﻿

	بسم اللّٰہ الرحمان الرحیم




چیخوں میں دبی آواز





خاور چودھری


 







منیر کھول دے بڑھ کر درِ دیارِ ندا
خموش رہتا ہے کیوں اب دہائی دیتا نہیں 

 (منیر نیازی) 


 

چیخوں میں دبی آواز






خاور چودھری




 
	
کوائف نامہ

 نام		:	خاور چودھری
ولدیت		:	محمد علی
پیشہ		:	صحافت
تصانیف:		
	٭	خواب، کر چیاں اور مسافر	 (کالم /نومبر2001ء) 
	٭	ٹھنڈا سورج		 (ہائیکو/ماہیے /جنوری 2006ء) 
	٭	چراغ بہ کف		 (کالم/نومبر2007ء) 
	٭	چیخوں میں دبی آواز		 (افسانے /جنوری2008ء) 
	٭	زنگ آلود خواہشیں 		 (ناولٹ/زیر طبع) 
	٭	نہ جنوں رہا			 (غزلیات/زیر ترتیب) 
	٭	امید			 (واکا/زیر ترتیب) 
پتا:
	9سکندرپلازا، حضرو، ضلع اٹک (پاکستان) پوسٹ کوڈ43440
فون:	+92-300-9755499۔ ۔ ۔ +92-57-2005290
ای میل:	 khawarchaudhari@hotmail.com
	khawarchaudhari@yahoo.com 

 


انتساب




٭		حکیم محمد سعید (شہید) 
٭		ڈاکٹر مبارک بقاپوری (مرحوم) 
٭		ملک ارشد خان
				کے نام


 


لمس ہوا۔ ۔ ۔ اعجاز
تیرے پاؤں سے چھُو کر 
گھاس ہوئی زندہ
شبنم ہار پروئی تھی
خواہش آنکھ میں سوئی تھی


					 (واکا_____خاورؔ) 


 
 

’’چیخوں میں دبی آواز‘‘ اور خاور چودھری

پروفیسر ڈاکٹر فرمان فتح پوری (ستارہ امتیاز) 


اُردو اَدب سے وابستہ بہت سے ایسے ادیب و شاعر اور افسانہ نگار و ناول نویس ہیں جو شہری مراکز سے دُور مضافات میں خاموشی سے اپنے اپنے شعبوں میں سرگرم عمل ہیں اور تاوقتیکہ ان کی تحریریں پرنٹ میڈیا یا دیگر ذرائع سے عامۃ الناس تک نہ پہنچیں ان کا شخصی و علمی تعارف و پس منظر بھی سامنے نہیں آتا۔ خاور چودھری جو حضرو ضلع اٹک جیسے دُور دراز علاقے میں جہاں اکثریت ہندکو اور پشتو بولنے والوں کی ہے نہ صرف بطور صحافی اپنے صحافیانہ فرائض کی انجام دہی میں مصروف ہیں بلکہ سچی لگن سے اپنے کالموں ، کہانیوں اور مختصر افسانوں میں ''حالات حاضرہ''،انسانوں کے رویّے،باہمی سلوک،منافقانہ و جارحانہ صورت حال اور سیاسی و معاشرتی حالات و  واقعات اور اہم بین الاقوامی حالات کی بھرپور عکاسی کرتے ہیں اس کے ساتھ ساتھ وہ شعری اظہار کے لیے ماہیے،ہائیکو اور واکا جیسی مقامی و جاپانی اصناف سخن کو بھی وسیلہ بنانے پر قدرت رکھتے ہیں جس کا اندازہ ان کی طبع شدہ کتب سے لگانا چنداں دشوار نہیں۔ 

زیرِ نظر کتاب''چیخوں میں دبی آواز'' خاور چودھری کے افسانوں پر مشتمل ہے۔ سترہ افسانوں پر مبنی یہ کتاب اس اعتبار سے ایک اہم کتاب ہے کہ اس میں شامل کم و بیش تمام افسانے اپنے موضوع و مواد اور اُسلوب و زبان کے لحاظ سے مصنف کی ایک بہت کامیاب اور قابل ستائش پیشکش قرار دیے جا سکتے ہیں۔ ان افسانوں میں مصنف نے اپنے گرد و پیش میں رونما ہونے والے سیاسی و معاشرتی اور نفسیاتی حالات و واقعات ، سانحات و حادثات اور زمانے کے تغیرات کے نتیجے میں انسانی فکر،سوچ،شعور،احساس اور روّیوں میں پیدا ہونے والی تبدیلیوں اور بین الاقوامی سطح پر ملکوں اور قوموں کے بدلتے ہوئے حالات و واقعات سے اپنی کہانیوں کے موضوعات کا انتخاب کیا ہے۔ افسانہ''نیلا خون'' ، ''دقیانوسیت''، ''پرانا منظر''،''کرپٹ ونڈوز''،عکس در عکس'' اور ''میں '' اسی زمرے میں آتے ہیں ،ان تمام افسانوں میں اپنے گرد و پیش کی زندگی اور اپنے سماجی حالات کی بڑی عمدہ، بھرپور اور سچی تصویر کشی کی گئی ہے۔ 

زندگی میں انسان کوکن برے اور کٹھن حالات سے گزرنا پڑتا ہے اور اپنوں ہی کے ہاتھوں اسے کیسے کیسے دُکھ اٹھانے پڑتے ہیں ، افسانہ''نیلا خون'' اس حقیقت پر سے بڑی خوبصورتی کے ساتھ پردہ اُٹھاتا کی صورت میں افسانہ نگار نے معاشرے کی بے شمار ایسی خواتین کو پیش کیا ہے جو زندگی بھر اپنوں اور غیروں کے ہاتھوں ظلم و زیادتی برداشت کرتے کرتے بالآخر ایک دن وقت سے پہلے زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھتی ہیں۔ ہمارے معاشرے میں وقت کی پابندی اور اپنے فرائض کی بجا اوری کا خیال نہیں رکھا جاتا یہی سبب ہے کہ ہمارا معاشرہ نظم و ضبط اور ترقی و خوشحالی سے محروم ہوتا جا رہا ہے۔ افسانہ''میں ''میں اسی جانب اشارہ کرتے ہوئے ایسے لوگوں کو دکھایا گیا ہے جو نہ تو ماحول کی صفائی اور پاکیزگی کا خیال رکھتے ہیں اور نہ ہی ان میں صحیح وقت پر اپنے فرائض منصبی کی ادائیگی کا احساس پایا جاتا ہے۔ افسانہ ''کرپٹ ونڈوز'' کا موضوع صحافیانہ زندگی کے پہلو کو پیش کرنا اور حقائق بیان کرنے پر معاشرے کی جانب سے صحافیوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے افسوسناک سلوک کو پیش کرتا ہے۔ صحافیوں کو سچ لکھنے اور سچ کہنے پر جن پریشانیوں اور مسائل سے گزرنا پڑتا ہے اُن کی بڑی دلکش تصویر کشی اس افسانے میں کی گئی ہے۔ 

مصنف کا انداز تحریر بڑا رواں دواں ،شُستہ و شگفتہ ہے۔ کسی قسم کا ابہام یا پیچیدگی نہیں ہے۔ بڑی سے بڑی بات اور ہر قسم کا مضمون اپنے مخصوص انداز میں پوری فن کارانہ مہارت سے بیان کر دیے ہیں۔ کردار نگاری عمدہ اور معیاری ہے۔ وہ جامد اور بے جان کرداروں کے بجائے زندہ اور متحرک کرداروں کے ذریعے اپنی کہانی کے واقعات کو آگے بڑھاتے ہیں اور ان کرداروں کے ذریعے نہ صرف زندگی، ماحول اور معاشرے کے خارجی مناظر و مظاہر کو بیان کرتے ہیں بلکہ ان کے ذریعے معاشرے میں بسنے والے لوگوں کی داخلی و باطنی زندگی کے بہت سے گوشوں کو بے نقاب کرتے ہیں۔ 

خاور چودھری اس اعتبار سے ایک بہت کامیاب افسانہ نگار قرار دیے جا سکتے ہیں۔ یقین ہے کہ اُردو افسانے کی تاریخ میں اُن کا نام تا دیر زندہ رہے گا۔ 
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 
 
خاور چودھری کے افسانے

محمد حامد سراج

خاور چودھری کا تعلق فن افسانہ نگاری کے اس قبیلے سے ہے جو سوز دروں کے سمندر میں ‌اُتر کر درد کی سیپیاں چُن لیتا ہے۔ افسانہ نگار کی تخلیقی آنکھ صرف ظاہری منظروں کو Capture نہیں کرتی بلکہ وہ باطنی آنکھ سے معاشرے میں ‌بسنے والے کرداروں کے Inner Self میں ‌اُتر کر وہ منظر مصور کر لاتا ہے جہاں تک عام شخص کی نگاہ نہیں پہنچ پاتی۔ 
خاور چودھری کے من میں جو Video Camera فٹ ہے جب وہ قلم کی آنکھ سے کرداروں کے باطنی منظر Picturise کرتا ہے تو حیرت انگیز طور پر قاری تحیر کے آسمان پر دھنک رنگوں میں ‌اپنا رنگ تلاش کر لیتا ہے۔ 
افسانے میں منظر نگاری کے ساتھ ساتھ انفرادی اور معاشرتی دکھ بیان کرنا شاید آسان ہو لیکن کرداروں کی باطنی کیفیات کو Personify کرنا مشکل ترین مرحلہ ٹھہرتا ہے اور اسی مرحلے سے خاور چودھری کامیاب گزرے ہیں۔ 
" چیخوں میں ‌دبی آواز " میں ‌شامل افسانے انسان کے ان رویوں کے عکاس ہیں جن سے انسانی سرشت بے نقاب ہوتی ہے۔ رویہ کیسے، کہاں اور کیوں ‌کر انسانی زندگی اور ماحول میں ‌قلوب کو زخمی کرتا اور معاشرے میں ‌ناسور پھیلاتا ہے ، اُسے خاور چودھری نے اپنے قلم سے امر کر دیا ہے۔ یہ افسانوی مجموعہ افسانوں کے انبار میں محض ایک اضافہ نہیں بلکہ " چیخوں میں ‌دبی آواز " اُردو افسانے کی گم ہوتی قدروں کی بازیافت ہے۔ 
Readability اس کتاب کا ایسا جزو اعظم ہے کہ خاور چودھری کا افسانہ قاری کو دوران مطالعہ مکمل گرفت میں رکھتا ہے۔ 
آپ کتاب کا مطالعہ کیجیے۔ ہر افسانہ اپنے اثبات اور جواز کی گواہی دے گا۔ 
 
نیلا خون



	یہ وسط بہار کا کوئی دن تھا۔ ٹھنڈی ہوائیں جامن کے سوکھے درخت کی ٹہنیوں کو چھُو کر کھلے صحن کے دل سے گزرتے ہوئے کچے راستے کے اطراف پودوں کی روش کو چومتی جا رہی تھیں۔ مالی ان پودوں کی نلائی کرتا جاتا اور ساتھ ہی گرے ہوئے پتوں کو اٹھا کر ہتھ ریڑھی میں ڈالتا جاتا۔ کوٹھی کے چاروں اور مخملی گھاس یوں دِکھ رہی تھی جیسے زمین پر زمرد جڑے ہوئے ہوں۔ ابھی پھولوں کے نئے پودے پوری طرح مٹی سے مانوس نہیں ہوئے تھے اور ان میں سے بعض مرجھا رہے تھے۔ بانو خاتون ادبی رسالے کا نیا شمارہ گود میں رکھے مطالعہ میں یوں گم تھیں جیسے بہ جز اس کے دنیا میں کوئی کام ہی نہ ہو۔ ایک ایک حرف یوں پڑھتیں گویا یاد کرنا چاہتی ہوں۔ ایک ہی نشست میں سارے افسانے اور منظومات پڑھ گئیں۔ رسالہ ایک طرف رکھتے ہوئے انھوں نے ماحول کا جائزہ لیا۔ دائیں ہاتھ میں بندھی ہوئی گھڑی پر اچٹتی ہوئی نظر ڈالی اور پھر کچھ سوچتے ہوئے اپنی جگہ سے اُٹھ کھڑی ہوئیں۔ زمردیں فرش پر بے تابی سے گھومتے ہوئے ان کی نگاہ بار بار آسمان کی طرف اُٹھ رہی تھی۔ دفعتاً وہ رُکیں اور مالی کو آواز دی
’’ریاض۔ ۔ ۔ اِدھر تو آنا‘‘
’’جی بیگم صاحبہ‘‘
کہہ کر بوڑھا مالی اپنے کپڑے جھاڑتا ہوا چلا آیا
’’ریاض! تمھیں کتنے مہینوں سے تنخواہ نہیں ملی؟ ‘‘
ریاض نے کچھ نہ سمجھتے ہوئے جلدی سے جواب دیا
’’میری کوئی تنخواہ باقی نہیں ہے ، بیگم صاحبہ‘‘
’’تو پھر یہ پودے کیوں سوکھ رہے ہیں ؟ کیوں تم بروقت نلائی نہیں کر تے اور پورا پانی نہیں دیتے ہو ؟ ‘‘
’’بیگم صاحبہ! خدا جانتا ہے ان پودوں سے اپنے بچوں کی طرح محبت کرتا ہوں اور اپنی طاقت سے زیادہ محنت کرتا ہوں۔ ۔ ۔ نہ معلوم پھر بھی کچھ پودے اجنبیت کیوں برت رہے ہیں۔ ‘‘
’’سب سمجھتی ہوں ، محبت اور محنت۔ ۔ ۔ ہونہہ۔ ۔ ۔ ‘‘
بوڑھا ریاض کسی بت کی مانند زمین میں گڑ چکا تھا اور بانو خاتون کی بے کلی اور بڑھ گئی۔ 
’’محبت۔ ۔ ۔ محنت، محبت۔ ۔ ۔ محنت، محبت۔ ۔ ۔ محنت ‘‘
ان دو لفظوں کی تکر ار اس قدر بڑھی کہ بانو خاتون کو اپنا سر چکراتا ہوا محسوس ہوا۔ وہیں زمین پر بیٹھ رہیں۔ ۔ ۔ جب ہوش آیا تو آغا خان اسپتال میں ڈاکٹروں کی نگاہ داشت میں تھیں۔ ذہن پر دباؤ ڈالتے ہوئے انھوں نے سوچا کہ ان کے ساتھ کیا ہوا تھا؟ کون سا ایسا درد اُٹھا تھا، جس نے ہوش ہی نہ رہنے دیا۔ ۔ ۔ اور جب وہی دو لفظ دوبارہ یاد آئے تو دماغ کے خوابیدہ خلیوں نے رینگنا شروع کر دیا۔ ۔ ۔ تاریک ہوتی ہوئی آنکھوں سے دو نمکین قطرے نکل کر چہرے کی جھریوں میں راہ بناتے ہوئے کانوں تک چلے گئے۔ 
’’اُف خدایا! کس قدر بھاری ہیں یہ دو لفظ‘‘
بانو خاتون نے بڑبڑاتے ہوئے کہا، تو کمرے میں موجود ماسی اچانک ان کے چہرے پر جھک کر 
’’بیگم صاحبہ، بیگم صاحبہ ‘‘ 
 پکارنے لگی۔ 
’’کون لایا تھا یہاں مجھے ؟ ‘‘
ساری قوتیں جمع کر کے بانو خاتون نے پوچھا۔ ماسی نے اپنی اوڑھنی سے ان کی آنکھیں صاف کر تے ہوئے کہا
’’ریاض اور میں جی‘‘
’’احسان اور بہو کو اطلاع دی تھی‘‘
’’جی بیگم صاحبہ‘‘
بانو خاتون کے دماغ پر وہ دو لفظ پھر ہتھوڑے برسا رہے تھے۔ کراہتے ہوئے انھوں نے پہلو بدل کر اپنا منہ دیوار کی طرف پھیر لیا۔ ۔ ۔ ماسی پیچھے ہٹ کر بیٹھ گئی۔ 
٭٭٭
	ہوا میں بکھرتے ہوئے خزاں رسیدہ پتوں کی مانند سوچیں بے نشاں و بے سمت بھٹکنے لگیں۔ جوں جوں ماضی کی کتاب کے اور اق کھلتے جاتے تھے ، توں توں بانو خاتون کا حلق آنسوؤں کی گرمی سے کڑوا ہوتا جاتا اور اس کڑواہٹ کو وہ چاہتے ہوئے بھی نہیں تھوک سکتی تھیں۔ 
	پندرہ دن بعد جب ان کی پڑوسن بیگم ضرار آئیں تو ان کے دکھ کو مزید سوا کر گئیں۔ 
’’بیگم صاحبہ! مجھے بتا دیا ہوتا میں تصدق کو یہاں بھیج دیتی۔ ہم غیر تو نہیں ہیں ، آخر کو ہم سایے ہیں اور ہم سایے تو ماں جائے ہوتے ہیں۔ ‘‘
’’مجھے ہوش کہاں تھا‘‘
تھڑ دلی سے بانو خاتون اتنا ہی کہہ پائی تھیں ، کہ بیگم ضرار نے جلتا ہوا انگارہ ان کے دماغ پر رکھ دیا
’’احسان میاں تو اپنی بیوی کے ساتھ کل ساحلِ سمندر کلفٹن میں گھڑ سواری میں مشغول تھے ، کیا عیادت کے لیے نہیں آئے ؟ ، اَجی میں تو کہتی ہوں کیا فائدہ ایسی اولاد کا جو بڑھاپے میں تنہا چھوڑ جائے ، ایسوں کا تو پیدا ہوتے ہی گلا گھونٹ دینا چاہیے۔ ‘‘
بانو خاتون ساکت و جامد خلاؤں میں گھورتی رہیں اور بیگم ضرار جلتی پر تیل ڈال کر نکل گئیں۔ 
٭٭٭
	دن گزرتے رہے اور خیالات مسلسل غزل کی ردیف کی طرح ایک تو اتر سے وارد ہوتے گئے۔ اباّجی کی حویلی یاد آئی تو لسوڑوں کی چپچپاہٹ سے دماغ کے خلیے باہم اُلجھنے لگے۔ حویلی کے دالان میں ایستادہ لسوڑے کا درخت ان کا ہم جولی و ہم راز تھا۔ جس کی شاخیں ان کی سانسوں کی مہک اور جسم کے لمس کی امین تھیں۔ پہروں اس کے تنے کو اپنی نوجواں بانہوں میں سمیٹ کر اپنی آنکھوں کے موتی اس میں اتارتی رہتی تھیں۔ ۔ ۔ اور وہ اپنے اندر ان کو سمیٹتا رہتا تھا۔ اور اس سے پہلے جب وہ صرف دس برس کی تھیں تب بھی ان کے لیے حویلی میں جائے اماں صرف یہی تو ایک درخت تھا۔ وہ اپنی گڑیا لے کر اپنے ساتھ ہی کھیلتی رہتیں۔ اپنی گڈی کی شادی، اپنے ہی گڈے سے کرتیں ، خود ہی بارات کے ساتھ ہوتیں اور خود ہی رخصتی کا اہتمام کرتیں۔ ڈھول بجانا ، گیت گانا، تالی بجانا حویلی میں ممکن نہ تھا۔ ۔ ۔ کھلکھلا کر ہنسنے اور قہقہے لگانے کی بھی اجازت نہیں تھی۔ ۔ ۔ زیادہ سے زیادہ مسکراہٹ کی ایک لکیر ہونٹوں پر پھیل جاتی یا پھر دبی آواز میں کچھ لفظ ادا ہو جاتے۔ ۔ ۔ ایسے میں بھی اگر کہیں پھوپھو کی نظر پڑ جاتی تو وہ بانو خاتون کی ساری خوشیوں کو اٹھا کر تندور میں ڈال دیتیں۔ ۔ ۔ اس ظلم اور جبر پر رونے کا بھی اختیار نہیں تھا۔ جس ماں نے جنا تھا وہ تو دیکھ بھی نہ پائیں تھی انھیں۔ ۔ ۔ رشتے کی خالہ نے دودھ پلایا اور دو سال تک اپنے پاس رکھا۔ اباّجی ان کی جھولی میں ڈال کر خود سبک دوش ہو گئے تھے۔ تب ایک جھگڑے میں پھوپھو کے خاوند مارے گئے تو اباّجی کی اکلوتی بہن اپنے دو بچوں سمیت حویلی اُٹھ آئیں۔ ۔ ۔ اور یوں بانو خاتون بھی اپنے گھر لوٹ آئیں۔ 
٭٭٭
	بہروز اور نو روز دونوں ان سے بڑے تھے اور ہمہ وقت اپنی ماں سے ناز اٹھواتے رہتے۔ جو چاہا کھایا، جو چاہا پیا۔ جب چاہا اُٹھ بیٹھے ، جب چاہا سو لیے۔ جو چاہا پہن لیا، جو چاہا اتار دیا۔ پابندیاں تھیں تو فقط ان کے لیے۔ ادھر پو پھٹی اور انھیں جگا دیا گیا۔ گھر بھر کا کام کروایا اور دونوں بھائیوں کے بچے ہوئے لقمے ان کے آگے ڈال دیے۔ ۔ ۔ اور پھر سرکاری اسکول کی طرف ہانک دیا۔ اسکول سے لوٹتیں تو پھر گھر داری میں مصروف ہو جاتیں۔ 
	بے لحاظ پھوپھو کی جلی کٹی اور ظلم تو بہ ہر حال سہے جاتی رہیں۔ ۔ ۔ مگر ایک دوپہر تو اندھیروں میں بدل گئی۔ وہ کھانے کے برتن دھوکر خشک کر نے کے لیے ٹوکری میں رکھ آئی تھیں۔ پھوپھو کے گھڑے میں تازہ پانی بھی ڈال دیا تھا۔ بہروز اور نوروز کے نہانے کے لیے الگ سے دو بالٹیاں بھی بھر کر غسل خانہ میں رکھ دی تھیں۔ اباّجی کے کمرے کے فرش کو ٹھنڈا کر نے کے لیے بھی کئی بالٹیاں ڈال آئی تھیں اور اب لسوڑے کے تنے سے لپٹ کر سسکیوں کی زبانی اسے اپنی بپتا سنا رہی تھیں۔ ۔ ۔ دفعتاً ان کے جسم میں بجلی کوند گئی۔ ۔ ۔ نوروز نے پیچھے سے آ کر انھیں اپنے سینے سے چمٹا لیا اور اپنے ہاتھ مضبوطی سے ان کے سینے کے ابھاروں پر رکھ دیے۔ ایک چیخ ان کے حلق میں قتل ہو گئی۔ نوروز بھائی کے سامنے ہاتھ جوڑے ، خدا کے واسطے دیے ، گڑگڑائیں ، روئیں۔ ۔ ۔ مگر اس نے اپنی گرفت ڈھیلی نہ کی۔ 
نہ جانے پھوپھو کس وقت سے یہ منظر دیکھ رہی تھیں۔ ۔ ۔ اور پھر بڑے بڑے ڈگ بھرتے ہوئے حویلی کے دالان میں آ گئیں۔ 
’’حرام زادی! یہ لچھن ہیں تیرے ، میں بھی کہوں تو دو پہروں کو سوتی کیوں نہیں۔ آ لینے دے اپنے باپ کو۔ منحوس تمھیں دیوار میں چنوا کر دم لوں گی۔ کتیا تو نے رشتوں کا بھی خیال نہ رکھا۔ ۔ ۔ اپنی آگ کہیں اور ٹھنڈی کیوں نہ کی تو نے۔ ۔ ۔ ؟ ۔ کیوں میرے معصوم بیٹے کو تباہ کر رہی ہے۔ ‘‘
      پھوپھو کے منہ میں جو آیا بکے گئیں اور بانو خاتون کی آنکھوں کی ندیاں سوکھنے کا نام ہی نہ لیتی تھیں۔ دوپہر، سہ پہر میں ڈھلی اور سہ پہر شام میں۔ ۔ ۔ مگر بانو خاتون کے لیے وقت رُک گیا تھا۔ ۔ ۔ یوں جیسے بھاری سلوں تلے آ گیا ہو۔ ۔ ۔ ایک ایک پل صدی کو محیط ہو گیا۔ رو  رو کر اپنا برا حال کر لیا اور اب ایسے معلوم ہوتا تھا جیسے آنکھوں سے پانی کی بجائے لہو ٹپک رہا ہو۔ پھوپھو نے ان کے کمرے کی باہر سے چٹکی لگا دی تھی۔ بانو خاتون نے سوچا آج اباّ جی کو پھوپھو کے تمام ظلموں کے بارے میں بتائیں گی۔ ۔ ۔ بتائیں گی کہ وہ انھیں کیسی کیسی ننگی گالیاں دیتی ہیں۔ ۔ ۔ اور آج جس شیطنت کا مظاہرہ نوروز نے کیا ہے وہ بھی صاف صاف بتا دیں گی۔ دل سے بہہ جانے والے لہو کو قطرہ قطرہ کر کے سمیٹا اور تہیہ کیا کہ اب مزید ظلم نہیں سہیں گی اور ان ماں بیٹوں کو حویلی سے نکلوا کر رہیں گی۔ 
٭٭٭
	اباّجی کے کمرے سے مسلسل آوازیں آتی رہیں اور شام رات میں مدغم ہوتی رہی۔ بھوک اور پیاس سے بانو خاتون کا برا حال ہو گیا تھا۔ غم اور غصہ کی شدت نے مزید نڈھال کر رکھا تھا اور اب اتنا وقت گزر گیا تھا۔ ۔ ۔ مگر کوئی انھیں قید سے رہائی دلانے نہیں آیا تھا۔ ۔ ۔ تب انھوں نے بلند آواز میں رونا شروع کر دیا۔ 
بھاری قدموں کی آہٹ جوں جوں بڑھتی گئی ان کے دل کی دھڑکنیں بھی بے ترتیب ہونے لگیں۔ ایک جھٹکے سے دروازہ کھلا اور اباّجی نے انھیں چوٹی سے پکڑ کر ننگے فرش پر گھسیٹنا شروع کر دیا۔ ۔ ۔ بغیر کچھ کہے سنے ان کے وجود پر لا تو ں اور  مکوں کی بارش کر دی۔ پیڑو اور پسلیوں میں درد کی ایسی لہر اُٹھی کہ اس نے دہرا کر دیا۔ جب جب یہ درد سے دہری ہوتیں اباّجی انھیں بالوں سے پکڑ کر سیدھا کر تے۔ ۔ ۔ اور  پھر پیٹنا شروع کر دیتے۔ چہرہ چھلنی ہو گیا تھا، ہونٹوں سے خون کے فوارے پھوٹ بہے تھے ، نس نس میں گویا درد کی لکیریں بن گئی تھیں۔ اور جب اباّجی مار مار کر تھک گئے تو انھیں دھکا دے کر زمین پر ڈال دیا۔ ۔ ۔ 
’’اباّجی! میری بھی تو سنتے ‘‘
جب انھوں نے اپنی چیخیں ضبط کر تے ہوئے کہا تو اباّ جی نے سیدھے پاؤں سے زور دار ٹھوکر ان کے ماتھے پر لگائی اور وہ درد سے بلک اُٹھیں۔ اس لیے نہیں کہ چوٹ بہت گہری تھی، اس لیے کہ اباّجی نے بھی انھیں بد ذات، حرام کار اور رنڈی کہا تھا۔ پھوپھو، بہروز اور نوروز یہ منظر دیکھتے رہے ، مگر کسی نے مداخلت نہ کی۔ ۔ ۔ اور کر تے بھی کیسے کہ وہی تو ان کی جان کے دشمن تھے۔ 
٭٭٭
	 بانو خاتون کو جب ہوش آیا تو وہ اپنے کمرے کی چارپائی سے بندھی ہوئی تھیں اور ان کے جسم پر لباس کے نام پر دھجیاں تھیں۔ انگ انگ سے خون رس رہا تھا اور رُواں رُواں درد سے پھٹ رہا تھا۔ انھیں اپنے جسم پر لگنے والے گھاؤ سے زیادہ روح پر آنے والے زخموں سے تکلیف ہوئی تھی۔ ان کے ذہن میں لسوڑے کے درخت تلے پیش آنے والا منظر پوری طرح جاگ چکا تھا۔ ۔ ۔ اور پھوپھو کی زبان سے نکلے ہوئے غلیظ لفظ پہلے سے زیادہ کر یہہ معلوم ہو رہے تھے۔ وہ نوروز جسے وہ ہمیشہ اپنا سگا بھائی سمجھتی آئی تھیں مجسم شیطان نظر آ رہا تھا۔ ۔ ۔ وہ نہیں جانتی تھیں کہ انھوں نے اباّجی کے سامنے کیا کہانی گھڑی تھی، مگر وہ ان دونوں ماں بیٹوں کا خون پینا چاہتی تھیں۔ 
	’’مجھے حرام زادی کہتی ہیں اور خود وارث ماموں کو دن بھر اپنے کمرے میں بند رکھتی ہیں ‘‘ 
بانو خاتون نے نفرت سے سوچا۔ 
’’حرافہ تو خود ہیں ، اباّجی کے گھر سے نکلتے ہی حویلی کے دروازے سے لگ جاتی ہیں اور ہر آتے جاتے مرد کا وجود ماپتی ہیں ، گلی میں بیٹھے ہوؤں کو تاکتی ہیں۔ ‘‘ 
سوچیں بڑھنے کے ساتھ ساتھ ان کے دماغ میں زہر بھی بڑھتا جا رہا تھا۔ 
٭٭٭
	گھڑیاں ، گھنٹوں ، دنوں ، ہفتوں اور مہینوں میں بدل گئیں۔ ۔ ۔ مگر قید ختم نہ ہوئی۔ پھوپھو ان کے سامنے کھانا ایسے رکھ کر جاتیں جیسے کسی کوڑھی اور جذامی کے آگے ڈال رہی ہوں۔ اُن کا بس نہیں چلتا تھا کہ وہ پھوپھو کو دبوچ کر ان کی گردن سے لہو پی جاتیں۔ اس سارے عرصہ میں ایک بار بھی اباّجی اس طرف نہیں آئے تھے۔ ۔ ۔ اور وہ اپنے نا کر دہ گنا ہوں کی سزا  کاٹتی رہیں۔ پھر ایک دن اباّجی آئے اور درشت لہجہ میں کہا
’’بانو! تمھیں کمرے سے رہائی مل رہی ہے۔ ۔ ۔ اور جان لو ایسا کوئی قدم نہیں اُٹھانا کہ میں تمھیں قتل کر نے پر مجبور ہو جاؤں۔ ۔ ۔ اور ہاں ڈھنگ کے کپڑے پہن لینا، کچھ لوگ تمھیں دیکھنے آ رہے ہیں۔ ‘‘
بانو خاتون نے منت کے سے انداز میں پکارا
’’اباّجی۔ ۔ ۔ ! ‘‘
’’مت کہو مجھے اباّجی‘‘
 اور پھر اباجی نفرت سے منہ پھیر کر چلے گئے 
	بانو خاتون کے وجود میں جیسے شعلے سے لپک گئے ہوں۔ انھوں نے دکھ اور گھبراہٹ کی حالت میں سوچا
’’کیا میں واقعی بد ذات اور حرام کی جنی ہوں ، جو ابّا جی مجھ سے اس قدر نفرت کر تے ہیں ‘‘ گولی کی سی سرعت کی طرح ایک اور حقیقت ان پر واضح ہوئی کہ اباّجی نے تو کبھی ان سے محبت کی ہی نہیں تھی۔ ۔ ۔ وہ تو اپنے کاروبار اور جاگیر میں ہمیشہ مصروف رہے۔ ۔ ۔ اور یہ پھوپھو کی لعن طعن اور باسی ٹکڑوں پر پلتی رہیں۔ اب ان کے دل میں اباّجی کے لیے بھی نفرت بڑھ رہی تھی۔ 
٭٭٭
	یوں ہی ایک شام انھیں سلیم کے کھونٹے پر باندھ دیا گیا۔ ۔ ۔ وہ سلیم جس کا نہ پہلے نام سنا تھا، نہ دیکھا تھا۔ خود میں چھپی ہوئی یہ ایک پلنگ میں دبکی بیٹھی رہیں۔ ۔ ۔ سلیم آتا ہے ، حکم جاری کرتا ہے۔ ۔ ۔ ایسے جیسے کسبیوں اور زر خریدوں کو جاری کیا جاتا ہے اور پھر رات بھر کتا گوشت کے لوتھڑے کو بھنبھوڑتا رہا۔ آنے والے کئی دن بھی اسی طرح گزر گئے۔ ۔ ۔ دونوں کے درمیان کوئی بات نہ ہوئی۔ ۔ ۔ سُور پلتا رہا، کھیت اجڑتا رہا۔ تین ماہ گزر گئے پھر ایک صبح سلیم نے تین لفظ کہہ کر انھیں رونے کے لیے چھوڑ دیا اور کہہ گیا
’’میں لوٹوں تو تمھاری شکل نہ دیکھوں ‘‘
     خدائے زندہ کے سامنے دو زانو ہو کر وہ اپنے نا کر دہ گنا ہوں کی معافی مانگتی رہیں۔ جب درد چیخوں ، آہوں اور سسکیوں میں بدل گیا تو پڑوسن چلی آئی
’’اری کیوں جی ہلکان کرتی ہے کم بخت! نہ رو۔ تم سے پہلے چار جیون اجاڑ چکا ہے موا۔ ارے لعنت ہو ایسے والدین پر جوبن دیکھے ایسوں سے باندھ دیتے ہیں۔ ‘‘
پڑوسن اور نہ جانے کیا کیا کچھ کہتی رہی۔ ۔ ۔ اور یہ تو جیسے ہوش ہی کھو بیٹھی تھیں۔ جائیں تو جائیں کہاں ؟ اباّجی نے تو گھر سے نکالنے کے بعد پلٹ کر بھی نہ دیکھا۔ ۔ ۔ پھوپھو اور نوروز کا خیال آیا تو روح کو آگ لگ گئی۔ پورے وجود میں جیسے چنگاریاں رینگنے لگی ہوں۔ ۔ ۔ روم روم سلگتا رہا، درد بڑھتا رہا، خون گھٹتا رہا ، وقت گزرتا رہا، دم نکلتا رہا۔ بہت سوچنے کے بعد وارث ماموں کا خیال آیا تو اس کے ساتھ ہی یہ منظر بھی ذہن میں جاگ بیٹھا کہ وہ تو خود اپنی بیوی سے چھپ چھپ کر پھوپھو کی آگ بجھاتے ہیں۔ ۔ ۔ تب انھوں نے اپنے ٹوٹے ہوئے وجود کی کرچیوں کو سمیٹنا شروع کیا۔ ایک ایک کر کے انھیں زمین سے اُٹھایا اور صاف کر کے اپنے پوٹلی میں باندھ لیا۔ اب منزل کوئی نہیں تھی، صرف راستہ تھا۔ ۔ ۔ پُر خار ، پُر پیچ، پُر درد۔ ۔ ۔ دکھوں ، تکلیفوں ، آہوں ، سسکیوں ، یادوں اور نفرتوں سے پُر۔ ۔ ۔ ایک لمبا نہ ختم ہونے والا بے انت راستہ	 	؂
	جتنی دُور چلوں میں پیارے 
	عمر کا رستہ بڑھتا جائے 
	امرت دھارا کیسے پاؤں 
وہ چلتی رہیں ، جلتی رہیں۔ ۔ ۔ اور اس چلنے اور جلنے میں انھیں ایک کرن دکھائی دے گئی۔ سلیم کے ساتھ گزرا ہوا وقت یاد کرنا ان کے لیے سوہان روح تھا، مگر اس نوزائدہ کا کیا دوش جس نے ابھی دنیا میں سانس لیا تھا۔ ۔ ۔ احسان۔ ۔ ۔ نہ جانے کیا سوچ کر انھوں نے اس پھوٹنے والی روشنی کو احسان کا نام دیا تھا۔ 
٭٭٭
	اب بانو خاتون تھیں ، احسان تھا اور کوچنگ سینٹر۔ دن کے پہلے پہر وہ ایک پبلک اسکول میں پڑھاتیں اور پچھلے پہر اپنے کوچنگ سینٹر میں۔ دونوں ماں بیٹا عموماً ساتھ ہوتے یا یوں کہیے ماں نے کوکھ سے جنم دینے کے بعد بھی بیٹے کو خود سے جدا نہیں کیا تھا۔ ۔ ۔ اور خود چند لمحوں کے لیے بھی ماں کی شفقت نہ پا سکی تھیں۔ اِدھر یہ پیدا ہوئیں ، اُدھر ماں ساتھ چھوڑ گئی۔ نہ بہن ، نہ بھائی، نہ گھر، نہ در۔ ۔ ۔ اباّجی۔ ۔ ۔ ؟ انھوں نے تو جیسے زہر میں بجھا ہوا تیر ان کے سینے میں چبھو چھوڑا تھا۔ کوچنگ سینٹر، اسکول میں بدل گیا۔ محنت رنگ لائی اور احسان سے محبت بھی۔ ۔ ۔ معیشت بھی جواں ہوئی اور اولاد بھی۔ اب شاید ان کے زخموں کے بھرنے کا وقت آن پہنچا تھا۔ ۔ ۔ یقیناً وہ ماضی کو بھولنا چاہتی تھیں۔ ۔ ۔ اور ماضی سے وابستہ سب لوگوں کو بھی، مگر ایسا ممکن نہیں تھا۔ وہ جب کبھی پرنسپل روم میں کسی بچے کے ساتھ اس کے والد کو دیکھتیں تو بے اختیار انھیں احسان پر ترس آنے لگتا اور ان کی آنکھوں سے سیلابِ بلا خیز رواں ہو جاتا۔ ۔ ۔ اپنے اباّجی یاد آ جاتے ، جن کے سایے میں نہ سہی قربت میں تو انھوں نے زندگی کے بیس برس گزارے تھے۔ 
’’پھوپھو۔ ۔ ۔ کیوں کیا میرے ساتھ اس طرح آپ نے ؟ ‘‘
وہ سوچتیں اور پھر بند آنکھوں آنسو اپنے حلق سے سینہ میں اُتارنے لگتیں۔ اور وہ دن کتنا بھاری تھا جب احسان نے پوچھا تھا
’’اماں ! بابا اور آپ کا کوئی رشتہ دار اس دنیا میں زندہ نہیں ہے ؟ ‘‘
’’نہیں بیٹے ! ‘‘
 اور وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دیں۔ ۔ ۔ بالکل اسی طرح جیسے وہ اپنے اباّجی کی طرف سے دی گئی گا لیوں پر روئی تھیں۔ ۔ ۔ تب احسان نے بڑھ کر ماں کا ہاتھ تھاما اور پھر اپنی آنکھوں سے لگا لیا 
٭٭٭
	یہ احسان کی شادی سے چند برس اُدھر کی بات ہے۔ ایک روز وہ عوامی مرکز سے خریداری کر رہی تھیں ، اچانک ان کی نگاہ ایک شخص پر پڑی اور پھر ان کے وجود پر لرزہ طاری ہو گیا۔ جو کچھ منتخب کیا تھا، اسے وہیں چھوڑا اور لجاجت سے کاؤنٹر پر بیٹھے شخص کو کچھ کہا اور آ کر گاڑی میں بیٹھ گئیں۔ ۔ ۔ گاڑی کے پہیے اور ہینڈل گھومتے رہے اور ان کا دماغ بھی۔ 
’’سلیم کے ساتھ نوجوان لڑکی کون ہو سکتی ہے ؟ اس کی نو عمر بیوی ؟ نہیں۔ ۔ ۔ نہیں ، پھر بیٹی ہو گی۔ ‘‘
انھوں نے سوچا۔ ۔ ۔ 
کئی دن تک وہ اس وجہ سے بیمار رہیں۔ ماضی کی یادیں ان کے ساتھ سایوں کی طرح چمٹ چکی تھیں۔ ۔ ۔ پھر ایک ایک رات کا اُجاڑ پن ان کی روح اور دل کو زخمی کر نے لگا۔ نفرت اور کر اہت سے وہ وقت کاٹتی رہیں۔ ۔ ۔ اور اباّجی، پھوپھو، بہروز، نوروز، وارث ماموں اور سلیم کا نام لے لے کر تھوکتی رہیں 
’’تف ایسے رشتوں پر۔ ۔ ۔ حیف میرا اُن لوگوں کے ساتھ وقت گزرا‘‘
انھوں نے سوچا، مگر 	  ؂
	ہونی ، ہوکے رہتی ہے 
	فرق کچھ نہیں پڑتا
	آنسوؤں کے بونے سے 
٭٭٭
	ایم بی اے کے بعد احسان فارغ تھا۔ جاب کے لیے چند جگہوں پر کوشش کی ، مگر وہ ایسی کوشش نہیں تھی کہ بار آور ثابت ہوتی۔ ۔ ۔ ویسے بھی اسکول کی آمدن اس قدر تھی کہ دونوں ماں بیٹا وقار سے وقت گزار سکتے تھے۔ تب احسان، بانو خاتون کے اسکول میں ان کا ہاتھ بٹانے لگا اور یہیں اس کی ملاقات عفت سے ہوئی۔ عفت سائنس کی ٹیچر تھی۔ ۔ ۔ اپنے مضمون کے ساتھ پورا انصاف کرتی تھی، اسی سبب سے بانو خاتون بھی اسے پسند کرتی تھیں۔ پھر ایک دن احسان نے ماں کے سامنے اپنے دل کی بات رکھ دی۔ ماں کو کیا اعتراض ہو سکتا تھا۔ اِکو اِک بیٹا اور وہ بھی نازوں پلا۔ ۔ ۔ اور پھر عفت میں بھی کچھ کمی نہیں تھی۔ 
	بانو خاتون کو یاد آیا عفت کی ماں نے دوسری شادی رچا لی تھی اور یہ بے چاری اپنی بیوہ نانی کے پاس رہتی تھی۔ انھیں نے پالا پوسا اور پڑھایا لکھایا۔ شادی طے ہو گئی۔ نیشنل کر کٹ اسٹیڈیم کے کھلے میدان میں ولیمہ کی دعوت رکھی گئی۔ بانو خاتون کا کون تھا جسے بلاتیں۔ لے دے کے اسکول اسٹاف۔ ۔ ۔ چند سہیلیاں اور احسان کے کچھ دوست۔ عفت کی طرف سے بہت لوگ تھے۔ بانو خاتون کو بتایا گیا کہ عفت کی ماں بھی اپنے شوہر سمیت شادی میں شریک ہو رہی ہیں۔ اِنہیں کیا اعتراض ہو سکتا تھا بھلا۔ 
	نیشنل اسٹڈیم کے صدر دروازے پرب اور دی گارڈ مہمانوں کا استقبال کر تے رہے۔ ان سے چند گز کے فاصلہ پر احسان کے دوست آنے والوں کو خوش آمدید کہنے کے لیے کھڑے تھے۔ صدر دروازہ اور اس سے نکلنے والی شاہراہ کی دونوں اطراف میں روشنی کے قمقموں نے ایسا سماں باندھا تھا، جیسے ستارے زمین پر اُتر آئے ہوں۔ زرق برق لباس پہنے بوڑھی عورتیں اور جوان لڑکیاں اپنے ہونے کی گواہی دے رہی تھیں۔ طرح طرح کے ذائقوں کی خوشبو نے ماحول پر وجد کی سی کیفیت طاری کر رکھی تھی۔ ۔ ۔ مہمان آتے جاتے اور مخملیں نشستوں پر بیٹھتے جاتے۔ اسٹیج پر دولہا اور دلہن اپنے دوستوں اور رشتہ داروں کے ساتھ موجود تھے۔ رسمیں شروع ہوئیں ، سلامی دی جانے لگی۔ ۔ ۔ تب ایک شعلہ لپکا اور بانو خاتون کے جسم کو بھسم کر گیا۔ 
ہاتھوں میں پھول لیے سلیم ان کے سامنے تھا۔ وہ سلیم جس نے ان کی زندگی کانٹوں سے بھر دی تھی اور۔ ۔ ۔ اور اب اس کے ہاتھوں میں پھول تھے۔ عفت کی نانی نے تعارف کراتے ہوئے بتایا 
’’یہ سلیم ہیں ، عفت کے سوتیلے باپ‘‘
بانو خاتون  کے اندر تباہی آمیز جھکڑ چلنے لگے ، اعتماد کی دیواریں یکایک زمین بوس ہونے لگیں ، یوں لگتا جیسے ان کی دنیا اندھیر ہو جائے گی۔ ۔ ۔ شادی کے سارے منظر ماضی کے زہر میں بجھ گئے۔ چیخیں حلق کے اندر دم توڑنے لگیں۔ ۔ ۔ ایک ایک کر کے اُن ساری را تو ں کا دُکھ ان کی آنکھوں میں اُتر آیا جو انھوں سلیم کے ساتھ کاٹی تھیں۔ اور اُدھرسلیم کے ہاتھ سے گل دستہ گر کر دونوں کے پاؤں چوم رہا تھا
’’بانو خاتون۔ ۔ ۔ تم! ‘‘
سلیم نے کہا تو  اسٹیج پر موجود سبھی لوگ چونک کر ان کی جانب دیکھنے لگے۔ عفت کی ماں نے احسان کی اماں کو مخاطب کر تے ہوئے کہا
’’آپ انھیں جانتی ہیں ؟ ‘‘
تب تک بانو خاتون خود کو سنبھال چکی تھیں۔ انھوں نے وقار اور طمانیت سے کہا
’’جی۔ ۔ ۔ لیکن تفصیلات بعد میں بتاؤں گی‘‘
’’قاضی جی نکاح پڑھوایئے ‘‘
احسان کی اماں نے خوش دلی سے کہا، جیسے کوئی اَن ہونی ہوئی ہی نہیں۔ حالانکہ ان کے دل و دماغ سمیت روح پربھی ایک قیامت گزر چکی تھی۔ جسم کے سمندر میں ٹھاٹھیں مارتی ہوئی لہروں کو اس انداز سے سہا، جیسے بڑی تباہی کے آنے سے پہلے خود سمندر سہتا ہے۔ ۔ ۔ وہ چاہتیں تو اس شادی کو رکوا سکتی تھیں۔ ۔ ۔ مگر انھوں نے اپنے دکھوں پر بیٹے کی خوشیوں کو قربان نہیں کیا۔ 
	شادی کے ہنگامے ختم ہوئے۔ عفت، بانو خاتون کے نازوں پلے بیٹے کی بیوی بن کر ان کی کوٹھی میں آ چکی تھی۔ شادی کا تیسرا دن تھا۔ ۔ ۔ احسان کے سسرالیوں نے آنا تھا اور اِدھر بانو خاتون کے دماغ کی رگیں چٹخ رہی تھیں۔ 
’’یقیناً سلیم بھی ان کے ساتھ ہو گا‘‘
انھوں نے نفرت سے سوچا اور پھر ایک طرف تھوک دیا۔ ۔ ۔ مگر اب پانی پلوں کے نیچے سے بہہ چکا تھا۔ گئی بات کو تو گھوڑا نہیں پہنچ سکتا، زمانہ کی ستم رسیدہ بانو خاتون کیا کر سکتی تھیں۔ انھوں نے اپنے وجود کو سمیٹا بالکل اُسی طرح جیسے پچیس سال پہلے سلیم کے گھر سے نکلتے ہوئے پوٹلی میں اپنے وجود کی کرچیوں کو باندھا تھا۔ ۔ ۔ ایک وقار سے مہمانوں کا استقبال کر نے لگیں۔ سلیم سر جھکائے، ندامت و پشیمانی کا پہاڑ سر پر اُٹھائے عفت کی ماں کے پیچھے پیچھے چلا آ رہا تھا۔ کھانے کے دوران سلیم اور بانو خاتون ایک دوسرے سے نظریں چراتے رہے۔ کھانا ختم ہوا تو  اچانک عفت کی ماں نے احسان کو مخاطب کر تے ہوئے کہا
’’بیٹا! ہم پرانے رشتہ دار ہیں ‘‘
بانو خاتون نے چونک کر اپنے بیٹے کی ساس اور اپنے سابقہ خاوند کی منکوحہ کی طرف دیکھا۔ وہ سمجھتی تھیں سلیم ایسی کوئی حرکت نہیں کر ے گا، جس سے بچوں کی زندگی متاثر ہو۔ ۔ ۔ مگر ازل کے خود غرض شخص نے وہی کیا جو اس کی سرشت میں شامل تھا۔ 
’’امی یہ کیا کہہ رہی ہیں آپ؟ ‘‘
عفت نے اپنی ماں سے پوچھا
’’ٹھیک کہہ رہی ہوں بیٹی، بانو خاتون ، سلیم کے عقد میں رہ چکی ہیں اور احسان ان کا بیٹا ہے۔ ‘‘
     بانو خاتون نے چاہا کہ وہ چیخ چیخ کر اس بات سے انکار کر دیں اور کہہ دیں کہ احسان اس سانپ کا بیٹا نہیں ہے ، مگر وہ ایسا نہ کر پائیں۔ ۔ ۔ نہ جانے کیوں ؟ 
تب احسان کی سوالیہ نظریں اپنی ماں کی جانب اٹھیں تو انھوں نے اثبات میں سر ہلا دیا
’’لیکن اماں آپ نے مجھ سے کیوں کہا تھا کہ میرا اس دنیا میں کوئی نہیں رہا؟ ‘‘
’’تو پھر کیا بتاتی تمھیں ؟ ‘‘
یہ لفظ اماں کی زبان سے نکلے ہی تھے کہ ان کے چہرے پر موجود کچھ شکنیں آنسوؤں سے بھر گئیں۔ اس چہرے پر جو وقت سے پہلے بڑھاپے کی چادر اوڑھ چکا تھا۔ 
’’مگر اماں اتنی بڑی بات آپ نے مجھ سے آج تک چھپائے رکھی‘‘
احسان نے قریباً روتے ہوئے کہا۔ 
’’کیسے بتاتی کہ تمھارے باپ نے مجھے کبھی بیوی سمجھا ہی نہیں تھا، کیسے بتاتی کہ میں تین ماہ نُچتی رہی اور پھر نوچنے والے نے مجھے گھر سے نکال کر گلی میں پھینک دیا۔ ‘‘
انھوں نے سوچا
ندامت اور تاسف سے ہاتھ ملتے ہوئے سلیم کی زبان اس کا ساتھ نہیں دے رہی تھی اور وہ صرف اتنا کہہ پایا
’’بانو خاتون مجھے معاف کر دو۔ ۔ ۔ احسان میں تمھارے سامنے ہاتھ جوڑتا ہوں ‘‘
	بانو خاتون نے نفرت سے زمین پر تھوکا اور وہاں سے اُٹھ کر اپنے کمرے میں چلی آئیں۔ ۔ ۔ انھیں ایک ایک رات اور اُن سے وابستہ دکھ یاد آتے رہے۔ دل کے سمندر میں اُٹھنے والی خاموش موجوں نے طوفان کھڑا کر دیا۔ وہ روتی رہیں ، دل کا لہو جلاتی رہیں۔ انھیں دیکھنے کوئی نہ آیا۔ صبح جب وہ اُٹھیں تو ان کی طبیعت بوجھل تھی۔ ۔ ۔ مگر پھر بھی ناشتے کی میز تک آ گئیں 
’’ماسی کیا بہو نہیں اُٹھیں ؟ ‘‘
’’بیگم صاحبہ چھوٹی بیگم اور صاحب تو رات کوہی مہمانوں کے ساتھ چلے گئے تھے ‘‘
دکھ کا ایک پہاڑ آسمان سے گرا جس کے بوجھ تلے بانو خاتون دب گئیں۔ ۔ ۔ 
’’واہ احسان وا! خوب میری محنتوں اور محبتوں کا صلہ دیا تو  نے ‘‘
انھوں نے سوچا اور ماسی سے کہا
’’میں کمرے میں جا رہی ہوں ، میرے لیے کچھ مت لانا‘‘
 اور پھر اپنے کمرے میں چلی آئیں۔ 
’’سانپ کا بیٹا سانپ ہی ہوتا ہے ‘‘وہ بڑبڑائیں۔ ۔ ۔ ’’محنت اور محبت‘‘
یہ دو لفظ ان کے لبوں سے پھسلے۔ ۔ ۔ 
’’بیگم صاحبہ جی! کچھ کھا پی لیں ، آپ رات کو بھی ایسے ہی سو گئی تھیں ‘‘
ماسی نے کہا تو  بانو خاتون نے چاہا کہ وہ چیخ چیخ کر اس عورت کو بتائیں وہ رات کو سوئی کہاں تھیں ، وہ تو شب بھر پل صراط سے گزرتی رہیں۔ پھر انھوں نے کچھ سوچتے ہوئے کہا
’’اچھا چلو! جوس کا گلاس یہاں رکھ دو، میں پی لوں گی‘‘
ماسی نے بیڈ کے ساتھ داہنی طرف پڑی ہوئی میز پر گلاس رکھا اور باہر چلی گئی۔ 
’’ماسی پھر اچھی ہے ، اسے میرا خیال تو ہے۔ احسان جس پر میں نے زندگی لٹا دی یوں پل بھر میں سارے رشتے توڑ کر چلا گیا۔ ۔ ۔ اور اباّجی جن کی محبتوں کے لیے ہمیشہ ترستی رہی۔ ۔ ۔ اور پھوپھو جن کے لیے میں نے اپنے معصوم ہاتھ جلا کر روٹیاں پکائیں۔ ۔ ۔ اور بہروز بھائی جن کے نہانے تک کا پانی میں نے بھرا۔ ۔ ۔ اور نوروز۔ ۔ ۔ (گھن آتی ہے اسے بھائی کہتے ہوئے) اس کے لیے کوئلے دہکا دہکا کر کپڑے استری کیے۔ ۔ ۔ اور سلیم۔ ۔ ۔ جو تین ماہ صرف اپنی ہوس مٹاتا رہا۔ 
	اوہ۔ ۔ ۔ خدایا! میں کس عذاب سے گزر رہی ہوں۔ اب تو ان دکھوں کی اخیر کر دے۔ ‘‘
انھوں نے خود کلامی کی۔ ۔ ۔ 
پھر انھوں نے اپنے محنت آشنا ہاتھوں کو پیالہ بنا کر آنکھ سے نکلنے والے موتیوں کو ان میں بھر لیا۔ ماسی دوبارہ آئی تو جوس کا گلاس وہیں رکھا تھا۔ ۔ ۔ اور بانو خاتون کا چہرہ ہتھیلیوں کے پردے میں تھا۔ 
ان کے لیے وقت ایک بار پھر تھم چکا تھا۔ ۔ ۔ یا پھر ماضی کی طرح پتھروں کی چٹان تلے آ چکا تھا۔ وہ ان واقعات کو بھولنا چاہتی تھیں ، مگر یہ ممکن نہ تھا   	؂
	دوست ، کہاں ہیں دوست
	نیلے خون کی خوشبو نے 
	راز اُگل ڈالے 
لوگوں نے تو سنا تھا۔ ۔ ۔ مگر بانو خاتون مارِ آستین سے ڈسی گئیں ، ڈسی جاتی رہیں۔ 
	اب احسان اپنے باپ کے ساتھ رہ رہا ہے۔ اماں نے حصہ میں اسے اسکول لکھ دیا ہے۔ کبھی کبھار وہ اپنی بیوی اور بچوں رامش اور دانش کے ساتھ کچھ وقت گزارنے کے لیے یہاں چلا آتا ہے۔ ۔ ۔ لیکن اب کی بار تو نہیں آئے وہ لوگ۔ ۔ ۔ اماں کی بیماری پربھی نہیں۔ ماسی نے تو یہی بتایا تھا کہ احسان اور بہو کو اطلاع کر دی گئی تھی۔ ۔ ۔ اور بیگم ضرار بتا رہی تھیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 
’’اُف اللہ۔ ۔ ۔ یہ میرے ساتھ کیا ہوا؟ ‘‘
بانو خاتون نے سوچا۔ 
٭٭٭
ڈاکٹر کمرے میں داخل ہوتا ہے 
’’بیگم صاحبہ اب آپ کی طبیعت کیسی ہے ؟ ‘‘
’’بہتر ہوں ، ڈاکٹر صاحب‘‘
بانو خاتون کی آواز دُور کسی وادی سے آتی ہوئی معلوم ہوتی ہے۔ 
٭٭٭
	وہ بوڑھے مالی اور ماسی کے ساتھ گھر لوٹ چکی ہیں۔ کوٹھی کے چاروں اور پھیلے ہوئے سبزے سے ہوا اٹھکھیلیاں کر رہی ہے۔ ریاض پودوں کو پانی دے رہا ہے اور پودوں سے جدا ہو جانے والے پتوں کو اُٹھا کر ہتھ ریڑھی میں ڈال رہا ہے۔ بانو خاتون ادبی رسالے کا نیا شمارہ جھولی میں رکھے مطالعہ کر رہی ہیں۔ دفعتاً اُٹھتی ہیں اور بے چینی سے زمرد سار گھاس کے فرش پر ننگے پاؤں چلتی ہیں اور بے تابی کے ساتھ ریاض کو پکارتی ہیں 
’’ریاض۔ ۔ ۔ اِدھر تو آنا‘‘
’’جی بیگم صاحبہ‘‘
کہہ کر بوڑھا مالی اپنے کپڑے جھاڑتا ہوا چلا آتا ہے 
’’ریاض! تمھیں کتنے مہینوں سے تنخواہ نہیں ملی؟ ‘‘

٭٭٭
 
کر پٹ ونڈوز



’’علی دیکھنا یار کمپیوٹر پھر نہیں آن ہو رہا‘‘
’’جی سر‘‘
’’کون بیٹھتا ہے میری سیٹ پر؟ ‘‘
’’کوئی نہیں سر‘‘
’’پھر کیوں روز میرا کمپیوٹر ڈسٹرب ہو جاتا ہے ؟ ‘‘
علی خاموشی سے سسٹم آن کر نے کی کوشش کرتا ہے ، مگر اسے بھی ناکامی کا سامنا کرنا پڑتا ہے 
’’سر۔ ۔ ۔ ونڈوز کرپٹ ہو گئی ہے ‘‘وہ کہتا ہے 
’’ایک تو مارکیٹ میں کوئی چیز بھی معیاری نہیں آتی، جو بھی شے خریدو دو نمبر۔ ایکس پی ونڈوز کی نئی سی ڈی پچھلے ہفتے ہی تو منگوائی تھی۔ ایک ہفتہ میں دو بار انسٹالیشن، حد ہو گئی۔ ‘‘
 تحسین نے تلخی سے کہا تو  علی کے ہونٹوں پر معنی خیز مسکراہٹ پھیل گئی۔ ۔ ۔ 
’’کیوں بتیسی دکھا رہے ہو؟ ‘‘
’’سر! اگر ہم براہِ راست بل گیٹس سے معاہدہ کر کے مائیکرو سافٹ کے ونڈوز استعمال کر تے تو وہ یوں کرپٹ نہ ہوتے۔ ‘‘
علی نے کہا تو  تحسین کی باچھیں کانوں کو چھونے لگیں۔ ۔ ۔ اپنے قہقہے پر قابو پاتے ہوئے اس نے کہا
’’ہاں یار۔ ۔ ۔ ٹھیک کہتے ہو تم۔ ہم خود بھی دو نمبریے ہیں اور چور راستے سے آگے بڑھ رہے ہیں۔ بل گیٹس کو معلوم ہوا، تو وہ ہم پربھی ہرجانہ کا دعویٰ کر دے گا۔ روسی استاد تو خوش نصیب تھا اس کے لیے میخائل گورباچوف نے بل گیٹس سے دست بستہ معذرت کر لی تھی ، مگر ہمارے لیے کوئی نہیں بولے گا۔ ‘‘
اب قہقہہ لگانے کی باری علی کی تھی
’’ سر! مطمئن رہیے۔ بل گیٹس اتنی آسانی سے یہاں تک نہیں پہنچ سکے گا۔ چائنہ کی آسمان سے باتیں کرتی ہوئی مارکیٹوں میں بیٹھے ہوئے جعلسازوں سے نبٹتے نبٹتے اس کی عمر گزر جائے گی۔ ۔ ۔ اس کے چین سے لوٹنے تک ہم چین سے رہ سکتے ہیں۔ ‘‘
’’ہوں۔ ۔ ۔ چلو دیکھتے ہیں۔ ۔ ۔ ‘‘
تحسین نے کہا
’’فائر وال لگا دوں سر۔ ۔ ۔ ؟ ‘‘
علی نے پوچھا
’’ہاں یہ بہتر رہے گا‘‘
’’ویسے سر آپ بھی تو کسی کو معاف نہیں کر تے ہیں ، پھر آپ کے کمپیوٹر پر وائرس کا اٹیک نہ ہو تو کیا ہو؟ ‘‘
’’تو کیا میں کسی سے زیادتی کرتا ہوں۔ ۔ ۔ ؟ ‘‘
’’میں نے یہ تو نہیں کہا سر! ‘‘
علی نے قدرے لجاجت سے کہا
’’تمام پروگرامز انسٹال ہو جائیں تو مجھے بتا دینا۔ میں نیوز روم میں بیٹھا ہوں ‘‘تحسین یہ کہہ کر اپنے دفتر سے نکل جاتا ہے۔ ۔ ۔ 
’’سرکے دماغ میں بھی ناں۔ ۔ ۔ ‘‘
علی بڑبڑاتا ہوا کی بورڈ اپنی جانب کھینچتا ہے 
٭٭٭
	پیراگون پلازا کی ساتویں منزل پر روز اس طرح کی باتیں ہوتی رہتی تھیں۔ بیسیوں کمپیوٹرز پر کام کر نے والے کمپوزرز، پیج میکرز اور سب ایڈیٹرز علی کی خدمات حاصل کر تے۔ ۔ ۔ علی ایم سی ایس کر نے کے بعد طویل عرصہ تک ملکی و غیر ملکی اداروں کی دھُول پھانک چکا تھا، مگر اسے کہیں بھی مناسب جاب نہ ملی۔ ۔ ۔ تب اس نے اِس روزنامہ میں کمپیوٹر لیب انچارج کی حیثیت سے نوکری کر لی۔ ۔ ۔ تنخواہ۔ ۔ ۔ بس اتنی تھی کہ وہ خود کو صاحبِ روزگار کہہ سکتا تھا۔ ۔ ۔ اور وہ عمر احمد۔ ۔ ۔ جس نے اس کے ساتھ ہی اپنی تعلیم مکمل کی تھی، ایک ملٹی نیشنل کمپنی میں قابلِ رشک تنخواہ پر کام کر رہا تھا
’’چا لیس ہزار روپے ماہ وار، سیلولر فون کا خرچ الگ اور رہائش کی سہولت الگ۔ ۔ ۔ ‘‘
علی اکثر سوچتا تھا اور پھر عمر احمد کے والد کے اثر و رسوخ کا سوچ کر خاموش ہو جاتا۔ 
’’ظاہر ہے لمبی سفارشوں سے ہی ایسی نوکر یاں ملتی ہیں اور جن کے پاس سفارشیں نہیں ہوتیں وہ معمولی تنخواہ پر کام کر نے پر مجبور ہوتے ہیں ‘‘
اس دن بھی علی نے سوچا تھا۔ ویسے تحسین صاحب جب سے ریذیڈنٹ ایڈیٹر ہو کر یہاں آئے تھے علی زیادہ خوشی سے کام کر نے لگا تھا۔ وہ کارکنوں کے ساتھ خوش سلیقگی سے پیش آتے ، ہنس مکھ ، کم گو، کام سے کام رکھنے والے اور بلاوجہ رعب نہ ڈالنے والے تحسین تو جیسے علی کے دل میں ہی اُتر گئے تھے۔ ۔ ۔ اور وہ پہلے والا ایڈیٹر۔ ۔ ۔ خبیث ! ہر وقت زیرِ لب بکتا رہتا۔ ۔ ۔ مالکوں کو بھی معاف نہیں کرتا تھا اور کارکنوں کو بھی نہیں بخشتا تھا۔ ہر وقت ایڈیٹری جھاڑتا۔ ۔ ۔ سڑیل۔ ۔ ۔ خود کو، ٹی ایس ایلیٹ، حسرت موہانی ، فیض احمد فیض اور احمد ندیم قاسمی سے بھی بڑا صحافی اور ایڈیٹر سمجھتا تھا۔ ۔ ۔ آغا شورش کاشمیری اور حمید اختر تو گویا اس کے سامنے پانی بھرتے تھے۔ ۔ ۔ علی کی چکنی جبیں پر ناگوار شکنیں نمودار ہوئیں تو اس نے سر جھٹک کر اپنا کام شروع کر دیا۔ 
٭٭٭
	صوبہ کے سینئر صحافیوں کا وفد ترکی جانے کے لیے تیار ہوا تو  تحسین بھی ان میں شامل تھا۔ پاسپورٹ پر ویزا لگ کر آ گیا تھا۔ ۔ ۔ مگر نہ جانے کیا بات ہوئی کہ، اس نے اپنا ارادہ ملتوی کر دیا۔ ۔ ۔ علی جو اس کے ساتھ صحافتی امور بھی انجام دینے لگا تھا وہ اس وفد کے ساتھ چلا گیا۔ ۔ ۔ یہ بار بار اُس کو تاکید کر تا
’’علی کھلی آنکھوں دورہ مکمل کرنا۔ ۔ ۔ ہر اہم شخصیت اور مقام کی تصویر لینا۔ ۔ ۔ جس جگہ جاؤ وہاں کا حدود اربعہ، تاریخ اور خصوصیات ضرور نوٹ کرنا۔ ۔ ۔ اور ہاں ! عام لوگوں سے بھی ملنا اور ان سے بر صغیر خصوصاً پاکستان کے مسلمانوں کے حوالے سے رائے لینا۔ ۔ ۔ یہ نہ ہو تم جا کر وہاں سو جاؤ اور پھر دوسرے اخبارات بازی لے جائیں ‘‘
٭٭٭
	گورنر ہاؤس کے سامنے معمول سے زیادہ گاڑیاں تھیں۔ تحسین اپنے تاجر دوست نجم کے ساتھ اپنی پرانی خیبر کار میں بہت دیر تک ٹریفک کی بے ترتیبی میں پھنسا رہا۔ بڑی مشکلوں سے وہ وہاں سے نکل کر مال روڈ پر طاہر پلازا تک پہنچا۔ وہاں بھی انسانوں کا بے کراں ہجوم تھا۔ یوں معلوم ہوتا تھا جیسے آدمی میں آدمی کاشت کیا ہوا ہے۔ شاید تل دھرنے کو جگہ نہ ہونا والا محاورہ ایسی ہی کیفیت دیکھ کر کسی نے تخلیق کیا ہو گا۔ شام کے سایے پھیل رہے تھے۔ ۔ ۔ ہجوم بھی بڑھ رہا تھا۔ گاڑی ایک طرف کھڑی کر کے یہ دونوں طاہر پلازا کی جانب بڑھ گئے 
’’کوٹ ماسٹر‘‘
سائن بورڈ پڑھ کر دونوں ایک ٹیلر کے شوروم میں داخل ہوئے۔ چاروں طرف مختلف النوع اور اعلیٰ کوالٹی کے سوٹ ترتیب سے چھت تک اونچی الماریوں میں لٹکے ہوئے تھے۔ دروازے کی سمت میں شیشوں سے اندر مجسموں کو بھی خوبصورت پہناوے پہنائے گئے تھے۔ کچھ لوگ جو ابھی کچھ دیر پہلے آئے تھے ان مجسموں کو محویت سے دیکھ رہے تھے۔ عید کے لیے سلائے گئے سوٹ تحسین اور نجم نے اُٹھائے۔ ۔ ۔ رقم ادا کی اور نیچے اُتر آئے۔ باہر اندھیرا تھا۔ ۔ ۔ شاید لوڈ شیڈنگ کے باعث بجلی کی رو معطل ہو چکی تھی۔ ۔ ۔ البتہ کچھ دُکانوں میں آن ہو جانے والے جنریٹروں کے باعث بلبوں کی ہلکی لو چھن چھن کر باہر آ رہی تھی یا پھر سڑک سے گزرنے والی گاڑیوں کی ہیڈ لائٹس اندھیرے کا سینہ اچانک چیر جاتیں تو  دُور تک روشنی کی لہر پھیل جاتی۔ 
٭٭٭
’’خاموشی سے بیٹھ جاؤ گاڑی میں ‘‘
گھبراہٹ سے پلٹ کر تحسین نے دیکھا تو  دو مسلح نقاب پوش اس کے پیچھے کھڑے تھے۔ نجم کو دو اور نقاب پوشوں نے پکڑ کر پہلے ہی اپنی گاڑی میں ڈال لیا تھا۔ تحسین نے یک بارگی سوچا
’’ڈاکو ہوں گے۔ ۔ ۔ لوٹ کر چھوڑ دیں گے ، ان سے اُلجھنا بے کار ہے۔ چند روپوں کے لیے خود کو زخمی کروانا دانش مندی نہیں ‘‘
پھر فیصلہ کن انداز سے آگے بڑھا اور کالے رنگ کی ٹیوٹا کرولا کار میں بیٹھ گیا۔ دونوں کی آنکھوں پرپٹیاں باندھی جانے لگیں ، تو انھوں نے مزاحمت کر نے کی کوشش کی مگر اب یہ بے بس ہو گئے تھے۔ ۔ ۔ ایک نقاب پوش نے اُلٹے ہاتھ سے وار کیا۔ ۔ ۔ وار اس قدر اچانک اور شدید تھا کہ تحسین کے لیے سنبھلنا ممکن نہ رہا۔ ۔ ۔ نجم بھی سراپا بے بسی کی تصویر تھا۔ آنکھوں کے ساتھ ساتھ ہونٹوں پربھی ٹیپ چپکا دیا گیا اور ان کے ہاتھ پلاسٹک کی ڈوری سے باندھ دیئے گئے۔ ۔ ۔ اب تحسین کو اپنی حماقت کا احساس ہو رہا تھا
’’مزاحم ہوتا تو  زیادہ سے زیادہ ایک گولی چلا کر یہ لوگ بھاگ جاتے ‘‘اس نے سوچا
	گاڑی مسلسل بڑھتی رہی۔ ۔ ۔ راستہ پھیلتا رہا اور اس کی سوچیں بھی۔ اس کی آنکھوں میں ان تمام صحافیوں کے چہرے گھوم گئے ، جنھیں نامعلوم لوگوں نے اغوا کر کے یا تو  قتل کر دیا تھا یا پھر اپاہج بنا دیا۔ ۔ ۔ اس کے دماغ کے پردے پر قبائلی صحافی کی تصویر روشن ہوئی جس کی پشت پر ہاتھ بندھے لاش اس کے غائب ہونے کے کئی دن بعد ملی تھی۔ ۔ ۔ ایک اور قبائلی صحافی کا چہرہ سامنے آیا جس کے بھائی اور بھتیجے کو قتل کیا گیا تھا۔ ۔ ۔ خود اُسے اغوا کر کے کئی دن اذیت کا نشانہ بنایا جاتا رہا۔ ۔ ۔ اُسے ملک کے دارالحکومت کے پوش ایریا میں قتل کیے جانے والے سینئر صحافی کا بھی خیال آیا۔ ۔ ۔ پھر اس کی بند آنکھوں کے سامنے الیکٹرونکس میڈیا سے وابستہ کیمرہ مین اور رپورٹر کا چہرہ گھوم گیا۔ تکلیف کی شدت سے اس کی کنپٹیاں سلگ رہی تھیں۔ ۔ ۔ وہ اپنی بے بسی پر کڑھتا رہا۔ ۔ ۔ واہموں اور سوچوں کے ناگ اسے ڈستے رہے۔ کئی گھنٹوں کی اذیت ناک مسافت کے بعد جب انھیں گاڑی سے اُتارا گیا تو  ان کا جسم بوجھل ہو چکا تھا۔ ۔ ۔ تھکاوٹ اور خوف نے ان کے قدموں کو زمین میں گاڑ دیا تھا۔ ۔ ۔ یوں معلوم ہوتا تھا جیسے ان کے کاندھوں پر کسی نے نانگا پربت اُٹھا کر رکھ دیا ہے۔ رات خاموش تھی۔ ۔ ۔ دُور کہیں سے گیدڑوں کی آواز گونجتی تو کتے بھی بھونکنے لگتے تھے۔ ۔ ۔ اغوا کار مخصوص لہجہ میں آپس میں باتیں کر تے۔ ۔ ۔ سرگوشی میں ایک دوسرے کو کچھ کہتے اور ساتھ ہی ساتھ انھیں بھی گھسیٹتے جاتے۔ ۔ ۔ گھنٹہ بھرکا پیدل سفر صدیوں کو محیط لگتا تھا۔ ۔ ۔ رواں رواں چٹخ رہا تھا
٭٭٭
’’کیا ہو گا ہمارے ساتھ۔ ۔ ۔ نہ جانے کون لوگ ہیں یہ۔ ۔ ۔ اور کیا چاہتے ہیں ‘‘
تحسین نے سوچا اور اس کے دماغ میں چیونٹیاں رینگنے لگیں 
’’کھولو دروازہ۔ ۔ ۔ جلدی کر و۔ ۔ ۔ ‘‘
ایک کرخت آواز گونجی۔ دروازہ اس طرح کھٹکھٹایا جا رہا تھا جیسے ہتھوڑے برس رہے ہوں۔ 
’’کھولو سور۔ ۔ ۔ کہاں مر گئے ‘‘
دوبارہ صدا بلند ہوئی۔ ۔ ۔ گڑگڑ۔ ۔ ۔ ڑڑڑڑڑ۔ ۔ ۔ دروازہ کھلنے کی آواز پیدا ہوئی۔ ۔ ۔ پھر ایک کمرے میں انھیں دھکیل کر دروازے کو باہر سے چٹخنی چڑھا دی گئی۔ ۔ ۔ تحسین نے چیخنے کی کوشش کی، مگر چیخ اس کے گلے میں قتل ہو کر رہ گئی۔ ۔ ۔ بندھے منہ سے چیخ کہاں نکل پاتی ہے۔ دروازہ بند ہوا تو  کچھ دیر سرگوشیوں کی آہٹ ان کے کانوں سے ٹکراتی رہی، پھر خاموشی چھا گئی۔ ۔ ۔ قبر کی سی خاموشی۔ رات جیسے تھم گئی تھی۔ اور وقت جیسے زنجیروں سے باندھ دیا گیا تھا۔ ۔ ۔ جکڑے ہاتھوں ، ٹیپ چپکے مونہوں اور بندھی آنکھوں نے ان کے دماغوں کو بھی تاریک کر دیا تھا۔ خوف کے سیاہ ناگ پھن پھیلائے انھیں ڈسنے کو دوڑ رہے تھے۔ ۔ ۔ کچی اور ننگی زمین کے فرش پرنہ ان سے بیٹھا جاتا نہ لیٹا۔ ۔ ۔ حشرات الارض کی آوازیں گہری خاموشی کا سینہ چیر رہی تھیں۔ کبھی کبھی کتوں کے بھونکنے کا شور بھی خاموشی توڑ دیتا۔ 
	تحسین جب تھکاوٹ سے بے حال ہو کر مٹی کے فرش پر لیٹا تو  کچھ دیر بعد اسے اپنے وجود پر کوئی کیڑا رینگتا ہوا محسوس ہوا۔ ۔ ۔ اس نے سوچا
’’لال بیگ۔ ۔ ۔ ٹڈی ہو سکتی ہے۔ ۔ ۔ یا کوئی زہریلا حشرہ؟ ‘‘
وہ بدک کر اُٹھ بیٹھا اور باقی رات اس نے اٹھتے ، بیٹھتے کاٹی۔ کیا قیامت کی رات تھی وہ۔ ۔ ۔ 
’’فہمیدہ کس حال میں ہو گی؟ ۔ ۔ ۔ اور بچے راہ تکتے تکتے سو گئے ہوں گے۔ جانے کتنی بار اس نے دفتر فون کر کے معلوم کیا ہو گا اور ہر مرتبہ اسے بتایا گیا ہو گا کہ ’’تحسین صاحب تو  سہ پہر کو گھرکے لیے نکل گئے تھے۔ ۔ ۔ ‘‘اس نے اپنے بوڑھے ماں باپ کے بارے میں سوچا۔ اور شائستہ۔ ۔ ۔ وہ سوچ رہی ہو گی کہ بھائی عید کے لیے چوڑیاں لے کر آئے گا۔ ۔ ۔ اس نے نجم کے بارے میں سوچا جو اس کے ساتھ ہی کہیں پڑا تھا۔ اسے خیال آیا ممکن ہے اس کی وجہ سے اغوا کیا گیا ہو۔ ۔ ۔ اغوا برائے تاوان ہو۔ ۔ ۔ نہیں ، نہیں میری وجہ سے اسے اغوا کیا گیا ہے۔ ۔ ۔ اُف خدایا! دکھ تو سینے سے پار ہو کر رہے گا۔ ۔ ۔ ‘‘
سوچوں کی کڑیاں زنجیر بنتی گئیں اور زنجیروں کا پھیلاؤ بڑھتا رہا۔ ۔ ۔ بڑھتا رہا۔ ۔ ۔ بڑھتا رہا۔ ۔ ۔ 
٭٭٭
	دروازے کی چرچراہٹ نے اس کے دماغ کو خیالوں کی دنیا سے نکالا۔ قدموں کی آہٹ مسلسل اس کے قریب آتی جا رہی تھی۔ ۔ ۔ دفعتاً کوئی ہاتھ اس کے سر تک پہنچا اور پھر بالوں کو جکڑ لیا۔ لا تو  ں اور گھونسوں کا سلسلہ نہ تھمنے کے لیے شروع ہوا۔ پسلیاں ایک دوسرے میں گھستی ہوئی معلوم ہوئیں ، پیٹ میں اُٹھنے والے درد کا طوفان بڑھتا ہی گیا۔ جب تکلیف سے ذرا آگے کی طرف جھکتا تو پیچھے سے کمر میں لات جڑ دی جاتی اور وہ گھٹی آواز میں کر اہ کر رہ جاتا۔ ۔ ۔ وہ اندازہ نہیں کر پا رہا تھا کہ مارنے والے کتنے ہیں۔ بس ایک ہی طرح کی آوازیں گونجتیں 
’’ اور مارو۔ ۔ ۔ ہڈیاں توڑ دو۔ ۔ ۔ زندہ نہ چھوڑو‘‘
مکوں اور ٹھوکروں کا دور ختم ہوا تو  ڈنڈے کی عمل داری شروع ہو گئی۔ ۔ ۔ جہاں چوٹ پڑتی وہاں بجلی سی کوند جاتی۔ ۔ ۔ آنکھیں راکھ کا ڈھیر ہو گئیں ، دماغ سن اور ماؤف۔ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے جسم کا بال بال خون کی راہ گزر بن چکا ہے۔ کیا ہونے والا ہے اور کیا ہو گا وہ یہ نہیں جان سکتا تھا۔ ۔ ۔ البتہ ایک آواز اس کے کانوں سے ہوتی ہوئی روح تک اُتر گئی تھی۔ 
’’باقی کسر دوپہر کو نکالیں گے۔ ۔ ۔ چلو‘‘
دروازہ اسی چرچراہٹ کے ساتھ بند ہو گیا۔ تحسین کو یوں محسوس ہوتا تھا جیسے اس کا سر، چہرہ اور پورا جسم لہو سے تر ہو چکے ہیں۔ خون کی نمکین قطرے اس کے پھٹے ہوئے ہونٹوں سے حلق میں اُتر رہے تھے۔ وہ اپنا چہرہ صاف کرنا چاہتا تھا، مگراس کے بندھے ہاتھ اس کے ارادے پر پانی پھیر دیتے تھے۔ ۔ ۔ اس کے بعد کیا ہوا؟ اسے کچھ یاد نہیں۔ ۔ ۔ 
٭٭٭ 
	نجم کے پکارنے پر تحسین کی آنکھ کھلی تو اس نے دیکھا وہ پہچانا نہیں جا رہا تھا۔ خون اور دھول کے دھبوں نے اس کی شناخت چھین لی تھی اور یہی حالت اس کی اپنی بھی تھی۔ وہ اُس کا چہرہ صاف کر نے کے لیے اٹھنا چاہتا تھا، مگراس کے اپنے سینہ پر رکھی ہوئی درد کی گانٹھ نے اسے بے بس کر دیا۔ ۔ ۔ ایک کر اہ اس کی چھاتی سے نکلی اور فضا میں تحلیل ہو گئی۔ اس کے نتھنے بدبو سے پھٹ رہے تھے۔ ۔ ۔ ناک صاف کر نے کے لیے ہاتھ قریب کرنا چاہا ، مگر وہ دماغ کا حکم بجا لانے سے قاصر تھا۔ یوں لگتا تھا جیسے اس کی دونوں بانہیں شل ہو چکی ہیں۔ بڑی مشکلوں سے وہ اپنی کلائیوں کو دیکھ پایا تھا، جن پر رسیوں کے نشان پوری طرح روشن تھے۔ 
’’تحسین۔ ۔ ۔ کون لوگ ہیں یہ؟ ‘‘نجم نے پوچھا
’’مجھے اندازہ نہیں۔ ۔ ۔ شاید میرے دشمن ہیں ‘‘تحسین نے کہا
ایک جھٹکے سے دروازہ کھلتا ہے اور ایک با ریش مسلح شخص اندر آن دھمکتا ہے 
’’سناؤکیسی رہی ؟ ۔ ۔ ۔ فیچر لکھتے ہو۔ ۔ ۔ تحقیقی فیچر۔ ۔ ۔ سمگلنگ میں حکومتی شخصیات ملوث ہیں ، سپاہی سے لے کر آئی جی تک سب کو حصہ ملتا ہے۔ ۔ ۔ معاشرہ کو ان ناسوروں سے پاک کرنا ضروری ہے۔ ۔ ۔ ‘‘
کہہ کر وہ تحسین کی جانب بڑھتا ہے اور انتہائی حقارت سے اپنی آنکھیں اس کے وجود میں گاڑ دیتا ہے۔ بے رحمانہ انداز سے اپنا دایاں پاؤں اُٹھا کر پوری قوت سے اس کے پیٹ پر مارتا ہے تو اس کی چیخ چھت کو پھاڑنے لگتی ہے۔ 
’’تم کرو گے معاشرہ کو پاک۔ ۔ ۔ تم‘‘
ایک اور پاؤں اس کے سینے پر پڑتا ہے۔ 
’’ہمیں آئینہ دکھاتے ہو۔ ۔ ۔ ہمیں۔ ۔ ۔ ؟ اپنی منحوس شکل دیکھو‘‘
وہ جیب سے نسوار کی ڈبیا نکالتا ہے اور اس سے چمٹا ہوا آئینہ اس کی آنکھوں کے سامنے کر دیتا ہے۔ 
سارے منظر دھُندلے۔ ۔ ۔ پورا چہرہ خون۔ ۔ ۔ ٹیسوں کو ضبط کر تے ہوئے تحسین نے کہا
’’میرا موبائل فون دو میں گھر بات کرنا چاہتا ہوں ‘‘
’’دیتا ہوں تمھیں فون۔ ۔ ۔ ‘‘
مسلح شخص غصہ سے دھاڑتا ہوا اس کی جانب بڑھتا ہے اور بندوق کا بٹ اس کے سینے پراس شدت سے مارتا ہے کہ اسے اپنی چھاتی کی ہڈیاں ٹوٹتی ہوئی محسوس ہوتی ہیں۔ وہ درد سے دہرا ہو جاتا ہے۔ ۔ ۔ مزاحمت چاہے بھی تو نہ کر سکے کہ، وجود میں دم ہی نہیں رہا تھا۔ ۔ ۔ نجم۔ ۔ ۔ اس کی بھی صرف زبان کار آمد تھی اور وہ اس سے کام لیتا رہا
’’مت ظلم کر و اتنا۔ ۔ ۔ خدا سے ڈرو۔ ۔ ۔ اس کے قہر کو آواز مت دو‘‘
’’خاموش ہو جاؤ، دلیہ بنا دوں گا تمھارا۔ ۔ ۔ ‘‘و ہ اس پر چیختا ہے 
٭٭٭
	کئی دن گزر گئے۔ ۔ ۔ ان کے زخم مندمل ہونے لگے۔ جو لوگ انھیں اغوا کر کے لائے تھے وہ اب نہیں آتے تھے۔ ۔ ۔ ان کی نگرانی پر دو نوجوان مامور تھے جو انھیں کھانا بھی کھلاتے اور دوسری بدنی حاجات کا بھی خیال رکھتے۔ ۔ ۔ کپڑے تو نئے لا کر نہیں دیے تھے ، البتہ نہانے اور پرانے کپڑوں کو دھونے کے لیے پانی ضرور مہیا کر تے رہے۔ ان کی حالت قدرے بہتر ہوئی تو انھوں نے خدا کے سامنے سجدہ ریز ہونا شروع کر دیا۔ عبادت کر نے لگے۔ ۔ ۔ تب ایک اور وضع کا ظلم شروع ہوا۔ جوں ہی یہ نماز کے لیے کھڑے ہوتے ، ان کے پہرے دار بلند آواز میں گانے لگا دیتے۔ ۔ ۔ یہ منتیں کر تے اور وہ ٹھٹھا مذاق۔ پھر ایک دن پہرے داروں کے ریڈیو پر انھوں نے اپنی گم شدگی کی خبر سنی۔ ۔ ۔ ان کے صحافی دوستوں نے ملک بھر میں ان کی با حفاظت بازیابی کے لیے بھوک ہڑتالی کیمپ اور احتجاجی ریلیوں کا سلسلہ شروع کر رکھا تھا۔ ریڈیو کی خبروں سے انھیں معلوم ہوا کہ ان کو اغوا ہوئے انتا لیس دن گزر چکے ہیں۔ نوجوان چوکیداروں کو اپنی حماقت کا احساس ہوا تو  انھوں نے فوراً ریڈیو بند کر دیا۔ 
مگر اب انھیں حوصلہ ہو گیا تھا کہ ان کے صحافی دوست انھیں رہا کر وا لیں گے۔ ۔ ۔ دونوں اپنے بچوں کے لیے فکر مند تو تھے ، مگر اب انھیں اطمینان سا ہو گیا تھا کہ ان کے رفیقِ کاران کا بھی خیال رکھ رہے ہوں گے۔ 
٭٭٭
	’’گورنر صاحب سے بات ہو چکی ہے ، وہ کہتے ہیں تحسین اور نجم کے اغوا کو زیادہ نہ اچھا لیں۔ انشاء اللہ وہ برآمد ہو جائیں گے۔ ‘‘
احتجاجی کیمپ پہنچتے ہی پریس کلب کے صدر اور ایکشن کمیٹی کے چیئرمین نے دیگر صحافیوں کو بتایا۔ 
’’وزیر اعلیٰ نے بھی یقین دہانی کرائی تھی ‘‘ایک صحافی نے کہا
’’وزیر اعظم کی طرف سے دیے گئے ظہرانے میں بھی تو صحافیوں نے وزیر اعظم کو آگاہ کیا تھا۔ ‘‘
دوسرا صحافی بولا
’’پولیٹیکل ایجنٹ اور وفاقی وزیر داخلہ نے بھی تعاون کر نے کو کہا تھا‘‘
ایکشن کمیٹی کا چیئرمین گویا ہوا
٭٭٭
	کراچی سے لے کر خیبر تک تمام چھوٹے بڑے شہروں میں صحافتی اور سماجی تنظیموں نے احتجاجی ریلیاں نکالیں۔ خود تحسین کے اخباری مالکان کا رویہ انتہائی حوصلہ افزا رہا۔ ہر سطح پر ان لوگوں نے نہ صرف آواز اٹھائی بل کہ روزانہ اپنے اخبار میں ان کے اغوا سے متعلق خبروں اور مضامین کو نمایاں شائع کر تے رہے۔ اخبار کے ادارتی صفحہ سے وابستہ سینئر صحافیوں نے بھی کالم لکھے۔ ۔ ۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ غیرملکی میڈیا پربھی کوریج آئی۔ یقیناً یہ اسی کوریج کا نتیجہ تھا کہ دنیا میں صحافت کی آزادی کے لیے کام کر نے والی تنظیم متحرک ہوئی اور اس نے یہاں آ کر احتجاج کر نے کا فیصلہ کیا۔ اور پھر غیر ملکی صحافیوں کی اس تنظیم کے آنے کا دن مقرر ہو گیا۔ ۔ ۔ قبائل کے ایک گروہ نے بھی اغوا کاروں پر لشکر کشی کا اعلان کیا۔ جس دن سہ پہر کو صحافتی تنظیم کے وفد نے پہنچنا تھا اُسی روز دن کے پہلے پہر وفاقی وزیر اطلاعات نے تحسین اور اس کے ساتھی کی بازیابی کا اعلان کر دیا۔ ۔ ۔ کچھ دیر بعد ٹیلی ویژن پر انھیں دکھایا بھی گیا۔ ۔ ۔ وزیر موصوف نے انکشاف کیا
’’اغوا کار اپنی گرفتاری کے خوف سے گھبرا گئے تھے۔ وہ مغویوں کو دوسرے کسی مقام پر منتقل کرنا چاہتے تھے۔ جب ان کا گزر آبادی سے ہوا تو  وہاں تحسین اور نجم نے شور مچانا شروع کر دیا۔ لوگ بیدار ہو گئے۔ ۔ ۔ اور فائرنگ شروع کر دی۔ اغوا کار گھبرا گئے اور انھیں وہیں چھوڑ کر فرار ہو گئے۔ ۔ ۔ ‘‘
	تحسین ، اس کے گھر والوں اور صحافیوں کے لیے اتنا ہی بہت تھا کہ وہ زندہ سلامت لوٹ آیا ہے۔ ۔ ۔ پورے باسٹھ دن بعد۔ ۔ ۔ ورنہ یہاں کون سلامت لوٹتا ہے۔ 
’’پاپا! آپ ہمیں چھوڑ کر کہاں چلے گئے تھے ؟ ‘‘
ننھی فریال نے پوچھا تو  بے اختیار تحسین کی آنکھوں سے چشمہ جاری ہو گیا۔ ۔ ۔ تب کسی اور نے کوئی سوال نہ کیا۔ ۔ ۔ فہمیدہ نے بھی نہیں ، ماں جی اور اباّ نے بھی نہیں اور شائستہ نے بھی نہیں۔ کسی نے اس سے نہیں کہا کہ اس کے بغیر عید کیسے گزری اور یہ دو ماہ اور دو دن کا عرصہ کتنی صدیوں کو محیط ہوا۔ ۔ ۔ 
’’اللہ نے فضل کیا۔ ۔ ۔ تحسین لوٹ آیا‘‘
بوڑھے مرزا صاحب، تحسین کے اباّجی سے کہہ رہے تھے۔ ۔ ۔ رشتہ داروں ، دوستوں اور صحافیوں کے چہرے خوشی سے سرخ ہو رہے تھے۔ ۔ ۔ مگر تحسین ابھی تک ان چودہ سو بیاسی گھنٹوں کی گرفت میں تھا جو اس نے اغوا کاروں کے ساتھ گزارے تھے۔ ایک ایک لمحہ سوئی بن کر اس کے احساس میں چبھتا رہا
’’کیا قصور تھا میرا۔ ۔ ۔ سچ لکھنا جرم ہے۔ ۔ ۔ ؟ کیوں مجھے اذیت میں مبتلا کیا گیا۔ ۔ ۔ کیوں میرے دماغ میں کیلیں ٹھونکی گئیں۔ ۔ ۔ کیوں میرے گھر والوں کی نیندیں حرام کی گئیں۔ ۔ ۔ یہ کیسا معاشرہ ہے جہاں جھوٹ کی حکم رانی ہے اور سچ پاؤں سمیٹے چھپا بیٹھا ہے۔ ۔ ۔ ‘‘
اس نے نفرت سے سوچا مگر اگلے ہی لمحے وہ دفتر جوائن کر نے کا فیصلہ کر چکا تھا۔ 
    ’’قریشی صاحب! اغوا کار کوئی بھی تھے وہ مجھے سچ لکھنے سے روکنا چاہتے تھے۔ ‘‘
تحسین نے دوسرے صوبہ سے آئے ہوئے ایک صحافی کو بتایا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 
’’ہوں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘
علی ترکی کا سفرنامہ کمپوز کر رہا تھا۔ ۔ ۔ ایک کمپوزر نئے فیچر کا مسودہ دیکھ رہا تھا۔ ۔ ۔ 
تحسین نے اپنا کمپیوٹر آن کرنا چاہا، مگر اس کی ونڈوز کر پٹ تھی۔ ۔ ۔ 
٭٭٭
 

بوڑھا درخت



	ان گنت سالوں سے اپنی بانہیں پسارے ، سر نیہوڑائے وہ زمین میں گڑا ہوا تھا ، زمانوں کی گریز پا گھڑیوں اور لمحوں نے اس کے وجود پر کھردراہٹوں کی داستان رقم کر دی تھی ، ہر نئی ساعت میں اس کے وجود پر ایک لکیر کا اضافہ ہو جاتا اور یہ لکیر کچھ توقف کے بعد گہری شکن میں بدل جاتی۔ پھر یہ شکنیں اس کے وجود کا حصہ بن جاتیں ، اس کی شخصیت کی پہچان ہونے لگتیں۔ دیکھنے والوں نے خیال کیا کہ شاید اس کی جلد ازل سے ہی ایسی ہے ، لکیروں کا لباس اس نے پہلے دن سے ہی پہنا ہوا ہے۔ حالاں کہ ایسا نہیں ہے ، ایسا نہیں تھا۔ اس کا وجود کبھی بہت نازک ، بہت دل کش، بہت خوب صورت تھا اور آج۔ ۔ ۔ آج صدیوں کی تھکاوٹ پہنے وہ زمین میں گویا گڑتا جا رہا تھا، اس کی بانہیں سکڑتی جا رہی تھیں ، اس کی خوشبو گھٹتی جا رہی تھی، اس کی ٹھنڈک مٹتی جا رہی تھی، موسموں کے تغیرات اور لوگوں کی بے اعتنائیوں نے اس سے اس کا اعتبار، اس کا حسن، اس کا دبدبہ، اس کا قد اور خوش بو تک چھین لیے تھے۔ ۔ ۔ اور اب وہ گئی رتوں کی راکھ میں انگلیاں پھیرتے پھیرتے کچھ تھک سا گیا تھا۔ ۔ ۔ بل کہ اکتاہٹ کے نشانات اس کے چہرے پر ثبت ہو گئے تھے۔ وہ کسی اور زمین میں نمو پانے کی خواہش رکھتا تھا۔ بے رُخی اور ستم شعاری پر مائل لوگوں کے پاس اس کے دکھ کو سمجھنے کے لیے کوئی وقت نہیں تھا۔ ہر کوئی اپنی انا کا اسیر ہو کر اپنی زندگی میں مگن تھا۔ ۔ ۔ وہ بھی جن کی موم سی نازک جلد کو اس نے اپنے میٹھے فرحت بخش سایوں میں پروان چڑھایا تھا اور۔ ۔ ۔ وہ بھی جو عمر کا ایک طویل حصہ اس کی چھاؤں میں گزار کر زندگی کی بو قلمونیوں سے آشنا ہوئے تھے۔ بیزاری اور بے دلی کے اس عالم میں تو اس پر اس کے سائے بھی گھٹ رہے تھے ، یوں وہ اپنی ذات کا اعتبار بھی ختم کر چکا تھا۔ کتنے ہی لوگ اس کے ٹھنڈے سایے میں بیٹھ کر خوشیاں سمیٹ گئے اور کتنوں نے جھلساتی دھوپ سے گھبرا کر اس کی میٹھی، ٹھنڈی چھاؤں میں سکھ کا سانس لیا۔ ۔ ۔ اس کا اندازہ ممکن ہی نہیں۔ اس نے کبھی بھی کسی آنے والے کو اپنے سے دُور نہیں رکھا، جو بھی آیا اسے کھلے دل سے اپنی بانہوں میں سمیٹ کر سینے سے چمٹا لیا ، مگر وقت نے دیکھا ، انھی لوگوں نے اس پر پہلا وار کیا جن کو زمانہ کے سرد و گرم سے اس نے محفوظ کیا۔ اتنا محفوظ کہ موسموں کی شدت ان پر اثر انداز ہونے سے قاصر ہو گئی۔ طوفانِ باد و باراں کی سختی بجائے خود ان کے لیے لطف کا باعث ہو گئی۔ ۔ ۔ 
	او خدایا! ۔ ۔ ۔ آج تیشہ انھی ہاتھوں میں ہے جنھیں پکڑ کر اس نے چلنا سکھایا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ ، اب اس کی فریادسننے والا کوئی نہیں ہے ، جلد یا بہ دیرکسی ستم ایجاد کے ہاتھوں اس کی زندگی کا چراغ گل ہو جائے گا۔ ۔ ۔ یا پھر نئی ہوائیں اس کے وجود خستہ کو خس و خاشاک کی مانند اُڑا لے جائیں گی اور یہ نشان چھوڑ کر بھی بے نشان کہلائے گا، مگر پھر بھی۔ ۔ ۔ پھر بھی وہ چاہتا تھا کہ ایک بار ہی سہی، ایک لمحہ کے لیے ہی سہی وہ چلے آئیں جن کی ہریالی میں اس کا خون بہتا تھا۔ 
	وہ جنھیں کسی اور ہوا نے آ لیا تھا بوڑھے درخت کی زبان کہاں سمجھنے والے تھے ، انھیں تو یہ بھی یاد نہیں رہا تھا کہ ان کی اصل یہی تو ہے جو پکار رہا ہے اور وہ تو  یہ بھی بھول گئے تھے کہ، ان کے تن اور وجود پر بھی ایک دن کھردرے ملبوس نے اُترنا ہے۔ ان کے مضبوط بازوؤں نے سکڑ کر کمزور ہونا ہے ، تنی ہوئی گردن نے ڈھلک جانا ہے اور کھلے سینہ نے اپنے آپ میں سمٹ جانا ہے۔ اور شاید وہ یہ بھی فراموش کر بیٹھے تھے کہ ان کے چھوڑے ہوئے نشانات وجود میں ہو کر بھی معدوم ہو جائیں گے ، بالکل اسی طرح جیسے ان کی موجودگی میں بوڑھا درخت بے نشان تھا۔ 
	دُور شیشم کے گھنے درختوں میں فاختاؤں کی صدائیں بیدار ہوئیں اور ہوا کے دوش پر سفر کر تے ہوئے آگے نکل گئیں ، کبھی کبھی اس گونج میں لٹورے کی آواز بھی مدغم ہونے لگتی۔ ان دہری آوازوں کی آمیزش نے احمد علی کو ماضی میں دھکیل دیا تھا۔ ایک ایک منظر اس کے دماغ پر رقص کرتا اور پھر خود میں محو ہو کر آنسوؤں کی صورت اس کی پتلیوں تک نکل جاتا۔ اس لمحے وہ بائیں ہونٹ کے کونے کو اپنے بوڑھے دانتوں میں داب لیتا اور ایک کوشش سے اشکوں کو پینے کی دھن میں نکل جاتا۔ ۔ ۔ مگر پھر بھی چہرے پر ثبت دو غاروں کے کونے بھیگ جاتے اور وہ اپنی میلی آستین سے غاروں کے دھانوں کو رگڑ کر اُلجھ بیٹھتا۔ مسلسل رگڑنے کے باعث غاروں کے گردا گرد سرخیوں کے پہاڑ اُٹھتے جا رہے تھے۔ اس نے سوچا کہ اکہتر سال کے طویل عرصہ میں ایک بار بھی تو اس نے کانٹوں کی فصل نہیں بوئی تھی، پھر اس کے تمام کھیتوں میں ہمیشہ کانٹے کیوں اُگتے چلے آئے تھے۔ ۔ ۔ کبھی اس نے میلا منظر نہیں دیکھا تھا پھر اس کی آنکھیں پھوڑے کیوں بن گئیں تھی، کبھی اس نے غیر لمس کو محسوس نہیں کیا پھر اس کی بانہیں شل کیوں ہو گئیں تھی۔ وہ سوچتا گیا اور روتا گیا۔ ۔ ۔ مگر کہیں اسے یہ سراغ نہ مل سکا کہ وہ کن بے ضابطگیوں کا صلہ پا رہا ہے ، کس تخم کی فصل کاٹ رہا ہے ؟ اسے یاد آیا کہ شاہ جہاں پور سے چلنے والا قافلہ آٹھ افراد پر مشتمل تھا، جو منٹگمری تک پہنچتے پہنچتے سکڑ گیا تھا۔ اب ایک وہ اور اس کی بیوہ پھوپھو تھیں۔ ۔ ۔ جنھوں نے زندگی کو نئے سرے سے آغاز کیا۔ 
	بارہ کا سن ہوتا ہی کیا ہے ، اس عمر میں تو آدمی کو اپنی شناخت تک نہیں ہوتی زمانوں کی خبرداری کیوں کر ممکن ہے۔ اسی سن میں احمد علی نے ایک تھڑا ہوٹل پر کام شروع کیا تھا۔ زندہ رہنے کے لیے جو ضروری تھا وہ اسے وہاں سے مل جاتا۔ اس کی شرافت کا ثبوت اس سے بڑھ کر اور کیا ہو سکتا تھا کہ چار سال بعد ہوٹل کے مالک نے اسے اپنی فرزندی میں لے لیا۔ اور پھر زندگی کی راہ پراس کا سفر رواں دواں ہو گیا۔ ۔ ۔ جوں جوں وقت کینچلی بدلتا گیا احمد علی کے چہرے پر شکنیں بڑھتی گئیں۔ یہ شکنیں اس کے اپنے لیے نہیں تھیں بل کہ ان تینوں کے لیے تھیں جو اس کی تقسیم تھے۔ تینوں کو اس نے بڑی چاہ سے شہر کے مہنگے ترین پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں پڑھایا اور پھر اعلیٰ تعلیم کے لیے گوروں کے دیس بھیجا۔ دو وہاں ٹھہر گئے۔ ۔ ۔ اور ایک پلٹ آیا۔ اس لیے نہیں کہ اسے احمد علی کی فکر تھی بل کہ اس لیے کہ وہ جس سے وابستہ ہو گیا تھا وہ وہاں رُکنا نہیں چاہتی تھی۔ 
	اسجد علی سرکاری اسپتال میں ڈاکٹر مقرر ہو گیا تھا۔ انگریزی ڈگری کے باعث اسے جلد مقبولیت حاصل ہو گئی تھی۔ جب اس کا تبادلہ نسبتاً پسماندہ قصبہ میں ہوا تو  اس کی چاندی ہو گئی۔ دھن اس پریوں برسنے لگا جیسے ساون کا بادل۔ چند ہی سالوں میں اس نے شہر میں سب سے بڑا بنگلہ اور تمام سہولیات سے آراستہ پہلا اسپتال تعمیر کیا۔ سرکاری اسپتال میں تعیناتی کے دوران اس نے خوب اثر و رسوخ قائم کر لیا تھا۔ جائز و نا جائز مقدمات میں لوگوں کو اُلجھا کر علاقہ کے سر کر دہ لوگوں کے ساتھ تعلقات بنائے ، ان سے مال بٹورا۔ ۔ ۔ اور پھر خود کو ان جیسا بنانے کے لیے ان کے سانچے میں ڈھال لیا۔ اب اس کے پاس کالے شیشوں والی انٹر کولر اور درجن بھر اعلیٰ نسل کے کتے اور مسلح محافظ ہر وقت موجود رہنے لگے تھے۔ اکلاپے کا مارا احمد علی جو کبھی اس جانب نکل آتا تو  اسجد علی کا توہین آمیز رویہ اس کے لیے ناقابل برداشت ہو جاتا ، ناچار وہ اپنے گھر لوٹ جاتا۔ ۔ ۔ جو اس نے حلال کا ایک ایک روپیا جمع کر کے بنایا تھا۔ ۔ ۔ وہ گھر جو اسے شاہ جہاں پور کا بدل محسوس ہوتا تھا۔ ۔ ۔ وہ گھر جو اس کے رفیقِ سفر کی یادوں سے مہکتا اور کھلتا تھا۔ ۔ ۔ وہ گھر جہاں اسجد علی پیدا ہوا اور پھر پہلا قدم اُٹھایا۔ ۔ ۔ حتیٰ کہ جوان بھی اسی گھر میں ہوا۔ 
	پھر ایک رات تیز آندھیاں چلیں۔ ۔ ۔ بوڑھا درخت اپنی جڑوں سے اکھڑ چکا تھا۔ صبح دم لوگوں نے دیکھا تو   نام ور سرجن ڈاکٹر کا باپ اپنی چارپائی کے نیچے تڑپ تڑپ کر دم تو ڑ چکا تھا۔ ۔ ۔ اور جب اس کے بیٹے کو اطلاع دی گئی تو وہ سیکڑوں میل دُور اپنے جاگیر دار دوستوں کے پاس بیٹھ کر کتوں کی عادات پر گفتگو کر رہا تھا۔ ۔ ۔ مگر کتے کی وفاداری کا وصف اس کی آنکھوں سے اوجھل تھا۔ 
٭٭٭
 
میں 



	’’صبح بیدار ہوا تو  پہلی نظر وال کلاک پر پڑی۔ 11:45 کا وقت دکھاتے ہوئے گھڑیال کی سوئیوں پر غور کیا تو  وہ جامد تھیں۔ میں نے سوچا گزشتہ رات تو نئی بیٹری ڈالی گئی تھی پھر کیوں اس کی سوئیاں چلنا بھول گئیں۔ موبائل آن کیا تو  سگنل غائب تھے ، البتہ موبائل کی گھڑی 4:53 بجا رہی تھی۔ جلدی سے بستر چھوڑا اور باہر گلی میں نکل آیا۔ گلی کی بہتی نا لیوں میں محلے کے گھروں کے واش رومز سے برآمد ہونے والا مواد شامل ہو رہا تھا۔ کچھ خواتین اپنے گھروں کا کوڑا کر کٹ اپنے دروازوں سے باہر پھینک رہی تھیں۔ ۔ ۔ جس سے ماحول میں مزید تعفن پھیل رہا تھا۔ میں جس وقت گلی سے گزر رہا تھا میرے لیے آزادانہ سانس لینا ناممکن تھا۔ بڑے بڑے ڈگ بھرتا ہوا آبادی سے دو میل باہر کھیتوں میں نکل آیا۔ 
	ابھی پو نہیں پھٹی تھی۔ ارد گرد کی چیزیں پوری طرح واضح نہیں دکھائی دے رہی تھیں۔ میں چلتے چلتے گندم کے کھیتوں کے قریب پہنچ گیا۔ ۔ ۔ مگر اب بھی گلی کا بدبو دار ماحول میرے نتھنوں کو چیر رہا تھا۔ اوس میں ڈوبے ہوئے گندم کے کھیتوں کو دیکھ کر مجھے قدرے راحت محسوس ہوئی ، البتہ ایک پگ ڈنڈی پر چلتے ہوئے اچانک جب میرے پاؤں سے کوئی چیز ٹکر ائی تو فطرتاً میں نے ٹھوکر میں آنے والے چیز کو دیکھا۔ یہ جڑی بوٹیوں کی تلفی کے زہر کی خالی بوتل تھی۔ میں نے سوچا کسی کسان نے کھیتوں پر اسپرے کر کے بوتل یہیں پھینک دی ہو گی۔ چند قدم اور بڑھائے تو مزید کچھ بوتلیں نظر آئیں۔ مجھے کسانوں کی اس لاپروائی پر سخت افسوس ہوا۔ ان زہر آلود خالی بوتلوں کو یوں راستے میں چھوڑ دینا مجھے بہت بُرا لگا۔ 
	صبح کی اذانیں گونجنے لگی تھیں۔ مؤذن سونے والوں کو اُٹھ کر عبادت کی ترغیب دلا رہے تھے۔ میں اس معمول کی چہل قدمی سے واپس سیدھا محلہ کی جامع مسجد کی طرف لوٹا۔ محلے کی گلیوں میں ابھی تک تعفن کا راج تھا۔ مسجد میں وضو بنانے کے لیے استنجا خانہ میں داخل ہوا تو  یہاں بھی بدبو نے میری ناک چیر کر رکھ دی۔ خود پر ضبط کر کے وضو کیا اور جوتیاں ہاتھ میں اُٹھا کر مسجد کے اندر داخل ہو گیا۔ کہ، اس سے پہلے ایک بار اپنی جوتیاں گنوا بیٹھا تھا۔ امام صاحب نے نہایت اہتمام اور قرأت کی پابندی کے ساتھ نماز میں سورۂ رحمٰن کی مقفیٰ آیات تلاوت کیں۔ نماز کے بعد مختصر وعظ میں انھوں نے ان آیات سمیت دیگر کچھ آیتو ں کا ترجمہ بھی پڑھ کر سنایا۔ ۔ ۔ جن میں قول و فعل کے تضاد کے حوالے سے تنبیہ کی گئی ہے۔ کچھ باتیں گرہ میں باندھ لیں۔ ۔ ۔ کچھ کانوں سے سرک گئیں۔ گھر آیا تو  خاتون خانہ ناشتا تیار کر رہی تھیں۔ 
خاتون خانہ سے شکایت کی کہ ، آج کیوں ناشتا بنانے میں دیر کر دی ہے ؟ تو جواب ملا
’’آپ باہر گئے تو چند منٹ بعد بجلی غائب ہو گئی۔ سوئی گیس کے لگے پائپوں سے ہوا برآمد ہو رہی تھی۔ ماچس کی پوری ڈبیا جلا چکنے کے بعد تو کہیں جا کر چولھا روشن ہوا۔ ‘‘
خیر۔ ۔ ۔ لقمہ توڑ کر منہ میں ڈالا تو عجیب سی بو سانسوں میں اٹک گئی۔ خاتون خانہ سے پوچھا
پکانے میں کوئی کسرتو نہیں رہ گئی؟ جواب ملا
’’اس بار جو آٹا آیا ہے اسے پکاتے ہوئے یوں معلوم ہوتا ہے جیسے باسی ٹکڑوں کو پیس کر بنایا گیا ہو۔ ‘‘
چائے کا گھونٹ بھرا تو  ذائقہ ایسا جیسے کوئی کیمیائی محلول گلے سے اُتر کر اس کی ساخت کو کھرچ رہا ہو۔ 
خاتون خانہ سے پوچھا کیا چائے کا برانڈ بدل لیا ہے ؟ جواب ملا
 ’’نہیں ، دودھ سے بُو آ رہی ہے۔ گوالے سے شکایت کی تھی۔ وہ کہتا ہے ان دنوں بھینسوں کو گوبھی کے پتے ڈال رہے ہیں ، اس وجہ سے شاید کچھ اثر آیا ہے۔ ذائقہ کے عادی ہو گئے تو بُو نہیں آئے گی۔ ‘‘
مجھے وہ رپورٹ یاد آئی جس میں بتایا گیا تھا کہ چائے کی پتی میں جان وروں کا خون ملایا جاتا ہے ، چنوں کے چھلکوں پر رنگ چڑھا کر بیچا جاتا ہے۔ معروف برانڈز کے خالی ڈبوں میں خود ساختہ چائے ڈال کر بیچی جاتی ہے۔ میں نے وال کلاک پر نظر ڈالی وہ وہیں رُکا ہوا تھا۔ قدرے جلد بازی سے لباس تبدیل کیا اور محلے کی بدبو دار گلیوں سے نکل کر ویگن اسٹاپ پر آ گیا۔ وین کی سامنے والی نشست خالی تھی۔ میں ایک طرف ہٹ کر کھڑا ہو گیا۔ گاڑی کے ہیلپر نے مجھ سے پوچھا 
’’کیا نہیں جانا؟ ‘‘
جانا تو  ہے لیکن خواتین کے لیے مخصوص نشست پر کیسے بیٹھوں ؟ 
۔ ۔ ۔ میں نے کہا تو  گاڑی میں موجود سبھی لوگ میری جانب دیکھ کر  مسکرا دیے۔ ایک ادھیڑ عمر شخص اپنی نشست سے اُتر کر نیچے آ گیا۔ اس کے ساتھ ایک جواں عمر شخص بھی تھا۔ دونوں نے فرنٹ سیٹ سنبھال لی۔ میں ان کی خالی کر دہ نشستوں میں سے ایک پر بیٹھ گیا۔ اگر ہیلپر کو انسان سمجھ کر دیکھا جائے تو نشستیں مکمل ہو چکی تھیں۔ ۔ ۔ مگر نہیں ، ڈرائیور کے حساب سے ایک سیٹ خالی تھی۔ قریباً آدھ گھنٹہ انتظار کے بعد دو مسافر آ گئے۔ ۔ ۔ اب ایک کو تو سیٹ پر بٹھا لیا گیا اور دوسرا وین کے اندر کھڑا ہو گیا۔ اس کھڑے ہوئے شخص کی وجہ سے پورا سفر عذاب بن کر اُترا۔ 
 ’’کیوں بھائی! دو روپے زیادہ کیوں کاٹ لیے ، ڈیزل کی قیمت کم ہوئی ہے بڑھی تو نہیں ، ، 
ایک مسافر کی آواز آئی۔ ہیلپر نے اسے جواب دینا ضروری نہ سمجھتے ہوئے ڈرائیور سے کہا ایک طرف گاڑی روکے اور احتجاج کر نے والے کو اُتار دے۔ سب خاموش تھے۔ ۔ ۔ کسی نے بھی احتجاج کر نے والے کا ساتھ نہ دیا اور دو روپے زائد کے حساب سے سب نے خود بھی کر ایہ ادا کیا۔ کفر ٹوٹا خدا خدا کر کے۔ ۔ ۔ دفتر پہنچا تو ب اور دی گارڈ ’’ری پیٹرگن‘‘ اپنی دونوں ٹانگوں کے درمیان دابے اونگھ بل کہ، سو رہا تھا۔ اسے سلام کیا تو  وہ گھبرا کر کھڑا ہو گیا۔ میں نے پوچھا کیوں بھائی رات کو سوئے نہیں ؟ ۔ ۔ ۔ کہنے لگا
’’کیا بتائے صیب، یہ کومپنی والا ہے ناں ! دو دو ڈپٹیاں لیتا ہے۔ رات کو ایک سیٹھ کے بنگلے پر جاتا ہے۔ سیٹھ لوگ کم بخت پارٹیوں پرجاتا ہے اور دیر سے آتا ہے ، اس لیے اَم سو نہیں سکتا ہے۔ صبح امارا ’’ری لیور‘‘ آتا ہے تو اَم یہاں آ جاتا ہے۔ ‘‘
 میں نے اس سے پوچھا کیا تمھاری کمپنی تم سے زبردستی دو  ڈیوٹیاں کراتی ہے ؟ کہنے لگا
’’نہیں صیب، پہلے اَم کاری لیور نہیں آتا تھا، تو زبردستی کرتا تھا۔ ۔ ۔ اب اَم خود ڈبل ڈپٹی کرتا ہے۔ صیب تم تو جانتا ہے مہنگائی کتنا ہو گیا ہے ، گذر مشکل ہے۔ ‘‘ 
	میں اس کی باتیں سن کر سوچنے لگا یہ محافظ ہے جو خود مسائل کا شکار ہے۔ دفتر کا چپڑاسی ابھی نہیں آیا تھا۔ میں نے ’’ڈسٹر‘‘ اُٹھایا۔ ۔ ۔ اپنی میز اور کر سی صاف کر کے بیٹھ گیا۔ مجھ سے آدھ گھنٹہ بعدچپڑاسی آیا تو  میرے پوچھنے پر ہمیشہ کی طرح کہنے لگا
’’ سر! آپ کے علاوہ سبھی لوگ تو دس کے بعد آتے ہیں اور بڑے صاحب۔ ۔ ۔ وہ تو بارہ بجے سے پہلے کبھی آئے نہیں۔ پھر میں اتنی صبح آ کر کیا کروں۔ ‘‘
لیکن تمھیں تو صبح ساڑھے آٹھ بجے یہاں ہونا چاہیے۔ بجائے میری بات کا جواب دینے کے چپڑاسی
’’بڑے صاحب کا کمرہ صاف کرتا ہوں ‘‘ کہہ کر چلا گیا۔ 
	’’نہیں صدیقی صاحب نہیں ، آج یہ کام نہیں ہو سکے گا، صاحب دن بھر دفتر میں موجود ہوتے ہیں۔ پھر کسی روز میں خود فون کر کے آپ کو بتاؤں گا۔ ‘‘
میرا ’’کولیگ ‘‘اپنے سیلولر  پر کسی کو یہ کہتے ہوئے دفتر میں داخل ہوتا ہے۔ ہماری نظریں چار ہوتی ہیں ، رسماً ایک دوسرے کا حال پوچھتے ہیں۔ میرا کولیگ کہتا ہے 
 ’’ماڈل ٹاؤن جب سے شفٹ ہوئے ہیں ، دفتر کا راستہ لمبا ہو گیا ہے ، اب اپنی گاڑی سے بھی دیر ہو جاتی ہے۔ ‘‘ 
میں اسے کوئی جواب نہیں دیتا ہوں۔ میں سوچتا ہوں میرا کولیگ مجھ سے جونئر ہے اور اس کی تنخواہ بھی مجھ سے کم ہے۔ میں ابھی تک اپنے اباکے مکان میں رہتا ہوں ، مگر اس نے ماڈل ٹاؤن میں کوٹھی بنا لی ہے ، نئی گاڑی خرید لی ہے ، اس کے بچے مہنگے پبلک اسکولوں میں پڑھتے ہیں۔ خیر! کام شروع ہوتا ہے۔ لوگ آتے جاتے ہیں۔ کچھ لوگوں کو میں ہینڈل کرتا ہوں اور کچھ کو میرا کولیگ۔ ۔ ۔ مگر بیچ بیچ میں وہ آنے والوں کو لے کر باہر نکل جاتا ہے ، ان سے ’’معاملہ‘‘ کرتا اور واپس آ جاتا ہے۔ 
 اب چھٹی کا وقت ہو گیا ہے۔ میرا ساتھی دن بھرکی ’’کمائی ‘‘کو اپنے بٹوہ میں سلیقہ سے رکھتا ہے اور مجھے مخاطب کر کے کہتا ہے 
 ’’کیا کریں جناب! اتنی مہنگائی میں تنخواہ پر گزران مشکل ہے۔ ویسے لوگ خوشی سے دیتے ہیں ، میں زبردستی تو نہیں لیتا۔ ‘‘
	وہ اپنے کوٹ کی جیب سے نئے ماڈل گاڑی کی چابیاں نکال کر اس انداز سے اُچھالتا ہے جیسے کوئی باؤلر گیند پھینکے سے پہلے اُچھالتا ہے۔ ہم دونوں ایک دوسرے سے رسمی جملے کہہ کر جدا ہو جاتے ہیں۔ 
میں سوچتا ہوں لوگ اپنے حق کے لیے خوشی سے رشوت کیوں دیتے ہیں ؟ ۔ ۔ ۔ میں سوچتا ہوں کیا میں اس مہنگائی سے متاثر نہیں ہوا ہوں ؟ 
	میں اسٹاپ پر کھڑا بس کا انتظار کرتا ہوں۔ کچھ لوگ اور بھی اپنے ٹھکانوں کو لوٹنے کے لیے گاڑیوں کے منتظر ہیں۔ کچھ ماڈرن ٹائپ نوجوان اپنے مخصوص انداز سے سٹاپ پر کھڑی ’’ورکنگ وومنز‘‘ کو تاک رہے ہیں۔ یوں معلوم ہوتا ہے جیسے کوئی قصاب بکر ے کو دیکھ رہا ہو۔ میں سوچتا ہوں کیا ان لوگوں کا کسی عورت سے کوئی رشتہ نہیں۔ اِن کی طرف مائیں ، بہنیں ، بیویاں اور بیٹیاں نہیں ہوتیں۔ اتنے میں ہمارے پاس سے ایک شخص ’’مالش‘‘ کی صدا بلند کر تے اور ہاتھ میں پکڑی ہوئی تیل کی نصف درجن بوتلوں کو کھڑکاتے ہوئے گزرتا ہے۔ میری آنکھوں کے سامنے ریلوے اسٹیشنوں اور بڑے بس اڈوں کا منظر آ جاتا ہے ، جہاں اس طرح کے مالشی گھر سے بھاگ کر آنے والے کم سنوں کے شکار میں رہتے ہیں۔ ان پر ذہنی اور جسمانی تشدد کر تے ہیں ، انہیں نشے کی لت ڈالتے ہیں ، جوئے اور ڈکیتی کے طریقے سکھاتے ہیں ، معاشرے میں بدامنی پھیلانے کے گُر سکھاتے ہیں۔ اگلے ہی لمحے میرے دماغ میں سرسراہٹ ہوتی ہے اور مجھے خیال آتا ہے یہ کم سن بچے اپنے گھروں سے بھاگتے ہی کیوں ہیں ؟ پھر میری آنکھوں میں کئی ایسے منظر گھوم جاتے ہیں ، جہاں والدین اپنے بچوں کا استحصال کر تے ہیں۔ کبھی ’’ایموشنل بلیک میلنگ ‘‘کے ذریعے۔ ۔ ۔ تو  کبھی کسی اور طرح سے۔ ۔ ۔ 
سوچیں بڑھتی جاتی ہیں ، باتیں کھُلتی جاتی ہیں۔ گاڑی میں بیٹھتا ہوں تو آدمی میں آدمی گڑے ہوئے ہوں جیسے۔ ۔ ۔ سانس لینا بھی محال ہو جاتا ہے۔ اپنے اُوپر چھتری کی مانند پھیلے ہوئے بے سلیقہ لوگوں کو دیکھتا ہوں تو  دماغ کی رگیں چٹخ جاتی ہیں۔ سفرکی مشقت جھیلنے کے بعد جب اسٹاپ پر اُترتا ہوں تو میرے پڑوسی منشی صاحب بھی موجود ہیں۔ انھوں نے ہاتھوں میں موسمی پھلوں اور سبزیوں کے تھیلے پکڑ رکھے ہیں۔ کہتے ہیں 
 ’’ کیا بتاؤں جناب ! ہر چیز کو آگ لگی ہوئی ہے۔ قیمتوں کی بڑھوتری تو ایک طرف معیار کا بھی ناس مارا گیا۔ ‘‘
میں نے سوچا کارخانے دار اپنی بنائی گئی مصنوعات سے زیادہ نفع کمانے کے لیے کوالٹی کنٹرول پر توجہ نہیں دیتے۔ پھر ہر چیز کی نقل اس کے ساتھ ہی تیار ہو کر مارکیٹ میں آ جاتی ہے۔ دودھ والا اگر پانی ملاتا ہے تو چائے والا خون اور پٹرول والا مٹی کا تیل ، قصاب گوشت میں پانی ڈال کر اس کا وزن بڑھاتا ہے ، سبزی والا باسی سبزیاں فروخت کرتا ہے ، محافظ سو جاتا ہے اور چپڑاسی وقت پر آنا توہین سمجھتا ہے ، صاحب لوگوں کے آنے کا کوئی وقت نہیں ، ملازمین کا رشوت لینا ضروری ہے۔ ۔ ۔ ورنہ مہنگائی کا مقابلہ نہیں ہو سکتا ، گاڑیوں میں انسانوں پر سوار ہو کر سفر کرنا ناگزیر ہے ورنہ زندگی کی گاڑی بھی چھوٹ سکتی ہے۔ 
     سوچوں کے انبار تلے دبا ہوا گھرکی دہلیز پار کرتا ہوں تو خاتون خانہ کے کھانسنے کی آواز استقبال کرتی ہے۔ میں پوچھتا ہوں ، نیک بخت کیا دوا نہیں لی ؟ جواب ملتا ہے 
’’ کئی دوائیں بدل چکی ہوں ، مگر کھانسی ہے کہ جا کے ہی نہیں دیتی۔ ‘‘
مجھے ایک اخباری رپورٹ یاد آ جاتی ہے جس میں بتایا گیا تھا کہ اس وقت تقریباً ہر دوا کی دو نمبر موجود ہے۔ بل کہ کئی دو نمبر ادویات ساز باقاعدہ حکومت کے پاس رجسٹرڈ ہیں اور اپنے ٹریڈ مارک سے دوائیں فروخت کر رہے ہیں۔ مجھے وہ رپورٹ یاد آئی جس میں اس مسیحا نما قصاب کے چہرے سے پردہ کھینچا گیا تھا جو دوا ساز کمپنی سے معاہدے کی بنا پر ہر مریض کو اس کا سیرپ بیچتا تھا۔ سردرد، بدن درد، کھانسی، جوڑوں کا درد پیٹ کا درد، دل کا درد، غرض تکلیف کوئی بھی ہو، مریض کسی بھی عمر کا ہو اسے یہ سیرپ پینا پڑتا تھا۔ میں نے سوچا کیا وہ ادارے سوئے ہوئے ہیں جنھیں ’’کوالٹی کنٹرول‘‘ کے شعبوں کی نگرانی پر مامور کیا گیا ہے۔ سیکرٹری ہیلتھ اور وزیر صحت کیا کر رہے ہیں۔ ۔ ۔ ؟ پھر مجھے خیال آیا ان لوگوں نے ملک کے سیون اسٹار ہوٹلوں میں نہایت اہم موضوعات پر ہونے والے سیمینارز اور سمپوزیمز میں شریک ہونا ہے۔ اور پھر میری آنکھوں کے سامنے ، تعلیم، مواصلات، اطلاعات، خزانہ، دفاع ، خارجہ، داخلہ کے سیکرٹریوں اور وزرا کی مصروفیات کا منظر آیا۔ ہر ہر شخص درجنوں کیمرہ مینوں اور سیکڑوں صحافیوں کو اپنے سامنے بٹھا کر مستقبل کی حکمت عملیوں اور اپنی کام یابیوں کے بارے میں بتا رہا تھا۔ میں نے دیکھا کہ پرمٹوں ، پلاٹوں اور ٹھیکوں کے حصول کے لیے سیاست دانوں کی لمبی قطار تھی۔ ہر کوئی اپنے نفع کے لیے قومی سرمایے پر قبضہ کر رہا تھا، اسے لٹا رہا تھا۔ تب اچانک مجھے وزیر اعظم اور صدر کے ہنگامی دورے نظر آئے۔ ان کے وفود میں شامل وزرا، سیکرٹری، دیگر اہل کار اور ان کی بیگمات شان و شوکت سے غیر ملکی دورے کر تے ہیں۔ ۔ ۔ اربوں روپے اُڑاتے ہیں ، لوٹ آتے ہیں اور اپنے دوروں کی کام یابی کی نوید سناتے ہیں۔ خوش حالی کا راگ الاپتے ہیں۔ انھیں غربت اور بے کاری کے ہاتھوں جھلس جانے والے چہرے نہیں دکھائی دیتے۔ ۔ ۔ محرومیوں اور بے بسیوں میں گھرے ہوئے لوگ ان کی آنکھوں سے اوجھل رہتے ہیں۔ 
	خاتون خانہ میرے سامنے کھانا چن رہی ہیں۔ میں ایک نوالہ توڑ کر منہ کے قریب لے جاتا ہوں۔ روٹی سے وہی صبح والی بُو آ رہی ہے۔ ۔ ۔ مگر میں بھوکا ہوں۔ پیٹ کا دوزخ بھرنے کے لیے مجھے یہی کھانا ہے۔ میں عشا کی نماز پڑھنے کے لیے اپنے گھر سے پاؤں باہر نکالتا ہوں تو گلی میں پھیلی ہوئی بدبو میرے نفس کو قتل کرتی ہے ، مگر مجھے نماز بہ ہر حال پڑھنی ہے۔ مسجد کے اندر داخل ہوتے ہوئے اپنے جوتوں کو ہاتھ میں اٹھائے چل رہا ہوں کہ مسجد سے جوتے چوری ہو جاتے ہیں۔ امام صاحب سورۂ یوسف کی کچھ آیات تلاوت کر تے ہیں۔ نماز مکمل ہوتی ہے۔ ۔ ۔ میرا سر جھکا ہوا ہے اور میرے دماغ پروہ واقعات روشن ہو رہے ہیں ، جو گزشتہ چند برسوں میں رونما ہوتے آ رہے ہیں۔ ۔ ۔ معبدوں میں نماز پڑھتے ہوئے بھائیوں نے بھائیوں کو بارود سے اُڑا دیا۔ میں یوسف علیہ السلام کے بھائیوں کو یاد کرتا ہوں۔ ۔ ۔ تاریخ کے کئی ورق چند ساعتوں میں میرے سامنے کھل جاتے ہیں۔ میں گھر آتا ہوں ، خاتون خانہ سے کچھ امور پر گفتگو ہوتی ہے اور آنے والے کل کے استقبال کے لیے تازہ دم ہونا چاہتا ہوں۔ ۔ ۔ اور سو جاتا ہوں۔ 
میرا آئندہ دن بھی اسی طرح گزرے گا جیسا کہ آج گزرا ہے۔ ‘‘
	’’میں ‘‘کی کہانی ختم ہوئی تو میں نے سوچا ’’میں ‘‘کی یہ باتیں سن کر معلوم ہوتا ہے جیسے ملک کے اندر بہ جز اس کے کوئی اور نیک نہیں ، کوئی اور صاحب کر دار ، دیانت دار ، امین اور وفاپرست نہیں۔ میرے ذہن میں اپنا ایک شعر تازہ ہوا		؂
سب کے ہاتھوں میں آئنہ دے دو
سچ تو  مشکل ہے کون بولے گا
میں نے ’’میں ‘‘کے ہاتھ میں آئینہ دیا۔ ۔ ۔ آئینے کی کر چیاں چاروں اور بکھری پڑی تھیں۔ 

٭٭٭
 
دقیانوسیت

’’ہر بات کی حد ہوتی ہے۔ ۔ ۔ جب تم یوں ہی بے دھیانی کو اوڑھنا بچھونا بنا لو گے تو  جینا مشکل ہو جائے گا‘‘
اماّں بی نے اوندھے منہ پڑے علی احسن سے کہا تو  وہ تکیہ ایک طرف اُچھالتے ہوئے ایک دم سے اُٹھا اور انھیں اپنی بانہوں کے حصار میں لے لیا۔ ۔ ۔ 
’’چل ہٹ! ۔ ۔ ۔ اب خوشامدیں نہ کر ‘‘
’’تو کیا اپنی پیاری سی امّاں بی سے محبت کرنا خوشامد ہے ؟ ‘‘
’’اچھا اچھا۔ ۔ ۔ چھوڑ مجھے اور جلدی سے تیار ہو کر نیچے آ جا۔ ۔ ۔ سب تمھارا انتظار کر رہے ہیں ‘‘
’’جی آپ چلیے۔ ۔ ۔ میں آیا‘‘
سلطانہ ڈھیلے قدموں واپس لوٹ آئیں۔ ۔ ۔ ماربل کی چکنی سیڑھیوں سے اُترنا ان کے لیے پل صراط طے کر نے سے کسی بھی طرح کم نہیں تھا۔ ۔ ۔ سیڑھیوں کے ساتھ لگے ہوئے آہنی پائپ کو اگر پکڑ نہ رکھیں تو ایک سیڑھی نہ اُتر سکیں۔ ۔ ۔ ہال میں لگے فانوس کی سارے بلب روشن تھے۔ ۔ ۔ ٹی وی بھی چل رہا تھا۔ ۔ ۔ باہر لان میں فوارہ بھی اپنے جوبن پرتھا۔ ۔ ۔ لان کے چاروں اور گنبد نما بلبوں نے رات کو دن میں بدل رکھا تھا۔ ۔ ۔ مین گیٹ کے اُوپر دونوں جانب تیز روشنی والے بلب ضیا تابی کا عنواں بنے ہوئے تھے۔ جب وہ حمنہ کے کمرے کے قریب سے گزر رہی تھیں تو وہ اپنے کمپیوٹر پر کسی سے وائس چیٹنگ میں مصروف تھی۔ ۔ ۔ ایئر کنڈیشن آن تھا مگر۔ ۔ ۔ اس کے کمرے کا دروازہ کھلا تھا۔ 
’’کس قدر لا پروا اور بے دھیان ہے یہ مخلوق؟ ‘‘
سلطانہ نے خود کلامی کی۔ ۔ ۔ ٹہلتے ٹہلتے وہ صحن تک آ گئی جہاں ریٹائرڈ پروفیسر عبد الصمد اپنے چاروں بیٹوں اور بہو کے ساتھ پہلے سے بیٹھے تھے۔ 
’’میاں صاحب زادے نہیں آئے آپ کے ساتھ؟ ‘‘
پروفیسر صاحب نے سلطانہ سے پوچھا۔ ۔ ۔ مگر وہ خاموش رہیں 
’’اَجی ہم سے کیا بھول ہو گئی جو جناب کا مزاج نا آشنا ہو گیا ہے ؟ ‘‘
عبدالصمد نے اپنی بیگم کو کچھ مضطرب دیکھ کر کہا
’’پروفیسر صاحب! یہ سب کیا دھرا آپ کا ہے۔ ۔ ۔ اچھی گزر رہی تھی گاؤں میں ، مگر آپ کی ضد ہمیں یہاں لے آئی۔ ۔ ۔ نہ کوئی ادب آداب ہی سیکھ پایا ہے اور نہ ہی نفع نقصان کی پروا ہے کسی کو۔ ۔ ۔ میں پوچھتی ہوں ہزاروں یونٹ بجلی ضائع کر نے کی کیا ضرورت ہے ؟ بہو رانی آپ کے پہلو میں بیٹھی ہیں ، مگر ان کے کمرے کا ایئر کنڈیشن اور بلب بے کار چل رہے ہیں۔ ۔ ۔ حمنہ اور علی احسن کے کمروں کا بھی یہی عالم ہے۔ کوریڈور اور ہال سمیت صحن کی حالت بھی مختلف نہیں ہے۔ ۔ ۔ ‘‘
’’بجا ارشاد فرمایا آپ نے۔ ۔ ۔ ہم نے اس بٹا لین کا انچارج آپ کو بنا دیا تھا، تو یہ آپ کی ذمہ داری تھی کہ سپاہیوں سے مناسب کام لیتیں۔ ‘‘
شرارت کے سے انداز میں پروفیسر صاحب گویا ہوئے تو سلطانہ بیگم کو جیسے موقع مل گیا ہو۔ ۔ ۔ وار کر نے کے لیے 
’’خوب سمجھتی ہوں آپ کو۔ ۔ ۔ آپ کی بٹا لین کو۔ ۔ ۔ کہے دیتی ہوں اب مجھ سے مزید یہ چونچلے برداشت نہیں ہوں گے۔ ۔ ۔ سیدھی طرح سے اپنی عادتیں بدل ڈالیے ، ورنہ میں بھائی صاحب کے ہاں گاؤں لوٹ جاؤں گی۔ ‘‘
فیصلہ کن انداز سے جب انھوں نے کہا تو  سب نے حیرت سے ان کی طرف دیکھا۔ بہو نے گھبراتے ہوئے کہا
’’امّاں بی! بس آخری موقع دے دیں۔ ۔ ۔ ان شاء اللہ کل سے ویسا ہی ہو گا جیسا آپ چاہتی ہیں۔ ‘‘
تب تک سلطانہ اپنے کمرے کی جانب بڑھ چکی تھیں۔ 
’’ٹھیک کہتی ہیں سلطانہ بیگم۔ ۔ ۔ بجلی کم خرچ ہو گی تو بل بھی کم آئے گا اور بچنے والی رقم کہیں اور کام آئے گی‘‘
پروفیسر صاحب نے سمجھانے کے انداز میں کہا
’’مگر اباّ جی صرف ہمارے گھر میں یوں نہیں ہوتا۔ ۔ ۔ پورے بلاک پر نظر ڈالیے ہر بنگلے کی یہی کیفیت ہے۔ ۔ ۔ آپ بھی امّاں بھی کا ساتھ دے رہے ہیں ‘‘
علی محسن نے قدرے ترشی سے کہا تو  عبد الصمد نے فکر مند نظروں سے اُسے گھورا
’’اباّجی بل ہم دیتے ہیں۔ ۔ ۔ کماتے ہم ہیں ، پھر آپ لوگوں کو فکر مند ہونے کی کیا ضرورت ہے ؟ ‘‘
پروفیسر صاحب بیٹے کی با تو ں سے دُکھی ہو گئے تھے۔ ۔ ۔ مگر انھوں نے خود پر ضبط کر تے ہوئے کہا
’’بیٹا! ہم دونوں تو تمھارے ہی بھلے کا سوچتے ہیں۔ ۔ ۔ ایک بات یاد رکھو! بھرا کنواں بھی سوکھ جایا کرتا ہے ‘‘
’’ہوتا ہو گا اس طرح بھی۔ ۔ ۔ مگر یہ سب اس دور کی ضرورتیں ہیں ‘‘
پروفیسر عبدالصمد کے دماغ میں ایک حقیقی کر دار روشن ہو رہا تھا۔ ۔ ۔ وہ اپنے بیٹوں کو بھی چونتیس سال اُدھر لے گئے۔ 
	’’جھریوں بھرے چہرے پر دو آنکھیں یوں وا ہوتی تھیں۔ ۔ ۔ جیسے تاریک غاروں کے دہانے سے بھاری سلوں کو سرکایا جا رہا ہو۔ زبان میں لکنت بھی آخری حد کو چھو چکی تھی۔ بل کہ یوں تھا کہ منہ میں دانت نہ ہونے کے باعث بات ہی ٹھیک طرح سے نہیں ہو سکتی تھی۔ اپنی طرف سے پوری قوت کے ساتھ بات کہی جاتی۔ ۔ ۔ مگر سننے والے کو ہمہ تن گوش سے بھی کچھ زیادہ ہونا پڑتا۔ اُدھر بھی یہی عالم تھا، اِدھر سے بات ہوتی تو ایک کان کے ساتھ ہتھیلی کی دیوار بنا کر دوسرے کان پر ہاتھ رکھا جاتا۔ اچھا خاصا چیخنے کی مشق کر نے کے بعد وہاں بات پہنچتی۔ اُوپر سے کمر کا خم بھی اپنی جگہ موجود تھا۔ 
	یہ تھیں مائی فضیلت! شادی کے بعد ایک بیٹے کی ماں بنیں اور جوانی میں بیوگی کی چادر اوڑھ کر بیٹھ رہیں ، اللہ جانے کیوں۔ ۔ ۔ ؟ اسّی کی دہائی میں ہم ان کے پڑوسی بنے۔ بیٹا ان کا کسی عرب ملک میں بڑھئی کا کام کرتا تھا اور اِدھر بہو اور دو پوتیوں کی موجودگی کے باوجود بھی اپنا کھاتی پکاتیں۔ اسّی کے سن سے بہ ہر حال متجاوز تھیں۔ ہماری طرف آ جایا کرتیں اور پھر اپنی عمر بھر کے تجربات سے آگاہ کرتیں۔ ان کی باتیں اب جو یاد آتی ہیں تو  احساس ہوتا ہے کس قدر حقیقت پسند خاتون تھیں۔ خواجہ رحمت اللہ جری کا یہ شعر   ؂
جب بڑھاپے کا موڑ ملتا ہے 
تجربوں کا نچوڑ ملتا ہے 
ان پر صادق آتا تھا۔ نصف کنال کے قریب صحن میں مائی فضیلت موسموں کی سبزیاں اُگایا کرتی تھیں۔ بازاری آٹے سے انھیں سخت اذیت ہوتی تھی۔ اپنے ہاتھوں سے گھر میں پڑی چکی میں گندم کے دانے ڈالتی جاتیں اور جتنے وظائف یاد ہوتے ، ساتھ ساتھ پڑھتی رہتیں۔ مائی کا کہنا تھا جو عورتیں رزق کو بے وضو ہاتھ لگاتی ہیں یا پھر پکاتے وقت اللہ کو یاد نہیں رکھتیں ان کے ہاتھوں میں لذت نہیں آتی۔ قدرت ان کے ہاتھوں سے ذائقہ چھین لیتی ہے۔ وہ ہر لقمہ منہ میں ڈالنے سے پہلے ’’بسم اللہ‘‘ اور جب حلق سے اُتر جاتا تو  ’’الحمد للہ‘‘ کہتیں۔ وہ بازاری کھانوں اور سبزیوں پر اُٹھنے والے خرچ کو اسراف کا عنوان دیتیں۔ مائی کا خیال تھا جو لوگ صبح، دوپہر، شام کپڑے بدلتے ہیں اور خوامخواہ کی تیاریوں میں جُتے رہتے ہیں وہ حق داروں کا حق مارتے ہیں ، ضرورت مندوں پر ظلم کر تے ہیں۔ مائی کی کل ماہانہ آمدن ڈیڑھ سو روپے تھی، جو انھیں مکان کے کر ایہ کی مد میں آتی تھی۔ اسی رقم سے وہ اپنا چولھا گرم رکھتیں اور کچھ پس انداز بھی کر لیتیں۔ پائی پائی جوڑ کر مائی نے مکہ اور مدینہ بھی دیکھے۔ ۔ ۔ حج کی سعادت بھی حاصل کی۔ 
	 کمرے میں انھوں نے چا لیس واٹ کا بلب اس انداز سے لگوایا تھا کہ وہ بہ یک وقت کمرے اور صحن کو روشن رکھتا۔ مغرب سے عشا اور پھر صبح کی نماز کے لیے بلب روشن ہوتا۔ ۔ ۔ باقی وقت میں بجھا رہتا۔ گرمیوں میں مائی کے کمرے کا پنکھا صرف دوپہر کو چلتا اور اگر رات میں گرمی بہت زیادہ ہوتی تو چلا دی اور نہ چارپائی صحن میں ڈال کر اس پر ’’مچھر دانی‘‘ تان لی جاتی اور چادر کو پانی سے بھگو کر اپنے پاس رکھ لیا جاتا۔ جب جب گرمی محسوس ہوتی ، چادر سے ٹھنڈ حاصل کی جاتی۔ وہ پانی کے زیادہ استعمال پربھی ناراض ہوتی تھیں۔ ایک بار ہمارے گھرکی ٹینکی سے پانی چھلکتا دیکھا تو  کہا
 ’’نعمتیں جب اس طرح ضائع کی جائیں تو اللہ ناراض ہو کر ان میں کمی کر دیتا ہے۔ یاد کر و ان لوگوں کو جو اُن جوہڑوں سے پانی پیتے ہیں جہاں سے جانور بھی پیتے ہیں۔ ‘‘
مائی کا خیال تھا جن عورتوں کے تین سے زائد جوڑی کپڑے ہیں ان سے قیامت کے دن پوچھ ہو گی کہ، انھوں نے فضول خرچی کیوں کی۔ سُرخی پاؤڈر کی لیپا پوتی کر نے والیاں تو  انھیں ایک آنکھ نہیں بھاتی تھیں۔ مائی کہتیں 
’’یہ اشیا ان عورتوں کے لیے جہنم کی آگ ثابت ہوں گی۔ ‘‘
ایک بار ہمارے گھر میں ان سے کسی نے پوچھ لیا مائی دوسری شادی کیوں نہیں کی؟ تو ان کا جواب تھا۔ 
 ’’کم زور تھی، سوچتی تھی اگر کسی دوسرے شخص سے بول پڑھا لیے تو کہیں یتیم کی حق تلفی نہ ہو جائے۔ ۔ ۔ یتیم کا مال دوسرا استعمال کر لیتا تو  روز محشر میری گردن پر گرفت ہوتی۔ ‘‘
کبھی کوئی اپنی تنگ دستی کا تذکر ہ کرتا تو  وہ کہتیں۔ 
’’انسان پر اللہ نے بہت سی نعمتیں اتاری ہیں ، اگر وہ ان کا استعمال دیانت داری اور سلیقہ سے کر ے تو  کبھی تنگ دستی کا شکار نہیں ہو گا۔ جب اعتدال کی حدوں کو چھوڑ دیا جاتا ہے ، لالچ اور بے ضمیری کو فروغ دیا جاتا ہے ، حق تلفی کو عادت بنا لیا جاتا ہے تو پھر انسان کی بھوک کبھی نہیں مٹتی۔ وہ پیسوں سے نکل کر روپوں ، سیکڑوں اور ہزاروں کے پیچھے لگ جاتا ہے۔ اس کی زندگی ختم ہو جاتی ہے ، مگر ہوس کی آندھیاں نہیں رُکتیں۔ جوں جوں وقت گزرتا ہے یہ تیز جھکڑوں میں اُڑتا رہتا ہے۔ ‘‘ 
ایک بار کسی نے کہہ دیا مائی مہنگائی بہت ہو گئی ہے ، خاوند پورے نو سو روپے مہینے کے کماتا ہے ، مگر مہینے کے اخیر میں ادھار اُٹھانا پڑتا ہے۔ مائی کا جواب تھا
’’مہنگائی نہیں ہوئی ہم نے اپنی ضروریات بڑھا لی ہیں۔ اپنی چادر سے پاؤں نکال لیے ہیں۔ میں اپنے بچپن میں ایک انڈے کے بدلے پاؤ دودھ لاتی تھی۔ اب بھی انڈا فروخت کر کے اسی رقم سے پاؤ دودھ منگوا لیتی ہوں۔ ‘‘
کیا وضع دار اور حقیقت پسند خاتون تھیں وہ۔ ۔ ۔ پودینہ کی چٹنی سے کھا کر اللہ کا شکر ادا کرتیں ، پنج گانہ  نماز کے علاوہ نفلی عبادت میں بھی مصروف رہتیں۔ میں نے انھیں کبھی ناشکری کر تے ہوئے یا مایوس بیٹھے نہیں دیکھا۔ اس قدر مطمئن، اس قدر شاکر و صابر شاید کوئی اور ہو۔ پھر ایک صبح بہو نے دیکھا مائی جائے نماز پر بے سدھ پڑی ہیں۔ 
	وقت گزر گیا، بیٹا اور بہو بھی دنیا چھوڑ گئے۔ ۔ ۔ اور اب پوتیاں ولایت میں اپنے خاوندوں کے ساتھ رہ رہی ہیں۔ ۔ ۔ ان سب با تو ں کو بھول کر جوان کی دادی کہا کرتی تھیں۔ مجھے ایک جاننے والے نے بتایا تھا کہ وہ وہاں کسی فیکٹری میں کام کرتی ہیں۔ گھر کا خرچ مشکل سے چلتا ہے ، اس لیے انھیں اپنی ضروریات کے لیے کام کرنا پڑتا ہے۔ بچوں کے اخراجات کے لیے انھیں خاوند کا ہاتھ بٹانا پڑتا ہے۔ ‘‘
پروفیسر صاحب مائی فضیلت کی کہانی سنا کر خاموش ہوئے ہی تھے کہ علی محسن کہنے لگا
’’تو امّاں بی مائی فضیلت سے کون سی کم ہیں۔ ۔ ۔ ہر معاملہ میں کنجوسی اور دقیانوسیت دکھاتی ہیں۔ ۔ ۔ اور ابّاجی اسّی کے سن کو گزرے ہوئے چھبیس برس ہو گئے ہیں ، اب بھی اگر ہم اسی طرح سوچنے لگے تو ہم دنیا کے پاؤں کی دھُول بن جائیں گے۔ ۔ ۔ ہر زمانے کی اپنی ضروریات اور تقاضے ہوتے ہیں۔ ۔ ۔ مائی فضیلت بغیر پنکھے کے سو سکتی ہوں گی، مگر اب ایئر کنڈیشنر کے بنا سونا ممکن نہیں رہا ہے۔ ۔ ۔ اب چا لیس واٹ کے بلبوں سے گھر نہیں روشن ہوتے بل کہ روشنی کے لیے کئی ہزار واٹ کے بلب درکار ہوتے ہیں۔ ‘‘
علی محسن نے اپنی تقریر ختم کی تو پروفیسر صاحب بغیر کچھ کہے اُٹھ کھڑے ہوئے۔ 
حمنہ ہاتھ میں کاغذ لیے دوڑتی ا رہی تھی۔ ۔ ۔ عبد الصمد جانے لگے تو پوتی نے کہا
’’داداجی! یہ نئی رپورٹ بی بی سی پر شائع ہوئی ہے۔ میں پرنٹ آؤٹ کر کے لے آئی ہوں۔ ۔ ۔ دیکھیے تو‘‘
’’بٹیا اپنے باپ کو دو۔ ۔ ۔ میں صبح دیکھ لوں گا، اب تھک گیا ہوں ‘‘
’’مگر آپ بیٹھیے تو۔ ۔ ۔ بہت دل چسپ رپورٹ ہے ‘‘
کاغذ اپنے باپ کے ہاتھ میں تھماتے ہوئے حمنہ نے کہا
علی محسن نے کاغذ پر لکھی ہوئی رپورٹ پڑھنا شروع کی
	’’آسٹریلیاکے سب سے بڑے شہر سڈنی میں ہفتہ کی شام سات بج کر تیس منٹ پر مشہور اوپیرا ہاؤس پر بنے ٹاور بلاکس کی بتیاں بجھا دی گئیں۔ اس کے اطراف میں بنے گھروں میں بھی کم و بیش یہی صورت حال تھی۔ اس کے علاوہ ہاربر برج اور شہر کے تجارتی مرکز میں آسمان کو چھوتی ہوئی عمارتوں کی روشنیاں بھی گل کر دی گئیں۔ ۔ ۔ ’’ارتھ اور ‘‘نامی اس مہم کا مقصد عالمی حدت میں کمی کی کوشش کرنا ہے ، جس وقت سڈنی میں ’’بلیک آؤٹ ‘‘ کیا گیا اس وقت شہر کے بڑے ریستورانوں اور تجارتی مراکز میں موم بتیوں کی روشنی سے کام لیا گیا۔ ‘‘ 
علی محسن نے کاغذ واپس حمنہ کو دیا۔ ۔ ۔ پروفیسر صاحب بیٹے کے چہرے پر نظریں جمائے ہوئے تھے۔ ۔ ۔ بیٹا خاموش تھا۔ ۔ ۔ مسلسل خاموش۔ ۔ ۔ 
٭٭٭
 

سانسوں کی مالا



	گھر تو کیا اس نے خود کو ہی بھلا دیا تھا۔ سڑکوں کی فٹ پاتھوں پر رات سے دن کرنا اور بیزاری کا نمونہ بنے بے وجہ گلیاں چھانتے پھرنا اس کا معمول تھا۔ ۔ ۔ جاڑے کی سرد را تو ں میں کسی دکان کے چھجے تلے ، کانپتے ، ہانپتے بے طرح کے سود و زیاں کے شمار میں یوں مصروف رہتا، گویا اب اس کی تدبیریں کار گر ثابت ہوں گی۔ ۔ ۔ اور وہ زندگی کے دھارے میں پھر سے شامل ہو جائے گا۔ 
	تکیہ اصحاب بابا کے وسیع دالان میں صدیوں کی سزا کاٹتے بوڑھے پیپل کے کشادہ تنے سے پشت ٹکائے گھنٹہ بھر سے بیٹھے زمین کے سینے پر کڑھائی کر تے کر تے اس کی انگلیاں اچانک رک گئیں۔ ۔ ۔ لگا جیسے لمحوں کی سسکیاں سنتے سنتے وہ خود بھی رو دیا ہو۔ خود رو جھاڑیوں کی طرح بڑھی ہوئی اس کی ڈاڑھی اور مونچھوں کے بیچوں بیچ نسبتاً سیاہی مائل ہونٹ لرز نے لگے۔ ۔ ۔ اور پل جھپکے کی ساعت میں اکھیوں کی برسات نے خود رو جھاڑیوں کو سیراب کر دیا۔ ایک ہچکی سی بندھ گئی۔ ۔ ۔ یوں جیسے بادل گرج رہے ہوں۔ 
	بابا اصحاب کی گزوں کو محیط قبر کے سرہانے بنے ہوئے طاقچوں میں روشن دیے دھمال ڈالنے لگے ، پیپل کے پتوں نے ہوا سے تال ملاتے ہوئے ماحول کی نغمگی میں مزید اضافہ کر دیا تھا۔ تب کسی طرح سے فیقے کی نظر اس پر آن تھمی۔ وہ یک بارگی اس کی طرف لپکا۔ بے دھیانی پاؤں کی زنجیر ہوئی اور وہ ایک جھٹکے سے اوندھے منہ زمین پرا رہا۔ ۔ ۔ رانا ہوٹل سے لائے گئے آلوؤں کے سالن نے اصحاب بابا کے دالان کے حسن کو چار چاند لگا دیے۔ مٹی کی ساختہ کشکول نما پلیٹ، درد سینے میں اُتار کر تین ٹکڑوں میں بٹ گئی، صوفی کی تندوری روٹیوں پر خارش زدہ کتیا بے دھڑک جھپٹ پڑی تھی۔ ادھر فیقے کی کراہیں بھی موجی سائیں کے ہچکیوں میں مدغم ہو گئیں۔ 
	موجی سائیں لگ بھگ تین برس پہلے اس شہر میں وارد ہوا۔ ۔ ۔ اور اصحاب بابا کا تکیہ نشیں بنا۔ جس قدر اصحاب بابا کے مزار کا صحن وسیع ہے اس سے کہیں زیادہ بابا کا دل کشادہ ہے۔ جو کوئی بھی مہمان ہوا۔ ۔ ۔ آخر کو میزبانی سے شرف یاب رہا، گویا مالک ٹھہر گیا۔ اصحاب بابا کے حوالے سے دو طرح کی باتیں مشہور ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ اشاعت دین کے سلسلہ میں کوئی صحابی رسولؐ یہاں آ رُکے تھے یہ انھیں کا مزار ہے۔ ۔ ۔ جبکہ دوسری رائے یہ ہے کہ بابا موصوف کا نام صحاب یا اصحاب تھا۔ اصل حال سے کوئی واقف نہیں۔ 
٭٭٭
	مجیب اپنے والدین کی اکلوتی اولاد ہونے کی وجہ سے انتہائی حساس واقع ہوا تھا۔ اسے بچپن ہی سے دینی و دنیاوی علوم حاصل کر نے کا شوق رہا تھا۔ صبح کا آغاز نماز فجر سے کر تا، نماز کی ادائیگی کے بعد مسجد میں ہی تلاوت کلام پاک کرتا اور باقاعدگی کے ساتھ مولوی صاحب سے تفسیر پڑھتا۔ کالج بھی تسلسل سے جاتا اور کوئی ایک ’’پیریڈ‘‘ بھی ’’مس‘‘ نہ کر تا۔ اِدھر تفسیر قرآن مکمل کی تو اُدھرMSc بھی شان دار نمبروں سے پاس کر لی۔ اس کے والدین اسے دیکھ دیکھ کر جیتے۔ ۔ ۔ گویا ان کے سانسوں کی ڈوری مجیب کے ہاتھ ہو۔ 
	حسب معمول شہتوت کا گھنا درخت اپنی بانہیں پھیلائے اس کا منتظر تھا۔ اس کی میٹھی، مسحور کر دینے والی چھاؤں ہمیشہ اس کے اعصاب جکڑ لیتی۔ یہیں۔ ۔ ۔ اسی لذت آمیز سایے میں بیٹھ کر وہ علینہ کی راہ تکا کر تا۔ ۔ ۔ اور جب وہ کھیتوں کی پگ ڈنڈیوں پر ایک ادا سے سنبھل کر چلا کرتی تو مجیب اس سارے منظر کو اپنی آنکھوں میں قید کر لیتا۔ اور پھر اس خوش کن جادوئی کیفیت کا اسیر ہو جاتا۔ 
مگر۔ ۔ ۔ آج شہتوت کی میٹھی چھاؤں بھی اس کے اضطراب میں کمی نہ کر سکی تھی۔ کوئی پل تھا ، جو اسے چین لینے دیتا؟ لمحے صدیوں کو محیط، وہ بے کل اور بے قرار۔ ۔ ۔ علینہ دُور سے آتی دکھائی دی تو وہ رات بھرکے سوچے ہوئے محبت آمیز لفظوں کو دُہرانے لگا۔ جوں جوں وہ قریب آتی گئی ، مجیب کی حالت سنبھالے نہ سنبھلتی۔ پورے وجود پر گویا کپکپی طاری ہو گئی۔ شب بھرکے سوچے ہوئے تمام لفظ گونگے ہو گئے۔ کسی اَن دیکھی طاقت نے اسے خوف زدہ کر دیا تھا۔ اتنا کہ کھڑا رہنا اس کے لیے مشکل ہو گیا۔ اس قدر کم زور تو وہ کبھی نہیں تھا۔ ساری قوتیں جمع کر کے اس نے علینہ کو روک ہی لیا۔ 
’’علینہ۔ ۔ ۔ اپنا قُرب دے دو، ورنہ میں مر جاؤں گا‘‘
لرزتی زبان اور کپکپاتے ہونٹوں سے سرکنے والے الفاظ فضا میں تحلیل ہو گئے۔ زمین میں گڑی ہوئی نظریں علینہ کے سامنے کہاں اُٹھ پائی تھیں۔ ۔ ۔ اس وقت بھی نہیں جب علینہ نے کہا تھا
’’مجیب! میں کب سے منتظر و مضطرب تھی، جانتے ہو ایک ایک پل کانٹوں پے گزرا ہے میرا‘‘
علینہ یہی کہہ پائی تھی کہ مائی شمّو کی آواز نے دونوں کو چونکا دیا۔ 
٭٭٭
	علینہ اس کے اپنے ہی گاؤں کی تھی، مقامی اسکول میں بچوں کو پڑھاتی۔ ۔ ۔ کس سلیقے سے فرشتوں نے اسے سنوارا تھا۔ مصور ازل کی تمام تر عنایتوں اور مہربانیوں نے اسے شاہ کار بنا دیا تھا۔ گاؤں کا گاؤں ہی تو اس کا متمنی تھا۔ کون تھا ایساجو اس نوبہارِ ناز کا اسیر نہیں تھا۔ بولتے نقوش، کھنکتی، مسکراتی آواز۔ ۔ ۔ مجیب سے لوگ بھی جو پاگل ہوتے ہیں۔ ۔ ۔ تو ایسے ہی نہیں۔ 
’’مجیب ! کس قدر چاہتے ہو مجھے ؟ ‘‘
علینہ نے اس سے پوچھا۔ ۔ ۔ اور پھر مجیب نے اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیتے ہوئے کہا تھا 
’’بھلا یہ کیا سوال ہوا۔ ۔ ۔ خود سے کوئی کتنی محبت کرتا ہے ؟ میں تمھیں خود سے الگ تھوڑی سمجھتا ہوں۔ تیری محبت میری شریانوں میں خون کی طرح دوڑ رہی ہے۔ میری سانسوں کا اعتبار تم سے ہے ‘‘
علینہ اس کے جواب پر خوشی سے نہال ہو گئی تھی۔ ۔ ۔ وقت نے رُکنا کہاں سیکھا ہے ، جو وہ مجیب اور علینہ کا انتظار کر تا۔ بس سبک رفتاری سے گزرتا ہی رہا۔ 
	وہ رات مجیب پر بہت بھاری تھی۔ فیصلہ کرنا اس کے لئے ناممکن تھا۔ ایک طرف اپنے اور علینہ کے والدین کی عزت کا سوال تھا، تو دوسری طرف سانسوں کی مالا کے بکھرنے کا خدشہ۔ علینہ اس کے لیے گھر تو کیا زندگی چھوڑنے کو تیار تھی۔ اس نے دردمندی سے ہی سہی فیصلہ تو سنا دیا تھا
’’مجیب! جیا نہیں جائے گا مجھ سے تیرے بغیر، اباکا انکار میں کہاں برداشت کر پائی ہوں۔ ۔ ۔ علینہ کو اس دنیا سے کہیں دُور لے چلو! ۔ ۔ ۔ دُور بہت دُور۔ ‘‘
 یہ کہتے ہوئے اس نے مصحف رُخ پر اپنی ہتھیلیوں کا غلاف چڑھا لیا تھا۔ مجیب لفظوں کو تصویر کر نے کے ہنر سے ناواقف۔ ۔ ۔ بس سوچتا ہی چلا گیا۔ وہ کم ہمت تھا یا پھر معاملہ فہم۔ ۔ ۔ جبھی تو اس نے یہ کہا تھا
’’علینہ! میں مایوس نہیں ہوں ، تمھارے ابو مان جائیں گے ، تم حوصلہ رکھو‘‘
٭٭٭
	کوئی نہیں جانتا تھا کہ مجیب کہاں چلا گیا۔ البتہ اس کے عشق کے چرچے ضرور عام ہوئے۔ اس کی والدہ غم سے نڈھال، نیم پاگل، جو کوئی دکھائی پڑتا۔ ۔ ۔ اس سے مجیب کے بارے میں معلوم کرتی۔ ۔ ۔ دیواروں سے کہتی پھرتی۔ اس کا والد اس کی تلاش میں کہاں کہاں نہیں پھرا۔ اخبارات میں اور ٹی وی پر گم شدگی کے اشتہارات چلے۔ ۔ ۔ مگر سب بے سود۔ ایک سال، دو سال اور پھر تیسرے سال کا آخری سورج بھی غروب ہو گیا، لیکن مجیب نہیں پلٹا۔ 
٭٭٭
	بابا اصحاب کے دالان میں عرس شریف کی تقریبات بڑے زور و شور سے جاری تھیں۔ مزار کے چاروں اور قطار اندر قطار دیے جلنے بجھنے کے عمل سے گزر رہے تھے ، فضا پر علی۔ ۔ ۔ علی۔ ۔ ۔ کے نعروں کی گونج چھائی ہوئی تھی۔ زائرین عقیدت سے مزار کی طرف دیکھتے ، دعائیں کر تے ، منتیں مانتے۔ ۔ ۔ موجی سائیں زائرین کے شور سے بے نیاز، دنیا و ما فیہا سے بے خبر، مزار شریف کے احاطہ کی خستہ جا لیوں کاسہارا لیے بہ چشم نیم باز نیم دراز تھا کہ، ایک شخص اس کی طرف لپکا اور گھڑی بھر میں اسے اپنی گرفت میں لے لیا۔ اسے سنبھلنے کا موقع ہی نہ ملا۔ پہلی بار اسے اپنی شکستگی کا احساس ہوا۔ خواہش اور کوشش کے باوجود وہ کچھ نہ کر سکا۔ انسانوں کے دائرے میں وہ ساکت و جامد صدیوں سے پڑے پتھر کی مانند دکھائی دیا۔ حملہ اور نے اپنے دیگر ساتھیوں کو بھی بلا لیا۔ ایک شور۔ ۔ ۔ قیامت برپا کر دینے والا شور۔ ۔ ۔ جو تھمنے کانام ہی نہیں لے رہا تھا۔ آوازیں چاروں اور سے اس کا تعاقب کرتیں اور وہ چیخ چیخ کر کہتا
’’میں مجیب نہیں ہوں ، موجی ہوں ، موجی سائیں ‘‘
پھرحملہ اوروں میں سے ایک اس قریب آیا، نہ جانے اس نے کیا بات اس سے کہی کہ وہ خاموشی سے ان کے ساتھ ہولیا۔ موجی سائیں کا خدمت گار۔ ۔ ۔ فیقا بھی دبے قدموں پیچھے پیچھے چلنے لگا۔ زائرین عقیدت مندی میں مصروف ہو گئے۔ موجی سائیں کے جان کاروں میں سے ایک نے کہا
’’آ جائیں گے سائیں ! ۔ ۔ ۔ انھیں کوئی کیا کہہ سکتا ہے۔ ‘‘
٭٭٭
	بابا اصحاب کے احاطہ سے نکل کر وہ سب موچی بازار کی تنگ و تاریک گلیوں سے ہوتے ہوئے بڑی سڑک پر آ گئے ، جہاں زندگی حسب معمول رواں دواں تھی۔ لاری اڈے پر موجی سائیں نے فیقے کو اپنے سینے سے لگایا۔ ۔ ۔ اور واپس کر دیا۔ کہنے والوں نے کیا نہیں کہا تھا اُسے۔ مجیب کی والدہ کی حالت۔ ۔ ۔ علینہ کی جرأت کی داستاں۔ ۔ ۔ گاؤں بھرکی باتیں۔ ۔ ۔ رفتہ کے قصے ، فردا کے اظہاریے ، مگر اس کے لفظ تو کہیں کھو گئے تھے ، گویا وہ بولنا ہی بھول گیا تھا۔ اسے کچھ کہنا ہی نہیں تھا شاید۔ لاری سے اُتر کر وہ ایک تانگے پر سوار ہو گئے۔ ارد گرد کا ماحول اسے کچھ مانوس، کچھ اجنبی دکھائی دیا۔ 
	رانی ماں کی تاریک کنویں جیسی آنکھیں روشن ہو گئیں۔ 
 ’’مجیب یہ کیا حال بنا لیا ہے تو نے ؟ ‘‘
کہتے ہوئے اس نے اپنی بانہیں موجی سائیں کو سینے میں بھر لینے کیلئے پھیلا دیں۔ جانے کتنی ہی دیر موجی سائیں رانی ماں کی چھاتی سے چمٹ کر روتا رہا۔ شاید دونوں روتے رہے۔ پھر کتنی ہی شرمندگی، لجاجت اور منت کر تے ہوئے موجی سائیں نے رانی ماں کے سامنے ہاتھ جوڑتے ہوئے کہا
’’ماں ! مجھے معاف کر دے ، میں نے تمھیں ستایا ہے نا‘‘
 اور رانی ماں۔ ۔ ۔ جی واری، جی صدقے ، جی کہول۔ ۔ ۔ کا ورد کرتی رہی۔ 
٭٭٭
	مجیب کی واپسی پر گاؤں بھر خوش تھا۔ ہر کوئی اس کی دل جوئی میں مصروف رہتا۔ ۔ ۔ گزرے وقت کی باتیں سناتا۔ اور علینہ۔ ۔ ۔ ؟ بھلا علینہ سے زیادہ اس کی واپسی کی خوشی کسے ہوئی ہو گی؟ اس نے تو  مجیب کی خاطر اپنی زندگی داؤ پر لگائی تھی۔ گاؤں کی کون لڑکی تھی بہ جز اس کے جس نے پسند کی شادی کا نہ صرف اعلان کیا، بل کہ مجیب کے سوا کہیں بھی شادی سے انکار کر دیا تھا۔ علینہ نے مجیب کی خاطر بے غیرتی، بے حیائی کے طعنے تک سنے۔ وہ تو  لمحہ لمحہ اس کے لئے مرتی اور جیتی رہی۔ 
	علینہ اور مجیب کا رشتہ طے ہو گیا۔ محرم کی بیس تاریخ شادی کے لیے مقرر ہوئی۔ دونوں خاندان قریب سے قریب تر ہو گئے۔ ۔ ۔ غم اور خوشی کے موسم بتا کر تھوڑی آتے ہیں۔ خوشی سی خوشی تھی۔ ۔ ۔ وہ دونوں تو گزرے ہوئے سالوں کی راکھ تک کو دفن کر چکے تھے۔ زخم یوں مندمل ہوئے گویا کبھی تھے ہی نہیں۔ اور جانیے۔ ۔ ۔ رستے زخموں پر کھرنڈ آ جائیں تو دُکھ کا احساس کسے رہتا ہے ؟ 
	دونوں طرف پوری شد و مد سے شادی کی تیاریاں جاری تھیں ، ٹھیک چار دن بعد مجیب اور علینہ ہمیشہ ہمیشہ کیلئے ایک ہونے والے تھے۔ شادی کے لیے خریداری کی غرض سے مجیب اپنے ماموں زاد بھائی شاہ میر کے ہم راہ نواحی شہر گیا۔ وہ جمعہ کا دن تھا۔ ۔ ۔ سولہ محرم کا دن۔ انھوں نے کچھ خریداری کر لی تھی، کچھ باقی تھی۔ دونوں بھائی شہر کی جامع مسجد میں نماز جمعہ کی ادائیگی کے لیے داخل ہو گئے۔ 
کس قدر سرشاری اور ممنونیت سے وہ خدا کے حضور جھکا تھا۔ ۔ ۔ رہ رہ کر اُسے علینہ  یاد آ رہی تھی۔ جوں جوں علینہ اس کے اعصاب پر حاوی ہوتی گئی وہ خدا کی شکر گزاری میں بڑھتا گیا۔ 
٭٭٭
	سانسوں کی مالا ٹوٹ کر بکھر گئی تھی۔ مجیب اور شاہ میر کی میتیں جب گاؤں لائی گئیں تو گاؤں بھر میں کہرام مچ گیا۔ ہر آنکھ اشک بار تھی اور ہر زبان پر قاتلوں کے لیے بد دعائیں۔ ۔ ۔ نامعلوم دہشت گردوں نے ان سمیت سات افراد کو نمازِ جمعہ کی ادائیگی کے دوران اندھا دھند فائرنگ کر کے شہید کر دیا تھا۔ 
٭٭٭
 

ہیروں کا سوداگر



	دل آرام ریسٹورنٹ کے باہر جب پہلی مرتبہ میری نظر اُس پر پڑی تو میں نے اُسے کوئی اہمیت نہیں دی تھی۔ ۔ ۔ مگر جب وہ اکثر شام کے بعد وہاں دکھائی دینے لگا تو   میں نے ایک دن اُس سے پوچھ ہی لیا۔ 
’’میں یہاں ہیرے فروخت کر نے آتا ہوں ‘‘
اُس کے اِس جواب سے میں شش در و متعجب ہو کر اُس کا منہ تکنے لگا۔ میری حیرتوں کو بھانپتے ہوئے اُس نے اپنے کندھے سے بوری اتاری اور گویا ہُوا
’’اِس طرح کیوں تک رہے ہو؟ ‘‘
 اور پھر جلدی سے بوری کا منہ کھولا اور اُس سے درجنوں رنگ بہ رنگ پتھر نکال کر زمین پر پھیلا دیے۔ ایک گول مٹول سرخی مائل پتھر میری طرف بڑھاتے ہوئے کہنے لگا
’’یہ ملکہ الزبتھ دوم کے استعمال میں رہا ہے ، جب وہ آئینے کے سامنے جایا کرتی تھی تو یہ پتھر سنگھار میز پر موجود ہوتا۔ اس کی قیمت ایک لاکھ امریکن ڈالر ہے۔ ‘‘
 سرمئی پتھر میرے ہاتھ میں تھماتے ہوئے کہا
’’براہم  لنکن کو یہ موتی اُس کی اعلیٰ خدمات پیش نظر رکھتے ہوئے ایک امریکی سرمایہ کار جان ای ایگر نے تحفہ میں دیا تھا؛ اس کی قیمت پچپن لاکھ امریکن ڈالر ہے۔ ، ، 
بادامی رنگ کے چھوٹے سے پتھر کو دکھاتے ہوئے اس نے کہا کہ 
’’یہ محبت کی نشانی ہے۔ ۔ ۔ ویسے تو اربوں ڈالر بھی اگر مجھے کوئی دے تو میں اسے نہ دوں۔ ۔ ۔ مگر میرا کاروبار اس نوعیت کا ہے کہ میں اسے زیادہ دیر تک اپنے پاس نہیں رکھ سکتا؛ یہ دو کروڑ  ڈالر کا ہے۔ لیڈی ڈیانا کو اس کے آخری عاشق دودی الفائد نے محبت کے آخری تحفے کے طور پر دیا تھا۔ جب ان کی گاڑی کو حادثہ پیش آیا تو  وہاں موجود ایک شخص نے اِسے اُٹھا لیا تھا۔ ‘‘
 نہ جانے کتنے اور موتی اور ہیرے اس کی بوری میں تھے۔ ۔ ۔ جو کئی نام ور ہستیوں کے زیر استعمال رہ چکے تھے۔ میں نے اس سے پوچھا
’’یہ موتی کون خریدتا ہے ؟ ‘‘
تو اس نے بتایا
’’یہاں کورین، چائنیز، ملائشینز ، جرمنز اور عریبک لوگ آتے رہتے ہیں۔ میرا زیادہ کاروبار ان سے رہتا ہے ، تاہم بعض اوقات کوئی پاکستانی تاجر بھی مال اُٹھا لیتا ہے ، لیکن میں اِن سے زیادہ تجارت اِس لیے بھی نہیں کرتا کہ یہ لین دین ٹھیک نہیں کر تے۔ چھ ماہ پہلے کراچی کے ایک تاجر کو ڈیڑھ ارب ڈالر کے ہیرے دیے تھے۔ ۔ ۔ اُس نے ایک ماہ کے اندر رقم دینے کا وعدہ کیا تھا، مگر تا حال رقم نہیں آئی۔ ‘‘
یہ کہتے ہوئے وہ انتہائی تیزی سے ہوٹل کی طرف دوڑا۔ ۔ ۔ 
٭٭٭
	صحیح نام اس کا غالباً عبد الشکور ہے۔ ۔ ۔ لیکن لوگوں میں وہ کئی ناموں سے مشہور ہے۔ کچھ نام اس نے خود چُنے تھے اور بعض اس کے القابات اور خطابات شمار کیے جا سکتے ہیں۔ ایک زمانے میں وہ ’’شِکر ا‘‘ کے نام سے شہرت کو پہنچا۔ ۔ ۔ یہ اس کا اپنا رکھا ہوا نام ہے۔ پھر وہ ’’دو نمبر‘‘ کے نام سے جانا گیا۔ یہ نام اُسے ان لوگوں نے دیاجو اس کے ’’کاروبار‘‘ کو جعلی سمجھتے ہیں۔ کچھ لوگ ’’آن وڑئی اوئے ‘‘ (*) کہہ کر بھی اُسے مخاطب کر تے ہیں۔ جس کے جواب میں اس کے منہ سے پھول جھڑنا شروع ہو جاتے ہیں۔ ۔ ۔ اور وہ ہیرے جن کی مالیت اربوں سے زیادہ ہوتی ہے مخاطب کی جانب برسنا شروع ہو جاتے ہیں۔ اپنی توہین شکر ے سے کبھی برداشت نہیں ہو پاتی ، بھلے اس کا اربوں میں نقصان ہو جائے۔ پھینکے ہوئے ہیروں کو دوبارہ سمیٹنے کے بعد بیس کلو سے زیادہ وزن دار بوری کاندھے پر اُٹھا کر کسی اور جانب چل پڑے گا۔ 
	میں نے جب ہوش سنبھالا تو  وہ اس شہر میں موجود تھا۔ اُس وقت یہ حالت نہیں تھی اُس کی۔ 1986ء میں ایک مرتبہ اس نے بتایا تھا کہ وہ سائیکل پر دو مرتبہ تین ہزار کلو میٹر فاصلہ طے کر کے کراچی گیا اور آیا ہے۔ تن سازی کے مقابلوں میں بھی حصہ لیتا رہا۔ جس وقت مجھے یہ بتا رہا تھا اُس وقت وہ اپنے موٹر سائیکل کو رکشا میں تبدیل کر رہا تھا۔ رکشا جب تیار ہوا تو  وہ بڑے فخر سے شہر میں اُسے پھراتا رہا۔ ۔ ۔ کیوں کہ اس کی بناوٹ میں استعمال ہونے والے پرزے اس کی اپنی انجینئرنگ کا نتیجہ تھے۔ دوسری بات یہ بھی تھی کہ وہ اس شہر کا پہلا رکشا تھا۔ رکشا کی تکمیل کے بعد اُس نے خواہش ظاہر کی تھی۔ 
 ’’اگر میرے پاس وسائل ہوتے تو میں بڑے پیمانے پر رکشا سازی کا کام شروع کر تا۔ ‘‘ دیکھنے والوں نے دیکھا کہ ’’شکر ا‘‘ دن بھر میلوں کی مسافت طے کر کے رکشا پر آئس کر یم ، اچار اور دیگر کئی چیزیں بیچا کر تا۔ پھر یوں ہوا کہ اس کی موٹرسائیکل خراب رہنے لگی۔ ۔ ۔ اور آخرکار اس نے موٹرسائیکل بیچ کر گدھا خرید لیا۔ موٹرسائیکل کے پیچھے باندھی گئی گاڑی کو اس نے موٹرسائیکل سے جدا کر دیا تھا۔ ۔ ۔ پھروہی گاڑی اس کے گدھے کے کام آئی۔ یعنی رکشا ، چاند گاڑی میں بدل گیا۔ میں بتا چکا ہوں کہ شِکرا میلوں پھرنے کا عادی تھا اور گدھے کے لیے یہ مسافت ناقابل برداشت تھی۔ ۔ ۔ اس لیے وہ جلد ہی اسے چھوڑ گیا۔ بس یہی دن تھے جو اسے معاشرے کی ٹھوکروں پر چھوڑ گئے۔ شروع میں وہ تفننِ طبع کے لیے اپنی ذات کے حوالے سے بھی مزاح کرتا تھا۔ لوگ سن کر خوش ہو جاتے اور اسے چائے۔ ۔ ۔ سگریٹ پیش کر تے۔ پھر لوگوں نے اسے مذاق کا نشانہ بنانا معمول بنا لیا۔ اور اب تو چھوٹے بڑے نے اس کی وہ خبر لی تھی کہ وہ خود سے بے خبر ہو گیا۔ اس کی حالت یہ ہے کہ وہ نصف من پتھروں کو ہیرے سمجھ کر دن بھر کاندھے پر اٹھائے پھرتا ہے۔ ۔ ۔ اور رات کو ان کو اپنے پہلو میں دبا کر سوتا ہے۔ 
	کئی برس گزر گئے۔ ۔ ۔ شکر ے سے متعلق باتیں ہوا میں تحلیل ہونے لگیں۔ ۔ ۔ لوگوں کی دل چسپیاں بدلنے لگیں۔ ۔ ۔ ماحول میں تبدیلی آئی۔ میں اپنے ایک دوست کے ساتھ دل آرام ریسٹورنٹ کے باہر پڑی کر سیوں پر بیٹھا ہوں۔ ۔ ۔ دفعتاً دو نمبر آ جا تا ہے۔ ۔ ۔ اب اس کی حالت انتہائی قابل رحم ہے۔ چوکور میز کے ایک کونے پر پیر جما کر کہتا ہے 
’’مال چاہیے۔ ۔ ۔ ؟ ‘‘
میں اُسے اس کے پرانے حال میں سمجھتے ہوئے کہتا ہوں 
’’کیا جارج ڈبلیو بش سے ڈیل نہیں ہوئی۔ ۔ ۔ ؟ ‘‘
وہ اپنے ایک ہاتھ کو دوسرے پر تالی کے سے انداز میں مارتے ہوئے بہ آواز بلند قہقہہ لگاتا ہے۔ ۔ ۔ تو سب لوگ ہماری طرف متوجہ ہو جاتے ہیں۔ قدرے توقف کے بعد کہنے لگتا ہے 
’’جناب۔ ۔ ۔ ! وہ پرانی باتیں ہیں۔ ۔ ۔ اب اور مال بکتا ہے ‘‘
’’اب کون سا مال بکتا ہے۔ ۔ ۔ شکر یا؟ ‘‘میں نے دل چسپی سے پوچھا
’’شراب۔ ۔ ۔ افیون۔ ۔ ۔ ہیروئن۔ ۔ ۔ چرس۔ ۔ ۔ نن باؤ۔ ۔ ۔ ویاگرا۔ ۔ ۔ ‘‘
دو نمبر کے اس انکشاف سے میں چونک سا گیا۔ ۔ ۔ اب وہ مجھے حقیقتاً دو نمبر محسوس ہو رہا تھا۔ ۔ ۔ میں نے سوچا شاید اس نے پاگل پن کا بہروپ بھر رکھا ہے اور وہ اس انداز سے اپنا گھٹیا کام کرتا چلا آ رہا ہے۔ مجھ سے رہا نہ گیا تو  میں نے پوچھا
’’تم بیچتے ہو یہ سب چیزیں۔ ۔ ۔ ؟ ‘‘
وہ پھر کھلکھلا کر ہنسا اور اُسی انداز سے اپنے ایک ہاتھ پر  دوسرا ہاتھ مارا۔ ۔ ۔ کہنے لگا
’’میں کہاں بیچتا ہوں۔ ۔ ۔ چودھری صاحب، رانا صاحب، میاں صاحب اور شیخ صاحب بیچتے ہیں ‘‘
’’کیا وہ خود بیچتے ہیں۔ ۔ ۔ ؟ ‘‘
’’بھلا خود کیوں بیچیں گے ؟ کیا وہ شرفا نہیں ہیں ؟ ‘‘
’’تو کون بیچتا ہے پھر۔ ۔ ۔ ؟ ‘‘
’’پیپا۔ ۔ ۔ لاٹو۔ ۔ ۔ سوہنا۔ ۔ ۔ مندری۔ ۔ ۔ بجنس۔ ۔ ۔ کارتوس۔ ۔ ۔ ‘‘
وہ خاموش ہوتا ہے اور پھر ٹکٹکی باندھے مجھے دیکھتا ہے۔ ۔ ۔ جیسے مجھے سننا چاہتا ہو۔ میں پھر اُس سے سوال کرتا ہوں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 
’’تم کیا بیچتے ہو۔ ۔ ۔ ؟ ‘‘
’’میں۔ ۔ ۔ میں تو آئینے بیچتا ہوں۔ ۔ ۔ آنکھیں بیچتا ہوں اور آنکھوں کے موتی بیچتا ہوں۔ ۔ ۔ لفظوں کے ہیرے بیچتا ہوں۔ ‘‘
٭٭٭
													 (*آ گھسا ہے ) 			
 

عکس در عکس



	’’یہ 27جنوری2005ء کا دن تھا۔ ۔ ۔ جنوبی پولینڈ کے شہر آشوچ کی جسموں کو جامد کر دینی والی سردی جسموں میں اُتر رہی تھی۔ لوگ موٹے کمبل اوڑھے اُن لوگوں کو یاد کر رہے تھے۔ ۔ ۔ جن کے بارے میں بیان کیا جاتا ہے کہ ہٹلر کی افواج نے انھیں انتہائی ذلت آمیز طریقہ سے قتل کیا تھا۔ ۔ ۔ اُن کی ننگی نعشوں کو اُوپر نیچے رکھا گیا تھا۔ ۔ ۔ اور ان تہ بہ تہ رکھی گئی نعشوں میں خواتین کے برہنہ۔ ۔ ۔ مگر مردہ جسم بھی تھے۔ ان با تو ں میں کتنی صداقت ہے اس حوالے سے کوئی بھی حتمی بات ابھی تک سامنے نہیں آ سکی ہے۔ فطرت کے عین مطابق ان واقعات کے حوالے سے بھی دو گروہوں نے جنم لیا ہے۔ ایک وہ لوگ ہیں جو ان واقعات کو تسلیم کر تے ہیں اور دوسرے وہ لوگ ہیں جو ان کی نفی کر تے ہیں۔ 
	خیر۔ ۔ ۔ آشوچ میں منعقدہ تقریب میں ہٹلر کی فوج کے ہاتھوں یہودیوں کے نسل کش کیمپ سے بچ جانے والے افراد اور عالمی راہ نما شریک تھے۔ آشوچ کے یخ بستہ ماحول کو آنسوؤں کی گرمی سے بھی گرم نہیں کیا جا سکا تھا۔ ۔ ۔ تب اسرائیل کے صدر موشے کاتساؤ نے کہا تھا کہ
’’ہم اب بھی مرنے والوں کی چیخیں سن سکتے ہیں۔ اب جب کہ میں کیمپ کی زمین پر قدم رکھ رہا ہوں ، تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے میں مرنے والوں کی راکھ پر چل رہا ہوں۔ ‘‘
موشے کاتساؤ کی یہ باتیں شرکا کے لیے سخت اذیت ناک ثابت ہوئیں۔ ۔ ۔ اور سسکنے والی آوازیں چیخوں اور آہوں میں بدل گئیں۔ کیمپ میں سوگواری تھی ، مگر آشوچ کا ماحول جوں کا توں تھا۔ تقریب میں بتایا گیا کہ اس کیمپ میں دس لاکھ افراد کو ریل گاڑیوں کے ذریعہ سے لایا گیا تھا اور 1940ء سے لے کر ستائیس جنوری1945ء  تک ایک ملین سے زائد افراد کو ہلاک کیا جا چکا تھا۔ ہلاک ہونے والوں میں بیشتر مرکزی یورپ کے یہودی تھے۔ جنھیں ہم جنس پرستوں ، پولینڈ اور روسی قیدیوں کے ساتھ ٹرکوں میں آشوچ بھر کر لایا گیا تھا۔ ان تمام ہلاک ہونے والوں کی تعداد گیارہ لاکھ بتائی گئی۔ جن میں سے دس لاکھ یہودی تھے۔ آشوچ کی اس تقریب میں موشے کاتساؤ کے علاوہ فرانسیسی صدر ژاک شیراک، امریکی نائب صدر ڈک چینی، برطانوی وزیر خارجہ جیک سٹرا، روسی صدر ولادی میرپوٹن، پولینڈ کے صدر الیگزینڈر کو ازنیوسکی اور جرمن صدرہارسٹ کوہلر بھی شریک تھے۔ آخرالذکر پر مکمل سکوت طاری تھا۔ آشوچ کے کیمپ سے زندہ بچ جانے والے ایک یہودی آرنولو سٹیگر نے اُس وقت کو یاد کیا جب وہ آشوچ میں قید تھا۔ بانوے سالہ روسی فوج کے افسر انا تو لی شپیرو نے اُن دنوں کی دھندکو سرکاتے ہوئے بتایا کہ
’’یہاں ننگی عورتوں کے ایک کے اُوپر ایک رکھی گئی نعشوں کے انبار تھے۔ چاروں طرف خون ہی خون تھا۔ ۔ ۔ اور بدبو نتھنوں کی چیر رہی تھی۔ کوئی شخص اس ماحول میں پانچ منٹ کے لیے نہیں رُک سکتا تھا۔ ‘‘ 
یوں لگتا تھا جیسے آشوچ میں ہونے والی اس روز کی برف باری نے زندوں کا خون بھی منجمد کر دیا ہے۔ ‘‘
پروفیسر صاحب ایک منٹ کے لیے خاموش ہوئے۔ ۔ ۔ سگرٹ سلگایا اور دوبارہ گویا ہوئے 
	’’ایران میں ہولوکاسٹ پر کانفرنس ہو رہی ہے۔ کانفرنس میں اس بات کا جائزہ لیا جا رہا ہے کہ آیا ہولوکاسٹ ہوا بھی تھا کہ نہیں۔ گزشتہ سال دسمبر کے وسط میں جنوب مشرقی ایرانی شہر زاہدان میں ہزاروں افراد سے خطاب کے موقع پر ایرانی صدر محمود احمدی نژاد نے ہولو کاسٹ کو مفروضہ قرار دیتے ہوئے کہا تھا 
 ’’انھوں نے ایک کہانی گھڑ لی ہے جسے وہ یہودیوں کا قتل عام کہتے ہیں اور اب وہ اسے خدا، پیغمبر اور مذہب سے اونچا درجہ دیتے ہیں۔ ‘‘
 انھوں نے اس موقع پریہ بھی کہا تھا
’’اگر یورپ نے یہودیوں کا قتل عام کر کے ظلمِ عظیم کیا ہے تو مظلوم فلسطینیوں کو اس کی سزا کیوں دی جا رہی ہے۔ ۔ ۔ ؟ ہماری پیش کش یہ ہے کہ آپ یورپ یا امریکا یا پھر الاسکا، آسٹریا یا جرمنی میں زمین کا ایک حصہ یہودیوں کو دے دیں تا کہ وہ اس پر اپنی حکومت قائم کر سکیں۔ ‘‘
خدا لگتی بات ہے کہ اس سے صائب مشورہ کوئی اور انھیں نہیں دیا جا سکتا تھا۔ ۔ ۔ اور نہ دیا جا سکتا ہے۔ اگر ہولوکاسٹ کا انکار جرم ہے تو پھر مغرب کو اپنے گنا ہوں کا کفارہ بھی خود ادا کرنا چاہیے۔ 
 	خیر۔ ۔ ۔ ہم واپس ایران میں ہونے والی اس کانفرنس کی جانب آتے ہیں جس میں تیس مختلف ممالک سے 67 مفکرین کی شرکت کی اطلاع آئی ہے اور ساتھ ہی ایرانی وزیر خارجہ منو چہر متقی کا یہ کہنا بھی سننے کو ملا ہے کہ
’’کانفرنس کا مقصد ہولوکاسٹ کی تصدیق یا تردید کرنا نہیں ، بل کہ ان مفکر ین کو موقع فراہم کرنا ہے جو اس کے بارے میں یورپ میں اظہارِ خیال نہیں کر سکتے۔ ‘‘ 
منو چہر متقی نے حقیقتاً مغرب کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھ دیا ہے۔ وہ جو آزادی ء اظہار کے راگ الاپ الاپ کر مسلم معاشروں کو کھوکھلا کرنا چاہتے ہیں ، آج خود اپنے کہے ہوئے سے مکر رہے ہیں۔ ۔ ۔ بل کہ اُلٹے پاؤں بھاگنا شروع ہو گئے ہیں۔ اس کی ایک مثال امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے ایک حالیہ بیان کی صورت دی جا سکتی ہے ، جس میں اس نے اس کانفرنس کو ایرانی حکومت کا ایک اور ہتک آمیز قدم قرار دیا ہے۔ ویسے سچی بات تو یہ ہے کہ محمود احمدی نژاد صاحب کا یہ کہنا وزن رکھتا ہے کہ
’’کس طرح ساٹھ لاکھ یہودیوں کا قتل عام ممکن ہے۔ ‘‘
مجھے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کوفی عنان کا وہ بیان یاد آ رہا ہے جو انھوں نے گزشتہ سال جنوری کے تیسری ہفتے میں نیویارک کی اس تقریب میں دیا تھا جو نازی کیمپوں سے آزادی کی ساٹھویں سالگرہ کے حوالے سے منعقد کی گئی تھی۔ موصوف نے فرمایا تھا
’’وہ برائی جس نے ساٹھ لاکھ یہودیوں اور دوسروں کو ایذا رسانی کے کیمپوں میں مصائب میں مبتلا کیا۔ آج بھی وہ برائی اقوام عالم کو دھمکا رہی ہے۔ ‘‘
 اس بیان پر تبصرے کی گنجائش نہیں۔ یہ ان عالمی طاقتوں کی طرف واضح اشارہ ہے جو دنیا کا امن تباہ کر نے کے درپے ہیں۔ ‘‘
	پروفیسر صاحب نے سگرٹ کے دھوئیں کو سانس کے ذریعہ سے اپنے اندر کھینچا ؛ اور پھر ایک خاص انداز سے دھوئیں کو فضا میں چھوڑتے ہوئے سلسلۂ کلام جوڑا
’’یہ باتیں ضمناً در آئی ہیں ، واپس کانفرنس پر آتے ہیں۔ کانفرنس میں شریک برطانیہ سے آنے والے ایک یہودی عالم اہرن کوہن نے کس قدر ضبط سے یہ کہا ہے 
 ’’ہم کہتے ہیں ہولوکاسٹ ہوئی ہے۔ ۔ ۔ لیکن اسے کسی طور پربھی فلسطینیوں کے خلاف زیادتیوں کے لیے جواز نہیں بنانا چاہیے۔ ‘‘
اہرن کوہن جان لیں کہ ایرانی صدر کا بھی یہی مؤقف ہے۔ ۔ ۔ اور عام مسلمانوں کا بھی کہ۔ ۔ ۔ یہودی اپنے اُوپر ظلم کر نے والوں کو پہچانیں نہ کہ نہتے فلسطینیوں پر ظلم ڈھائیں۔ 
	میں سمجھتا ہوں ایران نے کانفرنس کا انعقاد کر کے ایک جرأت مندانہ قدم اُٹھایا ہے۔ دوسرے اسلامی ملکوں کو بھی اس کی تقلید کرنی چاہیے۔ کیوں کہ جب کوئی ایک یورپی ملک نبی آخرالزماں حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے حوالے سے گستاخانہ خاکے شائع کرتا ہے تو پورا یورپی میڈیا اس کی تتبع کرتا ہے۔ یہاں کوئی سلمان رشدی پیدا ہوتا ہے تو ’’آزادیِ  اظہار‘‘ کو جواز بنا کر اسے وہاں پناہ دے دی جاتی ہے۔ ۔ ۔ مگر جب کوئی ان کا اپنا ’’ہولوکاسٹ‘‘ کی حقیقت جاننے کی کوشش کرتا ہے تو اس پر مقدمہ قائم کر نے کا کہا جاتا ہے۔ کیا برطانوی مؤرخ ڈیوڈ  آرونگ کی آسٹریا میں گرفتاری کو بھلایا جا سکتا ہے۔ ۔ ۔ ؟ آرونگ وہی شخص ہے جس نے اپنی کتاب میں کہا تھا کہ 
’’ہولوکاسٹ کے حوالے سے ہلاکتوں کی تعداد کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا تھا۔ ۔ ۔ اور آشوچ    کیمپ میں گیس چیمبر بھی نہیں تھے۔ ‘‘
یہ ایک حوالہ ہے۔ کئی اور باتیں بھی ہیں جن سے ہمارے مؤقف کو تقویت ملتی ہے۔ ہم تو وہ ہیں جن کے نزدیک ایک انسان کو قتل کرنا پوری انسانیت کو قتل کر دینے کے مترادف ہے۔ اس لیے ہم کسی کے قتلِ عام پر خوش نہیں ہوتے۔ ۔ ۔ لیکن اگر ایران نے حقائق کی جان کاری کے لیے کانفرنس کا انعقاد کیا ہے تو  امریکا اور مغرب کو اپنے آپ پر قابو رکھنا چاہیے کہ، ہم بھی گوشت پوست کا دل رکھتے ہیں۔ ‘‘
	پروفیسر صاحب بات مکمل کر کے خاموش ہوئے اور اپنی کر سی کی پشت کے ساتھ سر ٹکا کر خلاؤں میں گھورنے لگے۔ ۔ ۔ محفل میں موجود لوگوں کی آنکھوں سے چشمے جاری ہو چکے تھے۔ ۔ ۔ شاید آشوچ کے چیمبروں میں دم توڑنے والوں کے لیے۔ ۔ ۔ یا مسجد اقصیٰ کی خاطر قربان ہونے والوں کے لیے۔ ۔ ۔ یا پھر بغداد، تکر یت اور بعقوبہ میں رزقِ خاک ہونے والوں کے لیے۔ ۔ ۔ پکتیا، تورابورا اور کابل کی مٹی میں مٹی ہو جانے والوں کے لیے۔ ۔ ۔ یاکوہلو، بگٹی اور سوئی کی گلیوں میں مار دیے جانے والوں کے لیے۔ ۔ ۔ یا پھر وانا، وزیرستان اور کراچی میں اَن دیکھی گولیوں کا نشانہ بننے والوں کے لیے۔ ۔ ۔ اور یا پھر لال مسجد اور جامعہ حفصہ کے  محاصرے کے دوران جاں بہ حق ہونے والوں کے لیے۔ ۔ ۔ خود کش حملوں میں موت کو گلے لگانے والے سپاہیوں کے لیے۔ ۔ ۔ یا پھر ان مقتولوں کے لیے جنھیں اپنا جرم تک معلوم نہیں تھا۔ ۔ ۔ بس آنسوؤں کی لکیریں بڑھتی جا رہی تھیں۔ ۔ ۔ مگر دماغ کی دیواروں سے ایک ہی جملہ بار بار ٹکر ا رہا تھا
’’ہم وہ ہیں جو ایک انسان کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل سمجھتے ہیں۔ ‘‘

٭٭٭
 
’’IMPOSTOR‘‘



	’’ اُسے خواب میں چلنے کی عادت تھی یا پھر چلنے میں سونے کی، جب ہی تو وہ را تو ں کو اپنی آرام گاہ میں ٹہلتا رہتا۔ اگر بستر پر وجود کو گرا بھی دیتا تو  اس کا دماغ اور آنکھیں جاگتے رہتے۔ اکثر اوقات وہ خود کلامی میں ایسی ایسی باتیں کہہ جاتا کہ سننے والے انگشت بہ دنداں رہ جاتے۔ ۔ ۔ حیران ہو جاتے اور سوچتے بھلا یہ بھی کوئی کہنے کی باتیں ہیں۔ ۔ ۔ خود کلامی ہی سہی ؛ ہے تو  پریشان کن۔ اس کا خیال تھا کہ اس کے ارد گرد رہنے والے تمام لوگ زر خرید غلام اور لونڈیاں ہیں۔ روشنیوں ، ہواؤں ، پانیوں ، موسموں ، آسمانوں ، زمینوں اور دھُوپ چھاؤں جیسی سبھی نعمتوں کا حق دار بہ جز اس کے کوئی اور نہیں ہے۔ ان شدت پسند اور غیر حقیقت پسندانہ خیالات سے اس کے سوچنے ، سمجھنے ، بولنے اور برتنے کی حسیات زنگ آلود ہونے لگی تھیں۔ اس کے قریب رہنے والے لوگوں کے خیال میں وہ نفسیاتی مریض بن چکا تھا اور انھیں یہ بھی دھڑکا لگا رہتا تھا کہیں اس کے ہاتھوں کسی کی جان نہ ضائع ہو جائے۔ مجبوراً قرابت دار اس کی جائز و نا جائز فرمائشوں اور مطالبات کو بے چون و چرا مان لیتے۔ ۔ ۔ اور پھر وہ اس راہ ہو لیتا جس پر اس کا جی چاہتا۔ 
	مہینوں وہ غائب رہتا، اس کے جاننے والے نہیں جانتے تھے کہ وہ کہاں نکل جاتا ہے اور کیا کرتا رہتا ہے ، مگر یہ ضرور جانتے تھے کہ وہ خود کو کبھی نقصان نہیں پہنچا سکتا، کیوں کہ اس نے کسی بھی حالت میں ، کبھی بھی ، کوئی ایسی حرکت نہیں کی تھی ، جس سے اندازہ ہو سکتا ہو کہ وہ ایسا کر سکتا ہے۔ البتہ یہ ممکن تھا، جب وہ کسی اور کو نشانہ بنائے تو سامنے والا بھی وار کر دے۔ وہ بلا کا ذہین دکھائی دیتا تھا، کبھی کبھی تو یوں معلوم ہوتا جیسے علوم کے تمام دفاتر اس کے دماغ میں کھلے ہوئے ہیں اور وہ انھیں صرف ایک نظر دیکھ کر آگے نکلتا جا رہا ہے۔ علم الکلام کا ماہر تھا یا کم از کم اندھوں میں کانا تھا، اس کے ہم محفلوں اور جاننے والوں میں اس جیسا خوش گفتار ، خوش سلیقہ اور موقع شناس کوئی اور نہیں تھا۔ بولتا تھا تو  یوں دکھائی دیتا جیسے اب کبھی خاموش نہیں ہو گا۔ ۔ ۔ مگر جب خاموش ہوا تو  سالوں کسی سے بات نہیں کی۔ آس پاس کے لوگوں میں بعض کا خیال تھا کہ وہ ’’مرشد کے حکم سے چلّہ کاٹ رہا ہے ‘‘ اور بعض اسے IMPOSTORکہتے ، مکار اور مکر وہ خیال کر تے۔ یہ تمام باتیں وہ جانتا تھا۔ ۔ ۔ وہ جانتا تھا کہ اس کے قریب رہنے والوں میں کون کیا رائے رکھتا ہے ، لیکن وہ عموماً اپنا تاثر ظاہر نہیں کرتا تھا اور پھر کسی دوسرے وقت میں کسی اور طریقہ سے حساب بے باق کر دیتا۔ اس کے اس رد عمل کو کم لوگ جانتے تھے۔ ۔ ۔ کیوں کہ وہ براہِ راست کچھ نہیں کرتا تھا، جس طرح اس کی ہر بات تہ در تہ ہوتی ، اسی طرح اس کا عمل تھا۔ ۔ ۔ ہر پرت کے نیچے سے دوسری پرت نکل آتی اور آدمی حیران رہ جاتا۔ اگر وہ پیالی توڑنا چاہتا تو  اسے سیدھے انداز سے پکڑ کر زمین پر نہیں پٹخ دیتا تھا۔ ۔ ۔ بل کہ اس کے لیے وہ میز سے ٹھوکر کھاتا اور اپنی ٹانگ سہلانے کے ساتھ ساتھ ٹوٹی پیالی کو دیکھ کر آنکھوں ہی آنکھوں میں اپنی حکمت پر مسکراتا رہتا۔ اس کی ان عادتوں اور حکمت عملیوں سے کم لوگ واقف تھے۔ ایک دفعہ اس نے کہا تھا کہ
 ’’طاقت صرف طاقت ہوتی ہے ، خیر اور شر کی بحث بے معنی ہے ، مجھے کوئی بھی طاقت ہاتھ آ جائے میں اسے استعمال کروں گا۔ شیطان اگر دنیا کو زیر کر نے میں معاونت کرتا ہے تو  اسے دوست کہنے اور دوست رکھنے میں کوئی مضائقہ نہیں۔ میں طاقت چاہتا ہوں ، حکم رانی چاہتا ہوں ، دوام چاہتا ہوں۔ ‘‘ 
اس سے پہلے کہ وہ کچھ اور کہتا، اس کے ایک ہم محفل نے اپنا جوتا اُتار کر اس کے منہ پر دے مارا۔ ۔ ۔ اور پھر ایک ساعت کے اندر اسے گردن سے پکڑ کر دبوچ لیا، اس کے کندھوں پر اپنے دانت گاڑھ لیے اور اس دوران اپنی لا تو ں کا استعمال بھی جاری رکھا، جب خود نڈھال ہوا تو  اس کی جان چھوٹی۔ مٹی اور خون میں لتھڑا وجود لیے جب وہ اپنے گھر پہنچا تھا تو  گھر والے حیران نہیں ہوئے تھے۔ ۔ ۔ اسی لیے انھوں نے اس سے کوئی سوال بھی نہیں کیا، کیوں کہ وہ جانتے تھے وہ انھیں کچھ نہیں بتائے گا۔ اس واقعہ کا اتنا اثر ضرور ہوا تھا کہ وہ اب کھلے عام اس طرح کی باتیں نہیں کرتا تھا اور جاننے والوں کو تو  اس پربھی حیرت ہوئی تھی کہ اس نے مارنے والے سے نہ صرف معافی مانگ لی تھی ، بل کہ اس کی غیر موجودگی میں اس کی تعریفیں بھی شروع کر دی تھیں۔ ‘‘
بزرگِ محترم کی بات کاٹتے ہوئے سائل نے کہا کہ یہ فرضی داستان مجھے کیوں سنانا چاہتے ہیں آپ۔ ۔ ۔ ؟ کیوں آپ چاہتے ہیں کہ میں اس سوا ل کو بھول جاؤں جو میں نے آپ سے کیا ہے۔ جواباً ان کے چہرے پر مسکراہٹ کی ہلکی سے لکیر کھنچ گئی اور کہنے لگے 
’’یہ تمھارے سوال کا جواب ہی تو ہے ، ذرا صبر سے کام لو‘‘
اب سائل نے تفنن طبع کے لیے ان سے کہا۔ ۔ ۔ کہیں یہ غلام عباس کی کہانی ’’بہروپیا‘‘ کا دوسرا ظہور تو نہیں۔ 
’’قطعاً بھی نہیں۔ ۔ ۔ وہ مثبت کردار تھا، جس کی جستجو اور طلب خیر کی جانب تھی جب کہ جو تذکر ہ ہم کر رہے ہیں وہ منفی ہے۔ ۔ ۔ سراسر منفیIMPOSTORکا لفظ اس کے لیے کم ہے۔ وہ اس سے کہیں زیادہ خطرناک اور مہلک شخصیت کا مالک تھا۔ ‘‘
مکرر قطع کلامی پر معافی کا خواست گار ہوں ، میرا سوال تو  ابھی تک جواب طلب ہے ، سائل نے کہا تو  محترم فرمانے لگے 
 ’’میں مختصر کرتا ہوں ! وہ فریبی تھا، اپنی حیثیت سے زیادہ جھوٹے دعوے کرتا تھا، جس عرصہ میں وہ غائب رہا نہ جانے وہ کیا کرتا رہا۔ ۔ ۔ لیکن واپسی پر اس نے مشہور کر دیا تھا کہ جس طاقت کے حصول کے لیے وہ برسوں مارا مارا پھرتا رہا ہے ، اسے حاصل ہو گئی ہے ، اب وہ دنیا پر حکم رانی کی قدرت رکھتا ہے ، مگر وہ ایسا کر ے گا نہیں ، کیوں کہ جس مرتبہ پروہ فائز ہے اس کا تقاضا یہ ہے کہ اس چھوٹے کام کو اوروں کے لیے چھوڑ دیا جائے۔ وہ کہتا
’’حکومت اور حکم رانی تو چھوٹے کام ہیں ؛ میرا منصب ان سے بڑا ہے۔ ‘‘
کج فہموں نے اس کی اس بات کو مان لیا تھا اور اس کے ساتھ ہو بھی لیے۔ ان نادانوں کی تعداد میں روز بہ روز اضافہ ہوتا چلا گیا۔ ۔ ۔ جوں جوں یہ طبقہ بڑھتا گیا بہروپیے کی طاقت بھی بڑھنے لگی۔ پھر اس نے اپنی اسی حکمت کے تحت شہر پر قبضہ کر لیا۔ وہ جو کہتا تھا کہ حکومت اور حکم رانی سے مجھے کوئی نسبت نہیں باقاعدہ حکمران ، بل کہ جابر حکمران بن بیٹھا۔ اس نے اپنے معاون کے کہنے پر چن چن کر ان لوگوں کو خس و خاشاک بنایا جو ان کی راہ میں رکاوٹ بن سکتے تھے مگر۔ ۔ ۔ 
	مگر اب اسے سونے میں چلنے یا پھر چلتے میں سونے کی عادت ہو گئی تھی۔ رات رات بھر وہ عام لوگوں کی طرح سو نہیں سکتا تھا۔ ۔ ۔ اور ایسے عالم میں جب وہ خود کلامی کرتا تو  اس کے گھر والے اس کی ہذیان گوئی پر اپنے کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیتے۔ دل ہی دل میں اس پر لعنت بھیجتے اور پھر اس کی یہ خود کلامی اس کے گھرکی دیوار پھلانگ کر باہر نکل آئی۔ ۔ ۔ سڑکوں اور گلیوں پر پھیل گئی اور اب اسے اپنی بھی خبر نہیں رہی تھی۔ ۔ ۔ ! شیطانی طاقت اس سے چھن چکی تھی اور اس کے معاون نے ایک اور IMPOSTOR کا تقرر کر دیا  تھا۔ ‘‘
وہ خاموش ہوئے تو سائل نے عرض کیا، جناب آپ نے تو ساری بات کو اُلجھا کر رکھ دیا ہے میں نے تو صرف اتنا پوچھا تھا کہ ’’بادشاہ مکر م‘‘ نے جاپانی وزیر اعظم جونی شیرو کوئی زومی کو ملّا محمد عمر کی بابت جو لطیفہ سنایا ہے اس پر آپ کا کیا رد عمل ہے۔ ۔ ۔ ؟ جس کے جواب میں آپ نے فرضی داستان سنا ڈالی۔ بزرگ بولے 
’’کہانی کوئی بھی فرضی نہیں ہوتی۔ ۔ ۔ اور کوئی کہانی عبرت سے خالی بھی نہیں ہوتی۔ میں تمھارے سوال کا جواب وضاحت سے دے چکا ہوں ، مگر ایک بات تمھارے سامنے اور بھی رکھتا ہوں۔ ہیو گو شاویز نے بش کو بر سر عام شیطان کہا۔ ۔ ۔ بہ قول شاویز کے 
’’ شیطان اور اس کی قوتیں خیر کا تعاقب کر رہی ہیں۔ ‘‘
بزرگ خاموش ہوئے۔ ۔ ۔ اپنی چادر اُٹھا کر کاندھے پر رکھی اور چلے گئے۔ ۔ ۔ 
ریڈیو پر خبر نگار کی آواز آئی
’’آج فلوجہ، تکریت، بغداد اور بعقوبہ میں امریکی افواج کی فائرنگ سے سات سوکے قریب شہری جاں بہ حق ہو گئے۔ ۔ ۔ اُدھر افغانستان کے علاقہ زابل میں بھی امریکی بمباری سے سیکڑوں شہریوں کی ہلاکت کی اطلاع آئی ہے اور پاکستان کے قبائل میں جھڑپوں سے سینتالیس شر پسند ہلاک اور چھ سیکورٹی اہل کار شہید ہو گئے ہیں۔ ‘‘

٭٭٭
 
گُم راہ



	میرے پاس کر نے کے لیے کچھ نہیں تھا۔ کتابیں اُلٹتے پلٹتے کافی وقت گزر گیا۔ ۔ ۔ مگر چین آ کے ہی نہیں دیا۔ ایک کے بعد ایک کتاب اُٹھاتا۔ سرورق دیکھتا۔ ۔ ۔ اور پھر واپس رکھ دیتا۔ تب بیزاری کے عالم میں گھر سے نکل کر شہر میں بہتے ہوئے آدمیوں کے ریلے کے ساتھ میں بھی بہہ گیا۔ آدمیوں کے ہجوم میں ایک لمحہ کے لیے میں نے محسوس کیا جیسے میں اپنی شخصی شناخت کھو چکا ہوں اور ایک بے ہنگم و بے مقصد بھیڑ کا جزو بن کر رہ گیا ہوں۔ ۔ ۔ مگرایسا نہیں تھا۔ میں آنے جانے والوں کے چہروں کو دیکھ کر ان پر اُمڈتے ہوئے آثار و جذبات کو سمجھ سکتا تھا۔ ۔ ۔ 
	کہیں بہت زیادہ اطمینان تھا۔ ۔ ۔ اور کہیں تفکر ات کے سائے بڑھ رہے تھے۔ بازار میں آزاد اور خود مختار تانگوں کی ریل پیل، رکشوں کی چنگھاڑ، سائیکلوں اور بغیر سائیلینسر موٹر سائیکلوں کی آمدورفت ایک عجیب بیزاری پیدا کر رہی تھی۔ ۔ ۔ میں نے محسوس کیا جیسے ہر شخص جلدی میں ہے اور اپنے کاموں کو جلد سے جلد نبٹانا چاہتا ہے۔ گویا حشر کا وقت قریب آیا چاہتا ہو۔ دکاندار (اکثر و بیشتر) بڑے خریداروں کی خوشامدوں میں مگن اور معمولی رقم رکھنے والے گاہکوں سے بے نیازی برت رہے تھے۔ کوچوان ظاہری لباس سے اندازہ لگا کر چلنے والوں کو سوار ہونے کی پیش کش کر رہے تھے۔ ۔ ۔ ٹھیلے والے اپنی چیزیں بیچنے کے لیے اونچی اونچی آوازیں لگا رہے تھے۔ 
	یہ لکھنؤ کا بازار نہیں تھا۔ ۔ ۔ جہاں کے خوانچہ فروش ادب کی تمام منازل سے آشنا ہوتے تھے۔ ۔ ۔ سو، بے ترتیب، سخت ، کٹھور آوازیں کانوں کے پردے چیر کر رکھ رہی تھیں۔ ایک گلی سے دوسری اور پھر تیسری گلی سے نکلتا ہوا شہر کا شہر چھان مارا۔ جس جس جگہ سے گزرا ایک ہی کیفیت میں سب کو مبتلا پایا۔ وہی جلد بازی اور نفسانفسی کا عالم اور  خود غرضی اور بے جہتی کے مناظر۔ ۔ ۔ میں چلتا گیا۔ ۔ ۔ چلتا گیا۔ ۔ ۔ چلتا گیا۔ دفعتاً مجھے اپنے کندھوں پر کسی ہاتھ کا لمس محسوس ہوا۔ مڑ کر دیکھتا ہوں تو ایک دیرینہ جان کار ہے۔ ہاتھ ملایا، مگر دل کہاں ملتے ہیں اور ملتے بھی کیسے ، میں بھی اسی بے کراں بھیڑ کا حصہ ہوں جو ریلے کی صورت شہر میں بہہ رہا ہے۔ پوچھا گیا کیا خریدنے آیا ہوں ، جواب دیا کچھ نہیں۔ ۔ ۔ تو کہا گیا
’’آپ اور بازار میں بلاوجہ؟ کچھ سمجھ نہیں آیا‘‘
میں نے کہا
’’بس کچھ ایسا ہی ہے ‘‘
 اور دوبارہ ہاتھ ملا کر اس سے رخصت ہو جاتا ہوں۔ اس بے کار گھوما گھومی میں نہ جانے کتنا وقت صرف ہوا۔ ۔ ۔ اور پھر کس لمحہ میں شہر کے سو سالہ پرانے وسیع و عریض اسکول میں داخل ہوا۔ ’’بزم آرائی‘‘ جاری تھی۔ ملکی سیاست، مذہب، سائنس، ایجادات و اختراعات، سماجیات، علم و ہنر ، عقل و شعور سمیت بے شمار موضوعات پر گفتگو ہوتی رہی۔ محفل کے شرکا ، کیا کچھ کہتے رہے ، کچھ یاد نہیں۔ ۔ ۔ 
بیزاری نے گھر چھڑوایا ، بازار اور اب اسکول کی فضا تنگ ہو رہی تھی۔ اسی عالم میں مسجد سے مؤذن کی آواز بلند ہوئی۔ ۔ ۔ ایک گھڑی کے لیے سب لوگ خاموش ہوئے اور پھر سلسلۂ کلام جوڑ دیا۔ کچھ لوگ مغرب کی نماز کے لیے اُٹھے۔ ۔ ۔ ایک پل کی تاخیر کیے بنا میں بھی صف میں موجود تھا۔ 
	’’مَثَلُ الَّذِینَ ینفِقُونَ اَموَالَھُم فِی سَبیلِ اللّٰہِ، کَمثَلِ حَبَّۃٍ، اَنبَتِت سَبعَ سَنَابِلَ، فِی کُلِّ سُنبُلَۃٍمّاِ ئَۃُ حَبَّۃٍ، وَاللّٰہُ یضٰعِفُ لِمَن یشَآ ئُ، وَاللّٰہُ وَاسِعٌ عَلِیمٌ۔ ‘‘
پیش امام سورہ البقرۃ کی مذکورہ آیت تلاوت کر تے ہیں۔ نماز ختم ہوتی ہے۔ شہر میں آدمیوں کا ہجوم جوں کا تو ں ہے۔ میں پیدل چلتے چلتے اپنے محلہ تک پہنچ آتا ہوں۔ میرا پڑوسی کسی شخص کے ساتھ محوِ گفتگو ہے۔ میں نرمی سے 
’’ا سلام علیکم‘‘
کہہ کر گزر جاتا ہوں ، مگر پیچھے سے پکارا جاتا ہے 
 ’’سنیے ! ‘‘
میں اُلٹے پاؤں مڑتا اور کہتا ہوں 
’’جی فرمایئے ‘‘
اجنبی کہتا ہے 
’’میں اس محلّے کی آخری گلی کے بیچ والے مکان میں رہتا ہوں۔ چا لیس سال محنت مشقت کی۔ ۔ ۔ اور زندگی کو کاٹنے کے جتن کیے۔ جیسے مقرر تھی گزرتی گئی۔ گزشتہ دنوں میری بیٹی کی رخصتی ہوئی۔ قرض لے کر بیٹی کو رخصت کیا۔ میں شہر کے ناظم اور عشر و زکوٰۃ کمیٹی کے چیئرمین کے پاس گیا۔ اُن سے درخواست کی، مگر ایک ماہ گزرنے کے باوجود کوئی پیش رفت نہ ہوئی۔ قرض خواہ جان کو ا رہے ہیں۔ میں بار بار بیت المال اور عشر و زکوٰۃ کمیٹی کے مقامی سربراہ کے پاس جا رہا ہوں۔ ۔ ۔ اور اب مجھے یہ محسوس ہو رہا ہے کہ وہ لوگ مجھ سے اُکتا گئے ہیں اور شاید میری مدد نہیں کرنا چاہتے۔ ‘‘
وہ ایک دم خاموش ہوا۔ اپنی قمیص کی داہنی جیب میں ہاتھ ڈالا اور ایک کاغذ میری جانب بڑھاتے ہوئے کہنے لگا
’’آپ سوچیں گے میں جھوٹ بک رہا ہوں ، بہانہ بنا رہا ہوں یا پھر بھکاری ہوں۔ ۔ ۔ ایسا نہیں ہے۔ یہ دیکھیے ! یہ میری بچی کا نکاح نامہ ہے۔ ‘‘
ایک پل کے لیے جیسے وقت کی نبضیں چلنا بھول جاتی ہیں۔ ۔ ۔ تب وہ رونے لگتا ہے اور روتی ہوئی آواز میں کہتا ہے 
’’میرے بچے آٹھ پہر سے بھوکے ہیں ، میرے پاس اتنے پیسے نہیں ہیں کہ زہر خرید کر کھا سکوں۔ ۔ ۔ میں نہیں جینا چاہتا ہوں۔ ۔ ۔ میں نہیں جینا چاہتا ہوں۔ ‘‘
میرے دل کے ایک کونے میں درد کی لکیر ارتعاش پیدا کرتی ہے۔ میں اسے تسلی دینے کی کوشش کرتا ہوں۔ صبر کی تلقین کرتا ہوں ، زندگی کی اہمیت سے آگاہ کرتا ہوں۔ میرے دماغ میں مغرب کی نماز میں تلاوت کی گئی آیت کا ترجمہ
’’اللہ کی راہ میں خرچ کر نے والوں (کے اس عمل ) کی مثال اُس دانے کی سی ہے جس سے سات با لیں نکلیں ، اس طرح کہ ہر بال میں سو دانے ہوں۔ اللہ جس کے لیے چاہتا ہے ، بڑھا دیتا ہے۔ اور اللہ بڑی وسعت والا ہے ، وہ ہر چیز سے واقف ہے۔ ‘‘
لفظ بہ لفظ جاگتا ہے۔ میں اس کا ہاتھ پکڑ کر دباتا ہوں۔ ۔ ۔ اور اس سے ٹھہرنے کی درخواست کر کے گھر آتا ہوں اور خاتون خانہ سے کہتا ہوں 
’’کھانے میں جو کچھ تیار ہے دے دیں ‘‘
پھر ماحضر اس کی خدمت میں پیش کرتا ہوں۔ ۔ ۔ اور آنسوؤں کی ایک لڑی میری آنکھوں سے جاری ہو جاتی ہے۔ میرا پڑوسی اپنی جیب سے کچھ نقدی نکال کر اس کے ہاتھ پر رکھتا ہے ؛ جسے وہ بہت حجت کے بعد قبول کرتا ہے۔ میں اجنبی کے سامنے عرض کرتا ہوں 
’’صبح میں ناشتا لے کر حاضر ہو جاؤں گا اور ان شاء اللہ میں آپ کے ساتھ چیئرمین زکوٰۃ کمیٹی اور ناظم کے پاس بھی جاؤں گا۔ ‘‘
وہ ’’جی۔ ۔ ۔ ‘‘کہتا ہوا چل دیتا ہے۔ 
	میری رات یوں کٹتی ہے جیسے آگ کے بستر پر کسی نے ڈال دیا ہویا پھر وجود کے اُوپر کسی نے بھاری چٹان رکھ چھوڑی ہو۔ ۔ ۔ میں صبح اپنے ناواقف محلے دار کے دروازے پر دستک دیتا ہوں تو ایک معصوم اپنی آنکھیں ملتا ہوا باہر آتا ہے۔ میں اس کے والد کا پوچھتا ہوں تو وہ بتاتا ہے کہ
 ’’ابا تو  صبح ہی کہیں چلا گیا تھا‘‘
میں ناشتا اس کے ہاتھوں میں تھما کر لوٹ آتا ہوں۔ میں نے سوچا اگر ہمیں کوئی دنیاوی سودے بازی میں ایک کے بدلہ میں سات سوکی پیش کش کر ے تو ہم تمام قوت لگا کر نہ صرف قبول کریں گے۔ ۔ ۔ بل کہ دوسروں کے سروں سے گزریں گے ، مگر یہاں معاملہ اور ہے۔ ہماری کج فہمی اور نالائقی ہمیں حقیقی فائدے تک پہنچنے نہیں دیتی۔ میں اپنے آپ کو ملامت کرتا رہا اور اس معاشرہ کی بے حسی پر کڑھتا رہا ، جس کا میں بھی فرد ہوں۔ میں نے حضرت عمر فاروقؓ کے مثالی عہد کو یاد کیا ، جس میں کسی کتے کے بھوکا رہ جانے کا غم امیرالمومنین کو چین نہیں لینے دیتا تھا۔ ۔ ۔ مجھے وہ بدو یاد آتا ہے جو امیرالمومنین سے قمیص کا حساب مانگتا ہے۔ اذیت کا بارِ گراں بڑھتا گیا اور میرا سر ندامت سے جھکتا رہا۔ ۔ ۔ میں بھی تو  آدمیوں کی اسی بھیڑ کا حصہ ہوں ، جو شہر میں کسی ریلے کی صورت بہہ رہا ہے۔ اور وہ لیاقت آباد ، لاہو رکا چا لیس سالہ فدا حسین جو غربت اور بیماری سے اُکتا کر خود کو ختم کر بیٹھا ہے۔ اس کے پاس دوا لینے کے لیے پیسے نہیں تھے۔ ۔ ۔ مگر زہر کے لیے تھے۔ 
	گم راہ تھا وہ ، کیوں کہ خودکشی حرام ہے۔ ۔ ۔ ظلم کیا اس نے اپنی جان پر۔ ۔ ۔ خیانت کی اس نے۔ ۔ ۔ مگر۔ ۔ ۔ تو  کیا وہ اکیلا دوزخ میں زقوم پیے گا۔ ۔ ۔ ؟ 

٭٭٭	 
 

پرانا منظر



	’’اسکندر کا نام تم نے ضرور سن رکھا ہو گا، اس کی فتوحات کا سلسلہ دنیا تک پھیلا ہوا تھا۔ اس کی ہیبت سے انسان لرزاں رہتے تھے ، ملکوں کے سربراہ اس کا نام سن کر چکر ا جاتے تھے۔ جو دم خم ظاہر کرتا وہ کچلا جاتا تھا اور جو زندہ رہنا چاہتا وہ اس کا تابع فرماں ہو جاتا۔ ہلاکو اور چنگیز کی کہانیاں بھی تو تم نے سن رکھی ہوں گی۔ ۔ ۔ اور ہٹلر کو تو  تم جانتے ہی ہو گے ؟ وہی نازی آمر ایڈولف ہٹلر جس نے دوسری جنگ عظیم میں اپنی سربراہی میں قائم کیے گئے کیمپوں میں مقیم لاکھوں یہودیوں کا صفایا کر دیا تھا۔ جس نے روس نواز ہندوستانی راہ نما سبھاش چندر بوس کو ہندوستان کی آزادی کے لیے ان قیدیوں پر مشتمل فوج بنانے میں مدد دی تھی جنھیں جنرل رومیل نے اتحادی افواج کے لیے لڑنے پر گرفتار کیا تھا۔ اور اسی ہٹلر کی ہیبت ناکی سے دنیا کا سکون غارت ہو کر رہ گیا تھا۔ ۔ ۔ مگر وہ لمحہ بھی آیا جب اس نے اپنے ہاتھوں اپنی زندگی کا چراغ گل کر دیا۔ اور اب بش کی وحشت ناکیوں سے انسان کا سکون برباد ہو کر رہ گیا ہے۔ پُر امن رہنے والے بے گناہ لوگوں کو ان کے گھروں کے اندر موت کی وادی میں دھکیلا گیا۔ بغداد کے گلیوں سے شروع ہونے والے ظلم کا سفر کابل اور اس کے نواحی علاقوں کو محیط ہو گیا۔ خون کے ذائقہ سے زبان عادی ہو گئی تھی، اس لیے صبر نہ ہو سکا اور اب پاکستان کے قبائلی علاقوں میں دندناتا پھر رہا ہے۔ ہزاروں کا خون پی چکا ہے ، مگر ہنوز پیاسا ہے۔ پہلے طالبان کی یہاں موجودگی کا بہانہ بنا کر یہاں نکل آتا تھا اور اب براہِ راست اسامہ کی یہاں موجودگی کا الزام لگا کر آیا کھڑا ہے۔ بے گناہ انسانوں کو ان کی اپنی زمین پر روند دینا چاہتا ہے۔ 
 ہاں۔ ۔ ۔ ! میں جانتا ہوں بش بھی اسکندر کی طرح دنیا کو فتح کر نے کے خواب دیکھ رہا ہے۔ اسی پر کیا موقوف عراق میں شب خون تو اس کے باپ نے مارا تھا اور اس کے پیش رو، ویت نام میں بھی تو اُترے اور لڑے تھے ، مگر۔ ۔ ۔ مگر کیا ہوا، کیا ہوتا ہے ؟ کسی کو بھی اپنی سانس پر قدرت نہیں ، کوئی بھی اپنی مرضی سے اپنی زندگی کو طول نہیں دے سکتا۔ اسکندر نہیں رہا ، چنگیز ، ہلاکو اور ہٹلر بھی۔ ۔ ۔ تو بش کیوں کر رہ سکتا ہے۔ البتہ تاریخ کے اوراق پران کے مظالم کی تصویریں اب بھی ملتی ہیں اور انسان اب بھی ان کے نام سن کر ناگواری ظاہر کر تے ہیں۔ ‘‘
 احسان الٰہی صاحب کاسلسلۂ کلام دفتر میں آنے والے ایک شخص نے کچھ دیر کے لیے معطل کر دیا تھا، سلسلہ بہ حال ہوا تو  کہنے لگے :
	’’انقلابی راہ نما سبھاش چندر بوس ہندوستان کو آزاد دیکھنا چاہتا تھا۔ اس کی آزادی کی خاطر وہ گیارہ مرتبہ برطانوی حکومت کے ہاتھوں پا بہ زنجیر ہوا اور آخرکار ایڈولف ہٹلر کے کہنے پر ہندوستان سے فرار ہو کر جرمنی چلا گیا۔ جس طرح کہ سبھاش چندر بوس کی فوج بنانے میں ہٹلر نے معاونت کی تھی، اسی طرح اس نے اسے ہندوستان کا جلاوطن راہ نما بھی تسلیم کر نے کا عندیہ دے رکھا تھا۔ ۔ ۔ مگر جب روس نواز اس ہندوستانی انقلابی پر ہٹلر کے سویت یونین سے ٹکرانے کے عزائم ظاہر ہوئے تو وہ وہاں سے فرار ہو کر جاپان چلا گیا۔ 
	تم جانتے ہو ہٹلر نے اسے ہندوستان کا حکمران تسلیم کر نے کا عندیہ کیوں دیا تھا ؟ اس لیے کہ وہ اتحادی افواج پر ظاہر کرنا چاہتا تھا کہ ’’ہٹلر کی طاقت ہندوستان تک پھیلی ہوئی ہے ‘‘ اسے ہندوستان اور اس کے عوام کی غلامی یا آزادی سے کوئی مطلب نہیں تھا، بالکل اسی طرح بش کے پیشواؤں نے کیا اور اب وہ خود کر رہا ہے۔ عراق، افغانستان اور پاکستان کی ترقی اور خوش حالی سے اسے کوئی دل چسپی نہیں اور نہ ہی ان ممالک کے راہ نماؤں سے۔ ۔ ۔ اگر ہے تو اسے اپنے ذاتی مقاصد سے۔ جنھیں حاصل کر نے کے لیے گاہے وہ ’’امداد‘‘ دیتا ہے اور گاہے دھمکیاں۔ جب ان سے کام بن نہیں پڑتا تو  بلا روک ٹوک ان ممالک پر چڑھ دوڑتا ہے۔ ‘‘
	’’تم ہٹلر کا پوچھتے ہو! ہٹلر بہت منظم شخص تھا۔ نازی افواج کے کاندھے اس کے لیے ایسے استعمال ہوئے جیسے خود اس کے اپنے ہوں۔ اس کے ساتھی ایسے تھے کہ اس کے اَبرو کی جنبش پر جان وارنے کو تیار رہتے۔ چٹانوں سے ٹکرا جاتے ، مگر پیچھے نہ ہٹتے۔ ہٹلر کے نظم و ضبط کا اندازہ اس سے کر و کہ اس کے پروپیگنڈا چیف جوزف گوبلز (جو ہٹلر کے مرنے کے بعد نازی افواج کا خود ساختہ سالار بنا) کی بیوی نے اپنے چھ کم سن بچوں کو زہر دے کر ہلاک کر دیا تھا اور خود بھی زہر کھا لیا تھا، تا کہ مخالف افواج کی قید میں نہ آئے۔ یہی نہیں اس کے اکثر ساتھیوں نے خود اپنے ہاتھوں اپنی جان پر گولیاں چلائیں اور بعض بھاگ نکلے مگر۔ ۔ ۔ مگر انھیں میں اس کا ایک انتہائی قریبی ساتھی ، فوج کا اعلیٰ افسر سٹوفن برگ جو جرمنی کے رئیس خاندان سے تعلق رکھتا تھا۔ ۔ ۔ بھی شامل تھا۔ اس شخص نے 22 جولائی1944ء کو مشرقی پروشیہ (اب پولینڈ) میں واقع ہٹلر کے دفتر میں بریف کیس کے اندر بم نصب کر کے رکھ دیا تھا۔ وہ تو  ہٹلر کا جینا باقی تھا، اس لیے بچ گیا اور پھر اس دھماکا کے صرف چند گھنٹوں کے بعد ہٹلر نے سٹوفن برگ اور اس کے ساتھیوں کو گرفتار کروا کے تختہ دار پر لٹکا دیا تھا۔ 
	حیران ہونے کی ضرورت نہیں اب جرمن قوم ہٹلر کو ولن اور سٹوفن برگ کو ہیرو سمجھتی ہے۔ 20جولائی 2004ء کو جرمن چانسلر نے برلن میں ہزاروں افراد اور ملک کے صدر کے ساتھ مل کر سٹوفن برگ اور اس کے ساتھیوں کو خراج عقیدت پیش کر نے کا اہتمام کیا تھا۔ اب 18اگست 2006ء میں ممبئی میں شا کر صدیقی اور اس کے ہندو ساتھی نے مل کر ’’ہٹلر کر اس‘‘ کے نام سے کیفے کا افتتاح کیا تو اسرائیلی قونصلر جنرل ڈینیل زونشائین نے برہمی ظاہر کی۔ اس کا حق بنتا تھا ، مگر ہندوستان میں موجود جرمنی قونصلر جنرل نے بھی کیفے کو ہٹلر کے نام منسوب کر نے پر افسوس کا اظہار کیا۔ گویا ہٹلر خود جرمنوں میں بھی ناپسندیدہ ٹھہر چکا ہے۔ 
	ٹھیک ہے کچھ لوگ ہٹلر کے حامی ہو سکتے ہیں اور ہونے بھی چاہییں کہ شر اور خیر کی طاقتوں کا سفر ساتھ ساتھ رہتا ہے ، مگر ضروری نہیں جو ہٹلر کا نام لے وہ اس کے نظریات اور فلسفے کی حمایت بھی کرتا ہو۔ تم یہ کیسے کہہ سکتے ہو، جن لوگوں نے ہٹلر کے ہاتھوں کی بنی ہوئی پینٹنگز اور اسکیچ 2 لاکھ 24 ہزار ڈالرز میں انگلینڈ کے نواحی قصبہ میں خریدے ہیں۔ ۔ ۔ وہ ہٹلر سے عقیدت رکھتے ہیں ، مگر ممکن ہے یہ لوگ بھی سٹوفن برگ کی طرح ہوں۔ ۔ ۔ 
	 وہ جو خود کو طاقت کا سر چشمہ سمجھنے لگا تھا۔ ۔ ۔ مگر آخر آخر اپنے آپ سے خوف کھانے لگا۔ ہٹلر کی ذاتی نرس 93سالہ ایرنا فلیگیل نے 2 مئی2005ء  کو اپنے انٹرویو میں بتایا تھا کہ ایڈولف  ہٹلر آخری دنوں میں بہت زیادہ خوف زدہ تھا۔ اسے یہ بھی دھڑکا لگا رہتا تھا ، کہیں جاسوس اس کے زہریلے کیپسولوں سے زہر نکال کر نقلی زہر نہ ڈال دیں اور وہ زندہ بچ جانے پر دشمنوں کے ہتھے چڑھ جائے۔ دشمنوں کی طرف سے ممکنہ اذیت کا تصور اس کے لیے ناقابل برداشت تھا۔ ‘‘
’’آپ کے خیال میں ہٹلر ہیرو تھا یا ولن؟ ‘‘ 
میں نے سوال کیا، جس کے جواب میں انھوں نے کہا
’’راشد منہاس شہید کے حوالے سے نذیر ناجی کا کالم تم نے ضرور پڑھا ہو گا، میرا جواب وہی ہے۔ ‘‘
احسان الٰہی صاحب خاموش ہوئے تو میں نے اپنا سوال دہرایا جس کے جواب میں کہنے لگے 
’’میں سمجھتا ہوں کوئی بھی شخص اعتدال کی حدیں تجاوز کرتا ہے وہ خیر کا ساتھی نہیں ہو سکتا، اب ہیرو اور ولن کا لیبل خود لگا لیجیے۔ ‘‘
	احسان صاحب چلے گئے ہیں اور میں۔ ۔ ۔ پرانے اور نئے منظر کے درمیان کی گم شدہ کڑیاں تلاش کر رہا ہوں۔ 
٭٭٭ 
روبوٹ 

	 شہروں میں تماشے ہوتے رہے ہیں۔ آنکھوں والے دیکھتے اور مستقبل کے امکانات سے آگاہ کرتے رہتے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ کوئی اس روشنی سے فیض یاب ہوتا ہے یا نہیں ، مگر اب کہ جو یہ نیا تماشا دیکھنے کو ملا ہے اپنے اندراس قدر جاذبیت رکھتا ہے کہ ہر کوئی اس جانب کھنچا جا رہا ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے پوری قوم اس تماشے کے سحر میں آ گئی ہے اور اسی عمل کو اپنا رہی ہے جو تماشا دکھانے والا چاہتا ہے۔ تماش بینوں میں چند ایک ایسے ضرور ہیں جو ظاہر کیے جانے والے منظر کے پس منظر میں جھانکنے کی قوت رکھتے ہیں اور اس تماشے کے اصل سے آگاہ ہو کر دوسروں کو بیدار کرنا چاہتے ہیں ، تماشے کے طلسم سے نکالنا چاہتے ہیں۔ تاجدار عادل بھی ان تماش بینوں میں شامل ہیں جو کھلی آنکھوں سے تماشے کے منظر اور پس منظر کو دیکھ کر مستقبل کے امکانات کی خبر دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں 
تم بھی دیکھو جو ہم نے دیکھا ہے 
شہر میں اک نیا تماشا ہے 
	کام یاب تماش گروہ ہے ، جو اپنے تماش بینوں کو شیشے میں اُتار کر من چاہی فضا قائم کر لے۔ شہر کا  نیا تماش گر بھی انتہائی زیرک اور مکار ہے ، اپنے فن پراس قدر قادر ہے کہ کئی مستقل تماش بینوں اور نام ور تماش گروں کو بھی اپنے جادو کا اسیر کر لیا ہے۔ بڑے بڑے جغادری چاروں شانے چت دکھائی دے رہے ہیں۔ تاہم کھلی آنکھوں والے اس کی مکاری عیاں کر رہے ہیں ، قوم کو جگانے کے عمل سے گزر رہے ہیں۔ 
	واقعہ یہ ہے جب نیا مداری فصیل شہر کو گرا کر شہر میں داخل ہوا تو شہر والوں نے بجائے اس کاراستہ روکنے کے اسے پھولوں کے ہار پہنائے ، اس کا شان دار استقبال کیا، اس کے قدموں تلے ہتھیلیاں رکھیں ، اس کے اشاروں پر رقصِ نجات پیش کیا، اسے مسیحا سمجھا ، اسے فرشتہ جانا، فاتح مانا، دلوں کی سرزمین کا والی گردانا۔ مگر تھے کچھ۔ ۔ ۔ جنھوں نے شہر کی دیوار توڑنے والے گھس بیٹھیے کو بُرا بھلا کہنے کے ساتھ ساتھ  شہر والوں کی کور چشمی کا ماتم کیا۔ انھیں اندھے پن سے چھٹکارا دلانے کی جد و جہد شروع کی اور اس کوشش میں اپنی اور اپنے ساتھیوں کی جانیں تک قربان کر بیٹھے۔ انھیں پا بہ جولاں کر چکے ، انھیں نذرِ زنداں کر گئے۔ ۔ ۔ لیکن ان کی کھلی آنکھیں مزید روشن ہو گئیں وہ قوم کو جگانے کے عمل میں اور زیادہ مستعد اور متحرک ہو گئے۔ تماش بینوں میں سے بعض ان کی آواز پر اب جاگ رہے ہیں ، مگر اکثریت مداری کے سحر میں مبتلا ہو کر اس کے بتائے ہوئے عمل پر کار بند ہے۔ یہ عمل جو انھیں تباہی کی طرف لے جا رہا ہے۔ یہ عمل جو انھیں ذلت و رسوائی کی طرف لے جا رہا ہے۔ یہ عمل جو ان سے ان کی شناخت چھین رہا ہے۔ یہ عمل جو ان کی زبان و تہذیب اور مذہب و اقدار کو ملیامیٹ کر رہا ہے۔ یہ عمل جو ان کے چہروں پر سیاہی مل رہا ہے ، ان کے چہروں کو مسخ کر رہا ہے۔ 
	ہائے بدبختی ! یہ تماشے کے خمار سے نہیں نکل رہے۔ اور جب ان کی پلکوں سے پتھروں کی بھاری سلیں سرکیں گے ، ان کے دماغوں پر پڑا اندھیرا چھٹے گا، تو بہت دیر ہو چکی ہو گی۔ مداری بدل چکا ہو گا، تماشا بدل چکا ہو گا، ماحول بدل چکا ہو گا، روایت بدل چکی ہو گی ، اقدار بدل چکی ہوں گی، چہرے بدل چکے ہوں گے ، زبان بدل چکی ہو گی۔ ایسے میں یہ تماش بین کسی نئے تماشے میں کھو جائیں گے اور پھر ان کی زندگیاں تماشوں میں گزرتی جائیں گے۔ دنیا کے سب کام، آخرت کے سب جام، ان سے چھٹ جائیں گے۔ پانی کے رُخ پر بہتے جائیں گے۔ ۔ ۔ بہتے جائیں گے اور راہ میں آنے والے پتھروں سے ٹکرا ٹکرا کر اپنے چہروں کو مسخ کر بیٹھیں گے۔ آئینہ ان اسے ان کی پہچان تک چھین چکا ہو گا۔ میں اس وقت کو سوچتا ہوں تو  لرز۔ ۔ ۔ لرز جاتا ہوں۔ میری آوازیں مدھم ہو جاتی ہیں۔ ایک گھٹن سی پورے ماحول پرچھائی ہوئی محسوس ہوتی ہے ، اسی عالم میں شہر کے کسی کونے سے صدا بلند ہوتی
 ’’تماش بینو! جاگو، طلسم سے نکلو، مداری مکار ہی نہیں دھوکے باز بھی ہے۔ ‘‘ 
جب یہ گونج میری سماعتوں سے ٹکراتی ہے تو مجھے اپنے ہونے کا احساس ہوتا ہے ، مجھے نئی زندگی کی نوید ملتی ہے ، میں سوچتا ہوں کہ تماش بین اب زیادہ دیر تک مدہوش نہیں رہ پائیں گے۔ مہینوں میں نہیں ، ہفتوں میں نہیں ، دنوں میں نہیں ، گھنٹوں میں نہیں ، منٹوں میں نہیں ، لمحوں میں بیدار ہو جائیں گے اور ایک نعرۂ مستانہ لگا کر مکار، دھوکے باز مداری کو دبوچ لیں گے۔ اس سے پل پل کا حساب لیں گے۔ اس سے جان جان کا حساب لیں گے۔ اس سے بات بات کا حساب لیں گے ، اس سے گل گل کا حساب لیں گے ، اس سے پات پات کا حساب لیں گے ، اس سے خار خار کا حساب لیں گے۔ یہ آب و گل جب اس کی مکاریوں کی داستان سنائیں گے تو جاگنے والے کیا کچھ نہیں کر گزریں گے ؟ 
	مگر یہ کیا یہ سب تو میرے تصورات ثابت ہوئے۔ ظلم جاری و ساری ہے ، تاریکیوں اور تباہیوں کے دن اسی طرح سے ہیں۔ تماش بین تو تماش گزار کے طلسم میں پہلے سے زیادہ کھو چکے ہیں۔ اب تو جاگنے والوں کی آوازیں بھی مدھم۔ ۔ ۔ اور مدھم اور پھر معدوم ہوتی جا رہی ہیں۔ یوں لگتا ہے جیسے وہ بھی مداری کے سحر میں آنے لگے ہیں۔ ان کی زبانیں خاموش ، ان کے قلم ساقط اور ان کی نگاہیں پتھر ہونے کو آئی ہیں۔ ان کے چہرے بھی پیلے پڑنے لگے ہیں۔ 
	 نہیں ، نہیں۔ ۔ ۔ اس طرح تو ہم سب اپنی اصل سے ہٹ جائیں گے۔ ہم اپنی شناخت کھو بیٹھیں گے ، ہمارے چہرے مسخ ہو جائیں گے۔ جاگنے والوں کو جاگنا ہو گا۔ ہمارے سامنے اس عظیم انسان کے مثال موجود ہے جس نے مکاروں سے نبٹنے کے لیے میدان لگایا اور بھوک سے نڈھال ہو کر اپنے پیٹ پر پتھر باندھے ، مگر میدان نہیں چھوڑا۔ لڑتا رہا۔ ۔ ۔ اور جیتا رہا ہے۔ اس کے ماننے والے ایک سے دو، دوسے چار اور چار سے تین سو تیرہ ہوئے اور اب ان کی تعداد ایک ارب سے زیادہ ہے۔ کیا یہ سب سو چکے ہیں ؟ کیا انھیں روبوٹ بنا دیا گیا ہے ؟ کیا یہ اب کبھی ہوش میں نہیں آئیں گے ؟ 

٭٭٭
 

کشکول



	زندگی کا پہیہ جوں توں کر کے گھسٹ ہی رہا تھا، روکھی سوکھی بھی مل جاتی تو وہ صبر ، شکر کر کے پیٹ بھر لیتا۔ خدا نے اُسے بچے بھی بہت شکیب آشنا دیے تھے۔ ایک وقت بھی کھا لیتے تو قناعت سے ، تشکر سے جیتے ، مگر اب نہ جانے کون سا آسیب تھا؛ جو اس کے خاندان پر سایہ فگن رہنے لگا تھا؟ چھوٹے بچے کی طویل بیماری کے بعد موت نے اسے نڈھال تو کر ہی دیا تھا، مگر اس کی بیماری کے دوران پیش آنے والے حادثات نے اُسے معاشرے سے بغاوت پربھی پوری طرح تیار کر دیا تھا۔ پہلے وہ لوگوں کی بے حسی کے قصے سنا کر تا، مگر اب تو اُس کے ساتھ لوگوں نے جو رویہ رکھا تھا وہ اس کے لیے ناقابلِ برداشت ہو چکا تھا۔ سرطان کے مرض نے یوں جڑیں پکڑیں کہ تن اور درخت ہو گیا اور وقت کی آندھیوں کے سامنے اس کا گھرانہ ٹھہر نہ سکا۔ پہلے پہل جب لطیف بیمار ہوا تو  وہ اُسے محلے کے نان کوا لیفائیڈڈسپنسر کے پاس لے گیا، جس نے بچے کی نبضوں کو ٹٹولنے کے بعد اُس کی دھڑکنیں کان رکھ کر سنیں اور دوسو روپے کے ’’نسخہ‘‘ اپنے پاس سے دے دیا۔ کچھ افاقہ نہ ہوا تو  دوبارہ اُسی سے رجوع کیا۔ ڈسپنسر نے  دو سو روپے مزید لے کر نسخہ تبدیل کر دیا، مگر بے چینی ایسی کہاں تھی جو تھمتی۔ وقت کے ساتھ ساتھ لطیف کی حالت بگڑتی رہی۔ مآلِ کار شہر کی بڑے سرکاری اسپتال کا رُخ کر تے ہی بنی۔ ۔ ۔ مگر یہاں آ کر اُس نے جس دنیا کو دیکھا وہ اُس کے گمان میں بھی نہ تھی۔ 
	لمبی قطار میں کھڑے کھڑے جب دو گھنٹے گزر گئے تو اُسے ڈاکٹر کے پاس پہنچنے کے لیے پرچی ملی۔ لاکھوں کی آبادی کے لیے قائم واحد سرکاری اسپتال میں صرف تین ہی تو  ڈاکٹر تھے ، جو اپنی اپنی  ڈیوٹیاں نبھا رہے تھے۔ اُن کا نمبر آیا تو  اسپتال آئے ہوئے اُنہیں چار گھنٹے گزر چکے تھے۔ گرمی اور پیاس نے باپ بیٹے کو بے حال تو کیا تھاہی۔ ۔ ۔ مگر ڈاکٹر کے رویے سے اُن پر سکتہ طاری ہو گیا۔ ڈاکٹر نے توجہ دیے بنا اور بچے کو دیکھے بغیر پرچی پر قلم گھسیٹا اور پرچی دلاور کے ہاتھ میں تھما دی۔ ۔ ۔ پھر ’’نیکسٹ‘‘ کا نعرہ بلند کیا۔ 
وہ جو اپنے بچے کو اتنی دُور سے علاج کی غرض سے لے کر شہر کی بڑی اسپتال آیا تھا رہ نہ پایا اور ڈاکٹر سے کہہ بیٹھا
 ’’ڈاکٹر صاحب! آپ نے تو اس کی نبض تک نہیں دیکھی اور دوا لکھ دی‘‘
 ڈاکٹر جو پہلے ہی اُکتایا ہوا بیٹھا تھا اُسے بے نقط سنا گیا
’’آ جاتے ہیں سرکاری اسپتال میں علاج کے لیے ، پرائیویٹ اسپتالوں میں جاؤ نا جو معائنے کا اتنا شوق ہے۔ جب ہزاروں میں فیس دو گے تو زبان نہیں چلاؤ گے۔ ‘‘ 
مرتا کیا نہ کر تا۔ منوں پر بھاری پاؤں گھسیٹتا ہوا اسپتال سے باہر نکل آیا۔ سڑک عبور کر کے میڈیکل اسٹور کی سیڑھیاں چڑھتے ہوئے اُسے یوں محسوس ہو رہا تھا گویا وہ کے۔ ٹوکی چوٹی سر کر رہا ہو۔ سیلزمین نے پرچی دیکھی اور پھر اس کے سراپے کا جائزہ لیتے ہوئے کہا 
’’چاچا۔ بارہ سو روپے کی دوا بنے گی، کیا دے دوں ؟ ‘‘
 اس کے حلق میں سانس اٹک چکی تھی، تھوک نگلنا بھی کارِ محال ٹھہر گیا تھا۔ نفی میں سر ہلاتے ہوئے سیڑھیوں سے لڑھکتا ہوا باہر آ گیا۔ 
	مہینہ بھرکی مشقت کے عوض اسے اکیس سو روپے ملتے ، جن سے وہ سات افراد پر مشتمل کنبے کے اخراجات چلاتا۔ انھی روپوں میں سے غمی خوشی نبھاتا اور پوشاک و پا پوش خریدتا۔ نصیبوں جلی بیوی نے جب خاوند اور بیٹے کو نا مراد واپس لوٹتے پایا تو  رو رو کر ہلکان ہو گئی۔ جھولی پھیلا پھیلا کر ڈاکٹروں کو بد دعائیں دیتی جاتی۔ ۔ ۔ اور آنسوؤں کو رزقِ خاک بنائے جاتی۔ جیسے تیسے کر کے میاں بیوی نے رات آنکھوں میں بتائی اور صبح کی پہلی کرن کے نکلتے ہی دلاور ترحم آمیز نظریں لیے اپنے دنیاوی مالک کے سامنے بیٹے کی بیماری کے لیے قرض مانگ رہا تھا۔ 
’’دلاور ! تم پہلے ہی مجھ سے پانچ ہزار روپے قرض لے چکے ہو، ابھی تک تم نے وہ نہیں لوٹائے اور اب مزید مانگ رہے ہو، اس طرح کام نہیں چلے گا۔ میں اب اور قرض نہیں دے سکتا۔ ‘‘
	اڑھائی مرلے کے ڈربے نما مکان میں ایسی کوئی چیز بھی نہیں تھی جسے وہ گروی رکھ کر اپنے بیٹے کا علاج کرواتا۔ بیوی کے گہنے تو بنے ہی نہیں تھے ، جنھیں بیچنے کا مرحلہ آتا۔ لے دے کر یہ مکان ہی تھا جو بہت بھاؤ اُٹھاتا تو  چا لیس ہزار سے زیادہ کسی طور ممکن ہی نہیں تھا اور پھر اسے بیچنے کے بعد رہنے کا بھی تو  مسئلہ تھا۔ اس لیے یہ خیال بھی سانسیں اکھیڑنے کا سبب بن رہا تھا۔ 
پڑوس کے حاجی صاحب قرض دینے پر آمادہ تو  ہوئے ، مگر اس شرط پر کہ مکان کے کاغذات ان کے پاس رکھے جائیں۔ چار و ناچار یہ کڑوی گولی اُس نے نگل ہی لی۔ شہر کے بڑے ڈاکٹر نے اُسے بتایا
’’ لطیف کو خون کا سرطان ہے اور اس پر کثیر رقم خرچ آئے گی، جو رقم وہ لے کر آیا ہے یہ کم ہے ، تاہم وہ بچے کا علاج شروع کر رہا ہے ، مگر مزید رقم کا انتظام کرنا ہو گا۔ ‘‘
علاج ہوتا رہا اور بچے کی حالت سنبھالے نہیں سنبھلتی تھی۔ حاجی صاحب کا قرض بڑھتا گیا اور دلاور کی پریشانی۔ پھر وہ مرحلہ بھی آن پہنچا کہ دلاور کے ہاں فاقے اُترنے لگے۔ دونوں میاں بیوی مستقبل کے تفکر ات میں یوں گھرے کہ اپنا بھی ہوش نہ رہا اور ایسے ہی ایک رات لطیف نے 
’’ابا۔ ۔ ۔ ابا‘‘
کہہ کر اپنی جان بیماری کی نذر کر دی۔ حاجی صاحب اس مشکل گھڑی میں بھی کام آئے۔ 
	 ابھی بچے کا کفن میلا نہیں ہوا تھا۔ ۔ ۔ بارہ سالہ بچی کو سانپ نے ڈس لیا اور اسپتال میں سانپ کے کاٹے کی ویکسین نہ ہونے کی بنا پر وہ اسپتال کی دہلیز پرہی دم توڑ گئی۔ ماں نے آسمان سے شکایت کر کے اپنا سینا چیر لیا۔ ۔ ۔ مگر کہیں سے بھی تو اس کے درد کا درماں نہیں ہوا۔ رہی سہی کسر حاجی صاحب نے مکان خالی کر نے کا کہہ کر پوری کر دی۔ 
 دلاور کو اس بات کا خدشہ تو پہلے سے تھا ہی، مگر حاجی صاحب سے اس قدر جلد بازی کی توقع نہیں تھی۔ گھر کے ’’بھانڈے ٹینڈر‘‘ ایک عزیز کے ہاں امانتاً رکھے اور بیوی بچوں کو لے کر سسرال چلا آیا۔ یہاں کون سی نعمتوں کے پہاڑ اُٹھے تھے جو سسرال والے زیادہ دیر اُسے برداشت کر تے۔ دنوں میں دل کدورتوں سے اَٹ گئے اور وہ خانہ بہ دوشی کی لمحے بِتانے پر مجبور ہوا۔ کسی جاننے والے نے دلاور کو بتایا تھا کہ حکومت غریبوں کی مالی مدد کر رہی ہے ، اس سلسلہ میں درخواست فارم مقامی سیاست دان کے ہاں سے مل جائیں گے۔ حال تو اس کا میر تقی میرؔ کے اس شعر کے مصداق تھا	؂
آگے کسو کے کیا کرے دستِ طمع دراز
یہ ہاتھ سو گیا ہے سرہانے دھرے دھرے 
مگر پھر بھی دل پر پتھر رکھ کر وہ اس کے دولت کدے پر چلا آیا۔ منشی نے کام پوچھا تو  اس نے روتی آنکھوں مدعا بیان کیا۔ منشی نے کہا
’’بیٹھو ابھی صاحب آتے ہیں۔ ‘‘
 ایک گھنٹہ سرک گیا، پھر دوسرا اور تیسرا بھی۔ ۔ ۔ صاحب نہ آئے۔ منشی نے کہا
’’تم کل آ جانا میں شام کو ان سے بات کر لوں گا۔ ‘‘
نام پتا لکھوانے کے بعد لوٹا۔ بوجھل قدموں سے جب گھرکی دہلیز پار کی تو بیوی کے حسرت زدہ چہرے پر ہوائیاں اُڑ رہی تھیں۔ وہ شوہر سے پوچھے بغیر ہی سمجھ گئی کہ ناکامی ہوئی ہے۔ 
	سلور کی میلی تھالی میں بیتی رات کا بچا ہوا شوربا اور کچے تنور پر پکی ہوئی اَدھ جلی روٹی اس کے سامنے رکھ کر دلاسا کے سے انداز میں کہنے لگی
’’ فکر مت کر واللہ بہتر کر ے گا۔ چونچ جو دی ہے چوگ تو دے گاہی۔ ‘‘
امید و یاس کے عالم میں رات کٹی، منہ اندھیرے جب دوبارہ مقامی سیاست دان کے ڈیرے پر پہنچا تو   صاحب اپنے کارندوں کو کام لگا رہا تھا۔ دلاور نے تعارف کرایا تو  جواب ملا
 ’’دلاور ! تم دیر کر چکے ہو اور ویسے بھی یہ کوئی لوٹ کا مال نہیں ہوتا، جو ہر کسی کی جھولی میں ڈال دیا جائے۔ ‘‘
	ناکام و نامراد جب واپس آ رہا تھا تو  اس نے ایک فیصلہ کیا۔ گھر پہنچتے ہی اس کو عملی جامہ پہنایا۔ اگلے روز کے اخبار میں تین کالمی خبر شائع ہوئی
’’غربت اور قرض سے تنگ آ کر ایک شخص نے 3 بچوں اور بیوی کو قتل کر نے کے بعد خود کشی کر لی۔ ‘‘
میں نے خبر پڑھی تو حکم رانوں کا خیال آیا جو ہر محفل میں کہتے پھرتے ہیں کہ ’’ہمارے پاس 14ارب ڈالر کے ذخائر موجود ہیں ، کشکول توڑ دیا ہے ، اب قرض لیتے نہیں ، دیتے ہیں۔ ‘‘ 
***
 

جھوٹی کہانی



	’’آج میں آپ کو ایک کہانی سناتا ہوں۔ طاؤس منہ میں سونے کا چمچہ لے کر پیدا ہوا تھا۔ اس کی ماں زرتاب بیگم نواب زادی تھی اور والد بھی بڑی جاگیر کا مالک۔ زرتاب بیگم اپنے جہیز میں بہت کچھ لائی تھی۔ ۔ ۔ یہاں تک کہ اس کے ساتھ چھ خادمائیں بھی آئیں۔ طاؤس اپنے والدین کا اکلوتا تھا۔ اس کی ولادت پر دُور دراز سے ڈھول باجے والوں کو بلایا گیا تھا اور چا لیس دن تک جشن منایا جاتا رہا۔ آٹھوں پہر زرتاب بیگم کی حویلی نور و نکہت سے روشن و معطر رہتی۔ قرب و جوار کے جاگیر داروں نے نواب زادے کی ولادت پر تحائف کے انبار لگا دیے۔ نواب کلیم الملک نے تو  اپنی جاگیر کا ایک بڑا حصہ بھی طاؤس کو دے دیا۔ ماں باپ پہلے ہی خوشی سے نہال تھے ، اور نومولود ان کی ذات کا محور تھا۔ اس کی ناز برداریاں کر تے کر تے صبح سے شام ہو جاتی، مگر پھر بھی ان کا جی نہ بھرتا۔ 
خادمائیں واری جاتیں ، را تو ں کو اُٹھ اُٹھ کر اُسے لوریاں سناتیں اور جو کبھی اس کے رونے کی معمولی سی آواز حلق سے نکلتی تو ان بے چاریوں کی شامت آ جاتی۔ 
	وقت پورے پر پھیلائے اُڑتا گیا۔ ۔ ۔ جب اس کی عمر دس سال ہوئی تو گھر میں اس کے لیے اتالیق مقرر کر دیا گیا۔ والدین کے بے جا لاڈ پیار نے اسے بگاڑ دیا تھا، جبھی اس کے دل میں استاذ کا لحاظ بھی نہیں تھا۔ جو سلوک وہ اپنے خادموں کے ساتھ کرتا وہی استاذ سے روا رکھتا۔ استاذ کچھ عرصہ تک تو اپنے طور پر اُسے سمجھانے کی کوشش کرتا رہا، مگر بے سود۔ ابھی استاذ اس کش مکش میں تھا کہ، وہ نواب صاحب کو اس ضمن میں آگاہ کر ے ، اس کی اپنی طلبی ہو گئی اور نواب زادے کی گستاخی کر نے پر اُسے علاقہ بدر کر دیا گیا۔ 
	نیا اتالیق مقرر ہوا اور اسے طاؤس کے مزاج سے متعلق آگاہ کر نے کے ساتھ تنبیہ کی گئی کہ ، خاص حد میں رہ کر نواب زادے کی تربیت کرنی ہے۔ ۔ ۔ اگر یوں نہ ہوا تو  زندان مقدر ہو سکتا ہے۔ جب استاذ نے یہ بندشیں دیکھیں تو اس نے ٹھان لیا کہ وہ وہی کر ے گاجو طاؤس چاہے گا۔ طاؤس کا دھیان علم کی طرف کہاں تھا، جو اسے اس میدان میں کام یابی ہوتی۔ اپنے لا اُبالی پن کے باعث بے کار مشغولات میں رہنے لگا۔ ابھی اس کی مسیں بھی نہیں بھیگی تھیں کہ ایک خادم کی بیٹی پر فریفتہ ہو گیا۔ اَدب کا تقاضا تھا۔ ۔ ۔ کنیز خود میں سمٹی رہی، اس کی نظروں سے اوجھل رہنے کی تگ و دو کرتی رہی، مگر کب تک؟ مآلِ کار اُس کی ہوس کا نشانہ بنی۔ باپ کو معلوم ہوا تو  اس نے اپنی بیٹی کا گلا دبا دیا۔ زبان پر حرفِ احتجاج نہیں لایا، بل کہ یوں ظاہر کیا جیسے کچھ ہوا ہی نہیں تھا۔ ۔ ۔ اور اس کی بیٹی تو طبعی موت مری ہے۔ 
اُدھر نواب صاحب کے کانوں میں کہیں سے بھنک پڑ گئی اور بیٹے سے ایک ملاقات میں اس واقعہ کی بابت سوال کیا۔ بیٹا جو رذالت میں گھر چکا تھا ، کہاں ڈرنے والا تھا۔ خود باپ نے بیٹے کے جوان ہونے 
پر دل ہی دل میں خوشی ظاہر کی اور مسکراتے ہوئے ، لاڈ سے کہا 
’’ہو جاتا ہے اس عمر میں ، لیکن دھیان رکھو، کہیں اُلجھ نہ پڑو۔ ‘‘
باپ کی طرف سے گویا یہ ایک طرح کا اجازت نامہ تھا۔ اب اس نے پر پھیلانا شروع کر دیے ، جس چیزپراس کی نظر رُکتی جھپٹ پڑتا اور بے فکری سے راہ لیتا۔ 
     اُدھر نواب صاحب کوکسی موذی مرض نے آ لیا تھا، خاندانی حکیم نے تمام نسخے آز ما لیے ، مگر قرار تھا کہ آ کے ہی نہیں دیا۔ جاگیر دار دوستوں نے بھی اپنے طبیب بھیجے ، مگر کچھ نہ بن پڑا۔ ۔ ۔ اور بیماری نے جان لے کر چھوڑا۔ باپ کا مرنا تھا کہ طاؤس تمام قیود سے آزاد ہو گیا۔ اب کلیاں نوچنا، پھول مسلنا اور ہوش چھوڑنا اس کا معمول بن چکا تھا۔ اس کے گرد ایسے لوگوں کا ہر وقت جم گھٹا رہتا جو رذیل خصلت رکھتے۔ اپنی جیب بھرنے کے لیے اُسے خباثت کے گڑھوں میں اُتارتے چلے گئے۔ ۔ ۔ یہاں تک کہ اب کوئی بھی رات رقص و سرود اور لب و جام سے خالی نہ جاتی۔ زرتاب بیگم بیٹے کی اس حالت پر کڑھتی۔ ۔ ۔ مگر اُسے بدکاریوں سے نہ روک پاتی۔ نواب زادے کی یہ حالت دیکھ کر شروع میں اس کے والد کے دوستوں نے بھی سمجھانے کی کوشش کی، مگر جب طاؤس نے لحاظ نہ کیا تو  وہ بھی اپنی راہ ہو لیے۔ ماں بیٹے کے سدھرنے کی خواہش لیے سانس توڑ گئی۔ 
	 بگڑے ہوؤں کا راہِ راست پر آنا اتنا آسان کہاں ہوتا ہے ؟ بُروں سے تعلقات جو بڑھے تو انھوں نے بھی گھات لگانا شروع کی۔ عیش کوشی نے جاگیر کے بوجھ سے آزاد کر دیا۔ خادم ایک ایک کر کے ساتھ چھوڑتے گئے ، مگر وہ جس نے اپنے ہاتھوں سے اپنی مظلوم بیٹی کا گلا دبایا تھا، ساتھ رہا۔ وہ حویلی جو کبھی طاؤس کے لیے راحتوں کی جا تھی قید خانہ میں بدل گئی۔ باہر نکلتا تو  قرض خواہوں کے تانتے بندھ جاتے ، مجبوراً حویلی کے تاریک کمرے میں دبکا رہتا۔ 
	ایک شام نواب زادے نے ابھی آبِ احمر کا پہلا گھونٹ حلق سے اُتارا ہو گا کہ اس کے دماغ میں ماضی کے تمام منظر روشن ہوتے چلے گئے۔ جام ہتھیلی میں تھامے حویلی کے دالان میں چلا آیا، خادم پہلے ہی وہاں موجود تھا۔ طاؤس حال سے بے گانہ ہو کر گویا ہوا
’’تم جانتے ہو پہلے گھونٹ کا ذائقہ میں آج تک نہیں بھلا پایا ہوں اور پہلے لمس کی خوش بو سے۔ ۔ ۔ آج بھی میرا تن بدن معطر ہے۔ پوچھو گے نہیں پہلا لمس کس کا تھا؟ ‘‘
خادم نے سوالیہ نظروں سے اس کی طرف دیکھا تو  اس نے کہا
’’تمھاری بیٹی کا، نہ جانے اچانک وہ مر کیسے گئی؟ ‘‘
 اب خادم نے احتجاج نہیں کیا، بل کہ نہایت تیزی سے اُٹھا اور اسے دبوچ لیا۔ خنجر سے اس کا سینہ چاک کر تے ہوئے کہا
’’اُسے میں نے قتل کیا تھا اور تمھارے باپ اور ماں کو بھی میں ہی زہر دیتا رہا ہوں۔ ‘‘
 پھر اس کا تن سر سے جدا کر کے حویلی کے دروازے پر ڈال دیتا ہے اور خود رو پوش ہو جاتا ہے۔ ‘‘
راوی خاموش ہوتا ہے۔ ۔ ۔ ایک ادھیڑ عمر سامع اپنی سانس تازہ کر کے راوی سے کہتا ہے 
’’تم جھوٹ کہتے ہو۔ ۔ ۔ طاؤس شہر میں اب بھی پھرتا ہے۔ ‘‘

***
 

چیخوں میں دبی آواز



	میں بہت دیر سے اپنے وجود کو نوچ رہا ہوں ، چٹکیاں لے رہا ہوں ، چوٹ لگا رہا ہوں۔ میں جاننا چاہتا ہوں کہ کیا مجھ میں زندگی کی کوئی رمق باقی ہے ؟ میں بہت دیر سے اپنے دماغ کے خوابیدہ خلیوں کو جگانے میں مصروف ہوں ، اپنے دل کے ٹھاٹھیں مارتے ہوئے خون کی حالت دیکھنا چاہتا ہوں ، مگر شاید میرے وجود کی ساری حسیات زنگ آلود ہو چکی ہیں ، میرے دماغ کے تمام تر خلیے مر چکے ہیں ، ٹھاٹیں مارتا ہوا دل کا لہو برف میں بدل چکا ہے اور میری ذات کے اظہار کی تمام علامتیں مٹی میں مٹی ہو چکی ہیں۔ میرے وجود کی گواہی دینے والی تمام قدریں تباہ ہو چکی ہیں ، میرے جسم کو خوب صورتی اور رعنائی عطا کر نے والے تمام لباس وقت کی بے لحاظ و بے قدر ہواؤں کی نذر ہو چکے ہیں۔ ۔ ۔ اور میں اپنے شکستہ و برہنہ وجود کے ساتھ کھڑا ہوا ہوں۔ نہیں جانتا ہوں کہ دنیا کی نظریں ایسے انسان میں کیا تلاش کر رہی ہیں جو اپنے دماغ کے مردہ خلیوں اور اپنے دل کے سرد اور جمے ہوئے لہو کے ساتھ عریاں موجود ہے۔ 
	آپریشن کاپہلا دن۔ ۔ ۔ دوسرا۔ ۔ ۔ تیسرا۔ ۔ ۔ چوتھا۔ ۔ ۔ اور پھر آخری دن بھی گزر گیا۔ میں ساکت و مبہوت ان تمام واقعات سے ایک طرف مٹی میں گڑا رہا۔ 
کتنی جانیں اپنے بھائیوں کے ہاتھوں جل کر خاکستر ہوئیں ، کتنے ارمان رزقِ خاک ہوئے ، کتنے جواں بدن گولیوں کی آگ پی گئے ، کتنی اَدھ کھلی کلیاں بے لحاظ بارُود سے جھلس گئیں ، کتنے تازہ کھلے پھول مٹی میں روند گئے۔ ۔ ۔ ؟ میں نہیں جانتا۔ 
باپوں نے اپنے بیٹوں کے زخموں کو کیسے چاٹا یا چاٹا ہی نہیں ، میں نہیں جانتا کہ ماؤں نے اپنی بیٹیوں کو اپنے سینے سے کیسے لگایا یا پھر لگایا ہی نہیں ، میں نہیں جانتا بھائیوں نے اپنی بہنوں کے سروں پر دستِ شفقت کیسے رکھایا پھر رکھا ہی نہیں ، میں نہیں جانتا بے تاب گودیں اپنے وجود کے حصوں کی حدت سے کیسے لذت آشنا ہوئیں یا پھر ہوئیں ہی نہیں۔ میں نہیں جانتا سہاگنوں کے سروں کے تاج کیسے سلامت لوٹے یا پھر لوٹے ہی نہیں۔ جلتی آگ اور کھولتی گولیوں کی بارش نے کتنے گھر اُجاڑے اور کتنے در توڑے ، میں کہاں جانتا ہوں۔ ۔ ۔ رسول مکر م صلی اللہ علیہ و الہٖ و سلم کے سینۂ پاک سے نکلی ہوئی کتاب کی حالت کیا ہوئی، منبر و محراب کی عظمتوں کا کیا بنا، حدیث و فقہ کے اظہاریے کیا ہوئے ؟ میں نہیں جانتا۔ ۔ ۔ 
وہ ایک شخص۔ ۔ ۔ ایک شخص، جسے ہٹ دھرم، انتہاپسند، خودغرض، ایجنسیوں کا گماشتہ، ریاکار، بڑ بولا، اغوا کار و منتشر دماغ کہا گیا۔ سیکڑوں بے گناہ جانوں کے ضیاع کا قصور وار ٹھہرایا گیا ، کیا ہوا؟ ۔ ۔ ۔ میں نہیں جانتا۔ 
	لوگ جلتے رہے ، پھول گرتے رہے ، کلیاں مسلتی رہیں ، سہاگ لٹتے رہے ، کوکھیں اُجڑتی رہیں ، بیبیاں بے پردہ ہوتی رہیں ، بیٹیاں درد سے بلکتی رہیں ، بھائی زخموں سے کراہتے رہے۔ ۔ ۔ اور۔ ۔ ۔ اور میں ایک طرف زمین میں گڑا رہا۔ 
کتنے لوگ معبد خانہ میں بھوک اور پیاس سے نڈھال و بدحال رہے ؛ میں نہیں جانتا۔ کون پتے کھا کر اور بارش کے پانی کی بوندیں پی کر زندگی سے جنگ لڑتا رہا اور کون دھوئیں کی آندھیوں سے نبرد آزما رہا، میں نہیں جانتا ہوں۔ 
	آپریشن کا پہلا دن۔ ۔ ۔ دوسرا۔ ۔ ۔ تیسرا۔ ۔ ۔ چوتھا۔ ۔ ۔ اور پھر آخری دن بھی گزر گیا۔ میں زمین میں گڑا ہوا تھا، گڑا ہوا ہوں۔ وہ جگہ جہاں سر و سینہ خالق کے سامنے جھکتے تھے۔ ۔ ۔ خون سے لال تھی۔ ۔ ۔ گولیوں کی آواز مدھم ہوئی تو اس کی جگہ بوٹوں کی آواز نے لے لی۔ میرے بھائی اپنی ’’فتح‘‘ پر بکتر بند گاڑیوں سے سر نکالے ’’وکٹری‘‘ کا نشان بنائے گزرتے رہے ، میرے بھائی اپنی فتح کی داستانیں مسلسل سناتے رہے۔ 
	لوگ چلتے رہے ، جیتے رہے اور میں مرتا رہا۔ ۔ ۔ مرتا رہا۔ اور دُور بیٹھے ہوئے لوگ ہمارا تماشا دیکھتے رہے۔ ہمارا تماشا! کہ ہم نے اپنے ہی ہاتھوں اپنے جسموں کو چھلنی کیا ، اپنی ہی زبانوں سے خود پر زہر اُگلا اور اپنے ہی غلبہ سے خود کو مغلوب کیا۔ 
	 اور اب۔ ۔ ۔ اب میں ’’زندہ‘‘ ہوا ہوں تو مجھے اس ظلم کا احساس ہوا ہے ، جو آپریشن کی صورت ظاہر ہوا تھا۔ اب میں احتجاج کروں گا۔ ۔ ۔ پُر امن احتجاج۔ ۔ ۔ غیر مسلح احتجاج۔ ۔ ۔ اور پھر آنے والے دنوں میں ، نئے موقعوں سے مستفید ہوں گا۔ ۔ ۔ 
یہ احتجاج، دکھ، غم تو چند گھڑی کے ہیں یا پھر دکھلاوے کے۔ ۔ ۔ 
	حیف ، صد حیف! دماغ کے مردہ خلیوں اور سینے کے ٹھنڈے لہو کے باوجود میں خود کو زندہ سمجھتا ہوں ، سمجھتا رہا، سمجھتا رہوں گا۔ ۔ ۔ گولیاں چلتی رہیں گے ، معبدیں پامال ہوتی رہیں گی، سینۂ پاک صلی اللہ علیہ و الہٖ وسلم سے نکلی ہوئی باتیں بے قدروں کا نشانہ بنتی رہیں گی ، بوٹوں کی آواز سنائی دیتی رہے گی اور وکٹری کا نشان بنائے ہاتھ اُٹھتے رہیں گے۔ 
ہم اپنے زخموں کو چاٹتے رہے ہیں ، چاٹتے رہیں گے۔ ۔ ۔ 
الاماں و الحفیظ! بہروپوں ، خود غرضوں ، مکاروں اور بے ترسوں میں گھری ہوئی یہ قوم اپنے دماغ کے مردہ خلیوں کے باوجود خود کو زندہ سمجھتی ہے ، اپنی نسوں میں جمے ہوئے خون کو زندگی کی علامت تصور کرتی ہے۔ اور آسماں بھی خاموش ہے ، نہ ہی ٹوٹ کر گرا۔ ۔ ۔ اور نہ ہی زمین پھٹی۔ ۔ ۔ مگر میں زندہ ہوں 
میں زندہ ہوں ، تبھی تو اس گونجتی آواز
’’تو کیا کوئی معجزہ نہ ہو گا؟ 
ہمارے سب خواب وقت کی بے لحاظ آندھیوں میں جل بجھیں گے 
دونیم دریا و چاہِ تاریک و آتشِ سرد جاں نوازی کے سلسلے ختم ہو گئے کیا؟ 
تو کیا کوئی معجزہ نہ ہو گا؟ 
خدائے زندہ! تیری سجدہ گزار بستی کے سب مکینوں کی التجا ہے 
کوئی ایسی سبیل نکلے کہ تجھ سے منسوب گل زمینوں کی عظمتیں پھر سے لوٹ آئیں 
وہ عفو کی، درگزر کی، مہر و وفا کی بھولی روایتیں پھر سے لوٹ آئیں 
وہ چاہتیں ، وہ رفاقتیں ، وہ محبتیں پھر سے لوٹ آئیں۔ ۔ ۔ ‘‘
کو میں نے سنا اور اس کا ہم نوا ہوا۔ ۔ ۔ مگر کیا محض لفظوں ، خواہشوں سے یہ سب ممکن ہوا ہے ؟ اگر ممکن ہوتا تو  سانحۂ لال مسجد رونما نہ ہوتا۔ اپنے جسے ایجنسیوں کا آلہ کار کہتے رہے ؛ پیوندِ خاک نہ ہوتا۔ 
اب خدا جانے کون سرخ رو ہوا؟ ۔ ۔ ۔ اگرچہ ہر ایک خود کو دانا و حق پرست سمجھتا ہے ، میں سوچتا ہوں ، اپنی بات پر جم جانے والوں اور وعدوں کو توڑ کر فخر کر نے والوں میں کتنا فرق ہوتا ہے ؟ 
	بادشاہِ وقت کو للکارنے والے اس شخص کا جرم۔ ۔ ۔ ؟ 
مسجدوں کی شہادت کا گلہ اور نفاذ شریعت کا مطالبہ سبھی نے کیا۔ ۔ ۔ مگر مجرم ایک وہ۔ ۔ ۔ ؟ آنٹی 
کا قضیہ۔ ۔ ۔ مساج سینٹر کی روداد ، ویڈیو سینٹرز کا جلاؤ گھیراؤ۔ ۔ ۔ جرم ہی نہیں بہت بڑے جرائم ہیں۔ ۔ ۔ کراچی میں گرنے والی اڑتا لیس بے گناہ لاشوں سے بھی بڑے۔ 
	بات کچھ اور تھی ، بات کچھ اور ہے۔ جسے ہر ایک جانتا ہے ، مگر زبان  پر لانے کی قدرت نہیں رکھتا کہ جان ہر ایک کو عزیز ہے۔ 
جہاں بولنے والوں کا انجام ’’اس‘‘ کی طرح ہو، وہاں بولنے کی جرأت کون کر ے ؟ جلتی آگ میں کون کو دے کہ، جب یہ ایمان ہی نہ ہو کہ نار گلزار ہو بھی سکتی ہے۔ گھاٹے کا سودا کون کر ے ؟ مگر اُس نے کیا، جان گنوا دی، الزام سر لیے اور لیتا رہے گا۔ 
اب رونے ، کر لانے والوں کو خبر ہو کہ ، جو سفر بادشاہ نے شروع کیا تھا۔ ۔ ۔ وہ جاری ہے اور رونے والوں کی زندگیوں تک جاری رہے گا۔ 
	بادشاہ کی ڈھیل۔ ۔ ۔ ؟ مذاکرات۔ ۔ ۔ ؟ مذاکرات میں ناکامی۔ ۔ ۔ ؟ وقت پرست عالموں کی خاموشی۔ ۔ ۔ ؟ بادشاہ کے دنیاوی بادشاہ کی خوشی اور بادشاہ کے دوست کی ناراضگی۔ ۔ ۔ ؟ حقیقت کیا ہے ؟ سب جانتا ہوں ، سب جانتے ہیں ، مگر۔ ۔ ۔ ! 
	وقت کے بے ہنگم شور میں اس کی آواز بھی دب گئی تھی۔ ۔ ۔ تو میری آواز کون سنے ؟ چیختا ہوں تو اپنے ہی کانوں کے پردے پھٹتے ہیں۔ ۔ ۔ اور آواز۔ ۔ ۔ آواز تو  مردہ چیخوں میں دب بھی چکی۔ ۔ ۔ مر بھی چکی۔ 

٭٭٭
 
زہر



	بہت سال بعد جب میرا اس سے سامنے ہوا تو  ایک لمحہ کے لیے میں اسے پہچان ہی نہ پایا، سراپا وہی تھا۔ ۔ ۔ مگر جس رُوپ سے وہ ظاہر ہوا تھا، گزشتہ سالوں میں اس کی یہ حالت کب دیکھ سکا تھا؟ اور دیکھتا بھی کیسے۔ ۔ ۔ پانچ ہزار روپے ماہ وار کمانے والا شخص بھلا تین ہزار کا سوٹ اور پچیس سوکے بوٹ کیسے برداشت کر سکتا ہے۔ 25ہزار کا موبائل فون اور نئی آلٹو سے اُسے کیوں کر مطابقت ہو سکتی ہے ؟ 
لگ بھگ سات سال پہلے جب پہلی مرتبہ وہ میرے پاس آیا تھا تو   حلیہ سے کسی چورا ہے کا مزدور لگتا تھا، مگر اب۔ ۔ ۔ اب تو وہ ٹھیک ٹھاک ’’مزے ‘‘ میں تھا۔ میری حیرتوں کو توڑتے ہوئے اس نے کہا
’’اَجی کیا دیکھ رہے ہیں ، میں ہوں اسحاق، میرا مطلب ہے خاکا‘‘
 اور پھر بازو پھیلا کر میری طرف بڑھ گیا۔ میں نے اسے سر سے پاؤں تک دیکھا، ابھی میں اس سے سوال کر نے ہی والا تھا کہ، اس کے موبائل سے چڑیوں کی چہچہاہٹ سنائی دی۔ نہ جانے دوسری طرف کون تھا، البتہ یہاں سے کہا گیا
’’نہیں ، نہیں اس مرتبہ میرے تمام آدمی جائیں گے ، کسی ایک کو بھی ڈراپ نہیں کیا جا سکتا، یہ آپ کا مسئلہ ہے ، میرا اعتبار خراب نہ کریں۔ ‘‘
 اور پھر موبائل بند کر دیا گیا۔ 
’’یہ حال ہے ان لوگوں کا، کام نہ دو تو  تب منتیں کر تے ہیں اور جب دے دو تو ان کے نخرے بڑھ جاتے ہیں۔ بھلا یہ بھی کوئی بات ہے ، 25 افراد کی رقوم تین ماہ سے اپنے پاس رکھی ہوئی ہیں اور اب کہہ رہا ہے کہ دس آدمیوں کو اگلی بار روانہ کر دیں گے۔ ‘‘
مجھے میرے سوال کا جواب مل گیا تھا۔ لیکن ایک نئے سوال نے دماغ میں سرسراہٹ کی کہ، خاکے جیسا شخص اتنا بڑا کام کیوں کر کر سکتا ہے ؟ وہ تو جب میرے پاس بیٹھتا تھا ، گھنٹوں اس کا منہ نہیں کھلتا تھا۔ ۔ ۔ اور جو کبھی زبان چلتی بھی تھی تو جی، ہونہہ، بہتر سے بات آگے نہ بڑھتی۔ یقیناً اتنی بڑی تبدیلی میرے لیے تعجب خیز تھی۔ میں اسی کش مکش میں تھا کہ اس سے پوچھوں۔ ۔ ۔ مگر اسی دوران اس کے موبائل میں پھر چہچہاہٹ پیدا ہوئی، موبائل آن ہوا
’’ہاں عمران! زرنگار کارپوریشن والوں کو دس آدمیوں کی فہرست دے دو، افضل ریکر وٹنگ ایجنسی والے کیا کہتے ہیں ؟ ، چلو ٹھیک ہے ، ایک گھنٹہ بعد مجھے بتاؤ۔ ‘‘ 
	ٹیلی فون کو ایک طرف رکھتے ہوئے اسحاق نے بتایا کہ وہ گزشتہ چار سال سے بندے باہر بھجوا رہا ہے ، مختلف اداروں کے ساتھ اس کی کمٹ منٹ ہے ، کراچی ، لاہور اور پش اور میں اس نے اپنے دفاتر کھول رکھے ہیں۔ جہاں لوگوں کو بھرتی کیا جاتا ہے۔ میں نے پوچھا کہ تم اس طرف آئے کیسے ؟ وہ مسکرایا اور پھر بولنا شروع کیا
’’جن دنوں میں آپ کے یہاں آیا کرتا تھا، تب میں گھر کا خرچ چلانے سے قاصر تھا۔ اس دوران ایک عزیز نے بتایا کہ سعودی عرب کے لیے بھرتی آئی ہے ، اگر تم چا ہو تو  تمھاری بات کروں ؟ میں اپنے حالات سے تنگ تھا، مجھے سہارا چاہیے تھا اس لیے فوراً تیار ہو گیا۔ رشتہ داروں سے اُدھار پکڑا، بیوی کے زیور فروخت کیے اور ایک لاکھ روپے جمع کر کے ایجنٹ کے حوالے کر دیے۔ پانچ ماہ گزر گئے لیکن میں باہر نہ جا سکا، ایجنٹ غائب ہو گیا۔ جس نے جہاں کا بتایا، میں وہاں اسے ڈھونڈنے نکل گیا۔ ۔ ۔ اور آخر اس تک پہنچ ہی گیا۔ ملنے پر اس نے کہا کہ ’’میرے ساتھ فراڈ ہو گیا تھا، اس لیے غائب ہو گیا۔ اب ایک صورت ہے ، ملائشیا کے لیے بندے بھجوا رہا ہوں ، بندے لاؤ اور اپنی رقم وصول کر لو ، کام پکا ہے۔ ‘‘اس طرح میں نے کام شروع کر دیا۔ خود تو  مزدوری کے لیے باہر نہیں جا سکا۔ ۔ ۔ مگر لوگوں کو بھجوانے کا راستہ مل گیا ہے ، صاف ستھرا کام کرتا ہوں ، کام ہو جانے پر معاوضہ لیتا ہوں۔ ‘‘
میں نے پوچھا اتنا سب اسی کام سے کمایا ہے تو کہنے لگا
’’اللہ دے بندہ لے۔ ‘‘
سنا ہے اور مشاہدہ بھی ہے ایجنٹوں کے ہاتھوں کئی گھر اُجڑے ہیں ، لوگوں کی زندگیاں اجیرن ہوئی ہیں اور کئی ایجنٹوں کو رو پوش ہوتے دیکھا ہے ، کہیں تم کسی گرداب میں نہ پھنس جاؤ۔ میں نے کہا تو  اس نے بلند آواز میں قہقہہ لگایا اور گویا ہوا
’’ہاں۔ ۔ ۔ ! ہوتا ہے اس طرح، میرے ساتھ بھی ہوا تھا، میری زندگی بھی اجیرن ہو گئی تھی ، قرض خوا ہوں کے ہاتھوں عزت تک غیر محفوظ ہو گئی تھی، لیکن میں نے سمجھ داری سے کام لیا اور آج آپ کے سامنے ہوں۔ ‘‘
اگر تمھیں چانس نہ ملتا تو  تمھارا کیا حال ہوتا؟ 
’’شاید میں بھی اوروں کی طرح پریشان ہوتا‘‘
اس نے کہا۔ ۔ ۔ اور پھر کہنے لگا
’’چھوڑیے صاحب! یہ دنیا ہے یہاں اسی طرح چلتا ہے ، آپ سنائیں ؟ ‘‘ 
تمھارے سامنے ہوں ، میں نے کہا۔ ایک نظر اس نے میرے دفتر کی چھت پر ڈالی، پھرسیاہ شیشوں سے باہر کی طرف دیکھا، دفتر میں پڑی ہوئی چیزوں پر اچٹتی نگاہ دوڑائی اور کہنے لگا
’’کافی خستہ حالت ہے۔ آپ کو دفتر بدلنا چاہیے یا کم از کم ڈیکوریٹ  کرنا چاہیے اور نیا فرنیچر بھی ڈلوانا چاہیے۔ ‘‘
 ہے تو ! ۔ ۔ ۔ مگر گزر ہو رہی ہے۔ ۔ ۔ میں نے کہا۔ 
’’آپ چاہیں تو  میں اس دفتر کو بنوا دیتا ہوں ، ہمارے ساتھ کام کیجیے ، دن پھر جائیں گے۔ ‘‘ 
جب خاکا یہ کہہ رہا تھا تو   میرے ذہن میں ایک واقعہ نے انگڑائی لی جو اسی زمین پر پیش آیا اور مجھے ایک مہربان نے سنایا تھا۔ پھر خود بہ خود میری زبان سے اس واقعہ کا بیان شروع ہو گیا۔ 
	’’کوئی دولت مند شخص کسی بزرگ کا عقیدت مند تھا، وہ مہینہ میں ایک آدھ مرتبہ ان کے ہاں حاضری دیتا۔ ایک بار جب وہ اپنے مرشد کے پاس بیٹھا تھا تو  اس نے کہا:
’’ حضرت ہمارے یہاں طلائی دھاگے کا کھسہ (جوتا) بنتا ہے اگر آپ کہیں تو لے آؤں ‘‘
بزرگ نے کہا لے آؤ۔ ۔ ۔ مگر جب پاپوش اعلیٰ ہو تو پوشاک بھی بڑھیا ہونی چاہیے۔ مرید نے کہا وہ بھی پیش کر دوں گا۔ تو پھر بزرگ نے کہا جب پیزار اور ملبوس اچھے ہوں ، تو پگڑی بھی ہونی چاہیے۔ مرید نے کہا وہ بھی حاضر کر دوں گا، بزرگ نے کہا جب انسان اس قدر اچھے حلیے میں ہو تو اس کے پاس گھوڑا بھی ہونا چاہیے۔ مرید نے کہا وہ بھی حاضر کر دوں گا، بزرگ ایک قدم اور آگے بڑھے اور کہا جب یہ سب ہو تو گھوڑے کی نگاہ داشت کے لیے ملازم بھی ہونا چاہے۔ 
مرید نے کہا یہ بھی ہو جائے گا۔ ۔ ۔ تو بزرگ نے کہا گھوڑے اور ملازم کی موجودگی میں مناسب رہائش بھی ہونی چاہیے۔ مرید نے کہا حضرت اس کا بھی انتظام ہو جائے گا۔ مرحلہ بہ مرحلہ جب بزرگ بڑھتے جاتے تو مرید بھی حکم کی تعمیل میں آگے نکلتا جاتا۔ مآلِ کار بزرگ نے کہا جب تم میرے لیے اتنے ترددات میں پڑو گے تو  کیا یہ بہتر نہیں ہے کہ تم کھسہ ہی نہ لاؤ۔ مرید عقیدت مند ہونے کے ساتھ ساتھ دانا بھی تھا۔ اپنے کہے ہوئے پرشرم سار ہوا اور معذرت کر کے رخصت ہو گیا۔ ‘‘
میں خاموش ہوا تو  اسحاق کہنے لگا
’’میرا خیال تھا کہ آپ کے نظریات بدل گئے ہوں گے۔ ۔ ۔ مگر آپ ہنوزاسی چکر میں گھرے ہوئے ہیں۔ آپ دولت سے کیوں نفرت کر تے ہیں ، آپ زندگی کی آسائشوں سے اپنا حصہ کیوں نہیں وصولتے ؟ ‘‘ 
میں نے جواب دیا مجھے دولت سے نہ اس وقت نفرت تھی نہ اب ہے۔ ۔ ۔ مگر اس دولت سے جو حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کا نصیب تھی، ہاں میں نفرت کرتا ہوں قارون کی دولت سے اور میں پناہ مانگتا ہوں ایسی آسائشوں سے جو میرے لیے وبال بن جائیں۔ دوسروں کے گھروں کو اجاڑ دیں ، ان کا سانس لینا محال کر دیں۔ لمحہ بھرکے لیے میں نے سکوت اختیار کیا تو  اسحاق کہنے لگا
’’آپ کفرانِ نعمت کر تے ہیں ، دولت اور آسائشیں اللہ کی نعمت ہیں۔ ‘‘
یقیناً! لیکن اس صورت میں جب وہ حلال ہوں ، پانی بھی اللہ کی نعمت ہے ، سمندروں کے سمندر اور دریاؤں کے دریا بھرے ہوئے ہیں ، ان کی زیادتی ناگوار نہیں ہے۔ ۔ ۔ مگر جب یہی پانی کشتی کے اندر داخل ہو جائے تو زحمت بن جاتا ہے اور بعض اوقات انسان کی زندگی لے کر رہتا ہے۔ میں اس دولت اور اس آسائش سے پناہ مانگتا ہوں جو کشتی کے اندر آ جانے والے پانی کی مثال ہیں۔ اور جب آدمی اپنی خواہشات کے پیچھے بھاگتا ہے تو اسے معلوم نہیں ہوتا کس وقت پانی کشتی کے اندر داخل ہوا۔ ۔ ۔ اس کی آنکھ تو تب کھلتی ہے جب کشتی ڈوبنے لگتی ہے۔ پھر کوئی بھی دولت، کوئی بھی گاڑی ، کوئی بھی واسطہ کام نہیں آتا بہ جز اللہ عزوجل کی رحمت کے۔ 
’’آپ چاہتے ہیں کہ انسان ہمیشہ دوسروں کے ہاتھ دیکھتا رہے۔ ‘‘
اسحاق نے کہا۔ 
نہیں ! دوسروں کے نہیں اپنے ہاتھ پر بھروسہ کر ے اور اپنے ہاتھ کا میل کام میں لائے اور اس میل کے حصول میں اللہ کی رضا شامل کر لے تو  یقیناً اسے تنگی نہیں ہو گی۔ جب ہم ایک خواہش کے پیچھے بھاگتے ہیں تو  اگلے ہی قدم پر ایک اور خواہش پیدا ہو چکی ہوتی ہے۔ ۔ ۔ 
 اور یہ سلسلہ سانس کی آخری کڑی تک زنجیر ہو جاتا ہے۔ میں نے کہا۔ 
’’ہاں ! بات تو ٹھیک ہے ، لیکن شاید اس طرح کی بندشوں کو قبول کرنا، اپنے بس کی بات نہیں ، شاید آپ کے بس میں بھی نہ ہو۔ ‘‘ 
یقیناً میں بھی انسان ہوں ، لیکن اللہ کا فضل مانگتا رہتا ہوں۔ جن راستوں کے تم اب آشنا ہوئے ہو، میں بہت پہلے ان سے آگاہ تھا، لیکن ربِّ کر یم کی رحمت نے مجھے ان پر چلنے نہیں دیا۔ 

’’ بجا سہی! لیکن جس دور میں ہم جی رہے ہیں اس کے بڑے تقاضوں میں سے ایک تقاضا بے تحاشہ دولت بھی ہے۔ جس کے پاس جس قدر زیادہ دولت اور بڑی گاڑی ہو گی وہ معاشرے میں مہذب کہلاتا ہے۔ شرفا کی صفوں میں شمار ہوتا ہے اور جو، جس قدر غریب ہوتا ہے ، اتنا ہی کم تر اور تہذیب نا آشنا کہلاتا ہے۔ ‘‘ 
اسحاق خاموش ہوا تو  میں نے کہا
رضوانی صاحب کو جانتے ہو؟ 
’’ ہاں ! انھیں کون نہیں جانتا‘‘
 اسحاق تم بہت زیادہ ہوئے تو کروڑ پتی ہو گے۔ ۔ ۔ رضوانی صاحب کھرب پتی نہیں تو ارب پتی ضرور ہیں۔ ملک بھر میں ان کا کاروبار پھیلا ہوا ہے۔ بل کہ یورپ کے کئی ممالک میں بھی ان کا کاروبار ہے۔ پچھلے ہفتے انھوں نے مجھے اپنے ہاں دعوت پر بلایا۔ ۔ ۔ اور لوگ بھی شریک تھے۔ کھانا شروع ہوا تو تمام مہمانوں کے سامنے انواع و اقسام کے کھانے چن دیے گئے۔ ۔ ۔ مگر جانتے ہو رضوانی صاحب نے سلاد کے چند پتے اور ماش کی دال کے ساتھ چپاتی کے گنے ہوئے نوالے لیے۔ ۔ ۔ اور جب کھیر لائی گئی تو وہ بھی انھوں نے نہ چکھی۔ میں نے کہا آپ کچھ لے نہیں رہے ، شاید بعد میں کھائیں گے۔ جس پر رضوانی صاحب کہنے لگے 
 ’’نہیں ! میں اتنا ہی کھاتا ہوں ، اللہ کی طرف سے مجھ پر کچھ پابندیاں عاید ہو گئی ہیں۔ کبھی تھوڑی سے بے احتیاطی ہو جائے تو مہینوں بیمار رہتا ہوں۔ ‘‘
میرے خاموش ہونے پر اسحاق نے کہا
’’خدا کے لیے مجھے مت ڈرائیں ، زندگی بار بار نہیں ملتی اور میں زندگی سے اپنا پورا حصہ وصول کرنا چاہتا ہوں۔ ‘‘
کون جانے زندگی کے پاس اس کا کتنا حصہ ہے ، لیکن آدمی یہ ضرور جانتا ہے کہ آخرت کے لیے اسے کتنا سرمایہ چاہیے۔ ابھی تم اس مقام پر نہیں ہو کہ لوٹ نہ سکو۔ جب سفید کپڑے پر ایک داغ لگتا ہے تو اسے مٹایا جا سکتا ہے۔ ۔ ۔ مگر جب داغوں کی تعداد بڑھنے لگے تو سفیدی کم ہوتی جاتی ہے۔ 
ابھی میرے اور اسحاق کے درمیان مکالمہ جاری تھا کہ مسجد سے مؤذن کی آواز آئی
 ’’اللہ اکبر، اللہ اکبر‘‘
 اور پھر ہماری محفل برخاست ہو گئی۔ 
٭٭٭
 
 آزادی



	یہ14اگست1995ء  کی سہ پہر تھی۔ مزار قائد کے چاروں اور بچوں ، عورتوں اور بوڑھوں کا ہجوم تھا۔ لوگ اپنے قائد سے عقیدت کے اظہار کے لیے یہاں جمع تھے۔ بچے خصوصیت کے ساتھ مزار کی جا لیوں تک پہنچنے کی کوشش کر تے اور جو کام یاب ہو جاتے وہ اندر جھانک کر منظر کو آنکھوں میں بھر لینے کی کوشش کر تے۔ 
مجھے دفتر سے چھٹی تھی اور صبح ہی سے میں اپنے دوست خالد محمود کے ساتھ شہرِ قائد کی گلیوں میں مٹر گشت کر رہا تھا۔ صدر سے مزار قائد تک کا سفر ہم نے پیدل ہی طے کیا تھا۔ اب جو یہاں بیٹھے تھے تو قوم کی تین نسلوں کو قائد سے محبت کا اظہار کر تے ہوئے دیکھ رہے تھے۔ جب میں نے مزار پر فاتحہ خوانی کی تو کم و بیش میرے بھی وہی جذبات تھے جو ایک پاکستانی کے ہو سکتے ہیں۔ ۔ ۔ تب بھی میں نے سوچا تھا اور اب بھی سوچ رہا ہوں کہ14اگست تو اس خطہ کی آزادی کا دن ہے پھر میری آنکھوں میں اشکوں کا سیلاب کیوں اُترا تھا۔ ۔ ۔ کیوں میری ہچکیاں تھمنے کا نام  نہیں لی رہی تھیں۔ ۔ ۔ کیوں میرے پاؤں بھاری ہو گئے تھے ؟ ہوش کی دنیا میں تو تب لوٹا تھا جب میرے ساتھی نے ٹھنڈا مشروب میرے ہاتھ میں تھماتے ہوئے کہا
’’تمھیں یوں اچانک کیا ہو جاتا ہے ؟ 23مارچ کو ہونے والی تقریب کے موقع پربھی تم یوں ہی روتے رہے ہو‘‘
میں اسے کیا جواب دیتا، مجھے تو خود معلوم نہیں تھا کہ میرے ساتھ ایسا کیوں ہوتا ہے۔ خوشی کے ان موقعوں پر میری آنکھوں سے چشموں کا جاری ہونا خود میرے لیے بھی عجیب ہی نہیں بہت عجیب ہے۔ آج بارہ سال بعد بھی میری کیفیت وہی ہے۔ اگرچہ میں مزار قائد سے سیکڑوں میل دور ہوں۔ ۔ ۔ مگر میرے دل و دماغ کی کیفیت بالکل ویسی ہی ہے جیسی کہ تھی۔ لیکن اب مجھے یہ معلوم ہو گیا ہے کہ اس خوشی کے موقع پر میری آنکھوں میں نمی کیوں اُتر آتی ہے۔ خیر۔ ۔ ۔ ! 
	میں 14اگست1995ء  کی بات کر رہا تھا۔ جس لمحے میں ٹھنڈا مشروب اپنے حلق میں انڈیل رہا تھا عین اسی وقت ایک باریش نحیف و نزار بزرگ میرے سامنے آلتی پالتی مار کر بیٹھ گئے۔ ان کے ہاتھ میں بچوں کے لیے ٹافیاں پکڑی ہوئی تھیں۔ میرے دوست خالد محمود نے بزرگ کو مخاطب کر کے کہا
’’بابا! کچھ نہیں چاہیے ‘‘۔ ۔ ۔ 
مگر وہ اپنی جگہ سے نہ سرکے اور برابر میرے چہرے پر نظریں جمائے رہے۔ میں آنسوؤں کو پونچھتا ہوا۔ ۔ ۔ اپنی ہچکیوں پر قابو پانے کی کوشش کرتا اور وقفہ وقفہ سے شربت کا گھونٹ بھی حلق سے اُتار دیتا۔ یوں ہی کچھ دیر گزری تو  بزرگ گویا ہوئے 
 ’’کیوں روئے تھے میاں۔ ۔ ۔ ؟ ‘‘
میں کیا بتاتا، میں تو خود نہیں جانتا تھا۔ ۔ ۔ بس اتنا کہا
’’معلوم نہیں ‘‘
تو بزرگ نے سرگوشی کے سے انداز میں کہا
 ’’مگر مجھے معلوم ہے ‘‘ 
 اور پھر خلاؤں میں گھورنے لگے۔ ۔ ۔ تب آنسوؤں کی ایک ایک لڑی ان کی دونوں آنکھوں سے جدا ہو کر ان کے جھریوں بھرے چہرے پر پھیل گئی۔ ان کے چہرے کا رنگ لمحہ لمحہ بدلتا گیا۔ ۔ ۔ اور پھر ان کی ہچکیاں بند ھ گئیں۔ پھر میں نے وہی سوال دہرایا جو انھوں نے مجھ سے کیا تھا۔ میں نے دیکھا کہ، ان کی آنکھوں میں ایک غیر مانوس سی چمک نے سر اُٹھایا اور پھر یکایک غائب ہو گئی۔ انھوں نے اپنی میلی آستین کو آنکھوں پر یوں ملا جیسے ان کے سامنے سے اندھیارے کی دیوار ہٹا رہے ہوں۔ 
’’میں گیارہ برس کا تھا جب پاکستان بنا۔ اباّ جالندھر کے نواح میں اسکول میں استاد تھے۔ اماں گھر کا کام کاج ہی کرتی تھیں۔ تین بڑی بہنیں تھیں مجھ سے ، جو گھر میں ہی پڑھی تھیں اور اماں کا ہاتھ بٹاتی تھیں۔ بجیا شائستہ میرے پھوپھی زاد منیر احمد سے منسوب تھیں ، اپیا آمنہ ان کے چھوٹے بھائی نذیر احمد سے اور میرا رشتہ ان کی بہن عذرا سے طے تھا۔ ہمارے خاندان میں مذہبی تعلیم عام تھی، اسی سبب سے اڑوس پڑوس کے لوگ احترام کی نگاہ سے دیکھتے۔ ہمارے اباّجی تو کبھی کبھار محلہ کی مسجد میں نماز بھی پڑھا دیا کر تے تھے۔ 
	یہ پاکستان بننے کے کچھ دن اِدھر کی بات ہے۔ ہمارا قافلہ ہماری پھوپھو اور ان کے بچوں اور دیگر رشتہ داروں کو ملا کر ستائیس افراد پر مشتمل تھا۔ اماں نے دو گٹھڑیوں میں ضروری سامان باندھا۔ ایک گٹھڑی اپنے پہلو میں دبا لی اور دوسری اباّ کو دے دی۔ دوسرے رشتہ داروں کے پاس بھی رختِ سفر اس سے زیادہ ہر گز بھی نہیں تھا۔ ہر ایک کو ایک ہی لگن تھی کہ، بس کسی طرح سے اپنے دیس کی خوابوں ایسی سرزمین کو چوم لے۔ اپنے دیس تک پہنچنے کی خوشی میں قدم تیزی سے اُٹھتے جا رہے تھے۔ 
ابھی صبح کے آثار نہیں جاگے تھے ، جب ہم روانہ ہوئے۔ خوشی سے قدم خود بہ خود اُٹھ رہے تھے۔ قیامت تو تب ٹوٹی جب تاک میں بیٹھے ہوئے ہندوؤں کے جتھے نے ہمیں آ لیا۔ گننے میں نہیں آتے تھے۔ خاندان کے مردوں نے اپنی جانیں کٹوا دیں۔ ۔ ۔ مگر اپنی عورتوں کی عصمتوں  پر آنچ نہ آنے دی۔ ۔ ۔ مگر کب تک جوں ہی ان کے لاشے گرے ظالم ہندو ، بھیڑیوں کی طرح خواتین پر ٹوٹ پڑے۔ ‘‘
تب ایک چیخ سی ان کے حلق میں دم توڑ گئی۔ یوں معلوم ہوتا تھا جیسے ساون کی جھڑی برس کر ہی دم لے گی۔ زبان ان کا ساتھ نہیں دے رہی تھی۔ ایسا لگتا تھا جیسے ان کی آواز کو قتل کیا جا چکا ہے۔ میلی آستین کو بار بار اپنی آنکھوں پر ملتے اور پھر خلاؤں میں گھورنے لگتے۔ کچھ سنبھلے تو دوبارہ کہنے لگے 
’’مجھے اماں نے پکڑ کر سرکنڈوں کی اوٹ میں چھپا لیا تھا۔ وحشت سے میرے اوسان خطا ہو چکے تھے۔ اس کے بعد کیا ہوا، مجھے معلوم نہیں۔ جب مہاجر کیمپ میں ہزاروں افراد میں خود کو موجود پایا تو  ستائیس میں سے صرف دو باقی تھے۔ اور لوگ کیا ہوئے ان کا کچھ سراغ نہ ملا۔ ہمیں بتایا گیا کہ ، ہم لوگ خوابوں کی سرزمین تک پہنچ آئے ہیں۔ ۔ ۔ مگر اب خوابوں کی تعبیر لانے والے جو نہیں رہے تھے۔ ۔ ۔ بجیا، اپیا، شازیہ اور عذرا۔ ۔ ۔ اباّ، کوئی ایک بھی تو  نہیں رہا تھا۔ اماں کو تو  جیسے چپ ہی لگ گئی تھی۔ ۔ ۔ اور جب بولتیں تو کسی ایک کا نام پکار کر بے سدھ ہو جاتیں۔ ۔ ۔ انہیں غشی کے دورے پڑنے لگے تھے۔ کیمپ میں موجود ڈاکٹروں نے کوشش کی انھیں بچانے کی۔ ۔ ۔ مگر وہ پچیس جانوں کا صدمہ نہ برداشت کر پائیں اور مجھے بار بار مرنے کے لیے زندہ چھوڑ گئیں۔ ‘‘
رونے کا سلسلہ تھما کہاں تھا۔ ۔ ۔ روتے گئے ، روتے گئے۔ ادھر میری اور خالد کی آنکھیں بھی جل تھل تھیں۔ 
’’ کیمپ سے نکلا تو  خوابوں کی زمین کاٹنے کو دوڑتی تھی۔ ۔ ۔ کہیں جائے پناہ نہ ملی۔ کسی نے رحم کھا کر سیٹھ چونے والے تک پہنچا دیا۔ انھی کے پاس جوان ہوا۔ تنخواہ تو  نہیں تھی ، البتہ ان کے گھر اور دکان پر کام کے عوض کھانا اور رہائش میسر آ گئے تھے۔ سیٹھ کاہے کو تھے بس نام ہی نام تھا۔ جب وہ دنیا سے رخصت ہوئے تو  میں بھی دنیا کے رنگ دیکھنے نکل کھڑا ہوا۔ ریلوے اسٹیشن پر قلی گیری شروع کر دی۔ ایک مزدور ساتھی نے بتایا کہ صبح کے وقت میں اخبار بیچنے سے آمدن بڑھتی ہے ؛ تو  یہ بھی کیا۔ کب گھر بسا، بچے ہوئے اور انھیں پالا پوسا۔ ۔ ۔ اور پھر وہ جوان ہوئے ، سب رام کتھا ہے۔ بس اتنا یاد ہے جب بڑے بیٹے نے ماسٹر کیا تو  ایک لمحہ کے لیے مجھے یوں محسوس ہوا، جیسے خوابوں کی سرزمین تعبیر آشنا ہونے کو ہے۔ ۔ ۔ مگر بدقسمتی ایسی نہ تھی جو جان چھوڑتی۔ ایک نو دولتیے نے اپنی گاڑی کے نیچے اسے کچل کر ہمیشہ کے لیے معذور کر دیا۔ یہاں تو اچھے بھلے شخص کو نوکری آسانی سے نہیں ملتی پھر میرا معذور بیٹا کیوں کر میرا سہارا بن سکتا تھا۔ تین بیٹیاں ہیں۔ وہ اپنے گھروں کی ہو گئی ہیں۔ ۔ ۔ اور میں اپنے ناکارہ ڈگری ہولڈر کے ساتھ زندگی کے دن گن رہا ہوں۔ ‘‘
ایک لمحہ کے لیے وہ خاموش ہوئے اور پھر گویا ہوئے 
’’ویسے سچی بات یہ ہے کہ یہ وہ پاکستان نہیں ہے جس کے خواب اباّ نے مجھے دکھائے تھے۔ ‘‘
	 میں جس شہر میں رہ رہا ہوں ، وہاں سے ہندوؤں کی بڑی تعداد نکلنے پر مجبور ہوئی تھی۔ ۔ ۔ وہی دکھ بے چارگی، لوٹ مار اور تشدد کی کہانیاں۔ ۔ ۔ خدا جانے ان ہندوؤں کے ساتھ وہاں ہندوستان میں کیا پیش آیا ہو گا۔ کیا وہ بھی دو وقت کی روٹی کے لیے اپنے بانی کی سمادھی پر ٹافیاں بیچتے پھر رہے ہوں گے یا پھر۔ ۔ ۔ ؟ 
***

اجازت اور فائل کے حصول کے لئے مصنف سے تشکر کے ساتھ
ان پیج سے تبدیلی، پروف ریڈنگ اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید