﻿


چاک ایجادی مری

احمد جاوید

انتخاب: عرفان ستار، اشعر نجمی



ترتیب


چاک کرتے ہیں گریباں اس فراوانی سے ہم	3
اچھی گزر رہی ہے دلِ خود کفیل سے	5
ہمیشہ دل ہوسِ انتقام پر رکھا	6
دنیا سے تن کو ڈھانپ، قیامت سے جان کو	7
چشمِ تمنّا سوئی ہوئی ہے	8
محفل ہے اور طرح کی تنہائی اور ہے	9
ان انکھڑیوں نے ڈالا ہے ہُلّڑ	10
یہ کیا ہے اِس کے بارے میں تو میں کچھ کہہ نہیں سکتا	11
تھا جانبِ دل صبح دم وہ خوش خرام آیا ہوا	12
آمادہ رکھیں چشم و دل سامان حیرانی کریں	14
اشعار	16





چاک کرتے ہیں گریباں اس فراوانی سے ہم
روز خلعت پاتے ہیں دربار ِ عریانی سے ہم
 
منتخب کرتے ہیں میدانِ شکست اپنے لیے
خاک پر گرتے ہیں لیکن اوجِ سلطانی پہ ہم
 
ہم زمینِ قتل گہ پر چلتے ہیں سینے کے بل
جادۂ شمشیر سر کرتے ہیں پیشانی سے ہم
 
ضعف ہے حد سے زیادہ لیکن اس کے باوجود
زندگی سے ہاتھ اٹھا سکتے ہیں آسانی سے ہم
 
ہاں میاں، دنیا کی چم خم خوب ہے اپنی جگہ
بس ذرا گھبرا گئے ہیں دل کی ویرانی سے ہم
 
کاروبار ِ زندگی سے جی چراتے ہیں سبھی
جیسے درویشی سے تم مثلاً جہاں بانی سے ہم
٭٭٭

 
اچھی گزر رہی ہے دلِ خود کفیل سے
لنگر سے روٹی لیتے ہیں پانی سبیل سے
 
دنیا مرے پڑوس میں آباد ہے مگر
میری دعا سلام نہیں اُس ذلیل سے
 
اک شخص بادشاہ تو اک شخص ہے وزیر
گویا نہیں ہیں دونوں ہماری قبیل سے
 
دل کی طرف سے ہم کبھی غافل نہیں رہے
کرتے ہیں پاسبانیِ شہر اِس فصیل سے
 
گہوارۂ سفر میں کھلی ہے ہماری آنکھ
تعمیر اپنے گھر کی ہوئی سنگِ میل سے
٭٭٭


 
ہمیشہ دل ہوسِ انتقام پر رکھا
خود اپنا نام بھی دشمن کے نام پر رکھا
 
وہ بادشاہِ فراق و وصال ہے اُس نے
جو بار سب پہ گراں تھا غلام پر رکھا
 
کیے ہیں سب کو عطا اُس نے عہدہ و منصب
مجھے بھی سینہ خراشی کے کام پر رکھا
 
کسی نے بے سر و پائی کے باوجود مجھے
زمینِ سجدہ و ارضِ قیام پر رکھا
٭٭٭



 
دنیا سے تن کو ڈھانپ، قیامت سے جان کو
دو چادریں بہت ہیں تری آن بان کو
 
ماٹی میں مل گیا ہے بدن روح کے لیے
تنگی کسی طرح کی نہ ہو میہمان کو
 
اک میں ہی رہ گیا ہوں لیے سر کو بار ِ دوش
کیا پوچھتے ہو بھائی مرے خاندان کو
 
جس دن سے اپنے چاکِ گریباں کا شور ہے
تالے لگا گئے ہیں رفوگر دکان کو
٭٭٭



چشمِ تمنّا سوئی ہوئی ہے
سونے سے پہلے روئی ہوئی ہے
 
دنیا بھی میرے کاندھے پر رکھ دو
یہ ٹوکری بھی ڈھوئی ہوئی ہے
 
جاوید پوچھو اِن شاعروں سے
ایسی غزل بھی کوئی ہوئی ہے؟
٭٭٭




محفل ہے اور طرح کی تنہائی اور ہے
اِس شہر کی فضا ہی مرے بھائی اور ہے
 
کیا بانس لے کے ناپنے نکلا ہے دل کو تُو؟
اِس بوند بھر محیط کی گہرائی اور ہے
 
نکلا نہ کوئی چاک مرے پیرہن کے بیچ
اُس ہاتھ کی گرفتِ زلیخائی اور ہے
٭٭٭



ان انکھڑیوں نے ڈالا ہے ہُلّڑ
چلتے ہیں دل میں مستی کے جھکّڑ
 
اک شور دل میں رہتا ہے جیسے
دروازہ پیٹے کوئی دھڑادھڑ
 
دنیا کو میں نے دل سے نکالا
اب آ کے دیکھو، کھٹ کھٹ نہ کھڑ کھڑ
٭٭٭

 

یہ کیا ہے اِس کے بارے میں تو میں کچھ کہہ نہیں سکتا
مگر چاہوں کہ اپنے ساتھ رہ لوں، رہ نہیں سکتا
 
جلا سکتی نہیں سارے جہاں کی آگ سورج کو
سمندر لاکھ طوفاں آئیں اُن میں بہہ نہیں سکتا
 
بڑی لمبی مسافت کاٹ کر پہنچا ہے دل تجھ تک
ذرا سی ٹھیس بھی یہ آبلہ اب سہہ نہیں سکتا
 
مگر سچ ہی کہا تھا مصحفی استاد نے جاوید
غزل اِن قافیوں میں تجھ سِوا کو کہہ نہیں سکتا
٭٭٭



تھا جانبِ دل صبح دم وہ خوش خرام آیا ہوا
آدھا قدم سوئے گریز اور نیم گام آیا ہوا
 
رقص اور پا کوبی کروں لازم ہے مجذوبی کروں
دیکھو تو ہے میرا صنم میرا امام آیا ہوا
 
ہے ذرہ ذرہ پر صدا اہلاً و سہلاً مرحبا
کیا سرزمین دل پہ ہے وہ آج شام آیا ہوا
 
تجھ پر پڑی یہ کس کی چھوٹ اے چشم حیراں کچھ تو پھوٹ
کیا حد بینائی میں ہے وہ غیب فام آیا ہوا
 
ہے موسمِ دیوانگی پھر چاک ایجادی مری
لوٹا رہے ہیں پہلے کا خیاط کام آیا ہوا
 
خورشید سامانی تری اور ذرہ دامانی مری
ہے یہ عجوبہ دیکھنے ہر خاص و عام آیا ہوا
 
صد چشم بیداری کے ساتھ، صد سینہ سرشاری کے ساتھ
سو سو طرح شہباز دل ہے زیر دام آیا ہوا
٭٭٭





آمادہ رکھیں چشم و دل سامان حیرانی کریں
کیا جانیے کس وقت وہ نظارہ فرمانی کریں
 
ہاں ہاں دکھائیں گے ضرور ہم وحشت دل کا وفور
پہلے یہ شہر و دشت و در تکمیلِ ویرانی کریں
 
اے عاشقاں، اے عاشقاں ، آیا ہے امرِ ناگہاں
جو لوگ ہیں نظارہ جو وہ مشق حیرانی کریں
 
وہ شمع ہے در طاقِ دل روشن ہیں سب آفاقِ دل
افتادگانِ خاک اٹھو افلاک گردانی کریں
 
اک ناصحانہ عرض ہے دریاؤں پر یہ فرض ہے
دل کی طرح ہر لہر میں تجدیدِ طغیانی کریں
 
ایسے گھروں میں اہل دل رہتے نہیں ہیں مستقل
تبدیل یہ دیوار و در اسلوبِ ویرانی کریں
٭٭٭

آخری دو غزلیں جمع و انتخاب: اشعر نجمی



اشعار

چشم کو دل کے بغیر اُس کا تماشائی نہ کر
ورنہ فی الحال اِسے آمادۂ بینائی نہ کر
 
اے صبا لانی ہے اُس گل کی خبر تو لے آ
ہم سے اب تُو یہ ابھی لائی ابھی لائی نہ کر
٭٭
 
روز کا رونا لگا ہے اپنے ساتھ
ہم نے آنکھیں باندھ لیں رومال میں
٭ 


دنیا سے قدم بچا کے رکھنا
چبھ جائے گا پاؤں میں یہ کنکر
٭ 
 
دکھا دیں گے اچھا، اِسی فصلِ گل میں
گریبان کو ہم گریبان کر کے
٭

فی الحال دل پہ دل تو لیے جا رہے ہو تم
اور جو حساب بھول گیا کل کلان کو؟
٭

جس کا دراز قد ہے، جس کی بڑی ہیں آنکھیں
دل اُس پہ مرتکز ہے، دل پر گڑی ہیں آنکھیں
٭ 


 
دل آئینہ ہے فقط اک نگاہ کرنے کو
یہ گھر بنایا ہے اُس نے تباہ کرنے کو
 
گلیم و تخت اتارے ہیں غیب سے اُس نے
مجھے فقیر تجھے بادشاہ کرنے کو
٭٭٭

بِنا کیا ہے جنوں نے وہ دشتِ رستہ خیز
کہ ذرّہ ذرّہ جہاں کا ہے آفتاب انگیز
 
لکھا ہُوا ہے یہ الواحِ موسوی پہ کہیں
کہ طُولِ جادۂ دنیا ہے نیم گام ِ گریز
٭٭٭



ماخذ:
https://www.facebook.com/notes/irfan-sattar/%D8%A7%D8%AD%D9%85%D8%AF-%D8%AC%D8%A7%D9%88%DB%8C%D8%AF-%D8%B5%D8%A7%D8%AD%D8%A8-%DA%A9%D8%A7-%DA%A9%DA%86%DA%BE-%DA%A9%D9%84%D8%A7%D9%85-%D8%A8%DA%BE%D8%A7%D8%A6%DB%8C-%DA%A9%D8%A7%D8%B4%D9%81-%D8%AD%DB%8C%D8%AF%D8%B1-%DA%A9%DB%8C-%D9%81%D8%B1%D9%85%D8%A7%D8%A6%D8%B4-%D9%BE%D8%B1/10150258568187096
تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید
