﻿




خواب بانٹنے والی
 



ممتاز رفیق

جمع و ترتیب: اعجاز عبید







خواب بانٹنے والی
 
 یہ شاید چوبیسواں منٹ تھا جب میرا کاندھا تھپکتے ہوئے ایک مانوس سی آواز نے کہا : اے مسٹر! آپ اتنی دیر سے ان پینٹنگز کے سامنے جمے کیوں کھڑے ہیں ؟ میں اس دخل اندازی پر بد مزا ہو کر ناگواری سے پلٹا۔ وہ اسد تھا۔میرا ایک نوجوان بے تکلف مصور دوست، آخر آپ نے ان میں ایسا کیا دیکھ لیا؟
اسے مسکرا کر دیکھتے ہوئے میں نے جواباً کہا: یہی سمجھنے کی کوشش کر رہا ہوں کہ ان تصاویر میں ایسا کیا ہے جس نے میرے پیروں کو زنجیر کر لیا ہے۔
وہ سنجیدگی سے بولا:میں اتنی دیر سے کھڑا آپ کے انہماک پر حیران ہو رہا ہوں ۔
میں نے سرسری لہجے میں جواب دیا : اچھا۔اس نے چھیڑنے کے انداز میں جملہ کسا :لیکن آپ تو مصوری کے بارے میں کوئی شدبد نہیں رکھتے۔میں نے سامنے لگی پینٹنگ پر نظریں جماتے ہوئے جواب دیا: ہاں ،  حقیقت تو یہی ہے مگرکسی فن پارے کو سراہنے کے لیے اس کے فنی خواص سے واقفیت کیا ضروری ہے۔ وہ دھیمے سے مسکرایا: آپ نے نمائش کی دیگر تمام تصاویر پر ان ہی کو اتنی اہمیت کیوں دی۔میں نے اس پر الجھی ہوئی نظر ڈالتے ہوئے خود کلامی کے انداز میں کہا: شاید اس لیے کہ یہ نہایت جاذب نظر ہیں ... یا شاید اس کمال کے کلر کمبی نیشن کے باعث یا پھر ممکن ہے ان تصاویر میں برتے گئے موضوع نے مجھے مسخر کر لیا ہو۔اس نے حیران سا ہو کر مجھے دیکھا: صاحب،  آپ تو اچھے بھلے آرٹ کریٹک ہیں ۔میں نے شرمندہ سا ہو کر جواب دیا: نہیں یار یہ تو بس یونہی ...۔اس نے میری بات قطع کرتے ہوئے ٹھنڈی سانس بھری : آہ !کاش اٍس وقت وہ یہاں ہوتی۔میں جھلا سا گیا: یار تم نے یہ کیا اوٹ پٹانگ باتیں شروع کر دیں کس کا ذکر کر رہے ہو ... کون ہوتی؟اس نے ملامت بھری نظروں سے مجھے دیکھا:بھائی! آپ اتنے گاودی کیوں ہیں ؟ارے جناب،  وہی آپ کی فیورٹ آرٹست،  ان تصاویر کی خالق۔ میں نے تعجب سے سوال کیا : کیا مطلب اس کی پینٹنگز یہاں لگی ہیں اور وہ خود غائب ہے؟۔اس نے قدم بڑھاتے ہوئے کہا :آئیں گیلری کا چکر لگا کر کہیں بیٹھتے ہیں ۔ میں خاموشی سے اس کے ساتھ ہولیا۔دروازے پر تاثرات کی کتاب پر نظر پڑی۔ میرا دوست کسی سے باتوں میں مشغول تھا۔میں لپک کر گیا اور اپنے تاثرات قلم بند کر دیئے۔میں نے لکھا:اس گروپ ایگزی بیشن میں یوں تو کئی پینٹنگز بہت اچھی ہیں لیکن میں خصوصیت سے ان پانچ تصاویر کو خراج تحسین پیش کرنا چاہوں گا جن میں معاشرے کی باطنی خباثت کوPortray کرنے کی کام یاب کوشش کی گئی ہے۔اپنے دستخط اور رابطے کا نمبر درج کر کے میں دروازے کی طرف بڑھا تو میرا دوست شرارت بھری نظروں سے مجھے دیکھ رہا تھا۔اس نے پھبتی کسی: واہ صاحب، کیا بات ہے۔معاشرے کی باطنی خباثت...۔ میں نے اس کی کڑوی بات کو خاموشی سے نظرانداز کر دیا۔وہ پھر گویا ہوا: صاحب،  ان میں آپ کو معاشرہ کہاں نظر آ گیا؟ وہ تو انسانوں کی مسخ شکلیں ہیں ۔میں نے ملائمت سے پوچھا: تو کیا انسان معاشرے کا نمائندہ نہیں ہوتا؟اس نے چپ سادھ لی۔ہم ذرا دیر میں ایک اوپن ائیر ریسٹوراں میں جا پہنچے۔وہ خاموشی سے مجھ پر نظریں گاڑے ہونٹوں سے دھوئیں کے چھلّے بناتا رہا۔چائے کی چسکی لیتے ہوئے اس نے سنجیدگی سے کہا:آپ کو شاید میری باتیں ناگوار گزریں ، مگر کیا آپ کو اندازہ ہے کہ آپ نے اسے کتنا بڑا کمپلیمنٹ دے ڈالا ہے؟ میں نے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتے ہوئے نرم مگر مضبوط لہجے میں کہا:وہ اس سے زیادہ کی مستحق تھی۔میرا جواب سن کر وہ چڑ سا گیا،  بھنا کے بولا:Yar! she is just in making. ابھی وہ بہت جونیئر ہے۔میں نے رسانیت سے جواب دیا: پھر تو وہ اس سے بڑھ کے ہمت افزائی کی حق دار تھی بلکہ میں تو سمجھتا ہوں ...۔میں نے جان بوجھ کر بات نامکمّل چھوڑ دی۔نہیں ،  نہیں بات مکمّل کریں ۔ آج میں آپ کے ایک بالکل نئے رخ سے متعارف ہو رہا ہوں ۔اس کے لہجے کی چبھن پر توجہ دیئے بغیر میں نے کہا:میرا خیال ہے وہ مصوری کے ایک بالکل نئے رجحان کو عام کرنے کے جتن کر رہی ہے۔میری بات سن کر وہ گنگ سا ہو گیا پھر کچھ توقف کے بعد کہنے لگا: آپ نے پوچھا تھا کہ وہ نمائش میں موجود کیوں نہیں ہے؟ بھئی وہ پاگل پن کی حد تک بے نیاز واقع ہوئی ہے۔میں نے مسکرا کہ چوٹ کی: ہر بڑے کام کے لیے ایک مخصوص دیوانگی ضروری ہوتی ہے۔لیکن کیا وہ سرے سے آتی ہی نہیں ؟اس نے سگریٹ سلگاتے ہوئے اثبات میں سر ہلایا:آتی ہے لیکن بس جوگی کا سا پھیرا،  اچانک دن کے کسی بھی پہر آ دھمکتی ہے اور ایک کونے میں کھڑی ہو کر اپنی پینٹنگز پر سرسری نظر ڈال کر گزرنے والوں کو دیکھ کر مسکرائے جاتی ہے۔میں نے بے یقینی سے پوچھا: مسکرائے جاتی ہے، کیوں ؟۔ اس نے کاندھے اچکائے:ہاں ،  ایک دن میں نے ا س مسکراہٹ سے اکتا کر اُس سے اس کا مطلب پوچھ ہی لیا۔میرے سوال پر اس نے حیرت سے مجھے دیکھا پھر نفی میں گردن ہلاتے ہوئے رونکھی آواز میں بولی: مسکراہٹ... یہ تو ناقدری اور نا اہلی کا ماتم ہے،  جسے میں ہونٹوں کے کونوں کی اوٹ میں دابے رکھتی ہوں ۔ابھی میں اس جواب پر غور ہی کر رہا تھا کہ اس نے کہا: آپ دیکھ لیجئے گا میں اپنی شناخت حاصل کر لوں گی۔دنیا میں آنکھ والوں کی کمی سہی لیکن اب ایسا بھی نہیں کہ بینائی بالکل ہی اٹھا لی گئی ہو،  آخر مجھے دریافت کر ہی لیا جائے گا۔میں اس کی خوش فہمیوں پر حیران سا کھڑا تھا کہ وہ تاثرات کی کتاب کی طرف لپکی اور حسب معمول چند صفحات پر طائرانہ نظر ڈال کر یہ جا وہ جا۔مجھے اس کی ان حرکتوں پر بہت کوفت ہوتی ہے۔میں نے بغور اس کی بات سنی: اچھا،  good اگر کسی کو اپنے فن پر اس قدر اعتماد ہو تو اسے آگے بڑھنے سے کون روک سکتا ہے؟میری اس بات پر وہ بھڑک اٹھا: آپ بھی کمال کرتے ہیں ، ابھی اس نے سیکھا ہی کیا ہے؟ ابھی تو اس نے جنم لیا ہے، اسے تو ڈھنگ سے اسٹروک لگانے تک نہیں آتے،  پہلے وہ اس میں تو مہارت حاصل کر لے۔میں نے سنجیدگی سے کہا : یہ تو میں نہیں جانتا، لیکن مجھے یہ ضرور معلوم ہے کہ یقین اور جنون راستے کی ہر رکاوٹ تہس نہس کرڈالتے ہیں ۔ تم دیکھ لینا ایک دن وہ بڑی مصورہ بن جائے گی۔اس نے خفگی سے کہا: آپ نے اس کی محض پانچ پینٹنگز دیکھیں ہیں اور اس کے بارے میں اتنے بڑے دعوے کر رہے ہیں ۔میں مسکرایا: اب تم بہت ناسمجھی کی باتیں کر رہے ہو۔میں مانتا ہوں کہ وہ جونیئر ہو گی لیکن تم نے سنا نہیں پوت کے پاؤں پالنے میں نظر آ جاتے ہیں ۔اس نے کچھ سوچتے ہوئے سر سہلایا: ہاں ،  ایک بات ضرور ہے اس نے اپنی لائن پر بہت محنت کی ہے۔وہ کہتی ہے مصور کو لکیر سے ہمیشہ جڑے رہنا چاہیے اور مجھے آپ کی باتوں سے اختلاف سہی لیکن اسے کام یاب ہوتے دیکھ کر مجھے خوشی بھی سب سے زیادہ ہو گی لیکن...۔میں نے اسے چھیڑا: لیکن وہ تمہارے مخصوص معیار جمال پر پوری نہیں اترتی۔ کیوں ہے نا یہی بات؟وہ میری بات سن کر ہکا  بکا رہ گیا: کیا مطلب،  آپ نے یہ نتیجہ کیسے اخذ کر لیا؟ میں نے ذرا اونچی آواز میں کہا: کیوں کہ میں تمہاری رگ رگ سے واقف ہوں ۔وہ خفت سے مسکرایا: آپ بہت ظالم ہیں ۔ہاں ،  یہ سچ ہے وہ معمولی نقش و نگار کی ایک روکھی پھیکی لڑکی ہے۔مگر ہمارا موضوع تو اس کا فن تھا۔میں زور سے ہنس پڑا: میاں اگر یہ پینٹنگز کسی پری پیکر نے بنائی ہوتیں تو تم ان کی تعریفوں میں زمین آسمان کے قلابے ملا رہے ہوتے۔وہ فراغ دلی سے مسکرایا: میں جان بوجھ کے آپ سے حجت کر رہا تھا۔لیکن جناب اتنی جلد اتنا بڑا کمپلی منٹ اسے برباد بھی کر سکتا ہے۔میں نے سوچا وہ ٹھیک کہہ رہا ہے: ہاں ،  یہ درست ہے مگر میں نے یہ بات پوری ذمہ داری سے کہی ہے۔اس نے بے بسی سے ایک ٹھنڈی سانس بھری: کتنی عجیب اتفاق ہے،  اس کا دعوا ہے کہ وہ باطن کو پینٹ کرتی ہے اور آج آپ نے بھی بالکل یہی نتیجہ اخذ کیا۔اس کے لہجے کی صداقت عیاں تھی: ایسا اس لیے ہے کہ تم بھی ان ہی ناقدروں میں شامل ہو جنہوں نے اس کے کام کی کبھی کوشش ہی نہیں کی۔اس نے جیسے میری بات سنی ہی نہیں : آج ان تصاویر میں آپ کو منہمک دیکھ کر مجھے اس کی کتنی ہی باتیں یاد آئیں ۔ اس نے رک کر پانی کے چند گھونٹ پیئے پھر گلہ کھنکار کر بولا:آپ کے دیوانے پن پر تو خیر مجھے کبھی کوئی شک ہی نہیں مگر ہماری فن کارہ بھی آپ سے کچھ کم نہیں ، میں کسی دن آپ کو اس سے ملواؤں گا۔میں نے خوش دلی سے اس کا شکریہ ادا کیا۔اب رات خاصی اتر آئی تھی کچھ دیر ادھر ادھر کی باتیں کر کے ہم نے اپنے گھروں کی راہ لی۔میں بہت رات گئے سونے کا عادی ہوں اور جب سے بیمار ہوا ہوں تب سے دفتر پہنچنے کی ہڑبونگ بھی جاتی رہی، اس لیے کافی دیر تک بسترپر پڑا اینڈتا رہتا ہوں اور دن چڑھے اٹھنے کا عادی ہوں ۔ تیسرے یا شاید چوتھے دن ابھی میں نے چائے کا دوسرا گھونٹ ہی حلق سے اتارا تھا کہ فون کی گھنٹی گنگنانے لگی۔میری بیوی نے لپک کے چونگا اٹھایا،  وہ واقف تھیں کہ مجھے ناشتے کے دوران اس قسم کی در اندازی نہایت گراں گزرتی ہے۔مختصر سی گفتگو کے بعد وہ میری طرف مڑیں :کوئی خاتون،  آپ سے بات کرنا چاہتی ہیں ۔میں نے خود کلامی کی: خاتون؟ کون ہو سکتی ہیں ۔کئی نام تیزی سے دوڑتی سلائڈ کی طرح نظروں کے سامنے سے گزرتے چلے گئے: ہلو،  کون؟ ایک نرم و ملائم لیکن واضح آواز سنائی دی:سر! میں آپ کے لیے اجنبی ہوں ،  لیکن مجھ پر آپ کا ایک قرض ہے اس کی ادائی چاہتی ہوں ۔وہ سانس لینے کے لیے رکی: قرض؟ میں کچھ سمجھا نہیں ... اس نے نرمی سے میری بات کاٹی: سر! میں آپ کا شکریہ ادا کرنا چاہتی ہوں ۔میں نے حیران سا ہو کر کہا:مگر میں نے تو بہت عرصے سے ایسا کوئی کام نہیں کیا جس پر میں شکریہ کا مستحق ٹھہروں ۔وہ ہلکی آواز میں ہنسی لگا جیسے نقرئی گھنٹیاں بجی ہوں : سر! یہ بھی آپ کا بڑا پن ہے ابھی چند روز قبل ہی آپ نے مجھے شان دار کمپلی منٹ سے نوازا تھا۔میرے ذہن میں کوندا سا لپکا:اچھا تو یہ آپ ہیں ، بھئی آپ نے تو کمال کا کام کیا ہے،  آپ بجا طور پر تحسین کی مستحق تھیں ۔وہ ذرا دیر چپکی رہی جیسے کچھ سوچ رہی ہو پھر گویا ہوئی:نہیں سر،  کمال کہاں ،  ابھی تو میں سیکھنے کے مرحلے میں ہوں ، لیکن آپ نے تو حیران کر دیا۔پینٹنگ کی پاتال سے اس کا جوہر اٹھا لائے۔آپ آرٹ کریٹک ہیں ؟ اس نے ایک سانس میں بہت سی باتیں کہہ ڈالیں : آرٹ کریٹک! نہیں بھئی میں تو مصوری کی الف بے تک سے نا بلد ہوں اور رہا جوہر تو وہ تو ہر آنکھ والے کی دسترس میں ہوتا ہے۔وہ خاموشی سے میری بات سنتی رہی پھر ٹھنڈی سانس بھر کے بولی:آنکھ والے ہیں کہاں ؟یہ تو میری خوش نصیبی تھی کہ آپ نے میرے کام کو قابل توجہ سمجھا۔میں نے گلا کھنکارتے ہوئے کہا:اصل میں توجہ میں نے نہیں دی درحقیقت آپ کی تصاویر نے مجھے پکارا۔ مگر مجھے آپ سے یہ پوچھنا ہے کہ آپ نے اپنے لیے اتنے مشکل موضوع کا انتخاب کیوں کیا؟اس نے ذرا دیر ٹھہر کر کہا:سر! میں کچھ الگ سا کام کرنا چاہتی تھی مجھے بنے بنائے سانچوں سے چڑ ہے۔میں اپنی کھینچی ہوئی لکیر پر یقین رکھتی ہوں ۔ میں نے ہنس کے کہا : اچھی بات ہے لیکن لمبی چھلانگ کے لیے بہت تیاری کی ضرورت پڑتی ہے۔اس نے فوراً جواب دیا:سر!یہ پینٹنگز اسی تیاری کا حصہ ہیں ۔پھر کچھ جھجکتے ہوئے پوچھا:سر!کیا میں آپ سے ملاقات کر سکتی ہوں ؟میں نے ہنستے ہوئے کہا:کس سے، مجھ سے یا سر سے؟وہ الجھ کر بولی: میں سمجھی نہیں ۔میں نے ترنت جواب دیا:دیکھو لڑکی،  میں سر وغیرہ ایسے تکلفات کا عادی نہیں ہوں ، دوستوں کی طرح بات کرنے میں سہولت رہتی ہے۔اُس نے جیسے سکھ کی سانس بھری:یہ تو آپ نے ایک بڑی مشکل آسان کر دی۔مجھے بھی یہ سب بھلا نہیں لگتا، لیکن آپ یہ فرمایئے ہم کب مل رہے ہیں ۔اس نے بے تکلفی سے اپنی بات مکمل کی: ملاقات؟ ہاں ہو سکتی ہے،  جب تم چاہو۔اس نے کچھ دیر سو چا پھر کہا: کیا آپ کا موبائل نمبر مل سکتا ہے؟میں نے نمبر دیا۔ اس نے کہا: آپ سے بہت سی باتیں کرنی ہیں ، آج بھی آپ سے بات کر کے بہت اچھا لگا۔میں جلد رابطہ کروں گی۔اب اجازت،  اللہ حافظ۔میں نے فون رکھ کے چائے کی وہ گرما گرم پیالی اٹھا لی جو میری مہربان بیگم وہاں لا کر رکھ چکی تھیں ۔انہوں نے پوچھا کون خاتون تھیں ؟میں نے چائے کا گھونٹ بھرا:ہے ایک کمال کی پینٹر۔ پھر انہیں اپنے ایگزبیشن جانے اور اسد سے ہونے والی بحث کا سارا قصہ سنا دیا۔ انہوں نے گلہ کیا:آپ ایسے مواقع پر ہمیشہ مجھے بھول جاتے ہیں ۔میں مسکرایا: ہمیشہ تو نہیں ہاں کبھی کبھار مجھ سے یہ بھول ہو جاتی ہے لیکن آئندہ یہ غلطی نہیں ہو گی۔میں چائے پیتے ہوئے سوچ رہا تھا خاصی سمجھ دار اور خوش کلام لڑکی ہے اور اپنے فن پر بھی اسے بلا کا اعتماد ہے،  اس سے ملاقات دل چسپ رہے گی۔میں اپنے روزمرہ میں مشغول ہو گیا۔ ان دنوں ہم بہت سے دوست سوچ رہے تھے کہ بہت سے رائٹر مل کر ایک ایسا ناول لکھیں جس کی پہلے سے طے شدہ کوئی تھیم نہ ہو۔ہر شخص اپنے اسٹائل میں پچھلا باب سن کر کہانی کو آگے بڑھائے۔یہ ایک تجربہ تھا ہم نے اس کی کامیابی یا ناکامی کے حوالے سے سوچا تک نہیں تھا۔چند باب لکھے بھی جا چکے تھے لیکن پھر بھیڑ بڑھنے لگی،  میں چاہتا تھا کہ صرف اچھے لکھنے والوں کو اس پروجیکٹ میں شامل کیا جائے،  مجھے مجبوراً اس معاملے سے الگ ہونا پڑا۔میں دوبارہ سب بھول بھال کے اپنی تحریروں اور ترجموں کی طرف پلٹ آیا۔میں اپنی مصروفیات میں مصورہ کو تقریباً فراموش کر چکا تھا کہ کئی دن بعد اچانک ایک دن میرے موبائل کی اسکرین پر اجنبی نمبر جگمگایا۔میں نے گومگو کی کیفیت میں ہلو کہا۔ دوسری طرف سے چہکار سنائی دی: آپ کیسے ہیں ؟مجھے لگا جیسے کانوں میں گھنٹیاں گنگنائی ہوں : میں تو ٹھیک ہوں لیکن تم کہاں لاپتہ ہو گئیں تھیں ؟ وہ بشاشت سے ہنسی:میں نے سوچاآپ یہ نا کہیں کہ لڑکی کو مونہہ کیا لگایا یہ تو جان کو آ گئی۔میں ہنسا: تم جانتی ہو بعض لوگ بہت سخت جان ہوتے ہیں ۔ پھر ذرا سنجیدگی اختیار کی : آئندہ ایسے فضول خیالات سے باز رہنا۔اس نے مختصر سا قہقہہ لگایا:اچھا یہ بتایئے آج شام کوئی خاص مصروفیت تو نہیں ؟میں سوچ رہی تھی آج ملاقات کر لی جائے۔میں نے لمحے بھر کو سوچا:ہاں ،  کوئی خاص کام نہیں ہے ملاقات ممکن ہے،  مگر کہاں اور کب؟ اس نے جھٹ سے جواب دیا : یہ فیصلہ تو آپ کریں گے، مگر ٹھہریں آپ کی رہائش کہاں ہے ؟وہیں کہیں قریب مل لیتے ہیں ۔میں خوش دلی سے بولا: گلستان جوہر میں رہتا ہوں ،  اچھا یہ بتاؤ فاریہ دیکھا ہے؟اس نے چٹکی بجائی: یہ تومسئلہ ہی حل ہو گیا،  فاریہ مجھے بھی سوٹ کرتا ہے لیکن آپ آئیں گے کیسے؟میں زور سے ہنس پڑا: دوڑتا ہوا،  ارے لڑکی، ٹیکسی سے اور کس طرح۔وہ فوراً بولی: کیوں ٹیکسی کی کیا ضرورت ہے،  میں آپ کو پک کر لوں گی۔مجھے یہ پیش کش بہت بھلی لگی: یہ تو اور اچھا ہو گا،  فاریہ پہنچتے تک ہم دوست بن جائیں گے۔ اس نے بناؤٹی افسردگی سے کہا: کیا یہ رسم ابھی باقی ہے،  میں تو سمجھی تھی ہم دوست بن چکے ہیں ۔میں نے بے تکلفی کا مظاہرہ کیا: ارے پگلی! مذاق کو بھی نہیں سمجھتیں ،  اچھا یہ بتاؤ تمہارے پاس گاڑی کون سی ہے، اس کا رنگ وغیرہ۔ اس نے کھی کھی کی:بلو آلٹو، لباس کا رنگ لائٹ پنک ویسے میں آپ کے اسکوائر کے گیٹ کے سامنے سڑک پر ہوں گی، ٹھیک ساڑھے سات بجے۔میں نے جواباً کہا: ڈن،  میں آ جاؤں گا مگر زیادہ انتظار مت کروانا۔وہ گنگنائی: ابھی وہ مرحلہ نہیں آیا۔ok then see you. bye bye اور فون کھٹ سے بند۔میں اس کے چلبلے پن پر مسکرایاپھر دھیرے سے اس کی بات دھرائی:ابھی وہ مرحلہ نہیں آیا،  لیکن کون جانے کبھی آ ہی جائے۔ مجھے اپنی اس آوارہ خیالی پر شرمندگی سی محسوس ہوئی۔ میں سوچ رہا تھا یہ لڑکیاں بھی اپنی بنت میں کسی پہیلی کی طرح پیچیدہ اور گنجلک ہوتی ہیں ،  ان کا انفرادی بھید جو کہیں ان کے اندرون میں پوشیدہ ہوتا ہے اسے پانے کے لیے ان کے باطن میں اترنا پڑ تا ہے اور یہ ایسا ہی ہے جیسے آپ اپنا آپ بھول بھلیوں کے سپرد کر دیں اور میں اس کے لیے کمر کس چکا تھا۔انسانوں کے باطن کا ایسا ہرسفر میرے لیے ہمیشہ تحیر خیز تجربہ ثابت ہوا ہے۔ میں ان ہی سوچوں میں غلطاں تھا کہ بیوی کی آواز سنائی دی :سمجھ میں نہیں آتا آج کیا پکاؤں ،  میں ہر روز کے اس سوال سے زچ آچکی ہوں ۔ میں نے خالی نظروں سے انہیں دیکھا: اپنی پسند کی کوئی بھی چیز پکالیں ۔وہ چونک کے بولیں :کیوں ،  اور آپ؟میں نے آہستہ سے کہا: مجھے مصورہ نے ڈنر پر مدعو کیا ہے۔وہ مسکرائیں : مصورہ! اچھا،  لیکن کیا یہ سب کچھ بہت تیزی سے نہیں ہو رہا؟۔ پھر ذرا ٹھہر کے بولیں : ٹھیک ہے پھر کیا پکانا،  میں تو کچھ بھی کھا لوں گی۔میں نے خاموشی سے کتاب اٹھا کر مطالعہ شروع کر دیا۔مقررہ وقت پر سیڑھیاں اترتے ہوئے میں سوچ رہا تھا۔میری بیوی بھی عجب عورت ہے۔وہ کہتی ہے کبوتر دن بھر جہاں چاہے اڑتا پھرے اس کی رات اپنی چھتری پر ہی گزرتی ہے۔میں نے کئی بار مذاق میں کہا بھی کہ کبھی اونچی اڑان کے شوق میں وہ راستہ بھی بھول سکتا ہے لیکن میری یہ بات وہ ہمیشہ ایک کان سے سن کر دوسرے سے اڑا دیتی ہیں ۔میری ذات پر ان کا یہ بے پایاں اعتماد میرے لیے ہمیشہ نہایت طمانیت کا باعث بنتا ہے۔میں اسکوائر کے دروازہ سے نکلا تو نیلی آلٹو سامنے ہی کھڑی تھی۔دو روشن سیاہ آنکھوں نے غور سے مجھے دیکھ کر ہاتھ ہلایا،  جانے کیسے وہ مجھے پہچان گئی تھی۔میرے قریب پہنچنے پر اس با وقار اور با اعتماد لڑکی نے اتر کر میرے لیے دروازہ کھولا۔اس کے ہونٹ باریک سی خیر مقدمی مسکراہٹ سے اور بھی بھلے لگ رہے تھے۔گاڑی اسٹارٹ کرتے ہوئے اس نے متانت سے پوچھا:آپ کیسے ہیں ؟میں نے اس سانولی سلونی کا جائزہ لیتے ہوئے جواب دیا: میں اچھا ہوں ،  تم سناؤ؟وہ مسکرائی:اس وقت میں بہت خوش ہوں ،  مگر آپ کو میرا مذاق گراں تو نہیں گزرا؟وہ بڑے ٹھہراؤ کے ساتھ دھیمے انداز میں گفتگو کر رہی تھی: مذاق؟کیا مطلب؟ میں نے جان بوجھ کر بے خبری کا تاثر دیا:اللہ حافظ کہنے سے قبل کا میرا آخری جملہ۔ اس نے آنکھیں چمکائیں : اچھا وہ،  نہیں بھئی،  دوستوں میں تو یہ سب چلتا رہتا ہے پُر کشش آنکھوں والی لڑکی نے چھوٹے چھوٹے پھولوں والی ہلکے گلابی رنگ کی قمیض پہن رکھی تھی،  بالوں پر کوئی خاص توجہ نہیں دی گئی تھی لیکن لگتا تھا چہرے پر کچھ محنت کی گئی ہے۔اس نے سرسری لہجے میں سوال کیا: اسد آپ کے دوست ہیں ۔ میں نے اثبات میں سر ہلایا: اسد،  وہی با صلاحیت پینٹر ناں !جو اس گیلری کا پارٹنر ہے جہاں وہ گروپ ایگزبیشن ہوئی تھی۔ ہاں ،  وہ مجھے بہت عزیز ہے۔اس نے تولتی ہوئی نظروں سے مجھے دیکھا:اچھا،  وہ بھی آپ سے بہت متاثر ہیں ،  اکثر آپ کا تذکرہ کرتے ہیں ،  انہوں نے مجھے آپ کے بارے میں بہت کچھ بتایا۔ پھر کچھ توقف کے بعد بولی:آپ دوستی کے لیے نوجوانوں کو ہی ترجیح کیوں دیتے ہیں ؟ میں نے سنجیدگی سے جواب دیا:تاکہ ان سے کچھ نیا سیکھ سکوں ، بھئی تم لوگوں کے تجربات بہت تازہ،  انوکھے اور دل چسپ ہوتے ہیں ۔اس نے ذرا تعجب سے مجھے دیکھا:پلیز! مجھے نوجوانوں میں شمار نہ کریں میں جوانی کے بھی کئی برس بتا چکی ہوں ۔ پھر سوال کیا: آپ پینٹر ہیں ؟میں مسکرایا: مجھے نہیں معلوم کہ لوگ اسے تسلیم کرتے ہیں یا نہیں ،  لیکن ہاں ،  میں خود کو ایک مصور ہی سمجھتا ہوں ۔بس فرق اتنا ہے کہ تم اپنی تخلیقات میں رنگ استعمال کرتی ہو اور میں الفاظ سے تصویر کشی کرتا ہوں ۔اس نے گنگنانے کے انداز میں کہا:very interesting اسد آپ کے کام کے بڑے قدردان ہیں ۔ سنا،  آپ کی کتاب بھی آ چکی ہے اور آپ کا بنیادی موضوع انسان ہے؟اس نے تیزی سے ایک ساتھ کئی باتیں کر ڈالیں ۔اس دوران وہ ان فون کالز کو بھی نمٹاتی رہی تھی جو تواتر سے اس کے موبائل کو مصروف رکھے ہوئے تھیں ۔میں نے ذرا ہلکے پھلکے لہجے میں کہا: فون کالز کے تانتے سے اندازہ ہوتا ہے کہ تمہارے دوستوں کا سرکل بہت وسیع ہے۔میری بات پر اس نے سوچتی ہوئی آواز میں کہا : دوست!وہ تو خیر گنے چنے ہیں ،  ہاں ایک بھیڑ ضرور ہے۔ اسے میری کم زوری کہہ لیں لیکن مجھ سے کسی کی دل آزاری نہیں ہوتی۔میں نے دیکھا جب وہ سوچتی ہے تو اس کی آنکھیں روشنی سے جگمگ جگمگ کرنے لگتی ہیں ۔مجھ سے رہا نہ گیا: سنو لڑکی،  تمہاری شخصیت میں بلا کا توازن ہے اور شاید تم چہرہ بدلنے پر بھی قدرت نہیں رکھتیں ۔ وہ کھل کھلا کے ہنسی: مجبوری ہے، کیا کروں برسوں سے اسی روکھے پھیکے چہرے سے کام چلا رہی ہوں ۔ ہم فاریہ پہنچ چکے تھے اس نے گاڑی پارک کی اور ہم اوپر ڈائنگ ہال میں جا بیٹھے وہاں زیادہ لوگ نہیں تھے،  ہم نے بھی ایک میز سنبھال لی۔اس نے اچانک کہا: میں آپ کی کتاب پڑھنا چاہتی ہوں ۔اسد کہہ رہے تھے آپ آدمی کے باطن میں اتر جاتے ہیں ۔میں رسانیت سے مسکرا کے بولا: کتاب تو ڈھونڈنی پڑے گی، جہاں تک انسان میں اترنے کی بات ہے تو ہاں کوشش کرتا ہوں مگر یہ بہت مشکل بات ہے یار،  کون آپ کے لیے اپنے دروازے وا کرتا ہے۔ اس نے اثبات میں سر ہلایا : لیکن سنا ہے آپ اس فن میں کمال رکھتے ہیں ۔ میں نے نفی میں سر ہلایا: نہیں جناب مجھے ایسا کوئی دعوا نہیں ، ہاں اب تک اپنی کوششوں میں کام یاب رہا ہوں ۔مجھے چھوڑو،  اپنے بارے میں کچھ بتاؤ۔اس نے ٹھنڈی سانس لے کر کہا: میں ایک عام سی بے وقوف لڑکی ہوں ۔ تعلیم مکمل کی اور برش سنبھال لیا، پہلے پہل یہ مشغلہ تھا اور اب یہی روزگار ہے،  مجھے جنون کی حد تک اپنے کام سے عشق ہے۔میں غور سے اس کی گفتگو سن رہا تھا اچانک اس نے کہا:اور ہاں مجھے اپنی شخصیت کے معمولی پن کا پورا ادراک ہے۔آپ نے جس توازن کا تذکرہ کیا،  وہ میں نے بڑی محنت سے اپنی ذات میں پیدا کیا ہے۔میں واقف ہوں کہ اگر آپ دوسروں پر آسان ہو جائیں تو بھیڑئیے آپ کو بھنبھوڑنے میں ذرا تساہل سے کام نہیں لیتے۔اس کے لہجے میں ایک خاص قسم کا کھرا پن تھا،  ورنہ عام طور پر میں ایک بے نیاز لڑکی ہوں ،  میرے نفع نقصان کے پیمانے مختلف ہیں ۔رسک لینا پسند کرتی ہوں ،  لیکن مجھے آسانی سے دھوکا نہیں دیا جا سکتا۔شاید یہ بڑا دعوا ہے لیکن اگر آپ آنکھیں کھلی رکھیں تو یہ ممکن ہے۔ اس نے گلاس بھرکے پانی پیا، ویٹر کھانا سرو کر رہا تھا۔میں آنکھیں بند کر کے کشادگی سے مسکرایا،  اس نے ڈش میری طرف بڑھاتے ہوئے تیزی سے سوال کیا: آپ کی اس مسکراہٹ کا کیا مطلب لیا جائے؟ میں نے نوالہ توڑتے ہوئے کہا : اسد نے شاید تمہیں یہ نہیں بتایا کہ میں ایسا نظر ضرور آتا ہوں لیکن غبی ہرگز نہیں ہوں ۔اس نے چمک کر پوچھا: مطلب؟ میں نے ایسا تاثر کب دیا؟ میں نے غور سے اسے دیکھا: تم اتنی احمق نہیں ہو جتنا خود کو ظاہر کر تی ہو،  اگر یہ انکسارہے تو لائق تحسین ہے اور اگر ایسا نہیں تو پھر تم مجھے بے وقوف سمجھ رہی ہو۔اس نے ذرا چڑ کر کہا: آپ اتنی الجھی ہوئی باتیں کیوں کرتے ہیں ؟میں خاموشی سے نوالہ چباتا رہا پھر پانی پیا۔اس نے جھلا کے کہا: آپ کچھ کہتے کیوں نہیں ۔ میں مسکرایا: کیا یہ ہماری آخری ملاقات ہے؟ اس کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں : نہیں ،  لیکن آپ نے یہ سوال کیوں کیا؟میں نے جواب میں الٹا اس سے پوچھ لیا: تم خواب دیکھتی ہو؟ اس نے کچھ نہ سمجھنے والے انداز میں کہا: نہیں ،  میں خواب نہیں دیکھتی،  مگر اس سے میرے سوال کا کیا تعلق؟ میں نے سالن لیتے ہوئے کہا:کیا واقعی تم میری رائے جاننے میں دل چسپی رکھتی ہو؟ تمہیں اسد نے بتایا نہیں میں کتنا کڑوا آدمی ہوں ۔ اس نے فوراً جواب دیا: مجھے لگتا ہے آپ میری باتوں سے اتفاق نہیں رکھتے۔اس ذہین لڑکی نے آدھی بات سے پورا مدعا جان لیا تھا: ہاں ،  کیوں کہ تم نے اپنے حوالے سے جو کچھ کہا اس میں کافی تضادات موجود ہیں ۔تم کہتی ہو کہ تم ایک عام سی لڑکی ہو اور کام کچھ الگ سا کرنا چاہتی ہو۔ تمہارا کہنا ہے کہ تم بے وقوف ہو اسی کے ساتھ کہتی ہو کہ مجھے کوئی دھوکا نہیں دے سکتا۔چلو ٹھیک ہے مان لیتے ہیں کہ اپنی شخصیت میں یہ توازن تم نے خود پیدا کیا ہے،  تو کیا یہ کسی عام انسان کے بس کی بات ہے؟ رہی تمہاری شخصیت کے معمولی پن کی بات تو وہ لوگ جو بڑے کام کا ارادہ باندھ لیں ان کے لیے ظاہری دل کشی وغیرہ بے معنی باتیں ہو جاتی ہیں ،  مجھے تعجب ہے تم نے اس کا خصوصیت سے تذکرہ کیا۔ ا س سے بٖڑی بات یہ کہ تمہارا کہنا ہے کہ تم خواب نہیں دیکھتیں ، اگر یہ سچ ہے تو پھر تم لوگوں میں بانٹنے کے لیے یہ خواب کہاں سے لاتی ہو؟اس نے چمکتی ہوئی آواز میں اعتراض کیا: آپ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ میں لوگوں میں خواب بانٹتی ہوں ؟میں نے کولڈ ڈنک کا سپ لے کر اطمینان سے کہا: ابھی تم نے ایک بھیڑ کا تذکرہ کیا تھا، یہ کون لوگ ہیں ؟ اور انہیں کس چیز نے تم سے باندھ رکھا ہے؟میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ ان میں سے ہر ایک کے پاس ایک خواب ہے جو دانستہ یا نا دانستہ تم نے انہیں تھمایا ہے۔اس نے بوتل رکھتے ہوئے نفی میں سر ہلایا: مجھے آپ سے اتفاق نہیں ہے لیکن آپ بہت خطرناک آدمی ہیں ۔ میں تلخی سے ہنسا:تمہیں برا لگا ناں ،  میں اسی لیے بات کو طرح دے رہا تھا لیکن تم ضد پر اتر آئیں ۔میں سچ بولنے کی کوشش کرتا ہوں جو میرے ذہن میں ہوتا ہے وہی زبان پر لے آتا ہوں اورلوگ روٹھ جاتے ہیں میں اپنی اس عادت کے باعث کتنے ہی دوستوں سے محروم ہو چکا ہوں ،  چلو آج ایک اور سہی۔وہ کچھ آزردہ سی ہو کر گویا ہوئی: ارے،  آپ سے کس نے کہہ دیا کہ مجھے آپ کی باتیں بری لگیں ،  میں نے تو آپ کی تردید تک نہیں کی محض عدم اتفاق کا اظہار کیا،  ممکن ہے اگلی بار میں آپ سے متفق ہو جاؤں ۔بھئی کچھ وقت تو دیجئے ناں ۔میں نے میز کی سطح پر انگلیاں سے تھپتھپائیں ۔، وہ بولی : لگتا ہے آپ کو میری باتوں سے مایوسی ہوئی۔ میں نے سادا لہجے میں کہا : نہیں ،  لیکن یہ ہمارا اجتماعی رویہ ہے کہ ہم دوسروں کے بارے میں کہے اور لکھے ہوئے سچ کو خوش دلی سے قبول کر لیتے ہیں لیکن اگر کوئی ہماری سچائی زیر بحث لے آئے تو بکھر جاتے ہیں ۔اس نے رسانیت سے میری بات کی تردید کی: میرے ساتھ یہ معاملہ نہیں ہے،  اس کی وجہ کچھ اور ہے،  ٹھیک ہے میں ڈراما کرتی ہوں دراصل میں خود کو ڈھکا چھپا رکھنا چاہتی ہوں ۔ ویسے یہ حقیقت ہے کہ میں خواب واقعی نہیں دیکھتی۔مجھے لگا وہ اس موضوع پر مزید بات نہیں کرنا چاہتی: اچھا یہ بتاؤ abstract art کے بارے میں تم کیا کہتی ہو؟ اس نے ذرا سوچا پھر نارمل انداز میں بولی:Abstract paint کرنے کے لیے تو بڑا وژن اور مہارت درکار ہوتی ہے اگر کوئی ایسا باکمال ہو بھی تو پوچھتا کون ہے،  یہاں تو ابھی Realistic artکو سمجھنے اور سراہنے والے بہت کم ہیں ۔میں نے ہلکے پھلکے انداز میں پوچھا:تو پھر تم کس کے لیے مصوری کا نیا رجحان متعارف کرانے کی تک و دو میں ہو؟ اس کے چہرے پر رنگ سے بکھر گئے: بھئی آپ تو کمال کے آدمی ہیں ۔آرٹ کریٹکس میرا پورا کام دیکھنے کے باوجود یہ سمجھنے سے قاصر رہے اور آپ... میں نے بات قطع کی :ارے یار میر ے قصیدے جانے دو۔مجھے میرے سوال کا جواب دو۔وہ جھٹ سے بولی:فن کسی سرحد کا پابند تو نہیں ہوتا، ذرا ڈھنگ کا کچھ کام کر لوں تو اس کے قدردان بھی مل جائیں گے، اب تو دنیا بہت سکڑ گئی ہے۔ آپ کو معلوم ہے میری وہ پینٹنگز جو آپ نے پسند کی تھیں انہیں ایک غیرملکی نے خرید لیا۔ دیکھئے اصل ماجرا تو میری اپنی آسودگی کا ہے۔میں نے مسکراکے چوٹ کی:اب تم دیکھ لو تم خود اپنی باتوں سے میری تلخ نوائی کی تصدیق کر رہی ہو۔وہ خوش دلی سے مسکرائی: میں نے کب کہا کہ آپ کی بات درست نہیں ۔ اصل میں مجھے دوستوں کی توقعات سے خوف آتا ہے،  میں سوچتی ہو اگر میں وہ سب نہ کرسکی جس کی انہیں مجھ سے توقع ہے تو وہ کتنے مایوس ہوں گے۔پھر ذرا ناراضی سے بولی : اور آپ نے دوستی کے خاتمے کا اعلان کیوں کیا؟ میں ہنسا:تو تمہیں اس کی پروا ہے۔ اصل میں اب تک دوسرے اس قسم کے اعلانات کرتے رہے ہیں ، اس بار میں نے سوچا کہ میں خود یہ کر گزروں ۔اس نے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر مجھے دیکھا۔ مجھے لگا جیسے ایک مقناطیسی لہر نے مجھے اپنے حصار میں لے لیا ہو۔وہ دھیمے سے بولی : آئندہ ایسی بات مت کیجئے گا،  مشکل سے تو آنکھ والا میسر آیا ہے اور آپ اسے بھی مجھ سے چھین لینا چاہتے ہیں ۔ اس کے لہجے میں عجب لگاوٹ تھی۔ہوٹل کے بل وغیرہ سے نمٹ کے ہم گاڑی میں آ بیٹھے۔ اس نے گاڑی اسٹارٹ کی تو میں نے اسے چھیڑا:کہو! ایک کڑوے آدمی کے ساتھ شام کیسی گزری؟وہ ہنسی پھر کہا : بہت مدّت بعد کسی کے ساتھ وقت گزار کر خوشی کا احساس ہوا اور کڑواہٹ تو اس میں تو کچھ ایساذائقہ تھا کہ بار بار چکھنے کو جی چاہے۔ میں نے پوچھا: کیا خیال ہے چائے ہو جائے۔ اس نے بڑی مسرت سے کہا: اوہ! یس، مگر کہاں ؟میں بولا:بس سیدھی چلتی رہو آگے پٹھان ہوٹل ہے۔مجھے گھر پر اتارتے ہوئے اس نے کہا: اب میں اکثر فون پر آپ کو پریشان کرتی رہوں گی۔پھر کچھ جھجک کے پوچھا: آپ کی مسز کو تو اعتراض نہیں ہو گا؟میں نے رک کر کہا : کیوں بھئی اس میں اعتراض کی کیا بات ہے بلکہ کبھی تم گھر آؤ۔وہ بہت مہربان خاتون ہیں تمہیں ان سے مل کر خوشی ہو گی۔وہ مسکرائی :ضرور،  ویسے وہ بہت خوش نصیب ہیں ۔میرے ذہن میں اس کے مکالمے جیسے دائروں میں ڈول رہے تھے، میں نے سوچا۔ وہ ایک حساس فن کارہ ہے بھلا یہ کیسے ممکن ہے کہ اس کی نیند خوابوں سے محروم رہتی ہو۔خواب تو اُس کی آنکھوں سے چھلکے پڑتے ہیں لیکن شاید کسی حد تک وہ سچ ہی کہتی ہے،  ممکن ہے اب تک اس نے وہ خواب دیکھا ہی نہ ہو جسے دیکھنے کی وہ تمنائی ہے اور وہ خواب،  جو اس کی حسین آنکھوں میں در آتے ہوں گے انہیں وہ خواب کا درجہ دینے پر آمادہ ہی نہیں ۔ان میں سے کچھ خواب وہ خود پینٹ کر لیتی ہے اور باقی ان لوگوں میں تقسیم کر دیتی ہے جو ان کے امیدوار ہوتے ہیں ۔ ہر آدمی اپنے رویے میں کتنا منفرد ہوتا ہے۔ جب میں گھر پہنچا تو میری خاتون خانہ حسب معمول میرے انتظار میں سوکھ رہی تھیں ۔ میں لباس وغیرہ تبدیل کر چکا تو وہ میرے لیے چائے لے آئیں ۔ یہ اس بات کا اشارہ تھا کہ وہ ملاقات کا احوال الف سے ے تک سننا چاہتی ہیں ۔میں نے پوری تفصیل کے ساتھ انہیں سب کچھ سنا ڈالا۔ انہوں نے برملا کہا:اچھی لڑکی ہے اور آپ کی قدر کرتی ہے، مجھے اس سے مل کر خوشی ہو گی۔اب رات خاصی ہو چکی تھی ہم نے بستر سنبھالا اور خود کو نیند کے حوالے کر دیا۔اب ہم آئے دن فون پر بات کرتے۔وہ ایک روشن خیال لڑکی تھی میں اس سے ہر موضوع پر سہولت سے بات کرتا۔وقت کے ساتھ میرے لیے اس کی کشش اور پسندیدگی میں اضافہ ہو رہا تھا۔ہم دوست تھے لیکن شاید اب دوستی کا لفظ اس تعلق کی مناسب ترجمانی کے لیے نا کافی تھا۔اصل میں ہوتا یہ ہے کہ کبھی کبھی ہم کسی سے اس سطح پر تعلق استوار کر لیتے ہیں جہاں صنف کی اہمیت نہیں رہ جاتی بلکہ یہاں تک کہ جیسے دو نفوس آپس میں حلول کر گئے ہوں ۔ ہمارے درمیان کچھ ہے جسے میں پوری معنویت کے ساتھ بیان کرنے سے قاصر ہوں ۔ لیکن یقیناً،  یہ جو کچھ بھی ہے اور چاہے اسے کوئی بھی نام دیا جائے وہ کچھ مختلف سا ہے۔ اس کی پینٹنگز میں جو چیز مجھے حیران کرتی ہے وہ موضوع کا تنوع اور رنگوں کے امتزاج کے علاوہ برش کا ماہرانہ استعمال ہے، کم لکیروں میں پوری بات کہہ دینا بڑی مہارت اور ریاضت چاہتا ہے اور وہ اس پر پوری قدرت رکھتی ہے۔ دھان پان سی یہ نمکین لڑکی اپنے اندر کوئی طلسم رکھتی ہے۔ اسے دور سے دیکھئے تو اس میں ایسا کچھ بھی نہیں ہے کہ آپ ششدر رہ جائیں ۔ دراصل وہ چنگھاڑتے ہوئی دل کشی کی مالک نہیں ،  اس کی مثال تو اس نظم ایسی ہے جو اپنا حسن اور معنویت دھیرے دھیرے آپ پر منکشف کرتی ہے۔ آپ جیسے جیسے اس سے فاصلہ کم کرتے جاتے ہیں اس کے وصف آپ پر کھلتے جاتے ہیں اور اگر آپ حسن پرکھنے اور سراہنے والی آنکھ سے نوازے گئے ہیں تو آپ یہ دیکھ کر حیران رہ جاتے ہیں کہ ہر گزرتے لمحے کے ساتھ اس کی جاذبیت میں اضافہ ہوتا جاتا ہے۔ آ پ اپنی یہ کیفیت اس سے پوشیدہ نہیں رکھ سکتے کیوں کہ اس کی آنکھیں پرکشش ہی نہیں بے حد چوکس بھی ہیں ۔ اُس کے لیے کسی کو اس کیفیت میں دیکھنا کوئی بڑے اچنبھے کی بات نہیں ،  کیونکہ ایسے نظارے تو وہ آئے دن دیکھنے کی عادی ہے۔اس کے باریک سے ہونٹوں پر ایک مسکراہٹ کھلتی ہے اور وہ بے نیازی سے آگے بڑھ جاتی ہے۔یہ کسی عام سی لڑکی کا نہیں بلکہ ایک منفرد اور باصلاحیت انسان کا رد عمل ہے جو واقف ہے کہ کس جوتے کو کس پیر میں جگہ دینی چاہیے اور کسے نظر انداز کر کے بے نیازی سے آگے بڑھ جانا چاہیے۔ ایک پینٹر کی حیثیت سے کراچی سے دھلی بلکہ اس سے بھی دور دور تک اس کی دھوم ہے۔ہر ہو ش مندفن کار کی طرح وہ بھی رنگ کاری کے ہوکے میں مبتلا نہیں لیکن جب وہ پینٹ کرتی ہے تو اس کی تخلیق شہر کے چائے خانوں میں فن کے بخیے ادھیڑنے والوں کا خاص موضوع بن جاتی ہے۔وہ اپنے رویے میں کھلے ذہن کا مظاہرہ کرتی ہے مگر ناپ تول کر گفتگو کرنے کی عادی ہے،  اسے ایسے لوگ اچھے تو نہیں لگتے جو اپنے قصیدے پڑھنے کے عادی ہوں لیکن وہ ان سے خوش ادائی سے بات کرتی ہے یہ الگ بات کے اس دوران اس کے دونوں کان نہایت مصروف رہتے ہیں ۔ مجھے ایسا لگتا ہے کہ وہ پہلی ہی ملاقات میں آدمی کو اوپر سے اندر تک دیکھ لینے کی صلاحیت رکھتی ہے اور پھر انسان جس طاقچے کا مستحق ہوتا ہے اسے وہاں سجا دیتی ہے۔ اپنی ذات سے بے نیازی اور بے پروائی کو اس کی ایک خصوصیت جانئے لیکن میں شروع شروع میں اس کی اس ادا پر خاصا شاکی رہا۔ یہ تو بہت بعد کو جا کر میری سمجھ میں آیا کہ جو اندر سے بھرا پرا ہو وہ اگر اپنے ظاہر پر زیادہ توجہ نہ بھی دے تو کوئی حرج نہیں ۔ وہ اپنے لباس کا خیال تو شاید رکھتی ہے لیکن اسے اس کی ہرگز پروا نہیں کہ وہ کیسی دکھائی دیتی ہے اور اسے اس کی فکر بھی کیوں ہو،  اس کے لیے اس کی بے پناہ ذہانت اور اپنے فن پر مکمل دسترس ہی بہت کافی ہے۔ میں اس کی خود اعتمادی دیکھ کر ڈر جاتا ہوں کیوں کی حد سے بڑھا ہوا اعتماد انسان کو کسی خسارے سے بھی دوچار کر سکتا ہے۔مگر وہ کہہ چکی تھی کہ اس کے نفع اور نقصان کے پیمانے الک ہیں ۔ ممکن ہے جسے میں خسارہ کہہ رہا ہوں وہی اس کے لیے کامیابی کی نوید ہو۔ حساس لوگوں کا ایک المیہ یہ بھی ہوتا ہے کہ وہ کسی کو افسردہ نہیں دیکھ سکتے۔ کتنے ہی لوگ ہیں جو گھنٹوں اُسے فون پر مصروف رکھتے ہیں ،  وہ بھی ان سے خوش دلی سے باتیں کیے جاتی ہے۔ لیکن مجھے گمان سا ہے جیسے اپنی اس مصروفیت کے دوران اس کے ذہن میں اپنے کسی شہکار کا کوئی کردار ہوتا ہے،  جس کے موڈ،  رنگوں کے امتزاج اور اسٹائل کے چناؤ کے لیے وہ ان طول طویل مکالموں سے مدد لیتی ہے۔اصل میں اس کی بے پناہ ذہانت کسی کو بھی اپنا اسیر بنانے کی اہلیت رکھتی ہے اور اگر اس کا ہدف ذہنی بلاغت کا مالک بھی ہو تو جانئے ان دونوں کی لاٹری نکل آتی ہے۔ایسے مکالموں سے کئی شگوفے پھوٹتے ہیں اور کورے کاغذوں پر خوب برگ و بار لاتے ہیں ۔ایک دن دروازے کی گھنٹی بجی۔ میں یہ دیکھ کر دنگ رہ گیا کہ وہاں وہ کھڑی تھی۔ اس نے سنجیدگی اور متانت سے پوچھا: آپ کی مسز سے ملاقات ہو سکتی ہے؟ میں مسکرایا: جی کیوں نہیں ، اندر آئیے۔میری بیوی نسوانی آواز سن کر دروازے پر پہنچ چکی تھیں ۔انہوں نے نہایت والہانہ انداز میں اس کا خیرمقدم کیا۔وہ دونوں جلد ہی پرانی شناساؤں کی طرح گفتگو کرنے لگیں ، مجھے یہ سب بہت اچھا لگا۔میں نے مناسب سمجھا کہ الگ تھلگ ہو جاؤں مگر کہاں ...جلد ہی بیگم آ دھمکیں :یہ کیا روکھا پن ہے۔لڑکی کیا سوچے گی ہم کتنے بد اخلاق لوگ ہیں ۔ میں چپ چاپ ان کے سا تھ ہو لیا۔ڈرائنگ روم میں وہ ایسی بے فکری سے بیٹھی تھی جیسے یہ اس کا اپنا گھر ہو۔میری بیوی نے صفائی پیش کی:انہوں نے سوچا کہ شاید یہ ہماری گفتگو میں مخل ہو رہے ہیں ۔وہ مسکراتی نظروں سے مجھے دیکھتے ہوئے مہذب انداز میں بولی:جی،  میں گزشتہ چند ماہ میں انہیں خاصا جان گئی ہوں ، پھر مجھ سے مخاطب ہوئی: آپ کی مسز تو آپ سے بھی زیادہ محبت کرنے والی ہیں ۔اب وہ میری بیوی سے مخاطب تھی: آپ جس قدر خوش اخلاق اور فراغ دل ہیں اس سی قدر اچھے مقدر سے بھی نوازی گئی ہیں ۔میری بیوی نے مجھ پر محبت کی نظر ڈالی: بلاشبہ یہ بہت اچھے دوست اور خیال رکھنے والے انسان ہیں ۔یہ ملاقات کافی دیر جاری رہی اور اس دوران وہ بلا جھجک بہت سلیقہ سے محو کلام رہی۔وقت کوجیسے پر لگ گئے تھے۔ ہماری دوستی کے دن،  برس میں بدل گئے۔ آج وہی تاریخ تھی جب ہم پہلی بار ملے تھے۔ میرے ذہن میں وہ ملاقاتیں کسی فلم کی صورت گردش کر رہی تھیں کہ اچانک فون کی گھنٹی نے میرے تصور کو بکھیر دیا۔:ہلو،  کیسے مزاج ہیں جناب؟ اس کی شوخ آواز کانوں میں رس گھول رہی تھی۔: ہاں ،  بہت اچھے، تم سناؤ؟اس نے ذرا ٹھہر کے کہا:آج بہت خاص دن ہے۔میں نے ان جان بن کر پوچھا : اچھا،  بھلا کیسے؟ایک چہکار سنائی دی: صاحب،  آج ہی کے دن ہماری پہلی ملاقات ہوئی تھی۔ اب میں کیا کہہ سکتا تھا: واہ،  اتنی جلد سال گزر گیا۔تو پھر کیا پروگرام ہے؟وہ بڑے جوش سے گویا ہوئی: پروگرام تو آپ ہی فائنل کرتے ہیں ۔میں نے سوچنے میں کچھ وقت لینے کے بعد تجویز پیش کی: ایک لمبی ڈرائیو کے بارے میں کیا خیال ہے۔ اس نے خوش ہو کر کہا:بہت عمدہ آئیڈیا ہے پھر وہیں ہائی وے پر کہیں ڈنر کریں گے، بڑا لطف رہے گا۔ہم نے وقت طے کیا۔اسی ملاقات کے دوران میں نے ایک موقع پر سوال کیا:آج کل اسد سے کچھ ان بن ہے کیا؟ اس نے سوچتی ہوئی آواز میں کہا: اسد، نہیں ،  ان بن کیا ہونی ہے، وہ تو بد رنگ ہو چکے جیسے کورا کاغذ...میں نے بات بیچ سے ہی اچک لی:بد رنگ؟ کورا کاغذ؟ کیا کہہ رہی ہو؟ اس نے افسردگی سے کہا : انہوں نے مجھے نہایت مایوس کیا ہے۔ اب اسے ٹوکنا ضروری تھا: تمہیں اپنے سنیئر کے بارے میں اس قسم کی باتیں نہیں کرنی چاہیں ۔ اس نے نفی میں سر ہلایا:بات یہ نہیں ہے، اب جیسے وہ آدمی رہا ہی نہیں جس کی انفرادیت اور مشاقی کی میں قائل تھی۔اب میں ان کی کلر اسکیم اوراسٹروکس کی یکسانیت سے اکتا چلی ہوں ۔انہیں برش رکھ دینا چاہیئے مگر وہ ہیں کہ خود کو دہرائے چلے جا رہے ہیں ۔انہیں ایک لمبے عرصے تک آرام کرنا چاہئے،  تاکہ نئے تجربات سے توانائی کشید کر کے برش استعمال کرنے کے قابل ہو سکیں ۔مجھے لگتا ہے ان کے پرانے اچھے کام کی تکرار انہیں نگل رہی ہے۔ وہ بہت افسردہ لگ رہی تھی: چلو چھوڑو،  میں بھی کیا ذکر لے بیٹھا۔ یہ بتاؤ تمہاری سولو ایگزی بیشن کی تیاری کیسی ہے؟ اس نے کھٹ سے کہا: سب تیار ہے بس کسی فیتہ کاٹنے والے کی تلاش ہے۔پھر خوش دلی سےْ ٹھٹا لگایا: نہیں ،  آپ جانتے ہیں میں یہ سب نہیں کرتی۔بس کچھ پینٹنگز پر کام باقی ہے۔وہ فائنل ہو جائیں تو ڈیٹ کا اعلان کر دیں گے۔اس کے بعد ہم نے کھانا کھایا دنیا جہاں کی باتیں کیں اور پھر واپس آ گئے۔ لگتا تھا وقت، جیسے آواز کی رفتار سے دوڑا جاتا ہو۔اس بیچ ہم نے کتنی ہی بار دوستی کا دن مبارک ہو، ایسی کئی مبارک بادوں کا تبادلہ ہوا۔ لیکن اس صبح میں پہلی بار یہ سوچنے پر مجبور ہوا کہ اس تعلق کا انجام کیا ہو گا ؟ گزشتہ رات میں نے ایک خواب دیکھا تھا اور سیانے کہتے ہیں کہ جب کوئی لڑکی کسی کی نیندیں رنگین کرنے لگے تو سمجھ لینا چاہئے کہ اب واپسی کی ہر راہ مسدود ہو چکی ہے۔تو اب میں کیا کروں ؟ میری سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ اپنا خواب کس سے شیئر کروں ۔ میں نے ہڑبڑا کر اسی کے نمبر ڈائل کر دیئے۔وہ جیسے میری کال ہی کی منتظر تھی: کیسی عجب بات ہے میں آپ سے رابطہ کرنے کا سوچ ہی رہی تھی کہ آپ کی کال آ گئی۔میں بجھے سے لہجے میں بولا::میرے پاس تمہیں سنانے کے لیے اس سے زیادہ عجیب بات ہے۔وہ بڑے اشتیاق سے بولی:تو بتائیے ناں ۔میں سپاٹ سی آواز میں گویا ہوا: گزشتہ شب میں نے ایک خواب دیکھا... اس نے بات کاٹتے ہوئے چونک کر پوچھا: خواب،  آپ نے۔ جانے کیوں میں جھنجلا گیا۔ کیوں ،  میں خواب نہیں دیکھ سکتا؟وہ گڑبڑا گئی: نہیں ، میرا مطلب تھا کہ... خیر چھوڑیئے،  آپ فرمائیے آپ نے کیا دیکھا؟میں نے غنودہ سی آواز میں کہا: میں نے دیکھا کہ میں اور تم سمندر کے کنارے بیٹھے ہیں ۔یکایک سمندر تیز ہو جاتا ہے جیسے اس میں بھونچال آ گیا ہو۔اس کی لہروں کا اچھال کئی کئی فٹ بلند ہو جاتا ہے اور جب وہ گرتی ہیں تو ان کے گرنے سے ایک پُر شور موسیقی سی جنم لے رہی ہے۔تم سہم کے پوچھتی ہو:یہ سمندر جلال میں کیوں ہے؟میں نفی میں گردن ہلاتا ہوں :سنو،  وہ کچھ کہہ رہا ہے۔ تم خوش ہو کر کہتی ہو : ارے ہاں ،  یہ تو خیر مقدمی گیت سا ہے۔میں غور سے سنتے ہوئے کہتا ہوں :وہ کہہ رہا ہے اجلی روحوں ،  آؤ، میرے نزدیک آؤ تاکہ میں تمہیں خود میں سمیٹ سکوں ۔ اب سمندر پُر سکون ہو چکا ہے۔ میں اٹھ کر بازو سے تمہیں تھامتا ہوں اور ہم گیلی ریت پر اپنے نقش ثبت کرتے ہوئے آگے ہی آگے بڑھے جاتے ہیں ۔اچانک زمین ہمارے قدموں سے نکل جاتی ہے۔یہاں میری آنکھ کھل گئی۔ وہ سوچتی ہوئی آواز میں بولی:یہ تو بڑی کھلی بشارت ہے۔ آخر آپ اتنے پریشان کیوں ہیں ۔پھر ذرا دیر ٹھہر کے بولی :تو چلیے ناں کسی دن سمندر سے ملاقات کر آتے ہیں ۔میں نے عالم حیرانی میں اس کی بات سنی: بشارت؟ کیسی بشارت؟اور اگر اس نے واقعی ہمیں سمیٹ لیا؟ اس نے بڑے تیقن سے رس گھلی آواز میں کہا: نہیں ،  وہ ایسا نہیں کرے گا۔وہ تو ہمارا دوست ہے آپ نے دیکھا نہیں اس نے ملاپ کا کیسا واضح اشارہ دیا ہے۔میں تو بے حد خوش ہوں ۔ اس کے سمندر چلنے کے اصرار کو میں ٹال گیا۔ اس سے بات کر کے میری بے چینی میں اور اضافہ ہو گیا تھا۔میں اسی ادھیڑ بن میں تھا کہ میر ی بیگم کمرے میں داخل ہوئیں ۔ انہوں نے کئی روز سے مجھ پر گہری نظر رکھی ہوئی تھی۔وہ مجھے بے چین دیکھ کر بولیں : کس چہ کنم میں ہیں ؟میں نے رنگے ہاتھوں پکڑے جانے والے کی طرح گھبرائی ہوئی آواز میں کہا:نہیں ... کچھ بھی نہیں ،  بس یونہی۔وہ مسکرائیں : لیجئے جیسے ہم انہیں جانتے ہی نہیں اور بات چھپانے کا یہ کیسا بھونڈا انداز ہے؟میں نے خاموشی میں ہی عافیت جانی۔انہوں نے کہا:لگتا ہے اس بار آپ نے واقعی لمبی اڑان کا ارادہ باندھ لیا ہے۔بس ذرا عمر کا دھیان رکھیے گا۔میں نے تیزی سے کہا: کیوں کیا اس عمر میں میری ہر خوشی، ہر چاہت اور تمام حقوق پر خط تنسیخ پھیرا جا چکا ہے؟ انہوں نے دھیمے لہجے میں کہا:کون کہتا ہے بالکل نہیں ،  ہم تو بس اتنا کہہ رہے ہیں یہ دیکھیں لوگ کیا کہیں گے۔میں بپھر گیا: کون لوگ،  کس کی بات کر رہی ہیں ، ان کی جنہوں نے کبھی پلٹ کر میری خبر تک نہیں لی۔نہیں ،  مجھے ان کی یا کسی بھی اور کی کوئی پروا نہیں ہے میرے جارحانہ انداز پر وہ حیران رہ گئیں :ارے،  آپ تو جذباتی ہو گئے۔ چلیے ٹھیک ہے،  میری توبہ جو آئندہ میں ایک لفظ کہوں ۔میں نے ذرا نرم لہجہ اختیار کیا:آپ جو چاہیں کہیں مگر مجھے بھی آزادی دیں کہ میں جو چاہوں کرتا پھروں ۔ وہ تلخ ہو گئیں :آپ جانیں ،  ہمیں کیا۔پھر پیر پٹختی ہوئی کمرے سے نکل گئیں ۔میں سوچتا ہوں ،  ٹھیک ہے،  اس نے مجھے بھی ایک خواب سونپ دیا ہے لیکن کیا محض اس لیے کہ اس کی اور میری عمر میں آدھے سے کچھ کم کا فرق ہے۔میں اپنی خوشی،  اپنی آرزو سے دست بردار ہو جاؤں ؟کیا بال پکنے کے بعد مجھے یہ حق حاصل نہیں رہا کہ میں اپنی عزیز ترین ہستی کے ساتھ گھوموں پھروں ۔جب وہ خود اسے ملاپ کی بشارت قرار دے چکی ہے تو اب لوگ جو چاہیں کہتے پھریں ۔میں اس کی قربت سے دست بردار ہونے پر آمادہ نہیں ہوں ۔اپنی اس سوچ پر میں ہنس پڑا۔
٭٭٭

کھانے کی میز پر ایک مکالمہ 
 
(کمرے میں دودھیا روشنی بکھری ہوئی ہے۔خدا برہمی سے خاموش بیٹھے کسی سوچ میں گم ہیں اور کمرے کے باہر ہر طرف جیسے چراغ روشن ہیں ۔کسی کی جرات نہیں یہاں آئے۔ فرشتوں تک کو اجازت نہیں یہاں آئیں ۔)
 
یہاں شیطان اور خدا ہر روز رات گئے خفیہ ملاقات کیا کرتے ہیں ، 
ایک ہی میز پہ اک ساتھ ڈنر کرتے ہیں ۔آئندہ روز کی ترتیب طے ہوتی ہے
، فیصلہ تو خیر خدا کرتے ہیں ، 
مگر یہ بھی نہیں ہے کہ وہ جو کچھ کہہ دیں ، 
شیطان بے چوں و چرا بات مان لیتا ہے۔
نہیں ،  خوب بحث تکرار ہوا کرتی ہے، 
دلیل،  رد د دلیل اور اپنے اپنے موقف پہ جمے رہنا، 
خدا کو اکثر اس کی بات کی توثیق کرنی پڑتی ہے۔ 
(شیطان کے داخل ہوتے ہی کمرے میں دودھیا روشنی پر نیلگوں رنگ غالب آ جاتا ہے۔)
خدا: (ذرا ناخوشی سے) آج بہت دیر لگا دی تم نے۔
شیطان(میز پہ کھانا چنتے ہوئے۔) میں کتنا مصروف تھا، آپ کو معلوم تو ہے۔
ایک عالم کو میں کاندھے پہ لیے پھرتا تھا، 
اسے زیرو زبر کرتا تھا، 
ہاں ،  اب ایک مدّت سے مجھے کوئی کام نہیں ، 
خوب جی بھر کے آرام کیا کرتا ہوں ، 
کاہلی نے میری رفتار ضبط کر لی ہے۔
خدا: (ذرا تعجب سے) یعنی جی چھوڑ ہی بیٹھے آخر، 
تم اپنی جنگ ہار گئے۔
شیطان:(تحقیر سے مسکراتے ہوئے) اب کوئی جنگ کیا ضروری ہے، 
میرا سالار،  آپ کا نائب۔جنگ آزما ہے میری جگہ، 
آپ کی زمین پر اب اس کی حکم رانی ہے، 
وہ جو چاہے سُو کیا کرتا ہے۔
آپ آگ کے کیڑے کو رزق دیتے تھے وہ لوگوں میں بھوک بانٹتا ہے۔
آپ مخلوق کی دست گیری کیا کرتے تھے اوراس کی عمل داری میں ، 
زمیں پہ جشن مرگ جاری ہے۔
کم زوروں ،  مجبور اور بے بس لوگوں کو وہ دکھ کے نئے ذائقے چکھاتا ہے۔
افریقا ہو یا کابل ہو،  بغداد، تیونس ہو یا بوسینیا، 
ہر طرف اُس نے اک آگ سی لگا دی ہے، 
ویت نام کو اس نے خون میں نہلایا ہے، 
روس کی عظمت خاک میں ملا دی ہے، 
اور اب ایران پہ دانت تیز کیے بیٹھا ہے، 
کوئی نہیں ہے جو اسے روک سکے،  کس میں ہمت کہ اسے ٹوک سکے۔
 وہ کھلونے جو وہ بناتا ہے ان سے کھیل کر بچے اپنی جاں سے جاتے ہیں ۔
وہ اپنے ڈرون حملوں سے پہاڑوں کو چھید ڈالتا ہے
اُس کا انداز جنگ نرالا ہے، 
بہت سے ملکوں کے ہراول دستے اور اس کے فوجی
جس پہ چاہتے ہیں جا جھپٹتے ہیں ، بے دریغ قتل عام کرتے ہیں ۔
ہر طرف بارود کی بو پھیلی ہے۔
اور وہ بھی کسی سے کم تو نہیں ، 
وہ جو آپ کا نام لے کہ لڑتے ہیں ۔
وہ جنگلوں اور پہاڑوں میں کہیں رہتے ہیں 
اور جب بھی ان کا جی چاہے، اچانک ہی موت کی مانند آ دھمکتے ہیں ۔
اک دھماکا سنائی دیتا ہے اور پھر چیخیں ، سسکیاں ، آہ و زاری، 
 موت سرعام رقص کرتی ہے۔
میں آپ کا معتوب سہی، 
لیکن پھر بھی کون ہے جو مجھ سے زیادہ آپ سے واقف ہو گا؟
یہ سب آپ کی چاہت تو نہیں ہو سکتی۔
انسان ہی اس ابتری کا باعث ہے۔
جو کچھ اُس نے کر دکھایا ہے وہ تو شاید،  میں تک بھی نہیں کرسکتا۔
اور میں اس سے بھی خوب واقف ہوں ، 
کہ یہ سب،  آپ کی رضا تو نہیں ہو سکتی۔
خدا: تمہاری باتوں پہ حیران ہو رہے ہیں ہم، 
تم سمجھتے ہو کہ اس سب سے لاعلم ہیں ہم؟
اور پھر یہ سب تو تمہارے اپنے حق میں جاتا ہے۔
شیطان: میرا کام مارنا نہیں بہکانا تھا، 
نسل انسانی نابود نہ ہو جائے کہیں ۔
خدا: وہ،  جسے تم اپنا سالار جنگ کہتے ہو، 
کتنا بودا ہے تمہیں اندازہ نہیں ؟
اگر ہم چاہیں ، ایک چیونٹی سا مسل کر رکھ دیں 
 لیکن وہ حد ابھی نہیں آئی، ہم نے ڈھیل چھوڑ رکھی ہے۔
یہ سب موت کے بہانے ہیں ۔
شیطان( تعجب سے) اور کیا رہ گیا ہے ہونے کو، ظلم کی کوئی انتہا ہو گی؟
خدا: (تردد سے) تم اپنی اصل کو بھول کیوں نہیں جاتے؟
اس بربادی اور خوں ریزی پر،  تم کو یہ فکر کیسی؟
تمہارے دل کے اس تلاطم سے الجھ رہے ہیں ہم، 
تم وہی کرو کہ جس کے لیے تم یہاں پہ بھیجے گئے
ابھی تمہارے لیے کتنا ہی کام باقی ہے، 
 تم تو اپنا الگ اک نظام رکھتے ہو ایک پوری فوج ہے،  ہر کارے ہیں 
 اور تمہارے اہداف اس قدر مشکل بھی نہیں ، 
انسان تو بھٹکنے کو بے قرار پھرتا ہے۔
اور ہم نے دیکھا، تم کس قدر سہولت سے، 
بس ایک خواب کے بدلے جہنم فروخت کرتے ہو۔
شیطان: بھیجا گیا؟ اچھا، 
میں تو اس گمان میں تھا کہ میں ایک راندہ درگاہ ہوں 
اور یہ سزا میرا مقدر ہے۔
میرا انتظام ناکام ہو چکا ہے اب، 
اُس کا نظام مجھ سے بہتر ہے، 
اور اس کے کارندے میرے شیاطین سے بھی بڑھ کہ ہیں ، 
میں اُس کے مقابل کیا ہوں ۔
خدا: تم کچھ زیادہ ہی مرعوب نظر آتے ہو، 
یہ وہی تو ہے، تم جسے سجدہ کرنے سے انکاری تھے، 
اور اسے ورغلانے کا دعوا کیا تھا تم نے، 
اب جاؤ اپنے دعوے کو ثابت بھی کرو۔ 
شیطان: میں تو تعمیل حکم کرتا تھا۔
آپ کی رضا سے میں خاک کو آگ میں بدلتا تھا۔
آپ کو یاد تو ہو گا اس فریضے پر، کس نے معمور کیا تھا مجھ کو، 
کس نے میرا مرتبہ خاک میں ملایا تھا؟
خدا: (کچھ سوچتے ہوئے) تم اب تک ہماری حکمت سمجھ نہیں پائے؟
اک توازن کے لیے یہ سب بہت ضروری تھا۔
اور تم کس مرتبے کی بات کرتے ہو؟
ہماری بعد تم ہی اقتدار رکھتے ہو۔
شیطان:(استہزہ کے انداز میں ) میں اور اختیار میرا، 
یہ سب پرانی باتیں ہیں ۔
خدا:(بات ان سنی کر کے) اب تو ہم بھی بہت احتیاط کرتے ہیں 
جانے کب تم کوئی ایسی چال چل جاؤ، کہ ہم دیکھتے کے دیکھتے ہی رہ جائیں ۔
شیطان: (ذرا چڑ کر) میں چال کیا چل سکتا ہوں اس کے ہوتے ہوئے، 
اب آپ کا نائب تنہا اقتدار رکھتا ہے۔
آپ کے بعد اور میں ؟یہ کیسے ممکن ہے؟
آپ بھول گئے، یہ تو انسان کا مقدر ہے۔
اور یہی بات سارے فساد کی جڑ تھی۔
خدا : (زچ سے ہو کر) ذرا سوچو، ہم نے جہنم کس لیے بنایا ہے؟
ہاں ،  تم مگر یہ کیا سمجھو،  یہ ایک امر ربّی ہے۔
تم سمجھتے ہو کہ آزاد ہو تم؟
ہاں ،  ٹھیک ہے مگر پھر بھی، بس ایک خاص حد تک، 
اس کے بعد کی ہم جانتے ہیں ۔
شیطان: (گستاخی سے) کس جہنم کی بات کرتے ہیں ؟
وہ جو، ہر ذی روح کے باطن میں 
آپ نے جنت کہ ساتھ چھپا رکھا ہے۔
اور یہ دنیا، اسی خوف اور لالچ میں اچھا برا کرتی ہے۔
یعنی اس میں کوئی سچائی نہ تھی کہ میں جو چاہوں کروں ، 
یہ ایک وعدہ خلافی کے سواکچھ بھی نہ تھا۔
یہ غلط تھا کہ میں جس انداز میں چاہوں ، انسان کو گم راہ کروں ۔
خدا: (رسانیت سے) نہیں ،  تم پھر، ہماری بات کو غلط سمجھے۔
خالق،  مخلوق سے کوئی جھوٹ بھلا کیوں بولے،  
وہ سب سچ تھا جو ہم نے فرمایا، 
تم جو چاہے کرتے پھرے،  کیا ہم نے کبھی روکا ٹوکا؟
تم نے اک میں دوسری ریاست کی بنیاد ڈال رکھی ہے، 
کیا ہم نے اس بغاوت پہ کچھ کبھی کہا تم سے؟
ہماری مشیئت کو کوئی بھلا کیا سمجھے۔
کل کی ترتیب تم نے کیا سوچیْ ؟
 
شیطان: اب یہ ہمارا کام نہیں ، 
جو مالک و مختار ہے وہی جانے۔
وہ اپنا لائحہ عمل آپ طے کرتا ہے۔
خدا: کیا تم ہمارے غضب کو بھول گئے؟
شیطان: میں بھلا کیسے بھول سکتا ہوں ؟
خدا: تو پھر تم نے وہی کرنا ہے جو تمہیں کہا جائے۔
شیطان: یہ ممکن نہیں ہے میرے لیے۔مجھے اس سے خوف آتا ہے۔
آپ کو طرز کہن بدلنا ہو گا،  اس موذی کے سر کو کچلنا ہو گا۔
(شیطان اچانک تحلیل ہو جاتا ہے۔کمرے میں دودھیا روشنی پھیلی ہوئی ہے،  خدا خاموش بیٹھے کسی سوچ میں گم ہیں ۔)


مہاتما
 

اخاہ منظر صاحب،  آپ کہاں بھول پڑے ؟ میں نے بشاشت سے کہا۔اسے دیکھ کر میں نہال ہو گیا۔اس نے اپنے ناتواں جسم میں سکڑنے کی مزید گنجائش نکال لی تھی جیسے کسی بجوکا کو کپڑے پہنا دئیے گئے ہوں ۔
اس نے چشمے کے عقب سے آنکھیں چمچمائیں : سوچا آج آپ کے ساتھ سرسبز سہ پہر گزاری جائے۔
میں نے ذرا تعجب سے اس کی بات سنی: اس کاٹتی دھوپ میں ؟ٹھیک ہے جیسا آپ چاہیں ۔ وہ گفتگو میں ہمیشہ تکلف سے کام لینے کا عادی تھا لیکن دیگر معاملات میں بے دھڑک واقع ہوا تھا۔
وہ میری بات سن کے مسکرایا: ارے صاحب! ہریالی نہیں تو کیا ہوا، آپ کی باتوں میں وہ مہک ہے کہ شام مہران یاد آ جاتی ہے۔ویسے آپ جا کہاں رہے تھے؟
میں نے عام سے لہجے میں کہا: گونگی دیواروں سے اکتا کر بھاگ نکلا تھا،  سوچا کچھ وقت آوازوں کے ساتھ گزارا جائے۔
منظر نے غور سے مجھے دیکھا: ہوں ،  جب ہی کان میں آلہ سماعت آڑا رکھا ہے تاکہ خوب محظوظ ہو سکیں ۔اس نے گردن اٹھا کے ادھر اُدھر دیکھا: آپ پان وغیرہ نہیں لیں گے۔
میں سمجھ گیا وہ کیا چاہتا ہے۔کیا سگریٹ ختم ہو گئے؟میں نے آہستگی سے پوچھا۔
 اس کے چہرے پر کشادہ مسکراہٹ تھی: جی،  آپ یہی سمجھ ل
آپ نے کھانا تو تناول فرما لیا ناں ؟میں نے جل کر پوچھا۔
جی، فی الحال تو کھا آیا ہوں ، رات کو دیکھا جائے گا۔ ویسے خاتون نے شام کے لیے کیا بنایا ہے؟ اس کے لہجے کی سادگی دیدنی تھی۔ہم نے سگریٹ وغیرہ لیے اور ایک چائے خانے میں آ بیٹھے۔اس نے لڑکے کو طلب کر کے دو دودھ پتّی کا آرڈر دیتے ہوئے میری طرف دیکھ کے پوچھا: آپ بسکٹ کھائیں گے؟
 میں نے تعجب سے سوچا آج یہ مارواڑی دریا دلی پر کیسے اتر آیا: نہیں ، اس تکلف کی کیا ضرورت ہے بس چائے کافی ہے۔
وہ مسکرایا: کسی ہوا میں مت رہیئے گا،  میں مہمان ہی ہوں ، یہ تو بس یونہی مونہہ کا مزا بدلنے کے لیے میزبانی کا فریضہ سنبھال لیا تھا۔وہ بڑی چاہ سے چائے کی طرف متوجہ ہو چکا تھا۔
ہماری دوستی کئی دہائیوں پر محیط ہے لیکن یہ ڈور ایسی بندھی ہے کہ ہر سرد و گرم کو سہارتی چلی آ رہی ہے۔ اب ہماری ملاقاتوں میں وہ پہلا سا تواتر تو نہیں رہا لیکن پھر بھی گاہے گاہے مل لیتے ہیں اور چاہے دو ملاقاتوں کے بیچ کتنا ہی زمانہ بیت جائے ہم جب بھی ملتے ہیں ایسا ہی لگتا ہے جیسے ابھی کل ملاقات ہوئی تھی۔میرا یار بھی عجب باغ و بہار شخصیت کا مالک ہے۔ پریشانیوں کی یلغار کیسی ہی شدید کیوں نہ ہو،  اس نے آج تک چاکری کا ایک پل نہیں گزارا۔وہ آپ اپنا ملازم ہے۔
میں اسی سوچ میں گم تھا کہ اس نے ہنکارہ بھرا: کہاں الجھ گئے جناب؟
میں نے چونک کر اس کی طرف دیکھا :نہیں ،  کچھ نہیں ،  بس کچھ خیال آ گیا تھا۔
 وہ میری آنکھوں میں جھانک کے مسکرایا: ہوں ،  خیر یہ بتایئے کہ کیا چل رہا ہے؟
میں نے تفصیل سے اسے اپنی قلمی کار گزاریوں سے آگاہ کیا-
اچھا تو گویا خوب ڈٹ کے کام ہو رہا ہے لیکن یہ تو فرمائیں آپ ایک زمانے سے قلم گھسے جاتے ہیں اور آپ کی جیب مونہہ بسورے کسی دمڑی کے لمس کے انتظار میں مری جاتی ہے۔کوئی ایسا کام کیوں نہیں کرتے کہ چار پیسوں کا امکان پیدا ہو سکے؟
اس کی بات سن کے میں ہولے سے مسکرایا : آپ نے بالکل درست کہا مگر چلیے آپ نے تو لاکھوں بنا لیے ناں ،  ویسے میرے پاس ان سب چھیدوں کا شمار ہے جو آپ کی جیبوں میں سے ہر دم آپ کا مونہہ چڑاتے رہتے ہیں ۔
اس نے ترنت بات پلٹ دی:اچھا یہ کہیئے آج کل آپ کے ادبی اکھاڑوں کا کیا حال ہے؟
ادب میں تو ان دنوں بس ایک آدمی کا ہی طوطی بول رہا ہے۔میں نے رسانیت سے اس کی بات کا جواب دیا۔
اچھا،  بھلا وہ کون ذات شریف ہیں ۔اس نے اشتیاق سے پوچھا۔
وہی ہمارے مہاتما اور کون؟۔ اس کے چہرے پر سے ایک رنگ سا آ کر گزر گیا۔
مہاتما،  کون مہاتما اور یہ بھی بھلا کوئی نام ہوا۔اس نے یوں کہا جیسے واقعی ان سے واقف نہ ہو۔
صاحب یہ بھی آپ نے خوب کہی، گویا آپ اس قدر معروف شخصیت سے بے خبر ہیں ۔نہیں جناب میں یہ نہیں مان سکتا۔یہ کیسے ممکن ہے کہ جس کی گونج یہاں سے وہاں تک ہو، اس شخص سے اس کے اپنے گھر کا ایک فرد نا واقف ہو۔اور یہ ان کا نام نہیں عرفیت ہے اپنا نام تو شاید اب وہ خود بھلا چکے ہیں ۔وہ جگت مہاتما ہیں ۔
وہ مکاری سے مسکرایا: ہاں ، سنا تو ہے آج کل ہر چھوٹی بڑی مجلس میں ایک صاحب شہ نشین پر متمکن نظر آتے ہیں ۔ ذرا بھاری سا ڈیل ڈول،  چکنا چپڑا بیضوی سا چہرہ اور بڑی بڑی آنکھیں جن کے رنگ صورت حال کی مطابقت سے بدلنے میں کمال رکھتے ہیں اور باریک ہونٹ جن پر ایک من موہنی چمک اٹھتی ہے جب انہیں اپنی کوئی واقف کار خاتون نظر آ جائے مگر یہی ہونٹ آگ بھی برسا سکتے ہیں اور گندم کے نوخیز دانے کی سی کھلتی ہوئی گندمی رنگت اور کاندھے کسی تھکے ہوئے دہقان کی طرح گرے گرے اور کمر پر جیسے ایک گٹھڑی سی بندھی ہو۔ یقیناً کبھی وہ خاصے قبول صورت رہے ہوں گے مگر اب اس عمر میں تو بس وہ آنکھیں متحرک رکھنے پرہی قدرت رکھتے ہیں اور گفتار کے غازی تو خیر وہ ہیں ہی،  مائیک پر آتے ہیں تو اپنے کلام دل پذیر میں جب وہ تازہ کتابوں سے ازبر کیے ہوئے حوالوں کی ہنر مندی سے پیوند کاری کرتے ہیں تو پنڈال میں بیٹھے ان کے اکثر بے خبر سامع واہ واہ کا ایک غل سا مچا دیتے ہیں ۔اس نے رک کر ڈبیہ سے سگریٹ نکالی اور داد طلب نظروں سے مجھے دیکھا۔میں نے اس کے حسب خواہ کہا: جناب،  آپ نے تو اچھی خاصی تصویر کشی کر ڈالی۔ جی،  یہی ہیں ہمارے مہاتما لیکن آپ یہ نہیں جانتے ہوں گے کہ ان کی ایک آنکھ پتھر کی ہے۔
وہ ذرا دکھ سے گویا ہوا: صرف ایک آنکھ؟میرا خیال تھا ان کی دونوں آنکھیں پتھر کی ہیں ۔پھر سنجیدہ ہو کر بولا: اور آپ نے وہ کیا کہا تھا طوطی بول رہا ہے؟ افسوس آپ طوطی اور طوطے کے فرق سے بھی نا بلد ہیں ۔صاحب وہ طوطی نہیں طوطا بولتا ہے۔ اچھا بتائیں کیا آپ نے کبھی کسی ادب پارے کے بارے میں ان کی ذاتی رائے سنی؟میں نے جھٹ سے جواب دیا: کیوں نہیں ابھی حال ہی میں ایک نوخیز شاعرہ کی کتاب پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے اس میں شاعری کے بڑے امکانات کا تذکرہ کیا تھا۔
اس نے ٹھٹھا لگایا: شاعرہ اور وہ بھی نوخیز،  ارے صاحب،  وہ تو کسی ادھیڑ عمر خاتون تک کی شان میں زمین آسمان کے قلابے ملا سکتے ہیں ۔ اچھا جانے دیں یہ فرمائیں سنا ہے انہیں شاعری سے بھی شغف ہے۔
میں بولا: بھائی صاحب،  ان کی شاعری کی کئی کتابیں شائع ہو چکی ہیں اور ایک تو ابھی حال ہی میں مارکیٹ میں آئی ہے۔
اس نے اثبات میں سر ہلایا : تو آپ کی نظر سے تو یہ کتابیں گزریں ہوں گی؟ چلئے اپنے محبوب کا کوئی معرکۃ الآرا شعر ہی سنا دیجے... پھر رک کر بولا: نہیں ایسا شعر ہما شما کے نصیب میں کہاں ،  ایسا کریں ان کا کوئی اچھا شعر سنا دیں ۔میں بغلیں جھانکنے لگا۔
نفی میں گردن ہلا کر بولا:شعر میرے ذہن سے اتر جاتے ہیں ۔ 
وہ زہریلے انداز میں مسکرا کر بولا: آپ اپنی شاعری کے بارے میں بھی یہی شکایت کرتے رہے ہیں ۔اصل میں شعر میں کچھ ہو تو وہ یاد رہ جاتا ہے ورنہ...
میں نے چٹخ کے کہا: اب آپ زیادتی فرما رہے ہیں ۔ یوں بھی یہ کیا گھٹیا پن ہے کہ ہم اتنی دیر سے ایک شریف آدمی کے بخیئے ادھیڑے چلے جا رہے ہیں ۔ چلیے جناب ٹہل ہو جائے، ایک جگہ بیٹھے رہنے سے جی اوب چلا ہے۔ہم نے ہوٹل کا بل چکایا اور وہاں سے اٹھ گئے۔ شام کے اتر آنے کے ساتھ ہی موسم خوش
گوار ہو گیا تھا۔ہم آپس میں بک کرتے ہوئے دور تک نکل آئے،  منظر کے پاس دل چسپ قصوں کہانیوں کی کیا کمی،  وہ متواتر کسی خاتون کے اوصاف پر زبان تیز کیے ہوئے تھا۔ راستے میں ایک میڈیکل اسٹور پر نظر پڑی، میں نے سوچا لگے ہاتھوں دوائیں ہی لے لوں ۔ہم نکل ہی رہے تھے کہ میری نگاہ کٹکھنے پر پڑی بے ساختہ میرے منہ سے نکلا: لیجئے،  یک نہ شد دو شد۔منظر نے ادھر اُدھر گردن گھمائی: کون ہے؟
میں نے جواب دیا: کٹکھنا۔میری نظریں اسی پر گڑی ہوئی تھیں ، اس نے ہمیں دیکھ لیا تھا۔
منظر نے تعجب سے پوچھا: کٹکھنا! یہ کون ذات شریف ہیں اور بھلا یہ بھی کوئی نام ہے؟ 
میں نے کہا :ابھی خود ہی دیکھ لیجئے گا۔وہ والہانہ انداز میں ہماری طرف بڑھا چلا آ رہا تھا- قریب آ کر گرم جوشی سے بولا : یار ابھی کچھ اور مانگ لیتا تو وہ مل جاتا افسوس تم سے ملنے کی آرزو کر لی۔مجھ سے معانقے کے بعد اس کی نظر منظر پر پڑی: مجھے نصر کہتے ہیں ۔آپ کی تعریف؟منظر نے ذرا ڈر کر اس کے بڑھے ہوئے ہاتھ پر نظر کی پھر مرے دل سے مصافحہ کے لیے ہاتھ بڑھایا: منظر ... میں نے بات بیچ سے اچک لی:یار یہ معروف ڈرامہ نگار ہیں تم نے ٹی وی پر ان کے ڈرامے دیکھیں ہوں گے۔نصر نے بے تابی سے ایک بار پھر مصافحے کے لیے ہاتھ بڑھایا: ارے انھیں کون نہیں جانتا۔ابھی کل پرسوں ہی کی بات ہے کہ ان کا ڈرامہ چل رہا تھا۔بچّے ہنسی سے لوٹ پوٹ ہوئے جاتے تھے اور میں ان کی ناسمجھی پر قہقہے لگا رہا تھا۔اس نے بڑھ کے منظر سے گلے ملنا چاہا۔ منظر نے پیچھے کو ہٹتے ہوئے آنکھیں سکوڑ کر اسے دیکھا: صاحب! ہم سے ہاتھ بھر کی دوری پر رہیں ۔سنا ہے آپ کاٹ کھاتے ہیں ۔نصر نے ملامت بھری نظروں سے مجھے دیکھا۔میں نے فورا بات سنبھالی: ارے منظر صاحب یہ تو ان کی عرفیت ہے جیسے ابھی ہم مہاتما پر بات کر رہے تھے۔نصر چمک کر بولا: مہاتما،  اماں تم کس چڑی مار پر وقت ضائع کر رہے تھے۔وہ جو توپ سے چڑیاں شکار کرتا ہے۔منظر بھلا کیوں چوکتے:اور توپ بھی وہ جو از کار رفتہ ہو چکی ہے۔اب اس کی آنکھوں کی پرانی چمک لوٹ آئی تھی۔وہ ذرا سنجیدہ ہو کر گویا ہوا: میں سوچتا ہوں اس تماشاہ گاہ میں جسے ہم آپ دنیا کہتے ہیں ،  لوگ کتنی سہولت سے اپنے کردار بدل کر تماشائی سے تماشا بن جاتے ہیں ۔ اب اپنے مہاتما کو ہی لیجئے انہوں نے خود کو کیسا مذاق بنا لیا ہے۔نصر کی آنکھیں بھی جگ مگ کر رہی تھی، وہ سمجھ گیا تھا کہ آج چٹ پٹی بات ہو گی۔ میری سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ اس موضوع کو کیسے موقوف کروں ۔ یہ دونوں اتنی آسانی سے جان چھوڑنے والے نہیں تھے۔ اچانک منظر کو یاد آیا کہ ہم نے بہت دیر سے چائے نہیں پی ہے۔اس نے نصر کے کاندھے پر بندوق رکھ کے داغ دی: جناب،  نصر صاحب کو چائے تو پلوائے۔نصر اس کی طرف دیکھ کر ملائمت سے مسکرایا: چائے،  واہ کیا خوب صورت بات آپ نے کی، اس بہانے آپ دونوں بھی پی لیجئے گا۔ ہم دوبارہ ہوٹل میں آبیٹھے۔منظر نے چائے کی چسکی کے بعد سگریٹ کا گہرا کش لے کر دھوئیں کے چھلے بناتے ہوئے کہا:صاحب،  وہ شخص تحسین کا مستحق ہے جس نے آپ کے مہاتما پر یہ بلیغ پبھتی کسی، ظالم نے ایک لفظ میں گویا پوری شخصیت کو لپیٹ کے رکھ دیا۔میں نے کھوکھلے لہجے میں کہا: آپ ٹھہرے عیب جو،  اس عرفیت میں بھی آپ نے ایک نئی معنویت ڈھونڈ نکالی۔وہ اس عرفیت کے مستحق ہیں ۔نصر نے کڑوے انداز میں کہا: یار تم بھی جانے کیا اوائی تباہی کہے جاتے ہو۔اس نے کیا تیر مار لیا کہ وہ اس اعزاز کا حق دار کہلائے۔منظر نے بات کا سرا تھامتے ہوئے ٹکڑا لگایا: نہیں ،  انہوں نے درست کہا،  ان کے طوطے نے یہاں تک پہنچنے کے لیے بڑے پاپڑ پیلے ہیں ۔ ایک زمانہ تھا کہ وہ جہاں پنڈال لگا دیکھتے وہاں جا گھستے اور تقریب کی نوعیت چاہے کچھ ہو اپنی دانش ورانہ موشگافیوں کا سلسلہ شروع کر دیتے۔اہل خانہ سمجھتے سوٹٖڈبوٹڈ آدمی ہے ٹھیک ہی کہہ رہا ہو گا اور اگر قسمت سے وہ کوئی ادبی بیٹھک ہوتی تو جانئیے موصوف کی لاٹری نکل آتی۔آخر یہ آئے دن کی محنت رنگ لائی اور انہیں سنجیدہ تقریبات میں مدعو کیا جانے لگا اور پھر چل سوچل۔پھر اچانک مجھ سے مخاطب ہو کے بولا : آپ یہ فرمائیے شاعری تو خیر وہ کرتے ہیں لیکن انہوں نے نثر کے نام پر بھی کچھ لکھا۔میرے بجائے نصر نے تلخی چھلکاتی آواز میں کہا: کیوں نہیں ، شنید ہے کہ ان کے گھر پر ان کے مقالوں کے ڈھیر لگے ہیں ۔میں نے فورا ہانک لگائی: جی،  اور ذرا انہیں شائع ہو لینے دیجئے پھر دیکھیئے ان کی کیسی نوبت بجتی ہے۔نصر کاہے کو چپکا رہتا: نفیری تو خیر اب بھی بج رہی ہے وہ نوبت بھی دیکھ لیں گے۔منظر نے سنجیدگی سے سوال اٹھایا: مگر صاحب اگر وہ ایسے معرکے کی چیز ہے تو اسے دیمک کیوں کھا رہی ہے کوئی پبلشر اسے اچک کیوں نہیں لیتا۔وہ تو ایسی چیزوں کی بو سونگھتے پھرتے ہیں ۔نصرنے بہت تپاک سے کہا: خدا آپ کو خوش رکھے کیسی خدا لگتی بات کہی ہے اور اب تو ان کی مستقل بیٹھک ہی ایک پبلشنگ ہاؤس میں ہے،  مہین خاں یہ معرکۃ الآرا مقالے کیوں نہیں چھاپ دیتے؟منظر سگریٹ کی راکھ جھاڑتے ہوئے بولے: مہین خاں کاہے کو یہ کوڑا کرکٹ چھاپنے لگے، وہ ایک کائیاں انسان ہیں ۔اگر انہوں نے مہاتما کو وہاں بٹھا لیا ہے تو اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہے کہ وہ ان کے دوست ہیں ،  صاحب یہ دو طرفہ مفادات کا معاملہ ہے۔ایک معروف شخصیت کی موجودگی سے اس نازک، متین اور ذہین ادھیڑ عمر کو چھوتا ہوئے تاجر کا دفتر اعتماد حاصل کر لیتا ہے اور ہمارے علامہ،  کہ وہ بہرطور ادب کی ایک نام ور شخصیت ہیں وہاں اس لیے گھات لگائے بیٹھے رہتے ہیں کہ کوئی نصیبوں جلی وہاں کتاب چھپوانے آئے اور ان کے دل کی کلی کھلے۔میرے لیے یہ سب ناقابل برداشت ہوتا جا رہا تھا۔میں برہمی سے بولا:بس جناب بہت ہو چکی اب حد ادب، آپ بلا جواز ایک اعلی مرتبت شخصیت کے بارے میں جو مونہہ میں آ رہا ہے کہے چلے جاتے ہیں ۔ وہ ملک کے معتبر ترین علمی اداروں میں اہم حیثیت میں خدمات سر انجام دیتے رہے ہیں ۔نصر نے ترکی بہ ترکی جواب دیا: اماں کیسا حد ادب،  اگر ایک آدمی خود اپنے چہرے پر کالک پوتنے پر تلا ہوا ہے تو کیا ہم اس کا مرثیہ بھی نہ پڑھیں ۔ آپ کو یاد نہیں ہے وہ واقعہ جب ہم مہین خاں پبلشنگ ہاؤس میں خاں صاحب سے ملاقات کے لیے گئے تو موصوف بھی وہاں موجود تھے،  انہوں نے ہمیں دیکھ کر کیسی بے زاری کا اظہار کیا تھا۔میں حیران ہو کر سوچ ہی رہا تھا کہ انہیں ہماری آمد اتنی شاق کیوں گزری کہ جلد ہی اس کا سبب سامنے آ گیا۔ایک ادھیڑ عمر چلبلی اور ایک نوخیز لڑکی خوشبوئیں برساتی دفتر میں داخل ہوئیں ۔ مہاتما انہیں دیکھ کر مجنونانہ انداز میں اٹھے: ارے واہ آپ،  کب آنا ہوا؟خاتون نے ایک ادا سے ناک سکیڑتے ہوئے ان سے بغل گیر ہو کر کہا: بس کتاب شائع کروانی تھی اسی لیے آئی ہوں ، خوش نصیبی کہ آپ یہاں موجود ہیں ۔ موصوف والدہ سے فارغ ہو کر نو خیز کی طرف متوجہ ہوئے۔ خاتون نے فرمایا : میری بیٹی، پہلی بار پاکستان آئی ہے۔پھر بیٹی سے کہا: بیٹا، انکل سے ملو،  یہ بہت بڑے آدمی ہیں ۔لڑکی بے دھڑک آگے بڑھی۔ مہاتما نے اس کے سر پہ ہاتھ پھیرا جو حسب معمول پھسل گیا پھر اسے سینے سے لگا لیا۔ہم نے دیکھا کہ ان کی آنکھوں میں شیطان برہنہ رقصاں تھا۔میں ان کی صفائی میں تو خیر کیا کہتا ہاں یہ کہہ کر بات سنبھالنے کی کوشش کی:ارے بھئی بشری کم زوریاں کس میں نہیں ہوتیں ؟ ہم آپ کیا پاک پوتر ہیں ۔منظر نے جھٹ کہا: ان سے ہمارا کیا مقابلہ ہمیں شہر میں کون جانتا ہے اور وہ تو عالمی سطح پر معروف آدمی ہیں ۔یہ درست ہے کہ کم زوریاں سب میں ہوتی ہیں مگر وہ جس مرتبے کے آدمی ہے انہیں غیر معمولی احتیاط سے کام لینا چاہئے مگر جسے یہ جرثومہ لگ جائے اس میں سرطان کی سی سرعت سے پھیلتا ہے اور پوری شخصیت کو لپیٹ میں لے لیتا ہے آپ کے علامہ کی مثال ہمارے سامنے ہے۔نصر نے گراہ لگائی :اپنی ان بد اطواریوں سے وہی اکیلے نابود نہیں ہو رہے انہوں نے تمام شاعروں ادیبوں کے بارے میں یہ شکوک پیدا کر دیئے ہیں کہ یہ سب ہی ایسے ہوتے ہوں گے۔ میں سوچ رہا تھا انہوں نے اپنی شخصیت کے تمام رنگوں کو کس بے دردی سے ملیامیٹ کر لیا ہے۔ منظر نے بات بڑھانے کے لیے پوچھا: چلیے ان کا دن تو خیر پبلشنگ ہاؤس میں گزر جاتا ہے اور شام؟نصر ترنت بولا:شام کے اپنے رنگ ہیں اور ان رنگوں کو چوکھا کرنے والیوں کا بھی کوئی کال نہیں ۔ یہ شام ڈھلے مجلس فنون لطیفہ کے ہال میں پہنچ جاتے ہیں اور وہاں اپنی علمیت، آگہی اورمسکراہٹ سے تیار کئے ہوئے پھندے کا جی بھر کے استعمال کرتے ہیں ۔بے خبر خواتین اور لڑکیاں اس پھندے میں پھنس جاتی ہیں ،  جنہیں ان کی ہتھ پھیریاں ناگوار گزرتی ہیں وہ اس پہلی ملاقات کو ہی آخری جانتی ہیں ۔ ہاں لمس چور خواتین سے ان کی بہت دور تک نبھتی ہے۔ منظر حیران سا ہو کر بولا: کیا شہر بھر میں ایسا کوئی نہیں جا ان کج کامیوں پر انہیں روک ٹوک سکے؟نصر فورا بولا: کیوں نہیں موصوف کئی بار چانٹوں سے نوازے جا چکے ہیں ۔ایک بار ایک جدید اور بے دھڑک شاعرہ نے ایک مشاعرہ میں ان کی کسی نا مناسب بات پر انہیں بھرے مشاعرے میں زناٹے دار تھپڑ رسید کیا تھا اور دوسری بار جب وہ ایک مشاعرے کے بعد کسی شاعرہ کو رات گئے اس کے گھر چھوڑنے گئے تو راستے میں انہوں نے جانے کیا حرکت کی کہ گھر پہنچ کر لڑکی نے اپنے والد سے شکایت کر دی اور پھر اللہ دے اور بندہ لے مگر جناب مجال ہے کہ اس سب کے باوجود ان کے رویئے میں بال برابر فرق پڑا ہو۔منظر انھیں ان کی پاتال تک کھوجنے کے موڈ میں تھا: ارے صاحب کیا ان کا کوئی ٹھور ٹھکانہ نہیں ہے کہ یوں بے کار اپنے دن اور راتیں سیاہ کرتے پھرتے ہیں ؟ایسا لگتا تھا کہ جیسے نصر کو مہاتماسے اللہ واسطے کا بیر ہو: جی،  گھر دو دو ہیں ،  نہیں ... اب تو سمجھے بس ایک ہی ہے وہی گھر ہے اور وہی لائبریری...منظر نے بات اچکی: جناب یہ کیا بات ہوئی؟ دو گھر ہیں ،  اب سمجھئے ایک ہی ہے۔وہ دوسرا کیا ہواْ؟میں نے موضوع بدلنے کے لیے کہا: یہ سب اپنی جگہ مگر آپ حضرات اس سے تو انکار نہیں کر سکتے کہ ان کی آنکھوں اور چہرے پر جو سکون ہے وہ کسی کمال کے بے نیاز ہی کو نصیب ہو سکتا ہے۔منظر بھڑک اٹھا: سبحان اللہ،  آپ نے کس خوب صورتی سے بے حسی کو بے نیازی کی پوشاک سے آراستہ کرنے کی کوشش ناکام فرمائی ہے۔ پھروہ نصر سے مخاطب ہوا: ہاں صاحب آپ کیا فرما رہے تھے۔یہ دو گھروں کا کیا قصہ ہے؟نصر جیسے جواب دینے کو تیار بیٹھا تھا: جی اب تو بس ایک ہی گھر ہے پہلے جو گھر تھا اس کا الگ قصہ ہے۔اس گھر میں یہ رہتے کسی مہمان کی طرح تھے لیکن احکام مالکوں کی طرح دیتے تھے۔بیوی بے چاری بچوں کو پالنے کے لیے کالج میں پڑھاتی اور گھر لوٹ کر ان کے لاڈ نخرے اٹھاتی،  اس پر سوا یہ کہ اس پر سو طرح کی پابندیاں کھڑکی میں سے مت جھانکو،  تم نے اس سے بات کیوں کی، وہ کیوں آیا تھا تم کہاں گئی تھیں ۔ اب آپ انصاف کیجئے کہ ایسے سر پھرے اور شکی انسان سے کون نہیں اکتائے گا؟منظر نے بڑے گھمبیر انداز میں کہا: صاحب، آدمی سب کو اپنے آئینے میں دیکھتا ہے۔اپنی شکل بگڑی ہوئی ہے تو اچھی صورت زہر لگتی ہے۔نصر نے اپنی گفتگو کا سلسلہ وہیں سے جوڑا جہاں چھوڑا تھا:اس کے علاوہ گھر میں انہوں نے کتابوں کا اتنا ڈھیر اکٹھا کر لیا تھا کہ گھر والوں کے لیے سانس لینا دوبھر ہو چکا تھا۔مگر ان کی جانے بلا۔وہ اپنی معرکہ آرائیوں میں اس درجے مگن تھے کہ انہیں خیال ہی نہیں آتا تھا۔یوں بھی ان کہ لیے یہ گھر پڑھے ہوئے خط سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتا تھا۔جب انہیں خود اپنی سانسیں گھر میں گھٹتی محسوس ہونے لگیں تب انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنی کتابوں سمیت ایک الگ گھر میں منتقل ہو جائیں گے۔گھر سے ان کی اس لاتعلقی نے اہل خانہ کو بھی ان سے لاپروا کر دیا تھا۔جب مہاتما خود کو گھر میں اجنبی محسوس کرنے لگے تو آخر وہ دوسرے گھر میں منتقل ہو گئے۔منظر اس طویل گفتگو کو بڑی دل چسپی سے سن رہا تھا بولا: اچھا،  تو اس طرح تو انہوں نے بلا روک ٹوک گل چھڑے اڑانے کی آزادی بھی حاصل کر لی۔اور کتابیں بھی ان کا ایک ہتھیار ہی ہیں ۔ آخر خواتین بھی تو کتابوں کی تلاش میں وہاں آتی ہوں گی؟ سنا ہے ان کے پاس خاصی کم یاب کتب موجود ہیں ... کیوں نا ہوں جب کہ انہیں کتاب جھپٹنے میں بھی کمال حاصل ہے کہتے ہیں انہوں نے آج تک انہوں نے کسی سے کتاب لے کر لوٹائی نہیں ۔ نصر نے منہ سکوڑ کر کہا :ارے جناب و ہ شخص کتابوں کے سلسلے میں بے حد لیچڑ واقع ہوا ہے مجال ہے آپ اس کی کسی کتاب کو چھو بھی لیں ۔ حد تو یہ ہے کہ وہ اپنی کتاب کی فوٹو کاپی کروانے تک کی اجازت دینے کا روادار نہیں ہے۔اب میرے لیے ایک موقع تھا کہ میں مہاتما کے حق میں کچھ کہہ سکوں :آپ نے ٹھیک کہا یہ حقیقت ہے کہ انہیں اپنی کتابیں بہت عزیز ہیں ۔ انہوں نے اپنی زندگی کا چوتھائی حصہ یہ کتابیں اکٹھی کرنے کے لیے فٹ پاتھوں پر مٹر گشت کرتے ہوئے ٹھیلوں اور تھڑوں پر کارآمد کتابیں اکٹھی کرنے میں گزارا ہے۔بعض افراد گھر میں کتابیں ڈھیر کر کے آسودہ ہو جاتے ہیں لیکن مہاتما جب تک اپنی خریدی ہوئی کتاب کا ایک ایک لفظ چوس نہ لیں انہیں لگتا ہے کہ ان کی محنت اور رقم ضائع چلی گئی۔اب آپ فرمائیں اگر وہ ان کتابوں کی حفاظت نہ کریں تو کیا کریں ۔منظر نے چمک کر کہا : اب حفاظت کا مطلب یہ بھی نہ ہوا کہ آپ ان پر سانپ بن کر بیٹھ جائیں اور اگر یہ کتب انہیں اتنی ہی پیاری ہیں تو وہ خواتین کو یہ کتابیں اتنی فراغ دلی سے کیسے سونپ دیتے ہیں ؟ نصر کاہے کو خاموش رہتے: ارے جناب اُن کو بھلا کون سمجھا سکتا ہے۔ کئی بار ان کے کتب خانے میں آگ لگ چکی ہے مگر وہ کسی اشارے کو سمجھیں ناں ،  اور خواتین کو کتابوں کی بھی آپ نے اچھی کہی،  ان کو تو وہ اپنی زندگی دان کر چکے ہیں کتابیں کیا ہیں ۔ مگر حیرت ہے وہ اتنے پڑھے لکھے ہونے کے باوجود عورت کو اتنے محدود معنوں میں لیتے ہیں ۔منظر نے بات اچکی اور مجھ سے مخاطب ہوا:خیر یہ جانے دیجے۔آپ نے فرمایا وہ کتاب کا مطالعہ بھی کرتے ہیں تو صاحب علم تو انسان کو بے نیاز کر دیتا ہے اور آپ کے مہاتما تو اپنے معاملات میں بے حد چوکس آدمی ہیں ۔سوال یہ ہے کہ ان تک پہنچ کر ہر کلیہ الٹ کیوں جاتا ہے؟وہ جتنا علم حاصل کرتے جاتے ہیں اسی قدر اپنے مفادات کے سلسلے میں ان کی چوکسی مہمیز ہو ئی جاتی ہے۔نصر نے ایک نیا نکتہ پیش کر دیا: یہ تو طے ہو چکا کہ موصوف ایک بے حس آدمی ہیں اور یہ بھی یقینی ہے کہ ایسے انسان کا سفاک ہونا ایک فطری امر ہے۔وہ جس سے اکھڑ جائیں اسے ہر اکھاڑے میں چت کرنے کے جتن کرتے ہیں ۔منظر نے خود  کلامی کے انداز میں گراہ لگائی: ارے صاحب!یہ دنیا ہے،  یہاں ہر شخص نوٹنکی کھیل رہا ہے۔ غالب نے کہا تھا ناں : ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ۔ اگر کسی کی کھال موٹی ہو تو علم کو کیا دوش کہ وہ ان کا کچھ بنا بگاڑ نہیں سکا۔میں نے اپنی کوشش جاری رکھتے ہوئے کہا: آپ صاحبان جو چاہے کہتے رہیں ،  حقیقت یہ ہے کہ ان کے علم کا اعتراف بین الاقوامی سطح پر کیا جاتا ہے وہ کتنے ہی ممالک میں لیکچرز کے لیے ایک اسکالر کی حیثیت سے مدعو کیے جاتے رہے ہیں ۔جانے آپ دونوں نے ان کے خلاف کمر کیوں کس رکھی ہے ورنہ وہ اپنے قدردانوں کا ایک وسیع حلقہ رکھتے ہیں ۔منظر نے بات پھر پیچھے کی طرف لوٹائی اور نصر سے مخاطب ہوا: وہ آپ کیا کہہ رہے تھے ان کی بیگم کام کرتی تھیں ۔ کیوں کیا یہ گھر چلانے کے لیے کچھ نہیں دیتے تھے۔ پھر مجھ سے مخاطب ہوا: آپ کہہ رہے تھے وہ بڑے علمی اداروں میں اہم عہدوں پر کام کرتے رہے ہیں ۔نصر نے ہونٹ سکوڑے : جو آدمی کسی سے قرص لے کر لوٹانے کا عادی نہ ہو وہ بھلا گھر میں کیا خاک کچھ دے گا۔ارے جناب ان کے جو لچھن ہیں ان کے لیے تو لاکھوں بھی نا کافی ہیں ۔منظر نے بال سنوارتے ہوئے کہا: آپ نے درست فرمایا یہ زیادہ پرانی بات نہیں جب ابھی پندرہ سال قبل وہ ادب کے ایک نہایت سنجیدہ اور باخبر قاری خیال کئے جاتے تھے۔یہ ممکن نہیں تھا کہ وہ عالمی سطح پر شروع ہونے والی کسی ادبی تحریک یا اہم کتاب سے لاعلم ہوں ۔ یہ وہ دور تھا جب ادب کو ایک سنجیدہ سرگرمی کے طور پر لیا جاتا تھا۔اور آپ کے مہاتما گلے گلے ادب پڑھنے، اس پر مکالمہ کرنے اور نئی کتابوں کے تجزیوں اور تبصروں میں ڈوبے رہتے تھے لیکن حیف وہی آدمی ایک مختصر سی مدت میں کیا سے کیا ہو گیا۔ ہم ان کے خلاف نہیں ہیں ہمیں دکھ یہ ہے کہ اس قحط الرجال میں ایک ہی آدمی رہ گیا تھا،  وہ بھی زن خیز ہو کر کسی کام کا نہیں رہا۔اس نے اپنی بات ختم کر کے گھڑی پر نظر ڈالی اور مجھ سے مخاطب ہوا: کیوں صاحب کیا ہمیں اسی قصے میں نمٹانے کا ارادہ ہے؟ کچھ کرم کیجئے آنتیں قل ہواللہ کا ورد شروع کر چکی ہیں ۔نصر نے اجازت چاہی اور ہم اپنے ٹھور ٹھکانے کی طرف روانہ ہو گئے۔


یہ کہانی نہیں ہے


میں ہمیشہ سے مزاجاً ایک جدا آدمی تھا۔ایسے لوگ کنبے میں مشکل سے کھب پاتے ہیں ۔باپ نے بیٹے کو بے جوڑ دیکھا تو جائیداد میں سے اس کا حصہ دے کر جیسے ناتا ہی توڑ لیا۔اُس کے لیے جو ہجوم میں تنہائی کا حلیف رہنے کا عادی ہو۔اسے تو اس واقعے سے اپنے ڈھنگ سے زندگی کرنے کی چھوٹ مل گئی۔ مالی آسودگی تو معمولی نین نقش   کو سنوار دیتی ہے میں تو ایک وجیہہ انسان تھا۔ ترکے میں حاصل ہونے والے گھر میں کتابوں سے بڑھ کےوقیع کوئی چیز نہ تھی۔علم کے جویا کے لیے کوئی اور چیز اہم بھی کب ہوتی ہے۔ میں کتابوں ، اپنی تخلیقی مصروفیات اور ادب اور آرٹ کی تقریبات میں مگن رہا کرتا۔ اب وہ دن کہاں ،  جب میں ہر شام کسی ادبی تقریب یا تصاویر کی نمائش میں موجود اپنے وجود کو ایک معنویت دینے میں مشغول رہا کرتا تھا۔ میں تو یوں ہی سا الگ تھلگ رہنے والا آدمی ہوں ، کوئی ساتھی سنگتی نظر میں چڑھا نہیں جس سے تعلق کی ڈور باندھی جا سکتی یا شاید یہ کہنا زیادہ درست ہو گا کہ کتابوں نے میرا ناس مار دیا۔اب ایسا کہاں سے آئے جو میری سطح پر آ  کر  مجھے ہم کلامی سے سرفراز کرے اور میں ہوں کہ اپنی جگہ سے ایک سیڑھی اترنے کو آمادہ نہیں ۔ نتیجہ؟ ہرسُو بکھری ہوئی یہ تنہائی ہے۔ ایک لا ابالی اور بے پروا آدمی جو ہر دم مست الست رہا کرتا ہے۔میرے پاس بھی ایک داستان ہے میری دیوانہ وار وابستگی کا قصہ،  جو میری زندگی کا جواز بھی تھا اور خوشی کا ایک بہانہ بھی۔میری چاہت،  جس کی توقع سے سوا پذیرائی کی گئی۔وہ عجب حیران کن حد تک تیز گام عورت تھی جیسے شعلے کی لپک اور پھر اس کی معاملہ فہمی،  وہ میرے خفیف سے اشارے کو پوری معنویت کے ساتھ سمجھنے کی اہلیت رکھنے کے علاوہ میرے جذبات سے پوری جزئیات کے ساتھ واقف تھی اور یقیناً میرے حوالے سے ایک خاص انداز سے سوچتی تھی۔ اس کی والہانہ پذیرائی نے میرے رات دن تلپٹ کر کے رکھ دیئے تھے لیکن یہ جلتی بجھتی آگ کا ماجرا تھا، مگر یہ سب بہت بعد کی باتیں ہیں ...لیکن پھر ہوا کیا؟۔ میں مرد پر عورت کی ذہنی برتری کا ہمیشہ سے قائل رہا ہوں شایداس طرح بات الجھ رہی ہے،  بیان میں آنے کے بعد ممکن ہے آپ سمجھ لیں کہ میرے راستے کی دیوار کیا تھی۔شاید اس کی دیوانگی حد سے سوا تھی جسے میں سہار نہ سکا ...یا جانے کیا تھا۔ اس ان کہی کو سو معنی پہنائے جا سکتے ہیں ۔
وہ ایک غیر معمولی عورت ہے۔ اُس نے تمام عمر اپنے انتخاب کی شرط پر سرخ جوڑا زیب تن کرنے سے اعتراض کیا۔ وہ ہمیشہ سے اپنے فیصلے خود کرنے کی عادی رہی ہے اور اس چلن کو اس کی اعلی تعلیم اور بڑے عہدے نے اور بڑھاوا دیا۔جب اس سے میری ملاقات ہوئی وہ ایک ملٹی نیشنل ادارے میں کنٹری ہیڈ کے عہدے پر فائز تھی۔ اس منفعت بخش ملازمت نے معاشی لحاظ سے اسے خاصا مستحکم کر دیا تھا۔ اپنی ملازمت کی سنگین مصروفیات کے باوجود وہ ہمیشہ فنون لطیفہ سے جڑی رہی اور اس کی یہی سرگرمی میرے اور اس کے تعلق کی بنیاد ٹھہری۔ میں اکثر اسے ادبی محافل میں گفتگو کرتے سماعت کیا کرتا اور دل ہی دل میں اس کے شخصی توازن، متانت، نفاست،  وقار اور گہرے مطالعے کو سراہا کرتا جو دوران کلام اس کی باتوں سے چھلکتا تھا۔ پھر میرے علم میں آیا کہ اس کی کہانیوں کی کتاب شائع ہو چکی ہے۔کہانیوں کے کردار اور موضوعات مجھے بہت الگ سے لگے غیر روایتی اور انوکھے، ان کہانیوں کی بنت اور لکھت بھی منفرد تھی۔ کہانیاں قاری کو اپنے اندر جذب کر لینے کا وصف رکھتی تھیں ، لیکن بعض مواقع پر مجھے اس کے تجربے کی کم مائیگی کا احساس ہوا۔ اس کے خیال کی گیرائی اور جملوں کی بے ساختگی نے بہت لطف دیا۔ یہ دیکھ کر بہت اچھا لگا کہ وہ عورت جو زندگی میں خود کو (ہم )کہنے کی عادی ہے۔جب کہانی لکھتی ہے تو کہانی کے کردار میں ڈھل کراُس کی زبان میں بات کرتی ہے۔ میں کئی ماہ سے اسے دیکھ رہا تھا اور آدمی کو جاننے کے لیے توایسی دوچار ملاقاتیں بھی بہت ہوتی ہیں ۔سُو میں کہہ سکتا ہوں کہ میں اس سے واقف ہوں حالانکہ اسے تو خبر تک نہیں تھی کہ وہ کسی کے ملاحظے میں ہے۔شاید یہ ممکن بھی نہیں تھا، ہر شام ایک ہجوم میں گھرا انسان کس کس پر نظر رکھ سکتا ہے لیکن مجھے مغالطہ سا تھا کہ وہ مجھے دیکھا کرتی ہے،  مگر اسے دیکھنا کہنا نا مناسب ہو گا۔ہاں ،  وہ ایک اچٹتی نظر ہوتی جو لحظے بھرکو مجھ پر ٹک کر گزر جایا کرتی۔میں اتفاقات کا سرے سے قائل نہیں ہوں ۔اُس دن کی ملاقات کو بھی میں اتفاق نہیں سمجھتا۔ سُو ہوا یوں کہ مجھے مصوری کی نمائش میں مدعو کیا گیا۔یہ دعوت مجھے میرے نوجوان مصور دوست الطاف نے دی تھی۔
میں پہنچ گیا اور اس کی ایک پینٹنگ دیکھنے میں محو تھا کہ عقب سے ایک مانوس سی آ واز سنائی دی: ہاؤ بیوٹی فل۔ میں نے پہلو بدل کر دیکھا یہ وہی تھی: کیوں جناب امپریشن ازم کا کیا کمال شاہ کار ہے۔ اس کی بے تکلفی پر میں حیران سا رہ گیا۔اثبات میں سر ہلاتے ہوئے میں نے پینٹنگ کی کلر اسکیم،  ڈیٹیلز اور پینٹر کے اسٹروکس کی مہارت اور موضوع کی ندرت پر اچھا خاصا لیکچر دے ڈالا۔
وہ بہت سنجیدگی سے میری بات سنتی رہی پھر مسکرا کر کہا: واہ صاحب آپ تو خاصے جان کار ہیں ہمیں آپ کی گفتگو کے ڈھنگ نے بہت مزا دیا۔ آپ یقیناً آرٹ کریٹک نہیں ہیں ۔
میں نے تعجب سے پوچھا: آ پ نے یہ نتیجہ کیسے اخذ کیا؟۔
اس نے ہلکا سا قہقہہ لگایا: آپ نے پوری گفتگو میں کسی ماسٹر پینٹر کا حوالہ نہیں دیا۔ خالص اپنے خیالات بیان کیے اور جیسے تخلیقی انداز میں بات کی وہ ان غریبوں کے نصیب میں کہاں ۔ ان کا تو ایک بنا بنایا سانچا ہے اور بس۔ پھر ذرا ٹھہر کر بولی: آپ شاید رائیٹر ہیں ۔
اس سے قبل کہ میں کچھ کہتا۔ میرا آرٹسٹ دوست لپکتا ہوا آیا اور مجھے ایک مسکراہٹ پر ٹرخاتا ہوا اس سے لہلہاتے انداز میں مخاطب ہوا: میڈم! یہ میری بڑی خوش نصیبی ہے کہ آ پ میر ی دعوت پر ایگزی بیشن میں تشریف لائیں ۔
اس نے نفی میں سر ہلا کر میری طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا:آپ کی اصل خوش نصیبی یہ ہے کہ یہاں مصوری کے ایسے پارکھ موجود ہیں ۔
میرے دوست نے تعجب سے میری طرف دیکھتے ہوئے کہا: شہزاد صاحب؟ پھر مجھ سے مخاطب ہوا : آپ میڈم سے واقف ہیں ؟ یہ ملک کی سب سے اہم آرٹ کریٹک ہیں ۔
میں یہ سن کر سناٹے میں آ گیا لیکن خود کو سنبھالتے ہوئے بولا: میں انہیں کہانی کار کی حیثیت سے جانتا ہوں ۔پھر اُس سے مخاطب ہو کر بولا:میں واقف نہیں تھا ورنہ ...
اُس نے خوش دلی سے قہقہہ لگایا: جناب آپ نے بہت قیمتی باتیں کیں ۔ ہم کریٹک تو بس حوالے اور رٹا ہوا سبق دھراتے ہیں ۔
میرا دوست لجاجت سے بولا: میڈم! آپ کی اپنی الگ انفرادیت ہے۔
الطاف کا جملہ نظرانداز کر کے اس نے مجھے اپنا کارڈ تھماتے ہوئے پینٹر کو مخاطب کیا: الطاف! آپ اپنے مہمانوں کو دیکھیں ،  ہم شہزاد صاحب کے ساتھ آپ کے فن پاروں سے لطف اندوز ہوتے ہیں ۔الطاف آنکھوں میں حیرت سرمہ کیے وہاں سے ٹل گیا۔وہ مجھ سے مخاطب ہوئی: تعجب ہے ایک تخلیقی انسان بھی اتنا غبی ہو سکتا ہے۔
میں نے کھلکھلا کر کہا: یہ بہت سخت جملہ ہے جناب اور حقیقت یہ نہیں ہے۔ الطاف، خاصا روشن ذہن ہے۔وہ تو کہیے شخصیت کے سحر نے اس کی مت ماردی۔
لیکن اتنے باصلاحیت پینٹر میں یہ کم زوری بھلی نہیں لگتی، اسے تو اپنے فن پر پورا بھروسہ ہونا چاہیئے۔ میں اُس میں ایک بڑے آرٹسٹ کی جھلک دیکھ رہی ہوں ۔ایک بڑے فنکار کو ہر جادو کا توڑ معلوم ہونا چاہیئے۔ہوں ...
درست کہا، اگر اس وقت وہ یہاں ہوتا تو کیسا شاد ہوتا لیکن یہ بھی تو ایک کجی ہی ہے ناں ۔ ایک تخلیقی آدمی کے لیے تعریف سے زیادہ مہلک چیز اور کیا ہو سکتی ہے؟۔ 
یہ تو آپ نے عجب کہا۔ہمارے ہاں فن کار کو ملتا ہی کیا ہے کہ اب اسے تعریف سے بھی محروم کر دیا جائے ...
نہیں ،  میں نے یہ نہیں کہا۔ میں یہ کہہ رہا ہوں کہ تعریف تو ایک کسوٹی ہوتی ہے۔اگر تعریف کرنے والے میں کھرا کھوٹا جانچنے کی صلاحیت نہ ہو تو تعریف قبول نہیں کرنی چاہیئے ورنہ وہ کیلے کے چھلکے کی طرح قدم اکھاڑنے میں دیر نہیں لگاتی۔
اس نے اثبات میں سر ہلا یا:جی اس بات سے ہم متفق ہیں بلکہ سمجھتے ہیں کہ آپ نے ایک اہم نکتہ بیان کیا۔پھر بولی: آئیں پینتنگز دیکھتے ہیں ۔ الطاف نے واقعی زبردست کام کیا تھا۔وہ مختلف تصاویر پر میرے تبصروں اور ان کی تفہیم سے بہت متاثر نظر آ رہی تھی:آپ واقعی کمال کی نظر رکھتے ہیں اور کتنے مختلف اینگل سے پینٹنگ کو کھوجتے ہیں ۔ اس نے تحسین سے لبریز لہجے میں کہاپھر بولی:شہزاد صاحب ملاقات جاری رہنی چاہیئے اور ہاں آپ کا کنٹریکٹ نمبر؟۔ اب ہم گیلری میں بچھے صوفے پر آ بیٹھے تھے جہاں میز پر چائے وغیرہ کا بھی اہتمام تھا۔ وہاں کتنے ہی لوگوں نے اسے ہلو ہائے کہا لیکن اس کی متانت نے انہیں ہم سے دور ہی رکھا۔اس نے اچانک الطاف کی بنائی ہوئی نیوڈز پر بات شروع کر دی۔وہ ان پینٹنگز کے دائروں اور قوس کے علاوہ دیگر تفصیلات کی تحسین کرتی رہی پھر بولی : یہ آسان نہیں کہ پینٹر نیوڈ تخلیق کرتے ہوئے خود پر گرفت رکھے اور اپنی پوری توجہ اور مشاقی اپنے فن پارے کے لیے مختص کر دے۔اس کے بعد میں نے ادب پر مصوری کی مختلف تحاریک کے اثرات کا ذکر چھیڑ دیا۔وہ جس روانی سے بات کر رہی تھی اس سے مجھے اندازہ ہوا کہ وہ فن مصوری کا گہرا شعور رکھتی ہے۔ میں یہ سوچ کر بھی خوش تھا کہ اب ایک ہمہ صفت،  با خبر عورت میرے دوستوں میں شامل ہو چکی ہے۔الطاف اسے اس بے تکلفی سے گفتگو کرتے دیکھ کر عجب ہونق ہو رہا تھا۔ مجھے اس کی حیرانی کا سبب معلوم تھا۔وہ واقعی بہت لیے دیے رہنے والی بردبار عورت تھی۔مجھے خیال آیا یہ مجھ پر اتنی مہربان کیوں ہے؟۔
چائے کاسپ لے کر میں نے سوال کیا:آپ نے پینٹر بننے کے بجائے کریٹک بننے کو کیوں ترجیح دی؟
وہ خواب ناک لہجے میں بڑبڑائی:پینٹر؟ جی پینٹر تو ہم رہ چکے ہیں لیکن کوئی مکمل پینٹنگ نہیں بنا سکے بالکل اپنی کہانیوں کی طرح۔اس نے مسکرا کر بات ختم کی پھر اچانک بولی:ہماری کہانیوں کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں ؟
میں نے ذرا سے توقف کے بعد سنجیدہ آواز میں کہا: وہ کہانیاں ، ایک میچور تخلیق کار کے فن پارے ہیں ۔ میں ان پر اس رواروی سے بات نہیں کرنا چاہتا۔پھر اس کی جگ مگ آنکھوں میں آنکھیں گاڑ کر بولا: آپ کہانی بننے کا ہنر خوب جانتی ہیں ۔ مجھے ان کہانیوں کے موضوعات کا انوکھا پن بہت بھایا اور آپ جس طرح اچانک،  کسی منطقی انجام کے بغیر کہانی ختم کر دیتی ہیں ۔ اس سے مجھے لگا جیسے آپ مغربی کہانی کاروں سے خاصی متاثر ہیں لیکن آپ کے کرداروں کے رویے میں جو تیکھا پن ہے اس نے مجھے افریقا کے کلاسکی ادیبوں کے انداز تحریر کی یاد دلائی۔
اس نے توجہ سے میری بات سن کر ایک گہرا ہنکارہ بھرا پھر سنجیدگی سے گویا ہوئی: جناب آپ اب تک کہاں تھے؟پھر خود کلامی کے انداز میں دھیمے لہجے میں کہا: نہیں ،  ہم نے غلط کہا آپ تو موجود تھے لیکن بس ہماری نظر ہی چوکتی رہی۔پھر بے تکلفی سے بولی: یہ آپ اتنے الگ تھلگ کیوں رہتے ہیں ۔ہم نے آپ کے ساتھ کبھی کسی کو نہیں دیکھا۔
میں ذرا حیرت سے مسکرایا: ارے آپ تو بہت تیز نظر ہیں ،  اجنبیوں کو بھی گہرے مشاہدے میں رکھتی ہیں ۔
اس نے قہقہہ لگایا : اجنبی! نہیں آپ اجنبی تو کبھی بھی نہیں تھے اور میں سب کو نظر کی سان پر نہیں رکھتی مگر آپ تو ایک الگ آدمی ہیں ۔ اپنے آپ میں گم لیکن ہر جانب سے باخبر اور متجسس۔اس نے بات مکمل کر کے مجھے گہری نظروں سے دیکھا۔
میں نے ہلکی سی تالی بجائی اور ہنستے ہوئے بولا:تعجب ہے آپ اچٹتی نظر سے بھی اتنی گہرائی تک دیکھ لیتی ہیں ۔ آپ نے مجھے پاتال سے نکال کر سر عام لا کھڑا کیا ہے... مجھے زعم تھا کہ یہ فن بس میں ہی جانتا ہوں ۔ ہاں ، آپ نے سچ کہا میں ایسا ہی ہوں ۔
وہ شرارت سے مسکائی : میں جانتی ہوں کہ اگر انسان کو ہم زاد میسر نہ آئے تو وہ اپنی تنہائی کو ترجیح دیتا ہے۔ پھر عجیب لہجے میں بڑبڑائی : دیکھیں آج ہم نے ایک دوسرے کی تنہائی لوٹ لی۔پھر گھڑی پر نظر ڈالتے ہوئے بناوٹی خفگی سے بولی: صاحب !آپ کوئی اسم جانتے ہیں ؟ وہاں میرا گھر ٹھنڈار پڑا ہو گا اور آ پ نے مجھے یہاں پتھر کیے بٹھا رکھا ہے۔میں مسکرا کر اٹھتے ہوئے بولا: یہ خود کلامی بھی عجب چیز ہے وقت کا احساس ہی جاتا رہتا ہے۔
وہ چلتے چلتے ٹھٹک کر بولی:بھئی واہ، یہ تو آپ نے عجب ہشت پہلو بات کہی۔واقعی ایک عالم مدہوشی میں یہ بہت سا وقت گزر گیا۔پھر نخرے سے کہا: اب اس لطف کو کرکرا مت کر دیجے گا۔ ہم میں انتظار کا یارا ذرا کم کم ہے اور جس سے ملاقات کی للک بھی ہو تو جانیے ...اس نے بات ادھوری چھوڑ دی۔ہم نے مہمانوں کی کتاب پر دست خط کیے الطاف کو الوداع کہا اور باہر نکل آئے۔اسے کار کا دروازہ کھولتے دیکھ کر میں نے مضبوط لہجے میں کہا:ہم جلد دوبارہ ملیں گے۔اس نے کار اسٹارٹ کر کے پوچھا : اب آپ کا پروگرام کیا ہے؟
میرے لیے اب یہاں کیا دھرا ہے۔ بس میں بھی چلا۔اس کے باریک ہونٹوں پر تبسم کی لکیر چمکی: اوکے سو لانگ اور وہ یہ جا وہ جا۔میں اس کے بعد بھی کافی دیر وہاں کھڑا سوچتا رہا کہ اچانک اتنی فراوانی سے نصیب ہو جانے والی اس مسرت کو سنبھال بھی سکوں گا ؟گھر پہنچ کر بھی ذہن کے پردے پر ایک رنگین فلم چلتی رہی پھر خیال آیا کہ میرے یہ احساسات کچھ زیادہ امیچور تو نہیں لیکن یہ سوچ کر کچھ تسلی ہوئی کہ یہ محض دوستی ہی تو ہے اور اگر کچھ اور بھی ہے تو میں کب تعلق کی بنیادکسی جھوٹ پر رکھ رہا ہوں ۔ یوں بھی یہ ڈور تو اسی نے باندھی ہے اب اگر میں گرہ لگانا چاہتا ہوں تو اس میں ایساناروا کیا ہے؟ اسی دنگل میں کافی رات بہہ گئی۔کروٹیں بدلتے جانے کب نیند نے بے دھیان کر دیا۔ ابھی ناشتے وغیرہ سے فارغ ہی ہوا تھا کہ موبائل ٹرٹرانے لگا۔ میں نے گھڑی پر نظر ڈالی ایک بجا تھا۔ موبائل پر اجنبی نمبر دیکھ کر میں نے کال ڈس کنکٹ کر دی۔ پھر خیال آیا کہ جانے کو ن ہو؟ شاید کسی اہم بات کے لیے کال کی گئی ہو یہی سوچ رہا تھا کہ موبائل دوبارہ بجنے لگا۔ ہیلو! کون؟
جناب آپ کی صبح ہو گئی کئی بار فون کر چکی ہوں ۔آواز میں دبی دبی سے خفگی تھی۔
اوہ! ساری میں دیر سے اٹھا... اس نے بات اچک کر شوخی سے پوچھا: اچھا،  تو آپ بھی رات گئے تک جاگتے رہے،  خوب۔جی یہ تو درست ہے لیکن اس خوب کو کیا معنی دیے جائیں ؟اور ہاں آپ آفس نہیں گئیں ؟وہ کھلکھلائی:ظاہر ہے انسان سائے سے بچھڑ جائے تو کہاں کی نیند ؟۔ رہا آفس تو بس یوں ہی چھٹیاں لے لی تھیں کسے معلوم تھا یہ اتنی بار آور ثابت ہوں گی۔وہ ایسی بے تکلفی سے کلام کر رہی تھی جیسے ہم برسوں کے آشنا ہوں : میں کچھ سمجھا نہیں ۔ میں نے سادہ سے لہجے میں کہا۔جی میں بھی الجھتی رہی کہ ٹرنکلائزر لینے کے باوجود نیند کو کیا ہوا؟ پھر آپ کا ایک فقرہ یاد آیا کہ یہ خود کلامی بھی عجیب چیز ہے وقت گزرنے کا احساس ہی نہیں ہوتا تب جا کر نیند کے بد راہ ہو نے کا بھید کھلا۔کروٹیں لیتے اور جاگتے خواب دیکھتے رات بیت گئی۔پھر بولی: کیا ہم سب باتیں فون ہی پر کر لیں گے؟ پھر عجب لگاوٹ سے کہا: اب آ جائیں ناں ۔میں نے وعدہ کیا کہ چینج کر کے پہنچتا ہوں ۔یا الہی! یہ سب کس تیزی سے ہو رہا ہے۔ ابھی کل ہی تو ہماری ملاقات ہوئی ہے اور وہ .. مجھے اس کی کیفیت دیکھ کر صحرا میں بھٹکے ہوئے اس پیاسے آدمی کی بے تابی یاد آئی جسے نخلستان میں اچانک میٹھے پانی کا چشمہ میسر آ گیا ہو۔میں مسکرایا اور باتھ روم میں جا گھسا۔دروازے پر پہلی دستک ہی نے کھل جا سم سم کا کام کیا۔اس کی موٹی موٹی آنکھوں میں رات کی جگار واضح تھی۔ چہرہ میک اپ سے عاری لیکن اس کی شادابی دیدنی تھی، اس نے لباس میں بھی کسی تکلف کا خیال نہیں رکھا تھا۔ یہ سب اس عورت کے اوریجنل ہونے کے اشارے تھے۔ اس نے مجھ پر نظر گزاری،  مسکرائی اور کہا: خاصے اسمارٹ لگ رہے ہیں ۔اس نوکیلے جملے کی چبھن کو سہتا ہوا میں صوفے پر بیٹھ کر بولا:جی! تہوار کے دن اپنا آپ سنوارنا ہماری پرانی روایت ہے۔اس کی آنکھوں میں حیرت سی لپکی: تہوار؟ اس نے دھیرے سے کہا پھر یکایک چہرے پر دھنک سی بکھر گئی : آں ... اچھا۔پھر لگا کمرے میں نقرئی گھنٹیاں سی بج اٹھی ہوں ۔مگر آپ نے دیکھا ہم تو اجڑے ہوئے ہیں ... پھر خود کلامی کے انداز میں بولی:ہمیں یہ خیال کیوں نہیں آیا؟میں نے مسکرا کر کہا: کچھ لوگ ان تکلفات سے ماورا ہوتے ہیں ۔وہ مسکرائی : اچھا...یہ فرمائیں آپ کافی لیں گے یا چائے؟میں نے تعجب سے کہا :ارے اس تکلف کو جانے دیں لیکن کیا آ پ بھی دیر سے اٹھیں ؟۔نہیں ، بس چائے پی لی تھی سوچا تھا باقی آپ کے ساتھ دیکھا جائے گا۔لیکن...خیر۔میں نے حیرت سے کہا: اچھا...لیکن کافی کا لطف تو اس کی تلخی میں ہے۔اس نے یک ٹک مجھے دیکھا: جناب ہم بہت اعلی کافی بناتے ہیں ۔میں نے نفی میں سر ہلایا:کیا مطلب؟۔وہ الجھ کر بولی۔یہی تو مسئلہ ہے۔ آپ بنائیں گی تو تلخی کہاں رہے گی؟۔اس نے دانت جگمگائے: آپ ہم سے واقف نہیں ۔ ہم کڑواہٹ برقرار رکھنے کا قرینہ بھی رکھتے ہیں ۔کافی واقعی بہت عمدہ تھی۔ اس نے سپ لیتے ہوئے کہا :جناب یہ کیا بوریت ہے کہ ہم تہوار کے دن بھی یہاں مونہہ لپیٹے بیٹھے رہیں کچھ celebration ہونی چاہیئے۔میری آنکھیں مسکرائیں : ہوں خیال تو برا نہیں لیکن کیا؟۔ٍ وہ اٹھی،  کھڑکی کا پردہ اٹھتے ہی کمرا روشنی سے چم چم کرنے لگا۔ اس نے تاسف سے کہا:ہم کب سے روشنی کو ترسے ہوئے تھے اور روشنی ایک ہاتھ کے فاصلے پر ہماری منتظر تھی۔پھر چہرہ تمتما کر بولی: چلیں دیکھتے ہیں شہر آج کیسا لگ رہا ہے۔میں نے اثبات میں سر ہلا کر سوال کیا:آپ کو سمندر سے ملاقات کیے کتنی مدت بیت گئی؟سمندر... اس نے کھوئی ہوئی آواز میں سرگوشی کی پھر شوخی سے کہا: کل کی شام اسی کے ساتھ گزری اور آج بھی تو ...اس نے بات نامکمل چھوڑ کر غور سے میرے چہرے پر نظر کی اور کہا:آپ جس سمندر کی بات کر رہے ہیں اس کی وسعت اور شکوہ ہمیں ہیبت زدہ کر دیتا ہے لیکن آج ... ایک ذومعنی بات کہہ کر چپ پکڑ لی۔ کچھ توقف کے بعد برتن سمیٹتے ہوئے کہا:لیکن سمندر کے روبرو ایک اور سمندر دیکھنا کیسا انوکھا نظارہ ہو گا۔ چلیں کسی دن گھومتے پھرتے سمندر سے بھی نمٹ لیں گے۔میرے حوالے سے اس کی خوش خیالیاں مجھے تشویش میں مبتلا کر رہی تھیں ۔ میں نے اسے غور سے دیکھتے ہوئے پوچھا: آپ مجھے کتنا جانتی ہیں ؟اس کے چہرے پر سرسوں سے پھوٹی۔ اس نے بڑھ کر میرے مونہہ پر ہاتھ رکھ دیا: پلیز ہم سے ہماری خوشیاں نہ چھینیں ۔ہمیں اپنی یہ fantasy بہت عزیز ہے۔میں نے قہقہہ لگایا :خوب،  آپ میرا مرتبہ گھٹا رہی ہیں اور میں مونہہ باندھے بیٹھا رہوں ۔جناب،  انسان اپنے اندر ایک مکمل کائنات ہے اور آپ مجھے سُسرے سمندر سے تشبیہ دے رہی ہیں ۔اس کے چہرے کی گلابی لوٹ آئی: اچھا جی ... تو یہ دعوے ہیں ... دیکھتے ہیں ۔میں نے ملائمت سے اس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے پوچھا:سنیں ! میں آپ کو ہم کہہ کر پکار سکتا ہوں ۔اُس نے ٹھٹک کر لہلوٹ ہونے کے انداز میں کہا:سچ ... کیا ہم اتنے خوش بخت ہیں ؟میرا دل چاہا کہ اٹھ کر اسے سینے سے لگا لوں اور اس پر بوسوں کی بارش کر دوں لیکن خود کو باندھے بیٹھا رہا۔پھر دھیرے سے پکارا: ہم۔وہ جیسے خواب سے چونک کر بولی۔ہوں ... جی۔سنوnow no more آپ جناب،  یار دوستوں میں یہ تکلفات بھلے نہیں لگتے۔وہ مسکرائی: جی دوستی ... اس سے تو بات اب شاید کوسوں آگے نکل چکی ہے۔یہ ایک قطعی اور نہایت واضح بیان تھا۔ میں خاموشی سے اس کا مونہہ تکنے کے سوا اور کیا کرتا۔اس نے اپنی بات پہ تڑکا لگایا: عورت کی خاموشی کو نیم رضامندی سے تعبیر کیا جاتا ہے اور مرد کی؟ارے کمال کرتی ہو تو کیا اب میں بھی خود کو (ہم ) کہہ کر مخاطب کرنے لگوں ؟ ویسے مرد اگر خاموش رہے تو سمجھنا چاہیئے کہ وہ نہ صرف پوری طرح متفق ہے بلکہ بہت سرشار بھی ہے۔بات تو بالکل کھری ہے لیکن اب ہم اپنے مزاج کا کیا کریں لیکن آ پ نے معاملہ ہی پانی کر دیا۔میں مسکرایا: درست،  وہ ساعتیں مر چکی ہیں جن میں ہم دونوں سانس لیتے رہے ہیں ۔ یہ ایک نیا منظر نامہ ہے اور بدلاؤ اس کا پہلا تقاضہ ہے۔ خواب دیکھنے کے لیے اس کی شرائط پوری کرنی ہوتی ہیں ۔وہ سنجیدگی سے گویا ہوئی: ارے ہاں یہ تو خیال ہی نہیں آیا۔ جب آدمی زندگی وارنے پر تیار ہو تو یہ مزاج کے ٹکے کا ہے۔میں مسکرایا: لیکن سوال یہ ہے کہ اگر ہم اسی طرح باتیں بگھارتے رہے تو گھومنا پھرنا ہو چکا۔وہ شوخی سے بولی: جناب آپ ایک لاجواب انسان ہیں ۔بس چند سیکنڈ،  یوں گئے اور یوں حاضر۔میں لفظ لاجواب کی معنویت میں ڈوبا ہوا تھا کہ وہ جینز جوگر ڈاٹے ہوئے لوٹ آئی۔ہم باہر نکلے تو ہر طرف سنہری بکھری ہوئی تھی۔کتنے عرصے بعد دن کا جوبن دیکھا ہے ورنہ تو سرمئی شام ہی آنکھوں کا کاجل بنی ہوئی تھی۔اس نے کار کا دروازہ کھولتے ہوئے لب وا کیے: جانے آپ کی سنگت میں ابھی کتنی اور نعمتیں ہماری منتظر ہیں ۔ لہجے کی بشاشت بول رہی تھی۔اچھا تو اب کہاں چلیں ۔ میں نے کار سڑک پر لاتے ہوئے پوچھا۔اس کے بدن سے پھوٹتی گرم مہکار مجھے ان جانے خدشات میں مبتلا کر رہی تھی۔وہ ترنت بولی: I am with you and it is your festival.اچھا only mine?ارے بھئی یہ انگریزی بھی کیسی تہی دامن زبان ہے،  ویسے من و تو کا جھگڑا اب رہا ہی کہاں ؟ اچھا کسی ایسی جگہ چلیں جہاں اجنبی آوازوں کی گونج ہو۔میں نے کار بڑھاتے ہوئے کہا: چلیں آج وہاں چلتے ہیں جہاں آپ کو بہت پہلے ہو آنا چاہیئے تھا۔اس نے اشتیاق سے پوچھا : بھلا کہاں ؟جامعہ کلاتھ مارکیٹ، جہاں آپ اپنے ان بہت سے کرداروں کو دیکھ سکیں گی جن سے اب تک ملنے سے محروم رہیں ۔دکان داروں سے مول تول کرتی عورتیں ، مہنگے ملبوسات کو دیکھتے ہوئے ان کی آنکھوں میں جمی ہوئی حسرت،  ان کی آپس کی بات چیت اور بے ساختہ رد عمل اور بہت کچھ۔اس نے گہرے تجسس سے میری بات سنی۔ہا ... ہم کب سے یہ سب دیکھنے کی تمنائی تھے لیکن ہم نے خود کو کس قدر سمیٹ کر رکھا۔لیکن اب ... اس کی آواز میں عجب عزم اور ارادہ تھا۔پھر اچانک کہا:آپ نے تو کہا تھا آپ جناب نو مور پھر؟۔ میں چپ چاپ مسکرادیا۔میں اسے آرٹ کونسل سے گزارتا ہوا میوزیم کے سامنے کی پارکنگ تک لے آیا۔ کار پارک کر کے ہم نے سڑک عبور کی لوگ اس کی گوری چٹی رنگت اور لباس کے باعث لوگ اسے غیرملکی سمجھ رہے تھے۔ وہ اردگرد سے بے پروا کسی بچے کی سی ہمک سے وہاں موجود ہر چیز کو دیکھ رہی تھی۔ تنگ گلیوں سے گزرکر بسوں کی یلغار سے بچتے ہوئے ہم برنس روڈ پر سے گزرے وہاں سہی بڑوں کی چاٹ کی دکان پر وہ اڑ کر کھڑی ہو گئی :ہم دہی بڑوں کی چاٹ کھائے بغیر یہاں سے ایک انچ نہیں بڑھیں گے۔وہ ٹھنکی۔دکان دار نے دھلے ہوئے برتنوں کو ایک بار پھر دھو کر چاٹ بنانی شروع کی وہ اٹھ کر کاونٹر پر پہنچی:بھائی چاٹ خوب چٹ پٹی بنائیے گا۔ دکان دار نے حیرت سے اردو بولتے سنا پھر بولا: میڈم مزا نہ آئے تو پیسے واپس۔وہ مسکراتی ہوئی واپس آ گئی : کتنی رنگا رنگی ہے اس دنیا میں اور ہمیں دیکھیں کہ کبھی شاہ جی کے دوار سے ایک قدم آگے نہیں بڑھے۔شاہ جی کا دوار؟۔ میں نے نا سمجھنے والے انداز میں دھرایا۔ارے صاحب وہی آرٹ کونسل۔ آئے دن وہاں آتے ہیں کبھی سوچا ہی نہیں کہ اس کے آگے کیا ہے۔ چاٹ کھاتے ہوئے اس کی آنکھیں ساون بھادوں کا منظر پیش کر رہی تھیں اور ناک سرخ انگارہ ہو رہی تھی لیکن وہ اس سب سے بے خبر سٹاسٹ کھانے میں مشغول تھی۔ میں نے کولڈ ڈرنک طلب کی اور چسکیاں لینے لگا۔ پلیٹ ختم کر کے اس نے ادھر اُدھر دیکھا: اب ہم دہی بھلے ٹرائی کریں گے۔ اس نے شوق سے کہا۔ میں نے میٹھے دہی بھلے منگوا لیے۔ اس نے ان کے لیے پانی الگ سے منگوایا اور پلیٹ ختم کر کے ایک آسودہ سی دھیمی آواز میں ڈکار لی۔ہم دوسری دکان سے آئس کریم کھا کر نکلے ہی تھے کہ جانے کہاں سے ایک بندر والا آ گیا۔سلام میم ساب۔ اس نے بندر کی زنجیر ہلائی۔ وہ دو پیروں پر کھڑا ہو کر سلام کرنے لگا۔یہ سب دیکھ کر ہم کا چہرہ غصے سے سرخ ہو گیا۔ وہ غرائی: ختم کرو یہ تماشا۔ بندر والا سہم سا گیا اور چاہتا تھا کہ وہاں سے ٹل جائے کہ وہ بولی: ٹھہرو،  یہ بندر بیچو گے؟۔بندر والے نے حیران نظروں سے اسے دیکھا: میم ساب یہی ہماری روزی روٹی ہے۔ہم، نے عجب التجا سے میری طرف دیکھا: ہم اسے گود لے لیں ؟۔مجھے اس پر بہت پیار آیا۔ میں نے بندر والے سے کہا: یہ بندر  ناو                                                                                                                            ڈرنگتہ                                                                                                                          میم صاحب کو پسند آ گیا ہے۔تم دوسرا لے لینا۔بولو کیا لو گے؟اس کی عیار آنکھوں میں لالچ چمکی:ساب۔ میں نے درشتگی سے پوچھا: کتنے پیسے؟اس نے سر کھجایا: ساب پانچ ہجار سے کم میں نہیں دوں گا۔ میں نے پانچ ہزار نکال کر اسے تھمائے اور بندر کی زنجیر ہم کے حوالے کر دی۔اس نے جھک کر بندر کو گود میں اٹھا لیا اور اس کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے بولی: ہمارے ساتھ رہو گے ناں میری جان۔ اس کے چہرہ پر مامتا کا نور تھا۔برنس روڈ سے ملحق سڑک پر شامیانوں کی مرمت کی جا رہی تھے تو کہیں تصاویر فریم ہو رہی تھیں ۔ ہم،  بے حد سست رفتاری سے چلتے ہوئے یہ سب گہری نظروں سے دیکھ رہی تھی۔ اسی کے ساتھ بندر پر بھی اس کی پوری نظر تھی۔ بائیں ہاتھ مڑے تو یہاں عورتوں کا اژدہام تھا۔ مختلف دکانوں اور ٹھیلوں پر زندگی اپنے پورے جمال اور بد صورتی کے ساتھ جلوہ فگن تھی۔اس نے بندر مجھے تھمایا اور خود ایک دکان کی طرف بڑھ گئی جہاں بہت رش تھا عورتیں بھاؤ تاؤ میں مصروف تھیں اور ہم،  ان کے مشاہدے میں مشغول تھی۔مارکیٹ میں کب کئی گھنٹے گزر گئے احساس ہی نہیں ہوا۔مارکیٹ سے باہر نکلتے ہی اس نے کہا: لائیں میر ا پرنس۔ دیکھیں بھوک سے کیسا نڈھال ہو رہا ہے۔میں نے ایک ٹھیلے سے کیلے لے کر بندر کو تھما دیئے۔ اس نے کیلے کے چھلکے ادھر ادھر پھینکتے ہوئے غپڑ غپڑ انہیں کھانا شروع کر دیا۔ہم،  نے ڈانٹ پلائی:نو،  ناٹی بوائے،  گندگی نہیں کرتے۔پھر بیٹھ کر چھلکے اٹھا کر انہیں ایک طرف رکھ دیا اور خود کیلے کے چھلکے اتار کر اسے کھلانے لگی۔ تمام راستے اس نے مجھے نظرانداز کیے رکھا جب گاڑی اس کے گھر کے سامنے رکی تو وہ اپنے لاڈ سے چونکی: چلو پرنس گھر آ گیا۔پھر میری طرف دیکھا: آئیں ناں ۔میں نے نفی میں سر ہلایا: نہیں ۔ پھر مسکرا کر کہا: پرنس ہے نا۔اس کے ہونٹوں پر کشادہ مسکراہٹ پھیل گئی: آپ نے مجھے مالا مال کر دیا ہے۔ اچھا کل ملتے ہیں ۔پھر پرنس سے بولی: انکل سے ہاتھ ملاؤ۔میری حیرت کی انتہا نہیں رہی جب اس نے میری طرف ہاتھ بڑھا دیا۔وہ یقیناً ایک نہایت تربیت یافتہ اور انسانوں سے مانوس جانور تھا۔اس کا ہاتھ ہاتھوں میں لے کر میں نے اس پر بوسہ دیتے ہوئے کہا: پرنس یہ بوسہ تمہاری ماما کے لیے ہے۔وہ کھلکھلائی: واہ صاحب یہ بھی خوب رہی۔انہیں خدا حافظ کہہ کر واپسی پکڑی۔ مجھے ہم کی دردمندی نے بہت متاثر کیا تھا۔ابھی گھر پہنچے مجھے کچھ ہی دیر ہوئی تھی کہ فون بول اٹھا: دیکھیں یہ پرنس کیسا نٹ کھٹ ہے۔ خوشی اس کی آواز سے چھلکی پڑتی تھی۔ہم،  اس کی زنجیر نہ کھولنا ورنہ...اس نے قہقہہ لگایا:ہم جانتے ہیں کہ تمام مردوں کی خصلت تقریباً ایک جیسی ہوتی ہے۔ انہیں بہت جتن سے زنجیر رکھنا پڑتا ہے۔میں نے قہقہہ لگایا : میڈم! وہ بندر نہیں بندریا ہے۔اور فون ڈس کنکٹ کر دیا۔ میں گزرے ہوئے دن کے بارے میں سوچنے لگا وہ تمام دن کیسی مگن رہی تھی۔ زندگی کے اس نئے ذائقے نے اسے سرشار کر دیا ہے۔میں یہی سب سوچتا ہوا نیند کی آغوش میں چلا گیا۔صبح ناشتے وغیرہ سے فارغ ہو کر گنگناتے ہوئے اخبار دیکھنے بیٹھ گیا۔لاشعوری طور پر میری توجہ موبائیل ہی کی طرف تھی۔ وقت بہلانے کے لیے چائے لینے کے لیے اٹھا تو فون بول اٹھا۔ میں نے لپک کر کال ریسیو کی۔ وہ کہہ رہی تھی: صاحب آپ تو گھوڑے بیچ کے سوتے ہیں ۔اگر ہم سے دیر ہو گئی تھی تو آپ کال کر لیتے۔میں نے جواباً کہا: پہلے خود عادت بگاڑ دی اور اب مارا کاٹی پر اتر آئی ہیں ۔اچھا سنائیں پرنسز کن حالوں میں ہے؟اس نے ٹھنڈی سانس بھری: کیا پوچھتے ہیں جناب، وہ بڑی نخریلی ہے۔ہم نے آج اسے شاور دیا خوب انجوئے کرتی رہی لیکن جوں ہی شیمپو لگایا ہتھے سے اکھڑ گئی بمشکل غسل مکمل ہوا۔وہ ایسے بات کر رہی تھی جیسے اپنی بچی کا احوال سنا رہی ہو۔مین نے رسانیت سے سمجھایا: اتنی جلدی نہ کریں ۔دھیرے دھیرے راہ پر آ جائے گی۔اچانک اس کا قہقہہ سنائی دیا: دیکھیں اب موبائیل چھینے کی کوشش کر رہی ہے۔پھر جیسے اسے یاد آ گیا:لیکن یہ آپ کہاں لا پتا ہیں ؟میں نے چھیڑ کی: سوچا شاید پرنسز کے بعد...وہ انگارے کی طرح چٹخی:فورا آ جائیں ،  جشن کل ختم نہیں ہو گیا۔میں مسکرایا:او کے باس ابھی آیا۔ آپ کافی بنائیں ۔ کپڑے تو میں بدل ہی چکا تھا، راستے سے پرنسز کے لیے امرود اور دوسری چیزیں لے کر پہنچ گیا۔پرنسز اس کے کاندھے پر بیٹھی بالوں سے کھیل رہی تھی۔ مجھے دیکھ کر اس نے مونہہ پھیر لیا۔میں نے مسکرا کر کہا: دیکھو پرنسز میں کیا لایا ہوں ۔اس نے چونک کر مجھے دیکھا گویا وہ اپنے نام سے مانوس ہو چکی تھی۔ امرود دیکھ کر وہ مچل ہی تو گئی اس نے میرے ہاتھ سے لفافہ اچک لینا چاہا۔ہم کی تنبیہ سنائی دی:princes... princes be a good girl, behave shake hand with uncle. پرنسز نے سر گھما کر مجھے دیکھا اور اپنا ہاتھ بڑھا دیا۔میری مسکراہٹ کے جواب میں اس نے بھی دانت نکالے۔ہم،  ایک پلیٹ اٹھا لائی اور اس میں امرود رکھ کر کہا: اب کھاؤ۔بندریا نے ایک امرود اٹھایا اور اسے کترنے لگی۔ہم نے ادا سے مجھے دیکھا:جناب ہم بھی یہیں ہیں ۔میں نے دانت نکالتے ہوئے کہا: آپ کی لاڈلی کے لاڈ تو اٹھا لوں اور آپ ... آپ تو جناب ہر طرف ہیں ۔ لیکن وہ کافی کہاں رہ گئی۔وہ مسکراتی ہوئی کچن کی طرف بڑھ گئی۔ہم،  مہکتی کافی کے ساتھ میرے پہلو میں بیٹھ گئی: آج تو کیل کانٹے سے لیس ہو۔وہ باریکی سے مسکرائی:آپ ہی نے تو کہا تھا بدلاؤ بہت ضروری ہے۔پھر بہت ناز سے بولی:بناؤ سنگھار تویوں بھی ہمیشہ سے عورت کا حق رہا ہے۔میں کافی کا سپ لے رہا تھا کہ پرنسز اچھل کر ہمارے بیچ آ بیٹھی: لیجیے محترمہ کو ہمارا ساتھ بیٹھنا تک گوارہ نہیں آگے کیا ہو گا؟ہم، پیار سے اس کے جسم پر ہاتھ پھیرتے ہوئے بولی:پرنسز! ابھی انکل ہمیں سمندر کی سیر کرانے لے جائیں گے۔ تمہاری نئی اسکارف اور جینز جیکٹ میں ۔ پھر مجھ سے مخاطب ہوئی:عادی ہو جائے گی۔کل رات میں نیٹ پر دیر تک بندروں کی نفسیات پر پیپر دیکھتی رہی۔ یہ جانور سیکھنے کی خدا داد صلاحیتوں کا مالک ہوتا ہے۔پھر پوچھا :تو ہم چل رہے ہیں ناں سمندر کی سیر کو؟میں نے اثبات میں سر ہلایا۔ اس کی آنکھوں میں جھانکا:تم نے پرنسز سے وعدہ کر لیا ہے اب تو جانا ہی ہو گا۔وہ گنگنائی: گویا اب پرنسز ہم پر فوقیت حاصل کر چکی ہے۔نہیں بھلا تم سے آگے قدم کون نکال سکتا ہے لیکن پرنسز کو راضی رکھنا وقت کی اہم ترین دانش مندی ہے۔وہ کھلکھلا کر ہنسی: اور اگر میں روٹھ گئی؟میں نے پل بھر سوچا:کیا کوئی اپنے آپ سے بھی روٹھ سکتا ہے؟وہ لاجواب سی ہو کر پرنسز کو لیے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔ میں کافی کے پیالے کچن میں رکھ آیا۔دونوں باہر آئیں تو وہ اور پرنسز ایک سے لباس میں تھیں ۔ہم روانہ ہوئے تو پرنسز بیک مرر سے باہر کا نظارہ کرنے میں مشغول ہو گئی۔اس نے زیادہ پریشان تو نہیں کیا؟نہیں ،  لیکن پرانی عادتیں تو جاتے جاتے جائیں گی۔میں نے سرسری لہجے میں کہا:چند دنوں میں تم میں جو تبدیلیاں آ چکی ہیں ان پر کبھی غور کیا؟اس نے گہری آواز میں جواب دیا:ہوں ،  میں بھی اس بات پر حیران ہوں لیکن انسان عجیب غیر معمولی مخلوق ہے۔ آپ کا اپنے بارے میں کیا خیال ہے؟میں ،  میرا تو منظر نامہ ہی بدل کر رہ گیا ہے۔ گمان تک نہیں تھا کہ کبھی کسی کے ساتھ یوں سیر سپاٹے کرتا پھروں گا،  تم عجب کمال عورت ہو۔ ہم ہنستے بولتے سی ویو پہنچ گئے۔پرنسز سمندر کو دیکھ کر سہم سی گئی ہم نے اسے سینے سے چمٹا لیا۔شاید اس نے پہلی بار سمندر کو دیکھا تھا۔ ہم نے سوال کیا:یہ سمندر کیسا چپکا پڑا ہے۔ اسے کاہے کا سوگ ہے۔میں نے شوخی دکھائی :ہم،  یہ تمہارے احترام میں خاموش ہے ابھی مجھ پر نظر پڑنے دو دیکھنا کیسے لوٹیں لگا تا ہے۔ اس نے خوش دلی سے قہقہہ لگایا  ژدھ                                                                                                                            پھر نخرے سے کہا: بھلا کیوں ؟اچانک ایک لہر ساحل کی طرف لپکی: دیکھو ہم!حسن میں کتنی طاقت ہوتی ہے۔سمندر نے تمہارے استقبال کے لیے اپنا نمائندہ بھیج دیا۔اس نے حیران سا ہو کر مجھے دیکھا پھر کھلکھلائی: شجی! آپ بھی کمال کرتے ہیں ۔میں نے ہولے سے دھرایا: شجی۔ لگا جیسے مونہہ شہد سے بھر گیا ہو۔ وہ میری کیفیت پر نگراں تھی۔میں نے لہک کر کہا: واہ،  جی خوش ہو گیا لیکن...اس نے ذرا ایک سوچا: لیکن کیا؟میں نے اس کی آنکھوں میں آنکھیں پیوست کر دیں ۔ ہم،  منیر نیازی کی نظم کی چند لائنیں سنو۔کھولو یہ بھاری دروازہ مجھ کو اندر آنے دواس نے کہا کہ کون ... میں نے کہا کہ میں اس کے بعد ایک لمبی چپ اور تیز ہوا کا شوراس نے بے ساختہ : واہ۔ کہا پھر کچھ وقفے کے بعد بولی:بہت گہری بات ہے من و تو....میں نے بات اچکتے ہوئے پوچھا:ہم،  اب میری لیکن کا مطلب سمجھ میں آیا؟اس نے اثبات میں سر ہلایا:مگر نام تو محض ایک شناخت ہے۔یہ کیا اچھا لگے گا کہ ہم دونوں ایک دوسرے کو یکساں نام سے پکاریں اور یکتائی تو روحوں کا سنگم ہوتا ہے۔ میں شجی کہتی ہوں تو اچھا لگتا ہے لیکن اگر...نہیں ...نہیں مجھے یہ بہت بھلا لگا لیکن تم ہر بات کو اتنی سنجیدگی سے کیوں لیتی ہو۔میں نے قہقہہ لگایا:بھئی کیا بوریت ہے دیکھو سمندر ہماری راہ تک رہا ہے۔اس نے جھٹ پرنسز کو مجھے تھمایا، سلیپر اتارے، جینز کے پانچے پلٹے اور میری طرف ہاتھ بڑھا دیا۔ ایک ذرا سے تامل کے بعد میں نے اس کا ہاتھ تھام لیا۔ ہم سمندر کی طرف بڑھے تو پرنسزبے چین ہو گئی۔calm down baby it's ok dear. میں یہ دیکھ کر حیران ہو گیا کہ پرنسز پر سکون ہو چکی تھی۔ہم کا ہاتھ تھام کر ایسا لگا جیسے پورے بدن میں برقی رُو دوڑ گئی ہو۔اس کے نرم،  گرم اور گداز ہاتھ کی گرفت رفتہ رفتہ سخت ہوتی جا رہی تھی۔ ہم دونوں ہی سمندر پر نظریں گاڑھے ریت پر اپنے قدموں کے نشان ثبت کرتے آگے ہی آگے رواں دواں تھے۔پیر پانی سے ٹکرائے تو جسم میں ایک الگ قسم کی سنسنی پھیل گئی۔ مجھے لگا اس کے بدن میں خفیف سی لرزش ہوئی ہو۔پانی اب پنڈلیوں سے بڑھ کر ہمارے گھٹنوں تک چڑھ آیا تھا اور ہم ایک بے خودی میں بڑھے جاتے تھے۔یکایک ایک آدمی پانی اچھالتا ہوا ہماری طرف لپکا: کیا ارادے ہیں ؟ اس نے اکھڑے ہوئے لہجے میں سوال کیا۔ہم نے جیسے ہوش میں آتے ہوئے ادھر اُدھر دیکھا۔آپ خطرے کے نشان سے بہت آگے نکل آئے ہیں ۔اس کے لہجے کی کڑواہٹ اپنی جگہ تھی۔ہم خاموشی سے واپس پلٹ گئے پھر پایاب پانی میں ٹہلنے لگے۔پرنسز نے واپسی پر ناخوشی کا اظہار کیا۔شجی! یہ مسخرہ کون تھا؟ سارا لطف مٹی میں ملا دیا۔ ہم خفگی سے بولی میں مسکرایا: ہاں دیکھو بس دوچار قدم ہی کی تو بات تھی پھر ہم سمندر کی آغوش میں ہوتے۔اس نے عجب سی آواز میں کہا: تو کیا برا ہوتا؟۔ سمندر ایک بہت بڑی اکائی ہے ایک انوکھی دنیا۔اس کا ہاتھ اب تک میرے ہاتھوں میں تھا اور سرور کی ایک خفتہ لہر پورے بدن میں لوٹیں لگ رہی تھی: ہم،  کیا خیال ہے کچھ کھا ہی نا لیا جائے؟میک ڈونلد دیکھ کر بھوک چمک اٹھی تھی۔اس نے مسکرا کے چوٹ کی : تھک گئے،  چلیں جناب لیکن پہلے مونہہ پر پانی کا ایک چھپاکا مار لیا جائے۔ہم فریش ہو کر ریسٹورنٹ کی طرف بڑھے۔راستے سے میں نے پرنسز کے لیے پاپ کورن خرید لیے۔ہم نے خالی پلیٹ طلب کر کے کورن اس کی طرف کھسکا دیے۔ہم، کیسا لگ رہا ہے؟ میں نے بشاشت سے دمکتے اس کے چہرے پر نظر ڈالتے ہوئے پوچھا۔وہ مسکرائی: آج ہم زندگی کے بہت سے نادر تجربات سے دوچار ہوئے۔کسی مرد کے ہاتھ کا پہلا لمس عورت کو ذائقے کی کیسی سبک اور دھیمی دھیمی آنچ سے ہم کنار کرتا ہے اسے اب ہم بیان میں لا سکتے ہیں ۔لحظہ بھر تھم کر بولی:یہ ایک ایسا تجربہ تھا جسے ہم ان کہا رکھنا چاہتے ہیں ۔یہ ہماری زندگی کی سب سے انوکھی خوش بختی ہے۔وہ سانس لینے کو رکی:ہم سمندری پانی کی سرسراہٹ اور ہلاکت خیزی کی معنویت سے پہلی بار متعارف ہوئے۔مگر آپ؟ اس نے حسب عادت بات ادھوری چھوڑ کر چائے کی پیالی اپنی طرف کھسکائی اور میرے چہرے پر نظریں گاڑ دیں ۔ہم،  میری بھی کچھ ایسی ہی کیفیت ہے لیکن شاید شدت قدرے زیادہ ہے کیوں کے میں نے پہلی بار نسوانی لمس کا شرف حاصل کیا ہے۔اس نے تعجب سے مجھے دیکھا: اگر ہم آپ کے کھرے پن سے کسی حد تک واقف نہ ہوتے تو مشکل تھا کہ اس بات پر یقین آتا لیکن سچ پوچھیں تو کسی زندہ لمس کا ہمارا بھی یہ پہلا ہی تجربہ ہے۔چائے وغیرہ سے فارغ ہو کر وہ اچانک اٹھ کھڑی ہوئی:اب چلیں ۔دیکھیں سمندر کیسی وحشت انگیزی پر اتر آیا ہے بس چلیں یہاں سے کسی پر شور جگہ۔کار اسٹارٹ کرتے ہوئے میں نے مسکرا کر کہا: کیا اندر بہت اتھل پتھل ہو رہی ہے؟اس نے آنکھیں ٹیڑھی کر کے کہا: آپ کیسے مہلک آدمی ہیں ۔پھر موضوع بدل کر بولی: میری کہانیوں میں وہ کیا بات تھی جسے اس دن آپ گول کر گئے تھے۔میں نے متعجب ہو کر کہا: اچھا ... بہت زیرک ہو یار۔ہاں ،  ان کہانیوں میں ایک کسر ہے۔ تم اپنے کم مایہ کرداروں کے بیان میں ڈول جاتی ہو۔صاف محسوس ہوتا ہے کہ اس میدان میں تمہارا تجربہ برائے نام ہے اور یہ ایک بنیادی کمی ہے۔اس نے توجہ سے بات سنی پھر کہا: آپ کی سچ بیانی کا بہت شہرہ سنا تھا اور آج دیکھ بھی لیا کہ آپ کس بے باکی سے لگی لپٹی رکھے بغیر سچ بولنے کا وصف رکھتے ہیں ۔لوگ آ پ کو دل آزار کے نام سے یاد کرتے ہیں لیکن ایسی درد مندی سے تو کوئی دوست ہی بات کر سکتا ہے۔میں نے کہا : میں جانتا ہوں لیکن آپ کمال کی باخبر خاتون ہیں ۔رہی کہانیاں تو اب آپ اس تجربے سے گزر چکی ہیں ۔ آئندہ کہانیوں میں آپ اپنے قارئین کو حیران کر دیں گی۔ہم روشن سڑکوں پر ادھر اُدھر مٹر گشت کرتے ہوئے ٹاور پر پہنچے تو ہم،  کو وکٹورین عہد کا طرز تعمیر یاد آ گیا۔ سڑک پر برائے نام ٹریفک تھا جب ہم شاہین کامپلکس سے پی آئی ڈی سی کی جانب مڑے تو کچھ آگے جا کر اچانک ہم نے میرا ہاتھ تھام لیا۔میں نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے ملائمت سے کہا: ہم،  میں ایک ہاتھ سے ڈرائیو نہیں کرسکتا۔اس نے خجل سا ہو کر ہاتھ ہٹا لیا: جب تک لمس کے جادو سے آشنا نہیں ہوئے تھے تو خیال تک نہیں آتا تھا لیکن اب...میں خاموشی سے کار ڈرائیو کرتا ہوا۔اس کے گھر پہنچ گیا۔ پرنسز تمام راستے مگن رہی تھی کبھی کبھار اس کے خوخیانے کی آواز آتی تو ہم کے سر سہلاتے ہی وہ خاموش ہو جاتی۔اس نے پرنسز کو سنبھالا اور بولی: آج اپنی پرنسز کو کس نہیں کریں گے اس کی ماما کے لیے؟میں ہنسا: why to her why not the mama her selfوہ مسکرائی، پرنسز خوخیائی:You are welcome پھر پلٹتے ہوئے بولی :Come on have a nice cup of coffeeاب میں بھی کب تک پتھر بنا رہتا۔ اس نے شاور لیا اور مجھے بھی فریش ہونے کا مشورہ دیا۔میں جب تک مونہہ ہاتھ دھو کر فارغ ہوتا گھر میں کافی کی سوندھی مہک بکھر چکی تھی۔ وہ مجھ سے سٹ کر بیٹھ گئی اور میرا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر پرنسز سے کہا :Baby! now close your eyes and sleep پرنسز نے لیٹ کر کروٹ بدل لی۔ارے یہ تو واقعی لیٹ گئی۔ میں نے حیرت سے کہا اس نے کافی کا سپ لے کر میر ی طرف کیک کی پلیٹ بڑھاتے ہوئے ناز سے کہا:آپ بھی تو جادو گر ہیں ۔میں کیا تھی اور آپ نے کیا سے کیا بنا دیا۔ یہ نری دیوانگی ہے،  جانے آپ نے میری بے دھیانی میں کیا پڑھ کر پھونک دیا؟میں نے قہقہہ لگا یا : واہ کیا دیدہ دلیری ہے۔مجھ گوشہ گیر کو محفل پسند بنا                                                                                                                                 دیا اور الزام بھی مجھ ہی پر۔ میں نے ہاتھ چھڑا کر اسے اپنی اور کھینچ لیا۔وہ بھی پھولوں سے لدی مہربان ڈال کی طرح میری جھولی میں آ گری۔ ہم پر دیر تک بے خبری کا یہ عالم طاری رہا۔ ہم آپس میں پیوست تھے کہ پرنسز کے خوخیانے کی آواز ہمیں ہوش میں لے آئی۔ وہ شاید بہت دیر سے ہمیں اس کیفیت میں دیکھتی رہی تھی۔ہم، چونک کر کچھ خجل سی الگ ہو گئی۔میں نے فرمائش کی: ہم، ایک اور کافی کا پیالہ پھر میں چلوں گا۔اس نے کچھ مایوسی سے کہا: کیوں ؟ آج یہیں رہ جائیں ناں ۔میں نے اس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے کہا: کون کافر جانا چاہتا ہے لیکن میں چھلکنا نہیں چاہتا۔اس کی آنکھوں میں روشنی سی لہرائی اور وہ کچن کی طرف بڑھ گئی۔میں نے اٹھ کر پرنسز کو گود میں اٹھا لیا۔ مجھے لگا جیسے وہ مجھے مانوسیت سے دیکھ رہی ہو۔میں نے بے ساختہ اسے چمٹا لیا اور وہ بھی میرے سینے سے اپنا مونہہ رگڑنے لگی۔کیا لاڈ ہو رہے ہیں بیٹی سے؟۔ ہم کی سرشار آواز سنائی دی۔ہم تم نے چند روز میں اسے کیسا بدل دیا ہے ویسے she is really brilliant.ہم نے کافی کا مگ رکھتے ہوئے کہا: ارے یہ سب آپ ہی نے تو سکھایا ہے۔میں نے قہقہہ لگایا: کیوں ٹھٹھول کرتی ہو جو خود کو نہ سنبھال سکا وہ کسی کو...اس نے بات کاٹ کر کہا: آپ کا انکسار بھی کمال ہے۔آ پ شاید جانتے ہی نہیں کہ آپ کیا ہیں ۔میں مسخرے پن سے بولا: اچھا،  تو کسی دن بتاؤ نا،  میں کیا ہوں ۔اس نے سنجیدگی سے کہا: نہیں صاحب،  آپ میں بہت بھول بھلیاں ہیں میں تو یہ خطرہ مول لینے سے رہی۔آپ انسانی نفسیات پر جس بلا کی گرفت رکھتے ہیں وہ کم کسی کو نصیب ہوتی ہے۔ہیں ،  یہ انکشاف تم پر کب ہوا؟جانے دو یار میں کیا جانوں ...اس نے بات قطع کی: محترم اتفاق سے میں آپ کی کتاب پڑھ چکی ہوں ۔میری کتاب۔ میں بڑبڑایا:مگر یہ تو بھولا بسرا قصہ ہے خیر بھول جاؤ۔میں نے کوئی خاص تیر نہیں مارا۔میری سمجھ میں نہیں آتا آپ Low profile پر اتنے مصر کیوں ہیں ۔ ا س کی سچائی عیاں تھی۔سمجھ جاؤ گی۔ تم بھی پرنسز کی طرح نئی بات سمجھنے میں طاق ہو۔میں نے آخری سپ لے کر کہا: اب میں گیا۔اس نے عجب لگاوٹ سے کہا: رہ جائیں ناں ۔میں نے کہا ناں ،  نہیں تو بس نہیں ۔میں نے ذرا رکھائی سے کہا۔وہ خاموش رہی۔ میں نے پرنسز کا سر سہلایا اور دروازے سے نکل آیا۔گھر پہنچ کر بلکہ راستے میں گزرے ہوئے دن کے بارے میں سوچ کر بدن اور ذہن میں لطیف سی گدگدی ہوتی رہی لیکن اسی کے ساتھ خفت کی ایک خفتہ لہر بھی جسم میں رواں تھی۔ یہ خیال بہت اذیت ناک تھا کہ میں نے تعلق کے تقدس کو مجروح کر دیا۔ اس ملے جلے خیال کی آنچ بدن میں دیر تک دوڑتی رہی۔خیال آیا کہ آج زندگی میں پہلی بار معلوم ہوا کہ دنیا میں شہد ایسی زندہ مٹھاس ایک اور بھی ہے۔کیا بے انت عورت ہے۔ میں بڑبڑایا، کہیں ناراض نہ ہو گئی ہو؟میں نے بھی تو کیسی سختی سے اس کی دعوت مسترد کر دی تھی۔ ابھی اسی چوں کہ چناں چہ میں تھا کہ موبائل بول اٹھا: ہلو،  خیریت؟آپ سو تو نہیں گئے تھے؟میں نے حیران سا ہو کر پوچھا : ہم تمام دن ساتھ رہے اور تم کو کسی خاص بات کا خیال اب آیا، خیر کہو۔وہ چٹ سے بولی : جناب آپ کی گٹھری میں میرے لیے حیرانیوں کا اور کتنا سامان ہے ؟ کیا مطلب،  میں نے کیا کر دیا؟جب آپ نے ہماری پیش کش رد 
٭٭ ای بک کی تشکیل: اعجاز عبیدہرہ پوسٹنگس                                                                                       کی تو دھچکا سا لگا جیسے کھلے چوراہے پر سر سے چادر کھینچ لی گئی ہو لیکن جب اوسان اوزان میں آئے تو خیال آیا کہ ہم کھولتے خون کی طلب میں کیسی بے مثل خوبی کو نظر انداز کر گئے۔اپنے وجود پر ایسا اٹل اختیار تو خاص لوگوں کا وصف ہے ہمیں آپ کے اس عمل نے بہت شاد کیا۔آپ واقعی نہایت منفرد انسان ہیں ۔میں نے قدرے رکھائی سے کہا: جسے اپنی عزت کا پاس ہو وہ کسی اور کو بھی داغ دار کرنے کا روا دار نہیں ہو سکتا اور ہم دونوں جس تعلق میں بندھے ہوئے ہیں ۔ اس کے تقاضے تو اس سے سوا ہیں ۔سوکھا ہوا پتہ ذرا سی ٹھیس سے چور چور ہو جاتا ہے۔ یہ فیصلہ میرے لیے بھی آسان نہیں تھا لیکن صحیح وقت میں مشکل فیصلے ہی میں انسان کی اصل پوشیدہ ہے۔اچھا اب سو جاؤ اس سے قبل کے نیند اور خواب بد راہ ہو جائیں ۔ میں نے یہ کہہ کر لائن ڈس کنکٹ کر دی مگر اس طرح بھلا رابطہ منقطع ہوتا ہے۔اب میں ذہن کے روشن پردے پر مجسم ہو کر در آنے والی یادوں کا کیا کرتا؟۔ اس عورت نے دیکھتے ہی دیکھتے میرے روزنامچے کو کیسا تتر بتر کر کے رکھ دیا ہے۔میں نے خود کلامی کی لیکن خیال آیا کہ یہ تو نا انصافی ہو گی کہ تنہا کسی ایک کو اس کا ذمہ دار قرار دیا جائے۔میں صرف یہ کر سکتا تھا کہ معاملات کی ترتیب کو بدل دوں اور دیکھوں تو سہی وہ تعلق کی کس سطح تک آ پہنچی ہے۔ دیکھنا چاہیئے کہ اس کٹھنائی کی یہ کڑواہٹ اس پر کیا اثرات مرتب کرتی ہے؟ یہ سوچ کر مجھے سکون سا مل گیا کچھ ہی دیر میں نیند آنکھوں میں ڈولنے لگی۔صبح بیدار ہوا تو روشن دن چڑھ آیا تھا۔میں نے موبائل آف کر کے طویل غسل کے بعد ڈٹ کر ناشتہ کیا،  گھر میں کئی روز کی عدم توجہ کے باعث بکھراوا بڑھ گیا تھا، ہر چیز پر گرد کی تہہ چڑھی ہوئی تھی۔ گھر صاف کرتے ہوئے لطف آیا۔گری پڑی چیزیں اپنی جگہ پر رکھیں ،  میلے کپڑوں کو پلاسٹک بیگ میں بھر کے ڈرائی کلینر کو دینے نکل گیا۔ وہاں سے فارغ ہو کر بال ترشوائے اور پھر ایک سپر اسٹور سے چیزوں سے لدا پھندا گھر پہنچا۔چولہے پر مٹر قیمہ چڑھایا اور جب تک وہ پکتا رہا میں ٹی وی پر کرکٹ میچ دیکھتا رہا پھر ڈرائی فروٹ کا جار لیے اسٹیڈی میں جا گھسا جہاں کئی ادھورے تراجم میری راہ تک رہے تھے۔کام کے انہماک میں وقت گزرنے کا احساس ہی نہ ہوا لیکن جب پیٹ دہائی دینے لگا تو اٹھنا ہی پڑا۔چائے کے ساتھ قیمہ مٹر کے سلائس نے بہت مزا دیا۔ ڈاک میں کئی دعوت نامے موجود تھے۔انہیں دیکھ کر ناگاہ ہم کا خیال ذہن میں در آیا۔ جانے وہ کس حال میں ہو گی؟شاید حیران، برہم یا پریشان۔ یہ سب اس کی توقع کے عین برخلاف ہو رہا تھا۔اسے اپنی خیریت سے تو مطلع کر دینا چاہیئے۔یہ تو نری سفاکی ہو گی کہ محبت میں شرابور ایک عورت کو بغیر وجہ بتائے تڑپنے کے لیے اس کے حال پر چھوڑ دیا جائے۔نہیں ،  میں یک طرفہ طور پر فیصلے کرنے کا کوئی حق نہیں رکھتا۔مرد کتنا ہی پڑھ لکھ جائے اپنی وحشی جبلت سے باز نہیں آتا۔مجھے اسے اعتماد میں لینا چاہیئے۔میں نے نمبر ڈائل کیے۔پہلی ہی بیل پر اس کی لرزتی ہوئی آواز سنائی دی : ہیلو۔ آپ خیریت سے ہیں ؟ہوں ،  ٹھیک ہوں تم سناؤ۔میں نے آواز میں بشاشت پیدا کرتے ہوئے جواب دیا۔Oh thanks Godاس کی آسودہ آواز سنائی دی: لیکن آپ نے کب سے ہمیں سولی پر لٹکا رکھا ہے۔ کہاں تھے آپ۔۔۔جانتے ہیں ہم نے یہ وقت کتنی اذیت میں گزارا۔جانے کیسے کیسے واہمے ہماری جان کے بیری بنے رہے۔ آپ نے فون بھی آف کر رکھا تھا جس سے اور ہول اٹھ رہے تھے۔ کیوں کیا آپ نے ایسا؟میں نے سکون سے اسے بات کرنے کی مہلت دی:تمہاری یہ وارفتگی بہت خوش کن ہے۔میں بھی
اسی نوع کی آگ میں جلتا رہا اور اس کیفیت کو دوام دینا چاہتا ہوں لیکن مجھے تمہاری شدت اور بے صبری سے خوف آتا ہے۔ تم سارا میلہ ایک دن میں کیوں لوٹ لینا چاہتی ہو۔اس کی آنسوؤں میں گندھی آواز میں خاصی ترشی تھی: ہم نے سکھ کے چار سانس ہی تولیے ہیں ، ہم نے کون سا میلہ لوٹ لیا۔ یہ مرد اتنے اذیت پسند کیوں ہوتے ہیں ؟ لیکن آپ تو ایک الگ آدمی ہیں ،  کیا آپ کو ہماری بے قراری کا کوئی اندازہ نہیں ۔۔۔ ہم کیا کریں ؟میں نے گمبھیر آواز میں کہا: ہم،  ہمیں ملاقاتوں کے اس تواتر پر نظر ثانی کرنی ہو گی،  جس تعلق کو تم دوستی سے کوسوں آگے کا معاملہ قرار دے چکی ہو اس کی دل کشی برقرار دکھنے کے لیے اسے روزمرہ کے چلن سے بچانا ہو گا۔آپ کیسی گاڑھی باتیں کر رہے ہیں ،  اس ذہنی کیفیت میں ہمارے ذہن میں دھول اڑ رہی ہے خاک پلے نہیں پڑ رہا۔تمہیں یاد ہے تم کتنے دن سے دعوتوں کو نظرانداز کر رہی ہو؟جی! لیکن ہم کیا کریں ہمیں آپ کے سوا کچھ یاد ہو جب ناں ۔ آپ ہمارے جسم میں لہو کی طرح دوڑ رہے ہیں ۔ہوں ! یہ تو ہوتا ہی ہے جب آپ کسی کے ہو جائیں یا کسی کو اپنا لیں لیکن ہم بہت تیز دوڑ رہے ہیں شاید ٹین ایجرز سے بھی زیادہ برق رفتاری سے مگر ہمیں کچھ فیصلے کرنے ہوں گے۔لیکن نہیں تم اس طرح فون پر یہ بات نہیں سمجھ سکتیں ۔ اچھا یوں کرو آج آرٹس کونسل میں ملتے ہیں ۔میں آرٹ کونسل پہنچا تو وہاں ہر طرف الو بول رہے تھے لیکن اوپن ائیرریسٹوران میں بہار آئی ہوئی تھی۔وہاں لوگ اسے دائرہ کیے بیٹھے تھے۔ میں نے وہاں پہنچ کر کچھ دیر ان سے چونچیں لڑائیں اور پھر ہم اٹھ کھڑے ہوئے۔اس نے گاڑی میں بیٹھتے ہوئے کہا : آ پ کیسا کاٹ کھانے والا جملہ بول سکتے ہیں ۔آج دیکھا۔میں اکثر طرح دے جاتا ہوں لیکن نا اہلوں کے اجتماع میں میرے اندر دبکا بھیڑیا بھونکنے لگتا ہے۔آپ نے خوب کہا لیکن اگر نا اہلی تعارف بن جائے تو نیم خواندہ اسے بھی امتیاز جانتے ہیں ۔چھوڑو یار کس بنجر منظر نامے میں پھول کاڑ رہی ہو۔ پرنسز میرے لائے ہوئے پاپ کارن اور بھاگتے مناظر میں بہلی ہوئی تھی: یہ کہو دن کیسا کٹا؟اس نے شاکی نظروں سے مجھے دیکھا: جیسے کُھولتے صحرا میں برہنہ پا سفر... مگر کسے پروا ہے لوگ تو ترتیب کے الٹ پھیر میں الجھے ہوئے ہیں ۔ طنز کی دھار تیز تھی مگر میں ہنس دیا۔اس نے بگڑ کر کہا: یہاں ہنسی کا کیا محل تھا؟تمہیں یہی سمجھانے کے لیے تو بلوایا ہے جناب۔وہ چپکی ہو کر بیٹھ گئی۔ویسے لگتا ہے میرا کہا ہر لفظ اکارت گیا۔جب میں نے گاڑی سپر ہائی وے کی طرف موڑی تو وہ چونک کر بولی: ہم کہاں جا رہے ہیں ؟جہاں تم زندگی کی نئی معنویت سے آشنائی حاصل کر سکو گی۔وہ ایک نہایت پُر سکون جگہ ہے۔کیا گھر سے بھی زیادہ؟۔ وہ منمنائی گھر... وہ تو ایک قید خانہ ہے۔کبھی کبھار کھلی فضا میں بھی سانس لینا چاہیئے۔ہائی وے کے ساتھ جب ایک صاف ستھرے ہوٹل کے سامنے کار رکی تو وہ بے ساختہ بولی:ُ ارے واہ کیا شان دار جگہ ہے۔ آپ بھی کیا اچھا ذوق رکھتے ہیں ۔اور تم،  جس نے مجھے انتخاب کیا؟اس نے چٹ جواب دیا۔ ہم ایک دوسرے کی پسند ہیں ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ ان دنوں ہم دونوں ہی سحر زدہ کی سی زندگیاں گزار رہے ہیں لیکں ہر چیز توازن چاہتی ہے۔ ابھی میری بات جاری ہی تھی کہ ویٹر نے آرڈر سرو کرنا شروع کر دیا۔پرنسز بہت موج میں تھی ہم نے اس کی زنجیر کھول دی۔ارے کہیں بھاگ نہ جائے۔ہم سے بھاگ کر کوئی کہاں جا سکتا ہے؟ اس نے بہت ناز سے کہا۔چھوڑو بھئی میں ایک دن کیا نہیں آیا کہ تمہارے اعصاب ہی جواب دے گئے۔اس نے دھیمے سے کہا: وہ اور بات تھی۔کہا ناں ہم میں انتظار کا یارا کم ہے۔میں نے قہقہہ لگایا : ہاں بھئی ہم بھی کہاں جا سکتے ہیں تمہاری زنجیر میں عجب لطف بندھا ہوا ہے۔اچھا ایک بات تو بتاؤ محبت اور عشق میں کیا فرق ہے؟اس نے جھٹ ایک گھسا پٹا جواب دیا: محبت فاتح عالم ہے۔میں نے مایوس سا ہو کر کہا: اچھا! لیکن یہ تو اچھا خاصا کلیشے ہے۔تم نے محسوس کیا اس میں کیسی عمومیت سی ہے جب کہ عشق...وہ بات اچک کر بولی: ہم ان دونوں باتوں کو ہم معنی خیال کرتے ہیں ۔میں نے نفی میں گردن ہلائی:نہیں ،  یہ کیسے ممکن ہے۔ محبت تو بیک وقت بہت سے افراد سے ممکن ہے جب کہ عشق صرف کسی خاص ہستی پر فریفتہ ہو کرزٓکھیی                                                                                                                          اپنی ذات اس کے لیے مخصوص کر دینے کا سودا ہے۔یہ ایک پوتر،  خالص اور لطیف جذبہ ہے۔اس نے سنجیدگی سے اثبات میں سر ہلایا:آپ شاید بہت precise معنوں میں بات کر رہے ہیں ۔مگر فی زمانہ تو عشق مجازی بھی...میں مسکرایا:اس سے زمانے کا کیا ٹانکا یہ تو زمان و مکان سے آگے کا قصہ ہے۔ اور عشق مجازی سُو اس کی اپنی لطافتیں ہیں ۔وہ کشادگی سے مسکرائی: اس معمے بازی کی کیا ضرورت ہے۔ آخر آپ کہنا کیا چاہتے ہیں ؟میں نے ستایشی نظروں سے اسے دیکھا: تم واقعی ذہین ہو۔تمہارا دعوا ہے کہ میں تمہارے بدن میں لہو کی طرح دوڑتا ہوں اور میرے سوا تمہیں کچھ نظر ہی نہیں آتا۔سوال یہ ہے کہ اگر واقعی ایسا ہی ہے تو آخر تم اپنے گرد میری موجودگی کو محسوس کرنے سے قاصر کیوں ہو؟ تم جہاں ہوتی ہو وہاں میں نہ ہوں کیا یہ ممکن ہے؟۔اس کا چہرہ گل نار ہو گیا۔اس پہلو سے تو ہم نے سوچا ہی نہیں ۔میں نے یہاں وہاں دیکھا :یہ پرنسز کہاں ہے۔اس نے مسکرا کر ایک طرف اشارہ کیا جہاں محترمہ ایک پیڑ پر بیٹھی کچھ کھا رہی تھیں اور بچے وہاں جمع تھے۔وہ بولی: آج آپ نے مجھے ہفت اقلیم سے نواز دیا۔میں نے نفی میں سر ہلایا: افسوس تمہاری طلب بہت کم ہے۔ عشق کے آگے اس ہفت اقلیم کی کیا حیثیت ہے۔عاشق کو ان کثافتوں سے بے نیاز ہونا چاہیئے لیکن ابھی وہ مرحلہ ذرا دور ہے۔ فی الوقت تو ہم ایک دوسرے کو دریافت کر رہے ہیں ۔یہ ایک دل نشین عمل ہے تم اسے انجوائے کیوں نہیں کرتیں ؟اس نے سادگی اور سچائی سے کہا: آپ کسی بھنور کی مانند ہیں اور میں ڈوبتی جا رہی ہوں ، مجھے خوف آتا ہے۔ میں آپ میں ضم ہو جانا چاہتی ہوں ۔ہم دونوں ہی اس کیفیت سے دوچار ہیں لیکن تمہیں کچھ زیادہ ہی بے صبری ہے۔وہ کھلکھلائی: اندر دھڑدھڑاتی اس آگ کا کیا کروں ؟دو آپشن ہیں ۔کیا۔ اس نے اشتیاق سے سوال کیا۔پارس بننے کا انتظار کرو یا پھر اس میں جل بجھو۔پارس بن کر فائدہ؟محترمہ! عشق،  نفع نقصان کا بہی کھاتہ نہیں ہے۔میں اٹھ کر پرنسز کے پاس گیا وہ مجھے دیکھ کر میرے گلے ہار بن گئی۔واپسی کا سفر خاموشی سے کٹا۔ ہم،  اپنے آپ میں الجھی ہوئی تھی۔کسی گہری سوچ میں غلطاں ۔ انہیں ڈراپ کر کے میں گھر لوٹ آیا۔آج پہلی بار اپنی محویت میں اسے کافی کی دعوت دینا بھی یاد نہیں رہا۔ میری باتوں نے اسے ایک چیستاں میں الجھا دیا تھا۔پھر کتنے ہی ہفتے اس مکالمے کی امان میں گزر گئے۔ وہ خود کو ایک حد کا پابند رکھنے کا عادی بنا رہی تھی لیکن میں دیکھتا کہ کٹورا چھلکا جاتا ہے۔اب ہم نے اپنے دن اپنے موبائل سے باندھ لیے تھے اور شامیں مختلف تقریبات سے،  وہیں ہماری ملاقات ہو جاتی۔وہ گاہے گاہے کسی نہ کسی بہانے مجھے واپسی پر گھر لے آتی اور پھر ہم رات گئے تک ایک دوسرے میں مشغول ہو جایا کرتے۔پرنسز بھی اب اس روزمرہ کی عادی ہو گئی تھی۔ہم،  کا بدن اپنی نازکی اور دل کشی میں تیز نشے کی تاثیر رکھتا تھا۔ اس پر سپردگی اور آمادگی میرے جسم میں قید وحشی کو بھڑکاتیں مگر...ایک ایسی ہی بے پناہ رات میں جب ہم بکھر رہے تھے اچانک اس نے پوری شدت سے خواب گاہ میں چلنے کا مطالبہ کر دیا۔وہ میری کوئی بات سننے پر آمادہ نہیں تھی۔ اس پر وحشت اور ایک نوع کی دیوانگی سواری گانٹھ چکے تھے۔میں نے کوشش کی کہ وہ باز آ جائے لیکن جیسے جیسے میں سمجھاتا اس کی ضد میں تندی آتی جاتی تنگ آ کر میں نے ترش لہجے میں اس کا مطالبہ رد کر دیا۔ شدید ترین مایوسی کے بعد وہ یکایک ایک عجب ڈھنگ سے مسکرائی:اچھا! ٹھیک ہے۔ جائیں ،  آپ جائیں ۔اس کے لہجے میں جانے کیا تھا کہ میں کٹ سا گیا۔ ہم،  کے اس غیر معمولی ردعمل پر غور کرتا ہوا میں گھر لوٹ آیا۔ مجھے لگا جیسے میں ایک کم یاب موتی گنوا بیٹھا ہوں ۔رات بہت بے چینی میں گزری۔دوسرے دن سورج نصف النہار پر تھا کہ موبائل جاگ اٹھا۔ یہ اسی کا فون تھا۔میں نے چی کنم میں کال ریسیو کی۔ہلو...وہ سرد مہری سے کہہ رہی تھی: شہزاد صاحب ! آپ بھی خوب آدمی ہیں ۔ آئے دن الاؤ دہکاتے ہیں اور پھر اسے جوں کا توں چھوڑ کر چل دیتے ہیں ۔روز روز کی اس اذیت نے ہمیں سوچنے پر مجبور کر دیا کہ ہم نے جسے آپ کے کردار کی رخشندگی سے منسوب کیا تھا کہیں وہ آپ کی ایک مجبوری تو نہیں ہے۔صاحب،  جسم کے بھی کچھ تقاضے ہوتے ہیں انہیں باتوں سے کب تک بھلایا جا سکتا ہے؟میں نے اسی کے انداز میں کہا: محترمہ آپ کا خیال قطعی غلط ہے میری کوئی مجبوری نہیں لیکن۔۔۔لیکن کیا۔ وہ غرائی لیکن میں موتی کو آب سے محروم نہیں کرسکتا۔ اس نے میرا جواب سن کر لائن کاٹ دی۔یہ ہمارے درمیان ہونے والا آخری مکالمہ تھا۔
٭٭٭

میٹھا پان
 

 
فرید ایک جھونپڑی میں پیدا ہوا تھا اور اپنے جیسے ہی کالے پیلے بچوں کے ساتھ لڑکپن، بچپن اور جوانی گزارتا ہوا اپنی ایسی سوتی جاگتی زندگی گزارتی لڑکی سے بیاہ دیا گیا تھا۔جس دن خالی ڈھنڈار پڑے مکان میں سر اٹھاتی نئی بستی میں فرید نے اپنی جھونپڑی میں بانس گاڑھے جانو اس کی خوشی کا ٹھکانہ ہی نہیں تھا۔جب وہ اپنی بوڑھی ماں اور بیوی کے ساتھ اپنے نئے ٹھکانے کی طرف روانہ ہوا تو اس کی جیب میں چند سو روپے بھی تھے۔ پرانی جھونپڑی اچھے داموں میں بک گئی تھی۔گھرکو سنبھالتے ہوئے زیتون نے پہلی بار ذرا شرما کر میٹھا پان لانے کی فرمائش کی تھی۔ رحیم نے جھونپڑی کے آدھے حصے میں ایک پھٹی پرانی دری ڈال کر اسے دو حصوں میں بانٹ دیا تھا۔ رات کو جب ماں سو گئی تو اس کے حصے میں پان کا جادو جاگا۔یہ وہ واحد مسرت تھی جو وہ ایک پان کی معمولی قیمت پر حاصل کرسکتے تھے ورنہ اپنی زندگی پر بکھری سیاہی کو وہ اپنا نصیب مان چکے تھے۔ ان کی محرومیوں اور مجبوریوں نے ان میں سے زندگی میں بدلاؤ لانے کی ترنگ کو جیسے زندہ ہی نہیں رہنے دیا تھا۔رحیم کی سوچ بھی بس یہی تھی کہ کسی طرح شہر کی دکان میں نوکری مل جائے تو جانو زندگی سدھر گئی۔پکّی آبادی کے ایک بابو کی مدد سے اس کی یہ آرزو بر آئی۔ رحیم ایک خوش مزاج اور محنتی آدمی تھا اس لیے اس نے جلد سیٹھ کا اعتماد حاصل کر لیا۔اس نے مضافات سے نکل کر شہر میں قدم رکھا تو اس کے ذہن کے دریچے تازہ ہوا سے آشنا ہوئے۔ اس دوران وقت کئی کروٹیں بدل چکا تھا۔ رحیم کو اسکول جاتے ہوئے بچے بہت بھلے لگتے۔ اب وہ خود تین بچوں کا باپ بن چکا تھا،  سرکاری اسکول میں بڑی بیٹی پانچویں اور منجھلا بیٹا تیسری جماعت کے طالب علم تھے۔چھوٹی ابھی دو سال کی تھی۔وہ خوش تھا کہ اس کے بچے اس کی طرح ان پڑھ نہیں رہیں گے لیکن یہ خوشی اس نے بہت مہنگے داموں خریدی تھی۔اب اس کی قلیل تن خواہ پر فیس، کتابوں ،  یونیفارم کے علاوہ بچوں کی نت نئی فرمائشوں کا اضافی بوجھ بھی آ پڑا تھا۔بیوی کو وقت کی چکی نے پیس ڈالا تھا وہ اب اکثر بیمار رہنے لگی تھی،  کام اور تفکرات کے دیے زخموں کا علاج سرکاری اسپتال میں کہاں ممکن تھا۔ رحیم مزاجاً ایک ایمان دار شخص تھا ورنہ چھوٹی موٹی ہیرا پھیری سے بہت سے مسائل حل ہو سکتے تھے لیکن اس نے کئی برس کی ملازمت کے دوران کبھی ٹکے کی بے ایمانی نہیں کی تھی۔ رات ہی سے اس کے ذہن پر بوجھ تھا دو ماہ سے بڑی کی اسکول کی فیس نہیں جا سکی تھی۔مس دھمکی دے چکی تھیں کہ فیس جلد ادا نہ کی گئی تو اسکول سے اس کا نام کاٹ دیا جائے گا۔منجھلے نے کئی دنوں سے کاپیوں پینسل کی رٹ لگا رکھی تھی اور چھوٹی روز گڑیا لانے کا مطالبہ کرتی تھی۔ادھر پنساری نے قرض کی ادائی کی یاد دہانی شروع کر رکھی تھی۔رحیم سوچتا پیسا آئے تو کسی پرائیوٹ ڈاکٹر سے بیوی کا علاج کرائے لیکن پیسا کہاں سے آئے یہ اس کی سمجھ میں نہیں آتا تھا۔آج بھی وہ ان ہی تفکرات میں گھرا گھر سے نکلا لیکن دکان پہنچتے تک جیسے اسے کچھ یاد ہی نہیں رہا تھا یہ اس کی پرانی عادت تھی۔وہ معمول کے کام میں جٹ گیا۔کب شام ہوئی اسے پتا ہی نہیں چلا۔ دکان بڑھانے سے کوئی گھنٹہ بھر قبل سیٹھ کے موبائل کی گھنٹی بجی۔ جانے کیا بات تھی وہ فون پر بات کرتے ہوئے حواس باختہ ہوا جا رہا تھا۔بات ختم کر کے اس نے گھبراہٹ کے عالم میں گلّے سے دن بھر کی آمدنی نکالی اور اسے جلدی جلدی گن کر کرتے کی جیب میں رکھ کر رحیم کو دکان بند کرنے کی ہدایت دیتا ہوا کاؤنٹر سے نکل گیا۔ رحیم کی نظر فرش پر پڑی تو وہاں نوٹ پڑے تھے۔ اس کے دل میں آئی کے سیٹھ کو بتا دے لیکن پھر خیال آیا یہ تو خدا کی زمین پر پڑے ہیں ۔ اس نے پھرتی سے پیسے اٹھا کر جیب میں رکھ لیے پھر دکان کو تالے لگا کر چابیاں سیٹھ کے حوالے کیں ۔گھر جاتے ہوئے خوشی سے اس کا دل بلّیوں اچھل رہا تھا۔ وہ تمام راستے نوٹوں کو مٹھی میں دابے رہا کہ کہیں گر نہ جائیں یا جیب ہی نہ کٹ جائے۔اپنے اسٹاپ پر اتر کر اس نے ایک ٹھیلے سے چھوٹی کے لیے گڑیا خریدی، دکان سے بیٹے کے لیے کاپی پینسلیں لیں پھر بچوں کے لیے چیز خریدی اور بیوی کے لیے پھولوں کے گجرے خریدے۔گھر جانے سے قبل اس نے پنساری کا قرض چکایا اور گھر کی جانب چلا ہی تھا کہ کچھ سوچ کر اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ دوڑ گئی۔ قریب ہی پنواڑی کی دکان تھی وہاں سے اس نے میٹھا پان لیا۔جب وہ لدا پھندا گھر پہنچا تو وہاں معمول کا سناٹا بکھرا ہوا تھا۔زیتون اسے جلد دیکھ کر گھبرا گئی اس کے دل میں طرح طرح کے واہمے جنم لینے لگے۔رحیم نے بچوں کو بلا کر ان میں چیزیں بانٹیں تو وہ چہچہانے لگے۔بڑی فیس لے کر بہت خوش تھی اب اسے یقین تھا کہ اس کا نام نہیں کٹے گا، زیتوں عجب وحشت کے عالم میں یہ سب دیکھ رہی تھی لیکن جب رحیم نے اس کی طرف گجرے اور پان کی پڑیا بڑھائی تو اس کی جان میں جان آئی یعنی نوکری کو کچھ نہیں ہوا تھا لیکن اس کے پاس یہ اتنے بہت پیسے کہاں سے آئے؟ وہ یہ سوچتے ہوئے چائے بنانے کے لیے چولہے کی طرف بڑھ گئی۔کریم نے چائے پیتے ہوئے اسے سب ماجرا سنایا اور اسے ڈاکٹر کو دکھانے کے لیے پیسے دیے جو اس نے لے کر انگیا میں رکھ لیے۔ رحیم کے پاس اب بھی بارہ یا تیرا سو روپے موجود تھے اس نے اپنی جیب تھپتھپائی۔ چلو یہ مہینہ تو سکون سے گزر ہی جائے گا۔بچے کھانا کھا کر سو گئے اور رحیم رات کی رنگینی کے خیال سے مست تھا زیتون نے ابھی بہت ادا سے پان مونہہ میں رکھا ہی تھا کہ دروازہ دھڑدھڑانے لگا۔ رحیم نے گھبرا کر دروازہ کھولا تو پولیس والے اسے دھکیلتے ہوئے اندر گھس آئے۔رحیم کون ہے؟ پولیس کا افسر غرایا جی،  میں رحیم ہوں ۔۔۔ کیا ہوا؟ رحیم کی آواز کپکپا رہی تھی۔اؤے میسنا بنتا ہے۔افسر نے گردن ناپتے ہوئے کہا:چوری بھی سینہ زوری بھی۔ اس نے ماتحتوں کو حکم دیا۔ اس کی تلاشی لو۔رحیم کی جیب سے بارہ سو اسسی روپے بر آمد ہوئے گھر میں کیا تھا جو ملتا۔افسر نے جھنجلا کر دہاڑتی آواز میں پوچھا : اور پیسے کہاں ہیں ۔بڑی نے گھرا کر ہتھیلی کھول کر روتی ہوئی آواز میں کہا : یہ میری فیس کے پیسے ہیں لے لیں ۔افسر نے حیرت سے اسے دیکھا: رکھ لے کاکی ہم ڈاکو نہیں ہیں ۔پھر افسر نے زیتون سے پوچھا : باقی پیسے کہاں ہیں ؟اس نے پیسے نکال کر اس کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا: یہ میرے علاج کہ لیے تھے۔رکھ لے۔ پولیس والے نے ڈپٹ کر کہا پھر وہ رحیم کو مارتے پیٹتے موبائل کی طرف ہانک لے گئے۔زیتون سکتے کے عالم میں یہ سب دیکھ رہی تھی۔اس کے چہرے کی کالک میں کچھ اور اضافہ ہو گیا تھا۔
٭٭٭

ماخذ: مصنف کے نوٹس اور مختلف کتاب چہرہ پوسٹنگس
تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید
