﻿

چاندنی بیگم: ایک مطالعہ

پروفیسر زاہدہ زیدی




قرة العین حیدر جو تقریباً ساٹھ سال تک ایک تہہ دار اور بے مثال فن کار کی حیثیت سے اردو کے ادبی افق پر جلوہ گر رہیں اب ہمارے درمیان نہیں ہیں۔ ان کا پہلا افسانوی مجموعہ ’’ستاروں کے آگے ‘‘ ۱۹۴۷ء میں شائع ہوا اور پہلا ناول ’’میرے بھی صنم خانے ‘‘ ۱۹۴۹ء میں منظر عام پر آیا اور اس کے بعد ایک اور ناول ’’سفینۂ غم دل‘‘ اور ایک اور افسانوی مجموعہ ’’شیشے کے گھر‘‘ بھی شائع ہوا۔ لیکن فکشن کی عظیم فن کار اور بے تاج ملکہ کا اعزاز انھیں اپنے شہرۂ آفاق ناول ’’آگ کا دریا‘‘ کے بعد ہی نصیب ہوا جو ۱۹۵۹ء میں اشاعت پذیر ہوا اور اس میں شک نہیں کہ ’’آگ کا دریا‘‘ نہ صرف قرة العین حیدر کا ایک شاہکار ناول ہے۔ بلکہ ایک ایسا ادبی شاہکار ہے جس کی مثال اردو ادب میں مشکل سے ملے گی۔ اس ناول کا کینوس اس قدر وسیع اور اس کا فورم اور ٹیکنیک اس قدر منفرد اور تخیل آفریں ہے اور اس میں ہندوستان کی ڈھائی ہزار سال کی تاریخ اور اس کے سماجی، ثقافتی ، مذہبی اور سیاسی پہلوؤں کا مطالعہ اس قدر دلچسپ اور بصیرت افروز ہے کہ اس نے ہندوستان اور پاکستان کے ادبی حلقوں کو فوری طور پر متوجہ کیا۔ اور عام قاری کو بھی گہرے طور پر متاثر کیا۔ اور یہ بھی محسوس کیا گیا کہ غالباً پہلی بار اردو کے کسی فکشن رائٹر نے تصور وقت کو اس قدر کامیابی سے فنّی پیکر میں ڈھالا تھا۔ اور شاید قرة العین کی کم عمری نے بھی (اس وقت ان کی عمر ۳۳ سال کے آس پاس تھی) اس ناول کی ہر دلعزیزی میں اضافہ کیا اور ان کی شہرت کو چار چاند لگائے۔

لیکن اس غیر معمولی شہرت کا ایک نتیجہ یہ بھی ہوا کہ قرة العین حیدر کے آئندہ ادبی کارناموں کو اور خاص طور سے ان کی چار اہم ناولوں یعنی ’’آخر شب کے ہمسفر‘‘ ’’گردش رنگ چمن‘‘ کار جہاں دراز ہے (سوانحی ناول اور ’’چاندنی بیگم‘‘ کو اس قدر تنقیدی توجہ نہیں مل سکی جس کے وہ بجا طور پرمستحق تھے۔ اس لیے اب ہم ’’چاندنی بیگم‘‘ پر جو اس سلسلے کی آخری کڑی ہے اور ۱۹۹۰ء میں منظر عام پر آیا، اپنی توجہ مرکوز کریں گے۔

اور اگر اب ہم سے یہ فرمائش کی جائے کہ صرف ایک جملے میں اس ناول کے مرکزی خیال اور مصنفہ کے وژن کو بیان کیا جائے تو ہمیں یہ کہنے میں تامل نہیں ہو گا کہ اس ناول کا موضوع بھی زندگی، زمانہ، زمین، وقت اور موت ہیں اور وقت کے سیل رواں میں انسان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کی اتھل پتھل اور انسان کے خوابوں اور منصوبوں کی بے ثباتی ہی ہیں۔ لیکن یہ ’’آگ کا دریا‘‘ کی طرح سرتا سر فلسفیانہ اور علامتی قسم کا ناول نہیں ہے اور نہ اس کا کینوس اس کی طرح غیر معمولی طور پر وسیع ہے۔ یہ تقسیم ہند سے کچھ پہلے شروع ہو کر صرف چالیس یا بیالیس سالوں کا احاطہ کرتا ہے۔ اور گو کہ اس کا ایکشن کم و بیش ہندوستان کے تین بڑے شہروں لکھنؤ، بمبئی اور کلکتہ اور چند قصبوں اور زیارت گاہوں تک محدود ہے۔ لیکن ہم چند کر داروں کے توسط سے کراچی، لندن امریکہ اور یورپ کے چند شہروں کی جھلک بھی دیکھ لیتے ہیں — اور جہاں تک اس کے وژن اور مرکزی خیال کا تعلق ہے وہ ٹھوس پیکروں اور حقائق، متنوع اور ہمہ رنگ کر داروں ، مختلف النوع اور بعض حیرت زا واقعات کے سانچے میں ڈھل کر ہمارے سامنے آتا ہے ، یعنی یہ ایک بہت گنجان قسم کا ناول ہے جس کی بیشتر تفصیلات قابل توجہ اور اکثر بصیرت افروز ہیں۔ اس لیے ان سب پر بھی گہری نظر ڈالنا ضروری ہے۔اور اس مطالعے سے پہلے اگر ناول کے فارم، ٹیکنیک، سٹرکچر اور فنی تدبیر پر بھی ایک نظر ڈالی جائے تو یہ مطالعہ زیادہ بصیرت افروز ہو سکتا ہے اور اس سلسلے میں میرے خیال میں چار پانچ خصوصیات خاص طور سے قابل توجہ ہیں۔

اوّل یہ کہ یہ ناول مختلف واقعات، کر داروں ، مناظر، لوکیشنز (Locations) فطرت کے مظاہر اور زندگی کی اتھل پتھل کا ایک کولاژ سا ہے یعنی یہ سب تصویریں ایک دوسرے پرچسپاں کر دی گئی ہیں اور کبھی تو یہ ایک دوسرے کی وضاحت کرتی ہوئی اور کبھی ایک دوسرے کو کاٹتی ہوئی نظر آتی ہے ں۔ اور کولاژ (Collage) کی یہ ٹیکنیک اس ناول کو دبازت اور گنجان پن کی خصوصیات سے مالا مال کرتی ہے۔

دوسرے یہ کہ اس ناول میں ڈرامائی عناصر اور ڈرامائی ٹیکنیک اس کی ایک نمایاں خصوصیت ہے۔ نہ صرف یہ کہ قرة العین نے پس منظر کی تفصیلات، کر داروں کی نشست و برخاست، لہجے کی خصوصیات، لباس، نقل و حرکت اور مکالموں کو بڑی باریکی سے پیش کیا ہے۔ جس سے ایک ڈرامائی ماحول پیدا ہو گیا ہے۔ بلکہ زیادہ اہم بات یہ ہے کہ اس ناول کے سٹرکچر میں بھی ڈرامائی رنگ غالب ہے۔ پورا ناول مناظر کی شکل میں ہمارے سامنے آتا ہے۔ مناظر بڑی تیزی سے بدلتے ہیں۔ واقعات بڑی سرعت سے اور اکثر غیر متوقع طور پر وقوع پذیر ہوتے ہیں۔ اور اکثر یہ حیرت زا مناظر اور برق رفتار ایکشن انتہائی اختصار سے کوئی بڑی داستان سنا جاتے ہیں۔

تیسرے یہ کہ اگر چہ گنجان پن اور ٹھوس واقعات اور پیکروں پر انحصار اس ناول کی ایک نمایاں خصوصیت ہے لیکن کہیں کہیں قرةالعین حیدر اپنی نثری تحریر کو ایک ایسی سطح پر لے جاتی ہیں جہاں وہ سراسر شعریت کے پیکر میں ڈھل جاتی ہے اور ان کے الفاظ میں معنویت کی کئی جہتیں لرزتی ہوئی محسوس ہوتی ہیں۔ اور عام طور پر بھی ا ن کی تخلیقات میں گا ہے گا ہے شعریت کی آمیزش ان کی معنویت اور دلکشی میں اضافہ کرتی ہے۔
چوتھے یہ کہ اگرچہ چاندنی بیگم حقیقت نگاری کی ایک تابندہ مثال ہے۔ لیکن اگر بنظر غور دیکھا جائے تو اس میں علامتی عناصر کا بھی ایک تانا بانا ایک موج تہ آب کی طرح مرتعش ہے۔ جو اس کے مرکزی خیال اور وژن کو اپنے دامن میں چھپائے ہوئے ہے ، یہ علامتیں عام طور سے فطرت سے مستعار لی گئی ہیں۔ آگ، پانی، ندی، چاند چاندنی، غروب آفتاب، دریا کی مترنم لہریں ، سوکھے پتوں کی کھڑکھڑاہٹ، پرندوں کے لیے سیمل کے پھولوں کا خاموش اور پراسرار سفر اور ان کا فضا کی دھند میں غائب ہو جانا، پھولوں کا کھلنا اور مرجھانا اور شبنم وغیرہ اس کی چند مثالیں ہیں۔ اور اکثر مکان، حویلیاں ، کھنڈر، مکانوں کی اندرونی آرائش، شاگرد پیشوں کی خستہ حالی، مسجد، مندر اور درگاہیں بھی یہ فرض انجام دیتی ہیں۔

پانچویں یہ کہ اس ناول میں قرہ العین حیدر نے قرآن کریم کی دو آیات یعنی ’’وتعز من تشاء وتذل من تشا‘‘ یعنی خدا جس کو چاہے عزت دیتا ہے اور جسے چاہے ذلت دیتا ہے ) اور’’اذا شئنا بدلنا ھم تبدیلا‘‘ ( جس کے معنی زیادہ پیچیدہ اور وسیع ہیں )۔ سے خاص طور سے مد د لی ہے۔ اور یہ اس کے سٹرکچر میں پیوست ہیں اور انھیں کی روشنی میں انھوں نے اپنے مرکزی وژن کو پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔

اور اب اگر اس ناول کے اہم واقعات کا مختصر ذکر کیا جائے تو ان میں سب سے زیادہ مرکزی اہمیت کی حامل تو وہ آگ ہے جو ریڈ روزہاؤس، اس کے چار مکینوں اور باغ وغیرہ کو ان کی آن میں جلا کر رکھ کر دیتی ہے۔ اور اس کے علاوہ بٹو بیگم کی ناگہانی موت ریڈ روز ہاؤس میں صنوبر فلم کمپنی گروپ کی آمد،قنبر علی اور بیلا کی شادی اور پھر ریڈ روز ہاؤس اور تین کٹوری ہاؤس میں چاندنی بیگم کی آمد اور قیام ریڈ روز اسٹیٹ کے سلسلے میں سالہا سال چلنے والا مقدمہ ، اور پھر مقدمہ ہارنے کے بعد ماسٹر موگرے اور ان کے خاندان کی بہرائچ کی درگاہ میں آمد، غازی میاں اور زہرہ بی بی کی علامتی شادی کا جشن، ریڈ روز اسٹیٹ کے سلسلے میں مندر مسجد کا جھگڑا اور صفیہ سلطان کی موت جس پر اس ناول کا اختتام ہوتا ہے اس ناول کے کچھ اہم واقعات ہیں۔ جن پر اس تجزیے کے دوران مزید روشنی ڈالی جائے گی۔

جہاں تک اس ناول کے بے شمار کر داروں کا تعلق ہے۔ انھیں موٹے طور پر دو گردیوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے یعنی دو کر دار جن کا مرکزی ایکشن سے کچھ تعلق ہے اور جنھیں انفرادی طور پرکسی قدر تفصیل سے پیش کیا گیا ہے۔ اور فروعی کر دار جو عام طور پر گروپ کی شکل میں ہمارے سامنے آتے ہیں۔ البتہ اس بات کی طرف اشارہ کر دینا ضروری ہے کہ اس ناول میں بظاہر فروعی نوعیت کے کردار بھی بے حد اہم رول ادا کرتے ہیں اور بڑی حد تک مصنفہ نے انھیں کی مد د سے کئی اہم تاریخی، سماجی ،ثقافتی اور مذہبی موضوعات کو پیش کیا ہے اور انسانی فطرت کے کئی گہرے اور یونیورسل پہلوؤں پر بھی روشنی ڈالی ہے۔

جہاں تک انفرادی اور کسی حد تک مرکزی کر داروں کا سوال ہے اسے بھی کئی گروپوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ مثلاً ریڈر روز ہاؤس کے مکین یعنی بیرسٹر اظہر علی کا خاندان اور ان کے حوالی موالی۔ تین کٹوری ہاؤس کا خاندان اور ان کے حوالی موالی۔ اور عصر شیریں کے مکین بھی اسی گروپ کا شاخسانہ ہیں۔ صنوبر فلم کمپنی سے متعلق کر دار یعنی ماسٹر موگرے کا خاندان بہار پھولپوری اور چکوترا گڑھوالی وغیرہ۔ ان کے علاوہ چاندنی بیگم اور علیمہ بانو کا مختصر خاندان اور آخر میں وارد ہونے والا شیخ سروش فیل فروش کا خاندان۔

ریڈ روز کے مختصر خاندان میں بیرسٹر اظہر علی، ان کی بیوی بٹو بیگم اور بیٹا قنبر علی شامل ہیں۔ بیرسٹر اظہر علی ایک کامیاب اور روشن خیال بیرسٹر ہیں۔ وہ ایک نہایت نفیس اور شاندار شخصیت کے مالک ہیں۔ زمین جائداد کے مقدموں کو کامیابی سے لڑنا ان کا طرۂ امتیاز ہے۔ ان کے موکلوں میں بڑے رئیس اور جاگیردار شامل ہیں۔ لیکن تقسیم ہند کے بعد ایسے مسلمان لوگوں کی تعداد بہت بڑھ گئی ہے۔ جو کبھی خوش حال تھے لیکن اب اپنی جائداد وغیرہ سے محروم کر دیے گئے ہیں۔ غریب اور مصیبت زدہ لوگوں کے مقدمے بیرسٹر اظہر علی بغیر فیس لیے بھی لڑ لیتے ہیں۔

ان کی اہلیہ بٹو بیگم بھی ایک رحم دل اور شائستہ خاتون ہیں جو اپنے شوہر اور انقلابی بیٹے کے زیر اثر ایک سماجی کارکن بن چکی ہیں۔ اور اپنے سربرآور دہ خاندان اور شوہر کی اہمیت کی بدولت انھیں شہرت بھی خوف ملی اور جلسوں کی صدارت اور ریڈیو تقریروں کے علاوہ وہ خواتین کی انٹرنیشنل کانفرنسوں میں بھی شرکت کرتی رہتی ہیں۔ لیکن بنیادی طور پروہ ایک سیدھی سادی اور نیک دل خاتون ہیں۔ اور اپنی کلچرل، روایتوں کی پاسداری اور مذہبی رسومات سے وابستگی بھی ان کی فطرت میں داخل ہے۔ اپنے بھائیوں سے انھیں بے پناہ محبت ہے اور ان کی جدائی یعنی بے ا طلاع پاکستان روانگی ان کی موت کا سبب بنتی ہے۔ اپنی دیرینہ سہیلی علیمہ بانو سے ان کی محبت اور ہمدردی (جو اب انتہائی عسرت کی زندگی گزار رہی ہیں ) بھی ان کی نیک دلی کا ثبوت ہے۔

لیکن بیرسٹر اظہر علی اور ان کی بیگم ناول کے ابتدائی حصّہ ہی میں موت کا شکار ہو جاتے ہیں اور ہماری توجہ کا مرکز ان کا اکلوتا بیٹا قنبر علی ہے جو اب ریڈ روز اسٹیٹ کا مالک ہے۔

قنبر علی ایک کافی دلچسپ اور پیارا کر دار ہے اور مجموعۂ افراد بھی ہے۔ وہ اپنے باپ کی طرح ایک شاندار شخصیت کا مالک نہیں لیکن اس میں جوش و خروش کی کمی نہیں۔ طالب علمی کے زمانے میں وہ ایک انقلابی خیالات کا اسٹوڈنٹ لیڈر رہا ہے اور تعلیم ختم کرنے کے بعد وہ ریڈ روز کے نام سے ایک انقلابی رسالہ نکالتا ہے جس کے لیے اس کے والد نے اسے کافی مالی امداد دے دی ہے اور رفتہ رفتہ یہ رسالہ اردو، ہندی اور انگریزی تینوں زبانوں میں نکلنے لگتا ہے۔ وہ انقلابی نوجوانوں اور روشن خیال اور اسمارٹ لڑکیوں کے حلقے میں کافی مقبول ہے۔ اور بٹو بیگم اس بات سے کافی پریشان ہیں کہ وہ کسی غیر مسلم لڑکی سے شادی نہ کر لے۔لیکن قنبر علی انھیں اطمینان دلاتا ہے کہ وہ ان کی پسند کی لڑکی سے شادی کرنے کو تیار ہے لیکن اس کی تین شرطیں ہے ں۔ لڑکی غریب ہو۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ ہو اور خوبصورت ہو اور بٹو بیگم اپنی سہیلی کی بیٹی چاندنی بیگم کو اس کے لیے پسند کرتی ہیں۔ کیونکہ اس میں یہ تینوں خصوصیات موجود ہیں۔ قنبر علی بھی تصویر دیکھ کر چاندنی کو پسند کرتا ہے لیکن بٹو بیگم کی ناگہانی موت کے بعد وہ اپنے انقلابی کاموں میں اس بری طرح مصروف ہو جاتا ہے کہ یہ بات بالکل بھول جاتا ہے کہ اس کی ماں علیمہ بانو کو چاندنی بیگم کے لیے اس کا پیغام دے چکی ہیں۔ اور اپنے بچکانہ انقلابی جوش میں بڑے ڈرامائی انداز سے بیلا سے نکاح کر لیتا ہے جو ایک میراثی خاندان کی کم پڑھی لکھی اور معمولی شکل و صورت کی ایک غریب لڑکی ہے۔ لیکن اس شادی کے سلسلے میں قنبر علی کا انقلابی جوش جلد ہی ٹھنڈا پڑ جاتا ہے۔ کیونکہ اول تو بیلا نکاح کے وقت ہی ریڈ روز ہاؤس اپنے نام لکھوا لیتی ہے اور پھر پوری اسٹیٹ بھی اپنے نام لکھوانے پر اصرار کرتی ہے۔جس پر عنبر علی غریب بچوں کے لیے اسکول کھولنا چاہتے ہیں اور کھیل کا میدان بنانا چاہتے ہیں اور ڈسپنسر ی اور دوسرے رفاہ عام کے کاموں کے لیے وقف کرنا چاہتے ہیں۔ بیلا خراچ بھی بہت ہے اور بیگمات کی طرح رہنا چاہتی ہے اور لڑاکا بھی ہے۔ اور سب سے زیادہ یہ کہ قنبر علی اس میں اعلیٰ سوسائٹی کے کلچرل کی کمی اور اس کی بمبیّا اردو سے سخت خائف ہیں اور اسے اپنے دوستوں سے نہیں ملواتے اور وہ لوگ خود بھی اس سے ملنا پسند نہیں کرتے اور بیلا ان سب باتوں کو شدت سے محسوس کرتی ہے۔ دوسری طرف قنبر علی بھی اپنے انقلابی جوش میں ریڈ روز پارٹی کی طرف سے الیکشن لڑتے ہیں جس میں اپنے والد کے شیئرز اور والدہ کا زیور تک جھونک دیتے ہیں اور بری طرح ہارتے ہیں۔ جس سے ان کے زمینی حقیقتوں سے کٹے ہوئے ہونے کا اندازہ ہوتا ہے۔ لیکن چاندنی بیگم سے مختصر ملاقات میں ان کی شرافت، ذہانت، شائستگی اور خلوص کا بھی اندازہ ہوتا ہے اور وہ نہ صرف لفٹنٹ آئیڈیلوجی اور ہیومنٹ آئیڈلزم کے نمائندہ ہیں بلکہ اپنے سوشل گروپ کی خوبیوں اور خامیوں سے بھی متصف ہیں۔ غرض کہ قنبر علی مجموعہ اضداد ہونے کے باوجود بھی ایک کھرا اور پیارا کر دار ہے اور ان کی ناگہانی اور بے وقت موت سے قاری گہرے طور پر متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔

ریڈ روز ہاؤس کے عملے میں ملازموں کی بھی ایک بڑی تعداد ہے جو قنبر علی سے بہت محبت کرتے ہیں اور خاندان کے وفادار ہیں اور خاندان کے لوگ بھی ان کا ہر طرح خیال رکھتے ہیں۔ یہاں مصنفہ نے یہ دکھانے کی کوشش کی ہے کہ یہ لوگ غریب ہیں لیکن زمیندار سسٹم کے پروردہ ہیں اور اسی کو پسند کرتے ہیں۔ وہ بیلا کو پسند نہیں کرتے کیونکہ وہ ایک نچلے طبقے سے تعلق رکھتی ہے۔ اور انھیں اس بات کا افسوس ہے کہ کسی رئیس خاندان کی لڑکی اس گھر میں بہو بن کر نہیں آئی ان ملازمین میں بوڑھی ملازمہ الحمدو کی تو خاص اہمیت یہ ہے کہ وہ کہانی کے ارتقا میں ایک کلیدی رول ادا کرتی ہیں اور منشی بھوانی شنکر سوختہ کی شخصیت کے خدوخال بھی کافی نمایاں ہیں۔ وہ ایک بہت بڑے عالم، فاضل شخص ہیں۔ اردو فارسی اورسنسکرت کے عالم ہیں اور اردو میں شاعری بھی کرتے ہیں۔ ان کی حیثیت خاندان کے بزرگ کی سی ہے۔ وہ کوٹھی ہی کے ایک کمرے میں رہتے ہیں اور اس خوفناک آگ میں وہ بھی قنبر علی اور بیلا کے ساتھ جل کر راکھ ہو جاتے ہیں اور اب اگرہم ریڈ روز ہاؤس سے تین کٹوری ہاؤس کا رُخ کرتے ہیں تو گوکہ یہ بھی رئیسوں کا گھرانہ ہے اور اس کے مالک راجہ کہلاتے ہیں لیکن یہاں کا ماحول ریڈ روز ہاؤس سے کافی مختلف ہے۔ راجہ صاحب خود تو ایک شریف اور بے ضرر سی شخصیت ہیں لیکن یہاں رانی صاحبہ کا حکم چلتا ہے۔ جو نہایت مغرور اور ڈکٹیٹر قسم کی خاتون ہیں اور کافی ذہین بھی۔ ان کی بڑی لڑکی زرینہ (زینی)انھیں کی ہم خیال اور مشبہ خاص ہے۔ نوکروں اور خاندان والوں پر حکم چلانا اس کی فطرت میں داخل ہے اور اسی سے اسے اپنی اہمیت کا احساس ہوتا ہے۔ وہ تین بچوں کی ماں اور ایک مطلقہ خاتون ہے اور اپنی بدقسمتی کا ذمہ دار دوسروں کو ٹھہراتی ہے اور کسی کو بخشنے کی عادی نہیں ....رانی صاحبہ کی دوسری بیٹی پروین (پینی) کافی بیوقوف ہے اور شادی سے پہلے وہ ایک سراسر رومانوی ہستی تھی۔ فلمی انداز کے رومانٹک خیالوں میں ڈوبے رہنا اور دھوم دھام سے دلیپ کمار کی سالگرہ منانا اس کے محبوب مشغلے تھے۔ بی۔اے پاس کرنے کے فوراً بعد اس کی شادی پاکستان میں ہوتی ہے اور جب وہاں سے واپس آتی ہے تو وہ ایک بدلی ہوئی شخصیت ہے۔ اب وہ ایک نہایت مغرور اور فیشن ایبل خاتون ہے اور اپنی اہمیت کے نشے میں سرشار۔ وہ ہر بات میں پاکستان سوسائٹی کو ہندوستان کے مقابلے میں برتر اور زیادہ موڈرن ثابت کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ اور اس کا یہ رویہ آخر تک قائم رہتا ہے۔ جب کہ اس کے بچے بھی جوان ہو چکے ہیں۔ چاندنی بیگم کے ساتھ اس کا سلوک اس کی بے حسی اور بد دیانتی کی دلیل ہے۔ وہ نہ صرف اس مظلوم اور تعلیم یافتہ لڑکی سے اپنے کپڑے سلواتی ہے اور اس سے نوکروں سے بدتر سلوک کرتی ہے بلکہ اپنے بھائی بوبی کی سازش میں شامل ہو کر دوسرے بھائی وکی کے ساتھ اس کی شادی کی بھی مخالفت کرتی ہے۔ اور اسے اپنے بچوں کی آیا بنا کر اپنے ساتھ امریکہ لے جانے کا منصوبہ بناتی ہے۔ لیکن جب اس کی ماں اسے سمجھاتی ہے کہ چاندنی اس سے کم عمر زیادہ خوبصورت اور زیادہ ذہین ہے اور اس کے شوہر کافی دل پھینک واقع ہوئے ہیں تو وہ بڑی بے حیائی سے یہ پروگرام منسوخ کر دیتی ہے اور چاندنی بیگم کو کسمپرسی کی حالت میں چھوڑ کر پاکستان روانہ ہو جاتی ہے۔

ان دونوں کے مقابلے میں رانی صاحبہ کی چھوٹی بیٹی صفیہ (فینی) کی شخصیت زیادہ پیچیدہ اور جاذب توجہ ہے۔ فینی کو جو بہت خوبصورت تھی، اسے قنبر علی کی دادی نے صفیہ کی نانی سے پیدائش کے وقت ہی قنبر کے لیے مانگ لیا تھا یعنی یہ ٹھیکرے کی مانگ تھی۔ اور صفیہ نے بچپن ہی سے قنبر کو اپنا ہیرو مان لیا تھا۔ گیارہ بارہ سال کی عمر میں اس پر پولیو کا حملہ ہوا اور رفتہ رفتہ وہ زیادہ حساس ہو گئی۔ اور جب قنبر علی نے انقلابی لیڈر بننے کے بعد کسی رئیس زادی سے شادی کرنے سے انکار کر دیا تو صفیہ پر اس کا گہرا اثر ہوا۔ اور اسے یہی محسوس ہوا کہ اس کے لولے پن کی وجہ سے اس کے ہیرو نے اسے رجکٹ کیا ہے۔ اپنی اس مایوسی سے ابھرنے کے لیے اس نے ساری توجہ ایجوکیشن پر مرکوز کر دی۔ ڈبل۔ ایم۔ اے کیا اور ایجوکیشن میں پی۔ایچ۔ ڈی (Ph.D) بھی کی۔ اور پھر ایک انگلش میڈیم اسکول کھول کر اسی میں مدغم رہنے لگی۔ اس نے پھر کوئی پیغام بھی منظور نہیں کیا۔ صفیہ کو عام طور پر ناول میں خاصے منفی انداز سے پیش کیا گیا ہے۔ اس کے خاندان کے لوگ اس کی کنجوسی، آدم بیزاری اور جھکی پن کو نشانہ بنائے رہتے ہیں۔ لیکن اگر انصاف کی نظر سے دیکھا جائے تو صفیہ کی شخصیت کے مثبت پہلو ہمیں متاثر کیے بغیر نہیں رہ سکتے۔ وہ ایک رئیس زادی ہے اس میں تو اس کا کوئی قصور نہیں۔ لیکن جس بہادری اور خود داری سے وہ صورت حال کا سامنا کرتی ہے اور جس طرح وہ اپنی زندگی کا نقشہ مرتب کرنے کی کوشش کرتی ہے اس سے بہتر شاید اس ماحول میں ممکن بھی نہیں تھا۔ اگر وہ چڑچڑی اور جھکی ہوتی جا رہی ہے تو اس کی وجہ یہی ہے کہ اس ماحول میں کوئی بھی اسے سمجھنے کی کوشش نہیں کرتا اور صفیہ بے حد تنہا ہے۔ چاندنی بیگم کی طرف بھی اس کا رویہ اوروں سے بہتر ہے۔ گو کہ اسے معلوم ہے کہ چاندنی وہی لڑکی ہے جسے بٹو بیگم نے قنبر کے لیے پسند کیا تھا۔ اور اس کے یہ خیالات:

’’ایک نرم و نازک پھول غیر محفوظ لڑکی روئی کے اس ہوائی پھول کی طرح تیرتی ہوئی یہاں آ گئی۔ اور یہ سب مل کر اپنی اپنی غرض کے لیے طرح طرح کے منصوبے بنا رہے ہیں۔ بڑی بہو یا آیا۔ واہ‘‘ صفیہ نے حقارت سے سوچا ’’اور بولی— اگر ان کا بس چلے تو وہ اسے اپنی مسٹرس بنا لیں۔‘‘

 (چاندنی بیگم، ص ۱۲۵)

قاری کو اپنے ہی دل کی آواز معلوم ہوتے ہیں — صفیہ کی اچانک موت سے پہلے قرة العین حیدر نے اس کی Stream of Conscious یا اندرونی مکالمے کو جس دیدہ وری اور چابکدستی سے پیش کیا ہے۔ اس سے بھی اس کی شخصیت کے کچھ اسرار کھلتے ہیں۔ اور اگلے دن تین کٹوری ہاؤس میں سوگواروں کا ہجوم، قرآن خوانی وغیرہ، مہمان خواتین کی گفتگو اور صفیہ سلطان کے جنازے کا جلوس تو اپنے گہرے مشاہدے ، حساس منظر کشی اور سفاک حقیقت نگاری میں لاجواب اور ناقابل فراموش ہیں اور اس کے ساتھ ہی ناول کا اختتام بھی مصنفہ (مس حیدر) کا ایک ماسٹر سٹروک ہے۔

البتہ راجہ صاحب کے بڑے صاحب زادے وکی میاں بالکل مختلف قسم کے انسان ہیں اور اس ناول کے ایکشن کے دوران ہم انھیں کئی روپ میں دیکھتے ہیں۔ایک رئیس زادے کی حیثیت سے وہ قانون کی تعلیم حاصل کرنے کی غرض سے لندن گئے تھے۔ اور پڑھائی لکھائی سے زیادہ سیرو تفریح اور کلچرل سرگرمیوں میں مصروف رہے ، اور جوانی کے جوش میں جس میں انقلابی جوش کا عنصر بھی شامل تھا ایک گانے والی جپسی لڑکی سے متاثر ہو کر بلکہ اس پر ترس کھا کر اس سے شادی کر بیٹھے۔ وہ لڑکی نہ صرف غیر تعلیم یافتہ تھی بلکہ ذہنی طور پر بھی پسماندہ تھی۔ اور جب وکی اپنی دلہن کو لے کر اور غالباً بغیر کوئی ڈگری لیے وپس آئے تو وہ تین کٹوری کے محل میں ایک عجوبہ بن گئی۔ گو وہ کسی کادنٹ کے آوارہ لڑکے کی ناجائز اولاد ضرور تھی (اور اسی حیثیت سے وکی نے اسے متعارف کرایا) لیکن اس کی ساری زندگی اپنی جپسی ماں کے ساتھ گزری تھی۔ وہ کئی سال اس محل کی چاردیواری میں قید رہی اور وکی اس کی عجیب عجیب حرکتوں سے تنگ آ کر اسے زد و کوب بھی کرتے رہے یہاں تک کہ اس نے بھیس بدل کر زنخوں کے ساتھ فرار ہو جانے ہی میں اپنی عافیت جانی۔ اور اسی دوران وکی بھی اپنے ہوش وحواس کھو بیٹھے۔ اور جب ہم پہلی بار انھیں دیکھتے ہیں تو وہ اسی دور سے گزر رہے ہیں ، البتہ جب چاندنی بیگم وہاں انتہائی کسمپرسی کے عالم میں جاتی ہے اور سب لوگ اس سے نوکروں جیسا برتاؤ کرتے ہیں تو وکی اس میں کافی دلچسپی لیتے ہیں اور اسے کادمبری کے لقب سے نوازتے ہیں۔ چاندنی بیگم سے اپنی مختصر ملاقات کے دوران قنبر علی اس سے کہتا ہے کہ وکی میاں بھی اس کی طرح ایک انقلابی ذہن رکھنے والے آئیڈلسٹ تھے۔ لیکن تقسیم ہند اور ۱۹۴۷ء کے المناک حادثات نے انھیں ہلا کر رکھ دیا اور وہ اپنا ذہنی توازن کھو بیٹھے۔ اور بہت سال بعد وکی بھی اسی خیال کا اظہار کرتے ہیں۔ لیکن ہم یہ محسوس کیے بغیر نہیں رہ سکتے کہ اس صورت حال کا ان کی بے تکی شادی سے بھی گہرا تعلق ہے۔ اور اسی لیے چاندنی بیگم سے ان کا ہلکا پھلکا لیکن پر خلوص تعلق ان کے نارمل ہونے میں معاون ثابت ہوتا ہے اور اس میں فطرت سے ان کے والہانہ تعلق کو بھی خاصا دخل ہے۔ مجموعی طور پر ہم یہ محسوس کرتے ہیں کہ وکی ایک شاعرانہ اور فلسفیانہ ذہن رکھنے والے آئیڈلسٹ ہیں۔ لیکن وہ شاعر نہیں اور ان کا کوئی اور تخلیقی اظہار بھی نہیں ہے۔ اس لیے یہ شدت فکرواحساس بھی ان کے لیے سوہان روح بن جاتی ہے۔ خاص طورسے اس قسم کے بے روح اور زرپرست ماحول میں جہاں کسی کو ان باتوں کی فرصت نہیں وکی کی والدہ چاندنی بیگم کے ساتھ وکی کی شادی کا منصوبہ بناتی ہیں۔ اور خود چاندنی بھی یہ رسک (Risk) لینے کے لیے تیار ہو جاتی ہے کیونکہ وہ بالکل بے یارو مددگار ہے۔ اور اسے وکی سے ہمدردی بھی ہے۔ لیکن پھر ایک سازش کے تحت جو بوبی نے اپنے ذاتی مفاد کو پیش نظر رکھ کر رچائی ہے یہ شادی منسوخ ہو جاتی ہے ، اور کچھ عرصے بعد وکی کا نکاح الائچی خانم کی نواسی سے کر دیا جاتا ہے جو اس خاندان کی مغلانی ہیں۔
 
بہت عرصے بعد جب ہم وکی کو دیکھتے ہیں تو وہ اب نہ صرف تین کٹوری اسٹیٹ کے راجہ بن چکے ہیں بلکہ تین چار بچوں کے باپ بھی ہیں اور اپنے بیوی بچوں کے ساتھ ایک بظاہر پرسکون زندگی گزار رہے ہیں۔ اور یہ انقلابی آئیڈلسٹ اب ایک فلسفی ہومنسٹ کی شکل میں ہمارے سامنے آتا ہے۔ اب وہ ادب، تاریخ، فلسفہ اور مذاہب کے مطالعے میں زیادہ مصروف رہتے ہیں۔ اور راجہ وقار حسین یعنی وکی کا رویہ سبھی لوگوں کے ساتھ منصفانہ اور مشفقانہ ہے۔ اور سبھی لوگ انہیں پسند کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ نئی نسل بھی جواب جوان ہو چکی ہے اور مادیت پرستی، زرپرستی اور مغرب پرستی میں اپنے بزرگوں سے دس قدم آگے ہے۔ ان سے کافی مانوس ہے۔ لیکن ان کی ذہنی کیفیات کا شریک کوئی نہیں۔ نیچر سے ان کا تعلق اب بھی والہانہ ہے۔ اور وہ تیس سال گزرنے کے بعد بھی چاندنی بیگم کو نہیں بولے ہیں۔ کیونکہ شاید وہی ان کے نازک ترین ذہنی ارتعاشات میں شرکت کرنے کی اہل تھی۔

اس منزل پر تین کٹوری کے ملازمین کے عملے پر بھی ایک نظر ڈالنا ضروری ہے۔ خاص طور سے جیسے ہم انہیں ناول کے پہلے حصّے میں دیکھتے ہیں ان کی حالت اور پوزیشن ریڈ روز ہاؤس کے ملازمین سے کافی مختلف ہے۔ ریڈ روز ہاؤس کے برعکس یہاں مالکوں اور ملازموں کا باہمی رشتہ شفقت اور وفاداری کا نہیں بلکہ غرور، بے حسی اور بے بسی کاہے۔ شاگرد پیشے کی شکستہ حالت اور ٹوٹے پھوٹے دالان میں بڑے روئی کے میلے پردے ان لوگوں کی بدحالی اور مالکوں کی بے حسی کی داستان سنار ہے ہیں۔ مطبخ کا منظر بھی اسی قدر دل شکن ہے۔البتہ کہانی کے ارتقا میں ان لوگوں کا رول خاصا اہم ہے۔ ان میں الائچی خانم کی تو ایک الگ حیثیت ہے اور وہ ہمہ وقت اس فکر میں رہتی ہیں کہ کسی طرح وکی میاں کی جنھیں نیم پاگل سمجھا جا رہا ہے ان کی نواسی سے شادی کر دی جائے تاکہ وہ آئندہ اس گھرانے پر راج کر سکے۔اس لیے وہ چاندنی بیگم کا پتہ کاٹنے کی فکر میں رہتی ہیں۔ لیکن دوسری ملازماؤں یعنی بتاشن بوا، نورن بوا وغیرہ کو چاندنی بیگم سے ہمدردی ہے اور وہ اسے تین کٹوری خاندان کے حالات اور خاص طور سے وکی کے حالات سے آگاہ کرتی ہیں۔ اور اس طرح قاری کو بھی اس ماحول سے شناسائی ہوتی ہے۔دوسری طرف چاندنی بیگم بھی ان ہمدرد خواتین کو اپنے خاندان اور اپنی زندگی کے حالات سناتی ہے اور اس طرح ہم بھی اس کے ماضی میں جھانکتے ہیں اور اس کی شخصیت کے نقوش بھی ابھرتے ہیں۔ اور یوں بھی اس ناول میں قرة العین حیدر نے جگہ جگہ غریب، بدحال اور بے سر و ساماں لوگوں کا مطالعہ بڑی ہمدردی اور دیدہ ریزی سے کیا ہے۔ اور تین کٹوری کا شاگرد پیشہ اور اس کے مکیں بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے ں اور اس گنجان کولاژ کے کچھ قابل توجہ تراشے۔

اور ان دو رئیس خاندانوں اور ان سے متعلق لوگوں پر نظر ڈالنے کے بعد جب ہم اہم کر داروں کے تیسرے گروپ یعنی صنوبر فلم کمپنی کے اراکین کی طرف متوجہ ہوتے ہیں تو یہ ایک اور ہی دنیا ہے۔ یہ لوگ ناول کے بالکل ابتدائی حصّے میں ہمارے سامنے آتے ہیں۔ اور ان میں ماسٹر موگرے کے خاندان کے لوگ اور ان کے کچھ ساتھی شامل ہیں۔ ماسٹر موگرے میراثیوں کے خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ لیکن اب وہ صنوبر فلم کمپنی کے نام سے اور اپنی بیٹی کو ہیروئن بنا کر ایک فلم بنام گلزار محبت بنانے کے فراق میں ہیں ماسٹر موگرے جب قنبر علی سے ملنے آتے ہیں تو اپنے خاندان کا تعارف ان الفاظ میں کراتے ہیں وائف، چنبیلی بیگم ناز، فلم ایکٹرس اور پوئٹس (شاعرہ) ڈاٹر (بیٹی) بیلا رانی شوخ، گل عباس، ریڈیو آرٹسٹ اور پوئٹس سن (بیٹا) پری زادہ گلاب، کومیڈین۔

لیکن ان لوگوں کی گفتگو کے دوران قنبر علی کو بہت جلد یہ اندازہ ہو جاتا ہے کہ یہ بہت ہی خستہ حال خاندان ہے۔ چنبیلی بیگم کا فلم اسٹار ہونا جو کبھی یقیناً خوبصورت رہی ہوں گی تو ایک قصۂ پارینہ معلوم ہوتا ہے اور بیلا رانی کو ہیروئن بنا کر صنوبر فلم کمپنی کے نام سے فلم بنانا شاید ایک ایسا خواب ہے جو کبھی شرمندۂ تعبیر نہ ہو۔ جہاں تک ان دونوں کے پوئٹس (شاعرات) ہونے کا سوال ہے تو یہ کچھ بعد میں معلوم ہوتا ہے کہ موگرے کے ایک قریبی ساتھی بہار پھولپوری ان دونوں کو غزلیں لکھ کر دیتے رہے تھے۔ تاکہ یہ اپنی مترنم آواز سے مشاعرے لوٹتی رہیں اور انھیں ریڈیو پروگرام بھی ملتے رہیں کیونکہ خود ان کا فلمی شاعر بننے کا خواب شرمندۂ تعبیر نہ ہو سکا تھا۔ بہار پھولپوری کے علاوہ اس گروپ کے ایک اور اہم ممبر چکوترا گڑھوالی بھی ہیں جن پر آئندہ روشنی ڈالی جائے گی۔

اس لیے ہم سب سے پہلے بیلا کے بارے میں کچھ کہنا چاہیں گے جس کا ذکر پہلے بھی آ چکا ہے۔ بیلا اپنی ماں کی طرح حسین تو نہیں لیکن طرح دار ضرور ہے اور خوبصورت آواز اسے ورثے میں ملی ہے ، جب ہم پہلی بار بیلا کو دیکھتے ہیں تو وہ کچھ بیزار سی دکھائی دیتی ہے اور یہ تاثر کم و بیش آخر تک قائم رہتا ہے یہ بیزاری غالباً اس دبے دبے غصّے کا ظاہری روپ ہے جو اس کے رگ و پے میں سرایت کر گیا ہے۔ اور بیلا نے اپنے بچپن ہی سے جو سردوگرم دیکھے ہیں اور جن مشکلات اور غیر یقینی حالات سے وہ اور اس کا خاندان گزرے ہیں اس کے پیش نظر یہ کوئی تعجب کی بات بھی نہیں۔ بیلا اعلیٰ تعلیم یافتہ تو نہیں لیکن وہ انگریزی داں ہے کیونکہ کسی عمر رسیدہ ایکٹر کی عنایت سے دو سال کسی کونونٹ اسکول میں پڑھ چکی ہے اور جیسا کہ خود قنبر علی بھی محسوس کرتا ہے کہ وہ لڑاکا ضرور ہے اور خراچ بھی لیکن بہت ذہین بھی ہے۔ قنبر علی سے شادی کے منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے وہ اس قدر کامیاب ایکٹنگ کرتی ہے کہ قنبر علی کو یقین ہو جاتا ہے کہ بیلا سخت مصیبت میں ہے اور اس کواس مصیبت سے نکالنا اس کا سماجی فرض ہے۔ ساتھ ہی اپنے انقلابی جوش میں وہ یہ بھی فرض کر لیتا ہے کہ بیلا اسے بہت چاہتی ہے اور وہ خود بھی اسے چاہتا ہے لیکن بے حد ڈرامائی قسم کی خفیہ شادی کے بعد اسے جلد ہی اندازہ ہو جاتا ہے کہ بیلا اس سے عشق نہیں کرتی بلکہ اس کی جائداد اور پوزیشن پر عاشق ہے ، اور مختصر ہنی مون کے دوران ہی قنبر کا رومانٹک انقلابی بخار بھی اترنا شروع ہو جاتا ہے۔ جب وہ بیلا پر قیمتی تحفوں کی بارش کرتے کرتے اور اس کا گانا سنتے سنتے بور ہو جاتے ہے ں اور محسوس کرتے ہیں کہ ان میں اور بیلا میں کوئی خاص بات مشترک نہیں .... دوسری طرف ریڈ روز ہاؤس آنے کے بعد بیلا کو بھی خاصی مایوسی ہوتی ہے۔ کیونکہ وہ محسوس کرتی ہے کہ وہ ایک رئیس اور مشہور آدمی کی بیگم تو بن گئی لیکن کوئی بھی اس کی اس حیثیت کو دل سے ماننے کے لیے تیار نہیں۔ نہ گھر کے نوکر چاکر اور نہ قنبر کے دوست احباب۔ اور خود قنبر اپنے رسالوں کے کاموں میں اس قدر محو رہتے ہیں کہ انھیں بیلا سے بات کرنے کا بھی موقع نہیں ملتا۔ اور شام کو جب خاص انٹلکچول دوستوں کے ساتھ مے نوشی کی محفل جمتی ہے تو بیلا اس کا حصّہ نہیں ہوتی۔ نہ قنبر علی بیلا کو لے کر کہیں باہر جاتا ہے اور ہ اس کے دوست ان کی شادی کی مبارکباد دینے آتے ہیں اور نہ اپنے ہاں مدعو کرتے ہیں۔ بیلا ان سب باتوں کو بڑی شدت سے محسوس کرتی ہے۔ اور اکثر قنبر علی کو بھی طعنے دیتی ہے کہ اس کا انقلابی نصب العین اور مارکسزم بالکل کھوکھلا ہے۔ اور دراصل وہ ایک بڑا سنوپ اور کلاس کونشنس انسان ہے۔ اور بیلا کا خیال ٹھیک ہی ہے اپنی بورڈم کو دور کرنے کے لیے بیلا یا تو شوپنگ کا سہارا لیتی ہے۔ یا پھر گھر کو سجانے سنوارنے میں دل لگاتی ہے۔ یا پھر قنبر کی سکریٹری برڈی چھوٹے لال سے منگا کر جاسوسی ناول پڑھتی رہتی ہے۔ برڈی چھوٹے لال جو ایک پس ماندہ طبقے سے تعلق رکھتی ہے اس کی واحد دوست ہے۔ بیلا کی شخصیت کا ایک روشن پہلو یہ بھی ہے کہ جب پہلی بار چاندنی بیگم ریڈ روز ہاؤس آتی ہے تو اس سے بیلا کا برتاؤ ہمدردانہ اور پر وقار ہے۔ شاید اس لیے کہ وہ چاندنی کی غربت اور کسمپرسی کے کرب کو سمجھ سکتی ہے۔ لیکن جب دوسری بار قنبر خود جاکراسے گھر لاتا ہے تو وہ اس سے سوتاپے کا برتاؤ کرتی ہے اور قنبر علی کو بھی کھری کھوٹی سناتی ہے یہاں تک کہ مار پیٹ پر اُتر آتی ہے۔ اور یہ بھی شاید اس کی فطرت اور صورت حال کا تقاضہ ہے۔ کیونکہ بیلا قنبر علی کی بیگم بننے اور اس کی جائداد پر قبضہ حاصل کرنے کے بعد بھی ذہنی اور جذباتی طور پر غیر محفوظ ہے۔ غرض بیلا اپنی مختصر سی زندگی میں کئی نشیب و فراز سے گزرتی ہے۔ اور آخر حالات کا قہر یا وقت کا بے رحم فیصلہ اس خوفناک آگ کی شکل میں اس کے ساتھ اس کے خوابوں اور منصوبوں کو بھی جلاکربھسم کر دیتا ہے۔اور اب اگر ہم ماسٹر موگرے اور چنبیلی بیگم کی زندگی پر نظر ڈالیں تو محسوس کرتے ہیں ا ن کی زندگی ناول کے مرکزی وژن میں زیادہ گہرائی سے پیوست ہے۔ یعنی ہم ان کی زندگی کے نشیب و فراز گوناگوں تجربات۔ ان کے منصوبوں کے ٹوٹ کر بکھرنے اور پھر بہر حال زندگی کے تپتے ہوئے صحرا میں گامزن رہنے میں ناول کے مرکزی وژن کو جلوہ فگن اور انھیں گردش خون میں لرزاں دیکھتے ہیں۔

چنبیلی بیگم جن کا اصل نام اللہ جلائی تھا ایک ڈدمنی جعفر باندی کی بیٹی ہیں جو ایک رئیس گھرانے سے وابستہ تھی۔ چنبیلی بچپن ہی سے بہت حسین تھی، اور جب اس نے نوجوانی کی منزل میں قدم رکھا تو اس رئیس گھرانے کے فرزند نے اس پر نیت خراب کی اور اسے عطر پری کا خطاب دیا۔ لیکن جب نواب بیگم کو معلوم ہوا تو انھوں نے ماں بیٹی کو بہت ذلیل کر کے گھر سے نکال دیا۔ جعفر باندی نے جواب مفلسی سے دوچار تھی اپنی بیٹی کا بیاہ ماسٹر موگرے سے کر دیا جو ڈوم اور قوال تھے اور موسیقی کی بہت اچھی مہارت رکھتے تھے۔ لیکن قسمت کے بیٹے تھے۔ اور در در کی ٹھوکریں کھانے کے بعد آخر انھوں نے سنیما میں قسمت آزمانے کی ٹھانی۔ وہاں بھی ان کی مطلب براری نہ ہو سکی لیکن ان کی بیوی کو جو دو بچوں کی ماں بن چکی تھی لیکن اب بھی بہت حسین تھی چھوٹے موٹے رول ملنے لگے اور اب وہ چنبیلی دیوی کے نام سے پردے پر نظر آنے لگی۔ اور یہی موگرے اور ان کے خاندان کی زندگی کا زریں دور تھا۔ وہ اب بھی چال کے کمرے میں مقیم تھے۔ لیکن ان کے گھر میں وہ سب چیزیں اکٹھی تھیں جو چال کے ماحول میں اسٹیٹس سمبل (Status Symbol) کا درجہ رکھتی تھیں۔ اسی دوران کسی چھوٹے بینر کی کمپنی نے ایک فلم بنام گل بکاولی کی بیٹی بنائی جس میں چنبیلی کو ہیروئن بنایا گیا تھا۔ لیکن پردۂ سیمیں پر نمودار ہونے سے پہلے ہی یہ فلم اپنی موت مر گئی۔ ماسٹر موگرے کے خاندان کا یہ زریں دور جلد ہی ختم ہو گیا کیونکہ چنبیلی پر موٹا پا چڑھنے لگا اور اب بہن اور بھابی کے رول بھی ملنے بند ہو گئے۔ اور پھر یہ لوگ تلاش معاش میں سڑکوں کی خاک چھاننے لگے۔ اور پری زادہ گلاب نے کچھ غیر قانونی دھندے بھی شروع کر دیے جس میں اس کے ہاتھ تو کچھ نہ لگا البتہ ایک دو  کو                                                                                                                             بار جیل کی ہوا کھا آئے۔ عرس وغیرہ کے موقعے پر ان لوگوں کو جن میں اب شاعر بہار پھولپوری اور چکوترا گڑھوالی بھی شامل ہو گئے تھے۔ گانے بجانے سے کچھ آمدنی ہو جاتی تھی۔ یا پھر نو ٹنکی اسٹائل کا کوئی ڈرامہ کرتے۔ اب بہار پھولپوری نے جو باوجود کوشش اور صلاحیت کے فلمی شاعر نہ بن سکے تھے چنبیلی اور بیلا کو شاعرات کی حیثیت سے پیش کرنے کا منصوبہ بنایا۔ وہ انھیں غزلیں لکھ لکھ کر دینے لگے۔ اور یہ دونوں چنبیلی بیگم ناز اور بیلا رانی شوخ کے نام سے اپنی ترنم ریز آواز سے مشاعرے لوٹنے لگیں اور انھیں ریڈ یو پر بھی کام ملنے لگا۔ لیکن یہ سلسلہ بھی زیادہ دن نہ چل سکا کیونکہ اور بھی کئی ترنم نواز ’’شاعرات‘‘ میدان میں اتر آئیں جو چنبیلی سے کم عمر اور بیلا سے زیادہ خوبصورت تھیں۔ تب بہار پھولپوری نے انھیں لیڈی قوال کے طور پر پیش کرنے کا پروگرام بنایا اور چنبیلی، یاسمین بانو بھاؤنگری کے نام سے خواتین کی قوالیاں لیڈ کرنے لگیں۔ لیکن یہ سلسلہ بھی زیادہ نہ چل سکا کیونکہ لیڈی قوالوں کے پرے کے پرے اسٹیج کی زینت بننے لگے اور بڑی تڑک بھڑک کے ساتھ یہ قوالیاں لوگوں کا دل بہلانے لگیں۔ چنبیلی اور بیلا کی آواز تولا جواب تھی۔ لیکن ان کی مالی حالت ایسی نہ تھی کہ وہ ان لوگوں کا مقابلہ کر سکیں۔ اب ماسٹر موگرے اور بہار پھولپوری نے صنوبر فلم کمپنی کے نام سے ایک فلم بعنوان ’’گلزار محبت‘‘ بنانے کا پروگرام بنایا۔ جس میں بیلا کو بطور ہیروئن پیش کیا جانا تھا۔ اور جب ہم پہلی بار ان لوگوں سے ملتے ہیں تو یہ اسی فلم کا اشتہار لے کر قنبر علی کے پاس آئے ہیں۔ یہ فلم کبھی نہیں بنتی.... بیلا کی شادی اور پھر اس کی اچانک موت کے بعد ماسٹر موگرے کے خاندان کی حالت بد سے بد تر ہوتی جاتی ہے۔ دونوں میاں بیوی صدمے کی تاب نہ لا کر بیمار پڑ جاتے ہیں۔ اور گلاب کسی غیر قانونی دھندے کی پاداش میں جیل کی سزا کاٹتا ہے۔ اور کئی سال بعد جب وہ لکھنؤ آ کر ریڈ روز اسٹیٹ پر اپنا حق جتاتے ہیں تو فوراً قنبر علی کے ایک دور دراز کے کزن بھی میدان میں کود پڑتے ہیں۔ اور سالہا سال تک وہ مقدمہ چلتا ہے جسے اس ناول میں ایک مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ موگرے کو معلوم ہوتا ہے کہ اس دستاویز کی کوئی قانونی حیثیت نہیں جس کے ذریعے ریڈ روز اسٹیٹ بیلا کے نام کر دی گئی تھی۔ اور بیلا اور قنبر کا نکاح نامہ ناپید ہے۔ الحمدو کے ساتھ وہ بھی خاک میں مل چکا ہے۔ اس مقدمے کے دوران ماسٹر موگرے اپنا سارا اثاثہ اس میں لگا دیتے ہیں۔ وہ جھونپڑی بھی بک جاتی ہے جو انھوں نے خرید لی تھی۔ اور چنبیلی بیگم کا سارا زیور بھی اور اب ماسٹر موگرے کبھی پرچون بیچ کر کبھی چھوٹے پرندوں کی مد د سے قسمت کا حال بتا کر اور چنبیلی بیگم کبھی اس اسٹوڈیو کے سامنے چائے بیچ کر جہاں کبھی انھوں نے فلموں میں کام کیا تھا اور کبھی فٹ پاتھ پار کباب پراٹھا یا قورمہ روٹی بیچ کر گزارہ کرتی ہیں اور اب یہ لوگ ہر اعتبار سے فٹ پاتھ نشین ہو چکے ہیں۔ چنبیلی بیگم کی زندگی کا خلاصہ مصنفہ نے اس طرح پیش کیا ہے ’’پہلے اللہ جلائی پھر عطر پری۔ پھر چنبیلی دیوی سنیما والی، پھر یاسمین بھاؤنگری لیڈی قوال، اور یہ تو تھی چنبیلی بیگم کی زندگی کی مختصر داستان لیکن جب ہم انھیں انسان کی حیثیت سے دیکھتے ہیں تو انھیں ایک بہت نیک اور نرم دل خاتون پاتے ہیں وہ کسی سے نفرت نہیں کرتیں۔ البتہ ان کی محبت کا خاص محور ان کی بیٹی بیلا ہے۔ اور اس کی موت کو تیس سال گزر جانے پر بھی ان کا غم کم نہیں ہوا ہے اور وہ ہر روز اسے یاد کر کے زار و قطار روتی ہیں۔ اپنے شوہر اور بیٹے سے بھی ان کی محبت اسی قدر والہانہ ہے اور وہ ان کی سلامتی کے لیے کانچ کی چند چوڑیاں اپنی کلائی میں ڈالے رہتی ہیں۔ اور اس سے بھی زیادہ ان کا بے داغ دل اہل بیت رسول کی محبت سے سرشار ہے اور وہ ان کے مصائب یاد کر کے اکثر زار و قطار روتی ہے ں۔ واضح رہے کہ چنبیلی بیگم شیعہ مسلک سے تعلق رکھتی ہیں۔ اور ان کی والدہ جعفر باندی نوابین کی مجلسوں کی ایک مشہور سوز خوان تھیں۔ اور چنبیلی نے ایک ایسے ماحول میں آنکھ کھولی جہاں عزاداری کی روایت اور اہل بیت کی محبت زندگی کا ایک قیمتی سرمایہ تھی۔ اور شاید اسی بے بہا محبت اور بیکراں غم کے فیض سے چنبیلی بیگم اس قدر رحم دل اور صابر و شاکر ہیں۔ اور محبت اور عفو کے جذبے سے سرشار ہیں۔ اور مصائب کے بھنور میں بھی ان کی نیک دلی اور وقار میں ذرّہ برابر فرق نہیں آتا۔ اور وہ ہر حال میں مشکل کشا حضرت علی ؑ کی مد د اور رہنمائی پر بھروسہ رکھتی ہیں۔ آخری بار ہم انھیں بہرائچ کی درگاہ میں دیکھتے ہیں جہاں وہ لوگ مقدمہ ہارنے کے بعد زیارت کے لیے اور غازی میاں اور زہرہ بی بی کی علامتی شادی میں شرکت کے لیے آئے ہیں۔
ماسٹر موگرے اور چنبیلی بیگم کی زندگی کی روئداد تو باہم دگر پیوستہ ہے لیکن ان کی شخصیت کے نقوش الگ الگ ابھرتے ہیں۔ ماسٹر موگرے زیادہ با ہمت ہیں اور اپنے مصائب کو ہنسی کے پردے میں چھپانے کا فن بھی جانتے ہیں۔ مقدمہ ہارنے کے بعد جب ان کا کوئی خیر خواہ اظہار ہمدردی کرتا ہے۔ تو وہ دست بستہ عرض کرتے ہیں ’’ حضور والا ہم مقدمہ ہی تو ہارے ہیں ہمت تو نہیں ہارے ‘‘ اسی طرح بہار پھولپوری سے بھی ان کے مکالمے دلچسپ ہیں۔ آخری دور میں ان کی اور بہار پھولپوری کی معاشی حالت اور سوشل پوزیشن میں زمین آسمان کا فرق ہے لیکن وہ اپنی حس مزاح کی مد د سے اپنا وقار اور خود داری قائم رکھتے ہیں۔ البتہ ان کی شخصیت کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ نہ صرف ا ن کی زندگی کے نشیب و فراز میں ہم ناول کے مرکزی وژن کو منعکس دیکھتے ہیں بلکہ وہ خود بھی اس کا اظہار بڑے نپے تلے الفاظ میں کرتے ہیں مثلاً ان کے یہ دو مکالمے :
’اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے ہم جب چاہیں ان کی شکلیں بدل سکتے ہیں۔ خان صاحب وقت انسان کو ادھر سے ادھر کر دیتا ہے ‘(ص۲۶۴)

اور اب اگر ہم ان دونوں نیک دل اور بدنصیب میاں بیوی کی زندگی کا مختصر جائزہ لینے کے بعد ان کے بیٹے گلاب پر ایک نظر ڈالیں جو خود کو پری زادہ گلاب اس لیے کہتا ہے کہ اس کی ماں کو عطر پری کا خطاب ملا تھا۔ اپنے بیٹے کو ماسٹر موگرے نے ایک کامیڈین کی حیثیت سے متعارف کرایا تھا۔ اور گلاب زندگی میں بھی ایک کامیڈین ہی ہے۔ جو اپنی بدحالی اور زخموں کو مذاق، ٹھٹول اور نقالی کے پردے میں چھپاتا ہے۔ گلاب اپنی بہن بیلا کی طرح ذہین اور پڑھا لکھا بھی نہیں۔ اس نے صرف ایک کلاس پاس کی۔اور پھر وہ آوارہ گردی میں مصروف ہو گیا۔ اور اسی آوارہ گردی سے اس نے زندگی کا تجربہ اور شعور حاصل کیا یعنی عظیم روسی ادیب میکسم گور کی طرح یہی گلی کوچے اس کے مدرسے اور یونیورسٹیاں تھیں۔ بدحالی سے تنگ آ کر وہ چھوٹے موٹے غیر قانونی دھندوں میں بھی ملوث رہا ہے۔ جس سے اسے اور تو کچھ حاصل نہ ہو البتہ کئی بار اور کئی سال تک وہ جیل کی ہوا کھا چکا ہے۔ لیکن گلاب نہ تو انسانی خوبیوں سے عاری ہے اور نہ فطری ذہانت سے۔ وہ آخر تک اپنے ضعیف ماں باپ کی خدمت کرتا ہے اور انھیں امید ہے کہ ان کے آخری سفر میں وہی انھیں قبرستان تک پہنچائے گا۔ گلاب ریڈ روز اسٹیٹ کے مقدمہ کی پیروی بھی ہمت اور تندہی سے کرتا ہے جس کے لیے اسے بار بار لکھنؤ آنا پڑتا ہے۔ جہاں وہ اسی نیم سوختہ شاگرد پیشے میں ٹھہرتا ہے۔ اور رفتہ رفتہ اس کے ان سب لوگوں سے بہت اچھے تعلقات ہو جاتے ہے جو اس زمین کو کسی نہ کسی طرح استعمال کر رہے ہیں۔ مثلاً جما دھوبی جو کپڑے دھوکر سکھاتا ہے اور ارہر کی کھیتی بھی کرتا ہے۔ مسجد کے مولوی اور نمازی اور مندر کے پنڈت اور پوجا پاٹ کرنے والے لوگ۔ اور وہ بنجارے جنھوں نے اس کے کناروں پر ڈیرا ڈال لیا ہے۔ اور گلاب ان لوگوں کو یقین دلاتا ہے کہ جب یہ زمین قانونی طور پر اس کے خاندان کی ملکیت ہو جائے گی تو ان لوگوں کو بے دخل نہیں کرے گا بلکہ اپنی ریڈ روز فلم کمپنی میں کام بھی دلائے گا اور اس طرح وہ اس حلقے میں کافی مقبول ہو جاتا ہے۔ اس کے یہ سب منصوبے اور خواب تو آخر کار ریڈ روز اسٹیٹ کی دھرتی ہی میں دفن ہو جاتے ہیں لیکن قابل غور بات یہ ہے کہ پری زادہ گلاب کا رویہ شیخ اطہر علی فیل فروش اور ان کی بیٹی لیلا سروش سے کس قدر مختلف ہے جو روپے کے زور پر مقدمہ جیتنے کے بعد فوراً ان سب ’’غیر ضروری‘‘ ڈھانچوں کو منہدم کر کے وہاں ایک بہت بلند عمارت بنانے کا پلان بناتے ہیں۔ (اور ان غیر ضروری‘‘ ڈھانچوں میں مسجد، مندر اور شاگرد پیشہ سبھی شامل ہیں ) اور ان سب لوگوں کو بے دخل کر کے جو اسے ’’غیر قانونی‘‘ طور پر استعمال کر رہے ہیں۔ باقی زمین کو بھی پلاٹ بنا کر اچھے داموں بیچنے کا منصوبہ بھی تیار ہے۔ جس میں سے ایک پلاٹ صفیہ بھی کنڈر گارٹن اسکول کے لیے خریدنا چاہتی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس ’’شاندار منصوبے ‘‘ میں تین کٹوری ہاؤس کے رئیس زادے اور رئیس زادیاں اور قصر شیریں کے مکین بھی دل و جان سے شریک ہو جاتے ہیں۔ بیرسٹر شہلا مرزا یہ مقدمہ لڑتی ہے اور پنکی اور فلی یہ شاندار عمارت بنانے کا ٹھیکہ لیتے ہیں اور ان دو رئیس اور رئیس تر خاندانوں کی دوستی اور ہم خیالی رشتہ داری کی حدوں کو چھو لیتی ہے۔ یعنی پنکی اور شہلا کی منگنی طے ہو جاتی ہے اور ۴۵۔۴۶ سالہ شہلا ادھیڑ مگر بے حد امیر ارشد حسین سے شادی کا فیصلہ کرتی ہے اور قابلِ افسوس بات یہ ہے کہ ’’انسان دوست‘‘ راجہ صاحب یعنی وکی میاں بھی اس مقدمے اور زمین پر قبضے کے سلسلے میں بالکل خاموش رہتے ہیں اور اپنے شاعرانہ تصورات اور دھندلے فلسفے سے دل بہلاتے رہتے ہیں۔

فیل فروش خاندان پر مزید روشنی ڈالنے سے پہلے مناسب ہو گا کہ ہم ماسٹر موگرے کے گروپ کے دو اور اہم کر داروں پر بھی ایک نظر ڈال لیں اور یہ دونوں کر دار ہیں۔ بہارپھولپوری اور چکوترا گڑھوالی اور ان دونوں کی زندگی کے نشیب و فراز میں بھی ہمیں ناول کے مرکزی تھیم (Theme) اور مذکورہ قرآنی آیتوں کی وسیع معنویت کا عکس نظر آتا ہے۔

بہار پھولپوری ایک با صلاحیت شاعر ہیں جو نوجوانی میں بڑی پریشانیوں اور مفلسی کے دور سے گزرے ہیں۔ ان کا فلمی شاعر بننے کا خواب تو کبھی پورا نہ ہو سکا لیکن کافی عرصے تک وہ ایک با اثر متشاعر کو فلمی نغمے لکھ لکھ کر دیتے رہے جو ان کی مد د سے کروڑ پتی بن گیا۔ مشاعروں میں بھی انھیں زیادہ کامیابی نہ ملی کیوں کہ غالباً وہاں بھی سیاست کا دور دورہ تھا۔ ماسٹر موگرے کے گروپ میں شامل ہونے کے بعد انھوں نے چنبیلی بیگم اور بیلا کو بھی غزلیں لکھ کر دیں اور پہلے انھیں شاعرات اور پھر لیڈی قوال کی حیثیت سے پیش کیا جس کا تذکرہ پہلے آ چکا ہے ، اور آخر کار وقت بدلا اور وہ خود ایک مترنم شاعر کی حیثیت سے کامیاب ہوئے اور نہ صرف ہندوستان اور پاکستان میں مشاعرے لوٹنے لگے بلکہ لندن، امریکہ ، کناڈا، یہاں تک کہ ناروے اور دوسرے یورپین ملکوں میں بھی انوائٹ (Invite) کیے جانے لگے۔ اور جگہ جگہ ان کے فین کلب کھل گئے۔ اور ظاہر ہے کہ دولت بھی بہت کمائی لیکن ترقی کی بلندی پر پہنچنے کے بعد بھی وہ اپنے پرانے ساتھی ماسٹر موگرے کو نہیں بھولے جو اب پریشانیوں اور مفلسی میں گھرے ہوئے تھے۔ اور بیلا کے نکاح کے کسی چشم دید گواہ کی تلاش بھی جاری رکھی۔ بہار پھولپوری ایک عرصے تک مختلف ناموں سے غزلیں اور فلمی نغمے لکھ کر گزر اوقات کرتے رہے تھے ، لیکن اب وہ ایک بہت با عزت اور مشہور شخصیت تھے اور وہ خود بیلا کے نکاح کی گواہی نہ دے سکتے تھے کیوں کہ وہ اس کے چشم دید گواہ نہ تھے۔ گو کہ وہ اس کی پوری روئیداد سے اچھی طرح واقف تھے۔ بہرطور مجموعی طور پر بہار پھولپوری ایک بہت دلچسپ اور دلکش شخصیت ہیں اور ا ن کے توسط سے ہم امریکہ ، کناڈا اور لندن کے علاوہ یورپ میں بھی اردو ادب کی سرگرمیوں یعنی مشاعروں وغیرہ کی جھلک بھی دیکھ لیتے ہیں جو اس کولاژ کی ایک اور تصویر ہے جو دوسری تصویروں کے ساتھ چسپاں کر دی گئی ہے۔

دوسری طرف چکوترا گڑھوالی کے وسیلے سے جو کبھی ماسٹر موگرے کے گروپ کے ایک اور اہم رکن تھے ہم امریکہ کی مصنوعی اور نمائشی روحانیت کی بھی ایک جھلک دیکھ لیتے ہیں کہ اب چکوترا گڑھوالی وہاں ایک ماؤنٹین گوڈ کی حیثیت سے براجمان ہیں۔ اور ایک ہائی ٹیک ماحول میں اپنے لکھ پتی اور کروڑ پتی عقیدت مندوں سے گھرے ہوئے ہیں اور اگر ماؤنٹین گوڈ (Mountain God) کے اس ٹمپل کا مقابلہ بہرائچ کے عرس اور غازی میاں اور زہرہ بی بی کی علامتی شادی سے کیا جائے تو اصل اور نقل کا فرق سامنے آ جاتا ہے ، جہاں امریکہ کے اس نام نہاد روحانی سینٹر میں ہر بات مصنوعی اور نمائشی ہے اور دولت کی ترازو میں تولی جا رہی ہے۔ وہاں بہرائچ کا عرس عوامی جذبوں کا آئینہ ہے اور اس کی ولولہ انگیزی، خلوص اور سرشاری دیکھنے اور محسوس کرنے سے تعلق رکھتی ہے۔
غرض چکوترا گڑھوالی کی داستان حیات میں بھی جو کبھی مضحکہ خیز حرکتیں کر کے بمبئی کے لوکل اسٹیشنوں پر غبارے بیچا کرتے تھے اور اب ڈالر کی چمک دمک میں ایک روحانی پیشوا کی حیثیت سے جلوہ افروز ہیں ہم مذکورہ قرآنی آیتوں کی معنویت کی ایک اور مثال دیکھ لیتے ہیں اور یہی بات بہار پھولپوری کے لیے بھی کہی جاسکتی ہے اور ساتھ ہی ماسٹر موگرے کے جو اب دربدر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں یہ الفاظ بھی یاد آتے ہیں کہ ’’خان صاحب وقت انسان کو اِدھر سے اُدھر کر دیتا ہے ‘‘ اور ’’قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم زمانے کو لوگوں میں ادلا بدلا کرتے ہیں ‘‘اور اس طرح مصنفہ نے وقت کے تصور کو ٹھوس واقعات اور انسانی تجربات کے توسط سے پیش کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔ اور اب ہم شیخ اطہر علی پر جو شیخ سروش فیل فروش کے نام سے بھی جانے جاتے ہیں ایک اور نظر ڈالنا چاہیں گے۔ وہ ایک بہت دولت مند انسان اور کامیاب سوداگر ہیں۔ وہ خود تو کلکتہ میں مقیم ہیں لیکن ان کا کاروبار دور دور تک پھیلا ہوا ہے اور انھوں نے ہاتھیوں کی تجارت میں بڑا نام کمایا ہے۔ ایک روز ان کی نظر اردو اخبار میں ایک اشتہار پر پڑتی ہے جس میں کچھ گمنام لوگوں نے ریڈ روز اسٹیٹ پر اسی نام سے ایک فلم کمپنی قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ گویا اسے اپنی ملکیت بتایا ہے۔ یہ دیکھ کر اطہر علی شدید تشویش میں مبتلا ہو جاتے ہیں کیوں کہ انھیں یاد آتا ہے کہ ریڈ روز اسٹیٹ تو ان کے دو ر کے رشتہ دار قنبر علی مرحوم کی ملکیت تھی۔ یہ ضرور ہے کہ ایک عرصہ سے ان کا قنبر علی یا ان کے والد اظہر علی اور والدہ بٹو بیگم سے کوئی رابطہ نہ تھا۔ اور وہ اپنے رشتہ کے چچا اور چچی بٹو کی تعزیت کے سلسلے میں قنبر علی سے مل بھی نہ سکے تھے اور نہ تعزیت کا خط ہی لکھا تھا کیوں کہ اس وقت وہ اپنے ہاتھیوں کے ساتھ ایک بحری سفر پر گئے ہوئے تھے اور پھر اس بھیانک آگ کی خبر بھی انھیں ملی تھی، جس میں قنبر علی اور ان کی بیوی جل کر راکھ ہو گئے تھے۔ لیکن انھیں تو یہ بھی معلوم نہ تھا کہ قنبر علی شادی کر چکے ہیں اور پھر اگر تعزیت کرتے بھی تو کس سے۔ بہرحال قنبر علی کی المناک موت کو سات سال گزر چکے تھے۔ اور اب یہ ایک داستانِ پارینہ تھی، لیکن ریڈ روز اسٹیٹ کے سلسلے میں یہ اشتہار دیکھ کر ایک دم ان کا جذبۂ رشتہ داری جاگ اٹھتا ہے اور ان کے ذہن میں معاً یہ خیال آتا ہے کہ یہ بدمعاش لوگ کون ہیں جو قنبر علی کی اسٹیٹ کو اپنی ملکیت بتا رہے ہیں ، جب کہ اس کے جائز حقدار تو وہ خود ہیں۔ بہرطور اس پریشانی سے عہدہ برآ ہونے کے لیے وہ فوراً ایک شجرہ نسب تیار کراتے ہیں جس کی رو سے وہ قنبر علی کے سیکنڈ یا تھرڈ کزن ہیں اور اس اعتبار سے ان کے جائز وارث۔اور پھر وہ فوراً لکھنؤ جاکراس جائیداد پر اپنا دعویٰ ٹھونک دیتے ہیں۔ اور اس پراپرٹی کے ’’خودساختہ‘‘ مالکوں کے خلاف سالہا سال مقدمہ لڑتے ہیں اور آخر کار جیت جاتے ہیں۔ ایک بار گفتگو کے دوران ان کی بیٹی لیلا ان سے کہتی ہے کہ جب ہم اپنا وہ چھوٹا سا مقدمہ جیتے تھے ، وہ مقدمہ مختصر ہونے کے معنوں میں تو چھوٹا نہیں تھا کیوں کہ وہ سالہا سال چلا تھا لیکن ان معنوں میں چھوٹا تھا کہ وہ زمین جس کی مالیت اب کروڑوں روپے تھی مسٹراطہر علی فیل فروش کی دولت کا ایک حقیر حصہ تھی لیکن پھر بھی وہ اپنے اس ’’حق‘‘ سے دستبردار ہونے کے لیے کسی قیمت پر بھی تیار نہ تھے۔ تو یہ ہے شیخ سروش فیل فروش کے فلسفہ حیات کا ایک دھندلا سا خاکہ۔

دوسری طرف یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ شیخ سروش اور ان کی بیٹی لیلا سروش کو قرةالعین حیدر نے بڑے مثبت انداز سے پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ اطہر علی جو راج کلچر کے دلدادہ ہیں اور اسی انداز کے ہائی کلاس کلبوں کی ایک مقبول شخصیت ہیں ، کبھی شاعری بھی کرتے تھے اور اسی لیے ان کا تخلص سروش اب ان کے نام کا جزو بن چکاہے۔ وہ ٹیپو سلطان کے بہت بڑے مداح ہیں۔ اور اس عظیم شخصیت کے بارے میں ان کی معلومات کافی وسیع ہیں۔ اپنے بھائی سے گہری محبت کے سلسلے میں ان کی جذباتی زندگی کو بھی ابھارا گیا ہے۔ اسی طرح لیلا بھی ایک خوبرو اور چارمنگ لڑکی ہے اور اپنی کلاس یعنی طبقے کے لوگوں سے اس کے تعلقات کافی خوشگوار ہیں۔ اپنے باپ اور چچا سے محبت بھی اس کی شخصیت کا ایک مثبت پہلو ہے ، اور وہ فیروزہ کی طرح چھچھوری اور نمائشی قسم کی لڑکی بھی نہیں ، بلکہ اپنے کام سے کام رکھتی ہے — اور اس کا کام کیا ہے ؟ اپنا کاروبار پھیلانا، دولت بڑھانا—پیسہ—پیسہ—پیسہ—

تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس شارک مچھلیوں جیسے چھوٹی مچھلیوں کو نگلنے والے یعنی غریبوں کا خون چوسنے والے گروپ کو جسے اس کہانی کا ولن بھی کہا جاسکتا ہے قرة العین حیدر نے اس قدر مثبت انداز سے پیش کرنے کی کوشش کیوں کی ہے۔ شاید کچھ لوگ کہیں کہ اس میں حیرت کی کیا بات ہے۔ عینی صاحبہ تو ہمیشہ ہی اعلیٰ طبقے کے لوگوں کو بڑی محبت اور دلچسپی سے پیش کرتی تھیں اور ان کے لیے دل میں ایک نرم گوشہ رکھتی تھیں۔ لیکن اس بیان میں بس تھوڑی سی سچائی ہے اور اس ناول میں تو انھوں نے غریب، بے خانماں ، مفلوک الحال ذات، باہر اور کنارے لگے ہوئے لوگوں کو خاص طور سے بڑی ہمدردی اور دیدہ ریزی سے پیش کیا ہے۔ اس کا دوسرا پہلو یہ بھی ہو سکتا ہے کہ مصنفہ نے یہ دکھانے کی کوشش کی ہے کہ ظاہر اور باطن میں بڑا فرق ہو سکتا ہے اور تیسرے معنی جو زیادہ قابلِ قبول ہیں وہ یہ کہ شیخ فیل فروش اور لیلا سروش خود تو برے نہیں ، لیکن ان کا لالچ، بے حسی اور خود پرستی ان کے طبقے اور پروفیشن کا تقاضا ہے کہ اس کی بنیاد ہی غیرانسانی اقدار پر ہے۔

بہرطور مصنفہ نے اس خاندان کے توسط سے فنی طور پر کافی فائدہ اٹھایا ہے اور کلکتہ کی زندگی، راج کانو سٹیلجیا، ٹیپوسلطان کی شخصیت اور عظمت اور مشرقی پاکستان کے المیے پر بھی اچھی خاصی روشنی ڈال دی ہے۔ گویا یہ اس کولاژ کا ایک اور تھیم ہے جس کا تراشہ زیادہ مرکزی تھیمز پر چسپاں کر دیا گیا ہے۔

جیسا کہ ہم پہلے بھی کہہ چکے ہیں کہ اس ناول میں ان کر داروں کے علاوہ جن کا مرکزی کہانی سے براہِ راست تعلق ہے مصنفہ نے اور بھی بے شمار لوگوں اور سوشل گروپس کی تصویر کشی کی ہے اور ان کا رول بھی بہت اہم ہے۔ ان پر تفصیل سے روشنی ڈالنے کے لیے تو ایک اور مقالہ درکار ہو گا اس لیے یہاں ایک بہت ہی مختصر تذکرے پر اکتفا کرنا پڑے گا۔

ان میں سب سے زیادہ تر وہ لوگ ہیں جو درگاہوں اور زیارت گاہوں میں گروپ کی شکل میں دیکھے جاسکتے ہیں اور ان میں بہرائچ کا عرس خاص طور سے اہم ہے جس کا تذکرہ اوپر آ چکا ہے۔ اور مصنفہ نے اس بات پر زور دیا ہے کہ خواہ سائنس کتنی ہی ترقی کر لے لیکن مذہب، عقیدہ اور روحانیت کی تلاش عوام کی زندگی کا اٹوٹ حصہ ہیں۔ ملاحظہ ہو بہرائچ کے عرس کا یہ بیان:

’’اپاہج، مریض ، اندھے جن کی آنکھوں کو روشنی ملے گی جیسے نابینا زہرہ بی بی کو غازی میاں کی کرامت سے روشنی مل گئی تھی—چار کھونٹ میں نوبت باجی سپہ سالار مسعود گاجی‘‘۔ (ص: ۲۴۵)
اور اب ہم ناول کے مرکزی اور فروعی کر داروں کے کسی قدر تفصیلی جائزے کے بعد اس کے کلیدی اور اہم واقعے کی طرف متوجہ ہوتے ہیں جو اس ہولناک آگ کا المناک واقعہ ہے جو ریڈ روز ہاؤس اور اسٹیٹ کے بڑے حصے کے ساتھ قنبر علی، بیلا، بھوانی شنکر سوختہ اور خود چاندنی بیگم کو جلا کر راکھ کر دیتا ہے۔ یہ آگ اس وقت لگتی ہے جب رات کے اندھیرے میں چاندنی بیگم شمع جلانے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس کا بیان خود مصنفہ کے الفاظ میں سنیے :

’’آگ سرعت سے پھیلتی چلی گئی، لحاف کا آشیاں بھڑک اٹھا، ہوا کے زور سے دروازے اور کھڑکی کے پٹ وا ہوئے ، کمرہ آگ سے بھر گیا، مشتعل اژدہوں کی طرح سرسراتے پھنکارتے شعلے پل کی پل میں بٹو بیگم کے ڈریسنگ روم میں جا گھسے ، منوں روئی کے انبار نے فوراً آگ پکڑ لی۔ کچن میں رکھے ہوئے سیلنڈر پھٹے ، ماسٹر بیڈروم دھڑ دھڑ جلنے لگا۔ گیس کا دھماکہ چاندنی، بیلا اور قنبر کی چیخوں پر غالب آیا۔ آگ کی مہیب کنڈلیوں نے ساری کوٹھی کو لپیٹ لیا۔ دفتر کے کمروں میں آگ کھل کھیلی، قانون کی کتابوں سے بھری الماریوں ، تینوں رسالوں کے انبار، میگزین، اخبارات، نیوز پرنٹ سب کو آتشیں جھاڑو سے سمیٹتی آگ منشی جی کی برجی میں پہنچی۔ انھوں نے اٹھ کر بھاگنے کی کوشش کی مگر اردو فارسی کی کتابوں سے لدی شعلۂ جوالہ الماری ان کے اوپر گری اور وہ اس کے نیچے دب کر رہ گئے۔ سب کا سب نذر آتش ہوا۔ خود لالہ بھوانی شنکر سوختہ اس کاغذی چتا میں بھسم ہو گئے —‘‘ اور پھر
’’لال گلال ریڈ روز—لال گلال ندی—لال گلال آسمان— ہوا کے زور سے آگ درختوں تک پھیلی— بھینس، نیل گائے اور ہرن رسیاں تڑا کر بھاگے۔ درختوں پر بسیرا لینے والے خوفزدہ پرندوں نے قیامت کا شور مچایا۔ بہت سے بھن بھن کر گرے۔ فائر بریگیڈ کے آنے تک آگ اپنا کام تمام کر چکی تھی‘‘۔ (ص:۱۶۷)

اس اثر انگیز بیان پر اور کچھ کہنے کی گنجائش نہیں۔ قرةالعین حیدر نے نہ صرف اس حادثے کی ایک مکمل تصویر کھینچ دی ہے ، بلکہ اس میں اس قدر شدت ہے کہ ہم نہ صرف اس کی تخریب کاری سے دم بخود رہ جاتے ہیں بلکہ اس میں جلنے والے چار بدنصیب لوگوں کے کرب اور بے بسی کو بھی محسوس کر سکتے ہیں اور چرند و پرند کے خوف اور فطری ردِ عمل کا بھی اندازہ کر سکتے ہیں۔ بہرطور یہاں اس بیان کو تفصیل سے نقل کرنے کی ضرورت اس لیے بھی پیش آئی کہ یہ آگ ہی اس ناول کا سب سے اہم واقعہ ہے جو اس کہانی کو ایک بالکل غیر متوقع سمت میں لے جاتا ہے اور اس کے بعد کے اکثر واقعات اور مسائل کا کچھ نہ کچھ تعلق اس آگ کے حادثے سے ہے۔ اور یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ یہ آگ ہی اس ناول کا ایک معنویت سے بھرپور استعارہ ہے جو اکثر موضوعات کو اپنے دامن میں سمیٹے ہوئے ہے۔ اور اس کے بعد کے واقعات کو بھی مصنفہ نے علامتی حقیقت نگاری کی مد د سے بڑی خوبی سے بیان کیا ہے۔ پہلے ریڈ روز کے ملازمین کا رونا پیٹنا اور منوں مٹی اور ملبے کے نیچے اپنے عزیز مالکوں کے استخوان تلاش کرنا، اور پھر مایوس ہو جانا پھر اس زمین میں جھاڑ جھنکاڑ اُگ آنا۔ کار کے ڈھانچے میں چڑیوں کا گھونسلے بنا لینا جو سب اس شعر کی تفسیر ہیں :
وہیں جنگل ہے اب پر اس سے آگے 
چمن تھا، گل تھے ، ہم تھے ، باغباں تھا

اور پھر بھوتوں اور ارواح کے قصے مشہور ہونے لگے۔ اور ریڈ روز بھوتیا کہلانے لگا۔ لوگوں نے اس طرف سے گزرنا چھوڑ دیا اور رات کو جب چور اچکے اس ملبے میں ٹارچ کی روشنی میں قیمتی چیزیں تلاش کرتے تو دور سے گزرتا ہوا کوئی راہگیر انھیں بھوت سمجھ کر چلاتا ہوا بھاگتا۔

تو یہ ہے آگ کے حادثے کے بعد کی صورتِ حال کی ایک جھلک۔ لیکن پھر وقت بدلتا ہے اور

’’ندی میں بڑا زبردست سیلاب آیا اور ریڈ روز کا ملبہ بہا کر لے گیا ہر سال گومتی کی باڑھ باقی ماندہ ملبہ سمیٹ لے جاتی۔ رفتہ رفتہ زمین ہموار ہو گئی۔ سرسبز اور زرخیز اس پر رنگ برنگے پھول اُگ آئے پرانے بیج جو بھگوان دین نے بوئے تھے اور نئے جو چڑیاں جانے کہاں کہاں سے لے آئیں۔ اندھے کنویں کے گرد بھنگ دوبارہ پیدا ہوئی، اس کے آس پاس گورے ہپّی منڈلانے لگے ‘‘۔(ص:۱۷۳)

اور پھر اس طرح اس اجاڑ زمین پر نئے سرے سے زندگی کے آثار نظر آنے لگے اور یہ بات اہم اور قابلِ غور ہے کہ اسی پوائنٹ پر اس ناول کی ابتدا ہوتی ہے اور اب اس ابتدائیہ کے بھی چند جملے ملاحظہ کیجیے :

’’ندی کنارے نشیبی زمین کا وہ وسیع قطعہ اب رنگا رنگ پھولوں سے پٹ گیا ہے۔ گلِ عباس، گل جعفری، گل ہزارہ، گل صد برگ، گلہائے آفتاب و ماہتاب ، بنجارے یہاں پڑاؤ کرتے ہیں اور جما دھوبی یہاں کپڑے دھوکر سکھاتا ہے اور ارہر کی کاشت بھی کرتا ہے بھربھری مٹی کے اندر کیچوے اپنے کام میں لگے رہتے ہیں وہ اپنے گھر بنانے میں جٹے ہوئے ہیں ایک طرف گوالوں اور گھوسیوں نے سبزیاں اگائی ہیں بہت ہی زرخیز مٹی ہے۔ جس فصل میں جو چاہے بوئیے ، اگائیے ‘‘۔(ص: ۷)

اب ظاہر ہے کہ یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ قرةالعین حیدر نے اپنے ناول کی ابتدا اس بیان سے کیوں کی اور خود ان کے توضیحی بیان کے مطابق ’’زمین کی ملکیت اس ناول کا بنیادی استعارہ ہے جس کا حوالہ پروفیسر قمررئیس نے اپنے حالیہ مضمون (مطبوعہ ایوانِ اردو، اکتوبر ۲۰۰۷ئ) میں دیا ہے۔ مصنفہ کے الفاظ یہ ہیں :

زمین اور اس کی ملکیت اس پہلو دار ناول کا بنیادی استعارہ ہے جو پہلے باب کے تعارفی پیراگراف سے لے کر آخر تک موجود ہے۔ اس کے ساتھ ہی ارتقا کا عمل پیہم تغیر، تبدیلی، تجدید ،تعمیر اور فطرت سے انسان کے اٹوٹ سمبندھ کی اشاریت بھی خاصی واضح ہے ‘‘۔ (ایوانِ اردو، ص: ۴۸)

اس پیہم تبدیلی، تغیر، تجدید وغیرہ پر تو ہم اس تجزیے کے دوران کافی تفصیل سے روشنی ڈال چکے ہیں۔ البتہ زمین اور اس کی ملکیت کے بارے میں جو مصنفہ کے بیان کے مطابق اس ناول کا بنیادی استعارہ ہے کچھ کہنا ضروری ہے۔ تو اس سلسلے میں یہ چند سوال پیدا ہوتے ہیں۔

۱۔    کیا اس زمین پر ان پیڑ پودوں ، پھولوں ، پرندوں اور کیچوؤں کا حق ہے جو اس آسیب زدہ زمین کو نئے سرے سے زندگی اور رونق بخش رہے ہیں۔

۲۔    یا پھر اس پر ان بنجاروں ، گوالوں ، دھوبیوں ، زنانوں اور ہپیوں کا حق ہے جو اسے اپنے چھوٹے موٹے کاموں کے لیے استعمال کر رہے ہیں اور اسے پھر سے آباد کر رہے ہیں۔

۳۔    کیا اس پر مسجد اور مندر کا کچھ حق ہے جہاں عقیدت مند جوق در جوق عبادت کے لیے آتے ہیں۔

۴۔    یہ زمین قنبر علی کی ملکیت تھی۔ اور وہ اسے غریب لوگوں کے لیے اسکول کھولنے ، ڈسپنسری قائم کرنے اور کھیل کے میدان وغیرہ کے لیے استعمال کرنا چاہتے تھے۔ کیا اس کا یہی استعمال ہونا چاہیے۔

۵۔    کیا اس پر بیلا کے غریب ماں باپ کا حق ہونا چاہیے جو قنبر علی کے رشتہ دار اور بیلا کے جائز وارث ہیں۔

یا پھر اس زمین پر اس بے ضمیر خاندان کا حق ہونا چاہیے جو قنبر علی کے دور کے رشتہ دار ہیں۔ اور اسی بنیاد پر اس پر اپنا دعویٰ دائر کرتے ہیں۔ ان سوالوں کا قانونی جواب تو ناول کے سیاق و سباق ہی میں مل جاتا ہے لیکن ایک ایسا جواب جو انسانی اقدار اور فطرت کے تقاضوں کو بھی پورا کر سکے بہت مشکل ہے۔ بارتول بریخت نے اپنے مشہور ڈرامے میں جس کا ترجمہ راقم نے ’’انصاف کا دائرہ‘‘ کے عنوان سے کیا ہے۔ یہ سوال اٹھایا ہے اور اس کا جواب کافی سیدھا سادہ ہے کہ وادی ان لوگوں کو ملنی چاہیے جو اس کا بہترین ا ستعمال کر سکتے ہیں۔ لیکن قرةالعین کے ناول میں یہ مسئلہ زیادہ وسیع معنویت رکھتا ہے۔ اور ہم یہ بھی محسوس کرتے ہیں کہ ریڈ روز اسٹیٹ کی یہ زمین خود خدا کی بنائی ہوئی اس وسیع و عریض حسین اور زرخیز زمین کا استعارہ ہے ، جس پر پھول ، پودوں ، ہواؤں ، ندیوں ، پرندوں ، جانوروں اور انسانوں سبھی کا حق ہے ،لیکن جس کی غیر منصفانہ تقسیم اور غیرمناسب استعمال نے زندگی کے سبھی مظاہر کو متاثر کیا ہے اور اسے بربادی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے اور شیخ اطہر علی کا اس زمین پر قبضہ اسی غیر منصفانہ ملکیت اور ان کے منصوبے اسی نامناسب استعمال کی ایک مثال ہے۔ بہرطور یہ مسئلہ بھی اس ناول کے تھیم اور مرکزی وژن کا صرف ایک پہلو ہے ، کیوں کہ جیسا کہ ہم نے اس مطالعے کے ابتدا ہی میں کہا ہے ’’چاندنی بیگم‘‘ کا موضوع زندگی، زمانہ، زمین، وقت اور موت ہیں۔ اور وقت کے سیلِ رواں میں انفرادی اور اجتماعی زندگی کی اتھل پتھل اور انسانی منصوبوں اور خوابوں کی بے ثباتی ہیں اور اس وسیع موضوع کے سبھی پہلوؤں پر ہم نے اس تجزیے میں بھرپور روشنی ڈالی ہے۔ اس پہلو دار اور معنویت سے بھرپور ناول کی بعض خامیاں بھی نظر انداز نہیں کی جاسکتیں ، جس میں ایک بڑی خامی اکثر موقعوں پر غیر ضروری تفصیلات، غیر ضروری واقعات اور کر داروں کا ذکر ہے ، جس سے نہ صرف ناول کا تسلسل ٹوٹ جاتا ہے بلکہ اس کی معنویت کے نقوش بھی دھندلے پڑنے لگتے ہیں۔ یہاں اس پہلو پر تفصیل سے روشنی ڈالنا تو ممکن نہیں ، لیکن ہر قاری اسے اپنی ذہنی صلاحیتوں کے مطابق محسوس کر سکتا ہے۔ اس کی ایک مثال ناول کے آخری حصے میں تین کٹوری ہاؤس اور قصر شیریں کے مکینوں کے بے معنی شب و روز کی غیر ضروری تفصیلات ہیں اور پاکستانی گروپ کی خصوصیات کا تذکرہ بھی بہت تکراری ہے۔

اب ہمارے قاری کو بجا طور پر اس بات کی شکایت ہو سکتی ہے کہ ہم نے اپنے اس طول طویل مقالے میں ناول کی ’’ہیروئن‘ چاندنی بیگم کا بطور خاص تذکرہ نہیں کیا، تو ہم انھیں یقین دلاتے ہیں یہ ہماری فروگزاشت نہیں تھی بلکہ ہم نے قصداً اس تذکرے کو اختتام کے لیے چھوڑ دیا تھا چاندنی بیگم کا کر دار تو کافی سیدھا سادہ ہے۔ وہ ایک رئیس خاندان کی غریب اولاد ہے۔ جسے اس کی بدنصیب اور خود دار ماں نے بڑی مصیبت سے پالا ہے اور بڑی مشکل سے اعلیٰ تعلیم دلائی ہے۔ وہ ایم۔اے ، بی ٹی ہے اور تعلیم مکمل کرنے کے بعد اپنی ماں کے ساتھ ایک پرائیویٹ کالج میں پڑھا رہی ہے اور کالج کی پرنسپل جو اس کی مالک بھی ہے دل بھر کر دونوں ماں بیٹیوں کا استحصال کر رہی ہے۔ چاندنی بیگم کو بٹو بیگم نے قنبر علی کے لیے پسند کر لیا تھا کیوں کہ وہ قنبر علی کی تینوں شرطوں پر پوری اترتی ہے یعنی غریب اور اعلیٰ تعلیم یافتہ ہونے کے علاوہ بہت خوبصورت بھی ہے۔ لیکن ان کا یہ خواب کبھی پورا نہیں ہوتا اور ان کے ساتھ ہی قبر کی تاریکیوں میں کھو جاتا ہے۔ چاندنی بیگم کو ہم اس ناول میں بہت کم عرصے کے لیے دیکھتے ہیں۔ یعنی جب وہ اپنی ماں کے انتقال کے بعد انتہائی کسمپرسی کے عالم میں لکھنؤ آتی ہے کیوں کہ ظفر پور میں اس کی عزت بھی محفوظ نہیں ہے ، لیکن ریڈ روز ہاؤس پہنچنے پر جب اسے معلوم ہوتا ہے کہ قنبر علی پہلے ہی بیلا سے شادی کر چکا ہے تو وہ وہاں ٹھہرنا نہیں چاہتی اور قنبر کے واپس آنے سے پہلے ہی بیلا کی مد د سے تین کٹوری ہاؤس آتی ہے جہاں اسے صفیہ کے اسکول میں نوکری ملنے کی امید ہے ، لیکن وہ لوگ اسے صرف سلائی کا کام دیتے ہیں۔ شاگرد پیشے میں رکھتے ہیں اور نوکروں سے بدترسلوک کرتے ہیں۔ بہرطور ان چند مہینوں کے دوران ہم چاندنی بیگم کو بہت قریب سے دیکھتے ہیں اور یہ تاثر قائم کرتے ہیں کہ چاندنی ایک سیدھی سادی، جفا کش نیک اور شریف لڑکی ہے۔ وہ بہت مذہبی بھی ہے ، یعنی روزہ نماز کی پابند ہے اور ہر حال میں خدا کی مد د اور ہدایت پر بھروسہ رکھتی ہے۔ اور وہ نہایت صابر و شاکر خود دار اور ذہین بھی ہے اور بدترین حالات میں بھی اپنا توازن اور وقار قائم رکھتی ہے۔ وہ تین کٹوری ہاؤس کی خادماؤں سے گھل مل جاتی ہے حالاں کہ وہ ان سے بہت زیادہ تعلیم یافتہ اور کلچرڈ ہے لیکن اس نے بھی غریبی کا کرب سہا ہے۔ چاندنی بیگم ایک خاندانی لڑکی ہونے کے علاوہ خوبصورت بھی ہے ، اس لیے رانی صاحبہ چاہتی ہیں کہ وکی سے جو ذہنی توازن کھو بیٹھا ہے ، اس کا نکاح پڑھوا دیں اور چاندنی بھی ذہنی طور پر خود کو اس کے لیے تیار کر لیتی ہے۔ کیوں کہ وہ بالکل بے سہارا ہے اور اسے وکی سے ہمدردی بھی ہے ، لیکن نہ صرف بوبی کی رچائی ہوئی سازش کے تحت یہ تجویز منسوخ کر دی جاتی ہے بلکہ بوبی خود اس پر ڈورے ڈالتا ہے اور اسے اپنی مسٹرس بنانے کی تجویز پیش کرتا ہے اور جب چاندنی بیگم اس کا منہ توڑ جواب دیتی ہے اور اسے کافی ذلیل بھی کرتی ہے تو ہم یہ محسوس کرتے ہیں کہ یہ سیدھی سادی مظلوم لڑکی کافی با ہمت بھی ہے۔ تین کٹوری ہاؤس کے قیام کے آخری دنوں میں چاندنی سخت پریشانیوں سے گزرتی ہے۔ وہ لوگ چاہتے ہیں کہ چاندنی جلد از جلد کہیں اور چلی جائے کیوں کہ سلائی کا کام ختم ہو چکا ہے اور بچے اس سے اردو پڑھنے کے لیے تیار نہیں۔ لیکن چاندنی جائے تو کہاں جائے ! اور پھر اس کا چشمہ ٹوٹ جاتا ہے اور زیور چوری ہو جاتا ہے اور وہ بیمار پڑ جاتی ہے اور آخر کار انتہائی مجبوری کے عالم میں وہ قنبر علی کو فون کرتی ہے اور اپنا حال بتاتی ہے۔ قنبر علی فوراً کار لے کر آتا ہے اور اسے بڑی عزت اور ہمدردی کے ساتھ اپنے گھر لے جاتا ہے ، راستے میں لکھنؤ کی کچھ یادگار عمارتوں کی سیر بھی کراتا ہے۔ دونوں میں جلد ہی دوستی اور بے تکلفی کا رشتہ قائم ہو جاتا ہے۔ گو وہ پہلی بار ہی ایک دوسرے سے ملے ہیں ، لیکن اپنی ماؤں سے ایک دوسرے کے بارے میں بہت کچھ سن چکے ہیں۔ قنبر علی چاندنی کو اپنے خوبصورت گیسٹ روم میں ٹھہراتا ہے اور اسے ایک اچھا جوب(Job) دلانے کا وعدہ بھی کرتا ہے۔ اور ہم یہ محسوس کرتے ہیں کہ اب جلد ہی چاندنی کی پریشانیوں کا سلسلہ ختم ہونے والا ہے۔ اور ہم یہ بھی محسوس کرتے ہیں کہ چاندنی ہی قنبر کے لیے آئیڈیل شریکِ حیات ہو سکتی تھی اور خود قنبر بھی یہی سوچتا ہے اور اس کے یہ الفاظ ’’ہم بھی ایک قیمتی چیز تہ میں رکھ کر بھول گئے تھے ‘‘ اس کے دلی جذبات کی تفسیر ہیں۔ لیکن حالات کو کچھ اور ہی منظور ہے اور اسی کے ساتھ چاندنی، قنبر اور بیلا آن کی آن میں نذر آتش ہو جاتے ہیں اور ان کے ساتھ بھوانی شنکر سوختہ بھی۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ چاندنی ایک اچھی انسان سہی، اور وہ شروح ہی سے ہماری ہمدردی کا مرکز بھی رہی ہے۔ لیکن کیا اس ناول میں اس کی اتنی اہمیت ہے کہ ناول کو اس کا نام دیا جائے۔ تو ہم یہ کہنا چاہیں گے کہ ناول کی کہانی میں تو چاندنی کا مرکزی رول نہیں ، لیکن کم سے کم ایک اعتبار سے اسے مرکزی حیثیت حاصل ہے ، اور وہ یہ کہ ہم اکثر اہم اور بعض غیر اہم کر داروں کو اس کے وسیلے یا تعلق سے پہچانتے ہیں۔ مثلاً قنبر علی شروع ہی سے ناول کے منظر نامے پر چھایا ہوا ہے۔ لیکن اکثر وہ کچھ سیاسی نعروں اور مارکسسٹ آئیڈیالوجی کا ایک بلند آہنگ ریکارڈ معلوم ہوتا ہے ، لیکن چاندنی بیگم سے مختصر ملاقات کے دوران ہم اسے ایک ذہین، ہمدرد، مہذب اور شائستہ انسان کی حیثیت سے دیکھتے ہیں۔ وکی میاں کو سب نیم پاگل سمجھتے ہیں ، لیکن چاندنی بیگم سے تعلق کے وسیلے سے ہم انھیں ایک حساس، رحم دل اور فلسفیانہ مزاج انسان کے روپ میں دیکھتے ہیں۔ بوبی کی رذالیت اور ہوس پرستی اور پروین کی خود غرضی، غرور اور چھچھورے پن کا اندازہ بھی چاندنی بیگم کی طرف ان کے رویے سے ہوتا ہے۔ دوسری طرف چاندنی بیگم کی طرف صفیہ سلطان کے رویے میں جسے سب جھکی اور آدم بیزار سمجھتے ہیں ، ہمدردی اور ذہانت کا پرتو نظر آتا ہے۔ بیلا کی شخصیت کے کچھ اہم پہلو بھی چاندنی بیگم سے اس کے سلوک میں نمایاں ہوتے ہیں۔ یہاں تک کہ تین کٹوری ہاؤس کے شاگرد پیشہ کے مکینوں کو بھی ہم چاندنی بیگم کے حوالے سے انسان کی حیثیت سے دیکھتے ہیں اور محسوس کرتے ہیں کہ بتاشن بوا اور نورن بوا غریب سہی لیکن نہ ان میں ذہانت کی کمی ہے اور نہ انسانی ہمدردی کی اور مسز ڈھونڈی کی انسان دوستی کا اندازہ بھی چاندنی کی طرف ان کے رویے سے ہوتا ہے ورنہ وہ زیادہ تر ایک گورکھ دھندا قسم کی غیر ضروری کر دار معلوم ہوتی ہیں۔

تو کیا ہم کہہ سکتے ہیں کہ چاندنی بیگم اس ناول کی صرف ایک کر دار ہی نہیں بلکہ ایک مرکزی علامت ہے ، جس طرح چیخوف کے شہرہ آفاق ڈرامے ’’چیری کا باغ‘‘ میں چیری کا باغ ایک مرکزی علامت ہے ، جو اس شاہکار کے اہم موضوع اور ہمہ گیر وژن کو دامن میں چھپائے ہوئے ہے اور اسی کے وسیلے سے کر داروں کی شخصیت اور سماجی رویوں کے نقوش بھی ابھرتے ہیں شاید نہیں ، کیوں کہ چاندنی بیگم کی شخصیت اور اس کا رول اس ناول کے متنوع موضوعات اور گنجان وژن کا احاطہ نہیں کر سکتی تو پھر ناول کے اس عنوان کی معنویت اور جواز کیا ہے قرة العین حیدر اکثر کسی موضوع یا شعر کے ٹکڑے کو اپنے ناول اور کہانیوں کا عنوان بناتی تھیں لیکن شاید انھیں ایسا کوئی شعری عنوان نہ مل سکا جو اس ناول کے سبھی موضوعات کا احاطہ کر سکے۔ خود میں نے بھی کافی غور کیا لیکن کوئی مناسب شعری عنوان ذہن میں نہیں آیا۔ اس کا عنوان ’’زمین زمین ‘‘ یا ’’آگ آگ‘‘ بھی نہیں ہو سکتا تھا کہ وہ ضرورت سے زیادہ وضاحتی بھی ہیں اور محدود بھی اور ’’آگ‘‘ کا عنوان تو اس واقعے کی اثر انگیزی اور سسپینس (Suspense) کو بھی متاثر کر سکتا تھا۔ اس کا عنوان کوئی لوکیشن بھی نہیں ہو سکتا تھا، کیوں کہ سبھی کی اہمیت جزوی ہے تو پھر اگر ناول کا عنوان کسی کر دار کے نام پر ہی ہونا تھا تو میرے خیال میں ’’چاندنی بیگم‘‘ ہی سب سے مناسب ہے۔ چاندنی بیگم کسی خاص آئیڈیولوجی، نظریے ، رجحان، طبقے یا پروفیشن کی نمائندہ نہیں بلکہ انسانیت کا ایک سیدھا سادہ اور قابلِ قبول ماڈل ہے جو چمک دمک اور شان و شوکت سے بے نیاز ہے اور آخر اس ناول کا موضوع بھی تو انسانی زندگی کے نشیب و فراز، رنج و غم، خوشیاں اور امکانات ہی ہیں اور اسی اعتبار سے یہ عنوان مناسب ہے۔
(بشکریہ ماہنامہ ’’ایوانِ اردو‘‘ دہلی)
٭٭٭
ماخذ:
اردو تہذیب ڈاٹ نیٹ
تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید
