﻿


چشمِ نور


حماد نیازی

جمع و انتخاب: اعجاز عبید






نعت

ذرے سے اس نے گوہر و مرجان کر دیا
شامل مجھے قبیلۂ حسان کر دیا

پھر آسمانِ عشق سے وارد ہوا وہ نور
جس نے ہر ایک حرف کو قرآن کر دیا

اک طائرِ سفید نے مجھ میں اذان دی
اور خطبۂ وجود کو فاران کر دیا

پہلی نظر کے ساتھ ہی اس چشمِ  نور نے
سیٌارگانِ عشق کو حیران کر دیا

خوشبو امڈ رہی ہے مری پور پور سے
اک اسم کے ظہور نے گلدان کر دیا
٭٭٭




نعت


دیار نور سے آتی ہوئی ملنگ ہوا 
ذرا سی دیر ٹھہر جا ہمارے سنگ ہوا 
 
خو شا  وہ پل کہ زمیں پر اسے اتارا گیا  
بجا رہی تھی مسلسل رباب و چنگ ہوا 
 
اسی کے دم سے بنائے عدم بنائے وجود
 اسی کے دم سے ستارے چراغ ،رنگ ،ہوا 
 
اسی بہار کی لو ہے اسی گلاب کی ضو
اسی کی رو میں مہکتے ہیں انگ انگ ،ہوا 
 
سفر تھا جانب افلاک کچھ درودوں کا 
  بنا رہی تھی جہانوں میں اک سرنگ ہوا  
 
گزر رہا ہوں اجالوں کے شہر سے حماد
اڑا رہی ہے تری یاد کی پتنگ ہوا 
 ٭٭٭


سبیل


بحضور امام  عالی مقام



شفق کی لو پہ منقش عقیدتوں کی قسم
ترے لہو سے معطر ہے کائنات مری
مرا وجود فقط تیرگی کا حاصل تھا
ترے وجود سے جلتا دیا وفاؤں کا
مکانِ  ذات کی تنہا ئیوں میں روشن ہے
متاعِ  درد میسر ہے گر نگاہوں کو
تمہارے فیض تمہاری عطا سے ممکن ہے
مسافتوں کی تھکن گو مرے وجود میں ہے
شعورِ  تشنہ دلاں بھی زباں پہ ٹھرا ہے
دکھوں سے سہما ہوا ہے یہ تن بدن میرا
مگر جو شوقِ  سفر تو نے مجھ کو بخشا تھا
ابھی تلک مرے مردہ بدن میں زندہ ہے
جو روشنی مرے اندر ہے سب تمہاری ہے
حسین تیرے کرم کی سبیل جاری ہے
٭٭٭



بادل برسے پھر سے خشک زمینوں پر
سجدوں کی لو جاگی پاک جبینوں پر

گھر  لوٹے تو چہروں پر ویرانی تھی
گرد  پڑی تھی  پانی  کے  آئینوں  پر

دیکھ سہیلی ! وہ بھی تیری نذر ہوئی
بھاری تھی جو رات ہزار مہینوں  پر

چوڑے  اور کشادہ صحنوں جیسے تھے
ڈھیر پڑے  ہیں مٹی کے جن سینوں پر

آخر کار  ہوا  کی چیخ  بلند  ہوئی
آن  گریں  دیواریں  آج  مکینوں  پر
٭٭٭




ابو جی !!



آوازیں رات کی خاموشی میں اوجھل ہونے کا سندیسہ لائی ہیں
چاند کے آدھے ٹکڑے پر کچھ خوابوں کی تدفین ہوئی ہے
گھڑے کا پانی قطرہ قطرہ ڈول رہا ہے
دیواروں کی مٹی میں برسوں سے گوندھی
کچھ پوروں کا لمس اچانک قلب کدے میں چیخ پڑا ہے
میں یادوں کی تختی لے کر
اس پر اپنے گھگو گھوڑے
پریاں،جگنو،تتلی،گڑیا،بنٹے،ریت گھروندے
مور کے پر ،بوسوں کی ٹافی
اور حرفوں کا پاک صحیفہ
تصویروں میں ڈھال رہا ہوں
کل اور آج کے سارے رستے چل آیا ہوں
تنہائی کے چوراہے پر آن کھڑا ہوں
چاروں جانب اشکوں کی اک برف جمی ہے
ابو جی! اب سانس تھمی ہے
اور میرے ہاتھوں سے تیری بوڑھی انگلی چھوٹ رہی ہے
٭٭٭


نثری نظم

ہاتھوں کی زمین پہ چند ستارے اترے ہیں
آنکھوں کا آسمان بانجھ ہو گیا
دور دل کے دشت میں ریت اڑ رہی ہے
سانس کی ندی میں کسی نے یاد کا پتھر پھینک دیا ہے
آج پھر سرخ آندھی چلے گی
آج پھر خوابوں کے جھونپڑے ہوا میں اڑیں گے
وہ دیکھو! غور سے دیکھو!!!
کہیں سے کوئی نمودار ہو رہا ہے
٭٭٭





ہجر کی سرزمینوں سے چلتی ہوا ،دل کے پیڑوں کا نقصان کرتی ہوئی 
 چاند جیسی وہ پیشانیاں بجھ گئیں، ایک آواز اعلان کرتی ہوئی

 گھی لگی روٹیاں بوڑھے لرزیدہ ہاتھوں سے پکتی رہیں اور مہکتی رہی
 رنگ تصویر میں سانس لینے لگے ،دھوپ کھیتوں کو گنجان کرتی ہوئی

 ماں کے ہونٹوں سے خوشبو کی آیت گری اور سانسوں نے اسکی تلاوت کری 
 گھر کے چاروں طرف اک صحیفے کی ضو آسمانوں کو حیران کرتی ہوئی

 سر پہ رکھے ہوئے دھوپ کی گٹھڑیاں، حسرتوں کو لئے خوبرو لڑکیاں
 گھر پلٹنے لگیں، اور اداسی کی لو، سب پرندے پریشان کرتی ہوئی

 اور دن ڈھل گیا، دور بستی کے کچے مکانوں میں پھر سے دئیے جل اٹھے
 شور تھمنے لگا اور گاؤں میں پھر شام گلیوں کو ویران کرتی ہوئی

 خشک سینوں کے زینے اترتے ہوئے ،من کے کچے پیالوں کو بھرتے ہوئے
 کھڑکیوں میں کئی خواب دھرتے ہوئے ،رات وحشت کا سامان کرتی ہوئی

 نیند معصوم آنکھوں میں آنے لگی ،خواب کی فاختہ گنگنانے لگی 
 لوریوں کی صدا جاں سے ہوتی ہوئی، تنگ سانسوں کو آسان کرتی ہوئی
٭٭٭



پانیوں کی تہ میں جو گو ہر رہا ہے دیکھیئے
میری آنکھوں کے کبھی اندر رہا ہے دیکھیئے

ساکت و جامد کھڑے تالاب میں جسموں کا بوجھ
خوشبوؤں کا در مقفل کر رہا ہے دیکھیئے

چند مٹیاریں سروں پر گٹھریاں لا دے ہوئے
تھک گئیں ہیں اور سورج ڈر رہا ہے دیکھیئے

سطحِ آبِ چشم پر منظر پھسلتے جا رہے
طائرِ حیراں اڑانیں بھر رہا ہے دیکھیئے

نیلمیں آکاش کی وادی سے نوری سال دور
کوئی قرآں کی تلاوت کر رہا ہے دیکھیئے

رات کی رانی ابھی تک ایک حیرانی میں ہے
اور شب کا اژدھا پھر مر رہا ہے دیکھیئے

میری آنکھیں اپنے اندر قید کر لینے کے بعد
آج منظر کس قدر ششدر رہا ہے دیکھیئے

کچھ کتابیں،مور کے پر،اک دعا اور خشک پھول
بس یہی سامان میرے گھر رہا ہے دیکھیئے
٭٭٭


اس صحیفہ رو کی پیشانی کو جب چوما گیا
آنکھ میں چشمہ اگا اور دشت تک بہتا گیا

سرسراتی گھاس سے میرا گزر ہوتے ہوئے
آئینے جیسا وہ پانی پاؤں سے روندا گیا

اجنبی سے کچھ پرندے اس پہاڑی سے اڑے
آسماں پر پھر صدا کا سائباں بنتا گیا

اپنے اندر غسل کرتے پتھروں کو دیکھ کر
آج پانی تھرتھرایا اور پھر شرما گیا

دیر تک منظر کو دیکھا اور آنکھیں بند کیں
یک بہ یک منظر مری آنکھوں کے اندر آ گیا

سخت نوکیلی چٹانوں پر ہری بیلیں اگیں
اور وادی مین صدا گونجی ،سنو! وہ آگیا
٭٭٭



سبز کھیتوں سے امڈتی روشنی تصویر کی
میں نے اپنی آنکھ سے اک حرف گہ تعمیر کی

سن قطار اندر قطار اشجار کی سرگوشیاں
اور کہانی پڑھ خزاں نے رات جو تحریر کی

کچی قبروں پر سجی خوشبو کی بکھری لاش پر
خامشی نے اک نئے انداز میں تقریر کی

بچپنے کی درس گاہوں میں پرانے ٹاٹ پر
دل نے حیرانی کی پہلی بارگہ تسخیر کی

روشنی میں رقص کرتے خاک کے ذرات نے
انتہائے آب و ِ گل کی اولیں تفسیر کی

کوہساروں کے سروں پر بادلوں کی پگڑیاں
ایک تمثیلِ  نمایاں آیۂ تطہیر کی

دھند کے لشکر کا چاروں اور پہرہ تھا مگر
اک دیے نے روشنی کی رات بھر تشہیر کی

آج پھر آب ِ  مقدس آنکھ سے ہجرت کیا
گھر پہنچنے میں کسی نے آج پھر تاخیر کی
٭٭٭


نثری نظم

پاؤں کی ایڑیاں گھسنے لگی ہیں
ٹوٹی جوتیوں سے تھکن نچوڑ لو
اور اس میں گرد انڈیل دو
سارا سفر بیکار گیا
چڑیاں،فاختائیں،کبوتر روٹھ گیے ہیں
گدھوں کا غول دیکھ کر آنکھیں پتھرا گئی ہیں

میں اپنے حر ف نگر سے دور آ نکلا ہوں
امی جی! سن رہی ہو ناں
تمہاری دعائیں ریت میں روندی گئی ہیں
ہاتھ خالی ہیں ،
میرے ساتھ چلتا سایہ رات نے قتل کر دیا ہے
اور اس کا خون میری آنکھوں میں رینگ رہا ہے
٭٭٭



دل جو وحشت نگار ہے میرا
اس پہ کب اختیار ہے میرا

آنکھ اندر ہے دو جہان کی لو
خواب اندر مزار ہے میرا

روشنی بچھ رہی ہے راہوں میں
یہ کسے انتظار ہے میرا

دھند کی کہکشاں میں ہوں موجود
یہ بھی شاید غبار ہے میرا

آنکھ میری جو پھڑپھڑانے لگی
کوئی تو سوگوار ہے میرا

چار سو ہے قبیلہ ء وحشت
اور تنہا سوار ہے میرا

شام ہوتے ہی لوٹ آتا ہے
سائے کو اعتبار ہے میرا

ایک میں ہوں مرے مقابل دل
بس یہی کارزار ہے میرا
٭٭٭





بہشت ہوتی فضاؤں سے گفتگو کی ہے
حیا سرشت نگاہوں سے گفتگو کی ہے

شجر کی اوٹ میں سورج نے سر چھپا لیا ہے
کہ میرے سائے نے چھاؤں سے گفتگو کی ہے

یہ تیری آنکھ کی پتلی میں شور کیسا ہے
سکوت اوڑھے چراغوں سے گفتگو کی ہے؟

کلام کر، تری پہچان بس کلام میں ہے
بتا کہ تو نے صحیفوں سے گفتگو کی ہے

سمجھ رہا تھا کہ صحرا سے تو مخاطب ہے
نہیں نہیں مری آنکھوں سے گفتگو کی ہے

جدید ہوتے زمانوں سے راہ و رسم نہیں
قدیم ہوتی زمینوں سے گفتگو کی ہے

طلسم تھا، کہ کوئی جسم تھا ،بس اتنا ہے
دھنک مزاج ہواؤں سے گفتگو کی ہے

سبھی تجھی سے نکل کر تمام ہوتے ہیں
یہ میں نے جتنے حوالوں سے گفتگو کی ہے
٭٭٭



نثری نظم

کسی نے میرے مشکیزے سے پانی پیا
صحرا نے میرے خلاف تعزیراتِ  شوق کے تحت مقدمہ درج کرایا
سمندر کے کٹہرے میں مجھے میرے مشکیزے سمیت پیش کر دیا گیا
تخیل نے میرے کیس کی وکالت کی
مگر میں نے مقدمے کی سماعت سے پہلے ہی
اپنے مشکیزے سے بقیہ پانی گرا دیا
سمندر آج تک میرے آنسوؤں سے نمکین ہے
٭٭٭





سخن کا راز جو دل کو بتا دیا گیا ہے
مری نمود سے مجھکو ملا دیا گیا ہے

عجیب جنگ ہے چھڑنے سے قبل ہی مجھکو
مری شکست کا منظر دکھا دیا گیا ہے

وجود مجھ کو عدم کی مثال لگنے لگا
یہ کیسی نیند سے مجھکو جگا دیا گیا ہے

دلِ  حزیں تری حیران و خشک مٹی پر
کسی کی یاد کا خیمہ لگا دیا گیا ہے

سحر گزیدہ چراغوں سے پوچھنا ہے مجھے
یہ کس چراغ سے سورج جلا دیا گیا ہے

دلا!! قبول ترے فیصلے قبول مجھے
مگر وہ غم کہ جو تجھ سے سوا دیا گیا ہے

یہ دشتِ  دل ہے کہ سیراب ہونے پاتا نہیں
اگرچہ آنکھ سے دریا بہا دیا گیا ہے
٭٭٭






مقام خاک پہ پہلے مجھے بٹھایا گیا
پھر ایک روز مجھے آسماں دکھایا گیا

اسی جہان میں سارے جہان رکھے گئے
وہ اک جہان جو اب تک نہیں دکھایا گیا

شراب رکھی گئی ہونٹ کاٹ ڈالے گئے
پھر اس کے بعد مری پیاس کو بڑھایا گیا

عقیدتوں کو ہوس کا شکار بنتے ہوئے
یہاں رلایا گیا اور بہت رلایا گیا

تمہارے جسم کے اندر کہیں سلگتا ہوں
میں اپنی آگ کی اندر نہیں جلایا گیا

ہوا میں شاخ بنائی گئی دعاؤں کی
اور ایک آس پرندہ وہاں بٹھایا گیا

پھر اس کے بعد مری روح میں سکت نہ رہی
میں اعتبار کی سیڑھی سے جب گرایا گیا
٭٭٭






خرد کی آنکھ کو نادان کرنے والا ہوں
ترے سوال کو آسان کرنے والا ہوں

لہو سے سینچ رہا ہوں تمھاری یاد کا دکھ
اور اپنے جسم کو بے جان کرنے والا ہوں

یہ کون مجھ میں عزا دار ہونے والا ہے
یہ کون ہے جسے قربان کرنے والا ہوں

میں اپنے قلب کی تدوین کر رہا ہوں یہاں
قدیم دشت کو گنجان کرنے والا ہوں

حریم ذات سے نکلا ہوں ایک مدت سے
بدن سے دور کوئی  گیان کرنے والا ہوں

میں کیا کروں کہ مرے پاس اور کچھ بھی نہیں
دعائیں ہیں جو تمھیں دان کرنے والا ہوں

یہ آسمان مری دسترس میں آتا نہیں
سو اپنی خاک سے سامان کرنے والا ہوں
٭٭٭



قبلہ رو ہو کے سر جھکانے لگا
آخری تیر میں چلانے لگا

جانب دشت گامزن تھا میں
جب سمندر مجھے بلانے لگا

بس ابھی خاک سے بنایا تھا
اور ابھی خاک میں ملانے لگا

شام کے اولیں اشارے پر
شبنمی خوں کوئی بہانے لگا

جذب کی آتشیں منڈیروں پر
آبِ  حیرت کوئی گرانے لگا

اسکی تصویر سامنے رکھ کر
وہ مرے زائچے بنانے لگا

جھیل میں دائرے ابھرتے ہی
چاند کا جسم تھرتھرانے لگا

آخر شب کوئی صدا آئی
اور سب کچھ سمجھ میں آنے لگا

دیکھ دنیا ہے میرے اندر بھی
ایک پتھر مجھے بتانے لگا

عجز کی شاہراہ پر چلتے
میں بلندی کی سمت جانے لگا

آخر کار تھک گئیں آنکھیں
آخر کار میں ٹھکانے لگا
٭٭٭





اپنے آغاز کو انجام بنا دیتا ہوں
تو اگر خوش ہے تو میں سر کو جھکا دیتا ہوں

جب نہیں کرتا تو پھر بات نہیں کرتا ہوں
اور کرتا ہوں تو پھر بات بڑھا دیتا ہوں

خود سے جاتا ہوں تو پھر لوٹ کے آتے آتے
دوست میں دیر بہت دیر لگا دیتا ہوں

دیکھتا جب ہوں تری آنکھ سے بھتا ہوا نور
اس گھڑی تیرگی آنکھوں سی بھا دیتا ہوں

اب مری خاک سی تکرار نہیں ہوتی ہے
 اپنی روداد میں پانی کو سنا دیتا ہوں

مجھ کو رنگوں کی ضرورت ہی نہیں رہتی اب
سورہ ء نور سے تصویر بنا دیتا ہوں

بس یہی ہے مری تخلیق مرا فن حماد
جو بھی لکھتا ہوں اسے لکھ کے مٹا دیتا ہوں
٭٭٭



برف کے  پھول


خواب بھی چھینے  ہیں بے  خوابی نے 
جاگتی رات کے  شکنوں بھرے  بستر سے  اٹھی
سن کے  اعلان سحر گھنٹوں سے  گھڑیال کے  میں 
دھندلے  شیشے  سے  بند کھڑکی کے 
دور تک گھوم کے  لوٹ آئی نظر
ایک مدھم سے  اجالے  میں سفیدی اوڑھے 
مانند نقش تھی ہر شے  ساکت
جیسے  کہ صبح ازل ہو
کہ ابد کا کوئی لمحہ شاید
کوئی ذی روح نہیں ہے ، کوئی آواز نہیں 
جھاڑی سے  جھانکتا بھورا خرگوش
سبزے  پہ ٹہلتے  معصوم ہرن ۔ ۔ ۔ کوئی نہیں 
جن کی چہکاروں سے  معمور فضا رہتی تھی
اڑ گئے  دور پرندے  سارے 
کوئی آواز نہیں 
برف کی تہہ میں چھپے  رستوں پر
کوئی رہ گیر نہیں 
اور اعصاب کو کھاتا ہوا سناٹا یہ
روح میں اترا ہے  وحشت بن کر
بڑی شدت سے  اٹھی دل سے  مرے  یہ خواہش
کوئی آواز سنوں 
کسی ذی روح کی آواز سنوں 
جانے  کس یاد کی گہرائی سے  ابھرے  کچھ لفظ
ذہن میں گونجے  لبوں سے  پھسلے 
کتنی پاکیزہ و معصوم ہو تم
ان چھوئے  برف کے  پھولوں جیسی
٭٭٭





میں خاک زاد ہوں ،افلاک کو پہچانتا ہوں 
میں وارث شہ لولاک کو پہچانتا ہوں 

زمین اور زمانے میں جو بھی ہے ،وہ ہے 
سو وقت جانتا ہوں ،خاک کو پہچانتا ہوں 

میں اپنی مرضی سے خود کو بناؤں گا صاحب
ترے بنائے ہوئے چاک کو پہچانتا ہوں 

یہ خون پھیل رہا ہے شفق کے در پردہ
سحر کے لہجۂ سفاک کو پہچانتا ہوں 

ابھی ابھی یہاں دھوئے گیے لہو کے داغ
میں مرنے والی کی پو شاک کو پہچانتا ہوں 

یہ جس لفافے پہ تتلی کا عکس ہے ،یہ ہے 
میں اپنے نام کی ہر ڈاک کو پہچانتا ہوں 

وہ تیرا چاہنے والا ہے ہو بہو مجھ سا
میں ایسے دیدہ ء نمناک کو پہچانتا ہوں
٭٭٭



پیڑ جب گیت گانے لگتے ہیں 
سانس کے کارخانے لگتے ہیں 

آپ آتے ہیں جب بھی آنکھوں میں 
ہم کہیں اور جانے لگتے ہیں 

آئینہ رو کا عکس پڑتے ہی
آئینے جگمگانے لگتے ہیں 

تب کہیں جا کے نقش بنتا ہے 
ہاتھ جب کپکپانے لگتے ہیں 

شاخِ   خاموش  پر  ہرے  پتے 
جانے کیوں سرسرانے لگتے ہیں 

سانس بھرتا ہوں ایک وحشت میں 
اشک آنکھوں سے آنے لگتے ہیں 

بانسری غم کی بجنے لگتی ہے 
سُر کہیں سر اٹھانے لگتے ہیں 

رات ڈھلتی ہے اور آنکھوں سے 
ہم پرندے  اُڑانے  لگتے ہیں 

گھر جلانا تو کوئی بات بھی ہے 
آپ تو جی  جلانے لگتے ہیں 

خوف کھاتا ہوں شعر کہنے سے 
ساری باتیں بتانے لگتے ہیں 
٭٭٭





ان کہی داستاں سناتے  ہوئے 
عمر گذری لہو جلاتے  ہوئے 

ایک دیوار بن گئی مجھ میں 
ایک دیوار کو گراتے  ہوئے 

انگلیاں تھک گئیں مری آخر
اک دیئے  سے  دیئے  جلاتے  ہوئے 

آسمان زار زار رویا تھا
اس حسیں آنکھ کو رلاتے  ہوئے 

باغ ترتیب دے  دیا اس نے 
دشت میں آبلے  بچھاتے  ہوئے 

کیا خبر کس جہان میں ٹھہرے 
ہم تری سرزمیں پہ آتے  ہوئے 

آ، میری آنکھ میں اتر کر دیکھ
آب کو آگ میں نہاتے  ہوئے 

سیدا ؛ چور ہو گیا ہوں میں 
جسم کی کرچیاں اٹھاتے  ہوئے 
٭٭٭





دل کے سونے صحن میں گونجی آہٹ کس کے پاؤں کی 
دھوپ بھرے سناٹے میں آواز سنی ہے چھاؤں کی 
 
اک منظر میں سارے منظر پس منظر ہو جانے ہیں 
اک دریا میں مل جانی ہیں لہریں سب دریاؤں کی 
 
دشت نوردی اور ہجرت سے اپنا گہرا رشتہ ہے 
اپنی مٹی میں شامل ہے مٹی کچھ صحراؤں کی 
 
بارش کی بوندوں سے بن میں ،تن میں ایک بہار آئی 
گھر گھر گائے گیت گگن نے ،گونجیں گلیاں گاؤں کی 
 
صبح سویرے ننگے پاؤں گھاس پہ  چلنا ایسا ہے 
جیسے باپ کا پہلا بوسہ ،قربت جیسے ماؤں کی 
 
اک جیسا احساس لہو میں جیتا جاگتا رہتا ہے 
ایک اداسی دے جاتی ہے  دستک روز ہواؤں کی 
 
سینوں اور زمینوں کا اب منظر نامہ بدلے گا 
ہر سو کثرت ہو جانی ہے پھولوں اور دعاؤں کی 
٭٭٭






صحن گم گشتہ کے در باز کیے جائیں گے 
ہم جو آئندہ کی آواز کیے جائیں گے 
 
فجر آثار جبینوں سے شفق پھوٹے گی 
جب یہ دن رات کے ہمراز کیے جائیں گے 
 
لہلہاتے ہوئے گاتے ہوئے کھیتوں کی طرح 
دیکھ لینا یہ بدن ساز کیے جائیں گے 
 
ختم ہو جاۓ گی نظارگیِ قلب و نظر 
خواب اگر یوں نظر انداز کیے جائیں گے 
 
رائیگاں شور کریں گے یہ در و بام و سقف
خستہ تن پیڑ دعا ساز کیے جائیں گے 
 
اور وہ دن کہ کہیں کچھ نہ دکھائی دے گا 
رنگ تصویر سے ناراض کیے جائیں گے 
 
ہم بھی مل جائیں گے تاریکیِ گل میں لیکن 
اک نئی صبح کا آغاز کیے جائیں گے
٭٭٭



جب منڈیروں پہ چراغوں کی کمک جاری تھی
لفظ تھے لفظوں میں احساس کی سرداری تھی
 
اب جو لوٹا ہوں تو پہچان نہیں ہوتی ہے
کہاں در تھا ،کہاں دیوار تھی ،الماری تھی ؟
 
وہ حویلی بھی سہیلی تھی پہیلی جیسی
جس کی اینٹوں میں مرے خواب تھے خود داری تھی
 
آخری بار کہاں اس سے ملا ،یاد نہیں
بس یہی یاد ہے اک  شام بہت بھاری تھی
 
پوچھتا پھرتا ہوں گلیوں میں ،کوئی ہے ؟ کوئی ہے ؟؟
یہ وہ گلیاں ہیں جہاں لوگ تھے سرشاری تھی
 
پیڑ تھے چند مکانوں میں زمانوں جیسے 
جن کی چھاؤں میں مری سانس کی لو جاری تھی 
 
کیا بھلے دن تھے  ہمیں کھیل تھا ہنسنا رونا 
سانس لینا بھی ہمیں جیسے اداکاری تھی 
 
بس کوئی خواب تھا اور خواب کے دورانیے میں
باغ تھا، پھول تھے، خوشبو کی نموداری  تھی
 
ہم نے دیکھا تھا اسے اجلے دنوں میں حماد
جن دنوں نیند تھی اور نیند میں بیداری تھی
٭٭٭






راتیں اچھی لگتی تھیں اور سپنے سچے لگتے تھے 
اک شہزادی کے ہونے سے ہم شہزادے لگتے تھے 
 
در بدری اور ہجرت اپنا آخر کو معمول بنا 
ہجرت کرتے لوگ ہمیں بچپن سے اچھے لگتے تھے 
 
چھوٹی چھوٹی خوشیاں ہمکو ڈھیر خزانوں جیسی تھیں 
کتنے اچھے دن تھے نا ! جب ہم بھی بچے لگتے تھے 
 
چھوٹی چھوٹی آنکھوں میں صدیوں جیسی حیرانی تھی 
ریت کے خستہ  گھر بھی ہمکو کتنے پکے لگتے تھے 
 
گرد آلود بدن تھے لیکن خوشبو رستی رہتی تھی 
ہرے بھرے دالانوں جیسے روشن چہرے  لگتے تھے 
 
بڑے بڑے شہروں میں آ کر  وحشت کی خوراک ہوئے 
روشن روشن صبحوں میں ہم اجلے اجلے لگتے تھے 
 
پیڑ ،پرندے ،گھر ،دروازے ،اپنے رنگ، اور اپنے لوگ 
جیسے بھی تھے لیکن من کو ماؤں جیسے لگتے تھے 
٭٭٭


مہندر کمار کے لئے

گونجا شور اذانوں کا 
نکلا غول کسانوں کا
 
دل کے اندر دیکھا ہے 
رستہ ریگستانوں کا 
 
رفتہ رفتہ بکھر گیا 
گلدستہ مسکانوں کا 
 
بارش کے سناٹے میں 
شور قدیم زمانوں کا 
 
اسکی گہری آنکھوں میں 
نقشہ  قبرستانوں  کا 
 
آبائی خوشبو کے ساتھ
سندیسہ  ویرانوں کا 
 
حیرت اور حیرانی سے 
رشتہ ہے میدانوں کا 
٭٭٭





کچی مٹی کے سب گھرانوں میں 
کوئی خوشبو ہے خاندانوں میں 
 
کوئی مزدور ہے نہ مزدوری 
سبزہ و گل کے کارخانوں میں 
 
مسکراہٹ چراغ ایسی تھی 
روشنی کھل اٹھی مکانوں میں 
 
اسکی آواز بہتے جھرنے سی 
بانسری بج رہی تھی کانوں میں 
 
جاگ اٹھتے ہیں پھول ،کچھ تو ہے 
صبح کی گونجتی اذانوں میں 
 
وہ کسی باغ جیسی حیرانی 
اب اگر ہے تو داستانوں میں 
 
یہ خلا بھی کہیں تو ہے مجھ میں 
دیکھتا ہوں جو آسمانوں میں 
 
میں نمو یاب ہوتا رہتا ہوں 
اپنے گزرے ہوئے زمانوں میں 
 
اب بھلا کیا مکالمہ کیجے
لفظ روتے ہیں قہوہ خانوں میں 
٭٭٭



سبز اور روشن چراگاہوں سے دل خیرہ کیے
بھاگتی سڑکوں پہ اپنے خواب کو ڈھونڈا کیے 
 
خشک پتوں سے نچوڑی جا چکی سبزے کی لو 
گندمی چہروں پہ جمتی خاک کو سوچا کیے 
 
دور تک کچی زمینوں بیچ حیرانی بھری 
ریل کی پٹری پہ چلتی عمر کو دیکھا کیے
 
بیل گاڑی سے لپٹتے اور اترتے ثانیے   
تیرے میرے نقش پا کو خاک میں روندا کیے 
 
مسکراتی لڑکیاں صحنوں میں جھاڑو دے رہیں 
چند چڑیاں اڑ رہی ہیں ان پہ اک سایا کیے 
 
دھند پھیلی جا رہی ہے دھول کی چاروں طرف 
پیڑ چھپتے جا رہے ہیں رات کا غازہ کیے 
 
گھر کی دیواروں پہ رکھی خشک باسی روٹیاں 
سرخ تننوروں میں جلتی آگ کو گھورا کیے 
 
آشنا سی سب شبیہیں اجنبی سی ہو گئیں 
گاڑیوں کا شور دل کی آنکھ کو اندھا کیے 
٭٭٭





جس کی سوندھی سوندھی خوشبو آنگن  آنگن پلتی تھی 
اس مٹی کا بوجھ اٹھاتے جسم کی مٹی گلتی  تھی 
 
جس کو تاپ کے گرم لحافوں میں بچے سو جاتے تھے
دل کے چولہے میں ہر دم  وہ آگ برابر جلتی تھی 
 
گرم دوپہروں میں، جلتے صحنوں میں جھاڑو دیتے تھے 
جن بوڑھے ہاتھوں سے پک کر روٹی پھول میں ڈھلتی تھی 
 
کسی   کہانی میں ،ویرانی میں جب دل گھبراتا تھا 
کسی  عزیز دعا کی خوشبو ساتھ ہمارے چلتی تھی 
 
گرد اڑاتے زرد بگولے در پر دستک دیتے تھے 
اور خستہ دیواروں کی پل بھر میں شکل بدلتی تھی 
 
خشک کھجور کے پتوں سے جب نیند کا بستر سجتا تھا 
خواب نگر کی شہزادی گلیوں میں آن نکلتی تھی 
 
دن  آتا تھا اور سینے میں شام کا خاکہ بنتا تھا   
شام آتی تھی اور جسموں میں شام بھی آخر ڈھلتی تھی
٭٭٭



خواب دیکھا تھا  دلنشیں میں نے 
بھر دیئے رنگ ہر کہیں  میں نے 
 
کوئی آیا ؟یہاں؟،نہیں؟ شاید!!
کس کو دیکھا ہے پھر یہیں میں نے؟
 
کوئی صورت ابھرتی رہتی ہے 
جس کو سوچا ابھی نہیں میں نے 
 
ایک دل تھا .نجانے کیسا ہو 
کھو دیا تھا یہیں کہیں میں نے 
 
باغ نادید کے احاطے سے 
چن لیا ہے گل یقیں میں نے 
 
در بدر ہوں تو کیا گلہ خود سے 
خود کو رکھا نہیں مکیں میں نے 
 
پھول کو چوم کر لگا ایسے 
جیسے چومی ہو وہ جبیں میں نے 
 
تو وہ سب خواب تھا کہانی تھی 
خود کو دیکھا تھا جب حسیں میں نے 
 
کیا بھلے دن تھے جنّتوں جیسے 
جب نہ دیکھی تھی یہ زمیں میں نے 
٭٭٭


سانس لیتی ہوئی صبحوں کا یقیں جاگتا ہے 
اس کا مطلب ہے وہ گل زاد کہیں جاگتا ہے 

سبز ہو گل کی تلاوت سے نمو پاتے ہوئے 
دیر تک مجھ میں ترا اسمِ مبیں جاگتا ہے 

اک سخن ہے جو پسِ حرفِ سخن زندہ ہے 
ایک غم ہے جو پسِ روئے حسیں جاگتا ہے 

خشک پتوں کی عزاداری شب کا منظر
اس کو کیسے نظر آئے جو نہیں جاگتا ہے 

بسترِ شب میں ترے خواب کی خوشبو بن کر
ہو بہو تجھ سا کوئی میرے قریں جاگتا ہے 

خاک ہوتے یہ پہاڑ اور سخن کرتے کواڑ
یہ بتاتے ہیں کوئی زیرِ زمیں جاگتا ہے 
٭٭٭



نجانے کون سی وحشت سے بھر گیا ہوں میں 
گل سفید کو چھوتے ہی ڈر گیا ہوں میں 

کہیں دکھائی نہیں دے رہا ہوں خود کو بھی 
تمہاری حد سے نکل کر کدھر گیا ہوں میں 

تمام عمر یہی اک گلہ رہا خود سے
تمام فیصلے عجلت میں کر گیا ہوں میں 

سفر سفر کوئی رہتا تھا ساتھ ساتھ مرے 
مگر یہ شام کہ تنہا ہی گھر گیا ہوں میں 

مراجعت پہ تہی دست ہوں مگر خوش ہوں 
گل دعا تری چوکھٹ پہ دھر گیا ہوں میں 

بدن کے قصر ملامت سے دور جاتے ہوے
تری طرف ہی گیا ہوں اگر گیا ہوں میں

اسے پکار رہا ہوں بڑے تسلسل سے
یہ اور بات کہ بیحد بکھر گیا ہوں میں

دھلی ہوئی تھی سڑک خامشی کی بارش میں 
"میں خود سے پوچھ رہا تھا ''ادھر گیا ہوں میں  

مجھے یقین ہے ،شاید، نہیں یقین مجھے 
میں مر رہا ہوں ،نہیں یار ! مر گیا ہوں میں 
٭٭٭


کمرہ 


اک کمرہ ہے 
اک خستہ بوسیدہ کمرہ
جس کی دیواروں پر چسپاں  
ٹوٹے خوابوں کی تصویریں  
تنہائی کو سینچ رہی ہیں 
خاک پہ لتھڑے فرش پہ لیٹی
صدیوں کے ابہام کی چادر  
گھور رہی ہے 
کونے میں احساس  کے ٹوٹے پھوٹے برتن 
گزرے وقت کی راکھ سمیٹے چپ بیٹھے ہیں 
الماری میں یادوں کی دو چار کتابیں پڑی ہوئی ہیں 
جن کو ہجر کی کالی دیمک رفتہ رفتہ چاٹ رہی ہے 
میز پہ رکھی لفظ کی گٹھڑی 
جس میں بند غموں کے نشتر  
اب تک سانس لئے جاتے ہیں 
بے تابی کے جالے بنتی 
وقت کی مکڑی 
دیواروں پر رینگ رہی ہے 
اشکوں کے دریا میں ڈوبا سانس کا تکیہ بھیگ رہا ہے 
ایک  ضعیف دعا کا پنکھا 
چھت پر اب بھی جھول رہا ہے 
بچپن کے صندوق میں بکھرے خواب کے کپڑے 
تعبیروں کے لمس کی خاطر 
درد کا گردا پھانک رہے ہیں 
روشن مستقبل کی کھڑکی 
اک عرصے سے بند پڑی ہے 
جبکہ دروازے پر لٹکا 
بن چابی کے 
خاموشی کا کالا تالہ
آس لگائے دیکھ رہا ہے !!... 
خوشیوں کے گمنام مسافر کب لوٹیں گے 
کب لوٹیں گے 
٭٭٭





ہمارے بس میں کیا ہے اور ہمارے بس میں کیا نہیں
جہانِ ہست و بود میں کسی پہ کچھ کھلا نہیں

حضورِ خواب دیر تک،کھڑا رہا سویر تک
نشیبِ قلب و چشم سے گزر ترا ہوا نہیں

نظر میں اک چراغ تھا،بدن میں ایک باغ تھا
چراغ و باغ ہو چکے ،کوئی رہا ؟ رہا نہیں

اجڑ گئیں حویلیاں ،چلی گئیں سہیلیاں
دلا ! تری قبیل سے کوئی بھی اب بچا نہیں

ہوس کی  رزم گاہ میں ،بدن کی کارگاہ میں
وہ شور  تھا کہ دور تک کسی نے کچھ  سنا نہیں

نجانے کتنے یگ ڈھلے،نجانے کتنے دکھ پلے
گھروں میں ہانڈیوں تلے ،کسی کو کچھ پتہ نہیں

وہ پیڑ جس کی چھاؤں میں،کٹی تھی عمر گاؤں میں
میں چوم چوم تھک گیا،مگر یہ دل بھرا نہیں
٭٭٭


خواب سے اور خواب کی پرواز سے
آنکھ واقف ہی نہیں اس راز سے

بالیاں کانوں کی آخر رو پڑیں
بج رہے تھے آئینے میں ساز سے

مجھ ورق پہ لکھ دیا حرفِ سکوت
دستِ غیبی نے کسی آواز سے

اے مرے کمرے کی چھت، یوں گھور مت
بات کوئی کر دلِ ناراض سے

ان بہشت آثار آنکھوں میں کہیں
دفن کر اس خاک کو اعزاز سے
٭٭٭



وہ نگہ جب مجھے پکارتی تھی
دل کی حیرانیاں ابھارتی تھی

اپنی نادیدہ انگلیوں کے ساتھ
میرے بالوں کو وہ سنوارتی تھی

روز میں اس کو جیت جاتا تھا
اور وہ روز خود کو   ہارتی تھی

پتیاں مسکرانے لگتی تھیں
شاخ سے پھول جب اتارتی تھی

جن دنوں میں اسے پکارتا تھا
ایک دنیا مجھے پکارتی تھی

صحن میں چھاؤں تھی درختوں کی
جو مری شاعری نکھارتی تھی

بارگاہوں میں غسل گریہ سے
روح اپنی تھکن اتارتی تھی

اک لگن تھی،چبھن تھی جو بھی تھی
روز سینے میں دن گزارتی تھی
٭٭٭





بیقراروں کی طرح اور سوگواروں کی طرح 
وہ نگاہیں لگ رہیں تھی آبشاروں کی طرح 

اب وہاں پر کوئی کھڑکی کوئی دروازہ نہ تھا 
شور تھا چڑیوں کا گھر میں یادگاروں کی طرح 

میں درختوں کی طرح سہما کھڑا تھا دشت میں 
کوئی مجھ کو دیکھتا تھا کوہساروں کی طرح 

دل کی ویرانی مسلسل دستکیں دیتی رہی  
میں نے دروازہ نہ کھولا اپنے یاروں کی طرح 

خود کو اپنی آنکھ سے کل رات میں دیکھا کیا  
دور سے میں لگ رہا تھا ریگزاروں کی طرح 

اسکے قدموں کا فقط اک لمس تھا جسکے طفیل 
ریت کے ذرے چمکتے تھے ستاروں کی طرح 

باغ نادیدہ کھلے گا آخرش ہم پر کبھی 
منظر خوش رنگ وا ہوگا سپاروں کی طرح 
٭٭٭



رائیگاں جسم کی شریعت سے
تھک گیا ہوں میں اس ریاضت سے 

میری آواز کیوں نہیں آتی 
چیخ اٹھتا ہوں جب مسرّت سے 

راستہ مل گیا حویلی کا 
اپنے ہونے کی ایک صورت سے 

دل نے دنیا خرید لینی تھی 
سانس لیتا اگر سہولت سے 

میں بھی کتنا عجیب دکھتا ہوں 
آج دیکھا ہے خود کو حیرت سے 

"ہائے وہ لوگ خوبصورت لوگ " 
جن کو دیکھا نہیں ہے مدت سے

آنکھ کھلنے لگی زمینوں کی 
گندمی دھوپ کی تمازت سے 

رنگ جاگے سفید آنکھوں میں 
شاخ پر پھول کی تلاوت سے 

جس محبّت سے پیڑ دیکھتے ہیں 
کوئی دیکھے تو اس محبّت سے 

یہ پرندے یہ ہجرتوں کے سفیر 
اڑ رہے ہیں فقط ضرورت سے 

گرتے جاتے ہیں پھول مٹی پر 
کوئی چنتا نہیں عقیدت سے 

کار دیگر تمام کرتے ہیں 
آج روتے ہیں پوری شدّت سے 

دیکھئے ،اک نظر تو دیکھئے نا
بجھ رہا ہوں میں کس اذیّت سے 

بس دلا ،آخری کلام،سلام 
تنگ آیا میں تجھ مصیبت سے 
٭٭٭



نئے گھرانے بسا رہے تھے 
چراغ بستی سے جا رہے تھے 

یتیم لگنے لگی تھی چھاؤں 
پرند وحشت منا رہے تھے 

جمی تھی گرد آئنوں کے اوپر 
ہم اپنی آنکھیں چھپا رہے تھے 

صدائے گریہ تھی باغ میں اور 
درخت پونجی لٹا رہے تھے 

صحیفے برسوں سے ان چھوئے تھے 
سو لوگ ان کو بھلا  رہے تھے 

سرائے ویراں تھی اور مسافر 
نہ آ رہے تھے نہ جا رہے تھے 

جدید ہوتے گلی محلے 
قدیم منظر دکھا رہے تھے 

حویلیوں کے کواڑ مجھ کو 
مری ہی دستک سنا رہے تھے 
٭٭٭


رشتہ جاں بحال بھی نئیں ہو
ہائے اس پر ملال بھی نئیں ہو؟ 

جی رہا ہوں کسی خیال کے تئیں
اور اگر وہ خیال بھی نئیں ہو؟

دل بضد ہو جواب سننے کو.
لب پہ لیکن سوال بھی نئیں ہو

اس سفر کی تھکان کیا کہیے 
جس سفر کا مآل بھی نئیں ہو 

عکس تیرا ہو چار سمتوں میں
کوئی تیری مثال بھی نئیں ہو

دل میں شوق نمو تو ہو لیکن 
صحن کی دیکھ بھال بھی نئیں ہو 

اپنی وحشت ہی بوجھ ہو جائے 
دل پہ اتنا وبال بھی نئیں ہو 

اک زمانہ ، کہ وجہ حیرت تھے 
خیر ، اب تو خیال بھی نئیں ہو 

معتبر ہو اگر مرا گریہ 
جسم تو جسم کھال بھی نئیں ہو 

رخت امید ہو بندھا میرا 
اور سفر کی مجال بھی نئیں ہو 
٭٭٭





گلی کا منظر بدل رہا تھا 
قدیم سورج نکل رہا تھا 

ستارے حیران ہو رہے تھے 
چراغ مٹی سے جل رہا تھا 

دکھائی دینے لگی تھی خوشبو 
میں پھول آنکھوں پہ مل رہا تھا 

گھڑے میں تسبیح کرتا پانی 
وضو کی خاطر اچھل رہا تھا 

شفیق پوروں کا لمس پا کر 
بدن صحیفے میں ڈھل رہا تھا

 دعائیں کھڑکی سے جھانکتی تھیں 
جب اپنے گھر سے نکل رہا تھا 

ضعیف انگلی کو تھام کر میں 
بڑی سہولت سے چل رہا تھا 

عجیب حسرت سے دیکھتا ہوں 
میں جن مکانوں میں کل رہا تھا
٭٭٭


ماخذ:
http://hammadniazi.blogspot.com
اور حماد نیازی کے کتاب چہرہ کے نوٹس سے
تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید
