﻿



چراغ رستے میں 




تاجدار عادل


ترتیب و انتخاب: اعجاز عبید









ہر ایک چہرے پہ دل کو گُمان اس کا تھا
بسا نہ کوئی یہ خالی مکان اس کا تھا

میں بے جہت ہی رہا اور بے مقام سا وہ
ستارہ میرا سمندر نشان اس کا تھا

میں اُس طلسم سے باہر کہاں تلک جاتا
فضا کھلی تھی مگر آسمان اس کا تھا

سلیقہ عشق میں جاں اپنی پیش کرنے کا
جنہیں بھی آیا تھا ان کو ہی دھیان اس کا تھا

پھر اس کے بعد کوئی بات بھی ضروری نہ تھی
مرے خلاف سہی وہ بیان اس کا تھا

ہوا نے اب کے جلائے چراغ رستے میں 
کہ میری راہ میں عادل مکان اس کا تھا
٭٭٭





یہ آنکھ بھی ، یہ خواب بھی ، یہ رات اسی کی
ہر بات پہ یاد آتی ہے ہر بات اسی کی

جگنو سے چمکتے ہیں اسی یاد کے دم سے
آنکھوں میں لیے پھرتے ہیں سوغات اسی کی

ہر شعلے کے پیچھے ہے اسی آگ کی صورت
ہر بات کے پردے میں حکایات اسی کی

لفظوں میں سجاتے ہیں اسی حسن کی خوشبو
آنکھوں میں چھپاتے ہیں شکایات اسی کی

کیا کیجیئے اچھی ہمیں لگتی ہے ہمیشہ
دیوانگئ دل میں ہر بات اسی کی

جس شخص نے منظر کو نئے پھول دیئے تھے
ہیں دور خزاں پر بھی عنایات اسی کی

آتا ہے نظر مجمع احباب میں عادل
لاکھوں میں اکیلی ہے مگر ذات اسی کی
٭٭٭





دیکھوں تو شہر بھر ہی تماشا دکھائی دے
چیخوں تو پیڑ پات بھی بہرا دکھائی دے

ہر شخص اپنے آپ کو کرتا رہے تلاش
ہر شخص اپنے اپ میں چھپتا دکھائی دے

میں ہی نہیں ہوں اپنی تباہی کی داستاں 
وہ بھی اب اپنے آپ سے لڑتا دکھائی دے

کرتا رہا تلاش جو ماں اپنی عمر بھر
مجھ کو ہر اک سڑک پر وہ بچہ دکھائی دے

جھوٹا نہیں ہوں میں بھی محبت کے باب میں 
اور وہ بھی اپنے حال میں سچا دکھائی دے

جیسے کسی جزیرے پہ تنہا ہو آدمی
ہر شخص یوں خموش سا کھویا دکھائی دے 
٭٭٭





طلسم عشق تھا سب اس کا سات ہونے تک
خیال درد نہ آیا نجات ہونے تک

ملا تھا ہجر کے رستے میں صبح کی مانند
بچھڑ گیا تھا مسافر سے رات ہونے تک

عجیب رنگ بدلتی ہے اس کی نگری بھی
ہر ایک نہر کو دیکھا فرات ہونے تک

وہ اس کمال سے کھیلا تھا عشق کی بازی
میں اپنی فتح سمجھتا تھا مات ہونے تک

ہے استعارہ غزل اس سے بات کرنے کا
یہی وسیلہ ہے اب اس سے بات ہونے تک

میں اس کو بھولنا چاہوں تو کیا کروں عادل
جو مجھ میں زندہ ہے خود میری ذات ہونے تک
٭٭





حادثہ روز نیا واقعہ تھا روز وہی
زخم ہر لمحہ نئے درد ملا روز وہی

وہی اک وصل کی خواہش کے لیے ہجر کی شام
وحشت جاں کے لیے حرف دعا روز وہی

وہی اک شخص کی خاطر نئی بست کا پتہ
شکلیں ہر روز نئی راہ وفا روز وہی

ہر نئے روز نئی طرح سے زندہ رہنا
وحشتیں روز وہی درد و دوا روز  وہی

وہی ہر شام سمندر کے کنارے تنہا
اور سناٹے میں پانی کی صدا روز وہی

وہی دیوانگی دل کے لیے ایک سفر
قافلہ روز نیا آبلہ پا روز وہی

روز جلنے کے لیے بجھتا رہا ایک دیا
اور ایک سمت سے آتی تھی ہوا روز وہی

آنکھ سے خواب تلک ہے وہی غم کا رستہ
کوششیں روز وہی قافلہ تھا روز وہی

دشت ہے آگ کا ور ہے وہی رستہ عادل
باغ میں یاد کے ہے پھول نیا روز وہی
٭٭٭


سیر کہاں کی کیا کیا دیکھا جو بھی بیتا حال لکھو
کیسے گزرا سال تمہارا ہم کو سب احوال لکھو

پہلے پہل جب ملک چھٹا اور دیس نیا اک دیکھا تو
کس کو سوچا یاد کیا کیا ، کیا کیا آئے خیال لکھو

کیا یاد ہماری آئی تھی یا بھول گئے ہر عہد وفا
وقت نے کچھ باقی بھی رکھا یا ہو گیا سب پامال لکھو

باتیں اس نے کیسی کی تھیں کتنا اچھا تم کو لگا وہ
مجھ سا بہتر کیسا پایا اس کی کوئی مثال لکھو

زخم جو تم نے ہم کو دیئے تھے سب ہیں تازہ ویسے ہی
حال تمہارا اب ہے کیسا دل کی خلش کا حال لکھو
٭٭٭





اس کی یادوں کا سلسلہ ہو گا
اس کہانی میں اور کیا ہو گا

جب بچھڑ کر بھی وہ خاموش رہا
گھر پہنچ کر تو رو دیا ہو گا

خود کو سمجھا لیا ہے میں نے مگر
کیا وہ خود بھی بدل گیا ہو گا

اتنا آساں نہ تھا مجھے کھونا
اس نے خود کو گنوا دیا ہو گا

مجھ کو ویران کر دیا جس نے
کہیں آباد تو ہوا ہو گا

سوچتا ہوں جو مجھ کو چاہتا تھا
یاد مجھ کو کر رہا ہو گا
٭٭٭








جس نے تم کو چاند کہا اور جس نے خوشبو جانا تھا
اس لڑکے کا نام بتاؤ کیا وہ بھی میرے جیسا تھا

جو کہتا تھا تم اچھی ہو اور تم سے اچھا کوئی نہیں 
وہ لڑکا اب بھی سچا ہے اور پہلے بھی سچا تھا

اس کا جذبہ میرا جذبہ اور کتابیں ایک سی ہیں 
باتیں کیسی کرتا تھا کیا طرز سخن بھی مجھ سا تھا

تم جب مجھ کو ملتی نہیں میں چاند سے باتیں کرتا ہوں 
تم جب اس ملتی نہیں وہ چاند سے باتیں کرتا تھا

اکثر میں سوچتا ہوں اس روپ میں بھی تھا میں ہی تو
میں نے اس کو اتنا سوچا لگتا ہے جیسے دیکھا تھا
٭٭٭





اک تلاطم میں ہوں شورش میں ہوں چکر میں ہوں 
 رقص کرتا ہوں مگر ترشے ہوئے پتھر میں ہوں 

 میرے اندر دو صفیں ہیں صرف تیرے واسطے
 روز لڑتا ہوں ہے جو خود سے میں اسی لشکر میں ہوں 

 میرا مالک بھی مری قیمت سے خود واقف نہیں 
 اک خزانہ ہو کے میں ٹوٹے ہوئے چھپر میں ہوں 

 میرے ساتھی ڈھونڈتے ہیں مجھ کو میں ملتا نہیں 
 اور تیرے واسطے میں پھول میں پتھر میں ہوں 

 جو تری ہے رہگزر اس راستے کا پھول ہوں 
 جو پسند آنکھیں کریں تیری اسی منظر میں ہوں 

 خود ہی منزل خود ہی رستہ خود ہی خواہش خود امید
 اس سے یوں بچھڑا ہوں جیسے عرصہ محشر میں ہوں 

 تم جہاں بھی جاؤ گے تم کو نظر آؤں گا میں 
 خواہش روشن کی صورت اب میں دنیا بھر میں ہوں 
٭٭٭

ماخذ: اردو کی مختلف ویب سائٹس
تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید
