﻿

خاک میں ستارہ




احمد خیال









انتساب

اپنی ماں کے نام جس کی دُعاؤں کے حصار میں رہتے ہوئے میں زندگی سے ہمکلام ہوا

تشکر: این اے فخری



احمد خیال کی شاعری

میرا جی چاہتا ہے کہ روز کوئی ایسی شے دیکھنے کو ملے جو غیر متوقع ہو۔ میں اُن لوگوں میں سے ہوں جو روزمرہ سے تنگ آئے ہوئے ہیں لیکن جو کچھ رسالوں میں چھپتا ہے یا شاعری کے مجموعوں کی شکل میں دستیاب ہوتا ہے اس میں حیرت کا عنصر خال خال ہی نظر آتا ہے۔ کیا ہم نے تمام مسائل حل کر لئے اور حیران ہونا چھوڑ دیا ہے؟
’’خاک میں ستارہ‘‘ احمد خیال کی غزلوں کا مجموعہ ہے اور اُن کے اشعار حیرت کی موجودگی سے بھرے پڑے ہیں۔ جب کوئی شخص خاک میں ستارہ ڈھونڈنے لگے تو اُس کا مطلب زمین اور زمین پر رہنے والوں سے قریبی رشتہ بنانا بھی ہے اور اس کے ساتھ آسمان کی موجودگی کا احساس دلانا بھی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں سے ما بعد الطبیعاتی سوال آغاز ہوتے ہیں اور حیرت کا در وا ہو جاتا ہے۔
احمد خیال نے روانی اور بے ساختگی سے شعر لکھے ہیں۔ اس سے ان کی ریاضت کا بھی اندازہ ہوتا ہے۔ اگر کسی کو کوئی ستارہ مل بھی جائے تو اُسے یہ معلوم ہونا چاہئے کہ وہ ستارہ کس طرح دکھایا یا چھپایا جا سکتا ہے۔ احمد خیال نے یہ دونوں کام خاصی چابکدستی سے کئے ہیں۔ وہ خیال کو شعر بنانے کا ڈھنگ جانتے ہیں مگر جو زمین تراشتے ہیں اُس میں سبھی امکان بروئے کار لانے کی کوشش نہیں کرتے۔ حالانکہ اُن کا Craft اس بات کا متقاضی ہے کہ وہ زیادہ زیادہ پہلو تلاش کرنے کی سعی کریں۔ ممکن ہے کہ یہ کتاب اُن کی اب تک کی شاعری کا انتخاب ہو، اُنہوں نے کھل کر بات کرنے کا کل پر اُٹھا رکھا ہو۔ بہرصورت موجودہ شکل میں بھی اس میں معانی کے کئی ستارے موجود ہیں۔ اُن کے تیور تو یہی بتاتے ہیں کہ وہ یہ چھان پھٹک جاری رکھیں گے۔ اب تک کا سفر بہت احتیاط سے کیا گیا ہے۔ میں آئندہ مجموعہ میں اُن سے اسی بے اختیاری کی توقع رکھتا ہوں جو ان اشعار میں ہے۔

احساس ہوا اپنا جب مانگ بڑھی میری
آکاش بُلاتا ہے کھینچے ہے زمیں مجھ کو
٭٭٭

دو قدم آگے بڑھوں چار قدم پیچھے ہٹوں
کیسی آواز تھی یہ، کِس نے پُکارا ہے مجھے
٭٭٭

جیسی ہونی ہو وہ رفتار نہیں بھی ہوتی
راہ اس سمت کی ہموار نہیں بھی ہوتی
میں تہی دست لڑائی کے ہنر سیکھتا ہوں
کبھی اس ہاتھ میں تلوار نہیں بھی ہوتی
وہ مری ذات سے انکار کئے رکھتا ہے
گر کبھی صورت انکار نہیں بھی ہوتی
پھر بھی ہم لوگ تھے رسموں میں، عقیدوں میں جدا
گر یہاں بیچ میں دیوار نہیں بھی ہوتی
جس کو بے کار سمجھ کر کسی کونے میں رکھیں
ایسا ہوتا ہے کہ بیکار نہیں بھی ہوتی
دل کسی بزم میں جاتے ہی مچلتا ہے خیال
سو طبیعت کہیں بے زار نہیں بھی ہوتی

شہزاد احمد
۲۸ جولائی ۲۰۰۶ء
لاہور



نعت شریف

بے دلی چھوڑ کے جینے کی طرف جاتی ہے
ہاں یہی راہ مدینے کی طرف جاتی ہے

آپ کے نقشِ قدم سامنے رکھ کر دنیا
حُسن و تہذیب کے زینے کی طرف جاتی ہے

آپ کی ذات کے ہر روپ سے ضو لیتے ہوئے
زندگی ایک قرینے کی طرف جاتی ہے

جس گھڑی سر مرے سرکار کی چوکھٹ پہ جھکے
اس گھڑی روشنی سینے کی طرف جاتی ہے

بادباں آپ کی رحمت سے سلامت ہیں خیال
کب کوئی موج سفینے کی طرف جاتی ہے
٭٭٭


سلام

وہ اندھیروں کو پسِ دیوار کرتا جاتا ہے
امن کا اور نور کا پرچار کرتا جاتا ہے

کون ہے جو جل رہا ہے دیپ صورت میں
کون ہے جو راستے ہموار کرتا جاتا ہے

پیاسی دھرتی ایک دم ہی رنگ میں آنے لگی
وہ لہو سے کو گلزار کرتا جاتا ہے

وہ حسینؓ ابنِ علیؓ وہ مصطفی کا لاڈلا
روشنی کو تیرگی سے پار کرتا جاتا ہے

حالتِ جنگ و جدل میں یا کہ وہ نیزے پہ ہو
ہر جگہ حق بات کا اظہار کرتا جاتا ہے
٭٭٭



فلک کے رنگ زمیں پر اُتارتا ہُوا مَیں
تمام خلق کو حیرت سے مارتا ہُوا مَیں

دو چار سانس میں جیتا ہوں ایک عرصے تک
ذرا سے وقت میں صدیاں گزارتا ہُوا مَیں

جو میرے سامنے ہے اور دل و دماغ میں بھی
چہار سمت اُسی کو پکارتا ہُوا مَیں

مرے نقوش پہ کاریگری رُکی ہوئی ہے
شکستہ چاک سے خود کو اتارتا ہُوا مَیں

تمہاری جیت میں پنہاں ہے میری جیت کہیں
تمہارے سامنے ہر بار ہارتا ہُوا مَیں
٭٭٭



گُزرا تھا جب یہاں سے عدو بولتا ہُوا
آنکھوں تک آ گیا تھا لہُو بولتا ہُوا

یہ بھی ہے معجزہ تیرے ہاتھوں کے لمس کا
مے پُر سرور اور سبُو بولتا ہُوا

سَکتے میں آ گئے سبھی یارانِ خوش کلام
میری زبان و چشم سے تُو بولتا ہُوا

ایسی ہُنروری ہے کہ حیرت بھی گُنگ ہے
دیکھو ہمارا کارِ رفُو بولتا ہُوا

لے جا رہا ہے کی جانب مُجھے خیال
آنکھوں میں اور رگوں میں لہُو بولتا ہُوا
٭٭٭



جو ترے غم کی گرانی سے نکل سکتا ہے
ہر مصیبت میں روانی سے نکل سکتا ہے

تُو جو یہ جان ہتھیلی پہ لئے پھرتا ہے
تیرا کردار کہانی سے نکل سکتا ہے

شہر انکار کی پُر پیچ سی ان گلیوں سے
تُو فقط عجز بیانی سے نکل سکتا ہے

گردشِ دور ترے ساتھ چلے چلتا ہوں
کام اگر نقل مکانی سے نکل سکتا ہے

اے مری قوم چلی آ مرے پیچھے پیچھے
کوئی رستہ بھی تو پانی سے نکل سکتا ہے
٭٭٭


ہر ایک رنگ دھنک کی مثال ایسا تھا
شبِ وصال تمھارا جمال ایسا تھا

ہوا کے ہاتھ پہ چھالے ہیں آج تک موجود
مرے چراغ کی لو میں کمال ایسا تھا

میں چل پڑا ہوں اندھیرے کی انگلیاں تھامے
اترتی شام کے رُخ کا جمال ایسا تھا

ذرا سی دیر بھی ٹھہرا نہیں ہوں موجوں میں
سمے کے بحر میں اب کے اچھال ایسا تھا

وہ سر اٹھائے یہاں سے پلٹ گیا احمد
میں سر جھکائے کھڑا ہوں، سوال ایسا تھا
٭٭٭



یکسانیت کی رَو سے نکلنے لگا ہوں مَیں
موسم کے ساتھ ساتھ بدلنے لگا ہوں مَیں

جس میں قدم قدم پہ اذیت ہے خوف ہے
ایسی ہی ایک راہ پہ چلنے لگا ہوں مَیں

اتنی شدید آنچ تِرے قرب کی کہ بس
پانی کہیں سے ڈھونڈ کہ جلنے لگا ہوں مَیں

اے زندگی !میں ریت کی صورت ہوں آج کل
مُٹھی نہ ایسے کھول پھسلنے لگا ہوں مَیں

تاریکیوں کو مات نہ ہو گی تو اور کیا
بجھنے لگا چراغ تو جلنے لگا ہوں مَیں
٭٭٭


وہ رنگ و نور کا قصہ تمام کرنے لگی
ہَوا چراغ کی لو سے کلام کرنے لگی

میں اُس کے ساتھ چلا تو عجب ہُوا کہ مجھے
تمام خلق ادب سے سلام کرنے لگی

یہ کیسا نور بھرا تُو نے اے جمال بتا
ہماری آنکھ اندھیروں میں کام کرنے لگی

اُترتی شام ہَوا کی قبائیں لیتے ہوئے
تمہارے ہجر کی شدت کو عام کرنے لگی

قدم قدم مرا بڑھتا ہے اُس طرف احمد
ادا ادا مُجھے اُس کا غلام کرنے لگی
٭٭٭




جس کو معلوم ہیں مٹی کے فسانے سارے
وہ سدا آنکھ کو نمناک نہیں رَکھ سَکتا

جو بھی دنیا کی ہوس میں ہے کسی طور بھی وہ
نسبتِ سیّدِ لولاک نہیں رَکھ سَکتا

مُجھ کو مٹی کے کئی قرض چُکانے ہیں سو میں
وسعتِ دید میں افلاک نہیں رَکھ سَکتا
٭٭٭



دمکتی صبح کا پر چار کر رہا ہوں میں
تمام شہر کو بیدار کر رہا ہوں میں

زمانہ مانتا کب ہے کسی کو سیدھی طرح
سو خود کو صاحبِ اسرار کر رہا ہوں میں

ذرا ٹھہر مری آنکھوں میں نور آنے دے
ترے جمال کا دیدار کر رہا ہوں میں

طرح طرح کی ضیائیں مرے وجود میں ہیں
چراغ کو پسِ دیوار کر رہا ہوں میں

پروں کی مشق کی خاطر اڑان بھرنی پڑی
حدودِ وقت کہاں پار کر رہا ہوں میں
٭٭٭

جس سمے تیرا اثر تھا مُجھ میں
بات کرنے کا ہُنر تھا مُجھ میں

صبح ہوتے ہی سبھی نے دیکھا
کوئی تا حدِّ نظر تھا مُجھ میں

ماں بتاتی ہے کہ بچپن کے سمے
کسی آسیب کا ڈر تھا مُجھ میں

جو بھی آیا کبھی واپس نہ گیا
ایسی چاہت کا بھنور تھا مُجھ میں

میں تھا صدیوں کے سفر میں احمد
اور صدیوں کا سفر تھا مُجھ میں
٭٭٭


یہ تعلّق تری پہچان بنا سَکتا تھا
تُو مرے ساتھ بہت نام کما سَکتا تھا

یہ بھی اعجاز مجھے عشق نے بخشا تھا کبھی
اُس کی آواز سے میں دیپ جلا سَکتا تھا

میں نے بازار میں اک بار ضیا بانٹی تھی
میرا کردار مرے ہاتھ کٹا سَکتا تھا

کُچھ مسائل مجھے گھر روک رہے ہیں ورنہ
میں بھی مجنوں کی طرح خاک اُڑا سَکتا تھا

اب تو تنکا مُجھے شہتیر سے بھاری ہے خیال
میں کسی وقت بہت بوجھ اُٹھا سَکتا تھا
٭٭٭



ہزار شُکر، مری آن تک نہیں پہنچا
تمھارا ہاتھ گریبان تک نہیں پہنچا

بہت غرور تھا دنیا کو مات دینے کا
میں جب اُٹھا کبھی دالان تک نہیں پہنچا

بلکتے بچوں کو بھوکا سُلا دیا میں نے
کوئی گمان بھی مہمان تک نہیں پہنچا

اُسی طلب میں بھٹکتا ہوں دربدر اب تک
ترا کرم مرے دامان تک نہیں پہنچا

میں ایک پَل میں بِکھر کر فنا ہُوا ہوں اور
نجانے کیوں اُسے نقصان تک نہیں پہنچا
٭٭٭


دشت و جنوں کا سلسلہ میرے لہُو میں آ گیا
یہ کس جگہ پر میں تمہاری جستجو میں آ گیا

وہ سرو قامت ہو گیا ہے دیکھتے ہی دیکھتے
جانے کہاں سے زور سا اُس کی نمو میں آ گیا

بس چند لمحے پیشتر وہ پاؤں دھو کر پلٹا ہے
اور نور کا سیلاب سا اس آ بجو میں آگیا

چاروں طرف ہی تتلیوں کے رقص ہونے لگ گئے
تُو آ گیا تو باغ سارا رنگ و بُو میں آ گیا

میں جھُومتے ہی جھُومتے احمد تماشا بن گیا
جب عکس اُس کے رقص کا میرے سبُو میں آ گیا
٭٭٭





غبار ابر بن گیا کمال کر دیا گیا
ہری بھری رتوں کو میری شال کر دیا گیا

قدم قدم پہ کاسہ لے کے زندگی تھی راہ میں
سو جو بھی اپنے پاس تھا نکال کر دیا گیا

میں زخم زخم ہو گیا لہو وفا کو رو گیا
لڑائی چھڑ گئی تو مُجھ کو ڈھال کر دیا گیا

گلاب رت کی دیویاں نگر گلاب کر گئیں
میں سُرخرو ہوا اُسے بھی لال کر دیا گیا

تو  آ کے مُجھ کو دیکھ تو غبار کے حصار میں
ترے فراق میں عجیب حال کر دیا گیا

وہ زہر ہے فضاؤں میں کہ آدمی کی بات کیا
ہوا کا سانس لینا بھی محال کر دیا گیا
٭٭٭


اک جگہ پر ٹھیرنا تقدیر بنتی جاتی ہے
یاد اُس کی پاؤں کی زنجیر بنتی جاتی ہے

کیا خبر یہ معجزہ ہے یا کمالِ عشق ہے
رنگ گرتے رہتے ہیں تصویر بنتی جاتی ہے

کتنا عرصہ رکھ سکیں گے جان و دِل محفوظ ہم
اب تمہاری ہر ادا شمشیر بنتی جاتی ہے

جب نظر اُس پر پڑی یہ راز ہم پر کھل گیا
کیوں اچانک تیرگی تنویر بنتی جاتی ہے
٭٭٭


شہر کی بھیڑ نے دو نیم کیا ہے مُجھ کو
ورنہ میں دشت میں مارا نہیں جا سکتا تھا

زندگی مجھ کو اگر صدیوں کی مہلت دیتی
تب بھی یہ قرض اُتارا نہیں جا سکتا تھا

ایک موسم تھا خیال اُس کی زیارت کے بغیر
کوئی لمحہ بھی گزارا نہیں جا سکتا تھا
٭٭٭


اپنی اوقات سے باہر نہیں ہوتا ہُوں مَیں
کبھی دریا سے سمندر نہیں ہوتا ہُوں مَیں

موم جیسی یہ صفت ذات سے جاتی ہی نہیں
لاکھ کوشش سے بھی پتھر نہیں ہوتا ہُوں مَیں

مُجھ پہ اک خاص عطا سایہ فگن رہتی ہے
گھر سے باہر کبھی بے گھر نہیں ہوتا ہُوں مَیں

شہرِ صد رنگ میں محتاط رکھا کر خود کو
ہر گھڑی تو ترے سر پر نہیں ہوتا ہُوں مَیں

بے حسی ایسے زمانے نے مُجھے بخشی ہے
اب کسی بات پہ ششدر نہیں ہوتا ہُوں مَیں
٭٭٭


جنوں کو رخت کیا خاک کو لبادہ کیا
میں دشت بھٹکنے کا جب ارادہ کیا

میں ناصحان کی سُنتا ہوں اور ٹالتا ہوں
سو قُربِ حُسن چھُٹا اور نہ ترکِ بادہ کیا

مہکتے پھُول، ستارے، دمکتا چاند، دھنک
ترے جمال سے کِتنوں نے اِستِفادہ کیا

ہزار رنگ میں جلوہ نما تھا حُسن و جمال
دل اور شوخ ہوا اس کو جتنا سادہ کیا

وہ دے رہا تھا طلب سے سوا سبھی کو خیال
سو میں نے دامنِ دل اور کچھ کُشادہ کیا
٭٭٭


ہر ایک کھیت میں اُجلی کپاس ہوتے ہُوئے
تمام شہر ہے عریاں لباس ہوتے ہُوئے

یہ مُجھ میں کتنے زمانوں کی یخ ہَوائیں ہیں
میں اب بھی سرد ہوں سورج کے پاس ہوتے ہُوئے

وہ سامنے تھا تو پیچھے الاؤ جلتا ہوا
میں راکھ بن گیا ہوں بدحواس ہوتے ہُوئے

عجیب شخص ہے دریا میں ہاتھ ڈالا اور
وہیں سے لوٹ گیا اتنی پیاس ہوتے ہُوئے

غبارِ راہ چھٹا تو وہ سامنے آیا
میں کھِل اُٹھا ہوں اچانک اداس ہوتے ہُوئے

میں آ گیا ہوں سڑک پر لہو کی ڈھال لئے
تمام شہر میں خوف و ہراس ہوتے ہُوئے

مجھے یقین نہیں ہے یہ کیسے ممکن ہے
وہ اتنا دور ہوا اتنا پاس ہوتے ہُوئے
٭٭٭


شہرِ صدمات سے آگے نہیں جانے والا
میں تری ذات سے آگے نہیں جانے والا

تو بھی اوقات میں رہ مُجھ سے جھگڑنے والے
میں بھی اوقات سے آگے نہیں جانے والا

ایسے لگتا ہے مری جان تعلق اپنا
اس ملاقات سے آگے نہیں جانے والا

آج کی رات ہے بس نور کی کرنوں کا جلال
دیپ اس رات سے آگے نہیں جانے والا

میرے کشکول میں ڈال اور ذرا عجز کہ میں
اتنی خیرات سے آگے نہیں جانے والا
٭٭٭


دست بستوں کو اشارہ بھی تو ہو سکتا ہے
اب وہی شخص ہمارا بھی تو ہو سکتا ہے

میں یہ ایسے ہی نہیں چھان رہا ہوں اب تک
خاک میں کوئی ستارہ بھی تو ہو سکتا ہے

عین ممکن ہے کہ بینائی مجھے دھوکہ دے
یہ جو شبنم ہے شرارہ بھی تو ہو سکتا ہے

اس محبت میں ہر اک شے بھی تو لُٹ سکتی ہے
اس محبت میں خسارہ بھی تو ہو سکتا ہے

گر ہے سانسوں کا تسلسل مری قسمت میں خیال
پھر یہ گرداب کنارا بھی تو ہو سکتا ہے
٭٭٭



شہرِ ستم شعار کی وحشت ہے اور مَیں
ہر موڑ پر نئی سی اذیت ہے اور مَیں

بیتے دنوں کی یاد ہے سینے میں موجزن
ہجر و وصالِ یار کی لذّت ہے اور مَیں

منظر ہمارے عکس سے روشن ہوئے تمام
ہر سُو جمالِ یار کی صورت ہے اور مَیں

 میرے تمام کام ادھورے ہی رہ گئے
دنیا میں چند روز کی مہلت ہے اور مَیں

 اِک وقت تھا کہ مجھ کو کوئی جانتا نہ تھا
اب تو گلی گلی مری شہرت ہے اور میں
٭٭٭


یہ کیسے لوگ ہیں جو دن کو سونے لگ گئے ہیں
اور آنکھوں میں سنہرے خواب بونے لگ گئے ہیں

انہیں شاید لہو رنگت کا اندازہ نہیں ہے
جو دامن سے لہو کے داغ دھونے لگ گئے ہیں

یہ کیسی آگ سی من میں جلائے پھر رہے ہو
تمہارے قرب سے ہم راکھ ہونے لگ گئے ہیں

زمانے کی ہوس میں ہم بہت غافل ہوئے ہیں
ہمارے سب ضروری کام کونے لگ گئے ہیں

حقیقت ہے کہ میری آنکھ دھوکا کھا رہی ہے
تمہارے خال و خد بے رنگ ہونے لگ گئے ہیں
٭٭٭



موج در موج سمندر میں ہُوا کرتا تھا
دشت جب آب کے پیکر میں ہُوا کرتا تھا

تھوڑی سی دیر میں چھُوتا تھا فلک کی چادر
اک جواں عزم مرے پر میں ہُوا کرتا تھا

ہم اُسی سمت کو چلتے تھے جدھر خوف سا ہو
ایک سودا سا کبھی سَر میں ہُوا کرتا تھا

مُجھ سا تاریک بدن جس کے سبب روشن تھا
وہ اُجالا تِرے پیکر میں ہُوا کرتا تھا

اب تو میں دشت میں ہوں دشت ہے مُجھ میں احمد
اک زمانہ تھا کہ میں گھر میں ہُوا کرتا تھا
٭٭٭



شام کو بام پہ آتے ہُوئے ڈر لگتا ہے
اب کوئی دیپ جلاتے ہُوئے ڈر لگتا ہے

ہاں وہی لوگ مری ذات کا حصہ تھے کبھی
جن سے اب ہاتھ مِلاتے ہُوئے ڈر لگتا ہے

چھوٹی سی بات منڈیروں سے لپٹ سکتی ہے
گھر میں یوں اشک بہاتے ہُوئے ڈر لگتا ہے

بات سچی ہے کہ وہ دم ہے نہ خم کاندھوں میں
اب بڑا بوجھ اُٹھاتے ہُوئے ڈر لگتا ہے

کیا خبر راز پسِ پُشت لئے ہو کتنے
کوئی دیوار گراتے ہُوئے ڈر لگتا ہے
٭٭٭






جب بڑا صبر کسی ذات میں آ جاتا ہے
پھر وہ کربل کی روایات میں آ جاتا ہے

جیسے ہی رات پہ آتا ہے بلا کا جو بن
میرا وہ یار مری گھات میں آ جاتا ہے

کون ٹھہرا ہے ترے طرزِ تکلّم کے حضور
جب ترا حسن تری بات میں آ جاتا ہے

کچّی بنیاد پہ تعمیر کیا تھا گھر کو
اک عجب خوف سا برسات میں آ جاتا ہے

جو سمجھنے کے لئے ایک زمانہ مانگے
ایسا نکتہ بھی سوالات میں آ جاتا ہے

جب کسی شخص کے آگے مرا پھیلا ہُوا ہاتھ
خالی ہٹتا ہے تو اوقات میں آ جاتا ہے
٭٭٭


کوئی حیرت ہے نہ اس بات کا رونا ہے ہمیں
خاک سے اٹھے ہیں سو خاک ہی ہونا ہے ہمیں

پھر تعلق کے بکھرنے کی شکایت کیسی
جب اسے کانچ کے دھاگوں میں پرونا ہے ہمیں

انگلیوں کی سبھی پوروں سے لہو رستا ہے
اپنے دامن کے یہ کس داغ کو دھونا ہے ہمیں

پھر اُتر آئے ہیں پلکوں پہ سسکتے آنسو
پھر کسی شام کے آنچل کو بھگونا ہے ہمیں

یہ جو افلاک کی وسعت میں لئے پھرتی ہے
اس انا نے ہی کسی روز ڈبونا ہے ہمیں
٭٭٭


فنا کے دشت میں کب کا اُتر گیا تھا مَیں
تمہارا ساتھ نہ ہوتا تو مر گیا تھا مَیں

کِسی کے دستِ ہُنر نے مجھے سمیٹ لیا
وگرنہ پات کی صورت بکھر گیا تھا مَیں

وہ خوش جمال چمن سے گزر کے آیا تو
مہک اُٹھے تھے گلاب اور نکھر گیا تھا مَیں

کوئی تو دشت سمندر میں ڈھل گیا آخر
کِسی کے ہجر میں رَو رَو کے بھر گیا تھا مَیں
٭٭٭



ایک سکُوتِ مَرگ ہے کچھ بھی کہیں نہیں رہا
سارے مکاں اُجڑ گئے کوئی مکیں نہیں رہا

ایک خطا سی کیا ہوئی راکھ وقار ہو گیا
ساری ریاضتیں گئیں نقشِ جبیں نہیں رہا

رنگ جہاں پہ رنگ سے ملتے ہیں اک ترنگ سے
اب وہ قریں نہیں رہا اتنا قریں نہیں رہا

سایہ جو اپنا دیکھ لیں ڈرتے ہیں اتنی زور سے
خلق کا ذکر کیا کریں خود پہ یقیں نہیں رہا

اُس کو فلک ہوئے کئی ماہ گزر گئے خیال
میری پہُنچ سے دور ہے اب وہ زمیں نہیں رہا
٭٭٭



مرے اندر روانی ختم ہوتی جا رہی ہے
سو لگتا ہے کہانی ختم ہوتی جا رہی ہے

اُسے چھُو کر لبوں سے پھُول جھڑنے لگ گئے ہیں
مری آتش فشانی ختم ہوتی جا رہی ہے

سُلگتے دشت میں اب دھوپ سہنا پڑ گئی ہے
تمہاری سائبانی ختم ہوتی جا رہی ہے

ہمارا دل زمانے سے اُلجھنے لگ گیا ہے
تمہاری حکمرانی ختم ہوتی جا رہی ہے

سمندر سے سمٹ کر جھیل بنتے جا رہے ہیں
ہماری بے کرانی ختم ہوتی جا رہی ہے
٭٭٭



شوخ رنگوں کی کہانی کی طرف لے جائے
دل مجھے عہدِ جوانی کی طرف لے جائے

جانے کیوں روز سمندر میں اترنے کا خیال
مجھ کو بہتے ہوئے پانی کی طرف لے جائے

پہلے پہلے تو بھرے رکھتا ہے دامانِ طلب
پھر یہی عشق گرانی کی طرف لے جائے

باقی ہر چیز مری ذات کو ٹھہراؤ دے
اک ترا ذکر روانی کی طرف لے جائے

منتشر ذات کو ہے مات، کوئی تھامے اور
مجھ کو ترتیبِ زمانی کی طرف لے جائے
٭٭٭



قسمت کو اپنا ساتھ گوارا نہیں ہوا
لوٹا ہوں خاک خاک ستارہ نہیں ہوا

وحشت میں وہ ہے تیز تو مُجھ میں جنوں بلا
صحرا کے ساتھ اپنا گذارا نہیں ہوا

حیرت زدہ ہیں لوگ کہ کیسے وہ آگ سے
نکلا ہے بن کے پھول شرارہ نہیں ہوا

احمد خیال دیکھ اُن آنکھوں کو کیا ہوا
مدّت گزر گئی ہے اشارہ نہیں ہوا
٭٭٭



اُداسیوں کی میں شال اوڑھے گُلاب رُت سے گزر رہا ہوں
عذاب مجھ میں اُتر گئے ہیں نہ جی رہا ہوں نہ مر رہا ہوں

فلک پہ تارے ہیں ضو فشاں اور زمیں پہ جگنو چمک رہے ہیں
یہ قربتوں کا اثر ہے سارا گُلاب صورت نکھر رہا ہوں

ہر ایک رشتہ مری پہنچ سے بہت ہی آگے چلا گیا ہے
حواس کھو کر انا کی دلدل میں جیسے جیسے اتر رہا ہوں

یہ اب ہُوا ہے کہ رقص کرتی ہے چاپ قدموں کی ہر طرف ہی
میں ایک مُدّت اُجاڑ بستی کی گرد اٹی رہگزر رہا ہوں
٭٭٭



میں ہر تمنّا کا چہرہ غبار کرتا ہوا
پلٹ گیا ہوں ترا انتظار کرتا ہوا

میں کیا گرا کہ گزرتا چلا گیا ہر شخص
مرے بدن کو پسِ رہگزار کرتا ہوا

مرا یہ جسم گراں پڑ رہا ہے قدموں کو
کھڑا ہوں کب سے ترا انتظار کرتا ہوا

نجانے کون سی منزل چلا ہے سورج اب
سسکتی کرنوں کو رتھ میں سوار کرتا ہوا

ذرا سی دیر ہوں میں اب جہاں کے نقشے پر
بکھر رہا ہوں غموں کو شمار کرتا ہوا
٭٭٭


چلو کہ صبر کو اپنا نشاں کیا جائے
ذرا سی بات پہ کس کا زیاں کیا جائے

تمام لوگ اندھیرے سے خوف کھاتے ہیں
سو آج رات انہیں بے اماں کیا جائے

مری زبان کا اب بھی یہی تقاضا ہے
اُسی کے ذکر سے مجھ کو رواں کیا جائے

بہت دنوں سے سدھرنے کی کاوشوں میں ہوں
سوال یہ ہے جنوں کو کہاں کیا جائے

ہم اپنی آگ میں جل کر ہوئے ہیں راکھ تو پھر
کسی کی ذات پہ کیسے گماں کیا جائے
٭٭٭


خنک سی ریت پر وہ رکھ کے سر سویا ہوا ہے
سفر آغوش میں لے کر شجر سویا ہوا ہے

وہ جاگا تو بھنور کر دے گا سب نظریں جہاں کی
مرے اندر جو صدیوں سے ہُنر سویا ہوا ہے

مجھے محسوس ہوتا ہے خلا میں ہی کہیں پر
مری ساری دعاؤں کا اثر سویا ہوا ہے

کبھی تُم کاٹ کر پھینکو نہ اِن کو یوں سرِ  راہ
انہی شاخوں کے جھُولوں میں ثمر سویا ہوا ہے

بھلا کون اب جہاں کے رتھ کو کھینچے گا زمیں پر
یہ سب عالم تو تا حدِ نظر سویا ہوا ہے
٭٭٭



جب یقیں ایک قدم اور گماں تک پہنچا
سلسلہ اشک کا پھر آبِ رواں تک پہنچا

کچھ ستارے تھے جو رقصاں تھے زمیں پر ہر سُو
جب میں اک شب ترے قدموں کے نشاں تک پہنچا

ہم کو ذلت کے سوا ہاتھ نہ آیا کچھ بھی
سلسلہ عشق کا جب سود و زیاں تک پہنچا

کب کسی در پہ ترے ظلم کا رونا رویا
کب کوئی لفظ شکایت کا زباں تک پہنچا

ہم ازل سے ہی تغافل سے نبھاتے آئے
قافلہ وقت کا کیا جانیں کہاں تک پہنچا
٭٭٭



کُچھ بھی امید نہ تھی جس سے وفاداری کی
ہم نے حد سے بھی سوا اُس کی طرفداری کی

ہم نے ہر خواہشِ بے تاب کا سر کاٹ دیا
اور اب رسم نبھائیں گے عزاداری کی

اُس نے ہر بار مِری سادہ روی کو دیکھا
اُس نے ہر بار مِرے ساتھ اداکاری کی

ہم وہ بدنام، اگر جن سے خطا ہو جائے
شہر کا شہر گواہی دے گنہگاری کی
٭٭٭


کچھ دیکھ نہ پایا میں نظر ہوتے ہوئے بھی
کیوں اتنا اندھیرا ہے سحر ہوتے ہوئے بھی

میں جانتا ہوں کتنی مسافت پہ ہے منزل
سو چین سے بیٹھا ہوں سفر ہوتے ہوئے بھی

یہ تیری محبت کا کرشمہ ہے مری جان !
میں شہر میں ہوں شہر بدر ہوتے ہوئے بھی

امیں خود کو اذیت کے مراحل میں رکھے ہوں
سو دھُوپ میں بیٹھا ہوں شجر ہوتے ہوئے بھی
٭٭٭


ہر گھڑی ایک نیا نقش بنایا جائے
میری مٹی کو اگر چاک پہ لایا جائے

میں کہ ٹھہرے ہوئے پانی کا اثر جانتا ہوں
مُجھ کو دریا کی روانی میں بہایا جائے

اپنے گھر بار کو اب راکھ کئے بیٹھا ہوں
میری خواہش تھی کوئی دیپ جلایا جائے

ضعف ایسا ہے کہ تنکے سے کمر ٹوٹتی ہے
زندگی کیسے ترا بوجھ اٹھایا جائے
٭٭٭






جیسی ہونی ہو وہ رفتار نہیں بھی ہوتی
راہ اُس سمت کی ہموار نہیں بھی ہوتی

میں تہی دست لڑائی کے ہنر سیکھتا ہوں
کبھی اس ہاتھ میں تلوار نہیں بھی ہوتی

پھر بھی ہم لوگ تھے رسموں میں عقیدوں میں جدا
گر یہاں بیچ میں دیوار نہیں بھی ہوتی

وہ مری ذات سے انکار کئے رکھتا ہے
گر کبھی صورتِ انکار نہیں بھی ہوتی

جس کو بے کار سمجھ کر کسی کونے میں رکھیں
ایسا ہوتا ہے کہ بے کار نہیں بھی ہوتی

دل کسی بزم میں جاتے ہی مچلتا ہے خیال
سو طبیعت کہیں بے زار نہیں بھی ہوتی
٭٭٭



عمر گزری ہے تری سمت سفر کرتے ہُوئے
پھر بھی تُو خوف میں ہے ہم پہ نظر کرتے ہُوئے

مُجھ کو زنداں کی فصیلوں سے کوئی خوف نہیں
میں نکل جاؤں گا دیوار کو در کرتے ہُوئے

رب سے مانگا ہوا دامن سے چھلک پڑتا ہے
جب بھی کرتا ہوں دعا آنکھ کو تر کرتے ہُوئے

کیا خبر مُشت بھری خاک ستارہ ہو جائے
تُو کسی روز گزر ہم پہ نظر کرتے ہُوئے

تُو خیال آنچ کو لہجے کی کھنک میں بھر دے
کوئی پہچان تو ہو کارِ ہنر کرتے ہُوئے
٭٭٭




دیوانہ سمجھتے ہیں بستی کے مکیں مُجھ کو
کرتے چلے جاتے ہیں صحرا کے قریں مُجھ کو

احساس ہُوا اپنا جب مانگ بڑھی میری
آکاش بلاتا ہے کھینچے ہے زمیں مُجھ کو

پہچان چلی جائے کُچھ بھی تو نہیں بچتا
بے رنگ نہ کر ڈالے یہ خاک کہیں مُجھ کو

کب عشق ہُوا اُس سے کب آنکھ لڑی احمد
معلوم نہیں پڑتا، کُچھ یاد نہیں مُجھ کو
٭٭٭



دھنک کے رنگ عجب زاویئے بناتے ہیں
شبِ وصال کئی عکس جھلملاتے ہیں

ہوائے تُند کے ہاتھوں کا معجزہ ہے میاں
وگرنہ پات شجر خود کہاں گراتے ہیں

کمالِ ضبط مشقّت کی سمت راغب ہے
غموں کا بوجھ جہاں سے ملے اُٹھاتے ہیں

دھنک پہ جھُولے جھُلاتے ہیں رقص کرتے ہیں
ہم اُس کے ساتھ کئی گیت گُنگناتے ہیں

تمام دشت بگولے ہتھیلیوں پہ لئے
ہر ایک نقش پہ اب خاک دھرتے جاتے ہیں
٭٭٭



حرم کی سمت کہ سُوئے بتاں نہیں دیکھا
تری تلاش میں ہم نے کہاں نہیں دیکھا

کسی کی بات چلی ہے نہ چلنے دیتا ہوں
مری زبان کو تُو نے رواں نہیں دیکھا

ابھی سے کیوں وہ بدلتا ہے خاک میں پیکر
ابھی تو ہم نے نظر بھر جہاں نہیں دیکھا

بدن میں ایک اداسی کا شور برپا ہے
بہت دنوں سے کوئی امتحاں نہیں دیکھا
٭٭٭



اتنا آسان کہاں شعر نگر تک پہنچا
میں نے کہسار کو کاٹا تو ہنر تک پُہنچا

اے زمانے کی ہوا! بھٹکے ہُوئے عرصہ ہُوا
میری انگلی کو پکڑ لے مجھے گھر تک پُہنچا

دشت کی خاک ہی پوشاک ہے دیوانے کی
تیرا یہ عشق عجب ڈھنگ سے سر تک پُہنچا

آبلے پاؤں کے اب چھاؤں سے کب جائیں گے
میں بڑی دیر سے اس بار شجر تک پُہنچا
٭٭٭



تُمھارے ساتھ گرا تھا سنبھل گیا میں بھی
سلگتے دشت سے آگے نکل گیا میں بھی

مرا کمال اُجالوں کے دم قدم سے تھا
سو آفتاب کے ڈھلتے ہی ڈھل گیا میں بھی

تو اپنی تیز روی کے غرور میں مت رہ
سنبھل زمانے! کوئی چال چل گیا میں بھی

عجب نہیں ہیں چراغوں پہ راکھ ہوتے ہوئے
شبِ وصال تری لو سے جل گیا میں بھی

وہ شوخ رنگ نجانے کہاں گئے احمد
بہار گزری تو کتنا بدل گیا میں بھی
٭٭٭


مِرے وجود کے صحرا سے پار کر مُجھ کو
ہوائے وقت کی شدت غبار کر مُجھ کو

میں اُس کو ڈھونڈ رہا ہوں طویل مدت سے
وہ چھُپ گیا ہے کہیں تو پکار کر مُجھ کو

تمہاری زلف سنواری ہے زندگی میں نے
تو محسنوں میں کبھی تو شمار کر مُجھ کو

میں تیز گام ہوا ہوں زمانے دیکھ مجھے
تو اپنے دوش پہ اب تو سوار کر مُجھ کو

کہیں تو ختم بھی کر دے سفر اذیّت کا
کہیں تو پھینک مِرے یار مار کر مُجھ کو
٭٭٭



اے کُوزہ گرو !کُچھ بھی بنانے کی نہیں کیا
یہ مٹی مری چاک پہ لانے کی نہیں کیا

ہر بات میں اخلاص ہے ہر رُوپ کھرا سا
اک خُو بھی ترے پاس زمانے کی نہیں کیا

اس عمر میں کیوں بوجھ اُٹھاتے ہو شب و روز
اس عمر میں اولاد کمانے کی نہیں کیا

یہ دیپ جو لڑتا ہے اندھیروں سے مرا ہے
یہ تیز ہوا تیرے گھرانے کی نہیں کیا

کُچھ غم مجھے دیمک کی طرح چاٹ رہے ہیں
یہ بات بھی اب اُس کو بتانے کی نہیں کیا
٭٭٭



قصۂ ہستی بھی آخر پاک ہونے لگ گیا
خاک ہونا تھا مُجھے سو خاک ہونے لگ گیا

پھر صبا اٹکھیلیوں کے مُوڈ میں آنے لگی
پھُول کا بندِ قبا پھر چاک ہونے لگ گیا

مُجھ کو شاید بھیگنے کی آرزُو مہنگی پڑے
میں ضرورت سے سوا نمناک ہونے لگ گیا

وہ اچانک آ گیا تھا میرے گھر میں ایک روز
میں اچانک ہم سرِ افلاک ہونے لگ گیا

وہ ذرا سی دیر میرے پاس بیٹھا کیا خیال
مُجھ کو اپنی ذات کا ادراک ہونے لگ گیا
٭٭٭




عکسِ مہتاب کو پانی سے نکالے ہُوئے تھا
وہ مُجھے اپنی کہانی سے نکالے ہُوئے تھا

ایک گردابِ  بلا خیز کا لشکر تھا کہ جو
زور دریا کی روانی سے نکالے ہُوئے تھا

میں ترے ہجر کے پُر درد خزاں موسم میں
خود کو ترتیبِ زمانی سے نکالے ہُوئے تھا

ایک دیوانہ جنوں رنگ میں منزل کا سُراغ
تیرے قدموں کی نشانی سے نکالے ہُوئے تھا
٭٭٭



متفرقات

مجھ کو گرداب کی للکار نہ بھائی تھی ذرا
لوٹ آیا ہوں کنارے کی طرف جاتے ہوئے
٭٭٭

تعلق کو پَسِ دیوار کرنا آ گیا ہے
اُسے بھی اب سمندر پار کرنا آ گیا ہے
٭٭٭

اُس چاند کا تالاب میں آنا بھی عجب تھا
اور شوخ اداؤں سے نہانا بھی عجب تھا
اک کھیل بھی کب جیت سکے اُس کے مقابل
گر ہم تھے بہت تیز، زمانہ بھی عجب تھا
٭٭٭

یونہی تاریک نہ تھی ساری فضا کی رنگت
گیسوئے یار کہیں شام میں الجھے ہوئے تھے
٭٭٭

یہ کس کے دم سے فصیلِ حیات جگمگ ہے
یہ کس کے دم سے لہو کے چراغ روشن ہیں
یہ کس نے بخشا شعورِ حیاتِ نو سب کو
کہ جس کی ضو سے ابھی تک دماغ روشن ہیں
٭٭٭

کچھ زخم مری ذات کے اندر ہیں ابھی تک
آنکھیں مری اشکوں کا سمندر ہیں ابھی تک
نقشِ کفِ پا ہیں کہ چراغوں کی قطاریں
راہیں مری بستی کی منوّر ہیں ابھی تک
٭٭٭

بھلا یہ کون چلاتا ہے زندگی کا نظام
بھلا یہ کون زمانوں پہ ہاتھ رکھتا ہے
شکستہ بام کی درزوں سے رینگتا سایہ
ہر ایک شب مرے شانوں پہ ہاتھ رکھتا ہے
٭٭٭

ہر ایک سمت ضیائیں دھمال ڈالتی ہیں
یہ کس نظر سے ستارہ کیا گیا مجھ کو
میں ایک بار بھی جیون کی سُن نہیں پایا
ہزار بار اشارہ کیا گیا مجھ کو
٭٭٭

یہ خوف رگِ جاں میں ابھی تک ہے نمایاں
اس دشت کی یہ خاک مجھے خاک نہ کر دے
یہ بات بہت سوچ کے کہنی ہے مری جاں !
یہ بات کہیں آنکھ کو نمناک نہ کر دے
٭٭٭

جب کبھی وہ دل صد چاک سے اُٹھ جائیں گے
ہم بھی چُپ چاپ تری خاک سے اُٹھ جائیں گے
دل کے اندر سے بھلا کون اتارے گا انہیں
گو یہ دھبّے تری پوشاک سے اُٹھ جائیں گے
کوزہ گر اب ترے ہاتھوں میں تھکن لگتی ہے
ہم کسی روز ترے چاک سے اُٹھ جائیں گے
٭٭٭

خاکِ وطن سوال کر اپنے لہو کی بات کیا
رکھ دیں گے سب نکال کر اپنے لہو کی بات کیا
تیری فضا کے رنگ میں بھر دیں گے اک جمال سا
اپنا لہو اُچھال کر اپنے لہو کی بات کیا
٭٭٭

شام کو رونقِ بازار سے کٹ جاتا ہے
دِل ترے ہجر کے آزار سے کٹ جاتا ہے
اُس تعلق میں کوئی کھوٹ ہوا کرتا ہے
جو تعلق کسی دیوار سے کٹ جاتا ہے
اس طرح چشمِ فسوں گر سے پکارا نہ کرو
کوئی تلوار کے اِس وار سے کٹ جاتا ہے
٭٭٭

ضمیر بیچے ہوئے اور زبان بدلے ہوئے
وہ میرے سامنے آیا بیان بدلے ہوئے
تمہاری یاد کی بیلیں فلک کو چھوتی ہیں
ذرا سی دیر ہوئی ہے مکان بدلے ہوئے
٭٭٭

ہر بار تری چال نے بے حال کیا ہے
اے وقت کوئی چال تو چلنے دے مجھے بھی
جس رُوپ کو یہ دھوپ بگاڑے نہ کہیں سے
ایسے ہی کسی رُوپ میں ڈھلنے دے مجھے بھی
٭٭٭

تمہارے ہجر کے گھاؤ ہرے بھرے ہیں ابھی
سو بات بات پہ تُجھ سے ڈرے ڈرے ہیں ابھی
تمام یار بہت چالباز ہونے لگے
معاملات میں ہم تو کھرے کھرے ہیں ابھی
میں ساری رات نہایا ہوں روشنی میں خیال
بُجھے چراغ اٹھا کر پرے دھرے ہیں ابھی
٭٭٭

سرِ بازار اپنی رائیگانی کا تماشا ہو
لہُو کو دیدۂ نمناک تک جانے دیا جائے
میں جو کچھ بن چُکا اُس سے بہت نا مطمئن سا ہوں
ذرا مُجھ کو دوبارہ چاک تک جانے دیا جائے
٭٭٭
ماخذ:
http://www.urduasnaf.com/Poetry/Khak%20Main%20Sitara/Page-index.html
تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید
