﻿



چوتھا دَرویش




احمد حسین مجاہد

جمع و ترتیب: ارشد خالد، اعجاز عبید










ہَم اور آپ تَو ہیں دَشتِ نینوا میں ابھی
کہ خیمہ زَن ہے عدو اَرضِ انبیا میں ابھی

وُہ پھر رہا ہے کسی اور ہی ہَوا میں ابھی
مری شگفت کے موسم ہیں التوا میں ابھی

کسی نے رَکھ بھی دیے آ کے میری آنکھوں پہ ہاتھ
اور ایک میں ہُوں کہ مشغول ہُوں دُعا میں ابھی

سراغ پائے گا میرا وُہ میری موت کے بعد
بھٹک رہی ہے مری روشنی خلا میں ابھی

کل اپنے اپنے ترازو میں پائیں گے ہَم لوگ
وُہ لفظ اپنے جو محفوظ ہیں فضا میں ابھی
٭٭٭





چاہے جانے کی ہَوس دِل سے نکل پائی نہیں 
میں ابھی شائستۂ آدابِ رُسوائی نہیں 

کن ستاروں کے دکھائے ہیں ہَوا نے سبز باغ
گردِ پا کو مسندِ سَر بھی پسند آئی نہیں 

کھڑکیوں میں کیا بھنور پڑتے ہیں میرے نام پر
کون کافر ہے مری جس سے شناسائی نہیں 

عمر بھر خود کو کیا کارِ محبت میں خراب
میں محبت سے، محبت مجھ سے اُکتائی نہیں 

اَشکِ خوں کی سیرِ مژگاں سے ہے احمد آبرو
ورنہ میرا عشق تَو محتاجِ رُسوائی نہیں 
٭٭٭





رنگِ بہارِ حسنِ گزشتہ نہ دیکھ پائے
اَب کے تَو ہَم نے اُس کو جو دیکھا، نہ دیکھ پائے

بادل تھے وُہ کہ گہرے گھنے پانیوں کی گرد
برسے تَو ہَم کچھ اپنے علاوہ نہ دیکھ پائے

ہَوتا رہا تماشہ کہیں آس پاس ہی
ہَم تجھ میں ایسے محو تھے، میلہ نہ دیکھ پائے

گو ہَم تھے مثلِ نقشِ کفِ پا سراپا چشم
اِس دِل کی تُجھ کو خاک اُڑاتا نہ دیکھ پائے

ایسی ہَوا سے خاک مراسم بڑھائیے
بچے کے ہاتھ میں جو غبارہ نہ دیکھ پائے

دیکھے ہیں اپنے کام سنورتے ہُوئے وَلے
احمد، خُدا سے ماں کو جھگڑتا نہ دیکھ پائے
٭٭٭





مرے سانچے میں ڈھلنا چاہتا ہے
وُہ انگاروں پہ چلنا چاہتا ہے

ذرا سی روشنی کی بھیک دے کر
دیا بستی نگلنا چاہتا ہے

معطر ہَو رہے ہیں سانس میرے
کوئی بارود جلنا چاہتا ہے

اُجڑنے کو ہے باغِ ماہ و انجم
فلک کروٹ بدلنا چاہتا ہے

یہ رستہ میری آنکھوں سے گزر کر
تری جانب نکلنا چاہتا ہے
٭٭٭





اگرچہ یہ مری کوشش کی انتہا بھی نہ تھی
وہاں چراغ جلایا جہاں ہَوا بھی نہ تھی

سبھی سے اُس نے بگاڑی ہُوئی تھی میرے لیے
وُہ میرے عشق میں حالانکہ مبتلا بھی نہ تھی

مجھے یہ دُکھ ہے کہ جب اُس کے سامنے مجھ کو
کسی نے بوسہ دیا تھا تَو وُہ خفا بھی نہ تھی

تُو میرے ساتھ ہے اَب بھی تو مہربانی تری
مری گرہ میں تَو ورنہ کوئی دُعا بھی نہ تھی

مجھے اُتارا گیا تھا اِک ایسی بستی میں 
جو مجھ سے پہلے محبت سے آشنا بھی نہ تھی
٭٭٭






آسمانوں سے فرشتہ تَو نہیں اُترے گا
شعر اُتریں گے، صحیفہ تَو نہیں اُترے گا

پار جانا ہے تَو دریا میں اُترنا ہَو گا
سوچتے رہنے سے دریا تَو نہیں اُترے گا

بات بے بات نہ یاد آئے خدوخال سمیت
وُہ مرے دِل سے کچھ ایسا تَو نہیں اُترے گا

مکتبِ عشق سے تحصیلِ جنوں کرتا ہُوں 
میرے شانے سے یہ بستہ تَو نہیں اُترے گا

ہَو گئے صبح کے آثار ہُویدا بھی تَو کیا
اِس قَفَس میں کوئی زینہ تَو نہیں اُترے گا

غَم کے اِظہار میں کیا چیز ہے مانع احمد
سَر ہی اُترے گا، یہ نَشہ تَو نہیں اُترے گا
٭٭٭





سرِ آئینۂ ہر ذرۂ صحرا چمکتا ہے
تری پلکوں کا سایہ سا سراب آسا چمکتا ہے

جھٹک کر ڈالتی ہے جب وُہ بھیگے بال شانے پر
تَو نیچے دُور وادی میں کہیں دریا چمکتا ہے

کسی نے آگ میں گوندھا ہے برسوں میری مٹی کو
بدن کے ریشے ریشے میں اِک آئینہ چمکتا ہے

یہاں سے کوئی گزرا ہے یقیناً مجھ سے پہلے بھی
درِ امکاں پہ اَب بھی شبنمی بوسہ چمکتا ہے
.
جب آنکھیں خاک ہَو جاتی ہیں احمد تَب کہیں جا کر
بَس اِک پَل موجۂ خوشبو کا نقشِ پا چمکتا ہے
٭٭٭



چوتھا دَرویش


چوتھا دَرویش میں ہُوں اور مجھ کو
مجھ پہ بیتی ہے جو وُہ یاد نہیں 
چاروں جانب شکستہ دیواریں 
جن پہ ہَم اَجنبی رَفیقوں کے
بے خدوخال سائے رَقصاں ہیں 
بیچ میں اِک اَلاؤ روشن ہے
جس کا ایندھن ہے یہ سسکتی رات
سَب کہانی سنا چکے اپنی
اَب مجھے داستاں سنانی ہے
داستاں ! اَب جو مجھ کو یاد نہیں 
٭٭٭





من کو شانت کیا تھا گھر کو مہکا رکھا تھا
بھولی بسری یاد نے انت مچا رکھا تھا

گاڑی مجھ کو جیسے چھو کر گذر گئی تھی
میں نے خود کو اور کہیں الجھا رکھا تھا

سانسوں کی تاریک گذر گاہوں سے آگے
اُس نے مجھ میں اپنا دیا جلا رکھا تھا

ترزی سے بہتے پانی پر گاڑ کے نظریں 
ہم دونوں نے پل کو ناؤ بنا رکھا تھا

میں نے اس کو موت کی آنکھ سے دیکھا ورنہ
وہ اک عام سا شخص تھا اُس میں کیا رکھا تھا

بیچ بھنور کے اس نے اتار دیا کشتی سے
میں نے رختَ سفر میں آئینہ رکھا تھا
٭٭٭


نا جنس کا لمس


وُہ چلتی
تَو اُس کے دوپٹے پہ
کاڑھے ہُوئے پھول
اک ایک کر کے
فضا میں بکھرتے
نئی کونپلیں پھوٹتیں
پھول کھلتے
فضا میں بکھرتے
کوئی پھول جب اپنے ناجنس کا لمس پاتا
تَو شعلہ بھڑکتا
کہیں آئینوں سے
کہیں پانیوں سے
مچلتی ہُوئی راکھ اُڑتی
تماشائی سب دیکھتے
دیکھتے اور رستہ بدلتے
مگر میں۔۔۔۔۔۔!
مجھے اِن پُر اسرار پھولوں کی
مانوس خوشبو نے
کچھ ایسا پاگل کیا
میں فضاؤں میں اُڑتے ہُوئے پھول چننے لگا
پھول چنتا رہا
مجھ سے کیا پوچھتے ہَو کہانی مری
یہ مرے ہاتھ دیکھو۔۔۔!
مرے ہاتھ ایسے نہیں تھے۔۔۔!!
٭٭٭


Child Labour


مرے بابا نہیں ہیں ناں۔۔۔!
میں تپتی دوپہر میں
شہر کی سڑکوں پہ اپنے جسم کا
ایندھن جلاتا ہُوں
تَو گھر میں چولہا جلتا ہے
مرے ہاتھوں میں چھالے پڑ گئے ہیں
پاؤں سے چپکی ہُوئی یہ تارکولی ریت
میرے ساتھ روزانہ مرے بستر میں جاتی ہے
مجھے اپنے بدن سے
شہر کی روندی ہُوئی سڑکوں کی
میلی باس آتی ہے
مرے بابا نہیں ہیں ناں۔۔۔!
٭٭٭



دشت تھا،دھوپ تھی،وہ یاد بھی آیا ہوا تھا
ایسی وحشت تھی کہ میں انت مچایا ہوا تھا

خواب ،مٹی کا دیا،نام،مقام اور کلام
اس کے قدموں میں رکھا جو بھی کمایا ہوا تھا

میری ناکام محبت تھی وہ لیکن اس نے
مجھ کو مرنے سے بہر حال بچایا ہوا تھا

چپ لگی ایسی کہ پوچھا بھی تو بولا نہ گیا
ابتدا میں تو بہت شور مچایا ہوا تھا

کچھ تو اظہارِ محبت بھی مرا سرسری تھا
کچھ وہ بے درد بھی انکار پہ آیا ہوا تھا

اس نے کچھ ایسی نگاہوں سے مجھے دیکھا تھا
میرا سایہ بھی پسینے میں نہایا ہوا تھا

مجھ سے لپٹا تو مری پشت سے احمد اس نے
میرے دشمن کی طرف ہاتھ بڑھایا ہوا تھا
٭٭٭





تجھ حسن سے معاملہ کس آن میں ہوا
میں تو جواں ہی میر کے دیوان میں ہوا

میری متاعِ اول و آخر ہے میرا عشق
وہ عشق جو کہ عشق کے امکان میں ہوا

سر پر بنا لیا ہے پرندے نے گھونسلہ
غافل میں خود سے ایسا ترے دھیان میں ہوا

اُس کو طرح ملی مرے فکر و شعور سے
جو فیصلہ بھی وقت کے ایوان میں ہوا

میں دکھ تھا کائنات کا، جب حد سے بڑھ گیا
میرا ظہور صورتِ انسان میں ہوا
٭٭٭






وقت کی رفتار ہو جاؤں گا میں
اتنا پر اسرار ہو جاؤں گا میں

جیسے میرا خواب ہے یہ زندگی
جیسے اب بیدار ہو جاؤں گا میں

بے نیازانہ گزر جائے گا تُو
گاؤں کا بازار ہو جاؤں گا میں

دیر سے چشمِ شفق آسا میں تھا
اب سرِ رخسار ہو جاؤں گا میں

دیکھنا ڈھونڈے گی جب منزل مجھے
راہ کی دیوار ہو جاؤں گا میں
٭٭٭

مآخذ: ’عکاس‘ انٹر نیشنل، اسلام آباد ۔ شمارہ ۱۰، ۱۱ مدیر: ارشد خالد اور دوسری ویب سائٹس جیسے
http://www.urdupoint.com/poetry/uPoetry-449--1
تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید
