام علی گڑھ مسلم یونیورسٹی رکھ دیا گیا۔
1905ء میں وائسرائے ہندوستان لارڈ کرزن نے حکومت بنگال کی انتظامی صورتِ حال کو بہتر بنانے کی غرض سے بنگال کی تقسیم کے احکامات جاری کر دیئے۔ اس کے نتیجے میں مشرقی بنگال و آسام اور مغربی بنگال دو علیحدہ علیحدہ صوبوں کی حیثیت سے وجود میں آ گئے۔ اس تقسیم کا ایک اہم نتیجہ یہ بھی نکلا کہ بنگال میں مسلم اور ہندو اکثریت کے علاقے الگ الگ صوبائی حکومتوں کے زیر انتظام چلے گئے۔ ہندوؤں نے آدھے بنگال کو اپنے اثر و نفوذ کے دائرے سے باہر نکلتا دیکھ کر اس تقسیم کے خلاف پُر زور احتجاج کیا۔ کانگریس نے غیرملکی اشیاء کے بائیکاٹ کا اعلان کر دیا جو اتنا کامیاب ثابت ہوا کہ برطانوی حکومت کے ہاتھ پاؤں پھول گئے۔ 
1906ء میں ہندوستانی مسلمانوں کے ایک وفد نے وائسرائے لارڈ منٹو سے ملاقات کر کے آئینی اصلاحات میں مسلمانوں کو خصوصی رعایتیں دینے کی درخواست کی جس کے نتائج آگے چل کر منٹومارلے اصلاحات میں سامنے آئے۔1906ء میں ہی آل انڈیا مسلم لیگ کا سنگ بنیاد بھی رکھ دیا گیا۔ 
اس وقت سیکرٹری آف سٹیٹ برائے انڈیا کا عہدہ لارڈ مارلے کے پاس تھا۔ 1906ء میں لارڈ مارلے نے برطانوی پارلیمنٹ میں اعلان کیا کہ حکومت برطانیہ نے ہندوستان کے انتظامی امور کے لئے نئی اصلاحات متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان اصلاحات کے تحت ہندوستان کے مقامی باشندوں کو قانون سازی سے متعلقہ امور میں پہلے سے زیادہ حصہ دینا قرار پایا۔ ان اصلاحات کے نفاذ کے لئے لارڈ مارلے اور وائسرائے لارڈ منٹو کے مابین خط و کتابت کا آغاز ہوا اور حکومت ہند نے اصلاحات کو حتمی شکل دینے کے لئے ایک کمیٹی بٹھا دی۔ اس کمیٹی نے اپنی سفارشات طویل غور و خوض کے بعد پارلیمنٹ کے ملاحظے کے لئے پیش کر دیں۔ 1909ء میں لارڈ منٹو اور لارڈ مارلے کی تائید کے ساتھ ایک ایکٹ پاس کر دیا گیا جسے عرفِ عام میں ’’منٹو مارلے اصلاحات‘‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس ایکٹ کے مرکزی نکات حسب ذیل ہیں :
مرکز میں قانون ساز مجلس کے اراکین کی تعداد 16 سے بڑھا کر 60 کر دی گئی۔
صوبائی قانون ساز مجالس کے لئے اراکین کی تعداد بھی بڑھا دی گئی۔ بنگال، مدراس اور بمبئی کے صوبوں کے لئے یہ تعداد 50 مقرر کی گئی جبکہ بقیہ صوبوں میں یہ 30 تک محدود رہی۔
مرکزی اور صوبائی سطح پر قانون ساز مجالس کے اراکین کے چار حصے کر دیئے گئے۔ پہلے حصے میں گورنر جنرل اور مجالس عاملہ کے ارکان کو شامل کیا گیا۔ دوسرے حصے میں گورنر جنرل کے نامزد کردہ سرکاری اہلکاروں کو رکھا گیا۔ تیسرے حصے میں گورنر جنرل کے نامزد کردہ ایسے اراکین آئے جو سرکاری عہدوں پر فائز نہ تھے جبکہ چوتھے حصے میں منتخب عوامی نمائندوں کو جگہ دی گئی۔
مسلمانوں کو علیحدہ انتخابی حلقے تفویض کر دیئے گئے۔
مرکز میں سرکاری اراکین کو اکثریت حاصل رہی لیکن صوبائی سطح پر غیرسرکاری اراکین اکثریت حاصل کر گئے۔
قانون ساز مجالس کے اراکین کو اختیار مل گیا کہ وہ بجٹوں پر بحث کر سکیں ، ترامیم تجویز کر سکیں اور ان کی منظوری کے لئے ووٹ بھی دے سکیں۔ اس کے علاوہ انہیں ایک حد تک قانون سازی کے عمل میں بھی شریک کیا جانے لگا۔
سیکرٹری آف سٹیٹ برائے ہندوستان کو اختیار مل گیا کہ وہ بمبئی اور مدراس کی مجالس عاملہ کی تعداد دو سے بڑھا کر چار کر دے۔
سیکرٹری آف سٹیٹ برائے انڈیا کی کونسل میں دو ہندوستانیوں کو بھی شامل کر لیا گیا اور گورنر جنرل کو اختیار مل گیا کہ وہ اپنی مجلس عاملہ میں ایک ہندوستانی رکن کو شامل کر سکے۔
1914ء میں پہلی جنگ عظیم کا آغاز ہوا۔ عالمی سیاست کا اہم ترین کھلاڑی ہونے کی حیثیت سے برطانیہ اس جنگ کے مرکزی کرداروں میں شامل تھا۔ جنگ تو برطانیہ نے لڑی لیکن اس کے اخراجات اس کی نو آبادیوں کو مالی اور انسانی شکل میں بھگتنا پڑے۔ صرف ہندوستان سے 13 لاکھ افراد کو سپاہیوں اور مزدوروں کے طور پر بھرتی کر کے یورپ، افریقہ اور مشرق وسطیٰ کے محاذوں پر بھیجا گیا۔ مالی اخراجات پورے کرنے کے لئے برطانوی حکومت نے ہندوستان میں بھاری ٹیکس نافذ کئے۔ اسی دوران جنگ کی بدولت عالمی تجارت کا نظام اتھل پتھل ہو کر رہ گیا۔ ہندوستانیوں کی مشکلات ناقابل برداشت حد تک بڑھ گئیں۔ 
سیاسی سطح پر اس کا ردِ عمل قومی خودمختاری حاصل کرنے کی ایک شدید خواہش کی صورت میں ابھرا۔ پرانے حریفوں نے بھی وقتی طور پر اپنے اختلافات دفن کر دیئے اور متحدہ ہو کر حکومت برطانیہ کے خلاف صف آرا ہونے کو تیار ہو گئے۔ اس کا سب سے بڑا ثبوت ہمیں 1916ء کے میثاقِ لکھنؤ کی صورت میں ملتا ہے جو انڈین نیشنل کانگریس اور آل انڈیا مسلم لیگ کے مابین طے پایا۔ قائد اعظم محمد علی جناح کی انتھک محنت کی بدولت دسمبر 1915ء میں مسلم لیگ اور کانگریس نے بمبئی میں اپنا سالانہ اجلاس ایک ہی پنڈال میں منعقد کیا۔ پہلی مرتبہ دونوں پارٹیوں کے کلیدی قائدین ایک جگہ اکٹھے ہوئے اور دونوں طرف سے کی جانے والی تقاریر کا لب و لہجہ بھی کم و بیش ایک جیسا تھا۔ اس سے کچھ عرصہ پیشتر لارڈ چیمسفورڈ کی طرف سے دوسری جنگ عظیم کے بعد ہندوستان میں نئی سیاسی اصلاحات کے سلسلے میں ہندوستانی سیاستدانوں کو تجاویز پیش کرنے کی دعوت دی جا چکی تھی۔ اس دعوت نے حالات کو اتحاد کے حق میں مزید ہموار کر دیا تھا۔
اس اجتماع کے چند ماہ بعد شاہی قانون ساز کونسل کے 19 ہندو مسلم منتخب ارکان نے وائسرائے کے خدمت میں اصلاحات کے حوالے سے ایک یادداشت روانہ کی جس میں چند تجاویز پیش کی گئی تھیں۔ برطانویوں نے ان تجاویز پر کوئی خاص دھیان نہ دیا لیکن نومبر 1916ء میں کلکتہ میں ہونے والے کانگریسی اور مسلم لیگی لیڈروں کے اجلاس میں ان تجاویز کو چند ترامیم کے بعد منظور کر لیا گیا۔ اسی اجلاس میں قانون ساز مجالس کی تشکیل اور ان میں دونوں اقوام کی نمائندگی کی شرح کے حوالے سے ایک معاہدہ بھی ہوا جس کی توثیق دونوں جماعتوں نے لکھنؤ میں اپنے مشترکہ سالانہ اجلاس میں کر دی۔ ممتاز کانگریسی لیڈر سروجنی نائیڈو نے اس میثاق کے مرکزی معمار ہونے کے حوالے سے قائد اعظم محمد علی جناح کو ’’ہندو مسلم اتحاد کے سفیر‘‘ کا خطاب دیا۔
میثاقِ لکھنؤ کے مرکزی نکات میں ہندوستان کی داخلی خودمختاری، مرکزی حکومت میں مسلمانوں کی ایک تہائی نمائندگی، مسلمانوں کے لئے علیحدہ انتخابی نشستوں اور مرکز کی قانون ساز مجالس کی نشستوں کی تعداد بڑھانے پر اتفاقِ رائے وغیرہ شامل تھے۔ یہ بھی طے پایا کہ کسی ایک قوم سے متعلق پیش کیا جانے والا کوئی بھی مسودۂ قانون منظور نہ کیا جائے گا اگر قانون ساز مجلس میں اس قوم کے تین چوتھائی سے زیادہ ارکان اس کی مخالفت کریں۔ اس کے علاوہ مجلس عاملہ کو عدلیہ سے علیحدہ کرنے کی تجویز بھی پیش کی گئی۔
ہندو مسلم اتحاد کا یہ عالم اگرچہ محض چند سال برقرار رہا اور تحریک خلافت کے سلسلے میں پیدا ہونے والے اختلافات نے اس کا خاتمہ کر دیا تاہم جنوبی ایشیاء کے مسلمانوں کی تاریخ میں اسے ایک اہم حیثیت حاصل ہے۔ تاریخ میں پہلی مرتبہ کانگریس نے خطے کے مسلمانوں کی نمائندہ جماعت کے حوالے سے مسلم لیگ کا وجود تسلیم کیا۔ مسلمانوں کے لئے الگ انتخابی حلقوں کی تجویز پر اتفاق کر کے دراصل کانگریس نے مسلمانوں کی علیحدہ قومی حیثیت کی بھی تصدیق کر دی، اور یوں بالواسطہ طور پر دو قومی نظریئے کو سچ مان لیا۔
برطانویوں نے ان حالات سے نمٹنے کے لئے ’’چھڑی اور گاجر‘‘ کی پالیسی اپنائی یعنی انعام کا لالچ اور سزا کا ڈراوا دونوں ایک ساتھ۔ اگست 1917ء میں سیکرٹری آف سٹیٹ برائے انڈیا، ایڈون مانٹے گیو نے پارلیمنٹ میں یہ تاریخی اعلان کیا کہ ہندوستان کے لئے حکومت برطانیہ کی پالیسی یہ ہے کہ انتظامیہ کے ہر شعبے میں ہندوستانیوں کے ساتھ ربط ضبط بڑھایا جائے اور بتدریج خودمختار اداروں کو وجود میں لایا جائے تاکہ سلطنت برطانیہ کے ایک اہم حصے کے طور پر ہندوستان میں ایک ذمہ دار حکومت کے قیام کے خواب کو شرمندۂ تعبیر کیا جا سکے۔ اس پالیسی کو عمل شکل دینے کے طریقہ کار کا تعین بعد ازاں 1919ء کے گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ میں کیا گیا۔ اس ایکٹ کو ’’مانٹے گیو چیمسفورڈ اصلاحات‘‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔
اس ایکٹ نے ’’دو عملی حکومت‘‘ کا طریقہ کار متعارف کرایا جس کے تحت اختیارات منتخب ہندوستانی نمائندوں اور نامزد کردہ برطانوی اہلکاروں کے مابین تقسیم کر دیئے گئے۔ اس ایکٹ کے تحت مرکزی اور صوبائی حکومتوں کی قانون ساز مجالس کی نشستوں کی تعداد بھی بڑھا دی گئی۔ مسلمانوں کے علاوہ سکھوں ، اینگلو انڈینز، ہندوستانی عیسائیوں اور ہندوستان میں آباد یورپیوں کے لئے بھی علیحدہ انتخابی نشستیں مخصوص کر دی گئیں۔ اس کے علاوہ یہ بھی طے پایا کہ دس سال بعد نئی اصلاحات متعارف کرائی جائیں گی۔
دو عملی حکومت کے طریقہ کار نے صوبائی سطح پر کئی حقیقی تبدیلیوں کو جنم دیا۔ مثال کے طور پر یہ کہ کئی ’’بے ضرر‘‘ قسم کی وزارتیں مثلاً زراعت، مقامی حکومت، صحت، تعلیم اور پبلک ورکس وغیرہ کے قلمدان ہندوستانیوں کو سونپ دیئے گئے تاہم مالیات، محصولات اور عدل و قانون جیسی حساس وزارتیں برطانویوں نے اپنے قبضے میں رکھیں۔ 
مانٹے گیو چیمسفورڈ اصلاحات بیشتر ہندوستانی حلقوں کے نزدیک قابل قبول حیثیت حاصل نہ کر سکیں۔ زیادہ تر قائدین کے نزدیک یہ اصلاحات ہندوستانیوں کی توقعات سے بہت کم تھیں۔ بہرحال، یہ صورتِ حال میں بہتری لانے کی طرف ایک اہم قدم کہی جا سکتی تھیں۔ 
لیکن اس قدم سے حاصل ہونے والے تمام فوائد 1919ء میں ہی پیش ہونے والے رولٹ ایکٹ نے غارت کر دیئے۔ یہ ایکٹ، ’’فتنہ انگیز سازشوں ‘‘ کی تحقیقات کے لئے مقرر کئے جانے والے رولٹ کمیشن کی سفارشات کے تحت ترتیب دیا گیا تھا۔ اس ایکٹ کے تحت وائسرائے ہندوستان کو اختیار مل گیا کہ وہ شورش انگیزیوں پر قابو پانے کے لئے اخبارات کو بند کر سکتا ہے، سیاسی کارکنوں کو مقدمہ چلائے بغیر اسیر رکھ سکتا ہے اور کسی بھی فرد کو محض شبے پر بغیر وارنٹ کے گرفتار کر سکتا ہے۔ قائد اعظم نے بجا طور پر اس ایکٹ کو ’’بلیک ایکٹ‘‘ یعنی کالے قانون کا نام دیا۔
اسی اثناء میں تحریک خلافت کا آغاز ہو چکا تھا۔ پہلی جنگ عظیم کے خاتمے کے بعد، جرمنی کا ساتھ دینے کی پاداش میں ، ترکی کی عثمانی سلطنت کے حصے بخرے کرنے کے عمل کا آغاز کیا جا چکا تھا۔ دنیا بھر کے مسلمان اس سلطنت کو اسلامی خلافت کا مرکز و منبع تصور کرتے تھے لہٰذا جنوبی ایشیاء کے مسلمانوں نے مولانا محمد علی جوہر اور مولانا شوکت علی کے زیر قیادت خلافت کے تحفظ کے لئے تحریک کا آغاز کر دیا۔ گاندھی سوراج کے مسئلے کو تحریک خلافت کے ساتھ نتھی کر کے ہندوؤں کو بھی اس دھارے میں شامل کر دیا اور یوں برصغیر کی پہلی ملک گیر سیاسی عوامی تحریک نے جنم لیا۔ اس تحریک کے بنیادی اہداف میں ترکی خلافت، مسلمانوں کے مقدس مقامات اور عثمانی سلطنت کی سالمیت کا تحفظ شامل تھے۔
یہ احتجاج 13 اپریل 1919ء کے روز عروج پر پہنچا جب امرتسر میں جلیانوالہ باغ کے مقام پر برطانوی ملٹری کمانڈر بریگیڈیئر جنرل مائیکل او ڈائر نے اپنے سپاہیوں کو دس ہزار نہتے اور پُر امن افراد پر فائر کھولنے کا حکم دے دیا۔ یہ افراد بے خبر تھے کہ شہر میں مارشل لاء لگایا جا چکا ہے جس کے تحت ایک جگہ پر ان کا اتنی بڑی تعداد میں اکٹھے ہو جانا جرم ہے۔ 
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس فائرنگ کے نتیجے میں 379 افراد مارے گئے اور 1137 زخمی ہوئے۔ برطانوی حکومت نے اپنے تئیں ہندوستانی عوام کے دلوں میں جگہ بنانے اور خیرسگالی کے دو طرفہ جذبات کو فروغ دینے کے لئے جو اقدامات کئے تھے، وہ بندوقوں کے دھماکوں ، مرنے والوں کی چیخوں ، زخمیوں کی کراہوں اور خاک و خون کے طوفان میں دب کر فنا ہو گئے۔
1920ء میں تحریک خلافت کے قائدین کے ایک وفد نے لندن پہنچ کر برطانوی حکومت کے سامنے اپنے مطالبات پیش کئے لیکن برطانوی وزیر اعظم لائیڈ جارج کے سرد مہرانہ سلوک نے جلد ہی انہیں یقین دلا دیا کہ یہاں ان کی شنوائی کرنے والا کوئی نہیں۔ ستمبر 1921ء میں علی برادران کو گرفتار کر کے جیل میں ڈال دیا گیا اور اس کے کچھ ہی عرصے گاندھی نے تحریک خلافت کی حمایت سے دستبرداری کا اعلان کر دیا۔ بقول ان کے تحریک کے کارکنان کا متشدد رویہ فرقہ وارانہ فسادات کو ہوا دینے کا موجب بن رہا تھا۔ اگرچہ اپنے موقف کے حق میں وہ کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہ کر سکے لیکن ان کی دستبرداری نے تحریک خلافت کے قدموں تلے سے زمین کھینچ لی۔ دوسری طرف ترکی میں کمال اتا ترک نے خلافت کے خاتمے کا اعلان کر کے اس تحریک کے خاتمے پر حتمی مہر ثبت کر دی۔
اگرچہ تحریک خلافت اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہی لیکن اس نے مسلمانوں کے سیاسی شعور کو بیدار کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ تحریک کے دوران ہندوستانی مسلمانوں کے نمائندوں کو دیگر مسلم ممالک کی ممتاز شخصیات سے ربط ضبط بڑھانے کا موقع ملا جس نے عالمی سطح پر اسلام کی یکجہتی کے تصور کو تقویت بخشی۔ اس کے ساتھ یہ حقیقت بھی کھل کر واضح ہو گئی کہ مسلمان اپنے مقاصد کے حصول کی جنگ میں ہندوؤں کو اپنا اتحادی تصور نہیں کر سکتے اور نہ ہی حکومت برطانیہ سے کسی طرح کی امیدیں وابستہ کر سکتے ہیں۔ ہندو مسلم اتحاد کا کھوکھلا نعرہ اور برطانوی حکومت کی طرف سے ہونے والا ’’خیرسگالی‘‘ کے جذبات کا اظہار اپنی اہمیت سے یکسر محروم ہو گیا۔
1927ء میں برطانوی حکومت نے سر جان سائمن کے ماتحت ایک کمیشن مقرر کیا جس کے ذمے یہ کام لگایا گیا کہ وہ ہندوستان کے آئینی مسائل کی نشاندہی کرے اور مستقبل کے آئین ہندوستان کے لئے سفارشات پیش کرے۔ اس کمیشن میں کوئی ہندوستانی شامل نہ تھا اور اس بناء پر کمیشن کے سفارشات پیش کرنے سے پہلے ہی کانگریس نے اس کا بائیکاٹ کر دیا البتہ مسلم لیگی صفوں میں اس موضوع پر اختلاف پیدا ہو گیا۔ سرمحمد شفیع اور ان کے ساتھیوں کی خواہش تھی کہ کمیشن کے ساتھ تعاون کیا جائے جبکہ قائد اعظم محمد علی جناح نے اس کا بائیکاٹ کرنے کا اعلان کر دیا۔ ہندوستان کے دورے کے دوران کمیشن کے ارکان جہاں کہیں بھی گئے ان کا استقبال احتجاجی مظاہرین کے ہجوم اور کالے جھنڈوں کے سیلاب نے کیا۔
بہرحال 1930ء میں کمیشن نے اپنی رپورٹ شائع کر دی جو 17 جلدوں پر مبنی تھی۔ اس نے دو عملی حکومت کے خاتمے اور صوبوں میں نمائندگانی طرزِ حکومت اپنانے کی سفارش کی اور اس کے ساتھ ساتھ جداگانہ انتخابی حلقوں کو برقرار رکھنے کی تجویز دی لیکن صرف تب تک جب تک کہ ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان پائی جانے والی کشیدگی کی فضا ختم نہ ہو جائے۔
تاہم تعلیم یافتہ ہندوستانی طبقے کی طرف سے سائمن کمیشن کی مخالفت اور فرقہ وارانہ کشیدگی میں روز افزوں اضافے کو دیکھتے ہوئے برطانوی حکومت نے فیصلہ کیا کہ ہندوستان کے آئینی مسائل کو حل کرنے کے لئے کوئی اور راہ اختیار کرنا مناسب رہے گا۔ اس سوچ کے ساتھ برطانوی حکومت نے سائمن کمیشن کی رپورٹ کے شائع ہونے سے پہلے ہی اعلان کر دیا کہ آئندہ سے آئینی سفارشات مرتب کرتے ہوئے ہندوستانی آراء کو بھی مد نظر رکھا جائے گا اور آئینی ارتقاء کے ذریعے ہندوستان کو داخلی خودمختاری دے دی جائے گی۔
جداگانہ انتخابی نشستوں کو ہندو مسلم تعلقات کی بہتری کی راہ میں رکاوٹ خیال کرتے ہوئے قائد اعظم محمد علی جناح نے تجویز پیش کی کہ اگر ہندو اکثریت چند ضمانتیں فراہم کرنے پر رضامند ہو جائے تو مسلمان جداگانہ انتخابی نشستوں کے مطالبے سے دستبردار ہو جائیں گے۔ اس سلسلے میں 1927ء میں دہلی میں منعقد ہونے والی مسلم کانفرنس میں چند تجاویز پیش کی گئیں جنہیں ’’دہلی مسلم تجاویز‘‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ ان تجاویز کے تحت جو ضمانتیں طلب کی گئیں ان میں سندھ کی الگ صوبائی حیثیت کی بحالی اور شمال مغربی سرحدی صوبے اور بلوچستان میں دیگر صوبوں کی مانند اصلاحات کا عمل جاری کرنا شامل تھیں۔ ان ضمانتوں کی فراہمی کی صورت میں یقین دلایا گیا کہ مسلمان جداگانہ انتخابی نشستوں سے دستبردار ہو کر آبادی کے لحاظ سے مختص کی جانے والی نشستوں کے کوٹے پر رضامند ہو جائیں گے۔ ان کے علاوہ چند دیگر تجاویز کی منظوری کو بھی مسلمانوں کی رضامندی کے ساتھ مشروط کیا گیا جو کہ حسب ذیل ہیں :
سندھ، بلوچستان اور شمال مغربی سرحدی صوبے میں ہندو اپنی اقلیتی آبادی کے اعتبار سے ویسے ہی مخصوص نشستوں کا کوٹہ قبول کریں گے جیسے مسلمان، ہندو اکثریتی صوبوں میں کریں گے مگر مرکز کی مجلس قانون ساز میں مسلمانوں کی نمائندگی ایک تہائی سے کم نہ ہوگی۔
مذہبی آزادی کے علاوہ آئین میں یہ یقین دہانی بھی فراہم کی جائے کہ فرقہ وارانہ امور میں کسی قوم کے حوالے سے پیش کیا جانے والا کوئی بھی بل منظور نہ کیا جائے گا اگر اس قوم کے تین چوتھائی ارکان اس کی مخالفت کریں۔ 
یہ واضح کر دیا گیا کہ ان تجاویز میں سے کسی ایک کی بھی نامنظور ی کا مطلب تمام تجاویز کی نا منظوری تصور کیا جائے گا۔ کانگریس نے ان تجاویز کو ابتداً منظور کر لیا لیکن بعد ازاں ’’نہرو رپورٹ‘‘ میں انہیں یکسر مسترد کر دیا گیا اور یوں یہ بیل منڈھے نہ چڑھ سکی۔
جیسا کہ پہلے ذکر ہوا، سائمن کمیشن کی ناکامی کے بعد برطانوی حکومت کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہ رہا کہ وہ آئین سازی کے عمل میں ہندوستانی عوام کو بھی شریک کرے۔ وہ اس حقیقت سے بخوبی واقف تھے کہ کانگریس اور مسلم لیگ ہندوستان کی مرکزی جماعتیں ہیں اور یہ کہ ان جماعتوں میں گہرے اختلافات پائے جاتے ہیں۔ ان اختلافات کو اپنے حق میں استعمال کرنے کے لئے برطانوی حکومت کے سیکرٹری آف سٹیٹ برائے ہند برکن ہیڈ نے تجویز پیش کی کہ ہندوستانی سیاستدان خود مل کر ایسا ایکٹ تیار کریں جس پر ہندو اور مسلمان، دونوں متفق ہو سکیں۔ ہندوستانی قائدین نے اس ذمہ داری عہدہ برآ ہونے کے لئے آل پارٹیز کانفرنس کے انعقاد کا اعلان کر دیا۔ یہ کانفرنس جنوری 1928ء میں دہلی میں منعقد ہوئی اور برصغیر کے تقریباً تمام جماعتوں کے سو سے زائد مندوبین اس میں شریک ہوئے۔ 
بدقسمتی سے یہ کانفرنس کسی طرح کے حوصلہ افزا نتائج دینے میں ناکام رہی۔ اقلیتی حقوق کے مسئلے پر پیدا ہونے والے اختلافات نے قائدین کو اتنا موقع ہی نہ دیا کہ وہ کسی حتمی نتیجے پر پہنچ سکیں۔ اسی سال مارچ میں کانفرنس کا انعقاد دوبارہ کیا گیا لیکن قائدین اب بھی اپنے اختلافات پر قابو پانے میں ناکام رہے۔
19 مئی 1928ء کے روز تیسری آل پارٹیز کانفرنس کا آغاز کیا گیا اور فیصلہ ہوا کہ ایک چھوٹی سی کمیٹی نامزد کی جائے جو آئین کی تفصیلات مرتب کرنے کا کام کرے۔ موتی لعل نہرو کو اس کمیٹی کی سربراہی سونپی گئی۔ نو مزید ارکان اس کمیٹی میں شامل تھے جن میں سے دو مسلمان تھے۔
یہ کمیٹی تین ماہ تک الٰہ آباد میں کام کرتی رہی اور اس کی سفارشات پر مشتمل یادداشت کو ’’نہرو رپورٹ‘‘ کے نام سے شائع کیا گیا۔ رپورٹ کے مندرجات ہندو مہاسبھائی ذہنیت کے آئینہ دار تھے اور ان کے ذریعے ’’دہلی مسلم تجاویز‘‘ کو رد کر دیا گیا جنہیں کانگریس اس سے پہلے قبول کر چکی تھی۔ رپورٹ کی اہم سفارشات حسب ذیل ہیں :
آئین میں ’’حقوق کا اعلامیہ‘‘ شامل کیا جائے جس کے ذریعے ہر فرد کو مذہب و ضمیر کی آزادی فراہم کی جائے۔ ہندوستان کو داخلی خودمختاری فراہم کی جائے۔ وفاقی نظامِ حکومت تشکیل دیا جائے۔ پارلیمانی طرزِ حکومت رائج کیا جائے جس میں سربراہِ حکومت کی ذمہ داریاں وزیر اعظم اور گورنر جنرل کے نامزد کئے ہوئے چھ وزراء نبھائیں۔ مقننہ کو دو ایوانوں میں تقسیم کر دیا جائے۔ کسی اقلیت کے لئے جداگانہ انتخابی نشستیں مخصوص نہ کی جائیں اور نہ ہی اقلیتوں کو آبادی کے شرح کے حساب سے نشستیں فراہم کی جائیں۔ جن صوبوں میں مسلمانوں کی آبادی کم از کم دس فیصد ہو، وہاں انہیں آبادی کے حساب سے نشستیں فراہم کی جا سکتی ہیں لیکن اس ضمن میں کڑی احتیاط سے کام لیا جائے۔ مرکزی مجلس قانون ساز میں مسلمانوں کو ایک چوتھائی نمائندگی فراہم کی جائے۔ سندھ کو بمبئی سے اسی صورت علیحدہ کیا جائے جبکہ کمیٹی اس بات کی ضمانت دے سکے کہ یہ خطہ مالی اعتبار سے خود کفالت کی منزل حاصل کر چکا ہے۔ شمال مغربی سرحدی صوبے کو مکمل صوبائی حیثیت دے دی جائے۔ جنوبی ہندوستان میں کنڑی زبان بولنے والوں کے لئے الگ صوبہ، کرناٹک، تشکیل دیا جائے۔ ہندوستان کی سرکاری زبان ہندی کو قرار دیا جائے۔ 
جیسا کہ ظاہر ہے، نہرو رپورٹ کی سفارشات مسلم آبادی کی مفادات کے بالکل برعکس تھیں اور مسلمانوں پر ہندوؤں کی بالادستی قائم کرنے کی کوشش کا درجہ رکھتی تھیں۔ جداگانہ انتخابی نشستوں کا استرداد اس کا سب سے سنگین نکتہ تھا۔ اگر دہلی مسلم تجاویز کو تسلیم کر لیا جاتا تو مسلمان اس نکتے کو قبول کرنے پر آمادہ ہو جاتے لیکن رپورٹ میں ان تجاویز کو قطعاً مد نظر نہ رکھا گیا تھا۔ مسلمان مرکزی مجلس قانون ساز میں ایک تہائی نمائندگی کے خواہشمند تھے جبکہ نہرو رپورٹ محض ایک چوتھائی نمائندگی دینے پر آمادگی ظاہر کر رہی تھی۔ اگرچہ مسلمانوں کے دو دیرینہ مطالبات کو اس رپورٹ میں زیر بحث لایا گیا تھا لیکن دونوں کو پایۂ تکمیل تک پہنچائے بغیر چھوڑ دیا گیا تھا۔ سندھ کی بمبئی سے علیحدگی کو مالی خود کفالت سے مشروط کر دیا گیا تھا جبکہ شمال مغربی سرحدی صوبے کے لئے اصلاحات کی سفارش کرتے ہوئے بلوچستان کو یکسر نظرانداز کر دیا گیا تھا۔ 
جیسا کہ پہلے ذکر ہوا، اس رپورٹ کو تیار کرنے والی کمیٹی میں دو مسلمان، سید علی امام اور شعیب قریشی، بھی شامل تھے لیکن سید علی امام اپنی علالت کے سبب صرف ایک میٹنگ میں سریک ہو سکے جبکہ شعیب قریشی نے مجلس قانون ساز میں مسلمانوں کی نمائندگی کے ایشو پر کمیٹی سے مکمل اختلاف کیا۔
درحقیقت نہرو رپورٹ کی حیثیت ایک کانگریسی دستاویز سے زیادہ نہ تھی اور یہی وجہ تھی کہ پورے برصغیر کے مسلمانوں نے اسے مسترد کر دیا۔ کانگریسی قائدین نے دھمکی دی کہ اگر 31 دسمبر 1929ء تک نہرو رپورٹ کی سفارشات پر عمل درآمد نہ کیا گیا تو پورے ہندوستان میں سول نافرمانی کی تحریک شروع کر دی جائے گی۔ ہندوؤں کا یہ رویہ مسلمانوں کی تحریک آزادی میں ایک سنگ میل کے طور پر نمایاں ہونے کے ساتھ ساتھ قائد اعظم کی زندگی کا ایک اہم موڑ بھی ثابت ہوا۔ بالآخر وہ جان گئے ’’ہندو مسلم اتحاد‘‘ کے خواب کی حقیقت کیا ہے۔ نہرو رپورٹ کے مطالعے کے بعد انہوں نے اپنی راہیں کانگریس سے ہمیشہ کے لئے جدا کر لیں ، لیکن اس سے پہلے انہوں نے، ہندو مسلم اتحاد کے لئے آخری کوشش کے طور پر نہرو رپورٹ میں چند ترامیم کرنے کی سفارش کی۔ 1929ء میں کلکتہ میں منعقد ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس کے دوران انہوں نہرو رپورٹ کے حوالے سے مندرجہ ذیل سفارشات پیش کیں :
مرکزی مجلس قانون ساز کے دونوں ایوانوں میں منتخب نمائندوں کا ایک تہائی مسلمانوں پر مشتمل ہونا چاہئے۔
اگر پنجاب اور بنگال میں بالغوں کو حق رائے دہی دینے کی بیل منڈھے نہ چڑھ سکے تو پھر آبادی کی بنیاد پر مسلمانوں کو دس سال کے لئے نشستوں کا ایک مخصوص کوٹہ ملنا چاہئے جس کے بدلے میں مسلمان مزید نشستوں پر انتخاب نہیں لڑیں گے۔
ذیلی اختیارات، مرکزی مقننہ کے بجائے، صوبائی حکومتوں کے پاس رہنے چاہئیں۔ 
آل پارٹیز کانفرنس کی کمیٹی نے ان تجاویز کو قبول کرنے سے انکار کر دیا اور یوں ہندو مسلم اتحاد کی آخری امید بھی ختم ہو گئی۔
نہرو رپورٹ کے نتیجے میں جو فوری ردِ عمل سامنے آیا وہ یہ تھا کہ مسلمانوں کے تمام سیاسی طبقات اس کے خلاف متحد ہو گئے۔ سائمن کمیشن کے مسئلے پر مسلم لیگ میں جو اختلافات پیدا ہوئے تھے، وہ بھی ماند پڑ گئے۔ 21 جنوری 1929ء کے روز آغا خان کی سربراہی میں دہلی کے مقام پر آل پارٹیز مسلم کانفرنس کا انعقاد ہوا جس میں کم و بیش تمام مسلم سیاسی جماعتوں نے شرکت کی۔ کانفرنس نے مسلمانوں کے مطالبات کو پوری وضاحت کے ساتھ برطانوی حکومت کے سامنے پیش کر دیا۔ ان مطالبات میں سے اہم حسب ذیل ہیں :
ہندوستان کے حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے، یہاں کے لئے واحد مناسب طرزِ حکومت وفاقی ہی ہو سکتا ہے لیکن وہ اس صورت میں جبکہ حکومت ہند کو مکمل خودمختاری عطا کی جائے اور ضمنی اختیارات صوبوں کے قبضے میں رہیں۔ 
مسلمانوں کی رضامندی کے بغیر جداگانہ انتخابی نشستوں کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔
ہندو اکثریتی صوبوں میں مسلمانوں کو ان کی آبادی کے حساب سے نشستیں ملنی چاہئیں اور اس کے بدلے میں مسلم اکثریتی صوبوں میں ہندوؤں کو بھی یہی سہولت حاصل ہوگی۔
مرکزی اور صوبائی کابینہ میں مسلمانوں کو ان کا مناسب حصہ ملنا چاہئے۔
تمام مسلم اکثریتی صوبوں میں (خصوصاً بنگال اور پنجاب میں ) مسلم اکثریت پر جغرافیائی تبدیلیوں کے ذریعے اثرانداز ہونے کی کوئی کوشش نہیں کی جانی چاہئے۔
ان مطالبات کے ذریعے مسلمانوں نے نہرو رپورٹ اور اس کی تجاویز و سفارشات کو مکمل طور پر مسترد کر دیا، اور یہ واضح کر دیا کہ جداگانہ انتخابی نشستوں اور وفاقی طرزِ حکومت کے ایشوز پر کوئی سمجھوتہ ممکن نہیں۔ 28 مارچ 1929ء کے روز آل انڈیا مسلم لیگ کی کونسل کا اجلاس ہوا جس میں قائد اعظم اور سر محمد شفیع، دونوں نے شرکت کی۔ قائد اعظم نے نہرو رپورٹ کو ایک ’’ہندو دستاویز‘‘ قرار دیا لیکن یہ بھی کہا کہ محض اس رپورٹ کو مسترد کر دینا کافی نہ ہوگا۔ انہوں نے اس کے مقابلے میں ایک متبادل ایجنڈا پیش کرنے کا فیصلہ کیا جو مسلمانوں کے حقوق کی پاسداری کی ضمانت فراہم کرتا تھا۔ یہ ایجنڈا بعد ازاں ’’قائد اعظم کے چودہ نکات‘‘ کے نام سے مشہور ہوا۔
اپنے چودہ نکات میں قائد اعظم نے صوبائی اختیارات کے تحفظ، مجالس قانون ساز میں اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں کی خاطرخواہ نمائندگی، جغرافیائی تبدیلیوں کے ذریعے مسلم اکثریتی علاقوں پر اثرانداز ہونے سے احتراز، تمام مذاہب کے پیروکاروں کو عبادت، تبلیغ، تبدیلی ِ  مسلک اور تعلیم کے حوالے سے مکمل آزادی کی فراہمی، سندھ کی صوبائی حیثیت کی بحالی، بلوچستان اور شمالی مغربی سرحدی صوبہ جیسے پسماندہ خطوں میں دوسرے صوبوں کی طرح انتظامی و سیاسی اصلاحات، حکومت کے انتظامی شعبہ جات میں مسلمانوں کی خاطرخواہ نمائندگی، مسلم ثقافت، اسلامی لسان و تعلیم، قوانین اور مسلم فلاحی اداروں کو آئینی تحفظ کی فراہمی اور صوبائی اور مرکزی کابینہ میں مسلمانوں کی کم از کم ایک تہائی نمائندگی کی تجاویز پیش کیں۔ نہرو رپورٹ کے مقابلے میں ’’قائد اعظم کے چودہ نکات‘‘ ایک نہایت متوازن اور اعتدال پسندانہ دستاویز کے طور پر ابھر کر سامنے آئی جس میں ہندوستان کے تمام مذاہب، اقلیتوں اور طبقات کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا گیا تھا۔
آل انڈیا مسلم لیگ کی کونسل نے چودہ نکات کو قبول کرتے ہوئے ایک قرار منظور کی جس کے مطابق یہ قرار پایا کہ حکومت ہند کا کوئی بھی آئندہ آئین مسلمانانِ ہند کے لئے اس وقت تک قابل قبول نہ ہوگا جب تک کہ اس میں قائد اعظم کے چودہ نکات میں پیش کی گئی تجاویز کو ملحوظِ خاطر نہ رکھا جائے۔
قائد اعظم کے چودہ نکات نے نہ صرف ہندوستانی سیاست میں ایک نئے مکتب فکر کو جنم دیا بلکہ ہندو اور مسلم طرزِ فکر کے مابین موجود اس بنیادی فرق کو بھی واضح کر دیا جو آگے چل کر حصولِ پاکستان کی تحریک کی بنیاد ثابت ہوا۔ بنیادی طور پر حصولِ پاکستان کا تصور اسی وقت سے مسلمانوں کے اذہان میں واضح ہونا شروع ہو گیا تھا جب کانگریس نے اپنے افعال و الفاظ کے ذریعے بار بار یہ تاثر دیا کہ وہ ہندوستان کو ایک آزاد مملکت دیکھنے کی خواہاں تو ضرور ہے لیکن اس آزاد مملکت میں بالادستی ہندوؤں کو حاصل رہے گی۔ متحدہ ہندوستان کی سب سے بڑی، اور اس وقت تک سب سے موثر، سیاسی پارٹی کی اس سوچ نے مسلمانوں کے لئے اس کے سوا اور کوئی چارہ نہ چھوڑا کہ وہ اپنے لئے کوئی الگ راہ تلاش کرنے کا آغاز کر دیں۔ 
یہ الگ راہ علامہ اقبال نے 1930ء میں الٰہ آباد میں منعقد ہونے والے آل انڈیا مسلم لیگ کے اجلاس میں اپنے صدارتی خطبے کے دوران سجھائی۔ اقبال اس حقیقت سے بخوبی آگاہ تھے کہ مسلمانوں کے مسائل کو مسلمان ہی سمجھ سکتے ہیں اور اپنے وجود کا تحفظ کرنے کے لئے انہیں اپنی راہِ عمل خود تراشنا ہوگی۔
خطبۂ الٰہ آباد کے دوران علامہ اقبال نے واضح کیا کہ ہندوستانی مسلمانوں کی زندگی میں اسلام کو ہمیشہ سے ایک بنیادی جزو کی حیثیت حاصل رہی ہے۔ ان کے جذبات اور وفاداریاں ہمیشہ اسلام کے زیر اثر رہی ہیں اور اسلام ہی کے طفیل دنیا بھر میں جا بجا بکھرے ہوئے مسلمان ایک متحدہ امت کے روپ میں سامنے آتے ہیں۔ ایک ایسی امت جس کا طرزِ حیات، نظامِ اخلاق، عذاب و ثواب کا تصور اور الہٰیات دیگر اقوام سے منفرد و ممتاز ہیں۔ انہوں نے ہندوستانی مسلمانوں کو ایک قوم قرار دیا اور یہ واضح کیا کہ جب تک مسلمانوں کی قومی حیثیت کو تسلیم نہ کر لیا جائے گا، ہندوستان میں امن و آشتی پر مبنی فضا کا پیدا ہونا ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہندوؤں اور مسلمانوں کے لئے خوشحالی کے ساتھ ساتھ اپنی ثقافتی اقدار کے لئے تحفظ کے حصول کا واحد راستہ یہی ہے کہ ہندوستان میں وفاقی طرزِ حکومت رائج کیا جائے جس میں مسلم اکثریتی علاقوں کو وہی مراعات و سہولیات حاصل ہوں جو ہندو اکثریتی خطوں کو حاصل ہوں۔ 
ہندو مسلم مسئلے کے ایک مستقل حل کے طور پر اقبال نے تجویز کیا کہ پنجاب، شمال مغربی سرحدی صوبہ، بلوچستان اور سندھ کو ملا کر ایک نیا صوبہ تشکیل دیا جائے کیونکہ اس خطے کا خودمختاری حاصل کر لینا ایک ناگزیر حقیقت ہے۔ خواہ یہ خودمختاری سلطنت برطانیہ کا حصہ رہتے ہوئے حاصل کی جائے یا اس سے جدا ہو کر۔ ہندوستان میں فرقہ وارانہ فسادات کا سدباب کرنے کا اور کوئی طریقہ اس کے سوا قابل عمل نہ ہوگا۔
علامہ اقبال کے اس خطاب نے مسلمانوں کے اذہان میں پائی جانے والی تمام سیاسی الجھنیں دور کر دیں اور وہ اپنی سیاسی منزل کا تعین کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ بہ الفاظِ دیگر، یہ خطبہ نظریۂ پاکستان کی بنیاد کا پہلا پتھر ثابت ہوا۔
جون 1930ء میں ہندوستان میں سائمن کمیشن کی رپورٹ کی اشاعت کا تلخی بھرے جذبات سے کیا گیا۔ سیاسی پارٹیوں نے مختلف انداز میں اپنے احتجاجی جذبات کا اظہار کیا۔ کانگریس نے گاندھی کے زیر قیادت سول نافرمانی کی تحریک شروع کر دی جبکہ مسلمانوں نے اعلان کیا کہ یہ رپورٹ حتمی حیثیت نہیں رکھتی اور متعلقہ معاملات کا حل ہندوستان کے تمام طبقات کے قائدین سے مشاورت کر کے تلاش کیا جانا چاہئے۔ ہندوستان کا سیاسی منظرنامہ سنگین تعطل سے دوچار تھا۔ حکومت برطانیہ، ہندوستان کو انتظامی خودمختاری دینے کو تیار نہ تھی اور ہندوستانی عوام اس سے کم کسی اور چیز پر رضامند نہ ہو سکتے تھے۔ حکومت اور عوام کے مابین پائے جانے والے اس عدم اتفاق کے نتائج اکثر مقامات پر پُر تشدد مظاہروں کے روپ میں سامنے آئے۔
1931ء میں برطانیہ میں لیبر پارٹی کی حکومت کے برسراقتدار آنے کے بعد ہندوستانی مسلمانوں کو امید کی ایک جھلک دکھائی دینے لگی۔ لیبر پارٹی کی قیادت نے ہمیشہ ہندوستانی عوام کے مسائل اور مطالبات کے لئے ہمدردانہ جذبات کا اظہار کیا تھا۔ لہٰذا برسراقتدار آتے ہی انہوں نے طے کر لیا کہ نئی آئینی اصلاحات پر غور و خوض کے لئے لندن میں ایک گول میز کانفرنس منعقد کی جائے۔ تقریباً تمام قابل ذکر طبقات سے تعلق رکھنے والے ہندوستانی قائدین کو اس کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی گئی۔ اس موقع پر گاندھی نے اصرار کیا کہ انہیں تمام ہندوستانیوں کے جذبات کی ترجمانی کرنے کی اجازت دی جائے کیونکہ کانگریس ہی ایک ایسی جماعت ہے تمام ہندوستانی عوام کی نمائندہ ہونے کا دعویٰ کر سکتی ہے، دیگر جماعتوں کی حیثیت فرقہ وارانہ گروہوں سے زیادہ نہیں۔ بہرحال، ان کے مطالبے کو عملی شکل اختیار کرنے کا موقع نصیب نہ ہو سکا۔
کانفرنس کا اجلاس 12 نومبر 1930ء کے روز لندن میں منعقد ہوا۔ تمام جماعتوں کے قائدین اس اجلاس میں موجود تھے، سوائے کانگریس کے جس کے قائدین سول نافرمانی کی تحریک چلانے کی پاداش میں جیل میں ڈ ال دیئے گئے تھے۔ انہوں نے اپنے طور پر اعلان کر دیا تھا کہ جب تک نہرو رپورٹ کو آئین ہندوستان کا حصہ نہیں بنا دیا جاتا، وہ کسی طرح کی آئینی بحث میں حصہ لینے کے روادار نہ ہوں گے۔
89 کے لگ بھگ ارکان نے اس کانفرنس میں شرکت کی جن میں سے 58 کا تعلق برطانوی ہند کے مختلف طبقات سے تھا جبکہ بقیہ شاہی ریاستوں اور دیگر سیاسی جماعتوں کی نمائندگی کر رہے تھے۔ نمایاں مسلم مندوبین میں سرآغا خان، قائد اعظم محمد علی جناح، مولانا محمد علی جوہر، سر محمد شفیع اور مولوی فضل حق شامل تھے جبکہ ہندوؤں کی نمائندگی کا اعزاز سر تیج بہادر سپرو، جے کار اور ڈاکٹر مونجے کے حصے میں آیا۔
اس کانفرنس کے دوران بھی ہندو مسلم اختلافات کھل کر سامنے آئے۔ ہندوؤں کی کوشش ایک طاقتور مرکزی حکومت کے قیام کے لئے تھی جبکہ مسلم موقف یہ تھا کہ صوبوں کو داخلی سطح پر خودمختاری دے کر ان کا وفاق قائم کر دیا جائے۔ اس کے علاوہ انہوں نے جداگانہ انتخابی نشستوں اور اقلیتوں کے لئے آبادی کے حساب سے نشستوں کے مخصوص کوٹے کا بھی مطالبہ کیا جبکہ ہندو ہر طرح کے جداگانہ انتخابی حلقے کو ختم کر دینے کی وکالت کر رہے تھے۔
تفصیلات مرتب کرنے کا کام آٹھ ذیلی کمیٹیوں کے سپرد کیا گیا۔ ان کمیٹیوں کو وفاقی ڈھانچے، صوبوں کے آئین، حق رائے دہی، دفاعی امور اور اقلیتی امور جیسے موضوعات کے حوالے سے پیدا ہونے والے سوالات کے جوابات تلاش کرنا تھے۔
کانفرنس 19 جنوری 1931ء کے روز اختتام کو پہنچی اور آخر میں عمومی اتفاقِ رائے سے یہ طے پایا کہ آئین میں اقلیتوں کے حقوق کے لئے تحفظ فراہم کئے جائیں اور ہندوستان کے لئے وفاقی طرزِ حکومت کے امکانات کا جائزہ لیا جائے۔
پہلی گول میز کانفرنس کے اختتام کے بعد حکومت برطانیہ کو احساس ہوا کہ آئین ہند کی تکمیل کے لئے کانگریس کا تعاون حاصل کرنا ضروری ہے۔ اس حقیقت کو مد نظر رکھتے ہوئے وائسرائے لارڈ ارون نے گاندھی کو مذاکرات کی دعوت دی اور بدلے میں گاندھی نے غیر مشروط طور پر سول نافرمانی کی تحریک ختم کرنے پر آمادگی ظاہر کر دی۔
مذاکرات کے نتیجے میں گاندھی اور لارڈ ارون کے درمیان ایک معاہدہ طے پایا جس پر فریقین نے 5 مارچ 1931ء کے روز دستخط ثبت کئے۔ اس معاہدے کے مرکزی نکات حسب ذیل ہیں :
کانگریس سول نافرمانی کی تحریک ختم کر دے گی اور گول میز کانفرنس میں شرکت کرے گی۔ حکومت وہ تمام آرڈیننس واپس لے لے گی جو کانگریس کی سرگرمیوں کو محدود کرنے کیلئے جاری کئے گئے تھے۔ اس کے علاوہ کانگریسی کارکنوں کے خلاف ایسے تمام مقدمات بھی ختم کر دیئے جائیں گے جن میں قانون شکنی کے ارتکاب کیلئے تشدد کا سہارا نہ لیا گیا ہوگا۔ سول نافرمانی کی تحریک میں حصہ لینے کی پاداش میں سزائیں بھگتنے والے تمام افراد رہا کر دیئے جائیں گے۔ 
معاہدے کے مندرجات کی اس مختصر سی تفصیل سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ حکومت برطانیہ کانگریس کو اگلی گول میز کانفرنس میں شریک کرنے کے لئے کتنی بے تاب ہو رہی تھی۔
دوسری گول میز کانفرنس کا اجلاس 7 ستمبر 1931ء کے روز لندن میں منعقد ہوا۔ اس کانفرنس کے زیادہ تر امور وفاقی ڈھانچے کی تشکیل اور اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے لئے آئینی نکات پر کام کرنے والی کمیٹیوں کے ذریعے طے پائے۔ گاندھی کو ان دونوں کمیٹیوں کی رکنیت حاصل تھی لیکن انہوں نے مجموعی طور پر ایک نہایت غیر منطقی رویہ اپنائے رکھا۔ انہوں نے پورے ہندوستان کی نمائندگی کا دعویٰ کرتے ہوئے دیگر تمام مندوبین کو غیر نمائندہ حیثیت کا حامل قرار دے کر مسترد کر دیا۔ ان کے استرداد کی بنیادی وجہ یہی تھی کہ دیگر مندوبین کا تعلق کانگریس سے نہ تھا۔ قائد اعظم اس کانفرنس میں شریک نہ ہوئے کیونکہ وہ مسلم لیگ کے اندرونی اختلافات سے بیزار ہو کر ہندوستانی سیاست سے کنارہ کش ہو چکے تھے اور انگلستان میں بہ حیثیت وکیل پریکٹس کر رہے تھے۔ ان کی یہ ’’رضاکارانہ‘‘ جلاوطنی 1934ء تک جاری رہی جب مسلم لیگ کے سرکردہ قائدین، جن میں علامہ محمد اقبال اور سرآغا خان شامل تھے، نے انہیں وطن واپس آنے پر آمادہ کر لیا۔
فرقہ وارانہ مسئلہ دوسری کانفرنس میں بھی کسی کنارے نہ لگ سکا۔ گاندھی نے نہرو رپورٹ کے مندرجات کو نئے لبادے میں پیش کر کے مسئلے کا حل تراشنے کی کوشش کی لیکن تمام اقلیتی نمائندگان نے اسے مسترد کر دیا۔ کانگریس کی ’’تجاویز‘‘ کے مقابلے مسلمانوں ، نیچ ذاتوں ، ہندوستانی عیسائیوں ، اینگلو انڈینز اور یورپیوں نے ایک مشترکہ بیان جاری کیا اور اس کے اجزائے ترکیبی کو باہم مربوط قرار دیا۔ چونکہ ان کے مطالبات گاندھی کے نزدیک قابل قبول نہ تھا لہٰذا فرقہ وارانہ مسئلے کو آئندہ بحث تک کے لئے ملتوی کر دیا گیا۔ حق رائے دہی، وفاقی مالیات اور صوبہ جاتی جائزے کی کمیٹیوں نے بھی اپنی اپنی رپورٹیں پیش کیں۔ 
کانفرنس کے آخری دن برطانوی وزیر اعظم رامسے میکڈانلڈ نے تمام ہندوستانی قائدین سے اپیل کی کہ وہ فرقہ وارانہ مسئلے کا متفقہ حل پیش کریں۔ اس نے کہا کہ اگر ہندوستانی قائدین ایسا کرنے میں کامیاب نہ ہو سکے تو حکومت برطانیہ کو اپنے طور پر کوئی فیصلہ کرنے پر مجبور ہونا پڑے گا۔ اس کے جواب میں گاندھی نے ہندوستان واپس پہنچتے ہی ایک بار پھر سول نافرمانی کی تحریک شروع کر دی اور حکومت برطانیہ نے ایک مرتبہ پھر انہیں گرفتار کر کے جیل میں ڈال دیا۔
فرقہ وارانہ مسئلے کا کوئی حل تلاش کرنے میں ہندوستانی قائدین کی ناکامی کے بعد وزیر اعظم رامسے میکڈانلڈ نے اس ضمن میں اپنے ایک فارمولے کا اعلان کر دیا۔ اس کا کہنا تھا کہ محض برطانیہ کا وزیر اعظم ہی نہیں ، بلکہ ہندوستانیوں کا دوست بھی ہے اور اپنے دوستوں کے مسائل کرنے کی خواہش رکھتا ہے۔ اس فارمولے کو ’’کمیونل ایوارڈ‘‘ کا نام دیا گیا۔
کمیونل ایوارڈ کا اعلان 16 اگست 1932ء کے روز کیا گیا۔ اس کی رُو سے جداگانہ انتخابی نشستوں کے حقوق صرف مسلمانوں کو ہی نہیں بلکہ ہندوستان کی تمام اقلیتوں کو عطا کر دیئے گئے۔ اچھوتوں کو بھی ایک اقلیت قرار دے کر ان کے لئے علیحدہ نشستیں مخصوص کی گئیں۔ آبادی کے لحاظ سے نشستوں کے کوٹے کا اصول برقرار رکھا گیا البتہ مسلم اقلیتی صوبوں کے لئے اس میں چند ترامیم کر دی گئیں۔ بنگال اور آسام میں موجود یورپیوں ، پنجاب اور شمال مغربی سرحدی صوبے کے سکھوں اور سندھ اور شمال مغربی سرحدی صوبے کے ہندوؤں کے لئے بھی اس اصول کو قانون بنا دیا گیا۔
اس فارمولے کے زیادہ تر فوائد پنجاب کے سکھوں اور بنگال کے یورپیوں کے حصے میں آئے۔ اس کا اندازہ اس چھوٹی سی مثال سے لگایا جا سکتا ہے کہ ایوارڈ کی رُو سے پنجاب کی 175 نشستوں میں سے 86 مسلمانوں کو دی گئیں۔ گویا پنجاب کی آبادی کا نصف سے زیادہ حصہ مسلمانوں پر مشتمل ہونے کے باوجود، حقیقت میں ، انہیں اس صوبے میں اقلیت بنا دیا گیا۔ کم و بیش یہی سلوک بنگال میں ان کی اکثریت کے ساتھ کیا گیا۔
کمیونل ایوارڈ کسی بڑی سیاسی پارٹی کے حلق سے پوری طرح نہ اتر سکا۔ مسلمانوں کی ناخوشی کی وجہ تو صاف ظاہر تھی لیکن پھر بھی انہوں نے اسے قبول کرنے پر آمادگی ظاہر کر دی۔ نومبر 1933ء میں اپنے سالانہ اجلاس کے دوران مسلم لیگ نے ایک قرارداد پاس کی جس میں اعلان کیا گیا: ’’اگرچہ یہ فیصلہ ہماری توقعات سے کہیں کمتر ثابت ہوا ہے، پھر بھی ملک کے بہترین مفادات میں مسلمان اسے قبول کرتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ اپنے تمام مطالبات کی منظوری کے لئے جدوجہد کرنے کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔ ‘‘
مسلمانوں کے برعکس ہندوؤں نے اس ایوارڈ کو قبول نہ کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے اس کے خلاف تحریک چلانے کا اعلان کر دیا۔ ہندوؤں کو یہ کسی طور گوارا نہ تھا کہ اچھوتوں کو ایک الگ قوم کا درجہ دے کر سیاسی لحاظ سے برابری کی سطح پر بٹھا دیا جائے۔ انہوں نے الٰہ آباد میں ’’اتحاد کانفرنس‘‘ کا انعقاد کیا جس میں مطالبہ کیا گیا کہ جداگانہ انتخابی نشستوں کی جگہ مشترکہ نشستوں کا نظام رائج کیا جائے۔ کئی قوم پرست مسلمانوں اور سکھوں نے بھی اس کانفرنس میں شرکت کی۔ انہوں نے ایوارڈ کو بھی مکمل طور پر مسترد کر دیا اور گاندھی نے اچھوتوں کو اقلیت قرار دینے کے خلاف احتجاج کے طور پر مرن برت رکھنے کا اعلان کر دیا۔ پہلی مرتبہ انہوں نے اچھوت قائدین کے ساتھ بھی ملاقاتیں کیں اور انہیں یہ یقین دلانے کی کوشش کی کہ وہ ہندو قومیت کے مرکزی دھارے کا ایک حصہ ہیں۔ اس طرح کے بہلاووں کے سہارے انہوں نے اچھوت لیڈر ڈاکٹر امبیدکر کو ’’میثاقِ پونا‘‘ پر دستخط کرنے پر آمادہ کر لیا جس میں اچھوتوں کے کئی مطالبات تسلیم کرنے پر رضامندی ظاہر کر دی گئی تھی۔ یوں اچھوت ایک سنہرے مستقبل کے سہانے خواب آنکھوں میں بسائے ایک بار پھر ہندو قومیت کی آغوش میں واپس پلٹ آئے۔ یہ خواب کس حد شرمندۂ تعبیر ہوئے، اس کا اندازہ موجودہ بھارت میں اچھوتوں کی حالت دیکھ کر بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔
تیسری گول میز کانفرنس نومبر 1932ء کے وسط میں منعقد ہوئی۔ تب تک برطانیہ کا اقتدار لیبر پارٹی کے ہاتھوں سے نکل کر سیاسی جماعتوں کے اتحاد کے پاس جا چکا تھا۔ لیبر پارٹی اب حزبِ اختلاف میں شامل تھی، اگرچہ وزارتِ عظمیٰ کا عہدہ اب بھی رامسے میکڈانلذ کے ہی قبضے میں تھا۔
اس کانفرنس میں بھی کوئی قابل ذکر پیش رفت کرنے میں کامیابی حاصل نہ کی جا سکی۔ کانگریس اور لیبر حزبِ اختلاف نے اس میں شرکت نہ کی۔ مختلف کمیٹیوں کی پیش کی گئی رپورٹوں کا جائزہ لیا گیا اور آخر میں ایک قرطاسِ ابیض شائع کیا گیا۔ برطانوی پارلیمنٹ میں اس دستاویز پر بحث ہوئی اور مجوزہ اصلاحات کا تجزیہ کرنے کے لئے ایک جوائنٹ سیلیکٹ کمیٹی مقرر کی گئی۔ اس کمیٹی میں برطانوی پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے سولہ سولہ ارکان کے علاوہ برطانوی ہندوستان کے بیس نمائندوں اور آزاد ہندوستانی ریاستوں کے سات نمائندے شامل تھے۔ کمیٹی کی سربراہی لارڈ لن لتھگو کے سپرد کی گئی۔ کم و بیش ڈیڑھ سال کے غور و خوض کے بعد 5 فروری 1935ء کے روز کمیٹی نے مسودۂ قانون کا پہلا ڈرافٹ پیش کر دیا۔ تقریباً دو ماہ تک یہ مسودہ دار الامراء اور دار العوام میں زیر بحث رہا اور بالآخر جولائی 1935ء میں ، شاہِ برطانیہ کے دستخط کے ساتھ، گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ مجریہ 1935ء کے نام سے منصہ شہود پر نمودار ہو گیا۔ اس ایکٹ کے اہم مندرجات حسب ذیل ہیں :
اس ایکٹ میں ہندوستان کو ایک وفاق بنانے کا وعدہ کیا گیا تھا جس میں صوبے اور ریاستیں دونوں شامل ہوتے۔ لیکن وفاقی مرکزی طرزِ حکومت کا قیام اس وقت تک ممکن نہ تھا جب تک کہ ایک مخصوص تعداد میں ریاستوں کے سربراہان الحاق کے معاہدے پر دستخط نہ کر دیتے۔ چونکہ ایسا ممکن نہ ہو سکا لہٰذا مرکزی حکومت 1919ء کے ایکٹ کے مطابق کرتی رہی اور 1935ء کے ایکٹ کا صوبائی حکومتوں سے متعلق حصہ رو بہ عمل رہا۔ ریاستوں کے حوالے سے مرتب کی جانے والی دفعات غیر موثر ہو گئیں۔ 
گورنر جنرل کو بدستور مرکز کی سربراہی اور انتظامیہ، قانون سازی اور مالیات کے حوالے سے وسیع اختیارات حاصل رہے۔ وفاقی مجلس قانون ساز کو دو ایوانوں میں تقسیم کر دیا گیا: ایوانِ بالا یعنی ریاستوں کی کونسل اور ایوانِ زیریں یعنی وفاقی اسمبلی۔ ریاستوں کی کونسل میں 260 ارکان کی گنجائش رکھی گئی جن میں سے 156 برطانوی ہندوستان سے منتخب کئے گئے اور 104 کی نامزدگی ریاستوں کے حکمرانوں کی طرف سے کی گئی۔ وفاقی اسمبلی میں 375 نشستیں رکھی گئیں جن کے لئے 250 اراکین کا انتخاب برطانوی ہند کے صوبوں کی مجالس قانون ساز سے کیا گیا اور 125 کو ریاستوں کے حکمرانوں کی طرف نامزد کیا گیا۔
مرکزی مجلس قانون ساز کو کسی بھی طرح کا قانون منظور کرنے کا اختیار دے دیا گیا لیکن شرط یہ تھی کہ کسی قانون کو آئین کا حصہ بنانے سے پہلے گورنر جنرل کی منظوری حاصل کی جائے۔ دوسری طرف گورنر جنرل کو آرڈیننس جاری کرنے کا اختیار بھی دے دیا گیا۔ انڈین کونسل ختم کر دی گئی اور اس کی جگہ سیکرٹری آف سٹیٹ برائے ہند کی اعانت کرنے کے لئے چند مشیر مقرر کر دیئے گئے۔ صوبوں کو جو قلمدان تفویض ہوئے ان کے حوالے سے انہیں انتظامی خودمختاری دے دی گئی۔ مرکز میں دو عملی حکومت کو رائج کر دیا گیا البتہ صوبوں میں اسے ختم کر دیا گیا۔ سندھ کو بمبئی اور اڑیسہ کو بہار سے الگ کر کے ان کی صوبائی حیثیت بحال کر دی گئی اور دوسرے صوبوں کی مانند صوبہ سرحد میں بھی اصلاحات متعارف کرائی گئیں۔ جداگانہ انتخابی نشستوں کا نظام برقرار رکھا گیا اور مرکزی مجلس قانون ساز میں مسلمانوں کو ایک تہائی نمائندگی دینے کی ضمانت فراہم کی گئی۔ یہ بھی طے پایا کہ 11 صوبوں میں خودمختار حکومتیں قائم کی جائیں گی جن کی وزارتیں ، مجالس قانون ساز کے سامنے جواب دہ ہوں گی۔ برما اور عدن کو ہندوستان سے الگ کر دیا گیا۔ مرکز میں وفاقی عدالت قائم کر دی گئی اور اس کے ساتھ ساتھ ریزرو بینک آف انڈیا کا قیام بھی عمل میں لایا گیا۔
اگرچہ کانگریس اور مسلم لیگ دونوں نے اس ایکٹ کی مخالفت کی لیکن 1936-37ء میں منتخب ہونے والے صوبائی انتخابات میں حصہ بھی لیا جو کہ اس ایکٹ کی دفعات کے تحت منعقد ہوئے تھے۔ آزادی کے بعد، پاکستان اور بھارت کی حکومتوں نے عارضی طور پر اسی ایکٹ کو چند ترامیم کے ساتھ اپنے آئین کے طور پر رائج کیا۔
1936-37ء کے صوبائی انتخابات میں کانگریس اور مسلم لیگ نے اپنے اپنے منشور پیش کئے جو کم و بیش ایک جیسے ہونے کے باوجود دو حوالوں سے ایک دوسرے سے بالکل مختلف تھے۔ کانگریس مشترکہ انتخابی نشستوں کا مطالبہ کر رہی تھی جبکہ مسلم لیگ جداگانہ انتخابی نشستوں کے موقف پر قائم رہی۔ اس کے علاوہ کانگریس کا کہنا تھا کہ ہندی کو دیوناگری رسم الخط کے ساتھ ہندوستان کی سرکاری زبان قرار دیا جائے جبکہ مسلم لیگ اردو کو فارسی رسم الخط کے ساتھ سرکاری زبان کی حیثیت دلانا چاہتی تھی۔
ان انتخابات میں برصغیر کی سب سے پرانی، سب سے منظم اور سب سے دولتمند جماعت ہونے کی بدولت کانگریس کو اکثریت حاصل ہوئی لیکن اس کے باوجود وہ کل نشستوں کا 40 فیصد حصہ بھی حاصل نہ کر سکی۔ 11 صوبوں کی 1771 نشستوں میں سے کانگریس کو 750 حاصل ہوئیں۔ یوں گاندھی کے اس دعوے کی واضح طور پر تردید ہو گئی کہ ان کی جماعت ہندوستان کے 95 فیصد عوام کی نمائندگی کرتی ہے۔ کانگریس کی کامیابی کا بڑا حصہ ہندو انتخابی حلقوں تک محدود رہا اور 491 مسلم نشستوں میں سے محض 26 اس کے حصے میں آئیں۔ مسلم لیگ کی حالت بھی کچھ ایسی حوصلہ افزا نہ تھی اور وہ 106 نشستوں سے زیادہ جیتنے میں کامیاب نہ ہو سکی لیکن یہاں پر یہ حقیقت ملحوظِ خاطر رہے کہ مسلم لیگ ایک ایسی جماعت تھی برسوں کے اختلافات اور اندرونی چپقلشوں کے بعد، اب قائد اعظم کی زیر قیادت، خود کو ازسرنو منظم کرنے کے عمل سے گزر رہی تھی۔ یوں کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ بہ حیثیت ایک سیاسی جماعت مسلم لیگ کی تعمیر حقیقی معنوں میں اب شروع ہوئی تھی۔ 
فروری 1937ء میں انتخابات کے حتمی نتائج کا اعلان کر دیا گیا۔ مدراس، اتر پردیش، مدھیہ پردیش، بہار اور اڑیسہ میں کانگریس کو واضح اکثریت حاصل ہوئی۔ بمبئی اور صوبہ سرحد میں اس نے دیگر جماعتوں کے ساتھ اتحاد بنا لئے اور اس کے ساتھ سندھ اور آسام میں بھی حکمران اتحادوں میں شمولیت اختیار کر کے قابل ذکر سیاسی حیثیت حاصل کر لی۔ یوں براہِ راست یا بالواسطہ طور پر 11 میں سے 9 صوبوں میں کانگریسی حکومتیں قائم ہو گئیں۔ پنجاب میں یونینسٹ پارٹی اور بنگال میں مولوی فضل الحق کی پرجا کرشک پارٹی کی حکومتیں قائم ہوئیں جن میں کانگریس کا کوئی دخل نہ تھا۔ مسلم لیگ کو کسی صوبے میں حکومت حاصل نہ ہو سکی۔
اب کانگریس کو اب صوبوں میں اپنی حکومتیں تشکیل دینا تھیں لیکن اس سے پہلے انہوں نے یہ شرط پیش کر دی کہ گورنر جنرل قانون سازی کے امور میں اپنے اختیارات استعمال کرنے سے باز رہے گا۔ طویل مباحث کے بعد حکومت برطانیہ نے یہ شرط منظور کر لی اگرچہ اس منظوری کی نوعیت محض زبانی تھی اور آئین میں اس حوالے سے کوئی ترمیم نہ کی گئی۔ بہرحال، چار مہینوں کے طویل عرصے کے بعد کانگریس نے جولائی 1937ء میں صوبوں میں اپنی حکومتیں تشکیل دے دیں۔ 
اس مرتبہ کانگریس نے کھل کر ہندو پارٹی ہونے کا ثبوت دیا اور ان کے اقتدار کے 27 مہینے برصغیر کے مسلمانوں کے لئے آزمائش و ابتلاء کا نیا دور ثابت ہوئے۔ بعض کانگریسی رہنما یہاں تک کہہ گزرے کہ وہ مسلمانوں سے گذشتہ سات سو سالوں کی غلامی کا انتقام لیں گے۔ حکومتوں کی تشکیل سے پہلے کانگریس نے مسلم عوام سے رابطے کی ایک وسیع مہم شروع کی تھی جس کا مقصد انہیں اس بات پر قائل کرنا تھا کہ برصغیر میں صرف دو سیاسی فریق ہیں یعنی کانگریس اور حکومت برطانیہ لیکن اس مہم کی ناکامی کے بعد وہ کھلم کھلا مسلم دشمنی پر اتر آئے۔ حکومت سنبھالنے کے بعد، کانگریس نے ہندی کو قومی زبان اور دیوناگری کو اس کا سرکاری رسم الخط قرار دے دیا۔ کانگریس کے جھنڈے کو قومی جھنڈا بنا دیا گیا۔ گاؤ کشی قانوناً ممنوع قرار پائی۔ تمام سکولوں میں گاندھی کی تصویریں لگا دی گئیں اور بچوں کو پابند کیا گیا کہ وہ اپنے کمرۂ جماعت میں جانے سے پہلے تصویر کو نمسکار کریں۔ بندے ماترم کو قومی ترانے کا درجہ دے دیا گیا۔ مذہبی عدم رواداری عہد کا قانون بن گئی۔ نئی مساجد کی تعمیر پر پابندی لگا دی گئی اور شرپسند ہندو عناصر نے نمازوں کے اوقات کے دوران مساجد کے سامنے ڈھول پیٹنے اور غل غپاڑہ کرنے کا وطیرہ اپنا لیا۔
کانگریس نے صوبوں میں ایک نئی تعلیمی پالیسی متعارف کرائی جسے واردہ تعلیمی سکیم کا نام دیا گیا۔ اس پالیسی کا مرکزی مقصد مسلمان بچوں کو ان کے بنیادی نظریئے سے منحرف بنانا اور ان کے اذہان میں یہ بات نقش کرنا تھا کہ وہ اول و آخر ہندوستانی ہیں اور مسلم امہ کے بجائے ہندوستانی قوم کا حصہ ہیں۔ بہار اور مدھیہ پردیش میں ودیا مندر سکیم متعارف کرائی گئی جس کے تحت پرائمری سطح پر مندر کی تعلیم لازمی قرار دے دی گئی۔ اس سکیم کا مقصد مسلمانوں کی ثقافتی روایات کو مسخ کرنا اور ہندو ثقافت کی بالادستی قائم کرنا تھا۔
کانگریسی وزارتوں نے مسلمانوں کے معاشی حالات بگاڑنے کی بھی بھرپور سعی کی۔ سرکاری ملازمتوں کے دروازے ان پر بند کر دیئے گئے اور ایسے اقدامات کئے گئے جن سے مسلم تجارت اور زراعت کو نقصان پہنچا۔ جب کانگریس کی متعصبانہ پالیسیوں کے خلاف احتجاجی مظاہرے شروع ہوئے تو ان مظاہروں کو فسادات کا رنگ دے دیا گیا اور ججوں پر دباؤ ڈالا گیا کہ وہ فسادات میں حصہ لینے والے ہندوؤں سے نرم اور مسلمانوں سے کڑا سلوک کریں۔ 
کانگریس کے ان اقدامات کے خلاف جہاں مسلمانوں نے احتجاج کیا، وہاں انصاف پسند برطانوی بھی خاموش نہ رہ سکے۔ اپریل 1938ء میں مارکوئس آف لوتھیان نے کانگریس حکومت کو ’’ہندو حکومت کا چڑھتا ہوا سیلاب‘‘ قرار دیا۔ ’’نیشنل ریویو‘‘ کی جون 1939ء کی اشاعت میں بھی اس حکمت کو ’’سیاسی ہندوازم کا چڑھتا ہوا سیلاب‘‘ کہہ کر پکارا گیا۔
مسلمانوں کے لئے دشواریوں سے پُر یہ دور دوسری جنگ عظیم کے آغاز تک جاری رہا۔ جنگ کے چھڑنے پر وائسرائے نے مرکزی سیاسی جماعتوں سے مشاورت کئے بغیر ہندوستان کے اس جنگ میں شامل ہونے کا اعلان کر دیا اور صوبائی حکومتوں سے اعانت طلب کی۔ کانگریس نے اس شرط پر اعانت فراہم کرنے پر آمادگی ظاہر کی کہ ہندوستان کا اقتدار فوری طور پر ہندوستانیوں کو منتقل کر دیا جائے۔ حکومت برطانیہ نے انکار کر دیا اور احتجاجاً کانگریسی ارکان نے اپنی نشستوں سے استعفے دے دیئے۔ یوں تمام صوبوں میں کانگریسی حکومتیں ختم ہو گئیں۔ یہ واقعہ 22 دسمبر 1939ء کے روز پیش آیا اور قائد اعظم نے مسلمانوں سے درخواست کی کہ وہ کانگریسی جبر و ستم سے چھٹکارا حاصل ہونے کی خوشی میں اس دن کو ’’یومِ نجات‘‘ کے طور پر منائیں اور خدا کے حضور شکرانہ پیش کریں۔ 
کانگریسی حکومتوں کے رویئے نے یہ حقیقت واضح کر دی تھی کہ کانگریس آزاد ہندوستان کو کس روپ میں دیکھنے کی خواہش رکھتی ہے۔ مسلمانوں کے لئے ایک علیحدہ وطن، جو اس سے پہلے محض ایک تصور تھا، اب ایک ناگزیر حقیقت بن کر سامنے آ گیا، اور سب نے جان لیا کہ اگر مسلمانوں کو آزادی کے بعد امن و آشتی کی زندگی بسر کرنا ہے تو اس کے لئے انہیں اپنا الگ وطن حاصل کرنا ہوگا۔ ہندوستان میں کبھی بھی ایک قوم آباد نہیں رہی، اور نہ ہی آئندہ کبھی ایسا ہوگا۔ دو قوموں کا وجود ایک نظریئے سے ہٹ کر ایک ٹھوس حقیقت کی شکل میں تبدیل ہو گیا۔ یہ جھٹلانا ممکن نہ رہا کہ ہندو مت اور اسلام، محض دو مذاہب ہی نہیں بلکہ دو سماجی نظام ہیں جن میں کوئی قدر مشترک نہیں۔ یہ کبھی ممکن نہ ہوگا کہ ایک ہی ملک میں یہ دونوں نظام اشتراک و ارتباطِ باہمی کے ساتھ مل کر چل سکیں۔ جو ہم آہنگی گذشتہ ایک ہزار سال سے ایک ہی خطے میں ایک ساتھ رہنے کے باوجود حاصل نہ ہو سکی، آئندہ ایک ہزار سال میں بھی اس کا حاصل ہونا محال تھا۔ ہو بھی کیسے سکتی تھی؟ جب ایک قوم کا کھانا پینا، پہننا اوڑھنا، سونا جاگنا، بولنا چالنا، عبادت کرنا، معاشرتی اطوار یہاں تک کہ طرزِ تعمیر اور رسم الخط بھی دوسری قوم سے یکسر مختلف ہوں ، اور اس پر طرہ یہ کہ وہ اس قوم کے خلاف دل میں عناد بھی رکھتی ہو، تو ناممکن ہے کہ دونوں ایک ہی ملک میں ، ایک ہی حکومت تلے، ایک ہی معاشرتی نظام کے تحت مل جل کر رہ سکیں۔ جس عمل کا آغاز جداگانہ انتخابی حلقوں کے مطالبے سے ہوا تھا، وہ علیحدہ وطن کے مطالبے کی صورت میں اپنے عروج کو پہنچ گیا۔
نظریۂ پاکستان کے معرضِ وجود میں آنے کا عمل پانچ  ارتقائی مراحل میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ تاریخی تجربے نے جو بنیاد فراہم کی، اس پر کاربند رہتے ہوئے سرسید احمد خان نے مسلم شعور کی بیداری کی تحریک کا آغاز کیا۔ علامہ اقبال نے ایک فلسفیانہ تصور پیش کیا اور قائد اعظم نے اس تصور کو ایک حقیقت میں بدل دیا۔ آخر میں پاکستان کی آئینی اسمبلی نے مارچ 1949ء میں قراردادِ مقاصد منظور کر کے اسے قانونی حیثیت عطا کر دی۔
دو قومی نظریئے کی بنیاد اس اصول پر رکھی گئی ہے کہ اسلامی قومیت جغرافیائی حقیقتوں سے بالاتر ہوتی ہے۔ ایک مسلمان، خواہ اس کا تعلق کسی بھی خطے سے ہو، دین اسلام کا پیروکار ہونے کی حیثیت سے مسلم امہ کا ایک حصہ ہے۔ ارضی، نسلی یا لسانی اختلافات کوئی حقیقت نہیں رکھتے۔ تحریک پاکستان کی بنیاد اسی اصول پر رکھی گئی اور برصغیر کے مسلمانوں نے مطالبہ کیا کہ ان کے اکثریتی علاقوں کو یکجا کر کے ایک علیحدہ خطے کی شکل دی جائے جہاں وہ اپنی زندگیاں قرآن اور سنت کے اصولوں کے مطابق پوری آزادی سے گزار سکیں۔ 
گیارہویں صدی میں سلطان محمود غزنوی کے ساتھ ہندوستان آنے والے مورخ البیرونی نے اپنی مشہورِ زمانہ کتاب ’’کتاب الہند‘‘ میں لکھا کہ ہندو مسلمانوں سے تمام عادات و اطوار میں یکسر مختلف ہیں۔ مسلمانوں کو وہ ملیچھ یعنی ناپاک سمجھتے ہیں اور ان کے ساتھ کسی بھی طرح کا ربط ضبط بڑھانے کے خلاف ہیں۔ شادی بیاہ اور میل ملاپ تو دور کی بات، مسلمانوں کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا اور کھانا پینا بھی انہیں ’’ناپاک‘‘ کرنے کے لئے کافی تھا۔ 22 مارچ 1940ء کے روز لاہور کے اقبال پارک میں تقریر کرتے ہوئے قائد اعظم نے بھی انہی الفاظ کا اعادہ کیا اور اعلان کیا کہ ہندو اور مسلمان دو الگ الگ مذہبی فلسفوں اور معاشرتی نظام سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کا تہذیب و تمدن ایک دوسرے سے مختلف بلکہ کئی جگہوں پر باہم متصادم ہے، اور ہندوستان کی گذشتہ ایک ہزار سالہ تاریخ اس حقیقت کو ثابت کرتی ہے۔
نظریۂ پاکستان کی جڑیں ، برصغیر کی تاریخ میں بہت گہری اتری ہوئی ہیں۔ برصغیر کے گذشتہ ہزاریئے کی تاریخ مسلمانوں اور ہندوؤں میں پائی جانے والی چپقلشوں سے عبارت ہے۔ ایک زمانے میں بالادستی حاصل کرنے کی لڑائی میدانِ جنگ میں لڑی گئی۔ یہاں ناکامی ہونے کے بعد ہندو مت نے چور دروازے کا سہارا لے کر اسلام میں جگہ بنانے کی کوشش کی۔ اسلام سے پہلے جتنے مذاہب ہندوستان میں آئے، سب کسی نہ کسی طور ہندو مت سے متاثر ہو کر اس کی ایک بگڑی ہوئی شکل بن گئے لیکن ہندوؤں کی تمام تر کوششوں کے باوجود اسلام ایسے اثرات سے پاک رہا۔ خواہ وہ بھگتی تحریک ہو یا اکبر کا دین الٰہی، ایسی ساری لہریں کچھ عرصہ گزار کر اپنی موت آپ مر گئیں اور اسلامی تہذیب و تمدن، ہندو تہذیب و تمدن سے جدا اور منفرد رہا۔ دونوں اقوام کو قریب لانے کی کوششیں کبھی کامیابی سے ہمکنار نہ ہو سکیں کیونکہ ان کے مابین پائے جانے والے اختلافات نہایت بنیادی نوعیت کے ہیں اور کسی بھی مقام پر ایک دوسرے سے میل نہیں کھاتے۔ مذہب ان کی زندگیوں کا مرکزی حصہ ہے، اور اگر دونوں اقوام اپنے اپنے مذہب کے مطابق زندگی گزارنا چاہتی ہیں تو پھر ان کا ایک ہونا کسی صورت ممکن نہیں۔ 
برصغیر میں برطانویوں کی آمد کے بعد ہندو مسلم تعلقات ایک نئے دور میں داخل ہو گئے۔ برطانوی اپنے ساتھ ایک نیا سیاسی فلسفہ لے کر آئے جسے عرفِ عام میں ’’ارضی قومیت‘‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ برطانویوں کے آنے سے پہلے برصغیر میں ایک قوم کا کوئی تصور موجود نہ تھا اور نہ ہی یہ خطہ کبھی ایک متحدہ سیاسی اکائی کی شکل اختیار کر سکا تھا۔ دونوں مذاہب کو ایک قوم بنانے کی برطانوی کوششیں بھی ناکامی سے دوچار ہوئیں کیونکہ ان کا قومیتی تصور کسی طور بھی برصغیر کے مذہبی معاشرتی منظر نامے میں فٹ نہیں بیٹھتا تھا۔ اسی طرح برطانوی سیاسی نظام یعنی جمہوریت بھی برصغیر کے سیاسی نظام کے لئے مناسب نہ تھا کیونکہ یہ اکثریت کو حکومت کرنے کا حق عطا کرتا ہے اور برصغیر میں اکثریت و اقلیت کی بنیادیں سیاسی نہیں بلکہ مذہبی اور نسلی تھیں۔ برصغیر کے سیاسی مسائل کو حل کرنے کے بجائے یہاں برطانوی نظامِ سیاست مسلط کرنے کی کوشش نے صورتِ حال کو مزید پیچیدہ بنا دیا۔ ہندو اکثریت کے لئے یہ نظام قابل قبول ہو سکتا تھا لیکن مسلمانوں اور دیگر اقوام کے لئے نہیں۔ مسلمان جانتے تھے کہ اس نئے نظام کو قبول کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اپنی علیحدہ شناخت کو تج دیا جائے اور قومیت اور جمہوریت کے نام پر ہمیشہ کے لئے ہندو اکثریت کی حکومت قبول کر لی جائے لہٰذا انہوں نے اسے قبول کرنے سے انکار کرتے ہوئے یہ واضح کر دیا کہ وہ ایک الگ قوم ہیں اور ان کی قومیت کی بنیاد خطے پر نہیں بلکہ مذہب پر ہے۔ انہوں نے ایک ایسے سیاسی نظام کو مسترد کر دیا جس کے تحت انہیں ہمیشہ کے لئے ایک اقلیت بن کر رہنا پڑتا۔ پہلے انہوں نے جداگانہ انتخابی حلقوں کا مطالبہ کیا اور پھر الگ وطن کا۔ سیاسی رقابت نے مسلمانوں اور ہندوؤں کے باہمی اختلافات کو مزید گہرا کر دیا۔
24 مارچ 1940ء کے روز مسلمانوں نے بالآخر وفاقی طرزِ حکومت کا خیال چھوڑ کر ایک علیحدہ مملکت کو اپنا ہدف بنا لیا۔ قائد اعظم کے نزدیک پاکستان کا حصول منزل تک پہنچنے کا ایک راستہ تھا، بجائے خود منزل نہیں۔ ان کی خواہش تھی کہ پاکستان ایک اسلامی اور جمہوری ریاست ہو۔ ان کی اور پاکستان کے عوام کی خواہش کے مطابق ہی پاکستان کی آئینی اسمبلی نے قراردادِ مقاصد منظور کی۔ اس قرارداد نے نظریۂ پاکستان کے متعلق رہے سہے شبہات بھی ختم کر دیئے۔فیصلہ ہو گیا کہ پاکستان ایک ایسی ریاست ہوگی جہاں مسلمان اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی اسلامی تعلیمات و عقائد کے مطابق گزارنے میں آزاد ہوں گے اور جمہوریت کے نام پہ انہیں کبھی اکثریت کی غلامی قبول کرنے پر مجبور نہیں ہونا پڑے گا۔ اس ہدف کو ذہن میں لے کر تحریک حصولِ پاکستان کا آغاز کیا گیا اور اس سلسلے میں پہلا قدم قراردادِ پاکستان کی منظوری کی صورت میں اٹھایا گیا۔
مسلم لیگ کا سالانہ اجلاس 22 مارچ سے 24 مارچ تک لاہور کے منٹو پارک (موجودہ اقبال پارک) میں منعقد ہوا اور اس اجلاس نے برصغیر کی تاریخ کا رخ بدل دیا۔
اجلاس کے پہلے روز، قائد اعظم نے گذشتہ چند ماہ کے واقعات پر روشنی ڈالی اور ایک فی البدیہہ تقریر میں مسلم مسئلے کا حل پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کا مسئلہ فرقہ وارانہ نہیں بلکہ بین الاقوامی ہے اور اس کا حل اسی تناظر میں تلاش کیا جانا چاہئے۔ مسلمانوں اور ہندوؤں کے مابین پائے جانے والے اختلافات اتنے گہرے ہیں کہ ایک مرکزی حکومت کے تحت ان کا ایک ساتھ رہنا ممکن نہیں۔ ان کا تعلق دو مختلف قوموں سے ہے لہٰذا ان کی مملکتیں بھی الگ الگ ہونی چاہئیں۔ 
قائد اعظم کے خیالات کی روشنی میں بنگال کے اس وقت کے وزیر اعلیٰ اے کے فضل الحق نے 23 مارچ کے روز وہ قرارداد پیش کی جسے آج تاریخ ’’قراردادِ لاہور‘‘ یا ’’قراردادِ پاکستان‘‘ کے نام سے یاد کرتی ہے۔
قرارداد میں اعلان کیا گیا: ’’مسلمانوں کے نزدیک کوئی آئینی منصوبہ تب تک قابل عمل یا قابل قبول نہ ہوگا جب تک کہ باہم مربوط جغرافیائی اکائیوں کی سرحدوں کا ازسرنو تعین کر کے، ضروری ارضی تبدیلیوں کے ساتھ، انہیں خطوں میں نہ بدل دیا جائے۔ یہ کہ ہندوستان کے شمال مغربی اور مشرقی خطوں جیسے وہ علاقے جہاں مسلمان اکثریت میں ہیں ، یکجا کر کے خودمختار ریاستیں تشکیل دی جائیں جہاں انتخابی اکائیاں خودمختار اور آزاد ہوں۔ ‘‘
قرارداد میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ: ’’ان اکائیوں اور خطوں میں آباد اقلیتوں کے مذہبی، ثقافتی، معاشی، سیاسی، انتظامی اور دیگر حقوق کے لئے آئین میں خاطرخواہ، موثر اور لازمی تحفظات، ان کی مشاورت کے ساتھ، فراہم کئے جائیں گے۔ اسی طرح کے انتظامات ان خطوں میں مسلمانوں کے تحفظ کے لئے کئے جانے چاہئیں جہاں وہ اقلیت میں ہیں۔ ‘‘
قرارداد نے متحدہ ہندوستان کے تصور کو مسترد کر دیا اور شمال مغرب میں پنجاب، صوبہ سرحد، سندھ اور بلوچستان، اور شمال مشرق میں بنگال اور آسام پر مشتمل خودمختار مسلم ریاستوں کے قیام کی سفارش کی۔ پنجاب کی طرف سے مولانا ظفر علی خان، صوبہ سرحد کی طرف سے سردار اورنگ زیب، سندھ کی طرف سے سر ہارون عبداللہ اور بلوچستان کی طرف سے قاضی عیسیٰ نے، دیگر کئی عمائدین کے ساتھ قرارداد کی تائید کی۔
24 مارچ کے روز قرارداد کو منظور کر لیا گیا۔ قرارداد میں محض اصولوں کا بیان کیا گیا تھا اور تفصیلات مرتب کرنے کا کام آئندہ کے لئے چھوڑ دیا گیا تھا۔ 1941ء میں اسے آل انڈیا مسلم لیگ کے آئین کا حصہ بنا دیا گیا اور اسی قرارداد کی بناء پر 1946ء میں مسلم لیگ نے دو مسلم ریاستوں کے بجائے ایک مسلم ریاست کے قیام کو اپنا ہدف بنا لیا۔ برصغیر کے ہندوؤں اور مسلمانوں کی منازل اب ہمیشہ کے لئے ایک دوسرے سے جدا ہو چکی تھیں۔ 
حکومت برطانیہ جنگ کی صورتِ حال سے نمٹنے کے لئے ہندوستانی عوام کا تعاون حاصل کرنے کی خواہاں تھی اور اسے علم تھا کہ دونوں بڑی اقوام کی اعانت کے بغیر جنگ میں اس کا کامیابی حاصل کرنا ممکن نہیں۔ دونوں مرکزی سیاسی جماعتوں میں پیدا ہونے والے اختلاف سے ہراساں ہو کر 22 مارچ 1942ء کے روز حکومت برطانیہ نے سر سٹافورڈ کرپس کو مندرجہ ذیل آئینی تجاویز کے ساتھ ہندوستان روانہ کیا:
جنگ ختم ہوتے ہی صوبوں میں عام انتخابات کا انعقاد کیا جائے گا۔
ہندوستان کو سلطنت برطانیہ کے تحت داخلی خودمختاری دے کر ایک الگ مملکت بنا دیا جائے گا اور جو صوبے اس مملکت میں شامل ہونے کے خواہاں نہ ہوں گے، ان کی الگ یونین قائم کر دی جائے گی۔ اس کے علاوہ اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ کیا جائے گا۔
بہرحال، کانگریس اور مسلم لیگ دونوں کی طرف سے ان تجاویز کو رد کر دیا گیا۔ کانگریس کے انکار کی وجہ تو صاف ظاہر تھی، جبکہ مسلم لیگ کے انکار کی وجہ یہ تھی کہ ان تجاویز میں پاکستان کے قیام کی کوئی گنجائش نہ رکھی گئی تھی۔ یوں کرپس مشن بے نیل و مرام ہندوستان سے واپس برطانیہ کو لوٹ گیا۔
ہندو مسلم اختلافات کو ختم کرنے کی آخری کوشش 1944ء کے گاندھی جناح مذاکرات کی صورت میں سامنے آئی۔ 17 جولائی 1944ء کے روز گاندھی نے قائد اعظم کو ایک خط لکھا جس میں ان سے ملاقات کی خواہش کا اظہار کیا گیا۔ قائد اعظم نے ملاقات کے لئے مسلم لیگ کے زعماء کی اجازت طلب کی جو کہ فوراً دے دی گئی، اور 19 ستمبر 1944ء کے روز بمبئی میں برصغیر کے دونوں بڑے لیڈروں کے درمیان گفت و شنید کا سلسلہ شروع ہوا جو 24 ستمبر تک جاری رہا۔ یہ سلسلہ بالمشافہ ملاقاتوں کے علاوہ خط و کتابت پر بھی مشتمل تھا۔ گاندھی نے آغاز میں ہی یہ واضح کر دیا کہ یہ ملاقات وہ اپنی ذاتی حیثیت میں کر رہے ہیں ، ہندوؤں اور یا کانگریس کے نمائندے کی حیثیت سے نہیں۔ ملاقات کا حقیقی مقصد قائد اعظم سے یہ ’’اعتراف‘‘ حاصل کرنا تھا کہ مطالبہ پاکستان دیوانے کے خواب سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتا۔
قائد اعظم نے مطالبۂ پاکستان بڑی وضاحت سے پیش کیا۔ ایک خط میں انہوں نے لکھا: ’’ہمارا کہنا یہ ہے کہ مسلمان اور ہندو، قومیت کی کسی بھی تعریف یا تحقیق کے لحاظ سے، دو بڑی قومیں ہیں۔ ہم دس کروڑ آبادی کی ایک قوم ہیں۔ زندگی کے متعلق ہمارا ایک اپنا منفرد رویہ اور طرزِ فکر ہے۔ بین الاقوامی قانون کے تمام اصولوں کے مطابق، ہم ایک قوم ہیں۔ ‘‘ انہوں نے مزید لکھا کہ ’’مجھے یقین ہے کہ صرف مسلمانوں کی ہی نہیں بلکہ ہندوستان کے دیگر باشندوں کی بھی حقیقی فلاح اسی میں ہے کہ قراردادِ لاہور میں مجوز کئے گئے طریقے کے مطابق ہندوستان کو تقسیم کر دیا جائے۔‘‘
گاندھی نے اس برعکس یہ موقف اپنایا کہ ہندوستان ایک قوم ہے اور یہ کہ قراردادِ پاکستان ’’پورے ہندوستان کے لئے تباہی کے سوا اور کچھ نہ لائے گی۔ تاہم اگر پاکستان کو قائم ہونا ہی ہے تو جن علاقوں میں مسلمان حتمی اکثریت میں ہیں ، ان کی یکجائی کا کام ایک ایسے کمیشن کے ہاتھوں انجام پانا چاہئے جس پر کانگریس اور مسلم لیگ دونوں متفق ہوں۔ ان خطوں کے عوام کے آراء ریفرنڈم کے ذریعے حاصل کی جائیں گی۔ ہندوستان کے غیرملکی تسلط سے آزاد ہوتے ہی یہ علاقے الگ ریاستیں قائم کر لیں گے۔ علیحدگی کا ایک معاہدہ ہونا چاہئے جو خارجہ امور، دفاع، اندرونِ ملک مواصلات، کسٹم اور دیگر ایسے معاملات کے لئے موثر اور اطمینان بخش انتظام و انصرام فراہم کرے جن سے معاہدے کے دونوں فریقین کا مشترکہ مفاد وابستہ ہونا ضروری ہے۔‘‘
دیگر الفاظ میں ، اس کا مفہوم یہ تھا کہ پہلے پورے ہندوستان کا اقتدار کانگریس کے حوالے کیا جائے جو اس کے بعد رائے شماری کے ذریعے الگ ہونے کا فیصلہ کرنے والے مسلم اکثریتی علاقوں کو یکجا ہونے کی اجازت دے لیکن خودمختار آزاد ریاست کی حیثیت سے نہیں بلکہ وفاقِ ہندوستان کے ایک جزو کی حیثیت سے۔ 
اگرچہ گاندھی نے یہ ثابت کرنے کی ازبس کوشش کی کہ یہ پیشکش قراردادِ لاہور میں کئے گئے مطالبوں کے عین مطابق ہے لیکن قائد اعظم نے اسے شد و مد کے ساتھ مسترد کر دیا اور یوں یہ مذاکرات اپنے منطقی انجام تک پہنچ گئے۔
مئی 1945ء میں وائسرائے ہندوستان لارڈ ویول لندن پہنچا اور ہندوستان کے مستقبل کے متعلق برطانوی حکومت سے گفت و شنید کی۔ اس گفت و شنید کا نتیجہ ایک عملی منصوبے کے صورت میں نکلا جو جون 1945ء میں منظر عام پر لایا گیا۔ اس منصوبے کو ’’ویول پلان‘‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔
منصوبے میں تجویز کیا گیا کہ وائسرائے کی مجلس عاملہ کو ازسرنو تشکیل دیا جائے اور اس کے ارکان کے طور پر ان افراد کو منتخب کیا جائے جنہیں سیاسی جماعتیں نامزد کریں۔ اقلیتوں کو بھی کونسل میں حصہ دیا جائے اور ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان مساوات برقرار رکھی جائے۔ منصوبے کا اعلان کرتے ہوئے سیکرٹری آف سٹیٹ برائے ہند نے یہ واضح کر دیا کہ حکومت برطانیہ ہندوستان کی تمام بڑی اقوام کے خیالات جاننا چاہتی ہے لیکن یہ اسی صورت میں ممکن ہو سکتا ہے جب ہندوستان کی بڑی سیاسی جماعتوں کے قائدین حکومت کی تجاویز کے ساتھ اتفاق کا اظہار کریں۔ 
بڑی سیاسی جماعتوں کی قیادت کے ساتھ ان تجاویز پر گفتگو کرنے کے لئے لارڈ ویول نے 25 جون 1945ء کے روز شملہ کے مقام پر ایک کانفرنس منعقد کی جس میں کانگریس اور مسلم لیگ دونوں طرف کے قائدین شریک ہوئے۔ اس کانفرنس کو شملہ کانفرنس کا نام دیا گیا۔
کانفرنس کے دوران، مسلم نمائندگی کے مسئلے پر دونوں جماعتوں کے مابین ایک بار پھر اختلافات کھڑے ہو گئے۔ مسلم لیگ کا کہنا تھا کہ وہ برصغیر کے مسلمانوں کی واحد نمائندہ جماعت ہے لہٰذا وائسرائے کی مجلس عاملہ کے تمام مسلم اراکین اس کی طرف سے نامزد کئے جانے چاہئیں۔ کانگریس، جس نے خاص اسی مقصد کے لئے مولانا ابوالکلام آزاد کو اپنے وفد کا سربراہ مقرر کر رکھا تھا، یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتی رہی کہ وہ ہندوستان میں بسنے والی تمام اقوام کی نمائندہ ہے چنانچہ اسے بھی مسلم نمائندوں کو نامزد کرنے کی اجازت حاصل ہونی چاہئے۔ اس کے علاوہ کانگریس کو یہ بھی قبول نہ تھا کہ ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان نشستوں کی تقسیم میں مساوات کا اصول مد نظر رکھا جائے۔ دوسری طرف برطانوی حکومت خود بھی اپنے پٹھوؤں پر مشتمل یونینسٹ پارٹی کے نامزد کردہ مسلمان اراکین کو کونسل میں جگہ دینا چاہتی تھی لیکن قائد اعظم نے غیر لیگی مسلم اراکین کو مسلمانوں کا نمائندہ تسلیم کرنے سے بجا طور پر انکار کر دیا۔ اس سب کا نتیجہ ڈیڈلاک کی صورت میں نکلا۔ آخر 14 جولائی کے روز، لارڈ ویول نے اپنی ناکامی کا اعلان کر دیا اور یوں شملہ کانفرنس بھی کسی مثبت پیش رفت کی امید پیدا نہ کر سکی۔
شملہ کانفرنس کی ناکامی کے بعد لارڈ ویول نے اعلان کر دیا کہ 1945ء کے موسم سرما میں مرکزی اور صوبائی مجالس قانون ساز کے انتخابات کا انعقاد کیا جائے گا جس کے بعد ایک آئین ساز ادارے کو تشکیل دیا جائے گا۔ اس نے یہ بھی کہا کہ انتخابات کے بعد وائسرائے کو مجلس عاملہ قائم کرے گا جسے ہندوستان کی بڑی سیاسی پارٹیوں کی تائید حاصل ہوگی۔ مسلم لیگ اور کانگریس، دونوں کی طرف سے اس تجویز کو رد کر دیا گیا۔
قائد اعظم نے اعلان کیا کہ مسلمان الگ وطن سے کم کسی چیز پر راضی نہ ہوں گے جبکہ آل انڈیا کانگریس کمیٹی نے اس تجویز کو مبہم، ناکافی اور غیر اطمینان بخش قرار دیا کیونکہ اس میں آزادیِ ہند کے حوالے سے کوئی بات نہیں کہی گئی تھی۔ تاہم دونوں جماعتوں نے انتخابات کے لئے وسیع پیمانے پر مہم چلانے کا آغاز کر دیا۔ انہیں معلوم تھا کہ یہ انتخابات ہندوستان کے سیاسی مستقبل کے لئے نہایت اہمیت کے حامل ہیں کیونکہ ان کے نتائج ہی ہندوستانی سیاست میں ان کے مقام کا تعین کریں گے۔ ضروری تھا کہ خود کو ہندوستانی مسلمانوں کی واحد نمائندہ جماعت ثابت کرنے کے لئے مسلم لیگ مسلم انتخابی حلقوں میں بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کرے جبکہ کانگریس یہ ثابت کرنا چاہتی تھی کہ مذہب سے قطع نظر، وہ تمام ہندوستانیوں کی نمائندہ جماعت ہے۔
قائد اعظم نے بذاتِ خود ہندوستان کے طول و عرض کا دورہ کر کے مسلمانوں کو مسلم لیگ کے پرچم تلے متحد کرنے کے کام کا آغاز کر دیا۔ اس کے مقابلے میں کانگریس نے مطالبۂ پاکستان کو ’’بھارت ماتا کے ٹکڑے کرنے کی سازش‘‘ قرار دے کر متحدہ ہندوستان کا نعرہ بلند کیا اور ان تمام صوبائی اور مرکزی مسلم سیاسی جماعتوں کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش شروع کر دی جو کسی نہ کسی وجہ سے مسلم لیگ سے اختلافات رکھتی تھیں۔ اس کے علاوہ انتخابات میں کانگریس کی طرف سے ایسی جماعتوں کی پشت پناہی بھی کی گئی۔
مرکزی مجلس قانون ساز کے لئے انتخابات کا انعقاد دسمبر 1945ء میں ہوا۔ رائے دہندگان کی تعداد محدود ہونے کے باوجود بھاری تعداد میں لوگوں نے ان انتخابات میں حصہ لیا۔ غیرمسلم نشستوں پر کانگریس کو بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل ہوئی۔ 80 فیصد سے زائد عام نشستیں اور 91 فیصد سے زائد ووٹ اس کے حصے میں آئے لیکن مسلم لیگ کی کارکردگی اس سے کہیں زیادہ متاثر کن ثابت ہوئی۔ مسلمانوں کے لئے مخصوص تمام 30 نشستوں پر مسلم لیگی امیدوار جیتے اور یوں ان کی کامیابی کا تناسب سو فیصد رہا۔ 1946ء کے آغاز میں منعقد ہونے والے صوبائی انتخابات میں بھی نتائج کا عالم یہی رہا۔ غیرمسلم نشستوں میں سے زیادہ تر پر کانگریس کو کامیابی حاصل ہوئی جبکہ مسلم نشستوں کا تقریباً 95 فیصد مسلم لیگ کے حصے میں آیا۔ 
6 جنوری 1946ء کے روز کانگریس کے سنٹرل الیکشن بورڈ نے ایک بلیٹن میں دعویٰ کیا کہ انتخابی نتائج نے ثابت کر دیا ہے کہ کانگریس ملک کی سب سے بڑی، طاقتور اور سب سے زیادہ طبقات کی نمائندگی کرنے والی جماعت ہے۔ اس کے مقابلے میں مسلم لیگ نے 11 جنوری 1946ء کو ’’یومِ فتح‘‘ کے طور پر مناتے ہوئے اعلان کیا کہ انتخابی نتائج نے حتمی طور پر یہ عیاں کر دیا ہے کہ قائد اعظم کی قیادت میں مسلم لیگ خطے کے مسلمانوں کی واحد نمائندہ جماعت ہے۔
ان انتخابات کے نتائج نے حکومت برطانیہ پر واضح کر دیا کہ ہندوستان کے سیاسی ڈیڈلاک کا اب کوئی حل نکالنا ناگزیر ہے۔ مسلم لیگ اور کانگریس کو قریب لانے کی اس کی تمام کوششیں ناکام ہو چکی تھیں لہٰذا برصغیر کے سیاسی تناؤ کو کم کرنے کی ایک اور کوشش میں اس مرتبہ برطانوی کابینہ کے وزراء کا ایک خصوصی مشن ہندوستان روانہ کیا گیا جسے ’’کیبنٹ مشن‘‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔
مشن میں لارڈ پیتھک، سر سٹافورڈ کرپس اور لارڈ اے وی الیگزینڈر شامل تھے۔ مشن کے مرکزی اہداف حسب ذیل تھے:
برطانوی ہند اور ہندوستانی ریاستوں کے منتخب نمائندوں کے ساتھ ابتدائی گفت و شنید کرنا تاکہ آئین کی تیاری کے طریقے پر اتفاقِ رائے حاصل کیا جا سکے۔ ایک آئینی ادارے کا قیام عمل میں لایا جائے اور ہندوستان کی بڑی سیاسی جماعتوں کی معاونت سے ایک مجلس عاملہ تشکیل دی جائے۔ 
مشن 24 مارچ 1946ء کے روز ہندوستان میں وارد ہوا۔ کانگریس اور مسلم لیگ کے عمائدین کے ساتھ طویل گفت و شنید کے بعد، مشن کے ارکان نے 16 مئی 1946ء کے روز اپنی تجاویز پر مبنی ایک منصوبہ پیش کیا جس کے مرکزی نکات حسب ذیل ہیں :
ہندوستان کی ایک یونین قائم کی جائے گی جس میں ہندوستان اور ہندوستانی ریاستیں ، دونوں شامل ہوں گی اور یہ یونین خارجہ امور اور مواصلات کے شعبے کے معاملات نمٹائے گی۔ یونین میں ایک مجلس عاملہ اور ایک مجلس قانون ساز بھی شامل ہوگی۔
بقیہ تمام اختیارات صوبوں کے قبضے میں رہیں گے۔
تمام صوبوں کو تین گروپس میں تقسیم کر دیا جائے گا۔ پہلے عام انتخابات کے بعد صوبے اپنی مرضی سے اپنے گروپ سے نکل سکتے ہیں۔ 
بڑی سیاسی جماعتوں کی معاونت کے ساتھ ایک عبوری حکومت بھی قائم کی جائے گی۔
مسلم لیگ نے 6 جون 1946ء کے روز یہ پلان قبول کر لیا۔ اس سے پہلے 24 مئی کو کانگریس بھی اس کی منظوری دے چکی تھی تاہم اس نے عبوری حکومت کی تجویز مسترد کر دی تھی۔
اب ہونا یہ چاہئے تھا کہ وائسرائے مسلم لیگ کو حکومت بنانے کی دعوت دیتا کیونکہ اس نے عبوری حکومت کا سیٹ اپ قبول کر لیا تھا لیکن انتظار کرنے والے انتظار کرتے رہ گئے، ایسی کوئی دعوت موصول نہ ہوئی۔ اسی اثناء میں 10 جولائی کے روز جواہر لعل نہرو نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کانگریس نے حکومت میں شامل ہونے پر آمادگی ظاہر کر دی ہے لیکن اسے کیبنٹ مشن پلان میں ترامیم اور تبدیلیاں کرنے کی آزادی حاصل ہوگی۔
ان حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے مسلم لیگ نے خود کو کیبنٹ پلان سے الگ تھلگ کر لیا اور قائد اعظم نے حصولِ پاکستان کے لئے ’’راست اقدام‘‘ کا حکم دے دیا۔ نتیجتاً وائسرائے لارڈ ویول نے کانگریس کو عبوری حکومت میں شامل ہونے کی دعوت دے دی حالانکہ عملاً وہ پلان کو رد کر چکی تھی۔
بہرحال، جلد ہی وائسرائے کو احساس ہو گیا کہ مسلم لیگ کی شرکت کے بغیر اس کی ساری منصوبہ بندی لایعنی ہو کر رہ جائے گی لہٰذا 14 اکتوبر 1946ء کے روز اس کی طرف سے ایک بار پھر مسلم لیگ کو حکومت میں شامل ہونے کی دعوت دے دی گئی۔ قائد اعظم نے لیاقت علی خان، آئی آئی چندریگر، سردار عبدالرب نشتر، غضنفر علی خان اور جوگندر ناتھ منڈل کو کابینہ کے لئے نامزد کیا۔
کانگرس نے مالیات کی وزارت مسلم لیگ کے حوالے کی۔ یہ وزارت اپنی جگہ نہایت اہم ہونے کے ساتھ ساتھ نہایت نازک ذمہ داریوں کی حامل بھی تھی۔ اگر لیاقت علی خان اور ان کے ساتھی اپنے فرائض کی انجام دہی میں ذرا بھی چوکتے تو ان کی سیاسی ساکھ اور انتظامی اہلیت ہمیشہ کے لئے داغدار ہو کر رہ جاتی۔ غالباً یہ وزارت ان کے حوالے کی بھی اسی لئے گئی تھی کہ مسلمان اپنی ’’ریاضیاتی قابلیتوں ‘‘ کے لئے کوئی ایسی اچھی شہرت نہ رکھتے تھے۔
بہرحال، اگر کسی کے ارادے اس طرح کے تھے بھی تو وہ دھرے کے دھرے رہ گئے کیونکہ وزیر مالیات کی حیثیت سے جو بجٹ لیاقت علی خان نے ’’غریب آدمی کا بجٹ‘‘ کے نام سے پیش کیا، اس نے ہندو سرمایہ داروں کے ہاتھوں کے طوطے اڑا دیئے۔ اس سے ایک طرف تو ان کی انتظامی اہلیت ثابت ہوئی اور دوسری طرف غریب عوام تک معاشی فوائد کی ترسیل کے بہتر امکانات پیدا ہو گئے۔
ان کی کامیابی مسلم لیگ اور کانگریس کے باہمی تعلقات پر کوئی خوشگوار اثر مرتب نہ کر سکی۔ ڈیڈلاک کی صورتِ حال جوں کی توں برقرار رہی۔ 22 مارچ 1947ء کے روز لارڈ ماؤنٹ بیٹن ہندوستان کے آخری وائسرائے کی حیثیت سے وارد ہوا اور اعلان کیا کہ حکومت برطانیہ جون 1948ء میں ہندوستان کا اقتدار ہندوستانیوں کے حوالے کر دے گی۔
لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے مسلم لیگی اور کانگریسی زعماء کے ساتھ کئی ملاقاتیں کیں۔ قائد اعظم نے یہ بات اس پر پوری طرح واضح کر دی کہ مطالبۂ پاکستان کو پورے ہندوستان کے مسلمانوں کی تائید حاصل ہے اور اسے کسی صورت واپس نہیں لیا جا سکتا۔ سردار ولبھ پٹیل جیسے کٹر مخالفین بھی اب مسلم مطالبے سے متفق ہوتے نظر آ رہے تھے۔ حالات کا تجزیہ کرنے کے بعد ماؤنٹ بیٹن نے جو نتائج اخذ کئے ان کی روشنی میں وہ یہی فیصلہ کر سکا کہ اب برطانیہ کا برصغیر میں موجود رہنا یا ہندوؤں اور مسلمانوں کو ایک حکومت تلے متحد رکھنا ممکن نہیں رہا۔ اس کے سوچ کے تحت اس نے اپنے چیف آف سٹا ف لارڈ اسمے کو ہدایت کی کہ وہ اقتدار کی منتقلی اور ہندوستان کی تقسیم کا ایک پلان تیار کر دے۔ فیصلہ کیا گیا کہ اس منصوبے کے حتمی شکل میں پہنچنے تک کسی ہندوستانی فریق کو اسے دیکھنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اپریل 1947ء میں یہ پلان گورنرز کانفرنس میں حتمی شکل کو پہنچا اور مئی میں اسے لندن بھیج دیا گیا جہاں برطانوی حکومت نے اس کی توثیق کر دی۔
31 مئی کے روز ماؤنٹ بیٹن ہندوستان واپس آیا اور 2 جون کو اس نے سات ہندوستانی قائدین سے ملاقات کی جن میں جواہر لعل نہرو،سردار ولبھ پٹیل، جیوت رام کرپلانی، قائد اعظم محمد علی جناح، لیاقت علی خان، سردار عبدالرب نشتر اور بلدیو سنگھ شامل تھے۔ جب ان قائدین نے تقسیم کے پلان کی توثیق کر دی تو ماؤنٹ بیٹن نے گاندھی کے ساتھ اس موضوع پر گفتگو کی اور انہیں قائل کر لیا کہ موجودہ حالات میں اس بہتر پلان بنانا ممکن نہیں۔ 3 جون 1947ء کے روز اس پلان کا اعلان کر دیا گیا۔ اس کے اہم نکات حسب ذیل ہیں :
پنجاب اور بنگال کی صوبائی قانون ساز اسمبلیاں دو گروہوں کی شکل میں اجلاس منعقد کریں گی یعنی مسلم اکثریتی اضلاع اور غیرمسلم اکثریتی اضلاع۔ اگر ان میں سے کوئی ایک بھی صوبے کی تقسیم کے حق میں فیصلہ کرتا ہے تب گورنر جنرل ایک باؤنڈری کمیشن مقرر کر کے مسلمانوں اور غیرمسلموں کے اکثریتی علاقوں کی حدود متعین کر دے گا اور صوبے کو ان حدود کی بنیاد پر تقسیم کر دیا جائے گا۔
سندھ کی قانون ساز اسمبلی کے ارکان، ماسوائے اس کے یورپی ارکان کے، خود فیصلہ کریں گے کہ وہ موجودہ اسمبلی میں شامل رہنا چاہتے ہیں ، یا نئی اسمبلی میں شامل ہوں گے۔
صوبہ سرحد کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ کرنے کے لئے ریفرنڈم منعقد کرانے کی تجویز پیش کی گئی جبکہ بلوچستان کو اختیار دیا گیا کہ وہ اس ایشو کے حق یا مخالفت میں اپنی آراء پیش کرے۔
اگر بنگال تقسیم کے حق میں فیصلہ کرتا تو پھر آسام کے ضلع سلہٹ میں ایک ریفرنڈم منعقد کرایا جاتا تاکہ پتہ چل سکے کہ یہ علاقہ اب بھی آسام کا حصہ ہی رہنا چاہتا ہے یا مشرقی بنگال کے نئے صوبے میں شامل ہونا چاہتا ہے۔
18 جولائی 1947ء کے روز برطانوی پارلیمنٹ نے آزادیِ ہند ایکٹ پاس کر دیا اور اس کے تحت دو خودمختار ریاستیں ، انڈین یونین اور پاکستان، تشکیل دی گئیں۔ اس کے تحت یہ بھی قرار پایا کہ 15 اگست 1947ء سے ہندوستان کے تمام معاملات پر برطانویوں کا اختیار ختم ہو جائے گا۔ مسلمانانِ برصغیر بالآخر اپنے ہدف تک پہنچ گئے تھے، اور 14 اگست 1947ء کے روز ان کی کامیابی کا ثبوت ایک نئی مسلم سلطنت، پاکستان، کے نام سے عالمی نقشے پر نمودار ہو گیا۔

آزادی کے بعد

جیسا کہ مندرجہ بالا سطور کے مطالعے سے آپ پر واضح ہو گیا ہوگا، برصغیر میں مسلم قوم کی سیاسی بیداری کا عمل تین مراحل سے گزرا۔ اول، انیسویں صدی کے اواخر اور بیسویں صدی کے اوائل میں چلائی جانے والی اصلاحی اور تعلیمی تحریکیں جنہوں نے شعور کی بیداری کے عمل کا آغاز کیا۔ دوم، وہ عرصہ جس میں ہندو قومیت پرستی کی حقیقت مسلمانوں پر واضح ہوئی اور انہیں یہ اندازہ ہوا کہ ہندوستان کے باشندے ہونے کے باوجود یہاں کی اکثریتی قوم سے ہٹ کر ایک الگ شناخت رکھتے ہیں اور اس شناخت کا تحفظ ایک الگ وطن کے حصول سے ہی ممکن ہو سکتا ہے۔ سوم، وہ دور جب برطانوی ہند میں حکومت جمہوری خطوط پر تشکیل دی گئی، اور عوام کو کھل کر سیاسی عمل میں حصہ لینے کا موقع ملا۔
ہندوستانی مسلمان اپنے ہدف تک پہنچنے میں کامیاب رہے۔ پاکستان حاصل کر لیا گیا، ایک ایسی سرزمین جہاں مسلمان اپنے مذہبی عقائد کے مطابق پوری آزادی سے زندگی گزار سکتے تھے۔ اگرچہ اس مملکت کو اپنے وجود کے پہلے دن سے ہی گوناگوں مسائل و مشکلات کا سامنا کرنا پڑا لیکن کسی نہ کسی طرح اس کی پیش قدمی جاری رہی، اور جاری رہتی اگر سیاسی عمل میں بے جا رخنہ اندازیوں کے سلسلے کا آغاز نہ ہو جاتا۔
جیسا کہ پہلے ذکر ہوا، پاکستان اور ہندوستان کی آزادی ’’آزادیِ ہند ایکٹ‘‘ کے تحت عمل میں آئی تھی جسے برطانوی پارلیمنٹ نے 18 جولائی 1947ء کے روز منظور کیا تھا۔ اس ایکٹ کی دفعہ 8 کے تحت چند ترامیم اور اضافوں کے بعد گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ مجریہ 1935ء کو ہی عارضی طور پر پاکستان کے آئین کی حیثیت سے نافذ کر دیا گیا اور ایک آئینی اسمبلی تشکیل دی گئی جس کے سپرد دو ذمہ داریاں ہوئیں۔ پاکستان کا آئین تیار کرنا اور نئے آئین کی منظوری اور نفاذ تک مقننہ کی حیثیت سے فرائض انجام دینا۔
12 مارچ 1949ء کے روز اس اسمبلی نے وزیر اعظم پاکستان لیاقت علی خان کی طرف سے پیش کی گئی ایک قرارداد منظور کی جسے ’’قراردادِ مقاصد‘‘ کا نام دیا گیا۔ اس قرارداد میں واضح کیا گیا کہ پاکستان کا آئندہ آئین کسی یورپی آئین کے خطوط پر تشکیل نہیں دیا جائے گا بلکہ نظریۂ پاکستان اور اسلام کے جمہوری عقائد کی بنیادوں پر استوار ہوگا۔ قراردادِ مقاصد نے پاکستان کی آئینی تاریخ پر جو گہرے اثرات مرتب کئے، ان کی بناء پر اگر اسے پاکستانی تاریخ کا ’’میگنا کارٹا‘‘ قرار دیا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔
قراردادِ مقاصد میں جو اصول واضح کئے گئے، ان کی مختصر تفصیل حسب ذیل ہے:
1۔	اقتدارِ اعلیٰ صرف خدائے بزرگ و برتر کی ملکیت ہے لیکن اس نے اپنے بندوں کے وسیلے یہ اقتدار ریاست پاکستان کو تفویض کیا ہے تاکہ اس کا انتظام و انصرام اس کی مقرر کردہ ان حدود کے اندر رہتے ہوئے کیا جا سکے، جنہیں اس نے مقدس قرار دیا ہے۔
2۔	حکومت اپنے اختیارات و اقتدار کا استعمال عوام کے منتخب کئے ہوئے نمائندوں کے ذریعے کرے گی۔
3۔	جمہوریت، آزادی، مساوات، رواداری اور معاشرتی انصاف کے اصول، اسلامی تعلیمات کی روشنی، پوری طرح ملحوظِ خاطر رکھے جائیں گے۔
4۔	مسلمانوں کو قرآنِ مجید اور سنت رسول ﷺ میں بیان کی گئی اسلامی تعلیمات کے مطابق اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگیاں گزارنے کی آزادی حاصل ہوگی۔
5۔	اقلیتوں کو ان کے مذہب کے مطابق زندگی گزارنے کی اجازت دینے اور ان کی ثقافتوں کو فروغ دینے کی آزادی فراہم کرنے کے لئے خاطرخواہ اقدامات کئے جائیں گے۔
6۔	مملکت پاکستان ایک وفاقی ریاست ہوگی۔
7۔	بنیادی حقوق کے تحفظ کی ضمانت فراہم کی جائے گی۔
8۔	عدلیہ آزاد ہوگی۔
قراردادِ مقاصد پاکستان میں آئین سازی کے عمل کی بنیاد کا سب سے اہم پتھر ہے۔ اس کی منظوری کے وقت لیاقت علی خان نے اسے حصولِ آزادی کے بعد ملک کی تاریخ کا سب سے اہم موقع قرار دیا تھا۔ اس قرارداد کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ اس میں مغربی اور اسلامی جمہوریت کے بہترین اصول یکجا کر دیئے گئے ہیں۔ 1985ء میں آٹھویں ترمیم کے تحت قراردادِ مقاصد کو پاکستان کے آئین کا حصہ بنا دیا گیا۔
جس روز قراردادِ مقاصد منظور کی گئی، اسی روز ’’بنیادی اصولوں کی کمیٹی‘‘ تشکیل دی گئی جس کے ذمے آئین کی تیاری کا کام لگایا گیا۔ ملکی سیاست کے پے بہ پے رنگ بدلتے حالات کی بدولت یہ کمیٹی جم کر کام نہ کر سکی اور آئین کا پہلا مسودہ تیار کرتے کرتے اسے پانچ سال لگ گئے۔ 1954ء میں محمد علی بوگرہ کی وزارتِ عظمیٰ کے دوران آئین کا پہلا مسودہ تیار ہوا۔ 
لیکن اس سے پہلے کہ یہ مسودہ منظوری کے لئے ایوان میں پیش کیا جا سکتا، گورنر جنرل غلام محمد نے 24 اکتوبر 1954ء کے روز اسمبلی تحلیل کر دی۔ محمد علی بوگرہ کی وزارتِ عظمیٰ تاہم برقرار رہی اور انہیں ہدایت کی گئی کہ وہ انتخابات کے انعقاد تک ایک نئی کابینہ کے ساتھ امورِ حکومت چلائیں۔ اسمبلی کے سپیکر مولوی تمیز الدین نے سندھ ہائی کورٹ میں اس اقدام کے خلاف مقدمہ دائر کیا اور فتح حاصل کرنے میں کامیاب رہے لیکن حکومت نے ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف وفاقی کورٹ سے رجوع کر لیا جہاں چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس محمد منیر نے ہائی کورٹ کے فیصلے کی تنسیخ کرتے ہوئے حکومت کو فاتح فریق قرار دے دیا۔
پاکستان کی دوسری آئین ساز اسمبلی 28 مئی 1955ء کے روز گورنر جنرل کے حکم نامہ نمبر12، 1955ء کے تحت وجود میں آئی۔ اس اسمبلی کے اراکین کا انتخاب صوبائی اسمبلی کے اراکین نے کیا تھا۔ یہ اسمبلی 80 اراکین پر مشتمل تھی جن میں سے نصف کا تعلق مشرقی پاکستان سے تھا اور نصف کا تعلق مغربی پاکستان سے۔ 
سب سے پہلے اس اسمبلی نے پہلی آئین ساز اسمبلی کے منظور کردہ ان تمام قوانین کو قانونی تحفظ فراہم کیا جنہیں عدالت منسوخ قرار دے چکی تھی۔ اس کے بعد اس اسمبلی کی طرف سے ون یونٹ کا ایکٹ منظور کیا گیا جس کے تحت مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان کے صوبے ایک دوسرے میں ضم ہو گئے۔ اس اقدام کا مقصد ملک کے دونوں بازوؤں کے درمیان مساوات پیدا کرنا تھا۔ بہرحال، اس اسمبلی کا سب سے بڑا کارنامہ یہی تصور کیا جائے گا کہ اس نے پاکستان کو اس کا پہلا آئین فراہم کیا یعنی 1956ء کا آئین۔
اس وقت وزارتِ عظمیٰ چوہدری محمد علی کے پاس تھی اور گورنر جنرل کا عہدہ غلام محمد کے قبضے سے نکل کر سکندر مرزا کے پاس جا چکا تھا۔ آئین کا مسودہ 9 جنوری 1956ء کے روز اسمبلی میں متعارف کرایا گیا اور 29 فروری 1956ء کو اسے منظور کر لیا گیا۔ 2 مارچ کو گورنر جنرل نے بھی اس کی توثیق کر دی اور 23 مارچ سے اسے ملکی آئین کی حیثیت سے نافذ کر دیا گیا۔
اس آئین کے تحت پاکستان ’’اسلامی جمہوریہ‘‘ قرار پایا اور آئین ساز اسمبلی کو عبوری قومی اسمبلی قرار دے دیا گیا جبکہ گورنر جنرل سکندر مرزا نے پاکستان کے پہلے صدر کی حیثیت سے حلف اٹھا لیا۔
اس آئین میں 234 دفعات شامل تھیں جنہیں 13 حصوں اور 6 جداول میں تقسیم کیا گیا تھا۔ اس کی سب سے اہم خصوصیت اس کا اسلامی رنگ تھا اور ریاستی پالیسی سازی کے عمل میں اسلامی اصولوں کو مد نظر رکھنے کو اولیت دی گئی تھی۔ صدر کے عہدے کے لئے شرط رکھی گئی تھی کہ امیدوار مسلمان ہو اور اس کی عمر کم از کم 40 سال ہو۔ اس کے علاوہ صدر کے لئے یہ لازمی قرار دیا گیا تھا کہ وہ اسلامی تحقیق کے لئے ایک ادارہ قائم کرے جو حقیقی اسلامی معاشرہ تشکیل دینے کے ضمن میں تحقیق کا کام انجام دے سکے۔ تاہم قراردادِ مقاصد کو محض اس کے دیباچے کی حیثیت دی گئی تھی اور یہ اصلاً اس کا حصہ نہ تھی۔
اس آئین کے تحت، سربراہِ حکومت کی حیثیت صدر کو حاصل تھی۔ صدر کو الیکشن کمیشن،حدبندی کمیشن اور پبلک سروس کمیشن کے چیئرمین اور اراکین کی تقرری کرنے کا اختیار حاصل تھا اور یہ اختیار بھی دیا گیا تھا کہ وہ قومی اسمبلی کے اراکین میں سے وزیر اعظم کا انتخاب کرے۔ اگر وزیر اعظم قومی اسمبلی کے اراکین کی اکثریت کے اعتماد سے محروم ہو جاتا تو صدر کو حق حاصل تھا کہ وہ اسے وزارتِ عظمیٰ کے عہدے سے برخواست کر دے۔
اس آئین کے تحت طرزِ حکومت پارلیمانی قرار دیا گیا اور مقننہ کو ایک ایوان پر مشتمل رکھا گیا۔ پارلیمنٹ کا واحد ایوان قومی اسمبلی تھا جس میں 300 ارکان کی گنجائش رکھی گئی تھی۔ آئین میں ’’ون یونٹ‘‘ کے تصور کو تسلیم کرتے ہوئے، مساوات کے اصول پر، ملک کے دونوں بازوؤں میں نشستوں کی تعداد مساوی بنیادوں پر تقسیم کی گئی تھی۔ ابتدائی دس سالوں تک ملک کے ہر بازو سے خواتین کی پانچ پانچ اضافی نشستیں مخصوص رکھی گئیں۔ قومی اسمبلی کا اجلاس سال میں کم از کم دو بار لازمی قرار دیا گیا اور یہ بھی کہ کم از کم ایک اجلاس ڈھاکہ میں منعقد ہو۔ اراکین کے انتخاب کے لئے بالغ رائے شماری کا براہِ راست طریقہ متعارف کرایا گیا جس کے تحت 21 سال اور اس سے زائد عمر کے ہر شہری کو ووٹ دینے کا حق حاصل ہو گیا۔
آئین کے تحت ملک میں وفاقی طرزِ حکومت برقرار رکھا گیا۔ صوبائی حکومت کا ڈھانچہ مرکزی حکومت سے مماثل تھا جبکہ صوبائی و مرکزی حکومتوں کے باہمی تعلقات کی نوعیت گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ 1935ء میں مرتب کئے گئے اصولوں کے مطابق رکھی گئی۔ وزارتی قلمدان وفاقی بھی تھے، صوبائی بھی اور مشترکہ بھی۔ اس اصول کے تحت 30 قلمدان وفاقی قرار پائے اور 94 صوبائی جبکہ 19 قلمدان مشترکہ رہے۔ مشترکہ قلمدانوں کے حوالے سے وفاقی قانون سازی کو صوبائی قانون سازی پر بالادستی دی گئی اور صوبوں کو انتظامی معاملات میں خودمختاری حاصل رہی۔ مرکزی اور صوبائی حکومتوں یا دونوں صوبائی حکومتوں کے درمیان کسی طرح کا تنازعہ کھڑا ہونے کی صورت میں ثالثی کے فرائض چیف جسٹس آف سپریم کورٹ کے سپرد کئے گئے۔
1956ء کے آئین میں لچک کا عنصر خاصی حد تک موجود تھا۔ یہ فرد کے بنیادی حقوق کی وکالت کرتا تھا تاہم ہنگامی حالات میں صدر کو حق حاصل تھا کہ وہ ان حقوق کو معطل قرار دے دے۔ عدلیہ کو آزاد قرار دیا گیا تھا۔ اردو اور بنگالی دونوں کو قومی زبانوں کی حیثیت حاصل تھی جبکہ کارِ سرکار میں 25 سالوں تک کے لئے انگریزی کو رائج رکھا گیا تھا۔ آئین میں یہ بھی کہا گیا کہ دس سالوں کے بعد صدر کی طرف سے ایک کمیشن مقرر کیا جائے جو انگریزی کی جگہ کسی نئی سرکاری زبان کی ترویج کے لئے اپنی سفارشات پیش کرے۔
1956ء کے آئین کی عمر نہایت مختصر ثابت ہوئی۔ سیاسی شورشوں اور عدم استحکام نے جلد ہی ایسے حالات پیدا کر دیئے کہ 7 اکتوبر 1958ء کے روز سکندر مرزا نے آئین کو منسوخ قرار دیتے ہوئے، قومی اور صوبائی اسمبلیاں توڑ دیں اور ملک میں مارشل لاء کے نفاذ کا اعلان کر دیا، حالانکہ اس سے پہلے یہ طے پا چکا تھا کہ 1959ء کے اوائل میں عام انتخابات کا انعقاد کیا جائے گا۔
سکندر مرزا نے پاکستانی فوج کے کمانڈر انچیف جنرل محمد ایوب خان کو چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر کے طور پر مقرر کیا۔ پاکستانی سیاست کا یہ نیا دور اگرچہ دونوں شخصیات نے بظاہر مکمل اتفاقِ رائے کے ساتھ شروع کیا تھا اور مشترکہ طور پر اسے ’’دو افرادی حکومت‘‘ کا نام بھی دیا تھا تاہم ان کے باہمی اختلافات توقع سے کہیں پہلے رنگ لے آئے۔ سکندر مرزا کو اپنے اختیارات میں کسی طرح کی کمی گوارا نہ تھی اور وہ چاہتے تھے کہ پہلے کی طرح اب بھی انہیں معاملات کو اپنی مرضی کے مطابق چلانے کی آزادی حاصل رہے لیکن صورتِ حال بدل چکی تھی۔ ایوب خان کو اپنی حیثیت منوانے کی خواہش تھی۔ سکندر مرزا کو جلد ہی احساس ہو گیا کہ وہ کیا غلطی کر بیٹھے ہیں لیکن اب وقت ہاتھوں سے نکل چکا تھا۔ ایک آخری کوشش کے طور پر انہوں نے 24 اکتوبر 1958ء کے روز جنرل ایوب خان کو وزیر اعظم کی کرسی پر بھی بٹھا دیا، اور ایک ایسی کابینہ منتخب کی جس کے کسی بھی رکن کا تعلق کسی سیاسی جماعت سے نہ تھا۔ جب بات یوں بھی بنتی نظر نہ آئی تو انہوں نے فوج میں ایوب خان کے حریفوں کی اعانت حاصل کرنے کی کوشش بھی کی لیکن کوئی تدبیر کام نہ آ سکی۔ 27 اکتوبر 1958ء کے روز، افواجِ پاکستان کے جنرلوں کے اتفاقِ رائے سے، جنرل ایوب خان نے سکندر مرزا کو گرفتار کر لیا۔ بعد ازاں انہیں برطانیہ میں جلاوطن کر دیا گیا۔ اس کے بعد انہیں کبھی پاکستان واپس آنے کا موقع نصیب نہ ہو سکا، اور عنانِ اقتدار ایوب خان کے ہاتھوں میں آ گئی۔
اقتدار میں آنے کے بعد ایوب خان نے جو بڑے اقدامات کئے، ان میں سے ایک، 17 فروری 1960ء کے روز، جسٹس محمد شہاب الدین کے زیرسربراہی آئین کمیشن کا قیام تھا۔ اس کمیشن کی بنیادی ذمہ داری یہ تھی کہ اسلامی اصولِ انصاف کے تقاضوں اور ملک کے سماجی و سیاسی حالات کے تناظر میں جمہوریت کو تقویت دینے اور ملکی ماحول کے مطابق ڈھالنے کے حوالے سے تجاویز پیش کرے۔ کمیشن نے 6مئی1961ء کے روز اپنی رپورٹ حکومت کو پیش کی۔ ایوب خان اس رپورٹ سے مطمئن نہ ہوئے لہٰذا کئی دیگر کمیٹیوں کے ذریعے اس رپورٹ کی تیاری دوبارہ کروائی گئی اور ان کمیٹیوں کی حتمی سفارشات کے مطابق، ایک نیا آئین تیار کیا گیا اور یکم مارچ 1962ء کو قوم کے سامنے پیش کر دیا گیا۔ یہ آئین، جو کہ شہاب الدین کمیشن کے مجوزہ آئین سے یکسر مختلف تھا، 8 جون 1962ء کے روز نافذ العمل ہوا۔ 
1962ء کے آئین میں 250 دفعات تھیں جنہیں 12 حصوں اور تین جداول میں تقسیم کیا گیا تھا۔ اس کے تحت صدارتی نظامِ حکومت متعارف کرایا گیا جس میں تمام اختیارات صدر کے ہاتھ میں رہے۔ لازمی قرار دیا گیا کہ صدر مسلمان ہو اور اس کی عمر 35 سال سے کم نہ ہو۔ صدارت کے عہدے کی معیاد پانچ سال مقرر کی گئی اور طے پایا کہ دو سے زائد مرتبہ کسی کو صدر منتخب ہونے کا حق حاصل نہ ہوگا۔ سربراہِ مملکت کے ساتھ ساتھ سربراہِ حکومت کا عہدہ بھی صدر کے ہاتھ میں رہا۔ صدر کو صوبائی گورنروں ، وفاقی وزرائ، ایڈووکیٹ جنرل، آڈیٹر جنرل اور مختلف انتظامی کمیشنوں کے چیئرمینوں اور اراکین کے تقرر کا اختیار دے دیا گیا۔ افواجِ پاکستان کے سالارِ اعلیٰ ہونے کی حیثیت سے بری، بحری اور فضائی افواج کے سربراہوں کی تقرری بھی انہی کے ذمے رہی۔
اس آئین کے تحت بھی مقننہ ایک ہی ایوان پر یعنی قومی اسمبلی پر مشتمل رہا۔ قومی اسمبلی کے اراکین کی تعداد 156 مقرر کی گئی جس میں چھ نشستیں خواتین کے لئے مخصوص تھیں۔ بعد ازاں آٹھویں ترمیم کے ذریعے اس تعداد کو 218 تک بڑھا دیا گیا۔ صوبوں میں مساوات کا اصول برقرار رہا اور اسمبلی کی نشستیں ملک کے دونوں بازوؤں میں برابری کی سطح پر تقسیم کی گئیں۔ ملک کی تاریخ میں پہلی مرتبہ بنیادی جمہوریت کا اصول متعارف کرایا گیا جس کے تحت بالواسطہ انتخابات کا نظام سامنے آیا۔ صدارتی انتخابات میں 80 ہزار بنیادی جمہوری ارکان کے علاوہ کسی کو ووٹ دینے کا حق حاصل نہ تھا تاہم آٹھویں ترمیم نے اس تعداد میں ایک لاکھ بیس ہزار تک توسیع کر دی۔ ملک کے دونوں حصوں سے ارکان کی نصف نصف تعداد منتخب کی جاتی تھی۔
اس آئین کے تحت عاملہ اور مقننہ کو ایک دوسرے سے الگ الگ نہ کیا گیا۔ قانون سازی کے امور میں صدر کو ویٹو کی قوت حاصل تھی اور وہ کسی ایسے مسودۂ قانون کو بھی ویٹو کر سکتا تھا جسے قومی اسمبلی کی دو تہائی اکثریت نے منظور کیا ہو۔ اسمبلی کے حالت اجلاس میں نہ ہونے کی صورت میں اسے آرڈیننس جاری کرنے کا اختیار بھی حاصل تھا۔ ایسے کسی آرڈیننس کے لئے ضروری تھا کہ اسمبلی اپنے پہلے اجلاس کے پہلے 48 دنوں میں یا اپنے قیام کے 108 دن بعد اس کی توثیق کرے۔ تاہم اگر صدر اپنے آئینی اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے ملک میں ہنگامی حالت کا نفاذ کر دیتا تو اس کے آرڈیننس کو مقننہ کی توثیق کی ضرورت نہ رہتی۔
صدر کو قومی اسمبلی کو توڑنے کا اختیار حاصل تھا۔ ملک میں وفاقی طرزِ حکومت متعارف کرایا گیا جس میں زیادہ تر اختیارات مرکزی حکومت کے پاس رہے۔ مرکزی حکومت کے پاس ایسے کئی شعبے تھے جن پر صوبوں کو کوئی اختیار حاصل نہ تھا۔ مغربی پاکستان کے لئے ون یونٹ کا اصول برقرار رکھا گیا۔ صوبائی گورنروں کو صوبوں میں وہی اختیارات حاصل تھے جو کہ صدر کو مرکز میں تھے۔ قومی اسمبلی کی مدتِ میعاد تین سال رکھی گئی۔
آئین میں اسلامی دفعات بھی شامل کی گئیں جنہیں کسی عدالت میں چیلنج نہیں کیا جا سکتا تھا۔ مملکت کا نام ’’جمہوریہ پاکستان‘‘ رکھ دیا گیا لیکن بعد ازاں پہلی ترمیم کے ذریعے اس میں لفظ ’’اسلامی‘‘ کا اضافہ کر دیا گیا۔ اسلامی دفعات میں ’’قرآن و سنت‘‘ کے بجائے ’’اسلام‘‘ کی اصطلاح استعمال کی گئی تاکہ آئین کو روشن خیالی کا ’’ٹچ‘‘ دیا جا سکے۔ ’’مجلس مشاورت برائے نظریۂ اسلام‘‘ تشکیل دی گئی جس کا کام حکومت کے سامنے ایسی سفارشات پیش کرنا تھا جن کی بناء پر ہونے والی قانون سازی کی بدولت مسلمانوں کو اپنی زندگی اسلامی تعلیمات کے مطابق گزارنے کا موقع مل سکے۔
اس آئین میں شہری کے بنیادی حقوق برقرار رکھے گئے البتہ عدلیہ کی آزادی بڑی حد تک سلب کر لی گئی اور سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے ججوں اور چیف جسٹس کی تقرری صدر کے ہاتھ میں آ گئی۔ صدر کو یہ اختیار بھی حاصل تھا کہ وہ بدعنوانی کے الزام یا ذہنی و جسمانی عدم صحت کی بناء پر کسی جج کو برخواست کر دے۔
پہلے آئین کی طرح، اس آئین میں بھی اردو اور بنگالی کو پاکستان کی قومی زبانیں قرار دیا گیا اور پہلے دس سالوں کے لئے انگریزی کو سرکاری زبان کے طور پر رائج رکھا گیا۔ آئین میں اسمبلی کی دو تہائی اکثریت کی منظوری اور صدر کی توثیق کے ذریعے ترامیم کی گنجائش رکھی گئی لہٰذا سات سال کی مختصر سی زندگی میں اس آئین کو آٹھ ترامیم سے عہدہ برآ ہونا پڑا۔ ملک کے دونوں بازوؤں میں مساوات برقرار رکھنے کے لئے یہ اصول بھی وضع کیا گیا کہ اگر صدر کا تعلق مغربی پاکستان سے ہو تو اسمبلی کے سپیکر کا تعلق مشرقی پاکستان سے ہوگا اور صدر کے مشرقی پاکستانی ہونے کی صورت میں سپیکر مغربی پاکستان سے منتخب کیا جائے گا۔
25 مارچ 1969ء کے روز پاکستان کی تاریخ کا دوسرا مارشل لاء لگا اور آئین منسوخ کر دیا گیا۔ جنرل آغا محمد یحییٰ خان نے صدر اور چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر کے عہدے سنبھال لئے۔ چند دنوں بعد انہوں نے لیگل فریم ورک آرڈر جاری کیا جس کے تحت 7 دسمبر 1970ء کو ملکی تاریخ کے پہلے عام انتخابات کا انعقاد ہوا۔ بالغ رائے شماری اور آبادی کی بناء پر پاکستان کی پہلی اسمبلی منتخب کی گئی۔ اس اسمبلی میں 313 ارکان شامل تھے جن میں سے 169 کا تعلق مشرقی پاکستان سے اور 144 کا تعلق مغربی پاکستان سے تھا۔ خواتین کے لئے مخصوص کی گئی 13 نشستوں پر سات اراکین کا انتخاب مشرقی پاکستان سے ہوا اور چھ کا مغربی پاکستان سے۔ مغربی پاکستان سے پاکستان پیپلز پارٹی اور مشرقی پاکستان سے عوامی لیگ بڑی سیاسی جماعتوں کی حیثیت سے ابھر کر سامنے آئیں۔ 
ان انتخابات کے بعد جو کچھ ہوا، اور جن حالات کے تحت مشرقی پاکستان ہم سے الگ ہو کر بنگلہ دیش بن گیا، وہ بلا شک و شبہ پاکستان کی تاریخ کا ایک سیاہ باب ہے۔ اس سانحے کی ذمہ داری بہت سے افراد اور حلقوں پر عائد کی جاتی ہے۔ میں یہاں نہ تو کسی کو مجرم ٹھہرانا چاہوں گا اور نہ کسی کی صفائی پیش کرنا چاہوں گا۔ یہ فی الوقت میرا موضوع نہیں۔ صرف اتنا کہنا چاہتا ہوں کہ جو کچھ بھی ہوا، اس کے بیج بہت پہلے سے بوئے جا چکے تھے اور گذشتہ نسلوں کی عاقبت نااندیشی کی فصل 1971ء کی نسل کو کاٹنا پڑی۔
سقوطِ ڈھاکہ کے بعد 20 دسمبر 1971ء کو ذوالفقار علی بھٹو نے پاکستان کی صدارت کا عہدہ سنبھالا۔ چونکہ عملاً اس وقت بھی پاکستان میں مارشل لاء نافذ تھا، اس لئے انہیں پہلے سویلین مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر ہونے کا بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھانا پڑا۔
قومی اسمبلی کا پہلا اجلاس 14 اپریل 1972ء کے روز اسلام آباد میں سٹیٹ بینک بلڈنگ میں منعقد ہوا جس میں مغربی پاکستان کے تمام 144 ارکان اور سابقہ مشرقی پاکستان کے دو اراکین نے شرکت کی۔ یہ اراکین نورالامین اور راجہ تری دیو رائے تھے جنہوں نے پاکستان کے ساتھ رہنے کا فیصلہ کیا تھا۔ 17 اپریل 1972ء کے روز قومی اسمبلی نے ایک عبوری آئین کی منظوری دی جس میں صدارتی نظامِ حکومت متعارف کرایا گیا۔ اس آئین کے تحت 14 اگست 1973ء سے پہلے قومی اسمبلی کی تحلیل خارج از امکان قرار دے دی گئی اور مرکز اور صوبوں کے درمیان اختیارات کی تقسیم پر تفصیلی بحث کی گئی۔ 17 اپریل کے ہی روز اسمبلی کی طرف سے ایک آئینی کمیٹی تشکیل دی گئی تاکہ پاکستان کے نئے آئین کی تیاری کا کام نمٹایا جا سکے۔ کمیٹی نے اپنی رپورٹ، آئین کے ایک ابتدائی مسودے کے ساتھ 31 دسمبر 1972ء کے روز پیش کی جسے 10 اپریل 1973ء کے روز اسمبلی نے مکمل اتفاقِ رائے کے ساتھ منظور کر لیا اور 12 اپریل کے روز صدر کی طرف سے بھی اس کی توثیق ہو گئی۔ اس آئین کی نمایاں ترین خصوصیت یہ تھی کہ یہ حزبِ اختلاف کی جماعتوں کی طرف سے پیش کی جانے والی تجاویز کا بھی خیرمقدم کرتا تھا، یہی وجہ تھی کہ ملک کی تمام جماعتوں نے اسے بلا رد و قدح قبول کر لیا۔ 
اسلامی جمہوریہ پاکستان کا تیسرا آئین 14 اگست 1973ء کے روز نافذ العمل ہوا۔ اسی روز ذوالفقار علی بھٹو نے پاکستان کے وزیر اعظم کی حیثیت سے حلف اٹھا لیا۔ چوہدری فضل الٰہی پاکستان کے نئے صدر قرار پائے۔
1973ء کے آئین کی پہلی دفعہ میں پاکستان کو وفاقی جمہوریہ کے طور پر متعارف کرایا گیا ہے اور اس کا نام ’’اسلامی جمہوریہ پاکستان‘‘ رکھا گیا ہے۔ پاکستان کا ریاستی مذہب اسلام بنا اور پاکستان کو چار وفاقی اکائیوں پنجاب، سندھ، صوبہ سرحد اور بلوچستان کا وفاق قرار دیا گیا۔
اس آئین میں پارلیمانی طرزِ حکومت متعارف کرایا گیا جس میں حکومتی اختیارات وزیر اعظم کے ہاتھ میں رکھے گئے۔ مملکت کا اعلیٰ ترین عہدہ صدارت قرار پایا جو کہ جمہوریہ کے اتحاد کی علامت ہے۔ قیامِ پاکستان سے لے کر اب تک پاکستان کا مقننہ ایک ایوان پر مشتمل رہا تھا، اس آئین میں پہلی مرتبہ حکومت پاکستان نے ’’دو ایوانی مقننہ‘‘ کا نظام اختیار کیا۔ یہ نظام صدرِ مملکت، قومی اسمبلی اور سینیٹ پر مشتمل ہے جنہیں مشترکہ طور پر پارلیمنٹ کا نام دیا جاتا ہے۔ 
ابتداً قومی اسمبلی میں نشستوں کی تعداد 200 رکھی گئی۔ خواتین کے لئے مخصوص کی گئی 20 نشستیں ان کے علاوہ تھیں۔ یوں نشستوں کی کل تعداد 220 قرار پائی۔ ایوانِ بالا یعنی سینیٹ میں 63 نشستیں رکھی گئیں۔ بعد ازاں ، 1985ء میں ایک صدارتی حکم نامے کے تحت اقلیتوں کے لئے سات نشستیں مخصوص کی گئیں جن کے اراکین جداگانہ انتخابی نظام کے تحت منتخب کئے جانے تھے۔ سینیٹ کی نشستوں کی تعداد بھی بڑھا کر 87 کر دی گئی۔
1973ء کے آئین کے تحت قومی اسمبلی پانچ سال کی مدت کے لئے منتخب کی جاتی ہے بشرطیکہ مدت مکمل ہونے سے پہلے اسے توڑ نہ دیا جائے۔ سینیٹ کے برعکس، قومی اسمبلی کی نشستیں صوبوں اور دیگر وفاقی اکائیوں میں آبادی کی بنیادوں پر تقسیم کی گئی ہیں۔ خواتین کے لئے مخصوص کی گئیں 20 نشستیں 1990ء میں ختم کر دی گئیں۔ 
آئین کے مطابق صدر کے لئے مسلمان اور 45 سال سے زائد عمر کا ہونا لازمی قرار دیا گیا۔ صدر کا انتخاب ارکانِ پارلیمنٹ کی طرف سے پانچ سال کی مدت کے لئے کیا جاتا ہے۔ کسی کو اس عہدے کے لئے دو سے زائد مرتبہ منتخب ہونے کا حق حاصل نہیں۔ صدر وزیر اعظم کے مشورے سے کام کرتا ہے۔ جسمانی یا ذہنی صحت کی عدم موجودگی میں ، آئین کی خلاف ورزی پر یا بدعنوانی کا مرتکب ہونے پر صدر کو اس کو عہدے سے برخواست کیا جا سکتا ہے۔ صدر کو اٹارنی جنرل، سپریم اور ہائی کورٹ کے ججوں اور چیف الیکشن کمشنرز کی تقرری کا اختیار حاصل ہوتا ہے۔ صوبائی سطح پر گورنروں کا تقرر بھی صدر کی طرف سے کیا جاتا ہے۔ ارکانِ پارلیمنٹ میں سے وفاقی وزراء اور وزرائے مملکت کا تقرر وزیر اعظم کی طرف سے کیا جاتا ہے۔
1973ء کے آئین میں عدلیہ کو آزاد و خودمختار رکھا گیا ہے۔ شہریوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کی ضمانت فراہم کی گئی ہے اور بدلے میں ان پر دو فرائض عائد کئے گئے ہیں۔ اول، مملکت کے ساتھ وفاداری۔ دوم، قانون کی پابندی۔ بنیادی انسانی حقوق سے متصادم ہونے والے گذشتہ تمام قوانین کو منسوخ کر دیا گیا ہے۔
گذشتہ آئینی تجربے کو مد نظر رکھتے ہوئے، 1973ء کے آئین میں اسلام کو خصوصی طور پر اولیت دی گئی ہے، اور معاشرتی زندگی کے تمام پہلوؤں کے حوالے سے ایک حقیقی اسلامی نظام کی تشکیل پر زور دیا گیا ہے۔ مملکت کے مذہب کی حیثیت اسلام کو حاصل ہے اور حکومت کے لئے لازم ٹھہرایا گیا ہے کہ وہ اسلام کی خدمت کرے اور تمام قوانین کو اسلامی اصولوں کی روشنی میں ترتیب دے۔ اسلامی مشاورتی کونسل کے قیام کا بنیادی مقصد یہی تھا۔ 
1973ء کا آئین تقریباً چار سال تک نافذ رہا۔ 5 جولائی 1977ء کے روز جنرل ضیاء الحق نے برسراقتدار آنے کے بعد اسے معطل قرار دے ملک میں ایک بار پھر مارشل لاء نافذ کر دیا۔ آئین منسوخ تو نہ ہوا لیکن عملاً اس کی حیثیت سرد خانے میں پڑی ہوئی فائل سے زیادہ کی نہ رہی۔ آئین کے نافذ العمل نہ ہونے کے باوجود 1985ء میں جنرل ضیاء الحق نے آٹھویں ترمیم کو اس کا حصہ بنا دیا جس کے ذریعے صدر کو آرٹیکل 58(B) کے تحت اسمبلیوں کو توڑنے کا اختیار مل گیا۔ بعد ازاں میاں نواز شریف نے اپنے دوسرے دورِ حکومت میں تیرہویں ترمیم کے ذریعے اس ترمیم کو منسوخ کر دیا لیکن جنرل پرویز مشرف کی حکومت نے برسراقتدار آنے کے بعد 2002ء کے لیگل فریم ورک آرڈر کے ذریعے صدر کو ایک بار پھر اسمبلیاں توڑنے کا اختیار واپس لوٹا دیا۔
جنرل ضیاء الحق نے اقتدار پر قابض ہونے کے بعد 24 دسمبر 1981ء کو ایک صدارتی حکم نامے کے ذریعے مجلس شوریٰ تشکیل دی۔ ابتداً اس مجلس کے اراکین کی تعداد 288 تھی جو بعد ازاں 330 تک بڑھا دی گئی۔ تمام اراکین کی نامزدگی صدر کی طرف سے کی جاتی تھی۔ کونسل کا پہلا اجلاس 11 جنوری 1982ء کو ہوا۔ یوں ایک محدود پیمانے پر سیاسی سرگرمیوں کا آغاز ہو گیا، یہ ایک الگ بات کہ ان سرگرمیوں پر صدر کو مکمل کنٹرول حاصل تھا۔ صدر کے مکمل کنٹرول کے تحت ہی 1985ء میں غیر جماعتی انتخابات کرائے گئے جن کے نتیجے میں محمد خان جونیجو وزیر اعظم پاکستان بن کر سامنے آئے۔ انتخابات سے قبل مارشل لاء اٹھا لیا گیا تھا اور آئین میں ایک ترمیم کے بعد (جس کے ذریعے غیر جماعتی انتخابات کو قانونی حیثیت حاصل ہو گئی تھی) اسے دوبارہ نافذ العمل کر دیا گیا تھا۔ مارشل لاء اٹھانے سے پہلے جنرل ضیاء الحق ریفرنڈم کے ذریعے خود کو صدرِ پاکستان کے عہدے پر فائز کر چکے تھے۔
14 اکتوبر 1999ء کو جنرل پرویز مشرف نے اقتدار حاصل کرنے کے دو دن بعد ایک عارضی آئینی حکم نامے (پی سی او) کے ذریعے آئین کو معطل قرار دے دیا اور اپنے عہدے کے لئے ’’چیف ایگزیکٹو‘‘ کی اصطلاح استعمال کی۔ اگرچہ اس مرتبہ مارشل لاء کا نام استعمال کرنے سے گریز کیا گیا تاہم یہ ایک حقیقت تھی کہ ملک ایک بار پھر فوجی حکومت کے سائے تلے آ چکا تھا۔ جنرل پرویز مشرف کے اقدام کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا۔ 12 مئی 2000ء کو سپریم کورٹ نے ’’عوام کی فلاح سب سے اولیں قانون‘‘ کے اصول کے تحت فوج کے اقدام کو درست قرار دے دیا اور جنرل پرویز مشرف کو پابند کیا کہ وہ تین سال کے اندر اندر انتخابات کا انعقاد کرائیں۔ تین سال کی مدت کا آغاز 12 اکتوبر 1999ء سے کیا گیا تھا یعنی اس دن سے جب جنرل پرویز مشرف نے پاکستان کے چیف ایگزیکٹو کی حیثیت سے اقتدار سنبھالا۔ عدالت نے فوجی حکومت کو آئین میں ضروری ترامیم کرانے کی اجازت بھی عطا کی لیکن اس کے ساتھ یہ پابندی بھی لگا دی کہ وفاقی پارلیمانی جمہوریت، عدلیہ کی آزادی اور آئین کی اسلامی دفعات ان ترامیم سے متاثر نہ ہوں۔ 
2008ء کے انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی اور اتحادی جماعتیں برسراقتدار آئیں تو جنرل پرویز مشرف کے اقتدار کے آخری دن آ پہنچے۔ ان کے عہدۂ صدارت سے مستعفی ہونے کے بعد، آئین کو اس کی اصلی حالت میں لانے کے لئے ایک آئینی کمیٹی بنائی گئی جس نے کم و بیش نو ماہ کی محنت کے بعد اٹھارہویں ترمیم کا مسودہ پارلیمنٹ کے سامنے پیش کیا جس کے تحت فوجی آمروں کی طرف سے آئین میں کی جانے والی ترامیم ختم کر دی گئیں۔ چند نئی شقیں متعارف کرائی گئیں اور آئین کو بہت حد تک اس کی اصل شکل میں بحال کر دیا گیا۔ اٹھارہویں ترمیم کے حوالے سے مباحث کا سلسلہ تا حال جاری ہے۔ کئی باتوں پر اعتراضات اٹھائے جا رہے ہیں اور امکانات ہیں کہ جلد ہی آئین میں ایک اور ترمیم کر کے رخنہ بندی کی ایک اور کوشش کی جائے۔
1973ء کا آئین تا دمِ تحریر مملکت پاکستان کا آئین ہے۔ اب تک اس میں کل اٹھارہ ترامیم کی جا چکی ہیں اور اس دوران اس دو مرتبہ ’’معطلی‘‘ کا شکار بھی رہنا پڑا لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو کی نگرانی میں تیار ہونے والا یہ آئین، پاکستان کی تاریخ کا سب سے جامع، موثر اور طویل العمر آئین ہے۔

مستقبل کے لئے

کسی ملک کے مستقبل کے بارے میں پیش گوئی کرنے سے پہلے ضروری ہے کہ اس کے ماضی کے واقعات اور حال کے حقائق کا جائزہ لیا جائے اور اپنے تجزیئے کی بنیاد ان پر رکھی جائے۔ ملک ہی کیا، یہ کلیہ کسی بھی جزوِ زندگی پر لاگو کیا جا سکتا ہے۔ مستقبل غیر موجود اور نظر سے اوجھل ہونے کے باوجود ماضی اور حال سے اس طرح مربوط ہوتا ہے کہ چشم بینا کے لئے اس کے خدوخال کی ایک جھلک دیکھنا کچھ ایسا مشکل نہیں ہوتا۔
پاکستان کے سیاسی مستقبل کے بارے میں پیش گوئی کرتے ہوئے اگر اس کلئے کا اطلاق کیا جائے تو پہلی نظر میں کوئی بھی یہ کہہ اٹھے گا کہ اس ملک کے ماضی اور حال کی طرح اس کا مستقبل بھی کچھ ایسا حوصلہ افزا نظر نہیں آتا، اور بہت سے لوگ خود کو اس کی رائے سے اتفاق کرنے پر مجبور پائیں گے لیکن بہت سے انصاف پسند ایسے بھی ہوں گے جو بڑے تیقن کے ساتھ ایسی آراء سے اختلاف کریں گے اور ایسا کرنے سے میں عین حق بجانب ہوں گے۔
یہ سچ ہے کہ پاکستان کے ماضی اور حال کی جمہوری روایات کچھ ایسی درخشندہ نہیں ، لیکن کسی طرح کا تجزیہ کرتے ہوئے ہمیں یہ ہرگز فراموش نہیں کرنا چاہئے کہ جہاں اس ملک کی تاریخ میں تاریک گوشے نمایاں ہوتے ہیں ، وہیں جا بجا روشن مثالیں بھی نظر آتی ہیں۔ یہ ملک ایک ایسی قوم نے حاصل کیا جو اپنے حریفوں کا مقابلہ کرنے کے لئے خاطرخواہ ساز و سامان سے بڑی حد تک محروم تھی، نہ اس کے پاس ہندوؤں کی طرح تعلیم اور پیسہ با افراط تھا اور نہ ہی برطانویوں جیسی سیاسی پختگی اسے حاصل تھی۔ اس کے باوجود قراردادِ پاکستان سے لے کر قیامِ پاکستان تک، حقیقی معنوں میں ، تحریک پاکستان کا دورانیہ محض سات سال بنتا ہے جو کہ تاریخ کے تغیر و تبدل کے حوالے سے بہت، بہت مختصر عرصہ ہے۔ جب پاکستان بنا تو مخالفین نے بڑے زور و شور سے پیش گوئیاں کیں کہ اس ملک کی عمر چند سال سے زیادہ نہ ہوگی، لیکن پاکستان آج بھی قائم ہے اور انشاء اللہ ہمیشہ قائم رہے گا۔ اگرچہ بعض افسوسناک غلطیوں کی وجہ سے اس کا ایک حصہ الگ ہو گیا لیکن یہ امر ملحوظِ خاطر رہے کہ جدا ہونے کے باوجود یہ حصہ مخالفین کے قبضے میں واپس نہیں گیا، اور آج بھی اپنی علیحدہ شناخت کے ساتھ موجود ہے۔ کوشش کرنے والوں ایڑی چوٹی کا زور لگا کر دیکھ لیا لیکن جن اختلافات نے پاکستان کو جنم دیا تھا، انہی اختلافات نے آج بھی برصغیر کی دونوں بڑی اقوام کو الگ الگ ملکوں کا باسی بنا رکھا ہے۔
غیر جمہوری حکومتوں پر نگاہ دوڑائی جائے تو یہ آفاقی مقولہ ایک بار پھر سچ ہو کر سامنے آتا ہے کہ ’’تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے۔‘‘ غیر جمہوری حکمران، خواہ وہ فوجی ہو یا غیر فوجی، ہمیشہ ایک ہی راہ سے اقتدار تک پہنچتا ہے، ایک ہی جیسے نشیب و فراز کا سامنا کرتا ہے، ایک ہی جیسی چالیں چلتا ہے، اور ایک ہی جیسے منطقی انجام سے دوچار ہوتا ہے (اگرچہ اس انجام کی ظاہری شکلیں مختلف ہو سکتی ہیں )۔ ایسے حکمران، خواہ وہ کتنے ہی نیک مقاصد لے کر اقتدار میں کیوں نہ آئے ہوں ، بالآخر انہی مسائل، الجھنوں اور کشاکشوں کے شکار ہو جاتے ہیں جو ازل سے غیر جمہوری حکمرانوں کا مقدر رہی ہیں۔ پاکستان کی تاریخ کے کسی بھی غیر جمہوری حکمران کا احوال اٹھا کر دیکھ لیجئے، ان میں آپ کو بہت سی باتیں ، بہت سے حالات اور بہت سے نتائج مشترک نظر آئیں گے۔ سکندر مرزا ہو یا ایوب، یحییٰ خان ہو یا ضیاء الحق یا پرویز مشرف، انداز جدا ہو سکتے ہیں ، پیچ و خم جدا ہو سکتے ہیں لیکن بین السطور حالات وہی ہیں اور نتائج بھی وہی۔ سب بلند و بانگ دعووں کے ساتھ (لیکن نہایت غیر جمہوری راستوں کے ذریعے) اقتدار میں آئے، ایک مختصر سے عرصے تک عوام کو خوش فہمیوں میں مبتلا رکھنے میں کامیاب رہے، اپنی کرسی کے تحفظ کے لئے ہر اقدام کر گزرے لیکن بالآخر رسوا ہو کر نکلے۔
سیاسی طاقت بڑا پیچیدہ موضوع ہے۔ یہ یونہی ہاتھ نہیں آتی۔ سیاسی طاقت حاصل کرنے کے لئے ضروری ہے کہ لیڈر کو اچھی طرح پتہ ہو کہ کن جگہوں پر اسے لچک دکھانی ہے اور عاجزی سے کام لینا ہے اور کہاں ثابت قدم ہونا اور قوت و اختیار کا مظاہرہ کرنا ہے۔ غیر جمہوری حکمرانوں کا مسئلہ ہمیشہ سے یہی رہا ہے کہ وہ قوت و اختیار کا مظاہرہ کرنا تو جانتے ہیں لیکن عاجزی اور لچک کے اصولوں سے یکسر ناواقف ہوتے ہیں۔ آمریت کے ابتدائی دنوں میں تو ان کا ’’رعب داب‘‘ کام کر جاتا ہے لیکن کچھ ہی عرصے میں حالات بدلنے لگتے ہیں۔ یوں کہہ لیجئے کہ اس کی ذات کے گرد پھیلی ہوئی سنہری دھند حقائق کی دھوپ میں تحلیل ہو جاتی ہے اور وہ اپنے حقیقی (اور نہایت عام) روپ میں عیاں ہو جاتا ہے۔
ہر آمر کو بنیادی طور پر دو مسائل کا سامنا رہتا ہے۔ ایک یہ کہ اپنے اقتدار کو جائز کیسے ثابت کیا جائے اور دوسرے یہ کہ اسے برقرار کیسے رکھا جائے۔ ان مسائل سے نمٹنے کے لئے عموماً وہ کسی بھی حد سے گزرنے پر تیار ہو جاتا ہے، اور اسی چکر میں اپنی سیاسی قوت کے سوادِ اعظم سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتا ہے۔ جب ریاستی قوت فردِ واحد کے اقتدار کو طول دینے میں صرف ہونے لگتی ہے تو امورِ حکومت غفلت کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ریاست کی تمام تر توانائیاں حکمران اور اس کے حواریوں کی آبیاری میں جت جاتی ہیں اور عوامی مسائل کسی ’’کھوہ کھاتے‘‘ میں جا گرتے ہیں۔ اس کا منطقی نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ حکومتی اثر و رسوخ ماند پڑنے لگتا ہے اور اس کا انجام واضح ہو جاتا ہے۔ لیکن انجام سے پہلے گزرنے والے مراحل ملک و قوم کی صحت پر نہایت مضر اثرات مرتب کرتے ہیں۔ 
ہمارے ملک کے اس وقت کے موجودہ حالات کم و بیش دس سال کی اس آمرانہ حکومت کے ’’آفٹر شاکس‘‘ ہیں جو ماضی قریب میں ہم پر مسلط رہی۔ ان کی شدت میں کچھ اضافہ موجودہ حکمرانوں کی نالائقی نے کیا لیکن اس کے باوجود خوش آئند پہلو یہ ہے کہ ملک میں آزاد عدلیہ اور آزاد میڈیا کی صورت میں دو ایسے مستحکم ادارے کھڑے ہو گئے ہیں جن کے ہوتے ہوئے کسی بھی حکومت کے لئے کھل کھیلنا آسان نہیں رہ گیا۔ عوام کے سیاسی شعور میں بھی بے پناہ اضافہ ہوا ہے جس کی مثال ہم نے 2008ء کے انتخابات میں بھی دیکھی اور آئندہ بھی دیکھتے رہیں گے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ملک میں جمہوریت کا یہ تسلسل جاری رہے اور چور دروازے سے اقتدار میں آنے والوں کی راہ روکی جاتی رہے۔ اگرچہ ماضی میں ایسا ممکن نہیں ہو سکا لیکن آج کے حالات کو دیکھتے ہوئے یہ توقع کی جا سکتی ہے کہ اس ملک کا مستقبل اس کے ماضی سے یکسر مختلف اور نہایت درخشاں ہوگا۔
٭٭٭


 
جمہوریت اور اسلام


یہ بحث ہمارے ملک میں ایک طویل عرصہ سے جاری ہے کہ پاکستان کا نظامِ حکومت کیا ہونا چاہئے۔ سب سے پُر زور آواز جس نظام کے حق میں اٹھائی جاتی ہے، اور سب سے زیادہ دلائل جس کی حمایت میں دیئے جاتے ہیں ، وہ بلا شک و شبہ اسلام کا دیا ہوا نظامِ حکومت ہے۔ بعض عوامی حلقوں کی طرف سے عموماً اور تمام دینی حلقوں کی طرف سے خصوصاً ہمیشہ یہ مطالبہ کیا جاتا رہا ہے کہ اسلام کو مملکت پاکستان کا طرزِ حکومت بنایا جائے اور یہاں اسلامی شریعت کو نافذ کیا جائے۔
مطالبہ تو بڑے زور و شور سے کیا جاتا ہے، لیکن یہ وضاحت کرنے کی کوشش کوئی نہیں کرتا کہ اسلامی طرزِ حکومت حقیقت میں ہے کیا؟ اس کے خد و خال کیا ہیں اور اسے ترتیب کیسے دیا جاتا ہے؟ مطالبہ کرنے والوں میں سے بہت ایسے ہیں جو شریعت کے نفاذ کو اسلام کا بہ حیثیت نظامِ حکومت نفاذ سمجھے بیٹھے ہیں۔ انہیں شاید علم نہیں کہ اسلامی شریعت، اپنی ذات میں ایک نظامِ حکومت نہیں ، بلکہ قوانین الٰہی کا ایک مجموعہ ہے جو ہماری شخصی، سماجی، معاشی اور اجتماعی زندگی کو حدودِ الٰہیہ کا پابند رکھنے اور ایک اسلامی معاشرہ تعمیر کرنے کے لئے تشکیل دیا گیا ہے۔ حکومت شریعت پر عمل کرنے کی پابند ضرور ہے، مگر اپنا نظام چلانے کے لئے محض اس پر تکیہ نہیں کر سکتی۔ نظامِ حکومت، خصوصاً آج کے دور میں ، اس سے کہیں زیادہ وسیع اور پیچیدہ عمل کا نام ہے۔ شریعت کے نفاذ سے انکار کون کافر کرے گا! لیکن شریعت کو اسلامی نظامِ حکومت کا نام دے لینا حقیقی موضوع سے انحراف کے مترادف ہوگا۔
ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو حکومت مدینہ اور خلافت راشدہ کو نمونہ قرار دے کر موجودہ وقت میں انہی بنیادوں پر حکومت کی استواری کا مطالبہ کرتا ہے۔ یہ ایک ایسا طبقہ ہے جو کسی بھی دیگر طرزِ حکمرانی کو تسلیم کرنے پر آمادہ نہیں ، اور جمہوریت، جو آج کے دور کا سب سے نیک نام اور مقبول ترین طرزِ حکمرانی ہے، خصوصاً ان کی تنقید اور عیب جوئی کا ہدف ہے۔ یہ لوگ ڈھونڈ ڈھونڈ کر جمہوریت میں سے ایسے ایسے سقم برآمد کرتے ہیں کہ جن پر نگاہ کرنا عام انسانی ذہن کے بس کا روگ نہیں۔ اکثر حالات میں ان کی پوری قوت محض یہ ثابت کرنے پر صرف ہوتی ہے کہ ’’مغرب سے درآمدہ‘‘ یہ نظامِ حکومت ایک اسلامی مملکت کے لئے نہ صرف یہ کہ مناسب نہیں ، بلکہ اس کی شان کے شایاں بھی نہیں۔ 
سب سے پہلے تو میں ایک معروف حقیقت دہرانا چاہوں گا کہ اسلام محض ایک دین نہیں ، ایک مکمل ضابطہ حیات ہے، اور نظامِ حکومت اس پر غالب نہیں ، بلکہ اس کا ایک حصہ ہے۔ اسلام جہاں ایک عام انسان کو زندگی گزارنے کا طریقہ سکھاتا ہے، وہیں ایک حکمران کو حکمرانی کرنے کے اطوار سے بھی آگاہی بخشتا ہے۔ سلطنت کے امور، خواہ وہ داخلی ہوں یا خارجی، ان کے انتظام کے متعلق رہنمائی ہمیں اسلام کے زریں اصولوں سے بخوبی حاصل ہو سکتی ہے۔
اس کے بعد میں اس غلط فہمی کا ازالہ کرنا چاہوں گا کہ جمہوریت مغرب سے درآمد کردہ ہے۔ جن مغرب والوں پر ہم جمہوریت کے بانی ہونے کا الزام دھرتے ہیں ، اس غلط فہمی کے شکار تو کبھی وہ بھی نہیں ہوئے، اور ہم مسلمان، جن کے پاس دنیا کی پہلی باقاعدہ جمہوری حکومت کی مضبوط ترین مثال موجود ہے، نہ جانے کیوں اسے سینے سے لگائے بیٹھے ہیں۔ کہنے والے یقیناً کہتے ہیں کہ یونان کی شہری ریاستیں حکومت جمہور کی ابتدائی مثال ہیں ، لیکن جیسا کہ ابتدائی صفحات میں ذکر گزر چکا، یہ شہری ریاستیں باقاعدہ جمہوری حکومت کی حیثیت کبھی نہ رکھتی تھیں۔ یہاں عوام نظامِ حکومت میں حصہ ضرور لیتے تھے لیکن ان کا ایک بہت بڑا طبقہ اس دائرے سے یکسر باہر رہتا تھا۔ غلاموں کو اس عمل میں شریک ہونے کی اجازت نہ تھی، اور عورتیں بھی اس بھاری پتھر کو اٹھانے سے ’’مستثنیٰ‘‘ قرار دی گئی تھیں ، گویا ایک طرح سے نصف سے زائد آبادی کو کبھی اس فیصلے میں شریک ہونے کا موقع ہی نہ ملتا تھا کہ حکومت کسی خاص معاملے میں جو کچھ کر رہی ہے، وہ واقعی درست اور ہمارے لئے بہتر ہے۔ ایسی صورت میں ان شہری ریاستوں کو ’’جمہوریہ‘‘ قرار دینا، میرے اور تمام مغربی دانشوروں کے نزدیک، ممکن نہیں رہتا۔
شہری ریاستوں کے بعد مغرب میں ایک ہزار سال سے زائد عرصے تک جمہوریت نام کی کسی شے کا نام و نشان بھی نہیں ملتا۔ اس کے مقابلے میں آخری یونانی شہری ریاست کے سقوط کے دو سو سال بعد، جزیرہ نما عرب میں جمہوریت اپنی حقیقی اور حتمی شکل میں ظاہر ہوئی اور پورے عالم کو حیران کر گئی۔ مغرب والے اگرچہ آج تک یہی سمجھتے ہیں کہ جمہوریت کا آغاز ان کے یہاں سے ہوا، لیکن اس میں ان کا کوئی قصور نہیں۔ انہیں آج تک یہ بتایا ہی نہیں گیا کہ ماڈل اسلامی حکومت اصل میں کیا تھی، کیسی تھی۔ وہ اگر اسلامی تاریخ پر کبھی نگاہ ڈالتے بھی ہوں تو خلافت راشدہ کے مختصر سے دور کے بعد، انہیں پہلے بادشاہ نما خلیفہ، پھر مکمل بادشاہ، امراء اور سلاطین ہی دکھائی دیتے ہوں گے، اور مکمل واقفیت نہ ہونے کے سبب اسلامی نظامِ حکومت کی بنیاد ان کی نگاہوں سے اوجھل ہی رہتی ہوگی۔ یہ ان کی کوتاہی سہی لیکن اس پر انہیں الزام دینا میں روا نہیں سمجھتا۔ مجھے تو اس بات پر حیرت اور افسوس ہے کہ ہم مسلمان اپنے اس قابل فخر ورثے پر نازاں ہونے کے بجائے اس سے بیزار اور متنفر ہونے کی کوشش کر رہے ہیں ، اور یہ بھلائے بیٹھے ہیں کہ جس اسلامی نظامِ حکومت کے نفاذ کا مطالبہ ہم کر رہے ہیں ، وہ ہمارے ہاں پہلے سے ہی نافذ ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اس کا ملبوس اب مغرب سے درآمدہ ہے لیکن لباس بدل دینے سے شکل تو نہیں بدل جاتی۔ یہ کیا ستم ہے کہ ہم چہرے پر غور کرنے کے بجائے ساری توانائیاں لباس کی کھدیڑ پر صرف کئے دے رہے ہیں۔ میرے عزیزو، ذرا ٹھنڈے دل سے سوچو۔ جن علامہ صاحب کا خطبہ آپ ہر جمعے کی نماز سے پہلے سنتے ہیں ، اگر وہ جبہ و دستار کی جگہ پتلون قمیص پہن لیں تو کیا ان کے منہ سے آیاتِ قرآنی اور احادیث نبوی ﷺ کی جگہ شیکسپیئر کے اشعار جھڑنے لگیں گے؟ کیا ان کی باتوں کی سچائی اور حقانیت مشکوک ہو جائے گی؟ اصل چیز تو باطن کا وجود ہے، ظاہر کے لباس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ اسی جمہوریت کے چہرے سے مغرب کا غازہ پونچھ کر دیکھئے، آپ کو اس کے اسلامی خال و خد بصراحت نظر آ جائیں گے۔
ایک اور بات یہ بھی ذہن میں رکھئے، مغرب نے جمہوریت کو اپنایا تو ایک اسلامی نظام سمجھ کر نہیں ، بلکہ ایک بہتر نظام سمجھ کر اپنایا۔ اپنے تئیں اسے مزید بہتر بنانے کے لئے انہوں نے اس میں جو ترامیم، اضافے اور اختراعات کیں ، اپنی جگہ ان کے ماحول اور وقت کے اعتبار سے وہ شاید درست رہی ہوں لیکن وقت گزرنے اور ماحول بدلنے کے ساتھ ساتھ اپنی افادیت کھو بیٹھیں۔ ان میں سے کئی ایک کو یکسر مسترد اور متروک قرار دے دیا دیا گیا اور کئی ایک کی مزید تطہیر کرنے کی کوشش کی گئی۔ یوں مغربی جمہوریت، اسلامی جمہوریت سے کسی قدر مختلف اور غالباً کسی قدر بگڑی ہوئی بھی نظر آتی ہے۔ بہرحال، اپنی اصل میں یہ جمہوریت اخذ یہیں سے ہوئی ہے۔ چاہے آپ اسے جھٹلائیں یا مغرب والے، حقیقت ہر حال میں حقیقت رہتی ہے۔
میری رائے سے اختلاف کرنے کا حق آپ کو یقیناً حاصل ہے، لیکن اب تک میں نے جمہوریت اور اسلام کے باہمی ربط کے بارے میں جو کچھ کہا، اسے میری رائے سمجھنے کی غلطی ہرگز مت کیجئے گا۔ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ جو کچھ اب تک مذکور ہوا، وہ محض میری رائے نہیں ، مسلمہ حقیقت ہے۔ جمہوریت کے اوصاف و اصول سے آپ واقف ہو چکے۔ اب اسلامی حکومت کا بالتفصیل مطالعہ فرمایئے اور پھر خود فیصلہ کیجئے کہ حقیقی معنوں میں جمہوریت کا آغاز یونان و روما سے ہوا، یا جزیرہ نما عرب۔ آپ خود ہی جان جائیں گے کہ جمہوریت مغرب کا تحفہ نہیں ، اسلام کی عطا ہے، اور اس باب میں ، میں یہی وضاحت کرنے کی حتی المقدور کوشش کروں گا کہ حکومت مدینہ و خلافت راشدہ کا سنہری نظام، اس دور کے بعد سے مفقود نہیں ہوا، آج بھی باقی ہے۔ غیروں نے اسے اپنا کر اس میں اپنی مرضی کے رنگ ضرور بھرے ہیں لیکن اسے تبدیل کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے، اور اگر ہم آج بھی اپنے جمہوری نظام سے غیر ضروری آلائشیں صاف کرنے میں کامیاب ہو جائیں تو ہماری آنکھوں کے سامنے قرونِ اولیٰ کی حکومت اسلامیہ کی تصویر ایک بار پھر سے اجاگر ہو جائے گی۔
تو آیئے پھر چلتے ہیں ، تاریخ اسلام کے اولین دور کی طرف، اور دیکھتے ہیں کہ جمہوریت اس دور میں کس رنگ میں ابھری اور نمایاں ہوئی۔
اسلامی تاریخ میں پہلی باقاعدہ حکومت کی داغ بیل تو اگرچہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی حیاتِ مبارکہ میں ہی پڑ چکی تھی، اور سلطنت اسلامیہ اپنے عروج کی طرف گامزن ہو چکی تھی البتہ عروج کی منزل اسے خلافت راشدہ کے دوران حاصل ہوئی اور حقیقی معنوں میں اسلامی حکومت کا آغاز، جو آگے چل کر دنیا کی سب سے بڑی سلطنت بنی، یہیں سے ہوا۔
حضور پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے وصال کے بعد حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پیشوائی کا منصب سنبھالا اور پہلے خلیفہ اسلام کی حیثیت سے جانشین رسولؐ ہوئے۔ پہلے اسلامی حکمران کو خلیفہ کہہ کر پکارا گیا اور اسلامی حکومت کو خلافت کا نام ملا۔ بات آگے بڑھانے سے پیشتر مناسب ہوگا کہ یہ وضاحت کر دی جائے، خلیفہ اور خلافت کے حقیقی مفاہیم کیا ہیں ، اور ان اعزازات کے حقدار ٹھہرنے کی شرائط کیا ہیں۔ 
خلیفہ کے معنی جانشین اور خلافت کے معنی جانشینی کے ہیں لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ اصطلاحات بادشاہ اور بادشاہت کے مفہوم کے بہت قریب تر لا کر استعمال کی جانے لگیں۔ اب بھی بہت سے لوگ جب خلافت اسلامیہ کے قیام کی بات کرتے ہیں تو یہ مد نظر نہیں رکھتے کہ خلیفہ کون ہوتا ہے اور خلافت کے حقیقی معنی کیا ہیں۔ 
قرآن کریم میں جہاں جہاں خلیفہ کا لفظ استعمال ہوا ہے، اس کے بعد الارض کا لفظ بھی آیا ہے اور اس ضمن میں نازل ہونے والی آیات سے ثابت ہوتا ہے کہ خدائے تعالیٰ نے بنی آدم کو زمین میں خلیفہ بنایا ہے۔ سورہ بقرہ کی آیت 30 میں ارشاد ہوتا ہے:
’’اور (وہ وقت یاد کرنے کے قابل ہے) جب تمہارے پروردگار نے فرشتوں سے فرمایا کہ میں زمین میں (اپنا) نائب بنانے والا ہوں۔ انہوں نے کہا کیا آپ اس میں ایسے شخص کو نائب بنانا چاہتے ہیں جو خرابیاں کرے اور کشت و خون کرتا پھرے اور ہم آپ کی تعریف کے ساتھ تسبیح و تقدیس کرتے رہتے ہیں (خدا نے) فرمایا میں وہ باتیں جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔‘‘
فرشتوں کو چھوڑ کر بنی آدم کو زمین میں خلیفہ بنانے سے جہاں اس کے اشرف المخلوقات ہونے کی گواہی ملتی ہے، وہیں زمینی مخلوقات پر اس کی حکمرانی کا اظہار بھی ہوتا ہے، اور یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ انسان کو یہ مقام خاص خدا کی طرف سے عطا کیا گیا ہے۔ اس میں نہ تو اس کے زورِ بازو کو کچھ دخل ہے اور نہ کسی اور انسان کی بخشش و عطا کو۔ سورہ نمل کی آیت 62 میں ارشادِ ربانی اس کی تصدیق کرتا ہوا دکھائی دیتا ہے:
’’بھلا کون بے قرار کی التجا قبول کرتا ہے جب وہ اس سے دعا کرتا ہے اور (کون اس کی) تکلیف کو دور کرتا ہے اور (کون) تم کو زمین میں (اگلوں کا) جانشین بناتا ہے (یہ سب کچھ خدا کرتا ہے) تو کیا خدا کے ساتھ کوئی اور معبود بھی ہے (ہرگز نہیں مگر) تم بہت کم غور کرتے ہو۔‘‘
اسی مفہوم کو سورہ فاطر کی آیت 39 میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے:
’’وہی تو ہے جس نے تم کو زمین میں (پہلوں کا) جانشین بنایا تو جس نے کفر کہا اس کے کفر کا ضرر اسی کو ہے اور کافروں کے حق میں ان کے کفر سے پروردگار کے ہاں ناخوشی ہی بڑھتی ہے اور کافروں کو ان کا کفر نقصان ہی زیادہ کرتا ہے۔‘‘
اس طرح سے خلافت ہر انسان کے حصے میں آئی ہے، اور عطا کرنے والی ذات کے حوالے سے دیکھا جائے تو یہ ایک بڑی بھاری ذمہ داری ہے، جس سے عہدہ برآ ہونا نہایت دقت اور مشقت کا متقاضی ہے۔ یہ جہاں فخر کا مقام ہے، وہیں جائے احتیاط بھی ہے۔ اگر یوں کہا جائے کہ ایک انسان کی حیثیت سے زمین پر خدا کے نائب کی ذمہ داری اٹھانا، اسی دنیا میں پل صراط پر چلنے سے مترادف ہے تو غلط نہ ہوگا۔ یہ ذمہ داری دے کر خدا نے نہ صرف انسان کا درجہ بلند کیا بلکہ اس کے لئے ایک کڑی آزمائش بھی مقرر کر دی۔ سورہ الانعام کی آیت 165 میں کلامِ ربانی ہمیں بتاتا ہے:
’’اور وہی تو ہے جس نے زمین میں تم کو اپنا نائب بنایا اور ایک کے دوسرے پر درجے بلند کئے تاکہ جو کچھ اس نے تمہیں بخشا ہے اس میں تمہاری آزمائش کرے بے شک تمہارا پروردگار جلد عذاب دینے والا ہے اور بے شک وہ بخشنے والا مہربان بھی ہے۔‘‘
اور خبردار کرنے کے ساتھ یہ وعدہ بھی کیا گیا ہے کہ دنیاوی انعامات اور اخروی اکرام ان لوگوں کے منتظر ہیں ، جو اس بارِ گراں کو خدائی تحفہ سمجھ کر اٹھائیں ، لڑکھڑائے بغیر دنیا کا راستہ طے کریں ، اور منزل پر پہنچ کر اس بوجھ کو بہ تمام و کمال بوجھ دینے والے کے حوالے کر کے سبک سر ہوں۔ سورہ النور کی آیت 55 میں صریح الفاظ میں بتایا گیا ہے:
’’جو لوگ تم میں سے ایمان لائے اور نیک کام کرتے رہے، ان سے خدا کا وعدہ ہے کہ ان کو ملک کا حاکم بنا دے گا جیسا ان سے پہلے لوگوں کو حاکم بنایا تھا اور ان کے دین کو جسے اس نے ان کے لئے پسند کیا ہے مستحکم و پائیدار کرے گا اور خوف کے بعد ان کو امن بخشے گا۔ وہ میری عبادت کریں گے اور میرے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ بنائیں گے اور جو اس کے بعد کفر کرے تو ایسے لوگ بدکردار ہیں۔ ‘‘
کسی کو خلافت بخش دینا یا کسی سے خلیفہ ہونے کا منصب چھین لینا، محض خدا کے ہی کام ہیں۔ سورہ آل عمران کی آیت 26 میں ارشاد ہوتا ہے:
’’کہو کہ اے خدا (اے) بادشاہی کے مالک تو جس کو چاہے بادشاہی بخشے اور جس سے چاہے بادشاہی چھین لے اور جس کو چاہے عزت دے اور جس کو چاہے ذلیل کرے۔ ہر طرح کی بھلائی تیرے ہی ہاتھ میں ہے اور بے شک تو ہر چیز پر قادر ہے۔‘‘
اب دیکھنے کی بات یہ ہے کہ خدائے تعالیٰ کن لوگوں کو خلافت یا حکومت عطا فرماتا ہے اور خلافت حاصل کرنے والوں کی امتیازی خصوصیات کیا ہوتی ہیں۔ جیسا کہ سورہ بقرہ کی مذکورہ صدر آیت سے معلوم ہو چکا ہے کہ فرشتوں نے فساد برپا کرنے کو خلافت الٰہی کے منصب کے منافی جانا اور خداوند کی تعریف و تقدیس کو اس کے حصول کا سبب قرار دیا۔ تعریف و تقدیس سے مراد صرف یہ نہیں کہ انسان ہر وقت تسبیح پکڑے بیٹھا، خدا کی شان بیان کرتا رہے بلکہ حقیقی معنوں میں خدا کی تعریف، اس کے اوصافِ جلیلہ کی تصدیق کرنے اور اس کے احکامِ رفیعہ پر عمل پیرا ہونے سے ہی ممکن ہو سکتی ہے۔ یہ خلافت الٰہیہ پر استحقاق ثابت کرنے کی ایک ذاتی شرط ہے، جس کا پورا کرنا ہر انسان پر لازم ہے۔
دیگر شرائط میں سے اولیں حصولِ علم ہے۔ ہم بخوبی دیکھ سکتے ہیں کہ آج انسان اپنے علم کی وجہ سے ہی دیگر مخلوقات پر حکمرانی بھی کر رہا ہے بلکہ مظاہر قدرت کو بھی اپنے تابع فرمان لانے کی طرف پیش قدمی کر رہا ہے۔ علم کی بدولت نہ صرف انسان کی زندگی پہلے سے زیادہ آسان اور باسہولت ہوئی بلکہ اسے اپنی ذات کا وہ عرفان حاصل ہوا، جس سے وہ اس سے پہلے باخبر نہ تھا۔ اگر علم کی فضیلت حاصل نہ ہوتی تو کرۂ ارضی پر خلیفہ الٰہی ہونے کا اعزاز تو درکنار، معرضِ وجود میں آنے کے پہلے روز حضرت آدم علیہ السلام فرشتوں پر اپنی برتری ہی ثابت نہ کر پاتے۔ سورہ بقرہ کی آیت 247 میں حضرت طالوت کو حکمرانی بخشنے اور اس پر قوم کے اعتراض کے حوالے سے ذکر آتا ہے:
’’اور پیغمبر نے ان سے (یہ بھی) کہا کہ خدا نے تم پر طالوت کو بادشاہ مقرر فرمایا ہے۔ وہ بولے کہ اسے ہم پر بادشاہی کا حق کیونکر ہو سکتا ہے۔ بادشاہی کے مستحق تو ہم ہیں اور اس کے پاس تو بہت سی دولت بھی نہیں۔ پیغمبر نے کہا کہ خدا نے اس کو تم پر فضیلت دی ہے اور (بادشاہی کے لئے) منتخب فرمایا ہے۔ اس نے اسے علم بھی بہت سا بخشا ہے اور تن و توش بھی (بڑا عطا کیا ہے) اور خدا (کو اختیار ہے) جسے چاہے بادشاہی بخشے۔ وہ بڑا کشائش والا (اور) دانا ہے۔‘‘
علم کے بعد جن شرائط کو خلافت الٰہیہ کا مستحق ہونے کے لئے ضروری قرار دیا گیا ہے، ان میں عدل، قوتِ اصلاح اور رفاہِ خلائق سب سے پہلے آتی ہیں۔ تاریخ عالم گواہ ہے کہ ان خصائص کے بغیر کوئی حکومت، خواہ وہ اسلامی ہو یا غیراسلامی، اپنا وجود برقرار نہیں رکھ سکی، اور یہ اصول آج بھی اتنے ہی محکم اور اٹل ہیں جتنے آج سے ہزاروں سال پہلے تھے، اور سلطنتوں کے واقعات و حالات کے مطالعے سے معلوم کیا جا سکتا ہے کہ جب کوئی حکومت ان اوصاف سے دستبردار ہو کر زمین میں فساد پھیلانے پر اتر آئی تو خدائے تعالیٰ نے اسے ہٹا کر، اس کی جگہ کسی دوسری قوم کو حکومت یعنی خلافت کا منصب عطا کر دیا۔
اسلامی حکومت کے خلیفہ کے لئے سب سے پہلی اور لازمی شرط یہ ہے کہ وہ متقی اور پرہیزگار ہو۔ اس حوالے سے سورہ کہف کی آیت 28 میں ارشاد ہوتا ہے:
’’اور اطاعت نہ کرو ایسے شخص کی جس کے دل کو ہم نے اپنی یاد سے غافل کر دیا ہے اور جس نے اپنی خواہشاتِ نفس کی پیروی اختیار کی ہے اور جس کا کام حد سے گزرا ہوا ہے۔‘‘
یہ بھی ضروری ہے کہ خلیفہ دانشمند، صاحب علم اور معاملہ فہم ہو اور کاروبارِ خلافت چلانے کی ذہنی اور جسمانی اہلیت کا حامل ہو۔ قرآن کا ارشاد ہے:
’’اپنے احوال جنہیں اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے ذریعہ پیغام بنایا ہے، نادانوں کے حوالے نہ کرو۔‘‘ (النساء:5)
خلیفہ کا امانت اور دیانت کی خصوصیات کا حامل ہونا بھی لازم ہے تاکہ وہ اپنی ذمہ داریوں کو کامل دیانت کے ساتھ پورا کرے اور اس کی خلافت کو تسلیم کرنے والے اس پر اعتماد کرنے کے قابل ہوں۔ 
اسلامی مملکت میں نظامِ خلافت کی ابتداء نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے وصال کے بعد ہوئی اور اسے انہی اصول و نصوص پر استوار کیا گیا جو آپ ﷺ اپنے صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کو تعلیم فرما گئے تھے۔ خلافت اسلامیہ ابتداء میں ایسے نفوس کے ہاتھ میں آئی جو رسولِ اکرم ﷺ کے تربیت یافتہ تھے اور اپنے بعض فضائل کے اعتبار سے دیگر صحابہؓ پر یک گونہ فوقیت رکھتے تھے۔ ان میں یہ قابلیت بدرجہ اتم موجود تھی کہ سلطنت اسلامیہ کو حضور پاک ﷺ کی قائم کردہ حکومت مدینہ کے قریب تر رکھ سکیں۔ اسی لئے ان کی خلافت کو خلافت راشدہ کا نام دیا گیا۔ راشد کے معنی ہدایت یافتہ کے ہیں ، اور خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے نزدیک تر رہنے کی بدولت یہ صحابہؓ یقیناً ہدایت یافتہ تھے۔
احکامِ الٰہی کا سلسلہ ختم ہو چکا تھا اور اللہ کا پسندیدہ دین اپنی مکمل شکل میں ماننے والوں کے پاس پہنچ چکا تھا۔ اب اس کے پیش کردہ اصول و ضوابط کی روشنی میں ، اس کی متعینہ حدود کے اندر رہتے ہوئے، ایک نظامِ حکومت و معاشرت کو فروغ دینے کا فرض باقی تھا، جس کی ادائیگی تب سے لے کر اب تک مسلمانوں پر لازم ہے۔
جیسا کہ پہلے آیت قرآنی کے حوالے سے مذکور ہو چکا، خدا جسے چاہتا ہے خلافت دیتا ہے، اور جسے چاہتا ہے، اس سے محروم کر دیتا ہے۔ گویا حکومت و اقتدار کی عطا اور ضبطی ایک ایسا کام ہے جو خاص خدا نے اپنے ہاتھ میں رکھا اور اس کا صریح الفاظ میں ذکر فرمایا ہے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ کسی خلیفہ کی خلافت پر اعتراض کرنا، اور اسے خلافت کا حقدار خیال نہ کرنا، درست نہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بھی خلیفہ کے انتخاب کے متعلق خود سے کوئی حکم نہیں دیا بلکہ وصال سے پہلے یہ بھی نہ بتایا کہ ان کے بعد حکومت مدینہ کی مسند پر کسے بٹھایا جائے۔ قرآن کریم نے البتہ یہ واضح کر دیا کہ خلیفہ کو کیا کام کرنے چاہئیں اور کن کاموں سے بچنا چاہئے۔ یہ بھی بتا دیا کہ کون سے اعمال ایسے ہیں جو کسی فرد کو خلافت کا مستحق بنا دیتے ہیں ، لیکن یہ نہیں کہا کہ خلیفہ کسے ہونا چاہئے۔ اس میں حکمت یہی تھی کہ خدائے تعالیٰ جس کو چاہتا ہے خلافت عطا فرماتا ہے اور خود ایسے اسباب پیدا کرتے ہیں کہ خلافت کے مستحق کو خلافت مل جائے۔ اب یہ کہنا کہ فلاں خلیفہ بننے کا مستحق تھا، اور یہ فلاں نہیں تھا، گویا یہ کہنا ہے کہ خدائے تعالیٰ کو نعوذ باللہ خلیفہ بنانے کا سلیقہ نہیں ، یا یہ کہ جسے خدا خلیفہ بنانا چاہتا تھا، اسے نہیں بنا سکا، اور اس کی جگہ کوئی اور خلافت پر قبضہ جما بیٹھا۔ باقی رہا یہ سوال کہ اگر واقعی ایسا ہی ہے تو پھر کیا وجہ ہے کہ مسلمانوں پر بھی نااہل اشخاص حکمران بن کر آ جاتے ہیں ؟ تو عرض یہ ہے کہ یہ تو قانونِ الٰہی ہے۔ ہر قوم پر ویسا ہی حکمران بھیجا جاتا ہے، جیسی وہ خود ہوتی ہے، یعنی اسے وہی کچھ ملتا ہے جس کا حقدار وہ خود کو ثابت کرتی ہے۔ حکمران کی نااہلی، اس کی ذاتی نہیں ، بلکہ پوری قوم کی اجتماعی نااہلیت کی نشاندہی کرتی ہے۔ کسی حکمران کی حکمرانی پر معترض ہونے والوں پر واجب ہے کہ پہلے اپنے گریبان میں جھانکیں ، اپنے معاشرے کا جائزہ لیں ، اپنے ہم وطنوں کی ذات کو پرکھیں اور پھر فیصلہ کریں کہ آیا خداوند قدوس نے ان کے لئے موزوں حکمران کا چناؤ کیا ہے یا نہیں۔ 
ریاست ایک ایسا معاشرتی ادارہ ہے جس کا قیام فرد کے دینی اور دنیاوی معاملات کو ایک ضابطہ حیات کا پابند بنانے کے لئے عمل میں لایا جاتا ہے۔ اس کے بنیادی اجزاء میں فرد، علاقہ، انتظامیہ، حکومت عاملہ، دستور یا آئین اور اقتدارِ اعلیٰ کا تصور شامل ہیں۔ اسلامی ریاست صرف آخری جز کے اعتبار سے جدید مغربی تصورِ ریاست سے واضح اختلاف رکھتی ہے۔ بقیہ اجزاء کے لئے طریقہ کار میں اختلاف پایا جا سکتا ہے لیکن انہیں کسی بھی سطح پر مسترد نہیں کیا جاتا۔ مغربی تصورِ ریاست کے مطابق اقتدارِ اعلیٰ یا تو فردِ واحد کے ہاتھ میں ہوتا ہے یا چند منتخب افراد کی ایک مجلس کے ہاتھ میں جبکہ اسلامی تصورِ ریاست کے مطابق اقتدارِ اعلیٰ صرف خدا کی ذات کو حاصل ہے، جیسا کہ سورۂ یوسف کی آیت 4 میں ارشاد ہوتا ہے۔
’’حکم دینے کا اختیار اللہ ہی کو حاصل ہے۔‘‘
اور کوئی انسان خدا کا خلیفہ تو بن سکتا ہے، مقتدرِ اعلیٰ نہیں۔ یہ حق صرف ربِ کائنات کو ہی حاصل ہو سکتا ہے جو سورۂ یونس کی آیات 31 اور 32 میں فرماتا ہے:
’’کہو، کون تم کو آسمان و زمین سے رزق دیتا ہے؟ سماعت و بینائی کی قوتیں کس کے اختیار میں ہیں ؟ کون بے جان میں سے جاندار کو اور جاندار میں سے بے جان کو نکالتا ہے؟ اور کون دنیا کا انتظام چلاتا ہے؟ وہ ضرور کہیں گے کہ اللہ۔ کہو، پھر تم ڈرتے نہیں ؟ پھر تو وہ اللہ ہی تمہارا حقیقی رب ہے۔ آخر حق کے بعد گمراہی کے سوا کیا رہ جاتا ہے۔ تم کدھر پھرائے جا رہے ہو۔‘‘

اسلامی جمہوریہ کیا ہے؟

اسلامی جمہوریہ کا سب سے پہلا اور بنیادی وصف، جو اسے دیگر تمام نظام ہائے حکومت سے منفرد بناتا ہے، یہ ہے کہ اس میں اقتدارِ اعلیٰ کسی فرد یا جماعت کے ہاتھ میں ہونے کے بجائے خدا کا خاصہ تسلیم کیا جاتا ہے۔ اس وصف کی رُو سے، حکم دینے اور فیصلہ کرنے کا اختیار بھی صرف اللہ کو ہی حاصل ہے، اور انسانوں پر لازم ہے کہ اس کے دیئے ہوئے حکم کی پیروی اور اس کے کئے ہوئے فیصلے کی پابندی کریں۔ سورۂ یوسف کی آیہ 40 میں آتا ہے۔
’’حکم اللہ کے سوا کسی کے لئے نہیں ہے۔ اس کا فرمان ہے کہ تم اس کے سوا کسی کی بندگی نہ کرو۔ یہی صحیح دین ہے مگر اکثر لوگ نہیں جانتے۔‘‘
ان کے علاوہ اسی مفہوم کی اور بھی بے شمار آیات قرآن حکیم میں موجود ہیں ، خلاصہ ان سب کا یہی ہے کہ اقتدارِ اعلیٰ اور حتمی فیصلہ کرنے اور حکم لگانے کا اختیار صرف اللہ کو ہے، اور کسی کو نہیں۔ بندے صرف اتنا کر سکتے ہیں کہ اس کی دی ہوئی عقل کی رہنمائی میں ، اس کی متعینہ حدود کی پابندی کرتے ہوئے اپنے معاملات کی جزوی تنظیم کرتے رہیں۔ حتمی اور آخری فیصلہ اسی کے ہاتھ میں ہے۔
اقتدارِ اعلیٰ مکمل اور بلا شرکت غیرے اللہ کو حاصل ہے اور اللہ کے احکامات کی پیروی بنیادی اہمیت کی حامل ہے لیکن اس اقتدارِ اعلیٰ کے نفاذ کے لئے رسول ﷺ اور امیر کی اطاعت کو بھی لازم قرار دیا گیا ہے۔ النساء کی آیہ 59 میں ارشاد ہوتا ہے۔
’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرو رسول ﷺ کی اور ان لوگوں کی جو تم میں سے اولی الامر ہوں۔ پھر اگر تمہارے درمیان کسی معاملے پر نزاع ہو جائے تو اسے اللہ اور رسول ﷺ کی طرف پھیر دو، اگر تم اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتے ہو۔‘‘
اس آیہ کا واضح مطلب یہ نکلتا ہے کہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اطاعت اولاً سب پر مقدم ہے، اور صاحب اقتدار یعنی خلیفہ کی اطاعت اللہ اور رسول ﷺ کی اطاعت کے تحت ہی ہو سکتی ہے۔ خلیفہ کو صاحب ایمان ہونا چاہئے اور لوگوں کو حکومت اور حکام سے اختلاف کرنے کا حق ہر حال میں حاصل رہے گا۔ کسی طرح سے اختلاف کے حل نہ ہو پانے کی صورت میں آخری اور حتمی سند اللہ اور رسول ﷺ کا قانون ہے۔ اختیارات کا منبع اور قوت کا سرچشمہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ حکومت کے اختیارات محدود اور قانونِ الٰہی کے تابع ہوتے ہیں۔ حکومت کوئی ایسا حکم نہیں دے سکتی اور نہ ہی کوئی ایسی پالیسی اختیار کر سکتی ہے جو ان قوانین کے دائرے سے باہر ہو۔
چونکہ قوانین الٰہی کا اطلاق بلا تمیز منصب ہر ایک پر ہوتا ہے، اس لئے قانونی مساوات اسلامی جمہوریہ کا دوسرا اہم وصف بن کر سامنے آتا ہے۔ اسلام یقیناً مساوات کا درس دیتا ہے لیکن یہ بھی ذہن میں رہے کہ یہ مساوات مطلق نوعیت کی نہیں ہوتی۔ ہو بھی کیسے سکتی ہے؟ ڈھونڈے سے بھی کوئی دو فرد ایسے نہ ملیں گے جو ہر اعتبار سے برابر ہوں۔ انسانوں کی ذہنی اور جسمانی صلاحیتوں میں کہیں نہ کہیں فرق ہوا ہی کرتا ہے۔ کوئی کسی اعتبار سے برتر اور کسی اعتبار سے کمتر ہو سکتا ہے۔ اس لئے اسلامی جمہوریہ کی مساوات کا اطلاق قانون اور شہری حقوق کے اعتبار سے کیا جاتا ہے۔ اس مساوات کا سب سے اعلیٰ پہلو یہ ہے کہ یہ اسلامی معاشرے کے ہر فرد کو ترقی کرنے اور آگے بڑھنے کے یکساں مواقع فراہم کرتی ہے۔ رنگ، نسل، ذات پات، جنس، عمر اور سماجی مرتبے کی کوئی قید نہیں لگاتی۔ معاشرتی مساوات کا یہ وہ پہلو ہے جسے دنیا کی بڑی بڑی حکومتیں بھی اپنے ہاں پوری طرح رائج نہیں کر سکیں۔ 
اسلامی جمہوریہ کے اراکین پر امیر کی اطاعت واجب قرار دی گئی ہے لیکن اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اطاعت کو اطاعت امیر پر مقدم رکھا گیا ہے۔ گویا حقیقی معنوں میں ایک مسلمان صرف اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کا پابند ہوتا ہے اور باقی تمام پابندیوں سے آزاد۔ ربِ کائنات نے اس کے لئے جو حدود مقرر کر دی ہیں ان کے اندر رہتے ہوئے وہ جو چاہے کہہ سکتا ہے، کر سکتا ہے۔ عرفِ عام میں اسے آزادیِ تحریر و تقریر و ضمیر کہا جاتا ہے، اور عصر حاضر میں انسانی حقوق کے حوالے سے ان آزادیوں کو نمایاں ترین مقام حاصل ہے۔ ذرا دیکھئے کہ جن آزادیوں کو عام کرنے کا ڈھنڈورا مغربی آج پیٹ رہے ہیں ، اسلامی جمہوریت نے آج سے چودہ سو سال قبل اس وقت یہ آزادیاں اپنے شہریوں کو فراہم کر دی تھیں جب مغرب میں ایسے تصور کا نشان تک نہیں تھا۔
ان آزادیوں کی رُو سے، مملکت اسلامیہ کے ادنیٰ ترین درجے کے شہری کو بھی حق حاصل ہے کہ وہ ریاست کے سب سے بڑے عہدیدار پر نکتہ چینی کرے اور کسی طرح کی کوتاہی کے اشتباہ پر اس سے جواب طلبی کرے۔ حضرت عمر فاروقؓ کا وہ مشہور و معروف واقعہ تو سب کو یاد ہوگا جب بھرے مجمعے میں ایک عام شخص نے ان سے پوچھ لیا تھا کہ آپ کے بدن پر موجود قمیص مالِ غنیمت میں آئی چادر سے بنی ہے، سب کی طرح آپ کے حصے میں بھی ایک ہی چادر آئی تھی اور آپ کی قامت کے لحاظ ایک چادر کا کپڑا آپ کی قمیص کے لئے ناکافی ثابت ہوتا۔ پھر یہ قمیص کیسے بنی، کیا آپ نے اپنے حصے سے زیادہ وصول کیا؟ اور اس پر حضرت عمرؓ کے بیٹے کو آگے بڑھ کر اپنے والد کے حق میں گواہی دینا پڑی کہ میں نے اپنے حصے کی چادر بھی اپنے والد کے حوالے کر دی، اس لئے اس قمیص کی تیاری ممکن ہو سکی۔ امیر المومنین نے یہ اعتراض پیشانی پر کوئی بل ڈالے بغیر سنا، اور اسے نظرانداز کرنے کے بجائے اپنی پوزیشن صاف کرنا زیادہ ضروری خیال کیا۔
اظہارِ رائے کی آزادی کی وہ زریں مثال بھی آپ سب نے سن رکھی ہوگی کہ جب حضرت عمرؓ نے ایک دفعہ خطبے کے دوران لوگوں کو بیویوں کا مہر زیادہ مقرر کرنے سے منع فرمایا تو حاضرین میں سے ایک خاتون اٹھ کھڑی ہوئیں اور بولیں : ’’اے عمر! آپ کو یہ حق کس نے یا کہ آپ عورتوں کا وہ حق غصب کریں جو انہیں خدا نے دیا ہے۔‘‘ اس کے بعد انہوں نے قرآن کی یہ آیت پڑھی۔
’’اگر تم ایک بیوی کو چھوڑ کر اس کی جگہ دوسری لانے کی خواہش کرو، تو پہلی کو جو کچھ دیا ہے، وہ واپس نہ لو خواہ وہ خزانہ ہی کیوں نہ ہو۔‘‘ (نساء: 20)
ان کی یہ دلیل سن کر حضرت عمرؓ نے سب کے سامنے اعتراف کیا۔ ’’عورت نے ٹھیک کہا اور عمر نے غلطی کی۔‘‘
اس دور کے معاشرے کے حوالے سے دیکھا جائے تو اظہارِ رائے کی آزادی کی اس سے بڑی مثال پیش کرنا ناممکن ہے۔
اظہارِ رائے، تحریر، تقریر اور ضمیر کی آزادیاں سب کو حاصل ہیں البتہ ان کے غلط استعمال کی سختی سے ممانعت کی گئی ہے۔ کسی کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ آزادیِ گفتار کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے کسی کا مضحکہ اڑائے یا اسے بدنام کرنے کی کوشش کرے۔ اسلامی نکتہ نگاہ سے ایسا کرنا جرم ہے اور اس کے لئے باقاعدہ سزا مقرر ہے۔ سورۂ نور کی آیت 4 میں ارشاد ہوتا ہے:
’’اور جو لوگ پاکباز عورتوں پر زنا کا الزام لگائیں اور پھر (اپنے الزام کی تائید میں ) چار گواہ پیش نہ کر سکیں ، انہیں اسی کوڑے لگاؤ، اور پھر آئندہ کسی معاملے میں ان کی شہادت کو قبول نہ کرنا، اور یہی لوگ ہیں جن کا شمار فاسقوں میں ہوتا ہے۔‘‘
بہرحال، اسلامی حکومت کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ از خود قانون سازی کر کے اپنے شہریوں کو ان حقوق سے محروم کرنے کی کوشش کرے۔ اس کے علاوہ اس کا یہ بھی فرض ہے کہ اپنے عوام کو عقیدے کی آزادی فراہم کرے۔ اسلام بنیادی طور پر آزادی اور وسعت النظری کا دین ہے۔ اس میں لوگوں کو طاقت کے ذریعے نہیں بلکہ قوی دلائل کے ذریعے اپنا پیروکار بنانے کی حکمت عملی کو مقدم رکھا جتا ہے۔ سورہ بقرہ کی آیت 256 میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:
’’دین میں کوئی جبر نہیں ہے۔ ہدایت کو گمرہی سے الگ کر دیا گیا لہٰذا جو کوئی طاغوت کو جھٹلا تا اور اللہ پر ایمان لاتا ہے، بے شک اس نے سب سے مضبوط سہارے کو تھام لیا، جو کبھی ٹوٹتا نہیں ، اور اللہ سب سنتا اور سب جانتا ہے۔‘‘
جبر اور زبردستی کا ویسے بھی دین میں کوئی حصہ نہیں۔ دین کا انحصار ایمان اور نیت پر ہوتا ہے، اور یہ چیزیں کسی پر ٹھونسی نہیں جا سکتیں۔ اللہ نے دین اسلام کے روپ میں سیدھی راہ سب کے ملاحظے اور غور و فکر کے لئے سامنے رکھ دی، اور اختیار دے دیا کہ چاہو تو یہ راہ چن لو اور چاہو تو جہنم کو جانے والے راستے پر چل پڑو، ہم نے سب کچھ تمہاری مرضی پر چھوڑا۔ کسی انسان کو یہ حق نہیں دیا گیا کہ وہ کسی دوسرے انسان کو زبردستی اس کی مرضی کے راستے سے ہٹا کر اپنی مرضی کے راستے پر چلنے پر مجبور کرے۔ اس وصف کی بدولت، اسلامی ریاست میں غیرمسلم اپنی روایات، عقیدے اور تہذیب کے مطابق زندگی بسر کر سکتے ہیں اور ان کے مذہبی حقوق کا اسی طرح تحفظ کیا جائے گا جس طرح مسلمانوں کے مذہبی حقوق کا۔ یہ صرف آزادیِ مذہب کا نہیں ، بلکہ اسلامی حکومت کے چوتھے اہم وصف، عدل و انصاف کا بھی تقاضا ہے۔
عدل کے معاملے میں اسلام میں کہیں کوئی لاگ لپٹ نہیں رکھی گئی۔ قانون کی خلاف ورزی کرنے والا ہر فرد مستوجب سزا ہے، خواہ وہ کسی بھی طبقے سے تعلق رکھتا ہو۔ اس وصف کا سنگ بنیاد حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ان تاریخی کلمات پر رکھا گیا، جو آپ نے ان لوگوں سے کہے تھے جو چوری کے جرم میں ہاتھ کاٹنے کی سزا پانے والی ایک اعلیٰ قبیلے کی فاطمہ نامی عورت کے معاشرتی رتبے کا لحاظ کرتے ہوئے اس کی معافی کے لئے سفارش لے کر آئے تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’یاد رکھو، تم سے پہلے کی قومیں اس لئے تباہ ہو گئیں کہ جب ان میں کوئی بڑا آدمی جرم کرتا تھا تو اس سے چشم پوشی کی جاتی تھی، اور جب کوئی چھوٹا آدمی جرم کرتا تھا تو اسے سخت سزا دی جاتی تھی۔ خدا کی قسم، اگر محمد (ﷺ) کی بیٹی فاطمہ بھی یہ جرم کرتی تو اسے بھی یہی سزا دی جاتی۔‘‘
اسلامی قانون کی نگاہ میں سب برابر ہیں۔ مسلم اور غیرمسلم کی اس میں کوئی تخصیص نہیں۔ مسلمانوں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ مقدمات کا فیصلہ مساوات اور عدل کے معیارات کو ملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے کریں۔ سورۂ نسا کی آیت 58 میں آتا ہے:
’’اور جب بھی لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو عدل سے کام لو۔‘‘
اس اعتبار سے پوری امت مسلمہ پر انصاف کے عمل کی حفاظت کی ذمہ داری عائد کی گئی ہے۔ حکمران پر یہ ذمہ داری اس کے مقام کے حوالے سے اور بھی خصوصیت کے ساتھ لاگو ہوتی ہے۔ یہ بھی ملحوظِ خاطر رہے کہ نظامِ عدل محض قانون کی بالادستی برقرار رکھنے پر ختم نہیں ہو جاتا بلکہ معاشرت کے دوسرے شعبوں پر بھی محیط رہتا ہے۔ عدل کا تقاضا یہ بھی ہے کہ معاشرے کے تمام طبقات کے ساتھ یکساں سلوک کیا جائے، سب کو یکساں حقوق حاصل ہوں اور سب کو آگے بڑھنے اور خود کو بہتر بنانے کے یکساں مواقع فراہم کئے جائیں۔ اگر اسلامی معاشرے میں کسی گروہ کو امتیازی سلوک کی جائز شکایت ہو، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ حکمران عدل و انصاف کے تقاضوں کو پورا نہیں کر سکا، اور اب اسے مملکت اسلامیہ کی سربراہی کا حق نہیں سوائے اس کے کہ وہ اس گروہ کی شکایت بہ تمام و کمال اور جلد از جلد دور کر دے۔
ایسے امور سے قطع نظر، اسلامی جمہوریہ کے حکمران کا فرض ہے کہ وہ امن و امان قائم رکھے، ریاست کے مختلف گروہوں میں کشیدگی پیدا نہ ہونے دے، طاقت ور کے مقابلے میں کمزور کی حفاظت کرے، بد اعمالوں کو سزا دے اور مظلوم کے حقوق کی پاسبانی کرے۔ مقدمات کا فیصلہ کرنے کے لئے ایسے افراد کا تقرر کرے جو قانونِ شریعت سے کماحقہ واقف ہوں ، متقی اور پرہیزگار ہوں ، بے داغ کردار کے مالک ہوں اور خود کو صرف ریاست نہیں ، اللہ کے سامنے بھی جواب دہ خیال کریں۔ 
اسلامی قانون کی نگاہ میں چھوٹے بڑے میں کوئی فرق نہیں۔ کوئی شخص اس حوالے سے کسی خصوصی حق کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔ جرائم کے ارتکاب پر سزا میں کوئی رعایت نہیں برتی جا سکتی البتہ اسلامی حکومت جرائم کی سزا سے زیادہ زور اس بات پر دیتی ہے کہ جرائم کے وقوع پذیر ہونے کا روکا جائے۔ اس کے لئے معاشرے کی اصلاح ضروری ہے اور یہ کام حکومت کے اہم ترین فرائض میں داخل ہے۔ اس طرح اصلاح و فلاح اسلامی جمہوریت کے پانچویں وصف کے طور پر سامنے آتے ہیں۔ 
اچھا معاشرہ وہی ہے جس میں امن و امان اور انصاف کا دور دورہ ہو اور یہ امتیاز معاشرے کی اصلاح اور ارکانِ معاشرہ کی فلاح کے بغیر حاصل نہیں ہو سکتا۔ اسی لئے اسلام نے ایسے تمام کاموں کو ممنوع قرار دیا ہے جن سے اصلاح ِ معاشرہ میں خلل واقع ہو یا ارکانِ معاشرہ کی فلاح میں رکاوٹ آئے۔ جھوٹ بولنا، چوری کرنا، ڈاکہ ڈالنا، کاروبار میں بددیانتی سے کام لینا، قتل کرنا، فحاشی و عیاشی کا ارتکاب کرنا، تہمت اور بہتان تراشی کرنا، جوا کھیلنا، شراب نوشی کرنا، یہ سب ایسے کام ہیں جو معاشرے کی اصلاح اور فلاح میں رکاوٹ پیدا کرتے ہیں۔ اسلام نے ان کاموں کو نہ صرف ممنوع قرار دیا بلکہ ان کے مرتکب ہونے والوں کے لئے سخت سزائیں بھی مقرر کی ہیں۔ 
اسلامی حکومت کا چھٹا اہم وصف اور ذمہ داری تبلیغ دین ہے۔ اسلامی شریعت کی اصطلاح میں تبلیغ سے مراد ہے خدا تعالیٰ کا پیغام اور اس کے احکام وضاحت کے ساتھ بندوں تک پہنچانا، انہیں نیکی کی تلقین کرنا اور برائی سے روکنا۔ تبلیغ مسلم اور غیرمسلم دونوں کے لئے یکساں طور پر ضروری ہے۔ مسلمان کو تبلیغ کرنے کا مقصد اسے برائی سے روکنا اور نیکی کی طرف سے راغب کرنا ہے جبکہ غیرمسلم کو تبلیغ کرنے کا مقصد اسے دین ربانی سے آگاہ کرنا اور دائرہ اسلام میں داخل ہونے کی دعوت دینا ہے تاکہ وہ بھی اس ابدی فلاح کا مستحق قرار پا جائے جس کا اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر ایمان رکھنے والوں سے وعدہ کیا گیا ہے۔
تبلیغ کی تاکید ہمیں قرآن سے ملتی ہے اور اسوۂ رسول ﷺ سے اس کی تصدیق ہوتی ہے۔ سورۂ شوریٰ کی آیت 15 میں ارشاد ہے:
’’پس لوگوں کو دعوت دو اور استقامت اختیار کرو جیسا کہ تمہیں حکم دیا گیا ہے۔‘‘
حجۃ الوداع کے موقع پر اپنے آخری خطبہ میں رسولِ پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’دیکھو! جو لوگ موجود ہیں ، وہ ان کو، جو موجود نہیں ہیں ، یہ باتیں پہنچا دیں۔ ممکن ہے وہ لوگ ان باتوں کی تم سے زیادہ حفاظت کرنے والے اور یاد رکھنے والے ہوں۔ ‘‘
اس اہم ذمہ داری کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جس جانفشانی اور کاوش سے پورا کیا، وہ ہم سب کے لئے ایک مثال ہے۔ تبلیغ دین کی راہ میں آپ ﷺ نے کیسی کیسی تکلیفیں نہیں اٹھائیں۔ آپؐ کے اپنے خاندان والوں نے آپؐ کی مخالفت کی، آپ کا معاشی و معاشرتی مقاطعہ کیا، آپ ﷺ کو طعنے دیئے اور دشنام طرازی کا ہدف بنایا، آپﷺ کو ہجرت کرنے پر مجبور کیا، آپﷺ کے خلاف جنگیں لڑیں ، آپ ﷺ کو شعب ابی طالب میں تین سال تک محصور رہنا پڑا، طائف والوں کے پتھر برداشت کرنا پڑے، دشمنانِ اسلام کی سازشوں کا مقابلہ کرنا پڑا مگر کسی بھی مرحلے پر آپ ﷺ کے پائے استقلال میں لغزش نہیں آئی۔ آپ ﷺ پوری اسقامت سے تبلیغ دین کے کام میں لگے رہے اور نتیجہ یہ کہ 23 سال کے قلیل عرصے میں پورا جزیرۂ عرب حلقہ بگوش اسلام ہو گیا۔
آپ ﷺ کے خلفاء نے بھی اس ذمہ داری کو نبھانے کی روایت جاری رکھی اور انہی پر موقوف نہیں ، ہر مسلمان نے اسے اپنی ذمہ داری سمجھا۔ عرب کے تاجروں کی بدولت اسلام دنیا کے ان حصوں میں بھی پہنچ گیا، جہاں اسلامی فتوحات کے قدم نہیں پہنچ پائے تھے۔ تبلیغ کی ذمہ داری صرف اسلامی جمہوریہ کی حکومت کی نہیں ، بلکہ ہر مسلمان شہری کی ہے، اور فریضہ تبلیغ انجام دیتے ہوئے قتل کر دیئے جانے والے کو افضل تر شہادت کا مرتبہ دیا گیا ہے۔
تبلیغ دین محض غیرمسلموں کو حلقہ اسلام میں داخل ہو جانے پر آمادہ کر لینے کا ہی نام نہیں ، بلکہ افرادِ معاشرہ کو غلط کاموں سے روکنا اور اچھے کاموں کی طرف مائل کرنا بھی تبلیغ کا ایک حصہ ہے۔ ایسا کرنے کے لئے ضروری ہے کہ مبلغ خود بھی انہی اوصاف کا حامل ہو جن کے اختیار کرنے کی تلقین وہ دوسروں کو کرنا چاہتا ہے۔ یعنی وہ اسی فعل کی تبلیغ کرے، جس پر وہ خود کاربند ہے۔ لہٰذا جب کوئی مسلمان تبلیغ کا وصف اختیار کرنے کی سوچ دل میں لاتا ہے، تو سب سے پہلے اس کی نگاہ اپنی خامیوں اور عیوب پر پڑتی ہے، اور تبلیغ کے معیار پر پورا اترنے کے لئے وہ پہلے انہیں دور کرنے کی فکر کرتا ہے۔ یوں ایک فرد کی اصلاح سے معاشرے کی اصلاح کی راہ ہموار ہوتی ہے، اور چراغ سے چراغ جلتے چلے جاتے ہیں۔ 
ساری بحث کے خلاصے میں اسلامی جمہوریہ کی بنیادی خصوصیات جو ہمارے سامنے آتی ہیں ، مختصر ترین الفاظ میں وہ یوں شمار کی جائیں گی کہ اسلامی جمہوریہ میں :
٭	اقتدارِ اعلیٰ کا مالک صرف اللہ تعالیٰ کو تسلیم کیا جاتا ہے، اور کسی فرد یا جماعت کو حق حاصل نہیں کہ وہ اس کی قائم کردہ سے تجاوز کی مرتکب ہو۔
٭	مساوات، خصوصاً قانونی مساوات کو مقدم رکھا جاتا ہے۔ قانون کی نگاہ میں چھوٹے بڑے، کالے گورے، عربی عجمی، مسلم غیرمسلم کی کوئی تخصیص نہیں ہوتی۔ معاشرتی مساوات کا بھی التزام کیا جاتا ہے اور سب کو یکساں طور پر ریاست کے وسائل سے مستفید ہونے اور ترقی کرنے کا حق حاصل ہوتا ہے۔
٭	اسلامی جمہوریہ کے ہر شہری کو تقریر، تحریر، ضمیر اور عقیدے کی آزادی حاصل ہوتی ہے لیکن اس شرط کے ساتھ کے وہ ان آزادیوں کا غلط استعمال کر کے دوسروں کو ایذا پہنچانے کا مرتکب نہ ہو۔ ایسا کرنے والے کے لئے اسلامی قانون نے سخت سزائیں مقرر کی ہیں۔ 
٭	عدل کو ہر شعبہ زندگی، خصوصاً شعبہ قانون میں ملحوظِ خاطر رکھا جاتا ہے، اور اگر حکمران عدل و انصاف کے تقاضوں پر پورا نہ اتر سکے تو اسے اپنے منصب پر برقرار رہنے کا حق حاصل نہیں۔ 
٭	معاشرے کی اصلاح اور ارکانِ معاشرہ کی فلاح پر خصوصی توجہ رکھی جاتی ہے اور ایسا معاشرتی ماحول تشکیل دیا جاتا ہے جس میں تمام شہری امن اور سکون کے ساتھ زندگی بسر کر سکیں۔ 
٭	تبلیغ دین کو اہم فریضہ سمجھا جاتا ہے کیونکہ انسان کی حقیقی فلاح راہِ راست پر گامزن ہو جانے میں ہی مضمر ہے۔ تبلیغ دین نہ صرف دائمی فلاح کی راہ ہموار کرتی ہے بلکہ صالح ارکانِ معاشرہ کے ظہور کا سبب بھی بنتی ہے۔
اسلامی جمہوریہ کے اوصاف اور ذمہ داریاں آپ نے ملاحظہ کر لیں۔ اب ان پر تھوڑی دیر غور کیجئے، سوچئے اور مجھے بتایئے کہ دنیا کا کون سا ملک ایسا ہے جہاں حقیقی جمہوریت قائم ہے، اور وہاں یہ اوصاف (بجز پہلے وصف کے) موجود نہیں ، یا انہیں حاصل کرنے کی کوشش نہیں کی جا رہی یا کون سی ذمہ داری ایسی ہے جسے نبھانا ضروری خیال نہیں کیا جاتا؟ رنگ بھلے کوئی اور سہی، لیکن اصل تو سب کی ایک ہے۔ ہر حقیقی جمہوریت میں تمام شہریوں سے مساوی سلوک کیا جاتا ہے اور قانون کی نگاہ میں سب کو برابر سمجھا جاتا ہے، شہریوں کو تحریر و تقریر اور احتجاج و احتساب کی آزادیاں فراہم کی جاتی ہیں ، عدل کو ملحوظِ نگاہ رکھا جاتا ہے، معاشرے کی اصلاح اور شہریوں کی فلاح کو اولین ترجیحات میں شامل کیا جاتا ہے اور علم و تعلیم کے ذریعے معاشرے کے شہریوں کو ایک بہتر انسان بنانے کی کوشش کی جاتی ہے۔
یہ اسلامی جمہوریت کے خد و خال اجاگر کرنے کی ہماری کوشش کا پہلا مرحلہ تھا، اور اسی میں آپ نے بخوبی دیکھ لیا ہوگا کہ جمہوریت اور اسلامی نظامِ حکومت میں کتنا کچھ فرق پایا جاتا ہے۔ اب بات کو آگے بڑھاتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ اسلامی جمہوریہ میں ریاست یعنی حکومت کے مقاصد کیا ہوتے ہیں اور ان کا حصول کیسے ممکن بنایا جاتا ہے۔

اسلامی حکومت کیسی ہوتی ہے؟

کسی بھی حکومت کے بنیادی فرائض میں ملک و معاشرے کی اقتصادی ترقی کا اہتمام کرنا، ارکانِ معاشرہ کو تعلیم و تحقیق کے مواقع فراہم کرنا، صحت عامہ کی سہولیات ہر ایک تک پہنچانا، عام استفادے کے نظام مثلاً مواصلات اور توانائی وغیرہ قائم کرنا، افراد کو معاشرتی تحفظ فراہم کرنا اور اخلاقی و معاشرتی اصلاح کا بندوبست کرنا شامل ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ، جدید جمہوری اصولوں کے حوالے سے خصوصی طور پر اظہارِ رائے اور عقیدے کی آزادی فراہم کرنا بھی کسی حکومت کے فرائض میں نمایاں مقام رکھتا ہے۔ گذشتہ سطور میں ہم دیکھ چکے ہیں کہ اسلامی جمہوریہ ان سب اوصاف کی حامل ہوتی ہے اور ان سب فرائض کو بہ طریق احسن نبھاتی ہے۔ اب ہم دیکھتے ہیں کہ بہ حیثیت ریاست، ایک اسلامی جمہوریہ کے مقاصد کیا ہوتے ہیں اور انہیں کیسے حاصل کیا جاتا ہے۔ ایک عمومی سطح پر ان مقاصد کو مختصر الفاظ میں یوں بیان کیا جا سکتا ہے:
ایک ایسا معاشرہ تشکیل دیا جائے جس میں اجتماعی اطاعت کا تصور مضبوط ہو، ایک مبسوط اور منظم معاشی نظام قائم کیا جائے جس سے معاشرے کے تمام طبقات یکساں طور پر فائدہ اٹھا سکیں ، معاشرے میں عمدہ اوصاف کی ترویج کی جائے اور منکرات کے انسداد کا اہتمام کیا جائے، تمام سطحوں پر عدل کو فروغ دیا جائے اور شریعت کے مصالح کا تحفظ کیا جائے۔
یہ وہ مقاصد ہیں جن کا حصول ایک اسلامی حکومت پر روزِ اول سے لازم قرار دیا گیا ہے اور غور کیجئے تو آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ عصر حاضر میں ہر حقیقی جمہوریہ بھی انہی کے پورا کرنے کی تگ و دو میں مصروف ہے۔ دیکھتے ہیں کہ اسلامی فکر و اصول کی روشنی میں ان مقاصد کی اہمیت کیا ہے اور ان کے حصول کے لئے کیا کیا طریق ہائے کار مقرر کئے گئے ہیں۔ 
بینیڈکٹ سپنوزا اپنی مشہورِ زمانہ کتاب ’’ایتھکس (Ethics)‘‘ میں انسان کو ایک ’’معاشرتی حیوان‘‘ قرار دیتا ہے، اور برطانوی ماہر قانون ولیم بلیک سٹون کے بقول: ’’انسان کی تخلیق معاشرے کے لئے کی گئی تھی۔‘‘ گویا انسان کی انسانیت اس سے اجتماعیت کا تقاضا کرتی ہے۔ معاشرے سے کٹ کر زندگی گزارنا اس کی فطرت کے خلاف ہے، اور آدم بیزاری کو ایک غیر معمولی رویہ سمجھا جاتا ہے۔ آدم علیہ السلام بھی جنت کی تمام تر رعنائیوں اور دلفریبیوں کے باوجود ایک رفیق کی خاطر اداس ہو گئے تھے۔
ابتدائے آفرینش سے ہی انسان نے پہلے رفیق کی ضرورت محسوس کی، اس کے بعد خاندان کی۔ خاندان سے قبیلوں نے جنم لیا، قبیلوں سے بستیوں نے، بستیوں سے ریاستوں نے اور ریاستوں سے معاشروں نے۔ عالم کی وسعت اور اس سے ناواقفیت انسان میں عدم تحفظ کا جو احساس پیدا کرتی ہے، اس کا علاج اس نے رفاقت اور اجتماعیت میں ڈھونڈا اور اس خواہش کے زیر اثر بڑے بڑے شہر اور تہذیبیں قائم ہوئیں۔ 
مادی اور فکری لحاظ سے انسان خواہ کتنی ہی ترقی کیوں نہ کر جائے، اس کی بنیادی ضرورتیں اور جبلتیں ہمیشہ یکساں رہیں گی۔ اسے آج بھی اجتماعیت کی اتنی ہی ضرورت ہے جتنی آج سے ہزاروں سال پہلے تھی، اور اجتماعیت حاصل کرنے کے لئے ضرورت ہے ایک مرکز کی جس پر سب اکٹھے ہو سکیں۔ کبھی یہ مرکز انسان نے خطے اور مفاد کی بنیاد پر تلاش کیا، کبھی رنگ اور نسل کی بنیاد پر، کبھی زبان اور اطوار کی بنیاد پر اور کبھی مذہب کی بنیاد پر۔ ایسے مراکز نے رفتہ رفتہ وسیع ہو کر قومیت کی شکل اختیار کر لی۔
قومیت کے تصور نے ترقی پائی اور ایک عام تصور یہ رائج ہو گیا کہ جو انسان، جس خطے کا باسی ہے، اس کی قومیت بھی وہی ہے۔ گویا ہندوستان میں رہنے والے سب کے سب ہندوستانی ہی کہلائیں گے، خواہ مذہب، رنگ، نسل اور زبان کے حوالے سے ان میں کتنے ہی تفرقات کیوں نہ پائے جائیں۔ ایک ملک کے رہنے والے کے لئے دوسرے ملک کا باشندہ اجنبی، عجیب اور بعض حالات میں قابل نفرت ٹھہرا۔ قومی امتیاز کے اس تصور نے مختلف ممالک کو ایک دوسرے پر حملہ آور ہونے، اور دوسروں کو اپنے رنگ میں رنگنے کے لئے انہیں اپنا مطیع بنانے پر آمادہ کیا۔ انسانوں کے مابین پائے جانے والے اختلافات کی سب سے بڑی وجہ قومیت کے روپ میں سامنے آئی۔
اسلام کی آمد نے قومیت کا یہ تصور باطل کر دیا، اور علاقائی قومیت کی جگہ دینی قومیت کا وسیع بلکہ عالمگیر تصور دیا۔ قومیت کی بنیاد پر آباد ہونے والے معاشروں میں وسعت کے ساتھ تنازعات نے بھی جنم لیا تھا جن میں سے کئی ایک کا تعلق زندگی کے ایسے امور سے تھا جن کے متعلق پیش از وقت کوئی پیش گوئی کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ اسلام پہلا دین تھا جس نے ہر طرح کی غیر متوقع صورتِ حال کی پیش بندی کی، اور ایسے جھگڑوں کے پیدا ہونے سے پہلے ان کا سدباب کر دیا۔ اسلامی قوانین کی بنیاد رکھی ہی اس اصول پر گئی تھی کہ سزا سے زیادہ سزا کا خوف کارآمد ہوتا ہے کیونکہ یہ جرائم اور جھگڑوں کو پیدا ہونے سے پہلے ہی روک دیتا ہے۔ شرعی قوانین، خواہ ان کا تعلق جرمیات سے ہو، گھریلو معاملات سے ہو یا معاشرتی حالات سے، ناخوشگوار صورتِ حال کے پیدا ہونے سے پہلے اس کا سدباب کرنے کے لئے بنائے گئے ہیں۔ 
اسلام کے مضبوط اور ہمہ گیر قوانین نے معاشرتی استحکام کو فروغ دیا، اور معاشرتی اجتماعیت کو مزید مضبوط بنانے کے لئے، عبادات کے ایک غالب حصے کی بنیاد بھی اجتماعیت پر رکھی گئی۔ نماز، حج اور جہاد جیسے ارکانِ دین نے اجتماعیت کو جس انداز میں مستحکم کیا، اس کی مثال کہیں اور سے حاصل نہیں کی جا سکتی۔ خصوصاً نماز جو اسلامی عبادات کا نمایاں ترین رکن ہے۔ نماز کی ادائیگی میں انسان کی تمام حرکات و سکنات اللہ کے احکام کی پابند ہو جاتی ہیں۔ ایک امام کے پیچھے صف آراء ہوتے ہی محمود اور ایاز کے تمام امتیازات مٹ جاتے ہیں۔ یہاں دنیاوی مرتبے کے حوالے سے کسی کو کسی پر کوئی فوقیت حاصل نہیں ہوتی۔ جو پہلے پہنچتا ہے، آگے جگہ پاتا ہے، اور بعد میں آنے والوں کو پیچھے رہنے کا حکم دیا جاتا ہے۔ نماز کی قبولیت کا انحصار اپنے خشوع و خضوع پر ہوتا ہے، اور دیگر عبادات یا دنیاوی معاملات کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔
نماز کی اہمیت اور افادیت پر کوئی تبصرہ کرنا غیر ضروری ہوگا۔ ہر ایک مسلمان اس کے دینی اور دنیاوی فوائد سے بخوبی واقف ہے۔ قران نے دنیاوی شرف کی حقیقت کا تعین بھی نماز سے ہی کیا ہے۔ سورہ الحج کی آیت 41 میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
’’یہ وہ لوگ ہیں جنہیں ہم زمین میں اقتدار عطا کریں تو نماز قائم کریں گے اور زکوٰۃ دیں گے اور نیکی کا حکم دیں گے اور بری باتوں سے روکیں گے، اور تمام امور کا انجام اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے۔‘‘
اس آیہ مبارکہ سے قیامِ اجتماعیت کے بعد ریاست اسلامیہ کے اگلے تین مقاصد کی بھی نشاندہی ہوتی ہے یعنی معاشی استحکام کا فروغ، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر۔
قومی استحکام سے معاشی استحکام کا ربط کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ جرائم اور معاشرتی برائیوں کی غالب تعداد غربت کی کوکھ سے ہی جنم لیتی ہے اور تاریخ عالم کے بڑے بڑے انقلابوں کی بنیاد معاشی محرکات پر ہی رکھی گئی۔ کمیونزم اور سوشلزم جیسے فلسفہ ہائے حیات، جنہوں نے کرۂ ارض کا نقشہ بدل دیا، معاشیات کے اصولوں سے ہی اخذ کئے گئے تھے۔
صحیح بخاری کی روایت کے مطابق حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جن چیزوں سے اللہ کی پناہ طلب کی، ان میں سے ایک غربت بھی ہے، ایک اور حدیث کے مطابق، غربت انسان کو کفر تک پہنچا دیتی ہے۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جسے ہر دور میں تسلیم کیا گیا ہے۔ سترہویں صدی کا برطانوی ڈرامہ نگار تھامس ڈیکر ایک جگہ لکھتا ہے:
’’ایک غریب دانشمند ایک ایسے آسمانی صحیفے سے مماثل ہے جسے کوئی پڑھتا نہیں ، صرف اپنے لئے وہ زندہ ہوتا ہے اور دوسروں کے نزدیک مردہ۔ آج کا دور سونے میں لدے ایک احمق کو زیادہ بہتر سمجھتا ہے، بہ نسبت مکتبہ دانش کے ایک ولی کے جو پھٹے پرانے کپڑوں میں ملبوس ہو۔‘‘
ملکی استحکام کو یقینی بنانے کے لئے حاکم پر پہلا فرض یہ عائد ہوتا ہے کہ وہ معاشرے کے تمام طبقات کے معاشی استحکام کو یقینی بنائے اور ایک ایسا معاشی نظام قائم کرے جو عدم انصاف اور استحصال سے مبرا ہو۔ سنن ابو داؤد میں حضرت ابو مریم الازدی سے روایت ہے کہ رسول پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:
’’اگر اللہ کسی کو مسلمانوں کے امور کا ذمہ دار بنائے، اور وہ خود کو ان سے علیحدہ کر لے، اور ان کی ضرورتوں کی تکمیل اور افلاس کے خاتمے کے لئے اہتمام نہ کرے تو اللہ بھی خود کو اس سے علیحدہ کر لے گا اور اس کی ضرورتوں کی تکمیل اور افلاس کا خاتمہ نہ کرے گا۔‘‘
دین اسلام کا ایک اہم رکن زکوٰۃ اسی غرض سے سامنے لایا گیا کہ معاشرے میں معاشی استحکام کو فروغ دیا جا سکے۔ اس کی اہمیت کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ قرآن میں جہاں جہاں نماز کے قیام کا حکم دیا گیا، وہاں وہاں زکوٰۃ کی ادائیگی کو بھی لازمی قرار دیا گیا۔ گویا اللہ تعالیٰ کی اطاعت محض ذاتی عبادات سے مکمل نہیں ہو سکتی، اور اسے مکمل بنانے کے لئے ضروری ہے کہ خدا نے ہمیں جو کچھ عطا کیا ہے، اس میں ان لوگوں کو بھی شریک کریں جو کسی نہ کسی وجہ سے معاشی دوڑ میں پیچھے رہ گئے ہیں۔ ریاست اسلامیہ کے ابتدائی دور میں ہی زکوٰۃ کو جس انداز میں تقدیم دی گئی، اس کی شہادت حضرت ابوبکرؓ صدیق کے قول و فعل سے ملتی ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے وصال کے فوراً بعد جب بعض قبائل نے زکوٰۃ کی ادائیگی سے انکار کر دیا تو آپؓ نے انہیں راہِ راست پر لانے کے لئے تلوار بے نیام کر لی اور جب بعض صحابہؓ نے رائے دی کہ منکرین زکوٰۃ کے ساتھ مشرکین و کفار کی طرح جہاد و قتال نہ کیا جائے تو آپؓ نے فرمایا۔ ’’خدا کی قسم، اگر زکوٰۃ کا ایک جانور یا ایک دانہ بھی کوئی قبیلہ ادا نہ کرے گا تو میں اس سے ضرور قتال کروں گا۔‘‘
گذشتہ باب میں ہم اس موضوع پر تفصیلی بحث کر چکے ہیں کہ کسی مملکت کی کامیابی کا معیار عموماً اس کی معاشی کامیابی کو ہی بنایا جاتا ہے۔ ہر ملک میں معاشرتی طبقات کی معاشی مساوات کو حاصل کرنے اور برقرار رکھنے کے لئے زرِ کثیر اور مدتِ مدید کے اصراف محصولات اور اخراجات کا ایک لمبا چوڑا نظام ترتیب دیا جاتا ہے اور ستم یہ ہے کہ، اتنی مشقت اٹھانے کے باوجود اکثر حالات میں یہ مقصد پوری طرح حاصل نہیں ہو پاتا۔ اس کی وجہ سیدھی سی ہے۔ نظام جتنا وسیع اور پیچیدہ ہوگا، اسے چلانے میں دشواریاں پیدا ہونے کے امکانات اتنے ہی قوی ہوں گے۔ ایسی صورتِ حال سے بچنے کے لئے اسلام نے جو معاشی نظام ترتیب دیا، وہ نہایت سادہ اور غیر ضروری پیچیدگیوں سے یکسر پاک ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ یہ نظام جہاں جہاں رائج ہوا، وہاں معاشی ناہمواری کا نشان تک نہ رہا، اور اسلامی مملکت میں ایک وقت ایسا بھی آیا کہ دینے والے ڈھونڈتے پھرتے تھے، اور لینے والا کوئی نہ ملتا تھا۔
معاشی استحکام کے بعد معاشرتی اصلاح کی باری آتی ہے اور اس مقصد کے لئے اسلامی ریاست میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے اصولوں کو رواج دیا جاتا ہے۔
معروف سے مراد ہر وہ کام ہے جو معاشرتی اصلاح اور نشوونما کے لئے مفید ثابت ہو، اور منکر سے مراد اس کا متضاد ہے یعنی ہر وہ کام جو معاشرے میں بگاڑ پیدا کرے اور اس کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ثابت ہو۔
اسلامی ریاست پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ لوگوں کو ایسے کاموں کی ترغیب دلائے جو اللہ کے نزدیک پسندیدہ ٹھہریں اور معاشرے کے دیگر ارکان کے لئے نفع مند ثابت ہوں۔ اگر ترغیب سے کام نہ چلے تو انہیں ایسا کرنے کا حکم دیا جائے اور اگر حکم نہ مانا جائے تو اسے منوانے کے لئے طاقت کا استعمال کیا جائے۔ گویا معاشرتی اصلاح کے تینوں درجے وقت آنے پر استعمال کئے جائیں جیسا کہ فرمانِ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہے کہ برائی ہوتے دیکھو تو ہاتھ سے روک دو، ہاتھ سے نہ روک سکو تو زبان سے منع کرو اور اگر زبان سے بھی منع نہ کر سکو تو دل سے برا سمجھو۔ سورۂ آل عمران کی آیہ 104 میں ارشادِ ربانی ہے:
’’اور تم میں سے لوگوں کا ایک گروہ ایسا نکلنا چاہئے جو لوگوں کو نیکی کی طرف بلائے، اچھے کام کرنے کا حکم دے اور برے کاموں سے روکے، اور یہی وہ لوگ ہیں جو فلاح پائیں گے۔‘‘
گویا یہ ذمہ داری صرف حکمران پر ہی لاگو نہیں ہوتی بلکہ عوام کو بھی اس میں شریک کیا گیا ہے۔ اسی حوالے سے سورۂ مائدہ کی آیت 2 میں ارشاد ہوتا ہے:
’’تقویٰ اور نیکی کے کاموں میں تعاون کریں اور گناہ و ظلم کے کاموں میں تعاون نہ کریں۔ ‘‘
ریاست اسلامیہ کے مقاصد کی مثال چراغ سے چراغ جلنے کی سی ہے۔ ایک چراغ روشن ہوتا ہے، تو اس کی تابش سے دوسرے کو روشن ہونا کا موقع ملتا ہے۔ جب معاشرے میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا نظام رائج ہو جائے تو اگلا مقصد یعنی مصالح شریعت کا تحفظ خودبخود حاصل ہو جاتا ہے۔ مصالح شریعت سے مراد وہ مصالح یا مفادات ہیں جو شریعت اسلامیہ معاشرے کے ہر فرد کو مہیا کرتی ہے۔ ان کی بنیاد پانچ تحفظات پر رکھی گئی ہے جو حسب ذیل ہیں :
1۔	جان کا تحفظ۔ 2۔	مال کا تحفظ۔ 3۔	نسب کا تحفظ۔ 4۔	شہرت یا ساکھ کا تحفظ۔ 5۔	ہوشمندی کا تحفظ۔
اسلامی شریعت کے مطابق، جان کا تحفظ ممکن بنانے کے لئے قتل کو سنگین جرم قرار دیا گیا، اور اس کے لئے قصاص کی سزا مقرر کی گئی۔ مال کا تحفظ ممکن بنانے کے لئے چور کی سزا ہاتھ کاٹنا اور ڈاکو کی سزا ایک ہاتھ اور ایک پاؤں کاٹنا مقرر کی گئی۔ نسب کا تحفظ یقینی بنانے کے لئے زنا کو حرام قرار دیا گیا اور اس کی سزا کوڑے (زانی کے کنوارے ہونے کی صورت میں ) اور سنگساری (زانی کے شادی شدہ ہونے کی صورت میں ) مقرر کی گئی۔ ہوشمندی کا تحفظ بنانے کے لئے تمام ایسی اشیاء کو حرام قرار دیا گیا جو نشہ لا کر عقل و خرد کو ماؤف کرنے کا سبب بنیں ، اور شراب نوشی، جسے جدید مغربی معاشرے کی سب سے بڑی ’’قانونی‘‘ برائی سمجھا جانا چاہئے، کو قابل تعزیر قرار دیا گیا جس کی سزا بعض فقہاء کے نزدیک چالیس اور بعض کے نزدیک اسی کوڑے مقرر ہے۔
مصالح شرعیہ کا تحفظ یقینی بنانے سے معاشرے میں عدل کا قیام ممکن ہوتا ہے۔ جب عدل کا اگلا درجہ مساوات ہے۔ اسلامی قانون میں عدل و مساوات کو جو اہمیت دی گئی ہے، اس کے متعلق گذشتہ سطور میں گفتگو کی جا چکی ہے۔ یہاں صر ف یہ کہنا چاہوں گا کہ اگر عدل کو فروغ نہ دیا جائے تو معاشرے میں ’’جس کی لاٹھی، اس کی بھینس‘‘ کا نظام رائج ہو جائے۔ ہر بڑی مچھلی چھوٹی مچھلی کو کھا جائے، طاقتور اپنے فائدے اور مطلب کے لئے نت نئے قوانین وضع کر لے اور کمزور کو ان کی پابندی کرنے پر مجبور کرے۔ ملکی استحکام خطرے میں پڑنا درکنار، بالکل ہی ختم ہو کر رہ جائے۔
پہلے کی طرح اس بحث کے اختتام پربھی میں آپ سے یہ سوال کرنا چاہوں گا کہ کیا آپ کسی ایسی جدید جمہوری ریاست کا نام بتا سکتے ہیں ، جس کے آئین میں ان مقاصد کا حصول اولین ترجیحات میں شامل نہیں کیا گیا؟ آئندہ مباحث میں بھی آپ پر یہی واضح ہوگا کہ سب جمہوری ریاستوں نے اپنے اصول، اسلام سے ہی اخذ کئے ہیں ، اور جمہوریت اسلامی نظامِ حکومت سے الگ کوئی چیز ہرگز نہیں ہے۔ اگر کوئی طبقہ جمہوریت کو اسلام سے خارج قرار دے تو اس کی وجہ یا تو اس کی لاعلمی ہے یا صریح بدنیتی۔

اسلامی حکومت کا آئین

سیاست کی اصطلاح میں ریاست کے بنیادی قوانین کے مجموعے کو آئین کہا جاتا ہے۔ آئین وہ دستاویز ہے جس پر کاروبارِ حکومت کی بنیاد رکھی جاتی ہے اور جس کے وضع کردہ اصولوں کے مطابق حکومتی ڈھانچے اور اس کے مختلف اجزاء کے اختیارات و فرائض اور باہمی تعلقات کا تعین کیا جاتا ہے۔ حکومت سے قطع نظر، مملکت کے شہریوں کے حقوق و فرائض کا تعین اور حکومت و عوام کے تعلق کی تشریح بھی آئین ہی کرتا ہے۔ بلا خوفِ تردید کہا جا سکتا ہے کہ انتظامِ حکومت کے لئے سیاسی اعتبار سے آئین سے زیادہ اہم دستاویز اور کوئی نہیں ہوتی۔
ایک اچھے آئین کے لئے ضروری ہے کہ وہ واضح اور ابہامات سے پاک ہو، جامع ہو اور تمام حکومتی سرگرمیوں کا احاطہ کرتا ہو، غیر ضروری تفصیلات سے مبرا ہو، اس میں اتنی لچک موجود ہو کہ وقت پڑنے پر اس میں تبدیلی یا اضافہ ممکن ہو سکے، لیکن ایسا ڈھل مل نہ ہو کہ جو چاہے، جیسی چاہے ترامیم اس میں کرتا رہے، اس میں شہریوں کے بنیادی حقوق کی تشریح مکمل طور پر کی گئی ہو، اور سب سے آخری اور ضروری خصوصیت یہ کہ یہ ریاست کے سیاسی، معاشرتی اور اقتصادی حالات سے مطابقت رکھتا ہو تاکہ اسے عامۃ الناس کی حمایت حاصل رہے۔
اسلامی جمہوریہ میں آئین کی بنیاد قرآن وسنت پر رکھی گئی ہے۔ قرآن کے نزول کی بنیادی غرض و غایت ہی یہی تھی کہ امت مسلمہ کے لئے ایک واضح دستور مرتب کر دیا جائے تاکہ کسی معاملے میں کوئی اختلاف پیدا ہونے کی گنجائش نہ رہے۔ اس حوالے سے سورہ نسا کی آیت 105 میں ارشاد ہوتا ہے:
’’ہم نے تم پر یہ کتاب سچائی کے ساتھ نازل کر دی ہے تاکہ جیسا کچھ خدا نے بتلا دیا ہے اس کے مطابق لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو اور خیانت کرنے والوں کی طرفداری مت کرو۔‘‘
اسی طرح سورۂ الشعراء کی آیت 10 میں ارشاد ہوتا ہے:
’’اور (اے رسولﷺ) آپ ان لوگوں سے کہہ دیجئے کہ تمہارے متنازع فیہ معاملات کا فیصلہ اللہ ہی کی طرف سے ہو سکتا ہے۔ اللہ ہی میرا رب ہے، میں اسی پر بھروسہ رکھتا ہوں اور اسی کی طرف ان فیصلوں کے لئے رجوع کرتا ہوں۔ ‘‘
بنیاد کے حوالے سے اسلامی جمہوریہ کا آئین دنیا کا مضبوط ترین آئین ہے کیونکہ اس کا سنگ بنیاد ایک ایسی کتاب ہے جس میں کوئی تبدیلی اور تحریف ممکن نہیں ، اور جس کی حفاظت کا ذمہ ربِ کائنات نے خود لے رکھا ہے۔
اسلامی آئین کے بنیادی ارکان میں سرفہرست حاکمیت الٰہی ہے۔ سورۂ یوسف کی آیت 40 میں ارشاد ہوتا ہے:
’’اس (خدا) کے سوا تم جس کسی کو پوجتے ہو وہ (کھوکھلے) ناموں کے علاوہ اور کچھ نہیں جنہیں تم نے اور تمہارے اجداد نے گھڑ رکھا ہے جن کے لئے اللہ نے کوئی منظوری نازل نہیں کی۔ (صحیح اور غلط کے) فیصلے کا اختیار صرف اللہ ہی کو ہے، اسی کا حکم ہے تم اس کے سوا کسی کی بندگی نہ کرو، یہی صحیح دین ہے مگر زیادہ تر لوگ اسے نہیں جانتے۔‘‘
اس آیت سے صراحت ہو گئی کہ فرمانروائی کا اختیار خدا کے سوا اور کسی کو حاصل نہیں ، اور یہ فرمانروائی محض دینی معاملات پر نہیں بلکہ سیاسی، قانونی اور اخلاقی امور کا بھی احاطہ کرتی ہے۔ احکامات کا نزول اور ان کی اطاعت خدا نے صرف اپنی ذات کے لئے مخصوص کر رکھی ہے اور اس میں کسی شراکت کی کوئی گنجائش نہیں۔ پس اللہ کے اقتدارِ اعلیٰ کا اقرار کئے بغیر کسی اسلامی جمہوریہ کا آئین مکمل نہیں ہو سکتا۔
اسلامی آئین کا دوسرا اہم رکن خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی رسالت کا اعتراف اور ان کے لائے ہوئے دین پر ایمان ہے۔ آپ ﷺ اللہ کے آخری رسول ہیں اور پیغمبروں کی آمد کا سلسلہ آپ کے بعد ختم ہو گیا۔ اللہ کا پسندیدہ دین آپﷺ کے وسیلے سے نوعِ انسانی تک پہنچا۔ آپ ﷺ نے نہ صر ف دین پہنچایا بلکہ اپنے قول اور فعل سے اس کے ہر ایک پہلو کو واضح بھی کیا۔ آپ ﷺ کی سنت، قرآن کے بعد، مسلمانوں کی رہنمائی کا دوسرا بڑا وسیلہ ہے اور اس پر کاربند ہونا ہر مسلمان کا فرض ہے۔ سورۂ نساء کی آیت 80 میں ارشاد ہوتا ہے:
’’جو رسول کی اطاعت کرے، اس نے اللہ کی اطاعت کی۔‘‘
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اطاعت کا حکم نہایت واضح الفاظ کے ساتھ سورۂ حشر کی آیہ 7 میں دیا گیا:
’’اور جو کچھ رسول تم کو دیں ، وہ لے لو اور جس سے تم کو روک دیں ، اس سے رک جاؤ۔‘‘
آپ ﷺ کی اطاعت پر تصدیق کی حتمی مہر ان الفاظ کے ساتھ ثبت ہوئی:
’’پس نہیں ، آپ کے رب کی قسم وہ ہرگز مومن نہ ہوں گے جب تک کہ وہ اپنے اختلاف میں آپ کو فیصلہ کرنے والا نہ مان لیں۔ پھر جو کچھ فیصلہ آپ کر دیں ، اس پر اپنے نفس میں کوئی تنگی محسوس نہ کریں اور پوری طرح اس کے آگے سر تسلیم خم کر دیں۔ ‘‘ (سورۂ نسائ: 65)
لہٰذا اسلامی آئین میں اللہ کی حاکمیت کے اقرار کے بعد اس کے آخری رسولﷺ کی سنت کو حکم بنانا اور ہر قانون اور ضابطہ وضع کرتے ہوئے اسے مد نظر رکھنا ضروری ہے۔
قرآن کریم اور سنت رسول ﷺ آئین اسلامی کی بنیاد ٹھہرے، اس کے بعد باری آتی ہے مرکزی اصولوں کی، اور کسی بھی اسلامی جمہوریہ کے آئین میں سربراہِ حکومت کو خلیفہ کا منصب حاصل ہوتا ہے۔ تصورِ خلافت کی شروعات یہیں سے ہوتی ہے۔ اسلامی جمہوریہ کے سربراہ کو حاکم کہلانے کا حق حاصل نہیں ، کیونکہ یہ اختیار پہلے ہی خدائے بزرگ و برتر کے حوالے کیا جا چکا ہے۔ سربراہِ جمہوریہ محض اللہ کے احکامات کی اطاعت اور قوانین کی پابندی یقینی بنانے کے لئے تعینات کیا جاتا ہے اور اس کی حیثیت ایک نائب یعنی خلیفہ سے زیادہ نہیں ہوتی۔
یہیں سے ایک دوسرا نکتہ بھی واضح ہوتا ہے کہ اسلامی جمہوریہ میں خلافت کسی ایک فرد، طبقے یا خاندان کی میراث نہیں ہوتی، بلکہ اس میں جمہوریہ کے تمام افراد شریک ہوتے ہیں۔ سورۂ نور کی آیت 55میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
’’اللہ کا وعدہ ہے کہ تم میں سے ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے، ضرور زمین میں خلیفہ بنائے گا جس طرح اس نے ان سے پہلے آنے والے (صالحین و مومنین) کو خلیفہ بنایا تھا۔‘‘
تو واضح ہو گیا کہ اسلامی جمہوریہ کی خلافت میں صرف مسند حکومت پر بیٹھنے والا نہیں ، بلکہ ہر وہ فرد شامل ہے جو ایمان والا اور نیک اعمال کرنے والا ہے۔ مغربی جمہوریت کی بنیاد بھی اسی اصول پر رکھی گئی ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اسلام میں حکومت کو ’’خلافت‘‘ کا نام دے کر اسے حاکمی کے بجائے حاکم کی نیابت (Viceregency) کا درجہ دے دیا گیا جبکہ مغرب کی سیکولر جمہوریت نے حکومت چلانے کے عمل کو حاکمیت (Sovereignty) کا نام دے دیا۔ اسلامی جمہوریہ میں اقتدار خدا کا عطیہ ہے جبکہ سیکولر جمہوریہ میں اسے عوام کی عطا خیال کیا جاتا ہے۔ یہ ایک ایسا فرق ہے جو اسلامی جمہوریہ اور ہر سیکولر نظامِ حکومت کے درمیان ہر حال اور ہر سطح پر برقرار رہتا ہے۔
چونکہ خلافت ایک اجتماعی چیز ہے، اس لئے مشاورت کے بغیر اس کا چلنا ممکن نہیں۔ اسلامی نظامِ زندگی و حکومت کی یہ خصوصیت ہے کہ اس میں تمام اجتماعی امور، اجتماعی مشورے سے ہی طے کئے جاتے ہیں۔ سورۂ شوریٰ میں ارشادِ ربانی ہے:
’’جو کچھ تمہیں یہاں دیا گیا ہے، وہ محض اس زندگی کی عارضی خوشی ہے کے لئے ہے لیکن جو کچھ اللہ کے ہاں ہے، وہ زیادہ بہتر اور زیادہ پائیدار ہے۔ (یہ) ان کے لئے ہے جو ایمان رکھتے ہیں اور اللہ پر توکل کرتے ہیں ، جو کبیرہ گناہوں اور فواحش سے بچتے ہیں اور غصے میں درگزر سے کام لیتے ہیں ، جو اپنے رب کی پکار کا جواب دیتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں ، جن کے معاملات باہم مشورے سے انجام پاتے ہیں ، جو ہمارے دیئے ہوئے میں سے (ہماری راہ میں ) خرچ کرتے ہیں ، اور جن پر ظلم ہو تو اپنا دفاع کرتے ہیں۔ ‘‘ (آیات 36 تا 39)
ان آیات میں جنت کی خوشخبری پانے والوں کے ذاتی اوصاف کے ساتھ اجتماعی اوصاف بھی بیان کئے گئے ہیں ، جن میں سیاسی لحاظ سے اہم ترین یہ ہے کہ مومنین اپنے کام باہم مشورے سے انجام دیتے ہیں۔ یہ صرف ایک وصف نہیں بلکہ ایک حکم بھی ہے، اور کسی بھی اجتماعی کام کو بغیر باہم مشورہ کئے انجام دینے سے منع کیا گیا ہے۔ اصولِ اجماع اور اصولِ اجتہاد کی بنیاد اسی پر رکھی گئی ہے۔ روح المعانی میں حضرت علیؓ سے روایت کیا گیا ہے کہ جب انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سوال کیا کہ اے اللہ کے رسولﷺ! اگر آپ کے بعد کوئی ایسا معاملہ پیش آ جائے جس کے متعلق قرآن میں کچھ اترا ہو نہ آپ سے کوئی بات سنی گئی ہو تو پھر کیا کیا جائے؟ اس کے جواب میں آپ نے کہا:
’’میری امت کے عبادت گزار لوگوں کو جمع کرو اور اسے باہم مشورے کے لئے رکھ دو اور کسی ایک شخص کی رائے پر فیصلہ نہ کرو۔‘‘
کہہ دیا گیا کہ تمام اجتماعی فیصلے ایک مجلس مشاورت کے ہاتھوں انجام پانے چاہئیں لیکن مجلس کی ہیئت و ساخت کا معاملہ امت پر چھوڑ دیا گیا، کوئی واضح شکل متعین کرنے کی ضرورت نہیں سمجھی گئی۔ وجہ یہ کہ مختلف حالات کے اعتبار سے مختلف طرح کی مجالس تشکیل دینے کی ضرورت پیش آ سکتی ہے لہٰذا کوئی حکم لگا کر معاملات کو پیچیدہ بنانے کے بجائے انہیں اختیاری حیثیت دے دی گئی۔
مجلس مشاورت اور دیگر امورِ حکومت میں کیسے افراد شامل ہوں ، اس کا جواب قرآن نے بڑے سیدھے سادے انداز میں دیا ہے۔ سورۂ النسا کی آیت 58 میں ارشاد ہوتا ہے:
’’اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں (یعنی اعتماد کی متقاضی ذمہ داریاں ) امانت داروں کے سپرد کرو۔‘‘
اور خلیفہ یا رئیس حکومت کیسا ہونا چاہئے، اس کے متعلق حدیث نبویﷺ ہماری رہنمائی کرتے ہوئے بتاتی ہے:
’’تمہارے بہترین سردار وہ ہیں جن سے تم محبت کرو، اور وہ تم سے محبت کریں ، اور جن کو تم دعا دو اور وہ تمہیں دعا دیں ، اور تمہارے بدترین سردار وہ ہیں جن سے تم نفرت کرو اور وہ تم سے نفرت کریں ، اور جن پر تم لعنت بھیجو اور وہ تم پر لعنت بھیجیں۔ ‘‘ (رواہِ مسلم)
ایک اور حدیث میں آتا ہے کہ حضرت ابوبکرؓ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے امارت کے بارے میں سوال کیا تو آپؐ نے فرمایا:
’’اے ابوبکر، (امارت) اس کے لئے ہے جو اس سے بے رغبت ہو، نہ کہ اس کے لئے جو اس کے لئے بے تاب ہو۔ اس کے لئے ہے جو اس سے بچنے کی کوشش کرے، نہ کہ اس کے لئے جو اسے جھپٹ کر حاصل کرنے کی کوشش کرے۔ اس کے لئے ہے جس سے کہا جائے کہ یہ تیرا حق ہے، نہ کہ اس کے لئے جو خود کہے کہ یہ میرا حق ہے۔‘‘
سورۂ حج کی آیت 41 میں ارشاد ہوتا ہے:
’’یہ وہ لوگ ہیں جن کو اگر ہم زمین میں اقتدار بخشیں تو یہ نماز قائم کریں گے، زکوٰۃ دیں گے، نیکی کا حکم کریں گے، اور بدی سے روکیں گے۔‘‘
اس آیت میں نہایت جامعیت کے ساتھ حکومت کے مقاصد بیان کر دیئے گئے ہیں ، اور یہ بھی واضح کر دیا گیا ہے کہ اسلامی جمہوریہ کے آئین میں حکومت کے بنیادی فرائض کا تعین کن حوالوں سے کیا جانا چاہئے۔ حکومت کے بنیادی فرائض واضح کرنے کے بعد شہریوں کے فرائض کی باری آتی ہے جن کے متعلق سورہ النساء کی آیت 59 میں فرمایا گیا ہے:
’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرو رسول(ﷺ) کی اور ان لوگوں کی جو تم میں سے صاحب امر ہوں۔ پھر اگر کسی معاملے میں تمہارے درمیان نزاع ہو تو اس کو اللہ اور رسول(ﷺ) کی طرف پھیرو، اگر تم ایمان رکھتے ہو اللہ پر اور آخرت کے دن پر۔ یہ بہتر ہے اور اس کا انجام اچھا ہے۔‘‘
ایک شہری کے بنیادی فرائض یہی ہیں ، اور یہ کسی بھی اعتبار سے اس کے بنیادی حقوق کی نفی نہیں کرتے۔ حدیث نبویﷺ اسی مفہوم کو بہ الفاظ دیگر ادا کرتے ہوئے حکم دیتی ہے:
’’اگر تم پر نکٹا غلام بھی امیر بنا دیا جائے جو کتاب اللہ کے مطابق تمہاری قیادت کرے تو اس کی سنو اور اطاعت کرو۔‘‘ (صحیح مسلم)
خلیفہ کی اطاعت کرنا ہر مسلمان شہری پر فرض ہے، خواہ وہ کوئی بھی ہو۔ شرط صرف یہی ہے کہ خلیفہ کا حکم کتاب اللہ اور سنت رسول ﷺ سے انحراف کرتا ہوا نہ ہو۔ اس سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ ایک اسلامی جمہوریہ میں خلافت کا منصب صرف ایک مسلمان کو ہی حاصل ہو سکتا ہے، کیونکہ اللہ اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے احکامات کی پابندی کی توقع حقیقی معنوں میں ایک مسلمان سے ہی کی جا سکتی ہے۔
شہریوں کے بنیادی حقوق کا تعین، حجۃ الوداع کے خطبے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نہایت مختصر مگر نہایت جامع الفاظ میں اس طرح کر دیا تھا۔
’’یقیناً تمہاری جانیں اور تمہارے مال اور تمہاری آبروئیں ویسی ہی محترم ہیں جیسا آج حج کا یہ دن محترم ہے۔‘‘
اسلامی حکومت کا فرض ہے کہ وہ اپنے شہریوں کی جان، مال اور ناموس کے تحفظ کا اہتمام کرے۔ یہی وہ حقوق ہیں جو مغرب کی موجودہ جمہوری حکومتیں اپنے شہریوں کو فراہم کرتی ہیں۔ حکومت کے ہر فعل کا محور یہی حقوق قرار پاتے ہیں۔ حکومت کوئی ایسا قانون نہیں بنا سکتی جو اس کے شہریوں کے جان، مال یا آبرو کے لئے باعث خطر ہو، اور ایسے کسی کام سے روگردانی نہیں کر سکتی جس میں اس کے شہریوں کی جان، مال یا آبرو کی فلاح مضمر ہو۔
آئین کی تعمیر اور تجدید کا کام قانون سازی کے ذریعے انجام دیا جاتا ہے۔ اسلامی قانون سازی کا کام حضرت آدم علیہ السلام کے اس دنیا میں آنے کے ساتھ اس وقت شروع ہوا جب اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعے انہیں وہ باتیں تعلیم کیں جو اس دور کے لئے ضروری تھیں۔ پھر آنے والے ادوار میں افراد کی رہنمائی کے لئے انبیاء کی آمد کا سلسلہ جاری رہا۔ ہر دور کی ضروریات کے اعتبار سے قوانین نازل ہوتے رہے۔ سب سے آخر میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تشریف لائے، اور ان پر وہ ضابطہ حیات نازل ہوا جو انسانی زندگی کے ہر شعبے پر حاوی ہے، اور آنے والے ہر دور کی ضروریات کو پورا کرتا ہے اور جس کے متعلق سورۂ مائدہ کی آیت 5 میں ارشاد ہوتا ہے:
’’آج میں تمہارا دین مکمل کر دیا، اور تم پر اپنی نعمت مکمل کر دی، تمہارے لئے دین اسلام کو پسند کر لیا۔‘‘
اسلامی قوانین کے کئی ماخذات ہیں جن میں قرآنِ مجید کو سب سے زیادہ اہمیت اور اولیت حاصل ہے۔ قرآن مجید خدا کی نازل کردہ آخری اور مکمل ترین کتاب ہے۔ یوں تو مسلمان تمام آسمانی صحائف پر ایمان رکھتے ہیں لیکن ان کے لئے قانونِ ہدایت اور آئین زندگی کی حیثیت صرف قرآنِ مجید کو حاصل ہے۔ اصل ماخذ ہدایت یہی ہے۔ اس کی اہمیت کی وجوہات بہت سی ہیں جن میں سے اہم ترین یہ ہے کہ قرآن مجید آج بھی انہی الفاظ میں محفوظ ہے جن میں نازل ہوا تھا، الفاظ کا تو کیا اعراب تک کا ہیر پھیر بھی اس میں ممکن نہیں ہو سکا۔ روزِ اول سے لاکھوں افراد نے اسے لفظ بہ لفظ یاد کر رکھا ہے اور اس کے نسخے ہمیشہ ضبط کتابت میں لائے جاتے رہے ہیں۔ اس کے علاوہ قرآن مجید عربی زبان میں نازل ہوا جو ایک زندہ زبان ہے اور آج تک اس کا جامع اور معیاری لٹریچر وہی ہے جو نزولِ قرآن کے وقت تھا۔ اس کے مقابلے میں دوسری زبانوں کو دیکھیں تو چند صدیوں کے عرصے میں ہی ان میں اتنی وسیع تبدیلیاں واقع ہو جاتی ہیں کہ آج کے انسان کو آج سے چند سو سال پہلے کی اپنی ہی زبان پڑھنے میں دقت محسوس ہوتی ہے۔ یقین نہ آئے تو آج کی انگریزی اور دو سو سال پہلے کی انگریزی کا موازنہ کر کے دیکھ لیں ، اور انگریزی تو پھر بھی نسبتاً قدیم حیثیت رکھتی ہے۔ یہی کلیہ اردو پر آزما دیکھیں جو دوسری زبانوں کے مقابلے میں کم عمر ہے۔ کسی بھی اردو دان سے پوچھ لیں کہ اب کی اردو، اور شروع زمانے کی اردو میں کتنا فرق ہے۔ شاید اس کا جواب آپ کو حیران کر دے… لیکن عربی دنیا کی واحد زبان ہے جو شروع دن سے لے کر آج تک ویسی کی ویسی ہے۔ آج کے عربی دان کو قرآن کی چودہ سو سال پرانی عربی پڑھنے اور سمجھنے میں کوئی دقت محسوس نہیں ہوتی۔ 
قرآن پاک کی ایک اور امتیازی خصوصیت یہ بھی ہے کہ اس میں انسانی کلام کی کوئی آمیزش نہیں ، سرتاسر کلامِ خداوندی ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو عرب کے فصحاء کو کبھی چیلنج نہ کیا جاتا کہ اگر تم سے ہو سکے تو ایک سورہ بلکہ ایک آیت ہی اس کے مقابلے کی بنا کر دکھا دو۔ ایسا چیلنج صرف خدا ہی دے سکتا ہے اور اس کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ لاکھ سر پٹکنے کے باوجود تب سے لے کر اب تک آج تک کوئی فصیح اس چیلنج کا بوجھ اٹھانے میں کامیاب نہیں ہو سکتی۔
قرآن کی جامعیت اس کی ایک اور نمایاں خصوصیت ہے۔ اس میں زندگی کے ہر پہلو کے لئے رہنمائی فراہم کی گئی ہے خواہ اس کا تعلقات اجتماعیت سے ہو یا انفرادیت سے، سیاست سے ہو یا تجارت سے، اخلاقیات سے ہو یا عبادات سے، کوئی پہلو احاطہ کئے بغیر نہیں چھوڑا گیا۔
قرآن کے بعد قوانین اسلام کا دوسرا بڑا ماخذ سنت رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہے۔ سنت کی تین اقسام ہوتی ہیں :
٭	سنت قولی، ایسی باتیں جو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زبانِ مبارک سے ادا ہوئی ہوں یعنی احادیث نبوی۔
٭	سنت فعلی، ایسے کام جو حضور پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خود انجام دیئے ہوں۔ 
٭	سنت تقریری، یعنی ایسے اعمال جن کے بارے میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی حکم نہیں دیا، نہ ان کے کرنے سے روکا اور نہ ان کے کرنے کی تاکید کی۔
احادیث نبوی ﷺ کے مستند ترین مجموعے ہمارے پاس صحاحِ ستہ یعنی صحیح بخاری، صحیح مسلم، سنن ابوداؤد، سنن ابن ماجہ، سنن نسائی اور جامع ترمذی کی شکل میں موجود ہیں۔ سنت رسول ﷺ کے مطالعے سے بخوبی علم ہو جاتا ہے کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے قرآن مجید کی ہدایت اور اس میں دیئے گئے اصولوں کو عملی طور پر اسلامی مملکت میں کس طرح نافذ کیا۔ آپﷺ کی سنت کے مطالعے سے ہی ہمیں معلوم ہو سکتا ہے کہ مخصوص معاملات میں قرآن کا منشاء کیا ہے اور اسے پورا کرنے کا صحیح طریقہ کار کیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زندگی قرآن کی چلتی پھرتی تصویر ہے۔
یہ قرآن کی تصدیق کردہ حقیقت ہے کہ رسول پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم محض ایک نامہ بر نہیں ، بلکہ خدا کی طرف سے مقرر کئے ہوئے رہبر، حاکم اور معلم بھی تھے جن کی پیروی مسلمانوں پر لازم ہے اور جن کی زندگی تمام اہل ایمان کے لئے نمونہ قرار دی گئی ہے اور جن کی اطاعت عین اللہ کی اطاعت ہے۔ اطاعت الٰہی تبھی تکمیل کو پہنچ سکتی ہے، جب اس میں اطاعت رسولؐ بھی شامل ہو۔ رسولؐ کا منکر، خدا کا بھی منکر قرار دیا جائے گا۔
اسلامی قوانین کا تیسرا بڑا ماخذ خلفائے راشدین کے عمل کو قرار دیا گیا ہے۔ حضور پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی وفات کے بعد خلفائے راشدین نے جس انداز میں اسلامی حکومت کو چلایا، وہ بعد میں آنے والے خلفاء کے لئے ایک نمونہ ہے۔ اسلام میں یہ اصول شروع سے لے کر آج تک مسلم رہا ہے کہ دینی احکام و ہدایات کی جو تعبیرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے بالاتفاق کی ہیں اور دستوری اور قانونی مسائل میں جو فیصلے خلفائے راشدین نے صحابہؓ کے مشورے سے کر دیئے ہیں ، ان سے کسی صورت انکار نہیں کیا جا سکتا۔ صحابہؓ نے بالاتفاق جو کچھ کیا، وہ کسی بھی صورت قانونِ الٰہی اور سنت رسول ﷺ کے دائرے سے باہر نہیں ہو سکتا۔ یہ لوگ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے براہِ راست شاگرد اور تربیت یافتہ تھے، اس لئے ان سب کا متفق ہو کر دین کے معاملے میں غلطی کر بیٹھنا قابل تسلیم نہیں۔ کسی معاملے میں ان کا متفق ہو جانا ظاہر کرتا ہے کہ اس میں ان کا کہا اور کیا، ایک مستند تعبیر قانون ہے۔ جہاں ان کے درمیان اختلافات ہوئے ہیں ، وہاں دو یا دو سے زائد تعبیرات کی گنجائش رکھی جا سکتی ہے، اور ایسے معاملات میں دلائل سے ایک قول کو دوسرے قول پر ترجیح دی جا سکتی ہے۔ 
اسلامی قانون کا چوتھا ماخذ مجتہدین امت کے فیصلے ہیں جو انہوں نے مختلف دستوری مسائل کے پیش آنے پر قرآن و سنت کی رہنمائی اور اپنے علم و بصیرت کی روشنی میں کئے ہیں۔ ان فیصلوں کو چاہے حجت قرار نہ بھی دیا جائے مگر بہرحال اسلامی آئین اور قانون سازی کے عمل کی روح کو سمجھنے میں ہماری بہتری راہنمائی کرتے ہیں۔ 
اسلامی قانون کا پانچواں اہم ماخذ اجماعِ امت ہے۔ مجتہدین امت کا کسی مسئلہ پر اتفاق اور اتحاد کر لینا اجماع کہلاتا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی حدیث مبارکہ ہے:
’’میری امت کبھی کسی غلط بات پر متفق نہ ہوگی۔‘‘
اس لئے اجماع کے نتیجے کو بھی اسلامی قانون میں ایک ماخذ کی حیثیت حاصل ہے۔ چونکہ خلافت راشدہ کے دور میں اسلامی نظام باقاعدہ طور پر قائم تھا اور شوریٰ کے تحت فیصلے ہوتے تھے، اس لئے اس وقت کے اجماعی اور جمہوری فیصلے تو معتبر روایات سے ثابت ہوتے ہیں لیکن بعد کے دور میں جب نظامِ جماعت درہم برہم اور شوریٰ کا طریقہ ختم ہو گیا تو یہ معلوم ہونے کا کوئی ذریعہ باقی نہ رہا کہ کس چیز پر فی الحقیقت اجماع ہے، اور کس پر نہیں۔ اسی بناء پر خلافت راشدہ کے دور کا اجماع ناقابل انکار ہے البتہ بعد کے بارے میں علماء میں اختلافات موجود ہیں۔ امام ابن تیمیہؒ اپنے ’’فتاویٰ‘‘ میں لکھتے ہیں :
’’اجماع کے معنی یہ ہیں کہ کسی حکم پر تمام علمائے مسلمین متفق ہو جائیں اور جب کسی حکم پر تمام امت کا اجماع ثابت ہو جائے تو کسی شخص کو اس سے نکلنے کا حق نہیں رہتا کیونکہ پوری امت کبھی ضلالت پر متفق نہیں ہو سکتی لیکن بہت سے مسائل ایسے ہیں جن کے متعلق بعض لوگ یہ گمان کرتے ہیں کہ ان میں اجماع ہے حالانکہ دراصل وہ نہیں ہوتا بلکہ بسااوقات دوسرا قول راجح ہوتا ہے۔‘‘ 
قیاس کو بھی اسلامی قانون کا ایک ماخذ سمجھا جاتا ہے۔ قیاس کے لغوی معنی ہیں ناپنا یا کسی چیز سے موازنہ کرنا۔ فقہ کی اصطلاح میں دو اہم مسائل میں اتحادِ ملت کی بدولت ایک حکم کو دوسرے پر لگا دینے کے عمل کو قیاس کا نام دیا جاتا ہے۔ مثلاً قرآن مجید میں شراب کو حرام قرار دیا گیا ہے، اس کے حرام ہونے کی وجہ نشہ ہے لہٰذا اب جو بھی نشہ آور اشیاء ہوں گی، ان پر شراب کا حکم لگا کر انہیں حرام قرار دے دیا جائے۔ قیاس اسی کا نام ہے۔
قیاس کے رواج پانے کی وجہ سلطنت کی وسعت بنی یعنی جب سلطنت اسلامیہ کی حدود دور دور تک پھیل گئیں تو کچھ ایسے مسائل پیدا ہو گئے جن کا حل بصراحت نہ قرآن مجید میں موجود تھا اور نہ حدیث میں ، ایسے میں علماء میں نے اپنی عقل اور اپنے علم کو بروئے کار لاتے ہوئے دیگر احکامِ شریعت کی مدد سے ان مسائل پر قیاس کیا اور ان کے حل دریافت کئے۔
حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ارشاد ہے کہ جن امور کے متعلق وحی نازل نہیں ہوتی، ان کا فیصلہ میں اپنی رائے سے کرتا ہوں۔ ایک اور روایت میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ابن مسعودؓ سے فرمایا کہ جب تم قرآن و سنت میں کوئی حکم پاؤ تو اس کے مطابق فیصلہ کرو اور جب قرآن و سنت میں علم نہ پاؤ تو اپنی رائے سے اجتہاد کرو۔
صحابہ کرامؓ کے بعض کام ایسے ہیں جن کو انہوں نے حضورﷺ کے سامنے کیا لیکن آپؐ نے انہیں ان کاموں سے منع نہ فرمایا۔ اس طرح ایسے کاموں کا سلسلہ ایک رسم کی طرح صحابہؓ میں چلتا رہا اور آخر کار قانون بن گیا۔ بہرحال، ایسے قوانین کو اٹل اور محکم قرار نہیں دیا جا سکتا اور زمانے کی ضرورت کے لحاظ سے ان میں ترمیم یا ان کی تنسیخ کی جا سکتی ہے۔
اسلامی قانون کی حقیقی بنیاد تو شریعت ہی ہے جس کا اصل مقصد لوگوں کی دین اور دنیا میں راہنمائی اور ان کی دائمی فلاح ہے۔ شریعت کے دو حصے ہیں ، معروفات اور منکرات۔ معروفات میں وہ قوانین آتے ہیں ، جن میں بعض کاموں کے کرنے کا حکم دیا گیا ہے، اور منکرات میں ایسے قوانین جن میں بعض کاموں کے کرنے سے تاکیداً منع کیا گیا ہے۔ شریعت کے یہ دونوں حصے انسان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کی راہنمائی کرتے ہیں۔ مذہب، اخلاق، سیاست، معاشرت، معیشت، حقوق و فرائض، عدل و انصاف غرض شریعت زندگی کے ہر پہلو کا احاطہ کرتی ہے۔ 
شریعت ایک جسم انسانی کی طرح ہے۔ اس میں سے کوئی ایک شق بھی علیحدہ نہیں کی جا سکتی، اور اس کا نفاذ صرف اسی صورت میں ممکن ہے جب عام زندگی بھی شریعت کے مطابق ڈھال لی جائے۔ مثال کے طور پر چور کا ہاتھ کاٹنے کا مسئلہ لیجئے۔ چوری کرنے پر کسی کو یہ سزا صرف اسی صورت میں دی جا سکتی ہے، جبکہ ارکانِ معاشرہ کی تمام بنیادی ضروریات پوری کی جائیں اور تمام افراد کو ترقی کے یکساں مواقع فراہم ہوں۔ اس کے باوجود اگر کوئی چوری کرے تو پھر اس کے لئے یہ عبرت ناک سزا مقرر ہے۔ لیکن یہ نہیں کیا جا سکتا کہ اگر کوئی بھوکا اپنا پیٹ بھرنے کے لئے روٹی کا ایک ٹکڑا چرا لے تو عدالت بنا پوچھے گچھے دھڑ سے اس کا ہاتھ کاٹ دے۔ ہاتھ صرف اسی صورت میں کاٹا جا سکتا ہے جب یہ ثابت ہو جائے کہ چوری کرنے والے نے یہ کام کسی اضطراری ضرورت کو پورا کرنے کے لئے نہیں ، محض ذاتی لالچ اور تحریص کی بناء پر کیا ہے۔
شریعت میں موجود قوانین اپنی نوعیت کے لحاظ سے دو طرح کے ہیں۔ اول، وہ قانون جو اٹل اور محکم ہیں اور جن میں کسی طرح کا رد و بدل نہیں کیا جا سکتا۔ دوم، وہ قانون جن میں حالات اور واقعات کی روشنی میں ترمیم کی جا سکتی ہے۔ ایسی ترامیم کے نتیجے میں اسلامی قانون کی نشوونما اور تجدید کا عمل جاری رہتا ہے۔
ترامیم یعنی قانون سازی کا کام مقننہ انجام دیتی ہے جسے اسلامی اصطلاح میں مجلس تشریعی کہا جاتا ہے۔ خلفائے راشدین کی قائم کردہ روایت کے مطابق، مقننہ کو قانون سازی کا اختیار خلیفہ کی طرف سے ہی دیا جاتا ہے، اور وہی لوگ اس میں شریک ہو سکتے ہیں جنہیں خلیفہ شرکت کی دعوت دے۔ قانون سازی کا حق مقننہ کا ذاتی نہیں ، بلکہ خلیفہ کا عطا کردہ ہوتا ہے۔ خلیفہ مقننہ کا تقرر اس وقت کرتا ہے جب اسے محسوس ہو کہ کسی معاملے میں قانون سازی کی ضرورت موجود ہو۔ عوام بھی خلیفہ سے مطالبہ کر سکتے ہیں کہ بعض مخصوص امور میں نئے قوانین کی تیاری کے لئے مقننہ کا تقرر کیا جائے۔ اس اعتبار سے مقننہ کو قانون سازی کا حق خلیفہ کی طرف سے ہی نہیں بلکہ عوام کی طرف سے بھی عطا ہوتا ہے۔ بہرحال عطائے حق کا مفہوم ہرگز یہ نہیں کہ مجلس رائے عامہ کی پیروی کرے گی اور اس کی مرضی کے مطابق قانون سازی کا کام انجام دے گی۔ قانون وہی درست تسلیم کیا جائے گا جو کسی طرح شرع کے محکم قوانین کی خلاف ورزی نہ کرتا ہو۔ اس دائرے سے باہر کوئی قانون بنانے کا اختیار نہ مقننہ کو ہے، نہ خلیفہ کو اور نہ خود مملکت کے عوام کو۔
مقننہ کا رکن بننے کی ضروری شرط عوامی مقبولیت یا نمائندگی کے بجائے ذاتی صفات، کردار اور اعمال کو سمجھا جاتا ہے۔ کسی بھی شخص کو کوئی عہدہ دینے سے پہلے یہ جائزہ لیا جاتا ہے کہ وہ اس سے ملحقہ فرائض کماحقہ انجام دینے کا اہل ہے یا نہیں ، اسی طرح مقننہ کا رکن مقرر کرنے سے پہلے یہ دیکھا جائے گا کہ کیا اس کا کردار اتنا مضبوط ہے کہ خلیفہ اور عوام کے اعتماد کا بوجھ اٹھا سکے؟ کہیں اس کی ذاتی صفات اس کے فرائض کی انجام دہی میں رکاوٹ تو نہ ہوں گی؟ کہیں ایسا تو نہیں اس کے ذاتی اعمال سے شہادت ملتی ہو کہ یہ شخص مقننہ کا رکن بننے کا اہل نہیں ؟ بلند کرداری کے بعد مقننہ کے رکن کے لئے دوسری ضروری شرط یہ ہے کہ وہ شرعی اور ملکی قوانین سے پوری طرح واقف ہو۔ قانون سے ناواقف کسی شخص کو اس کام پر لگا دینا ایسا ہی ہوگا جیسے کسی درزی کو چمڑا دے کر فرمائش کی جائے کہ اس سے جوتا تو بنا دو۔
مقننہ کے رکن کے لئے مسلمان ہونا بھی ضروری ہے البتہ غیرمسلم اقلیتی فرقوں کو اس شرط پر رکنیت دی جا سکتی ہے کہ وہ صرف اپنا نکتہ نظر پیش کرنے تک محدود رہیں ، اور حتمی فیصلہ مقننہ کے مسلمان ارکان پر چھوڑ دیں۔ اتنا ضرور ہے کہ کسی اقلیتی فرقے کے مخصوص عقائد و تصورات کے حوالے سے قانون سازی کا اختیار اس فرقے کے نمائندگان کو حاصل ہوتا ہے اور ایسے قوانین اسلامی احکام پر اثرانداز نہیں ہوتے۔
ابتدائی دور میں مقننہ کے اراکین کا تقرر خلیفہ کی نامزدگی کے ذریعے کیا جاتا تھا لیکن آج حالات بہت بدل چکے ہیں ، اور اسلامی جمہوریہ کے سربراہ کے لئے ممکن نہیں رہا کہ وہ اپنی صوابدید پر کسی شخص کو جمہوریہ کی مقننہ کا رکن مقرر کر دے۔ لہٰذا موجودہ وقت میں اراکین کے تقرر کے لئے انتخاب کا طریقہ کار اپنایا جا سکتا ہے۔ اس کی اجازت قرآن نے بھی دی ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے فعل سے بھی اس کی شہادت میسر ہوتی ہے کہ وفد ہوازن کو روانہ کرنے سے پہلے آپ ﷺ نے مہاجرین اور انصار سے فرمایا تھا کہ وہ وفد میں شمولیت کے لئے اپنے اپنے نمائندے منتخب کریں۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ عوامی انتخاب کا جمہوری طریقہ کسی بھی لحاظ سے غیراسلامی نہیں بلکہ اسلامی تصور کے تحت تو نمازی اپنے امام کا انتخاب بھی خود کرتے ہیں۔ بہرحال، رائے دہندگان کے لئے چند شرائط عائد کی گئی ہیں جن پر پورا اترنے کے بعد ہی کوئی عام آدمی ایسے معاملات میں رائے دینے کی اہلیت حاصل کر سکتا ہے۔
پہلی شرط رائے دہندہ کا عاقل و بالغ ہونا ہے، کیونکہ ایک عاقل و بالغ شخص ہی اندازہ لگا سکتا ہے کہ جس شخص کو اس عہدے کے لئے منتخب کیا جا رہا ہے، وہ اس کی ذمہ داریاں پوری کرنے کا اہل ہے بھی یہ نہیں۔ دوسری شرط رائے دہندہ کا عادل ہونا ہے، یعنی اس کی رائے کی بنیاد ذاتی تعصبات یا مفادات کے بجائے، امیدوار کی اہلیت و قابلیت پر استوار ہو۔ تیسری شرط یہ ہے کہ رائے دہندہ میں خود اتنی اہلیت ہو کہ وہ اندازہ لگا سکے کہ عہدے کا امیدوار حقیقی معنوں کتنا با صلاحیت اور قابل ہے۔ جو رائے دہندہ ان شرائط کو پورا نہ کر سکے، قانونِ اسلامی کے مطابق اسے رائے دینے کا اختیار حاصل نہیں۔ 
مقننہ کے فرائض بہت ہی نازک اور نہایت گہرے احساسِ ذمہ داری کے متقاضی ہوتے ہیں۔ ان کی انجام دہی میں کسی طرح کی غفلت پورے معاشرے کی زندگی کو اجتماعی طور پر متاثر کر سکتی ہے۔ اسلامی جمہوریہ میں مقننہ کا وجود چونکہ اسلامی قانون کی بدولت وجود میں آتا ہے، اس لئے اس کا سب سے پہلا فرض یہی ہے کہ وہ اسلامی قانون کی پاسداری و پاسبانی کرے اور کسی بھی طرح اس پر آنچ نہ آنے دے۔ مقننہ پر یہ فرض بھی عائد ہوتا ہے کہ وہ ایسے قوانین وضع کرے جو اسلامی نکتہ نظر سے ملت اسلامیہ کے لئے دینی و دنیاوی فلاح و ترقی کا باعث بنیں اور انہیں لاحق ہونے والے خطرات کا سدباب کرے۔ جو مسودۂ قانون اس کے سامنے پیش کیا جائے، اس کا جائزہ قرآن و سنت اور صحابہؓ کے عمل کی روشنی میں لے، مفادِ ملت کو پیش نظر رکھتے ہوئے اس کے مختلف پہلوؤں کا تجزیہ کرے اور ضرورت محسوس ہونے پر اس میں ترمیم و اضافہ کرے۔ مقننہ کا ایک اور اہم فرض یہ ہے کہ وہ خلیفہ کے اعمال کی نگرانی رکھے، اور اس کی طرف سے کسی بھی خلافِ شرع اور دین و ملت کے لئے نقصان دہ فعل کے ارتکاب پر اس کا محاسبہ کرے۔ بہ الفاظِ دیگر مقننہ کے فرائض کا خلاصہ یہی ہے کہ وہ عوام کے دینی و دنیاوی مفادات کے تحفظ کے لئے کوشاں رہے، ان کے مسائل پر نگاہ رکھے اور انتظامیہ کو ان سے آگاہ کرے اور مسائل کے حل کے لئے اپنی تجاویز پیش کرے۔
چونکہ مقننہ کے فرائض کا تعلق قانون و انتظامیہ کے علاوہ براہِ راست عوام سے بھی ہوتا ہے، اس لئے شریعت اسلامی کے تحت عوام کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ مقننہ کی طرف سے ادائے فرض میں کوتاہی کا ارتکاب ہونے پر اس سے بازپرس کرے اور خلیفہ سے اس پر ضروری کارروائی کرنے کا مطالبہ کرے۔
مقننہ کے ہر رکن کو یہ حق حاصل ہوتا ہے کہ وہ خلیفہ اور انتظامیہ کے ایسے افعال پر تنقید کرے جو مفادِ عامہ کے خلاف یا شرعی حدود سے متجاوز ہوں بلکہ یہ اس کا حق ہی نہیں فرض بھی ہے۔ البتہ عدلیہ پر تنقید کا اسے کوئی حق نہیں ہوتا۔ شریعت اسلامی میں عدلیہ کو اتنی آزادی دی گید ہے کہ حکومت (خلیفہ) اور مقننہ دونوں اس کے فیصلوں کو متاثر نہیں کر سکتیں اور انہیں ایسی کوئی کارروائی کرنے کا حق نہیں دیا گیا جو عدلیہ پر اثرانداز ہوتی ہو۔
مقننہ کو یہ حق حاصل ہے کہ اگر کوئی مسودۂ قانون اس کے سامنے پیش کیا جائے، اور وہ قرآن و سنت کے مطابق ہو تو وہ خلیفہ کی منظوری حاصل کئے بغیر اسے منظور کر کے آئین کا حصہ بنا دے۔ خلیفہ کی مخالفت اس ضمن میں بے اثر قرار دی گئی ہے کیونکہ کسی کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ قرآن و سنت کی روشنی میں ، اور مفادِ عامہ کے مقصد سے بنائے گئے کسی قانون کے نفاذ کی راہ میں رکاوٹ حائل کرے۔
مقننہ چونکہ خلیفہ کی منظوری سے وجود میں آتی ہے، اس لئے خلیفہ کو اختیار حاصل ہوتا ہے کہ وہ مقننہ کو برخواست کر کے اس کا حق قانون سازی ختم کر دے۔ یوں مقننہ بہ حیثیت مجلس تو برقرار رہتی ہے لیکن قانون سازی نہیں کر سکتی۔ اسی طرح مقننہ کو بھی اختیار حاصل ہے کہ خلیفہ قرآن و سنت کی مقررہ حدود کی خلاف ورزی کر کے اپنی من مانی کرنے کی کوشش کرے تو وہ اسے منصب خلافت سے معزول کر دے، خواہ خلیفہ مقننہ کی حیثیت سے اسے برخواست ہی کیوں نہ کر چکا ہو۔ گویا خلیفہ مقننہ کو برخواست کر کے بھی اسے ختم نہیں کر سکتا اور اس سے قانون سازی کا اختیار چھین لینے کے باوجود اس کے محاسبے کی زد میں رہتا ہے۔ ایک دوسرا تصور یہ بھی ہے کہ اگر مقننہ کے ارکان کو عوام نے منتخب کیا ہو، اور عوام ان کی کارکردگی سے مطمئن ہوں تو پھر خلیفہ کو انہیں برخواست کرنے کا حق حاصل نہیں ، لیکن عوام کی نمائندہ ہونے کی حیثیت سے اگر مقننہ خلیفہ کو معزول کرنے کا ارادہ کرے تو اس پر عمل درآمد کر سکتی ہے۔
مقننہ کو جمہوریہ کے مالی معاملات کی جانچ پڑتال کا پورا حق حاصل ہوتا ہے۔ وہ از خود یا کوئی کمیشن مقرر کر کے حکومت کی مالی کارکردگی اور حسابات کا جائزہ لے سکتی ہے بلکہ خلفائے راشدین کے عہد میں تو ایک عام مسلمان کو بھی مالی معاملات پر خلیفہ سے یا ذمہ دارانِ سلطنت سے جواب طلبی کرنے کا حق حاصل ہوتا تھا۔
شریعت اسلامی کے مطابق مقننہ کے اجلاس پر کوئی پابندی عائد نہیں کی جا سکتی اور نہ خلیفہ اس کے لئے کسی مدت کا تعین کر سکتا ہے۔ مقننہ جب چاہے، ارکان کی رضامندی سے اجلاس منعقد کر سکتی ہے، اور جب تک چاہے اسے جاری رکھ سکتی ہے۔ موجودہ جمہوری حکومتوں میں رائج یہ طریقہ کہ مقننہ کا اجلاس سربراہِ حکومت طلب کرے یا اجلاس کی ایک مخصوص مدت مقرر ہو، اسلامی نکتہ نظر سے غلط ہے۔ حسب ضرورت مقننہ از خود اجلاس کر سکتی ہے اور مقننہ کے ارکان کو حق حاصل ہے کہ وہ عوام کے دینی اور دنیاوی مفادات کے پیش نظر انتظامیہ کو بلا طلب مشورے بھی دے سکتے ہیں۔ 
مقننہ کے ارکان کو حکومت کی حمایت یا مخالفت میں تقریر کرنے کا پورا حق اور آزادی حاصل ہوتی ہے اور کسی مسودۂ قانون کے سلسلے میں حکومت کے خلاف کی گئی تقریر پر ارکان سے کسی قسم کی بازپرس نہیں ہو سکتی۔ گویا مقننہ کے اجلاس میں کی گئی کسی تقریر کی بناء پر کسی رکن کے خلاف کوئی مقدمہ قائم نہیں کیا جا سکتا اور نہ اسے کسی طرح کی ’’قانونی‘‘ انتقامی کارروائی کا نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
مقننہ کو ہر طرح کا مسودۂ قانون پیش کرنے کا حق حاصل ہے۔ اسلامی شرع میں ایسا کوئی تصور نہیں کہ مالیات سے متعلقہ مسودۂ قانون صرف حکومت ہی پیش کر سکتی ہے۔ مقننہ کے اراکین جس قانون کو عوام کے دینی اور دنیاوی مفاد کے لئے بہتر خیال کریں ، اس کا مسودہ مقننہ کے اجلاس میں پیش کر سکتے ہیں۔ 
عوام کے مصائب و مشکلات سے انتظامیہ کو باخبر رکھنے، حکام کی غفلت و زیادتی کا جائزہ لینے، معاشرتی برائیوں کے انسداد کے طریقے تجویز کرنے اور مالی معاملات کا معائنہ کرنے کیلئے مقننہ کو اختیار حاصل ہے کہ وہ خود کارروائی کرے یا اس سلسلے میں کوئی کمیشن مقرر کر دے۔
مقننہ کا سب سے بڑا اور اولین فرض قانون سازی ہے، اور قانون سازی کے لئے اسلام میں چار طریقے رائج ہیں : تاویل، قیاس، استحسان اور اجتہاد۔ یہاں یہ امر ملحوظِ خاطر رہے کہ قانون سازی صرف ایسے دنیاوی معاملات میں کی جا سکتی ہے جن کے متعلق قرآن و سنت میں سکوت اختیار کیا گیا ہے۔ خدائی معاملات میں قانون سازی کی قطعاً اجازت نہیں ہے۔
تاویل سے مراد ہے قرآن اور سنت میں پائے جانے والے احکامات کا مطلب اور ان سے نتائج اخذ کرنا یعنی تحقیق کرنا۔ اسلامی قانون سازی کے عمل میں اس کی بڑی اہمیت ہے۔ تاویل کا اختیار صرف ایسے افراد کو حاصل ہوتا ہے جو قانونی معاملات کی پوری تفہیم رکھتے ہوں اور ان کی تہہ تک پہنچنے والی بصیرت کے حامل ہوں۔ 
قیاس کے متعلق پہلے بتایا جا چکا ہے کہ دو مسئلوں میں اتحاد ملت کی بدولت ایک کا حکم دوسرے پر لگا دینے کو قیاس کہتے ہیں یعنی جس معاملے میں کوئی براہِ راست حکم موجود نہ ہو، اسے اسی طرح کے ملتے جلتے حکم کی بنیاد پر قیاس کر لیا جاتا ہے۔
جن معاملات میں کوئی واضح ہدایت موجود نہ ہو، ان میں اسلام کے وسیع مقاصد کو مد نظر رکھ کر ایسے قوانین بنانا جو ضرورت کو پورا بھی کریں اور اس کے ساتھ ساتھ اسلام کے مجموعی نظام اور روح سے متصادم بھی نہ ہوں ، استحسان کہلاتا ہے۔ اس کا ایک اور پہلو فقہ کی اصطلاح میں ’’مصالح مرسلہ‘‘ کہلاتا ہے۔ مصالح مرسلہ سے مراد ایسی مصلحتیں ہیں جن کو ہماری صوابدید پر چھوڑا گیا ہے کہ ان میں جیسے چاہے فیصلہ کر لیں بشرطیکہ فیصلہ قرآن و سنت کے احکامات کی خلاف ورزی نہ کرتا ہو۔ جبکہ استحسان سے مراد یہ ہے کہ ایک معاملے میں بظاہر قیاس تو ایک حکم لگاتا ہے مگر عظیم تر دینی مصلحتیں ایک دوسرے حکم کا تقاضا کرتی ہیں ، اس لئے پہلے حکم کے بجائے دوسرے حکم کو ترجیح دے کر جاری کیا جائے۔ مصالح مرسلہ کی شرائط حسب ذیل ہیں :
٭	مسئلہ عبادات سے تعلق نہ رکھتا ہو بلکہ امورِ دنیا سے متعلق ہو۔
٭	مصلحت عامہ شریعت کے منشاء سے متصادم نہ ہو۔
٭	یہ مصالح ان مصالح کے مشابہ ہوں جن کو شریعت میں اولیت حاصل ہے یعنی حفظ دین، حفظ نفس، حفظ عقل، حفظ نسل اور حفظ مال۔
٭	بنائے گئے قانون کے ذریعے ان مصالح کے حصول کا کامل یقین ہو۔
٭	اس قانون سے کسی ایک مخصوص فرد یا گروہ کو فائدہ پہنچنے کے بجائے پوری قوم کو فائدہ پہنچے۔
ان شرائط کو پوری کئے بغیر مصالح مرسلہ میں بھی کوئی فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔
کتاب و سنت سے واضح رہنمائی نہ ملنے کی صورت میں قانون سازی کا سب سے اہم ذریعہ اجتہاد ہے۔ اجتہاد شرعی اصطلاح میں اس انتہائی کوشش کا نام ہے جو کہ ایک مقنن کتاب و سنت کی روشنی میں شرعی حکم معلوم کرنے کے لئے کرتا ہے۔ اجتہاد کے لغوی معنی ہیں ’’کسی کام کی انجام دہی کی انتہائی کوشش کرنا۔‘‘ جب اس کی معنوی تعریف کرتے ہوئے شاہ ولی اللہ ’’رسالہ عقد المجید‘‘ میں تحریر کرتے ہیں۔ 
’’علماء کے کلام سے اجتہاد کی یہ تعریف سمجھ میں آتی ہے کہ اس سے مراد شریعت کے شرعی احکام کو ان کی تفصیلی دلیلوں سے دریافت کرنے میں پوری پوری کوشش کرنا ہے۔ شریعت کے کلیات کا دارومدار چار اصولوں پر ہے: کتاب اللہ، سنت، اجماع، قیاس۔‘‘
اجتہاد کی بنیاد اصلاً قرآن اور حدیث پر ہوتی ہے۔ گویا اس کی حدود متعین ہیں۔ باقی دونوں اصول یعنی اجماع اور قیاس بھی اپنی اصل میں قرآن و حدیث سے ہی اخذ کئے جاتے ہیں لہٰذا اسلامی اجتہاد یا تو قرآن و حدیث سے ماخوذ ہوگا یا ان حدود کا پابند ہوگا جن حدود میں رہ کر رائے اور قیاس کی آزادی کتاب و سنت نے فراہم کی ہے۔ ان معیارات سے ہٹ کر کیا جانے والا اجتہاد اسلامی نکتہ نظر سے کوئی حیثیت نہیں رکھتا اور اسلام کے نظامِ قانون میں اس کی کوئی جگہ نہیں۔ 
اجتہاد خلفائے راشدین کے دور سے رائج ہے۔ علامہ جلال الدین سیوطی ’’تاریخ الخلفاء‘‘ میں لکھتے ہیں :
’’حضرت ابوبکرؓ کے سامنے کوئی مسئلہ پیش ہوتا تو پہلے کتاب اللہ سے رجوع کرتے، اگر وہاں سے نہ ملتا تو صحابہ کو جمع کرتے، اور اس باب میں سنت رسولﷺ کے بارے میں دریافت کرتے، اگر کسی کو سنت رسولﷺ کا علم ہوتا تو وہ بتا دیتا، آپ خدا کا شکر بجا لاتے، لیکن اگر صحابہ میں سے کسی کو بھی سنت کا علم نہ ہوتا تو پھر بہترین شخص کا انتخاب کرتے اور اس سے رائے لیتے۔‘‘
مجتہد کے لئے بہت سی شرائط پورا کرنا ضروری قرار دیا گیا ہے اور ان پر پورا اترے بغیر کسی فرد کو اجتہاد کا حق حاصل نہیں۔ یہ شرائط حسب ذیل ہیں :
٭	ضروری ہے کہ مجتہد شریعت الٰہی کے برحق، دائمی اور قابل عمر ہونے پر یقین رکھتا ہو، اور خلوصِ نیت سے خدا کے احکامات کی اتباع کا ارادہ رکھتا ہو۔
٭	ضروری ہے کہ وہ قرآن و حدیث سے پوری طرح واقف ہو۔ اس کے ساتھ عربی زبان کے قواعد انشاء کا بھی علم رکھتا ہو کیونکہ قرآن پاک اسی زبان میں نازل ہوا ہے۔ اس کے علاوہ حدیث و سنت اور اسلامی علوم کے سب ذخیرے عربی میں ہیں اور صحابہ اور تابعین کے اقوال و آرائ، مجتہدین اور ائمہ فقہ کے اقوال وغیرہ سب عربی میں ہیں ، اس لئے مجتہد کا عربی زبان پر عبور حاصل کرنا لازم ہے۔
٭	مجتہد اسلامی شرع کے اصول و مقاصد اور کلیات کو جانتا ہو۔ مقاصد دین اور مغز شرع سے پوری طرح واقف ہو اور دین و شرع کو اس کے اصل سرچشموں یعنی کتاب و سنت سے براہِ راست اخذ کر سکتا ہو۔
٭	یہ بھی ضروری ہے کہ مجتہد پچھلے مجتہدین امت کے کام سے پوری طرح واقف ہو، اور اسے معلوم ہو کہ کس قسم کے حالات و ماحول میں کس مجتہد نے کیا کیا اور کس طرح کیا، اجماع کی اقسام کتنی ہیں اور کس موقع پر کون سی بروئے کار لانی ہے۔
٭	مجتہد کو چاہئے کہ انسانی زندگی کے نشیب و فراز سے بخوبی واقف ہو اور پیش آمدہ حالات و مسائل سے آگاہ ہو کیونکہ اجتہاد کا عملی تعلق انہی چیزوں سے ہوتا ہے۔
٭	آخری اور سب سے اہم شرط یہ ہے کہ مجتہد بے داغ کردار کا مالک ہو، کیونکہ اس کے بغیر اس کے اجتہاد پر لوگوں کا اعتماد حاصل نہ ہو سکے گا، اور نہ ایسے قانون کے لئے عوام میں کوئی جذبۂ احترام پیدا ہوگا جو کسی غیر صالح مجتہد کے رشحاتِ فکر کا نتیجہ ہو۔
یہ ضروری نہیں ہے کہ ہر اجتہاد کرنے والا یہ ثبوت فراہم کرے کہ اس میں واقعی یہ اوصاف موجود ہیں بلکہ ان کو بیان کرنے کا مقصد یہ بتانا ہے کہ اجتہاد کے ذریعے اسلامی قانون کی نشوونما اگر صحیح خطوط پر ہو سکتی ہے تو صرف اس صورت میں جبکہ قانونی تعلیم و تربیت کا نظام ایسے اوصاف کے حامل اہل علم ہی تیار کریں۔ اس کے بغیر جو قانون سازی کی جائے گی، وہ نہ اسلامی قانون کے نظام میں جذب ہو سکے گی اور نہ ہی مسلم معاشرے کے نزدیک قابل قبول ٹھہرے گی۔
اجتہاد اور اس کی بناء پر ہونے والی قانون سازی کے مقبول ہونے کا انحصار اس بات پر بھی ہے کہ اجتہاد صحیح طریقے سے کیا جائے اور مجتہد چاہے احکام کی تعبیر کر رہا ہو یا قیاس و استنباط سے کام لے رہا ہو، بہرحال اپنے استدلال کی بنیاد قرآن و سنت ہی پر رکھے۔ اگر ان باتوں سے ہٹ کر اور اپنی من مانی کرتے ہوئے اجتہاد کیا جائے اور سیاسی قوت کے بل بوتے پر اسے قانون کا مرتبہ دلا دیا جائے تو نہ مسلمانوں کا اجتماعی ضمیر اسے قبول کرے گا اور نہ ہی وہ حقیقتاً اسلامی نظامِ قانون کا جزو بن سکے گا۔ جو سیاسی قوت بھی اسے نافذ کرے گی، اس کے منظر عام سے ہٹتے ہی یہ قانون بھی ختم کر دیا جائے گا۔
اجتہاد کو قانون کا مرتبہ دینے کے لئے مندرجہ ذیل شرائط کا پورا ہونا لازم ہے:
٭	امت کے اہل علم کا اس پر اجماع ہو۔
٭	کسی شخص یا گروہ کے اجتہاد کو قبولیت عامہ کی سند حاصل ہو جائے اور لوگ خودبخود اس کی پیروی شروع کر دیں جس طرح فقہ حنفی، شافعی، مالکی اور حنبلی کو مسلمانوں کے بڑے بڑے گروہوں نے بطور قانون تسلیم کر لیا ہے۔
٭	کسی اجتہاد کو کوئی مسلم حکومت اپنا قانون قرار دے لے جیسا کہ عثمانی سلطنت یا ہندوستان میں مغل سلطنت نے فقہ حنفی کو اپنا ملکی قانون قرار دے دیا تھا۔
٭	اسلامی ریاست میں ایک ادارہ دستوری حیثیت سے قانون سازی کا مجاز ہو اور وہ اجتہاد کے ذریعے کوئی قانون بنائے۔ ایسے ادارے یعنی مقننہ کا تفصیلی تذکرہ گذشتہ سطور میں کیا جا چکا ہے۔
مندرجہ بالا صورتوں کے ماسوا جتنے بھی اجتہاد مختلف اہل علم کریں ، ان کا مرتبہ فتویٰ سے زیادہ نہیں ہے۔ فتویٰ ایک ماہر کی رائے ہے اور اسے قانون کا درجہ حاصل نہیں ہوتا۔ مثال کے طور پر قرآن میں شراب کو حرام قرار دیا گیا ہے لیکن اس کے لئے کوئی حد مقرر نہیں کی گئی۔ اس سلسلے میں حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مختلف اوقات میں مختلف سزائیں دیں۔ بعد ازاں حضرت ابوبکرؓ نے چالیس کوڑوں کی سزا مقرر کی لیکن کوئی قانون نہیں بنایا۔ حضرت عثمانؓ کے دور میں سزا بڑھا کر 50 کوڑے کر دی گئی اور مشاورت سے اور متفقہ فیصلے کی روشنی میں 80 کوڑوں کی سزا تجویز ہوئی جو اجماع کے ذریعے قانون بن گئی۔

اسلامی حکومت میں عدلیہ

نظامِ قانون ترتیب دینے کے بعد ایک ایسے ادارے کا وجود بھی لازم ہے جو ان قوانین کی پاسداری کو یقینی بنائے اور ان کی خلاف ورزی کے مرتکب ہونے والوں کی تادیب کرے، لوگوں کے باہمی جھگڑوں اور تنازعات کو قوانین مملکت کی روشنی میں حق و انصاف کے ساتھ طے کرے اور متنازعہ امورِ زندگی میں فیصلہ کن حکم صادر کرے۔ جدید اصطلاح میں ایسے ادارے کو عدلیہ کہا جاتا ہے جبکہ شریعت اسلامیہ میں اسے قضا کا نام دیا گیا ہے۔ قضا کے لغوی معنی کسی کام کو پورا کرنے یا فیصلہ کرنے کے ہیں ، اور جب اس کے ساتھ بالحق کا لاحقہ لگا دیا جائے تو اس کے معانی ’’عدل و انصاف پر مبنی فیصلہ‘‘ ہو جاتے ہیں۔ 
اسلامی نظامِ حیات میں عدل بے حد اہمیت کا حامل ہے۔ اسلامی نکتہ نگاہ سے دیکھا جائے تو عدل کے مفہوم میں حقوق اللہ اور حقوق العباد، دونوں سما جاتے ہیں ، اور ضروری ہو جاتا ہے کہ ہر صاحب حق کا حق پورا پورا ادا کیا جائے، کسی سے زیادتی کا ارتکاب نہ ہو۔ اگر کوئی ظلم کرتا ہے تو اس کو ظلم سے روکا جائے اور مظلوم کی حمایت کی جائے۔ ظالم کو سزا دلوانے کیلئے گواہی کی ضرورت پڑے تو اس سے گریز نہ کیا جائے۔ یہ بھی عدل میں داخل ہے کہ گواہی میں حق اور حقیقت کا اظہار کیا جائے، خواہ وہ کسی کے مخالف ہو یا موافق۔ عدل کرنے والے کے لئے لازم ہے کہ جب اس کے سامنے دو فریق مقدمہ لے کر پیش ہوں تو دونوں کے ساتھ برابری کا معاملہ کرے، کسی ایک کی طرف جھکاؤ نہ رکھے۔ گواہوں کے بیانات غور سے سنے، معاملے کی تحقیق میں پوری کوشش سے کام لے اور ہر طرح سے اطمینان کرنے کے بعد کوئی فیصلہ سنائے۔
سورہ حدید کی آیت 25 میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
’’ بے شک ہم نے اپنے پیغمبروں کو کھلی نشانیاں دے کر بھیجا اور ان کے ساتھ کتاب اور میزان (قواعد عدل) بھی نازل کئے تاکہ لوگ انصاف پر قائم رہیں۔ ہم نے لوہا بھی بھیجا، اس کی زبردست مضبوطی اور متنوع استعمالات کے ساتھ تاکہ اللہ ان لوگوں کو جان سکے جو اس کی اور اس کے رسولوں کی اعانت کریں گے چاہے وہ اسے دیکھ نہیں سکتے۔ بے شک اللہ قوی و برتر ہے۔‘‘
اس آیہ کریمہ سے جہاں یہ معلوم ہوتا ہے کہ انبیاء کرام کی بعثت کا حقیقی مقصد عدل و انصاف کا قیام ہے، وہیں لوہے کے استعارے سے یہ بھی اشارہ دیا گیا ہے کہ اگر سرکش وعظ و نصیحت کے ذریعے راہِ راست پر نہ آئیں اور عدل و انصاف کا دامن نہ تھامیں تو انہیں تعزیر اور سزا کے ذریعے مرعوب کر کے عدل پر آمادہ کیا جائے، یعنی قیامِ عدل ہر ذریعے سے یقینی بنایا جائے۔
مقننہ، انتظامیہ اور عدلیہ کو کسی بھی ریاست کے تین ستون قرار دیا جاتا ہے۔ یہ لازم ہے کہ ان تینوں میں عدلیہ کو برتری حاصل رہے کیونکہ عدلیہ کو برتری دیئے بغیر عدل و انصاف اور امن و امان کا قیام ممکن نہ ہو سکے گا۔ قوانین کتنے ہی عمدہ کیوں نہ ہو اور انتظامیہ کتنی ہی مستند کیوں نہ ہو، لوگوں میں اختلافات بہرحال پیدا ہوتے رہتے ہیں۔ اس کا سدباب کرنا ناممکن ہے۔ اسی طرح حقدار کا حق غصب کرنے والوں کی بھی دنیا میں کوئی کمی نہیں۔ اختلافات کا درست فیصلہ کرنے اور حقدار کو اس کا حق دلوانے کے لئے ایک مضبوط اور بالاتر نظامِ عدل کا قیام ضروری ہے کیونکہ کسی مملکت کے افراد کے حقوق اور آزادیوں کی محافظ عدلیہ ہی ہوتی ہے۔ شاہ ولی اللہ ’’حجۃ اللہ البالغہ‘‘ میں تحریر کرتے ہیں :
’’تمدن و ترقی، معاشرتی اقدار کی بلندی اور سیاسی تنظیم کی ترقی کے ساتھ ساتھ بعض اوقات بخل و حسد، رباء و کبر اور غصب حقوق کے جذبات بھی ترقی کرتے رہتے ہیں۔ اس طرح عمدہ اور پائیدار امن و امان کا قیام، عمدہ نظامِ عدل پر ہی منحصر ہے اور عدل و انصاف کا قیام ہی سب سے اہم فریضہ ہے۔‘‘
ایسی ہی ضروریات اور فرائض کو پیش نظر رکھتے ہوئے، اسلامی جمہوریہ کے لئے ایک جامع اور مبسوط نظامِ عدل ترتیب دیا گیا ہے جو اپنے خصائص کی بدولت دنیا بھر کے نظام ہائے عدل میں ایک منفرد حیثیت رکھتا ہے۔
اسلام کا نظامِ عدل قانون اور عفو و درگزر کا ایک انوکھا امتزاج ہے۔ اس خصوصیت کی بنیاد اس تصور پر رکھی گئی ہے کہ معاشرے میں سرکش اور عادی مجرموں کے ساتھ ساتھ ایسے شریف النفس لوگ بھی موجود ہوتے ہیں جو جذبات کے ہاتھوں وقتی طور پر مغلوب ہو کر ارتکابِ جرم کر بیٹھتے ہیں۔ اول الذکر کے معاملے میں عفو و درگزر اسے اور دلیر بنا دے گا، لہٰذا اس کے لئے کڑی تعزیرات مقرر کی گئیں جبکہ موخر الذکر کے لئے رعایت اور معافی کی گنجائش بھی رکھی گئی۔ مثال کے طور پر زانیان کے حوالے سے سورۂ النور کی دوسری آیت میں ارشاد ہوتا ہے:
’’زانی مرد اور زانیہ عورت دونوں میں سے ہر ایک کو سو کوڑے مارو اور تمہیں ان پر ہرگز ترس نہ آنا چاہئے، اگر تم واقعی خدا اور یومِ حشر پر ایمان رکھتے ہو، اور مومنین کے ایک گروہ کو اس سزا کا گواہ بناؤ۔‘‘
لیکن آگے چل کر مومنین کی صفات بیان کرتے ہوئے سورۂ آل عمران کی آیت 134 میں ارشادِ ربانی ملتا ہے:
’’اور وہ اپنے غصے کو ضبط کر جاتے ہیں اور لوگوں کے قصور معاف کر دیتے ہیں اور اللہ احسان کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔‘‘
بہرحال، عدل اور عفو کے مواقع الگ الگ ہیں۔ ویسے بھی عفو و درگزر اکثر حالات میں ایک نجی معاملہ ہوتا ہے جبکہ عدل کا تعلق اجتماعی معاملات سے ہے۔ مقدمہ عدالت میں پیش ہونے سے پہلے مدعی کو اختیار ہے کہ مدعا علیہ کو معاف کر دے لیکن مقدمہ پیش ہو جانے کے بعد اس کا اختیار ختم ہو جاتا ہے۔ سنن نسائی میں روایت ہے کہ ایک صحابی مسجد نبوی میں سوئے ہوئے تھے کہ کسی شخص نے ان کی چادر چرا لی۔ اس کا مقدمہ جب حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے پہنچا تو آپؐ نے ملزم کا ہاتھ کاٹنے کا حکم جاری فرما دیا۔  ایک معمولی چادر کی چوری کی اتنی بڑی سزا دیکھ کر صحابی کا دل پسیج گیا اور وہ بولے۔ ’’یا رسول اللہﷺ!میں نے اپنے بھائی کو معاف کیا۔‘‘
اس پر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا۔ ’’تم نے اسے میرے پاس لانے سے پہلے کیوں نہ معاف کر دیا۔ اب سزا کے مل کے رہے گی۔‘‘
سنن ابن ماجہ کی روایت کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مسلمانوں کو ہدایت فرمائی کہ اگر مجرم کو معاف کرنا ہو  تو میرے پاس لانے سے پہلے معاف کر دیا کرو، اور جامع ترمذی کی ایک روایت کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ اگر شہادت میں شبہ پیدا ہو جائے تو حدود کو ساقط کر دیا کرو۔ آپ ﷺ کا ایک فرمانِ عالی یہ بھی ہے کہ اگر قاضی معاف کر دینے میں غلطی کرے تو یہ اس بات سے بہتر ہے کہ وہ سزا دینے میں غلطی کرے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ عفو و درگزر کا مقام تعزیر و عقوبت سے بلند ہے مگر جب قانونِ عدل حرکت میں آ جائے تو پوری سختی اور شدت کے ساتھ عمل کرتا ہے۔
اسلام کا نظامِ عدل اس اعتبار سے دنیا بھر میں مستحکم ترین ہے کہ یہ کسی فردِ واحد یا جماعت الناس کا بنایا ہوا نہیں کہ اس میں ترامیم اور تنسیخ کا سلسلہ جاری رہے۔ اس کا بنانے والا خداوند بزرگ و برتر ہے، اس کے اصول فولاد کی طرح ٹھوس ہیں ، اور اس میں ترمیم و تنسیخ انسانی دسترس سے بالاتر ہے۔ قوانین کی حدود مقرر کر دی گئی ہیں اور زمانے کے تقاضوں کے مطابق انہی حدود کے اندر رہتے ہوئے نئے قوانین اخذ کئے جا سکتے ہیں لیکن بنیادی قوانین میں کوئی تبدیلی ناممکن اور ناقابل قبول ہے، چاہے حالات کی نوعیت کیسی ہی ہنگامی کیوں نہ ہو۔
اسلامی جمہوریہ کے نظامِ عدل کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ اس کی نگاہ میں سب انسان برابر ہیں۔ رنگ، نسل، مذہب، ملت، زبان، دولت اور سماجی مرتبے کی بنیاد پر نہ کسی کو ترجیح دی جاتی ہے اور نہ کسی کو کمتر ٹھہرایا جاتا ہے۔ قاضی کی عدالت میں حاکم اور محکوم کے درمیان بھی کوئی امتیاز روا نہیں رکھا جاتا، اور نہ ہی آقا اور غلام کے درمیان کوئی فرق کیا جاتا ہے۔ اس کی مساوات اس حوالے سے بھی ثابت ہوتی ہے کہ جرم کی سزا، جرم کے مطابق ہی ہوتی ہے۔ اس سے بڑھ کر نہیں ہوتی۔ اسلام کی آمد سے قبل عرب میں رواج تھا کہ اگر کسی طاقتور قبیلے کا کوئی شخص کمزور قبیلے کے کسی فرد کے ہاتھوں قتل ہو جاتا تھا، اس کے بدلے میں قاتل کے قبیلے کے دو افراد کو قتل کرنا اپنا حق تصور کیا جاتا تھا۔ اسلام نے ایسی زیادتیوں کو ختم کر دیا اور ’’جتنا بڑا جرم، اتنی بڑی سزا‘‘ کا اصول رائج کیا۔ سورہ بقرہ آیت 178 میں ارشاد ہوتا ہے:
’’آزاد کے بدلے آزاد، غلام کے بدلے غلام اور عورت کے بدلے میں عورت ہی قتل کی جائے۔‘‘
اس کے علاوہ سورہ نحل کی آیت 126 کے الفاظ ہیں :
’’اگر انتقامی کارروائی کرنا چاہو، تو اتنی ہی کرو جتنا کہ وہ قصور جو تمہارے خلاف سرزد کیا گیا۔‘‘
اور اسی آیت کے اگلے حصے میں فرما دیا گیا:
’’لیکن صبر کرنا بہتر ہے (تمہارے لئے، خدا ان کے) ساتھ ہے جو صبر کرتے ہیں۔ ‘‘
اسلامی نظامِ عدل کی ایک اور بڑی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں قیامِ عدل کی ذمہ داری کو صرف حکومت تک محدود نہیں رکھا گیا، بلکہ اس کا زیادہ تر بار افرادِ معاشرہ پر ڈال دیا گیا ہے۔ حقوق العباد متعین کر کے ہر ایک کو پابند کر دیا گیا ہے کہ وہ اپنے ساتھی انسانوں کے حقوق ادا کرنے میں عدل و انصاف سے کام لے، ورنہ اللہ کے غیظ و غضب کا مستحق ٹھہرے گا۔ عورتوں کے، یتیموں کے، غلاموں کے، اولاد کے، والدین کے اور رعایا کے حقوق و فرائض متعین کر دیئے گئے ہیں۔ دیگر معاشرتی معاملات کے متعلق احکام بھی تفصیل سے دیئے گئے ہیں اور ہدایت کی گئی ہے کہ اپنی معاملت میں عدل سے کام لو۔
اسلامی نظامِ عدل میں عدلیہ کو تمام ریاستی اداروں سے بالاتر رکھا گیا ہے۔ اس کی سب سے بڑی مثال خود حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے قائم کی جو مملکت اسلامیہ کے بانی بھی تھے، امام بھی تھے اور قاضی بھی۔ سنن نسائی کی روایت کے مطابق انہوں نے خود کو سب کے روبرو پیش کیا اور کہا۔ ’’اگر میرے ذمہ کسی کا قرض ہو، اگر میں نے کسی کی جان و مال اور آبرو کو صدمہ پہنچایا ہو تو میری جان، مال اور آبرو حاضر ہے، اسی دنیا میں وہ بدلہ لے لے۔‘‘
اسی حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بڑا مشہور واقعہ ہے کہ آپ کی خلافت کے زمانے میں آپ کی زرہ ایک یہودی نے چوری کر لی۔ آپ نے خلیفہ وقت ہوتے ہوئے بھی از خود کارروائی کرنے کے بجائے، عدالت میں مقدمہ دائر کیا۔ آپ کی طرف سے گواہی دینے کے لئے آپ کے فرزند حضرت حسنؓ اور ایک غلام پیش ہوئے۔ عدالت کے قاضی نے اسی بناء پر مقدمہ خارج کر دیا کہ بیٹے کی گواہی باپ کے، اور غلام کی گواہی آقا کے حق میں قابل قبول قرار نہیں دی جا سکتی، اور حضرت علیؓ نے کوئی احتجاج کئے بغیر یہ فیصلہ قبول کر لیا۔ اسلامی عدل کے اس مظاہرے سے یہودی اتنا متاثر ہوا کہ اسی وقت حلقہ بگوش اسلام ہو گیا۔
اسلام کی پوری تاریخ ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے۔
یہ ملحوظِ نگاہ رہے کہ قاضی کی ذمہ داری سنبھالنا آسان نہیں ہے۔ جامع ترمذی میں روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ’’جو شخص عہدۂ قضا پر فائز ہوا، وہ گویا بغیر چھری کے ذبح کیا گیا۔‘‘
ایسی اہم، نازک اور بوجھل ذمہ داری کو سنبھالنے والے کے اسلام نے اہلیت و قابلیت کے چند معیار مقرر کئے ہیں جن پر پورا اترے بغیر کوئی اس عہدے پر فائز ہونے کا حقدار نہیں۔ آنحضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت علیؓ کو عیفہ کا قاضی مقرر کرنے سے پہلے ان کا امتحان لیا تھا، گویا تمام دیگر شرائط پوری کرنے کے باوجود امتحان سے گزرے بغیر کسی کو قاضی نہیں بنایا جا سکتا۔ مقرر کردہ معیارات میں سب سے پہلا معیار یہ ہے کہ امیدوار بالغ ہو اور مرد ہو۔ البتہ بعض فقہاء نے اس ضمن میں ہلکے پھلکے اختلاف کئے ہیں۔ امام ابوحنیفہ کا فرمان ہے کہ جن امور میں عورت کی شہادت لینا درست ہے، ان میں ان سے فیصلہ کروا لینا بھی درست ہے۔ ابن جریر تمام امور میں عورت کی قضا جائز قرار دیتے ہیں۔ بہرحال، مردوں کی موجودگی میں اس عہدے کے لئے عورت کو فوقیت نہیں دی جا سکتی۔
قاضی کے لئے عاقل اور ہوشمند ہونا ضروری ہے اور اس میں اتنی صلاحیت ہو کہ مشکل سے مشکل معاملات کو سمجھ اور سلجھا سکے۔ یہ بھی ضروری ہے کہ وہ کسی مخصوص فرد یا گروہ کے مفادات کا پابند نہ ہو، بصورتِ دیگر اس کے منصب قضا پر بیٹھنے کا مقصد ہی فوت ہو جائے گا۔
مسلمانوں کا قاضی مسلمان ہی ہونا چاہئے البتہ امام ابوحنیفہ کے قول کے مطابق، غیرمسلموں کے مقدمات کا فیصلہ کرنے کے لئے غیرمسلم قاضی مقرر کئے جا سکتے ہیں ، اور اگر غیرمسلم اپنا مقدمہ مسلم قاضی کی عدالت میں پیش کرنا چاہیں تو انہیں غیرمسلم قاضی کے سامنے پیش ہونے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ البتہ مسلمان قاضی پر لازم ہے کہ غیرمسلموں کے فیصلے کرتے وقت ان کے عقائد کو ملحوظِ خاطر رکھے۔
ضروری ہے کہ قاضی متقی، پرہیزگار، قول کا سچا اور امانتدار ہو۔ ان خوبیوں کی غیر موجودگی میں اسے منصب قضا پر بٹھانا، نہ صرف اس کی عدالت میں آنے والوں کے ساتھ بلکہ اس اہم ذمہ داری کے ساتھ بھی ناانصافی ہے۔
قاضی کا تمام علومِ شرعیہ میں مہارت رکھنا ضروری ہے۔ قرآن، سنت، علمائے سلف کے اجماع اور قیاس سے پوری واقفیت رکھتا ہو۔ 
مسند عدل پر فائز ہو کر مقدمات کا فیصلہ کرنے والے قاضی کے لئے اسلام نے کئی ہدایات جاری کی ہیں ، ان میں سے اہم مندرجہ ذیل ہیں :
٭	مقدمات پیش کرنے والوں کی باری کا لحاظ رکھا جائے، اور ایک سے زیادہ مقدمات ہونے کی صورت میں پہلے مقدمہ لے کر آنے والے کو سرفہرست رکھا جائے۔
٭	مقدمے کا فیصلہ کرنے سے پہلے دونوں فریقین کے بیانات سنے اور پرکھے جائیں ، اور فیصلہ خوب سوچ سمجھ کر کیا جائے۔
٭	فریقین سے یکساں سلوک کیا جائے۔ ایسا نہ ہو کہ ایک کے حق میں قاضی سخت اور کٹھور ثابت ہو اور دوسرے کے حق میں نرم اور دھیما۔
٭	اگر فریقین مقدمہ میں سے ایک معزز اور صاحب حیثیت ہو، اور دوسرا کمزور و کم حیثیت، تو قاضی کو اجازت ہے کہ وہ اپنی ہمدردیوں کا میلان کمزور کے حق میں رکھے۔
٭	غصہ کی حالت میں کسی مقدمہ کا فیصلہ سنانے سے منع کیا گیا ہے۔ غصہ عقل پر اثرانداز ہو کر فیصلے کی صحت مشکوک بنا سکتا ہے۔
٭	مقدمے کی سماعت کے دوران اس امر کی ممانعت کی گئی ہے کہ قاضی کسی ایک فریق کی مہمانداری کرے۔
٭	اسی طرح مقدمے کی سماعت کے دوران کسی ایک فریق سے کسی طرح کی خرید و فروخت یا کاروباری لین دین کرنے کی بھی ممانعت کی گئی ہے۔
٭	اگر قاضی کی طبیعت بوجھل اور مضمحل ہو تو پھر مقدمات کے فیصلے کرنے سے احتراز کرے کیونکہ اندیشہ ہے ایسی حالت میں انصاف کے تقاضوں کو پوری طرح ملحوظِ خاطر نہیں رکھا جا سکے گا۔
٭	قاضی کو ہدایت ہے کہ وہ دورانِ مقدمہ تو کیا، عام حالات میں بھی کسی کا تحفہ یا ہدیہ قبول نہ کرے۔ ایسے تحائف و ہدایہ مستقبل میں کسی مقدمے کے دوران، اس کے فیصلے پر اثرانداز ہو سکتے ہیں۔ 
٭	رشوت اور سفارش قبول کرنے کی سختی سے ممانعت کی گئی ہے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے رشوت لینے والے اور دینے والے، دونوں کو دوزخی قرار دیا۔ اسی طرح، جیسا کہ پہلے مذکور ہوا، جب ان کے سامنے بنی مخزوم کی فاطمہ کو معاف کر دینے کی سفارش کی گئی تو آپ ﷺ کو اتنا غصہ آیا کہ چہرۂ مبارک سرخ پڑ گیا، البتہ مقتول کے وارثوں سے اس بات کی سفارش کرنا کہ وہ قاتل کو معاف کر دیں اور قصاص کے بدلے دیت قبول کر لیں ، ایک مستحسن فعل ہے اور قاضی خود بھی ایسا کر سکتا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خود کئی مقدمات میں اس طرح کی سفارش کی ہے۔ اسی طرح قرض وغیرہ کے مقدمات میں بھی آپ سفارش کر دیا کرتے تھے کہ قرض خواہ قرض کا کچھ حصہ چھوڑ دے یا سارا معاف کر دے، یا مقروض کو ادائیگی کے لئے زیادہ مہلت دے۔
٭	اگر سزا پانے والے کے متعلق قاضی کو یقین ہو کہ وہ سزا برداشت نہیں کرے گا تو اسے حق حاصل ہے کہ سزا میں تخفیف کر دے یا تخفیف کی کوئی صورت پیدا کر دے۔ سنن ابن ماجہ میں سعید ابن المصعبؓ سے روایت ہے کہ ایک کمزور و ناتواں آدمی ہمارے گھروں میں آیا جایا کرتا تھا۔ ایک دفعہ وہ گھر کی لونڈی کے ساتھ پکڑا گیا۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے معاملہ پیش ہوا تو آپؐ نے فرمایا، اسے سو کوڑے لگاؤ۔ اس پر لوگوں نے عرض کہ یا رسول اللہﷺ! وہ تو بہت کمزور ہے، اتنے کوڑے کھانے سے مر جائے گا۔ اس پر آپﷺ نے فرمایا۔ ’’ایک ایسی شاخ لو جس کے ساتھ سو (چھوٹی چھوٹی) شاخیں ہو۔ وہ ایک ہی دفعہ اس کو مار دو، سزا پوری ہو جائے گی۔‘‘
٭	اگر کسی مقدمے کا فیصلہ کرنے میں کوئی دشواری پیش آئے تو قاضی کو اختیار حاصل ہے کہ اس کے متعلق دوسرے صاحب علم لوگوں سے مشورہ کر لے۔
٭	مقدمے کے دوران اگر قاضی کو شبہ ہو کہ فریقین میں سے کوئی ایک غلط بیانی کر رہا ہے، لیکن غلط بیانی کا ٹھوس ثبوت اس کے پاس نہ ہو تو محض شبے کی بنا پر وہ اس کے بیان کو غلط قرار نہیں دے سکتا، اور انہی شواہد کی بناء پر فیصلہ کرنے کا پابند ہے جو اس کے سامنے موجود ہیں۔ 
قاضی کو حاصل اختیارات کی وضاحت تو اسلامی شریعت کے مطالعے سے بخوبی ہو جاتی ہے اور اسلامی تاریخ میں موجود مثالوں سے بھی ان کا تخمینہ لگایا جا سکتا ہے تاہم ان کی مختصر سی تفصیل حسب ذیل ہے:
لوگوں میں پیدا ہونے والے تنازعات سے متعلق مقدمات کی سماعت اور فیصلے کرنا۔ فیصلے کے نفاذ کی عملی ذمہ داری انتظامیہ پر عائد ہوتی ہے۔
مقدمے کی سماعت میں کسی فریق کا حق ثبوت و شواہد کی روشنی میں ثابت ہو جائے تو اسے اس کا حق دلانا۔ اس فیصلے کے نفاذ کی عملی ذمہ داری بھی انتظامیہ پر ہی عائد ہوتی ہے۔
نابالغوں کے مال کی حفاظت اور نگرانی کرنا، اور متعلقہ امور کی دیکھ بھال کرنا۔ اسی طرح بیوہ خواتین کے حقوق کی نگرانی کرنا، یہاں تک کہ اگر ان کے رشتے آئیں تو ان کا نکاح کرانا۔ تاہم امام ابو حنیفہؒ نے قاضی کو ان امور سے خارج قرار دیا ہے۔
مرحومین کی وصیتوں پر عمل کرانا، اور اگر وصیت کرنے والے نے اپنا وصی مقرر کر دیا ہو تو پھر وصی کی نگرانی کرنا کہ وہ وصیت کی شرائط پر ٹھیک ٹھیک اور پورا عمل درآمد کرائے۔
حقوق اللہ سے متعلق جرائم پر خود سزا تجویز کرنا اور حقوق العباد سے متعلقہ جرائم پر مستحق کے طلب کرنے پر بمطابق شریعت سزا سنانا۔ غیر قانونی تعمیرات اور زمینات پر غیر قانونی قبضہ کرنے والوں کی بے دخلی کے احکام جاری کرنا۔ 
یہ چند بنیادی نکات ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلامی جمہوریہ میں شہریوں کے تمام بنیادی حقوق اور آزادیوں کا تحفظ قاضی کی براہِ راست ذمہ داریوں میں شامل ہوتا ہے، اور ان امور میں اگر کوئی شہری قاضی سے رجوع کرے تو قاضی کو اختیار حاصل ہے کہ وہ پوری آزادی سے اپنا فیصلہ بمطابق قانون صادر کرے۔ اس کے قانونی اختیارات محدود نہیں ہوتے، یہ ایک الگ بات ہے کہ وہ صرف ایک مخصوص علاقے کے افراد کے مقدمات کی ہی سماعت کرے، لیکن ایسا صرف انتظامی ضروریات کے تحت کیا جاتا ہے، قاضی کے اختیارات کی وسعت پر اس کا کوئی اثر مرتب نہیں ہوتا۔
انتظام کا ذکر آیا تو اس حوالے سے ذکر کرتا چلوں کہ آج کل عدالتوں کی درجہ بندی کا عام رواج مروج ہے، اس کی اسلامی نظامِ عدل میں کوئی ضرورت نہیں سمجھی گئی۔ بہرحال، شریعت کوئی ایسی پابندی عائد نہیں کرتی کہ اگر ایک علاقے میں مختلف افراد کو قاضی مقرر کرنے کی ضرورت پیش آئے تو ایسا نہ کیا جائے۔ علاقے کی ضروریات اور حالات کے مطابق، وہاں ایک سے زیادہ قضاۃ کو تعینات کیا جا سکتا ہے۔ البتہ ایک عدالت کے فیصلے کے خلاف دوسری بالاتر عدالت میں اپیل دائر کرنے کا طریقہ کئی علماء کے نزدیک درست نہیں۔ ان کا اعتراض یہ ہے کہ ایک عدالت کے فیصلے کے خلاف دوسری عدالت میں اپیل دائر کرنے کا مطلب یہ ہے کہ زیریں عدالت نے انصاف کے تقاضوں کو پورا نہیں کیا، اور اگر اعلیٰ عدالت، زیریں عدالت کے فیصلے کو غلط قرار دے دیتی ہے تو پھر زیریں عدالت کے برقرار رہنے کا کوئی جواز نہیں رہتا، جو عدالت قوانین کی تشریح میں کامیاب نہ ہو سکے، زیر بحث مقدمے کو پوری چھان پھٹک کے بعد فیصل نہ کر سکے، اور انصاف کے تقاضے کماحقہ پورے نہ کر سکے، اسے ختم ہو جانا چاہئے۔
یہ اعتراض اپنی جگہ نہایت قوی ہے اور اس موضوع پر طویل بحث کی گنجائش موجود ہے لیکن چونکہ بات موضوع سے ہٹنے کا اندیشہ ہے، اس لئے میں اتنا کہہ کر آگے بڑھتا ہوں کہ عدالت کے قیام کا مقصد انصاف کی فراہمی ہوتا ہے، اور اگر انصاف، عدالتوں کی بھول بھلیوں میں کہیں گم ہو جائے تو پھر اتنے لمبے چوڑے نظام کے قیام کا مقصد فوت ہو جاتا ہے۔

اسلامی حکومت اور مغربی جمہوریت

گذشتہ صفحات میں ایک حقیقی جمہوریت کے عمومی اوصاف اور اصولوں کا مجمل بیان دیا گیا ہے۔ بات آگے بڑھانے سے پیشتر اسے یہاں ایک دفعہ پھر درج کر دینا مناسب معلوم ہوتا ہے کیونکہ یہ اصول مغربی جمہوری حکومتوں میں سنگ بنیاد کی حیثیت رکھتے ہیں ، اور ان صفحات میں ہم مختصر طور پر یہ جائزہ لیں گے کہ اسلام کی جمہوریت، مغرب کی جمہوریت سے کیسے مختلف ہے۔ جدید جمہوریت کے اوصاف و اصول حسب ذیل ہیں :
٭	جمہوریہ ایک ایسی حکومت ہے جس میں تمام شہری اختیارات کے استعمال اور مدنی فرائض کی ادائیگی میں ، براہِ راست یا آزادانہ طریق انتخاب سے چنے گئے اپنے نمائندوں کے ذریعے برابر کا حصہ لیتے ہیں۔ 
٭	جمہوریہ ایسے اصولوں اور ضابطوں پر استوار ہوتی ہے جو انسانی آزادی کا نہ صرف تحفظ کرتے ہیں بلکہ اسے ایک پختہ روایت کی شکل دے دیتے ہیں۔ 
٭	جمہوریہ کی بنیاد اکثریت کی حکمرانی کے اصول پر رکھی جاتی ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ اقلیت اور فرد کے حقوق کو بھی ملحوظِ خاطر رکھا جاتا ہے۔ ہر جمہوری حکومت جہاں اکثریت کی رائے کا احترام کرتی ہے، وہیں پورے جوش و خروش سے افراد اور اقلیتوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ بھی کرتی ہے۔
٭	جمہوریہ میں ایک فردِ واحد یا ادارے کو تمام اختیارات اور اقتدار کا مرکز بننے کی اجازت نہیں دی جاتی بلکہ علاقائی اور مقامی سطحوں پر اقتدار کو تقسیم کر کے اس کی مرکزیت ختم کر دی جاتی ہے، اور اس بات کا خیال رکھا جاتا ہے کہ ذیلی سطح پر استوار ہونے والی ایسی حکومتیں عوامی مسائل کے حل میں فعال ہونے کے ساتھ ساتھ ہر ممکن حد تک عوام کی آسان رسائی میں بھی ہوں۔ 
٭	جمہوری حکومتوں کو اس حقیقت کا گہرا شعور ہوتا ہے کہ آزادیِ تقریر اور آزادیِ مذہب جیسے بنیادی انسانی حقوق کا تحفظ، ہر ایک کو مساوی قانونی تحفظ کی فراہمی، اور معاشرے کی سیاسی، معاشی اور ثقافتی زندگی میں سب کو پورا پورا حصہ لینے اور اپنا کردار ادا کرنے کے مواقع فراہم کرنا ان کے مرکزی فرائض میں شامل ہے۔ 
٭	جمہوری حکومتوں کے تحت آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کا انعقاد باقاعدگی سے ہوتا رہتا ہے، جس میں رنگ و نسل کے امتیاز کے بغیر ملک کا ہر شہری پوری آزادی سے حصہ لیتا ہے۔ جمہوری حکومت کے انتخابات شخصی آمریت کے علمبرداروں کی طرف سے منعقد کرائے جانے والے انتخابات کی طرح اپنی غیر منصفانہ و غیر قانونی حکومت کو قانونی جواز فراہم کرنے کا بہانہ نہیں ہوتے، بلکہ عوام کی حمایت حاصل کرنے کی صحت مندانہ اور مستند مسابقت ہوتے ہیں۔ 
٭	جمہوری حکومت اپنے بنائے ہوئے قانون کی پابندی سب سے پہلے کرتی ہے اور اس امر کو یقینی بناتی ہے کہ تمام شہریوں کے جان و مال اور بنیادی حقوق کو قانونی تحفظ مساوی بنیادوں پر میسر رہے۔
٭	جمہوری حکومتوں میں تنوع کو بنیادی عنصر کی حیثیت حاصل ہوتی ہے کیونکہ ہر جمہوری حکومت اپنے ملک کی منفرد سیاسی، سماجی اور ثقافتی زندگی کی آئینہ دار ہوتی ہے۔ جمہوری حکومت کو بے لچک اور جمود کے شکار ضابطوں کے بجائے بنیادی اصولوں پر ایستادہ کیا جاتا ہے جو سادہ ہونے کے سبب نہایت وسیع تناظر کے حامل ہوتے ہیں۔ 
٭	جمہوریہ کے شہری کی کہانی صرف حقوق کے حصول پر ہی ختم نہیں ہوتی بلکہ اس پر فرائض بھی عائد کئے جاتے ہیں ، اور اس کا سب سے اہم فریضہ سیاسی نظام میں حصہ لینا ہے جو آگے چل کر اس کے حقوق اور آزادیوں کا تحفظ کرتا ہے۔
٭	جمہوری معاشرے اعتدال، برداشت، تعاون اور سمجھوتے کے اصولوں پر پورا یقین رکھتے ہیں۔ انہیں علم ہوتا ہے کہ کسی مسئلے پر اتفاقِ رائے حاصل کرنے کے لئے سمجھوتہ کرنا ناگزیر ہوتا ہے اور یہ بھی کہ اتفاقِ رائے کا حصول ہمیشہ ممکن نہیں ہوتا اور اختلافِ رائے کو خندہ پیشانی سے برداشت کیا جانا چاہئے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ انتہاپسندی، اختلاف کو برداشت نہیں کر سکتی لہٰذا جمہوری معاشروں میں اعتدال پسندی کو خصوصاً فروغ دیا جاتا ہے اور باہمی تعاون کی فضا پیدا کر کے ماحول کو اتفاقِ رائے کے لئے سازگار بنایا جاتا ہے۔
اسلامی جمہوریہ کے ہر شعبے کا احوال آپ ملاحظہ فرما چکے۔ اب ان نکات کو غور سے پڑھئے اور بتایئے کہ ان میں سے کون سا وصف ایسا ہے جو اسلامی جمہوریہ میں نہیں پایا جاتا۔ حقیقت خود ہی کھل جائے گی کہ جمہوریت حقیقتاً اسلامی طرزِ حکومت سے عین مطابقت رکھتا ہے، اور اگر بعض علماء اس سلسلے میں کوئی اختلاف کرتے ہیں تو اس کی بنیاد یا اصطلاح پر رکھی گئی ہے یا بعض ایسی خصوصیات پر جو مغربی جمہوریتوں میں نظر آتی ہیں لیکن کسی اسلامی حکومت کے لئے قابل قبول قرار نہیں دی جا سکتیں۔ اس کا جواب میں پہلے ہی دے چکا ہوں کہ مغربیوں نے جب جمہوری نظام کو اپنایا تو اسلامی نہیں یونانی سمجھ کر اپنایا، اور پھر اپنے معاشرے اور ماحول کے مطابق اس میں ترامیم و اضافے کرتے رہے، یوں ان کا نظامِ حکومت، اسلامی نظامِ حکومت سے کافی حد تک مختلف ہو گیا۔ بہرحال، اب بھی ان میں بہت سی باتیں مشترک ہیں جن میں سے کچھ کو آپ دیکھ چکے ہیں اور کچھ یاددہانی کے لئے پھر سے درج کی جاتی ہیں۔ 
دونوں جمہوریتوں میں مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ) کا تقرر بذریعہ انتخاب کیا جاتا ہے، اور شوریٰ کے بعض ارکان کا تقرر براہِ راست حکومت کے ہاتھوں بھی انجام پاتا ہے۔
دونوں جمہوریتیں اپنے افعال اور کوتاہیوں کے لئے عوام کے سامنے جوابدہ ہوتی ہیں۔ 
انسانی مساوات کو اولیں ترجیحات میں شامل رکھا جاتا ہے۔
شہری آزادیوں کا تحفظ کیا جاتا ہے۔
رائے عامہ کی اکثریت کو فیصلے کرنے کا اختیار حاصل ہوتا ہے۔
اگر سربراہِ حکومت پر عوام کا اعتماد باقی نہ رہے تو اسے معزول کر دیا جاتا ہے۔
اب نہایت اختصار کے ساتھ یہ جائزہ لیتے ہیں کہ دونوں طرز کی جمہوریتوں میں ایسے نمایاں اختلافات کون سے ہیں جن کی بدولت مغربیوں کو یہ خیال نہیں گزرتا کہ ان کا اختیارکردہ طرزِ حکومت اپنی مکمل شکل میں چودہ صدیاں پیشتر سامنے آ چکا تھا، اور یہ خیال درست نہیں کہ جمہوریت مغرب کی پیداوار ہے، اور دوسری طرف مسلمانوں کو بھی یہ تسلیم کرنے میں عار ہوتا ہے کہ جمہوریت کا جنم اصل میں ان کے ہاں ہوا اور اسلامی طرزِ حکومت ہی حقیقی جمہوریت ہے۔
مغربی جمہوریت اور اسلامی جمہوریت میں سب سے پہلا اور سب سے بڑا اختلاف یہ ہے کہ اسلامی جمہوریت کی بنیاد علی الاعلان مذہب پر رکھی جاتی ہے جبکہ مغربی جمہوریت غیر مذہبی یعنی سیکولر ہوتی ہے۔ بعض جمہوری ریاستوں میں حکومت کو مذہبی اعتقادات کا محافظ خیال کیا جاتا ہے، اور حکومت کی طرف سے اندرون و بیرونِ ملک مذہب کی اشاعت و تبلیغ کا اہتمام بھی ہوتا ہے۔ اس کی بہت بڑی مثال ہمارے پڑوس میں ہی موجود ہے جہاں حکومت سیکولر ہونے کا دعویٰ کرنے کے باوجود اکثریت کے مذہب، ثقافت اور تہذیبی اقدار کو فروغ دینے میں پوری کوشش کرتی ہے۔ بہرحال، حقیقت یہی ہے کہ مغربی جمہوریت میں دین اور سیاست کو ایک دوسرے سے الگ الگ کر دیا گیا ہے، اور سیاست دانوں کو مذہب کے یا طبقہ مذاہب کے اراکین کو سیاسی معاملات میں دخل انداز ہونے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ کوئی فرد اپنی ذاتی حیثیت میں دونوں طرف کے امور میں دخل انداز ہو سکتا ہے لیکن سیاسی یا مذہبی حیثیت سے ایسا کرنا جائز نہیں رکھا گیا۔ جبکہ اسلامی جمہوریت کا خمیر ہی مذہب سے اٹھا ہے اور اس میں مذہب کو سیاست سے الگ کرنے کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔
دونوں جمہوریتوں کے درمیان دوسرا بڑا اختلاف بھی مذہب ہی کے حوالے سے پایا جاتا ہے۔ اسلامی جمہوریت میں اقتدارِ اعلیٰ کا حقیقی مالک خدائے تعالیٰ کو ہی تصور کیا جاتا ہے، اور سربراہِ حکومت کو اقتدار ایک امانت کی طرح سونپا جاتا ہے۔ اگر وہ اس امانت کی پاسداری نہ کر سکے تو یہ اس سے واپس لے لی جاتی ہے۔ وہ ان اصولوں اور حدود کا پابند ہوتا ہے جو خدا نے مقرر کر رکھی ہیں ، اور جن میں کسی لچک یا ترمیم کی گنجائش موجود نہیں۔ 
دوسری طرف مغربی جمہوریت میں اقتدارِ اعلیٰ ایک فرد یا جماعت کی ملکیت تصور کیا جاتا ہے جن کا انتخاب عوام اپنی رائے کے ذریعے کرتے ہیں۔ اس جمہوریت میں قانون اور پالیسیاں بناتے وقت خدائی اصولوں کو نہیں ، وقت کی مصلحتوں کو پیش نظر رکھا جاتا ہے۔ سربراہِ حکومت کہنے کو آئین کا پابند ہوتا ہے، لیکن اس کے پاس ایسے حربے موجود ہوتے ہیں کہ اگر ضرورت پڑے تو اپنے حسب منشاء آئین میں ترامیم کر اسکے۔ اس کے مقابلے میں اسلامی جمہوریت کے سربراہ کو مملکت کے بنیادی آئین میں تبدیلی کرنے کا کوئی اختیار حاصل نہیں۔ وہ ذیلی قوانین ضرور مرتب کر سکتا ہے، لیکن مرکزی قوانین میں حبہ برابر تبدیلی بھی نہیں لا سکتا۔
اسلامی جمہوریت اپنی اصل میں ایک عالمگیرریاست ہوتی ہے۔ اسے کسی ایک خطے تک محدود تصور نہیں کیا جا سکتا۔یہ اور بات ہے کہ اس وقت اسلامی مملکت کئی ریاستوں میں بٹ گئی ہے، اور ہر ریاست کو اپنے خطے اور قوم سے تعلق رکھنا پڑ رہا ہے لیکن سولہویں صدی عیسوی کے وسط تک پوری اسلامی سلطنت ایک ہی خلیفہ کے تحت متحد تھی، اور اس کے بعد بھی، بیسویں صدی تک عثمانی خلیفہ کا نام سربراہِ مملکت اسلامیہ کی حیثیت سے خطبوں میں پڑھا جاتا رہا۔ ایک دین کے پیرو ہونے کے ناطے، ایک ملت کے ارکان ہونے کی حیثیت سے تمام مسلمان حقیقتاً ایک ہی مملکت کے باشندے ہیں ، اور وقتی طور پر کھنچنے والی جغرافیائی لکیریں آج بھی اس ضمن میں کوئی بڑی حیثیت نہیں رکھتیں۔ اس حقیقت کا مشاہدہ ہم آج بھی کسی نہ کسی سطح پر کر سکتے ہیں۔ 
اس کے مقابلے میں مغربی جمہوریت ایک خاص ملک یا خطے تک محدود ہوتی ہے، اور اس سے باہر، دوسرے ممالک کے معاملات سے کوئی ظاہری سروکار نہیں رکھتی خواہ ان ممالک میں ان کے ہم مذہب باشندے ہی کیوں نہ آباد ہوں۔ اگرچہ عملاً حقیقت حال خاصی مختلف ہے لیکن نظریاتی طور پر یہی بات درست تسلیم کی جائے گی کہ مغربی جمہوریت میں قوم کا تصور خطے کے ساتھ محدود کر دیا جاتا ہے جبکہ اسلامی جمہوریت میں اسے دین کے ساتھ منسلک کر کے ایک عالمگیر شکل دے دی جاتی ہے۔
ان تین اختلافات سے قطع نظر، مجھے مغرب اور اسلام کی جمہوریت میں کوئی بڑا فرق نظر نہیں آتا، اور یہ آپ نے دیکھ ہی لیا ہوگا کہ ان تینوں اختلافات کی بنیاد مذہب پر ہی رکھی گئی ہے۔ میرے نزدیک اس کی وجہ یہی ہے کہ ہم مسلمانوں کے سوادِ اعظم کے نزدیک ہمارا دین آج بھی دنیا کی سب سے بڑی دولت کی حیثیت رکھتا ہے جبکہ مغرب میں ایک نمایاں طبقہ، جس میں صاحب اثر افراد خصوصی طور پر شامل ہیں ، مذہب کو سیاست سے الگ کر کے گرجا یا صومعہ کی عمارت میں مقید کر چکے ہیں۔ 
یہ اختلافات ابھی برقرار رہیں گے کیونکہ اپنی اپنی جگہ پر ان کی بنیادیں اتنی مضبوط ہو چکی ہیں کہ مستقبل قریب میں ان کے ختم ہونے کا امکان خال خال بھی نظر نہیں آتا۔ جیسے ہم اپنے جمہوری اصولوں کو درست سمجھتے ہیں ، ویسے ہی مغربی بھی اپنے جمہوری اصولوں کی صحت پر یقین رکھتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ان اختلافات کو وجہ نزاع بنانے کے بجائے ایک دوسرے کے اصولوں کا احترام کیا جائے، اور انہیں بدلنے کی کوشش کرنے کے بجائے قبول کرنے کی وضع اپنائی جائے۔ اس سے نہ صرف یہ کہ دونوں تہذیبوں کو ایک دوسرے کے قریب آنے اور ایک دوسرے کو سمجھنے کا موقع ملے گا بلکہ دونوں ایک دوسرے سے کچھ حاصل بھی کر سکیں گی۔ دونوں کے پاس ایک دوسرے کو دینے اور سکھانے کے لئے بہت کچھ ہے۔ ذرا غور کیجئے، اور اگر آپ کے ذہن میں کسی طرح کے تعصبات اور ابہامات ہیں تو انہیں تھوڑی دیر کو ایک طرف رکھ دیجئے، آپ بھی تسلیم کریں گے کہ بات سچ ہے، اور تھوڑی سی کوشش کی جائے تو پورے کرۂ ارض پر جمہوریت، بلکہ اسلامی جمہوریت، قائم کرنے کے خواب کو شرمندۂ تعبیر کیا جا سکتا ہے۔
٭٭٭

تشکر: القلم لائبریری
تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید
