﻿


حجاب فی الاسلام
(پردے  کے  احکام قرآن و سنت کی روشنی میں )




عبدالحئی عابد
شعبہ علوم اسلامیہ، یونیورسٹی آف سرگودھا






بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

پیش لفظ

		حجاب اورستراسلام کے  انتہائی اہم معاشرتی قوانین میں  سے  ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے  قرآن مجید میں جہاں  مرد اور عورت دونوں  کے  لیے  معاشرت کی حدود مقرر کی ہیں، وہیں  ان کے  لیے  حجاب اور ستر کا تعین بھی کر دیا ہے ۔ اللہ نے  عرب معاشرے  کی اخلاقی حالت کو دیکھتے  ہوئے  اس طرح کے  اہم معاشرتی قوانین تدریج کے  اصول پر نازل فرمائے ،جیسے  کہ شراب اور غلامی وغیرہ کے  احکام ہیں ۔ اسی طرح پردے  کے  بارے  میں  اصولی احکام کے  نزول کے  ساتھ ساتھ دیگر معاشرتی آداب کا تعین بھی کیا ہے ۔ مثلاً،گھروں  میں  داخل ہونے،اجازت لینے،محرم و غیر محرم کے  تعین،زیب و زینت کو چھپانے ،غض بصر، تبرج جاہلیت سے پرہیز وغیرہ کے  قوانین۔ 
		 ستر اور حجاب دو بالکل الگ چیزیں  ہیں  اور قرآن و حدیث کے  احکام سے  ان کا  واضح تعین کر دیا گیا ہے ۔ لیکن اس کے  باوجود اکثر ان دونوں  کو گڈمڈ کر دیا جاتا ہے ۔  اگرچہ چہرے  کے  پردے  کے  لازمی ہونے  کے  بارے  میں  قرون اولیٰ کے  مسلمانوں  میں  بھی اختلاف موجود تھا، لیکن دور حاضر میں  مغربی تہذیب و ثقافت کے  اثرات کے  باعث بہت سے  مسلمان علماء و مفکرین چہرے  کے  پردے  کو اختیاری قرار دینے  لگے  ہیں ۔ اور ستر ہی کو اصل پردہ قرار دینے  لگے  ہیں ۔ اس مضمون میں  ہم نے  یہ بات سامنے  لانے  کی کوشش کی ہے  کہ دراصل ستر اور حجاب دو مختلف چیزیں  ہیں ۔ عورت کا ستر ہاتھ،پاؤں  اور چہرے  کے  علاوہ باقی پورا جسم چھپانا ہے ۔ اور یہ ستر کا حکم محرم رشتہ داروں  کے  سامنے  بھی ہے ۔ حجاب کا حکم ایک الگ حکم ہے  جس کا تعلق غیر محرموں  اور گھر کے  باہر کے  معاملات سے  ہے ۔  اس کے  علاوہ ہم نے  یہ ثابت کرنے  کی کوشش بھی کی ہے  کہ اللہ نے  عورت کو اپنی زینتیں  چھپانے  کا حکم دیا ہے ۔ اور اگر دل و دماغ کو ہر قسم کے  تعصب سے  خالی کر کے ، ٹھنڈے  دل سے  یہ سوچا جائے  کہ عورت کی سب سے  بڑی خوبصورتی اور زینت کیا ہے  تو اس کا جواب بالکل واضح ہے  کہ اس کا چہرہ ہی اس کی اصل زینت ہے ۔ اس کا ثبوت یہ ہے  کہ انسانی معاشروں  میں جب بھی کسی شخص نے  کسی عورت کے  ساتھ انتقامی کار روائی کا قصد کیا ہے  تو ا س نے  سب سے  پہلے  اس کے  چہرے  ہی کو داغ دار کرنے  کی کوشش کی ہے ۔ پردے  کے  یہ احکام صرف اسلام نے  ایجاد نہیں  کیے  بلکہ تورات و انجیل میں  بھی موجود ہیں ۔ انسانی لباس اور پردے  پر شیطان کے  پہلے  وار کے  نتیجے  میں  جب انسان کو جنت سے  نکالا گیا تواسے  خصوصی ہدایات دی گئیں  کہ شیطان عموماً اسی راستے  سے  وار کرے  گا،لہٰذا اپنی اس کمزوری  پر ہمیشہ مضبوطی سے  پردہ ڈالے  رکھے ۔ 
		اسی طرح احکام ستر و حجاب کوسمجھنے  کے  لیے  اپنے  معاشرے  کو بھی سامنے  رکھنا چاہیے ۔ یہ سارے  احکام ایک ایسے  معاشرے  سے  متعلق تھے  جو حضور ﷺ کی قیادت میں دنیا کا سب سے  صالح ترین معاشرہ تھا۔ اس لیے  موجودہ معاشرے  میں  ان قوانین کی تفاصیل میں مزید اضافہ کرنے  اور انھیں  زیادہ شدت سے  نافذ کرنے  کی ضرورت ہے ۔ 
							۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ عبد  الحئی عابد 


ستراور حجاب کا مفہوم

 	الستر:
	لفظ ’’الستر‘‘ عربی زبان کا لفظ ہے  جس کا مطلب ’’چھپانا‘‘،’’پوشیدہ رکھنا‘‘ ہے ۔ لسان العرب میں  ہے :
	سَتَرَ الشَّیئَ یَسْتُرُہٗ وَ یَسْتِرُہٗ سَتْراً وَ سَتَراً: اَخْفَاہُ، 
اَنشد ابن الاعرابی : وَیَسْتُرُوْنَ النَّاسَ مِنْ غَیْرِ سَتَر والستر،بالفتح :مصدر سَتَرت الشیء اَسْتُرُہ اذا غطَّیتہ فاسْتَتَر ھو۔ وَ تَسَتَّرَ ای تَغَطَّی۔ و جَارِیَۃٌ مُسَتَّرَۃٌ ای مُخَدَّرَۃٌ۔ 1

	الحجاب:
	لفظ ’’الحجاب‘‘ بھی پردہ، آڑ،چھپانے  اور پوشیدہ رکھنے  کے  لیے  استعمال ہوتا ہے ۔ ابن منظور لکھتے  ہیں :

	اَلْحِجَابُ: اَلْسَّتْرُ
	حَجَبَ الشَّیئَ یَحْجُبُہٗ حَجْباً وَ حِجَاباً وَ حَجَّبَہ: سَتَرَہٗ۔ 
	وَ قَدْ اِحْتَجَبَ وَ تَحَجَّبَ اِذَا اکْتنَّ مِنْ وَّرَاءِ حِجَابٍ۔ 
	وَاِمْرَاَء ۃٌ مَّحْجُوْبَۃٌ: قَدْ سُتِرَتْ بِسِتْرٍ۔ 2
	قرآن مجید میں  ارشاد ہے :
	واذا سَاَلْتُمُوْھُنَّ مَتٰعاً فَسْئَلُوْھُنَّ مِنْ وَرَاءِ حِجَاب۔ 
					(الاحزاب۳۳:۵۳)
		’’ اور جب تمھیں (نبی کی بیویوں  سے )کوئی چیز مانگنا ہو تو پردے  کے  پیچھے  سے  مانگو۔ ‘‘
حجاب کی ضرورت و اہمیت

	اللہ تعالیٰ نے  جب انسان کو ارادے  اور اختیار کی قوت دے  کر خلیفہ کی حیثیت سے  اس زمین میں  اقتدار اور اختیار دینے  کا ارادہ کیا تو فرشتوں  نے  ایک مکالمے  کے  ذریعے  سے  اللہ تعالیٰ کے  اس پروگرام پر اپنے  تحفظات کا اظہار کیا۔ لیکن جب اللہ تعالیٰ نے  انسان کی کچھ مخصوص صلاحیتوں  کا مظاہرہ ان کے  سامنے  کیا تو وہ اللہ کے  حکم کے  مطابق انسان کے  سامنے  سر تسلیم خم کر گئے ۔ صرف شیطان نے  تکبر اور طغیان کا راستہ اختیار کیا اور اللہ کے  حضور دائمی لعنت کا حق دار ٹھہرا۔ اللہ تعالیٰ نے  اس واقعے  کا ذکر اس طرح سے  کیا ہے :
		وَاِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰئِکَۃِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْا اِلاَّ اِبْلِیْسَ، اَبیٰ وَاسْتَکْبَرَ وَکَانَ مِنَ الْکٰفِرِیْنَ۔ 					        (البقرۃ ۲:۳۴)
		’’اور جب ہم نے  فرشتوں  سے  کہا کہ آدم کو سجدہ کرو تو ابلیس کے  سوا سب نے  سجدہ کیا۔ اس نے  انکا ر کیا  اور تکبر کیا اور کافروں  میں  ہو گیا۔ ‘‘
	چنانچہ اللہ نے  شیطان سے  اس کا مقام و مرتبہ چھین لیا اور اسے  راندہ درگاہ کر کے  وہاں  سے  نکال دیا۔ اس پر شیطان نے  اللہ سے  قیامت تک کے  لیے  مہلت حاصل کر لی، تاکہ انسان کو اللہ کے  راستے  سے  بھٹکا سکے ۔ اللہ نے  اسے  مہلت دینے  کے  ساتھ یہ بھی فرما دیا کہ انسانوں  میں  سے  جو تیر ا کہنا مانے  گا میں  ضرور تم سب کو جہنم سے  بھر دوں  گا۔3 
	اللہ تعالیٰ نے  شیطان کو وہاں  سے  نکالنے  کے  بعد آدم اور حوا کو حکم دیا کہ تم اس باغ میں  رہو اور جہاں  سے  جو چا ہو کھاؤ پیو، لیکن اس درخت کے  پاس مت جانا ورنہ تم ظالموں  میں  سے  ہو جاؤ گے ۔ چنانچہ شیطان جو ان کی تاک میں  تھا اس نے  دونوں  کے  دلوں  میں  وسوسہ ڈالا اور ان کو اللہ کی نافرمانی پر آمادہ کیا۔ قرآن مجید نے  اس واقعے  کا ذکر اس طرح سے  کیا ہے :
	فوسوس لھما الشیطٰن لیبدی لھما ما وٗرِیَ عنھما من سَوْاٰتِھِمَا۔ 
								(سورۃ الاعراف۷:۲۰)
		’’پھر شیطان نے  ان دونوں  کے  دلوں  میں  وسوسہ ڈالا تاکہ ان کی شرم گاہیں  جو ایک دوسرے  سے  پوشیدہ تھیں  دونوں  کے  روبرو بے  پردہ کر دے ۔ ‘‘
	آدم اور حوا شیطان کے  بہکاوے  میں  آ گئے  اور اللہ کے  قانون کی خلاف ورزی کر بیٹھے۔ اس کے  بعد اپنی غلطی پر شرمندہ ہوئے ۔ جس پر اللہ نے  ان پر اپنی رحمت اور بخشش کی اور ان کی غلطی کو معاف کر دیا۔ اس واقعے  سے  ظاہر ہوتا ہے  کہ شیطان کا سب سے  پہلا وار جو بنی نوع انسان پر ہوا وہ یہی تھا کہ وہ ان کو بے  پردہ کر دے ۔ اللہ نے  انسان پر جو حدود و قیود عائد کی تھیں  ان کا مقصد یہی تھا کہ دونوں  کے  درمیان پردہ برقرار رہے ۔ مگر شیطان نے  اس پردے  پر وار کر کے  انسان کو اس پاکیزہ مقام سے  نیچے  دھکیل دیا۔ اللہ تعالیٰ فرماتے  ہیں :
		فلما ذاقا الشجرۃ بَدَتْ لَھُمَا سَوْاٰ تُھُمَا و طَفِقَا یَخْصِفٰنِ علیھما من وَرَقِ الْجَنَّۃِ۔ 							     (سورۃ الاعراف۷:۲۲)
		’’پس ان دونوں  نے  جب درخت کو چکھا، دونوں  کی شرم گاہیں  ایک دوسرے  کے  سامنے بے  پردہ ہو گئیں  اور دونوں  اپنے  اوپر جنت کے  پنے  جوڑ جوڑ کر رکھنے  لگے ۔ ‘‘
	اللہ تعالیٰ نے  انسانوں  کی ہدایت اور راہ نمائی کے  لیے   قرآن مجید میں  اس واقعے  کو پوری جزئیات اور مکمل وضاحت سے  بیان کر دیا ہے  کہ شیطان ان کا ازلی دشمن ہے  اور اسے  کسی طرح بھی انسانوں  کا یہ مقام و مرتبہ گوارا نہیں  ہے ۔ وہ انھیں  اس مرتبے  سے  گرانے  کے  لیے  کوشاں  ہے ۔ اس سلسلے  میں  اس کا سب سے  بڑا ہدف انسان کا لباس،پردہ اور شرم و حیا ہے ۔ اس واقعے  سے  ہمیں  ایک سبق یہ بھی ملتا ہے  کہ شیطان اپنی غلطی پر اڑا رہا اور لا یعنی دلیلیں  اور عذر تراشتا رہا، جبکہ آدم و حوا علیھما السلام نے  فورا اپنی لغزش پر ندامت کا اظہار کیا اور اللہ سے  معافی طلب کر لی۔ تو اللہ نے  ان کی توبہ قبول فرمائی اور ان کی غلطی معاف کر دی۔ اس سے  ظاہر ہوتا ہے  کہ گناہ کر کے  اس پر قائم رہنا اور اس کو صحیح ثابت کرنے  کے  لیے  دلائل و براہین جمع کرنا شیطانی طریقہ ہے  اور گناہ کرنے  کے  بعد اظہار ندامت کرنا اپنے  خالق و مالک کے  سامنے  سرتسلیم خم کر دینا صحیح اور افضل طریقہ ہے ۔ 
	اس واقعے  کی تفاصیل بیان کر نے  کے  بعد اللہ تعالیٰ نے  فرمایا ہے :
		یا بنی اٰدَمَ قَدْ انْزَلْنَا عَلَیْکُمْ لِبَاساً یُّوَارِیْ سَوْاٰتِکُمْ وَرِیْشاً وَ لِبَاس التَقْوٰی ذٰلِکَ خَیْرٌ ذٰلِکَ مِنْ اٰیٰتِ اللّٰہِ لعلھم یذکرون۔ 	(سورۃ الاعراف۷:۲۶)
		’’اے  اولادِ آدم (علیہ السلام) ہم نے  تمہارے  لیے  لباس پیدا کیا جو تمہاری شرم گا ہوں  کو چھپاتا ہے  اور تمہارے  لیے  زینت کا باعث بھی ہے ۔ اور تقویٰ کا لباس اس سب سے  بڑھ کر ہے ۔ یہ اللہ کی نشانیوں  میں  سے  ہے،تاکہ یہ لوگ نصیحت حاصل کریں ۔ ‘‘
	درجِ بالا آیت کے  مطالعے  سے  ظاہر ہوتا ہے  کہ اللہ نے  انسانوں  کے  لیے  خصوصی طور پر لباس کا اہتمام کیا ہے ۔ اور لباس کے  جو مقاصد بیان کیے  ہیں  وہ جسم کو ڈھانکنا اور خوب صورتی حاصل کرنا ہے ۔ گویا اصل خوب صورتی لباس زیب تن کرنے  میں  ہے  نہ کہ لباس اتارنے  میں ۔ پھر اس سے  آگے  بڑھ کر فرمایا ہے  کہ صرف یہ لباس ہی کافی نہیں  ہے  بلکہ دلوں  میں  اللہ کا خوف اور قیامت کے  محاسبے  کا ڈر بھی موجود ہونا چاہیے ۔ 
	حضرت آدم سے  لے  کر دور حاضر تک، جب ہم تاریخ کا جائزہ لیتے  ہیں  تو معلوم ہوتا ہے  کہ شیطان نے  جن قوموں  کو اللہ کے  راستے  سے  دور کرنے  کی کوشش کی ہے ، ان پر سب سے  پہلا  وار یہی کیا ہے  کہ ان میں  سے  شرم وحیا ختم کر کے  بے  پردگی و عریانی کو رواج دینے  کی کوشش کی ہے ۔ اور یہی چیز بعد ازاں، جنسی آوارگی میں  بدل کر، بالآخر ان  قوموں  کے  زوال اور پس ماندگی کا سبب بن گئی۔ نبی کریم ﷺ  کا فرمان ہے :
	ان مما  ادرک الناس من کلام النبوۃ الاولیٰ  اذا لم تَسْتَحْیِ فاصنع ما شئت۔ (بخاری،کتاب الانبیاء)
’’  بے  شک اس(حکمت ) میں  سے  جو لوگوں  نے  سابقہ نبوتوں  کے  کلام سے  حاصل کی (یہ ہے  کہ) جب تو حیا نہ کرے  تو جو جی چاہے  کرتا رہے ۔ ‘‘
	گویا شرم و حیا تمام انبیا ء کی تعلیمات کا نچوڑ ہے  اور سب نے  اس چیز کا تاکید کے  ساتھ حکم دیا ہے ۔ یہ ایمان کا حصہ، اسلام کے  ضابطہ اخلاق کا حسن اور تمام بھلائیوں  کی جڑ ہے ۔ مولانا ابو الاعلیٰ مودودی لکھتے  ہیں :
	’’حیا کے  معنی شرم کے  ہیں ۔ اسلام کی مخصوص اصطلاح میں  حیا سے  مراد وہ ’’شرم‘‘ ہے ، جو کسی امر منکر کی جانب مائل ہونے  والا انسان خود اپنی فطرت کے  سامنے  اور اپنے  خدا کے  سامنے  محسوس کرتا ہے ۔ یہی حیا وہ قوت ہے  جو انسان کوفحشاء اور منکر کا اقدام کرنے  سے  روکتی ہے  اور اگر وہ جبلت حیوانی کے  غلبے  سے  کوئی برا فعل کر گزرتا ہے  تو یہی چیز اس کے  دل میں  چٹکیاں  لیتی ہے ۔ ‘‘4


قبل ازاسلام خواتین کی حالت

	جب ہم قدیم تاریخ پر نگاہ ڈالتے  ہیں  تو ہر دور میں  خواتین کی حیثیت مردوں  کے  مقابلے  میں  بہت ہی کم تر نظر آتی ہے ۔ ان کو معاشرے  میں  نہایت گھٹیا مقام دیا جاتا تھا۔ اہل مذہب ان کو تمام برائیوں  کی جڑ قرار دیتے  تھے  اور ان سے  دور رہنے  میں  عافیت محسوس کرتے  تھے۔ اور اگر ان سے  کچھ رابطہ یا تعلق ہوتا بھی تو ایک نا پاک اور  دوسرے  درجے  کی مخلوق کی حیثیت سے  ہوتا جو صرف مردوں  کی ضروریات کو پورا کرنے  لیے  پیدا کی گئی تھی۔ یونانی اساطیر میں  ایک خیالی عورت پانڈورا (Pandora) کو تمام انسانی مصائب کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا تھا۔ اسی طرح یہود و نصاریٰ کی مذہبی خرافات میں  حضرت حوا  ؑ کو آدم کے  جنت سے  نکالے  جانے  کا باعث قرار دیا گیا تھا۔ چنانچہ عورت پر بہت طویل عرصہ ایسا گزرا کہ وہ کوئی قابل لحاظ مخلوق نہ تھی۔ یونانی تہذیب کے  زوال کی ابتداء جنس پرستی اور عریانی سے  ہوئی، اسی طرح قدیم ایرانی تہذیب میں  بھی مرد و زن کے  تعلقات اخلاقی رکاوٹوں  سے  آزاد ہو گئے ۔ حضرت لوط  ؑکی قوم اور بنی اسرائیل بھی جنسی بے  راہ روی کے  انجام کا شکار ہوئے ۔ اہل یونان کے  بعد رومی تہذیب اپنے  عروج کی انتہا تک پہنچی ۔ ان کے  ہاں  خاندانی نظام بہت مضبوط بنیادوں  پر استوار تھا۔ لیکن جیسے  ہی ان کے  خاندانی نظام میں  دراڑ پڑی تو یونانی معاشرہ ذلت اور پستی کی انتہا میں  گرتا چلا گیا۔ روم میں  عریانی، قحبہ گری اور فحاشی کو رواج حاصل ہوتا گیا۔ اور بالآخر اس کے  نتیجے  کے  طور پر رومی تہذیب زوال کا شکار ہو گئی۔ اسی طرح مسیحی یورپ میں  ابتدا میں  عورت کو ایک خطرہ،مصیبت اور غارت گر ایمان قرار دیا گیا۔ مذہبی لوگ عورت سے  دور رہنے  کو تقویٰ، تقدس اور اعلیٰ اخلاق کی علامت سمجھنے  لگے ۔ اس طرح سے  عورت اس معاشرے  میں  تیسرے  درجے  کی مخلوق بن گئی تھی۔ چونکہ مذہبی طبقے  کو معاشرے  میں  فوقیت حاصل تھی اور تمام قوانین اور ضوابط کا مرکز و محور یہی طبقہ تھا جو عورتوں  کو تمام مصائب کی جڑ قرار دیتا تھا، لہٰذا عورتوں  کو کسی قسم کے  کوئی حقوق حاصل نہیں  تھے ۔ وہ سراسر مردوں  کے  رحم و کرم پر تھیں ۔ اس لیے  جب تک مذہبی طبقے  کو معاشرے  میں  فوقیت حاصل رہی تب تک  معاملات کسی نہ کسی حد تک چلتے  رہے ، لیکن صنعتی انقلاب کے  بعد جب مذہبی طبقے  کا اثر معاشرے  سے  ختم ہوا اور شخصی آزادیوں  کی تحریکوں  نے  جنم لیا تو معاشرہ ہر قسم کی قید سے  آزاد ہو گیا۔ چونکہ عورتوں  کے  کوئی حقوق اور ان سے  متعلق کسی قسم کے  ضوابط کا وجود نہیں  تھا، اس لیے  اس آزادی کے  بطن سے  عریانی، فحاشی،بے  حیائی اور بے  پردگی کا وہ طوفان برپا ہوا جس نے  سارے  یورپ کو اپنی لپیٹ میں  لے  لیا۔ خاندانی نظام تقریباً ختم ہوا، خانگی ذمہ داریوں  کو بوجھ سمجھ لیا گیا اور عورتوں  کو دل بہلانے  کا ذریعہ بنا دیا گیا۔ خانہ ولدیت سے  محروم بچوں  کی تعداد میں  لاکھوں  کے  حساب سے  اضافہ ہونے  لگا۔ 
	عرب معاشرہ بھی اسلام سے  قبل قوانین و ضوابط سے  محروم، طبقات میں  منقسم، مردوں  کا معاشرہ تھا۔ یہاں  صرف تعداد  اور طاقت کے  زور سے  ہی زندہ رہا جاتا سکتا تھا، اس لیے  عورتوں  کو معاشرے  میں  نہایت کم تر مقام دیا جاتا تھا۔ بچوں  کی پیدائش کو خوش قسمتی اور بیٹیوں  کی پیدائش کو ذلت سمجھا جاتا تھا۔ عورتوں  کو غلاموں  کی طرح وراثت میں  تقسیم کیا جاتا تھا۔ ان کو کسی قسم کے  کوئی حقوق نہیں  دیے  جاتے  تھے ۔ عریانی اور فحاشی عام تھی۔ لونڈیوں  سے  قحبہ گری کرائی جاتی۔ کثرت ازواج کی کوئی حد مقرر نہ تھی۔ اسی طرح طلاق پر بھی کسی قسم کی پابندی نہیں  تھی۔ عورتیں  بن سنور کر بازاروں  میں  جایا کرتی تھیں ۔ عشق بازی عام تھی اور معاشقوں  کا ذکر لوگ اپنی شاعری میں  کرتے  تھے ۔ ایسے  لوگ جن کے  پاس اپنی عشق بازی کا کوئی جھوٹا یا سچا افسانہ نہ ہوتا انھیں  نیچ اور نامرد سمجھا جاتا تھا۔  خانہ کعبہ میں  طواف کے  دوران بھی عریانی کو زیادہ اجر و ثواب کا باعث سمجھا جاتا تھا۔ اس کی توجیہ وہ لوگ اس سے  کرتے  تھے  کہ ہم نے  باپ دادا کو یہی عمل کرتے  دیکھا ہے ، اور اللہ نے  اس میں  زیادہ اجر و ثواب رکھا ہے ۔ اس بات کا ذکر اللہ تعالیٰ نے  قرآن مجید میں  اس طرح سے  کیا ہے ۔ 
		و اذا فعلوا فاحشۃ قالوا وجدنا علیھاآباء نا واللہ امرنا بھا، قل ان اللہ لا   یا مر بِا لْفَحْشَائِ اَتَقُوْلُوْنَ عَلَی اللّٰہِ مَا لا تعلمون۔ 	(سورۃ الاعراف۷:۲۸)
		’’اور وہ لوگ جب کوئی فحش کا م کرتے  ہیں  تو کہتے  ہیں  کہ ہم نے  اپنے  باپ دادا کو اسی طریق پر پایا ہے  اور اللہ نے  بھی ہم کو یہی بتایا ہے ۔ آپ کہہ دیجیے  کہ اللہ تعالیٰ فحش بات کی تعلیم نہیں  دیتا۔ کیا تم اللہ کے  ذمہ ایسی بات لگاتے  ہو جس کی تم سند نہیں  رکھتے ۔ ‘‘
	اس پس منظر میں  جب نبی کریم ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے  منصب نبوت سے  سرفراز فرمایا تو آپ نے  اس بگڑے  ہوئے  معاشرے  کی مکمل اصلاح اور درستی کا عمل شروع کیا۔ سب سے  پہلے  مرحلے  میں  ان لوگوں  کی تربیت کی جنھوں  نے  آپ کے  پیغام پر لبیک کہا۔ آپ نے  ان کو اعلیٰ اخلاق و کردار کے  زیور سے  آراستہ کیا۔ مدینہ ہجرت تک یہ لوگ اسی معاشرے  میں  اپنے  اپنے  انداز سے  اسلام کی تعلیمات پر عمل پیرا رہے ۔ ہجرت کے  بعد جب مدینہ میں  اسلامی ریاست وجود میں  آئی اور مختلف قوموں  اور رسوم و رواج سے  واسطہ پڑا تو اللہ تعالی نے  تدریجاً ستر و حجاب کے  احکام نازل فرمائے ۔ 


احکام ستر و حجاب

	چنانچہ اس قسم کے  معاشرے  میں، جہاں  پردے  جیسی اخلاقی اقدار کا سرے  سے  وجود نہیں  تھا، اچانک خواتین کو مکمل طور پر مستور اور محبوس کر دینا ممکن نہ تھا۔ اس لیے  ان ہدایات کا آغاز ۵  ہجری میں  سورہ احزاب سے  ہوا اور ان کی تکمیل اور تفصیل سورہ نور میں  ۶ ہجری میں  کی گئی۔  تدریجاً یہ احکام سب سے  پہلے  حضور ﷺ کے  گھرانے  کے  لیے  اور بعد میں  مومنین کے  لیے  نازل کیے  گئے ۔ 
	قرآن مجید میں  ارشاد ہے :
		یٰنِسَاءَ النَبِیِّ لَسْتُنَّ کاَحَدٍمِنَ النِّسَاءِ اِنِ اتْقَیْتُنَّ، فَلاَ تَخْضَعْنَ بالقول فیطمع الذی فی قلبہ مرض و قلن قولا معروفا ۔ وقرن فی بیوتکن ولا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الجَاھِلِیَّۃِ الُاوْلیٰ۔ (الاحزاب ۳۳: ۳۲۔ ۳۳۔ )
		’’ اے  نبی کی بیویو ! تم عام عورتوں  کی طرح نہیں ۔ اگر تم اللہ سے  ڈرنے  والی ہو تو نرم لہجے  میں  بات نہ کیا کرو۔ ایسا کرنے  سے  دل کی خرابی میں  مبتلا شخص خواہ مخواہ کوئی غلط امید لگا بیٹھے  گا۔ لہذا اس سے  عام دستور کے  مطابق بات کیا کرو اور اپنے  گھروں  میں  وقار سے  ٹھہری رہو۔ اور سابقہ دور جاہلیت کی طرح اپنی زینت و آرایش نہ دکھاتی پھرو۔ ‘‘
	اللہ تعالیٰ نے  خود نبی ﷺ  کے  اہل خانہ سے  ان احکام کا آغاز کیا اور خاندانِ نبوت کو امتِ مسلمہ کے  لیے  اُسوہ حسنہ بنا دیا۔ خواتین کی آواز پر پہلی پابندی لگائی اور گھر کو عورت کا اصل مقام قرار دیا ۔ اس کے  بعد زمانہ جاہلیت کے  سے  انداز میں  جسم، کپڑوں اور زیب و زینت کی نمائش کرتے  ہوتے  باہر نکلنے  پر پابندی لگا دی ۔ 
	اس کے  بعد مسلمانوں  کو اہل بیت نبی ﷺ کے  بارے  میں  خصوصی احکام دیے  گئے ۔ ارشاد ہوا:
		یَاٰیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَدْخُلُوْا بُیُوْتَ النَّبِیِّ اِلَّا اَنْ یُّوْذَنَ لَکُمْ اِلیٰ طَعَامٍ غَیْرَ نٰظِرِیْنَ اِنٰہ  ولٰکنْ اِذَا دُعِیْتُمْ فَاْدْخُلُوْا فَاِذَا طَعِمْتُمْ فانتشروا ولامُسْتَئْنِسِیْنَ لِحَدِیْثٍ اَنَّ ذٰلِکُمْ کانَ یُوْذِیْ النَّبِیَّ فَیَسْتَحْیِ مِنْکُمْ واللہ لَا یسْتَحْیِ مِنَ الْحَقِّ وَاِذَا سَاَلْتُمُوْھُنَّ مَتٰعاً فَسْئَلُوْھُنَّ مِنْ وَّرَاءِ حِجَابٍ۔ 	 (الاحزاب ۳۳:۵۳)
		’’ اے  ایمان والو ! نبی کے  گھروں  میں  بلا اجازت داخل نہ ہوا کرو کھانے  کے  لیے  ایسے  وقت میں  کہ اس کے  پکنے  کا انتظار کرتے  رہو، بلکہ جب بلایا جائے  تو جاؤ اور جب کھا چکو تو نکل کھڑے  ہو۔ وہیں  باتوں  میں  مشغول نا ہو جایا کرو۔ بنی  ﷺ کو تمہاری اس بات سے  تکلیف ہوتی ہے ۔ تو وہ لحاظ کر جاتے  ہیں  اور اللہ تعالیٰ حق(بیان کرنے ) میں  کسی کا لحاظ نہیں  کرتا۔ جب تم نبی ﷺ کی بیویوں سے  کوئی چیز طلب کرو تو پردے  کے  پیچھے  سے  طلب کرو۔ ‘‘
 	 درج بالا آیت حضرت زینب کے  ولیمے  کے  بعد نازل ہوئی۔ نبیﷺ کی دعوت پر بعض صحابہ کرام ولیمے  میں  تشریف لائے  اور کھانا کھانے  کے  بعد بھی کافی دیر تک بیٹھ کر باتیں  کرتے  رہے، جس سے  آپ ﷺ کو تکلیف ہوئی، لیکن آپ نے  از راہِ مروّت صحابہ کو جانے  کے  لیے  نہیں  کہا۔ 5 
	اس واقعے  کی تفصیل حضرت انسؓکی اس روایت سے  معلوم ہوتی ہے :
		عن انسِ بْنِ مَالِکٍ رضی اللہ عنہ قال: لَمَّا تَزَوَّجَ رَسُوْل اللّٰہِ ﷺ زینبَ بنتَ جحشٍ دعا القومَ فطعِمُوا ثم جلسوا یَتَحَدَّثُوْنَ واذا ھو کَاَنَّہٗ یَتَھَیَّا لِلْقِیَامِ فَلَمْ یَقُوْمُوْا فلما رَای ذالک قام فلما قام،قام من قام وَ قَعَدَ ثَلاَثَۃَ نَفَرٍ فجاء النَّبِیَّ ﷺ لِیَدْخُلَ فاذا القوم جُلُوْسٌ ثُمَّ اِنَّھُمْ قاموا فَانْطَلَقْت فَجِئْت فَاَخْبَرْتَُ النَّبِیَّ ﷺ اِنَّھُمْ قَدْ اِنْطَلَقُوْا فَجَاءَ حَتّیٰ دَخَلَ فَذَھَبْت اَدْخُل فَاَلْقَی الْحِجَابَ بینی و بینہٗ فانزل اللہ یَا اَیُّھاَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لا تدخلوا بُیُوْتَ النَّبِیِّ۔ ۔ ۔ ۔ ۔6
		’’ حضرت انس بن مالکؓ فرماتے  ہیں : نبی ﷺ نے  حضرت زینب ؓ بنت جحش  کے  ساتھ شادی کر کے  ولیمہ کی دعوت کی۔ لوگوں  نے  کھانا کھایا، پھر بیٹھے  رہے ۔ آپ ﷺ اندر جانے  کی فکر کر رہے  تھے  مگر یہ لوگ اٹھنے  کا نام نہیں  لیتے  تھے ۔ جب آپﷺ اٹھے  تو آپ کے  ہمراہ بہت سے  لوگ اٹھ کھڑے  ہوئے۔ مگر تین آدمی پھر بھی بیٹھے  باتیں  کرتے  رہے ۔ آپ ﷺ باہر جا کر جب دوبارہ اندر آئے  تو دیکھا کہ وہ لوگ ابھی تک بیٹھے  ہوئے  ہیں ۔ پھر کچھ دیر کے  بعد وہ لوگ بھی اٹھے  تو میں  نے  آپﷺ کو خبر دی کہ وہ سب چلے  گئے  ہیں ۔ اس وقت آپﷺ اندر تشریف لائے  میں  نے  بھی جانا چاہا مگر آپﷺ نے  پردہ ڈال دیا۔ اس کے  بعد اللہ نے  یہ آیت:یا ایھا الذین اٰمنوا لاتدخلوا بیوت النبی۔ ۔ الخ، نازل فرمائی۔ ‘‘
	آپ ﷺ تو مروتاّ، خاموش رہے  لیکن،چونکہ اللہ تعالیٰ کو حق کے  بیان سے  کوئی امر مانع نہیں  تھا اس لیے  اللہ تعالیٰ نے  صحابۂ کرامؓ کو نبی ﷺ کے  گھر میں  داخل ہونے  کے  آداب بتانے  کے  ساتھ ساتھ، کسی بھی دعوت میں  جانے ،وہاں  بیٹھنے  اور کھانے  کے  آداب وضاحت سے  سمجھا دیے ۔ بعض مفسرین کے  بقول یہ حکم حضرت عمرؓ کی خواہش پر نازل ہوا۔ آپؐ نے  نبیِ کریم ﷺ سے  عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ آپ کے  پاس اچھے  برے  ہر طرح کے  لوگ آتے  ہیں، کاش آپ امہات المومنین کو پردے  کا حکم دیں  تو کیا ہی اچھا ہو۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے  یہ حکم نازل فرما دیا۔ 
 	اس آیت میں  دوسر ا حکم مسلمانوں  کو یہ دیا گیا کہ اگر انھیں  نبیﷺ کے  گھر یا امہات المومنین سے  متعلق کوئی کام ہو تو پردے  کے  پیچھے  سے  استفسار کریں ۔ چنانچہ اس حکم کے  بعد امہات المومنین نے  اپنے  دروازوں  پر پردے  لٹکا دیے ۔ اور ان کی پیروی میں  دوسرے  مسلمانوں  نے  بھی اسی طرح کا عمل کیا۔ 
	اس کے  بعد اللہ تعالیٰ نے  امہات المومنین، دیگر خواتین اہل بیت نبیﷺ اور مومن عورتوں  کو پردے  کا حکم دیا۔ ارشاد ہوا:
		یَٰاَیُّھَا النبِیّ قُلْ لِاَزْوَاجِکَ وَبَنٰتِکَ وَنِسَاءِ الْمُوْء مِنِیْنَ یُدْنِیْنَ عَلَیْھِنَّ مِنْ جَلَابِیْبِھِنَّ،ذٰلِکَ اَدْنیٰ اَنْ یُعْرِفْنَ فَلاَ یُوْذَیْنَ، وَکَانَ اللّٰہ غَفُوْراً رَّحِیْماً۔ 
								(سورۃالاحزاب ۳۳:۵۹)
		’’ اے  نبیﷺ، اپنی بیویوں  سے  اور اپنی بیٹیوں  سے  اور مسلمانوں  کی عورتوں  سے  کہہ دو کہ وہ اپنے  اوپر اپنی چادریں  لٹکا لیا کریں ۔ اس سے  بہت جلد ان کی شناخت  ہو جایا کرے  گی، پھر وہ ستائی نہیں  جائیں  گی۔ اور اللہ تعالیٰ بخشنے  والا اور مہربان ہے ۔ ‘‘
	اس آیت کے  مطالعے  سے  صاف معلوم ہو رہا ہے  کہ اللہ تعالیٰ نے  ازواج نبی، بنات نبی اور مومنین خواتین کو چہرے  کے  پردے  کا حکم دیا ہے ۔  چونکہ عورتوں  کا سترہاتھ،پاؤں  اور چہرے  کے  علاوہ باقی پورا جسم چھپانا ہے، اس کا حکم گھر کے  اندر تمام رشتہ داروں  کے  بارے  میں  بھی ہے ۔ جب کہ جلباب ستر سے  بالکل الگ چیز ہے، جس سے  مراد عورت کا اپنی چادر وغیرہ کے  ساتھ چہرے  کو چھپانا ہے ۔ اس کے  بعد سور ہ نور میں  اللہ تعالیٰ نے  ان احکام کی مزید تفاصیل بیان فرمائیں ۔ استیذان، یعنی گھروں  میں  اجازت لے  کر داخل ہونے  کا جو حکم پہلے  رسول اللہ ﷺ کے  گھرانے  کے  ساتھ مخصوص تھا، اس کو عام کر کے  اس کا دائرہ تمام مسلمانوں  کے  گھروں  تک پھیلا دیا اور اس بات کی بھی وضاحت کر دی کہ اگر اجازت نہ ملے  یا واپس لوٹ جانے  کو کہا جائے  تو دل میں  کوئی ملال لائے  بغیر واپس لوٹ جانا چاہیے ۔ اللہ تعالیٰ نے  ارشاد فرمایا:
		یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَدْخُلُوْا بُیُوْتاً غَیْرَ بُیُوْتِکُمْ حَتیٰ تَسْتَاْنِسُوْا وَ تُسَلِّمُوْا عَلیٰ اَھْلِھَا ذٰلِکُمْ خَیْرٌ لَّکُمْ لَعَلَّکُمْ تَذَکَّرُوْنَ۔ 	(سورۃالنور۲۴:۲۷)
		’’اے  ایمان والو، اپنے  گھروں  کے  سوا اور گھروں  میں  نہ جاؤ جب تک کہ اجازت نہ لے  لو اور وہاں  کے  رہنے  والوں  کو سلام نہ کر لو۔ یہی تمہارے  لیے  بہتر ہے  تاکہ تم نصیحت حاصل کرو۔ ‘‘
	یہاں  تک کہ اللہ تعالیٰ نے  گھر کے  بالغ بچوں  کے  بارے  میں  بھی فرمایا کہ ان کو بھی دوسرے  مسلمانوں  کی طرح اپنے  گھر میں  اجازت لے  کر داخل ہونا چاہیے ۔ ارشاد فرمایا:
		وَاِذَا بَلَغَ الَاَطْفَال مِنْکُمْْ الْحُلُمَ فَلْیَسْتَاْذِنُوْا کَمَا اسْتَاْذَنَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْ، کَذٰلِکَ یُبَیِّن اللّٰہ لَکُمْ اٰیٰتِہ وَاللّٰہ عَلِیْمٌ حَکِیْمٌ۔ (سورۃالنور ۲۴:۵۹)
		’’ اور تمہارے  بچے  بھی جب بلوغت کو پہنچ جائیں  تو جس طرح ان کے  اگلے  لوگ اجازت مانگتے  ہیں،انھیں  بھی اجازت مانگ کر آنا چاہیے ۔ اللہ تعالیٰ تم سے  اسی طرح اپنی آیتیں  بیان فرماتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ علم و حکمت والا ہے ۔ ‘‘
	اس کے  بعد اس حکم کے  دائرے  کو مزید وسیع کر کے  گھر میں  آنے  جانے  والے  غلاموں اور نابالغ بچوں  کے  بارے  میں  حکم دیا گیا کہ ان کو بھی نماز فجر سے  پہلے،ظہر کے  بعد آرام کے  وقت اور نماز عشاء کے  بعد گھروں  میں  داخل ہونے  کے  لیے  اجازت لینا ضروری ہے ۔ 7 	
	اللہ تعالیٰ نے  مسلمانوں  کو گھروں  میں  داخل ہونے  اور پردے  کے  عام آداب سے  آگاہ کرنے  کے  بعد سورہ نور کی درج ذیل آیت میں  نہایت تفصیل کے  ساتھ خصوصی احکام دیے  جن کا تعلق مردوں  اور عورتوں  دونوں سے  ہے ۔ اللہ تعالی نے  ارشاد فرمایا:
		قُلْ لِلْمُوْمِنِیْنَ یَغُضُّوْا مِنْ اَبْصٰرِھِمْ وَ یَحْفَظُوْا فُرُوْجَھُمْ ذٰلِکَ اَزْکیٰ لَھُمْ، اِنَّ اللّٰہَ خَبِیْرٌ بِمَا یَصْنَعُوْنَ۔ وَ قُلْ لِلْمُوْمِنٰتِ یَغْضُضْنَ مِنْ اَبْصٰرِھِنَّ وَیَحْفِظْنَ فُرُوْجَھُنَّ ولَاَیُبْدِیْنَ زِیْنَتَھُنَّ اِلَّا مَا ظَھَرَ مِنْھَا وَلْیَضْرِبْنَ بِخُمُرِھِنَّ عَلیٰ جُیُوْبِھِنَّ وَلَا یُبْدِیْنَ زِیْنَتَھُنَّ اِلَّا لِبُعُوْلَتِھِنَّ اَوْ اٰبَائِ ھِنَّ اَوْاٰبَائِ بُعُوْلَتِھِنَّ اَوْ اَبْنَائِ ھِنَّ اَوْ اَبْنَائِ بُعُوْلَتِھِنَّ اَوْ اِخْوانِھِنَّ اَوْ بَنِی اِخْوانِھِنَّ اَوْ بَنِی اَخَوَاتِھِنَّ اَونِسَائِھِنَّ اَوْ مَا مَلَکَتْ اَیْمٰنُھُنَّ اَوِ التّٰبِعِیْنَ غَیْرِ اُوْلِی اْلِارْبَۃِ مِنَ الرِّجَالِ اَوِ الطِّفْلِ الَّذِیْنَ لَمْ یَظْھَرُوا عَلیٰ عَوْرٰتِ النِّسَائِ وَلَا یَضْرِبْنَ بِاَرْجُلِھِنَّ لِیُعْلَمَ مَا یُخْفِیْنَ مِنْ زِیْنَتِھِنَّ وَ تُوْبُوْا اِلَی اللّٰہِ جَمِیْعاً اَیُّہَ الْمُوْمِنِیْنَ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ۔ (سورۃ النور۲۴:۳۰۔ ۳۱)
’’اے  رسولﷺ مومن مردوں  سے  کہہ دو کہ اپنی نظریں  نیچی رکھا کریں  اور اپنی شرم گا ہوں  کی حفاظت کیا کریں۔ یہ ان کے  لیے  بڑی پاکیزگی کی بات ہے  اور جو کام یہ کرتے  ہیں  اللہ ان سے  خبردار ہے ۔ اور مومن عورتوں  سے  بھی کہہ دو کہ وہ بھی اپنی نگاہیں  نیچی رکھیں  اور اپنی شرم گا ہوں  کی حفاظت کیا کریں  اور اپنی زینت کو ظاہر نہ کریں  مگر جو آپ سے  ظاہر ہو جائے  اور اپنے  دوپٹے  اپنے  گریبانوں  پر ڈالے  رہیں ۔ اور اپنی زینت کو کسی کے  سامنے  ظاہر نہ کریں  سوائے  اپنے  خاوند، یا اپنے  باپ یا اپنے  خاوند کے  باپ یا اپنے  لڑکوں  یا اپنے  خاوند کے  لڑکوں  کے  یا اپنے  بھائیوں،بھتیجوں  اور بھانجوں  کے ۔ یا اپنی میل جول کی عورتوں، غلاموں  یا ایسے  نوکر چاکر مردوں  کے  جو عورت کی خواہش نہ رکھتے  ہوں  یا ایسے  لڑکوں  کے  سامنے  جو عورتوں  کے  پردے  کی چیزوں  سے  واقف نہ ہوں ۔ اور اس طرح زمین پر زور زور سے  پاؤں  مار کر نہ چلیں  کہ ان کی پوشیدہ زینت معلوم ہو جائے ۔ اے  مسلمانو  ! تم سب کے  سب اللہ کے  حضور توبہ کرو تاکہ تم نجات پاؤ۔ ‘‘
	سورہ نور میں  اللہ تعالیٰ نے  جہاں پردے  کے  تفصیلی احکام دیے  ہیں،وہیں  یہ بات بھی اسلامی ریاست اور معاشرے  کی ذمہ داریوں  میں  شامل کر دی ہے  کہ وہ غیر شادی شدہ افراد کی،خواہ آزاد ہوں  یا غلام، شادیوں  کا اہتمام کریں ،تاکہ معاشرے  میں  کسی قسم کی جنسی بے  راہ روی کا کوئی امکان نہ رہے ۔ ساتھ ہی یہ ہدایت بھی کر دی کہ اس معاملے  میں  غربت یا تنگ دستی مانع نہیں  ہونی چاہیے ۔ اگر وہ لوگ تنگ دست ہوں  گے  تو اللہ اپنے  فضل سے  ان کو غنی کر دے  گا۔  اللہ تعالیٰ نے  فرمایا ہے  :
		وَاَنْکِحُوْا اْلَایَامیٰ مِنْکُمْ وَ الصٰلِحِیْنَ مِنْ عِبَادِکُمْ وَ اِمَائِکُمْ اِنْ یَّکُوْنُوْا فُقَرَاءَ یُغْنِھِم اللّٰہ مِنْ فَضْلِہٖ وَاللّٰہ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ۔ (النور ۲۴:۳۲)
		’’ تم میں  سے  جو مرد  عورت بے  نکاح ہوں  ان کا نکاح کر دو، اور اپنے  نیک غلام اور لونڈیوں  کا بھی۔ اگر وہ مفلس بھی ہوں  گے  تو اللہ تعالیٰ انھیں  اپنے  فضل سے  غنی کر دے  گا۔ اور اللہ وسعت اور علم والا ہے ۔ ‘‘
	اس آیت میں  ہمارے  موجودہ معاشرے  کے  لیے  بھی غور و فکر کا سامان موجود ہے، جہاں  بہت سے  مرد اور عورتیں  صرف اس وجہ سے  غیر شادی شدہ ہیں  کہ ان کے  پاس جہیز، مکان یا شادی کے  اخراجات موجود نہیں  ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کے  احکام سے  اس طرح کی رو گردانی  ہمارے  معاشرے  میں  ابتری،مفلسی اور عدم استحکام کی ایک بڑی وجہ ہے ۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے  واضح طور پر کہہ دیا ہے  کہ رزق کی پریشانی انسان کی نہیں  ہے، بلکہ یہ اللہ کی ذمہ داری ہے ۔ اور اللہ تعالیٰ شادی کے  نتیجے  میں  رزق کے  دروازے  کھول دیتے  ہیں ۔ 
	چنانچہ اللہ تعالیٰ نے  اس سلسلے  میں  معاشرے  پر غیر شادی افراد کی شادی کرانے  کی ذمہ داری عائد کرنے  کے  بعد، مردوں  اور عورتوں ،دونوں  کے  لیے  پردے  کے  احکام بیان کر دیے ۔  اہم بات یہ ہے  کہ اللہ نے  عورتوں  سے  پہلے  مردوں  کو حکم دیا ہے  کہ وہ اپنی نگاہیں  پست رکھیں  اور اپنی عفت کی حفاظت کریں ۔ اور اس کے  بعد یہی حکم عورتوں  کو دیا ہے ۔ اس سے  معلوم ہوتا ہے  کہ جس طرح مردوں  کا عورتوں کو دیکھنا ممنوع ہے ،اسی طرح عورتوں  کا مردوں  کی طرف دیکھنا بھی ممنوع ہے ۔ اس کے  بعد عورتوں  کو اللہ نے  حکم دیا ہے  کہ وہ اپنی زینتیں  چھپا کر رکھیں ۔ اس کے  ساتھ ہی ان لوگو ں  کا ذکر بھی کر دیا ہے  جن کے  سامنے  عورت کو زیادہ احتیاط کی ضرورت نہیں  ہوتی، اگر ان کے  سامنے  عورت کی زینت ظاہر ہو بھی جائے  تو کوئی حرج نہیں، مثلاً اپنے  خاوند، یا اپنے  باپ یا اپنے  خاوند کے  باپ یا اپنے  لڑکوں  یا اپنے  خاوند کے  لڑکوں  کے  سامنے  یا اپنے  بھائیوں،بھتیجوں  اور بھانجوں  کے  سامنے ۔ اسی طرح اپنی میل جول کی عورتوں، غلاموں  یا ایسے  نوکر چاکر مردوں  کے  سامنے  بھی اتنی زیادہ احتیاط کی ضرورت نہیں،جو عورت کی خواہش نہ رکھتے  ہوں  یا ایسے  لڑکوں  کے  سامنے  جو عورتوں  کے  پردے  کی چیزوں  سے  واقف نہ ہوں ۔ لیکن اس کا یہ مطلب بھی ہرگز نہیں  کہ عورت ان لوگوں  کے  سامنے  ضرور اپنی زینت ظاہر کرے  بلکہ اس سے  مراد یہ ہے  کہ ان لوگوں  سے  چونکہ عورت کا ہر وقت واسطہ اور سابقہ پڑتا ہے، لہٰذا اس کے  لیے  عملاً،ممکن نہیں  ہے  کہ وہ ان کے  سامنے  بھی مکمل طور پرملبوس رہے ۔ 


	چہرے  کا پردہ

	کچھ علماء نے  خواتین کے  جسم اور زیب و زینت کی دوسری چیزوں  کو تو ایسی زینت میں  شمار کیا ہے،جس کو چھپانا چاہیے، لیکن اس کا چہرہ اس سے  مستثنیٰ رکھا ہے، لیکن اکثر علماء و مفسرین نے  چہرے  کو بھی زینت میں  شمار کیا ہے ۔ دوسری رائے  ہمیں  زیادہ قرین قیاس نظر آتی ہے  کیونکہ عورت کی اصل خوب صورتی اس کا چہر ہ ہی ہے ۔ صنف مخالف کو متوجہ کرنے  میں  بنیادی کردار چہرے  کا ہوتا ہے ۔ اسی وجہ سے  اللہ نے  پہلے  حکم میں  چادریں  چہرے  پر لٹکا لینے  کی تاکید کی ہے ۔ اور دوسرے  حکم میں  ہر طرح کی زینت چھپانے  کی تاکید کی ہے ۔ عورت کا چہر ہ ہی اس کی اصل زینت ہونے  کا ثبوت یہ ہے  کہ اگر کوئی عورت بے  شک ٹنوں  کے  اعتبار سے  زیور، خوب صورت لباس اور آرائشی اشیا ء سے  مزین ہو،لیکن اس کا چہرہ آگ سے  یا تیزاب سے  جھلسا ہوا ہو تو کوئی بھی اس کی طرف دل چسپی سے  نہیں  دیکھے  گا۔ نہ ہی کوئی شخص کسی عورت کے  ساتھ اس کا زیور یا کپڑا دیکھ کر شادی کرتا ہے ۔ عورت کو پسند کرنے  کے  لیے  سب سے  پہلی چیز اس کا چہرہ دیکھنا ہی ہوتا ہے ۔ اسی طرح اپنے  معاشرے  میں  نظر دوڑائیں ،جب بھی کسی  شخص نے  کسی عورت سے  انتقام لینا ہو تو وہ نہ اس کے  کپڑے  خراب کرتا ہے  نا زیور یا میک اپ کٹ تباہ کرتا ہے، بلکہ تیزاب یا کسی بھی چیز کے  ذریعے  اس کے  چہرے  کو داغ دار کرنے  کی کوشش کرتا ہے ۔ یہ عمل بھی اس چیز کا ثبوت ہے  کہ عورت کی اصل زینت اس کا چہرہ ہے  جس کے  چھپانے  کا اللہ نے  حکم دیا ہے ۔ اس کے  بعد زینت کی باقی چیزیں  بھی چھپانے  کے  حکم میں  داخل ہیں ۔ 
	مولانا ابو الاعلی مودودی لکھتے  ہیں :
		’’ جو شخص اسلامی قانون کے  مقاصد کو سمجھتا ہے  اور اس کے  ساتھ کچھ عقل عام (Common (Sense بھی رکھتا ہے ،اس کے  لیے  یہ سمجھنا کچھ بھی مشکل نہیں  کہ عورتوں  کو کھلے  چہروں  کے  ساتھ باہر پھرنے  کی عام اجازت دینا ان مقاصد کے  بالکل خلاف ہے  جن کو اسلام اس قدر اہمیت دے  رہا ہے ۔ ایک انسان کو دوسرے  انسان کی جو چیز سب سے  زیادہ متاثر کرتی ہے  وہ اس کا چہرہ ہی تو ہے ۔ انسان کی خلقی و پیدائشی زینت یا دوسرے  الفاظ میں انسانی حسن کا سب سے  بڑا مظہر چہرہ ہے ۔ ‘‘8
	 خواتین کے  لیے  حالت احرام میں  چہرہ اور ہاتھ کھلا رکھنے  کا حکم دیا گیا ہے ۔ اس سے  ظاہر ہوتا ہے  کہ عام حالات میں  چہرے  اور ہاتھوں  کو کھلا نہیں  رکھا جاتا ہو گا، ورنہ اس حکم کی کوئی ضرورت نہیں  تھی۔ نبی ﷺ کا فرمان ہے :
		ولا تنقب المراء ۃ  المحرمۃ ولا تلبس القفازین۔ 
								(بخاری،کتاب الحج)
	’’اور حالت احرام میں  کوئی عورت نہ نقاب اوڑھے  اور نہ ہی دستانے  پہنے ۔ ‘‘
 	دوسری طرف حضرت عائشہ سے  منقول روایت یہ ثابت کرتی ہے  کہ باوجود حالت احرام کے  مسلمان خواتین اجنبی مردوں  سے  اپنا چہرہ چھپا لیا کرتی تھیں ۔ حضرت عائشہ سے  منقول روایت درج ذیل ہے :
		عن امِّ المومنینَ عائشۃَ رضی اللہ عنھا قالت کان الرکبان یَمُرُّونَ بنا و نحن معَ رسولِ اللہِﷺ محرِماتٌ فاذا حاذَوْا بناَ سدَلَتْ اِحْداناَ جِلْبَابَھَا منْ راْسِھَا علی وَجْھِھَا فاذا جَاوَزُوْنَا کَشَفْنَاہُ۔ 	(ابو داؤد،کتاب المناسک)
		’’ام المومنین حضرت عائشہ ؓ سے  روایت ہے، وہ فرماتی ہیں  کہ قافلے  ہمارے  پاس سے  گزرتے  تھے  اور ہم اللہ کے  رسول ﷺ کے  ساتھ حالت احرام میں  ہوتی تھیں ۔ پس جب وہ قافلے  ہمارے  پاس سے  گزرتے  تو ہم اپنے  جلباب اپنے  سر سے  اپنے  چہرے  پر لٹکا لیتی تھیں  اور جب قافلے  آگے  گزر جاتے  تو ہم اپنے  چہرے  کو کھول دیتی تھیں ۔ ‘‘

خلاصۂ بحث

	اس ساری بحث سے  یہ بات کھل کر سامنے  آ رہی ہے  کہ شیطان انسان کا ازلی دشمن ہے  اور اس نے  اللہ کے  دربار سے  ملعون ہونے  کے  بعد اس بات کی مہلت حاصل کر لی ہے  کہ وہ آدم اور اولاد آدم کو راہ ہدایت سے  بھٹکائے  گا۔  اللہ تعالیٰ نے  اسے  اس بات کی اجازت دے  کر یہ بھی واضح کر دیا ہے  کہ اللہ کے  فرمانبردار بندوں  پر شیطان کا کوئی زور نہیں  چل سکے  گا۔ شیطان اگرچہ انسان کو گم راہ کرنے  کے  لیے  ہر طریقہ اختیار کرتا ہے،لیکن قرآن مجید کے  مطالعے  سے  معلوم ہوتا ہے  کہ و ہ سب سے  پہلے  انسان کے  لباس پر حملہ کرتا ہے ۔ انسانوں  میں  حجاب اور شرم کو ختم کرنے  کی کوشش کرتا ہے ۔ حضرت آدم اور حوا علیھا السلام کے  واقعے  میں  اس نے  یہی طریقہ اختیار کیا۔ تاریخ انسانی کا مطالعہ بھی ہمیں  یہی بتاتا ہے  کہ جن قوموں  پر شیطان کا وار کامیاب ہوا اور انھوں  نے  آغاز میں  اللہ کی حدود میں  جواز کا راستہ تلاش کیا اور بالآخر ذلت و پستی کی انتہا میں  گرتے  چلے  گئے ۔ 
	دین اسلام اللہ کی طرف سے  انسانوں  کے  لیے  ہدایت کا آخری ذریعہ ہے۔ اس لیے  اللہ تعالیٰ نے  تمام معاشرتی احکام نہایت وضاحت کے  ساتھ بیان فرما دیے  ہیں ۔ شرم و حیا اور پردے  کے  بارے  میں  قرآن نے  جو احکام دیے  ہیں  وہ کوئی نئے  احکام نہیں  ہیں ۔ اس سے  پہلے  بائیبل میں  بھی اسی طرح کے  احکام زیادہ شدید صورت میں  موجود ہیں ۔ متی کی انجیل میں  ہے :
		’’تم سن چکے  ہو کہ کہا گیا تھا کہ تم زنا نہ کرنا۔ لیکن میں  تم سے  کہتا ہوں  کہ جو کوئی کسی عورت پر بری نظر ڈالتا ہے  وہ اپنے  دل میں  پہلے  ہی اس کے  ساتھ زنا کر چکا ہے ۔ اس لیے  اگر تیری دائیں  آنکھ تیرے  گناہ کا باعث بنتی ہے  تو اسے  نکال کر پھینک دے  کیونکہ تیرے  لیے  یہی مفید ہے  کہ تیرے  اعضاء میں  سے  ایک عضو جاتا رہے، بنسبت اس کے  کہ تیرا سارا بدن جہنم میں  ڈال دیا جائے ۔ ‘‘9
	اسلام چونکہ ایک قابل عمل اور آسان دین بنا کر بھیجا گیا ہے  اس لیے  اس کے  کسی حکم میں  اس قدر سختی یا شدت نہیں  ہے ۔ مرد و عورت دونوں  کو ان کے  دائرہ کار کے  مطابق احکام دیے  گئے  ہیں ۔ مرد کا دائرہ کا چونکہ زیادہ وسیع ہے  اس لیے  اس کے  لیے  احکام کی نوعیت قدرے  آسان ہے ۔ جبکہ عورت کا دائرہ کار محدود اور زیادہ تر گھر کے  اندر ہے  اس لیے  اس کو جو احکام دیے  گئے  ہیں وہ قدرے  مفصل ہیں ۔ 
	انسان کو اس دنیا میں  ایک محدود عرصے  کے  لیے  قیام کرنا ہے  اور اس کا اصل گھر آخرت کا گھر ہے ۔ یہ دنیا کا سارا نظام انسان کی آزمائش کے  لیے  بنایا گیا ہے، اس لیے  یہاں  کے  قوانین کا مقصد بھی انسان کو آزمانا ہے  کہ کیا وہ بے  چوں و چرا اللہ کی فرمانبرداری کرتا ہے  یا بنی اسرائیل کی طرح بال کی کھال نکالتا ہے ۔ گزشتہ دنوں  یورپ میں  جب برڈ فلو اور سوائن فلو کی وبا کی چرچا ہوا تو آپ نے  دیکھا ہو گا کہ وہ یورپ جو  اوراسلامی پردے  اورسکارف کے  نام سے  چڑتا تھا، اس کے  ہر ہر فرد نے  بکمال اہتمام، اپنے  چہروں  کو پردے  سے  آراستہ کر لیا۔ گھروں ،بازاروں،دفاتر اور پارکوں  میں  ہر جگہ صرف عورتیں  ہی نہیں ،مرد اور بچے  بھی باپردہ نظر آنے  لگے ۔ سب لوگوں  نے  وائرس سے  بچاؤ کے  لیے  ماسک پہن لیے ۔ یہ بات قابل غور ہے  کہ اگرجسمانی صحت کی حفاظت اتنی ضروری ہے  تو ایمان کی حفاظت تو اس سے  بدرجہا زیادہ ضروری ہے ۔ اس لیے  ہمیں  بغیر کسی تعصب اور تنگ نظری کے  اللہ کے  احکام کو ماننا اور اپنی زندگی کا حصہ بنانا چاہیے ۔ ہماری ماؤں  اور بہنوں  کو اس معاملے  میں  خواتین کے  ساتھ کسی جبر یا زیادتی کا خیال نہیں  آنا چاہیے،بلکہ یہ اللہ کی طرف سے  ان کو دیا گیا عزت اور احترام کا مقام ہے ، جس کے  لیے  اللہ تعالیٰ کا شکرگزار اور احسان مند ہونا چاہیے ۔ 


مصادر و مراجع

۱۔ ابن منظور، الافریقی، نشرۃ الادب الحوزہ،قم ایران، طبع ۱۴۰۵ھ۔ 
۲۔ صحیح بخاری،
۳۔ مودودی، ابوالاعلیٰ، پردہ،اسلامک پبلی کیشنر لاہور، طبع جون ۲۰۰۳۔ 
۴۔ عہد نامہ جدید(بائیبل)پاکستان بائیبل سوسائٹی انارکلی لاہور، طبع ۱۹۸۲ء۔
٭٭٭

مصنف کے تشکر کے ساتھ جنہوں نے اجازت  دی اور فائل مہیا کی۔
تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید 

1 لسان العرب، ابن منظور الافریقی،نشرۃ الادب،الحوزہ،قم،ایران، ۱۴۰۵ھ،ص
2 لسان العرب، ابن منظور الافریقی،نشرۃ الادب،الحوزہ،قم،ایران، ۱۴۰۵ھ،ص
3 سورۃ الاعراف۷:۱۸۔
4 مودودی، ابوالاعلیٰ، پردہ،اسلامک پبلی کیشنز (پرائیویٹ)لمیٹڈ لاہور،طبع جون ۲۰۰۳ء، ص۲۲۲۔
5 صحیح بخاری، کتاب التفسیر۔
6 صحیح بخاری، کتاب التفسیر۔
7 سورۃ النور ۲۴:۵۸۔
8 مودودی،ابولاعلیٰ، پردہ، اسلامک پبلی کیشنرلا ہور، طبع  ص۲۷۵۔
9 متی ۵:۲۷۔ ۲۹۔
