﻿


خوابِ سفر



اشفاق چغتائی







غیر منقوط نعتیں

طلسم اسم ِ محمد (ص) کا دائرہ ہے کوئی 
مری دعا کی کمائی کا سلسلہ ہے کوئی 

کرم کی راہ سے آئے کسی سحر کی طرح 
اسے کہو در امکاں کھلا ہوا ہے کوئی 

وصال و وصل کی گرمی اسی کے دم سے ہے 
طلوع مہر مسلسل کا آسرا ہے کوئی 

دکھائی دے کسی صحرا سے گل کدہ کس کا 
ہوا کمال کی ہے اور ہرا ہرا ہے کوئی 

کہا کہ ہے مرا اللہ احد اور واحد 
گلی گلی کہے ، لولاک کی صدا ہے کوئی 

سوائے سرورِ عالم کے اور اے عالم 
مرا سوال ہے کہ درد کی دوا ہے کوئی 




اللہ کے احساس کا احسان کوئی کم ہے 
سارا ہی کم اس در ِ والا کا کرم ہے 

حاصل ہے اسی محرم اسرا ر کے دم سے 
وہ سرورِ لولاک ہے ، سردار امم ہے 

ہے ورد ِ مہ و سال وہی اسم گرامی 
ہر عہدِ سحر اسم محمد (ص) کا کرم ہے 

اک درد کا لمحہ اسے سرکار عطا کر 
دل سادہ و معصوم ہے ، محروم الم ہے 




دل کہے حوصلے والا ہے سحر کا موسم 
وہ مگر کس لئے کالا ہے سحر کا موسم 

اے مری حدِ گمان ! مہر مسلسل ہے ادھر 
کہ محمد (ص) کا حوالہ ہے سحر کا موسم 

آسماں اور سحر اور کوئی اور سحر 
اک سما وار رسالہ ہے سحر کا موسم 

ہے کوئی ردِ عمل کہ کوئی معصوم طلوع 
ہاں مگر حاصلِ لالہ ہے سحر کا موسم 




خود اپنا قطعۂ تاریخ وفات

سفر نہیں ہے ہمارا بہار سے آگے 
چلے نہ سانس سن دو ہزار سے آگے 
میں کہہ رہا ہوں خود اپنا یہ قطعۂ  تاریخ 
حیات غوث کی ہم ’’ ہم مزار سے آگے 





رباعیات





اعجاز طلب کس میں ہے طالب ہے کون 
عرفان کسے چاہئے ، کاذب ہے کون 
پس دیکھتا ہوں ظرف کی وسعت اشفاق
یہ سوچتا ہوں میرا مخاطب ہے کون 


اک نو ر کی یکجائی ہم آغوش ہوئی 
اس ذات کی رعنائی ہم آغوش ہوئی 
انسان جواس جسم سے باہر نکلا 
تنہائی سے تنہائی ہم آغوش ہوئی 






اس عالم ناسوت میں آئی کیوں ہے
 اس قریۂ  طاغوت میں آئی کیوں ہے 
اشفاق کوئی روح سے پوچھے اتنا 
اس جسم کے تابوت میں آئی کیوں ہے 



ہے خاک سے کچھ بیر مجھے لگتا ہے 
یہ میرا حرم دیر مجھے لگتا ہے 
اشفاق جدا اصل سے کرنے والا 
یہ جسم کوئی غیر مجھے لگتا ہے 





نیکی کے عبادت کے خزینے کو کہیں 
جیون میں سعادت کے قرینے کو کہیں 
ہے تزکیۂ  نفس کی جنت اشفاق 
رمضان ثوابوں کے مہینے کو کہیں 



مجبور قوانین کی ، قدرت کی غلام 
ہے ردِ عمل کوئی نہ طاقت کی غلام 
آزاد ہے یہ ذہن ازل سے اشفاق 
انسان کی حرکت نہیں فطرت کی غلام 





امید ، سیہ خاکِ قفس چھونے لگی 
اٹھو کہ سحر تارِ نفس چھونے لگی 
وہ رات کے بے رحم محل کی چھت پر 
دیکھو کہ کرن پہلا کلس چھونے لگی 


کیا قوم کہیں حامل تہذیب ہوئی 
بارودی سرنگوں کی ہے تنصیب ہوئی 
پھر امن کا بندوق سے پرچار کیا 
تعمیر کے پھر نام پہ تخریب ہوئی 






موسیٰ نے کہیں طور کا جلوہ دیکھا 
لوگوں نے اتر تا من و سلویٰ دیکھا 
روٹی کیلئے شہر میں شب بھر اشفاق 
کب خون میں ڈوبا ہوا بلوہ دیکھا 


اک نور کی یکجائی ہم آغوش ہوئی 
اس ذات کی رعنائی ہم آغوش ہوئی 
انسان جو اس جسم سے باہر نکلا 
تنہائی سے تنہائی ہم آغوش ہوئی 





رنگوں سے کبھی درد کو تصویر کریں 
تیشے سے کبھی خواب کی تعبیر کریں 
تخلیق کریں جب کوئی خوش کن نغمہ 
غمگین خیالات کی تشہیر کریں 




سچائی پہ موہوم سی کچھ بات ہوئی 
بس موت پہ ہی بزم سوالات ہوئی 
یہ بات الگ میں نہیں یونان گیا 
سقراط سے کچھ دیر ملاقات ہوئی 






اقلیدس سے علم ریاضی سے پوچھا 
منصور سے کی گفتگو قاضی سے پوچھا 
ہوتی ہے محبت میں مثلث آخر کیوں 
پوچھا ہے خدا سے ، عشق کے ماضی سے پوچھا 



میں حرف ہوں لفظوں سے چھڑائے کوئی 
میں لفظ ہوں جملے سے بچائے کوئی 
اشفاق عمارات بھری ہیں لیکن 
مفہوم کتابوں کا بتائے کوئی 




دنیا کو نیا نصاب دینا ہو گا 
ہو جھوٹ کا اب حساب دینا ہو گا 
کس نے ہے بھرا دروغ اتنا تجھ میں 
تاریخ ! تجھے جواب دینا ہو گا 



خورشید سے آشکار ہے کس کا عکس
 ہر پھول میں نوبہار ہے کس کا عکس 
اشفاق نہیں کوئی اگر تو پھر بول 
آئینے میں بے قرار ہے کس کا عکس 





اس میری زمیں کو تو نے آفاق کیا 
اس ذہن رسا کو پل میں براق کیا 
تجسیم خیالوں کودی کچھ خواب بنے 
اشفاق کو تو نے ہی تو اشفاق کیا 



و ہ نقل مکانی تو مجھے یاد نہیں ہے 
جنت کی کہانی تو مجھے یاد نہیں ہے 
ہے یادشِ مختصر یہی خاک نژاد 
ماضی کی کہانی تو مجھے یاد نہیں ہے 





صورت ہو بے صورت کی ناممکن ہے 
اک دید شہادت کی ناممکن ہے 
ہم عرش سے اونچے بھی ہو سکتے ہیں 
تسخیر اس وحدت کی ناممکن ہے 



وہ پھول پرندے اور دریا ہیں کون 
کس کی ہیں ہوائیں ، یہ صحرا ہیں کون 
ہم لوگ نہیں لگتے ان سے اشفاق
اب اپنے بزرگوں کا ورثہ ہیں کون 






لمحہ بھر کی ہستی ہے کچھ سوچ سمجھ 
کہنے کو یہ مستی ہے کچھ سوچ سمجھ 
اشفاق جسے دنیا ہم لوگ کہیں 
پستی ہی بس پستی ہے کچھ سوچ سمجھ 



ظلمت کے پگھلنے کی صورت ہی نہیں ہے 
اس رات کے ڈھلنے کی صورت ہی نہیں ہے 
اشفاق قیامت ہے وہ زلف سیاہ 
اب دن کے نکلنے کی صورت ہی نہیں ہے 




ہر ایک گھڑی کن کی روانی کیا ہے 
یہ آدمی کی نقل مکانی کیا ہے 
اشفاق فقط رزق کا ہے یہ قصہ 
تہذیب و تمدن کی کہانی کیا ہے 




کیا ذات کے بازار میں ہم رہتے ہیں 
یوں لگتا ہے دیوار میں ہم رہتے ہیں 
معلوم نہیں ہوتا ہے صدیوں ہم کو 
تہذیب کے کس غار میں ہم رہتے ہیں 






اسلام دہی اور رسالت ہے وہی 
جو ایک ہو دنیا میں حکومت ہے وہی 
اشفاق مدینہ ہے وفاقی مرکز 
اس امتِ مسلم کی ضرورت ہے وہی 



اعجاز طلب کس میں ہے طالب ہے کون 
عرفان کسے چاہئے کاذب ہے کون 
میں دیکھتا ہوں ظرف کی وسعت اشفاق 
میں سوچتا ہوں میرا مخاطب ہے کون 





اپنے دل ناکام سے کیا بات کریں 
غم ہائے سیہ فام سے کیا بات کریں 
اشفاق یہ خاموش ہے اپنے دکھ سے 
اسی درد بھری شام سے کیا بات کریں 



تخلیق و عدم ، لو ح و قلم صرف خیال
 ہر سمت جہاں میں ہے بہم صرف خیال 
محسوس کرو خور کونہ اشفاق جہاں میں 
موجود کوئی اور ہے ہم صرف خیال 





اس دل سے تو جد انہیں لگتا وہ 
خوابوں سے بھی خفا نہیں لگتا وہ 
اس کی کوئی ہو سکتی ہے مجبوری 
مجھ کو تو بے وفا نہیں لگتا وہ 



عریاں عریاں سا جسم تہذیب طلسم 
طاقت ور کا ہے اسم تہذیب طلسم 
کتنی صدیوں گم رہتے ہیں ہوش و حواس 
ایسا ویسا طلسم تہذیب طلسم 




دل پہ دیمک سا تبصرہ کون کرے 
اپنے دکھ کا مقابلہ کون کرے 
مجھ کو قسطوں میں زندگی بخش نہیں 
دھیرے دھیرے معاملہ کون کرے 



ناقہ ! تیرے غبار پہ لاکھوں سلام 
صحرا تیری بہار پہ لاکھوں سلام 
ریتوں سے اٹھ رہی ہے وہ صبح شعور
صدیوں کے غم گسار پہ لاکھوں سلام 





راتوں میں تاروں کی چمک کب سے ہے 
سورج میں گرم کی لپک کب سے ہے 
ہے غم کی تاریخ ِ پیدائش کیا 
گردش میں بے رحم فلک کب سے ہے 


میں کیسا ہوں جسم کا مایا ہے کیسا 
کیسی ہے یہ روح یہ سایہ ہے کیسا 
مٹی ، پانی اور ہوا سے اشفاق 
کو زہ گرنے نقش بنایا ہے کیسا 





تیروں کی تحریر تجھے یاد نہیں
 پانی کی تصویر تجھے یاد نہیں 
بادل کے قالین پہ سونے والے 
کربل میں شبیر تجھے یاد نہیں 



فریادی کا شوخیِ تحریر سے پوچھ 
اور خالق کا پیکرِ تصویر سے پوچھ 
مولائے لاہور ہے اب کون فقیر 
ہجویری سے پوچھ میاں میر سے پوچھ 





جگ ہیرہ منڈی ہے آہستہ چل 
دنیا اک رنڈی ہے آہستہ چل 
پستی میں گرنے کا خطرہ بھی ہے 
کچی پگڈنڈی ہے آہستہ چل 



آنکھوں میں نیندیں تھیں نیندوں میں خواب
خوابوں میں یادیں تھیں یادوں میں خواب 
ٹوٹے پھوٹے کرچی کرچی پر آب 
شیشے کے ٹکڑے تھے ٹکڑوں میں خواب 






پنجر ے میں توتا تھا کچھ یاد نہیں 
شہزادہ روتا تھا کچھ یاد نہیں 
اک دوجے میں ہوتی تھی جان مگر 
پہلے کیا ہوتا تھا کچھ یاد نہیں 


مکھن کی چاٹی کو دیوار نہ جان
 اس زر زن گھاٹی کو دیوار نہ جان 
اس من کی لاہوتی آغوش میں ڈوب 
اس تن کی ماٹی کو دیوار نہ جان 





پرواز کا اعجاز کہاں سے لاؤں 
معصوم سا انداز کہاں سے لاؤں 
تصویر تو کاغذ بنا دی میں نے
چڑیا تیری آواز کہاں سے لاؤں 


اک شمع تھی۔۔۔ تعبیر پڑی تھی دن کی 
اک موم میں تنویر پڑی تھی دن کی 
اشفاق اندھیرے سے بھرا تھا کمرہ
بس میز پہ تصویر پڑی تھی دن کی





ویران تھی یادوں کی گلی خالی تھی
ٹوٹے ہوئے وعدوں کی گلی خالی تھی
میں رات بڑی دیر تلک پھرتا رہا ہوں 
وہ خواب نژادوں کی گلی خالی تھی



تعمیر کرے تاج محل خواب سفر 
تحریر کرے صبحِ غزل خواب سفر 
افیون کہے لاکھ زمانہ اشفاق
کچھ اور کرے تیز عمل خواب سفر 





ہر عصر کا ہم ذات رہا ہوں برسوں 
میں منزل ِ آیات رہا ہوں برسوں 
غالب سے مراسم ہیں زیادہ لیکن 
میں میر کے بھی ساتھ رہا ہوں برسوں 

٭٭٭

تشکر۔ منصور آفاق، جن کی برقی کتاب ’کپکپاتی یاد‘ سے اس کتاب کا مواد حاصل ہوا
تدوین اور ای بک کی تشکیل۔ اعجاز عبید
