﻿
  	
	


حج و عمرہ کی شایع و ذایع غلطیاں
	
	




عامر گزدر






 
اصلاح طلب اُمور


بعض ایسے اعمال یا تصورات ہیں جو حج و عمرہ میں قرآن وسنت اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے علم و عمل کی روایت کی حیثیت سے ثابت تو نہیں ہیں،لیکن اب بالعموم لوگ اُنہیں حج و عمرہ کی شریعت سمجھ کر یا اُس شریعت کی اصل روح سے ناواقفیت کی بنا پر دین کی حیثیت سے اختیار کرتے اور اُن کا اہتمام کرتے ہیں۔اگر غور کیا جائے تو ایسے اصلاح طلب امور بے شمار ہیں،البتہ اُن میں سے چند شایع و ذایع غلطیوں کی طرف ہم یہاں اشارہ کیے دیتے ہیں:
 




احرام

١)احرام کے موقع پر نیت کا زبانی اظہار کرنا دین میں مشروع نہیں ہے۔ شریعت میں جس طرح دیگر عبادات ؛ مثلاً نماز، زکوٰۃ، روزہ و اعتکاف اور قربانی میں نیت کے زبانی اظہار کا کوئی حکم نہیں دیا گیا،اسی طرح حج و عمرہ کے آغاز میں احرام کے موقع پر بھی مخصوص الفاظ ادا کر کے نیت کرنا دین میں مشروع نہیں ہے۔عام طور پر حج و عمرہ کی کتابوں میں جو بتایا جاتا ہے کہ اس موقع پر آدمی'اللّٰهُمَّ اِنِّیْ أُرِيْدُ الْحَجَّ فَيَسِّرْهُ لِیْ وَتَقَبَّلْهُ مِنِّیْ'وغیرہ کے الفاظ سے نیت کرے، اِس طرح کی کوئی چیز قرآن وسنت اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے علم و عمل سے ثابت نہیں ہے۔ اور عبادات میں جس چیز کو آپ کی نسبت حاصل نہیں،اُسے دین کی حیثیت سے،بالبداہت واضح ہے کہ قطعاً پیش نہیں کیا جا سکتا۔
 
٢)بعض لوگ دانستہ طور پر میقات یااُس کے محاذ ات سے احرام باندھنے کا اہتمام نہیں کرتے۔ان کا یہ عمل بھی درست نہیں ہے۔حج و عمرہ کے مناسک میں میقات سے احرام باندھنے کو چونکہ شریعت کی حیثیت سے مقرر کیا گیا ہے،چنانچہ اِس سے غفلت کی کسی کے لیے کوئی گنجائش نہیں ہے۔ حج یا عمرہ کی غرض سے سفر کرنے والے ہر شخص کو اِس کا اہتمام کرنا چاہیے۔
 
٣) عام طور پر حج یا عمرہ کے احرام کے موقع پر دو رکعت نماز کی ادائیگی کو ضروری اور مناسک کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔اِس طرح کی کوئی نماز اس موقع پر شریعت میں مقرر نہیں کی گئی ہے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی اِس طرح کی کوئی چیز منقول نہیں ہے۔آدمی بغیر کسی نماز کے بھی احرام باندھ سکتا ہے۔ اور وہ چاہے تواُس موقع پر اگرکسی نماز کا وقت ہو تو اُس سے فارغ ہو کر بھی تلبیہ پکارسکتا ہے۔ تاہم ان میں سے کسی عمل کو دین و شریعت کی حیثیت سے پیش نہیں کیا جا سکتا۔
 
٤) حالت احرام میں مردوں کے لیے اس طرح کے کوئی جوتے پہننا بھی لازم نہیں ہے کہ جن میں اُن کے پاؤں کی اوپر والی اُبھری ہوئی ہڈی کھلی رہے،جیساکہ بعض اہل علم کی رائے ہے۔اِس طرح کی کوئی چیز بھی حج و عمرہ کی شریعت میں موجود نہیں ہے۔اس باب میں جو چیز شریعت کی حیثیت سے مقرر کی گئی ہے، وہ صرف یہ ہے کہ آدمی پاؤں میں جوتے یا موزے، جو کچھ بھی پہنے، وہ بہر حال ٹخنوں سے نیچے تک ہونے چاہییں۔
 
٥) یہ تصور بھی درست نہیں ہے کہ احرام کے کپڑے دھوئے جا سکتے ہیں،نہ کسی صورت میں تبدیل کیے جا سکتے ہیں۔ضرورت محسوس ہو تو مرد اور خواتین دونوں، لباسِ احرام کو دھو بھی سکتے ہیں اور اُسے تبدیل بھی کیا جا سکتا ہے۔ حج و عمرہ کرنے والوں کے لیے دین نے اِس طرح کی کوئی پابندی عائد نہیں کی ہے۔
 
٦) حالت احرام میں خواتین کا چہرے کو کپڑا مَس کیے بغیر نقاب پہننا بھی قطعاً درست نہیں ہے۔ اِس حالت میں خواتین کے لیے،جیسا کہ عام طور پر خیال کیا جاتا ہے، شریعت کا حکم یہ نہیں ہے کہ وہ نقاب کا کپڑا اپنے چہرے پر نہ لگنے دیں۔بلکہ حکم یہ ہے کہ وہ چہرے پر نقاب نہ پہنیں ؛اُسے کھلا رکھیں۔چنانچہ اِس سے واضح ہے کہ یہ غلطی حکم کو صحیح طور پر نہ سمجھنے کی بنا پر عام ہوئی ہے۔ اِس عمل کے لیے بھی دین میں کوئی ماخذ موجود نہیں ہے۔البتہ مردوں سے اختلاط کے کسی ایسے موقع پر جس میں خواتین یہ ضرورت محسوس کریں کہ اُن سے اختلاط مناسب نہیں ہے تو وہ کسی پردے کی اوٹ میں رہ سکتی ہیں۔تاہم حالت احرام میں نقاب وغیرہ پہن کر چہرہ چھپائے رکھنے کا اہتمام کرنے کی اجازت اُنہیں قطعاً حاصل نہیں ہوسکتی۔
 
٧) ٨ ذو الحجہ کو مکہ مکرمہ میں حج کا احرام باندھنے کے بعد بیت اللہ میں حاضری اور دو رکعت نماز ادا کرنے کو باعث فضیلت سمجھنا بھی دین میں کسی اعتبار سے درست نہیں ہے۔ حج کے احرام کے موقع پر اِس طرح کی کوئی چیز دین میں پسندیدہ عمل کی حیثیت سے ثابت نہیں ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی ارشاد سے بھی اِس طرح کے کسی عمل کی کوئی فضیلت روایت نہیں ہوئی ہے۔پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنا عمل جو روایتوں میں نقل ہوا ہے، وہ بھی اِس کے بر خلاف ہے۔حجۃ الوداع کے موقع پر آپ شہر مکہ کے مشرقی جانب کے نشیبی علاقے میں مقیم تھے۔اپنی جائے قیام سے احرام باندھ کر آپ بیت الحرام میں حاضر نہیں ہوئے،بلکہ سیدھے منیٰ کی طرف روانہ ہوئے تھے۔
 
٨) بعض لوگ حج کے لیے مسجد حرام میں جا کر احرام باندھنے کو باعث فضیلت سمجھتے ہیں۔اِس تصور کے لیے بھی دین میں کوئی ماخذ موجود نہیں ہے۔
 
٩) یہ تصور بھی درست نہیں ہے کہ عمرہ میں استعمال شدہ احرام کے کپڑوں کو حج میں لباسِ احرام کے طور پراستعمال نہیں کیا جا سکتا۔اس طرح کا کوئی حکم حج و عمرہ کی شریعت اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات میں موجود نہیں ہے۔
 
١٠) بعض حضرات کے ہاں ایک تصور یہ بھی پایا جاتا ہے کہ احرام باندھتے وقت آدمی کے لیے جوتے پہنے ہوئے ہونا ضروری ہے ؛بصورتِ دیگر اس کے بعد جوتے پہننے کی اجازت بھی ختم ہو جائے گی۔یہ تصور بھی بالکل باطل ہے۔اِس کی حیثیت بھی دین میں ایجاد بندہ کی ہے۔دینی اعتبارسے جوتے پہنے ہوئے احرام باندھنا کوئی ضروری چیز ہے، نہ یہ احرام کی کوئی شرط ہے۔احرام جوتے پہنے بغیر بھی باندھا جا سکتا ہے۔احرام باندھ لینے کے بعد جوتے پہننے میں بھی کوئی حرج نہیں ہے۔ان میں سے کسی عمل کو کوئی دینی حیثیت حاصل نہیں ہے۔
 


تَلبیہ


١١) اجتماعی طور پر ایک آواز میں تلبیہ پکارنا بھی دینی اعتبارسے کوئی پسندیدہ عمل نہیں ہے۔آدمی چاہے تو اسے اختیار کرسکتا اور چاہے تو ترک بھی کرسکتا ہے۔لیکن یہ واضح رہے کہ یہ چیز بسا اوقات دوسروں کے لیے باعث اذیت بن جاتی اور اُن کے خشوع و خضوع کو مجروح کر دیتی ہے۔چنانچہ اس کا خیال رکھنا چاہیے۔
 
١٢) تلبیہ کے بجائے بعض حجاج کا تکبیر و تہلیل پکارتے رہنا بھی قابل اصلاح ہے۔تلبیہ تو ہر صورت میں پکارا جائے گا۔ اِس لیے کہ یہی وہ واحد ذکر ہے جسے حج و عمرہ میں سنت کی حیثیت سے مشروع کیا گیا ہے۔اِس کے ساتھ ساتھ تکبیر و تہلیل بھی کی جا سکتی ہے۔ البتہ اسے چھوڑ کر اور اس کے بجائے دیگر اذکار کو اختیار کرنا، مشروع ذکر کو ترک کر دینے کی بنا پردرست نہیں ہے۔

 
مسجدِ حرام میں داخلہ


١٣)حج و عمرہ کے موقع پرمسجدحرام میں کسی مخصوص دروازہ سے داخلہ کو بھی،جیساکہ بعض لوگ خیال کرتے ہیں،دین میں مشروع نہیں کیا گیا ہے۔آدمی جس دروازہ سے چاہے داخل ہوسکتا ہے۔
 
١٤) مسجد حرام میں داخل ہو کر بیت الحرام کو پہلی مرتبہ دیکھنے کے موقع پر مخصوص دعاؤں کی تعیین کرنا اور اُنہیں مشروع سمجھنا بھی درست نہیں ہے۔اِس طرح کی کوئی چیز نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں ہے۔چنانچہ اس کی اصلاح بھی کر لینی چاہیے۔

 
طواف


١٥) بعض لوگ طواف کے لیے غسل کرتے ہیں۔اس کی حیثیت بھی دین میں کسی مشروع عمل کی نہیں ہے۔یعنی جو شخص طواف کا ارادہ کر کے اُس کے لیے غسل کرتا ہے تواُس کے اِس عمل کو کوئی دینی حیثیت حاصل نہیں ہے۔بلکہ یہ ایک قابل اصلاح چیز ہے۔
 
١٦) طواف کا آغاز کرتے ہوئے نیت کا زبانی اظہار کرنا بھی دین میں مشروع نہیں ہے۔حج و عمرہ سے متعلق کتابوں میں عام طور پر جو بتایا جاتا ہے کہ اس موقع پر آدمی'اللّٰهُمَّ اِنِّیْ أُ رِيْدُ الطَّوَافَ سَبْعَةَ أَشْوَاطٍ لِلْحَجِّ أَوْ لِلْعُمْرَةِ'وغیرہ کے الفاظ سے طواف کی نیت کرے۔ اِس طرح کی کوئی چیز نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے علم و عمل سے ثابت نہیں ہے۔ اور عبادات میں جس چیز کو آپ کی نسبت حاصل نہیں،اُسے دین کی حیثیت سے،بالبداہت واضح ہے کہ قطعاً پیش نہیں کیا جا سکتا۔چنانچہ اِس کی اصلاح کر لینی چاہیے۔
 
١٧) دورسے حجراسودکے ا ستلام کے لیے مطاف میں لگائے گئے نشان پر رُک کر قبلہ رو ہونے اور دونوں ہاتھوں سے اُس کی طرف اشارہ کر کے ہاتھوں کو چومنے کے لیے بھی دین میں کوئی ماخذ موجود نہیں ہے۔طواف کرتے ہوئے اس مقام پر ٹھہرنا،قبلہ رخ ہونا،اشارہ کے لیے دونوں ہاتھوں کو اُٹھانا اور پھر انہیں چومنا،ان میں سے کوئی عمل بھی دین میں مشروع نہیں ہے۔صحیح طریقہ یہ ہے کہ طواف کر نے والا طواف کے دوران میں کسی مقام پر نہ ٹھہرے۔ حجر اسود کے محاذات پر پہنچے تب بھی چلتے ہوئے دائیں ہاتھ سے اُس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے گزر جائے۔عامۃالناس کے اس عمل کے لیے بھی حج و عمرہ کے مناسک میں کوئی بنیاد موجود نہیں ہے۔موجودہ زمانے میں مطاف میں یہ نشان اس عمل کے لیے نہیں،بلکہ طواف کرنے والوں کو محض اس بات کا اشارہ دینے کے لیے لگایا گیا ہے کہ وہ حجر اسود کے محاذات میں ہیں۔اور یہ اس لیے کہ بیت الحرام کے طواف کا ہر پھیرا حجر اسود کے محاذات ہی سے شروع ہوتا ہے۔
 
١٨)بعض لوگ طواف کے ہر پھیرے میں حجر اسود کا بوسہ لینے پر اصرار کرتے ہیں۔ہر پھیرے میں اگربآسانی بوسہ لیا جا سکتا ہو اور اس کے نتیجے میں لوگوں کو کوئی اذیت اور تکلیف بھی نہ پہنچے تو اُس صورت میں کوئی حرج نہیں ہے کہ آدمی ہر پھیرے میں بوسہ لے لے۔تاہم ہجوم کے باعث اگر ہر پھیرے میں بوسہ لینا ممکن نہ ہو اور پھر بھی اس پر اصرار کیا جائے تویہ ایک اصلاح طلب چیز ہے۔ اِس لیے کہ یہ رویہ لوگوں کے لیے شدید تکلیف ا ور اذیت کا باعث بن جاتا ہے۔ایسی صورت میں صحیح طریقہ یہ ہے کہ آدمی مطاف میں جس جگہ پر بھی ہو؛جب وہ حجر اسود کے محاذات میں پہنچے تواُس کی طرف دائیں ہاتھ سے اشارہ کرتا ہوا گزر جائے۔
 
١٩) طواف کے دوران میں بلند آواز سے دعا و مناجات کرنے سے اجتناب کرنا چاہیے۔اِس لیے کہ اِس کے نتیجے میں طواف کرنے والے دوسرے لوگوں کا خشوع و خضوع مجروح ہوتا اور اکثر لوگوں کے لیے یہ چیز باعث اذیت بھی بن جاتی ہے۔پھر دین کی رو سے یہ کوئی پسندیدہ عمل بھی نہیں ہے۔

 
٢٠) طواف کے ہر پھیرے کے لیے مخصوص دعاؤں کی تعیین کے لیے بھی دین میں کوئی ماخذ موجود نہیں ہے۔اِس طرح کی کوئی چیز طواف میں مشروع نہیں ہے۔یہ طواف کی اُن شایع و ذایع غلطیوں میں سے ایک ہے جن کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے علم و عمل سے کوئی بات ثابت نہیں ہے۔پھر یہ دین کا مزاج بھی نہیں ہے کہ وہ عبادات میں بندوں کے لیے تمام دعاؤں کو خود متعین کر کے اُنہیں ان کا پابند کر دے۔اس لیے کہ ہر بندہ خدا کے اپنے حالات ہوتے ہیں،اپنے مسائل اور اپنی پریشانیاں ہوتی ہیں۔بیت اللہ جیسے عظیم مقام پر پہنچ کر عقل و فطرت کی رو سے بھی ہر بندہ خدا کو یہ اجازت حاصل ہونی چاہیے کہ اب وہ جس طرح اور جس زبان میں چاہے، اپنے پروردگار کے حضور میں دعا و مناجات کرے؛اُس سے ہم کلام ہو،اپنے مسائل اُس کے سامنے رکھے،اپنی الجھنوں کواُس کے حضور میں بیان کرے،دنیا و آخرت کی فلاح کاسوال اُس کی بارگاہ میں پیش کرے۔
 
٢١) طواف کے دوران میں رُکن یَمانی کو بوسہ دینا یادورسے اُس کی جانب اشارہ کرنایااُسے ہاتھ سے چھو کر ہاتھ کو چومنا بھی درست نہیں ہے۔اِس طرح کا کوئی عمل چونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں ہے،چنانچہ اس کی اصلاح بھی کر لینی چاہیے۔تاہم اِس باب میں،جیسا کہ پہلے بیان ہو چکا،نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے رکن یمانی کو صرف ہاتھ سے چھونا ثابت ہے۔ (بخاری، رقم١٦٠٦، ٦٠٩۔مسلم،رقم١٢٦٧،١٢٦٨)
 
٢٢) طواف کرتے ہوئے بعض لوگوں کا بیت اللہ کی عمارت کے ہر کونے کو چھونا یا اُسے چومنا بھی ایک اصلاح طلب عمل ہے۔یہ عمل بھی لوگوں کی اپنی ایجادات میں سے ہے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس طرح کی کوئی چیز ثابت نہیں ہے۔
 
٢٣) بعض لوگ طواف کے تمام پھیروں میں مسلسل دوڑتے رہتے ہیں۔یہ بھی ایک لغو عمل ہے۔ دین میں اس کے لیے کوئی بنیاد موجود نہیں ہے۔اس کی اصلاح بھی ہونی چاہیے۔
 
٢٤) طواف کے دوران میں بیت اللہ کی دیواروں،اُس کے غلاف یا اُن شیشوں کو چھونا یا چومنا قطعاً درست نہیں ہے جن میں ابراہیمی پتھر کو محفوظ کیا گیا ہے۔یہ ایک غیر مشروع عمل ہے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے علم و عمل کی روایات میں اِس عمل کے لیے بھی کوئی بنیاد موجود نہیں ہے۔
 
٢٥) طواف کرتے ہوئے بعض لوگ حطیم کے اندر سے گزر جاتے ہیں۔یہ بھی ایک غلطی ہے۔حطیم، جیسا کہ حج و عمرہ کے مقامات کے زیر عنوان پہلے بیان کیا جا چکا ہے، در اصل بیت اللہ ہی کا حصہ ہے جو قریش کی جانب سے کی گئی اُس کی تعمیر کے موقع پر اُس کی عمارت سے باہر رہ گیا تھا۔ چنانچہ ہر طواف کرنے والے کو یہ بات ملحوظ رکھنی چاہیے کہ اُس کا طواف پورے بیت اللہ کو شامل ہونا چاہیے۔
 
٢٦)طواف کے دوران میں عجلت کا مظاہرہ کرنا،حجراسود اور رکن یمانی کے پاس ازدحام کرنا، ایک دوسرے سے جھگڑنا، زور آزمائی کرنا، دھکم پیل کرنا اور دوسروں کے لیے باعث اذیت بن جانا؛یہ سب اصلاح طلب ہے۔اِس بات کی اشد ضرورت ہے کہ حجاج و معتمرین اِن تمام چیزوں کی اصلاح کریں۔ طواف کے دوران میں ہرمسلمان کو یہ بات ذہن نشین رکھنی چاہیے کہ وہ ایک بہت ہی غیر معمولی مقدس مقام پر، اُس حرمت والے گھر کا طواف کر رہا ہے جسے روئے زمین پر اللہ پروردگار عالم نے اپنی عبادت کے لیے خاص کر رکھا ہے۔وہ طواف و استلام کے ذریعہ سے علامتی زبان میں یہاں اپنے وجود کو اپنے پروردگار کے حوالے اور اُس کے ساتھ کئے گئے اسلام کے عہد کی تجدید کر رہا ہے۔اخلاقی تقاضوں کے ساتھ ساتھ اِس گھر کے احترام کا تقاضا بھی ہے کہ اِس میں اللہ کی عبادت اور اِس کا طواف کرنے والا ہر شخص اِس حضوری کے مقام پر ہمہ وقت سکون و اطمینان کا مظاہرہ کرے اور اُس سے کسی بندہ خدا کو کوئی اذیت نہ پہنچے۔
 
٢٧) بعض لوگوں کو دیکھا گیا ہے کہ وہ نماز کی طرح ہاتھ باندھے ہوئے طواف کر تے ہیں۔یہ بھی ایک اصلاح طلب چیز ہے۔طواف کے دوران میں یہ کوئی پسندیدہ عمل ہے،نہ اس کی کوئی دینی حیثیت ہے۔
 
٢٨) طواف کے اختتام پر ابراہیمی پتھر کے پاس دو رکعت نماز کی ادائیگی پر اصرار کے لئے بھی دین میں کوئی گنجائش نہیں ہے۔مسجد حرام میں جو جگہ بھی میسر ہو،یہ نماز وہاں پڑھی جا سکتی ہے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ابراہیمی پتھر کے پیچھے جا کر دو رکعت نماز غالباًاِس وجہ سے پڑھی تھی کہ طواف کرنے والوں کو کوئی زحمت نہ ہو۔کیونکہ اُس زمانے میں اس مقام پر طواف کرنے والوں کا گزر نہ تھا۔طواف کی جگہ بیت اللہ کی عمارت سے ابراہیمی پتھر ہی تک تھی۔جس کے بعد لوگوں کے مکانات تھے۔گویا یہ مقام اُس زمانے میں حد مطاف کی علامت تھی۔چنانچہ طواف کے بعد نماز کے لیے ہمیں بھی کسی ایسے مقام کا انتخاب کرنا چاہیے جہاں طواف کرنے والوں سے کوئی تصادم نہ ہو۔


  
سعی


٢٩) طواف ہی کی طرح سعی کا آغاز کرتے ہوئے بھی نیت کا زبانی اظہار کرنا دین میں مشروع نہیں ہے۔
٣٠) ہر پھیرے میں صفا اور مروہ پر پہنچ کر دونوں ہاتھوں سے بیت اللہ کی طرف اشارہ کرنا اور ہاتھوں کو چومنا بھی درست نہیں ہے۔دین میں اِس طرح کی کوئی چیز حج و عمرہ کے مناسک میں مقرر کی گئی ہے،نہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ میں ایسا کوئی عمل روایت ہوا ہے۔ چنانچہ یہ اصلاح طلب ہے۔
 
٣١) طواف کی طرح سعی کے ہر پھیرے کے لیے مخصوص دعاؤں کی تعیین کرنا بھی ایک ایسی قابل اصلاح چیز ہے جس کے لیے بھی دین میں کوئی ماخذ موجود نہیں ہے۔یہ سعی کی اُن شایع وذایع غلطیوں میں سے ایک ہے جن کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے علم و عمل سے کوئی بات ثابت نہیں ہے۔اس موقع پر بھی ایک بندہ مومن جو دعا چاہے کرسکتا،جو ذکر چاہے اختیار کرسکتا اور جیسے چاہے اپنے پروردگار سے ہم کلام ہوسکتا ہے۔
 
٣٢)بعض لوگوں کو دیکھا گیا ہے کہ وہ سعی کے تمام چکروں میں مسلسل دوڑتے رہتے ہیں۔یہ بھی ایک اصلاح طلب چیز ہے۔اس کی کوئی دینی حیثیت نہیں ہے۔
 
٣٣) بعض لوگ صفاسے آغاز کر کے واپس صفا تک ایک چکر شمار کرتے ہوئے سات پھیرے سعی کرتے ہیں۔یہ بھی سعی کی غلطیوں میں سے ایک ہے۔شریعت کی رو سے سعی میں،جیساکہ اوپر بیان کیا جا چکا، صفا سے مروہ تک ایک اور مروہ سے صفا تک دوسرا پھیرا شمار کیا جاتا ہے۔چنانچہ سعی کے سات پھیرے بہر حال اِسی ترتیب سے مکمل کیے جائیں گے۔
 
٣٤) سعی سے فارغ ہو کر بعض لوگ دو رکعت نماز ادا کرتے ہیں۔واضح رہے کہ حج و عمرہ کے مناسک میں اس موقع پر کوئی نماز شریعت میں مقرر نہیں کی گئی ہے۔اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات اور آپ کے عمل سے بھی اس طرح کی کوئی چیز ثابت نہیں ہے۔چنانچہ اس کی اصلاح کرنی چاہیے۔

 
حلق و قصر


٣٥) حلق و قصر کے موقع پر ایک غلطی یہ پائی جاتی ہے کہ بعض لوگ پورے سر کا حلق کرانے کے بجائے اُس کے محض کچھ حصے کو منڈواتے ہیں۔اور قصر کراتے ہوئے بھی پورے سر کی حجامت کی بجائے سر کے کچھ تھوڑے سے بال کاٹ کر،جیساکہ عورتوں کے لیے حکم ہے، احرام کھول دیتے ہیں۔یہ دونوں ہی چیزیں قطعاً درست نہیں ہیں۔حج و عمرہ کی شریعت میں یہ لازم ہے کہ آدمی حلق کرائے یا قصر،بہر حال اُسے پورے سر کو شامل ہونا چاہیے۔
 
٣٦)بعض لوگ قبلہ رخ ہو کر حلق کرانے کو باعث فضیلت سمجھتے ہیں۔یہ تصور بھی درست نہیں ہے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے علم و عمل سے اس طرح کوئی چیز ثابت نہیں ہے۔ چنانچہ یہ ایک اصلاح طلب چیز ہے۔

 

یوم الترویہ


٣٧)بعض حجاج٨/ذوالحجہ کو منیٰ میں حاضر ہونے کے بجائے بغیر کسی عذر کے، سیدھے میدانِ عرفات چلے جاتے ہیں۔یہ عمل قطعاً درست نہیں ہے۔یوم الترویہ یعنی حج کے پہلے دن شریعت کا حکم یہ ہے کہ حجاج منیٰ میں حاضر ہوں اور ٩/ذوالحجہ کی صبح تک وہیں قیام کریں۔تاہم جو لوگ کسی عذر کے باعث پہلے دن منیٰ میں حاضر نہ ہو سکیں، اُن کے لیے کوئی حرج کی بات نہیں ہے کہ وہ یوم عرفہ کو براہ راست میدان عرفات میں حاضر ہوں۔
 


یومِ عرفہ


٣٨)بعض لوگ وقوفِ عرفہ کے لیے غسل کرتے اور اسے باعث فضیلت سمجھتے ہیں۔اس کے لیے بھی دین میں کوئی ماخذ موجود نہیں ہے۔ یہ بھی ایک قابل اصلاح چیز ہے۔
 
٣٩)بعض حجاج یومِ عرفہ کو ظہر اور عصر کی نمازیں قصر اور جمع کر کے پڑھنے کے بجائے اپنے اپنے اوقات میں چار چار رکعت پڑھتے ہیں اور مزید یہ کہ ان نمازوں کے ساتھ نوافل کا اہتمام بھی کرتے ہیں۔یہ عمل بھی قطعاً غلط اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مقرر کردہ سنت اور آپ کے اُسوہ کے خلاف ہے۔ابلیس کے خلاف جنگ کی تمثیل کے تقاضے سے یہ بات بحیثیت سنت،مناسک حج کی شریعت میں مقرر کی گئی ہے کہ یوم عرفہ کو حجاج ظہر اور عصر کی نمازیں جمع اور قصر کر کے پڑھیں۔سفر یا اقامت سے اِس کا قطعی کوئی تعلق نہیں ہے۔چنانچہ مسلمانوں کو اِس معاملہ میں شریعت کے مقرر کردہ قانون کی پیروی اور اپنے عمل کی اصلاح کرنی چاہیے۔جہاں تک ان نمازوں کے ساتھ نوافل پڑھنے کا تعلق ہے تو یہ واضح رہے کہ اِس معاملے میں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اُسوہ یہ ہے کہ اُس موقع پر آپ نے کوئی نفل نماز ادا نہیں کی (مسلم،رقم ١٢١٨)۔چنانچہ لوگوں کا یہ عمل بھی آپ کے اُسوہ سے مختلف اور قابل اصلاح ہے۔
 
٤٠) عرفات میں بعض لوگ جبل رحمت کے پاس وقوف کو ضروری سمجھتے اور اس پر اصرار کرتے ہیں۔یہ بھی قطعاً درست نہیں ہے۔ عرفات کے پورے میدان میں آدمی جہاں چاہے، وقوف کرسکتا ہے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:میں نے یہاں (جبل رحمت کے پاس)وقوف کیا ہے۔تاہم یہ واضح رہے کہ وقوف، عرفات کے پورے میدان میں کہیں بھی کیا جا سکتا ہے۔(ابو داؤد،رقم ١٩٠٧)
 
٤١)عرفات میں بعض لوگ دعا و مناجات کرتے ہوئے اُس پہاڑ کی طرف رخ کر لیتے ہیں جو جبل رحمت کے نام سے معروف ہے۔یہ معلوم ہے کہ حجۃ الوداع کے موقع پر وقوف عرفہ کے دوران میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی پہاڑ کے پاس کھڑے ہو کر دعا و مناجات کی تھی۔تاہم دعا و مناجات میں اس کی طرف رخ کرنا اور لوگوں کو اس کی ہدایت کرنا آپ سے قطعاً ثابت نہیں ہے۔لوگوں کے اِس عمل کے لیے بھی دین میں کوئی ماخذ موجود نہیں ہے۔
 
٤٢)بعض لوگ جبل رحمت پر چڑھنے اور اُس پر نماز ادا کرنے کو باعث فضیلت سمجھتے ہیں۔اس کی بھی کوئی حقیقت نہیں ہے۔
 
٤٣)بعض حجاج بغیر کسی عذر کے غروبِ آفتاب سے پہلے ہی عرفات سے رخصت ہو جاتے ہیں۔یہ بھی قابل اصلاح ہے۔ حجاج کے لیے شریعت کا حکم ہے کہ وہ غروب آفتاب تک عرفات ہی میں رہیں،اس سے پہلے وہاں سے نہ نکلیں،الاّ یہ کہ کسی شخص کو کوئی ایسا غیر معمولی عذر لاحق ہو جائے جس کی بنا پر اُسے اس حکم سے رخصت حاصل ہو جائے۔
 
٤٤)عرفات میں بعض حجاج خاموشی اختیار کر لینے کو باعث فضیلت سمجھتے اور اسی بنا پر وہاں دعا و مناجات بھی ترک کر دیتے ہیں۔جبکہ واقعہ یہ ہے کہ حج میں سب سے بڑھ دعا وبمناجات کا موقع عرفات کے وقوف ہی میں ہے۔اس عمل کی حیثیت بھی دین میں ایجادِ بندہ کی ہے۔وقوف عرفہ کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اُسوہ ہم پہلے بیان کر چکے ہیں ؛یہ عمل اُس کے بھی خلاف ہے۔
 
٤٥)عرفات سے نکلتے ہوئے اکثر حجاج تیزی سے چلتے،جلد بازی کا مظاہرہ کرتے اور اس کے نتیجے میں بسااوقات دوسروں کے لیے باعث اذیت بن جاتے ہیں۔اس کی اصلاح بھی کرنی چاہیے۔اس موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اُسوہ یہ ہے کہ آپ نہایت سکون اور اطمینان کے ساتھ عرفات سے روانہ ہوئے۔اور اپنے ساتھ حجۃ الوداع میں موجود حجاج کو بھی آپ نے اسی طرح چلنے کی ہدایت فرمائی۔
(مسلم، رقم ١٢١٨۔ابو داؤد،رقم١٩٢٠)
 
٤٦)یوم عرفہ کو بعض حجاج مغرب اور عشا کی نمازیں مزدلفہ پہنچنے سے پہلے راستے ہی میں ادا کر لیتے ہیں۔یہ بھی قطعاً درست نہیں ہے۔اس موقع پرسنت اور شریعت کا قانون یہ ہے کہ آدمی غروب آفتاب کے بعد مغرب کی نماز پڑھے بغیر عرفات سے روانہ ہو اور پھرجس وقت بھی،خواہ وہ عشا کا وقت ہو، مزدلفہ پہنچے؛اُسی میدان میں مغرب اور عشا کی نمازیں جمع اور قصر کر کے پڑھے۔

 

مزدلفہ


٤٧) مزدلفہ میں رات گزارنے کے لیے بعض لوگ غسل کرتے ہیں۔واضح رہے کہ یہ بھی کوئی مشروع عمل نہیں ہے۔
 
٤٨)اکثر حجاج یہ خیال کرتے ہیں کہ مزدلفہ کے میدان سے کنکریاں اُٹھانا ایک مشروع عمل اور مناسک حج کا حصہ ہے۔چنانچہ وہ اس میدان میں پہنچ کر پہلے نمازوں کی ادائیگی کے بجائے کنکریاں اُٹھانے میں مشغول ہو جاتے ہیں۔اور مزید یہ کہ تمام ایام کی رمی کے لیے کنکریاں وہیں سے اُٹھا کر وہ اپنے پاس محفوظ کر لیتے ہیں۔مناسک حج میں اِس عمل کی حیثیت بھی ایجادِ بندہ کی ہے۔دین و شریعت کی رو سے آدمی جہاں سے چاہے،جتنی چاہے،کنکریاں اُٹھا سکتا ہے۔اس کے لیے کوئی خاص مقام شریعت میں مقرر نہیں کیا گیا ہے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات اور آپ کے عمل میں بھی اس کے لیے کوئی بنیاد موجود نہیں ہے۔
 
٤٩)مزدلفہ میں بعض حجاج مغرب اور عشا کی نمازیں قصر اور جمع کر کے کے پڑھنے کے بجائے اپنے اپنے اوقات میں تین اور چار رکعت پڑھتے ہیں اور مزید یہ کہ ان نمازوں کے ساتھ نوافل کا اہتمام بھی کرتے ہیں۔ان کا یہ عمل بھی قطعاً غلط اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مقرر کردہ سنت اور آپ کے اُسوہ کے خلاف ہے۔ابلیس کے خلاف جنگ کی تمثیل کے تقاضے سے یہ بات بحیثیت سنت،مناسک حج کی شریعت میں مقرر کی گئی ہے کہ مزدلفہ میں حجاج،مغرب اور عشا کی نمازیں جمع اور قصر کر کے پڑھیں۔سفر یا اقامت سے اِس کا قطعی کوئی تعلق نہیں ہے۔چنانچہ مسلمانوں کو اِس معاملہ میں شریعت کے مقرر کردہ قانون کی پیروی اور اپنے عمل کی اصلاح کرنی چاہیے۔جہاں تک ان نمازوں کے ساتھ نوافل پڑھنے کا تعلق ہے تو یہ واضح رہے کہ اِس معاملے میں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اُسوہ یہ ہے کہ اُس موقع پر آپ نے کوئی نفل نماز ادا نہیں کی(مسلم،رقم ١٢١٨)۔چنانچہ لوگوں کا یہ عمل بھی آپ کے اُسوہ سے مختلف اور قابل اصلاح ہے۔
 
٥٠)بعض حجاج مزدلفہ میں رات کے قیام کو بغیر کسی عذر کے ترک کر دیتے اور سیدھے منیٰ واپس آ جاتے ہیں۔یہ بھی قطعاًدرست نہیں ہے۔اس رات کے لیے شریعت کا حکم یہ ہے کہ آدمی صبح روشن ہونے تک مزدلفہ کے میدان ہی میں قیام پذیر رہے،الاّ یہ کہ کسی شخص کو کوئی ایسا غیر معمولی عذر لاحق ہو جائے جس کی بنا پر اُسے اس حکم سے رخصت حاصل ہو جائے،جیساکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض لوگوں کو اُن کے عذر کی بنا پر رات ہی میں کوچ کر جانے کی اجازت دی تھی۔
 
٥١)بعض لوگ مزدلفہ کی رات کو خاص عبادت کی رات قرار دیتے اور اس میں عبادت کے لیے جاگتے ہیں۔یہ بھی حج کی شایع و ذایع غلطیوں میں سے ایک ہے۔قرآن و سنت اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے علم و عمل سے اس رات کی یہ حیثیت قطعاً معلوم نہیں ہوتی۔اگر ایسا ہوتا تو کم از کم آپؐ اپنے آخری حج میں مسلمانوں کے سامنے اپنے عمل سے یہی اُسوہ پیش فرماتے، جیساکہ وقوفِ عرفات اور وقوف ِ مزدلفہ میں آپ نے کیا، یا اسے بیان ضرور کر دیتے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ صرف یہ کہ ایسا نہیں کیا،بلکہ آپ اپنے ہمیشہ کے معمول کے برخلاف،اس رات میں تہجد کے لیے بھی نہ اُٹھے اور طلوع فجر تک آرام فرمایا(مسلم، رقم١٢١٨)۔چنانچہ واضح ہوا کہ یہ چیز بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اُسوہ کے خلاف ہے۔

 
رمیِ جمرات


٥٢) بعض لوگ رمی سے پہلے غسل کرتے اور اسے باعث فضیلت سمجھتے ہیں۔اس کے لیے بھی دین میں کوئی ماخذ موجود نہیں ہے۔چنانچہ یہ ایک اصلاح طلب چیز ہے۔
 
٥٣)بعض حجاج رمی سے پہلے کنکریوں کو پانی سے دھوتے اور اُنہیں خوشبوسے معطر کرتے ہیں۔یہ ایک بالکل لغو عمل ہے۔اس کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔جو لوگ مناسک کی حقیقت سے واقف نہیں ہیں، اُن سے اس طرح کی غلطیوں کا سرزد ہونا کوئی بعید بات نہیں ہے۔لوگ غالباً اپنے اِس غیر مشروع عمل سے کنکریوں کے تقدس کو ظاہر کرنا چاہتے ہیں۔دراں حالیکہ کنکریوں سے رمی کرنا تمثیلی زبان میں ایک عبادت ہے، جس کی حقیقت یہ ہے کہ اس کے ذریعہ سے ایک بندہ مومن ابلیس پر لعنت اور اُس کے خلاف جنگ کا علامتی اظہار کرتا ہے۔چنانچہ اِس طرح کی غلطیوں میں پڑنے کے بجائے لوگوں کو مناسک کی حقیقت کی طرف متوجہ ہونا چاہیے،جسے حاصل کر کے وہ حج اور اُس کے مناسک کی اصل روح کو پا سکتے ہیں۔
 
٥٤)بعض حجاج تمام کنکریوں کو اکٹھا ایک ہی دفعہ میں ستون کی طرف مار دیتے ہیں۔یہ بھی غلط ہے۔صحیح طریقہ یہ ہے کہ تمام کنکریاں ایک ایک کر کے ماری جائیں۔
 
٥٥) رمی کی حقیقت کو،جیسا کہ ہم اوپر واضح کرچکے ہیں،اگر سامنے رکھا جائے تویہ تصور بھی درست نہیں ہے کہ کنکریوں کا براہِ راست ستونوں کو لگنا ضروری ہے۔دین میں اس کے لیے بھی کوئی ماخذ موجود نہیں ہے۔جمرات کے پاس موجود لوگوں کا خیال رکھتے ہوئے ستون کی سمت میں مار دینا کافی ہے۔
 
٥٦) بعض حجاج استطاعت کے باوجود اور بغیر کسی عذر کے اپنی رمی دوسروں کو سونپ دیتے ہیں۔یہ بھی قابل اصلاح ہے۔رخصت کے قانون کے مطابق اس مو قع پر بچوں،ضعیف عورتوں، بیماروں، بوڑھوں اور کمزوروں کوتواس کی اجازت دی جا سکتی ہے،تاہم بغیر کسی حقیقی عذر کے کسی شخص کو اِس حکم سے مستثنی قرار نہیں دیا جا سکتا۔
 
٥٧)جمرات کے پاس اکثر حجاج ایک دوسرے سے جھگڑتے، زور آزمائی کرتے،دھکم پیل کرتے اور دوسروں کے لیے باعث اذیت بن جاتے ہیں۔کتنی ناپسندیدہ بات ہے کہ جس مقام پر رمی کر کے ہم اپنی اِس دنیوی زندگی میں اپنے پروردگار کی حمیت و حمایت،ابلیس کو پسپا کرنے اور اُس کے خلاف بر سر جنگ رہنے کے عزم کا اظہار کرتے ہیں،عین اُسی مقام پر ابلیس ہی کی صدا پر لبیک کہنے کا ثبوت دے رہے ہوتے ہیں۔اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ ہم اپنے حج کو اس طرح کی آلائشوں سے پاک کریں۔
 
٥٨) بعض لوگ جمرات کو حقیقتاً ابلیس تصور کرتے اور ان کے پاس کھڑے ہو کر اپنے شدت جذبات کا اظہار کرتے ہیں۔ اس موقع پر انہیں چھوٹی بڑی،جو چیز ہاتھ آتی ہے،جمرات کی طرف مارتے ہیں۔یہ بھی ایک بالکل لغو اور اصلاح طلب عمل ہے۔یہ چیز بالبداہت واضح ہے کہ رمی اور جمرات،دونوں کی حقیقت سے ناواقفیت کی بنا پر پید ا ہوئی ہے۔منیٰ کے میدان میں یہ تین ستون حقیقی ابلیس نہیں،بلکہ اُس کی علامت کے طور پر مقرر کیے گئے ہیں۔تاکہ ہم علامتی زبان میں اپنے پروردگار کے حضور میں ابلیس پر لعنت اور اُس کے خلاف جنگ کا اظہار کریں۔

 
متفرقات


٥٩) اکثر حجاج و معتمرین کو دیکھا گیا ہے کہ وہ مکہ مکرمہ میں قیام کے دوران میں حرم سے باہر جاتے اور تنعیم کے علاقے کی معروف مسجد،مسجد عائشہ سے احرام باندھ کر متعدد بار عمرہ کرتے ہیں۔اور اپنے اِس عمل کو بہت ہی باعث اجر و فضیلت سمجھتے ہیں۔قرآن و سنت اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے علم و عمل کی روایات میں اس کے لیے کوئی بنیاد موجود نہیں ہے۔سنت کی رو سے حج اور عمرہ کی عبادات میں پسندیدہ طریقہ یہی ہے کہ آدمی حج کے لیے اپنے وطن سے الگ سفر کرے اور عمرہ کے لیے الگ۔دور دراز کے علاقوں سے آنے والوں کے لیے یہ حکم زحمت کا باعث ہوسکتا تھا،چنانچہ اِسی بنا پر اللہ تعالیٰ نے اُنہیں اجازت دی ہے کہ وہ اگر چاہیں تو اپنے حج کے سفر میں عمرہ بھی کرسکتے ہیں،لیکن اِس رخصت سے فائدہ اُٹھانے کی بنا پر اُنہیں قربانی یا روزوں کی صورت میں فدیہ ادا کرنا ہو گا(البقرہ٢:١٩٦)۔قرآن کے اس حکم سے اللہ تعالیٰ کا یہ منشا واضح ہے کہ ان عظیم عبادات کی ادائیگی کا بہتر طریقہ یہی ہے کہ آدمی ان میں سے ہر ایک کے لیے الگ سے عزم سفر کرے۔اور یہ بھی واضح ہے کہ اللہ تعالیٰ جب حج کے سفر میں ایک عمرہ کرنے پر فدیہ عائد کر رہے ہیں تو پھر اُس پروردگار کے نزدیک ایک سفر میں متعدد بار عمرہ کرنا کوئی پسندیدہ عمل کیسے ہوسکتا ہے؟پھر جب اللہ تعالیٰ کے ہاں ایک عمل پسندیدہ نہیں تو یہ بھی ممکن نہیں ہے کہ اُس کا رسول اُس عمل کو انجام دے یا اُسے دین میں پسندیدہ عمل قرار دے۔چنانچہ جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات اور آپ کے اُسوہ کی روایات کا مطالعہ کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے حج یا عمرہ کے کسی سفر میں حرم سے باہر جا کر کبھی کوئی عمرہ نہیں کیا اور نہ آپ نے اسے کسی پسندیدہ عمل کی حیثیت سے کبھی بیان فرمایا ہے۔چنانچہ واضح ہوا کہ قرآن وسنت اور نبی صلی اللہ صلی علیہ وسلم کے اُسوہ کی رو سے یہ ایک غیر مشروع اور قابل اصلاح عمل ہے۔اور جس عمل کی دین میں کوئی بنیاد موجود نہیں ہے وہ ایک پسندیدہ عمل کیسے ہوسکتا ہے؟نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کے بعد حج یا عمرہ کے لیے مدینہ منورہ سے چار مرتبہ مکہ مکرمہ تشریف لے گئے ہیں۔شہر مکہ میں مقیم رہتے ہوئے یہ اگر کوئی مشروع اور پسندیدہ عمل ہوتا تو ان مواقع پر آپ ؐاسے انجام دیتے یا کم سے کم مسلمانوں کے لیے اسے بیان ضرور کر دیتے۔لیکن ایسا بھی نہیں ہوا۔
 
ایک سفر میں ایک سے زائد عمرہ کا اہتمام نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ آپ کے صحابہؓ نے بھی کبھی نہیں کیا۔بلکہ دورِ اوّل میں تو یہ سوال بھی زیر بحث رہا ہے کہ ایک سال میں ایک سے زائد بار عمرہ کیا جا سکتا ہے یا نہیں ؟(زاد المعاد،ابن قیمؒ،٢/٩٧۔٩٨)
 
جہاں تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں حجۃ الوداع کے موقع پر سیدہ عائشہؓ کے تنعیم کے علاقہ سے احرام باندھ کر عمرہ کرنے کا تعلق ہے، تویہ بات جان لینی چاہیے کہ وہ اُس موقع پر مدینہ منورہ سے آپ ؐ کے ساتھ عمرہ کا احرام باندھ کر روانہ ہوئی تھیں۔پھر جب مکہ پہنچیں تو وہ ایام سے تھیں،جس کی بنا پراپنا عمرہ نہ کرسکیں اور نتیجتاً احرام بھی نہ کھول سکیں۔یہاں تک کہ حج کے ایام شروع ہو گئے اور اُنہوں نے تمام حجاج کے ساتھ اپنے اُسی احرام میں حج ادا کیا۔حج کے بعد اُنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا:اے اللہ کے رسول! کیا آپ سب حج اور عمرہ دونوں کی ادائیگی کر کے لوٹیں گے اور میں صرف حج کے ساتھ واپس ہوں گی؟ آپ نے جواب میں ارشاد فرمایا: عائشہ! اللہ کے ہاں تمہیں وہی کچھ ملے گا جو اِن سب کو ملے گا۔ پھر سیدہ عائشہؓ نے کہا: (اے اللہ کے رسول) میرے دل میں یہ بات آ رہی ہے کہ میں نے حج کرنے تک بیت اللہ کا طواف نہیں کیا۔(چنانچہ سیدہ کے اصرار کو دیکھ کر) آپؐ نے اُن کے بھائی سے کہا:اے عبد الرحمن! تم اِنہیں لے کر جاؤ اور تنعیم سے لا کر عمرہ کراؤ۔(حجّۃ النبی، ناصر الدین البانی ؒ،ص٩١۔٩٢)
 
اس سارے معاملے میں بھی آپ دیکھیں کہ اس عمرہ کے لیے سیدہؓ کو آپ سے اجازت لینی پڑی ہے۔یہ دین میں کوئی مشروع عمل ہوتا تو آپ اجازت حاصل نہ کرتیں۔پھر طلب اجازت اور اصرار کی و جہ وہ عمرہ تھا جس کا احرام باندھ کر وہ مدینہ سے روانہ ہوئی تھیں،لیکن معذوری کی بنا پر ادا نہ کرسکیں تھیں۔یہ معاملہ نہ ہوتا تو بالبداہت واضح ہے کہ وہ اِس عمرہ کا ارادہ بھی نہ کرتیں۔جیساکہ معلوم ہے کہ اُس حج میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ موجود دوسرے حجاج نے کسی عمرہ کے لیے کوئی خواہش ظاہر نہ کی۔پھر واقعہ یہ ہے کہ اُس موقع پر سیدہؓ کے بھائی عبد الرحمن ؓ،جن کے ساتھ وہ تنعیم تک گئی ہیں اور جن کے لیے بظاہر موقع تھا کہ وہ بھی عمرہ کر لیں ؛اپنی دینی بصیرت کی بنیاد پر خود اُنہوں نے بھی اسے مشروع اور پسندیدہ نہ سمجھا۔چنانچہ سیدہؓ کے ساتھ اُنہوں نے عمرہ نہیں کیا۔
 
سیدہ عائشہؓ کے اس واقعہ سے زیادہ سے زیادہ یہ بات اخذ کی جا سکتی ہے کہ حج کے کسی سفر میں اگر کسی خاتون کو وہی صورت لاحق ہو جائے جو سیدہ عائشہ کو ہوئی تھی تو اُس کے لیے کوئی حرج کی بات نہیں ہے کہ وہ حج کے بعد اپنا عمرہ کر لے۔
 
اِس ساری بحث سے یہ بات ثابت ہوئی کہ ایک سفر میں جس طرح حج ایک ہی ہوتا ہے، عمرہ بھی ایک ہی مشروع ہے۔نتیجتاً اِس سے یہ بھی واضح ہوا کہ مسلمانوں کی عظیم اکثریت آج مدینہ سے مکہ واپسی پر جو ایک اضافی عمرہ کرتی ہے،اور جسے پاک و ہند کے عوام 'بڑا عمرہ' کے نام سے موسوم کرتے ہیں،یہ بھی دین میں کوئی مشروع اور پسندیدہ عمل نہیں ہے۔بلکہ ایک قابل اصلاح چیز ہے۔
 
٦٠) بعض حجاج ہدی کا جانور ساتھ لائے بغیر حج اور عمرہ دونوں،ایک ہی احرام میں کر لیتے ہیں۔حج و عمرہ کی اس صورت کے لیے شریعت میں کوئی ماخذ موجود نہیں ہے۔ ایک احرام میں حج و عمرہ کی ادائیگی کی یہ صورت، شریعت میں صرف ان لوگوں کے لیے مقرر کی گئی ہے جو قربانی کے جانور اپنے ساتھ لے کر حرم میں آئے ہوں۔اس لیے کہ جس شخص نے قربانی کا جانور اپنے ساتھ لے لیا ہو، قرآن مجید کے حکم کے مطابق وہ اُس وقت تک احرام سے نہیں نکل سکتاجب تک کہ اپنے ساتھ لائے ہوئے جانور کی قربانی نہ کر لے (البقرہ ٢: ١٩٦)۔ اور یہ قربانی ظاہر ہے کہ شریعت میں اپنے مقررہ دن یعنی یوم النحر١٠/ ذوالحجہ ہی کو کی جائے گی۔اُس وقت تک یہ شخص حالت احرام میں رہنے کا پابند ہوتا ہے۔چنانچہ وہ اگر عمرہ کا ارادہ بھی رکھتا ہے تو عمرہ سے فراغت کے بعد احرام سے نہیں نکل سکتا بلکہ اُسی احرام میں باقی رہتے ہوئے حج کرتا ہے اور نتیجتاً اُسے ایک احرام میں حج و عمرہ،دونوں کو ادا کرنے کی صورت بن جاتی ہے۔اب جہاں تک اُن لوگوں کا تعلق ہے جو اپنے ساتھ قربانی کا جانور ساتھ لے کر نہ آئے ہوں،جیساکہ بالعموم حجاج اب کرتے ہیں۔ ان کے لیے شریعت میں ایسی کوئی پابندی نہیں ہے کہ وہ یوم النحر تک حالت احرام میں رہیں،چنانچہ وہ اگر حرم میں پہنچ کر پہلے عمرہ کرتے ہیں تو نہ صرف یہ کہ ان کے لیے عمرہ سے فراغت کے بعد احرام کھول لینا درست ہے،بلکہ حجۃ الوداع کے موقع پر ایسے لوگوں کو خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہدایت فرمائی تھی کہ وہ احرام میں نہ رہیں ؛بلکہ اپنا احرام کھول لیں۔
 
٦١)بعض لوگوں کو دیکھا گیا ہے کہ وہ طوافِ افاضہ یعنی حج کے طواف کو بنا کسی عذر کے مؤخر کر دیتے ہیں۔یہ طریقہ بھی درست نہیں ہے۔اگر کوئی عذر نہ ہو تو حج کا یہ طواف یوم النحر١٠/ذوالحجہ کو ادا کرنا چاہیے۔تاہم کسی شخص کے لیے اگر کسی وجہ سے اس دن طواف کرنا ممکن نہ ہو تو پھر اس کی تاخیر میں کوئی حرج کی بات نہیں ہے۔
 
٦٢)حج و عمرہ سے متعلق بعض کتابوں میں لکھا گیا ہے کہ حج کی سعی،جسے یوم النحر کو طواف افاضہ کے بعد کیا جاتا ہے،یوم النحرسے پہلے بھی اگر کر لی جائے تو یہ درست ہو گا اور اس کے نتیجے میں ١٠ ذوالحجہ کو سعی کرنے کی ضرورت باقی نہ رہے گی۔دین کی روشنی میں یہ نقطہ نظر قطعاًدرست نہیں ہے۔سب سے پہلے تو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ قرآن مجید کی رو سے حج و عمرہ کے مناسک میں سعی کی حیثیت،جیساکہ پہلے تفصیلاً بیان کیا جا چکا، ایک تطوع اور نفل کی ہے۔ یہ اگر کی جائے تو باعث اجر ہو گی۔تاہم یہ حج و عمرہ کے لازمی مناسک میں سے نہیں ہے۔حج و عمرہ اس کے بغیر بھی ہر لحاظ سے مکمل ہو جاتے ہیں (البقرہ٢:١٥٨)۔ قرآن مجید کے علاوہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل سے بھی اسی بات کی تائید ہوتی ہے۔چنانچہ یہ واقعہ ہے کہ حجۃ الوداع کے موقع پر آپ نے بیت الحرام پہنچ کر عمرہ کیا تو اُس میں طواف کے بعد صفا مروہ کی سعی بھی کی۔ جبکہ حج کے مناسک ادا کرتے ہوئے یوم النحر کو آپ نے صرف بیت الحرام کا طواف کیا،صفا و مروہ کی سعی نہیں کی۔ (مسلم، رقم ١٢١٨۔احمد، رقم ١٤٩٨٦)
 
پھر جو شخص سعی کرنا چاہے توسنت میں،بحیثیت شریعت اس کا موقع حج اور عمرہ، دونوں کے لیے مقرر کیا گیا ہے۔اُس قانون کے مطابق عمرہ میں سعی بیت الحرام کا طواف کرنے کے بعد اور حج میں ١٠/ ذوالحجہ کو طواف افاضہ کے بعد کی جائے گی۔حجاج و معتمرین کو اسی قانون کی پیروی کرنا ہو گی۔چنانچہ یوم النحرسے پہلے حج کی سعی کر لینا سنت کے قانون کے خلاف ہونے کی بنا پر درست نہیں ہے۔دین میں اِس رخصت کے لیے قطعاً کوئی بنیاد موجود نہیں ہے۔
 
٦٣) ایامِ تشریق میں بعض لوگ منیٰ میں قیام کرنے کے بجائے بغیر کسی عذر کے شہر مکہ میں مقیم رہتے ہیں۔جبکہ ان ایام میں سنت یہ ہے کہ حجاج منیٰ ہی میں قیام پذیر رہیں اور جمرات کی رمی کریں۔چنانچہ یہ عمل بھی قابل اصلاح ہے۔دین کی رو سے کسی حاجی کو بغیر کسی معقول عذر کے قیام منیٰ سے مستثنیٰ قرار نہیں دیا جا سکتا۔
 
٦٤) بعض حجاج قیامِ منیٰ کے ایام میں نمازوں کو قصر کرنے کے بجائے پوری پڑھتے ہیں۔یہ عمل نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اُسوہ کے خلاف ہونے کی بنا پر اصلاح طلب ہے۔ابلیس کے خلاف جنگ کی تمثیل کے تقاضے سے اِن ایام میں نمازوں کو قصر کر کے پڑھنا آپؐ کااُسوہ ہے۔اور عبادات میں آپ ہی کا اُسوہ قابل اتباع ہے۔روایتوں میں بیان ہوا ہے کہ ایامِ تشریق میں اور اس سے پہلے بھی جب ٨/ذوالحجہ کو آپ مکہ سے منیٰ آئے تو جتنے دن قیام فرمایا، اس کے دوران میں تمام نمازیں قصر کر کے پڑھتے رہے (بخاری، رقم ١٦٥٥،١٦٥٦)۔حجۃ الوداع کے موقع پر مکہ مکرمہ کے مسلمان بھی ان نمازوں میں آپؐ کے ساتھ شریک تھے۔اُنہوں نے بھی آپ کے ساتھ نمازوں کو قصر کیا۔چنانچہ واضح ہوا کہ ان ایام میں نمازوں کو قصر کرنا سفر سے قطعاً کوئی تعلق نہیں رکھتا۔اور ایام منیٰ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اُسوہ ہی کی بنا پر منیٰ کی قدیم ترین مسجد، مسجد خَیف میں آج بھی حجاج تمام نمازیں قصر کر کے پڑھتے ہیں۔
 
٦٥)یومِ عرفہ اگر جمعہ کے دن واقع ہو تو عامۃ الناس اُس حج کو حج اکبر کے نام سے موسوم کرتے اور اُسے زیادہ باعث اجر و فضیلت سمجھتے ہیں۔اِس تصور کے لیے بھی دین میں کوئی بنیاد موجود نہیں ہے۔یہ عوام الناس کی ایجاد ہے۔اصل بات یہ ہے حج اور عمرہ، دونوں عبادات اپنی اصل کے اعتبار سے ایک ہی حقیقت کو ممثل کرتی ہیں۔فرق صرف یہ ہے کہ عمرہ اجمال ہے اور حج میں ایک خاص پہلو سے اُس کی تفصیل کر دی گئی ہے۔چنانچہ اِسی تناظر میں زمانہ قدیم سے عمرہ کو حج اصغر اور اُس کے تقابل میں حج کو حج اکبر بھی کہا جاتا ہے۔
 
٦٦)بعض لوگ طوافِ وداع کرنے کے بعد مسجد حرام سے اُلٹے پاؤں نکلتے ہیں۔یہ بھی ایک بالکل لغو عمل ہے۔دین میں اس کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔اس کی اصلاح بھی کر لینی چاہیے۔
 
٦٧)بیت الحرام پہنچ کر حج یا عمرہ کرنے والے ایک مسلمان کی فطری خواہش ہوتی ہے کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دار الہجرت اور آخری مسکن مدینہ منورہ اور اُس میں آپ کی مسجد، مسجد نبوی کی زیارت بھی کر لے۔چنانچہ وہ اس مقصد سے مدینہ منورہ کا قصد کرتا ہے۔ظاہر ہے کہ اس مقصد کو حاصل کرنا ایک مسلمان کے لیے بڑی سعادت کی بات ہے۔اس کی حیثیت یہی ہے۔تاہم یہ واضح رہے کہ اُس کے اِس سفر کا، جیساکہ عامۃ الناس خیال کرتے ہیں،حج یا عمرہ کے مناسک سے قطعاً کوئی تعلق نہیں ہیں۔یہ حج یا عمرہ کا کوئی حصہ نہیں ہے۔دین کی رو سے حج و عمرہ اس کے بغیر بھی ہر لحاظ سے مکمل ہوتے اور ان میں کسی اعتبار سے کوئی نقص واقع نہیں ہوتا۔جب اس کی حیثیت یہی ہے تو بالبداہت واضح ہے کہ آدمی جتنا چاہے حرم نبوی میں رہے اور جتنی نمازیں چاہے، مسجد نبوی میں پڑھے اور جب چاہے وہاں سے رخصت ہو جائے۔اس میں کسی اعتبار سے اُس پر کوئی پابندی ہے،نہ دین میں باعث اجر و فضیلت کوئی حکم موجود ہے۔اِس حوالے سے عام طور پر جو بات معروف ہو گئی ہے کہ مسجد نبوی میں چالیس نمازیں پڑھنے کی دین میں ایک خاص فضیلت ہے اور اُسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا ہے،چنانچہ اس کا اہتمام کرنا چاہیے۔اِس تصور کی حقیقت یہ ہے کہ کسی صحیح روایت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس طرح کی کوئی بات ثابت نہیں ہے۔ مسند احمد کی ایک روایت(رقم، ١٢٦٠٥) جسے لوگ بطور استدلال پیش کرتے ہیں، خود محدثین کے نزدیک وہ ایک ضعیف درجہ کی روایت ہے(سلسلۃ الأحادیث الضعیفۃ والموضوعۃ، ناصر الدین البانیؒ، رقم٢٦٥٢)۔چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت سے اسے بیان کرنا بھی قطعاً درست نہیں ہے۔پھر عبادات میں جس چیز کا استناد نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے صحت کے ساتھ ثابت ہی نہیں،اُسے دین کی حیثیت سے، بالبداہت واضح ہے کہ قطعی طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا۔اس کی اصلاح نہایت ضروری ہے۔
 
مناسک حج و عمرہ سے متعلق یہ عام طور پر پائے جانے والے وہ اعمال و تصورات ہیں جن کے لیے قرآن وسنت اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے علم وعمل کی صحیح روایات میں کوئی ماخذ موجود نہیں ہے۔اِن میں سے بعض چیزوں کا ماخذ موضوع یا ضعیف روایات ہیں۔جبکہ بعض محض فقہی کتابوں میں پائے جانے کی بنا پر عام ہو گئے ہیں۔اور بعض چیزیں ایسی ہیں جو حج و عمرہ کے باب میں شریعت کے احکام سے ناواقفیت کی وجہ سے شایع و ذایع ہوئی ہیں۔بعض غلطیاں ایسی ہیں جو مسلمانوں میں مناسک حج و عمرہ کی حقیقت و حکمت سے بے شعوری کی بنا پر اُن سے سرزد ہو رہی ہیں۔چنانچہ مسلمانوں کو اس طرح کی غلطیوں پر متنبہ رہتے ہوئے اِن سے اجتناب کرنا چاہیے۔
 
اَللّٰهُمَّ أَرِنَاالْحَقَّ حَقًّا،وَارْزُقْنَا اتِّبَاعَه، وَأَرِنَا الْبَاطِلَ بَاطِلاً،وَارْزُقْنَا اجْتِنَابَه،
''اے اللہ! ہمیں حق کو حق ہی کی صورت میں دکھا،اور اُس کی پیروی نصیب فرما۔اور باطل کو ہمارے سامنے باطل ہی کی صورت میں واضح فرما اور اُس سے بچنے کی توفیق عطا فرما''۔
	
٭٭٭
ماخذ:
www.al-mawrid.org/pages/articles_urdu_detail.php?rid=1771&cid=140
