﻿

خلائے فضول


ناصر علی


جمع و ترتیب اعجاز عبید







سلام  بحضور حضرت امام حسین علیہ السلام


کربلا معراج انساں، کربلا معیار ہے 
کربلا در اصل حسن عظمت کردار ہے 

اے علمدار حسین، ابن علی، تیری وفا
افتخار خانداں حیدرِ کرار ہے

قوت تقریر زینب، پھر کوئی جوہر دکھا
آج کا بازار بھی تو شام کا بازار ہے

گونج پھر سحر اذان اکبری، بستی میں گونج
بستی کمزور کو جوش جواں در کار ہے 

تف ہو تجھ پر لشکر ملعون، لاکھوں بار تف
تو ذلیل و خوار تھا اور تو ذلیل و خوار ہے 

آج بھی جاری و ساری ہیں یزیدی قوتیں 
آج بھی دربار میر شام کا دربار ہے 

نوحہ خوان آل احمد نے کہا ناصر علی
دل میں جتنا درد ہے اتنا بڑا فنکار ہے 
٭٭٭



خبر نہیں مِلُوں گا یا نہیں 
وہاں مَیں آ  سکُوں گا یا نہیں 

ابھی تو خُود پتا نہیں مُجھے
مَیں اُٹھ کے چل پڑوں گا یا نہیں 

جو بات میرے دیکھنے کی ہے
مَیں دیکھ بھی سکُوں گا یا نہیں 

سُنا ہے سچ نے مُنہ چڑایا ہے
مَیں سامنا کروں گا یا نہیں 

مگر یہ وقت ہی بتائے گا
کِسی کی مَیں سُنوں گا یا نہیں 

تھکے ہُوئے حواس لے کے مَیں 
کُچھ اور دوڑ لُوں گا یا نہیں 

جو ہاتھ کھینچنا پڑا مُجھے
تو ہاتھ کھینچ لُوں گا یا نہیں 

جو ہاتھ ڈالنا پڑا مُجھے
تو ہاتھ ڈال دُوں گا یا نہیں 

خبر نہیں یہ راز اُس کے پاس
مَیں جا کے کہہ سُکوں گا یا نہیں 

نہیں نہیں کی رٹ لگا کے پھِر
اُسی کی مان لُوں گا یا نہیں 

اے قُوّتِ مُدافعت بتا
ابھی یہاں رہُوں گا یا نہیں 	٭٭٭




سبھی خیال معطّل حواس دنگ تمام
یہ کون انگ سے جاری ہُوئے ہیں انگ تمام

تِرے سُراغ سے باہر نِکالتی ہی نہیں 
تِرے سُراغ میں ہوتی ہُوئی سُرنگ تمام

یہ کِس مقام کی جانِب اُڑان بھرتے ہیں 
کِسی کی ڈور سے کٹتے ہُوئے پتنگ تمام

تُمھاری ذات سے ہوتی ہے ایک جنگ شُروع
ہماری ذات سے ہوتی ہے ایک جنگ تمام

کِسی طلب کا مُقدّس مقام آتے ہی
درُونِ ذات میں رقصاں ہُوئے ملنگ تمام

اُسی چٹان سے جُڑنا ہے ایک دِن اِن کو
یہ جِس چٹان سے اُکھڑے ہُوئے ہیں سنگ تمام

اِسی ترنگ میں ناصر علی کے رنگ بھی ہیں 
کہ جِس ترنگ کے اندر ہُوئی ترنگ تمام
٭٭٭



کبھی خیرات کے بل  اور کبھی صدقات کے بل
پیر مشہور ہوا کتنا  کرامات کے بل

میں اڑاتا رہا براق دعاؤں والا
اور وہ چاند پر اترے نئے آلات کے بل

اے کسی حسن تغزل کو ترستی ہوئی آنکھ
شعر بنتا ہے مری جان  کسی بات کے بل

زندگی ہے مجھے اسکول مسلسل جیسے 
اور مضمون  ریاضی ہے مساوات کے بل

فاختہ کوئی بسیرا بھلا کیسے کرتی
میں کوئی پیڑ نہ تھا جو ہو گھنے پات کے بل

آنکھ ملتے ہی مجھے  زیر کیا ہے اس نے 
وہ سکندر ہے نگاہوں کی فتوحات کے بل

رات شہ مات اسے دے کے  بڑا خوش تھا میں 
اور وہ جیت گئی مجھ سے اسی مات کے بل

میرے اوقات میرے نیچے تھے میں اوپر تھا
اس نے یوں مار گرایا  مجھے اوقات کے بل

جیتنا سیکھ محبت سے دل دوشیزہ
تو فقط دلہا بنا پھرتا ہے بارات کے بل

گاوں بٹتے چلے جاتے ہیں  بھری گلیوں میں 
شہر بڑھتے چلے جاتے ہیں مضافات کے بل

پیار ناصر علی جیسے ہے کوئی مقناطیس
کھینچ لیتا ہے مجھے نرمیِ  جذبات کے بل	٭٭٭


تمہارا اس  در امکاں پہ دھیان ہے کہ نہیں 
تو جس مکان میں ہے وہ مکان ہے کہ نہیں 

سمجھ پڑے جو یہاں نوجواں دماغوں کو
تمہارے شعر میں ایسی زبان ہے کہ نہیں 

بھٹک رہے  ہو خلائے فضول کے اندر
تجھے زمین  تجھے آسمان ہے کہ نہیں 

سوار ہو کسی تانگے پہ  اپنی مستی میں 
بغیر غور کیے کوچوان ہے کہ نہیں 

تجھے نصیب " تِرے آج کی زیارت " ہو
کہیں قریب تیرا خاندان ہے کہ نہیں 

پرانے سوٹ میں لپٹے ہوئے  زباں بازو
تمہارے گھر  نئے کپڑے کا تھان ہے کہ نہیں 

غزل  زمیں میں کرے فصل نو بہ نو پیدا
تِرے دماغ کو دست کسان ہے کہ نہیں 

اسیر شوق تغزل جہاں سے بات ملے 
تمہارے شہر میں  ایسی دکان ہے کہ نہیں 

بھلے میاں  وہی تکرار چار صدیوں کی
تمہارے  شعر کے شایان شان ہے کہ نہیں 

چلاؤں تیر دل کم خیال پر سیدھا
مگر یہ دیکھ لوں پہلے کمان ہے کہ نہیں 

بچاؤ کرتا ہوں  ناصر علی، کہ علم نہیں 
یہ فیس بک مجھے جائے امان ہے کہ نہیں 
٭٭٭



زباں پہ لفظ، بدن میں لہو محبت ہے 
تجھے خبر ہی نہیں ہے کہ تو محبت ہے 

خراب کر نہ اسے  سخت گیر لہجے سے 
پتا نہیں ہے تجھے گفتگو  محبت ہے 

غلط مقام پہ ہرگز نہیں یہاں کوئی
جدھر بھی جائیں ادھر با وضو محبت ہے 

یقین کر تیرا جھوٹا خوشی خوشی پی لوں 
جو یہ خبر ہو کہ جام و سبو محبت ہے 

اجالتی تھی  میرا آئینہ بھی خوش ہو کر
کیا جو غور لگا ہو بہو محبت ہے 

سنبھال دست عقیدت سے اپنی بیٹی کو
کہ تیرے گھر میں یہ تیری بہو محبت ہے 

میں اپنے باپ سے ناصر علی بڑا خوش ہوں 
یہ میرا باپ نہیں چار سو محبت ہے 
٭٭٭



مار خانۂ بے ہودگی سے بچ بچ بچ
کسی غلط جگہ موجودگی سے  بچ بچ بچ

دھکیل دے گی تجھے کوچہِ  ندامت میں 
عزیز من شکم آلودگی سے بچ بچ بچ

اسے سنبھال کے رکھ بر صراط مستحکم
یہاں وہاں بدن آسودگی سے  بچ بچ بچ

یہ تجھ کو ٹکڑوں میں تقسیم کر کے رکھ دے گی
بھلے میاں ستم افزودگی سے بچ بچ بچ

خیال خیر کی ترویج میں دماغ لگا
خیال خام کی فرسودگی سے بچ بچ بچ

جہان حسن تولد سے  خوب فیض اٹھا
مگر خسارۂ  مولودگی سے بچ بچ بچ

تو عام ہے  تجھے ناصر علی  کہاں منصب
سو خواہ مخواہ کی مشہودگی سے  بچ بچ بچ
٭٭٭



فرقوں میں بٹ گئے تو مصیبت میں پڑ گئے 
بگڑے ہوئے  کچھ اور زیادہ بگڑ گئے 

گولی چلی تو شہر میں  کہرام مچ گیا
افسوس کتنی ماؤں سے بچے بچھڑ گئے 

وحشت کے ہاتھ میں ہے  گریبان زندگی
لو جامہِ  وجود کے  بخیے ادھڑ گئے 

نخل حیات حسن ترا ماند پڑ گیا
شاخ شباب  دیکھ ترے پھول جھڑ گئے 

یہ دھن سوار ہے کہ سدھا دوں حریف کو
یہ دیکھتا نہیں ہے کہ بچے بگڑ گئے 

طوفان تندو تیز کی شدت کے سامنے 
کتنے درخت تھے کہ جڑوں سے اکھڑ گئے 

ہنسنے نہ پائے تھے  کہ مصیبت نے آ لیا
بسنے نہ پائے تھے کہ کئی گھر اجڑ گئے 

ناصر علی عوام نے فرقوں کے روپ میں 
جو سانپ پال رک ہے تھے وہ سانپ لڑ گئے 
٭٭٭






میں لا مکاں کے لیے کیوں مکاں کو رد کر دوں 
زمیں اماں ہے میں کیسے اماں کو رد کر دوں 

جو پوج لوں تو یہ پتھر بھی دیوتا ہیں مِرے 
جو رد کروں تو تِرے آستاں کو رد کر دوں 

ارے  یہ کوئی طریقہ ہے بات کرنے کا
وہاں کا ذِکر کروں اور یہاں کو رد کر دوں 

یہ داستان  تو اپنی سمجھ سے باہر ہے 
میں سوچتا ہوں کہ اس داستاں کو رد کر دوں 

تو کون ہے  جو مجھے آ کے یہ بتاتا ہے 
فلاں  کے ساتھ چلوں اور فلاں کو رد کر دوں 

ابھی تلک کوئی ناصر علی نہیں ایسا
کہ وہ کہے  تو میں عمر رواں کو رد کر دوں 
٭٭٭






شعاع شوق کہے آنچ کا بنا ہوا ہوں 
مگر حواس کہیں پانچ کا بنا ہوا ہوں 

گماں ہوا ہے مجھے ڈگمگاہٹوں سے کہ میں 
خراب سینچ  غلط سانچ کا بنا ہوا ہوں 

میرے بدن کا توازن بتا رہا ہے مجھے 
کہ میں ضرور کڑی جانچ کا بنا ہوا ہوں 

یہیں کہیں کسی ترتیب خدوخال کے ساتھ
خمیر خاک لیے  ڈھانچ کا بنا ہوا ہوں 

یہ لگ رہا ہے اچانک امید ٹوٹنے سے 
شبِ سیاہ میں ہوں کانچ کا بنا ہوا ہوں

نجانے کیوں  مجھے ناصر علی یہ لگتا ہے 
کہ میں  خمار بھری آنچ کا بنا ہوا ہوں
٭٭٭



کہیں یہ خواب دل افروز  طے شدہ تو نہیں؟
کہیں یہ دردو غم و سوز طے شدہ تو نہیں؟

یہ میں جو نقش نگاری میں پڑ گیا ہوں مجھے 
خبر کرو رخ امروز طے شدہ تو نہیں 

جو ہو چکا ہے زمیں پر  لکھا ہوا تو نہ تھا؟
جو ہو رہا ہے زمیں دوز طے شدہ تو نہیں؟

کھلا  کہ عالم تمثال تو کہانی ہے 
یہ میں یہ میرا نیا پوز طے شدہ تو نہیں 

میں سوچتا ہوں کہ ناصر علی سر گلشن
کسی کا دست گل اندوز طے شدہ تو نہیں 
٭٭٭



مجھ کو درپیش نہیں  خوف خرد کوئی بھی
تیری حد ہے کہ نہیں ہے تیری حد کوئی بھی

اے قدو قامت دنیا تجھے کیا دیکھیں ہم
تِرا قد ہو کے بھی لگتا نہیں قد کوئی بھی

چھوڑ اعداد جلا خون پسینہ اپنا
اس کے شعلوں سے چمکتا ہے عدد کوئی بھی

میں تیری بات پرکھتا ہوں  دل زود بیاں 
بات سے بڑھ کے نہیں مجھ کو سند کوئی بھی

نیت نیک تقاضے کی طلب گار نہیں 
آ پہنچتی ہے مدد حسب مدد کوئی بھی

چھوڑ اسلاف تو کردار بنا، با کردار
تجھے  کردار سے بڑھ کر نہیں جد کوئی بھی

آ سمٹتا ہے محبت بھرے پیمانے میں 
یار کا  عرض بلد، طول بلد کوئی بھی

کل ہمیں  ایک محبت میں کھڑے ہونا ہے 
آج اس بات کا کرتا پھرے رد کوئی بھی

اپنے بارے  مجھے حیران کیا کرتی ہے 
دخل اندازیِ  اللہ الصمد کوئی بھی 

کیا کروں  قسمت ناصر علی لک ہے کا
خال ہوتے بھی نہیں  خال میں خد کوئی بھی 
٭٭٭



تھک ہار کے بیٹھا نہیں جاتا کہ خبر ہے 
انسان میں ہم تھے تو کس بات کا ڈر ہے 

راہوں سے نکلتی ہیں یہاں اور بھی راہیں 
در پیش سفر کو ابھی در پیش سفر ہے 

میں حیرت ہستی میں ہوں گم اتنا زیادہ
سوچا ہی نہیں اس کے علاوہ بھی ادھر ہے 

یہ دست ارادہ کی طرف سے نہیں آئی
یہ اڑتی ہوئی خاک یونہی خاک بہ سر ہے 

کیا کچھ کیے جاتا ہے یہاں ہاتھ ہوا کا
اے چشم تماشا تیری منظر پہ نظر ہے 

کچھ دل میں ترے درد تو جاگا ہے ذرا سا
کچھ تجھ پہ میرے خون تمنا کا اثر ہے 

ناصر علی دن بھر کی تھکاوٹ لیے لیٹوں 
یوں آنکھ لگی اور میری رات بسر ہے 
٭٭٭



شب وصال  برابر چراغ جلتا ہے 
کہے بغیر مکرر چراغ جلتا ہے 

تجھے یہ کون حرارت ہے میرے چاند نما
تِرے جمال کو چھو کر چراغ جلتا ہے 

بڑھا کے ہاتھ جلا دے اسے میرے سائیں 
کہ تیرے ہاتھ سے بہتر چراغ جلتا ہے 

گلی گلی میں ہیں روشن سماعتوں کے دئیے 
کوئی عظیم سخن ور چراغ جلتا ہے 

فضائیں گونج اٹھیں بو علی کے نعرے سے 
دھمال  ڈال قلندر چراغ جلتا ہے 

نجانے  کون وظیفے میں ہے دل مجذوب
ہزار رنگ بدل کر چراغ جلتا ہے 

دکھائی دے ہے مجھے شب برات کا منظر
چراغ ہاتھ میں لے کر چراغ جلتا ہے 

یونہی تو میں  نہیں ناصر علی ہوا روشن
میرے وجود کے اندر چراغ جلتا ہے 
٭٭٭




اسی تڑپ اسی میلان میں خدا ملے گا
قریب آ تجھے انسان میں خدا ملے گا

کتاب عقل و خرد کھول اور پڑھ اس میں 
تجھے کتاب کے عنوان میں خدا ملے گا

پکار حضرت انسان کے لیے لبیک
تجھے اسی رہ آسان  میں خد املے گا

جسے شوال سے لیکر  رجب تلک نہ ملا
اسے کہاں مہ رمضان میں خدا ملے گا

یہ اس کا حق ہے اسے دیکھنے دے سوچنے دے 
جو سوچتا ہے کہ شیطان میں خدا ملے گا

ملا نہیں جسے خود میں کلام کرتا ہوا
اسے کہاں بت بے جان میں خدا ملے گا

اٹھائے پھرتا ہوں تسبیح بھی صلیب کے ساتھ
مجھے اسی سرو سامان میں خدا ملے گا

ہمارے چشمۂ  زم زم کو بھی خوشی ہو گی
اگر تجھے تیرے اشنان میں خدا ملے گا

اگر یقیں ہے تو پھر کعبہ و کلیسا کیا
تجھے  یہیں تیرے دالان میں خدا ملے گا

ہمارا  دین تو ناصر علی محبت  ہے 
اسی طرح کے مسلمان میں خدا ملے گا
٭٭٭





سب کے ہاتھوں میں گلدستے ہو سکتے ہیں 
بستی والے  ہنستے بستے ہو سکتے ہیں 

اس دنیا کے خالق کے گھر جانے والے 
جتنے ہم ہیں اتنے رستے ہو سکتے ہیں 

یعنی میرے سلام علیکم جتنے میٹھے 
ہیلو، ویلکم اور  نمستے ہو سکتے ہیں 

او یلغاری  جیسے تو لے کر آتا ہے 
میرے پاس بھی ایسے دستے ہو سکتے ہیں 

اپنی ساری ٹھنڈک لے کر باہر جانا
سورج پوری آگ برستے ہو سکتے ہیں 

اتنا سستا بیچ دیا ہے  میں نے خود کو
لیکن سودے مہنگے سستے ہو سکتے ہیں 

تھوڑا سا اسکول اگر ہم گھر لے آئیں 
کم وزنی  بچوں کے بستے ہو سکتے ہیں 

ناصر اپنے دونوں کان سنبھال کے جانا
طعنہ زن آوازے کستے ہو سکتے ہیں 
٭٭٭


دو غزلہ

دوڑ میری جو لگاتار لگی رہتی ہے 
میرے پیچھے تری تلوار لگی رہتی ہے 

میں کہیں بھاگنے والا نہیں  لیکن مجھ پر
اک نگاہ در دیوار لگی رہتی ہے 

پاؤں اوپر تن دشوار کہاں لے جاؤں 
پاؤں نیچے  رہ بے کار لگی رہتی ہے 

گر پڑے ہاتھ گریباں میں تو پوچھوں خود سے 
کیوں مجھے گرمیِ  گفتار لگی رہتی ہے 

وہ یونہی آگ بگولا تو نہیں ہے آتش
اندرون سر سردار لگی رہتی ہے 

ہم تجھے  ہاتھ ملاتے ہوئے پڑھ لیتے ہیں 
ہاتھ میں سرخیِ  اخبار لگی رہتی ہے 

میں ہوں ناصر علی اس دکھ بھری مشکل کا شکار
جو سر درہم و دینار لگی رہتی ہے 
٭٭٭






کام اتنے ہیں  کہ بھرمار لگی رہتی ہے 
اور دل ہے  اسے اتوار لگی رہتی ہے 

ڈھول بجتے ہیں کئی شوق نگر کے اندر
مستیِ  رقص لگاتار لگی رہتی ہے 

ایک غازے یا کسی سرخیِ  خوباں جیسی
میرے منہ پر کوئی  مقدار لگی رہتی ہے 

پیڑ بھی کوئی نہیں  سامنے والے گھر میں 
پر وہاں شاخ ثمر بار لگی رہتی ہے 

شہر میں اور بھی لاکھوں ہیں  پہ دم سے تیرے 
صاحبا  رونق بازار لگی رہتی ہے 

بے سبب تو نہیں ناصر علی یہ آرائش
زینت یار سمجھدار  لگی رہتی ہے 
٭٭٭






پس شام غم کوئی راحت دل و جاں بھی ہے 
اسی راحت دل و جاں میں اپنی اماں بھی ہے 

کہا جا رہا ہے یہیں کہیں ہے یقیں کوئی
سنا جا رہا ہے یہیں کہیں پہ گماں بھی ہے 

میں کہاں کہاں سے بچوں کہ شہر فساد میں 
کہیں عزتوں، کہیں غیرتوں کا دھواں بھی ہے 

وہ اسیر پنجۂ  خاک باد خلاف میں 
کہاں ٹھیر پائے گا سوچتا وہ یہاں بھی ہے 

یہی خاک ہے کہ جو اڑتی پھرتی ہے در بدر
یہی خاک ہے کہ جو مسند دل و جاں بھی ہے 

جسے دیکھ لو ہے فنا کے خوف میں مبتلا
جسے جان لو وہ اسیر وہم و گماں بھی ہے 
٭٭٭



ہر موج سمندر کی جوانی سے بھری ہے 
لگتا ہے کہانی کوئی پانی سے بھری ہے 

جیسے کسی امکان مسلسل میں کھڑے ہوں 
دنیا تری ہر چیز نشانی سے بھری ہے 

لگتا ہے کہ ہم ہیں کسی تصویر کا حصہ
تصویر لگاتار کہانی سے بھری ہے 

آثار ہوئے صبح بلا خیز کی صورت
دیوار مگر رات کی رانی سے بھری ہے 

بستی میری بیماریِ  بے حال سے دوچار
اور ہستی مری ریشہ دوانی سے بھری ہے 

ایسے تو نہیں اشک نما شعر غزل کے 
حالت میری افسوس بیانی سے بھری ہے 

ناصر علی اس شاہ زمانہ کی رعایا
جس شاہ کی تعظیم گرانی سے بھری ہے 
٭٭٭




کھلتا ہے باب صبح اثر اپنے ہاتھ میں 
تھامے ہوئے ہوں علم کا در اپنے ہاتھ میں 

اک دن دکھاؤں گا انہیں سورج نکال کر
رکھتا ہوں میں تو شام و سحر اپنے ہاتھ میں 

خوش ہو رہا ہوں دانش انساں نے لے لیا
رستہ میان شمس و قمر اپنے ہاتھ میں 

پہلے نہیں تھا لمس کی حدت سے رابطہ
پہلے نہیں تھی اس کی خبر اپنے ہاتھ میں 

میں رنگ خوشگوار سے تجھ کو ملاؤں گا
اے رنگ بہترین بکھر اپنے ہاتھ میں 

جس دن سے میں شریک صف رزق پاک ہوں 
کھلتے ہیں میکائیل کے پر اپنے ہاتھ میں 

بیٹھے ہوئے ہو ہمت بے بس لیے ہوئے؟
دست ہنر ہے دست ہنر اپنے ہاتھ میں 

اک دن کسی فرشتۂ  برہم نے لینے ہیں 
میری سزائیں، میرے ضرر اپنے ہاتھ میں 

سر میں گھس آئیں اس کی لکیریں تو کیا ہوا
لیتا ہوں روز، میں بھی تو سر اپنے ہاتھ میں 

ماں کی دعائیں ساتھ ہوں ناصر علی تو پھر
پردیس میں بھی لگتا ہے گھر اپنے ہاتھ میں 
٭٭٭



بم دھماکا میں شہادت پانے والوں کے نام


اپنے سہمے ہوئے بچوں میں کہاں دیکھتا ہوں 
زندگی میں تجھے اشکوں میں رواں دیکھتا ہوں 

دیکھتا ہوں کئی جھلسے ہوئے زخمی بم سے 
دیکھتا ہوں بڑی تکلیف سے ہاں دیکھتا ہوں 

ظلم کا بیج جو بویا تھا کسی آمر نے 
آج اس بیج کے بچے بھی جواں دیکھتا ہوں 

چڑھ گیا ہے یہاں ظلمات کا پانی ایسا
ہر طرف ظلم کی لہریں ہیں جہاں دیکھتا ہوں 

دیکھتا ہوں تری تقسیم تو دل جلتا ہے 
روز میں آگ بجھاتا ہوں دھواں دیکھتا ہوں 

روشنی جس سے یہ ماحول منور ہوا تھا
آج کل راندۂ  آغوش فلاں دیکھتا ہوں 

دیکھتا تھا جہاں ناصر علی جھلکی اس کی
آج اس جائے محبت پہ فغاں دیکھتا ہوں 
٭٭٭




بجھاؤ پیاس مگر پیار کی سبیل کے ساتھ
بٹھاؤ لکشمی دیوی کو میکائیل کے ساتھ

تو آسماں پہ کبوتر اڑا محبت کے 
میں آسمان کا چیلا بنوں گا چیل کے ساتھ

کچھ ایسا نقشۂ  انسانیت بنا دل میں 
کہ دیوتاؤں کا جھگڑا نہ ہو خلیل کے ساتھ

یہ بھول جاؤ کہ اسلام کاہے قلعہ یہ
بناؤ اپنا کلیسا اسی فصیل کے ساتھ

جو احترام نہیں ہے تو گفتگو بے سود
ہزار بات موثر کریں دلیل کے ساتھ

تمہارا کون سا پانی پلید ہوتا ہے 
بنا رہا ہوں اگر سومنات جھیل کے ساتھ

نکال کام دل نیک نام سے اپنے 
اٹھا ذلیل بٹھایا ہوا ذلیل کے ساتھ

بھگت کبیر بھی آیا ہوا ہے میلے میں 
نکل پڑا ہوں میں ناصر علی، شکیل *کے ساتھ

*۔۔میرے اور آپ کے پیارے دوست شکیل جاذب کی طرف اشارہ ہے 
٭٭٭



غلط امام سے تحصیل ذات کی اور بس
نماز پانچ کی تعداد سات کی اور بس

اصول دین کو رکھا معاشرت سے پرے 
فقط ہدایت صوم و صلوات کی اور بس

چھپا لیا جو زمانے کے ساتھ ہوتا ہے 
بیاں فضیلت حسن صِفات کی اور بس

کبھی کبھی ہمیں گردن اٹھا کے دیکھ لیا
بڑے خشوع سے اپنی نجات کی اور بس

بنا کے اسوہ احسن کو اسوہ دہشت
میرے نصیب کے حصے میں مات کی اور بس

میں ایک خانۂ  خونخوارگاں میں ہو گیا ہوں 
ذرا بھی ایک درندے نے گھات کی اور بس

عجب فسانۂ  ہل من مزید سنتا ہوں 
ذرا پھر اس نے جو دوزخ میں لات کی اور بس

غرور سر میں لیئے مار صور اسرافیل
تو ایک دھول ہے اس کائنات کی اور بس

ترے جنوں کو کوئی گھر میں کیوں بلائے گا 
ترے جنوں نے بسر ایک رات کی اور بس

کوئی فساد کہ ناصر علی وہ جلسہ تھا
زباں دراز جو اندر کنات کی اور بس
٭٭٭






غزل میں عشق و محبت کی بات کی اور بس
خراب ایک حسینہ کی ذات کی اور بس

جو ہو سکی نہ سر زندگی تو پھر اس سے 
غزل میں شعر بھری واردات کی اور بس

بلا لیا کسی دیوی کو معبد زر میں 
پھر اس کے سامنے لات و منات کی اور بس

کسی کے ساتھ فسانے لکھے محبت کے 
کسی کے ساتھ بدن کی نجات کی اور بس

کبھی خیال میں دولہا بنا لیا خود کو
کبھی خیال میں اپنی برات کی اور بس

فقط دعا نہیں ناصر علی یہ کوشش ہے 
کشادگی ہو تجھے ممکنات کی اور بس
٭٭٭



ہوا نے صبر کے کانوں میں بات کی اور بس
انہوں نے پیاس سپرد فرات کی اور بس

پھر ایک ورطۂ حیرت میں پڑ گیا سب کچھ
صدائے کن فیکوں شش جہات کی اور بس

نکل پڑا دل سیاح دیکھنے دنیا
پھر ایک بار جو سیر سوات کی اور بس

بڑا سکون سماوات پر لیے ہوئے تھا
زمیں خدا نے سپرد حیات کی اور بس

کسی کے سر میں جو گولی اتر گئی تو کھلا
یہ زندگی ہے فقط اونس دھات کی اور بس

غرور سر میں لیے، مار صور اسرافیل
تو ایک دھول ہے اس کائنات کی اور بس

یہ حکم قسمت ناصر علی کی بابت ہے 
جو بادشاہ نے مہر ثبات *کی اور بس

***نوٹ  مہر ثبات کرنا اور مہر ثبات ثبت کرنا میں فرق سب دوست سمجھتے ہیں لیکن ابلاغ ہو رہا ہے اس لیے اسی طرح آنے دیا ہے اگر کوئی دوست درست نہیں سمجھتا تو اس کی رائے معتبر۔ چھٹا شعر اس سہ غزلہ سلسلے کی پہلی غزل میں بھی موجود ہے لیکن جان بوجھ کر اسے اس غزل میں بھی شامل کر رہا ہوں 
٭٭٭


نظر کے سامنے شکلیں بدلتی جا رہی ہیں 
نجانے کس طرف راہیں نکلتی جا رہی ہیں 

ادھر سورج شعاعِ آتشیں لے کر کھڑا ہے 
ادھر شمعیں فروزاں ہیں کہ جلتی جا رہی ہیں 

سروں میں اور ہی کچھ منزلوں کا شوق لے کر
امیدیں آدمی کے ساتھ چلتی جا رہی ہیں 

میں حیرانی سمیٹے دیکھتا ہوں، سوچتا ہوں 
یہ کیا آسانیاں مشکل میں ڈھلتی جا رہی ہیں 

ابھی ناصر علی میں داغ دل کے دھو رہا ہوں 
مگر یہ خواہشیں کچھ اور پلتی جا رہی ہیں 
٭٭٭



رہی یار لوگوں میں آج بھی یہی گفتگو، کوئی ہے سہی
کسی اوٹ میں، کہیں درمیاں، کبھی روبرو، کوئی ہے سہی

میں خیال غیر سے متفق، جو ہوا بھی ہوں تو بس اس قدر
کہ جو تو نہیں مرے خوش نما، تیرا ہو بہو، کوئی ہے سہی

جسے پی کے پی نہیں پا رہے، جسے چکھ کے ہم نہیں چکھ سکے 
یہ شراب میں، یہ خمار میں، یہ سبو سبو، کوئی ہے سہی

نہ تلاش خطۂ خاک میں، نہ تو ڈھونڈ ساتواں آسماں 
ذرا غور کر ترے پاس ہی، مرے با وضو، کوئی ہے سہی

تجھے سبز سبز کیے ہوئے، تری جڑ زمیں میں لیے ہوئے 
ترے پیڑ میں تری شاخ میں، پس رنگ و بو، کوئی ہے سہی

دل مست اپنی دھمال میں، لیے منہ پہ نعرہ دم دما
ہمہ است او، ہمہ است او، ہمہ است او، کوئی ہے سہی

میں نے کتنا شور مچایا تھا، میں نے کتنا زور لگایا تھا
نہ سنی گئی، نہ سنی گئی، میری ہاو ہو، کوئی ہے سہی

یہ خمار خانۂ شوق ہے، یہاں صرف اس کو قیام ہے 
جو پکارے آب یقین سے لیَے تر گلو، کوئی ہے سہی
٭٭٭




جو کر رہے ہیں سبھی لوگ کر کے دیکھتے ہیں 
تری گلی سے بھی اک دن گزر کے دیکھتے ہیں 

زمین کیا ہے یہاں رونمائی کس کی ہے 
سحاب صبح ازل پر اتر کے دیکھتے ہیں 

خبر نہیں گو ابھی تک وہاں پہ کیا ہو گا 
مگر قیام کہیں اور کر کے دیکھتے ہیں 

کبھی تو اپنا کیا سامنے بھی آتا ہے 
کبھی تو اپنے کیے سے بھی ڈر کے دیکھتے ہیں 

سکون بھی یہیں ملتا ہے اپنی نیکی پر
فساد بھی یہیں ہم لوگ شر کے دیکھتے ہیں 

یہیں سفر ہے یہیں منزلیں یہیں رستے 
نشان پا بھی یہیں راہ برکے دیکھتے ہیں 

ہمائے شوق مسلسل اڑان جاری رکھ
کہ ہم کمال ترے بال و پر کے دیکھتے ہیں 

سبھی کہاں ہے جو ڈھلتا ہے اپنے منظر میں 
سبھی کہاں مرے اوسان سر کے دیکھتے ہیں 

ابھی کیا نہیں ناصر علی جو دل میں ہے 
ابھی اثر کسی حسن نظر کے دیکھتے ہیں 
٭٭٭




جو دیکھتے ہیں یہ ایسے پڑی نہیں ہوتی 
زمین گھوم رہی ہے کھڑی نہیں ہوتی 

اے اختیار تیرا جبر ہے وگرنہ میں 
گزارتا ہوں جو یہ زندگی نہیں ہوتی 

میں جس مقام تمنا پہ ٹھیر جاتا ہوں 
پھر اس مقام سے آگے گلی نہیں ہوتی 

محبتوں میں گرفتار دل سے ہوتے ہیں 
محبتوں میں کوئی ہتھکڑی نہیں ہوتی 

محبتوں میں جو ہوتا ہے ٹھیک ہوتا ہے 
وفور شوق سے کوئی بدی نہیں ہوتی 

جو ہو رہا ہے وہ اثبات ہو کے رہتا ہے 
جو ہو رہی نفی وہ نفی نہیں ہوتی 

جو دیکھتا ہوں، سمجھتا ہوں، راز کوئی بھی ہو 
حدیث دل مجھے حیرت کبھی نہیں ہوتی 

جو ہاتھ مجھ سے ہوا ہے وہ ہاتھ کس کاہے 
کبھی خبر مجھے ناصر علی نہیں ہوتی 
٭٭٭



ختم ہو جائے گا اِک دن یہ سفر موجود کا
دور افتا دہ گھروں میں ہو گا گھر موجود کا

ایک دن گہرے اندھیروں میں اتر جاؤں گا میں 
ایک دن معدوم ہو جائے گا ڈر موجود کا

کر سکوں گا کیا سر تسلیم خم دونوں پہ ہے 
ایک در اللہ کاہے ایک در موجود کا

کون سا رستہ ہے جو اس باغ میں لے جائے گا
کون سے پیڑوں پہ لگتا ہے ثمر موجود کا

جو بھی کرنا سوچ کر کرنا یہاں ناصر علی
آنے والے وقت پر ہو گا اثر موجود کا
٭٭٭



اِسے ضرور میسر خِراج آگ سے ہے 
مجھے یقین ہے سارا سماج آگ سے ہے 

یہ دیکھنے میں تو آتش فشاں تہیں ایسا
بڑے غضب کی ملاقات آج آگ سے ہے 

سلگ رہا ہے بڑی دیر سے بدن اس کا
ضرور وہ کوئی آتش مزاج آگ سے ہے 

ابھی تو اور بڑے فائدے اٹھانے ہیں 
ابھی تو اور بہت کام کاج آگ سے ہے 

ترے مریض کا آدھا علاج ہے تیرا وصل
ترے مریض کا آدھا علاج آگ سے ہے 

بتا رہی ہے لگی آگ شہر شہر مجھے 
کہ بادشاہ سلامت کا تاج آگ سے ہے 

ڈرا رہے ہو بڑا آتش جہنم سے 
تمہارے دین کی لگتا ہے لاج آگ سے ہے 

میان رسم ہے ناصر علی لگی ہوئی آگ
عجیب سالگرہ کا رواج آگ سے ہے 
٭٭٭






کبھی پلید کبھی دل کا پاک ہو جانا
کبھی خراب کبھی ٹھیک ٹھاک ہو جانا

کبھی جو بیٹھنا اٹھنا اداس لوگوں میں 
تو حادثہ بھی کوئی درد ناک ہو جانا

کسی عذاب سے بڑھ کر ڈرائے رکھتا ہے 
مجھے وجود کا اک روز خاک ہو جانا

جمال یار ترا ہجر سوچنا اور پھر
خود اپنے آپ گریبان چاک ہو جانا

یہ راہ عشق ہے ناصر علی یہاں پرکیا
رہ وجود میں رہنا کہ خاک ہو جانا

یہ لوگ اہل ہنر کو عزیز رکھتے ہیں 
تم ایسا کرنا کسی فن میں طاق* ہو جانا

*طاق کا قافیہ چونکہ نہیں آتا اس لیے یہ شعر علیحدہ لکھ دیا ہے 
٭٭٭



جہانِ خوبصورت میں ہوا خوش
میں اس مٹی کی مورت میں ہوا خوش

ضرورت نے نئے رستے نکالے 
ہوا میں، ہر ضرورت میں ہوا خوش

کدورت طعنہ و دشنام سے تھی
بڑا میں اس کدورت میں ہوا خوش

مہورت تھی مجھے جلوہ نمائی
سو میں اپنی مہورت میں ہوا خوش

میرا نو سال کا بیٹا ہے ناصر
میں بیٹے کی حضورت میں ہوا خوش
٭٭٭



کچھ ایسے خوش بھی نہیں آشیانہ چھوڑ کے ہم
ٹھکانے لگ نہیں پائے ٹھکانہ چھوڑ کے ہم

کمانِ شوق نے پھینکا تھا دور اور کہیں 
کہاں پہ آن گرے ہیں نشانہ چھوڑ کے ہم

ابھی خبر نہیں چلنا ہے نو کہ یا سو دن
نئے کے ساتھ چلے ہیں پرانا چھوڑ کے ہم

بھلا بتاؤ کہیں اور جائیں گے کیسے 
تمہارا طرزِ رخِ دلبرانہ چھوڑ کے ہم

اسے منا نہیں پائے تو یہ بھی خوب ہوا
اسی سے روٹھ گئے ہیں منانا چھوڑ کے ہم

کوئی خبر نہیں کس انتہا کو لے جائے 
چنیں جو رستہ کوئی درمیانہ چھوڑ کے ہم

پڑھیں گے لوگ یقیناً ہمارے بعد ہمیں 
گزرتے جاتے ہیں اپنا فسانہ چھوڑ کے ہم

ہمیں حواس پہ قابو نہیں رہا ناصر
اسے بلا بھی رہے ہیں بلانا چھوڑ کے ہم
٭٭٭



غم حیات کے مارے ہوؤں کا دم کیا ہے 
خلا سا ہے کوئی سینے میں، چیز کم کیا ہے 

ذرا بتا تو سہی اے حسینۂ ہستی
ترا گداز ہے کیا، تیرا پیچ  و خم کیا ہے 

میں جس میں قید ہوں، یہ عرصۂ حیات ہے کیا
تو جا رہا ہے جہاں، وہ شب عدم کیا ہے 

تماشہ گر، تیرے حیرت بھرے تماشے میں 
میں مبتلا، میری اوقات کیا، بھرم کیا ہے 

سمجھ میں کچھ نہیں آتا کہ ان ہواؤں میں 
بکھر گیا ہے جو کیا تھا، جو ہے بہم کیا ہے 

میں غم کی شام مناؤں تو کس حوالے سے 
ابھی مجھے نہیں معلوم، میرا غم کیا ہے 

زمیں سے رشتۂ پا ایک ہے تو پھر ناصر
میں سوچتا ہوں یہاں جائے محترم کیا ہے 
٭٭٭



تھک ہار کے بیٹھا نہیں جاتا کہ خبر ہے 
انسان میں ہمت ہے تو کس بات کا ڈر ہے 

راہوں سے نکلتی ہیں  یہاں اور بھی راہیں 
در پیش سفر کو ابھی در پیش سفر ہے 

میں حیرت ہستی میں ہوں گم اتنا زیادہ
سوچا ہی نہیں اس کے علاوہ بھی ادھر ہے 

یہ دست ارادہ کی طرف سے نہیں آئی
یہ اڑتی ہولی خاک یونہی خاک بہ سر ہے 

کیا کچھ کیے جاتا ہے یہاں ہاتھ ہوا کا
اے چشم تماشا تیری منظر پہ نظر ہے 

کچھ دل میں تیرے درد تو جاگا ہے ذرا سا
کچھ تجھ پہ میرے خون تمنا کا اثر ہے 

ناصر علی دن بھر کی تھکاوٹ لیے لیٹوں 
یوں آنکھ لگی اور میری رات بسر ہے 
٭٭٭






میں کہاں کوئی حصولِ نام کی کوشش میں ہوں 
صرف اتنا ہے کہ اچھے کام کی کوشش میں ہوں 

بس مجھے تو آپ کا دل جیتنا مقصود ہے 
کون کہتا ہے صلائے عام کی کوشش میں ہوں 

کام اتنا ہے کہ فرصت ہے نہیں ملتی مجھے 
اور اس پربھی زیادہ کام کی کوشش میں ہوں 

اے دلِ رسوا تمہارا زور چلتا ہے سو میں 
پھر کسی کے ساتھ صبح و شام کی کوشش میں ہوں 

سست ہوں اس پر میسر ہیں وسائل ناتمام
جام ملتا ہی نہیں کہ جام کی کوشش میں ہوں 

ابتداء کر دی نجانے کیوں یہاں ناصر علی
اب اسی آغاز کے انجام کی کوشش میں ہوں 
٭٭٭



آسماں نامِ خدا لگ گیے ہیں سات کے سات
اور زمیں نامِ زمیندار لگا دی گئی ہے 

اک طرف باندھ کے رکھا ہے دماغِ مجبور
اک طرف جرات اظہار لگا دی گئی ہے 

سامنے آن کھڑا ہے وہ زباں بند میرے 
یعنی دیوار سے دیوار لگا دی گئی ہے 

یہ مری ذات کو عزت نہیں بخشی تو نے 
ایک بستر سے یہ بیمار لگا دی گئی ہے 

راستے پر چلے آئیں تو پتا چلتا ہے 
راستے کو رہِ دشوار لگا دی گئی ہے 

پہلے قیمت پسِ بازار لگا کرتی تھی
آج تو برسرِ بازار لگا دی گئی ہے 

ہر کوئی اپنے الگ وقت کا قیدی ہے یہاں 
یہ عجب وقت کو رفتار لگا دی گئی ہے 

آگ سینوں میں لگا کرتی تھی لیکن اب تو
بستیوں میں بھی یہ خونخوار لگا دی گئی ہے 

زندگی دیکھ کے ناصر علی افسوس ہوا
میرے پیچھے غلط آثار لگا دی گئی ہے 
٭٭٭






مبتلائے گمان سوچتے ہیں 
ہے کوئی امتحان سوچتے ہیں 

خطۂ  خاک کچھ خبر بھی ہے 
کیا تیرے ساکنان سوچتے ہیں 

اے حصارِ خرابیِ موجود
تیرے آزردگان سوچتے ہیں 

ہم یہاں بر سرِ زمیں ہو کر
دور از آسمان سوچتے ہیں 

اور اتنی خبر نہیں ہے ہمیں 
کس طرح نوجوان سوچتے ہیں 

حل تو ناصر علی کوئی ہو گا
بیٹھ جا، میری جان، سوچتے ہیں 
٭٭٭






سامنے اس کے کھڑے ہو کے، کھڑے کیا ہوں گے 
یار ہم لوگ محبت سے بڑے کیا ہوں گے 

گفتگو کرتے لبِ یار کو دیکھا میں نے 
سوچ لے خود ہی وہاں پھول جھڑے کیا ہوں گے 

وہ جو اک ہاتھ نے پھینکا تھا وہی کافی تھا
اور خنجر مرے سینے میں گڑے کیا ہوں گے 

میں تو اک زرۂ کمتر سے بھی کم ہوں یارو
سو مری ذات کے ٹکڑے یا دھڑے کیا ہوں گے 

تان رکھا ہے محبت کو بھی کوڑے کی طرح
اور اس سے بھلا اوقات کڑے کیا ہوں گے 

میں کہ ناصر علی پوری طرح کافر بھی نہیں 
ایسے کافر سے مسلمان لڑے کیا ہوں گے 
٭٭٭



خود اپنی  ذ ات میں گم اور مگن چلی ہوئی ہے 
صبائے گلشنِ تازہ بدن چلی ہوئی ہے 

کبھی گزر ہو جو تیرا، گلاب کہتے ہیں 
چمن میں دیکھ، شریکِ چمن چلی ہوئی ہے 

تمہارے شعر ابھی دل سنا رہا ہے مجھے 
تمہاری بات سخن در سخن چلی ہوئی ہے 

چلی ہے شہرِ نگاراں میں خوشگوار سی بات
ضرور چھو کے تمہارا دہن چلی ہوئی ہے 

یہ لگ رہا ہے کہ گڑیا میں سوئیاں ہیں ابھی
یہ لگ رہا ہے تمہاری چبھن چلی ہوئی ہے 

یہ لگ رہا ہے کہ دورانِ خون ہے تو ہی
یہ لگ رہا ہے تمہاری لگن چلی ہوئی ہے 

پھر ایک قتل سڑک پر ہوا تو یہ جانا
ابھی روایتِ دارو رسن چلی ہوئی ہے 

ابھی توازن اعصاب ٹھیک ہے میرا
ابھی درستگیِ جان و تن چلی ہوئی ہے 

یونہی تو میں نہیں ناصر علی ہوا روشن
میرے وجود میں اس کی کرن چلی ہوئی ہے 
٭٭٭



آرام ملا ہے کہ جہاں بھر میں نہیں ہم
یعنی کہ شبو روز کی ٹھوکر میں نہیں ہم

وہ ہے کہ نمایاں ہے پسِ پردۂ ہستی
منظر میں کھڑے ہو کے بھی منظر میں نہیں ہم

اک خارِ شب و روز الجھتا ہے کہ جس سے 
نپٹیں گے کہیں اور کہ تیور میں نہیں ہم

اک اور ہی د نیا ہوئی آباد کہ ہم سے 
لشکر ہے خفا اس لیے لشکر میں نہیں ہم

ٹکتے ہی نہیں تلخیِ ایام کے باعث
افسوس کہ روزن کی طرح در میں نہیں ہم

رستے میں بھلا کیسے مہ و مہر ملیں گے 
بھٹکے ہوے کوئی رہِ اختر میں نہیں ہم

خو شبو سے مہکتے ہیں سرِ گلشنِ ہستی
پانی کی طرح اشکِ گلِ تر میں نہیں ہم

ناصر علی ایسا بھی ہے ہونا کوی ہونا
ہو کر بھی کسی چشمِ ستمگر میں نہیں ہم
٭٭٭



یہ جو ہم بجھتے ہوے دل میں شرر رکھتے ہیں 
آتش کم ہی سہی کچھ تو مگر رکھتے ہیں 

منزل عشق جو طے ہو تو بھلا کیسے ہو
حوصلہ رکھتے نہیں شوق مگر رکھتے ہیں 

یار کو کوئی خبر ہی نہیں عاشق اس کے 
کبھی کلیاں کبھی دہلیز پہ سر رکھتے ہیں 

دیکھنے کے لیے آنکھیں ہیں ہماری دو دو
روشنی کے لیے ہم شمس و قمر رکھتے ہیں 

ہے یہ افسوس کہ ہم کیوں نہ ہوئے ان میں سے 
وہ جو تا حد نظر حسنِ نظر رکھتے ہیں 

کیا خدا، کیسی عبادت اے زمیں ماں میری
تیرے بچے تری آغوش میں سر رکھتے ہیں 

غم کا عفریت ڈراتا ہے تو ڈر کے مارے 
بھول جاتے ہیں کہ ہم شام و سحر رکھتے ہیں 

جانتے بھی ہیں مگر سادہ دلی ہے اتنی
خاک اڑتی ہے مگر خاک پہ گھر رکھتے ہیں 

یار سے کوئی شکایت نہیں ہوتی ناصر
شانۂ یار پہ سلجھا ہوا سر رکھتے ہیں 
٭٭٭



لیے ہوئے کوئی اپنا نظام رہتا ہے 
زبان بند مگر ہم کلام رہتا ہے 

کہاں ہے کون ہے اتنی خبر نہیں لیکن
میری گلی میں کسی کا خرام رہتا ہے 

وہیں سے روز نکلتے ہیں چھپ چھپا کر ہم
جہاں ہمارے لیے اہتمام رہتا ہے 

اسیر عرصۂ محدود کو نہیں معلوم
فنا کے ساتھ یہیں پر دوام رہتا ہے 

یہ کیسا روگ ہے ناصر علی وجود میرا
تمام ہوتے ہوئے نا تمام رہتا ہے 
٭٭٭




غم کے بعد خوشی کی باری آنے دینی ہے 
جتنی چاہے من کو موج منانے دینی ہے 

خوشبو، پھول، ہوائیں، موسم بہتر کرنے ہیں 
شاخ پہ بیٹھی گاتی چڑیا گانے دینی ہے 

کوشش کر کے خود ہی موقع پیدا کرنا ہے 
کوشش کر کے خود ہی بات بنانے دینی ہے 

ان راہوں پر چلتے چلتے چلتے چلتے چلتے 
ایک کلائی اپنے ہاتھ میں آنے دینی ہے 

خاک نے اپنی قید و بند میں رکھنا ہے لیکن
آزادی بھی کوئی اندر خانے دینی ہے 

ٹھیک ہوا کرنے ہیں ہم سے ہونے والے کام
لیکن کوئی بات غلط ہو جانے دینی ہے 

سر میں ڈالتی ہے یا منہ پر ملتی ہے ناصر
میں نے تیز ہوا کو دھول اڑانے دینی ہے 
٭٭٭



ابتدا ہے یا انجام ہے جو ہے سو ہے 
فنا نہیں ہے یہ الزام ہے جو ہے سو ہے 

فسانۂ  رہ ما بعد اور کچھ بھی نہیں 
دراز دستیِ  ایام ہے جو ہے سو ہے 

وجود دم دمہِ  دہر ہے سو باقی ہے 
خیال سلسلۂ  خام ہے جو ہے سو ہے 

ہمیشگی ہے مگر پھر بھی کس لیے در پے 
تباہ کاریِ  ایام ہے جو ہے سو ہے 

ہمیشہ ہم نے ہے ناصر علی یہیں رہنا
یہیں کہیں جہاں آرام ہے جو ہے سو ہے 
٭٭٭


بنام رحمت عالم قتال ہائے ہائے 
سنیں تو روئیں گے حضرت بلال ہائے ہائے 

مرے وجود کے اندر  کسی بری شے نے 
چلی ہے  کوئی خطرناک چال ہائے ہائے 

ہمارے مشرق و مغرب میں بم پھٹتے ہیں 
جنوب بین مسلسل شمال ہائے ہائے 

چب ہے ہیں خار المناک دیدہ و دل میں 
میں چیختا ہوں یہ کانٹے نکال ہائے ہائے 

اے میرے شہر ترا انتظام ٹھیک نہیں 
کہ جوتیوں میں بٹی جائے دال ہائے ہائے 

ہے امتحان شب نامراد میں اپنا
جواب  اشک ندامت، سوال ہائے ہائے 

نجانے کونسی نسلوں کا قرض ہے جس نے 
جکڑ لیا ہے میرا  بال بال ہائے ہائے 

یہ شہر ہے  یا کہیں بر سر جہنم ہوں 
یہ دیکھ جلتی ہوئی میری کھال ہائے ہائے 

نجانے کون سا فتنہ ہے میرے پانی میں 
اچھالتا ہوں تو بولے اچھال  ہائے ہائے 

جوار آدم غربی  گلاب وار عروج
حضور مرد مسلماں زوال  ہائے ہائے 
٭٭٭



اے جوش  اعتدال بدوشی سے کام لے
طرزِ ِ عمل سنوار  خموشی سے کام لے
 
آواز ِ وقت  آن پہنچتی ہے کان میں
بندہ  ہزار سست نیوشی سے کام لے
 
سب لوگ  یک لحاظ  خطاکار ہیں یہاں
پردے سے اور معاملہ پوشی   سے کام لے
 
ایسا نہ ہو تجھے  شرِ ِ دنیا گھسیٹ لے
ایسا نہ ہو  کہ تو بھی نموشی سے کام لے
 
ناقابلِ یقیں ہیں  صدائیں زمین کی
سر سے کہو  نوائے سروشی سے کام لے
 
دل مانتا نہیں تجھے  اقبال سا جدا
شاعر نہیں  جو شعر فروشی سے کام لے
 
حد سے گزر گئی ہیں  ٹھکانے کی ذلتیں
خانہ خراب  خانہ بدوشی سے کام لے
 
ناصر علی درست  بکاؤ ہے مال سب
پر تو  نہ احترام فروشی سے کام لے
 
نموشی " پنجابی زبان کا لفظ ہے جو کہ بے عزتی اور ذلت کے معانی دیتا ہے  "
٭٭٭

عزم بہزاد کے نام

ملا پے کیا تجھےَ کل صبح دم دھوکا بنانے میں
میرا ہنستا ہو ا چہر ہ بہت پیلا بنانے میں
 
سر ِ فردوس جب پہنچا تِرا پندار محبوبی
فرشتے لگ گئے خود کو وہیں تجھ سا بنانے میں
 
تمہارے شعر پکڑے اور پروئے آنکھیں بند کر کے
کہاں پھر دیر لگنی تھی مجھے مالا بنانے میں
 
تمہارا ساتھ تھا تو پھر ضرورت ہی نہ تھی کوئی
تمہارے بعد اب مصروف ہوں کاسہ بنانے میں
 
تمہارے شعر جیسا شعر مجھ سا عام کیا لکھے
کہ میں ناکام ہوں تجھ سا حسین نقطہ بنانے میں
 
مجھے لگتا ہے میرا عزم واں بھی جٹ گیا ہو گا
جہاں دریا نے بہنا ہے وہاں ریلہ بنانے میں
 
نجانے حال کیا ہو گا تمہارے بعد شعروں کو
کہ تو مصروف رہتا تھا انہیں اچھا بنانے میں
 
ہوائے کوچہ ء آزردگاں مصروف ہے ناصر
کبھی آتش جلانے میں کبھی شعلہ بنانے میں
٭٭٭


خوبصورت  بہم کلام رہا
اس لئے بھی میں کم کلام رہا
 
جس طرح مہربان خواب رہے
اس طرح  ہم قدم کلام رہا
 
ایک دن  گفتگو بھرا ہوا وہ
میری آنکھوں سے ہم کلام رہا
 
ہائے وہ دل گداز  جنبش ِ لب
زیر  ِ نازو نعم  کلام رہا
 
بات کچھ اور ہی رہی  یعنی
سانس کا  زیر و بم کلام رہا
 
درد کی کم بیانیاں  تو بہ
گوشۂ چشم ِ نم  کلام رہا
 
اس قدر تھا محیط  حیرت گر
ایک حیرت میں ضم  کلام رہا
 
زیر بار  ِ غزل ہوں میں  ناصر
یعنی  میرا بھرم کلام رہا
٭٭٭


سفیر ِ غلبۂ سر ہو کے  جی جمال کے ساتھ
خراب و خوار نہ ہو  شدت ِ زوال کے ساتھ
 
کھڑا ہوں پھر  کسی دہلیز ِ باب ِ علم پہ میں
سوال  جڑتا چلا جائے ہے سوال کے ساتھ
 
یہ خیر و شر  میری مٹی میں ہے سو ہوتا ہوں
کبھی قریش کا ساتھی  کبھی بلال کے ساتھ
 
یہ وقت ہے  کہ کہیں تھم نہیں رہا مجھ سے
یہ دن جڑا چلا جاتا ہے ماہ و سال کے ساتھ
 
عدو کو زیر کروں گا  مقابلہ کر کے
میں اس کے وار بچاؤں گا  اپنی ڈھال کے ساتھ
 
 یہاں سے بچ کے نکلنا  محال ہے میرا
بہت سے جال بچھے ہیں  یہاں تو جال کے ساتھ
 
زباں کا زخم ہے  ناصر علی خیال کرو
یہ درد کم نہیں ہوتا ہے  اندمال کے ساتھ
٭٭٭


کہاں میں وقت  جدا حال میں گزارتا ہوں
 پرانے سال  نئے سال میں گزارتا ہوں
 
بڑے کرخت گزرتے ہیں  تین سو پینسٹھ
 یہ دن نہیں ہیں  میں جنجال میں گزارتا ہوں
 
زمیں منٹ میں لرزنے لگی ہے  ساٹھویں بار
 تمام دن  اسی بھونچال میں گزارتا ہوں
 
ابھی تلک ہے وہی کاروبار ِ دن  درپیش
حساب کرتا ہوں  پڑتال میں گزارتا ہوں
 
جو راستے میں شب ِ مالدار  مل جائے
اسے بھی  کونۂ کنگال میں گزارتا ہوں
 
یہ آفتاب بھرے سال  ہو بھی سکتے ہیں
 خوشی خوشی جنہیں  پاتال میں گزارتا ہوں
 
اے حسن زار  جو اذن ِ قیام ہو تو میں
یہ جنوری بھی  تری شال میں گزارتا ہوں
 
سمجھتی کب ہے  نئے سال کی مبارک باد
 پرانی قید  نئے جال میں گزارتا ہوں
 
پناہ چاہیے ناصر علی  سو  اگلا برس
میں تیرے بھیس  تِری کھال میں گزارتا ہوں
٭٭٭


باتیں کرتا ہوں بہت سی  لب ِ بیباک سے میں
ویسے بالکل نہیں بھٹکا  رہ ِ لولاک سے میں
 
ایک وحشت نے کیا ہے تجھے  اظہار پہ قتل
سوچتا ہوں تو نکلتا ہی نہیں  شاک سے میں
 
ایک پیغام مگر اس کے  بہتر ٹکڑے
جاؤں گا طاق ِ حرم پر ترے  کس ناک سے میں
 
میں مسیحی ہوں تو کیسے ہیں میرے ہاتھ  پلید
یار  جس خاک سے تم لوگ اسی خاک سے میں
 
ناظم ِ وقت  درندوں کی نظامت مت کر
ورنہ بھڑ جاؤں گا    تیرے دل  سفاک سے میں
 
راستہ ٹھیک تھا  اس واسطے بچ نکلا ہوں
اے زمانے  تِرے الجھے ہوئے پیچاک سے میں
 
اس لیے نیک ہیں جذبات مِرے شعروں کے
رابطہ رکھتا ہوں ناصر علی  افلاک سے میں
٭٭٭

ماخذ: 
http://www.facebook.com/nasir.ali?sk=notes
تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید



