﻿


خاک میں صورتیں 





فضا اعظمی










پہلا سبق


حسنِ کائنات
 

کیا ہے صانعِ مطلق نے یہ جہاں تعمیر
کہ اِس کی ساخت میں مضمِر ہے اہتمامِ کثیر
رواں ہے حسنِ توازن سے کُل نظامِ حیات
اصولِ عدل پر مبنی ہے کاروبارِ مسیر

ہوا یہ اذنِ الاہی، کہا کہ’ کن فیکون‘
اور اُس کے ساتھ ہی پیدا ہوا جہانِ سکون



1

بنامِ آدم و حوّا ، بنامِ باغِ بہشت
بنامِ عالمِ لاہوت و عالمِ جبروت

بنامِ حارث اوّل، بنامِ جلوہ  طور
بنامِ گنبدِ خضرا،بنامِ پرتوِ نور
بنامِ حسنِ ازل ، حسنِ خالقِ کونین
بطالبانِ تماشا،باہتمامِ ظہور
 
بنامِ آدم و حّوا ، بنامِ باغِ بہشت
بنامِ عالمِ لاہوت و عالمِ جبروت


2
 
بنامِ لالۂ صحرا ، بنامِ صوتِ ہزار
بنامِ بادِ بہادری ، برغبتِ گلزار
بنامِ لالہ رُخانِ سبک خرام و ملیح
بنامِ عشوۂ ساقی، بفیضِ روئے نگار
 
نظر فروز ہے ، دل کش ہے ، دل نواز ہے حسن
خدا کی رحمتِ بے حد کا شاہکار ہے حسن

3
 
بفرقِ چہرۂ زیبا ، بقامتِ دل دار
بطولِ کاکلِ شب گوں ، بگیسوئے خم دار
بشرطِ وعدۂ حورانِ خوش جمال و خصال
برنگِ جلوۂ محبوبِ گل بدن ، گل عذار
 
جہانِ لفظ و معانی کا راز دار ہے حسن
سکونِ روح ہے ، سرمایۂ قرار ہے حسن


4

چلا ہے قافلۂ حسن ، گلستاں بردوش
اٹھی ہے موجِ ملاحت غنیمِ عقل و ہوش
چلی ہے بادِ بہاری پیامِ تازہ لیے 
سجی ہے محفلِ یارانِ دل رُبا ، گل پوش
 
بہ بارگاہِ محبت عقیق رنگ ہے حسن
بہ عاشقانِ جفا کش لبِ خدنگ ہے حسن

5
 
تمام عالمِ گِل جلوہ گاہِ قدرت ہے 
ہمارے پیشِ نظر اک جہانِ حیرت ہے 
برائے فکرِ رسا ارمغانِ فطرت ہے 
ہر ایک نقش کے اندر خدا کی حکمت ہے 
 
عطائے خالقِ کونین و کردگار ہے حسن
عروسِ عالمِ خاکی کا تاجدار ہے حسن
 


6
 
کیا ہے صانعِ مطلق نے یہ جہاں تعمیر
کہ اِس کی ساخت میں مضمر ہے اہتمامِ کثیر
رواں ہے حسنِ توازن سے کُل نظامِ حیات
اصولِ عدل پہ مبنی ہے کاروبارِ مسیر
 
ہوا یہ اذنِ الٰہی ، کہا کہ ’کُن فیکون‘
اور اُس کے ساتھ ہی پیدا ہوا جہانِ سکون
 

7

کہ اک نفس سے بنائے ، اناث ہوں کہ ذکور
عطا کیا اُنھیں سرمایۂ ذکا و شعور
عمل کو حاصلِ انسانیّت قرار دیا
مقامِ فخر و مباہات کا بنا دستور
 
کھڑا ہے عالمِ انسانیّت کا جمِ غفیر
کہ اِس زمین پہ کوئی نہیں امیر و فقیر
 


8
 
خدا نے سب کو بنایا ہے اشرف المخلوق
اور اُس نے سب کو دیے ہیں برابری کے حقوق
سب ایک صف میں کھڑے ہیں امیر ہو کہ غریب
نہ فرقِ زنگی و زاہد ، نہ عاشق و معشوق
 
تمام خلقتِ گیتی کی ایک ہی ہے قطار
نہ شاہ ہے کوئی اِن میں ، نہ ہے کوئی بخارّ
 

9
 
جہاں میں شیخ و برہمن سبھی برابر ہیں 
یہاں پہ رہبر و رہزن سبھی برابر ہیں 
بطورِ بندۂ خالق ہیں ایک صف میں کھڑی
بشکلِ آدمِ خاکی سبھی برابر ہیں 
 
نہ اِن میں کوئی ہے چھوٹا ، نہ ہے بڑا کوئی
نہ کوئی عرش نشیں ہے ، نہ بے نوا کوئی


 
10
 
زمیں پہ جو بھی ہے ، وہ حکمِ کردگار میں ہے 
ہر ایک خاک نشین ایک ہی حصار میں ہے 
نہ اِن میں کم تر و مہتر ، نہ اِن میں ذات نہ پات
ہر ایک فردِ بشر ایک کارزار میں ہے 
 
یہاں پہ حق کی غلامی کا قرض ہے سب پر
فرنگِ سرخ ہو خاکی ہو ، فرض ہے سب پر
 

11
 

نہ کوئی نور کا پَرتو ، نہ کوئی نار کا ہے 
نہ اِن میں فرق کوئی عزّ و اقتدار کا ہے 
کہ مرتبے میں سبھی ایک ہیں ہو مرد کہ زن
ہر ایک جسم و جسد خاک رہ گزار کا ہے 
 
اِسی سے عالمِ انسانیت دیا ترتیب
یہی بِنائے تمدّن ، یہی رخِ تہذیب




رموزِ آفرینش
 

میں بے بصر تھا تو بینائی تو نے دی مجھ کو
میں خستہ جاں تھا، شکیبائی تو نے دی مجھ کو
میں بے قرار تھا ، آغوش کا سکون دیا
میں بے زبان تھا ، گویائی تو نے دی مجھ کو

شعور و شوق کا پہلا ورق پڑھا تجھ سے 
سکونِ لمس کا پہلا سبق ملا تجھ سے 




دوسرا سبق

رموزِ آفرینش
 


ترا و جود بِنائے وجودِ عالمِ ہست
ترے نفوس کی توسیع ہے مری فطرت

بنامِ شفقتِ مادر ، بنامِ سایۂ عطف
بنامِ مہد مسیحا نفس ، گلِ با وصف
بہ رمزِ خالق و مخلوق پیش خیمۂ ذات
بہ رمزِ بطنِ حیات آفرین بدیدۂ  پُر لطف

ترا وجود بِنائے وجودِ عالمِ ہست
ترے نفوس کی توسیع ہے مری فطرت
 

13
 
مرا وجود غلط بھی ہے اور صحیح بھی ہے 
ترے وجود کا اثبات بھی ، نفی بھی ہے 
میں منسلک تھا تری زندگی کی ڈور کے ساتھ
میں کٹ گیا ہوں تو اِس میں تری شبیہ بھی ہے 

یہ لوگ کہتے ہیں مجھ میں تری شباہت ہے 
کہ ذات میری تری ذات کی علامت ہے 
 

14
 
وہ جانتے ہیں کہ دل مجھ میں جو دھڑکتا ہے 
وہ تیرے قلبِ سکوں آفریں کا حصّہ ہے 
میں کچھ نہیں تھا، میں کچھ ہوں ، تو میری ہستی ہے 
مری نظر میں تری روشنی کا جلوہ ہے 


مرا دماغ ترے ذہن کی گواہی ہے 
ترے حضور مجھے شرفِ درس گاہی ہے 
 

15


وفورِ غم میں جو آنسو مرے نکلتے ہیں 
ستارے جو مری پلکوں کے ساتھ چلتے ہیں 
وہ تیری غم زدہ نظروں کا مجھ کو تحفہ ہیں 
جو تو نے مجھ کو دیے ہیں ، وہ پھول کھلتے ہیں 
 
یہ ربطِ خاص جو بستہ ہے دل کی کاہش سے 
یہ جوئبار رواں ہے جو آفرینش سے 
 
 
16
 
میں بے بصر تھا تو بینائی تو نے دی مجھ کو
میں خستہ جاں تھا ، شکیبائی تو نے دی مجھ کو
میں بے قرار تھا ، آغوش کا سکون دیا
میں بے زبان تھا، گویائی تو نے دی مجھ کو
 

شعور و شوق کا پہلا ورق پڑھا تجھ سے 
سکونِ لمس کا پہلا سبق ملا تجھ سے 
 

17
 
سرشکِ کرب سے فطرت کو آشکار کیا
عذابِ درد سے خلقت کو ہم کنار کیا
لہو سے کشتِ روابط کی آبیاری کی
خلوصِ رشتۂ بے لوث آشکار کیا
 

تمام خلقِ خدا میں عظیم ہے انساں 
خدا گواہ ! یقیناً عظیم تر ہے ماں 

فسادِ بشریّت
 

بشرے شرنے قبیلوں کے بت تراشے میں 
کس اہتمام سے فرقوں کے بت تراشے ہیں 
منات و لات بنائے ہیں بغض و نفرت کے 
جہانِ اوّل و سوئم کے بت تراشے ہیں 
مفادِ ذات کے بت خود تراش لیتا ہے 
وہ اشتداد کی راہیں نکال لیتا ہے 
 



تیسرا  سبق

فسادِ بشریّت
 


شکست و فتح محض تخت و اقتدار کی ہے 
تمام کش مکشِ دہر اختیار کی ہے 

بشر کی خیر میں شر کا بھی ایک حصہّ ہے 
ازل سے تا بہ ابد یہ طویل قصہّ ہے 
ہے مال و زر کی ہوس ، عزّ و جاہ کی خواہش
یہ اک جنون ہے جس کا بشر پہ سایہ ہے 
 

مفادِ ذات کے بت خود تراش لیتا ہے 
وہ اشتداد کی راہیں نکال لیتا ہے 
 

19


کہیں تراش لیے رنگ و نسل کے اصنام
سیاہ کم تر و ادنیٰ ، سفید ہے گلفام
عجب یہ ہے کہ ترقی کے اِس زمانے میں 
سفید احسن و ارفع ، سیاہ ہے بدنام
 
مقامِ فکر ہے انسان چاند پر پہنچا
مگر وہ آج بھی کرتا ہے رنگ کی پوجا
 

20


بشر کے شرنے قبیلوں کے بت تراشے میں 
کس اہتمام سے فرقوں کے بت تراشے ہیں !
منات و لات بنائے ہیں بغض و نفرت کے 
جہانِ اوّل و سوئم کے بت تراشے ہیں 
 
خدا کی خلق کو طبقات میں بکھیرا ہے 
سبھوں نے اپنی فضیلت کا راگ چھیڑا ہے 
 

21
 

شدید سب سے ہوس رعب و اقتدار کی ہے 
تمام کش مکشِ دہر اختیار کی ہے 
ہو حرف و لفظ کی جادوگری کہ حکمت و فن
شکست و فتح محض تخت اور تاج کی ہے 
 
تمام خون و جراحت ہے فوقیت کی جنگ
تمام قتل و ہلاکت ہے سلطنت کی جنگ
 

22

کسی نے خلعتِ شاہی پہن کے راج کیا
کسی نے دولتِ قارون کا خراج لیا
کسی نے سِحر سے ، جادو سے سب کو رام کیا
کسی نے پیرِ زبوں بن کے سر پہ تاج لیا
 
شکار ایک ہے ، بس ہتھکنڈے بدلتے ہیں 
ہر ایک سمت سے تیروں کے وار چلتے ہیں 
 

23


کسی نے قشقہ و زُناّر و بت سجائے ہیں 
خدا کے نام پہ فرقوں کے ڈول ڈالے ہیں 
لڑا کے قوم کو باختیار بن بیٹھے 
عوام کے لیے وعدوں کے نرم سائے ہیں 
 
خدا کو بھول گئے ، اقتدار ہاتھ ہیں ہے 
جدھر کا رخ بھی کریں ، ازدحام ساتھ میں ہے 
 

24


کسی نے طاقتِ جمہور کی قبا پہنی
مفادِ عام کی دستار زیبِ سر کر لی
قرار و عہد کے لٹّو چلا کے چھوڑ دیے 
زمام ہر کس و ناکس کی ہاتھ میں لے لی
 
مفادِ عام کے پردوں میں تاج اُن کا ہے 
اور اِس کے بعد زمانے پہ راج اُن کا ہے 
 

25
 

زمین جس پہ حکومت خدائے پاک کی ہے 
ہماری اپنی حقیقت بس اک غلام کی ہے 
ہم اِس زمیں پہ زمیندار بن کے بیٹھے ہیں 
مثال اُن کی مطیع اور تاجدار کی ہے 

کیا ہے اُس پہ حکومت کا طنطنہ طاری
بنا کے رکھّا ہے اُس کو اچھوت اور ہاری




چوتھا سبق

حوّا کا گناہ؟


 
تمام لوگ ہیں معصومیّت کا تاج لیے 
فساد زن کا ہے ، زر کا ہے اور زمین کا ہے 
یہ فیصلا ہے اٹل ، معاملہ یقین کا ہے 
گناہ و جرم کا ذمہّ کسی لعین کا ہے 
تمام لوگ ہیں معصومیّت کا تاج لیے 
فساد زن کا ہے ، زر کا ہے اور زمین کا ہے 

اگر یہ تین نہ ہوتے تو کیا بھلا ہوتا!
بدی کا نام زمانے سے اٹھ گیا ہوتا

 


27

شعارِ نفس پرستی جو ہے تو اِن سے ہے 
فساد و کفر و تمرّد جو ہے تو اِن سے ہے 
یہ ہمیں محّرکِ والیٰ بدی کے ، زشتی کے 
جہاں میں نکبت و نفرت جو ہے تو اِن سے ہے 

یہ باعثِ غم انساں ہیں ، حق کے قابل ہیں 
یہ ارتداد کے بانی ہیں ، شرحِ باطل ہیں 

 
28

عدوئے خیر و صداقت ہے ، شرم ناک ہے حسن
غنیمِ حق ہے ، سدا جان کا و بال ہے حسن
حلیفِ اہرمن و دشمنِ نجات ہے حسن
تباہ کار ہے ، آسیبِ کائنات ہے حسن

ادائے فتنہ گری حسن کے ضمیر میں ہے 
فجور و فسق کی ترغیب اِس خمیر میں ہے 

 
29

عجیب قہر ہے عورت جو مہر و شفقت ہے 
جو صبر و شکر کی ، ایثار کی علامت ہے 
کہ جس کی گود میں پلتی ہے قوم کی تقدیر
کہ جس کے پاؤں کے نیچے ریاضِ جنّت ہے 

کسی نے موردِ الزام اُس کو ٹھہرایا
کسی نے عقل کی کم مائیگی کا درش دیا

 
30

کسی نے حکمتِ انجیل کی گواہی دی
کسی نے قصۂ تخلیق کی دُہائی دی
کسی نے کام کی تقسیم کا فریب دیا
کسی نے فلسفۂ بیش و کم کی چال چلی

مراد ایک تھی ، عورت کا سرنگوں ہو جائے 
اور اُس کی مرد سے محکومیّت فزوں ہو جائے 

 

31

کسی نے اہلِ تفکّر کو معتبر مانا
اور اُن کے قول و قیادت کو مستند جانا
نگارشاتِ ارسطو ، خیالِ افلاطون
نکاتِ حکمتِ سقراط کو گہر مانا


بڑے جتن سے بتایا کہ مرد بہتر ہے 
نظامِ دہر میں عورت کا نام کم تر ہے 


32

بروئے قولِ ارسطو یہ شرحِ فطرت ہے 
کہ مرد جنس کو حاصل مقام عظمت ہے 
کہ مرد حارث اعلیٰ ہے باغِ گیتی کا
وہ بے ہنر بھی اگر ہو ، اُسے فضیلت ہے 

وہ ہر لحاظ سے آقا ہے ، زیر بار ہے زن
وہ جنسِ بہتر و افضل ہے ، خاکسار ہے زن

 
33

بروئے قولِ فلاطون واقعہ یہ ہے 
گناہ گار ہو گر مرد تو سزا یہ ہے 
نئے جنم میں وہ عورت کا روپ دھارے گا
ثبوت مرد کے اعلیٰ ضمیر کا یہ ہے 

کہ نغمہ اُس کے لیے روح کی غذا بن جائے 
اناث میں یہ محض حظ کی آگ بھڑکائے 

 
34

نپولین نے کہا ہے کہ نوعِ زن کا وجود
کیا ہے ذاتِ الٰہی نے اُس کا حق محدود
وہ ہے غلام یا ہے مردہ چیز کے مانند
صفاتِ ذات کی راہیں تمام ہیں مسدود

نہ زندگی کی وہ حق دار ہے ، نہ مرنے کی
وہ مستحق ہے فقط زیرِ خاک ہونے کی

 


35

یہ فکر عام تھی یوناں کے اہلِ دانش میں 
عیاں ہے صاف جو اقوال میں ، نگارش میں 
کہ مرد کے لیے تو لید کی مشین ہے زن
وہ اک وسیلہ ہے نسلوں کی آفرینش میں 

یہ فرض اُس کا ہے اولاد دے ، نرینہ دے 
حسب نسب کی بلندی کا ایک زینہ دے 

 
36

وہ ایک لڑکی کا حق تو قبول کرتے تھے 
ہوں اِس سے زیادہ تو بے حد ملول ہوتے تھے 
طعام و آب کی محرومیوں کے ظلم کے ساتھ
اُنھیں وہ موت کے منھ میں ڈھکیل دیتے تھے 

کہیں غلام میں دے کر نجات پاتے تھے 
کہیں غلامی میں دے کر نجات پاتے تھے 
کہیں وہ جسم فروشی کا جبر کرتے تھے 


37

یہ قائدینِ کلیسا کا قولِ محکم تھا
یہ اُن کا عزم تھا اور عزم یہ مصّمم تھا
اِس اعتقاد کو وہ حرفِ حق سمجھتے تھے 
سوال کوئی وہاں بیش کا نہ کم کا تھا

رخِ زمین پہ زن ہے گناہ کی بنیاد
وہی کرے گی جہانِ عزیز کو برباد

 
38

یہ اُن کا قول تھا ، تفسیر تھی ، حکایت تھی
یہ اُن کی فکر تھی ، تعبیر تھی ، روایت تھی
کہ بدنصیبی فلک سے نہیں اترتی ہے 
کہ اِس کا منبع و مادا جہاں میں عورت تھی

بغیر اُس کے یہ نقشہ ہی دوسرا ہوتا
تمام گلشنِ ہستی ہرا بھرا ہوتا

 

39

ہے شیطنت کے لیے بابت کھولنا والی
برائے روحِ بدی راہ کھولنے والی
کہ اُس نے توڑ دیا قبلِ شجرِ ممنوعہ
ہے انحراف کا دروازہ کھولنے والی

مریدِ خاصِ ہے ، شیطان کی ہراول ہے 
کتابِ رغبتِ عصیاں کا بابِ اوّل ہے 

 
40

قرونِ اوّل و وسطیٰ کی یہ روایت تھی
یہ اپنے دور کی اِک مستقل حقیقت تھی
یہود و اہلِ نصاریٰ تھے متّفق اِس پر
بدی کا منہجِ اوّل جہاں میں عورت تھی

یہی وجہ ہے کہ اُس پر خدا کی لعنت ہے 
زمانے بھر کے لیے وہ بِنائے وحشت ہے 

 
41

خدا کا قہر ہے اُس پر ، گناہ گار ہے وہ
حمل کے قہرِ مسلسل سے زیر بار ہے وہ
وہ دردِ زہ کی اذیّت میں مبتلا ہو کر
تباہ حال ہے ، بے چین وہ بے قرار ہے وہ

اک اور قہر ہے بچّوں کی پرورش کرنا
شبانہ روز مصیبت سے مضمحل رہنا

 
42

عذابِ جان ہے آرائِش جسد کی رسم
خدا کا قہر ہے کانوں کو چھیدنے کی رسم
یہ زر خرید غلامی کی اک نشانی ہے 
مثالِ لعنتِ پیہم ہے بے بسی کی رسم

یہ فلسفہ تھا کلیسا کے پاسبانوں کا
یہ نظریہ تھا یہودا کے پاس داروں کا

 


43

وبالِ جان ہے دوشیزگی کی حالت بھی
تغیرّاتِ بلوغت میں ہے اذیّت بھی
وہ اِس کو قہرِ الہٰی شمار کرتے تھے 
کہ یہ نشانِ نجاست بھی ہے ، نحوست بھی

وہ شکر کرتے تھے خالق کا اِس عنایت کا
نہیں دیا جو اُنھیں روپ اُ نے عورت کا
 

44

یہ واہمہ تھا یہودی نژاد لوگوں کا
کہ اعتبار کے قابل نہیں بیان اُس کا
وہ بدنصیب گواہی کے حق سے ہے محروم
کہ زن کی ذات پہ یہ بھی ہے قہر یزدان کا

دروغ گو ہے ، اُسے عارضہ ہے نسیاں کا
اُسے ہے ہوش کہاں واقعاتِ امکاں کا

 
45

معاملاتِ تجارت کا مرد کو حق ہے 
وہ عہد جو بھی کرے ، اختیارِ مطلق ہے 
مگر اناث ہیں اِس اختیار سے محروم
کہ اُن کے عہد کی تصدیق شرطِ واثق ہے 

 نہیں وہ اپنی بضاعت کی مالک و مختار
بغیر مرد کی تصدیق تول ہے نہ قرار

 
46

بطورِ خاص ہدایت تھی پادری کے لیے 
کہ ایسی زن سے وہ رشتہ کبھی نہیں جوڑے 
کہ جس کی ذات میں دوشیزگی نہ ہو موجود
یہ شرطِ اہم ہے ارکانِ بندگی کے لیے 

کہ بیوگی میں وہ مذموم و نامناسب ہے 
طلاق پا کے وہ منحوس و نا مبارک ہے 
 


47

وہ بدنصیب وراثت کے حق سے عاری تھی
بہن ہو، بیٹی ہو، مان ہو، فقط بھکاری تھی
وہ ظلم و جور تھا رومن سماج کے اندر
کہ جائیداد کی صورت وہ خود بھی بیٹی تھی

کہ اُس پہ حق تھا وراثت کے پانے والے کا
کہ اُس کی ذات بھی تر کہ تھا مرنے والے کا
 

48

وہ بدنصیب ضمانت کے حق سے تھی محروم
وہ بدنصیب گواہی کے حق سے تھی محروم
وہ بدنصیب اتالیق بن نہ سکتی تھی
وہ افسری کے مناصب کے حق سے تھی محروم

نہ گود لینے کا حق تھا، نہ حکم دینے کا
تھا اختیار اُسے صرف جان دینے کا
 

49

اُسے مجاز نہ تھا فکر و فن کا کام کرے 
وہ کارِ حکمتِ دانش سے احتراز کرے 
کہ اُس کا فعل تھا توسیعِ نسلِ انسانی
یہ اُس پہ فرض تھا فطرت کا احترام کرے 

یہی ہے مقصدِ خالق، یہ مقتضائے وجود
کرے وہ طفلِ نرینہ سے نسل کو مسعود

 
50

یہ راز کھول گیا ہے حکیمِ المانی
کہ علم و فضل نہیں کارہائے نسوانی
کہ علم و فضل نہیں کارہائے نسوانی
اور اِس کے بعد بھی وہ کامیاب ہو جائے 
تو اُس کی ذات میں ہے کوئی نقصِ امکانی

یہ قول مشعلِ راہِ حیات تھا اُس وقت
یہ فلسفہ درِ راہِ نجات تھا اُس وقت

 
51

بروئے ہندوی تہذیب اُن کا حال یہ تھا
بروئے قولِ حکیمانِ بد مآل یہ تھا
وہ عمر بھر کی غلامی کا طوق پہنے تھی
وہ کس قماش کی مخلوق ہے ، سوال یہ تھا

وہ جنسِ مرد کی باندی تھی اور وہ ابلہ تھی
وہ عقل و فکر بنا دی تھی اور وہ ابلہ تھی
وہ عقل و فکر سے محروم خلقِ سفلہ تھی

 
52

یہ حکمِ تھا کہ کبھی اعتبار مت کرتا
کہ جنسِ زن کو کبھی نہیں بیاں اِس کا
کہ اعتماد کے قابل نہیں بیاں اس کا
تم اِس کی راہ کبھی اختیار مت کرنا

یہ سچ کو جھوٹ بناتی ہے اور جھوٹ کو حق
کہ اِس کی فطرتِ ثانی میں ہے بدی کا سبق
 

53

یہ فیصلہ تھا شوالہ کے پاس داروں کا
یہ نظریہ تھا قدامت کے پاسبانوں کا
کہ رب نے جب کیا تخلیق صنفِ عورت کو
اسیر اُس کو بنایا کئی خلاؤں کا

کہ اُس کے دل میں خیانت کا دور دورا ہے 
کہ اُس کے ذہن میں بدطینتی کا ڈیرا ہے 

 
54

کہ اُس کی ذات میں ہے تختِ سروری کی ہوس
کہ اُس کی ذات میں ہے کینہ پروری کی ہوس
کہ اُس کے قلب میں تلخی ہے اور غصہّ ہے 
کہ اُس کی ذات میں ہے شوقِ برتری کی ہوس

وہ زیورات ہے ، دولت سے پیار کرتی ہے 
وہ خواہشاتِ نفس سے شکار کرتی ہے 

 


55

وہ انتقام کے تندور میں جھلستی ہے 
وہ سنگ دل ہے ، ستم ہائے سخت کرتی ہے 
یہ انتباہ تھا، مردوں کو احتیاط کریں 
وہ شورہ پشت ہے ، تنسیخِ خیر کرتی ہے 

زبان تیز ہے اُس کی، مزاج شکّی ہے 
عناد و بغض کا وہ بیج بونے والی ہے 

 
56

وہ ناتمام ہے اِتنی کہ اک بشر بھی نہیں 
وہ عیب دار ہے اِتنی کہ اک نفس بھی نہیں 
یہ اُس کی ذات کی محرومیوں کا عالم ہے 
کرے اکیلی وہ پوجا تو باروَر بھی نہیں 

بغیر مرد عبادت کا حق نہ تھا اُس کو
رہِ نجات میں اذنِ سفر نہ تھا اُس کو


 57

یہ اُس پہ فرض تھا شوہر کے ساتھ ساتھ چلے 
وہ ایشور کی عدالت میں اُس کے ساتھ رہے 
نجات اُس کی ہے شوہر کی پیروی کر کے 
وہ مانگتا ہے دعا جو، دعا وہی مانگے 

وہ لاکھ پاٹھ کرے ایشور کی مدحت میں 
بریّت اُس کی تھی مضمر پتی کی خدمت میں 


رقصِ بسمل


چڑھا یا اِس غرض سے صنفِ نازک کو صلیبوں پر
اُسے باندھا، اُسے مارا، اُسے کھینچا، زمینوں پر
سجائیں سولیاں ایسی کہ انسانوں کا دل دہلے 
اُسے بھونا دہکتے کوئلوں پر اور شعلوں پر
وہ چیخیں گونجتی تھیں جن سے گردوں کانپ اٹھتا تھا
وہ بے دردی کا عالم تھا فلک آنسو بہاتا تھا

 


پانچواں سبق


رقصِ بسمل



جہاں میں ہر طرف چھایا ہوا اک ہو‘ کا عالم تھا
دُکھی انسانیّت تھی اور تہذیبوں کا ماتم تھا
جہاں میں ہر طرف چھاپا ہوا اک ہو‘ کا عالم تھا
ستارے جھلملا،کر بجھ گئے تھے ، چاند مدھّم تھا
کئی صدیوں کی تاریکی کے اِس سنگین منظر میں 
دُکھی انسانیّت تھی اور تہذیبوں کا ماتم تھا
 
وہ سناّٹا تھا اخلاق و عمل کے دشتِ ویراں میں 
سسکتی، کانپتی روحوں کے سائے تھے بیاباں میں  


59


یہ عالم تھا کہ جس میں چیخ اُٹّھی ایک جانب سے 
کئی شیطان نکلے سر اٹھائے ایک قالب سے 
نگاہیں شعلہ زن تھیں ، ہاتھ میں زنجیرِ آہن تھی
وہ اُس معصوم کی جانب بڑھے جس کے وہ طالب تھے 
 
اُسے پکڑا، اُسے کھینچا، گرایا فرشِ خاکی پر
گھسیٹا اُس کو بالوں سے پکڑ کر سنگ کے اوپر
 

60


وہ چہرہ چاند سا کملا گیا سفّاک ہاتھوں میں 
اُسے ڈائن کہا اور اُس کو ڈالا قید خانوں میں 
نئے اوزار ڈھونڈے جبر کے ، ایذا رسانی کے 
کسر باقی نہیں رکھّی کوئی اُس کو ستانے میں 
 
یہ اُن کے واسطے سب ڈائنیں تھیں اور چڑیلیں تھیں 
یہ ساری عورتیں اُن کے لیے بدکار روحیں تھیں 
 

61

وہ جس صورت سے اُن کو موردِ الزام کرتے تھے 
وہ فردِ جرم اُن پر جن بہانوں سے لگاتے تھے 
وہ خونیں دور ہے دنیا میں تاریخِ مذاہب کا
وہ جیسے عدل اور انصاف کو پامال کرتے تھے 

جہاں میں اُن کے باعث آج بھی ایمان رسوا ہے 
وہ تہذیبوں کی پیشانی پہ اک ناپاک دھباّ ہے 
جہاں میں اُن کے باعث آج بھی ایمان رسوا ہے 
 

62


یہ تھا الزام عورت پر کہ وہ منحوس و ارزل ہے 
کہ شیطانوں کا بد اطوار اڈّا اُس کی محفل ہے 
پہن کر وہ سیہ ملبوس ایوانوں میں آتا ہے 
اُسے دیکھا تھا لوگوں نے ، ثقہ اُن کی گواہی ہے 
 
اُسے سب جانتے پہچانتے تھے اُس کے حلیے سے 
سزا کے واسطے لیکن وہ عورت کو پکڑتے تھے 
 

63

ثبوت اک اور بھی تھا عورتوں کی بد نہادی کا
کہ شیطاں عورتوں کو نام لے کر یاد کرتا تھا
وہ ساری عورتوں کو جانتا تھا اُن کے ناموں سے 
وہ ان سے ہم سخن تھا، ہم سفر تھا اُن کا ہمتا تھا
 
معزّز حاکموں کا، منصفوں کا فیصلہ یہ تھا
ثبوت اِس سے بڑا اِس جرم کا پھر اور کیا ہو گا؟
 

64
 

وکیلِ استغاثہ نے گواہی یہ گزاری تھی
کہ اک عورت تنِ تنہا کسی ٹیلے پہ بیٹھی تھی
یہ کہنا تھا بظاہر گو کہ وہ خاموش رہتی تھی
لبوں میں اُس کے جیسے جنبشِ موہوم ہوتی تھی
 
اب اِس سے بھی بڑی کوئی شہادت اور کیا ہو گی؟
وہاں کوئی نہیں تھا، پھر وہ کس سے بات کرتی تھی؟
 
65


چڑیلیں تھیں ، وہ ٹونا ٹوٹکا کرنے کی قائل تھیں 
قیاس اِس بات کا بھی تھا کہ وہ مدفن میں جاتی تھیں 
وہاں قبروں کے اندر سے وہ لاشیں کھود لاتی تھی
وہ اُن کے ہاتھ کے پیروں کے گٹّے توڑ دیتی تھی
 
یہ اُن کے مجرمانہ کام کی بیّن شہادت تھی
زمانِ قحبہ کے سفلی عمل کی یہ علامت تھی
 

66


کہ اُن کی ساحری سے جانور بیمار ہوتے تھے 
وہ اُن کے ٹوٹکوں سے دودھ دینا چھوڑ دیتے تھے 
وہ اشیائے طلب کے قحط کا باعث تھیں شہروں میں 
کہ اُن کی ذات سے لوگوں کے گھر برباد ہوتے تھے 
 
وہ جادوگرنیاں قہرِ الہٰی کی نشانی تھیں 
نحوست کا فسانہ تھیں ، مصیبت کی کہانی تھیں 

67


چڑیلوں کے لئے قانون کی صورت نرالی تھی
عدالت ایک تھی اور شخصِ واحد کی امامت تھی
گواہوں سے جرح کرنے کا حق حاصل نہ تھا اُن کو
مقدمے کے لیے اُن کو وکیلوں کی مناہی تھی
 
مسیحی پیشواؤں کا عدالت پر تسلّط تھا
وار اِس ماحول میں اُن کو سزا دینا ضروری تھا
 
 
68


چڑیلیں دشمنِ عیسائیت ہیں یہ ہدایت تھی
وہ خفیہ دین کی پیرو ہیں اِس کی اُن پہ تہمت تھی
یہ تہمت تھی کہ وہ شیطاں کی سازش کا حصّہ ہیں 
کلیسا کی مخالف ، پادری کی دشمنِ جاں تھی
 
رسوماتِ کہن کو وہ ذلیل و خوار کرتی تھی
پرانی مذہبی اقدار کو پامال کرتی تھی
 
69


کلیسا نے چڑیلوں کی عجب تصویر کھینچی تھی
وہ کہتے تھے کہ یہ مدھّم سُروں میں بات کرتی تھی
جڑی بوٹی سے وہ بیماریوں کو دور کرتی تھی
وہ بچّوں کو کہانی بھوت پریوں کی سناتی تھی
 
فضاؤں میں سفر کرتی تھی جھاڑو کی سواری پر
نچاتی تھی وہ معصوموں کو انگلی کے اشاروں پر
 

70


قرونِ اوّل و وسطیٰ میں صورت اصل میں یہ تھی
کہ تنظیمِ کلیسا کو یہ مہلک فکر لاحق تھی
کہ اُن کا زورِ استبداد لاغر ہوتا جاتا ہے 
گرفت اُن کی مسلسل کم سے کم تر ہوتی جاتی تھی
 
تو لوگوں کو ڈرا کر زیر کرنا اصل مقصد تھا
اور ایک ماحول دہشت کا بنانا اصل مقصد تھا
 
71


چڑھایا اِس غرض سے صنفِ نازک کو صلیبوں پر
اُسے باندھا، اُسے مارا، اُسے کھینچا، زمینوں پر
سجائیں سولیاں ایسی کہ انسانوں کا دل دہلے 
اُسے بھونا دمکتے کوئلوں پر اور شعلوں پر
 
وہ چیخیں گونجتی تھیں جن سے گر دوں کانپ اٹھتا تھا
وہ بے دردی کا عالم تھا فلک آنسو بہاتا تھا

 
72


وہ اُن کے دست و بازو رسّیوں سے باندھ دیتے تھے 
بزورِ خنجر و آہن پتلیوں میں گُھساتے تھے 
چھڑک کر تیل اُن کو آگ کا گولا بناتے تھے 
اور اُس کے بعد پھر دریا کے اندر پھینک دیتے تھے 

سرِ ساحل تماشا دیکھتے تھے رقصِ بسمل کا
یہ اک بیٹی کی درگت تھی، یہ تھا انجام اک ماں کا

73


دیارِ چین میں اک دور کی یہ بھی حقیقت تھی
کہ پائے حسن کو مفلوج کرنے کی روایت تھی
مقفل اُس کو کر دیتے تھے وہ لوہے کے جوتوں میں 
اُسے باہر نکلنے کی اجازت تھی نہ جرت تھی
 
وہ کہتے تھے کہ عورت ناز سے چلتی ہے اِٹھلا کر
حقیقت یہ تھی گر جاتی تھی وہ قدموں پہ غش کھا کر
 

74


وہ عورت جو جھکائے سر سوئے شمشان جاتی ہے 
جو اپنی لاش پیروں پر لیے بے جان جاتی ہے 
کسی کے خواب کی ملکہ ، کسی کے سوچ کی رانی
لیے ہاتھوں میں اپنی موت کا سامان جاتی ہے 
 
یہ نو عمری کی بیوہ ہے ، یہ تہذیبوں کی ماری ہے 
ہزاروں سال کی تاریخ اِس کے سر پہ بھاری ہے 
 
75


دیا ہے حکم اُس کو عاقبت کے ٹھیکے داروں نے 
کہ یہ اُس کا مقدّر ہے ، لکھا ہے یہ ستاروں نے 
کہ شوہر اُس کا مالک، اُس کا آقا، اُس کا سب کچھ ہے 
خود اپنی موت کا فتویٰ لکھا ہے اُ س کے ہاتھوں نے 
 
قسم کھائی ہے اُس نے زندگی بھر ساتھ رہنے کی
پتی کے ساتھ جینے کی، پتی کے ساتھ مرنے کی
 

76


یہ وہ سوگند ہے ہر حال میں جس کو نبھانا ہے 
وفاداری کے وعدے کو بہر صورت بچانا ہے 
یہ ارتھی ہے پتی کی، تجھ کو اِس کے ساتھ چلنا ہے 
زمانہ کیا کہے گا، چل، تجھے شمشان جانا ہے 
 
تری تہذیب نے جب موت لکھ دی تیرے مستک میں 
تو پھر یہ آخری لمحات ہیں اب تیرے مرگھٹ میں 
 
77


تری مرضی کے اِس میں دخل کا امکان بے معنی
تُو عورت ہے ، تُو بیوہ ہے ، ترا انکار بے معنی
یہ ہے فرمان پُرکھوں کا، یہ لکّھا ہے کتابوں میں 
جو قسمت میں لکھا ہو، اُس پہ ہا ہا کار بے معنی
 
دہکتی آگ تیری منتظر ہے ، کود جا اُس میں 
مفر تجھ کو نہیں اِس سے ، تجھے جلنا ہے شعلوں میں 
 

78


یہ استفسار برحق ہے ، یہ ہوتا کیوں نہیں آخر
کہ عورت کی چِتا پر مرد جلتا کیوں نہیں آخر
یہ کیسا ظلم ہے اور یہ کہاں کی شورہ پشتی ہے 
وہ دل داری کا خمیازہ بھگتتا کیوں نہیں آخر
 
یہ عورت پوچھتی ہے ا پنے دنیاوی خداؤں سے 
زمیں کی کوکھ کیوں پھٹتی نہیں اُن کے گناہوں سے 
 
79


ستی کی یاد میں مندر بنانے کا ہے مطلب کیا
کفِ پا سنگِ مرمر میں سجانے کا ہے مطلب کیا
وہ لٹکاتے ہیں کیوں تصویر ہاتھوں کی شوالوں میں 
بنام  ایشور یہ ظلم ڈھانے کا ہے مطلب کیا
 
وہ بیوائیں جو گلیوں میں سسکتی اور بلکتی ہیں 
وہ ایسی زندہ لاشیں ہیں جو جینے کو ترستی ہی
 

80

 
یہ لڑکی ایک مفلس باپ کی مجبور بیٹی ہے 
جو چولھوں کی چِتا پر بے بسی کی موت مرتی ہے 
یہ دنیا جانتی ہے درحقیقت واقعہ کیا ہے 
یہ قتلِ عمد ہے اور یہ جہیزوں کی ابھاگی ہے 
 
کہ اِس لڑکی کے جینے کی ضمانت چند سکے ہیں 
یہ دینی پیشوا سنتے ہیں اور خاموش رہتے ہیں 

 81


اناث النّاس کی حرماں نصیبی کی تو حد یہ ہے 
کہ ماں بھی اپنے بیٹے کو یہی لوری سناتی ہے 
بڑا ہو کر لڈو کھائے گا سونے کے تھالوں میں 
کہ بیوی اِس کی دیکھے گی اِسے للچائی نظروں سے 
 
جو بسمل بازوئے قا تل کی طاقت کی دعا مانگے 
تو کوئی کرے اور اُس کی خوش خواہی میں کیا مانگے 
 

82


عرب پر سے جو گزرا ہے زمانہ جاہلیّت کا
وہ اک تاریک دورِ قہر ہے تاریخِ انساں کا
رخِ انسانیتّ پر داغ کی صورت نمایاں ہے 
وہ دورِ نکبت و ادبار ہے تاریخِ نسواں کا 

زمانے بھر کی بد بینی، زمانے بھر کی بدبختی
سمٹ کر آ گئی اُس دور میں دنیا کی بد کیشی
 

83

ذکور النّاس پر طاری ہوئی شہواتِ نفسانی
حقوقِ زن کی پامالی کی تھی اِس طور ارزانی
کہ عورت اک کھلونا بن گئی مردوں کے ہاتھوں میں 
کجا توقیرِ آدم اور کجا توقیرِ انسانی!
 
وہ نا انصافیاں تھیں اور اِس صورت سے وحشت تھی
سماجی بد نہادی کا نشانہ صرف عورت تھی
 

84


قرونِ جاہلیّت پر نحوست کا اجارہ تھا
سروں کا بوجھ تھا جو آمریّت کا اثاثہ تھا
تو ہّم کی ردا اہلِ عرب نے اوڑھ رکھی تھی
قبیلوں کی لڑائی نے اُنھیں پستی میں ڈالا تھا
 
وہ نسلی جرگہ بندی کی روایت میں ملوّث تھے 
وہ اخلاقی زبوں حالی کے صیدِ آبلہ پا تھے 
 
85


کہ اُن کی قوم اک اجتماعی کور چشمی تھی
رواج و رسم کے مقتل میں جو پروان چڑھتی تھی
اُنھیں دولت کا لالچ تھا، اُنھیں عزّت کا ہیضہ تھا
اُنھیں جانوں سے زیادہ اپنی غیرت کی ضرورت تھی
 
وہ اپنے عہد کے پکے تھے ، ضد پر جان دیتے تھے 
وہ اپنی ذات پر انسان کو قربان کرتے تھے 
 
 
86

 
بعید از فکر و امکانات بیٹی کا تصوّر تھا
وہ ایسا داغ تھی جس کو مٹانا فرضِ اوّل تھا
کہ ماں کی کوکھ میں وہ سانپ بن کر سانس لیتی تھی
کہ اُس کی گود میں بیٹی کا پلنا مثلِ اجگر تھا
 
ستم ایسے بھی ہوتے تھے کہ گردوں کانپ اٹھتا تھا
وہ سفّاکی کا عالم تھا کہ چرخِ کہنہ روتا تھا

 
87


اُنھیں بیٹی کی پیدائش کا جب پیغام ملتا تھا
تو اُن کی آنکھ کے نیچے اندھیرا عود کرتا تھا
قبیلے میں وہ اپنا سر جھکا کر بیٹھ جاتے تھے 
اور اُن کا ذہن اک ہیجان سے دوچار ہوتا تھا
 
جکڑ لیتی تھی اُن کی فہم کو گھنگھور تاریکی
یہ قصہّ مختصر، اک جانور سی اُن کی حالت تھی


88

وہ بیٹی کی طرف بڑھتے تھے بے دردانہ قدموں سے 
وہ ظالم چھین لیتے تھے اُسے آغوشِ مادر سے 
اُسے لٹکا کے چلتے تھے ، وہ اک حیوان کی صورت
وہ اُس کو دیکھتے تھے خشک اور پتھرائی آنکھوں سے 
 
وہ اُس کے بے بسی کا اِس طرح نظاّرہ کرتے تھے 
کہ جیسے مل رہے ہوں وہ کسی بے جان مورت سے 
 
89


وہ گڈّھا کھود کر اُس میں لِٹا دیتے بیٹی کو
وہ جانِ منحنی کو اور اُس معصوم صورت کو
جو ناواقف تھی اپنی جان کے لمحاتِ آخر سے 
لبِ معصوم پر پھیلی بہشتی مسکراہٹ کو
 
وہ مٹّی ڈال کر اُس کو سپردِ خاک کرتے تھے 
اور اُس نوخیز کا اِس طرح قصہّ پاک کرتے تھے 
 

90


محاذِ جنگ پر مغلوب جو افواج ہوتی تھیں 
تو اُن کی عورتیں مالِ غنیمت بن کے بٹتی تھیں 
مگر اولاد اُن کی قابلِ تضحیک ہوتی تھی
کوئی قدغن نہیں تھی، شادیاں بہنوں سے ہوتی تھیں 
 
سماجی سفلہ پن اور ابتری کی ایسی حالت تھی
کہ اپنے باپ کی بیوہ سے شادی کی اجازت تھی
 
91


نہایت تھی یہ مَردوں کی بہیمانہ شقاوت کی
یہ حدّ آخری تھی ظلمِ بے جا کی روایت کی
حمیّت اور غیرت کی حدوں سے ہو کے بے گانہ
یہ ایاّمِ جہالت کی نشانِ جاہلیّت تھی
 
وہ خونیں دور تھا دنیا کی تہذیب و ثقافت کا
اندھیرا ہر طرف چھایا ہوا تھا ظلم و نکبت کا


عروجِ آدمیّت


یہ تھا ادبار عورت پر کہ جب پیغامِ حق آیا
خواتیں کے لیے انصاف کا پہلا سبق آیا
ہوا نازل صحیفہ آخری توقیرِ انساں کا
دُکھی عورت کی خاطر امن کا پیغامبر آیا
حرا کے غار سے روشن ہوا خورشید ایماں کا
ہوا منشورِ نو جاری حقوقِ نوعِ نسواں کا

 


چھٹا سبق


عروجِ آدمیّت



ہوا اعلان جاری، اشرف المخلوق ہے انساں 
کہ پیدا نفسِ واحد سے ہوئے ہیں مرد اور نسواں 
جو عورت پر مظالم کی بھیانک رات گزری تھی
ہزاروں سال پر طاری شبِ آفات گذری تھی
رہی جس میں وہ دارو گیر کی صیدِ زبوں بن کر
جو اُس کے جسم پر تیزاب کی برسات گزری تھی
 
کہ جس میں رحم کی دیوی برہنہ تن، برہنہ سر
کھڑی تھی سر جھکائے وقت کی دہلیز کے اوپر
 


93


وجودِ زن پہ جو ادوارِ استحصال گزرے تھے 
تشدّد اور بے رحمی کے ماہ و سال گزرے تھے 
چڑھی تھی سولیوں پر اور جلی تھی وہ چِتاؤں میں 
تہِ خاکِ عقوبت اُس پہ جو لمحات گزرے تھے 
 
بلکتی بچّیوں کے آنسوؤں کا اب بھی ماتم ہے 
عرب کی اور عجم کی ریت اُن سے آج بھی نم ہے 

 
94


یہ تھا ادبار عورت پر کہ جب پیغامِ حق آیا
خواتیں کے لیے انصاف کا پہلا سبق آیا
ہوا نازل صحیفہ آخری توقیرِ انساں کا
دُکھی عورت کی خاطر امن کا پیغامبر آیا
 
حرا کے غار سے روشن ہوا خورشید ایماں کا
ہوا منشورِ نو جاری حقوقِ نوعِ نسواں کا

95


مقامِ فضل ہے یہ رحمت اللعالمیں آئے 
ہدایت کے لئے سرمایۂ نور  المبیں لائے 
نیا دستور دنیا کو دیا انصاف و الفت کا
بڑھائی قدر عورت کی،گھٹائی جہل کے سائے 
 
چھٹے الحاد کے بادل، سجا ایماں کا پرچم
بڑھی انسان کی عظمت، اٹھا قرآن کا پرچم


96


حقوقِ نوعِ نسواں کے لیے رحمت کا دن آیا
یتیموں ، بے کسوں کے واسطے فرصت کا دن آیا
قدیمی کاہنوں نے جس کی مشکیں باندھ رکھتی تھی
جو لرزاں تھی تہ  تلوار، اُس عورت کا دن آیا
 
اُسے اﷲ نے سرمایۂ عیش و خوشی بخشا
جہاں کی نصف آبادی کو حقِّ زندگی بخشا

 97


جو تہمت اُس کے دامن پر کلیسا نے لگائی تھی
کہ جس کے روسے وہ ہر جرم کی معتوبِ مطلق تھی
اُنھوں نے قصۂ تخلیق کی تشریح یوں کی تھی
کہ جس کی رو، سے وہ شیطان کی تلمیذِ اوّل تھی
 
اور اُس پر جنس کی تفریق کی بنیاد ڈالی تھی
عمارت ظلم کی اور جبر کی اُس پر اٹھائی تھی
  

98


کلامِ حق نے اِس بنیاد کی یکسر نفی کر دی
صحیح تشریح تخلیقِ جہاں کے رمز کی کر دی
کیا واضح کہ اِس میں مرد و زن دونوں برابر ہیں 
ہیں دونوں مرتکب اِس کے ، یہ کوتاہی ہے دونوں کی
 
ملا تھا حکم دونوں کو برائے شجرِ ممنوعہ
خلافِ امرِ ناطق دونوں ہی نے حق سے منھ موڑا
 
99


خدا کی بارگہ میں موردِ الزام تھے دونوں 
گنہ کے مرتکب دونوں تھے اور گمراہ تھے دونوں 
ندامت ایک سی دونوں کو تھی، دونوں پشیماں تھے 
طلب گارِ نگاہِ رحمتِ غفّار تھے دونوں 
 
دعا دونوں نے مانگی اور سرتابی سے توبہ کی
سزا دونوں نے پائی اور دونوں کو ملی معافی
 

100


یہ قصہّ ہے جہانِ آب و گل کی حاکمیّت کا
یہ قصہّ خیر و شرکا ہے ، یہ قصہّ ہے ہدایت کا
نہاں ہے راز اِس قصّے میں حق تعالیٰ کی حکمت کا
یہ قصہّ عدل کا ہے ، عفو کا ہے اور رحمت کا
 
یہ مرد و زن کے ربطِ باہمی کی خشتِ اوّل ہے 
نہ اِن میں کوئی اعلیٰ ہے ، نہ اِن میں کوئی افضل ہے 
 
101
 

ہوا اعلانِ جاری اشرف المخلوق ہے انساں 
پیدا نفسِ واحد سے ہوئے ہیں مرد اور نسواں 
کہ درجہ ہر بشر کا محض  اُس کے  ہی عمل پر ہے 
کہ جنس اور ذات کی تفریق کا اِس میں نہیں امکاں 
 
تمھارے رب کو سب معلوم ہے ، سب جانتا ہے وہ
عمل کس کا ہے کیا، ہر فرد کو پہچانتا ہے وہ
 

102

 
جزا کے روز جو انسان نیکی لے کے آئے گا
توقّع سے کہیں زیادہ وہ اُس کا اجر پائے گا
بدی کا فیصلہ ہو گا گناہوں کے برابر ہی
کہ جتنا جرم ہو گا، وہ سزا اُتنی ہی پائے گا
 
برابر ہوں گے سب، کوئی نہیں چھوٹا بڑا ہو گا
بلا تفریقِ رنگ و نسل سب کا فیصلا ہو گا
 
103


کرے گا مرد جو نیکی، وہ داخل ہو گا جنت میں 
جو عورت نیک ہو گی، وہ جگہ پائے گی جنت میں 
کتاب اﷲ میں لکّھا ہے اور یہ اُس کا وعدہ ہے 
کہ جو بھی نیک ہو گا، وہ جگہ پائے گا جنت میں 
 
ملے گا سب کو حق اعمال اور کردارِ کی روٗ سے 
تُلیں گے اک ترازو میں سبھی ایمان کی روٗ سے 
 

104


وہ عورت جو تھی محرومِ وراثت جاہلیّت میں 
نہ تھی حق دار جو اسلاف کی املاک وہ دولت میں 
خدائے عزّ و جل کا انقلابی فیصلہ آیا
کہ عورت کو حق حاصل ہے پُرکھوں کی وراثت میں 
 
اُسے حق ہے کمانے کا، کمائی پاس رکھنے کا
مساوی کام کی خاطر مساوی حقِّ محنت کا
 
105


بروئے مذہبِ اسلام عورت ایک انساں ہے 
وہ اک ذی ہوش ہے ، ذی فکر ہے ، ذہنِ فروزاں ہے 
وہ عاقل ہے ، وہ اہل الّرائے ہے اور چشمِ نگراں ہے 
بروئے مذہبِ اسلام اُس کو حق ہے جینے کا

مکمّل حق ہے اُس کو اپنی ذاتی رائے رکھنے کا
مکمّل حق ہے اُس کو فیصلہ شادی کے کرنے کا

 

106

بروئے مذہبِ اسلام حق اُس کو خلع کا ہے 
عبادت کا مکمّل حق ہے ، حق اُس کو دعا کا ہے 
بروئے مذہبِ اسلام وہ حق دارِ نفقہ ہے 
اُسے فکر و عمل کا حق ہے ، حق اُس کو صدا کا ہے 
 
کرے وہ عقد کس سے ، اُس کو یہ ایجابِ مطلق ہے 
اُسے اقرار کا حق ہے ، اُسے انکار کا حق ہے 

107


وہ بیوہ جو سَتی ہوتی تھی شوہر کی چِتاؤں میں 
جھلستی تھی جو صیدِ بے اماں ، خوں خوار شعلوں میں 
نجات اُس کو دلائی آخرش دینِ محمدّ نے 
شمار اُس کا ہوا اک بار بھر حسّاس زندوں میں 
 
اور اُس جانِ حزیں کے واسطے یہ فیصلا آیا
کہ بیوہ کو بھی حق حاصل ہے اِس دنیا میں رہنے کا
 

108


یہ اُس کے واسطے جائز تھا کر لے عقدِ ثانی وہ
کہ ہر اک عام انساں کی طرح ملبوس پہنے وہ
وہ فطری زندگی برپا کرے ، تھی اِس پہ قادر وہ
کہ اَوروں کی طرح صبح و مسا اپنے گزارے وہ
 
نظامِ زندگی میں اِس قدر روشن خیالی تھی
تمدّن کے تناظر میں یہ جدّت انقلابی تھی
 
109


یہی تھا فیصلہ ترکِ تعلّق کے حوالے سے 
کہ جب آزاد کر دو عورتوں کو اپنے رشتے سے 
تو پھر تم کا مت لو بغض و کینہ، کبر و نخوت سے 
وہ باقی زندگی اپنی گزاریں اپنی مرضی سے 
 
قرونِ اوّل وسطیٰ کے تہذیبی تناظر میں 
مثالی کارنامہ ہے یہ جملہ کارناموں میں 
 

110


حدیں اﷲ نے کھینچی ہیں ایسی ربطِ باہم کی
کسی تہذیب کے اندر نہیں ملتی مثال اِن کی
یہ ہے فرمانِ محکم، عورتوں کو تنگ مت کرنا
زبردستی نہ لینا تم وراثت ایک عورت کی
 
پسند ہر شخص کی ہے مختلف، تم یاد یہ رکھنا!
خدا کی اِس میں حکمت ہے ، مزاجوں کا الگ ہونا
 
111


ہدایت یہ بھی فرمائی ہے حق تعالیٰ نے شوہر کو
اگر ترکِ تعلّق کے لیے تم فیصلہ کر لو
تو تم اﷲ کی مرضی کو اپنے دھیان میں رکھّو
متاع و مال جو تم نے دیا ہے اُس کو مت مانگو
 
تم اُس کا مہر دینے میں بخالت کو نہ اپنانا
اصولی موشگافی سے اُنھیں محروم مت کرنا


102


یہ تاریخِ مذاہب کی نمائندہ حقیقت ہے 
یہ دینِ مصطفی کی امتیازی اک فضیلت ہے 
کہ اُس نے عائلی کردار کی وقعت کو پہچانا
یہ سمجھایا کہ نظم و ضبط کی اِس میں ضرورت ہے 
 
کلیدی راز یہ افشا کیا ابنائے عالم پر
سماجی نظم قائم ہے گھریلو خوش خصالی پر

113


گھریلو خوش خصالی کے اصولوں کی وضاحت کی
بتائی اہمیّت رشتوں میں الفت اور رحمت کی
روابطِ عائلی کس طور سے ہموار ہوتے ہیں 
جہالت کے اندھیروں میں یہ شمعِ نور روشن کی
 
نیا معیارِ حق قائم کیا عورت کے رتبے کا
کیا قانون نافذ مرد اور عورت کے رشتے کا
 

114


ہدایت کی، یہ رشتہ عدل کی بنیاد پر ہو گا
یہ رشتہ جبر کی آلودگی سے دست کش ہو گا
کہ اِس میں اک طرف نافذ زن و شوہر کے حق ہوں گے 
اور اِس میں دوسری جانب فرائض کا گزر ہو گا
 
یہ قائم ہو گا تسلیم و رضا کی راہ پر چل کر
کہ اِس کی نیو رکھّی جائے گی زوجین کے حق پر
 
115

 
کتاب نوعِ انساں کے لیے یہ بابِ اوّل تھا
سماجی زندگی کے واسطے یہ خشتِ اوّل تھا
یہ تھا اک انقلابی فلسفہ تدوینِ عالم کا
اور اِس کا مذہبِ اسلام بانی اور ہر اول تھا
 
نیا دستور تھا یہ اک سماجی عہد نامے کا
بنا معیار یہ قوموں کی پستی اور بلندی کا
 

116


یقیناً باعثِ صد فخر ہے اسلام کے ابنائے امّت کو
رہائی اُن کے مذہب نے دلائی جنسِ عورت کو
نیا معیار مستحکم کیا روشن خیالی کا
بنایا مشعلِ راہِ عمل فکر و فراست کو
 
یہ وصفِ خاص ہے اسلام کی اعلیٰ نگاہی کا
یہ سرمایہ ہے دینِ حق کی روحِ انقلابی کا
 
117
 

یہ اسلامی روایت داستاں ہے دورِ ماضی کی
یہ دل کش، خوش نما تاریخ ہے گزرے ہوئے کل کی
یہ زرّیں باب ہے اسلام کے عہدِ گزشتہ کا
یہ ہے تصویرِ پارینہ شکوہِ آدمیّت کی
 
خوشا وقتے کہ جب انسان نے عورت کو اپنایا
فضا میں کُلُّ نفسِ واحدِ کا درس پھیلایا
 

118


وہ ظالم شخص جو بیٹی پہ بے جا ظالم کرتا ہے 
خدا کے سامنے وہ راندۂ درگاہ ہوتا ہے 
یہ وہ مجرم ہے جس کے واسطے یہ حکمِ ناطق ہے 
کہ اُس کو دیکھ کر اﷲ بھی منھ موڑ لیتا ہے 
 
وہ توبہ اور استغفار کے قابل نہیں ہو گا
اُسے اپنی صفائی کا بھی حق حاصل نہیں ہو گا
 
119


رسولِ مجتبیٰ کا قول ہے ، یہ غور سے سن لو
کہ وہ ماں باپ جن کے گھر میں دختِ نیک اختر ہو
اور اُس کی پرورش وہ شفقت و الطاف سے کر لیں 
جو اُس کی تربیّت، پرداخت کا حامی و ضامن ہو
 
وہ بیٹی، باپ اور ماں کو عقوبت سے بچائے گی
وہ اُن کے واسطے جنّت کی کنجی لے کے آئے گی
 

120


یہ رتبہ ہے اناث الّناس کا اسلام کی روٗ سے 
بہو بیٹی پہ لطفِ خاص ہے قرآن کی روٗ سے 
کہ کیسی انقلابی فکر کا حامل ہے یہ مذہب
وہ کس انصاف کی حق دار ہے ایمان کی روٗ سے 
 
یہ کتنی رحمتیں لے کر خدا کا دین آیا ہے 
یہ کیسی نعمتوں سے اِس نے انساں کو نوازا ہے 
 

121
 

یہ خطرہ ہے نہ ہم اِس انقلابی شان کو کھودیں 
فسادِ تنگیِ دل سے نہ اِس کی آن کو کھودیں 
وہ مذہب جو علم بردار ہے روشن خیالی کا
فروعی موشگافی میں نہ اِس کی جان کو کھودیں 
 
نجاتِ بنتِ آدم کے لیے یہ سانحہ ہو گا
یہ تاریخِ جہاں میں ایک مہلک حادثہ ہو گا

سرابِ مغرب

ہزاروں سال کی تاریخ کے ایوان لرزاں ہیں 
حروفِ و لفظِ پارینہ نگاہوں سے گریزاں ہیں 
کچھ ایسا خیرہ کن خورشید چمکا ہے گلستاں پر
کہ پتّے ، پھول سب مرجھا گئے ہیں ، باغ ویراں ہیں 
نئی گل کاریاں ہیں اور انساں محوِ حیرت ہے 
نہ اُس کو پائے ماندن ہے ، نہ اُس کو جائے رفتن ہے 
 

 


ساتواں سبق


سرابِ مغرب

 

غزالانِ حسیں کا غول ہے ، تیروں کی بارش ہے 
نئی دنیا کا آدم آج پھر مصروفِ سازش ہے 

یہ عہدِ عقل و دانش ہے ، ترقّی کا زمانہ ہے 
خیال وہ فکر کی آزاد باشی کا ترانہ ہے 
روایت آج اک حرفِ غلط ہے دورِ ماضی کا
یہاں ادراک و استدلال کا اب آستانہ ہے 
 
عقائد آج استفسار کی چکّی میں پستے ہیں 
فرائض آج استدلال کی بھٹّی میں تپتے ہیں 

 
123


ہزاروں سال کی تاریخ کے ایوان لرزاں ہیں 
حروف و لفظِ پارینہ نگاہوں سے گریزاں ہیں 
کچھ ایسا خیرہ کن خورشید چمکا ہے گلستاں پر
کہ پتّے ، پھول سب مرجھا گئے ہیں ، باغ ویراں ہیں 
 
نئی گل کاریاں ہیں اور انسان محوِ حیرت ہے 
نہ اُس کو پائی ماندن ہے ، نہ اُس کو جائے رفتن ہے 
 

124


اب اِس دورِ ترقّی میں زبوں ہے حال عورت کا
نہ وہ رسمِ کہن بدلی، نہ وہ طرزِ سخن بدلا
نئی تہذیب لائی ہے نئی انداز سطوت کے 
وہی دُکھ ہیں ، وہی دورِ استحصال جو کل تھا
 
حقوقِ بنتِ حواّ کا نیا عنوان نکلا ہے 
حکومت کی ہوس ہے اور آزادی کا دھوکا ہے 
 
125


نئے سورج کی تابانی سے عقل و ہوش خیرہ ہے 
طلائی سر زمین سیم و جواہر کا ذخیرہ ہے 
لپکتے ہاتھ ہیں ، بھوکی نگاہیں پھن اٹھائے ہیں 
شکاری گھات میں ہے اور لق و دق ایک صحرا ہے 
 
حسیں کا غول ہے ، تیروں کی بارش ہے 
نئی دنیا کا آدم آج پھر مصروفِ سازش ہے 
 

126


پرانے سب محل مسمار ہیں اور ہو‘ کا عالم ہے 
نئی تعمیر بے بنیاد ہے ، بام و سقف نم ہے 
نہ راہیں ہیں نہ منزل ہے ، فقط سبقت کا سودا ہے 
مفادِ ذات کا معلوم دنیا میں تلاطم ہے 
 
رواں ہے کاروانِ زندگی ناپید راہوں میں 
عجب کیا آدمی دم توڑ دے اوجھل سرابوں میں 
 

127

ہجومِ مہ وشال ہے ، چشم و ابرو کا نشانہ ہے 
نگاہِ مست و سرکش پر ہوس کا تازیانہ ہے 
سجی ہے محفلِ شب، دھول دھپّا ہے ، شرارت ہے 
نگاہوں کے لیے زلف و کمر کا شاخسانہ ہے 
 
کہیں پر کم لباسی نے ستم ڈھائے ہیں محفل پر
کہیں پر بے لباسی قہر کی صورت گری دل پر
 

128


غلامی سے نکل کر قیدِ آزادی میں عورت ہے 
نئی تہذیب کے ہاتھوں میں تیغِ بے ملامت ہے 
گرفتارِ ہوس ہے اور آزادی کا چرچا ہے 
اکھڑتی سانس ہے اور مرکزِ آفات عورت ہے 
 
خریداروں کا جھرمٹ ہے ، سبھی تیاّر بیٹھے ہیں 
شکاری تیغِ لے کر گھات میں ہشیار بیٹھے ہیں 
 
129


کہیں پر اشتہاری سیم و زر کا جال ڈالے ہیں 
نمود و نام کے زنداں پہ مجبوری کے تالے ہیں 
سرِ بازار سڑکوں کے کنارے حُسن بکتا ہے 
نئے انداز ڈھونڈے ہیں نئے حربے نکالے ہیں 
 
یہ قربانی کا بکرا ہے ہوس کاروں کی منڈی میں 
تعیّش کا کھلونا ہے یہ زر داروں کی جھولی میں 
 

130


امورِ خانگی کا بوج جو پہلے تھا، اب بھی ہے 
تکالیفِ تولّد کا جو حصہّ تھا، سو اب بھی ہے 
اُسی کو پرورش کرنا ہے اپنے نونہالوں کی
فلاحِ نوعِ انساں کا جو ذمہّ تھا، سو اب بھی ہے 
 
دودھاری عائلی تلوار لٹکی اُس کے سر پر ہے 
وہ بیوی ہے ، وہ ماں ہے اور وہ کم تر ہے ، وہ کہتر ہے 
 
131


اُسے مردوں کی جنسی بھوک کا سامان کرنا ہے 
شکم کی آگ کی تحلیل کا امکان کرنا ہے 
اُسے بچّوں کی بہتر پرورش کا بار ڈھونا ہے 
جہادِ روز شب کو ہر طرح آسان کرنا ہے 
 
مہذّب عائلانہ زندگی کا فرض ہے اُس پر
بنی نوعِ بشر کی عافیّت کا قرض ہے اُس پر
 

132


کھڑی ہے آج چورا ہے پہ آتش زیرِ پا عورت
بدلتے موسموں کی دھُند میں ہے بے صدا عورت
کدھر جائے ، کہاں ٹھہرے ، یہ اب مسئلہ اُس کا
سراسر نفسیّاتی مرض میں ہے مبتلا عورت
 
کوئی کھوئی ہوئی ہے جنّتِ مغرب کی راہوں میں 
کوئی گم ہے خیابانِ روایت کے خیالوں میں 
 
133


کوئی تیغِ برہنہ لے کے مقتل میں نکل آئی
بہا دیں خون کی ندیاں جدھر شمشیر لہرائی
اُڑا دیں دھّجیاں جملہ روایاتِ قدیمہ کی
لیے گرزِ گراں میدانِ شہرت میں اتر آئی
 
اب اُس کی زندگی جہدِ مسلسل کا نمونہ ہے 
وہ سرگرمِ خیالات و کمالاتِ نرینہ ہے 
 

134


کسی نے کم لباسی کو نشانِ برتری مانا
کسی نے بے روائی کو دلیلِ حرّیت مانا
سراسر بے حیائی پر سرِ محفل اتر آئی
ہوس کاری کو تسخیرِ محبت کا ہنر مانا
 
رہ و رسمِ کہن ٹوٹے پڑے ہیں شاہراہوں میں 
غرورِ پاک دامانی بھٹکتا سے سرابوں میں 
 
135


یہ دورِ تیز گامی ہے ، یہاں ہر سوٗ اندھیرا ہے 
مفادوں کی عمل داری ہے ، ناکامی کا ڈیرا ہے 
جھکائے سر رواں ہے نسلِ آدم خارزاروں میں 
بھنور میں زندگی ہے اور عیّاشی کا سودا ہے 
 
سرابِ جنّتِ مغرب میں انساں پا بگولا ہے 
یہ عالم ہے اور، اِس میں آج کی خاتون تنہا ہے 
 

136

 
سنایا ہے اُسے مغرب نے آزادی کا افسانہ
پڑھایا ہے اُسے روشن خیالی کا سبق نامہ
وہ خستہ حال ہے ، دامن دریدہ ہے ، شکستہ ہے 
مگر بننا ہے پھر بھی اُس کو آزادی کا پیمانہ
 
ترقّی اور روایت میں وہ دونوں ہی کا مہرا ہے 
وہ قرباں گاہِ سبقت میں فقط گردن کشیدا ہے 
 
137


مکّمل حق ہے اُس کو زندگی قربان کرنے کا
کٹائے اپنی گردن کس طرح، یہ فیصلہ اُس کا
وہ آزادی کے مقتل میں تہِ تیغِ ترقّی ہو
روایت کے گھنے جنگل میں ہو صیدِ بریدہ پا
 
کدھر جائے ، کہاں ٹھہرے ، یہ حیرانی کا عالم ہے 
پریشان حال ہے ، آزادیِ نسواں کا ماتم ہے 
 

138


روایت عائلی شیرازہ بندی کی دگرگوں ہے 
صداقت خاندانی زندگی کی بیدِ مجنوں ہے 
نئی عورت کھڑی ہے آج اک ایسے خرابے میں 
جہاں چاروں طرف تنہائیوں کا ایک افسوں ہے 
 
نہ رشتوں کی صلابت ہے ، نہ پیمانِ وفاداری
نہ احساسِ محبت ہے ، نہ نسلوں کی خبرداری
 
139


نظامِ ازدواجی زندگی خوابِ پریشان ہے 
محبت سایۂ موہوم کی صورت گریزاں ہے 
شکست و ریخت کی چکّی میں عورت مرد پستے ہیں 
فراق و وصل کا احساس اک اجڑا بیاباں ہے 
 
رفاقت کھو گئی ہے وقت کی سنسان راہوں میں 
تعلّق آب دیدہ پھر رہا ہے ریگ زاروں میں 
 

140


نئی دنیا کے بچّے باپ کی شفقت کو روتے ہیں 
وہ اک بے ربط سے ماحول میں پلتے ہیں ، بڑھتے ہیں 
کوئی ہمدم نہیں اُن کے غموں کا اور خوشیوں کا
وہ ہنستے ہیں تو خود ہنستے ہیں ، رونا ہو تو روتے ہیں 
 
عقابی دور میں جینے کے پیمانے عقابی ہیں 
فتح مندی کا سودا ہے ، تمنّائیں شہابی ہیں 
 
141


نئی انسانیّت پلتی ہے ایسی بطنِ مادر میں 
کہ جس کی آنکھ کھلتی ہے پریشانی کے ساگر میں 
کہ جو صبح و مسا روزی کمانے میں پریشاں ہے 
کہ جس کی شام ہوتی ہے مفاداتی سمندر میں 
 
جو اکثر جاگتی ہے خواب آور گولیاں کھا کر
تہِ موجِ تباہی ہے وہ بحرِ بے کراں پا کر
 

142


وہ ماں بنتی ہے اور اولاد سے وہ پیار کرتی ہے 
وہ ماں کے جذبۂ ایثار سے سرشار ہوتی ہے 
وہ اپنے فطرتی رجحان کا بارِ گراں لے کر
نئی دنیا کی ناہموار راہوں میں بھٹکتی ہے 
 
وہ ذمہّ داریاں پیشہ ورانہ زندگی کی بھی اٹھاتی ہے 
اُسے اولاد کی الفت بھی ہر لمحے ستاتی ہے 


143

بایں صورت وہ بٹ جاتی ہے دو خود کار حلقوں میں 
اِدھر وہ خود الجھ جاتی ہے کچھ خوں خوار لوگوں میں 
اُدھر اولاد محرومِ نگاہِ لطف ہوتی ہے 
وہ محوِ نشّہ و پیکار ہو جاتی ہے شہروں میں 
 
نہ ماں اور باپ پر ہے فرض بچّوں کی نگہداری
نہ بچّوں پر ہے لازم اپنے دلداروں کی دلداری
 

144


کسی کا دم نکلتا ہے ضعیفوں کے مساکن میں 
کسی کی عمر کٹ جاتی ہے غیرآباد آنگن میں 
کوئی آزاد ہو کر بھاگتا پھرتا ہے بے مقصد
پتنچے ہاتھ میں لے کر نکل پڑتا ہے گلشن میں 
 
نظامِ عائلی کی دھّجیوں کو زیبِ تن کر کے 
بہاتا ہے وہ آنسو لاشۂ فطرت کفن کر کے 
 

145

نہ کنبہ ہے ، نہ کنبوں کی کوئی اقدارِ اعلیٰ ہیں 
قوانینِ زمینی ہیں نہ احکاماتِ بالا ہیں 
رواں ہے ہر نفس بدمست خود غرضی کی سمتوں میں 
عقب میں کھائی ہے اور سامنے کوہِ ہمالا ہیں 
 
قواعد عائلی تنظیم کے سب تلف کر ڈالے 
مہذّب زندگی کے سارے سوتے بند کر ڈالے 
 

146


زن و شوہر کے رشتوں میں تصنّع کارفرما ہے 
محبت لفظ بے وقعت ہے اور گھاٹے کا سودا ہے 
دِکھاوے کے لیے رسمیں بھی ہیں ، وقتی توجّہ بھی
ستارے توڑ کر لانے کا بھی موہوم وعدہ ہے 
 
مگر رشتے وفاداری کی نعمت کو ترستے ہیں 
نظر کے سامنے اخلاص کے لاشے تڑپتے ہیں 
 

147


کنواری ماؤں کے بچّوں کی محرومی مٹے کیسے 
جواب اُن کے رفیقوں کے سوالوں کا ملے کیسے 
ترستے ہیں جو پدرانہ محبت کے لیے ہر دم
غموں کا بار اُن معصوم بچّوں کا ہٹے کیسے 
 
وہ ساری زندگی کاٹیں گے بدنامی کے زنداں میں 
گزاریں گے وہ دن اپنے ملامت کے بیاباں میں 

 
148

تعقّب ہے سرابوں کا، حقائق ہیں تعقّب میں 
حقیقت اور پرچھائیں نے ڈالا ہے تذبذب میں 
یقین و بے یقیں میں مبتلا ہے آج کی عورت
ابھرتی، ڈوبتی رہتی ہے اک بحرِ تعجب میں 
 
وہ تنہائی کہ جس میں سانس چیخوں میں بدل جائے 
 سناّٹا کہ جس میں ذات محرومی میں ڈھل جائے 
 

149

جہاں میں آج بھی اِس طرح کا ادبار ہے جاری
ترقّی یافتہ قوموں میں ایسا حکم ہے ساری
اٹھا کر آنکھ دیکھے مرد کی جانب اگر عورت
تبسّم کی رمق اُس کے لبِ نازک پہ ہو طاری
 
کلیسا کی نظر میں وہ سزا دارِ عقوبت ہے 
وہ پاگل ہے ، اُسے قیدِ مشقّت کی ضرورت ہے 
 

150


کرے خدمت گزاری وہ رفیقانِ کلیسا کی
صفائی وہ کرے اُن کے گھروں کی اور گرجا کی
وہ کپڑے دھوئے اُن کے اور مٹائے داغ دھّبوں کو
کرے وہ ناز برداری غلاموں کی اور آقا کی
 
رہے وہ کال کمرے میں ، وہ سوئے فرشِ خاکی پر
وہ اک جرمِ تبسّم کی سزا کاٹے گی کانٹوں پر


151

زنا بالجبر میں بھی موردِ الزام ہے عورت
ذلیل و خوار ہے او لائقِ دشنام ہے عورت
ہے جابر سرخ رو، مظلوم پر تعزیر نافذ ہے 
بہر صورت تہِ تیغِ لہو آشام ہے عورت
 
صدی اکّیسویں میں عدل ایسے قتل ہوتا ہے 
کہ اُس پر خالقِ فطرت لہو کے اشک روتا ہے 

 
152


اُدھر ٹوٹے ہوئے رشتوں کا حسرت ناک نقشا ہے 
اِدھر اہلِ ادب کی، شاعروں کی ایک دنیا ہے 
بڑی معصومیّت ہے معاملاتِ عشقِ خوباں میں 
کہ جس کے آئینہ خانے میں ہر سوٗ اک سراپا ہے 
 
نگاہِ حسن میں معصومیّت ہے اور شرارت ہے 
مزاجِ عشق میں برباد ہو جانے کی حسرت ہے 
 

153


یہ شہزادی ہے خوابوں کی، خیالوں کی یہ ملکہ ہے 
چمن زاروں کی ہے یہ ہیر، صحراؤں کی لیلا ہے 
دریچوں سے اترتی ہے کہیں یہ جولیٹ بن کر
کہیں پر تیشۂ فرہاد میں مرنے کا سودا ہے 
 
زمانے اور تھے وہ، اب نظامِ عشق درہم ہے 
نئی دنیا کے محبس میں مزاجِ حسن برہم ہے 
 

154
 
یہ خون ریزی کا موسم ہے ، یہ دہشت کا زمانہ ہے 
ہر اک فردِ بشر تیغِ ملامت کا نشانہ ہے 
مفاداتی تعصّب کی ردا اوڑھی ہے لوگوں نے 
مفادِ خاص کے چکّر میں کُل عالم دِوانہ ہے 
 
تشدّد کے عمل کا دور دورہ ہے گلستاں میں 
بہت کم فرق باقی رہ گیا حیوان و انساں میں 
 
155

 
وہ عورت جو ازل سے موردِ الزام ٹھہری تھی
علم دارِ بدی، ابلیس کا پیغام ٹھہری تھی
کلیسا کی نظر میں کام جس کا ورغلانا تھا
فسادِ دیں و ایماں ، بانِی اوہام ٹھہری تھی
 
وہ اب پھر سے ذکور الناّس کی دہشت کی زد میں ہے 
نئی تہذیب کی بے جا ہوس کاری کی حد میں ہے 
 

156


نگاہِ مردماں میں وہ فقط جنسی علامت ہے 
نہ اُس کے من کی قیمت ہے ، نہ اُس کا تن سلامت ہے 
بھرے بازار میں اور اشتہاروں میں وہ بِکتی ہے 
برائے مردمانِ ہوش و ہ مالِ تجارت ہے 
 
وہ مغرب ہو کہ مشرق ہو، اُسے ناشاد ہونا ہے 
بہانہ کوئی ہو، ہر حال میں برباد ہونا ہے 
 
157


کوئی تہذیب ہو دنیا میں ، گالی ہے تو اُس سے ہے 
مغلظ ذہنیّت کی بد خیالی ہے تو اُس سے ہے 
وہ اک جانب نشانِ سطوت و آثارِ غیرت ہے 
تو جانب دوسری جو بد خیالی ہے ، وہ اُس سے ہے 
 
وہ سب کی گالیاں سنتی ہے اور خاموش رہتی ہے 
مریضانِ دماغی سے وہ ہم آغوش رہتی ہے 

 
158

 
کئی صورت سے یہ عورت تشدّد کا نشانا ہے 
کہیں جنسی ہوس کاری کا اُس پر تازیانا ہے 
زبانی چابکوں سے وہ کہیں مجروح ہوتی ہے 
کہیں جذبات پر دشنام کے آرے چلانا ہے 

وہ رنگیں خواب جو مردوں نے عورت کو دکھایا تھا
وہ عکسِ نامکمّل تھا، وہ اک موہوم سایا تھا

159

 
کھڑی ہے آج بھی عورت اُسی اجڑے بیاباں میں 
وہ ہے آزاد لیکن پھر بھی ہے محبوس زنداں میں 
وہی محرومیاں اُس کی جو پہلے تھیں ، سو اب بھی ہیں 
وہ اب بھی ایک کٹھ پُتلی ہے عشرت گاہِ مرداں میں 

وہ عورت جو مقیدّ تھی کبھی چکلوں کے داماں میں 
نکل آتی ہے وہ آزاد ہو کگر بزمِ رنداں میں 

 
160

 
وہی زاغ و زغن ہیں اور وہی ہے لاشۂ بے دَم
وہی پُتلی تماشا ہے وہی ہے گردش پیہم
نئے بدلے ہوئے ماحول میں حربے نرالے ہیں 
فقط انداز بدلے ہیں ، وہی ہے ظلم کا عالم

نئے سورج کی تابانی سے آنکھوں میں اندھیرا ہے 
بظاہر روشنی ایسی کہ سب سمجھیں سویرا ہے 


مگر اے اہلِ ایمان!

 

سنا ہے تم نے اقدارِ شریعت کو بدل ڈالا
سنا ہے تم نہ شرحِ آدمیت کو بدل ڈالا
تم اِس حد تک گریزاں ہو گئے ہو اپنے محور سے 
سنا ہے تم نے مذہب کی صداقت کو بدل ڈالا

سنا ہے تم نے اپنی انقلابی روح سے دامن کشی کر لی
اگر یہ ہے تو یوں سمجھو کہ تم نہ خودکشی کر لی

 



آٹھواں سبق

 
مگر اے اہلِ ایمان!

 

سنا ہے گلشنِ اسلام بھی اب وہ نہیں جو تھا
نسیمِ تازہ کا پیغام بھی اب وہ نہیں جو تھا
 
نئی تہذیب میں عورت کی بدلحالی کا رونا سچ
وہ مردوں کے ہاتھوں میں تعیّش کا کھلونا سچ
اُسے ہے سیج کانٹوں کی، چِتا میں جل رہی ہے وہ
وہاں جو کچھ بھی ہے ، وہ ہے فقط دھوکے کا سودا سچ

مگر اے اہلِ ایماں ! حال اپنا کچھ بتاؤ تم
خدا کی مملکت میں ماجرا کیا ہے ، سناؤ تم



162

سنا ہے گلشنِ اسلام بھی اب وہ نہیں جو تھا
نسیمِ تازہ کا پیغام بھی اب وہ نہیں جو تھا
سنا ہے بادِ صرصر نے نے چمن کو گھیر رکھا ہے 
شعاعِ نور کا ا کرام بھی اب وہ نہیں جو تھا

سنا ہے اِس چمن میں پھول اب کم کم ہی کھلتے ہیں 
اگر کھلتے ہیں تو رنگ میں مدھّم ہی کھلتے ہیں 

 

163

سنا ہے تم نے پیغام اخوّت کو بدل ڈالا
سنا ہے تم نے مذہب کی حقیقت کو بدل ڈالا
سنا ہے تم نے مغرب کے بتوں کی چاکری کر لی
سنا ہے تم نے عرفانِ محبت کو بدل ڈالا

سنا ہے تم نے آنکھیں پھیر لیں زندہ حقائق سے 
تو کیا تم منحرف ہو دیں کی اقدارِ مطلق سے ؟

 

164

سنا ہے تم نے اقدار شریعت کو بدل ڈالا
سنا ہے تم نے شرحِ آدمیت کو بدل ڈالا
تم اِس حد تک گریزاں ہو گئے ہو اپنے محور سے 
سنا ہے تم نے مذہب کو صداقت کو بدل ڈالا

سنا ہے تم نے اپنی انقلابی روح سے دامن کشی کر لی
اگر یہ ہے تو یوں سمجھو کہ تم نے خودکشی کر لی

 

165

سنا ہے تم کو دعویٰ ہے کہ تم عورت سے برتر ہو
وہ چاکر ہے تمھاری اور تم مختار و افسر ہو
دیا ہے تم کو حق اﷲ نے اُس پر حکومت کا
تم اُس کے واسطے سب کچھ ہو، رہزن ہو کہ رہبر ہو

اُسے جرات نہیں اِس کی کہ تم سے ہمسری کر لے 
یہ ناممکن کہ اِس علّت سے وہ خود کو بری کر لے 

 
 166

تم عورت کو سنا ہے پیر کی جوتی سمجھتے ہو
تم اُس کو فطرتی قانون سے باغی سمجھتے ہو
اُسے حیوان سے بدتر سمجھتے ہو، یہ کیا سچ ہے ؟
یہ کیا سچ ہے گھر آنگن کی اُسے مرغی سمجھتے ہو؟

اگر یہ سچ نہیں ہے تو بتاؤ واقعہ کیا ہے ؟
یہ دنیا بھر میں کیسا شور ہے ؟ یہ ماجرا کیا ہے ؟

 
167

سنا ہے تم نے اک بچّی کی شادی گود میں کر دی
وہ بچّی تو سنا ہے اب بھی ماں کا دودھ پیتی تھی
سنا ہے اُس کو دعویٰ ہے کہ وہ مردِ مسلماں ہے 
سنا ہے باپ نے خود اُس کی شادی کی اجازت دی

یہ سب کیا ہے ؟ ہمیں سمجھاؤ یہ سب ہو رہا ہے کیا؟


168

سنا ہے تم نے ایک عورت کی شادی میں خلل ڈالا
سنا ہے تم نے اُس کے حقِّ شادی کو کچل ڈالا
اُسے اصرار تھا شادی کرے گی اپنی مرضی سے 
سنا ہے اِس سبب سے تم نے اُس کو قتل کر ڈالا

سنا ہے اور اِسے کہتے ہو تم یہ قتلِ غیرت ہے 
تمھاری مجرمانہ بے حسی پر سخت حیرت ہے 

 

169

سنا ہے اِس کی خاطر تم نے اک جرگہ بلایا تھا
اُسے اِس خونِ ناحق کے لیے تم نے بٹھایا تھا
یہ کس مذہب کا جرگہ تھا، ذرا ہم کو بتاؤ تم
وہ ظالم کون تھا، یہ فیصلہ جس نے سنایا تھا

بتاؤ  اِس کی کیا بنیاد ہے ؟ یہ واقعہ کیا ہے ؟
خدا کا کون سا قانون ہے جس میں یہ لکّھا ہے ؟

 

170

تو کیا تم بٹ گئے گاؤں ، قریوں اور قبیلوں میں ؟
وفاداری تمھاری کھو گئی موہوم راہوں میں 
کہاں وہ مذہبِ انسانیّت، وہ عالمی اقدار کا بانی!
کہاں یہ ذہنِ مردہ بند ہیں جو قید خانوں میں !

یہی تعلیم تم نے پائی ہے اپنی وراثت میں ؟
یہی حاصل ہوا ہے کیا تمھیں اپنی روایت میں ؟

 

171

سنا ہے کشتِ مسلم کا وہ عالم اب نہیں جو تھا
سنا ہے اُس میں وہ موسم نمو کا اب نہیں جو تھا
خیابانِ گل و نسریں میں اکثر خار اگتے ہیں 
سنا ہے وہ سماں محبوبیّت کا اب نہیں جو تھا

سنا ہے اجتہادی راہ تم نے ترک کر دی ہے 
سنا ہے انقلابی روح سے پہلوتہی کی ہے 

 

172

یہ کیا سچ ہے کہ تم قرآن سے شادی رچاتے ہو؟
اور اِس صورت سے تم اپنی زمینداری بچاتے ہو؟
تم اپنی عاقبت اِس طرح سے برباد کرتے ہو
کلام اﷲ کی تم اِس طرح تحقیر کرتے ہو

کہاں نورِ الہٰی اور کہاں قرآن کی عظمت!
کہاں یہ ملحدانہ سوچ، یہ افرادِ بد طینت!

 

173

تمھیں اک فوقیت حاصل تھی دنیائے تمدّن میں 
تمھاری امتیازی شان تھی اقوامِ عالم میں 
جہاں میں اک نشاة ثانیہ کے پیش رو تم تھے 
نئی اقدار کے بانی تھے تہذیبوں کے آنگن میں 

جب انسانوں کے اوپر ظلم کا خفقان طاری تھا
تو اہلِ عالمِ اسلام کا فیضان جاری تھا

 
174

سنا ہے تم نے سوتے اجتماعی زندگی کے بند کر ڈالے 
سبق رسم و رہِ انسانیت کے سب بھُلا ڈالے 
ہدایت جو ملی تھی باہمی ربط و اخوّت کی
وہ سارے دوستی کے راستے مسدود کر ڈالے 

تم اپنی امتیازی شان سے یوں منحرف ہو اب
کہ گویا اک خیال و خواب کا عنوان ہیں یہ سب

 

175

اِدھر اہلِ سیاست ہیں ، اُدھر مردِ مسلماں ہیں 
اِدھر اہلِ ادب ہیں اور اُدھر وہ اہلِ ایماں ہیں 
اُدھر وہ حاکمانِ با حشم اور صاحبِ جبروت بیٹھے ہیں 
مریدوں اور پیروں کے اِدھر غولِ بیاباں ہیں 

رئیسوں ، شاہزادوں اور سرداروں کا مجمع ہے 
فقط اک باپ ہے بچّی کا جو خاموش و تنہا ہے 

 
176

کھڑا ہے ایک کونے میں دزدیدہ دل، جھکائے سر
غموں کے بوجھ سے دُہرا ہوا جاتا ہے قدموں پر
سرِ بازار بولی لگ رہی ہے اُس کی بیٹی کی
یہ اُس کا باپ ہے کہتے ہیں جس کو دختِ نیک اختر

یہ سودا وہ ہے جس میں مال بھی دینا ہے ، قیمت بھی
اٹھانا بوجھ بھی ہے اور خود دینا ہے اجرت بھی

 

177

یہ مایوسی کا باعث ہے ، مقامِ رنج و حیرت ہے 
کہ وہ مذہب جو دنیا میں نشانِ دینِ فطرت ہے 
نقیبِ اوّلیں ہے جو حقوقِ نوعِ نسوان کا
کہ جس کے درسِ با برکات سے عورت کی عظمت ہے 

کہاں جس نے کہ گو وہ مختلف ہے پر برابر ہے 
اُسی مذہب کا پیرو آج سرگرمِ رقابت ہے 

 
178

وہ کوشاں ہے کہ دورِ جاہلیت پھر پلٹ آئے 
کسی صورت سے پھر تصویر عورت کی بگڑ جائے 
کلامِ حق کی کچھ تفسیر اور توضیح ایسی ہو
کہ وہ اعزازِ با انصاف سے نیچے اتر جائے 

پھر اُس کے واسطے دار و رسن کی آزمائش ہو
وہ پھر پابندِ رسم و ریت ہو، صیدِ نکوہش ہو

 

179

یہ سازش ہو رہی ہے پھر سے کچھ گمراہ لوگوں میں 
وہ پھر محصور ہو کر ڈوب جائے لاکھ پردوں میں 
کھلی تازہ ہوا میں سانس لینے کی مناہی ہو
وہ پھر سے لَوٹ جائے جاہلیّت کے اندھیروں میں 

نیا دستور نافذ ہو، نیا طرزِ سیاست ہو
وراثت کو غصب کرنے کی خاطر قتلِ عورت ہو

 
180

بنامِ عزّت و ناموس، قرآن ہاتھ میں لے کر
لگاؤ تہمتوں کا زخم اُس کے جسمِ لاغر پر
وہ ہے مخلوق دوئم مرتبے کی، اُس کی وقعت کیا
گرا ؤ فرشِ خاکی پر، گلے پر پھیر دو خنجر

یہ تہذیبی عقیدہ ہے ، یہ پُرکھوں کی روایت ہے 
یہ کارِ خیر ہے اور نام اِس کا قتلِ غیرت ہے 

 

181

کہاں ہیں محرمانِ حق؟ کہاں ہیں عالمانِ دین؟
کہاں ہیں رہبرانِ دور اندیش و خلوص آگیں ؟
کہاں ہیں پاس دارانِ وقارِ منبر و مسجد؟
کہاں ہیں درس گاہ علم و آگاہی کے خوشہ چیں ؟

کہو اُن سے اٹھیں اور اپنے ماضی پر نظر ڈالیں 
اور اُس کی روشنی میں آج اپنے بام و در دیکھیں 

 
182

سیاسی شعبدہ بازی کے رنگیں جال سے نکلیں 
جہالت کے سمندر سے ابھر کر دور تک دیکھیں 
مفادِ ذات کی گمراہیوں سے دست کش ہو کر
وہ روحِ دینِ فطرت پر حکیمانہ نظر ڈالیں 

صحیفوں کو پڑھیں ، قرآن کے احکام کو سمجھیں 
اشارہ کس طرف جانے کا ہے ، رجحان کو سمجھیں 

 

183

رواں ہے کارواں تعلیمِ نسوان کا زمانے میں 
ہیں اقوامِ جہاں کو شاں ہنر اپنا بڑھانے میں 
مگر تم مبتلائے بحثِ لایعنی ہو برسوں سے 
تمھیں حاصل ہے ملکہ نت نئے نکتے اٹھانے میں 

غرض بس ایک ہے ، علم و ادب کا کام رک جائے 
رواں جو کارواں ہے ، وہ کسی صورت اٹک جائے 

 
184

کہیں قضیہّ اٹھاتے ہو مدارس دور طرح کے کیوں 
کہیں تم کو شکایت ہے مدرّس دور طرح کے کیوں 
کہیں حجت ہے یکساں شعبۂ تعلیم کرنے کی
فقط تعلیم میں یکسانیت کا سر میں سودا کیوں ؟

وہ جنّت کون سی ہے جس میں ہر انسان یکساں ہے ؟
وہ دنیا ہے کہاں جس میں چراغاں ہی چراغاں ہے ؟

 

185

لباسوں کے مسائل ہیں ، کتابوں کے مسائل ہیں 
حجابوں کے مسائل ہیں ، نقابوں کے مسائل ہیں 
کہیں ہے ذریعۂ تعلیم کی بنیاد پر بَلوا
بدیسی، غیر اسلامی زبانوں کے مسائل ہیں 

کہیں مخلوط تعلیمی اداروں سے بغاوت ہے 
کہیں عزمِ تصادم بر بنائے زیب و زینت ہے 


186

کسی کو عائلی منصوبہ بندی سے شکایت ہے 
خلافِ دین بھی ہے اور یہ تردیدِ فطرت ہے 
سوال اِس میں نہ عورت کی رضا کا ہے ، نہ صحّت کا
یہ حق مَردوں کا ہے ، اِس امر کی دیریں روایت ہے 

یہ استحقاق بنیادی ہے ، ہرگز ٹل نہیں سکتا
کوئی قانون اِس کے سامنے اب چل نہیں سکتا

 

187

کسی کا قول ہے اُس کو نہیں حق ووٹ دینے کا
کوئی کہتا ہے اُس کو حق نہیں ہے سربراہی کا
کسی توجیہ سے اُس کی گواہی نامکّمل ہے 
کسی تاویل سے اُس کو نہیں حق اپنی شادی کا

کوئی عورت کو دے کر قرض کو بہ باق کرتا ہے 
وہ اُس کو زہر دے کر آپ کو تریاق کرتا ہے 

 
188

قبائل کی عدالت ہو تو عورت تابع محمل ہے 
ضعیف العقل ہے ، کم تر ہے اور مخلوقِ اسفل ہے 
سزا عصمت دری کی اس کو دینا امرِ جائز ہے 
سرِ محفل اُسے ننگا نچانا حکمِ عامل ہے 

فحاشی خود کو کرنا ہے ، سزا عورت کو دینا ہے 
اُسے پیشے پہ بیٹھانا ہے ، اجرت آپ لینا ہے 

 

189

سہولت چار شادی کی ملی ہے جو شریعت سے 
کیا تعبیر اُس کو مرد کی جنسی فضیلت سے 
بوصفِ موشگافی مقصدِ اصلی حذف کر کے 
تعیش کا بہانہ ڈھونڈ لائے حکمِ قدرت سے 

خود اپنی جان پر بن جائے تو غیرت کو دیتے ہو
جرائم کی سزا کے طور پر عورت کو دیتے ہو

 
190

تمھاری عاشقانہ شاعری کی ڈھب نرالی ہے 
مخاطَب اُس کا عورت ہے مگر صورت خیالی ہے 
اشاروں اور کنایوں میں حقیقت کو چھپاتے ہو
غزل کی صنف دنیا کے ادب میں صنفِ عالی ہے 

بڑی چاہت سے تم زلف و کرم کی بات کرتے ہو
مگر تذکیر کا پردہ تم اُس پر ڈال دیتے ہو

 

191

یہ فکری بزدلی ہے اور علامت ذہنیت کی ہے 
ہتک عورت کی بھی ہے اور سُبکی انثیت کی ہے 
نشانی ہے یہ اک رجحان کی، تاریخ شاہد ہے 
تھکن سے چور تہذیبوں کی ذہنی تربیت کی ہے 

یہ دل کہتا ہے عورت روح، تعبیرِ سہتی ہے 
ثقافت مشورہ دیتی ہے وہ تمثالِ پستی ہے 

 
192

کسی کی آرزو ہے گل کو اُس کے روبرو کر دے 
نظر دل پردہ رکھے اور بوسہ بھی اُسے دے دے 
کسی کو زندگی زہرہ جبینوں میں بِتانا ہے 
ثمر بھی دے اُسے اور گل بھی وہ اُس کی طرف پھینکے 

کسی کو یاد اُس کی رات بھر سونے نہیں دیتی
خلش دل کی کسی حساّس کو رونے نہیں دیتی

 

193

کسی کو کوئے جاناں کے پتے پر رشک آتا ہے 
وہ چلتا ہے تو نقشِ پا بھی لغزشِ سے مٹاتا ہے 
مگر اقرار یہ کرتا نہیں محبوب عورت ہے 
حقیقت کو اشاروں میں بہر صورت چھپاتا ہے 

وہ عورت سے تعلّق اِس طرح محذوف کرتا ہے 
گناہوں کو کوئی جس طرح سے محذوف کرتا ہے 

 
194

خیالی داستانوں میں جو عکسِ زن ابھرتا ہے 
بڑی محبوبیت، رومانوی رنگوں کا خاکا ہے 
سسّی ہو، سوہنی ہو، جولیٹ ہو یا کہ لیلا ہو
مرقّع ہے وفا کا، حسنِ طینت کا سراپا ہے 

بہر صورت محبت خارزاروں سے گزرتی ہے 
جواں سالی میں الفت بے کسی کی موت مرتی ہے 

 
195


یہ رشتہ مرد و زن کا، سانحہ ہے کور بختی کا
خشونت، سخت گیری، جبرِ بے جا کا، درشتی کا
سماجی کور چشمی نے ستم زن پر جو ڈھائے ہیں 
وہ پیمانہ ہیں خوں کا، بازوئے قاتل کی چستی کا

خیالی داستانوں میں بھی وہ بے موت مرتی ہے 
چنی جاتی ہے دیواروں میں ، اکثر تاج کھوتی ہے 

 


عقوبت خانۂ تہذیبِ حاضر

 

یہاں قانون سازی کے عمل کا حق ہے قاتل کو
یہ وہ دستور ہے جس میں سزا دیتے ہیں بسمل کو
یہاں مجرم کو بیٹھاتے ہیں کرسیِ عدالت پر
یہاں حق سرنگوں ہوتا ہے ، شہ ملتی ہے باطل کو

یہ وہ دنیا ہے جس میں فتح طاقت ور کی ہوتی ہے 
یہاں انصاف کی تربت پہ مدّھم شمع جلتی ہے 


 

نواں سبق

 

عقوبت خانۂ تہذیبِ حاضر

 

وہ عہدِ جاہلیّت ہو کہ عہدِ عقل و دانائی
دل آزاری کی ہر جا ایک ہی صورت نکل آتی
جہاں کی ساری تہذیبوں کا مسلک ایک جیسا ہے 
کہ حقِّ فوقیت ہے مرد کو، عورت رعایا ہے 

کہیں رجحان زیادہ ترش روٗ ہے اور کہیں کم ہے 
وہ ہے کم تر سماجی طور پر، بدنام و رسوا ہے 

علامت اجتماع پستیوں کی ذات ہے اُس کی
حوالہ ہر طرح کی گالیُوں کی ذات ہے اُس کی

 

197

کہ عورت قاطعِ ایمان ہے اور بے وفا ہے یہ
زمانے بھر کی تہذیبوں کا باہم فیصلا ہے یہ
کہ اِس کی چھل کے آگے آدمی مجبورو بے بس ہے 
یہ فردوس نظر ہے اور سقر کا راستہ ہے یہ

نہ ہو عورت اگر اِس میں تو یہ دنیا ہے بے معنی
وہی نورِ نظر بھی ہے ، وہی تلمیذِ شیطانی


198

بوصفِ صنفِ نازک کچھ عجب رنگِ زمانہ ہے 
اِسی کے حسن سے جاری جنوں کا کارخانہ ہے 
وہ مشرق ہو کہ مغرب، اِس کے دیوانے ہیں ہر جانب
اِسی کے دم سے وابستہ محبت کا فسانہ ہے 

کوئی کرتا ہے رقصِ حسنِ بے پردہ سرِ محفل
کوئی نذرانہ دیتا ہے درونِ پردۂ محمل

 

199

خراجِ حسن دیتا ہے کوئی بزمِ چراغاں میں 
رباب و چنگ کی جھنکار میں ، شمعِ فروزاں میں 
کوئی محفوظ ہوتا ہے درونِ حجلۂ تمکیں 
حرم کے حجرۂ تاریک میں ، دیوارِ زنداں میں 

کسی کے واسطے ہے وہ کھلونا خیمۂ فن کی
کسی کے واسطے مرغِ شکستہ پر ہے مسکن کی

 

200

کہیں وہ کم لباسی میں سرِ بازار بِکتی ہے 
کہیں وہ اطلس و کمخواب میں گلنار بِکتی ہے 
کہیں وہ سونپ دی جاتی ہے قرضوں کے چکانے میں 
کہیں وہ جرم کے بدلے بصد انکار بِکتی ہے 

کہیں وہ چند سکّوں کے لیے بے کار بِکتی ہے 
کہیں اہلِ ہوس کے واسطے سو بار بِکتی ہے 

 

201

شکاری جال پھیلائے ہوئے تیار بیٹھے ہیں 
خریداری کی خاطر اک طرف زر دار بیٹھے ہیں 
طیورِ نغمہ زن صحنِ چمن میں جلوہ ساماں ہیں 
مآلِ زندگی سے بے خبر، سرشار بیٹھے ہیں 

شکاری کی گواہی ہے کہ بد اطوار ہے بلبل
خریداروں کا کہنا ہے کہ بدکردار ہے بلبل

 

202

تجارت زن کی ہوتی ہے ، تجارت مرد کرتے ہیں 
امانت زن کی ہوتی ہے ، خیانت مرد کرتے ہیں 
یہی دستور قائم تھا، خباثت مرد کرتے ہیں 

عدالت مرد کی ہوتی ہے ، تہمت زن پہ لگتی ہے 
کہ قاتل فیصلہ کرتے ہیں ، مجرم زن ٹھہرتی ہے 


203

یہاں قانون سازی کے عمل کا حق ہے قاتل کو
یہ وہ دستور ہے جس میں سزا دیتے ہیں بسمل کو
یہاں مجرم کو بیٹھاتے ہیں کرسیِ عدالت پر
یہاں حق سرنگوں ہوتا ہے ، شہ ملتی ہے باطل کو

یہ وہ دنیا ہے جس میں فتح طاقت ور کی ہوتی ہے 
یہاں انصاف کی تربیت پہ مدھّم شمع جلتی ہے 

 

204

زمانے بھر کی عیّاشی کا مرکز ہے تو عورت ہے 
زمانے بھر کی فحاشی کا منبع ہے تو عورت ہے 
سماجی زندگی میں ابتری ہے ذات سے اِس کی
ہوس کاری کا، اوباشی کا محور ہے تو عورت اِس کی

وہ عہدِ جاہلیّت ہو کہ عہدِ عقل و دانائی
دل آزاری کی ہر جا اک ہی صورت نکل آئی
 
205

نہ اب حسنِ طلب باقی، نہ ہے اب حسنِ ظن باقی
نہ فرقِ بلبل و طاؤس اور زاغ و زغن باقی
ادائے حسنِ بے پردا سے ہے ناآشنا مغرب
عوام الّناسِ مشرق میں نہیں ذوقِ چمن باقی

یہاں بھی اُس کی مجبوری، وہاں بھی اُس کی مجبوری
یہاں بھی اُس کی لاچاری، وہاں بھی اُس کی لاچاری


فردِ جرم
 
کھڑے ہیں ملزمانِ خون بداماں عہد رفتہ کے 
کھڑے ہیں علمانِ سوٗ روایت کی عبا ڈالے 
کھڑے ہیں کچھ اِدھر رنگیں قبائیں زیبِ تن کر کے 
صلیبیں گردنوں میں اور عبادت کی ردا ڈالے 

اُدھر وہ ہیں برہنہ جسم دھونی کا دھواں لے کر
تلک چندن کا پیشانی پہ، کشکولِ فغاں لے کر
 



دسواں سبق

 
فردِ جرم
 


نگاہیں روبرو! تاریخِ انساں کی عدالت ہے 
صداقت مدّعی ہے اور زمانے کی شہادت ہے 
 
افق سے افق پھیلی ہوئی ہے نور کی چادر
گھٹاؤں کی طرح سایہ کناں ہے عدل کا شہپر
ہوائے تازہ سے لہرا رہا ہے پرچمِ رحمت
حقوقِ نوعِ انساں کی کتابوں کا کھلا دفتر

نگاہیں روبرو! تاریخِ انساں کی عدالت ہے 
صداقت مدّعی ہے اور زمانے کی شہادت ہے 

 

207


کھڑے ہیں ملزماں  خون بداماں عہدِ رفتہ کے 
کھڑے ہیں عالمانِ سوٗ روایت کی عبا ڈالے 
کھڑے ہیں کچھ اِدھر رنگیں قبائیں زیبِ تن کر کے 
صلیبیں گردنوں میں اور عبادت کی ردا ڈالے 

اُدھر وہ ہیں برہنہ جسم دھونی کا دھواں لے کر
تلک چندن کا پیشانی پہ، کشکولِ فغاں لے کر


 
208

سجا رکّھا ہے اک ملزم نے تن پر گیردا بستر
نشانِ پاک دامانی ہے مالا اُس کی گردن پر
کلاہِ مختصر رکّھی ہے اک ملزم نے تالو پر
سیہ لمبی عبا ڈالی ہے اُس نے جسمِ سرکش پر

یہ ہیں سب ملزمانِ پیشہ ور تاریخِ انساں کے 
نہ یہ اب ہیں پشیماں اور نہ یہ پہلے پشیماں تھے 


 209

ہر اک تہذیب نے پہنا ہے چوغہ بے گناہی کا
کہ وہ مذہب کے لشکر میں محض ادنیٰ سپاہی تھا
کہ جو کچھ بھی کیا، اُس کے لیے احکامِ بالا تھے 
نہیں وہ مرتکب دنیا میں غارت اور تباہی کا

اُسے قانون کی روٗ سے بری کرنا ضروری ہے 
ہوا جو جرم سرزد، وہ سراسر لاشعوری ہے 


 210


یکایک چیخ اُٹّھی اک کفن بردوش صورت سے 
محلاتِ عدالت ہل گئے غم کی جراحت سے 
یہ مجرم ہے ! یہ مجرم ہے ! یہ مجرم ہے ! یہ مجرم ہے !
کفن بردوش لاشے نہ کہا اتمامِ حجت سے 

مجھے اِس نے اپاہج کر کے رکّھا قیدِ زنداں میں 
پسِ دیوار تنہائی حوالاتِ خموشاں میں 


 211


صلیبوں پر جلی اک لاش نے اٹھ کر گواہی دی
افق سے تا افق پھیلی عدالت کی دُہائی دی
یہ انساں شکل ہے لیکن یہ حیوانوں سے بدتر ہے 
اِسی نے آگ میرے جسمِ بے بس میں لگائی تھی

مجھے کہ کر چڑیل اِس نے صلیبوں پر چڑھایا تھا
یہ مجرم ہے ! یہ مجرم تھا! یہ مجرم ہے ! یہ مجرم تھا!
 

212

چِتا کی آگ کے شعلے بھڑک اُٹّھے کہ ہم بھی ہیں 
شقی القلب جرموں کی شہادت ایک ہم بھی ہیں 
یہی وہ شخص ہے جس نے چِتا میں مجھ کو ڈالا تھا
شہیدِ خنجرِ آزار و استبداد ہم بھی ہیں 

لبادہ آج جس نے پاک دامانی کا اوڑھا ہے 
یہ وہ ہے جس نے ہر قانونِ انسانی کو توڑا ہے 

 
213

غرورِ پاک دامانی سے از حد سرگراں ہو کر
بزعمِ ریشِ سیمیں خود پرست و خوش گماں ہو کر
غلط فہمی ہے اِس کو یہ نمائندہ ہے یزداں کا
یہ مستِ بادۂ نخوت، خصومت کا نشان ہو کر

یہ کانٹے رولتا ہے بندگانِ حق کی راہوں میں 
یہ آہیں گھولتا ہے سادہ دل، معصوم جانوں میں 

 
214


مرے باغِ مسرّت کو اِسی ظالم نے پھونکا تھا
اِسی ملزم نے پندارِ محبت میرا توڑا تھا
یہ اب اوڑھے ہوئے ہے جو لبادہ بے گناہی کا
اِسی نے زہرِ محرومی مری الفت میں گھولا تھا

یہی ہے جس نے لے کر نام مذہب اور ثقافت کا
شقاوت سے بھرا خنجر مری گردن پہ پھیرا تھا


 215

کہاں تھا اہلِ قریہ سے ، یہ غیرت کا تقاضا ہے 
کہاں تھا اُن سے ، یہ ظلمت کا، ذلّت کا جنازا ہے 
نشانِ قبر کو میرے اِسی سک نے اُکھاڑا تھا
مری معصومیّت کے نقش کو اِس نے مٹایا تھا

یہ اپنی بے ضمیری، بد نہادی کا اثاثہ ہے 
یہ اپنے ظلم کا منھ بولتا، جیتا نمونہ ہے 

 
216

اٹھا اک سمت سے کہرام کچھ گمنام جانوں کا
نقابوں میں چھپے چہروں کا، پژمردہ نگاہوں کا
وہ تھیں شکوہ کناں اپنے مجازی دیوتاؤں سے 
کہ اُس نے اُن کو مالِ صرف اور جاگیر سمجھا تھا
کہ اُس نے اُن کو مالِ صرف اور جاگیر سمجھا تھا

میں بے بس تھی، مری ہستی پہ یہ اِس طرح قابض تھا
یہ گلّہ بانکی صورت مجھے پابند رکھتا تھا

 
217

نہ ہنسنا میرے بس میں تھا، نہ رونا میرے بس میں تھا
میں اک پتّھر کی مورت تھی، سسکنا میرے بس میں تھا
مجھے یہ دیکھتا تھا مستقل شک کی نگاہوں سے 
نہ جینا میرے بس میں تھا، نہ مرنا میرے بس میں تھا

یہ خود عیّاش تھا لیکن مری عفّت کا مالک تھا
یہ بے غیرت تھا خود لیکن مری غیرت کا مالک تھا

 
218

اچانک اک طرف سے غول اُٹّھا خستہ جانوں کا
غموں سے چور دوشیزاؤں کا اور نوجوانوں کا
دُہائی دے رہے تھے وہ ضمیرِ نوعِ انساں کی
سہارا تھا اُنھیں بس عادلانِ نور افشاں کا

وہ سب لپٹے کھڑے تھے پائے کرسّیِ عدالت سے 
افق سے تا افق پھیلے ہوئے تختِ عدالت سے 


 
219

کئی اُن میں جہیزوں کی چِتا میں جلنے والی تھیں 
کئی بے جان اشیا کی طرح سے بِکنے والی تھیں 
ہوئی تھیں دست گرداں اُن میں کچھ قرضوں کے بدلے میں 
کوئی قاتل کی خاطر خون بہا میں بٹنے والی تھیں 

کسی نے انفصالِ عقد کا فرمان مانگا تھا
تو ظالم باپ نے اُس کا گلا ہاتھوں سے گھونٹا تھا

 
220


کسی معصوم کی عصمت دری سردارِ جرگہ نے کرائی تھی
برہنہ لاش اُس کی شاہراہوں پر گُھمائی تھی
مری دوشیزگی کو مسئلہ اِس نے بنایا تھا
مری ناکتخدائی کی ہنسی اِس نے اُڑائی تھی

یہ بار اپنے گناہوں کا مرے کاندھے پہ رکھتا تھا
سیاہی اپنی بد فعلی کی میرے منھ پہ ملتا تھا

 
221

لبِ نازک سے اک بچّی نحیف آواز میں بولی
مرے ابّو نے میری قبر میرے سامنے کھودی
غضب کی چلچلاتی دھوپ تھی، گرمی کی شدّت تھی
دوپٹے ّ سے میں ماتھے پا پسینا پونچھ دیتی تھی

اِنھوں نے مجھ کو دھکاّ دے کے گڈّھے میں گرایا تھا
میں چلاّتی رہی، لیکن ترس اِن کو نہ آیا تھا

 
222


کہ صدیوں سے تہِ خاکِ عذابِ جاں کنی ہوں میں 
یہ اپنی گم شدہ سانسوں سے اکثر پوچھتی ہوں میں 
کہ وہ انسان کیسا تھا، کہ وہ سنتان کیسی تھی
ہزاروں سال کی تاریخ ہے اور مر رہی ہوں میں 

کہاں ہیں وہ جو میری کلفتوں کا اجر دیں مجھ کو؟
کہ جو شرمندگی کے آنسوؤں کی نذر دیں مجھ کو؟


فیصلا

 
حقوقِ نوعِ انسانی کے مندرجات کی روٗ سے 
رسولِ پاک کی معروف ترغیبات کی روٗ سے 
عوام النّاس کے منجملہ احساسات کی روٗ سے 
بیانِ استغاثہ اور الزامات کی روٗ سے 

نئی دنیا کا انساں فیصلہ اپنا سنائے گا
ہزاروں سال کی تاریخ کے دھبے ّ مٹائے گا


 
گیارھواں سبق
 

فیصلا



اب اِس کا فیصلا ہو گا خواتیں کی عدالت سے 
سزا اِس کو ملی گی بنتِ حواّ کی حکومت سے 

یہ حتمی حکم ہے تاریخ کی اعلیٰ عدالت کا
افق سے تا افق پھیلے ہوئے قانونِ طرف کا
کہ ہے انسان مجرم، ارتکابِ جرم ثابت ہے 
یہ ہے بدکار، اِس کو حق نہیں حاصل رعایت کا

سزائے موت اِس کو جرم کی پاداش میں کم ہے 
اذیّت اِس کو بس اک بار مرنے کی ملائم ہے 

 

224

ہزیمت اِس کی لافانی، اذیّت اِس کی لافانی
مکّمل اِس کی بدحالی، مسلسل اِس کی ناکامی
ازل سے اِس کی قسمت میں لکھا ہے ٹھوکریں کھانا
دوامی اِس کی محرومی، دوامی اِس کی ناکامی

سزا اِس کو ملے گی بنتِ حواّ کی عدالت سے 
اب اِس کا فیصلا ہو گا خواتیں کی حکومت ہے 
 

225


بیانِ استغاثہ اور الزامات کی روٗ سے 
فریقوں کی شہادت اور تعزیرات کی روٗ سے 
حوالہ جات و دستاویز کے صفحات کی روٗ سے 
حقوق نوعِ انسانی کے مندرجات کی روٗ سے 

کتابِ عادلِ مطلق کے احکامات کی روٗ سے 
مذاہب کے اصولوں اور ترجیحات کی روٗ سے 


 
226

رسولِ پاک کی معروف ترغیبات کی روٗ سے 
عوام لنّاس کے منجملہ احساسات کی روٗ سے 
جہاں آباد کے مرقوم دستاویزات کی روٗ سے 
ستم اور جبر اور سنگینیِ حالات کی روٗ سے 

نئی دنیا کا انسان فیصلا اپنا سنائے گا
ہزاروں سال کی تاریخ کے دھّبے مٹائے گا

 
227

خواتیں جلوہ فرما ہوں گی ایوانِ عدالت میں 
قائم ہو گی مجلس بنتِ آدم کی قیادت میں 
کٹہرے میں کھڑے ہوں گے شہنشاہاں  با سطوت
زمانِ دیدہ ور بیٹھیں گی کرسیِ صدارت میں 

ذکور النّاس کی قسمت کا حتمی فیصلا ہو گا
رہے گا دوش کے اوپر کہ سر تن سے جدا ہو گا


 
228

لگائے جائیں گے دُرّے برہنہ پشت کے اوپر
نچایا جائے گا اُس کو سلگتی شاہراہوں پر
کیا جائے گا اُس کو قتل غیرت کے بہانے سے 
جلایا جائے گا اُس کو چِتاؤں کی سلاخوں پر

وہ سارے ظلم جو اُس نے کیے ہیں ذاتِ عورت پر
کیے جائیں گے وہ سارے اب اُس حیواں کے اوپر

 
229

کھلی جب آنکھ میری، سامنے میرے وہ چہرا تھا
وہ جس کو میں نے اپنے لمحۂ اوّل دیکھا تھا
وہ آغوشِ محبت جس میں میں نے آنکھ کھولی تھی
وہ سانسوں کا تسلسل جو مرے حصّے میں آیا تھا

میں اُس آغوش مادر سے طلب گارِ معافی ہوں 
میں اُس شفقت کے پیکر سے سزاوارِ تلافی ہوں 
 


ایک خواب
 

سرہانے سے مرے آواز آتی ہے ، مرے بچّے !
ہوا جو کچھ بھی دنیا میں تو اِس کا غم نہ کر بچّے !
یہاں جو کچھ بھی ہے ، اﷲ کی مرضی سے ہوتا ہے 
تو میرا غم نہ کر‘ میرا مقدّر ہے مرے بچّے !

میں اپنی گم شدہ سانسوں سے تجھ کو معاف کرتی ہوں 
میں اپنی بے  نشاں قبروں سے تجھ کو معاف کرتی ہوں 
 



بارھواں سبق


ایک خواب


خزاں کی شبنمی راتوں میں اپنے گھر کے آنگن میں 
مین جب بھی بیٹھتا ہوں کربِ انساں کا سبو لے کر

جہادِ زندگی کی کلفتوں سے خستہ جاں ہو کر
شبِ دیجور کی سنسان تنہائی سے گھرا کر
خزاں کی شبنمی راتوں میں اپنے گھر کے آنگن میں 
میں جب بھی بیٹھتا ہوں کربِ انساں کا سبو لے کر

تو تاریخِ جہاں کے کچھ مناظر یاد آتے ہیں 
ست کے ، جور کے خونیں مظاہر یاد آتے ہیں 




 
231

اکھڑتی، ڈوبتی سانسوں کی آوازیں ستاتی ہیں 
بلکتی سسکیاں ، اندوہ گیں آہیں ستاتی ہیں 
نظر کے سامنے معصوم چہرے جگمگاتے ہیں 
یکایک خاک میں لتھڑی ہوئی لاشیں ستاتی ہیں 

یہ منظر دیکھتا ہوں اور کلیجا منھ کو آتا ہے 
شقاوت دیکھتا ہوں اور مرا دل ڈوب جاتا ہے 


 
232

مظالم ہم نے جو ڈھائے وجودِ بنتِ آدم پر
ہر اک تہذیب نے ہاتھوں میں اک گرزِ گراں لے کر
رخِ عورت کو جیسے وحشیانہ پن سے کچلا ہے 
عناد و بغض کی بے مہر تیغِ خوں چکاں لے کر

مناظر دیکھ کر افسردگی میں ڈوب جاتا ہوں 
میں خود کو ایک قبرستان میں محصور پاتا ہوں 

 
233

سرہانے سے مرے آواز آتی ہے ، مرے بچّے !
ہوا جو کچھ بھی دنیا تو اِس کا غم نہ کر بچّے !
یہاں جو کچھ بھی ہے ، اﷲ کی رضی سے ہوتا ہے 
تو میرا غم نہ کر، میرا مقدّر ہے مرے بچّے !

میں اپنی گم شدہ سانسوں سے تجھ کو معاف کرتی ہوں 
میں اپنی بی نشاں قبروں تجھ کو معاف کرتی ہوں 

بنامِ عادلِ برحق


یہ بے جا راستہ بہتان کا، تہمت طرازی کا
یہ سبقت کی ہوس، یہ سلسلہ قامت درازی کا
یہی ہے خشتِ اوّل آدمیّت کی تباہی کی
جہاں کی ابتری تاوان ہے اِس جعل سازی کا

ہزاروں سال گزرے اور یہ منفی سوچ جاری ہے 
نفاقِ مرد و زن کا فتنہ گر ادبار طاری ہے 


 

 تیرھواں سبق


بنامِ عادلِ برحق


زوالِ آدمِ خاکی کا بانی اک تصوّر ہے 
دروغِ بالارادہ جس کا وحشت ناک محور ہے 

زوالِ آدمِ خاکی کا بانی اک تصوّر ہے 
دروغِ بالارادہ جس کا وحشت ناک محور ہے 
بروئے قصۂ تخلیق کج بینی و کج فہمی
عوام النّاس کی بربادیوں کی وجہِ اکبر ہے 

وہ تہمت جو لگائی مرد نے بر گردنِ عورت
سراسر مسخ کر ڈالی نظامِ دہر کی صورت

 

235

ازل سے ایک ناانصاف دنیا کی بِنا ڈالی
جہانِ رنگ و بو میں آتشِ سفّاک بھڑکا دی
تقدّس اور بدی کی پرچمِ خونی کو لہرا کر
اصولِ عدل اور اخلاقِ حسنہ کی نفی کر دی

کیا تقسیم مخلوقِ خدا کو دو قلابوں میں 
کہ اپنی بے حیائی کا مداوا تھا حجابوں میں 


 236

تفنگ و تیر کی برّش کو وجہِ تمکنت مانا
گرفتِ دست و بازو کو بِنائے فوقیت مانا
فتوحاتِ علاقائی کو عظمت کا نشاں سمجھا
ریاست اور حکومت کو ثبوتِ اہلیّت مانا

جہاں  کی کج روی کی ابتدا ہے آفرینش سے 
روابط مرد و زن کے مسخ کر دینے کی سازش سے 

 
237


ازل سے مردمانِ کم نظر کی جستجو ہے یہ
کہ عورت دشمنِ ایمان ہے ، حق کی عدد ہے یہ
علامت ہے وہ کذب و افترا کی، عقل سے عاری
 کہ بد اخلاق ہے ، کم ظرف ہے ، بے آبرو ہے یہ

اُنھوں نے قصۂ تخلیق کی تاویل ایسی کی
کہ جس کی روٗ سے عورت مرد گمراہ کن ٹھہری

 
238

 بِنا تفریق کی ڈالی گئی ہے روزِ اوّل سے 
ہے انساں ایک بہتر، ایک کم تر روزِ اوّل سے 
یہ سرچشمہ ہے ظلم و جبر کا، بعض و عداوت کا
یہ انسانی تنزّل کا سبب ہے روزِ اوّل سے 

سکون اور امن گر دنیا میں انسانوں کو لانا ہے 
تو اِس دیوار کو ہموار کرنا ہے ، گرانا ہے


 
239

یہ بے جا راستہ بہتان کا، تہمت طرازی کا
یہ سبقت کی ہوس، یہ سلسلہ قامت درازی کا
یہی ہے خشتِ اوّل آدمیّت کی تباہی کی
جہاں کی ابتری توان ہے اِس جعل سازی کا

ہزاروں سال گزرے اور یہ منفی سوچ جاری ہے 
نفاقِ مرد و زن کا فتنہ گر ادبار طاری ہے 

 
240


کہ جس آغوش میں انسان کی تقدیر پلتی ہے 
کہ جن ہاتھوں سے ملک اور قوم کی تصویر بنتی ہے 
کہ جن مکتب میں رجحانات کی تشکیل ہوتی ہے 

اُسے معتوب اور مجہول کر دینے کی سازش ہے 
اُسے معددم اور مفقود کر دینے کی سازش ہے 


 
241

جو نسلیں پرورش پاتی ہیں نفرت کے ہنڈولوں میں 
جو آنکھیں کھولتی ہیں جبر کی سنسان راہوں میں 
کہ جن کی زندگی کٹتی ہے خود غرضی کے آنگن میں 
کہ جن کی صبح ہوتے ہے جہالت کے اندھیروں میں 

وہ نسلیں کاٹتی ہیں فصل بے جا خود پرستی کی
وہ نسلیں کاٹتی ہیں فصل دہشت اور تعدّی کی

 
242

وہ تومیں جو جنم لیتی ہیں قبضے کی سیاست میں 
جکڑ دیتی ہیں انسانوں کو محکومی کی لعنت میں 
اور اُن کی نصف آبادی ترستی ہے ، تڑپتی ہے 
وہ قیدِ با مشقّت کاٹتی ہے گھر کی عزلت میں 

وہ اک ایسے سماجی ذہن کی تشکیل کرتی ہیں 
جوہر ہر گام پر قعرِ تباہی سے گزرتی ہیں 


 
243

جو انساں جنس کی بنیاد پر تفریق کرتا ہے 
وہ اک بے حس سماجی عہد کی تشکیل کرتا ہے 
شرابِ حاکمیّت کے نشے سے سرگراں ہو کر
وہ اک بے درد، ظالم قوم کی تعمیر کرتا ہے 

ہزاروں سال گزرے ہیں یہ جدّوجہد جاری ہے 
نتیجے میں جہاں پر جور کا ادبار طاری ہے 


 244


نئی دنیا کی محرومی، نئی دنیا کی لاچاری
نئی دنیا کا سونا پن، نئی دنیا کی تنہائی
یہ بے چینی، یہ بدامنی، یہ بد رنگی، یہ بدحالی
یہ بے فیضی، یہ بے تابی، یہ بے خوابی، یہ پسپائی

یہ ظلم و جبر کے بادل، یہ اشک و خون کی بارش
یہ بے مقصد تک و دو، یہ وبالِ جسم و جاں کاہش


 
245

سوالوں کی فراوانی، جوابوں کی تنگ یابی
غمِ اندیشۂ فردا، جنوں  کیمیا سازی
مدوّر وادیوں میں دوڑتے رہنا تسلسل سے 
خیال و خواب کے ویران صحراؤں کی بے آبی
 
تہِ بحرِ تحیرّ سے خزف کو ڈھونڈ کر لانا
نہ پا کر اُس میں موتی، بین کرنا اور پچھتانا

 
246

گئے ہم چاند کے اوپر، نتیجہ اِس کا کیا نکلا؟
قدم پہلا جو رکّھا، نتیجہ اُس کا کیا نکلا؟
رموزِ جوہری پائے ، نتیجہ اِس کا کیا نکلا؟
بنائے ایٹمی حربے نتیجہ اِس کا کیا نکلا؟

صدا و صوت کو باندھا، نتیجہ اِس کا کیا نکلا؟
کیا پابند صورت کو، نتیجہ اِس کا کیا نکلا؟


 
247

مناظر کو دوامی زندگی بخشی، نتیجہ اس کا کیا نکلا؟
حدیں رفتار کی توڑیں ،نتیجہ اس کا کیا نکلا؟
جہانِ نو بلاغت کا ، نیا چولا صحافت کا
بیان و لفظ بے قیمت،نتیجہ اس کا کیا نکلا؟

رموزِ پارسائی کی نئی صورت، نئے حربے 
صلیب و ماہِ نو کی جنگ کے بپھرے ہوئے نیزے 

 
248


عیاں ہے راز خلیوں کا، نئے آدم کی تیاّری
نئی تخلیق کی قدریں ، نیا طرزِ اداکاری
ستاروں کی فلک پیمائی آدم کے اشارے پر
خبرگیری خلاؤں کی، شعاعوں کی سِحر کاری

براہِ تارِ برقی سلسلہ خط و کتابت کا
نئی تعلیم کی راہیں ، نیا ذریعہ تلاوت کا

 
249


شکم کی آگ کیا انسان کی پہلے سے بہتر ہے ؟
دفاعِ قحط کا سامان کیا پہلے سے بہتر ہے ؟
سکتی ادھ مری لاشیں سلگتی شاہراہوں پر
بقائے نسل کا امکان کیا پہلے سے بہتر ہے ؟

غریبوں ، مفلسوں کے غول میں کیا کچھ کمی آئی؟
اور اُن کی جاں کنی کے قہر میں کیا کچھ کمی آئی؟

 
250

قتال و جنگ کی بربادیاں پہلے سے بدتر ہیں 
ہلاکت اور دہشت گردیاں پہلے سے بدتر ہیں 
مورّخ کے قلم سے خون کی بوندیں ٹپکتی ہیں 

شقیق القلبیاں انسان کی پہلے سے بدتر ہیں 
اذیّت ناکیاں سنتان کی پہلے سے بدتر ہیں 
رخِ تاریخ کی محرومیاں پہلے سے بدتر ہیں 

 
251

چراغِ عدل اور انصاف جو پہلے ہی مدھّم تھا
ازل سے تیل کا فقدان جس کو لو میں پہیم تھا
اب اِس عہدِ ترقّی میں دیا وہ بجھ گیا آخر
ہوا وہ مستقل خاموش جو پہلے ذرا کم تھا

ترازو عدل کی جو جھک گئی تھی شہ نشینوں میں 
وہ اب ٹوٹی پڑی ہے صاحبانِ زر کے قدموں میں 

 
252

بِنا شر کی پڑی جب مرد عورت پر ہوا حاوی
جب اُس نے برتری کے رشتۂ دوں کی بِنا ڈالی
جب اُس نے فلسفہ نافذ کیا تفریقِ انساں کا
شروع کی جنگ جب اُس نے جہاں میں حکمرانی کی

عنادِ مرد وزن، تنسیخِ حق کا بابِ اوّل ہے 
زوالِ آدمیّت کے عمل کا بابِ اوّل ہے 


 
253

نفاقِ مرد و زن قہرِ خدا کا پیش خمیہ ہے 
حکومت اور فضیلت کی ہوس کا پیش خیمہ ہے 
بطور اک نفسیّاتی مرض کے حاوی ہے یہ سب پر
یہ وہ سرطان ہے انسانیّت کو جس نے گھیرا ہے 

خدا کے قول کو شرمندۂ تعبیر کرنا ہے 
تو اک انصاف پر مبنی جہاں تعمیر کرنا ہے 


 
254

وہ دنیا جس میں مخلوقِ خدا یکسر برابر ہو
نہ ہو چھوٹا بڑا کوئی، نہ کم تر ہو نہ مہتر ہو
خدا کی مملکت میں زنگی و کافور یکساں ہوں 
نہ فرقِ آجر و خادم، نہ مفلس ہو نہ زرگر ہو

رواں ہو کاروانِ زندگی حسنِ توازن سے 
نظامِ دہر کی پہچان ہو اعمالِ احسن سے 


 
255


حضورِ والی کونین مرد و زن ہوں استادہ
جھکا دے سر، لیے اعمال کا ہاتھوں میں پشتارہ
کرم کے ملتجی ہوں ، اُس کی رحمت سے دعا مانگیں 
جزا اعمالِ احسن کی، برے کاموں کا خمیازہ

بنامِ عادلِ برحق، بنامِ منصفِ مطلق
بنامِ  حارثِ اوّل، بنامِ عادلِ برحق



چودھواں سبق 


صدا یہ عرش سے آئی
	

صداقت بے حقیقت اور حقیقت لفظِ بے معنی
تخیل کہ ہمہ گیری، تصوّر کی ہم دانی
بدلتے موسموں کی بے یقینی اور بے چینی
فنا ہوتے ہوئے لمحات کا استمرارِ لافانی

سحر کی ابتدا کوئی نہ شب کی انتہا کوئی
نہ حد امروز کی کوئی، نہ کل کی انتہا کوئی
 
سمندر کا عمق تھا اور بیابانوں کی وسعت تھی
چمک وانّجم کی، والّیل کی اتمامِ ظلمت تھی
 
صدا یہ عرش سے آئی کہ اے ناکام انسانو
تم اپنے ظرف کی کم مائیگی کا رمز پہچانو
ملا تھا تم کو میدانِ عمل زر خیر و بے پایاں 
کہ تم تخلیقِ انسانی کے امکانات کو جانو

تمھیں آزادیِ فکر و نظر حق نے عطا کی تھی
برائے عقل و دانش ایک لامحدود دنیا تھی

 
257


سمندر کا عمیق تھا اور بیابانوں کی وسعت تھی
چمک وانّجم کی، والّیل کی اتمامِ ظلمت تھی
تلاطم موجِ دریا کا، توقّف سنگِ خارا کا
بلندی آسمانوں کی، پر افشانی عقابوں کی

صدف کے قلبِ مضطر کی یتیمی اور بے آبی
خزاں پروردہ گلشن اُداسی اور تاراجی


258

ہوا کی تیز گامی اور طوفانوں کے بے تابی
سکوں ساحل کا، قعرِ بحر کا ہیجان و طغیانی
خلا میں تیرتے اجسام کی راہوں کی پابندی
شعاعِ مہر سے ذرّات کے مرکز کی سیرابی

رگِ آبِ رواں میں اہتمامِ کہربا سازی
تغّیر کی جہاں گیری، تبدّل کی جہاں بانی


 
259


صداقت بے حقیقت اور حقیقت لفظِ بے معنی
تخیل کی ہمہ گیری، تصورّ کی ہم دانی
بدلتے موسموں کی بے یقینی اور بے چینی
فنا ہوتے ہوئے لمحات کا استمرارِ لافانی

سحر کی ابتدا کوئی نہ شب کی انتہا کوئی
 نہ حد امروز کی کوئی، نہ کل کی انتہا کوئی

 


260


مزاجِ عشق کی حرماں نصیبی اور بے تابی
نگاہِ حسن کی معصومیت آمیز پرکاری
خموشی کا تکلّم اور صدا کے بیچ سنّاٹا
زمانے بھر کی مجبوری، زمانے بھر کی لاچاری

فضائے نیل گوں کی وسعتوں کا بے ستوں ہونا
سمندر کی تہوں کا بے اساس و بے کراں ہونا

 
261


نہ ماضی کی حقیقت ہے ، نہ مستقبل کی وقعت ہے 
نہ حاضری، نہ غائب ہے ، محض فکری جسارت ہے 
نہ قطرہ ہے نہ دریا ہے ، نہ یم ہے اور نہ ساگر ہے 
نہ ذرّہ ہے ، نہ تودہ ہے ، نہ کوہِ دیو قامت ہے 

یہ بس اک مرحلہ ہے ، سلسلہ ہے ، اک روانی ہے 
بکھر جائے تو ذرّہ ہے ، پگھل جائے تو پانی ہے 

 
262

تو اِس دنیا کے اندر برتری کی جستجو کرنا
بوصفِ قدّ و قامت بہتری کی آرزو کرنا
بِنائے جنس پر توقیر و عظمت کی ہوس کیشی
بفیضِ رنگ و صورت ادّعائے آبرو کرنا

رضائے آسمانی، مقتضائے آفرینش کے منافی ہے 
نظام و اہتمامِ آفرینش کے منافی ہے 

 
263

نہ یہ حکم مشیّت ہے ، نہ یہ اقدارِ انسانی
تقاضائے اخوّت ہے ، نہ دستورِ خرد مندی
خلوص و عدل سے مفقود اِس طرزِ تعلّق میں 
نہ یہ اطوارِ خوش باشی، نہ آدابِ ہنر مندی

تنگ فہمی نہیں ، یہ جاہلیّت کی نشانی ہے 
یہ ذہنی عصبیّت کی، آمریّت کی نشانی ہے 

 
264


اصولِ دین و مذہب اور شریعت کی ہے پامالی
یہ طرزِ فکر ہے میثاقِ انسانی سے سرتابی
یہ ارذل سوچ کا، کفرانِ نعمت کا سراپا ہے 
یہ قتلِ آدمیّت ہے ، یہ ہے آدم کی ناکامی

یہ بد بینی کا مظہر ہے ، نشانِ بد خصالی ہے 
یہ جرمِ بربرّیت ہے ، مثالِ بد نہادی ہے 
٭٭٭

ماخذ: 
http://www.kitabain.net/online_books/poetry/khak_man_sorteen/main.html
تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید
