﻿



خوابِ پریشاں 




ڈاکٹر سلیم خان






	نماز فجر کے بعد جیسے ہی گلریز نے حویلی میں قدم رکھا اندر سے ہاتھوں میں چائے کی دو پیالیاں لیے اس کی بہن صفیہ نمودار ہوئی۔ دونوں ایک ساتھ صحن میں پڑی ٹپائی کے پاس پہنچے اور بیت کی کرسیوں پر بیٹھ گئے۔ صفیہ نے اِٹھلاتے ہوئے کہا۔
	’’آج تو بھیا کچھ زیادہ ہی سنجیدہ نظر آ رہے ہیں۔ کیا بات ہے؟‘‘
	اس کے سوال کو پسِ پشت ڈال کر گلریز نے کہا۔
	’’میں ابھی اسی وقت بڑے پیر صاحب کی خانقاہ جا رہا ہوں۔ ‘‘
	’’کیوں خیریت تو ہے؟ یہ اچانک…‘‘
	اس نے جملہ کاٹتے ہوئے کہا۔ ’’ہاں اچانک۔‘‘
	’’وجہ جان سکتی ہوں ؟‘‘
	گلریز چراغ پا ہو گیا۔ ’’ہر بات کی وجہ نہیں ہوتی اور پھر بتانا بھی ضروری نہیں ہوتا۔‘‘
	بھائی کا غصہ دیکھ صفیہ سہم گئی اور گھگیا کر بولی۔ ’’نہیں، نہیں میں تو صرف اس لیے پوچھ رہی تھی کہ مجھے بھی چلنا تھا بڑے پیر صاحب کی خانقاہ۔ گذشتہ بار میں نے منّت باندھی تھی۔‘‘
	’’تو چلو تم بھی چلو کس نے منع کیا ہے تمہیں۔ لیکن دیکھو جلدی سے تیار ہو جاؤ ورنہ میں رُکنے والا نہیں ہوں۔ ‘‘
	’’لیکن بھیا میں آج کیسے چل سکتی ہوں۔ کیا آپ اسے ایک دو دن کے لیے مؤخر نہیں کر سکتے تاکہ اپنی بہنا کو بھی ساتھ لے جا سکو۔‘‘
	’’نہیں، یہ نہیں ہوسکتا۔ چلنا ہے تو آج اور ابھی چلنا ہو گا ورنہ تم جانو اور تمہارا کام۔‘‘
	’’لیکن بھیا آج میں کیسے چل سکتی ہوں۔ آپ تو جانتے ہی ہیں کہ آج میری بچپن کی سہیلی شہناز کا نکاح ہے۔ میں اسے چھوڑ کر کیسے جا سکتی ہوں۔ ‘‘
	’’ہاں ہاں تو کون کہہ رہا ہے کہ تم اپنی سہیلی کا نکاح چھوڑ کر میرے ساتھ چلو۔آج نکاح ہے کل ولیمہ ہو گا اور پھر دیگر رسوم و رواج کا سلسلہ، لگی رہو ان سب میں۔ تم عورتوں کا اور کام ہی کیا ہے؟‘‘
	’’لیکن بھیا دعوت تو آپ کو بھی ہے۔‘‘
	’’مجھے ہے!‘‘
	’’جی ہاں !‘‘
	’’مطلب پورے گھر کی دعوت ہے تو ٹھیک ہے سارا گھر تو شریک ہو ہی رہا ہے۔‘‘
	’’اچھا آپ اپنے آپ کو گھر کا فرد نہیں سمجھتے؟‘‘
	نہیں میری بہنا، بے شک میں اپنے آپ کو اس گھر کا ایک فرد سمجھتا ہوں لیکن جب سبھی لوگ شریک ہو رہے ہیں تو ایک آدھ کی غیر موجودگی سے کیا فرق پڑتا ہے۔‘‘
	’’پڑتا ہے۔فرق کیوں نہیں پڑتا۔ بہت فرق پڑتا ہے۔ شہناز ہماری پڑوسی ہے۔ بچپن کی ساتھی، ہم لوگ برسوں ساتھ ساتھ کھیلتے، مکتب جاتے، میلوں ٹھیلوں میں ساتھ ہوتے اور پھر یہ موقع بار بار تھوڑے ہی آتا ہے۔ اس سے برسوں کے تعلقات بگڑ جاتے ہیں۔ ہمیشہ کی ناراضگی پڑ جاتی ہے۔ ‘‘
	’’دیکھو صفیہ صبح صبح بوڑھی خالاؤں کی طرح نصیحت بند کرو۔ چپ چاپ جا کر میرے کپڑے وغیرہ تیار کرو۔ میں نہا کر آتا ہوں تب تک بیگ تیار ہونا چاہئے۔ ‘‘ یہ کہہ کر گلریز حمام کی جانب چل پڑا۔
	کپڑے تیار کرتے ہوئے صفیہ سوچ میں گم تھی۔ یہ پروگرام اچانک کیوں کر بن گیا اور گلریز کا پیر صاحب کی خانقاہ جانا بذاتِ خود ایک عجیب و غریب بات تھی۔ اس سے پہلے ایسا کئی بار ہوا کہ سارے خاندان نے خانقاہ جانے کا پروگرام بنایا لیکن گلریز نے کسی نہ کسی بہانے سے اپنا دامن چھڑا لیا۔کبھی کبھار تو اسے والدین کی ناراضگی بھی سہنی پڑی لیکن وہ ماننے والوں میں سے نہ تھا جو ٹھان لی وہی کیا۔ دوسروں کی خوشی و ناراضگی سے بے پرواہ طبیعت کا مالک تھا اس کا بھائی۔ لیکن جس طرح جب وہ نہ جانا چاہتا تھا اسے کوئی نہیں لے جا سکا تھا اسی طرح آج شاید اسے کوئی روک نہ سکتا تھا اسی ادھیڑ بن میں بیگ تیار کر کے وہ باورچی خانہ میں آ گئی تاکہ اس کے لیے جلدی جلدی ناشتہ تیار کر دے ورنہ وہ بغیر کچھ کھائے پئے ہی چل دے گا۔ ابھی وہ فارغ بھی نہیں ہوئی تھی کہ گلریز کی آواز اس کے کانوں سے ٹکرائی۔
	’’صفو کہاں ہو تم؟ کہاں ہے میرا بیگ۔ میں نے کہا تھا ناکہ مجھے جلدی ہے میں تاخیر نہیں چاہتا۔‘‘
	’’ہاں ہاں بھئی جلد باز خان ناشتہ کی میز پر بیٹھو میں ابھی آ رہی ہوں۔ ‘‘
	’’میں نے کہا تھا بیگ باندھ دو۔ کیوں دیر کر رہی ہو۔‘‘
	’’ہاں بھئی بیگ بندھا ہوا ہے لیکن ناشتہ باندھنے کے لیے نہیں کہا تھا۔ اس لیے میں دو منٹ میں اسے بیگ کے ساتھ حاضر خدمت کیے دیتی ہوں۔ ‘‘
	ناشتہ کی میز پر جلدی جلدی ناشتہ کرتے دیکھ صفیہ کو ہنسی آ گئی اور پوچھ بیٹھی۔ ’’بھیا جان کی امان پاؤں تو کیا میں یہ پوچھنے کی جرأت کروں کہ آج سورج کس سمت سے طلوع ہوا۔کہیں مغرب سے تو نہیں ؟‘‘
	’’کیا بکتی ہو؟‘‘
	’’نہیں کچھ نہیں۔ پیر صاحب اور آپ۔ یہ اچانک اتنی جلدی جلدی۔ کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا ہے۔ آخر ہوا کیا؟ کوئی خاص دعا کروانی ہے کیا؟ اور اگر دعا ہی کروانی ہے تو اب بہت دیر ہو چکی ہے۔ آپ کے گاؤں پہنچنے سے پہلے ڈولی اُٹھ چکی ہو گی۔‘‘
	’’بکواس مت کرو۔ تمہارے اعصاب پر تو بس شہناز اوراس کا نکاح سوار ہے۔ ‘‘
	’’لیکن کہیں آپ بھی تو اس تقریب سے راہِ فرار نہیں اختیار کر رہے۔‘‘
	’’ارے بس بھی کرو۔‘‘
	’’نہیں مجھے بتاؤ کوئی خواب دیکھا ہے کیا؟ ‘‘
	’’ہاں ہاں خواب دیکھا ہے۔‘‘
	’’اچھا تب تو مجھے کہنا پڑے گا خواب دیکھنے میں آپ نے بہت تاخیر کر دی اور ایک ایسا خواب دیکھ لیا جو اب شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکتا۔‘‘
	’’اوہو تم پھر وہیں پہنچ گئیں۔ میں ان خوابوں کی بات نہیں کرتا جو تم سب سوتے جاگتے دیکھتی ہو۔ اور بھی غم ہیں زمانے میں ……‘‘
	’’اچھا تو کیا خواب دیکھا ہے میرے بھیا نے جو اس قدر پریشان ہیں، میں بھی تو جانوں۔ ‘‘
	’’صفو ! وہ خواب ایک ایسا خواب ہے جس نے میرا چین مجھ سے چھین لیا ہے۔ شاید بڑے پیر صاحب ہی مجھے اس کی تعبیر بتا سکیں اور اسی لیے میں ابھی اسی وقت ان کی خدمت میں جا رہا ہوں۔ ‘‘
	’’اچھا بابا جاؤ لیکن امّی ابّا سے ملتے جانا۔ انہیں میں نے تمہارا منصوبہ بتا دیا ہے۔ وہ بہت خوش ہیں اور اپنے کمرے میں اپنے لال کا انتظار کر رہے ہیں۔ ‘‘
	’’ہاں ہاں میں جانتا ہوں تم تو آکاش وانی ہو۔ اسی لیے کوئی بات سارے گھر کو بتلانی ہو تو میں تمہیں بتلا دیتا ہوں اور پھر جنگل کی آگ کی طرح وہ خبر سارے گھر میں پھیل جاتی ہے۔‘‘
	’’کیوں نہیں کیوں نہیں ؟ ‘‘ صفیہ نے خود اپنی پیٹھ تھپتھپاتے ہوئے کہا۔ ’’ملک کے ذہین ترین اُبھرتے ہوئے صحافی کی بہن جو ہوں۔ اگر تمہاری خبریں سارے ملک میں پھیل جاتی ہیں تو کیا میری خبر سارے گھر میں پھیل نہیں سکتی۔‘‘
	ناشتہ کے ساتھ ہی بھائی بہن کی نوک جھونک کا یہ سلسلہ بھی ختم ہو گیا۔ گلریز والدین کے کمرے میں داخل ہوا۔ دونوں نے نہایت تپاک سے اسے پاس بلایا خوشی و مسرت کا اظہار کیا۔ اس کی ماں نے کہا۔
	’’دیکھو جی میں نہ کہتی تھی کہ اپنا بیٹا سمجھدار ہو گا تو اپنے خاندان کی روایت کو پروان چڑھائے گا۔‘‘ یہ کہتے ہوئے ماں نے بیٹے کی پیشانی پر بوسہ دیا۔ سر پر شفقت سے ہاتھ پھیرا۔ والد نے سینے سے لگایا اور مصافحہ کر دعاؤں کے ساتھ الوداع کیا۔
٭٭٭




	لاہور سے مراد پور کی مسافت تقریباً بارہ گھنٹے کی تھی۔ یہ سفر وہ آرام سے کرنا چاہتا تھا اس لیے ریلوے اسٹیشن پہنچنے کے بعد اس نے اپنا شناختی کارڈ نکالا اور اس کی مدد سے نہ صرف کرائے میں سہولت حاصل کی بلکہ ریزرویشن حاصل کرنے میں بھی کامیاب ہو گیا۔ ویسے ریلوے اسٹیشن کا اکثر و بیشتر عملہ اس کا واقف کار تھا۔ اس لیے یہ کام اس نے بہت پھرتی سے نبٹا لیا۔ گاڑی کے آنے میں اب بھی کچھ وقت تھا اس لیے وہ کتابوں کی دوکان کی جانب چل پڑا۔ وہاں سے اس نے کئی اخبارات اور جریدے خریدے اور پھر چائے کی دوکان کی جانب ہو لیا۔ چائے کی چسکیاں لیتے ہوئے وہ سوچنے لگا کہ یہ بات اس کے خواب و خیال سے پرے تھی کہ وہ کبھی مراد پور اپنے خاندانی مرشد کی خدمت میں حاضر ہو گا۔ لیکن رات جو خواب اس نے دیکھا تھا اس کی تعبیر کے لیے اسے کوئی راستہ سجھائی نہ دیا۔ حالانکہ شہر کے بڑے بڑے اہل علم حضرات سے اس کے مراسم ہیں۔ اچھے دانشوروں کے ساتھ اس کا اٹھنا بیٹھنا ہے لیکن اس کے دل نے ان سب کو اس کام کے لیے نا اہل قرار دے دیا۔ بڑے پیر صاحب کی مقناطیسی شخصیت جو بچپن میں اس کے دل میں گھر کر گئی تھی اچانک اُبھر آئی اور اس نے خانقاہ جانے کا فیصلہ کر لیا۔ خیالات کے اس سلسلے کو ریل گاڑی کی کوک نے توڑ دیا۔ اس نے اپنا بیگ اٹھایا اور اپنی نشست کی جانب چل دیا۔کھڑکی سے ٹیک لگا کر وہ پھر ایک بار اپنے خواب میں کھو گیا۔ ڈبے کے اندر اور باہر ہنگامہ برپا تھا لیکن اس بھیڑ بھاڑ میں وہ یکا و تنہا سب کے درمیان سب سے الگ تھلگ اپنے خواب کی تعبیر میں سرگرداں رواں دواں۔ 
	ریل گاڑی رفتار پکڑ چکی تھی۔ تیز ہوا کے جھونکے اس کے چہرے سے ٹکرا رہے تھے۔ گلریز نے اپنی بند آنکھوں کو کھول کر آس پاس نظر دوڑائی تو کیا دیکھتا ہے کہ تمام اخبارات اپنی جگہ سے غائب ہیں۔ ہمسفر حضرات نے بلا اجازت اور بلا تکلف انہیں آپس میں تقسیم کر لیا ہے۔ اس سے پہلے کہ وہ اپنے غصہ کا اظہار کرتا پاس بیٹھا ایک نوجوان بول پڑا۔
	’’معاف کرنا آپ آرام فرما رہے تھے اس لیے ہم نے خلل ڈالنا مناسب نہ سمجھا۔‘‘
	’’اچھا تو یہ آپ کی کرم فرمائی تھی۔ میں تو یہ سمجھ رہا تھا کہ آپ لوگوں نے موقع غنیمت جان کر ہاتھ صاف کر لیا۔ دراصل ہمارے اُردو اخبارات کا المیہ یہی ہے کہ اس کا قاری پڑھنا تو چاہتا ہے لیکن خریدنا نہیں چاہتا۔‘‘
	اس تلخ کلامی کے جواب میں وہ نوجوان پھر گویا ہوا۔’’آپ کسی اخبار کے دفتر میں ملازمت تو نہیں کرتے؟‘‘
	’’کیوں اس سے تمہیں مطلب؟‘‘
	’’نہیں نہیں ایسی بات نہیں۔ بات دراصل یہ ہے کہ آپ کے پاس اتنے سارے اخبارات اور پھر اخبارات کے بارے میں آپ کی پرسوز گفتگو۔ یہ تمام اخبارات آپ نے خریدے تو نہ ہوں گے؟‘‘
	’’کیا مطلب؟ مجھے بھی اپنی ہی طرح مفت بین سمجھ رکھا ہے۔ سبھی کو اپنی طرح مفت خور سمجھتے ہو۔‘‘
	’’نہیں صاحب ایسی بات نہیں۔ بات دراصل یہ ہے کہ ویسے تو ایک ہی اخبار کافی ہوتا ہے۔ آپ کے پاس اتنے سارے اخبارات دیکھ کر ہمیں لگا کہ شاید …‘‘ وہ رک گیا۔
	’’رُک کیوں گئے؟ بولو بولو کہ شاید مفت میں ہاتھ لگ گئے ہوں گے۔‘‘
	’’نہیں نہیں صاحب ایسی بات نہیں بات دراصل یہ ہے کہ …‘‘
	اس نے غصہ سے ٹوک دیا۔ کیسی بات نہیں ؟ بات دراصل کیا ہے؟‘‘
	’’کچھ نہیں صاحب آپ تو بلاوجہ مجھ پر برس رہے ہیں۔ میں نے تو آپ سے معذرت بھی طلب کی پھر بھی آپ مجھ ہی کو ڈانٹ رہے ہیں حالانکہ سب لوگ ڈھٹائی کے ساتھ اخبار پڑھ رہے ہیں۔ آپ ان کو کچھ نہیں کہتے۔‘‘
	’’کون کہتا ہے کہ میں ان کو نہیں کہتا۔ میں تو سبھی کو کہہ رہا ہوں لیکن مفت بینی انسان کو بے حس بنا دیتی ہے۔ یہ سن کر ایک صاحب کی حس بیدار ہو گئی اور اُنہوں نے کہا۔
	’’دیکھئے صاحب! آپ کو قارئین کے ساتھ اس طرح کی بدزبانی نہیں کرنی چاہئے۔ ہم اخبارات پڑھتے ہیں تبھی تو اخبارات کا کاروبار چلتا ہے ورنہ …‘‘
	’’ورنہ کیا اخبارات بند ہو جائیں گے۔ہم لوگ بے کار ہو جائیں گے۔ بھوکوں مرنے لگیں گے۔‘‘
	’’نہیں نہیں یہ بات نہیں۔ بات دراصل یہ ہے کہ …‘‘
	گلریز کا پارہ چڑھ چکا تھا۔ اس نے کہا۔ ’’تم چپ رہو میں ان سے بات کر رہا ہوں۔ ‘‘
	’’نہیں صاحب آپ بلاوجہ ناراض ہو رہے ہیں۔ میں نے یہ سب کب کہا؟‘‘
	’’کہا نہیں لیکن کہنا تو یہی چاہتے تھے۔ کان کھول کر سن لو اخبارات تم جیسے مفت بین لوگوں کی باعث نہیں چلتے بلکہ ان کی وجہ سے چلتے ہیں جو انہیں خرید کر پڑھتے ہیں۔ ‘‘
	’’ہاں ہاں ہم نہیں خریدتے تو آپ کہاں خریدتے ہیں۔ مفت میں مل جاتے ہیں تو اس قدر اتراتے ہیں۔ ‘‘ یہ تیسرے صاحب تھے۔’’بھئی ہم جس سے اخبار مانگ کر پڑھتے ہیں وہ تو اخبار خریدتا ہے۔‘‘ وہ سچ ہی بول پڑا۔
	’’اس کی چھوڑو اپنی کہو۔ زبان صرف اس کی ہے یا تمہاری بھی ہے۔ اس کی بقاء و ترویج اسی کی ذمہ داری ہے یا تمہاری بھی ذمہ داری ہے اور اپنی زبان کے اخبارات کے فروغ کا ٹھیکہ اسی نے لیا ہے یا تمہارا بھی اس میں کوئی حصہ ہے۔ یہ کیوں نہیں سوچتے جتنا روپیہ آپ لوگ سگریٹ کے دھوئیں میں اُڑا دیتے ہیں یا پان کی پیک کے ساتھ تھوک دیتے ہیں اگر اس کا عشر عشیر بھی اخبارات کے خریدنے پر صرف ہو تو اُردو اخبار بھی دنیا کے کسی اور اخبار سے کم اشاعت کا حامل نہ ہو۔‘‘
	اس تقریر کے بعد اس کے بالکل مدمقابل بیٹھے ہوئے بزرگ بولے۔ ’’برخوردار چہرے سے تو صحافی معلوم ہوتے ہو۔ لیکن لگتا ہے کام مارکٹنگ کے شعبہ میں کرتے ہو اور ہاں دنیا کے اخبارات کی تعداد اشاعت تو آپ لوگوں کو خوب دکھائی دیتی ہے لیکن ان کا معیار نظر نہیں آتا۔ کہاں ۲۰ سے ۳۲ صفحات پر مشتمل انگریزی اخبارات اور کہاں آٹھ دس صفحات والے اُردو اخبار بھئی کوئی موازنہ ہے ان میں اور اوپر سے قیمت دونوں کی یکساں۔ ‘‘
	اس بات نے گلریز کے تن بدن میں آگ لگا دی۔ ذہنی غلامی کی بھی حد ہوتی ہے۔ ’’جن اخبارات کی بات آپ کر رہے ہیں ان کا پچاس سے ساٹھ فی صد حصہ اشتہارات پر مشتمل ہوتا ہے۔ ان کے اشتہار کا نرخ ہمارے اخبارات سے کئی گنا زیادہ ہوتا ہے۔ ہم نہ اپنے اخبارات کو اشتہار دیتے ہیں اور نہ خرید کر پڑھتے ہیں اور مقابلہ ان اخبارات سے کرتے ہیں۔ پھر بھی اگر موازنہ ہی کرنا ہے تو آپ بتائیں کہ وہ کون سی خبر ہے جو انگریزی اخبار میں چھپی ہے اور ہمارے اخبار میں نہیں چھپی۔ وہ کون سا موضوع ہے جس پر انہوں نے تبصرہ کیا اور ہم نے نہیں کیا۔ اخبار رنگ و روغن کا نام نہیں ہے وہ خبروں اور تجزیوں سے بنتا ہے۔‘‘
	’’ لیکن آپ کو دلکش بنانے سے کس نے روکا ہے۔اخبار کی زیبائش و آرائش پرکسی کی اجارہ داری ہے کیا؟‘‘
	’’ہاں یہ سوال اہم ہے۔ دراصل ہم کو وسائل و ذرائع کی تنگی نے روکا ہے۔ انگریزی اخبارات کو خوشنما بنانے والا کوئی نہیں ہم ہی لوگ ہیں۔ لیکن وہاں ہمیں وسائل حاصل ہیں اور یہاں ہم ان سے محروم ہیں۔ ‘‘
	’’لیکن ذرائع کے حصول پر کس کی رکاوٹ ہے؟‘‘
	’’رکاوٹ ہے آپ جیسے قارئین کی جو مفت میں اخبار پڑھتے ہیں۔ اس کے باعث تعداد اشاعت کم ہوتی ہے۔ اس وجہ سے اشتہارات کم ملتے ہیں۔ ‘‘
	بزرگ پھر بول پڑے۔ ’’دیکھا آپ نے انہوں نے پھر ہمیں کو موردِ الزام ٹھہرا دیا۔ ان سے کوئی نہیں جیت سکتا۔ یہ اپنی کوئی غلطی تسلیم نہیں کریں گے۔ دو روپئے کا اخبار کیا دیا بیس روپئے کی باتیں سنا ڈالیں۔ ‘‘
	’’جنابِ عالی میں صرف سنا نہیں رہا ہوں بلکہ سن بھی رہا ہوں اور آپ بھی صرف سن نہیں رہے سنا بھی رہے ہیں۔ ‘‘
	’’ آپ جو کچھ سنتے ہیں اس پر خفا ضرور ہوتے ہیں لیکن آپ کے کہنے سے مخاطب پر کیا گذرتی ہے اس کا احساس نہیں کرتے۔‘‘
	’’اور آپ لوگ یہ بھی تو سوچیں کہ آپ نے مجھ سے اخبار بھی لیا اور مجھے ڈانٹ بھی پلائی۔ کیا یہ رویہ مبنی بر انصاف ہے؟‘‘ اب اس کی حجت سے لوگ زچ ہو گئے سبھی نے بیزاری سے اپنے ہاتھوں کے اخبار اس کے سامنے ڈال دیئے۔
	ایک نے کہا۔ ’’بھئی غلطی ہو گئی۔ ہم معذرت چاہتے ہیں آپ جانیں اور آپ کے اخبار۔ خود ہی لکھیے خود ہی پڑھیے۔ خوشیاں منائیے اور ہمیں معاف کیجیے۔ ‘‘
	صبح سے ہونے والی اس دوسری تلخ کلامی نے اس کا موڈ خراب کر دیا۔ اس نے پھر ایک بار کھڑکی سے سرٹیک کر آنکھیں موند لیں۔ وہ دوبارہ اس خواب میں ڈوب جانا چاہتا تھا جس نے اسے بے چین کر دیا تھا۔ لیکن آنکھوں میں نہ نیند تھی اور نہ خواب تھا۔ وہ سوچنے لگا انسان کس قدر بے اختیار ہے۔ اسے اپنے آس پاس رونما ہونے والے واقعات پر تو کجا اپنے خوابوں پر بھی اختیار حاصل نہیں۔ وہ اپنی مرضی کے خواب بھی نہیں دیکھ سکتا۔جب خواب کانٹے کی طرح کھٹکنے لگے تو اسے آنکھوں سے نکال دینا پڑتا ہے۔لیکن کانٹا نکل جانے کے باوجود زخم چھوڑ جاتا ہے۔ درد باقی رہتا ہے۔ وقت کا مرہم سبھی زخموں کو بھر دیتا ہے لیکن کچھ ناسور کبھی نہیں بھرتے۔ شاید اس لیے کہ انسان خود انہیں ہرا رکھنا چاہتا ہے۔ مگر گلریز کا خواب شاید ایسا ہی ایک زخم تھا جس کی ٹیس وہ محسوس کرتا تھا لیکن اس کے باوجود اسے اپنی پلکوں پرسجائے رکھنا چاہتا تھا۔
٭٭٭


	ریلوے پلیٹ فارم کے شور سے گلریز جاگ گیا۔ اس نے آنکھیں کھولیں اور آس پاس نظر دوڑائی تو کیا دیکھتا ہے گاڑی ایک چھوٹے سے اسٹیشن پر کھڑی ہے۔ آس پاس بیٹھے ہوئے مسافروں میں سے کچھ مونگ پھلیاں چبا رہے ہیں تو کچھ دھواں اُڑا رہے ہیں۔ سبھی نے بحث و مباحثہ کو بھول کر دوبارہ اخبارات کو اٹھا لیا ہے اور اس طرح محو مطالعہ ہیں جیسے کچھ ہوا ہی نہ تھا۔ لیکن اس کے بالکل مدمقابل بیٹھے ہوئے بزرگ نے اخبارات کی جانب دیکھا تک نہ تھا۔ وہ اب بھی منہ پھلائے بیٹھے تھے۔ باہر چائے والا آواز لگا رہا تھا۔ ’’گرم چائے گرما گرم چائے، سستی بھگائے چُستی بڑھائے، پی کر دیکھو۔ اچھی نہ ہو تو پیسے واپس۔‘‘ اُسے ہنسی آ گئی اس لیے کہ وہ یقین کے ساتھ کہہ سکتا تھا کہ چائے اچھی نہیں ہے۔ پھر بھی اس نے دو پیالیاں چائے دینے کو کہا۔ پہلی پیالی بزرگوار کی جانب بڑھائی۔ انہوں نے نا نا کہتے ہوئے ہاتھوں میں تھام لیا۔ دوسری پیالی سے وہ خود چسکیاں لینے لگا۔ اسے اپنی تلخ کلامی پر افسوس تھا اس لیے اس نے بزرگ ہمسفر سے معذرت طلب کی۔ چائے کی تلخی نے تلخ کلامی کے اثر کو زائل کر ہی دیا تھا۔ اب معذرت مصری کی ڈلی بن گئی۔ بزرگ نے ناصحانہ انداز میں کہنا شروع کیا۔
	’’برخوردار تمہاری باتیں تو بجا ہیں لیکن انداز بیان غلط ہے۔الفاظ سے زیادہ اثر انداز کا ہوتا ہے اور جب انداز الفاظ پر حاوی ہو جائے تو وہ انہیں بے معنی کر دیتا ہے۔ ویسے تم چہرے سے شریف اور دل کے اچھے معلوم ہوتے ہو۔ لیکن جذباتی ضرور ہو۔ خیر یہ بھی عمر کا تقاضہ ہے۔ ‘‘
	گلریز بولا۔ ’’آپ میرے لیے دعا فرمائیں کہ میں اپنے جذبات پر قابو رکھ سکوں۔ ‘‘
	’’ویسے بیٹے ایک تجربے کی بات بتاؤں جس طرح چائے اگر ٹھنڈی ہو جائے تو بے مزہ ہو جاتی ہے اسی طرح بحث کا لطف بھی اس کے گرما گرم ہونے میں ہے۔ ہاں تلخ کلامی سے احتراز کیا کرو کہ وہ اسے بد مزہ کر دیتی ہے۔‘‘
	چائے ختم ہو چکی تھی۔ دونوں نے چائے کلھڑ کھڑکی سے باہر پھینکے۔ بزرگ کا غصہ گرم گرم چائے نے ٹھنڈا کر دیا تھا۔ اب کھڑکی کو ٹیک لگا کر اونگھنے کی باری ان کی تھی۔ گلریز متعجب تھا جس چائے نے اسے تر و تازہ کر دیا تھا وہی چائے اس کے ہمسفر کے لیے خواب آور دوائی بن گئی تھی۔ ٹرین کے شور میں بزرگ کے ہلکے ہلکے خراٹے موسیقی کا رنگ گھول رہے تھے۔ اسے چائے والے کا دعویٰ یاد آ رہا تھا۔ سستی بھگائے، چستی بڑھائے، پیسے واپس۔ ایسے میں اس کی نظر دوسری جانب بیٹھے ایک تنو مند مسافر پر پڑی جو عینک نکال کر اپنی آنکھوں سے آنسو پونچھ رہا تھا۔ اس کے ہاتھ میں ’’صبح امید‘‘ تھا۔ وہ اخبار جس میں گلریز ملازمت کرتا تھا۔ جب آگے جھک کر گلریز نے اخبار کو قریب سے دیکھا تو سامنے صفحہ اول کی وہی خبر مسکرا رہی تھی جسے خود اس نے قلم بند کیا تھا۔ وہ سوچنے لگا یہ آنسوؤں کا سلسلہ بھی عجیب ہے۔ جس وقت مذکورہ واقعہ کو دیکھنے کے لیے وہ جائے واردات پر پہنچا تو وہاں کا منظر دیکھ کر وہ خود نم دیدہ ہو گیا۔ دفتر آنے کے بعد جب اس نے اس خبر کو لکھ کر اپنے مدیر کے سامنے رکھا تو ان کے دیدے بھی تر ہو گئے۔ انہوں نے بڑی بڑی قومی و بین الاقوامی خبروں کو ہٹا کر اس معمولی سی خبر کو تصویر کے ساتھ شاہ سرخی کے ساتھ شائع کروا دیا اور اب قاری اسے پڑھ کر آنسو بہا رہا تھا۔
	گلریز کی نظروں میں پھر ایک بار وہ منظر تازہ ہو گیا۔ جس میں ایک غریب اپنے علاقے کے کاؤنسلر کے سامنے گڑگڑا رہا تھا۔ دہاڑیں مار مار کر رو رہا تھا اور بلدیہ کے بلڈوزر کی دہائی دے رہا تھا۔ وہ کہہ رہا تھا۔
	’’حضور مائی باپ آپ کچھ کریں، میری مدد کریں، میں تو برباد ہو گیا، میرا گھر اُجڑ گیا، بلڈوزر نے سب کچھ تہس نہس کر دیا، میرے بیوی بچے بے سروسامانی کے عالم میں سڑک پر آ گئے۔ ان کے سر پر اب صرف آسمان ہے اور آسمان میں بادل ہیں۔ بجلی کڑک رہی ہے، ہوا کے جھکڑ تیز ہوتے جا رہے ہیں۔ میرا ایک شیرخوار بچہ بھی ہے۔ حضور میرا کیا ہو گا؟ میں کہاں جاؤں گا؟ اگر برسات ہونے لگے تو میرا کیا ہو گا؟ میرے بیوی بچوں کا کیا ہو گا؟ میں تو تباہ ہو جاؤں گا۔‘‘
	میونسپل کاؤنسلر اسے سمجھانے لگا۔ ’’دیکھو گھبراؤ نہیں، دل چھوٹا نہ کرو۔سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔ میں ابھی انتظام کرواتا ہوں۔ بلڈوزر رکواتا ہوں۔ تم لوگ وقتی طور سے قریب کے ریلوے پلیٹ فارم پر چلے جاؤ۔ میں وہاں تمہارے لیے مدد منگواتا ہوں۔ تمہارے لیے کھانا اور کمبل وغیرہ کے لیے میں نے کہہ دیا ہے وہ بھی آتے ہی ہوں گے۔ تم لوگ وہاں چلو میں کچھ دیر میں آتا ہوں۔ ‘‘
	’’لیکن وہاں ریلوے کے حفاظتی دستہ؟‘‘
	’’اس کی فکر نہ کرو میں انہیں سمجھا دوں گا۔ کوئی تمہیں کچھ نہ کہے گا۔ میں جو ہوں تمہارا خدمت گار۔‘‘
	’’ آپ عظیم انسان ہیں سرکار۔ آپ ہی ہمارے مائی باپ ہیں۔ اگر آپ نہ ہوں تو ہم جیسے غریبوں کی کون سنے گا۔ آپ مائی باپ ہیں سرکار۔ آپ کا احسان ہے مائی باپ۔‘‘ یہ کہتا ہوا وہ اپنے نحیف بیوی اور لاغر بچوں کے ساتھ ریلوے پلیٹ فارم کی جانب ہولیا۔ گلریز کاؤنسلر کا انٹرویو لینے کے لیے آگے بڑھا تو اس کے ایک چمچے نے آ کر خبر دی کہ جناب پاس کے ہوٹل میں آپ کے لیے ٹیلی فون ہے۔ گلریز نے دیکھا پوری بستی اُجڑ چکی ہے لیکن اس ہوٹل کو آنچ تک نہیں آئی۔کاؤنسلر اس ہوٹل کی جانب چل دیا۔ گلریز نے اپنے فوٹو گرافر سے کہا وہ اس بستی کی تصویریں لے اور پھر پلیٹ فارم پر جا کر وہاں بھی ان بے خانماں لوگوں کی حالت زار کو اپنے کیمرے کی آنکھوں میں قید کر لے۔ وہ کاؤنسلر سے بات کر کے وہاں پہنچ رہا ہے۔ یہ کہہ کر وہ تیز تیز قدم بڑھاتا ہوا ہوٹل میں جا پہنچا۔
	کاؤنسلر کی بات چیت نے گلریز کے ہوش اُڑا دیئے۔ وہ کہہ رہا تھا۔
	’’جی ہاں سیٹھ جی۔ کام ہو گیا۔ پورا ہو گیا۔ میدان صاف ہو گیا ہے۔ تمام لوگوں کو ریلوے پلیٹ فارم کی جانب ہانک دیا گیا ہے۔ اب کل سے ہاں بلدیہ کی جانب سے کانٹے دار باڑھ لگنی شروع ہو جائے گی تاکہ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ واپس آ جائیں … پھر جب معاملہ بالکل ٹھنڈا ہو جائے گا پلاٹ آپ کے حوالے کر دیا جائے گا… جی ہاں آپ صحیح کہہ رہے ہیں۔ جلد بازی کرنا مناسب نہیں ہے۔ گرم گرم کھانے سے منہ جل جاتا ہے۔ میں اس بات کو سمجھتا ہوں۔ جلدی میں کام خراب ہو جاتا ہے۔ جی ہاں، جی ہاں۔ آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں۔ اور وہ کھانے کا کیا ہوا؟ دو دیگ چاول آ رہا ہے نا۔ کیا کہا نکل چکا ہے۔ بہت اچھا آپ تو بڑے تیز ہیں۔ میں بھی، نہیں صاحب ہمارا کیا۔ ہم تو آپ کے خدمت گار ہیں اور کمبل آپ بھول گئے۔ بھئی ایسا نہ کریں۔ اگر بارش ہونے لگے تو موسم ٹھنڈا ہو جائے گا اور پھر چھوٹے چھوٹے بچے بھی ہیں۔ خیال تو رکھنا ہی پڑتا ہے۔اِنہی لوگوں نے اپنے قیمتی ووٹ سے ہمیں کامیاب کیا اور آپ کی خدمت کے قابل بنایا اور پھر دوبارہ ان کے ووٹ کی ضرورت تو پڑے گی۔ نہیں نہیں۔ واپس ہرگز نہیں آئیں گے۔ ہمارے چمچے انہیں کھانا اور کمبل تقسیم کرتے وقت دور کی ایک بستی کی نشاندہی بھی کر دیں گے۔ جب ٹرین آئے گی تو ان کا سامان بھی اس میں لدوا دیں گے۔ جی ہاں جی ہاں آہستہ آہستہ سبھی چلے جائیں گے اور جو نہ جائیں گے انہیں ریلوے کے حفاظتی دستہ سے دھمکا کر بھگا دیا جائے گا آپ فکر نہ کریں۔ یہ تو پہلے بھی ہو چکا ہے۔ یہ لوگ کسی وقت قلب شہر میں آباد تھے جہاں اب تاج محل ہوٹل کھڑا ہے وہاں سے انہیں اسی طرح دھکیل کر یہاں لایا گیا تھا۔ یہ آزمایا ہوا طریقہ کار ہے۔ اب یہ اس بستی سے نکالے گئے ہیں اور جلد ہی یہاں کراؤن پیلس ہوٹل کھڑا ہو گا۔آپ فکر نہ کریں۔ ہمارا تعاون ہمیشہ ہی آپ کو حاصل رہے گا۔ ہم تو آپ کے پرانے خادم ہیں … مبارک ہو۔ آپ کو بھی مبارک ہو۔ بہت بہت مبارک ہو آپ کو۔‘‘
	فون پر اس گفتگو کو سننے کے بعد اس کا خون کھول گیا۔ گلریز غصہ سے پاگل ہو گیا۔ اس کا جی چاہا کہ اس سفید پوش کے چہرے سے حاتم طائی کی نقاب نوچ لے اور اس کا چنگیزی چہرہ عوام کے سامنے عریاں کر دے۔ لیکن وہ سیاسی رہنما اپنے غنڈے نما چمچوں کے درمیان گھرا کھڑا تھا۔ اس کے سر پر بڑے سیاست دانوں کا ہاتھ تھا۔ اس کی پشت پر بڑے سرمایہ داروں کی دولت تھی۔ اس کے بازوؤں میں انتظامیہ کا آہنی پنجہ تھا۔ لیکن سب سے افسوسناک پہلو یہ تھا کہ اس کی قدموں میں عوام کی عقیدت و حمایت کے پھول نچھاور تھے۔ وہ انہیں اپنے غلیظ پیروں سے روندتا جاتا تھا اور بھولے بھالے لوگ اسے اپنے لیے باعث صد افتخار سمجھتے۔ ایسی صورت حال میں گلریز نے اپنے آپ کو بالکل بے دست و پا محسوس کیا۔لیکن پھر امید کی ایک کرن نمودار ہوئی اسے قلم اور اخبار کے خیال نے حوصلہ بخشا۔ وہ اپنے دفتر کی جانب چل دیا۔ اس واقعہ کو لکھنے کے بعد اس نے تصویروں کا انتخاب کیا اور ’’دیو استبداد جمہوری قبا میں میں پائے کوب‘‘ یہ سرخی لگا کر اپنے مدیر کی خدمت میں حاضر ہو گیا۔ اس کے دل کی بات نے مدیر کو متاثر کیا اور وہ اب قارئین پر اپنا اثر دکھلا رہی تھی۔کسی اور اخبار نے اس خبر کو صفحہ اول پر جگہ نہ دی تھی۔ وہ بڑے بڑے انگریزی اخبارات جن کے معیار کی قسمیں کھائی جا رہی تھیں ان میں سے اکثر نے اس واقعہ سے مکمل صرف نظر کیا تھا۔ لیکن ان بے جان خبروں کے درمیان گلریز کی خبر دل کی طرح دھڑک رہی تھی۔ وہ دراصل زندگی کی علامت تھی اور صبح کی امید بھی تھی۔
	ریل کی رفتار کم ہونے لگی تھی۔ اکثر و بیشتر مسافر اپنے سامان سمیٹنے لگے تھے۔ تمام اخبارات اس کے سامنے جمع ہو گئے تھے۔ شاید کوئی بڑا اسٹیشن آنے والا تھا۔ گلریز نے دیکھا سامنے بیٹھے بزرگ اوپر سے اپنا وزنی بکس نیچے اتارنا چاہتے ہیں۔ وہ کھڑا ہو گیا۔ اس نے بکس کو نیچے اتارا اور کہنے لگا۔ ’’آپ فکر نہ کریں میں آپ کا سامان نیچے اتار دوں گا۔‘‘
	’’نہیں نہیں آپ کیوں تکلیف کرتے ہیں۔ آپ نے اسے اوپر سے اتار دیا میں اسی کے لیے آپ کا احسان مند ہوں۔ اب میں قلی کی مدد سے نیچے اُتر جاؤں گا۔‘‘
	گلریز نے کہا۔ ’’لگتا ہے ابھی تک آپ کی ناراضگی پوری طرح دور نہیں ہوئی حالانکہ میں نے معذرت بھی کر لی تھی۔‘‘
	’’نہیں بیٹے ایسا نہ کہو۔ تم نے تو چائے پلا کر میرا دل جیت لیا اور اب میرا وزنی بکس اوپر سے اتار کر مجھ پر مزید احسان لاد دیئے اب ان کا بوجھ نہ بڑھاؤ میں بوڑھا آدمی ہوں اتنا زیادہ وزن نہ سہار پاؤں گا۔‘‘
	’’کیسی باتیں کرتے ہیں۔ یہ تو ہماری اقدار ہیں، روایات ہیں۔ یہ احسان نہیں، آپ کا حق اور میری ذمہ داری ہے۔اگر میرے ساتھ میرے والد صاحب ہوتے تو کیا میں انہیں قلی کی مدد سے اترنے دیتا۔‘‘
	گلریز کی بات سن کر بزرگوار ٹھنڈے ہو گئے وہ اسے دعائیں دینے لگے۔نیچے اتر کر اپنے سینے سے لگایا اور اسے حکمت و دانش مندی کی دعائیں دیتے ہوئے رخصت ہو گئے۔ گلریز کو ایسا لگا جیسے اس نے اپنی تلخ کلامی کا کفارہ ادا کر دیا ہے۔ وہ دوبارہ اپنی نشست پر آ کر بیٹھ گیا۔ پرانے مسافروں کی جگہ نئے مسافروں نے لے لی تھی۔ یہ سب چھوٹی مسافت کے مسافر تھے لیکن گلریز کا سفر طویل تھا۔ سفر کی طوالت دوری سے نہیں جلدی سے ہوتی ہے۔ جس کے لیے اپنی منزل کا انتظار جتنا ہی شدید ہوتا ہے اسے طوالت کا احساس اتنا ہی زیادہ ہوتا ہے۔ اس ریل گاڑی میں شاید گلریز سے زیادہ جلدی کسی اور کو نہ تھی۔ وہ جلد از جلد اپنے خواب کی تعبیر معلوم کر لینا چاہتا تھا اس لیے سب زیادہ طویل سفر اسی کا تھا۔
٭٭٭



	شام ہوتے ہوتے ٹرین جنگ پورہ ریلوے اسٹیشن پہنچ گئی۔ یہاں اترنے چڑھنے والے مسافر بہت کم تھے اس لیے بڑے آرام سے وہ باہر نکل آیا۔ باہر تو ویرانی ہی ویرانی تھی۔ چند سواریاں خستہ حال سائیکل رکشا کی جانب بڑھ رہی تھیں۔ ایک سائیکل رکشا والے نے اس سے پوچھ لیا۔
	’’صاحب چلیں گے؟‘‘
	گلریز نے جواب دیا۔ ’’ضرور چلیں گے۔‘‘
	’’تو بیٹھئے۔‘‘
	’’لیکن پہلے یہ بتلاؤ کہ بس اڈے کے کتنے روپئے لو گے؟‘‘
	بس اڈے کا نام سن کر وہ چونک پڑا اور کہنے لگا۔ ’’صاحب کیوں مذاق کر رہے ہو۔‘‘
	’’تم تو مجھے ایسے دیکھ رہے ہو جیسے میں تمہیں بھوت بنگلہ چلنے کے لیے کہہ رہا ہوں۔ ‘‘
	’’وہی تو۔ صاحب ہم بس اڈے کیسے جا سکتے ہیں۔ ‘‘
	’’کیوں کیا وہاں کرفیو لگا ہوا ہے۔ گرفتار ہو جاؤ گے۔ چالان ہو جائے گا۔ کیا مسئلہ ہے؟‘‘
	’’نہیں صاحب آپ تو ناراض ہو رہے ہیں ایسی کوئی بات نہیں ہے دراصل جنگ پورہ گاؤں اور اس کا بس اڈہ دس کوس کی دوری پر ہیں۔ ہم سائیکل رکشہ پر آپ کو کیسے لے جا سکتے ہیں۔ ہم تو یہیں آس پاس ریلوے کالونی، ڈنکا بازار، بڑا چوراہا تک جاتے ہیں۔ آپ کو بس اڈہ جانا ہے تو جائیے وہ عبدل کا اِکاّ کھڑا ہے۔ وہ آپ کو وہاں لے جائے گا۔‘‘
	اِکّے کے قریب آ کر گلریز نے پوچھا۔ ’’خانقاہ چلو گے؟‘‘
	’’خانقاہ! کیا بات کرتے ہیں صاحب۔ ‘‘ اس کا انداز ایسا تھا جیسے اس علاقے میں کوئی خانقاہ پائی ہی نہ جاتی ہو یا بند ہو گئی ہو۔ 
	’’کیوں خانقاہ نہیں جانتے کیا؟‘‘
	’’جانتے ہیں صاحب بالکل جانتے ہیں لیکن اتنی رات کو وہاں کیسے جا سکتے ہیں۔ وہ تو بہت دور ہے پچاس کوس دور وہاں تو ہم دن میں بھی نہیں جاتے۔‘‘
	’’اچھا تو لوگ کیسے جاتے ہیں سائیکل رکشا میں بیٹھ۔ ‘‘
	’’کیا بات کرتے ہیں صاحب جہاں عبد ل کا اِکّا نہیں جاتا وہاں رکشا کیا جائے گا بھلا۔‘‘
	’’تو پھر کیا کریں ؟ پیدل جائیں۔ ‘‘گلریز نے جھنجھلا کر کہا۔
	’’نہیں صاحب آپ تو بلاوجہ ناراض ہو رہے ہیں۔ پیدل جائیں آپ کے دشمن۔ آپ تو بڑے آرام سے اس امپالا میرا مطلب ہے عبدل کے اِکّے میں بیٹھ جائیں میں آپ کو بس اڈّے پہنچا دوں گا وہاں سے آپ کو بس یا جیپ وغیرہ مل جائے گی جو آپ کو سیدھے بڑی خانقاہ میرا مطلب ہے بڑے پیر صاحب کی خانقاہ پہنچا دے گی۔‘‘
	’’ٹھیک ہے۔‘‘ وہ اِکّے پر بیٹھ گیا۔ گھوڑے کی ٹاپ اس ویرانے میں بالکل راک میوزک کی تھاپ کی طرح گونج رہی تھی۔ شام کی ٹھنڈی اور تازہ ہوا نے گلریز کو تازہ دم کر دیا تھا۔ کچھ دیر موسم کا لطف اٹھانے کے بعد گلریز نے سوال کیا۔
	’’بھائی عبدل یہ تو بتاؤ کہ اس وقت بس اڈے سے خانقاہ کی جانب جانے والی سواری تو مل جائے گی۔‘‘
	’’صاحب غیب کا علم تو بندۂ بے عمل کو اﷲ تعالیٰ نے نہیں دیا اس لیے میں کچھ نہیں کہہ سکتا۔‘‘
	’’اب فلسفہ نہ بگھارو یہ بتلاؤ کہ عام طور سے اس وقت وہاں سے سواریاں خانقاہ کی طرف جاتی ہیں یا نہیں۔ ‘‘
	’’صاحب سچی بات تو یہ ہے کہ اس وقت اس طرف کوئی سواری نہیں جاتی لیکن پھر بھی اگر پیر صاحب کا بلاوا آ جائے اور ان کا کوئی مرید اپنی ذاتی سواری میں اس طرف جاتا ہوا مل جائے تو آپ کی قسمت ورنہ…‘‘
	’’ورنہ کیا۔ ورنہ رات بھر مجھے اس ویران گاؤں میں پڑے رہنا پڑے گا۔‘‘
	’’جی ہاں یقیناً آپ کو یہی کرنا ہو گا۔ اس لیے کہ اس کے سوا آپ اور کر بھی کیا سکتے ہیں۔ ‘‘
	’’ہاں ہاں کر بھی کیا سکتے ہیں بے وقوف۔‘‘
	’’صاحب آپ تو مجھ پر اس طرح برس رہے ہیں جیسے یہ سب میری وجہ سے ہو رہا ہے۔ میں نے آپ کو رات گئے یہاں آنے کی دعوت نہیں دی اور نہ ہی میں نے خانقاہ کی جانب جانے والی سواریوں کو روکا اور پھر آپ خانقاہ میں جا کر بھی کیا کریں گے؟ آرام کریں گے۔ یہاں آرام کر لیجئے کیا فرق پڑتا ہے۔ علی الصبح اٹھ کر نکل جائیے گا۔‘‘
	اِکّے والے کی تقریر سن کر گلریز کا پارہ چڑھ گیا۔ اس نے کہا ’’اب بس کرو۔ رات بھر پڑے رہ کر بھی کیا کرسکتے۔ تم گاؤں والوں کو اگر وقت کی اہمیت کا احساس ہوتا تو ملک کی یہ حالت نہ ہوتی۔‘‘
	عبد نے ترکی بہ ترکی جواب دیا۔ ’’ہاں صاحب ہم خوب جانتے ہیں آپ شہر والوں کے نزدیک وقت کی بڑی اہمیت ہے اسی لیے آپ لوگ دفتر سے گھر اور گھر سے دفتر کے درمیان آنے جانے میں گھنٹوں برباد کر دیتے ہیں۔ کئی کئی گھنٹے ٹیلی ویژن کے سامنے بیٹھے رہتے ہیں۔ دنیا بھر کے ڈرامہ تھیٹر، سنیما ہال اور نائٹ کلب آباد کرتے ہیں اور پھر طرہ یہ کہ وقت کی اہمیت کا احساس ہے۔‘‘
	گلریز نے کہا۔’’جسے تو وقت کا ضیاء کہہ رہا ہے اے کم عقل انسان وہ وقت کی بربادی نہیں ہے۔ روپیہ کمانے کے لیے سفر کی صعوبتیں برداشت کرنی ہی پڑتی ہیں اور زندہ رہنے کے لیے تفریح بھی تو ضروری ہے۔‘‘
	’’اچھا تو انسان کو زندہ رہنے کے لیے روپیہ اور تفریح یہی دو چیزیں کافی ہیں۔ آپ لوگ روپیہ تو کمانا جانتے ہیں لیکن بچانا نہیں جانتے۔ یہی وجہ ہے کہ شہر کے اکثر و بیشتر لوگ تا عمر قرضوں کے بوجھ تلے دبے رہتے ہیں۔ سود کی چکی میں پستے رہتے ہیں اور جہاں تک تفریح کا سوال ہے اس سے غم غلط ضرور ہو جاتا ہے لیکن خوشی و مسرت میں تبدیل نہیں ہوتا۔‘‘
	عبدل کی باتوں نے گلریز کو تحیر زدہ کر دیا تھا۔ اس نے اپنی خجالت مٹانے کے لیے کہا۔ ’’بھئی اسے کہتے ہیں انگور نہ ملیں تو کھٹے۔ تم ایک دیہات میں رہتے ہو تمہاری حالت تو ایک کنویں کے مینڈک کی سی ہے جو اسے پوری کائنات سمجھتا ہے تم کیا جانو کہ شہر کی زندگی کیا ہے اور اس کے مزے کیسے ہوتے ہیں ؟‘‘
	’’نہیں صاحب ایسا نہ کہئے ہم خوب جانتے ہیں شہر انسانوں کی نہیں مشینوں کی بستی ہے۔وہ دیواروں کا جنگل ہے جہاں ہر کوئی اپنی ذات کی چہار دیواری میں قید ہے۔ وہاں ہر کوئی اپنے لیے اور صرف اپنے لیے جیتا ہے۔ آپ نے صحیح کہا وہاں کسی کے پاس وقت نہیں ہے وہاں کسی کے پاس اپنے سوا کسی کے لیے وقت نہیں ہے۔ اسی لیے ماں باپ اپنی اولاد کی خدمت کو ترستے ہیں اور بال بچے اپنی ماں کی شفت سے محروم ہیں۔ شوہر اور بیوی میں محبت کا نہیں ضرورت کا رشتہ ہے۔ وہ ایک دوسرے کی ضرورت بلکہ ایک دوسرے کا بوجھ اپنے کندھے پر ڈھوتے ہیں۔ جس طرح یہ گھوڑا اِکّے کے بندھن میں بندھا اپنے پیٹ کی بھوک مٹانے کی خاطر ہمارا بوجھ ڈھوتا ہے۔ بابو شہر کی بات نہ کرو وہاں رشتہ داروں کے پاس صلہ رحمی کی فرصت نہیں ہے وہاں بچوں سے ان کا بچپن ایک انجان مستقبل کا ڈر دکھلا کر چھین لیا گیا ہے۔ننھے منے بچوں کو درسی کتابوں میں محصور کر دیا گیا ہے۔ معصوم کے پیروں میں معیار زندگی کی بیڑی پہنا کر انہیں مسابقت کی دوڑ میں اتار دیا گیا ہے۔ تابناک مستقبل کے بھیانک خواب نے ان کے حال کو تاریک کر دیا ہے۔ مادہ پرستی نے ماں باپ کو بچوں کی خوشیوں کا دشمن بنا دیا ہے۔ خود غرضی اور حرص و ہوس نے انہیں خود اپنی ذات کا رقیب بنا دیا ہے۔ ‘‘
	عبدل اِکّے والے کی تقریر نے گلریز کے ذہن کے بند دریچوں کو کھول دیا۔ اسے محسوس ہوا گویا وہ کسی عظیم دانشور کے ساتھ سرگرم سفر ہے۔ اس نے پوچھا۔
	’’بھائی عبدل بات تم صحیح کہہ رہے ہو لیکن یہ تو بتاؤ کہ ان حقائق کی معرفت تمہیں کیسے حاصل ہو گئی۔ہماری عمر شہروں میں رہتے گزر گئی لیکن ان باتوں کا احساس ہم کبھی نہ کر سکے۔‘‘
	’’جناب بات یہ ہے کہ جن اقدار کا میں نے ذکر کیا ان کا احساس ان لوگوں کو نہیں ہو سکتا جن کی عمر شہروں کی نذر ہو گئی ہو۔ کسی شئے کی محرومی کا احساس اسی کو ہوتا ہے جس کو وہ حاصل رہی ہو اور پھر وہ اس کو گنوا دے۔ ہم نے اپنا بچپن گاؤں میں گذارا۔ ہمیں یہ تمام چیزیں یہاں حاصل تھیں شہر جا کر ہمارے اندر احساس زیاں پیدا ہوا۔ وہاں جا کر ہم اپنے والدین سے دور ہو گئے۔ اپنے بیوی بچوں کو اپنے پاس نہ رکھ سکے۔ رشتہ دار اور دوست و احباب چھوٹ گئے۔یہاں گھوڑے کی طرح زندگی کی گاڑی کو کھینچتے تھے وہاں گاڑی کی طرح دولت کے پیچھے گھسٹنے لگے۔ ہم نے سوچا آخر کب تک۔ کب تک یہ بے معنی زندگی جی جائے گی اور پھر ایک دن موت سب کچھ نگل جائے گی۔یہ سوچ کر ہم نے مادیت کی زنجیروں کو توڑ دیا اور واپس لوٹ آئے۔ شہر میں گھوڑے کی زندگی گذار رہے تھے اب گاڑی بان گئے ہیں۔ ہمارے پاس مادی وسائل کا فقدان ضرور ہے لیکن اطمینان ہے۔ سکون ہے۔ خوشی ہے اور زندگی ہے اور جناب سامنے بس اڈہ بھی ہے۔‘‘ عبدل نے مسکراتے ہوئے کہا۔
	بس اڈے پر قبرستان کی سی خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ گلریز نے پوچھا۔ ’’کوئی امید ؟‘‘
	عبدل بولا۔’’آپ بیٹھیں میں پتہ کر کے آتا ہوں۔ ‘‘
	اِکّے والا چلا گیا۔ کہاں گیا وہ نہ جانتا تھا اور نہ جاننا چاہتا تھا۔ عبدل کی گفتگو نے اسے یہ تک بھلا دیا کہ وہ کہاں سے آیا ہے اور اسے کہاں جانا ہے۔ وہ اچانک خوابوں سے حقیقت کی زمین پر اتر آیا تھا۔ یہ اس کی زندگی کا ایک یادگار سفر تھا جس میں اسے ان اقدار کی بازیافت ہوئی جن کے کھو جانے کا اسے ملال تک نہ تھا۔ چند منٹوں بعد عبدل لوٹ آیا اور اس نے اِکّے کو ایک جانب موڑ دیا۔
	’’کیوں کیا ہوا؟‘‘
	’’صاحب اب کوئی امید نہیں ہے صبح تک یہیں آرام کرنے کے علاوہ کوئی چارۂ کار نہیں ہے۔‘‘
	’’وہ تو ٹھیک ہے لیکن یہ تو بتاؤ کہ اب تم مجھے کہاں لیے جا رہے ہو؟‘‘
	’’اپنے گھر۔‘‘
	’’کیا؟‘‘
	’’جی ہاں ! صاحب میں آپ کو اپنے غریب خانے پر لیے جا رہا ہوں اور میں اسے تکلفاً غریب خانہ نہیں کہہ رہا بلکہ وہ ہے ہی اس غریب کا مسکن۔‘‘
	’’میں نے سنا ہے یہاں کوئی مسجد والی سرائے بھی ہے وہیں لے چلو۔‘‘
	’’ارے صاحب وہ سرائے اب کہاں وہ تو کسی زمانے میں ہوا کرتی تھی۔ دو کمرے مسافروں کے لیے اور ایک کمرہ اس کی دیکھ بھال کرنے والے اجو کے لیے۔ آگے چل کر ایسا ہوا کہ اجو کے بیٹے خیرو کا بیاہ ہو گیا اور اس کے بعد دو کمرے دیکھ بھال کرنے والوں کے تصرف میں آ گئے اور ایک کمرہ مسافروں کے لیے رہ گیا اور پھر جب اجو کی بیٹی کا نکاح ہوا تو اجو کا داماد گھر جمائی بن کر اس کے پاس چلا آیا۔ اس طرح اب تینوں کمرے دیکھ بھال کرنے والے کی نذر ہو گئے۔ اب مسافروں کے لیے اس مسافر خانے پر صرف ’’خالی نہیں ‘‘ کی تختی ہے جو مستقل جھولتی رہتی ہے۔‘‘
	 گلریز کو بڑی دیر بعد نادر موقع ہاتھ لگا تھا۔ اس نے جھٹ کہا ’’شہر والوں کو تو تم نے خوب صلواتیں سنائیں لیکن یہ کارنامہ تو گاؤں والوں کا ہے کیوں ؟‘‘ گلریز کے اس سوال سے شہری عصبیت کی بو آ رہی تھی جسے عبدل نے بھی سونگھ لیا اور کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد گویا ہوا۔
	’’یہ ہماری غلطی ہے ہم اس کی توجیح نہیں کرتے ہم اسے تسلیم کرتے ہیں۔ لیکن صاحب ایک فرق ضرور ہے۔ یہ گناہ مجبوری میں کیا گیا ہے۔ شہروں میں اکثر حرص و ہوس گناہ کرواتی ہے۔ ھل من مزید کا چکر لوگوں کو دیوانہ بنائے رکھتا ہے۔‘‘
	گلریز سوچنے لگا جو کچھ اس سرائے کے ساتھ ہوا وہیں کچھ تو ملک و قوم کے ساتھ بھی ہو رہا ہے۔ کسی زمانے میں ہم لوگوں نے ایک فلاحی ریاست کا خواب دیکھا تھا۔ امیروں پر ٹیکس لگایا گیا تھا تاکہ اس سے غرباء اور مساکین کو بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں۔ جو کچھ سرکاری خزانے میں جمع ہوتا تھا اس کا ایک چھوٹا سا حصہ حکومت چلانے والوں پر بھی خرچ ہوتا تھا۔ رفتہ رفتہ اس خرچ میں اضافہ ہوتا رہا۔ یہاں تک کہ نوبت آئی کہ عوامی فلاح و بہبود کے لیے بیرونی سرمایہ داروں سے قرض لینے کی نوبت آ گئی لیکن اس قرض کی رقم بھی عوام پر خرچ ہونے کے بجائے بدعنوانی کے راستے سے خواص کی جیب میں جانے لگی۔ اب نوبت یہ آئی کہ قرض کا سود ادا کرنے کے لیے قرض لیا جا رہا ہے۔ فلاحی ریاست کا خواب چکنا چور ہو چکا ہے۔ عوام غریب سے غریب تر اور ان کے سربراہ امیر سے امیر تر ہوتے جا رہے ہیں۔ عوام کا ووٹ اور عوام کا نوٹ دونوں ان کی جیب میں ہے۔ کبھی کبھار سیاسی رہنماؤں کی جگہ فوجی جرنل آ جاتے ہیں ان کی جیب میں ووٹ کے بجائے بندوق ہوتی ہے لیکن نوٹ کی جگہ نوٹ ہی ہوتا ہے۔ اس طرح لوٹ اور کھسوٹ کا یہ بازار شہروں سے لے کر گاؤں تک ہر جگہ گرم ہے۔
	گھوڑے کے رُکتے ہی گلریز کی سوچ کا سلسلہ اس طرح ٹوٹ گیا جیسے فون کی لائن اچانک کٹ جاتی ہے۔ گاڑی ایک پرانے مکان کے سامنے کھڑی تھی عبدل ابھی آیا، کہتا ہوا کود کر اپنے مکان میں داخل ہو گیا۔گھر میں بچے سو چکے تھے لیکن اس کی بیوی اور ماں دونوں جگ رہے تھے۔ عبدل کو دیکھتے ہی ان کی باچھیں کھل گئیں۔ بیوی بولی۔ ’’کتنی دیر؟‘‘
	اور ماں نے پوچھا۔ ’’بیٹے خیریت تو ہے۔ کچھ پریشان سے لگ رہے ہو؟‘‘
	عبدل نے دونوں کو جواب دیا۔’’نہیں سب خیریت ہے۔ آج ٹرین تاخیر سے آئی اس لیے مجھے بھی دیر ہو گئی۔ وہ تو خیر سواری مل گئی ورنہ خالی ہاتھ لوٹنا پڑتا۔‘‘
	’’اچھا تو سواری کسی اور گاؤں کی تھی کیا؟‘‘
	’’نہیں اماں سواری کو تو بڑے پیر صاحب کی خانقاہ جانا ہے۔ اب اتنی رات انہیں وہاں کے لیے کوئی بس وغیرہ ملے گی نہیں اس لیے میں انہیں اپنے ساتھ لے آیا۔‘‘
	بڑے پیر صاحب کا نام سنتے ہی بڑھیا کے دل میں گلریز کے لیے جگہ بن گئی۔ دراصل انسان جس سے عقیدت رکھتا ہے اس کے عقیدت مندوں سے بھی عقیدت رکھتا ہے۔ ایک قدر مشترک جو دونوں کے درمیان پائی جاتی ہے وہ انہیں انسیت کے رشتہ سے جوڑ دیتی ہے۔ ماں بولی۔
	’’جو پیر صاحب کا مہمان وہ ہمارا مہمان لیکن وہ سوئیں گے کہاں ؟‘‘
	عبدل بولا ’’یہیں اپنے گھر میں وہ آرام کریں گے اور ہم لوگ چھت پر چلے جائیں گے۔ ویسے بھی گرمیوں کی رات میں چھت پر سونے کا مزہ کچھ اور ہی ہوتا ہے۔ آج رات ہم لوگ اسی سے لطف اندوز ہوں گے۔ ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا میں سوئیں گے بڑا مزہ آئے گا۔‘‘
	بیوی بولی۔ ’’وہ تو ٹھیک ہے لیکن بچے جو سو چکے ہیں ان کا کیا؟‘‘
	’’تم ان کی فکر نہ کرو۔ میں انہیں بڑے پیار سے چھت پر اٹھا کر لے جاؤں گا۔ ان کی نیند میں کوئی خلل واقع نہ ہو گا۔‘‘ رات کی خاموشی میں عبدل کی گفتگو حرف بہ حرف گلریز کے کانوں میں پڑ رہی تھی۔ وہ اس گفتگو کو سن کر عجیب و غریب احساس سے دوچار تھا۔ جیسا عبدل ویسے ہی اس کے اہل خانہ۔ راستہ کی گفتگو سے اس کے دل میں عبدل کی جو قدر و منزلت پیدا ہوئی تھی اس میں عبدل کے رویّے نے چار چاند لگا دیئے تھے۔ اس نے جو باتیں سنی تھیں اب وہ اس کے عملی مظاہر دیکھ رہا تھا۔ ایسا آدمی ایسے گھر والے ایسا بھی ہوتا ہے۔ 
	’’عبدل باہر آؤ۔ ابھی فوراً باہر آؤ۔‘‘
	عبدل ’’جی مالک۔ ‘‘ کہتا ہوا دوڑا چلا آیا۔
	گلریز بولا۔ ’’معاف کرنا میں نے نادانستہ تمہاری گفتگو سن لی۔ گرمیوں میں چھت پر سونے کا مزہ کچھ اور ہی ہے اور تم تو اکثر اس کا مزہ لیتے ہی ہو گے آج میں اس سے لطف اندوز ہونا چاہتا ہوں۔ ‘‘
	’’لیکن صاحب آپ کھلے میں۔ ‘‘
	’’جی ہاں عبدل اپنی عمر کا بڑا حصہ میں نے بند کمروں میں بند ذہن کے ساتھ گزار دیا۔ اب کھلی فضا میں سانس لینا چاہتا ہوں تم میری مدد کرو اور اپنے بچوں کی نیند میں خلل نہ ڈالو۔ انہیں سکون سے سونے دو۔‘‘
	’’نہیں صاحب نہیں۔ آپ ان کی فکر نہ کریں۔ میرا پیشہ اِکّا بانی ہے۔ میں دن بھر سواریوں کا سامان اتارتا چڑھاتا رہتا ہوں اور وہ تو میرے بچے ہیں میں انہیں اس طرح پیار سے لے جاؤں گا کہ انہیں پتہ بھی نہیں چلے گا۔‘‘
	’’دیکھو عبدل ایک بات کان کھول کر سن لو یا تو میں چھت پر سوؤں گا یا یہیں اِکّے میں پڑا رہوں گا۔اب فیصلہ تمہاری مرضی پر ہے۔‘‘
	’’نہیں صاحب نہیں۔ اِکّے میں پڑے رہیں آپ کے دشمن۔ آپ اگر چھت پر آرام کرنا چاہتے ہیں تو ضرور کریں جیسی آپ کی مرضی ہم تو …‘‘
	گلریز نے بات کاٹ دی۔ ’’بس اب اس بات کا فیصلہ ہو چکا۔‘‘
	عبدل نے کہا۔ ’’ٹھیک ہے ہم آپ کی بات مانے لیتے ہیں لیکن آپ کو بھی ہماری ایک شرط منظور کرنی ہو گی۔‘‘
	’’وہ کیا؟‘‘
	’’آپ پہلے چھت پر ہمارے ساتھ کھانا کھائیں گے اور پھر آرام فرمائیں گے۔ ‘‘
	’’لیکن اتنی رات گئے تم ایک بِن بلائے مہمان کے لیے اپنے گھر والوں کو زحمت دو گے۔‘‘
	’’نہیں صاحب نہیں۔ زحمت، کیسی زحمت؟ مہمان تو رحمت ہوتا ہے رحمت۔ اور پھر چونکہ یہ گاؤں ہے اس لیے آپ کو لگ رہا ہے بڑی رات ہو چکی ورنہ ابھی تو نو بھی نہیں بجے۔ شہر کی رات تو ابھی شروع بھی نہیں ہوئی۔ شہر میں میں خود بھی رات گیارہ سے پہلے کبھی بھی بستر میں نہ جاتا تھا۔ اس لیے آپ بالکل تکلف نہ کریں۔ باہر حمام میں ایک بالٹی پانی رکھے دیتا ہوں آپ ہاتھ منہ دھو لیں تب تک چھت پر آپ کا بستر لگ جائے گا۔‘‘
	گلریز نے ہینڈ پمپ کے گرم گرم تازہ پانی سے وضو کیا اور چھت پر آ کر اپنے مالک حقیقی کے آگے ہاتھ باندھ کر کھڑا ہو گیا۔
	عبدل کی بیوی نے چولہے پر دال کا برتن رکھا اور جلدی جلدی آٹا گوندھنے لگی جنگ پورہ اس علاقے کا بڑا گاؤں تھا۔ لوگوں کو بس وغیرہ بدلنے کے لیے یہاں اترنا پڑتا تھا اس لیے عبدل کے گھر مہمانوں کا تانتا لگا ہی رہتا تھا۔ لیکن آج اچانک ایک شہری مہمان کے آ جانے سے وہ کچھ زیادہ ہی بوکھلا گئی تھی۔ کھانا تیار کرنے میں عبدل کی ماں بھی اپنی بہو کی مدد کر رہی تھی۔یہ منظر چونکا دینے والا تھا اس لیے جو ’’ساس بھی کبھی بہو تھی ‘‘ اس کے لیے تو اپنی بہو کی مدد کرنا کیونکر ممکن تھا۔ گلریز نماز سے فارغ ہوا اور لالٹین کی روشنی میں کھانا دسترخوان پر لگا ہوا پایا۔دیسی چولہے پر بنی ہوئی روٹی کی سوندھی سوندھی خوشبو نے اس کی بھوک بڑھا دی تھی اور کھانے کا اصل ذائقہ اس میں پڑا ہوا مصالحہ نہیں بلکہ بھوک طے کرتی ہے۔ اس نے صبح ناشتہ کے بعد چائے اور پکوڑی کے سوا کچھ کھایا نہ تھا۔ اس لیے بھوک زوردار تھی اور کھلی فضا میں یہ قندیل ڈنر کیا خوب۔ گلریز کو اپنی چھوٹی سی صحافتی زندگی میں کئی بار فائیو اسٹار ہوٹلوں میں موم بتی کی ہلکی روشنی میں دعوتیں اُڑانے کا اتفاق ہوا تھا لیکن کہاں وہ تصنع اور کہاں یہ خلوص۔ ان دونوں کا موازنہ ہی کیا۔ سرمایہ داروں اور سیاستدانوں کی جانب سے دی جانے والی دعوتوں میں اسے رشوت کی بو آتی تھی۔ جہاں دبے الفاظ میں انہیں یہ تاکید کی جاتی تھی کہ نمک حلالی کا تقاضہ یہی ہے کہ میزبان کی خوبیوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کرو اور اس کی خامیوں پر پردہ ڈالو اور اگر ہو سکے تو اس کے عیوب کو خوبی بنا کر پیش کرو تاکہ مزید انعام و اکرام کے مستحق ٹھہر سکو۔ان بڑی بڑی دعوتوں میں خود غرضی کی مہک ہوتی تھی لیکن یہ سادہ سا کھانا اخلاص و ایثار سے معطر تھا۔ جس طرح کھانے کا ذائقہ بھوک پر منحصر ہے اسی طرح نیند کا انحصار تھکن پر ہے۔ آج وہ کافی تھک بھی گیا تھا۔ اس لیے بستر پر لیٹتے ہی سو گیا اور ایسی گہری نیند سویا کہ تین چار گھنٹوں میں کئی سالوں کی نیند پوری ہو گئی۔
٭٭٭



	اس تنہا رات میں جب تیسرے پہر اس کی آنکھ کھلی تو اسے دور کھڑی کوٹھی کے آنگن میں کچھ چہل پہل دکھلائی دی وہ چونک پڑا۔ یہ کون سا وقت ہے؟ لوگوں کے آنے جانے کا؟ کون لوگ ہیں اور کیوں جمع ہو رہے ہیں ؟ یہ سوالات اس کے صحافی ذہن میں ابھرنے لگے۔ تجسس نے اسے اپنے بستر سے دور کر دیا۔ حقیقت کی تہہ تک پہنچنے کے لیے وہ جان پر کھیل جانے والوں میں سے تھا۔ اس نے فوراً اپنا ننھا سا کیمرہ اٹھایا اور اس کوٹھی کے عقب کی جانب چل پڑا۔ کوٹھی کے پڑوس والے مکان میں داخل ہو کر اس نے دیوار پھلانگ پچھواڑے کی سیڑھی تلاش کی اور چھت پر پہنچ گیا۔ جہاں سے آنگن میں بیٹھے لوگ صاف صاف نظر آ رہے تھے۔ اس کے حیرت کی انتہا نہ رہی جب اس نے دیکھا کہ یہاں تو باقاعدہ میٹنگ ہو رہی ہے۔ رات کے ان لمحات میں عوام سے چھپ کر کی جانے والی میٹنگ کے ارادوں کا اندازہ لگانا مشکل نہ تھا۔ جیسے ہی ایک شخص کچھ کہنے کے لیے کھڑا ہوا گلریز نے اپنا ٹیپ اور کیمرہ چالو کر دیا۔ وہ کہہ رہا تھا۔
	’’سارے ملک میں جمہوریت کا دور دورہ ہے۔ ہر گاؤں میں انتخابات ہوتے ہیں پردھان کا چناؤ ہوتا ہے۔ خوب شور غل ہنگامہ ہوتا ہے نئے نئے لوگ اپنی اپنی قسمت آزماتے ہیں کسی کے حصہ میں جیت آتی ہے تو کسی کو ہار کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ لیکن ہمارے گاؤں جنگ پورہ میں ایسا کچھ بھی نہیں ہوتا۔ ہر بار بغیر کسی مخالفت کے چودھری نعمت الہٰی کو چن لیا جاتا ہے اور سب کچھ ٹائیں ٹائیں فش ہو جاتا ہے۔ یہ تو سراسر جمہوریت کی توہین ہے یہ آزادی کی روح کے خلاف ہے۔ اس بار ہم اس قدیم روایت کو ختم کر دینا چاہتے ہیں اس بار فیصلہ اتفاق رائے سے نہیں بلکہ انتخاب کے ذریعہ ہی ہو گا۔‘‘
	دوسرا کھڑا ہوا اس نے کہنا شروع کیا۔ ’’ویسے تو ہم سیاسی اعتبار سے ایک دوسرے کے مخالف ہیں لیکن چودھری نعمت الہٰی کو شکست سے دوچار کرنے کے لیے ہم ایک دوسرے کا تعاون کریں گے یہ دراصل ایک شخص کا نہیں ایک نظریہ کا معاملہ ہے۔ جمہوریت کی بقاء کے لیے ہمیں مل کر لڑنا ہو گا۔ا س بار ہم میں سے جو بھی جیتے لیکن چودھری کا ہارنا ضروری ہے۔ ایک مرتبہ اس کا کانٹا نکل گیا تو ہم ایک دوسرے کو ہراتے رہیں گے۔‘‘
	ایک اور بولا۔’’چودھری کو ہرانا کوئی مشکل کام نہیں۔ وہ تو اسی وقت تک گاؤں کے مکھیا ہیں جب تک کہ انتخابات نہیں ہوتے اس لیے کہ وہ اپنی عزت و وقار کی خاطر انتخاب لڑیں گے ہی نہیں اور خود ہی باہر ہو جائیں گے۔‘‘
	’’وہ تو ٹھیک ہے لیکن آخری وقت میں بھی ان کے کسی آدمی نے پرچہ نامزدگی داخل کر دیئے اور انہوں نے اس کے سر پر ہاتھ رکھ دیا تو پھر سارا گاؤں اس کے پیچھے چلا جائے گا اور ہم ہاتھ پر ہاتھ دھرے رہ جائیں گے۔ ہماری تو ضمانتیں ضبط ہو جائیں گی۔ہاں تو معلوم ہوا کہ ہمیں اپنے حمایتی پیدا کرنے ہوں گے۔ ویسے یہ کام تو ہے مشکل۔ چودھری نعمت الہٰی کی جو ساکھ کئی سالوں میں بنی ہے اس کے مقابلے چند ماہ میں اپنی حمایت میں اس قدر اضافہ کر لینا کہ ان کا مقابلہ کیا جا سکے یہ آسان کام نہیں ہے۔‘‘
	جیسے ہی اس شخص نے اپنی گفتگو ختم کی دوسرا بول پڑا۔ ’’لیکن یہ ناممکن بھی نہیں ہے۔ آج کی دنیا میں کوئی بات ناممکن نہیں ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ صحیح منصوبہ بندی ہو اور اس پر چابکدستی کے ساتھ عمل درآمد کیا جائے۔‘‘
	شرکاء میں سے آواز آئی۔’’یہ سب تو ٹھیک ہے لیکن ہمیں کن خطوط پر کام کرنا ہے۔اس کی بھی تو کچھ وضاحت کی جائے ورنہ گذشتہ کی طرح اس بار بھی گشتند گفتند و برخواستند کا معاملہ نہ ہو جائے۔ ‘‘
	کچھ دیر خاموشی رہی پھر ان میں سے ایک سفید پوش اٹھا اور اس نے کہا۔ ’’آسان طریقہ تو یہ ہے کہ ہم مذہب کی بنیاد پر لوگوں میں نفرت ڈال دیں۔ اس گاؤں میں جہاں ۶۰ فی صد مسلمان رہتے ہیں وہاں چالیس فی صد ہندو اور سکھ لوگ بستے ہیں۔ اگر یہ چالیس فی صد نعمت الہٰی کے خلاف متحد ہو جائیں اور بقیہ ۶۰ فی صد کم از کم دو حصوں میں تقسیم ہو جائیں تو مقابلہ آرائی کی کیفیت پیدا ہو جائے اور ایک مرتبہ چودھری کا بت ٹوٹا تو پھر ہمارے لیے راستہ صاف ہو جائے گا۔‘‘
	شرکاء میں سے ایک کھڑا ہوا اور کہنے لگا۔ ’’بھائی کم از کم جنگ پورہ میں یہ ناممکن ہے۔ اس لیے کہ یہ ایک سرحدی گاؤں ہونے کے باوجود تقسیم ملک کے وقت بھی فرقہ واریت کے زہر سے محفوظ رہا اور یہ صرف اور صرف چودھری نعمت الہٰی کا کارنامہ تھا۔ انہوں نے مسلمانوں کو جذبات قابو میں رکھنے کی تلقین کی ہندوؤں کے اندر سے بے اعتمادی کا خوف مٹایا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ نہ تو یہاں سے ہجرت ہوئی اور نہ یہاں فسادات ہوئے اور آج بھی یہاں دونوں قوموں سے تعلق رکھنے والے لوگ آپس میں شیرو شکر ہیں۔ ‘‘
	یہ سن کر ایک لیڈر نما شخص بھڑک گیا۔ اس نے کہا۔ ’’آخر یہ کب تک چلے گا۔ چودھری نعمت الہٰی نے نہایت چالاکی سے عوام کو اپنا ہمنوا بنا لیا اور گذشتہ ۳۳ سالوں سے اس کا فائدہ اٹھا رہا ہے۔ اب بہت ہو چکا ہم اور صبر نہیں کر سکتے۔ اب کچھ نہ کچھ تو کرنا ہی ہو گا۔ ہمارے گاؤں کو جمہوریت کی نعمت سے مالا مال کرنے کی خاطر چودھری نعمت الہٰی کو بن باس پر بھیجنا ہی ہو گا۔ ہاں تو اب کیا کیا جائے صبح ہونے والی ہے۔ ہم یہاں فرقہ وارانہ فساد کروا دیں گے۔ ہم لوگوں کے دلوں میں ایک دوسرے کے خلاف نفرت کی چنگاری بھڑکائیں گے جو دیکھتے دیکھتے یہاں کا امن سکون غارت کر دے گی اور اس کی آگ میں نعمت الہٰی بھسم ہو جائے گا لیکن فسادات سے لوگ ہماری حمایت کیوں کر کرنے لگیں گے۔ ہوسکتا ہے وہ ہمارے دشمن ہو جائیں۔ نہیں ایسا نہیں ہو گا۔‘‘
	ایک اور بولا۔’’ہم اپنی اپنی قوم میں خوف کا احساس پیدا کریں گے۔ انہیں دوسروں سے ڈرائیں گے اور اپنے آپ کو ان کا مسیحا بنا کر پیش کریں گے اور اس طرح وہ ہمارے دام میں از خود آ جائیں گے۔ اچھا تو کوئی یہ بھی بتلائے کہ آخر فساد کی شروعات کیسے کی جائے۔‘‘
	’’اس سلسلے میں بھی ہماری ایک تجویز ہے۔ ہم لوگ ایک سُور اور ایک گائے ذبح کرتے ہیں۔ گائے کا گوشت مندر میں اور سُور کا گوشت مسجد میں پھینک آتے ہیں۔ جیسے ہی لوگ بھڑکے ہم اپنے آدمیوں سے ایک دوسرے پر حملہ کروا دیں گے اور عصمت دری کی افواہیں اُڑا دیں گے۔ بس پھر عوام ایک دوسرے سے بھڑ جائیں گے اور ہمارا کام ہو جائے گا۔ ہم نفرت کے شعلوں کو اس قدر بھڑکائیں گے کہ چودھری ان کی نذر ہو جائے گا۔‘‘
	یہ سب سن کر میٹنگ میں شریک ایک بوڑھا شخص کھڑا ہوا اور کہنے لگا۔ ’’تمہارا مقصد تو ٹھیک ہے مجھے بھی چودھری نعمت الہٰی سے پُرخاش ہے لیکن طریقۂ کار درست نہیں لگتا۔ یہ قتل و غارتگری معصوم لوگوں کے جان و مال سے کھلواڑ یہ بات کچھ جمتی نہیں۔ کوئی اور طریقہ نہیں ہے جس سے ہم یہ سب کیے بغیر اپنے مقصد کو حاصل کر سکیں۔ ‘‘
	یہ بات سن کر میٹنگ میں موجود لیڈر غصہ ہو گیا اور کہنے لگا۔ ’’تم جیسے بزدلوں کے باعث چودھری اس گاؤں کا بے تاج بادشاہ بنا ہوا ہے۔ دوسرے طریقہ ہیں لیکن طویل اور ان میں کامیابی کے امکان بھی یقینی نہیں ہیں لیکن یہ آزمایا ہوا نسخہ ہے جو نہ صرف تیز اثر ہے بلکہ اس میں کامیابی یقینی ہے۔ اگر ہم اپنے گاؤں میں جمہوری قدروں کو قائم کرنے کے لیے یہ معمولی قربانی بھی نہیں دے سکتے تو پھر ہمیں چودھری کی غلامی سے کبھی بھی نجات حاصل نہیں ہو سکے گی۔‘‘
	دوسرا بزرگ کھڑا ہوا۔’’ٹھیک ہے یہ سب کر دیں گے۔ جمہوریت آ جائے گی تو اس سے حاصل کیا ہو گا؟‘‘
	’’حاصل کیا ہو گا؟ یہ کیسا بے تکا سوال ہے۔ اس سے ہمارا گاؤں ترقی کرے گا۔ خوش حال ہو جائے گا۔‘‘
	’’ لیکن آس پاس کے گاؤں میں انتخابات باقاعدگی کے ساتھ ہوتے ہیں اور خوش حالی بھی تقریباً یکساں ہی ہے۔‘‘
	’’یہ سب بکواس ہے وہاں کے پردھان کو دیکھو اور ہمارے پردھان کو دیکھو۔ ان کے درمیان کوئی مقابلہ ہے۔ وہ نئی بدیسی گاڑی میں گھومتا ہے۔ اس نے اپنے لیے محل نما مکان بنا لیا ہے اور ہمارے پردھان وہی عبدل کے اِکّے میں آتے جاتے ہیں اور پرانی کوٹھی میں پڑے ہوئے ہیں۔ بھئی شرم آتی ہے ہمیں جب ہم ان کے ساتھ کہیں جاتے ہیں۔ اور پھر اگر پردھان خود ہی خوش حال نہ ہوا تو عوام کیسے خوش حال ہو گی۔ گاؤں کی ترقی سے پہلے پردھان کی ترقی ضروری ہے اور ہمارے یہاں یہی نہیں ہو رہا۔ ‘‘
	میٹنگ میں پھر کچھ دیر کے لیے خاموشی چھا گئی۔ پھر ایک شخص نے کہا۔ ’’بھائیو آج آپ سب کے سامنے منصوبہ رکھ دیا گیا ہے کام مشکل نہیں ہے۔ ذرا سی ہمت کی ضرورت ہے۔ اگر آپ تمام لوگ اس بات پر اتفاق کرتے ہیں تو پھر بغیر وقت ضائع کیے ہمیں آگے بڑھنا ہو گا۔ دونوں جانور گاڑی میں بندھے ہوئے ہیں۔ اگر آپ راضی ہیں تو جمہوریت کی دیوی کے قدموں پر اُن کو بھینٹ چڑھا دیا جائے۔‘‘ 
	آہستہ آہستہ سب نے اتفاق کر لیا جو خاموش رہے ان کی خاموشی کا شمار بھی ہاں میں ہو گیا۔ چند لوگ اٹھے اور جانوروں کے ٹرک کی جانب بڑھے اور باقی لوگ ایک ایک کر کے رخصت ہونے لگے۔گلریز نے اپنا ٹیپ بند کیا اور جانوروں کے ذبح کرنے کی تصویریں لینے لگا۔ آدھے گھنٹے کے اندر وہ لوگ دونوں جانوروں کا گوشت لے کر مندر اور مسجد کی جانب روانہ ہو گئے۔ گلریز نے ان کے نکلنے کی تصویریں بھی لیں اور پھر واپس عبدل کے مکان کی چھت پر آ گیا۔ گلریز کے کیمرے میں سازش کے فوٹو اور ٹیپ میں گفتگو محفوظ ہو گئے تھے۔
	فجر کی اذان کے ساتھ ہی عبدل نے ہینڈ پمپ سے ایک بالٹی نکالا اور گلریز کو جگانے کے لیے چھت پر پہنچ گیا کیا دیکھتا ہے گلریز تیار بیٹھا اس کا انتظار کر رہا ہے۔گلریز نے عبدل کو اپنے پاس بلایا اور بٹھا کر رات بھر کی داستان مختصراً سنا ڈالی اور پھر وہ دونوں فوراً مسجد کی جانب چل دیئے۔ مسجد کے قریب ہنگامہ برپا تھا۔ ایک جو رات کی منصوبہ بندی کا ایک اہم رکن مسجد کے باہر تقریر کر رہا تھا اور لوگ تعجب سے اسے دیکھ رہے تھے۔ اس لیے کہ یہ صاحب فجر تو کیا دن کی کسی نماز میں بھی مسجد کے قریب نہ پھٹکتے۔ ہاں جمعہ کے جمعہ اپنی حاضری ضرور لگا جاتے۔ لیکن آج وہ صبح ہی صبح نہایت اہتمام سے مسجد کے باہر کھڑے آنے والے لوگوں سے کہہ رہے تھے۔
	’’آپ لوگوں نے ہندوؤں کی احسان فراموشی کو دیکھ لیا۔ ہم نے تقسیم ملک کے وقت ان کی حفاظت کی۔ پاکستان بن جانے کے بعد انہیں اپنا بنائے رکھا لیکن اب ان کے حوصلے کس قدر بلند ہو گئے آج انہوں نے اپنی مسجد کی بے حرمتی کی۔ کل یہ ہمارے گھروں میں گھس آئیں گے۔ ان کے درمیان ہندوستان کے ایجنٹ آ گئے ہیں۔ ان لوگوں نے ان کو ہتھیاروں سے لیس کر دیا ہے ورنہ ان کی مجال کب ہوتی کہ ہماری طرف نظر اٹھا کر دیکھیں اور ہماری آج کی اس ذلت و رسوائی کے لیے صرف اور صرف ہمارے سرپنچ نعمت الہٰی ذمہ دار ہیں۔ انہوں نے ان ہندوؤں کو سر پر چڑھا رکھا ہے اور مسلمانوں کے ہاتھ باندھ رکھے ہیں ورنہ ہم اپنے گاؤں کو ان سے کب کا پاک کر چکے ہوتے۔ ہماری فراخدلی کا بدلہ انہوں نے آج یہ دیا کہ ہماری عبادت گاہ کو ناپاک کر دیا۔ میں پوچھتا ہوں کہاں ہے چودھری نعمت الہٰی ؟ وہ آئیں اور ہندوؤں سے انتقام لینے میں ہماری رہنمائی فرمائیں اور اگر ان کے اندر اس کی ہمت اور حوصلہ نہیں ہے تو ہمارے راستہ سے ہٹ جائیں۔ ہم خود ان سے انتقام لے لیں گے۔ اب ہم اس ذلت و رسوائی کو اور زیادہ برداشت نہیں کر سکتے۔ میں پوچھتا ہوں کہاں ہیں چودھری نعمت الہٰی ہر روز تو اذان کے ساتھ ہی مسجد میں آ جاتے تھے آج کہاں غائب ہو گئے۔ ڈر کر چھپ تو نہیں گئے۔چودھری صاحب! ‘‘ اس نے تمسخرانہ انداز میں کہا اور پیچھے سے جواب ملا۔
	’’دوستو میں یہاں ہوں۔ آپ لوگ نماز کے لیے آئے ہیں نماز پڑھیں۔ وقت ہو چلا ہے۔ اس کے بعد میں آپ سے بات کروں گا۔‘‘
	’’یہ ٹال مٹول نہیں چلے گی آج ہم پہلے انتقام لیں گے پھر نماز پڑھیں گے۔‘‘
	’’چودھری صاحب نے عوام سے مخاطب ہو کر کہا۔ ’’یہ صاحب تو مسجد کی طرف نئے آئے ہیں یہ نہیں جانتے نماز کیا ہے۔ آپ لوگ پہلے نماز پڑھ لیں۔ ‘‘
	لوگوں نے کہا یہ صحیح ہے پہلے نماز پڑھتے ہیں پھر دیکھیں گے۔اس بیچ عبدل اور گلریز نے چودھری صاحب کو رات کی تمام تفصیلات سے آگاہ کر دیا تھا۔
	نماز جیسے ہی کھڑی ہوئی وہ سیاسی رہنما محلے کی جانب روانہ ہو گیا اور سونے والوں کو جگانے لگا۔ ان کو انتقام کی خاطر بھڑکانے لگا۔ وہ انہیں مسجد کی جانب بلا رہا تھا۔ عبادت کی خاطر نہیں انتقام کی غرض سے۔ نماز کے بعد چودھری صاحب مائک پر آئے۔انہوں نے مسلمانوں سے کہا۔
	’’مسجد کی بے حرمتی کا دکھ جتنا آپ سب کو ہے اس سے زیادہ مجھے ہے اس لیے کہ اس کی تعمیر میں تمہارے ساتھ ساتھ میرا بھی خون پسینہ لگا ہے۔ہم اس کی بے حرمتی کرنے والوں کو اس کی سزا ضرور دیں گے لیکن بغیر ثبوت کے نہیں۔ میں آپ لوگوں سے گذارش کرتا ہوں آپ لوگوں کو خدا کا واسطہ دیتا ہوں کہ صبح گیارہ بجے تک اپنے جذبات کو قابو میں رکھیں۔ وہاں یہ بات ثابت ہو جائے گی یہ حرکت کس کی ہے اور پھر جس کسی کی یہ حرکت ہے اسے سزا بھی سنا دی جائے گی۔ میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ انصاف ہو گا۔ ‘‘
	مسجد میں موجود لوگوں نے چودھری نعمت الہٰی کو یقین دلایا کہ وہ گیارہ بجے تک صبر و ضبط کا مظاہرہ کریں گے۔ کسی کے بھڑکاوے میں آ کر کوئی الٹا سیدھا قدم نہیں اٹھائیں گے۔ اس یقین دہانی کے بعد چودھری صاحب عبدل کے اِکّے پر سوار ہو کر ہندوؤں کے محلے سے گذرتے ہوئے مندر کے احاطے میں پہنچ گئے۔
	وہاں کا ماحول کچھ زیادہ ہی خراب تھا سیکڑوں ہندوؤں کو مندر کے احاطے میں جمع کر لیا گیا تھا۔ ایک نوجوان تلک دھاری سادھو مائک پر چنگھاڑ رہا تھا۔ ’’تم جانتے ہو یہ کون ہے؟یہ گئو ماتا ہے۔ ہم اسی کا دودھ پی کر جوان ہوئے ہیں۔ شاستروں میں لکھا ہے اس کے اندر دیوتا نواس کرتے ہیں۔ آج مسلمانوں نے اس کی ہتیا کر کے ہماری اسمتا کو للکارا ہے۔ ایسے میں جس ہندو کا خون نہ کھولے خون نہیں وہ پانی ہے۔ گئو ماتا کے کام نہ آئے وہ بے کار جوانی ہے۔ مسلمانوں نے گئو ماتا کی ہتیا کر کے ہمیں کھلا سنکیت دے دیا ہے کہ اب ہمارا دھرم مان مریادہ اور ماں بہنوں کی عزت کچھ بھی سُرکشِت نہیں ہے۔ ہم اس اپمان کو ہرگز سہن نہیں کریں گے۔ ہم اس کا بدلہ لیں گے۔ یہ جان لو کہ یہ جو کچھ بھی ہوا ہے وہ گاؤں کے مکھیا چودھری نعمت الہٰی کے اشارے پر ہوا ہے۔ بہت دنوں تک اس بھیڑیئے نے بکری کی کھال اوڑھ کر ہمیں دھوکہ دیا لیکن اب اس کا اصلی چہرہ ظاہر ہو گیا ہے۔ ہم اس کا بدلہ لینے کے لیے مسلمانوں کے محلے پر حملہ کریں گے اور ہمارا اصلی نشانہ چودھری ہو گا جس کے کہنے پر گئو ماتا کی ہتیا کی گئی۔‘‘
	اس کا یہ جملہ پورا بھی نہ ہو سکا تھا کہ پیچھے سے چودھری نعمت الہٰی مائک کے قریب آ گئے اس کو ہٹایا اور کہنے لگے۔ ’’بھائیو میں کون ہوں تم جانتے ہو۔ ‘‘اس آواز نے سب کو متحیر کر دیا۔ ‘‘ میں چودھری نعمت الہٰی ہوں۔ مجھ سے بدلہ لینے کے لیے آپ کو مسلمانوں کے محلے تک جانے کی زحمت کرنا ضروری نہیں ہے۔ میں خود تمہارے سامنے حاضر ہوں۔ اگر مجھ کو قتل کر کے تمہارا دل ٹھنڈا ہو جاتا ہے اور ہمارے گاؤں میں دوستی اور بھائی چارہ کا ماحول باقی رہتا ہے تو میں اس قربانی کے لیے تیار ہوں۔ اٹھاؤ اپنا ترشول اور میرا ودھ کر دو۔ لیکن ایسا کرنے سے پہلے یہ بھی سن لو کہ جیسے آپ کے مندر کو گئو ماس سے اپوتر کیا گیا اسی طرح ہماری مسجد کو بھی سُور کے گوشت سے ناپاک کر دیا گیا۔ ادھر وہ آپ پر حملہ کی تیاری کر رہے ہیں اور ادھر آپ ان پر حملے کی سوگندھ کھا رہے ہو لیکن یہ سب ایک ساتھ ہوا۔ اس لیے مجھے یقین ہے کہ ان دونوں حرکتوں کے کرنے والا ایک ہی گروہ ہے جو تمہاری دوریوں کا فائدہ اٹھانا چاہتا ہے اور تمہاری نفرت کی آگ میں اپنے مفاد کی روٹیاں سینکنا چاہتا ہے۔ وہ نہ ہندو ہے اور نہ مسلم۔ اس کا دھرم اس کا سورارتھ ہے اس کی راج نیتی گھرنا (نفرت) کی راج نیتی ہے۔میں مسلمانوں کو سمجھا کر آیا ہوں کہ گیارہ بجے تک صبر کریں۔ آپ سے بھی پرارتھنا کرتا ہوں کہ دھیرج رکھیں۔ صبح گیارہ بجے پنچایت ہو گی۔ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا۔‘‘
	 وہاں موجود عوام اور خواص دونوں کو سانپ سونگھ گیا۔ انہوں نے وچن دیا کہ گیارہ بجے ہونے والی پنچایت میں وہ آئیں گے اور اس وقت تک کسی کے بہکاوے میں نہ آئیں گے۔
	مندر سے واپس آنے کے بعد گاؤں میں موجود اکلوتے اسٹوڈیو کو کھلوایا گیا اور اسے گیارہ بجے سے قبل تمام تصویریں تیار کرنے کے لیے کہا گیا۔ گیارہ بجے گاؤں کی چوپال میں غیر معمولی بھیڑ اِکٹھا ہو گئی۔ چودھری نعمت الہٰی نے اپنی مختصر سی تقریر میں لوگوں کو بتلایا۔ 
	’’بھائیو اس گاؤں کا نام جنگ پورہ ضرور ہے لیکن در حقیقت یہ امن کا گہوارہ ہے۔ اس زمانے میں بھی جب چاروں طرف آگ اور خون کی ہولی کھیلی جا رہی تھی اس گاؤں میں بے مثال امن قائم تھا لیکن آج رات کچھ مفاد پرستوں نے اس دوستی و بھائی چارہ کی فضا کو مکدّر کرنے کی مذموم کوشش کی لیکن وہ تو خدا کا شکر ہے اتفاق سے عبدل کے مکان پر نامور صحافی گلریز خان مقیم تھے۔ انہوں نے اس سازش کا پتہ لگا لیا۔ ہم ان کے بے حد مشکور و ممنون ہیں اور اﷲ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہیں کہ اس نے ہمارے درمیان سے نفرت و عناد کے بیج کو نکال دیا۔ اب میں آپ لوگوں کو وہ کیسٹ سنانا چاہتا ہوں جو اس سازش کا پردہ فاش کرتی ہے۔آپ خود اپنے دشمنوں کی آوازوں کو سنئے اور انہیں پہچان لیجئے۔‘‘
	جیسے ہی لاؤڈ اسپیکر پر آوازیں آنی شروع ہوئیں لوگ چونک پڑے۔ یہ تو وہی لوگ تھے جو صبح مندر اور مسجد کے سامنے چیخ چیخ کر اس واقعہ کی مذمت کر رہے تھے۔ عوام میں انتقام کی آگ بھڑکا رہے تھے۔ کچھ دیر کے بعد چودھری صاحب نے دوبارہ اعلان کیا۔ 
	’’دوستو رات جو تصویریں گلریز نے اتاری ہیں میں نے انہیں پنچوں کو دِکھلا دی ہے اور اب میں ان سے گذارش کرتا ہوں کہ پنچایت کے ہندو ممبران اپنے سماج کے دشمنوں کا نام بتلائیں اور مسلمان اپنے معاشرہ کے ناسوروں کی نشاندہی کریں۔ اس کے بعد آپ لوگ ان کے لیے جو سزا تجویز کرتے ہیں وہ سزا انہیں دی جائے گی۔‘‘
	عوام نے ایک زبان ہو کر کہا ’’پنچایت جو چاہے فیصلہ کرے۔ ہم اس فیصلے کو بسروچشم قبول کریں گے۔‘‘ اس کے بعد مجرمین کے ناموں کا اعلان ہوا اور ان کے لیے یہ سزا تجویز کی گئی کہ انہیں گاؤں سے باہر نکال دیا جائے گا تاکہ جنگ پورہ کا امن قائم رکھا جا سکے۔ فیصلہ سننے کے بعد عوام خوش ہو گئے۔ وہ چودھری نعمت الہٰی زندہ باد۔ گلریز خان زندہ باد کے نعرے لگاتے ہوئے لوٹ گئے۔ اس منظر کو دیکھ کر گلریز کی آنکھیں بھر آئیں۔ اس نے محسوس کیا کہ آج اس نے ایک ایسا کام کیا ہے جو اس کی زندگی کا حاصل ہے۔ جب اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا عبدل کی یہی کیفیت تھی۔ دونوں ایک دوسرے سے لپٹ گے اور رونے لگے۔ یہ عجیب منظر تھا کہ ہر کوئی خوش تھا لیکن یہ دونوں رو رہے تھے۔ درحقیقت یہ ان کا رونا شکر کے جذبات کا اظہار تھا۔یہ ان کے آنسو خوشی کے آنسو تھے۔ جب وہ ایک دوسرے سے جدا ہوئے پنچایت کے لوگوں نے ان دونوں کو مبارکباد اور دعائیں دیں۔ آخر میں چودھری صاحب نے ان دونوں کو اپنے گھر کھانے پر بلایا۔ عبدل اس حویلی کے باہر تک کئی بار آیا تھا۔ کبھی کبھار سامان پہنچانے اندر بھی آیا تھا لیکن آج اس کی حیثیت ایک معزز مہمان کی تھی۔ اس اعزاز و تکریم پر وہ پھولا نہ سماتا تھا۔ کھانے سے فارغ ہو کر گلریز نے چودھری صاحب کا شکریہ ادا کیا اور عبدل کے ساتھ بس اڈے کی جانب روانہ ہو گیا۔ رات سے جاری موضوع کو بدلتے ہوئے گلریز نے کہا۔
	’’بھئی عبدل ایک بات بتاؤ کیا اب بھی تم وہی سوچتے ہو کہ گاؤں میں سب کچھ اچھا ہی اچھا ہے اور شہر میں سب کچھ خراب ہی خراب ہے۔‘‘
	عبدل سمجھ گیا گلریز کیا کہنا چاہتا ہے۔ عبدل نے جواب دیا۔ ’’صاحب گاؤں ہو یا شہر وہ وہاں رہنے والے لوگوں کے باعث اچھے یا برے ہوتے ہیں۔ جس گاؤں میں اس طرح کی گھناؤنی سازش ہوتی ہے اس کے بارے میں کیسے کہا جا سکتا ہے کہ وہاں سب کچھ خیر ہی خیر ہے اور اس شہر میں آپ جیسے دلیر اور بہادر لوگ رہتے ہیں اس کے بارے میں یہ کہنا کہ وہاں شر ہی شر ہے مناسب نہیں ہے۔ دونوں جگہ خیر و شر کی طاقتیں سرگرم عمل ہیں۔ ایک دوسرے سے نبرد آزما ہیں۔ کبھی کوئی غالب ہو جاتا ہے اور کبھی کوئی مغلوب ہو جاتا ہے۔ اسی کا نام دنیا ہے۔‘‘
	عبدل کی فلسفیانہ باتیں سن کر گلریز حیران ہو گیا۔ اس نے کہا۔ ’’عبدل تمہیں تو کسی کالج کا پروفیسر ہونا چاہئے۔‘‘ 
	عبدل مسکرا دیا اس نے کہا۔ ’’صاحب یہ آپ کی ذرّہ نوازی ہے بات دراصل یہ ہے کہ ہم نے اپنی توقعات کو محدود کر لیا ہے۔ہم سوچتے ہیں کہ سوچنے کا حق صرف دانشور کو ہے۔ حالانکہ دماغ تو سبھی کے پاس ہے۔ مشاہدہ صرف محقق کرتا ہے حالانکہ بینائی سبھی کو میسر ہے۔ حکمت و دانا ئی پر صرف ان لوگوں کی اجارہ داری ہے جن کے پاس بڑی بڑی ڈگریاں ہیں، ڈگری کا تعلق یادداشت سے تو ضرور ہے لیکن دانائی سے شاید نہیں۔ خیر یہ سامنے بس اڈے پر وہ بس کھڑی ہے جو آپ کو خانقاہ لیے جائے گی۔ آئیے میں آپ کے لیے سیٹ پکڑ کر آتا ہوں۔ ‘‘
	گلریز نے کہا ’’نہیں شکریہ یہ بھی غلط فہمی ہے کہ پڑھا لکھا آدمی بھیڑ بھاڑ میں اپنے لیے سیٹ نہیں پکڑ سکتا۔ میں اپنے لیے یہ کام خود کر لوں گا۔‘‘
	عبدل کے نہلے پہ دہلا تھا۔ بس کے قریب آ کر دونوں نے ایک دوسرے سے مصافحہ کیا۔ اب وہ ایک دوسرے کے دوست بن چکے تھے۔ عبدل نے کہا۔’’صاحب۔‘‘
	گلریز نے ٹوکا۔ ’’کیا؟‘‘
	عبدل نے اصلاح کی۔ ’’گلریز بھائی واپسی میں اس غریب کو…‘‘
	گلریز نے پھر ٹوکا۔ ’’کیا؟‘‘
	’’اپنے دوست کو یاد رکھنا اس لیے کہ آپ کو دوبارہ یہیں سے لوٹ کر جانا ہے۔‘‘
	گلریز نے قہقہہ لگایا۔ ’’یہ ہوئی نا دھندے کی بات‘‘ اور دونوں دوست ہنستے مسکراتے ایک دوسرے سے جدا ہو گئے۔
٭٭٭




	صدیوں پرانی بس اوبڑ کھابڑ راستوں پر کھچر پھچر کرتی ہوئی رواں دواں تھی۔ جنگ پورہ سے خانقاہ کا فاصلہ تو تقریباً سو کلو میٹر تھا۔ کسی ترقی پذیر ملک میں اس فاصلہ کو طے کرنے کے لیے ایک گھنٹہ سے کم وقت لگتا تھا لیکن اس پسماندہ علاقے میں بس چار گھنٹے سے قبل شاید ہی کبھی پہنچی تھی۔ شام چھ بجے کے آس پاس جب ڈرائیور نے آواز لگائی کہ جن سواریوں کو بڑی خانقاہ جانا ہے وہ یہیں اُتر جائیں تو گلریز نے جلدی جلدی اپنا سامان سمیٹا اور بس سے اتر گیا۔ یہاں پر ویرانی ہی ویرانی تھی۔ چند مسافر جو اس کے ساتھ اترے تھے اپنا سامان سمیٹ رہے تھے۔ تا حد نظر کوئی بستی کا سراغ دکھلائی نہ دیتا تھا۔وہ گھبرا گیا اپنے پاس کھڑے ایک مسافر سے پوچھا۔ 
	’’جناب بڑی خانقاہ یہیں قریب ہے؟‘‘
	’’جی ہاں صاحب قریب ہی ہے۔ یہ جو سامنے ٹیلہ نظر آ رہا ہے اس کی پرلی طرف بڑے پیر صاحب کی خانقاہ ہے۔‘‘
	’’اچھا تو فاصلہ کتنا ہو گا؟‘‘
	’’یہی تقریباً پانچ کوس۔‘‘
	’’پانچ کوس لیکن یہاں تو کوئی سواری دکھائی نہیں دیتی۔ کیا پانچ کوس کا سفر پیدل طے کرنا پڑے گا؟‘‘
	’’جی ہاں جناب ہمارے ساتھ چلئے ہم لوگ بھی وہیں پاس کے گاؤں میں جا رہے ہیں۔ آپ کو خانقاہ چھوڑ دیں گے۔‘‘
	’’وہ ٹھیک ہے لیکن پانچ کوس پیدل۔‘‘ وہ منہ ہی منہ میں بڑبڑایا۔
	’’بھئی آپ تو ماشاء اﷲ جوان لگتے ہو پھر بھی۔ تعجب ہے۔‘‘
	اب اسے غصہ آ گیا۔ اس نے کہا ’’جوان لگتا ہوں کیا مطلب؟ جوان ہوں بالکل جوان ہوں۔ اس میں شک شبہ کی کیا بات ہے؟‘‘
	’’جی ہاں اس میں شک شبہ کی بات کیوں کر ہو سکتی ہے لیکن آپ اتنا گھبرا کیوں رہے ہیں ؟‘‘
	’’میں گھبرا رہا ہوں۔ ‘‘ اب توجیسے کسی نے آگ میں تیل ڈال دیا تھا۔ ’’آپ کو کیسے معلوم ہوا کہ میں گھبرا رہا ہوں۔ آپ دلوں کا حال جانتے ہیں۔ ‘‘
	’’جی نہیں دلوں کا حال تو ہم نہیں جانتے لیکن چہرہ بھی تو دل کا آئینہ ہوتا ہے۔‘‘
	’’اچھا آئینہ ہوتا ہے تو آپ کہیں اس آئینہ میں خود اپنا ہی عکس تو نہیں دیکھ رہے۔‘‘
	’’نہیں جناب شیشے کے آئینہ اور چہرے کے آئینہ میں یہ فرق ہوتا ہے کہ شیشہ سامنے والے کا عکس دکھلاتا ہے اور چہرہ خود اپنے دل کی عکاسی کرتا ہے۔‘‘
	اس دلیل سے وہ جھنجھلا گیا اور اس نے کہا۔’’بھئی ایک بات کہوں اس علاقے کے لوگ بڑے حجت باز ہیں۔ کل ریل گاڑی میں بھی حجت پھر اِکّے پر وہی سلسلہ اور اب بس سے اترنے کے بعد وہی سب کچھ۔ میری تو کچھ سمجھ میں نہیں آتا۔ ‘‘
	’’لیکن ہماری سمجھ میں آتا ہے آپ نے اتنے سارے لوگوں کا ذکر کیا یہ سب کے سب تو حجت باز نہیں ہو سکتے کہیں ایسا تو نہیں کہ آپ خود حجتی قسم کے انسان ہوں اس لیے کہ جس طرح تالی ایک ہاتھ سے نہیں بجتی اسی طرح حجت بھی ایک منہ سے نہیں ہوتی۔‘‘
	اس بات پر گلریز زچ ہو گیا اور اس نے ہتھیار ڈالتے ہوئے کہا۔’’ہاں بابا۔ میں نے مان لیا کہ میں حجت باز ہوں۔ غلطی میری ہی ہے اب مجھے معاف کرو۔ ساتھ والا دیہاتی دانت دکھا کر ہنسنے لگا۔ ’’ارے صاحب آپ تو بلاوجہ ناراض ہو گئے۔ آپ کچھ نہ بولیں گے تو کیسے چلے پانچ کوس میں سے ابھی ایک ڈیڑھ کوس فاصلہ طے ہوا ہے۔ راستہ کاٹنے کے لیے کچھ نہ کچھ بات چیت تو کرنی ہو گی۔‘‘
	’’کیا مطلب؟‘‘ گلریز نے کہا ’’تو کیا یہ سب وقت گزاری کے لیے کیا جا رہا ہے۔ یہ سب ٹائم پاس ہے۔‘‘
	’’جی ہاں صاحب یہی سمجھ لیجئے۔ یہ زندگی بھی تو ایک ٹائم پاس ہی ہے۔ کسی طرح گزار کے پھر لوٹ جانا ہے بابل کے گھر۔‘‘
	گلریز کا غصہ ہوا ہو گیا۔ اس نے مسکراتے ہوئے کہا۔ ’’بھئی ایک بات بتاؤں آپ سب بڑے فلسفی قسم کے لوگ ہیں۔ موقع بے موقع فلسفہ جھاڑتے رہتے ہیں۔ ‘‘ اب وہ چھیڑ رہا تھا۔ 
	’’دیکھئے صاحب یہ موقع بے موقع بھی اپنی سمجھ کے مطابق ہوتا ہے۔ ہوسکتا ہے جو آپ کے لیے بر موقع ہو وہ ہمارے لیے بے موقع اور جو ہمارے لیے…‘‘
	’’ہاں سمجھ گیا۔‘‘ گلریز نے کہا اور اسی طرح بے سر پیر کی باتوں نے پانچ کوس کی مسافت کو اس طرح نگل لیا جیسے اس کا کوئی وجود ہی نہ تھا۔ وقت گذر گیا اور خوب گذرا۔ سامنے خانقاہ کی روشنی ان کا استقبال کر رہی تھی۔ ان لوگوں نے گلریز کی توجہ اس طرف مبذول کرائی مصافحہ کیا اور ہنستے مسکراتے اپنے اپنے گھروں کی جانب ہو لیے۔
	گلریز جب خانقاہ میں داخل ہوا تو لوگ عشاء کی نماز سے فارغ ہو کر لنگر کی جانب جا رہے تھے۔ کوئی کھانا لے رہا تھا کوئی کھانا کھا رہا تھا۔ بالکل جیل خانے کا منظر جس میں ہر قیدی اپنی پلیٹ اٹھائے ایک لائن میں دیگ کے قریب جاتا اور اپنا کھانا لے کر ایک طرف بیٹھ جاتا۔ طالب علمی کے زمانے میں ایک مرتبہ کسی بڑے احتجاج میں اسے بھی جیل خانے کا موقع ملا تھا۔ آج یہاں پھر وہ منظر تازہ ہو گیا۔ سامان سے لدا پھندا دیکھ کر ایک صاحب اس کے قریب آئے۔ انہوں نے اپنا تعارف کرایا۔ 
	’’میرا نام محمود خواجہ ہے میں اس خانقاہ کا خادم ہوں۔ آپ جناب کہاں سے تشریف لا رہے ہیں ؟‘‘
	گلریز خان نے اپنا تعارف کراتے ہوئے جب یہ بتلایا کہ وہ گلباز خان کا بیٹا ہے تو خواجہ میاں نے اسے گلے سے لگا لیا۔ اس کی پیشانی کو بوسہ دیا اور اس کا سامان اپنے ہاتھوں میں لینے لگے۔ انہوں نے بتلایا کہ گلباز خان سے ان کے مراسم بڑے دیرینہ ہیں۔ کسی زمانے میں وہ بھی پھلوں کا کاروبار کیا کرتے تھے اور گلریز کے ہمراہ خانقاہ پر آتے لیکن پھر ایک بار ایسے آئے کہ پھر نہ لوٹے اور یہیں کے ہو گئے۔
	خواجہ محمود نے گلریز سے کہا۔ ’’بیٹے فوراً ہاتھ منہ دھو کر آؤ لنگر کھل چکا ہے۔ تم بھی کھانا کھا لو اس لیے کہ ایک مرتبہ یہ سلسلہ بند ہوا تو بند ہی ہو جاتا ہے۔‘‘
	گلریز نے سوال کیا۔’’چچا میاں پیر صاحب کہاں ہیں ؟پہلے ان سے ملاقات کرنا چاہتا ہوں۔ اس کے بعد کھانا پینا ہوتا رہے گا۔‘‘
	’’نہیں بیٹے تم ان سے ابھی نہیں مل سکتے۔ وہ پاس کے گاؤں میں اپنے کسی مرید کی لڑکی کے نکاح میں شریک ہونے کے لیے گئے ہوئے ہیں۔ رات نہ جانے کب لوٹیں گے۔ اب تمہاری ان سے ملاقات صبح ہی ہو سکے گی۔ اس لیے فوراً آؤ کھانا کھاؤ، آرام کرو اور پھر بعد نماز فجر پیر صاحب کا نیاز حاصل کر لینا۔ ‘‘ 
	یہ بات چیت کرتے کرتے وہ لوگ ایک بڑے سے ہال نما کمرے میں پہنچ گئے۔ 
	خواجہ میاں نے کہا۔’’ دیکھو کچھ بستر لگے ہوئے ہیں جو جگہ خالی ہے ان میں سے کسی کا انتخاب کر کے تم بھی اپنا بستر لگا لو۔‘‘
	اب اسے پھر ایک بار جیل کی بیرک یاد آ گئی تھی جس میں مختلف قیدی ایک کے بعد ایک لائن سے سویا کرتے تھے۔ گلریز نے خواجہ میاں کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ میں کھانے کے لیے ابھی حاضر ہوا۔
	اس کے آنے تک لنگر کی قطار تقریباً ختم ہو چکی تھی۔ لنگر کا کھانا بانٹنے والے خود اپنے لیے کھانا نکال رہے تھے۔ ان لوگوں نے کھانا اس کی پلیٹ میں ڈال دیا اور وہ ان کے ساتھ آ کر ایک کونے میں بیٹھ گیا۔ کھانے کے دوران گلریز نے اپنے قریب بیٹھے ہوئے صاحب سے پوچھا۔
	’’آپ کب سے یہ کام کر رہے ہیں ؟‘‘ 
	اس شخص نے تعجب سے پوچھا۔’’کب سے کیا مطلب؟‘‘
	’’میرا مطلب کھانے کی تقسیم۔‘‘
	’’اوہو۔ کہیں آپ یہاں پہلی بار تو نہیں آئے۔ شاید آپ یہاں کے نظم و ضبط سے واقف نہیں ہیں۔ ‘‘
	گلریز نے اپنی خجالت مٹاتے ہوئے کہا۔ ’’نہیں ویسے پہلی بار تو نہیں آیا بچپن میں والدین کے ساتھ آیا تھا لیکن کچھ یاد نہیں۔ ‘‘
	’’اسی لیے۔‘‘ ان میں سے ایک نے قہقہہ لگایا۔ ’’کل اگر انہیں کی ڈیوٹی لگ جائے گی تو سب پتہ چل جائے گا۔‘‘
	’’ڈیوٹی لگ جائے گی۔ میں سمجھا نہیں کیا پتہ چل جائے گا۔‘‘
	’’ارے بھائی گھبرانے کی کوئی بات نہیں۔ یہ خانقاہ ہے۔ یہاں نہ کوئی ملازم ہے اور نہ کوئی خادم۔ سب کے سب پیر صاحب کے مرید ہیں اور پیر صاحب بھی ہم میں سے ایک ہیں۔ یہاں سب کام رضا کارانہ کیے جاتے ہیں۔ جو لوگ یہاں آتے ہیں وہ اپنے قیام کی مدت سے آگاہ کر دیتے ہیں اور پھر ہر روز صبح مختلف لوگوں کو مختلف کام تقسیم کر دیئے جاتے ہیں۔ جب تک آپ یہاں رہیں گے کوئی نہ کوئی کام آپ کے ذمہ آتا رہے گا۔ جب آپ چلے جائیں گے تو کچھ اور لوگ آ جائیں گے اور وہ کچھ نہ کچھ کرتے رہیں گے۔ اسی طرح یہاں کا نظام چلتا رہے گا۔‘‘
	کھانا ختم ہوتے ہوتے اس نے ان سب کا تعارف بھی حاصل کر لیا تھا۔ کوئی کسی کمپنی میں چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ تھا تو کوئی کسی فارم ہاؤس کا منیجر تھا۔ ان میں سے ایک چائے کی دوکان والا بھی تھا اور دوسرا کسی دفتر کا چپراسی۔ ان سب میں اسے کوئی فرق نظر نہیں آتا تھا۔ سب ایک ساتھ کام کر رہے تھے۔ ایک ساتھ کھانا کھا رہے تھے اور ایک ہی ہال میں سونے جا رہے تھے۔خانقاہ کا پہلا سبق گلریز نے بغیر پڑھائے پڑھ لیا تھا۔ وہ اس بات کو جان گیا تھا کہ لوگ یہاں آ کر روحانی سکون کیونکر حاصل کرتے ہیں۔ دنیا میں دو وجوہات کی بناء پر انسان اپنا سکون گنواتا ہے۔ وہ تیرا ہے یہ میرا ہے کا جھگڑا۔ میں بڑا تو چھوٹا کا چکر۔ جب انسان تیرا اور میرا کے جھگڑے میں پھنس جاتا ہے تو دوسروں کے مال و جاہ پر اس کی نظر جاتی ہے۔ اس کے باعث اس کے دل میں حسد و بغض کے جذبات جنم لیتے ہیں اور پھر دوسروں کے مال کو اپنا بنانے کی حرص و ہوس میں وہ پاگل ہو جاتا ہے۔ اپنا چین و سکون گنوا بیٹھتا ہے۔ لیکن یہاں تو کچھ بھی کسی کا نہیں تھا۔ سب کچھ اسی کا تھا جس نے اسے پیدا کیا۔ یہاں مال و جاہ کا کوئی مالک نہ تھا۔ ہاں امانت دار ضرور تھا اور خیانت سے بچنے کے خوف نے اسے دوسروں کی جانب سے بے نیاز کر دیا تھا۔ اپنے آپ کو بڑا سمجھنا اور دوسرے اسے بڑا کیوں نہیں سمجھتے اس بات سے پریشان ہونا نیز دوسروں کو یہ سمجھانے کی کوشش میں پریشان کرنا اور پریشان ہونا ظلم و بربریت کو جنم دیتا ہے۔ ظالم جس قدر ظلم دوسروں پر کرتا ہے اس سے زیادہ ظلم خود اپنے آپ پر کرتا ہے۔ اسی لیے وہ جس قدر دوسروں کو چین و سکون سے محروم کرنے کی تگ و دو کرتا ہے خود اپنا سکون گنوا بیٹھتا ہے۔ یہاں عبادت میں     ریاضت میں۔ کھانے میں پینے میں سوتے جاگتے عملاً یہ تعلیم دی جاتی تھی کہ دیکھو تم سب یکساں ہو ایک آدم کی اولاد ہو اور آدم مٹی سے بنا ہے اور اسے مٹی میں مل جانا ہے۔
٭٭٭



	نماز سے فارغ ہو کر جیسے ہی گلریز بستر پر دراز ہوا۔ اسے صفیہ کی بات یاد آ گئی۔’’اگر ایک دن رک جاؤ گے تو کیا فرق پڑے گا۔‘‘ اس کی بہن صفیہ نے کس قدر معقول بات کہی تھی۔ ویسے بھی پیر صاحب سے ملاقات تو ہو نہ سکی۔ اگر ایک دن رک جاتا تو شہناز کے نکاح میں شریک ہو جاتا۔ شہناز کے نکاح نے اس کے ذہن کا ایک اور دریچہ کھول دیا۔ بچپن کی بات تھی شہناز اور صفیہ گلریز اور شہباز ساتھ ساتھ مکتب جاتے۔ کھیلتے کودتے۔ لڑتے جھگڑتے۔ کھاتے پیتے اپنا بچپن گذار رہے تھے لیکن ایک روز کچھ ایسا ہوا کہ یہ سب ختم ہو گیا۔ اس روز گلریز اپنے گھر پر اسکول کا کام کر رہا تھا کہ اچانک لکھتے لکھتے اس کے پنسل کی نوک ٹوٹ گئی۔ اس سے پہلے کہ وہ دوبارہ سانچہ سے پنسل کی نوک بناتا اسے خیال آیا کہ ابھی چند گھنٹے قبل اس نے ایک پنسل صفیہ کو دی ہے۔ اسنے فوراً آواز لگائی۔
	’’صفیہ میری پنسل مجھے لوٹا دو۔‘‘
	 صفیہ جو دوسرے کمرے میں دیگر بچوں کے ساتھ کھیل رہی تھی وہیں سے بولی۔
	’’ابھی نہیں بعد میں دے دوں گی۔‘‘
	’’ابھی کیوں نہیں ؟ مجھے ابھی کہ ابھی چاہئے۔‘‘
	’’ابھی میں نہیں آسکتی۔ آپ کو چاہئے تو آپ میر ے بستہ میں سے لے لیں۔ ‘‘
	گلریز کا پارہ چڑھنے لگا۔’’میں کیوں لوں ؟ تم نے مجھ سے پنسل لی ہے تم لا کر دو۔‘‘
	’’نہیں بھیا میں نے کہا نا میں ابھی نہیں آسکتی۔ آج ہم لوگ شادی شادی کھیل رہے ہیں۔ شہناز کا گڈا اپنی بارات لے کر میری گڑیا سے بیاہ رچانے آ چکا ہے۔ اب ایسے میں میں کیسے آسکتی ہوں تمہی بتاؤ۔‘‘
	گلریز نے پھر کہا۔ ’’اچھا بتاؤ تمہارا بستہ کہاں ہے؟‘‘
	’’الماری میں۔ ‘‘ صفیہ نے بے زاری سے جواب دیا۔
	گلریز زمین پر پیر مارتا ہوا الماری کے پاس پہنچا اور بستہ کا تمام سامان ادھر ادھر پھینک دیا۔ لیکن اسے بستہ میں پنسل نہیں ملی۔ اب وہ غصہ سے چیخا۔ ’’کہاں ہے پنسل؟ تمہارے بستہ میں تو نہیں ہے۔‘‘
	صفیہ نے کہا۔’’ارے بھئی بستہ میں پنسل بکس ہے اور اس میں پنسل ہے۔‘‘
	’’یہ کیا پاگل پن ہے تمہارے بستہ میں نہ تو پنسل بکس ہے اور نہ ہی پنسل ہے تم فوراً یہاں آ کر میری پنسل تلاش کر کے مجھے دو ورنہ…‘‘
	’’نہیں بھیا میں نے کہا نا کہ میں ابھی نہیں آسکتی ابھی تو قاضی صاحب بھی آ گئے ہیں یہ دیکھو وکیل اور گواہ ایجاب و قبول کروا رہے ہیں۔ ‘‘
	یہ سنتے ہی گلریز آپے سے باہر ہو گیا۔ ’’میرا کام رکا ہوا ہے اور تمہیں کھیل کی پڑی ہے۔میں ابھی آتا ہوں اور سبق سکھاتا ہوں تم کو تمہارے قاضی کو گواہ کو وکیل اور گڈا گڈی کو۔ ‘‘ یہ کہتا ہوا وہ دندناتا دیوان خانے میں آ گیا۔ واقعی شادی خانہ بنا ہوا تھا۔ تمام بچے نت نئے کپڑے پہنے کھیل میں مصروف تھے۔ گلریز کمرے میں داخل ہوا اس نے دولہن کی ڈولی کو پیروں تلے روند دیا اور دولہے کو گھوڑے سمیت کھڑکی سے باہر پھینک دیا۔ پوری بارات گاجا باجا سب درہم برہم ہو گیا۔ بچے رونے لگے۔ آناً فاناً صف ماتم بچھ گئی۔ بچے ادھر ادھر دبک گئے۔لگا جیسے کوئی ’’ڈائناسور‘‘ ان کے درمیان آ گیا ہے۔ لیکن ان سب کے درمیان سے شہناز اٹھی اس نے گلریز کا گریبان پکڑ لیا اور پوچھا
	’’تم نے میرے گڈے کو کیوں پھینکا۔ بتاؤ تم نے اسے کیوں پھینکا۔ تمہیں ابھی کے ابھی میرا گڈا مجھے واپس لا کر دینا ہو گا ابھی کے ابھی۔‘‘
	گلریز پہلے تو چونکا پھر اس نے اپنے آپ کو سنبھالا اور کہا چھوڑو میرا گریبان۔ چھوڑتی ہو کہ نہیں ورنہ میں تمہیں بھی تمہارے گڈے کی طرح اٹھا کر کھڑکی سے باہر پھینک دوں گا۔‘‘
	شہناز ڈر گئی اس نے گلریز کا گریبان چھوڑ دیا اور وہ روتے روتے اپنے گھر بھاگ گئی۔ گلریز واپس اپنے کمرے میں آ گیا۔ صفیہ روتی دھوتی اباجی کے پاس گئی اور ان سے گلریز کی شکایت کر ڈالی۔
	تھوڑی دیر میں ابا جی کا بلاوا آ گیا۔ گلریز جانتا تھا کہ اسے کیوں بلایا جا رہا ہے۔ اباجی نے اُسے بلا کر پہلے تو خوب ڈانٹ پھٹکار سنائی اور پھر سمجھایا۔
	 ’’بیٹے تم بڑے ہو طاقتور ہو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ تم اپنے سے چھوٹوں پر ظلم کرو بلکہ بڑا ہونے کے باعث تمہارے اندر ان کے لیے شفقت ہونی چاہئے محبت ہونی چاہئے۔ ایثار و قربانی کا جذبہ ہونا چاہئے۔ تم نے اپنی طاقت کا غلط استعمال کیا ہے تمہیں یہ نہ بھولنا چاہئے کہ تم اگر ان سے بڑے ہو تو تم سے بھی تو کوئی بڑا ہے اور سب سے بڑا اﷲ ہے وہی طاقت کا سرچشمہ ہے اس نے تمہیں قوت اس لیے نہیں دی کہ تم اس سے ظلم کرو۔ یاد رکھو جو طاقت دیتا ہے وہ چھین بھی سکتا ہے اور پھر یہ بات تو یقینی ہے کہ اس نے جو کچھ دیا ہے وہ اس کا حساب ضرور لے گا۔‘‘ 
	اباجی کی ان باتوں کو سن کر گلریز کا دل پسیج گیا۔ اس نے کہا ’’اباجی میں آپ سے معافی چاہتا ہوں۔ ‘‘ انہوں نے کہا بیٹے مجھ سے معافی چاہنے سے کیا فائدہ تم نے جن کی دل آزاری کی ہے ان سے معافی مانگو۔ اگر وہ معاف کر دیں تو فبہا اور اگر وہ بدلہ لیں تو یہ ان کا حق ہے۔ اگر وہ تمہیں سزا دلوانا چاہیں تو یہ ان کی مرضی۔‘‘
	گلریز گھبرا گیا۔ اس نے صفیہ کی جانب دیکھ کر کہا۔ ’’میری بہنا مجھ سے غلطی ہو گئی میں تم سے معافی چاہتا ہوں۔ اب بولو میری کیا سزا ہے؟‘‘
	صفیہ پگھل گئی اس نے اپنے بھیا کو معاف کر دیا۔ دوسرے بچوں نے درگذر کر دیا لیکن شہناز وہاں نہیں تھی۔ اباجی نے کہا ’’بیٹے تم نے سب سے زیادہ جسے دکھ پہنچایا ہے وہ تو شہناز ہے اور وہ یہاں نہیں ہے۔ تمہیں اس سے بھی معافی مانگنی ہو گی اور یاد رکھو جو نقصان تم نے ان صفیہ اور شہناز کا کیا ہے اس کی بھرپائی بھی کرنی ہو گی۔‘‘
	گلریز بولا۔’’لیکن وہ میں کہاں سے کروں گا؟ میرے پاس گڑیا خریدنے کے لیے پیسے نہیں ہیں۔ ‘‘ 
	یہ سن کر امی جان بولیں۔ ’’میں دے دوں گی اپنے لال کو پیسے تو کیوں گھبراتا ہے۔‘‘
	ابا جی بولے ’’بچہ کی عادت خراب نہ کرو۔ اگر دینا ہی ہے تو قرض کی صورت میں دو اور جیب خرچ سے اسے ہر روز منہا کرتی رہنا۔‘‘
	’’ہاں بابا ٹھیک ہے۔ ‘‘ امی جان بولیں آپ تو مجھے پھلوں کے نہیں بموں کے بیوپاری لگتے ہو ایک دم جلّاد۔‘‘
	دوسرے روز گلریز بازار سے نہایت خوبصورت گڈا اور گڑیا لے آیا۔ جب اس نے گڑیا اپنی بہن کو دی تو وہ خوش ہو گئی۔ اب وہ گڈا لے کر شہناز کے گھر جا پہنچا۔ شہناز نے جیسے ہی اسے دیکھا کل کا واقعہ اس کی آنکھوں کے آگے آ گیا۔ اس نے غصہ سے منہ پھلا لیا۔ گلریز اس کے قریب گیا اور کہنے لگا۔
	’’شہناز مجھے معاف کر دو۔ غلطی تو صفیہ کی تھی اور میں نے تمہارا گڈا پھینک دیا۔‘‘
	شہناز بولی۔ ’’مجھے اس کی ضرورت نہیں۔ جاؤ اپنا کام کرو۔‘‘
	گلریز نے کہا۔ ’’اور سنو شہناز میں تمہارے لیے گڈا بھی لایا ہوں۔ ‘‘ یہ سنتے ہی شہناز کھل اٹھی اس نے کہا ’’کہاں ہے میرا گڈا؟ بتلاؤ کس حال میں ہے؟ اسے چوٹ تو نہیں آئی؟‘‘
	گلریز ہنسنے لگا۔ اس نے کہا ’’اب بھول جاؤ اس گڈے کو یہ دیکھو میں تمہارے لیے نیا گڈا لایا ہوں۔ ‘‘
	’’کیا؟ نیا گڈا مجھے نہیں چاہئے۔ مجھے تو وہی اپنا والا گڈا چاہئے۔‘‘
	’’لیکن تمہارا وہ گڈا تو سامنے تالاب میں جا گرا تھا۔ اب میں اسے کیسے لا سکتا ہوں ؟‘‘
	’’کیسے لا سکتے ہو۔ اگر لا نہیں سکتے تو پھینکا کیوں تھا؟یہ تو تمہیں پھینکنے سے پہلے سوچنا چاہئے تھا۔‘‘
	’’اری بے وقوف اس وقت میں غصہ میں تھا اور پھر غصہ میں انسان کی سوچ سمجھ ویسے ہی غارت ہو جاتی ہے۔یہ دیکھو۔ یہ گڈا تمہارے اس گڈے سے بھی اچھا ہے۔‘‘
	شہناز نے چڑ کر کہا۔ ’’سوال اچھے یا برے کا نہیں ہے۔ سوال اپنے یا پرائے کا ہے۔ مجھے یہ اچھا والا گڈا نہیں چاہئے۔ مجھے میرا خراب والا گڈا چاہئے۔‘‘ یہ کہہ کر وہ رونے لگی۔
	گلریز کو کچھ سمجھ میں نہ آ رہا تھا۔ سارا بازار گھوم کر اس نے یہ بہترین گڈا تلاش کیا تھا اور وہ سوچ رہا تھا کہ اسے دیکھتے ہی شہناز اپنے پرانے والے گڈے کو بھول جائے گی۔ خوش ہو جائے گی لیکن اس بے وقوف لڑکی کو دیکھو وہ نہ اس کی طرف دیکھ رہی تھی نہ اسے ہاتھ لگا رہی تھی۔ شہناز کی اس حرکت پر اسے غصہ آنے لگا تھا۔ اس نے کہا۔
	’’دیکھو میں تمہارا گڈا تو اب لا نہیں سکتا ہوں اور اب یہ نیا گڈا تمہارے لیے چھوڑے جا رہا ہوں۔ اب تم جانو اور یہ جانے میں تو چلا۔‘‘
	ابھی گلریز کا جملہ پورا بھی نہ ہوا تھا کہ شہناز نے لپک کر اس گڈے کو اٹھایا اور پوری طاقت سے اسے کھڑکی سے باہر پھینک دیا۔ گلریز نے دیکھا کہ دور تالاب میں دونوں گڈے تیر رہے ہیں۔ کچھ دیر تک وہ دونوں اپنی بے جان آنکھوں سے تالاب میں تیرتی دو لاشوں کو دیکھتے رہے اور پھر گلریز ناکام و نامراد لوٹ آیا۔
	اس واقعہ کے بعد گلریز نے شہناز کے گھر کا رُخ کبھی نہ کیا۔ شہناز بھی اسے اپنے گھر میں کبھی نظر نہ آئی اور مکتب کے بعد وہ اسے باہر بھی نظر نہ آئی۔ پردہ کرنے لگی تھی۔ بچپن کے واقعہ کی یاد نے اس کے اندر احساس جرم پیدا کر دیا۔ وہ سوچنے لگا کہ اسے رک جانا چاہئے تھا۔ اگر اس موقع پر شہناز کو وہ بچپن کی شادی یاد آ گئی تو اسے گلریز کا خیال بھی ضرور آئے گا۔ ایسے میں اگر اسے پتہ چل جائے گا کہ گلریز بغیر کسی مجبوری کے اس تقریب میں شریک نہیں ہوا تو وہ کیا سوچے گی۔ اس نے اس خیال کو اپنے ذہن سے جھٹکنے کی کوشش کی۔ نکاح کی گہما گہمی میں اسے بچپن کی اس تلخی کا خیال کیوں آئے گا۔ گلریز اپنے آپ سے ہم کلام تھا۔ لیکن اگر آ ہی گیا تو۔ آ ہی گیا تو وہ سوچے گی اچھا ہی ہے جو گلریز وہاں موجود نہیں ہے۔ کم از کم اس ظالم انسان سے اس کا دولہا محفوظ ہے۔ نہیں نہیں اب وہ سمجھدار ہو گئی ہے۔ اب وہ ایسا نہیں سوچے گی کہ گلریز جلّا دہے۔ اب اسے یہ خیال نہ گذرے گا کہ اس سے اس کے دولہے کے لیے کوئی خطرہ ہے۔ ہو سکتا ہے وہ یہ نہ سوچے لیکن یہ تو سوچے گی کہ گلریز اس کی اس خوشی کے موقع پر کیوں موجود نہیں ہے۔ اتنے سارے مہمانوں میں کون شریک ہے کون شریک نہیں ہے اس کا حساب کون رکھ سکتا ہے اور پھر اس کا پورا گھر تو شریک ہے ہی۔ ایک فرد کے غیر حاضر رہنے سے کیا فرق پڑتا ہے۔ فرق پڑتا ہے فرق کیوں نہیں پڑتا۔ ان بے شمار مہمانوں میں سے کوئی ایسا تھوڑے ہی تھا جس نے اس کے گڈے کو تالاب میں پھینک دیا تھا اور کوئی ایسا بھی نہیں تھا جو اسے منانے اس کے پاس آیا تھا اور کوئی ایسا کب تھا جس کے تحفہ کو اس نے بھی تالاب میں پھینک دیا تھا۔ انتقام تو اس نے لے ہی لیا تھا حساب کتاب تو برابر ہو گیا تھا۔ اس لیے گلریز کو ایسا نہیں کرنا چاہئے تھا۔ کیا نہیں کرنا چاہئے تھا کیوں نہیں کرنا چاہئے تھا۔ گلریز اپنے آپ سے لڑ رہا تھا۔ زور زور سے بڑبڑا رہا تھا ایسے میں ایک تیسری آواز اس کے کانوں سے ٹکرائی۔
	’’کہاں کھوئے ہوئے ہو برخوردار۔‘‘ پہلے تو اسے لگا جیسے ٹیلی فون کا کراس کنکشن ہو گیا لیکن پھر پتہ چلا یہ خواجہ میاں کی آواز تھی۔
٭٭٭



	خواجہ میاں کی آمد نے اسے اپنے آپ سے جدا تو کر دیا لیکن خود کلامی کا کرب زائل نہ ہوا تھا۔ خواجہ میاں نے پھر پوچھا۔
	’’کیوں برخوردار کس سے ہمکلام تھے۔ اس قدر جوش اور اس قدر غصہ۔ ‘‘
	وہ بولا۔ ’’خواجہ میاں یہ میری ایک بہت بڑی کمزوری ہے کہ میں اپنے آپ پر قابو نہیں رکھ پاتا۔ مجھے غصہ بہت آتا ہے۔‘‘
	خواجہ میاں بولے۔’’ویسے تو غصہ مختلف وجوہات پر آتا ہے لیکن اس کی سب سے عام وجہ غلط توقعات ہیں۔ ہم مختلف لوگوں سے بے جا توقعات وابستہ کر لیتے ہیں اور جب وہ ان پر پورا نہیں اترتے تو بجائے اس کے کہ اپنی غلطی کا اعتراف کریں اس پر برس پڑتے ہیں۔ اگر انسان دوسروں کے بارے میں کم سے کم سوچے کہ انہیں کیا کرنا چاہئے اور اپنی فکر زیادہ کرے کہ اسے کیا کرنا چاہئے تو اسے دوسروں پر غصہ کم آئے گا۔‘‘
	’’ لیکن لوگ غلطی بھی تو کرتے ہیں۔ ‘‘
	’’جی ہاں لوگ یقیناً غلطی کرتے ہیں لیکن ان غلطیوں کے لیے وہ خود ذمہ دار اور جوابدہ ہیں اور اگر ان پر غصہ ہو جائیں تو اس غلطی کے لیے وہ نہیں بلکہ آپ ذمہ دار ہیں اور آپ کو اس بات کی جوابدہی کرنی پڑی گی کہ آپ نے اس کی اصلاح کے لیے کیا کیا۔ اگر آپ کسی سے ناراض یا غصہ ہو جائیں تو اس رویہ سے آپ اپنے آپ کے لیے مسائل کھڑے کر لیتے ہیں آپ نہ اس کی اصلاح کے لیے کچھ کر پاتے ہیں اور نہ اپنی۔بیٹے تم جانتے ہو بے وقوف کسے کہتے ہیں ؟‘‘
	’’ہاں جانتا ہوں کم عقل کو۔‘‘
	’’لیکن عقل ناپنے کا کوئی آلہ تو موجود نہیں پھر یہ کیسے پتہ چلے کہ کون عقل مند ہے اور کون بے وقوف۔ کسی کے ماتھے پر تو لکھا نہیں ہوتا۔‘‘
	گلریز نے کہا۔’’پہیلیاں نہ بجھوائیں بلکہ آپ ہی بتا دیں۔ ‘‘
	’’بیٹے بے وقوف کے معنیٰ ٹھہرنے کے ہیں اب اگر کوئی رکنے کی جگہ نہ رکے تو وہ بے وقوف ہوا اور ایسا اکثر غصہ کے باعث ہوتا ہے اور ایسا کرنے والا اپنے ساتھ دوسروں کا بھی نقصان کرتا ہے۔ ٹرافک کے سگنل کی مثال ہے اگر کوئی سرخ بتی پر بھی نکلتا چلا جائے تو اس کے اس عمل سے خود اس کی اپنی ذات اور دوسری جانوں کو خطرہ لاحق ہو جاتا ہے۔
	گلریز نے محسوس کیا گویا خود اس کے بارے میں بات ہو رہی ہے۔ ’’خیر چھوڑیئے یہ بتلائیں کہ ان یادوں کا کیا جو بِن بلائے بلا روک ٹوک چلی آتی ہیں اور پھر لاکھ بھگانے پر بھی نہیں جاتیں۔ ‘‘
	خواجہ میاں مسکرا رہے تھے انہوں نے کہا ’’ان یادوں کو عذاب نہ سمجھو کہ یہی حیات کا حاصل ہوتی ہیں۔ اﷲ تعالیٰ کی عظیم نعمتوں میں سے ایک۔ انسان کو فراموش کر دینے کی صلاحیت ہے۔ جس کے باعث انسان اپنی ناکامیوں کو بھلا دیتا ہے اور آگے بڑھتا جاتا ہے۔ اگر یہ نہ ہو تو زندگی ایک ناسور بن جائے۔ انسان کا جیتے جی دم گھٹ جائے۔ اس کائنات میں ہر شئے کو فنا ہے۔ یادوں کی بھی اپنی ایک طبعی عمر ہوتی ہے جسے پورا کرنے کے بعد وہ فنا کی آغوش میں سو جاتی ہیں۔ 
	گلریز نے کہا۔’’لیکن ان یادوں کا کیا جو فنا نہیں ہوتیں۔ ‘‘
	خواجہ میاں بولے۔ ’’بیٹے جذبہ محبت آب حیات ہے جو کسی یاد سے وابستہ ہو جائے تو اسے قضا و قدر کے قانون سے پرے لے جاتا ہے اور ابدیت عطا کر دیتا ہے۔‘‘
	’’ لیکن مجھے تو ایسی یادوں سے ڈر لگتا ہے حالانکہ میں کسی سے نہیں ڈرتا۔‘‘
	’’ محبت چیز ہی ایسی ہے۔‘‘ خواجہ میاں نے کہا ‘‘محبت کرنے والاکسی سے نہیں ڈرتا لیکن محبوب کی ناراضگی سے ڈرتا ہے۔ اسی لیے وہ بیک وقت نہایت بے خوف اور بہت زیادہ ڈرنے والا ہوتا ہے۔‘‘
	گلریز نے پوچھا۔ ’’لیکن یہ سب آپ کیسے جانتے ہیں ؟‘‘
	’’ یہ تو ہر وہ شخص جانتا ہے جو محبت کرتا ہے۔ دینی اصطلاح میں اسی کو تقویٰ کہتے ہیں۔ متقی آدمی کسی سے نہیں ڈرتا لیکن خدا سے بہت زیادہ ڈرتا ہے۔ وہ تمام انسانوں کی نعمت و لائم سے بے نیاز ہوتا ہے لیکن خدائے بزرگ برتر سے ہر پل چوکنا اور ہوشیار ہوتا ہے۔‘‘
	گلریز نے کہا۔’’یہ تو نئی بات ہے میں بچپن ہی سے تقویٰ و پرہیز گاری پر وعظ و نصیحت سنتا آ رہا ہوں لیکن اس انداز میں میں نے کبھی بات نہیں سنی۔‘‘
	خواجہ میاں بولے۔ ’’بات دراصل ایک ہی ہے۔ انداز جدا جدا ہیں۔ قاضی شہر اصلاح معاشرے کے لیے صرف حدود و عذاب کا ڈر دکھا کر اپنا کام چلانا چاہتا ہے لیکن پیر طریقت جذبہ محبت کو پروان چڑھا کر معرفت کی منزلیں طے کراتے ہیں۔ لیکن قرآن مجید میں بھی تو جہنم کے عذاب کا ذکر ہے۔‘‘
	گلریز نے اعتراض کیا۔ ’’ضرور ہے ہم کہاں اس کا انکار کرتے ہیں۔ کسی غلط کار کو روکنے کے لیے عذاب کا ذکر ضروری اور مفید ہے یہ چیز اسے برائیوں سے روک تو سکتی ہے لیکن بھلائیوں کی بلندیوں پر نہیں پہنچا سکتی۔ اس کے لیے تو اس کے دل میں جنت کی طلب اور خوشنودی رب کا ہونا لازم ہے اور وہ اﷲ کی محبت کے سوا ممکن نہیں ہے۔ ‘‘
	خواجہ میاں نے کہا۔’’ بیٹے ایک بات یاد رکھو محبت کرنے والا نفرت نہیں کرتا۔ لیکن ڈرتا ضرور ہے اس کے بالمقابل ڈرنے والا نفرت تو کرتا ہے محبت نہیں کرتا۔‘‘
	گلریز کا غم خواجہ میاں کی محبت بھری باتوں نے غلط کر دیا تھا۔ گلریز کا دل ہلکا ہو گیا۔ آنکھیں بند ہونے لگیں خواجہ میاں نے اپنا ہاتھ اس کی پیشانی پر رکھا اور وہ نیند کی آغوش میں کھو گیا۔
	صبح جب آنکھ کھلی تو اس نے دیکھا ایک بزرگ اسے نیند سے بیدار کر رہے ہیں۔ جیسے ہی ان کے چہرہ پُر نور پر گلریز کی نگاہ پڑی اس نے فوراً سلام عقیدت پیش کر دیا۔مسکراتے ہوئے سلام کا جواب دینے کے بعد درویش نما بزرگ بولے۔
	’’گلباز خان کے فرزند گلریز خان کا ہم اس خانقاہ میں استقبال کرتے ہیں۔ رات جب میں لوٹا تو مجھے خواجہ میاں نے بتلایا کہ تم مجھ سے ملنے کے لیے بے تاب ہو۔ میں تمہاری نیند میں خلل ڈالنا نہ چاہتا تھا اس لیے صبح تک انتظار کیا۔ ویسے تمہیں انتظار کروانے کے لیے میں معذرت چاہتا ہوں۔ لیکن تمہیں تھوڑا سا انتظار اور کرنا ہو گا۔ نماز فجر کے بعد مختصر سی وعظ و نصیحت خانقاہ کا معمول ہے۔ اس سے فارغ ہو کر ساتھ ساتھ ناشتہ کریں گے اور گفتگو بھی ہو گی۔ ‘‘ یہ کہہ کر بڑے پیر صاحب مسجد کی طرف اسے تحیر زدہ چھوڑ کر چلے گئے۔وہ حیران تھا ایسا بھی ہوتا ہے۔ انہوں نے معذرت کیوں طلب کی اور انتظار کیوں کیا؟ وہ تو بنا بتائے آ دھمکا تھا اور پھر اسے اس پر بھی تعجب تھا کہ بڑے پیر صاحب اسے جگانے کے لیے خود بنفس نفیس کیوں آئے؟ کسی خادم کو بھیج دیتے۔ خواجہ میاں سے جگوا دیتے۔ نہیں اس کے دل نے کہا۔اگر وہ ایسا کرتے تو اس کا دل ان کے احترام و محبت سے سرشار کیوں کر ہوتا۔ اسے خواجہ میاں کی رات والی بات یاد آئی ’’محبت ہی محبت کو جنم دیتی ہے۔‘‘ اگر انسان کسی سے محبت کرے تو وہ آپ سے آپ اس سے محبت کرنے لگ جاتا ہے اور یہ جذبہ رشتوں کو جاوداں کر دیتا ہے۔‘‘ اس نے سوچا بڑے پیر صاحب کیا سوچیں گے انہوں نے خود اسے جگایا پھر بھی وہ بستر پر پڑا سستا رہا ہے۔ وہ فوراً کھڑا ہو گیا اور وضو گاہ کی جانب چل پڑا لیکن اب ایک نئی خلش اس کے دل میں سر اُبھار رہی تھی۔ نماز تو وہ اﷲ رب العزت کی خاطر پڑھنے جا رہا ہے لیکن ڈر رہا ہے پیر صاحب کی ناراضگی سے۔ ایسا کیوں ؟ اس سوال کا جواب بھی رات کی گفتگو میں سے ابھر آیا۔ شاید اس لیے کہ اس کے دل میں پیر صاحب کی محبت تو ہے لیکن اس کا دل اﷲ رب العزت کی محبت سے خالی ہے۔ آدمی جس سے محبت کرتا ہے اسی سے ڈرتا بھی ہے لیکن وہ نماز تو بچپن ہی سے پڑھتا ہے پھر اس کے دل کی یہ کیفیت کیوں ہے؟ اس سوال کا جواب اس کے دل نے دیا۔ جذبۂ محبت تو محسوس کرنے کی چیز ہے اسے نہیں یاد پڑتا کہ اس نے کبھی یہ محسوس کیا ہو کہ اﷲ تعالیٰ اسے دیکھ رہا ہے۔ وہ اس سے خوش ہو رہا ہے یا ناراض ہو رہا ہے آج پہلی بار وہ اس خیال سے کانپ گیا کہ اگر وہ پیر صاحب کے ڈر سے یا ان کی محبت میں نماز پڑھے تو اﷲ تعالیٰ کو یہ بات کیسی لگے گی اسے ایسا لگا گویا وہ اﷲ رب العزت کے سامنے نادم و شرمسار کھڑا ہوا ہے۔ دونوں ایک دوسرے کو دیکھ رہے ہیں۔ اس احساس نے اس کے دل میں اﷲ رب العزت کی محبت پیدا کر دی اور اس کے کانوں سے اقامت کی آواز ٹکرائی اﷲ اکبر۔ اﷲ اکبر اﷲ بڑا ہے وہ سب سے بڑا ہے۔ اس کی محبت بھی سب سے بڑی ہے اور وہ تمام محبتوں پر محیط ہے۔ آج کی رات گلریز کے لیے معراج کی رات تھی۔ اس کے ماں باپ نے اسے اسلام کی دولت سے ضرور مالا مال کیا لیکن ایمان کی حلاوت سے اسے خواجہ میاں نے روشناس کرایا تھا اور بڑے پیر صاحب نے اس کو احسان کی بلندیوں پر پہنچا دیا تھا۔ یہ ایسی معرفت تھی جس کے آگے کائنات اور اس کی وسعتیں سمٹ کر ایک نقطہ بن گئی تھی۔ بے ہنگم سا بے وقعت نقطہ!
٭٭٭

	ہر قوم کے لیے مہلت کی ایک مدت مقرر ہے۔ پھر جب کسی قوم کی مدت آن پوری ہوتی ہے تو ایک گھڑی کی تاخیر و تقدیم نہیں ہوتی۔ نماز فجر کے بعد بڑے پیر صاحب نے حاضرین مجلس کوسورہ اعراف کی مندرجہ بالا آیت کے مفہوم و معانی سمجھائے۔ انہوں نے بتلایا کہ دنیا کے طاقتور لوگ جب اس حقیقت کو فراموش کر دیتے ہیں تو اپنے ہی جیسے انسانوں کے آقا اور خدا بن جاتے ہیں۔ وہ ان کو اپنی بندگی اور غلامی پر مجبور کرنے لگتے ہیں اور دنیا کے کمزور لوگ جب تک اس حقیقت سے ناآشنا ہوتے ہیں وہ اپنے جیسے بندوں کی غلامی پر نہ صرف راضی ہوتے ہیں بلکہ نازاں و شاداں ہوتے ہیں لیکن جب عشق سکھاتا ہے آداب خود آگاہی ان پراسرار شہنشاہی کھلنے لگتے ہیں۔ قرآن مجید تمام انسانوں کو دنیا بھر میں چل پھر کر ان نشانیوں کے مشاہدے کی دعوت دیتا ہے جن سے اﷲ رب العزت نے ایسے سرکش لوگوں کو دوچار کیا جو خدائی کے زعم میں گرفتار تھے۔ سورہ اعراف میں آگے ان قوموں کا انجام پیش کیا گیا ہے جنھوں نے اپنی طاقت کے غرور میں پیغمبروں کی تکذیب کی اور عذاب الہٰی کے مستحق ہوئے۔ آئندہ دنوں میں ان قوموں کی تفصیل بتانے کا وعدہ کر کے پیر صاحب نے اپنی گفتگو کو سمیٹ دیا اور مریدین سے ملتے ملاتے باہر آ گئے۔ گلریز ان کے ساتھ تھا۔ اس نے پوچھا۔
	’’حضرت جس سیاست سے بھاگ کر میں یہاں دور دراز خانقاہ میں آیا تھا اسے یہاں بھی موجود پایا۔‘‘
	بڑے پیر صاحب نے اس کی جانب معنی خیز انداز میں دیکھا اور بولے۔’’برخوردار یہ تو قرآنی معرفت ہے۔ اب اگر لوگ اسے سیاست کہتے ہیں تو ٹھیک ہے۔ ہمیں کیا اعتراض ہو سکتا ہے اور بیٹے ایک بات یاد رکھنا اس سیاست سے پیچھا چھڑانے والے کو قرآن مجید سے راہ فرار اختیار کرنا پڑے گی ورنہ جہاں قرآنی ہدایت ہو گی وہاں یہ سیاسی فراست بھی ہو گی۔ قرآن مجید میں اﷲ تعالیٰ نے ظالموں اور باغیوں کے انجام سے اسی لیے روشناس کرایا ہے کہ مومن ان کی طاقت سے مرعوب نہ ہوں۔ ان کے مقابلے کامیابی کے امکانات سے مایوس نہ ہوں بلکہ اﷲ رب العزت پر اعتماد اور بھروسہ کر کے ان کے خلاف جہاد کریں اس یقین کے ساتھ اﷲ تبارک و تعالیٰ ان کے ساتھ ہے۔ اس کی سنت نہیں بدلتی اور ان کی تعذیب سے اسے کوئی نہیں روک سکتا۔ خیر تم نے یہ تو بتلایا ہی نہیں کہ گلباز کیسا ہے؟ تمہاری اماں اور بھائی بہن کا کیا حال ہے؟ ‘‘ یہ گفتگو ناشتہ کے دستر خوان پر ہو رہی تھی۔ گھربار کی خیر خبر کے ساتھ وہ دونوں ناشتہ سے فارغ ہو گئے اور ہال نما قیام گاہ کے ایک کونے میں بیٹھ گئے۔
	پیر صاحب نے پوچھا۔ ’’اب بتاؤ برخوردار کہ وہ کون سا خوابِ پریشاں ہے جو تمہیں شہر کی نیرنگیوں سے ویرانے میں لے آیا۔‘‘
	گلریز نے جواب دیا۔ ’’وہ عجیب و غریب خواب ہے۔ نباتات کی ایک طلسمی دنیا جہاں وہ باتیں کرتے ہیں۔ ‘‘
	’’ نباتات کا بولنا کوئی تعجب خیز بات نہیں ہے۔ دنیا کی دوسری مخلوقات کی طرح وہ بھی تو اپنے خالق کی تعریف و تسبیح بیان کرتی ہیں۔ فریکونسی مختلف ہے جنھیں ہمارے کان محسوس کرنے سے قاصر ہیں۔ یہ ہماری معذوری ہے کہ ہم انہیں سن نہیں سکتے ایسا نہیں کہ وہ بول نہیں سکتے۔ لیکن یہ سب حقیقت کی دنیا میں ہوتا ہے اگر تم نے خواب میں ان کی گفتگو سنی ہے تو بتلاؤ کہ کیا سنا اور کیا دیکھا۔‘‘
	’’ وہ عجیب و غریب منظر تین پہاڑ تھے ان میں سے ایک برف سے ڈھکا ہوا سفید پہاڑ دوسرے پر لہلہاتے کھیت اور تیسرے پر اونچے سروقد پیڑ اور باغات اور پھر ان پہاڑوں کے دامن میں ایک وسیع و عریض لق و دق صحرا جس میں صرف دھوپ ہی دھوپ، کہیں کسی سائے کا نام و نشان نہیں۔ لیکن پھر منظر بدلنے لگا میں نے دیکھا کہ صحرا میں کچھ پیڑ اگنے لگے ہیں جیسے جیسے صحرا پر سایہ بڑھتا جاتا تھا سفید پہاڑ کی برف پگھلتی جاتی تھی۔ جب تمام برف پگھل گئی تو اندر سے سرخ خون آلود درانتی برآمد ہوئی۔ اس درانتی سے تازہ خون رس رہا تھا اس کے نوک پر ایک تارہ مسکرا رہا تھا۔ کچھ دیر بعد یہ خون سوکھ کر سیاہ ہو گیا اور درانتی زنگ آلود ہو گئی۔ تارے کی چمک بڑھ گئی اور اب اس پہاڑ پر صرف ایک تارہ رہ گیا تھا۔ برف اور درانتی دونوں غائب تھے۔ ادھر دوسرے پہاڑ پر موجود ہر پیڑ پر بے شمار تارے جگمگا رہے تھے ان کی روشنی آنکھوں کو خیرہ کئے دے دیتی تھی۔کھیتوں کے پودے، صحرا کی جھاڑ جھنکار راستہ کا پتہ تاروں کی سمت سے لگاتے تھے سارا جہاں ان تاروں کے گرد گردش کر رہا تھا۔ صحرا میں اگے ہوئے اکا دکا پیڑوں سے چاند کے ہالے لٹک رہے تھے۔ یہ پیڑ اپنی روشنی کے لیے خود کفیل تھے۔ انہیں تاروں کی روشنی سے کوئی غرض نہیں تھی جب ان پیڑوں سے لگے قمریوں کا ہالہ بڑھنے لگا اور روشنی پھیلی تو کیا دیکھا صحرا میں بھی ایک چمن آباد ہے۔ اس پر بے شمار پیڑ ہیں لیکن ان کی رنگت صحرائی درختوں سے یکسر مختلف ہے اور ان کی شاخوں پر چاند نہیں بلکہ تارے آویزاں ہیں۔ ان میں اور پہاڑوں پر لگے تاروں میں فرق یہ تھا کہ وہ پانچ کونی تھے اور چھ کونی باقی سب کچھ یکساں تھا۔ برفیلے پہاڑ پر جب دوبارہ برف باری شروع ہوئی تو اس نے درانتی کے تمام نشان مٹا دیئے لیکن تارے کو چمکتا جھلملاتا چھوڑ دیا۔ اس منظر کو دیکھ کر پہاڑوں پر جشن چراغاں کیا گیا۔ ہر پتے پر لکھ دیا گیا کہ ’’ہم روشنی کے واحد علمبردار ہیں۔ دنیا بھر میں روشنی صرف ہمارے دم سے ہے۔ آج ہم نے روشنی پر مکمل اجارہ داری حاصل کر لی ہے۔‘‘ لیکن تاروں کے اس دعویٰ پر صحرا کے چاند مسکرا رہے تھے۔ جستہ جستہ صحرا میں نہ صرف پیڑوں کا اضافہ ہوتا جاتا تھا بلکہ ان کی شاخوں پر لٹکنے والے قمریوں کی تعداد بھی بڑھتی جاتی تھی۔ چاند کی روشنی جب صحرا کی جھاڑ جھنکاڑ پر پڑتی تو گویا اس میں نئی زندگی پڑ جاتی۔ وہ تناور درخت بن جاتے اور پھر ان میں نئے چاند جگمگانے لگتے۔ اس نئے تغیر نے ٹیلے والوں کو اپنی جانب متوجہ کیا۔ تارے والوں کی آنکھیں صحرا کے چاند سے چندھیا گئیں اور اب ان کو حسرت و یاس سے دیکھنے لگے لیکن بوڑھے برگد کی کیفیت بالکل مختلف تھی۔ اس نے اسے اپنے حق میں زہر ہلاہل سمجھا اس نے محسوس کیا کہ چاند کی روشنی میں تاروں کو کون پوچھے گا۔ اب تو پہاڑوں کے پودے بھی چاند کو حسرت و یاس سے دیکھنے لگے تھے۔ وہ بھی اپنے آپ کو چاند سے مزین کرنا چاہتے تھے۔ اس تبدیلی نے برگد کے دل میں بغض و عناد پیدا کیا اس نے ایک اجلاس بلایا جس میں تمام پہاڑوں کے پیڑ شریک تھے۔ چھ تاروں والے درختوں کو مہمانِ خصوصی بنایا گیا تھا۔ کھیتوں کے پودے بھی محفل کی رونق بڑھا رہے تھے۔ ان کے ساتھ صحرا کے بانجھ درخت بھی موجود تھے جن پر چاند نہ کھلتا تھا۔ برگد نے اعلان کیا اس دنیا سے روشنی کا خاتمہ ہو رہا ہے۔ یہ چاند اس جہاں میں تاریکی پھیلا رہے ہیں اگر ان تمام پیڑوں کو جن پر چاند جگمگاتے ہیں جڑ سے اکھاڑ کر پھینکا نہ گیا تو وہ دن دور نہیں جب ساری کائنات اندھیرے میں غرق ہو جائے گی۔حاضرین مجلس نے ایک زبان ہو کر تائید کی اور ایک قرارداد صحرا کے پیڑوں تک پہنچا دی گئی ’’تم خود اپنے چاند جھٹک دو ورنہ ہم تمہیں بے نور کر دیں گے۔‘‘ اس دھمکی کا جواب اس طرح سے آیا کہ ’’اے پہاڑ والو! اپنے غرور کا نشہ چھوڑو اور سب سے پہلے صحرا میں موجود ناجائز باغ کو یہاں سے لے جاؤ ورنہ ہم اسے بحر ظلمات کی نذر کر دیں گے۔‘‘ تارے والوں کو اس جواب کی امید نہ تھی ان کی انا کو ٹھیس پہنچی انہوں نے فیصلہ کیا کہ اپنی عظمت و بلندی کو قائم رکھنے کے لیے چاند والوں کو نیست و نابود کر دیا جائے لیکن یہ کیسے ممکن ہو۔ اس کا فیصلہ کرنے کے لیے ایک اور اجتماع کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں کئی تجاویز سامنے آئیں۔ ایک تو یہ تھی صحرا میں موجود ستارہ پرستوں کی مدد لی جائے۔ چاند والوں کو آپس ہی میں لڑا دیا جائے یا پھر خود آگے بڑھ کر ان کا قلع قمع کیا جائے۔ آخری تجویز پر اتفاق رائے ہونے کے بعد سوال پیدا ہوا اس پر عمل درآمد کا۔ تو فیصلہ یہ ہوا کہ ہم اپنے تارے چاند والوں پر دے ماریں گے۔ لیکن پھر ایک مسئلہ یہ تھا کہ وہ تارے جو جا کر ٹکرائیں وہ تو بے نور ہو جائیں گے۔
	کوئی بات نہیں ہم ان کی قربانیوں کے گن گائیں گے۔ ان کو عظیم شہیدِ وطن ٹھہرائیں گے اور ان کی یادگاریں بنائیں گے تاکہ دوسرے تاروں میں اس مقصد پر جان نچھاور کرنے کا جذبہ پیدا ہو۔
	 لیکن یہ تو مشکل کام ہے ایک اندیشہ سامنے آیا۔ نہیں یہ مشکل نہیں ہے۔ جب ہم انہیں بتلائیں گے کہ انہوں نے تاروں کا جہاں آباد رکھنے کی غرض سے عظیم ایثار کا مظاہرہ کیا ہے اور اگر وہ یہ نہ کرتے تو ساری دنیا اندھیرے کی نذر ہو جاتی۔لیکن اگر انہوں نے یہ سوال کیا کہ تاروں کی جگہ اگر چاند لے لیں تو روشنی ختم نہیں ہو گی بلکہ بڑھ جائے گی تو ہم کیا کریں گے؟
	نہیں ہم ایسا کبھی نہ ہونے دیں گے۔ ان تاروں کے دلوں میں چاند کے خلاف ایسی نفرت ہو گی کہ ان کو چاند کی ہر خوبی میں عیب دکھلائی دے گی اور وہ وطن پرستی میں اندھے ہو کر اندھیری کھائی میں کو د جائیں گے۔ اس مقصد کی خاطر ذرائع ابلاغ کے استعمال سے سماں باندھا گیا اور پھر تاروں کا حملہ ہو گیا۔ تارے بجلی کی طرح چاند پر گرتے اور انہیں بے نور کر دیتے ساتھ ہی خود بھی بے جان ہو جاتے لیکن اس دوران ایک ایسا عمل شروع ہو گیا جس کی امید تارے والوں نے نہ کی تھی۔ چاند کے جتنے ٹکڑے زمین پر گرتے ہر ایک میں سے ایک نیا پیڑ نمودار ہو جاتا اور پھر اس پیڑ پر بے شمار چاند جھلملانے لگتے۔
	تارے والوں کو اپنی حکمت عملی کے الٹے پڑنے کا احساس ہونے لگا تھا۔ ان کے حملے نے قمریوں کی تعداد میں بے شمار اضافہ کر دیا تھا۔ اب ان لوگوں نے پینترا بدلا اور ایک چوٹی کانفرنس کا انعقاد کرتے ہوئے اس میں چاند والوں کو دعوت دی۔ ابتداء میں تارے والوں نے اپنے احسانات کا تذکرہ کیا اپنی عظمت بلندی کے قصیدے پڑھے اور پھر چاند والوں سے کہا کہ آپ لوگوں کے باعث یہ کائنات اندھیروں میں ڈوبتی جا رہی ہے۔ ہم اجالوں کے علمبردار ہیں ہمیں اس بات کی فکر ستا رہی ہے کہ کہیں ساری کائنات اندھیروں کی نذر نہ ہو جائے۔ چاند والوں نے کہا آپ اپنے آپ کو روشنی کا علمبردار کہتے ہیں اور اب تک نہ جانے کتنے چاند اور تاروں کو بجھا چکے ہیں۔ کیا آپ کے قول و عمل میں تضاد نہیں ہے۔ بوڑھے برگد نے کہا ہرگز نہیں چاند کی روشنی دراصل اندھیرا ہے۔ اس اندھیرے کو مٹانے کے لیے جو تارے بجھے وہ دراصل روشنی پھیلانے کے عمل میں کام آئے۔ لیکن روشنی بھی کہیں اندھیرا ہو سکتی ہے یہ کیسی احمقانہ دلیل ہے۔ یہ احمقانہ دلیل نہیں ہے۔ چاند کی روشنی اندھیرا ہے۔ کیا آپ کے کہنے سے۔ جی ہاں ہمارے کہنے سے اس لیے کہ جو سچ ہوتا ہے وہ ہم نہیں کہتے بلکہ جو ہم کہتے ہیں وہ سچ ہوتا ہے۔ اس عجیب و غریب جملے کا مطلب کسی کی سمجھ میں نہیں آیا لیکن سب خاموش رہے۔ چاند والوں نے کہا آپ کی بات ہماری عقل سے پرے ہے۔ آپ بتلائیں کہ آخر آپ چاہتے کیا ہیں۔ تارے والوں نے خوش ہو کر کہا ہم آپ کا تعاون چاہتے ہیں۔ 
	کیسا تعاون؟
	نہایت معمولی سی بات ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ صحرا بھی پہاڑوں کی طرح روشنی سے جھلملائے اس لیے آپ اپنی شاخوں سے چاند ہٹا کر تارے سجا لیں۔ اس لیے کہ تاروں کی روشنی ہی روشنی ہے۔ باقی جو ہے سو اندھیرا ہے اور نہیں تو ہم نا سننے کے قائل نہیں۔ ہم تاروں کے علاوہ تمام روشنیاں بجھا دیں گے۔ لیکن یہ تو زور زبردستی ہے۔ نہیں یہ زور زبردستی نہیں بلکہ تم لوگوں نے زبردستی کی ہے۔ کس پر؟ ان ظلمت کدوں پر جنھوں نے اپنی شاخوں پر چاند سجا لیے ہیں۔ لیکن یہ تو انہوں نے از خود کیا۔ ہم نے زبردستی نہیں کی۔ لیکن ہم کریں گے اس لیے کہ ہم چاند کی روشنی کو اپنے لیے زبردست خطرہ سمجھتے ہیں۔ کیسا خطرہ؟ تاروں میں ایسی آب و تاب نہیں کہ سارے عالم کو روشن کر سکے۔ صدیوں تک صحرا تاروں کے باعث اندھیروں میں ڈوبا رہا۔ اب اگر وہاں چاند کی روشنی پھیل رہی ہے تو آپ کو کیا پریشانی ہے۔ پریشانی ہے۔ اس روشنی نے ہمارے چہرے کو بے نقاب کر دیا ہے۔ یہ روشنی ہمارے استحصال کا پردہ فاش کرتی ہے۔ اس لیے ہم اسے بجھا دیں گے۔ یہ ظلم ہے۔ نہیں یہ چاند کے اندھیرے کے خلاف اجالوں کا چیلنج ہے۔ ہم اسے قبول کرتے ہیں۔ چوٹی کانفرنس مفاہمت کے بجائے ٹکراؤ پر ختم ہو گئی۔ تارے والوں نے اپنی کمک صحرا میں موجود اپنے باغ میں روانہ کر دی اور وہاں سے چاند والوں کے خلاف اعلان جہاد ہو گیا۔ مختلف سمتوں سے تارے اُڑتے اور صحرا کے چاند پر برسنے لگتے۔ اس درمیان اچانک آسمان پر چار چاند اچھلے اور دیکھتے دیکھتے وہ پہاڑ کی چوٹی پر موجود بوڑھے برگد کے آس پاس سروقد پیڑوں سے جا ٹکرائے۔ ان پیڑوں پر سب سے زیادہ تارے تھے۔ دیکھتے دیکھتے دونوں پیڑ ڈھیر ہو گئے۔ ایک مسدس نما باغیچہ سے جا ٹکرایا اور تارے والوں کے ہوش اُڑا دیئے۔ وہ ہذیانی کیفیت میں مبتلا ہو گئے۔ ان لوگوں نے ساری دنیا کے سامنے چھاتی پیٹنا شروع کر دی اور سب کو اپنے ناجائز جہاد میں شامل کرنا شروع کر دیا۔ انہوں نے دھمکی دی دنیا چاند اور تاروں کے درمیان تقسیم ہو گئی ہے اور جو تاروں کے ساتھ نہیں ہے وہ چاند کے ساتھ ہے اور اس کے ساتھ بھی وہی سلوک ہو گا جو چاند والوں کے ساتھ ہو گا۔
	اب سارا آسمان بے ترتیب تاروں سے جگمگا رہا تھا۔ کسی کا رخ کدھر تھا تو کسی کا کدھر لیکن مختلف سمتوں سے چاند بھی اچھلنے لگے۔ سرد جنگ کی جگہ گرم جنگ نے لے لی۔ تاروں کا حملہ ایسا شدید تھا کہ چاند والوں کے ہمدرد کانپ اٹھے لیکن چاند کی روشنی مدھم ہونے کے بجائے بڑھتی ہی جاتی تھی۔ اب تو پہاڑ کے نئے پودوں نے بھی اپنی شاخوں پر چاند سجانے شروع کر دیئے تھے۔ اس منظر نے بوڑھے برگد کو باؤلا بنا دیا۔ وہ دیوانہ وار حملہ کرنے لگا کہ اچانک آسمان میں بادل گھر آئے بارش ہونے لگی۔ صحرا میں بارش قدرت کا ایک معجزہ ہی تھا۔آسمان سے بیک وقت تارے اور بارش دونوں برس رہے تھے۔ اس دوہری تباہی نے صحرا والوں کے دل دہلا دیئے۔ ایسا لگنے لگا کہ یہ طوفان نوح تمام صحرا کو بہا لے جائے گا۔ یہ کائنات ہمیشہ کے لیے چاند کی روشنی سے محروم ہو جائے گی اور دنیا میں صرف تاروں کی روشنی باقی رہ جائے گی۔ صحرا والوں نے گھبرا کر جب آسمان کی جانب دیکھا تو وہ ششدر رہ گئے۔ اس لیے کہ بارش نہ صرف صحرا میں بلکہ پہاڑوں پر بھی ہو رہی تھی۔ وہاں طوفانی ہوائیں بھی چل رہی تھیں۔ بجلی کڑک رہی تھی۔ ایک ایک کر کے پہاڑوں کے درخت جڑ سے اکھڑتے جا رہے تھے۔ پہاڑی ندی اپنی طغیانی لہروں سے انہیں سمندر کے دہانے میں انڈیل رہی تھی۔ دیکھتے دیکھتے پہاڑوں کا سبزہ چٹیل میدان میں تبدیل ہو گیا لیکن صحرا کے درخت جن کی جڑیں زمین میں دور تک پھیلی ہوئی تھیں اپنی جگہ برقرار تھے۔ طوفانی بارش نے چاند کے داغ تو دھو دیا تھا اور اب کائنات میں صرف چاند کی روشنی باقی رہ گی تھی۔ پہاڑوں پر نمودار ہونے والے نوزائیدہ پودوں نے بھی اپنی شاخوں پر چاند سجالیے تھے۔ 
٭٭٭

	گلریز اپنا خواب سنا کر ہانپ رہا تھا اور پیر صاحب مسکرا رہے تھے۔ انہوں نے کہا۔
	’’بیٹے تم نے یہ تو نہیں بتلایا کہ تم کیا کرتے ہو لیکن میں یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ تم گلباز کی طرح پھلوں کی تجارت نہیں کرتے اور میرا قیاس ہے کہ تم صحافت کرتے ہو۔ یہ قیاس نہیں کشف ہے۔‘‘
	گلریز نے کہا۔ ’’آپ نے سچ فرمایا میں صحافی ہوں لیکن آپ نے کیسے پتہ لگا لیا۔‘‘
	’’بیٹے ہر آدمی کا خواب ایک دوسرے سے مختلف ہوتا ہے۔ یوسف کا خواب زنداں کے ساتھیوں سے مختلف تھا اور بادشاہ کا خواب غلاموں کے خواب سے مختلف۔ دراصل بات یہ ہے کہ ہر آدمی ہر خواب نہیں دیکھ سکتا اور یہ خواب تو ایک صحافی ہی دیکھ سکتا ہے۔ ایک ایسا صحافی جس کے پاس نہ صرف دیکھنے والی آنکھ اور لکھنے والا قلم ہے بلکہ سوچنے والا دماغ اور دھڑکنے والا دل بھی ہے۔ ‘‘
	’’آپ مجھے پھسلا رہے ہیں اور خواب کی تعبیر کو ٹال رہے ہیں۔ ‘‘ اب گلریز پیر صاحب سے بے تکلف ہو چکا تھا۔
	’’نہیں بیٹے نہیں ایسا نہیں ہے۔ دراصل یہ خواب نہیں بلکہ حقیقت ہے۔ یہ وہ حقیقت ہے جو ہر دور میں عالم انسانیت کے سامنے عیاں ہوتی ہے اور پھر اوجھل ہو جاتی ہے۔
	’’ابھی آپ نے کہا کہ میں ایسا ویسا صحافی ہوں اور ہمارا پیشہ حقیقت کا مشاہدہ کرنا ہے لیکن میں نے اپنی صحافتی زندگی میں کبھی بھی اس حقیقت کا مشاہدہ نہیں کیا۔‘‘
	پیر صاحب پھر مسکرائے۔ انہوں نے کہا۔ ’’بیٹے اگر کوئی حقیقت کے مشاہدے سے محروم ہو تو اس سے حقیقت کی حقیقت میں کوئی فرق واقع نہیں ہوتا۔‘‘
	’’ آپ تو پہیلیاں بجھوانے لگے۔حالانکہ میں حل کی تلاش میں یہاں حاضر ہوا تھا۔‘‘
	پیر صاحب نے کہا۔ ’’حل جاننا چاہتے ہو تو ایک کہانی سنو۔ گتھی خودبخود کھل جائے گی۔ ویسے یہ حسن اتفاق ہی ہے کہ تمہارے والد گلباز کا کاروبار تمہارا خواب اور میری کہانی سب پیڑ پودوں کے گرد گھومتے ہیں۔ ہوا یوں کہ ایک گرما کے موسم میں کھلنے والے ایک پھول نے اپنے قریب کھڑے برگد کے پیڑ سے پوچھا کہ آخر یہ سورج کیوں طلوع ہوتا ہے اور ہمیں  جھلسائے جاتا ہے۔ اس عذاب سے تو بہتر تھا کہ ہم کھلتے ہی نہیں۔ بیٹے ایسا نہ کہو پھول تو ہر موسم میں کھلتے ہیں اور جو موسم گرما میں کھلتے ہیں انہیں گرمی و تپش کا سامنا کرنا ہی پڑتا ہے۔ اس پر پھول نے پوچھا یہ موسم کیا ہوتا ہے۔ پیڑ بولا دنیا کی آب و ہوا ہمیشہ یکساں نہیں ہوتی۔ کبھی گرمی ہوتی ہے اور کبھی سردی کبھی بہار تو کبھی خزاں موسم بدلتا رہتا ہے۔ ننھے سے پھول نے شوخی بھرے انداز میں انکار کیا میں نہیں مانتا۔ میں نے تو یہ سب نہیں دیکھا۔ جب آنکھ کھلی تو سورج گھور رہا تھا۔ پھر اس کے غصہ میں بلاوجہ اضافہ ہوتا گیا۔ یہاں تک کے اس نے ہمارے چہرے کو  جھلسا دیا۔ اس کی تپش نے ہوا کو بھی گرم کر دیا اور اس کے تھپیڑوں نے ہمیں وقت سے پہلے مرجھا دیا۔ ہم نے تو بس یہی ایک موسم دیکھا ہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ یہی ایک موسم ہوتا ہے۔ برگد نے کہا کہ تمہاری بات سچ ہے اور میری بات بھی سچ ہے حالانکہ یہ دونوں ایک دوسرے کے متضاد ہیں۔ تمہاری زندگی اور تمہارا مشاہدہ نہایت مختصر ہے۔ تم نے چونکہ صرف ایک موسم دیکھا ہے اس لیے کسی اور موسم کا تصور بھی کرنا تمہارے لیے محال ہے لیکن میں نے نہ جانے کتنی بہاریں دیکھیں ہیں جن کا شمار تک نہ رکھ سکا۔ اس لیے مجھے تو کہنا ہی پڑے گا کہ گردش زمانہ موسم تبدیلی کا سبب بنتا ہے۔
	ویسے پھولوں کی شکایت بھی موسم کی طرح بدلتی رہتی ہے۔سرما میں کھلنے والے ایک پھول نے ایک مرتبہ اسی برگد سے کہا یہ کیسا سورج ہے کہ اس میں نہ تپش ہے نہ شدت۔ یہ تو میری پنکھڑیوں پر جمی برف کو بھی پگھلانے سے قاصر ہے۔ ایسے میں کون آئے گا میرے پاس کون سجائے گا مجھے اپنی زلفوں میں ؟ میرا تو کھلنا نہ کھلنا برابر ہی ہو گیا۔ بوڑھے برگد نے ننھے پھول کو ڈانٹا ارے بے وقوف اس موسم کو غنیمت جان اگر سورج کو غصہ آ گیا تو وہ تجھے جھلسا دے گا۔ تو کیا ہوا ننھے پھول نے سینہ پھلا کر کہا۔ جو پھول جھلستے ہیں ان کی عمر بھی ایک دن کی ہوتی ہے اور جو نہیں جھلستے وہ بھی ایک ہی دن جیتے ہیں۔ مجھے جھلسنے کا خوف نہیں بلکہ افسوس اس بات کا ہے کہ میرا حسن اور خوشبو رائیگاں جا رہی ہے۔ کوئی اس سے مستفید نہیں ہو رہا ہے۔ ننھے منے پھول کے بڑی بڑی باتیں سن کر بوڑھا برگد مسکرا دیا اور جھک کر اسے سلام کیا۔
	اب بہار کے پھول کا مژدہ بھی سنو۔ جس نے شام کے دھندلکے میں بوڑھے برگد سے پوچھا کہ کتنی اچھی فضا ہے ہوا ہے بہار ہے سبزہ زار ہے۔ لیکن ابھی چند لمحوں میں ہم مرجھا جائیں گے اور پھر یہ دنیا حسن رعنائی سے رنگ و خوشبو سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے محروم ہو جائے گی۔ میری سمجھ میں یہ نہیں آتا کہ قدرت کو اس بربادی میں کیا دلچسپی ہے اور اگر ہمیں اس طرح اجاڑنا ہی تھا تو آخر بسایا کیوں تھا؟ یہ سن کر بوڑھے برگد نے نصیحت کی بیٹے یہ قانون فطرت ہے۔ اس کائنات کو آباد اور شاداب رکھنے یہ بربادی ناگزیر ہے۔ اگر گذشتہ کل کے پھول نہ بکھرتے تو آج تم نہ کھلتے اور اگر آج تم بکھرو تو کل نئے پھول کیسے کھلیں گے۔ اگر یہ تخریب و تحلیل کا عمل رک جائے تو دنیا تازہ پھولوں کے بجائے باسی پھولوں سے بھر جائے گی۔ تم جسے تخریب سمجھتے ہو وہ تعمیر کا پیش خیمہ ہے لیکن چونکہ تمہاری نظر محدود وقفہ پر ہے اس لیے تمہیں دھوکہ ہو جاتا ہے۔ دراصل ان پھولوں کا قصور یہ نہیں ہے کہ وہ مشاہدہ غلط کرتے ہیں بلکہ ان کی غلطی یہ ہے کہ کائنات کے لامحدود حقائق کا احاطہ اپنے محدود مشاہدہ سے کرنا چاہتے ہیں جو ناممکن ہے۔ دراصل کائنات کے بے پایاں حقائق کا ادراک کرنے کی خاطر اس کے خالق کی الہامی ہدایت کی جانب رجوع کرنا ناگزیر ہے۔اور جو ایسا نہیں کرتا وہ خود بھی فریب کھاتا ہے اور دوسروں کو بھی فریب دیتا ہے۔
	مرشد کی کہانی کے اختتام پر گلریز کے کانوں میں آسمانی کتاب کے الفاظ گونج رہے تھے۔ 
		’’خشکی اور تری میں فساد برپا ہو گیا ہے لوگوں کے اپنے ہاتھ کی کمائی سے
		تاکہ مزہ چکھائے ان کو ان کے بعض اعمال کا شاید کہ وہ باز آ جائیں 
		ان سے کہو کہ زمین میں چل پھر کر دیکھو
		پہلے گذرے ہوئے لوگوں کا کیا انجام ہو چکا ہے
		ان میں سے اکثر مشرک ہیں 
		اگر اس طرح اﷲ ایک گروہ سے دوسرے گروہ کو ہٹاتا نہ رہتا تو زمین فساد سے بھر جاتی۔
		لیکن دنیا کے لوگوں پر اﷲ کا بڑا فضل ہے۔‘‘
	گلریز کو اپنے خواب کی تعبیر مل گئی۔ اس نے تشکر آمیز نگاہوں سے اپنے مرشد کو دیکھا اور ان سے دعا کی درخواست کی۔ روحانی باپ نے شفقت سے پیشانی پر بوسہ دیا اور کہا۔
	’’بیٹے جاؤ اور اس خواب کو شرمندۂ تعبیر کرنے میں لگ جاؤ۔ اس لیے کہ اس سے پہلے تمہارے باپ ابراہیم نے جب اپنے خواب کو شرمندۂ تعبیر کیا اسے عالم انسانیت کی امامت سے نوازا گیا…!
٭٭٭

ڈاکٹر سلیم خان کے کہانیوں کے مجموعے ’حصار‘ سے ماخوذ
تشکر: ڈاکٹر سلیم خان جنہوں نے فائل فراہم کی
ان پیج سے تبدیلی، تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید
