﻿



خواب دھرتی



عارف فرہاد



جمع و ترتیب: اعجاز عبید







وَمَا اَدرٰ کَ ماالقَارِعَہ 

(کوئٹہ میں زلزلے پر)


بتا اے اِبنِ آدم !
کیا خطا تجھ سے ہوئی تھی؟
کہ جب انتیس اکتوبر کو
شب بھر چین سے سو کر اُٹھا تو
یوں لگا جیسے ابد کی نیند سے تجھ کو کسی ’’القَارِعَہ‘‘ نے خود جگایا ہو
تو پھر تجھ کو بھی یہ ادراک ہو جانے لگا ہو
کہ یہ ’’القَارِعَہ‘‘ کیا ہے؟
سُنا ہے چند لمحوں کے لئے سارے علاقے کے پہاڑ اُڑنے لگے
اور دیکھتے ہی دیکھتے سارے مکیں
اپنے گھروں کے ڈھیر میں اوندھے پڑے تھے
ہر اک بستی، ہر اک مکتب
مساجد، مدرسے اور دفتری دیوار و در
یوں اپنی چھت کے نیچے خود ہی آ کر دب چکے تھے
کہ جیسے مالکِ کُل نے تباہی کے فرشتے کو اشارہ کر دیا ہو
اور اُس نے حکم پاتے ہی
مہکتے گلستانوں میں
اجل کی آگ بھر دی ہو
تمہیں معلوم کیا اے ابنِ آدم۔۔۔!
تمہیں معلوم کیا وہ آگ کیا تھی؟
وہ نارٌ حامیہ کا اک شرارہ تھی
جسے معصوم مٹی سہہ نہ پائی
اور بہت ہی مضطرب، بے چین ہو کر
کروٹیں لینے لگی
کروٹیں ایسی کہ چند لمحوں میں
سارے شہر غم کی راکھ بن کر بجھ گئے ہیں
٭٭٭



موت


میں دنیا ہوں
وہ میری آخرت ہے
میں ازل سے
 اُس کو پا لینے کی ضِد میں جی رہا ہوں
اور وہ
کا لے زمانوں سے پرے رہ کر   
مرے پہلے قدم سے
اپنے بے بس جسم تک پھیلی مسافت کی
تھکاوٹ سے بھرا ملبوس
دھونے کے لئے
مجھ کو
مثالِ چشم
خوابوں کے کسی رنگین اور پُر کیف گوشے
 میں سُلانا چاہتی ہے
مرے آنسو بجھانا چاہتی ہے
٭٭٭



محبت کچھ نہیں ہوتی

محبت کچھ نہیں ہوتی
فقط اک دشت ہوتا ہے اندھیرے کا
کہ جس میں
 اک جنوں انگیز موسم
اپنی آنکھوں میں
کسی کا عکس بھرنے کے لئے
چند اجنبی رستوں پہ
دستک دے کر اپنے آپ کو
 بیدار کرتا ہے
ہوا سے پیار کرتا ہے  !!
٭٭٭



سمندر کی آنکھوں میں دکھ بھر چکا ہے

سمندر کی آنکھوں میں دکھ بھر چکا ہے
سمندر  !
تری آنکھ میں
کروٹیں بھرتا یہ نیلمی حسن کس نے بھرا ہے
کہ تُو آج تک اُس کی دوری کے دکھ میں
کئی لاکھ صدیوں سے
اپنے بدن میں مقیّد ہے
اور جاں کنی کے عذابوں سے اُلجھا ہوا ہے
سمندر  !
کئی لاکھ صدیوں کی اِس بے کلی نے
تری جاں کنی کے عذابوں کو
اور اُس کی دوری کے بوڑھے دکھوں کو
تری اِس محیط اور بسیط آنکھ میں
آنسوؤں کی طرح بھر دیا ہے !
ازل سے تری اِس تڑپتی ہوئی مضطرب آنکھ کا دُکھ
گھنے بادلوں کی وساطت سے
اُس تک رسائی کے صدمے
اُٹھاتا رہا ہے
ترے ساتھ مجھ کو رُلاتا رہا ہے
مرے سب کے سب اشک تیرے لئے ہیں
مگر اے سمندر  !
بتا
کیا تری آنکھ کے سارے یاقوت و مرجان
اُس کے لئے ہیں
کہ جس نے تجھے دُور رکھ کر
تری آنکھ میں جان لیوا نشہ بھر کے
بے چینیوں کے عذابِ مسلسل میں رکھا ہوا ہے ؟
سمندر  ! تجھے تو ازل سے میں پہچانتا ہوں
مگر کچھ بتا
وہ ترا ''راز داں ''کون ہے
جو کہ سینے میں تیرے
ازل سے کسی غیب کے راز کی طرح مدفون ہے ۔
٭٭٭



میں کہتا ہوں


وہ کہتی ہے
جاناں، جلدی آیا کر !
تجھ بِن اک اک پل صدیوں پر پھیلا رہتا ہے
تیری آس میں
جلتی بجھتی رہتی ہوں!!

میں کہتا ہوں
پاگل لڑکی
کب تک گھڑیاں گنتے گنتے
تُو یہ عمر گزارے گی
اک دن
وقت کا دریا تجھ کو
مجھ سے کوسوں دور کہیں لے جائے گا
اور میں وقت کا حصّہ بن کر رہ جاؤں گا
تیری آنکھ کا آنسو بن کر
بہہ جاؤں گا۔
٭٭٭



خواب دھرتی پہ اُگتی ہوئی ایک نظم


مری آنکھ کے آئینے میں
عجب خواب کی ایکھ کھڑکی کھلی
گنگناتی ہوا رقص کرنے لگی
میں نے پوچھا ہوا سے کہ تُو کون ہے
تو ہوا نے کہا:
میں تری خواب دھرتی پہ اُگتی ہوئی مخملی نظم ہوں
خواب دھرتی کہ جس میں کبھی
مسکراتے ہوئے پھول تھے، میٹھے چشمے تھے اور
تازہ جذبوں کی بھیگی ہوئی گھاس تھی
اب مگر ہجر کی رُت ہے اور
کرب کے چند مغموم سے پھول ہیں
جن کی پُر کیف خوشبو کے اعجاز سے
میں پہن کر سجل ، ریشمی پیرہن
لہلہاتے ہوئے سبز جنگل میں رقصاں ہوں۔۔آ۔۔جلد آ
سوچ کے لہلہاتے ہوئے سبز جنگل میں آ
اِس گھنی خامشی میں مری ڈوبتی ، چیختی بوڑھی آواز سُن
کرب خوشبو میں گوندھی ہوئی روشنائی سے
سورج سی آنکھیں تراش
اور پگھلتی ہوئی دھوپ میں
 اپنے احساس کی اُنگلیوں سے
مرا مرمریں جسم چُن
تاکہ میں جھلملاتی ہوئی سب دھنک وادیاں دیکھ لوں ۔
٭٭٭



موج میں آ کر ہم دونوں مٹ جائیں

پہلے دن ہی
آپ اپنی پوشاک پہن کر
میں نے وقت کو مار دیا تھا
یہ ہی وجہ ہے
صدیوں کے اِس لمبے سفر میں
میں باطن اور تُو ظاہر تھا
تجھ کو تیرا اپنا ظاہر چاٹ گیا ہے
اور میں اندر کی آنکھوں سے
پیاس کے دریا پی کر پھیل گیا ہوں
دیکھ میں کتنا پھیل گیا ہوں
تیرا بوڑھا اور ادھُورا جسم مجھے اب کیا ڈھانپے گا
اب تو میرا اندر ظاہر ہونے لگا ہے
ہو سکتا ہے اب کے بار اندر کی آنکھیں
مجھ کے پی جائیں
اور پھر موج میں آ کر یوں لہرائیں
ہم دونوں مٹ جائیں
٭٭٭


عجب مجذوب صحرا ہے


عجب ہے ۔۔۔۔کیا عجب ہے
تا ابد پھیلا ہوا حیرت کدہ
حیرت کدے میں
تا ابد پھیلا ہوا دریا
تری بینائی کا یہ مست اور رنگین دریا
اور ترے اِس مست اور رنگین دریا کے تعاقب میں
مرا صحرا
خود اپنی پیاس میں بھیگا ہوا مجذوب صحرا
اور اِس مجذوب صحرا کے سرابوں میں
بھٹکتا ''میں''
کہ جس کی آنکھ میں  ''لا'' کے نہ ہونے کے
 سبھی  دکھ
اشک بن کر
بجھ گئے ہیں  !
٭٭٭



مجھے یہ لوگ کہتے ہیں

مجھے یہ لوگ کہتے ہیں
میں تنہا ہوں
میں تنہا کب ہوں یارو
پاس میرے خاک بھی ہے چاک بھی ہے
 اور ایسے ہاتھ بھی ہیں
جو کسی بھی گام پر اک ہمسفر تخلیق کرنا جانتے ہیں
مجھے یہ لوگ کہتے ہیں
میں مفلس ہوں
میں مفلس کب ہوں یارو
میری آنکھوں کے اس آئینے میں دیکھو
جوہرِ علم و ہنر ہر وقت کیسے جھلملاتا ہے
میں جب چاہوں
یہ جوہر
میری بینائی کے پیراہن پہ
تارے، چاند، سورج، دشت، صحرا اور سمندر ٹانک دیتا ہے  !
مجھے یہ لوگ کہتے ہیں
میں پاگل ہوں
مرے یارو  یہ سچ ہے۔۔۔ ہاں یہ سچ ہے
میں ہی پاگل ہوں
مجھے پاگل اِن آنکھوں نے بنایا ہے
یہ آنکھیں اِس جہاں کے حسن سے
 لبریز ہو کر
 وجد میں آ کر
سبھی کچھ بھول جاتی ہیں
تو میں دیوانگی کے پیرہن میں اُس طرف کو چل نکلتا ہوں
جہاں پر میں نہیں ہوتا
یا پھر اپنی ہی آنکھوں کے
 کسی سنسان گوشے میں
کسی مجذوب کے مانند
گم صُم بیٹھ جاتا ہوں
٭٭٭




خواب آنکھوں سے گر گئے شاید


میں یہ سمجھا کہ تیری آنکھوں میں
روشنی جس قدر ہے میری ہے
اور اِس روشنی کے ساتوں رنگ
تیرے خوابوں میں جھلملاتے ہیں
زندگی کا دیا جلاتے ہیں
زندگی کا دیا جلاتے وقت
تجھ کو اپنا سمجھ کے اے نادان!
دل نے آنکھوں کی خواب گاہوں میں
عمر بھر ایک ساتھ رہنے کے
ایک دو خواب بھی سجائے تھے
ایک دو خواب جن میں چاہت کی
ایک دنیا سنورتی رہتی تھی
ایک دو خواب جو کہ تیرے تھے
آج تیری نظر بدلتے ہی
میری آنکھوں سے گر گئے شاید
٭٭٭



کشمیر کے لئے ایک نظم


پچھلے  چھپّن برس میں
ہر اک آنکھ روئی
ہر اک دِل جلا
میرے کشمیر کے آنگنوں میں
اُبھرتی ہوئی زندگی کے
ہر اِک خال و خد کو مٹایا گیا / کتنے سپنے مرے
کتنی آنکھیں بجھیں
کتنی بینائیاں زخم بن کر تڑپتی رہیں
کتنے بازو کٹے
کتنے گھر لٹ گئے
کتنے سر سبز باغوں کو ویرانگی کھا گئی
کتنے سورج تھے جو غم سے گہنا گئے
زندگی ظلم کی تیرگی میں بھٹکتی رہی
سر پٹختی رہی
ہاں سنو!
میرے کشمیر کی زندگی دفن ہے
آسماں کے تلے
شش جہت کی سلگتی ہوئی خاک میں
روشنی دفن ہے !!
__________
(پی ٹی وی اسلام آباد سے کشمیر پروگرام میں ٹیلی کاسٹ ہو چکی ہے)
٭٭٭




٭٭٭
ماخذ: 
http://www.alqamar.org/poetry/categories/%D8%B4%D8%B9%D8%B1%D8%A7%D8%A1-%DA%A9%DB%8C-%D9%81%DB%81%D8%B1%D8%B3%D8%AA-%D8%AD%D8%B1%D9%88%D9%81-%D8%AA%DB%81%D8%AC%DB%8C-%D8%B3%DB%92/%D8%B9/%D8%B9%D8%A7%D8%B1%D9%81-%D9%81%D8%B1%DB%81%D8%A7%D8%AF/
تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید
