﻿
[جہانِ تصوف و طریقت،کاروانِ حقیقت و معرفت اورآسمانِ ولایت کے]


چار بڑے اَقطاب
[الجیلانی- الرفاعی-البدوی-الدسوقی]

(مناقب الأقطاب الأربعۃ)

-: تصنیف لطیف :-
شیخ یونس بن اِبراہیم السامرائی رحمہ اللہ و رضی عنہ

-: ترجمہ و ترتیب :-
محمد اَفروز قادری چریاکوٹی 
دلاص یونیورسٹی/ جامعۃ المصطفیٰ،کیپ ٹاؤن، ساؤتھ افریقہ


اس کتاب کی مکمل پروف ریڈنگ اور تصحیح نہیں کی جا سکی ہے۔ اس کے متن پر مکمل اعتماد نہ کیا جائے

تحریک	:	علامہ مولانا محمد عبدالہادی قادری نوری-دام ظلہ العالی-
نظر ثانی 	:	علامہ مولانا سید محمد رضوان رفاعی ثقافی-حفظہٗ اللہ ورعاہ-
(آغازِ ترجمہ: ۲۱/ربیع الآخر۱۴۳۳ھ۔۱۴/مارچ ۱۲۱۲ھ بروزچہار شنبہ
اِختتام ترجمہ: ۲۵/ربیع الآخر۱۴۳۳ھ۔۱۸/مارچ ۱۲۱۲ھ بروزیک شنبہ)






شرفِ اِنتساب

میری یہ کتاب معنون ہے علم بردارانِ فکراِسلامی 

	السید عبدالقادر الجیلانی
			السید  احمد  الرفاعی
					السید احمد البدوی
							السید ابراہیم الدسوقی
کے نام 
نیزاُن سعادت نصیبوں کے نام جو اِن آقاؤں کے نقش
 قدم پر جادہ پیما اور اِن کی سیرت وکردار پرعمل پیرا ہیں 

۔۔۔یونس السامرائی۔۔۔



کتاب و صاحب کتاب

حضرت شیخ یونس اِبراہیم السامرائی ایک دین دار اور باخدا خاندان کے چشم وچراغ بن کر ۹/ اکتوبر ۱۹۳۴ء میں سامراء کے محلہ قلعہ میں پیدا ہوئے۔ سامرائ دریاے دجلہ کے مشرقی کنارے پر واقع بغداد و تکریت کے درمیان ایک قدیم شہر ہے۔ 
آپ کے والد گرامی حضرت ابراہیم السامرائی کا شمار وقت کے اَجلہ صوفیہ اور اکابر مشائخ میں ہوتا تھا۔ آپ کے مرحوم بھائی شیخ یٰسین السامرائی سامراء کی جامع القلعہ کے امام وخطیب تھے۔ اس طرح آپ کو اپنی شخصیت کے سنوار ونکھار کے لیے گھر کے اندربڑا علم نواز اور اَدب ساز ماحول میسر آیا۔
جب سن شعور کو پہنچے توقرآن کریم کی قراء ت ملا یٰسین شہاب البدری کی درسگاہ جامع القلعہ سے کی۔ پھر مدرسہ کے علمی وروحانی ماحول میں داخل ہوئے اور وہاں سے ۱۹۴۷ء میں عالم وفاضل بن کر نکلے۔ ازاں بعد شوقِ علم کشاں کشاں کھینچ کر سامراء کے مشہور و معروف اِدارہ مدرسہ علمیہ دینیہ میں لے آیا جہاں چوٹی کے علماو مشائخ کی صحبتوں سے فیض اُٹھایا،  اوروہاں چند ایک سال گزار کر مختلف علوم وفنون میں ماہرانہ کمال پیدا کیا۔ 
آپ کے معروف اَساتذۂ  کرام کے اَسماے گرامی یہ ہیں :  علامہ سید شیخ احمد الراوی، علامہ سید عبد الوہاب البدری، علامہ سید عبد العزیز بن سالم السامرائی، علامہ سید ایوب توفیق الخطیب، علامہ سید عبد الرحمن محمد علی السامرائی، علامہ سید مخلص حماد الراوی -رحمہم اللہ تعالیٰ جمیعاً-
آپ نے اپنی زندگی میں تصنیف و تالیف کا باقاعدہ شغل -۱۹۶۳ئ- سے شروع کیا۔ سب سے پہلے آپ نے سامراء شہر کی تاریخ میں پہلی بار سامرائ نامی ایک مجلہ نکالا۔ اس کی مقبولیت نے آپ کو کافی حوصلہ دیا۔ نتیجے میں -۱۹۶۴ئ- کے اندر صوت الاسلام کے نام سے ایک دوسرے شمارے کابھی اِجرا کیا۔ پھر جب -۱۹۶۵ئ- میں آپ بغداد جا کر مستقلاً وہیں سکونت پذیر ہو گئے، تویہ مجلہ بھی آپ کے ہمرکاب ہو کر وہیں چلا گیا، اور -۱۹۶۸ئ- تک بڑی کامیابی اورپابندی کے ساتھ اشاعت پذیر ہوتا رہا۔ 
آپ کی مساعی جمیلہ سے بغداد میں بہت سے مدارس ومساجد کا قیام عمل میں آیا۔ آپ نے مشہور ومعروف اِسلامی شہروں کا بطورِ خاص سفر کیا،  کبھی اپنے نجی شوق کی وجہ سے اور کبھی حکومتی وفد کے ساتھ،  تاکہ وہاں کی تاریخی و ثقافتی، اورسماجی ومعاشرتی سچائیوں کو بچشم سر ملاحظہ کرسکیں۔  
مختلف موضوعات پرآپ کی تصانیف کا سلسلہ بڑاطویل ہے،  جن میں سے چندیہ ہیں :
	الأزیاء الشعبیۃ فی سامرائ۔۔۔۔الإسلام والقومیۃ العربیۃ۔۔۔۔ بطولات اسلامیۃ۔۔۔۔ تاریخ الدور قدیما وحدیثا۔۔۔۔تاریخ علماء سامرائ۔۔۔۔ التوجیہات الإسلامیۃ ۔۔۔۔حقائق عن السلف الصالح۔۔۔۔ حکمۃ التشریع الإسلامي ۔۔۔۔دلیل الصائم ۔۔۔۔دلیل الحاج ۔۔۔۔ لا صُلْح مع إسرائیل ۔۔۔۔ اللّٰہ جل جلالہ ۔۔۔۔ النفحات الربانیۃ فی الأحادیث القدسیۃ ۔۔۔۔ اقتباس من أخبار العشرۃ المبشرۃ ۔۔۔۔ کیف نصلي ۔۔۔۔ الزواج الدائم رد علی کتاب الزواج المؤقت ۔۔۔۔الکنایات القرآنیۃ ۔۔۔۔ ألف کلمۃ لأمیر المؤمنین عمر بن الخطاب۔۔۔۔ مناقب الأقطاب الأربعۃ ۔۔۔۔ الحلال والحرام فی الإسلام ۔۔۔۔فاطمۃ الزہراء ۔۔۔۔ الصوفی بہلول الکوفی ۔۔۔۔ الجنید البغدادی ۔۔۔۔ حقائق عن آل البیت والأصحاب ۔۔۔۔البطل الغالب الإمام علی بن أبی طالب ۔۔۔۔ تاریخ الطرق الصوفیۃ ۔۔۔۔مدیح الدراویش ۔۔۔۔ تاریخ مساجد بغداد ۔۔۔۔ عقود الجواہر في سلاسل الاکابر ۔۔۔۔ لقمان فی القرآن ۔۔۔۔ أبوبکر الصدیق بقلم علی بن ابی طالب ۔۔۔۔تاریخ الاحتفال بمولد سید الرجال ۔۔۔۔ الشہید فی الإسلام ۔۔۔۔ علماء العرب فی شبہ القارۃ الہندیۃ ۔۔۔۔ ملوک وأمراء العرب فی شبہ القارۃ الہندیۃ۔ 
اس طرح شیخ یونس ابراہیم السامرائی علم دین اورعلمائے شرع متین کی عظیم ترین خدمات انجام دے کر ۱۹/نومبر-۱۹۹۰ئ- کوبمرضِ عضال دنیاسے کوچ کر کے جوارِ رحمت میں پناہ گزیں ہو گئے۔  شہر سامراء کی جامع البو رحمن کے رحاب میں والد گرامی شیخ ابراہیم السامرائی کے جوارِ کرم میں آپ کی تدفین عمل میں آئی۔ 
مناقب الأقطاب الأربعہ : یہ کتاب خلیفہ مفتی اعظم ہند مولانا عبدالہادی قادری نوری رضوی صاحب قبلہ کو سیدنا غوثِ اعظم شیخ عبد القادر جیلانی علیہ الرحمہ کے مقبرۂ  پاک  میں کسی درویش نے تحفۃ ً عطا کی تھی۔ مولانا موصوف اس کا انگلش ترجمہ کرنا چاہ رہے تھے،  مگراس کے لیے پہلے کتاب کا اُردو میں آنا ضروری تھا،  چنانچہ ناچیز کو مولانا کے حکم پراِسے اُردو کے قالب میں ڈھالنے کی سعادت اَرزانی ہوئی۔ 
مولانا ڈربن میں ہوتے ہیں اور میں کیپ ٹاؤن میں،   چنانچہ اس بعدِ  مسافت نے کتاب مجھ تک پہنچنے میں کئی دن لے لیے۔ اس بیچ میں نے انٹرنیٹ پر اس کتاب کی تفتیش کی تومجھے اس کا ایک جدید نسخہ میسر آ گیا،  مگر آگے چل کر معلوم ہوا کہ وہ اصل کتاب نہیں بلکہ اس کا چربہ اور خلاصہ تھا۔ خیر! میں نے -بحمد اللہ- چند ایک روز کے اَندرہی اس کا ترجمہ مکمل کر دیا۔ اب جب مولانا کی کتاب آئی تو کیا دیکھتاہوں کہ وہ کافی تفصیلی ہے۔ 
اس بیچ میرے ہمدم ومحسن علامہ مولانا سید رضوان احمدرفاعی-حفظہ اللہ-کو اس کی بھنک لگ گئی، اب وہ کہاں بخشنے والے، وہ تو زندہ ہی اسی لیے ہیں کہ مسلک و مذہب کا بول بولا ہو، -خداے بخشندہ ایسے مردِ مجاہد اور جیالے آقا علیہ الصلوٰۃ والسلام کی اُمت میں بکثرت پیدا فرمائے- انھوں نے ہر ممکن اِصرار کر کے یہ کتاب مجھ سے حاصل کر لی،  تاکہ اِس کی خاطر خواہ طباعت واِشاعت کراکے چار مشاہیر اَقطابِ عالم کا فیضانِ روحانی وتعلیمی عام سے عام تر کیا جا سکے۔
لہٰذا وہ تفصیلی کتاب میرے مستقبل کے منصوبوں میں چلی گئی،  تاہم یہ تلخیص بھی اہمیت واِفا دیت کے اِعتبار سے کچھ کم نہیں،  اس کے مطالعہ کے بعد آپ یہ کہے بغیر نہیں رہ سکیں گے کہاجمال کا جب یہ عالم ہے تفصیل کا عالم کیا ہو گا!۔
یہ کتاب دراصل آسمان ولایت و کرامت کے چار درخشندہ ستاروں شیخ سیدنا عبد القادر الجیلانی، شیخ احمد کبیر الرفاعی، شیخ احمد البدوی، شیخ ابراہیم الدسوقی -علیہم الرحمۃ والرضوان- کے فضائل وکمالات اور تعلیمات وارشادات پر مشتمل ہے۔ 
یوں تو اِن چار بڑے قطبوں کی شخصیات کو مختلف انداز سے اہل فکروقلم نے خراجِ تحسین اور نذرانۂ  عقیدت پیش کیا ہے،  مگران میں علامہ سامرائی کا اندازِ بیان بالکل جداگانہ،  عالمانہ اورمحققانہ ہے۔ انھوں نے خوارق وکرامات کے بیان پر زور نہ دے کر اُن اقطابِ اَربعہ کی تعلیمات وملفوظات سے لوگوں کو آگاہی بخشنے کی کامیاب سعی فرمائی ہے۔ نیز یہ کہ ان مشہور ترین سلسلوں کی اَساس کیا ہے، اور اُن کے مؤسّسین نے اس کے لیے کن کن شرائط و آداب کو حرزِ جاں رکھنے کافرمان جاری کیا ہے۔ 
مزید برآں مصنف نے اس کتاب میں کچھ ایسے حقائق سے پردہ بھی اُٹھایا ہے جو کسی اور کتاب کے اندر دیکھنے میں نہیں آئے۔ اس لیے یہ کتاب تراجم وطبقات کے باب میں اپنی ایک اِنفرادی شان رکھتی ہے۔ اُمید ہے کہ اِس کتاب سے اِستفاد ے کے وقت قارئین مصنف و مترجم سمیت اِس کارِ خیرمیں دامے،درمے، قدمے،سخنے ہرطرح کے حصہ داروں کو اپنی نیک دعاؤں میں یاد فرمانا نہ بھولیں گے۔ 
اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو، اور اپنے حبیب پاک کے صدقے میں ان اقطابِ اربعہ کے روحانی فیوض وبرکات سے مالامال کرے، اور اپنے محبوبانِ بارگاہ کی چوکھٹوں سے وابستہ رکھ کر دین ودنیا کی بھلائیوں سے حصہ وافر عطا فرمائے۔ آمین یارب العالمین بجاہ سیدالمرسلین علیہ وعلیٰ آلہ وصحبہٖ اجمعین۔ 
خادم العلم والعلماء
محمد افروز قادری چریاکوٹی
جمعہ مبارکہ۲۳/ربیع الآخر۱۴۳۳ھ۔۔۔ کیپ ٹاؤن، ساؤتھ افریقہ


مقدمہ

جملہ تعریفیں اللہ رب العزت کے لیے زیبا ہیں جس نے اپنے اولیا کے لیے ہدایت کی راہیں وا فرمادیں۔  اُن کے ہاتھوں پر خیرات وکرامات ظاہر کیں۔  اورہر قسم کے ناموزوں کاموں سے انھیں محفوظ فرمادیا۔ تو اُن کے نقش قدم کی پیروی کرنے والا ہی صحیح معنوں میں کامیاب اور ہدایت یاب کہلا سکتا ہے،  ورنہ اُن کے طریقوں سے منہ پھیرنے والوں کے مقدر میں تونامرادی اور در بدری لکھ دی گئی ہے۔ 
صلوٰۃ و سلام کے گلدستے نچھاور ہیں محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بارگاہِ اقدس میں جو لوگوں کو چاہِ ضلالت اور قعر مذلت سے نجات دلانے والے ہیں۔  نیز آپ کی آل اطہار واَصحابِ اخیار پر بھی اللہ کی رحمتوں کا نزول ہو جو (رہتی دنیا تک) رشدو ہدایت کے روشن مینارے ہیں۔  
حمدوصلوٰۃ کے بعد عرض ہے کہ زندہ قوموں کی یہ علامت اوربامِ ترقی پر فائز اُمتوں کا یہ شعار رہا ہے کہ وہ ہمیشہ اپنے محسنوں،  عظیم ہستیوں اور عبقری شخصیتوں کی یاد وں سے خود کو معمور رکھتی ہیں،   تاکہ اُن کی بے داغ سیرتیں اُن کے ذہن وفکر کو جلا بخشتی رہیں،  نیز اُن کے بے مثال کارناموں کے ذکر سے آئندہ نسلوں کا مزاج خمیر ہو سکے۔
تاریخ اِسلامی ایسے جلیل القدراور عبقری مسلمانوں کے کارناموں سے بھری پڑی ہے جن کی شہرتوں کا دائرہ کائنات گیر ہے،  کیوں کہ اُن کا خمیر ایمان باللہ، تقویٰ و صلاح، بلند اخلاقی،اور راست سیرت پراُستوار تھا۔ ایسی ہی عبقری شخصیتوں میں شیخ عبدالقادر الکیلانی، شیخ سیداحمد کبیر الرفاعی، شیخ سید احمد البدوی، اور شیخ سیدابراہیم الدسوقی کا نام سرفہرست آتا ہے۔   -اللہ ان پر رحمت ورضوان کے پھول برسائے-
میری یہ کتاب اِن جلیل القدراولیاء اللہ کے ذکر جمیل پر بطورِ خاص روشنی ڈالتی ہے،  کیوں کہ میرے علم میں یہ بات آئی ہے کہ بیشترحضرات ان شخصیتوں کی حیات و خدمات کے تعلق سے بہت ہی سطحی علم رکھتے ہیں، اوراُن کے حقیقی مقام و مرتبے سے ناواقف ہونے کے باعث طرح طرح کی بدعات و خرافات اور مبالغات و لغویات اُن سے منسوب کر دیتے ہیں۔ 
لہٰذا میں نے چاہا کہ حقائق کے چہرے سے پردہ اُٹھا کر اُن کی شخصیت کا بے غبار آئینہ لوگوں کے روبروپیش کر دیا جائے۔ خدا کرے میری یہ کاوشِ شرفِ قبولیت سے ہمکنار ہو، اور اولیاء وصالحین کے عقیدت مند اس سے بھرپور طریقے پرمستفید ومستفیض ہوں۔   -اور توفیق خیردینے والا بس اللہ ہے-٭

						یونس السامرائی

(٭)	  موقع کی مناسبت سے یہ مقدمہ، اِنتساب، نیز درمیانِ کتاب میں کچھ خاص خاص چیزیں میں نے شیخ کی تفصیلی کتاب سے مستعار لی ہیں،   مگر جہاں جہاں اِضافہ ہواہے، التزاماً نشاندہی کر دی ہے۔- چریاکوٹی-




پہلی فصل

القطب الشیخ عبد القادر الکیلانی قدس اللّٰہ سرہ
حیات و خدمات
(۴۷۰ھ =۱۰۷۷ء  ۔۔۔  ۵۶۱ھ= ۱۱۶۵ء)



بسم اللہ الرحمن الرحیم

مولانا اِمام شیخ عبد القادر جیلانی-قدس اللہ سرہ-

نام نامی ولقب گرامی
السید السند، قطب اوحد، شیخ الاسلام، زعیم العلماء،  سلطان الاولیائ، قطب بغداد، بازِ اشہب، سیدی ابوصالح محی الدین عبد القادر کیلانی، حسنی اَباً، حسینی اُماً، حنبلی مذہبا ً- رضی اللہ تعالیٰ عنہ-

نسب مبارک
شیخ الاسلام تاج العارفین محی الدین ابومحمد السید الشیخ عبد القادر الکیلانی ابن ابوصالح موسیٰ بن عبد اللہ الجیلی بن یحییٰ الزاہد بن محمد بن داؤد بن موسیٰ بن عبد اللہ الجون بن عبد اللہ المحض بن الحسن المثنی بن الامام الحسن بن الامام علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہم الہاشمی القریشی۔(۱)
ولادتِ مبارکہ
حضرت شیخ عبد القادر جیلانی سے آپ کی ولادت کے تعلق سے سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا: مجھے اس کا کوئی قطعی علم تونہیں،   تاہم میں بغداد میں اسی سال وارد ہوا جس سال  

(۱)	تفصیلی کتاب میں شیخ یونس السامرائی نے سیدناشیخ سید عبد القادرجیلانی علیہ الرحمہ کا سلسلہ نسب مذکورہ نسب نامہ کے علاوہ سیدنا ابوبکر صدیق، سیدنا عمر فاروق، سیدنا عثمان غنی، اور سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین سے بھی متصل ثابت کیا ہے، اورتفصیلاً بیان کیا ہے۔				     -چریاکوٹی-
-۴۸۸ھ -میں ابومحمد شیخ رزق اللہ بن عبد الوہاب بن عبد العزیز بن الحرف بن اسد تمیمی کا وصال ہوا تھا، اور اس وقت میری عمر اٹھارہ سال تھی،  لہٰذا اِس بیان کے مطابق شیخ عبد القادر جیلانی رضی اللہ عنہ کا سن ولادت ۴۷۰ھ بنتا ہے۔
نیز اس تعلق سے شیخ نور الدین ابوالحسن علی بن یوسف بن جریر لخمی اپنی کتاببہجۃ الاسرار میں یوں رقم طراز ہیں کہ مجھے فقیہ ابوعبد اللہ محمد بن شیخ ابوالعباس احمد بن عبد الواسع بن امیر کاہ بن شافع جیلی حنبلی سے پتا چلا، اور انھیں اُن کے دادا عبد الواسع سے معلوم ہوا کہ ابوالفضل احمد بن صالح بن شافع جیلی حنبلی رحمۃ اللہ علیہ کا بیان ہے کہ شیخ محی الدین عبد القادر جیلانی رضی اللہ عنہ -۴۷۱ھ- میں جیلان کی سرزمین پر واردِ جہانِ رنگ وبو ہوئے۔ اور -۴۸۸ھ- میں آپ جب بغدا د تشریف لے گئے تواس وقت آپ کی عمر شریف اَٹھارہ سال تھی۔ 
جیل کی طرف منسوب ہونے کی وجہ سے آپ جیلانی کہے جاتے ہیں۔  جِیْل بکسرجیم وسکونِ یا دراصل طبرستان سے پرے ایک الگ شہر ہے۔ آپ نے اسی کے ایک قصبے میں شرفِ تولد پایا۔ ایک قول یہ ہے کہ بغداد سے ایک دن کی مسافت پر،شہر واسط کے راستے سے ملحق، دریاے دجلہ کے ساحل سے لگا ہوا جیلان،کیلان،کیل نامی ایک گاؤں ہے (جہاں آپ کی ولادت ہوئی)۔۔۔۔
ایک روایت کے مطابق جیلانی آپ کے ناناجیلان کی نسبت سے ہے،  کیوں کہ (آپ کے ناناحضرت) ابوعبد اللہ صومعی علیہ الرحمہ کا شمار جیلان کے اکابر مشائخ و زُہَّاد میں سرفہرست ہوتا تھا۔ آپ بڑے درخشندہ حال واَحوال کے مالک ہیں،  اوربڑی روشن و زندہ کرامتیں آپ سے منسوب ہیں۔  
صاحب بہجۃ الاسرار بیان کرتے ہیں کہ ہمیں فقیہ ابوسعید عبد اللہ بن علی بن احمد بن ابراہیم قرشی سے معلوم ہوا، انھیں شیخ جلیل احمد بن اسحق بن عبد اللہ ہاشمی قزوینی سے، انھیں شیخ القدوۃ نور الدین ابو عبد اللہ محمد جیلی سے، انھیں شیخ العارف ابو محمد الداربانی القزوینی سے کہ وہ فرماتے تھے: میں نے شیخ ابوعبد اللہ الصومعی سے ملاقات کی اور وہ عجم کے اکابر مشائخ میں سے تھے۔
 مجاب الدعوات توتھے ہی،  عالم یہ تھا کہ جب بھی کسی پر ناراض ہوئے فوراً اللہ نے اس سے اِنتقام لیا، اورجب بھی انھیں کوئی چیز مرغوب ہوئی فوراً بفضل الٰہی غیب سے اس کے اَسباب فراہم ہو گئے۔ کبر سنی اور ناتوانی کے باوصف کثرت سے نفلیں پڑھتے، ہمہ وقت ذکر میں مشغول رہتے۔آپ کا تواضع و اِنکسارہر کسی پر عیاں تھا۔ حفظ حالات اور مراعاتِ اَوقات پر صبر کرنے والے تھے۔ 
ہم سے ہمارے کسی دوست نے یہ حکایت نقل کی کہ وہ کسی تجارتی سفر پر رواں دواں تھے،  چنانچہ جب وہ سمرقند کے صحرا میں پہنچے تو انھیں اپنے سروں پر گھوڑے دوڑتے ہوئے محسوس ہوئے۔ راوی کہتے ہیں ہم کافی پریشان ہوئے، جب ہمیں اپنی جان خطرے میں نظر آئی، تو بے اِختیاری کے عالم میں ہم نے شیخ ابوعبد اللہ الصومعی کومدد کے لیے پکارا۔
کیا دیکھتے ہیں کہ وہ ہمارے سامنے کھڑے مصروفِ عبادت ہیں،  اور زبان پر سبوحٌ قدوسٌ ربنا اللہ کا نغمہ جاری ہے۔ اور ساتھ ہی فرمارہے ہیں : اے اللہ کے گھوڑو! چلے جاؤ، اور ان کا راستہ چھوڑ دو۔
کہتے ہیں کہ خدا کی قسم! یہ جملہ اُن کی زبان سے نکلنے کی دیر تھی کہ گھڑسواروں کے قدم اُکھڑ گئے، اور بدحواسی کے عالم میں پہاڑکی چوٹیوں اورنشیبی وادیوں سے جس طرف انھیں جگہ ملی بھاگ کھڑے ہوئے۔ ہر کوئی الگ الگ بھاگا، ہم نے دو کو اکٹھے بھاگتے نہیں دیکھا۔ 
اس طرح اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے ہمیں اُن (قزاقوں ) سے محفوظ فرمایا۔ پھر جب (سکون کا سانس لینے کے بعد) ہم نے شیخ کو ڈھونڈناشروع کیا تووہ دور دور تک نظر نہیں آئے، خدا معلوم کہاں چلے گئے تھے،  چنانچہ جس وقت جیلان پہنچ کر ہم نے یہ واقعہ لوگوں کو سنایا تو وہ خدا کی قسمیں کھا کر کہنے لگے کہ شیخ صومعی تو ہم سے ایک دن کے لیے بھی جدا نہیں ہوئے، وہ توبرابر ہمارے ساتھ تھے!۔
آپ کی والدہ اُم الخیراَمۃ الجبار فاطمہ بنت ابی عبد اللہ صومعی کا شمار بھی وقت کی نیک وبزرگ خواتین میں ہوتا ہے، اورانھیں خیروتقویٰ سے حصہ ٔوافر عطا ہوا تھا۔ 
صاحب بہجۃ الاسرار بیان کرتے ہیں کہ مجھے فقیہ ابوعلی اسحق بن علی بن عبد اللہ ہمدانی صوفی سے معلوم ہوا، انھوں نے شیخ الاصیل ابوعبد اللہ محمد بن عبد اللطیف بن الشیخ القدوۃ ابونجیب عبد القادر سہروردی سے نقل کیا، اور وہ شیخ ابوخلیل احمد بن اسعد بن وہب بن علی مقری بغدادی ثم ہروی کے حوالے سے بیان کرتے ہیں  :
 ہمیں دو باخدا ہستیوں امام الورع ابو سعد عبد اللہ بن سلیمان بن جعران ہاشمی حنبلی، اور اُم احمد الجیلیہ نے بتایا کہ شیخ عبد القادر جیلانی رضی اللہ عنہ کی والدۂ  ماجدہ ام الخیر امۃ الجبار فاطمہ بنت عبد اللہ الصومعی کو اِس معاملے میں شرفِ اوّلیت حاصل ہے۔ اورانھوں نے ہم سے کئی مرتبہ یہ واقعہ بیان کیا کہ جس وقت میرے بیٹے عبد القادر کی پیدا ئش ہوئی تو وہ ماہِ رمضان میں دن کے وقت میری چھاتی کو منہ تک نہیں لگا تھاتھا۔ 
خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ رمضان کے چاند کی رؤ یت میں اِختلاف واقع ہو گیا،  چنانچہ لوگ میرے پاس آکر میرے بیٹے کی بابت پوچھنے لگے،  میں نے کہا کہ دن میں ا س نے دودھ نہیں پیا،  لہٰذا اس سے لوگوں پر واضح ہو گیا کہ چاند کی رؤیت ہو چکی ہے اور آج رمضان کا پہلا روزہ ہے۔ پھر پورے شہر میں اس واقعے کی ایسی شہرت ہوئی کہ لوگوں کی زبان پریہ جملہ گردش کناں تھا  :
انہ وُلِد للأشراف وَلَد لا یرضع في نہار رمضان۔ 
یعنی اہل سادات کے خانوادے میں ایک ایسا مولودِ سعید پیدا ہوا ہے جو رمضان کے دنوں میں دودھ کو منہ نہیں لگا تھا۔ 
آپ کے عبد اللہ نامی ایک بھائی تھے، جن کی عمرآپ سے کچھ کم تھی۔ انھوں نے بھی بہترین تربیت پائی تھی،علمی ماحول میں پروان چڑھ رہے تھے اور خیر و تقویٰ کے میدان میں قدم جمار ہے تھے کہ غیبی بلاوا آپہنچا اور جیلان کے اندر عین جوانی کے عالم میں راہی ملک بقا ہو گئے۔
آپ کے اوصاف و سراپا کے تعلق سے قاضی القضاۃ شمس الدین ابوعبداللہ محمد بن امام عماد الدین ابو اسحق ابراہیم بن عبد الواحد المقدسی نے اپنے شیخ امام عادل ربانی موفق الدین ابومحمد عبداللہ بن احمد بن محمد بن قدامہ المقدسی کایہ قول یوں نقل کیا ہے: ہمارے شیخ شیخ الاسلام محی الدین ابومحمد عبدالقادر جیلی نحیف البدن،  درمیانہ قد،  کشادہ سینہ، لمبی ریش مقدس، گندمی رنگ، باریک وپیوست ابرو، خوشنما آنکھیں، بلندودل نشیں آواز، صاحب شہرت ومنزلت، خاموش طبع، شانِ عظیم کے مالک،اورعلم کابحرناپیداکنار تھے -رضی اللہ عنہ وارضاہ-

پرورش وپرداخت
شیخ عبد القادر جیلانی جیلان کے علاقے نیف یا بشتیر نامی ایک چھوٹے سے گاؤں میں پیدا ہوئے،جواصلاً جنوبی ایران کے شمالی حصہ بحرقزوین میں واقع ہے۔ یہ علاقہ اپنی سرسبزی وشادابی کے باعث نمونۂ  فردوس ہے۔ یہاں بل کھاتی نہروں،  اور بارش کی رم جھمی پھوہاروں کا سماں دیدنی ہوتا ہے۔ 
آپ نے اپنے نانا سید عبداللہ صومعی کے زیرسایہ زندگی کے ابتدائی ایام گزارے،  یہی وجہ ہے کہ جس وقت آپ جیلان میں تھے لوگ آپ کو ابن الصومعی کہہ کے یاد کیا کرتے تھے۔ ابن عماد حنبلی کی شذرات الذہب کی تحقیق کے مطابق آپ کا صرف ایک ہی بھائی تھا۔ عبداللہ نام تھا،اور عمر میں آپ سے چھوٹا تھا۔بڑا نیک انسان تھا۔ جیلان ہی کے اندر قیام پذیر تھا، اور ٹھیک عنفوانِ شباب میں اللہ کو پیارا ہو گیا۔
چنانچہ آپ کی زندگی کی اُٹھان عبادت وریاضت اور صلاح وتقویٰ کے منہاج پر ہوئی۔ پوری زندگی آپ دنیا بیزاراور عاقبت شناس رہے۔ آپ شریعت کے اُصول و فروع اور معرفت کے اَسرارولطائف کی تحصیل وتکمیل میں سرگرداں رہے،  یہی وجہ ہے کہ جب خطۂ  جیلان کے علومِ شریعت اوررموزِ طریقت نے آپ کی سیرابی کا پورا سامان نہ کیا تو تشنگی شوق کھینچ کر آپ کو بغداد لے آئی،  کیوں کہ اُس وقت بغداد مرکزعلم مانا جاتا تھا اور دنیا جہان کے کونے کونے سے جنم جنم کے پیاسے آکر یہاں اپنی پیاس بجھاتے تھے۔
اُس وقت اہل جیلان مذہبا ً حنبلی تھے،  کیوں کہ سنت رسول کے اِحیا و فروغ میں امام احمد بن حنبل رضی اللہ عنہ کی جو خدمات رہیں اس کے اَثرات سے قرب وجوار کے خطوں میں آپ کی عظمت کا طوطی بولتا تھا۔ اور یہ خدمت جریدۂ  عالم پر آپ کا نام ہمیشہ کے لیے ثبت کر گئی، اور لوگوں کے دلوں میں محبت وعقیدت کے گلستان سجا گئی۔ اس پر مستزاد یہ کہ بغداد تو اِمام احمد بن حنبل کا مسکن ہی تھا، تو اِس نسبت نے آپ کے اندر حنبلیَّت کی جڑ کو اور بھی مضبوط کر دیا۔ 

آپ کے شیوخ واَساتذہ
حضرت سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی علیہ الرحمہ نے حدیث نبوی کا شرفِ درس و سماع مندرجہ ذیل  شخصیتوں سے پایا: ابو غالب محمد بن حسن باقلانی۔۔۔، ابوبکر احمد بن مظفر۔۔۔، ابوالقاسم علی بن بیان الرذاذ۔۔۔، ابو محمد جعفر بن احمد السراج- متوفی:۵۰۹ھ- مؤلف مصارع العشاق۔۔۔، ابو سعید محمد بن خشیش۔۔۔، ابو طالب بن یوسف۔
فقہ کے دقائق کی تحصیل ان شخصیات سے فرمائی :ابوالوفا بن عقیل -جو اس وقت بغداد کے شیخ الحنابلہ تھے-۔۔۔، ابوالخطاب محفوظ بن احمد کلوذانی حنبلی۔۔۔،قاضی ابو سعید مبارک بن علی مخرمی -متوفی:۵۲۸ھ- ۔۔۔، ابوالحسن بن قاضی ابو یعلی فراء حنبلی۔
علم اَدب وبلاغت اوربیان وبدیع کے رموزبطورِ خاص ابو زکریا یحییٰ تبریزی-متوفی ۵۰۲ھ-سے حاصل کیا۔ 
علم تصوف کے اَسرار و معارف ان شخصیتوں سے سیکھے: ابو محمد جعفر بن احمد السراج -متوفی: ۵۰۹ھ-۔۔۔، شیخ حماد بن مسلم الدباس-متوفی ۵۲۵ھ-۔۔۔، اورقاضی ابو سعید مخرمی مخزومی۔ اِن مؤخر الذکر سے آپ کو خصوصی فیضان عطا ہوا، انھیں کے ذریعہ آپ کو فقہ کی برکتیں بھی نصیب ہوئیں، اور پھر ان کی خلافت ونیابت کے بطور ان کے مدرسہ میں منصب تدریس پر بھی فائز ہوئے۔
ابن جوزی کی منتظم،امام ذہبی کی العبرفی خبر من غبر، سیر اعلام النبلائ، اور ابن رجب حنبلی کی ذیل طبقات الحنابلہ میں یہ تفصیلات موجود ہیں۔ 
قرآن و علوم قرآن، اورقراء ت وتفسیر کی تحصیل ابو الوفا علی بن عقیل حنبلی الخطاب محفوظ الکولذانی سے کی۔
 آپ کے شیوخ کی فہرست میں یہ اسماے گرامی بھی ملتے ہیں : ابوالغنائم محمد بن محمد بن علی الفرسی۔۔۔، عبد الرحمن بن احمد بن یوسف۔۔۔، اورابوالبرکات ہبۃ اللہ المبارک وغیرہ۔ آپ نے درس وتعلّم کا سلسلہ زرّیں اس وقت تک جاری رکھا جب تک علوم وفنون کی اُصول وفروع، علوم قرآن، اوربلاغت واَدب میں ماہرانہ شان کے مالک نہ ہو گئے۔ 
حنبلی المذہب ہونے کے ناطے فقہ میں آپ کا نصب العین تو فقہ حنبلی کی تحصیل ہی تھا،  تاہم ساتھ میں آپ نے مذہب شافعی کا بھی بہت گہرائی سے مطالعہ کیا۔ اور اس طرح کوئی تینتیس سال تک علم وتحقیق کی گتھیاں سلجھاتے رہے،  لیکن یہ سلسلہ تحصیل علم متصل نہیں رہا بلکہ حالات و مواقع کے پیش نظر اِس میں وقفے اور اِنقطاع بھی ہوتے رہے۔ 

طریقت میں آپ کی سند
مولانا شیخ عبدا لقادر جیلانی رضی اللہ عنہ کی سندطریقت میرے والدگرامی شیخ محمد احمد الماحی علیہ الرحمہ کے بتانے کے مطابق یوں ہے  :
(شیخ کی یہ سند سترہ واسطوں سے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے جاملتی ہے)
(شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہ )۔۔۔، شیخ مبارک مخزومی رضی اللہ عنہ۔۔۔، شیخ ابو الحسن القرشی رضی اللہ عنہ۔۔۔، شیخ طرطوس المکی رضی اللہ عنہ۔۔۔، شیخ عبد الواحدتمیمی رضی اللہ عنہ۔۔۔، شیخ ابوبکرشبلی رضی اللہ عنہ۔۔۔،شیخ حبیب اللہ عجمی رضی اللہ عنہ۔۔۔، اِمام الجنید رضی اللہ عنہ۔۔۔، شیخ سری السقطی رضی اللہ عنہ۔۔۔، شیخ معروف الکرخی رضی اللہ عنہ۔۔۔، شیخ حسن البصری رضی اللہ عنہ۔۔۔، سید علی الرضارضی اللہ عنہ۔۔۔، سید موسی الکاظم رضی اللہ عنہ۔۔۔، سید جعفر الصادق رضی اللہ عنہ۔۔۔،سید محمد الباقر رضی اللہ عنہ۔۔۔،سید زین العابدین رضی اللہ عنہ۔۔۔، امام الحسین رضی اللہ عنہ۔۔۔،امام علی کرم اللہ وجہہ۔۔۔، سید الانام خاتم الانبیاء الکرام صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم۔
اورصاحب بہجۃ الاسرار نے کسی دوسرے طریق سے ایک سندیوں بیان کی ہے  :
(اور یہ سند صرف بارہ  واسطوں سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے جاملتی ہے)
(شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہ)۔۔۔، ابوسعید مبارک مخزومی۔۔۔،سیدی ابو الحسن علی بن یوسف القرشی الہکاری۔۔۔، سیدی ابوالفرج الطرطوسی المکی ۔۔۔، سیدی  ابوبکر الشبلی ۔۔۔،سیدی ابوالقاسم  جنید البغدادی۔۔۔،سیدی سر السقطی۔۔۔، سیدی ابومحفوظ معروف الکرخی۔۔۔، سیدی داؤد الطائی۔۔۔، سیدی حبیب عجمی۔۔۔، سیدی حسن البصری ۔۔۔، سیدی امیر المومنین امام علی بن ابی طالب کرم اللہ وجہہ۔

منصب اِرشاد وتدریس پر
قارئین کرام! - خدا مجھ پراور آپ پراپنی رحمتوں کی بھرن برسائے- لوحِ ذہن پر نقش فرمالیں کہ جس وقت شیخ الاسلام محی الدین عبد القادر جیلانی رضی اللہ عنہ نے علوم شریعت اور فنونِ دینیہ کے ہیرہ وجواہرات سے خود کو مزین و آراستہ فرمالیا، اس کے لطائف ومعارف پر دسترس پالی،فضل وکمال کے زینے طے کر لیے،اور سلوک الی اللہ کے سفر میں خود کو علائق دنیوی سے آزاد کر کے حسن آداب کو توشۂ  راہ کے طور پر اپنالیا،تو پھر انھیں بساطِ تدریس بچھانے کی خصوصی ہدایت ہوئی،  لہٰذاشوال۵۲۱ھ میں آپ نے مجلس پندو نصیحت منعقد کی۔ خدا گواہ! ایسی مجلس چرخِ کہن نے شاید ہی دیکھی ہو، ساری مجلس پر ہیبت وجلال کا ایسا سماں ہوتاکہ کہیں سے کوئی حرکت سنائی نہ دیتی، اور اولیا وملائکہ اس پر جاں نثارانہ ٹوٹے پڑتے، پھر جب آپ کی زبانِ اقدس کھلتی توکتاب وسنت کے چشمے سے لعل وجواہر کی برسات ہوتی۔ آپ علیٰ رؤوس الاشہاد بیان فرماتے۔
آپ نے اپنے حکیمانہ طریقہ دعوت سے جب لوگوں کو خدائی راہ کی طرف بلایا تو اطاعت واِنقیاد میں گردنیں جھک گئیں،  اور لوگ سرپٹ دوڑپڑے۔ کتنی خوش بخت ہیں مشتاقوں کی وہ روحیں جنھوں نے اس پکارنے والے کی پکار پر لبیک کہا ہو گا۔ اور کتنے سعادت نصیب ہیں عارفین کے وہ دل جنھوں نے اس کی دعوت کوبڑھ کر قبول کیا ہو گا!۔ 
مجلس وعظ میں آپ کے خطبے کا آغاز یوں ہوتا : الحمد للہ رب العالمین۔۔۔ پھرذرا سا سکوت فرماکے پڑھتے: الحمد للہ رب العالمین۔۔۔پھرذرا سا خاموش رہ کر گویا ہوتے: الحمد للہ رب العالمین۔۔۔پھرذرا سا سکتہ فرما کے یوں لب کشا ہوتے  :
عدد خلقہ وزنۃ عرشہ ورضاء نفسہ ومداد کلماتہ ومنتہی علمہ وجمیع ما شاء وخلق وذرأ وبرأ عالم الغیب والشہادۃ، الرحمٰن الرحیم، الملک القدوس، العزیز الحکیم، وأشہد أن لا إلہ إلا اللّٰہ وحدہ لا شریک لہ، لہ الملک ولہ الحمد یحی ویمیت، بیدہ الخیر وہو علی کل شییٔ قدیر، وأشہد أن محمدا عبدہ ورسولہ، أرسلہ بالہدی ودین الحق لیظہرہ علی الدین کلہ ولو کرہ المشرکین۔ 
(خطبہ کے یہ جملے اِرشاد فرمانے کے بعد سامعین کو دعائیہ کلمات سے یوں نوازتے :)
اللّٰہم أصلح الإمام والأمۃ، والراعی والرعیۃ، وألِف بین قلوبہم في الخیرات، وادفع شر بعضہم عن بعض۔ 
اللہم أنت العالم بسرائرنا فأصلحہا، وأنت العالم بذنوبنا فاغفرہا، وأنت العالم بعیوبنا فاسترہا، وأنت العالم بحوائجنا فاقضہا، لا ترانا حیث نہیتنا، ولا تفقدنا حیث أمرتنا، ولا تنسنا ذکرک ولا تؤمنا مکرک، ولا تحوجنا إلی غیرک، ولا تجعلنا من الغافلین۔
اللہم ألہمنا رشدنا وأعذنا من شرور أنفسنا، أعزنا بالطاعۃ ولا تذلنا بالمعصیۃ، وأشغلنا بک عمن سواک، إقطع عنا کل قاطع یقطعنا عنک، ألہمنا ذکرک وشکرک وحسن عبادتک۔ 
یعنی اے اللہ! اُمت اور ا مامِ وقت کی اِصلاح فرما۔ حکمراں اور خلق خدا کے قدم جادۂ  مستقم پر گامزن فرما۔ نیکیوں کے معاملے میں اُن کے دل باہم جوڑ دے۔اور ان میں کے ایک کی برائی کو دوسرے سے دفع فرما۔
اے پروردگار! تجھے ہمارے بھیدوں اور رازوں کی خبر ہے،  لہٰذا ن کی اصلاح فرما۔ تو ہمارے گناہوں پر آگاہ ہے،  لہٰذا انھیں آبِ عفو سے دھل دے۔ ہمارے عیوب تجھ پر عیاں ہیں،   لہٰذا انھیں ڈھانک دے۔ ہماری ضرورتوں کا تجھے علم ہے،  لہٰذا انھیں پوری فرما۔ مولا! جوتیری ناراضگی کی جگہیں وہاں ہمیں کبھی نہ دیکھ۔ اور جہاں سے تیری رضاوخوشنودی ملنی ہے وہاں سے ہمیں ہٹنے نہ دے۔ہم سے اپنے ذکر کی لذت کبھی نہ بھلا۔اور نہ ہمیں کبھی اپنی خفیہ تدبیر سے مطمئن ہو رہنے کی توفیق دے۔ اپنے در سے وابستہ رکھ، غیرکی ٹھوکروں سے بچا۔ اور ہمیں غفلت شعاروں میں ہونے سے بچالے۔
اے مالک ومولا! رشدوہدایت کی بھیک عطا فرما۔ نفس کی شرارتوں سے محفوظ فرما۔ طاعت وبندگی کو ہمارا سرمایۂ  فخروعزت بنا۔ معصیت ونافرمانی کی ذلت سے ہمیشہ دور رکھ۔ اپنے ذکر وفکر میں ہمیں ایسا مشغول ومگن رکھ کہ تیرا سوا کوئی یاد ہی نہ رہے۔ جو ہماری راہ تجھ سے کاٹ دے تو اس کو ہم سے بے تعلق کر دے۔ اورہمیں اپنے ذکروشکراورحسن عبادت کی توفیق سے سرفراز فرما۔
اس کے بعد اپنی داہنی سمت متوجہ ہو کریہ ارشاد فرماتے  :
لا إلہ إلا اللّٰہ، ما شاء اللّٰہ کان، لا حول ولا قوۃ إلا باللّٰہ العلي العظیم۔ 
یعنی اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں،  وہی ہو جو اللہ چاہے۔قوت وطاقت کا سرچشمہ اسی کے پاس ہے، وہ بڑا سربلنداور عظیم ہے۔ 
پھر اپنے چہرہ کی طرف انگلیوں سے اشارہ کرتے ہوئے (یہی جملہ)فرماتے  :
لا إلہ إلا اللّٰہ، ما شاء اللّٰہ کان، لا حول ولا قوۃ إلا باللّٰہ العلي العظیم۔ 
اس کے بعد اپنی بائیں سمت رخ کر کے یہ اِرشاد فرماتے، مزیدیہ دعا کرتے  :
لا تبد أخبارنا، لا تہتک أستارنا، لا تأخذنا بسوء أعمالنا، لا تحینا في غفلۃ ولا تأخذنا علی غرۃ، ربنا لا تؤاخذنا إن نسینا أو أخطأنا، ربنا ولا تحمل علینا إصرا کما حملتہ علی الذین من قبلنا، ربنا ولا تحملنا ما لا طاقۃ لنا بہ، واعف عنا، واغفر لنا، وارحمنا، أنت مولانا فانصرنا علی القوم الکٰفرین۔ 
یعنی (اے پروردگار!)ہماری بری باتیں ظاہر کر کے اور ہمارے چھپے رازوں کوفاش کر کے ہمیں رسوا نہ فرما۔شامت اعمال کے باعث ہم سے مؤاخذہ نہ کر۔ ہمیں غفلت والی زندگی نہ دے، اچانک گرفت کرنے سے ہمیں محفوظ فرما، اے ہمارے رب! اگر ہم بھول جائیں یا خطا کر بیٹھیں تو ہماری گرفت نہ فرما، اے ہمارے پروردگار! اور ہم پر اتنا(بھی) بوجھ نہ ڈال جیسا تو نے ہم سے پہلے لوگوں پر ڈالا تھا، اے ہمارے پروردگار! اور ہم پر اتنا بوجھ(بھی) نہ ڈال جسے اُٹھانے کی ہم میں طاقت نہیں،  اور ہمارے(گناہوں ) سے درگزر فرما، اور ہمیں بخش دے، اور ہم پر رحم فرما، تو ہی ہمارا کارساز ہے پس ہمیں کافروں کی قوم پر غلبہ عطا فرما۔
(اس خطبہ ودعا کے بعد) آپ (کسی موضوع) پرکلام فرماتے۔ آپ کا یہ معمول تھا کہ آپ اپنی مجلس کی اِبتدا علمی گفتگو سے فرماتے۔جس وقت آپ کرسی پر براجمان ہو جاتے، کیا مجال کہ کوئی خلافِ مجلس حرکت کرے۔ بات چیت بند، مارے ہیبت کے  کوئی مجلس سے اُٹھتا تک نہ تھا،  حتیٰ کہ  کھانسیاں اورگلے کی خراش پر بھی تالے لگ جاتے تھے۔ 
(آپ کی مجلس کی عظیم کرامت یہ تھی کہ) اِزدحام کثیر ہونے کے باوجود مجلس کی آخری قطار میں بیٹھا ہوا شخص آپ کی سماعت سے بالکل یوں ہی محظوظ ہوتا جس طرح صف اوّل میں بیٹھا شخص آپ کو سن رہا اور حظ لے رہا ہوتا تھا،(آپ کی صوت وصدا کا فیضانِ کرم ہر کسی کو یکساں نوازا کرتا تھا)۔آپ اہل مجلس کے دلی خطرات معلوم کر کے اسی کے مطابق کلام فرماتے، ساتھ کشف کے ذریعہ ان پر توجہ خاص بھی فرماتے رہتے تھے۔
ہفتے میں مدرسے کے صحن میں آپ کی وعظ وبیان کی تین مجلسیں منعقد ہوتی تھیں۔  جمعہ کی صبح، منگل کی شب، اوراتوار کی صبح کو۔ آپ کے سامعین میں عوام الناس کے ساتھ کثرت سے علما ے کرام، مشائخ عظام اور فقہاے وقت ہوا کرتے تھے۔ 
اس طرح چالیس سال تک آپ کے درس واِفاضہ کا یہ ابرکرم مسلسل برستا رہا۔ پہلا درس ووعظ۵۲۱ھ میں دیا اور آخری درس وبیان۵۶۱ھ میں۔  یوں ہی آپ نے تینتیس سال تک اپنے مدرسہ میں بیٹھ کر تدریس کا پیغمبرانہ منصب سنبھالا، اور گراں مایہ فتاوے رقم فرمائے۔ اس کا آغاز ۵۲۸ھ سے کیا اور اِختتام ۵۶۱ھ میں۔  
آپ کی مجلس میں دو قاری بغیرخوش نغمگی،  مگرتجویدو ترتیل کی بھرپور رعایت کے ساتھ قرآن کریم کی تلاوت پر مامور تھے۔ سید ابوالفتح مسعود بن عمر ہاشمی بھی آپ کی مجلس میں پڑھا کرتے تھے۔ آپ کی مجلس میں (وعظ وبیان سن کر) دو تین آدمی کی روح قفس عنصری سے پرواز کرجاتی رہی۔ نیز آپ کے اِرشادات وملفوظات لکھنے کے لیے مجلس میں چار سو تجربہ کارخوش نویس علما اور دیگرشخصیات موجود رہا کرتی تھیں۔  
سید ابوالفتح ہاشمی مقری کا بیان ہے کہ شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہ نے مجھے قرآن کریم کی تلاوت کا حکم دیا،  چنانچہ جب میں پڑھنا شروع کیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ آپ کی آنکھیں آنسوؤں سے ڈبڈباگئی ہیں۔  
عبداللہ جانی بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ شیخ محی الدین عبد القادر جیلی رضی اللہ عنہ مجھ سے فرمانے لگے: دل میں خواہش اُبھرتی ہے کہ کاش! میں صحرا و بیاباں میں کہیں فروکش ہوتا، جیسے میں اِبتدامیں تھا، نہ خلق خدا مجھے دیکھتی اور نہ میں انھیں دیکھتا۔ 
پھر فرماتے: لیکن خداوند قدوس کے اِرادہ و مشیت میں کچھ اور تھا، اور وہ یہ کہ میری ذات مخلوقاتِ الٰہیہ کے لیے فیض بخش اور نفع رساں ثابت ہو۔ تمہارے علم کے لیے بتاتا ہوں کہ میرے ہاتھوں پرپانچ سو سے زیادہ یہود و نصاریٰ شرفِ اسلام سے مشرف ہوئے ہیں۔  اور لاکھوں سے زیادہ گناہ گار ومعصیت کیش توبہ کر کے راہِ راست پر گامزن ہوئے ہیں۔ اور یقیناً یہ بڑی خیروسعادت کی بات ہے۔ 
حضرت شیخ عبد القادر جیلانی رضی اللہ عنہ عالمانہ لباس زیب تن فرماتے۔ خچر کی سواری کرتے،آپ کے سامنے سے پردے ہٹ جاتے(یعنی حقیقتیں بے نقاب ہو جاتیں )، اونچی کرسی پرجلوہ افروز ہو کرخطاب فرماتے۔ آپ کے کلام میں تیزی وبلندآوازی ہوتی۔
آپ کی باتوں پر کان دھرا جاتا۔ جب آپ لب کشا ہوتے توسماعیں گوش برآواز ہو جاتیں،  اورماحول پر خموشی مسلط ہو جاتی۔ جب کوئی حکم کرتے، تو بجا آوری کے لیے ریس ہوتی۔ جب کوئی سخت دل  اورمغرور شخص آپ کو دیکھتا، تو مارے ہیبت کے اس کی گردن جھک جاتی۔ 
جس وقت بروزِ جمعہ آپ جامع مسجد سے گزرتے، تولوگ قطار اندر قطار بازاروں میں کھڑے ہو جاتے، اورآپ کے وسیلے سے بارگاہِ الٰہی میں اپنی حاجت برآری کی دعائیں مانگتے۔ آپ کی شخصیت میں اللہ تعالیٰ نے ایسا رعب و دبدبہ رکھ دیا تھا کہ اگرکسی پر نگاہ ڈال دیتے تو ایسا لگتا کہ آپ کی ہیبت سے وہ تھرتھرا کر گرپڑے گا۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ ان کے روحانی فیوض وبرکات سے ہمیں مالامال فرمائے۔

تصنیفات وتالیفات
الغنیۃ لطالبي طریق الحق،  الفتح الرباني والفیض الرحماني من کلام الکیلاني،  فتوح الغیب،  حزب بشائر الخیرات، المواہب الرحمانیۃ والفتوحات الربانیۃ،  یواقیت الحکم، سر الأسرار في التصوف، رد الرافضۃ، مسک الختام في تفسیر القراٰن الکریم، تنبیہ الغبي إلی رؤیۃ النبي، جلاء الخاطر من کلام الشیخ عبد القادر، الرسالۃ الغوثیۃ، معراج لطیف المعاني، بہجۃ الأسرار (مجموعۃ مواعظ للشیخ عبد القادر)،  ورد الجلالۃ للجیلاني، وصایا للشیخ، رسائل الشیخ عبد القادر، دیوان الشیخ عبد القادر، الفیوضات الربانیۃ۔ 

 وفاتِ حسرت آیات
سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہ نے ۸/ربیع الآخر، شب ہفتہ -۵۶۱ھ- میں بغداد میں اِس دارِ فانی کو الوداع کہا۔ اورآپ کے مدرسہ کے باب الازج میں آپ کی تدفین عمل میں آئی۔ اِزدحام اورلوگوں کی ریل پیل کا یہ عالم تھا کہ کیا دوکان، کیا مکان، کیا سڑک، کیا گلی، اور کیا شاہ راہ، ہرطرف بنی نوعِ انساں کا جیسے ایک سیلاب اُمڈ پڑا تھا۔  بغداد کاشاید ہی کوئی شخص ہو جس نے اس میں شرکت نہ کی ہو۔ 
کثرت عالم کے باعث دن میں آپ کی تدفین ممکن نہ ہو سکی،  رات میں کہیں جا کراس آفتاب وماہتاب کو زیرلحد دفن کیا گیا۔ نماز جنازہ آپ کے صاحبزادے شیخ عبد الوہاب نے پڑھائی۔ اُس دن بالکل قیامت کا ساسماں تھا،لوگوں کے اِزدحام سے ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے کوئی محشر بپا ہو گیا ہے۔ 
بتایاجاتا ہے کہ آپ زندگی کے طویل سفر کے دوران کبھی کسی شدید بیماری میں مبتلا نہیں ہوئے،  سواے مرضِ موت کہ آپ پر ایک شب وروز علالت مسلط رہی، اور بس۔ آپ کے صاحبزادے شیخ عبد العزیز نے اس مرض کا سبب دریافت کرنا چاہا تو آپ نے فرمایا: مجھ سے کوئی کسی چیز کے بارے میں سوال نہ کرے،میں تو علم الٰہی میں پلٹے کھا رہا ہوں۔ میرے مرض کا نہ کسی کو پتا ہے، اور نہ کوئی اس کی تہ تک پہنچ سکتا ہے۔ 
آپ کے دوسرے صاحبزادے شیخ عبدالجبار نے اِستفسار کیا کہ آپ کے جسم کے کس حصے سے درد کی ٹینسیں اُٹھتی ہیں ؟۔ فرمایا: سارا بدن چور چور، اور انگ انگپُر الم ہے،  سواے دل کے کہ وہ ہردرد سے آزاد ہو چکا ہے،  کیوں کہ اُسے معیت الٰہی نصیب ہو چکی ہے۔
آپ یہ بھی فرمایا کرتے تھے: مجھے کسی انسان کا کوئی خوف نہیں،  موت اور ملک الموت سے بھی میں نہیں ڈرتا۔ پھر اپنے ہاتھوں کو بلند کرتے اور یہ کہتے ہوئے واپس نیچے لے آتے: وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔
اس کے بعد آپ پرسکراتِ موت کی کیفیت طاری ہوئی۔ اورآپ بار بار اس کلمے کی تکرار کرنے لگے  :
استعنت بلا إلہ إلا اللّٰہ سبحانہ وتعالٰی ہو الحي الذي لا یموت، ولا یخشی الموت، سبحان من تعزز بالقدرۃ وقہر عبادہ بالموت، لا إلہ إلا اللّٰہ محمَّد رسول اللّٰہ۔ 
چنانچہ جب لفظ تعزز پر پہنچے تو زبان لڑکھڑانے لگی،  مگرپھر کوشش کر کے اسے صحت کے ساتھ اَدا کیا، اورپھراللہ اللہ اللہ کی تکرار شروع کر دی،  یہاں تک کہ دھیرے دھیرے آپ کی آواز پست ہوتی گئی اور زبانِ مبارک سقف حلق سے جا کر چپک گئی، اور پھر اسی لمحے روحِ مبارک قفس عنصری سے پرواز کر گئی۔ رضوان اللہ تعالیٰ علیہ۔
آپ نے اپنی اولاد کو ایک وصیت کی تھی جو بعینہٖ یہاں نقل کی جاتی ہے  :
علیک بتقوی اللّٰہ عز وجل وطاعتہ، ولا تخف أحدًا سوی اللّٰہ، ولا ترجوا أحدا سوی اللّٰہ، وکل الحوائج کلہا إلی اللّٰہ عزوجل، واطلبہا جمیعہا منہ، ولا تثق بأحد سوی اللّٰہ عز وجل، ولا تعتمد إلا علیہ سبحانہ، وعلیک بالتوحید، التوحید، التوحید، فإن جماع الکل التوحید۔ ثم قال : مُروا بأخبار الصفات علی ما جاء ت، الحکم یتغیر والعلم لا یتغیر، الحکم ینسخ والعلم لاینسخ۔ 
یعنی (اے پسرعزیز!) تقویٰ الٰہی اور طاعت خداوندی کو حرزِ جاں بنالو۔ اللہ کے سواہر خوف سے بے خوف ہو جاؤ۔خدا کی ذات کے سوا کسی سے کچھ اُمید نہ رکھو۔ ساری ضرورتیں خدا کے بھروسے رکھ چھوڑو۔ جو بھی مطالبات ہوں اسی سے مانگو۔اللہ کے علاوہ کسی پر نہ بھروسہ کرو، اور نہ کسی کومعتمد جانو۔ توحید پرجمے رہو۔ توحید (کے رنگ میں رنگے رہو)۔ توحید(کی رسی مضبوطی سے تھام لو)،  کیوں کہ توحیدہی سرمایۂ  نجات ہے۔پھر فرمایا:حکم شرع کے مطابق حسن اخلاق اور عمدہ صفات کا لوگوں کوحکم کرتے رہا کرو،  لیکن یاد رکھنا حکم تغیرپذیر ہے، مگر علم بے لچک ہے۔ اورحکم کبھی منسوخ ہو جاتا ہے،  مگر علم کبھی منسوخ نہیں ہوتا!۔
أوصیک یا ولدي بتقوی اللّٰہ وطاعتہ، ولزوم الشرع وحفظ حدودہ، واعلم یا ولدي أن طریقتنا ہذہٖ مبنیۃ علی الکتاب والسنۃ وسہل الصدور وسخاء الید وبذل الندی وکف الجفا وحمل الأذی والصفح عن عثرات الإخوان۔ 
فرزند دل بند! ایک بار پھر تجھے اللہ کے تقوی و طاعت سے آراستہ ہونے کی وصیت کرتا ہوں۔ شریعت کی راہ پرجادہ پیما رہنا،اوراس کی حدود کا خیال رکھنا۔ عزیز وافرتمیز!یہ بات لوحِ دل پر نقش کر لے کہ ہمارا یہ طریقہ کتاب سنت پر قائم ہے۔ (اس کی تعلیم یہ ہے کہ )سینوں میں گدازی پیدا کی جائے اور کینوں سے پاک رکھاجائے، ہاتھ کشادہ و سخی ہوں۔  عطا وبخشش عام کر دی جائے۔ جوروجفا کے دروازے بند کر دیے جائیں۔  تکلیفیں برداشت کی جائیں۔  اور برادرانِ دینی کی لغزشوں کودرگزر کر دیا جائے۔ 

طریقہ قادریہ کا پھیلاؤ
جس طریقہ قادریہ کی بنیاد  شیخ سیدعبد القادر جیلی رضی اللہ عنہ نے رکھی وہ سرتاپا کتاب وسنت کی آئینہ دار ہے۔ پھراس بنیاد پر مضبوط وحسین کپڑا چڑھایا گیا،،  حتیٰ کہ لوگ اس کی تعریف و توصیف میں یوں رطب اللسان نظر آنے لگے کہ یہ طریقہ تو دین اِسلام -جو ہر باطل سے جداہے- کا مغزونچوڑ ہے۔ اس طریقے کی طرف لوگوں کی رغبتیں بس اسی لیے مائل ہیں کہ یہ ہرطرح کے غلو سے پاک ہے، اور صلاح وتقویٰ اور زہدوورع کے حوالے سے اپنا تعارف آپ ہے۔ نتیجے میں اس کی شہرت کی طنابیں جملہ اسلامی وغیراسلامی ممالک تک درازہوتی چلی گئیں۔  
(اندازہ فرمائیں کہ ) اس  طریقہ کی بہاریں ہسپانیا اور غرناطہ کے دوردراز علاقوں تک پہنچ گئیں۔  نیز طریقہ قادریہ کی مرکزیت مغرب میں شہر فاس تک منتقل ہو گئی۔ یہی وہ طریقہ ہے جس کے انواروبرکات کے طفیل بربریوں سے بدعت کے اندھیرے چھٹے، اوروہ اہل سنت وجماعت کے جھنڈے تلے آگئے۔ نیز افریقہ کے حبشی اسی طریقہ عالیہ کے مشائخ کی کاوشوں سے جادۂ  مستقیم پر گامزن ہوئے۔ 
سلسلہ قادریہ کے مشائخ وسجادہ نشین کا یہ طریقہ ہے کہ وہ اس سلسلے سے متعلق ہونے والے ہر مرید کو ایک شجرہ نیز اجازتِ اوراد عنایت کرتے ہیں،   تاکہ اس کا اس بابرکت سند کے ساتھ اتصال قائم رہے۔ 
سلسلہ قادریہ کی سب سے پہلی خانقاہ مغرب کے شہر فاس کے علاقہ خاج العراق میں تعمیر کی گئی،  جس کے موسس کوئی اور نہیں،   خود سیدناشیخ عبدالقادرجیلانی رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے حضرت سید شیخ ابراہیم تھے۔ اور اب تو ایشیا کے اندر بھی قادری خانہ کے نام سے سلسلہ قادریہ کی بہت سی خانقاہیں وجود پذیر ہو گئی ہیں۔  
یوں ہی اللہ کے فضل وکرم سے حجاز کے اندر بھی بہت سی قادری خانقاہیں قائم ہو گئی ہیں،   حتیٰ کہ- ۶۶۱ھ-میں صرف مکہ معظمہ کے اندرقادری خانقاہوں اور زاویوں کی تعداد تین سو اکیاسی( ۳۸۱)تک پہنچ گئی تھی۔
٭٭٭



دوسری فصل

القطب السید أحمد الرفاعي قدس اللّٰہ سرہ
حیات و خدمات
(۵۱۲ھ =۱۱۱۸ء  ۔۔۔  ۵۷۸ھ= ۱۱۸۲ء)





بسم اللہ الرحمن الرحیم

مولانا اِمام شیخ احمد الرفاعی-قدس اللہ سرہ-

نام و لقب
السید السند، قطب اوحد، استاذ العلمائ، امام الاولیائ، سلطان الرجال، شیخ المسلمین، العالم الکبیر، عارف باللہ، بحرشریعت ابوالعباس احمد الرفاعی۔اباً حسینی، اُماً اَنصاری، مذہبا ً شافعی، بلداً واسطی۔

ولادت و تربیت
امام رفاعی رضی اللہ عنہ بروز جمعرات، ماہِ رجب کے نصف اوّل (۱۵/رجب) کو -۵۱۲ھ- میں مسترشد باللہ عباسی کے زمانۂ  خلافت میں مقام اُم عبیدہ کے حسن نامی ایک قصبہ میں پیدا ہوئے۔ اُم عبیدہ علاقہ بطائح میں واسط وبصرہ کے درمیان واقع ہے۔
آپ کے والدابوالحسن سلطان علی (متوفی:۵۱۹ھ) بغداد کے سفر پرتھے کہ غیبی بلاوا آپہنچا۔ اور وہیں بغداد میں آپ کی تدفین عمل میں آئی۔ ابن مسیب نے آپ کی قبر بہت خوبصورت تعمیرکرائی، اُس کے بغل میں آپ کے نام سے معنون ایک مسجد بھی تعمیر کی۔ بغداد شارعِ رشید پرآپ کا مزار پر اَنوار آج بھی زیارتِ گاہِ خلائق ہے۔(۱)
معمولی سی عمر میں والد کا سایہ سر سے اُٹھ جانے کے باعث آپ کے ماموں شیخ منصور کی آغوشِ تربیت میں آپ کی نشوو نماشروع ہوئی، جہاں آپ کو زیورِ اَدب اور حلیہ 

(۱)	مناقب الاقطاب الاربعہ، تفصیلی: ۳۵۔
اخلاق سے آراستہ ہونے کا سنہرا موقع میسر آیا۔ پھر آپ کی تعلیم وترتیب کے اُمور علامہ مقری شیخ علی ابوالفضل واسطی-قدس اللہ سرہ- کے سپرد ہو گئے، جن کی کامل سرپرستی میں آپ کو جہانِ فقہ وتصوف کی سیر کی سعادت نصیب ہوئی، اور ان کے پاس سے آپ کندن بن کرنکلے۔ 

نسب پدری
والدگرامی کی طرف سے آپ کا نسب نامہ یوں ہے  :
	السید احمد محی الدین ابو العباس الرفاعی ابن السید ابی الحسن علی -دفین بغداد- ابن السید یحییٰ نقیب البصرۃ ابی احمد -المہاجر من المغرب- ابن السید ابی حازم ثابت ابن السید علی الحازم ابی فراس ابن السید ابی علی احمد المرتضیٰ ابن السید علی ابی الفضائل ابن السید الحسن الاصغر رفاعۃ الہاشمی المکی- نزیل بادیۃ اشبیلیۃ بالمغرب- ابن السید ابی رفاعۃ المہدی ابن السید ابی القاسم محمد ابن السید الحسن ابی موسیٰ رئیس بغداد -نزیل مکہ- ابن السید الحسین عبد الرحمن الرضی المحدث ابن السید احمد الصالح -ویقال لہ الاکبر- ابن السید موسیٰ الثانی -ویقال لہ ابو یحییٰ وابو سبحیٰ- ابن الامیر الجلیل السید ابی محمد ابراہیم المرتضیٰ ابن السید الامام موسیٰ الکاظم ابن السید الامام جعفر الصادق ابن السید الامام محمد الباقر ابن السید الامام علی زین العابدین ابن السید الامام امیر المؤمنین الحسین الشہید بکربلاء ابن السید الامام امیر المؤمنین اسد اللہ الغالب سیدنا علی ابن ابی طالب وام سیدنا الحسین سیدۃ نساء العالمین وبضعۃ سید المرسلین سیدتنا فاطمۃ الزہراء النبویۃ بنت سید الخلق وحبیب الحق نور عیوننا وقلوبنا کشاف مدلہماتنا وکروبنا، روح الارواح وباب المفتاح، بحر المعارف التی تفجرت منہ بحور العرفان، مولی العوالم سیدنامحمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وصحبہٖ وسلم۔
یہ مذکورہ نسب سید احمد رفاعی کا (صحیح ترین نسب) ہے۔ 

نسب مادری
ثقہ راویوں کے مطابق والدہ ماجدہ کی طرف سے آپ کا نسب نامہ یوں ہے  :
	الحسیبۃ المعمرۃ الزاہدۃ العابدۃ الصالحۃ أم الفضل فاطمۃ الأنصاریۃ أخت الباز الأشہب والتریاق المجرب الإمام العارف باللّٰہ  صاحب وقتہ ذی الکأس النورانی والفتح الصمدانی شیخ الطوائف منصور الزاہد البطائحی الربانی -نسبۃ من قریۃ من قری البطائح اسمہا الرب-، لأبویہ وأبوہما العارف الکبیر الشیخ یحی النجاري ابن الشیخ موسیٰ أبی سعید ابن الشیخ کامل بن الشیخ یحی الکبیر ابن الإمام الصوفی الشہیر محمد أبی بکر الواسطی ابن موسیٰ بن محمد بن منصور بن خالد بن زید بن متی -وہو أیوب بن خالد أبی أیوب بن زید الأنصاری النجاري الصحابي الجلیل(رضی اللّٰہ عنہ وعن أصحاب رسول اللّٰہ  أجمعین)۔ 

پیکر و  سراپا
حضرت سید احمد الرفاعی کا سراپاکچھ یوں ہے: گندم گوں رنگت، میانہ قد، درخشاں چہرہ،سیاہ زلفیں، سینے پر سیاہ گھنے بال،خفیف رخسار،کشادہ پیشانی،اورگول ومن موہنا مکھڑا جو ہروقت تبسم کی موتیاں بکھیرتا رہتا تھا۔ 
آپ کا لباس سفید قمیص اور سفید چادر ہوا کرتا۔ساتھ ہی سفیدچمڑے کا خف بھی استعمال فرماتے تھے۔ (گویا سنت کی اِتباع میں سفیدرنگ سے آپ کو قلبی لگاؤتھا)۔ آپ کی شخصیت میں ہیبت و دبدبہ اور رعب و جلال وافرمقدار میں خمیر تھا۔ ہم مجلس کی کیا مجال کہ نظر بھر کے آپ کو دیکھ لے،  حالانکہ آپ نہایت نرم دل، شفیق وخلیق، اور مرنجاں مرنج طبیعت کے مالک تھے۔

 علم وسند
آپ نے قرآن کریم حفظ کرنے کی سعادت مقری شیخ عبد السمیع الحربونی کی بارگاہ سے حاصل کی۔ پھر جب تربیت و تعلیم کے اُمور ابوالفضل واسطی-قدس سرہ العزیز- کے حوالے ہو گئے، اس وقت آپ نے عقلی ونقلی علوم میں ماہرانہ کمال پیدا کیا، اور فضل وکمال کی ہرشاخ پر اپنا آشیانہ بنایا۔ 
آپ ابھی عمر کی بیسویں بہاروں میں تھے کہ اُستاذ و مرشد شیخ الواسطی نے (مستقبل میں آپ کی عظمت وکرامت اور فضیلت ومنقبت کا پیش اندازہ کر کے) جملہ علوم شریعت وطریقت کی اجازتِ عام عطا فرمادی، اور ساتھ ہی خرقہ پوشی کر کے خلعتِ خلافت سے بھی نواز دیا۔
تاہم آپ نے تحصیل علم کے تسلسل کو برقرار رکھا، اور پوری ذمہ داری ومستعدی کے ساتھ شیخ ابوبکر واسطی کے حلقہ دروس سے خود کو وابستہ رکھا،اور علم شریعت سے پورے طور سے آسودہ ہو کر وہاں سے اُٹھے۔ نیز فقہ کے غوامض ودقائق کی تحصیل اپنے ماموں شیخ منصور بطائحی کے ہاتھوں مکمل کر کے اُن سے اجازت وصول کی۔ 
جس وقت آپ کے ماموں شیخ منصور کو اپنی زندگی کا چراغ گل ہونے کا اندازہ ہوا توانھوں نے آپ کو بلوا کرشیخ الشیوخ کی اَمانت اور اپنے خاص وظائف کی ذمہ داری نبھانے کاعہد لیا، اور آپ کو مسندسجادگی اورمنصب ارشاد پر فائز فرمادیا۔ (اتنی عظیم ذمہ داری قبول کرتے وقت آپ کی عمرمبارک صرف اٹھائیس سال تھی)۔
شیخ احمد رفاعی رضی اللہ عنہ نے اس قدر تحصیل علم کیا کہ آپ بیک وقت عالم وفقیہ بھی تھے، قاری ومجود بھی، مفسرو محدث بھی تھے اور دین کی اعلیٰ قدروں کی نشرواشاعت کرنے والے عظیم مجاہد بھی۔ فقہ میں آپ امام شافعی رضی اللہ عنہ کے مذہب کے مقلدتھے۔

سندطریقت
حضرت شیخ احمد رفاعی رضی اللہ عنہ نے الشیخ علی ابو الفضل الواسطی رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں خرقہ شریف زیب تن کیا۔ انھیں خرقہ پوشی کی سعادت اپنے شیخ ابوالفضل ابن کافح الواسطی سے عطا ہوئی تھی۔ انھوں نے خلعت خرقہ الشیخ غلام ابن ترکان سے حاصل کیا تھا۔ انھیں یہ دولت شیخ الطائفہ الشیخ ابو القاسم الجنید البغدادی سے۔ انھیں اپنے ماموں الشیخ سری السقطی سے۔ انھیں الشیخ ابو محفوظ معروف الکرخی سے۔ انھیں الشیخ داؤد الطائی سے۔ انھیں الشیخ حبیب العجمی سے۔ انھیں الشیخ حسن البصری سے۔ انھیں مولانا الامام علی ابن ابی طالب کرم اللہ وجہہ الکریم سے۔ اور انھیں یہ سعادتِ عظمیٰ سید الانام خاتم الانبیاء الکرام سیدنا محمد-صلی اللہ علیہ وعلی آلہٖ واصحابہٖ القادات العظام-سے عطا ہوئی تھی۔
سیرت وکردار میں آپ اپنے جدامجدسرکارِ دوعالم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے کامل نمونہ تھے۔ سنت وشریعت کی اسی پیروی نے آپ کو اپنے زمانے ہی میں شہرت وعظمت کی اعلیٰ بلندیوں پر فائز کر دیا تھا۔ مؤرخین نے آپ کی شخصیت پر رج رج کے لکھا ہے۔ اور اَرباب فکروقلم نے آپ کے فضائل ومناقب میں قلم توڑ توڑ دیا ہے۔ (۱)
آپ رمزتصوف اور رازِ طریقت آشکار کرتے ہوئے کبھی کبھار فرمایا کرتے تھے  :
ما رأیت أقرب ولا أسہل طریقاً إلی اللّٰہ من الذل والافتقار والانکسار بتعظیم أمر اللّٰہ والشفقۃ علی خلق اللّٰہ والاقتداء بسنۃ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ و آلہ وسلم۔ 
یعنی میں نے اللہ سبحانہ و تعالیٰ تک پہنچنے کا اِس سے زیادہ سہل اور قریب ترین کوئی راستہ نہیں دیکھا کہ رضاے الٰہی کی خاطر تواضع وانکسار اِختیار کی جائے،

(۱)	مناقب الاقطاب الاربعہ، تفصیلی: ۳۷۔
 خلق خدا کے ساتھ لطف ونرمی سے پیش آیاجائے، اورسرکارِ دوعالم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سنت کی پیروی میں زندگی کا سفرطے کیا جائے۔ 
خدمت خلق کا عنصر آپ کی حیاتِ طیبہ میں بہت غالب نظر آتا ہے۔ اگر کسی بیمار کا سن لیتے تو وہ خواہ کتنی ہی دور کیوں نہ سکونت پذیر ہو، اس کی عیادت کے لیے ضرور جاتے تھے۔ اور(بعدِ  مسافت کے باعث) ایک دو دن کے بعد اُدھر سے لوٹتے تھے۔ 
نیز عالم یہ تھا کہ راستے میں جا کر اندھوں کی آمد کا اِنتظار کرتے کہ ان کا ہاتھ پکڑ کر انھیں منزل تک پہنچائیں۔  اور جب بھی کوئی بزرگ دیکھتے، انھیں علاقے تک پہنچا آتے، اور اہل علاقہ کو نصیحت فرماتے کہ لوگو! میرے حضور رحمت عالم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا فرمانِ عظمت نشان ہے  :
من أکرم ذا شیبۃ یعني مسلماً سخر اللّٰہ لہ من یکرمہ عند شیبتہ۔ 
یعنی جس نے کسی بوڑھے مسلمان کی خدمت وتکریم کی۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ اس کے اپنے بڑھاپے میں کسی کو اُس کا سہارا اور خدمتی بنا دے گا۔
ایک مرتبہ اپنے سلسلے کا نشانِ امتیاز بیان کرتے ہوئے فرمایا  :
طریقنا طریق نقي وإخلاص فمن أدخل في عملہ الریاء والفجور فقد بعد عنا وخرج منا۔ 
یعنی ہمارا طریقہ مبنی بر اِخلاص، اور بالکل صاف و شفاف ہے،  لہٰذا یاد رہے کہ جس کے عمل سے ریاونمود اورفسق وفجورکی بوآنے لگے، پھر اس کا ہم سے کوئی تعلق نہیں ہے، اوراس کا قدم ہمارے دائرۂ   طریق سے باہر نکل چکا ہے۔ 
طریقي دین بلا بدعۃ، وھمۃ بلا کسل، وعمل بلا ریائ، وقلب بلا شغل، ونفس بلا شہوۃ۔ 
یعنی میرا طریقہ یہ ہے کہ دین میں بدعت کی آمیزش نہ ہو۔ ہمت سستی پر غالب ہو۔ عمل ریا سے پاک ہو۔ (یادِ محبوب میں محویت کے باعث) قلب دیگر مشغولیات سے آزاد ہو۔اور نفس شہوت کے بکھیڑوں سے دور ہو۔(۱)

اَقوال واِرشادات
صونوا عقائدکم عن التمسک بظاہر ما تشابہ من الکتاب والسنۃ .
یعنی کتاب وسنت کے جو واضح احکام ہیں ان کی بنیادوں پر اپنے عقیدوں کی عمارت تعمیرکرو۔ (پھرکبھی اس میں رخنہ اور دراڑ نہیں پڑ سکتی)۔
نزہوا اللّٰہ عن سمات المحدثین وصفات المخلوقین، وطہروا عقائدکم من تفسیر معنی الاستواء فی حقہ تعالی بالاستقرار کاستواء الأجسام علی الأجسام المستلزم بالحلول، تعالی اللّٰہ عن ذلک .
یعنی حادث کی جو علامات اورمخلوق کی جو صفات ہیں اللہ سبحانہ و تعالیٰ کو اُن سے پاک و منزہ جانو۔ اور اپنے عقائد کو آیاتِ متشابہات کے پیچیدہ معانی میں الجھانے سے صاف ستھرا رکھو،  مثلاً اللہ تعالیٰ کے اِستوا علی العرش کو بالکل اسی طرح اِستقرا سے تعبیر کرنا جیسے جسم جسم کے ساتھ مستوی ہوتے ہیں جو بہرحال حلول کومستلزم ہے۔ اور اللہ کریم ان سے بہت بہت بلند وبالا ہے۔
یا ولدي! إذا تعلمت علماً وسمعت نقلاً حسنا فاعمل بہ، ولا تکن من الذین یعلمون ولا یعملون۔ یا ولدي! نجاۃ العالم عملہ بعلمہ، وہلاکہ ترک العمل .

(۱)	مناقب الاقطاب الاربعہ، تفصیلی: ۴۳۔
یعنی اے فرزند دل بند! جب تمہیں علم کی دولت نصیب ہو اورکوئی عمدہ روایت تمہارے کانوں کو پہنچے تواس پر پوری پامردی کے ساتھ عمل پیرا ہو جاؤ۔ خدارا ان لوگوں میں سے نہ ہو جاناجوعلم کا سورج رکھتے ہوئے بھی اس سے عمل کی روشنی کشید نہیں کرتے۔ اے نورِدیدہ! ذہن نشیں رکھنا کہ عالم کی نجات کا راز صرف یہ ہے کہ وہ اپنے علم کو رنگ عمل دے،  ورنہ پھر ہلاکت اُس کا مقدر ہے۔ 
خمس من علامات الاٰخرۃ:الخشیۃ من اللّٰہ، والخشوع للّٰہ، والتواضع، وحسن الخلق، والزہد الذي یتحکم فی القلب .
یعنی پانچ چیزیں آخرت کی نشانیوں میں سے ہیں : اللہ کی خشیت، اللہ کے لیے عاجزی، خاکساری، حسن اَخلاق،اور دل میں راج کرنے والا زہد۔
ولتکن أیہا الأخ الصالح کثیر الأدب مع خلق اللّٰہ تعالی، کثیر الرحمۃ والشفقۃ علی والدیک أمک وأبیک، وصولاً لرحمک، متوددا لجیرانک، رؤوفا رحیما متحققا بأخلاق نبیک صلی اللّٰہ علیہ وو آلہ وسلم۔ 
یعنی اے برادرِ عزیز!اللہ کی مخلوق کے ساتھ جس قدر اَدب ومحبت کے ساتھ پیش آسکتے ہو پیش آیا کرو۔ اپنے والدین کریمین پر شفقت ورحمت کی بھرپور نگاہ ڈالا کرو۔رشتہ داریوں کے بندھن جوڑ کے رکھو۔ پڑوسیوں کو ٹوٹ کر چاہو۔ رحمت ومہربانی کے پیکر بنے رہو۔دیکھنے والا کہے کہ یہ تو اخلاقِ مصطفی کا نمونہ معلوم ہوتا ہے۔ 
ولتکن بارا بجارک، فقد قال المصطفیٰ صلی اللّٰہ علیہ و آلہ وسلم: (ما زال جبریل یوصینی بالجار حتی ظننت أنہ سیورثہ)۔ 
یعنی (اے میرے عزیز!بارِ دیگر کہتا ہوں کہ) اپنے ہمسائے کے ساتھ ہمیشہ اچھائی وبھلائی سے پیش آنا۔ مصطفی جانِ رحمت کا فرمانِ عظمت نشان ہے  :
حضرت جبرئیل نے مجھ سے پڑوسیوں کی بابت اتنی وصیت وتاکید کی،  کہ مجھے محسوس ہونے لگا شاید انھیں وراثت میں شریک کر دیا جائے گا۔
من شرط الفقیر أن لا یکون لہ نظر في عیوب الناس.
یعنی حقیقی فقیرہونے کی شرائط میں سے ایک یہ بھی ہے کہ خلق خدا کے عیوب پر اس کی نگاہ نہ اُٹھے، (بلکہ وہ اُن کے محاسن کو دیکھے)۔
من لم یحاسب نفسہ علی کل نفس ویتہمہا في جمیع الأحوال، لا یکتب عندنا في دیوان الرجال .
یعنی جو شخص ہمہ وقت اپنے نفس کو محاسبے کی کسوٹی پر نہ پرکھے، اورجملہ اَحوال میں اُس کی سرزنش وتنبیہ کاخیال نہ رکھے، وہ ہمارے نزدیک مَردوں کے رجسٹر میں درج کیے جانے کے لائق نہیں۔  

تصنیفات و تالیفات
سیداحمد رفاعی رضی اللہ عنہ نے توحیدوتصوف اوراخلاقِ حمیدہ پر مشتمل بہت سی مفیدو گراں قدر کتابیں اپنے پیچھے چھوڑی ہیں۔  حاجی خلیفہ نے اپنی کتاب کشف الظنون میں بعض کا ذکر کیا ہے، جب کہ کچھ کا ذکر سید محمد ابوالہدیٰ الصیادی کی تصنیف میں ملتا ہے۔ ہمارے علم کے مطابق شیخ الرفاعی کی تصانیف حسب ذیل ہیں  :
	البرہان المؤید، الحکم الرفاعیۃ، الأحزاب الرفاعیۃ، النظام الخاص لأھل الاختصاص، الصراط المستقیم في تفسیر معاني بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم، الرؤیۃ، الطریق إلی اللّٰہ، العقائد الرفاعیۃ، المجالس الأحمدیۃ، تفسیر سورۃ القدر،  حالۃ أھل الحقیقۃ مع اللّٰہ، الأربعین، شرح التنبیہ، -ست مجلدات- رحیق الکوثر، البہجۃ في الفقہ۔ 
اس میں کچھ تومطبوعہ ہیں،  بعض تاہنوز مخطوطہ ہیں،  اور بیشتر فتنۂ  تا تھار کی نذر ہو گئیں۔ (۱)

اَوراد و وظائف
حضرت شیخ احمد رفاعی رضی اللہ عنہ ہر فرض نماز کے بعد پانچ مرتبہ مندرجہ ذیل وردِ مبارک پڑھا کرتے تھے  :
بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم، اللّٰہم لا تؤمنی مکرک، ولا تنسنی ذکرک، ولا تکشف عني سترک، ولا تجعلنی مع القوم الظالمین، سبحانک اللّٰہم وبحمدک، أشہد أن لا إلہ إلا أنت وحدک لا شریک لک، وأستغفرک وأتوب إلیک، وصلی اللّٰہ علی سیدنا محمد وعلی آلہ وصحبہ وسلم .
یعنی اللہ رحمن ورحیم کے نام سے شروع۔ اے پروردگار! مجھے اپنی خفیہ تدبیر سے کبھی مطمئن نہ رکھنا۔ اپنے ذکرکی حلاوت کبھی مجھ سے نہ چھیننا۔ اپنے  پردے کا سائنان مجھ سے کبھی نہ اُٹھانا۔حد سے بڑھنے والوں کی فہرست سے مجھے باہر رکھنا۔ اے اللہ! تو پاک ہے، ساری خوبیاں تجھی کو زیبا ہیں۔  میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں،  توہرطرح کے شریک سے پاک بالکل اکیلا ہے۔  تجھ سے معافی چاہتا ہوں اور تیری طرف پلٹ کے آتا ہوں۔  (مجھے قبول کر لے) صلوٰۃ وسلام ہو محمد مصطفیٰ علیہ السلام اورآپ کی اولاد واصحاب پر۔
آپ ذیل کے درودشریف کو ہر روز سو مرتبہ زیروِرد رکھا کرتے تھے  :
اللہم صلِ علی سیدنا محمد النبي الأمي الطاہر الزکي صلاۃ تحل بہا العقد وتفک بہا الکرب، وعلی اٰلہ وصحبہ وسلم۔ 

(۱)	مناقب الاقطاب الاربعہ، تفصیلی: ۶۳،۶۴۔
یوں ہی یہ دعابھی ہر روز سو مرتبہ پڑھا کرتے تھے  :
اللّٰہم یا میسر کل عسیر یسِّر مرادي بفضلک الواسع۔

اسی طرح درجِ ذیل درود پاک کا بھی ہر روز سو بار ورد کیا کرتے تھے  :
اللّٰہم صلِ علی سیدنا محمد طب القلوب ودواۂا، وعافیۃ الأبدان وشفاۂا، ونور الأبصار وضیاۂا، وعلی آلہ وصحبہ وسلم۔ 

اس کے علاوہ بھی بہت سی دعائیں آپ کے حوالے سے مروی ہیں،  مثلاً  :

اللّٰہم ارزقنا طول الصحبۃ ودوام الخدمۃ وحفظ الحرمۃ ولزوم المراقبۃ وانس الطاعۃ وحلاوۃ المناجاۃ ولذۃ المغفرۃ وصدق الجنان وحقیقۃ التوکل وصفاء الود ووفاء العہد واعتقاد الوصل وتجنب الزلل وبلوغ الأمل وحسن الخاتمۃ بصالح العمل۔ 

اللّٰہم أثبتنا في دیوان الصدیقین، واسلک بنا مسلک أولي العزم من المرسلین حتیٰ نصلح بواطننا بلطائف المؤانسۃ ونفوز بالغنائم من صحبۃ المجالسۃ، وألبسنا اللّٰہم جلباب الورع الجسیم وأعدنا من البدع والضلال الألیم۔ 

اللّٰہم أطلق ألسنتنا بذکرک وقید قلوبنا عما سواک، وروح أرواحنا بنسیم قربک واملأ أسرارنا بمحبتک، وأطو ضمائرنا بنیۃ الخیر للعباد، وألف أنفسنا بعلمک، واملأ صدورنا بتعظیمک، وحیز کلیتنا إلی جنابک، وحسن أسرارنا معک واجعلنا ممن یأخذ ما صفا ویدع الکدر ویعرف قدر العافیۃ ویشکر علیہا، ویرضی بک کفیلا لتکون لہ وکیلا، ووفقنا لتعظیم عظمتک، وارزقنا لذۃ النظر إلی وجہک الکریم، تبارکت وتعا لیت یا ذا الجلال والإکرام۔ (۱)

وفاتِ حسرت آیات
زندگی کے آخری موڑ پر پہنچ کر حضرت شیخ احمد رفاعی رضی اللہ عنہ پیٹ کے ایک شدید مرض میں مبتلا ہو گئے، جس نے مہینہ بھر آپ کو صاحب فراش رکھا، اور پھر آگے چل کر یہی مرض مرضِ مرگ کی شکل اختیار کرگیا۔ چنانچہ ۶۶ سال کی عمر پا کر جمعرات ۱۲/جمادی الاولیٰ - ۵۷۸ھ- کوشریعت وطریقت کا یہ آفتاب عالم تاب ہمیشہ کے لیے غروب ہو گیا۔ آپ کا یوم تدفین یوم قیامت کاہوش ربا اور حشر بپا منظر پیش کر رہا تھا۔
أشہد أن لا إلہ إلا اللّٰہ، وأشہد أن سیدنا محمدا عبدہ ورسولہ۔ 
یہ وہ آخری کلمہ تھا جو (دنیا چھوڑتے وقت) آپ کی زبانِ مبارک سے نکلا۔ 
آپ اپنے دادا شیخ یحییٰ بخاری کے گنبد تلے عراق کے مقام اُم عبیدہ میں مدفون ہوئے، جو زیارت گاہِ ہرخاص وعام ہے۔
رحمہ اللّٰہ تعالیٰ رحمۃ واسعۃ
وجزاہ اللّٰہ خیر ما جزی أولیاء ہٗ وأحبابہٗ
۔۔۔۔۔۔
(۱)	مناقب الاقطاب الاربعہ، تفصیلی: ۵۰۔



تیسری فصل

القطب السید أحمد البدوي قدس اللّٰہ سرہ
حیات و خدمات
(۵۹۶ھ =۱۱۹۹ء  ۔۔۔  ۶۷۵ھ= ۱۲۷۶ء)



بسم اللہ الرحمن الرحیم

مولانا اِمام شیخ احمد البدوي-قدس اللہ سرہ-

اسم و لقب ونسب
السید السند، قطب اوحد، شریف علوی، کوکب درّی، شیخ ابوالفتیان احمد البدوی الملثم حسینی اَباً، شافعی مذہبا ً، طنطاوی ومصری بلداً،- رضی اللہ عنہ وارضاہ- 
نسب نامہ یوں ہے  : 
امام سیدا حمد،  ابن علی ابن ابراہیم ابن محمد ابن ابی بکر ابن اسماعیل ابن عمر ابن علی ابن عثمان ابن حسین ابن محمد ابن موسی ابن یحییٰ ابن عیسیٰ ابن علی ابن محمد ابن الحسن ابن علی ابن محمد ابن امام علی الرضا ابن امام موسیٰ الکاظم ابن امام جعفر الصادق ابن امام محمد الباقر ابن امام علی زین العابدین ابن سید امام الحسین ابن سید امام علی۔(کرم اللہ وجہہ ورضی اللہ عنہم)

ولادت و پرورش
حضرت شیخ احمدالبدوی رضی اللہ عنہ کی ولادت -۵۹۶ھ -میں زرقا الحجر نامی ایک گاؤں میں ہوئی، جو مغرب کے علاقہ شہر فاس میں واقع ہے۔ خوش بختی کہ والدین اور بھائی سب حیات سے تھے۔ برادرِ اکبرحسن نے آپ کے ساتھ اتنی مہربانی فرمائی کہ آپ کو اپنے شیخ شیخ عبدالجلیل نیشاپوری کی بارگاہ میں لے گئے، جہاں آپ کو خرقۂ  صوفیہ سے نوازا گیا۔ پھر وہیں خانقاہ کے شفاف وپاکیزہ اورعبادت وتقویٰ کے روحانی ماحول میں  آپ پروان چڑھنے لگے۔ 
بچپن سے ہی لوگ آپ کوزاہدکے لقب سے یاد کرتے تھے۔ معمولِ حیات یہ تھا کہ آپ ہمیشہ خود کو دو پردوں میں اس طرح مستور رکھتے کہ لوگوں کو آپ کی آنکھوں کے سوا آپ کے بدن کاکوئی بھی حصہ نظر نہ آتا تھا،  اسی لیے ابواللثامین آپ کی کنیت پڑ گئی۔ یوں ہی دوشملوں والا عمامہ باندھنے کی وجہ سےبدوی آپ کے نام کا حصہ بن گیا۔ 
آپ کے والد گرامی نے کسی کو عالم خواب میں کہتے ہوئے سناکہ اے علی! اس شہر سے کوچ کر کے مکہ معظمہ چلے جاؤ،  چنانچہ حکم پاتے ہی وہ اہل وعیال سمیت مکہ مکرمہ کی طرف نکل پڑے۔ اور اس وقت شیخ احمدکی عمرصرف سات سال تھی۔ 
اب مکہ شریف کی (مقدس فضاؤں میں ) آپ کی پرورش ہونے لگی۔ جہاں آپ نے حفظ قرآن کیا۔ قراء تِ سبعہ میں کمال پیداکیا، اور فقہ کے دقائق کا علم حاصل کیا۔ (روحانیت کے فیوض وبرکات سے بہرہ ور ہونے کے لیے) جبل ابوقبیس پر چلے جاتے، اور مصروفِ عبادت رہتے،  جہاں آپ پر معرفت وروحانیت کے بہت سے در وا ہوئے، نیز آپ نے شیخ بری کی رہبری میں سلوک کی منزلیں بھی طے کیں۔  
اَزاں بعد اپنے ایک خواب کی تعبیر کی تلاش میں عراق کے لیے رخت سفر باندھا، اور وہاں کے اولیاے کرام سے شرفِ ملاقات حاصل کیا جن میں شیخ عبد القادر جیلانی رضی اللہ عنہ اور شیخ احمد رفاعی رضی اللہ عنہ بھی تھے۔
پھر مکہ معظمہ لوٹے، جہاں پر مواہب الٰہیہ اورانعاماتِ ربانیہ کی ایسی برسات ہوئی کہ آپ کے احوال یکلخت بدل گئے۔ لوگوں سے کٹ کر عزلت نشیں ہو گئے۔ اور زبان پر خموشی کا ایسا تالا لگایا کہ خواص سے بھی اِشارے کی زبان میں بات کیا کرتے تھے۔ 
آپ کی زندگی کے چالیس دن ایسے بھی گزرے کہ جن میں آپ نے نہ کچھ کھایا پیا اور نہ آپ کی آنکھیں لذتِ نیند سے آشنا ہوئیں۔  صرف آسمان طرف ٹکٹکی لگائے دیکھ رہے ہوتے،  نتیجتاً آنکھ کی سیاہی سرخی میں بدل گئی۔

پیکر مبارک
حضرت سید احمدبدوی رضی اللہ عنہ کا سراپا کچھ ایسا تھا: موٹی پنڈلیاں،  طویل بازو، پرجلال وبڑا چہرہ، سرمگیں آنکھیں، دراز قامت، گندمی رنگ، تنگ نتھنادرمیان سے بلند ناک۔ آپ کی ناک کے دونوں بانسے پر دال کے دانہ سے چھوٹے سیاہ رنگ کے دو نشان تھے۔ آپ کی آنکھوں کے درمیان اُسترے سے کٹے کا نشان تھا۔ مکہ میں قیام کے دوران جسے آپ کے بھتیجے حسین نے زخمی کر دیا تھا۔ تواُسی صغرسنی کے عالم سے آپ نے دو ڈھاٹا، اوردوشملوں والاعمامہ باندھنا شروع کر دیا۔
 
تصانیف منیف
حضرت سید احمد البدوی رضی اللہ عنہ نے بھی تصوف سنی کے عناوین پر بہت سے شہ پارے یادگار چھوڑے ہیں۔ فقہ شافعی میں بھی آپ کی مفید تصانیف موجود ہیں،   لیکن کچھ کے علاوہ باقی تلاش کے ہاتھوں سے بہت پرے ہیں۔  معروف تصانیف یہ ہیں  :
صلوات، الوصایا والعظات، الاخبار في حل ألفاظ غایۃ الاختصار، کتاب في علم الفرائض۔ 

اقوالِ زرّیں 
سیدی احمد بدوی رضی اللہ عنہ نے فرمایا  :
إن الفقراء کالزیتون فیہم الکبیر والصغیر ومن لم یکن لہ زیت فأنا زیتہ۔ 
یعنی فقرا کی مثال زیتون کی مانند ہے،  جس میں چھوٹے بھی ہوتے ہیں اور بڑے بھی۔ اور جس میں کچھ بھی تیل نہ ہو،  تو اس کا تیل میں خود ہوں۔  یعنی جو شخص اپنے فقر میں ایسا مخلص وسچاہو جیسے تیل صاف اور سُچا ہوتا ہے، اور وہ جادۂ  کتاب وسنت پر قائم ودائم بھیہو، تواس کے جملہ اُمور میں میں اس کا معاون ہوتا ہوں، اور اس کی دنیوی واُخروی حاجتیں پوری کرتا ہوں،   لیکن اپنی طاقت وقوت سے نہیں بلکہ سرکارِ دوعالم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی برکت وکرامت سے۔
ایک مرتبہ فرمایا  :
یا عبد العال: إیاک وحب الدنیا فإنہ یفسد العمل الصالح کما یفسد الخل العسل، واعلم یا عبد العال إن اللّٰہ یقول: اِنَّ اللّٰہَ مَعَ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا وَالَّذِیْنَ ہُمْ مُّحْسِنُوْنَ o (سورۂ  نحل:۱۶/۱۲۸)
یعنی (اپنے ایک بہت ہی چہیتے مریدو خلیفہ کو گوہر نصیحت سے نوازتے ہوئے فرماتے ہیں ) اے عبد العال!حب دنیا کی جڑ اپنے اندر سے اکھاڑ کر پھینک دے، ورنہ یہ نیک عمل کو ایسے ہی تہ وبالا کر کے رکھ دے گی جیسے سرکہ شہد کوبگاڑ کے رکھ دیتا ہے۔ اے عبد العال! دل کی تختی پر یہ فرمانِ باری نقش کر لے: بیشک اللہ اُن لوگوں کو اپنی معیت(خاص) سے نوازتا ہے جو صاحبانِ تقوی ہوں اور وہ لوگ جو صاحبانِ اِحسان(بھی)ہوں۔ 
یا عبد العال: إشفق علی ا لیتیم واکس العریان واطعم الجوعان واکرم الغریب والضیفان، عسی أن تکون عند اللّٰہ من المقبولین۔ 
یعنی اے عبدالعال! یتیم پر دست شفقت پھیرا کر۔ بے لباسوں کو کپڑے دیا کر۔ بھوکوں کو کھانا کھلایا کر۔ مسافر اورمہمانوں کی خاطر مدارات کیا کر، دیکھنا وہ دن دور نہیں جب تیرانام عنداللہ مقبولوں کے رجسٹر میں درج ہو گا۔
یا عبد العال: علیک بکثرۃ الذکر وإیاک أن تکون من الغافلین عن اللّٰہ تعالی، واعلم أن کل رکعۃ باللیل أفضل من ألف رکعۃ بالنہار.
یعنی اے عبد العال!  ذکر واَذکار زیادہ سے زیادہ کیا کر۔ خدا را ان لوگوں میں سے نہ ہو جاناجو خدا سے غافل ہو کر زندگی کے شب و روز بسر کر رہے ہیں۔  تیرے علم میں ہونا چاہیے کہ رات (کی تنہائیوں میں ) اَدا کی گئی ہر رکعت دن کی ہزار رکعتوں سے افضل ہوا کرتی ہے۔ 
أحسنکم خلقا أکثرکم إیمانا باللّٰہ تعالیٰ، والخلق السيء یفسد العمل الصالح کما یفسد الخل العسل.
یعنی تم میں جس کے اَخلاق زیادہ اچھے ہیں سمجھواللہ پر اس کا ایمان اتنا ہی بڑھا ہوا ہے۔بداخلاقی نیک عمل کو ایسے ہی رائیگاں کر دیتی ہے جیسے سرکہ شہد کو بے کار کر دیتا ہے۔ 
یا عبد العال: ہذہٖ طریقتنا بنیت علی الکتاب والسنۃ والصدق والصفاء وحسن الوفاء وحمل الأذی وحفظ العہود. 
اے عبد العال! یہی ہمارا طریقہ ہے،  جس کی عمارت کتاب وسنت کی بنیادوں پر اُستوار ہے۔ نیز یہ کہ سچائی وستھرائی، اور وفا داری کی عادت ڈالی جائے۔ لوگوں سے تکلیف دہ چیزیں دور کی جائیں،  اور وعدوں کاپاس و لحاظ رکھا جائے۔
شیخ عبدالعال فرماتے ہیں کہ میں نے چالیس سال تک اپنے اُستاذوشیخ (سید احمد بدوی) کی خدمت کا شرف حاصل کیا، اس بیچ پلک جھپکنے بھر بھی میں نے کبھی انھیں عبادتِ الٰہی سے غافل نہیں پایا۔ ایک دفعہ موقع پا کرمیں نے ان سے فقرشرعی کی حقیقت دریافت کی تو انھوں نے فرمایا:فقیر کی بارہ علامتیں ہوتی ہیں جو بروایتِ امام علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ مجھ تکپہنچی ہیں،  وہ یہ ہیں کہ فقیر عارف باللہ ہو۔۔۔۔ احکامِ الٰہیہ کی رعایت کرنے والا ۔۔۔۔  سرکارِ دوعالم علیہ الصلوٰۃ والسلام کی سنت وشریعت پرکاربند ۔۔۔۔ دائمی طہارت پر رہنے والا۔۔۔۔  ہر حال میں راضی برضاے الٰہی۔۔۔۔ اللہ کے پاس جو کچھ اس کے لیے ہے اس پر یقین کامل کرنے والا۔۔۔۔ دنیوی مال ودولت میں دلچسپی نہ رکھنے والا۔۔۔۔ تکلیفیں برداشت کرنے والا۔۔۔۔ حکم الٰہی پا کرسرپٹ دوڑنے والا۔۔۔۔ اللہ کے بندوں کے لیے حد درجہ شفیق ورحم دل۔۔۔۔ لوگوں سے عجزوانکسار کے ساتھ پیش آنے والا۔۔۔۔ شیطان کو اپنا ازلی دشمن سمجھنے والا(اور اس کے دام ہمرنگ زمیں میں نہ پھنسنے والا)،  کیوں کہ یہ حقیقت ہمیں اللہ نے بتائی ہے کہ بے شک شیطان تمہارا دشمن ہے،  لہٰذا تم بھی (اس کی مخالفت کی شکل میں )اسے اپنا دشمن ہی بنائے رکھو۔ 
پھر اس کے شیخ عبد العال نے تفکیر،توبہ، ذکر، وجد، صبر، زہد اور ایمان وغیرہ کے تعلق سے مختلف سوالات کیے جس کا ایسا شافی و وافی جواب سیداحمد بدوی نے عطا فرمایا کہ جسے سن کر دل ٹھنڈک، اور بیمار راحت پائیں،  اور علم کے بہت سے بند در واہو جائیں۔ 
مندرجہ ذیل مصطلحات پراہل تصوف و بصیرت نے اگرچہ بہت کچھ لکھا، اورمختلف پیرایوں میں اس کی تعبیر و تعریف پیش کی ہے،  تاہم سید بدوی کی تشریحات نے حقیقت سے پردوں کو اُٹھا کراسے بالکل  بے نقاب وبے غبار کر دیا ہے۔چنانچہ وہ فرماتے ہیں  :
تفکیر :  تفکیر یہ ہے کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی تخلیقات میں غوروفکر کیا جائے، اور مخلوقاتِ الٰہیہ کوفاطر کی منشا کے مطابق دیکھا جائے،  لیکن اللہ کی ذات میں سوچ وبچار کے جھمیلوں میں کبھی نہ پڑا جائے،  کیوں کہ اللہ ہماری عقل وفکر کے رینج میں آہی نہیں سکتا!۔ 

توبہ:  توبہ دراصل گزشتہ گناہوں پر ندامت کو کہتے ہیں۔  نیز یہ کہ انسان معصیت کی کھول سے باہرنکل آئے۔ اور اس گناہ کی طرف پھر کبھی لوٹ کر نہ جانے کا عزم بالجزم کرے۔ زبان کو اِستغفار سے تر رکھے۔ اور دل کے برتن کو (برے خیالات و خطرات سے) پاک و صاف رکھے۔ تو درحقیقت یہ توبۂ  نصوح ہے جس کا حکم اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے اپنی مقدس کتاب میں دیا ہے  :
یٰاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا تُوبُوا اِلَی اللّٰہِ تَوبَۃً نَّصُوْحًا o (تحریم:۶۶/۸)
 اے ایمان والو! تم اللہ کے حضور رجوعِ کامل سے خالص توبہ کر لو۔
ذکر:  ذکر کی حقیقت یہ ہے کہ وہ محض زبان سے نہیں بلکہ دِل کی حضوری کے ساتھ کیا جائے،  کیوں کہ دل کے بغیر محض زبانی ذکرکی حیثیت شفشفے سے زیادہ نہیں ہوتی،  لہٰذا حضورِ قلب کے ساتھ ذکر کیا جانا چاہیے۔اور (ذکر کی ضد یعنی) غفلت سے ہمیشہ بچتے رہنا چاہیے،  کیوں کہ یادِ الٰہی سے غفلت و دوری دل کی قساوت وسختی کا باعث ہوتی ہے۔ 
وجد:  وجدیہ ہے کہ ذکر الٰہیلا الہ الاَّ اللّٰہ کثرت کے ساتھ (دیوانہ وار) کیا جائے۔ اس کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ منجانب اللہ دل کی تختی پر نورکی برسات ہونے لگتی ہے،  جس سے جسم کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔  تو یہ لا الٰہ الا اللہ (دراصل محب کو ) محبوب کا مشتاق بنا دیتا ہے۔اب مرید پر ایک وجد کی کیفیت طاری ہوتی ہے، اور وہ پورے طور پر اللہ سے متعلق ہو جاتا ہے۔ پھر جیسے جیسے وجد کی کیفیات میں اِضافہ ہوتا ہے، یوں ہی اس کی شیفتگی و والہانہ پن بھی بڑھتا چلا جاتا ہے۔ اور پھر وہ مقام بھی آتا ہے جہاں مرید روحانی بلندی کے عظیم درجے کوپا لیتا ہے۔ 
صبر:  صبر یہ ہے کہ حکم الٰہی پرراضی رہا جائے، اور اَمر خداوندی کے آگے سرتسلیم خم رکھا جائے۔ مزید یہ کہ اِنسان مصیبت میں بھی ایسے ہی خوش ہو جس طرح نعمت ملنے پر اسے خوشی ہوتی ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے  :
وَبَشِّرِ الصّٰبِرِیْنَ الَّذِیْنَ اِذَا اَصَابَتْہُمْ مُّصِیْبَۃٌ قَالُوْا اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ o (سورۂ  بقرہ: ۲/۱۵۵،۱۵۶)
آپ(ان) صبر کرنے والوں کو خوشخبری سنا دیں۔  جن پر کوئی مصیبت پڑتی ہے تو کہتے ہیں : بیشک ہم بھی اللہ ہی کا (مال)ہیں اور ہم بھی اسی کی طرف پلٹ کر جانے والے ہیں۔ 
زہد:  زہد یہ ہے کہ نفس کی مخالفت کا ہر ممکن سامان کیا جائے۔ ساری دنیوی خواہشیں بالاے طاق رکھ دی جائیں،   حتیٰ کہ حلال کے ستردروازے صرف اس ڈر سے چھوڑ دیے جائیں کہ بندہ کہیں حرام میں نہ پڑ جائے۔
ایمان:  ایمان (کائنات کی ) ایک گراں مایہ شے کا نام ہے۔ لوگوں میں سب سے زیادہ بڑھاہوا اِیمان اس شخص کا ہوتا ہے جو صاحب تقویٰ ہو۔ ایک مرید کے اَخلاق وکردار میں جیسے جیسے بہتری آتی جاتی ہے، یوں یوں اس کا اِیمان بڑھتا چلا جاتا ہے۔ اور تم میں سب سے عمدہ اَخلاق اُس کا شمار ہو گا جوایمان باللہ میں تم سے بڑھ کر ہو۔ 
شیخ سیداحمد بدوی نے اپنے خلیفہ عبدالعال کو جوبیش قیمت وصیتیں فرمائی تھیں ان میں (مشتے نمونہ از خروارے) یہ بھی ہیں  :
لا تشمت بمصیبۃ أحد من خلق اللّٰہ، ولا تنطق بغیبۃ ولا نمیمۃ، ولا تؤذ من یؤذیک، وأعنی عمن ظلمک، وأحسن إلی من أساء إلیک، وأعط من حرمک۔ 
یعنی (اے عبدالعال!خلق خدا کے لیے بے ضرر بن جاؤ) اگر کسی سے تمہیں کوئی مصیبت پہنچے تو اسے برے لفظوں سے نہ یاد کرو۔ اپنی زبان کو غیبت اور چغلی کی آفت سے محفوظ رکھو۔ اگر تمہیں کوئی اَذیت پہنچائے تو تم اسے اَذیت نہ دینا۔ جو تم پر ظلم کرے (اگر اس پر کوئی براوقت آن پڑے) تو اس کی مدد کر دینا۔ برائی کرنے والے کے ساتھ ہمیشہ حسن سلوک سے پیش آؤ۔ اور جو تمہیں (اپنی سخاوت سے) محروم رکھے تم اس پر اپنی عطاوبخشش کا دروازہ ہمیشہ وارکھنا۔ 
آگے مزید فرماتے ہیں کہ اے عبد العال! کیا تمہیں معلوم ہے کہ صابر و صادق فقیر کون ہوتا ہے؟۔ 
میں نے عرض کی: (میرے علم کی پونجی تو بس آپ ہی کا درِ فیض ہے، ) لہٰذا اِس سوال کا جواب عطا کر کے مجھے مزیداِستفادہ کا موقع بخشیں۔  تو فرمایا: (صابر وصادق فقیر )وہ ہے کہ کسی کے سامنے دست سوال دراز نہ کرے۔ مل جائے تو شکراَدا کرے۔ نہ ملے تو صبر پر قائم رہے۔ (اور یاد رکھنا کہ) کتاب و سنت پر عمل پیرا شخص ہی کو حکم الٰہی پر صبر کی دولت نصیب ہو سکتی ہے۔ 
ایسے معطر ومعنبراور تابندہ و درخشندہ وصایا کو دیکھنے اور پڑھنے کے بعداندازہ ہوتا ہے کہ وہ بندۂ  خدا کس پائے کا ولی اللہ رہا ہو گا!۔ اس کی روحانیت کبریٰ پریہ کافی شہادتیں ہیں،   نیزاس ضمن میں امام سید بکری سے مروی شیخ احمد بدوی کا یہ قولِ بے بدل نقل کر دینا بھی مناسب معلوم ہوتا ہے  :
من لم یکن لہ علم فلن تکون لہ قیمۃ في الدنیا والآخرۃ، و من لم یکن لہ حلم لم ینفعہ علم، ومن لم یکن عندہ سخاء لم یکن لہ من مالہ نصیب، ومن لم تکن عندہ شفقۃ علی خلق اللّٰہ لم تکن لہ شفاعۃ عند اللّٰہ، ومن لم یکن لہ صبر فلیس لہ فی الأمور سلامۃ،  ومن لم یکن عندہ تقوی فلیس لہ منزلۃ عند اللّٰہ،  ومن حرم ہذہ الخصال السِت فلیس لہ منزلۃ في الجنۃ۔ 
یعنی جو زیورِ علم سے بے بہرہ ہو وہ دنیا وآخرت میں بے قیمت ہے۔ جسے حلم کی دولت نہیں ملی اس کا علم کسی کے لیے نفع بخش نہیں۔ جسے جودوسخاوت سے حصہ نہیں ملتا،اس کا خود اپنے مال میں کوئی حصہ نہیں ہوتا۔ جو خلق خدا کے لیے اپنے دل میں (نرم گوشہ اور)جذبۂ  شفقت نہیں رکھتا، اس کے لیے (بروزِ محشر) بارگاہِ الٰہی میں کوئی شفاعت بھی نہیں ہو گی۔ جس کے پاس یاراے صبرنہ ہواس کے کام بننے کے اِمکانات بھی نہیں ہوتے۔ جس کا ظرف تقویٰ سے خالی ہو، اللہ کے حضور میں اس کی کوئی قدرومنزلت نہیں۔  اور جوان چھ خصلتوں سے محروم رہا توسمجھیں کہ وہ جنت سے بھی محروم رہے گا، کیوں کہ ایسے شخص کے لیے جنت میں کوئی جگہ نہ ہو گی۔ 
مذکور بالا کلمات حرف حرف حقیقت ہیں۔  ایسی فصیح وبلیغ نصیحتیں آپ زرّیں سے لکھنے کے قابل ہوتی ہیں۔  الفاظ وبیان کی ذرا جامعیت تو دیکھیں کہ اپنے اندر قطرہ قطرہ قلزم کی شان رکھتی ہے۔اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ شیخ موصوف کی اپنی زندگی میں علم وتقویٰ کا سورج کیسے ضوفشاں رہا ہو گا۔ اور فضل وکمال کی کتنی رفعتیں اُن کے ہمرکاب رہی ہوں گی۔

وفاتِ حسرت آیات
مورخین کا اس بات پر اجماع ہے کہ حضرت شیخ سیداحمدالبدوی رضی اللہ عنہ کی ۱۲/ ربیع الاوّل-۶۷۵ھ - میں اِس دارِفانی سے رحلت کر کے اُس جوارِ رحمت میں آرام گزیں ہو گئے۔ اور یہ وہی دن ہے جب عاشقانِ رسول میلادِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی دھومیں مچاتے ہیں۔  مصر کے علاقہطنطامیں آپ کی قبر مبارک زیارتِ گاہ خلائق ہے۔ 
طنطا یہ وہی جگہ ہے جہاں پر آپ سکونت پذیر اورعبادت گزیں تھے۔ جاے عبادت ہی کی جگہ آپ کی تدفین عمل میں آئی۔ آپ کے قبر کے اوپر بہترین گنبد تعمیرکیا گیا ہے جو خوبصورتی میں اپنا جواب آپ ہے۔پھر اسی سے متصل ایک عظیم مسجد کھڑی کر دی گئی ہے، جومدتوں سے مصر کی سب سے عظیم وکبیر مسجد تصور کی جاتی ہے۔ 
٭٭٭



چوتھی فصل

القطب السید إبراھیم الدسوقي قدس اللّٰہ سرہ
حیات و خدمات
(۶۲۳ھ =۱۲۲۶ء  ۔۔۔  ۶۷۶ھ=۱۲۷۷ء)




بسم اللہ الرحمن الرحیم

مولانا اِمام شیخ ابراہیم الدسوقی-قدس اللہ سرہ-

نام و لقب
السید السند،الحسیب النسیب، قطب الاولیائ، مرشد العلمائ، تاج العارفین، امام الزاہدین، شیخ الاسلام،  عارف باللہ بحر شریعت، سیدی ابراہیم الدسوقی القرشی الہاشمی- رضی اللہ تعالیٰ عنہ وارضاہ-   شجرۂ  نسب یوں ہے  :
العارف باللہ السید ابراہیم ابن ابو المجدابن قریش ابن محمد ابن محمد ابن النجا ابن عبد الخالق ابن ابو القاسم الزکی ابن علی ابن محمد الجواد ابن علی الرضا ابن موسیٰ الکاظم ابن جعفر الصادق ابن محمد الباقر ابن علی زین العابدین ابن الحسین ابن الامام سیدنا علی رضی اللہ عنہ وکرم اللہ وجہہ۔

ولادت
بیشتر تذکرہ نگاروں نے سید اِبراہیم الدسوقی رضی اللہ عنہ کا سن ولادت -۶۲۳ھ- قرار دیا ہے۔ دریاے نیل کے کنارے پر واقع مصرکے مشہور شہر دسوق میں آپ نے شرفِ تولد حاصل کیا۔ آپ کے والد گرامی عارف باللہ ابوالمجد عبد العزیز ولی صفت، اور اپنے وقت کے چنندہ  اہل اللہ میں سے تھے۔ ولایت ومعرفت کی اس منزل تک پہنچنے میں عارفِ کبیر محمد بن ہارون سنہوری کی صحبت ورفاقت نے بڑا رول اَدا کیا تھا۔ والدۂ  ماجدہ فاطمہ بھی وقت کی ولیہ اور مشہور عابدہ تھیں۔  (۱)

(۱)	مناقب الاقطاب الاربعہ، تفصیلی: ۹۴۔

تعلیم وتربیت
ابتدائی تعلیم کی تکمیل کے بعد حضرت ابراہیم الدسوقی رضی اللہ عنہ کے والد ماجد نے انھیں پورے طور پر اپنی تربیت و تعلیم میں لے لیا، اور ان پر اپنی پوری توجہ مرکوز کر دی۔ حفظ قرآن کی سعادت پانے کے بعد انھوں نے فقہ شافعی میں مہارتِ تامہ حاصل کی۔
والدگرامی نے تربیت و سلوک کے مراحل طے کرنے کی خاطر دسوق ہی میں اُن کے لیے ایک خلوتِ خاص بنادی،  جہاں حضرت ابراہیم دسوقی کوئی بیس سال تک خلوت گزیں رہے۔ اس بیچ والدِماجد کا اِنتقال ہو گیا تواُن کی نمازِ جنازہ پڑھانے کے لیے خلوت سے باہرتشریف لائے۔ 
پھر جب خلوت گزینی کے خیال سے خلوت گاہ کی طرف بڑھے تو لوگوں نے آپ کا دامن تھام لیا، اور خدا کی قسمیں دینے لگے کہ اب آپ اندر نہ جائیں،  ہمارے حال پر کرم فرمائیں،  خلق خدا آپ کے فیض کی پیاسی ہے۔ تاہم آپ نے تحصیل علم وفضل کا سلسلہ منقطع نہیں کیا۔ تصوف و طریقت کے اَسرار ورموز حاصل کرنے کے لیے عارف باللہ عبدالرزاق بن محمود جزولی کے درس سے وابستہ ہو گئے۔ مزید تشنگی عارف باللہ نجم الدین بکری اور نور الدین طوسی سے پوری کی۔ جو اس وقت آسمانِ سہروردیت کے دوچمکتے ستارے تصور کیے جاتے تھے۔ جب سید ابراہیم دسوقی نے فضل وکمال کے زینے طے کر لیے، تو اَب درس واِفادہ کی بساط بچھائی، اور خلق خدا کی ہدایت وتعلیم کا آغاز فرمایا۔(۱)

اسناد  طریقت
حضرت شیخ ابراہیم الدسوقی رضی اللہ عنہ نے خرقہ خلافت شیخ نجم الدین محمود الاصفہانی کے ہاتھوں زیب تن کیا۔ انھوں نے الشیخ نور الدین عبد الصمد النظری سے۔ انھوں نے الشیخ 

(۱)	مناقب الاقطاب الاربعہ، تفصیلی: ۹۶۔
نجیب الدین علی الشیرازی سے۔ انھوں نے الشیخ شہاب الدین السہروردی سے۔ انھوں نے الشیخ ابو نجیب ضیا الدین عبد القاہر السہروردی سے۔ انھوں نے الشیخ وجیہ الدین سے۔ انھوں نے الشیخ فرج الزنجانی سے۔ انھوں نے الشیخ ابو العباس النہاوندی سے۔ انھوں نے  الشیخ محمد بن حفیف الشیرازی سے۔ انھوں نے الشیخ القاضی رویم ابو محمد البغدادی سے۔ انھوں نے ا مام الطریقہ وسید الطائفہ ابو القاسم الجنید البغدادی سے۔ انھوں نے اپنے ماموں سری السقطی سے۔ انھوں نے الشیخ معروف الکرخی سے۔ انھوں نے  الشیخ داؤد الطائی سے۔ انھوں نے  الشیخ حبیب العجمی سے۔ انھوں نے الشیخ الحسن البصری سے۔ انھوں نے قائد الاولیاء سیدنا الامام علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے۔ اورانھوں نے سیدالخلق وسید الانبیاء الکرام سیدنا ومولانا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے حاصل کیا۔

اہل علم کی شہادتیں 
عارف باللہ علامہ شیخ ابوبکر الانصاری -قدس اللہ سرہ- شیخ کی سیرت بیان کرتے ہوئے عقود اللآل  میں فرماتے ہیں  :
(شیخ سید ابراہیم الدسوقی ) فضل و کمال کے  مرتبہ بلند پرفائز تھے۔ اور روحانیات کے اَحوال میں ماہرانہ شان کے مالک تھے۔علم موارد میں انھیں یدطولیٰ حاصل تھا۔ اور تصرف ونفاذ میں اپنی نظیر آپ تھے۔ کشف وکرامات کے بے تاج بادشاہ تھے۔ وہ خداوند قدوس کے ان برگزیدہ بندوں میں سے ایک تھے جنھیں اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے نعمت وجود سے نوازا۔ خلق خدا کے لیے رحمت بنا کرظاہر کیا۔ خاص وعام میں یکساں مقبولیت سے سرفراز کیا۔ عالم میں تصرف کا اختیار بخشا۔ولایت کے احکام پر متمکن فرمایا۔ حقیقتوں کو ان کے لیے بے نقاب کر دیا۔ خرقِ عادات ان کے ہاتھوں کی دھول بنادیا۔ غیبی خبروں کو اُن کی زبان سے بلوایا۔ ان کے ہاتھوں سے عجائب قدرت کا ظہور فرمایا۔ اور (مہد) گہوارے میں اُن سے روزہ رکھوایا۔ 

اِرشادات و فرمودات
(عارف باللہ شیخ امام سید اِبراہیم الدسوقی رضی اللہ عنہ ارشاد فرماتے ہیں :)
من صدق في الإقبال علی اللّٰہ، انقلبت لہ الأضداد فعاد من کان یسبہ یحبہ، ومن کان یقاطعہ یواصلہ .
یعنی جو ٹوٹ کر اللہ سے لو لگائے ( اور بس اُسی کا ہو رہے پھر دیکھے کہ) ناممکن چیزیں اس کے لیے کیسے ممکن ہو جاتی ہیں،   حتیٰ کہ گالیوں سے نوازنے والا بھی اسے محبت کے تحفے پیش کرے گا۔ اور قطع تعلق کرنے والارشتہ خاطر میں بندھتا نظر آئے گا۔
لا یکمل رجل حتی یفرَّ عن قلبہ وسرہ وعلمہ ووہمہ وفکرہ، وعن کل ما خطر ببالہ غیر ربہ .
یعنی مرد اُس وقت تک درجۂ  کمال پر فائز نہیں ہوتا جب تک یادِ مولا کے سوا اپنے قلب وباطن (کے وسوسوں )، علم (کے جھمیلوں )، وہم وفکر(کے بکھیڑوں ) حتیٰ کہ دل پر گزرنے والے جملہ خطرات سے بھی باہر نہ نکل آئے۔ 
من لیس عندہ شفقۃ ولا رحمۃ للخلق، لا یرقی مراتب أہل اللّٰہ .
یعنی جس شخص کے دل میں خلق خداکے لیے شفقت و رحمت کے جذبات  انگڑائیاں نہ لے رہے ہوں،  اُس کے لیے مرتبہ اہل اللہ تک پہنچنے کی ساری راہیں بند ہیں۔   
کل من وقف مع مقام، حُجِب بہٖ .
یعنی جوکسی ایک مقام پر جا کر رُک جائے، وہ اس سے محروم کر دیاجاتا ہے۔
ما دام لسانک یذوق الحرام، فلا تطمع أن تذوق من الحکم والمعارف شیئا .
یعنی اگر تیری زبان حرام لذتوں کی رسیاہو،  توپھر تجھے حکمت ومعرفت کی حلاوت ولذت چکھنے کا خیال ترک کر دینا چاہیے۔
الطریق کلہا ترجع إلی کلمتین، تعرف ربک وتعبدہ .
یعنی راہِ(سلوک) کارازبس دو کلمے ہیں :  معرفتِ الٰہی اورعبادتِ الٰہی۔ 
رأس مال المرید المحبۃ والتسلیم .
یعنی (ایک سچے )مرید کا کل سرمایہ محبت اورتسلیم ہے۔ 
لا یکمل الفقیر حتّٰی یکون محبا لجمیع الناس مشفقا علیہم ساتراً لعوراتہم فمن ادعی الفقر وھو یضد ذٰلک فھو غیر صادق۔ 
یعنی کوئی فقیر کامل بن ہی نہیں سکتا جب تک کہ اس کا دل سارے لوگوں کی محبت سے معمور نہ ہو جائے، خلق خدا کے لیے اس کے دل میں شفقت ورحمت نہ آ جائے، اور وہ ان کے عیبوں کا پردہ پوش نہ ہو،  لہٰذا اگر کوئی دعویٔ فقر کرے، اور اس کی حرکتیں اِس کے متضاد ہوں تو سمجھ لینا کہ وہ جھوٹا ہے۔(۱)

ملفوظات و تالیفات
شیخ ابراہیم الدسوقی نے فقہ و تصوف پرایک بڑا ذخیرہ یادگار چھوڑا ہے،  لیکن یہ بظاہر ان کی تصانیف معلوم نہیں ہوتیں،  بلکہ ان کے ملفوظات لگتے ہیں جو انھوں نے اپنی مجلسوں کے اندر مریدین کواِملا کروائے ہیں،   کیوں کہ ان کتابوں کا اسلوب تالیفانہ نہیں بلکہ ملفوظانہ ہے۔

(۱)	مناقب الاقطاب الاربعہ، تفصیلی: ۱۰۳۔
کتب في فقہ السادۃ الشافعیۃ،  الحقائق،  الرسالۃ،  الجوہرۃ ،  الجلیل الفائق  الموسوم بالحقائق،  برہان الحقائق۔ 
ان میں جوہرہ زیادہ مشہور ومعروف، اورضخیم ہے۔(۱)

یکے اَز کرامات
(عارف باللہ شیخ اِبراہیم الدسوقی رضی اللہ عنہ ) کی کرامتوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ ایک گھڑیال نے ایک بچے کو اُچک لیا۔ اس کی ماں گھبرائی ہوئی یہ شکایت لے کر شیخ کی بارگاہ میں حاضر ہوئی۔آپ نے اپنے خادم کو ساحل سمندر پر یہ کہہ کر بھیجا کہ جاؤ اور وہاں جا کرکہنا:اے گھڑیالو! جس نے بچے کو نگلا ہو وہ ابھی اسے لے کر حاضر ہو۔ 
چنانچہ وہ گھڑیال سمندر سے باہر نکلا،اور خادم کے ساتھ شیخ کی بارگاہ میں پہنچا۔ آپ نے اس سے فرمایاکہ بچے کوپیٹ سے باہرنکالو۔چنانچہ جب اس نے باہر کیا تو آپ نے گھڑیال سے فرمایاکہ اللہ کے حکم سے تم ابھی میرے سامنے مرجاؤ،  چنانچہ وہ وہیں ڈھیر ہو گیا۔ 
آپ کی کرامتیں اس قدر بڑھی ہوئی ہیں کہ ان کا بیان وشمار مشکل ہے۔ 
وفاتِ حسرت آیات
شیخ الدسوقی کی سیرت وسوانح پر لکھنے والے جملہ تذکرہ نگاروں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ آپ نے صرف تینتالیس(۴۳) سال کی عمر پائی۔ اور  -۶۷۶ھ- میں اس دنیاے فانی کو الوداع کہا۔ مصر میں آپ کی قبر مبارک زیارت گاہِ خلائق ہے۔اللہ ان کے فیوض وبرکات سے ہمیں متمتع فرمائے۔

(۱)	مناقب الاقطاب الاربعہ، تفصیلی: ۱۰۶۔
٭٭٭
اس کتاب کی مکمل پروف ریڈنگ اور تصحیح نہیں کی جا سکی ہے۔ اس کے متن پر مکمل اعتماد نہ کیا جائے
تشکر: ڈاکٹر محمد مشاہد رضوی جن کے توسط سے فائل کا حصول ہوا
جزوی تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید
