﻿


چمنِ طیبہ



رضا بریلوی

ٹائپنگ، جمع و ترتیب: مہ جبین








اٹھا دو پردہ دکھا دو چہرہ کہ نور باری حجاب میں ہے
    زمانہ تاریک ہو رہا ہے کہ مہر کب سے نقاب میں ہے

    انہیں کی بو مایہ ٴ سمن ہے انہیں کا جلوہ چمن چمن ہے
    انہیں سے گلشن مہک رہے ہیں انہیں کی رنگت گلاب میں ہے

    سیاہ لباسانِ دارِ  دنیا و سبز پوشانِ  عرشِ اعلیٰ
    ہر اک ہے ان کے کرم کا پیاسا وہ فیض ان کی جناب میں ہے

    وہ گل ہیں لب ہائے نازک ان کے ہزاروں جھڑتے ہیں پھول جن سے
    گلاب گلشن میں دیکھے بلبل یہ دیکھ گلشن گلاب میں ہے

    جلی ہے سوز جگر سے جاں تک ہے طالبِ جلوہٴ مبارک
    دکھا دو وہ لب کہ آب حیواں کا لطف جن کے خطاب میں ہے

    کھڑے ہیں منکر نکیر سر پر نہ کوئی حامی نہ کوئی یاور
    بتا دو آ کر مرے پیمبر کہ سخت مشکل جواب میں ہے

    خدائے قہار ہے غضب پر کھلے ہیں بد کاریوں کے دفتر
    بچا لو آ کر شفیعِ محشر تمہارا بندہ عذاب میں ہے

    کریم ایسا ملا کہ جس کے کھلے ہیں ہاتھ اور بھرے خزانے
    بتاؤ اے مفلسو کہ پھر کیوں تمہارا دل اضطراب میں ہے

    گنہ کی تاریکیاں یہ چھائیں امنڈ کے کالی گھٹائیں آئیں
    خدا کے خورشید مہر فرما کہ ذرہ بس اضطراب میں ہے

    کریم اپنے کرم کا صدقہ لئیمِ بے قدر کو نہ شرما
    تو اور رضا سے حساب لینا رضا بھی کوئی حساب میں ہے
٭٭٭



چمنِ طیبہ میں سنبل جو سنوارے گیسو
حور بڑھ کر شکنِ ناز پہ وارے گیسو

ہم سیہ کاروں پہ یارب تپشِ محشر میں
سایہ افگن ہوں ترے پیارے کے پیارے گیسو

آخرِ حج غمِ الفت سے پریشاں ہو کر
تیرہ بختوں کی شفاعت کو سدھارے گیسو

سوکھے دھانوں پہ ہمارے بھی کرم ہو جائے
چھائے رحمت کی گھٹا بن کے تمہارے گیسو

بھینی خوشبو سے مہک جاتی ہیں گلیاں واللہ
کیسے پھولوں میں بسائے ہیں تمہارے گیسو

تیل کی بوندیں ٹپکتی نہیں بالوں سے رضا
صبحِ عارض پہ لٹاتے ہیں ستارے گیسو		٭٭٭



نعمتیں بانٹتا جس سمت وہ ذیشان گیا
ساتھ ہی منشیِ رحمت کا قلمدان گیا

لے خبر جلد کہ اوروں کی طرف دھیان گیا
میرے مولیٰ مِرے آقا ترے قربان گیا

آہ وہ آنکھ کہ ناکامِ تمنّا ہی رہی
ہائے وہ دل جو تِرے در سے پُر ارمان گیا

دل ہے وہ دل جو تِری یاد سے معمور رہا
سر ہے وہ سر جو ترے قدموں پہ قربان گیا

اُنہیں جانا، اُنہیں مانا نہ رکھا غیر سے کام
للہِ الحمد میں دنیا سے مسلمان گیا

اور تم پر مِرے آقا کی عنایت نہ سہی
نجدیو! کلمہ پڑھانے کا بھی احسان گیا

آج لے اُن کی پناہ ، آج مدد مانگ ان سے
پھر نہ مانیں گے قیامت میں اگر مان گیا

اُف رے منکر یہ بڑھا جوشِ تعصب آخر
بھِیڑ میں ہاتھ سے کم بخت کے ایمان گیا

جان و دل ہوش و خرد سب تو مدینے پہنچے
تم نہیں چلتے رضا ، سارا تو سامان گیا
 ٭٭٭



بندہ ملنے کو قریبِ حضرتِ قادر گیا
لمعۂ  باطن میں گمنے جلوۂ  ظاہر گیا

تیری مرضی پا گیا ، سورج پھرا الٹے قدم
تیری انگلی اٹھ گئی مہ کا کلیجہ چِر گیا

بڑھ چلی تیری ضیا اندھیر عالم سے گھٹا
کھل گیا گیسو ترا رحمت کا بادل گھر گیا

بندھ گئی تیری ہوا سادہ میں خاک اڑنے لگی
بڑھ چلی تیری ضیا آتش پہ پانی پھر گیا

تیری رحمت سے صفی اللہ کا بیڑا پار تھا
تیرے صدقے سے نجی اللہ بجرا تِر گیا

تیری آمد تھی کہ بیت اللہ مجرے کو جھکا
تیری ہیبت تھی کہ ہر بت تھر تھرا کر گر گیا

مومن اُن کا کیا ہوا اللہ اُس کا ہو گیا
کافر اُن سے کیا پھرا ، اللہ ہی سے پھر گیا

وہ کہ اُس در کا ہوا خلقِ خدا اُس کی ہوئی
وہ کہ اُس در سے پھرا ، اللہ اُس سے پھر گیا

مجھ کو دیوانہ بتاتے ہو میں وہ ہشیار ہوں
پاؤں جب طوفِ حرم میں تھک گئے سَر پھر گیا

رحمۃ للعالمین آفت میں ہوں کیسے کروں
میرے مولیٰ میں تو اس دل سے بَلا میں گھر گیا

میں ترے ہاتھوں کے صدقے کیسی کنکریاں تھیں وہ
جن سے اتنے کافروں کا دفعتاً منہ پھر گیا

کیوں جنابِ بو ہریرہ تھا وہ کیسا جامِ شیر
جس سے ستّر صاحبوں کا دودھ سے منہ پھر گیا

واسطہ پیارے کا ایسا ہو کہ جو سُنّی مرے
یوں نہ فرمائیں تِرے شاہد کہ وہ فاجِر گیا

عرش پر دھومیں مچیَں وہ مومنِ صالح ملا
فرش سے ماتم اٹھے وہ طیّب و طاہر گیا

اللہ اللہ یہ علوئے خاص عبدیت رضا
بندہ ملنے کو قریبِ حضرتِ قادر گیا

ٹھوکریں کھاتے پھرو گے، اُنکے در پر پڑ رہو
قافلہ تو اے رضا ، اول گیا آخر گیا
٭٭٭



حرزِ جاں ذکرِ شفاعت کیجئے
نار سے بچنے کی صورت کیجئے

اُن کے نقشِ پا پہ غیرت کیجئے
آنکھ سے چھپ کر زیارت کیجئے

اُن کے حسنِ با ملاحت پر نثار
شیرۂ جاں کی حلاوت کیجئے

اُن کے در پر جیسے ہو مٹ جائیے
ناتوانو! کچھ تو ہمت کیجئے

پھیر دیجئےپنجۂ  دیوِ لعیں
مصطفےٰ کے بل پہ طاقت کیجئے

ڈوب کر یادِ لبِ شاداب میں
آبِ کوثر کی صباحت کیجئے

یادِ قامت کرتے اٹھئے  قبر سے
جانِ محشر پر قیامت کیجئے

اُن کے در پر بیٹھئے بن کر فقیر
بے نواؤ فکرِ ثروت کیجئے

جس کا حسن اللہ کو بھی بھا گیا
ایسے پیارے سے محبت کیجئے

حیّ باقی جس کی کرتا ہے ثنا
مرتے دم تک اس کی مدحت کیجئے

عرش پر جس کی کمانیں چڑھ گئیں
صدقے اس بازو پہ قوت کیجئے

نیم وا طیبہ کے پھولوں پر ہو آنکھ
بلبلو! پاسِ نزاکت کیجئے

سر سے گرتا ہے ابھی بارِ گناہ
خم ذرا فرقِ ارادت کیجئے

آنکھ تو اٹھتی نہیں کیا دیں جواب
ہم پہ بے پرسش ہی رحمت کیجئے

عذر بد تر از گناہ کا ذکر کیا
بے سبب ہم پر عنایت کیجئے

نعرہ کیجے یا رسول اللہ کا
مفلسو! سامانِ دولت کیجئے

ہم تمہارے ہوکے کس کے پاس جائیں
صدقہ شہزادوں کا رحمت کیجئے

عالِمِ علمِ دو عالَم ہیں حضور
آپ سے کیا عرضِ حاجت کیجئے

آپ سلطانِ جہاں ہم بے نوا
یاد ہم کو وقتِ نعمت کیجئے

تجھ سے کیا کیا اے مرے طیبہ کے چاند
ظلمتِ غم کی شکایت کیجئے

دربدر کب تک پھریں خستہ خراب
طیبہ میں مدفن عنایت کیجئے

ہر برس وہ قافلوں کی دھوم دھام
آہ سنئے اور غفلت کیجئے

پھر پلٹ کر منہ نہ اُس جانب کیا
سچ ہے اور دعوائے الفت کیجئے

اقربا حُبِّ وطن بے ہمتی
آہ کس کس کی شکایت کیجئے

اب تو آقا منہ دکھانے کا نہیں
کس طرح رفعِ ندامت کیجئے

اپنے ہاتھوں خود لٹا بیٹھے ہیں گھر
کس پہ دعوائے بضاعت کیجئے

کس سے کہئے کیا کِیا کیا ہو گیا
خود ہی اپنے پر ملامت کیجئے

عرض کا بھی اب تو منہ پڑتا نہیں
کیا علاجِ دردِ فرقت کیجئے

اپنی اک میٹھی نظر کے شہد سے
چارۂ  زہرِ مصیبت کیجئے

دے خدا ہمت کہ یہ جانِ حزیں
آپ پر واریں وہ صورت کیجئے

آپ ہم سے بڑھ کے ہم پر مہرباں
ہم کریں جرم آپ رحمت کیجئے

جو نہ بھولا ہم غریبوں کو رضا
یاد اس کی اپنی عادت کیجئے
٭٭٭



واہ کیا جود و کرم ہے شہِ بطحا تیرا
نہیں سنتا ہی نہیں مانگنے والا تیرا

دھارے چلتے ہیں عطا کے وہ ہے قطرہ تیرا
تارے کھلتے ہیں سخا کے وہ ہے ذرّہ تیرا

اغنیا پلتے ہیں در سے وہ ہے باڑہ تیرا
اصفیا چلتے ہیں سر سے وہ ہے رستہ تیرا

فرش والے تیری شوکت کا علو کیا جانیں
خسروا عرش پہ اڑتا ہے پھریرا تیرا

آسماں خوان، زمیں خوان، زمانہ مہمان
صاحبِ خانہ لقب کس کا ہے تیرا تیرا

میں تو مالک ہی کہوں گا کہ ہو مالک کے حبیب
یعنی محبوب و محب میں نہیں میرا تیرا

تیرے قدموں میں جو ہیں غیر کا منہ کیا دیکھیں
کون نظروں پہ چڑھے دیکھ کے تلوا تیرا

چور حاکم سے چھپا کرتے ہیں یاں اسکے خلاف
تیرے دامن میں چھپے چور انوکھا تیرا

دل عبث خوف سے پتّہ سا اڑا جاتا ہے
پلّہ ہلکا سہی بھاری ہے بھروسہ تیرا

ایک میں کیا میرے عصیاں کی حقیقت کتنی
مجھ سے سو لاکھ کو کافی ہے بھروسہ تیرا

تیرے ٹکڑوں پہ پلے غیر کی ٹھوکر پہ نہ ڈال
جھڑکیاں کھائیں کہاں چھوڑ کے صدقہ تیرا

تُو جو چاہے تو ابھی میل میرے دل کے دھلیں
کہ خدا دل نہیں کرتا کبھی میلا تیرا

تیرے صدقے مجھے اک بوند بہت ہے تیری
جس دن اچھوں کو ملے جام چھلکتا تیرا

تیری سرکار میں لاتا ہے رضا اس کو شفیع
جو مِرا غوث ہے اور لاڈلا بیٹا تیرا
٭٭٭



پوچھتے کیا ہو عرش پر یوں گئے مصطفیٰ کہ یوں
کیف کے پر جہاں جلیں کوئی بتائے کیا کہ یوں

قصرِ دنیٰ کے راز میں عقلیں تو گم ہیں جیسی ہیں
روحِ قدس سے پوچھئے تم نے بھی کچھ سنا کہ یوں

میں نے کہا کہ جلوۂ اصل میں کس طرح گُمیں
صبح نے نورِ مہر میں مٹ کے دکھا دیا کہ یوں

ہائے رے ذوقِ بے خودی، دل جو سنبھلنے سا لگا
چھک کے مہک میں پھول کی گرنے لگی صبا کہ یوں

دل کو دے نور و داغِ عشق، پھر میں فدا دونیم کر
مانا ہے سن کے شقِ ماہ، آنکھوں سے اب دکھا کہ یوں

دل کو ہے فکر کس طرح مُردے جِلاتے ہیں حضور
اے میں فدا لگا کے ایک ٹھوکر اُسے بتا کہ یوں

باغ میں شکرِ وصل تھا، ہجر میں ہائے ہائے گُل
کام ہے ان کے ذکر سے ،خیر وہ یوں ہوا کہ یوں

جو کہے شعر و پاسِ شرع، دونوں کا حسن کیونکر آئے
لا اسے پیشِ جلوہ زمزمۂ  رضا کہ یوں
٭٭٭



لطف اُن کا عام ہو ہی جائے گا
شاد ہر ناکام ہو ہی جائے گا

جان دے دو وعدۂ  دیدار پر
نقد اپنا دام ہو ہی جائے گا

یاد رہ جائیں گی یہ بے باکیاں
نفس تُو تو رام ہو ہی جائے گا

ایک دن آواز بدلیں گے یہ ساز
چہچہا کہرام ہو ہی جائے گا

سائلو! دامن سخی کا تھام لو
کچھ نہ کچھ انعام ہو ہی جائے گا

مفلسو ! ان کی گلی میں جا پڑو
باغِ خلد اکرام ہو ہی جائے گا

مِٹ کہ گر یونہی رہا قرضِ حیات
جان کا نیلام ہو ہی جائے گا

اب تو لائی ہے شفاعت عفو پر
بڑھتے بڑھتے عام ہو ہی جائے گا

اے رضا ہر کام کا اک وقت ہے
دل کو بھی آرام ہو ہی جائے گا
٭٭٭



سر تا بہ قدم ہے تنِ سلطانِ زمن پھول
لب پھول ، دہن پھول، ذقن پھول بدن پھول

صدقے میں ترے باغ تو کیا لائے ہیں بن پھول
اس غنچۂ  دل کو بھی تو ایما ہو کہ بن پھول

تنکا بھی ہمارے تو ہِلائے نہیں ہلتا
تم چاہو تو ہو جائے ابھی کوہِ محن پھول

واللہ جو مل جائے مرے گُل کا پسینہ
مانگے نہ کبھی عطر نہ پھر چاہے دلہن پھول

ہوں بارِ گنہ سے نہ خجل دوشِ عزیزاں
للہ مری نعش کر اے جانِ چمن پھول

دل اپنا بھی شیدائی ہے اُس ناخنِ پا کا
اتنا بھی مہِ نَو پہ نہ اے چرخِ کہن پھول

کیا غازہ مَلا گردِ مدینہ کا جو ہے آج
نکھرے ہوئے جوبن میں قیامت کی پھبن پھول

گرمی یہ قیامت ہے کہ کانٹے ہیں زباں پر
بلبل کو بھی اے ساقی صہبا و لبن پھول

ہے کون کہ گریہ کرے یا فاتحہ کو آئے
بیکس کہ اٹھائے تری رحمت کے بھرن پھول

دل غم تجھے گھیرے ہیں خدا تجھ کو وہ چمکائے
سورج ترے خرمن کو بنے تیری کرن پھول

کیا بات رضا اُس چمنستانِ کرم کی
زہرا ہے کلی جس میں حسین اور حسن پھول
٭٭٭



معراج نامہ


وہ سرورِ کشورِ رسالت جو عرش پر جلوہ گر ہوئے تھے
نئے نرالے طرب کے ساماں عرب کے مہمان کے لئے تھے

بہار ہے شادیاں مبارک، چمن کو آبادیاں مبارک
مَلَک فلک اپنی اپنی لَے میں یہ گھُر عنادل کا بولتے تھے

وہاں فلک پر یہاں زمیں میں رچی تھی شادی مچی تھیں دھومیں
اُدھر سے انوار ہنستے آتے، اِدھر سے نفخات اٹھ رہے تھے

یہ چھوٹ پڑتی تھی اُن کے رخ کی ، کہ عرش تک چاندنی تھی چٹکی
وہ رات کیا جگمگا رہی تھی جگہ جگہ نصب آئنے تھے

نئی دلہن کی پھَبن میں کعبہ نکھر کے سنورا، سنور کے نکھرا
حَجر کے صدقے کمر کے اک تِل میں رنگ لاکھوں بناؤ کے تھے

نظر میں دولہا کے پیارے جلوے، حیا سے محراب سر جھکائے
سیاہ پردے کے منہ پر آنچل، تجلیِ ذات بحت سے تھے

خوشی کے بادل امنڈ کے آئے، دلوں کے طاؤس رنگ لائے
وہ نغمۂ  نعت کا سماں تھا، حرم کو خود وجد آرہے تھے

یہ جھوما میزابِ زر کا جھومر کہ آ رہا کان پر ڈھلک کر
پھوہار برسی تو موتی جھڑ کر حطیم کی گود میں بھرے تھے

دلہن کی خوشبو سے مست کپڑے ، نسیم گستاخ آنچلوں سے
غلافِ مشکیں جو اڑ رہا تھا ، غزال نافے بسا رہے تھے

پہاڑیوں کا وہ حسنِ تزئیں ، وہ اونچی چوٹی وہ ناز و تمکیں !
صبا سے سبزہ میں لہریں آتیں ، دوپٹے دھانی چنے ہوئے تھے

نہا کے نہروں نے وہ چمکتا لباس آبِ رواں کا پہنا
کہ موجیں چھڑیاں تھیں دھار لچکا، حبابِ تاباں کے تھل ٹکے تھے

پرانا پُر داغ ملگجا تھا، اٹھا دیا فرش چاندنی کا
ہجومِ تارِ نگہ سے کوسوں ، قدم قدم فرش بادلے تھے

غبار بن کر نثار جائیں ، کہاں اب اُس رہگزر کو پائیں
ہمارے دل حوریوں کی آنکھیں ، فرشتوں کے پَر جہاں بچھے تھے

خدا ہی دے صبر جانِ پُر غم، دکھاؤں کیونکر تمہیں وہ عالَم
جب اُنکو جھرمٹ میں لے کے قدسی ، جناں کا دولہا بنا رہے تھے

اتار کر انکے رخ کا صدقہ، یہ نور کا بٹ رہا تھا باڑا
کہ چاند سورج مچل مچل کر جبیں کی خیرات مانگتے تھے

وہی تو اب تک چھلک رہا ہے ، وہی تو جوبن ٹپک رہا ہے
نہانے میں جو گرا تھا پانی کٹورے تاروں نے بھر لئے تھے

بچا جو تلووں کا اُنکے دھوون، بنا وہ جنت کا رنگ و روغن
جنہوں نے دولہا کی پائی اُترن، وہ پھول گلزارِ نور کے تھے

خبر یہ تحویلِ مہر کی تھی کہ رُت سہانی گھڑی پھرے گی
وہاں کی پوشاک زیبِ تن کی ، یہاں کا جوڑا بڑھا چکے تھے

تجلیِ حق کا سہرا سر پر، صلوٰۃ و تسلیم کی نچھاور
دو رویہ قدسی پَرے جما کر، کھڑے سلامی کے واسطے تھے

جو ہم بھی واں ہوتے خاکِ گلشن، لپٹ کے قدموں سے لیتے اُترن
مگر کریں کیا نصیب میں تو یہ نامرادی کے دن لکھے تھے

ابھی نہ آئے تھے پشتِ زیں تک، کہ سَر ہوئی مغفرت کی شلّک
صدا شفاعت نے دی مبارک، گناہ مستانہ جھومتے تھے

عجب نہ تھا رخش کا چمکنا، غزالِ دم خوردہ سا بھڑکنا
شعاعیں بکے اڑا رہی تھیں، تڑپتے آنکھوں پہ صاعقے تھے

ہجومِ امید ہے گھٹاؤ، مرادیں دے کر انھیں ہٹاؤ
ادب کی باگیں لئے بڑھاؤ، ملائکہ میں یہ غلغلے تھے

اٹھی جو گردِ رہِ منور، وہ نور برسا کہ راستے بھر
گھرے تھے بادل بھرے تھے جل تھل، امنڈ کے جنگل اُبل رہے تھے

ستم کِیا کیسی مت کٹی تھی، قمر وہ خاک اُنکے رہ گزر کی
اٹھا نہ لایا کہ مَلتے مَلتے، یہ داغ سب دیکھتا مِٹے تھے

براق کے نقشِ سُم کے صدقے، وہ گُل کھلائے کہ سارے رستے
مہکتے گُلبن ، لہکتے گلشن، ہرے بھرے لہلہا رہے تھے

نمازِ اقصیٰ میں تھا یہی سِر، عیاں ہوں معنیِ اول آخر
کہ دست بستہ ہیں پیچھے حاضر، جو سلطنت آگے کر گئے تھے

یہ اُن کی آمد کا دبدبہ تھا، نکھار ہر شےَ کا ہو رہا تھا
نجوم و افلاک ، جام و مینا، اجالتے تھے کھنگالتے تھے

نقاب اُلٹے وہ مہرِ انور، جلال رخسار گرمیوں پر
فلک کو ہیبت سے تپ چڑھی تھی، تپکتے انجم کے آبلے تھے

یہ جوششِ نور کا اثر تھا، کہ آبِ گوہر کمر کمر تھا
صفائے رہ سے پھسل پھسل کر، ستارے قدموں پہ لَوٹتے تھے

بڑھا یہ لہرا کے بحرِ وحدت، کہ دھل گیا نامِ ریگِ کثرت
فلک کے ٹیلوں کی کیا حقیقت، یہ عرش و کرسی دو بلبلے تھے

وہ ظلِّ رحمت وہ رخ کے جلوے کہ تارے چھپتے نہ کھلنے پاتے
سنہری زربفت، اودی اطلس، یہ تھان سب دھوپ چھاؤں کے تھے

چلا وہ سروِ چماں خراماں نہ رک سکا سدرہ سے بھی داماں
پلک جھپکتی رہی وہ کب کے ، سب این و آں سے گزر چکے تھے

جھلک سی اک قدسیوں پہ آئی ، ہوا بھی دامن کی پھر نہ پائی
سواری دولہا کی دور پہنچی، برات میں ہوش ہی گئے تھے

تھکے تھے روح الامیں کے بازو، چھڑا وہ دامن کہاں وہ پہلو
رکاب چھوٹی، امید ٹوٹی،نگاہِ حسرت کے ولولے تھے

روش کی گرمی کو جس نے سوچا، دماغ سے اک بھبوکا پھوٹا
خرد کے جنگل میں پھول چمکا، دَہر دَہر پیڑ جل رہے تھے

جِلو میں جو مرغِ عقل اڑے تھے، عجب برے حالوں گرتے پڑتے
وہ سدرہ ہی پر رہے تھے تھک کر، چڑھا تھا دَم تیور آ گئے تھے

قوی تھے مرغانِ وہم کے پَر، اڑے تو اڑنے کو اور دَم بھر
اٹھائی سینے کی ایسی ٹھوکر، کہ خونِ اندیشہ تھوکتے تھے

سنا یہ اتنے میں عرشِ حق نے کہ لے مبارک ہوں تاج والے
وہی قدم خیر سے پھر آئے، جو پہلے تاجِ شرف تِرے تھے

یہ سن کے بے خود پکار اٹھا، نثار جاؤں کہاں ہیں آقا
پھر اُنکے تلووں کا بوسہ پاؤں، یہ میری آنکھوں کے دن پھرے تھے

جھکا تھا مجرے کو عرشِ اعلیٰ، گرے تھے سجدے میں بزمِ بالا
یہ آنکھیں قدموں سے مَل رہا تھا، وہ گِرد قربان ہو رہے تھے

ضیائیں کچھ عرش پر یہ آئیں، کہ ساری قندیلیں جھلملائیں
حضورِ خورشید کیا چمکتے ، چراغ منہ اپنا دیکھتے تھے

یہی سماں تھا کہ پیکِ رحمت، خبر یہ لایا کہ چلئے حضرت
تمہاری خاطر کشادہ ہیں جو کلیم پر بند راستے تھے

بڑھ اے محمد قریں ہو احمد، قریب آ سرورِ ممجّد
نثار جاؤں یہ کیا ندا تھی،یہ کیا سماں تھا ، یہ کیا مزے تھے

تبارک اللہ شان تیری، تجھی کو زیبا ہے بے نیازی
کہیں تو وہ جوشِ لَن تَرانی،کہیں تقاضے وصال کے تھے

خِرد سے کہہ دو کہ سر جھکا لے، گماں سے گزرے گزرنے والے
پڑے ہیں یاں خود جہت کو لالے، کسے بتائے کدھر گئے تھے

سراغِ این و متیٰ کہاں تھا، نشانِ کیف و اِلیٰ کہاں تھا
نہ کوئی راہی نہ کوئی ساتھی، نہ سنگِ منزل نہ مرحلے تھے

اُدھر سے پیہم تقاضے آنا، اِدھر تھا مشکل قدم بڑھانا
جلال و ہیبت کا سامنا تھا، جمال و رحمت ابھرتے تھے

بڑھے تو لیکن جھجھکتے ڈرتے، حیا سے جھکتے ادب سے رکتے
جو قُرب اُنھی کی روش پہ رکھتے، تو لاکھوں منزل کے فاصلے تھے

پر اُن کا بڑھنا تو نام کو تھا، حقیقتاً فعل تھا اُدھر کا
تنَزّلوں میں ترقی افزا، دَنیٰ تَدَلےٰ کے سلسلے تھے

ہوا نہ آخر کہ ایک بجرا ، تمّوجِ بحرِ ہُو میں ابھرا
دَنیٰ کی گودی میں اُن کو لیکر، فنا کے لنگر اٹھا دئے تھے

کسے مِلے گھاٹ کا کنارا کدھر سے گزرا کہاں اتارا
بھرا جو مثلِ نظر طرارا، وہ اپنی آنکھوں سے خود چھپے تھے

اٹھے جو قصرِ دَنیٰ کے پردے ، کوئی خبر دے تو کیا خبر دے
وہاں تو جا ہی نہیں دوئی کی ، نہ کہہ کہ وہ بھی نہ تھے ارے تھے

وہ باغ کچھ ایسا رنگ لایا، کہ غنچہ و گُل کا فرق اٹھایا
گرہ میں کلیوں کی باغ پھولے ، گُلوں کے تکمے لگے ہوئے تھے

محیط و مرکز میں فرق مشکل، رہے نہ فاصل خطوط واصل
عجب گھڑی تھی کہ وصل و فرقت جنم کے بچھڑے گَلے مِلے تھے

زبانیں سوکھی دکھا کے موجیں تڑپ رہی تھیں کہ پانی پائیں
بھنور کو یہ ضعفِ تشنگی تھا کہ حلقے آنکھوں میں پڑ گئے تھے

وہی ہے اوّل وہی ہے آخر ، وہی ہے باطن وہی ہے ظاہر
اُسی کے جلوے، اُسی سے مِلنے، اُسی سے اُس کی طرف گئے تھے

کمان امکاں کے جھوٹے نقطو ، تم اوّل آخر کے پھیر میں ہو
محیط کی چال سے تو پوچھو، کدھر سے آئے کدھر گئے تھے

اُدھر سے تھیں نذرِ شہ نمازیں، اِدھر سے انعامِ خسروی میں
سلام و رحمت کے ہار گندھ کر ، گلوئے پُر نور میں پڑے تھے

زبان کو انتظارِ گفتن تو گوش کو حسرتِ شنیدن
یہاں جو کہنا تھا کہہ لیا تھا، جو بات سننی تھی سُن چکے تھے

وہ برج بطحا کا ماہ پارہ، بہشت کی سیر کو سدھارا
چمک پہ تھا خلد کا ستارہ ، کہ اس قمر کے قدم گئے تھے

سرور مقدم کی روشنی تھی، کہ تابشوں سے مہِ عرب کی
جناں کے گلشن تھے جھاڑ فرشی ، جو پھول تھے سب کنول بنے تھے

طرب کی نازش کہ ہاں لچکیے ، ادب وہ بندش کہ ہِل نہ سکیے
یہ جوش ضدّین تھا کہ پودے ، کشا کشِ ارّہ کے تلے تھے

خدا کی قدرت کہ چاند حق کے ، کروڑوں منزل میں جلوہ کر کے
ابھی نہ تاروں کی چھاؤں بدلی، کہ نور کے تڑکے آ لیے تھے

نبیِ رحمت شفیعِ امّت ، رضا پہ للہ ہو عنایت
اِسے بھی اُن خلعتوں سے حصہ، جو خاص رحمت کے واں بٹے تھے

ثنائے سرکار ہے وظیفہ، قبولِ سرکار ہے تمنّا
نہ شاعری کی ہوس نہ پرواہ ، ردی تھی کیا کیسے قافیے تھے
٭٭٭



غم ہو گئے بے شمار آقا
بندہ تیرے نثار آقا

بگڑا جاتا ہے کھیل میرا
آقا آقا سنوار آقا

منجدھار پہ آ کے ناؤ ٹوٹی
دے ہاتھ کہ ہوں میں پار آقا

ٹوٹی جاتی ہے پیٹھ میری
للہ یہ بوجھ اتار آقا

ہلکا ہے اگر ہمارا پلّہ
بھاری ہے تیرا وقار آقا

مجبور ہیں ہم تو فکر کیا ہے
تم کو تو ہے اختیار آقا

میں دور ہوں تم تو ہو مِرے پاس
سن لو میری پکار آقا

مجھ سا کوئی غم زدہ نہ ہو گا
تم سا نہیں غم گسار آقا

گرداب میں پڑ گئی ہے کشتی
ڈوبا ڈوبا ، اتار آقا

تم وہ کہ کرم کو ناز تم سے
میں وہ کہ بدی کو عار آقا

پھر منہ نہ پڑے کبھی خزاں کا
دے دے ایسی بہار آقا

جس کی مرضی خدا نہ ٹالے
میرا ہے وہ نامدار آقا

سویا کیے نابکار بندے
رویا کیے زار زار آقا

اُن کے ادنیٰ گدا پہ مٹ جائیں
ایسے ایسے ، ہزار آقا

اتنی رحمت رضا پہ کر لو
لا یَقرُبُہُ البَوار آقا
٭٭٭



راہِ عرفاں سے جو ہم نادیدہ رو محرم نہیں
مصطفےٰ ہے مسندِ ارشاد پر کچھ غم نہیں

ہوں مسلماں گرچہ ناقص ہی سہی اے کاملو !
ماہیت پانی کی آخر یم سے نم میں کم نہیں

غنچے ما اَوحیٰ کے جو چٹکے دَنیٰ کے باغ میں
بلبلِ سدرہ تک اُنکی بُو سے بھی محرم نہیں

اُس میں زم زم ہے کہ تھم تھم ، اس میں جم جم ہے کہ بیش
کثرتِ کوثر میں زم زم کی طرح کم کم نہیں

پنجۂ  مہرِ عرب ہے جس سے دریا بہہ گئے
چشمۂ  خورشید میں تو نام کو بھی نم نہیں

ایسا اُمّی کس لئے منت کشِ استاد ہو
کیا کفایت اُس کو اِقرَا  َربُّکَ اَلاَکرَم نہیں

اوس مہرِ حشر پر پڑ جائے پیاسو تو سہی
اُس گُلِ خنداں کا رونا گریۂ  شبنم نہیں

ہے اُنہی کے دم قدم کی باغِ عالم میں بہار
وہ نہ تھے عالم نہ تھا، گر وہ نہ ہوں عالم نہیں

سایۂ  دیوار و خاکِ در ہو یارب اور رضا
خوہشِ دیہیم قیصر شوقِ تختِ جم نہیں
٭٭٭



رُخ دن ہے یا مہرِ سما ، یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں
شب زلف یا مشکِ ختا ، یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں

ممکن میں یہ قدرت کہاں واجب میں عبدیت کہاں
حیراں ہوں یہ بھی ہے خطا ، یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں

حق یہ کہ ہیں عبدِ اِلٰہ، اور عالمِ امکاں کے شاہ
برزخ ہیں وہ سرِّ خدا ، یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں

بلبل نے گُل اُن کو کہا، قمری نے سروِ جانفزا
حیرت نے جھنجھلا کر کہا، یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں

خورشید تھا کس زور پر، کیا بڑھ کے چمکا تھا قمر
بے پردہ جب وہ رُخ ہوا، یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں

ڈر تھا کہ عصیاں کی سزا اب ہو گی یا روزِ جزا
دی اُن کی رحمت نے صدا، یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں

کوئی ہے نازاں زہد پر ، یا حسن توبہ ہے سِپر
یاں فقط تیری عطا ، یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں

دن لَہَو میں کھونا تجھے ، شب صبح تک سونا تجھے
شرمِ نبی خوفِ خدا، یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں

رزقِ خدا کھایا کِیا ، فرمانِ حق ٹالا کِیا
شکرِ کرم ترسِ سزا ، یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں

ہے بلبلِ رنگیں رضا یا طُوطیِ نغمہ سرا
حق یہ کہ واصف ہے ترا، یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں
٭٭٭



پھر اٹھا ولولۂ  یادِ مغیلانِ عرب
پھر کھنچا دامنِ دل سوئے بیابانِ عرب

باغِ فردوس کو جاتے ہیں ہزارانِ عرب
ہائے صحرائے عرب ہائے بیابانِ عرب

میٹھی باتیں تری دینِ عجم ایمانِ عرب
نمکیں حسن ترا جانِ عجم شانِ عرب

اب تو ہے گریۂ  خوں گوہرِ دامانِ عرب
جس میں دو لعل تھے زہرا کے وہ تھی کانِ عرب

دل وہی دل ہے جو آنکھوں سے ہو حیرانِ عرب
آنکھیں وہ آنکھیں ہیں جو دل سے ہوں قربانِ عرب

ہائے کس وقت لگی پھانس اَلم کی دل میں
کہ بہت دور ہے خارِ مغیلانِ عرب

فصلِ گل لاکھ نہ ہو وصل کی رکھ آس ہزار
پھولتے پھلتے ہیں بے فصل گلستانِ عرب

صدقے ہونے کو چلے آتے ہیں لاکھوں گلزار
کچھ عجب رنگ سے پھولا ہے گلستانِ عرب

عندلیبی پہ جھگڑتے ہیں کٹے مرتے ہیں
گل و بلبل کو لڑاتا ہے گلستانِ عرب

صدقے رحمت کے کہاں پھول کہاں خار کا کام
خود ہے دامن کشِ بلبل گلِ خندانِ عرب

چرچے ہوتے ہیں یہ کمھلائے ہوئے پھولوں میں
کیوں یہ دن دیکھتے پاتے جو بیابانِ عرب

شادیِ حشر ہے صدقے میں چھٹیں گے قیدی
عرش پر دھوم سے ہے دعوتِ مہمانِ عرب

تیرے بے دام کے بندے ہیں رئیسانِ عرب
تیرے بے دام کے بندی ہیں ہزارانِ عرب

ہشت خلد آئیں وہاں کسبِ لطافت کو رضا
چار دن برسے جہاں ابرِ بہارانِ عرب
٭٭٭





قافلے نے سوئے طیبہ کمر آرائی کی
مشکل آسان الٰہی مری تنہائی کی

لاج رکھ لی طمعِ عَفو کے سودائی کی
اے میں قرباں مرے آقا بڑی آقائی کی

فرش تا عرش سب آئینہ ضمائر حاضر
بس قسم کھائیے اُمّی تری دانائی کی

شش جہت سمت مقابل ، شب و روز ایک ہی حال
دھوم والنجم میں ہے آپ کی بینائی کی

پانچ سو سال کی راہ ایسی ہے جیسے دو گام
آس ہم کو بھی لگی ہے تری شنوائی کی

چاند اشارے کا ہلا حکم کا باندھا سورج
واہ کیا بات شہا تیری توانائی کی

تنگ ٹھہری ہے رضا جس کے لئے وسعتِ عرش
بس جگہ دل میں ہے اس جلوۂ  ہرجائی کی
٭٭٭



پاٹ وہ کچھ دھار یہ کچھ زار ہم
یا الٰہی کیونکر اتریں پار ہم

کس بلا کی مے سے ہیں سرشار ہم
دن ڈھلا ہوتے نہیں ہشیار ہم

تم کرم سے مشتری ہر عیب کے
جنسِ نا مقبول ہر بازار ہم

دشمنوں کی آنکھ میں بھی پھول تم
دوستوں کی بھی نظر میں خار ہم

لغزشِ پا کا سہارا ایک تم
گرنے والے لاکھوں ناہنجار ہم

صدقہ اپنے بازوؤں کا المدد
کیسے توڑیں یہ بتِ پندار ہم

دم قدم کی خیر اے جانِ مسیح
در پہ لائے ہیں دلِ بیمار ہم

اپنی رحمت کی طرف دیکھیں حضور
جانتے ہیں جیسے ہیں بدکار ہم

اپنے مہمانوں کا صدقہ ایک بوند
مر مٹے پیاسے اِدھر سرکار ہم

اپنے کوچے سے نکالا تو نہ دو
ہیں تو حد بھر کے خدائی خوار ہم

ہاتھ اٹھا کر ایک ٹکڑا اے کریم
ہیں سخی کے مال میں حقدار ہم

چاندنی چھٹکی ہے اُن کے نور کی
آؤ دیکھیں سیرِ طور و نار ہم

ہمت اے ضعف اُن کے در پر گِر کے ہوں
بے تکلف سایۂ  دیوار ہم

با عطا تم شاہ تم مختار تم
بے نوا ہم زار ہم ناچار ہم

تم نے تو لاکھوں کو جانیں پھیر دیں
ایسا کتنا رکھتے ہیں آزار ہم

اپنی ستّاری کا یارب واسطہ
ہوں نہ رسوا بر سرِ دربار ہم
٭٭٭



شورِ مہِ نو سن کر تجھ تک میں دواں آیا
ساقی میں ترے صدقے مے دے رمضاں آیا

اس گل کے سوا ہر پھول با گوش گراں آیا
دیکھے ہی گی اے بلبل جب وقتِ فغاں آیا

جب بامِ تجلی پر وہ نیّرِ جاں آیا
سر تھا جو گرا جھک کر دل تھا جو تپاں آیا

جنت کو حرم سمجھا آتے تو یہاں آیا
اب تک کے ہر اک کا منہ کہتا ہوں کہاں آیا

طیبہ کے سوا سب باغ پامالِ فنا ہونگے
دیکھو گے چمن والو ! جب عہدِ خزاں آیا

سر اور وہ سنگِ در آنکھ اور وہ بزمِ نور
ظالم کو وطن کا دھیان آیا تو کہاں آیا

کچھ نعت کے طبقے کا عالم ہی نرالا ہے
سکتہ میں پڑی ہے عقل چکر میں گماں آیا

جلتی تھی زمیں کیسی، تھی دھوپ کڑی کیسی
لو وہ قدِ بے سایہ اب سایہ کناں آیا

طیبہ سے ہم آتے ہیں کہئے تو جناں والو
کیا دیکھ کے جیتا ہے جو واں سے یہاں آیا

لے طوقِ الم سے اب آزاد ہو اے قمری
چٹھی لئے بخشش کی وہ سروِ رواں آیا

نامہ سے رضا کے اب مٹ جاؤ برے کامو
دیکھو مرے پلّے پر وہ اچھے میاں آیا

بد کار رضا خوش ہو بد کام بھلے ہونگے
وہ اچھے میاں پیارا اچھوں کا میاں آیا
٭٭٭






تمہارے ذرے کے پر تو ستارہائے فلک
تمہارے نعل کی ناقص مثل ضیائے فلک

اگرچہ چھالے ستاوں سے پڑ گئے لاکھوں
مگر تمہاری طلب میں تھکے نہ پائے فلک

سرِ فلک نہ کبھی تا بہ آسماں پہنچا
کہ ابتدائے بلندی تھی انتہائے فلک

یہ مٹ کے ان کی رَوش پر ہوا خود انکی رَوِش
کہ نقشِ پا ہے زمیں پر نہ صوتِ پائے فلک

تمہاری یاد میں گزری تھی جاگتے شب بھر
چلی نسیم ہوئے بند دید ہائے فلک

نہ جاگ اٹھیں کہیں اہلِ بقیع کچی نیند
چلا یہ نرم نہ نکلی صدائے پائے فلک

یہ انکے جلوے نے کیں گرمیاں شبِ اسریٰ
کہ جب سے چرخ میں ہیں نقرہ و طلائے فلک

مرے غنی نے جواہر سے بھر دیا دامن
گیا جو کاسۂ  مہ لے کے شب گدائے فلک

رہا جو قانعِ یک نانِ سوختہ دن بھر
ملی حضور سے کانِ گہر جزائے فلک

تجملِ شبِ اسرا ابھی سمٹ نہ چکا
کہ جب سے دیسی ہی کوتل ہیں سبز ہائے فلک

خطابِ حق بھی ہے در باب خلق مِن اَجَلِک
اگر اِدھر سے دمِ حمد ہے صدائے فلک

یہ اہلِ بیت کی چکی سے چال سیکھی ہے
رواں ہے بے مددِ دست آسیائے فلک

رضا یہ نعتِ نبی نے بلندیاں بخشیں
لقب زمینِ فلک کا ہوا سمائے فلک
٭٭٭






پھر کے گلی گلی تباہ ٹھوکریں سب کی کھائے کیوں
دل کو جو عقل دے خدا تیری گلی سے جائے کیوں

رخصتِ قافلہ کا شور غش سے ہمیں اٹھائے کیوں
سوتے ہیں اُنکے سایہ میں کوئی ہمیں جگائے کیوں

بار نہ تھے حبیب کو پالتے ہی غریب کو
روئیں جو اب نصیب کو چین کہو گنوائے کیوں

یادِ حضور کی قسم غفلتِ عیش ہے ستم
خوب ہیں قیدِ غم میں ہم کوئی ہمیں چھڑائے کیوں

دیکھ کے حضرت غنی پھیل پڑے فقیر بھی
چھائی ہے اب تو چھاؤنی حشر ہی آنہ جائے کیوں

جان ہے عشقِ مصطفیٰ روز فزوں کرے خدا
جس کو ہو درد کا مزہ نازِ دوا اٹھائے کیوں

ہم تو ہیں آپ دل فگار غم میں ہنسی ہے ناگوار
چھیڑ کے گُل کو نوبہار خون ہمیں رلائے کیوں

یا تو یونہی تڑپ کے جائیں یا وہی دام سے چھڑائیں
منتِ غیر کیوں اٹھائیں کوئی ترس جتائے کیوں

خوش رہے گُل سے عندلیب خارِ حرم مجھے نصیب
میری بلا بھی ذکر پر پھول کے خار کھائے کیوں

گردِ ملال اگر دھُلے دل کی کلی اگر کھِلے
برق سے آنکھ کیوں جلے رونے پہ مسکرائے کیوں

جانِ سفر نصیب کو کس نے کہا مزے سے سو
کھٹکا اگر سحر کا ہو شام سے موت آئے کیوں

اب تو نہ روک اے غنی عادتِ سگ بگڑ گئی
میرے کریم پہلے ہی لقمۂ  تر کھلائے کیوں

سنگِ درِ حضور سے ہم کو خدا نہ صبر دے
جانا ہے سر کو جا چکے دل کو قرار آئے کیوں

ہے تو رضا نِرا ستم جرم پہ گر لجائیں ہم
کوئی بجائے سوزِ غم سازِ طرب بجائے کیوں
٭٭٭



دل کو اُن سے جدا خدا نہ کرے
بے کسی لوٹ لے خدا نہ کرے

اس میں روضہ کا سجدہ ہو کہ طواف
ہوش میں جو نہ ہو وہ کیا نہ کرے

یہ وہی ہیں کہ بخش دیتے ہیں
کون ان جرموں پہ سزا نہ کرے

سب طبیبوں نے دے دیا ہے جواب
آہ عیسیٰ اگر دوا نہ کرے

دل کہاں لے چلا حرم سے مجھے
ارے تیرا برا خدا نہ کرے

عذر امید عفو گر نہ سنیں
رو سیاہ اور کیا بہانہ کرے

دل میں روشن ہے شمعِ عشقِ حضور
کاش جوشِ ہوس ہوا نہ کرے

حشر میں ہم بھی سیر دیکھیں گے
منکر آج اُن سے التجا نہ کرے

ضعف مانا مگر یہ ظالم دل
اُن کے رستے میں تو تھکا نہ کرے

جب تری خو ہو سب کا جی رکھنا
وہی اچھا جو دل برا نہ کرے

دل سے اک ذوقِ مے کا طالب ہوں
کون کہتا ہے اتقا نہ کرے

لے رضا سب چلے مدینے کو
میں نہ جاؤں ارے خدا نہ کرے
٭٭٭



زائر پاسِ ادب رکھو ہوس جانے دو
آنکھیں اندھی ہوئی ہیں ان کو ترس جانے دو

سوکھی جاتی ہے امیدِ غربا کی کھیتی
بوندیاں لکۂ رحمت کی برس جانے دو

پلٹی آتی ہے ابھی وجد میں جانِ شیریں
نغمۂ قُم کا ذرا کانوں میں رس جانے دو

ہم بھی چلتے ہیں ذرا قافلے والو ٹھہرو
گٹھریاں توشۂ امید کی کس جانے دو

دیدِ گل اور بھی کرتی ہے قیامت دل پر
ہم صفیرو ہمیں پھر سوئے قفس جانے دو

آتشِ دل بھی تو بھڑکاؤ ادب داں نالو
کون کہتا ہے کہ تم ضبطِ نفس جانے دو

یوں تنِ زار کے درپے ہوئے دل کے شعلو
شیوۂ خانہ بر اندازیِ خس جانے دو

اے رضا آہ کہ یوں سہل کٹیں جرم کے سال
دو گھڑی کی بھی عبادت تو برس جانے دو
٭٭



رباعیات

یاران نبی کا وصف کس سے ہو ادا
ایک ایک ہے ان میں ناظم نظم ہدٰی
پائے کوئی کیونکر اس رباعی کا جواب
اے اہل سخن جس کا مصنف ہو خدا
٭٭



جو لوگ خدا کی ہیں عبادت کرتے
    کیوں اہل خطا کی ہیں حقارت کرتے
    بندے جو گنہگار ہیں وہ کس کے ہیں
    کچھ دیر اسے ہوتی ہے رحمت کرتے
٭٭



یاران نبی کا وصف کس سے ہو ادا
ایک ایک ہے ان میں ناظم نظم ہدٰی
پائے کوئی کیونکر اس رباعی کا جواب
اے اہل سخن جس کا مصنف ہو خدا
٭٭



ٹائپنگ: مہ جبین، رباعیات: الف نظامی
تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید
