﻿


خلاصہ قرآن


پارہ بہ پارہ


مفتی عتیق الرحمٰن شہید





۱۔ الم

فاتحہ

قرآن کریم کی ہر سورت کی ابتداء بسم اللہ الرحمن الرحیم سے کی گئی ہے اور حدیث شریف میں ہر اچھے اور مفید کام کو بسم اللہ پڑھ کر شروع کرنے کی تلقین کی گئی ہے جس میں نہایت لطیف پیرائے میں یہ تعلیم دی گئی ہے کہ کائنات کی ہر چیز کا وجود اللہ کی رحمتوں کا مظہر ہے، لہٰذا احسان شناسی کا یہ تقاضا ہے کہ منعم و محسن کے انعامات و احسانات سے فائدہ اٹھاتے وقت اس کے نام سے اپنی زبان کو ترو تازہ رکھا جائے۔
سورہ فاتحہ سات آیات پر مشتمل مکی سورت ہے۔ مفسرین کرام نے اس کے بہت سے نام شمار کرائے ہیں ۔ علامہ آلوسی رحمہ اللہ نے اپنی تفسیر روح المعانی میں سورہ فاتحہ کے بائیس نام شمار کرائے ہیں ۔ عربی کا مقولہ ہے کثرت الاسماء تدل علی عظمۃ المسمی کسی چیز کے زیادہ نام اس کی عظمت پر دلالت کرتے ہیں ۔ سورہ فاتحہ کے بہت سارے نام بھی اس مبارک سورت کی عظمتوں کے غماز ہیں ۔اہمیت کے پیش نظر اس سورت کے چند نام ہم ذکر کرتے ہیں ۔ اس کا مشہور نام سورۃ الفاتحہ ہے کیونکہ مصحف عثمانی کی ابتداء اس سورت سے ہوئی ہے۔ نیز نماز کی ابتداء بھی اسی سورت سے ہوتی ہے۔ اس کا نام ام الکتاب بھی ہے جس کا مطلب ہے قرآن کریم کی اساس اور بنیاد۔ قرآن کریم میں بیان کئے جانے والے مضامین و مقاصد کا خلاصہ اس چھوٹی سی سورت میں ذکر کر کے دریا کو کوزہ میں بند کر دیا گیا ہے۔ توحید و رسالت، آخرت، احکام شریعت اور قرآنی نظام کے وفاداروں کا قابل رشک انجام۔۔۔ اور اس کے باغیوں کا عبرتناک انجام یہ وہ پانچ مضامین ہیں جنہیں پورے شرح و بسط کے ساتھ قرآن کریم کی باقی ۱۱۳ سورتوں میں بیان کیا گیا ہے اور یہی مضامین معجزانہ انداز میں انتہائی اختصار کے ساتھ اس سورت میں بیان کر دیئے گئے ہیں ۔ اسی لئے اس سورت کو ام الکتاب اور اساس القرآن کہا گیا ہے۔ مفسرین کرام نے سورت الفاتحہ کو قرآن کریم کا مقدمہ یا پیش لفظ بھی کہا ہے۔ اس کے مضامین کی اہمیت کے پیش نظر اللہ تعالیٰ نے ہر نماز میں اس کی تلاوت کا حکم دیا تاکہ شب و روز میں کم از کم پانچ مرتبہ پورے قرآن کا خلاصہ ہر مسلمان کے ذہن میں تازہ ہوتا رہے۔ اس سورت کا ایک نام تعلیم المسئلۃ ہے کہ اس میں مانگنے کا ڈھنگ اور سلیقہ سکھایا گیا ہے کہ بندہ کو اللہ تعالیٰ سے کیا مانگنا چاہئے اور کس طرح مانگنا چاہئے۔ یہ سورت الشفاء بھی ہے کہ روحانی و جسمانی امراض کے لئے پیغام شفاء ہے۔ سات مرتبہ پڑھ کر دم کرنے سے موت کے علاوہ ہر جسمانی مرض سے صحت حاصل ہوتی ہے اور اس کے مضامین پر عمل کرنے سے روحانی امراض سے شفا یابی ہوتی ہے۔
سورہ فاتحہ کی پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ کے تمام کمالات اور خوبیوں کے اعتراف کے لئے حمد کا عنوان اختیار کیا گیا ہے اور تمام کائنات کی ربوبیت کو تسلیم کرنے کے لئے رب العالمین کی صفت کا بیان ہے، کیونکہ رب وہ ہوتا ہے جو کسی چیز کو عدم سے وجود میں لائے اور اس کی زندگی کے ہر مرحلہ میں اس کی تمام ضروریات پوری کرنے اور اس کی تربیت کے تمام وسائل مہیا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ کائنات کا وجود و عدم اس کی صنعت رحمت کا مرہونِ منت ہے۔ قیامت کے دن انسانی اعمال کی جزاء و سزا کا حتمی فیصلہ کرنے والا مالک و مختار وہی ہے۔ ہر قسم کی وفاداریوں کا مرکز اور مالی و جسمانی عبادات کا مستحق وہی ہے۔ ہر مشکل مرحلہ میں اسی سے مدد طلب کی جانی چاہئے۔ ہر کام کو اللہ تعالیٰ کی منشاء و مرضی کے مطابق سرانجام دینے کا سلیقہ ہدایت کہلاتا ہے۔ اس لئے بندہ صراط مستقیم کی ہدایت انبیاء و صدیقین و شہداء و صالحین جو اپنے خالق سے وفاداریوں کی بناء پر انعامات کے مستحق قرار پا چکے ہیں ان کے راستہ کی ہدایت، اپنے مالک سے طلب کرتا ہے اور قرآنی نظام کے باغی یہود و نصاریٰ اور ان کے اتحادیوں کے راستہ سے بچنے کی درخواست پیش کرتا ہے اور آخر میں آمین کہہ کر اس عاجزانہ درخواست کی قبولیت کے لئے نیاز مندانہ معروض پیش کرتا ہے۔
ایک حدیث میں آتا ہے کہ بندہ جب سورہ فاتحہ ختم کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ’’میرے بندے نے مجھ سے جو مانگا، میں نے اسے عطاء کر دیا۔‘‘ دوسری حدیث میں ہے کہ ’’امام جب نماز میں سورہ فاتحہ کی تلاوت ختم کرتا ہے تو فرشتے آمین کہتے ہیں ۔ تم بھی آمین کہا کرو کیونکہ جس کی آمین فرشتوں کی آمین سے مل جائے اس کے گزشتہ گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں ۔‘‘
ایک حدیث قدسی ہے، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ’’میں نے سورہ فاتحہ کو اپنے اور بندے کے درمیان تقسیم کر لیا ہے۔ آدھی سورہ فاتحہ میرے لئے ہے اور آدھی میرے بندے کے لئے ہے۔ جب بندہ الحمد ﷲ رب العالمین کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں حمدنی عبدی میرے بندے نے میری حمد بیان کی جب الرحمن الرحیم کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : اثنی علی عبدی میرے بندے نے میری ثنا بیان کی جب مالک یوم الدین کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں میرے بندے نے میری عظمت و بزرگی کا اعتراف کیا۔ جب ایاک نعبد و ایاک نستعین کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ہذا بینی و بین عبدی یہ میرے اور میرے بندے کے درمیان مشترک ہے۔ جب بندہ اہدنا الصراط المستقیم سے آخر تک کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ہذا العبدی والعبدی ماسأل یہ میرے بندہ کے لئے ہے اور میرے بندے نے جو مانگا ہے میں نے اسے عطاء کر دیا ہے۔سورہ بقرہ

بقرہ

پہلے پارہ کی ابتداء سورہ بقرہ سے ہوتی ہے۔ بقرہ گائے کو کہتے ہیں ۔ بنی اسرائیل میں جرم و سزا اور سراغ رسانی کا ایک انوکھا واقعہ پیش آیا تھا جس میں مجرم کی نشاندہی معجزانہ طریقہ پر کی گئی تھی، جو بنی اسرائیل کے لئے اعزاز و افتخار کا باعث ہے۔ اس سورت میں دوسرے مضامین کے علاوہ زیادہ تر روئے سخن بنی اسرائیل کی طرف ہے۔ ان کے دلوں میں اسلام کے لئے نرم گوشہ پیدا کرنے کے لئے اس معجزانہ واقعہ کی طرف اشارہ کے طور پر پوری سورت کو بقرہ سے موسوم کر دیا گیا۔ سورہ بقرہ قرآن کریم کی طویل ترین سورت ہے جس میں متنوع اور مختلف مضامین کا بیان ہے۔ حروف مقطعات سے سورت کی ابتداء کر کے یہ پیغام دیا گیا ہے کہ قرآنی علوم و معارف سے استفادہ کے لئے اپنی جہالت اور کم علمی کا اعتراف اور علمی پندار کی نفی پہلا زینہ ہے، کلام الٰہی پر غیر متزلزل یقین اور اسے ہر قسم کے شکوک و شبہات سے بالاتر سمجھنا دوسرا زینہ ہے۔ نیز یہ بھی بتایا گیا ہے کہ سورہ فاتحہ میں جس صراط مستقیم کی درخواست کی گئی تھی وہ قرآن کریم کی شکل میں آپ کو عطا کر رہے ہیں ۔
ابتدائی بیس آیتوں میں انسان کی تین قسموں کا بیان ہے: پہلی قسم ان لوگوں کی ہے جو اپنی زندگیوں میں انقلابی تبدیلیاں لانے کے لئے اپنے مالی و جسمانی اعمال کو قرآنی نظام کے تابع لانے کے لئے تیار ہیں ۔ یہ لوگ قرآن کریم اور اس سے پہلی آسمانی کتابوں پر پختہ یقین رکھتے ہیں ۔ دوسری قسم ان لوگوں کی ہے جو کافر ہیں ، وہ اپنی زندگی کی اصلاح اور اس میں قرآنی نظام کے مطابق تبدیلی کے لئے بالکل تیار نہیں ہیں ۔ تیسری قسم ان خطرناک لوگوں کی ہے جو دلی طور پر قرآنی نظام کے منکر ہیں مگر ان کی زبانیں ان کے مفادات کے گرد گھومتی ہیں ۔ قرآن کریم کو ماننے میں اگر کوئی مفاد ہے تو اسے تسلیم کرنے میں دیر نہیں لگاتے اور اگر اس سے مفادات پر چوٹ پڑتی ہے تو اس کا انکار کرنے میں بھی دیر نہیں لگاتے۔ ان کے دل و زبان میں مطابقت نہیں ہے، اسے منافقت کہتے ہیں ۔ منافقت کے ذریعہ انسانوں کو تو دھوکہ دیا جا سکتا ہے مگر دلوں کے بھید جاننے والے اللہ کو دھوکہ دینا ممکن نہیں ہے۔ یہ لوگ اصلاح کے نام پر دنیا میں فساد برپا کرتے ہیں اور قرآنی نظام کے وفادار اہلِ ایمان کو عقل و دانش سے محروم سمجھتے ہیں ۔ حالانکہ یہ لوگ خود شعور و آگہی سے بے بہرہ اور محروم ہیں ۔ یہ لوگ ہدایت و روشن خیالی کے مقابلہ میں تاریک خیالی اور گمراہی کی تجارت کر رہے ہیں اور یہ بڑے خسارہ کا کاروبار ہے۔ قرآن کریم نے دو مثالوں کے ذریعہ منافقت کی دو قسموں کو واضح کیا ہے۔
۱: کسی شخص نے ٹھٹھرتی، اندھیری رات میں سردی سے بچنے اور روشنی حاصل کرنے کے لئے آگ جلائی اور جیسے ہی چاروں طرف روشنی پھیلی تو وہ آگ ایک دم بجھ گئی اور وہ گھپ اندھیرے میں کچھ بھی دیکھنے کے قابل نہ رہا۔
۲: رات کے وقت اندھیرے کے اندر کھلے میدان میں موسلادھار بارش میں کچھ لوگ پھنس کر رہ گئے، بجلی کی کڑک ان کے کانوں کو بہرہ کئے دے رہی ہو اور چمک سے ان کی آنکھیں خیرہ ہو رہی ہوں اور اس ناگہانی آفت سے وہ موت کے ڈرسے کانوں میں انگلیاں ٹھوسے ہوئے ہوں ۔ بجلی کی چمک سے انہیں راستہ دکھائی دینے لگے مگر جیسے ہی وہ چلنے کا ارادہ کریں تو اندھیرا چھا جائے اور انہیں کچھ بھی سجھائی نہ دے۔ یہ لوگ اندھے اور بہرے ہیں کیونکہ آیات خداوندی کے تقاضوں کو پورا نہیں کرتے۔
اس کے بعد انسانیت سے پہلا خطاب کیا گیا اور ایک وحدہٗ لاشریک لہ رب کی عبادت کا پہلا حکم دیا گیا۔ پھر توحید باری تعالیٰ پر کائناتی شواہد کو بطور دلیل پیش کیا گیا ہے۔ جس میں انسان کو عدم سے وجود بخشنا اور اس کی زندگی کی گزر بسر کے لئے آسمان و زمین کی تخلیق اور بارش اور سبزیوں اور پھلوں کی پیدائش کا تذکرہ ہے۔ پھر قرآن کریم کے کلام الٰہی ہونے کی عقلی دلیل دی گئی ہے کہ اگر تم اسے بشر کا کلام سمجھتے ہو تو تم بھی بشر ہو۔ ایسا کلام بنا کر دکھا دو ورنہ جہنم کا ایندھن بننے کے لئے تیار ہو جاؤ۔ قرآن کریم کی ایک سورت بلکہ ایک آیت بنانے سے بھی عاجز آ جانا اس بات کی واضح دلیل ہے کہ یہ محمد علیہ السلام کا کلام نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کا کلام ہے۔ اس کے بعد قرآنی نظام کے منکرین کے لئے جہنم کے بدترین عقوبت خانہ کی سزا اور اس کے ماننے والوں کے لئے جنت کی بہترین نعمتوں اور پھلوں کے انعام کا تذکرہ ہے۔ قرآن کتاب ہدایت ہے، انسانی ہدایت و رہنمائی کے لئے کوئی بھی اسلوب بیان اپنا سکتا ہے اور اس مقصد کے حصول کے لئے مکھی یا مچھر یا کسی دوسرے چھوٹے یا بڑے جانور کی مثال دے سکتا ہے، مسئلہ مثال کا نہیں اس سے حاصل ہونے والے مقصد کا ہے۔
تخلیق انسانی کی ابتداء کا تذکرہ آیت نمبر ۳۰ سے ۳۹ تک ۹ آیتوں میں ہے۔ انسان اس سرزمین پر اللہ تعالیٰ کا نائب اور خلیفہ ہے اور اس کی وجہ انسان کا حصول علم کی صلاحیت رکھنا ہے۔ انسانی بلندی و عظمت کی بنا پر اسے سجود ملائک بنایا گیا۔ ناپاک نطفہ سے تخلیق دے کر عظمت و بلندی کے تمام مراحل آناً فاناً طے کرا کے اسے سجود ملائک بنا دیا۔ پستی سے عظمت کے بام عروج تک پہنچا دیا۔ آدم سے حوا کی پیدائش سے نر اور مادہ کے ملاپ کے بغیر ایک انسان سے دوسرا انسان پیدا کرنے (CLONE) کا امکان ثابت ہوسکتا ہے بلکہ آدم کی مٹی سے تخلیق سے یہ نکتہ بھی واضح ہوتا ہے کہ جس مٹی سے سبزیوں اور پھلوں کی شکل میں ’’مادہ حیات‘‘ انسانوں میں منتقل ہوتا ہے اس سے براہِ راست وہ مادہ لے کر بھی انسان کو وجود میں لایا جا سکتا ہے۔ انسان اس سرزمین پر بطور سزا نہیں بلکہ بطور امتحان بھیجا گیا ہے۔ قرآن کریم کی شکل میں آسمانی ہدایت کی پیروی اس کی کامیابی کی علامت اور اس کی مخالفت اور کفر اس کی ناکامی و نامرادی کی علامت قرار دی گئی۔ اس کے بعد بنی اسرائیل کا تذکرہ ہے جو آیت نمبر ۴۰ سے شروع ہو کر نمبر ۱۲۳ تک ۱۸۳ آیات پر مشتمل ہے۔ بنی اسرائیل دنیا کی ایک منتخب قوم تھی۔ انبیاء کی اولاد تھی، اللہ تعالیٰ نے انہیں اس دور کی سیاسی اور مذہبی قیادت و سیادت سے نوازا ہوا تھا مگر ان کی نا اہلی اور اپنے منصب کے منافی حرکات کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے انہیں معزول کرنے کا فیصلہ کر لیا کہ اس منصب کے اہل اور حقیقی وارث امت محمدیہ کی شکل میں اس سرزمین پر تیار ہو چکے ہیں ۔ تقریباً آدھے سیپارے پر محیط اس قوم کے جرائم اور عادات بد کی ایک طویل فہرست ہے جو چالیس نکات پر مشتمل ہے۔ یہ وہ ’’فرد جرم‘‘ ہے جو بنی اسرائیل کے اس منصب عالی سے معزولی کا سبب ہے۔ آیت نمبر ۴۰ سے نمبر۴۶ تک سات آیتوں میں ان ذمہ داریوں کا ذکر ہے جو بنی اسرائیل کو سونپی گئی تھیں ۔ انعامات خداوندی کا استحضار، عہد الٰہی کی پاسداری، خوفِ خدا، تقویٰ، آسمانی تعلیمات پر یقین کامل، اپنے مفادات کو دین کا تابع بنا کر زندگی گزارنے کی تلقین، حق و باطل کو خلط ملط کرنے کی بجائے حق کی پیروی اور باطل سے دو ٹوک انداز میں برأت کا اظہار، نماز کی ادائیگی کے ذریعہ اللہ سے اپنی وفاداری کا اظہار اور زکوٰۃ کی ادائیگی کے ذریعہ غرباء و مساکین سے تعاون، خیر اور شر میں تمیز کر کے نیکی پر کاربند رہتے ہوئے دوسروں کو نیکی کی تلقین اور آسمانی تعلیمات کی روشنی میں عقل و دانش کا استعمال، بنی اسرائیل ان ذمہ داریوں کو پورا کرنے سے قاصر رہے جس کی تفصیل ۷۶ آیتوں میں مذکور ہے۔
بنی اسرائیل کو دریا میں معجزانہ طریقہ پر راستہ بنا کر فرعونی مظالم سے نجات دی۔ دشمن کو ان کی آنکھوں کے سامنے غرق کیا، موسیٰ علیہ السلام کو کتاب دینے کے لئے چالیس دن کے لئے کوہ طور پر بلایا تو یہ لوگ بچھڑے کی عبادت میں مصروف ہو گئے۔ اس مشرکانہ حرکت پر سزا کے طور پر انہیں باہمی قتل کا حکم دے کر ان کی توبہ قبول کی گئی۔ ان کے بے جا مطالبے پورے کئے۔ اللہ تعالیٰ سے گفتگو اور بالمشافہ ملاقات کرائی گئی مگر یہ پھر بھی اپنی حرکتوں سے باز نہ آئے۔ تیہ کے چٹیل اور کھلے میدان میں انہیں بادل کے ذریعہ سایہ اور ’’من و سلویٰ‘‘ کی شکل میں کھانا فراہم کیا گیا مگر انہوں نے اس نعمت کی قدر نہ کی۔ پتھر سے معجزانہ طریقہ پر بارہ چشمے جاری کر کے ان کے بارہ خاندانوں کے سیراب کرنے کا انتظام کیا گیا مگر یہ سرزمین پر فساد پھیلانے سے باز نہ آئے۔ اللہ کی عظیم الشان نعمتوں کے مقابلہ میں لہسن پیاز اور دال روٹی کا مطالبہ کر کے ذہنی پستی اور دیوالیہ پن کا مظاہرہ کیا۔ اللہ کے احکام کا کفر کرنے اور انبیاء علیہم السلام (اپنے مذہبی پیشواؤں ) کو قتل کرنے کے عظیم جرم کا ارتکاب کیا، جس پر انہیں ذلت و رسوائی اور غضبِ خداوندی کا مستحق قرار دیا گیا۔ قرآنی ضابطہ ہے کہ اللہ کے نزدیک کامیابی قومی یا مذہبی تعصب کی بنیاد پر نہیں بلکہ ایمان اور عمل صالح کی بنیاد پر ملتی ہے، خوف اور غم سے نجات حاصل ہوتی ہے۔ ان کے سروں پر پہاڑ بلند کر کے تجدید عہد کرایا گیا، مگر انہوں نے اس کی پاسداری نہ کی۔ دل جمعی اور یکسوئی کے ساتھ عبادت کرنے کے لئے ہفتہ کے دن کی چھٹی دی گئی، مگر اس کی پابندی نہ کرنے پر عبرتناک انجام کے مستحق ٹھہرے اور ان کی شکلیں بگاڑ کر ذلیل و قابل نفرت بندر بنا دیا گیا۔

سورہ جرم و سزا اور سراغ رسانی کا انوکھا واقعہ:

بنی اسرائیل میں ایک شخص بے اولاد تھا۔ وراثت حاصل کرنے کے لئے اس کے بھتیجے نے اسے قتل کر کے دوسروں پر الزام لگایا اور قصاص کا مطالبہ کیا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے قاتل کا پتہ چلانے کے لئے اللہ تعالیٰ کے حکم سے گائے ذبح کرنے کا حکم دیا۔ بڑی پس و پیش کے بعد یہ لوگ ذبح پر آمادہ ہوئے۔ گائے کے گوشت کا ایک ٹکڑا جب میت کے جسم سے لگایا گیا تو وہ زندہ ہو گیا اور اپنے قاتل کا نام بتا کر پھر مرگیا۔ اس طرح اصل مجرم گرفت میں آ گیا اور سزا کا مستحق قرار پایا اور کسی بے گناہ کی ناجائز خونریزی سے وہ لوگ بچ گئے۔ عقل و دانش کے نام پر کلام الٰہی میں تحریف اور رد و بدل کی بدترین عادت کے مریض تھے۔ اپنے مفادات اور دنیا کی عارضی منفعت کے لئے اللہ کی آیتوں کو بیچ ڈالتے تھے اور اس خوش فہمی میں مبتلا تھے کہ ہم جو چاہیں کریں ہمیں آخرت میں کوئی عذاب نہیں ہو گا اور ہم جہنم میں نہیں جائیں گے۔ قرآن کریم نے ضابطہ بیان کر دیا کہ جو بھی جرائم اور گناہوں کا مرتکب ہو گا وہ جہنم سے بچ نہیں سکے گا اور ایمان و اعمال صالحہ والے دائمی جنتوں کے حقدار قرار پائیں گے۔
بنی اسرائیل سے عہد لیا گیا کہ وہ ایک اللہ کی عبادت کریں ۔ والدین، عزیز و اقارب، غرباء و مساکین کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آئیں ۔ لوگوں سے خوش اخلاقی کے ساتھ معاملہ کریں ۔ دنیا میں فساد پھیلانے اور خونریزی کرنے سے باز رہیں ، مگر یہ لوگ تخریب کار اور جنگ کے ذریعہ لوگوں کو قتل کرنے، ان کے گھروں سے بے گھر کرنے اور انہیں گرفتار کر کے ان کی آزادی سلب کرنے جیسی بدترین حرکات کے مرتکب پائے گئے۔ تورات کی جو باتیں ان کے مفادات کے مطابق ہوتیں انہیں مان لیتے اور جو مفادات کے خلاف ہوتیں انہیں رد کر دیتے۔ اس لئے دنیا میں ذلت و رسوائی اور آخرت کے بدترین عذاب کے مستحق ٹھہرے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ آخرت میں تمام نعمتیں اور جنت صرف ہمارے ہی لئے ہے۔ قرآن کریم نے کہا کہ پھر تو تمہیں موت کی تمنا کرنی چاہئے تاکہ وہ نعمتیں تمہیں جلدی سے حاصل ہو جائیں ۔ یہ لوگ جبریل علیہ السلام کے مخالف تھے کہ وہ عذاب اور سزا کے احکام لے کر کیوں آتے ہیں ؟ وہ لوگ یہ سمجھنے سے قاصر رہے کہ جبریل تو ایک قاصد اور نمائندہ ہے۔ جزا یا سزا کے احکام اللہ تعالیٰ نازل کرتے ہیں ۔ کسی کے نمائندہ کی مخالفت دراصل اس کی مخالفت شمار ہوتی ہے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جبریل تو میرے حکم سے قرآن کریم نازل کر رہے ہیں ، لہٰذا جبریل کی دشمنی درحقیقت اللہ، اس کے رسول اور تمام فرشتوں کے ساتھ دشمنی کے مترادف ہے۔ یہودیوں کی عادات بد میں جادوگروں کی اطاعت اور ان کی اتباع بھی تھی۔ اس کی مذمت آیت ۱۰۲ میں کی گئی ہے۔ مسلمانوں کی زبانی کلامی دل آزاری اور گستاخیٔ رسول بھی یہودیوں کی گھٹی میں داخل ہے۔ آیت ۱۰۴ میں اسی بات کی مذمت ہے۔ قرآنی تعلیمات میں انسانی نفسیات، ماحول اور معاشرتی ضرورتوں کے پیش نظر جس طرح تدریجی احکام اور مرحلہ وار تبدیلیاں کی گئی ہیں آیت ۱۰۶ میں ان کا بیان ہے۔
یہود و نصاریٰ اپنے کفر اور حسد کی بناء پر مسلمانوں کو ایمانی تقاضوں پر کاربند دیکھنا پسند نہیں کرتے۔ یہ ان کی فطرتی خباثت ہے لہٰذا انہیں نظر انداز کر کے اپنے کام سے کام رکھیں ۔ دلائل کو نظر انداز کر کے محض اپنے مذہب یا نظریہ کی بنیاد پر کسی بات کو اختیار کرنا تعصب کہلاتا ہے۔ اس کی مذمت آیت ۱۱۳ میں بیان ہوئی ہے۔ مسجدیں اللہ کے گھر ہیں ان میں اللہ کی بات کرنے سے روکنا ظلم کی بدترین مثال ہے۔ ایسی حرکت کے مرتکب افراد دنیا میں بھی ذلیل و خوار ہوں گے اور آخرت میں بھی بدترین عذاب کے مستحق ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ کے لئے اولاد کے عقیدہ کی مذمت آیت ۱۱۶ میں ہے اور اللہ کی قدرت کا بیان ہے۔ یہود و نصاریٰ کے تعصب کی بدترین شکل کو بیان کیا کہ اس وقت تک مسلمانوں سے خوش نہیں ہوں گے جب تک مسلمان اسلام سے دستبردار ہو کر یہودیت یا عیسائیت کو اختیار نہ کریں ۔ آسمانی کتاب کی تلاوت کا حق ادا کرنے کی تلقین کے ساتھ بنی اسرائیل پر انعامات کا ایک مرتبہ پھر تذکرہ اور یوم احتساب کی یاد تازہ کر کے یہودیوں کے بارے میں گفتگو پوری کر دی۔ پھر انسانیت کے لئے مثالی شخصیت حضرت ابراہیم کا تذکرہ شروع ہوتا ہے۔ ان کی آزمائش و ابتلاء اور اس میں کامیابی کی شہادت کے ساتھ ہی انہیں امامتِ انسانیت کے منصب پر فائز کرنے کا اعلان اور ابراہیمی زندگی اپنانے والے ہر شخص کو اس عہدہ کا اہل قرار دینے کا فیصلہ۔ ابراہیم علیہ السلام کی دینی خدمات خاص طور پر تعمیر کعبہ کا کارنامہ جو انسانوں کے لئے مرکز وحدت ہے۔ پھر دعاء ابراہیمی جس کے نتیجہ میں بعثت نبوی اور امت مسلمہ کو وجود ملا۔
پھر اس مثالی شخصیت کے مثالی خاندان کا تذکرہ اور بیان کہ اگر آباء و اجداد حق و انصاف کے علمبردار ہوں تو ان کی اتباع و تقلید ہی کامیابی کی اصل کلید ہے۔ آخر میں اس ضابطہ کا اعلان کہ ’’وہ لوگ جو گزر چکے، ان کے اعمال کے مطابق ان کے ساتھ معاملہ ہو گا اور تمہارے اعمال کے مطابق تمہارے ساتھ معاملہ ہو گا۔‘‘ ؎۔

عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی



2۔سَيَقُولُ

مسلمان پہلے بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے تھے، پھر بیت اللہ کی طرف رخ کرنے کا حکم ہوا تو یہودیوں نے اعتراض کیا۔ پارہ کی ابتداء میں اس کا جواب دیتے ہوئے فرمایا: تحویل قبلہ کے حکم خداوندی پر ناسمجھ لوگ اعتراض کریں گے کہ مسلمان بیت المقدس کو چھوڑ کر بیت اللہ کا رخ کیوں کرنے لگے؟ اس کا جواب دیا کہ تمام جہات: مشرق و مغرب اللہ ہی کی ہیں ، وہ جس طرف چاہے اپنے بندوں کو رخ کرنے کا حکم دے۔ کسی بندہ کو اعتراض کا حق نہیں ہے۔ اللہ نے فرماں برداروں اور نافرمانوں میں تمیز کے لئے تحویلِ قبلہ کا حکم دیا ہے کہ فرماں بردار فوراً اسے مان لیں گے اور نافرمان ماننے کی بجائے اعتراضات پر اتر آئیں گے اور اس طرح مخلص مسلمان اور کافر و منافق کھل کر سامنے آ جائیں گے۔ اس کے بعد امت مسلمہ کے اعتدال اور میانہ روی کا تذکرہ اور فضیلت کا بیان ہے کہ قیامت کے دن جب کافر اپنے نبیوں پر تبلیغ رسالت میں کوتاہی کرنے کا اعتراض کریں گے تو امت محمدیہ کے لوگ انبیاء علیہم السلام کے فریضۂ نبوت کی ادائیگی پر گواہ کے طور پر پیش ہوں گے اور حضرت محمد علیہ الصلوٰۃ والسلام ان سب کی گواہی دیں گے اور تصدیق کریں گے۔
آپ کتنے دلائل پیش کر دیں ان اہل کتاب پر تعصب و ہٹ دھرمی کا ایسا پردہ پڑا ہوا ہے کہ یہ کسی قیمت پر ماننے کے لئے تیار نہیں ہوں گے۔ نماز میں قبلہ کی طرف سفر و حضر میں رخ کرنا ضروری ہے۔ اہل کتاب حضور علیہ السلام کے نبی برحق ہونے کو اس طرح جانتے ہیں جس طرح اپنی اولاد کو جانتے ہیں مگر حق کو چھپانے کے مرض میں مبتلاء ہیں اس لئے آپ پر ایمان نہیں لاتے۔ اللہ کا ذکر اور اس کا شکر ادا کرنے کی عادت بنائیں ۔ نماز اور صبر کے ذریعہ مشکلات پر قابو پانا چاہئے اور اسلام کے لئے جانی و مالی ہر قسم کی بڑی سے بڑی قربانی کے لئے تیار رہیں ۔ اللہ کے راستہ میں جانی قربانی دینے والے مردہ نہیں ہیں ، وہ زندہ ہیں مگر تمہیں اس کا شعور نہیں ہے۔حج و عمرہ کے موقع پر کئے جانے والے اعمال خصوصاً صفا و مروہ کی سعی اسلامی شعائر ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ دلائل اور ہدایت کے واضح احکام کو چھپانے والے لعنت خداوندی کے مستحق ہیں لیکن توبہ تائب ہو کر اپنا رویہ درست کر کے احکامِ خداوندی کو بیان کرنے لگیں تو وہ لعنت سے بری ہوسکتے ہیں ۔ معبود حقیقی ایک ہی ہے، اس کے علاوہ کوئی عبادت کے لائق نہیں ، اس کی رحمت تمام مخلوقات کے لئے عام ہے اور اہل ایمان کے لئے اس کی رحمت تام ہے۔ آسمان و زمین کی تخلیق، دن رات کی ترتیب اور انسانی نفع کے لئے پانی میں چلنے والی کشتیاں ، بادل، بارش، زمین سے نکلنے والے پھل اور سبزیاں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کے عقلی دلائل ہیں ۔اللہ کے مقابلہ میں معبودان باطل کے ماننے والے قیامت کے دن پچھتائیں گے اور ایک دوسرے سے برأت کا اظہار کریں گے مگر جہنم سے کسی طرح بھی بچ نہیں سکیں گے۔ قرآن کریم کے اتباع کی تلقین ہے اور قرآن کے مقابلے میں آباء و اجداد کی اندھی تقلید کی مذمت کرتے ہوئے ایسے لوگوں کو اندھے بہرے کہہ کر جانوروں کی مانند قرار دیا گیا ہے۔
پاکیزہ اور حلال کھانے کا حکم ہے۔ مردار، جاری خون، خنزیر اور غیر اللہ کے لئے نامزد اشیاء کی حرمت کا اعلان ہے۔ نیز اس ضابطہ کا بیان بھی ہے کہ جان بچانے کے لئے ضرورت کے وقت حرام کا استعمال بھی گناہ نہیں ہے۔ نیکی اور اس کی مختلف اقسام کی فہرست بیان کی گئی ہے۔ نیکی دراصل ایمانی بنیادوں پر سر انجام پانے والے اعمال ہیں ۔ عزیز و اقارب، یتیم و مسکین کے ساتھ مالی تعاون، نماز اور زکوٰۃ کا اہتمام، ایفاء عہد، مشکلات میں حق پر صبر و ثابت قدمی کا مظاہرہ، سچائی کا التزام کرنے والے ہی متقی کہلا سکتے ہیں ۔ قصاص و دیت کے قانون کو بیان کر کے بلا امتیاز اس پر عمل درآمد کی تلقین ہے۔ قصاص حیات انسانی کے تحفظ کا ضامن ہے۔ وصیت کی تلقین کرتے ہوئے کسی پر ظلم و نا انصافی نہ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ روزہ کے احکام اور اس کی حکمتوں کا بیان ہے۔ رمضان المبارک کی فضیلت کا سبب اس مہینہ میں قرآن کریم کا نازل ہونا ہے۔ رمضان کی راتوں میں کھانے پینے اور بیویوں سے ملنے کی اجازت ہے۔ نیز اعتکاف کے عمل کا تذکرہ ہے، روزہ کے ابتدائی اور انتہائی وقت کا بیان ہے۔ دوسروں کا مال ناجائز طور پر کھانے اور لوگوں کو ناجائز مقدمات میں الجھانے سے باز رہنے کی تلقین ہے۔

قمری مہینہ کے مختلف ایام میں چاند کے چھوٹا بڑا ہونے کی حکمت بتائی گئی ہے کہ اوقات کے انضباط اور حج وغیرہ کی تاریخوں کے تعین کے لئے ایسا کیا جاتا ہے۔ دنیا سے برائی ختم کرنے کے لئے قتال فی سبیل اللہ اور اس کے احکام کا تذکرہ ہے، احترام کے ضابطہ کا بیان ہے۔ حرمت بدلہ کی چیز ہے لہٰذا احترام کروانے کے لئے دوسروں کے مقدسات کا بھی احترام کرنا ہو گا۔ اللہ کے دین کے دفاع میں مال خرچ کرنا ہی تباہی سے بچنے کا بہترین ذریعہ ہے۔ عمرہ اور حج کے احکام ہیں ۔ اگر حالت احرام میں خانہ کعبہ تک پہنچنے میں کوئی رکاوٹ پیدا ہو جائے تو ’’دم‘‘ دے کر احرام کھول سکتے ہیں ۔ حج تمتع یا قران کی صورت میں ’’دم شکر‘‘ دینا ہو گا۔ احرام کی حالت میں غیر اخلاقی حرکتوں سے گریز کیا جائے۔ جنسی موضوع پر گفتگو نہ کریں ، مساوات کو مد نظر رکھ کر تمام افعال حج کی ادائیگی ہونی چاہئے۔ جمرات کی کنکریاں تین دن واجب ہیں ۔ چوتھے دن حاجی کی صوابدید پر منحصر ہے۔ اس موقع پر اللہ تعالیٰ کو خوب یاد کیا جائے اور دنیا و آخرت کی خیر اور بھلائی مانگی جائے۔

دو قسم کے انسانوں کا تذکرہ:

کبر و نخوت، فساد و ہٹ دھرمی کے خوگر جو اللہ کی بات کسی قیمت پر بھی تسلیم نہ کریں ان کا ٹھکانہ جہنم ہے۔ عجز و اخلاص کے پیکر جو اپنی جان و مال اللہ کے لئے خرچ کرنے کے لئے ہر وقت تیار ہوں وہ اللہ کی رحمتوں اور مہربانیوں کے مستحق ہیں ۔ شیطان کی اتباع چھوڑ کر پورے پورے اسلام میں داخل ہونے کی تلقین۔بنی اسرائیل اور ان پر انعامات خداوندی کا تذکرہ۔ مذہبی اختلافات اور فرقہ واریت کے لئے ضابطہ کا بیان کہ دلائل کی بنیاد پر حق کی اتباع کرنے والے ہدایت یافتہ اور پسندیدہ لوگ ہیں جبکہ دلائل سے تہی دامن اپنے من مانے نظریات پر چلنے والے قابل مذمت اور گمراہ ہیں ۔ جنت کے حصول کے لئے قربانیوں کے لمبے سلسلے اور تکالیف و مشقت کی پر خطر وادی سے گزرنا پڑتا ہے۔ جہاد طبیعتوں پر گراں گزرتا ہے مگر انسانیت کا اس میں فائدہ ہے۔ دوسروں پر اعتراض کرنے والوں کو خود اپنے کردار پر نظر ثانی کرنی چاہئے۔ مسلمانوں پر جہاد کے حوالہ سے اعتراض کرنے والے اپنے ظلم و نا انصافی پر بھی غور کریں کہ وہ مسلمانوں کو بیت اللہ سے روکتے ہیں ۔ اسلام پر عمل پیرا ہونے کے راستہ میں رکاوٹ بنتے ہیں ، مسلمانوں کو ان کے گھروں سے بے گھر کرتے ہیں ۔ ایسی فتنہ پردازی تو قتل سے بھی بدتر ہے۔ شراب اور قمار کے بارے میں ابتدائی ذہن سازی کرتے ہوئے ان کے فوائد و نقصانات میں تقابل کی تلقین کی گئی ہے۔ یتیموں کی کفالت کی تعلیم ہے اور نکاح میں توحید پرست کو بت پرستوں پر ترجیح دینے کا حکم ہے۔ خواتین کے مسائل جن میں حالت حیض میں اپنی بیویوں سے دور رہنے کا حکم ہے۔
جھوٹی قسم سے بچنے کی ترغیب ہے۔ بیویوں کے پاس نہ جانے کی قسم (ایلاء) کے حکم کا بیان ہے۔ طلاق اور عدت گزارنے کا خاص طور پر تین طلاق کا حکم اور حلالہ شرعی کا بیان ہے۔ بچوں کو دودھ پلانے کی مدت دو سال مقرر کی گئی ہے اور زچہ و بچہ کی کفالت شوہر کے ذمہ رکھی گئی ہے۔ شوہر کے انتقال کی صورت میں عورت کو چار ماہ دس روز عدت گزارنے کا حکم ہے۔ عدت کے ایام میں نکاح یا منگنی کے موضوع پر گفتگو کی ممانعت کی گئی ہے۔ نکاح کے بعد اگر بیوی سے ملاقات سے پہلے ہی طلاق اور علیحدگی کی نوبت آ جائے تو مہر متعین ہونے کی صورت میں نصف مہر کی ادائیگی لازم ہو گی۔ ان شرعی ضوابط کی پابندی اللہ کا حق ہے، لہٰذا ایک دوسرے کے لئے پریشانیاں اور مسائل پیدا کرنے کے لئے شرعی ضوابط کو پامال نہ کیا جائے۔
نما زکی پابندی اور اس کے اہتمام کی تلقین ہے کہ کسی خوف و خطرہ کی وجہ سے اگر کھڑے ہو کر نہ پڑھ سکیں تو سواری پر ہی ادا کر لیں ۔
جہاد کی ترغیب دینے کے لئے ایک قوم کا تذکرہ ہے، جو موت کے ڈر سے اپنے گھروں سے محض اس لئے نکل بھاگے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں موت دے دی اور بنی اسرائیل کے ایک نبی حضرت حزقیل کی دعا سے انہیں دوبارہ زندہ کر دیا۔ پھر جہاد کا حکم اور اس کے ساتھ ہی اللہ کے نام پر مال خرچ کرنے کی تلقین ہے۔ پھر مسلم حکمران طالوت اور کافر حکمران جالوت کے درمیان مقابلہ کا تذکرہ ہے۔
بنی اسرائیل کے جہاد سے راہِ فرار اختیار کرنے کی وجہ سے ایک ظالم قوم عمالقہ کو اللہ تعالیٰ نے ان پر مسلط کر دیا تو انہیں جہاد کی فکر لاحق ہوئی۔ حضرت شمویل علیہ السلام کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو مسلم بادشاہ طالوت کی زیر قیادت جہاد کا حکم دیا۔ طالوت کی امارت پر بنی اسرائیل نے اعتراض کیا تو اللہ تعالیٰ نے اس کی جسمانی قوت اور جنگی علوم میں مہارت کو اس کی اہلیتِ امارت کی دلیل کے طور پر بیان کیا اور بنی اسرائیل کے مذہبی مقدسات اور حضرت موسیٰ و ہارون کے تبرکات پر مشتمل تابوت جو کہ دشمنوں کے قبضہ میں تھا۔ انہیں واپس دلا کر ان کی تسلی اور دل جمعی کا انتظام کر دیا۔ بنی اسرائیل نے کچھ پس و پیش کے بعد جہاد پر آمادگی ظاہر کر دی۔ طالوت نے جنگی نقطۂ نظر سے کچھ پابندیاں عائد کیں ، جن میں راستہ میں آنے والے دریا سے پانی پینے کی ممانعت بھی شامل تھی۔ بہت سے لوگ اس کی پابندی نہ کرسکے اور جہاد میں شرکت کے لئے نا اہل قرار پائے۔ ایک قلیل تعداد جوکہ بعض روایات کے مطابق تین سو تیرہ تھی جہاد میں شریک ہوئی۔ اللہ تعالیٰ نے کفار کو شکست دے کر اہل ایمان کو غالب کر کے ہمیشہ کے لئے یہ ضابطہ بتا دیا کہ اللہ کی مدد قلت و کثرت کی بنیاد پر نہیں بلکہ ایمان و عمل کی بنیاد پر ہوا کرتی ہے اور دوسرا ضابطہ یہ بتایا کہ جب ظلم اپنی انتہا کو پہنچ جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اپنے بعض مؤمن بندوں کو استعمال کر کے ظالموں کا صفایا کر دیا کرتے ہیں ۔ اگر ایسا نہ ہو تو دنیا کا نظام درہم برہم ہو کر رہ جائے۔
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا نبی امی ہونے کے باوجود ان تاریخی واقعات کو بیان کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ یہ قرآن اللہ کی نازل کردہ حق کتاب ہے اور آپ اللہ کے رسول برحق ہیں ۔



3۔تِلْكَ الرُّسُلُ


شروع میں انبیاء علیہم السلام اور ان کی ایک دوسرے پر فضیلت بیان کی گئی ہے۔ درجات کا یہ فرق کسی نبی یا رسول کی کمی یا کوتاہی کا غماز نہیں ہے بلکہ ان کے منصب اور ذمہ داری میں فرق اور اہمیت کے پیش نظر ہے۔ دنیا میں ہی صدقہ و خیرات کر کے اپنی عاقبت سنوار لو ورنہ قیامت کے دن کوئی سودے بازی، تعلقات یا سفارش کام نہیں دے گی۔ قرآن کریم کی آیات میں مرتبہ اور مقام کے اعتبار سے آیت الکرسی سب سے بڑی آیت ہے۔ یہ سورہ البقرہ کی آیت نمبر ۲۵۵ ہے اور اس کی عظمت کا راز یہ ہے کہ اس میں توحید کو بھرپور انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ زندہ جاوید اور کائنات کو قائم رکھنے والا ہے۔ اس پر اونگھ یا نیند کا غلبہ نہیں ہوتا۔ آسمان و زمین اور ان میں پائی جانے والی ہر چیز کا وہی مالک ہے۔ اس کی اجازت کے بغیر اس کے سامنے سفارش کرنے کی کوئی جرأت بھی نہیں کرسکتا۔ ان لوگوں سے پہلے کیا تھا اور ان کے بعد میں کیا ہو گا؟ اس سب کچھ کا علم اسی کے پاس ہے۔ یہ لوگ اتنا ہی جانتے ہیں جتنا وہ انہیں سکھاتا ہے۔ اس کے علم کی معمولی مقدار کا بھی احاطہ نہیں کرسکتے۔ اس کی کرسی کی وسعت اور بڑائی کا یہ عالم ہے کہ وہ آسمان و زمین پر حاوی ہے اور آسمان و زمین کی حفاظت، اس کے لئے کسی قسم کی مشکلات کا باعث نہیں ہے۔ وہ نہایت بلند ہے اور عظمتوں کا مالک ہے۔ ہدایت اور گمراہی واضح ہو چکی ہے، لہٰذا دین اسلام کو قبول کرنے کے لئے کوئی جبر یا زبردستی نہیں ہے۔ جو باطل قوتوں سے بغاوت کر کے اللہ کا وفادار بن گیا تو ا س نے ایسی مضبوط کڑی کو تھام لیا جو ٹوٹنے والی نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ ایمان والوں کا دوست ہے اور انہیں کفر کی ظلمتوں سے ایمان کے نور کی طرف لاتا ہے جبکہ کافروں کے دوست طاغوت (باطل قوتیں ) ہیں جو انہیں ایمان کی روشنی سے کفر کے اندھیروں کی طرف لے جاتے ہیں ، یہ لوگ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے جہنم کا ایندھن بنیں گے۔ اس کے بعد تین تاریخی واقعات بیان کئے جو توحید پر دلالت کرتے ہیں اور مرنے کے بعد زندہ ہونے کے قرآنی عقیدہ کو اجاگر کرتے ہیں ۔ پہلا واقعہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اور نمرود کا ہے جس کا دعویٰ تھا میں مار بھی سکتا ہوں اور موت سے بچا بھی سکتا ہوں لہٰذا میں اس کائنات کا رب ہوں ۔ ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا: اللہ تعالیٰ سورج کو مشرق سے نکالتے ہیں تم مغرب سے نکال کر دکھاؤ۔ اس پر وہ لاجواب ہو کر حیران رہ گیا۔ دوسرا واقعہ حضرت عزیر علیہ السلام کا ہے کہ کسی سفر میں ان کا گزر ایک تباہ شدہ بستی پر ہوا جس کے باشندے لاشوں کی صورت میں پڑے ہوئے تھے۔ انہوں نے ان کی تباہ شدہ کیفیت اور بوسیدگی اور اللہ تعالیٰ کی دوبارہ پیدا کرنے کی قوت پر تعجب کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان پر اور ان کی سواری پر موت طاری کر کے سو سال کے بعد زندہ کیا۔ سواری کی بوسیدہ ہڈیوں کو ان کے سامنے جمع کر کے ان پر گوشت پوست چڑھایا اور ان کے زاد سفر (کھانے) کو سو سال تک باسی ہونے سے بچا کر ترو تازہ رکھا اور اس طرح اپنی قدرت کا انہیں عملی مشاہدہ کرا دیا۔ تیسرا واقعہ: ابراہیم علیہ السلام نے مرنے کے بعد زندہ ہونے کی کیفیت کا مشاہدہ کیا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے اطمینان قلب کے لئے مردوں کو زندہ کرنے کی کیفیت کو عملی شکل میں دیکھنا چاہا تو اللہ تعالیٰ نے انہیں حکم دیا کہ چار پرندے لے کر انہیں اپنے ساتھ مانوس کریں ، پھر انہیں ذبح کریں اور بالکل قیمہ بنا کر ان کے ذرات آپس میں خلط ملط کر کے مختلف پہاڑیوں پر رکھ کر ان پرندوں کا نام لے کر پکاریں ۔ ابراہیم علیہ السلام کے پکارنے پر ہر پرندے کی ہڈی سے ہڈی، پَر سے پَر، خون سے خون سب مل ملا کر اپنی اصلی شکل و صورت میں بن کر ان کے پاس آ گئے۔ جس سے اللہ تعالیٰ کی زبردست قوت اور حکمت کا عملی مشاہدہ ہو گیا۔
صدقہ و خیرات کے حوالے سے آیت نمبر ۲۶۱ سے آیت نمبر ۲۶۶ تک چار مثالیں بیان کی ہیں ، دو مثالیں اخلاص کی اور دو مثالیں ریاء کاری کی۔ اخلاص کے ساتھ اللہ کے نام پر مال خرچ کرنے کی مثال ایسے ہی ہے جیسے زمین میں ایک بیج ڈال کر سینکڑوں دانے حاصل کر لینا اور ریاء کار کا صدقہ ایسا ہے جیسے چٹان پر غلہ اگانے کی ناکام کوشش۔ اچھی بات کہنا اور درگزر کر دینا ایسی مالی امداد سے بہتر ہے جس میں ریا کاری اور احسان جتلانے کا عنصر شامل ہو۔ اللہ کے لئے صدقہ و خیرات کی دوسری مثال زرخیز خطۂ زمین میں باغ لگانے کی ہے جو سال میں دو مرتبہ پھل دیتا ہو اور دکھاوے کے طور پر خیرات کرنے کی مثال اس شخص کی ہے جو اپنی جوانی میں محنت کر کے بہترین باغ اور فصل اگائے مگر اس کے بڑھاپے میں جب وہ محنت کے قابل نہ رہے، وہ اور اس کے چھوٹے چھوٹے بچے غلہ اور پھلوں کے محتاج ہوں تو یہ باغ کسی ناگہانی آفت سے تباہ ہو کر رہ جائے، اسی طرح ریا کار کا اجرو ثواب آخرت میں تباہ ہو جاتا ہے اور اسے کچھ نہیں ملتا۔
اللہ کے عطا کردہ مال و جائیداد اور زمین سے حاصل شدہ غلوں اور فصلوں میں سے پاکیزہ چیزیں اللہ کے نام پر دینی چاہئیں ، گھٹیا اور بیکار چیزیں جب اپنے لئے پسند نہیں کرتے تو اللہ کے نام پر کیوں دیتے ہو؟ صدقہ و خیرات کرنے پر شیطان غربت اور پیسہ کی کمی سے ڈراتا ہے جب کہ اللہ تعالیٰ مال میں برکت اور گناہوں کی معافی کا وعدہ کرتے ہیں ۔ حکمت و دانائی اللہ کی عطاء ہے جسے حکمت مل جائے اسے بہت بڑی خیر میسر آ گئی۔ کھلے عام اور چھپا کر موقع محل کے مطابق دونوں طرح صدقہ کرتے رہنا چاہئے۔ دین دار غرباء جو اپنی سفید پوشی کا بھرم رکھنے کے لئے مانگتے نہیں ہیں وہ آپ کے مالی تعاون کے زیادہ مستحق ہیں ۔ عدل و انصاف پر مشتمل معاشی نظام کے لئے رہنما اصول، غریب اور چھوٹے تاجروں کے لئے زہر قاتل اور تجارت کے لئے ’’رِستا ہوا ناسور‘‘ یہودی ذہنیت کی بدترین پیداوار ’’سودی نظام‘‘ کے تباہ کن عواقب و نتائج سے آیت نمبر ۲۷۵ سے آیت نمبر ۲۸۰ تک خبردار کرتے ہوئے سختی کے ساتھ اس سے باز رہنے کا حکم دیا ہے اور سود خوری سے بچنے کو ایمان کا تقاضا قرار دیا اور سودی نظام کو جاری رکھنے کو اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کے مترادف قرار دیا ہے۔ یوم احتساب یعنی قیامت کی یاد دہانی کراتے ہوئے آیت نمبر ۲۸۱ میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : اس دن سے ڈرو جب تم اللہ کی طرف لوٹائے جاؤ گے اور ہر شخص کو نیک و بد اعمال کا پورا پورا حساب دینا ہو گا۔ کسی پر کوئی ظلم نہیں کیا جائے گا۔ یہ قرآن کریم کی نزول کے اعتبار سے آخری آیت ہے اور اس میں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے اس دنیا سے ارتحال کا اشارہ بھی موجود ہے۔ آیت نمبر ۲۸۲ کمیت کے اعتبار سے قرآن کریم کی سب سے بڑی آیت ہے۔ اسے آیۃ المداینہ بھی کہتے ہیں ۔ اس میں ادھار لین دین کے قرآنی ضوابط، ادائیگی کی مدت کا تعین، تحریری وثیقہ کی تیاری اور گواہوں کی موجودگی وغیرہ کا بیان ہے۔ رہن رکھنے کے احکام کا تذکرہ ہے۔ آسمان و زمین کے اندر سب کچھ اللہ کی ملکیت ہے، وہ دلوں کے ظاہر اور خفیہ تمام بھیدوں سے واقف ہے۔ اللہ کے نازل کردہ قرآن پر رسول اور مؤمنین سب کا ایمان ہے۔ اللہ پر، فرشتوں پر، آسمانی کتابوں پر اور تمام انبیاء و رسل پر بلا تفریق ایمان لانا ضروری ہے۔ اپنی اطاعت شعاری اور فرماں برداری کا عاجزانہ اعتراف کر کے اپنی کمی و کوتاہی پر اللہ سے مغفرت طلب کرنی چاہئے۔ اللہ تعالیٰ انسانی وسعت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتے لہٰذا شریعت کے جتنے احکام ہیں وہ انسانی وسعت و قدرت کے اندر ہی ہیں اور ہر شخص کو اپنے برے بھلے اعمال کا نتیجہ بھگتنا ہو گا اس لئے فدویانہ طریقہ پر اپنی وفاداری کا اظہار کرتے ہوئے اللہ سے درخواست کریں ۔ اے ہمارے رب! ہماری غلطی اور کمی پر ہماری گرفت نہ فرما۔ ہماری طاقت سے زیادہ ہم پر ذمہ داریاں نہ ڈال، ہمارے ساتھ عفو و درگزر کا معاملہ فرما۔ رحم فرما، تو ہی ہمارا مولا ہے، کافروں کے مقابلہ میں ہماری مدد فرما۔ آیت نمبر ۲۸۵ اور ۲۸۶ سورہ بقرہ کی آخری دو آیتیں ہیں ان کی بہت فضیلت ہے۔ حدیث شریف میں ہے جس نے رات کو سوتے وقت یہ دو آیتیں پڑھ لیں تو یہ اس کے لئے کافی ہیں ۔

سورہ آل عمران

قرآن کریم کی طویل ترین سورتوں میں سے ایک ہے۔ مدنی ہے دوسو آیتوں اور بیس رکوع پر مشتمل ہے۔ اس سورہ میں عقائد پر گفتگو کرتے ہوئے زیادہ تر روئے سخن عیسائیوں کی طرف ہے۔ عیسائیت کے مذہبی تقدس کے حامل خاندان کا تذکرہ اس میں موجود ہے۔ عمران حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نانا تھے۔ عیسائیوں کے دلوں میں قرآن کریم کے لئے نرم گوشہ پیدا کرنے کی خاطر پوری سورہ کو ’’آل عمران‘‘ کے نام سے موسوم کر دیا۔ یہ سورہ ایک واقعہ کے پس منظر میں نازل ہونا شروع ہوئی۔ نجران کے عیسائیوں کا ساٹھ افراد پر مشتمل ایک بڑا وفد مدینہ منورہ میں حضور علیہ السلام سے ملاقات کے لئے آیا تھا۔ ان لوگوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ان کے مرتبہ سے بڑھا چڑھا کر پیش کیا۔ کبھی کہتے کہ وہ ’’اللہ‘‘ ہیں کبھی کہتے کہ وہ ’’ابن اللہ‘‘ ہیں اور کبھی کہتے کہ الوہیت کے مثلث (باپ، ماں اور بیٹا) کا ایک حصہ ہیں ۔ حضور علیہ السلام نے انہیں مسکت جواب دیتے ہوئے فرمایا: اللہ تعالیٰ زندہ جاوید ہیں ان پر موت طاری نہیں ہوسکتی جبکہ عیسیٰ علیہ السلام پر موت طاری ہو کر رہے گی۔ بیٹا اپنے باپ کے مشابہ ہوتا ہے جبکہ عیسیٰ علیہ السلام میں اللہ تعالیٰ کی مشابہت نہیں ، اللہ تعالیٰ کھاتے پیتے نہیں جبکہ عیسیٰ علیہ السلام کھاتے پیتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ سے آسمان کی بلندیوں اور زمین کی پنہائیوں میں کوئی چیز مخفی نہیں جبکہ عیسیٰ علیہ السلام سے بے شمار چیزیں مخفی ہیں ۔ اس پر وہ لاجواب ہو گئے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی تائید میں یہ سورہ نازل فرمائی۔ ابتداء میں اللہ کی وحدانیت اور قرآن کریم، تورات اور انجیل کی حقانیت کو بیان کیا اور اللہ کی آیات کے منکروں کو عذاب شدید سے ڈرایا۔ علم الٰہی کی وسعتوں کو بیان کیا۔ قدرت کے تخلیقی شاہکار انسان کے رحمِ مادر میں تیاری کے مرحلہ کو بیان کیا اور بتایا کہ قرآن کریم اللہ تعالیٰ ہی نے نازل فرمایا ہے، جس میں محکم اور واضح معنی و مفہوم رکھنے والی آیات بھی ہیں اور متشابہات بھی ہیں ، جن کے معنی و مفہوم ہر شخص پر واضح نہیں ہوتے، لیکن اگر متشابہ آیات پر حضور علیہ السلام کے بیان کردہ ضوابط کی روشنی میں غور کریں تو ان کے معنی واضح ہوسکتے ہیں ، مگر جو لوگ ضلالت و گمراہی کے مریض ہیں وہ ان آیات کو من مانے معنی پہنا کر لوگوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ ایسی آیات کو اللہ کی طرف سے یقین کر کے ان پر مکمل ایمان رکھنا چاہئے۔
اللہ سے ہدایت کی دعا مانگنی چاہئے اور روز جزاء کے تصور کو فراموش نہیں کرنا چاہئے۔ کافروں کا مال و اولاد ان کے کسی کام نہیں آسکے گا۔ وہ جہنم کا ایندھن بنیں گے۔ فرعون اور اس سے پہلے اقوام کے واقعات سے یہ بات ظاہر ہے۔ انہوں نے ہماری آیات کا انکار کیا، ہم نے ان کے جرائم پر ان کی گرفت کر کے انہیں عبرت کا نشانہ بنا دیا۔ بدر کے واقعہ میں غور کرو جب دو جماعتیں مقابلہ پر آئیں ۔ ایک جماعت اللہ کے لئے جہاد کرنے والی اور دوسری جماعت کافروں کی تھی، جن کی تعداد مسلمانوں سے کئی گنا زیادہ نظر آ رہی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے کافروں کو شکست دے کر ایمان والوں کو اپنی مدد سے غالب کیا۔ اس سے اہل بصیرت درس عبرت حاصل کرسکتے ہیں ۔ انسانوں کو بیوی، بچے، مال و دولت کے خزانے، سونا چاندی، سواریاں ، چوپائے، جانور اور کھیتیاں بہت بھلی معلوم ہوتی ہیں ، مگر یہ سب دنیا کی عارضی چیزیں ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کے پاس بہترین انجام ہے۔ متقی لوگوں کے لئے باغات، نہریں ، پاکیزہ بیویاں اور اللہ کی رضا ہے۔ اللہ اپنے بندوں کو خوب جانتے ہیں ۔ وہ بندے گناہوں پر استغفار اور جہنم سے حفاظت کے طلبگار ہیں ۔ صبر کرنے والے، سچ بولنے والے، فرماں برداری کرنے والے، صدقہ و خیرات کرنے والے اور تہجد کے وقت اپنے گناہوں کی معافی مانگنے والے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ اور فرشتے اور تمام اہل علم، توحید کی گواہی دیتے ہیں ۔ انسانی زندگی کے لئے نظام حیات جو اللہ تعالیٰ کے یہاں مستند و مسلم ہے وہ صرف اسلام ہے اور اس سے اختلاف رکھنے والے ہٹ دھرم اور ضدی ہیں ۔ اللہ تعالیٰ جلد ہی ان کافروں کا احتساب کریں گے۔ بحث بازی اور جھگڑا کرنے کی بجائے اللہ تعالیٰ کے سامنے سر تسلیم خم کرنا ہی ہدایت ہے۔
انبیاء اور عدل و انصاف کے داعی مذہبی پیشواؤں کا قتل یہودی ذہنیت کا غماز ہے۔ ایسے لوگوں کو دردناک عذاب ہو گا۔ ہر قسم کی حکمرانی اللہ ہی کی ہے وہ جسے چاہے عزت دے جسے چاہے ذلیل و رسوا کرے وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ دن کو رات میں داخل کرتا ہے، رات کو دن میں داخل کرتا ہے۔ زندہ سے مردہ کو اور مردہ سے زندہ کو نکالتا ہے اور جب چاہتا ہے بے حساب رزق دیتا ہے۔ ایمان والوں کے لئے کافروں سے گہری دوستی لگانا جائز نہیں ۔ اللہ کی محبت اور مغفرت کے حصول کا آسان اور کامیاب راستہ اتباعِ رسول ہے۔ انبیاء کی بعثت درحقیقت انتخاب ربانی ہوتا ہے۔ آدم و نوح اور ابراہیم و عمران کے خاندانوں کو اللہ تعالیٰ نے ہی منتخب فرمایا تھا۔ حضرت مریم کی ولادت ان کی کراماتی نشوونما اور انہیں بیت المقدس کی خدمت کے لئے وقف کرنے کی تفصیل کا بیان ہے۔ حضرت زکریا علیہ السلام کو بڑھاپے اور بیوی کے بانجھ پن کے باوجود یحییٰ جیسے پاکباز اور قائدانہ صلاحیتوں کے حامل بیٹے کی خوشخبری کا تذکرہ ہے۔ پھر عیسیٰ علیہ السلام کی معجزانہ ولادت، بچپن اور بڑھاپے میں گفتگو کے امتیاز کا تذکرہ۔ آپ کی نبوت و رسالت کے ساتھ ہی آپ کے معجزات، مردوں کو زندہ کرنا، مٹی کے پرندے بنا کر اڑا دینا، اندھوں اور کوڑھیوں کو صحت مند کر دینا وغیرہ کو ذکر کر کے بتایا ہے کہ یہ تاریخی باتیں ایک نبی امی کے ذریعہ لوگوں کے سامنے آنا، اس نبی کی حقانیت کی واضح دلیل ہیں ۔ پھر عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان پر اٹھائے جانے اور ان کو نبی برحق مان کر ان کی پیروی کرنے والوں کے دنیا پر غلبہ اور قیامت تک ان کی حکمرانی کو بیان کیا ہے۔
پھر عیسائیوں کے ساتھ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے مباہلہ کا تذکرہ ہے، جس میں دو مقابل فریق اپنے اہل و عیال کے ساتھ میدان میں نکل کر بددعا کرتے ہیں ، جس کے نتیجہ میں باطل فریق ہلاک ہو جاتا ہے۔ عیسائی مباہلہ کی بجائے فرار ہو گئے، جس سے ان کا بطلان واضح ہو گیا۔ قرآن کا اعلان ہے کہ ابراہیم علیہ السلام یہودی، عیسائی یا مشرک نہیں بلکہ یکسوئی کے ساتھ اللہ کی اطاعت کرنے والے مسلمان تھے۔ پھر یہودیوں کی خامیوں اور کمزوریوں کا تذکرہ ہے۔ خود راہِ راست پر آنے کی بجائے دوسروں کو بھی اپنے جیسا گمراہ دیکھنا چاہتے ہیں ۔ حق و باطل کو خلط ملط کر کے لوگوں کو دھوکہ دیتے ہیں ۔ سازش کے تحت اسلام کا اظہار کر کے پھر انکار کر دیتے ہیں تاکہ دوسروں کو بھی اسلام سے برگشتہ کریں ۔ مسلمانوں کا مال ناجائز طریقہ پر کھانے کو اپنے لئے حلال سمجھتے ہیں ، دنیوی مفادات کی خاطر اللہ کے کلام کو بیچ ڈالتے ہیں ۔ نبی و رسول کی شان یہ ہے کہ وہ لوگوں کو اپنا پرستار بنانے کی بجائے اللہ کی عبادت پر آمادہ کرتے ہیں ۔ پھر محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کے حوالے سے انبیاء کرام سے لئے جانے والے میثاق کا ذکر ہے، جس کی رو سے تمام انبیاء علیہم السلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نصرت کرنے کے پابند قرار دیئے گئے۔ اسلام کے علاوہ کوئی دین قابل قبول نہیں ۔ اللہ کے نزدیک، تمام فرشتوں اور تمام انسانوں کے نزدیک کافر ملعون ہیں ۔ ہمیشہ ہمیشہ جہنم میں رہیں گے۔ اگر زمین کے بھراؤ کے برابر سونا بھی فدیہ میں دے دیں تب بھی انہیں جہنم کے عذاب سے نجات حاصل نہیں ہو گی۔



4۔لَن تَنَالُواْ


اعلیٰ ترین نیکی اپنی محبوب چیز کو اللہ کے نام پر خرچ کرنا ہے۔ اللہ کے بارے میں غلط بیانی اور جھوٹ سے کام لینا بدترین ظلم ہے، اللہ سچے ہیں ۔ کفر و شرک اور تمام ادیان باطلہ سے بیزار ہو کر ایک اللہ کے بن جانے والے ابراہیم علیہ السلام کا طرز زندگی اپنانے کا حکم دیتے ہیں ۔بیت اللہ تک پہنچنے کی گنجائش رکھنے والوں پر حج فرض ہونے کا حکم بیان کر کے بتایا کہ انسانیت کے لئے سب سے پہلا گھر کعبۃ اللہ تعمیر ہوا ہے جس سے زمین کو پھیلایا گیا ہے اور یہ مکہ مکرمہ میں واقع ہے۔ بہت بابرکت اور ہدایت کا ذریعہ ہے۔ اس میں اللہ کی واضح نشانیاں موجود ہیں جن میں سے مقام ابراہیم بھی ہے۔ یہ وہ پتھر ہے جو خود بخود اوپر نیچے ہوتا تھا۔ ابراہیم علیہ السلام نے اس پر کھڑے ہو کر تعمیر کعبہ کا عمل سر انجام دیا تھا۔ اللہ کا گھر امن کی علامت ہے اس میں جو بھی داخل ہو گیا اسے امن دے دیا جاتا ہے۔
اہل کتاب کی کچھ خرابیاں ذکر کرنے کے بعد ان کی گندی ذہنیت کو بیان کیا کہ اگر مسلمان ان کی بات ماننے لگ گئے تو وہ انہیں ایمان سے دستبردار ہونے پر مجبور کر دیں گے! پھر تقویٰ کی تعلیم دے کر مرتے دم تک اسلام پر ثابت قدم رہنے کی تلقین فرمائی۔ فرقہ واریت کی لعنت سے نجات حاصل کرنے کے لئے اللہ کی رسی (قرآن کریم) کو مضبوطی سے تھامنے کا حکم دیا۔ ایک ایسی جماعت کی ضرورت پر زور دیا جو خیر کی داعی ہو اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرنے والی ہو۔ ایسے ہی لوگ کامیابی حاصل کرسکتے ہیں ۔ قیامت کے دن کافروں کے چہرے کالے سیاہ ہوں گے جبکہ اہل ایمان کے چہرے روشن اور چمکدار ہوں گے وہ اللہ کی رحمت میں ہوں گے جس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ امت مسلمہ بہترین امت ہے کیونکہ یہ اللہ پر ایمان لانے کے ساتھ ساتھ لوگوں کی نفع رسانی کا کام کرتے ہیں اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ بھی سر انجام دیتے ہیں ، یہود و نصاریٰ بھی اگر یہ صفات اپنے اندر پیدا کر لیں تو وہ بھی خیر کے حامل قرار دیئے جائیں گے، زبانی کلامی تمہاری دل آزاری کے علاوہ یہ تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے، ان پر ذلت و رسوائی کی چھاپ لگائی جاچکی ہے۔ اللہ کا ان پر غضب نازل ہوا ہے کیونکہ یہ لوگ انبیاء علیہم السلام کے ناجائز قتل کے مرتکب ہوتے رہے ہیں ۔ یہ لوگ گناہوں کے عادی اور انتہا پسند ہیں ۔ تمام اہل کتاب ایک جیسے نہیں ہیں بعض ان میں معتدل مزاج بھی ہیں جو راتوں میں اللہ کے کلام کی تلاوت کرتے اور نماز پڑھتے ہیں ۔ اللہ اور آخرت پر ایمان لانے کے ساتھ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر بھی کرتے ہیں ، اللہ تعالیٰ ان کی نیکیوں کو نظر انداز نہیں کریں گے۔ اللہ متقیوں کو خوب جانتے ہیں ۔ کافروں کے مال و اولاد ان کے کسی کام نہیں آسکیں گے، وہ دائمی طور پر جہنم میں رہیں گے، یہ اگر کسی نیک راہ میں مال خرچ بھی کرتے ہیں تو اس کی مثال ایسی ہے جیسے کسی ظالم شخص کی لہلہاتی کھیتی کو سردی اور پالا لگ جائے اور سوکھ کر تباہ ہو جائے، درحقیقت ایمان سے انکار کر کے انہوں نے خود ہی اپنے اوپر ظلم کیا ہے۔ پھر مسلمانوں کے ساتھ یہودیوں کی ازلی دشمنی اور بغض بیان کر کے بتایا ہے کہ تمہیں فائدہ ہو تو انہیں تکلیف پہنچتی ہے اور تمہیں نقصان ہو تو یہ خوش ہوتے ہیں ۔ ایسے لوگ دوستی لگانے کے قطعاً قابل نہیں ہیں ، تم نے اگر صبر و تقویٰ اختیار کئے رکھا تو یہ تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے۔
بدر میں قلیل تعداد ہونے کے باوجود اللہ کی مدد و نصرت سے کامیابی ملنے پر اللہ کا شکر ادا کرنا چاہئے، سورہ آل عمران کی آیت نمبر ۱۲۱ سے ۱۸۰ تک ۵۹ آیتوں میں غزوہ احد کا تذکرہ نہایت شرح و بسط کے ساتھ کیا ہے۔ مدد تو اللہ ہی کرتے ہیں مگر فرشتوں کا نزول مؤمنین کی تسلی اور دل جمعی کے لئے ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے وعدہ کیا تھا کہ ہم تین ہزار فرشتے بھیج رہے ہیں اگر کفار نے اچانک حملہ کر دیا تو ہم پانچ ہزار فرشتے بھیجیں گے، جب کفار کے حملہ میں آپ کے دندان مبارک شہید ہو گئے تو آپ نے کفار قریش کے لئے بددعاء کی جس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ آپ کا اختیار نہیں بلکہ میری مرضی پر منحصر ہے میں چاہوں تو انہیں عذاب دوں اور چاہوں تو معاف کر دوں ! اللہ بہت غفور رحیم ہے۔ سود خوری سے بچنے کے حکم کے ساتھ ہی تقویٰ اختیار کرنے اور جہنم سے بچنے کی تلقین ہے اور اللہ کی رحمت سے محظوظ ہونے کے لئے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کی تاکید ہے۔ جنت کے مستحقین متقی ہوتے ہیں جو ہر حال میں اللہ کے نام پر خرچ کرتے ہوں ۔ غصہ کو پینے والے، لوگوں کو معاف کرنے والے اور اپنے گناہوں پر اصرار کی بجائے ندامت کے ساتھ توبہ کرنے والے ہوتے ہیں ۔ اقوام عالم کے جرائم پر ان کی گرفت کا نظام جاری و ساری ہے دنیا میں چل پھر کر اس کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔ یہ قرآن کریم انسانوں کے لئے بیان، ہدایت اور متقین کے لئے نصیحت ہے۔ میدان جہاد میں پیش آنے والی ناپسندیدہ صورتحال پر دل گرفتہ ہو کر کمزوری کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہئے۔ ایمان کامل کے تقاضے پورے کرنا ہی اہل ایمان کے غلبہ کی ضمانت ہے۔ جہاد میں جانی و مالی نقصان اس عمل کا حصہ ہے اور ہر فریق کے ساتھ یہ صورتحال پیش آسکتی ہے۔ میدان احد میں مسلمانوں کو پیش آنے والے مصائب کے تین بڑے مقاصد تھے، مسلمانوں کی ایمانی قوت کا امتحان، مسلمانوں اور کافروں (منافقوں ) میں امتیاز اور بعض خوش نصیبوں کو شہادت کے اعلیٰ مرتبہ پر فائز کرنا۔ جہاد پر ثابت قدمی کا مظاہرہ کرنے والے جنت کے مستحق ہیں ۔ غزوہ احد میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شہادت کی افواہ پھیلانے والوں کا مقصد اگرچہ منفی تھا اور وہ مسلمانوں میں بددلی پھیلا کر انتشار پیدا کرنا چاہتے تھے مگر قرآن کریم نے اس سے مثبت مقاصد حاصل کرتے ہوئے اسے تربیت کا حصہ قرار دے کر مستقبل میں آپ کے انتقال کی صورت میں پیدا ہونے والے ممکنہ انتشار کے سد باب کے طور پر استعمال کیا اور بتایا کہ محمد علیہ السلام اللہ کے رسول ہیں ، خدا نہیں ہیں ۔ان کے انتقال کی خبر سے دل برداشتہ ہو کر اسلام سے روگردانی کرنے والے اللہ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے، وہ اپنا ہی نقصان کریں گے۔ ایسے موقع پر کمزوری اور بزدلی کا مظاہرہ کرنے کی بجائے بہادری اور ثابت قدمی کے ساتھ غلبۂ اسلام کی جدوجہد میں حصہ لینا چاہئے اور اپنی کمزوریوں اور کوتاہیوں پر مغفرت مانگتے ہوئے، اللہ سے ثابت قدمی اور کافروں کے مقابلہ میں نصرت کی دعاء مانگنی چاہئے۔ غزوہ احد میں پیش آمدہ بعض مناظر کی قلبی تصویر کشی کرتے ہوئے، کافروں پر مسلمانوں کا رعب ڈال کر اہل ایمان کو مستقبل میں کامیابی کی نوید سنائی گئی ہے۔ جن اہل ایمان سے میدان احد میں کسی قسم کی کوتاہی یا کمزوری کا مظاہرہ ہوا تھا انہیں معاف کرنے کا اعلان کیا گیا ہے اور جن منافقین نے جہاد پر اعتراضات کر کے مسلمانوں کی صفوں میں انتشار پیدا کرنے کی کوشش کی تھی ان کی سخت گرفت کی گئی ہے۔
منافقوں کا کہنا تھا کہ مسلمانوں کی تعداد اور اسلحہ میں کمی اور کافروں کی تعداد اور اسلحہ میں برتری کے پیش نظر میدان قتال میں اترنا کوئی دانشمندی نہیں ہے بلکہ یہ جہاد ہی نہیں ہے اگر یہ لوگ ہماری طرح گھروں میں بیٹھے رہتے تو قتل ہونے اور زخمی ہونے سے بچ جاتے۔ قرآن کریم کہتا ہے کہ تم پر جب گھروں میں موت کا فرشتہ مسلط ہو کر تمہیں موت کے منہ میں دھکیلے گا تو اس وقت موت سے تم کیسے بچو گے؟
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو صحابہ کرام کے ساتھ نرم، برتاؤ جاری رکھنے اور تمام معاملات کو مشورہ سے طے کرتے رہنے کی تاکید کی گئی ہے۔ نصرت خداوندی کا ضابطہ کہ توکل کرنے والوں کی اللہ ضرور مدد کرتے ہیں ۔ بعثت نبوی اللہ کی طرف سے مسلمانوں کے لئے عظیم احسان ہے۔ نبی کا فرض منصبی کلام اللہ کی آیات کی تلاوت، مسلمانوں کی تربیت اور انہیں قرآن و حدیث کی تعلیم ہے۔ انسان پر آنے والی مشکلات و مصائب اس کے اپنے اعمال کا نتیجہ ہوتی ہیں ۔ شہداء مردہ نہیں بلکہ اسلام کے غلبہ اور دفاع کی جنگ میں اپنی جانیں لگا کر حیات ابدی سے ہمکنار ہو کر جنت میں اللہ کی نعمتوں سے لطف اندوز ہو رہے ہیں ۔ اس کے بعد غزوہ حمراء الاسد کا تذکرہ ہے جو غزوۂ احد کے فوراً بعد پیش آیا۔ کفار نے دوبارہ حملہ آور ہونے کا فیصلہ کیا تو حضور علیہ السلام تھکے ماندے اور زخموں سے چور چور مجاہدین کو لے کر ان کے تعاقب میں نکلے تو کافروں نے فرار اختیار کرنے میں ہی عافیت جانی اور مسلمانوں کو حمراء الاسد کے مقام پر لگنے والے تجارتی بازار میں خریدو فروخت سے اتنا منافع ہوا کے احد کی پریشانی اور نقصان کا تدارک ہو گیا۔ اس نازک موقع پر نبی کی دعوت پر لبیک کہنے والوں کے ایمان و ثابت قدمی کی قرآن کریم نے تعریف کی ہے اور کافروں کی طاقت اور اسلحہ سے خوفزدہ ہونے والوں کو شیطان اور اس کے حمایتی قرار دیا ہے۔ کافروں کی کامیابیوں سے متاثر ہونے والوں کو بتایا ہے کہ یہ اللہ کی طرف سے مہلت اور ڈھیل ہے۔ ان کے لئے ذلت آمیز عذاب تیار ہے۔
اللہ کے نام پر خرچ کرنے سے بخل کرنے والوں کو جان لینا چاہئے کہ یہ ان کے لئے خیر نہیں بلکہ شر ہے۔ اللہ کے راستہ سے جو مال بچا کر رکھیں گے اسے جہنم میں تپا کر ان کے گلے کا طوق بنا دیا جائے گا۔
غلبۂ اسلام کی جدو جہد اور دینی مقاصد کے لئے چندہ کرنے پر یہودیوں نے اعتراض کیا کہ مسلمانوں کا خدا (نعوذ باللہ) فقیر ہو گیا ہے اور ہم مالدار ہیں تبھی تو ہم سے چندہ مانگ رہا ہے۔ حضرت ابو بکر نے اس گستاخانہ بات کہنے والے یہودی کو زد و کوب کیا اور اسے قتل کی دھمکی دی جس پر یہودی تلملا اٹھے اور حضور علیہ السلام کے سامنے اپنی گستاخانہ گفتگو سے انکار کر کے حضرت ابو بکر کو سزا دینے کا مطالبہ کرنے لگے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابو بکر صدیق کی تائید اور یہودیوں کی مذمت کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ نے ان کی گستاخانہ گفتگو سن لی ہے اور یہ عادی مجرم ہیں پہلے بھی اس قسم کی نازیبا حرکتیں کرتے رہے ہیں ۔ یہ لوگ انبیاء علیہم السلام کے قتل جیسے بدترین جرائم کا ارتکاب کرتے رہتے ہیں اور ہم انہیں قیامت کے دن آگ میں جلانے کا عذاب دیں گے۔ اس سے واضح ہو جاتا ہے کہ حضرت ابوبکر نے ایمانی غیرت و حمیت کے پیش نظر جو قدم اٹھایا تھا وہ بالکل جائز اور مبنی بر انصاف تھا۔
حضور علیہ السلام کی نبوت کو تسلیم نہ کرنے پر یہودی یہ جواز پیش کرتے تھے کہ ہمیں اللہ نے حکم دیا ہے کہ کسی بھی نبی پر اس وقت تک ایمان نہ لائیں جب تک وہ اپنی نبوت کے ثبوت کے طور پر خاص نشانی نہ دکھا دے اور وہ نشانی یہ ہے کہ قربانی کر کے کسی پہاڑ پر رکھے اور آسمانی آگ اسے جلا دے تو ہم اس کی صداقت کو تسلیم کریں گے ورنہ نہیں ۔ درحقیقت یہ ان کی بہانہ بازی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ پہلے انبیاء علیہم السلام کا بھی تم انکار کرتے رہے ہو لہٰذا تمہاری بات قابل اعتماد نہیں ہے۔ ہر انسان پر موت کا آنا برحق ہے۔ روز قیامت تمہارے اعمال کا محاسبہ ہو گا اور جہنم سے بچ کر جنت میں جانے والے ہی کامیاب قرار پائیں گے! اہل کتاب سے عہد لیا گیا تھا کہ وہ آسمانی کتاب کے مضامین کو وضاحت کے ساتھ لوگوں کے سامنے بیان کریں گے۔ کسی بات کو نہیں چھپائیں گے، مگر انہوں نے اس عہد کی پاسداری نہیں کی اور اپنے مفادات کی خاطر اللہ کی آیات میں رد و بدل کرنے کی بدترین حرکت میں مبتلا ہو گئے۔ یہ لوگ اپنے کرتوتوں پر خوش ہو رہے ہیں اور ناکردہ اعمال کو اپنے کھاتے میں ڈال کر اپنی تعریف کرانا چاہتے ہیں ۔ یہ اللہ کے عذاب سے نہیں بچ سکتے۔ ان کے لئے دردناک عذاب تیار کر لیا گیا ہے۔ آسمان و زمین پر اللہ کی حکمرانی اور کوئی چیز اللہ کی قدرت سے باہر نہیں ہے۔
اہل دانش و بینش کو اللہ تعالیٰ کی مخلوقات آسمان و زمین اور دن رات میں غور و خوض کی دعوت دی گئی ہے اور اللہ کے برگزیدہ بندوں کی پانچ دعاؤں کا تذکرہ ہے، جنہیں شرف قبولیت حاصل ہے۔ مرد و عورت کی تخلیق اور ان کی ذمہ داریوں میں اختلاف کے باوجود انہیں اجر و ثواب میں برابری اور مساوات کی خوشخبری سنائی گئی ہے اور بتایا ہے کہ ہجرت اور جہاد جیسے عظیم الشان اعمال جو بھی کرے گا اس کے لئے گناہوں کی معافی، اللہ کے ہاں بہترین اجر و ثواب اور جنت کا وعدہ ہے۔ کافروں کے پاس مالی وسائل کی فراوانی اور عیش و عشرت کو دیکھ کر دھوکہ میں نہیں پڑنا چاہئے۔ یہ عارضی اور معمولی فوائد ہیں ۔ آخرت میں ان کا بدترین ٹھکانہ جہنم ہے۔ متقین کے لئے نہریں اور باغات اور اللہ کے ہاں بہترین مہمانی ہے۔ اہل کتاب میں بعض انصاف پسند بھی ہیں ، جو قرآن اور نبی اسلام پر ایمان لانے کی نعمت سے سرفراز ہیں ۔
سورہ کی آخری آیت میں دین پر ثابت قدمی اور میدان جہاد میں مورچوں میں کفر کے مقابلہ میں ڈٹ جانے والوں کو دائمی فلاح و کامرانی کی نوید سنائی گئی ہے۔
حدیث شریف میں آتا ہے کہ حضور علیہ السلام تہجد کے وقت جب بیدار ہوتے تو سورہ آل عمران کی آخری گیارہ آیتیں آسمان کی طرف رخ کر کے تلاوت فرمایا کرتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہلاکت ہے اس شخص کے لئے جو ان آیتوں کی تلاوت کے باوجود کائنات کے اندر اللہ کی نشانیوں میں غور و خوض نہ کرے!

سورہ النساء

یہ مدنی سورہ ہے۔ ایک سو چھہتر آیتوں اور چوبیس رکوع پر مشتمل ہے۔ امرأۃ عورت کو کہتے ہیں ۔ اس کی جمع نساء ہے، جس کے معنی ’’عورتیں ‘‘ یا ’’خواتین‘‘ ہے۔ اس سورہ میں منجملہ دوسرے مسائل کے عورتوں کے انتہائی اہم اور حساس مسائل زیر بحث آئے ہیں ، اس لئے اس کا نام سورہ النساء رکھا گیا ہے۔ سورہ بقرہ کے بعد متنوع اور بھرپور طریقہ پر مسائل کا بیان اس سورہ کے اندر ہے۔ معاشرتی اور قومی مسائل کے ساتھ تشریعی مسائل اور ہجرت اور جہاد پر سیر حاصل گفتگو، غیر مسلم اقوام کے ساتھ تعلقات کی نوعیت، میراث کے احکام، کلالہ کا مسئلہ، عقائد پر بحث، منافقین کا تذکرہ اور یہود و نصاریٰ کے مکروہ چہرہ کی نقاب کشائی جیسے اہم موضوعات پر مفصل بات کی گئی ہے۔
تقویٰ اختیار کرنے کی تلقین کے ساتھ سورہ کی ابتداء کی گئی ہے اور اللہ کی قدرت کا بیان ہے کہ آدم و حواء علیہما السلام کی معجزانہ تخلیق کے بعد بے شمار انسانوں کو اس جوڑے کی صلب سے پیدا کر کے اس سرزمین پر پھیلا دیا۔ اس میں یہ بھی اشارہ ہے کہ ایک ماں باپ کی اولاد ہونے کے ناطے تمام انسانوں کو ایک گھرانے کے افراد کی طرح باہمی اتفاق و اتحاد سے زندگی بسر کرنی چاہئے۔
پھر یتیموں کی کفالت اور ان کے اموال کی دیانتداری کے ساتھ حفاظت کا حکم دیا گیا ہے۔ چار تک بیویاں رکھنے کی اجازت اور ان میں عدل و انصاف قائم رکھنے کا بیان ہے۔ مہر کی ادائیگی بطیبِ خاطر کی جائے اور خواتین چاہیں تو اپنا مہر معاف بھی کرسکتی ہیں ۔ معاشرہ میں ناسمجھ افراد کی نگہداشت اور ان کی مالی سرپرستی کا حکم دیا گیا ہے، پھر وراثت کے موضوع پر تفصیلی گفتگو اور تمام وارثوں کے حصے متعین کر کے بتایا گیا ہے کہ وارثوں کے استحقاق کو اللہ تم سے بہتر جانتے ہیں ۔ وراثت کی تقسیم سے پہلے میت کے قرض کی ادائیگی اور وصیت پر عمل درآمد کی تلقین ہے۔ زنا اور لواطت کے لئے ابتدائی قانون سازی کی گئی ہے۔ عورتوں کو ان کی مرضی کے خلاف زبردستی کسی کے نکاح میں دینے اور ان کے مہر میں خورد برد کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ والد کے انتقال کے بعد اس کی منکوحہ سے نکاح پر پابندی لگائی گئی ہے اور محرمات کی فہرست ذکر کر کے بتایا گیا ہے کہ ان خواتین سے نکاح حرام ہے۔ ماں ، بیٹی، بہن، پھوپھی، خالہ، بھتیجی، بھانجی، رضاعی ماں ، رضاعی بہن، ساس، بہو، جس منکوحہ کا شوہر موجود ہے۔ ان خواتین سے نکاح کرنا جائز نہیں ہے۔



5۔وَالْمُحْصَنَاتُ


عفت و عصمت اور نسل انسانی کے تحفظ اور شہوت کی تسکین کے لئے زنا کی بجائے نکاح کا راستہ اختیار کیا جائے، اگر غیر منکوحہ آزاد عورت میسر نہ آئے تو مالکان کی اجازت سے باندیوں کے ساتھ بھی نکاح کیا جا سکتا ہے۔ زنا میں مبتلا ہونے کی صورت میں باندی کی سزا آزاد عورت سے نصف ہو گی۔ کسی کا مال ناجائز طریقہ سے کھانا حرام ہے البتہ باہمی رضامندی کے ساتھ تجارتی بنیادوں پر قیمت ادا کر کے استعمال کرسکتے ہیں ، خودکشی حرام ہے۔ کبیرہ گناہوں سے بچنے والوں کے صغیرہ گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں ۔ مردوں اور عورتوں کی جسمانی صلاحیتوں میں جو فرق رکھا ہے اس کے پیش نظر ایک دوسرے سے برابری کی تمنا نہ کریں ۔ ہر ایک کے عمل کے مطابق اجر و ثواب میں سے حصہ ملے گا۔ اللہ سے اس کا فضل مانگنا چاہئے۔ مردوں کو عورتوں پر دو وجوہ سے برتری عطا کی گئی ہے۔ (۱)انہیں خِلقی طور پر جسمانی فضیلت حاصل ہے۔ (۲)گھریلو معاملات میں مالی اخراجات کی ذمہ داری ان پر عائد ہے۔ پاکیزہ خواتین وہ ہیں ، جو اطاعت شعار اور اپنی عفت و پاکدامنی کی محافظ ہوں ۔ نافرمانی کرنے والی عورتوں کو وعظ و نصیحت کریں ، زن و شوئی کے تعلقات منقطع کریں اور مناسب سزا دے کر انہیں راہِ راست پر لانے کی کوشش کریں ۔ اگر وہ فرماں برداری اختیار کر لیں تو انہیں ستایا نہ جائے۔ اگر میاں بیوی کے اختلافات حد سے تجاوز کر جائیں تو جانبین کی طرف سے ایک ایک نمائندہ کو باہمی مذاکرات سے مسئلہ کو حل کرنے کے لئے مقرر کر دیا جائے۔ اگر دونوں مخلص ہوں گے تو اختلافات کو ختم کرنے کا کوئی نہ کوئی راستہ ضرور نکل آئے گا۔ حقوق اللہ کے ساتھ حقوق العباد کا بھی اہتمام کرو۔ اللہ کی عبادت کرو۔ شرک سے گریز کرو۔ والدین، رشتہ دار، یتیم، مسکین، پڑوسی، مسافر وغیرہ کے ساتھ حسن سلوک کرو۔ اللہ تعالیٰ ایک ذرہ برابر بھی ظلم نہیں کرتے اگر کوئی شخص نیکی کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ بڑھا چڑھا کر اسے اجر عطا فرماتے ہیں ۔ ہر امت میں سے گواہ لائے جائیں گے اور ان سب پر محمد علیہ السلام کو بطور گواہ پیش کیا جائے گا۔ شراب کی حرمت کے حوالہ سے ذہن سازی کرتے ہوئے فرمایا کہ نشہ کی حالت میں نماز کے قریب نہ جاؤ تاکہ مدہوشی کے عالم میں کوئی غلط اور نازیبا بات منہ سے نہ نکل جائے۔
اس کے بعد جنابت اور تیمم کے بعض مسائل ذکر کئے اور پھر یہودیت کی مکروہ ذہنیت کا پردہ چاک کرتے ہوئے ان کی بعض سازشوں اور خرابیوں کو بیان کیا۔ امانت کو اس کے مستحقین تک پہنچانے کا حکم دیا۔ اللہ اور اس کے رسول اور اولو الامر کی اطاعت کی تلقین فرمائی۔ بعض لوگ ایمان کے دعوے کے باوجود طاغوت (اللہ کے باغی رہنماؤں ) سے اپنے فیصلے کراتے ہیں جبکہ انہیں طواغیت سے براءت کا حکم دیا گیا ہے۔ شیطان انہیں بہت دور کی گمراہی میں ڈالنا چاہتا ہے۔ جب انہیں اللہ کے کلام کے مطابق فیصلہ کرانے کی دعوت دی جاتی ہے تو یہ لوگ اس راستہ میں رکاوٹیں پیدا کرنے لگتے ہیں ۔ پھر ایک واقعہ کی طرف اشارہ ہے۔ ایک منافق اور ایک یہودی میں اختلاف ہوا۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دلائل کی روشنی میں فیصلہ یہودی کے حق میں دیدیا۔ منافق نے حضرت عمر سے انصاف مانگا۔ انہوں نے اسے قتل کر دیا کہ جو شخص رسول خدا کے فیصلہ کو انصاف کے منافی خیال کرے انصاف کا تقاضا ہے کہ اسے زندگی کی قید سے آزاد کرا دیا جائے۔ اس پر قرآن کریم نازل ہوا کہ تمہارے رب کی قسم ہے کہ وہ شخص ایمان سے خالی ہے جو اپنے اختلافات میں آپ کے فیصلہ کو بلا چوں و چرا تسلیم نہ کرے۔ اس کے بعد فرمایا کہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرنے والے، اللہ کے انعام یافتہ بندوں انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین کے ساتھ جنت میں ہوں گے۔ ایسے پاکیزہ لوگوں کا ساتھ میسر آ جانا اللہ کے فضل کا آئینہ دار ہے۔ اللہ تعالیٰ خوب علم رکھنے والے ہیں ۔ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت و فرماں برداری کی فضیلت بیان کر کے سب سے بڑی اطاعت اور نیکی کا حکم دیا اور وہ غلبۂ اسلام کے لئے اپنی جان و مال لگا کر جہاد میں حصہ لینا ہے۔ فرمایا: اے ایمان والو! جہاد کے لئے میدانی جنگ یا چھاپہ مار جنگ جو بھی وقت کا تقاضا ہو اسے اختیار کرو۔ تمہاری صفوں میں ایسے منافقین بھی موجود ہیں جو جہاد کے مخالف اور محاذ جنگ سے پیچھے رہنے والے ہیں ۔ ان کی صورتحال یہ ہے کہ اگر تمہیں محاذ پر کوئی ناگواری پیش آئے تو خوشیاں مناتے ہیں کہ اچھا ہی ہوا کہ ہم ان کے ساتھ نہیں تھے اور اگر تمہیں کوئی کامیابی حاصل ہو تو انہیں افسوس اس بات کا ہوتا ہے کہ کاش مال غنیمت کے حصول میں ہم بھی شریک ہوتے۔ دنیا پر آخرت کو ترجیح دینے والوں کو قتال فی سبیل اللہ میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا چاہئے کیونکہ اللہ کے راستہ میں قتال کے دوران اگر کوئی شخص شہید ہو جاتا ہے یا کافروں پر غلبہ حاصل کر لیتا ہے تو دونوں صورتوں میں اجر عظیم کا مستحق قرار پاتا ہے۔ پھر قتال فی سبیل اللہ کے لئے جواز کی وجہ بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ تم آخر جہاد کے لئے کیوں نہیں نکلتے جبکہ صورتحال یہ ہے کہ ضعیف اور مظلوم بچے، بوڑھے اور عورتیں کفار کے ظلم سے تنگ آ کر تمہاری راہ دیکھ رہے ہیں اور دعائیں مانگتے ہیں کہ ہمارے لئے ظلم و ستم سے نجات دہندہ اور کوئی مددگار پیدا کر دیجئے۔ ان حالات میں بھی اگر جہاد نہیں کرو گے تو پھر کب کرو گے؟ جب کافر طاغوت کی حمایت میں لڑتے ہیں تو ایمان والوں کو اللہ کے دین کی حمایت میں لڑنا چاہئے۔ شیطان کے حمایتیوں سے تمہیں جنگ کرنی چاہئے۔ شیطانی سازشیں انتہائی کمزور ہوا کرتی ہیں ، بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ جب نماز روزہ کی بات ہو تو جہاد شروع کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں اور جب جہاد کا وقت آتا ہے تو موت کے ڈر سے راہِ فرار اختیار کر جاتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ موت تو ہر جگہ آ کر رہے گی۔ مضبوط قلعوں کے اندر بند ہو کر بھی موت سے بچنا ممکن نہیں ہے۔ اگر انہیں کوئی فائدہ حاصل ہوتا ہے تو اسے اللہ کی طرف منسوب کرتے ہیں ، لیکن اگر کوئی نقصان ہو جائے تو نبی کو مورد الزام ٹھہراتے ہیں ، جبکہ ہونا یہ چاہئے کہ فائدہ کو اللہ کی طرف منسوب کریں اور نقصان کو اپنی کوتاہی اور کج تدبیری کا نتیجہ قرار دیں ۔ ہم نے رسول کو اسی لئے بھیجا ہے کہ اس کی اطاعت کی جائے کیونکہ اطاعتِ خداوندی اطاعتِ رسول میں مضمر ہے۔ منافقین آپ کے سامنے اطاعت کی باتیں کرتے ہیں اور آپ کی مجلس سے اٹھ کر آپ کی مخالفت شروع کر دیتے ہیں ۔ آپ اللہ پر توکل کرتے ہوئے ان سے صرفِ نظر کرتے رہیں اللہ بہترین کارساز ہیں ۔ اس کے بعد قرآن کریم میں غور و خوض کی دعوت دیتے ہوئے اس کے حق و صداقت پر مبنی ہونے کے لئے دلیل یہ دی ہے کہ اس میں کوئی تضاد اور اختلاف نہیں پایا جاتا۔ پھر معاشرہ کا امن و سکون تباہ کر دینے والی بدترین عامل ’’افواہ سازی‘‘ کی مذمت کرتے ہوئے اس کے سدباب کا طریقہ بیان کیا ہے کہ متعلقہ شخص سے رابطہ کر کے تحقیق کر لی جائے تو ’’افواہیں ‘‘ اپنی موت آپ مر جاتی ہیں اور اگر دین کی کوئی بات سامنے آئے تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے لائے ہوئے دین کے ماہرین سے رجوع اور تحقیق کے بغیر اس پر عمل نہ کیا جائے۔ جہاد کے لئے ہر شخص کو چاہئے کہ وہ دوسروں کو ہدفِ تنقید بنانے کی بجائے اپنے آپ کو پیش کر دے اور دوسرے مسلمانوں کو جہاد میں شریک کرنے کے لئے ترغیب دیتا رہے۔ یہی وہ راستہ ہے، جس سے کافروں کا زور توڑا جا سکتا ہے۔ اللہ بڑی طاقت کے مالک ہیں اور وہ دشمنان اسلام کو عبرت کا نشان بنا سکتے ہیں ۔
جائز اور ناجائز سفارش کا ضابطہ بیان کیا اور سلام کرنے کے آداب سکھائے کہ سلام کا جواب بہتر سے بہتر انداز میں دیا جائے۔ پھر قیامت کے محاسبہ کی یاددہانی کے لئے فرمایا اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ تمہیں ایسے دن میں جمع کرے گا، جس کے آنے میں شک و شبہ کی کوئی گنجائش ہی نہیں ہے۔ اللہ سے زیادہ سچی بات اور کس کی ہوسکتی ہے۔ پھر منافقین کے بارے میں دو ٹوک پالیسی اختیار کرنے کا حکم دیتے ہوئے فرمایا کہ تم لوگ منافقین کے بارے میں دہری ذہنیت کا کیوں شکار ہو؟ اللہ نے انہیں مستردکر دیا ہے، جسے اللہ گمراہ قرار دے دیں ، اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا! تم ان کے بارے میں متردد ہو جبکہ وہ تمہیں کافر بنانے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں تاکہ تم اور وہ ایک جیسے ہو جاؤ۔ یہ لوگ تو اس قابل ہیں کہ ان سے کسی قسم کی دوستی نہ رکھی جائے بلکہ یہ جہاں بھی ملیں انہیں قتل کر کے جہنم رسید کر دیا جائے، البتہ ان میں سے اگر کسی نے تمہارے ساتھ معاہدہ کر رکھا ہو یا وہ قتل و غارت گری سے باز آنے کی ضمانت دینے کے لئے تیار ہوتو اس سے چشم پوشی کی جا سکتی ہے، پھر اس کے بعد کسی بے گناہ کے قتل کی صورت میں دیت کی ادائیگی کا ضابطہ بیان کیا اور کسی مؤمن کے ناجائز قتل کی صورت میں دائمی جہنمی ہونے کی وعید بیان فرمائی، پھر بلا تحقیق کسی کے خلاف انتقامی کارروائی کرنے سے منع کرتے ہوئے بتایا کہ اگر کوئی اجنبی شخص تمہیں سلام کرتا ہے تو یہ اس کے ایمان کی علامت ہے محض شک و شبہ کی بنیاد پر اس کے خلاف کوئی قدم نہیں اٹھانا چاہئے۔ پھر محاذ جنگ پر مصروفِ عمل مجاہد کی فضیلت بیان کرتے ہوئے بتایا کہ ’’مجاہدین‘‘ اور ’’قاعدین‘‘ ہمسر نہیں ہیں یعنی جہاد سے پیچھے رہنے والے، جہاد کرنے والوں کے برابر کبھی نہیں ہوسکتے، ہر مسلمان سے اللہ نے اجر و ثواب کا وعدہ کر رکھا ہے مگر مجاہدین کا مرتبہ اور مقام بہت بڑا ہے، پھر ہجرت کے موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اگر کوئی شخص مسلمان ہونے کا دعویدار ہو کر بھی ایسی جگہ سے ہجرت نہ کرے جہاں اسے دین پر عمل کرنے کی اجازت نہ ہوتو اس کے ایمان کا کوئی اعتبار نہیں ہے۔ اللہ کے نام پر ہجرت کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ بڑی وسعت اور فارغ البالی نصیب فرماتے ہیں ۔ پھر جہاد اور نماز کی اہمیت کے ایک قرآنی حکم کا تذکرہ ہے۔ مسلمان غزوہ بنی المصطلق کے موقع پر جب ظہر کی نماز پڑھنے لگے تو کافروں نے کہا کہ ہمیں اگر پہلے سے معلوم ہوتا تو اس حالت میں ایک دم حملہ آور ہو کر مسلمانوں کو نیست و نابود کرنا بہت آسان تھا۔ انہوں نے عصر کی نماز میں حملہ کرنے کی پلاننگ کر لی، جس پر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو کافروں کی اس خفیہ تدبیر کی اطلاع بھی دی اور اس کے سدباب کے لئے ’’صلوٰۃ الخوف‘‘ کا طریقہ بھی بیان کر دیا کہ اگر دشمن سے جان کا خطرہ ہو تو نماز کے لئے اس طرح صف بندی کریں کہ ایک صف امام کے ساتھ نماز کی ایک رکعت مکمل کر لے۔ دوسری صف نیت باندھ کر کھڑی رہے اور دشمن کی نقل و حرکت پر نگاہ رکھے پھر دوسری صف ایک رکعت امام کے ساتھ مکمل کر لے اور پہلی صف پیچھے ہٹ کر دشمن کے اچانک حملہ کی صورت میں جوابی کارروائی کے لئے تیار رہے پھر امام اپنی نماز مکمل ہونے پر سلام پھیر دے اور دونوں صفیں باری باری اپنی باقی ماندہ نماز پوری کر لیں ۔ اس طرح نماز کے فریضہ کی بروقت اور با جماعت ادائیگی بھی ہو جائے گی اور جہاد کے فریضہ کی ادائیگی میں بھی کوتاہی اور غفلت نہیں ہو گی۔ اسی ضمن میں حالت سفر میں ’’قصر نماز‘‘ کا حکم بھی عنایت کیا گیا۔ چنانچہ دشمنوں کی تدبیر دھری کی دھری رہ گئی اور نماز اور جہاد کی مشترکہ اہمیت بھی واضح ہو گئی کہ نماز جیسے عظیم الشان عمل کی وجہ سے جہاد کو مؤخر کرنے کی اجازت نہیں دی گئی اور جہاد جیسے اہم عمل کی بناء پر نماز میں غفلت اور کوتاہی کی اجازت نہیں دی گئی۔ نماز سے فارغ ہونے کے بعد بھی دوران جہاد ذکر میں مشغولیت رہے۔ نماز کو وقت مقرر پر ادا کرنا فرض ہے۔ پہاڑی علاقہ میں ننگے پاؤں کافروں کا پیچھا کرنے سے مجاہدین کے پاؤں زخمی ہو کر خون رِسنے لگا تھا، جس پر حکم ہوا کہ کافروں کے تعاقب میں کسی قسم کی سستی کا مظاہرہ نہ کرو۔ اگر تمہیں تکلیف پہنچی ہے تو کافر بھی آرام سے نہیں بیٹھے ہوئے انہیں بھی اپنا بچاؤ کرتے ہوئے زخم سہنے پڑ رہے ہیں ، مگر مسلمان اور کافر کی تکلیف میں بنیادی فرق ہے کہ تمہیں ہر تکلیف اور زخم پر اللہ کے ہاں سے اجر و ثواب ملے گا، جبکہ ان کی تکلیف اور دکھ انہیں مزید جہنم کے قریب کر دے گا۔ اس کے بعد ہر حال میں عدل و انصاف کا مظاہرہ کرنے کی تلقین ہے واقعہ یہ ہوا تھا کہ کسی گھر میں چوری ہو گئی تھی چور انتہائی چالاک اور چرب لسان تھے۔ انہوں نے کسی بے گناہ کو پھنسا کر اپنا دامن بچانے کی کوشش کی۔ بعض لوگ ان کی چرب لسانی سے متاثر ہو کر انہیں بری کرانا چاہتے تھے۔ قرآن کریم نے ان کے جرم کو طشت از بام کرتے ہوئے تاکید فرمائی کہ بلا تحقیق کسی خائن مجرم کی حمایت کرنے کی بجائے عدل و انصاف کے قانون کے مطابق فیصلہ کر کے مجرمین کو سزا دینی چاہئے۔ دنیا میں اگر تم نے کسی مجرم کو بچا بھی لیا تو کل قیامت میں اللہ کی گرفت سے اسے کون بچائے گا۔ جس نے جرم کیا سزا بھی اسی کو ملنی چاہئے۔ اپنے گناہ کا الزام دوسرے پر تھوپنا بہت بڑا جرم ہے اور بہتان تراشی کے زمرہ میں آتا ہے۔ کسی کو نقصان پہنچانے کے لئے خفیہ تدبیروں کی مذمت کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر کوئی خفیہ تدبیر کرنی ہی ہے تو کسی نیک کام، صدقہ و خیرات یا مفاد عامہ کے لئے کرنی چاہئے۔ اس پر اجر عظیم نصیب ہو گا۔
نبی کی مخالفت کرتے ہوئے جمہور مسلمانوں سے ہٹ کر اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد علیحدہ بنانے والوں کی مذمت کرتے ہوئے فرمایا کہ جو شخص اجماع کے خلاف کرے گا، اسے اللہ تعالیٰ دنیا میں تو ڈھیل دے دیں گے، مگر کل قیامت میں اسے جہنم کے بدترین ٹھکانہ سے سابقہ پڑے گا۔ اللہ تعالیٰ ہر گناہ معاف کرسکتے ہیں ، مگر شرک کے گناہ کو کبھی معاف نہیں فرمائیں گے۔ اس کے بعد شیطانی چالوں کا کچھ تذکرہ پھر جنت و جہنم کی باتیں اور ہر شخص کو اپنے عمل کا بدلہ بھگتنے کے لئے تیار رہنے کی تلقین اور مساوات مرد و زن کا قرآنی ضابطہ اور پھر ابراہیم علیہ السلام کے طرز زندگی کو اختیار کرنے کا حکم اور کائنات پر اکیلے اللہ کی بلا شرکتِ غیرے حکمرانی کا بیان ہے۔ پھر خواتین کے مسائل کی طرف رجوع کرتے ہوئے ان کے ضعف و کمزوری کی بناء پر ان کے ساتھ ظلم و ناانصافی سے منع کیا گیا ہے۔ میاں بیوی کے اختلاف کی صورت میں خلع کا ضابطہ بیان کیا گیا ہے، پھر اللہ کی قدرت و حکمرانی کو بیان کرنے کے بعد عدل و انصاف کا دامن تھامنے اور سچی گواہی دینے کی تلقین ہے۔ اگرچہ اپنی ذات یا قریبی رشتہ داروں کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔ پھر منافقین کے لئے دردناک عذاب کی دھمکی کے ساتھ ہی ایسے لوگوں کی مجلسوں سے بچنے کی تلقین ہے، جو احکام قرآنی میں ترمیم و تنسیخ کرنا چاہتے ہوں ۔ منافقین اللہ کو دھوکہ دینے کی کوشش میں اپنے آپ کو ہی دھوکہ دے رہے ہیں ۔ یہ لوگ نماز میں سستی اور اللہ کے ذکر سے پہلوتہی کرتے ہیں ۔ تذبذب کا شکار رہتے ہیں نہ ادھر کے نہ ادھر۔ ایسے گمراہوں کو ہدایت بھی نہیں ملا کرتی۔ یہ جہنم کے سب سے نچلے طبقے میں ڈالے جائیں گے، مسلمانوں کے مقابلہ میں کافروں سے دوستی اور گٹھ جوڑ کی اجازت نہیں ہے۔ کافروں کو مسلمانوں پر کسی طرح بھی فوقیت نہیں دی جا سکتی، یہ لوگ اگر تائب ہو کر اپنا طرز عمل درست کر لیں تو ان کا شمار بھی مؤمنین کے ساتھ ہوسکتا ہے۔ اگر تم ایمان کے تقاضے پورے کرتے رہو اور اللہ کا شکر ادا کرتے رہو تو اللہ تمہیں عذاب دیکر کیا کریں گے؟ اللہ تو دلوں کا بھید جاننے والے بڑے ہی قدر دان ہیں ۔


6۔لاَ يُحِبُّ اللّہُ

مظلوم کو ظالم سے بدلہ لینے کی اجازت ہے لیکن در گزر کرنے والے سے اللہ بھی درگزر کر دیتے ہیں ۔ جو لوگ اللہ کو مانیں اور رسولوں کا انکار کریں یا کچھ رسولوں کو مانیں کچھ کا انکار کریں وہ پکے کافر اور ذلت آمیز عذاب کے مستحق ہیں اور جو لوگ اللہ اور اس کے تمام رسولوں کو تسلیم کریں وہ کامل ایمان والے ہیں اور قیامت میں اجرو ثواب کے مستحق ہیں ۔ اس کے بعد یہود اور ان کی فطری خباثتوں کا تذکرہ آیت نمبر ۱۵۳ سے آیت نمبر۱۶۱ تک آٹھ آیتوں میں کیا گیا ہے۔ یہودِ مدینہ نے حضور علیہ السلام سے کہا تھا کہ ہم آپ پر اس وقت ایمان لائیں گے جب آپ ہمارے نام پر اللہ تعالیٰ سے ایک خط لے کر آئیں ۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے جواب میں فرمایا کہ آپ اس قسم کے بیجا مطالبات سے دل برداشتہ نہ ہوں ، ان کے آباء و اجداد نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے اس سے بھی بڑا مطالبہ کیا تھا کہ ہم سے اللہ کی بالمشافہ ملاقات کراؤ! ان پر ایک کڑک مسلط کی گئی۔ موسیٰ علیہ السلام کو ہم نے واضح دلائل اور معجزات عطاء کئے تھے۔ مگر اس کے باوجود یہ بچھڑے کی پرستش میں مبتلاء ہو گئے۔ ان کے سروں پر کوہ طور معلق کر کے ان سے عہدو پیمان لیا گیا۔ انہیں بیت المقدس میں عجز و انکساری کے ساتھ داخلہ کا حکم دیا، سنیچر کا دن ان کی عبادت کے لئے مقرر کیا مگر یہ کسی بات پر بھی پورے نہیں اترے۔ ان کے جرائم کی فہرست بڑی طویل ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : ان کی نازیبا حرکات کی بناء پر اللہ نے ان کے دلوں پر ایسا ٹھپہ لگا دیا ہے کہ اب یہ ایمان لاہی نہیں سکتے۔ انہوں نے عیسیٰ علیہ السلام کے قتل کا دعویٰ کیا جبکہ یہ عیسیٰ علیہ السلام کو قتل کرنے یا سولی پر چڑھانے میں کامیاب نہیں ہوسکے۔ انہوں نے شبہ کے اندر کسی دوسرے کو پھانسی پر لٹکا دیا اور عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے آسمانوں پر زندہ اٹھا لیا، اللہ بڑے زبردست اور حکمت والے ہیں ۔عیسیٰ علیہ السلام پر ان کی موت سے پہلے پہلے تمام اہل کتاب کو ضرور ایمان لانا پڑے گا۔ ان یہودیوں کی ظالمانہ حرکتوں کی بناء پر پاکیزہ اور حلال چیزوں کو ان پر حرام کیا گیا۔ منع کرنے کے باوجود سود کھانے، لوگوں کا مال ناجائز طریقہ پر ہڑپ کر جانے کی وجہ سے ان کے لئے دردناک عذاب تیار کیا گیا ہے۔ لیکن ان میں ایسے اعتدال پسند علم و فضل والے بھی ہیں جو علم کے تقاضے پورے کرتے ہوئے اللہ پر، اس کے نازل کردہ کلام پر اور آخرت پر ایمان لاتے ہوئے اسلام کو قبول کر کے نماز اور زکوٰۃ کی پابندی کرتے ہیں ۔ ایسے لوگوں کو ہم عظیم الشان جزا دیں گے۔ پھر اختصار کے ساتھ سلسلۂ انبیاء کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ ہم نے نوح، ابراہیم، اسماعیل، اسحاق، یعقوب، عیسیٰ، ایوب، یونس، ہارون، سلیمان کو نبی بنایا۔ ان سب کو بشیر و نذیر بنا کر ہم نے بھیجا تھا تاکہ لوگوں کے پاس کوئی بہانہ باقی نہ رہ جائے، آپ کو بھی انہی انبیاء علیہم السلام کی طرح نبی برحق بنایا گیا ہے۔ اگر آپ کی نبوت کی گواہی یہودی دینے کے لئے تیار نہیں ہیں تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اللہ تعالیٰ اور فرشتوں کی گواہی کافی و شافی ہے۔ اس کے بعد قرآن کریم کا روئے سخن عیسائیوں کی طرف ہو گیا۔ فرمایا دین میں مبالغہ آمیزی نہ کیا کرو۔ ادب و احترام کے جذبات کو اپنی حدود میں رکھنا چاہئے۔ عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ کہنا یا اللہ کا بیٹا کہنا کوئی دین داری نہیں ہے۔ عیسیٰ علیہ السلام یا اللہ کے مقرب فرشتوں نے اللہ کا بندہ کہلانے میں کبھی کسی قسم کا عار محسوس نہیں کیا۔ معبود تو ایک ہی اللہ ہے، وہ اولاد سے پاک ہے۔ اس کے ہاں قرب کا معیار اعمال ہیں ۔ جو ایمان اور اعمال صالحہ کرے گا اسے پورا پورا اجرو ثواب ملے گا اور اللہ اپنی طرف سے اضافی جزا بھی دیں گے اور بندگی سے شرم محسوس کرنے والے متکبرین کو دردناک عذاب دے گا اور اللہ کی گرفت سے انہیں بچانے والا کوئی نہیں ہو گا۔ سورہ نساء کے آخر میں کلالہ (ایسی میت جس کے والدین اور اولاد موجود نہ ہوں ) کی وراثت کے باقی ماندہ مسائل ذکر کر کے فرمایا کہ تمہیں گمراہی سے بچانے کے لئے اللہ تعالیٰ اپنے احکام کھول کھول کر بیان کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کو ہر چیز کے بارے میں مکمل معلومات حاصل ہیں ۔

سورہ المائدہ

یہ سورہ مدنی ہے ایک سو بیس آیات اور سولہ رکوعات پر مشتمل ہے۔ اس سورہ میں تشریعی مسائل، چوری، ڈاکہ اور قتل یا زخمی کر دینے کے حوالہ سے قانون سازی کی گئی ہے اور قیامت کا تذکرہ ہے اور یہود و نصاریٰ کی طرف بھی روئے سخن رکھا گیا ہے۔ سورہ کی ابتداء میں ہر قسم کے عہود و مواثیق کی پاسداری کا حکم ہے خصوصاً کلمہ شہادت پڑھنے کی وجہ سے ایمانی بنیادوں پر جو ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں انہیں نبھانے کا حکم ہے۔ ایک موقع پر کافروں نے مسلمانوں کے جانور چھین لئے اور احرام باندھ کر بیت اللہ کی طرف عمرہ کے لئے چل دیئے۔ مسلمانوں نے ان پر حملہ آور ہو کر ان سے اپنے جانور واپس لینے کا ارادہ کیا جس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا حالتِ احرام میں کسی پر حملہ درحقیقت شعائر اللہ کی توہین ہے۔ کسی کی دشمنی میں اس حد تک تجاوز درست نہیں کہ تم ظلم و زیادتی پر اتر آؤ۔ تمہیں تو نیک کام میں تعاون اور برے کام میں عدم تعاون کا راستہ اختیار کرنا چاہئے۔ حلال و حرام جانوروں کا تذکرہ اور حالت احرام میں شکار سے ممانعت کا بیان ہے۔
حجۃ الوداع کے موقع پر دین اسلام کے مکمل اور اللہ کے پسندیدہ نظام حیات ہونے کا اعلان ہے۔ پرندوں ، چوپایوں اور درندوں کی مدد سے شکار کے لئے اصول و ضوابط وضع کئے گئے ہیں ۔ اہل کتاب کے ذبیحہ کا حکم اور ان کی خواتین سے نکاح کے جواز کا بیان ہے۔ پھر طہارت حاصل کرنے کے لئے وضو اور تیمم کا طریقہ اور اس کے بعض مسائل کا تذکرہ ہے۔ شرعی احکام میں آسانی اور سہولت کے پہلو کو مد نظر رکھنے کی نوید سنائی گئی اور نِعَم خداوندی پر شکر ادا کرنے کی تلقین ہے۔ حدیبیہ کے موقع پر کافروں نے حملہ آور ہونے کا پروگرام بنایا اللہ تعالیٰ نے انہیں مرعوب کر کے حملہ کرنے سے باز رکھا، اس انعام خداوندی کا شکر ادا کرنے اور توکل کا اہتمام کرنے کی تلقین کی گئی ہے۔ اس کے بعد اہل کتاب کا تذکرہ آیت نمبر ۱۲ سے ۸۲ تک ستر آیتوں میں کیا گیا ہے اور اس ضمن میں فوجداری معاملات کے لئے قانون سازی بھی کی گئی ہے۔ یہودیوں کو یاد دلایا گیا ہے کہ ان کے آباء و اجداد کو عہدو میثاق کا پابند بنا کر ان کے بارہ قبیلوں پر بارہ نگران مقرر کئے گئے تھے مگر انہوں نے عہد شکنی کی جس کی وجہ سے وہ سنگدل ہو گئے اور اللہ کے کلام میں رد و بدل اور خیانت کے جرم میں مبتلاء ہو گئے۔ عیسائیوں کو بھی عہدو پیمان کا پابند بنایا گیا مگر وہ بھی عہد شکنی کے مرتکب ہوئے جس کی نحوست اور برے اثرات نے ان کے اندر بغض و عداوت کی خطرناک بیماری پیدا کر دی۔ اہل کتاب سے خطاب ہے کہ تمہارے پاس ہم نے اپنا رسول بھیج دیا ہے جو تمہاری خیانتوں پر تمہیں مطلع کرتا ہے اور نور ہدایت اور کتاب مبین لے کر آیا ہے۔ اس کی اتباع سے تم سلامتی کے راستے پا سکتے ہو اور کفر کی ظلمتوں سے نکل کر ایمان کی روشنی میں صراط مستقیم پر گامزن ہوسکتے ہو۔
عیسائیوں کے ’’الوہیت مسیح‘‘ کے عقیدہ کی مدلل تردید اور یہودیوں کے من گھڑت عقیدہ پر گرفت ہے کہ اگر وہ اللہ کے بیٹے اور محبوب ہوتے تو اللہ انہیں عذاب میں کیوں مبتلاء کرتے۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کا تذکرہ ہے کہ انہوں نے اپنی قوم کو جہاد کے لئے تیار کرتے ہوئے فرمایا کہ ا للہ تعالیٰ نے تمہیں ’’مذہبی اور سیاسی قیادت‘‘ کے منصب پر فائز فرما کر تمہارے خاندان میں انبیاء و رسل اور بادشاہ و ملوک پیدا کئے۔ تمہیں بیت المقدس کو عمالقہ کے قبضہ سے آزاد کرانے کے لئے پیش رفت کرنی ہو گی۔ اللہ نے تمہیں فتح و کامرانی سے ہمکنار کرنے کا وعدہ کر رکھا ہے مگر وہ لوگ اپنی بزدلی اور طبعی خباثت کے پیش نظر جہاد سے پہلوتہی کرنے لگے اور عمالقہ کی طاقت و قوت سے مرعوب ہو کر حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کہنے لگے کہ آپ اپنے رب کے ساتھ مل کر جہاد کر کے بیت المقدس کو آزاد کرا لیں ہم تو اپنے گھروں میں ہی بیٹھے رہیں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کے دو بیٹوں کے باہمی اختلاف اور ان کی قربانی کا تذکرہ کر کے بتایا ہے کہ خیر و شر کی قوتیں روز اول سے باہم دست و گریبان ہیں ۔ اللہ تعالیٰ متقی کی قربانی قبول کیا کرتے ہیں ۔ قابیل دنیائے انسانیت کا پہلا قاتل ہے، جس نے اپنی ضد اور عناد کی خاطر اپنے بھائی ہابیل کو قتل کر دیا۔ دنیا میں قیامت تک جتنے قتل ہوں گے ان کا گناہ قاتل کے ساتھ ساتھ قتل کی طرح ڈالنے والے پہلے قاتل قابیل کو بھی ملے گا اور یہ ضابطہ بھی بیان کر دیا کہ انسانی جان اللہ کی نگاہ میں اس قدر اہمیت کی حامل ہے کہ ایک انسان کے قتل کا گناہ پوری انسانیت کے قتل کے برابر ہے اور کسی انسانی جان کو بچا لینے کا اجر و ثواب پوری انسانیت کو بچا لینے کے برابر ہے۔ اسلامی حکومت کے باغی اور ڈاکو چونکہ معاشرہ میں بدامنی اور فساد پھیلانے کے مرتکب ہوتے ہیں اس لئے انہیں ملک بدر کر دیا جائے یا مخالف سمت کے ہاتھ پاؤں کاٹ کر پھانسی پر لٹکا کر قتل کر کے ان کے وجود سے اسلامی سرزمین کو پاک کر دیا جائے۔ یہ تو دنیا کی رسوائی ہے۔ آخرت میں بھی ان کے لئے عذاب عظیم ہے۔ البتہ گرفتاری سے پہلے اگر تائب ہو کر اپنی اصلاح کر کے ان جرائم سے باز آنے کی ضمانت دیں تو انہیں معافی دی جا سکتی ہے۔ اہل ایمان کو تقویٰ پر کاربند رہنے، اللہ کا قرب حاصل کرنے کے لئے اعمال صالحہ کو وسیلہ بنانے اور جہاد فی سبیل اللہ میں مصروف ہو کر فلاح و کامیابی حاصل کرنے کی دعوت دی ہے۔ چور کے ہاتھ کاٹنے کا حکم دے کر چوری کے سدباب کا بہترین انتظام کیا ہے کہ ہاتھ کٹ جانے کے بعد وہ چور بھی اس جرم سے تائب ہو جائے گا اور دوسرے چوروں کے لئے بھی عبرت کا سامان پیدا ہو جائے گا۔ یہودیوں کے اعتراضات کرنے اور حضور علیہ السلام پر ایمان نہ لانے سے آپ دل گرفتہ اور پریشان ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ان کافروں اور یہودیوں کی نازیبا حرکات سے آپ پریشان اور غمگین نہ ہوں ۔ یہ لوگ عادی مجرم ہیں ۔ اللہ کے کلام میں تحریف، جھوٹ اور حرام خوری ان کی گھٹی میں داخل ہے۔ یہ ایسے لاعلاج مریض ہو چکے ہیں کہ اللہ ا نہیں پاک و صاف کرنا ہی نہیں چاہتے۔ دنیا میں ذلت اور آخرت میں عذاب عظیم ان کا مقدر بن چکا ہے، پھر فوجداری قانون بیان کر دیا کہ جان کے بدلہ جان، آنکھ کے بدلہ آنکھ، کان کے بدلہ کان، دانت کے بدلہ دانت ہو گا، لیکن اگر کوئی متاثر فریق درگزر اور معافی کا فیصلہ کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے لئے گناہوں کی معافی کا وعدہ کر رہے ہیں ۔ اللہ کے بنائے ہوئے قوانین کی مخالفت کی نوعیت دیکھتے ہوئے ان پر عمل درآمد نہ کرنے والے کافر و فاسق ہیں ۔ قرآن کریم سابقہ کتب سماویہ کی تعلیمات کا جامع اور محافظ ہے لہٰذا حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کو حکم دیا گیا کہ یہود و نصاریٰ کی خواہش کے مطابق قرآنی نظام سے انحراف نہ کیا جائے۔ ہر قوم کے لئے اللہ نے نظام حیات وضع کیا ہوا ہے۔ ہم چاہتے تو دنیا کے تمام انسانوں کو ایک ہی مذہب کا پابند بنا دیتے مگر دنیا دار الامتحان ہے اس میں کئے جانے والے پر ہی اخروی جزاء و سزا کا انحصار ہے۔ اس لئے ہر شخص کو اعمال صالحہ میں سبقت لے جانے کی کوشش کرنی چاہئے۔ انسانوں کے وضع کردہ قوانین جاہلیت پر مبنی ہوتے ہیں جو فسق و فجور کی ترویج کا باعث ہوتے ہیں ۔ یقین و ایمان کے حاملین کے لئے اللہ سے بہتر قانون سازی کون کرسکتا ہے؟ یہود و نصاریٰ سے تعلقات ایمان کے منافی ہیں ۔ اہل کتاب سے دوستی چاہنے والے قلبی مریض ہیں ۔ دنیا کا عارضی نفع و نقصان ان کے پیش نظر ہے۔ یہ سمجھتے ہیں کہ یہود و نصاریٰ کی مخالفت سے ہماری معیشت تباہ ہو جائے گی حالانکہ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو غلبہ عطا فرما کر ان کے معاشی حالات درست فرما سکتے ہیں ، جو ان کے حمایتیوں کے لئے ندامت و شرمندگی کا باعث ہوسکتا ہے۔
اگر کوئی اسلامی نظام حیات کو چھوڑ کر مرتد ہو جائے تو اس سے اسلام کی حقانیت پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ اللہ ایسے لوگوں کو منظر سے ہٹا کر کسی دوسری قوم سے اپنے دین کا کام لے سکتے ہیں ۔ وہ لوگ آپس میں محبت کرنے والے، اپنے مسلمان بھائیوں کے لئے نرم گوشہ رکھنے والے، کافروں کے لئے سختی کرنے والے، جہاد فی سبیل اللہ میں سردھڑ کی بازی لگانے والے اور کسی کی طعن و تشنیع کو خاطر میں لانے والے نہیں ہوں گے۔ اہل کتاب کو مسلمانوں سے دشمنی کی وجہ صرف ان کا اللہ پر ایمان اور آسمانی نظام پر غیر متزلزل یقین ہے۔ مسلمان قابل اعتراض نہیں بلکہ قابل اعتراض تو وہ بدترین لوگ ہیں ، جن پر اللہ کی لعنت اور غضب ہوا اور سزا کے طور پر انہیں بندروں اور خنزیروں کی شکل میں مسخ کر دیا گیا۔ یہ لوگ اس حد تک ہٹ دھرمی اور ضد میں مبتلا ہو چکے ہیں ۔ اللہ پر اعتراض کرنے سے بھی نہیں چوکتے، یہ کہتے ہیں کہ (نعوذ باللہ) اللہ بخیل ہے۔ اس کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں ، ہاتھ تو ان کے بندھے ہوئے ہیں اور انکی زبان درازی کی وجہ سے ان پر لعنت کی گئی ہے۔ اللہ کے ہاتھ تو کھلے ہوئے ہیں ۔ وہ جیسے چاہتا ہے اپنے بندوں پر خرچ کرتا ہے۔ یہ لوگ بدزبانی اور سرکشی میں روز بروز بڑھتے ہی جا رہے ہیں ۔ یہ قوموں کو لڑانے کی سازشیں کرتے رہتے ہیں ۔ اللہ ان جنگوں کی آگ کو ٹھنڈا کرتے رہتے ہیں ۔ پھر حضور علیہ السلام کو تبلیغ رسالت کے فریضہ کی ادائیگی میں اپنی تمام صلاحیتیں صرف کرنے کا حکم ہے اور دشمنانِ اسلام سے آپ کو مکمل تحفظ فراہم کرنے کی ضمانت دی گئی ہے۔ اس کے بعد نصاریٰ کے عقیدۂ تثلیث پر رد اور مریم وعیسیٰ علیہما السلام کی الوہیت کا بطلان واضح کر کے بتلایا ہے کہ عیسیٰ کیسے خدا ہوسکتے ہیں وہ تو اپنی والدہ مریم کے ہاں پیدا ہوئے اور وہ دونوں کھانے پینے کے محتاج ہیں ۔ بنی اسرائیل کے ملعون قرار پانے کی وجہ ممنوعات و محرمات سے اجتناب نہ کرنا ہے۔ نصاریٰ کے مقابلہ میں مشرکین اور یہود مسلمانوں کے ساتھ زیادہ دشمنی رکھتے ہیں ۔


7۔وَإِذَا سَمِعُواْ

ابتداء میں عیسائیت کے منصف مزاج اور معتدل طبقہ کی تعریف کی گئی ہے۔ واقعہ یہ پیش آیا تھا کہ قریش مکہ کے مظالم سے تنگ آ کر حضور علیہ السلام کی اجازت سے مسلمانوں کی ایک جماعت ہجرت کر کے عیسائیوں کے ملک حبشہ چلی گئی۔ مشرکین نے ان کا تعاقب کیا اور غلط بیانی کے ساتھ نجاشی شاہ حبشہ کو مسلمانوں سے بد ظن کرنے کی کوشش کی۔ نجاشی نے انہیں طلب کر کے سوالات کئے۔ مسلمانوں کے نمائندہ جعفر رضی اللہ عنہ نے جواب میں قرآن کریم کی سورہ مریم پڑھ کر سنائی۔ نجاشی اور اس کے ساتھیوں پر قرآن کریم سن کر رقت طاری ہو گئی۔ ان کی آنکھیں آنسوؤں سے ڈبڈبانے لگیں اور کلام الٰہی سے متاثر ہو کر انہوں نے اسلام قبول کر لیا اور مسلمانوں کو سرکاری مہمان کے طور پر اپنے ملک میں ٹھہرانے کا اعلان کر دیا۔ ان کی اور اس قسم کے دوسرے عیسائیوں کی تعریف کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ جب یہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل شدہ قرآن کو سنتے ہیں تو حق کو پہچان کر ان کی آنکھوں میں آنسو بھر آتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لا کر اسلام کی حقانیت کے گواہ بن جاتے ہیں ۔ اس کے بعد حلال و حرام کے حوالے سے کچھ گفتگو اور انتہا پسندی کی مذمت کی گئی ہے۔ قسم کی اقسام اور کفارہ کا حکم بیان کیا گیا ہے۔ شراب اور جوئے (قمار) کی حرمت کا حتمی فیصلہ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ شیطان اس کے ذریعہ اسلامی معاشرہ کے افراد میں نفرتیں پیدا کرنا چاہتا ہے۔ لہٰذا اس کے جواز کی کوئی گنجائش نہیں ۔ مسلمانوں کو ام الخبائث کے استعمال سے باز آ جانا چاہئے۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ حضرت عمر نے جب فہل انتم منتہون (کیا تم باز نہیں آؤ گے؟) کا قرآنی جملہ سنا تو آسمان کی طرف ہاتھ اٹھا کر بے اختیار پکار اٹھے انتہینا یا  ربنا (اے ہمارے رب! ہم باز آ گئے)
حالت احرام میں شکار کی ممانعت اور اس کی جزا کا بیان ہے۔ محرم کو مچھلی کے شکار کی اجازت دی گئی ہے کہ سمندر میں حجاج کے قافلہ کو ضرورت پیش آسکتی ہے۔ کعبۃ اللہ کی مرکزیت اور بقاء انسانیت کی علامت ہونے کا بیان ہے۔ خبیث اور طیب میں امتیاز برتنے کی تلقین ہے کہ کسی چیز کی قلت و کثرت اچھائی کا معیار نہیں ہے۔ حلال و حرام، مطیع و عاصی، بھلا اور برا کبھی برابر نہیں ہوسکتے۔ بیجا سوال کرنے کی ممانعت کی گئی ہے۔ مختلف حوالوں سے جانور مخصوص کرنے کی مذمت کی گئی ہے کہ بحیرہ، سائبہ، وصیلہ اور حامی یا اس قسم کے ناموں سے جانوروں کے تقدس کی اسلامی تعلیمات میں کوئی گنجائش نہیں ہے۔ قرآنی تعلیمات کے خلاف آباء و اجداد کی ناجائز تقلید سے منع کیا گیا ہے۔ فساد زدہ معاشرہ میں تبدیلی لانے کی پوزیشن میں نہ ہونے کے باوجود اگر امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا فریضہ انجام دیتے ہوئے اپنے ایمان کے تقاضے پورے کرتے رہے تو گمراہ اور نافرمانوں کے غلط اثرات سے محفوظ رہو گے۔ قیامت کے دن کے بے لاگ محاسبہ کی یاددہانی کراتے ہوئے بتایا کہ اس ہولناک دن میں انبیاء علیہم السلام بھی جوابدہی کے لئے اللہ کے سامنے پیش کئے جائیں گے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام جیسے صاحب عزیمت رسول جنہیں مردوں کو زندہ کرنے، بینائی اور برص کے لاعلاج مریضوں کو چنگا کرنے اور مٹی کے جانوروں میں اللہ کے حکم سے روح پھونکنے کے معجزات عطاء کئے گئے تھے۔ انہیں بھی احتساب کے عمل سے گزرنا پڑے گا اور ان سے پوچھا جائے گا کہ عیسائیوں نے تمہیں اور تمہاری والدہ کو اپنا معبود کیوں بنا رکھا تھا۔ وہ نہایت عجز و انکساری سے عرض کریں گے کہ اس میں میرا کوئی قصور نہیں ۔ میں نے تو آپ کی توحید و الوہیت کی تبلیغ کی تھی۔ میرے بعد لوگوں نے اپنی طرف سے میری اور میری والدہ کی عبادت شروع کر دی تھی۔ یہ آپ کے بندے ہیں آپ ان کے ساتھ جو بھی معاملہ فرمائیں ، معاف کریں یا عذاب دیں یہ آپ کا اختیار ہے۔ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے آج کے دن سچائی کے علمبردار ہی عظیم الشان کامیابیوں سے ہمکنار ہوسکیں گے۔ ان کے لئے دائمی طور پر باغات اور بہتی نہریں تیار ہیں ۔ اللہ ان سے راضی ہیں وہ اللہ سے راضی ہیں ۔
اس سے پہلے مائدہ (دسترخوان) کا واقعہ بیان کیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ماننے والے کہنے لگے: اے عیسیٰ! اپنے رب سے کہئے کہ ہمیں جنت کے کھانے کھلائے۔ اللہ نے ایک دسترخوان اتارا، جس میں انواع و اقسام کے جنتی کھانے تھے۔ خیانت کرنے اور بچا کر رکھنے سے انہیں روکا گیا تھا، مگر انہوں نے بددیانتی کا مظاہرہ کیا۔ اللہ تعالیٰ نے خیانت کے مرتکب افراد کو بندروں اور خنزیروں کی شکل میں مسخ کر دیا۔

سورہ الانعام

یہ مکی سورہ ہے۔ چونکہ اس سورہ میں انعام (چوپائے) اور ان سے متعلقہ انسانی منافع کا تذکرہ ہے۔ نیز جانوروں سے متعلق مشرکانہ و جاہلانہ رسوم و رواج کی تردید کی گئی ہے۔ اس لئے اس سورہ کا نام ’’الانعام‘‘ رکھا گیا ہے۔ ابن عباس فرماتے ہیں کہ مکہ مکرمہ میں ایک ہی رات میں بیک وقت اس شان سے اس سورہ کا نزول ہوا کہ اس کے جلوس میں ستر ہزار فرشتے تسبیح و تحمید میں مشغول تھے۔ اس کا مرکزی مضمون توحید کے اصول و دلائل کا بیان ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ رسالت و آخرت کے موضوع پر بھی بڑی آب و تاب کے ساتھ گفتگو کی گئی ہے۔ دعوت کا کام کرنے والوں کو دلائل و براہین کے تیز دھار اسلحہ سے مسلح کیا گیا ہے۔ دلائل کا انداز کہیں الزامی ہے تو کہیں مطمئن کرنے کے لئے عقل و خرد کے استعمال کی دعوت دی گئی ہے۔
سورہ کی ابتداء سے ہی دو خداؤں (یزدان و اہرمن) کے عقیدے کی نفی کرتے ہوئے فرمایا کہ آسمان و زمین کا خالق اور ظلمت و نور کا خالق ایک ہی ہے اور وہ قابل تعریف ’’اللہ‘‘ ہے۔ پھر رسالت محمدی کے منکرین کی مذمت کرتے ہوئے قرآن کریم کی حقانیت کا اثبات کیا اور دھمکی دیتے ہوئے فرمایا کہ کتنی ہی قومیں ہیں جنہیں ہم نے اقتدار سے نوازا اور پھر بارشیں برسا کر ان کے باغات کو سرسبز و شاداب بنایا اور انہیں معاشی خوشحالی عطا کی مگر وہ ہماری نافرمانی اور بغاوت سے باز نہ آئے تو ہم نے ان کے جرائم پر ان کی گرفت کر کے تباہ و برباد کر دیا اور ان کی جگہ دوسری قوموں کو لے آئے لہٰذا تمہیں ہلاک کر کے دوسروں کو تمہاری جگہ دے دینا ہمارے لئے کوئی مشکل نہیں ہے۔ مشرکین کا کہنا تھا کہ یا تو فرشتہ ہم سے آ کر آپ کو نبی تسلیم کرنے کے لئے کہے یا ہمارے نام پر اللہ تعالیٰ خط بھیج دیں تو آپ کی نبوت کو تسلیم کر لیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اگر ہم نے خط بھیج بھی دیا اور انہوں نے اپنے ہاتھ سے چھوکر اسے دیکھ بھی لیا پھر بھی یہ لوگ ایمان نہیں لائیں گے اور اگر ہم فرشتے کو بھیجیں تو وہ بھی انسانی شکل میں ہی آئے گا اور ان کا اعتراض پھر بھی برقرار رہے گا۔ حضور علیہ السلام کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا اگر آپ کا مذاق اڑایا جا رہا ہے تو آپ سے پہلے انبیاء کا مذاق بھی اڑایا گیا ہے۔ دنیا میں نکل کر دیکھیں وہ لوگ کیسے عبرتناک انجام سے دوچار ہوئے۔ پھر توحید باری تعالیٰ پر دلائل جاری رکھتے ہوئے فرمایا اگر آپ پر کوئی مصیبت آ جائے تو اسے اللہ ہی ٹالتے ہیں اور اگر وہ آپ کو فائدہ پہنچائیں تو اسے کوئی روک نہیں سکتا۔ پھر قیامت کا تذکرہ شروع کر دیا کہ ہم جب انہیں قیامت میں جمع کر کے پوچھیں گے تو یہ صاف انکار کر دیں گے کہ ہم شرک نہیں کرتے تھے۔ یہ لوگ آپ کی بات سنتے ہیں مگر ان کی بد عملی کی وجہ سے ان کے دلوں پر پردہ چڑھا ہوا ہے اور ان کے کانوں میں ڈاٹ لگے ہوئے ہیں اس لئے قرآن کی باتوں کا یہ اثر قبول نہیں کرتے۔ یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ بس زندگی دنیا ہی کی ہے۔ قیامت کے دن ہم انہیں جہنم کے کنارے کھڑا کر کے پوچھیں گے اب بتاؤ یہ سچ ہے یا نہیں ؟ پھر انہیں اپنے کفر کی سزا برداشت کرنی پڑے گی۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کافروں کی ہدایت کے لئے اس فکر میں رہتے تھے کہ اگر ان کی مطلوبہ نشانیاں ظاہر کر دی جائیں تو شاید یہ لوگ ایمان لے آئیں ، لیکن اللہ تعالیٰ جانتے تھے کہ یہ ہٹ دھرم ایمان نہیں لائیں گے اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا اگر آپ ان کا اعراض برداشت نہیں کرسکتے تو زمین کے اندر کوئی سرنگ کھود کر یا آسمان پر سیڑھی لگا کر ان کی مطلوبہ نشانی کہیں سے ڈھونڈ کر لے آئیے۔ یہ لوگ ہدایت پر نہیں آئیں گے اور ہم زبردستی کسی کو ہدایت نہیں دیتے۔ آپ ان سے کہئے! اگر اللہ کا عذاب تم پر آ جائے یا قیامت برپا ہو جائے تو کیا پھر بھی تم غیراللہ کو پکارو گے؟ ظاہر ہے کہ ایسے مشکل وقت میں اپنی مصیبتیں دور کرنے کے لئے تم اللہ ہی کو پکارتے ہو اور اپنے شرکاء کو بھول جاتے ہو۔ پہلی اقوام پر ہم نے تنگدستی اور بیماری ڈالی مگر وہ راہ راست پر نہیں آئے پھر ہم نے انہیں آرام و راحت دی اس پر بھی وہ اپنی شرارتوں سے باز آنے کی بجائے سرکشی و ضلالت میں مزید ترقی کر گئے تو ہم نے اچانک انہیں ایسا پکڑا کہ وہ مبہوت ہو کر رہ گئے۔ ان کا نام و نشان مٹ گیا اور ظالموں کی جڑیں کٹ کر رہ گئیں ۔
آپ ان سے کہہ دیجئے کہ اللہ کے خزانے میرے اختیار میں نہیں ہیں اور نہ میں علم غیب جانتا ہوں اور نہ ہی میں فرشتہ ہونے کا دعویدار ہوں ، میں تو اپنے رب کی وحی کا پابند ہوں ۔ جن لوگوں کو اللہ کا خوف ہے اور اپنے رب کے سامنے جمع ہونے سے ڈرتے ہیں آپ انہیں قرآن کریم کے ذریعہ ڈراتے رہئے۔ اللہ کے علاوہ اس دن کوئی حمایتی اور سفارشی نہیں بن سکے گا۔ مشرکین مکہ کے متکبر اور ہٹ دھرم سرداروں کو اپنے ساتھ مانوس کرنے اور ہدایت کے راستہ پر لانے کی امید میں آپ ایسے مخلص اور غریب اہل ایمان کو اپنی مجلس سے نہ دھتکاریں جو اپنے رب کو راضی کرنے کے لئے صبح و شام اس کا ذکر کرتے ہیں ۔ یہ بھی امتحان کا ایک حصہ ہے کہ کافر و متکبر لوگ غریب مسلمانوں کو دیکھ کر حقارت سے ایسے جملے کسیں کہ کیا یہی وہ لوگ ہیں جنہیں اللہ نے ہم پر ترجیح دی ہے؟ اللہ شکر گزاروں کو بہت اچھی طرح جانتے ہیں ، ایمان والے جب آپ کے پاس آئیں تو ان کے لئے سلامتی کی دعاء کریں اور انہیں اپنے رب کی رحمتوں کی خوشخبری سنائیں اور اگر نادانی کے ساتھ کسی سے کوئی غلطی سرزد ہو جائے تو اسے توبہ اور اپنی اصلاح کی تلقین کر کے امید دلائیں کہ اللہ تعالیٰ غفور رحیم ہیں ۔ ہم اسی طرح وضاحت سے اپنی آیات بیان کرتے ہیں تاکہ مجرمین کا طریقہ کار واضح ہو جائے۔ پھر نظام کفر سے دو ٹوک براءت کے اظہار کی تلقین ہے اور یہ بتایا گیا ہے کہ مطلوبہ نشانیاں نبی کے اختیار میں نہیں ہیں ۔ یہ اللہ کا اختیار ہے۔ غیب کی چابیاں اسی کے پاس ہیں بحر و بر کی ہر چیز کا علم اسی کے پاس ہے۔ درختوں سے گرنے والا ایک پتہ یا زمین کی پنہائیوں میں کوئی دانہ اور کوئی بھی خشک و تر اس کے علم سے خارج نہیں ہے۔ اللہ کی قدرت اور اس کے حفاظتی نظام کا تذکرہ فرمایا گیا ہے اور یہ بتایا کہ اللہ کے عذاب کی مختلف صورتیں ہیں ۔ آسمان سے بھی نازل ہوسکتا ہے۔ زمین سے بھی نکل سکتا ہے اور فرقہ واریت میں شدت کی بناء پر باہمی جنگ و جدل کی صورت میں بھی ظاہر ہوسکتا ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اپنی ستارہ پرست قوم کے ساتھ مناظرہ کا بیان ہے کہ ستارے، چاند، سورج ڈوب جاتے ہیں اور ڈوبنے والا محتاج اور کمزور ہے رب نہیں ہوسکتا۔ پھر ابراہیم علیہ السلام کی امتیازی خوبی کا بیان ہے اور وہ ان کا یہ اعلان ہے ’’میں نے اپنا رخ ہر طرف سے موڑ کر یکسوئی کے ساتھ آسمان و زمین کے خالق کی طرف کر لیا اور میں مشرکین میں سے نہیں ‘‘ پھر کمال اختصار کے ساتھ تین سطروں میں اٹھارہ انبیاء و رسل کا تذکرہ اور تعریف بیان کی گئی ہے اور ان کی طرز زندگی کو اپنانے کی تلقین ہے۔
پھر قرآن کریم کے عموم و شمول اور اس کی حقانیت کا بیان ہے اور بتایا گیا ہے کہ اللہ پر جھوٹ باندھنے و الوں کو روز قیامت ذلت و رسوائی اٹھانی پڑے گی۔ پھر قدرت خداوندی کی کائناتی حقائق میں مشاہدہ کرنے کی دعوت ہے۔ اللہ ہی دانے اور گٹھلی کو پھاڑ کر درخت اور پودے پیدا کرتا ہے۔ زندہ سے مردہ اور مردہ سے زندہ نکالتا ہے۔ (مادی طور پر جیسے مرغی سے انڈہ اور انڈے سے مرغی اور روحانی طور پر جیسے کافر کے گھر میں مسلمان اور مسلمان کے گھر میں کافر پیدا کرنا) دن وہی نکالتا ہے۔ سکون حاصل کرنے کے لئے رات کو لے آتا ہے۔ سورج چاند کو حساب کے لئے مقرر کیا ہے۔ خشکی و تری میں راستہ متعین کرنے کے لئے ستارے اسی نے بنائے ہیں ۔ اسی نے ایک جان (آدم علیہ السلام) سے تمام انسان پیدا کر کے ان کی عارضی رہائش گاہ (دنیا) اور ان کی مستقل رہائش گاہ آخرت کو بنایا۔ آسمان سے پانی برسا کر کھیتیاں اور باغات پیدا کئے جن کے اندر سبزیاں ، پھل، کھجوریں اور انگور بنائے جو گچھے والے بھی ہیں اور بغیر گچھے کے پیدا ہونے والے پھل بھی ہیں ۔ پھلوں کے موسم میں دیکھو کیسے خوشنما اور بھلے لگتے ہیں ۔ علم، سمجھ بوجھ اور ایمان رکھنے والوں کے لئے قدرت الٰہی اور وحدانیت کے واضح دلائل ہیں ۔ مشرکین مکہ کی تردید کی جن کا عقیدہ تھا کہ جنات کے سرداروں کی بیٹیاں اللہ کی بیویاں ہیں اور فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں اور عیسائیوں کے عقیدہ کی تردید کرتے ہوئے فرمایا: اللہ کی بیوی ہی نہیں ہے۔ اس کی اولاد کیسے ہوسکتی ہے، وہ ہر چیز کا خالق ہے اور ہر چیز کا علم رکھتا ہے۔ وحی کی اتباع کی تلقین کی اور مشرکین کے معبودوں کی برائی کرنے سے روکا کیونکہ وہ ضد اور مقابلہ میں اللہ کو برا بھلا کہنے لگیں گے۔ یہ لوگ قسمیں کھا کر کہتے ہیں کہ اگر ہماری مطلوبہ نشانی دکھادی جائے تو ضرور ایمان لے آئیں گے۔ نشانیاں دکھانا تو اللہ کیلئے کوئی مشکل نہیں مگر اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ یہ لوگ نشانی دیکھ کر ایمان لے ہی آئیں گے۔


8۔وَلَوْ أَنَّنَا


قریش مکہ کا کہنا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مرنے کے بعد زندہ ہونے کا جو دعویٰ کرتے ہیں اس کا عملی ثبوت پیش کرنے کے لئے عرب کے بڑے دادا قُصَی (جو کہ نیک اور محترم شخصیت تھے) کو زندہ کر کے دکھا دیں ، وہ اگر آپ کی تصدیق کر دیں تو ہم آپ پر ایمان لے آئیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے جواب میں فرمایا اگر ہم ان پر فرشتے نازل کر دیں جو ان سے باتیں کرنے لگیں اور آج تک مرنے والی ہر چیز کو زندہ کر کے ان کے سامنے اکٹھا کر دیں تب بھی یہ لوگ ایمان نہیں لائیں گے۔ پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ یہ صرف آپ ہی کی مخالفت نہیں ہو رہی ہے بلکہ آپ سے پہلے انبیاء علیہم السلام کو بھی ایسی ہی صورتحال سے سابقہ پڑتا رہا ہے۔ شیطان کے زیر اثر ہونے کی وجہ سے ہر نبی کے مخالفین ایسے ہی بنا سنوار کر دھوکہ دینے کے لئے ہر دور میں اعتراضات کرتے رہے ہیں مگر ایسی باتوں سے بے ایمان، منکرین آخرت ہی متاثر ہوتے ہیں ۔ اللہ اگر چاہتے تو یہ ایسی نازیبا حرکتیں نہ کرتے۔ آپ انہیں ان کے حال پر چھوڑ کر اپنے کام میں لگے رہئے، آپ ان سے کہہ دیجئے کہ جب اللہ نے واضح کتاب نازل فرما دی تو میں فیصلہ کرنے کے لئے کسی اور کو کیوں تلاش کروں ؟ تیرے رب کی باتیں سچائی اور انصاف کی آئینہ دار ہیں انہیں کوئی تبدیل نہیں کرسکتا۔ لوگوں کی بے دلیل باتوں کو مان کر انسان گمراہ ہوسکتا ہے، اللہ ہدایت یافتہ اور گمراہوں کو بہت اچھی طرح جانتے ہیں ۔ مردار اور ذبیحہ میں فرق کرنے پر مشرکین کہتے تھے کہ اللہ کا مارا ہوا کھاتے نہیں ہو اور اپنا مارا ہوا کھا لیتے ہو۔ قرآن کریم نے اس کے جواب میں فرمایا کہ شیطان کے ایجنٹ کٹ حجتی کے لئے اس قسم کے اعتراضات کرتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے حلال و حرام کو تفصیل کے ساتھ بیان کر دیا ہے، لہٰذا مردار جانور کا کھانا گناہ ہے جبکہ اللہ کا نام لے کر ذبح کیا ہوا جانور کھانا تمہارے ایمان کا تقاضا ہے۔ اگر ان کی باتوں سے متاثر ہو گئے تو تم بھی مشرکین کے زمرے میں شمار کئے جاؤ گے۔ جس طرح مردہ اور زندہ برابر نہیں ہوسکتے اسی طرح کفر کے اندھیروں میں بھٹکنے والے اور ایمان کی روشنی میں چلنے والے برابر نہیں ہوسکتے۔ جب انہیں کوئی آیت سنائی جائے تو اسے ماننے کی بجائے یہ کہتے ہیں کہ ان آیتوں کی وحی اللہ ہم پر کیوں نہیں اتارتا؟ اللہ بہتر جانتے ہیں کہ کس پر وحی اتارنی ہے کس پر نہیں ۔ مجرموں کو ان کے جرائم کی وجہ سے ذلت ورسوائی اور عذاب کا سامنا کرنا پڑے گا۔ جسے اللہ ہدایت دینا چاہیں اس کا سینہ اسلام کے لئے کھول دیتے ہیں اور جس کی گمراہی کا فیصلہ کریں اس کا سینہ تنگ کر دیتے ہیں جیسے کوئی شخص بلندی پر چڑھ رہا ہو۔
بلندی پر چڑھتے ہوئے سینہ تنگ ہونے کی مثال اعجازِ قرآنی کی معرکۃ الآراء مثال شمار ہوتی ہے۔ اس لئے کہ طب جدید کی تحقیق نے یہ ثابت کیا ہے کہ بلندی پر آکسیجن کی کمی کی وجہ سے دَم گھٹنے لگتا ہے اور سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے۔ آج سے سوا چودہ سو سال پہلے اس سائنسی حقیقت کی طرف اشارہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ یہ قرآن کسی انسان کا نہیں بلکہ اللہ رب العالمین کا کلام ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ تمام جنات و انسانوں سے قیامت کے دن باز پرس کی جائے گی اور ہر ایک کو احتساب کے عمل سے گزرنا ہو گا جبکہ یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ انسانوں کی طرح جنات بھی قرآنی تعلیمات پر عمل کرنے کے پابند ہیں ، پھر یہ بتایا کہ مجرموں کی گرفت کے لئے اللہ کا ضابطہ ہے کہ ظالم کی بے خبری میں گرفت نہیں کرتے اور اللہ تعالیٰ تمام مخلوقات سے مستغنی اور رحیم ذات ہے۔ وہ اگر انسانوں کو ختم کر کے کسی دوسری قوم کو لانا چاہے تو اسے کوئی روک نہیں سکتا۔ پھر کھیتیوں اور جانوروں میں مشرکانہ رسوم و رواج کی مذمت کرتے ہوئے اسے شیطانی عمل قرار دیا ہے۔ قدرت خداوندی کا بیان ہے کہ اللہ زمین سے کیسے کیسے باغات پیدا کرتا ہے، جن میں سہارے کی محتاج بیلیں اور بغیر سہارے کے پروان چڑھنے والے پودے ہوتے ہیں ۔ کھجوریں ، مختلف ذائقہ والے ملتے جلتے اور غیر متشابہ پھل ہوتے ہیں ۔ یہ سب انسانی خوراک اور صدقہ و خیرات کے لئے اللہ نے پیدا کئے ہیں ۔ ان میں اسراف نہ کیا جائے۔ چھوٹے بڑے جانور بھی کھانے کے لئے اللہ نے پیدا کئے۔ ان کے بارے میں شیطانی تعلیمات کی پیروی نہ کریں ۔ نر اور مادہ کو شمار کر کے عام طور پر آٹھ قسم کے پالتو جانور ہیں ۔ بھیڑ، بکری، گائے، اونٹ۔ اللہ نے ان میں سے کسی کو حرام قرار نہیں دیا تو تم لوگ ان کے نر یا مادہ یا ان کے حمل کو حرام کیوں کرتے ہو؟ مشرک کہتے ہیں کہ ہم اللہ کی اجازت سے شرک کرتے ہیں ۔ کیا یہ اپنے دعوی پر کوئی دلیل یا دست آویز پیش کرسکتے ہیں ؟ اس کے بعد تمام انبیاء علیہم السلام کا دس نکاتی مشترکہ پروگرام پیش کیا جو حقوق اللہ اور حقوق العباد پر مشتمل ہے۔ اللہ کی عبادت، والدین کے ساتھ حسن سلوک، تنگی کے خوف سے اولاد کے قتل سے گریز، برائی کے کاموں سے پرہیز، بے گناہ کے قتل سے بچنا، یتیم کے مال کو ناجائز استعمال نہ کرنا، ناپ تول میں کمی نہ کرنا، قول و فعل میں انصاف کے تقاضے پورے کرنا، اللہ سے کئے ہوئے عہد و پیمان کو پورا کرنا اور صراط مستقیم کی پیروی کرنا پھر موسیٰ علیہ السلام کی نبوت اور ان کی کتاب کا تذکرہ پھر نزولِ قرآن کی بشارت کہ اس میں برکت بھی ہے، رحمت بھی اور ہدایت بھی۔ پھر دین میں تفرقہ اور دھڑے بندی کرنے والوں کی مذمت، پھر امت محمدیہ کی فضیلت کہ نیکی پر دس گنا اجر اور گناہ پر ایک سے زیادہ کی سزا نہیں ملے گی۔ محمدی تعلیمات کے ملت ابراہیمی کے عین مطابق ہونے کا اعلان۔ ابراہیمی طرز زندگی کی وضاحت کہ تمام بدنی و مالی عبادت اور جینا اور مرنا بھی اللہ ہی کے لئے ہے۔ ’’جو کرے گا وہی بھرے گا‘‘ کا ضابطہ اور سورہ کے آخر میں امتحان کے نقطہ نظر سے انسانوں میں فرقِ مراتب اور زمین کی خلافت کا استحقاق اور اللہ کے سریع العقاب ہونے کی دھمکی کے ساتھ ساتھ غفور رحیم ہونے کی خوشخبری بھی شامل ہے۔

سورہ الاعراف

جنت اور جہنم کے درمیان واقع ایک چبوترا ہے، جس پر ان لوگوں کو عارضی طور پر ٹھہرایا جائے گا، جن کی حسنات و سیئات برابر ہوں گی۔ أعراف کا تذکرہ اس سورہ میں موجود ہے اس لئے اسی نام سے پوری سورہ کو موسوم کر دیا گیا۔
یہ سورہ دو سو چھ آیتوں اور چوبیس رکوع پر مشتمل ہے۔ یہ ایک طویل مکی سورہ ہے جو تقریباً سوا پارہ پر پھیلی ہوئی ہے۔ اس سے پہلی سورہ الانعام کا مرکزی مضمون ’’توحید‘‘ تھا اور اس سورہ کا مرکزی مضمون ’’رسالت‘‘ ہے۔ اس کے ساتھ ہی جنت و جہنم اور قیامت کے موضوع پر بھی گفتگو موجود ہے۔ سورہ کی ابتداء میں قرآن کریم کی حقانیت کو ایک انوکھے انداز میں بیان کیا گیا ہے، جس میں ایک طرف حضور علیہ السلام کی ہمت افزائی ہے تو دوسری طرف آپ کی تسلی کے لئے ’’وحی الٰہی‘‘ کے منکرین کا انجام ہے کہ اگر مشرکین مکہ آپ پر نازل شدہ قرآن کریم کا انکار کرتے ہیں تو آپ دل برداشتہ نہ ہوں ۔ یہ لوگ اپنے منطقی انجام کو پہنچ کر رہیں گے کیونکہ اس سے پہلے بھی ایسی قومیں گزری ہیں جنہیں ’’وحی الٰہی‘‘ کے انکار پر پلک جھپکتے میں نیست و نابود کر دیا گیا۔ پھر یہ بتایا گیا ہے کہ آج کے دور کا فرقہ بندیوں ، پارٹی بندیوں اور جنگ و جدل کا شکار ہونے والا انسان درحقیقت ایک ہی باپ کی صلب سے پیدا ہونے والا اور ایک ہی ماں کی کوکھ سے جنم لینے والا ہے۔ یہ سب کالے اور گورے، امیر و غریب، شاہ و گدا ایک ہی گھرانے کے افراد اور ایک ہی خاندان کے چشم و چراغ ہیں اور انہیں باہمی افتراق و نزاع کسی طرح بھی زیب نہیں دیتا۔ خالقِ انسان کی نگاہ میں اس انسان کی قدر و منزلت کیا ہے؟ اس کی طرف اشارہ کرنے کے لئے انسانیت کے جد امجد آدم علیہ السلام کو مسجود ملائکہ بنا کر اعزاز و اکرام کے ساتھ اس کے اصلی گھر جنت میں بھیج دیا اور شیطان کی ازلی دشمنی بتانے کے لئے شجر ممنوعہ کو استعمال کروا کر جدوجہد اور معرکۂ حق و باطل کے طویل اور صبر آزما امتحان کے لئے اسے زمین پر اتار دیا۔ چار مرتبہ اس انسان کو یا بنی آدم ’’اے آدم کی اولاد‘‘ کہہ کر پکارا۔ یہ نداء اس سورہ کے ساتھ خاص ہے۔ شیطان کے شر سے بچنے کے لئے انتہائی پر حکمت خطاب کرتے ہوئے فرمایا:’’اے بنی آدم! جس شیطان نے تمہارے والدین کا لباس اتروا کر انہیں جنت سے نکلوا دیا تھا کہیں تمہیں بھی فتنہ میں مبتلا کر کے جنت سے محروم نہ کر دے۔‘‘ اس کے بعد قیامت کے دن کی منظر کشی کرتے ہوئے اصحاب الجنۃ، اصحاب النار اور اصحاب الأعراف کے نام سے تین گروہ ذکر کئے۔ اس گروہ کا تذکرہ صرف اسی سورہ میں ہے۔ اس کے بعد وہ منظر پیش کیا گیا، جس میں جنت والے، جہنم والوں کا ویسے ہی مذاق اڑائیں گے جیسے وہ لوگ دنیا میں ان کی نیکی اور صلاح و تقویٰ پر مذاق اڑایا کرتے تھے۔ وہ کیسا منظر ہو گا جب جنت والے انعامات اور عیش و عشرت کے مزے لے رہے ہوں گے اور جہنم والے عذاب کی اذیت و کربناکی میں مبتلا ہوں گے اور جنتیوں سے کھانے کے ایک نوالہ اور پانی کے دو گھونٹ بھیک مانگ رہے ہوں گے اور اصحاب الأعراف اپنی فصیل سے دائیں بائیں جھانک کر جنت و جہنم والوں میں اپنے جاننے والوں کو پہچانیں گے اور ان سے گفتگو کریں گے۔ اہل جنت کے چہرے روشن اور چمکدار ہوں گے جبکہ اہل جہنم بد شکل، سیاہ اور ذلت و رسوائی کے عالم میں ہوں گے۔ اسی اثناء میں اللہ کا منادی آواز لگائے گا:’’اللہ کا وعدہ سچا ہے۔ نیکیوں کا بدلہ جنت ہے جو صلحاء کو مل گئی اور اللہ کے راستہ میں رکاوٹیں ڈالنے والے اور من مانے طریقہ پر اللہ کے احکام کو اپنی خواہشات کے مطابق توڑ مروڑ کر پیش کرنے والے ظالم اور منکرین آخرت ہمیشہ ہمیشہ کے لئے عذاب کا طوق ان کے گلے میں ڈالا گیا‘‘۔ اس کے بعد آسمان و زمین کے پیدا کرنے، دن رات کے آنے جانے، ہواؤں کے چلنے اور بارش کے برسنے اور درختوں اور پودوں کے زمین سے نکلنے میں غور و خوض کرنے کی دعوت دے کر پہلے انبیاء علیہم السلام کا طویل تذکرہ شروع کر دیا۔
نوح علیہ السلام نے اپنی قوم کو توحید کی دعوت دی۔ قوم نے انہیں گمراہ قرار دے کر ان کا مذاق اڑایا۔ ان کی رسالت کا انکار کیا، جس پر اللہ نے پانی کا عذاب مسلط کر کے انہیں ہلاک کر دیا اور اپنے نبی کو کشتی کے اندر بچا لیا۔ ہود علیہ السلام کا تذکرہ کہ انہوں نے قوم عاد کو دعوت توحید دی انہوں نے ہود علیہ السلام کو بے وقوف اور ناسمجھ قرار دے کر انکار کیا۔ اللہ نے ان پر آندھی اور طوفان کا عذاب مسلط کر کے ہلاک کر دیا اور اپنے نبی اور ان کے متبعین کو بچا لیا۔ پھر قوم ثمود کا تذکرہ، صالح علیہ السلام نے انہیں دعوت توحید دی۔ انہوں نے انکار کیا اور بیجا مطالبے شروع کر دیئے۔ کہنے لگے کہ پہاڑ سے اونٹنی پیدا کر کے دکھاؤ جو نکلتے ہی بچہ جنے۔ جب اونٹنی معجزانہ طریقہ پر ظاہر ہو گئی تو انہوں نے اسے قتل کر کے اپنے اوپر عذاب مسلط کر لیا۔ ان کی بستی پر ایسا زبردست زلزلہ آیا کہ ان کا نام و نشان مٹ کر رہ گیا۔
پھر قوم لوط اور ان کی بے راہ روی کا تذکرہ۔ لوط علیہ السلام نے انہیں بد فعلی جیسے گھناؤنے جرم سے منع کیا تو وہ ان کا مذاق اڑانے لگے کہ تم بہت پاکباز بنتے ہو۔ ہم تمہیں اپنے ملک سے نکال باہر کریں گے۔ اللہ نے ان پر پتھروں کی بارش کر کے انہیں تباہ کر دیا۔
پھر قوم مدین کا تذکرہ۔ حضرت شعیب علیہ السلام نے انہیں توحید کی دعوت دی اور تجارت میں بددیانتی سے منع کر کے ناپ تول پورا کرنے کی تلقین فرمائی اور انہیں راہ گیر مسافروں کو ڈرانے دھمکانے سے باز رہنے کا حکم دیا، جس پر وہ لوگ بگڑ گئے اور حضرت شعیب علیہ السلام کی مخالفت پر اتر آئے۔ انہوں نے فرمایا کہ میری قوم تمہارے دو گروہ بن چکے۔ ایک ایمان والا اور دوسرا کفر والا۔ لہٰذا اپنے انجام کا انتظار کرو عنقریب ہمارے اور تمہارے درمیان اللہ فیصلہ کر دیں گے۔



9۔قَالَ الْمَلَأُ

آٹھویں پارے کے آخر میں حضرت شعیب علیہ السلام کا یہ مقولہ تھا کہ آسمانی نظام کو تسلیم کرنے والی اور انکار کرنے والی مؤمن و منکر دو جماعتیں بن چکی ہیں ۔ اب خدائی فیصلہ کا انتظار کرو۔ نویں پارہ کی ابتداء میں ان کی قوم کے سرداروں کی دھمکی مذکور ہے کہ آپ اور آپ کے ساتھی اپنے خیالات سے تائب ہو کر اگر ہمارے طریقہ پر نہ لوٹے تو ہم آپ لوگوں کو ملک بدر کئے بغیر نہیں چھوڑیں گے۔ اہل ایمان نے اس کے جواب میں کہا کہ ہمیں اللہ نے ملتِ کفر سے نجات دے کر ملتِ اسلامیہ سے وابستہ ہونے کی نعمت سے سرفراز کیا ہے تو ہم کیسے غلط راستہ کی طرف لوٹ سکتے ہیں ۔ ہم اللہ سے دعاء گو ہیں کہ وہ ہمارے اور تمہارے درمیان دو ٹوک فیصلہ کر کے حق کو غالب کر دے۔ چنانچہ بڑی شدت کا زلزلہ آیا اور حضرت شعیب علیہ السلام کی نبوت کے منکر اس طرح تباہ ہو گئے کہ ان کا نام و نشان بھی باقی نہ بچا اور مؤمنوں کو اللہ تعالیٰ نے عافیت کے ساتھ بچا لیا جس پر حضرت شعیب علیہ السلام نے فرمایا کہ میں نے تو قوم کی خیرخواہی کرتے ہوئے اپنے رب کا پیغام پہنچا دیا تھا مگر اسے تسلیم نہ کرنے کی وجہ سے یہ لوگ تباہ ہو گئے اب ان پر میں کیسے رحم کھا سکتا ہوں ؟ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ضابطہ بیان کر دیا کہ خوشحالی اور تنگدستی کن حالات میں عذاب خداوندی کا مظہر ہوتی ہے اور کن حالات میں اللہ کی طرف سے ابتلاء و آزمائش ہوتی ہے۔ اگر اچھے یا برے حالات کی تبدیلی اعمال میں بہتری پیدا کر کے اللہ کا قرب نصیب کر دے تو یہ تبدیلی امتحان ہے اور اللہ کی رضا کا باعث ہے اور اگر اعمال صالحہ میں ترقی نہ ہو بلکہ وہی سابقہ صورتحال رہے یا نافرمانیوں میں اور اضافہ ہو جائے تو یہ تبدیلی عذاب ہے اور اللہ کی ناراضگی اور غضب کا موجب ہے۔ اللہ کے عذاب سے کبھی بھی مطمئن نہیں ہونا چاہئے وہ صبح و شام کسی وقت بھی اچانک آسکتا ہے۔ ہم ان تباہ شدہ بستیوں کے حالات اس لئے سنارہے ہیں کہ انبیاء و رسل کی آمد کے باوجود بھی ان لوگوں نے اپنے اعمال میں بہتری پیدا نہ کر کے اپنے آپ کو عذاب الٰہی کا مستحق ٹھہرا لیا۔ جس کی وجہ سے اللہ نے ان کے دلوں پر مہر لگا کر ان کا نام و نشان مٹا کر رکھ دیا۔
اس کے بعد معرکہ خیر و شر کا مشہور واقعہ ’’قصۂ موسیٰ و فرعون‘‘ کا بیان ہے جو آیت ۱۰۳ سے ۱۰۶ تک پھیلا ہوا ہے اور اس میں بعض جزئیات کو بہت تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ یہ قرآن کریم میں بار بار دہرائے جانے والے واقعات میں سے ایک ہے اور جتنی تفصیل اس واقعہ کی بیان کی گئی ہے، اتنی کسی دوسرے واقعہ کی تکرار کے ساتھ تفصیل بیان نہیں ہوئی ہے۔ یوں تو اکثر سورتوں میں کسی نہ کسی انداز میں اس کا حوالہ مل جاتا ہے مگر سورہ بقرہ، اعراف، طٰہٰ اور قصص میں مختلف پہلوؤں سے اس واقعہ کو زیادہ اجاگر کیا گیا ہے۔ اس میں خیر کی بھرپور نمائندگی حضرت موسیٰ و ہارون علیہما السلام کرتے ہیں جبکہ شر کی بھرپور نمائندگی فرعون، ہامان، قارون اور یہودی قوم کرتی ہے۔ یہ لوگ اقتدار اعلیٰ، نوکر شاہی، سرمایہ داری کے نمائندہ ہیں ۔ سورہ الاعراف میں فرعون اور قوم یہود کے ساتھ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے مقابلہ کو بیان کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : ہم نے اپنی آیات دے کر موسیٰ علیہ السلام کو فرعون اور اس کے حمایتیوں کی طرف بھیجا انہوں نے ان آیات کو ٹھکرا کر فساد برپا کیا۔ آپ دیکھیں ان مفسدین کو کیسے عبرتناک انجام سے دوچار ہونا پڑا۔ موسیٰ علیہ السلام جب رسول کی حیثیت سے فرعون کے پاس تشریف لے گئے اور انہوں نے بنی اسرائیل کی آزادی کا مطالبہ کیا تو اس نے معجزہ دکھانے کا مطالبہ کیا۔ موسیٰ علیہ السلام نے ’’عصا کا اژدھا‘‘ اور ’’ہاتھ کو چمکتا‘‘ ہوا بنا کر دکھا دیا۔ فرعون نے اسے ’’جادو‘‘ قرار دے کر مقابلہ کے لئے ’’جادوگر‘‘ بلوا لئے۔ انہوں نے رسیوں اور لکڑیوں سے سانپ بنائے۔ موسیٰ علیہ السلام کے عصا کا اژدھا ان سب کو نگل گیا۔ جادوگر چونکہ اپنے فن کے ماہر تھے وہ سمجھ گئے کہ یہ جادو نہیں بلکہ نبی کا معجزہ ہے۔ وہ مسلمان ہو کر سجدہ ریز ہو گئے۔ فرعون نے یہ کہہ کر کہ موسیٰ جادوگروں کا استاد ہے۔ یہ چھوٹے شاگرد ہیں انہوں نے سازباز کر کے یہ ڈراما رچایا ہے اس نے سب جادوگروں کے ہاتھ پاؤں کاٹ کر انہیں سولی پر چڑھا دیا وہ مرتے مر گئے مگر ایمان سے منحرف نہیں ہوئے۔ موسیٰ علیہ السلام نبی تھے، فرعون ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکا مگر بنی اسرائیل پر اس نے عرصۂ حیات تنگ کر دیا۔ مظالم سے تنگ آ کر قوم نے موسیٰ علیہ السلام سے کہا: آپ کی نبوت تسلیم کرنے سے پہلے بھی ہم ستائے جا رہے تھے آپ کے آنے کے بعد اس میں کوئی کمی نہیں آئی بلکہ مظالم پہلے سے بڑھ گئے۔ موسیٰ علیہ السلام نے انہیں حکم دیا کہ اپنے گھروں میں ہی قبلہ رو ہو کر نماز اور صبر کی مدد سے اللہ کی مدد کو اپنی طرف متوجہ کرو۔ دنیا میں آزمائش کے طور پر اللہ جسے چاہیں اقتدار پر فائز کریں ، لیکن آخرت میں متقیوں کو بہتر انجام ملے گا۔پھر اللہ تعالیٰ نے فرعونیوں پر مختلف عذاب مسلط کئے۔ قحط سالی اور سبزیوں اور پھلوں کی قلت کا عذاب آیا۔ جب انہیں کوئی فائدہ پہنچتا تو وہ کہتے کہ ہماری ’’حسن تدبیر‘‘ کا کرشمہ ہے اور جب انہیں کوئی نقصان یا تکلیف پہنچتی تو اسے موسیٰ علیہ السلام اور ان کے مؤمن ساتھیوں کی نحوست قرار دیتے اور کہتے کہ ہم پر اپنا جادو آزمانے کے لئے تم بڑے سے بڑا معجزہ دکھا دو ہم ہرگز ایمان نہیں لائیں گے۔ ان پر اللہ نے طوفان، مکڑی، جوؤں ، مینڈکوں اور خون کا پے در پے عذاب بھیجا مگر وہ تکبر کے ساتھ اپنے جرائم میں بڑھتے ہی چلے گئے۔ جب ان پر عذاب کی کوئی شکل ظاہر ہوتی تو وہ جھوٹے عہد و پیمان کر کے موسیٰ علیہ السلام سے دعاء کرا لیتے، مگر عذاب کے ختم ہوتے ہی پھر نافرمانیوں پر اتر آتے۔ ہماری آیات سے غفلت برتنے اور جھٹلانے کا ہم نے انتقام لے کر انہیں سمندر میں غرق کر دیا۔ ہم نے دنیا میں کمزور اور  ضعیف سمجھی جانے والی قوم کو ان کے محلات، باغات اور اقتدار کا وارث بنا دیا اور بنی اسرائیل کو اللہ تعالیٰ کے احکام پر عمل کرنے کی خاطر کتاب دینے کے لئے حضرت ہارون کو جانشین قرار دے کر حضرت موسیٰ علیہ السلام ’’کوہِ طور‘‘ پر ریاضت کرنے کے لئے بلائے گئے، جہاں وہ چالیس روز تک مقیم رہے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں شرف ہمکلامی بخشا اور تورات عطا فرمائی۔ اللہ تعالیٰ سے ہمکلامی کا ایسا مزہ تھا کہ موسیٰ علیہ السلام نے اللہ کی زیارت کی درخواست کر دی۔ اللہ تعالیٰ نے پہاڑ پر تجلی کی جس کی تاب نہ لا کر پہاڑ ریزہ ریزہ ہو گیا، جس سے ثابت ہوا کہ انسان اپنے دنیاوی قویٰ کے ساتھ اللہ کی زیارت نہیں کرسکتا۔
موسیٰ علیہ السلام کی عدم موجودگی میں قوم شرک میں مبتلا ہو کر بچھڑے کی پوجا کرنے لگی۔ موسیٰ علیہ السلام واپس آ کر قوم پر بہت ناراض ہوئے، بھائی ہارون کو بھی ڈانٹا اور پھر تواضع کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے لئے، اپنے بھائی کے لئے اور پوری قوم کے لئے معافی طلب کرتے ہوئے مغفرت، رحمت اور ہدایت کی دعا مانگی۔ اللہ نے فرمایا میری رحمت کے مستحق وہ لوگ ہوں گے جو صدقہ و خیرات کا اہتمام کریں ۔ تقویٰ اور ایمان کو اختیار کریں اور نبی امی صلی اللہ علیہ وسلم جن کا تذکرہ ان کی کتابوں تورات اور انجیل میں ہے اور وہ انہیں امر بالمعروف، نہی عن المنکر کرتے ہیں ، ان کی خودساختہ پابندیوں کو ان پر سے ختم کر کے ان کے گناہوں کے بوجھ سے انہیں آزاد کراتے ہیں ، ان پر ایمان لا کر ان کی مدد و نصرت کریں تو یہ لوگ کامیابی سے ہمکنار ہو جائیں گے۔ پھر حضور علیہ السلام کی رسالت کی عمومیت کو بیان کیا کہ آپ تمام انسانیت کے لئے نبی بن کر تشریف لائے ہیں ۔ پھر بنی اسرائیل پر مزید احسانات کا تذکرہ فرمایا کہ بارہ قبیلوں کے لئے پتھر سے بارہ چشمے جاری کئے۔ بادل کا سائبان اور من و سلویٰ کی خوراک عطاء کی۔ بیت المقدس میں داخلہ کے لئے جہاد کا حکم دیا اور مخالفت پر آسمانی عذاب کے مستحق قرار پائے۔ پھر سمندر کے کنارے بسنے والوں کا تذکرہ جنہوں نے سنیچر کا دن عبادت کے لئے مقرر کیا، مگر اس کی پابندی کرنے کی بجائے اس دن شکار میں مشغول ہو گئے، جس کی وجہ سے ذلت آمیز عذاب میں مبتلا ہو کر بندروں کی شکل میں مسخ ہو گئے۔ پھر پہاڑ سروں پر معلق کر کے بنی اسرائیل سے میثاق لینے کا تذکرہ ہے کہ اتنے اہتمام کے باوجود بھی انہوں نے پابندی نہیں کی۔ پھر پوری انسانیت سے لئے جانے والے ’’عہد ألست‘‘ کا تذکرہ ہے جو عالم ارواح میں آدم علیہ السلام کی پشت سے تمام روحوں کو ’’بھوری چیونٹیوں ‘‘ کی شکل میں نکال کر لیا گیا۔ تمام روحوں نے اللہ کی ربوبیت کا اقرار کیا، مگر دنیا میں آ کر بہت سے لوگ اس سے منحرف ہو گئے۔ پھر ایک اسرائیلی عالم کا تذکرہ جس نے اپنی بیوی کے بہکاوے میں آ کر مالی مفادات کے لئے اللہ کی آیات کی غلط تعبیر و تشریح کی، اسے کتے کی مانند بنا کر اس کی زبان سینے تک لٹکا دی گئی اور وہ کتے کی طرح ہانپتا ہوا جہنم رسید ہو گیا۔ جسے اللہ ہدایت دیں وہی ہدایت یافتہ بن سکتا ہے اور جسے اللہ گمراہ کر دیں وہ خسارے میں ہے۔
جنات اور انسانوں میں جو لوگ اپنے دل و دماغ اور آنکھ اور کان کا صحیح استعمال کر کے توحید باری تعالیٰ کو نہ مانیں وہ لوگ گمراہی میں جانوروں سے بھی بدتر ہیں ان کا ٹھکانہ جہنم ہے۔ اللہ کو اس کے اسماء حسنیٰ کے ساتھ یاد کیا جائے۔ ملحدین کے خودساختہ نام اللہ کے لئے استعمال نہ کئے جائیں ۔ پھر قیامت کا تذکرہ کہ وہ اچانک کسی بھی وقت آ جائے گی۔ اس کا علم اللہ کے علاوہ کسی کے پاس نہیں ہے۔ پھر نبی سے اعلان کروایا گیا ’’میں اپنے لئے بھی نفع نقصان کا مالک نہیں ہوں ۔ اگر مجھے غیب کا علم ہوتا تو مجھ پر کبھی کوئی تکلیف نہ آتی اور تمام بھلائیاں میں اپنے لئے جمع کر لیتا۔ میں تو اہل ایمان کو ڈرانے اور خوشخبری سنانے کے لئے آیا ہوں ‘‘ پھر قدرتِ خداوندی کے بیان کے لئے ایک جان آدم علیہ السلام سے انسانی تخلیق کا تذکرہ اور پھر ازدواجی زندگی کے فائدہ کا بیان کہ اس کا مقصد زوجین کا ایک دوسرے کے ذریعہ سکون حاصل کرنا ہے۔ پھر شرک کی مذمت کہ ایسے کمزوروں کو اللہ کا شریک بناتے ہیں جو دوسروں کو تو کیا پیدا کریں گے خود اپنی پیدائش میں اللہ کے محتاج ہیں ۔ جن بتوں کو یہ اپنا معبود سمجھتے ہیں وہ چلنے پھرنے اور دیکھنے سننے سے بھی محروم ہیں ۔ جو اپنی مدد نہ کرسکیں وہ دوسروں کی کیا مدد کریں گے؟ ایک داعی الی اللہ کو اخلاق فاضلہ کی تلقین کرتے ہوئے فرمایا ’’عفو و درگزر کرتے ہوئے نیکی کا حکم دیتے رہیں ، اگر کبھی شیطان کے اثرات سے کوئی نازیبا حرکت سرزد ہو جائے تو اللہ کی پناہ میں آ کر تقویٰ اور نصیحت کو اختیار کر لینا چاہئے۔ اتباع اور پیروی کے لئے وحی الٰہی کا ہونا ضروری ہے۔ جب قرآن پڑھا جائے تو توجہ سے سنیں اور صبح و شام اللہ کو یاد کرتے رہیں ۔ اللہ کے برگزیدہ بندے اس کی عبادت سے تکبر نہیں کرتے۔ وہ اس کی تسبیح و تحمید کرتے ہوئے اس کے حضور سجدہ ریز رہتے ہیں ۔

سورہ الانفال

انفال کے معنیٰ مال غنیمت کے ہیں ، اس سورہ میں غنیمت کے احکام کا بیان ہے۔ اس میں غزوہ بدر کا تفصیلی تذکرہ ہے اس لئے بعض مفسرین نے اسے سورہ بدر بھی کہا ہے۔ پچھتر آیات اور دس رکوعات پر مشتمل یہ مدنی سورہ ہے۔ اس سورہ میں چھ مرتبہ یا ایہا الذین اٰمنوا کہہ کر خطاب کرتے ہوئے یہ اشارہ کیا گیا ہے کہ دیئے جانے والے احکام پر عمل ایک مسلمان کے ایمان کا اولین تقاضا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں یہ لوگ مال غنیمت کے بارے میں سوال کرتے ہیں آپ کہہ دیجئے کہ مال غنیمت اللہ اور اس کے رسول کے لئے ہے وہ جس طرح چاہے اس کی تقسیم کا حکم جاری کرے۔ پھر کامل ایمان والوں کی صفات، اللہ کے ذکر سے متاثر ہونا، کلام اللہ کو سن کر دلوں کا نرم ہو جانا اور اللہ پر توکل کرنا مذکور ہے۔ پھر بدر کے ابتدائی مرحلہ کا تذکرہ ہے کہ نکلتے وقت تمہارے بعض لوگ پوری طرح تیار نہ ہونے کی وجہ سے جہاد پر آمادہ نہیں تھے۔ لیکن جب نبی کے ساتھ مل کر کافروں سے مقابلہ کے لئے میدان میں آ گئے تو اللہ نے فرشتے اتار کر تمہاری مدد فرمائی۔ کافر قتل اور زخمی ہوئے اور میدان سے راہِ فرار اختیار کرنے پر مجبور ہوئے۔ مجاہدین کی عظمت کا بیان ہے کہ تم نے جو کافر قتل اور گرفتار کئے یا ان پر تیر برسائے تو درحقیقت وہ اللہ نے سب کچھ کیا۔ پھر بتایا کہ میدان جہاد سے بھاگنے والے کا ٹھکانہ جہنم ہے البتہ اگر مزید تیاری کر کے دوبارہ حملہ آور ہونے کے ارادے سے پیچھے ہٹا ہے تو کوئی حرج نہیں ہے۔ اللہ اور اس کے رسول کا جب بھی کوئی حکم آئے تو اس پر عمل کرنے میں تاخیر نہ کریں اس میں تمہاری حیات کا راز مضمر ہے۔ کافر لوگ نبی کو گرفتار یا قتل کرنا چاہتے ہیں یا انہیں علاقہ بدر کرنے کے لئے کوشاں ہیں مگر ان کی سازشیں کبھی کامیاب نہیں ہوں گی اور ان کی سازشوں کا توڑ کرتے رہیں گے۔ اسلام کا راستہ روکنے کے لئے کافر اپنا مال خرچ کر رہے ہیں مگر اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ یہ جتنا مال چاہیں خرچ کر دیں آخر کار انہیں اپنا مال ضائع ہونے پر حسرت اور افسوس ہی ہو گا۔ دشمنان اسلام کو یہ پیغام دے دو کہ اگر وہ اسلام دشمن ہتھکنڈوں سے باز آ جائیں تو انہیں معافی مل سکتی ہے ورنہ پہلی قوموں کی گرفت، نظام دنیا کے سامنے موجود ہے۔ قتال فی سبیل اللہ اس وقت تک جاری رہے گا جب تک دنیا سے فتنہ و فساد ختم ہو کر دین اسلام کا نظام پوری دنیا پر غالب نہ آ جائے۔


10۔ وَاعْلَمُواْ


پارے کی ابتداء میں بتایا گیا ہے ’’مال غنیمت‘‘ میں سے پانچواں حصہ بیت المال کے لئے نکال کر باقی چار خمس مجاہدین میں تقسیم کر دیئے جائیں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے پہلے سے کسی تیاری کے بغیر غزوہ بدر میں کفر و اسلام کو مدمقابل لانے کی حکمت بیان فرمائی کہ اگر تم مقابلہ کا وقت مقرر کر لیتے تو اس بات کا قوی امکان تھا کہ مسلمان اپنی تعداد و اسلحہ کی قلت کے پیش نظر پس و پیش کا مظاہرہ کرتے یا کافر مرعوب ہو کر مسلمانوں کے مقابلہ سے گریز کرتے۔ لیکن اللہ تعالیٰ مسلمانوں اور کافروں سے جنگ چاہتے تھے تاکہ بے سروسامانی کے باوجود انہیں کامیاب کر کے حق و باطل کا فرق واضح کر دیں اور جو مسلمان ہونا چاہے علی وجہ البصیرت ہو اور جو کافر رہنا چاہے وہ بھی سوچ سمجھ کر ہو۔ اس کے بعد جہاد میں ثابت قدمی کا مظاہرہ کرنے اور ذکر الٰہی میں مشغول رہنے کی تلقین ہے، اس بات کا بیان ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کے ساتھ باہمی اختلاف و نزاع سے بھی بچنا ضروری ہے۔ ورنہ ناکامی کا منہ دیکھنا پڑے گا۔ کافر ریاکاری اور تکبر کے ساتھ میدان میں اس لئے نکلے تھے تاکہ اہل ایمان کو اللہ کے راستہ سے روکیں اور شیطان انسانی شکل میں ان کی حوصلہ افزائی کر رہا تھا مگر جب اس نے فرشتوں کی شکل میں اللہ کی مدد اترتی ہوئی دیکھی تو بھاگ اٹھا اور کہنے لگا کہ میں جس صورتحال کا مشاہدہ کر رہا ہوں وہ تمہیں نظر نہیں  آ رہی ہے۔ اس وقت بعض منافق اور دلوں میں مرض رکھنے والے لوگ یہ کہہ رہے تھے، ان مسلمانوں کو ان کے دین نے دھوکے میں ڈال رکھا ہے اور انہوں نے اللہ کے بھروسہ پر اتنا بڑا خطرہ مول لے لیا ہے۔ اللہ فرماتے ہیں کہ ہم اپنے پر توکل کرنے والوں کو بہت اچھی طرح جانتے ہیں اور انہیں کامیابی عطا فرمایا کرتے ہیں ۔ پھر اللہ تعالیٰ نے فرعون اور اس سے پہلے کافروں کے عبرتناک انجام کو بیان کیا اور بتایا کہ کافر بھی اسی صورتحال سے دوچار ہو کر رہیں گے۔ اس کے بعد قوموں کے عروج و زوال کا ناقابل تردید ضابطہ بیان فرمایا۔ اللہ کسی قوم کو اس وقت تک زوال پذیر نہیں کرتے جب تک وہ اپنی عملی زندگی میں انحطاط کا شکار نہ ہو جائیں ۔ حضرت محمد علیہ السلام پر ایمان نہ لانے والے لوگ بدترین جانور ہیں ۔ یہودیوں نے اس موقع پر میثاق مدینہ کی مخالفت کرتے ہوے مشرکین مکہ کی حمایت کی تھی۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :عہد شکنی کرنے والوں کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹنا چاہئے تاکہ دوسروں کو عبرت حاصل ہو اور خیانت کرنے والوں کے ساتھ کئے گئے معاہدوں کی پاسداری لازمی نہیں رہ جاتی ایسے معاہدے توڑ دینے چاہئیں ۔ کافر یہ نہ سمجھیں کہ وہ بچ نکلنے میں کامیاب ہو جائیں گے وہ اللہ کو عاجز نہیں کرسکتے۔ مسلمانوں کو حکم دیا گیا ہے کہ دشمنان اسلام پر رعب ڈالنے کے لئے تم لوگ جس قدر ہوسکے قوت اور مضبوط گھوڑے تیار رکھو۔ اللہ کے راستہ میں تم جو بھی اخراجات کرو گے اللہ تمہیں واپس کر دیں گے۔ تم کافروں کے مقابلہ میں کسی قسم کی کمزوری کا مظاہرہ نہ کرنا البتہ اگر وہ تمہارے ساتھ صلح کرنا چاہیں تو پھر صلح کر لینا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا کہ اللہ نے اپنی مدد اور ایمان والوں کی قوت سے آپ کو مضبوط کیا ہوا ہے اور ایمان والوں کو اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل و کرم سے باہم شیر وشکر بنا کر آپ کے گرد جمع کر دیا ہے۔ ساری دنیا کا مال دولت خرچ کر کے بھی آپ انہیں اس طرح جمع نہیں کرسکتے تھے جس طرح اللہ نے انہیں جمع کر دیا ہے۔ جہاد میں کامیابی کے لئے اللہ کی مدد اور مسلمانوں کا تعاون آپ کے لئے بہت کافی ہے۔ خود بھی جہاد کریں اور اہل ایمان کو بھی جہا دکی ترغیب دیں ۔ ابتداء میں جب مسلمانوں کی تعداد کم تھی تو، اگر مسلمانوں اور کافروں میں ایک اور دس کا تناسب ہو تو میدان سے ہٹ جانے کو فرار عن الزحف اور گناہ کبیرہ قرار دیا گیا پھر جب تعداد زیادہ ہو گئی تو ایک اور دو کا تناسب باقی رکھا گیا اور اس سے زیادہ ہونے کی صورت میں میدان چھوڑ دینے کی اجازت دے دی گئی۔
غزوہ بدر میں ستر کافر قتل ہوئے اور ستر ہی گرفتار ہوئے تو قیدیوں کا مسئلہ درپیش آ گیا۔ اس سلسلہ میں دو رائے سامنے آئیں کہ مسلمانوں کا رعب پیدا کرنے کے لئے انہیں قتل کر دیا جائے یا ان کے ایمان لانے کی امید پر فدیہ لے کر رہا کر دیا جائے۔ دوسری رائے کو اختیار کیا گیا مگر اس میں شبہ تھا کہ یہ قیدی رہائی کے بعد پھر اسلام کے خلاف استعمال ہوسکتے ہیں ۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس رائے کے مطابق فیصلہ پسند نہیں فرمایا مگر بعد کے حالات نے ثابت کر دیا کہ اس سے اسلام کو کوئی نقصان نہیں پہنچا اس لئے اللہ نے فدیہ کا فیصلہ کرنے والوں کو کوئی سزا نہیں دی۔
اس کے بعد ہجرت و نصرت کا حکم بیان کیا کہ جب کسی علاقہ میں رہ کر اپنا ایمان و عمل بچانا مشکل ہو جائے تو رشتہ داروں اور وطن کی محبت میں وہاں رہنے کی اجازت نہیں بلکہ وہاں سے ہجرت کر کے اپنے ایمانی رشتہ داروں کے ساتھ جا کر مقیم ہو جانے کا حکم ہے۔ ایمانی تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے ہجرت نہ کرنے پر بہت سخت وعید سنائی گئی کہ اس سے دنیا میں فتنہ و فساد پھیل جائے گا۔

سورہ توبہ

مدنی سورت ہے۔ ایک سو انتیس ۱۲۹ آیتوں اور سولہ رکوع پر مشتمل ہے۔ اس میں جہاد سے پیچھے رہ جانے والے تین مخلص مسلمانوں کی توبہ قبول ہونے کا اعلان ہے۔ اس لئے اس کا نام توبہ رکھا گیا ہے اور اس سورت کا مضمون پہلی سورت سے جہاد کے حوالہ سے ملتا جلتا ہے اور اس میں کفار کے لئے مہلت ختم کر کے کھلا ہوا اعلان جنگ ہے اس لئے اس کے شروع میں بسم اللہ نہیں لائی گئی۔
یہ سورت غزوہ تبوک کے بعد واپسی پر نازل ہوئی۔ جہاد اور زکوٰۃ کے حوالہ سے منافقین کی خباثتوں کی نشاندہی کی گئی ہے اور ان کے مکروہ چہرے سے اسلام کا نقاب ہٹا کر انہیں معاشرے میں ظاہر کیا گیا ہے۔ صلح اور امن کے معاہدوں سے کافروں نے کوئی فائدہ نہیں اٹھایا اور ان کے اسلام دشمن طرز عمل میں کوئی تبدیلی نہیں آئی، لہٰذا ان معاہدوں کو چار مہینہ کی مہلت دے کر ختم کرنے کا اعلان کیا جا رہا ہے اور حکم دیا جا رہا ہے کہ جس طرح یہ کافر مسلمانوں کے خلاف جنگ کرنے اور انہیں نقصان پہنچانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔ اسی طرح مسلمانوں کو بھی چاہئے کہ کافر جہاں بھی ملیں انہیں تہِ تیغ کریں ۔ اللہ ان کافروں پر آسمان سے کوئی عذاب اتارنے کی بجائے میدان جہاد میں مسلمانوں کے ہاتھ سے قتل کرانا چاہتے ہیں تاکہ انہیں سزا بھی مل جائے، یہ ذلیل و رسوا بھی ہوں اور مسلمانوں کے دلوں کا غصہ بھی اتر جائے اور بعض کافر اس عبرتناک انجام سے سبق حاصل کر کے اسلام قبول کرنے کا شرف حاصل کرسکیں ۔ دو مسلمانوں کی آپس میں گفتگو ہوئی، ایک نے کہا حضور علیہ السلام کے ساتھ جہاد میں شرکت کے بہت سے مواقع مل چکے ہیں ۔ اب تو میں کعبۃ اللہ میں رہ کر عبادت کرنے اور حاجیوں کو پانی پلانے کی سعادت حاصل کرنا چاہتا ہوں ۔ دوسرے نے کہا کہ جہاد کے برابر کوئی دوسرا عمل نہیں ہوسکتا۔ لہٰذا میں تو اللہ کے نبی کے ہمراہ جہاد کی سعادت حاصل کرتا رہوں گا۔ حضور علیہ السلام نے آیت قرآنی پڑھ کر سنائی۔ کیا تم نے کعبۃ اللہ کی عبادت اور حاجیوں کو پانی پلانے کی خدمت کو جہاد فی سبیل اللہ کے برابر سمجھ لیا ہے؟ یہ اللہ کی نگاہ میں کبھی بھی برابر نہیں ہوسکتے۔ رشتہ داریوں ، کاروباری مفادات اور اپنے گھروں کو اللہ اور اس کے رسول اور جہاد پر ترجیح دینے والے اللہ کے عذاب کے لئے تیار ہو جائیں ۔ ایسے فاسقوں کو اللہ ہدایت نہیں دیا کرتے۔ اس کے بعد غزوۂ حنین اور اس میں کثرت تعداد کے باوجود مسلمانوں کے نقصان اٹھانے اور پھر اللہ کی مدد سے کامیاب ہونے کا تذکرہ ہے۔ آئندہ کے لئے کافروں کے حرم شریف میں داخلے پر پابندی کا قانون بیان کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ توحید و آخرت پر ایمان نہ لانے والے اور اسلامی نظام حیات سے پہلوتہی کرنے والے اسلامی معاشرہ کے افراد بن کر نہیں رہ سکتے۔ انہیں ذلت و رسوائی کے ساتھ جزیہ ادا کر کے اپنے رہنے کے لئے جواز پیدا کرنا ہو گا۔ اللہ تعالیٰ کے لئے اولاد ثابت کرنے کے عقیدہ کی تردید ہے اور بتایا گیا ہے کہ کسی مذہبی رہنما کو اتنا تقدس نہیں دیا جا سکتا کہ اللہ کی بجائے اسی کو معبود بنا لیا جائے اور عبادت سے مراد احکام کی پابندی ہے۔ مذہبی رہنماؤں کے احکام اسی وقت تک قابل عمل ہیں جب تک وہ قوم کو آسمانی وحی کی روشنی میں رہنمائی فراہم کرتے رہیں ۔ اس کے بعد مال و دولت اور سونے چاندی میں اللہ کے احکام کی ادائیگی نہ کرنے والوں کے لئے وعید ہے کہ سونا چاندی جہنم میں تپا کر انہیں داغا جائے گا۔ پھر مہینوں اور تاریخوں میں تبدیلی کر کے حرام کو حلال کرنے کی کافرانہ حرکت پر تنبیہ کی گئی ہے۔ پھر جہاد کے لئے نہ نکلنے پر وعید بیان کی ہے اور دردناک عذاب کا پیغام دیا گیا ہے اور اس اٹل حقیقت کا اعلان ہے کہ اسلام ہمیشہ غالب رہے گا اور کفر کو اللہ نے مغلوب کرنے کا فیصلہ کیا ہوا ہے۔ تبوک کے پر مشقت اور طویل جہادی سفر میں شریک نہ ہونے والے منافقین نے امام المجاہدین صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھی مجاہدین پر مختلف اعتراض اٹھائے تھے۔ کوئی کہتا تھا کہ خوبصورت رومی عورتوں کی وجہ سے ہم بد نظری کے فتنہ میں پڑسکتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جہاد سے انکار بڑا فتنہ ہے، جس میں مبتلا ہو چکے ہیں ۔ کوئی جہاد کے لئے چندہ اور صدقات جمع کرنے پر اعتراض کرتا، کوئی حضور علیہ السلام کی گستاخی کرتے ہوئے کہتا کہ یہ سنی سنائی باتوں پر عمل کرتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ چندہ پر اعتراض کرنے والوں کو اگر اس میں سے ’’مال‘‘ مل جائے تو ان کا سارا اعتراض ختم ہو جائے گا اور سنی سنائی باتوں کے حوالہ سے فرمایا کہ وہ اللہ سے سنی ہوئی باتوں پر عمل کرتے ہیں اور ایمان و رحمت کے پھیلانے اور بدی کے راستہ میں رکاوٹ پیدا کرنے والے ہیں ۔ ان کے لئے باغات اور نہریں ہیں ، جن میں ہمیشہ رہیں گے۔ کفار و منافقین کے خلاف جہاد جاری رکھنے کا دو ٹوک اعلان کیا گیا ہے۔ ایک شخص نے حضور علیہ السلام سے دعاء کرائی کہ اللہ مجھے مال و دولت دے تو میں فی سبیل اللہ خرچ کروں گا۔ جب اس کے پاس بہت مال و دولت ہو گیا تو اس نے زکوٰۃ دینے سے بھی انکار کر دیا۔ اس کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو اللہ سے صدقہ و خیرات کا عہد و پیمان کرتے ہیں اور جب اللہ انہیں عطاء کر دے تو وہ بخل کرتے ہیں اور صدقہ سے انکار کر دیتے ہیں ۔ منافقین کو ہمیشہ کے لئے مسترد کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ اگر ستر مرتبہ بھی ان کے لئے معافی کی درخواست کریں گے تو اللہ تعالیٰ ہرگز انہیں معاف نہیں کریں گے۔ گرمی اور راستہ کی مشقت کا بہانہ بنا کر یہ لوگ جہاد میں شریک نہیں ہوئے اور رسول اللہ کی مخالفت کر کے خوش ہو رہے ہیں ۔ ان سے کہہ دو کہ جہنم کی گرمی بہت سخت ہے اور جہاد پر نہ جانے کی وجہ سے تمہیں جہنم میں جانا پڑے گا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو منافقین کا جنازہ پڑھنے اور ان کی قبروں پر جا کر دعاء مغفرت کرنے سے منع کر دیا، نبی پیغمبرانہ تقاضوں کے مطابق مسلمانوں کے لئے نرم دل ہیں اور نبی کے گستاخوں اور دل آزاری کرنے والوں کے لئے دردناک عذاب تیار ہے۔ ایمان والے کبھی جہاد سے نہیں بھاگتے۔ جہاد سے راہِ فرار تو بے ایمان اور کافر ہی اختیار کرتے ہیں ۔ یہ کہتے ہیں کہ ہم بھی جہاد کے لئے نکلنے کو تیار ہیں ۔ تیاری کا مطلب تو یہ ہے کہ تربیت اور اسلحہ کے ساتھ تیار ہوں (جبکہ ان لوگوں نے ایسی کوئی تیاری نہیں کی)۔ ان منافقین کو بد عملی اور دوغلی پالیسی کے پیش نظر آئندہ بھی جہاد کے سفر میں شریک نہیں کیا جائے گا۔
آپ نے انہیں جہاد سے پیچھے رہ جانے پر معافی دے دی ہم اس بات پر آپ کو معاف کر رہے ہیں ورنہ آپ کو ایسا نہیں کرنا چاہئے تھا تاکہ مخلص ایمان والے اور منافق سامنے آ جاتے۔ پھر زکوٰۃ و صدقات کے مستحقین کی آٹھ اقسام کو بیان کیا ہے کہ فقراء، مساکین، زکوٰۃ وصول کرنے والے عامل، مؤلفۃ القلوب، غلاموں کو آزاد کرانے، قرض دار، مسافر اور جہاد فی سبیل اللہ ہے۔ پھر منافقین کے متعلق بتایا کہ برائی کی نشر و اشاعت اور نیکی کے راستہ میں رکاوٹ ہیں ان کے لئے جہنم کی سزا ہے جبکہ مؤمنین ایک دوسرے کے دوست، نیکی پھیلانے والے ہیں جبکہ منافقین نے جہاد کے مقابلہ میں گھروں میں رہنے کو ترجیح دے کر نسوانیت کا مظاہرہ کیا ہے۔ اللہ نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی ہے۔ اگر کوئی شرعی معذور، غربت و مسکنت کا شکار جہاد سے پیچھے رہ گیا تو کوئی حرج نہیں ہے کچھ لوگ سواری طلب کرنے کے لئے حضور علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے، آپ کے پاس سواری کا انتظام نہ پا کر ان کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے کہ وہ سواری نہ ہونے کی وجہ سے جہاد کے عظیم الشان عمل سے محروم ہو جائیں گے۔ اللہ نے ان کی تعریف کی اور صاحبِ حیثیت کے سفر خرچ کی گنجائش رکھنے کے باوجود جہاد کے لئے نہ جانے پر مذمت کی گئی ہے۔


11۔ يَعْتَذِرُونَ

اس پارہ کی ابتداء میں ان لوگوں کا تذکرہ ہے جو اپنے نفاق کی وجہ سے تبوک کے سفر جہاد میں حضور علیہ السلام کے ساتھ شریک نہیں ہوئے تھے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ یہ لوگ عذر بیان کریں گے اور قسمیں کھا کر اپنے آپ کو بے گناہ ثابت کرنے کی کوشش کریں گے۔ آپ ان کی بات کا اعتبار نہ کریں ۔ یہ لوگ چاہیں گے کہ آپ صرفِ نظر کر کے ان سے راضی ہو جائیں ۔ آپ انہیں ان کے حال پر چھوڑ دیں ، اگر آپ ان سے راضی ہو بھی گئے تو اللہ ایسے نافرمانوں سے کبھی راضی نہیں ہوں گے۔ دیہاتیوں میں بھی دونوں قسم کے لوگ ہیں ۔ کفر و نفاق میں پختہ کار اور اللہ کے نام پر خرچ کرنے کو جرمانہ سمجھنے اور مسلمانوں پر تکلیف و مشکلات کا انتظار کرنے والے اور توحید و قیامت پر ایمان کے ساتھ اللہ کے نام پر پیسہ لگا کر خوش ہونے والے۔ یہ اللہ کے قرب اور رحمت کے مستحق ہیں ۔ دین میں پہل کرنے والے اور نیکی میں سبقت لے جانے والے انصارو مہاجرین اور ان کے متبعین کے لئے جنت کی دائمی نعمتوں کی خوشخبری اور عظیم کامیابی کی نوید ہے۔ اور ایسے لوگوں کی تعریف کی گئی ہے جو اپنی غلطیوں کے اعتراف کے ساتھ نیک اعمال سر انجام دینے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں ۔ ایسے لوگوں کی توبہ اللہ تعالیٰ ضرور قبول فرماتے ہیں ۔ اس کے بعد مسجد ضرار کا تذکرہ ہے۔ قبا کے مخلص مسلمانوں نے مسجد بنا کر اللہ کی عبادت اور اعمالِ خیر کی طرح ڈالی تو کافروں نے ان کے مقابلہ میں فتنہ و فساد کے لئے ایک مرکز بنا کر اسے مسجد کا نام دیا۔ انہیں خفیہ طور پر عیسائیوں کی سرپرستی حاصل تھی۔ یہ لوگ حضور علیہ السلام کو بلا کر افتتاح کرانا چاہتے تھے تاکہ مسلمانوں کی نگاہ میں مسجد مقدس بن جائے اور وہ در پردہ اس مسجد کے ذریعہ مسلمانوں میں انتشار اور فساد پھیلانے کی سازشیں کرتے رہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تبوک سے واپسی پر اس مسجد کے افتتاح کی حامی بھری جس پر اللہ نے آپ کو منع کر دیا اور اس مسجد کو گرانے کا حکم دیا۔ اللہ کے نبی نے اسے مسجد ضرار (مسلمانوں کو نقصان پہنچانے والی مسجد) قرار دے کر بعض صحابہ کو بھیجا اور اسے آگ لگا کر جلانے اور پیوند زمین کرنے کا حکم دیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ اگر اسلامی معاشرہ میں فتنہ و فساد برپا کرنے کے لئے کوئی مسجد بھی تعمیر کی جائے تو اس کا تقدس تسلیم نہیں کیا جائے گا اور یہ بھی واضح ہوا کہ یہود و نصاریٰ مسلمانوں میں پھوٹ ڈالنے اور فرقہ واریت کو ہوا دینے کے لئے مذہبی رنگ میں کوشاں رہتے ہیں اور ایسی کارروائیوں کی سرپرستی کرتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے مسجد قبا اور اس میں جمع ہونے والے مخلصین کی تعریف فرمائی اور ان کی ظاہری و باطنی طہارت کے جذبہ کو سراہا۔
مسلمانوں کی مجاہدانہ کارروائیوں کو اللہ کے ساتھ تجارت قرار دے کر بتایا کہ جنت کی قیمت میں اللہ نے اہل ایمان کی جانیں خرید لی ہیں ۔ یہ لوگ کافروں کو قتل کرتے ہیں اور خود بھی مرتبہ شہادت پر فائز ہوتے ہیں ۔ یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔ ان کی مزید خوبیاں یہ ہیں کہ یہ توبہ کرنے والے، عبادت گزار، اللہ کی تعریف کرنے والے، روزہ رکھنے والے، رکوع سجدہ کرنے والے، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرنے والے اور اللہ کی حدود کے محافظ ہیں ۔ ایسے مسلمان بشارت کے مستحق ہیں ، مسلمانوں کو منع کیا کہ مشرکین کے لئے استغفار نہ کریں ۔ غزوہ تبوک میں شرکت سے تین مخلص مسلمان بھی بغیر کسی عذر کے پیچھے رہ گئے تھے۔ پچاس دن تک ان کا مقاطعہ کیا گیا، ان سے بات چیت اور لین دین بند رکھا گیا پھر ان کی توبہ قبول فرما کر ان کے تذکرہ کو قرآن کریم کا حصہ بنا دیا گیا۔ اس سے جہاد فی سبیل اللہ کی عظمت اور پیچھے رہ جانے والے مخلصین کی سچی توبہ کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔ سچائی کو ہر حال میں اپنانے کی تلقین ہے اورکسی بھی حال میں نبی کا ساتھ نہ چھوڑنے کی تاکید ہے۔ جہاد فی سبیل اللہ کے دوران بھوک پیاس اور تھکن برداشت کرنے اور مال خرچ کرنے کی فضیلت کا بیان ہے۔ عام حالات میں جہاد کے فرض کفایہ ہونے کا بیان ہے۔کافروں کے ساتھ مقابلہ میں کسی قسم کی سستی اور نرمی اختیار کرنے کی ممانعت ہے۔ قرآن کریم کی تائید کا بیان ہے کہ اہل ایمان کے ایمان میں اضافہ اور ترقی کا باعث ہے جبکہ منافقین کے نفاق اور بغض میں اضافہ کرتا ہے۔ سورت کے آخر میں حضور علیہ السلام کی عظمت و فضیلت کا بیان ہے کہ وہ عظیم الشان رسول مسلمانوں کی تکلیف سے رنجیدہ ہوتے ہیں اور انہیں فائدہ پہنچانے کے خواہاں رہتے ہیں ۔ اللہ کی وحدانیت کے اعلان کے ساتھ ہی عرش عظیم کے رب پر توکل کی تعلیم پر سورت کا اختتام ہوتا ہے۔

سورہ یونس

مکی سورت ہے۔ ایک سو نو آیتوں اور گیارہ رکوع پر مشتمل ہے۔ حروف مقطعات سے آغاز ہے اور قرآن کریم کے حکیمانہ کلام ہونے کا بیان ہے اور منکرین قرآن کی ذہنیت کی نشاندہی کی ہے کہ وہ محض اس لئے اسے تسلیم نہیں کرتے کہ یہ ایک انسان پر کیوں نازل ہوا۔ پھر توحید باری تعالیٰ اور آسمان و زمین میں اس کی قدرت کے مظاہر کا بیان ہے۔ اس کے بعد قیامت کا تذکرہ اور اس بات کی وضاحت کہ دنیا کا سارا نظام ایمان اور اعمال صالحہ والوں کو جزا دینے اور کافروں کو کھولتے ہوئے پانی اور دردناک عذاب کی سزا دینے کے لئے وضع کیا گیا ہے۔ چاند اور سورج رات اور دن کی روشنی اور ماہ و سال کے حساب کے لئے بنائے گئے ہیں ۔ دن رات کے آنے جانے میں اللہ کی قدرت کی نشانیاں موجود ہیں ۔ جس طرح لوگ خیر کے لئے جلدی مچاتے ہیں ایسے ہی اگر شر کو بھی اللہ تعالیٰ جلدی نازل کر دیتے تو دنیا کا سارا نظام ختم ہو جاتا، اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ کافروں پر عذاب اتارنے میں جلدی نہیں کرتے۔ انسان کا مزاج ہے کہ جب تکلیف میں مبتلا ہو تو اٹھتے بیٹھتے اللہ کو یاد کرتا رہتا ہے اور جیسے ہی تکلیف ہٹا دی جائے ویسے ہی اللہ کو بھلا دیتا ہے جیسے کسی مشکل میں کبھی پکارا ہی نہ تھا۔ پہلی قوموں کے گناہوں پر ان کی گرفت کی گئی پھر اللہ نے تمہیں ان کی جگہ دی تاکہ تمہارے اعمال کو دیکھ کر ان کے مطابق تمہارے مستقبل کا فیصلہ کریں ۔
منکرین آخرت کو جب ہماری آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو یہ اس میں تبدیلی اور ترمیم و تنسیخ کا مطالبہ کرتے ہیں ، آپ کہہ دیں کہ یہ تبدیلی میرے اختیار میں نہیں ہے۔ میں وحی کا پابند ہوں ۔ تم دیکھ چکے ہو کہ چالیس سال کا طویل عرصہ میں نے تمہیں قرآن نہیں سنایا کیونکہ اللہ کا حکم نہیں آیا تھا۔ اب سنانے کا حکم آ گیا ہے اس لئے سنا رہا ہوں میں اپنی طرف اگر کسی قسم کی ترمیم و تنسیخ کرنے لگا تو مجھے بڑے دن کے عذاب کا خطرہ ہے، تمہارے معبودان باطل تمہیں کوئی نفع یا نقصان نہیں پہنچا سکتے، نہ ہی اللہ کے سامنے کسی قسم کی سفارش کرسکتے ہیں ۔ کفر کے اندھیرے میں تمام لوگ متحد نظر آتے ہیں جیسے ہی ایمان کی روشنی آتی ہے تو اختلاف کرنے لگ جاتے ہیں ۔ جب ہم تکلیف کے بعد انہیں راحت دیتے ہیں تو یہ اپنی فطری کجروی کے باعث شرارتوں پر اتر آتے ہیں ، آپ انہیں بتا دیجئے کہ ہمارے فرشتے سب کچھ لکھ رہے ہیں اور اللہ بہت جلدی تمہاری بد عملی پر سزا دے سکتے ہیں ۔ بحر و بر میں اللہ کے حکم پر تمام نقل و حرکت ہوتی ہے۔ باد بانی کشتیاں ہوا کے زور پر تمہیں منزل مقصود تک لے جائیں تو تم خوش ہوتے ہو اور شرک میں مبتلا رہتے ہو اور طغیانی میں پھنس کر بادِ مخالف کی زد پر آ جائیں تو مایوس ہو کر اللہ سے مدد طلب کرنے لگتے ہو۔ جیسے ہی اللہ نجات دیتے ہیں تم پھر شرک میں مبتلا ہو جاتے ہو۔ دنیا کی فانی اور عارضی زندگی کی مثال ایسی ہے جیسے بارش برسے اور کھیتیاں لہلہانے لگیں اور کسان خوش ہونے لگیں اسی اثنا میں کوئی آفت آ کر اسے اس طرح تباہ کر کے رکھ دے کہ جیسے کچھ تھا ہی نہیں ۔ غور و فکر کرنے والوں کے لئے ہم ایسی ہی آیات کو واضح کرتے ہیں ۔ اللہ جنت کی طرف بلاتے ہیں ۔ نیک و صالح لوگوں کے لئے بہترین بدلہ، ان کے چہروں پر ذلت و رسوائی یا کدورت نہیں چھائے گی اور گناہ گاروں کو ان کے گناہ کا بدلہ ملے گا۔ ان کے چہروں پر ذلت اور سیاہی چھا رہی ہو گی۔ ہم قیامت میں ان سب کو جمع کر کے پوچھیں گے تو یہ اپنے معبودان باطل کا انکار کریں گے اور ان کے معبود انکار کرتے ہوئے کہیں گے کہ یہ ہماری عبادت نہیں کرتے تھے۔ وہاں ان لوگوں کو اپنے اعمال کے غلط ہونے کا پتہ چل جائے گا۔ پھر اللہ کی قدرت کے دلائل اور ہدایت و ضلالت کے اللہ کی مشیت کے تابع ہونے کا بیان ہے۔ قرآن کریم کی حفاظت کا تذکرہ ہے کہ ایسا کلام کوئی شخص اپنے طور پر گھڑ نہیں سکتا۔ اگر تم میں ہمت ہے تو ایسی ایک سورت ہی بنا کر دکھا دو۔ اگر یہ لوگ جھٹلاتے ہیں تو ان پر جبر نہیں کیا جائے گا۔ آپ انہیں کہہ دیجئے کہ تمہارے اعمال کا بدلہ تمہیں ملے گا اور میرے اعمال کا بدلہ مجھے ملے گا۔ اللہ تعالیٰ کسی پر ذرہ برابر بھی ظلم نہیں کرتے۔ ہر قوم کے پاس اللہ کا پیغام پہنچانے والا بھیجا گیا ہے۔ اگر اللہ کا عذاب اچانک آ جائے تو پھر جلدی مچانے والے کیا کریں گے۔ ظالموں سے کہا جائے گا کہ اب دائمی عذاب کا مزہ چکھ لو۔ یہ لوگ سوال کرتے ہیں کہ کیا یہ سب باتیں سچی ہیں ؟ آپ کہئے میرے رب کی قسم یہ تمام برحق اور سچ ہے۔ تم اس عذاب کی ہولناکی سے بچنے کے لئے تمام دنیا کے خزانے فدیہ میں دینے کی تمنا کرو گے۔ عذاب دیکھ کر تم پر ندامت چھا جائے گی مگر اس وقت انصاف کیا جائے گا کسی پر کوئی ظلم نہیں ہو گا۔
اے انسانو! تمہارے رب کی طرف سے وعظ و نصیحت کا پیغام آ گیا۔ اس میں شفا اور ہدایت و رحمت ہے۔ اللہ کے فضل و رحمت پر ایمان والوں کو خوشیاں منانی چاہئیں ۔ یہ اس سے بہت بہتر ہے جسے یہ لوگ جمع کر رہے ہیں تم کسی حالت میں ہو کوئی بھی عمل کرو اللہ اس پر گواہ ہیں کوئی چھوٹے سے چھوٹا عمل بھی آسمان و زمین کے اندر اللہ سے پوشیدہ نہیں رہ سکتا۔ اللہ کے دوستوں پر کوئی اندیشہ و غم نہیں ہو گا۔ یہ وہ لوگ ہیں جو ایمان اور تقویٰ والے ہیں دنیا و آخرت میں ان کے لئے بشارت ہے۔ اللہ کی بات بدلی نہیں جا سکتی یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔ اس کے بعد اللہ کی قدرت کا بیان اور اولاد کے باطل عقیدہ کی تردید ہے۔ پھر نوح علیہ السلام کے واقعہ کا اختصار کے ساتھ تذکرہ کہ انہوں نے اپنی قوم کے متکبر سرداروں کے مقابلہ میں اللہ پر توکل کیا اور اللہ کا پیغام سنانے کے عوض کوئی تنخواہ طلب نہیں کی، اللہ نے انہیں اپنے پیروکاروں کے ساتھ کشتی میں بچا لیا اور مخالفین کو طوفان میں غرق کر کے عبرتناک انجام سے دوچار کر دیا۔پھر موسیٰ و ہارون کو فرعون اور اس کے سرداروں کے پاس بھیجنے کا تذکرہ۔ انہوں نے متکبرانہ انداز میں جھٹلایا۔ موسیٰ علیہ السلام نے معجزات دکھائے۔ انہوں نے اسے جادو قرار دے کر مقابلے کے لئے اس دور کے بڑے جادوگر بلا لئے۔ موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ تمہارا جادو میرے معجزہ کے مقابلے میں ناکام ہو کر رہے گا۔ موسیٰ علیہ السلام نے بددعا کی جس پر اللہ نے فرعون اور اس کے لشکر کو غرق کرنے کا فیصلہ کر دیا۔ فرعون نے غرق ہوتے وقت کلمہ پڑھا۔ اللہ نے اسے رد کر دیا کہ زندگی بھر گناہ اور فساد مچا کر اب مرتے وقت ایمان لاتے ہو۔ حالت نزع کا ایمان قبول نہیں ۔ البتہ انسایت کی عبرت کے لئے فرعون کے جسد خاکی کو باقی رکھ کر دنیا کو بتایا گیا کہ اتنا بڑا مقتدر اور متکبر بادشاہ کس طرح بے بس اور ذلت کی موت کا شکار ہوا۔ پھر یونس علیہ السلام اور انکی قوم کا تذکرہ کہ ان کی نافرمانیوں پر عذاب آ گیا اور آیا ہوا عذاب کبھی نہیں ٹلتا مگر ان کی الحاح و زاری پر اللہ نے عذاب ٹال دیا۔ کسی کو زبردستی اللہ ہدایت نہیں دیتے انسان کی چاہت اور اپنے اندر تبدیلی کا فیصلہ ضروری ہے۔ کفرو شرک سے برأت کا اظہار اور دین حنیف پر غیر متزلزل اعتماد کا اعلان کرنے کی تلقین ہے اور بتایا گیا کہ نفع نقصان اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ ہدایت کا پیغام انسانیت کے لئے آ چکا ہے جو اسے اختیار کرے گا اپنا نفع کرے گا اور جو اس سے منکر ہو گا اپنا نقصان کرے گا۔وحی کی اتباع اور ثابت قدمی کی تلقین پر سورت کا اختتام کیا گیا ہے۔

سورہ ہود

مکی سورت ہے، اس میں ایک سو تئیس آیتیں اور دس رکوع ہیں ۔ اس سورت میں رسالت کا موضوع مرکزی موضوع کی حیثیت رکھتا ہے۔ دوسرے انبیاء کے علاوہ قوم عاد، ان میں مبعوث کئے گئے نبی حضرت ہود علیہ السلام کا تذکرہ ہے اس لئے سورت کا نام ’’ہود‘‘ رکھا گیا۔ ابتداء میں قرآن کریم کی حقانیت کا بیان ہے کہ یہ مفصل اور پر حکمت کتاب ہے پھر توحید باری تعالیٰ کا بیان اور توبہ و استغفار کی تلقین کے ساتھ آخرت کے یوم احتساب کا تذکرہ اور محاسبہ کے عمل کی یاددہانی ہے اور اللہ کے علم کی وسعت و شمول کا بیان کہ وہ خفیہ و علانیہ ہر چیز کو جانتا ہے اور سینوں کے تمام بھید اس کے علم میں ہیں ۔


12۔ وَمَا مِن دَآبَّۃٍ

ابتداء میں تمام مخلوقات کی معیشت کا مسئلہ حل کرتے ہوئے اعلان کیا زمین پر چلنے والے تمام جانوروں کی روزی اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمہ لے رکھی ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کی عارضی اورمستقل قیام گاہ کو جانتا ہے۔ چھ دن میں آسمان و زمین پیدا کر کے انسان کو دنیا میں بھیجا تاکہ بہتر سے بہتر عمل کرنے والے کو منتخب کیا جا سکے۔ اللہ کے یہاں مقدار کی کثرت کی بجائے ’’معیار کا حسن‘‘ مطلوب ہے۔ اگر آپ کہتے ہیں کہ مرنے کے بعد دوبارہ انسان زندہ کئے جائیں گے تو یہ لوگ کہتے ہیں کہ مردوں کو زندہ کرنا تو جادو کے عمل سے ہی ممکن ہوسکتا ہے اور ہم اگر ان کی نافرمانیوں پر مصلحت کے پیش نظر عذاب نہیں اتارتے تو یہ کہتے ہیں کہ آپ کے عذاب موعود کو کس نے روک لیا ہے وہ آتا کیوں نہیں ہے؟ آپ ان سے کہئے کہ عذاب کی جلدی نہ مچائیں جس دن ہم نے عذاب اتار دیا تو تم اسے روکنے کی طاقت نہیں رکھو گے۔ یہ انسانی نفسیات ہے کہ اسے خوشحالی کے بعد اگر کچھ تنگی آ جائے تو مایوس ہو جاتا ہے اور اگر تکلیف کے بعد راحت مل جائے تو اپنے گناہوں کو بھول کر اترانے اور تکبر کرنے لگتا ہے۔ اچھے انسان وہ ہیں جو دین پر ثابت قدمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اعمال صالحہ پر کاربند رہیں ۔ ان کافروں کے بیجا مطالبات سے آپ پریشان نہ ہوں اور محض اس لئے وحی الٰہی سے دستبردار نہ ہوں کہ یہ لوگ کہتے ہیں کہ اس نبی پر خزانے کیوں نہیں نازل ہوتے یا اس کی حفاظت کے لئے فرشتے اس کے ساتھ کیوں نہیں رہتے؟ ایسے مطالبات کا شریعت کی پابندی کے ساتھ کیا تعلق ہے؟ یہ لوگ کہتے ہیں کہ قرآن اللہ کا کلام نہیں ہے بلکہ محمد علیہ السلام نے یہ کلام خود بنایا ہے، اگر یہ اپنے دعویٰ میں سچے ہیں تو یہ بھی چند سورتیں بنا کر دکھا دیں ۔ قرآن کریم جیسی سورتیں بنانے سے ان کا عاجز آ جانا اس بات کی واضح دلیل ہے کہ یہ قرآن اللہ کا نازل کردہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ انسانوں کا ایسا کلام بنانے سے عاجز آ جانا اس کی حقانیت کا داخلی ثبوت ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے مثال دے کر بتایا کہ قرآن کریم کو تسلیم کرنے والا اپنی بصارت کے تقاضے پورے کر رہا ہے، اس لئے وہ بینا ہے اور نہ تسلیم کرنے والا اپنی بصارت کے تقاضے پورے نہیں کرتا اس لئے وہ نابینا ہے اور قرآن پر ایمان لانے والا اپنی سماعت کے تقاضے پورے کرتا ہے اس لئے وہ سننے والا ہے اور ایمان نہ لانے والا اپنی سماعت کے تقاضے پورے نہیں کرتا اس لئے وہ بہرا ہے اور یہ لوگ آپس میں کبھی برابر نہیں ہوسکتے۔ اس کے بعد حضرت نوح علیہ السلام اور ان کی قوم کا سبق آموز واقعہ بیان ہوا ہے۔ نوح علیہ السلام نے قوم کو توحید و رسالت کی بات سمجھائی اور نہ ماننے کی صورت میں انہیں درد ناک عذاب کی وعید سنائی۔ قوم میں اونچی سوسائٹی کے لوگ، سردار اور ارباب اقتدار کہنے لگے کہ آپ ہمارے جیسے عام انسان ہیں اور آپ کا ساتھ دینے والے معاشرہ کے نچلے طبقے کے لوگ ہیں ، دنیا کے اعتبار سے آپ کے اندر وہ کون سی خوبی ہے جس کی بنیاد پر ہم آپ پر ایمان لائیں ۔ ہمیں تو آپ جھوٹے معلوم ہوتے ہیں ۔ حضرت نوح علیہ السلام نے جواب دیا کہ ہدایت کے لئے مفادات اور مال و دولت کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ دلائل اور رحمت خداوندی درکار ہوتی ہے اور یہ نعمت ہمیں حاصل ہے۔ پھر داعی الی اللہ کے لئے کچھ ضوابط بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ میں دین کے نام پر مالی مفادات کا طلبگار نہیں ہوں اور دین میں سب غریب و امیر برابر ہیں ، لہٰذا میں غریبوں کو محض غربت کی بنیاد پر اپنے آپ سے جدا نہیں کرسکتا۔ میں نہ تو مال و دولت کے خزانوں کا دعوے دار ہوں نہ ہی غیب دانی کا دعویٰ کرتا ہوں نہ ہی فرشتہ ہونے کا مدعی ہوں اور غریب مسلمان جنہیں تم حقیر سمجھتے ہو صرف تمہیں خوش کرنے کے لئے میں یہ بھی نہیں کہتا کہ انہیں اللہ تعالیٰ کوئی اجرو ثواب نہیں دیں گے، اللہ کا معاملہ تو نیت اور عمل کے ساتھ ہوتا ہے اور وہ سردار جو اقتدار اور مال کے نشہ میں بدمست ہو رہے تھے اور اپنی طاقت اور پیسہ کے زور پر انہوں نے پورا معاشرہ یرغمال بنایا ہوا تھا، ہٹ دھرمی اور عناد کا مظاہرہ کرتے ہوئے عذاب کا مطالبہ کرنے لگے۔ اللہ تعالیٰ نے نوح علیہ السلام کو بتا دیا کہ چند مخلص ایمان والوں کے علاوہ باقی قوم ضلالت و گمراہی کے لاعلاج مرض میں مبتلا ہو چکی ہے لہٰذا ان پر عذاب آ کر رہے گا آپ کشتی بنانا شروع کر دیں اور ان لوگوں کی کسی قسم کی سفارش نہ کریں ۔ نوح علیہ السلام کشتی بناتے رہے اور قوم کے گمراہ لوگ ان کا مذاق اڑاتے رہے۔ اللہ تعالیٰ چونکہ نافرمانوں کو غرق کرنے کا فیصلہ فرما چکے تھے لہٰذا حکم دیا کہ ہر جانور کا ایک جوڑا اور تمام اہل ایمان کو کشتی میں سوار کر لو۔ آسمان سے پانی برسنے لگا اور زمین سے پانی ابلنے لگا اور دیکھتے ہی دیکھتے سفینۂ نوح سیلاب کے پانی میں پہاڑ کی مانند تیرتی ہوئی نظر آنے لگی۔ کشتی کے سواروں کے علاوہ باقی سب غرق ہو گئے، نوح علیہ السلام کا نافرمان بیٹا بھی نہ بچ سکا۔ ایمان سے محرومی کی وجہ سے باپ کی نبوت بھی اس کے کسی کام نہ آسکی۔ اللہ تعالیٰ نے واضح کر دیا کہ اسلامی معاشرہ کے اجزائے ترکیبی قوم، وطن یا نسبی رشتہ داری نہیں بلکہ ایمان اور اعمال صالحہ ہیں ، ایک نبی امی کا اس تاریخی واقعہ کو بیان کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ وہ نبی برحق ہیں لہٰذا ایمان والوں کو صبر و استقامت کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔ بہتر انجام متقیوں کے لئے ہے۔ اس کے بعد حضرت ہود علیہ السلام کا واقعہ ہے جنہوں نے اپنے دور کی ’’سپر پاور‘‘ قومِ عاد سے ٹکر لی تھی۔ یہ قوم ڈیل ڈول اور جسمانی طاقت میں بہت زیادہ تھی، ان کا دعویٰ تھا کہ دنیا میں ہم سے طاقت ور کوئی نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا انہیں سوچنا چاہئے کہ جس اللہ نے انہیں بنایا ہے وہ یقیناً ان سے زیادہ طاقتور ہے۔ ہود علیہ السلام نے قوم کو توحید کا پیغام سنایا اور اپنی غلطیوں کا اعتراف کر کے معافی مانگنے کی ترغیب دی اور بتایا کہ تم اگر توبہ و استغفار کر لو گے تو اللہ تمہیں معاشی اعتبار سے خود کفیل کر دے گا اور بارش برسا کر تمہاری کھیتیوں کو سیراب کر دے گا اور تمہاری طاقت و قوت میں مزید اضافہ کر دے گا، قوم نے ایمان لانے کی بجائے مذاق اڑانا شروع کر دیا، کہنے لگے، ہم تمہاری باتوں کو مان کر اپنے بتوں کو نہیں چھوڑ سکتے۔ ہمارے بتوں نے تم پر اثر انداز ہو کر تمہارا دماغ خراب کر دیا ہے تبھی تم اس قسم کی بہکی بہکی باتیں کرتے ہو۔ حضرت ہود علیہ السلام نے ان کی باتوں پر مشتعل ہونے کی بجائے انہیں بتا دیا کہ وہ بھی اللہ پر ایمان سے دستبردار نہیں ہوں گے اور اللہ کی طاقت و قوت کا اعتراف کرتے ہوئے ان پر بھروسہ اور توکل میں اضافہ کر دیں گے اور پھر قوم کو اللہ کے حکم سے یہ وعید بھی سنا دی کہ اگر تم باز نہ آئے تو میرا رب تمہیں ہلاک کر کے تمہاری جگہ کسی دوسری قوم کو اس سرزمین کا مالک بنا دے گا اور تم اس کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکو گے۔ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ ہماری رحمت کا مظہر تھا کہ ہم نے حضرت ہود اور ان پر ایمان لانے والوں کو عذاب سے بچا لیا۔ قوم کی ہٹ دھرمی اور آیات خداوندی کا انکار اور اللہ کے فرستادہ رسول کی نافرمانی نے انہیں تباہ و ہلاک کر کے رکھ دیا۔ یہ ضدی اور عناد پرست قومِ عاد تھی جن پر عذاب آیا اور دنیا و آخرت میں لعنت کے مستحق قرار پائے۔ یہ سب قومِ عاد کے کفر کا نتیجہ تھا۔ حضرت ہود کی قوم ’’عاد‘‘ اللہ کی رحمت سے دور قرار دے دی گئی۔ اس کے بعد قوم ثمود کا تذکرہ ہے کہ صالح علیہ السلام نے انہیں پیغامِ توحید دیا اور انہیں غیر اللہ کی عبادت سے باز رہنے کی تلقین فرمائی۔ انہیں بتایا کہ تمہیں اللہ نے ہی پیدا کیا اور زمین میں آباد کیا اس اللہ کے سامنے توبہ و استغفار کر لو مگر وہ لوگ باز نہ آئے۔ بلکہ کہنے لگے کہ صالح! ہمیں تو آپ سے بڑی توقعات تھیں مگر آپ نے تو ہمارے آباء و اجداد کی ہی مخالفت شروع کر دی اور ہمیں تو آپ کی نبوت میں شک ہے۔ ہم آپ کی نبوت کا اقرار صرف اس صورت میں کریں گے جب آپ سامنے والی پہاڑی سے اونٹنی نکالیں جو فوراً ہی بچہ دیدے۔ حضرت صالح نے فرمایا: میری قوم میں تو دلائل کی بنیاد پر توحید کی دعوت دے رہا ہوں اور تم بیجا مطالبات کر رہے ہو میں تمہارے کہنے سے اللہ کی رحمت کو نہیں چھوڑوں گا ورنہ میری مدد کون کرے گا۔ تمہارے مطالبہ کے مطابق یہ رہی اونٹنی۔ اب تم اسے اللہ کی نشانی سمجھ کر حق کو تسلیم کر لو اور اس اونٹنی کو نقصان نہ پہنچاؤ ورنہ تم پر عذاب خداوندی بہت جلد آ جائے گا۔ ان لوگوں نے اونٹنی کی کونچیں کاٹ کر اسے مار ڈالا جس پر انہیں تین دن کی مہلت دے کر ذلت آمیز عذاب کا نشانہ بنا دیا گیا۔ جبریل علیہ السلام نے زور دار چیخ ماری جس کی دہشت سے ان کے کلیجے پھٹ گئے اور وہ اوندھے منہ گر کر ایسے ختم ہوئے کہ ان کا نام و نشان بھی باقی نہ بچا۔ جب ہمارا عذاب آیا تو ہم نے حضرت صالح اور ان کے ساتھیوں کو اپنی رحمت کے ساتھ اس دن کی رسوائی سے بچا لیا۔
اس کے بعد ابراہیم اور لوط علیہما لسلام کا تذکرہ ہے کہ ہمارے فرشتے قاصد بن کر انسانی شکل میں ابراہیم علیہ السلام کے پاس آئے۔ ابراہیم علیہ السلام نے ان کی مہمانی کے طور پر بچھڑا ذبح کر کے بھونا اور انہیں کھانے کی دعوت دی۔ مگر انہوں نے کھانے میں کسی رغبت کا مظاہرہ نہیں کیا تو ابراہیم علیہ السلام سمجھے کہ یہ لوگ کہیں دشمنی کی وجہ سے کھانے سے گریز نہ کر رہے ہوں ، لہٰذا ان سے خوف زدہ ہو گئے تو انہوں نے بتا دیا کہ ہمارے نہ کھانے کی وجہ دشمنی نہیں ہے بلکہ ہم فرشتے ہیں اس لئے نہیں کھا رہے۔ ہم تو قوم لوط کے لئے عذاب کے احکام لے کر آئے ہیں ۔ہم راستہ میں آپ کو اولاد کی خوشخبری دینے آئے ہیں ۔ اللہ تمہیں اسحاق نامی بیٹا اور یعقوب نامی پوتا عطا فرمائیں گے۔ ان کی بیوی قریب ہی کھڑی ہوئی یہ گفتگو سن رہی تھیں ۔ عورتوں کے انداز گفتگو میں اپنے چہرہ پر دوہتڑ مارتی ہوئی کہنے لگیں کہ میں بانجھ اور میرا شوہر بڑھاپے کی آخری عمر میں ہے۔ ہمارے ہاں کیسے اولاد ہوسکتی ہے۔ فرشتوں نے کہا اس میں تعجب اور حیرانی کی کون سی بات ہے۔ اللہ تمہارے گھرانے پر اپنی رحمتیں اور برکتیں اتارنا چاہتے ہیں ۔ ابراہیم علیہ السلام بڑے ہی نرم دل تھے اس خوشخبری کو سن کر لوط علیہ السلام کی قوم کی سفارش کرنے لگے۔ فرشتوں نے کہا کہ ان کی ہلاکت کا اٹل فیصلہ ہو چکا ہے، آپ اس میں مداخلت نہ کریں ۔ جب فرشتے لوط علیہ السلام کے پاس خوبصورت لڑکوں کے روپ میں پہنچے تو وہ لوگ ’’اِغلام بازی‘‘ کے شوق میں جمع ہو کر لوط علیہ السلام سے نووارد مہمانوں کو اپنے حوالہ کرنے کا مطالبہ کرنے لگے، حضرت لوط نے انہیں بہت سمجھایا کہ مجھے مہمانوں کے سامنے رسوا نہ کرو مگر وہ اپنے بیجا مطالبہ پر بضد رہے تو مہمانوں نے کہا: اے لوط! آپ پریشان نہ ہوں ۔ ہم انسان نہیں فرشتے ہیں اور عذاب کا حکمنامہ لے کر آئے ہیں ، اس لئے یہ لوگ ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے۔انہیں صرف ایک رات کی مہلت ہے، آپ فوراً یہاں سے نکلنے کا بندوبست کر کے چلے جائیں ۔ آپ کی بیوی چونکہ اس مجرم قوم کے ساتھ شریک ہے لہٰذا وہ بھی نہیں بچ سکے گی۔ جب ہمارا عذاب آیا تو انہیں الٹ پلٹ کر رکھ دیا گیا اور ان پر نشان زدہ پتھروں کی بارش کر کے انہیں تباہ کر دیا گیا۔ پھر قوم مدین کی حضرت شعیب علیہ السلام کے ساتھ کٹ حجتی کا تذکرہ کر کے ان کی ہلاکت کا تذکرہ ہے۔ اس کے بعد موسیٰ و فرعون کے واقعہ کا اختصار کے ساتھ تذکرہ، پھر جنت و جہنم کا ذکر اور آخر میں دعوت الی اللہ کا کام کرنے والوں کے لئے کچھ سنہری اصول (۱)استقامت کا مظاہرہ۔ (۲)حدود کی پابندی۔ (۳)ظالموں کی حمایت سے دست کشی۔ (۴)صبح و شام عبادت میں مشغولی۔ (۵)صبر کا دامن نہ چھوڑنے کی تلقین۔ اگر قوم میں اصلاح کی جدوجہد کرنے والے افراد پیدا ہو جائیں تو وہ ہلاکت سے بچ سکتی ہے۔

سورہ یوسف

مکی سورت ہے جو ایک سو گیارہ آیات اور بارہ رکوع پر مشتمل ہے۔ یہ منفرد سورت ہے جس میں صرف ایک ہی واقعہ بیان ہوا ہے۔ یوسف علیہ السلام کے واقعہ کو قرآن کریم نے ’’احسن القصص‘‘ بہترین واقعہ قرار دیا ہے۔ اس میں انسانی زندگی کے ہر پہلو کو اجاگر کیا گیا ہے اور اپنوں کے مظالم اور ان کے مقابلہ میں اللہ کی مدد کا منظر دکھا کر حضور علیہ السلام کو اپنی قوم کے مظالم کے مقابلہ میں نصرت خداوندی حاصل ہونے کی بشارت ہے۔ سورت کے شروع میں قرآن کریم کی حقانیت کا بیان ہے۔ پھر یوسف علیہ السلام کے خواب کا ذکر ہے کہ انہوں نے گیارہ ستارے اور چاند اور سورج کو اپنے سامنے سجدہ کرتے ہوئے دیکھا جس کی تعبیر واضح تھی کہ ان کے گیارہ بھائی اور والدین ان کے سامنے جھکیں گے اور ان سب کے درمیان یوسف علیہ السلام کو امتیازی مقام حاصل ہو گا۔ اس خواب کے بعد بھائیوں نے حسد کرنا شروع کر دیا اور یوسف علیہ السلام کے قتل کا پروگرام بنا کر اپنے والد کو راضی کر کے جنگل میں لے گئے۔ انہیں کنویں میں پھینک کر کپڑوں کو کسی جانور کے خون سے آلودہ کر کے والد کو بتا دیا کہ ہم جنگل میں کھیلتے رہے اور بھائی کو بھیڑیا کھا گیا۔ یعقوب علیہ السلام ان کی سازش کو سمجھ گئے اور یوسف علیہ السلام کے فراق میں پریشان رہنے لگے اور دن رات روتے رہے۔ ایک تجارتی قافلہ نے کنویں سے یوسف علیہ السلام کو نکال کر مصر کے بازار میں فروخت کر دیا۔ یوسف علیہ السلام کی خوبصورتی کے چرچے پھیل گئے، بادشاہ نے انہیں خرید کر اپنا منہ بولا بیٹا قرار دے دیا اور اس طرح یوسف کنویں سے نکل کر شاہی محل میں رہنے لگے۔ شاہ مصر کی بیوی حسنِ یوسف پر ریجھ گئی اور انہیں ’’دعوت گناہ‘‘ دینے لگی، یوسف نے اپنی عفت و عصمت کی حفاظت کی۔ شوہر کو معلوم ہونے پر اس عورت نے بدکاری کا الزام لگا دیا۔ اللہ نے اسی کے خاندان کے بچے سے حضرت یوسف کی بے گناہی کی شہادت دلوا کر انہیں با عزت بری کروا دیا۔ جب مصر کی عورتوں نے بادشاہ کی بیوی پر ملامت کی تو اس نے حسن یوسف کا مظاہرہ کرنے کے لئے عورتوں کی دعوت کر کے یوسف علیہ السلام کو سامنے بلوایا۔ تمام عورتیں حسن یوسف کو دیکھ کر مبہوت ہو کر رہ گئیں اور پھلوں کو کاٹتے ہوئے اپنے ہاتھ بھی کاٹ بیٹھیں اور ان کے حسن کی تعریف کر کے انہیں دعوت گناہ دینے لگیں ۔ یوسف علیہ السلام نے گناہ پر قید کو ترجیح دی اور بادشاہِ وقت نے اپنی عزت بچانے کی خاطر انہیں قید کر دیا۔ یوسف علیہ السلام جیل میں بھی تبلیغ و تعلیم کے فریضہ سے غافل نہ رہے۔ دو قیدیوں نے خواب دیکھا یوسف علیہ السلام نے تعبیر دی جو حرف بہ حرف صحیح نکلی۔ ایک قیدی قتل ہوا دوسرا رہا ہو کر بادشاہ کا خادم بنا بادشاہ نے خواب دیکھا، اس خادم نے یوسف علیہ السلام سے تعبیر پوچھی انہوں نے بتایا کہ سات موٹی تگڑی گایوں کو دبلی پتلی گائیوں کا کھانا اور سات خشک بالیوں کا تر و تازہ بالیوں کو، مستقبل میں سات سالہ قحط کا اشارہ ہے۔ قحط کا مقابلہ کرنے کا طریقہ بھی بیان کر دیا۔ بادشاہ نے تعبیر سے متاثر ہو کر رہائی کا فیصلہ کیا مگر یوسف علیہ السلام نبوت کے دامن کو داغدار ہونے سے بچانے کے لئے تحقیقات کا مطالبہ کیا جس پر انہیں بے گناہ قرار دے کر رہائی ملی اور شاہ مصر نے اپنی کابینہ میں شامل کرنے کا اعلان کر دیا۔


13۔ وَمَا أُبَرِّىءُ

حکومت وقت کی مدعیت میں درج ہونے والے مقدمہ سے برأت ایک بہت بڑا اعزاز تھا جو خود پنداری اور عجب میں مبتلاء کرسکتا تھا اس لئے حضرت یوسف علیہ السلام نے فرمایا کہ گناہ سے بچنے میں میرا کوئی ذاتی کمال نہیں بلکہ اللہ کا فضل و کرم شامل حال تھا۔ آپ کو وزارت خزانہ کی ذمہ داری سونپ دی گئی اور یہ بھی اللہ کی قدرت کا مظہر تھا کہ جیل کی پستیوں سے اقتدار کی بلندیاں نصیب فرما دیں ۔ کنعان سے آنے والے تاجروں میں برادران یوسف بھی شامل تھے۔ انہیں علم نہیں تھا کہ ان کا بھائی وزارت خزانہ کے منصب پر فائز ہے مگر یوسف علیہ السلام اپنے بھائیوں کو پہچان چکے تھے۔ بادشاہ کے خواب کے مطابق حضرت یوسف نے اناج کا مناسب ذخیرہ کیا ہوا تھا۔ قحط سالی شروع ہو چکی تھی اور یہ لوگ کنعان سے اناج خریدنے کے لئے آئے تھے، حضرت یوسف نے پہچاننے کے باوجود ان سے ان کے حالات معلوم کئے۔ انہوں نے بتایا کہ ہم بارہ بھائی ہیں ایک جنگل میں ہلاک ہو گیا تھا۔ والد اس کے صدمہ سے پریشان ہے اور اس نے چھوٹے بھائی کو اپنی تسلی اور تسکین کے لئے اپنے پاس روکا ہوا ہے اور ہم تجارت کی غرض سے آئے ہیں ۔ یوسف علیہ السلام نے انہیں کافی خیرات دے کر واپس روانہ کیا اور آئندہ چھوٹے بھائی کو بھی ساتھ لانے کا وعدہ لے لیا۔ انہوں نے واپس جا کر بادشاہ کے حسن سلوک کا تذکرہ کیا اور سامان کھول کر دیکھا تو ان کا مال بھی پورا موجود تھا اور ان کی ضرورت کا غلہ و سامان بھی تھا۔ انہوں نے والد صاحب کو راضی کرنے کی کوشش کی کہ چھوٹے بھائی (بنیامین) کو بھی بھیج دیں تاکہ ایک مزید آدمی کا راشن بھی مل سکے۔ والد نے کہا کہ تم پہلے یوسف کے بارے میں میرے اعتماد کو ٹھیس پہنچا چکے ہو مگر گھریلو اخراجات کی مجبوری ہے اس لئے اللہ کی حفاظت میں اسے تمہارے ساتھ بھیجتا ہوں ۔ جب برادران یوسف چھوٹے بھائی کے ہمراہ دوبارہ پہنچے تو یوسف علیہ السلام نے موقع پا کر اپنے بھائی بنیامین کو ساری صورتحال سے آگاہ کر کے اسے اپنے پاس روکنے کا حیلہ یہ کیا کہ مصر کے قانون میں چور کی سزا یہ تھی کہ اسے غلام بنا کر اپنے پاس رکھ لیا جاتا تھا۔ شاہی کارندوں نے بنیامین کے سامان میں ایک پیمانہ چھپا کر تلاشی کے دوران برآمد کر لیا۔ برادران یوسف پریشان ہو گئے ہم پہلے ہی والد کا اعتماد کھو چکے ہیں ۔ اب کیا جواب دیں گے۔ مجبوراً واپس جا کر یعقوب علیہ السلام کو بنیامین کے سامان سے پیمانے کی برآمدگی اور مصری قانون کے مطابق اس کی گرفتاری کی خبر دی۔ حضرت یعقوب علیہ السلام کا غم بے انتہا بڑھ گیا اور یوسف کی یاد کے ساتھ بنیامین کا غم بھی شامل ہو گیا۔ برادران یوسف نے کہا کہ یوسف کب کا مر کھپ چکا اور اس کی یاد میں ہلکان ہو رہے ہیں ۔ والد نے کہا میرے بیٹو! مجھے یقین ہے کہ یوسف اور اس کا بھائی مجھے مل کر رہیں گے۔ میں اللہ سے مایوس نہیں اللہ سے مایوس تو کافر ہوا کرتے ہیں ۔ جاؤ دونوں کو تلاش کرو اور گھر کے اخراجات کا انتظام بھی کر کے آؤ۔ قحط سالی کی شدت میں ان کے پاس تجارت کے لئے بھی کچھ نہیں بچا تھا۔ یہ لوگ پھر مصر پہنچ گئے اور شاہ مصر کے انتقال کے بعد یوسف علیہ السلام عزیز مصر کے عہدہ پر فائز ہو چکے تھے۔ انہوں نے جا کر اپنی بپتا سنائی اور خیرات و غلہ کے لئے درخواست گزار ہوئے حضرت یوسف علیہ السلام نے اس موقع پر ان کی حالت زار اور والد کی پریشانی کے پیشِ نظر صورتحال واضح کرنے کے لئے انہیں یاد دلایا کہ یوسف اور اس کے بھائی کے ساتھ کی جانے والی زیادتیوں کو تم کیسے بھول گئے ہو؟ ان کا ماتھا ٹھنکا اور وہ حیران ہو کر پوچھنے لگے کہ آپ یوسف ہی تو نہیں ہیں ۔ یوسف علیہ السلام نے بتا دیا کہ میں ہی یوسف ہوں اور یہ میرا بھائی بنیامین ہے۔ اللہ نے اپنے فضل و کرم سے ہمیں دوبارہ اکٹھا کر دیا۔ یوسف علیہ السلام جو کہ مصر کے اقتدار اعلیٰ پر متمکن ہونے کے ساتھ ساتھ نبوت کے منصب اعلیٰ پر بھی فائز تھے، ایمان اور تحمل کی بلندیوں پر پہنچے ہوئے تھے۔ انہوں نے بھائیوں کی پریشانی اور جرم کے طشت از بام ہونے پر گھبراہٹ کو بھانپ لیا اور فرمایا کہ آپ لوگوں سے کسی قسم کا انتقام نہیں لیا جائے گا۔ میں تمام زیادتیوں اور مظالم کو معاف کرتا ہوں ۔ اس حلم و بردباری نے ان پر بڑا اثر کیا اور انہوں نے بھی اعتراف جرم کے ساتھ اپنے لئے عفو و درگزر کی درخواست پیش کر دی۔ بیٹے کے غم میں رو رو کر حضرت یعقوب اپنی بینائی سے محروم ہو چکے تھے۔ یوسف علیہ السلام نے معجزانہ تاثیر کی حامل اپنی قمیص روانہ کر دی کہ باپ کے چہرہ پر ڈالو گے تو ان کی بینائی واپس آ جائے گی۔ جیسے ہی قاصد قمیص لے کر مصر سے روانہ ہوا کنعان میں حضرت یعقوب نے حاضرین مجلس سے کہا کہ مجھے یوسف کی مہک آ رہی ہے۔ وہ لوگ کہنے لگے کہ آپ نے پھر یوسف کی رٹ لگا لی ہے۔ مگر اتنی دیر میں قاصد پہنچ چکا تھا اور قمیص کا کرشمہ ظاہر ہو کر ان کی بینائی مل چکی تھی۔ بیٹوں کو اپنی غلطی کا شدت سے احساس ہونے لگا، انہوں نے والد صاحب سے معافی کی درخواست کی والد صاحب نے خود بھی معاف کر دیا اور اللہ سے بھی ان کے لئے مغفرت طلب کی اور مصر کے لئے روانہ ہو گئے۔ شہر سے باہر سرکاری پروٹوکول کے ساتھ ان کا استقبال کیا گیا اور دربار شاہی میں پہنچتے ہی والدین اور گیارہ بھائی یوسف کے سامنے سجدہ ریز ہو گئے۔ یوسف علیہ السلام نے اپنے خواب کی عملی تعبیر پالی اور تشکر آمیز جذبات سے اللہ کے حضور دست بہ دعا ہو گئے کہ اللہ تو نے مجھے نبوت و حکمرانی سے سرفراز فرمایا اور میرے جان کے دشمن بھائیوں کے دل صاف کر کے مجھے میرے ساتھ ملایا تو ہی میرا سرپرست اور ولی ہے، مجھے اسلام پر ثابت قدم رکھ اور اپنے نیکو کار بندوں میں شامل رکھ۔ اس واقعہ میں بہت سے دروس و عبر موجود ہیں ۔ باپ کی محبت سے بھائیوں کی عداوت اور اندھے کنویں سے شاہی محل اور وہاں سے جیل اور پھر اقتدار مصر پر فائز ہو کر والدین اور بھائیوں کے سامنے سرخروئی اس سارے منظر میں مکہ مکرمہ کے اندر حضور علیہ السلام اور اپنوں کے مظالم کا شکار آپ کے ساتھیوں کے لئے بشارت موجود تھی کہ ایک دن مشرکین مکہ بھی آپ کے سامنے جھکنے پر مجبور ہوں گے اور دس رمضان کو تاریخ نے ہمیشہ کے لئے منظر محفوظ کر لیا کہ کعبۃ اللہ کی دہلیز پر کھڑے ہو کر حضور علیہ السلام نے یوسف علیہ السلام والا جملہ لا تثریب علیکم الیوم (آج تم پر کوئی گرفت یا انتقامی کارروائی نہیں ہو گی) کہہ کر اپنی قوم کو معاف کرنے کا اعلان کر دیا۔ پھر قرآن کریم نے ’’جمہوریت‘‘ کی بنیاد ’’اکثریت و اقلیت‘‘ پر ضرب کاری لگاتے ہوئے بتایا کہ دنیا میں اچھے لوگ کبھی اکثریت میں نہیں رہے جس سے یہ منطقی نتیجہ نکلتا ہے کہ ’’جمہوری‘‘ نظام سے پاکیزہ معاشرہ اور اچھی حکومت کبھی بھی تشکیل نہیں پا سکتی۔ نبوت کا راستہ دلائل کے ساتھ اللہ کا پیغام پہنچانا ہے، نصرت خداوندی تب آتی ہے جب اللہ کے علاوہ تمام سہاروں سے مسلمان برأت کا اظہار کر دے اور ہر طرف سے مایوس ہو کر ایک اللہ سے اپنا رشتہ استوار کر لے۔ قرآن کریم قصے کہانیاں سنا کر جی نہیں بہلاتا بلکہ تاریخی واقعات سے کارکنوں کی تربیت کرتا ہے اور مسلمانوں کو اس سے ہدایت و رحمت کی دولت میسر آتی ہے۔

سورہ الرعد

مدنی سورت ہے۔ چھیالیس آیتوں اور چھ رکوع پر مشتمل ہے۔ مدنی سورت ہونے کے باوجود اس میں قانون سازی کی بجائے عقیدۂ توحید و آخرت پر بحث کی گئی ہے۔ پہلی آیت میں حقانیت قرآن کو بیان کیا اور توحید باری تعالیٰ پر کائناتی شواہد پیش فرمائے۔ منکرین کو قیامت کے دن طوق اور بیڑیاں ڈال کر جہنم رسید کر دیا جائے گا۔ نشانیوں کا مطالبہ کرنے والوں کو بتا دو کہ میں تو ڈرانے اور انسانیت کو پیغامِ ہدایت سنانے والا ہوں ، پھر اللہ کے علم و قدرت کا مزید بیان ہے۔ ماں کے پیٹ میں کیا ہے۔ اسے اللہ ہی جانتے ہیں ۔ جدید طب زیادہ سے زیادہ بچہ کی جنس (Sex) اور صحت کے بارے میں الٹراساؤنڈ کی مدد سے اندازہ لگا سکتی ہے، لیکن نیکی بدی، غربت و امارت، علم و جہالت اور زندگی کے ماہ و سال ان تمام باتوں کا علم بچہ کے بارے میں اللہ کے علاوہ کسی کے پاس نہیں ہے۔ انسانی حفاظت کے لئے فرشتوں کے ذریعہ اللہ نے سیکیورٹی نظام بنایا ہوا ہے۔ قوموں کے عروج و زوال کا ضابطہ کہ جب تک کسی قوم کی عملی زندگی نہیں بدلتی اللہ اس کی حالت کو نہیں بدلتے۔ بارش سے بھرے ہوئے بادل، بجلی کی چمک اور کڑک اللہ کی تسبیح و تحمید کرتے ہیں ۔ فرشتے بھی خوف اور ڈر کے ساتھ اللہ کی تعریف میں رطب اللسان رہتے ہیں ۔
صحیح معنی میں دعا تو اللہ ہی سے مانگی جا سکتی ہے۔ غیر اللہ سے مانگنے والوں کی مثال ایسے ہے جیسے کوئی پیاسا دور سے ہاتھ پھیلا کر پانی اپنے منہ تک پہنچانے کی ناکام کوشش کرے۔ پھر حق و باطل کی دو مثالیں : آسمان سے بارش برسی جس نے سیلاب کی شکل اختیار کر لی، غیر مفید جھاگ اور کوڑا کباڑ اوپر ہوتا ہے اور مفید پانی نیچے ہوتا ہے۔ آگ میں زیور پگھلایا تو غیر مفید کھوٹ اوپر آ جاتی ہے اور مفید سونا چاندی نیچے رہ جاتا ہے، ایسے ہی حق و باطل کے مقابلہ میں باطل کے اوپر آ جانے سے دھوکا نہیں کھانا چاہئے۔ حق کے ماننے والے اور منکرین کی مثال ایسی ہے جیسے آنکھوں والا اور اندھا۔ عقل والے ہی درس عبرت حاصل کیا کرتے ہیں پھر مالی اور جسمانی نیکی اور برائی کرنے والوں کا تذکرہ کر کے جنت و جہنم میں ان کے ٹھکانے کو بیان کیا۔ رزق میں کمی زیادتی اللہ ہی کرتے ہیں ۔ دنیاوی نعمتیں تو عارضی فائدہ پہنچاتی ہیں ۔ اللہ پر ایمان رکھنے والوں کو اللہ کے تذکرہ سے ہی سکون ملتا ہے۔ ان کے لئے مبارک اور بہترین ٹھکانہ ہے۔ لوگوں کی ہدایت کو کرامات اور معجزات کے ساتھ منسلک نہیں کیا گیا بلکہ ہر قوم کی ہدایت کے لئے انبیاء و رسل نے مستقل محنت کی ہے۔ اگر کسی کلام کی تاثیر سے پہاڑوں کو اپنی جگہ سے ہٹا کر چلایا جا سکے، زمین کو پھاڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کیا جا سکے یا مردوں کو زندہ کر کے ان سے گفتگو کی جا سکے تو وہ کلام یہ قرآن ہی ہوسکتا ہے۔ نشانیاں طلب کرنے والوں کے لئے اس سے بڑی نشانی اور کیا ہوسکتی ہے؟ پہلے انبیاء و رسل کا مذاق اڑانے والوں کو مہلت دے کر عبرتناک طریقہ سے پکڑا گیا لہٰذا آپ کا مذاق اڑانے والے بھی بچ نہیں سکیں گے۔ نبی کوئی مافوق الفطرت مخلوق نہیں ہوتی وہ تو عام انسانی زندگی گزارنے والے افراد ہوتے ہیں ۔ بیوی بچے اور بشری تقاضے ان کے ساتھ لگے ہوئے ہوتے ہیں ۔ اللہ کے حکم کے بغیر کوئی نشانی دکھانے کا انہیں اختیار نہیں ہوتا۔ انہیں غور کرنا چاہئے کہ جب سے نزول قرآن شروع ہوا ہے اہل ایمان پھیلتے جا رہے ہیں اور کفر کا دائرہ محدود ہوتا جا رہا ہے اور یہ تنگ جزیرہ میں محصور ہوتے جا رہے ہیں ۔ اللہ کے فیصلہ کے بعد کسی دوسرے کا فیصلہ نہیں چل سکتا۔ اے میرے نبی! ان کافروں کی طرف سے آپ کی رسالت کا انکار کرنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اللہ تعالیٰ بھی اور اہل علم بھی آپ کی رسالت کی گواہی دینے کے لئے کافی ہیں ۔

ابراہیم

مکی سورت ہے۔ باون آیتوں اور سات رکوع پر مشتمل ہے۔ اس سورت کا مرکزی مضمون ’’اثبات رسالت‘‘ ہے جبکہ جنت اور جہنم کا تذکرہ اور ظالموں کی عبرتناک گرفت کا تذکرہ بھی موجود ہے۔ انبیاء کے اختصار کے ساتھ تذکرہ ہے مگر ابو الانبیاء ابراہیم علیہ السلام کی اپنے معصوم بچے اور بیوی کو لق و دق صحراء میں چھوڑنے کا خصوصیت کے ساتھ تفصیل سے تذکرہ ہے۔ ابتداء سورت میں نزول قرآن کا مقصد بیان کرتے ہوئے بتایا ہے کہ انسان اس سے کفر کی ظلمتوں سے نکل کر ایمان کی روشنی میں آ جاتا ہے۔ پھر بتایا گیا ہے کہ ہر قوم میں اس کی زبان میں سمجھانے والے نبی ہم نے مبعوث کئے۔ پھر موسیٰ علیہ السلام اور ان کی قوم کا تذکرہ ہے۔ اللہ نے بنی اسرائیل پر نعمتیں اتاریں فرعون کے بدترین تعذیب کے طریقوں سے نجات دی۔ شکر کرنے سے نعمت میں اضافہ ہوتا ہے۔ ناشکری سے نعمت چھن جاتی ہے۔ قوم نوح، عاد، ثمود کا مختصر تذکرہ اور نبیوں کے خلاف ان کے گھسے پٹے اعتراض کا بیان ہے کہ تم ہمارے جیسے انسان ہو نبی کیسے ہوسکتے ہو؟ ہمیں ہمارے آباء و اجداد کے طریقہ سے ہٹانا چاہتے ہو۔ ہم تمہیں اپنے ملک سے نکال باہر کریں گے۔ اللہ تعالیٰ نے ان سب کے جواب میں فرمایا کہ ظالم اور معاند و متکبر ہلاک ہوں گے اور ان کی جگہ انبیاء کے متبعین زمین کے اقتدار کے وارث بنا دئے جائیں گے۔ کافروں کے اعمال کی مثال راکھ کی طرح ہے جب تیز ہوا چلتی ہے تو اسے اڑا کر لے جاتی ہے۔ قیامت کے دن جب مجرمین کو آپس میں بات چیت کا موقع ملے گا تو وہ ایک دوسرے پر اعتراضات کر کے اپنے دل کی بھڑاس نکالیں گے کہیں گے کہ دنیا میں تم نے ہم سے گناہ کروائے اب عذاب کو بھی ہم سے ہٹواؤ۔ تو وہ کہیں گے کہ ہم تو خود عذاب میں پھنسے ہوئے ہیں تمہیں کس طرح بچا سکتے ہیں ۔ پھر جہنمی شیطان کی طرف متوجہ ہو کر اسے ملامت کریں گے، وہ کہے گا کہ مجھے کیوں ملامت کرتے ہو میں نے تو ذرا سا اشارہ کیا تھا تم خود ہی ا س پر چل کر گناہوں کے مرتکب بنے ہو لہٰذا نہ تو میں اپنے آپ سے عذاب کو ہٹا سکتا ہوں اور نہ ہی تم سے ہٹا سکتا ہوں ۔ پھر ایمان اور کفر کی مثال دی کہ کلمۂ طیبہ کی بدولت ایمان کا مضبوط اور تناور درخت بن جاتا ہے جسے آندھی اور طوفان بھی نقصان نہیں پہنچا سکتے جبکہ کلمۂ خبیثہ کے نتیجہ میں کفر کی کمزور جھاڑیاں اگتی ہیں جو معمولی اشارہ سے زمین سے اکھڑ جاتی ہیں ۔ پھر ابراہیم علیہ السلام کی عظیم الشان قربانی اور دعاء کا تذکرہ ہے کہ معصوم بچے اور بیوی کو اللہ کے حکم سے جنگل بیابان میں سکونت پذیر کر دیا اور اللہ سے دعاء مانگی، لوگوں کے دلوں میں ان کی محبت پیدا فرما۔ پھلوں اور سبزیوں اور ہر قسم کی ضروریات زندگی میں برکت عطاء فرما۔ مجھے اور میری اولاد کو نماز کا پابند بنا اور ہمارے ساتھ تمام اہل ایمان کی مغفرت فرما۔ اس کے بعد ظالموں کی گرفت کے آسمانی نظام کا تذکرہ ہے کہ ظالموں کو آزادی کے ساتھ دندناتے ہوئے پھرتا دیکھ کر دھوکا میں نہیں پڑنا چاہئے۔ یہ اللہ کی طرف سے مہلت ہے اور جب اچانک ان کی گرفت کے لئے نظام الٰہی متحرک ہو گا تو انہیں کوئی بچا نہیں سکے گا۔




14 – رُبَمَا

سورہ الحجر

مکی سورت ہے۔ اس میں ننانوے آیتیں اور چھ رکوع ہیں ۔ اس سورت کی دوسری آیت سے چودھواں پارہ شروع ہو رہا ہے۔ اس مختصر سورت میں عقیدۂ اسلام کے تینوں بنیادی مضامین توحید و رسالت اور قیامت پر منفرد انداز میں گفتگو کی گئی ہے۔ پہلی آیت میں قرآن کریم کے عظیم اور واضح کتاب ہونے کا بیان ہے۔ چودھویں پارے کی ابتداء میں کہا گیا ہے کہ کافر اگرچہ آج مسلمان ہونے کے لئے تیار نہیں ہیں مگر ایک وقت آنے والا ہے جب یہ تمنا کریں گے کہ کاش! یہ لوگ مسلمان ہوتے۔ لہٰذا آپ انہیں ان کے حال پر چھوڑ دیں یہ کھاتے پیتے رہیں اور دنیا کے عارضی مفادات میں مگن رہیں اور امیدوں اور آرزوؤں کے دھوکے میں پڑے رہیں عنقریب انہیں دنیا کی بے ثباتی کا پتہ چل جائے گا۔ یہ لوگ حضور علیہ السلام کا مذاق اڑاتے ہوئے کہتے ہیں کہ جس شخص پر قرآن اتارا گیا ہے وہ تو مجنون اور دیوانہ ہے۔ اگر یہ سچا رسول ہوتا تو ہر وقت فرشتوں کو اپنے ساتھ رکھتا۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ہم فرشتوں کو بھیجیں گے تو عذاب دے کر بھیجیں گے پھر ان لوگوں کو کسی قسم کی مہلت بھی نہیں مل سکے گی۔ اس قرآن کریم کو ہم نے ہی اتارا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کریں گے۔ حضور علیہ السلام کی تسلی کے لئے اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ کافروں کی طرف سے مذاق اڑانے اور نشانیوں کا مطالبہ کرنے پر آپ دل گرفتہ نہ ہوں ۔ رسالت کی ’’وادی پُر خار‘‘ ایسی ہی ہے کہ پہلے بھی جتنے انبیاء آتے رہے ان کے ساتھ بھی استہزاء و تمسخر کیا گیا۔ مجرمین کا یہی وطیرہ رہا ہے۔ یہ ہٹ دھرم ہیں نشانی دیکھ کر بھی ایمان نہیں لائیں گے۔ اگر ہم آسمان کا دروازہ کھول کر انہیں اوپر چڑھنے کا موقع فراہم کر دیں اور یہ لوگ ہماری نشانیوں اور مظاہر قدرت کا بچشم خود مشاہدہ بھی کر لیں تو یہ کہنے لگیں گے کہ ہماری نظر بندی کر دی گئی ہے بلکہ ہم پر محمد علیہ السلام کا جادو چل گیا ہے۔ پھر قدرت خداوندی اور توحید باری تعالیٰ کے کائناتی شواہد پیش کرنے شروع کر دیئے۔ ہم نے آسمان کو دیکھنے والوں کے لئے خوبصورت بنایا ہے اور اس میں چوکیاں قائم کر کے شیطانوں سے محفوظ بنا دیا ہے اور اگر کوئی چوری چھپے سننے کی کوشش کرے تو ’’شہاب مبین‘‘ اس کا پیچھا کرتا ہے، زمین کو ہم نے پھیلا کر اس میں پہاڑ گاڑ دیئے ہیں تاکہ یہ ڈانواں ڈول ہونے سے بچی رہے اور اس میں مناسب چیزیں ہم نے اگا دی ہیں ۔ تمہاری معیشت کا سامان ہم نے اس زمین کے اندر ہی رکھا ہے۔ ہر چیز کے خزانے ہمارے پاس ہیں دنیا میں ہم ایک مقررہ اندازہ کے مطابق ہی اتارتے ہیں ۔ بار آور کرنے والی ہوائیں ہم ہی چلاتے ہیں جس کے نتیجہ میں آسمان سے پانی برسا کر تمہیں سیراب کرتے ہیں ۔ ہم نے تمہارے لئے پانی ذخیرہ کر رکھا ہے تم اسے محفوظ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے ہو۔ زندگی اور موت ہمارے ہاتھ میں ہے۔ ہم پہلوں اور پچھلوں کو بہت اچھی طرح جانتے ہیں اور قیامت میں ان سب کو جمع کر لیں گے۔ پھر تخلیق جن و انس کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا: انسان کو بدبو دار چکنی مٹی سے پیدا کیا جو خشک ہونے کے بعد ٹھن ٹھن بجنے لگتی ہے اور جنات کو تپتی ہوئی آگ سے تخلیق کیا۔ انسان کو پیدا کر کے مسجود ملائک بنایا۔ شیطان نے سجدہ سے انکار کیا تو اسے راندۂ درگاہ کر دیا اور قیامت تک کے لئے لعنت کا طوق اس کے گلے میں ڈال دیا۔ شیطان نے قیامت تک کے لئے انسانوں کو گمراہ کرنے کی قسم کھا لی مگر ہم نے بتا دیا کہ مفاد پرست ہی تمہاری گمراہی کا شکار بنیں گے۔ مخلصین پر تمہارا زور نہیں چلے گا۔ وہ لوگ ہماری عالی شان صراط مستقیم پر چلنے والے ہوں گے۔ پھر جنت و جہنم اور رحمت خداوندی کے تذکرہ کے بعد حضرت لوط علیہ السلام اور ان کی بدکردار قوم اور اس کی ہلاکت کا تذکرہ فرمایا اور اس کے بعد قوم ثمود اور ان کی تباہ شدہ بستی ’’حجِر‘‘ کو درس عبرت کے لئے ذکر فرمایا۔ پھر عظمت قرآن اور خاص طور پر بار بار دہرائی جانے والی سورہ فاتحہ کی سات آیتوں کا ذکر کیا۔ کافروں کے سامانِ تعیش کو للچائی ہوئی نظروں کے ساتھ نہ دیکھنے کی تلقین اور اپنے پیروکار مؤمنین کے لئے نرم رویہ اختیار کرنے کا حکم دے کر فرمایا کہ آپ کو جو حکم دیا گیا ہے اس پر ڈٹے رہئے اور کافروں کے استہزاء کی پرواہ نہ کیجئے ان کے لئے ہم ہی کافی ہیں انہیں عنقریب پتہ چل جائے گا۔ ہمیں معلوم ہے کہ ان کی باتوں سے آپ کی دل آزاری ہوتی ہے مگر آپ صبر سے کام لیتے ہوئے تسبیح و تحمید میں مشغول رہیں اور مرتے دم تک سجدہ ریز ہو کر اپنے رب کی عبادت میں لگے رہیں ۔

سورہ النحل

مکی سورت ہے، اس میں ایک سو اٹھائیس آیتیں اور سولہ رکوع ہیں ۔ نحل شہد کی مکھی کو کہتے ہیں ۔ اس سورت میں نحل کے محیر العقول طریقہ پر چھتہ بنانے اور شہد پیدا کرنے کی صلاحیت کا تذکرہ ہے۔ اس لئے پوری سورت کو اس کے نام سے موسوم کر دیا گیا ہے۔ مشرکین کی طرف سے قیامت کے مطالبہ پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ قیامت آیا ہی چاہتی ہے۔ تمہیں جلدی کس بات کی ہے؟ اللہ تعالیٰ فرشتوں کو اپنا پیغام دے کر بھیج رہے ہیں کہ لوگوں کو ڈرائیں کہ میں ہی معبود ہوں میرے علاوہ کسی دوسرے کی پرستش نہ کریں ۔ میں نے آسمان و زمین کو حق کے ساتھ پیدا کیا اور انسان کو نطفہ سے تخلیق کیا پھر بھی وہ جھگڑالو بن گیا۔ انسان کی خوراک، اس کے منافع خاص طور پر سردیوں میں گرمائش کے حصول کے لئے جانور پیدا کئے۔ صبح و شام جب ان کے ریوڑوں کے ریوڑ چرنے کے لئے آتے اور جاتے ہیں تو کتنے خوشنما معلوم ہوتے ہیں ۔ تمہارے بھاری سامان کو ایک شہر سے دوسرے شہر منتقل کرنے میں کام آتے ہیں ۔ گدھے، گھوڑے، خچر اسی نے تمہاری تمہاری سواری کے لئے پیدا کئے اور تمہارے لئے ایسی سواریاں ( مثلاً ہوائی جہاز وغیرہ) بھی مستقبل میں پیدا کرے گا جنہیں تم جانتے بھی نہیں ہو۔ پھر بارش اور اس کے اثرات سے انسانوں اور جانوروں کی سیرابی اور چراگاہوں کی آبادی، فصلوں ، زیتون، کھجور، انگور اور ہرقسم کے پھل پھول کے ظاہر ہونے میں عقل استعمال کر کے غور و خوض کرنے اور نصیحت حاصل کرنے کی تلقین فرمائی۔ سمندری دنیا کا تعارف کراتے ہوئے بتایا کہ بحری جہازوں اور کشتیوں کی مدد سے پانی میں سفر کرنے اور سامان منتقل کرنے کا بہترین ذریعہ ہے جبکہ اس سے تمہیں مچھلیوں کا ترو تازہ گوشت اور زیورات بنانے کے لئے موتی اور جواہر بھی فراہم ہوتے ہیں ۔ مظاہر قدرت کا مستقل تذکرہ جاری ہے اور اس سے خالقِ کائنات تک رسائی حاصل کرنے کی تعلیم ہے۔ انسان کی نفسیات میں احسان شناسی کا مادہ ہے، اس لئے اللہ تعالیٰ اپنے احسانات و انعامات کا تذکرہ کر کے فرما رہے ہیں کہ ہماری نعمتیں بے حد و حساب ہیں اگر تم شمار کرنا بھی چاہو تو نہیں کرسکتے ہو۔ تمہیں چاہئے کہ خفیہ و علانیہ ہر ڈھکی چھپی کا علم رکھنے والے رب کی خالقیت و عبودیت کا اقرار کر لو۔ تم سے پہلے لوگوں نے بھی سازشیں کر کے آسمانی تعلیمات کا انکار کیا تھا۔ ان پر ایسا عذاب مسلط کیا گیا جو ان کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا اور ان کی بستیاں چھتوں کے ساتھ تہس نہس کر کے رکھ دی گئیں ۔ پھر ان لوگوں کو قیامت کی ذلت و رسوائی سے الگ واسطہ پڑے گا۔ وہاں ان کے شرکاء بھی کسی کام نہیں آئیں گے۔ ایسے ظالموں کو بدترین ٹھکانہ جہنم میں ہمیشہ ہمیشہ جلنا پڑے گا۔ جبکہ نیکوکار اور متقی لوگوں کا بہترین ٹھکانہ جنت ہو گا، جس میں باغات اور نہریں ہوں گی اور یہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے اس میں رہیں گے۔ مشرک لوگ اپنے جرائم کی ذمہ داری قبول کرنے کی بجائے اسے اللہ کی مشیت کا کرشمہ قرار دینا چاہتے ہیں ۔ پہلی مجرم قومیں بھی ایسا ہی کرتی رہی ہیں حالانکہ ہمارے رسول ہر امت کو یہ تعلیم دیتے رہے ہیں کہ اللہ کی عبادت کرو اور طاغوت سے اجتناب کرو۔ بعض لوگوں نے ہماری بات کو تسلیم کیا اور بعض نے انکار کیا تو ان پر ہمارا عذاب آ کر رہا۔ دنیا میں چل پھر کر ایسے جھوٹوں کے انجام سے تم عبرت حاصل کرسکتے ہو۔ یہ لوگ قسمیں کھا کھا کر کہتے ہیں کہ مرنے کے بعد کوئی زندگی نہیں ہے۔ ہم وعدہ کرتے ہیں کہ ہم زندہ کر کے دکھائیں گے۔ مردوں کو زندہ کرنا ہمارے لئے کیا مشکل ہے ہم ’’کن فیکون‘‘ کے ایک حکم سے تمام انسانوں کو زندہ کر دیں گے۔ اللہ کے نام پر ہجرت کرنے والوں کو بہتر ٹھکانہ فراہم کرنے کی نوید اور انہیں صبر و توکل کے ساتھ زندگی گزارنے کی تلقین ہے۔ انبیاء و رسل انسان ہوتے ہیں اور دلائل و شواہد کی روشنی میں توحید بیان کرتے ہیں ۔ گناہوں کو دنیا میں پھیلانے کی سازشیں کرنے والے اللہ کے عذاب سے نہیں بچ سکیں گے۔ یہ لوگ دائیں بائیں جھکنے اور بڑھنے والے سائے میں غور کر کے اس نتیجہ پر کیوں نہیں پہنچ جاتے کہ زمین و آسمان کی ہر مخلوق حتی کہ فرشتے بھی اللہ ہی کے سامنے سجدہ ریز ہوتے ہیں اور کسی قسم کا تکبر نہیں کرتے۔ بلندیوں کے مالک اپنے رب کے عذاب سے خوفزدہ رہتے ہیں اور انہیں جو حکم دیا جاتا ہے اس کی حرف بہ حرف پابندی کرتے ہیں ۔بعض مشرکین کے تصور کی نفی کی گئی ہے کہ پوری کائنات کو دو خدا چلا رہے ہیں ۔ خیر کا خدا ’’یزدان‘‘ ہے اور شر کا خدا ’’اہرمن‘‘ ہے اور اسی سے یہ نظریہ بھی باطل قرار پاتا ہے کہ آسمانوں کا خدا ’’احد‘‘ ہے اور زمین کا خدا ’’میم‘‘ کے پردہ میں ’’احمد‘‘ ہے۔ پھر اللہ کے لئے اولاد کے عقیدہ کی دندان شکن انداز میں تردید کرتے ہوئے فرمایا کہ مشرکین کہتے ہیں کہ فرشتے چونکہ نظر نہیں آتے، عورتوں کی طرح چھپے رہتے ہیں اس لئے وہ اللہ کی بیٹیاں ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تم خود تو بیٹیوں کو پسند نہیں کرتے اگر کسی کو بیٹی پیدا ہونے کی خوشخبری سنائی جائے تو اس کے چہرہ پر مایوسی چھا جاتی ہے اور وہ منہ چھپائے پھرتا ہے اور سوچتا ہے کہ میں ذلت و رسوائی اٹھانے کے لئے بیٹی کی پرورش کروں یا اسے ’’زندہ درگور‘‘ کر دوں ؟ اس کے باوجود اللہ کے لئے بیٹیوں کا عقیدہ قائم کر کے تم نے بدترین فیصلہ کیا ہے۔ انسانوں کے جرائم اور مظالم اس قدر ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان پر گرفت کرنے پر آ جائیں تو کوئی جاندار زمین پر زندہ نہ بچ سکے۔ اللہ تعالیٰ نے جرائم پر محاسبہ کے نظام کو قیامت کے دن تک مؤخر کیا ہوا ہے جسے ٹالا نہیں جا سکتا۔ پھر اللہ نے کائناتی شواہد سے توحید و رسالت کے مزید دلائل پیش کر کے جانوروں کی مثال شروع کر دی۔ چوپایوں میں تمہارے لئے عبرت کا سامان موجود ہے۔ اللہ تعالیٰ خون اور گوبر کے بیچ میں سے خالص مزیدار دودھ تمہیں پلاتے ہیں ۔ شہد کی مکھی میں مظاہر قدرت کا مطالعہ کر کے دیکھو، اسے ہم نے پہاڑوں گھروں کی چھتوں اور درختوں پر چھتہ بنانے کا سلیقہ عطاء فرمایا ہے۔ پھر ہر قسم کے پھلوں اور پھولوں سے رس چوس کر دور دراز کا سفر طے کر کے اپنے چھتہ تک پہنچنے کی سمجھ عطاء فرمائی پھر مکھی کے پیٹ سے مختلف رنگوں اور ذائقوں کا شہد نکالا جو انسانوں کے مختلف امراض کے لئے شفاء اور صحت عطاء کرنے والا ہے۔ سوچ و بچار کرنے والوں کے لئے اس میں دلائل موجود ہیں ۔ اللہ ہی تمہیں مارتے اور جِلاتے ہیں اور تم میں سے بعض کو بڑھاپے کی عمر تک پہنچا دیتے ہیں کہ اس کی یاد داشت کمزور ہو جاتی ہے اور وہ معلومات رکھنے کے باوجود کچھ سمجھنے سے قاصر ہو جاتا ہے۔ اللہ بڑے علم و قدرت والے ہیں ۔ اس کے بعد توحید کے مزید دلائل پیش کرنے کے بعد معبود حقیقی اور معبودان باطلہ کا فرق دو مثالوں سے سمجھایا ہے۔ (۱)ایک غلام ہے جو اپنے جان و مال کے معاملے میں بالکل بے اختیار ہے مالک کی اجازت کے بغیر کچھ نہیں کرسکتا۔ دوسرا آزاد شخص ہے جو وسیع مال و دولت رکھتا ہے اور شب و روز فقراء و مساکین کی مدد کرتا ہے۔ جس طرح ان دونوں افراد کو برابر سمجھنے والا عدل و انصاف کے تقاضوں کا خون کرنے والا ہے اسی طرح معبود حقیقی کے ساتھ بتوں کو شریک سمجھنے والا عقل و خردسے عاری ہے۔ (۲)ایک غلام گونگا، بہرا، کسی کام کا نہیں ہے۔ اپنے مالک پر بوجھ بنا ہوا ہے اور دوسرا معتدل طرز زندگی رکھنے والا اور معاشرہ میں خیر اور نیکی کو پھیلانے والا ہے۔ کیا یہ دونوں برابر ہوسکتے ہیں ؟ دلائل توحید اور روز قیامت کا تذکرہ جاری ہے۔ قیامت کے دن مشرکین اپنے معبودوں سے براءت کا اظہار کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے عہد وفا باندھنے کی کوشش کریں گے مگر وقت گزر چکا ہو گا اور اللہ کے دین کے راستہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنے والے کافروں کو ان کے فساد پھیلانے کے جرم میں سزا پر سزا کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس کے بعد قرآن کریم کے ہدایت و رحمت ہونے کا بیان ہے اور بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ عدل و احسان اور غریب پروری کی تعلیم دیتے ہیں اور ظلم و بے حیائی اور منکرات سے باز رہنے کی تلقین فرماتے ہیں ۔ اللہ کا عہد پورا کرو اور ایمان و اعمال صالحہ کی نعمت سے سرفراز ہونے کے بعد اس کو چھوڑ کر کفر و ارتداد کا راستہ اختیار کرنا ایسا ہے جیسے کوئی عورت روئی کاتنے کے بعد تیار ہونے والے ’’سوت‘‘ کو الجھا کر اپنی ساری محنت کو ضائع کر دے، مساوات مرد و زن کا ضابطہ کہ جسمانی ساخت کے پیش نظر فرائض و حقوق کے اختلاف کے باوجود ایمان و اعمال صالحہ کے نتیجہ میں پاکیزہ زندگی اور اجر و ثواب کے حصول میں دونوں برابر ہیں ۔ قرآن کریم کی حقانیت بیان کرتے ہوئے مشرکین کے اس لغو اعتراض کا جواب دیا کہ شام کے سفر میں عیسائی راہب سے ملاقات کے موقع پر اس سے یہ قرآن سیکھ کر محمد علیہ السلام ہمیں سناتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ان کی باتیں یقیناً آپ کی دل آزاری کا باعث بنتی ہیں ، مگر موٹی عقل رکھنے والا انسان بھی سمجھ سکتا ہے کہ عجمی راہب آپ کو عربی قرآن کی تعلیم کیسے دے سکتا ہے؟ پھر ہجرت و جہاد اور استقامت کا پیکر اہل ایمان کو مغفرت و رحمت کی بشارت سنائی ہے اور بتایا ہے کہ کسی شہر یا علاقہ پر اللہ کی نعمتوں اور رحمتوں سے امن و امان اور خوشحالی کا دور دورہ ہو تو اللہ اس وقت تک اس میں تبدیلی نہیں لاتے جب تک وہاں کے باشندے نافرمانی اور گناہوں پر نہ اتر آئیں ۔ اس کے بعد محرمات کی مختصر فہرست کا اعادہ ہے اور اللہ کے حلال کردہ کو کھانے اور حرام کردہ سے گریز کرنے کا حکم ہے پھر ابراہیم علیہ السلام کے پسندیدہ طرز زندگی کو اپنانے کا حکم اور دعوت و تبلیغ کا فریضہ ادا کرنے والوں کے لئے زرین ضوابط کا تذکرہ ہے کہ حکمت، موعظہ حسنہ اور سنجیدہ بحث و مباحثہ کی مدد سے اللہ کی طرف لوگوں کو بلایا جائے۔ پھر انتقام اور بدلہ لینے کا قانون بتایا کہ اس میں مساوات پیش نظر رہے اور حد سے تجاوز نہ کیا جائے۔ اللہ کی مدد اور توفیق سے دین اسلام پر ثابت قدمی کا مظاہرہ کرنے کی تلقین کے ساتھ آخر میں خوشخبری سنا دی کہ اللہ تعالیٰ تقویٰ اور احسان (اعلیٰ کردار) کے حاملین کی ہر قدم پر مدد و نصرت فرمایا کرتے ہیں ۔


15– سُبْحَانَ الَّذِي

سورہ الاسراء

اس سورت کے مضامین میں غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ توحید اور قیامت کے اثبات کے ساتھ اخلاق فاضلہ کی تعلیم بھی ہے مگر مرکزی مضمون اثبات رسالت اور خاص طور پر ’’رسالت محمدیہ‘‘ کا اثبات ہے۔ جس ذات نے اپنے بندہ کو رات کے تھوڑے سے حصہ میں مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک کا سفر کرا دیا وہ ہر قسم کی کمزوری اور نقص سے پاک ہے۔ مسجد اقصیٰ جس کے چاروں طرف مادی اور روحانی برکتیں پھیلی ہوئی ہیں کہ پھل پھول اور باغات کی سرزمین ہونے کے علاوہ نبیوں اور فرشتوں کی بعثت و نزول کی جگہ ہے۔ ’’عبد‘‘ چونکہ جسم و روح کے مجموعہ کو کہتے ہیں اس لئے معراج نبی عالم بیداری میں بہ نفس نفیس پیش آیا تھا۔ آیت نمبر ۶۰ میں معراج کے سفر کو مؤمن اور کافر میں امتیاز اور فرق کا ذریعہ قرار دیا ہے اور یہ تبھی ہوسکتا ہے جب جاگتے ہوئے جسمانی سفر کی شکل میں ہو۔ ورنہ خواب تو کوئی بھی دیکھ سکتا ہے۔
ہم نے موسیٰ علیہ السلام کو بنی اسرائیل کی ہدایت کے لئے کتاب عطا فرمائی اور ساتھ ہی یہ بھی بتا دیا کہ تم اللہ کی کتاب پر عمل کرنے کی بجائے زمین میں سرکشی اور بغاوت پھیلاؤ گے اور دو مرتبہ بڑا فساد کرو گے۔ پہلی مرتبہ حضرت زکریا علیہ السلام کو قتل کر کے ظلم و ستم کا بازار گرم کیا اور اللہ تعالیٰ کے احکام سے بغاوت میں حد کر دی تو شاہ بابل بخت نصر کی شکل میں تم پر عذاب مسلط کیا جس نے چادر اور چاردیواری کے تقدس کو پامال کیا۔ پھر جب تم نے توبہ کی تو ہم نے دوبارہ تمہیں اقتدار اور مال و دولت سے نواز دیا۔ اس کے بعد ضابطۂ خداوندی کو بیان کیا کہ اگر کوئی قوم اپنا رویہ درست رکھے تو اس میں ان کا اپنا فائدہ ہے اور اگر بغاوت و سرکشی کرے تو اس میں اس کا اپنا ہی نقصان ہے۔ پھر تم نے اللہ کے نبی یحییٰ علیہ السلام کے قتل کی صورت میں قتل و بربریت اور فساد کی آگ بھڑکائی، مجوسیوں کے اقتدار کی شکل میں تم پر عذاب اتارا جنہوں نے قتل و غارت گری کے ذریعہ تمہیں تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا۔ پھر اللہ نے اپنے رحم و کرم سے تمہیں بچایا لیکن اگر تم نے اپنی حرکتیں نہ چھوڑیں تو ہمارے عذاب کی شکل پھر لوٹ سکتی ہے۔ جب کسی آبادی کے مقتدر لوگ سرکشی و نافرمانی پر اتر آئیں تو ہم انہیں عذاب اتار کر ملیا میٹ کر دیا کرتے ہیں ۔ اس کے بعد اخلاق فاضلہ کی تعلیم دیتے ہوئے والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنے اور فضول خرچی سے بچنے کی تلقین فرمائی ہے۔ پھر روزی کی کمی کے ڈر سے اولاد کو قتل کرنے کی مذمت کرتے ہوئے بتایا ہے کہ تمہاری روزی بھی اللہ کے ذمہ ہے اور تمہاری اولاد کی روزی بھی اللہ ہی کے ذمہ ہے۔ زنا کاری سے بچو ناحق قتل نہ کرو، یتیم کا مال ناجائز طریقہ سے نہ کھاؤ، عہد شکنی نہ کرو، ناپ تول میں کمی نہ کرو، بغیر تحقیق کے کسی بات کو نقل نہ کرو، زمین پر متکبرانہ انداز میں نہ چلو۔ یہ سب برائی کے ناپسندیدہ کام ہیں ۔ تمہارے رب کی طرف سے حکمت سے بھرپور وحی بھیجی جا رہی ہے۔ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ ورنہ جہنم میں قابل ملامت اور ملعون بن کر پڑے رہو گے۔قرآن کریم میں ہر بات کو مختلف انداز میں ہم بیان کرتے ہیں تاکہ یہ لوگ نصیحت حاصل کر لیں مگر یہ لوگ حق سے اور بھی دور ہوتے چلے جا رہے ہیں ۔ آسمان و زمین کی ہر چیز اللہ کی تسبیح و تحمید کرتی ہے۔ تم اسے سمجھنے سے قاصر ہو۔ جب آپ قرآن کریم کی تلاوت فرماتے ہیں تو آپ کے اور بے ایمانوں کے درمیان میں ایک حد فاصل قائم ہو جاتی ہے ان کے دلوں پر پردہ پڑ جاتا ہے ان کے کانوں میں ڈاٹ لگ جاتے ہیں اور اکیلے وحدہٗ لاشریک رب کا تذکرہ سن کر یہ لوگ دور بھاگنے لگتے ہیں اور قرآن سنتے ہوئے یہ ظالم باہمی سرگوشیوں میں کہنے لگتے ہیں کہ یہ مسلمان تو ایک جادو زدہ شخص کی پیروی کر رہے ہیں ۔ یہ لوگ ہڈیوں کو بوسیدہ اور پرانا دیکھ کر کہتے ہیں کہ انہیں کس طرح زندہ کیا جائے گا۔ یہ لوگ اگر سخت ترین چیز لوہے اور پتھر میں بھی تبدیل ہو جائیں تو جس ذات نے انہیں پہلے پیدا کیا تھا وہ دوبارہ بھی پیدا کر لے گا۔ تمہارا رب تمہیں بہت اچھی طرح جانتا ہے وہ جانتا ہے کہ کس کو عذاب دینا ہے کس پر رحم کرنا ہے۔ تیرے رب کے عذاب سے ڈرنا ہی چاہئے، جس بستی کی ہلاکت یا عذاب قیامت سے پہلے مقدر ہے وہ ہمارے پاس لکھی ہوئی ہے۔ ہم اپنی نشانیاں اس لئے ظاہر نہیں کرتے کہ لوگ انہیں دیکھ کر ماننے کی بجائے انکار پر اتر آتے ہیں اور اس طرح وہ عذاب کے مستحق قرار پا جاتے ہیں ۔ ہم نے قوم ثمود کی مطلوبہ نشانی اونٹنی کی شکل میں بھیج دی تھی انہوں نے ا س پر ظلم کر کے اپنی ہلاکت کو خود ہی دعوت دی۔ ہم تو ڈرانے اور راہِ راست پر لانے کے لئے نشانیاں اتارا کرتے ہیں ۔ اس کے بعد خیر و شر کے ازلی معرکہ کا آئینہ دار قصۂ آدم و ابلیس ذکر کر کے انسان کو شیطان کے گمراہ کن داؤ پیچ سے بچنے کی تلقین فرمائی ہے اور بتایا ہے کہ بحر و بر میں انسانی مشکلات کو اللہ کے سوا کوئی نہیں حل کرسکتا۔پھر بتایا کہ تمام مخلوقات میں انسان کو خصوصی فضیلت اور اعزاز کا مستحق قرار دیا گیا ہے۔ قیامت کے دن انسان کے نامۂ اعمال کے مطابق اس کے مستقبل کا فیصلہ کیا جائے گا۔ جو شخص دنیا میں اپنی آنکھوں سے دلائل قدرت کا مشاہدہ کر کے بھی کفر کے اندھے پن سے نجات حاصل نہ کرسکا وہ ان دیکھی آخرت کے بارے میں زیادہ اندھے پن کا مظاہرہ کرے گا۔ یہ لوگ دوستی کا دم بھر کر آپ کو وحی الٰہی کے مقابلہ میں خود ساختہ باتیں بیان کرنے پر مجبور کرنا چاہتے ہیں مگر ہماری دی ہوئی توفیق سے آپ حق پر ثابت قدمی کا مظاہرہ کر رہے ہیں ۔ اگر آپ ان کافروں کی طرف میلان کا اظہار کرتے تو ہم دنیا و آخرت دونوں جہانوں میں آپ کو عذاب میں مبتلا کر دیتے۔ جس طرح پہلے لوگوں نے اپنے رسولوں کو اپنے وطن سے نکال کر عذاب کو دعوت دی تھی مکہ والے بھی ایسا ہی کرنا چاہتے تھے مگر ہم نے آپ کے اعزاز میں آپ کی قوم کو عذاب سے بچانے کے لئے انہیں ایسا نہیں کرنے دیا۔ آپ صبح و شام نماز پڑھیں اور قرآن کریم کی تلاوت کریں ۔ فجر کے وقت قرآن سننے کے لئے دن رات کے فرشتوں کا خصوصی اجتماع ہوتا ہے۔ رات کو تہجد کا اہتمام جاری رکھیں ۔ آپ کو ’’مقام محمود‘‘ عطا کرنے کا وعدہ کیا جا رہا ہے۔ حق آنے پر باطل زائل ہو جایا کرتا ہے۔ قرآن کریم مؤمنین کے لئے شفاء و رحمت ہے اور ظالموں کے لئے خسارہ اور نقصان کا باعث ہے۔ روح اللہ کا ایک امر ہے، اس کی حقیقت کو جاننے کی علمی صلاحیت تمہارے اندر مفقود ہے۔ ساری دنیا کے جنات و انسان مل کر بھی قرآن کریم جیسا کلام بنانے پر قادر نہیں ہوسکتے۔ پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام کا فرعون کے ساتھ مباحثہ اور انہیں عطا کی جانے والی نو نشانیوں کا اجمالی تذکرہ کیا اور فرعون نے جب موسیٰ علیہ السلام اور ان کے ساتھیوں کو ملک بدر کرنا چاہا تو ہم نے فرعونیوں کو غرق کر کے ان کا قصہ ہی تمام کر دیا۔ قرآن کریم حق کے ساتھ اترا ہے اسے تھوڑا تھوڑا کر کے اتارنے کی حکمت یہ ہے کہ آپ انہیں ٹھہر ٹھہر کر پڑھ کر سناتے رہیں اور ان کی دل جمعی کا باعث بنتا رہے۔ اپنی دعا میں نہ زیادہ چلاؤ اور نہ ہی بالکل خفیہ آواز رکھو بلکہ میانہ روی اختیار کرو۔ سورت کے آخر میں فرمایا آپ اعلان کر دیں کہ تمام تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں ، جس کی نہ کوئی اولاد ہے اور نہ ہی اس کے ملک میں کوئی شریک ہے۔

سورہ الکہف

الکہف عربی میں غار کو کہتے ہیں ، اس سورت میں چند ایمان والے نوجوانوں کا ذکر ہے، جنہیں ایمان کے تحفظ کے لئے غار میں پناہ لینی پڑی تھی اس لئے پوری سورت کو کہف کے نام سے موسوم کر دیا۔ مشرکین کے تین سوالوں کے جواب میں یہ سورت اتری تھی۔ روح کیا ہے اس کا جواب سورۂ بنی اسرائیل میں ہے۔ کہف میں پناہ لینے والے نوجوانوں کے ساتھ کیا بیتی اور مشرق و مغرب میں فتح و کامرانی کے جھنڈے گاڑنے والے بادشاہ کا کیا واقعہ ہے ان دونوں سوالوں کا جواب اس سورت میں دیا گیا ہے۔ اس سورت میں چار واقعات (۱)اصحاب کہف (۲)آدم و ابلیس (۳)موسیٰ و خضر (۴)ذوالقرنین کا ذکر ہے جبکہ دنیا کی بے ثباتی کے بیان کے لئے دو مثالیں دی گئی ہیں ۔
ابتداء میں تمام تعریفوں کا مستحق اللہ کو قرار دے کر بتایا ہے کہ اسی نے واضح اور ہر قسم کی کجی سے پاک و صاف قرآن اتارا ہے پھر اللہ کے لئے اولاد ثابت کرنے والوں کی مذمت کرتے ہوئے بتایا ہے کہ اس سرزمین پر ہر قسم کی نعمتیں اور آسائشیں اتار کر انسان کی آزمائش مقصود ہے۔ پھر اصحاب کہف کا واقعہ شروع کر دیا۔ ان کا واقعہ اللہ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے اور دعوت الی اللہ اور جہاد فی سبیل اللہ کے اس مرحلہ کو بیان کرتا ہے جس میں حکمت عملی کے تحت کارکنوں کو زیرِ زمین ہونا پڑتا ہے۔ حضور علیہ السلام سے تقریباً تین سو سال قبل اردن کے ملک میں دقیانوس نامی بادشاہ تھا، اس نے اپنی حکومت کو مضبوط کرنے کے لئے ملک کے ہر علاقہ سے نمائندے طلب کئے، جن میں چند نوجوان ایسے نکلے جو اس کے کفر و شرک اور ظلم و ستم میں اس کی حمایت کے لئے تیار نہیں تھے۔ انہوں نے بادشاہ سے مہلت طلب کی اور باہمی مشورہ کر کے طے کیا کہ ایمان و کفر میں سے ایک چیز کا انتخاب کرنا ہو گا۔ لہٰذا ایمان بچانے کے لئے یہ لوگ رات ہی رات خاموشی سے نکل کھڑے ہوئے۔ ایک کتا بھی ان کے پیچھے ہولیا۔ لمبا سفر کر کے یہ لوگ تھک گئے اور ایک غار میں آرام کے لئے لیٹ گئے اور کتا غار کے دہانے پر بیٹھ کر سوگیا۔ جب یہ لوگ دوسرے روز بادشاہ کو نہ ملے تو انہیں تلاش کرایا گیا اور پھر مایوس ہو کر ان کے نام ایک تختی پر لکھ کر رکھ دیئے گئے۔ یہ لوگ غار میں پڑے سوتے رہے سردی گرمی، دن رات ہر حال میں اللہ نے ان کی حفاظت کی۔ ان کی آنکھیں کھلی ہوئی تھیں اور یہ کروٹیں بھی بدلتے تھے۔ دیکھنے والا انہیں بیدار خیال کر کے مرعوب ہو کر بھاگ جاتا۔ کتا بھی غار کے دہانہ پر ایسے بیٹھا ہوا سورہا تھا جیسے وہ گھات لگا کر کسی پر حملہ آور ہونا چاہتا ہو جب اللہ نے انہیں بیدار کیا تو آپس میں ایک دوسرے سے پوچھنے لگے کہ ہمیں سوتے ہوئے کتنا وقت گزرا ہو گا۔ ان کا خیال تھا کہ ایک دن یا آدھا دن ہوا ہو گا مگر اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ شمسی حساب سے تین سو سال اور قمری حساب سے تین سو نوسال تک یہ لوگ سوتے رہے تھے۔ بیدار ہونے پر انہیں بھوک نے ستایا۔ رقم جمع کر کے ایک آدمی کو احتیاط کے تمام پہلو مد نظر رکھتے ہوئے کھانا لینے کے لئے شہر بھیجا، جس ہوٹل سے اس نے کھانا لیا اس کے مالک نے پرانے سکے دیکھ کر اسے پولیس کے حوالہ کر دیا۔ اس طرح اسے بادشاہ کے دربار میں پہنچا دیا گیا۔ ان دنوں وہاں کا بادشاہ مسلمان تھا مرنے کے بعد زندہ ہونے کا قائل تھا۔ لوگ اس کے عقیدہ کو نہیں مانتے تھے وہ دعائیں کیا کرتا تھا کہ اللہ کی کوئی ایسی نشانی ظاہر ہو کہ وہ اپنی قوم کو صحیح عقیدہ کا قائل کرسکے۔ جب اس نوجوان کو اس کے سامنے پیش کیا گیا اور تحقیقات سے پتہ چلا کہ یہ ان نوجوانوں کا ساتھی ہے، جن کے نام آج سے تین صدیاں قبل ایک تحریر کی شکل میں محفوظ کر دیئے گئے تھے تو بہت خوش ہوا۔ لوگ اس واقعہ کو سن کر ایمان لے آئے اور جہاں اصحاب کہف دریافت ہوئے تھے ان کی یادگار کے طور پر مسجد تعمیر کر دی گئی۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ دوبارہ زندہ کرنے سے ہم لوگوں کو یہی پیغام دینا چاہتے تھے کہ قیامت برحق ہے اور مرنے کے بعد ہر انسان کو زندہ ہونا ہے۔ یہ لوگ تین تھے چوتھا کتا تھا۔ پانچ تھے چھٹا کتا تھا یا سات تھے آٹھواں کتا تھا۔ اللہ ہی جانتے ہیں کہ ان کی صحیح تعداد کتنی تھی اور اس سے کوئی فرق بھی نہیں پڑتا۔ اللہ کی قدرت ہر حال میں ظاہر ہو جاتی ہے۔
کافروں کے سوالوں کے جواب میں حضور علیہ السلام نے فرما دیا تھا کہ کل جواب دے دوں گا اور ان شاء اللہ نہیں کہا تھا۔ اللہ تعالیٰ کو یہ بات ناپسند ہوئی اور فرمایا کہ آئندہ جب بھی کوئی کام کرنا ہو تو ان شاء اللہ کہا کریں ۔ پھر قرآن کریم پر غیر متزلزل ایمان رکھنے اور اسے دوسروں تک پہنچانے کا حکم دیا اور غریب اہل ایمان کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے کی تلقین فرمائی۔ پھر جنت جہنم کا تذکرہ کیا اور دو دوستوں کی مثال دی جن میں ایک کافر، متکبر اور مال و دولت کا پجاری دوسرا غریب متواضع اور اللہ کی مشیت پر راضی۔ اللہ نے کافر کا مال و دولت تباہ کر کے بتا دیا کہ جب اللہ کی پکڑ آ جائے تو اس سے کوئی نہیں بچ سکتا۔ پھر دنیا کی زندگی کی بے ثباتی کی مثال دے کر بتایا کہ بارش کے نتیجہ میں کھیتیاں لہلہانے لگتی ہیں مگر اچانک کسی آفت سے تباہ ہو کر رہ جاتی ہیں اور کسان ہاتھ ملتا رہ جاتا ہے۔ پھر آدم و بلیس کا قصہ ہے۔ قرآن کریم میں ہر قسم کے انسانوں کی رہنمائی کے لئے مختلف پیرائے اور اسالیب میں دلائل پیش کرنے کا تذکرہ اور اس بات کا بیان ہے کہ اللہ اگر دنیا کو ہلاک کرنا چاہے تو کوئی روک نہیں سکتا۔ مگر اس نے ایک وقت مقرر کیا ہوا ہے اور اس کی رحمت کے تقاضے کے پیش نظر گناہ گاروں کو مہلت دی ہوئی ہے۔ پھر حضرت موسیٰ و خضر علیہما السلام کے واقعہ کا بیان ہے۔ ایک مرتبہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بڑی زبردست تقریر فرمائی، جس سے لوگ بہت متاثر ہوئے اور پوچھنے لگے کہ آپ سے بڑا کوئی عالم ہے؟ آپ نے اپنی معلومات کے مطابق فرما دیا کہ مجھ سے بڑا اس وقت کوئی عالم نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو دنیا کے سب سے بڑے عالم سے ملاقات کے لئے رخت سفر باندھنے کا حکم دیا اور زاد راہ کے طور پر ایک بھنی ہوئی مچھلی ساتھ لینے کے لئے فرمایا۔ حضرت موسیٰ ارشاد خداوندی کے مطابق ایک شاگرد کو ساتھ لے کر مقررہ سمت میں روانہ ہو گئے۔ ساحل سمندر پر آپ کا سفر جاری رہا۔ ایک جگہ تھک کر آرام کرنے کے لئے ٹھہرے تو مچھلی سمندر میں چلی گئی اور ایک سرنگ نما راستہ بنا گئی۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام اس سرنگ میں پانی کے اندر چلے گئے، جہاں حضرت خضر علیہ السلام سے ملاقات پر ان سے تحصیل علم کے لئے درخواست کی، انہوں نے فرمایا کہ میرا علم آپ کی قوت برداشت سے باہر ہے۔ آپ میری باتوں پر صبر نہیں کرسکیں گے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے صبر کرنے اور کسی قسم کے سوالات نہ کرنے کا دعویٰ کیا، جس پر موسیٰ و خضر علیہما لسلام ’’علمی سفر‘‘ پر سمندر کے کنارے کنارے روانہ ہو گئے۔




16 – قَالَ أَلَمْ

یہ پاارہ نہ ویب پر ہے نہ کاشف کے قرآن مع تفسیر پروگرام میں


17 – إِقْتَرَبَ


سورہ الانبیاء

سورہ الانبیاء سے اس پارہ کی ابتداء ہو رہی ہے۔ یہ مکی سورت ہے۔ ایک سو بارہ آیتوں اور سات رکوع پر مشتمل ہے۔ دوسری مکی سورتوں کی طرح اس
میں بھی توحید و رسالت اور قیامت کے عقیدہ پر گفتگو کی گئی ہے مگر ’’رسالت‘‘ کا موضوع خاص طور پر اجاگر کیا گیا ہے اور مختلف انبیاء و رسل کے حالات بیان کئے گئے ہیں ۔ قیامت اور اس کی تیاری کی طرف متوجہ کرنے کے لئے سورت کی ابتداء میں فرمایا: لوگوں کے حساب و کتاب کا وقت قریب آ رہا ہے، لیکن وہ غفلت میں پڑے ہوئے ہیں اور جب بھی اللہ کی طرف سے ان کی ہدایت کے لئے کوئی قرآنی آیت اترتی ہے تو یہ اسے مذاق میں ٹالتے ہوئے کہتے ہیں کہ تمہیں قرآن سنانے والا تمہارے جیسا بشر ہے۔ جادو کر دیتا ہے یا بد خوابی کی باتیں کرتا ہے۔ قرآن اس نے خود ہی گھڑ لیا ہے بلکہ یہ شاعرانہ کلام ہے۔ اگر سچا ہوتا تو کوئی معجزہ دکھاتا جیسے پہلے انبیاء معجزات دکھاتے رہے۔ پہلے انبیاء کے معجزات سے ان کی قوموں نے کوئی فیض حاصل نہیں کیا، جس کی بناء پر وہ ہلاک ہو کر رہے، اب کیا یہ لوگ ایمان لے آئیں گے؟ پہلے انبیاء بھی بشر ہی تھے ان پر وحی اتاری گئی تھی، ہم نے انہیں کوئی ایسے ڈھانچے میں تو نہیں بنایا تھا جنہیں کھانے پینے کی حاجت ہی نہ ہو۔ ہم نے ان کی ہدایت کے لئے ایسی کتاب اتاری ہے، جس میں ان کا تذکرہ موجود ہے کہ یہ کتاب جس قدر لوگوں تک پہنچے گی اس کے ساتھ ان کا ذکر بھی پہنچے گا اور پھر اس میں ہر شعبہ زندگی کے اچھے برے لوگوں کے واقعات موجود ہیں ، ان کے ضمن میں یہ اپنا تذکرہ بھی اس کتاب میں تلاش کرسکتے ہیں ۔ اس کے بعد قوموں پر عذاب الٰہی کے نزول اور ان کی عبرتناک ہلاکت کا تذکرہ اور پھر معرکۂ حق و باطل اور اس کا نتیجہ بتایا ہے کہ حق و باطل باہم ٹکراتے ہیں تو باطل پاش پاش ہو کر رہ جاتا ہے۔ باطل ہے ہی زائل ہونے والی چیز۔ آسمان و زمین کے نظام کا نہایت نظم و نسق سے چلتے رہنا اس بات کا غماز ہے کہ اس نظام کا خالق و مالک ایک وحدہٗ لاشریک ہے۔ اگر ایک سے زیادہ با اختیار شخصیات اس نظام کو چلا رہی ہوتیں تو ان کے اختیارات کی جنگ میں کائنات میں فساد برپا ہو چکا ہوتا اور سارا نظام منتشر ہو کر رہ جاتا۔ فرشتوں کو اللہ کی اولاد سمجھنے والے غلطی پر ہیں ، وہ تو اللہ کے بندے اور اس کے فرماں بردار ہیں ۔ وہ اللہ کے سامنے نہ بول سکتے ہیں نہ سفارش کرسکتے ہیں ۔ وہ تو اللہ سے ڈرتے رہتے ہیں اگر ان میں سے کوئی دعویٰ کرے کہ اللہ کے مقابلہ میں بھی الٰہ ہوں تو ہم اسے ظالموں کے انجام سے دوچار کر کے جہنم کا ایندھن بنا دیں گے۔ یہ لوگ غور کیوں نہیں کرتے؟ آسمان و زمین کا خام مادہ ایک ہی تھا ہم نے الگ الگ کر کے اوپر آسمان اور نیچے زمین کو بنا دیا، پھر آسمان و زمین بالکل بند تھے کہ نہ بارش برسے اور نہ ہی نباتات پیدا ہوں ۔ ہم نے آسمان سے بارش برسائی اور زمین سے پودے اور درخت اگائے، کیا ان کی عقلیں کام نہیں کرتیں ؟ پھر دن رات کا نظام، سورج اور چاند کا اپنے مدار میں چکر لگاتے رہنا، پہاڑ اور ان کے بیچ انسانی نقل و حمل کے لئے راستے، یہ سب قدرت خداوندی کے مظاہر ہیں ۔ یہ لوگ کہتے ہیں کہ محمد علیہ السلام کی موت پر ان کا پیغام ختم ہو کر رہ جائے گا اور بعد میں ان کا دین نہیں چل سکے گا۔ کیا یہ اس بات کو سمجھنے سے قاصر ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے انتقال کی صورت میں یہ لوگ نہیں مریں گے؟ کیا انہوں نے دنیا میں بقاء دائمی کا کوئی معاہدہ کر رکھا ہے؟ ہر انسان نے موت کے مرحلہ سے گزرنا ہے اور اس کے اچھے اور برے اعمال کا بدلہ اسے مل کر رہے گا۔ اگر آپ کا استہزاء اور تمسخر کیا جا رہا ہے تو کوئی نئی بات نہیں ہے پہلے انبیاء کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوتا رہا ہے اور ان مذاق اڑانے والوں کو ان کا مذاق ہی تباہی کا شکار کر دیا کرتا تھا۔ اللہ کا عذاب اگر رات دن میں کسی وقت اچانک آ جائے تو انہیں کون بچائے گا؟ ہمارا عذاب ایسا زبردست ہوتا ہے کہ اس کی ذرا سی جھلک دیکھ کر ہی یہ چلانے لگیں گے۔ قیامت کے دن اعمال کے وزن کے لئے انصاف کے ترازو قائم ہو جائیں گے کسی پر کوئی زیادتی اور ظلم نہیں ہو گا۔ اگر انہوں نے رائی کے دانہ کے برابر بھی کوئی عمل کیا ہو گا تو اس پر بھی جزاء یا سزا کے نظام کا انہیں سامنا کرنا پڑے گا۔ اس کے بعد ابراہیم علیہ السلام اور ان کی بت پرست قوم کا تذکرہ کہ عید کے موقع پر وہ پکنک منانے اور کھیل کود کرنے شہر سے باہر چلے گئے اور اپنے بتوں کے آگے نذرو نیاز کے چڑھاوے چڑھا گئے۔ ابراہیم علیہ السلام نے ان بتوں کو کلہاڑے سے ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور جب مشرک قوم لوٹ کر آئی اور اپنے خداؤں کی حالت زار دیکھی تو ابراہیم علیہ السلام کو بلا کر باز پرس کرنے لگی۔ انہوں نے فرمایا کہ تم سمجھتے ہو کہ بت کچھ کرسکتے ہیں اور بولتے بھی ہیں تو انہی سے پوچھ لو۔ بڑے بت کے کندھے پر کلہاڑے سے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس نے سب کو کاٹ پیٹ کر برابر کر دیا ہے۔ وہ بے اختیار پکار اٹھے کہ یہ پتھر کے بت تو بول ہی نہیں سکتے۔ یہ حقیقت حال کیسے بیان کریں گے؟ ابراہیم علیہ السلام کہنے لگے افسوس کا مقام ہے کہ ایسے بے اختیار معبودوں کی تم پرستش کرتے ہو؟ وہ لوگ لاجواب ہو کر انتہائی نادم اور شرمندہ ہوئے اور ابراہیم علیہ السلام کے لئے آگ کا الاؤ جلا کر اس میں پھینک دیا۔ اللہ تعالیٰ نے ابراہیم علیہ السلام کی حفاظت فرمائی اور ان کی مشرک قوم کو ناکام و نامراد کیا۔ ابراہیم علیہ السلام کو اسحاق نامی بیٹا اور یعقوب نامی نامور پوتا عطاء فرمایا اور ان کے بھائی لوط کو بدکار قوم سے نجات دلا کر اس قوم کی خباثت کے نتیجہ میں ہلاک کر دیا۔ نوح علیہ السلام کو مشکلات سے نجات دی اور ان کے منکرین کو بدترین عذاب میں مبتلا کر کے نشان عبرت بنا دیا۔ داؤد و سلیمان علیہما السلام کی نبوت و حکمرانی کے ساتھ ان کی فیصلہ کرنے کی بہترین صلاحیتوں کا ذکر اور جنگ سے بچاؤ کے لئے داؤد علیہ السلام کی زرہ سازی کو بیان کر کے بتایا کہ دستکاری اور مزدوری کر کے کمانا کوئی عیب نہیں ہے اور اپنا دفاع کرنا توکل کے منافی نہیں ہے۔ پھر ایوب علیہ السلام کی بیماری اور ان کے صبر و شکر کے ساتھ اسے برداشت کرنے اور اللہ سے دعائیں مانگنے کا تذکرہ ہے، جس کے نتیجہ میں اللہ نے انہیں صحت عطا فرمائی اور بیماری کے زمانہ میں ہونے والے نقصانات کا ازالہ فرمایا۔ پھر اسماعیل و ادریس اور ذوالکفل کا مختصر تذکرہ اور ان کی ثابت قدمی کا بیان ہے۔ اس کے بعد مچھلی والے نبی یونس علیہ السلام کا ایمان افروز ذکر کہ قوم پر عذاب کے آثار دیکھ کر وہ یہ سمجھ کر اپنے مقام سے ہٹ گئے کہ اللہ تعالیٰ اس بات پر میری کسی قسم کی گرفت نہیں کریں گے مگر جب انہیں کشتی سے سمندر میں پھینکا گیا اور مچھلی نے نگل کر اپنے پیٹ میں انہیں اتار لیا تو وہ اپنے رب کو پکارنے لگے، جس پر اللہ تعالیٰ نے انہیں نجات عطا فرمائی اور ساحل پر پہنچا دیا۔ اللہ تعالیٰ ایسے ہی اپنے ایمان والے بندوں کی مدد فرمایا کرتے ہیں ۔ پھر حضرت مریم کے عظیم کردار اور ان کی عفت و عصمت کی حفاظت اور ان کے ہاں بیٹے کی کراماتی ولادت کی طرف اشارہ کر کے انبیاء علیہم السلام کی صالح جماعت کا تذکرہ ختم کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ سب ایک ہی جماعت کے افراد ہیں اور تم لوگوں کے لئے ہم نے ایک ہی دین ’’اسلام‘‘ تجویز کیا ہے، لہٰذا مجھے اپنا رب تسلیم کرو اور میری ہی عبادت کرو۔ پھر علامات قیامت میں بڑی علامت یاجوج و ماجوج کے ظہور کا تذکرہ فرما کر قیامت اور اس کے ہولناک منظر کا بیان شروع کر دیا اور بتایا کہ ’’رسالت محمدیہ‘‘ تمام کائنات کے لئے باعث رحمت ہے اور تلقین فرمائی کہ حق و باطل کا فیصلہ کرنے کا اختیار اللہ ہی کے پاس ہے، لہٰذا اسی سے دین اسلام کی حقانیت کا فیصلہ طلب کرنا چاہئے۔

سورہ الحج

یہ مدنی سورت ہے۔ اٹھتر آیتوں اور دس رکوع پر مشتمل ہے۔ قیامت اور توحید باری تعالیٰ کے بیان کے ساتھ اس میں حج اور جہاد کے کچھ احکام بیان کئے گئے ہیں ۔ اے انسانو! اللہ سے ڈرو قیامت کا جھٹکا بڑا ہولناک ہو گا۔ دودھ پلانے والی مائیں اپنے دودھ پیتے بچوں کو بھول جائیں گی جبکہ حاملہ عورتیں اس دن کی دہشت اور خوف سے اپنے بچے ساقط کر دیں گی۔ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونا برحق ہے۔ اپنی پیدائش میں غور کرنے سے یہ عقیدہ تمہیں بہت اچھی طرح سمجھ میں آسکتا ہے۔ مٹی سے نطفہ، نطفہ سے لوتھڑا، پھر گوشت کا ٹکڑا جس کی تخلیق کبھی مکمل ہوتی ہے کبھی نہیں ہوتی۔ ایک متعینہ مدت کے لئے رحم مادر میں پڑا رہنا، پھر کمزور و بے کس بچہ کی شکل میں پیدا ہونا، پھر بھرپور جوانی کو پہنچنا، پھر قویٰ کی کمزوری کے ساتھ بڑھاپے کی منزل تک پہنچنا اس بات کا غماز ہے کہ قادر مطلق تمہیں دوبارہ پیدا کرنے پر بھی قادر ہے۔ زمین کو دیکھو! بنجر و ویران ہوتی ہے، بارش برستی ہے اور دیکھتے ہی دیکھتے کھیتیاں اور باغات اگنے لگتے ہیں اور پھر پھلنے پھولنے اور لہلہانے لگتے ہیں ۔ اس سے اللہ کی قدرت کا اندازہ کر کے سمجھ لو کہ وہ ہر چیز پر قوت رکھتا ہے۔ پھر قیامت کے مزید تذکرہ کے ساتھ نیک و بدکا انجام ذکر کیا اور پھر حرم شریف اور کعبۃ اللہ میں حاضری، عبادت اور اعتکاف سے روکنے والوں کی سخت ترین الفاظ میں مذمت اور ان کے عمل کو ظلم و الحاد قرار دے کر دردناک عذاب کی دھمکی دی گئی ہے۔ پھر ابراہیم علیہ السلام کے تعمیر کعبہ کے شاندار کارنامہ کا تذکرہ اور نماز اور طواف کرنے والوں کے لئے اسے پاک و صاف رکھنے کا حکم ہے اور لوگوں کو دنیا بھر سے کعبۃ اللہ کی زیارت کے لئے آنے کی دعوت دینے کا حکم ہے۔ حج کے عظیم الشان اجتماع میں قربانی اور صدقہ و خیرات سے غرباء و مساکین کی کفالت اور تجارت اور کاروبار کے ذریعہ اسلامی معاشرہ کے تمام افراد کے مفادات و منافع کی حفاظت کی نوید ہے۔ پھر اہل ایمان کے دفاع کے نظام سماوی کا تذکرہ اور مؤمنین کو جہاد کے لئے قدم اٹھانے کی اجازت دی گئی ہے۔ جب ظلم و ستم حد سے تجاوز کرنے لگے تو مسلمانوں کو اپنے دفاع اور تحفظ کے لئے قتال فی سبیل اللہ کا عمل اختیار کرنا ہو گا۔ اللہ اپنے ایسے بندوں کی مدد ضرور کیا کرتے ہیں جو زمین پر بااختیار ہو کر نماز اور زکوٰۃ کے نفاذ کے ساتھ ہی اچھائیوں کو پھیلانے اور برائیوں کو روکنے کا نظام نافذ کرتے ہیں ۔ پوری انسانیت کے لئے محمد رسول اللہ کے بشیر و نذیر ہونے کا بیان کرتے ہوئے مؤمنین و منکرین کے انجام کا تذکرہ ہے۔ پھر شیاطین کی دستبرد سے دین اسلام کے محفوظ ہونے کا اعلان ہے۔ پھر کفر کی ذہنیت کی وضاحت ہے کہ وہ دلائل پر یقین نہیں رکھتے۔ ڈنڈے کے یار ہیں ۔ قیامت کا جھٹکا ہی انہیں ایمان کا راستہ دکھا سکے گا۔ ہجرت اور اس کے لازمی نتیجہ جہاد کے ذریعہ شہادت کے مرتبہ پر فائز ہونے والے یا طبعی موت مرنے والوں کے لئے بہترین رزق اور پسندیدہ رہائش یعنی جنت میں داخلہ کی نوید سنائی گئی ہے۔
پھر کائناتی شواہد میں غور و خوض کر کے اللہ کی وحدانیت تسلیم کرنے کی تعلیم ہے۔ موت اور زندگی اللہ کے اختیار میں ہے۔ ہر امت کو علیحدہ نظام حیات دیا گیا ہے۔ اختلاف کرنے کی بجائے اس پر عمل کرنا چاہئے۔ جب انہیں قرآن سنایا جاتا ہے تو ان کے چہروں پر مردنی چھا جاتی ہے۔ انہیں بتائیے کہ تمہارے لئے اس سے بھی بدترین خبر جہنم کی آگ ہے جس کا وعدہ اللہ نے کافروں کے لئے کر رکھا ہے۔ پھر معبود حقیقی اور معبودان باطل کے امتیاز کے لئے معرکۃ الآراء مثال بیان کی گئی ہے کہ اللہ کے علاوہ جن کی پرستش کرتے ہو وہ ایک مکھی پیدا کرنے کی بھی صلاحیت نہیں رکھتے بلکہ مکھی جیسی کمزور ترین مخلوق اگر ان کے کھانے کا کوئی ذرہ اٹھا کر لے جائے تو یہ سب مل کر اس سے واپس لینے کی طاقت بھی نہیں رکھتے۔ طالب و مطلوب سب کمزور اور ضعیف ہیں ۔ یہ لوگ انبیاء ور سل کا انکار کر کے اللہ کی ناقدری کر رہے ہیں ۔ اس لئے کہ وہ اللہ کے منتخب نمائندے ہیں ۔ اللہ کے راستہ میں جہاد کا حق ادا کر دو۔ اس نے تمہارے دین میں کوئی مشکل احکام نہیں دیئے ہیں ۔ ملت اسلامیہ ہی دراصل ملت ابراہیمی ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم امت مسلمہ کے اعمال پر گواہ بنیں گے اور امت مسلمہ دوسری امتوں کی گواہی دے گی۔ لہٰذا تم نماز اور زکوٰۃ دیتے رہو اور اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھو۔ وہ بہترین حمایتی اور بہترین مددگار ہے۔


18– قَدْ أَفْلَحَ

سورہ المؤمنون

یہ مکی سورت ہے۔ ایک سو اٹھارہ آیتوں اور چھ رکوع پر مشتمل ہے۔ ابتداء میں مؤمنین کی اعلیٰ صفات کا تذکرہ ہے، اس لئے سورت کو المؤمنون کے نام سے موسوم کر دیا گیا ہے۔ ایسے مؤمن کامیابی کے اعلیٰ درجہ پر فائز ہوں گے جو اپنی نمازوں میں خشوع و خضوع کا مظاہرہ کرتے ہیں ، بے مقصد باتوں سے گریز کرتے ہیں ۔ زکوٰۃ کی ادائیگی کا اہتمام کرتے ہیں ۔ اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں ۔ ایسے لوگ نہ قابل ملامت ہیں اور نہ ہی حد سے تجاوز کرتے ہیں ۔ جو اپنے عہد و پیمان کے محافظ اور امانتدار ہیں ۔ پنج وقتہ نمازوں کے پابند ہیں ، یہی لوگ جنت الفردوس کے دائمی وارث ہیں ۔ اس کے بعد تخلیق انسانی کے مختلف مراحل کو ایسے معجزانہ انداز میں بیان کیا ہے کہ تعصب اور ہٹ دھرمی سے پاک ہو کر مطالعہ کیا جائے تو بے اختیار قدرت خداوندی اور حقانیت قرآنی کا اعتراف زبان پر جاری ہو جاتا ہے۔ مٹی کے جوہر سے انسان کی تخلیق کی ابتداء ہوئی پھر نطفہ، علقہ، مضغہ کے مراحل پھر ہڈیاں اور گوشت بننے کا مرحلہ (اس کے بعد شکم مادر سے باہر آنے کا کراماتی مرحلہ پھر دنیا کی عارضی زندگی پھر موت کے بعد قبر میں دفن ہونے کا مرحلہ) ان تمام مراحل کے بعد قیامت کے دن کے احتساب کے لئے بوسیدہ ہڈیوں اور گوشت کے بکھرے ہوئے ذرات کو جمع کر کے پھر سے زندہ کرنے کا آخری مرحلہ۔ آپ غور تو کریں کہ اس مہارت اور خوبصورتی کے ساتھ انسانی تخلیق کا کارنامہ سر انجام دینے والا کس قدر برکتوں والا ہے۔ اللہ نے ساتوں آسمان بنائے، پانی برسایا، زمین کے اندر جذب کرنے کی صفت کے پیش نظر اس پانی کے جذب ہو کر غائب ہو جانے کا یقینی امکان تھا مگر اللہ نے مخصوص فاصلہ پر اس پانی کو جمع فرما کر انسانی ضروریات کے لئے زمین کے اندر روک کر محفوظ کر لیا۔ پھر اس پانی سے باغات پھل پھول اور پودے پیدا فرمائے۔ بلندیوں پر پیدا ہونے والا زیتون کا درخت اگایا جس سے چکنائی والا تیل حاصل ہوتا ہے اور کھانے والوں کا لقمہ اس سے تر کیا جاتا ہے۔ جانوروں میں بھی سبق آموز نشانیاں موجود ہیں ۔ ان کے پیٹ سے تمہیں دودھ کی شکل میں بہترین مشروب اور دوسرے فوائد بھی عطاء کئے جاتے ہیں ۔ تمہاری خوراک کی ضروریات ان سے پوری ہوتی ہیں ان جانوروں اور کشتیوں سے تمہاری سواری اور بار برداری کے مسائل بھی حل ہوتے ہیں ۔ اس کے بعد سلسلۂ نبوت کا تذکرہ شروع ہو گیا۔ ابو البشر ثانی حضرت نوح علیہ السلام نے اپنی قوم کو دعوت توحید دی تو وہ بھونڈے اعتراض کرنے لگے۔ آپ کی ایک انسان سے زیادہ حیثیت ہی کیا ہے؟ آپ دین کے نام سے ہم پر اپنی برتری ثابت کرنا چاہتے ہیں ۔ اگر اللہ نے رسول بنانا ہی تھا تو کسی فرشتے کو رسول بنا دیتے۔ نوح علیہ السلام نے قوم کے جھٹلانے کی شکایت اللہ کے دربار میں پیش کی، اللہ نے کشتی بنانے کا حکم دیا۔ آسمان سے پانی برسا کر سیلاب کا عذاب بھیجا۔ نوح علیہ السلام اور ایمان والوں کو کشتی میں بحفاظت تمام بچا لیا اور کافروں کو غرق کر کے آنے والوں کے لئے عبرت کا سامان بنا دیا۔ پھر دوسری قومیں اللہ نے پیدا کیں ۔ ان میں توحید کا پیغام دے کر رسول بھیجے۔ انہوں نے جھٹلایا اور اعتراضات کئے، ان پر بھی عبرتناک عذاب بھیج کر ہلاک کر دیا گیا اور ان کے سبق آموز تذکرے بعد میں آنے والوں کے لئے چھوڑ دیئے۔ موسیٰ و ہارون علیہمالسلام کو فرعون اور اس کی قوم کی طرف بھیجا۔ اس نے تکبر اور بڑائی کی وجہ سے ان کی بات ماننے سے انکار کیا۔ ہر قسم کے وسائل اور مضبوط حکومتی نظام کے باوجود وہ ہلاک ہو کر رہے۔ عیسیٰ علیہ السلام اور ان کی والدہ کو بھی ہم نے اپنی قدرت کی نشانی کے طور پر بھیجا۔ انہیں بہترین ٹھکانہ عطاء کیا۔ انبیاء و رسل کو پاکیزہ خوراک کے استعمال اور نیک اعمال سرانجام دیتے رہنے کی تلقین کے ساتھ بتایا کہ ہماری نعمتیں استعمال کرنے کے باوجود منکرین اپنی سرکشی اور طغیانی سے باز نہیں آتے۔ مگر جب ہم عیش و عشرت میں رہ کر گناہ کرنے والوں کی گرفت کرتے ہیں تو پھر یہ ہماری پناہ حاصل کرنے کے لئے دوڑتے ہیں ۔ ایسے وقت میں ان کی کوئی مدد نہیں کی جاتی۔ حق کو اگر ان کی خواہشات کا تابع بنا دیا جائے تو کائنات میں فساد برپا ہو جائے۔ پھر قدرت خداوندی اور توحید کے دلائل دیتے ہوئے بتایا کہ اللہ ہی نے آنکھ کان اور دل عطاء فرما کر انسان کو اس سرزمین میں پیدا کیا۔ زندگی اور موت اس کے قبضۂ قدرت میں ہے۔ دن اور رات کو وہی لاتا ہے مگر یہ لوگ عقل سے کام نہیں لیتے یہ کہتے ہیں کہ مر کر ہم پیوند زمین اور بوسیدہ ہڈیاں بن جائیں گے کیا پھر بھی ہمیں دوبارہ پیدا کر لیا جائے گا۔ ایسے وعدے ہمارے آباء و اجداد سے بھی کئے جاتے رہے۔ یہ سب افسانہ تراشیاں ہیں ۔ آپ ان سے پوچھئے آسمان و زمین اور اس پر بسنے والوں کا مالک کون ہے۔ یہ جواب دیں گے کہ اللہ ہی ہے مگر نصیحت حاصل نہیں کرتے۔ ان سے پوچھئے! ساتوں آسمان اور عرش عظیم کس کا ہے یہ کہیں گے اللہ ہی کا ہے پھر بھی یہ تقویٰ اختیار نہیں کرتے۔ ان سے کہئے کہ ہر چیز پر کس کی حکمرانی ہے جو پناہ دے سکتا ہے اور اس کے مقابلہ میں کوئی پناہ نہیں دے سکتا۔ یہ کہیں گے کہ اللہ ہی ہے مگر پھر بھی سحر زدہ افراد کی طرح کہاں بہکے چلے جا رہے ہیں ۔ اللہ کی کوئی اولاد نہیں ہے۔ نہ ہی اس کے ساتھ کوئی دوسرا معبود شریک ہے۔ یہ جو دعوے کرتے ہیں اللہ ان سے پاک ہے دین کے داعیوں کے لئے کچھ رہنما اصول بیان کرتے ہوے فرمایا تواضع اور انکساری کے ساتھ اللہ سے مانگو کہ تمہیں ظالموں کا ساتھی نہ بنائے۔ کافروں کے ساتھ بھی خوش گفتاری اور حسن اخلاق کا مظاہرہ کرو اور شیطانی وساوس سے اللہ کی پناہ مانگتے رہو۔ اس کے بعد قیامت اور اللہ کے دربار میں پیشی کا منظر دکھایا کہ اعمال اور ایمان کی بنیاد پر جن کے نامۂ اعمال کا وزن بھاری ہو جائے گا وہ کامیاب ہوں گے جبکہ ہلکے نامۂ اعمال والے ناکام و نامراد ہوں گے۔ انہیں ذلت و رسوائی کا سانا کرنا پڑے گا۔ قیامت کے دن ایسا محسوس ہو گا کہ دنیا کی زندگی ایک آدھ دن سے زیادہ نہیں تھی۔ اللہ نے انسانوں کو بے مقصد اور بے کار پیدا نہیں کیا ہے جو اللہ کے ساتھ بلا دلیل معبودانِ باطل کو شریک کرے گا اس کا سخت محاسبہ ہو گا ایسے کافر بھی فلاح نہیں پا سکیں گے۔ آپ اللہ سے اس کی رحمت و مغفرت طلب کرتے رہیں وہ بہترین رحم کرنے والا ہے۔

سورہ النور

یہ مدنی سورت ہے۔ چونسٹھ آیتوں اور نو رکوع پر مشتمل ہے، اس سورت میں پاکیزہ معاشرہ قائم کرنے کے زرین اصول بیان کئے گئے ہیں اور بھرپور انداز میں قانون سازی کا عمل سر انجام دیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی توحید کے موضوع پر بھی دلائل و شواہد پیش کئے گئے ہیں ۔ زنا کار مردوں عورتوں کو بے رحم قانون کے شکنجہ میں کسنے کا حکم دیا ہے اور سزا کو مؤثر بنانے کے لئے عوام کے مجمع کے سامنے سزا نافذ کرنے کی تلقین ہے تاکہ زانی کو زیادہ سے زیادہ تکالیف اور ذلت و رسوائی ہو اور سزا کا مشاہدہ کرنے والوں کے لئے بھی عبرت و موعظت کی صورت پیدا ہو۔ غیر شادی شدہ مرد و عورت ارتکاب زنا کی صورت میں سو کوڑوں کے مستحق قرار دیئے گئے ہیں اور زانی اور مشرک کو ایک ہی صف میں کھڑا کیا گیا ہے۔ زنا کے ثبوت کے لئے چار گواہوں کی شرط عائد کی گئی ہے اور زنا کی جھوٹی تہمت لگانے پر اسی کوڑوں کی سزا کا اعلان کیا گیا ہے اور مستقبل میں ایسے شخص کو مردود الشہادۃ قرار دیا گیا ہے۔ میاں بیوی میں اگر اعتماد کا فقدان ہو جائے اور شوہر کو بیوی پر زناکاری کے حوالہ سے اعتراض ہو مگر اس کے پاس گواہ موجود نہ ہوں اور بیوی اعتراف نہ کرتی ہو تو اس بے اعتمادی کی حالت میں خاندانی زندگی مشکلات کا شکار ہو جائے گی، اس لئے ایسی شادی کو ختم کرنے کے لئے ’’لعان‘‘ کے نام سے قانون وضع کیا گیا ہے۔ جس کا طریقہ یہ ہے کہ شوہر عدالت کے اندر اپنے الزام کو حلفیہ طور پر چار مرتبہ دہرائے اور اپنی صداقت کا اعتراف کرے اور پانچویں مرتبہ یوں کہے کہ میرے جھوٹا ہونے کی صورت میں مجھ پر اللہ کی لعنت ہو۔ جبکہ بیوی چار مرتبہ حلفیہ طور پر شوہر کی تردید کرتے ہوئے اسے جھوٹا قرار دے اور پانچویں مرتبہ یہ کہے کہ اگر شوہر اپنی بات میں سچا ہے تو مجھ پر اللہ کا غضب نازل ہو۔ اس کے بعد عدالت ان میں علیحدگی کا فیصلہ کر دے اور آئندہ انہیں میاں بیوی کی حیثیت سے رہنے کے حق سے محروم کر دے۔ اس کے بعد واقعہ افک اور اس کے متعلق احکام کا بیان ہے۔ جہاد کے ایک سفر میں حضرت عائشہ حضور علیہ السلام کے ہمراہ تھیں ، ایک جگہ پڑاؤ کے موقع پر وہ قضاء حاجت کے لئے گئی ہوئی تھیں کہ لشکر کو روانگی کا حکم دے دیا گیا اور وہ لشکر سے پیچھے رہ گئیں ۔ پیچھے رہ جانے والے سامان کی دیکھ بھال کے لئے مقرر شخص صفوان بن معطل بعد میں حضرت عائشہ کو لے کر مدینہ منورہ پہنچے تو منافقین نے یہودیوں کے ساتھ مل کر افواہوں اور جھوٹے الزامات کا ایک طوفان کھڑا کر دیا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت عائشہ کی پاکبازی اور برأت کا اعلان کیا اور ایسی صورتحال کے لئے رہنما اصول بیان فرمائے۔ قرآن کریم نے فرمایا کہ زنا کے الزام کی صورت میں اگر چار گواہ پیش نہ کئے جا سکیں تو الزام لگانے والے کو جھوٹا شمار کر کے ’’حد قذف‘‘ کا مستحق قرار دے کر کوڑوں کی سرعام سزا جاری کی جائے تاکہ آئندہ کے لئے ایسی افواہوں اور الزامات کے پھیلانے والوں کی حوصلہ شکنی ہو اور دوسروں کی کردار کشی کی ناجائز حرکتوں کا سد باب ہوسکے۔ دوسروں پر الزام لگانے کو معمولی نہ سمجھا جائے، اس سے معاشرہ میں بے حیائی کا حجاب اٹھتا ہے اور اسلامی معاشرہ کے ایک معزز شخص کی عزت کی پامالی اور کردار کشی ہوتی ہے، لہٰذا اگر بلا ثبوت ایسا کوئی الزام سامنے آئے تو یہ سوچ لو کہ ایسی کوئی بات اگر تمہارے بارے میں کہی جائے تو تمہارا رویہ کیا ہو گا اور اس جھوٹے الزام کو اپنے بارے میں تم کس حد تک تسلیم کرو گے۔ اگر اپنے بارے میں تسلیم نہیں کرتے تو دوسرے کے باروں میں اس طرح تسلیم کر لینے کا کیا جواز ہے۔ تمہیں تو اس قسم کی باتوں کا تذکرہ بھی زبان پر لانے سے گریز کرنا چاہئے۔ فحاشی اور عریانی کی باتیں پھیلانے والوں کے لئے دنیا میں کوڑوں کی شکل میں آخرت میں جہنم کی آگ کی شکل میں دردناک عذاب ہے۔ اس واقعہ میں حضرت ابوبکر کی زیر کفالت ان کا ایک رشتہ دار مسطح بن اثاثہ بھی ملوث تھا جب ان کی صاحبزادی ام المؤمنین حضرت عائشہ کی برأت کے لئے آیات قرآنیہ نازل ہو گئیں تو صدیق اکبر نے ان کی کفالت سے دستکشی اختیار کر لی جس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ مالی وسعت رکھنے والوں کو زیب نہیں دیتا کہ ذاتی وجوہات کی بنیاد پر کسی کی روزی کو بند کرنے کی کوشش کریں ۔ عفو و درگزر سے کام لینا چاہئے، کیا تم نہیں چاہتے کہ اللہ بھی تم سے عفو و درگزر کا معاملہ فرمائیں ۔ اس ارشاد قرآنی کے بعد صدیق اکبر نے فوراً ہی ان کا وظیفہ بحال کر دیا۔ اس کے بعد قرآن کریم نے بتایا کہ بے حیا اور بدکار مرد و عورتیں باہمی طور پر ایک دوسرے کے لئے ہیں ۔ جبکہ پاکیزہ اور صالح مرد و عورتیں باہمی طور پر ایک دوسرے کے لئے ہیں ۔ لہٰذا عائشہ صدیقہ جب حضور علیہ السلام جیسے پاکیزہ اور نیک لوگوں کے سردار کی بیوی ہیں تو ان کی پاکبازی میں کوئی شک نہیں ہونا چاہئے۔ گھروں میں داخلہ کے وقت سلام کرنے اور اجازت لے کر اندر جانے کی تلقین اور عورتوں کو اپنی زیب و زینت ظاہر کرنے سے منع کرنے اور پردہ کا اہتمام کرنے کی ترغیب اور مردوں عورتوں کو اپنی نگاہوں کی حفاظت کا حکم دیا ہے۔ عفت و عصمت کی حفاظت کے لئے نکاح کی ترغیب دی گئی ہے۔ پھر آسمان و زمین کی نشانیوں میں غور کر کے اللہ کی قدرت کا اعتراف کرنے کی طرف متوجہ کیا گیا۔ کافروں کے اعمال کو سراب سے تشبیہ دے کر بتایا ہے کہ جس طرح سخت گرمی میں صحرا کی تپتی ہوئی ریت پر پانی کا گمان ہونے لگتا ہے جبکہ اس کی حقیقت کچھ بھی نہیں ہوتی اسی طرح کافروں کے اعمال قیامت کے دن بے حقیقت قرار پائیں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ایمان اور اعمال صالحہ کرنے والوں کو زمین میں اقتدار دینے کا وعدہ کیا ہے۔ ایسے مخصوص اوقات جن میں گھر کے اندر زوجین عام طور پر شب خوابی کے لباس میں ہوتے ہیں ایسے وقت میں گھر کے افراد کو بھی بغیر اجازت کے کمرے میں جانے کی ممانعت کی گئی ہے۔ گھر کی استعمال کی اشیاء اور کھانے پینے کی چیزیں دوسرے کی اجازت کے بغیر استعمال کرنے کے لئے ضابطہ بیان کر دیا کہ معذور حاجتمند ہو یا قریبی رشتہ داری اور تعلق ہو جس کے پیشِ نظر اس بات کا یقین ہو کہ مالک برا نہیں منائے گا تو اس کی چیز کو بلا اجازت استعمال کی اجازت ہے۔

سورہ الفرقان

یہ مکی سورت ہے، ستتر آیتوں اور چھ رکوع پر مشتمل ہے۔ قرآن کریم حق و باطل میں امتیاز کی تعلیم دیتا ہے اور دنیا کو اللہ کی طاقت سے ڈرانے کے لئے نازل کیا گیا ہے۔ اللہ کی نہ بیوی ہے نہ اولاد وہ تمام کائنات کا بلا شرکت غیرے مالک ہے۔ معبودان باطل نہ زندگی اور موت کا اختیار رکھتے ہیں نہ ہی نفع و نقصان پہنچا سکتے ہیں ۔ لہٰذا ان کی عبادت بے سود ہے۔ پھر کافروں کے قرآن کریم پر بے جا اعتراضات اور نبی سے بے جا مطالبات کا تذکرہ کر کے بتایا گیا ہے کہ ان کے مطالبے پورے کرنا اللہ کے لئے کوئی مشکل نہیں ہے لیکن یہ ہٹ دھرم ماننے والے نہیں ہیں اس لئے ان کی مطلوبہ باتیں پوری کر دینا ان کے کفر میں اضافہ کا باعث بنے گا اور اس سے ان پر ہلاکت اور عذاب اترنے کی راہ ہموار ہو گی اس لئے انہیں اپنے حال پر رہنے دیں ۔ قیامت کے دن ان کے معبود ان سے برأت کا اظہار کرنے لگیں گے اور یہ اپنے معبودوں سے برأت کا اظہار کریں گے۔قیامت کے دن انہیں نجات کا کوئی راستہ نہیں ملے گا۔ نہ مالی رشوت سے کام چلے گا اور نہ ہی کوئی معاون و مددگار وہاں پر ہو گا۔ وہاں پر ہم ظالموں کو دردناک عذاب کا مزہ چکھائیں گے۔ آپ سے پہلے انبیاء و رسل بھی بازاروں میں جاتے اور کھانا کھاتے تھے ان کی قوم ان پر بھی اعتراضات کرتی تھی۔ ہم نے لوگوں کو ایک دوسرے کی آزمائش کا ذریعہ بنایا ہے ان سے کہئے۔ کچھ صبر کریں اور ہمارے عذاب کا انتظار کریں آپ کا رب سب کچھ دیکھ رہا ہے۔


19– وَقَالَ الَّذِينَ


مشرکین کے دو مطالبوں کا جواب ہے، ایک تو یہ کہ فرشتہ صرف محمد علیہ السلام پر ہی کیوں اترتا ہے ہم پر کیوں نہیں اترتا اور اللہ تعالیٰ ہم سے کیوں ملاقات نہیں کرتے؟ قرآن کریم نے اس کا جواب دیا کہ اس مطالبہ کی وجہ تکبر و سرکشی ہے اور قیامت کا انکار ہے۔ عام انسانوں پر فرشتوں کے اترنے کا مطلب ہوتا ہے کہ ان کا یوم احتساب آ گیا، جس دن بادل پھٹیں گے اور فرشتے اتریں گے اس دن مجرمین کے لئے کوئی اچھی خبر نہیں ہو گی، ان کے اعمال فضاء میں تحلیل ہو کر رہ جائیں گے۔ کافروں پر وہ دن بہت بھاری ہو گا۔ ظالم افسوس اور ندامت سے اپنا ہاتھ چبا رہے ہوں گے، اس دن ایک اللہ کے علاوہ کسی کا حکم نہیں چلے گا۔ رسول علیہ السلام شکوہ کریں گے کہ میری قوم نے اس قرآن کو پس پشت ڈال دیا تھا۔ دوسرا اعتراض یہ ہے کہ قرآن تھوڑا تھوڑا کر کے کیوں نازل ہو رہا ہے؟ ایک دم سارا کیوں نازل نہیں ہو جاتا۔ اللہ تعالیٰ نے حاکمانہ انداز میں فرمایا: ہم قادر مطلق ہیں ، ہم اسی طرح نازل کریں گے پھر حکیمانہ توجیہ بیان کر دی، آپ کے قلبی اطمینان کے لئے اور ٹھہر ٹھہر کر تلاوت کرنے اور ہر موقع کی بہترین تشریح و توضیح کے لئے ہم نے ایسا کیا ہے۔ پھر موسیٰ و ہارون کا تذکرہ کر کے بتایا کہ ہم نے منکرین توحید و رسالت فرعونیوں کو ہلاک کر کے رکھ دیا، پھر نوح علیہ السلام اور ان کی جھٹلانے والی قوم کے سیلاب میں غرق ہونے کا تذکرہ پھر قوم عاد و ثمود اور ان کے علاوہ بہت سی اقوام کی ہلاکت کا تذکرہ پھر یہ بتایا کہ یہ لوگ ہمارے نبی کا انکار کرتے اور ان کا مذاق اڑاتے ہیں ۔ اس قسم کی حرکتیں وہ لوگ کرتے ہیں جو خواہشات کو اپنا معبود بنا لیں اور عقل و شعور سے کام لینا چھوڑ دیں ، یہ لوگ جانور ہیں بلکہ ان سے بھی بدتر ہیں ۔ یہ لوگ کائناتی شواہد اور واقعاتی دلائل میں غور کر کے دیکھیں کہ سورج کی نقل و حرکت سائے کو کس طرح بڑا چھوٹا کرتی ہے۔ رات انسانوں کو ڈھانپ لیتی ہے اور نیند تھکن کو ختم کر کے سکون کا باعث بنتی ہے اور دن چلنے پھرنے اور روزی کمانے کا ذریعہ ہے۔ بارش سے پہلے ٹھنڈی ہوائیں پانی برسنے کا پیغام لے کر آتی ہیں اور آسمان سے صاف ستھرا پانی برستا ہے جو مردہ زمین کی زندگی کا باعث بنتا ہے اور بے شمار انسانوں اور جانوروں کو سیراب کر دیتا ہے۔ ہم اسی طرح مختلف انداز اور اسالیب سے بات کرتے ہیں تاکہ وہ لوگ سمجھ کر نصیحت حاصل کرسکیں ۔ لیکن پھر بھی اکثر لوگ انکار پر اتر آتے ہیں ۔ آپ ان کی اطاعت نہ کریں بلکہ قرآن کریم کی روشنی میں ان کے ساتھ جہاد کرتے رہیں ۔ یہ بھی اللہ کی قدرت کا مظاہرہ ہے کہ میٹھے اور کھارے پانی کی لہریں ایک ساتھ چلتی ہیں ۔ اسی اللہ نے پانی سے انسانی زندگی کو تخلیق فرما کر اس کے نسبی اور سسرالی رشتہ بنا دیئے اور تیرا رب ہر چیز پر قادر ہے۔ اس کے بعد بے اختیار معبودوں کو قابل عبادت سمجھنے کی مذمت اور رسول کے فرض منصبی ’’نذیر و بشیر‘‘ ہونے کا بیان، کسی بھی قسم کے مفادات سے بالاتر ہو کر قرآنی تعلیمات کو عام کرنے کا حکم اور دائمی حی و قیوم ذات کی تسبیح و تحمید اور اسی پر توکل کی تلقین ہے اور آیت نمبر ۶۴ سے سورت کے اختتام تک ’’عبادالرحمن‘‘ کی خوبیاں اور صفات بیان کی ہیں کہ وہ تواضع اور انکساری کے خوگر اور جاہلوں سے کنارہ کش رہتے ہیں ۔ ان کی راتیں تہجد میں گزرتی ہیں اس کے باوجود جہنم سے پناہ مانگتے ہیں ۔ فضول خرچی اور بخل سے دور رہتے ہیں ۔ توحید کے علمبردار، شرک سے بالاتر اور بے گناہ معصوموں کے قتل سے باز رہنے والے، اپنے گناہوں پر توبہ کر کے اپنے قصور کا اعتراف کرنے والے۔ ایسے لوگوں کو اللہ تعالیٰ معاف فرما کر ان کے گناہوں کو بھی نیکیوں میں تبدیل کر دیتے ہیں ۔ وہ لوگ بے مقصد زندگی نہیں گزارتے۔ ناجائز کاموں اور جھوٹی گواہی دینے سے بچتے ہیں ۔ اپنے رب کی باتوں پر سوچ سمجھ کر قدم اٹھاتے ہیں ۔ وہ اپنے بیوی بچوں سمیت ایسی زندگی اختیار کرنے کے لئے دعا گو رہتے ہیں جو آنکھوں کی ٹھنڈک بنے اور متقیوں میں سر فہرست رہنے کے متمنی رہتے ہیں ۔ انہی لوگوں کو جنت میں سلامیاں دی جائیں گی اور جنت کے بالا خانے ان کا مقدر ہوں گے۔ سورت کے آخر میں اللہ تعالیٰ کی شان استغناء کا بیان ہے کہ اگر تم مشکلات و مصائب میں اللہ کے سامنے رونے دھونے اور گِڑ گڑانے میں مشغول نہ ہوتے تو اللہ تعالیٰ تمہاری قطعاً کوئی پرواہ نہ کرتے اور دنیا میں ہی تمہیں ہلاک کر کے رکھ دیتے۔
سورہ الشعراء

سورت کے آخر میں شعراء اور ان کی ذہنیت کا تذکرہ ہے، اس لئے پوری سورت کو شعراء کے نام سے معنون کر دیا گیا ہے۔ یہ مکی سورت ہے اور اس میں دوسو ستائیس آیتیں اور گیارہ رکوع ہیں ۔ اس سورت کا مرکزی مضمون اثبات رسالت ہے۔ انبیاء علیہم السلام کے واقعات اور ان کے منکرین کے انجام سے اس مضمون کو تقویت دی گئی ہے۔ سورت کی ابتداء میں قرآن کریم کے برحق اور واضح کتاب ہونے کا اعلان اور حضور علیہ السلام کی انسانیت کی ہدایت کے لئے شدت حرص کا بیان ہے۔ اللہ اگر چاہیں تو ان کی مطلوبہ نشانیاں دکھا کر ان کی گردنیں جھکا سکتے ہیں مگر اسلام کے لئے کسی پر زبردستی اور جبر نہیں کیا جاتا۔ ان جھٹلانے اور استہزاء و تمسخر کرنے والوں کے ساتھ سابقہ قوموں والا معاملہ کرنا اللہ کے لئے کوئی مشکل نہیں ہے۔ انہیں پہلی قوموں کے حالات میں غور کر کے اس سے درس عبرت حاصل کرنا چاہئے۔ پھر قرآن کریم نے اکثریت(Majority) اور اقلیت (Minority)کے نظریہ کا بطلان واضح کرنے کے لئے آٹھ مرتبہ اسی بات کو دہرایا اور ہر نبی کے تذکرہ کے آخر میں کہا ہے کہ اچھے اور پاکباز کبھی بھی اکثریت میں نہیں رہے اور معرکۂ حق و باطل میں نصرت خداوندی حق کے ساتھ ہوا کرتی ہے، اگرچہ وہ اقلیت میں ہو اور باطل کو تباہ کر دیا جاتا ہے اگرچہ وہ اکثریت میں ہو۔ اس حقیقت کو قصۂ موسیٰ و فرعون میں آشکارا کیا، پھر ابراہیم علیہ السلام اور ان کی قوم کے ساتھ ان کی باطل شکن اور ایمان افروز گفتگو میں واضح کیا اور بتایا کہ انسانی طبیعت کا یہ تقاضا ہے کہ اپنے محسن کو فراموش نہ کرے۔ اللہ نے انسان کو عدم سے وجود بخشا اس کی موت و حیات، بیماری و صحت اور کھانا پینا سب اس کی عنایات کا مظہر ہے۔ قیامت کے دن مال و اولاد کسی کام نہیں آسکیں گے۔ وہاں تو ’’قلب سلیم‘‘ کے حامل متقی انسان ہی نجات پا سکیں گے۔ ابلیس اور اس کا پورا لشکر قیامت کے دن اپنی ناکامیوں اور نامرادیوں پر نوحہ کناں ہو گا انہیں وہاں پر کوئی سفارشی اور حمایتی میسر نہیں آئے گا۔ پھر نوح علیہ السلام اور ان کی قوم کے درمیان توحید و شرک کا معرکہ اور اس میں اہل ایمان کی اقلیت کی کشتی میں نجات اور اہل کفر و شرک کی اکثریت کی پانی کے سیلاب میں غرقابی اس نظریہ کو واضح کر دیتی ہے کہ تعداد کی کثرت کامیابی کی ضامن نہیں بلکہ اعمال کی صورت و حسن حقیقی کامیابی کی ضامن ہے۔ پھو قوم عاد، ان کی طاقت و قوت، صنعت و حرفت میں ان کی ترقی کے باوجود اپنے نبی ہود علیہ السلام کی دعوت کا انکار اور تکذیب ان کی تباہی کا باعث بنا اور دنیوی وسائل ان کے کسی کام نہ آسکے اور ہود علیہ السلام ان کے ساتھیوں کی وسائل سے محرومی عذاب خداوندی سے نجات کے راستہ میں رکاوٹ نہ بن سکی۔
پھر قوم ثمود اور ان کے فرستادہ نبی صالح علیہ السلام کے درمیان معرکہ حق و باطل۔ باغات اور کھیتوں کی سرسبزی و شادابی، سنگتراشی کی ٹیکنیک میں ان کی مہارت اور ان کی بستی میں امن و امان کی مثالی حالت بھی نبی کے مقابلہ میں انہیں عذاب الٰہی سے نہ بچا سکی اور مفسدین کی اکثریت کو تباہی سے دوچار کر کے مومنین کی اقلیت کو اللہ نے بچا لیا۔ پھر لوط علیہ السلام اور ان کی فحاشی و عیاشی میں ڈوبی ہوئی قوم کے درمیان شرافت و شیطنت کے معرکہ میں لوط علیہ السلام کی کامیابی اور ان کے مخالفین کی عبرتناک ہلاکت نے شریف اقلیت کو شریر اکثریت پر غلبہ کی نوید سنا دی ہے۔پھر شعیب علیہ السلام کا مقابلہ ایک مستحکم معیشت و تجارت کی حامل قوم کے ساتھ۔ جس میں ایک طرف ناپ تول میں کمی، جھوٹ اور فساد کی گرم بازاری اور دوسری طرف امانت و دیانت اور صدق و صلاح کے ساتھ وسائل سے محروم اقلیت کی کامیابی و کامرانی اہل حق کے لئے نصرت خداوندی اور اہل باطل کے لئے آسمانی پکڑ کا واضح اعلان ہے۔
پھر قرآن کریم کے ’’کلام رب العالمین‘‘ ہونے کا واشگاف اعلان، امانت دار فرشتے جبریل کے ذریعہ اس کا نزول، واضح عربی زبان میں اس کی ترکیب و تنسیق اور پہلی کتابوں میں اس کے کلام برحق ہونے کی بشارتوں کے باوجود مشرکین مکہ کی طرف سے اس کا انکار ان کے تعصب اور مجرمانہ ذہنیت کا آئینہ دار ہے۔ ایک لمبے زمانہ تک بھی اگر یہ لوگ دنیا کی عارضی نعمتوں میں سرشار رہیں تب بھی یہ عذاب خداوندی سے کسی طرح نہیں بچ سکیں گے۔ اصلاح کے عمل کا آغاز اپنے گھر اور خاندان سے کیا جائے۔ اللہ پر توکل اور اس کے سامنے ’’جبین نیاز‘‘ جھکا کر رکھنا کامیابی کی دلیل ہے۔قادر الکلام دانشوروں اور شعراء نے اسلامی نظام کے راستہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنے میں نہایت شرمناک مکروہ کردار اد اکیا تھا۔ قرآن کریم ان کی مذمت کرتے ہوئے کہتا ہے کہ شعراء کی پیروی کرنے والے گمراہ لوگ ہوتے ہیں کیونکہ شاعر ہر وادی میں سرگرداں اور ہر کھیت میں منہ مارنے کے عادی ہوتے ہیں ۔ البتہ ان میں ایمان و اعمال صالحہ اور اللہ کے ذکر سے سرشار لوگ بھی ہوتے ہیں جو اپنے شاعرانہ کلام سے مظلومین کے ساتھ معاون اور ان کا حق دلانے میں مددگار ہوتے ہیں اور آخر میں ظالموں کو ان کے عبرتناک انجام پر متنبہ فرما کر سورت کو ختم کر دیا گیا۔

سورہ النمل

مکی سورت ہے، اس میں ترانوے آیتیں اور سات رکوع ہیں ۔ سورت کی ابتداء میں قرآن کریم کے اہل ایمان کے لئے بشارت اور ہدایت کی واضح کتاب ہونے کا اعلان ہے۔ پھر منکرین آخرت کے انجام بد کی نوید سنائی گئی ہے۔ اس کے بعد قصۂ موسیٰ و فرعون کی شکل میں معرکۂ حق و باطل کو دل آویز اختصار کے ساتھ بیان کر کے بتایا کہ اللہ اپنے بندوں کی مدد کرتے ہیں اور انہیں خوف اور ہر قسم کی مشکلات سے بچاتے ہیں جبکہ ظالموں کو عبرتناک انجام سے دوچار کرتے ہیں ۔ پھر داؤد و سلیمان علیہما لسلام کے واقعہ کی شکل میں اقتدار و بادشاہت اور نبوت و رسالت کے حسین امتزاج اور مادی و روحانی ترقی کے بام عروج پر پہنچ کر بھی عبدیت و ایمان کے روح پرور مناظر کو بیان کیا ہے۔
دونوں باپ بیٹوں کو بے پناہ وسائل، جنات پر حکمرانی اور پرندوں کی گفتگو سمجھنے کا سلیقہ بھی عطاء کیا گیا تھا۔ سلیمان علیہ السلام ایک مرتبہ جن و انس اور پرندوں پر مشتمل اپنے لشکر کے ساتھ جا رہے تھے کہ ’’وادی النمل‘‘ چیونٹیوں کے علاقہ سے ان کا گزر ہوا۔ ایک چیونٹی کے متوجہ کرنے پر چیونٹیاں اپنے بچاؤ کے لئے بلوں میں گھسنے لگیں تو حضرت سلیمان علیہ السلام اس منظر سے بہت محظوظ ہوئے اور اللہ کا شکر بجا لاتے ہوئے اس کی رحمت کے طلبگار ہوئے۔ پھر ہدہد پرندہ کے ذریعہ موصول ہونے والی خبر پر ملک سباء کے سورج پرست عوام اور ان کی ملکہ بلقیس کے نام حضرت سلیمان علیہ السلام کے خط کے تذکرہ کے ساتھ ہی حضرت سلیمان کی جاہ و حشمت اور وسائل کی فراوانی کو بیان کر کے بتایا گیا ہے کہ قوم سباء کے نخوت و تکبر کے مقابلہ میں سلیمان علیہ السلام کی عجز و انکساری کو فتح نصیب ہوئی۔ حضرت سلیمان کے جنات نے ملکہ سباء کا تخت پلک جھپکتے میں منتقل کر دیا اور ملکہ بلقیس دربار سلیمانی میں حاضر ہو کر آپ کی شان و شوکت سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکی اور کلمہ پڑھ کر حلقہ بگوش اسلام ہو گئی۔ پھر قوم ثمود اور ان کے نبی صالح علیہ السلام کے روپ میں اسلام اور کفر کا معرکہ وسائل و انتظامات کے مقابلہ میں ایمان و اعمال صالحہ کی جیت کو بیان کیا گیا ہے۔ پھر قوم لوط اور ان کی بدکرداری کے مقابلہ میں اللہ کے نبی لوط علیہ السلام کی فتح اور نافرمانوں کی تباہی کی منظر کشی کی گئی ہے۔اور پارہ کے آخر میں اللہ کی حمد و ثناء اور منتخب بندگانِ خدا پر سلامتی کی نوید سنائی گئی ہے اور معبود حقیقی اور معبودان باطل میں تقابلی مطالعہ کے ذریعہ حق تک رسائی حاصل کرنے کی راہ سجھائی گئی ہے۔


20– أَمَّنْ خَلَقَ


توحید باری تعالیٰ پر ’’تقریری اسلوب‘‘ سے دلائل پیش کرتے ہوئے بیسویں پارہ کی ابتداء ہوتی ہے کہ تم جتنی بھی کوشش کر لو، غور و خوض کر لو، اس سوال کا جواب یہی ہوسکتا ہے، قرآن کریم کہتا ہے آسمان و زمین کو پیدا کر کے بارش برسا کر پُر رونق سرسبز و شاداب باغ اور باغیچے کس نے پیدا کئے؟ کیا تم ایسے درخت بنا سکتے تھے۔ کیا اللہ کے ساتھ کوئی دوسرا معبود ہوسکتا ہے۔ اس کے باوجود یہ لوگ اللہ کو چھوڑ کر دوسرے معبودوں کے پیچھے بھٹکنے لگ جاتے ہیں ۔ کس نے زمین کو ہچکولے کھانے سے روک کر جانداروں کے لئے قرار گاہ بنایا۔ اس میں نہریں اور پہاڑ بنائے اور دو دریاؤں کو آپس میں مخلوط ہونے سے بچانے کے لئے درمیان میں حد فاصل بنائی، کیا ایسے اللہ کے ساتھ کوئی دوسرا معبود شریک کار ہوسکتا ہے؟ لیکن یہ مشرک لوگ علم کے تقاضے پورے نہیں کرتے۔ پریشان حال جب پکارتا ہے تو اس کی تکلیف دور کرنے اور تمہیں زمین پر اختیارات سونپنے والا کون ہے؟ خشکی اور تری کے اندھیروں میں ہدایت دینے والا اور بارش سے پہلے ٹھنڈی ہوائیں چلانے والا کون ہے۔ تمہاری پہلی تخلیق کے بعد دوبارہ پیدا کرنے اور آسمان و زمین سے تمہیں روزی بہم پہنچانے والا کون ہے؟ آسمان و زمین کے چھپے ہوئے بھید جاننے والا کون ہے؟ ان مشرکین کے پاس شرک کے لئے کوئی دلیل نہیں جس سے اپنی سچائی ثابت کرسکیں ۔ یہ بے سوچے سمجھے بہکے چلے جا رہے ہیں ۔ دراصل آخرت کے بارے میں ان کا ’’علم‘‘ ان سے کھو گیا ہے بلکہ یہ شکوک و شبہات میں مبتلا ہو کر بینائی کے تقاضوں سے محروم ہو چکے ہیں ۔ پھر مشرکین کے گھسے پٹے اعتراض کی بازگشت سنائی گئی ہے کہ بوسیدہ ہڈیوں اور پیوند زمین ہو جانے کے بعد ہمیں دوبارہ کیسے زندہ کیا جائے گا ایسے مجرموں کا انجام سب کے سامنے ہے۔ جس عذاب کے لئے جلدی مچا رہے ہیں وہ اگر اچانک آ گیا تو انہیں کون بچا سکے گا؟ ہر قسم کے اختلافات کا حل قرآن کریم میں ہے۔ اس میں ہدایت بھی ہے رحمت بھی ہے، کافر سماعت کے تقاضے پورے نہیں کرتے اس لئے انہیں بہرے بلکہ مردے قرار دیا گیا ہے۔ پھر قرب قیامت کی بڑی نشانی ’’دابۃ الارض‘‘ کے ظہور کا بتایا گیا ہے۔ پھر صور پھونکا جانا، پہاڑوں کا بادلوں کی طرح اڑتے پھرنا اور لوگوں کا ٹولیوں کی شکل میں احتساب کے لئے پیش ہونا اور نیکی سر انجام دینے والوں کا گھبراہٹ سے محفوظ رہنا اور ’’بدی‘‘ کے مرتکبین کا قیامت کے دن اوندھے منہ جہنم میں ڈالا جانا بیان ہوا ہے۔ مسلمان بن کر رب کعبہ کی عبادت کی تلقین اور قرآن کریم کی تلاوت کا حکم ہے۔ ہدایت یافتہ انسان اپنا فائدہ کرتے ہیں جبکہ گمراہ اپنا ہی نقصان کرتے ہیں ۔ اللہ اپنی قدرت کے دلائل کا مشاہدہ کراتے رہیں گے جنہیں تم اچھی طرح پہچان لو گے تمہارے اعمال سے تمہارا رب غافل نہیں ۔

سورہ القصص

مکی سورت ہے۔ اٹھائیس آیتوں اور نو رکوع پر مشتمل ہے۔ پوری سورت ہی قصۂ موسیٰ و فرعون کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کر رہی ہے۔ اس لئے اس کا مرکزی مضمون ’’اثبات رسالت‘‘ ہے۔ باطل کا انداز کہ وہ حق کے ماننے والوں کو فرقوں اور دھڑوں میں تقسیم کر کے ان کی طاقت توڑتا ہے اور پھر ان پر بلا روک ٹوک مشقِ ستم کرتا ہے۔ فرعون اپنی فسادی ذہنیت کے پیش نظر اپنی ماتحت رعایا کو مختلف گروہوں میں تقسیم کر کے ان کے لڑکوں کو قتل کرا دیتا اور لڑکیوں کو زندہ رکھ کر ان سے خدمت لیتا۔ اللہ نے کمزوروں اور ضعیفوں پر احسان کر کے انہیں دنیا کی قیادت پر فائز کرنے اور فرعون کو اس کی غلطیوں اور مظالم کی سزا دینے کا فیصلہ کر کے موسیٰ علیہ السلام کو بنی اسرائیل میں پیدا کیا۔ فرعون کے گھر میں سرکاری خرچہ پر ان کی پرورش کرائی۔ پھر موسیٰ علیہ السلام کا ایک فرعونی فوجی پر حملہ اور اسے جان سے مار دینے کا واقعہ شہر مدین میں روپوشی کا زمانہ گزارنے اور حضرت شعیب علیہ السلام کی صحبت سے فیضیاب ہونے اور ان کی خدمت کرنے کا تذکرہ پھر ان کی صاحبزادی سے عقد نکاح اور وطن واپسی کے وقت راستے میں نبوت سے سرفرازی اور فرعون کے دربار میں حق و صداقت کا ڈنکا بجانے کی ذمہ داری کو ذکر کرنے کے بعد بتایا ہے کہ فرعون کے مطلوب ترین ملزم کو اس کے دربار میں برملا چیلنج کرنے کا حوصلہ عطاء فرما کر اسے مرعوب کر کے موسیٰ علیہ السلام کی حفاظت کی۔ فرعون کی بچکانہ حرکت کہ اونچی عمارت کی چھت سے آسمانی معبود پر تیر اندازی کر کے اپنی بڑائی کے جذبہ کی تسکین اور پھر خدائی پکڑ کا عبرتناک منظر کہ جن دریاؤں اور محلات و قصور پر اسے فخر تھا انہیں میں رہتے ہوئے اسے غرق کر کے اس کی جائیداد و حکومت بنی اسرائیل جیسی ضعیف قوم کے حوالہ کر کے بتایا کہ اقتدار و دولت آنی جانی ہے۔ اور اللہ اس کے ذریعہ بندوں کی آزمائش کیا کرتے ہیں ، امم ماضیہ کے واقعات کا ایک نبی امی کی زبان سے تذکرہ یہ اس کے نبی برحق ہونے کی واضح دلیل ہے۔پھر اہل حق اور اہل باطل کی ذہنیت اور ان کی عملی استعداد کو بیان کر کے واضح کیا کہ قوموں کی ہلاکت و بربادی ان کے آسمانی نظام سے بغاوت و سرکشی کا نتیجہ ہوا کرتی ہے۔ ہدایت کا اختیار اللہ کے علاوہ کسی کو حاصل نہیں ہے۔ ان کافروں کا کہنا کہ اگر ہم حق پر عمل پیرا ہوئے تو دنیا کی کافر قومیں ہمیں اچک کر لے جائیں گی بالکل بے وزن بات ہے۔ یہ لوگ حرم محترم کے باشندے ہیں جو امن کے لئے مثالی خطہ ہے اور ہر قسم کے پھل اور مصنوعات دنیا کے کونے کونے سے انہیں مہیا کی جاتی ہیں پھر یہ اس قسم کی بے سروپا باتیں یہ کیوں کرتے ہیں ؟ پھر قیامت کا دن اور معبودان باطل کی بے بسی اور بے رحم محاسبہ کا تذکرہ اور اس حقیقت کا بیان کہ اس دن ایمان اور اعمال صالحہ والے ہی کامیاب و کامران ہوسکیں گے۔ پھر مخلوقات کی تخلیق و تربیت کے تمام اختیارات اللہ کے پاس ہونے اور سینوں میں چھپے اور خفیہ بھیدوں سے واقف ہونے کا اعلان ہے۔ پھر اس کی حکیمانہ تربیت کے مظہر کو واضح کیا گیا کہ رات کا اندھیرا سکون و آرام کے لئے، دن کا اجالا کام کاج اور روزی کمانے کے لئے بنایا ہے۔ اگر اللہ رات لمبی کر کے اجالے کی آمد کو روک دے یا دن لمبا کر کے اندھیرے کا راستہ بند کر دے تو کون ہے جو تمہارے آرام اور نقل و حرکت کی ضروریات کا انتظام کرسکے۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنے دور نبوت میں ہر محاذ پر باطل کے خلاف سرگرم رہے اور منکرین آخرت کے ساتھ ’’چو مُکھی‘‘ لڑائی لڑتے رہے۔ ان کا یہ کردار فرعون و ہامان کے مقابلہ اور ’’الملاء‘‘ کے سامنے کلمۂ حق بلند کرنے، سرمایہ داری کے نمائندہ قارون کی سرزنش و فہمائش اور قوم کی بے اعتدالیوں پر صبر و تحمل کی شکل میں سامنے آتا ہے، قارون سے موسیٰ علیہ السلام کی گفتگو کو قرآن کریم نے نہایت حسین پیرائے میں یہاں بیان فرمایا ہے۔ قارون، موسیٰ علیہ السلام کا رشتہ دار اور ایک غریب انسان تھا۔ کاروبار میں ایسی برکت اور ترقی ہوئی کہ وہ بے بہا خزانوں کا مالک بن گیا۔ اس کی چابیاں سنبھالنے کے لئے پہلوانوں کی ایک جماعت کا انتظام کرنا پڑتا تھا۔ اس سے یہ کہا گیا کہ تکبر و اتراہٹ کوئی اچھی صفات نہیں ہیں جس طرح اللہ نے مال و دولت کی فراوانی عطاء فرما کر تم پر احسان کیا ہے تم غریبوں ، مسکینوں کے ساتھ تعاون کر کے مخلوق خدا پر احسان کا مظاہرہ کرو اور اپنے مال و دولت کی بنیاد پر فتنہ و فساد پھیلانے سے باز رہو، مگر اس نے اللہ کی عطاء و احسان کو تسلیم کرنے کی بجائے یہ کہنا شروع کر دیا کہ یہ سب مال و دولت میرے تجربہ اور کاروباری سوجھ بوجھ کا نتیجہ ہے۔ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ موسیٰ علیہ السلام نے جب اسے فہمائش کی تو اس نے انتقامی کارروائی کے طور پر ایک فاحشہ بدکار عورت کو پیسے دے کر موسیٰ علیہ السلام کی کردار کشی کرنے کے لئے بدکاری کا الزام لگوانے کی کوشش کی، جس پر موسیٰ علیہ السلام نے بد دعا دی جس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ قارون کو سوچنا چاہئے کہ اس سے پہلے کتنے بدکردار افراد اور قوموں کو ہم ہلاک کر چکے ہیں وہ طاقت و قوت میں اس سے بھی زیادہ تھے۔ ایک مرتبہ قارون غرور و نخوت کا پیکر بن کر خوب بن سنور کر نکلا لوگ اس کے وسائل کی فراوانی اور شان شوکت کو دیکھ کر بہت متاثر ہونے لگے۔ اللہ نے اس حالت میں اس پر اپنا عذاب مسلط کر کے زمین کو حکم دیا کہ اس بدبخت کو نگل جائے اور اس طرح اسے اس کے مال و دولت اور محلات سمیت زمین دھنسا دیا گیا۔ اس کے حشم و خدم اور حمایتی اسے اللہ کی پکڑ سے نہ بچا سکے اور دنیا پر یہ واضح ہو گیا کہ مالی وسعت و آسائش بھی اللہ کے حکم سے ملتی ہے اور رزق میں تنگی اور کمی بھی اللہ کے حکم سے آیا کرتی ہے۔
آخرت کی زندگی میں کامیابی کے لئے تکبر اور فساد جیسے رذائل سے پاک ہونا ضروری ہے، کیونکہ بہتر انجام متقیوں کے لئے مخصوص ہے۔ مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کے لئے ہجرت کے وقت آپ اپنے وطن مؤلوف کے چھوٹ جانے پر رنجیدہ خاطر تھے۔ اللہ تعالیٰ نے تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ قرآن کریم کی وجہ سے آپ پر یہ پریشانی آ رہی ہے، آپ تسلی رکھیں ، ہم آپ کو اپنے وطن میں با عزت واپس لانے کا وعدہ کرتے ہیں ۔ قرآن کریم آپ کی تمناؤں اور کوششوں سے آپ کو نہیں ملا بلکہ اللہ تعالیٰ نے محض اپنی رحمت سے یہ نعمت غیر مترقبہ آپ کو عطا فرمائی ہے لہٰذا آپ منکرین کے ساتھی اور مددگار نہ بنیں ۔
اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو شریک نہ کیجئے اس کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے، ہر چیز فانی ہے، اسی اللہ کے فیصلے کائنات میں نافذ ہوتے ہیں اور تم سب لوٹ کر اسی کے پاس جاؤ گے۔

سورہ العنکبوت

مکی سورت ہے، انہتر آیتوں اور سات رکوع پر مشتمل ہے۔ عنکبوت مکڑی کو کہتے ہیں ۔ اس سورت میں عنکبوت کا تذکرہ ہے۔ ابتداء سورت میں حق کے راستہ میں مشکلات و مصائب جھیلنے کے لئے تیار کیا گیا ہے۔ کیا لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ایمان کا دعویٰ کرنے سے ان پر کسی قسم کی آزمائش نہیں آئے گی۔ پہلی قوموں پر بھی ابتلاء و آزمائش کے دور آتے رہے ہیں ۔ سچوں اور جھوٹوں میں فرق کرنے کے لئے ہم ایسا ہی کیا کرتے ہیں ۔ بدکردار لوگ یہ نہ سمجھیں کہ وہ ہم سے سبقت لے جائیں گے۔ اللہ سے ملاقات کا وقت مقرر ہے۔ اگر کوئی دین کے لئے تکلیف اٹھائے گا تو اس کا فائدہ اسی کو پہنچے گا۔ اللہ تعالیٰ کو اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ والدین کے ساتھ حسن سلوک اور ان کی فرمانبرداری کی حدود بیان کرتے ہوئے بتایا کہ کفر و شرک میں والدین کی اطاعت نہیں کی جائے گی۔ کافر لوگ ایمان والوں سے کہتے ہیں کہ ایمان کو چھوڑ کر ہمارے طریقہ پر چلنے لگ جاؤ، تمہارے گناہوں کے ہم ذمہ دار ہیں ۔ یہ لوگ ان کے گناہ تو کیا اٹھائیں گے اپنے ہی گناہوں کے بوجھ تلے دب کر قیامت کے بے رحم احتساب میں الجھ کر رہ جائیں گے۔ پھر نوح علیہ السلام کی ساڑھے نو سو سالہ طویل جدوجہد کے نتیجہ میں ان کے ساتھیوں کی طوفان سے کشتی کی مدد سے نجات اور قوم کی ہلاکت کا تذکرہ پھر ابراہیم علیہ السلام اور ان کی دعوت توحید کا تذکرہ اور قوم کی ہٹ دھرمی اور بے اختیار معبودان باطل کی عبادت پر کاربند رہنے کا بیان اور اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ ہر دور میں مفاد پرست، اللہ کے سچے رسولوں کا انکار کرتے آئے ہیں اور دنیا میں چل پھر کر منکرین کے انجام کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔ پھر لوط علیہ السلام اور ان کی بدکردار ملعون قوم کی ہلاکت کا بیان ہے اور قوم مدین و عاد و ثمود اور فرعون و ہامان کی ہلاکت کو بیان کر کے قوموں کی تباہی کا ضابطہ بیان کیا ہے کہ وسائل سے محرومی انبیاء کی دعوت کا انکار اور گناہوں کی زندگی کو اختیار کرنے پر قوموں کو مختلف انداز میں ہلاکت کیا گیا ہے۔ کبھی پانی کے سیلاب اور آندھی کے طوفان سے، کبھی زور دھماکہ اور زلزلہ سے، کبھی زمین دھنسا کر یا دریا میں غرق کر کے، حقیقت یہ ہے کہ انسانوں کا ظلم ہی ان کی ہلاکت کا باعث بنا کرتا ہے۔ اللہ کسی پر ظلم نہیں کرتے۔
اللہ کے علاوہ معبودان باطل کی طاقت و قوت ایک مکڑی اور اس کے جالے کے برابر بھی نہیں ہے۔ یہ تمام مثالیں لوگوں کو سمجھانے کے لئے دی جاتی ہیں اور علم رکھنے والے ہی انہیں سمجھتے ہیں ۔ آسمان و زمین کی بہترین تخلیق اہل ایمان کے لئے اللہ کی قدرت کی عظیم الشان دلیل ہے۔


21– أُتْلُ مَا أُوحِيَ

قرآن کریم کی تلاوت کے حکم کے ساتھ اکیسویں پارہ کی ابتداء ہو رہی ہے۔ نماز کی پابندی کی تلقین کے ساتھ نظام صلوٰۃ کا سب سے بڑا فائدہ بیان کیا گیا ہے کہ اس سے بے حیائی اور ناشائستہ حرکتوں کا قلع قمع ہو جاتا ہے۔ اہل کتاب سے اگر بحث و مباحثہ کی نوبت آ جائے تو اخلاق کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا جائے اور توحید باری تعالیٰ اور آسمانی نظام سے اپنی وفاداری برقرار رکھتے ہوئے اہل کتاب کے ظالموں کو دو ٹوک جواب دینے کی اجازت ہے۔ اللہ کی آیتوں کے منکر کفر اور ظلم کے علمبردار ہوتے ہیں ۔ قرآن کریم کی حقانیت کی اس سے بڑھ کر اور کیا دلیل ہوسکتی ہے کہ ایک امی ایسا معجزانہ کلام سنارہا ہے۔ اگر آپ اس سے پہلے لکھنا پڑھنا جانتے تو باطل پرست شکوک و شبہات پیدا کر دیتے۔ یہ لوگ کہتے ہیں کہ آسمان سے نشانیاں کیوں نہیں اترتیں ؟ ان سے پوچھئے: قرآن کریم سے بڑی اور کون سی نشانی ہوسکتی ہے؟ پھر قدرت خداوندی کے کائناتی شواہد پیش کر کے دنیا کی حقیقت واضح کر دی کہ دنیا کی زندگی کھیل تماشے کی طرح ختم ہونے والی ہے اور حقیقی زندگی آخرت کی زندگی ہے۔ یہ لوگ مشکلات اور پریشانیوں میں اللہ سے وفاداری کا دم بھرنے لگتے ہیں اور جب نجات پا کر مطمئن ہو جاتے ہیں تو شرک کرنے لگ جاتے ہیں ۔ انہیں سوچنا چاہئے کہ انہیں اللہ تعالیٰ نے امن وسکون کے خطے حرم محترم میں سکونت عطاء فرمائی ہے، جہاں ہر قسم کے دشمن کی دستبرد سے یہ محفوظ ہیں جبکہ ان کے اطراف کے بسنے والوں کو ان کے دشمن اچک کر لے جاتے ہیں ۔ کیا یہ پھر اللہ کے انعامات کی ناشکری کرتے ہوئے باطل پر ایمان لاتے ہیں ۔ آخر میں حق و صداقت کی جدوجہد کرنے والوں کو خوشخبری سنا کر سورت کا اختتام کیا جا رہا ہے کہ جو لوگ ہمارے راستہ کی جدوجہد میں مصروف رہتے ہیں ہم انہیں اپنے راستوں کی ہدایت سے سرفراز فرماتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی مدد یقیناً مخلصین کے ساتھ ہوا کرتی ہے۔

سورہ الروم

ابتدائی آیات کے نزول کا پس منظر یہ ہے کہ رومی باشندے عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان لانے کی وجہ سے آسمانی نظام کے قائل تھے اور مسلمانوں کی ہمدردیاں ان کے ساتھ رہتی تھیں اور فارسی باشندے آتش پرست ہونے کی وجہ سے آسمانی نظام کے منکر تھے اور مشرکین کی ہمدردیاں ان کے ساتھ رہتی تھیں ۔ روم کے عیسائیوں اور فارس کے مجوسیوں کے درمیان جنگ میں مجوسی غالب آ گئے اور عیسائی مغلوب ہو گئے، اس پر مشرکین مکہ بہت خوش ہوئے اور کہنے لگے کہ جس طرح ’’ہمارے والوں ‘‘ نے ’’تمہارے والوں ‘‘ کو شکست دی ہے ایسے ہم بھی تمہیں شکست دیں گے۔ قرآن کریم اتر آیا کہ تمہاری یہ خوشیاں عارضی ہیں اور عنقریب اللہ تعالیٰ رومیوں کو فتحیاب کر کے مسلمانوں کے لئے خوشیاں منانے کی صورت پیدا کر دیں گے۔ اس قرآنی پیشگوئی کے مطابق سات سال کے عرصہ کے اندر اندر مجوسی مغلوب ہوئے اور رومی غالب آ گئے اور اللہ کی قدرت دیکھئے کہ ادھر معرکۂ بدر میں مسلمان بھی مشرکین پر غالب آ گئے اور اس طرح قرآنی پیشگوئی حرف بہ حرف سچی ثابت ہو کر اہل ایمان کی خوشیوں کا باعث بنی۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اللہ کا وعدہ برحق اور سچا ہے، لیکن اکثر لوگ حقیقت کو نہیں جانتے۔ ظاہری اسباب کو دیکھ کر فتح و شکست کے فیصلے کرنے لگ جاتے ہیں ۔ معلوم ہوا کہ آسمانی علوم کے جاننے والے قرآن کی نگاہ میں عالم ہیں جبکہ دنیوی سوجھ بوجھ رکھنے والے بے علم اور غافل ہیں ۔ پھر کائناتی شواہد میں غور و خوض، توحید باری تعالیٰ کو تسلیم کرنے اور زمین میں گھوم پھر کر مکذبین کے عبرتناک انجام سے سبق حاصل کرنے کی تلقین فرمائی۔ اس کے بعد قیامت میں مجرمین کے حیران و پریشان اور بے یار و مددگار رہ جانے اور عذاب میں مبتلا ہو جانے اور اہل ایمان و اعمال صالحہ کے جنت میں شاداں و فرحاں رہنے کی نوید سنائی ہے۔ آسمان و زمین کے اندر صبح دوپہر شام اللہ کی تسبیح و تحمید بیان کرنے کی تلقین کی۔
آیت ۱۷، ۱۸، ۱۹ کے بارے میں حدیث شریف میں آتا ہے کہ یومیہ اوراد و وظائف میں اگر کمی رہ جائے تو ان تین آیات کے پڑھنے سے اللہ تعالیٰ پوری کر دیتے ہیں ۔ اللہ کی قدرت کے دلائل میں سے یہ بھی ہے کہ تمہیں مٹی سے انسان بنا کر دنیا میں پھیلا دیا۔ پھر سکون حاصل کرنے کے لئے تمہارا جوڑا پیدا کر کے باہمی الفت و محبت پیدا کر دی۔ آسمان و زمیں کی تخلیق، تمہاری رنگت اور زبانوں کا اختلاف دنیا والوں کے لئے بہت بڑی دلیل ہے۔ دن اور رات میں تمہارا سونا اور روزی کمانا بھی قدرت الٰہی پر ایک دلیل ہے۔ آسمانی بجلی کی چمک اور گڑگڑاہٹ سے تمہارے اندر امید و بیم کے ملے جلے جذبات کا پیدا ہونا اور آسمان سے پانی برس کر زمین کا لہلہاتے کھیتوں میں تبدیل ہو جانا بھی عقل والوں کے لئے بہت بڑی آیت اور نشانی ہے۔ آسمان و زمین کا بغیر کسی سہارے کے اللہ کے حکم سے فضاء میں معلق رہنا بھی ایک بہت بڑی دلیل ہے۔ اللہ تمہاری ہی ایک مثال پیش کر کے تمہیں سمجھاتے ہیں کہ تمہارا ایک غلام ہو۔ ہم نے جو نعمتیں تمہیں عطاء فرما رکھی ہیں ، کیا تم اسے ان نعمتوں میں برابر کا شریک ماننے کے لئے تیار ہو جاؤ گے؟ اگر نہیں تو پھر تم میری مخلوق کو میرا شریک کیوں بناتے ہو؟ پھر آیت ۲۹، ۳۰، ۳۱، ۳۲ میں مشرکوں اور ظالموں کی مذمت کرتے ہوئے جو قرآنی گفتگو کی گئی ہے اس کی روشنی میں ’’فرقہ واریت‘‘ کی تعریف اور اس کے سدباب کے لئے زرین اصول اخذ کئے جا سکتے ہیں ۔ اپنی خواہشات کو بغیر کسی دلیل کے اپنا مذہب قرار دے لینا ایک ظالمانہ فعل اور گمراہی کی بات ہے۔ ایسا کرنے والوں کو نہ ہدایت ملتی ہے اور نہ ہی ان کا کوئی حمایتی اور مددگار ہوتا ہے۔ ایسی حرکت کے مرتکب مشرکانہ ذہنیت کے حامل لوگ ہوتے ہیں جو اپنے دین میں فرقہ واریت کو رواج دے کر دھڑے بندیاں اور گروہ بنا لیتے ہیں ۔ ہر گروہ اپنے نظریات میں مگن رہتا ہے کہ اس سے اس کا تشخص برقرار رہتا ہے۔ اس کا حل یہ ہے کہ انسانی فطرت کے عین مطابق دین کو یکسوئی کے ساتھ اختیار کر لیا جائے۔ اللہ کا نظام کسی بھی دور میں تبدیل نہیں ہوتا۔ یہ سیدھا اور مضبوط نظام حیات ہے، جس کے بنیادی عوامل انابت الی اللہ، تقویٰ اور اقامت صلوٰۃ ہیں ۔ رزق میں فراخی و تنگی اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے ہوتی ہے۔ عزیز و اقارب، غریب و مسکین اور مسافروں پر خرچ کرنا چاہئے۔ اللہ کی رضا کے طلبگار اور فلاح پانے والوں کا یہی وطیرہ ہے۔ واپسی میں زیادہ ملنے کی نیت سے رشتہ داروں یا دوسرے لوگوں پر خرچ کرنا سود خور ذہنیت کا عکاس ہے۔ اس سے مال میں کوئی ترقی نہیں ہوتی البتہ پاکیزہ ذہن کے ساتھ اللہ کی رضا کے حصول کے لئے جو زکوٰۃ دیتے ہو اس میں اضافہ اور ترقی ضرور ہوتی ہے۔ بحر و بر میں فساد کا برپا ہونا انسانی کرتوتوں کا نتیجہ ہے۔ کفر کا وبال خود کافر پر ہی ظاہر ہوتا ہے جبکہ اعمال صالحہ کرنے والے اپنے عمل کے پھل سے مستفید ہوتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے بچپن کی کمزوری سے تمہاری ابتداء کرنے کے بعد تمہیں جوانی کی قوت سے نوازا اور پھر تمہیں بڑھاپے کی کمزوری سے دوچار کر دیا۔ وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے وہ بڑا علم اور قدرت والا ہے۔ قیامت کے دن ظالموں کی عذرخواہی ان کے کسی کام نہیں آئے گی اور نہ ہی ان کی مشکلات میں کمی کا باعث بنے گی۔ لوگوں کو سمجھانے کے لئے قرآن کریم میں ہر قسم کی مثالیں دے دی گئی ہیں ، لیکن باطل پرست اسے ماننے کے لئے تیار نہیں ہوتے۔ بے علم لوگوں کے دلوں میں مہریں لگی ہوئی ہیں ۔ آپ دین پر ثابت قدمی کا مظاہرہ کرتے رہیں ۔

سورہ لقمان

حکمت و دانائی کے پیکر حضرت لقمان حکیم کے تذکرہ کی بناء پر یہ سورت ’’لقمان‘‘ کے نام سے موسوم ہے۔ ابتداء سورت میں قرآن کریم کے کامل اور حکمت و دانائی سے بھرپور ہونے کے تذکرہ کے ساتھ اس سے استفادہ کرنے والوں کی صفات اور خوبیوں کا تذکرہ ہے۔ ان کے ہدایت و فلاح پانے کی نوید ہے اور قرآنی ہدایت کے راستہ میں رکاوٹیں پیدا کرنے اور روڑے اٹکانے والوں کی مذمت ہے۔ اس کے بعد جنت و جہنم کے مستحقین کا تذکرہ اور اللہ کی بے پایاں قدرت کے دلائل کا بیان ہے۔ پھر چیلنج کیا گیا ہے کہ یہ سب کچھ تو اللہ کی تخلیق ہے۔ آپ لوگ بتائیں کہ غیر اللہ نے کیا پیدا کیا ہے؟ پھر لقمان کی حکمت و دانائی کو عطاء خداوندی قرار دے کر ان کی پند و نصائح کو بیان کیا گیا ہے۔ انہوں نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے شرک سے بچنے کی تعلیم دیتے ہوئے بتایا کہ ماں اپنے بچے کو دو سال تک جب دودھ پلاتی ہے تو کمزوری در کمزوری کا شکار ہوتی چلی جاتی ہے۔ والدین کی اطاعت کی حدود بھی بیان کر دیں کہ شرک اور اللہ کی نافرمانی میں ان کی بات نہیں مانی جائے گی۔ البتہ دنیا میں ان کے ساتھ بھلائی اور خیر کے معاملات میں تعاون جاری رہے گا، مگر اتباع ایسے افراد کی کی جائے جو اللہ کی طرف رجوع کرنے والے ہوں ۔ انسان کی محنت پر بدلہ ملتا ہے۔ اگر رائی کے دانے کے برابر عمل آسمان و زمین کی وسعتوں میں بکھرا ہوا یا کسی چٹان کی تہہ میں چھپا ہوا ہو گا تو اللہ تعالیٰ اسے بھی نکال کر لے آئیں گے اور اس کے مطابق بدلہ مل کر رہے گا۔ اقامت صلوٰۃ، امر بالمعروف و نہی عن المنکر کرتے رہو اور مشکلات و مصائب میں صبر سے کام لو۔ یہ بڑے عزم و ہمت کی بات ہے۔ تکبر و غرور کی بجائے عجز و انکساری کا پیکر بن کر زندگی گزارو، اللہ تعالیٰ کو مغرور و متکبر لوگ پسند نہیں ہیں ۔ زندگی میں اعتدال و میانہ روی اختیار کرو اور نرم گفتاری کی عادت بناؤ اور گدھے کی طرح بے ہنگم آواز نکالنے سے بچنے کی تلقین کی۔ پھر کائنات کے دلائل و شواہد میں غور و خوض کے ساتھ توحید باری تعالیٰ تک رسائی حاصل کرنے کی طرف متوجہ کرتے ہوئے اللہ کی بے حد و حساب خوبیوں اور صفات کو ایک حسین پیرائے میں بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر دنیا کے تمام درختوں کی قلمیں بنا کر اور ساتوں سمندروں کی سیاہی بنا کر اللہ کی تعریف لکھنی شروع کر دی جائے تو قلم اور سیاہی ختم ہو جائے گی مگر حمد باری تعالیٰ ختم نہیں ہو گی۔ اس کے بعد قیامت کے دن کی ہولناکی اور انسانی بے چارگی کو بیان کیا کہ وہاں پر ہر انسان اپنی پریشانیوں میں اس قدر الجھا ہوا ہو گا کہ باپ اولاد کے کام نہیں آئے گا اور اولاد اپنے باپ کے لئے کچھ نہیں کرسکے گی۔ لہٰذا دنیا کی عارضی زندگی اور شیطان کے دھوکہ میں نہیں پڑنا چاہئے۔ قیامت کب آئے گی؟ بارش کب برسے گی؟ رحمِ مادر میں کیا ہے؟ کوئی شخص کل کو کیا کرے گا؟ اور کون کس سرزمین میں آسودۂ خاک ہو گا؟ اللہ ہی ان باتوں کا علم رکھتے ہیں وہ یقیناً بہت زیادہ علم اور خبر رکھنے والے ہیں ۔

سورہ السجدۃ

سورت کے شروع میں قرآن کریم کے کلام رب العالمین ہونے اور تمام شکوک و شبہات سے بالاتر ہونے کا بیان ہے۔ پھر توحید باری تعالیٰ پر کائناتی شواہد اور تخلیق انسانی کے مختلف مراحل سے استدلال کرتے ہوئے بتایا ہے کہ انسان بوسیدہ ہو کر زمین کی وسعتوں میں گم ہو جائے گا تب بھی اللہ تعالیٰ اسے دوبارہ زندہ کر لیں گے۔ پھر مجرمین کی مذمت اور قیامت کے دن ان کی بے کسی اور بے بسی کو ذکر کرتے ہوئے انہیں جہنم کی ذلت و رسوائی کا مستحق قرار دیا ہے جبکہ ایمان والے جن کی زندگیاں عجز و انکساری کا پیکر بن کر رکوع، سجدے اور تسبیح و تحمید میں گزرتی ہیں ان کے لئے آنکھوں کی ٹھنڈک اور جنت کے باغات میں بہترین مہمانی اور عمدہ ترین جزا کا مژدہ سنایا گیا ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ان کی کتاب ہدایت بنی اسرائیل کے لئے نظام حیات کے طور پر عطاء کی گئی، اس سلسلہ میں کسی قسم کے شکوک و شبہات میں پڑنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ یہ لوگ سوال کرتے ہیں کہ حق کی فتح کا دن کون سا ہو گا؟ آپ بتا دیجئے کہ فتح کا دن جب آئے گا تو تمہارا ایمان کام نہیں آسکے گا۔ لہٰذا ان سے چشم پوشی کرتے ہوئے اللہ کے فیصلہ کا آپ بھی انتظار کیجئے۔ وہ بھی انتظار کر رہے ہیں ۔

سورہ الاحزاب

الاحزاب سے گروہ اور جماعتیں مراد ہیں ۔ مشرکین مکہ نے تمام عرب کے قبائل کو اسلام کے خلاف آمادۂ جنگ کر کے مدینہ منورہ کا محاصرہ کر لیا تھا۔ حضور علیہ السلام نے مسلمانوں کے مشورہ سے اپنے دفاع کے لئے خندق کھود لی تھی اس لئے اسے غزوہ احزاب یا غزوۂ خندق کہا جاتا ہے۔ اس سورت میں مدنی سورتوں کی طرح قانون سازی کے ساتھ ساتھ اس واقعہ کا بھی تذکرہ ہے۔ اس لئے اسے ’’الاحزاب‘‘ کے نام سے موسوم کیا گیا ہے۔ سورت کی ابتداء میں ’’تقویٰ‘‘ کے حکم کے ساتھ کافروں اور منافقوں کی عدم اطاعت اور وحی الٰہی کے اتباع اور توکل کی تلقین ہے۔ اس کے بعد بتایا کہ کسی کے سینہ میں اللہ نے دو دل نہیں رکھے۔ ظہار یعنی اپنی بیویوں کی کمر کو اپنی ماؤں کی کمر کے مشابہ قرار دینے کی مذمت کرتے ہوئے ’’منہ بولے‘‘ رشتوں کے احکام بیان کئے ہیں کہ کسی کو بیٹا، بیٹی، بہن یا ماں کہہ دینے سے یہ رشتے ثابت نہیں ہو جاتے۔ لہٰذا متنبیٰ کو اس کے باپ کی طرف ہی منسوب کیا جائے اور اپنے بھائی یا اتحادی قرار دیا جائے۔ ایمان والوں پر نبی کا حق سب سے زیادہ ہے اور نبی کی زوجات مطہرات ’’امہات المؤمنین‘‘ ہیں ۔ پھر غزوہ احزاب میں پورے عرب کے کفر کا اجتماع اور ہر طرف سے یلغار کے مقابلہ میں اللہ کی مدد و نصرت کا تذکرہ ہے کہ اللہ نے تیز ہوا چلا کر نصرت فرمائی اور مشرکین کے قدم اکھاڑ دیئے۔ منافقین اور یہودیوں کی مذمت ہے، جنہوں نے اس موقع پر اسلام اور مسلمانوں کو نقصان پہنچانے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی۔ پھر غزوہ بنی قریظہ میں یہود کے مقابلہ میں اللہ کی نصرت اور ان کی جائیدادوں اور زمینوں پر مسلمانوں کے قبضہ کو یاد دلا کر ہر چیز پر اللہ کی قدرت و غلبہ کی تمہید بنائی گئی ہے اور آخر میں ’’آیت تخییر‘‘ ہے، جس میں ازواج مطہرات کے سالانہ نفقہ میں اضافہ کے مطالبہ پر انہیں مطالبہ سے دستبردار ہو کر حرم نبوی میں رہنے یا علیحدگی اختیار کر لینے کا حکم دیا گیا، جس پر تمام امہات المؤمنین نے حرم نبوی میں رہنے کو ترجیح دیتے ہوئے کسی بھی قسم کے مالی مطالبہ سے دستبرداری کا اظہار کر دیا، جس پرا للہ نے ان مخلص خواتین کے لئے اجر عظیم کا وعدہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔


22 – وَمَن يَقْنُتْ

ازواج مطہرات کے اعمال صالحہ پر دُہرے اجر اور رزق کریم کی نوید سنائی گئی ہے۔ امہات المؤمنین اور ان کے توسط سے تمام دنیا کی خواتین مؤمنات کو پیغام دیا گیا ہے کہ کسی نامحرم سے گفتگو کی ضرورت پیش آ جائے تو کُھر درے پن کا مظاہرہ کریں ۔ نرم گفتاری کا معاملہ نہ کریں ورنہ اخلاقی پستی کے مریض اپنے ناپاک خیالات کو پورا کرنے کی امید قائم کرسکتے ہیں ۔ گھروں میں ٹھہری رہا کرو۔ سابقہ جاہلیت کے طور طریقوں کے مطابق بے پردگی کا مظاہرہ نہ کرو۔ نماز قائم کرو، زکوٰۃ ادا کرو۔ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو۔ اللہ تعالیٰ نبی کے اہل بیت سے ناپاکی دور فرما کر انہیں پاکیزہ کرنا چاہتے ہیں ۔ اس سے واضح ہو جاتا ہے کہ قرآن کریم کی روشنی میں اہل بیت کا مصداق اوّلی ازواج مطہرات ہیں ۔ پھر ازواج مطہرات کے خصوصی اعزاز کا تذکرہ ہے کہ تمہارے گھروں میں کتاب و حکمت کا نزول ہوتا ہے تمہیں اس کا اعادہ اور تکرار کرتے رہنا چاہئے۔ اس کے بعد صفات محمودہ میں مردو زن کی مساوات بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ اسلام، ایمان، اطاعت شعاری، سچائی، صبر، عجز و انکساری، صدقہ و خیرات کی ادائیگی، روزہ کا اہتمام، عفت و پاکدامنی اور اللہ کے ذکر میں رطبِ لسان رہنے والے تمام مردوں اور عورتوں کے لئے اللہ تعالیٰ نے مغفرت اور اجر عظیم تیار کیا ہوا ہے۔ پھر کسی بھی مؤمن مرد و عورت کے ایمان کے تقاضے کو بیان کیا ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کا فیصلہ سامنے آ جانے کے بعد اسے رد کرنے کے حوالہ سے کوئی اختیار باقی نہیں رہ جاتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے متبنیٰ حضرت زید کے طلاق دینے کے بعد ان کی مطلقہ سے اللہ تعالیٰ نے آپ کا نکاح کر کے یہ مسئلہ واضح کر دیا کہ متبنیٰ کی بیوی ’’بہو‘ نہیں بن سکتی۔ پھر آپ کے خاتم النبیین ہونے اور مسلمان مردوں میں سے کسی کے باپ نہ ہونے کا واضح اعلان ہے۔ اس کے بعد اہل ایمان کو تسبیح و تحمید اور ذکر کی کثرت کرنے کی تلقین ہے اور حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی کچھ امتیازی خوبیوں کا تذکرہ کہ آپ مشاہد، بشیر و نذیر، داعی الی اللہ اور سراج منیر بنا کر بھیجے گئے ہیں ۔ پھر رخصتی سے پہلے طلاق پانے والی عورت کے متعلق بتایا کہ اس کی کوئی عدت نہیں ہوتی اور اگر مہر مقرر نہ کیا گیا ہو تو جوڑا کپڑوں کا دے کر اسے فارغ کر دیا جائے۔ پھر نبی کے لئے عام مؤمنین کے مقابلہ میں زیادہ بیویاں رکھنے کا جواز اور ’’باری‘‘ مقرر کرنے کے حکم کے ساتھ ہی مزید شادیاں کرنے پر پابندی کا اعلان کیا گیا۔ نبی کے گھر میں بے مقصد بیٹھ کر آپ کے لئے پریشانی پیدا کرنے سے بچنے کی تلقین، پردے کے بارے میں دو ٹوک اعلان کہ اگر کوئی ضرورت پیش آ ہی جائے تو نامحرم سے گفتگو پردہ کے پیچھے رہ کر کی جائے۔ نبی کے انتقال کے بعد کسی کو ازواج مطہرات سے کسی بھی حالت میں نکاح کی اجازت نہیں ہے۔ اس کے بعد اللہ اور اس کے فرشتوں کی طرف سے نبی پر صلاۃ و سلام کی خوشخبری سنا کر اہل ایمان کو بھی آپ پر صلاۃ و سلام پڑھنے کا حکم دیا ہے اور بتایا ہے کہ اللہ اور اس کے رسول اور اہل ایمان کی ایزا رسانی کا باعث بننے والے ملعون اور ذلت آمیز عذاب کے مستحق ہیں ۔ پھر اسلامی معاشرہ کی خواتین کو پردہ کرنے کے لئے ’’گھونگھٹ‘‘ نکالنے کا حکم دیا گیا ہے۔ قیامت کے بارے میں اللہ کے علاوہ کوئی نہیں جانتا۔ کافر جہنم میں منہ کے بل ڈالے جائیں گے کسی کے گناہوں کا بوجھ دوسرے پر نہیں ڈالا جائے گا ہر ایک کو اپنے جرائم کی سزا بھگتنی پڑے گی۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو ناجائز الزام سے بری قرار دے کر اللہ کی نگاہ میں ان کے معزز و محترم ہونے کا اعلان کیا گیا ہے۔ پھر اہل ایمان کو تقویٰ اور پختہ بات کرتے ہوئے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرنے پر مغفرت اور عظیم کامیابی کی خوشخبری سنائی ہے۔ اسلام کی عظیم الشان امانت جسے زمین و آسمان اور پہاڑ اٹھانے سے قاصر رہے اس انسان کے حصہ میں آنے کی خبر دے کر بتایا ہے کہ اس سے منافق و مؤمن اور مشرک و موحد کا فرق واضح ہو گا اور ہر ایک کو اپنے کئے کا بدلہ مل سکے گا۔ اللہ بڑے غفور رحیم ہیں ۔

سورہ سبأ

قوم سبأ کے تذکرہ کی بناء پر سورت کو اس نام سے موسوم کیا گیا ہے۔ مکی سورت ہے اس میں چوّن آیتیں اور چھ رکوع ہیں ۔ ابتداء میں اس بات کا بیان ہے کہ آسمان و زمین کی ہر چیز اللہ کی تعریف و توصیف بیان کرتی ہے۔ اس کا علم بڑا وسیع ہے۔ زمین سے نکلنے یا داخل ہونے اور آسمان سے اترنے یا چڑھنے والی ہر چیز کو وہ جانتا ہے زمین و آسمان کی وسعتوں میں پائی جانے والی کوئی چھوٹی سی چھوٹی چیز بھی اس کے علم سے باہر نہیں ہے۔ وہ عالم الغیب ہے قیامت قائم ہونے پر ایمان اور اعمال صالحہ والوں کو مغفرت اور اجر عظیم کی شکل میں بدلہ ملے گا جبکہ اللہ کی آیتوں میں عاجز کرنے کی کوشش کرنے والوں کو دردناک عذاب دیا جائے گا۔ کافر لوگ اللہ کے نبی کا مذاق اڑاتے ہوئے کہتے ہیں کہ آؤ تمہیں ایسا آدمی دکھائیں جو کہتا ہے کہ ریزہ ریزہ ہو کر منتشر ہو جانے کے بعد بھی ہمیں نئے سرے سے پیدا کر دیا جائے گا۔ معلوم ہوتا ہے یہ غلط بیانی سے کام لے رہا ہے یا پاگل ہو چکا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ منکرین آخرت کے لئے کھلی گمراہی اور عذاب مقدر ہو چکا ہے۔ پھر حضرت داؤد علیہ السلام پر اللہ تعالیٰ کے فضل و عنایت کا تذکرہ کرتے ہوئے بتایا کہ انہیں ایسی خوش الحانی عطا کی گئی تھی کہ وہ جب زبور کی تلاوت کرتے تو پہاڑ اور پرندے بھی ان کے ساتھ تلاوت میں مشغول ہو جاتے۔ لوہا ان کے ہاتھوں میں ایسا نرم کر دیا گیا تھا کہ اس سے وہ ’’زرہ بکتر‘‘ بنا لیا کرتے تھے۔ جس سے ثابت ہوتا ہے کہ ہاتھ سے مزدوری عیب نہیں اعزاز ہے اور وسائل کو اختیار کرنا توکل کے منافی نہیں ہے۔ سلیمان علیہ السلام کو سفر کی ایسی سہولت عطاء فرما رکھی تھی کہ ہوا کی مدد سے صبح کی منزل میں ایک ماہ کی مسافت طے کر لیتے اور شام کی منزل میں بھی ایک ماہ کی مسافت طے کر لیتے اور برتن وغیرہ بنانے کے لئے یہ آسانی تھی کہ تانبے کا چشمہ بہتا تھا، اس سے جیسے برتن چاہیں ڈھال لیتے تھے اور ان کے لئے جنات بھی مسخر کر دیئے گئے تھے کہ وہ بڑے بڑے تعمیری کام اور وسیع پیمانہ پر کھانا پکانے میں تندہی سے کام کرتے تھے۔ جب سلیمان علیہ السلام کی موت آئی تو وہ ایک تعمیری کام کی نگرانی کر رہے تھے اور جنات تعمیرات میں مصروف تھے۔ وہ اپنی لاٹھی کے سہارے کھڑے کھڑے انتقال کرگئے۔ جنات کو ان کی موت کا علم نہ ہوسکا اور وہ نہایت محنت و جانفشانی سے کام میں لگے رہے جب کام مکمل ہو گیا تو ان کی لاٹھی دیمک لگ جانے کے سبب سے ٹوٹ گئی اور سلیمان علیہ السلام گر گئے جس سے جنات کے علم میں یہ بات آ گئی کہ آپ انتقال کر چکے ہیں اس سے یہ بھی معلوم ہو گیا کہ جنات غیب کا علم نہیں جانتے ورنہ وہ اس طرح تعمیری مشقت میں مبتلا نہ رہتے۔
قوم سباء کی بستی بھی اپنے اندر درس عبرت لئے ہوئے ہے وہ زراعت پیشہ لوگ تھے اس بستی کے دائیں بائیں سرسبز و شاداب باغات تھے۔ انہیں چاہئے تھا کہ اللہ کا رزق کھاتے اور اس کا شکر ادا کرتے۔ مگر انہوں نے اعراض کیا اور کفران نعمت میں مبتلا ہو گئے۔ چنانچہ ہم نے ان پر ’’عرم‘‘ کا بند توڑ کر سیلاب مسلط کر دیا اور بہترین باغات کے بدلہ بدمزہ پھل، جھاؤ اور تھوڑے سے بیری کے درختوں پر مشتمل بیکار باغ پیدا کر دئے اور ان کی بابرکت اور پر امن بستیوں کو تباہ کر کے انہیں تتر بتر کر کے رکھ دیا اور ان کی داستانوں کو ’’افسانہ‘‘ بنا دیا۔ شیطان نے اپنے نظریات کے پیچھے انہیں چلا لیا حالانکہ اسے کوئی ظاہری اختیار تو حاصل نہیں تھا مگر ہم چاہتے تھے کہ شکوک و شبہات میں مبتلاء اور پختہ ایمان والے ظاہر ہو جائیں ۔ اللہ تعالیٰ کے علم و قدرت پر دلائل کے ساتھ ساتھ حضور علیہ السلام کی نبوت و رسالت کی تائید کر دی اور بتایا کہ قیامت کے بارے میں بار بار پوچھنے والوں کا جب متعین وقت آ گیا تو انہیں ذرہ برابر بھی مہلت نہیں مل سکے گی۔ پھر میدانِ قیامت میں لیڈروں اور عوام کی گفتگو بتائی کہ اللہ کے سامنے پیشی کے موقع پر یہ آپس میں ایک دوسرے پر اعتراضات کریں گے وہ کہیں گے کہ تمہاری وجہ سے ہمیں یہ دن دیکھنے پڑے اور یہ کہیں گے کہ سارا قصور تمہارا ہے۔ ہم ان کے گلے میں طوق ڈال کر انہیں اپنے اعمال بد کی سزا اٹھانے کے لئے جہنم رسید کر دیں گے۔ لوگ مال و دولت کے گھمنڈ میں اللہ اور اس کے رسولوں کا انکار کرنے لگ جاتے ہیں حالانکہ پیسے کی فراوانی و تنگی کا نظام بھی اللہ ہی کے پاس ہے۔ مال و اولاد لوگوں کو اللہ کے قریب نہیں کرتے بلکہ ایمان و اعمال صالحہ سے اللہ کا قرب حاصل ہوتا ہے۔

سورہ فاطر

مکی سورت ہے۔ اس میں پینتالیس آیتیں اور پانچ رکوع ہیں ۔ تمام تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جس نے آسمان و زمین کو نئے انداز سے بنایا اور دو دو، تین تین، چار چار پر والوں کو اپنا قاصد بنایا ہے اور جیسے چاہے اس سے زیادہ پروں والی مخلوق بھی بنا سکتا ہے۔ اگر اللہ کسی کو راحت دینے پر آ جائیں تو اسے کوئی روک نہیں سکتا اور اگر وہ کسی کو محروم کرنا چاہے تو اسے کوئی دے نہیں سکتا۔ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں غور کر کے فیصلہ کرو کہ آسمان و زمین میں اس کے علاوہ کون خالق کہلانے کا مستحق ہے۔ اے انسانو! اللہ کا وعدہ سچا ہے، عارضی دنیا اور شیطان کے دھوکہ میں نہ پڑو، شیطان تمہارا ازلی دشمن ہے تم بھی اسے اپنا دشمن سمجھو۔ اگر کسی شخص کے اعمالِ بد اس کے سامنے مزین کر دیئے گئے اور وہ انہیں بہت اچھا سمجھنے لگے تو آپ اس پر حسرت و افسوس کا اظہار نہ کریں اللہ ان کے کرتوتوں کو بہت اچھی طرح جانتے ہیں ۔ پھر ہواؤں کا چل کر بادلوں کو اڑانا اور بنجر زمین کو سیراب کر کے آباد کر دینا مرنے کے بعد زندہ کئے جانے کی بہت بڑی دلیل ہے۔
ساری عزت اللہ ہی کے لئے ثابت ہے، لہٰذا جو عزت چاہتا ہے وہ عزت والے کے دامن سے وابستہ ہو کر ہی اپنا مقصد حاصل کرسکتا ہے۔ پھر انسانی تخلیق کے مراحل کا مختصر تذکرہ اور کارخانۂ قدرت پر کائناتی شواہد پیش کئے جا رہے ہیں ۔ میٹھے اور کھارے پانی کے سمندر آپس میں برابر نہیں ہوسکتے، جبکہ دونوں سے زیورات کے لئے موتی، خوراک کے لئے مچھلی کا گوشت حاصل ہوتا ہے اور بار برداری و تجارت کے لئے کشتیاں چلنے پر تمہیں اللہ کا شکرگزار ہونا چاہئے۔
اے انسانو! تم اللہ کے محتاج ہو وہ اگر تمہیں ختم کر کے کسی دوسری قوم کو لانا چاہے تو اسے کوئی روک نہیں سکتا۔ کوئی کسی کا بوجھ نہیں اٹھائے گا اپنا تزکیہ کرنے والا اللہ پر کوئی احسان نہیں کرتا؟ آنکھوں والا اور اندھا، اندھیرا اور روشنی، دھوپ اور سایہ اور مردہ و زندہ کبھی برابر نہیں ہوسکتے۔ اللہ نے آسمان سے پانی برسا کر مختلف ذائقوں اور رنگوں کے پھول اور پھل پیدا کئے اور سفید اور کالے پہاڑ پیدا کئے، چوپائے اور جانور بنائے، صحیح معنی میں اللہ سے ڈرنے والے علماء ہی ہیں ۔ قرآن کی تلاوت کرتے ہوئے اقامت صلوٰۃ کرنے والے اور انفاق فی سبیل اللہ کرنے والے اللہ کے ساتھ ایسی تجارت کر رہے ہیں جس میں کوئی نقصان نہیں ہوسکتا۔ اللہ تعالیٰ انہیں اس کا اجر عطا فرما کر اپنے فضل سے اس میں اضافہ بھی کر دے گا۔ وہ بہت قدردان اور بڑا ہی معاف کرنے والا ہے۔ جنت میں جانے والے نہایت خوشی و انبساط کے ساتھ اللہ کا شکر ادا کر رہے ہوں گے، جبکہ کافر جہنم کے عذاب سے تنگ آ کر چلا رہے ہوں گے کہ ہمیں یہاں سے نکال دو۔ ان کے عذاب میں کوئی کمی نہیں کی جائے گی اور انہیں کہا جائے گا کہ دنیا میں تمہیں مناسب مہلت دے دی گئی تھی اور تمہیں ڈرانے والا بھی آ گیا تھا۔ اب تمہیں یہی عذاب چکھنا ہو گا۔ تمہارا کوئی معاون و مددگار بھی نہیں ہو گا۔ غیب کا علم اور دلوں کے بھید اللہ ہی جانتا ہے۔ آسمان و زمین کو بھی اللہ نے ہی گرنے سے بچایا ہوا ہے۔ اگر اللہ نے انہیں زائل کر دیا تو کوئی انہیں بچا نہیں سکے گا۔ کفار کی سازشیں اور تکبر ان کے ایمان لانے کے راستہ میں رکاوٹ ہے۔ یہ لوگ پہلوں کی سنت کے منتظر ہیں ۔ یاد رکھو! اللہ کی سنت بدلا نہیں کرتی۔ دنیا میں چل پھر کر مجرمین کا عبرتناک انجام دیکھ کر انہیں سمجھ لینا چاہئے کہ اللہ کو عاجز کرنے والا کوئی نہیں ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ لوگوں کے جرائم پر پکڑ کرنے لگ جاتے تو کوئی جاندار زمین پر باقی نہ بچتا، لیکن اللہ نے ایک مقررہ وقت تک انہیں مؤخر کیا ہوا ہے جب وہ وقت آ جائے گا تو یہ لوگ بچ کر نہیں جا سکیں گے۔ اللہ اپنے بندوں کو خوب دیکھ رہے ہیں ۔

سورہ یٰس

مکی سورت ہے۔ تراسی آیتوں اور پانچ رکوع پر مشتمل ہے۔ اس سورت کو قرآن کریم کا دل قرار دیا ہے۔ امام غزالی فرماتے ہیں کہ دل انسانی حیات کا ضامن ہے اور عقیدۂ آخرت ایمانی حیات کا ضامن ہے اور اس سورت میں عقیدۂ آخرت کو مختلف پیرائے میں منفرد انداز پر پیش کیا گیا ہے، جس سے بعث بعد الموت اور آخرت کے عقیدہ کو تقویت ملتی ہے۔ اس لئے سورہ یٰسٓ کو قلبِ قرآن کہا گیا ہے۔
ابتداء میں قرآن کریم کی حکمتوں کا بیان ہے، پھر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کا اثبات ہے اور کافروں پر ان کے کفر کی بناء پر عذاب کے نازل ہونے کی وعید ہے۔ اس کے بعد منکرین قرآن کی کیفیت کو دو مثالوں میں بیان کیا ہے:
(۱)کافروں نے خود ساختہ پابندیوں اور من گھڑت عقائد میں اپنے آپ کو ایسا جکڑا ہوا ہے جیسے کسی شخص کی گردن میں اس کی ٹھوڑی تک طوق ڈال دیا جائے اور وہ نیچے جھانک کر اپنا راستہ دیکھنے کے قابل بھی نہ رہے۔
(۲) جیسے کسی شخص کے آگے اور پیچھے دیواریں کھڑی کر کے اسے نقل و حرکت سے محروم کر کے کسی بھی چیز کو دیکھنے کے قابل نہ چھوڑا جائے یہی حال کافروں کا ہے کہ وہ صراط مستقیم کو دیکھ کر اس پر گامزن ہونے کے قابل نہیں ہیں ۔



23 – وَمَا لِيَ

اصحاب القریہ کا واقعہ دعاۃ الی اللہ کی تربیت و تسلی کے لئے اور ہر دور کے مشرکین کی ذہنی ہم آہنگی کے اظہار اور وعید سنانے کے لئے بیان کیا ہے۔ انطاکیہ بستی کے مشرکین کے لئے عیسائیت کے تین مبلغین توحید کا پیغام لے کر اس طرح پہنچے کہ پہلے دو مبلغ وہاں آئے۔ انطاکیہ کا ایک باشندہ ’’حبیب نجار‘‘ کسی موذی مرض کا شکار لوگوں سے الگ تھلگ شہر کے کنارے پر رہتا تھا۔ مبلغین کی دعوت قبول کر کے مسلمان ہو گیا، اللہ نے اسے صحت دے کر مال و دولت سے بھی نواز دیا۔ شہر والوں نے مبلغین کی بات نہ مانی، انہیں مارنے پیٹنے اور قتل کی دھمکیاں دینے پر اتر آئے۔ کہنے لگے تمہاری نحوست سے ہم مہنگائی اور باہمی اختلافات کی پریشانی میں مبتلا ہو گئے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ نحوست کی اصل وجہ تمہاری ہٹ دھرمی اور اللہ کے پیغام کو تسلیم کرنے سے انکار ہے۔ قوم کی زیادتی اور ظلم کا معلوم ہونے پر اللہ والوں کی حمایت میں حبیب نجار شہر کے کونے سے بھاگتا ہوا آیا اور قوم کو سمجھانے لگا کہ جس اللہ نے ہمیں پیدا کیا اور اسی کی طرف ہم نے لوٹ کر جانا ہے ہمیں عبادت بھی اسی کی کرنی چاہئے اور مفادات سے بالاتر ہو کر جو لوگ ہمیں پیغام حق پہنچانے آئے ہیں ہمیں ان کی دعوت پر ’’لبیک‘‘ کہنا چاہئے مگر قوم اپنے ظلم و ستم سے باز نہ آئی اور قاصدین حق کے قتل پر آمادہ ہو گئی۔ حبیب نجار نے قوم کی بجائے اللہ والوں کا ساتھ دیا اور ایمان کے تحفظ اور دین حق کی حمایت میں اپنی جان داؤ پر لگا دی اور تینوں اللہ والے شہادت کے عظیم منصب پر فائز ہو گئے۔ حق کے دفاع اور حمایت میں اس عظیم الشان قربانی پر اللہ کا نظام غیبی حرکت میں آ گیا اور فرشتے نے فصیل پناہ کے دروازہ پر کھڑے ہو کر ایک زور دار چیخ ماری جس کی ہولناکی اور دہشت سے ان کے کلیجے پھٹ گئے اور وہ ٹھنڈے ہو کر رہ گئے۔ انہیں ہلاک کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ کو فرشتوں کے لشکر نہیں بھیجنے پڑے، اس لئے مشرکین مکہ کو مشرکین انطاکیہ کے اس عبرتناک انجام سے سبق سیکھ لینا چاہئے۔ پھر مرنے کے بعد زندگی اور اللہ کی قدرت کاملہ کے دلائل کے طور پر بارش سے مردہ زمین کے اندر زندگی کے آثار، لہلہاتی کھیتیاں ، کھجور و انگور کے باغات اور نہروں اور چشموں کی شکل میں آب پاشی کا نظام، انسانی خوراک کے لئے پھل اور سبزیاں اور مختلف سبزیوں کی ترکیب سے انواع و اقسام کے نت نئے کھانے۔ کیا یہ لوگ اس پر بھی اللہ کا شکر کرتے ہوئے آسمانی نظام کی افادیت کو تسلیم نہیں کریں گے۔ ہر چیز کی ’’جوڑوں ‘‘ کی شکل میں (نر اور مادہ یا مثبت اور منفی) تخلیق، انسانی زندگی میں مظاہر قدرت کی کار فرمائی، شب و روز کی آمد و رفت کا ایک منظم نظام کہ دن کا غلاف اتاریں تو رات کی تاریکی اور رات کا غلاف ہٹائیں تو دن کا اجالا، چاند سورج کا نظام شمسی کے تحت منٹوں اور سیکنڈوں کی رعایت کے ساتھ اپنے مدار میں نقل و حرکت کرنا کہ ایک دوسرے سے آگے نکل کر دن رات کی آمد و رفت میں کوئی خلل پیدا نہ کرسکیں ، اللہ کی قدرت کے واضح دلائل ہیں ۔ سمندر میں نقل و حمل کی سہولت کے لئے تیری ہوئی کشتیاں جنہیں اللہ تعالیٰ جب چاہیں اس طرح غرق کر دیں کہ تمہاری آواز بھی نہ نکل سکے اور اس قسم کی کتنی ہی جدید انداز کی سواریاں اللہ پیدا کرتے ہیں ، یہ سب اس کی رحمت کے تقاضے کے تحت ایک مقررہ وقت تک دنیا سے استفادہ کا سامان ہے۔ اس کے بعد تقویٰ اختیار کرنے اور غرباء و مساکین پر خرچ کرنے کی تلقین کے ساتھ مشرکین کی ہٹ دھرمی اور ضلالت کا تذکرہ اور قیامت قائم کرنے کے فوری مطالبہ پر مخصوص اسلوب میں تنبیہ کہ یہ لوگ ایک زور دار چیخ کے منتظر ہیں جو انہیں بھرپور زندگی گزارتے ہوئے اچانک آلے گی اور انہیں اپنے اہل خانہ تک پہنچنے اور کسی قسم کی وصیت کی مہلت بھی نہ مل سکے گی۔ اس کے بعد قیام قیامت کی منظر کشی کی گئی ہے کہ جیسے ہی صور پھونکا جائے گا لوگ قبروں سے نکل کر اتنی بڑی تعداد میں اپنے رب کے سامنے حاضری کے لئے چل پڑیں گے کہ وہ پھسلتے ہوئے محسوس ہوں گے اور بے اختیار پکار اٹھیں گے کہ ہمیں قبروں سے کس نے نکال باہر کیا، پھر خود ہی یہ کہنے پر مجبور ہو جائیں گے کہ یہ تو رحمان کے وعدہ کی عملی تفسیر ہے اور رسولوں نے بالکل سچ کہا تھا۔ اس کے بعد ظلم سے پاک محاسبہ اور ’’جیسی کرنی ویسی بھرنی‘‘ کے ضابطہ کے مطابق جزاء و سزا کا عمل ہو گا۔ جنت والے اپنے مشغلوں میں شاداں و فرحاں ہوں گے، گھنے سائے میں اپنی بیگمات کے پہلو بہ پہلو مسہریوں پر تکیہ لگائے ہوئے لطف اندوز ہو رہے ہوں گے جو طلب کریں گے وہ ان کے سامنے پیش کر دیا جائے گا۔ رب رحیم کی طرف سے انہیں ’’سلامیاں ‘‘ دی جا رہی ہوں گی۔ اس کے بالمقابل مجرموں کو الگ تھلگ کر کے ان کے اعضاء و جوارح کی گواہی پر جہنم کا ایندھن بنا دیا جائے گا۔ اس کے بعد شعرو شاعری کو شانِ نبوت کے منافی قرار دے کر بتایا کہ یہ واضح قرآن ان لوگوں کے لئے مفید ہے جن میں زندگی کی رمق پائی جاتی ہے۔ پھر کچھ انعامات خداوندی کا تذکرہ کر کے شرک کی مذمت کی گئی ہے اور باطل پرستوں کے اعتراضات سے اثر قبول نہ کرنے کی تلقین ہے اور آخر میں مرنے کے بعد زندہ ہونے پر معرکۃ الآراء انداز میں عقلی دلائل دے کر سورت کو ختم کیا گیا ہے۔ واقعہ یہ ہوا کہ عاص بن وائل نے ایک بوسیدہ ہڈی کو مسل کر فضاء میں تحلیل کرتے ہوئے مذاق کے انداز میں کہا، اس قدر بوسیدہ ہڈیوں کو کون دوبارہ پیدا کرسکے گا؟ اس کا جواب دو طریقہ سے دیا: (۱)جس اللہ نے پہلے اس انسان کو پیدا کیا وہی دوبارہ بھی پیدا کر لے گا۔ (۲)جس اللہ نے آسمان و زمین جیسے مشکل ترین اور بڑے بڑے اجسام کو پیدا کیا وہ انسان جیسی چھوٹی مخلوق کو بہت آسانی سے پیدا کرسکتا ہے۔ کسی بھی بڑے یا چھوٹے کام کے لئے اسے اس سے زیادہ کچھ نہیں کرنا پڑتا کہ وہ وجود میں آنے کا حکم دیتے ہوئے ’’کُن‘‘ کہتا ہے تو وہ چیز وجود میں آ جاتی ہے۔

سورہ الصافات

مکی سورت ہے۔ ایک سو بیاسی آیتوں اور پانچ رکوع پر مشتمل ہے، فرشتوں کو صافات کہا گیا ہے اس لئے کہ وہ دربار خداوندی میں صف بندی کا اہتمام کرتے اور ’’قطار اندر قطار‘‘ حاضری دیتے ہیں ۔ اس سے حیات انسانی میں ’’قطار‘‘ کی اہمیت بھی اجاگر ہو جاتی ہے۔ نزول قرآن کے وقت آسمان اس اعتبار سے بہت اہمیت کا حامل تھا کہ آسمانوں سے اوپر عرش معلی پر لوح محفوظ سے منتقل ہو کر فرشتوں کے توسط سے زمین پر اتر رہا تھا اور اس بات کا امکان تھا کہ شرارتی جنات و شیاطین قرآن کریم کے بعض کلمات کو لے کر خلط ملط کر دیں اور تحریف کر کے لوگوں میں نشر کرنے کی کوشش کریں ۔ اللہ تعالیٰ نے آسمان پر حفاظتی چوکیاں (بروج) قائم کر کے فرشتوں کو ان پر مامور کر دیا تاکہ شیاطین اپنے مقاصد میں کامیاب نہ ہوسکیں ۔ ستارے آسمان کی زینت بھی ہیں اور شیاطین سے حفاظت کا ذریعہ بھی ہیں ، اگر کوئی شیطان چھپ کے سننے کی کوشش کرتا ہے تو ’’شہاب ثاقب‘‘ اس کا پیچھا کر کے اسے راہِ فرار پر مجبور کر دیتا ہے۔ انسان کی تخلیق چپکنے والی مٹی سے کی گئی ہے۔ پھر بتایا کہ مرنے کے بعد یہ انسان دوبارہ زندہ ہو گا اور اسے احتساب کے کڑے عمل سے گزرنا پڑے گا اور ہر شخص کو اپنے کئے کا بدلہ مل کر رہے گا۔ مخلصین کو با عزت طریقہ پر کھانے پینے اور جنسی لذت کا سامان فراہم کیا جائے گا جبکہ ظالم جہنم کے عذاب اور زقوم کے درخت سے اپنی بھوک مٹانے پر مجبور ہوں گے جس سے نہ سیری ہو گی اور نہ ہی صحت حاصل ہوسکے گی۔دو دوستوں کا عبرتناک تذکرہ بھی کیا ہے کہ ایک جنتی اپنے ہم مجلس دوستوں سے کہے گا کہ دنیا میں میرا ایک دوست تھا جو کہ میرے قیامت کے عقیدہ پر استہزاء و تمسخر کیا کرتا تھا وہ آج یہاں نظر نہیں آ رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ اگر تم اسے دیکھنا چاہو تو نیچے جھانک کر دیکھ لو وہ جب جھانکے گا تو اسے جہنم کے عذاب میں مبتلاء نظر آئے گا۔ جنتی اس سے کہے گا کہ تو تو مجھے گمراہ کرنے پر کمربستہ رہتا تھا یہ تو اللہ کا فضل و کرم ہوا کہ اس نے تمہارے بہکاوے سے مجھے بچا لیا ورنہ میں بھی تمہاری طرح جہنم کی گہرائیوں میں پڑا سڑ رہا ہوتا۔ اس کے بعد سلسلہ انبیاء کا بیان شروع ہوتا ہے، سب سے پہلے نوح علیہ السلام اور ان کی قوم کا مختصر تذکرہ، ایمان والوں کی قلت تعداد کے باوجود نجات اور کافروں کی کثرت تعداد کے باوجود غرقابی۔ پھر ابراہیم علیہ السلام اور ان کی قوم کا تذکرہ۔ بتوں کی توڑ پھوڑ اور آگ میں ڈالے جانے کا ذکر، پھر بڑھاپے میں اسماعیل علیہ السلام کی ولادت اور ان کی قربانی کا ایمان افروز بیان، باپ کا ایثار اور بیٹے کا صبر، قربانی کی قبولیت، اسماعیل کے بدلہ میں جنتی مینڈھے کی قربانی اور رہتی دنیا تک اس کی یاد مناتے ہوئے پوری ملت اسلامیہ کو قربانیاں پیش کرنے کا حکم۔ پھر اسحاق اور اس کی صالح اولاد کی بشارت پھر موسیٰ و ہارون اور اللہ کی مدد سے فرعونی مظالم کے مقابلے میں ان کی اور ان کی قوم کی نجات۔ ان کے ایمان و اخلاص کی تعریف اور اللہ کی طرف سے انہیں ’’سلامی‘‘ پیش کرنے کا اعلان، اس کے بعد الیاس علیہ السلام اور ان کی مشرک قوم کا ذکر اور حضرت الیاس کے بیان توحید کی تعریف، اس کے بعد حضرت لوط علیہ السلام اور ان کی بے حیا قوم کا عبرتناک انجام، اس کے بعد حضرت یونس علیہ السلام اور ان کے مچھلی کے پیٹ سے نجات کا واقعہ۔ پھر اللہ کے لئے اولاد ثابت کرنے والوں کی مذمت اور اللہ کے رسولوں اور نیک بندوں کی مدد و نصرت کا وعدۂ الٰہی اور آخر میں اللہ کی تسبیح و تحمید اور اللہ کے نیک بندوں پر سلامتی کے نزول کے وعدہ کے ساتھ سورت کا اختتام۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ جو شخص یہ چاہے کہ اس کا ثواب بڑی ترازو میں تولا جائے تو وہ مجلس کے اختتام پر (صافات کی آخری تین آیتیں ) سبحان ربک رب العزۃ عما یصفون وسلام علی المرسلین والحمد للہ رب العالمین پڑھ لیا کرے۔

سورہ ص

مکی سورت ہے۔ اٹھاسی آیتوں اور پانچ رکوع پر مشتمل ہے، قرآن کریم کے ’’کتاب نصیحت‘‘ ہونے کے بیان کے ساتھ ہی منکرین توحید کے لئے عذاب الٰہی کی وعید اور پھر انبیاء علیہم السلام کا ذکر جس میں اختصار اور تفصیل کی دونوں صنعتوں کی جھلک دکھائی گئی ہے۔ قوم نوح، فرعون، عاد، ثمود کا اپنے انبیاء سے مقابلہ اور ان قوموں کی ہلاکت کا دل آویز اختصار کے ساتھ بیان کرنے کے بعد داؤد و سلیمان کا تفصیلی ذکر۔ حضرت داؤد کی دستکاری، انابت الی اللہ اور خوش الحانی سے تلاوت زبور جس میں پہاڑ اور پرندے بھی ساتھ چہچہانے لگ جاتے۔ پھر دو افراد کا تمام سرکاری حفاظتی انتظامات کو نظر انداز کر کے دیوار پھلانگ کر آنا اور مسئلہ پوچھ کر آسمان کی طرف چلے جانا، جس سے یہ ظاہر ہوا کہ یہ عام انسان نہیں فرشتے تھے جو کہ آزمائش کے لئے اترے تھے۔ اس پر داؤد علیہ السلام کا اپنے انتظامات کی بجائے اللہ پر اعتماد و توکل کا بڑھ جانا اور اللہ کی طرف سے مغفرت اور اچھے انجام کی نوید مذکور ہے۔ پھر سلیمان علیہ السلام ان کے بے پناہ وسائل، اصیل گھوڑے، ہواؤں کی تسخیر اور صبح و شام کا ہوائی سفر اس کے باوجود اللہ کے سامنے ان کی عجز و انکساری اور اللہ کی طرف سے مقربین بارگاہ میں شمولیت اور اچھے انجام کی نوید ہے۔ پھر ایوب علیہ السلام اور بیماری اور تکلیف میں ان کا صبر و استقامت اور اللہ کی طر ف سے ان کے نقصانات کے ازالہ کا تذکرہ اور ان کی رجوع الی اللہ کی صفت کی تعریف کی گئی ہے۔ پھر اختصار کے ساتھ ابراہیم، اسحاق، یعقوب، اسماعیل، یسع، ذوالکفل علیہ السلام کا تذکرہ اور اللہ کے برگزیدہ بندوں کے جنت میں اعزاز و اکرام کا ذکر ہے جبکہ نافرمانوں کے عذاب اور سزا کا تذکرہ ہے۔ پھر دعوت توحید ہے اور قصۂ آدم و ابلیس کو بیان کرنے کے بعد آخر میں قرآن کریم کے ’’کتاب نصیحت‘‘ ہونے کا اعادہ اور قرآنی تعلیمات کی حقانیت روز قیامت ہر شخص کو کھلی آنکھوں نظر آنے کا اعلان ہے۔

سورہ الزمر

مکی سورت ہے۔ پچھتر آیتوں اور آٹھ رکوع پر مشتمل ہے ’’الزمر‘‘ کے معنی جماعتیں اور گروہ۔ سورت کے آخر میں جنت اور جہنم کے لئے لوگوں کی جماعتوں کی روانگی کا ذکر ہے، اس لئے ’’الزمر‘‘ کے نام سے موسو م ہے۔ اس سورت کا مرکزی مضمون توحید ہے۔ قرآن کریم کے کلام الٰہی ہونے کے اعلان کے ساتھ سورت کی ابتداء کی گئی ہے۔ اس کے بعد مشرکین پر تابڑ توڑ حملے اور کائناتی شواہد اور واقعاتی دلائل کے ساتھ توحید کا اثبات ہے۔ ایک انسان (آدم) سے ’’دنیائے انسانیت‘‘ کی ابتداء اور اسی سے اس کی بیوی (حوّا) کی تخلیق، خوراک کے لئے آٹھ نر و مادہ چوپائے پیدا کئے۔ شکم مادر کے اندر تین اندھیروں (پیٹ، رحم، جھلی) کے اندر رکھ کر تیزی کے ساتھ بدلتی ہوئی کیفیت کے ساتھ اس انسان کی تخلیق۔ کفر اللہ کا ناپسندیدہ ترین عمل ہے جبکہ پسندیدہ ترین عمل شکر ہے۔ کوئی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ انسانی مزاج کہ تکلیف میں فوراً اللہ کو پکارنے لگتا ہے اور راحت میں منکر اور گمراہ بن جاتا ہے۔ خالص اللہ کی عبادت مسلمانوں میں سرفہرست رہنے اور قیامت کا خوف اپنے دل میں پیدا کرنے کی تلقین ہے۔ قرآن کریم کی اتباع کرنے والوں کو ہدایت یافتہ اور عقلمند ہونے کی خوشخبری ہے۔ قرآن کریم کی صفات کا تذکرہ کہ بہترین کلام ہے۔ کتابی شکل میں ہے۔ ملتی جلتی آیات ہیں ، بار بار دہرائی جاتی ہیں ۔ اسے سن کر خوف خدا رکھنے والوں کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں ۔ مشرک و مؤمن کا فرق واضح کرنے کی بہترین مثال کہ ایک شخص غلام ہو اور اس کی ملکیت میں بہت سے لوگ شریک ہوں اور دوسرا ایک ہی شخص کا غلام ہو۔ جس طرح یہ دونوں برابر نہیں ہوسکتے اسی طرح مشرک و مؤمن بھی برابر نہیں ہوسکتے۔ ان تمام باتوں کی حقانیت کا مشاہدہ کرنے کے لئے آپ بھی مریں گے اور یہ لوگ بھی مریں گے، پھر تم اپنے رب کے حضور تمام صورتحال بیان کر کے فیصلہ حاصل کر لو گے۔


24– فَمَنْ أَظْلَمُ


جھوٹ کے علمبرداروں اور ان کے حمایتیوں کو دنیا کے ظالم ترین افراد قرار دے کر ان کا ٹھکانہ جہنم بتا یا ہے اور سچائی کے علمبرداروں اور حمایتیوں کو متقیوں میں شامل فرما کر ان کی ہر خواہش کو پورا کرنے کی خوشخبری سنا کر بتایا ہے کہ اپنے بندوں کے لئے اللہ ہی کافی و شافی ہے اس کے بعد کسی اور کی حمایت انہیں درکار نہیں رہتی۔ یہ لوگ، اللہ کے علاوہ دوسری طاقتوں سے آپ کو ڈرانے کی کوشش کرتے ہیں حالانکہ اللہ اگر کسی کو نقصان پہنچانا چاہے یا بیماری میں مبتلا کرے یا کسی کو نفع پہنچانا چاہے تو یہ اسے روکنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ اللہ کی حمایت کو کافی سمجھ کر اسی پر توکل کرنا چاہئے۔ انسانوں کی موت و زیست اللہ ہی کے قبضۂ قدرت میں ہے۔ نیند کی حالت میں اللہ ہی روح نکالتے ہیں پھر جس کی موت کا وقت آ چکا ہو اس کی روح واپس نہیں کی جاتی جس کا ابھی وقت نہ آیا ہو اس کی روح واپس کر دی جاتی ہے غور و فکر کرنے والوں کے لئے اس میں دلائل موجود ہیں ۔ اللہ کے مقابلہ میں انہوں نے اپنے سفارشی ڈھونڈ رکھے ہیں حالانکہ ان کے پاس کوئی اختیار نہیں ہے ہر قسم کی شفاعت کا اختیار صرف اللہ ہی کو حاصل ہے۔ اکیلے اللہ کے تذکرہ سے ان کے ماتھے پر بَل پڑ جاتے ہیں اور جب اللہ کے سوا دوسروں کا نام لیا جائے تو ان کے چہروں پر خوشی کی لہر دوڑ جاتی ہے۔ قیامت کے دن یہ ظالم ساری دنیا سے دُگنا مال و دولت دے کر عذاب سے چھٹکارا پانا چاہیں گے مگر انہیں کامیابی حاصل نہیں ہو گی ان کے تمسخر و استہزاء کے نتیجہ میں عذاب کی جو صورتحال درپیش ہو گی وہ ان کے وہم و گمان سے بھی بالاتر ہو گی۔ مگر اللہ نے توبہ کے ذریعہ واپسی کا دروازہ کھلا رکھا ہوا ہے۔ اگر کسی نے گناہوں میں ساری عمر تباہ کر دی ہو تو اسے بھی مایوسی کا شکار نہیں ہونا چاہئے توبہ کرنے پر اللہ ہر قسم کے گناہوں کو معاف کر دیتے ہیں ۔ اللہ کی طرف رجوع کر کے اللہ کے نازل کردہ قرآن پر عمل در آمد کرو تاکہ کل قیامت کے روز حسرت و افسوس کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ دنیا میں احکام خداوندی سے روگردانی تکبر کی علامت ہے اور متکبرین کا ٹھکانہ جہنم ہے۔ قیامت کے دن متقی لوگ نجات پائیں گے اور کامیابیاں ان کے قدم چومیں گی۔ اللہ ہر چیز کے خالق و مالک ہیں آسمان و زمین کے خزانوں کی کنجیاں اسی کے پاس ہیں ۔ اللہ کے منکر گھاٹے اور نقصان میں ہیں ۔ غیراللہ کی عبادت کرنے والا کتنا بڑا پڑھا لکھا ہو قرآن کریم اسے جاہل شمار کرتا ہے۔ مشرک کتنا بڑا نیک عمل کر لے اللہ کے ہاں اسے تسلیم نہیں کیا جائے گا۔ جب صور پھونکا جائے گا تو ہر چیز فنا ہو کر رہ جائے گی اور دوبارہ صور پھونکنے پر سب زندہ ہو کر قیامت کا منظر دیکھنے لگیں گے۔ اللہ کے نور سے پوری سرزمین چمک اٹھے گی۔ نبیوں اور گواہوں کی موجودگی میں عدل و انصاف کے مطابق فیصلہ کر کے ہر انسان کو اس کے کئے کا پورا پورا بدلہ دے دیا جائے گا۔ کافروں کی ٹولیاں بنا کر انہیں جہنم کی طرف دھکیلا جائے گا اور ان سے پوچھا جائے گا کہ ہمارے رسولوں نے قرآن سنا کر تمہیں قیامت کے دن سے نہیں ڈرایا تھا؟ وہ تسلیم کریں گے لیکن کافروں کے لئے اللہ کے عذاب کا فیصلہ ہو چکا ہو گا اور وہ متکبرین کے بدترین ٹھکانہ جہنم میں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے داخل کر دیئے جائیں گے۔ متقیوں کی جماعتیں بنا کر انہیں جنت کی طرف روانہ کیا جائے گا ان کے استقبال میں جنت کے دروازے کھلے ہوئے ہوں گے انہیں سلامی پیش کی جائے گی اور ہمیشہ ہمیشہ کے لئے جنت میں داخل کر دیئے جائیں گے۔ وہ اپنے اعمال پر اترانے کی بجائے اللہ کی تعریف میں رطب اللسان ہو رہے ہوں گے۔ تم فرشتوں کو دیکھو گے کہ وہ عرش کے چاروں طرف اللہ کی تسبیح و تحمید میں مصروف ہوں گے۔ عدل و انصاف کے مطابق فیصلہ ہو چکا ہو گا اور اعلان کر دیا جائے گا کہ تمام خوبیوں اور صفات کے مالک اللہ رب العالمین ہی ہیں ۔

سورہ المؤمن

مکی سورت ہے۔ یہ پچاسی آیتوں اور نو رکوع پر مشتمل ہے۔ اس میں ایک ’’مرد مؤمن‘‘ کی حق گوئی و بے باکی کا تذکرہ ہے نیز اللہ کے لئے غافر (گناہوں کو معاف کرنے والا) کی صفت کا اطلاق کیا گیا ہے اس لئے ’’سورہ الغافر‘‘ بھی کہا گیا ہے۔
زبردست قوت اور علم کے مالک اللہ کا یہ کلام ہے وہ گناہوں کو معاف کرنے والا توبہ قبول کرنے والا، سخت عذاب دینے والا ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں ۔ اسی کی طرف سب لوٹ کر جائیں گے۔ اللہ کی آیات میں جھگڑنے والے کافر ہیں ۔ عیش و عشرت کے وسائل کی فراوانی اور دنیا میں آزادانہ نقل و حرکت سے آپ دھوکہ میں نہ پڑ جانا۔ قوم نوح اور ان سے پہلوں اور پچھلوں نے بھی انبیاء کو جھٹلایا۔ انہیں گرفتار کرنے کی کوشش کی انہیں جھگڑا کر کے حق کی آواز دبانے کی کوشش کی مگر ناکام ہو کر ہمارے عذاب کے مستحق قرار پائے۔ حاملین عرش اللہ کے مقرب فرشتے اللہ کی حمد و ثنا میں مشغول رہتے ہیں اور اہل ایمان اور ان کے متعلقین کے لئے استغفار و دعاء کرتے رہتے ہیں ۔ اے ہمارے رب آپ کی رحمت اور آپ کا علم ہر چیز پر وسیع ہے آپ کی تابعداری کر کے توبہ کرنے والوں کی مغفرت فرما کر انہیں جہنم کے عذاب سے بچا لیجئے۔ انہیں اپنے خاندان کے نیکوکار افراد سمیت دائمی جنتوں میں داخل کر کے ہر قسم کی پریشانیوں سے نجات عطا فرما دیجئے۔ کافر جہنم میں پڑے ہوئے دوبارہ زندہ ہونے کو تسلیم کرتے ہوئے اپنے گناہوں کا اعتراف بھی کریں گے مگر جہنم سے چھٹکارے کا کوئی راستہ نہیں ہو گا۔ قیامت کے دن اللہ کی حکمرانی کے مقابلہ میں کوئی جھوٹا دعوے دار بھی پیدا نہیں ہو گا۔ اکیلے اللہ ہی ہر چیز پر غالب ہوں گے۔ بغیر کسی ظلم و زیادتی کے ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ مل جائے گا۔ فرعون، ہامان اور قارون جو کہ اقتدار اعلیٰ، انتظامیہ اور سرمایہ داری کے نمائندے ہیں ان کے مقابلہ میں حضرت موسیٰ علیہ السلام ہماری آیات اور معجزات کے ساتھ مبعوث ہوئے۔ مگر انہوں نے ماننے کی بجائے قتل و غارت گری کی مدد سے مسلمانوں کو ختم کرنے کی کوشش کی اور موسیٰ علیہ السلام کو بھی قتل کرنے کا پروگرام بنایا اور ’’کلابی تقویٰ‘‘ کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہنے لگے کہ موسیٰ دراصل لوگوں کا دین بگاڑ رہا ہے اور زمین میں فساد برپا کر رہا ہے اس لئے ہم اس کے خلاف یہ اقدامات کر رہے ہیں ۔ موسیٰ علیہ السلام نے اللہ کی پناہ اور حفاظت طلب کی تو فرعون کے خاندان کا ایک با اثر شخص کھڑا ہو گیا اس نے لسانی، قومی اور سیاسی تمام مصلحتوں کو بالائے طاق رکھ کر حضرت موسیٰ علیہ السلام کی حمایت کا واضح اعلان کر دیا۔
اس کے ایمان افروز اور طاغوت شکن گفتگو کو قرآن کریم نے آیت ۲۸ سے لیکر آیت ۴۵ تک نہایت تفصیل کے ساتھ ذکر کی ہے، جس میں اس نے موسیٰ علیہ السلام کے حق و صداقت کا اعتراف کیا۔ امم ماضیہ کے اپنے انبیاء کا انکار اور ان پر اللہ کے عذاب کا ذکر کیا۔ قیامت کے دن اللہ کی پکڑ سے ڈرایا اور بتایا کہ وہاں پر گناہوں کی سزا مل کر رہے گی، جبکہ ایمان اور اعمال صالحہ والے مرد و عورت جنت میں بے حساب نعمتوں کے مزے لوٹیں گے۔ آخر میں اس نے نہایت حسرت و افسوس کے ساتھ کہا کہ تم آج میری بات نہیں مان رہے ہو، مگر عنقریب میری باتیں تمہیں یاد آئیں گی، مگر اس وقت کی ندامت تمہارے کام نہ آسکے گی۔ میں اپنا معاملہ اللہ کے حوالہ کر رہا ہوں ۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اسے ظلم و ستم سے بچا کر فرعون اور اس کے تمام لاؤ لشکر کو بدترین عذاب میں مبتلا کر دیا۔ روزانہ صبح و شام جہنم کی آگ ان کی قبروں میں پیش کی جاتی ہے۔ قیامت کے دن سخت ترین عذاب چکھنے کے لئے انہیں جہنم میں داخل کر دیا جائے گا۔ پھر قیامت کے دن مجرموں کا باہمی جھگڑا اور اپنے جرائم کی ذمہ داری دوسروں پر ڈالنے کی مذموم حرکت کو ذکر کر کے بتایا کہ وہ ایک آدھ دن کے لئے ہی جہنم کے عذاب میں تخفیف کی درخواست کریں گے، مگر وہ بھی پوری نہیں کی جائے گی۔ اپنے بندوں کی مدد کا برحق وعدہ اور ظالموں کے لئے لعنت اور بدترین عذاب کی خبر دیتے ہوئے آگے فرمایا کہ ’’بعث بعد الموت‘‘ کے منکرین یہ کیوں نہیں سوچتے کہ آسمان و زمین کی تخلیق کا مشکل ترین کام جس اللہ نے کر لیا اس کے لئے انسانوں کو دوبارہ پیدا کرنا کیا مشکل ہو گا۔ جس طرح بینا اور نابینا برابر نہیں اسی طرح نیک و بد اور مؤمن و کافر بھی برابر نہیں ہوسکتے۔
ہر مشکل میں اللہ ہی کو پکارنا چاہئے جو اللہ سے دعا مانگنے سے پہلوتہی کرتا ہے وہ متکبر اور اسے انتہائی ذلت و رسوائی کے ساتھ جہنم میں جانا پڑے گا۔ پھر دن رات کے آنے جانے اور آسمان و زمین کی تعمیر میں غور و فکر کی دعوت دیکر انسانی تخلیق کا بیان شروع کر دیا کہ انسان کو قدرت کا بہترین اور خوبصورت شاہکار بنایا گیا ہے۔ اسے حسین پیکر میں تبدیل ہونے کے لئے جن تخلیقی مراحل سے گزرنا پڑتا ہے ان کا تذکرہ اور پھر زندگی اور موت کے اللہ کے قبضہ میں ہونے کا بیان ہے، پھر بتایا ہے کہ اللہ کی آیات کے بارے میں جھگڑا کرنے اور قرآن کا انکار کرنے والوں کو طوق ڈال کر بیڑیوں اور ہتھکڑیوں میں جکڑ کر جہنم میں گھسیٹا جائے گا اور ان کے غرور و تکبر کی بناء پر ہمیشہ ہمیشہ کے لئے جہنم کو ان کا ٹھکانہ قرار دے دیا جائے گا۔ اس کے بعد بتایا گیا کہ انبیاء و رسل آپ سے پہلے بھی آتے رہے ہیں ۔ مگر ایمان سب پر لانا ضروری ہے کوئی رسول اپنے طور پر کبھی بھی نشانی نہیں لایا کرتا اور پھر انسان اپنے نواح و اطراف میں اگر غور کرے تو پوری کائنات نشانیوں سے بھری پڑی ہے۔ جب ہمارا عذاب یہ لوگ دیکھتے ہیں تو کہنے لگتے ہیں کہ ہم ایک اللہ پر ایمان لاتے ہیں ، لیکن ’’حالتِ نزع‘‘ کے ایمان کا کوئی اعتبار نہیں ہوتا اور اس وقت کافروں کو اپنا نقصان واضح نظر آنے لگ جاتا ہے۔

سورہ السجدۃ

مکی سورت ہے۔ اس میں چون آیتیں اور چھ رکوع ہیں ۔ قرآن کریم کے رحمان و رحیم کا کلام ہونے کی خبر کے ساتھ ماننے والوں کا انجامِ خیر اور نہ ماننے والوں کا انجام بد مذکور ہے اور زکوٰۃ کی ادائیگی نہ کرنے والے کو مشرکین کی صف میں کھڑا کیا ہے۔ اس کے بعد آسمان  و زمین کو چھ دن کے اندر مکمل کرنے کا بیان ہے۔ دو دن میں زمین بنائی اور دو دن میں اس کے اندر خزانے ودیعت کر کے چار دن میں اس سے فارغ ہو گئے اور پھر مزید دو روز کے اندر آسمان کو دھوئیں سے بنایا۔ اس کی زینت اور حفاظت کے لئے ستاروں کو پیدا کر کے کل کائنات کی تخلیق چھ روز میں مکمل کر دی۔ اگر یہ لوگ پھر بھی اللہ کو ماننے کے لئے تیار نہیں ہوتے تو انہیں قوم عاد و ثمود کی تاریخ سے درس عبرت حاصل کرنے کی تلقین کرو۔ ان کے پاس توحید کا پیغام لیکر رسول آتے رہے قوم عاد تو کہنے لگی کہ ہم بہت طاقتور لوگ ہیں ۔ ہم سے زیادہ طاقت والا دنیا میں اور کوئی نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جس اللہ نے تمہارے جیسے طاقت ور پیدا کئے وہ تم سے بھی زیادہ طاقتور ہے، مگر انہیں یہ بات سمجھ میں نہ آئی تو اللہ نے شدید آندھی ان پر مسلط کر کے انہیں تباہ و برباد کر کے رکھ دیا اور ثمود کے انکار پر انہیں بھی ذلت آمیز کڑک سے دوچار کر کے ہلاک کر دیا اور ایمان و تقویٰ والوں کو نجات عطاء فرما دی۔ پھر قیامت میں اٹھائے جانے اور حساب و کتاب کے لئے ہاتھ پاؤں اور دوسرے اعضاء کی گواہی اور کافروں کے تعجب کو ذکر کر کے بتایا کہ جس اللہ نے تمہاری زبان کو قوت گویائی دی تھی۔ اس کے لئے دوسرے اعضاء کو بلوانا کوئی مشکل نہیں ہے۔ پھر حق کے مقابلہ میں کفر کا ایک بھونڈا انداز کہ جب قرآن پڑھا جائے تو اتنا شور مچاؤ کہ ان کی آواز دب جائے اور تم غالب آ جاؤ۔ ایسے کافروں اور اللہ کے دشمنوں کے لئے جہنم کا ذلت آمیز ٹھکانہ ہو گا۔ اللہ کو رب مان کر استقامت کا مظاہرہ کرنے والوں کی دلجوئی اور تسلی کے لئے فرشتے اتریں گے اور انہیں ہر قسم کے خوف اور غم سے نجات کی بشارت سنائیں گے۔ جنت میں ان کی ہر خواہش پوری کی جائے گی۔ یہ غفور رحیم کی مہمانی ہو گی۔
بہترین انسان وہ ہے جو اعلیٰ کردار اور بہترین عملی زندگی کے ساتھ اپنے مسلمان ہونے پر فخر کرتا ہو اور دوسروں کو بھی اچھی زندگی اپنانے کی دعوت دیتا ہو۔ ایسے لوگ برائی کا بدلہ بھلائی سے دیتے ہیں اور حسن اخلاق کا مظاہرہ کر کے اپنے دشمن کا دل بھی موہ لیتے ہیں ۔ یہ لوگ صبر و شکر کی زندگی گزارنے والے ہوتے ہیں اور یہ خوبیاں بڑے نصیب والوں کو ہی ملا کرتی ہیں ۔
اللہ کی قدرت کی نشانیاں دن رات، سورج چاند ہیں ۔ لہٰذا انہیں سجدہ کرنے کی بجائے ان کے پیدا کرنے والے کو سجدہ کرو۔ بنجر و ویران زمین بھی اس کی نشانی ہے کہ جیسے ہی پانی برستا ہے تو وہ لہلہانے اور نشوونما پانے لگ جاتی ہے، جس ذات نے اسے زندہ کر دیا وہ مردوں کو بھی زندہ کر دے گا۔ قرآن کریم میں ترمیم و تنسیخ کے خواب دیکھنے والے ہماری نگاہوں سے اوجھل نہیں ہوسکتے اور قرآن کریم پر باطل کسی طرح بھی اثر انداز نہیں ہوسکتا۔ قرآن کریم کو ہم نے عجمی نہیں بلکہ عربی بنایا ہے اس میں ایمان والوں کے لئے ہدایت اور شفاء ہے۔
جو نیکی کرے گا تو اپنا ہی فائدہ کرے گا اور برائی کرے گا تو اپنا ہی نقصان کرے گا۔ تیرا رب بندوں پر کسی قسم کا ظلم نہیں کیا کرتا۔




25– إِلَيْہِ يُرَدُّ

قیامت کے وقت کو اللہ ہی جانتے ہیں ۔ کونپلوں سے کیسا پھل برآمد ہو گا۔ شکمِ مادر میں کیا ہے اور کب جنے گی اس کا علم بھی اللہ ہی کو ہے۔ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ پوچھیں گے کہ تمہارے شرکاء کہاں ہیں ؟ وہ خود کہیں گے کہ ہم ان سے برات کا اظہار کرتے ہیں ۔ انسان خیر طلب کرنے سے کبھی نہیں اکتاتا لیکن جیسے ہی تکلیف یا مصیبت میں مبتلا ہو جائے تو بہت جلد مایوسی اختیار کر لیتا ہے۔ جب آرام و راحت مل جائے تو قیامت کو ایک دم بھول کر ہر فائدہ کو اپنی ذات کی طرف منسوب کرنے لگ جاتا ہے۔ تکلیف آ جائے تو لمبی لمبی دعاؤں میں لگ جاتا ہے اور آرام و راحت کے وقت ’’کنّی‘‘ کترا کے نکل جاتا ہے۔ ہم آفاق کے اندر اپنی آیتیں آپ کو دکھلا کر چھوڑیں گے تاکہ حق ظاہر ہو جائے کیا یہ کافی نہیں ہے کہ تیرا رب ہر چیز پر گواہ ہے اصل بات یہ ہے کہ یہ لوگ اللہ سے ملاقات کے بارے میں شکوک و شبہات میں مبتلا ہیں ۔ سنو! اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کا احاطہ کر رکھا ہے۔

سورہ الشوریٰ

’’الشوریٰ‘‘ مشورہ کو کہتے ہیں اور اس سورت میں اللہ کے منتخب بندوں کے بارے میں مذکور ہے کہ وہ اپنے معاملات باہمی مشورہ سے طے کرتے ہیں اس لئے یہ سورت شوری کے نام سے موسوم ہے۔ یہ ترپن آیتوں اور پانچ رکوع پر مشتمل ہے ابتداء سورت میں حقانیت قرآن کا بیان ہے پھر توحید کا تذکرہ اور معبودان باطل کی مذمت ہے۔ پھر قرآن کریم کی عالمگیریت کا بیان ہے کہ یہ مکہ مکرمہ اور اس کے اطراف میں واقع تمام دنیا کے انسانوں کی رہنمائی کے لئے ہے۔ اللہ چاہیں تو ہر ایک کو زبردستی اسلام میں داخل کر دیں لیکن یہ ’’سودا‘‘ زبردستی کا نہیں بلکہ اپنے ’’اختیار‘‘ کے مطابق فیصلہ کا ہے تاکہ قیامت کی جزاء و سزاء اس پر نافذ ہوسکے۔
اللہ نے ہر قسم کی نعمتیں انسان کے لئے پیدا کی ہیں اور اللہ کا مثل کوئی نہیں ہے۔ اس نے تمام انبیاء نوح، ابراہیم، موسیٰ و عیسیٰ کو ایک ہی ’’دین‘ عطاء فرما کر ’’اقامت صلوٰۃ‘‘ اور ’’فرقہ واریت‘‘ سے بچنے کی تلقین فرمائی۔ دلائل کے آ جانے کے بعد وہ لوگ سرکشی کے طور پر فرقہ واریت کو اختیار کرتے ہیں ۔ ان کی خواہشات کی پیروی کرنے کی بجائے اللہ کے حکم کے مطابق ثابت قدمی کا مظاہرہ کیجئے۔ آسمانی تعلیمات پر ایمان کا اظہار بھی کریں اور عدل و انصاف کے علمبردار رہیں ۔ جو لوگ وحدانیت باری تعالیٰ کے ثابت ہو جانے کے بعد بھی بے سرو پا دلائل کی بنیاد پر کٹھ حجتی کا مظاہرہ کرتے ہیں ان کے لئے اللہ کے غضب اور عذابِ شدید کی وعید ہے۔ قیامت کی جلدی وہی لوگ مچاتے ہیں جو اس پر ایمان نہیں رکھتے اور ایمان والے تو قیامت کو برحق سمجھنے کے باوجود اس کے آنے سے ڈرتے ہیں ۔ قیامت کے بارے میں شک کرنے والے کھلی ہوئی گمراہی میں مبتلا ہیں ۔ اصل زندگی آخرت کی زندگی ہے اس لئے جو شخص آخرت کے اجرو ثواب کا طلب گار ہوتا ہے اللہ اس کے اجرو ثواب میں اضافہ فرما دیتے ہیں اور دنیا کے طلب گار کو قسمت سے زیادہ نہیں ملتا مگر آخرت کے بدلہ سے وہ بالکل محروم ہو جاتا ہے۔ پھر ظلم و ستم اور نا انصافی کے مرتکبین اور عدل و انصاف کے علمبرداروں کی قیامت کے دن کی کیفیت کو بیان کرنے کے بعد حضور علیہ السلام کے توسط سے امت مسلمہ کو یہ تعلیم ہے کہ قرآنی تعلیمات کی نشر و اشاعت میں مالی مفادات پیش نظر نہیں رکھنے چاہئیں پھر دنیا کی زندگی میں ایک زبردست خدائی ضابطہ کا بیان ہے کہ اللہ تعالیٰ باطل کو اس کی تمام حشر سامانیوں کے ساتھ مٹا کر رہتے ہیں اور حق کو اس کے تمام لوازم کے ساتھ ثابت کر کے چھوڑتے ہیں ۔ اس کے بعد بندوں کی توبہ قبول کرنے اور ان کی خطاؤں سے درگزر کرنے کی خوشخبری بیان فرمائی ہے اور اس کے بعد انسان کی اس فطری کمزوری کا تذکرہ ہے کہ جب اسے مالی آسائش اور وسائل زندگی کی فراوانی حاصل ہو جاتی ہے تو یہ سرکشی اور فساد پر آمادہ ہو جاتا ہے۔ پھر یہ ضابطہ بھی مذکور ہے کہ انسان پر تکالیف و مصائب درحقیقت اس کے اپنے جرائم اور کرتوتوں کی وجہ سے نازل ہوتی ہیں جبکہ بہت سے گناہوں پر تو اللہ تعالیٰ گرفت ہی نہیں کرتے۔ اس کے بعد اللہ کے صابر و شاکر بندوں کی خوبیوں کی ایک فہرست بیان کرتے ہوئے بتایا ہے کہ وہ ایمان و توکل سے سرشار ہوتے ہیں ، کبیرہ گناہوں اور بے حیائی کی باتوں سے اجتناب کرتے ہیں ۔ غصہ کے وقت عفو و درگزر کا معاملہ کرتے ہیں ۔اپنے رب کی ہر دعوت پر لبیک کہتے اور اقامت صلوٰۃ کرتے ہیں ۔ اپنے معاملات کو مشورہ سے طے کرتے ہیں اور اللہ کے راستہ میں خرچ کرتے ہیں اور انتقام صرف اسی صورت میں لیتے ہیں جب ان پر کوئی زیادتی و ظلم کیا جاتا ہے۔ برائی کا بدلہ برائی سے لینا اگرچہ جائز ہے مگر صبر و تحمل اور عفو و درگزر کرنا بڑے ہی عزم و ہمت کی بات ہے۔ عذاب الٰہی کو دیکھ لینے کے بعد ظالموں کی جو کیفیت ہو گی اسے بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ کے مختار کل ہونے کا بیان ہے کہ آسمان و زمین کی حکمرانی اسی کے ہاتھ میں ہے وہ جسے چاہے بیٹے دے اور جسے چاہے بیٹیاں دے اور جسے چاہے دونوں جنسیں عطاء کر دے اور جسے چاہے بانجھ بنا کر دونوں سے محروم کر دے وہ علم و قدرت والا ے۔ پھر وحی کے نزول کے تین طریقے (دل میں القاء کر دینا، پس پردہ بات کرنا یا فرشتہ کی مدد سے پیغام دے دینا) بیان فرمائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حوصلہ افزائی کے لئے واضح کر دیا کہ آپ اللہ کے بتائے ہوئے صراط مستقیم پر گامزن رہیں اور تمام کاموں کا ماویٰ و ملجأ ایک اللہ ہی کی ذات ہے۔

سورہ الزخرف

مکی سورت ہے۔ نواسی آیتوں اور سات رکوع پر مشتمل ہے۔ ’’زخرف‘‘ کے معنیٰ آرائش و زیبائش کے ہیں ۔ اس سورت میں کافروں کے لئے ہر طر کی ’’زخرف‘‘ کا تذکرہ ہے۔ واضح کتاب کی آیتیں اور عربی زبان میں قرآن اس لئے اتارا تاکہ اہل عقل و دانش اس سے استفادہ کرسکیں ۔ پھر توحید و رسالت کے موضوع پر گفتگو ہے اور سواریوں کو نقل و حمل کے لئے انسان کے تابع بنانے پر اللہ کا شکر ادا کرنے کی تلقین ہے اور تیرہ اور چودہ نمبر آیت میں سواری کی دعاء مذکور ہے پاک ہے وہ ذات جس نے اس سواری کو ہمارا تابع بنا دیا ہم اسے اپنے قابو میں نہیں لا سکتے تھے اور ہم نے لوٹ کر اپنے رب کے پاس ہی جانا ہے۔ پھر فرشتوں کو اللہ کی اولاد قرار دینے اور مشرک و گمراہ آباؤ اجداد کی اندھی تقلید کی مذمت کی گئی ہے۔ پھر ابراہیم علیہ السلام کی طرف سے اپنی قوم کے مشرکانہ افعال سے بیزاری و برأت اور اپنے خالق و مالک کے لئے یکسوئی اختیار کرنے کا بیان ہے۔ پھر مشرکین کے اعتراض کا تذکرہ ہے کہ ایک غریب اور وسائل سے محروم شخص کو نبی بنانے کی بجائے مکہ یا طائف کے کسی کردار کا انتخاب کیوں عمل میں نہیں لایا گیا۔ نبوت و رسالت اللہ کی رحمت ہے اور اللہ جانتے ہیں کہ اس کا اہل کون ہے۔ لہٰذا ان لوگوں کو اللہ کی رحمت تقسیم کرنے کا کوئی اختیار نہیں ہے۔ باقی رہا مسئلہ امارت و وسائل کی فراوانی کا تو اس کا نبوت و رسالت کے ساتھ کوئی جوڑ نہیں ہے اس سے انسانوں کو امتحان و آزمائش میں مبتلاء کیا جاتا ہے اور حدیث کا مفہوم ہے کہ ساری دنیا کے مال و دولت کی حیثیت ایک مچھر کے پر کے برابر بھی نہیں ہے۔ لہٰذا اگر لوگوں کے اسلام سے منحرف ہو کر کافر ہو جانے کا اندیشہ نہ ہوتا تو اللہ تعالیٰ تمام کافروں کے گھروں کو سونے چاندی سے مزین (Decorate) کر دیتے، یہ تو دنیا کا عارضی متاع ہے اور متقیوں کے لئے آخرت ہے۔ اللہ کے ذکر سے غفلت برتنے والوں کا ساتھی شیطان بن کر انہیں راہ راست سے روکتا ہے۔ یہ لوگ جب قیامت کے دن ہمارے پاس آئیں گے تو شیطان سے بیزاری کا بے فائدہ اظہار کریں گے یہ لوگ اندھے اور بہرے ہیں آپ انہیں قرآن سنا کر گمراہی سے نہیں نکال سکیں گے۔ آپ وحی کی اتباع کرتے ہوئے صراط مستقیم پر ثابت قدمی کا مظاہرہ کیجئے۔ یہ قرآن کریم آپ اور آپ کی قوم کے لئے بہت بڑا اعزاز ہے اور آپ لوگوں کے تذکرہ کے باقی رہنے کا ذریعہ ہے۔ پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام کے فرعون کی طرف رسول بنا کر مبعوث کئے جانے کا ذکر اور مالی وسائل اور دنیوی جاہ و حشمت سے محرومی کے حوالہ سے فرعون کے اعتراضات مذکور ہیں جب فرعون نے اپنی قوم سے کہا کہ تم لوگ میرا اور موسیٰ کا تقابل کر کے دیکھو میں مصر کا حکمران ہوں ۔ حور و قصور کا مالک ہوں ، باغات اور نہروں کا نظام میرے اختیار میں ہے جبکہ موسیٰ علیہ السلام غریب، وسائل سے تہی دامن اور بات کرنے کے سلیقہ سے بھی عاری ہیں ۔ اگر یہ نبی ہوتے تو ان پر سونے کے زیورات کی بارش ہوتی یا فرشتے اس کے آگے پیچھے جلوس کی شکل میں چلا کرتے۔ اس نے اس قسم کی باتیں کر کے اپنی قوم کو بیوقوف بنا کر اللہ کی نافرمانی پر تیار کر لیا جس سے ہمیں غصہ آیا اور ہم نے انتقاماً انہیں سمندر میں غرق کر کے اگلوں اور پچھلوں کے لئے نشانِ عبرت بنا دیا۔ پھر عیسیٰ علیہ السلام ان کی بندگی اور ان پر اللہ کے انعامات کا نہایت دلنشین پیرائے میں ذکر موجود ہے۔ اس کے بعد بتایا گیا ہے کہ مؤمنین و متقین کی دوستیاں قیامت میں بھی برقرار رہیں گی اور وہ ہر قسم کی پریشانی اور غم سے نجات پا کر جنت کی نعمتوں سے سرشار ہوں گے۔ جبکہ مجرمین اپنے ظلم کے نتیجہ میں جہنم کے عذاب میں حیران و سرگرداں ہوں گے۔ پھر اللہ کے لئے اولاد کے عقیدہ کی مذمت کرتے ہوئے بتایا ہے کہ آسمان و زمین میں ایک ہی معبود ہے اسی کی حکمرانی ہے اور وہی قیامت کا صحیح علم رکھتا ہے۔ آپ ان کافروں کے ساتھ بحث بازی میں الجھنے کی بجائے انہیں نظر انداز کریں اور چشم پوشی کا مظاہرہ کریں ۔ عنقریب انہیں سب کچھ معلوم ہو جائے گا۔

سورہ الدخان

مکی سورت ہے۔ انسٹھ آیتوں اور تین رکوع پر مشتمل ہے۔ دخان دھوئیں کو کہتے ہیں ۔ قیامت کی نشانی اور عذاب کے طور پر مشرکین مکہ پر مسلط کیا گیا تھا۔ اس سورت میں اس کا تذکرہ ہے۔
قرآن کریم ایسی واضح اور بابرکت کتاب ہے کہ جس رات میں اس کا نزول ہوا اسے بھی بابرکت بنا دیا۔ توحید کا عقیدہ بیان کر کے مشرکین مکہ کے شکوک و شبہات کا تذکرہ کر کے بتایا کہ یہ آسمانی عذاب کے مستحق ہو چکے ہیں پھر ان پر ایسا دھواں مسلط کیا کہ انہیں کچھ سجھائی نہ دیتا تھا اس عذاب کے چھٹکارے کی دعائیں مانگنے لگے اور ایمان قبول کرنے کے عہد و پیمان کرنے لگے مگر جیسے ہی عذاب ختم ہوا وہ پھر انکار کرنے لگے اور نبی پر بھونڈے اعتراضات شروع کر دیئے۔ انہیں بدر کی عبرتناک پکڑ کی وعید سنا کر موسیٰ و فرعون کا واقعہ اور فرعون کی عبرتناک گرفت کا تذکرہ کر کے بتایا کہ اسے جب غرق کیا گیا تو اس کے باغات و محلات سب رہ گئے اور بنی اسرائیل اس کے مالک بن گئے۔ اتنی بڑی قوت کے مالک فرعون کا جب خاتمہ ہوا تو اس پر زمین و آسمان میں رونے والا بھی کوئی نہیں تھا۔ پھر دلائل توحید اور قیامت کا تذکرہ پھر نافرمانوں کے جہنم میں داخل ہونے کے بعد کی کیفیت کا بیان ہے کہ ان کی خوراک زقوم کا درخت ہو گا جو پیٹ میں ایسے ابال پیدا کرے گا جیسے ہنڈیا میں آگ پر ابال آتا ہے۔ جہنم کے بیچ میں لے جا کر ان پر کھولتا ہوا پانی ڈالا جائے گا اور انہیں کہا جائے گا کہ دنیا میں تم اپنے آپ کو بہت با عزت سمجھا کرتے تھے آج جہنم کا ذلت آمیز عذاب بھی چکھ لو۔ پھر جنت میں متقیوں کے اعزاز و اکرام ریشم و کمخواب کے لباس اور خوبصورت بیگمات کا ذکر کر کے بتایا کہ یہ سب کچھ اللہ کے فضل سے حاصل ہو گا جو عظیم الشان کامیابی کا مظہر ہو گا۔ قرآن کریم کو ہم نے آپ کی زبان میں نہایت آسان بنا کر اس لئے اتارا ہے تاکہ یہ لوگ نصیحت حاصل کرسکیں ۔

سورہ الجاثیہ

مکی سورت ہے سینتیس آیتوں اور چار رکوع پر مشتمل ہے۔ اس سورت کا مرکزی مضمون توحید باری تعالیٰ ہے جبکہ حقانیت قرآن، اثبات رسالت محمدیہ اور قیامت کا بیان بھی موجود ہے۔ ابتداء میں قرآن کے کلام اللہ ہونے کا برملا اظہار ہے اس کے بعد توحید پر کائناتی شواہد پیش کئے گئے ہیں ۔ قدرت کے شاہکار آسمان میں دلائل ہیں ۔ وسیع و عریض زمین میں ، تخلیق انسانی میں ، جانوروں اور باقی مخلوقات میں ، دن رات کے آنے جانے اور بارشوں اور ہواؤں میں اللہ کی قدرت کے دلائل اور توحید باری کے شواہد موجود ہیں ۔ پھر مجرمین کا مزاج بیان کیا کہ وہ دلائل سے استفادہ کرنے کی بجائے ضلالت و گمراہی میں اور ترقی کر جاتے ہیں ۔ جس کے نتیجہ میں وہ دردناک عذاب اور جہنم کی گہرائیوں میں دھکیلے جانے کے مستحق قرار پاتے ہیں ۔ اللہ کی نعمتوں اور ان میں غور وفکر کر کے منعم حقیقی کو پہچاننے کی تلقین کے ساتھ قوم بنی اسرائیل کا تذکرہ کہ ان پر بے شمار انعامات کئے گئے۔ فضیلت و اکرام سے نوازا گیا مگر انہوں نے ان نعمتوں کی قدر کرنے کی بجائے بغاوت و سرکشی کا راستہ اپنا کر اپنے لئے ہلاکت و بربادی کو لازم کر لیا۔ پھر گمراہی کی جڑ کی نشاندہی کرتے ہوئے بتایا کہ ’’خواہشات نفسانی‘‘ کو معبود کا درجہ دے کر زندگی گزارنا ہی وہ لاعلاج بیماری ہے جو انسان کو گمراہی کی اتھاہ گہرائیوں میں دھکیل دیتی ہے اور یہ اندھا اور بہرا ہو کر اس کے پیچھے لگ جاتا ہے۔ دنیا کی زندگی کو اصل سمجھ کر آخرت سے غافل ہو جاتا ہے۔ قیامت کے دن کی ہولناکی اور دہشت کا بیان کر کے بتایا گیا ہے کہ اس دن لوگ گھٹنوں کے بل گرے پڑے ہوں گے اور ان کی دو جماعتیں بن جائیں گی۔ ایمان اور اعمال صالحہ والے اللہ کی رحمت اور واضح کامیابی کے مستحق قرار پائیں گے جبکہ کافر و متکبر اپنی مجرمانہ حرکات کی بناء پر ’’پرِ کاہ‘‘ کی حیثیت بھی نہیں رکھیں گے اور بے یارو مددگار جہنم کا ایندھن بنا دیئے جائیں گے۔ تمام تعریفیں آسمان و زمین اور ساری کائنات کے رب کے لئے ہیں اور آسمان و زمین کی بڑائی بھی اسی زبردست اور حکمتوں والے اللہ کو سزا وار ہے۔


26– حٰم

سورہ الاحقاف
]
مکی سورت ہے۔ پینتیس آیتوں اور پانچ رکوع پر مشتمل ہے۔ احقاف اس دور کی سپر پاور قوم عاد کے دار السلطنت کا نام ہے اور اس کی تباہی ایسی ہی بڑی خبر ہے جیسے امریکی ٹاوروں کی تباہی کی خبر۔ زبردست اور حکمت والے رب کا کلام قرآن کریم ہے، پھر آسمان و زمین کی تخلیق سے وحدانیت باری تعالیٰ پر استدلال ہے اور پھر معبود برحق کی طرف سے معبودانِ باطلہ کو چیلنج ہے کہ اس ساری کائنات کا خالق تو اللہ وحدہٗ لاشریک ہے، تم بتاؤ تم نے کیا بنایا ہے؟ گمراہی کی انتہا ہے کہ ایسے معبودوں کو پکارتے ہیں جو قیامت تک بھی جواب دینے کے قابل نہیں ہیں ۔ ہمارا قرآن جب انہیں سنایا جاتا ہے تو یہ کہتے ہیں کہ ’’نرا جادو‘‘ ہے اور اپنی طرف سے گھڑ کر اللہ کے نام پر لگا دیا ہے۔ آپ کہئے کہ اگر میں اللہ کے نام پر جھوٹا کلام گھڑ کر پیش کرنے لگوں تو مجھے اللہ کی گرفت سے کون بچائے گا۔ میں کوئی انوکھا رسول نہیں ہوں اور مجھے اس سے کوئی سروکار نہیں کہ میرے اور تمہارے ساتھ کیا ہونے والا ہے میں تو ’’وحی‘‘ کا پابند ہوں اور میں واضح ڈرانے والا ہوں ۔ کافر لوگ کہتے ہیں کہ اگر کوئی اچھی بات ہوتی تو یہ لوگ اسے قبول کرنے میں ہم سے سبقت نہ لے جاتے۔ انہیں جب قرآن کی ہدایت نہ مل سکی تو اسے پرانا جھوٹ قرار دینے لگ گئے۔ پھر والدین کے ساتھ حسن سلوک کی تلقین اور اولاد کی خاطر والدین خصوصاً ’’ماں ‘‘ کی طرف سے اٹھائی جانے والی تکالیف کا تذکرہ ہے کہ حمل، ولادت اور رضاعت میں کس قدر مصائب برداشت کرتی ہے۔ پھر اولاد دو طرح کی ہوتی ہے: (۱)صالح، فرماں بردار، والدین کے لئے دعاء گو (۲)فاسق و نافرمان، والدین کی گستاخ۔ہر ایک کو اس کے عمل کے مطابق صلہ ملے گا۔ پھر قوم عاد کو ان کے نبی حضرت ہود علیہ السلام کی طرف سے دعوت توحید اور قوم کے انکار اور ہٹ دھرمی پر اللہ کی طرف سے بادلوں کی شکل میں عذاب۔ قوم اسے بارش برسانے والے بادل سمجھتی رہی مگر ان بادلوں کے ساتھ تیز آندھی اور طوفان تھا۔ ایسی تیز ہوا تھی کہ جس چیز کو لگتی اسے راکھ بنا کر تباہ کر دیتی۔ پھر جنات اور ان کے قرآن سننے کا واقعہ جس سے حضور علیہ السلام اور آپ کے ساتھیوں کی تسلی کا سامان کیا گیا ہے کہ اگر مشرکین مکہ آپ پر ایمان نہیں لاتے تو اللہ کی دوسری مخلوقات آپ کی نبوت کی تصدیق کرنے کے لئے موجود ہیں ۔ قیامت کے دن کافروں کو جہنم کے کنارے پر کھڑے کر کے پوچھا جائے گا کہ بتاؤ تم اس کو ’’جادو‘‘ کہتے تھے کیا یہ حق نہیں ہے؟ تو وہ اللہ کی قسم کھا کر اسے درست تسلیم کریں گے، اللہ کہیں گے کہ اپنے کفر کا آج عذاب چکھ لو۔ حضور علیہ السلام سے کہا جا رہا ہے کہ آپ پہلے انبیاء و رسل کی طرح ثابت قدمی کا مظاہرہ کرتے رہیں اور ان کافروں کی ہلاکت کے لئے جلدی نہ کریں ۔ جب ان پر عذاب آئے گا تو انہیں ایسا ہی محسوس ہو گا جیسے ایک آدھ دن کی مہلت بھی انہیں نہیں ملی ہے۔ نافرمانوں کا مقدر ہلاکت ہی ہوتی ہے۔

سورہ محمد

مدنی سورت ہے۔ اڑتیس آیتوں اور چار رکوع پر مشتمل ہے۔ اس کا دوسرا نام سورہ القتال ہے۔ غزوۂ بدر کے بعد نازل ہوئی، اس میں جہاد کے احکام قیدیوں کے بارے میں قانون سازی اور صلح کے متعلق قرآنی تعلیمات مذکور ہیں ۔ ابتداء میں خیر و شر اور کفرو اسلام کی بنیاد پر انسانی معاشرہ کی تقسیم اور ان کا انجام مذکور ہے۔ اللہ کے راستہ سے روکنے والے کافروں کے اعمال ضائع ہو کر رہ جاتے ہیں جبکہ ایمان و اعمال صالحہ والے کامیابیوں سے ہمکنار ہوتے ہیں ۔ اللہ ان کے گناہوں کو معاف فرما کر ان کے حالات کو سنوار دیتے ہیں ۔ کافروں سے جب تمہارا مقابلہ ہو تو سستی دکھانے اور راہِ فرار اختیار کرنے کی بجائے ان کی گردنیں مارو اور انہیں قتل کرو۔ جب تم کفر کی شان و شوکت کو توڑ چکو تو پھر ان کے باقی ماندہ افراد کو گرفتار کر کے ان کو رسیوں میں مضبوطی سے جکڑ دو، پھر تم مسلمانوں کی مصلحت کے پیش نظر چاہو تو ان پر احسان کر کے آزاد کر دو اور چاہو تو فدیہ وصول کر کے چھوڑ دو مگر مقصد ان کی جنگی قوت کو توڑنا اور حربی صلاحیت کو ختم کرنا ہونا چاہئے۔ اللہ انہیں کراماتی طریقہ پر آسمان سے آفت نازل کر کے بھی ختم کرسکتے ہیں مگر وہ تمہارے ہاتھوں سے سزا دلا کر آزمانا چاہتے ہیں ۔ شہداء اسلام کے اعمال ضائع نہیں ہونے دیئے جائیں گے۔ اے ایمان والو! تم اللہ کے دین کی مدد کرو گے تو اللہ تمہاری مدد فرمائیں گے اور تمہارے قدم جما دیں گے۔ دنیا میں چل پھر کر مجرمین کا انجام دیکھ لو۔کتنی بستیاں تم سے زیادہ جاہ و حشمت اور طاقت وقوت والی تھیں ۔ ہم نے جب انہیں ہلاک کیا تو کوئی ان کی مدد کو بھی نہ آسکا۔ دین پر علی وجہ البصیرت عمل کرنے والا اور خواہشات پر چل کر اپنے گناہوں کو نیکیاں باور کرنے والا کبھی برابر نہیں ہوسکتے۔ متقیوں کے لئے تیار کردہ جنتوں کے اندر ایسی نہریں ہوں گی جن کا پانی سڑنے اور بدبو مارنے سے محفوظ ہو گا۔ دودھ کی نہریں ہوں گی جس کا ذائقہ خراب نہیں ہو گا۔ مزیدار شراب کی نہریں اور صاف و شفاف شہد کی نہریں ہوں گی، ہر قسم کے پھل اور مغفرت انہیں ملے گی۔ اس کے بالمقابل جہنم میں اگر کوئی جا کر کھولتا ہوا پانی پئے اور اس کی آنتیں کٹ کر باہر نکل آئیں تو یہ اس کے برابر نہیں ہوسکتا۔ بعض منافقین آپ کی مجلس میں بیٹھ کر قرآن سنتے ہیں مگر بعد میں دوسروں سے کہتے پھرتے ہیں کہ آج کیا بات بیان کی گئی ہے؟ اس سے ان کا مقصد تعریض کرنا ہوتا ہے۔ انہیں اگر آج سمجھ میں نہیں آ رہا ہے تو کیا قیامت کے دن سمجھیں گے۔ مؤمنین تو قرآن کی سورتوں اور آیتوں کے نزول کے متمنی رہتے ہیں ۔ اور قرآن نازل ہو کر ان کی تمنا پوری کر دیتا ہے مگر منافقین کا حال یہ ہوتا ہے کہ جب آیات قرآنیہ جہاد کا حکم لے کر اترتی ہیں تو ان کا نفاق کھل کر سامنے آ جاتا ہے اور موت کے خوف سے یہ لوگ مرے چلے جاتے ہیں ۔ یہ لوگ ظاہراً اطاعت و فرماں برداری کے دعوے کرتے ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ معاشرہ میں فساد پھیلانا چاہتے ہیں اور قطع رحمی کے داعی ہیں ۔ ان پر اللہ کی طرف سے ایسی پھٹکار ہے کہ یہ اندھے اور بہرے ہو کر رہ گئے ہیں ۔ منافقین کی مذمت کا سلسلہ جاری ہے یہ لوگ قرآن میں غور و خوض کیوں نہیں کرتے؟ کیا ان کے دلوں پر تالے پڑے ہوئے ہیں ۔ منافقین سمجھتے ہیں کہ ان کے دلوں کا کھوٹ ظاہر نہیں ہو گا۔ حالانکہ ان کی شکل و صورت اور لب و لہجہ ان کے دلوں کی بیماری کا پتہ دے رہا ہے، ہم جہاد کی آزمائشی بھٹی میں ڈال کر ثابت قدم مجاہدین کو منفرد و ممتاز بنا کر منافقین کو ان سے جدا کر دیں گے۔ تم کمزوری دکھا کر صلح کا مطالبہ نہ کرو۔ تمہی غالب ہو گے، اللہ کی مدد تمہارے شامل حال رہے گی اور وہ تمہارے اعمال کو ضائع نہیں جانے دیں گے۔ البتہ اگر کافر صلح کی درخواست کریں تو مسلمانوں کے مفاد میں اس پر غور کرسکتے ہو (جیسا کہ سورہ الانفال میں ہے) جب جہاد کے لئے مال خرچ کرنے کا مطالبہ ہوتا ہے تو یہ بخل کا مظاہرہ کرنے لگتے ہیں حالانکہ بخیل اپنا ہی نقصان کرتے ہیں اللہ کو تمہارے مال کی کوئی ضرورت نہیں ہے وہ غنی ہے اور تم محتاج ہو۔ اگر تم نے جہاد سے پہلو تہی کی تو تمہیں ہٹا کر اللہ کسی دوسری قوم کو لے آئیں گے اور وہ تمہاری طرح سستی اور بخل کا مظاہرہ نہیں کریں گے۔

سورہ الفتح

مدنی سورت ہے۔ انتیس آیتیں اور چار رکوع پر مشتمل ہے، صلح حدیبیہ کے موقع پر نازل ہوئی جو بذات خود ایک بہت بڑی کامیابی تھی اور فتح مکہ کے لئے تمہید بھی تھی اس لئے اس سورت کو ’’الفتح‘‘ کا نام دیا گیا۔ جہاد سے پیچھے رہنے والے منافقین کی اس سورت میں کھل کر مذمت کی گئی ہے اور ان کے اندر کی بیماری کو بیان کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ بیوی بچوں اور کاروبار کا بہانہ بنا کر جہاد سے راہِ فرار کی کوشش کرتے ہیں ۔ اصل میں ان کے دل میں یہ بات ہے کہ مسلمانوں کی تعداد اور وسائل اس قدر کم ہیں کہ کافروں سے مقابلہ میں یہ لوگ مارے جائیں گے اور اپنے گھروں کو زندہ سلامت نہیں لوٹ سکیں گے۔ اس لئے اپنی جان بچانے کے خیال سے پیچھے رہ گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عظیم الشان اعزاز اور منفرد خصوصیت کا ذکر ہے کہ آپ جیسا بھی اقدام کریں صلح کا یا جنگ کا اللہ تعالیٰ اس کی حمایت کرتے ہیں اور اگلے پچھلے تمام تصرفات سے درگزر کرنے کا اعلان کرتے ہیں ۔ صحابۂ کرام نے اس موقع پر جس طرح آپ کا ساتھ دیا اور آپ کے تمام اقدامات کی حمایت کے لئے آپ کے دست مبارک پر بیعت کر کے اپنی مکمل وفاداری کا اظہار کیا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے ان نفوس قدسیہ کی مدح سرائی کی ہے اور اس بیعت کو بیعت رضوان کا نام دے کر ان تمام صحابۂ کرام سے اپنی رضا مندی اور خوشنودی کی نوید سنائی ہے۔ اس میں حضرت عثمان کی خصوصی فضیلت بھی ہے کہ انہیں اس موقع پر ’’قاصد رسول‘‘ اور سفیر اسلام ہونے کا اعزاز ملا۔ ان کی وفات کی خبر پر ان کا بدلہ لینے کے لئے مرنے مارنے کی بیعت لینے کا اتنا بڑا اقدام کیا گیا۔ صلح کے نتیجہ میں جنگ ٹل گئی اور بہت سے بے گناہ جنگ کی لپیٹ میں آنے سے بچ گئے۔ صحابہ کرام کے لئے تقویٰ کی اہلیت کا قرآنی سرٹیفکیٹ جاری کیا گیا۔ اسلام کے تمام ادیان پر غلبہ کی نوید سنائی گئی۔ آپ نے خانہ کعبہ میں داخل ہو کر طواف کرنے کا جو خواب دیکھا تھا آئندہ سال کو اس کی عملی تعبیر کا سال قرار دیا گیا۔ صحابۂ کرام کی امتیازی خوبیوں میں آپس میں رحمدل ہونے اور کافروں کے مقابلہ میں سخت گیر ہونے کا خصوصی تذکرہ اور اس بات کا بیان کہ صحابۂ کرام کی کمزور جماعت کو آہستہ آہستہ تقویت فراہم کر کے ان کے مربی و مرشد صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشی کا ذریعہ بنایا گیا اور اس بات کا اشارہ بھی کہ صحابہ کی جماعت کو دیکھ کر غیض و غضب میں مبتلاء ہونے والے ایمان سے محروم ہو کر کفر کی وادی میں بھٹکنے لگ جاتے ہیں ۔ اس پاکیزہ جماعت کے لئے مغفرت اور اجر عظیم کے وعدہ کے ساتھ سورت کا اختتام کیا گیا ہے۔

سورہ الحجرات

مدنی سورت ہے۔ اس میں اٹھارہ آیتیں اور دو رکوع ہیں ۔ اس سورت کا دوسرا نام ’’سورہ الآداب‘‘ ہے۔ مجلس رسول کا ادب سکھایا گیا کہ آپ کی آواز سے اونچی آواز نہ کی جائے۔ آپ سے کوئی آگے بڑھنے کی کوشش نہ کرے، دروازہ پر کھڑے ہو کر چلا چلا کر آپ کو پکارا نہ جائے آپ کے آرام و راحت کا خیال رکھا جائے۔ پھر اسلامی معاشرہ کے آداب کہ افواہوں پر کان نہ دھرا جائے۔ بلا تحقیق کوئی ایسا اقدام نہ کیا جائے جو دوسرے کے لئے مالی و جانی نقصان اور اپنے لئے ندامت و پشیمانی کا باعث بن جائے۔ مؤمنین کو آپس میں بھائیوں کی طرح زندگی گزارنے کی تلقین کے ساتھ ہی باہمی اختلافات کی صورت میں صلح صفائی کی تعلیم دے کر ظالم اور ہٹ دھرم کے خلاف مظلوم کی مدد کا حکم دیا گیا۔ معاشرہ کے کسی بھی فرد یا جماعت کے استہزاء و تمسخر سے باز رہنے اور بدگمانی سے بچنے کی ترغیب دی گئی اور غیبت کو اس قدر بدترین عمل قرار دیا کہ اپنے بھائی کی میت سے گوشت نوچ کر کھانے کے مترادف قرار دیا۔ پوری انسانیت کو ایک گھرانے کے افراد بتا کر خاندانوں اور برادریوں کی تقسیم کو تسلیم کرتے ہوئے اسے فضیلت یا اعزاز کی بنیاد قرار دینے سے باز رہنے کی تلقین کے ساتھ ہی اسلامی معاشرہ میں اعزاز و احترام کی بنیاد ’’تقویٰ‘‘ کی تعریف کی گئی۔ ایمان کو محض اللہ کا فضل قرار دے کر عُجب اور کبر کی بیخ کنی کر دی گئی اور بتایا کہ ایمان کی صداقت کے ثبوت کی علامت ’’جہاد فی سبیل اللہ‘‘ میں جانی و مالی شرکت ہے۔

سورہ ق

مکی سورت ہے۔ پینتالیس آیتوں اور تین رکوع پر مشتمل ہے۔ اس مختصر سورت میں توحید ورسالت اور بعث بعد الموت کے تینوں عقیدے پوری آب و تاب کے ساتھ مذکور ہیں ۔ قرآن کریم کی عظمت کے بیان کے ساتھ ہی اس حقیقت سے پردہ اٹھایا گیا ہے کہ منکرین کے انکارِ قرآن کی وجہ مرنے کے بعد زندہ ہونے کے عقیدہ کا بیان ہے۔ یہ سمجھتے ہیں کہ گوشت پوست کے بوسیدہ ہو کر ذرات کی شکل میں ہواؤں کی لہروں ، پانی کی موجوں اور زمین کی پنہائیوں اور فضاء کی وسعتوں میں بکھرنے کے بعد ان کے ذرات کو علیحدہ علیحدہ شناخت کر کے کس طرح جمع کیا جائے گا؟ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ہمارے پاس ایسی محفوظ کتاب ہے جس میں ہر ایک کے اجزاء اور ذرات کی تفصیل اس طرح مذکور ہے کہ وہ زمین میں جہاں بھی چھپ جائے یا بکھر کر غائب ہو جائے تو وہ ہمارے علم میں رہتا ہے اور اسے جمع کر کے دوبارہ انسان بنا دینا ہمارے لئے کوئی مشکل نہیں ہے۔ پھر توحید پر کائناتی شواہد اور رسالت پر واقعاتی حقائق سے استدلال کر کے بتایا ہے کہ انبیاء و رسل کے انکار پر پہلی قوموں کی طرح مشرکین مکہ کا مقدر بھی ہلاکت و تباہی بن سکتی ہے۔ اس کے بعد جہنم کا تذکرہ اور اللہ کی قدرت کا بیان ہے کہ ساتوں آسمان اور زمین جیسی عظیم مخلوقات کو بنا کر بھی وہ نہیں تھکا تو انسان کو دوبارہ بنانے سے وہ کیسے تھک جائے گا۔ موت و حیات اللہ ہی کے قبضۂ قدرت میں ہونے کے اعلان کے ساتھ ہی اس بات کی تلقین پر سورت کا اختتام کیا گیا ہے کہ اپنی وعظ و تبلیغ کی بنیاد قرآن کریم کو بنا کر اللہ کے وعدے اور وعیدیں لوگوں کو سنائی جائیں ۔

سورہ الذاریات

مکی سورت ہے۔ ساٹھ آیتوں اور تین رکوع پر مشتمل ہے۔ دوسری مکی سورتوں کی طرح عقیدہ کے موضوع پر ذہن سازی کا عمل اس سورت میں بھی جاری ہے۔ غبار اڑانے والی ہواؤں ، بارش برسانے والے بادلوں ، پانی پر تیرنے والی بادبانی کشتیوں اور دنیا کا نظام چلانے والے فرشتوں کی قسمیں کھا کر بتایا ہے کہ مرنے کے بعد کی زندگی برحق ہے۔ پھر منکرین قرآن و آخرت کی ہٹ دھرمی اور عناد اور ان کا بدترین انجام اور ایمان والوں کی صفات فاضلہ اور ان کا انجام خیر ذکر فرمایا ہے۔ پھر حضرت ابراہیم علیہ السلام کا مہمان بننے والے فرشتوں کا تذکرہ اور بڑھاپے میں انہیں اولاد کی خوشخبری سنائی اور بتایا ہے کہ قادر مطلق کے لئے اولاد عطاء فرمانے کے لئے جوانی اور بڑھاپے کے عوامل اثر انداز نہیں ہوتے، وہ اپنی قدرت کاملہ سے میاں بیوی کے بڑھاپے اور بانجھ پن کے باوجود اولاد دینے پر مکمل قدرت رکھتا ہے۔







28 – قَدْ سَمِعَ اللَّہُ

سورہ مجادلہ

المجادلۃ کے معنی ’’بحث و مباحثہ یا جھگڑا‘‘ کرنے کے ہیں ، اس سورہ کی ابتداء میں ایک خاتون کی گفتگو اور اس کے ضمن میں ظہار کا حکم بیان کیا گیا ہے۔ اس لئے اس کا نام ’’المجادلۃ‘‘ رکھا گیا ہے۔ حضرت اوس بن صامت نے اپنی بیوی حضرت خولہ بنت ثعلبہ سے ظہار کر لیا تھا، ظہار کے معنی اپنی بیوی کی پشت کو اپنی ماں کی پشت کے مشابہ قرار دینا ہے اور زمانہ جاہلیت میں یہ لفظ بیوی کو اپنے اوپر حرام کرنے کے لئے (طلاق دینے کے لئے) استعمال ہوتا تھا۔ خولہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے نہایت خوبصورت انداز میں اپنا معاملہ پیش کر کے اس کا شرعی حکم معلوم کیا۔ انہوں نے کہا یارسول اللہ! اوس نے مجھ سے ظہار کر لیا ہے۔ یہ شخص میرا مال کھا گیا۔ میری جوانی اس نے تباہ کر دی۔ میں نے اپنا پیٹ اس کے آگے کھول کر رکھ دیا۔ جب میں بوڑھی ہو کر اولاد پیدا کرنے کے قابل نہ رہی تو اس نے مجھ سے ظہار کر لیا۔ میرے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں اگر انہیں میں اپنے پاس رکھوں تو بھوکے مرنے لگیں گے اور اگر اوس کے حوالہ کر دوں تو بے توجہی کی وجہ سے ضائع ہو جائیں گے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں تو یہی سمجھتا ہوں کہ تم اپنے شوہر پر حرام ہو چکی ہو۔ خولہ نے کہا، اس نے طلاق کا لفظ تو استعمال ہی نہیں کیا تو میاں بیوی میں حرمت کیسے ثابت ہوسکتی ہے۔ یہ اپنی بات دہراتی رہی اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم وہی جواب دیتے رہے۔ آخر میں کہنے لگیں : اے اللہ! میں اس مشکل مسئلہ کا حکم آپ سے ہی مانگتی ہوں اور آپ کے سامنے شکایت پیش کرتی ہوں ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں کمرے کے ایک کونہ میں بیٹھی سن رہی تھی۔ اتنا قریب ہونے کے باوجود مجھے بعض باتیں سنائی نہیں دے رہی تھیں مگر اللہ نے آسمانوں پر اس کی تمام باتیں سن کر مسئلہ کا حل نازل فرما دیا۔ اللہ نے اس کی بات سن لی جو اپنے شوہر کے بارے میں آپ سے جھگڑ رہی تھی۔ پھر ظہار کا حکم بیان کرنا شروع کر دیا۔ پہلے تو بیوی کو ماں کہنے کی مذمت فرمائی اور اسے جھوٹ اور گناہ کا موجب فعل قرار دیا اور پھر بتایا کہ اگر شوہر اپنی بیوی کے ساتھ ’’زوجیت‘‘ کے تعلقات باقی رکھنا چاہتا ہے تو ایک غلام آزاد کر کے یا ساٹھ روزے رکھ کر یا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا کر یہ مقصد حاصل کرسکتا ہے ورنہ اس جملے سے طلاق بائن واقع ہو جائے گی۔ اس کے بعد دشمنانِ خدا و رسول کے لئے ذلت آمیز عذاب کا تذکرہ اور اللہ کے علم و قدرت کو بیان کرنے کے لئے بتایا کہ خفیہ گفتگو کرنے والے اگر تین ہوں تو چوتھے اللہ، پانچ ہوں تو چھٹے اللہ، کم ہوں یا زیادہ اللہ ان کے ساتھ ضرور موجود ہوتے ہیں ۔ یہودی اپنی سرگوشیوں سے مسلمانوں کے لئے پریشانیاں اور مسائل پیدا کرتے تھے۔ اس لئے خفیہ میٹنگوں پر پابندی لگا دی گئی۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کرتے ہوئے شرارت کی نیت سے نامناسب الفاظ کے استعمال کی بھی مذمت کی گئی۔ مجلس میں نئے آنے والوں کے لئے گنجائش پیدا کرنے اور اختتامِ مجلس کے بعد بے مقصد گفتگو میں لگنے کی بجائے منتشر ہو جانے اور اپنے اپنے کام میں مصروف ہو جانے کی تلقین فرمائی۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتی مجلس کے لئے ادب بیان کیا کہ دربارِ رسالت میں حاضری سے پہلے صدقہ کر لیا کریں تاکہ ’’آدابِ رسالت‘‘ میں کسی کوتاہی کی صورت میں اللہ کی پکڑ سے بچ سکیں ۔ یہودیوں سے دوستیاں گانٹھنے والوں کے خبث باطن کی نشاندہی کرتے ہوئے اس کی مذمت بیان کی اور عذاب شدید کی وعید سنائی۔ اس کے بعد ’’حزب اللہ‘‘ اور ’’حزب الشیطان‘‘ کی تقسیم کرتے ہوئے بتایا کہ اللہ کے ذکر سے غافل ہو کر شیطان کے زیراثر آنے والے شیطان کی جماعت میں شامل ہیں ۔ اللہ نے اپنے رسولوں اور اہل ایمان کو غالب کرنے کا فیصلہ کیا ہوا ہے۔ مؤمن وہی ہیں جو رشتہ داری کی اسلامی بنیادوں کو ملحوظ رکھتے ہیں ۔ خونی، قومی اور لسانی بنیادوں پر اللہ اور اس کے رسول کے دشمنوں سے تعلقات استوار نہیں کرتے۔ یہ لوگ اللہ کی تائید و نصرت اور جنت کے مستحق ہیں ، یہی لوگ ’’حزب اللہ‘‘ میں شامل ہیں اور کامیابیاں اللہ کے لشکر کے قدم چوما کرتی ہیں ۔

سورہ حشر

اس سورہ کا دوسرا نام ’’سورہ بنی النضیر‘‘ ہے کیونکہ اس میں قبیلہ بنی نضیر کے محاصرے اور پھر جلاوطن کئے جانے کا تذکرہ ہے۔ یہودیوں کے ساتھ مسلمانوں کا معاہدہ تھا، مگر وہ اپنی سازشی طبیعت کے مطابق خفیہ طریقہ پر مشرکین مکہ کی حمایت اور مسلمانوں کی مخالفت میں سرگرداں رہتے۔ غزوۂ احد کے موقع پر مشرکین کے غلبہ سے ان کی سازشیں زور پکڑنے لگی تھیں ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا محاصرہ کر کے ان کی جلاوطنی کا فیصلہ کیا جس پر یہ سورہ نازل ہوئی۔ انہیں کہا گیا تھا کہ جاتے ہوئے جو چیز ساتھ لے جا سکتے ہو لے جاؤ، چنانچہ انہوں نے اپنے مکانات کو توڑ کر ان کا ملبہ بھی ساتھ لے جانے کا فیصلہ کیا تاکہ نئی جگہ پر آبادی میں تعمیری مقاصد کے لئے استعمال کرسکیں اور ان کے چلے جانے کے بعد مسلمان ان کے گھروں کو استعمال نہ کرسکیں ۔ اللہ تعالیٰ نے اس صورتحال کو ان کے لئے دنیا کا عذاب قرار دیا اور آخرت کا عذاب اس کے علاوہ ہو گا۔ جنگ کے بغیر کافروں کا جو مال مسلمانوں کو ملے وہ ’’فئے‘‘ کہلاتا ہے اور جنگ کے نتیجہ میں جو ملے وہ ’’غنیمت‘‘ کہلاتا ہے۔ ’’فئے‘‘ کا مصرف بتایا کہ اللہ کے نبی کی گھریلو ضروریات اور غرباء و مساکین اور ضرورتمند مسافروں کے استعمال میں لایا جائے گا۔ پھر اسلامی معیشت کا زریں اصول بیان کر دیا کہ مال کی تقسیم کا مقصد مال کو حرکت میں لانا ہے تاکہ چند ہاتھوں میں منجمد ہو کر نہ رہ جائے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلہ کی اہمیت جتلانے کے لئے حکم دیا کہ آپ کا فیصلہ حتمی فیصلہ ہے، لہٰذا اگر وہ آپ لوگوں کو کوئی چیز دینے کا فیصلہ کریں تو وہی لینی ہو گی اور اگر کسی سے منع کر دیں تو اس سے باز رہنا ہو گا۔ پھر انصار مدینہ کی وسعت قلبی کی تعریف کرتے ہوئے بتایا کہ ایمان کی بنیاد پر مدینہ کی طرف ہجرت کرنے والوں کو انہوں نے اپنے معاشرہ میں سمونے کے لئے اس قدر محبتیں دیں کہ اپنی ضرورتوں پر مہاجرین کی ضروریات کو ترجیح دی اور اپنے دلوں میں کسی قسم کا بغض یا نفرت نہیں پیدا ہونے دیا۔ پھر منافقین کے یہودیوں کی حمایت کرنے پر مذمت کی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ عقل و فہم سے عاری ہونے کی بناء پر اس قسم کی ناجائز حرکتوں کے مرتکب ہوئے ہیں ۔ اس کے بعد تقویٰ اور آخرت کی تیاری کی تلقین فرمائی ہے اور قرآن کریم کی قوت تاثیر کو بیان کیا ہے کہ جب پتھروں اور پہاڑوں پر بھی یہ کلام اثر انداز ہوسکتا ہے تو انسان پر تو بدرجۂ اولیٰ اس کی تاثیر ظاہر ہونی چاہئے۔

سورہ ممتحنہ

’’الممتحنہ‘‘ کے معنی ’’امتحان لینے والی‘‘ اس سورہ میں ان خواتین کے بارے میں تحقیقات کرنے کا حکم ہے جو ہجرت کر کے مدینہ منورہ منتقل ہو رہی تھیں ۔ اس سورہ کا مرکزی مضمون ’’کافروں سے تعلقات کا قیام‘‘ ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ’’فتح مکہ‘‘ کے لئے روانگی کا ارادہ کیا تو ایک مخلص صحابی حاطب بن ابی بلتعہ نے مخبری کرتے ہوئے مشرکین مکہ کے نام ایک خط تحریر کر دیا تھا۔ اس پر تنبیہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے غیر مسلموں کے ساتھ دوستی اور تعلقات قائم کرنے کی مذمت فرمائی اور بتایا کہ یہ لوگ اللہ اور اس کے رسول کے دشمن ہیں ۔ ان سے کسی چیز کی توقع عبث ہے اور ایک ضابطہ بیان کر دیا کہ جن کافروں کا شر متعدّی نہیں ہے اور مسلمانوں کو نقصان پہنچانے میں کوشاں نہیں ہیں ان سے حسن معاملہ کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے البتہ جو کافر مسلمانوں کے لئے مسائل و مشکلات کا باعث ہیں انہیں نقصان پہنچانے میں کوشاں رہتے ہیں ان سے کسی قسم کے تعلقات استوار نہیں کئے جا سکتے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے طرز زندگی کو اپنانے کی خصوصی دعوت دی گئی ہے، دیار کفر سے ہجرت کر کے آنے والی خواتین کے بارے میں تحقیقات کی جائیں ، اگر ان کا اخلاص و اسلام ثابت ہو جائے تو انہیں کافروں کے حوالہ کرنے کی بجائے اسلامی معاشرہ میں با عزت طریقہ پر رہنے کی صورت پیدا کریں ۔ اگر وہ کسی کافر کی بیوی ہے تو اس کی مطلوبہ رقم مہر کی شکل میں دے کر اسے اس کے چنگل سے آزاد کرانے کی ضرورت ہے کیونکہ کافر اس کے لئے حلال نہیں اور یہ کافر کے لئے حلال نہیں ہے اور حضور علیہ السلام کو ایسی خواتین کو بیعت کرنے کا حکم دیا گیا ہے جو مطلوبہ صفات کی پابندی کا عہد کریں ۔ شرک، چوری، زنا، الزام تراشی، قتل اولاد اور مخالفت رسول جیسے جرائم سے اجتناب کا عہد کریں ۔ آخر میں اللہ کے دشمنوں سے تعلقات کے قائم کرنے پر تنبیہ کا اعادہ کرتے ہوئے سورہ کو ختم کر دیا گیا ہے۔

سورہ صف

اس میں صف باندھ کر جہاد کرنے کا تذکرہ ہے۔ اللہ کی تسبیح کے بیان کی تلقین کے بعد مسلمانوں کو غلط بیانی اور جھوٹے دعوے سے گریز کا حکم ہے اور مضبوط سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح اعلاء کلمۃ اللہ کے لئے جہاد کرنے والوں کے لئے محبت الٰہی کا اعلان ہے۔ پھر حضرت موسیٰ و عیسیٰ علیہما السلام کی دعوت و قربانیوں کا تذکرہ خاص طور پر عیسیٰ علیہ السلام کی طرف سے ’’بعثت محمدیہ‘‘ کی بشارت کا بیان ہے۔ اسلام کا راستہ روکنے کی کافرانہ کوششوں کو بچگانہ حرکت قرار دیتے ہوئے فرمایا ہے ’’پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا‘‘ اسلام کے تمام ادیان پر غلبہ کے آسمانی فیصلہ کا اعلان ہے۔ جہاد فی سبیل اللہ کو کامیاب تجارت قرار دے کر دردناک عذاب سے نجات، جنت کے باغات و انہار اور عالیشان محلات کی عطاء کے ساتھ دنیا میں فتح و کامرانی کی نوید ہے اور یہ بتایا ہے کہ دین کی جدوجہد کرنے والوں کو ہر دور میں کامیابیاں نصیب ہوتی ہیں جیسا کہ عیسیٰ علیہ السلام کی دعوت پر لبیک کہنے والے حوارین کی اللہ نے مدد فرما کر انہیں غلبہ نصیب فرمایا تھا۔ تم بھی حضور علیہ السلام کی حمایت کرو گے تو فتح و غلبہ اور نصرت خداوندی شامل حال ہو گی۔

سورہ جمعہ

اللہ کی تعریف و توصیف بیان کرنے کے بعد حضور علیہ السلام کی بعثت اور اس کے مقاصد کے تذکرہ کے بعد بتایا کہ امت محمدیہ میں آخر تک جاں نثار پیدا ہوتے رہیں گے اور یہ دین صرف عربوں کے لئے نہیں ہے بلکہ سلمان فارسی اور ان کی نسل کے دوسرے لوگ بھی اسلام کے نام لیواؤں میں شامل رہیں گے۔ اس کے بعد یہودیوں کا تذکرہ اور ان کے آسمانی کتاب سے فیض حاصل نہ کرنے کو ایک مثال دے کر سمجھایا کہ جس طرح گدھے پر کتابیں لادنے سے اسے کوئی فائدہ نہیں ہوتا ایسے ہی یہودی بھی آسمانی کتاب کے فیض سے محروم ہیں ۔ یہودیوں کے دعوے کی مذمت کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ اگر کائنات میں اللہ کے سب سے پیارے ہیں تو انہیں موت کی تمنا کر کے جلدی سے اپنے پیارے رب کے پاس پہنچ جانا چاہئے، مگر یہ موت کی تمنا کبھی نہیں کریں گے اور یہ ایک حقیقت ہے کہ جس موت سے یہ ڈرتے ہیں وہ ایک نہ ایک دن آ کر انہیں عالم الغیب والشہادۃ کے سامنے پیش کر دے گی۔ پھر ایک واقعہ کی طرف اشارہ کیا کہ جب جمعہ کے وقت تجارتی قافلہ کی آمد پر لوگ آپ کو خطبہ کے دوران چھوڑ کر چلے گئے تھے، اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ جمعہ کی اذان کے بعد سب کام دھندے چھوڑ کر اللہ کی یاد اور نماز میں مشغول ہو جانا چاہئے۔ نماز میں مشغولی رزق میں ترقی کا باعث ہے۔ اللہ تعالیٰ بہترین رزق عطاء فرمانے والے ہیں ۔

سورہ منافقون

اس سورت میں اسلامی معاشرہ کی انتہائی خطرناک قسم، منافقین کا تذکرہ ہے، جن کے قلب و لسان میں اتفاق نہیں ۔ وہ قسمیں کھا کر بھی یقین دہانیاں کرائیں تو ان پر اعتماد نہ کریں ۔ ایک سفر میں منافقین نے بہت بدتمیزی کا مظاہرہ کرتے ہوئے باہر سے ہجرت کر کے آنے والوں کو ذلیل قرار دے کر اپنے آپ کو بڑا عزت والا یا یہ کہا کہ عزت والے مدینہ پہنچتے ہی ذلیلوں کو نکال باہر کریں گے۔ اللہ نے فرمایا عزت اللہ، رسول اور ایمان والوں کے لئے ہے۔ پھر اللہ کے راستہ میں موت سے پہلے پہلے خرچ کرنے کی ترغیب پر سورہ کو ختم کر دیا۔

سورہ تغابن

توحید خداوندی پر کائناتی شواہد پیش کرنے کے بعد گزشتہ اقوام کی نافرمانیوں اور گناہوں پر ان کی ہلاکت کا تذکرہ، پھر قیامت کا ہولناک دن اور اس میں پیش آنے والے احوال کا مختصر تذکرہ اور پھر جنت والوں کی عظیم الشان کامیابی اور جہنم والوں کے بدترین ٹھکانہ کے بیان کے بعد بتایا کہ ’’بیوی بچے‘‘ انسانی آزمائش کا ذریعہ بن جاتے ہیں ۔ آخر میں اللہ کے نام پر مال خرچ کرنے کی ترغیب کے ساتھ سورہ کا اختتام ہوتا ہے۔

سورہ طلاق

اس سورہ میں طلاق اور عدت کے احکام، بیوی کی علیحدگی کی صورت میں بچے کو دودھ پلانے اور پالنے کی ذمہ داری اور آخر میں توحید و رسالت کے دلائل پر سورہ کو ختم کیا۔

سورہ تحریم

ابتداء میں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو اختلاف روایات کے مطابق شہد یا اپنی باندی ماریہ قبطیہ کو اپنے اوپر حرام کرنے پر تنبیہ کر کے بتایا کہ حلت و حرمت اللہ کا کام ہے۔ پھر حضور علیہ السلام کا راز فاش کرنے پر ایک ام المؤمنین کو تنبیہ کی ہے۔ اس کے بعد سچی توبہ کی تلقین اور کافروں اور منافقوں کے ساتھ جہاد کا حکم اور پھر چار عورتوں کا تذکرہ جن میں دو کافر تھیں ، ان کے شوہروں کا اسلام بلکہ نبوت بھی ان کے کسی کام نہ آئی۔ دو مسلمان تھیں اور اللہ کی انتہائی فرماں بردار جس سے یہ تعلیم دی کہ اسلام میں رشتہ داریاں اور حسب و نسب نہیں ایمان و عمل کام دیتا ہے۔



27 – قَالَ فَمَا خَطْبُكُمْ

قوم لوط کی ہلاکت کے واقعہ سے اس پارہ کی ابتداء ہو رہی ہے اور یہ بتایا گیا ہے کہ (حضرت لوط علیہ السلام کا) صرف ایک گھرانہ اسلام کی بدولت عذاب سے نجات پا سکا۔ اس کے علاوہ پوری قوم اپنی بے راہ روی کی بناء پر پتھروں کی بارش سے تباہ کر دی گئی۔ قصۂ موسیٰ و فرعون میں بھی یہی ہوا کہ انہوں نے رسول کا انکار کیا۔ ہم نے اسے سمندر میں ڈال کر غرق کر کے نشان عبرت بنا دیا۔ قوم ثمود اور اس سے پہلے قوم نوح کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا کہ ان کی سرکشی اور فسق و فجور نے ان کی تباہی کی راہ ہموار کی اور آنے والوں کے لئے نشانِ عبرت بن کر رہ گئے۔ اتنے بڑے آسمان کی چھت بنانے والا اور زمین کا اتنا خوبصورت فرش لگانے والا کتنا بہترین کاریگر اور کتنا وسعتوں والا مالک ہے۔ اس نے ہر چیز کو جوڑوں کی شکل میں پیدا کیا (نر اور مادہ، مثبت و منفی کی شکل میں ) اسی اللہ کی طرف متوجہ ہونا چاہئے اور اس کے ساتھ کسی دوسرے کو شریک نہیں بنانا چاہئے۔ باقی رہا نبی کی کردار کشی کرنے کے لئے اسے دیوانہ و جادوگر کے نام سے بدنام کرنے کی کوشش، یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ پہلے انبیاء علیہم السلام کو بھی اسی قسم کے ناموں سے یاد کیا گیا ہے، آپ ان باتوں کی طرف دھیان نہ دیں اور ایمان والوں کو یاد دہانی کراتے رہیں اور جنات و انسانوں کو ان کے مقصد تخلیق کی طرف متوجہ کریں ۔ کافروں کے لئے قیامت کے دن ہلاکت کے سوا اور کچھ نہیں ہو گا۔

سورہ الطور

مکی سورت ہے، انچاس آیتوں اور دو رکوع پر مشتمل ہے، اس مختصر سی سورت میں عقائد کی تینوں بنیادوں ’’توحید و رسالت اور قیامت‘‘ کے موضوع پر مدلل گفتگو موجود ہے۔ اللہ تعالیٰ نے پانچ قسمیں کھا کر فرمایا ہے کہ اللہ کا عذاب جب واقع ہو گا تو اسے کوئی روکنے والا نہیں ہو گا۔ اس دن آسمان تھر تھر کانپ رہا ہو گا۔ پہاڑ روئی کے گالوں کی طرح فضاء میں اڑتے پھر رہے ہوں گے۔ کافروں کو جہنم کے کنارے کھڑے کر کے پوچھا جائے گا کہ جس آگ کے تم منکر تھے وہ تمہارے سامنے ہے۔ کیا اب بھی اسے تم ’’جادو‘‘ ہی سمجھتے ہو یا تمہاری بینائی کام نہیں کر رہی ہے۔ آگ کو برداشت کرسکو یا نہ کرسکو تمہیں اس آگ میں ہمیشہ ہمیشہ پڑے رہنا ہو گا۔ پھر متقیوں کے لئے جنات اور ان میں جو انعامات ملیں گے ان کا تذکرہ۔ خاص طور پر جنتیوں کی اولاد اور اہل خانہ کو ان کے ساتھ جنت میں یکجا کرنے کا ذکر ہے۔ پھر رسالت محمدیہ کی صداقت کا بیان ہے اور آپ کو حکم دیا گیا ہے کہ مشرکین کے بے جا مطالبات اور نازیبا کلمات سے صرف نظر کر کے آپ نصیحت کی تلقین فرماتے رہیں ۔ پھر دلائل توحید اور اللہ کے لئے اولاد ثابت کرنے کی مذمت ہے اور آخر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے توسط سے تمام مؤمنین کو تلقین ہے کہ اللہ کے حکم کے مطابق ثابت قدمی کا مظاہرہ کریں ۔ آپ ہماری نگاہوں میں ہیں ۔ آپ کو چاہئے کہ دن رات اور صبح و شام اللہ کی تسبیح و تحمید میں مشغول رہا کریں ۔

سورہ النجم

مکی سورت ہے۔ باسٹھ آیتوں اور تین رکوع پر مشتمل ہے۔ سورت کی ابتداء میں قسمیں کھا کر اللہ نے سفر معراج کی تصدیق کرتے ہوئے ’’معراج سماوی‘‘ کے بعض حقائق خاص طور پر اللہ تعالیٰ سے عرش معلیٰ پر ملاقات اور سدرۃ المنتہیٰ پر فرشتہ سے بالمشافہ گفتگو کا تذکرہ کیا ہے۔ پھر شرک کی تردید کرتے ہوئے باطل خداؤں کی مذمت کے ساتھ بتایا ہے کہ اللہ کے علاوہ بتوں کی عبادت ہو یا معزز فرشتوں کی وہ ہر حال میں باطل اور قابلِ مواخذہ ہے۔ پھر انسانی زندگی کے ضابطہ کو بیان کیا ہے کہ انسان کی محنت اور کوشش ہی اس کی زندگی پر اثر انداز ہوتی ہے۔
؂عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی
آخر میں نہایت اختصار کے ساتھ امم ماضیہ کا تذکرہ کر کے قوموں کے عروج و زوال کا ضابطہ بیان کر دیا کہ قوموں کی تباہی میں وسائل سے محرومی یا معیشت کی تنگی نہیں بلکہ ایمان سے محرومی، عملی بے راہ روی اور اخلاقی انحطاط سب سے بڑے عوامل ہوا کرتے ہیں ۔

سورہ القمر

مکی سورت ہے۔ پچپن آیتوں اور تین رکوع پر مشتمل ہے۔ غور سے دیکھا جائے تو اس سورت کا مرکزی مضمون ’’اثبات رسالت‘‘ معلوم ہوتا ہے۔ سورت کی ابتداء حضور علیہ السلام کے ’’چاند کو دو ٹکڑے کرنے‘‘ کے معجزہ سے کی گئی ہے، جسے قرآن کریم ’’شق القمر‘‘ کہتا ہے۔ مشرکین کا کہنا تھا کہ جادو کا اثر آسمان پر نہیں ہوتا، لہٰذا اگر آپ چاند دو ٹکڑے کر دیں تو ہم آپ کو ’’جادو گر‘‘ قرار دینے کے بجائے نبی تسلیم کر لیں گے۔ مگر وہ ہٹ دھرم اس معجزہ کو دیکھ کر بھی کہنے لگے کہ ’’محمد کا جادو تو آسمان پر بھی چل گیا‘‘ پھر قیامت کے ہولناک دن کی یاد دلا کر مشرکین کو بتایا گیا کہ اس دن تمہاری نگاہیں جھکی کی جھکی رہیں گی اور تمہاری زبانیں اس دن کی شدت کا برملا اعتراف کریں گی۔ پھر مشرکین مکہ کو حق کے انکار کے بدترین نتائج پر متنبہ کرنے کے لئے امم ماضیہ کا تذکرہ شروع کر دیا۔ حضرت نوح علیہ السلام کی ’’ہزار سالہ جدو جہد‘‘ قوم کی گستاخی اور تکذیب پر بارگاہ الٰہی میں عاجزانہ دعاء اور مدد کی درخواست جو کسی بھی دور کے پریشان حال انسان کی مشکلات کے حل کے لئے مقبول دعاء کا درجہ رکھتی ہے ’’رَبِّ اِنِّی مَغلُوبٌ فَاَنتَصِر٘‘‘ اور اس کے نتیجہ میں اہل ایمان کی ’’کشتی کے ذریعے‘‘ نجات اور آسمان سے برسنے اور زمین سے ابلنے والے پانی کے سیلاب میں قوم کی غرقابی اور تباہی کو بیان کیا۔ اس کے بعد عاد و ثمود و قوم لوط و فرعون جو اپنے اپنے دور میں طاقت و قوت، ہنر اور ٹیکنالوجی، مستحکم معیشت اور مضبوط سیاسی نظام کے نمائندے تھے۔ ان کی تکذیب و نافرمانی پر ہلاکت و تباہی کی مثال پیش کر کے کافروں کو وعید اور اہل ایمان کو بشارت اور تسلی دی کہ ’’دعوت حق‘‘ کے مخالفین کتنے با اثر اور مستحکم کیوں نہ ہوں اللہ کے عذاب سے نہیں بچ سکتے، لہٰذا مشرکین مکہ پر بھی ایک دن آنے والا ہے جب یہ شکست کھا کر میدان (بدر) سے راہِ فرار اختیار کرنے پر ہی عافیت سمجھیں گے۔ پھر مجرمین کے قیامت کے دن بدترین انجام کے ساتھ بتایا کہ متقی باغات اور نہروں کے خوشنما منظر میں اپنے رب کے ہاں با عزت مقام اور بہترین انجام سے سرفراز ہوں گے۔

سورہ الرحمن

اٹھتر چھوٹی چھوٹی آیتوں اور تین رکوع پر مشتمل مدنی سورت ہے۔ اس میں قانون سازی کی بجائے توحید باری تعالیٰ پر کائناتی شواہد قائم کئے گئے ہیں اور قیامت کے مناظر، جہنم کی ہولناکی اور خاص طور پر جنت اور اس کے خوشنما مناظر کو نہایت خوبصورتی اور تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ ایک حدیث شریف میں اس سورت کو عروس القرآن یعنی ’’قرآن کریم کی دلہن‘‘ قرار دیا گیا ہے۔ اس میں بالکل منفرد انداز میں ایک ہی جملہ ’’فبأی الٓاء ربکما تکذبان‘‘ تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے، کو اکتیس مرتبہ دہرایا گیا ہے۔ حدیث میں آتا ہے کہ جنات کو جب حضور علیہ السلام نے سورہ الرحمن سنائی تو وہ ہر مرتبہ یہی کہتے رہے ’’لا بشیٔ من نعمک ربنا نکذب فلک الحمد‘‘ ہم آپ کی کسی بھی نعمت کو نہیں جھٹلاتے، تمام تعریفیں آپ ہی کے لئے ہیں ۔ شروع سورت میں بتایا ہے کہ رحمت الٰہیہ کے مظاہر میں ایک بڑا مظہر قرآن کریم کی تعلیم اور انسان کو اس کے پڑھنے کا سلیقہ سکھانا اور اسے قوت بیان کا عطاء کرنا ہے۔ سورج اور چاند حساب کے ایک نہایت ہی دقیق نظام کے تحت چل رہے ہیں ، پودے اور درخت بھی اللہ کے نظام کے پابند اور اس کے سامنے سجدہ ریز ہیں ۔ اسی نے آسمان کو بلند کیا اور عدل و انصاف کا مظہر ’’ترازو‘‘ پیدا کیا لہٰذا ناپ تول میں کسی کمی کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہئے۔ زمین کو اس انداز پر پیدا کیا کہ تمام مخلوقات اس پر بآسانی زندگی بسر کرسکیں ۔ اس میں پھول، خوشہ دار کھجور، غلے اور چارہ اور خوشبودار پھول پیدا کئے۔ ان نعمتوں میں غور کر کے بتاؤ آخر تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کا انکار کرو گے۔ ایسی مٹی جو خشک ہو کر بجنے لگ جاتی ہے ہماری قدرت کا کمال دیکھو کہ ہم نے اس سے نرم و نازک جسم والا انسان پیدا کر دیا اور جنات کو بھڑکنے والی آگ سے پیدا کیا۔ کھارے اور میٹھے پانی کی لہروں کو آپس میں مل کر ایک دوسرے کا ذائقہ اور تاثیر بدلنے سے اس طرح روکتا ہے جیسے ان کے درمیان کوئی حد فاصل قائم ہو۔ ان سے موتی اور مرجان کا خوشنما پتھر بھی حاصل ہوتا ہے اور پہاڑوں جیسی ضخامت کے بحری جہاز بھی ان سمندروں کے اندر تیرتے اور نقل و حمل کے لئے سفر کرتے ہیں ۔ کائنات کی ہر چیز کو فنا ہے مگر رب ذوالجلال کے لئے دائمی بقاء ہے۔ اس طرح انعامات خداوندی کے تذکرہ کے بعد قیامت کے ہولناک مناظر اور جہنم کی دہشت ناک سزاؤں کا تذکرہ کیا اور جنت کے روح پرور مناظر کا بیان شروع کر دیا جس میں باغات اور چشمے، انواع و اقسام کے پھل، ریشم و کمخواب کے لباس، یاقوت و مرجان کی طرح حسن و جمال اور خوبصورتی کی پیکر جنتی حوریں جو اپنے شوہر کے علاوہ کسی کی طرف نگاہ اٹھا کر بھی نہ دیکھتی ہوں گی اور آخر میں رب ذوالجلال والا کرام کے نام کی برکتوں کے تذکرہ پر سورہ کو ختم کیا گیا ہے۔

سورہ الواقعہ

مکی سورت ہے، چھیانوے چھوٹی چھوٹی آیتوں اور تین رکوع پر مشتمل ہے۔ سورت کا مرکزی مضمون ’’بعثت بعد ا لموت‘‘ کا عقیدہ ہے، قیام قیامت ایک ایسی حقیقت ہے جسے جھٹلانا ممکن نہیں ہے، اس دن عدل و انصاف کے ایسے فیصلے ہوں گے جس کے نتیجہ میں بعض لوگ اعزاز و اکرام کے مستحق قرار پائیں گے جبکہ بعض لوگوں کو ذلت و رسوائی کا منہ دیکھنا پڑے گا۔ اس دن زمین شدت کے ساتھ ہل کر رہ جائے گی اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر فضاء میں اڑنے لگیں گے۔ لوگوں کی نیکی اور بدی کے حوالہ سے تین جماعتیں بنا دی جائیں گی۔ اصحاب المیمنہ (دائیں طرف والے) اصحاب المشأمہ (بائیں طرف والے) اور خاص الخاص مقربین جن کے اندر پہلی امتوں کے نیکو کار لوگ اور امت محمدیہ کے مقربین شامل ہوں گے۔ پھر ان کے لئے انعامات اور حور و قصور کا تذکرہ اور بائیں طرف والوں کے لئے جہنم کے عذاب اور سزاؤں کا تذکرہ، پھر مرنے کے بعد زندہ ہونے پر عقل کو جھنجھوڑ کر رکھ دینے والے دلائل کا ایک سلسلہ بیان کیا ہے۔ ہمیں کوئی عاجز نہیں کرسکتا کہ ہم نیست و نابود کر کے تمہاری جگہ دوسری مخلوق پیدا کر کے لے آئیں ۔ جب تم نے ہمارے پہلے پیدا کرنے کو تسلیم کر لیا ہے تو دوبارہ پیدا کرنا کیا مشکل ہے۔ تم سمجھتے کیوں نہیں ہو؟ تم کھیتوں میں بیج ڈالتے ہو، اسے اگانا تمہارے اختیار میں نہیں ہے۔ ہم ہی اسے گاتے ہیں ، اگر ہم اس کھیتی کو تباہ کر کے رکھ دیں تو تم کف افسوس ملتے رہ جاؤ گے۔ تمہارے پینے کا پانی بادلوں سے کون نازل کرتا ہے۔ کیا تم اتارتے ہو یا ہم اتارتے ہیں ۔ اگر ہم اس پانی کو نمکین اور کڑوا بنا دیں تو تم کیا کرسکتے ہو؟ کیا اس پر تم شکر نہیں کرتے ہو؟جس آگ کو تم جلاتے ہو اس کا درخت کون پیدا کرتا ہے تمہیں اپنے رب عظیم کی تسبیح بیان کرتے رہنا چاہئے۔ قرآن کریم کی حقانیت کو ثابت کرنے کے لئے نظام شمسی کے مربوط و منظم سلسلہ کو بطور شہادت پیش کرنے کے لئے اس کی قسم کھا کر فرمایا کہ جس ذات نے اجرام فلکی کا یہ محیر العقول نظام بنایا ہے اسی قادر مطلق نے یہ قرآن کریم نازل فرمایا ہے۔ اسے چھونے کے لئے پاکیزگی اور طہارت کا اہتمام کرنا ضروری ہے۔ پھر ’’جاں کنی‘‘ کا عالم اور جزاء و سزاء کے لئے دربار خداوندی میں حاضری کے موقع پر تین جماعتوں میں لوگوں کی تقسیم کا اعادہ اور آخر میں رب عظیم کی تسبیح بیان کرنے کے حکم پر سورہ کا اختتام کیا گیا ہے۔

سورہ الحدید

مدنی سورت ہے، انتیس آیتوں اور چار رکوع پر مشتمل ہے۔ ’’حدید‘‘ لوہے اور اسٹیل کو کہتے ہیں اور اس کے منافع اور فوائد ہر دور میں مسلم رہے ہیں ، لوہے کو طاقت و قوت اور مضبوطی کا ایک بڑا مظہر سمجھا جاتا ہے۔ اس لئے سورت کا نام ’’الحدید‘‘ رکھا گیا ہے۔ آسمان و زمین، عرش و کرسی کی تخلیق، شب و روز کا منظم سلسلہ، ہر چیز پر اللہ کے علم کا احاطہ، اللہ تعالیٰ کسی بھی قسم کی کمزوری اور عیب سے پاک ہونے پر دلالت کرتا ہے۔ اللہ پر ایمان لانے اور جہاد فی سبیل اللہ کے لئے مال خرچ کرنے کی ترغیب ہے اور اس پر اجرو ثواب دینے کو قرض کے ساتھ مشابہت دے کر بتایا ہے کہ جس طرح قرض کی ادائیگی ایک فریضہ اور لازمی ہوتی ہے اسی طرح اللہ کے نام پر اعلاء کلمۃ اللہ کے لئے مال خرچ کرنے پر بدلہ دیا جانا بھی لازمی اور ضروری ہے۔ پھر مؤمنین کا اپنے ایمان کے نور سے قیامت میں استفادہ اور منافقین کی بیچارگی اور نور ایمان سے محرومی پر حسرت و افسوس کا عبرتناک منظر پیش کیا ہے اور ’’گلو گیر انداز‘‘ میں مومنین کو اپنے ایمانی تقاضوں پر عمل درآمد کی طرف متوجہ کیا گیا ہے۔ دنیا کی زندگی کی بے ثباتی اور اسباب و وسائل کی کشش سے دھوکہ میں نہ پڑنے کی تلقین فرمائی ہے اور اس کے بالمقابل بے پناہ وسعتوں کی حامل جنت کے حصول میں لگنے کی طرف توجہ دلائی ہے۔’’تقدیر‘‘ کے عقیدہ کی افادیت کو بیان کیا ہے کہ اس سے اہل ایمان مایوسیوں سے محفوظ ہو کر ’’جہد مسلسل‘‘ کے عادی بن سکتے ہیں اور اپنی انتھک کوششوں اور محنتوں سے معاشرہ کو انقلاب سے ہمکنار کرسکتے ہیں ۔ ’’لوہا‘‘ اپنے اندر بھرپور انسانی منافع لئے ہوئے ہے، اس سے طاقت و قوت کا اظہار ہوتا ہے اور یہ طاقت و قوت اللہ کے دین کی حمایت اور اس کے دفاع میں استعمال ہونی چاہئے۔ پھر سلسلہ انبیاء کا مختصر تذکرہ جس میں ابو البشر ثانی حضرت نوح علیہ السلام اور امام الانبیاء حضرت ابراہیم علیہ السلام کا حوالہ اور پھر ’’عبد صالح‘‘ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ان کی کتاب انجیل کا تذکرہ فرما کر ان کے متبعین کی صفات اور قیامت میں ان کے لئے اجر عظیم کے وعدہ کے ساتھ ان کے پیروکاروں کو اسلام قبول کرنے کی دعوت دیتے ہوئے بتایا ہے کہ اس طرح وہ دُہرے اجر کے مستحق ہو جائیں گے اور یہ سب کچھ اللہ کے فضل اور اس کی عطا کردہ توفیق سے ہی میسر آسکتا ہے۔




29 – تَبَارَكَ الَّذِي

سورہ الملک

مکی سورہ ہے تیس آیتوں اور دو رکوع پر مشتمل ہے۔ اس سورہ میں دنیا و آخرت میں اللہ تعالیٰ کے قادر مطلق ہونے کو زیادہ اجاگر کیا گیا ہے۔ ابتداء سورہ میں بتایا گیا ہے کہ زندگی اور موت کی تخلیق کا مقصد ’’مقدار کی کثرت‘‘ نہیں بلکہ ’’معیار کا حسن‘‘ پیدا کرنا ہے۔ کسی بھی نیک عمل کو بہتر سے بہتر اور خوبصورت سے خوبصورت انداز میں سرانجام دیا جائے۔ اس کے بعد قدرت کے ’’فن تخلیق‘‘ میں کمال مہارت کا بیان ہے وسیع و عریض سات آسمان بنا دئے مگر ان میں کوئی دراڑ یا کہیں پر کوئی جھول نہیں رہنے دیا۔ ستارے پیدا کرنے کا مقصد زینت بھی ہے اور آسمانی نظام کے رازوں کو شیاطین سے تحفظ فراہم کرنا بھی ہے۔ پھر جہنم کے اندر عذاب کی شدت، کافروں کی ندامت و شرمندگی اور بے بسی اور کسمپرسی کی بہترین انداز میں منظر کشی کی گئی ہے۔ پھر اخلاص کے ساتھ اللہ کا خوف رکھنے والے جو ایسے مقام پر بھی، جہاں کوئی دیکھنے والا نہ ہو، اللہ سے ڈریں ان کے لئے ’’بڑے صلہ‘‘ کا وعدہ کیا گیا ہے۔ پھر زمین پر چلنے پھرنے کی سہولت، روزی کمانے کے مواقع فراہم کرنے کے انعام کا تذکرہ کر کے اس منعم حقیقی کے دربار میں پیشی کی یاددہانی کرائی گئی ہے۔ پھر اچانک عذاب الٰہی کے ظہور کی صورت میں انسانی بے بسی کی تصویر کھینچی گئی ہے اور ہدایت یافتہ اور گمراہ انسان کو نہایت خوبصورت تعبیر میں واضح کیا گیا ہے۔ ایک شخص فطری انداز میں بالکل سیدھا بیچ راستہ میں چل رہا ہو اور دوسرا فطرت کے خلاف سر کے بل چلنے کی کوشش کر رہا ہو، یقیناً یہ دونوں برابر نہیں ہوسکتے۔ نبی اور اس کے ساتھیوں کی ہلاکت کی تمنا و دیندار طبقہ کی ہلاکت کی خواہش اور کوشش پر فرمایا کہ اے نبی آپ فرما دیجئے اگر میں اور میرے ساتھی ہلاک بھی ہو جائیں تو اس طرح تم اللہ کے عذاب سے نہیں بچ سکو گے۔ اس لئے اللہ پر توکل کرنا چاہئے اور اس کی نعمتوں میں غور کر کے اسے پہچاننے کی سعی بلیغ جاری رکھنی چاہئے۔ پانی جو کہ زندگی کی ابتداء اور بقاء کا ضامن ہے اسے اگر اللہ تعالیٰ خشک کر دیں اور زمین کی تہہ میں جذب کر دیں تو تمہارے کنوؤں کے ’’خشک سوتوں ‘‘ میں پانی کا بہاؤ اللہ کے سوا کون پیدا کرسکتا ہے۔ اس سورہ کے مضامین اور عقیدہ سے ان کا گہرا تعلق حضور علیہ السلام کے سورہ کی روزانہ سونے سے پہلے تلاوت کرنے کی حکمت کو واضح کرتا ہے۔

سورہ القلم

مکی سورہ ہے، باون آیتوں اور دو رکوع پر مشتمل ہے۔ اثبات رسالت محمدیہ اس سورہ کا مرکزی مضمون قرار دیا جا سکتا ہے۔ قلم اور اس سے لکھی جانے والی سطور کی قسم کھا کر تعلیم اور ذریعہ تعلیم، قلم کی اہمیت و عظمت کی نشاندہی کی گئی ہے۔ پھر ہر دور کے باطل کے اعتراضات جو کہ مشرکین مکہ کی زبان سے ادا ہو رہے تھے، ’’مذہبی جنونی‘‘، ’’اخلاقی اقدار سے عاری‘‘ وغیرہ ان کا تسلی بخش جواب ہے کہ آپ نہ تو مجنون ہیں اور نہ ہی اخلاق سے عاری بلکہ آپ تو اخلاقی اقدار کی بلندیوں کا مظہر ہیں ۔ گمراہ اور ہدایت یافتہ کا فرق اللہ سے مخفی نہیں ہے۔ اسلامی تعلیمات میں نرمی اور ’’قابل قبول‘‘ بنانے کے مطالبوں سے آپ متاثر نہ ہوں ۔ اس قسم کے مطالبات کرنے والے ہمیشہ بے جا قسمیں کھانے والے، بے وقعت، طعنہ باز اور چغلخور ہوتے ہیں ۔ نیک کام سے روکنے والے، انتہاء پسند اور گناہوں کی زندگی میں ڈوبے ہوئے ہوتے ہیں ۔ تشدد پرست اور حسب و نسب کے اعتبار سے مشکوک ہوتے ہیں مال اور اولاد کے زعم میں مبتلا ہو کر ایسی حرکتیں کرتے ہیں ۔ قرآن کریم کو قصے کہانیاں بتاتے ہیں ، ایسے لوگوں کی ہم معاشرہ میں ناک کاٹ کر رکھ دیں گے۔ پھر ایک زراعت پیشہ اور سخی انسان اور اس کی بخیل اولاد کا تذکرہ کر کے بتایا کہ اللہ کے نام پر خرچ کرنے سے بچنے والوں کا مقدر ہلاکت اور تباہی کے سوا کچھ نہیں نکلتا۔ پھر جنت کے انعامات اور جہنم کے عذاب اور مصائب کا تذکرہ، پھر نماز کی پابندی نہ کرنے والوں کی مذمت کہ قیامت میں ’’تجلی ساق‘‘ کے موقع پر وہ سجدہ بھی نہیں کرسکیں گے۔ پھر ظالموں اور جھٹلانے والوں کو ڈھیل دے کر اچانک گرفت کرنے کے ضابطہ کو بیان کر کے دین پر ثابت قدمی اور صبر کا مظاہرہ کرنے کی تلقین کے ساتھ قرآن کریم کے عالم انسانیت کے لئے نصیحت و رہنمائی کا پیغام ہونے کے اعلان کے ساتھ سورہ ختم ہوتی ہے۔

سورہ الحآقہ

مکی سورہ ہے، اس میں باون آیتیں اور دو رکوع ہیں ۔ اس سورہ کا مرکزی مضمون ’’قیام قیامت‘‘ ہے۔ قیامت جو کہ حقیقت کا روپ دھارنے والی ہے اور اعمال کو ان کے حقائق کے ساتھ سامنے لانے والی ہے وہ آ کر رہے گی۔ اس کے بعد قیامت کی ہولناکی اور دنیا میں منکرین و معاندین پر عذاب الٰہی کے اترنے کا بیان ہے اور اختصار کے ساتھ عاد و ثمود اور فرعون کا تذکرہ ہے۔ پھر نامۂ اعمال کے دائیں اور بائیں ہاتھوں میں دئے جانے اور لوگوں کی خوشی و مسرت اور پریشانی و گھبراہٹ کے بیان کے ساتھ ان کے لئے جنت و جہنم کی نعمتوں اور تکلیفوں کا تذکرہ ہے۔ اس کے بعد قسمیں کھا کر اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کے کلام الٰہی ہونے کا اعلان کیا اور شاعر یا کاہن کا کلام ہونے کی تردید کی ہے۔ قرآن کریم کو گھڑ کر پیش کرنے والے کے روپ میں ان لوگوں کی مذمت ہے جو قرآن میں تحریف اور اس کے معنی کو من مانے طریقے پر بدلنا چاہتے ہیں اور اللہ کی تسبیح کے حکم پر سورہ مکمل ہوتی ہے۔

سورہ المعارج

مکی سورہ ہے چوالیس آیتوں اور دو رکوع پر مشتمل ہے۔ اس سورہ کا مرکزی مضمون ’’قیامت اور اس کا ہولناک منظر‘‘ ہے۔ مشرکین مکہ کے اس استہزاء و تمسخر پر کہ قیامت والا عذاب ہمیں تھوڑا سا دنیا میں چکھا دیا جائے تو ہم دیکھ تو لیں کہ وہ کیسا ہوتا ہے؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: جو لوگ ہمارے عذاب کا مطالبہ کر رہے ہیں انہیں معلوم ہونا چاہئے کہ جب ہمارا عذاب اترا تو انہیں کوئی جائے پناہ بھی نہیں ملے گی اور اس سے بچانے والا بھی کوئی نہیں ہو گا۔ پھر قیامت کی ہولناکی اور گناہگاروں کے اس عذاب سے بچنے کے لئے دنیا کا مال و دولت، اپنا خاندان اور عزیز و اقارب دے کر چھٹکارا پانے کی خواہش مذکور ہے۔ پھر انسانی فطرت اور مزاج کا بیان ہے کہ تکلیف و مشقت کی صورت میں جزع فزع کرنے لگتا ہے اور آرام و راحت کی صورت میں بخل اور کنجوسی کرنے لگتا ہے۔ اس انتہاء پسندی سے بچنے والے وہ لوگ ہیں جو نماز کا اہتمام کریں ۔ غریبوں کی مدد کریں قیامت پر ایمان رکھیں ۔ اللہ کے عذاب سے خائف ہوں ، جنسی بے راہ روی کا شکار نہ ہوں ، امانتدار ہوں عہد شکنی کا ارتکاب نہ کرتے ہوں ، سچی گواہی پر ثابت قدم رہیں ۔ یہی لوگ جنت میں عزت و احترام کے مستحق قرار پائیں گے۔ اس کے بعد بیان کیا ہے کہ جنت کا داخلہ آرزوؤں اور تمناؤں سے اگر ہوسکتا تو جنت سے کوئی بھی پیچھے نہ رہتا کیونکہ ہر ایک کی خواہش ہے کہ وہ جنت میں چلا جائے۔ پھر مجرمین کے لئے دھمکی اور وعید سنائی گئی ہے کہ اگر یہ لوگ اپنی حرکات بد سے باز نہ آئے تو انہیں ختم کر کے دوسری قوم کو ان کی جگہ لا سکتے ہیں ۔

سورہ النوح

مکی سورہ ہے، اٹھائیس آیتوں اور دو رکوع پر مشتمل ہے جیسا کہ نام سے ظاہر ہے اس پوری سورہ میں صرف نوح علیہ السلام اور ان کی قوم کا ذکر ہے۔ حضرت نوح علیہ السلام کی رسالت اور ان کی دعوت توحید کا تذکرہ کرتے ہوئے ان کی طویل اور انتھک جدو جہد کو خراج تحسین پیش کیا گیا ہے۔ ان کے بیان کردہ دلائل توحید کی ایک جھلک دکھا کر بتایا ہے کہ وہ کس طرح قوم کی ہدایت کے لئے مخلصانہ کوششیں کرتے رہے اور قوم اپنی ہٹ دھرمی اور عناد پر اڑی رہی آخر کار نوح علیہ السلام کی بددعاء کے نتیجہ میں قوم کو پانی کے سیلاب میں غرق کر کے بتا دیا کہ ظالموں کا انجام ہمیشہ خسارہ اور ہلاکت کی شکل میں ہی ظاہر ہوا کرتا ہے اور مؤمنین ایمان اور اعمال صالحہ کی برکت سے نجات پایا کرتے ہیں ۔

سورہ الجن

مکی سورہ اٹھائیس آیتوں اور دو رکوع پر مشتمل ہے، اس سورہ میں جنات کی جماعت کا تذکرہ ہے جنہوں نے حضور علیہ السلام کی نماز میں تلاوت سن کر ایمان قبول کر لیا اور ان انسانوں کو غیرت دلائی گئی ہے جو قرآن کا انکار کرتے ہیں کہ تم سے تو ’’جن‘‘ ہی اچھے رہے۔ جنات کے اسلام کا مکلف ہونے کی طرف اشارہ بھی موجود ہے پھر جنات کی نیک اور بد میں تقسیم کو بیان کیا اور یہ بتایا گیا ہے کہ توحید کے پرستار ہی بلا امتیاز جن و انس ہمیشہ کامیاب و کامران رہے اور منکرین توحید ناکام و نامراد رہے۔ مساجد اللہ کے گھر ہیں ان میں اللہ کے سوا کسی دوسرے کو پکارنا مساجد کے آداب کے منافی ہے۔ اس کے بعد حضور علیہ السلام کو حکم دیا گیا کہ وہ دو ٹوک انداز میں توحید کا اعلان کر کے اللہ ہی کو اپنے نفع نقصان کا مالک قرار دے کر دنیا کو بتا دیں کہ اللہ اور اس کے رسول کے نافرمان جہنم میں ہمیشہ ہمیشہ پڑے رہیں گے۔ اللہ اپنے انبیاء و رسل کو توحید بیان کرتے ہوئے اور تبلیغ رسالت کا فریضہ انجام دیتے ہوئے دیکھنا چاہتے ہیں اور منکرین کے اعمال کا احاطہ کر کے اللہ نے ان کی تعداد بھی شمار کر رکھی ہے اور گن گن کر سب کا حساب چکائیں گے اور اللہ کے عذاب سے کوئی بچ نہیں سکے گا۔

سورہ المزمل

مکی سورہ ہے، بیس آیتوں اور دو رکوع پر مشتمل ہے۔ اس سورہ کا مرکزی مضمون ’’شخصیت رسول‘‘ ہے اس میں حضور علیہ السلام کو المزمل ’’کملی والا‘‘ کے پیار بھرے لفظ سے خطاب کیا گیا ہے اور دعوت الی اللہ اور اعلاء کلمۃ اللہ کا کام کرنے والوں کو آپ کے توسط سے یہ پیغام دیا گیا ہے کہ دن بھر کی جدو جہد میں تاثیر پیدا کرنے کے لئے شب بیداری اور قیام اللیل بہت ضروری ہے اور رات کی نماز میں تلاوت قرآن کی اثر انگیزی مسلم ہے۔ مخالفین و معاندین سے صرف نظر کر کے انہیں اللہ پر چھوڑنے کی تلقین کر کے قصۂ فرعون و موسیٰ میں معاندین کی پکڑ کی ہلکی سی جھلک دکھا کر تہجد کی نماز کے حوالہ سے نرمی کا اعلان کیا گیا ہے کہ پہلے تہجد فرض تھی مگر دن کی مصروفیات خصوصاً مجاہدین اور تجارت پیشہ احباب کی رعایت میں صوابدیدی اختیار دے دیا گیا ہے کہ جس سے جتنا ہوسکے ادائیگی میں کوتاہی نہ کرے۔ جس قدر نوافل کا اہتمام کرو گے اللہ کے یہاں اس کا اجر و ثواب ضرور ملے گا۔ کوشش کے باوجود ادائیگی اعمال میں رہ جانے والے کوتاہی پر اللہ سے استغفار کرتے رہیں اللہ غفور رحیم ہیں ۔

سورہ المدثر

مکی سورہ ہے۔ چھپن چھوٹی چھوٹی آیتوں اور دو رکوع پر مشتمل ہے۔ فرائض نبوت اور دعوت الی اللہ کی ذمہ داریاں پورے شرح صدر اور نشاط و انبساط کے ساتھ ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ پھر قیامت کے دن کی ہولناکی اور شدت کو بیان کرتے ہوئے معاندین و منکرین کو عبرتناک انجام سے بچنے کی ترغیب دی گئی ہے۔ اس کے بعد ولید بن مغیرہ کی شکل میں ہر اس شخص کو جو حقانیتِ قرآن واضح ہو جانے کے باوجود عناد اور تکبر اور لیڈر شپ کے شوق میں قرآن کو تسلیم نہ کرے اسے دھمکی کے انداز میں انجام بد سے ڈرایا گیا ہے۔ پھر جہنم میں داخلہ کے اسباب کو جنتیوں اور جہنمیوں کی ایک گفتگو کی شکل میں بیان کیا گیا ہے کہ ہر انسان کا انجام اس کے اعمال کے مطابق ہو گا۔ وہاں پر رشوت یا سفارش نہیں چلے گی۔ قرآن کریم کے پیغام سے پہلو تہی کرنے والوں کی مثال دے کر بتایا ہے کہ یہ لوگ قرآن سن کر ایسے بھاگتے ہیں جیسے شیر کی دھاڑ سن کر گدھا بھاگتا ہے۔قرآن کریم ہر ایسے شخص کو نصیحت فراہم کرتا ہے جو نصیحت حاصل کرنے کا خواہاں ہوتا ہے۔ تم اگر اپنی اصلاح چاہو تو اللہ کی مشیت تمہارے ساتھ ہو گی وہ اللہ اس بات کا اہل ہے کہ اسی سے ڈرا جائے اور اسی سے مغفرت طلب کی جائے۔

سورہ القیامۃ

چالیس چھوٹی چھوٹی آیتوں پر مشتمل مکی سورہ ہے۔ اس میں دو رکوع ہیں ۔ نام سے ہی ظاہر ہے کہ اس سورہ میں قیامت کے مناظر اور مرنے کے بعد زندہ ہونے کو بیان کیا گیا ہے۔ اللہ نے قسمیں کھا کر انسان کی اس خام خیالی کی تردید فرمائی ہے کہ بوسیدہ ہڈیوں اور بکھرے ہوئے اجزاء کو جمع کر کے دوبارہ انسان کو وجود میں لانا ممکن نہیں ہے۔ جسم انسانی میں انگلیوں کے پورے اور نشانات شناخت اور امتیاز کا بہترین ذریعہ ہیں ۔ اللہ فرماتے ہیں ہم ان پوروں کو بھی دوبارہ ترتیب دے کر پیدا کرنے کی طاقت رکھتے ہیں ۔ پھر روزِ قیامت کی ہولناکی اور شدت بیان کرنے کے لئے بتایا کہ اس دن چاند سورج بے نور ہو جائیں گے۔ نگاہیں پھٹی کی پھٹی رہ جائیں گی اور انسان یہ سوچنے پر مجبور ہو جائے گا کہ اب میں بھاگ کر جاؤں تو جاؤں کہاں ؟ پھر قرآن کریم کو یاد کرنے کے لئے حضور علیہ السلام کے شدت اہتمام کو ذکر کر کے قرآنی ادب بھی بیان کر دیا کہ جب قرآن کی تلاوت سنیں تو خاموشی اور انہماک کے ساتھ متوجہ رہیں ۔ اس کی برکت یہ ہو گی کہ جب پڑھنے کی ضرورت پیش آئے گی، اللہ تعالیٰ خود ہی آپ کی زبان پر جاری کر دیں گے۔ پھر بتایا کہ نیک و بد کی تقسیم اور اچھے اور برے میں امتیاز کا تسلسل روزِ قیامت بھی جاری رہے گا۔ پھر سکرات کے عالم اور جان کنی کی شدت کو بیان کر کے اس وقت کی تکلیف و پریشانی سے بچنے کے لئے تیار رہنے کا حکم دیا۔ اس کے بعد انسان کو اس کی تخلیق کے ابتدائی مراحل میں غور و خوض کر کے یہ سمجھایا کہ جب پہلی تخلیق کے مشکل ترین مراحل اللہ نے سر انجام دے لئے تو اب دوبارہ پیدا کرنا کیا مشکل رہ گیا۔

سورہ الدہر

اکتیس آیتوں پر مشتمل مدنی سورہ ہے اس میں دو رکوع ہیں انسانی تخلیق کو جن ابتدائی مراحل سے گزرنا پڑتا ہے اسے شروع سورہ میں ذکر کیا گیا ہے۔ ایک زمانہ انسان پر ایسا آتا ہے کہ اسے نہ کوئی جانتا ہے اور نہ ہی کسی زبان پر اس کا تذکرہ ہوتا ہے پھر اسے میاں بیوی کے مخلوط نطفہ سے ہم ترکیب دے کر سمیع و بصیر انسان کی شکل دے دیتے ہیں ۔ پھر یہ انسان دو قسم کے ہو جاتے ہیں ۔ اپنے رب کے شکر گزار اور اپنے رب کے ناشکرے۔
کافروں کے لئے زنجیریں ، طوق اور بھڑکتی ہوئی آگ ہے اور نیکوکار افراد کے لئے جنت کی بہترین نعمتیں اور خوشبو دار شراب ہے پھر نیک افراد کی کچھ صفات کے بیان کے بعد جنت میں انہیں عطاء کئے جانے والے مزید انعامات جن میں گھنے سائے والے باغات، سونے چاندی کے آبخورے، شیشہ کے گلاس، موتیوں کی طرح حسن و جمال کے پیکر خدمت گزار، ریشم و کمخواب کے لباس اور سونے چاندی کے کنگن اور پینے کے لئے پاکیزہ شراب۔ اس کے بعد قرآنی تعلیمات پر ثابت قدمی کی تلقین، شب بیداری کا حکم اور لمبی لمبی نمازیں پڑھنے کی ترغیب اور آخر میں قرآن کریم سے ہر شخص کو استفادہ کا حکم اور ظالموں کے لئے دردناک عذاب کی وعید پر سورہ کو ختم کیا گیا ہے۔

سورہ المرسلات

پچاس آیتوں پر مشتمل مکی سورہ ہے۔ اس میں دو رکوع ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے ہواؤں کی قسمیں کھا کر فرمایا ہے کہ قیامت اور اس کا عذاب واقع ہو کر رہے گا۔ پھر قیام قیامت کی منظر کشی کی گئی ہے کہ ہر چیز اپنی تاثیر کھودے گی اور اجزائے ترکیبی چھوڑ بیٹھے گی۔ پھر کچھ واقعاتی حقائق اور کائناتی شواہد پیش کر کے بتایا کہ ان بڑے بڑے کاموں کو سرانجام دینے والے رب کے لئے قیامت کا دن لانا کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ پہلے جہنم اور اس کی سزاؤں کا تذکرہ کیا پھر جنت اور اس کی نعمتوں کا تذکرہ کر کے منکرین و معاندین سے سوال کیا ہے کہ اس معجزانہ اسلوب کے حامل قرآن کریم سے بھی اگر تم ایمان کی روشنی حاصل کرنے سے قاصر ہوتو پھر تمہیں ہلاکت اور تباہی کے لئے تیار رہنا چاہئے۔






30 – عَمَّ

سورہ نبأ

مشرکین مکہ استہزاء و تمسخر کے طور پر مرنے کے بعد زندہ ہونے کو اور قرآن کریم کو ’’النبأ العظیم‘‘ یعنی ’’بڑی خبر‘‘ کہتے تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ واقعی بڑی اور عظیم الشان خبر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے منہ کی بات لیکر فرمایا کہ اس ’’بڑی خبر‘‘ پر تعجب یا انکار کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ تمہیں عنقریب اس کی حقیقت کا علم ہو جائے گا۔ پھر اس پر کائناتی شواہد پیش کرتے ہوئے فرمایا کہ آسمان و زمین اور ان میں موجود چیزیں جن کی تخلیق انسانی نقطۂ نظر سے زیادہ مشکل اور عجیب ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان سب کی تخلیق فرمائی ہے اور ایسی طاقت و قدرت رکھنے والے اللہ کے لئے انسانوں کو دوبارہ پیدا کرنا کون سا مشکل کام ہے۔ پھر اس اعتراض کا جواب دیا کہ اگر یہ برحق بات ہے تو آج مردے زندہ کیوں نہیں ہوتے؟ ہر چیز کے ظہور پذیر ہونے کے لئے وقت متعین ہوتا ہے۔ وہ چیز اپنے موسم اور وقت متعین میں آ موجود ہوتی ہے۔ مرنے کے بعد زندہ ہونے کا ’’موسم‘‘ اور وقت متعین یوم الفصل (فیصلہ کا دن) ہے لہٰذا یہ کام بھی اس وقت ظاہر ہو جائے گا۔ پھر جہنم کی عبرتناک سزاؤں اور جنت کی دل آویز نعمتوں کے تذکرہ کے بعد اللہ تعالیٰ کے جاہ و جلال اور فرشتوں جیسی مقرب شخصیات کی قطار اندر قطار حاضری اور بغیر اجازت کسی قسم کی بات کرنے سے گریز کو بیان کر کے بتایا کہ آخرت کے عذاب کی ہولناکی اور خوف کافروں کو یہ تمنا کرنے پر مجبور کر دے گا کہ کاش ہم دوبارہ پیدا ہی نہ کئے جاتے اور جانوروں کی طرح پیوندِ خاک ہو کر عذاب آخرت سے نجات پا جاتے۔

سورہ نازعات

اس سورت کا مرکزی مضمون مرنے کے بعد زندہ ہونے کا اثبات ہے۔ ابتداء ان فرشتوں سے کی گئی ہے جو اس کائنات کے معاملات کو منظم طریقے پر چلانے اور نیک و بد انسانوں کی روح قبض کرنے پر مامور ہیں ۔ پھر مشرکین مکہ کے اعتراض کے جواب میں قیامت کی ہولناکی اور بغیر کسی مشکل کے اللہ کے صرف ایک حکم پر قبروں سے نکل کر باہر آ جانے کا تذکرہ اور اس پر واقعاتی شواہد پیش کئے گئے ہیں جو اللہ فرعون جیسے ظالم و جابر کو حضرت موسیٰ علیہ السلام جیسے وسائل سے محروم شخص کے ہاتھوں شکست سے دوچار کر کے سمندر میں غرق کرسکتا ہے اور آسمانوں جیسی عظیم الشان مخلوق کو وجود میں لا سکتا ہے وہ انسان کو مرنے کے بعد زندہ کرنے پر بھی قادر ہے۔ پھر جنت و جہنم کے تذکرہ اور صبح و شام کسی بھی وقت قیامت اچانک قائم ہو جانے کے اعلان پر سورت کا اختتام عمل میں لایا گیا ہے۔

سورہ عبس

سرداران قریش کے مطالبہ پر حضور علیہ السلام ان سے علیحدگی میں دعوت اسلام کے موضوع پر گفتگو کر رہے تھے کہ ان کے اسلام قبول کر لینے کی صورت میں ان کے ماتحت افراد بھی مشرف بہ اسلام ہو جائیں گے۔ اتنے میں ایک نابینا صحابی حضرت عبداللہ بن ام مکتوب کسی قرآنی آیت کے بارے میں معلومات کے لئے حاضر خدمت ہوئے وہ نابینا ہونے کی بنا پر صورتحال سے ناواقف تھے۔ حضور علیہ السلام کو ان کا یہ انداز ناگوار گزرا جس پر اللہ تعالیٰ نے سورت نازل فرمائی۔ ایک نابینا کے آنے پر منہ بسور کر رخ موڑ لیا۔ جو استغناء کے ساتھ اپنی اصلاح کا خواہاں نہیں ہے اس کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں اور جو اللہ کی خشیت سے متاثر ہو کر اپنی اصلاح کی خاطر آپ کے پاس آتا ہے اس سے آپ اعراض کرتے ہیں ۔ یہ قرآن کریم نصیحت کا پیغام ہے، کسی بڑے چھوٹے کی تفریق نہیں کرتا۔ اس سے جو بھی نصیحت حاصل کرنا چاہے اس کی جھولی علم و معرفت سے بھر دیتا ہے۔ غریب علاقوں کو نظرانداز کر کے فائیو اسٹار ہوٹلوں اور پوش علاقوں کے ساتھ تفسیر قرآن کی مجالس کو مخصوص کرنے والوں کی واضح الفاظ میں اس سورت میں مذمت کی گئی ہے۔ انسان اگر پہلی مرتبہ اپنی تخلیق پر غور کرے تو دوبارہ پیدا ہونے پر اسے تعجب نہیں ہونا چاہئے۔ ماخلقکم ولا بعثکم الا کنفس واحدۃ۔ تمہارا پیدا ہونا اور مرنے کے بعد زندہ ہونا ایک ہی جیسا ہے۔ زمین، فضاء اور پانی میں منتشر اجزاء کو پھلوں سبزیوں کی شکل دے کر تمہاری خوراک کے ذریعہ تمہارے جسم کا حصہ بنایا۔ مرنے کے بعد تمہارے منتشر اجزاء کو دوبارہ جمع کر کے انسان بنا کر پھر قبروں سے باہر نکال لیا جائے گا۔ پھر قیامت کے دن کی شدت اور دہشت کو بیان کر کے نیک وبد کا ان کے اعمال کے مطابق انجام ذکر فرما کر سورت کو اختتام پذیر کیا ہے۔

سورہ تکویر

قیام قیامت اور حقانیت قرآن اس کے مرکزی مضامین ہیں ۔ قیامت کے دن کی شدت اور ہولناکی اور ہر چیز پر اثر انداز ہو گی۔ سورج بے نور ہو جائے گا۔ ستارے دھندلا جائیں گے، پہاڑ روئی کے گالوں کی طرح اڑتے پھریں گے، پسندیدہ جانوروں کو نظر انداز کر دیا جائے گا، جنگی جانور جو علیحدہ علیحدہ رہنے کے عادی ہوتے ہیں یکجا جمع ہو جائیں گے۔ (پانی اپنے اجزائے ترکیبی چھوڑ کر ہائیڈروجن اور آکسیجن میں تبدیل ہو کر) سمندروں میں آگ بھڑک اٹھے گی۔ انسان کا سارا کیا دھرا اس کے سامنے آ جائے گا۔ پھر کائنات کی قابل تعجب حقیقتوں کی قسم کھا کر بتایا کہ جس طرح یہ چیزیں ناقابل انکار حقائق ہیں اسی طرح قرآنی حقیقت کو بھی تمہیں تسلیم کر لینا چاہئے۔ پھر قرآن کریم کے اللہ رب العزت سے چل کر حضور علیہ السلام تک پہنچنے کے تمام مراحل انتہائی محفوظ اور قابل اعتماد ہونے کو بیان کر کے واضح کر دیا کہ یہ دنیا جہاں کے لئے بلا کسی تفریق و امتیاز کے اپنے دامن میں نصیحت و ہدایت کا پیغام لئے ہوئے ہے۔

سورہ انفطار

قیام قیامت کے نتیجہ میں کائنات میں برپا ہونے والے انقلابی تغیرات کو بیان کر کے انسان کی غفلت کا پردہ چاک کرتے ہوئے اسے محسن حقیقی کے احسانات یاد دلا کر اس کی ’’رگِ انسانیت‘‘ کو پھڑکایا ہے۔ پھر معرکۂ خیر و شر کی دو مقابل قوتوں کا تذکرہ کر کے بتایا ہے کہ شر کی قوت فجار اور نافرمانوں کے روپ میں جہنم کا ایندھن بننے سے بچ نہیں سکیں گے جبکہ ہر چیز کی قوت ابرار و فرماں برداروں کی شکل میں جنت اور اس کی نعمتوں کی مستحق قرار پائے گی۔ اللہ کے نگران فرشتے ’’کراماً کاتبین‘‘ ان کے تمام اعمال کا ریکارڈ محفوظ کر رہے ہیں اور روز قیامت اللہ کے سوا کسی کا حکم نہیں چلے گا۔

سورہ مطففین

ناپ تول میں کمی کرنے والے کو مطفف کہتے ہیں ۔ اس سے ہر وہ شخص مراد ہوسکتا ہے جو دوسروں کا حق مارتا اور اپنے فرائض منصبی میں کوتاہی کرتا ہو۔ مطففین کی ہلاکت کے اعلان کے ساتھ سورت کی ابتداء ہو رہی ہے اس کے بعد بتایا کہ یہ لوگ اپنے مفادات پر آنچ نہیں آنے دیتے جبکہ دوسروں کے حقوق کی دھجیاں بھی بکھیر کر رکھ دیتے ہیں ۔ اس انسانی کمزوری کی بڑی وجہ قیامت کے احتساب پر یقین کا نہ ہونا ہے اگر عقیدۂ آخرت کو پختہ کر دیا جائے تو اس خطرناک بیماری کا علاج ہوسکتا ہے۔ پھر اشرار و فجار کا انجام ذکر کر کے بتایا ہے کہ منکرین آخرت درحقیقت انتہاء پسند اور گناہوں کے عادی لوگ ہوتے ہیں ۔ ان کے دل گناہوں کی وجہ سے ’’زنگ آلود‘‘ ہو جاتے ہیں ۔ پھر ابرار و اخیار کا قابل رشک انجام ذکر کر کے بتایا کہ جس طرح کافر لوگ دنیا میں اہل ایمان والوں کا مذاق اڑایا کرتے تھے آج ایمان والے ان کا مذاق اڑائیں گے۔

سورہ انشقاق

قیامت کے خوفناک مناظر اور عدل و انصاف کے مظہر ’’بے رحم احتساب‘‘ کے تذکرہ پر یہ سورت مشتمل ہے۔ آسمان پھٹ جائیں گے اور زمین پھیل کر ایک میدان کی شکل اختیار کر لے گی اور اللہ کے حکم پر گوش بر آواز ہوں گے۔ انسان کو جہد مسلسل اور مشقت کے پے در پے مراحل سے گزر کر اپنے رب کے حضور پہنچنا ہو گا۔ دائیں ہاتھ میں نامۂ اعمال کا مل جانا محاسبہ کے عمل میں نرمی اور سہولت کی نوید ہو گی جبکہ پیٹھ کی طرف سے بائیں ہاتھ میں نامۂ اعمال کا ملنا کڑے محاسبہ اور ہلاکت کا مظہر ہو گی۔ اس کے باوجود بھی یہ لوگ آخر ایمان کیوں نہیں لاتے اور قرآن سن کر سجدہ ریز کیوں نہیں ہو جاتے۔ درحقیقت ان تمام جرائم کے پیچھے عقیدۂ آخرت اور یوم احتساب کے انکار کا عامل کار فرما ہے۔ ایسے افراد کو درد ناک عذاب کی بشارت سنا دیجئے۔ اس سے وہی لوگ بچ سکیں گے جو ایمان اور اعمال صالحہ پر کاربند ہوں گے ان کے لئے کبھی منقطع نہ ہونے والا اجرو ثواب ہے۔

سورہ بروج

اس سورت کے پس منظر کے طور پر احادیث میں ایک واقعہ آتا ہے کہ ایک نوجوان جو شاہی خرچہ پر بل کر جواں ہوا تھا مسلمان ہو گیا، بادشاہ نے اس کے قتل کا فیصلہ کیا، اس نے ایمان کے تحفظ میں اپنی جان قربان کر دی، اس واقعہ سے متاثر ہو کر بادشاہ کی رعیت مسلمان ہو گئی، اس نے خندقیں کھدوا کر ان میں آگ جلا دی اور اعلان کر دیا کہ جو ایمان سے منحرف نہ ہوا اسے خندق پھینک دیا جائے گا، لوگ مرتے مر گئے مگر ایمان سے دستبردار نہ ہوئے۔ قرآن کریم نے ان کی اس بے مثال قربانی اور دین پر ثابت قدمی کو سراہتے ہوئے قسمیں کھا کر کہا ہے کہ اپنی طاقت و قوت کے بل بوتے پر خندقوں میں پھینک کر ایمان والوں کو جلانے والے ان پر غالب ہونے کے باوجود ناکام ہو گئے اور اپنی کمزوری اور بے کسی کے عالم میں خندقوں کے اندر جلنے والے کامیاب ہو گئے۔ اس سے یہ ثابت ہوا کہ دنیا کا اقتدار اور غلبہ عارضی ہے، اس پر کامیابی یا ناکامی کا مدار نہیں ہے، اصل کامیابی ایمان پر ثابت قدمی میں ہے۔ پھر خیر و شر کی قوتوں کے انجام کے تذکرہ کے ساتھ ہی اللہ کی طاقت و قوت، محبت و مغفرت اور جلال و عظمت کو بیان کر کے مجرموں پر مضبوط ہاتھ ڈالنے کا اعلان کیا اور پھر فرعون اور ثمود کی ہلاکت کے بیان کے ساتھ قرآن کریم کے انتہائی محفوظ ہونے کا اعلان ہے۔

سورہ طارق

اس سورت کا مرکزی مضمون مرنے کے بعد زندہ ہونے کا عقیدہ ہے۔ ستاروں کی قسم کھا کر بتایا کہ جس طرح نظام شمسی میں ستارے ایک محفوظ و منضبط نظام کے پابند ہیں اسی طرح انسانوں کی اور ان کے اعمال کی حفاظت کے لئے بھی فرشتے متعین ہیں ۔ مرنے کے بعد کی زندگی پر دلیل کے طور پر انسان کو اپنی تخلیق اول میں غور کی دعوت دی اور بتایا کہ جس نطفہ سے انسان بنا ہے وہ مرد و عورت کے جسم کے ہر حصہ (صلب سے پچھلا حصہ اور ترائب سے سامنے کا حصہ مراد ہے) سے جمع ہو کر تیزی کے ساتھ اچھل کر رحم میں منتقل ہو جاتا ہے وہ اللہ اسے دوبارہ پیدا کرنے پر بھی قادر ہے۔ آسمان سے پانی برسا کر اور زمین پھاڑ کر غلے اور سبزیاں نکال کر انسانی خوراک کا انتظام کرنے والا اس بات کو بیان کرتا ہے کہ یہ قرآن کریم حق و باطل میں امتیاز پیدا کرنے والی کتاب ہے۔ کافر سازشیں کر رہے ہیں اور اللہ ان کا توڑ کر رہے ہیں لہٰذا انہیں مہلت دے دو اور یہ اللہ سے بچ کر کہیں نہیں جا سکیں گے۔

سورہ اعلیٰ

ابتداء میں اللہ تعالیٰ کے ہر عیب و کمزوری سے پاک ہونے کے اعلان کے ساتھ ہی اس کی قدرت کاملہ اور انسانوں پر اس کے انعامات و عنایات کا تذکرہ پھر اس بات کا بیان ہے کہ نبی کو براہِ راست اللہ ہی تعلیم دیتے ہیں جس میں نسیان اور بھول چوک کی کوئی گنجائش نہیں ہے البتہ اگر اللہ کسی مرحلہ پر قرآن پاک کے کسی حصہ کو منسوخ کرنے کے لئے آپ کے ذہن سے محو کرنا چاہیں تو کرسکتے ہیں ۔ قرآن کریم سے صحیح معنی میں استفادہ وہی کرسکتا ہے جو اپنے اندر خشیت پیدا کرنے کا خواہش مند ہو اور بدبخت و جہنمی اس قرآن سے فیض حاصل نہیں کرسکتے۔ اپنے نفس کی اصلاح کر کے اسے پاکیزہ بنانے والا کامیاب ہے اور یہ کام وہی کرسکتا ہے جو اللہ کے ذکر اور نماز کا عادی ہو۔ اصل زندگی آخرت کی زندگی ہے اور یہ بات حضرت ابراہیم اور حضرت موسیٰ علیہما السلام کی کتابوں میں بھی لکھی ہوئی موجود ہے۔

سورہ غاشیہ

قیامت کی ہولناکی اور شدت اور کافروں پر اترنے والی مشقت و مصیبت اور مؤمنوں کے لئے جنت کی نعمتوں کے ذکر سے ابتدا کی گئی ہے۔ پھر توحید باری تعالیٰ کے دلائل کا بیان ہے پھر حضور علیہ السلام کو انسانیت کے لئے یاد دہانی اور نصیحت کرانے کا حکم ہے اور قیامت کے احتساب کو اپنی نگاہوں کے سامنے رکھنے کی تلقین ہے۔

سورہ فجر

ابتداء میں پانچ قسمیں کھا کر اللہ نے کافروں کی گرفت کرنے اور عذاب دینے کا اعلان کیا ہے پھر اس پر واقعاتی شواہد پیش کرتے ہوئے قوم عاد و ثمود و فرعون اور ان کی ہلاکت کا بیان ہے۔ پھر مشقت اور تنگی میں اور راحت و وسعت میں انسان کی فطرت کو بیان کرتے ہوئے بتایا ہے کہ آرام و راحت میں اترانے اور عُجب میں مبتلاء ہونے لگتا ہے اور کہتا ہے کہ میں اس لائق تھا تبھی تو مجھے یہ نعمتیں ملی ہیں اور تکلیف اور تنگی میں اللہ کی حکمت پر نظر کرنے کی بجائے اللہ پر اعتراضات شروع کر دیتا ہے۔ پھر یتیموں اور مسکینوں کی حق تلفی اور حب مال کی مذمت کی ہے۔ اس کے بعد قیام قیامت اور اس کی سختی و شدت بیان کرنے کے بعد بیان کیا کہ جب اللہ تعالیٰ فیصلہ کرنے لگیں گے، فرشتے صف بندی کر کے کھڑے ہو جائیں گے اور جہنم کو لا کر کھڑا کر دیا جائے گا اس وقت کافروں کو عقل آئے گی اور وہ نصیحت حاصل کرنے کی باتیں کریں گے جب وقت گزر چکا ہو گا اس وقت اللہ ایسا عذاب دیں گے کہ کوئی بھی ایسا عذاب نہیں دے سکتا اور مجرموں کو ایسے جکڑیں گے کہ کوئی بھی اس طرح نہیں جکڑ سکتا۔ اللہ کے وعدوں پر اطمینان رکھنے والوں سے خطاب ہو گا اپنے رب کی طرف خوش و خرم ہو کر لوٹ جاؤ اور ہمارے بندوں میں شامل ہو کر ہماری جنت میں داخل ہو جاؤ۔

سورہ بلد

سورت کی ابتداء میں مکہ مکرمہ جس میں نبی علیہ السلام رہائش پذیر تھے اور والد و اولاد کی قسم کہ انسان مشقت اور تکالیف کے مراحل سے گزرتا رہتا ہے۔ نیکی کا راستہ اختیار کرنے میں بھی مشقت آتی ہے اور بدی کا راستہ اختیار کرنے میں بھی مشقت آتی ہے مگر فرق یہ ہے کہ نیکی کی راہ میں مشقت اٹھانے والوں کے لئے اجرو ثواب ہے جبکہ بدی کی راہ میں مشقت اٹھانے والوں کو ثواب کی بجائے عذاب ہو گا۔انسان کی ہٹ دھرمی اور اللہ کے راستہ سے روکنے کے جرم کے اعادہ پر فرمایا کہ جو کہتا ہے کہ میں نے بہت مال لگا دیا ہے، کیا اسے معلوم نہیں کہ اسے کوئی دیکھ رہا ہے پھر اللہ نے انسان پر اپنے انعامات ذکر فرما کر انسان کو خدمت خلق کی تلقین کی ہے اور نیک و بد کی تقسیم پر سورت کا اختتام ہے۔

سورہ شمس

سات قسمیں کھا کر بتایا ہے کہ جس طرح یہ تمام حقائق برحق ہیں اسی طرح یہ بات بھی برحق ہے کہ انسان کو ہم نے نیکی اور بدی میں تمیز کا ملکہ عطاء کیا ہے جو اس سے فائدہ اٹھا کر نیکی کا راستہ اختیار کر کے اپنی اصلاح کر لیتا ہے وہ کامیاب و کامران ہے اور جو ’’بدی‘‘ کا راستہ اپنا کر گناہوں کی زندگی اپنا لیتا ہے وہ ناکام و نامراد ہے۔ پھر ایک ایسی ہی سرکش اور گناہگار قوم کا تذکرہ ہے جنہوں نے اپنی قوم کے رئیس و شریف آدمی کو اللہ کی نافرمانی پر آمادہ کر کے اونٹنی کے قتل پر مجبور کیا جس کی بناء پر یہ شخص قوم کا بدترین اور بدبخت شخص قرار پایا۔ چنانچہ پوری قوم کو ان کی سرکشی اور بغاوت کے نتیجہ میں ایسے عذاب کا سامنا کرنا پڑا جس سے کوئی ایک فرد بھی نہ بچ سکا اور اللہ تعالیٰ جب کسی کو ہلاک کرتے ہیں تو نتائج سے نہیں ڈرا کرتے۔

سورہ لیل

تین حقائق کی قسمیں کھا کر فرمایا کہ جس طرح ان حقائق کو تسلیم کئے بغیر چارۂ کار نہیں ہے اسی طرح اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں ہے کہ خیر و شر اور نیکی و بدی کے حوالے سے انسانوں کے اعمال مختلف ہیں جو شخص تقویٰ اختیار کر کے نیکی اور سخاوت کا راستہ اپناتا ہے اللہ اس کے راستہ کو آسان کر دیتے ہیں اور جو شخص نیکی کا منکر ہو کر بخل اور گناہ کا راستہ اپناتا ہے اللہ اس کا راستہ بھی آسان کر دیتے ہیں لیکن جب یہ نافرمان جہنم کے گڑھے میں گرے گا تو بخل سے بچایا ہوا مال اسے بچا نہیں سکے گا۔ جبکہ اللہ کی رضا کے لئے مال خرچ کرنے والے کا تزکیہ بھی ہو جاتا ہے، جہنم سے حفاظت بھی ہو جاتی ہے اور اللہ اسے اپنی عطاء و انعام کے ذریعہ راضی بھی کر دیتے ہیں ۔

سورہ ضحی

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیماری کی وجہ سے چند روز تہجد کے لئے نہ اٹھ سکے تو آپ کی چچی ام جمیل کہنے لگی کہ آپ کے رب نے آپ کا ساتھ چھوڑ دیا ہے اس پر اللہ تعالیٰ نے قسم کھا کر فرمایاجس طرح دن کے ساتھ اجالا ایک حقیقت ہے جُدا نہیں ہوتا اور رات کے ساتھ اندھیرا ایک حقیقت ہے علیحدہ نہیں ہوتا اسی طرح یہ بھی ناقابل تردید حقیقت ہے کہ آپ کے رب نے نہ آپ کو چھوڑا ہے اور نہ ہی آپ سے بیزار ہوا ہے۔ دنیا و آخرت میں موازنہ کرنے کی تلقین کے ساتھ آخرت کے بہتر ہونے کا اعلان ہے۔ قیامت کے دن امت کے حوالہ سے آپ کو راضی کرنے کی خوشخبری ہے اور پھر گزشتہ انعامات کی یاد دہانی ہے کہ آپ کی یتیمی میں سر پرستی کی، فقر میں غنا عطا فرمائی اور شریعت سے بے خبری میں قرآنی شریعت عطا فرمائی لہٰذا یتیموں اور حاجت مندوں کی کفالت و سرپرستی کرتے ہوئے اللہ کے احسانات و انعامات کا اعتراف اور لوگوں کے سامنے اسے بیان کرتے ہیں۔

سورہ انشراح

حضور علیہ السلام کے اعلیٰ مرتبہ و مقام کا بیان ہے۔ آپ کا سینہ کھول دیا اور نبوت کی ذمہ داریوں کے بوجھ سے آپ کی کمر ٹوٹی جا رہی تھی ان سے عہدہ بر آ ہونے میں آپ کو سہولت بہم پہنچائی اور آپ کے نام کو اپنے نام کے ساتھ ملا کر آپ کا ذکر بلند کر دیا حدیث قدسی ہے ’’اینما ذکرت ذکرت معی‘‘ جہاں میرا تذکرہ ہو گا وہیں آپ کا تذکرہ بھی ہو گا۔ مکہ مکرمہ کی مشقت و تکالیف سے بھرپور زندگی میں تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ یہ مصائب و تکالیف دیر پا نہیں ہیں تنگی کے بعد عنقریب سہولتوں اور آسانیوں کا دور شروع ہونے والا ہے۔ اپنے فرائض منصبی کی ادائیگی کے بعد اپنے رب سے راز و نیاز کے لئے خاص طور پر وقت نکالا کریں ۔

سورہ تین

تین مقامات مقدسہ کی قسم کھائی کہ جس طرح طور، بیت المقدس اور مکہ مکرمہ کو ’’وحی‘‘ کے ساتھ اعزاز و شرف عطاء فرمایا اسی طرح کائنات کی تمام مخلوقات میں انسان کو ’’شاہکار قدرت‘‘ بنا کر حسین و جمیل اور بہترین شکل و صورت کے اعزاز و اکرام سے نوازا ہے۔ اس کی حیثیت کو چار چاند لگ جاتے ہیں جب یہ ایمان اور اعمال صالحہ سے اپنی زندگی کو مزین کر لیتا ہے اور اگر کفر اور تکذیب کا راستہ اپناتا ہے تو عزو افتخار کی بلندیوں سے قعرِ مذلت میں جا گرتا ہے۔

سورہ علق

پہلی وحی میں نازل ہونے والی پانچ آیتیں اس سورت کی ابتداء میں شامل ہیں جن میں قرآنی نصاب تعلیم کے خد و خال واضح کر کے انسان کی سرکشی کے اسباب سے پردہ اٹھایا گیا ہے اور ابو جہل ملعون کی بدترین حرکت کی مذمت کی گئی ہے۔ اللہ کو اور اپنی حقیقت کو فراموش نہ کرنا قرآنی نصاب تعلیم کی بنیاد ہے اور مجہولات کو معلومات کی شکل میں تبدیل کرنا اس کے مقاصد میں شامل ہے۔ ’’فرعون ہذہ الامۃ‘‘ ابوجہل کی سرکشی اور تکبر کی انتہاء کو بیان کیا کہ محمد علیہ السلام کو نماز جیسے عظیم الشان عمل کی ادائیگی سے روکنے اور آپ کا مبارک سر اپنے ناپاک قدموں کے نیچے کچلنے کی پلاننگ کرتا تھا۔ نازیبا حرکت سے باز نہ آنے کی صورت میں اسے جہنمی فوج کے ہاتھوں گرفتار کرا کے اس کی جھوٹی اور گناہوں سے آلودہ پیشانی کے بالوں سے گھسیٹ کر جہنم رسید کرنے کی دھمکی دی گئی ہے اور ساتھ ہی نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسے سرکش و نافرمانوں کی اطاعت کی بجائے اللہ کے سامنے سجدہ ریز ہو کر اس کا تقرب حاصل کرتے رہنے کی تلقین ہے۔

سورہ قدر

اس سورت میں لیلۃ القدر کی فضیلت اور وجہِ فضیلت کا بیان ہے کہ یہ رات ایک ہزار مہینہ کی عبادت سے زیادہ اجرو ثواب دلانے والی ہے اور اس کی فضیلت کی وجہ اس رات میں نزول قرآن ہے۔ گویا شب قدر کی عظمتوں کا راز نزول قرآن میں ہے اور انسانیت کے لئے یہ پیغام ہے کہ تمہیں بھی عظمتیں مطلوب ہیں تو قرآن کے دامن سے وابستگی میں مضمر ہیں ۔ اس رات میں جبریل امین فرشتوں کی ایک جماعت کے ساتھ اترتے ہیں اور اس رات کے عبادت گزاروں پر سلامتی اور رحمت کے نزول کی دعاء کرتے ہیں اور یہ کیفیت صبح صادق تک برقرار رہتی ہے۔

سورہ بینہ

اس سورت میں پڑھے لکھے جاہلوں کے بغض و عناد کا تذکرہ ہے کہ دین فطرت اسلام کا راستہ روکنے کے لئے یہودی و عیسائی اور مشرکین باہم متحد ہیں ۔ اللہ تعالیٰ اپنی عبادت میں بندوں سے اخلاص اور یکسوئی کا مطالبہ کرتے ہیں ۔ پھر کفر و شرک کے مرتکب انسانوں کو بدترین خلائق اور ایمان و عمل صالح کے علمبرداروں کو بہترین خلائق قرار دے کر دونوں جماعتوں کے انجام کے تذکرہ پر سورت کا اختتام کر دیا گیا ہے۔

سورہ زلزال

اس سورت میں قیام قیامت کی منظر کشی کے بعد انسانی مستقبل کو اس کے اعمال پر منحصر قرار دے کر بتایا ہے کہ معمولی سے معمولی عمل بھی، چاہے اچھا ہو یا برا، انسانی زندگی پر اپنے اثرات پیدا کئے بغیر نہیں رہتا اور قیامت میں خیر و شر ہر قسم کے عمل کا بدلہ مل کر رہے گا۔

سورہ عادیات

مجاہدین کی سواریوں کی قسمیں کھا کر جہاد فی سبیل اللہ عظمت و اہمیت کو اجاگر کیا ہے اور بتایا ہے کہ جس طرح دوڑتے ہوئے گھوڑوں کا ہانپنا، کھروں سے چنگاریاں اڑانا، صبح سویرے دشمن پر حملہ آور ہونا، گرد و غبار اڑانا اور دشمن کے مجمع میں گھس جانا، مبنی بر حقیقت ہے اسی طرح انسان میں ناشکری اور حب مال کے جذبات کا پایا جانا بھی ایک حقیقت ہے۔ اگر قبروں کے کریدے جانے اور سینہ کے بھید کے ظاہر ہو جانے کا یقین ہوتا تو انسان کے اندر یہ منفی جذبات پیدا نہ ہوتے۔

سورہ قارعہ

اس سورت میں قیام قیامت اور اس کی ہولناکی کے تذکرہ کے ساتھ اعمال کے وزن اور بے وزن ہونے کا تذکرہ اور دونوں صورتوں کا انجام مذکور ہے۔
سورہ تکاثر:مال میں زیادتی کی حرص قبر تک انسان کا پیچھا نہیں چھوڑتی۔ جب جہنم کا نظارہ ہو گا تبھی اس مال کی بے ثباتی کا پتہ چلے گا وہی محاسبہ کا وقت ہو گا اور ایک ایک نعمت کا حساب لیا جائے گا۔

سورہ عصر

زمانہ کی قسم کھا کر دراصل ماضی کی تاریخ سے عبرت حاصل کرنے کی تلقین کی ہے کہ چار صفات ۱۔ایمان ۲۔اعمال صالحہ ۳۔حق کی تلقین کرنے ۴۔اور حق کے راستہ کی مشکلات پر صبر کرنے والے ہر دور میں کامیاب اور ان صفات سے محروم ہر دور میں ناکام رہے ہیں ۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر قرآن کریم میں صرف یہی ایک سورت نازل ہوتی تو انسانی رہنمائی اور ہدایت کے لئے کافی ہو جاتی۔

سورہ ہمزہ

لوگوں کا استہزاء و تمسخر اڑانے اور طعنہ زنی کرنے والوں کی مذمت اور حب مال میں مبتلا لوگوں کا عبرتناک انجام مذکور ہے۔

سورہ فیل

ہاتھیوں کے خانہ کعبہ پر حملہ آور ہونے اور ان کے عبرتناک انجام کے تذکرہ سے یہ پیغام دیا گیا ہے کہ اگر انسان اللہ کے دین کے دفاع سے پہلوتہی اختیار کرے تو اللہ تعالیٰ حقیر پرندوں سے یہ کام لے سکتے ہیں ۔

سورہ قریش

قریش مکہ اور ان کے واسطہ سے ہر اس شخص کو غیرت دلائی گئی ہے جو براہ راست اللہ کی نعمتوں ، خاص طور پر اللہ کے دین کی برکتوں سے مستفید ہونے کے باوجود اپنے رب کی عبادت اور اس کے دین کے دفاع سے غافل ہو۔

سورہ ماعون

خدمت خلق کے کاموں سے غفلت برتنے، یتیموں کی کفالت سے دست کش ہونے اور نماز میں سستی کا مظاہرہ کرنے والوں کی مذمت کی گئی ہے۔

سورہ کوثر

حوض کوثر جیسی خیر کثیر اپنے نبی کو عطا فرمانے کے اعلان کے ساتھ ہی دشمنان و گستاخان رسول کا نام و نشان تک مٹا دینے کا اعلان ہے۔

سورہ کافرون

اسلامی نظام حیات کے علاوہ کسی دوسرے نظام کی طرف نگاہ نہ اٹھانے اور کفر سے بیزاری کا اظہار کرنے کی تلقین ہے۔

سورہ نصر

اسلامی ترقی کے بامِ عروج ’’فتح مکہ‘‘ کی پیشن گوئی اور لوگوں کے جوق در جوق اسلامی نظام کو اختیار کرنے کے اعلان کے ساتھ تسبیح و تحمید واستغفار میں مشغول ہونے کی تلقین ہے۔

سورہ لہب

دشمنانِ خدا و رسول کے بدترین نمائندے ابو لہب جو آپ کا چچا بھی تھا اور قریش کا سردار بھی تھا اس کی اپنی بیوی سمیت عبرتناک موت کے اعلان کے ساتھ مخالفین اسلام کو تنبیہ ہے۔

سورہ اخلاص

عیسائیوں اور مشرکوں کے باطل عقیدہ کی تردید کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی صفات کاملہ اور خالص توحید کے بیان پر مشتمل ہے۔ حضور علیہ السلام نے اس سورت کو ’’تہائی‘‘ قرآن کے برابر قرار دیا ہے۔

سورہ فلق

تمام مخلوقات اور شرارت کے عادی حاسدین کے شر سے اللہ کی پناہ حاصل کرنے کی تلقین ہے۔

سورہ ناس

توحید کی ’’اقسام ثلاثہ‘‘ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے جن و انس کے قبیل سے تعلق رکھنے والے ہر وسوسہ پیدا کرنے والے سے اللہ کی پناہ میں آنے کی ترغیب ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزانہ سونے سے پہلے اخلاص، فلق اور ناس تینوں سورتیں پڑھ کر اپنے دونوں ہاتھوں پر دم کر کے پورے جسم پر پھیر لیا کرتے تھے اور یہ عمل تین مرتبہ دہرایا کرتے تھے۔
٭٭٭

ماخذ:
http://www.bayanulquran.com/?cat=4
اور قرآن مع تفسیر سافٹ وئر، از محمد کاشف
تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید
