﻿

خمار ، جلباب اور نقاب کی شرعی حیثیت


نا معلوم




	 پردہ ،  حیا اور پاکدامنی کی اسلامی قدروں سے تو ہم سب ہی واقف ہیں مگر یاد رہے کہ اسلام نے ان کو غیر متعین نہیں چھوڑا ،  بلکہ مفصل احکام سے ان قدروں کی حفاظت کی ہے۔  یہ سب اسلام کے اس معاشرتی نظام کے اجزا ہیں ،  جسے شارع نے مسلمانوںکے لیے نازل فرمایا۔  انہی مسائل میں سے ایک مسئلہ اجتماعی زندگی میں عورت کے لباس کا ہے،  جس کے بارے میں آج بعض غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں ۔  مثلاً جو لوگ بر ِ صغیر سے تعلق رکھتے ہیں ان میں سے کئی اس غلط فہمی کا شکار ہیں کہ وہاں کا روایتی لباس ،  شلوار اور قمیص،  پہن کر عورت گھر سے باہر نکل سکتی ہے بشرطیکہ یہ کپڑے کھلے ہوں اور سر پر دوپٹا ہو کیونکہ اصل مقصد یا احکام کی ’’ روح‘‘ تو یہ ہے کہ مذکورہ قدروں کو ملحوظ رکھا جائے ۔  دوسرے لفظوں میں یہ کہ اسلام نے ،  عورت کا گھر سے باہر نکلتے وقت ،  اس کے لیے کوئی لباس متعین نہیں کیا ۔  بہر حال اس بات کا  اٹل فیصلہ شرعی نصوص کریں گے نہ کہ ہماری عقل یا خواہشات ،  تو ملاحظہ فرمائیے:

قرآنِ پاک میں اللہ تعالیٰ کے فرمان ہیں :  

 ۱)  وَقُلْ لِّلْمُؤْمِنٰتِ۔۔۔۔لَا یُبْدِیْنَ زِیْنَتَھُنَّ اِلَّا مَا ظَھَرَ مِنْھَا وَلْیَضْرِبْنَ بِخُمُرِ ھِنَّ عَلٰی جُیُوْبِھِنَّ۔۔۔۔ تُوْبُوْآ اِلَی اللّٰہِ جَمِیْعًا اَیُّہَ الْمُؤمِنُوْنَ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ ۳۱:۲۴
 (مسلمان عورتوں سے کہو کہ ۔۔۔۔ ۔ اپنی زینت کو ظاہر نہ کریں سوائے اس کے جو ظاہر ہے اور اپنے گریبانوں پر    اپنی اوڑھنیاں ڈالے رہیں۔۔۔۔۔اے مسلمانو تم سب کے سب اللہ کی جناب میں توبہ کرو تاکہ تم نجات پاؤ)

۲) یٰٓاَیُّھَا النَّبِیُّ قُلْ لِّاَزْوَاجِکَ وَبَنٰتِکَ وَنِسَآءِ الْمُؤمِنِیْنَ یُدْنِیْنَ عَلَیْھِنَّ مِنْ جَلَابِیْبِھِنَّ ۵۹:۳۳ 
 (اے نبی!  اپنی بیویوں سے اور اپنی صاحبزادیوں سے اور مسلمانوں کی عورتوں سے کہہ دو کہ وہ اپنے اوپر اپنی چادریں لٹکا لیا کریں )
 
	پہلی آیت ِ مبارکہ کے بارے میں بغویؒ کہتے ہیں کہ حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا :’’سابق مہاجر عورتوں پر اللہ کی رحمت ہو جب اللہ نے (مذکورہ) آیت نازل فرمائی تو انہوں نے اپنی چادریں پھاڑ کر ان کے خمار بنا لئے۔(مظہری)  اس آیت ِ مبارکہ میں لفظِ ’خُمُر‘ کا اردو ترجمہ عام طور پر ’اوڑھنیاں‘ کیا جاتا ہے اور بعض مرتبہ ’دوپٹے‘ بھی ،  جبکہ حقیقت میں یہ دونوں الفاظ،  مستعمل عربی لفظ کی مکمل ترجمانی نہیں کرتے۔  

’فیروز اللغات( اردو جامع)‘ میں لفظ ’اوڑھنی‘ کا ترجمہ :  چھوٹا دوپٹا

لہذا تعجب کی بات نہیں کہ جو لوگ آیت ِ قرآنی کے اردو ترجمہ پر اکتفاء کرتے ہیں ،  ان کا عمل بھی اسی کے مطابق ہوگا ۔  یعنی ہماری کئی بہنیں اس خوش فہمی میں گھر سے باہر دوپٹے لے کر نکلتی ہیں کہ وہ اللہ کے حکم کی تعمیل کر رہی ہیں جب کہ ایسا نہیں ہے۔  عام طور پر دوپٹا ایک باریک کپڑا ہوا کرتا ہے جو بالوں کو بھی صحیح طرح سے نہیں چھپاتا ۔  مسئلہ کا حل یہ ہے کہ اس لفظ کے صحیح ترجمہ سے آشنا ہوا جائے۔

’خُمُر‘ خِمَار کی جمع ہے ۔  اس کپڑے کو کہتے ہیں جو عورت سر پر استعمال کرے اور اس سے گلا اور سینہ بھی چھپ جائے۔  (معارف القرآن)

لہذا یہ خمار معاشرہ میں عورت کے لباس کا اوپر والا وہ حصہ ہے جس سے اس کے سر ،  گردن،  سینے اور چھاتی کا پردہ ہوسکے۔  جہاں تک حکم کا تعلق تو یہ آیت ِ مبارکہ اس کی فرضیت پر دلالت کر رہی ہے کیونکہ اس کے آخر میں ’توبوآ ‘  کا استعمال ہوا ہے ،  یعنی اس حکم کو ’ توبہ کرنے‘ سے مربوط کیا گیا ہے جو کہ اس فعل کے فرض ہونے کے قرینہ ہے۔ 

توبہ کی تعریف:  کسی گناہ پر ندامت کے ساتھ اللہ سے مغفرت مانگنا اور آئندہ اس کے پاس نہ جانے کا عزم مصمم کرنا۔  (معارف القرآن)

 آیت کا معنیٰ یہ ہے کہ اگر احکامِ مذکورہ میں کسی وقت کوتاہی ہو جائے تو توبہ کی جائے اور یہ انہی باتوں میں ہوتی ہے جن کے کرنے یا نہ کرنے میں گناہ ہو۔   معلوم ہوا کہ خمار نہ پہننا توبہ کا مقتضی ہے ،  جو کہ اس فعل کی فرضیت کا قرینہ ہے۔

 	چنانچہ  عورت کے لباس کے اوپر والے حصہ ،  خمار،  کے پہننے کی فرضیت ثابت ہوئی۔  جہاں تک لباس کے نچلے حصہ یعنی جلباب کا تعلق ہے تو اس کا بیان کچھ یوں ہے:  

	دوسری آیت ِ مبارکہ میں لفظ ِ ’جلابیب‘ (جلباب کی جمع) کا اردو ترجمہ ’چادریں‘ سے کیا گیا ہے جو کہ ہرگز اس لفظ کی مکمل ترجمانی نہیں کرتا۔

’فیروز اللغات (اردو جامع )‘میں لفظ چادر کا ترجمہ: مستطیل (لمبا) اور مربع(چوکور) مگر دبیز (موٹا) کپڑا جو سر کے اوپر یا دوپٹے کی جگہ لیا جائے۔

جب کہ جلباب کا صحیح ترجمہ ہے:  پورے جسم کو ڈھانپنے والا لباس ،  کپڑوں کے اوپر پہنا جانے والا لباس۔  (قاموس الوحید)

	اس سے ان دونوں کے مابین فرق کو آسانی سے سمجھا جا سکتا ہے۔  علاوہ ازیں آیت ِ کریمہ میں لفظ ِ’مِن‘ تبعیضیہ نہیں بلکہ بیانیہ ہے۔  اس لیے اس جلباب کو چاہئے کہ یہ زمین تک جائے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مطالبہ کیا ہے کہ یہ پورے جسم پر لٹکا لیا جائے۔  یعنی کندھوں سے لے کر پیروں تک اور انکے سمیت کیونکہ:  

                 ’’وامّ سلمۃ قالت لرسول اللّہﷺ حین ذکر الاراز فالمرأۃ یا رسول اللّہ قال ترخی شبرًا فقالت  اذا تنکشف عنہا قال فذراعًا لا تزید علیہ رواہ مالک و ابوداؤد و نسائی و ابن ماجۃ و فی رویۃ التّرمذی و النّسائی عن ابن عمر فقالت اذا تنکشف اقداھنّ قال فیر خین ذراعًا لا یزدن علیہ‘‘

 (اور حضرت امّ سلمہ سے روایت ہے کہ جس وقت رسولِ کریم ﷺ ازار بند (تہبند اور پائجامہ) کا حکم بیان فرما رہے تھے (کہ اس کا       لٹکانا ممنوع ہے )تو انہوں نے ارض کیا کہ ’’یا رسول اللہ !اور عورت (کے بارے میں کیا حکم ہے؟)  آپؐ نے فرمایا : ’’ عورت اپنا تہبند   ایک بالشت نیچے لٹکا سکتی ہے۔‘‘  حضرت امّ سلمہ نے عرض کیا کہ ’’اس صورت میں بھی کھلا رہے ؟ ‘‘  آپؐ نے فرمایا: ’’  وہ  ایک گز اور نیچے لٹکا لے ۔  کوئی عورت اس ایک گز سے زیادہ نیچے نہ لٹکائے۔‘‘  اور ترمذی اور نسائی کی ایک روایت میں جو حضرت  ابن عمرؓ سے منقول ہے یوں ہے کہ حضرت امّ سلمہ نے کہا کہ ’’ اس صورت میں ان کے پیر کھلے رہیں گے ‘‘  آپؐ نے فرمایا :’’  وہ ہاتھ  بھر اور نیچے لٹکا لیں لیکن اس سے زائد نہ لٹکائیں ۔‘‘ )  (مشکوۃ شریف)

نیز امّ عطیہ سے روایت ہے کہ جب حضور ﷺ نے عیدین کے موقع پر عورتوں کو گھر سے باہر نکلنے کا حکم دیا تو میں نے آپؐ سے پوچھا: ’’ حضورؐ ،  وہ (عورت) کیا کرے جس کے پاس جلباب نہیں؟‘‘  رسول اللہﷺ نے فرمایا:’’اسے چاہئے کہ وہ اپنی بہن کا جلباب پہن لے۔ ‘‘  یعنی جب اس کے پاس گھر سے باہر جاتے وقت ،  اپنے عام کپڑوں کے اوپر پہننے کے لیے کوئی جلباب نہ ملے ،  تو آپؐ نے حکم دیا کہ پھر وہ اپنی بہن سے ادھار لے کر پہنے!  اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی جلباب نہ مل سکے ،  تو گھر سے باہر جانا صحیح نہیں ہے!  یہ جلباب کے فرض ہونے کا قرینہ ہے۔  حاصل یہ ہے کہ ان نصوص سے عورت کے لباس کے نچلے حصہ کا تعین ہو جاتا ہے یعنی ایک ایسا کھلا کپڑا جو کہ ایک ہی ہو اور کندھوں سے لے کر پیروں تک ہو،  ان کو ڈھانپے اور جو عام کپڑوں کے اوپر پہنا جائے۔  

	چنانچہ یہ ثابت ہو گیا کہ گھر سے باہر جاتے وقت عورت کے لیے مذکورہ لباس پہننا فرض ہے اور اس کے باوجود اگر وہ یہ لباس پہنے بغیر گھر سے باہر نکلتی ہے تو یہ اللہ تعالیٰ کے ہاں گنہگار ہوگی!

	آخر میں اسی مضمون سے متعلقہ ایک مسئلہ کو بیان کر دینا مناسب ہوگا اور وہ اجتماعی زندگی میں اجنبی مرد کے سامنے عورت کے ستر کا مسئلہ ہے۔  

بعض لوگوں کے نزدیک عورت سر سے لے کر پاؤں تک پوری ستر ہے لہذا اجنبی مرد کے سامنے،  اس کے لیے ہاتھوں اور چہرے سمیت مکمل پردہ کرنا لازم ہے ۔  یعنی عورت کے لیے نقاب فرض ہے۔  اگرچہ یہ ایک اسلامی رائے ہے ،  تاہم یہ کمزور ہے۔  صحیح یہ ہے کہ عورت سر سے لے کر پاؤں تک ستر ہے سوائے ہاتھوں اور چہرے کے۔  یعنی اجتماعی زندگی میں اس کے لیے ہاتھوں اور چہرے کا پردہ کرنا فرض نہیں بلکہ مباح ہے۔  انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ پہلے گروہ کے دلائل پیش کیے جائیں ،  ان پر بحث ہو اور بالآخر صحیح رائے کے دلائل کو ظاہر کیا جائے۔  

	نقاب کی فرضیت کے قائلین سورۃ احزاب کی دو آیات سے استدلال کرتے ہیں،  پہلی آیت نمبر ۳۳:  (اور اپنے گھروں میں قرار سے رہو اور قدیم جاہلیت کے زمانے کی طرح اپنے بناؤ کا اظہار نہ کرو)  ان کا کہنا ہے کہ یہاں عورتوں کو گھر میں رہنے کا حکم ان کے مکمل پردہ کی دلیل ہے۔  دوسری آیت نمبر ۵۳:  (  اور جب تم ان سے کوئی چیز طلب کرو تو پردے کے پیچھے سے طلب کرو)  ان کا کہنا ہے کہ یہاں مردوں کو عورتوں سے،  ضرورت کے تحت،  پردہ کے پیچھے سے کوئی چیز طلب کرنے کا حکم ہوا ہے۔  لہذا ان دونوں آیات سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ عورت کا چہرہ بھی اس کے باقی جسم کی طرح ستر ہے اور اس کا پردہ لازم ہے۔  

	ان آیات سے یہ استدلال غلط ہے ،  اس لیے کہ یہ آیات عام نہیں بلکہ خاص ہیں ۔  یہ ان آیات کے سیاق سے واضح ہے:            

                 {  یٰنِسَآءَ النَّبِیِّ لَسْتُنَّ کَاَحَدٍمِّنَ النِّسَآئِ اِنِ اتَّقِیْنَ فَلَا تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ فَیَطْمَعَ الَّذی فِیْ قَلْبِہٖ مَرَضٌ وَّقُلْنَ قَوْلًامَّعْرُوْفًا ، وَقَرْنَ فِیْ بُیُوْتِکُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاھَلَیَّۃِ الْاُوْلٰی وَاَقِمْنَ الصَّلٰوۃَ وَاٰتِیْنَ الزَّکٰوۃَ وَاَطِعْنَ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ اِنَّمَا یُرِیْدُاللّٰہُ لِیُذْھِبَ عَنْکُمُ الرِّسَ اَھْلَ الْبَیْتِ وَیُطَھِّرَکُمْ تَطْھِیْرًا }۳۳-۳۲:۳۳

             (اے نبی کی بیویو!  تم عام عورتوں کی طرح نہیں ہو، اگر تم پرہیز گاری اختیار کرو تو نرم لہجے سے بات نہ کرو کہ جس کے دل میں روگ ہو وہ  کوئی برا خیال کرے اور ہاں قاعدہ کے مطابق کلام کرو  ،  اور اپنے گھروں میں قرار سے رہو اور قدیم جاہلیت کے زمانے کی طرح اپنے بناؤ کا                            	اظہار نہ کرو اور نماز ادا کرتی رہو اور زکوٰۃ دیتی رہو اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت گزاری کرو، اللہ تعالیٰ یہی چاہتا ہے کہ اے نبی کی گھر     والیو! تم سے وہ ہر قسم کی گندگی کو دور کر دے اور تمہیں خوب پاک کر دے)

	   {یٰٓاَیُّھَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَدْخُلُوْا بُیُوْتَ النَّبِیِّ اِلَّآ اَنْ یُّؤْذَنَ لَکُمْ اِلٰی طَعَامٍ غَیْرَ نٰظِرِیْنَ انٰہُ وَلَکِنْ اِذا دُعِیْتُمْ فَادْ خُلُوْا فَاِذَا طَعِمْتُمْ فَانْتَشِرُوْا وَلَا مُسْتَاْنِسِیْنَ لِحَدِیْثٍ اِنَّ ذَلِکُمْ کَانَ یُؤْذِی النَّبِیَّ  فَیَسْتَحْیٖ مِنْکُمْ وَاللّٰہُ لَا یَسْتَحْیٖ مِنَ الْحَقِّ وَاِذَا سَاَلْتُمُوْھُنَّ مَتَاعًا فَسْئَلُوْھُنَّ مِنْ وَّرَآئِ حِجَابٍ ذٰلِکُمْ اَطْھَرُ لِقُلُوْبِکُمْ وَقُلُوْبِھِنَّ وَمَاکَانَ لَکُمْ اَنْ تُؤْذُوْا رَسُوْلَ اللّٰہِ وَلَآ اَنْ تَنْکِحُوْآ اَزْوَاجَہٗ مِنْ بَعْدِہٖٓ اَبَدًا اِنَّ ذَلِکُمْ کَانَ عِنْدَاللّٰہِ عَظِیْمًا }۵۳:۳۳
                            (اے ایمان والو!  جب تک تمہیں اجازت نہ دی جائے تم نبی کے گھروں میں نہ جایا کرو کھانے کے لیے ایسے وقت میں کہ اس کے پکنے کا انتظار کرتے رہو بلکہ جب بلایا جائے جاؤ اور جب کھا چکو نکل کھڑے ہو،وہیں باتوں میں مشغول نہ ہو جایا کرو ، نبی کو تمہاری  اس بات سے تکلیف ہوتی ہے تو وہ لحاظ کر جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ بیانِ حق میں کسی کا لحاظ نہیں کرتا ،جب تم نبی کی بیویوں سے کوئی چیز طلب کرو تو پردہ کے پیچھے سے طلب کرو تمہارے اور ان کے دلوں کے لیے کامل پاکیزگی یہی ہے،نہ تمہیں جائز ہے کہ  رسول اللہ کو تکلیف دو اور نہ تمہیں یہ حلال ہے کہ آپ کے بعد کسی وقت بھی آپ کی بیویوں سے نکاح کرو ،یاد رکھو اللہ کے نزدیک یہ بہت بڑا گناہ ہے)      

	ان دونوں آیات کا عام مسلمان عورتوں پر اطلاق نہیں ہوسکتا بلکہ یہ امہات المومنین کے لیے خاص ہیں۔  پہلی آیت میں یہ بات آغاز میں ہی ظاہر ہے جب اللہ نے ان سے مخاطب ہو کر کہا یٰنِسَآءَ النَّبِیِّ لَسْتُنَّ کَاَحَدٍمِّنَ النِّسَآء۔  یعنی اے بنی کی بیویو تم دوسری عورتوں کی طرح نہیں ہو!  اس قول سے زیادہ اور واضح کیا ہوسکتا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے اور عام عورتوں کے مابین فرق کیا ہے۔  اس بات کی مزید تصدیق آیت کے اس آخری حصہ سے ہوتی ہے اِنَّمَا یُرِیْدُاللّٰہُ لِیُذْھِبَ عَنْکُمُ الرِّسَ اَھْلَ الْبَیْتِ وَیُطَھِّرَکُمْ تَطْھِیْرًا (اللہ تعالیٰ یہی چاہتا ہے کہ اے نبی کی گھر والیو!  تم سے وہ ہر قسم کی گندگی کو دور کر دے اور تمہیں خوب پاک کر دے)  ظاہر ہے کہ یہاں اَھْلَ الْبَیْتِ سے مراد سب عورتیں نہیں بلکہ صرف رسول اللہ ﷺ کی ازواجِ مطہرات ہیں۔  نیز اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ ان کو گندگی سے پاک کرنے کی وجہ اور انھیں اس بات کی یاد دہانی کرا رہا ہے کہ ان کے گھر میں وحی نازل ہوتی ہے،  تو بھلا یہ دوسری عورتوں کے مانند کیسے ہوسکتی ہیں!  ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

	{ وَاِذْکُرْنَ مَا یُتْلٰی فِی بُیُوْتِکُنَّ مِنْ اٰیٰتِ اللّٰہِ وَالْحِکْمَۃِ }۳۴:۳۳

	        (اور تمہارے گھروں میں اللہ کی جو آیتیں اور رسول کی جو احادیث پڑھی جاتی ہیں ان کا ذکر کرتی رہو)

	 جہاں تک دوسری آیت کی بات ہے تو جان لینا چاہئے کہ اس کا سببِ نزول یہ ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عمر ؓ رسول اللہ ﷺ اور حضرت عائشہ ؓ کے ساتھ کھانا کھا رہے تھے تو حضرت عمرؓ کا ہاتھ حضرت عائشہ ؓ کے ہاتھ سے لگ گیا ،  جس پر حضرت عمرؓ نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ رسول اللہ ﷺ کی بیویوں کا غیر مردوں سے پردہ ہونا چاہئے اور اس موقع پر یہ آیت ِ کریمہ نازل ہوئی۔  اس سے ہمارے موقف کو مزید تقویت ملتی ہے۔  نیز آیت میں مستعمل ضمیر’ھُنَّ ‘ خاص امہات المومنین سے منضبط ہے ۔  علاوہ ازیں آیت میں یہ علت موجود ہے وَمَاکَانَ لَکُمْ اَنْ تُؤْذُوْا رَسُوْلَ اللّٰہِ(اور نہ تمہیں جائز ہے کہ رسول اللہ کو تکلیف دو)۔  اس سے ہمیں معلوم ہوا کہ امہات المومنین کے حجاب (پردہ) کی وجہ رسول اللہ کی تکلیف ہے یعنی جب صحابہ کرام بغیر پردہ کے ازواج مطہرات سے مخاطب ہوتے ہیں تو اس بات سے حضور ﷺ کو تکلیف پہنچتی ہے،  تو غالبًا ہر جہت سے یہ ثابت کر دیا گیا ہے کہ یہ آیات خاص ہیں لہذا ان کو عام عورتوں پر استعمال ہرگز نہیں کیا جائیگا۔  تو حقیقت میں یہ آیات قائلینِ نقاب کے حق میں نہیں بلکہ ان کے موقف کے خلاف دلائل ہیں! 
	
	اس کے علاوہ یہ حضرات سنن ابو داؤد کی اس حدیث کو بھی بحیثیت ِ دلیل استعمال کرتے ہیں جس میں ہے کہ حضرت الفضل ؓ ابن عباس رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سوار تھے کہ بنی خاتم سے ایک عورت حکم دریافت کرنے کے لیے آپؐ کے پاس آئی،  تو حضرت فضل ؓ اس عورت کی طرف دیکھنے لگ گئے اور وہ عورت ان کی طرف۔  رسول اللہ ﷺ نے حضرت کا چہرہ دوسری طرف کر دیا۔  ان کا کہنا ہے کہ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ عورتوں پر نقاب فرض ہے ورنہ رسول اللہ ﷺ حضرت الفضل ؓ کا چہرہ دوسری طرف کیوں کرتے؟  

	غالباً یہ حدیث نقاب کی فرضیت پر نہیں بلکہ اس کے مباح ہونے پر دلالت کر رہی ہے!  یہ اس لیے کہ حکم پوچھتے وقت وہ عورت بغیر نقاب کے تھی اور رسول اللہ ﷺ خود اس کو دیکھ رہے تھے۔  حضور ﷺ نے اس عورت کو یہ حکم نہیں دیا کہ وہ اپنا چہرہ ڈھانپ لے ،  اگر یہ فرض ہوتا تو یہ نا ممکن ہے کہ رسول اللہ ﷺ اس معاملہ میں خاموش رہتے ،  کیونکہ یہ بات ایک نبی کی عصمت کے خلاف ہے۔  اس کے بجائے آپؐ نے حضرت فضل ؓ کا چہرہ دوسری جانب کر دیا او ر بعد میں جب اس کی وجہ حضرت علیؓ نے پوچھی تو آپؐ نے فرمایا:  ’’میں نے ایک نوجوان عورت اور ایک نوجوان مرد کو ایسی حالت میں پایا کہ مجھے ڈر تھا کہ کہیں شیطان انہیں متاثر نہ کرے۔‘‘  یعنی حضور ﷺ نے اس وجہ سے حضرت فضل ؓ کا چہرہ دوسری طرف کیا کیونکہ ان کی نظر میں حسرت و تمنّا ظاہر ہو رہی تھی ،  جو کہ حرام ہے،  اور نہ کہ محض اس وجہ سے کہ وہ عورت کی طرف دیکھ رہے تھے!  

	یہ جان لینا چاہئے کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں عورتیں عام طور پر باہر،  بازار میں اور تجارت وغیرہ کرتے ہوئے اپنے چہرے اور ہاتھ ظاہر کیا کرتی تھیں اور اس پر رسول اللہ ﷺ نے انھیں منع نہیں فرمایا۔  ایسی کئی روایات صحیح احادیث کی کتابوں میں مذکور ہیں۔  

	وہ دلائل جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ عورت کا چہرا اور اس کے ہاتھ ستر میں شامل نہیں ملاحظہ ہوں: 
 اس کی ایک دلیل پہلی مذکورہ آیت ہے (۳۱:۲۴) جس میں اللہ مسلمان عورتوں کو یہ حکم دے رہا ہے کہ وہ اجنبی مردوں کے سامنے اپنی زینت کو ظاہر نہ کریں ’اِلَّامَاظَہَرَ‘ یعنی سوائے اس کے جو ظاہر ہے۔  حضرت ابن عباس ؓ نے فرما یا ہے کہ اس سے مراد ہاتھ اور چہرا ہے۔ (ترمذی)  اور عطا کی روایت میں حضرت عائشہ کی طرف بھی اس قول کی نسبت کی گئی ہے۔ (تفسیر مظہری)  اگر واقعتا پوری عورت ستر ہوتی تو اس آیتِ مبارکہ میں رخصت دینے کا کیا مقصد ہے ؟!  اسی لیے امام قرطبیؒ ،  امام طبریؒ اور امام زمخشریؒ نے اپنی اپنی تفسیر میں اس آیت سے چہرہ اور ہاتھ مراد لیا ہے۔  نیز حدیث شریف میں ہے:
           ’’ و عن عائشۃ عن اسمآء بنت ابی بکر دخلت علٰی رسول اللّٰہ ﷺوعلیہا ثیاب رقاق فاعرض عنھا وقال یا اسماء انّ المراۃ اذا بلغت المحیض لن یصلح ان یریٰ منھا الّا ھذا و ھذا و اشار الی وجھہ وکفّیہ ‘‘  (ابو داؤد)

         (حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ ایک دن اسماء بنت ابوبکرؓ رسولِ کریم ﷺ کی خدمت میں اس حالت میں آئیں کہ ان کے بدن  پر باریک کپڑے تھے ،  آپؐ نے یہ دیکھ کر ان کی طرف سے منہ پھیر لیا اور فرمایا کہ اے اسمائ!  عورت جب ایامِ حیض کو پہنچ جائے (یعنی جب وہ بالغ ہو جائے) تو یہ ہرگز درست نہیں ہے کہ اس کے جسم کا کوئی عضو دیکھا جائے علاوہ اس کے اور اس کے ،  یہ کہہ کر  آپؐ نے اپنے چہرے اور ہاتھوں کی طرف اشارہ کیا۔ )

دیگر احادیث سمیت،  اس میں بھی رسول اللہ ﷺ نے عورت کے ہاتھوں اور اس کے چہرے کو ستر میں شامل نہیں فرمایا۔      

	جہاں تک ان فقہا کا تعلق ہے جنھوں نے فتنے کے خوف کی بنا پر نقاب کو فرض ٹھہرایا ہے تو یہ کئی وجوہ سے بے بنیاد ہے ! :  

۱)  پہلی یہ کہ فتنے کے خوف کی وجہ سے عورت کے نقاب کی فرضیت نہ قرآن و سنت سے ثابت ہے اور نہ ہی اجماع الصّحابہ یا قیاس سے۔  اور چونکہ شارع کا خطاب صرف انہی سے سمجھا جا سکتا ہے،  تو اس رائے کی کوئی اہمیت نہیں ہے اور نہ ہی اسے حکمِ شرعی مانا جائے گا۔  بلکہ اس کے برعکس شرعی نصوص سے مطلقا ً،  بغیر کسی قید یا تخصیص کے،  چہرے کی بے نقابی کی اباحت ثابت ہے!  لہذا فرضیت ِ نقاب والی رائے ایک ایسی رائے ہے جو اللہ کی جائز کی ہوئی بات کو حرام قرار دے رہی ہے!  اور اس بات کو ہرگز قبول نہیں کیا جا سکتا!

۲)  دوسری یہ کہ یہاں’ فتنے کے خوف ‘کو علت بنایا گیا ہے۔  جبکہ علت ،  خواہ وہ صراحتًا ہو یا دلالتًا ،  استنباطًا ہو یا قیاسًا،  یہاں نہیں پائی گئی۔  دوسرے لفظوں میں یہ علت کسی شرعی نص میں موجود نہیں یعنی یہ شرعی علت نہیں ہے ۔  غالبًا یہ ایک عقلی علت ہے جبکہ نصوص سے حکم اخذ کرتے وقت صرف علت ِ شرعی کو ملحوظ رکھا جاتا ہے اور اس معاملے میں علت ِ عقلی کی کوئی اہمیت نہیں ہے !

۳)  تیسری یہ کہ شرعی قائدے  الوسیلہ الی الحرام محرمہ (حرام کا وسیلہ بھی حرام ہے) کا اطلاق اس معاملہ پر نہیں ہو سکتا ۔  وہ اس لیے کہ   اس قاعدے کی دو شرائط ہیں :  ایک تو یہ کہ یہ فعل غالب گمان کے ساتھ حرام تک پہنچائے اور یقینی طور پر حرام کا سبب بنے یعنی اس کا نتیجہ ہر صورت میں حرام ہی نکلے اور اس امر سے تجاوز نہ ہو پائے۔  دوسرا یہ کہ وسیلہ جس حرام فعل کا باعث بنا ،  اس کی حرمت کے بارے میں نص موجود ہو ،  نہ کہ عقل نے اسے حرام قرار دیا ہو۔  یہاں یہ دونوں شرائط پوری نہیں ہو رہیں کیونکہ نہ تو چہرے کی بے نقابی  یقینی طور پر حرام( فتنے )کا سبب بنتی ہے اور نہ ہی کوئی ایسی شرعی نص موجود ہے جو فتنے کے خوف کو حرام قرار دے!  یہ اس لیے کہ وہ لوگ فتنے کے خوف کو فرضیت ِ نقاب کی وجہ بتاتے ہیں نہ کہ بذاتِ خود فتنے کے وقوع کو!   یہ پہلے بھی بتایا جا چکا ہے کہ کسی اجنبی عورت/مرد کی طرف شہوانی نظروں سے دیکھنا حرام ہے،  اس شخص کے لیے جو ایسا کرے جبکہ جس کی طرف دیکھا جا رہا ہے،  اس عورت کے لیے چہرے کا پردہ کرنا لازم نہیں ٹھہرے گا بلکہ یہ مباح ہی رہے گا ،  جیسا کہ نصوص سے ثابت ہے۔  چنانچہ رسول اللہ نے مذکورہ حدیث شریف میں حضرت الفضلؓ کا چہرا دوسری سمت میں کر دیا مگر جس عورت کی طرف وہ دیکھ رہے تھے،  اس سے نقاب (چہرے کا پردہ) کا مطالبہ نہیں فرمایا۔           

	       مذکورہ دلائل کی روشنی میں علماء کے چند اقوال مندرجہ ذیل ہیں:

	مذکورہ آیت (اِلَّامَاظَہَر)کے بارے میں حنفی مجتہد امام ابوبکر الجصاصؒ کہتے ہیں: ’’  ہمارے اصحاب (حنفیہ)کا قول ہے کہ اس سے چہرہ اور کفِ دست (ہاتھ)مراد ہیں،  اس لیے کہ سرمہ چہرے کی زینت ہے اور مہندی نیز انگوٹھی ہتھیلی کی زینت ہیں۔  جب اللہ تعالیٰ نے چہرے اور ہتھیلی کی زینت پر نظر ڈالنے کی اجازت دے دی ،  تو یہ بات اس امر کی بھی مقتضی ہے کہ چہرے اور ہتھیلیوں پر نظر ڈالنے کی بھی اباحت ہو۔  چہرہ اور دونوں ہتھیلیاں عورت کے ستر میں شامل نہیں ہیں۔‘‘  (احکام القراٰن)

		امام الکاسانی، ؒ  جن کا تعلق حنفی مسلک سے ہے،   مذکورہ آیت کا حوالہ دیتے ہوئے کہتے ہیں: ’’ اجنبی مرد کے لیے اجنبی عورت کے تمام جسم کو،  ماسوا چہرے اور دونوں ہاتھوں کے،  دیکھنا جائز نہیں ہے۔  (اس آیت میں) زینت سے مراداس کے مقامات زینت ہیں اور زینت کے ظاہری مقامات چہرہ اور دونوں ہاتھ ہیں۔  لہذا سرمہ چہرے کی اور انگوٹھی ہاتھ کی زینت ہے۔ نیز اس لیے بھی کہ آزاد عورت کو بیع و شراء (خرید و فروخت)  اور اشیاء لینے دینے کے لیے اس کی ضرورت ہے اور عام طور پر چہرہ اور دونوں ہاتھوں کے کھولے بغیر ایسا کرنا ممکن نہیں ،  لہذا اس کے لیے ان کو کھولنے کی اجازت ہے ،  یہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا قول ہے۔‘‘  (بدائع الصّنائع)  

	 امام شوکانیؒ کہتے ہیں : ’’  پھر آزاد عورت کے ستر یعنی پرد ے کے بارے میں ۔۔۔۔بعض فقہاء کا مسلک یہ ہے کہ چہرے اور ہاتھوں کے سوا،  عورت کو باقی تمام جسم پردہ میں رکھنا چاہئے اور یہی جمہور فقہاء کا مسلک ہے۔  ایک روایت کے مطابق امام ابو حنیفہؒ،  امام شافعیؒ اور امام مالکؒ کا بھی یہی  مذہب ہے۔‘‘   (نیل الاوطار)

	قاضی ثنااللہؒ کہتے ہیں: ’’ امام ابوحنیفہؒ،  امام مالک ؒ،  اور امام شافعیؒ اور امام احمد ؒ کے نزدیک چہرہ اور پہنچے تک دونوں ہاتھ حکمِ ستر سے مستثنیٰ ہیں۔  (تفسیرالمظھری)

	ابن رشد کہتے ہیں :’’  فقہاء کی اکثریت اس بات پر ہیں کہ (عورت) کا پورا جسم ستر ہے ،  سوائے چہرے اور ہاتھوں کے۔‘‘(بدایۃ المجتھد)

	امام الجزیری ؒ ،  جو کہ چاروں مسالک کے ماہر ہیں ،  کہتے ہیں: ’’ اگر کوئی اجنبی مرد یا غیر مسلم عورت موجود ہو تو ہاتھوں اور چہرے کے سوا عورت کا تمام جسم ستر ہے۔  یہ دونوں اعضا ستر میں داخل نہیں ہیں۔‘‘  (کتاب الفقہ المذاھب علی الاربعہ )  

	شاہ ولی اللہ دہلوی ؒ کہتے ہیں: ’’پس خدا تعالیٰ نے ان اعضا کے کھولنے کی اجازت دی ہے جن سے شناخت ہوسکتی ہے یعنی منہ (چہرہ) اور اکثر جن اعضا سے کام کاج ہوتا ہے اور وہ دونوں ہاتھ ہیں اور ان کے سوا سب اعضا کا ستر واجب ہے۔‘‘  (حجۃ اللّٰہ البالغہ)   

	علامہ تقی الدین النبھانی ؒ نے اپنی کتاب ’النظام الاجتماعی فی الاسلام‘ میں ایک مفصل بحث سے یہ ثابت کیا ہے کہ عورت کے لیے نقاب فرض نہیں ہے۔    	

	  اگرچہ یہ بحث چند احکام کے بارے میں ہے تاہم یہ بہت اہم ہے کیونکہ ان بعض احکام سے معاشرے میں اسلامی طرزِ زندگی کا تعین ہوتا ہے اور خلافت میں معاشرتی زندگی کی نشاندہی بھی۔   


                                                                                                          (۳ جون   ۲۰۰۶؁ء)

٭٭٭
تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید
