﻿


چُنّا منّا

بچوں کی نظمیں




جمع و ترتیب: سیدہ شگفتہ




الف سے اللہ

سُہیل رعنا


الف سے نام لیں اللہ کا
پھر شروع کریں سب کام
اس سے امی ابو خوش
یہ سب سے بڑا انعام
٭٭٭



چُنّا مُنّا


چُنّا مُنّا دو چُوزے تھے
اِک دن دونوں گھر سے نکلے

دانہ چُگنے باغ میں آئے
چُنا اِک دانے پہ لپکا

منے نے اِک کیڑا دیکھا
پتلا پتلا ، لمبا لمبا

مُنے نے چنے کو بلایا
دونوں نے مل کر زور لگایا

کیڑا باہر کھنچتا آیا
کھنچتا آیا ، کھنچتا آیا

باہر نکلا تو کیا دیکھا
اتنا موٹا تازہ چُوہا

چنا منا ڈر کر بھاگے
چنا پیچھے ، منا آگے
٭٭٭




بادل آئے ، بادل آئے

بادل آئے ، بادل آئے
کالے کالے پانی والے

بادل چھائے ، بادل چھائے
خُوب نہائے ، خُوب نہائے

بادل بَرسے بادل بَرسے
پاؤں بِھیگے، ہم بِھیگے سَر سے
٭٭٭



پیاری مَینا


ننھی مُنّی مُنّی آ
اپنی مَینا کو نہلا

پہلے ٹب میں پانی بھر
باندھ لے پھر سب اُس کے پَر

ہاتھ مُنہ خُوب اُس کا دھُلا
پھر اُجلے کپڑے پہنا

اِس کو گنتی بھی سِکھلا
پڑھنا لکھنا بھی سِکھلا

پھر اس کے پَروں کو کھول
بول یہ میٹھے میٹھے بول

پیاری مَینا اب اُڑ جا
جا جا جا ، یہ جا ، وہ جا
٭٭٭


ہوائی جہاز

شور مچاتا آتا ہے
پَل میں گُم ہو جاتا ہے

مُلکوں مُلکوں جاتا ہے
لاتا ہے لے جاتا ہے

اُونچی ہے اس کی پرواز
نام ہے اِس کا ہوائی جہاز
٭٭٭


مُرغا

کُکڑوں کُوں جب مُرغا بولا
ہم نے اپنا بستر چھوڑا

منہ دھویا ، پھر دانت بھی مانجھے
کپڑے بدلے ، جُوتے پہنے

بیگ لیا اسکول کو بھاگے
کُکڑوں کُوں سے سب ہی جاگے
٭٭٭





پانی بَرسے


بادل گرجے گَڑ گڑ گڑ گڑ
بجلی کڑکے کَڑ کَڑ کَڑ کَڑ

پتے ہلتے سَر سَر سَر سَر
مینڈک بولے ٹَر ٹَر ٹَر ٹَر

بچے بھاگے دَھم دَھم دَھم دَھم
پانی برسے چَھم چَھم چَھم چَھم
٭٭٭


میری گُڑیا


میری گُڑیا ہے بیمار
ڈاکٹر اِس کا کرو علاج

کل جو برسا چَھم چَھم پانی
اِس میں بھیگی گُڑیا رانی

اِس کے کپڑے دِیئے اُتار
پھر بھی اُس کو چڑھا بُخار

دے دو دے دو ڈاکٹر پُڑیا
لے جاتی ہوں اپنی گُڑیا
٭٭٭



ریل گاڑی


جلدی جلدی سب کو بٹھائے
دیس دیس کی سیر کرائے

چھک چھک کی آواز اُٹھے
فَر فَر کرتی ہَوا چلے

تیزی سے ہے یہ دَوڑے
ہَر شَے کو پیچھے چھوڑے

اِس کا انجن سیٹی دے
گاڑی مُجھ کو لوری دے

کِھڑکی سے آتا ہے نظر
بھاگتے پیڑوں کا منظر

دُور تلک لے جاتی ہے
کیا کیا چیز دکھاتی ہے

لے آئی اسٹیشن پر
اَب جائیں گے جلدی گھر
٭٭٭






گڈو نے ہے چلنا سیکھا

گڈو نے ہے چلنا سیکھا
گِر کے آپ سنبھلنا سیکھا

امی نے دیں خوب دُعائیں
دادی اماں نے لیں بَلائیں

گِر کے آپ سنبھلنا سیکھا
گڈو نے ہے چلنا سیکھا

خالہ جان نے کر دی خالی
گڈو کے ڈر سے الماری

سارے گھر نے ڈرنا سیکھا
گڈو نے ہے چلنا سیکھا

اِک دن بستہ ہاتھ جو آیا
سارے گھر بھر میں پھیلایا

کام نیا یہ کرنا سیکھا
گڈو نے ہے چلنا سیکھا

گھر کے سب اخبار رسالے
گڈو نے ہیں ڈھونڈ نکالے

اپنے آپ یہ کرنا سیکھا
گڈو نے ہے چلنا سیکھا

ضد ہے میز پر چڑھ جائیں گے
دادا کا چشمہ لائیں گے

کرسی میز پہ چڑھنا سیکھا
گڈو نے ہے چلنا سیکھا
٭٭٭





ایک کہانی سنو رے بھیا

عنایت علی خان ٹونکی


ایک کہانی سُنو رے بھیا
میز پہ میری چڑھ گئی چوہیا

میز پہ اِک پینسل جو دیکھی
دوڑ کے اُس کی جانب لپکی

پینسل نے گھبرا کر دیکھا
پاس ہی اِک کاغذ رکھا تھا

پینسل بولی کاغذ بھائی
دیکھو میری شامت آئی

جلد کوئی ترکیب بتاؤ
اس آفت سے جان چھڑاؤ

کاغذ بولا نزدیک آؤ
مجھ پر اِک تصویر بناؤ

پینسل اُس کے نزدیک آئی
اُس پر اِک تصویر بنائی

چوہیا نے تصویر جو دیکھی
اُلٹے پاؤں ڈر کر بھاگی

ایک کہانی سُنو رے بھیا
اُلٹے پاؤں بھاگی چوہیا
٭٭٭



موسم
رئیس فروغ

سردی کیسی دھُوم مچائے
ٹھنڈے ٹھنڈے جھونکے لائے
برف پہاڑوں پر برسائے

جب دنیا میں گرمی آئے
جس کو دیکھو ڈھونڈے سائے
چڑیا بھی تو چھُپ چھُپ جائے

شان عجب برسات دکھائے
اُودے کالے بادل لائے
رِم جِھم رِم جِھم رنگ جمائے
٭٭٭


بُلبُلے

قیوم نظر


آؤ بنائیں بُلبلے
مل کر اُڑائیں بُلبُلے

پیالی میں پانی لو ذرا
اور اس میں صابن لو ملا

پھر ایک نلکی کا سرا
اس میں ڈبو کر لو اٹھا

نلکی میں مارو پھونک اب
وہ بن گیا اِک بُلبُلا

یوں ہی بنائیں بُلبُلے
مل کر اُڑائیں بُلبُلے
٭٭٭

سُہانی صبح

محسن بھوپالی

مُرغ نے اُٹھ کر بانگ لگائی
دن آنے کی خبر سنائی

اٹھو اے سونے والے بچو
قدرت کی رنگینی دیکھو

دیکھو سماں ہے کیسا پیارا
دلکش اور دلچسپ نظارا

دنیا روشن ہو جائے گی
اور سیاہی کھو جائے گی
٭٭٭

کِھیرا

صُوفی تبسم

منے نے کھیرا
چاقو سے چیرا

منے کی بہنیں
منے کے بھائی

منے کی خالہ
منے کی تائی

منے کا نوکر
منےکا نائی

ہر ایک آیا
یوں غُل مچایا

منے نے کھیرا
چاقو سے چیرا
٭٭٭


گھڑی
محمد انوار احمد

ٹِک ٹِک ٹِک ٹِک گھڑی کرے
وقت گذرتا ہے یہ کہے

ہم بھی اس کی بات سنیں
جلدی جلدی کام کریں

سنی اگر نہ اس کی بات
ہو جائے گی اپنی مات

وقت گذر جو جائے گا
لوٹ کے پھر نہ آئے گا

ٹِک ٹِک ٹِک ٹِک گھڑی کرے
وقت گذرتا ہے یہ کہے		٭٭٭



ریل گاڑی
محمد بشیر الدین صدیقی


دیکھو بچو آئی ریل
سیٹی بجاتی کرتی کھیل

پانی پیتی کوئلہ کھاتی
کیسا کیسا شور مچاتی

جوں ہی ڈنڈی دیکھی لال
دھیمی کر دی اس نے چال

حکم بجا یہ لاتی ہے
فوراً ہی رُک جاتی ہے
٭٭٭


مچھلی


اِک مچھلی تھی بڑی چھبیلی
طبیعت کی بھی بڑی رنگیلی

رنگت اس کی نیلی پیلی
سرخ سرخ اور کچھ چمکیلی

آنکھیں اس کی سبز سنہری
دُم بھی اس کی تھی لہریلی

پر مچھلی وہ رنگ رنگیلی
کھانے میں تھی بڑی رسیلی
٭٭٭



گڑیا کی شادی

 اقبال راشد

پیاری پیاری میری گڑیا
جگ سے پیاری میری گُڑیا

کومل چہرہ ، سُندر آنکھیں
راج دُلاری میری گڑیا

مجھ سے کہتی ہے شہزادی
گُڑیا کی میں کر دوں شادی

اس کا گڈا بھی اچھا تھا
بات سمجھ لو ، یوں ٹھہرا دی

شام ڈھلے باراتی پہنچے
گڈے کو گھوڑے پر رکھے

میں نے نجمہ کو بُلوایا
مہمانوں کو جا کر دیکھے

قاضی ہاتھی بھاگے آئے
سب نے کھیل بتاشے کھائے

نرگس جب ڈولی میں بیٹھی
میں نے آنسو خوب بہائے
٭٭٭



سبزی والا آیا

فیض الحسن


آلو لے لو ، گوبھی لے لو ، لے لو لال ٹماٹر
مُولی بھی ہے ، پالک بھی ہے ، لال لال ہے گاجر

دھنیا اور پودینہ لے لو ، لے لو ادرک لہسن
ٹنڈے ، لوکی اور چُقندر اُودے اُودے بیگن

سیم کی پھلیاں اور مٹر ہیں ، اروی ہے اور قُلفا
انہیں پکا لے ، ڈٹ کر کھا لے ، گر ہے کوئی بھُوکا

نیبو ، پیاز اور مُولی بھی ہے ، ہری ہری ہیں مرچیں
چٹنی بناؤ ، جیسے کھاؤ ، جو بھی آئے جی میں

تازہ تازہ سبزی بیچوں ، میں ہوں سبزی والا
روزی سب کو دیتا ہے وہ نیلی چھتری والا

سب سے بہتر ، سب سے عمدہ ، رب کی نعمت سبزی
مزے مزے سے کھاؤ جو بھی صحت بنائے سب کی

انواع و اقسام کے کھانے ، شُکر ہے پیارے رب کا
فیض ہمیں یہ نعمت دی ہے ، مالک ہے وہ سب کا
٭٭



چینی کی گڑیا

اقبال راشد


پیکنگ سے جب ابّی آئے
چینی کی ایک گُڑیا لائے

نازک رنگ رنگیلی گڑیا
پیاری سی شرمیلی گُڑیا

چیکو میکو نام ہے اُس کا
ہر دم سونا کام ہے اس کا

سر پر ہے ریشم کی جالی
کانوں میں سونے کی بالی

کُرسی پر وہ ایسے بیٹھی
جیسے رانی سوچ میں ڈوبی

چمکیلے ہیں اُس کے گہنے
ہاتھوں میں وہ کنگن پہنے

جگ مگ کرتی شال کو لے کر
چاندی کے اِک تھال کو لے کر

چھم چھم ، چھم چھم کرتی آئے
آئے میرا دل بہلائے
٭٭٭



چڑیا اور کوّا

عبدالحفیظ


یک تھی چڑیا ، ایک تھا کوّا
دونوں نے اک دن یہ سوچا

آؤ آج پکائیں چاول
دونوں مل جُل کھائیں چاول

دونوں کو یہ بات جو بھائی
چڑیا جا کر چاول لائی

کوّا بیٹھا آگ جلائے
چاول پھر دونوں نے پکائے

کھانے کا جب موقع آیا
تو کوّے نے شور مچایا

بولا چونچ ذرا دھو آؤ
کھانا اچھے ڈھنگ سے کھاؤ

کوّا تب لالچ کے مارے
کھا گیا جھٹ پٹ چاول سارے

پھر ہنڈیا سب راکھ سے بھر دی
ڈوئی میں بھی کُلّی کر دی

پھر کونے میں چھُپ گیا جا کر
چڑیا نے جب دیکھا آ کر

دیکھی ہنڈیا ، ڈوئی ، تھالی
یہ بھی خالی ، وہ بھی خالی

اُس نے اب کوّے کو ڈھونڈا
پکڑا اور چونچوں سے مارا

کوّے نے تب شور مچایا
ہائے خُدایا ، ہائے خُدایا

چڑیا اُس کو کیوں نہ ستائے
جس نے پرائے چاول کھائے
٭٭٭



مُنّے میاں نہ رونا

انور شعور


منّے میاں نہ رونا ، منّے میاں نہ رونا
دیکھو تمہاری خاطر ، ہم لائے ہیں کھلونے
ڈھونڈے نہ پھر ملے گا ، ہر گز اسے نہ کھونا
منّے میاں نہ رونا ، منّے میاں نہ رونا

تم قہقہے لگانا ، ہنس کر ہمیں ہنسانا
رو رو کے آنسوؤں سے ، مت آستیں بھگونا
منّے میاں نہ رونا ، منّے میاں نہ رونا

کیوں رو رہے ہو بولو ، یہ مٹھیاں تو کھولو
تم کو ہے کس نے مارا ، کیا بات ہے کہونا
منّے میاں نہ رونا ، منّے میاں نہ رونا

تم نے بھی کچھ سنا ہے ، بیٹھک میں کیا ہوا ہے
آنگن میں کیا دھرا ہے ، گھر میں چلو اٹھو نا
منّے میاں نہ رونا ، منّے میاں نہ رونا

پہلے سبق تو پڑھ لو ، کچھ سیڑھیاں تو چڑھ لو
پھر کیاریوں میں چل کر ، اِک بیج تم بھی بونا
منّے میاں نہ رونا ، منّے میاں نہ رونا
دیکھو تمہاری خاطر ہم لائے ہیں کھلونا
٭٭٭



ساون کا موسم

تنویر پھول

پھر ساون کا موسم آیا
رم جھم رم جھم مینہ برسایا

چھائے ہیں آکاش پہ بادل
ندی نالے سارے جل تھل

کوئل کُو کُو بول رہی ہے
امرت کا رس گھول رہی ہے

جھُوم رہی ہیں مست گھٹائیں
چلنے لگی ہیں ٹھنڈی ہوائیں

رنگ برنگے پھُول ہیں ہر سُو
گلشن میں پھیلی ہے خوشبو

چھائی ہے ہر سُو ہریالی
جھُوم رہی ہے ڈالی ڈالی

پھُول نے پھر یہ نغمہ گایا
ساون کا اب موسم آیا
٭٭٭



آؤ ہم بن جائیں تارے

چراغ حسن حسرت


آؤ ہم بن جائیں تارے
ننھے ننھے پیارے پیارے

دھرتی سے آکاش پہ جائیں
چمکیں دمکیں ناچیں گائیں

بادل آئے دھُوم مچاتے
لے کر کالے کالے چھاتے

آؤ ہم بھی دھُوم مچائیں
اُن کے پردوں میں چھُپ جائیں

آؤ آنکھ مچولی کھیلیں
مل کر سب ہمجولی کھیلیں

لو گُل زار شفق کا پھُولا
ڈالا آ کے دھنک نے جھُولا

آو جھُولیں اور جھُلائیں
ان کے رنگ اُتار کے لائیں

پھر اُن رنگوں سے پچکاری
بھر لیں اپنی باری باری

آؤ کھیلیں ہولی کھیلیں
مل کر سب ہم جولی کھیلیں
٭٭٭



گڈے کے باراتی

ابنِ انشاء


گھر میں ہمارے مہماں آئے خوب لگا ہی میلہ
ہر کوئی بیٹھا بڑھ بڑھ کھائے سیب ، ،پپیتا ، کیلا

بلّو کے گڈے کے براتی ایک سے ایک عجیب
کوئی تو بیٹھا ناک چڑھائے ، کوئی نکالے جِیب

تین ہیں لوگ ہمارے گھر ، حسو ، چھٹو ، گاندھی
دو نے لال غرارے پہنے ایک نے پگڑی باندھی

تین ہیں لڑکیاں دُبلی پتلی شکلوں سے پہچانو
حسو کی یہ بہنیں ہوں گی رفو ، دادو ، نالو

دو بلو کی دوست پرانی شہنازی اور پی چو
تینوں شہ سلطان کے بچے نیدو ، نگھو ، ککو

کاموں ، شارو ، نصرت ، منّی ، ساتھ میاں افرازی
رنگ برنگے کپڑے پہنے لے گئے سب سے بازی

ریحانہ کی انگلی پکڑے آ گئے بھائی زمان
سمدھی کا نکلے گا دوالہ ، سترہ ہیں مہمان

باجے کی آواز جو آئی اٹھ کر سارے بھاگے
پیچھے بلّو اور براتی ، گڈا آگے آگے

بلو بی بی ہم بھی چل کر کھا لیں مرغ پلاؤ
گھر پر چوکیدار رہے گا ہم کو چھوڑ نہ جاؤ
٭٭٭



چڑیا گھر کا ہاتھی

حسن عابدی


مِرے چڑیا گھر کا ہاتھی
میرا سارے دن کا ساتھی

مِرے پاس کھلونا گھر ہے
سب کچھ اس کے اندر ہے

کہیں ریچھ ، کہیں بندر ہے
کہیں چیتا شیر ببر ہے

اک راج ہنس کا جوڑا
اور ایک دریائی گھوڑا

تیز آنکھوں والا گیدڑ
لمبی دُم والا لومڑ

ایک گینڈا ، موٹا تازہ
بس بند کرو دروازہ

مرے پاس کھلونا گھر ہے
لیکن سب سے بہتر ہے

مرا پیارا پیارا ہاتھی
مرا سارے دن کا ساتھی

ہاتھی پر ایک عماری
رکھی ہے کتنی پیاری

اب سیر کی ہے تیّاری
بیٹھے گی چار سواری

اے پپّو ، کلّو ، تاری
سب آؤ باری باری

گھُومیں گے جنگل جنگل
کچھ دُور چلیں گے پیدل

ہاتھی چلتا ہے تھل تھل
بجتی ہے پاؤں میں پایل

لو آئے جھُوم کے بادل
رستے میں ہوگا جل تھل

اب کام آئے گا ہاتھی
مرا پیارا پیارا ہاتھی
مرے سارے دن کا ساتھی
٭٭٭


چاند ستارے

جوہر سعیدی


اُجلے من کے اُجلے دل کے
بیٹھے ہیں کچھ بچے مل کے

بول یہ میٹھے بول رہے ہیں
کانوں میں رس گھول رہے ہیں

روشن روشن پیارے پیارے
ہیں یہ زمیں کے چاند ستارے

اس دُنیا کے باغ کے مالی
مُستقبل کے غالب حالی

سرو و سمن کی جان یہی ہیں
خُوشبو کی پہچان یہی ہیں

سادہ سادہ گھاتیں ان کی
پیاری پیاری باتیں ان کی

تن جانا بھی ان سے سیکھو
من جانا بھی ان سے سیکھو

گیت یہی ہیں ، سنگیت یہی ہیں
ہارے ہُوؤں کی جیت یہی ہیں

ناپ رہے ہیں تول رہے ہیں
آپس میں ہنس بول رہے ہیں

ہستی ان کا ہاتھ نہ چھوڑے
مستی ان کا ساتھ نہ چھوڑے

اپنے سوتے بھاگ جگائیں
آؤ ان کے ناز اٹھائیں
٭٭٭



پھُول

قیّوم نظر

کچھ شوخ ارغوانی
کچھ ہلکے آسمانی

کچھ نیلے کچھ بسنتی
کچھ سبز اور دھانی

خُوشبو سے کُچھ بھرے ہیں
کچھ ہیں نرے سجیلے

کچھ اتنے کِھل رہے ہیں
مٹی میں مِل رہے ہیں

چھوٹے ہیں کچھ بڑے ہیں
موتی سے کچھ جُڑے ہیں

کچھ گھاس پر ہیں لیٹے
کانٹوں پہ کچھ پڑے ہیں

کچھ جھُولتے ہیں جھُولا
خاموش کچھ کھڑے ہیں

کچھ مُسکرا رہے ہیں
کچھ مُنہ چھُپا رہے ہیں
٭٭٭




بلو کا بھالو

ابنِ انشاء

بلو کا بھالو
کس کا ہے خالو

قد اس کا چھوٹا
پیٹ اس کا موٹا

باہر سے بدھو
اندر سے کھوٹا

لال اس کی ٹوپی
دھانی لنگوٹا

راشن میں کھائے
گھر بھر کا کوٹا

منہ اس کا دن بھر
رہتا ہے چالو

بلو کا بھالو
صورت میں بھالو
رنگت میں کالو

ناک اُس کی گاجر
گال اُس کے آلو

اوڑھے یہ گودڑ
کھائے کچالو

نام اس کا پوچھو
راجا رسالو

اے بھائی کالو
بلو کے بھالو

راجا رسالو
تو کس کا خالو
٭٭٭




شریر بندر

پروفیسر آفاق صدیقی


برگد کے نیچے بیٹھا ، کوئی غریب نائی
جب دیر تک سروں کی کرتا رہا مونڈائی

فرصت ملی تو اس کو ، کھانے کا دھیان آیا
کھانے کو دال روٹی ، گھر سے تھا ساتھ لایا

ٹہنی پر ایک بندر بیٹھا جو گھات میں تھا
چھوٹے سے آئینے اور ایک استرے پہ جھپٹا

جلدی سے چڑھ گیا پھر ، اک اُونچی شاخ پر وہ
تھا دیر سے جمائے ، نظر ہر چیز پر وہ

آئینہ دیکھا تو وہ خوب مُسکرایا
لیکن سمجھ میں اُس کی تیز اُسترا نہ آیا

نائی نے جب یہ دیکھا ، اک اُسترا اُٹھایا
پھر ناک پر لٹکا کر اُلٹا اسے پھرایا

بندر کو یہ ادا بھی اتنے پسند آئی
کرنے لگا وہی کچھ ، جو کر رہا تھا نائی

دیکھی جو آئینے میں اپنے لہو کی لالی
حیراں ہوا کہ خود ہی کیوں ناک کاٹ ڈالی



غصے میں نیچے پھینکا ، پہلے تو اُسترے کو
پھر آپ ہی اچھالا نفرت سے آئینے کو

کیا خوب آدمی کی تدبیر کام آئی
ہارا شریر بندر ، جیتا غریب نائی
٭٭٭


بُلبُل کا گیت !

بُلبُل گانا گاتی ہے
اچھے گیت سُناتی ہے

پتّے گانا سُنتے ہیں
پھُول ترانہ سُنتے ہیں

خوش رہتی ہے کیاری میں
گاتی ہے پھلواری میں

ڈالی ڈالی جاتی ہے
ڈالی ڈالی گاتی ہے

وقت کیا سہانا ہے
کتنا اچھا گانا ہے
٭٭٭


ننھی چڑیا


میں صُبح کو اُڑ جاتی ہوں
اور شام کو واپس آتی ہوں

مَیں بہت سا دانہ لاتی ہوں
بچوں کو خوب کھلاتی ہوں

مَیں ننھی مُنّی چڑیا ہُوں
مَیں ننھی مُنّی چڑیا ہُوں
٭٭٭



کسان


صُبح سَویرے اُٹھ کر
لے کر چلا ٹریکٹر

وہ جا رہا ہے دیکھو
کُچھ گا رہا ہے دیکھو

مٹی کو سینچتا ہے
اور بیج پھینکتا ہے

کرتا ہے سخت محنت
مٹی سے ہے محبت

فصلیں بھی کیا ہری ہیں
محنت سے یہ بڑھی ہیں

یہ ہے کسان اپنا
سیکھا نہیں ہے تھکنا!
٭٭٭



لندھُور ہاتھی

ابنِ انشا


لندھور ہاتھی ، سنگی نہ ساتھی

رہتا ہے بے کار ، پڑھتا ہے اخبار
عینک لگا کر ، کُرسی بچھا کر

آیا ہے اب کے ہاتھی نگر سے
پتلون پہنے ، مہمان رہنے

آداب بھائی ، آداب بھائی
اتنے دنوں میں صورت دکھائی
یوں دانت منہ میں دو ہیں کہ ڈھائی
فیشن کی تجھ کو کس نے سُجھائی
پتلون کی دی کتنی سلائی
یوں تو ہیں ہم سب تیرے فدائی
پر بھائی میرے جا اپنے ڈیرے
سائز کی تیرے گھر میں ہمارے
گاؤں میں سارے نہ تو رضائی
نہ ہی چٹائی ، نہ چارپائی
٭٭٭


آم

گرمی آئی ، آئے آم
ابو لے کر آئے آم

آم ہیں کتنے ٹھنڈے میٹھے
پیلے پیلے اور رسیلے

پھلوں کا راجا ہے یہ آم
پھلوں میں اس کا اونچا نام

ٹھنڈے کر کے کھائیں گے
شربت بھی بنوائیں گے
٭٭٭



گُر کی باتیں

محمد حسان الرحمٰن


آؤ ، تم کو گُر یہ سکھائیں
اوّل آنا ، تم کو بتائیں

دل سے محنت کر کے دیکھو
اچھے نمبر ، کیسے نہ آئیں

ٹیوشن پڑھ کر پاس نہ ہونا
خود بھی تو کچھ کر کے دکھائیں

اللہ کی تائید ملے گی
ذہن کو اپنے کام میں لائیں

یاد کریں گر اپنے سبق کو
کیسے بھلا پھر بھول ہم پائیں

اس گُر کو بھی کر کے دیکھیں
پھر کیوں نہ ہم اوّل آئیں
٭٭٭


آؤ۔ اِک نئی دُنیا تعمیر کریں !


چلتا رہے گا یہ سفر
چلتا رہے گا کارواں
بس جائے کچھ ایسا جہاں
اتفاق کے بندھن بندھیں وہاں
ہاتھوں میں ہاتھ کو تھام کر

چلو آج اِک وعدہ کریں
رشتہ ہے خوشبو اور پُھول کا
ویسا ہی انسانوں میں ہو
قدموں سے ہو کر ہم قدم

چلو آج اِک وعدہ کریں
برداشت پروانے کی ہے
جگنو سے جل جانے کی ہے
دنیا کو رنگنا ہے اگر
اتفاق کے رنگوں سے رنگ
جو دلوں کو صاف ہی رکھنا ہو
تو جواب ظلم کا ظلم نہ ہو
کہ نفس پہ قابو ضرور ہو

چلو آج اک وعدہ کریں
ہم دلوں سے کینہ و بغض کو
کریں دُور تو کچھ بات ہے
ہو جہاں میں امن کیا بات ہے
دعا کرنا ایسے جہان کی
جہاں ہوں دُعائیں امان کی
جہاں بات بات میں پھول ہوں
جہاں نفرتیں بنی دُھول ہوں

چلو آج اِک وعدہ کریں
برداشت کریں ، برداشت ، برداشت کریں
٭٭٭



ریل گاڑی

جلدی جلدی سب کو بٹھائے
دیس دیس کی سیر کرائے

چھک چھک کی آواز اُٹھے
فَر فَر کرتی ہَوا چلے

تیزی سے ہے یہ دَوڑے
ہَر شَے کو پیچھے چھوڑے

اِس کا انجن سیٹی دے
گاڑی مُجھ کو لوری دے

کِھڑکی سے آتا ہے نظر
بھاگتے پیڑوں کا منظر

دُور تلک لے جاتی ہے
کیا کیا چیز دکھاتی ہے

لے آئی اسٹیشن پر
اَب جائیں گے جلدی گھر
٭٭٭




بچے کا خواب

حافظ مظفر محسن


میں پریوں کے پیارے پیارے دیس میں اک دن جاؤں گا
کچھ پریاں اور کچھ جن لے کر اپنے دیس میں آؤں گا

ایسے کپڑے لاؤں گا جو میرے مہماں چاہیں گے
ان کی فرمائش کے کپڑے درزی سے سلواؤں گا

میرے ہمراہ جائیں گے وہ سڑکوں پر لاہور کی
بیٹھیں گے وہ تانگے میں ، پھر ان کو سیر کراؤں گا

سیر سپاٹا ہو جائے تو ہوٹل میں ہم جائیں گے
چاٹ ، سموسے ، مکھن ، برگر ان کو میں کھلواؤں گا

ڈرتے ہیں جو بچے جن سے ، گھبراتے ہیں پریوں سے
ان بچوں کو میں پریوں سے اور جن سے ملواؤں گا

باغوں میں ہم جائیں گے اور آنکھ مچولی کھیلیں گے
شام ڈھلے جب تھک جائیں تو شربت بھی پلواؤں گا

کتنا اچھا دن گذرے گا اور جب سورج ڈوبے گا
اپنے پیارے مہمانوں کو ان کے گھر پہنچاؤں گا
٭٭٭



بوجھو تو جانیں

فراغ روہوی

بچو ! بوجھو تو ہم جانیں
آج گُرو تم سب کو مانیں

کھینچ رہے ہیں جس کا خاکہ
تم سب نے ہے اس کو دیکھا

سوچو ، سوچو مل کر سوچو
کون سی وہ مخلوق ہے بولو

بچو! اس کا قد ہے چھوٹا
رنگ ہے کالا یا پھر سادہ

ریشم جیسے بال ہیں اس کے
نرم بہت ہی گال ہیں اس کے

کان ہیں چھوٹے ، مونچھیں لمبی
ناک ہے چپٹی ، دُم ہے موٹی

اس کے دیدے ہیں چمکیلے
اس کے ناخن ہیں نوکیلے

چوزوں پر وہ رعب جمائے
چوہوں کو بھی آنکھ دکھائے

جس گھر میں ہو اس کا ڈیرہ
اس گھر میں کیوں آئے چوہا

روز کچن میں ڈاکا ڈالے
دودھ کو فوراً چٹ کر جائے

وہ تیز و طرار بہت ہے
چلنے میں ہشیار بہت ہے

پکڑو تو وہ ہاتھ نہ آئے
اپنی جگہ سے جمپ لگائے

رشتے میں ہے شیر کی خالہ
گویا آفت کی پر کالہ

بچو ! اس کا نام بتاؤ
پھر اس کی تصویر بناؤ
٭٭٭



برسات

ضیاء الحسن ضیاء


مزے ساتھ لائی ہے برسات بچو !
جھما جھم جھما جھم ہے دن رات بچو !

گرجتا ہے بادل ، چمکتی ہے بجلی
دھڑکتا ہے دل جب کڑکتی ہے بجلی

ہر اک چیز کو تر بتر دیکھتے ہیں
ہے پانی ہی پانی جدھر دیکھتے ہیں

کوئی ہے کہ پکنک منانے چلا ہے
کوئی دیکھو کیچڑ میں لت پت ہوا ہے

درختوں پہ کیسا نکھار آ گیا ہے
ہوئی دور گرمی قرار آ گیا ہے

مزے دار پکوان پکتے ہیں ہر سُو
چلی آ رہی ہے ہواؤں سے خوشبو

بہت ہوتی ہیں بارش میں فصلیں
کہ جان اس سے آتی ہے سوکھی زمیں میں

خدا کا کرم ہے یہ بارش کا موسم
ہے اس کی عطا کا ، نوازش کا موسم
٭٭٭


میری امّی ، پیاری امّی

تنویر پھول

مجھ سے وہ کرتی ہیں محبت
سب سے بڑھ کر ان کی چاہت
مجھ کو وہ دیتی ہیں دعائیں
ان کے قدموں میں ہے جنت

میری امّی ، پیاری امّی

ماں کا رُتبہ بہت بڑا ہے
دیکھو یہ قرآں میں لکھا ہے
دل سے ماں کی خدمت کرنا
خوش اس سے ہوتا مولا ہے

میری امّی ، پیاری امّی

پھول نے اچھی بات بتائی
ماں کی خدمت ہے اک نیکی
امّی کی ہر بات کو مانوں
تا کہ دعائیں لوں امّی کی

میری امّی ، پیاری امّی
٭٭٭




صابُن کی ٹکیا

حسن عابدی

صابُن کی ٹکیا
ننھی سی بٹیا

پانی میں چَھپ چَھپ
کرتی ہے گپ شپ

پانی بہائے ، چھینٹے اڑائے
لو جھاگ نکلا

مُنو کو دیکھو
وہ بھاگ نکلا

جب منہ دُھلائے
صابُن لگائے

مُنو اکیلا ، سب کو نچائے
لاتیں چلائے
دَھم دَھم دَھما دَھم

آنسو بہائے
چَھم چَھم چَھما چَھم

مُنو کھڑا ہے
کرسی کے اُوپر

صابُن کے ڈر سے
کرتا ہے تھر تھر

منو کو پکڑو
بازو میں جکڑو

نلکے پہ لاؤ
ٹب میں بٹھاؤ

صابن کی ٹکیا
سر پر لگاؤ

جب جھاگ نکلے
پانی بہاؤ

صابن کی ٹکیا سر پر کھڑی ہے
منی سی بٹیا کتنی بڑی ہے
٭٭٭


گرمی

راجا مہدی علی خاں

پسینے پر پسینہ آ رہا ہے
بہت گرمی ہے جی گھبرا رہا ہے

تپ اٹھا ہے بدن گرمی سے اتنا
کلیجا آج منہ کو آ رہا ہے

"میں آیا ہوں نہا کر آگ میں آج"
یہ جھونکا لُو کا کہتا آ رہا ہے

لٹک آئی ہیں پتوں کی زبانیں
درخت ایک ایک بس مرجھا رہا ہے

"نہیں بجھتی ہے شربت سے بھی کیوں پیاس؟"
ہمارا دل یہ کہتا جا رہا ہے

لیے ہاتھوں میں پنکھے سب ہیں بیٹھے
ہر ایک پنکھے کو جھلتا جا رہا ہے
٭٭٭



گرمی آئی

تنویر پھول

دیکھو موسم گرمی آیا
فطرت نے سردی کو بھگایا
دھوپ نے یہ ہم کو ہے بتایا
پھر گرمی کا موسم آیا

کیسی فضاؤں میں ہے حدّت
توبہ ، یہ گرمی کی شدّت
گلشن میں ہر گل کملایا
پھر گرمی کا موسم آیا

آم لگے ہیں پیلے پیلے
کتنے میٹھے اور رسیلے
اس پھل نے ہے دل کو لبھایا
پھر گرمی کا موسم آیا

بھاپ سے اب بنتے ہیں بادل
کر دیں گے برسات میں جل تھل
قدرت نے کیا کھیل دکھایا
پھر گرمی کا موسم آیا

دھوپ سے کرتی ہیں اب نفرت
چھاؤں سے ہے سب کو اُلفت
موسم کی پلٹی ہے کایا
پھر گرمی کا موسم آیا

دھوپ سے اب تپتا ہے میداں
گرمی سے ہے پھول پریشاں
ملتا نہیں میداں میں سایا
پھر گرمی کا موسم آیا
٭٭٭


ننھی چڑیا

میں صُبح کو اُڑ کر جاتی ہوں
اور شام کو واپس آتی ہوں

مَیں بہت سا دانہ لاتی ہوں
بچوں کو خوب کھلاتی ہوں

مَیں ننھی مُنّی چڑیا ہُوں
مَیں ننھی مُنّی چڑیا ہُوں
٭٭٭

بُلبُل کا گیت !


بُلبُل گانا گاتی ہے
اچھے گیت سُناتی ہے

پچّے گانا سُنتے ہیں
پُھول ترانہ سُنتے ہیں

خوش رہتی ہے کیاری میں
گاتی ہے پھلواری میں

ڈالی ڈالی جاتی ہے
ڈالی ڈالی گاتی ہے

وقت کیا سہانا ہے
کتنا اچھا گانا ہے
٭٭٭

قومی پھول

سرشار صدیقی


اپنا پھول چنبیلی ہے
اس کی خوشبو بھی ہے انوکھی
رنگت بھی البیلی ہے
اپنا پھول چنبیلی ہے

نازک سا ننھا سا پھول
ہنستے رہنا اس کا اصول
دنیا کو مہکانے والی
خوشبو اس کی سہیلی ہے
اپنا پھول چنبیلی ہے

کتنی کومل اس کی کلی
ہرے ہرے پتوں میں پلی
کیسے کھل کر پھول بنی
یہ تو ایک پہیلی ہے
اپنا پھول چنبیلی ہے
٭٭٭



ریل کا سفر

پروفیسر محمد ظریف خاں


بچو آؤ ریل دکھاؤں
اس میں تم کو سیر کراؤں

اسٹیشن پر ہے یہ ٹھہری
دیکھو بھیڑ یہاں ہے کتنی

جلدی جلدی اس میں بیٹھو
دوڑ کے لاؤ ساماں بچو

دیکھو ریل چلی چھک چھک چھک
دھواں اڑاتی بھک بھک بھک

کالا کالا انجن اس کا
بالکل جو ہے ہاتھی جیسا

جھنڈی گارڈ دکھاتا جائے
انجن ریل چلاتا جائے

پٹڑی پر لہراتی جائے
اپنی شان دکھاتی جائے

کھیتوں میں دیہاتی بیٹھے
غور سے جو اس کو ہیں تکتے

دور وہ دیکھو سورج ڈوبا
منظر لگتا ہے اچھا

اپنی منزل بھی اب آئی
ریل سے اترو جلدی بھائی
٭٭٭



تتلی کا خواب


تتلی بی اے تتلی بی
کیسا آج ہے تیرا جی

تُو نے جو انگڑائی لی
ابھی ابھی کیا سو کے اُٹھی

دیکھا ہے کس پُھول کا خواب
نرگس ، چمپا ، بیلا ، گلاب ؟
٭٭٭




ہائے رے بستہ

شانے پر ہے بھاری بستہ
ہائے رے بستہ ہائے رے بستہ
لمبا ہے اسکول کا رستہ

اُس پر ایک معصوم سا بچہ
بوجھ اُٹھائے ، سر کو جھکائے
جلدی جلدی چلتا جائے

آنکھ کھلی اور بستہ تھاما
بھاگم بھاگ اسکول کو پہنچا
کاپی کھو گئی ، کھایا ڈنڈا

پھر وہ حسب کی باجی بولی
کہاں گیا حساب کا پرچہ
ڈھونڈ ڈھونڈ کے تھک گیا بچہ
ملنا تھا نہ ملا وہ پرچہ

خوب پٹا اور گھر پر آیا
کام کیا تھا سارا کچا
ہائے رے بستہ ، ہائے رے بستہ
٭٭٭



بچوں کا ترانہ

ضیاء الحسن ضیاء



گوشہ گوشہ ترا ہے بہار آفریں
ذرہ ذرہ گہر ، چاند جیسی زمیں
کیسے سرسبز و شاداب ہیں گلستاں
تیرے صحرا حسیں ، کوہ بھی دلنشیں

زندہ باد اے وطن
زندہ باد اے وطن

خوب محنت سے تعلیم پاتے ہوئے
اور اندھیروں کو یکسر مٹاتے ہوئے
چپے چپے کو پُر نور کر دیں گے ہم
شمع علم و یقیں جگمگاتے ہوئے


زندہ باد اے وطن
زندہ باد اے وطن

آج ننھے سہی کل کے قائد ہیں ہم
اچھی راہوں پہ اپنے بڑھا کر قدم
آدمی کو بنائیں گے انساں ضیاء
ہم گرا کے دیوار ظلم و ستم

زندہ باد اے وطن
زندہ باد اے وطن	٭٭٭


وقت کا گھوڑا

ڈاکٹر خواجہ عابد نظامی



وقت کا گھوڑا بھاگا جائے
بھاگا جائے ، ہاتھ نہ آئے

وقت کا گھوڑا تیز ہے اتنا
یوں سمجھو میزائل جتنا

پاک وطن کے پیارے بچو!
قوم کی آنکھ کے تارے بچو!

قدر کرو تم وقت کی ہر دم
دور رہے گا تم سے ہر غم

وقت کو ناحق جو کھوتے ہیں
پچھتاتے ہیں اور روتے ہیں

لیکن جو ہیں اچھے بچے
محنتی ، ہمت والے، سچے

لکھتے پڑھتے رہتے ہیں جو
آگے بڑھتے رہتے ہیں جو

اک دن لائق بن جائیں گے
لائق فائق بن جائیں گے

قائد اور اقبال بنیں گے
ملک و وطن کی ڈھال بنیں گے
٭٭٭


ٹائپنگ: سیدہ شگفتہ
ماخذ:
http://www.urduweb.org/mehfil/forumdisplay.php?11
تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید
