﻿


جھیل جیسی آنکھوں میں




انور گل
 



 




چاندنی سی بہتی ہے، جھیل جیسی آنکھوں میں
کتنی پیاس رہتی ہے، جھیل جیسی آنکھوں میں
جھانکنا ذرا پھر سے،دیکھنا ذرا پھر سے
وہ بھی ہم سے کہتی ہے، جھیل جیسی آنکھوں میں



 
چشمِ حیرت تو بتا کیسا تماشا ہو گیا
کِس نے چھوڑا ہے تجھے اور کون تیرا ہو گیا
دے گیا دریائے دل کو ایک صحرا کا وجود
میرے دل کے راستے سے کون پیاسا ہو گیا
تذکرہ تھا شہر میں خاموشیوں کی لہر کا
کہ اچانک ہی گلی میں شور برپا ہو گیا
شہر کو بھی آ گیا چہرہ بدلنے کا ہُنر
مان لو کہ شہر بھی اب آپ جیسا ہو گیا
کس کی شہرت تھی تمھارے شہر میں بالائے بام
کون پستی میں گرا ہے؟ کون رُسوا ہو گیا
بارہا ایسا ہوا کہ سانس بھی رکنے لگی
بارہا ایسا ہوا کہ حوصلہ سا ہو گیا
جب تلک دل میں رہا تو شبنمی انداز تھا
قطرۂ خوں آنکھ میں آیا تو دریا ہو گیا
دل تڑپ اٹھتا ہے ترکِ دوستی کے نام پر
ہم بہ ظاہر تو یہی کہتے ہیں ’’اچھا ہو گیا‘‘
کس لیے حرکت میں ہیں یہ ہم نوایانِ یزید
کیا کوئی پھر جانبِ کوفہ روانہ ہو گیا
کاٹ ڈالی ہم نے انور اپنے جذبوں کی زباں
جس سے دل کی بات کرتے تھے وہ بہرا ہو گیا
 


آشنائے نشاط ہوں لیکن 
تیرے غم ہی مری ضرورت ہیں
مجھے الفت تجھی سے ہے، ورنہ
لوگ تجھ سے بھی خوب صورت ہیں
***


جو لوگ تجھ کو میرا محبوب جانتے ہیں
کیا خوب سوچتے ہیں،کیا خوب جانتے ہیں
تیرے ستم سے ناخوش کچھ اور لوگ ہوں گے
ہم تو تِرے ستم کو مرغُوب جانتے ہیں
***
 

جہاں میں یَزداں بھی اِہرمن بھی
فِرعونیت بھی، کلیمیّت بھی

نظامِ فطرت سے ہو رہی ہے
یہ جارحیّت، مزاحمت بھی

جہاں بھی شر کا فتور ہو گا
وہیں پہ حق کا ظہور ہو گا

جہاں میں اک ساتھ چل رہی ہیں
یزیدیت بھی، حسینیت بھی
***
 

جب کبھی کوچۂ جاناں سے گزر کر دیکھا
میں نے ہر شخص اٹھائے ہوئے پتھر دیکھا

تیری ہر بات زمانے سے نرالی دیکھی
تیرا دستور جدا سب سے ستم گر دیکھا

آہ! اے شومیِ قسمت کہ نشاں تک نہ ملا
حسرتِ دید میں جا کر اسے گھر گھر دیکھا

یہ بتا مجھ کو پیامی! کہ مرے نامے کو
اس نے کچھ دیر پڑھا بھی تھا کہ فَرفَر دیکھا

اتفاقاً جو سرِ راہ کبھی مل بھی گیا
احتراماً نہ کبھی تجھ کو مکرّر دیکھا

اور کیا اِس سے بڑی خوبیِ قسمت ہوگی
موسمِ گل میں رخِ ماہِ منوّر دیکھا
***
 


جا رہا ہوں ہار کر
مت مجھے شمار کر

کچھ تُجھے پتا لگے
تُو کسی سے پیار کر

وَحشتوں کے ہو لیے
چاہتوں کو مار کر

مانگ مت کسی سے تُو
خود پہ اِنحصار کر

کھو گیا ہوں میں خدا!
مجھ کو واگزار کر
***
 

جانے کون ہے جو میرے وَجدان میں رہتا ہے
اِک چہرہ سا اکثر میرے دھیان میں رہتا ہے

اُس سے پیار کے پیرائے میں بات بھی ہوتی ہے
اُس کا بَرہَم ہونا بھی اِمکان میں رہتا ہے

اُس کے پھُول بدن کی خوشبوسانس میں رہتی ہے
اُس کی زُلف کا سایہ سا دالان میں رہتا ہے

میں نے بھی اِک خول اَنا کا خود پر اوڑھا ہے
وہ بھی کئی دنوں سے اپنے مان میں رہتا ہے

انور اس کو ڈھونڈھ رہا ہوں قَریہ قَریہ میں
جو ہر لمحہ میری اپنی جان میں رہتا ہے
***
 

جو بھی دیکھا ہے خواب نکلے گا
’’جب مِرا انتخاب نکلے گا‘‘

کیا اندھیرے مرا مقدّر ہیں؟
کیا کبھی آفتاب نکلے گا؟

تُو ملے گا جو آخرت میں مجھے
میرا کچھ تو حساب نکلے گا

دل دھڑکتا بہت ہے اُس کے لیے
یہ بھی خانہ خراب نکلے گا

ہم نے انور سوال کر ڈالا
کچھ نہ کچھ تو جواب نکلے گا
***
 

تم چاہو تو دنیا نِیاری کر سکتا ہوں
میرا کیا ہے؟ آہ و زاری کر سکتا ہوں

نہ پوچھو تو اپنے دل کی بات نہ بولوں
پوچھو تو میں بات تمہاری کر سکتا ہوں

اپنے دل کا شاہ بنانا مت تم مجھ کو
میں کوئی فرمان بھی جاری کر سکتا ہوں

ایک فقط تم پر ہی یہ موقوف نہیں ہے
میں بھی لہجہ کاروباری کر سکتا ہوں

ایک خرابی سی ہے بس مجھ میں انور گل
گزرے لمحے خود پر طاری کر سکتا ہوں
***
 


تم نے سوچا ہے تو پھر اِس پہ کمر باندھتے ہیں
آؤ! ہم دھوپ کے پاؤں میں شجر باندھتے ہیں

کیسی دنیا ہے کہ چکّر میں پڑے ہیں سارے
کیسی بستی ہے کہ سب لوگ بھنور باندھتے ہیں

رُک گئے ہم جو تِرے شہر کو اچھا سمجھا
آپ ناراض ہیں تو رختِ سفر باندھتے ہیں

وہ تعلّق جو اَناؤں میں کہیں ٹوٹ گیا
ایسا کرتے ہیں اسے بارِ دگر باندھتے ہیں

آندھیاں باندھنا سنتے تھے بڑوں سے انور
لوگ تو اُڑتے پرندوں کے بھی پَر باندھتے ہیں
***
 

توڑتا ہے وہ، پھر بناتا ہے
تَجربہ تو یہی بتاتا ہے

داد اُس کو بھی دینی پڑتی ہے
جو ہوا میں دیے جلاتا ہے

جاگتا ہوں میں صرف اُس کے لیے
خواب بھی تو وہی دکھاتا ہے

جیسے تم نے بھلا دیا ہم کو
اِس طرح بھی کوئی بھلاتا ہے؟

صورتِ حال کچھ بھی ہو انور
وہ فقط فیصلے سناتا ہے
***
 

پھینکنا ذہنوں میں پہلے خود ریاکاری کے سنگ
اور پھر شفّاف سوچوں کی اُمنگیں مانگنا

سوچ کی چرخی پہ رکھنا سُوت کے دھاگے کے لفظ
آندھیوں کی زَد میں رہنا اور پتنگیں مانگنا

جسم کے زِنداں میں سونا، ناامیدی اوڑھ کر
اور پھر مسرُور لمحوں کی ترنگیں مانگنا

خود بچھانا شہر میں بارودِ نفرت کی سُرَنگ
اور پھر اُن سے بچاؤ کو اَلنگیں مانگنا

خوب ہے انور سیاست بادشاہِ وقت کی
آشتی لکھنا جبیں پر اور جنگیں مانگنا
***
 

بہت ہی بوجھ ہے مجھ پر، امانت اپنی لے جائے
اُسے کہنا کہ وہ آ کر محبّت اپنی لے جائے

میں اب لڑنے کے قابل کب رہا ہوں لشکرِ جاں سے
مجھے بے حوصلہ کر دے، قیادت اپنی لے جائے

خیال و خواب کے لمحے بھی کچھ وجہِ مسرت ہیں
خدا کے واسطے وہ یہ سہولت اپنی لے جائے

میں اب سچی رفاقت کی گواہی دے نہیں سکتا
وہ میرے دل اور آنکھوں سے شہادت اپنی لے جائے

گزاری ہے اسی کے سحر میں اِک عمر اے انور
مگر اب چاہتا ہوں کہ وہ عادت اپنی لے جائے
***
 

اُس نے دور رہنے کا مشورہ بھی لکھا ہے
ساتھ ہی محبت کا واسطہ بھی لکھا ہے

اُس نے خط میں لکھا ہے”خط مجھے نہیں لکھنا‘‘
گھر کا فون نمبر بھی اور پتا بھی لکھا ہے

اُس نے یہ بھی لکھّا ہے میرے گھر نہیں آنا
اور صاف لفظوں میں راستا بھی لکھا ہے

کچھ حروف لکھے ہیں ضبط کی نصیحت میں
کچھ حروف میں اُس نے حوصلہ بھی لکھا ہے

شکریہ بھی لکھّا ہے دل سے یاد کرنے کا
دل سے دل کا ہے کتنا فاصلہ بھی لکھا ہے

کیا اُسے لکھیں انور، کیا اُسے کہیں انور
جس نے بے مزہ کر کے ذائقہ بھی لکھا ہے
***
 

اگرچہ سب نے مجھے ناتمام لکھا ہے
جبینِ وقت پہ میرا ہی نام لکھا ہے
یہ واقعہ ہے کہ ناقد نے میرے شعروں کو
بہ طورِ خاص پڑھا ہے تو عام لکھا ہے
***

اُڑتا پھرتا ہے جو اَفلاک پہ مٹی کی طرح
اُسے گرنا ہے اسی خاک پہ مٹی کی طرح

کھائے جاتا ہے مِری ذات کو ہولے ہولے
کوئی چمٹا مِرے اِدراک سے مٹی کی طرح

اب تو سنتے ہیں کہ پوشاک محل ہے اس کا
جو کبھی تھا مِری پوشاک پہ مٹی کی طرح

وہ بنا ہو ں جو مجھے اُس نے بنایا انور
میں کہ رہتا تھا کسی چاک پہ مٹی کی طرح
***
 

اُسی کا ہجر، اُسی کا وصال باندھا ہے
ہر ایک شعر میں اُس کا خیال باندھا ہے

زباں سے کچھ نہ کہا آنکھ سے گریں بوندیں
جواب کھول کے اُس نے سوال باندھا ہے

یہ کس کو دیکھ کے ہم کو کسی کی یاد آئی
یہ کس نے عہدِ گذشتہ سے حال باندھا ہے

یہ چار دن کی جدائی کہاں چھڑائے گی
کہ ہم نے دل سے اُسے ماہ وسال باندھا ہے

بچھڑ ہی جائے گا اِک روز وہ بھی انور گل
سو ہم نے رختِ سفر میں مآل باندھا ہے
***
 

اُجڑی اُجڑی دل کی محفل، تیرے بنا
ہلکی ہلکی سانس میں ہلچل، تیرے بنا

کل تو ساتھی! تُو مجھ کو یاد آیا تھا
جانے کتنا رویا میں کل تیرے بنا

پہلے اِک بجلی سی چمکی، پھر یہ ہوا
ٹوٹ کے برسا آنکھ کا باد ل تیرے بنا

جانِ سُخَن! اے جانِ سُخَن! کچھ تُو ہی بتا
کیسے کروں میں شعر مکمّل، تیرے بنا

تیرے بنا گل مرجھائے سے رہتے ہیں
درد کی لَے میں گائے کوئل تیرے بنا
***
 

ایسا نہیں کہ چاہ تھی کچھ گھر سے،آگیا
ڈر کر میں شعلہ رُو! ترے تیور سے آ گیا

یا تو کوئی طلب تھی اُسے یا کوئی ملال
یا پھر وہ میرے گھر میں مقدّر سے آ گیا

دریا کے آس پاس ہی پیاسے ملے تھے لوگ
میں بھوک لے کے شاخِ ثمرور سے آ گیا

اُس سے شکست کی تھی مجھے آرزُو بہت
واپس میں ہو کے بختِ سکندر سے آ گیا

ہم نے زمین تھام لی انور کہ آج پھر
وہ آسماں زمین پہ چکر سے آ گیا
***
 

اپنے معیار سے نہیں اُترے
ہم کبھی دار سے نہیں اترے

ڈھل گئے ہیں غزل کے پیکر میں
حرف بے کار سے نہیں اترے

مرنے والے جو تیرے احساں ہیں
اِس عزادار سے نہیں اترے

قحط ایسا پڑا پرندے بھی
اب کے اشجار سے نہیں اترے

اُن کے آنے کی آس تھی انور
سائے دیوار سے نہیں اترے
***
 


 ناِسی لئے تو میں خود سے بھی پیار کرتا ہوں
تجھے میں اپنا ہی حصّہ شمار کرتا ہوں

یہ جانتا ہوں کہ میری طلب کسی کو نہیں
نہ جانے کس کا مگر انتظار کرتا ہوں

یہ عَقل مجھ کو بکھیڑوں میں ڈال دیتی ہے
وگرنہ دل سے ترا اعتبار کرتا ہوں

نہ سوکھ جائے کہیں یادِ یار کی کھیتی
دل و نظر کو تبھی اَشک بار کرتا ہوں

سُخَن وَری کا مجھے شوق کچھ نہیں انور
کسی کے واسطے بس اختیار کرتا ہوں
***
 
مرے مولا! تو کہ عظیم ہے
مِری خواہشوں کو اَلنگ دے
مجھے بات کرنے کا گُر سکھا
مجھے نعت کہنے کا ڈھنگ دے
***

یہاں کا جو بھی منظر ہے، ستارے ہیں کہ خاور ہیں
سبھی کا تُو ہی محور ہے ، یہ سب تسلیم کرتے ہیں

خدا! تیرا کرم تو کم نہیں ہوتا کسی صورت
زیادہ ہے ہماری ہی طلب، تسلیم کرتے ہیں

ترے بندوں سے اُلفت ہے، یہی اپنی عبادت ہے
اِسی کو اپنی بخشش کا سبب تسلیم کرتے ہیں
***
 



وہ خدا مہربان ہے، تو ہے
مجھے اُس پر جو مان ہے، تو ہے

مرا اُس پر یقین کامل ہے
تجھے اُس پر گمان ہے، تو ہے

مجھے دیتا ہے اِس زمیں پر وہ
برسرِ آسمان ہے، تو ہے

وہ جو میرا خیال رکھتا ہے
مجھے اُس کا دھیان ہے، تو ہے

وہ مری عمر کی کمائی ہے
تُو جو سمجھے زیان ہے، تو ہے

صرف اِک لفظ ”کُن‘‘ کے پردے میں
یہ جو سارا جہان ہے، تو ہے

مولوی جی! یہ دین اُس کا ہے
یہ تمھاری دکان ہے، تو ہے

عیب اُس سے چھپائے ہیں انور
وہ مگر راز دان ہے، تو ہے


***

ماخذ: اردو کی فورمس
تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید 