﻿

حِصار

(افسانے)


ڈاکٹر سلیم خان





’حصار، کے بیشتر افسانے اظہاراتی اور تاثراتی اسلوب میں لکھے گئے ہیں۔ افسانہ نگار کا بیانیہ تجریدیت کی ژولیدگی اور ابہام کی پیچیدگی سے پاک ہے۔ بعض کہانیوں میں تمثیل نگاری سے کام لیا گیا ہے جو کہانی کو تہہ دار بنا دیتی ہے۔
	ان کہانیوں میں پلاٹ، کردار اور مکالمہ یعنی روایتی کہانی کے سارے عناصر بدرجۂ اتم موجود ہیں۔ اگرچہ بعض کہانیاں وسیع تر آفاقی صداقتوں کے برعکس ایک خاص آئیڈیالوجی کے حصار میں محصور نظر آتی ہیں تاہم ہر کہانی میں ماجرائی ارتقاء کہانی کی دلچسپی کو شروع سے آخر تک برقرار رکھتا ہے۔ اسی لیے نظریاتی اختلاف یا اتفاق سے قطع نظر قاری پوری کہانی پڑھنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔

					سلام بن رزاق










انتساب


محترم والد صاحب 
	اور
محترمہ والدہ صاحبہ 
کے نام





افسانے کی حقیقت


		کہانی یاد دہانی ہے۔ کسی بات کو ایسے کہنا ہو کہ وہ یاد رہ جائے تو کہانی کہئے کہ وہ یاد رہ جاتی ہے۔ افسانہ حقیقت نہیں ہوتا اور نہ حقیقت افسانہ ہوتی ہے۔ ویسے ہر افسانے میں تھوڑی بہت حقیقت اسی طرح ہوتی ہے جیسے ہر حقیقت میں ننھا سا فسانہ ہوتا ہے۔ یہ تھوڑا بہت اپنی حدود سے تجاوز بھی کر جائے تو افسانے کو حقیقت نہیں بنا سکتا ہاں حقیقت کو فسانہ ضرور بنا دیتا ہے۔
		کہانی بنائی نہیں جاتی بلکہ اسے بُنا جاتا ہے بالکل کپڑے کی طرح جس طرح کپڑا مختلف دھاگوں کے تانے بانے سے وجود میں آتا ہے ایسا ہی کچھ کہانی کے ساتھ بھی ہوتا ہے۔ یہاں دھاگے کے بجائے کردار ہوتے ہیں۔ چلتے پھرتے ہنستے بولتے کردار۔ کپڑے کے ڈیزائن کی مانند کہانی کا اپنا پلاٹ ہوتا ہے۔ جس طرح دھاگے ایک دوسرے سے رل مل کر اپنا انفرادی وجود کھو دیتے ہیں اور ایک نئے وجود کی تخلیق کرتے ہیں اسی طرح کردار کہانی میں اس طرح کھو جاتے ہیں کہ ان کا اپنا علیٰحدہ وجود باقی نہیں رہتا۔ وہ سب ایک کہانی بن جاتے ہیں۔ 
		اکثرایسا ہوتا ہے کہ کپڑے کے دھاگے اگر مضبوط ہوں تو ڈیزائن ناقص اور  ڈیزائن خوشنما ہو تو دھاگے کمزور۔ کہانی کے ساتھ بھی یہی کچھ ہوتا ہے۔ کبھی اچھے کردار ناقص پلاٹ کی نذر ہو جاتے ہیں تو کبھی اچھا پلاٹ عمدہ کرداروں سے محروم رہ جاتا ہے۔ ایسا کم ہی ہوتا ہے کہ اچھے پلاٹ کو اچھے کردار نصیب ہوں لیکن جب کبھی ایسا ہوتا ہے اچھی کہانی وجود میں آ جاتی ہے۔
		یہ صرف افسانوں ہی میں نہیں ہوتا بلکہ افراد اور اجتماعیت کے ساتھ حقیقت کی دنیا میں بھی ہوتا ہے۔ جب کبھی بہترین قسم کی اجتماعیت کو اعلیٰ کردار کے افراد مہیا ہو جاتے ہیں افسانوں میں حقیقت کی روح کارفرما ہو جاتی ہے اور افسانوی حقائق رونما ہونے لگتے ہیں !
															ڈاکٹر سلیم خان






ایک سائنس داں کے ادبی افسانے

		ڈاکٹر سلیم خان کا افسانوی مجموعہ پڑھ کر جی خوش ہوا اور بہت ! ڈاکٹر صاحب نے اپنے اِس مجموعے میں تقریباً ڈیڑھ درجن افسانے شامل کیے ہیں۔ یہ افسانے طوالت کے اعتبار سے طویل بھی ہیں اور مختصر بھی۔ بعض افسانے بیس صفحات پر محیط ہیں تو بعض کی طوالت صرف چار صفحات تک محدود ہے۔ مجھے حیرت تو اس بات پر ہے کہ جہاں طویل افسانے قاری کے تجسّس اور اشتیاق کو لے کر کسی لطیف خوشبو کی مانند آگے بڑھتے ہیں، وہیں مختصر افسانے اپنے دامن کے مختصر ہوتے ہوئے اُن کے گُل پوش ہونے کا احساس دلاتے ہیں۔ 
		ڈاکٹر سلیم خان کے افسانوں کا بنیادی وصف اُن کے دل چسپی کے ساتھ قابلِ مطالعہ ہونے میں ہے۔ ہر افسانے میں کسی نہ کسی حد تک قصے کا سا چٹخارہ ہم آمیز کر دیا گیا ہے۔ افسانہ شروع ہی کسی واقعے کا تصویری پس منظر بیان کرنے سے ہوا ہے۔ واقعے کی باطنی کیفیت کے مطابق فضا سازی کی گئی ہے اور جو ماحول تخلیق کیا گیا ہے، اُس میں سکوت نہیں بلکہ حرکت اور عمل کی کارفرمائی ہے۔
		افسانہ نگار نے کردار، سماج کے متوسط طبقے سے زیادہ اخذ کیے ہیں لیکن انتخاب میں ’ملک، قوم اور مذہب کی کوئی تخصیص، پیشِ نظر نہیں رکھی۔افسانے کے موضوع اور اپنے مطمح نظر کے تجریدی اشکال کو مشکل کرنے میں اُنھیں جو کردار مناسب معلوم ہوا ہے اُنھوں نے اُس کا انتخاب کر لیا ہے۔
		ڈاکٹر صاحب ایک سائنس داں ہونے کے باوجود ایک دین دار شخص ہیں۔ غالباً یہی وجہ ہے کہ ملّتِ اسلامیہ کے ملکی اور غیر ملکی مسائل کے سلسلے میں وہ ذہنی اور روحانی طور پر متردّد رہتے ہیں۔ اُن کی بین الاقوامی سیاست پر گہری نظر ہے۔ چناں چہ انھوں نے اپنے بعض افسانوں میں مسلمانوں کے نہایت پیچیدہ قضایا اور اُلجھے ہوئے مسائل کے حل تجویز کیے ہیں۔ معاملہ افغانستان کا ہو، پاکستان کا یا عراق کا یا فلسطین کا ہو، شام کا یا ایران کا، بھارتی سرزمین سے متعلق ہو یا امریکی علاقے سے، انھوں نے توسیع پسندی کی پالیسی پر قائم ممالک کی نشان دہی کرنے میں کسی لاگ لپٹ سے کام نہیں لیا ہے بلکہ نہایت دو ٹوک انداز میں اُن سے لوہا لینے کے گُر بھی بتا دیئے ہیں۔ 
		مجموعے میں بعض افسانے قطعی روایتی انداز میں لکھے ہوئے مل جاتے ہیں تو کئی تمثیلی یا علامتی طرز کے۔ بعض ہلکے پھلکے موڈ کی تخلیق معلوم ہوتے ہیں تو بعض نہایت سنجیدہ اور غور و فکر کی کیفیت میں خلق کیے ہوئے۔ اُن کا ڈکشن موضوع کے حسب حال افسانے میں رنگ آمیزی کرتا ہے۔ چناں چہ افسانوں میں ہندی زبان کا رنگ بھی دکھائی دیتا ہے اور جدید صحافت کا بھی۔ خلاصہ یہ کہ اُن کا طرزِ تحریر اُن کی شخصیت کا عمدہ عکس ہے یعنی سادہ، بامعنی اور بصیرت مند۔
		آج کل جس ڈھب کے افسانے لکھے جا رہے ہیں اُن میں ڈاکٹر سلیم خان کے بعض افسانے اپنے موضوع اور ہیئت کے اعتبار سے نہ صرف مختلف ہیں بلکہ قارئین کی دلچسپی اور استفادے کے پیشِ نظر بھرپور روشنی میں لائے جانے کے قابل بھی ہیں۔ 
															انور قمرؔؔ									  
13-A، گل اپارٹمنٹ، 244- 
سینٹ اینڈریوز روڈ، باندرہ،ممبئی  50






بدلے ہوئے پیمانے!


	شہباز خان روتا ہوا اپنی ماں مہر جان کے پاس آیا۔ اس کی آنکھوں سے آنسو اور سر سے خون بہہ رہا تھا۔ یہ دیکھ کر مہرجان کو بہت غصہ آیا۔ وہ سمجھ گئی یہ پڑوس کے شہزاد خان کی کارستانی ہے۔ اس کے جی میں آیا کہ شہزاد کی کھال ادھیڑ دے لیکن یہ ممکن نہ تھا۔ مہرجان نے شہباز کو پچکارنے کے بجائے اُسے ڈانٹا۔ سر سہلانے کے بجائے اس کا ہاتھ پکڑا اور اسے گھسیٹتے ہوئے پڑوس کے مکان میں شہزاد کی امی افسری بیگم کی جانب چل پڑی۔ اس خیال سے کہ رستا ہوا خون دکھلا کر شکایت کرے گی اور شہزاد کی خوب پٹائی کروائے گی لیکن وہاں پہنچنے کے بعد اس کے قدم زمین میں دھنس گئے۔ شہزاد اپنے ہاتھوں میں دانت لیے امی سے شکایت کر رہا تھا۔ اس کے منہ سے خون بہہ رہا تھا۔ مہرجان کو تفصیل جاننے کی ضرورت پیش نہ آئی۔ اس کا دل پسیج گیا آگے بڑھ کر اس نے شہزاد کو گلے سے لگا لیا اس کے آنسو پونچھنے لگی۔ افسری بیگم شہباز کا سر سہلانے لگیں جلدی جلدی انہوں نے اس کا سر دھویا اور ہلدی کے سفوف سے اس کی مرہم پٹی کرنے لگیں۔ اب تک مہرجان نے شہزاد کو کلی کرا کر بہلا پھسلا دیا تھا۔ منہ سے بہنے والا خون بند ہو گیا تھا۔ دونوں بچے ایک دوسرے کی امیوں کی گود میں بیٹھے ایک دوجے کو گھور رہے تھے۔ تھوڑی دیر میں یہ دونوں سہیلیاں باتوں میں مشغول ہو گئیں اور بچے پھر سے ایک دوسرے کے ساتھ کھیلنے لگے۔
	آبادیوں سے دور پہاڑوں کے درمیان خیبر نام کی ایک گمنام سی بستی تھی اس پورے علاقے میں صرف دو کشادہ مکان تھے ایک میں بختیار خان اور دوسرے میں شہریار خان رہتے تھے۔ دونوں بچپن کے دوست تھے ایک دوسرے سے متصل مکانوں میں رہتے تھے بقیہ تمام علاقہ کھیت اور باغات کا تھا جو یا تو شہریار کی ملکیت تھے یا بختیار کی۔گاؤں کے تمام مویشی ان دونوں کے درمیان تقسیم تھے اور تمام آبادی ان دونوں کی محکوم تھی۔ یہ آبادی جھگیوں میں رہتی۔ان کے کھیتوں میں کام کرتی۔ ان کے مویشیوں کی دیکھ بھال کرتی اور ان کے اہل خانہ کی خدمت کرتی تھی۔ جو کچھ تھا ان دونوں کا تھا باقی کسی کا کچھ بھی نہ تھا۔ اس لیے انہیں کی مرضی سبھی پر چلتی تھی۔ ان دونوں کے مزاج میں اس قدر ہم آہنگی تھی کہ فیصلہ ایک ساتھ کریں یا علیٰحدہ علیٰحدہ یکساں طور پر دونوں کو قابل قبول ہوتے تھے۔ چونکہ یہ لوگ عام لوگوں کے اور اپنے درمیان خاصہ فاصلہ رکھتے تھے اس باعث ان کے خاندانی رشتہ ناطے بھی ایک دوسرے تک محدود تھے۔ 
	بختیار کا بیٹا شہباز اور شہریار کا بیٹا شہزاد ہمسائیگی کے باعث دوست ضرور تھے لیکن ان میں بالکل بھی نہیں بنتی تھی۔ اس کے باوجود ایک دوسرے کے ساتھ کھیلنا ان کی مجبوری تھی۔ دوسرے بچوں کے ساتھ کھیلنا گویا ان کی خاندانی توہین تھی۔ ایک دوسرے کے ساتھ کھیلتے بھی تھے اور ایک دوسرے سے لڑتے بھی تھے۔ دوستی کے لیے ہم خیالی سے زیادہ ہم منصبی کو اہم سمجھا جاتا تھا ا س لیے ان دونوں کے درمیان دوستی تو تھی لیکن قدر مشترک نہیں تھی۔ بختیار اور شہریار اپنے بیٹوں کی لڑائی سے پریشان تھے وہ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ کھیلنے سے منع تو کرتے تھے لیکن اصرار نہ کرتے اس لیے کہ وہ جانتے تھے اس کے معنیٰ کھیل کود بند کرنے کے ہوتے تھے اور بچوں کو کھیلنے کودنے سے منع کرنا ان سے ان کا بچپن چھین لینے کے مترادف ہے۔کسی بچے سے اس کا بچپن چھین لینا ایسا ہی ہے جیسے کسی جوان سے اس کی جوانی یا بوڑھے سے اُس کا بڑھاپا چھین لیا جائے ان دونوں کو اپنے بچوں کے بچپنے اور اپنی جوانیوں کا بے حد خیال تھا لیکن وہ بے شمار افراد جن سے ان لوگوں نے ان کی زندگیاں چھین لی تھیں ان کا ذرہ برابر خیال نہ تھا اس لیے کہ ان کے نزدیک عوام کی حیثیت احساسات و جذبات رکھنے والے انسان کی نہیں بلکہ اپنی ضرورت کے بے جان سامان کی سی تھی جن کا مقصد وجود ہی گویا ان کی خدمت کرنا تھا۔
	ایک مرتبہ شہریار اپنے کسی کام سے شہر گیا وہاں ایک کھلونے کی دوکان میں اسے بڑی سی گیند نظر آئی اس نے دوکاندار سے پوچھا۔
	’’ یہ کیا ہے؟‘‘
	 دوکاندار نے بتلایا۔’’ یہ گیند ہے جس سے بچے اور بڑے کھیلتے ہیں۔ ‘‘
	 اس نے پوچھا۔’’ اس سے فٹ بال کھیلتے ہیں ؟ یہ تو گول نہیں لمبوترا سا ہے۔‘‘
	 دوکاندار نے بتلایا۔’’ اس سے فٹ بال نہیں رگبی کھیلا جاتا ہے۔‘‘
	 شہریار نے پوچھا۔ ’’یہ رگبی کیا ہوتا ہے؟‘‘
	 دوکاندار نے بتلایا۔ ’’یہ بھی فٹ بال کی طرح کھیل ہے لیکن اس میں پیروں سے مارنے کی قید نہیں اس میں گیند کو ہاتھوں سے چھینا جاتا ہے اور لاتوں سے مارا جاتا ہے۔ ہار جیت بہرحال اسی طرح سے ہوتی ہے۔ جب گیند کو اچھال کر مخالف ٹیم کے گول میں پہنچا دیا جائے گول ہو جاتا ہے اور وقت مقررہ میں جو ٹیم زیادہ مرتبہ اس گیند کو مخالف کے گول میں پہنچاتی ہے وہ کامیاب ہو جاتی ہے۔‘‘
	 شہریار نے سوچا یہ اچھا ہے۔ وہ اسے شہزاد اور شہباز کے حوالے کر دے گا وہ ایک دوسرے کے بجائے گیند سے ہا تھا پائی کریں گے۔ ایک دوسرے کے بال نوچنے کے بجائے گیند چھینیں گے۔ ایک دوسرے پر لاتوں اور گھونسوں کی برسات کرنے کے بجائے گیند پر اپنا غصہ اتاریں گے۔
	 بختیار کو بھی شہریار کی تجویز پسند آئی۔ اب گھر کے آنگن میں یہ دونوں بچے رگبی کھیلنے لگے۔ ایک دوسرے سے گیند چھینتے اور اپنی ٹھوکروں سے گیند کو ایک دوسرے کے پالے میں پہنچا کر ایک دوسرے کو شکست فاش سے دوچار کرنے میں لگے رہتے۔ ا س نئے کھیل نے جذبہ مسابقت میں خاصہ اضافہ کر دیا تھا۔ شہریار اور بختیار بھی کبھی کبھی ان کے کھیل سے لطف اندوز ہوتے۔ 
	جب یہ بچے کچھ بڑے ہو گئے تو کھیل آنگن سے نکل کر میدان میں آ گیا۔ گاؤں کے بچے اس کھیل کے تماش بین بن گئے۔ پہلے تو وہ دور سے گیند کو اٹھا کر لاتے پھر وہیں سے لات مار کر اچھال دیتے۔ آہستہ آہستہ نہ جانے کب وہ بھی اس کھیل میں شامل ہو گئے۔ کچھ شہباز کی ٹیم میں تو کچھ شہزاد کی ٹیم میں تھے اور اب شہزاد اور شہباز اپنی اپنی ٹیموں کی مدد سے ایک دوسرے کو ہرانے کے درپے رہتے۔
	گاؤں کے بچوں نے جہاں شہزاد اور شہباز کے ساتھ رگبی کا کھیل سیکھا وہیں ان دونوں نے بھی گاؤں والوں سے ان کے کھیل سیکھے۔ گاؤں کے لوگ مرغوں کی لڑائی اور مینڈھوں کی لڑائی کے کھیل کھیلتے تھے۔ ایک مرغا دوسرے کے مرغے سے لڑتا اور اسے زخمی کر کے بھگا دیتا۔ اس طرح پہلا خوشی سے باؤلا ہو جاتا۔ ایک کا مینڈھا دوسرے کے مینڈھے کو زخمی کر کے بے ہوش کر دیتا اور پہلا خوشی سے جھوم اُٹھتا۔ یہ عجیب کھیل تھا جس میں لڑتا کوئی اور تھا اور جیت کسی اور کی ہوتی تھی۔زخمی کوئی اور کرتا تھا اور جشن کوئی اور مناتا تھا۔ شہزاد اور شہباز کی جیسے جیسے اس کھیل میں دلچسپی بڑھی وہ رگبی بھول گئے۔ انہوں نے مرغا اور مینڈھے پالنے شروع کر دیئے وہ انہیں ایک دوسرے سے لڑاتے اور جشن فتح مناتے۔ جب کوئی مرغا زخمی ہو کر لڑنے کے قابل نہیں رہتا اسے طشتری کی زینت بنا دیا جاتا۔ جب بھی کوئی مینڈھا شکست فاش سے دوچار ہوتا اسے ذبح کر دیا جاتا اور نیا مینڈھا میدان میں لایا جاتا۔ مینڈھوں اور مرغوں کی دعوتیں اُڑاتے ہوئے یہ دونوں دوست جوان اور ان کے والدین بوڑھے ہو گئے۔
	حسب معمول ایک دن مینڈھوں کی لڑائی ہونی تھی۔ دونوں کے مینڈھے خوب فربہ اور طاقتور تھے۔ دونوں کو اپنی اپنی فتح کا یقین کامل تھا۔ اس روز لڑائی کافی دیر چلی۔ جب شہزاد کا مینڈھا شہباز کے مینڈھے کو کھدیڑتا ہوا پیچھے دھکیلتا جاتا اور اس کے ساتھی خوشی سے چلاّنے لگتے اور سیٹیاں بجانے لگتے لیکن پھر چند لمحات میں منظر بدل جاتا تھا۔ اس بار شہباز کا مینڈھا بازی اُلٹ دیتا اور اس کے کیمپ میں خوشی کے نقارے بجنے لگتے تھے۔ لڑائی چلتی رہی یہاں تک کہ دونوں مینڈھے لہولہان ہو گئے لیکن کوئی بھی میدان چھوڑنے کا نام نہ لیتا تھا۔ ایسا لگتا تھا کہ دونوں جانوروں کے اندر انسانوں کی روحیں سما گئی ہیں جو کسی قیمت پر ایک دوسرے سے زیر ہونے کے لیے تیار نہیں۔ بالآخر ایسا ہوا کہ اُن دونوں جانوروں نے آر پار کی ٹکر کا فیصلہ کیا۔ دونوں ایک دوسرے کی جانب نہیں بلکہ ایک دوسرے سے مخالف سمت میں الٹے قدموں سے بڑھنے لگے وہ دونوں ایک دوسرے کو پیٹھ دکھانا نہیں چاہتے تھے اس لیے کہ میدان میں پیٹھ دکھانا شکست کی علامت ہوتا ہے اور ایسا کرنے سے ہلاکت کے امکانات میں اضافہ بھی ہو جاتا ہے اس لیے وہ الٹے قدم پیچھے ہٹتے رہے دونوں کی نظریں ایک دوسرے پر لگی ہوئی تھیں۔ ایک خاص فاصلہ کے بعد دونوں چند لمحات کے لیے ٹھہر گئے۔ ناظرین کی سانسیں ٹھہر گئیں اور پھر دونوں نہایت تیز رفتار سے ایک دوسرے کی جانب دوڑے ایک زوردار دھماکہ ہوا دونوں شدید زخمی ہو گئے۔ اٹھنے کی بہتری کوششوں کے باوجود ایک بھی اٹھ نہ سکا۔ وہ دونوں جانور زمین پر پڑے زخم سے کراہ رہے تھے اور ایڑیاں رگڑ رہے تھے لیکن ان کے مالکین اپنے جانوروں سے بے پرواہ ایک دوسرے پر فتح کا دعویٰ کر رہے تھے اور مخالف کی شکست کا اعلان کر رہے تھے۔ 
	اس جانوروں کی لڑائی میں نہ تو کسی کی جیت ہوئی اور نہ کسی کی ہار لیکن مالکین کے درمیان لڑائی کا آغاز ہو گیا۔ سخت کلامی ہا تھا پائی میں تبدیل ہو گئی۔ دونوں کے حامی ایک دوسرے سے گتھم گتھا ہو گئے۔ شہزاد اور شہباز ایک دوسرے سے دست گریباں تھے۔ ان کی لڑائی بھی کسی نتیجہ پر نہیں پہنچی نہ کوئی جیتا نہ کوئی ہارا لیکن نتیجہ کے طور پر مینڈھوں کے ساتھ بچپن کی دوستی نے دم توڑ دیا تھا۔ محبت کی جگہ نفرت نے لے لی۔ مسابقت مخاصمت میں تبدیل ہو گئی۔ اس شام کوئی جانور ذبح نہ ہوا کوئی دعوت نہیں ہوئی بلکہ عداوت ہو گئی۔
	شہباز اور شہزاد ایک دوسرے کے ہم سایہ ضرور تھے لیکن ہم نوا نہیں تھے۔ ان دونوں کی ہم سائیگی دراصل ایک مجبوری تھی۔ اس لڑائی کے بعد کھیتوں کے درمیان باڑ نمایاں ہو گئی۔ گھروں کی دیوار اونچی ہو گئی۔ محکوموں کا بٹوارہ مکمل ہو گیا۔ ایک حامی کا دوسرے کے ساتھ جانا غداری سمجھا جانے لگا۔ رفتہ رفتہ یہ دشمنی حملوں میں بدل گئی۔ یہ دونوں اپنے اپنے گروہوں کی مدد سے ایک دوسرے کے مویشی ہانک لے جاتے۔ کھیتوں کو جلا دیتے۔ ایک دوسرے کو طرح طرح سے نقصان پہنچاتے۔ اس لوٹ مار میں کبھی اس کے آدمی مارے جاتے کبھی اس کے آدمی مارے جاتے۔ ہر کوئی اپنے آدمیوں کی موت کا بدلہ دوسرے کے آدمیوں سے لیتا اس طرح دونوں ایک دوسرے کے حامیوں کو ہلاک کر کے اپنی سرخروئی کو ثابت کرتے۔ 
	یہ سلسلہ جاری تھا کہ ایک دن اچانک ان کے علاقے میں بہت ساری گاڑیاں نمودار ہو گئیں۔ اس علاقے میں کبھی بھی اس طرح کی چیزیں نہ آئی تھیں۔ ان نو واردوں کی آمد نے شہباز اور شہزاد دونوں کو چوکنا کر دیا۔ ان لوگوں نے اپنے آدمیوں سے آنے والوں کے مقاصد کا پتہ لگایا اور انہیں پتہ چلا ان لوگوں کا اندازہ یہ ہے کہ اس علاقے میں معدنیات کی کانیں ہیں اور یہ لوگ اس تحقیق کو حتمی نتیجہ پر پہنچانا چاہتے ہیں۔ ان کو یہ بھی پتہ چلا کہ آنے والوں کے پاس اچھا خاصہ حفاظتی انتظام ہے۔ دستہ اور اسلحہ دونوں سے لیس ہو کر یہ لوگ اس علاقے میں داخل ہوئے ہیں اور ان کو ڈرا دھمکا کر بھگا دینا آسان کام نہیں ہے۔
	اس نئی صورت حال نے شہزاد اور شہباز کو یکساں طور پر فکر مند کر دیا۔ بیرونی خطرہ اندرونی دشمنی پر غالب آ گیا۔ کئی سال بعد دونوں دوستوں کی ملاقات ہوئی۔ دونوں نے طے کیا کہ وہ آنے والوں کے سربراہ سے گفتگو کریں گے۔ تحقیقاتی ٹیم کے ذمہ داران بھی اس کے منتظر تھے۔ ملاقات کا وقت طے ہو گیا۔ باہمی تعارف کے بعد گفتگو کا آغاز ہوا۔ 
	نو واردوں نے ان دونوں کو مبارکباد دی کہ ان کے علاقے کی زمین معدنیات کے خزانوں سے بھری پڑی ہے اور حکومت اس کا استعمال کرنے کے لیے یہاں کارخانے قائم کروائے گی۔ کارخانہ اس علاقے کے لیے نئی چیز تھی۔ 
	شہباز نے پوچھا۔ چونکہ یہ خزانے ہمارے کھیتوں کے تلے دبے ہوئے ہیں اس لیے اس کے مالک تو ہم ہی ہوئے۔ 
	جواب ملا نہیں جو کچھ زمین کے نیچے ہے اس کی مالک حکومت ہے۔ 
	شہزاد کو اس پر تعجب ہوا۔ اس نے پوچھا کیوں ؟ اگر کھیتوں کے اوپر کی فصل ہماری ہے تو نیچے کے معدنیات بھی ہمارے ہونے چاہئیں ؟ 
	سرکاری عہدہ داروں نے بتایا۔ نہیں اوپر کی فصل تم نے اُگائی ہے اس لیے تمہاری ہے اندر کے خزانے تم نے نہیں رکھے اس لیے تمہارے نہیں ہیں۔ 
	شہباز کی سمجھ میں یہ دلیل نہیں آئی اس نے کہا۔ اگر ہم نے نہیں رکھے تو سرکار نے بھی نہیں رکھے۔ اس لیے اگر ہماری نہیں ہے تو حکومت کی کیسے ہو گئی؟
	 حکومتی نمائندوں نے بتلایا۔ حقیقت تو یہ ہے کہ یہ زمین بھی حکومت کی ہے۔
	دونوں دوستوں کے لیے یہ نیا انکشاف تھا ان لوگوں نے کہا۔ یہ کیا بات کر رہے ہیں آپ۔؟صدیوں سے یہ زمین ہمارے باپ دادا کی ملکیت ہے اور ہمیں وراثت میں ملی ہے۔
	 یہ بات ذرا کرخت انداز میں کہی گئی اس لیے اس کا جواب بھی سخت انداز میں ملا۔ تمہارے باپ دادا نے یہ زمین خریدی تھی کیا؟ اور خریدی بھی تھی تو جس نے بیچا اس نے نہیں خریدی تھی۔ اس لیے یہ زمین نہ تمہارے باپ دادا کی تھی اور نہ تمہاری ہے۔
	 شہزاد یہ جواب سن کر ٹھنڈا ہو گیا۔ اس نے لجاجت سے کہا۔ لیکن ہمیں اب تک یہ بات بتلائی کیوں نہیں گئی؟ 
	اس لیے نہیں بتلائی گئی کہ اس کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی۔ اب ضرورت محسوس ہوئی تو اسے گوش گذار کر دیا گیا۔
	 شہزاد اور شہباز کو اچانک محسوس ہوا جیسے برسوں سے ان کے لوٹ کے مال کو دن دہاڑے کسی نے لوٹ لیا اور وہ کچھ بھی نہ کرسکے۔ شہباز بولا۔ لیکن جناب ہمارا گذر بسر اور ہمارے بے شمار ملازمین کا گذر بسر ان زمینوں پر کاشتکاری سے ہوتا ہے۔ ہمارے جانور ان چراگاہوں میں پلتے ہیں۔ اگر یہ چیزیں ہم سے چھن جائیں تو ہم بے یارو مددگار ہو جائیں۔ 
	نہیں ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے۔ حکومت کے نمائندے نے کہا ہم اس زمین کے بدلے تم لوگوں کے نقصان کی بھرپائی کریں گے۔ جس سے تم لوگ نئے کھیت اور چراگاہیں خرید سکو۔ 
	شہباز بولا۔ لیکن قیمت کون طے کرے گا؟ 
	حاکموں نے کہا۔ ہم طے کریں گے۔ 
	شہزاد بولا۔ لیکن اگر اس نئی زمین کے نیچے بھی معدنیات نکل آئیں تو؟
	 تمہاری تقدیر ہی اگر خراب ہو تو ہم کیا کر سکتے ہیں ؟ 
	ابھی تو آپ کہہ رہے تھے ہم لوگ خوش قسمت ہیں اور ابھی آپ کہہ رہے ہیں کہ ہم بدقسمت ہیں یہ کیا قصہ ہے؟ 
	بھئی آپ لوگ بہت بھولے ہو باتیں کہنے کی اور ہوتی ہیں اور حقائق اور ہوتے ہیں اور پھر ہم دونوں میں اگر ایک بدقسمت ہے تو دوسرا خوش قسمت بھی تو ہے حکومت اگر خوش قسمت ہے تو عوام کی حکومت ہے اب اگر عوام کی حکومت خوش قسمت ہوئی تو عوام بھی خوش قسمت ہوئی کہ نہیں ؟ 
	شہزاد اور شہباز کی سمجھ میں یہ لچھے دار منطق نہیں آئی ویسے بھی زمینوں کی محرومی نے ان کے دماغ کو ماؤف کر دیا تھا۔ شہباز نے ڈرتے ڈرتے پوچھا۔ ان کارخانوں کا مالک کون ہو گا؟ 
	جواب ملا۔ وہ سرمایہ دار جو اس میں سرمایہ کاری کریں گے۔
	 اور ان کانوں کا مالک کون ہو گا؟ شہزاد نے پوچھا۔
	 ویسے تو سرکار ہو گی لیکن وہ انہیں کرایہ پر دے دے گی۔
	 کیا مطلب؟ ہماری زمین ہم سے چھین کر کسی اور کو دے دی جائے گی۔ 
	جی ہاں کیوں کہ وہ اس کا کرایہ ادا کریں گے۔ 
	لیکن ہماری زمین کا کرایہ کوئی اور لے گا؟ 
	حکومت کے نمائندوں کو غصہ آ گیا۔ جناب شہزاد صاحب یہ بات آپ کو پہلے سمجھائی جا چکی ہے کہ یہ زمین آپ لوگوں کی نہیں سرکار کی تھی اور ہے اس کے باوجود آپ لوگوں کو معاوضہ دیا جا رہا ہے اس کے لیے آپ کو حکومت کا احسان مند ہونا چاہئے نیز یہاں پر کارخانے لگنے سے جو خوشحالی آئے گی اس کا فائدہ آپ کو بھی ہو گا۔ 
	ہمیں ہو گا وہ کیسے؟ ہماری فصلیں ہم سے چھن جائیں گی ہمارا تو نقصان ہو گا اور ہمارے آدمی بھی بے کار ہو جائیں گے؟ نہیں نہیں ایسا نہیں ہو گا۔ 
	تمہارے آدمیوں کو کارخانے میں کام ملے گا۔ 
	اور ہمیں ؟ دونوں نے ایک زبان ہو کر پوچھا۔ 
	اور تمہیں ٹھیکا مل جائے گا۔ 
	کیا مطلب؟ شہزاد نے پوچھا۔ 
	تم لوگ زمیندار سے ٹھیکیدار ہو جاؤ گے یہ لوگ تمہاری زمین جوتنے کے بجائے اس علاقے میں تعمیراتی کام کریں گے اور جس طرح فصلیں اُگاتے تھے جنھیں تم بیچ کر انہیں مزدوری دیتے تھے اسی طرح ٹھیکے کی رقم حاصل کر کے تم انہیں مزدوری دو گے۔ تمہارا کردار وہی رہے گا اور ان کا کام بھی نہیں بدلے گا۔
	تب تو ٹھیک ہے۔ شہزاد بولا۔ لیکن کارخانہ بن جانے کے بعد ہم کیا کریں گے۔ 
	اس کے بعد بھی بہت سارے ٹھیکے ہوں گے جیسے آدمی فراہم کرنے کے ٹھیکے۔ مال لانے لے جانے کے ٹھیکے وغیرہ۔ وہ سب بھی ہم تمہیں کو دیں گے تمہارا اور ہمارا کام چلتا رہے گا۔ 
	دونوں دوستوں کے چہرے کھل گئے۔ انہوں نے کہا صاحب آپ نے تو پہلے ڈرا ہی دیا تھا پہلے کیوں نہیں بتایا۔ 
	سرکاری افسر مسکرائے۔انہوں نے کہا۔ اگر آپ لوگوں کو پہلے ہی یہ بات بتلا دی جاتی تو آپ لوگ خوش نہیں ہوتے اسی لیے پہلے لوگوں کو ڈرانا پڑتا ہے دباؤ بنانا پڑتا ہے اور پھر دھیرے دھیرے اسے ہٹایا جاتا ہے جس سے مخاطب بے وجہ خوش ہو جاتا ہے۔ 
	جیسا کہ ہم دونوں خوش ہوئے ہیں۔ سب ہنسنے لگے۔ 
	بظاہر خیبر میں صنعتی انقلاب کی ابتداء ہو گئی لیکن فرق صرف یہ تھا کہ کل کا سرمایہ دار آج کا ٹھیکیدار تھا اور کل تک ہل چلا کر اناج اُگانے والا مزدور آج مشین چلا کر مصنوعات بنانے لگا تھا۔ بظاہر بہت کچھ بدل گیا تھا لیکن بباطن کچھ بھی نہیں بدلا تھا۔ چند دنوں کے اندر پھر ان دوستوں کے اندر ٹھیکوں کے حصول کے لیے مسابقت شروع ہو گئی۔ وقتی طور سے قائم ہونے والی دوستی میں دراڑ پڑ گئی۔
	کارخانے کی تعمیر میں پانچ سال کا طویل عرصہ لگا اس بیچ سڑک بن گئی، پل بن گئے، بجلی آ گئی، بازار بن گئے اور نہ جانے کیا کیا ہو گیا۔ دور دراز کے علاقوں سے سیکڑوں لوگ یہاں آ کر بس گئے گویا ایک نامعلوم گاؤں اچھا خاصہ شہر بن گیا۔ کارخانے کا افتتاح کرنے کی غرض سے وزیر مملکت تشریف لائے اور انہوں نے اعلان کیا خیبر میں جو صنعتی ترقی کا آغاز ہوا ہے اس کے ثمرات سے عوام کو ہمکنار کرنے کی خاطر یہاں جمہوری ادارے قائم کئے جائیں گے جس میں عوام کے رائے مشورے ان کی فلاح و بہبود کے کام ہوں گے۔ وزیر موصوف کے ان الفاظ نے شہزاد اور شہباز کے کان کھڑے کر دیئے ان کو یہ محسوس ہوا کہ ان کی پشتینی سربراہی کو کئی ان سے چھین رہا ہے وہ عوام جو صدیوں سے ان کی محکومی میں جکڑے ہوئے ہیں کوئی انہیں آزاد کر رہا ہے۔یہ بات تو زمینوں کے چھن جانے سے زیادہ خطرناک تھی۔ شہباز نے اس کا نوٹس لیا اور تقریب کے خاتمہ پر وزیر موصوف کو اپنے گھر کھانے پر بلایا۔ تھوڑی بہت نانا کے بعد وزیر نے دعوت قبول کر لی۔ 
	کھانے کے بعد گفتگو کا سلسلہ دراز ہوا شہباز نے پوچھا۔ جناب والا اس علاقے کو ہمارے باپ دادا نے بسایا وہ یہاں کے بے تاج بادشاہ رہے یہاں کی عوام نے کبھی ان کے آگے زبان نہیں کھولی لیکن آپ تو اس پورے نظام کو درہم برہم کرنے جا رہے ہیں۔ 
	وزیر نے پوچھا۔ آپ سے کس نے کہا۔
	آپ ہی تو کہہ رہے تھے۔ شہزاد بولا عوام کی مرضی سے۔ 
	وزیر ہنسنے لگے۔شہباز صاحب آپ بہت بھولے ہیں۔ ارے بھائی ہم عوام سے ان کی مرضی پوچھیں گے اور وہ آپ ہی کے حق میں رائے دیں گے۔ 
	وہ کیسے؟ شہباز نے پوچھا۔ 
	دراصل ملک میں فی الحال ہماری پارٹی کی حکومت ہے ہم آپ کو اپنا امیدوار بنائیں گے اور انتخابات جیتنے کے تمام گُر سکھلائیں گے۔ فرق صرف یہ ہو گا کہ ابھی تم اپنی مرضی سے سردار ہو اس وقت ان کی مرضی سے ہوؤ گے اور تم اس علاقے کی عوام کے نمائندے بن جاؤ گے۔ 
	وہ تو ٹھیک ہے۔ شہباز نے پوچھا۔ لیکن اگر ان غریبوں میں سے کوئی کھڑا ہو گیا تو؟ 
	وزیر نے بڑے آرام سے کہا وہ ہار جائے گا۔ ہم ان میں انتشار پیدا کریں گے۔ ان کو للچائیں گے، خریدیں گے۔ ان کو آپس میں لڑائیں گے۔ ان کے خلاف پروپیگنڈا کریں گے اس سب کے لیے روپیہ چاہئے وہ تو تمہارے پاس ہے ہی۔ اس لیے انتخاب میں کامیابی تمہاری ہی ہو گی۔ 
	لیکن وہ جو آپ کہہ رہے تھے عوام کے مشورے سے ان کی فلاح و بہبود۔ 
	ارے بھئی شہباز یہ سب کہنے کی باتیں ہوتی ہیں انہیں سنجیدگی سے نہیں لیا جاتا۔ عوام کو بہلانے کے لیے یہ سب کہتے رہنا پڑتا ہے۔ عوام تواسی سے پھولے نہیں سمائیں گے کہ حاکم ان کی مرضی سے منتخب ہوتا ہے اور ان کو اس سے کیا غرض کہ وہ حکومت بھی ان کی مرضی سے کرتا ہے۔ ویسے اس نظام کی خوبی یہ ہے اس میں حاکموں کی کوتاہیوں کے لیے عوام ذمہ دار ٹھہرتے ہیں۔ اس لیے کہ وہ انہیں منتخب کرتے ہیں۔ وزیر محترم کی باتیں سن کر شہباز کو اطمینان ہو گیا۔
	ایک سال بعد واقعی خیبر میں انتخابات کا اعلان ہو گیا وزیر موصوف نے اپنا وعدہ پورا کیا اور شہباز کو اپنی پارٹی کا ٹکٹ دے دیا لیکن حزب اختلاف کب پیچھے رہنے والا تھا اس کے آدمیوں نے پتہ لگایا شہباز کو کون شکست دے سکتا ہے۔ فطری طور پر ان کی نظر انتخاب شہزاد پر پڑی۔ یہ انتخابات چونکہ علاقائی نوعیت کے تھے اس لیے دو قومی جماعتوں کے زیر سرپرستی یہ دونوں آزاد امیدوار کے طور پر انتخاب لڑ رہے تھے ایک کا نشان رگبی کا بال تھا اور دوسرے کا نشان مینڈھا تھا۔ بچپن کا کھیل اور جوانی کی لڑائی پھر سے شروع ہو گئی تھی۔ لوگ زندہ باد مردہ باد کے نعرے لگا رہے تھے۔ کسی اور کو جتانے یا ہرانے کی خاطر ایک دوسرے سے دست و گریباں تھے۔لڑنا کسی اور کو تھا اور جیتنا کسی اور کو۔ مرنا کسی اور کو تھا اور ہارنا کسی اور کو۔ وہی پرانا کھیل ایک نئے انداز میں پھر کھیلا جا رہا تھا۔
٭٭٭








دور بین


	بحر ظلمات کے ساحل پر واقع وادی نور میں ایک نہایت ہی خلیق اور جری قوم آباد تھی۔ چونکہ بظاہر یہ متضاد صفات کسی ایک گروہ میں نہیں پائی جاتیں اس لیے یہ لوگ ’’دن کے شہسوار اور راتوں میں عبادت گذار‘‘ کے نام سے جانے جاتے تھے لیکن یہ ماضی بعید کی داستانِ پارینہ ہے۔ گردش لیل و نہار نے آہستہ آہستہ راتوں کو عیش و طرب کا شکار اور دن کو خوابوں کی نذر کر دیا تھا۔ جدید تکنیک نے ناچ اور رنگ کا سامان ہر گھر میں فراہم کر دیا ہے اب یہ لوگ رقص و نغمہ کی محفلوں میں جانے کے بجائے اپنے گھر ہی میں اہل و عیال کے ساتھ لہو و لعب میں غرق رہتے۔ ویسے اس دور تنزل میں بھی مشرق میں واقع کوہ نور کے عقب سے نمودار ہونے والے سورج کا استقبال اذان کے ساتھ کیا جاتا۔ لیکن نماز سے فارغ ہونے کے بعد زمین میں پھیلنے کے بجائے انہیں بستروں کا رخ کرنا پڑتا۔ یہ دراصل بے جا شب بیداری کا کفارہ تھا جس نے انہیں آہ و سحر گاہی سے محروم کر دیا تھا۔ دن کا بیشتر حصہ آرام میں صرف کرنے کے بعد جب شام میں یہ تر و تازہ ہوتے تو سورج کو بحر ظلمات میں غروب ہوتا ہوا پاتے۔ مغرب کا بحر ظلمات سورج کو نگل کر شیطان مردود کو اپنی رعنائیوں کے ساتھ اُگل دیتا جو اس قوم کو اپنی آغوش میں لیے کر دنیا کی رنگینیوں میں مست کر دیتا تھا۔ یہ قوم اپنی بہترین صلاحیتوں اور عظیم قدرتی وسائل کے باوجود ذلت و مسکنت کے گھٹا ٹوپ اندھیرے میں ڈوبی ہوئی تھی۔ دنیا میں وقوع پذیر ہونے والے اندوہناک واقعات ان کے لیے وقتی بیداری تو پیدا کرتے لیکن اس کے اثرات جلد ہی زائل ہو جاتے اور پھر ایک بار یہ لوگ اپنے معمولات میں لگ جاتے۔
	روز و شب کے سلسلے میں ایک صبح اچانک اذان اک نئے انداز میں اُبھری۔ وہ لوگ جن کے کانوں پر یہ آواز گراں گذرتی تھی انہوں نے بھی اس کے سوز کو محسوس کیا۔ وہ جو کسلمندی کے ساتھ آتے تھے آج کشاں کشاں چلے آ رہے تھے۔سعید روحوں کو لگا یہ ان کے اپنے دل کی آواز ہے وہ اس میں اپنے قلب و روح کی تسکین کا سامان پار ہے تھے۔ امام مسجد اذان دینے والے مجتہد کے لیے مصلیٰ خالی کر دیا اور اب لوگ اس کی تلاوت سن رہے تھے۔ اس کے دل کا سوز و گداز مصلیان مسجد کے دلوں کو مسخر کر رہا تھا۔ ہر آیت اپنے معنیٰ و مفہوم کے ساتھ ان کے سامنے کھڑی تھی۔ نماز سے فراغت کے بعد اس نے ذلت و رسوائی سے نجات اور غلبہ و کامرانی کے حصول کی دعا کی۔ بڑے عرصہ کے بعد کی جانے والی یہ دعا گویا لوگوں کے دلوں کی دھڑکن بن گئی۔ ایک نئی فکر ایک نئی بیداری نے ان میں سے اکثر کو منبر کے قریب کر دیا۔ ان کی آنکھوں میں سوال تھا ’’نمازیں بے اثر کیوں ہیں ؟ دعائیں بے اثر کیوں ہیں ؟‘‘
	مجتہد کے خطاب نے پھر ایک بار قوم کے اندر احساس زیاں پیدا کر دیا تھا۔ وہ اپنی پستی کی وجوہات پر غور کرنے لگے۔ نصف النہار سے قبل خطبہ جمعہ سننے کے لیے جب وہ مسجد میں جمع ہو گئے تو وہی جانی پہچانی آواز ان سے مخاطب تھی۔ وہ ان کی آنکھوں سے ایک ایک کر کے ان دبیز پردوں کو اٹھاتی جاتی تھی جن کے پیچھے سے ان کے خلاف ریشہ دوانیاں ہوتیں۔ اس نے بھیڑیوں کے ان کریہہ چہروں کو بے نقاب کر دیا جو بھیڑ بنے ہوئے تھے۔ احسان مندی کے نام پر پیٹھ میں چھرا گھونپنے والوں کی معرفت انہیں حاصل ہو گئی اور پھر یہ بھی پتہ چلا کہ کوہ نور اور بحر ظلمات کے پرے بھی ایک بڑی دنیا آباد ہے۔ اُس دنیا کے لوگ ان سے اس طرح بے تعلق نہیں ہیں جیسے کہ یہ ہیں۔ ان لوگوں کو اپنا غلام بنائے رکھنے کی کوششوں میں وہ برابر مصروف عمل ہیں۔ اس قوم کی غفلت و بے عملی نے اُن کے کام کو نہایت آسان کر دیا۔ کوہ نور کی دوسری جانب اپنے کھوئے ہوئے موروثی قلعہ کو انہوں نے مجتہد کی دوربین سے دیکھا اور اسے دوبارہ حاصل کر کے پھر ایک بار عزت و کامرانی حاصل کرنے کا عزم کیا۔ دور کے ڈھول انہیں سہانے لگتے تھے اور جن کی تھاپ پر تھرکنا وہ اپنے لیے باعث سعادت سمجھتے تھے اچانک ظلم و طغیان کے شور و شغف میں تبدیل ہو گئے۔ ان لوگوں نے اجتماعی طور پر کٹھ پتلی کے اس کھیل کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا۔ ڈور کسی اور کی انگلیوں کے اشارے سے ہلتی تھی اور رقص یہ کرتے تھے۔
	اک روز مجتہد اور اس کے ساتھی دشمن کی ریشہ دوانیاں دوربین سے دیکھ رہے تھے کہ ایک نے سوال کیا۔
	’’کیا صرف طاغوت کی چالوں سے واقفیت ہمیں اس کے خونیں پنجہ سے آزاد کرا دے گی؟‘‘
	جواب تھا۔’’نہیں۔ یہ تو صرف ہماری غفلت کو دور کرنے کا نسخہ ہے۔‘‘
	’’لیکن غفلت کے بیداری میں بدل جانے کے بعد ہمیں کیا کرنا ہو گا؟‘‘ ایک نے سوال کیا
	دوسرے کا جواب تھا۔’’وہ راستہ ہموار کرنا ہو گا جس پر گامزن ہو کر ہم منزلِ مقصود تک پہنچیں گے۔‘‘
	’’ لیکن وہ راستہ ہم انفرادی طور پر کیسے بنا سکتے ہیں ؟ اگر کسی نے اکیلے بنا بھی لیا تو اس پر آنے والی مشکلات کا مقابلہ تنہا تنہا کیسے کیا جا سکتا ہے؟ اور پھر کیا منظم دشمن اجتماعیت کے بغیر زیر بھی ہو سکتا ہے؟‘‘
	ان تمام سوالات کے منفی جوابات کا مثبت حل تنظیم کا قیام تھا سو وہ بھی قائم ہو گئی۔اس لیے کہ مقصد زندگی کے حصول کی خاطر یہ ایک ناگزیر ضرورت تھی۔ تنظیم کے قیام نے تمام افراد کے اندر جدوجہد کی یکساں روح بیدار کر دی تھی۔ منزل کی جانب رخت سفر باندھتے ہی کش مکش اور قربانیوں کے عظیم سلسلے کا آغاز ہو گیا لیکن عز م و حوصلہ سے معمور عشق بلا خیز کا یہ قافلہ سخت جاں غلبہ دین کی منزل کی جانب رواں دواں ہو گیا۔طاغوت بھی چوکنا تھا۔ اس کے علمبرداروں نے اس زبردست بیداری کو محسوس کیا۔انہیں پتہ چل گیا کہ یہ روشنی وادی نور تک محدود رہنے والی نہیں ہے بلکہ سارے عالم کو منور کر دے گا۔ اگر اپنی کھوئی ہوئی میراث ان لوگوں نے حاصل کر لی تو ظلم استحصال کی چکی ہی رک جائے گی اور ہمارے لیے انسانوں کے خون سے اپنی تشنگی کو سیراب کرنا ناممکن ہو جائے گا۔ عدل و انصاف کے موجزن سیلاب پر باندھ باندھنے کی غرض سے انہوں نے ایک نئی چال چلی۔ ان لوگوں نے فسطائیت کے دیو استبداد کو اپنے کریہہ ترین ہیئت کے ساتھ بے نقاب کر دیا۔ ظلم و جور کی زبردست آندھی نے پوری بستی کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ ابھی لوگ اس نئے طوفان سے بچنے کے لیے صف بندی کر ہی رہے تھے کہ دیو استبداد کا ڈبل رول آزادی کی نیلم پری بن کر جمہوری قبا اوڑھے مخالف سمت سے نمودار ہو گیا۔ وہ لوگ جو اپنی کھوئی منزل مقصود پر نظریں جمائے ہوئے تھے اچانک اس نیلم پری کی جانب متوجہ ہوئے۔ ایک طرف فسطائیت کے شعلہ اور دوسری جانب جمہوریت کی شبنم۔ فسطائیت کے شعلہ ان کے اور ان کی منزل کے درمیان دیوار بنے ہوئے تھے اور مخالف سمت میں جمہوریت کی نیلم پری انہیں اپنی دل نشیں مسکراہٹ سے سحر زدہ کیے دیتی تھی۔ شعلوں کی تپش دن بدن انہیں اپنی منزل سے دور دھکیلنے لگی۔شبنم کی ٹھنڈک بھی دن بدن انہیں اپنی منزل سے دور ہی لیے جاتی تھی۔ یہ سلسلہ دراز ہوتا گیا جب فاصلے خوب بڑھ گئے اور منزل آنکھوں سے اوجھل ہو گئی تو جمہوریت کا طوق انہیں اپنے گلے کا ہار لگنے لگا۔ وہ اس شکنجہ سے نکلنے کے بجائے اس کی حفاظت میں عافیت محسوس کرنے لگے۔ ایسے میں اگر کوئی ا س نیلم پری کے سحر کو توڑنے کی کوشش کرتا تو اس کی بات ان لوگوں کو بری لگتی رفتہ رفتہ منزل مقصود کی حیثیت اس نیلم پری کے سوتن کی سی ہو گئی۔ 
	جب یہ منزل کی بات کرتے وہ فسطائیت کے دیو کا ڈر دکھلاتی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ آہستہ آہستہ منزل کی جگہ تنظیم نے لے لی۔ لوگوں کو مقصود کے بجائے ذریعہ کے جانب بلایا جانے لگا۔ نیلم پری اس نئے طریقہ کار سے خوش تھی اس لیے کہ تنظیم بہرحال اس کی حفاظت پر مامور تھی۔ اسی کے گن گاتی تھی۔ ایک رشتہ جو کبھی وقتی ضرورت کی خاطر قائم کیا گیا تھا اب مستقل حیثیت اختیار کرتا جا رہا تھا۔ اب اس کے جائز و ناجائز ہونے پر سوال اٹھنے بھی بند ہو گئے تھے۔ جیسے جیسے لوگ اس مغربی جمہوریت کی غلامی میں گرفتار ہوتے گئے آزادی کی اس نیلم پری نے اپنے جلوے دکھانے شروع کیے ابتداء بے اعتنائی سے ہوئی لیکن انتہا استحصال پر ہوئی اب اس نیلم پری کی کشش بھی ختم ہو چکی تھی اور اس کی حفاظت کے لیے تنظیم کی قوت بڑھانا کار دارد لگنے لگا۔ جس کی دو وجوہات تھیں ایک تو وہ اس ضرورت سے بے نیاز ہو چکی اور دوسرے ان لوگوں کے نزدیک بھی اس کی کوئی افادیت نہیں تھی اس لیے تنظیم کی توسیع کا عمل بھی رک گیا۔ لیکن جو لوگ جمع ہو گئے تھے ان کے لیے فارغ اوقات میں اپنے آپ کو مصروف رکھنا ایک مسئلہ ہو گیا۔ اس کا حل بھی نکال لیا گیا۔ کچھ لوگ اپنی پرانی دوربین کی جانب متوجہ ہوئے لیکن اب وہ اس سے اپنی کھوئی میراث کو نہ دیکھتے اس لیے کہ ایسا کرنے پر انہیں ایک فسطائیت کا جن درمیان میں کھڑا دکھلائی دیتا اور دوسرے جمہوریت کی نیلم پری کی ناراضگی بھی مول لینی پڑتی اس لیے وہ اس کی بناوٹ اور سجاوٹ پر اپنی توانائیاں صرف کرنے لگے۔ جن لوگوں کو اس کا ذوق و شوق نہ تھا وہ اپنے مجتہد کی تعریف و توصیف میں جٹ گئے۔ اٹھتے بیٹھتے اس کا بکھان کیا جاتا اسے عظیم سے عظیم تر ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی اس پر کتابوں کے لکھے جانے کا سلسلہ شروع ہو گیا رسالوں کے خصوصی شمارے نکالے جانے لگے۔ اس پر بھی دل نہ مانا تو اس کی یادگار قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا اس کی جائے پیدائش کو خریدا گیا وہاں بڑے تزک و احتشام سے اس کی نمائش اور لائبریری قائم کی گئی۔ یوم پیدائش کے دن شاندار سیمنار منعقد کیا گیا۔ دور دور سے مہمانوں کو بلایا گیا اور ہر سال اس سلسلے کو جاری رکھنے کا عزم کیا گیا۔ اس کے بعد ہر سال ان دنوں میں دور دور سے اس کے معتقد وہاں جمع ہوتے۔ کم ہی لوگ سیمنار میں جاتے زیادہ تر ایک دوسرے سے ملتے جلتے۔ دُکانیں لگنے لگی تھیں میلے کا سا ماحول ہوتا تھا۔ ہر کوئی اپنے اپنے انداز میں خراج عقیدت پیش کرتا اور خوش ہوتا تھا۔ کتابیں خوب چھپتیں اور بکتی تھیں لیکن انہیں پڑھنے اور سمجھنے کا رواج کم ہو چلا تھا۔ کیسٹ بھی بنائی جاتیں لیکن اسے لوگ سنتے کم اور بانٹتے زیادہ تھے۔ سی ڈی بھی بننے لگی تھیں لیکن انہیں دیکھنے کی فرصت اور توفیق کم ہی لوگوں کو ہوتی تھی۔
	دوربین کو مرکز کے قریب نصب کر نے کی خاطر ماہر انجینئرس کا تعاون حاصل کیا گیا تھا۔ چبوترے کے کئی نقشہ بنائے گئے اور مسترد کیے گئے۔ بالآخر ایک کی توثیق ہوئی بڑے خوبصورت نقش و نگار والے اس چبوترے پر بڑے شان سے دوربین نصب کر دی گئی تھی ایک ملازم کا کام دوربین کی دیکھ بھال اور صاف صفائی تھی۔ آنے والے مہمانوں کو لائبریری دکھلائی جاتی۔ کیسٹ اور سی ڈی تحفہ میں دی جاتی اور دوربین کا معائنہ بھی کروایا جاتا۔ ہر کوئی چبوترے کو دوربین کی بناوٹ کو دیکھ کر عش عش کر اٹھتا۔ صفائی کرنے والا ملازم ہر روز بلا ناغہ کئی گھنٹہ اسے سجانے سنوارنے پر صرف کرتا۔ 
	ایک دن اس کے دل میں آیا کہ اگر یہ دوربین ہے تو کیوں نہ اس کے اندر جھانک کر دیکھا جائے۔ پہلے تو اسے ڈر لگا اس لیے کہ جب سے اسے ملازم رکھا گیا تھا اس نے کسی کو ایسا کرتے نہ دیکھا تھا۔ پھر بھی اس نے ہمت کی۔ آس پاس نظر دوڑائی سوچا اس کے اندر جھانکنے سے یہ ٹوٹ تھوڑے ہی جائے گی اور پھر اپنی آنکھیں دوربین کے اندر جھانکنے والے شیشے پر لگا دیں۔ جب اس نے ایسا کیا تو اس کی حیرت کی انتہا نہ رہی اس لیے کہ اندر تو اندھیرا تھا گہرا اندھیرا۔ وہ دیر تک ٹکٹکی باندھے دیکھتا رہا۔ جب اسے یقین ہو گیا کہ اس کی آنکھیں اسے دھوکا نہیں دے رہی ہیں تو اس نے اپنی نظریں ہٹائیں۔ اچانک یہ بے جان دوربین اس کی نظروں سے گر گئی۔ اسے اپنے آپ پر غصہ آنے لگا کہ کس چیز کو چمکانے پر اپنی توانائیاں صرف کر رہا ہے۔ یہ سوچ کر وہ واپس آیا اور اس نے کہا 
	’’صاحب میں اپنا کام چھوڑ کر جا رہا ہوں۔ ‘‘
	اس کے ذمہ دار نے پوچھا۔’’کیوں ؟ تنخواہ بڑھوانی ہے تو ایسا کہہ بڑھا دیں گے۔‘‘
	اس نے کہا۔’’نہیں مجھے تنخواہ نہیں چاہئے مجھے یہ محمل کام نہیں کرنا ہے۔‘‘
	’’آخر کیا تکلیف ہے تجھے۔ برسوں سے تو اس کام کو کر رہا ہے آج اچانک تجھے کیا ہو گیا۔‘‘
	’’کچھ نہیں صاحب آج میں نے دوربین میں جھانک کر دیکھا بس۔‘‘
	’’اندر جھانک کر دیکھا۔ تجھے کس نے کہا کس نے تجھے اس کی اجازت دی؟‘‘
	’’صاحب مجھے نہ کسی نے کہا نہ اجازت دی۔ میں نے اپنے من سے یہ کیا اور جب میں نے اندر جھانکا تو صرف اندھیرا ہی اندھیرا دکھائی دیا۔ اس کے بعد میں نے فیصلہ کر لیا۔ میں اب اس کام کو نہیں کروں گا۔ میں جا رہا ہوں۔ ‘‘
	’’اچھا جاتا ہے تو جا لیکن اپنا حساب کتاب تو لیتا جا۔‘‘
	’’نہیں مجھے کچھ نہیں چاہئے میں جا رہا ہوں میں جا رہا ہوں۔ ‘‘
	جب یہ بات اعلیٰ ذمہ داروں تک پہنچی تو ان لوگوں کو یقین نہ آیا۔ بوڑھا آدمی تھا نظر کمزور ہو گئی ہے اس لیے کچھ دکھائی نہ دیا۔ دماغ خراب ہو گیا اس لیے ملازمت چھوڑ کر چلا گیا۔ لیکن پھر بھی دیکھ لیا جائے اس میں کیا حرج ہے۔ تین چار لوگ دوربین کے قریب آئے اس کی صفائی اور ستھرائی ملازم کے محنت کی شہادت دے رہی تھی سب نے باری باری جھانک کر دیکھا اور سب کے چہرے پر ہوائیاں اُڑ رہی تھیں۔ واقعی اندر اندھیرا تھا۔ یہ کیا ہو گیا پہلے تو ایسا نہیں تھا۔ پہلے کبھی۔ لوگ اپنے دماغ پر زور دینے لگے کب انہوں نے اس کے اندر جھانک کر دیکھا۔ برسوں پرانی بات تھی کسی کو صحیح اندازہ نہیں ہو رہا تھا لیکن سب اس بات پر متفق تھے کہ پہلے ایسا نہیں تھا۔ سب لوگ واپس آ کر بیٹھ گئے نہایت اداس اور مایوس۔ دوربین کے اندھا ہو جانے کاسبھی کو افسوس تھا لیکن جس دوربین میں برسوں سے جھانکا نہ گیا تھا اور آگے بھی ایسا ارادہ نہ ہو اس کے اندھیرے اور اجالے سے کوئی فرق تو پڑنے والا نہ تھا لیکن ان میں ایک کے ذہن میں اچانک نیا خیال آیا۔ کتابوں کی الماری بھی برسوں سے بند تھی۔ اس کی باہر سے صاف صفائی تو کی جاتی تھی لیکن کتابوں کو برسوں سے کھول کر دیکھا نہ گیا  تھا وہ دوڑا دوڑا کتب خانہ میں گیا الماری کو کھول کر کتاب نکالی تو وہ بھی صاف۔ اس کے تمام کاغذ بالکل کورے تھے۔ ان میں ایک حرف بھی لکھا ہوا نہیں تھا ایسے جیسے ان پر کبھی کچھ لکھا ہی نہ گیا ہو۔ ہائے اﷲ یہ کیا ہوا؟ یہ کب ہوا؟ یہ کیسے ہو گیا؟ یہ اور اس طرح کے سوالات کا جواب کسی کے پاس نہیں تھا۔ سب لوگ چوکنا ہو چکے تھے۔ان میں کچھ لوگ کیسٹ کی الماری کے پاس گئے۔ کچھ نے سی ڈی نکالی ان کا بھی یہی حال تھا۔ کیسٹ آواز سے خالی اور سی ڈی تصویروں سے بے بہرہ۔ یہ کیا ہو گیا؟ باہر سے سب کچھ ٹھیک ٹھاک اور اندر سے سب کام تمام۔ انہیں لگا کہ سارا سرمایہ لٹ گیا لیکن جس سرمائے کا استعمال بند ہو جائے اس کا رہنا اور لٹنا یکساں ہی تھا۔خیر مجلس عاملہ کی نشست بلائی گئی اور سب کے سامنے اس مسئلہ کو رکھا گیا۔ لوگوں نے پہلے ذمہ داروں پر کوتاہی کا الزام لگایا ذمہ داروں نے دشمنوں کو موردِ الزام ٹھہرایا۔ ذمہ داروں کی بات لوگوں نے مان لی۔ اکثریت سے فیصلہ ہوا جو کچھ رہ گیا ہے اس کی حفاظت کے لیے جدید ترین آلات کو نصب کیا جائے۔ افراد کی تعداد بڑھا دی گئی۔
	 لیکن اس تشخیص اور حل سے ایک ننھا گروہ متفق نہ تھا۔ اس کا کہنا یہ تھا جب اندر کچھ نہیں ہے۔ خالی خولی خول کی حفاظت سے کیا حاصل اور پھر اس کی دلیل یہ بھی تھی کہ ہم اس قدر بے ضرر ہو چکے ہیں کہ ہمارے دشمنوں کو ہم سے کوئی خطرہ ہی نہ رہا۔ ایسے میں وہ ہمارے خلاف سازش کرنے کی حماقت کیوں کرے گا اور ہم پر اپنی توانائیاں کیوں صرف کرے گا؟ وہ کہہ رہے تھے اس مسئلہ کی وجہ کچھ اور ہے اور ہمیں اس کا پتہ لگانا چاہئے لیکن پتہ کیسے لگایا جائے؟ایک مشورہ سامنے آیا۔ ہماری گاڑی سے ایک شخص درمیان میں اتر گیا تھا اور کسی ویرانے کی نذر ہو گیا تھا کیوں نہ اس کا پتہ لگا کر اس سے پوچھا جائے۔ اس لیے کہ وہ اس طرح کے اندیشوں کا اظہار کیا کرتا تھا۔ یہ ننھا سا گروہ اس بزرگ کی تلاش میں نکل پڑا۔ کافی تگ و دو کے بعد ایک ویران سنسان کٹیا میں اس گمنام سے ملاقات ہو گئی۔ ان لوگوں نے اس کے سامنے صورت حال کو رکھا تو وہ مسکرائے۔ 
	’’یہ تو ہونا ہی تھا جب کوئی چیز اپنا مصرف کھو دیتی ہے تو اس کو ختم کر دیا جاتا ہے۔ یہ قدرت کا اصول ہے۔ ان چیزوں کا جو استعمال ہو رہا ہے وہ استعمال کے لائق موجود ہیں لیکن جس کا استعمال بند ہو گیا وہ مٹا دی گئیں۔ ‘‘
	جواب معقول تھا۔ ’’لیکن یہ ہوا کیسے؟‘‘
	’’یہ تو ایک گھُن ہے یا وائرس۔ سمجھ لو جس کا نام جامد تقلید ہے۔ یہ وائرس ظاہر پرستوں کو لگتا ہے۔ یہ ان کے ظاہر کو بالکل بھی متاثر نہیں کرتا۔ ہاں باطن کو بالکل صفا چٹ کر دیتا ہے۔‘‘
	پوچھنے والے بالکل قائل ہو چکے تھے۔ انہوں نے پوچھا۔’’لیکن اس کا حل کیا ہے؟‘‘
	’’اس کا اینٹی وائرس نہیں ہے۔‘‘
	’’کیوں نہیں۔ ‘‘
	’’اس کا اینٹی وائرس وہی اجتہاد ہے جس کی جانب مجتہد نے ہماری توجہ مبذول کروائی تھی لیکن ہم نے اجتہاد کو چھوڑ کر مجتہد کو پکڑ لیا۔ جس کے نتیجہ میں یہ سب ہو گیا۔‘‘
	’’ٹھیک ہے ہم اجتہاد کریں گے جو علم اٹھ گیا ہے ہم اسے واپس لائیں گے الفاظ و مفہوم بخشیں گے۔ دوربین کو روشن کریں گے۔ ‘‘
	 اس عزم مصمم کو دیکھ کر بزرگ کا چہرہ کھل اٹھا انہوں نے کہا۔’’بیٹو! تمہارا یہ ارادہ قابل تحسین ہے میں تمہاری کامیابی کی دعا کرتا ہوں لیکن اس بوڑھے کی ایک نصیحت یاد رکھنا اجتہاد اور بدعت میں ایک نہایت لطیف فرق ہوتا ہے اس نازک سے فرق کو ہمیشہ ملحوظ خاطر رکھنا۔
	جواب ملا۔’’انشاء اﷲ!‘‘
٭٭٭ 



فاقہ مست حریت !


	اک جہان کو سونا کر کے سونامی کی لہریں تھم چکی تھیں۔ حکومت ہند کی جانب سے آسمانی آفات سے نبٹنے کی خاطر بنائے گئے اعلیٰ اختیاری کمیشن کی نشست شروع ہونے جا رہی تھی۔ لاتور میں آنے والے زَلزلے کے بعد اس کمیٹی کے قیام کا اعلان ہوا۔ گجرات کے زلزلوں کے بعد اس کا باقاعدہ قیام عمل میں آیا اور سونامی کے بعد اس کی اولین رسمی نشست کا اہتمام کیا گیا۔ فوجی و غیر فوجی اعلیٰ افسران، سائنسداں اور نامور سیاستدانوں پر مشتمل اس میٹنگ میں پہلے تو افسر آئے سونامی کی سی سرعت کے ساتھ اور پھر سیاست دانوں کی آمد ہوئی بعد میں آنے والی تباہ کاریوں کی طرح۔ 
	سب سے پہلے لوگوں نے مرنے والوں کی موت پر اپنے دکھ کا اظہار کرنے کے لیے دو منٹ کی خاموشی اختیار کی لیکن یہ دراصل ایک بڑے طوفان کا پیش خیمہ تھی۔ چند لمحات کے اندر تمام سیاست دان ایک دوسرے پر اس طرح الزام تراش رہے تھے گویا سونامی کے لیے ان کے مخالف کے علاوہ کوئی اور ذمہ دار نہیں ہے۔ حزب اختلاف کے لوگ حکومت پر الزام لگا رہے تھے کہ سب ان کی نا اہلی اور ناکامی کا بین ثبوت ہے اور حزب اقتدار نے گجرات زلزلوں کی باز آبادکاری میں ہونے والی بدعنوانی کے نام پر حزب اختلاف پر پلٹ کر وار کرنا شروع کر دیا تھا۔ کمرے میں کہرام برپا تھا۔ سونامی کو لوگ بھول گئے تھے ایک سنیئر اعلیٰ افسر نے مداخلت کی۔ یہ اتنی بڑی آفت کے بعد ہم لوگ یہاں جمع ہوئے ہیں لیکن ایسا لگتا ہے آپ لوگوں نے اس سے بھی کوئی عبرت نہیں پکڑی۔ دراصل ہمیں یہ طے کرنا ہے کہ مصیبت زدگان کی مدد کے لیے کیا کرنا چاہئے اور کیسے کرنا چاہئے؟ سیاست دانوں نے جب دیکھا کہ وہ خود طوفانی لہروں کی زد میں آ گئے ہیں تو وہ جھٹ سنبھل گئے اور انہوں نے کہا۔ یہ تو ٹھیک ہے لیکن ہم عوام کے نمائندے ہیں ان کے آگے جوابدہ ہیں۔ وہ ہم سے پوچھتے ہیں کہ آپ لوگوں نے ہمیں اس تباہ کاری سے بچانے کے لیے کیا کیا؟ ہمیں پہلے سے اطلاع کیوں نہیں دی گئی تاکہ ہم اپنا بچاؤ کر سکیں۔ یہ سن کر سرکاری افسر گھبرا گئے۔ انہوں نے کہا۔ بھئی یہ تو ایسے آناً فاناً میں آ گیا کہ خود ہمیں بھی پتہ نہ چلا تو ہم دوسروں کو کیسے اطلاع دیتے۔ اس پر ایک اور سیاست دان بول پڑے۔ آپ جھوٹ کہتے ہیں یا علم نہیں رکھتے۔ دنیا کے ۲۶ ممالک کو اس کی اطلاع مل چکی تھی۔ انہیں کیسے پتہ چل گیا اور ہمارے سائنسداں کیوں سوئے رہے۔ 
	ایک سرکاری سائنس داں نے کہا یہ تو زیادتی ہے کہ صرف ہمیں کو مورد الزام ٹھہرایا جا رہا ہے۔ہم کیا سارا ملک سویا رہا۔
	ایک فوجی افسر کھڑے ہوئے اور انہوں نے کہا۔ یہ بات غلط ہے کہ اطلاع نہیں ملی۔ انڈمان نکوبار میں موجود ہمارے فوجی اڈے کی تباہی کی اطلاع ہم نے خود محکمہ موسمیات کو دی لیکن اس کے باوجود وہ اس کا کوئی استعمال نہ کر سکے۔
	ایک سیاست دان بولے۔ لیکن محکمہ موسمیات کے لوگ تو بڑی ڈینگیں مارتے ہیں وہ تو کہتے ہیں ہمارے پاس اس کام کے لیے سیٹیلائیٹ ہے۔ بڑے با صلاحیت لوگ ہیں تو ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ وہ لوگ فوجی اڈے کو مطلع کرتے لیکن ہوا اس کے برعکس اور اس کے باوجود انہوں نے اس اطلاع کا کوئی فائدہ نہیں اٹھایا۔
	محکمہ موسمیات کے سائنس دان پھر غصہ ہو گئے۔ وہ کہنے لگے۔ دیکھئے ہمارا سٹیلائیٹ بہت پرانا ہو گیا ہے۔ نئے کے لیے گرانٹ مانگے ہوئے دو سال گذر گئے ہیں لیکن اس پر صرف وعدہ ہی ہاتھ آیا۔ وزیر اعظم نے نئی لیباریٹری کا سنگ بنیاد تو رکھ دیا لیکن بجٹ پر دستخط نہیں کیے۔ اب ہم کیا کریں۔ 
	دوسرا سیاست دان بولا۔ اگر پرانی سبھی مشینیں کسی کام کی نہیں ر ہیں تو انہیں پھینکو اور آپ لوگ بھی اپنے گھر جاؤ اور جب بجٹ پاس ہو جائے تو تنخواہ لینے کے لیے آ جانا۔
	اب تو افسران بے حد بگڑ گئے۔ انہوں نے کہا۔ آپ اپنی زبان کو لگام دیں۔ ہماری تنخواہ عوام کے ٹیکس سے آتی ہے کوئی آپ کی جیب سے نہیں آتی اور پھر آپ یہ بھی تو دیکھیں کہ یہ طوفان رات کے آخری پہر میں آیا اور تباہ کاری صبح صبح شروع ہوئی۔ ہمارے افسران کے دفتر آنے تک سب کچھ ہو چکا تھا۔
	یہ بات سن کر ایک بہت زبردست قہقہہ بلند ہوا اور ایک صاحب کہنے لگے۔ ہاں ہاں ایسا کرتے ہیں آج کی نشست میں ایک قرار داد پاس کر کے آسمان والے کو بھیج دیتے ہیں کہ آئندہ آسمانی آفت دفتری اوقات کے درمیان ہی آئے۔ اس کے علاوہ نہ آئے۔
	دوسرے نے کہا۔ ارے یہ لوگ دفتر کے اوقات میں بھی مشکل ہی سے دفتر میں پائے جاتے ہیں۔ ایک تو گھر سے آتے نہیں اور آتے ہیں تو چائے خانہ کی رونق بڑھاتے رہتے ہیں۔ 
	پھر ایک سرکاری ملازم غصہ ہو گیا اس نے کہا۔ آخر آپ لوگوں نے اپنے آپ کو سمجھ کیا رکھا ہے۔ ہمارے ہاتھ میں کوئی اختیارات تو ہیں نہیں کہ ہم اطلاعات کو براہ راست عوام تک پہنچا سکیں۔ ہم نے وزیر سائنس ٹکنالوجی کو اطلاع دی جس کے تحت ہمارا محکمہ آتا ہے۔ اس نے محکمہ مواصلات و اطلاعات سے رابطہ قائم کیا اور اس نے پھر سرکاری ٹیلی ویژن کو بتلایا۔ اب اس سب میں وقت تو لگتا ہی ہے۔
	وہ تو ٹھیک ہے۔ فوجی افسر بولا۔ لیکن آپ نے اطلاع سابق وزیر کو بھجوا دی۔ آپ اتنا بھی نہیں جانتے کہ نئی حکومت آ چکی ہے اور ایک نئے صاحب کو یہ وزارت دے دی گئی ہے۔
	جی ہاں ہم یہ جانتے ہیں۔ سرکاری ملازم نے ڈھٹائی سے کہا۔ لیکن سابق وزیر کم از کم طبیعات کے پروفیسر تھے ان کی سمجھ میں تو تھوڑی بہت بات آتی بھی تھی اب نئے صاحب تو وکیل ہیں ان کے لیے تو یہ سب کالا اکشر بھینس برابر تھا۔
	تو کیا اب آپ تمام اطلاعات سابق وزراء کو ہی دیتے رہیں گے؟
	وزیر سائنس ٹکنالوجی نے کہا۔ نہیں ایسی بات نہیں۔ یہ بات تو برسبیل تذکرہ آ گئی۔ خیر اب جو ہو چکا سو چکا۔ تباہی کی اطلاع حاصل کرنے اور تقسیم کرنے سے زیادہ ہمارے اختیار میں اور ہے ہی کیا؟ اور ایسا کرنے سے تباہ کاری رک تو نہ سکتی تھی؟ 
	فوجی بولا۔ جی ہاں رک تو نہ سکتی تھی لیکن اگر متاثرین کو پتہ چل جاتا تو وہ حفظ ماتقدم کے طور پر اپنے آپ کو بچانے کے لیے کچھ تو کرتے۔
	خیر اب آگے کی سوچیں۔ 
	اس بیچ چپراسی نے آ کر اطلاع دی کہ ناشتہ لگ گیا ہے اور سب لوگ ناشتہ کی جانب بڑھے بات آگے بڑھی اور کھانے پینے میں اس قدر گھل مل گئے گویا ابھی کچھ دیر قبل سونامی کی قہر ناکی آئی ہی نہ تھی۔
	ناشتہ سے لوٹنے کے بعد کمیٹی کے چیرمن نے بتلایا کہ امریکی حکومت کی جانب سے امداد کی پیش کش کی گئی اور وزیر اعظم کا یہ پیغام ہے اس پیش کش پر کہ مثبت و منفی اثرات پر بھی ہمیں غور و فکر کر کے اپنی تجاویز ان تک پہنچانی ہے اور اس کام کو ترجیحی طور پر کرنا ہو گا۔ اس لیے کہ انہیں امریکہ کو جواب دینا ہے۔ 
	اب ایک نئے ایجنڈا کا اضافہ ہو گیا تھا۔ سب لوگ آپس کے اختلافات بھلا کر اس پر سنجیدہ ہو گئے۔ سرکاری افسر نے کہا۔
	اس میں ایسی کون سی نئی بات ہے۔ دنیا بھر کے ممالک سونامی کے مصیبت زدگان کی مدد کے لیے ہاتھ بڑھا رہے ہیں۔ ان میں سے ایک امریکہ بھی ہے۔ ہمیں اس کی مدد کا استقبال کرنا چاہئے۔
	کرنل صاحب نے اعتراض کیا۔ نہیں یہ معاملہ اس قدر آسان نہیں ہے۔ نکوبار میں ہمارا فوجی ٹھکانہ تھا امریکی جاسوس وہاں امداد کے بہانے آئیں گے اور ہمارا سارا راز اور خفیہ نقشہ اپنے ساتھ لے جائیں گے۔ اس لیے امریکہ کی ا س پیش کش کو ٹھکرا دینا چاہئے۔
	کرنل صاحب کی بات پر ایک سیاست دان نے اختلاف کیا اور کہا۔ یہ کوئی نئی بات تو ہے نہیں اس لیے پہلے کئی بار ہم امریکی امداد لے چکے ہیں۔ ایسا اعتراض پہلے تو کبھی نہیں آیا۔
	کرنل صاحب بولے۔ اس وقت کی بات اور تھی حالانکہ ویت نام اور کوریا میں امریکی فوجی برسر جنگ تھے لیکن ان کی لڑائی سوویت یونین اور اس کے حواریوں تک محدود تھی۔ اب عراق اور افغانستان کو جس طرح امریکہ نے اپنی جارحیت کا شکار کیا ہے اس کے بعد امریکی انتظامیہ پر بالکل اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔ ان لوگوں کی نیت ٹھیک نہیں ہے اور ایران و شام کے بارے میں یہ اپنے ناپاک ارادوں کا اظہار بھی کر چکے ہیں۔ ایسے میں کسی بھی قسم کا خطرہ مول لینا دانش مندی کی بات نہیں ہے۔
	اب پھر ایک اور سرکاری بابو اٹھے اور کہنے لگے۔ شاید ہم لوگ کچھ زیادہ ہی اندیشوں کا شکار ہو رہے ہیں دراصل امریکہ نے سونامی جیسے آفات کا پتہ لگانے والے تنصیبات کی پیش کش کی ہے۔ ہم انہیں حاصل کر کے اپنے ساحلی علاقوں پر لگوا سکتے ہیں۔ 
	اس پر اسرو کے سائنس داں اُکھڑ گئے انہوں نے کہا۔ امریکہ کیا سمجھتا ہے ہم یہ نہیں کر سکتے ہم سب نا اہل ہیں۔ نہیں یہ نہیں ہوسکتا۔ اس کام کو کرنے کی صلاحیت ہمارے اندر موجود ہے ہم خود ایسی تنصیبات قائم کر سکتے ہیں اور جیسا کہ کرنل صاحب نے کہا چونکہ امریکی مشینوں پر ان کا اختیار ہو گا وہ اس کے ذریعہ سے ہماری جاسوسی کریں گے۔ یہ بات ملک کی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔
	کمیٹی میں موجود امریکہ نواز حضرات کو ان مشوروں سے کافی الجھن ہو رہی تھی۔ ان میں سے ایک صاحب اٹھے اور انہوں نے امریکہ کی انسان دوستی پر تقریر کرنے کے بعد کہا کہ اگر کوئی انسانی ہمدردی کے ناطے ہماری مدد کے لیے آتا ہے تو اس کے تعاون کو ٹھکرانا یہ نہایت غیر اخلاقی اور غیر انسانی حرکت ہے۔ ہمیں امریکہ کی انسانی ہمدردی کو بلا وجہ شکوک و شبہات کی نظروں سے نہیں دیکھنا چاہیے۔ 
	کمیٹی میں موجود دائیں بازو کے ایک دانشور نے قہقہہ لگایا اور کہنے لگے۔
	 امریکہ اور انسانی ہمدردی !اجی جناب جتنے لوگ سونامی کے ذریعہ ہلاک ہوئے ہیں اس سے زیادہ تعداد میں معصوم عراقی امریکی بمباری کا شکار ہوئے۔ اگر واقعی امریکہ کو انسانوں سے ہمدردی ہوتی تو وہ ہیرو شیما اور ناگا ساکی پر بمباری نہ کرتا۔یہ سب کہنے کی باتیں ہیں امریکہ سے کہا جائے کہ وہ ان لوگوں کی مدد کر کے اپنے گناہوں کا کفّارہ ادا کر ے جن پر اس نے بم برسائے ہیں اور ہمیں اپنی نظر کرم سے معاف رکھے اس لئے کہ امریکہ کی روایت رہی ہے کہ وہ جسے برباد کرنا چاہتا ہے پہلے اس سے دوستی کرتا ہے۔ طالبان اور صدام دونوں امریکہ کے دوست تھے اور دونوں اس کے مظالم کا شکار ہوئے۔ ہمیں دوسروں سے عبرت پکڑنا چاہیے۔
	 اب وزارتِ خارجہ کے نائب وزیر اٹھے انھوں نے کہا۔ یہ سب تو ٹھیک ہے لیکن ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ آج امریکہ دنیا کی واحد سپر پاور ہے اور اس کی امداد کو ٹھکرا نے کی سیاسی قیمت کافی مہنگی ہو سکتی ہے۔ یہ معاملہ ہمیں مہنگا پڑ سکتا ہے اس لئے کہ ایسا کبھی نہیں ہوا کہ کسی نے امداد کا ہاتھ بڑھا یا ہو اور اسے ٹھکرا دیا گیا۔
	اس کے جواب میں کرنل صاحب نے کہا۔ عزت مآب وزیر خارجہ کی تجویز میں دو باتیں ہیں۔ دوسری تو یہ کہ ایسا کبھی نہیں ہوا یہ بات خلاف حقیقت ہے۔ گیارہ ستمبر کے بعد سعودی عرب کے شہزادے ولید بن طلال بن عبدالعزیز کی امداد کا چیک نیو یارک کے گورنر نے قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ اگر خود امریکی انتظامیہ یہ کر سکتا ہے تو اسے دوسروں کی جانب سے اس طرح کے رویے کے لئے بھی تیار رہنا چاہئے اور ان کی پہلی بات میں دھمکی ہے۔ اس دھمکی کے جواب میں میں صرف یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ہم آزادی کی قیمت پر بھوک نہیں مٹا سکتے۔ ہم اپنی آزادی کے تحفظ کی خاطر فاقہ کشی کو برداشت کر لیں گے۔ ہماری نظر میں آزاد بھوکا پیٹ بھرے غلام سے بہتر ہے۔ 
	میٹنگ ختم ہو گئی۔
	 دوسرے روز اخبارات میں خبر چھپی کہ حکومت ہند نے امریکی امداد کو ٹھکرا دیا اور امریکی انتظامیہ کا یہ رد عمل بھی چھپا کہ کوئی بات نہیں ہم انہیں فاقہ کش غلام بنا لیں گے۔
٭٭٭





سفید حویلی


	قہر آباد  نامی یہ چھوٹاساگاؤں تو گویا اس دنیا میں ہی نہ تھا۔سب سے الگ تھلگ اس بستی میں صدیوں سے مرزائی خاندان کی حکومت تھی۔ اس خاندان کا سربراہ گاؤں کا بے تاج بادشاہ ہوا کرتا تھا۔گاؤں اور اس کے آس پاس کی ساری زمینیں انھیں کی ملکیت تھیں اور گاؤں میں رہنے والے تمام لوگ ان کے ملازم تھے۔ زمینوں کی طرح ملازم بھی وراثت میں تقسیم ہو جایا کرتے تھے۔ لوگ الگ الگ کام کرتے لیکن تمام کام اسی خاندان کی خاطر کئے جاتے تھے۔ زیادہ تر لوگ تو کھیتوں میں مزدور تھے جنھیں اس قدر اناج دے دیا جاتا تھا کہ وہ زندہ رہیں اور خدمت بجا لائیں کچھ لوگ کوٹھی کی دیکھ بھال کرتے تھے۔ پورے علاقے کے بے شمار جھگیوں جھونپڑیوں میں صرف ایک کوٹھی تھی جو مرزائی خاندان کی تھی۔ وقت کے ساتھ یہ پھیلتی جاتی تھی اس کے علاوہ اس گاؤں میں ایک یتیم خانہ بھی تھا جو مرزائی خاندان کا انسانی چہرہ تھا۔ جب بھی کوئی سرکاری مہمان گاؤں میں آتا پہلے تو اسے کوٹھی دکھلائی جاتی پھر اسے کھیتوں کی سیر کروائی جاتی اور پھر بالآخر اس یتیم خانے کا دورہ کروایا جاتا اور اسے بتلایا جاتا کہ مرزائی خاندان کس قدر رحم دل ہے اسے گاؤں کے یتیموں کا کس قدر خیال ہے۔ کوٹھی کی دیکھ بھال تو سال بھر ہو تی ہی رہتی تھی لیکن یتیم خانہ کا رنگ و روغن صرف مہمان کی آمد پر ہوتا تھا۔ صدیوں سے یہ معمول تھا نہ جانے کتنے حکمراں بدلے اور نظام ہائے حکومت تبدیل ہوئے لیکن قہر آباد پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوا۔
	اس بار پھر جب تحصیل دار کے دورے کی خبر آئی تو خالد مرزائی نے اپنے مصاحبین سے اس کا ذکر چھیڑا اور حقہ کا کش لگاتے ہوئے پوچھا۔تمام تیاریاں تو ہو گئیں۔ کوٹھی، مہمان خانہ، باغوں میں آرام گاہ اور ہاں اپنا یتیم خانہ بڑے دنوں بعد کوئی سرکاری مہمان آ رہا ہے اس لیے یتیم خانہ کا نہ جانے کیا حال ہو گا؟
	جی ہاں۔ غلام حسین چنگرو نے اثبات میں زور زور سے سرہلایا اور کہا۔آپ صحیح کہہ رہے ہیں سب کچھ ٹھیک ہے لیکن یتیم خانہ؟
	کیا ہو گیا یتیم خانہ کو؟ خالد نے زور سے پوچھا۔
	صاحب کچھ ہوا نہیں رنگ و روغن تو کر دیا لیکن اس میں کوئی یتیم نہیں ہے۔
	کیا بکتے ہو۔ گذشتہ مرتبہ جب گورنر صاحب آئے تھے تو اس وقت تو کئی بچے تھے بلکہ گورنر صاحب ہماری کوٹھی سے زیادہ یتیم خانہ کی تعریف کر رہے تھے۔ وہ کہہ رہے تھے۔ اچھی کوٹھیاں تو انہوں نے بہت ساری دیکھی ہیں لیکن اتنا اچھا یتیم خانہ کبھی نہیں دیکھا۔
	بجا فرمایا آپ نے۔ غلام حسین بولا۔ لیکن یہ تو کئی سال پرانی بات ہے۔ اس وقت جو بچے تھے ان میں سے کئی جوان ہو گئے اور انہیں اپنے کھیتوں پر مزدوری کے لیے بھیج دیا گیا۔ کچھ خراب انتظام کے باعث بھاگ گئے۔
	بھاگ گئے؟ خالد مرزائی نے جملہ دہرایا۔ یہ کیسے ہو گیا؟ ان کی مجال کہ ہمارے چنگل سے نکل بھاگے؟ اور تم نے ہمیں بتلایا بھی نہیں۔ یہ تو بہت بری بات ہے۔ آج یتیم بھاگے ہیں کل مزدور بھی بھاگ جائیں گے اور پھر ہمارا کیا ہو گا؟ یہ بہت ہی سنجیدہ مسئلہ ہے۔دیکھو کوئی بھی بھاگنے والا ہماری حدود کے باہر نکل نہ پائے۔ اسے پکڑ کر لاؤ اور گاؤں کے چوراہے پر اس کی لاش کو لٹکا دو تاکہ لوگوں کے دلوں میں خوف و دہشت بیٹھ جائے اور کوئی بھاگنے کی ہمت نہ کرے۔ ہمارے کھیت اور ہمارے مزدور، یہی تو ہمارا سرمایہ ہیں۔ اسی کی حفاظت کرنے کی خاطر تم لوگوں کو رکھا گیا ہے۔ 
	وہ تو ٹھیک ہے سرکار لیکن فی الحال یتیم خانہ کا کیا کریں ؟ وہاں کوئی یتیم نہیں ہے اور گورنر صاحب تین دن بعد آنے والے ہیں۔ 
	یتیم نہیں ہیں تو یتیم بناؤ۔خالد مرزائی نے غصہ سے کہا۔ 
	یتیم بناؤ؟ غلام حسین چونک پڑا۔ یتیم کیسے بنے گا سرکار؟
	ارے یہ بھی تمہیں سمجھانا پڑے گا۔ اگر میں تمہیں گولیوں سے بھون دوں تو تمہارے بچے یتیم ہو جائیں گے۔ یہ تو نہایت ہی آسان کام ہے اس میں کیا مشکل ہے؟
	سمجھ گیا، سمجھ گیا۔ وہ تو ہے لیکن کون گولی مارے گا اور کسے گولی مارے گا؟
	غلام حسین تم تو بے وقوف کے بے وقوف ہی ہو۔ تمہارے والد غلام علی کو تو کبھی یہ سب بتلانا نہ پڑا۔ خیر سنو۔ ڈاکو گولی ماریں گے اور ہمارے مزدوروں کو ماریں گے۔
	 ہمارے مزدوروں کو ڈاکو کیوں ماریں گے صاحب؟ان کے پاس کچھ ہے ہی نہیں جسے لوٹنے ڈاکو ان پر حملہ کریں۔ 
	بھئی غلام حسین اگر یہ سب مجھے ہی بتلانا پڑے گا تو آخر تم کس بات کی تنخواہ لیتے ہو۔ ڈاکوؤں کو یہ ڈکیتی کے بعد ہی پتہ چلے گا کہ جن کے گھروں پر انہوں نے ڈاکہ ڈالا ہے وہاں کچھ لوٹنے کے لیے نہیں ہے۔ہاں کوئی خوبصورت……
	سمجھ گیا سرکار سمجھ گیا۔ لیکن ڈاکو آئیں گے کہاں سے؟
	ڈاکو کہیں سے نہیں آئیں گے بلکہ یہاں سے جائیں گے۔
	لیکن اگر کسی نے انہیں پہچان لیا تو؟
	نقاب پوش ڈاکوؤں کو کون پہچانتا ہے اور پھر گھوڑوں کی ٹاپ سن کر ہی اس قدر گھبرا جاتے ہیں کہ کسی کو پہچان نہیں پاتے اور اگر پہچان بھی لیا تو یہ ہمارا کیا بگاڑ لیں گے؟
	رات کے آخری پہر بندوقوں سے لیس چند گھوڑ سوار حویلی سے نکلے۔ گھوڑوں کی ٹاپ سنتے ہی خالد مرزائی کے حواریوں نے شور مچانا شروع کر دیا۔ ڈاکو آئے، ڈاکو آئے۔ دیکھتے دیکھتے افراتفری پھیل گئی۔ گولیوں کے چلنے کی آوازیں آنے لگیں۔ کئی لاشیں گر گئیں۔ نام نہاد ڈاکو واپس جاتے ہوئے گل شیرہ کو اپنے ساتھ لے گئے۔ گل شیرہ چند منٹوں بعد باغ کی ایک آرام گاہ میں تھی۔ وہاں پہنچنے کے بعد گل شیرہ نے شور مچانا شروع کر دیا۔
	تم لوگ قاتل ہو تم نے میرے خاوند کا قتل کیا ہے۔ میرے بچہ کو یتیم کیا ہے۔ میں تمہیں نہیں چھوڑوں گی۔
	اچھا تو کیا کرو گی؟
	میں گاؤں کے چودھری سے تمہاری شکایت کروں گی اور اس سے تمہیں سزا دلواؤں گی۔
	گاؤں کے چودھری خالد مرزا ہے وہ ہمیں سزا نہیں انعام دیں گا۔ اس لیے کہ وہی تو ہمارا آقا ہے۔ ہم اس کی خدمت میں تمہیں تحفہ کے طور پر پیش کریں گے اور وہ خوش ہو کر ہمیں انعام و اکرام سے نوازے گا۔
	کیا بکتے ہو تم لوگ؟ 
	ہم تمہیں وہی بتلا رہے ہیں جو ہونے والا ہے۔ خیر تم اپنا بچہ ہمیں دے دو۔
	کیوں ؟ گل شیرہ نے پوچھا۔
	ہم اسے یتیم خانہ میں بھرتی کر دیں گے۔ دو دن بعد گورنر صاحب آنے والے ہیں۔ یتیم خانہ بالکل خالی پڑا ہوا تھا۔ ابھی تک دوسرے بچے جو ہمارے حملہ سے یتیم ہوئے تھے وہاں پہنچ گئے ہوں گے۔ لاؤ ہم اسے بھی وہاں پہنچا دیتے ہیں۔ 
	نہیں۔ گل شیرہ گلا پھاڑ پھاڑ کر چیخنے لگی۔ میرا بچہ کہیں نہیں جائے گا۔ یہ میرے ہی ساتھ رہے گا میرا شیرو۔
	چل ہٹ لا اس لڑکے کو ہمیں دے۔
	اس چھینا جھپٹی کے دوران ایک اور گھوڑ سوار وہاں آ پہنچا۔ اس نے نقاب اتارنے کے بعد پوچھا۔ کیا ہنگامہ ہے؟
	کچھ نہیں صاحب۔ یہ گل شیرہ اپنے بچہ کو ہمارے حوالے نہیں کر رہی تاکہ ہم اسے یتیم خانہ میں بھرتی کر سکیں۔ 
	گھوڑ سوار نے گل شیرہ کو آنکھیں بھر کر دیکھا اور کہا۔
	چھوڑ دو اسے۔ وہاں کافی بچے پہنچ چکے ہیں۔ ایسا کرو اسے میری کوٹھی میں پہنچا دو۔
	آپ کی۔ سرکار ہم تو اسے۔
	ہاں میں جانتا ہوں تم اسے بڑے سرکار کی خدمت میں پہنچانا چاہتے تھے تاکہ انعام و اکرام حاصل کر سکو تو انعام و اکرام تو میں بھی تمہیں دوں گا اور پھر سردار بوڑھا ہو چکا ہے۔ گل شیرہ اس کے کسی کام نہ آئے گی۔ تم اسے میرے حوالے کر دو خوش رہے گی۔
	گل شیرہ نے کہا۔ تم میرے خصم کے قاتل ہو۔ نہ میں تمہارے پاس خوش رہوں گی اور نہ تمہیں خوش رہنے دوں گی۔
	خاموش بدتمیز زبان چلاتی ہے۔اسے تلوے سے اکھاڑ کر چیل کوؤں کے آگے ڈال دیں گے۔
	ڈال دو میں نہیں ڈرتی۔ میرے شوہر کو مار کر تم نے چیل کوؤں کے آگے ڈال دیا تو میری زبان کا کیا؟ میرے وجود کا کیا؟ یہ کہہ کر گل شیرہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔ ننھا شیرو یہ منظر غور سے دیکھ رہا تھا۔ چھوٹے سرکار نے شعلہ بار نظروں سے گل شیرہ کی جانب دیکھا۔ گل شیرہ کی آنکھیں نفرت کی آگ اُگل رہی تھیں۔ اس نے کہا۔
	اسے کال کوٹھری میں ڈال دو اور دو چار دن بھوکا پیاسا رکھو۔ اپنے آپ ٹھیک ہو جائے گی۔
	شیرو یتیم خانہ میں بیٹھا رو رہا تھا۔ یتیم خانے کے منتظم نے پہلے اسے ڈرایا دھمکایا۔ مارا پیٹا اور پھر اسے لالی پاپ تھما دیا لیکن وہ تو بس ایک رٹ لگائے ہوئے تھا ممّی ممّی۔ مجھے اپنی امی کے پاس لے چلو۔ یتیم خانہ کے سامنے سے گذرتے ہوئے امام صاحب نے جب شیرو کی آواز سنی تو وہ اندر آئے۔ انہوں نے پیار سے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا اور اسے قریب بٹھا کر پچکارنے لگے۔ کئی دنوں بعد شفقت کے نرم ہاتھ نے اسے چھوا تھا۔ شیرو بولا۔
	آپ کون ہیں ؟
	وہ بولے۔ میں اس مسجد کا امام ہوں۔ 
	شیرو نے پوچھا۔ آپ کا گھوڑا نہیں ہے۔
	وہ بولے۔ نہیں یہاں گھوڑے صرف حویلی والوں کے پاس ہیں۔ میں پیدل چلتا ہوں تمہاری طرح۔
	ہاں میرے ابو بھی پیدل چلتے تھے آپ ہی کی طرح۔
	ہاں بیٹے یہاں سبھی پیدل چلتے ہیں ہماری طرح۔
	شیرو بولا۔ اچھا تو آپ مجھے پیدل پیدل اپنی امی کے پاس پہنچا سکتے ہیں۔ میں یہاں رہنا نہیں چاہتا۔
	امام صاحب نے کہا۔ میں تو نہیں جانتا تمہاری امی کہاں ہے اور شاید تم بھی نہیں جانتے۔ اس لیے میں تمہیں اس تک نہیں پہنچا سکتا لیکن اگر تم یہاں نہیں رہنا چاہتے تو رات عشاء کی نماز کے بعد جب میں یہاں سے گذروں تو تم بھی پیدل پیدل میرے پیچھے چل پڑنا۔
	یہ سن کر شیرو بہت خوش ہوا۔وہ نہیں جانتا تھا کہ امام اسے کہاں لے جائیں گے لیکن اس کا دل کہتا تھا کہ وہ جہاں بھی لے جائیں اسے جانا چاہئے۔ یقیناً وہ جگہ اس یتیم خانہ سے اچھی ہی ہو گی جہاں جھڑکیوں اور ڈانٹ پھٹکار کے علاوہ کچھ بھی نہیں ملتا۔ وہ رات ہونے کا انتظار کرنے لگا۔
	بہت دور تک پیدل کئی ویرانوں سے گذرنے کے بعد یہ دونوں آگے پیچھے ایک بڑے سے میں جا پہنچے۔ جیسے ہی امام صاحب اندر داخل ہوئے تمام لوگ ان سے ملاقات کے لیے صف بستہ کھڑے ہو گئے۔ یہاں کا ماحول کوٹھی اور یتیم خانہ بلکہ گاؤں سے بھی مختلف تھا۔ وہ سبھی لوگ جو کھیتوں سے یا یتیم خانے سے بھاگے تھے یہاں جمع تھے۔ یہ سب مرزائی خاندان کے ستائے ہوئے لوگ تھے اور مرزائیوں سے بدلہ لینے کی تیاریاں کر رہے تھے۔ ان لوگوں نے اپنا منصوبہ بنا لیا تھا۔ سب سے پہلے انہیں گھوڑوں کے ایک اصطبل پر قبضہ کرنا تھا۔ وہاں سے گھوڑے اور ہتھیاروں کے ساتھ حویلی پر حملہ کرنا تھا۔ ساری تیاریاں ہو چکی تھیں۔ امام صاحب کے ساتھ ان لوگوں نے پھر ایک بار اپنے منصوبے کا جائزہ لیا اور امام صاحب واپس چلے گئے۔
	دوسرے دن جب گاؤں والوں نے گھوڑے کی ٹاپ سنی تو حسب معمول مرزائی خاندان کے خاص غلاموں نے شور مچانا شروع کر دیا۔ ڈاکو آئے ڈاکو آئے۔ یہ ان کا معمول تھا کہ وہ لوگوں کو دہشت زدہ کرنے کے لیے اس طرح کا شور مچاتے اور ان دہشت زدہ لوگوں کو انہیں کے ساتھی لوٹ لیتے لیکن اس سے پہلے کہ افراتفری مچتی مسجد کے مینار سے اعلان ہوا یہ ڈاکو نہیں ہیں جو انہیں ڈاکو کہہ رہے ہیں وہ ڈاکو ہیں۔ گاؤں والوں کے لیے یہ سب نیا تھا۔ مسجد کے مینار سے صرف اذان کی آواز بلند ہوتی تھی۔آج پہلی مرتبہ ڈاکوؤں کے بارے میں بتلایا جا رہا تھا۔ انہیں اپنے کانوں پر یقین نہیں آ رہا تھا لیکن امام صاحب کی بات پر یقین نہ کرنے کا کوئی سوال ہی نہ تھا۔ کسی نے انہیں کبھی جھوٹ بولتے نہ سنا تھا۔ گھوڑے کے ٹاپ گاؤں سے گذر کر حویلی کی جانب بڑھنے لگیں یہ بھی گاؤں والوں کے لیے نئی بات تھی۔ اس لیے کہ اس سے پہلے ڈاکوؤں نے کبھی بھی حویلی کا رخ نہیں کیا تھا۔یہ دیکھ کر مرزائی خاندان کے خاص غلاموں نے زور زور سے شور مچانا شروع کر دیا۔ ڈاکو آ گئے ڈاکو آ گئے انہوں نے حویلی پر حملہ کر دیا ہے۔ چلو نکلو حویلی کو بچاؤ۔ بچاؤ۔ بچاؤ۔ 
	گاؤں والوں نے سوچا۔ ٹھیک ہے حویلی پر حملہ ہوا ہے ہمیں اسے بچانے کے لیے نکلنا چاہئے لیکن جیسے ہی وہ گاؤں سے باہر نکل کر حویلی کی جانب بڑھے امام صاحب کو سامنے کھڑا پایا۔ انہوں نے بلند آواز سے مجمع کو مخاطب کیا۔
	کہاں جا رہے ہو؟
	لوگوں نے کہا۔ حویلی کی طرف۔ اس کی حفاظت کرنے۔ حویلی پر ڈاکوؤں نے حملہ کیا ہے۔
	اما م صاحب نے کہا۔ رک جاؤ اس سے پہلے جب ڈاکو گاؤں پر حملہ کرتے تھے کیا کوئی حویلی سے تمہاری حفاظت کے لیے آتا تھا۔ حالاں کہ ان کے پاس گھوڑے بھی تھے اور بندوقیں بھی تھیں۔ 
	گاؤں والوں نے سوچنا شروع کر دیا۔ وہاں سے تو کوئی ہماری حفاظت کے لیے کبھی نہیں آیا۔ امام صاحب نے کہا۔کیسے آتا؟وہی تو تمہیں لوٹنے آتے تھے۔ ڈاکو وہ نہیں ہیں جو حویلی کی طرف گئے ہیں بلکہ ڈاکو وہ ہیں جن کی طرف وہ گئے ہیں۔ 
	 اور یہ جو انہیں ڈاکو کہہ رہے ہیں ؟ مجمع میں سے ایک نے سوال کیا۔
	یہ ان کے دلال ہیں۔ امام صاحب نے جواب دیا۔
	مجمع بپھر گیا۔ اپنے درمیان پائی جانے والی کالی بھیڑوں پر پل پڑا۔ 
	ادھر حویلی والے اس طرح کے حملے کے لیے بالکل بھی تیار نہ تھے۔ وہ تو ہمیشہ لوگوں پر حملے کرتے تھے انہوں نے کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ کوئی ان پر حملہ کر سکتا ہے۔ سارے گھوڑے اور گولے بارود ان کے اپنے قبضہ میں تھے۔ لوگوں کو انہوں نے نہتا اور مجبور کر کے رکھا ہوا تھا۔ یہ بات ان کے خواب و خیال میں نہ تھی کہ کبھی یہی نہتے اور مجبور لوگ خود انہیں کے گھوڑوں پر سوار ہو کر حویلی پر دھاوا بول سکتے ہیں۔ اس سے پہلے کہ یہ سب ان کی سمجھ میں آتا کھیل ختم ہو چکا تھا۔مرزائی خاندان کے تمام مردوں کو قید کر لیا گیا تھا۔ گھوڑوں پر آنے والے مجاہدین اپنی ماؤں، بہنوں اور بیویوں سے مل رہے تھے جنھیں ان سے چھین کر لونڈی بنا دیا گیا تھا لیکن ان میں سے چند لوگ کوٹھی کی دیواریں گرا رہے تھے اس کے برجوں کومسمار کر رہے تھے۔ ایسے میں چند گھوڑ سوار وہاں آ گئے۔ ان لوگوں نے پوچھا۔ آپ لوگ یہ کیا کر رہے ہیں ؟
	ہم اس غلامی کی نشانی کو جڑ سے اُکھاڑ پھینکنا چاہتے ہیں۔ 
	لیکن ایسا تم کیوں کر رہے ہو۔ یہ غلامی ہی کی نہیں بلکہ اقتدار کی علامت ہے۔ 
	ہمیں سرکار تو چاہئے نہیں مرزائی سرکار ہم نے ختم کر دی اب کوئی سرکار یہاں نہیں رہے گی۔ ہم اسے نیست و نابود کر دیں گے۔ غصہ سے بپھرے ہوئے ان لوگوں کے ہاتھ نہ رکتے تھے۔ لیکن ایک گھوڑ سوار نے کہا۔
	جاؤ امام صاحب کو بلاؤ اور پھر ان جوشیلے جوانوں کو سمجھانے کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ حکومت لازمی ہے۔ مرزائی ختم ہو گئے تو کیا ہوا اب ہمارے رہنما امام صاحب یہاں رہیں گے اور یہاں سے اپنی حکومت چلائیں گے۔
	مسمار کرنے والوں نے کہا نہیں ہمیں یہ سب نہیں چاہئے۔ ہمیں حکومت نہیں چاہئے۔ ہم نے ظلم کی زنجیریں توڑ دی ہیں۔ اب ہم اسے پوری طرح مٹا کر دم لیں گے۔
	اس بحث و مباحثہ کے درمیان امام صاحب وہاں پہنچ گئے۔ مجاہدین کے درمیان موجود دانشوروں نے امام صاحب سے کہا۔یہ احمق اس حویلی کو برباد کر رہے ہیں حالانکہ ہمارا جھگڑا حویلی سے نہیں حویلی والوں سے ہے۔ جنہیں ہم نے قید کر لیا ہے۔ اب آپ کو یہاں بیٹھ کر قہر آباد کی زمام کار سنبھالنی ہے اور یہ اسے زمین بوس کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ 
	امام صاحب مسکرائے اور انہوں نے کہا۔ انہیں اپنا کام کرنے دو یہ جو کچھ کر رہے ہیں ٹھیک ہی کر رہے ہیں۔ میں جس کام کو کرنا چاہتا ہوں وہ اس حویلی سے نہیں ہو سکتا اور پھر میں اس خونی حویلی میں رہ بھی نہیں سکتا۔
	اچھا تو آپ کہاں رہیں گے؟
	مسجد کے پاس والے اپنے اسی حجرے میں جہاں رہتا ہوں۔ 
	اور کہاں سے حکومت چلائیں گے؟
	اسی مسجد سے اس لیے کہ جیسے ظلم و نا انصافی کا خاتمہ وہاں سے ہوا ہے اسی طرح عدل و انصاف کا قیام بھی وہیں سے ہو گا۔
٭٭٭




کتھا کنج کا راج پاٹ


	سمندر کی عمیق لہروں کے پیچھے سے ایڑیاں اچکا کر جیسے ہی سورج نے کتھاکنج گاؤں میں جھانکا پرکاش سُکھ سوریہ ونشی نے پہلی کرن کے پہنچنے سے قبل کشتی کا لنگر کھول دیا۔ اکادشی کی صبح سورج کی پہلی کرن کے ساتھ سمندر کا سفر بہترین شگون سمجھا جاتا ہے لیکن شاذونادر ہی یہ لمحہ کسی کو نصیب ہوتا۔اس لئے کہ اکا دشی پورنیما کی رات سال میں ایک بار آتی اس رات یہ لوگ سورج دیوتا کی بیٹی چندا رانی کی عبادت کرتے رات بھر ناچ رنگ کی محفلیں سجتیں اور آخری پہر تھک ہار کر اپنے بستروں کا رخ کرتے۔ اب اس کے بعد صبح تڑکے اس شبھ مہورت کو پانا تقریباً نا ممکن ہوتا تھا۔
	 لیکن رمیش سوریہ نے اس بار اس کا خاص اہتمام کیا تھا۔ ایک ہفتہ قبل اس نے خواب میں دیکھا کہ وہ اس مہورت پر سمندر میں داخل ہو گیا اور اس کے جال میں مچھلیوں کی بجائے ایک سونے کا ناریل آ گیا۔ اس نے جب اس ناریل کو توڑا تو اس میں سے بطخ کے انڈے کی جسامت کا موتی نکل آیاجس سے اس کا گھر جگمگا نے لگا۔ گاؤں والوں نے یہ چمتکار دیکھ کر اسے اپنا راجہ بنا لیا لیکن اس سے پہلے کہ وہ تخت پر بیٹھتا اور تاج اپنے سر پر سجاتا اس کی آنکھ کھل گئی، خواب نے دم توڑ دیا لیکن اس کے تکمیل کی خواہش نے جنم لے لیا پورنیما کی رات اس نے صرف اپنے اس خواب کے شرمندہ تعبیر ہونے کی منت باندھی وہ رقص و سرور کی محفلوں سے بچتا بچاتا گھر آیا اور بستر پر لیٹ گیا اسے علی الصبح اٹھنا تھا،شبھ مہورت کشتی کھولنا تھی،لیکن آنکھوں میں نیند کہاں ؟ اب وہ جاگتے ہوئے خواب دیکھ رہا تھا۔ اپنا محل اپنا تخت اپنا تاج اپنی فوج اور میدان جنگ یہ سب دیکھتے دیکھتے اسے نیند آ گئی۔
	 صبح منہ اندھیرے جب وہ سمندر کی جانب جا رہا تھا اسے جھاڑیوں میں سرسراہٹ محسوس ہوئی وہ چونک پڑا یہ کون ہے جو اپنا سپنا ساکار کرنے میں اس سے بھی آگے نکل گیا ہے۔ وہ سوچنے لگا کیا ایک ساتھ دو کشتیاں کھلیں گی اور ان میں مسابقت شروع ہو جائے گی اور پھر وہ دونوں ایک دوسرے سے ٹکرا جائیں گی اور پھر اس کا خواب چکنا چور ہو جائے گا۔ نہیں ! اس کے اندیشے غلط ثابت ہوئے وہ کوئی جانور تھاجس نے اپنا رخ بدل دیا اور سمندر سے بستی کی جانب چل پڑا۔رمیش سوریہ کو قدرے اطمینان ہوا۔ انسان کو اپنے اقتدار میں کسی کی شرکت برداشت نہیں کرنا چاہئے۔وہ اقتدار خواب کے پردے میں چھپا ہوا کیوں نہ ہو۔ اقتدار حقیقی ہو یا مجازی وہ مزاج شرک سے پاک ہے۔ اپنی کشتی میں پہنچ کر رمیش نے دائیں بائیں تا حد نگاہ نظر دوڑائی، موت کی سی خاموشی دیکھ کر وہ خوش ہو گیا اور سورج دیوتا کا انتظار کرنے لگا۔ لنگر کی رسی اس کے ہاتھ میں تھی اور پیروں میں پتوار پڑی تھی، آنکھیں افق پر گڑی ہوئی تھیں۔ سب کچھ عین منصوبے کے مطابق ہوا۔ اس کی کشتی سمندر کا سینہ چیر کر آگے بڑھنے لگی کہ اس نے لہروں پر تیرتی ایک نہایت حسین و جمیل ٹوکری دیکھی، اسے دیکھنے کے بعد وہ اپنا جال، ناریل اور خواب سب کچھ بھول گیا ایک مقناطیسی کشش اسے ٹوکری کی جانب لئے جا رہی تھی۔ چند لمحات کے اندر اس نے ٹوکری کو لپک لیا اور جیسے ہی اسے کھولا اس کی آنکھیں پھیل گئیں اس کے اندر ایک نہایت حسین و جمیل بچّہ مسکرا رہا تھا۔یہ قدرت کا تحفہ ہے، یہ اس کی دعاؤں کا ثمر ہے، یہ اس کی قسمت کا ستارہ ہے اس کا سورج ہے، اس کا چاند ہے، اس کا سب کچھ ہے۔ یہ سب سوچتے ہوئے اس نے کب اپنی کشتی کا رخ دوبارہ ساحل کی جانب کیا، کب اسے لنگر انداز کیا اور کیسے گھر پہنچا اسے کچھ بھی پتہ نہ چلا۔ اس کی جھونپڑی میں وہ اور اس کی بیوی چندا رہتے تھے۔ چندا کے سوا اس کا اس دنیا میں کوئی نہیں تھا۔ایک کشتی کے حادثے میں اس کے سارے خاندان کو سمندر نے نگل لیا تھا۔ وہ معجزاتی طور پر بچا لیا گیا۔ اور جوانی میں اسے چندا نے اپنا لیا اور اس کی اپنی ہو گئی۔ 
	چندا گہری نیند میں سو رہی تھی اس نے سوچا کہ چندا کو نہ جگائے لیکن صبر نہ کر سکا۔ اس نے چندا کو جھنجھوڑنا شروع کر دیا۔
	اٹھو بھاگیہ وان دیکھو آج پورنیما کی شبھ مہورت پر سوریہ دیوتا نے ہمیں کون سا انعام دیا ہے۔
	چندا یہ سن کر چونک پڑی اور ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھی۔ کیا ناریل مل گیا؟ اس نے سوال کیا۔
	نہیں پگلی ناریل کے پیٹ سے مردہ موتی نہیں بلکہ ٹوکری کے اندر سے زندہ چہچہاتا ہوا لال۔
	یہ کون ہے؟ چندا نے پوچھا۔ کس کا بچہ اٹھا لائے صبح صبح۔ 
	کیا بکتی ہو؟ پرکاش بولا۔ ایسا خوبصورت بچہ کسی کے پاس ہے ہماری بستی میں یا آس پاس کی بستی یا ساری دنیا میں۔ ایسا خوبصورت کسی کا نہیں ہے کسی کا نہیں ہو سکتا ہے۔ یہ ہمارا چشم و چراغ ہے۔ یہ ہے ہمارا راجہ۔ میرا اور تمہارا راجہ۔ یہ سب کا راجہ ہے کتھا کنج کا راجہ ہے۔
	بحر ہند کی ساحلی پٹی پر کئی ماہی گیری بستیاں آباد تھیں لیکن ان سب کا راجہ فقط ایک تھا راج گڈھ کا کٹھور سنگھ چند ر سینی نہ جانے کس منحوس گھڑی میں یہ روایت پڑی تھی کہ راجہ صرف چندر سینوں کے راج پریوار کا فرد ہو گا اور یہ روایت ایسی چلی کہ لوگوں نے سوچنا ہی چھوڑ دیا کہ راجہ کوئی اور بھی ہو سکتا ہے سارے علاقے کی عوام نے محکومی کو اپنا مقدر مان لیا اور ہمیشہ کے لیے چند رسینی راجاؤں کو اپنا حاکم۔ اسی لیے پرکاش سنگھ سوریہ ونشی کی بات لوگوں کو عجیب و غریب لگنے لگی۔ جب گاؤں بھر میں چرچے عام ہو گئے تو پرکاش کا لنگوٹیہ یار رمیش اس سے ملنے آیا۔ دعا سلام کھان پان کے بعد اس نے کہا۔
	پرکاش تم جانتے ہو آج کل لوگ تمہارے بارے میں کیا خیال کرتے ہیں ؟
	پرکاش نے حیرت سے پوچھا۔ کیا؟
	جواب ملا۔ لوگ کہتے ہیں تمہارا دو ست پرکاش باؤلا ہو گیا ہے۔
	وہ کیوں ؟ پرکاش نے پوچھا۔
	اس لیے کہ تم کہتے ہو تمہارا بیٹا کتھا کنج کا راجہ ہونے والا ہے۔
	اس میں تعجب کی کیا بات ہے؟ پرکاش بولا۔یہاں سے پانچ سو کوس دور راج گڈھ کا کٹھور سنگھ ہمارا راجہ ہو سکتا ہے تو میرا لال بھنور سنگھ سوریہ ونشی راجہ کیوں نہیں ہو سکتا؟
	نہیں ہو سکتا۔ رمیش بولا۔ اس لیے کہ ایسا کبھی ہوا نہیں ہے۔ 
	لیکن اگر ہوا نہیں ہے تو اس کا مطلب یہ کیسے ہو گیا کہ کبھی ہو گا بھی نہیں۔ 
	لیکن ایسی انہونی کے لیے کوئی کارن بھی تو ہونا چاہئے۔ رمیش نے اصرار کے ساتھ سوال کیا
	پرکاش بولا۔ کارن، کارن کی کیا ضرورت ہے؟ اور اگر ہے بھی تو یہ کیا کم ہے کہ اس سے پہلے کبھی بھی سوریہ دیوتا نے ہمیں ایسا کوئی وردان نہیں دیا۔ بھنور ایکا دشی پورنیما کی صبح سوریہ دیوتا کا دیا ہوا وردان ہے۔ بھنور میں پھنسا ہوا یہ بچہ ہمیں کٹھور سنگھ کے کرور راجیہ بھنور سے مُکتی دلانے والا ہے۔ یہ کہہ کر اس نے آواز دی۔ چندا ذرا اپنے راجہ کو باہر تو لاؤ۔ 
	چندا فوراً لال ریشمی چادر میں لپیٹ کر بھنور سنگھ کو رمیش کے سامنے لے آئی۔ رمیش نے جب بچے کو دیکھا تو حیران رہ گیا۔ اتنا خوبصورت بچہ اس نے کبھی بھی نہ دیکھا تھا۔ وہ پرکاش سے ہونے والی ساری بحث کو یکسر بھول گیا۔ اس نے بھنور سنگھ کو اپنی گود میں لے لیا۔ اس کو چومنے لگا۔ اس سے کھیلنے لگا۔ اس سے باتیں کرنے لگا۔ بھنور سنگھ بھی کلکاریاں لے رہا تھا۔ دونوں ایک دوسری کی زبان نہ سمجھتے تھے لیکن ایک دوسرے سے بولے جاتے تھے۔ پرکاش اور چندا اس منظر کو دیکھ کر مسکراتے جاتے تھے۔
	بھنور کے چرچے جب زبان زد عام ہو گئے تو ایک دن گاؤں پروہت دھرمیش سوریہ ونشی نے پرکاش کو اپنے پاس بلوایا۔ مندر میں پہنچ کر پرکاش نے پہلے پوجا ارچنا کی اور پھر پرساد لینے پروہت کے پاس جا پہنچا۔ پروہت نے اس کا ہاتھ پکڑا اور اسے اپنے کمرے میں لے گیا۔ دھرمیش نے چائے پان پیش کیا۔ یہ پہلا موقع تھا کہ پروہت جِیج مانی (میزبانی) کر رہا تھا۔ ورنہ اس سے پہلے تو وہ مہمانی ہی کرتا ہوا دکھائی دیتا تھا۔ دعا سلام کے بعد دھرمیش نے پوچھا۔
	پرکاش آج کل تم کیا بہکی بہکی باتیں کر رہے ہو؟
	کیسی بات؟پرکاش نے پوچھا۔
	یہی کہ تمہارا بیٹا بھنور سنگھ کتھا کنج کا راجہ بنے گا؟
	لیکن اس میں تعجب کی کیا بات ہے گرو دیو؟ پرکاش بولا۔ بھنور سنگھ راجہ کیوں نہیں بن سکتا؟
	پھر وہی بات۔ ارے بدھو راج گڈھ کے راج پریوار کا دھرم راج دھرم ہے اور ہمارا کرم پرجا دھرم۔ وہ اپنا دھرم پالن کرتے ہیں اور ہم اپنا دھرم پالن کرتے ہیں جس سے ہمارے اور ان کے درمیان سنتولن (توازن) بنا ہوا ہے۔جب یہ سنتولن بگڑ جائے گا پرلیہ (قیامت) ہو جائے گا۔
	پرکاش نے کہا۔ گرو دیو آپ کا یہ پروچن اور آپ کی یہ بھویشہ وانی کیا کسی گرنتھ میں لکھی ہے؟ یا یہ آپ کے من کا سنکوچ ہے؟ 
	یہ تو ایک ناگزیر حقیقت ہے بالک۔ اس کا کسی گرنتھ میں لکھا ہونا ضروری نہیں ہے۔ یہ تو پتھر کی لکیر ہے۔ ایسا ہو گا اور ایسا ہی ہو گا۔ 
	پروہت نے جیسے ہی اپنی بات پوری کی پرکاش بولا۔ گرو دیو ایسا آپ سوچتے ہیں یا چاہتے ہیں ؟ 
	اس سوال پر دھرمیش سوریہ ونشی خاموش ہو گئے۔ کچھ دیر بعد وہ بولے۔ میں یہ نہیں چاہتا۔ میں ہرگز یہ نہیں چاہتا۔ لیکن چونکہ یہی ہو گا اس لیے تمہیں سمجھاتا ہوں کہ یہ خیال اپنے ذہن سے نکال دو۔
	پرکاش بولا۔ گرو دیو آپ راج دھرم کی بات کر رہے تھے۔ کیا راج دھرم کا ارتھ نیائے استھاپنا نہیں ہے اور کیا یہ سچ نہیں ہے کہ کٹھور سنگھ انیائے اور اتیاچار کرتا ہے۔ اپنی پرجا کا سوشن کرتا ہے۔ اگر وہ ایسا کرتا ہے تو کیا اپنے راج دھرم کا پالن کرتا ہے؟
	نہیں۔ وہ اپنے راج دھرم کا پالن نہیں کرتا۔ پروہت نے جواب دیا۔
	اگر وہ اپنے دھرم کا پالن نہیں کرتا تو ہم اس کے تئیں اپنے دھرم کا پالن کیوں کریں ؟ بلکہ کیا انیائے اور اتیا چار کے وِرُدھ سنگھرش کرنا ہمارا دھرم نہیں ہے؟
	پروہت دھرمیش سوریہ ونشی پرکاش کے آگے چاروں شانے چت ہو گیا۔ اس نے کہا۔ دیکھو ششیہ میں تم سے بحث نہیں کر سکتا۔ میں تمہارے سارے پرشنوں کا اُتّر نہیں دے سکتا۔ میں تو صرف تمہیں سمجھانا چاہتا تھا کہ تم آگ سے کھیل رہے ہو اور یہ ایسی آگ ہے جو نہ صرف تمہیں بلکہ ساری کتھا کنج کو بھسم کر دے گی۔ 
	پرکاش نے کہا۔ دھنیہ واد گرو دیو۔ آپ کی بات صحیح ہو سکتی ہے۔ اگر یہ آگ ہمارے ساتھ ساتھ غلامی کی ان زنجیروں کو بھی پگھلا دے جس نے صدیوں سے ہمیں جکڑ رکھا ہے تو میں اس آگ کو بھی سوریہ دیوتا کا وردان سمجھوں گا۔
	پروہت نے کہا۔ کاش کہ ایسا ہو۔ 
	ایسا ہی ہو گا۔ یہ کہہ کر پرکاش نے دھرمیش کے چرنوں کو چھو کر وداع لیا۔
	کتھا کنج گاؤں کا مکھیا نشچئے سنگھ سوریہ ونشی ایک نہایت ملنسار بزرگ تھے۔ سارا گاؤں ان کا بے حد احترام کرتا تھا۔ ہر گاؤں والے کے دکھ سکھ میں وہ برابر کے شریک رہتے تھے۔ ان کے مسائل کو اپنا مسئلہ سمجھتے اور اسے حل کرنے کی حتی الامکان کوشش کرتے۔ لوگ ان کو بہت مانتے تھے اور ان کی ہر بات مانتے تھے۔ انہوں نے ہی دھرمیش پروہت سے کہا تھا کہ وہ پرکاش کو بلا کر سمجھائیں منائیں۔ لیکن ہوا یہ کہ پروہت خود پرکاش کی بات مان گئے۔ پرکاش کے جانے کے بعد پروہت بھی اپنے کمرے سے نکلے اور نشچئے کی خدمت میں حاضر ہو گئے۔ انہوں نے ساری بات من و عن سنا دی۔
	پروہت کی بات سننے کے بعد نشچئے نے پوچھا۔ پرکاش کی چھوڑو تم اپنی بتاؤ۔ تمہارا کیا خیال ہے؟
	پرکاش کی بات حق ہے۔ پروہت نے کہا۔ میرا من تو یہی کہتا ہے۔
	نشچئے نے پوچھا۔ پھر سنکٹ کیا ہے؟
	سنکٹ یہ ہے کہ پرینام (انجام) سے ڈر لگتا ہے۔
	یہ ڈر تمہیں لگتا ہے یا پرکاش کو بھی لگتا ہے؟
	پروہت نے کہا۔ مجھے تو لگتا ہے۔ شاید پرکاش کو نہیں لگتا۔
	نشچئے نے کہا۔ ٹھیک ہے میں اس سے بات کروں گا۔
	پرکاش جس وقت نشچئے سنگھ کے گھر پہنچا دربار لگا ہوا تھا۔لوگ اپنی اپنی سناتے رہے اور نشچئے کی سن کر جاتے رہے۔ بہت سے لوگ پرکاش کے بعد آئے ان سے بھی نشچئے نے بات کی لیکن پرکاش کو نظرانداز کر دیا۔ پرکاش نے سوچا۔ یہ عجیب بات ہے مجھے بلا کر نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ شاید مکھیا جی ناراض ہیں۔ سب لوگ چلے گئے تو مکھیا نے پرکاش کو اپنے پاس بلایا اور کہا۔
	پرکاش تم سوچ رہے ہو گے تمہیں اتنا انتظار کیوں کروایا گیا؟ 
	نہیں۔ ایسی کوئی بات نہیں۔ پرکاش بولا۔
	نشچئے نے کہا۔ کیوں نہیں ؟ بات ہے سو ہے۔اور بات دراصل یہ ہے میں تم سے ایکانت میں بات کرنا چاہتا تھا اور یہ طویل بات ہے۔ اس لیے باقی سب کو جلدی جلدی نمٹا دیا۔ تمہیں برا تو نہیں لگا؟
	نہیں پردھان جی۔ آپ کی کسی بات کا ہمیں برا نہیں لگتا۔ اس لیے کہ آپ ہمارے خیرخواہ ہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ آپ ہم سے زیادہ ہمارے بہی خواہ ہیں۔ 
	چھوڑو یہ سب باتیں۔ تم راجہ کا مطلب جانتے ہو؟
	ہاں ہاں۔ بالکل جانتا ہوں۔ 
	تو کیا تم یہ بھی جانتے ہو کہ جس طرح ایک میان میں دو تلواریں نہیں ہو سکتیں اسی طرح ایک بستی میں کئی راجہ نہیں ہو سکتے۔
	ہاں یہ بھی جانتا ہوں۔ لیکن پردھان جی اگر ایک بستی کے کئی راجہ نہیں ہو سکتے تو کئی بستیوں کا ایک راجہ کیوں کر ہو سکتا ہے؟ 
	نشچئے سنگھ پرکاش کے اس جواب سے چونک پڑے۔ پرکاش نے بات آگے بڑھائی۔ میں یہ نہیں کہتا کہ بھنور سنگھ کتھا کنج کے ساتھ ساتھ راج گڈھ اور آس پاس کی تمام بستیوں کا بھی راجہ بنے گا میں تو صرف یہ کہتا ہوں کہ بھنور سنگھ کتھا کنج کا راجہ ہو گا۔ 
	لیکن اس کا یہ مطلب بھی ہوتا ہے کہ اس صورت میں کٹھور سنگھ کتھا کنج کا راجہ نہیں ہو گا۔
	بے شک اس کا یہ مطلب ہوتا ہے۔ پرکاش بولا۔
	تو پھر کیا کٹھور سنگھ ہمارے اس فیصلے کو ٹھنڈے پیٹوں برداشت کر لے گا؟
	پرکاش نے کہا۔ نہیں۔ 
	اور اگر اس نے آس پاس کی تمام بستی والوں کے ساتھ ہم پر حملہ کر دیا تو ہمارا کیا ہو گا؟
	لیکن دوسری بستی کے لوگ اس کا ساتھ کیوں دیں گے؟ جب کہ اس نے انہیں بھی غلام بنا رکھا ہے۔
	نشچئے نے کہا۔ تمہاری بات صحیح ہے۔ غلاموں کو چاہئے کہ وہ غلاموں کا ساتھ دیں۔ لیکن ہوتا یہ نہیں ہے۔ غلام اکثر دوسرے غلاموں کے خلاف اپنے آقا کا ساتھ دیتے ہیں۔ 
	پرکاش نے پوچھا۔ پردھان جی آپ نے دنیا دیکھی ہے۔آپ بتائیں وہ ایسا کیوں کرتے ہیں ؟
	وہ ایسا اپنی وفاداری ثابت کرنے کے لیے کرتے ہیں یا ڈر سے کرتے ہیں۔ 
	لیکن ان کا ڈر کون ختم کرے گا؟وہ جو خود ڈرا ہوا ہو یا خود نڈر ہو؟پرکاش نے سوال کیا۔
	نشچئے نے کہا۔ جو نڈر ہو۔ 
	تو ہمیں نڈر بننا ہو گا۔ 
	نشچئے بولے۔ تم تو پہلے سے نڈر ہو پرکاش۔ یہ کہو کہ تمہیں نڈر بنانا ہو گا۔
	لیکن ایک سمسّیا پھر بھی ہے۔ اگر دوسری بستیوں کے لوگ کٹھور سنگھ کے ساتھ نہ بھی آئے تب بھی راج گڈھ کے لوگ ہی ہماری اینٹ سے اینٹ بجانے کے لیے کافی ہیں۔ 
	لیکن پردھان جی کیا کٹھور سنگھ راج گڈھ کی جنتا کا سوشن نہیں کرتا؟ ان پر انیائے اور اتیا چار نہیں کرتا؟
	کرتا ہے۔
	تب کیا ان کے من میں بھی کٹھور سنگھ کے خلاف آ کروش نہیں ہے۔
	ہے۔ لیکن وہ ان کا اپنا آدمی ہے۔
	انیائے تو انیائے ہوتا ہے چاہے وہ اپنے دوارا ہو یا پرائے دوارا۔بلکہ اپنے کا اتیا چار زیادہ کھلنا چاہئے۔
	تمہاری بات تو صحیح ہے لیکن اس کو چھوڑ کر وہ تمہارا ساتھ کیسے دے سکتے ہیں ؟ وہ ان کا اپنا آدمی ہے اور تم پرائے ہو۔
	آپ ٹھیک کہتے ہیں۔ ہم یہ نہیں چاہتے کہ وہ ہمارا ساتھ دیں ہم اپنی حفاظت آپ کر سکتے ہیں ہم تو صرف یہ چاہتے ہیں کہ وہ اس کا ساتھ نہ دیں۔ اگر ایسا ہو گیا تو کٹھور سنگھ ہمارا کچھ بھی بگاڑ نہ سکے گا بلکہ جب وہ یہاں سے پراجت ہو کر لوٹے گا تو اپنا سنہاسن بھی غائب پائے گا۔
	پرکاش اور نشچئے سنگھ کی بات چیت چل ہی رہی تھی کہ پنچایت کے کچھ معمر سدسیہ دھرمیش پروہت کے ساتھ اجازت لے کر نشچئے سنگھ کی سیوا میں حاضر ہوئے اور ایکانت میں کچھ کہنے کی اجازت چاہی۔
	پرکاش کھڑا ہو گیا لیکن نشچئے نے کہا۔ پرکاش بیٹے بیٹھ جاؤ اور پنچایت کے لوگوں کی جانب مڑ کر کہا۔نسنکوچ ہو کر کہو کیا کہنا چاہتے ہو؟
	دھرمیش بولا۔ پردھان جی کٹھور سنگھ کتھا کنج کے باسیوں پر آگ بگولہ ہو گیا ہے اور اپنی فوج کے ساتھ ہماری جانب کوچ کر چکا ہے۔ اب تُرنت کچھ کریں ورنہ پرلیہ ہو جائے گا۔
	نشچئے نے کہا۔ مصلحت اور مصالحت کی چنداں ضرورت نہیں۔ جاؤ مندر کے ڈھنڈورچی سے اعلان کروا دو ہم مقابلہ کریں گے۔پرکاش سنگھ سوریہ ونشی ہمارا سینا پتی ہو گا۔
	سینا پتی نہیں بلکہ ہمارا راجہ… راجہ پرکاش سنگھ سوریہ ونشی!
٭٭٭


 




لوک پرلوک


	ملنگ بابا کے آستانے پر ہمیشہ کی طرح میلہ لگا ہوا تھا۔ بڑے بڑے بزرگوں کی مزار پر سالانہ عرس ہوتا۔ سال میں ایک مرتبہ ہفتہ دس دن کے لیے جھولے سجتے ہوٹلیں سجتیں، سیرو تفریح کا سامان ہوتا اور لوگ وہاں موج مستی کے لیے جاتے۔ لیکن ملنگ بابا کا معاملہ ان سے مختلف تھا۔ یہاں لوگ اپنے دکھ درد لے کر آتے۔ یہاں ان کے زخموں پر مرہم رکھا جاتا۔ اس لیے یہاں ہر شام اژدہام لگ جاتا اور رات گئے تک یہ محفل سجی رہتی۔ دنیا کے سارے دکھیارے ایک قوم ہوتے ہیں۔ اس لیے ملنگ بابا کے دربار میں آنے والوں کے درمیان کوئی تفریق کوئی بھید بھاؤ نہیں تھا۔ کوئی ہندو ہوتا تو کوئی مسلم۔ سکھ اور عیسائی بھی جب غم میں ستائے جاتے تو یہاں حاضر ہو جاتے۔ بچہ بوڑھا جوان مرد عورت امیر غریب ہر طرح کے لوگ یہاں دکھائی دیتے تھے۔ اس لیے کہ گردش ایام کا شکار سبھی تھے۔ 
	اس بھیڑ میں اشوک چندر بھی اپنی بیوی شکنتلا اور بیٹے آکاش چندر کے ساتھ بیٹھا اپنی باری کا انتظار کر رہا تھا۔ آکاش کی پیدائش کے بعد یہ دونوں پہلی بار یہاں آئے تھے۔ اس لیے کہ اس بیچ انہیں ضرورت ہی محسوس نہ ہوئی۔ کئی مرتبہ اشوک نے شکنتلا سے کہا کہ بابا کے چرنوں میں ایک بار آکاش کو ڈال کر ان کا آشیرواد لے لیا جائے۔ ہر بار شکنتلا نے اس رائے سے اتفاق کیا اور اگلے دن جانے کا فیصلہ بھی کیا لیکن وہ کل نہ آیا۔ یہاں تک کہ آکاش پانچ برس کا ہو گیا۔ 
	لیکن اب یہ تینوں ایک ایسی مصیبت میں پھنس گئے کہ چار و نا چار ملنگ بابا کی خدمت میں حاضر ہونا ہی پڑا۔ یہ لوگ اپنی باری کا انتظار کر ہی رہے تھے کہ اچانک ہٹو بچو کا شور اٹھا اور زائرین آنے والوں کو راستہ دینے لگے۔یہ چار پانچ لوگ تھے جنھوں نے ایک نوجوان کو گود میں اٹھا رکھا تھا۔ نوجوان بالکل ہڈی کا پنجر تھا۔ گالوں پچکنے سے چہرے کی ہڈیاں ابھر آئی تھیں۔ آنکھیں ایسی نکلی ہوئی تھیں گویا ابل پڑیں گی۔ داڑھی بڑھی ہوئی بال بکھرے ہوئے۔ اس خستہ حال  انسان کی حالت زندہ بدست مردہ کی سی تھی۔ وہ چند لوگ جن میں عورت اور مرد دونوں شامل تھے بھیڑ کو چیرتے ہوئے اندر داخل ہو گئے۔ کسی نے ان سے یہ نہیں کہا کہ ان کی باری نہیں ہے۔ سب دکھیارے تھے اس لیے دوسروں کا دکھ درد محسوس کرتے تھے۔
	شکنتلا نے پوچھا۔ یہ کیسے دیوانے ہیں انہیں تو چاہئے تھا کہ اُسے کسی اسپتال میں لے جاتے۔ یہ لوگ یہاں لے آئے۔
	اشوک نے کہا۔ اری پگلی یہ لوگ اسے کسی اسپتال ہی سے لا رہے ہیں اور تم چاہتی ہو کہ وہ اسے دوبارہ وہیں لے جائیں۔ دراصل ڈاکٹر نے جواب دے دیا ہو گا لیکن دل کہاں مانتا ہے۔ ملنگ بابا کا دربار امید کا ایسا دیا ہے جو کبھی نہیں بجھتا۔ مصیبت کے مارے جب اندھیروں سے گھبراتے ہیں تو یہاں کا رُخ کرتے ہیں۔ 
	لیکن اب یہاں آنے سے کیا فائدہ؟ شکنتلا بولی۔
	اشوک نے جواب دیا۔ یہ دنیا محض دوکانداری نہیں ہے جہاں صرف فائدے اور نقصان کی بنیاد پر کاروبار چلتا ہو۔ یہاں تو بغیر کسی فائدے کے نقصان اٹھا کر بھی بہت کچھ کیا جاتا ہے۔
	اشوک اور شکنتلا کی بات چل رہی تھی کہ وہ لوگ واپس ہو رہے تھے۔ نوجوان کی جسمانی حالت میں کوئی فرق واقع نہ ہوا تھا لیکن اس کی آنکھوں میں ایک چمک ضرور پیدا ہو گئی تھی۔ زندگی کی چمک۔ ساتھ والوں کی آنکھیں بھی پرنم نہ تھیں کچھ ایک کے چہرے پر تبسم بھی تھا۔
	ارے یہ کیا؟ شکنتلا نے حیرت سے پوچھا؟
	اشوک بولا۔ یہ چمتکار ہے۔ اسی کے لیے لوگ یہاں آتے ہیں۔ میں بھی ایک مرتبہ اسی طرح یہاں لایا گیا تھا اور تم جانتی ہو ملنگ بابا نے مجھ سے کیا کہا تھا۔
	شکنتلا نے کہا۔ میں کیسے جان سکتی ہوں۔ نہ میں تمہارے ساتھ تھی اور نہ تم نے مجھے بتایا۔
	ہاں میں نے تمہیں نہیں بتایا لیکن مجھے آج بھی ان کے الفاظ حرف بہ حرف یاد ہیں۔ انہوں نے کہا تھا بیٹے اشوک موت اور اس کا وقت طے ہے نہ وہ اپنے وقت سے پہلے آئے گی اور نہ وہ اپنے وقت سے ٹلے گی۔ اس لیے موت کا خوف اپنے دل سے نکال دو۔ زندگی اور موت لازم و ملزوم ہیں۔ موت سے ڈر کر جینے والا زندہ لاش ہوتا ہے۔ ان کے الفاظ نے میرا علاج کر دیا اور میں صحت یاب ہو گیا۔
	لیکن تمہیں ہوا کیا تھا؟ شکنتلا نے حیرت و استعجاب سے پوچھا۔
	بہت پرانی بات ہے۔ اشوک بولا۔ اس وقت میں دسویں جماعت کا طالب علم تھا۔میں اچانک بیمار ہوا۔ بخار ایسا کہ آلہ تپش ٹوٹ جائے ہر طرح کا علاج کیا جاتا رہا لیکن بخار میں اضافہ ہی ہوتا رہا۔ یہاں تک کہ اچانک میں بے ہوش ہو گیا۔ اور میں نے ایک نہایت بھیانک خواب دیکھا۔ میں نے دیکھا کہ میرے بدن سے میری آتما باہر آ گئی ہے اور وہ میرے سامنے کھڑی مسکرا رہی ہے۔ اسے دیکھ کر میری آنکھیں پتھرا گئی ہیں۔ میرے عزیز و اقارب میرے آس پاس دہاڑیں مار مار کر رو رہے ہیں۔ وہ میری آنکھیں بند کرتے ہیں اور میں انہیں پھر کھول دیتا ہوں۔ وہ پھر انہیں بند کرتے ہیں لیکن میں اپنی آتما کو دیکھنا چاہتا ہوں اور پھر اسے کھول دیتا ہوں۔ وہ گھبرا جاتے ہیں اور ہمت کر کے پھر پلکوں کو گرا دیتے ہیں۔ 
	اب میں چیخنے لگتا ہوں۔ تم لوگ میری آنکھیں کیوں بند کر رہے ہو؟ یہ دیکھو میری آتما میرے سامنے کھڑی ہے۔ میں مرا نہیں ہوں۔ 
	تمام رشتہ دار خوف سے تھر تھر کانپنے لگتے ہیں۔ کوئی کہتا ہے۔
	 اس کا کریا کرم جلدی کرو اس کے اندر کوئی پریت آتما نے گھر کر لیا ہے۔
	یہ سن کر میرا پارہ چڑھ جاتا اور میں زور زور سے چیخنے لگتا ہوں۔ کیا بکتے ہو؟ کیسی پریت آتما؟ کسی اور کی نہیں یہ تو میری اپنی آتما ہے۔ دیکھو یہ مجھے دیکھ کر مسکرا رہی ہے۔
	یہ سن کر وہ ایک کرم کانڈ کے ماہر کو بلا لاتے ہیں۔ وہ پجاری اس آتما کو بھگانے کے لیے الٹے سیدھے منتر پڑھنے لگتا ہے۔ قریب میں ایک بڑا سا ہون روشن کر دیا جاتا ہے۔ میں اپنے اعزہ سے کہتا ہوں اس پاگل کو یہاں سے لے جاؤ۔ یہ میری آتما کو مجھ سے دور کرنا چاہتا ہے۔ یہ میرا دشمن ہے لیکن میری بات کوئی نہیں سنتا۔ وہ لوگ میری ارتھی لے آتے ہیں۔ مجھے اس سے باندھ دیا جاتا ہے اور میری انتم یاترا شمسان گھاٹ کی جانب چل پڑتی ہے۔
	میں زور زور سے چلّانے لگتا ہوں۔ آپ لوگ مجھے کہاں لیے جا رہے ہیں۔ میں مرا نہیں ہوں میں زندہ ہوں۔ 
	وہ لوگ مجھے لکڑیوں کے ڈھیر پر لٹا دیتے ہیں اور پھر لکڑیوں سے مجھے ڈھانپ دیا جاتا ہے۔ میرا باپ جیسے ہی اس ڈھیر کو آگ لگانے کی خاطر آگے بڑھتا ہے میں زور زور سے چیخنے لگتا ہوں۔ میں مرا نہیں ہوں۔ آپ لوگ مجھے کیوں جلا رہے ہیں ؟ آپ لوگ مجھے کیوں مارنا چاہتے ہیں۔ میں مرنا نہیں چاہتا میں مرنا نہیں چاہتا۔ اسی چیخ و پکار میں میری آنکھ کھل جاتی ہے اور میں اپنے آپ کو ملنگ بابا کے آستانے پر پاتا ہوں۔ میں دیکھتا ہوں کہ میرے وہ عزیز و اقارب جنہیں میں خواب میں اپنی ارتھی کے پاس کھڑا دیکھ رہا تھا میرے آس پاس کھڑے ہیں لیکن نہیں جانتے کہ میں نے کیا خواب دیکھا۔ وہ تو بس یہ سمجھ رہے تھے کہ میں بخار کی شدت سے ہذیانی شور و غل کر رہا ہوں اور میرا آخری وقت قریب آ گیا ہے۔ ایسے میں جب تمام دوائیں بے اثر ہو گئیں اور تمام ڈاکٹر بے بس ہو گئے تو وہ مجھے ملنگ بابا کے پاس لے آئے۔ جیسے ہی میں نے آنکھ کھولی ملنگ بابا نے میری پیشانی پر ہاتھ رکھا اور کہا تم مرتیو نہیں چاہتے اور ہم بھی نہیں چاہتے کہ تم مرو بلکہ ہم میں سے کوئی بھی مرنا نہیں چاہتا۔ لیکن بیٹے ہمارے چاہنے اور نہ چاہنے سے کیا ہوتا ہے۔ ہم سب کی موت کا وقت طے ہے اوراس وقت ہمیں اپنے پرماتما کے شرن میں جانا ہی ہو گا۔ اس تیتھی کو کوئی بھی ٹال نہیں سکتا۔ موت کو زندگی اسی نے دی ہے جو زندگی کو موت دیتا ہے۔ ایک دن ایسا آئے گا جب وہ موت کو موت دے دے گا۔ پرنتو اس دن سے پہلے ہر زندگی کو موت سے گلے ملنا ہی ہو گا۔ ملنگ بابا کا ہر ہر شبد بخار پراکسیر ثابت ہو رہا تھا۔ جب میں (اشوک) یہاں سے لوٹا تو بخار کی کمزوری ضرور باقی تھی لیکن حدت ندارد تھی۔ 
	اشوک کا فسانہ شکنتلا کے لیے ناقابل یقین تھا اس نے بات بدلنے کے لیے کہا۔ وہ دیکھو کرنل گوسوامی بھی اپنی بیوی اور بچہ کے ساتھ آئے ہیں۔ میں ان سے خیریت پوچھ کر آتی ہوں۔ 
	نمسکار بھائی صاحب۔ شکنتلا نے پرنام کیا اور پوچھا۔ آپ لوگ یہاں کیسے؟ سب کچھ ٹھیک تو ہے؟
	کرنل صاحب بولے۔ ویسے تو سب ٹھیک ہے۔ آج منگیش نے انجینئرنگ کا انٹرنس ٹسٹ دیا ہے ہم نے سوچا چلو بابا کے درشن کر لیں اور ان سے پرارتھنا کرنے کی پرارتھنا کریں۔ 
	کیوں پیپر اچھے نہیں گئے کیا؟ شکنتلا نے جھٹ پوچھا۔
	نہیں ایسی بات نہیں۔ مسز گوسوامی بولیں۔ یہ تو کہتا ہے اچھے گئے ہیں لیکن پھر بھی سب کچھ ہمارے ہاتھوں میں نہیں ہے۔ اس کا انجینئرنگ میں داخلہ بہت ضروری ہے ورنہ انرتھ ہو جائے گا۔
	کیسا انرتھ؟ شکنتلا نے سوال کیا۔
	اگر انجینئر نہ بھی بن سکا تو فوجی بن ہی جائے گا۔
	سمسّیا کیا ہے؟
	فوجی تو اسے بننا ہی ہے لیکن ہم چاہتے ہیں کہ انجینئرنگ کے بعد فوج میں جائے تاکہ خطرہ بھی کم اور تنخواہ بھی زیادہ ملے۔
	کیا مطلب؟ شکنتلا نے پوچھا۔ وہ کیسے؟
	شکنتلا اور کرنل کی باتیں سنتے ہوئے اشوک ایک مرتبہ پھر ماضی کے دھندلکے میں کھو گیا۔ جب وہ انجینئرنگ میں زبردست کامیابی کے بعد ملازمت کے لیے در در کی خاک چھان رہا تھا۔ بڑے دنوں میں نوکری کی ایک آدھ کال آتی اور اس میں بھی ناکامی و نامرادی ہاتھ لگتی۔ یہ سلسلہ اس قدر دراز سے دراز تر ہوتا چلا گیا کہ اسے لگنے لگا اب وہ زندگی بھر بے روزگار ہی رہے گا۔اس وقت اسے ملنگ بابا کی یا آ گئی۔ وہ ان کی خدمت میں حاضر ہوا اور اپنی مایوسی کی جھولی پھیلا دی۔ ملنگ بابا نے اس کی کتھا سنی اور کہا۔
	اشوک اس دنیا میں کوئی ہمیشہ کے لیے بے روزگار نہیں رہتا اِلّا یہ کہ وہ خود ایسا چاہے۔ لیکن یاد رکھو سمے سے پہلے اور بھاگیہ سے زیادہ کسی کو نہیں ملتا ہے اور جب سمے آ جاتا ہے تو کسی کو کوئی اس کے بھاگیہ سے ونچت نہیں کر سکتا۔ بابا نے اسے آشیرواد دیا اور ایک نئے حوصلہ اور امنگ کے ساتھ وہ دوبارہ ملازمت کی تلاش میں سرگرداں ہو گیا۔ جلد ہی اسے سرکاری نوکری مل گئی اور اس کی ماں نے اس کے بیاہ کی تیاری شروع کر دی۔ اشوک کلکٹر کے دفتر میں ملازم کیا ہوا کہ اس کی ماں نے اپنے آپ کو کلکٹر کی ماں سمجھنا شروع کر دیا۔ وہ اس کے لیے لڑکی کی تلاش میں اس طرح لگ گئی گویا کلکٹر کے لیے کنیا کا سوئمبر ہو رہا ہے۔ کوئی لڑکی اسے جچتی ہی نہ تھی۔ اسی بیچ اس نے شکنتلا کے گھر رشتہ بھیجا۔ اس سے پہلے کہ وہ شکنتلا کو مسترد کرتی شکنتلا کے گھر والوں نے رشتہ کرنے سے انکار کر دیا۔ اشوک کی ماں کے لیے یہ بڑا عظیم صدمہ تھا اس کی انا کو ٹھیس پہنچی اور اب اس نے ٹھان لی کہ ہر قیمت پر شکنتلا ہی کو اپنی بہو بنائے گی۔ لیکن مسئلہ ناک کا تھا۔ وہ لڑکے کی ماں تھی۔ وہ اپنے مقام سے گرنا بھی نہیں چاہتی تھی۔ اس لیے پریشان ہو کر ملنگ بابا کی خدمت میں حاضر ہوئی۔ ملنگ بابا آئے دن اس طرح کے مسائل سنتے تھے انہوں نے مشورہ دیا۔ تمہاری سمسّیا کا ایک ماتر سمادھان یہ ہے کہ تم اس معاملے کو اشوک کے حوالے کر دووہ شکنتلا کو راضی کر لے گا اور شکنتلا اپنے ماں باپ کو تیار کر لے گی اور اگر وہ بھی نہ مانے تو کیا فرق پڑتا ہے میاں بیوی راضی تو کیا کرے گا قاضی۔ 
	اس کی ماں نے کہا۔ وہ تو ٹھیک ہے لیکن میں یہ اپنے بیٹے سے کیسے کہہ سکتی ہوں ؟ 
	اس مسئلہ کا بھی حل ہے۔ بابا بولے۔ تم اشوک کو میرے پاس بھیج دو میں اسے سمجھا دوں گا۔
	اشوک کی ماں خوشی خو شی واپس آ گئی۔ بابا کا اُپائے کارگر ثابت ہوا۔ اشوک بڑی آسانی سے شکنتلا کو شادی کے لیے راضی کرنے میں کامیاب ہو گیا اور اس کے ماں باپ اپنی بیٹی کی مرضی کے آگے مجبور ہو گئے۔ 
	شادی کے بعد اشوک شکنتلا اور اس کی ماں سب ملنگ بابا کو بھول گئے لیکن جب تین سال گذر جانے کے بعد اولاد سے محرومی رہی تو پہلی بار شکنتلا اشوک کے ساتھ یہاں آئی۔ بابا نے اشوک کو دیکھا تو مسکرائے۔ اشوک تم موت اور زندگی دونوں کو اپنے بس میں کرنا چاہتے ہو۔ تم اپنی مرضی سے مرنا چاہتے ہو اور اپنی مرضی سے اپنے وارث کو جنم دینا چاہتے ہو۔حالانکہ ایسا نہیں ہو سکتا۔ جنم کی تیتھی بھی مرن کے سمے کی بھانتی نردھارت ہے۔ دھیرج رکھو۔ اگر تمہارے کل کو باقی رہنا ہے تو تمہیں سنتان ضرور ہو گی۔
	شکنتلا نے کہا۔ لیکن سوامی جی ایسا کب ہو گا؟
	بابا نے کہا۔ بیٹی یہ بات تو میں بھی اسی طرح نہیں جانتا جیسے تم نہیں جانتے؟
	شکنتلا بولی۔لیکن سوامی آپ ہمارے لیے پرارتھنا تو کر سکتے ہیں۔ 
	کیوں نہیں۔ بابا بولے۔ میں ضرور تمہارے لیے پرارتھنا کروں گا۔ ملنگ بابا کی یقین دہانی اس قدر پراعتماد تھی کہ شکنتلا کو محسوس ہوا وہ گربھ وتی ہو گئی ہے۔ تین ماہ بعد وہ واقعی حاملہ ہو گئی تھی اور ایک سال کے بعد اس نے آکاش کو جنم دیا۔
	اس بات کو پانچ سال کا طویل عرصہ گذر گیا۔ اس بیچ ان لوگوں نے کئی مرتبہ ملنگ بابا سے ملنے کا ارادہ کیا لیکن کبھی اسے عملی جامہ نہیں پہنایا۔کسی نہ کسی بہانے ٹالتے رہے لیکن اب جب کہ انہیں ایسا لگا گویا آکاش باؤلا ہو گیا ہے وہ بے اختیار ملنگ بابا کی سیوا میں حاضر ہو گئے۔
	آکاش کا مسئلہ بڑا گمبھیر تھا۔ اس نے ایک مرتبہ آسمان میں ایک ہوائی جہاز دیکھا اور اپنی بچپن کی جگیا سا میں پوچھا۔ پپّا وہ کیا ہے؟
	اشوک نے کہا بیٹے وہ ہوائی جہاز ہے۔
	اچھا۔ ہوائی جہاز کیا ہوتا ہے؟
	اشوک نے جھنجھلا کر کہا۔ اپنی ممی سے پوچھو۔
	آکاش نے جھٹ شکنتلا سے پوچھا۔ ممی یہ ہوائی جہاز کیا ہوتا ہے؟
	شکنتلا بولی۔ بیٹے یہ سواری ہوتی ہے جو ہوا میں اُڑتی ہے۔ لوگ اس میں بیٹھ کر آسمان کی سیر کرتے ہیں۔ 
	آکاش نے یہ سنا تو اس کی آنکھیں چمک اٹھیں۔ اس نے کہا۔ اچھا ایسا ہے تو مجھے بھی ہوائی جہاز چاہئے۔ میں بھی ہوا میں تیروں گا۔ 
	شکنتلا پریشان ہو گئی۔ اس لیے کہ آکاش نے ضد پکڑ لی تھی۔ اس نے اشوک سے پوچھا۔کیا کیا جائے؟
	اشوک نے کہا۔ اس میں کیا مشکل ہے شام میں اسے بازار لے جائیں گے اور ہوائی جہاز نما غبارہ دلا دیں گے۔ بچہ ہے بہل جائے گا۔
	شکنتلا خوش ہو گئی وہ بولی۔ بھئی انجینئر صاحب کا دماغ ماننا پڑے گا۔
	اشوک بولا۔ زہے نصیب۔ شام میں وہ لوگ بازار گئے اور ہوائی جہاز نما غبارہ آکاش کو دلا دیا۔ آکاش اسے لے کر بہت خوش ہوا۔ لیکن اس کی خوشی دیرپا نہ تھی۔ اس کھلونے کو تھوڑی دیر الٹنے پلٹنے کے بعد اس نے کہا ممی اب میں اس میں بیٹھوں گا اور آکاش کی سیر کروں گا۔
	شکنتلا ہنسی اور کہا۔ ٹھیک ہے بیٹے اب یہ تمہارا ہوائی جہاز ہے تم جو چاہو کرو۔ 
	شکنتلا نے تو مذاق کیا لیکن آکاش سنجیدہ تھا اس نے کہا۔ ممی مجھے اس میں بٹھاؤ مجھے آسمان کی سیر کرنا ہے۔شکنتلا آکاش کے اصرار سے گھبرا گئی۔ اب تک وہ لوگ گھر آ چکے تھے۔ شکنتلا نے آکاش کو لاکھ بہلایا پھسلایا۔ مٹھائی کھلائی، کہانی سنائی، کیا کیا نہ کیا لیکن آکاش مانتا نہ تھا۔ وہ ہر تھوڑی دیر بعد بضد ہو جاتا۔ مجھے اس میں بٹھاؤ میں آکاش کی سیر کروں گا۔ شکنتلا اور اشوک دونوں پریشان ہو گئے۔ آکاش نے کھیل کود بند کر دیا۔ کھانا پینا چھوڑ دیا۔ وہ بس اپنے ہوائی جہاز کو سینے سے لگائے رہتا اور یہی بات دوہرائے جاتا۔ مجھے اپنے جہاز میں بٹھاؤ میں نے آسمان کی سیر کرنی ہے۔ یہ سنتے سنتے اشوک کے کان پک گئے۔ اس نے غصہ سے اس غبارہ نما کھلونے کی ہوا نکال دی۔ اب وہ پچک گیا۔ 
	یہ دیکھتے ہی آکاش دہاڑیں مار مار کر رونے لگا۔میرا جہاز میرا ہوائی جہاز۔ پاپا آپ نے اسے کیا کیا۔ مجھے اپنا جہاز چاہئے۔ مجھے میرا جہاز دے دو۔ اب ایک نیا ہنگامہ کھڑا ہو گیا۔ اشوک نے غصہ میں آ کر آکاش کے ایک تھپڑ جڑ دیا۔ اپنے بیٹے کی یہ حالت دیکھ کر شکنتلا مچل گئی۔ و ہ اشوک سے لڑ پڑی۔آپ نے بچہ کو کیوں مارا؟ آخر بچہ ہے۔ وہ ضد نہ کرے گا تو کیا آپ کریں گے؟ اگر آپ اسے بہلا نہیں سکتے تو چھوڑ دیجئے لیکن اپنا ہاتھ نہ چھوڑئیے وہ آکاش کے آنسو پوچھنے لگی۔ اسے سینے سے لگا لیا۔ آکاش رو رو کر یہی کہتا جاتا تھا۔ میرا ہوائی جہاز میرا ہوائی جہاز مجھے چاہئے۔ 
	شکنتلا نے کہا۔بیٹے رومت میں تجھے تیرا ہوائی جہاز دیتی ہوں۔ یہ کہہ کر اس نے غبارے میں ہوا بھرنی شروع کی جیسے جیسے وہ پھولتا جاتا تھا آکاش کے چہرے پر مسکان پھیلتی جاتی تھی۔وہ خوشی سے تالی بجانے لگا اور اپنی ماں کے ہاتھ سے کھلونا لے کر اپنے سینے سے لگا لیا۔ دیر تک وہ اسے اپنے آپ سے چمٹائے رہا۔ خوش ہوتا رہا اور کھیلتا رہا۔ اشوک اور شکنتلا بھی خوش تھے کہ آکاش بہل گیا لیکن ان کی خوشی بھی دیرپا ثابت نہ ہوئی۔ تھوڑی دیر بعد پھر آکاش کو آسمان میں اُڑنے کا خیال آیا اور اس نے پھر ضد شروع کر دی۔
	وہی پرانی کہانی پھر دوہرائی گئی۔ کھلونے کا پھولنا پچکنا اب معمول بن گیا تھا۔ جب آکاش کی ضد آکاش کو چھونے لگتی تو اس کے ماں باپ کھلونے کی ہوا نکال دیتے جب وہ زار و قطار رونے لگتا تو وہ اس میں ہوا بھر دیتے۔ اس سے وہ کچھ دیر کے لیے بہل جاتا لیکن پھر وہی ضد اور پھر وہی سب کچھ۔ آکاش کا چہرہ مرجھا گیا تھا۔ اس کی صحت متاثر ہو رہی تھی۔ اشوک اور شکنتلا اکلوتے بیٹے کی اس حالت سے فکر مند تھے کہ اچانک شکنتلا کو ملنگ بابا کا خیال آیا اور اشوک کو اپنے آپ پر تاخیر کے لیے غصہ آیا۔
	ملنگ بابا کو اپنے بیٹے کی کیفیت سنانے کے بعد اشوک بولا۔ بابا میں تو اسے سمجھا نہ سکا۔ اب آپ ہی اسے سمجھائیں۔ 
	ملنگ بابا آئے دن اس طرح کے نت نئے مسائل سے الجھتے تھے اور انہیں سلجھاتے بھی تھے۔ آکاش کے بارے میں سن کر انہوں نے اشوک سے کہا۔ تم اسے کس طرح سمجھانے میں کامیاب ہو سکتے تھے جب کہ تم خود ابھی تک اس بات کو سمجھے نہیں ہو۔ 
	اشوک بابا کے اس رد عمل سے چونک پڑا اس نے کہا۔آپ کیسی بات کرتے ہیں کیا آکاش میں اور مجھ میں کوئی فرق نہیں ہے۔
	بابا بولے۔ ہاں میں تو یہی سمجھتا ہوں۔ یہ سنسار اس کھلونے کی طرح کھیلنے کی چیز ہے۔مایا ہے بس مایا اس کی واستو کتا حقیقت یہی ہے۔تم اسی کو سب کچھ سمجھتے ہو تم اسی کے سہارے پرلوک کی سیر کرنا چاہتے ہو حالانکہ یہ اسمبھو ہے۔ جب تمہاری ضد بہت بڑھ جاتی ہے تو اس کی ہوا نکل جاتی اور تم مایوس ہو جاتے ہو لیکن پھر اس میں ہوا بھرنے لگتی ہے اور تم بھی پھولے نہیں سماتے۔ وقتی طور سے اس میں ہوا کا بھرنا تمہیں مسرور کر دیتا ہے لیکن پھر جب تم اس کے ذریعہ سے سورگ کا آنند پراپت کرنے کی ضد پکڑتے ہو تو اداس ہو جاتے ہو اور تمہاری ہٹ دھرمی کے باعث اس کی ہوا پھر نکال دی جاتی ہے۔ تمہاری اداسی کو دور کرنے کی خاطر اس میں ہوا بھر دی جاتی ہے۔ اسی طرح تم اپنا جیون ویتیت کر رہے ہو۔ چند لمحوں کے لیے خوش ہوتے ہو اور اکثر اداس رہتے ہو۔ تم نے اس لوک کو حقیقت سمجھ لیا اور اس کے ذریعہ پرلوک کا سنتوش چاہتے ہو جو ایسا ہی ہے جیسے کھلونے سے بچہ کا آسمان کی سیر کرنا چاہنا۔
	اشوک نے کہا۔ آپ نے صحیح فرمایا۔ اب میں کیا کروں ؟
	تم اس لوک اور پرلوک میں فرق کرو۔ اس لوک سے کھیلو لیکن اسے اپنے جیون کا ادیشہ نہ بناؤ۔ اگر تم نے ایسانہ کیا تو آکاش کی طرح روتے رہو گے۔ جیون کا ادیشہ تو پرلوک کی موکش ہے وہی اصلی واہن ہے جس میں بیٹھ کر منوشیہ اپنے جیون کو سپھل بنا سکتا ہے۔
	میں سمجھ گیا سوامی جی لیکن اب آکاش کا کیا جائے؟
	آکاش کے لیے یہ کرو کہ اس کے غبارے میں اس قدر ہوا بھرو کہ وہ پھٹ جائے۔
	اس سے کیا ہو گا؟ وہ اور روئے گا۔
	ہاں روئے گا تو ضرور لیکن یہ جان جائے گا کہ غبارہ کی اصلیت کیا ہے؟ یہ پھٹ تو سکتا ہے لیکن آسمان کی سیر نہیں کرا سکتا۔پہلے غبارے کے پھوٹ جانے کے بعد اسے دوسرا غبارے والا ہوائی جہاز دلا دو۔ اب وہ اس سے اُڑنے کی ضد نہیں کرے گا۔ اس لیے کہ وہ جان جائے گا اس ضد کے نتیجہ میں غبارہ پھٹ جاتا ہے۔ اب وہ اس سے کھیلے گا اور خوش رہے گا۔ اس دنیا میں انسان کی خوشی یا ناراضگی اس کی اپنی توقعات پر منحصر ہوتی ہیں۔ جب بھی وہ کسی شئے سے بے جا توقع وابستہ کر لے تو وہ توقع اسے غم زدہ کر دیتی ہے۔ اس لیے اگر تم اور آکاش خوش رہنا چاہتے ہو تو سنسار اور غبارے سے ان کی حسبِ حیثیت اپیکشا کرو ورنہ تم دونوں ہمیشہ روتے ہی رہو گے۔
٭٭٭





بندیا


	گجرات اور مدھیہ پردیش کا سرحدی علاقہ قبائلی آبادی پر مشتمل ہے۔ یہ لوگ آج بھی شہری زندگی سے الگ تھلگ اپنے طریقے سے زندگی گذار رہے ہیں۔ یہ نہ ہندو ہیں نہ مسلم نہ سکھ نہ عیسائی۔ ان کے اپنے رسوم رواج ہیں جن کی بنیاد پر ان کا معاشرتی نظام قائم ہے۔ یہاں شادی کا طریقہ بھی دوسرے طور طریقوں کی طرح بالکل اچھوتا ہے۔ ہر سال ساون کے مہینہ میں ایک میلہ لگتا ہے جسے شادی کا میلہ کہا جاتا ہے۔ دور دراز سے شادی کے خواہش مند لڑکے لڑکیاں اس میلے میں آتے ہیں اور اپنا جوڑا پسند کر کے اپنی ازدواجی زندگی کا آغاز کرتے ہیں لیکن عجیب و غریب طریقہ سے۔ شادی شدہ عورتیں اس میلے میں بندیا لگا کر آتی ہیں۔ ان کی طرف کوئی نظر اٹھا کر نہیں دیکھتا۔ جس کنواری لڑکی کو شادی نہیں کرنی ہوتی وہ اس میلے میں نہیں آتی۔ اس لیے جو لڑکیاں میلے میں بغیر بندیا کے ہوتی ہیں ان کے بارے میں یہ بات مان لی جاتی ہے کہ یہ شادی کی خواہش مند ہیں۔ اب جس کسی لڑکے کو ان میں سے کوئی پسند آ جائے وہ اسے بھرے مجمع سے اٹھا کر لے جاتا ہے۔ یہ گویا اس بات کا اعلان ہو گیا کہ ان کی شادی ہو گئی۔ قبیلہ والے انہیں میاں بیوی کے طور پر تسلیم کر لیتے ہیں۔ 
	اس طرح ہر سال سیکڑوں شادیاں ایک ہی وقت میں ہو جاتیں۔ اس سال جمنا بائی بھی میلے میں آئی تھی وہ چونکہ کنواری تھی اس لیے اس کے ماتھے پر بندیا نہیں تھی لیکن اس کے باوجود اس کا چہرہ چاند سا جگمگا رہا تھا۔ کئی نوجوانوں نے اس کے قریب آنے کی کوشش کی لیکن اس نے منہ پھیر لیا جو اس بات کا اظہار تھا گویا اسے رشتہ منظور نہیں ہے۔ لیکن جب درجن کو اس نے دیکھا تو دیکھتی ہی رہ گئی۔ درجن کو بھی گویا اپنی منزل مل گئی اور وہ اسے اٹھا کر میلے سے لے گیا۔ درجن سنگھ اور جمنا بائی جب اپنے خاندان میں پہنچے تو سب لوگ بہت خوش ہوئے۔درجن میلے سے چاند کا ٹکڑا جو اٹھا لایا تھا۔ درجن اور جمنا کی پسند ناپسند ایک دوسرے سے بالکل موافق تھی۔ دونوں مزاجاً ایک دوسرے سے ہم آہنگ تھے اور آپس میں بہت محبت کرتے تھے۔ قبیلہ کے دوسرے لوگ اس جوڑے کو رشک و حسد سے دیکھتے تھے۔
	اگلے سال جمنا بائی پھر شادی کے میلے میں گئی لیکن اس بار اس کے ماتھے پر بندیا سجی ہوئی تھی۔ وہ اپنی ضرورت اور اپنے شوہر کی پسند کا سامان خرید رہی تھی لیکن گنگا سنگھ کی نگاہیں مسلسل اس کا پیچھا کر رہی تھیں۔ میلے میں بہت ساری خوبصورت کنواری لڑکیاں تھیں لیکن گنگا سنگھ نے کسی طرف نہ دیکھا تھا اور دیکھ اسے رہا تھا جسے نہ دیکھنا چاہئے تھا۔ وہ جہاں بھی جاتی وہ اس کے آس پاس ہوتا۔ دراصل وہ جمنا بائی کو اٹھا کر لے جانے کا موقع تلاش کر رہا تھا لیکن جمنا اس سے بے خبر تھی۔ میلے کا تیسرا اور آخری دن تھا بھیڑ بھاڑ چھٹ چکی تھی۔ اکثر شادیاں ہو چکی تھیں۔ دُکانوں کا زیادہ تر مال بک چکا تھا بلکہ دوپہر کے بعد چل چلاؤ کا ماحول تھا۔ جمنا اور درجن بھی واپسی کی تیاری کر رہے تھے کہ اچانک گھوڑوں کی ٹاپوں سے میدان گونج اٹھا۔ دُکان والے ڈر گئے۔ اس بار ڈاکو ایسے موقع پر آئے کہ ان کے پاس خوب جمع پونجی تھی جو انہوں نے پچھلے دو دنوں میں کمائی تھی۔ وہ تو نہ صرف مال اور منافع بلکہ اپنی محنت کے بھی لٹ جانے کا انتظار کر رہے تھے لیکن ان کی حیرت کی انتہا نہ رہی جب کوئی ڈاکو ان کی دوکان کے قریب نہ آیا بس ایک نقاب پوش جمنا بائی کے پاس آیا اسے اٹھا کر اپنے گھوڑے پر بٹھایا۔ ہوا میں ایک ساتھ کئی فائر ہوئے۔ فضا میں ایک نعرہ بلند ہوا۔ سردار گنگا سنگھ کی جئے اور یہ جا وہ جا۔ دیکھتے دیکھتے ڈاکو ہوا ہو گئے۔ پولس کے پہنچنے تک گرد بیٹھ چکی تھی۔
	دُکان والے خوشی منا رہے تھے اور درجن سنگھ اپنی قسمت کو رو رہا تھا۔ تھوڑی دیر بعد ایک قبائلی بزرگ آگے بڑھا اس نے درجن کو پانی پلایا اور کہا۔
	درجن جو کچھ تیرے ساتھ ہوا اس کا ہمیں دکھ ہے اگر کوئی اور ایسا کرتا تو ہم اپنی پنچایت میں اسے سزا دیتے لیکن ڈاکو گنگا سنگھ پر کس کا زور چلے ہے۔ اس سے تو پولس اور حکومت بھی کانپتی ہے۔خیر اب تو جمنا کو بھول جا۔ اب بھی میلے میں کچھ لڑکیاں باقی ہیں ان میں سے کسی کے ساتھ بیاہ رچا لے اور نئی زندگی شروع کر۔
	درجن بولا۔ یہ مجھ سے نہیں ہو گا میں جمنا کے بغیر جی نہیں سکتا۔ میں اس کے سوا کسی کے ساتھ زندگی نہیں گذار سکتا۔ 
	بیٹے تیری بات ٹھیک ہے۔ وہ تیری دھرم پتنی تھی لیکن اب نا ہے۔ سمجھ لے کہ وہ پرلوک سدھار گئی اب اسے بھولنے کے سوا تیرے پاس کوئی چارۂ کار نہیں ہے۔ سمجھ لے کہ وہ مر گئی۔
	بابا اگر ایسا ہے تو سمجھ لو کے میں بھی مر گیا۔ کر دو میرا انتم سنسکار۔ میں جمنا کے بغیر جی نہیں سکتا۔ خاندان والوں کے ساتھ ماتم زدہ درجن جمنا کا غم لیے واپس آ گیا۔

	جمنا گھوڑے پر گنگا سنگھ سے چھپٹتی الجھتی رہی لیکن اس کی گرفت سے آزاد نہ ہو سکی۔ طویل گھاٹیوں سے گذر کر جب گنگا سنگھ اور اس کا ٹولہ اپنے اڈے پر پہنچا تبھی اسے آزادی نصیب ہوئی۔گنگا سنگھ نے جیسے ہی اسے نیچے اتارا وہ برس پڑی۔ گنگا سنگھ کو کوسنے لگی۔ برا بھلا کہنے لگی۔ 
	گنگا کے نائب گوگا سنگھ نے جمنا کو ڈانٹا۔بدتمیز لڑکی سردار کو گالیاں دیتی ہے۔ چپ نہیں تو تیری زبان کھینچ لوں گا۔
	وہ تڑک کر بولی۔ زبان کیوں پران (جان) کھینچ لو مجھے مار ڈالو اس ذلت کی زندگی سے مرنا بہتر ہے۔
	گوگا غصہ سے جمنا کی طرف بڑھا لیکن گنگا نے منع کر دیا۔ وہ بولا۔ سنو میرے ساتھیو۔ جمنا ہماری مہمان ہے یہ جو چاہے کرے ہم اس کا جواب نہیں دیں گے۔ ہم اس کا بھرپور خیال رکھیں گے یہ میرا حکم ہے۔
	جمنا بولی۔ اتنا ہی خیال ہے تو مجھے لایا کیوں ؟ مجھے اپنے درجن کے پاس چھوڑ آ۔
	نہیں جمنا یہ نہ ہو گا۔ اس کے سوا تو جو چاہے مانگ تیرے سامنے حاضر کر دیا جائے گا۔
	مجھے کچھ نہیں چاہئے۔ جمنا نے چلّا کر کہا۔ مجھے تو صرف اور صرف درجن چاہئے۔
	ساتھیواسے چھوڑ دو۔ یہ غصہ میں ہے اس کی نگرانی کرو اور اس کی خدمت بجا لاؤ۔ جاؤ تم سب آرام کر سکتے ہو۔ گنگا سنگھ کا ٹولہ اپنی اپنی آرام گاہ کی طرف چلا گیا۔
	دوسرے دن گنگا اور جمنا تنہا ساتھ تھے۔ گنگا نے جمنا سے کہا۔ دیکھو جمنا اس طرح پچھلے سال شادی کے میلے سے درجن تمہیں اٹھا کر لے گیا تھا۔اسی طرح اس سال میں تمہیں اٹھا کر لے آیا ہوں اس لیے جس طرح تم اس کی بیوی بن گئی تھیں اسی طرح اب میری بیوی بن گئی ہو۔
	جمنا نے کہا۔ نہیں گنگا ایسا نہیں ہے۔ گذشتہ سال میں کسی کی بیوی نہیں تھی۔ اس لیے میں درجن کی بیوی بن گئی۔ لیکن اس سال میں درجن کی بیوی تھی اور اس کی بیوی ہوتے ہوئے میں کسی اور سے کیسے بیاہ کر سکتی ہوں۔ 
	کیوں نہیں کر سکتی۔ سمجھ لو کہ اس سے تمہارا بیاہ ٹوٹ گیا۔
	نہیں گنگا نہیں۔ بیاہ اس نے میرے ساتھ کیا تھا اس لیے بیاہ وہی توڑ سکتا ہے۔میں کیسے توڑ سکتی ہوں۔ جب تک وہ مجھے اس بندھن سے آزاد نہ کر دے میں آزاد نہیں ہو سکتی۔
	میں توڑ دوں گا اس بندھن کو۔ گنگا سنگھ نے زور دے کر کہا۔
	گنگا جس بندھن کو تم نے باندھا نہیں اس بندھن کو تم کیسے توڑ سکتے ہو۔ اسے تو وہی توڑ سکتا ہے اور تم جانتے ہو وہ کبھی نہ توڑے گا۔
	کیوں ؟ گنگا نے پوچھا۔
	اس لیے کہ وہ مجھ سے محبت کرتا ہے۔
	یہ تمہیں کیسے معلوم؟گنگا نے پوچھا۔
	جمنا بولی۔ مجھے معلوم ہے کیوں کہ میں بھی اس سے بہت محبت کرتی ہوں۔ 
	لیکن جمنا میں بھی تو تم سے بہت محبت کرتا ہوں۔ تم میرے بارے میں نہیں سوچتیں۔ 
	نہیں تم مجھ سے محبت نہیں کرتے تم مجھے زبردستی اٹھا لائے ہو۔ میں تم سے محبت نہیں کرتی میں تم سے نفرت کرتی ہوں۔ یہ کہہ کر جمنا اٹھ کر وہاں سے چلی گئی۔
	ایک ہفتہ کے بعد ایک مرتبہ پھر گنگا اور جمنا ایک ساتھ بیٹھے تو گنگا نے پوچھا۔ جمنا کیا اب بھی تم درجن سے محبت کرتی ہو۔
	جمنا بولی۔ ہاں کیوں نہیں بلکہ جب سے تم نے ہمیں جدا کر دیا ہے میں پہلے سے زیادہ اس سے محبت کرتی ہوں۔ 
	اور کیا تم اب بھی مجھ سے نفرت کرتی ہو؟
	میں اب تم سے نفرت… یہاں آ کر جمنا رک گئی پھر اس نے کہا۔ نہیں کرتی۔
	جمنا تم رک کیوں گئی تھیں۔ 
	دراصل میں سوچ رہی تھی۔
	مطلب یہ تمہارا سوچا سمجھا فیصلہ ہے۔
	یہی سمجھ لو۔
	ٹھیک ہے تمہیں یہاں کوئی تکلیف تو نہیں ہے۔
	نہیں۔ 
	کسی چیز کی کمی تو نہیں محسوس ہوتی؟
	ہوتی ہے۔
	میں سمجھ گیا لیکن میں نہیں پوچھوں گا اس لیے کہ وہ چیز میں لا کر دے نہیں سکتا۔
	جمنا نے ہنس کر کہا۔ سمجھدار آدمی ہو۔
	گنگا بولا۔ شکریہ!
	ایک مہینہ کے بعد گنگا اور جمنا پھر ایک بار ساتھ ملے۔ گوگا سنگھ یہ دیکھ کر خوش ہوا اور فوراً شراب کی نئی بوتل کھول کر وہاں لے آیا۔
	گنگا نے اسے دیکھا اور کہا۔ یہ کیا لے جاؤ۔ دیکھ نہیں رہے ہو کون بیٹھا ہے؟
	معاف کرنا سرکار۔ گوگا بولا۔ میں چائے لے کر آتا ہوں۔ 
	جمنا نے پوچھا۔ گنگا تم میرا اتنا خیال کیوں کرتے ہو؟
	کیونکہ… کیونکہ تم جانتی ہو جمنا پھر بھی پوچھ رہی ہو۔
	جمنا بولی۔ خیر تم سے ایک بات پوچھنا چاہتی ہوں۔ 
	گنگا نے کہا۔ پوچھو۔
	تمہیں تو معلوم ہے اس سال شادی کے میلے میں بہت ساری خوبصورت کنواری لڑکیاں آئیں تھیں۔ 
	نہیں میں نہیں جانتا۔ گنگا نے جواب دیا۔
	ہاں دراصل تم سے تاخیر ہو گئی۔ تم تیسرے دن آئے جب وہ سب بیاہی جا چکی تھیں۔ 
	نہیں جمنا میں تیسرے دن نہیں آیا میں تو پہلے دن سے وہاں تھا۔ 
	اچھا تم پہلے دن سے وہاں تھے اور تم نے کسی کو نہیں دیکھا۔
	نہیں جمنا میں نے کسی کو نہیں دیکھا۔ میں تو بس تمہیں دیکھتا رہا۔ میلے میں پہلے دن سے تم کب کب کہاں کہاں گئیں یہ مجھ سے پوچھ لو میں ہر جگہ تمہارے آس پاس تھا۔
	اچھا مجھے تو پتہ ہی نہ چلا۔
	تمہیں کیسے پتہ چلتا تم تو اپنے آپ میں اور درجن میں کھوئی ہوئی تھیں۔ 
	لیکن تم میرے آس پاس کیا کرتے رہے؟
	میں دراصل موقع کی تلاش میں تھا۔
	موقع کی تلاش میں ؟ کیسا موقع؟
	تمہیں اپنے ساتھ یہاں لے آنے کا موقع تلاش کر رہا تھا۔ 
	لیکن تم نے میرے ماتھے پر بندیا نہیں دیکھی۔
	دیکھی تھی۔
	پھر بھی؟
	ہاں پھر بھی۔
	کیوں ؟
	کیوں کا جواب تم جانتی ہو؟
	لیکن یہ سب ہوا کیسے؟
	جمنا میں تمہیں بتلانا چاہتا تھا لیکن پھر اس لیے نہیں بتایا کہ شاید تم یقین نہ کرو یا کان ہی نہ دھرو۔ لیکن اب جب تم نے خود ہی پوچھا ہے تو شاید ہو سکتا ہے اب بھی وشواس نہ کرو لیکن سنو گی تو سہی۔
	جی ہاں سنوں گی اور ہوسکتا ہے وشواس بھی کر لوں۔ 
	خیر اس سے فرق نہیں پڑتا۔ اس کہانی کی شروعات گذشتہ سال ہوئی۔ ہم لوگ میلے میں لوٹ پاٹ کرنے کے لیے گئے ہوئے تھے وہاں میری نظر تم پر پڑ گئی۔ تمہارے ماتھے پر اس وقت بندیا نہیں تھی۔ تمہیں دیکھنے کے بعد میں نے ارادہ کر لیا کہ تمہارے ماتھے پر میں بندیا سجاؤں گا۔ میں وہاں سے گہنوں کی دوکان پر گیا اور بندیا خریدی جب میں بندیا لے کر واپس آیا اس وقت درجن تمہیں اپنے ساتھ لے جا چکا تھا۔میں تمہارے بغیر تمہاری بندیا کو اپنے ساتھ لیے واپس آ گیا اور میلہ کا انتظار کرنے لگا۔ یہ ایک سال ایک صدی سے زیادہ طویل تھا لیکن وہ گذر گیا۔ ساون کی چندرماسی میں میں نے بندیا کو اپنی جیب میں رکھا اور میلے چلا گیا وہاں میرا مقصد صرف تمہیں تلاش کرنا تھا۔ میں نہیں جانتا تھا کہ تم میلے میں آؤ گی یا نہیں لیکن خوش قسمتی سے پہلے ہی دن شام میں میں نے تمہیں دیکھ لیا اور اس کے بعد میں اس تاک میں رہا کہ موقع پاتے ہی تمہیں اغوا کر لوں۔ آخری دن تک جب چپکے سے تمہیں اٹھا کر لانے کا موقع نہ ملا تو بالآخر کھلے عام اٹھا کر لانا پڑا۔ پہلے تو میں نے سوچا زبردستی تمہارے ماتھے سے درجن کی بندیا نکال کر پھینک دوں اور اپنی بندیا سجادوں لیکن مجھے لگا ایسا کرنے پر تم ناراض ہو جاؤ گی۔ میں تمہیں ناراض نہ کر سکتا تھا۔ اس لیے میں نے اپنا ارادہ ترک کر دیا۔
	اب کیا ارادہ ہے؟ جمنا نے پوچھا۔
	اب تمنا یہی ہے کہ تم خود درجن کی بندیا اپنے ماتھے سے نکال کر پھینک دو تب میں اپنی بندیا تمہارے ماتھے پر سجادوں گا۔
	جمنا نے پوچھا۔ ورنہ؟
	ورنہ اپنی بندیا کو چمبل ندی میں پھینک دوں گا اور خود بھی اس میں کود جاؤں گا۔
	جمنا گنگا کے اس جملے سے کانپ اٹھی۔اسے نہیں پتہ تھا کہ ڈاکو گنگا سنگھ جس کے نام سے سارا علاقہ کانپتا ہے اپنے اندر اس قدر لطیف جذبات رکھتا ہے۔ وہ اس ایک ماہ میں اس کے اخلاق سے کافی متاثر ہوئی تھی۔گنگا ہمیشہ ہی جمنا سے دور رہا۔ اس نے کبھی بھی اس کے ساتھ کوئی زور زبردستی نہیں کی۔
	تین ماہ بعد گنگا اور جمنا ایک ساتھ بیٹھے تھے کہ جمنا نے پوچھا۔ گنگا تم ایک روز بندیا کا ذکر کر رہے تھے جو تم نے میرے لیے خریدی تھی۔
	ہاں جمنا ہم ڈاکو لوگ چیزیں خریدتے نہیں چھین لیتے ہیں لیکن وہ بندیا میں نے اپنی عادت کے خلاف خریدی تھی۔
	وہ تو میں جانتی ہوں جیسے تم نے مجھے درجن سے چھین لیا۔ خیر کیا تم مجھے وہ بندیا نہیں دکھاؤ گے؟
	ضرور دکھاؤں گا۔ جب خریدی تمہارے لیے ہے تو کیوں نہیں دکھاؤں گا۔ گنگا نے اپنے بٹوے میں ہاتھ ڈالا تو وہ کارتوس سے بھرا ہوا تھا۔
	جمنا نے کہا۔ یہ کارتوس تو میرے لیے نہیں خریدے؟ اگر اس کو میرے ماتھے پر سجا دیا تو ہو گیا سمجھو کام۔
	نہیں جمنا بات دراصل یہ ہے کارتوس کئی ہیں اور بندیا صرف ایک ہے۔ اس لیے ملنے میں مشکل ہو رہی ہے۔ یہ کہتے ہوئے گنگا نے بندیا نکال لی۔
	جمنا بندیا کو دیکھ کر دنگ رہ گئی بولی۔ یہ تو بہت ہی قیمتی ہیروں سے جڑی بندیا ہے۔
	ہاں ہاں جس کے لیے خریدی تھی وہ بھی تو قیمتی ہے۔
	لیکن اس کی کیا قیمت ادا کی تم نے؟
	گنگا بولا۔ میں نے یہ بندیا دوسوروپیہ میں خریدی ہے۔
	کیا بات کرتے ہو۔ درجن نے معمولی سی بندیا پانچ سو میں خریدی اور تمہیں یہ بندیا دوسو میں مل گئی۔
	گنگا بولا۔ یہی تو فرق ہے درجن میں اور ہم میں۔ دراصل بات یہ ہے کہ ہم تو گہنے اونے پونے دام میں بیچتے ہیں اسی لیے ہمیں اس کی وہی قیمت معلوم ہوتی ہے میں نے اس بندیا کی ویسی ہی قیمت لگائی جیسی مہاجن ہم سے خریدتے ہوئے لگاتے ہیں۔ جب مہاجن نے ڈانٹ کر کہا تھا۔ دماغ خراب ہے کیا تو گوگا آہستہ سے بولا۔ گنگا سنگھ کی جئے ہو۔ مہاجن ہم دونوں کو پہچان گیا۔ اس کے پیروں تلے سے زمین کھسک گئی۔ اس نے کہا۔ یونہی لے لیجئے سرکار۔ میں نے کہا۔ نہیں صحیح قیمت بتاؤ۔ اس نے کہا دوسو روپئے۔ میں نے ادا کئے اور بندیا میری ہو گئی۔
	تو یہ کہو کہ ڈرا دھمکا کر لے لی تم نے یہ بندیا۔
	نہیں جمنا دراصل ہمارا اور مہاجن کا خاص رشتہ ہے۔ وہ بھی ہم سے کم دام میں مال لیتا ہے اور ہم بھی اس سے اسی دام میں۔ 
	جمنا نے بات کاٹتے ہوئے کہا۔ اسی دام میں۔ 
	نہیں۔ گنگا بولا۔ اسی دام میں نہیں مفت میں۔ لیکن مفت میں بھی نہیں اپنی جان کی بازی لگا کر لیتے ہیں۔ 
	جمنا بولی۔ لیکن یہ غلط کام ہے۔
	گنگا نے جواب دیا۔ ہاں جمنا تمہیں تو ہماری ہر چیز غلط لگتی ہے۔ دراصل مجھ سے بنیادی غلطی یہ ہوئی کہ میں بندیا کے چکر میں پڑ گیا۔ نہ میں بندیا خریدنے جاتا اور نہ درجن تمہیں اپنی بندیا پہنا کر ساتھ لے جاتا۔ 
	لیکن قسمت کے لکھے کو کون بدل سکتا ہے۔ جمنا بولی۔
	گنگا نے کہا۔ تم بدل سکتی ہو۔ تم ہماری قسمت بدل سکتی ہو جمنا۔
	جمنا نے کہا۔ نہیں گنگا میں تمہاری قسمت کیسے بدل سکتی ہوں جب کہ میرے ماتھے پر درجن کی بندیا ہے اب وہ میرا مقدر ہے۔ وہ بدل سکتا ہے میں نہیں بدل سکتی۔
	گنگا بولا۔ کون بدلے گا یہ تو وقت ہی بتلائے گا۔ میں انتظار کروں گا۔ وقت کے بدلنے کا؟ 
	کب تک انتظار کرو گے گنگا؟
	میں اس سال شادی کے میلے تک انتظار کروں گا۔ اگر اس وقت تک تم نے اپنے ماتھے سے درجن کی بندیا نکال پھینکی تو ٹھیک ہے۔
	اور اگر نہیں تو؟ جمنا نے پوچھا۔
	اگر نہیں تو میں اپنی شکست تسلیم کر لوں گا۔ تمہیں اس میلے میں درجن کے پاس چھوڑ آؤں گا لیکن مجھے یقین ہے کہ وہ وقت نہیں آئے گا۔
	جمنا نے سوچا ٹھیک ہے جس طرح ایک سال گنگا نے انتظار کیا وہ بھی انتظار کرے گی اور درجن بھی انتظار کرے اس کے بعد وہ دوبارہ اپنی گھر گرہستی ساتھ چلائیں گے۔
	چھ ماہ کے بعد ایک دن گنگا اور جمنا ایک ساتھ بیٹھے تھے۔ جمنا نے پوچھا۔
	گنگا ایک بات بتاؤ تم مزاجاً ڈاکو نہیں لگتے۔ پھر تم نے ڈکیتی کا پیشہ کیسے اپنا لیا۔
	گنگا نے کہا۔ تم نے بہت پرانی کہانی چھیڑ دی۔ تم تو جانتی ہی ہو ہمارے علاقے میں لوٹ مار کا عام رواج ہے۔ اسی لیے رات کے وقت اس علاقے سے سواریاں اکیلے اکیلے نہیں بلکہ کارواں کی شکل میں جاتی ہیں اور اس کے باوجود انہیں لوٹ لیا جاتا ہے۔
	ہاں ہاں وہ تو ٹھیک ہے لیکن سب لوٹ مار کرنے والے ڈاکو تو نہیں بن جاتے؟ جمنا نے پوچھا۔
	تم نے صحیح کہا جمنا۔ میں بھی ڈاکو نہیں تھا لیکن لوٹ مار کیا کرتا تھا اور تم یہ بھی جانتی ہو کہ ہم لوگ لوٹنے کے بعد لٹنے والوں کی پٹائی بھی کرتے ہیں۔ 
	ہاں ہاں جانتی ہوں۔ جمنا بولی۔ تاکہ تمہیں ایسا لگے گویا بڑی محنت کر کے یہ کمائی حاصل کی ہے۔
	گنگا بولا۔ بالکل صحیح۔ میں بھی اسی طرح ایک بار ایک لٹنے والے کو پیٹ رہا تھا کہ اچانک وہ ٹھنڈا ہو گیا۔ اس کا دیہانت ہو گیا۔
	کیا؟ جمنا سے تعجب سے پوچھا۔ تم نے اسے مار ڈالا؟
	نہیں جمنا میرا ارادہ اسے جان سے مارنے کا ہرگز نہیں تھا۔ اب تم تو جانتی ہو ہر ایک کی موت کا وقت مقرر ہوتا ہے۔ اتفاق اس آدمی کی موت کا وقت اس وقت آ گیا جب وہ مجھ سے مار کھا رہا تھا۔
	پھر؟ جمنا نے پوچھا۔
	پھر کیا تھا جیسے ہی ہم لوگوں کو پتہ چلا وہ مر چکا ہے ہم لوگ گھبرا گئے اور لوٹ کا مال چھوڑ کر وہاں سے فرار ہو گئے۔ میں اپنے دور کے رشتہ دار کے یہاں جا کر چھپ گیا لیکن وہ شاید کوئی بہت بڑا آدمی تھا۔ پولس نے سارے علاقہ کی زبردست چھان بین شروع کر دی اور مجھے یقین ہو گیا کہ جلد ہی مجھے پھانسی ہو جائے گی۔ ہماری طرف سے کوئی وکیل بھی تو نہیں کھڑا ہوتا جو سیاہ کو سفید بنا کر ہمیں چھڑا لے۔
	پھر؟جمنا کی دلچسپی بڑھتی جا رہی تھی۔
	پھر کیا۔ میں بھاگ کر چنبل کی گھاٹی میں آ گیا جہاں میری ملاقات گوگا سنگھ کے باپ جگا ڈاکو سے ہو گئی۔ اس نے مجھے اپنے یہاں پناہ دی۔ میں اس کی ٹولی میں شامل ہو گیا اور ڈکیتیوں میں حصہ لینے لگا۔ اپنی دلیری اور نشانے بازی کے باعث میں بہت جلد اپنے گروہ میں معروف ہو گیا۔ ایک مرتبہ پولس مڈبھیڑ میں جگا کو گولی لگی اور وہ مارا گیا۔ اس کے بعد گروہ کا سردار کون بنے اس پر اختلاف ہو گیا۔ کچھ لوگ گوگا سنگھ کو سردار بنانا چاہتے تھے تاکہ اس کی آڑ میں اپنی سرداری چلا سکیں لیکن گوگا سنگھ اس وقت بہت چھوٹا تھا اس کی عمر تقریباً گیارہ سال تھی۔ اس کی ماں نے اعلان کر دیا گوگا سنگھ ابھی سرداری کا بوجھ نہیں سنبھال سکتا اور اپنی رائے میرے حق میں دے دی۔ اس اعلان کے ساتھ ہی میرے حامیوں نے فضا میں گولیاں چلانی شروع کر دیں۔ چاروں طرف گنگا سنگھ زندہ باد کے نعرے لگنے لگے اور میں سردار بن گیا۔
	لیکن اب تو گوگا سنگھ جوان ہو گیا ہے۔ اب تو وہ سردار بن سکتا ہے۔ جمنا نے پوچھا۔
	ہاں جمنا تم صحیح کہتی ہو۔ لیکن ڈاکوؤں کے بھی اپنے اصول ہوتے ہیں۔ یہاں غداری نہیں ہوتی۔ سردار معزول نہیں کئے جاتے یا تو وہ مارے جاتے ہیں یا خود اپنی مرضی سے کسی کے حق میں دستبردار ہو جاتے ہیں اور جس کے حق میں دستبردار ہوتے ہیں وہ سردار ہوتا ہے۔ گوگا مجھے باپ کی طرح مانتا ہے میرا بے حد احترام کرتا ہے۔
	اچھا! جمنا نے پوچھا۔ تو کیوں نہیں تم اس کے حق میں دستبردار ہو جاتے اور اسے سردار بنا دیتے۔ جمنا نے مشورہ دیا۔
	جمنا کے منہ سے یہ بات سن کر گنگا کو تعجب ہوا تھا۔ اس لیے کہ اس سے پہلے اس سے ایسا کسی نے نہ کہا تھا۔
	گنگا بولا۔ مشورہ تو اچھا ہے لیکن اس کے حق میں دستبردار ہو کر میں کیا کروں گا؟ چنبل کی گھاٹی سے باہر موت کا پھندا میرا انتظار کر رہا ہے۔ اب مجھے یہیں جینا ہے اور یہیں مرنا ہے۔
	لیکن میں … میں۔ جمنا نے کہا۔
	گنگا نے پوچھا۔ کیا؟
	جمنا نے کہا۔ کچھ نہیں۔ دراصل اس کی زبان سے یہ جملہ ادا ہوا چاہتا تھا کہ ’’میں یہاں نہیں رہ سکتی اوراسے وہاں کیوں رہنا تھا۔‘‘ وہ تو ساون کی پورنیما کا انتظار کر رہی تھی۔ جب اپنے وعدہ کے مطابق گنگا اسے شادی کے میلے میں لے جا کر چھوڑ دے گا اور وہ اپنے درجن کے ساتھ واپس اپنے گھر چلی جائے گی۔ اسے اس بات کا یقین تھا کہ گنگا اپنا وچن ضرور نبھائے گا اور اسے اس بات پر بھی اعتماد تھا کہ درجن اسے پھر اپنا لے گا اور چوروں کی طرح گھاٹیوں میں نہیں بلکہ ساہوکاروں کی طرح کھیتوں اور کھلیانوں میں اپنی زندگی گذارے گی۔
	گھڑی کی سوئیاں اپنے محور میں ہفتوں اور مہینوں کا سفر طے کرتی رہیں۔ لیکن گھڑی جہاں تہاں تھمی رہی۔ ساون کا مہینہ اور پورنیما کی رات آ گئی۔ اس دن جمنا نے بڑے اہتمام سے اپنی بندیا کو دھو دھا کر اپنے ماتھے پر سجایا۔ آج اسے اپنے درجن سے ملنا تھا۔ ایک سال کا عرصہ گنگا سنگھ کے ساتھ گذارنے کے بعد اسے یقین ہو گیا تھا کہ یہ آدمی اپنی زبان کا پکا ہے۔ یہ اپنا وچن ضرور نبھائے گا۔ گنگا کو امید تھی کہ آج جب وہ جمنا کے پاس آئے گا تو اس کی پیشانی پر درجن کی بندیا نہ ہو گی اور وہ اپنی بندیا سے اسے سجائے گا۔
	لیکن ایسا نہ ہوا اس کا دو سال کا انتظار ضائع ہو گیا۔اس کی تپسّیا بے کار ہو گئی اس نے جمنا کو بڑے احترام سے گھوڑے پر بٹھایا اور میلے کی جانب چل دیا۔ راستہ بھر دونوں نے کوئی بات نہ کی۔ سوچتے رہے کہ آخر یہ راستہ اتنا طویل کیوں ہے؟ 
	میلہ میں پہنچنے کے بعد گنگا نے کہا۔ جمنا اب تم آزاد ہو۔
	جمنا شکریہ ادا کرنا چاہتی تھی لیکن اس کی زبان گنگ ہو گئی۔ یہ انسان نہیں فرشتہ تھا۔ تھوڑی دیر میلے میں گھومنے کے بعد جمنا نے درجن کو دیکھا وہ گہنوں کی دوکان سے بندیا خرید کر باہر آ رہا تھا۔ سامنے جمنا کو دیکھ کر وہ چونک پڑا۔ جمنا درجن سے لپٹ گئی اور دیر تک روتی رہی۔ یہ خوشی کے آنسو تھے۔ درجن کو ایسا لگا جیسے وہ چوری کرتا ہوا پکڑا گیا ہے۔
	درجن اور جمنا میلے سے دور تنہائی میں جا بیٹھے۔ جمنا نے پوچھا۔ درجن کیسے ہو؟
	درجن بولا۔ اچھا ہوں، تم کیسی ہو؟
	میں میں بھی ٹھیک ہی ہوں۔ میں بہت خوش ہوں آج ایک سال بعد دوبارہ ہماری ملاقات ہو گئی۔
	ہاں ہاں میں بھی خوش ہوں بہت خوش مگر…
	مگر کیا؟ جمنا نے پوچھا۔
	مگر یہ کہ مجھے ڈر لگتا ہے۔
	ڈر؟ کیسا ڈر؟ تمہیں کس سے ڈر لگتا ہے؟
	مجھے گنگا سنگھ سے ڈر لگتا ہے۔
	گنگا سنگھ سے ؟ گنگا سنگھ سے کیوں ؟
	کیا بات کرتی ہو جمنا؟ کیا تمہیں گنگا سنگھ سے ڈر نہیں لگتا؟
	نہیں مجھے نہیں لگتا اس سے ڈر۔ جمنا بولی۔
	ہاں ہاں تمہیں کیوں اس سے ڈر لگے گا تم تو ایک سال اس کے ساتھ رہ کر آئی ہو۔
	نہیں درجن ایسی بات نہیں۔ بات دراصل یہ ہے کہ گنگا اگر ایسا برا آدمی ہوتا تو آج مجھے یہاں چھوڑ کر کیوں جاتا؟
	دیکھو جمنا اس کی وکالت نہ کرو۔ اگر وہ اچھا آدمی ہوتا تو تمہیں اٹھا کر کیوں لے کر جاتا؟
	جمنا نے کہا۔ تمہاری بات صحیح ہے اس نے مجھے لے جا کر غلطی کی تھی لیکن اب اس نے اپنی غلطی کا کفارہ (پرائشچت) ادا کر دیا۔ اس نے مجھے واپس لا کر چھوڑ دیا ہے۔
	آج چھوڑ دیا ہے کل پھر اٹھا کر لے جائے گا۔ اس کا کیا اعتبار؟
	اس کا اعتبار ہے۔ جمنا بولی۔ اس نے اپنا وچن پورا کیا ہے۔
	چھوڑو جمنا وچن نہیں پورا کیا۔ ایک سال ساتھ رکھنے کے بعد اس کا دل بھر گیا تو لا کر چھوڑ دیا۔ درجن بولا۔ کل پھر دل آئے گا تو آ کر لے جائے گا۔مجھے تو ڈر لگتا ہے۔
	دیکھو درجن تم بلاوجہ ڈر رہے ہو۔ اگر اسے مجھے نقصان پہنچانا ہوتا تو سال بھر میں وہ ایسا کر سکتا تھا لیکن اس نے ایسا نہیں کیا۔اس نے مجھے چھوا تک نہیں اور اب لا کر تمہارے پاس چھوڑ گیا۔
	ٹھیک ہے تمہیں نقصان نہیں پہنچائے گا لیکن مجھے تو پہنچائے گا۔ میرا کانٹا نکالنے کے لیے اس کی ایک گولی کافی ہے۔
	نہیں درجن۔ وہ ایسا نہیں کرے گا۔ اس لیے کہ وہ جانتا ہے ایسا کرنے سے میں ناراض ہو جاؤں گی اور وہ مجھے کبھی بھی ناراض نہیں کر سکتا۔
	تمہیں تو اس پر بڑا اعتماد ہے؟
	ہاں ہے۔
	مجھ سے بھی زیادہ؟
	کیسی باتیں کرتے ہو درجن۔
	دوسرے دن شام پھر درجن اور جمنا کے درمیان وہی گفتگو چھڑ گئی۔ درجن نے کہا۔
	جمنا اگر میں تمہیں ساتھ لے کر گاؤں میں جاؤں گا تو قبیلہ والے کیا کہیں گے؟
	جمنا نے پوچھا۔ وہ کیا کہیں گے؟
	وہ کہہ رہے تھے اب تم جمنا کو بھول جاؤ۔ اب وہ کبھی واپس نہیں آسکتی۔
	ان کی بات تو غلط نکلی میں واپس آ گئی۔
	ہاں تم واپس آ گئیں لیکن وہ کہیں گے کہ تم پرائے مرد کے پاس رہ کر واپس آئی ہو۔ تم پوتر نہیں ہو۔
	لیکن میں کہتی ہوں کہ میں پوتر ہوں۔ اس نے مجھے ہاتھ نہیں لگایا۔
	تم تو یہ کہتی ہو لیکن تمہارے کہنے سے وہ کیسے مان جائیں گے؟
	تو پھر کس کے کہنے سے مانیں گے گنگا سنگھ کے؟ جمنا نے پوچھا۔
	نہیں ڈاکو کی بات کو ن مانتا ہے؟
	تب تمہاری بات تو مانیں گے تم تو اس بات کی شہادت دے سکتے ہو کہ میں پوتر ہوں۔ 
	میں کیسے شہادت دے سکتا ہوں ؟درجن بولا۔
	جمنا نے کہا۔ کیا تمہیں بھی وشواس نہیں۔ تم بھی گواہی نہیں دے سکتے کہ میں پوتر ہوں اور ہاں یہ بات صحیح ہے کہ تم نہیں جانتے۔ یہ بات تو صرف میں اور گنگا ہی جانتے ہیں لیکن اس سے کیا فرق پڑتا ہے؟
	پڑتا ہے۔ بہت فرق پڑتا ہے۔
	لیکن گنگا سنگھ تو مجھے اٹھا کر لے گیا یہ جاننے کے باوجود کہ میں تمہارے پاس ایک سال تھی اور اس کے باوجود وہ مجھ سے بیاہ کرنا چاہتا تھا۔ اور تم یہ جاننے کے باوجود کہ میں ایک سال تم سے دور تو رہی لیکن کسی نے مجھے چھوا تک نہیں دنیا سے ڈر رہے ہو؟
	دیکھو جمنا تم میری بیوی تھیں اور میرے پاس رہیں اس میں کوئی عجیب بات نہیں ہے لیکن تم میری بیوی ہوتے ہوئے اس کے یہاں رہیں یہ خطرناک بات ہے۔
	لیکن میں اپنی مرضی سے تو اس کے پاس نہیں گئی اور اس نے مجھے اپنے پاس اسی آرام و احترام سے رکھا جیسا میں اپنے میکے میں رہتی تھی اور واپس لا کر تمہارے پاس چھوڑ دیا۔
	یہ بات صحیح ہو سکتی ہے لیکن اسے لوگ کیسے مان لیں گے؟
	مجھے لوگوں سے مطلب نہیں ہے۔مجھے تم یہ بتاؤ کہ تم اسے مانتے ہو یا نہیں ؟
	درجن کی زبان گنگ ہو گئی۔ جمنا نے چیخ کر پوچھا۔ درجن مجھے بتاؤ تم کو میری بات پر وشواس ہے یا نہیں۔ درجن خاموش رہا۔ جمنا بولی۔ ویسے تو خاموشی کا مطلب ہاں ہوتا ہے لیکن شاید تمہاری خاموشی نا کی خاموشی ہے۔ تمہارے اندر جرأت نہیں ہے نا کہنے کی؟ تم نامرد ہو۔ یہ کہہ کر اس نے درجن کی بندیا اپنے ماتھے سے نکال کر پھینک دی۔ درجن گھبرا گیا۔ اس نے اپنے آپ کو سنبھالا اور زمین پڑی ہوئی بندیا اٹھا لی۔
	درجن بولا۔ جمنا جب تم نے میری بندیا پھینک دی تو اب مجھے تمہارے ساتھ رہنے کا ادھیکار نہیں ہے۔ میں جاتا ہوں۔ 
	جمنا نے کہا۔ درجن کم از کم جاتے جاتے تو سچ بولو۔ یہ نہ بولو کہ تمہیں میرے ساتھ رہنے کا ادھیکار نہیں ہے بلکہ یہ بولو کہ مجھے تمہارے ساتھ رہنے کا ادھیکار نہیں ہے۔ کاش کہ اس بات کا پتہ مجھے دو دن پہلے چل جاتا۔
	میلہ کے تیسرے دن درجن کے پاس دو بندیا تھی اور اسے ایک دلہن کی تلاش تھی جو جلد ہی پوری ہو گئی۔ درجن اپنی نئی نویلی دلہن کو اٹھا کر لے گیا لیکن جمنا کے تمام راستہ بند ہو چکے تھے۔ گنگا کا دروازہ اس نے خود بند کر دیا اور درجن کے دروازے پر آئی تو درجن نے اسے بند کر کے قفل لگا دیا۔ جمنا دو بند دروازوں کے درمیان راہداری میں کھڑی تھی۔ میلہ اٹھنے لگا تھا۔ لوگ اپنا سامان باندھ رہے تھے۔ شام کے سائے لمبے ہوتے جا رہے تھے۔ قافلے اپنی اپنی منزلوں کی جانب رواں دواں ہو گئے تھے لیکن جمنا کی کوئی منزل نہیں تھی۔ وہ اکیلی بیٹھی نہ جانے کس کا انتظار کر رہی تھی کہ اچانک دور سے گھوڑے کی ٹاپ سنائی دینے لگی۔ وہ اس چال سے واقف تھی۔ اس کے کانوں میں نقرئی گھنٹیاں بجنے لگیں۔ 
	گنگا نے جمنا کی شفاف پیشانی کو دیکھا تو باغ باغ ہو گیا۔ وہ جلدی جلدی اپنے بٹوے میں بندیا تلاش کرنے لگا۔ جلدی میں اس نے سارے کارتوس زمین پر پھینک دیئے۔ اس کے ساتھ بندیا بھی ریت میں جا گری لپک کر اس نے بندیا کو اٹھایا اور جمنا کے قریب آیا۔ دوسال کے انتظار کے بعد شب وصال ایسے دبے پاؤں آئی تھی کہ یقین نہ ہوتا تھا۔ دو دن قبل والی گنگا سنگھ کی شکست فتح میں بدل چکی تھی۔
	گنگا نے جمنا کے ماتھے پر بندیا سجائی۔ اسے گھوڑے پر بٹھایا اور ایڑ لگا دی لیکن اس بار لگام جمنا کے ہاتھ میں تھی۔ آگے چلنے کے بعد وہ ایک دوراہے پر پہنچ گئے جہاں سے ایک راستہ پہاڑوں اور گھاٹیوں کو جاتا تھا اور دوسرا راستہ میدانوں اور کھلیانوں کی جانب جاتا تھا۔ جمنا نے گھوڑا میدانوں کی جانب موڑ دیا۔ گنگا سنگھ مدہوش تھا اسے کچھ پتہ نہیں تھا کہ وہ کہاں جا رہا ہے؟ جمنا کے ساتھ نے اس کے ہوش کو اُڑا دیا تھا۔ بہت دور جانے کے بعد ایک دھرم شالا دکھائی پڑی۔ جمنا نے گھوڑے کی لگام کھینچ لی۔ 
	دھرم شالا کے کِشک نے پوچھا۔نام کیا ہے؟
	جمنا بولی۔ گنگا پرشاد اور جمنا دیوی۔
	بوڑھا چوکیدار ہنسا اور  بولا۔ بہت خوب گنگا اور جمنا کی جوڑی لیکن سرسوتی کہاں ہے؟
	گنگا بولا۔ بابا ابھی آئی نہیں ہے جب آ جائے گی آشیرواد کے لیے تمہارے پاس ضرور لائیں گے۔
٭٭٭




دوستی دشمنی، دشمنی دوستی


	وہ کیا ہے؟ علی نے صدیق سے پوچھا۔
	میں نہیں جانتا کہ وہ کیا ہے۔ ہم بچپن سے اسے اسی طرح دیکھ رہے ہیں۔ کبھی کبھی اس پر مشینی پرندے منڈلاتے ہیں بس۔ اندر کیا ہوتا ہے؟ یہ میں نہیں جانتا اور شاید کوئی بھی نہیں جانتا۔
	کیوں ؟علی نے پھر سوال کیا۔
	نہیں جاننے کی کوئی وجہ بھی ہم لوگ نہیں جانتے۔ شاید ہم جاننا ہی نہیں چاہتے۔ اب تم یہ مت پوچھ لینا کہ جاننا کیوں نہیں چاہتے۔ بس یونہی سمجھ لو۔
	علی اور صدیق کی یہ گفتگو الجزیرہ نامی جزیرہ نما کے ساحل سمندر پر چل رہی تھی۔ بحر اوقیانوس کے پیٹ میں پائے جانے والے الجزیرہ کا دارالخلافہ ساحل سمندر پر واقع تھا۔ ہر طرح کے قدرتی وسائل سے مالا مال الجزیرہ کی زمین اس قدر زرخیز تھی کہ موسم بہار میں پورے جزیرے پر ایک سبز قالین بچھ جاتی تھی۔ اس کے ایک حصہ میں تیل تو دوسرے میں معدنیات کے ذخائر تھے۔ برسوں سے زمین کی کوکھ انہیں اُگل رہی تھی لیکن اس کی کمیت میں کوئی کمی واقع نہ ہوئی تھی۔ اس جزیرے پر صدیوں سے فوجیوں کی حکومت رہی ہے جب ایک فوجی بوڑھا ہو جاتا تھا تو اس کا کوئی ساتھی اسے معزول کر کے اپنی حکومت کا اعلان کر دیتا تھا اور پھر پہلے کا حشر نہ کوئی جانتا تھا اور نہ جاننا چاہتا تھا۔ اس لیے کہ عوام کو ان حاکموں میں کوئی دلچسپی نہ تھی وہ اپنے کھانے کمانے اور عیش کرنے میں مگن تھے۔ چونکہ حکومت کی آمدنی بے شمار تھی وہ اس کا چھوٹا سا حصہ عوامی فلاح و بہبود پر خرچ کر دیتی تھی جس کے باعث جزیرے کے طول و عرض میں بہترین تعلیم گاہیں اور بہترین ہسپتال پائے جاتے تھے۔ جہاں تعلیم اور معالجہ بالکل مفت تھا۔ سڑکیں، بازار اور دوسری تفریح گاہیں بھی بہترین معیار کے مطابق تھیں۔ یہاں اناج اور پھل پھول یہیں استعمال ہو جاتا۔ کچا تیل اور معدنیات برآمد کر دیا جاتا۔ ضروریات زندگی کا دیگر سامان درآمد کیا جاتا تھا۔ البلد وہ بندرگاہ تھی جہاں سے یہ سب کام ہوتا تھا۔ آبادی بہت زیادہ نہ تھی۔ وسائل کے اعتبار سے ہر شئے کی کثرت تھی۔ گویا کہ یہ بڑا ہی خوشحال علاقہ تھا۔ علی ساحل سمندر سے دور دراز کے علاقے کا رہنے والا تھا جب اس کے والد کا تبادلہ البلد نام کے ساحلی شہر میں ہوا تب اس نے پہلی مرتبہ سمندر کو دیکھا تھا۔ وہ کالج کا طالب علم تھا۔ البلد کا کالج بالکل ساحل پر واقع تھا جہاں شام ہوتے ہی طلباء فٹ بال کھیلنے جمع ہو جاتے۔ یہاں یہ کھیل ریت پر کھیلا جاتا۔ جو نہ کھیلتے تھے وہ کھیل دیکھتے تھے۔ سورج غروب ہونے تک ہنگامہ برپا رہتا اور پھر کھیلنے والے اور تماشائی دونوں تھک کر واپس آتے۔ غسل کر کے تازہ دم ہوتے کھانا کھا کر سو جاتے۔ علی کو فٹ بال کے ہنگاموں میں دلچسپی نہیں تھی لیکن اس کے باوجود وہ ساحل پر آتا اس لیے کہ اسے سمندر کی لہریں، ہوائیں، ریت اور سورج کے غروب ہونے کا منظر بے حد پسند تھا۔ وہ بھی تمام طلباء کے ساتھ یہاں آتا اور سب سے الگ تھلگ ایک چٹان پر بیٹھ کر قدرتی مناظر سے لطف اندوز ہوتا رہتا۔صدیق بھی اسی مزاج کا حامل تھا لیکن کوئی ساتھ نہ ہونے کے باعث وہ فٹ بال کا تماش بین بن گیا تھا۔ جب اسے پتہ چلا کہ علی نہ کھیلتا ہے اور نہ دیکھتا ہے تو اس کی دوستی علی سے ہو گئی۔ وہ دونوں ساتھ ساتھ الگ تھلگ مختلف موضوعات پر گفتگو میں مصروف رہتے اور شام ڈھلے لوٹ آتے۔ان دونوں کا یہ رویہ بقیہ طلباء سے یکسر مختلف تھا۔ آج ان کی گفتگو ساحل پر کھڑے بحری بیڑے پر مرکوز تھی۔ دراصل بحری بیڑہ نمبر 911 ایک ایسے مقام پر لنگر انداز تھا کہ موسم بہار میں سورج سمندر کے بجائے اس میں غروب ہوتا دکھائی پڑتا۔سورج جب اس کے پیچھے جاتا تو آنکھوں سے اوجھل ہو جاتا اور پھر کیا ہوتا پتہ نہ چلتا۔ ایسا لگتا گویا بیڑے نے سورج کو نگل لیا ہے۔
	علی نے اصرار کیا۔ ہمیں پتہ لگانا چاہئے کہ وہ کیا ہے؟ کیوں ہے؟ اور وہاں کیا ہوتا ہے؟
	صدیق نے کہا۔اس کے بارے میں شاید ڈاکٹر احمد ہماری رہنمائی کر سکیں۔ ہم ایسا کرتے ہیں کہ کل ان سے ملاقات کر کے ان سے بات کرتے ہیں۔ 
	ڈاکٹر احمد کالج کے معمر اساتذہ میں سے ایک تھے۔ ویسے ان کا تعلق الجزیرہ سے نہ تھا۔ وہ دور کسی ملک کے رہنے والے تھے جہاں زبردست اسلامی بیداری رونما ہوئی تھی اور جب انقلابی کوششیں بام عروج پر پہنچ گئیں تو انہیں سختیوں سے آزمایا گیا اور اس ملک کی عوام نے آزمائش کی گھڑی میں تحریک کا ساتھ چھوڑ دیا۔ اپنے رہنماؤں کی صبر و عزیمت کے واقعات بھی ان کی غفلت کا خاتمہ نہ کر سکے۔ مجاہدین اسلام نے تو بے مثال قربانیاں پیش کیں لیکن عوام گھبرا گئے۔ مشیت نے سزا کے طور پر اس کے عوض اپنوں ہی کی غلامی کی زنجیروں میں جکڑ دیا۔ اسلامی تحریک کی سعید روحیں اس بنجر سرزمین سے دور دراز کے علاقوں کی طرف کوچ کر گئیں۔ ان لوگوں نے دنیا کے بڑے حصہ کو اسلامی بیداری سے سیراب کیا اور اسے ایسے سرسبز و شاداب علاقے دستیاب ہو گئے جن میں بے شمار قوتیں پنہاں تھیں وہ غفلت کی دبیز چادر تلے دبی ہوئی تھیں۔ ان بیدار لوگوں نے اس چادر کو تار تار کیا۔ غفلت کا شکار عوام میں بیداری پیدا کی اور ایسے نوجوان تیار کیے جو اسلام کے لیے اپنا سب کچھ نچھاور کرنے سے پس و پیش نہ کرتے تھے۔ ایک تالاب جسے خشک کرنے کی کوشش کی گئی تھی ایک ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر بن گیا تھا جو جغرافیائی حدود و قیود سے آزاد تھا۔
	ڈاکٹر احمد جب اس جزیرے پر آئے تو یہاں کے لوگوں میں دین کا ایک جامد تصور تو تھا تعلیم کا کوئی شعور ہی نہ تھا۔ ڈاکٹر صاحب نے اس جمود کو تحریک میں بدل دیا اور تعلیم کو عام کیا۔ اس علاقے کو تہذیب و ثقافت کے لحاظ سے پسماندہ سمجھا جاتا تھا لیکن یہاں کے لوگوں کی سادگی، صبر و استقامت، دلیری اور شجاعت اس مفروضہ کو بڑھاتی تھی۔ان کے اخلاقی اقدار کو ایک سمت کی ضرورت تھی جو ڈاکٹر صاحب جیسے لوگوں کی کوششوں سے مل گئی تھی اور پھر کیا تھا کتاب ملت بیضا کی شیرازہ بندی ہونے لگی اور ہوتی چلی گئی۔
	دوسرے دن شام کو علی اور صدیق ساحل پر پہنچنے کے بجائے ڈاکٹر صاحب کے گھر پہنچ گئے۔ ڈاکٹر صاحب نمازِ عصر سے فارغ ہو کر چائے کا انتظار کر رہے تھے ان مہمانوں کا خیر مقدم کرنے کے بعد انہوں نے دو چائے کا اضافہ کر دیا اور پوچھا۔
	کہو نوجوانو۔ کیا چیز آج تمہیں میرے پاس لائی ہے؟
	صدیق اور علی نے ایک دوسرے کو کنکھیوں میں دیکھا اور صدیق گویا ہوا۔
	جناب یہ ہمارا نیا ساتھی علی ہے۔ ابھی حال ہی میں یہ شمران سے یہاں البلد میں آیا ہے۔ یہ جاننا چاہتا ہے کہ ساحل سمندر پر دور جو ہیولہ نظر آتا ہے وہ کیا ہے؟کیوں ہے؟ اور وہاں کیا ہوتا ہے؟
	ڈاکٹر صاحب مسکرائے انہوں نے صدیق سے پوچھا۔ یہ جاننا چاہتا ہے تم نہیں جاننا چاہتے؟
	میں ؟ ویسے کل سے پہلے تو مجھے اس میں کوئی دلچسپی نہیں تھی لیکن اب میں بھی یہ سب جاننا چاہتا ہوں۔ 
	لیکن تم لوگ یہ سب کیوں جاننا چاہتے ہو؟ ڈاکٹر صاحب نے پوچھا۔
	بس یونہی۔ علی بولا۔ کسی چیز کے بارے میں جاننے کے لیے کوئی ٹھوس وجہ تو درکار نہیں ہے۔
	نہیں نہیں بالکل نہیں۔ ڈاکٹر صاحب نے کہا۔ میں تمہاری حوصلہ شکنی نہیں کرنا چاہتا۔ میں نے تو بس یونہی دریافت کر لیا دراصل یہ 911نمبر کا بحری بیڑہ ہے۔
	کیا؟ بحری بیڑہ؟
	ہاں یہ بحری بیڑہ ہے۔ 
	لیکن کس کا بحری بیڑہ؟ کیا یہ ہمارے ملک کا ہے؟
	نہیں یہ ایک غیر ملکی بحری بیڑہ ہے۔
	وہ کیا کرتا ہے؟
	لوگ کہتے ہیں کہ وہ نگرانی کرتا ہے۔
	نگرانی کس پر؟
	ہمارے دشمنوں پر تاکہ ہماری حفاظت کر سکے۔
	لیکن ہمیں حفاظت کی کیا ضرورت ہے؟ ہماری کسی سے دشمنی ہے کیا؟
	دیکھو بچو دوستی اور دشمنی تو ہر کسی کی ہوتی ہے۔ ہم جب اس دنیا میں رہتے ہیں تو ہمارے کچھ دوست اور کچھ دشمن بھی ہوں گے۔
	لیکن یہ بحری بیڑہ جس ملک کا ہے وہ ہمارا دوست ہے یا دشمن؟
	اسے لوگ دوست کہتے ہیں۔ 
	دوست۔ کس بناء پر اسے دوست کہا جاتا ہے۔
	دراصل اس کی دشمنی ہمارے دشمنوں سے ہے۔
	اچھا تو کیا دشمن کا دشمن لازمی طور پر دوست ہوتا ہے؟ علی نے پوچھا۔
	ڈاکٹر صاحب بولے۔ہو بھی سکتا ہے اور نہیں بھی۔
	وہ کیسے؟
	جب تک اس کا دشمن ہمارا دشمن ہے وہ ہمارا دوست رہے گا لیکن وہ ہمارا دوست ہو جائے تو اس کی دوستی دشمنی میں بدل جائے گی۔
	 اور یہ دشمن ہو جائے تو؟ علی نے پوچھا۔
	تب بھی اس کا دشمن دوست بن جائے گا۔
	گویا اصل مسئلہ ان دونوں کا ہے ہم تو بس یونہی … صدیق کچھ کہتے کہتے رک گیا۔
	ڈاکٹر صاحب نے کہا۔ ہاں یہی سمجھ لو تلواریں اوروں کی ہے ہم تو بس ڈھال ہیں جنہیں حملہ روکنے کے لیے آگے کر دیا جاتا ہے یا میزائل ان کے ہیں ہمیں تو صرف گولوں کی طرح داغ دیا جاتا ہے۔
	یہ تو سنگین صورت حال ہے۔ علی نے کہا۔ 
	ڈاکٹر صاحب نے تائید کی۔
	علی اور صدیق کو اب ایک دوستی اور دشمنی کی گتھی مل گئی تھی جسے وہ ساحل پر بیٹھ کر سلجھایا کرتے تھے۔
	ایک روز شام طعام گاہ سے طلباء لوٹ رہے تھے کہ فاروق نے صدیق کے کندھے پر ہاتھ مارا اور کہنے لگا۔ صدیق جانتے ہو آج میں نے ساحل پر اس ہیولہ میں حرکت دیکھی اور بے شمار طیاروں کو اس میں سے اُڑتے دیکھا۔
	ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا تھا۔ علی کے کان کھڑے ہو گئے۔ 
	صدیق نے کہا۔کیا مذاق کرتے ہو۔ یہ صرف تمہیں نے دیکھا اور سب نے آنکھیں موند لی تھیں کیا؟
	نہیں صدیق ایسا نہیں تم تو جانتے ہو میں اپنی ٹیم کا کپتان ہوں۔ آج ہماری ٹیم بالکل ہار کے قریب پہنچ چکی تھی لیکن آخری دس منٹ میں ہم لوگوں نے اپنی پوری طاقت جھونک دی اس لیے کہ میں شکست کو برداشت نہیں کر سکتا۔ ہم مقابلہ تو جیت گئے لیکن میں تھک کر بالکل چور چور ہو گیا۔سب لوگ کھیل کے خاتمہ کے بعد لوٹ آئے لیکن میں وہیں ریت پر دیر تک پڑا رہا اور پھر کچھ آوازیں آنے لگیں۔ میں نے دیکھا یہ آوازیں وہیں سے آ رہی تھیں۔ پھر میں نے دیکھا روشنی کے انگارے ایک کے بعد ایک اُڑ رہے ہیں۔ 
	علی نے اثبات میں سر ہلایا۔ کمرے میں بھی آوازیں آ رہی تھیں۔ 
	فاروق بولا۔ ہاں ہاں تم نے بھی سنی ہوں گی۔ لیکن پھر میں نے دیکھا کہ وہ پورا ہیولہ حرکت کر رہا ہے۔ یہ منظر عجیب و غریب تھا۔ میں اسے غور سے دیکھتا رہا۔ وہ واقعی حرکت کر رہا تھا۔
	بات چیت کرتے کرتے تینوں علی کے کمرے تک آ گئے تھے۔ علی نے فاروق اور صدیق کو اپنے کمرے میں بلایا اور کہنے لگا۔ فاروق تم جانتے ہو وہ کیا ہے؟
	فاروق نے کہا۔ نہیں۔ 
	علی نے بتلایا۔ وہ ایک بحری بیڑہ ہے اور وہ حرکت کر سکتا ہے لیکن اس کی حرکت بلاوجہ نہیں ہو سکتی۔ وہ یقیناً کسی فوجی مہم پر جا رہا ہو گا۔ ہمیں پتہ لگانا چاہئے کہ وہ کہاں جا رہا ہے؟
	لیکن یہ ہم کیسے پتہ لگا سکتے ہیں۔ فاروق نے پوچھا۔
	تینوں دوست چپ ہو گئے۔ سوچنے لگے۔ صدیق نے ایک تجویز پیش کی۔ وہ بولا۔ ایک طریقہ ہے۔ ہمارا ایک دوست عثمان ہے اس کے والد ماہی گیری کا کاروبار کرتے ہیں۔ کیوں نہ ہم اس کے ذریعہ ایک کشتی حاصل کریں اور اس بحری بیڑے کا پیچھا کریں اور دیکھیں کہ وہ کہاں جا رہا ہے اور کیا کرنے والا ہے؟
	صدیق کی اس تجویز کو آناً فاناً قبول کر لیا گیا۔ صدیق عثمان کو بلانے کے لیے اس کے کمرے کی جانب روانہ ہو گیا۔ علی اور فاروق اپنی آگے کی حکمت عملی پر گفتگو کرنے لگے۔ تھوڑی دیر بعد عثمان بھی ان کے ساتھ شامل تھا۔ 
	عثمان نے کہا۔کشتیاں تو ہمارے پاس بہت ساری ہیں اور میں ان میں سے ایک حاصل بھی کر لوں گا لیکن اسے چلائے گا کون؟ کیا تم میں سے کوئی یہ جانتا ہے؟
	تینوں نے نفی میں سرہلایا۔
	عثمان بولا۔ اگر میں اپنے والد سے یہ بتلا دوں کہ کشتی اس بحری بیڑہ کا پیچھا کرنے کے لیے چاہئے تو وہ نہیں دیں گے اگر کشتی چلانے والے کو ساتھ لیا گیا تو راز کھل جائے گا۔
	یہ مسئلہ ٹیڑھا تھا۔ تھوڑی دیر کے بعد فاروق بولا۔
	ویسے تو میں نہیں جانتا لیکن کوشش کر سکتا ہوں۔ 
	عثمان نے کہا۔ کوشش کر سکتا ہوں، کیا مطلب؟ ہمارے ماہر ماہی گیر کبھی کبھار سمندری طوفانوں میں کھو جاتے ہیں۔ یہ کام آسان نہیں ہے۔
	جو بھی ہو ہم جائیں گے۔ علی اور فاروق نے ایک ساتھ کہا۔
	عثمان مسکرایا۔ اگر ارادہ پکا ہے تو میں بھی ساتھ چلوں گا۔ میں تو پانی کا بیٹا ہوں میں نے جتنا وقت خشکی میں گذارا شاید اس سے زیادہ وقت پانی میں گذارا ہو گا۔ کل صبح بعد نماز فجر آپ لوگ تیار رہنا ہم چلیں گے۔ 
	رات میں عثمان نے اپنے والد کو تیار کر لیا اور صبح تڑکے یہ چاروں دوست نکل پڑے۔
	یہ ایک نہایت جدید موٹر بوٹ تھی۔ ان دوستوں نے اچھا خاصا کھانے پینے کا سامان اپنے ساتھ لے لیا تھا۔ جب یہ لوگ چلے تو بحری بیڑہ کافی آگے نکل چکا تھا۔ وہ دور ایک نقطہ کی مانند دکھائی پڑتا تھا۔ ان کی نظریں اس پر نصب تھیں۔ ننھی سی بوٹ کی رفتار عظیم بیڑے سے کہیں زیادہ تھی اور رفتہ رفتہ ان کے درمیان فاصلہ کم ہوتا جاتا تھا۔ علی اور فاروق محو گفتگو تھے لیکن فاروق کی تمام تر توجہ عثمان کی طرف تھیں وہ غور سے عثمان کی ہر حرکت کا مشاہدہ کرتا جاتا تھا۔ تین چار گھنٹے کی مسافت کے بعد جب بھوک لگی تو کھانے کا سامان کھولا گیا۔ یہ تینوں تو کھاتے رہے عثمان بوٹ چلاتا رہا۔ فاروق نے کھانے کے بعد عثمان سے کہا۔
	اب تم کھاؤ میں چلاتا ہوں۔ 
	تم چلاؤ گے عثمان نے تعجب سے پوچھا۔
	کیوں نہیں۔ فاروق بولا۔ میں چلاؤں گا۔
	علی اور صدیق فاروق کو سمجھانے لگے۔ دیکھو فاروق یہ فٹ بال نہیں ہے۔ یہ خطرے کا کھیل ہے سمندر کی لہریں کافی اونچی اٹھ رہی ہیں۔ 
	فاروق بولا۔ تو کیا ہوا؟ ان لہروں سے بلند ہمارے عزائم ہیں۔ میں چلاؤں گا۔
	عثمان نے کہا۔ ٹھیک ہے اب تم چلاؤ میں ناشتہ کر لوں۔ 
	فاروق نے جب اسٹیرنگ پکڑا تو اس کے اندر بلا کا اعتماد تھا۔ ایسا لگ ہی نہیں رہا تھا کہ وہ پہلی بار اس کشتی کو چلا رہا ہے۔ وہ لہروں سے اسی طرح لطف اندوز ہو رہا تھا جیسے مقابل کی ٹیم کے حملہ سے لطف اندوز ہوتا تھا۔ وہ ان سے اسی طرح کشتی کو بچاتا ہوا چل رہا تھا جیسے مقابل ٹیم کے دفاعی کھلاڑیوں سے بچتا بچاتا بال کو لے کر آگے بڑھتا تھا اور اس کی نظریں بحری بیڑے پر اسی طرح نصب تھیں جیسے مخالف کے گول پوسٹ پر لگی ہوتی تھیں۔ 
	ناشتہ کے بعد عثمان سستانے لگا۔ اس نے کہا۔ فاروق تم تو مجھ سے بھی ماہر نکلے۔
	فاروق نے کہا۔ کیوں مذاق کرتے ہو۔
	صدیق بولا۔ عثمان سے زیادہ نہیں لیکن برابر ضرور ہو۔
	علی بولا۔ آج پہلے ہی دن برابری ہو گئی۔ کل یقیناً یہ آگے بڑھ جائے گا۔
	چھوڑو یار۔ فاروق نے کہا۔
	شام کے سائے لمبے ہوتے جاتے تھے۔ اب وہ بحری بیڑے کو بالکل قریب سے دیکھ رہے تھے۔ وہ دیکھ رہے تھے کہ بحری بیڑے سے بمبار جہاز اُڑ کر جاتے ہیں اور تھوڑی دیر بعد لوٹ آتے ہیں اس کے بعد پھر تازہ دم ہو کر جاتے ہیں اور بمباری کر کے لوٹ آتے۔ یہ لوگ کہاں جاتے تھے کس پر بم برساتے ؟کیوں ہو رہا تھا یہ سب؟ ان سوالات سے یہ چاروں لوگ ناواقف تھے۔ لیکن اس مشاہدے میں ایسے کھوئے ہوئے تھے کہ وقت کا احساس ہی نہ رہا۔ اچانک ان لوگوں نے دیکھا کہ تین چار فوجی کشتیوں نے ان کو گھیر لیا ہے اور اس سے پہلے کہ وہ سنبھلتے چند اسلحہ بردار فوجی ان کی کشتی میں کود پڑے اور دیکھتے دیکھتے ان کی آنکھوں پر پٹی باندھ دی گئی۔ان کے ہاتھوں میں ہتھکڑی ڈال دی گئی اور پھر وہ نہ جانے کہاں چل پڑے۔
	تقریباً ایک گھنٹے کی مسافت کے بعد جب ان لوگوں کی آنکھوں سے پٹی ہٹائی گئی تو وہ ایک بڑے سے ہال میں پڑے تھے۔ ان کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ وہ کہاں ہیں۔ کس کی قید میں ہیں اور ان کا کیا حشر ہونے والا ہے؟ وہ چاروں تنہا تنہا ان سوالوں پر غور کر رہے تھے کہ اذان کی آواز ان کے کانوں سے ٹکرائی۔ ان کے چہرے کھل اٹھے یہ کوئی مسلمان بستی تھی۔ انہوں نے حمام تلاش کیا۔ ہال کے کونے میں حمام تھا۔ ان لوگوں نے ایک ایک کر کے وضو کیا اور نماز کے لیے کھڑے ہو گئے۔ اس قید خانے کا چوکیدار انہیں دیکھ رہا تھا۔ اس نے دروازے کو تالا لگایا اور ان کے ساتھ جماعت میں شامل ہو گیا۔ نماز سے فارغ ہونے کے بعد آپس میں دعا سلام ہوئی۔ چوکیدار نے انہیں بتلایا کہ وہ شام کی فوجی جیل میں ہیں۔ جلد ہی ان کا افسر تفتیش کے لیے آئے گا اور ان سے پتہ لگائے گا کہ وہ کون لوگ ہیں ؟ چونکہ فی الحال شام حالت جنگ میں ہے اس لیے وہ لوگ زیادہ چوکنے ہیں۔ تفتیش کے بعد بے ضرر پائے جانے پر انہیں رہا کر دیا جائے گا ورنہ فوجی قانون کے مطابق مقدمہ چلے گا اور قرار واقعی سزا دی جائے گی۔
	ویسے یہ جاننے کے بعد کہ وہ ایک مسلم ملک کی قید میں ہیں چاروں کو قدرے اطمینان ہو گیا۔ بلاد شام کی تاریخ علی نے پڑھی تھی۔ یہ ایک وسیع و عریض خطہ ہوا کرتا تھا لیکن اس کے حال سے وہ واقف نہیں تھا۔ تھوڑی دیر بعد ان کے لیے کھانا آ گیا۔ چاروں نے کھانا کھانے کے بعد چوکیدار کا شکریہ ادا کیا۔
	دوسری صبح ان کی ملاقات لیفٹیننٹ خالد سے ہوئی۔ یہ ایک نہایت ہی ذہین فوجی افسر تھا اس نے ایک نظر میں اندازہ لگا لیا کہ یہ معصوم لوگ ہیں۔ خالد نے ان سے چند سوالات کیے۔ زیادہ تر جوابات علی نے دیئے۔ اس کے ہر ہر لفظ سے صداقت ٹپک رہی تھی۔ اس کی جرأت اور برجستگی اس بات کی شہادت دے رہی تھی کہ وہ سچ بول رہا ہے۔
	گفتگو کا رخ تھوڑے ہی وقفہ میں بدل گیا اب یہ چاروں لیفٹیننٹ خالد سے سوالات کر رہے تھے اور خالد ان کا جواب دے رہے تھے۔ خالد نے انہیں بتلایا کہ یہ جنگ ان کے اور پڑوسی غاصب ملک کے درمیان ہے جس کا وجود ناجائز ہے جس نے ان کے بھائیوں کو غلام بنا لیا ہے اور ان کی زمینوں پر قبضہ کر لیا ہے۔وہ اپنے پیر پسارتا جاتا ہے اور اپنے مظالم میں اضافہ کرتا جاتا ہے۔ اسے دنیا کی عظیم طاقتوں کی حمایت حاصل ہے۔ اس مرتبہ ہم نے اسے جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کا ارادہ کیا تھا اور ہم فتح حاصل کرنے ہی والے تھے۔ اس عظیم طاقت کی مداخلت نے جنگ کا نقشہ بدل دیا۔ ہماری فتح کو شکست میں بدل دیا۔وہ جس کے تعاقب میں تم لوگ یہاں آئے ہو یہ اسی استعماری طاقت کا بحری بیڑہ ہے اور اسی کے ذریعہ ان لوگوں نے ہمارے دشمنوں کو کمک فراہم کی۔ ہم لوگ اُن سے تو جیت گئے لیکن اِن سے ہار گئے۔
	یہ عجیب و غریب انکشاف تھا۔ جس بحری بیڑے کو وہ اپنا محافظ سمجھ رہے تھے وہ دشمن کا محافظ تھا۔ وہ جسے اپنا دوست سمجھ رہے تھے وہ دوستوں کا دشمن تھا۔ وہ دشمنوں کا دوست تھا۔ لیفٹیننٹ خالد نے انہیں رہا کر دیا اور کسی بھی قسم کی مدد کے لیے اپنے تعاون کا یقین دلایا۔
	واپس لوٹتے ہوئے علی نے مڑ کر خالد کے فوجی جہاز کو دیکھا اس پر بڑے بڑے حرفوں میں 11لکھا ہوا تھا۔
	سارے راستے ان چاروں کا موضوع بحث صرف ایک موضوع تھا۔ بحری بیڑے کی دوستی اور دشمنی۔ عثمان اور فاروق باری باری سے بوٹ چلا رہے تھے اور علی اور صدیق سوچ رہے تھے کیا کیا جائے۔ ان کی سمجھ میں یہ بات آ گئی تھی کہ یہ فتنہ کی جڑ ہے اور اس کی بیخ کنی ضروری ہے۔
	واپس آنے کے بعد ان لوگوں نے اخبارات کو دیکھا تو وہ ایک نئی کہانی سنا رہے تھے۔ ان کے مطابق شام غاصب تھا اس نے اپنے پڑوسی پر فوج کشی کی تھی اور اس بحری بیڑے نے مداخلت کر کے جنگ بندی کرائی اور امن قائم کروایا تھا۔
	یہ تضاد ان چاروں کے لیے ناقابل فہم تھا۔ 
	دوسرے دن یہ لوگ ڈاکٹر احمد کی خدمت میں پہنچ گئے اور ان سے استفسار کیا۔ انہوں نے وہی بات بتلائی جو لیفٹیننٹ خالد نے بتلائی تھی۔ علی نے پوچھا۔
	پھر ہمارے دانشور یہ کون سی راگنی سنا رہے ہیں ؟
	ڈاکٹر بولے۔ یہ لوگ دراصل اس عظیم قوت کے ذہنی غلام ہیں یا اس سے خوف کھاتے ہیں اس لیے وہی کہتے ہیں جو وہ کہتا ہے۔ اسی کا نقطۂ نظر پیش کرتے ہیں۔ 
	صدیق نے پوچھا۔ ڈاکٹر صاحب آپ وہ دوست اور دشمنی والی بات بتلائیں۔ یہ بحری بیڑہ چونکہ ہمارے دشمنوں کا دوست ہے تو کیا ایسے میں یہ ہمارا بھی دوست ہوسکتا ہے؟
	ڈاکٹر نے کہا۔ ہرگز نہیں۔ کبھی بھی یہ ہمارا دوست نہیں ہوسکتا۔ اس لیے کہ دشمن کا دوست دشمن ہوتا ہے۔لیکن پہلے کبھی ہمارے دشمن کا دشمن تھا اس لیے ہم نے اسے اپنا دوست سمجھ لیا تھا لیکن اب ہمارے دشمن کی دوستی اور دوستوں سے دشمنی نے اسے ہمارا دشمن بنا دیا ہے۔
	علی نے کہا۔ لیکن ایک اور سوال ہے ہماری حکومت ہماری دوست بھی اور بحری بیڑے کی بھی دوست ہے جب کہ وہ ہمارا دشمن ہے۔ یہ کیسا معمہ ہے؟
	ڈاکٹر احمد نے کہا۔ تمہارے اس سوال کا جواب تو یہی ہے کہ یہ تضاد عملاً ممکن نہیں ہے یا تو یہ حکومت ہمیں دھوکا دے رہی ہے یا انہیں دھوکہ دے رہی ہے۔ 
	لیکن اس کا پتہ کیسے چلے گا؟ صدیق نے پوچھا۔
	وقت اور آزمائش ہر راز کا پردہ اٹھا دیتی ہے۔ وقت آنے پر پتہ چل جائے گا جیسا کہ بحری بیڑے کے بارے میں پتہ چل گیا۔
	عثمان اور فاروق گفتگو میں شریک تو تھے لیکن خاموش تماشائی کی حیثیت سے۔ وہ صرف سنتے رہے ان لوگوں نے ایک لفظ بھی نہ کہا۔ باہر نکلنے کے بعد فاروق بولا۔
	ہمیں کچھ کرنا ہو گا۔
	عثمان نے تائید کی۔ ہاں کچھ نہ کچھ کرنا ہی ہو گا۔
	علی اور صدیق نے بھی ان کی آواز میں آواز ملائی۔ ہم کچھ نہ کچھ کریں گے اور ضرور کریں گے انشاء اﷲ۔ ان چاروں نے ایک عزم تو کر لیا تھا لیکن نہیں جانتے تھے کیا کیا جائے اور کیسے کیا جائے؟
	علی اور فاروق پہلے ہی سے مرین انجینئرنگ کے طالب علم تھے اب صدیق اور عثمان نے بھی اپنے مضامین بدل لیے اور وہ لوگ مرین انجینئرنگ میں آ گئے تھے۔ اب وہ دن رات جہازوں کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کی دھن میں لگے رہتے۔ بیڑوں کے بارے میں زیادہ سے زیادہ تفصیلات فراہم کرنا اور آپس میں اس پر بحث کرنا ان کا واحد مشغلہ تھا۔اب فاروق نے فٹ بال کھیلنا چھوڑ دیا تھا۔ عثمان کی دلچسپیاں سیرو سیاحت سے ختم ہو گئی تھیں۔ علی تاریخ کے بجائے حالات حاضرہ کی کتابیں پڑھنے لگا تھا اور صدیق نت نئے منصوبہ بنانے لگا تھا۔ ان چاروں کی گفتگو نہایت راز داری میں ہوتی تھیں۔ کسی کو حتیٰ کہ ڈاکٹر احمد بھی ان کی سرگرمیوں سے واقف نہ تھے۔ کمال راز داری یہ لوگ برت رہے تھے۔
	وقت گذرتا گیا منصوبہ دھیمے دھیمے بنتا گیا۔ بالآخر انہوں نے پھر ایک بار لیفٹیننٹ خالد سے رابطہ قائم کرنے کا فیصلہ کیا۔ خالد سے ملاقات کے لیے صرف دو لوگوں کے جانے کی بات طے ہوئی۔ یہ عثمان اور فاروق تھے۔ یہ وہ لوگ تھے جو گذشتہ مرتبہ بالکل خاموش تھے۔ ان کے انتخاب کی وجہ یہی تھی کہ کم سے کم الفاظ میں انہیں گفتگو کرنی تھی۔ خالد نے ان سے دوسرے ساتھیوں کے بارے میں پوچھا اور آنے کی غرض دریافت کی۔
	فاروق بولا۔ اس سے پہلے کہ میں بات آگے بڑھاؤں میں آپ سے دو باتوں کا عہد چاہتا ہوں۔ 
	خالد نے اثبات میں سرہلا یا۔
	فاروق بولا۔ ایک تو یہ کہ آپ ہمارے منصوبے کی تفصیلات نہیں پوچھیں گے اور دوسرے اس پورے معاملہ کو صرف اور صرف اپنے تک محدود رکھیں گے۔
	خالد نے حامی بھری تو عثمان بولا۔ بہت بڑی مقدار میں گولا بارود چاہئے۔ کیا آپ ہمیں وہ فراہم کر سکتے ہیں ؟ ہم اس کی قیمت ادا کرنے کے لیے تیار ہیں۔ 
	خالد مسکرائے اور بولے۔اس کی ضرورت نہیں۔ آپ لوگ صرف یہ بتلائیں کہ کب اور کہاں ؟ باقی سب کچھ ہو جائے گا۔ 
	مقام اور وقت کی تفصیلات طے ہو گئیں۔ اٹھتے ہوئے خالد نے ان دونوں کو سینے سے لگایا اور کہا۔ میں تمہاری کامیابی کے لیے دعاگو ہوں۔ مجھے یقین ہے اﷲ کی مدد اور نصرت تمہارے ساتھ ہو گی اور تم ضرور کامیاب ہو گے۔
	صدیق اور علی فاروق اور عثمان نے اپنے منصوبے کی نوک پلک درست کر لی تھیں۔ چار کشتیوں کا انتخاب کر لیا گیا تھا۔ اسلحہ اور گولہ بارودسے انہیں لیس کر دیا گیا تھا۔ بحری بیڑے کے معمول کا اندازہ کر کے حملہ کے لیے اس وقت کا انتخاب کیا تھا جب ایندھن کے ذخیرے سے ایندھن فراہم کیا جاتا تھا۔ عثمان کے ذمہ یہ تھا وہ فراہمی دوران ہی اس مقام سے جا ٹکرائے تاکہ آگ لگنے کی ابتداء وہاں سے ہو جائے۔ فاروق کو بحری بیڑے کے دوسرے سرے پر اسلحہ کے ذخیرے سے جا ٹکرانا تھا۔ صدیق کے ذمہ تھا بحری بیڑے کے ذرائع مواصلات کو بے کار کر دینا اور علی کو بیڑے کے کپتان کا سر قلم کرنے کی ذمہ داری دی گئی تھی۔ یہ تمام کام بیک وقت ہونے تھے۔ 
	جیسے ہی بارود کے ذخائر میں پہلا دھماکہ ہوا ایندھن نے آگ پکڑ لی اور اسی لمحہ بحری بیڑے کا مواصلاتی نظام پوری طرح معطل کر دیا گیا۔ علی نے کپتان کے کمرے میں چھلانگ لگائی۔ لیکن کپتان وہاں موجود نہیں تھا۔ علی جیسے ہی اس کی آرام گاہ میں داخل ہوا۔ کپتان نے گولی چلا دی۔ علی کو گولی کیا لگی کہ زبردست دھماکہ ہوا اور کنٹرول روم کے پرخچے اُڑ گئے۔ کپتان دھماکے سے مرا نہیں لیکن بری طرح زخمی ہو گیا اور اس نے اپنی آنکھوں سے بیڑے کو شعلوں کی نذر ہوتے ہوئے دیکھا اور بالآخر خود بھی اس میں بھسم ہو گیا۔دھماکوں کی آواز سنتے ہی ہوائی بیڑے میں کھلبلی مچ گئی۔ لوگوں نے سوچا یہ حادثاتی دھماکہ ہے۔ لیکن شعلوں کو اٹھتا دیکھ کچھ لوگ اپنے ہوائی جہازوں کے ساتھ بھاگ نکلنے میں کامیاب ہو گئے اور جاتے جاتے ان لوگوں نے الجزیرہ پر بمباری کی اور سیکڑوں معصوموں کو شہید کر دیا۔ بحری بیڑے کی تباہی نے عظیم طاقت کے پیروں تلے سے زمین ہٹا دی۔ بدحواسی کے عالم میں اس نے بغیر جانے الجزیرہ کے انتہا پسندوں پر اس کا الزام لگا دیا۔ حالانکہ وہ اپنے تئیں جھوٹ بول رہے تھے۔ لیکن اتفاق سے یہ ایک سچ تھا۔ ان کی اس دروغ گوئی سے الجزیرہ پر کی جانے والی بے وجہ بمباری کو بھی وجہ جواز فراہم ہو جاتا تھا۔اس لیے وہ اسے بار بار دہرائے جا رہے تھے۔ بڑے بڑے دعووں اور بڑی بڑی دھمکیوں کا غلغلہ تھا۔ 
	ادھر الجزیرہ میں معصوم لوگوں کی موت پر صف ماتم بچھی ہوئی تھی۔ عظیم طاقت کے غلاموں نے اسی کا راگ الاپنا شروع کر دیا تھا اور بغیر کسی ثبوت کے وہ سب دہرانے لگے تھے جو انہیں سنایا جا رہا تھا۔ وہ اپنے ملک کے انتہا پسندوں کو اس تباہی کے لیے موردِ الزام ٹھہرا رہے تھے حالانکہ انہیں اس بات کی کانوں کان خبر نہ تھی کہ یہ کام کس نے کیا ہے؟کچھ لوگ یہ بھی کہہ رہے تھے بیڑے کو تباہ کرنے والے انہیں کے ایجنٹ ہیں وہ لوگ یہ بھی کہہ رہے تھے کہ بحری بیڑہ خود انہیں لوگوں نے تباہ کیا تاکہ ہم پر بمباری کر سکیں وغیرہ۔
	ڈاکٹر احمد کے گھر کی گھنٹی بجی تو انہیں یقین ہو گیا کہ یہ علی یا صدیق ہیں جو یہ پتہ کرنے کے لیے آئے ہیں کہ یہ سب کیا ہو رہا ہے؟ اور کیوں ہو رہا ہے؟ لیکن ان کی اُمیدوں پر اس وقت پانی پھر گیا جب اُنہوں نے دیکھا کہ یہ اخبار والے ہیں اور ان کا رد عمل طلب کر رہے ہیں۔ جب ان کی توجہ حکومت کے اس موقف کی جانب کروائی گئی اس الجزیرہ پر ہونے والی بمباری کے لیے یہاں کے انتہا پسند ذمہ دار ہیں تو انہوں نے تردید کی۔
	یہ سراسر غلط بات ہے۔ ہم پر بمباری بحری بیڑے سے اُڑنے والے جہازوں نے کی ہے۔ اس لیے اس کی ذمہ داری بحری بیڑے پر ہی آتی ہے۔ جس نے بے سوچے سمجھے بمباری کر کے یہ ثابت کر دیا کہ وہ ہمارے دشمن ہیں اور اس منطق سے جس نے اس بحری بیڑے کو غرق کیا ہے وہ ہمارا دشمن ٹھہرتا ہے۔ اس لیے حکومت جنہیں اپنا دشمن بتا رہی ہے وہ ہمارے دوست اور جنھیں دوست بتلا رہی ہے وہ ہمارے دشمن ہیں۔ ڈاکٹر احمد کا بیان دوسرے تمام دانشوروں سے مختلف تھا۔ اس لیے اسے تمام اخبارات نے خاص باکس بنا کر شائع کیا۔ ڈاکٹر صاحب کی حقیقت بیانی نے کھلبلی مچا دی اور حکومت نے انہیں گرفتار کرنے کے لیے پولس بھیج دی۔ 
	ڈاکٹر احمد نے اس بیچ صدیق اور علی کا پتہ کرنے کی بھرپور کوشش کی اور جب انہیں پتہ چلا کہ وہ چاروں دھماکے کے وقت سے غائب ہیں تو انہیں یقین ہو گیا کہ یہ انہیں کا کام ہے۔ ڈاکٹر صاحب کی گرفتاری کی خبر سارے یونیورسٹی کیمپس میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ 
	اس رات کوئی طالب علم بستر پر نہیں سویا۔ وہ لوگ سارے شہر کی دیواروں پر لکھتے رہے۔ ہمارے دشمن کا دوست ہمارا دشمن ہے۔ اور ہمارے دوست کا دشمن بھی ہمارا دشمن ہے۔
	اس روز کوئی طالب علم اسکول یا کالج نہیں گیا۔ اس روز کوئی کاشت کار کھیت میں نہیں گیا۔ کسی ملازم نے اپنے دفتر کا رُخ نہیں کیا۔ سب فوجی سربراہ کی رہائش کی جانب چل پڑے۔ وہاں حفاظتی دستہ مستعد تھا۔ مجمع بڑھتا جا رہا تھا۔ نعرے لگتے جاتے تھے۔ 
	دشمن کا دوست دشمن ہے۔
	دوست کا دشمن، دشمن ہے۔
	پہلے حفاظتی دستہ نعرہ لگانے والوں کو روک رہا تھا۔ پھر نعروں کا جواب دینے لگا۔ اور بالآخر یہ ہوا کہ حفاظتی دستہ کے لوگ نعرے بلند کرتے تھے اور مجمع جواب دیتا۔ اس تبدیلی کے بعد یہ ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر ایوان اقتدار کی جانب بڑھنے لگا اور پھر یہ اقتدار بھی بحری بیڑے کی طرح غرقاب ہو گیا۔جنھوں نے ڈاکٹر احمد کو گرفتار کیا تھا وہ گرفتار کر لیے گئے اور ڈاکٹر صاحب کو مجمع کندھے پر بٹھا کر چھڑا لایا۔اب لوگ ڈاکٹر صاحب سے رہنمائی کی درخواست کر رہے تھے۔ مائکروفون کا انتظام آناً فاناً کر دیا گیا تھا۔
	ڈاکٹر احمد کثیر مجمع کے جذبات کو دیکھ کر جذباتی ہو گئے تھے۔ انہوں نے کہا آج ہمارے لیے بڑی خوشی کا دن ہے۔ آج ہمیں ہم پر نگرانی کرنے والے بحری بیڑے اور ان سے محبت کرنے والا اقتدار دونوں سے نجات حاصل ہوئی ہے۔ لیکن ہمیں اس وقت ان معصوموں کو یاد کرنا چاہئے جن کی شہادت نے ہمیں بیدار کیا۔ جو خود تو بمباری کا شکار ہو کر موت کی نیند سوگئے لیکن اُمت کے اندر زندگی کی لہر پیدا کر دی۔ اسی کے ساتھ ہمیں ان نوجوانوں کو بھی خراج عقیدت پیش کرنا چاہئے جنھوں نے دشمنی کے چہرے پر پڑی دوستی کی نقاب کو نوچ کر پھینک دیا اور اسے ایسا جھٹکا دیا جو اس کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا۔ ان نوجوانوں نے دشمن کے غرور کو خاک میں ملا دیا ہے اور اُمت کو با وقار زندگی گذارنے کا حوصلہ بخشا۔میں اُن نوجوانوں کی عظیم قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں اور ان کے لیے بلند درجات کی دعا کرتا ہوں۔ آمین!
٭٭٭





جیون ساتھی


	ڈاکٹر اویناش اور ایڈوکیٹ سنتوش وہارلیک کنارے ایک اعلیٰ درجے کے ریسٹورنٹ میں بیئر کی چسکیاں لے رہے تھے۔ ان کی بیویاں شانتی اور آکانشا تھوڑی دور پر بیٹھ کر تازہ پھلوں کے رس سے لطف اندوز ہو رہی تھیں اور ان کے بیٹے وکاس اور سبھاش پانی میں کھیل رہے تھے۔ باتیں کرتے ہوئے سنتوش کی نگاہ جب بچوں پر پڑی تو اس نے کہا۔
	اویناش تمہیں یاد ہے کسی زمانے میں ہم دونوں بھی وکاس اور سبھاش کی طرح جوہو کے ساحل پر کھیلا کرتے تھے اور ہمارے والد صاحبان ایک طرف ہماری طرح بیٹھے سگریٹ پھونکا کرتے تھے۔
	اویناش نے حامی بھری اور کہا۔ ہاں مجھے یہ بھی یاد ہے کہ ہماری مائیں ہم چاروں سے الگ تھلگ ایک دوسرے کے ساتھ اسی طرح محو گفتگو ہوتی تھیں جس طرح شانتی اور آکانشا فی الحال لگی ہوئی ہیں۔ بالکل دنیا و مافیہا سے بے خبر۔
	ہاں ہاں مجھے یاد ہے۔ سنتوش بولا۔ اور ان کی باتیں کبھی ختم نہ ہوتی تھیں جس طرح ان دونوں کی باتیں ختم نہیں ہوں گی اور پھر ہمارے والد صاحبان زبردستی ان دونوں کو الگ کر دیا کرتے تھے جس طرح تھوڑی دیر بعد ہم کریں گے اور پھر ہماری مائیں ہم کو بلاتیں جس طرح شانتی اور آکانشا وکاس اور سبھاش کو بلائیں گی اور پھر ہم سے ناراض ہو جاتیں جیسے کہ وہ ان سے ہو جائیں گی اور پھر ہم با دلِ ناخواستہ اپنے اپنے والدین کی جانب چل پڑتے جس طرح یہ چل پڑیں گے۔ اور  پھر ہم اپنے والد کی اسکوٹر پر بیٹھ کر اپنے گھروں کی جانب روانہ ہو جاتے جس طرح ابھی کچھ دیر بعد ہم اپنی اپنی گاڑیوں میں روانہ ہو جائیں گے۔
	لیکن اس سے پہلے پانی پوری کے لیے ضد کرنا تمہیں یاد ہے؟ اور ہاں منع کرنے کے باوجود اصرار کرنا اور والدین کو مجبور کرنا بھی یاد ہی ہو گا۔وکاس اور سبھاش بھی یہی کرنے والے ہیں۔ 
	یار میں سوچتا ہوں زمانہ کتنا بدل گیا۔ تیس سالوں میں کہاں سے کہاں پہنچ گیا لیکن انسان نہیں بدلا۔
	ہاں سنتوش تو صحیح کہتا ہے نہ نسلوں کے فاصلے کم ہوئے نہ جنس کی بنیاد پر موضوعات کے اختلاف میں کوئی تبدیلی آئی۔ پہلے بھی ہمارے ماتا پتا کی دلچسپی کے موضوعات علیٰحدہ ہوتے تھے ہم لوگ ان سے دور دور رہا کرتے تھے آج کل بھی وہی کچھ ہے۔ ایسا لگتا ہے کچھ نہیں بدلا۔
	ڈاکٹر اویناش اور ایڈوکیٹ سنتوش بچپن کے یار تھے۔ ایک محلے میں رہتے، ایک اسکول میں پڑھتے، ایک ساتھ آتے جاتے، ایک ساتھ کھیلتے۔ حالانکہ دونوں کے مزاج میں زمین آسمان کا فرق تھا۔ اویناش نہایت شوخ اور چنچل تھا جب کہ سنتوش نہایت سادہ اور خاموش طبع۔ اس کے باوجود ان کے اندر اٹوٹ دوستی تھی۔بھائیوں سے زیادہ ایک دوسرے کو چاہتے تھے۔ اسکول کی تعلیم کے بعد دونوں کے راستے بدل گئے۔ ایک نے سائنس تو دوسرے نے آرٹس کا راستہ اختیار کیا۔ ایک ساتھ گریجویشن کی ڈگری کے بعد ایک نے ڈاکٹریٹ کا راستہ اختیار کیا اور دوسرا قانون کی کتابیں پڑھنے لگا۔ دونوں نے تقریباً ایک ساتھ تعلیم کی تکمیل کی۔اویناش کو ملک کی نامور تحقیقاتی تجربہ گاہ میں ملازمت مل گئی اور سنتوش کو ملک کے بہت بڑے تجارتی ادارے نے اپنا قانونی مشیر بنا لیا۔ اس کے بعد شادی کا وقت آیا تو وہ بھی تقریباً ایک ساتھ ہوئی۔ اویناش کی شادی کالج کے پرنسپل کی لڑکی شانتی سے ہو گئی اور سنتوش نے ایک بہت بڑے تاجر کی بیٹی آکا نشا سے بیاہ رچا لیا۔ دو سال بعد ان دونوں نے لڑکوں کو جنم دیا۔ وکاس اور سبھاش کی عمروں میں صرف تین ماہ کا فرق تھا ان دونوں دوستوں کی زندگی بے شمار اتّفاقات اور اختلافات سے بھری پڑی تھی۔
	ڈاکٹر اویناش کا شمار بہت جلد ملک کے بڑے سائنسدانوں میں ہونے لگا تھا۔رات دیر گئے وہ اپنی لیباریٹری میں کام کرتے رہتے تھے۔جس کانفرنس میں جاتے چھا جاتے شرکاء کا دل موہ لیتے تھے آئے دن اخبارات میں ان کے انٹر ویو چھپتے انہیں کئی قومی اور بین الاقوامی تمغوں سے بھی نوازا گیا تھا۔ لیکن ان سب کے باوجود ان کی بیوی شانتی ان سے ناراض تھی۔ اس کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر اویناش گھر سے باہر جس قدر وقت صرف کرتے ہیں اس کا عشر عشیر بھی گھر میں نہیں دیتے، ساری دنیا کے لئے ان کے پاس فرصت ہے لیکن گھر والوں کے لئے نہیں، وہ کبھی بھی سورج ڈھلنے سے پہلے گھر نہیں آتے،وکاس کو اکثر سویا ہوا پاتے ہیں اور سویاہوا ہی چھوڑ جاتے۔شانتی اکثر ان سے کہتی کہ دیکھو تم سرکاری لیباریٹری میں کام کرتے ہو، ہماری کالونی کے سبھی لوگ اس میں کام کرتے ہیں۔ وہ کیسے آرام سے دفتر جاتے ہیں دوپہر کو کھانے کے لیے واپس گھر آ جاتے ہیں آرام کر کے واپس جاتے ہیں۔ شام پانچ بجے اپنے گھر پر دوبارہ حاضر ہو کر بچوں کے ساتھ چائے ناشتہ کر کے چہل قدمی کے لیے چل پڑتے ہیں۔ شام میں تھوڑا وقت بچے کی تعلیم پر صرف کرتے ہیں۔ بیوی کے ساتھ ٹی وی کے سیرئیل دیکھتے ہیں۔ دوسروں کو اپنے گھر بلاتے ہیں اور خود دوسروں کے گھر جاتے ہیں لیکن ڈاکٹر اویناش کی زندگی ان تمام چیزوں سے خالی تھی۔ ان کا کسی اور سے تو کیا خود اپنے گھر والوں سے بھی ملنا جلنا نہ ہو پاتا تھا۔ بس کام کام اور کام۔ اس کے سوا کوئی کام نہ تھا۔ اویناش کے اس رویہ کے باعث شانتی اپنی زندگی میں ایک بہت بڑا خلاء محسوس کرتی تھی۔ جب بہت لمبا وقفہ اس طرح گذر جاتا تو آکانشا کو اپنے گھر بلا لیتی یا ان کے گھر جانے کا پروگرام بناتی۔ڈاکٹر اویناش کے لیے یہی ایک دعوت ایسی ہوتی جس کا ٹالنا ممکن نہ ہوتا لیکن یہ موقع بھی سال میں ایک دو بار ہی آتا۔کئی مرتبہ ڈاکٹر اویناش دیوالی اور ہولی میں بھی اپنے اہل خانہ سے دور رہتے۔ یورپ اور امریکہ میں ہونے والی سائنسی کانفرنسوں کا ان تہواروں سے کیا لین دین اور ڈاکٹر اویناش کے لیے ان میں شرکت اپنے اہل خانہ کے ساتھ تہوار منانے سے زیادہ اہمیت کی حامل تھی۔ اس لیے وہ بلا تکلف نکل جایا کرتے تھے۔ وہاں یاد آ گئی تو فون کر دیا ورنہ وہ بھی بھول گئے۔ ڈاکٹر کے اس رویہ نے شانتی کی زندگی کو اشانتی سے بھر دیا تھا۔ لیکن یہ ایک ایسا کرب تھا جس کا اظہار کسی اور سے کرنا ہندوستانی عورت کے لیے گناہ عظیم سے کم نہ تھا۔ 
	ادھر سنتوش کے گھر کا معاملہ اس کے بالکل برعکس تھا۔ سنتوش کی زندگی دفتر اور گھر کے درمیان طواف سے منسوب تھی۔ شام پانچ بجتے ہی دفتر سے نکلنے والی سب سے پہلی گاڑیوں میں سے ایک سنتوش کی ہوتی تھی وہ سیدھا اپنے گھر آتا، بیوی بچّے کی خبر لیتا، صبح کا اخبار شام کو پڑھتا اور پھر ٹی وی لگا کر شام کا اخبار پڑھنے لگتا۔ ٹی وی کا ریموٹ ہمیشہ اس کے ہاتھوں میں ہوتا خبروں کے چینلس کا تو وہ دیوانہ تھا اس بیچ بچّوں سے خوش گپّیاں کرتا، بیوی کھانا لگا دیتی تو کھانا کھا تا اور چہل قدمی کے لئے چل پڑتا۔ وہ آکانشا کو بھی ساتھ آنے کی دعوت دیتا لیکن آکانشا چہل قدمی میں نہیں ٹی وی پر خواتین کے سیرئیلس میں دلچسپی تھی۔ وہ امیر خاندانوں کی خواتین کی سیاست پر مشتمل ڈراموں میں کھو جاتی۔ دراصل آکانشا کا تعلق بھی ایک امیر تجارتی گھرانے سے تھا۔ ان سیرئیلس کے کرداروں میں آکانشا کو کہیں اپنی ماں نظر آتی تو کہیں باپ کہیں بھائی تو کہیں بھابی۔ سب کے سب دولت کے نشہ میں چور ایک دوسرے کو جائداد سے بے دخل کرنے کی کوششوں میں مصروف بے شمار سازشوں اور چالوں کے درمیان الجھی ہوئی یہ کہانیاں آکانشا کو بہت اچھی لگتی تھیں۔ 
	اس بیچ ایک نیا سیرئیل شروع ہوا تھا جس کا ہیرو ملک کا بہت نامور وکیل تھا۔ سارے ملک میں جس کے چرچے تھے بڑے بڑے مجرمین کو چھڑا لیا کرتا تھا۔ بڑے بڑے سیاستدان اس کے دوست ہوا کرتے تھے۔ آئے دن اس کی خبریں اخبارات میں چھپتیں۔ ہر پیشی کے وہ ہزاروں روپئے لیتا اور ایک محل نما بنگلہ میں رہا کرتا تھا۔ آکانشا جب بھی اس سیرئیل کو دیکھتی اسے سنتوش پر غصہ آنے لگتا اس لیے کہ وہ بھی ایک وکیل تھا لیکن اسے کبھی عدالت جانے کی توفیق نہیں ہوئی۔ ملک تو کیا پڑوس کے لوگ بھی نہیں جانتے تھے ایڈوکیٹ سنتوش کون ہے؟آج تک اس نے کسی مجرم تو کیا بے گناہ ملزم کا بھی مقدمہ نہیں لڑا تھا۔ عجیب بے رنگ زندگی گذار رہا تھا یہ شخص۔ دنیا کی خوش رنگیوں سے اس کا کوئی لین دین ہی نہ تھا۔ اپنا دفتر اپنا گھر اپنا باس اور اپنی بیوی یہی اس شخص کی کل کائنات تھی اور وہ اسی میں مست تھا۔ آکانشا نے اسے کئی مرتبہ سمجھایا، جھنجھوڑا، ڈانٹا ڈپٹا سب کچھ کر کے دیکھ لیا لیکن سنتوش کے کان پر جوں نہ رینگتی تھی۔
	ایک مرتبہ اس نے زبردستی سنتوش کو وہ سیرئیل دکھانے کے لیے روک لیا اور خاتمہ کے بعد پوچھا۔ تم ایسے کیوں نہیں بنتے؟
	سنتوش نے جواب دیا۔ تم نے نہیں دیکھا یہ شخص کس قدر پریشان ہے۔ کس قدر دباؤ میں رہتا ہے۔ رات گئے تک قانون کی کتابوں میں غرق رہتا ہے جھوٹ کو سچ اور سچ کو جھوٹ بنانے کی جدوجہد میں لگا رہتا ہے۔ کیسے کیسے لوگوں سے اس کے تعلقات ہیں۔ یہ سب میرے بس کی بات نہیں۔ میں الٹے سیدھے کام نہیں کر سکتا۔
	سنتوش کا تبصرہ سن کر آکانشا آگ بگولہ ہو گئی۔ اپنے پسندیدہ کردار کے بارے میں اتنی ساری منفی باتیں وہ کبھی سوچ بھی نہیں سکتی تھی۔ آکانشا نے کہا۔ تمہیں اس میں صرف برائیاں ہی برائیاں نظر آتی ہیں کھوٹ ہی کھوٹ دکھائی دیتا ہے۔ تم نے اس کا بنگلہ نہیں دیکھا۔ اس کی شہرت نہیں دیکھی۔ اس کا ٹھاٹ باٹ، اس کی گاڑی، اس کی شان و شوکت یہ سب کچھ تمہیں دکھائی نہیں دیا۔ زندگی بھر کمپنی کے کوارٹر میں رہنے والے اس سے زیادہ سوچ بھی کیا سکتے ہیں اسی کو کہتے ہیں کھسیانی بلّی کھمبا نوچے۔
	اپنی بیوی آکانشا کی تقریر سن کر سنتوش ہنسنے لگا اور اس نے کہا۔ آکانشا اگر تمہیں وہ فلمی کردار اتنا ہی پسند ہے تو کر لو اسی سے شادی۔ میں کل ہی تمہارے طلاق کے کاغذات تیار کر کے لے آتا ہوں لیکن یاد رکھو میں جیسا بھی ہوں اصلی وکیل ہوں۔ ایڈوکیٹ سنتوش رانا ایل ایل ایم اور وہ ہے نرا بہروپیا۔
	آکانشا غصہ سے بپھر گئی۔ اپنی بیوی کو طلاق کی دھمکی دینے کے علاوہ اور ایڈوکیٹ سنتوش کر بھی کیا سکتے ہیں۔ اس لیے یہ بھی کر کے دیکھ لو بھیج دو مجھے اپنے گھر اور ہو جاؤ آزاد۔
	سنتوش پھر مسکرا دیا۔ میری جان طلاق کی بات تو میں نے صرف تمہیں چھیڑنے کے لیے کہی تھی ورنہ کون ظالم اتنی اچھی بیوی کو طلاق دیتا ہے۔ لیکن محترمہ آپ کو یہ تو ماننا ہی پڑے گا میں جتنا آپ کا خیال رکھتا ہوں آپ کی خدمت حقیقت میں کرتا ہوں وہ تمہارا فلمی کردار ٹی وی کے اسکرین پر بھی اپنی بیوی کی ایسی خدمت نہیں کرتا۔
	یہ سن کر آکانشا کچھ نرم پڑی۔ اس نے کہا۔ میں نے کب کہا آپ میرا خیال نہیں کرتے یا میری خدمت نہیں کرتے۔ وہ تم بے شک کرتے ہو لیکن سنتوش زندگی یہی سب کچھ تو نہیں ہے مجھے اس کے ساتھ بنگلہ، گاڑی، شان و شوکت، دولت شہرت اور بہت کچھ چاہئے۔ ان کے بغیر زندگی بے معنی لگتی ہے۔
	لیکن یہ سب ایک ساتھ نہیں آتا۔ سنتوش نے کہا۔ ایک کو دوسرے کی قیمت پر حاصل کرنا پڑتا ہے اور میں اپنی ازدواجی سکون کی قیمت پر کچھ بھی حاصل کرنا نہیں چاہتا۔سنتوش نے جواب دیا اور آکانشا اُداس ہو کر اپنی خوابگاہ میں چلی گئی۔ اس مسئلہ پر سنتوش اور آکانشا کی نوک جھونک کوئی نئی بات نہیں تھی لیکن آج یہ توتو میں میں اپنے حدود کو پار کر گئی تھی۔ سنتوش دیر تک بیٹھا سوچتا رہا آخر کیا کرے اسے کچھ سجھائی نہ دے رہا تھا۔ ایسے میں بے ساختہ اسے اپنے دوست اویناش کا خیال آیا اور اس کی انگلی فون پر چلنے لگی۔ اویناش کے گھر پر فون اس بیوی شانتی نے اٹھایا۔ ہیلو کی آواز سنتے ہی سنتوش نے فون رکھ دیا۔ اس لیے کہ شانتی سے بات کرنے کا مطلب تھا آکانشا سے بات کروانا اور آج وہ یہ نہیں چاہتا تھا۔ اس نے پھر موبائیل پر اویناش کو فون کیا اور اویناش نے فوراً جواب دیا۔
	بول سنتوش کیا حال ہے؟
	سنتوش نے جواب دیا۔ یار حال اچھا نہیں ہے۔
	یہ سن کر اویناش چونک پڑا۔تیس سال کی دوستی میں پہلی بار سنتوش کے منہ سے یہ الفاظ اویناش نے سنے تھے اسے اپنے کانوں پر یقین نہیں آ رہا تھا۔ اس نے پھر پوچھا۔ کیوں بھائی خیریت تو ہے مذاق تو نہیں کر رہے؟
	اویناش میں یہ کہہ چکا ہوں کہ خیریت نہیں ہے اور میں مذاق نہیں کر رہا ہوں فی الحال یہ بتلاؤ کہ تم کہاں ہو؟ شہر میں یا کہیں باہر۔
	سنتوش نے جھنجھلا کر کہا۔ میں تو گھر ہی پر ہوں بتاؤ کیا خدمت کی جائے۔
	اویناش بات دراصل یہ ہے کہ میں تم سے ملنا چاہتا ہوں۔ 
	اتنی رات گئے۔ خیریت تو ہے۔
	اویناش میں تم سے بار بار کہہ چکا ہوں کہ خیریت نہیں ہے میں تم سے ابھی اسی وقت ملنا چاہتا ہوں۔ 
	اویناش نے کہا۔ٹھیک ہے ٹھیک ہے۔ اب بتا کہاں ملنا ہے؟ تو میرے گھر آتا ہے یا میں آؤں ؟
	نہیں ہم لوگ گھر پر نہیں ملیں گے ہم کسی پارک یا ریسٹورنٹ میں ملتے ہیں۔ 
	یہ سب باتیں اویناش کے لیے نئی تھیں۔ سنتوش رات گئے جاگنے کا عادی نہیں تھا۔ وہ اتنی جلد بازی میں کوئی کام نہ کرتا تھا۔ کسی بھی کام کو بڑے آرام سے کل پر ٹال دیتا تھا اور پھر گھر پر ہی ملنا پسند کرتا تھا کہیں اور بلانے کے لیے اسے کافی منانا پڑتا تھا لیکن آج سب کچھ اُلٹا ہو رہا تھا۔ اویناش اور سنتوش نے ملنے کے لیے جوہو کا ساحل طے کیا اور اویناش تیار ہونے لگا۔ شانتی نے پوچھا۔
	ارے اتنی رات گئے کہاں کی سواری ہے۔
	مجھے سنتوش نے بلایا ہے۔
	سنتوش بھیا نے اس وقت؟ خیریت تو ہے۔ شانتی نے پوچھا۔
	نہیں نہیں خیریت نہیں ہے۔ نہیں میرا مطلب خیریت ہے کوئی بات نہیں۔ 
	شانتی ہنسنے لگی ارے آپ اس قدر بوکھلائے ہوئے کیوں ہیں۔ سنتوش ہی کے پاس جا رہے ہیں نا یا؟
	ہاں بابا سنتوش کے پاس ہی جا رہا ہوں۔ 
	میں بھی چلوں۔ شانتی نے پوچھا۔
	اویناش جھلّا گیا۔ شک کی دوا تو حکیم لقمان کے پاس بھی نہیں اور تم عورتوں کا شک تو بھگوان بچائے اس سے۔ چلو اگر چلنا ہی ہے ویسے سنتوش بھابی کے ساتھ نہیں اکیلے آ رہا ہے۔
	شانتی نے ہنستے ہوئے کہا۔ آپ تو سنجیدہ ہو گئے میں تو یوں ہی مذاق کر رہی تھی۔ یہ جاننا چاہتی تھی کہ کہیں کوئی تجربہ تو یاد نہیں آ گیا اور ڈاکٹر صاحب تجربہ گاہ کی جانب تو نہیں چل دیئے۔
	خیر گڈ بائی۔
	سنتوش اور اویناش دس منٹ کے اندر متعینہ مقام پر پہنچ گئے۔وہاں پہنچنے کے بعد سنتوش نے آج کا واقعہ سنا دیا اور کہا کہ اویناش اب پانی سر سے اونچا ہو چکا ہے۔ اب یہ سب قابل برداشت نہیں رہا۔ پہلے نوک جھونک کبھی کبھار ہوا کرتی تھی اب کبھی کبھار ایسا ہوتا ہے کہ تو تو میں میں نہ ہو۔ تم تو جانتے ہو میرا مزاج یہ سب میرے بس کی بات نہیں۔ 
	اویناش نے سنتوش کی بات سن کر کہا۔ یار یہ مسئلہ صرف تمہارا نہیں میرا بھی ہے۔ شانتی میری تمام تر کامیابیوں کے باوجود مجھ سے ناراض رہتی ہے۔ اس کے لیے میری شہرت میرے تمغے میرا نام نمود سب بے معنی ہے۔ وہ چاہتی ہے میں بھی دوسروں کی طرح شام پانچ بجے دفتر سے چھوٹ کر اس کی خدمت میں آ جایا کروں نہ دیر تک کام کروں نہ نئی نئی ایجادات کروں۔ میری سمجھ میں نہیں آتا میں کیا کروں ؟ اس کی بار بار روک ٹوک نے مجھے احساس جرم میں مبتلا کر دیا ہے۔ جو کچھ تمہارے ساتھ ہوا وہی کچھ میرے ساتھ بھی ہوتا ہے۔فرق صرف یہ ہے کہ شانتی نرم آنچ ہے اور آکانشا بھڑکتا شعلہ ہے۔لیکن دوست زخم دونوں کے یکساں ہی ہوتے ہیں۔ 
	ہم دونوں کو اس کا علاج تلاش کرنا ہی ہو گا ورنہ ہماری زندگی جہنم بن جائے گی۔ 
	دونوں ساحل سے چل کر چائے خانے میں آ گئے۔ چائے کی چسکیاں لیتے ہوئے دیر تک سوچتے رہے کیا کیا جائے؟ چائے ختم کرتے کرتے اویناش نے کہا۔
	آئیڈیا۔ ہم ایسا کرتے ہیں ڈاکٹر نائک سے ملتے ہیں۔ 
	یہ ڈاکٹر نائک کون ہے؟ تمہارے ساتھ کام کرتا ہے کیا؟سنتوش نے پوچھا۔
	نہیں۔ اویناش بولا۔ یہ ہماری لائن کا ڈاکٹر نہیں ہے بلکہ مشہور ماہر نفسیات ہے۔ ہمیں اپنا مسئلہ کے لیے اس سے رجوع کرنا چاہئے۔
	اویناش نے ڈاکٹر نائک سے اگلے دن کا وقت لیا اور سنتوش کو اس کے دوا خانے کا پتہ بتلا کر اپنے گھر روانہ ہو گیا۔ سنتوش بھی واپس آ کر سوگیا۔
	دوسرے دن دونوں دوستوں نے اپنی اپنی کہانی ڈاکٹر نائک کو سنائی۔ ڈاکٹر نائک نے ان سے کئی سوالات کئے اور اپنی تشخیص ان کے سامنے رکھ دی۔ انہوں نے بتلایا تم دونوں کے مزاج اپنی اپنی بیویوں کی ضد ہیں۔ اس لیے تمہاری ازدواجی زندگی کبھی بھی اطمینان بخش نہیں ہو سکتی۔ 
	لیکن ڈاکٹر صاحب سنتوش بولا۔ ہم دونوں کے مزاج بھی ایک دوسرے سے مختلف ہیں اس کے باوجود پچھلے تیس سالوں سے ہم ایک دوسرے کے ہم پیالہ اور ہم نوالہ ہیں۔ اگر متضاد مزاج کے باوجود دوستی قائم رہ سکتی ہے تو رشتۂ ازدواج کیوں نہیں ؟
	ڈاکٹر نائک نے کہا۔ سوال دلچسپ ہے۔ دوستی اور شادی میں یہ بنیادی فرق ہے۔ دوستی میں محبت تو بہت ہوتی ہے لیکن باہم انحصار بہت کم ہوتا ہے لیکن شادی میں محبت ہو نہ ہو باہم انحصار بہت زیادہ ہوتا ہے۔ اس لیے دوستوں کی شخصیت ایک دوسرے سے منفرد اور مختلف ہو سکتی ہے لیکن تعلقاتِ زن و شو میں اس سے مسائل کھڑے ہو جاتے ہیں۔ ایک اور بات ہے۔ ڈاکٹر نائک بولے۔ رشتۂ ازدواج میں ایک دوسرے سے توقعات بہت زیادہ وابستہ ہوتے ہیں اور اسی کے باعث مایوسی کی مقدار بھی زیادہ ہوتی ہے۔ دوستی میں توقعات کی کمی کے باعث ایسا نہیں ہوتا۔
	اویناش نے کہا۔ ڈاکٹر صاحب یہ سب تو ٹھیک ہے لیکن اب ہم کیا کریں ؟ ہم خوش رہنا چاہتے ہیں۔ 
	ڈاکٹر نائک نے کہا۔ اس حالت میں تو آپ لوگ خوش نہیں رہ سکتے۔ 
	سنتوش نے پوچھا۔ لیکن صاحب اس حالت کے لیے کون ذمہ دار ہے؟ کون قصوروار ہے؟
	ڈاکٹر نائک مسکرائے اور انہوں نے کہا۔ انفرادی طور سے تم چاروں کی کوئی غلطی نہیں ہے تم سب ٹھیک ٹھاک ہو لیکن تمہارا جوڑ صحیح نہیں ہے۔ 
	دونوں نے ایک ساتھ پوچھا۔ کیا مطلب؟
	نائک بولے۔ تم لوگ گاڑی چلاتے ہی ہو گے۔ اس لیے ایک مثال کے ذریعہ میں یہ بات تمہیں سمجھانے کی کوشش کرتا ہوں۔ ایک شخص اپنی گاڑی کی رفتار طے کرنے کا حق اپنے پاس ضرور رکھتا ہے لیکن اسے اپنی رفتار کے لحاظ سے ٹریک کا انتخاب کرنا چاہئے۔ اگر دھیمی رفتار سے چلنے والا فاسٹ ٹریک پر گاڑی چلائے تو اسے پیچھے والے کے دباؤ کا شکار ہونا پڑتا ہے اور اسی طرح اگر تیز چلانے والا دھیمی ٹریک پر گاڑی چلائے تو اگلے کی رفتار پر جھنجھلاہٹ کا شکار ہوتا ہے۔ یہ دونوں دوسروں کو موردِ الزام ٹھہراتے ہیں حالانکہ قصور ان کا اپنا ہے۔ 
	لیکن ڈاکٹر صاحب آپ نے کہا تھا ہر شخص کو اپنی رفتار کے تعین کا اختیار ہے۔
	جی ہاں میں نے کہا تھا۔ ڈاکٹر نائک بولے۔ لیکن یہ بھی کہا تھا کہ ہر شخص کو اپنی رفتار کے مطابق ٹریک کا انتخاب بھی کرنا چاہئے۔ اگر ایسا نہ کیا جائے تو مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ 
	اویناش پھر بولا۔ ڈاکٹر صاحب۔ وہ تو ٹھیک ہے لیکن ہم کیا کریں اب تو ہم اس ٹریک پر آ ہی چکے ہیں۔ 
	ٹھیک ہے ڈاکٹر نائک نے کہا۔ آپ لوگ اپنی اپنی رفتار بدل دیجئے۔ 
	ہم اپنی رفتار بدل دیں۔ سنتوش نے تعجب سے پوچھا۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ یہ تو بہت مشکل ہے۔
	ڈاکٹر نائک بولے۔ بہت خوب تمہیں اپنی مشکل کا احساس ہے لیکن دوسروں کی نہیں جو چیز تمہارے لیے مشکل ہے وہ کسی اور کے لیے کیسے آسان ہو سکتی ہے؟
	اویناش نے کہا۔لیکن میں نے کہیں پڑھا تھا محبت مشکل کو آسان کر دیتی ہے۔ اگر ہماری بیویوں کے دلوں میں ہمارے لیے محبت ہے تو ان کے لیے یہ مشکل نہیں ہونی چاہئے۔
	ڈاکٹر نائک بولے۔ اویناش تمہاری یہ دلیل تو بڑی جاندار ہے تمہیں سائنسداں کے بجائے سیاستداں ہونا چاہئے تھا۔ میں پوچھتا ہوں اگر تمہارے دل میں ان کے لیے محبت ہے تو تمہیں بھی کوئی مشکل نہیں ہونی چاہئے۔ اور چونکہ تمہارے لیے مشکل ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ محبت نہیں ہے اور جب کہ تمہارے دلوں میں ان کے لیے محبت نہیں ہے تو ان کے دلوں میں تمہارے لیے محبت کیونکر ہو سکتی ہے۔ اس لیے کہ محبت ہی تو ایک ایسا جذبہ ہے جس کا رد عمل بالکل یکساں اور برابر ہوتا ہے۔
	سنتوش بگڑ گیا۔ ڈاکٹر صاحب آپ کیا کہہ رہے ہیں ؟ آپ کا مطلب ہے ہم لوگوں کے اندر ایک دوسرے کے لیے جذبہ محبت نہیں ہے اور اگر ایسا ہے تو کیا ہے؟
	ڈاکٹر نائک بولے۔ سنتوش اطمینان رکھو حقائق کبھی کبھار تلخ ہوتے ہیں لیکن ان کا مقابلہ کرنا پڑتا ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ محبت اور حکومت میں بہت معمولی سا فرق ہے اور وہ یہ ہے کہ محبت میں حبیب اپنے محبوب کی مرضی میں ڈھل جانا چاہتا ہے اور حکومت میں حاکم محکوم پر اپنی مرضی چلانا چاہتا ہے۔ اب تم لوگ خود ہی فیصلہ کر سکتے ہو کہ تمہارے درمیان محبت ہے یا سیاست۔
	لیکن ایک درمیانی شکل بھی تو ہوتی ہے جس میں دونوں اپنے اندر تھوڑی تھوڑی تبدیلی لائیں کیا اسے آپ محبت نہیں کہیں گے۔ سنتوش نے پوچھا۔
	نہیں۔ ڈاکٹر نائک بولے۔ وہ تو تجارت ہے اس لیے کہ ایسا کرنے کے بعد پھر حساب کتاب ہوتا ہے جس نے اپنے اندر کم تبدیلی برپا کی وہ اپنے آپ کو فائدے میں سمجھتا ہے اور جس کو زیادہ تبدیلی لانی پڑی وہ سمجھتا ہے کہ اس کا نقصان ہو گیا۔ 
	لیکن انسان ہر ایک کی مرضی کے مطابق اپنے آپ کو ڈھال تو نہیں سکتا تو سب سے محبت کیسے کر سکتا ہے۔؟
	ڈاکٹر نائک بولے۔ تمہاری بات صحیح ہے انسان کو اختیار ہے کہ کس سے محبت کرے کس سے نہ کرے لیکن وہ جس کسی سے محبت کرے گا اس کو اسی طرح کرنا ہو گا جیسا کہ اسے آزادی ہے کس پر حکومت کرے اور کس پر نہ کرے لیکن وہ جس کسی پر حکومت کرے اسے ایسے کرنا ہو گا۔
	دونوں خاموش ہو گئے پھر اویناش نے پوچھا۔ ڈاکٹر صاحب ایک بات بتائیے۔ حکومت میں محکوم حاکم پر اپنی مرضی چلانا نہیں چاہتا لیکن یہاں دونوں ایک دوسرے پر اپنی مرضی چلانا چاہتے ہیں ؟
	اس کی وجہ یہ ہے۔ ڈاکٹر نائک نے کہا۔ شوہر تو اس لیے چلانا چاہتا ہے کہ وہ شوہر کی حیثیت سے اپنے آپ کو بیوی کا آقا سمجھتا ہے اور بیوی اس خوف سے اس پر اپنی مرضی چلاتی ہے کہ کہیں یہ کسی اور کا محکوم نہ ہو جائے۔ اس لیے اسے اپنا تابع اور فرمانبردار بنا کر رکھنا چاہتی ہے۔ ویسے دونوں کے اندر رشتہ چونکہ محبت کے بجائے ضرورت کا ہوتا ہے اس لیے اگر ضرورت پوری ہوتی ہے تو رشتہ خوشگوار رہتا ہے اور جب وہ پوری نہیں ہوتی تو رشتوں میں تلخی آ جاتی ہے۔
	لیکن ہم تو اپنی بیویوں کی ساری ضرورتیں پوری کرتے ہیں۔ سنتوش نے کہا۔
	ڈاکٹر نائک بولے۔ عام طور پر مادی ضرورتوں کو ہی سب کچھ سمجھ لیا جاتا ہے حالانکہ احساس جذبات کو مادیت پر برتری حاصل ہے۔
	ٹھیک ہے ہم یہ تسلیم کرتے ہیں کہ ہماری نفسیات ایک دوسرے سے مختلف ہیں اور ہم اسے بدل نہیں سکتے۔ سنتوش نے کہا۔ اس لیے آپ کوئی متبادل بتلائیں۔ 
	ڈاکٹر صاحب بولے۔ متبادل تو یہ ہے کہ اگر تم اپنی رفتار نہیں بدل سکتے تو ٹریک بدل دو یہ کام آسان ہے۔
	ڈاکٹر نائک کا جملہ دونوں پر ایٹم بم کی طرح گرا۔ ان دونوں نے کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ ایسا بھی ہو سکتا ہے۔ دونوں سکتے میں آ گئے۔ کافی دیر خاموش رہے۔ اویناش نے اسے توڑتے ہوئے کہا۔ بات تو شاید معقول ہے لیکن …اور رک گیا۔
	ڈاکٹر صاحب نے پوچھا۔ لیکن کیا؟
	لیکن میں پہل کرنے کی جرأت اپنے اندر نہیں پاتا۔
	سنتوش نے فوراً تائید کی۔
	 ڈاکٹر نائک بولے۔ آپ لوگ اس کی فکر نہ کریں میں ان کو سمجھانے کی کوشش کروں گا۔ 
	دونوں نے بیک وقت کہا۔ یہ ٹھیک ہے۔اس کے بعد دونوں دوست عجیب بیم و رجا کی کیفیت میں مبتلا ہو گئے۔انہیں اپنی منزل سامنے دکھلائی دیتی تھی لیکن درمیان میں بہت بڑی کھائی تھی انہیں یقین تھا آکانشا اور شانتی اس تجویز کو سن کر بپھر جائیں گی اور ایسا کبھی بھی نہ ہو سکے گا۔ ڈاکٹر نائک سے آئندہ کا وقت لے کر دونوں دوست واپس ہو لیے۔ دیر تک ساتھ ساتھ چلتے رہے لیکن ایک دوسرے سے ایک لفظ نہ کہا۔ عجیب و غریب حالت تھی ان کی زبانیں گنگ ہو گئی تھیں۔ ذہن سن ہو گئے تھے وہ لوگ روبوٹ کی طرح چل رہے تھے۔ دو بے جان ہاتھ ایک دوسرے سے ملے اور جدا ہو گئے۔
	دو روز بعد ڈاکٹر نائک سے ملنے یہ دونوں دوست اپنی اپنی اہلیہ کے ساتھ پہنچے۔ ڈاکٹر نائک نے پہلے ہر ایک سے علیحدہ علیحدہ گفتگو کی اور پھر دونوں کو ایک ساتھ بلا کر گفت و شنید کی۔ خلاف توقع ان دونوں خواتین کی جانب سے اس طرح سوالات کی بوچھار نہیں ہوئی جیسے اویناش اور سنتوش کرتے رہے تھے۔ تجویز کو سننے کے بعد تھوڑے سے شش و پنج کے بعد آکانشا نے پوچھا۔ 
	بات تو معقول ہے لیکن … اور وہ رک گئی۔
	ڈاکٹر نائک نے کہا۔ میں نے ان دونوں کو سمجھا دیا ہے۔
	شانتی بولی۔ لیکن بچے؟
	ڈاکٹر صاحب نے کہا۔ ویسے تو بچہ اپنے باپ کا ہے اور اس کی جائداد کا وارث ہے لیکن   فی الحال آپ لوگ اس مسئلہ کو اس طرح حل کر سکتے ہیں کہ اسی سے پوچھ لیں کہ وہ ماں کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں یا باپ کے ساتھ۔ وہ جس کے ساتھ رہنا چاہیں اسی کے ساتھ رہنے دیا جائے۔
	آکانشا اور شانتی جب ڈاکٹر نائک کے کمرے سے انتظار گاہ میں آئیں تو دیکھا دونوں دوست گم سم کسی احساس شکست میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ دونوں نے کنکھیوں سے ایک دوسرے کو دیکھ کر مسکرایا اور پھر آکانشا بولی۔
	ہیلو ایوری باڈی۔ یہ کیا تم لوگ تو ایسے بیٹھے ہو جیسے آپریشن تھیٹر سے ہماری لاشیں برآمد ہونے والی ہیں۔ کیوں کیا بات ہے؟ 
	اویناش بولا۔نہیں نہیں کچھ نہیں۔ وہ تو بس یونہی ہم لوگ، کچھ نہیں کچھ بھی نہیں۔ 
	شانتی نے اویناش کا ہاتھ تھامتے ہوئے کہا چلو اویناش وکاس اسکول کے باہر ہمارا انتظار کر رہا ہو گا۔ میں نے اسے میک ڈونالڈ لے جانے کا وعدہ کیا تھا۔
	ہاں ہاں۔ اویناش بولا۔ میں تو بھول ہی گیا تھا۔
	شانتی بولی۔ اس میں کوئی نئی بات نہیں۔ تمہیں یہ سب کب یاد رہتا ہے۔ اچھا آکانشا چلتے ہیں۔ ہمیں دیر ہو رہی ہے۔
	ان دونوں کے چلے جانے کے بعد سنتوش بوجھل قدموں سے اٹھا اور آہستہ آہستہ گاڑی کی جانب بڑھنے لگا۔ وہ خاموش تھا اور کافی دیر خاموش رہا۔ جب گھر قریب آ گیا تو اس نے ڈرتے ڈرتے پوچھا۔ ڈاکٹر نائک نے کچھ کہا تو نہیں ؟
	نشا نے کہا۔ کیسی بات کرتے ہو سنتوش ڈاکٹر نائک سے ہم ملنے جائیں اور کچھ نہ کہیں۔ اگر وہ ایسا کریں گے تو انہیں فیس کون دے گا؟
	سنتوش نے کہا۔ ہاں وہ تو ٹھیک ہے لیکن انہوں نے کچھ ایسا ویسا تو نہیں کہہ دیا۔
	نہیں سنتوش۔ وہ اتنے بڑے ماہر نفسیات ہیں وہ ایسی ویسی بات کیسے کہہ سکتے ہیں۔ وہ ٹھیک ہی کہتے ہیں ہمیں حقیقت پسند ہونا چاہئے۔ آکانشا کے اس جملے نے سنتوش کے ہوش اُڑا دیئے۔
	ایک ہفتہ کے اندر بچوں سے رائے معلوم کر لی گئی۔ اویناش کے وکاس نے ماں کے ساتھ رہنا پسند کیا اور سنتوش کے سبھاش نے باپ کے ساتھ۔ اس طرح دونوں بچے ایک ساتھ ہو گئے۔ سنتوش نے پہلی مرتبہ طلاق کے کاغذات تیار کیے اور وہ بھی اپنے اور اپنے جگری دوست کے اور اسی کے ساتھ شادی کے کاغذات بھی تیار کر لیے۔ جس دن ان کی طلاق کے کاغذ جمع ہوئے اسی دن طلاق نافذ ہو گئی اور شادی بھی رجسٹر ہو گئی۔ 
	دوسرے دن اخبار میں خبر چھپی ڈاکٹر اویناش کھانولکر نے آکانشا بھاٹیا کے ساتھ شادی کر لی۔ کئی لوگوں نے اس کی سابقہ بیوی شانتی کے بارے میں لکھا اور اس پر ہونے والی نا انصافی پر غم و غصہ کا اظہار بھی کیا۔ لیکن وہ نہیں جانتے تھے کہ شانتی نے بھی سنتوش وکاس اور سبھاش کے ساتھ اپنی زندگی کا نیا سفر شانتی پورک طریقہ سے شروع کر دیا ہے۔
٭٭٭


 





کبوتر خانہ


	کبوترخانہ نامی گاؤں یہاں بسنے والے لوگوں کے بجائے یہاں پائے جانے والے کبوتروں کے باعث مشہور تھا گو کہ یہ ایک مضحکہ خیز نام تھا لیکن اس گاؤں کے لوگوں کو اپنے کبوتروں پر اس قدر فخر و ناز تھا کہ یہ اس نام کو اپنے لیے باعثِ افتخار سمجھتے تھے۔ یہ کاشتکاروں کی بستی تھی۔ یہاں کے لوگوں کا پیشہ زراعت اور مشغلہ کبوتر بازی تھا۔ صبح سویرے یہ لوگ اپنے کھیتوں کی جانب نکل جاتے اور شام میں واپس آ کر کبوتر بازی میں غرق ہو جاتے۔ گاؤں میں ایک چھوٹی سی مسجد بھی تھی جو ویران و پشیمان رہتی اس لیے کہ نماز فجر کی اذان ان کے دور دراز کھتیوں تک نہ پہنچ پاتی۔ نماز عصر کا وقت یہ لوگ راستہ میں گذارتے۔ مغرب اور عشاء کبوتروں کی غٹر غوں میں نذر ہو جاتی۔ برسوں سے یہی معمول تھا یہ لو گ اس نظام الاوقات پر اس قدر راضی رضا ہو گئے تھے کہ انہیں اس میں کچھ بھی عجیب دکھائی نہ دیتا تھا۔
	چودھری عنایت حسین نہایت وضعدار شخصیت کے حامل گاؤں کے سرپنچ تھے۔ ان کے کھیت نہایت وسیع و عریض اور ان کے باڑے میں کبوتروں کی تعداد سب سے زیادہ تھی۔ انہیں کے قریب اسلم کا گھر تھا۔ اسلم بھی کبوتروں کا بڑا شوقین تھا۔ کھیتی کے کام سے جیسے ہی فرصت پاتا جنگلوں کی جانب نکل جاتا اور وہاں نئے کبوتر پکڑنے میں لگ جاتا۔ جنگلی کبوتروں کو پھانسنے اور انہیں سدھانے کے فن میں وہ بڑی مہارت رکھتا تھا۔ 
	ایک دن اس نے دیکھا جنگل میں ایک سرخ کبوتروں کا جوڑا دانا چگ رہا ہے۔ گاؤں میں لوگوں کے پاس بھانت بھانت کے کبوتر تھے لیکن سرخ کبوتر کسی کے پاس نہیں تھے۔ جب اسلم نے ان کبوتروں کو پکڑنے کی کوشش کی تو وہ اُڑ گئے لیکن دور افق پر اُڑتے ہوئے یہ کبوتر اسلم کے ذہن و دل میں بس گئے تھے۔ اس نے ارادہ کر لیا کہ وہ ہر صورت انہیں حاصل کر کے رہے گا۔ اب دوسرے کبوتروں سے اسلم کی دلچسپی کم ہو گئی تھی۔ اس کی نظریں صرف اس سرخ کبوتر کے جوڑے کو تلاش کرتی رہتیں لیکن وہ تھے کہ کبھی نظر ہی نہ آتے۔ 
	ایک عرصہ گذر جانے کے بعد پھر ایک بار پہلے والے مقام پر اسلم نے انہیں دیکھ لیا اس کی مایوسی امید میں بدل گئی۔بڑی چالاکی سے اس بار کبوتروں پر اپنا دام ڈالا اور انہیں پھانسنے میں کامیاب ہو گیا۔ اپنی اس کامیابی پر اسلم کا دل بلّیوں اچھل رہا تھا۔ اسے ایسا لگ رہا تھا جیسے قارون کا خزانہ اس کے ہاتھ لگ گیا ہے۔ دنیا کی ہر نعمت کی کمیت تقابل سے طے ہوتی ہے۔ جو چیز جس قدر کم لوگوں کو حاصل ہو اس کی قدر و قیمت اسی قدر زیادہ ہوتی ہے۔ چونکہ کبوتر خانہ گاؤں میں جہاں انسانوں کا تشخص کبوتروں سے وابستہ تھا سرخ کبوتر صرف اور صرف اسلم کے پاس تھے اس لیے وہ اپنے آپ کو اپنی بستی کا بے تاج بادشاہ سمجھنے لگا تھا۔ چند گھنٹوں کے اندر سرخ کبوتروں کے چرچے زبان زد عام ہو گئے۔ لوگ آ آ کر ان کبوتروں کو دیکھتے اور رشک و حسد کے جذبات لیے واپس لوٹتے۔ اسلم بہت جلد انہیں سدھانے میں کامیاب ہو گیا۔ اب وہ انہیں فضاؤں میں کھلا چھوڑ دیتا اور یہ سرخ کبوتر آسمان میں اسلم کی عظمت و شہرت کا جھنڈا بلند کرتے پھرتے تھے۔
	بوڑھے دادا عمرو کے علاوہ ان سرخ کبوتروں کے باعث اسلم کے سارے گھر والے بہت خوش تھے۔ انہوں نے اسلم سے کہا۔ 
	دیکھ اسلم یہ سرخ کبوتر وفا شعار نہیں ہوتے۔ ان کو نہ سدھا۔ ان سے اپنا دل نہ لگا یہ کسی بھی وقت اُڑ جائیں گے۔ 
	اسلم نے کہا۔ کوئی بات نہیں جب اُڑ جائیں گے تب اُڑ جائیں گے لیکن اس وقت تک تو ہماری شان بڑھائیں گے۔
	دادا عمرو نے سمجھایا۔ نہیں بیٹے یہ اس قدر آسان نہیں ہے۔ اگر یہ کسی اور کے باڑے میں چلے جائیں تو؟
	اسلم نے کہا۔ کوئی بات نہیں ان کی مرضی اور اس کا مقدر۔
	دادا عمرو نے پھر کہا۔ بیٹے اسلم یہ اتنا آسان نہیں ہے۔
	اسلم نے کندھے اچکائے اور دادا عمر و کو سمجھانے لگا۔ آ پ بلاوجہ کے اندیشوں میں گرفتار ہو رہے ہیں۔ ایک تو یہ جائیں گے نہیں ہمارے باڑے سے آج تک کوئی کبوتر کہیں نہیں گیا۔ ہماری شفقت اور محبت کا بندھن انہیں کبھی ایسا کرنے نہیں دیتا اور پھر اگر چلے بھی گئے تو … یہ کہہ کر اسلم رک گیا۔
	عمرو دادا بولے۔ اسلم آگے بولو رک کیوں گئے؟
	اسلم نے بات آگے بڑھائی۔ جی ہاں اگر چلے بھی گئے تو ان کی مرضی۔
	اسلم دوسرے کبوتروں کی بات اور ہے میں تو ان سرخ کبوتروں کی بات کر رہا ہوں جو صرف تمہارے پاس ہیں۔ 
	اسلم سوال کی اس وضاحت سے کچھ پریشان سا ہو گیا۔ لیکن پھر کندھے اچکاتے ہوئے بولا۔ ان کی مرضی اور اس کا مقدر۔
	عمرو دادا نے پھر کہا۔ یہ اتنا آسان نہیں ہے۔
	وقت کا پنچھی گردش لیل و نہار سے بے پرواہ مسلسل اُڑا جا رہا تھا۔ وہ نہ تھکتا تھا اور نہ رکتا تھا۔ ایک روز اسلم حسب معمول شام میں اپنے کبوتروں کو دانہ ڈال رہا تھا۔ ایک ایک کر کے کبوتر واپس آتے وہ ان میں سے ہر ایک کو پیار سے ہاتھوں میں اٹھا لیتا پچکارتا اور پھر ڈربے میں بند کر دیتا۔ رات کے سائے لمبے ہو گئے۔ کبوتروں کی آمد کا سلسلہ بند ہو گیا لیکن اسلم ہنوز انتظار میں تھا۔سرخ کبوتروں کا جوڑا واپس نہ لوٹا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ اتنی رات گئے کبوتر نہیں لوٹتے لیکن اس کا دل مانتا نہ تھا۔ ذہن و دل کی اس کشمکش میں بار بار عمرو دادا کے الفاظ ’یہ اتنا آسان نہیں ہے، اس کے کانوں میں گونجتے رہے۔ وہ یوں ہی بیٹھا رہا۔ ان سرخ کبوتروں کے بارے میں سوچتا رہا۔ رات آنکھوں آنکھوں میں کٹ گئی۔ نیند کا ایک قطرہ بھی نہ ٹوٹا۔ صبح سویرے اپنا غم غلط کرنے وہ بغیر ناشتہ کیے کھیتوں کی جانب نکل گیا۔ کھیت میں بھی اس کا دل نہ لگا تو وہ جنگل چلا گیا۔ اس کے قدم اپنے آپ اسی مقام پر پہنچ گئے جہاں اس نے پہلی بار ان سرخ کبوتروں کو دیکھا تھا اور دوسری بار ان کو پکڑا تھا۔ وہ اس امید میں وہاں پہنچا کہ آج پھر وہ انہیں دیکھے گا۔ آج انہیں پکڑنے کے لیے اسے جال ڈالنے کی ضرورت نہ پڑے گی۔وہ بس پچکارے گا اور دونوں کبوتر آہستہ آہستہ اس کی جانب آ جائیں گے بلکہ چونکہ اس نے کل سے انہیں نہیں دیکھا اُڑ کر اس تک پہنچ جائیں اور اس کی آغوش میں سما جائیں گے لیکن یہ سب اسلم کی خام خیالی تھی۔ فی الحال اس کے پاس سرخ کبوتروں کی آرزو تھی اور ان کے کھو جانے کا ملال تھا۔ کبوتر نہ تھے وہ دیر تک وہاں بیٹھا رہا، سوچتا رہا کہاں چلے گئے اس کے کبوتر؟ اسے ایسا لگ رہا تھا اس کا جہان چھن گیا ہے۔ اسلم نے اپنے آپ کو بہلایا کہ شاید راستہ بھول گئے ہوں گے۔ آج شام لوٹ آئیں گے یا ہو سکتا ہے دن میں لوٹ آئے ہوں۔ وہ کسی طرح اپنے آپ کو یہ بات سمجھانہ پا رہا تھا کہ اس نے کبوتر گنوا دیئے ہیں اور وہ اب اس کے پاس کبھی لوٹ کے نہ آئیں گے۔کبوتروں کے لوٹ آنے کا خیال اسے شام سے پہلے گھر لے آیا۔ ابھی دوسرے کبوتر اُڑنے کی تیاری میں تھے لیکن اس کی نظریں سرخ کبوتروں کو ڈھونڈ رہی تھیں جو کل سے لوٹے نہ تھے۔ اس نے سوچا شاید شام ڈھلے دوسرے کبوتروں کے ساتھ وہ لوٹ آئیں گے لیکن اس شام بھی وہ نہ لوٹے۔ 
	اسلم کو اس کے دوست اکرم نے یہ خبر سنائی کہ اس کے سرخ کبوتر چودھری عنایت حسین کے کبوتروں میں شامل ہو گئے ہیں۔ اسلم کو یقین نہ آیا لیکن جب اکرم نے کہا کہ اس نے خود اپنی آنکھوں سے آج ان سرخ کبوتروں کو چودھری عنایت حسین کے یہاں دیکھا ہے تو اسلم کے لیے اس پر یقین کرنے سوا کوئی اور چارہ کار نہ رہا۔
	دوسرے دن اسلم چودھری صاحب کی حویلی میں جا پہنچا۔ سلام دعا کے بعد اس نے چودھری صاحب سے کہا۔ میں اپنے سرخ کبوتر لینے آیا ہوں۔ 
	اسلم کی بات سن کر چودھری صاحب مسکرائے انہوں نے کہا۔ اسلم یہ کبوتر اپنی مرضی سے آئے ہیں ہمارے گاؤں کی یہ روایت ہے کہ ہم کبوتروں پر اپنی مرضی نہیں تھوپتے۔
	اسلم نے کہا۔ جی ہاں چودھری صاحب آپ بجا فرماتے ہیں لیکن یہ بات عام کبوتروں کے بارے میں ہے۔ میں ان سرخ کبوتروں کی بات کر رہا ہوں جو صرف میرے پاس ہیں۔ 
	چودھری صاحب نے کہا۔ دیکھو بیٹے کبوتر تو کبوتر ہے اس میں عام و خاص کی تفریق کیسی؟ ویسے یہ کبوتر تمہارے پاس ہیں نہیں، تھے۔ اب یہ تمہارے بجائے میرے پاس ہیں کیا سمجھے؟
	اسلم نے کہا۔ چودھری صاحب یہ میرے کبوتر ہیں اور انہیں میں اپنے ساتھ لے کر جاؤں گا۔
	دیکھو اسلم بچے نہ بنو یہ کبوتر نہ میرے ہیں اور نہ تمہارے۔ یہ تو بس اپنی مرضی سے ہمارے پاس آ کر رہتے ہیں۔ اب کسی کے پاس رہنے بسنے سے کوئی کسی کا تھوڑے ہی ہو جاتا ہے۔
	ہاں دل میں بسنے سے ہو جاتا ہے لیکن بسنے والا نہیں بلکہ بسانے والا۔
	جب تک ان کی مرضی تھی یہ تمہارے ساتھ تھے اور جب تک ان کی مرضی ہو گی یہ ہمارے ساتھ رہیں گے یہ اپنی مرضی کے مختار ہیں۔ 
	لیکن چودھری صاحب آپ میری بات سمجھنے کی کوشش کریں میں ان کے بغیر نہیں رہ سکتا اس لیے انہیں ہر قیمت پر اپنے ساتھ لے جاؤں گا۔
	کیا زور زبردستی کر کے لے جاؤ گے؟ چودھری نے پوچھا۔
	ہاں زور زبردستی کر کے لے جاؤں گا۔ اسلم نے زور دے کر کہا۔
	چودھری صاحب بولے۔ تم بلاوجہ جذباتی ہو رہے ہو۔ میں نہ تو خود زور زبردستی کرنے کا قائل ہوں اور نہ زور زبردستی برداشت کرتا ہوں یا ہونے دیتا ہوں اور یہ بات چونکہ ہمارے گاؤں کی روایت کے مطابق ہے اس لیے کوئی بھی تمہارا ساتھ نہ دے گا۔ تم چاہو تو پنچایت بلوا لو۔ میں اس مقدمہ میں سرپنچ کے عہدہ سے دستبردار ہو کر صرف مدعا الیہ بن جاؤں گا۔ مجھے یقین ہے کہ فیصلہ اتفاق رائے سے میرے ہی حق میں ہو گا بلکہ میرے کیا ان سرخ کبوتروں کے حق میں ہو گا جنہوں نے میرے باڑے میں آ کر رہنا پسند کر لیا ہے۔
	اسلم غصہ سے اٹھ کھڑا ہوا اور یہ کہہ کر نکل گیا کہ اب فیصلہ پنچایت میں ہو گا۔ لیکن بعد میں اسے لوگوں نے سمجھایا کہ ایسا مقدمہ قائم کرنے سے کوئی فائدہ نہیں جس کا فیصلہ یقیناً اس کے خلاف ہو گا۔ بالآخر پنچایت سے ایک روز قبل اسلم نے مقدمہ واپس لے لیا۔ دادا عمرو کی بات سچ ثابت ہو گئی وفا شعاری اعتماد و محبت بڑھاتی ہے اور بے وفائی بدامنی اور انتشار کو جنم دیتی ہے سرخ کبوتروں نے یہی کیا تھا۔ چودھری عنایت اور اسلم کے درمیان برسوں پرانی دوستی کو دشمنی میں بدل ڈالا تھا۔
	وقت کا مرہم ہر زخم کو بھر دیتا ہے۔آہستہ آہستہ اسلم کے زخم بھی بھر گئے وہ بھول گیا کہ اس نے کبھی سرخ کبوتروں کا شکار کیا تھا وہ کبھی اس کے صحن میں رہتے بستے تھے۔ ان کے باعث سارا گاؤں اس کو رشک کی نگاہ سے دیکھتا تھا۔ ان سب باتوں کو بھول کر وہ اپنے معمول کے کاموں میں لگ گیا تھا کہ ایک دن اچانک کیا دیکھتا ہے شام میں اس کے کبوتروں سے قبل وہی سرخ کبوتر اس کے سامنے بیٹھے ہوئے ہیں۔ تھوڑی دیر تک اسلم کو اپنی آنکھوں پر یقین نہ آیا۔ اسے اس بات پر غصہ آ گیا کہ وہ اسے چھوڑ کر کیوں چلے گئے تھے لیکن کبوتروں کی آنکھوں میں ندامت اور احساس جرم کو دیکھ کر اس کا دل پسیج گیا۔ اس نے دوڑ کر دونوں کبوتروں کو ہاتھوں میں کے لیا اور انہیں چومنے لگا ایک لمحہ میں سارے گلے شکوے دور ہو چکے تھے۔ وہ پھر ایک بار کبوتر خانہ گاؤں کا بادشاہ بن گیا تھا۔ ان کبوتروں نے پھر اس کا سر فخر و ناز سے بلند کر دیا تھا۔ آج اس کی خوشی کا عالم اس رو ز سے بھی زیادہ تھا جب پہلی بار وہ اس کبوتر کے جوڑے کو اپنے گھر لایا تھا۔ کسی چیز کی قدر و قیمت کا احساس اسے گنوانے کے بعد ہی ہوتا ہے۔ لیکن ایسا کم ہی ہوتا ہے کہ انسان کسی شئے کو گنوائے اور پھر پالے۔ لیکن اسلم کے ساتھ یہی ہوا تھا اس کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا۔ 
	چودھری عنایت حسین کو پتہ چل گیا۔ سرخ کبوتر دوبارہ اسلم کے پاس لوٹ چکے ہیں۔ اس بات کا انہیں اس قدر صدمہ ہوا کہ وہ اس تقریر کو بھول گئے جو انہوں نے کبھی اسلم کو سمجھانے کے لیے کی تھی۔دوسرے دن انہوں نے اسلم کو اپنی حویلی بلا بھیجا۔اسلم سمجھ گیا اسے کیوں بلایا جا رہا ہے لیکن وہ نہایت اعتماد کے ساتھ وہاں پہنچا۔ دیر تک دونوں خاموشی سے چائے پیتے رہے۔ اس کے بعد چودھری عنایت حسین نے اپنے پر وقار انداز میں کہا۔
	اسلم تم تو جانتے ہی ہو کہ میں نے تمہیں کیوں بلایا ہے۔
	اسلم نے کہا۔ جی ہاں چودھری صاحب۔ میں اچھی طرح جانتا ہوں لیکن اس سلسلے میں آپ کو اپنی ہی ایک بات یاد دلانا چاہتا ہوں اور ایک بات عرض کرنا چاہتا ہوں۔ 
	چودھری نے کہا۔ بولو۔
	اسلم نے کہا۔ پہلے آپ کی بات کہ آپ نہ زور زبردستی کرتے ہیں نہ برداشت کرتے ہیں اور نہ ہونے دیتے ہیں اور میری گذارش کہ آپ پنچایت بلوا لیں۔ سرپنچ کے عہدے پر قائم رہیں مجھے یقین ہے کہ ایک رائے کے علم الرحم اکثریت کی رائے سے فیصلہ میرے حق میں ہو جائے گا۔ اس لیے کہ یہ ہمارے گاؤں کی روایت ہے اور کوئی بھی آپ کا ساتھ نہیں دے گا۔
	چودھری عنایت حسین عرصہ دراز سے سرپنچ کے عہدے پر فائز تھے انہوں نے بے شمار تنازعات سلجھائے تھے لیکن ان کا اپنا مقدمہ آج تک پنچوں کے سامنے پیش نہ ہوا تھا اور اب اگر ہوتا بھی تو ان کی شکست یقینی تھی۔ اس احساس سے ان کا دل ڈوبنے لگا۔ حالانکہ اس مسئلہ کا آسان سا حل یہ تھا کہ وہ ان کبوتروں کی محبت اپنے دل سے نکال دیتے۔ وہ ایسا نہ کر سکے یہاں تک کہ ان کے دل کی دھڑکن بند ہو گئی۔یکبارگی اسلم کو ایسا لگا کہ اس نے کبوتروں کی خاطر اپنے دیرینہ دوست کو موت کے گھاٹ اُتار دیا ہے لیکن سرخ کبوتر کو پا لینے کی خوشی اس احساس جرم پر غالب آ گئی۔
	چودھری عنایت حسین کی موت کے بعد ایک نیا تنازعہ پیدا ہو گیا کہ آخر سر پنچ کسے بنایا جائے۔ باقی ماندہ پنچوں میں سے ہر ایک اس عہدہ کا دعویدار تھا۔ وہ پنچایت جو لوگوں کے جھگڑے چکاتی تھی خود اپنے جھگڑے میں اُلجھ گئی تھی۔ کافی دن اس معاملہ میں تعطل رہا بالآخر یہ طے ہوا کہ کبوتر خانہ گاؤں کے سرپنچ کا تعین کبوتروں کی تعداد پر ہو گا۔ گویا معیار حق کبوتروں کی تعداد ٹھہری۔ جس کے پاس سب سے زیادہ کبوتر ہوں گے وہی سرپنچ ہو گا۔ چاہے وہ سابقہ پنچایت کا رکن ہو یا نہ ہو۔دو ہفتہ بعد کی ایک تاریخ طے کی گئی جس دن سب لوگوں کو پنچایت میں اپنے کبوتروں کے ساتھ آنا تھا اور تعداد کی گنتی ہونی تھی۔
	اسلم نے کہا۔ کیا میرے سرخ کبوتروں کا شمار بھی عام کبوتروں جیسا ہو گا؟ اس سوال سے سب سناٹے میں آ گئے لیکن چونکہ اسلم کے علاوہ تمام فیصلہ کرنے والے سرخ کبوتروں سے محروم تھے اس لیے فیصلہ ہوا کہ کبوتر کبوتر ہے سرخ ہو یا سفید ہر کبوتر کا شمار ایک کبوتر ہو گا۔
	اس فیصلہ کے بعد گاؤں میں ایک کہرام مچ گیا۔ ہر کوئی اپنے کبوتروں کی تعداد بڑھانے میں لگ گیا۔ ہر ایک دوسرے کے کبوتروں کو رجھانے میں مصروف تھا۔ کھیتی باڑی کا کام تقریباً ٹھپ ہو گیا تھا۔ دوسروں کے کبوتر اپنے باڑے میں شامل کرنے کی کوششیں جب نقطۂ عروج پر پہنچ کے بے اثر ہونے لگیں تو دوسرے کے کبوتروں کو بھگانے کی کوششیں ہونے لگیں۔ اس لیے کہ اوپر جانے کے لیے خود اوپر جانا ضروری نہیں ہے۔اگر دوسرے کی ٹانگ کھینچ کر اسے نیچے لے آیا جائے تب بھی کام ہو جاتا ہے۔ دوسروں کے کبوتروں میں غلطاں لوگ خود اپنے کبوتروں سے غافل ہو گئے جس سے دوسروں کو ان پر ہاتھ صاف کرنے کا موقع مل گیا۔ بہرحال جنون کا پندھرواڑہ بھی گذر گیا۔ ان پندرہ دنوں میں کبوتر خانہ گاؤں میں وہ سب ہو گیا جو پچھلے پندرہ سالوں میں بھی نہ ہوا تھا لیکن ابھی اصل کھیل باقی تھا۔
	پنچایت کی رات ہوا کے جھونکے ایک خاص آواز کے ساتھ تیز تیز چلنے لگے۔ صبح جیسے ہی گاؤں والوں نے اپنے کبوتروں کو پنچایت لے جانے کے لیے کھولا وہ اُڑ اُڑ کر ہوا ہونے لگے۔ گویا وہ اسی کے انتظار میں تھے۔ کبوتروں کا یہ رویہ ان کے معمول کے خلاف تھا اس لیے کہ وہ عام طور سے ڈربہ سے باہر نکلنے کے بعد کچھ سستاتے پر جھاڑتے پھر دانہ چگتے اور اس کے بعد پرواز بھرتے لیکن آج وہ نہ سستائے نہ انہوں نے دانوں کی جانب دیکھا۔ دیکھتے دیکھتے کبوتر خانہ گاؤں کے سارے کبوتر رفو چکر ہو چکے تھے۔ گاؤں والے پریشان تھے کہ یہ کیا ہو رہا ہے۔ ان لوگوں کو کبوتروں کی اس قدر فکر تھی کہ وہ تیز تیزسے تیز تر چلنے والے ہوا کے تھپیڑوں سے یکسر غافل ہو گئے لیکن جب انہوں نے دیکھا کہ گھروں کی چھت بھی آندھی اُڑائے لیے جا رہی ہے اور پیڑ اُکھڑنے لگے، دیواریں گرنے لگیں تو انہیں ہوش آیا۔ہوا کے جھکڑ اس قدر تیز تھے کہ گاؤں والے بھی تنکوں کی طرح ہواؤں کے دوش پر اُڑے جا رہے تھے۔وہ کبوتروں کی طرح پروں سے محروم تھے اس لیے ہوا میں تیرنے یا اپنا توازن قائم رکھنے سے قاصر تھے۔ خالق کائنات نے انہیں دور دراز کی مٹی سے بنایا تھا ہوا انہیں ان دور دراز کے مقام تک اُڑا کر لے جاتی، ان کی اپنی مٹی کے پاس لے جا کر پٹخ دیتی وہ اس پر گرتے اور وہاں جذب ہو جاتے۔جب آندھی رکی تو کبوتر خانہ گاؤں میں نہ کبوتر تھے نہ کبوتر والے!
٭٭٭




ایک کہانی سچی سی


	ویران و سنسان سڑک پر ایک خوبصورت سی منی بس فراٹے مارتی ہوئی بھاگ رہی تھی۔ اس بس پر ہر عمر کا اور ہر بھانت کا مسافر سوار تھا۔ کوئی نوجوان تھا کوئی بزرگ کوئی سنجیدہ تو کوئی رنجیدہ۔ کوئی خوش مزاج تو کوئی تلخ مزاج۔ کوئی قنوطیت کا شکار تو کوئی رجائیت پسند گویا قوس و قزح کی مانند یہ سب رنگی قافلہ اپنی منزل کی جانب رواں دواں تھا کہ اچانک ایک زوردار دھماکے کی آواز آئی۔ 
	کسی نے کہا مجاہدین اب اہل باطل کو چین سے بیٹھنے نہ دیں گے۔ 
	دوسری آواز تھی۔ ’’ اس دہشت گردی کا بھلا جہاد سے کیا تعلق؟‘‘
	تیسرے نے کہا۔ ’’بھئی کیوں بلاوجہ آپس میں اختلاف کرتے ہو۔ یہ تو باطل کا اپنا ہتھکنڈا ہے۔ وہ ہمیں بدنام کرنے کی غرض سے اس طرح کے دھماکے خود ہی کرواتا رہتا ہے۔ اس طرح وہ ساری دنیا کو احمق بناتا ہے۔
	پہلی آواز دوبارہ آئی۔ ’’آپ لوگوں پر تو وہ بلاوجہ اپنی توانائی اور وسائل صرف کرتا ہے وہ اگر کہیں اور توجہ دے تو اس میں اس کی بھلائی ہے۔ 
	اس گفتگو کو کاٹتے ہوئے اچانک ایک صاحب نے سوال کیا۔ ’’بھئی کیا بات ہے بس بھلا ایک جانب کو کیوں لڑھکتی جا رہی ہے۔‘‘
	دوسرے نے تائید فرمائی۔ ’’اور ہاں اب تو جھٹکے بھی لگنے لگے ہیں۔ 
	تیسرے نے رفتار میں کمی پر تشویش کا اظہار کیا۔
	یہ سب سن کر آنکھیں موند کر بیٹھے ایک مفکر اعظم نے لب کشائی کی۔’’ہماری منزل کٹھن ہے اور راستہ دشوار۔ ساتھ ہی باطل کے علمبردار لگاتار ہمارے راستہ میں روڑے اٹکاتے جاتے ہیں۔ ایسے میں اگر جھٹکے لگیں، رفتار کم ہو اور بس ادھر ادھر لڑھکے تو مایوس ہونے کی چنداں ضرورت نہیں۔ ’’وہ یہیں سے لوٹ جائے جسے زندگی ہو پیاری۔‘‘
	اس تمام گفتگو کو سن کر ایک نوجوان مسکرایا اور اس نے جواب دیا۔ ’’جناب سوال زندگی کا نہیں پہیہ کا ہے جو ایک دھماکے کے ساتھ پھٹ گیا ہے اور ہم بس روک کر اسے بدلنے کے بجائے فضول کی بحثوں میں اپنا وقت اور پہیہ برباد کر رہے ہیں۔ 
	یہ سنتے ہی ایک دم سے تخیل کی اونچی پرواز بھی پنچر ہو گئی اور تمام لوگ حقیقت کی سخت زمین پر آ گئے۔ بس ٹھہر گئی لوگ اتر گئے۔ان میں کچھ لوگ سائے میں جا کر اداس بیٹھ گئے اور یہ سوچنے لگے کہ ایسا ہمارے ہی ساتھ کیوں ہوتا ہے۔ حالانکہ یہ فطری عمل تو ان سب کے ساتھ کبھی نہ کبھی ہوتا ہے جو حقائق کی دنیا میں محو سفر ہوتے ہیں۔ ایک اور گروہ چائے پان کی تلاش میں قریب کی بستی کی جانب نکل گیا۔ کچھ نے بس کا پہیہ بدلنے کی ذمہ داری سنبھالی اور اس کام میں لگ گئے لیکن ان تینوں سے الگ مشاورتی کاونسل کا ایک اہم اجلاس بھی شروع ہو گی۔ اس اجلاس کا ایجنڈا تھا پہیہ کے پھٹنے کی وجوہات کا پتہ لگانا اور آئندہ اس طرح کے حادثے کی روک تھام کے لیے تدابیر تجویز کرنا۔
	پہیہ بدلنے والوں نے اپنا کام تمام کر دیا۔ لیکن ابھی تک نہ ہی کاؤنسل کا اجلاس ختم ہوا تھا اور نہ چائے والے واپس لوٹے تھے۔ نوجوانوں نے سوچا کہ وقت کا استعمال کرتے ہوئے کیوں نہ قریب کے پٹرول پمپ پر ٹائر بنوا لیا جائے تاکہ آئندہ کام آئے۔ یہ سوچ کر وہ پہیہ کو اس طرف ٹھیلتے ہوئے چل دیئے۔ وہاں پہیہ درست ہو گیا وہ اسے واپس لے آئے، اپنی جگہ رکھ دیا لیکن کاؤنسل کا اجلاس تھا کہ ختم ہونے کا نام نہ لیتا تھا۔ 
	ایک نے جھلا کر کہا۔ ’’یہ اجلاس ہے یا شیطان کی آنت؟‘‘
	دوسرے نے ڈانٹا۔’’بھئی اگر یہ ختم ہو جائے تو ان پان سپاری والوں کا کیا جو ابھی تک نہیں لوٹے آخر ہم انہیں چھوڑ کر تھوڑے ہی جا سکتے ہیں۔ ‘‘
	پہلا بولا۔’’ان کا کیا۔ ان کی خاطر ہم سفر نہیں روکیں گے بس کو اس بستی کے قریب لے جا کر انہیں سوار کر لیں گے مسئلہ تو اجلاس کی طوالت کا ہے۔
	اس جملہ کے ختم ہوتے ہی آواز آئی۔’’بہت بہت شکریہ جناب آپ کو وہاں جانے کی ضرورت نہیں ہم خود ہی آ پہنچے ہیں۔ ویسے ہمیں اندازہ تھا کہ تاخیر ہو گئی ہے اس لیے ہم بھی وہیں بیٹھے رہ گئے۔ ویسے اگر ہمیں پتہ ہوتا کہ اجلاس اس قدر لمبا چلنے والا ہے تو کچھ وقت اور ٹھہر جاتے۔ میچ نہایت دلچسپ مرحلہ میں داخل ہو گیا تھا ابھی تو فیصلہ بھی ہو گیا ہو گا۔ یہ تو ہماری حماقت تھی جو ہم جلدی لوٹ آئے۔
	’’اچھا تو یہ جلدی تھی۔‘‘ ایک صاحب نے جھلّا کر کہا۔ پورے چار گھنٹہ آپ لوگوں نے لہو لعب میں صرف کر دیئے اور پھر افسوس ہے جلدی آنے کا۔ نہ جانے کیا ہو گا اس کارواں کا؟‘‘
	اس افسوس ناک صورت حال پر ایک صاحب مسکرائے اور کہا۔’’ارے بھئی ہمارے ہنسی کھیل کا ماتم چھوڑو اوراس اجلاس کو ختم کراؤ اس چھوٹے سے دھابے کا سارا سامان تو ہم لوگ ناشتہ ہی میں چٹ کر گئے۔ اب اگر یہیں رات کے کھانے کا بھی وقت ہو جاتا ہے تو کھائیں گے کیا؟
	’’ابھی ناشتہ ہضم نہیں ہوا کہ کھانے کی فکر لاحق ہو گئی۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ یہ حضرات جینے کے لیے کھاتے ہیں کھانے کے لیے جیتے ہیں ؟‘‘
	جواب فوراً حاضر تھا۔ ’’دونوں کے لیے دونوں ہیں۔ اگر کھائیں گے نہیں تو جئیں گے کیسے اور اگر جئیں گے نہیں تو کھائیں گے کیا؟‘‘
	اس دوران سنجیدہ افراد میں سے ایک نے جا کر مجلس کے افراد کو یاد دلایا کہ اندھیرا ہونے کو ہے اس ویران جنگل میں مزید رکنا خطرے سے خالی نہیں۔ اس لیے مشورے میں اختصار فرمائیں تو احسان و کرم ہو گا۔
	جواب ملا۔’’مشورہ اختتام پذیر ہو چکا ہے دو افراد روداد اور دو قرار داد لکھنے میں مصروف ہیں جیسے ہی وہ فارغ ہوتے ہیں آپ لوگوں کو فیصلہ سے آگاہ کر دیا جائے گا اور ہم لوگ چل پڑیں گے۔‘‘
	بھئی قرارداد اور روداد تو کل صبح بھی لکھی جا سکتی ہیں اور آپ لوگ دوران سفر ہمیں فیصلوں سے آگاہ فرما دیں اس کے لیے مزید تاخیر مناسب نہیں۔ ‘‘ یہ ایک نوجوان کی صدائے احتجاج تھی لیکن یہ احتجاج بھی بے اثر ہو گئی۔ نوجوان کو بتلا دیا گیا کہ نظم کا تقاضہ یہ ہے کہ اجلاس کے خاتمہ سے قبل تمام شرکاء کی روداد پر دستخط ہونا ضروری ہے اور یہ ہماری قدیم روایات میں سے ہے کہ اجلاس کے خاتمہ پر قرار دادیں مکمل کر کے سنا دی جائیں اس لیے انتظار لازمی ہے۔
	مجلس کے اس جامد رویہ پر کسی نے آہستہ سے تبصرہ کیا۔ ’’اگر روایت پسندی کا پاس و لحاظ اسی طرح سے کیا جاتا رہا تو ہماری منزل ایک حکایت بن کر رہ جائے گی اور ہم لوگ دروان سفر ہی ڈھیر ہو جائیں گے۔ نقار خانے کی طوطی کی اس آواز پر کان دھرنے والا کوئی نہ تھا۔
	آپسی چہ مہ گوئیوں کے درمیان اجلاس کے خاتمہ کی خوشخبری آئی۔ سبھی مسافر مجلس کی روداد جاننے کے لیے ہم تن گوش ہو کر بیٹھ گئے۔ روداد کی پیش کش سے قبل اس مبارک سفر کی ضرورت اور اہمیت پر ایک پُر مغز تقریر ہوئی۔ اس کے دوران سفر میں پیش آنے والے مراحل کا نقشہ پیش کیا گیا۔ اس کے بعد اجلاس نے موجودہ مسئلہ کی تحقیق و تفتیش کے لیے جو طریقۂ کار اختیار کیا تھا اس کی حقانیت سے حاضرین کو روشناس کرایا گیا اور جو وجوہات دریافت کی گئیں ان کے ذیل میں یہ بتلایا گیا کہ پہیہ کے پھٹنے کی بنیادی وجہ اس کا زمین پر گھومنا ہے لیکن اسے گھومنے سے روکا نہیں جا سکتا اس لیے کہ ایسا کرنے پر سفر رک جائے گا۔ دوسری وجہ سڑک پر کیل کانٹوں کی موجودگی ہے ان سب کو صاف کرنا عملاً محال ہے۔ اس لیے حل یہ تجویز کیا گیا کہ سڑک اور زمین کو ایک دوسرے سے دور کر دیا جائے ان کے درمیان ایک فاصلہ پیدا کر دیا جائے۔ اس فاصلے کے باعث سڑک پر موجود کیل کانٹے پہیہ میں نہ دھنسیں گے اور نہ اسے پنکچر کر سکیں گے۔ اس طرح سفر کے آئندہ مراحل کو تمام رخنوں سے پاک کر دیا گیا اور پہیہ کے دوبارہ پھٹنے کا اندیشہ ختم ہو گیا۔
	حاضرین اس فیصلہ کو سن مجلس کی حکمت و مصلحت پر عش عش کر اٹھے لیکن سوال یہ تھا اس نادر نسخہ پر عمل درآمد کیسے ہو؟ اس بابت بھی مجلس کی رہنمائی موجود تھی۔ پہیہ بدلتے وقت جس جیک پر بس کو چڑھایا گیا تھا اسے پھر سے لگا دیا جائے ا س سے بس زمین کی سطح سے اونچی ہو جائے گی اور فاصلہ پیدا ہو جائے گا۔ نوجوان پھر کام میں لگ گئے اور انھوں نے تعمیل حکم میں دوبارہ جیک لگا دیا۔ اس کے بعد جیسے ہی بس اسٹارٹ ہوئی وہ فوراً جیک سے اتر گئی۔ اس نئے مسئلہ پر دوبارہ مجلس نے غور و خوض کیا اور یہ بتلایا کہ توازن کا قائم رکھنا نہایت ضروری ہے محض ایک جانب جیک کے ہونے اور دوسری جانب نہ ہونے سے بس کا توازن بگڑ گیا تھا اس لیے اب اسے قائم رکھنے کی غرض سے دونوں جانب جیک لگا دیئے جائیں اور دونوں اس طرح جانچ تول کر جمایا جائے کہ نہ کوئی اونچا ہو اور نہ کوئی نیچا۔ اس لیے مساوات کے بغیر کامیابی ممکن نہیں پرانے فیصلہ کے اس نئے ضمیمہ نے تمام مسافروں کو باغ باغ کر دیا۔ دونوں پہیوں کے نیچے جیک لگا کر گویا آئندہ کے تمام اندیشوں سے چھٹکارہ حاصل کر لیا گیا تھا۔
	نہایت شرح صدر کے ساتھ جب تمام سواریوں نے اپنی اپنی نشست سنبھال لی تو دو تین بار انہیں گن کر اطمینان کر لیا گیا کہ کہیں کوئی چھوٹا تو نہیں۔ اب بس اسٹارٹ ہوئی انجن کی گڑگڑاہٹ اور گیئر کی چرچراہٹ کے ساتھ پہیہ گھومنے لگے۔ رفتار بتلانے والا کانٹا آسمان کی جانب اٹھتا جاتا تھا اور ایندھن کی سوئی زمین میں دھنسی جاتی تھی۔ بتی جلا دی گئی۔ اے سی چلا دیا گیا اور نہایت ہی آرام دہ سفر کا پھر سے آغاز ہو گیا۔ لیکن اس بات سڑک کے اتار چڑھاؤ، کنکر پتھر، گڈھے جھٹکے سب غائب تھے۔ بس کے روح پرور پرسکون ماحول میں ’’اسلام اور دور جدید کا چیلنج‘‘ اس عنوان پر تقریر جاری تھی۔ اس کیسٹ سے مجلس کے سنجیدہ افراد اور رنجیدہ کارکنان استفادہ فرما رہے تھے۔ پہیہ بدلنے کی محنت کرنے والے نوجوان اپنی تھکن کے باعث سستا رہے تھے اور جن لوگوں نے جم کر ناشتہ کیا تھا وہ بھی اونگھنے لگے تھے۔ 
	کافی دیر بعد جب کیسٹ بند ہوئی تو اعلان ہوا جو حضرات اس تقریر سے متعلق سوالات کرنا چاہتے ہیں کر سکتے ہیں انشاء اﷲ تشفی بخش جواب دیا جائے گا۔
	ایک نوجوان جو تقریر کے دوران غنودگی کا شکار تھا گویا ہوا۔ ’’ارے بھئی تقریر میں باطل کی جن رکاوٹوں کا ذکر تھا انہیں اچانک کیا ہو گیا۔ ہمارا راستہ اس قدر ہموار کیوں کر ہو گیا۔ وہ نشیب و فراز جن سے خطاب کے دوران آگاہ کیا گیا تھا کہاں غائب ہو گئے کہیں خدانخواستہ ہم راستہ تو نہیں بھٹک گئے۔‘‘ 
	اتنے سارے سوالات کا ایک مختصر سا جواب دے دیا گیا۔’’یہ تو ہماری مجلس کی ذہانت و ذکاوت ہے کہ اس نے ایسی نادر حکمت عملی اختیار کی جس سے سفر کی تمام دشواریاں جھٹکے گڈھے سب غائب ہو گئے۔‘‘
	کسی نے آہستہ سے تبصرہ کیا۔’’یہ چمتکار ہو گیا ہم تو کل تک اس کے منکر تھے آج اچانک یہ انقلابِ فکر کیونکر واقع ہو گئی۔‘‘
	سوال پر سوال کی اجازت نہ تھی اس لیے نئے سوال کا اعلان کیا گیا۔ اب ایک اور نوجوان جو جواب کے دوران باہر دیکھ رہا تھا گویا ہوا اس نے کہا۔ ’’ہم کئی گھنٹوں سے سفر کر رہے ہیں تقریر پر تقریر سماء فرما رہے ہیں لیکن باہر کا منظر کیوں نہیں بدلتا؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم آگے ہی نہ بڑھ رہے ہوں ؟ ہمارے قدم ایک ہی مقام پر منجمد ہو گئے ہوں۔ ‘‘
	یہ سوال اور زیادہ پریشان کن تھا لیکن اس کا بھی جواب موجود تھا۔ بس کے محو سفرہونے پر کئی داخلی شواہد پیش کیے گئے رفتار بتلانے والی اور ایندھن کی مقدار دکھلانے والی سوئیوں کی حرکت، پہیوں کا گھومنا، انجن کی آواز اور دھواں وغیرہ۔ 
	لیکن ان شواہد سے نوجوان مطمئن نہ ہوئے تو ایک بزرگ نے سمجھایا۔ ’’یہ سفر طویل ہے۔ آپ لوگ ابھی سے مایوس ہونے لگے۔ شکوک و شبہات کا شکار ہو کر جلدی مچانے لگے۔ باہر کے مناظر ایک جیسے ہیں بس کی رفتار بہت زیادہ ہے اس وجہ سے آپ لوگ تبدیلی کو محسوس نہیں کر پا رہے ہیں اس کا مطلب یہ تو نہیں کہ منظر بدل ہی نہیں رہا۔
	جواب کے خاتمہ میں جھنجھلاہٹ اور تلخی نمایاں تھی۔ ان جوابات سے جب نوجوانوں کے ذہن مطمئن نہ ہوئے تو انہوں نے خود سوچنا شروع کر دیا اور چند ہی لمحات کے بعد وہ نوجوان جس نے جیک لگایا تھا چلّا اٹھا۔ ’’عجیب حماقت ہے۔ بس اگر جیک پر ہو تو آگے کیسے بڑھے گی؟ اور اگر آگے نہ بڑھے تو کہاں سے آئیں گے نشیب و فراز کیونکر لگیں گے جھٹکے کیسے بدلے گا منظر۔
	پردے اٹھنے لگے اسرار کھلنے لگے اور نوجوانوں کی جانب سے مطالبہ کیا گیا بس کو روک دیا جائے۔جواب ملا اس سنسان مقام پر رات کے درمیانی حصہ میں بس کو روکنا خطرہ سے خالی نہیں ہے۔ اس لیے بس کو روکا نہیں جا سکتا۔ 
	یہ سنتے ہی ایک پر جوش نوجوان بگڑ گیا۔’’کیسے نہیں رکے گی بس۔ اسے روکنا ہی پڑے گا۔
	’’یہ دیکھو۔‘‘ قریب بیٹھا ہوا نوجوان مسکرایا اور اس نے اپنے ساتھی کو سمجھانے کی کوشش کی۔ ’’یہ صحیح کہتے ہیں۔ بس کو روکا نہیں جا سکتا۔ جو چیز چل رہی ہو اسے تو روکا جا سکتا ہے لیکن جو چیز پہلے ہی سے رکی ہوئی ہو اسے کیونکر روکا جا سکتا ہے؟
	اس سوال میں جواب تھا جس سے تمام نوجوانوں نے اتفاق کیا اور اعلان کیا چلو نیچے اترو اور بس کو جیک کی بیساکھیوں سے نیچے اتارو۔ ورنہ ہمارے تمام وسائل ایندھن پر صرف ہو جائیں گے تمام عمر سفر میں صرف ہو جائے گی لیکن منزل ایک قدم بھی قریب نہ آئے گی۔
	اس اعلان بغاوت نے بس کے اندر ایک کہرام برپا کر دیا اور اس پر صدائے احتجاج ابھری۔ ’’یہ کون ہوتے ہیں جیکس ہٹانے والے۔ مجلس کے فیصلے کو مجلس ہی بدل سکتی ہے۔ ہم نظم ضبط کے پابند لوگ ہیں۔ ہم یہ دھاندلی برداشت نہیں کریں گے۔
	جواباً یہ دلیل آئی کہ اگر آپ برداشت نہیں کرتے تو جو من میں آئے کریں لیکن اب مزید ہم لوگ بیساکھیوں کے سہارے وقت برباد نہیں کر سکتے۔اس ہنگامہ سے راستہ نکالنے کی مجلس کے چند بزرگ آگے بڑھے انہوں نے نوجوانوں کو اپنے پاس بلایا اور کہا۔
	’’ اگر آپ یہی چاہتے ہیں کہ جیک کو ہٹا دیا جائے تو یہ مجلس کے فیصلہ کے مطابق بھی تو ہو سکتا ہے اور اگر ایسا ہوا تو ہمارا اتحاد بھی باقی رہے گا۔‘‘
	نوجوانوں نے یہ تجویز قبول کر لی اور یہ جاننے کی خاطر کہ منظر کیوں بدلتا نہیں آیا بس ٹھہری ہوئی ہے یا چل رہی ہے اور آئندہ کا لائحہ عمل کیا ہو دوبارہ مجلس کے اجلاس کا آغاز ہو گیا۔ بس کے ٹھہرے ہونے کو تو معمولی رد و کد کے بعد تسلیم کر لیا گیا اور اب جیک کو ہٹانے کے نتیجہ میں پیدا ہونے والی صورت حال اس کے مثبت و منفی نتائج پر بحث شروع ہو گئی۔ یہ بحث کسی نتیجہ پر پہنچنے کا نام نہ لیتی تھی۔ دونوں جانب سے یکے بعد دیگرے دلائل پیش ہوتے جاتے تھے۔ بند کمرے کے باہر نوجوانوں کا پیمانہ صبر لبریز ہوتا جاتا تھا۔ جب اتفاق رائے سے کسی فیصلے کی تمام امیدیں ختم ہو گئیں تو کثرت رائے سے فیصلہ کرنے پر رضا مندی ہو گئی لیکن رائے شماری کے بعد پتہ چلا رائیں آدھی آدھی تقسیم ہو گئی ہیں۔ دونوں موقف میں افراد میں اسی طرح کا توازن ہے جس طرح دونوں جیک کے درمیان ہے اور بس کی طرح مجلس کا اجلاس بھی چل رہا تھا اور ٹھہرا ہوا تھا۔ نہ کوئی پیش رفت ہوتی تھی اور نہ کوئی فیصلہ۔ بالآخر مجلس نے طے کیا کہ اجلاس اس وقت تک جاری رہے گا جب تک کم از کم ایک آدمی کی رائے نہیں بدل جاتی لیکن ایسا ہونا محال تھا۔ یہ منظر دیکھ کر نوجوان آگے بڑھے انہوں نے مجلس سے کہا۔
	آپ لوگ اپنا اجلاس جاری رکھیں نظم و ضبط کے پابند رہیں۔ رنجیدہ ہستیوں سے درخواست کی کہ وہ ان کی خدمت و حفاظت پر مامور رہیں اور خود آگے بڑھے جیک ہٹایا اور بس کو لے اُڑے۔
	ایک طرف اجلاس جاری تھی اور دوسری جانب بس تیزی کے ساتھ اپنی منزل کی جانب رواں دواں تھی۔ ان دونوں کے درمیان کا فاصلہ بڑھتا جاتا تھا لیکن منزل قریب سے قریب تر ہوتی جاتی تھی۔ 
	یہ ایک حقیقت کا فسانہ ہے اور اس فسانے کی حقیقت سے وہ لوگ اچھی طرح واقف ہیں جو حقیقت پسند ہیں۔
٭٭٭




حصار


	ناسا کی خلائی مشین ’’انکشاف ۱۰۱‘‘ نہایت تیزی سے مشتری کی جانب رواں دواں تھی۔ آج عالمی تعطیل کا دن تھا۔ تمام اسکول اور کاروبار بند تھے۔ روئے زمین کا بچہ جوان بوڑھے اور خواتین سب ٹیلی ویژن کے سامنے بیٹھے ابن آدم کی اس عظیم کامیابی کو اپنی آنکھوں میں سجا لینا چاہتے تھے۔ اس مہم میں لوگوں کی غیر معمولی دلچسپی ایک خاص وجہ سے تھی۔ چند سال قبل مشتری سے ایک اُڑن طشتری زمین پر پہنچی اس میں سے چند لوگ اترے انہوں نے اپنا جھنڈا نصب کیا اور ایک خودکار لیب یہاں چھوڑ کر واپس چلے گئے۔ یہ لیباریٹری نہایت ہی جدید اور ایک سائنسی شاہکار تھی زمین کے سائنسدانوں کو اسے کھولنے میں کئی دن لگے اور جب اس میں کامیاب ہو گئے تو ایک عظیم دھماکہ رونما ہوا جو اس لیب کے ساتھ ساتھ اس کے کھولنے والوں کو بھی نگل گیا۔ زمین کے سائنسدانوں کے لیے یہ ایک عظیم چیلنج تھا۔ عالمی سائنسی برادری نے اسے قبول کیا اور خلائی تحقیق کا رُخ مشتری کی تسخیر کی جانب مڑ گیا۔ اس واقعہ نے پہلی مرتبہ زمین والوں کو احساس دلایا تھا کہ ان سے بہتر مخلوق بھی کائنات میں موجود ہے۔ اس دنیا کے سائنسدانوں نے اسے اپنی توہین گردانا اور ’’ہم کسی سے ہم نہیں ‘‘ کی جدوجہد میں لگ گئے۔ لیکن یہ مہم آسان نہ تھی۔ پے در پے ناکامیوں کے بعد اس بار یقین کامل تھا کہ خلائی طیارہ ’’انکشاف ۱۰۱‘‘ ضرور مشتری پر اترے گا۔ وہاں اہل زمین کا جھنڈا نصب کرے گا اور اپنی حزیمت کا بدلا چکا دے گا۔ ساری دنیا کے انسانی جذبات اس مہم سے وابستہ کر دیئے گئے تھے ہر شخص یہ محسوس کر رہا تھا گویا وہ خود اس مہم میں شریک ہے بلکہ اکثر ایسا محسوس کر رہے تھے گویا وہ خلائی طیارے کے اندر ہیں وہ اپنے گھر میں بیٹھے بیٹھے طیارے کے اندر کے احوال سے واقف ہو رہے تھے۔طیارے میں موجود خلا باز بھی بہت خوش تھے وہ اپنے کو ساری دنیا کے لوگوں کا نمائندہ محسوس کر رہے تھے وہ اپنے ٹیلی ویژن اسکرین پر دنیا کے مختلف چینل دیکھ سکتے تھے آج ہر چینل چاہے و ہ سائنسی ہو یا تفریحی، خبریں نشر کرنے والا ہو کھیل دکھلانے والا ہر کوئی خلائی سفر نشر کر رہا تھا۔ ہر ایک کے اپنے اناؤنسر ان تصویروں کے پیچھے اپنی کمنٹری دے رہے تھے۔ ہر ایک کا اپنا منفرد انداز تھا۔ اپنا لہجہ اور اپنی سوچ تھی جو ایک دوسرے سے مختلف تھی لیکن اسکرین پر دکھلائی جانے والی تصویریں یکساں تھیں وہ لوگ یہ بتلا رہے تھے کہ ابھی چند لمحہ میں ہمارا انکشاف مشتری کی تسخیر کرے گا۔ 
	اچانک پردے سے انکشاف غائب ہو گیا اس کے اندر اور باہر کے مناظر سے رابطہ ٹوٹ گیا۔ اب صرف مشتری دکھلائی دیتا تھا لیکن انکشاف کا کہیں اتا پتہ نہیں تھا۔ سبھی نے اپنے اپنے انداز سے رابطہ کے ٹوٹ جانے کا اعتراف کیا اور جلد ہی اس کے قائم ہو جانے کی امید دلا کر ناظرین کو اشتہارات سے بہلانے لگے۔ اشتہارات کو کئی بار دکھلانے کے باوجود جب رابطہ قائم نہ ہوسکا تو انکشاف کی تیاری پر مبنی ڈاکو مینٹری سے ناظرین کو بہلایا جانے لگا لیکن لوگ ماضی میں نہیں مستقبل میں دلچسپی رکھتے تھے۔ انہیں ناکامی نہیں بلکہ کامیابی سے غرض تھی اس لیے لوگوں نے ٹیلی ویژن بند کرنے شروع کر دیئے۔ ناشرین بھی اپنے گھسے پٹے پروگراموں پر آ گئے کہیں فلم تو کہیں میچ دکھلائی جانے لگی۔ خبروں کے چینلس نے ناسا کے سائنسدانوں کی رائے حاصل کرنا شروع کر دی۔ ابتداء میں تو وہ پُر اُمید تھے لیکن آہستہ آہستہ ان لوگوں نے اپنی ناکامی کا اعتراف کر لیا۔ اب خبروں والے خلا بازوں کی جانب متوجہ ہوئے۔ ان کے نمائندے خلا بازوں کے اہل خانہ اور رشتہ داروں تک پہنچ گئے ان کی تعریف و توصیف افسوس اور ماتم کا سلسلہ شروع ہو گیا۔
	ادھر خلائی جہاز میں کیفیت بالکل مختلف تھی۔ گو کہ زمین کا رابطہ ان سے ٹوٹ چکا تھا لیکن ان کا رابطہ زمین سے قائم تھا۔ وہ لوگ مختلف چینلس پر اپنی بربادی کا ماتم دیکھ رہے تھے دنیا بھر کے لوگوں کے تعزیتی پیغامات جو خود ان کے اپنے لیے تھے وصول کر رہے تھے۔ یہ عجیب و غریب صورت حال تھی اور اس لیے پیدا ہوئی تھی کہ ساری دنیا جنہیں مردہ سمجھ رہی تھی وہ زندہ تھے۔ دراصل ظاہر پرستی کا یہ المیہ ہے کہ جو چیز ان کی آنکھوں کے سامنے ہے اسے تو وہ موجود تسلیم کر لیتے ہیں لیکن جو چیز آنکھوں سے اوجھل ہوتی ہے اس پر قیاس آرائی کرنے لگتے ہیں۔ یہ قیاس آرائی اکثر و بیشتر غلط ہوتی ہے لیکن اسے بڑے اعتماد کے ساتھ بیان کیا جاتا ہے اس لیے لوگ اس پر ایمان لے آتے ہیں۔ ’’انکشاف ۱۰۱‘‘ کے خلا بازوں پر یہ انکشاف اس وقت ہوا جب انہوں نے خود اپنی آنکھوں سے اپنا ماتم دیکھا اور خود اپنے کانوں سے اپنا مرثیہ سنا۔ اپنے ٹیلی ویژن اسکرین پر نشر ہونے والے مناظر میں وہ اس قدر کھو گئے کہ انہیں سمت سفر کا احساس تک نہ رہا۔
	یہ ایک حقیقت تھی کہ مشتری کی راہ ان سے گم ہو گئی ہے اور چونکہ زمین والے اسی کے آس پاس انہیں تلاش کر رہے ہیں اس لیے پریشان بلکہ مایوس ہو چکے ہیں۔ لیکن یہ سوال اہم تھا کہ آخر وہ جا کہاں رہے ہیں ؟ اس خلائی طیارے کا مکمل کنٹرول ناسا کی زمینی لیب سے ہوتا تھا۔ اب چونکہ یہ لوگ ان کے کنٹرول سے باہر ہو چکے تھے اس لیے انہیں خود آگے کا سفر کرنا تھا۔ اس موقع پر خلا بازوں پر ایک اور انکشاف ہوا کہ خلائی طیارے کے اندر دروازہ کھولنے یا بند کرنے کے علاوہ اور کوئی بھی سہولت موجود نہیں ہے۔ انہیں اچانک محسوس ہوا کہ ان کی تعریف و توصیف میں کہے جانے والے تمام الفاظ صرف اور صرف جھوٹ اور لغو کے سوا کچھ نہیں۔ ان کی حیثیت تو تجرباتی چوہوں کی ہے جن کو تجربات کی بھینٹ چڑھا دیا گیا تھا۔ وہ محض کٹھ پتلی ہیں جو اپنی مرضی سے نہ ہاتھ ہلا سکتے ہیں اور نہ ناچ دکھا سکتے ہیں لیکن جب تک ان کے دھاگے محفوظ تھے اور ہلانے والوں کے اشارے پر وہ پھدک رہے تھے انہیں اس حقیقت کا احساس نہ ہوا تھا۔ اب صورت حال مختلف تھی۔ دھاگے ٹوٹ چکے تھے اور ان کے ہلانے والوں نے دھاگوں کے ٹوٹنے کو گڈوں کی موت کا شاخسانہ سمجھ لیا تھا۔ کچھ دیر ان آقاؤں نے دھاگوں کو جوڑنے کی کوشش کی لیکن مایوس ہونے کے بعد اب وہ سلسلہ بھی ٹوٹ گیا تھا۔ خلا بازوں کو یہ اندیشہ لاحق ہو گیا کہ اب ان کا کیا انجام ہو گا؟ ان کی بقاء کیونکر ممکن ہو سکے گی؟ خوف سے ان کے دل کانپ اٹھے۔ اگر یہ خلائی جہاز کسی چٹان سے جا کر ٹکرائے اور پاش پاش ہو جائے تو وہ موت کی آغوش میں پہنچ جائیں گے۔ لیکن پھر ایک اور خیال ان کے ذہن میں آیا کہ وہ جن پر انحصار کیے ہوئے تھے ان لوگوں نے تو ویسے ہی ان کی موت کا اعلان کر دیا ہے خلا باز ان کے لیے مر چکے ہیں اس موقع پر خلا بازوں نے سوچا ’’سہارا دینے والے بھی کمزور اور سہارا لینے والے بھی کمزور۔‘‘ وہ تو ایک مکڑی کا جال تھا جسے انہوں نے مضبوط قلعہ سمجھ رکھا تھا اور اب اس کے بکھر جانے کو اپنے لیے باعث تباہی و بربادی سمجھ رہے تھے حالانکہ وہ صحیح و سلامت تھے۔ انہوں نے اپنے آپ سے پوچھا۔ 
	’’اگر مجازی خداؤں کی مدد کے بغیر وہ زندہ ہیں تو کون ہے جو انہیں زندہ رکھے ہوئے ہے؟‘‘
	جب اس سوال نے سر اُبھارا تو ان کی نگاہیں نادانستہ آسمان کی طرف اُٹھ گئیں۔ آسمان سے آسمان کی طرف دیکھنے کا یہ ان کا پہلا موقع تھا۔ ابھی تک وہ آسمان میں ہونے کے باوجود زمین کی جانب ہی دیکھا کرتے تھے لیکن اب جب کہ ان کی نگاہیں اوپر کی جانب اٹھیں تو ہاتھ بھی اپنے آپ اُٹھ گئے اور دل جھک گئے۔ پیشانی بھی جھک گئی اس اوپر والے سہارے کے سامنے جو اس وقت بھی موجود تھا جب کوئی زمینی سہارا نہ تھا اور اس وقت بھی موجود ہے جب کوئی زمینی سہارا نہیں ہے اور اس وقت بھی ہو گا جب کوئی سہارا موجود نہ ہو گا اس لیے کہ تمام مجازی سہاروں کے درمیان وہی تو ایک حقیقی سہارا ہے۔ جب سجدے سے انہوں نے اپنے سر کو اٹھایا تو کیا دیکھتے ہیں کہ ان کا خلائی جہاز پلوٹو کی سرزمین پر سجدہ ریز ہے۔
	پلوٹو نظام شمسی کا سب سے دور دراز اور سب سے چھوٹا سیارہ ہے۔ زمین کے لوگوں کو کبھی اس سیارے کی تسخیر کا خیال تک نہ آیا تھا لیکن آج ’’انکشاف ۱۰۱‘‘ پلوٹو کی سرزمین پر جا پہنچا تھا۔ حق کی معرفت نے خلا بازوں کے دل کو تکبر و غرور اور بغض و حسد سے پاک کر دیا تھا۔ وہ ساری کائنات کو اپنے خالق کی مخلوق سمجھنے لگے تھے۔ مشتری والوں کو مغلوب و مقہور کرنے کا خیال محو ہو چکا تھا۔ وہ محسوس کر رہے تھے کہ اس نئی دنیا میں انہیں ایک نئی زندگی عطا ہوئی ہے۔ وہ اپنی اس زندگی کو اپنے خالق کی نذر کرنا چاہتے تھے۔ اسی کے بھروسے وہ آگے بڑھے اور انہوں نے خلائی طیارے کا دروازہ کھول دیا۔ باہر ایک نیا جہاں آباد تھا۔ تا حد نظر سرسبز و شاداب کھیت و باغات دکھائی پڑتے تھے۔ ہوا کی اپنی تازگی تھی۔ کئی دنوں تک بند رہنے کے بعد وہ کھلی فضا میں سانس لیتے ہوئے پھولے نہیں سما رہے تھے۔ ایک دوسرے سے گلے مل رہے تھے، خوشیاں منا رہے تھے کہ اچانک ہیلی کاپٹر جیسی کوئی چیز ان کے قریب نمودار ہوئی اور اس میں سے چند لوگ اترے۔ یہ لوگ چہرے سے نہایت مہذب نظر آ رہے تھے۔ ان لوگوں نے قریب آ کر اپنی زبان میں خلا بازوں سے کچھ کہا۔ یہ لوگ زبان تو نہ سمجھ سکے لیکن اندازہ لگا لیا کہ ان کا خیر مقدم کیا جا رہا ہے۔ نو واردوں نے اشارے سے خلا بازوں کو اپنے ہیلی کاپٹر کی جانب بلایا، بڑے احترام سے انہیں بٹھایا اور پھر ایک بار یہ ہیلی کاپٹر برسر پرواز ہو گیا۔ چند گھنٹوں کے بعد وہ ایک شہر میں اترا۔ یہ ایک نہایت جدید اور ترقی یافتہ شہر تھا۔ وہ لوگ انہیں اپنے تحقیقاتی ادارے میں لے گئے۔ یہ نہایت ہی ترقی یافتہ لیباریٹری تھی اب تک خلا بازوں کو یقین ہو گیا تھا پلوٹو کے لوگ سائنسی میدان میں زمین والوں سے کہیں آگے ہیں۔ لیکن یہاں کے لوگوں میں بلا کی انکساری اور بہترین اخلاق پایا جاتا ہے۔ اجنبیوں کی یہ مہمان نوازی خلا بازوں کے لیے باعثِ تعجب تھی اس لیے کہ روئے زمین پر بسنے والوں نے اجنبیوں کو ہمیشہ ہی مشکوک نگاہوں سے دیکھا کرتے تھے۔ وہ غیروں کو اپنا دشمن سمجھتے تھے اور ان سے ہونے والے نقصان کے اندیشہ میں اسے نقصان پہنچا دیتے تھے۔ زمین والے دوسروں کو اپنے پر قیاس کرتے تھے اور وہ رویہ اختیار کرتے تھے لیکن پلوٹو والوں کا قیاس زمین والوں سے مختلف تھا۔ ان کا معاملہ دوستانہ تھا ان لوگوں نے سب سے پہلے مہمانوں کی خورد و نوش اور آرام کا اہتمام کیا اور پھر ان کی اپنی زبان و لغت کی لیباریٹری میں لے گئے جہاں نہایت سائنٹفک طریقے پر پلوٹو والوں نے زمین والوں کی زبان سیکھ لی۔ وہ مختلف چیزیں خلا بازوں کے سامنے رکھتے اور جیسے ہی یہ اس کا نام بتلاتے وہ اس آواز کو ریکارڈ کر لیتے۔ دراصل زبان مختلف اشیاء پر لگا ہوا آواز کا لیبل ہی تو ہے۔ جن سے اشیاء کو پہچانا جاتا ہے۔ ان آوازوں کے پلوٹو زبان میں متبادل بھی مشین میں ریکارڈ کر دیئے جاتے تھے۔ یہ مشین خلا بازوں سے جو آواز سنتی اسے متبادل آواز میں بدل دیتی اور پلوٹو والے اپنی زبان میں زمین والوں کا مفہوم سمجھ لیتے۔ اسی طرح یہ مشین پلوٹو والوں کی آواز سن کر اسے زمین والوں کے متبادل میں پیش کر دیتی۔ اس طرح چند دنوں کے اندر ترسیل کا مرحلہ طے ہو گیا اور اب مشاہدے کا عمل شروع ہوا۔ پلوٹو والوں نے مہمانوں کی سیر تفریح کا اہتمام کیا اور اپنے سیارے کو کھلی کتاب کی طرح ان کے سامنے پھیلا دیا۔
	ایک چیز جو زمین والوں کے لیے سب سے زیادہ حیرت کا سبب بنی وہ یہ تھی کہ پلوٹو والے کبھی بھی سوتے نہ تھے۔ وہ دن رات جاگا کرتے تھے اور کام میں لگے رہتے تھے۔ خلا بازوں نے جب اس بات کی ستائش کی تو وہ جواب سن کر مبہوت رہ گئے۔اس لیے کہ پلوٹو والے ان خلا بازوں کے اندر جس شئے کو بڑے رشک سے دیکھتے تھے وہ ان کا میٹھی نیند کی آغوش میں گم ہو جانا تھا۔ جب سورج نصف النہار پر پہنچتا تو یہ خلا باز کھا پی کر سوجاتے اور جب چاند کی روشنی سارے عالم پر چھا جاتی یہ پھر ایک بار نیند میں کھو جاتے۔پلوٹو والوں سے گفتگو کرنے کے بعد خلا بازوں نے محسوس کیا انہیں نیند سے محرومی کا بڑا قلق ہے اور مسلسل جاگتے رہنے نے ان کی یادداشت پر بڑا بُرا اثر ڈالا ہے وہ کسی بات کو ایک دن سے زیادہ یاد نہیں رکھ سکتے۔ 
	خلا باز حیران تھے اس قدر صحت مند خوش حال اور ترقی یافتہ لوگوں کی یہ کس قدر عظیم مجبوری تھی کہ وہ ہر بات کو ایک دن بعد بھول جاتے تھے۔ پلوٹو والوں نے اپنے زمینی دوستوں سے اس معاملہ میں مدد طلب کی اور کہا کہ وہ کچھ ایسا کریں جس سے ان کو بھی نیند کی نعمت حاصل ہو جائے۔ خلا بازوں نے انہیں اپنی مدد کا یقین تو دلا دیا لیکن کام خاصہ مشکل تھا۔ بہرحال بیڑہ اٹھا لیا گیا۔
	ابتداء بیداری کی وجوہات تلاش کرنے سے کی گئی اور یہ بات سمجھ میں آئی کہ یہ لوگ بیدار اس لیے رہتے ہیں کہ بے دار ہیں۔ یہ بات زمین والوں کے لیے مزید تعجب کا باعث تھی۔ پلوٹو کی کسی عمارت میں گھر یا دفتر میں دروازہ نہیں ہے۔ تمام کھڑکیاں اور دروازے کھلے ہوئے تھے۔ جس کے باعث وہ مسلسل ایک دوسرے کو دیکھتے رہتے۔ ان کا دوسروں کا دیکھنا اور دوسروں کا ان کو دیکھنا ان کے چین سکون کا اصل دشمن تھا جس نے ان کی آنکھوں سے نیند چھین لی ہے۔ وہ جب دوسروں کی جانب دیکھتے اور دوسروں کو حاصل اشیاء پر ان کی نظر پڑتی ہے تو خود بھی انہیں حاصل کرنے کی حرص ان کے اندر پروان چڑھتی۔ وہ اسے حاصل کرنے کی جدوجہد میں اپنے آپ کو جھونک دیتے ان کا چین اسی باعث غائب ہو گیا تھا۔ ساتھ ہی مسلسل دوسروں کے ذریعہ دیکھے جانے کا احساس بلکہ دباؤ ان کے سکون کو ختم کر دیتا تھا۔ ہر لمحہ گھورتی ہوئی آنکھیں ان کی آنکھوں کی نیند حرام کر دیتی تھیں۔ اس عمل نے انہیں خود فراموشی کا شکار کر دیا ہے وہ کبھی خود اپنے اندر جھانک کر نہیں دیکھتے۔ ان کی نظر کبھی ان چیزوں پر نہیں پڑتی جو انہوں نے اپنی جدوجہد سے حاصل کر لی تھیں۔ عدم حصول کی محرومی نے انہیں حاصل شدہ نعمتوں کے اعتراف سے محروم کر دیا تھا وہ دیوانوں کی طرح حصول دنیا کے پیچھے بھاگے جا رہے تھے۔ شدید جذبہ مسابقت نے انہیں ترقی یافتہ قوم ضرور بنا دیا تھا لیکن روحِ مطمئن سے محروم کر دیا تھا۔ 
	جب خلا بازوں نے اس خود فراموشی کا بنیادی سبب تلاش کرنے کی کوشش کی تو ان کی توجہ اس معرفت حق کی جانب مبذول ہو گئی جسے انہوں نے خلائی سفر میں حاصل کیا تھا۔ حقیقت یہی تھی کہ ’’خدا فراموشی نے انہیں خود فراموش بنا دیا تھا۔‘‘
	اس نتیجہ پر پہنچنے کے بعد خلا بازوں نے پلوٹو کے بڑے دانشوروں کے سامنے اپنی تحقیقات کے نتائج پیش کر دیئے۔ دانشوروں نے اس پر غور و خوض کرنے کے لیے ایک اجتماع کا انعقاد کیا اور ان تجاویز پر گفتگو شروع ہوئی۔ دو باتیں تھیں ایک کا تعلق عقیدہ سے تھا اور دوسرے کا عمل سے۔ ان دونوں کا باہم تعلق چین و سکون سے تھا۔ دروازے کی تجویز کو اس بنیاد پر رد کر دیا گیا کہ یہ قدیم روایات کے خلاف ہے۔ صدیوں سے چلی آ رہی آباؤ اجداد کے طریقہ کو ترک کرنا ممکن نہیں ہے۔ ساتھ ہی یہ بنیادی حقوق کے تصور سے بھی ٹکراتا ہے لوگوں کا بنیادی حق ہے کہ وہ ان تمام چیزوں کو دیکھ سکیں جو ہمیں حاصل ہیں اور ہم کرتے ہیں۔ اسی طرح یہ ہماری سعادت ہے کہ ہم تمام لوگوں کو حاصل اشیاء اور حرکات کو دیکھ سکیں اس لیے اس بنیادی حق سے دستبرداری ممکن نہیں ہے۔ عقیدہ کی سطح پر ایک خدا کی پرستش بھی ان کے لیے ایک ناقابل قبول تھی۔ اس لیے کہ وہ دو خداؤں کے ماننے والے تھے۔ جب صبح ہوتی اور فسطائی سورج آگ کا گولہ بن کر طلوع ہوتا تو وہ اس کے آگے جھک جاتے اور اس سے دعائیں کرتے کہ انہیں نیند کی نعمت سے مالا مال کرے۔ لیکن جب شام کو وہ انہیں ناکام و نامراد چھوڑ کر غروب ہونے لگتا تو وہ اس سے مایوس ہو کر اس کا انکار کر دیتے اور جیسے ہی جمہوری چاند برف کی چادر اوڑھے نمودار ہوتا اُس کے آگے سر بسجود ہو جاتے اور اس سے نیند کی دعائیں کرنے لگتے۔ لیکن چند گھنٹوں کے بعد چاند بھی اُن کی آنکھوں کو نیند سے محروم چھوڑ کر اوجھل ہو جاتا تو پھر وہ سورج کے طلوع ہونے کا انتظار کرنے لگتے۔صدیوں سے یہ عمل جاری تھا۔ وہ اپنی تمام تر مادّی ترقیات کے باوجود چین سکون سے محروم فسطائی و جمہوری خداؤں سے اُمید لگائے ہوئے تھے اور بھول جاتے تھے کہ یہ وہی ہے جس نے کل انہیں مایوس کیا تھا۔ برسوں سے ان کی عبادت کرنا اور ان سے دھوکہ کھانا ان کا معمول بن گیا تھا۔ انہوں نے اپنے آپ کو ایک ایسی زنجیر سے جکڑ لیا تھا جس کا ایک سرا آگ کی طرح گرم اور دوسرا برف کی طرح سرد تھا۔ وہ اس غلط فہمی کا شکار ہو گئے تھے کہ اگر یہ زنجیر ٹوٹ گئی تو وہ برباد ہو جائیں گے حالانکہ حقیقت تو یہ تھی کہ یہی زنجیر ان کی تباہی و بربادی کا بنیادی سبب تھی۔ خلا باز بھی کسی وقت اس طرح کے جال میں پھنسے ہوئے تھے۔ لیکن پلوٹو کے سفر نے انہیں اس سے نجات دلا دی تھی۔پلوٹو والوں کا اب بھی زنجیر میں جکڑے رہنے پر اسرار خلا بازوں کو غم گین کر دیا تھا لیکن وہ مجبور بھی تھے۔ 
	’’خدا کسی قوم کی حالت اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک کہ خود اسے اس کا خیال نہ ہو۔‘‘
	پلوٹو والے مشیت ایزدی کے اس قانون کی زد میں آ گئے تھے۔ وقت گزرتا رہا وہی چاند وہی سورج وہی بیداری جاری رہی۔ لیکن اچانک ایک دن ایک معجزہ رونما ہو گیا۔
	ایک صبح سورج اور چاند ایک ساتھ طلوع ہونے لگے۔ ایسا تو کبھی نہ ہوا تھا۔ مشرق سے سورج اور مغرب سے چاند دونوں ایک دوسرے کی جانب بڑھ رہے تھے۔ پلوٹو والوں کے لیے یہ منظر نیا تھا۔ ان کی سمجھ میں یہ نہیں آ رہا تھا کہ اب کس کی پرستش کریں ؟ اس لیے کہ ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا تھا۔ وہ گھبرا گئے۔ ان کے معبود جیسے جیسے ایک دوسرے کے قریب آتے ایک دوسرے کے اثرات کو زائل کرتے جاتے تھے۔ سورج کی آگ چاند پر موجود برف کی سِل کو پگھلا رہی تھی اور چاند کی ٹھنڈک سورج کی آگ کو نگلتی جا رہی تھی۔ جب دونوں آمنے سامنے آ گئے سورج کی آگ بجھ چکی تھی اور وہ ایک سیاہ دھبہ بن گیا تھا۔ اور چاند کی برف بھی پگھل چکی تھی اور وہ بھی بے نور ہو چکا تھا۔ اس منظر کو دیکھ پلوٹو والے کانپ اٹھے۔ وہ دوڑے دوڑے خلا بازوں کے پاس آئے اور ان سے پوچھا۔ 
	’’یہ کیا ہے؟‘‘ 
	جواب ملا۔ ’’یہ قیامت ہے۔‘‘
	’’قیامت کیا ہوتی ہے؟‘‘
	’’مدتِ عمل کا خاتمہ۔‘‘ سورج اور چاند کا ٹکراؤ ایک زبردست چنگھاڑ میں تبدیل ہو گیا تھا۔ سب کچھ تہس نہس ہونے لگا تھا۔ پلوٹو والوں نے پوچھا۔ ’’اب کیا ہو گا؟‘‘
	جواب ملا۔’’اب کوئی کہیں نہیں جا سکتا۔ اب کسی کے لیے کوئی جائے پناہ نہیں ہے۔‘‘
	سوال ہوا۔’’اب ہم کیا کریں ؟‘‘
	’’انتظار کرو اور دوسری چنگھاڑ کا انتظار جو ہم سب کو موت کی نیند سلا دے گی۔‘‘
	نیند کا نام سنتے ہی پلوٹو والوں کی باچھیں کھل گئیں۔ انہوں نے پوچھا۔
	’’واقعی سب کو نیند کی نعمت نصیب ہو جائے گی؟ کیا واقعی ایسا ہو گا؟ اور اگر ایسا ہوتا ہے تو اس کے لیے ہمیں یہ تمام تباہی و بربادی منظور ہے۔‘‘
	’’لیکن یاد رکھو۔‘‘ خلا بازوں نے کہا۔’’یہ نیند بھی عارضی ہو گی جسے تیسرے صور کی آواز ختم کر دے گی اور پھر حساب کتاب ہو گا۔جن لوگوں کے ہاتھ ناکامی لگے گی وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے نیند سے محروم…‘‘
	جملہ پورا ہونے سے پہلے دوسرا دھماکہ ہوا اور موت کی خاموشی نے سب کچھ نگل لیا۔
٭٭٭







دھوپ چھاؤں 


	حکم ہوا۔’’اے زمین اپنا سارا پانی نگل جا اور اے آسمان رُک جا۔‘‘ 
	چنانچہ تنور کے اُبلنے سے شروع ہونے والا طوفان تھم گیا۔ موسلا دھار بارش کے لیے کھلا آسمان بند ہو گیا۔ چشمہ چشمہ پھٹی زمین جُڑ گئی۔
	لیکن اس سے پہلے وہ کام پورا کر دیا گیا جو مقدر کیا جا چکا تھا۔ تختوں اور کیلوں والی نوح کی کشتی کوہ جودی پر ٹک گئی اور دور ہوئی ظالموں کی قوم۔اُن ظالموں کی جنہوں نے از خود یہ مطالبہ کیا تھا کہ ’’بس اب تو وہ عذاب لے آؤ جس کی تم ہمیں دھمکی دیتے ہو اگر تم سچے ہو۔ جنہوں نے نوح کی تکذیب کی انہیں مجنون قرار دیا۔ نوح اور اس کے ساتھیوں کو حقیر جانا اور کشتی کا مذاق اُڑایا۔ جو یہ سمجھتے تھے طوفان نہیں آئے گا اور اگر آیا بھی تو پہاڑوں کی بلندیاں ان کی حفاظت کریں گی۔ لیکن طوفان کی موجیں پہاڑوں جیسی تھیں۔ جو حق و باطل کے درمیان دیوا ربن گئیں۔ ان ظالموں میں ابن نوح بھی شامل تھا۔زقزوق کشتی میں بیٹھا اپنے دوست کی غرقابی کو دیکھ رہا تھا۔ ابن نوح کا اٹھنا بیٹھنا سرداروں کے درمیان تھا جو زقزوق کا شمار معاشرے میں کیا کرتے تھے اور چاہتے تھے کہ نوح بھی انہیں دھتکار دیں لیکن وقت کا نبی کہہ رہا تھا۔ ’’میں انہیں دھکے دینے سے رہا جو ایمان لائے۔ میں نہیں کہہ سکتا کہ تمہاری آنکھیں جنہیں حقارت سے دیکھتی ہیں انہیں اﷲ نے کوئی بھلائی نہیں دی۔‘‘ان کے یقین کا حال وہی بہتر جانتا ہے۔ دھتکارنے والے دھتکار دیئے گئے اور دھتکارے جانے والے بچا لیے گئے۔ طوفان کے تھم جانے پر حکم ہوا۔’’اے نوح اُتر جا ہماری طرف سے سلامتی اور برکتیں ہیں تجھ پر اور ان گروہوں پر جو تیرے ساتھ ہیں۔ ‘‘
	اس کشتی میں سے جسے عبرت بنا دیا گیا تھا لو گ خوشی خوشی اُترنے لگے۔ اس لیے کہ انہیں کچھ اور مدت کے لیے زیست سے نوازا گیا تھا۔ زمین پر اُترتے ہی یہ لوگ سجدے میں گر گئے۔ سجدۂ شکر ابن آدم کی وہ شان ہے جو اُسے فرشتوں اور جنوں پر امتیاز عطا کرتی ہے۔ حضرت آدمؑ نے غلطی کے سرزد ہوتے ہی سجدۂ استغفارکیا اور ابلیس اس سے محروم رہ گیا۔ اس سے روز اول ہی انسان کا جنوں پر فوقیت ثابت ہو گئی اور اس کے مسجود ہونے کی دلیل آ گئی۔ فرشتوں نے دراصل سجدۂ اطاعت کیا تھا آدم ؑ نے سجدۂ استغفار اور نوحؑ کے ساتھیوں نے سجدۂ تشکر۔ حضرت آدمؑ کو دنیا میں آنے پر خلافت اﷲ کا مقام حاصل ہونے کی خوشی ضرور تھی لیکن حوّا اور جنت کے بچھڑ جانے کا افسوس بھی تھا۔ انہیں پہلے تو حوّا کو تلاش کرنا تھا اور پھر ان کے ساتھ شیطانی وساوس پر قابو پاتے ہوئے دوبارہ کھوئی ہوئی جنت حاصل کرنی تھی لیکن نوحؑ کے ساتھیوں نے اپنی آنکھوں سے اﷲ کے غضب کو دیکھا تھا انہیں خوشی تھی کہ خالق و مالک نے اُن کا شمار پانی کے عذاب سے بچنے والوں میں کیا تھا۔اب وہ آگ کے عذاب سے ہمیشہ ہمیش کے لیے اپنے آپ کو بچا لینا چاہتے تھے۔ انہیں یقین تھا کہ جو مالکِ کائنات دنیا کے کٹھن وقت میں ان کے ساتھ تھا وہی روزِ قیامت ان کا رفیق و دم ساز ہو گا۔ سبھی کے ساتھ زقزوق بھی سجدے میں تھا سب نے سر اٹھا لیا لیکن وہ اسی حالت میں گرا رہا۔ یہاں تک کہ نوحؑ نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا۔ سر اٹھاتے ہی وہ اپنے دوست ابن نوح کے بارے میں پوچھنے لگا۔ حضرت نوحؑ کے پاس اس کے لیے دو آنسوؤں سے زیادہ کچھ اور نہ تھا۔ پھر اس نے اپنی ماں کے بارے میں پوچھا اور دوبارہ اُسے ہونٹوں کے بجائے آنکھوں سے جواب ملا۔ آنسو تھے کہ نہ تھمتے تھے ایک کو اپنے بیٹے کے ڈوب جانے کا غم تھا اور دوسرے کو اپنی ماں کے بچھڑ جانے کا افسوس۔ ان دونوں کے درمیان ایک نیا رشتہ قائم ہو گیا ’’رشتۂ زیاں ‘‘ دونوں ایک دوسرے سے لپٹ گئے اور دیر تک لپٹے رہے۔ جب جدا ہوئے تو ایک کو باپ اور دوسرے کو بیٹا مل گیا تھا۔زقزوق نے اس وقت نوحؑ کی انگلی تھامی لیکن آگے چل کر ہاتھ تھام لیا اور ایک وقت ایسا آیا کہ نوحؑ ضعیف ہو گئے زقزوق جوان ہو گیا اور اب وہ ان کے ہاتھوں کی لاٹھی تھا۔ نوحؑ نے اپنی آخری سانس تک اپنے مشن کو جاری رکھا۔ لیکن بالآخر ان کی مدت عمل اختتام کو پہنچی اور اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔ نوحؑ کے داغِ مفارقت سے زقزوق جیسے ہی سنبھلا وہ پھر اس کام میں لگ گیا۔ نوحؑ کے ہونٹ خاموش ہو چکے تھے لیکن ان کے الفاظ زقزوق کے کانوں میں ثبت تھے۔’’کام ابھی باقی ہے، کام ابھی باقی ہے۔‘‘ وہ اس کام میں اسی طرح لگ گیا جیسے نوحؑ اسے کیا کرتے تھے۔ دن رات ہانکے، پکارے لوگوں کو دینِ حنیف کی دعوت دیتا۔ نہ مایوس ہوتا اور نہ تھکتا۔ اپنے روحانی باپ کی وراثت کی حفاظت میں لگا رہتا۔
	کشتی جیسے جیسے پرانی ہوتی گئی طوفانِ نوحؑ کے اثرات زائل ہوتے گئے اور لوگ آہستہ آہستہ پھر اسی طغیانی کی جانب بڑھنے لگے جس نے انہیں غرقاب کیا تھا۔ وقت کے ساتھ وہ لوگ تو مر کھپ گئے جو طوفانِ نوحؑ کے چشم دید گواہ تھے جو نئی نسل جوان ہوئی تو ان میں کئی ایسے تھے جنہیں اس طوفان پر یقین تک نہ تھا۔ وہ اسے گزرے ماضی کے کہانی قصوں سے زیادہ کوئی اہمیت نہ دیتے تھے۔ زقزوق ایسے لوگوں کے لیے زیادہ فکر مند ہوتا۔ اس لیے کہ جانتا تھا کہ یہ اگر پانی کے عذاب سے بچ بھی گئے تو آگ کے دریا کا پل پار نہیں کر سکیں گے۔
	زقزوق نے دیکھا لوگ مختلف گروہوں میں رختِ سفر باندھ رہے ہیں۔ پتہ لگانے پر معلوم ہوا یہ لوگ کسی دور دراز کی بستی کا قصد کر رہے ہیں۔ جہاں ایک بہت ہی خوش حال اور طاقت ور قوم آباد ہے۔ لیکن اس کی صفت امتیاز انصاف پسندی ہے۔ اس بستی میں ایک عجیب و غریب مقدمہ زیر سماعت ہے۔ جس کا فیصلہ ایک مہینے بعد ہونے والا ہے۔ یہ لوگ اس فیصلے کے چشم دید گواہ بننا چاہتے ہیں۔ دنیا کے مختلف حصوں سے لوگ وہاں آ رہے ان سب کوبستی والوں نے سرکاری مہمان کے اعزاز سے نوازا ہے اور ایسا اس لیے کیا جا رہا ہے تاکہ وہ واپس جا کر ان کی تعریف و توصیف بیان کریں۔ لوگ مختلف مقاصد کے لیے رخت سفر باندھ رہے تھے۔کسی کے پیش نظر سیرو سیاحت تھی تو کوئی سرکاری مہمانی کی خاطر مدارت سے لطف اندوز ہونا چاہتا تھا۔ 
	لیکن زقزوق کو ان سب سے قطع نظر مقدمے کے فیصلے میں دلچسپی تھی۔راستے میں مختلف قافلوں سے اس کا سابقہ پیش آتا رہا اور وہ ان سے معلومات حاصل کرتا ہے۔ بستی میں پہنچنے کے قبل اسے معلوم ہو گیا تھا کہ یہ خاتون کا مقدمہ تھا جس نے بادشاہِ وقت کو مجرم کے کٹہرے میں کھڑا کر دیا تھا اور اس کا الزام تھا بادشاہ نے اس کا جنسی استحصال کیا ہے۔ ایک معمولی عورت کے الزام پر بادشاہ پر مقدمہ، یہ بات لوگوں کے لیے کچھ عجیب سی تھی۔ جب زقزوق اپنے ساتھیوں کے ساتھ پہنچا تو مقدمہ کی سماعت ختم ہو چکی تھی اور لوگ فیصلے کے منتظر تھے۔
	فیصلے کے دن دنیا بھر کے مشاہدین وہاں موجود تھے اور دلچسپی سے اس ڈرامے کا ڈراپ سین دیکھ رہے تھے۔ قاضی وقت نے سب سے پہلے بادشاہِ وقت کے قصیدے پڑھے پھر خاتون کی کردار کشی کی۔ بادشاہ کی غلطی کا اعتراف کیا لیکن اس کے باوجود اسے بری بھی کر دیا۔ لوگ جوش و خروش میں زندہ باد، پائندہ باد کے نعرے لگانے لگے۔ پھلجھڑیاں چھوٹنے لگیں۔ نگاڑے بجنے لگے۔ زقزوق کے لیے یہ سب تماشہ بے معنی تھا۔ مجمع کو چیرتا ہوا وہ آگے بڑھا اور اس نے جج کے قریب جا کر اپنی بات کہنے کی اجازت مانگی۔ فیصلہ ہو جانے کے بعد کسی فرد کی یہ حرکت توہین عدالت تھی۔ اس کے باوجود جج صاحب نے مسکرا کر اسے اجازت دے دی۔ سب لوگ دم بخود اسے دیکھنے لگے۔ وہ گویا ہوا۔
	’’یہ کیسا انصاف ہے؟ یہ تو انصاف کا مذاق ہے۔ آپ اگر یہ تسلیم کرتے ہیں کہ ملزم نے غلطی کی ہے تو اسے سزا دیجئے۔ اور اگر اُسے بَری کرتے ہیں تو بے قصور قرار دیجئے۔ آپ نے دوہری بات کی ہے۔ جو انصاف نہیں ظلم ہے۔‘‘
	 درباری زقزوق کی بات سن کر دم بخود رہ گئے۔ان کے دل گواہی دے رہے تھے کہ یہ سچ کہہ رہا ہے۔ لیکن اَنا آڑے آ گئی۔ ایک نے پوچھا۔
	’’یہ کون ہے؟‘‘
	دوسرے نے کہا۔’’یہ دشمن کا آدمی ہے۔‘‘
	تیسرے نے کہا۔’’اس نے ہمارے قانون کا مذاق اُڑایا ہے۔‘‘
	چوتھے نے کہا۔ ’’اس نے ہمارے بادشاہ کی توہین کی ہے۔‘‘
	پانچواں بولا۔’’یہ تو ہماری قوم کا دشمن ہے۔‘‘اور پھرسزا دو سزا دو
	بادشاہ نے مداخلت کی اور پوچھا۔
	’’تم کون ہو؟اور کیا چاہتے ہو؟‘‘
	زقزوق نے اپنا تعارف کرایا۔’’میں اﷲ کا بندہ ہوں۔ میں تمہیں بھی اسی کی اطاعت کی دعوت دیتا ہوں اور ظلم و نا انصافی سے روکتا ہوں۔ ‘‘
	’’اچھا لیکن اگر ہم نے تمہاری بات کا انکار کر دیا تو تم ہمارا کیا بگاڑ لو گے؟‘‘
	زقزوق بولا۔’’میں تم سے اپنی بات منوانے نہیں آیا ہوں۔ لیکن اگر تم نے اپنے رب کی بات ماننے سے انکار کر دیا تو وہ تمہیں ضرور سزا دے گا۔‘‘
	’’مجھے سزا دے گا؟‘‘ بادشاہ نے قہقہہ لگایا۔’’کس کی مجال ہے جو مجھے سزا دے۔ میں کسی رب کو نہیں جانتا۔ بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ میں خود اس کا رب عظیم ہوں۔ ‘‘
	زقزوق نے نہایت دل سوزی سے کہا۔’’یہ بغاوت ہے۔ یہ طغیان ہے۔ یہ جھوٹ ہے اور یہی سب سے بڑا ظلم ہے۔‘‘
	بادشاہ نے کہا۔’’بغاوت تو خود تم نے کی ہے۔ جھوٹ تم خود گھڑ رہے ہو۔ اب ہم تمہیں بتلاتے ہیں ظلم کیا ہوتا ہے۔‘‘بادشاہ نے حکم دیا ایک الاؤ تیار کیا جائے۔ جس کی لپٹیں آسمان کو چھوتی ہوں اور اسے اس میں اُچھال دیا جائے۔
	قاضی نے کہا۔ ’’جان کی امان پاؤں تو میں بھی کچھ عرض کروں۔ ‘‘
	بادشاہ نے کہا۔’’بولو تم کیا کہنا چاہتے ہو؟‘‘
	’’حضور آج ساری دنیا کے نمائندے یہاں موجود ہیں جو ہماری جانب رشک کی نگاہوں سے دیکھ رہے ہیں اور جا کر اپنی اپنی بستیوں میں ہمارے عدل و انصاف کے گن گانے والے ہیں لیکن اگر ہم نے اس موقع پر زقزوق کو آگ میں پھینک دیا تو وہ ہمیں چھوڑ کر اس کے واقعات سنانے لگیں گے اور ہوسکتا ہے اس کی تعریف و توصیف یہاں کرنے لگیں۔ اگر ایسا ہوا تو ہماری نیک نامی کا نقاب تار تار ہو جائے گا۔‘‘
	بادشاہ نے کہا۔ ’’بات تو معقول معلوم ہوتی ہے۔ پھر کیا کیا جائے؟‘‘
	قاضی نے کہا۔ ’’اس کو معاف کر دیا جائے۔ اس سے ہماری رحم دلی اور رواداری کے چرچے ہونے لگیں گے۔‘‘
	بادشاہ نے قاضی کو شاباشی دی اور قاصی نے اعلان کیا۔’’بادشاہِ وقت نے اس نا خلف کو معاف کر دیا اور سزائے موت سے بَری کر دیا لیکن چونکہ اس نے رعایا کو رنج پہنچایا ہے وہ اس کی سزا دینے کے لیے آزاد ہے۔‘‘
	پھر ایک بار بادشاہ زندہ باد، انصاف پائندہ باد کے نعرے بلند ہوئے۔ زقزوق عدالت سے باہر آیا تو بادشاہ کے اوباش مصاحب اس کے پیچھے لگ گئے اور اس پر پتھر برسانے لگے۔ زقزوق لہو لہان ہو گیا۔ اس کی جوتیاں خون سے بھر گئیں اور بستی سے باہر دریا کے کنارے وہ بے ہوش ہو گیا۔ جب اسے ہوش آیا تو ایک فرشتہ اس کے سامنے کھڑا تھا۔ اس نے پوچھا۔ 
	’’تم کیا چاہتے ہو؟ اس بستی والوں کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے؟‘‘
	زقزوق بولا۔’’میں تھک گیا ہوں میں آرام کرنا چاہتا ہوں۔ مجھے موت کی نیند سلا دیا جائے۔‘‘ پہلی مرتبہ زقزوق سے مایوسی کا اظہار ہوا تھا۔ 
	فرشتے نے کہا۔ ’’بستی والوں کے بارے میں اگر تم کوئی حکم دیتے تو میں اﷲ کے اِذن سے اس پر عمل درآمد کرتا لیکن تم نے خود اپنے ہی بارے میں فیصلہ کر دیا لیکن ابھی تمہاری مدتِ عمل باقی ہے۔ اس لیے تمہیں زندہ رہنا ہو گا۔‘‘
	زقزوق نے کہا۔’’ٹھیک ہے میں اپنی زندگی کا باقی وقت پورا کرنے کے لیے تیار ہوں۔ لیکن میں اسے اس دور میں نہیں بلکہ آئندہ کسی دور میں پورا کرنا چاہتا ہوں۔ اور اس وقت تک سونا چاہتا ہوں۔ ‘‘
	آسمان سے صدا آئی۔ ’’تمہاری یہ دعا قبول ہوئی۔ تم جا کر قریب کے غار میں سو جاؤ۔ کئی صدیوں کے بعد تم نیند سے جاگو گے اور اپنی مدتِ عمل کو ختم کرنے کے بعد ہمارے پاس لوٹے گے۔‘‘
	زقزوق نے مسرت سے آسمان کی جانب دیکھا اور قریب کے غار کی جانب چل پڑا۔ لیٹتے ہوئے اس کی زبان کہہ رہی تھی ’’اے خدایا میں تیرے ہی نام سے موت کی آغوش میں جاتا ہوں اور تیرے ہی نام سے زندہ اٹھوں گا۔‘‘
	صدیوں تک زقزوق موت کی سی گہری نیند میں کروٹیں بدلتا رہا۔ گردش لیل و نہار اس کے آس پاس سے گزرتی رہی۔ سلسلۂ شب و روز سے اسے آزاد کر دیا گیا تھا۔ وقت کی سوئی اس کے لیے ٹھہر گئی تھی۔ عمر کا سفر رک گیا تھا۔ حالانکہ وہ سو رہا تھا۔ لیکن دیکھنے والوں کو لگتا تھا وہ جاگ رہا ہے۔ اس کی دہشت ناظرین پر اس طرح پڑی کہ کوئی قریب آنے کی جرأت نہ کرتا۔بالآخر ایک طویل شب کے بعد صبح نے گہری نے سانس لی۔ اس کی بیداری کا وقت آ گیا تھا۔ آنکھ کھلی تو زبان حمد و شکر سے تر تھی۔ اس کے دل کی دھڑکن کہہ رہی تھی ’’شکر و توصیف اﷲ ہی کے لیے ہے جس نے مجھے مردہ کر دینے کے بعد زندگی سے نوازا۔اسی کے حضور اٹھ کر جانا ہے۔‘‘ وہ کھڑا ہو گ کہیں جانے کے لیے۔ وہ نہیں جانتا تھا اگلا پڑاؤ کون سا ہو گا۔ لیکن جانتا تھا آخری منزل کون سی ہو گی۔ان نفوس کے لیے جنہیں اطمینان نصیب ہو گیا جنہیں حکم دیا جائے گا۔ ’’چلو اپنے رب کی طرف اس حال میں کہ  تم اس سے اور وہ تم سے راضی۔‘‘ اس حکم کے انتظار میں وہ صدیوں چلتا رہا اور صدیوں آرام کیا۔ وہ نہیں جانتا تھا کہ اس کے حق میں حکم کب صادر ہو گا۔ لیکن اسے یقین تھا کہ ایک دن ضرور ایسا ہو گا۔ غار سے نکل کر جب وہ دنیا میں آیا تو حساب کتاب میں پڑ گیا۔ سوچنے لگا کتنا سویا؟ ایک دن یا اس سے کم؟ پھر سوچنے لگا کتنا جِیا ایک دن یا اس سے کم؟ اعداد و شمار ایک دوسرے سے دست و گریباں تھے اس نے ان سوالات کو اپنے ذہن سے جھٹک دیا اور اپنے آپ کو اس جھگڑے سے نکال لیا۔ اسے بھوک لگ رہی تھی۔ اس نے اپنی جیب سے چاندی کا سکّہ نکالا تاکہ پیٹ کی آگ کو بجھایا جا سکے۔ دور شہر کی چہل پہل محسوس ہو رہی تھی۔ اس کے قدم اُسی جانب رواں دواں تھے۔
	شہر پہنچنے کے بعد اسے پتہ چلا زمانہ بدل گیا ہے۔ چاندی کے سکے داستانِ پارینہ بن چکے ہیں۔ دولت نے کاغذی پیرہن زیب تن کر لیا ہے۔ کھرے سکوں کو لوگ آثار قدیمہ کے طور پر نمائش کے لیے استعمال کرتے ہیں لیکن روزہ مرہ کی زندگی میں کھوٹے سکّے چل پڑے ہیں۔ دنیا مادیت کے کاغذی پیرہن میں ملبوس عریانیت کا شکار ہو چکی ہے۔ایک نیک دُکاندار نے اس کی رہنمائی آثار قدیمہ کے ایک بیوپاری کی طرف کر دی جہاں اسے ایک سکہ کے عوض نوٹوں کی گڈی تھما دی گئی وہ خوش تھا کہ ایک سکہ اتنے سارے نوٹوں میں بدل گیا لیکن بیوپاری اس سے زیادہ خوش تھا اس لیے کہ وہ جانتا تھا یہ ایک سکہ اسے بے شمار دولت سے مالا مال کر دے گا۔نوٹوں کی گڈی لیے جب زقزوق بازار میں پہنچا تو اسے حیرت کا د وسرا جھٹکا لگا۔ اس ایک سکہ سے اسے جس قدر اسباب حاصل ہو جایا کرتے تھے یہ نوٹوں کی گڈی ان کے لیے ناکافی ثابت ہوئی۔ اس نے سوچا شاید زمانے کے الٹ پھیر نے اشیاء کی قیمت بڑھا دی ہے یا سکّوں کی قدر گھٹا دی ہے۔ اسی لیے شاید لوگ سکوں کے پیچھے بگ ٹٹ دوڑ رہے ہیں اور یہ دوڑ بالآخر انہیں قبر کے دہانے تک لے جاتی ہے جہاں چاندی سونا پیچھے چھوٹ جاتا ہے مٹی مٹی سے جا ملتی ہے۔ زقزوق اپنی مٹی کا بوجھ اپنی روح پر اٹھائے ایک بار پھر سرگرم سفر تھا۔
	شکم سیری نے زقزوق کی بینائی میں اضافہ کر دیا تھا۔ وہ اپنے گرد و پیش کا بڑی دلچسپی اور انہماک سے جائزہ لے رہا تھا۔ یہ ایک نہایت ترقی یافتہ شہر تھا جدید سہولیات سے آراستہ و پیراستہ جہاں خوش حالی کا دور دورہ تھا۔ مادی اسباب کی فراوانی تھی لیکن ان سے لطف اندوز ہونے کی فرصت کسی کو نہیں تھی۔ہر کوئی جلدی میں تھا۔ یہ لوگ چند سالوں میں سیکڑوں سال کی زندگی سے لطف اندوز ہونا چاہتے تھے اور اسی حرص و ہوس نے ان سے زندگی اور اس کا لطف چھین لیا تھا۔ وہ دیر تک اس ریل پیل کو دیکھتا رہا کسی نے اس کی جانب توجہ نہیں دی۔ اسے کوفت ہونے لگی۔ یہ کیسے لوگ ہیں کسی کو پوچھ کر نہیں دیتے۔ اسی ادھیڑ بن میں اسے ننھے سے بچے کی آواز آئی۔
	’’بابا آپ کون ہیں ؟ اور یہاں کیا کر رہے ہیں ؟‘‘
	زقزوق نے معصوم سائمن کو دیکھا تو اسے گود میں اٹھا لیا اور اس کے سوال کا جواب دینے کے بجائے خود سوالات کی بھرمار کر دی۔
	’’بیٹے آپ کتنے اچھے ہو۔ آپ کا کیا نام ہے؟ آپ کہاں رہتے ہو؟ آپ کے ماں باپ کہاں ہیں ؟‘‘ زقزوق محبت کے لیے ترس گیا تھا۔ یہ بچہ صحرا میں مینہ کی طرح تھا۔ زقزوق کی محبت نے بچے کو اپنے سوالات بھلا دیئے اور وہ اپنے بارے میں بتانے لگا وہ بولا۔
	’’میرا نام سائمن ہے میں سامنے والے مکان میں رہتا ہوں۔ کانونٹ اسکول میں پڑھتا ہوں۔ میرے ڈیڈی کا نام ڈیوڈ ہے اور میری ممی نینسی ہیں۔ ‘‘
	’’اچھا۔ بڑا اچھا نام ہے تمہارا۔ تمہارے دوست کہاں ہیں ؟‘‘
	’’میرے دوست۔‘‘ وہ خاموش ہو گیا۔ 
	زقزوق نے کہا۔’’بولو بیٹے تمہارے دوست کہاں ہیں ؟‘‘
	سائمن بولا۔’’میرے دوست اسکول میں ہیں یہاں اس کالونی میں میرا کوئی دوست نہیں ہے چند بچے ہیں کچھ مجھ سے بڑے اور کچھ بہت چھوٹے۔ میرا ہم عمر کوئی ہے ہی نہیں جس سے میں دوستی کروں۔ جس کے ساتھ میں کھیلوں۔ ‘‘
	زقزوق نے کہا۔ ’’دوستی کرنے کے لیے کیا ہم عمر ہونا ضروری ہے۔ کیا میں تمہارا دوست نہیں ہو سکتا؟‘‘
	سائمن چپ ہو گیا اور پھر بولا۔ ’’کیوں نہیں کیوں نہیں۔ آپ میرے دوست ہو سکتے ہیں۔ ‘‘
	’’ میرے دوست لیکن میں تمہارا ہم عمر تو ہوں نہیں ؟‘‘
	’’کوئی بات نہیں لیکن آپ میرے دوست ہو سکتے ہیں۔ ‘‘
	زقزوق نے پوچھا۔ ’’وہ کیسے؟‘‘
	’’میں نہیں جانتا۔‘‘ سائمن نے جواب دیا۔
	زقزوق بولا۔’’بیٹا دوستی کے لیے محبت ضروری ہے ہم ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں ایک دوسرے کا خیال کریں گے تو بس ہو جائے گی ہماری دوستی پکی۔‘‘
	سائمن نے کہا۔’’ہاں بابا آپ سچ کہتے ہیں۔ ‘‘ اب سائمن زقزوق کی انگلی تھامے اسے اپنے گھر لا رہا تھا۔ زقزوق سوچنے لگا اس کا مقدر بھی انگلی تھامے سفر کرنا تھا۔ جب وہ بچہ تھا تو اس نے ایک بزرگ کی انگلی تھام لی تھی اور اب جب کہ وہ بوڑھا ہو گیا ہے ایک بچہ کی انگلی تھامے چل رہا تھا۔ بچہ اور بوڑھے ایک دوسرے کے دوست ہو جاتے ہیں۔ شاید اس لیے کہ بڑھاپے میں آدمی کے اندر کا بچپن جوان ہو جاتا ہے۔ گھر آنے تک زقزوق نے سائمن سے بہت ساری باتیں کر ڈالیں اسے پتہ چلا اس وسیع و عریض کالونی کے زیادہ تر مکانات میں یا تو بوڑھے جوڑے رہتے ہیں یا مجرد افراد۔ یہ دونوں بچوں سے محروم ہیں جو جوان جوڑے رہتے ہیں ان کی بھی اولاد کم یا نہیں ہے۔ اس لیے کہ وہ اولاد کو بوجھ سمجھتے ہیں۔ جو اولاد ہے اسے انہوں نے یا تو ہاسٹل بھیج دیا ہے یا اپنے خاندان سے اس طرح کاٹ کر پھینک دیا ہے جیسے اپینڈکس کو کاٹ کر پھینک دیا جاتا ہے۔ یہاں رہنے والے لوگوں کی اپنی اولاد تو کیا اپنے زوج کی خاطر بھی فرصت نہیں۔ دونوں لوگ ملازمت یا کاروبار کرتے ہیں دونوں زیادہ سے زیادہ مال و دولت حاصل کرنے کی تگ و دو میں ایک دوسرے سے دور ہو گئے ہیں۔ یہاں ہر کوئی صرف اپنا ہے کوئی کسی کا کچھ بھی نہیں ہے۔ سائمن نے بتلایا اس کی والدہ شہر کی بہت بڑی سرجن اور والد وکیل ہیں۔ 
	زقزوق نے پوچھا۔’’یہ وکیل کیا کرتے ہیں ؟‘‘
	’’اوہ آپ اتنا بھی نہیں جانتے۔ آپ تو بالکل بچے ہیں۔ ‘‘ سائمن نے کہا اور پھر بڑے بوڑھوں کی طرح سمجھانے لگا۔’’وکیل دراصل اپنے مؤکل کا مقدمہ لڑتے ہیں اور اسے کامیاب کرتے ہیں اور میرے والد صاحب جس کسی کا مقدمہ لڑتے ہیں وہ تو کامیاب ہوتا ہی ہے۔‘‘
	’’اچھا۔‘‘زقزوق نے تعجب کا اظہار کیا اور پوچھا۔’’ہر مقدمے میں ایک فریق تو ناحق ہوتا ہی ہو گا تو کیا تمہارے والد صاحب صرف حق دار کی وکالت کرتے ہیں اور اسے کامیاب کراتے ہیں ؟‘‘
	سائمن پھر چپ ہو گیا اور پھر اس نے کہا ’’نہیں اس میں حق دار اور ناحق کی کیا تفریق۔ درحقیقت میرے والد بہت بڑے وکیل ہیں ان کی فیس بہت زیادہ ہے۔ جو کوئی اسے ادا کرنے کی سکت رکھتا ہے وہ اس کا مقدمہ لڑتے ہیں۔ ‘‘
	’’مطلب یہ کہ تمہارے والد امیر کبیر لوگوں کے وکیل ہیں۔ ‘‘
	سائمن بولا۔’’اسی لیے تو خود بھی امیر کبیر آدمی ہیں۔ ‘‘
	’’لیکن تمام امیر لوگ حقدار تو نہیں ہو سکتے۔‘‘
	’’پھر آپ نے حقدار اور ناحق کی بحث چھیڑ دی میرے والد کا ان اقدار سے کوئی لین دین نہیں ہے وہ تو اپنے مؤکل کے وفادار ہوتے ہیں وہ اسے کامیاب کرنے کا عہد کرتے ہیں اور اسے حتی الامکان پورا کرتے ہیں۔ اسی لیے لوگ ان کا بڑا احترام کرتے ہیں۔ ‘‘
	سائمن اور زقزوق کی گفتگو کا سلسلہ جاری تھا کہ اچانک کسی نسوانی آواز نے سائمن کو بلایا۔ 
	زقزوق نے پوچھا۔’’کیا تمہاری امی ہیں ؟‘‘
	سائمن بولا۔ ’’نہیں امی کی ڈیوٹی تو رات گئے ختم ہو گی یہ تو میری ٹیوشن ٹیچر جولیا ہے۔‘‘
	جولیا نے کمرے میں آنے کے بعد بادلِ ناخواستہ زقزوق کو ’’ہائے‘‘ کہا۔ اس وقت تک سائمن بستہ کھول چکھا تھا۔ وہ اسے پڑھانے میں مصروف ہو گئی۔جب گھڑی کے بڑے کانٹے نے ایک چکر پورا کیا تو وہ مشین کی طرح کھڑی ہو گئی اور ایک بار پھر ’’ہائے‘‘ کہہ کر چلی گئی۔زقزوق کو تعجب ہوا کہ ایک اجنبی کو اس خاتون نے پہلی مرتبہ اپنے طالب علم کے ساتھ دیکھا اور اس کے بارے میں کچھ بھی جاننے کی کوشش نہیں کی۔ زقزوق نے سائمن سے پوچھا۔
	’’تمہاری ٹیچر تو بالکل بات نہیں کرتی۔‘‘
	سائمن بولا۔ ’’جی ہاں۔ وہ غیر ضروری باتیں بالکل نہیں کرتی۔ اس کا ایک ایک منٹ قیمتی ہے۔ وہ ہر روز شام میں کئی بچوں کو ٹیوشن پڑھاتی ہے اگر باتوں میں اپنا وقت ضائع کرنے لگے تو طلباء کا کیا ہو گا؟‘‘ سائمن کی بات صحیح تھی لیکن اس کے باوجود زقزوق کے گلے میں نہیں اتر رہی تھی اسے ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ ٹیچر انسان نہیں بلکہ مشین تھی۔ آٹو میٹک مشین جو اپنے وقت پر شروع ہوئی اور طے شدہ مدت کے بعد بند ہو گئی۔ جذبات و احساسات سے عاری بے جان مشین۔
	زقزوق کو سائمن کے ساتھ رہتے رہتے دو دن کا وقت گذر چکا تھا لیکن اس کی ملاقات ڈیوڈ اور نینسی سے نہیں ہوئی تھی۔ ایک مرتبہ نینسی نے اسے سائمن کے ساتھ دیکھا ضرور تھا لیکن توجہ نہیں دی تھی۔ گھر کی بوڑھی نوکرانی کے علاوہ یہ بات کوئی نہیں جانتا تھا کہ اس گھر میں ایک اور آدمی بھی رہنے لگا ہے۔ جب سائمن اسکول چلا جاتا تو زقزوق کیلی کے ساتھ وقت گذارتا۔ کیلی بھی خوش تھی اس لیے کہ اس سے پہلے اسے یہ گھر بالکل بھوت بنگلہ لگتا تھا اس کا خاندان شہر سے دور ایک گاؤں میں رہتا تھا۔ اپنی کم آمدنی کے باعث وہ انہیں شہر بلانے کی سکت نہیں رکھتی تھی جو کچھ کماتی تھی اسے اپنے اہل خانہ کو بھیج دیتی تھی وہ ان کا بہت خیال رکھتی تھی لیکن ان کا خیال ہی اسے دور رہنے پر مجبور کرتا تھا۔ کیلی نے اسے بتایا اس ملک کی کثیر آبادی گاؤں میں رہتی ہے لیکن دولت  شہروں میں سمٹ آئی ہے۔ وہ چند لوگوں کی اجارہ دار بن گئی ہے جو دن بدن خوش حال ہوتے جا رہے ہیں اور گاؤں میں رہنے والوں کی بدحالی میں بتدریج اضافہ ہو تا جا رہا ہے لیکن شہر والے اس صورت حال سے خوش ہیں اس لیے بھی کہ اس باعث انہیں سستے اور مجبور ملازم مل جاتے ہیں۔ کیلی نے بتلایا۔ وہ بھی ان میں سے ایک ہے وہ سرکاری ملازمت سے ریٹائر ہو چکی ہے لیکن اولاد کی بے روزگاری نے اسے اس معمولی کام پر مجبور کر دیا ہے۔ 
	کیلی سائمن اور زقزوق کا مثلث ایک دوسرے کی ضرورت بن گیا تھا۔ان تینوں کو اس بات کا قلق تھا کہ کوئی ان کی جانب توجہ نہیں دیتا۔ یہ تینوں اپنی زندگی میں جو خلاء محسوس کر رہے تھے اسے ایک دوسرے کی مدد سے پورا کر رہے تھے۔
	اتوار کے دن نینسی کی ایمر جنسی ڈیوٹی نہیں تھی اور ڈیوڈ کو بھی کسی مقدمے کی تیاری نہیں کرنی تھی اس لیے ناشتہ کی میز پر وہ دونوں سائمن کے ساتھ اطمینان سے بیٹھے۔ کیلی نے پہلے ٹوسٹ لا کر رکھا اور نینسی نے ان پر مکھن اور جام لگاتے ہوئے سائمن سے پوچھا۔
	’’وہ بوڑھا آدمی کون ہے جو اس روز تمہارے ساتھ باتیں کر رہا تھا؟‘‘
	سائمن بولا۔’’وہ زقزوق ہے وہ بہت اچھا آدمی ہے۔‘‘
	’’اچھا۔ وہ کہاں رہتا ہے؟ اور کیا کرتا ہے؟‘‘
	سائمن نے ڈیوڈ کی جانب دیکھا اور چپ ہو گیا۔ ڈیوڈ نے پیار سے کہا۔
	’’بیٹے چپ کیوں ہو بولو وہ کہاں رہتا ہے؟‘‘
	’’پاپا بات یہ ہے کہ ہمارے ہی گھر میں رہتا ہے۔‘‘
	’’کیا؟‘‘ ڈیوڈ نے چونک کر پوچھا۔’’یہ کیسے ممکن ہے کہ کوئی ہمارے گھر میں رہتا ہو اور ہمیں پتہ بھی نہ ہو؟ تم نے ہمیں بتایا کیوں نہیں ؟‘‘
	’’کیسے بتلاتا؟‘‘ سائمن نے معصومیت سے کہا۔’’میں جب اسکول جاتا ہوں آپ لوگ سو رہے ہوتے ہیں اور جب آپ لوگ آتے ہیں میں سویا ہوتا ہوں۔ ممی کی بھی اس ہفتہ دوپہر کی شفٹ تھی وہ میرے اسکول سے آنے سے پہلے چلی جاتیں اور رات گئے آتیں۔ ‘‘
	’’ہاں وہ تو ٹھیک ہے لیکن ہمارے گھر میں کسی کو رکھنے سے پہلے تمہیں ہم سے پوچھنا تو چاہئے تھا۔‘‘
	سائمن بولا۔’’آپ ٹھیک کہتے ہیں لیکن یہ گھر میرا بھی تو ہے؟‘‘
	دونوں میاں بیوی نے ایک دوسرے کو معنی خیز نگاہوں سے دیکھا۔ نینسی بولی۔ ’’کیوں نہیں کیوں نہیں تمہارا بھی ہے یہ گھر اور تمہارا ہی تو گھر ہے تمہیں یہاں سب سے زیادہ وقت گذارتے ہو ہم لوگ تو دفتر جاتے ہیں وہاں سے کلب چلے جاتے ہیں بس رات کو سونے کے لیے آتے ہیں رین بسیرا ہے یہ ہمارا۔‘‘
	ڈیوڈ نے پھر پوچھا۔’’لیکن یہ شخص آیا کہاں سے ہے؟ کرتا کیا ہے؟‘‘
	’’یہ تو میں نہیں جانتا کہ کہاں سے آیا ہے لیکن یہ جانتا ہوں کہ کیا کرتا ہے۔‘‘
	’’کیا کرتا ہے؟‘‘ڈیوڈ نے پوچھا۔
	’’یہ میرے ساتھ کھیلتا ہے مجھ سے باتیں کرتا ہے۔ میرا بہت خیال رکھتا ہے۔‘‘
	’’اچھا۔ ہم سے بھی زیادہ؟‘‘ نینسی نے پوچھا۔
	سائمن خاموش رہا۔ ماں باپ نے اس کی خاموشی کو ہاں سمجھا حالانکہ وہ نہ کی خاموشی تھی۔ ڈیوڈ اور نینسی نے آپس میں کہا۔ ٹھیک ہے ہمیں سائمن کے لیے ایک کیئر ٹیکر کی تلاش تھی ہم اسے تلاش نہ کر پائے تو خود اسی نے تلاش کر لیا لیکن ہمیں اس کے بارے میں پتہ لگانا چاہئے نہ جانے کون ہو یہ شخص؟
	ڈیوڈ بولا۔’’میرا پالا ہر قسم کے چور اچکوں اور دھوکہ بازوں سے آئے دن پڑتا رہتا ہے۔ اس تجربہ کی روشنی میں میں کہہ سکتا ہوں کہ یہ شریف آدمی ہے۔‘‘
	نینسی بولی۔’’میں بھی یہ سوچتی ہوں لیکن اس کی تنخواہ کے بارے میں پوچھ لینا چاہئے۔‘‘
	ڈیوڈ بولا۔’’اس کی ضرورت نہیں اگر واجبی ہوئی تو مان لیں گے ورنہ نکال دیں گے۔ ویسے بھی ہم نے اس سے کون سا معاہدہ کیا ہے۔ دراصل بوڑھا زقزوق دونوں کے لیے عافیت کا سامان تھا اس نے کیئر ٹیکر کے طور پر آنے والے نوجوان لڑکوں کو ڈیوڈ نے مسترد کر دیا تھا اور لڑکیوں کو نینسی نے۔ دونوں کو ایک دوسرے پر اعتماد نہ تھا اس لیے وہ کوئی خطرہ مول لینا نہیں چاہتے تھے۔ زقزوق سے کسی کو کوئی خطرہ نہ تھا اس لیے دونوں راضی ہو گئے۔ زقزوق کو ٹھکانہ مل گیا۔ کھانے پینے کا انتظام ہو گیا اور اسے کیا چاہئے تھا بس ننھا سائمن بڑھاپے کی لاٹھی دل کا اطمینان اور سکون۔
	ایک دن شام جولیا سائمن کو پڑھا کر واپس جانے کی تیاری میں تھی کہ ڈیوڈ گھر میں آ گیا۔ اس نے نینسی کے بارے میں پوچھا کیلی نے بتلایا کہ اس کی رات کی ڈیوٹی ہے اور وہ ابھی ایک گھنٹہ قبل ہسپتال گئی ہے۔ ڈیوڈ نے اطمینان کا سانس لیا اور جولیا سے ساتھ چائے پینے کی درخواست کی۔ جولیا نے بادل ناخواستہ حامی بھری۔ چائے کے دوران ڈیوڈ نے جولیا سے ٹھہرنے کی فرمائش کی۔
	جولیا نے کہا۔ ’’نہیں آج نہیں ؟‘‘
	’’کیوں ؟‘‘ ڈیوڈ نے پوچھا۔
	’’میرا موڈ نہیں ہے۔‘‘
	’’لیکن میرا موڈ تو ہے۔‘‘ ڈیوڈ بولا۔
	’’اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ تمہارے موڈ کی پابند میں نہیں نینسی ہے۔‘‘
	جولیا کا جواب ڈیوڈ کو چوٹ کر گیا۔’’نہیں جولیا آج تم نہیں جا سکتیں۔ آج تمہیں میرا خیال کرنا ہی پڑے گا۔‘‘
	جولیا نے کہا۔’’زبردستی ہے کیا؟‘‘
	ڈیوڈ بولا۔’’یہی سمجھ لو۔‘‘
	’’لیکن میں زبردستی برداشت کرنے والوں میں سے نہیں ہوں۔ ‘‘
	’’اچھا تو تم کیا کر لو گی؟‘‘
	’’میں تمہارے خلاف عصمت دری کا مقدمہ دائر کر دوں گی۔‘‘
	ڈیوڈ نے زوردار قہقہہ لگایا اور کہا۔ ’’مقدمہ تو دائر ہو جائے گا لیکن تم کیا ایڈوکیٹ ڈیوڈ سے مقدمہ جیت سکو گی۔ اس شہر میں تو کوئی ایسا وکیل نہیں جو ڈیوڈ کو ہرا سکے۔‘‘
	’’ڈیوڈ تمہاری یہ زبردستی تمہیں مہنگی پڑے گی۔‘‘
	 آئی ڈانٹ کیئر۔‘‘ڈیوڈ نے جواب دیا۔
	دوسرے دن تمام اخبارات کی شاہ سرخی پر جولیا اور ڈیوڈ کی خبر تھی۔ جولیا نے ڈیوڈ پر عصمت دری کا مقدمہ دائر کر دیا تھا۔ شہر کا سب سے بڑا وکیل پہلی مرتبہ کٹہرے میں کھڑا کر دیا گیا تھا۔ جولیا کی ڈاکٹری جانچ ہو چکی تھی اور پولیس ڈیوڈ کی ڈاکٹری جانچ کرنا چاہتی تھی۔ اتفاق کی بات یہ تھی کہ یہ جانچ اسی دوا خانہ میں ہوئی تھی جہاں نینسی ملازمت کرتی تھی۔ ڈیوڈ کی بے وفائی کا نینسی کو صدمہ تھا ہی لیکن اس کی بدنامی سے وہ زیادہ پریشان تھی۔ اس مسئلہ پر میاں بیوی میں بڑی تکرار ہو چکی تھی لیکن اس کے باوجود نینسی نے اپنے شوہر کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا اس لیے کہ ہرجانے کی صورت میں ڈیوڈ کو جو جرمانہ ادا کرنا پڑتا اس پر نینسی کا بھی حق تھا۔ نینسی کے سامنے اس کا بدکردار شوہر تھا اس کی پرانی سہیلی جولیا تھا۔ فطرت کا تقاضہ تھا کہ وہ جولیا کا ساتھ دیتی لیکن ان دونوں کے درمیان دولت کی دیوار حائل ہو گئی۔ انا کی تلوار نے ان کی دوستی کے پرخچے اُڑا دیئے۔ نینسی نے ہسپتال میں جانچ کرنے والے ڈاکٹر کو بہلا پھسلا کر رشوت دے کر ڈاکٹری رپورٹ تبدیل کروائی اور ایک ایسی رپورٹ بنوائی جس سے یہ تو ثابت ہوتا تھا کہ جولیا کی عصمت دری تو ہوئی ہے لیکن اس بات کا ثبوت نہ ملتا تھا کہ مجرم ڈیوڈ ہے۔ انصاف کی دیوی کی آنکھ پر جھوٹی گواہی نے ایک اور پٹی باندھ دی تھی اور ایسا کرنے والی معاشرے کی ایک معزز خاتون ڈاکٹر تھی اور یہ سب وہ دوسری خاتون ٹیچر کے خلاف کر رہی تھی۔
	ہسپتال کی رپورٹ کے بعد اب ڈیوڈ کو یہ ثابت کرنا تھا کہ جولیا بے کردار خاتون ہے اس کے بہت سارے لوگوں سے ناجائز تعلقات ہیں اور ڈیوڈ کو بلیک میل کر کے اس سے دولت ہتھیانے کے لیے جولیا نے یہ مقدمہ دائر کیا ہے۔
	جولیا بھی اپنے گواہ پیش کر رہی تھی اس نے اپنی اسکول کے پرنسپل باقر مہدی کو گواہ کے طور پر پیش کیا۔ باقر مہدی ترکستان کا باشندہ تھا اور وہاں ایک پرائیوٹ اسکول چلاتا تھا۔ سارے علاقے میں اس کا بڑا احترام تھا۔ باقر مہدی نے عدالت کو بتلایا کہ گذشتہ دس سالوں سے جولیا اس کے اسکول میں ملازمت کرتی ہے اسکول کی حد تک وہ یہ بات وثوق کے ساتھ کہہ سکتا ہے کہ اس کا اخلاق اور کردار نہایت شریفانہ ہے۔
	ڈیوڈ نے باقر کی بات پکڑ لی۔ اسکول کی حد تک، اور اپنی دلیل آگے بڑھائی کہ یہ عصمت دری کا واقعہ اسکول کے بعد ہوا ہے اس لیے باقر کی گواہی مسترد کی جائے۔ 
	جولیا یہ سن کر پھٹ پڑی۔ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔ اس نے عدالت میں چیخ چیخ کر کہنا شروع کیا۔ ’’جی ہاں یہ واقعہ اسکول کے بعد ہوا ہے یہ اس شیطان کے گھر پر ہوا ہے یہی اس کا مجرم ہے۔‘‘
	جج نے جولیا کو جذبات قابو میں رکھنے کی تلقین کی اور دس دن کے لیے مقدمہ ملتوی کر دیا۔
	زقزوق کے لیے یہ مقدمہ بڑی دلچسپی کا سبب تھا وہ اس کی ہر شنوائی میں آتا اور دیکھتا کس طرح ایک ایک کر کے ہر ثبوت کے پرخچے اُڑائے جاتے تھے۔ زقزوق باقر کی شخصیت سے خاصہ متاثر ہوا تھا اس نے مقدمے کے بعد باقر سے ملاقات کی۔ وہ اس کے بارے میں مزید جاننا چاہتا تھا۔ باقر نے اسے بتلایا وہ ایک دین دار مسلمان ہے۔ گذشتہ پچیس سالوں سے اس شہر میں آباد ہے۔ اس کے اسکول کا شمار یہاں کے اچھے اسکولوں میں ہوتا ہے۔ معیار تعلیم اور نظم و ضبط کے لیے وہ بہت مشہور ہے لیکن چونکہ وہ زیادہ فیس نہیں لیتا اس لیے امیر کبیر لوگ وہاں اپنے بچوں کو بھیجنا اپنے لیے شایان شان نہیں سمجھتے۔ اس کے اسکول میں متوسط آمدنی والے بچے پڑھتے ہیں وہاں اس نے تعلیم کے پیشہ کو خدمت دین کے طور پر اپنایا ہوا ہے۔ جو کچھ ان تمام سالوں میں اس نے کمایا اس کا بیشتر حصہ اسکول کی ترقی پر خرچ کر دیا۔ اس کا ایک نہایت سادہ سا مکان ہے جس کی نچلی منزل پر ایک اسلامک سینٹر قائم ہے۔ یہاں پر لائبریری ہے جس میں کتابیں ویڈیو اور آڈیو کیسٹ ہیں۔ CD's ہیں کمپیوٹر سیکشن ہے۔ جہاں لوگ آ کر اسلامی سائٹس کا مطالعہ کرتے ہیں۔ باقر زقزوق کو اپنے سینٹر میں لے گیا۔ وہاں اس نے زقزوق کو بتلایا کہ کس طرح انٹرنیٹ کے ذریعہ ہزاروں میل تک دین کی تبلیغ منٹوں میں ہو جاتی ہے۔دور دراز علاقوں کے لوگوں کے مسائل سلجھائے جاتے ہیں۔ دنیا کس قدر چھوٹی ہو گئی ہے اور مواصلات کس قدر تیز ہو گئی۔ زقزوق سوچنے لگاسیکڑوں سال کی زندگی انہیں درکار نہیں ہے جو کام وہ سونے سے قبل کئی سالوں میں کرتا تھا وہ یہ لوگ چند منٹوں میں کر لیتے ہیں۔ عمر کے قلیل ہونے کی مشیت زقزوق کی سمجھ میں آ گئی۔بالآخر اس نے سوال کیا۔
	’’تم نے جولیا کی گواہی میں اسکول کی حد تک کیوں لگا دی؟‘‘
	باقر بولا۔’’اس معاشرے میں جنسی بے راہ روی کافی بڑھ چکی ہے اقدار کا خاتمہ ہو چکا ہے ایسے میں انسان کو اپنی معلومات کی حد تک گواہی دینا چاہئے اور جولیا سے ہمدردی کے باوجود وہ لامحدود گواہی کے لیے پُر اعتماد نہیں ہے۔‘‘ باقر نے اسے کبھی کبھار اپنے سینٹر پر آنے کی دعوت دی زقزوق نے اسے مسلسل آنے کا وعدہ کیا اور روانہ ہو گیا۔
	ڈیوڈ کے خلاف پیش ہونے والے سارے ثبوت ایک ایک کر کے بے اثر کر دیئے گئے۔ اس نے بے جا خود اعتمادی میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کر ڈالی تھی کہ نہ صرف جولیا بلیک میلر ہے اور بدکردار ہے بلکہ وہ اس روز سائمن کو پڑھانے اس کے گھر آئی ہی نہ تھی۔ اپنے کسی دوست کے ساتھ گُل چھرّے اُڑانے کے بعد وہ سیدھے پولیس اسٹیشن گئی اور اس کے خلاف شکایت درج کرا دی۔ 
	اس سے پہلے کہ جج فیصلہ سناتے جولیا نے سائمن کو گواہ کے طور پر پیش کرنے کی اجازت مانگی حالانکہ وہ جانتی تھی کہ اب اس کی سہیلی نینسی نے اس کے ساتھ دھوکہ کیا ہے تو ڈیوڈ کا بیٹا سائمن… لیکن پھر اس نے سائمن کی معصومیت پر ڈوبتے کو تنکے کا سہارا کے طور پر اعتماد کر لیا۔ مقدمہ کی نئی تاریخ طے ہو گئی۔ 
	گھر پر میاں بیوی نے سائمن کو سمجھانا شروع کیا دیکھو بیٹے جب تم سے پوچھا جائے کہ جولیا اس دن پڑھانے آئی تھی تو تم کہنا نہیں۔ 
	’’لیکن یہ تو جھوٹ ہے۔‘‘ سائمن نے جواب دیا۔
	ڈیوڈ بولا۔ ’’تم کو جھوٹ سچ کے چکر میں پڑنے کے لیے کس نے کہا۔‘‘
	’’ہر کوئی کہتا ہے۔ٹیچر کہتے ہیں ممی کہتی ہیں آپ بھی کہتے ہیں ہمیشہ سچ بولو۔‘‘
	’’وہ تو ٹھیک ہے بیٹے لیکن کبھی کبھی…‘‘
	’’نہیں پاپا کبھی کبھی تو جھوٹ کے مقابلے سچ بولنے کا موقع ملتا ہے اور اگر کوئی عدالت میں جھوٹ بولے تو سچ کہاں بولے گا؟‘‘
	ڈیوڈ کو غصہ آ گیا اور اس نے سائمن کے منہ پر ایک تھپڑ جڑ دیا۔ سائمن رونے لگا نینسی نے ڈیوڈ کو ڈانٹا۔ ’’تم مردوں کا تو صرف ہاتھ چلتا ہے دماغ نہیں چلتا۔ ایسے موقع پر ہاتھ سے نہیں دماغ سے کام لیا جاتا ہے۔‘‘ نینسی سائمن کو ایک طرف لے گئی اور سمجھانا شروع کیا۔’’بیٹے آپ کتنے اچھے ہیں پاپا کی ہر بات مانتے ہیں اور آپ کے پاپا بھی کتنے اچھے ہیں آپ کی ہر بات مانتے ہیں۔ آپ جو چیز چاہتے ہو لا کر دیتے ہیں وہ بہت بڑے آدمی ہیں۔ لوگ ان کی بڑی عزت کرتے ہیں اور وہ تمہاری ٹیچر جولیا وہ تو تمہیں ہمیشہ ڈانٹتی ڈپٹتی رہتی ہے۔ کبھی کبھی غائب بھی ہو جاتی ہے تو بس جب تم سے پوچھا جائے کہ اس روز وہ پڑھانے آئی تھی یا نہیں تو تم کہہ دینا نہیں اور تمہیں یاد بھی نہیں ہو گا کہ اس روز اس نے کیا پڑھایا تھا۔‘‘
	سائمن طمانچہ کے اثر سے زائل ہو چکا تھا۔ اس نے کہا۔’’ممی اس روز تو وہ آئی تھیں اور انہوں نے جو پڑھایا تھا وہ بھی مجھے یاد ہے انہوں نے پڑھایا تھا ہمیں ہر حال میں انصاف کرنا چاہئے اور کسی کی دشمنی میں بھی حق کا ساتھ نہیں چھوڑنا چاہئے۔ اس لیے کہ اس سے خدا ناراض ہوتا ہے۔‘‘ نینسی حواس باختہ ہو گئی اس نے پھر اپنے آپ کو سنبھالا اور کہا۔
	’’وہ تو ٹھیک ہے بیٹے تمہاری یادداشت کتنی اچھی ہے تمہیں وہ سبق اب بھی اچھی طرح یاد ہے۔ تم بہت اچھے بچے ہو اس لیے تمہیں یہ یاد رکھنا ہے کہ تمہیں کیا کہنا ہے۔ تمہیں یہ کہنا ہے کہ اس روز وہ نہیں آئی تھی۔‘‘
	’’لیکن ممی مجھے یاد ہے کہ وہ آئی تھیں۔ ‘‘ نینسی زچ ہو گئی اس نے کہا۔’’تم بھی بالکل اپنے باپ پر گئے ہو اس نے بھی ضد کر کے اپنے آپ کو اور ہم سب کو مصیبت میں ڈال دیا اور تم نے بھی اسی طرح کی ضد پکڑ لی۔ تم دونوں کو کوئی نہیں سمجھا سکتا۔‘‘
	اب تک ڈیوڈ کا غصہ ٹھنڈا ہو چکا تھا اور اب وہ آ کر سائمن کو سمجھانے لگا۔ آج تک اس نے سیکڑوں گواہوں کو جھوٹی شہادت کے گُر سکھائے تھے لیکن کسی نے اسے اس قدر پریشان نہیں کیا تھا جتنا خود اس کا اپنا بیٹا کر رہا تھا۔ خیر اسے سمجھانے کے علاوہ اب کوئی دوسرا چارۂ کار بھی نہیں تھا۔
	ایک ہفتہ بعد عدالت میں سائمن پیش ہوا اور اس نے کہہ دیا کہ جولیا اس روز پڑھانے آئی تھی ساری عدالت ہکا بکا رہ گئی۔ ڈیوڈ کی زبان گنگ ہو گئی۔ ایسا اس کی وکالت کی زندگی میں پہلی بار ہوا تھا۔ سرکاری وکیل نے دوبارہ سوال کیا اور سائمن نے پھر وہی جواب دیا۔ اب تک ڈیوڈ اپنے آپ کو سنبھال چکا تھا۔ اس نے کہا۔
	’’مائی لارڈ اس شہادت میں کئی خامیاں ہیں ایک تو سائمن چھوٹا بچہ ہے اس کی یادداشت پر اعتبار نہیں کیا جا سکتا اور اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ یہ سچا ہے تب بھی جولیا کے الزامات ثابت نہیں ہوتے۔ ڈاکٹری رپورٹ تو اس کے خلاف آ ہی چکی ہے۔‘‘
	سرکاری وکیل نے جواب دیا۔’’جناب ڈیوڈ کوسائمن کی شہادت سے پہلے اپنا اعتراض درج کرانا چاہئے تھا اور پھر جس ڈاکٹری رپورٹ کا یہ حوالہ دے رہے ہیں اس میں واردات کا وقت بھی لکھا ہے اور وقت وہی ہے جس کے بارے میں سائمن بتلا رہا ہے کہ وہ گھر میں تھی۔ ‘‘
	ڈیوڈ لاجواب ہو گیا۔ اس نے جج سے مزید جرح کے لیے وقت مانگا۔ سرکاری وکیل نے عدالت سے درخواست کی کہ گواہ کی حفاظت کی جائے اور اسے پولیس کا تحفظ فراہم کیا جائے ورنہ ڈیوڈ اسے ورغلا سکتا ہے۔ دیکھتے دیکھتے منظر بدل چکا تھا۔ جیتی ہوئی بازی شکست میں تبدیل ہو چکی تھی۔ ڈیوڈ بے یار و مددگار ہو گیا۔ عدالت نے نئی تاریخ طے کر دی۔
	گھر آ کر ڈیوڈ اور نینسی نے اس مسئلہ پگریت و شنید شروع کی پہلے تو جھگڑا ہو گیا پھر مصالحت بھی ہو گئی۔ اب سائمن کو راستہ سے ہٹانے کے سوا کوئی چارۂ کار نہیں تھا۔ اس کے لیے پولیس کو رشوت دے کر اس کا قتل کروا دینے کا منصوبہ بنایا گیا۔ زقزوق نے اس منصوبے کو سن لیا۔ وہ کانپ اٹھا اس نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا کہ ماں باپ اپنی اولاد کا قتل کروا سکتے ہیں۔ وہ سمجھ گیا کہ اب یہ معاشرہ پستی کی تمام تر بلندیاں طے کر چکا ہے اب اس میں سے کسی خیر کی کوئی امید نہیں ہے۔ اب اس نے اپنے آپ پر عذاب لازم کر لیا۔ زقزوق نے کیلی سے یہ بات کہی اس نے بھی اثبات میں سر ہلایا۔ اس کے بعد وہ دونوں سائمن سے ملنے پولیس اسٹیشن پہنچے اور وہاں پولیس سے نظر چرا کر وہ لوگ فرار ہو گئے اور سرکاری اعلان کے نظام کو خبر کر دی کہ اب اس بستی پر عذاب آنے والا ہے۔ اتفاق سے یہ خبر نہ صرف اخبارات ٹیلی ویژن بلکہ انٹر نیٹ سے نشر ہو گئی اور تمام لوگوں کو پتہ چل گیا اس کے باوجود بیشتر لوگوں کے لیے یہ ایک مذاق تھا۔ وہ لوگ اسے دیوانے کی بڑ قرار دے رہے تھے کچھ لوگوں نے اسے سنجیدگی سے لیا اور اپنا رخت سفر باندھنے لگے۔ ان میں ایک باقر مہدی تھا جو زقزوق اور کیلی کے ساتھ چل پڑا۔رات بھر کے طویل سفر کے بعد جب اگلی صبح وہ دوسری بستی میں پہنچے تو دنیا بھر کے ٹیلی ویژن چینل شہر نامراد کی تباہی کا قصہ بیان کر رہے تھے۔ سونامی کی لہروں نے سارے شہر کو ایک بار نگلنے کے بعد پھر اُگل دیا تھا لیکن اس بیچ سب کچھ تباہ و تاراج ہو گیا تھا۔زقزوق بچپن کے عذاب کے ساتھ بڑھاپے کے عذاب کا بھی عینی شاہد تھا۔
	وہ اپنی مدتِ عمل کو ختم کر رہا تھا۔ اس طویل دن کی مختصر سی شام میں اس کی زبان پر یہ الفاظ رواں تھے۔ ’’خدایا ہم نے تیری ہی توفیق سے شام کی اور تیری ہی مدد سے صبح کی۔ تیری ہی عنایت سے جی رہے ہیں اور تیرے ہی اشارے پر مرجھائیں گے اور انجام کار تیرے ہی حضور حاضر ہوں گے۔‘‘
٭٭٭



انتخاب و آزادی


	شیخ جواد المسعودی اپنی نئی نویلی دلہن مرجانہ کے ساتھ دیوان خانے میں بیٹھے قہوہ نوش فرما رہے تھے وہ بڑی محبت سے ننھے ننھے فنجان بھر کے انہیں پیش کرتی اور شیخ صاحب خود اپنے باغ کی تازہ رس بھری کھجوروں کے ساتھ قہوہ کی ہلکی ہلکی چسکیاں لیتے جاتے۔ ٹھنڈے کھجوروں کی مٹھاس اور گرم قہوہ کی تلخی نے ماحول کو نہایت خوشگوار بنا دیا تھا کہ ننھا ریحان روتا ہوا وہاں آ پہنچا۔ اس کی نئی ماں مرجانہ نے لپک کر اسے گود میں بٹھا لیا۔ اس کے بعد وہ اور زور زور سے رونے لگا۔ مرجانہ نے بڑے پیار سے پوچھا۔
	’’کیا ہوا کیوں رو رہے ہو؟ ‘‘
	’’آج پھر صفوان نے مارا۔‘‘ریحان بولا۔
	’’اچھا۔ ‘‘ مرجانہ نے کہا۔ ’’کیسے مارا اس نے آپ کو؟ ‘‘
	’’لاٹھی سے۔‘‘
	’’اسی لاٹھی سے جس سے وہ بکریاں ہانکتا ہے۔‘‘
	مرجانہ نے ریحان کو پیار سے ڈانٹا ’’بیٹے کتنی بار سمجھایا ہے کہ اس کے پاس نہ جایا کرو پھر  آپ اس کے پاس کیوں گئے؟‘‘
	’’میں اس کے پاس کب گیا۔‘‘ ریحان نے جواب دیا۔ ’’حقیقت تو یہ ہے کہ میں اپنی بکریوں کے پاس گیا تھا وہی وہاں آ پہنچا۔‘‘
	شیخ صاحب بولے۔’’بیٹے وہ تو وہاں آئے گا ہی۔ اس کا تو کام ہی بکریوں کی دیکھ بھال کرنا ہے۔‘‘
	مرجانہ نے اب شیخ صاحب کا رُخ کیا اور بولی۔’’آپ چپ کریں آپ کے لاڈ پیار نے ہی صفوان کو بگاڑ دیا ہے۔ اس کا کام بھیڑ بکریوں کی دیکھ ریکھ کرنا ہے یا بچوں کو مارپیٹ کرنا۔ کل اس نے اپنی بہن صفیہ کا سر پھوڑ دیا تھا آج اس نے ریحان کی پٹائی کر دی۔ اگر یہی سلسلہ دراز رہا تو ایک دن اس کی لاٹھی کی زد میں ہم لوگ بھی آ جائیں گے۔‘‘
	شیخ صاحب کو مرجانہ کی بچکانہ بات پر ہنسی آ گئی۔ انہوں نے کہا۔’’کیا اناپ شناپ بک رہی ہو تمہارا دماغ تو ٹھیک ہے۔‘‘
	مرجانہ نے جھٹ کہا۔ ’’میرا دماغ تو ٹھیک ہے لیکن صفوان کا دماغ درست کرنا ہی ہو گا۔ ایسا کرو اس کی لاٹھی اس سے چھین لو۔‘‘
	شیخ جواد بولے۔’’لاٹھی سے اسے کیونکر محروم کیا جا سکتا ہے اس لیے کہ بکریاں چرانے کے لیے لاٹھی کا استعمال لازمی ہے۔ اگر ایسا کیا گیا تو صفوان کو بکریاں چرانے کی ذمہ داری سے بھی سبکدوش کرنا ہو گا۔‘‘
	مرجانہ چونک پڑی اس نے کہا۔’’نانا بابا نا۔ اگر ایسا ہو گیا تو ہماری ان بکریوں کون چرائے گا؟ ‘‘
	ریحان بیچ میں بول پڑا۔ ’’میں چراؤں گا۔ مجھے یہ بہت اچھا لگتا ہے۔‘‘
	’’نہیں بیٹے نہیں۔ ‘‘ مرجانہ بولی۔’’یہ تمہارا کام نہیں ہے۔ تم کہاں دشت و صحرا میں بکریاں چراتے پھرو گے۔‘‘
	’’تو کیا میں صفوان کی لاٹھی سے مار کھاتا ہی رہوں گا۔ ‘‘ننھے ریحان نے معصومیت سے پوچھا۔
	’’نہیں۔ ‘‘ مرجانہ نے کہا ’’جاؤ صفوان کو یہاں بلاؤ میں اسی کی لاٹھی سے اس کی کھال ادھیڑتی ہوں۔ ‘‘ 
	یہ سن کر ریحان کی باچھیں کھل گئیں۔ وہ دوڑتا ہوا صفوان کے پاس جا پہنچا اور کہا۔ ’’چلو جلدی چلو۔ تمہیں نئی امّی بلا رہی ہیں۔ ‘‘
	’’کیوں ؟‘‘ صفوان کا سوال تھا۔
	ریحان سکتہ میں آ گیا حقیقت بتانے کی ہمت اس کے اندر نہیں تھی۔ صفوان نے غرا کر پھر پوچھا۔ ’’بول کیوں بلا رہی ہیں ؟بولتا کیوں نہیں ؟ چپ کیوں ہے؟‘‘
	اب ریحان کانپ رہا تھا۔ صفوان نے کہا۔’’میں سمجھ گیا تم نے جا کر میری چغلی کی ہے۔ جاؤ ان سے کہو میں نہیں آتا۔‘‘
	ریحان زور دے کر بولا۔’’کیسے نہیں چلو گے تمہیں چلنا ہی ہو گا۔‘‘
	’’اچھا۔‘‘ صفوان چراغ پا ہو گیا اور اس نے ایک لاٹھی ریحان کی پیٹھ پر جمادی۔ ریحان روتا بلبلاتا پھر مرجانہ کے پاس آ گیا۔ ’’امّی اس نے مجھے پھر مارا وہ کہتا ہے کہ وہ نہیں آئے گا۔‘‘
	’’اچھا اب تو پانی سر سے اوپر ہو گیا۔ ‘‘مرجانہ بولی۔’’اور کچھ نہ کچھ کرنا ہی پڑے گا۔‘‘ یہ کہتے ہوئے کھڑی ہو گئی اور صفوان کی جانب جیسے ہی قدم بڑھایا سامنے اس کی سوتن اور ریحان کی سگی ماں سلطانہ کھڑی تھی۔ اس نے پوچھا۔
	’’اتنے غصہ سے کہاں جا رہی ہو دلہن؟‘‘
	مرجانہ بولی۔’’آپ بیٹھیں میں ابھی آئی۔‘‘
	سلطانہ نے کہا ’’تم بھی بیٹھو۔ غصہ نہ کرو۔ بچوں کے جھگڑے میں بڑوں کو نہ پڑنا چاہئے۔ مار پیٹ سے بچے سدھرتے نہیں بگڑ جاتے ہیں۔ صفوان کو میں سمجھاؤں گی۔ ریحان بیٹے جاؤ صفوان کو بلا لاؤ اس سے کہو میں اسے بلا رہی ہوں اور میرے پاس اس کے لیے مٹھائی ہے۔‘‘
	ریحان دوبارہ دروازے کی جانب دوڑ پڑا۔ مرجانہ نے کہا۔’’باجی یہ جھوٹ ہے۔‘‘
	’’نہیں دلہن یہ جھوٹ نہیں ہے۔‘‘ سلطانہ بولی۔’’اچھی نصیحت کی مٹھاس تمام مٹھائیوں سے زیادہ ہوتی ہے۔‘‘
	مرجانہ زچ ہو گئی۔ اس نے کہا ’’باجی آپ کی باتیں ان کھجوروں سے زیادہ مٹھاس اپنے اندر رکھتی ہیں پھر بھی لیجئے انہیں نوش فرمائیے۔ میں آپ کے لیے قہوہ نکالتی ہوں۔ ‘‘
	سلطانہ نے شکریہ ادا کیا ہی تھا کہ ریحان واپس آ پہنچا۔ سلطانہ نے پوچھا۔ ’’صفوان کہاں ہے؟‘‘
	ریحان بولا۔ ’’وہ کہتا ہے میں نہیں آتا۔ بڑی امی جھوٹ بولتی ہیں ان کے پاس مٹھائی نہیں ہے اور میں ان کی نصیحتوں سے اوب چکا ہوں۔ ‘‘
	مرجانہ نے کہا۔’’دیکھا باجی سنا آپ نے صفوان کا جواب۔‘‘
	سلطانہ نے جواب دیا۔ ’’کوئی بات نہیں ذہین بچہ ہے ہماری چال سمجھ گیا میں اسے بعد میں سمجھا دوں گی۔ ‘‘
	مرجانہ بولی۔’’لیکن اس نے ریحان کے ساتھ جو پے در پے زیادتیاں کی ہیں اس کا کیا؟‘‘
	دیر سے خاموش تماشائی بنے ہوئے شیخ جواد بیچ میں بول پڑے۔ ’’میں اس کی سزا صفوان کو دوں گا۔‘‘ انہوں نے ریحان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ’’بیٹے ریحان جاؤ صفوان کو بلاؤ اس سے کہنا ’’ہم بلا رہے ہیں۔ ‘‘ 
	ریحان پھر دوڑتا ہوا صفوان کے پاس پہنچا اور کہا۔’’بابا بلا رہے ہیں فوراً چلو ورنہ …‘‘
	صفوان نے بیچ ہی میں لپک لیا۔ ’’ورنہ کیا میری کھال کھینچ لیں گے جا اور ان سے کہہ میں نہیں ڈرتا جو مرضی آئے کر لیں میں نہیں آتا۔‘‘
	ریحان جب یہ بات اپنے بابا کو بتلا رہا تھا اذان شروع ہو گئی۔ شیخ جواد شکست خوردگی کا احساس لیے اپنا غصہ ٹھنڈا کرنے وضو خانے کی جانب بوجھل قدموں کے ساتھ ہو لیے۔ جب وہ وضو سے فارغ ہو کر نکلے تو دیکھا مرجانہ اور سلطانہ خوش گپیوں میں مصروف ہیں اور بچوں کی فلپائنی دایا نینسی بڑے پیار سے ریحان کی پیٹھ سہلا رہی ہے اور ریحان اس کی گود میں آنکھیں موندے لیٹا ہوا ہے۔ جواد سوچنے لگے مرجانہ صفوان کو سزا دینے کی فکر میں ریحان کی پیٹھ سہلانا بھول گئی اور بالآخر یہ کام نینسی کے حصہ میں آیا۔ قدرے اطمینان کے ساتھ وہ مسجد کے لیے روانہ ہو گئے۔ نماز سے فارغ ہو کر جب وہ لوٹے تو کیا دیکھتے ہیں لان میں نینسی بیٹھی ہے۔ صفوان اور ریحان دونوں اس کے ساتھ کھیل رہے ہیں۔ اس منظر کو دیکھ کر شیخ جواد کا دل باغ باغ ہو گیا۔ وہ دیوان خانے میں داخل ہوئے تو دیکھا سلطانہ ان کے لیے کھانا پروس رہی ہے۔
	شیخ جواد مرنجان مرنج شخصیت کے حامل تھے ایک نہایت متمول اور دیندار گھرانے میں انہوں نے آنکھیں کھولیں۔ والدین نے حصول تعلیم کے لیے انہیں یوروپ بھیجا وہاں سے فلسفہ کی تعلیم حاصل کر کے واپس لوٹے تو ان کا اپنی روایات سے رشتہ مزید گہرا ہو چکا تھا۔ مغرب کے نمائشی کھوکھلے پن نے انہیں اپنی اقدار کا گرویدہ بنا دیا تھا۔ کچھ عرصہ انہوں نے تعلیم تدریس کا پیشہ اپنایا لیکن وہ ان کے مزاج سے میل نہ کھاتا تھا اس لیے خاندانی تجارت کی جانب متوجہ ہوئے اور پھر انہوں نے پیچھے مڑ کر نہ دیکھا۔ ان کا کاروبار دن دونی رات چوگنی ترقی کرنے لگا۔ ابھی ان کے آبائی گاؤں آبھا میں ان کی شاندار کوٹھی تھی جس میں وہ اپنی دو بیویوں سلطانہ اور مرجانہ کے ساتھ رہتے تھے۔ یہاں ان کے پاس بھیڑ بکریاں اونٹ اور مرغیاں کھیت کھلیان سب کچھ تھا۔ان کی شرافت اور صاف گوئی کے باعث گاؤں والے ان کا بڑا احترام کرتے تھے۔ شیخ صاحب کی سخاوت کے چرچے دور دور تک پھیلے ہوئے تھے۔ آبھا سے قریب ہی خمیس مشیط نام کا ایک صحت افزا مقام تھا جہاں سال بھر موسم خوشگوار ہوتا۔ سردیوں میں تو برف باری بھی ہوتی۔ خمیس مشیط کی وادی میں شیخ صاحب کا ایک مزرع (فارم ہاؤس) تھا۔ جس میں کھجوروں کا بہترین باغ تھا اور اعلیٰ نسل کے عربی گھوڑوں کا اصطبل۔ اس مزرع میں ان کی بیوی نذرانہ اپنے سوتیلے بیٹے عرفان کے ساتھ رہتی تھی۔ نذرانہ کی دونوں بیٹیاں دردانہ اور افسانہ بیاہی جا چکی تھیں۔ شیخ صاحب کا کاروبار قریب کے شہر جیزان میں جما ہوا تھا وہاں ان کی آڑہت تھی۔ پٹرول پمپ تھا۔ ہوٹل تھی اور نہ جانے کیا کیا۔ جیزان میں شیخ صاحب کی سب سے تیز طرار بیوی رخسانہ اپنے بیٹے رضوان کے ساتھ رہتی تھی صفوان دراصل رضوان کا سگا بھائی تھا لیکن وہ جیزان کے بجائے خمیس میں رہتا تھا۔ بازار میں شیخ صاحب ایک اچھے تاجر کی حیثیت سے جانے جاتے تھے اس لیے کہ اس طویل عرصہ میں ایک بھی بد عہدی یا بددیانتی کا کلنک ان کے کاروبار پر نہ لگا تھا۔ شیخ صاحب کا معمول یہ تھا کہ وہ ہر مہینہ کے دو ہفتہ اپنے آبائی گاؤں آبھا میں گذارتے نیز ایک ہفتہ خمیس اور ایک ہفتہ جیزان میں حالانکہ مصروفیات کا تقاضا تو یہ تھا زیادہ وقت جیزان میں گذارا جاتا لیکن اپنی بیویوں کے درمیان عدل و انصاف کو وہ کاروباری ضرورتوں پر ترجیح دیتے تھے۔ ریحان سلطانہ سے تھا صفوان کی ماں شبانہ کو انہوں نے چند ماہ قبل طلاق دے دی تھی اور بڑے مال و اسباب کے ساتھ روانہ کیا تھا تاکہ مرجانہ سے نکاح کیا جا سکے۔ اس واقعہ نے صفوان کے ذہن پر منفی اثرات مرتب کیے تھے اسے ایسا لگتا تھا جیسے مرجانہ نے اسے اپنی حقیقی ماں سے محروم کر دیا ہے۔ سلطانہ کو اس حقیقت کا احساس تھا اس لیے وہ صفوان کا خاص خیال رکھتی تھی۔ لیکن اس کا گھاؤ بھرنے کا نام نہ لیتا تھا۔ نینسی کی کوششوں سے وہ وقتی طور پر بہل جاتا لیکن تنہائی میں وہ پھر غصہ سے بھر جاتا۔ ایسے میں اس کے پاس بکریاں ہوتیں یا ریحان۔ بکریوں کو وہ اپنی طرح مظلوم سمجھتا تھا اس لیے ان کے تئیں انسیت محسوس کرتا تھا لیکن ریحان کے ساتھ ایسی کوئی بات نہ تھی اس لیے وہ گاہے بگاہے صفوان کے غم و غصہ کا شکار ہوتا رہتا تھا۔
	حسب معمول مہینہ کے دوسرے ہفتہ جمعہ کے دن جب شیخ جواد جیزان اپنی حویلی میں پہنچے تو دیکھا ان کا بیٹا رضوان گھر پر موجود ہے۔ والد کی آہٹ سن کر وہ دوڑا دوڑا دروازے تک آیا۔ شیخ جواد نے مصافحہ کے لیے ہاتھ بڑھایا تو اس نے بڑے احترام سے ہاتھ پر بوسہ دیا۔ شیخ صاحب نے آگے بڑھ کر بیٹے کی پیشانی پر بوسہ دیا اور پوچھا۔’’بیٹے کب آئے؟‘‘
	اس سے پہلے کہ رضوان کچھ بولتا اس کی ماں رخسانہ بول پڑی۔ ’’کل رات آیا ہے اور صبح تک بیسیوں مرتبہ آپ کے بارے میں پوچھ چکا ہے۔ بابا آئیں گے نا؟ بابا کب آئیں گے؟ بابا ابھی تک کیوں نہیں آئے؟ میں انہیں کے ساتھ ناشتہ کروں گا۔ یہی رٹ لگائے ہوئے ہے۔ آپ ایسا کریں جلدی سے ہاتھ منہ دھولیں میں ناشتہ لگاتی ہوں۔ ‘‘
	شیخ جواد نے جھلاتے ہوئے کہا۔ ’’ٹھیک ہے ذرا دم تو لے لینے دو ابھی تو ہم نے ایک دوسرے کی خیریت بھی دریافت نہیں کی اور تم کھانے کھلانے میں لگ گئیں۔ تم عورتوں کو تو بس۔‘‘
	’’بس۔‘‘ رخسانہ نے درمیان میں جملہ اُچک لیا۔ ’’خیریت ناشتہ کے دوران بھی پوچھی جا سکتی ہے۔ چلو جلدی سے دسترخوان پر آؤ۔‘‘شیخ جواد نے ناشتہ کے دوران عطا کردہ آزادی پر شکریہ ادا کیا اور نہایت سعادت مندی سے حمام کی جانب چل دیئے۔ 
	رضوان نے کہا۔’’امی آپ تو…‘‘
	رخسانہ نے اس کی بات بھی کاٹ دی۔’’ہاں میں جانتی ہوں تم دونوں باپ بیٹے ایک دوسرے کے بڑے ہمدرد غم خوار ہو۔ لیکن میں بھی تمہاری دشمن نہیں ہوں۔ چلو تم بھی جلدی کرو اور دسترخوان پر چلو۔ اب یہ تینوں ناشتہ کر رہے تھے کہ شیخ جواد نے پوچھا۔’’بیٹے امتحانات کب سے ہیں ؟‘‘
	رخسانہ رضوان سے پہلے بول پڑی۔’’یہ لو۔ ان شفیق باپ کو دیکھو جنھیں یہ بھی نہیں معلوم کہ امتحانات ختم ہو چکے ہیں اور شاید آپ کو یہ بھی یاد نہ ہو گا کہ یہ اس کے آخری سال کے امتحانات تھے۔ ان میں کامیابی کے بعد انشاء اﷲ میرا بیٹا انجینئر بن جائے گا۔ المسعودی خاندان کا پہلا مہندس (انجینئر)۔‘‘
	’’ہاں ہاں میں جانتا ہوں۔ ‘‘ شیخ جواد بولے۔’’اچھا تو بیٹے آپ کے نتائج کب تک ظاہر ہو جائیں گے؟‘‘
	رخسانہ نے پھر ٹوکا۔’’تعجب ہے آپ اتنا بھی نہیں جانتے کہ ایک مہینہ کے اندر نتائج ظاہر کر دیئے جاتے ہیں آئندہ ماہ جب آپ تشریف لائیں تو مٹھائی کا ٹوکرا اپنے ساتھ ضرور لانا۔میں اپنے کے انجینئر بن جانے کی خوشی میں سارے محلے کو مٹھائی کھلاؤں گی۔‘‘
	’’ہاں ہاں ضرور کھلانا۔ ‘‘ شیخ صاحب بولے۔’’سارے محلے کو کیوں سارے شہر کو مٹھائی کھلانا،ننگارے بجوانا کہ تمہارا بیٹا انجینئر ہو گیا۔ گویا انجینئر ہونے والا یہ دنیا میں پہلا فرد ہے۔‘‘
	رخسانہ نے جل بھن کر کہا۔ ’’آپ کیوں جلی کٹی سنانے لگے ساری دنیا میں نہ سہی تو کیا…‘‘
	شیخ جواد نے جملے کاٹ دیا۔ ’’المسعودی خاندان میں …‘‘
	فوراً رخسانہ نے پھر جملہ لپک لیا۔ ’’نہ صرف المسعودی خاندان بلکہ میرے جنیدی خاندان میں بھی یہ پہلا مہندس ہے۔‘‘
	شیخ جواد جھلا کر بیچ میں بول پڑے۔’’بس کرو اپنے چشم و چراغ کی تعریف و توصیف میں خوب جانتا ہوں المسعودی اور جنیدی خاندان کو۔‘‘
	’’کیوں بس کروں۔ ‘‘ رخسانہ بولی۔ ’’میرا بیٹا لاکھوں میں ایک ہے۔ میں اس کی تعریف نہ کروں گی تو کون کرے گا؟‘‘
	رضوان بڑی دلچسپی سے اپنے ماں باپ کی نوک جھونک دیکھ رہا تھا۔ ہاسٹل کی زندگی میں وہ ان لمحات کو ترس جاتا تھا وہ خوش تھا کہ اسے اقامت گاہ کی بے لطف زندگی سے نجات حاصل ہو گئی تھی۔ ناشتہ کے بعد شیخ جواد بازار کی طرف نکل گئے اپنے کاروباری معاملات میں وہ نہایت سنجیدہ طبیعت کے حامل تھے۔ ہر کام میں خود دلچسپی لیتے اور ہر کام کا تن دہی اور خوش اسلوبی سے حق ادا کرتے۔ ان کی شدید خواہش تھی کہ تعلیم ختم کرنے کے بعد ان کا بڑا بیٹا رضوان کاروبار کی ذمہ داریاں سنبھال لے لیکن رضوان کو اس خرید و فروخت کے کام میں دلچسپی نہ تھی وہ صنعت کار بننا چاہتا تھا۔ صنعت قائم کرنے کے لیے شیخ جواد کے پاس ذرائع و وسائل کی کمی نہیں تھی لیکن جس طرح کی صنعت رضوان قائم کرنا چاہتا تھا اس کے لیے جیزان شہر موزوں نہ تھا۔ اپنی پسند کی صنعت کے لیے اس کا چبیل، ینبع، جدہ یا ریاض مستقل ہونا ضروری تھا۔
	ہفتہ کے خاتمہ پر جب شیخ جواد نے خمیس مشیط میں واقع مزرع کی جانب کے لیے رخت سفر باندھا تو رضوان کو بھی اپنے ساتھ چلنے کے لیے تیار کر لیا۔ ان کی خواہش تھی کہ رضوان چند روز مزرع میں گذارے۔ آب و ہوا بھی تبدیل ہو جائے اور بھائی عرفان سے ملاقات بھی ہو جائے۔ رخسانہ کو جیسے ہی اس منصوبے کا پتہ چلا وہ خود بھی تیار ہو گئی۔ رضوان کو اگر اپنے بھائی سے ملنا تھا تو اسے بھی اپنے بیٹے سے ملنے کی خواہش ستا رہی تھی۔ شیخ جواد نے رخسانہ کی فرمائش قبول تو کر لی لیکن اسے سمجھایا کہ دیکھو ذرا اپنی زبان پر لگام رکھنا اور لڑائی جھگڑے سے پرہیز کرنا ورنہ اس بے چارے کی چھٹیاں خراب ہو جائیں گی۔ 
	’’دیکھو جی۔ ‘‘ رخسانہ بولی۔ ’’ویسے یہ اب چھٹی پر نہیں آیا ہے بلکہ کالج کی چھٹی کر کے آیا ہے اور پھر میں غلط بات برداشت نہیں کر سکتی۔ چاہے وہ غلط بات آپ کہیں یا آپ کی چہیتی نذرانہ کہے۔ مجھ سے برداشت نہیں ہو گا۔‘‘
	شیخ جواد بولے۔’’میں کب کہتا ہوں کہ تم غلط بات کو برداشت کرو لیکن تمہارا مسئلہ یہ کہ تم صحیح اور غلط کا فیصلہ اپنی پسند اور ناپسند پر کرتی ہو اور اس کسوٹی کے مطابق جو بات تمہیں اپنی دانست میں غلط معلوم ہوتی ہے اس پر غلط انداز میں گرفت کرتی ہو اسی سے بات بگڑ جاتی ہے۔‘‘
	رخسانہ نے ترکی بہ ترکی جواب دیتے ہوئے کہا۔ ’’ہاں میں جانتی ہوں کہ میری پسند بھی غلط ہے اور گرفت بھی۔ اسی لیے میں نے آپ کو پسند کر لیا اور آپ کی گرفت میں آ گئی۔‘‘
	شیخ جواد مسکرائے انہوں نے کہا۔ ’’تم میری گرفت میں ہو یا…‘‘ وہ رک گئے۔
	رخسانہ نے کہا۔ یا کیا؟ آپ میری گرفت میں ہیں یہی نا؟ دونوں میں کوئی خاص فرق نہیں ہے ایک ہی بات ہے۔ رخسانہ کی اس بات پر تینوں ہنسنے لگے۔
	جمعہ کی نماز سے قبل جب یہ قافلہ مزرع میں پہنچا سبھی لوگ شاد کام ہو گئے۔ رضوان اور عرفان ایک دوسرے سے مل کر بے حد خوش ہوئے اور بات چیت میں مصروف ہو گئے۔ نذرانہ اور رخسانہ کا بھی یہی حال تھا وہ دونوں بھی گفت و شنید میں محو ہو گئیں۔ شیخ جواد اپنی دو بیویوں اور دو بیٹوں کے باوجود بالکل تنہا ہو گئے۔ کچھ دیر دالان میں خاموش بیٹھنے کے بعد وہ باہر باغ میں آ گئے۔ کھجور کے دراز قد پیڑوں نے ان کی تنہائی دور کر دی۔ ان سے شیخ صاحب کو بے حد انسیت تھی۔ ان میں سے کچھ ایسے تھے جن کے درمیان انہوں نے اپنا لڑکپن گذارا تھا اور کچھ ایسے تھے جنہیں خود شیخ جواد نے اپنے ہاتھوں سے لگایا تھا اور نہایت محنت سے سینچ کر بڑا کیا تھا۔وہ ان درختوں میں آتے تو انہیں ایسا لگتا گویا وہ ان کے اپنوں میں آ گئے ہیں۔ وہ اس بے زبان مخلوق سے گھنٹوں باتیں کرتے ان کو اپنی سناتے اور ان کی سنتے۔ ان کی یہ بات چیت کوئی اور نہ سنتا۔ دیر تک پیڑوں سے محو گفتگو رہنے کے بعد جب وہ کسی آواز کی جانب متوجہ ہوئے تو وہ اذان کی آواز تھی۔ مؤذن نماز جمعہ کے لیے مصلیان کو مسجد آنے کی دعوت دے رہا تھا۔
	نماز جمعہ کے بعد پانچوں ایک ساتھ دسترخوان پر بیٹھے تھے۔ پہلا نوالہ منہ میں رکھتے ہی رضوان نے نذرانہ سے کہا۔ ’’امّی میں تو دعا کرتا ہوں کہ جنت میں بھی مجھے آپ کے ہاتھ کا کھانا نصیب ہو۔‘‘
	عرفان نے کہا۔’’لیکن بھائی کیا جنت میں بھی بڑی امی کو کھانا بنانے کی مشقت سے نجات نہیں ملے گی؟‘‘
	شیخ جواد بولے۔’’جنت میں انہیں زحمت اٹھانے کی کیا ضرورت وہاں تو فرشتے جیسا چاہیں گے کھانا بنا کر تیار کر دیں گے۔‘‘
	رخسانہ نے کہا۔ ’’فرشتے یا حوریں ؟‘‘
	شیخ جواد نے کہا۔ فرشتے یا حوریں ایک ہی بات ہے۔ تم بال کی کھال نہ نکالو۔‘‘
	رضوان بولا۔ ’’ لیکن بابا کیا فرشتے بڑی امی جیسا ذائقہ دار کھانا بنا سکیں گے؟‘‘
	یہ سن کر سب چپ ہو گئے تو نذرانہ نے کہا۔ ’’آپ لوگ بلا وجہ فرشتوں اور حوروں تک پہنچ گئے ان دونوں کے لیے دو اچھی اچھی بیویاں لے آؤ میں ان کو ایسا کھانا بنانا سکھلا دوں گی کہ یہ میرے ہاتھ کا ذائقہ بھول جائیں گے۔‘‘
	شیخ جواد نے تائید کی۔ ’’ہاں جیسے میں بھول گیا۔‘‘
	کھانے کے بعد نذرانہ اور رخسانہ باورچی خانے میں مصروف ہو گئے۔ جواد آرام کے لیے چلے گئے اور رضوان اپنے بھائی عرفان کے ساتھ باغ میں آ کر بیٹھ گیا۔ وہ ابھی ایک دوسرے کی خیریت ہی معلوم کر رہے تھے کہ نذرانہ ایک خوبصورت سی طشتری میں تازہ کھجوریں اور قہوہ کا تھرماس لے آئی اور ان کے درمیان رکھ کر خود رخسانہ کے پاس آرام کرنے چلی گئی۔ رضوان نے کھجور کھاتے ہوئے پوچھا۔
	’’بھیا ہمارے باغ کی کھجوریں اتنی زیادہ میٹھی کیوں ہوتی ہیں ؟‘‘
	عرفان بولا۔ ’’کھجوریں تو سبھی باغات کی میٹھی ہوتی ہیں لیکن ہمیں اپنے باغ کی کھجوریں اچھی لگتی ہیں اس لیے کہ وہ ہماری اپنی ہوتی ہیں۔ ‘‘
	’’میں ایک بات بتاؤں آپ تو واقعی فلسفی ہیں آپ کی اکثر باتیں میری سمجھ میں نہیں آتیں۔ ‘‘
	’’کیا مذاق کرتے ہو۔‘‘ عرفان بولا۔ ’’تم نے ملک کے سب سے نامور تعلیم گاہ سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی ہے پھر یہ کیسے کہہ سکتے ہو کہ مجھ جیسے گنوار کی بات تمہاری سمجھ میں نہ آتی ہو۔‘‘
	رضوان نے نفی میں سرہلایا اور کہا۔ ’’نہیں ایسی بات نہیں۔ ہم نے انجینئرنگ کی تعلیم ضرور حاصل کی لیکن وہاں ہمیں فلسفہ کی تعلیم نہیں دی گئی اور علم کلام کی جن کتابوں کا آپ مطالعہ کرتے ہیں انہیں سمجھنا تو درکنار ان کا مطالعہ بھی میرے لیے محال ہے۔‘‘
	’’سچ؟‘‘
	’’ بے شک لیکن والد محترم اس حقیقت کا ادراک نہیں کرتے وہ چاہتے ہیں کہ میں شہر میں جا کر کاروبار کروں میں نے انہیں بہتیرا سمجھایا کہ میں شہر نہیں جانا چاہتا میں یہیں رہ کر باغات کی دیکھ ریکھ کرنا چاہتا ہوں اور اپنا مطالعہ جاری رکھنا چاہتا ہوں لیکن وہ چاہتے ہیں کہ میں جیزان جا کر پٹرول پمپ کا کاروبار سنبھالوں بلکہ انہوں نے مجھے حکم دیا ہے کہ آئندہ ماہ اس کرایہ دار کی میعاد ختم ہونے والی ہے جس کو پٹرول پمپ چلانے کے لیے دیا گیا تھا ایسا ہوتے ہی میں اس کام کاج کو سنبھال لوں اور ابتدائی مرحلہ میں آپ کا تعاون حاصل کروں لیکن میں یہ نہیں چاہتا۔ اب تمہیں بتاؤ میں کیا کروں ؟‘‘
	رضوان نے جواب دیا۔’’میرے بھائی اس معاملے میں میری حالت تم سے مختلف نہیں۔ انجینئرنگ کی تعلیم کے دوران میں نے ایک خواب دیکھا تھا کہ میں آگے چل کر ایک بڑا صنعت کار بنوں گا لیکن والد صاحب چاہتے ہیں میں جیزان میں ہوٹل کا کاروبار کروں۔ یہ تو اَن پڑھ لوگوں کا کاروبار ہے اس میں میری پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا کوئی استعمال نہیں۔ میری سمجھ میں نہیں آتا کہ اگر مجھ سے یہی کرانا تھا تو مجھے اتنی دور تعلیم حاصل کرنے کے لیے کیوں بھیجا گیا۔ یہ کام تو میں بغیر انجینئرنگ کی مشقت طلب تعلیم کے ہی کر سکتا تھا۔‘‘
	عرفان نے پوچھا۔ ’’لیکن آپ جیزان کے ہوٹل کے بجائے صنعت کیوں قائم نہیں کرتے۔؟‘‘
	رضوان بولا۔ ’’میں جس طرح کی صنعت قائم کرنا چاہتا ہوں اس کے لیے جیزان موزوں مقام نہیں ہے جو شہر اس کاروبار کے لیے مناسب ہیں وہاں امی بابا مجھے بھیجنا نہیں چاہتے۔ ان کا کہنا ہے بہت ہو چکی گھر سے دوری اب وہیں جیزان میں رہ کر کاروبار دیکھو۔‘‘
	 دونوں بھائی فکر مند ہو گئے۔دیر تک خاموش رہے پھر رضوان بولا۔ ’’بھائی میں نے سوچ لیا کہ میں اپنی زندگی اپنے طریقے سے گذاروں گا۔
	’’ لیکن امی بابا ؟‘‘ عرفان نے پوچھا۔
	’’میں انہیں سمجھاؤں گا‘‘ رضوان بولا۔ ’’کہ وہ ہمیں اپنی زندگی جینے دیں اپنی مرضی ہم پر تھوپ کر ہماری خوشیاں نہ چھینیں۔ ‘‘
	عرفان نے اثبات میں سر ہلایا۔ ’’اس گفتگو کے بعد دونوں بھائی والدین کے مقابلے اپنے آپ کو زیادہ طاقتور محسوس کر رہے تھے۔ ایک ہفتہ دیکھتے دیکھتے گذر گیا۔ شیخ جواد کو اب اپنے آبائی وطن آبھا روانہ ہونا تھا نیز رضوان اور رخسانہ کو جیزان۔ نکلنے سے پہلے شیخ جواد نے عرفان کو پاس بلایا اور جلد از جلد پٹرول پمپ کا کاروبار ہاتھ میں لے لینے کی تلقین کی۔ رضوان کو ہوٹل کی تیاری کا مشورہ دیا اور دونوں کو ایک دوسرے کا تعاون کرنے کی نصیحت کی اور اپنی راہ لی۔ دونوں بھائیوں میں سے ایک نے بھی ایک لفظ تک نہ کہا۔ سبھی خاموش رہے اور ان کی خاموشی کو ہاں سمجھ لیا گیا۔
	شیخ جواد کے جانے کے بعد دونوں بھائی اپنی امی رخسانہ کے ساتھ جیزان تو آ گئے لیکن کاروبار کی طرف جھانک کر بھی نہ دیکھا۔ درمیان میں ایک دن جواد نے عرفان کو فون پر سخت سست کہا اور اسے کاہلی چھوڑ کر جلد از جلد پٹرول پمپ چلانے والے سے ملنے کا حکم دیا۔ دوسرے دن دونوں بھائی با دلِ ناخواستہ حکم کی تعمیل میں پٹرول پمپ جا پہنچے۔ کرایہ دار نہایت خلیق انسان تھا۔ اس نے بڑی گرم جوشی سے دونوں بھائیوں کا خیر مقدم کیا اور انہیں اپنا دکھڑا کہہ سنایا۔ اس نے کہا ’’آج سے دو سال قبل یہ پٹرول پمپ قائم کیا گیا اور اسی وقت اس نے اسے کرایہ پر حاصل کیا تقریباً ڈیڑھ سال تو یہ کاروبار گھاٹے میں چلتا رہا اس لے کہ لوگوں کو پتہ چلنے میں اور گاہکوں کے آنے میں تھوڑا بہت وقت لگتا ہی ہے ابھی گذشتہ چھ ماہ سے کچھ آمدنی شروع ہوئی ہے لیکن پرانے نقصان کی پوری طرح بھرپائی بھی نہ ہو سکی کہ معاہدہ کی میعاد پوری ہو گئی اس نے شیخ جواد کو لاکھ سمجھایا کہ اس کے معاہدے کی توسیع کر دی جائے لیکن انہوں نے ایک نہ سنی۔ اب اس کرایہ دار نے اپنی درخواست عرفان اور رضوان کے سامنے رکھ دی۔ عرفان کا دل پسیج گیا اس نے کرایہ میں معمولی اضافہ کے ساتھ معاہدہ کی مدت مزید دوسال کے لیے بڑھا دی۔ کرایہ دار خوشی سے جھوم اٹھا۔ عرفان بھی خوش تھا وہ واپس خمیس مشیط اپنے مزرع پر آ گیا۔ شیخ جواد کو جب عرفان کی اس حرکت کا پتہ تلا تو وہ بہت ناراض ہوئے چونکہ وہ پٹرول پمپ چلانے کے اختیارات عرفان کو دے چکے تھے اس لیے انہوں نے اس میں مداخلت سے کسی طرح اپنے آ پ کو روک لیا لیکن اپنی ناراضگی نہ چھپا سکے ان کے خاندان میں یہ پہلی بار ہوا تھا کہ اولاد نے والدین کی نافرمانی کی ہو اور پھر عرفان جیسی متقی و پرہیز گار اولاد جس پر شیخ جواد اپنی جان چھڑکتے تھے جس پر وہ ناز کرتے تھے۔ اس نے ان کی نافرمانی کی تھی اس بات نے شیخ جواد کو غم گین کر دیا تھا۔
	شیخ جواد اپنے آبائی مکان میں بیٹھے سلطانہ کے ساتھ قہوہ پی رہے تھے کہ اچانک سلطانہ کو کوئی بات یاد آئی وہ اٹھی اور دوسرے کمرے کی جانب چلی گئی۔جب واپس آئی تو اس کے ہاتھ میں ریحان کے ششماہی نتائج تھے۔ سلطانہ نے بتلایا کہ ریحان ایک مرتبہ پھر ناکام ہو گیا ہے نیز استانی کا کہنا ہے کہ اگر یہی صورت حال رہی تو اسے تیسرا سال بھی اسی درجہ میں گذارنا ہو گا۔ 
	شیخ جواد نے متفکرانہ انداز میں پوچھا۔’’آخر اس کی وجہ کیا ہے؟ کیا تم اس کی تعلیم کی جانب توجہ نہیں دیتیں ؟‘‘
	’’نہیں ایسی بات نہیں میں تو میں مرجانہ بھی اس کی تعلیم کی جانب پوری طرح متوجہ ہیں۔ لیکن کیا کریں اس کا دل ہی نہیں لگتا۔‘‘
	’’اچھا۔‘‘ جواد نے کہا۔’’تو آخر کس کام میں اس کا دل لگتا ہے؟‘‘
	سلطانہ چند لمحہ خاموش رہی اور پھر اس نے کہا۔’’حقیقت تو یہ ہے کہ مویشیوں میں اس کا دل خوب لگتا ہے ان کو چرانا ان کی دیکھ ریکھ کرنا اسی میں وہ لگا رہتا ہے۔جب ہم زبردستی اسے کتاب پکڑاتے ہیں تو وہ رونے لگتا ہے یا سو جاتا ہے۔‘‘
	’’اگر ایسا ہے تو کیوں نہ ہم اسے اسی کام میں لگا دیں۔ ‘‘
	یہ سنتے ہی سلطانہ کا پارہ چڑھ گیا وہ بولی۔’’کیا بات کرتے ہیں آپ اگر میں ہاں کہہ دوں تو آپ کل سے ریحان کو مویشیوں کے حوالے کر کے صفوان کو اسکول روانہ کر دیں گے۔‘‘
	شیخ جواد مسکرائے اور کہا۔’’ریحان کو مویشیوں کے حوالے کرنے والا بھلا میں کون ہوتا ہوں وہ تو خود ہی ان میں مست رہتا ہے اور جو دوسری بات تم نے کہی وہ بھی ٹھیک ہی ہے صفوان جب اسکول جاتا تھا اس وقت کبھی بھی فیل نہیں ہوا۔ کچھ مضامین میں تو وہ امتیازی نمبر حاصل کرتا تھا اور اس تبدیلی کا ایک فائدہ یہ بھی ہو گا کہ صفوان اور ریحان کے درمیان ہونے والے لڑائی جھگڑے کا سلسلہ بھی بند ہو جائے گا۔‘‘
	شیخ جواد کی تجاویز سے سلطانہ چراغ پا ہو گئی اور بولی۔ ’’آپ ان کی لڑائی ختم کرا کے مجھ سے لڑنا چاہتے ہیں۔ میں سب جانتی ہوں آج بھی آپ شبانہ اور اس کے بیٹے صفوان کو مجھ سے اور ریحان سے زیادہ چاہتے ہیں۔ اسے گھر سے نکالنے کے لیے میں نے کیا کیا پاپڑ بیلے مرجانہ کو اس کی جگہ اپنے گھر لائی لیکن افسوس کہ اس سب کے باوجود اس منہ جلی کو آپ کے دل سے نہ نکال سکی۔ اب تو آپ اس کے بیٹے کو اسکول میں تعلیم دلوانا چاہتے ہیں۔ نیز میرے بیٹے ریحان سے بکریاں چروانا چاہتے ہیں یہ تو حد ہو گئی۔‘‘
	بات بگڑتی دیکھ شیخ جواد نے اسے سنبھالنے کی کوشش کی اور بولے۔ ’’دیکھو سلطانہ بات کا بتنگڑ نہ بناؤ۔ ریحان کی ناکامی پر فکر مندی کا اظہار تم نے کیا۔ اسے مویشیوں سے انسیت ہے یہ بات تم نے بتلائی۔ صفوان پڑھنے لکھنے میں اچھا ہے اس حقیقت سے تم خوب واقف ہو۔ ان دونوں کو ساتھ ساتھ مویشیوں کی دیکھ ریکھ پر نہیں لگایا جا سکتا اس لیے کہ ان میں آپس میں بنتی نہیں ہے اب ان تمام مسائل کا کیا حل ہے؟ تمہیں بتاؤ میں مان لوں گا۔‘‘
	سلطانہ بولی۔ ’’یہ دونوں نہیں لڑتے صفوان لڑتا ہے۔ جس طرح آپ مجھ سے لڑ رہے ہیں میں تو صفوان اور اس کے باپ دونوں سے پریشان ہوں۔ ‘‘
	’’نہیں سلطانہ نہیں۔ تمہاری پریشانی کی وجہ نہ تو صفوان ہے اور نہ میں ہوں بلکہ ریحان اور اس کی ناکامی ہے لیکن تم اصل مسئلہ سے نظریں ہٹا کر دوسروں کو موردِ الزام ٹھہرا رہی ہو۔ اگر ریحان بار بار ناکام نہ ہوتا تو یہ بکھیڑا ہی کھڑا نہ ہوتا۔ لیکن تم ان حقائق سے آنکھیں چرانا چاہتی ہو اس لیے کہ ریحان تمہاری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔‘‘
	سلطانہ نے لپک کر کہا۔ ’’ہاں ضرور ہے کیوں نہ ہو؟ آپ کو بچوں سے کوئی سروکار ہے ہی نہیں۔ اور میرے ریحان سے تو خدا واسطے کا بیر ہے۔بس صفوان کو اسکول بھیجنے کی فکر ستاتی رہتی ہے تو ٹھیک ہے کل سے یہی ہو گا صفوان کو اسکول روانہ کیا جائے گا اور ریحان کو جانوروں کے ساتھ ان کے باڑے میں جھونک دیا جائے گا۔ اگر آپ اسی سے خوش ہیں تو ایسا ہی ہو گا۔‘‘
	شیخ جواد نے بالآخر سپر ڈال دی اور کہنے لگے ’’دیکھو سلطانہ بلاوجہ غصہ نہ کرو ریحان کو مویشیوں میں رکھنا یہ میری نہیں اس کی اپنی خواہش ہے۔ لیکن پھر بھی تم ایک اور کوشش کرو کہ اس کا دل پڑھائی میں لگ جائے۔میں نے کب منع کیا ہے بلکہ میں تو ہر طرح سے اپنا تعاون پیش کرتا ہوں۔ مجھے بتاؤ اس سلسلے میں کیا کر سکتا ہوں۔ ‘‘
	سلطانہ بھی نرم پڑی اور بولی۔ ’’ریحان بچہ ہے وہ اپنے مستقبل کا فائدہ نقصان نہیں جانتا لیکن ہم تو جانتے ہیں وہ سوچ نہیں سکتا تو کیا ہوا ہم تو سو چ سکتے ہیں۔ ایسے میں ہم اسے مویشیوں کے حوالے کیسے کر سکتے ہیں ؟‘‘
	’’جی ہاں سلطانہ تم سچ کہتی ہو۔‘‘ شیخ جواد نے تائید کی اور بولے۔’’لیکن یاد رکھو ریحان ہی کی طرح صفوان بھی بچہ ہے وہ بھی ہماری اولاد ہے اور اس کا بھی مستقبل ہے۔‘‘سلطانہ کے پاس شیخ جواد کی اس بے بسی کا کوئی جواب نہ تھا۔
	اگلی مرتبہ جب شیخ جواد نے جیزان کی جانب رختِ سفر باندھا تو مرجانہ بھی تیار ہو گئی۔ کئی دنوں سے رخسانہ سے ملاقات نہ ہوئی تھی رضوان گھر آیا ہے اس سے بھی ملنا تھا۔ شیخ جواد نے مرجانہ کو ساتھ لے لیا۔ مرجانہ اور رخسانہ ایک دوسرے سے مل کر بہت خوش ہوئیں۔ رضوان کے ساتھ مرجانہ کی یہ پہلی ملاقات تھی۔ مرجانہ نے تعلیم کے بارے میں پوچھا اور یہ پتہ چلنے پر کہ آخری سال کا امتحان ہو چکا مستقبل کا منصوبہ دریافت کیا۔ اس سوال نے رضوان کو افسردہ کر دیا وہ بولا۔’’چھوٹی امّی تعلیم ختم کرنے کے بعد میں صنعت کار بننا چاہتا ہوں جیزان شہر میں اس کے امکانات ناپید ہیں۔ میں اس کے لیے ینبع جانا چاہتا ہوں لیکن امی منع کرتی ہیں وہ کہتی ہیں گھر سے دوری بہت ہو چکی اب یہیں رہو کاروبار کرو اور گھر بساؤ۔ لیکن میں یہ نہیں چاہتا۔ ‘‘
	مرجانہ نے پوچھا۔ ’’وہ تو ٹھیک ہے لیکن اس بارے میں آپ کے بابا کیا کہتے ہیں ؟‘‘
	’’بابا کیا کہیں گے آپ تو میری امی سے واقف ہیں ان کے آگے کسی کی نہیں چلتی۔ بابا کی بھی نہیں۔ انہوں نے امی کی تائید کرتے ہوئے مجھے ہوٹل کا کاروبار کرنے کا حکم دیا ہے۔‘‘
	’’ہوٹل؟‘‘ مرجانہ نے تعجب کا اظہار کیا۔
	’’ہاں امی ہوٹل۔ ‘‘ رضوان نے کہا۔’’جیزان میں سیر و تفریح کے لیے دنیا بھر سے سیلانی آتے ہیں بابا کو لگتا ہے یہاں ہوٹل کا کاروبار خوب چل سکتا ہے اگر قاعدے سے کیا جائے۔‘‘
	’’لیکن تمہاری انجینئرنگ؟‘‘ مرجانہ نے پوچھا۔
	’’وہی تو میں کہتا ہوں اگر یہی جاہلوں والا کام کرنا تھا تو مجھے پڑھایا لکھایا کیوں گیا۔ کیوں انجینئر بنایا گیا۔ امی آپ نہیں جانتیں میں نے ہر سال امتحانات میں امتیازی نمبروں سے کامیابی حاصل کی ہے میں کالج میں ایک ہونہار طالب علم کی حیثیت سے جانا جاتا ہوں۔ ‘‘
	’’کیا تمہاری امی اس بات سے واقف نہیں ؟‘‘ مرجانہ نے پوچھا۔
	’’وہ خوب جانتی ہیں۔ ‘‘رضوان بولا۔ ’’لیکن ان کے لیے وہ کامیابی محض خاندان والوں اور محلے والوں پر فخر جتانے کی شئے ہے اور وہ اس کا بھرپور استعمال کرتی ہیں۔ لیکن میرے مستقبل میری پسند اور ناپسند کے بارے میں نہیں سوچتیں۔ ‘‘
	مرجانہ خود جدید تعلیم سے آراستہ خاتون تھیں۔ اس کا تعلق بھی رضوان کی نسل سے تھا۔اس لیے وہ رضوان کے کرب کو محسوس کرتی تھی۔ مرجانہ نے رضوان کو یقین دلایا کہ وہ اس بارے میں شیخ جواد سے بات چیت کرے گی اور انہیں رضوان کا موقف سمجھانے کی کوشش کرے گی۔ ‘‘
	مرجانہ کی اس یقین دہانی سے رضوان وقتی طور پر خوش ہو گیا۔ لیکن اس کا دل کہتا تھا کہ مرجانہ بے چاری کیا کر لے گی؟ جہاں رخسانہ جیسی دبنگ شخصیت موجود ہو اور بڑوں کی بات نہ ماننا گناہِ کبیرہ سمجھا جاتا ہے مرجانہ بے چاری کر بھی کیا سکتی ہے؟ لیکن پھر بھی اُمید کا ایک ٹمٹماتا چراغ ضرور روشن ہوا تھا۔
	دیکھتے دیکھتے ہفتہ گذر گیا۔ مرجانہ کو رضوان کے بارے میں گفتگو کرنے کا موقع ہی نہ مل سکا۔ جیزان سے خمیس مشیط کے راستے ہی میں مرجانہ کا میکہ تھا۔ اس نے درخواست کی کہ اگر مناسب سمجھیں تو مجھے ایک ہفتے کے لیے اپنے ماں باپ کے پاس چھوڑ دیں اور واپسی میں اپنے ساتھ لیتے جائیں۔ ‘‘
	شیخ جواد نے مرجانہ کی تائید کی اور دوپہر تک اس کے میکے جا پہنچے۔ کھانے کے بعد مرجانہ کو رضوان کے بارے میں بات کرنے کا موقع مل گیا۔ مرجانہ بولی۔
	’’رضوان کو ہوٹل کے کاروبار میں ڈالنا سراسر زیادتی ہے۔ اس نے جو تعلیم حاصل کی ہے اس کے ساتھ مذاق ہے۔ وہ اس کاروبار میں کبھی بھی خوش نہ رہ سکے گا۔‘‘
	جواد متفکر انداز میں بولے۔ ’’شاید تم سچ کہتی ہو لیکن تم نہیں جانتیں رضوان جس طرح کی صنعت قائم کرنا چاہتا ہے وہ جیزان میں ممکن نہیں اور اس کی ماں رخسانہ اُسے کسی صنعتی شہر بھیجنے کے حق میں نہیں ہے۔ ایسے میں کیا کیا جا سکتا ہے؟‘‘
	مرجانہ نے پوچھا۔’’وہ اُسے اب کیوں نہیں بھیجنا چاہتیں۔ اگر ایسا ہی تھا تو پہلے کیوں بھیجا؟ یہیں رہتا کنویں کے مینڈک کی طرح۔ اُسے پتہ ہی نہ چلتا کہ دنیا میں کیا کچھ ہو رہا ہے؟اور کیا کچھ ہو سکتا ہے؟‘‘
	’’دیکھو مرجانہ ‘‘ شیخ جواد بولے۔ ’’جو کچھ ہو چکا سو ہو چکا اب گڑے مردے اکھاڑنے سے کیا فائدہ؟ رخسانہ نے سارے خاندان پر یہ ثابت کر دیا کہ اس کا بیٹا سب سے زیادہ ہونہار ہے اب وہ اس کا گھر بسانا چاہتی ہے اپنے پاس رکھنا چاہتی ہے۔ اسی لیے میں درمیان کا راستہ نکالتے ہوئے اُسے ہوٹل کے کاروبار کی جانب راغب کرنے کی کوشش کر رہا ہوں تاکہ وہ اپنی امی کے پاس شاد و آباد رہے۔‘‘
	’’لیکن آپ کی غلط فہمی ہے کہ وہ شاد رہے گا۔‘‘ مرجانہ بولی۔’’وہ تو برباد ہو جائے گا۔ احساس زیاں اس کے لیے ناسور بن جائے گا۔ اور اس کا ردِ عمل بھی ہو سکتا ہے۔‘‘
	لفظ رد عمل پر شیخ جواد چونک پڑے۔ ’’کیسا رد عمل؟ کیا بات کرتی ہو مرجانہ۔‘‘
	مرجانہ نے سنبھل کر کہا۔’’میں آپ کی دل آزاری کرنا نہیں چاہتی لیکن آپ کو حقائق سے آگاہ کر دینا ضروری سمجھتی ہوں ہمارے اس طرح کے رویہ سے نوجوان نسل میں بغاوت کے جذبات پیدا ہوتے ہیں اور بغاوت کو کچلنے والی ہماری کوششیں ان کے رد عمل میں اضافے کا سبب بنتی ہیں۔ ایسے میں کبھی کبھار حالات قابو سے باہر بھی ہو جاتے ہیں۔ ‘‘
	شیخ جواد نے تائید کی اور کہا۔ ’’مرجانہ تم سچ کہتی ہو۔ حالات بتدریج قابو سے باہر ہوتے جا رہے ہیں۔ عرفان نے میری مرضی کے خلاف کرایہ دار کی مدت میں توسیع کر دی اور مزرع میں روانہ ہو گیا۔ رضوان بھی اسی کے نقش قدم پر رواں دواں ہے۔صفوان پہلے ہی ہاتھ سے نکل چکا ہے۔ وہ جانوروں کے ساتھ رہتے رہتے انسانوں سے بھی جانوروں کی طرح پیش آنے لگا ہے۔ میری تو سمجھ میں نہیں آتا میں کیا کروں ؟ افسوس کی بات ہے میری کوئی بھی شریک حیات ان معاملات کو سمجھنے کی کوشش نہیں کرتی۔ وہ معاملات کو سلجھانے کے بجائے مزید اُلجھا دیتی ہیں۔ ‘‘
	’’نہیں ایسی بات نہیں۔ ‘‘ مرجانہ بولی۔ 
	شیخ جواد نے کہا۔ ’’تم ٹھیک کہتی ہو حالانکہ تم ان سب سے عمر اور تجربے میں کم تر ہو لیکن مجھے خوشی ہے کہ تمہیں ان خاندانی اُلجھنوں کا ادراک ہے اور تم اس معاملے میں فکر مند ہو۔‘‘
	مرجانہ بولی۔’’زہے نصیب۔ یہ میرا فرض ہے اس بارے میں میری رائے یہ ہے کہ ہمارے محلے میں ایک بزرگ حکیم عبد اﷲ الشمری رہتے ہیں وہ نفسیاتی اُلجھنوں کے ماہر سمجھے جاتے ہیں اگر آپ مناسب سمجھیں تو ان سے رجوع فرمائیں۔ ‘‘
	شیخ جواد راضی ہو گئے۔
	بعد نماز جمعہ جب شیخ جواد حکیم عبداﷲ الشمری کی خدمت میں پہنچے تو وہ تسبیح و تحلیل میں مصروف تھے۔ جیسے ہی انہوں نے قدموں کی آہٹ سنی اس جانب متوجہ ہوئے۔ جب تعارف ہوا اور مرجانہ سے رشتے کا پتہ چلا تو بہت خوش ہوئے اور آنے کا سبب دریافت کیا۔
	شیخ جواد نے حکیم صاحب کے سامنے اپنی زندگی کی کتاب کھول کر رکھ دی۔ وہ بڑی توجہ سے سب کچھ سنتے رہے۔ جب شیخ جواد خاموش ہو گئے تو نہایت شفقت کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا ان کی ڈھارس بندھائی۔ دعا کی اور یوں گویا ہوئے۔’’تمہارے مسائل کی بنیادی وجہ خود پسندی اور زور زبردستی ہے۔ آپ لوگ مخاطب کے جذبات و احساسات کا خیال کیے بغیر ان کی پسند یا ناپسند معلوم کیے بغیر ان پر اپنی مرضی مسلط کر دینا چاہتے ہیں جو مویشی چرانا چاہتا ہے آپ اسے اسکول بھیجتے ہیں جو پڑھنا چاہتا ہے اسے مویشیوں کے حوالے کرتے ہیں نتیجتاً ایک ناکام ہوتا اور دوسرا منہ زور ہو جاتا ہے۔ یہ دیکھ کر آپ لوگ پریشان ہو جاتے ہیں۔ حالانکہ یہ آپ کی اپنے ہاتھوں کی کمائی ہے۔ اسی طرح جو صنعت کار بننا چاہتا ہے اس سے آپ ہوٹل چلوانا چاہتے ہیں جو باغات کی دیکھ بھال کرنے اور پڑھنے لکھنے کا خواہش مند ہے اسے آپ مزرع سے دور پٹرول پمپ میں جھونک دینا چاہتے ہیں۔ ہر کسی کو اس کی مرضی کے خلاف لے جانے کی کوشش ہی بغاوت کا بنیادی سبب ہے۔‘‘
	’’لیکن حکیم صاحب ہم ان کے والدین ہیں۔ ‘‘ شیخ جو اد بولے۔ ’’کیا ہمیں ان کی خیر خواہی کا حق حاصل نہیں ہے؟ کیا ہم ان کا بھلا نہیں چاہ سکتے؟‘‘
	حکیم صاحب بولے۔ ’’یقیناً تمہیں اس کا حق ہے۔ لیکن خیرخواہی کا تقاضا مخاطب کے نقطۂ نظر کو سمجھنا بھی ہے۔ اس پر اپنا حکم تھوپنے کے بجائے اس کو سمجھانے کی کوشش کرنا ہے اور اگر اس میں ناکامی ہو جائے تو ان کی بات کو تسلیم کر لینا ہی دانش مندی ہے۔اگر تم سب باہم محبت کے ساتھ رہنا چاہتے ہو تو دوسروں کے جذبات کا احترام سیکھو۔بغاوت اپنے آپ ختم ہو جائے گی۔‘‘
	’’لیکن ہمارے لیے ان کی باتوں کو مان لینا بہت مشکل ہے۔‘‘ شیخ جواد بولے۔
	حکیم صاحب نے کہا۔ ’’اور ان کے لیے بھی آپ لوگوں کی بات کو تسلیم کرنا ویسا ہی مشکل کام ہے۔ دیکھو جواد اس مشکل کا حل اعتماد باہم میں پوشیدہ ہے۔‘‘
	’’لیکن یہ کیسے پیدا ہو گا؟‘‘ شیخ جواد کا سوال تھا۔اور جواب میں حکیم صاحب بولے۔
	’’باہم محبت سے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ان بچوں کے اور تمہارے درمیان والدین اور اولاد کا رشتہ ضرور قائم ہے لیکن محبت کا رشتہ قائم نہیں ہے۔‘‘
	’’یہ آپ کیسے کہہ سکتے ہیں ؟‘‘ شیخ جواد نے پوچھا۔
	’’یہ نہایت آسان بات ہے۔ آدمی جس سے محبت کرتا ہے اس کی خوشی اور ناراضگی کا خیال کرتا ہے۔لیکن آپ لوگ ایسا نہیں کرتے۔‘‘
	 جواد نے اثبات میں سرہلایا۔ حکیم الشمری نے اپنی بات آگے بڑھائی۔’’حقیقت تو یہ ہے کہ تم خود اپنی بیویوں سے دلی محبت نہیں کرتے۔ اس کے باعث وہ بھی تم سے قلبی لگاؤ نہیں رکھتیں اور تمہارے بچوں سے بھی ویسی محبت نہیں کرتیں جیسی کہ ہونی چاہئے۔‘‘
	شیخ جواد بولے۔’’آپ کی ہر بات بجا ہے لیکن خدارا یہ بتلائیں کہ اب مجھے کرنا کیا پڑے گا؟‘‘
	حکیم صاحب بولے۔ ’’میری تشخیص میں ہی علاج پوشیدہ ہے پھر بھی میں اسے واضح کیے دیتا ہوں۔ ابتداء تم سے ہو گی جب تم اپنی بیویوں سے محبت کرو گے تو جواباً وہ بھی تم سے اور تمہارے بچوں سے محبت کرنے لگیں گی۔ اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ بچوں کے دلوں میں والدین کی محبت اور احترام جنم لے گا۔جب ایسا ہو گا توسب ایک دوسرے کی پسند و ناپسند کا خیال کریں گے۔ مرضی اور ناراضگی کا لحاظ رکھیں گے اس طرح تمام مسائل ایک ایک کر کے حل ہوتے چلے جائیں گے۔‘‘
	حکیم عبد اﷲ الشمری سے اختلاف کی کوئی گنجائش نہ تھی۔ شیخ جواد نے بڑی عقیدت کے ساتھ ان سے اجازت طلب کی اور معانقہ کیا اور وہاں سے روانہ ہو گئے۔
	راستہ بھر حکیم صاحب کے الفاظ ان کے ذہن میں گونجتے رہے۔ ان کے ہر ہر لفظ سے سچائی کی بھینی بھینی خوشبو آ رہی تھی۔ وہ سوچنے لگے اگر رضوان کو ینبع جانے کی اجازت دے دی جائے تو ہو سکتا ہے رخسانہ بھی اپنے بیٹے کے ساتھ ہجرت کر جائے لیکن اس کے باوجود خود انہیں تو جیزان آتے جاتے رہنا ہی ہو گا۔ لمبا چوڑا کاروبار جو ہے۔ عرفان تو خمیس مشیط سے وہاں آ کر اسے سنبھالے گا نہیں ایسی صورت حال کا حل یہی ہے کہ رخسانہ کو طلاق دے دی جائے اور جیزان میں نیا نکاح کر لیا جائے لیکن ایسا کرنے میں رخسانہ کی محبت آڑے آسکتی ہے اس لیے بھلائی اسی میں ہے کہ اس سے دلی محبت نہ کی جائے اور تمام بیویوں سے انصاف کا تقاضا ہے کہ رخسانہ کی طرح کسی بیوی سے بھی قلبی تعلق نہ رکھا جائے۔ مزرع پر پہنچنے تک انہوں نے حکیم صاحب کے حل کو اپنے طور سے رد تو کر دیا تھا لیکن ہنوز بغاوت کا مسئلہ اپنی جگہ باقی تھا۔

	مزرع پہنچنے پر نذرانہ نے ان کا خیر مقدم کیا۔ کافی وقت گذر جانے کے بعد بھی جب عرفان ملنے نہ آیا تو انہوں نے استفسار کیا۔ ’’برخوردار کہاں ہیں ؟خیریت تو ہے؟‘‘
	نذرانہ نے بتلایا۔ ’’عرفان گھر ہی میں ہے لیکن نہایت غم گین ہے۔ جب سے وہ جیزان سے واپس آیا ہے کھویا کھویا سا رہتا ہے۔ پہلے کتابوں کا مطالعہ کیا کرتا تھا وہ سلسلہ بھی بند ہے۔ بلکہ اب تو کھانا پینا بھی کم ہو گیا ہے۔اسے آپ کی نافرمانی کا بے حد قلق ہے۔ میں تو کہتی ہوں آپ ہی اسے سمجھائیں۔ ‘‘
	’’ٹھیک ہے۔‘‘ جواد بولے۔
	نذرانہ عرفان کو بلانے چل پڑی۔ پیچھے پیچھے جواد بھی ہو لیے۔ پہلے کمرے میں دیکھا وہاں ندارد پا کر باغ میں آ گئے۔ یہاں ایک پیڑ کے نیچے پتھر پر بیٹھا عرفان کچھ سوچ رہا تھا۔ جواد نے پیچھے سے اس کے کاندھے پر ہاتھ رکھ دیا۔ عرفان چونک پڑا۔ باپ کو کھڑا دیکھ کر وہ فوراً ان سے لپٹ گیا اور زار و قطار رونے لگا۔نذرانہ کو محسوس ہوا ایک لمحے میں وقت کا پہیہ بیس سال پیچھے گھوم گیا۔ وہ ننھا سا عرفان جو کسی زمانے میں شیخ جواد کی انگلی پکڑ کر جیزان سے مزرع آیا کرتا تھا ذرا ذرا سی بات پر رو دیتا تھا اور ذرا سا بہلانے پر ہنس دیتا تھا اس کی نظروں میں گھوم گیا۔ نہایت حساس شخصیت کا حامل یہ بچہ نذرانہ کو خوب بھاتا تھا۔ خود اس کی اپنی دو لڑکیاں تھیں جنہیں ایک دن بیاہ کے بعد پرائے گھر جانا تھا اس لیے رخسانہ سے درخواست کر کے نذرانہ نے عرفان کو اپنے پاس رکھ لیا تھا۔ عرفان کو جیزان سے زیادہ خمیس اور اپنی ماں رخسانہ سے زیادہ نذرانہ اچھی لگتی تھی۔ رضوان تعلیم کی غرض سے شہر جانے کے بعد وہ گھر میں تنہائی محسوس کرنے لگا تھا۔ یہاں آنے کے بعد اسے دو اچھی اچھی بہنیں مل گئیں۔ باغ جھرنا چرند پرند ہوائیں فضائیں سب کچھ اس کی طبیعت کے مطابق تھیں۔ وہ یہاں کیا آیا کہ یہاں کے ماحول میں رچ بس گیا۔ اور ان سب کے بغیر اپنے آپ کو آدھا ادھورا محسوس کرنے لگا۔ ایک ماہ قبل جب والد صاحب نے جیزان جا کر پٹرول پمپ چلانے کا حکم سنایا تو اس کی ذات سے وابستہ یہ تمام تانے بانے بکھرنے لگے۔ کرایہ دار کی مدت بڑھا کر واپس آتے ہوئے وہ بہت خوش تھا لیکن جب نذرانہ نے اسے والد صاحب کی نافرمانی اور ناراضگی کا احساس دلایا تو وہ پھر غم گین ہو گیا اور غم گین بھی ایسا جیسے اس کے تمام دوست اس کے دشمن ہو گئے ہوں۔ اس کا احساس جرم کہتا تھا کہ انہیں نے اسے اپنے والد کا نافرمان بنایا ہے۔ والد صاحب کے سینے سے لگ کر اس نے اپنا کھویا ہوا جہان پا لیا تھا۔ جب آنسو تھمے تو شیخ جواد نے اس کے سر پر شفقت کا ہاتھ پھیرا۔ اس کی پیشانی کو چوما اور ہاتھ پکڑ کر اسے دیوان خانے میں لاتے ہوئے صرف یہ کہا۔
	’’بیٹے تمہاری خوشی میں ہماری خوشی ہے۔‘‘ 
	شیخ جواد کا یہ جملہ سن کر نذرانہ جھوم اٹھی۔ آج اس کے لیے عید کا دن تھا۔
	ناشتے سے فراغت کے بعد نذرانہ قہوہ لانے باورچی خانے میں گئی تو شیخ جواد اپنے مسائل میں اُلجھ گئے۔ وہ اپنے بچوں کے بارے میں سوچنے لگے۔ حکیم الشمری کا نسخہ ان کے پاس تھا۔ اس پر اطمینان بھی تھا۔ پھر بھی طبیعت کی آمادگی نہیں ہو رہی تھی۔ اس ادھیڑ بن میں خود کلامی کا شکار ہو گئے۔ خود ہی سوال کرتے اور خود ان کا جواب بھی دیتے۔ نذرانہ دیر تک حیرت سے اس منظر کو دیکھتی رہی یہ سب اس کے لیے نہ صرف نیا بلکہ انوکھا بھی تھا۔ نذرانہ نے شیخ جواد کی اس کیفیت میں خلل اندازی مناسب نہ سمجھی۔ دم سادھے کھڑی رہی۔ یہاں تک کہ شیخ جواد خود ہی واپس لوٹ آئے۔ نذرانہ مسکرائی اور اس نے کہا۔
	’’میرے سرتاج ہم لوگ بیس سالہ طویل ازدواجی زندگی ایک دوسرے کے ساتھ گزار چکے ہیں لیکن ایسا منظر میں نے کبھی نہیں دیکھا۔ایسا لگتا ہے آپ کسی پریشانی میں گھرے ہوئے ہیں۔ اگر مناسب سمجھیں تو مجھے بھی اس میں شریک فرمائیں۔ ‘‘
	شیخ جواد نے اپنے آپ کو سنبھالا اور بولے۔’’ایسی کوئی خاص بات نہیں۔ پھر بھی تم سے کیا چھپانا۔ بچے وہ نہیں چاہتے جو ہم چاہتے ہیں اور ہم وہ نہیں چاہتے جو وہ چاہتے ہیں۔ ‘‘
	 اس تمہید کے بعد شیخ جواد نے حکیم الشمری کی تمام گفتگو نذرانہ کو سنا ڈالی اور کہا۔ ’’ان کی تجویز معقول ہے مگر مشکل ہے اس لیے میں اس کا متبادل چاہتا ہوں لیکن سجھائی نہیں دیتا۔‘‘
	نذرانہ نے کہا۔ ’’اچھا آپ کسی زمانے میں ڈاکٹر سائمن کا ذکر کیا کرتے تھے جو تعلیم کے دوران برلن میں آپ کے ساتھ تھے۔ کبھی کبھار اپنے ذاتی مسائل میں بھی ان سے صلاح و مشورہ کیا کرتے تھے۔ کیوں نہ پھر اس سے رجوع کرتے ہیں۔ ہو سکتا ہے وہ کوئی ایسا حل تجویز فرمائیں جس پر عمل درآمد آپ کے لیے آسان تر ہو اور یہ معاملہ سلجھ جائے۔‘‘
	شیخ جواد خوش ہو گئے۔ انہوں نے کہا ’’بھئی تم نے نہایت اچھا مشورہ دیا ہے۔ میں ڈاکٹر سائمن سے رجوع کروں گا وہ بہت بڑا ماہر نفسیات ہے اس لیے ضرور میرا مسئلہ حل کر دے گا۔‘‘
	شیخ جواد نے اپنے دیرینہ دوست ڈاکٹر سائمن کو اپنا پرانا وعدہ یاد دلایا جس کے مطابق اسے چھٹیاں گذارنے اس کے پاس آنا تھا۔ شیخ جواد نے سائمن کو یہ بھی بتلا دیا کہ وہ اس دوران کچھ خانگی مسائل پر بھی اس سے گفتگو کرنا چاہتے ہیں۔ 
	تین چار ماہ بعد ڈاکٹر سائمن اپنی اہلیہ کے ساتھ تشریف لے آئے اور ایک مہینے کا وقت شیخ جواد کے تینوں گھروں میں گذارا۔ چاروں بچوں سے فرداً فرداً بات چیت کی۔ بیوی کے ذریعے شیخ جواد کی بیویوں کے انداز فکر کا بھی اندازہ لگا لیا اور نفسیاتی تجزیہ شیخ جواد کے سامنے پیش کر دیا۔ ڈاکٹر سائمن نے بتلایا کہ ان کے تمام مسائل کا حل انتخابی آزادی میں ہے۔ 
	’’آزادی؟ کیسی آزادی؟‘‘شیخ جواد چونک پڑے۔’’یہ تم کیا کہہ رہے ہو؟ اگر یہ لوگ آزاد ہو جائیں گے تو مسائل میں بے پناہ اضافہ ہو جائے گا۔‘‘
	سائمن ہنسا اور اس نے کہا۔ ’’تم تو کچھ زیادہ ہی بے چین ہو رہے ہو۔میں نے مجرد آزادی نہیں بلکہ انتخابی آزادی کہا۔ یہ مغرب کا آزمودہ نسخہ ہے جس میں لوگ اپنی مرضی سے غلامی کا انتخاب کرتے ہیں۔ ہم نے اس کا خوبصورت سا نام جمہوری آزادی رکھا ہے۔ اس نسخہ کا استعمال کر کے تم اپنے چاروں بیٹوں کو خود ان کی اپنی مرضی سے اپنا بندۂ بے دام بنا سکتے ہو۔‘‘
	’’اچھا۔ وہ کیسے؟ میری تو سمجھ میں نہیں آتا کبھی تم آزادی کہتے ہو اور کبھی غلامی کی بات کرتے ہو۔ یہ دونوں تو متضاد چیزیں ہیں۔ ‘‘
	ڈاکٹر سائمن نے تائید کی۔ ’’یقیناً یہ متضاد چیزیں ہیں۔ لیکن جس پر اس کو آزمایا جاتا ہے وہ اس کے تضاد سے واقف نہیں ہو پاتا وہ آزادی کے نشے میں اس قدر چور کر دیا جاتا ہے کہ اسے اپنے گلے میں پڑا ہوا طوق خوبصورت ہار دکھائی دیتا ہے۔‘‘
	’’وہ کیسے؟‘‘ شیخ جواد نے پوچھا۔
	’’میں ابھی بتاتا ہوں۔ ‘‘ ڈاکٹر سائمن نے کہا۔ ’’اطمینان رکھو۔ میں ایک ایک کر کے تمام مسائل کا حل بتلاتا ہوں۔ ‘‘
	’’تمہارا بیٹا ریحان پڑھنا لکھنا نہیں چاہتا اس لیے کہ مویشی چرانا چاہتا ہے اس کے برخلاف تم چاہتے ہو کہ وہ تعلیم حاصل کرے۔ ٹھیک ہے؟‘‘
	شیخ جواد نے کہا۔ ’’بالکل ٹھیک ہے۔‘‘
	’’اس کا مطلب ہے جب تک اس کی دلچسپی مویشیوں سے ختم نہیں ہو جاتی وہ تعلیم حاصل نہیں کر سکتا۔‘‘
	’’یہ بھی ٹھیک ہے۔ لیکن اس کی دلچسپی کیسے ختم کی جائے؟‘‘ شیخ جواد نے پوچھا۔
	سائمن بولے۔’’اس کا طریقہ یہ ہے کہ اس کے سامنے ایک تیسرا متبادل رکھ دیا جائے۔‘‘
	’’اچھا وہ تیسرا متبادل کیا ہے؟‘‘
	’’کھیل کود۔‘‘
	’’لیکن اگر اس نے کھیل کود میں بھی دلچسپی نہ لی تو کیا ہو گا؟‘‘
	’’نہیں ایسا نہ ہو گا۔تم اس کے سامنے کئی کھیلوں کے متبادل رکھ دو اس سے کہو کہ وہ فٹ بال کھیلے یا والی بال، کمپیوٹر پر کھیلے یا ٹی وی کے پردے پر کھیل تماشے دیکھے۔ اسے آزادی دو کہ وہ چاروں میں سے جس کا چاہے انتخاب کرے۔ لیکن کھیلنا تو اسے پڑے گا ہی۔اگر اس نے مؤخر الذکر دو میں سے کسی ایک کا انتخاب کیا تو تمہارا کام اور بھی آسان ہو جائے گا۔‘‘
	’’وہ کیسے؟‘‘
	’’دراصل اس کے باعث اس کی طبیعت میں سہل پسندی اس قدر گھر کر لے گی کہ وہ مویشی چرانے کی سخت کوشی سے خود ہی دور بھاگے گا لیکن اگر وہ فٹ بال یا والی بال بھی کھیلنے لگے تب بھی ان لہو و لعب میں پڑ کر مویشیوں سے اس کی دلچسپی ختم ہو ہی جائے گی۔ لیکن تمہیں اس کے انتخاب کا احترام کرتے ہوئے اس کی پسند کے کھیل کی تمام سہولیات مہیا کرنی ہو گی وہ خوش ہو کر اس میں مگن ہو جائے گا۔ اس کے بعد ہو سکتا ہے وہ پڑھنے لکھنے بھی لگے۔‘‘
	شیخ جواد نے پوچھا۔ ’’لیکن اگر ایسا نہ ہوا تو؟‘‘
	سائمن بولا۔ ’’کیا فرق پڑتا ہے۔ اگر تعلیم نہ بھی حاصل کرے تو مویشی تو نہیں چرائے گا۔ تمہارا آدھا کام تو ہو ہی گیا۔ ‘‘
	جواد نے تائید کی۔ ’’ریحان کا مویشیوں سے رکنا تعلیم حاصل کرنے سے زیادہ ضروری ہے۔‘‘
	’’تب تو تمہارا اہم کام ہو گیا۔‘‘ سائمن نے خوش ہو کر کہا۔
	’’اچھا اب یہ بتلاؤ کہ عرفان کا کیا کیا جائے؟‘‘
	’’اس کے لیے میرا مشورہ ریحان جیسا ہی ہے۔‘‘
	’’کیا مطلب ؟‘‘
	’’اس کی شادی کر دو۔‘‘
	شیخ جواد کو ہنسی آ گئی وہ بولے۔’’کہاں شادی اور کہاں کھیل کود۔ کیا دونوں یکساں ہیں ؟‘‘
	سائمن بولا۔’’بظاہر تو نہیں لیکن حقیقت یہی ہے۔ بچے بے جان کھلونوں سے کھیلتے ہیں اور بڑے جاندار کھلونوں سے۔ ہاں ایک فرق ضرور ہے۔‘‘
	’’وہ کیا؟‘‘
	’’بڑے جن کھلونوں سے کھیلتے ہیں وہ کھلونے بھی ان سے کھیلتے ہیں۔ اسے شادی کا کھیل کہتے ہیں اس کی اہلیہ اس سے وہ تمام کام بآسانی کرا لے گی جو آپ لاکھ کوششوں کے باوجود نہیں کرا سکتے۔‘‘
	’’لیکن اگر وہ شادی کے لیے راضی نہ ہوا تو کیا کریں گے؟‘‘
	’’نہیں اس کی آزادی اسے نہیں ہے۔ شادی تو کرنی ہی پڑے گی۔ ہاں شادی کے لیے لڑکی کے انتخاب کی آزادی اسے ضرور حاصل ہو گی۔ اس کے سامنے کئی لڑکیوں کا متبادل رکھا جائے ان میں سے جس سے چاہے اپنی مرضی سے شادی کرے۔ ایک مرتبہ نکاح ہو گیا تو اپنی اہلیہ کے ناز نخرے اسے اٹھانے ہی پڑیں گے۔ اگر وہ اس میں کوتاہی کرے گا تو تمہیں اس کو موردِ الزام ٹھہرانے کا پورا پورا حق حاصل ہو گا۔بس اس کے بعد سمجھو کہ تمہارا کام ہو گیا وہ نہ صرف مزرع چھوڑ کر جیزان آ جائے گا بلکہ پٹرول پمپ کے ساتھ دوسرے کاروبار بھی چلانے لگے گا۔ پڑھنا لکھنا سب ہوا ہو جائے گا۔‘‘
	اس بیچ چائے آ گئی۔ چائے کے بعد رضوان کا مسئلہ زیر بحث آیا تو سائمن نے کہا۔
	’’دیکھو تم سب سے پہلے رضوان کو یہ سمجھاؤ کہ ہوٹل بھی اپنے آپ میں ایک جدید صنعت ہے اور اس کا انتظام و انصرام کرنے والا بھی صنعت کار ہی ہوتا ہے۔‘‘
	’’ لیکن یہ تو غلط بات ہے۔‘‘ شیخ جواد بولے۔
	’’اگر غلط ہے تو ہوا کرے اس سے کیا فرق پڑتا ہے تمہارا کام نکل جائے یہ کافی ہے۔‘‘ سائمن نے بات آگے بڑھائی۔ ’’تم اس کے سامنے کئی متبادل رکھو اس سے کہو کہ وہ انگریزی ہوٹل کھولے یا چینی عربی طرز کے کھانے بنائے یا ہندوستانی۔ اس کی اسے مکمل آزادی ہے لیکن بہرحال کاروبار تو ہوٹل ہی کا کرنا پڑے گا۔ اسی کے ساتھ اسے اس بات کی بھی آزادی دو کہ ہوٹل کا جو چاہے نام رکھے جیسا چاہے فرنیچر منتخب کرے۔ رنگ و روغن وغیرہ ہر چیز اپنی مرضی سے طے کرے۔‘‘
	’’لیکن اس سے ہو گا کیا؟‘‘ شیخ جواد نے سوال کیا۔
	’’اس سے یہ ہو گا کہ ان تمام مصنوعی آزادیوں میں حقیقی پابندی چھپ جائے گی اور وہ اس ادھیڑ بن میں گرفتار ہو جائے گا کہ کس قسم کا ہوٹل زیادہ چلے گا کس میں منافع زیادہ ملے گا وغیرہ وغیرہ اور جیسے جیسے وہ ان سوالات میں الجھتا جائے گا تمہارا مسئلہ سلجھتا جائے گا۔
	’’بہت خوب۔‘‘ شیخ جواد نے کہا۔ ’’اب صفوان کے بارے میں کچھ بتاؤ میں اس کے بارے میں بہت ہی زیادہ فکر مند ہوں۔ وہ تیزی کے ساتھ باغی ہوتا جا رہا ہے۔‘‘
	سائمن نے تائید کی۔ ’’یہ تو فطری عمل ہے تم نے اسے جن جائز حقوق سے محروم کر رکھا ہے انہیں بحال کرنا نہیں چاہتے۔ ایسے میں رد عمل تو لازمی ہے۔ ایسے میں قوت کا استعمال ناگزیر ہے جس کے نتیجہ میں دوسروں کے دل میں اس کے تئیں ہمدردی پیدا ہو سکتی ہے اور تمہاری بدنامی بھی ہو سکتی ہے۔‘‘
	شیخ جواد بولے۔ ’’وہ تو ہو رہی ہے۔‘‘
	سائمن نے کہا۔’’اس کا اولین ہدف تو یہ ہے کہ تم لوگوں کے دلوں میں اس کے خلاف نفرت کے جذبات بھڑکا ؤ اپنے ظلم پر پردہ ڈالنے کی خاطر اسے ظالم قرار دو ساتھ اس کے سامنے تغذیب کے مختلف متبادل رکھو مثلاً اسے مارنے کی خاطر چھڑی ڈنڈا چابک اور ہنٹر جیسی چیزوں کا اہتمام کرو اور جب بھی وہ سرتابی کرے اس کو اس بات کی آزادی دو کہ وہ ان میں سے خود اپنے خلاف استعمال ہونے والے اسلحہ کا انتخاب کرے وہ خود بتلائے کہ اسے چھڑی سے مارا جائے یا ڈنڈے سے۔ اس پر ہنٹر برسایا جائے یا چابک سے اس کی کھال ادھیڑی جائے۔ اس طرح تم اسے سزا اس کی مرضی کے مطابق دو گے یہی انتخابی آزادی ہے۔‘‘
	شیخ جواد یہ سن کر اچنبھے میں پڑ گئے اور کہا۔ ’’یہ تو عجیب آزادی ہے۔‘‘
	سائمن بولا۔ ’’نہیں یہ انتخابی آزادی ہے جسے ہم جمہوریت بھی کہتے ہیں آج کل ساری دنیا کو اسی کی مدد سے غلام بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔‘‘
	جواد نے کہا۔ ’’وہ تو ٹھیک ہے لیکن میرے دوست سائمن اس دن کیا ہو گا جب صفوان اس ہنٹر کو میرے ہاتھوں سے چھین لے گا؟‘‘
	سائمن مسکرایا اور اس نے کہا۔ ’’اچھا سوال ہے۔ اس دن کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا۔ ہنٹر چھین لینے کے بعد وہ بھی انتخاب کی آزادی دیتے ہوئے پوچھے گا’ ہنٹر، چابک، چھڑی یا ڈنڈا۔‘‘
	شیخ جواد چکرا گئے۔ انہیں ایسا محسوس ہونے لگا جیسے ان پر چاروں سمتوں سے بیک وقت ہنٹر، لاٹھی، ڈنڈا اور چابک سے ہلّا بول دیا گیا ہے اور دور کھڑا سائمن ان کی حالت زار پر مسکرا رہا ہے۔
٭٭٭



